اردو ویب ڈیجیٹل لائبریری
×

اطلاع

فی الحال کتابیں محض آن لائن پڑھنے کے لئے دستیاب ہیں. ڈاؤن لوڈ کے قابل کتابوں کی فارمیٹنگ کا کام جاری ہے.

فردوس بریں


مصنف مولانا عبد الحلیم شرر
تعداد الفاظ 52891
تعداد منفرد الفاظ 4909
مناظر 5771
ڈاؤنلوڈ 0
فردوس بریں ایک قدیم اردو داستان جسے آغاز کریں تو قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لے ۔ ۔ ۔ اردو ویب ڈیجیٹل لائبریری کا آغاز اس داستان پر کام سے ہوا، یہ پہلا عنوان تھا جسے برقیانے کے لیے شاکر عزیز نے منتخب کیا اور تنہا اسکی ٹائپنگ مکمل کی، لائبریری پراجیکٹ میں اس کوشش نے پہلے قدم کی بنیاد رکھی۔

پہلا باب: پریوں کا غول

اب تو سنہ ٦٥٠ ہجری ہے، مگر اس سے ڈیڑھ سو سال پیشتر سے سیاحوں اور خاصۃً حاجیوں کے لئے وہ کچی اور اونچی نیچی سڑک نہایت ہی اندیشہ ناک اور پرخطر ہے جو بحر حزر (کیسپین سی) کے جنوبی ساحل سے شروع ہو ئی ہے اور شہر آمل میں ہو کے شاہنامے کے قدیم دیوستان یعنی ملک ماژندران اور علاقہ رودبار سے گزرتی اور کوہسار طالقان کو شمالاً و جنوباً قطع کرتی ہوئی شہر قزوان کو نکل گئی ہے۔ مدتوں سے اس سڑک کا یہ حال ہے کہ دن دہاڑے بڑے بڑے قافلے لٹ جاتے ہیں اور بے گناہوں کی لاشوں کو برف اور سردی مظلومی و قتل و غارت کی یادگار بنا کے سالہا سال تک باقی رکھتی ہے۔

ان دنوں ابتدائے سرما کا زمانہ ہے۔ سال گزشتہ کی برف پوری نہیں گھلنے پائی تھی کہ نئی تہ جمنا شروع ہو گئی۔ مگر ابھی تک جاڑا اتنے درجے کو نہیں پہنچا کہ موسمِ بہار کے نمونے اور فصلِ گل کی دلچسپیاں بالکل مٹ گئی ہوں؛ آخری موسم کے دو چار پھول باقی ہیں اور کہیں ان کے عاشق و قدردان بلبل بدخشانی بھی اپنی ہزار داستانی و نغمہ سنجی کے راگ سناتے نظر آ جاتے ہیں۔ یہ کوہستان عرب کے خشک و بے گیاہ پہاڑوں کی طرح برہنہ اور دھوپ میں جھلسے ہوئے نہیں بلکہ ہر طرف سایہ دار درختوں اور گھنی جھاڑیوں نے نیچر پرستوں اور قدرت کے صحیح قدردانوں کے لیے عمدہ عزلت کدے اور خلوت گاہیں بنا رکھی ہیں۔ اور جس جگہ درختوں کے جھنڈ نہیں وہاں آسمان کے نیلے شامیانے کے نیچے قدرت نے گھاس کا سبز اور مخملیں فرش بچھا دیا ہے جس پر بیٹھ کر کوئی شراب شیراز کا لطف اٹھانا چاہے تو یہاں نہر رکنی کے بدلے نہر ویرنجان بھی موجود ہے، جو شائد ابھی پوری ڈیڑھ صدی بھی نہیں گزری کہ رود سفید سے کاٹ کر پہاڑوں کے اندر ہی اندر مختلف گھاٹیوں میں گھمائی اور شہر خرم آباد کے قریب بحر خزر میں گرائی گئی ہے۔

ان ہی دلچسپیوں اور قدرت کے ان ہی دلفریب منظروں نے اس کوہسار کے متعلق طرح طرح کے خیالات پیدا کر رکھے ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جنت انھی گھاٹیوں میں ہے اور بعض سمجھتے ہیں کہ قدیم دیوزادوں کو تو کیومرث و رستم نریمان کے زورِ بازو نے فنا کر دیا مگر ان کی یادگار میں بہت سی پریاں آج تک تنہائی کے مقامات میں سکونت پذیر ہیں۔ اور بعض سیاحوں کو تو پریوں کے بڑے بڑے ہوش رُبا غول گھاٹیوں سے ناگہاں نکل پڑتے نظر آئے۔ یہ بھی سنا جاتا ہے کہ جو کوئی ناگہاں ان پریوں کے غول میں پڑ جاتا ہے، فوراً مر جاتا ہے۔

مگر پریوں اور قدیم دیووں سے زیادہ ظالم ملاحدہ اور باطنیہ لوگ ہیں جو اس تمام علاقے میں آباد اور پھیلے ہوئے ہیں، اور جو پرائے اصول و عقائد کا مسلمان ان کے ہاتھ میں پڑ جاتا ہے، کسی طرح جان بر نہیں ہو سکتا۔ خصوصاً جمادی الاول، جمادی الثانی اور رجب کے مہینوں میں ان کے مظالم کی دھوم مچ جاتی ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ علاقہائے ترکستان، کرغیز اور استراخان کے مسلمان جب حج کو جاتے ہیں تو جہازوں پر بحر خزر سے بار کرتے ہوئے ارضِ عراق کو جاتے اور پھر وہاں سے خاک پاک حجاز کا ارادہ کرتے ہیں۔ اگرچہ یہاں کے مظالم کی ہر جگہ شہرت ہو گئی ہے اور بہت سے لوگوں نے یہ راستہ چھوڑ دیا مگر پھر بھی بعض بے پروا مسلمان اپنی خوش اعتقادی کے جوش میں آ ہی نکلتے ہیں؛ علی الخصوص آمل اور اس کے مضافات کے حاجیوں کے لیے تو اور کوئی راستہ ہی نہیں۔

یہ سڑک جس کا اوپر ذکر آیا، بہت دور تک پھیلی ہوئی ہے مگر ہمارے پیش نظر صرف وہی حصہ ہے جہاں یہ سڑک نہر ویرنجان کے کنارے کنارے گزر رہی ہے۔ اس مقام سے علاقہ رودبار کے میدان ختم ہو گئے ہیں اور کوہستان کے سخت اور پیچیدہ نشیب و فراز کی ابتدا ہے۔ یہاں سے کچھ آگے بڑ ھ کے سڑک اور طرف گئی ہے اور نہر کوہ البرز کے دامنوں میں چکر کھا کے دشوار گزار اور پیچیدہ گھاٹیوں میں غائب ہو گئی ہے۔

شام کو شائد چند ہی گھڑیاں باقی ہوں گی؛ آفتاب سامنے کی برف آلود چوٹیوں کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اس کی کمزور کرنوں نے جو تھوڑی بہت گرمی پیدا کی تھی، مٹ گئی اور ہوا کے سرد جھونکے جو بلند برفستان پر سے پھسلتے ہوئے آتے ہیں، انسان کے کپکپا دینے کے لیے کافی ہیں۔


اس جگہ پر ایسی حالت میں شمال کی طرف سے دو مسافر سر سے پاؤں تک کپڑوں میں لپٹے اور دو بڑی بڑی گٹھریوں کی صورت بنائے ہوئے آہستہ آہستہ آ رہے ہیں۔ دونوں دو چھوٹے چھوٹے اور تھکے ماندے گدھوں پر سوار ہیں۔ ان کی سست روی اور مجموعی حالت سے خیال ہوتا ہے کہ کسی گاؤں کے غریب ملا یا فقیر ہیں جو امارت اور سپاہیانہ دونوں وضعوں سے جدا کسی دینی غرض اور تقدس کی شان سے مذہبی سفر کو نکلے ہیں۔ مگر نہیں، وہ اور قریب آ گئے تو معلوم ہوا کہ نہ وہ ملا ہیں اور نہ مشائخ بلکہ دو نو عمر شریف زادے ہیں، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ دونوں میں سے ایک مرد ہے اور ایک عورت۔ ان کے لباس و وضع سے چاہے نہ ظاہر ہو مگر بشرے بتائے دیتے ہیں کہ کسی معزز خاندان کے چشم و چراغ ہیں اور ممکن نہیں کہ کسی نامی اور شریف گھرانے سے نہ تعلق رکھتے ہیں، اس لیے کہ موٹے موٹے اور لمبے چوڑے کمبلوں کے نیچے جنہیں سر سے پاؤں تک لپیٹ لیا ہے، دونوں شرفائے آمل کا لباس پہنے ہوئے ہیں۔

مرد جس کی اٹھتی جوانی ہے ایک خوبصورت نوجوان ہے۔یہ ایک اونی کفتان پر بڑا پوستین کا لبادہ پہنے ہے۔ سر پر قدیم لمبی ترکی ٹوپی ہے جو بانس کی تیلیوں سے مخروطی صورت میں بنا کے بکری کی سیاہ کھال سے منڈھ دی گئی ہے۔ ٹوپی پر بڑا عمامہ ہے اور اس کے کئی پیچ سر سے نیچے اتر کے کانوں اور گلے میں بھی لپٹے ہیں۔پاؤں میں موزے اور ایک اونی پائجامہ ہے۔ کمر میں چمڑے کی پیٹی کسی ہے جس میں خنجر لگا ہے اور تلوار لٹک رہی ہے۔ اس نوجوان کے پاس کمان اور تیروں کا ترکش بھی ہے۔ مگر اس عہد قدیم کے یہ ضروری اسلحے گدھے کی زین میں بندھے ہیں۔ اور یہی ایک حربہ ہے جس کے ذریعے سے شکار کر کے یہ دلاور نوجوان اپنے اور اپنی دل ربا ہم سفر کے لیے قوت لایموت حاصل کرتا ہے۔ الغرض ایک گدھے پر تو یہ نوجوان سوار ہے اور دوسرے پر ایک اٹھارہ انیس برس کی پری جمال۔ موٹے موٹے کپڑے اور بھدی پوستین اس کے زاہد فریب حسن کو بہت کچھ چھپا رہے ہیں، مگر ایک دلربا ماہ وش کی شوخ ادائیاں کہیں چھپائے چھپی ہیں! جس قدر چہرہ کھلا ہے، حسن کی شعاعیں دے رہا ہے اور دیکھنے والے کی نظر کو پہلا ہی جلوہ یقیں دلا دیتا ہے کہ ایسی حسین و نازنیں پھر نظر نہ آئے گی۔ ہماری آفت روزگار مہ جبیں ایک زرد ریشمی پائجامہ پہنے ہے، جو اوپر سے نیچے تک ڈھیلا اور پاؤں کے گٹوں پر خوشنما چنت کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ گلے میں دیبائے سرخ کا کرتا ہے اور سر پر نیلے پھول دار اطلس کی خمار۔ لیکن یہ سب کپڑے ایک گرم اور پھولے پھالے پوستین کے اندر چھپے ہوئے ہیں۔ جو چیز کہ اس کے عورت ہونے کو عام طور پر ظاہر کر رہی ہے وہ چھوٹی چھوٹی سینکڑوں چوٹیاں ہیں جو خمار کے نیچے سے نکل کے ایک شانے سے دوسرے شانے تک ساری پیٹھ پر بکھرتی چلی گئی ہیں اور راستے کے نشیب و فراز یا گدھے کی تیز روی سے بار بار کھل جاتی ہیں۔

اس دل ربا لڑکی کے حسن و جمال کی تصویر دکھانا مشکل ہے، مگر غالباً یہ چند باتیں مشتاق دلوں میں، اور آرزو مند نگاہوں کے سامنے اس کے زاہد فریب حسن کا ایک معمولی خاکہ قائم کر سکیں۔ گول آفتابی چہرہ، جیسا کہ عموماً پہاڑی قوموں میں ہوتا ہے، ستے اور کھنچے ہوئے سرخی کی جھلک دینے والے گال، بڑی بڑی شربتی آنکھیں، لمبی نوکدار پلکیں، بلند مگر کسی قدر پھیلی ہوئی ناک، نازک اور خمدار ہونٹ، باریک اور ذرا پھیلی ہوئی باچھیں، چھوٹی سی سانچے میں ڈھلی ہوئی نوکدار ٹھڈی، شرم آگیں اور معمولاً جھکی ہوئی نظروں کے ساتھ شوخ اور بے چین چشم و ابرو؛ اور اس تمام سامان حسن کے علاوہ تمام اعضاء و جوارح کا غیر معمولی تناسب ہر شخص کو بے تاب و بے قرار کر دینے کے لیے کافی ہے۔

یہ دونوں نو عمر مسافر چاروں طرف کے منظروں کو دیکھتے اور مقامی دشواریوں کی وجہ سے دل ہی دل میں ڈرتے ہوئے چلے جاتے ہیں اور خاموش ہیں۔ دن کے آخر میں ہو جانے کے خیال سے ان کے نازک چہرے جنہوں نے ابھی تک تجربے کی پختگی حاصل نہیں کی، پریشان ہونے لگے ہیں، مگر اس پر بھی خموشی کا قفل نہیں کھلتا۔ ناگہاں کسی فوری جذبے سے مغلوب ہو کر نازنین لڑکی نے ٹھنڈی سانس لی اور باریک اور دلفریب آواز میں پوچھا "آج کون دن ہے؟"


نوجوان: (چپکے ہی چپکے کچھ حساب لگا کر) جمعرات!
لڑکی: (حسرت آمیز لہجے میں) تو ہمیں گھر چھوڑے آج پورے آٹھ دن ہوئے۔ (ذرا تامل کر کے) خدا جانے لوگ کیا کیا باتیں کہتے ہوں گے اور کیسی کیسی رائیں قائم کی جاتی ہوں گی۔
نوجوان: یہی کہتے ہوں گے کہ حج کے شوق نے ہم سے وطن چھڑا دیا۔
لڑکی: (پھر ایک آہ سرد بھر کے)مجھے الزام دیتے ہوں گے کہ نا محرم کے ساتھ چلی آئی۔
نوجوان: زمرد! (یہ لڑکی کا نام ہے) اب میں نامحرم نہیں ہوں۔ دو ہی چار روز میں ہم قزوین پہنچ جائیں گے اور وہاں پہنچتے ہی ہمارا نکاح ہو جائے گا۔
زمرد: (پھر ٹھنڈی سانس لے کے)خدا جانے وہاں تک پہنچنا بھی نصیب ہوتا ہے یا نہیں۔
نوجوان: کیوں؟ زمرد: راستے کی دشواریاں مشہور نہی ہیں؛ کوئی خوش نصیب مسافر ہی ہوتا ہو گا جو پریوں کے ہاتھ سے بچ کر نکل جاتا ہو۔ اور ان سے بچ بھی جائے تو ملاحدہ (ملاحدہ یہ قرامطہ اور خاصۃً باطنیہ کا عام لقب تھا) کیوں چھوڑنے لگے۔

زمرد میں اس وقت ایک غیر معمولی تغیر پیدا ہو گیا ہے۔ اس مقام نے اسے کوئی خاص بات یاد دلا دی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ چاروں طرف کے منظر کو ہر طرف مڑ مڑ کر کے دیکھ رہی ہے اور بار بار آہ سرد بھرتی ہے۔ نوجوان نے اس بات کا خیال بھی نہیں کیا اور معمولی لہجے میں کہنے لگا: "ملاحدہ کی طرف سے تو مجھے اطمینان ہے، اس لیے کہ ان کے مشہور نقیب آمل ملا ہبتہ اللہ سے مجھے ایک خط مل گیا ہے، وہ خط ہمیں ایک مجرب تعویذ کا کام دے گا اور اس کے پیش کرتے ہی ہم پر قرمطی کے دست ستم سے نجات پا جائیں گے۔"

یہ باتیں کرتے کرتے دونوں نو عمر مسافر اس مقام پر پہنچے جہاں سے سڑک تو کوہسار کی بلندی پر چڑھنا شروع ہوئی ہے اور نہر اس سے جدا ہو کے دشوار گزار گھاٹیوں اور گھنی خاردار جھاڑیوں میں گھسنے کے لیے داہنی جانب مڑ گئی ہے۔نوجوان نے اپنے گدھے کو آگے بڑھایا ہی تھا کہ زمرد باگ روک کے کھڑی ہو گئی اور کہا: "نہیں حسین!(یہ اس نوجوان کا نام ہے) "ادھر نہیں"

حسین: (حیرت سے زمرد کی طرف دیکھ کر) پھر کدھر؟
زمرد: جدھر یہ نہر گئی ہے۔
حسین: ادھر تو راستہ نہیں۔
زمرد: ہے تم چلو تو سہی۔
حسین: آخر قزوین چلتی ہویا کہیں اور؟
زمرد: نہیں میری منزل مقصود قزوین نہیں، مجھے تو یہ دیکھنا ہے کہ یہ نہر کدھر گئی ہے۔
حسین: اس طرف تو پریوں کا نشیمن ہے۔
زمرد: ہونے دو۔
حسین: سنتا ہوں کوئی ادھر سے زندہ نہیں پھرا۔
زمرد: میں بھی چاہتی ہوں۔
حسین نے تعجب اور حیرت سے زمرد کی صورت دیکھی اور ایک متانت کی آواز سے کہا: "اور وہ حج کی نیت کیا ہوئی؟"
زمرد: ہے، مگر پہلے اپنے بھائی موسیٰ کی قبر پر جا کے فاتحہ پڑھ لوں تو مکہ معظمہ جانے کا ارادہ کریں۔
حسین: تمہارے بھائی کی قبر؟ مگر یہ کسے خبر کہ کہاں ہے؟
زمرد: مجھے معلوم ہے، راستہ بھی جانتی ہوں اور اس مقام کو بھی۔
حسین: (حیرت سے)تم! تم کیا جانو؟
زمرد: خوب جانتی ہوں!
حسین: کیا کبھی آئی تھیں؟


زمرد: نہیں، مگر یعقوب جو بھائی کے مرنے کے بعد خبر لایا تھا۔ اس سے پورا پتہ دریافت کر چکی ہوں۔ پہلی نشانی تو یہی ہے کہ جہاں سے نہر سڑک سے علیحدہ ہوئی ہے، سڑک چھوڑ کے نہر کے کنارے کنارے جانا چاہیے ؛ اور بعد کی نشانیاں آگے چل کر بتاؤں گی"۔
حسین: یعقوب کو کیا معلوم؟ کون کہہ سکتا ہے کہ ان بلند اور پیچ در پیچ پہاڑوں میں کون شخص کہاں اور کیوں کر مارا گیا؟
زمرد: تم نہیں جانتے بھائی موسیٰ اور یعقوب دونوں ساتھ ساتھ تھے ؛ اس مقام پر پہنچ کے نہر کر کنارے کنارے کچھ دور گئے تھے کہ کوہ البرز سے پریوں کا غول اترا۔ ان کے ہاتھ سے بھائی تو مارے گئے مگر یعقوب غش کھا کر گر پڑا۔ اگلے دن جب اسے ہوش آیا تو بھئی کی لاش پڑی پائی۔ انھیں دفن کیا پھر قبر بنا کے اور قبر کے پاس ہی ایک چٹان پر ان کا نام کندہ کر کے واپس آیا۔
حسین: مجھے تو غپ معلوم ہوتی ہے۔ آخر اس کا سبب کہ پریوں نے یعقوب کو تو زندہ چھوڑ دیا اور تمہارے بھائی مارے گئے؟
زمرد: اس کا یہ سبب ہوا کہ بھائی نے ایک پری کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور یعقوب بزدل تھا؛ پری زادوں کو دیکھتے ہی غش کھا کر گر پڑا۔
حسین: پھر ایسے مقام میں تو ہرگز نہ جانا چاہیے۔
زمرد: نہیں حسین، میں ضرور جاؤں گی۔
حسین: فرض کرو کہ ہم وہاں پہنچے اور ہمارے سامنے بھی پریاں اتریں تو؟
زمرد: میں تو اس سے نہیں ڈرتی؛ اگر تمہیں خوف ہے تو نہ چلو۔
حسین: تم اکیلی جاؤ اور میں نہ چلوں!میں جو تمہاری محبت میں ہر وقت جان دیتے کو تیار ہوں!
زمرد: حسین، سنو! میں تمہارے ساتھ نہ آتی۔ یہ مانتی ہوں کہ تم شریف ہو، اور اسی زمانے سے جب کہ ہم دونوں مکتب میں ساتھ پڑھتے تھے، مجھے تم سے محبت ہے، مگر یہ نہ سمجھو کہ ایک شریف لڑکی کو تم فقرہ دے کے گھر سے نکال لائے ہو؛ میں خود اپنے شوق سے آئی ہوں فقط اتنی امید پر کہ بھائی کی قبر پر کھڑی ہو کر دو آنسو بہاؤں گی؛ جب یہ مقصد پورا ہولے گا تو حج کو چلوں گی۔
حسین: زمرد! اپنی جوانی اور اس کم سنی پر ترس کھاؤ اور اس ارادے سے باز آ جاؤ۔
زمرد: نہیں، یہ نہیں ہو سکتا؛ اسی آرزو کے لیے بے عزتی گوارا کی ہے۔
حسین: (مایوسی کی آواز سے) خداوندا۔ اگر جان ہی جاتی ہے تو پہلے میں مارا جاؤں تیری مصیبت ان آنکھوں سے دیکھی نہ جائے گی۔
زمرد: (مسکرا کے)گھبراؤ نہیں، ہم دونوں کی کشش ایک دوسرے کو کھینچ لے گی۔ مارے گئے تو دونوں مارے جائیں گے۔

یہ کہہ کر زمرد نے اپنے گدھے کو نہر ویرنجان کی طرف موڑا؛ دو ہی قدم چلی ہو گی کہ حسین نے پھر روک کے کہا "زمرد ذرا صبر کرو، چلنا ہے تو کل چلنا؛ اب شام ہوا چاہتی ہے پہنچتے پہنچتے رات ہو جائے گی۔"

زمرد: بس اب چلے ہی چلو؛ کہیں آبادی کے ملنے کی تو امید نہیں؛ اور جب جنگل ہی میں ٹھہرنا ہے تو یہاں وہاں دونوں جگہ برابر ہے۔


حسین سے کسی طرح انکار کرتے نہ بنی؛ چل کھڑا ہوا؛ اور دل میں پس و پیش کرتا ہوا زمرد کے ساتھ کوہ البرز کی تیرہ و تاریک گھاٹی میں جا گھسا۔ اب دونوں آہستہ آہستہ چلے جاتے ہیں اور اس سنسان مقام کا رعب دلوں پر اس قدر بیٹھ گیا ہے کہ بالکل خاموش ہیں۔ جوں جوں آگے بڑھتے ہیں جنگل گھنا ہوتا جاتا ہے سردی ساعت بہ ساعت بڑھ رہی ہے۔ سناٹے نے نہر بہنے کی آواز تیز کر دی ہے جس سے اس مقام کے وحشت ناک منظر میں ایک ہیبت بھی پیدا ہو گئی ہے۔ اب راستہ ایسا دشوار ہے کہ گدھوں سے اترنا پڑا۔ دونوں آگے پیچھے چلتے اپنے گدھے کے دہانے ہاتھ میں پکڑے چٹانوں سے بچتے اور جھاڑیوں میں گھستے چلے جاتے ہیں۔ آخر دیر کے سکوت کے بعد حسین نے مرعوب ہو کے کہا: "بے شک دیو و پری ایسے ہی سناٹے کے مقام میں رہتے ہیں۔ انسان کیا معنی یہاں تو جانور کا بھی پتا نہیں۔"

زمرد: ہاں! اور سنتی ہوں اس نہر میں اکثر جگہ پریاں نہاتی اور بال کھولے ہوئے آپس میں کھیلتی اور چھینٹیں اڑاتی بھی نظر آ جایا کرتی ہیں۔
حسین: (چونک کر)ایں! سنسنانے کی آواز کیسی تھی جیسے کوئی چیز سن سے کانوں کے پاس آ کر نکل گئی؟
زمرد: یہ تو مشہور ہے پریوں کے تخت چاہے اڑتے نظر نہ آئیں مگر ان کے سن سے نکل جانے کی آواز ضرور سنائی دیتی ہے۔
حسین: یہ بھی ممکن ہے، مگر میں سمجھتا ہوں کہ کوئی جانور تھا۔
زمرد: جانور ہوتا تو دکھائی نا دیتا!
حسین: اگرچہ ابھی آفتاب نہیں غروب ہوا، مگر یہاں تم دیکھ رہی ہو کہ شام سے بھی زیادہ اندھیرا ہے۔ ایسے دھندلکے میں بعض اوقات الو یا بڑے بڑے چمگادڑ اس طرح سناٹے کی آواز سے اڑتے ہوئے نکل جاتے ہیں۔
زمرد: لیکن اصل میں یہ بھی پری زاد ہیں جو مختلف جانوروں کی صورت میں رات کو نکلتے ہیں۔
حسین: ہو گا!(انتا کہہ کر اس نے گرد کے سین کو دہشت اور بزدلی کی نگاہوں سے دیکھا اور نہایت ہی پریشانی کی آواز میں کہا) شام ہوا ہی چاہتی ہے اور تمہارے بھائی کی قبر کا کہیں پتا نہیں۔
زمرد: مگر میں تو بھائی کی قبر تک پہنچے بغیر دم نہ لوں گی۔
یہ کہتے ہی ایک نہایت ہی تاریک گھاٹی نظر آئی جس میں نہر تو گئی ہے مگر دونوں جانب ایسی چکنی اور کھڑی چٹانیں ہیں کہ انسان کا گزرنا بہت ہی دشوار ہے۔ اس گھاٹی کی صورت دیکھتے ہی زمرد ایک شوق اور بے خودی کی آواز میں چلا اٹھی: "ہاں دیکھو، یہ دوسری علامت ہے۔ اسی میں سے ہوکے راستہ گیا ہے۔"
حسین: مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ ادھر سے ہم جائیں گے کیونکر؟
زمرد: جس طرح بنے، جاؤں گی ضرور!
حسین: اور یہ گدھے؟ زمرد: ان کو یہیں چھوڑ دو واپس آ کے لے لینا۔

حسین سے اس مستقل مزاجی اور دھن پر زمرد کو تعجب کی نگاہ سے دیکھا، پھر گدھے درختوں سے باندھے اور دونوں چٹانوں سے چمٹتے اور ہاتھوں سے پتھروں کے سروں اور خمروں کو پکڑتے آگے روانہ ہوئے۔کوئی دو گھڑی یہ محنت کا سفر کیا ہو گا کہ گھاٹی ختم ہو گئی جس سے نکلتے ہی دونوں نے دیکھا کہ نہر ویرنجان اس گھاٹی سے گزر کے یکایک ایک نہایت ہی فرح بخش مرغ زار میں بہنے لگی ہے۔ یہ عجیب لطف کا مقام تھا۔ قدرت نے خود ہی چمن بندی کر دی تھی۔شگفتہ اور خوش رنگ پھولوں کے تختے دور دور تک پھیلتے چلے گئے تھے۔ نغمہ سنج طیور بھی یہاں کثرت سے نظر آئے جو ہر طرف شاہدان چمن کے حسن و جمال پر صدقے ہوتے پھرتے تھے۔شام ہو رہی تھی اور یہ جوش میں بھرے ہوئے عاشقانِ شاہد گل اپنے معشوقوں کو الوداع کہہ رہے تھے۔ یہ سماں دیکھتے ہی زمرد نے خوش ہو کے کہا: "اب ہم اپنی منزل مقصود کو پہنچ گئے ہیں۔ اسی وادی میں بھائی موسیٰ مارے گئے اور کہیں یہیں ان کی قبر بھی ہو گی۔"


یہ کہہ کے زمرد ایک نازک بدن اور چست چالاک ہرنی کی طرح چاروں طرف دوڑی اور ایک بڑے سے پتھر کے پاس ٹھہر کے چلائی: "آہ!یہی میرے بھائی کی قبر ہے۔"

اس آواز کے سنتے ہی حسین بھی ادھر دوڑا گیا اور دیکھا کہ ایک چٹان پر موسیٰ کا نام کھدا ہوا ہے اور اس کے قریب ہی چند پتھروں کو برابر کر کے ایک قبر کی صورت بنا دی گئی ہے۔

دونوں نے یہاں کھڑے ہو کر فاتحہ خوانی کی مگر زمرد کے دل پر حسرت و اندوہ کا اس قدر غلبہ ہوتا جاتا تھا کہ فاتحے کر ختم ہونے سے پہلے ہی وہ گر پڑی اور قبر سے لپٹ کر زار و قطار رونے لگی۔ حسین نے بہت کچھ تسلی دی، نہر سے پانی لا کے منہ دھلایا اور رات کے اندھیرے میں اپنی حور وش محبوبہ کو گود میں لے کے بیٹھا اور سمجھانے لگا۔

زمرد: (ہچکیاں لے لے کے) حسین مجھے اپنی زندگی کی امید نہیں؛ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہیں مروں گی۔ ہاتھ پاؤں سنسنا رہے ہیں، کلیجے میں میٹھا میٹھا سا درد ہے اور دل بیٹھا جا رہا ہے۔ مگر مرنے سے پہلے تم سے ایک وصیت ہے۔ مر جاؤں تو میری لاش کو بھی انھیں پتھروں کے نیچے دبا دینا جن کے نیچے بھائی موسیٰ کی ہڈیاں ہیں۔
حسین: (نہایت مستقل مزاجی سے آنکھوں ہی آنکھوں میں آنسو پی کر) یہ وصیت اگر پوری ہونے والی ہو گی تو کسی اور کے ہاتھوں سے پوری ہو گی۔ میں تمہارے بعد زندہ نہیں رہ سکتا۔ اور جس کسی کے ہاتھ سے یہ وصیت پوری ہو گی وہ تمہارے ساتھ میری ہڈیوں کو بھی ان ہی پتھروں کے نیچے دبائے گا۔
زمرد: (خوشامد کے لہجے میں) نہیں حسین ایسا نہ کرنا۔ تم کو ابھی نہیں معلوم کہ مجھے کیا چیز یہاں کھینچ لائی ہے۔ نہ یہ کہہ سکتی ہوں کہ بھائی کی محبت ہے نہ یہ کہہ سکتی ہوں کے یعقوب کے بیان میں کوئی جادو تھا، مگر جس روز اس نے بھائی موسیٰ کی حسرت نصیب داستان سنائی اس کے دوسرے ہی دن میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے بھائی اس وادی میں کھڑے ہیں۔ خواب ہی میں انھوں نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے اپنی طرف بلایا اور تاکید کر کے کہا کہ میرے قبر پر آ کے فاتحہ پڑھ۔مرحوم بھائی نے کچھ ایسی مؤثر وضع سے بلایا تھا کہ ان کی اُس وقت کی صورت اِس وقت تک میری آنکھوں کے سامنے پھر رہی ہے۔ اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ میں یہاں بھائی کی بلائی ہوئی آئی ہوں۔
حسین: (وفورِ گریا سے بے اختیار ہو کر اور ایک بے انتہا جوش کے ساتھ)خیر تمھیں تو انھوں نے خواب میں فقط بلایا تھا اور مجھے تم خود ساتھ لائی ہو۔
زمرد: ہاں میں تم کو ساتھ لائی اور اسی سبب سے کہ اس دنیا میں مجھے تم سے زیادہ کوئی عزیز نہیں۔ میری تمنا تھی اور ہے کہ تمہارے پہلو میں اور تمہاری آنکھوں کے سامنے جان دوں؛ اور اس کے بعد تم گھر جاؤ اور وہاں عزیزوں اور شہر کے دیگر شرفاء کی نظر میں جو کچھ بے عزتی ہوئی ہے اس کو دور کرو اور میری خبر مرگ کے ساتھ سب کو جا کے بتا دو کہ میں نے کیوں اور کہاں جان دی۔ اور مرتے وقت تک کیسی پاک دامن تھی۔ (گلے میں بانہیں ڈال کے) حسین! میری آرزو ہے کہ تم زندہ رہو اور میرے دامن سے بدنامی کا داغ دھوؤ۔
حسین: (ایک نالہ جانکاہ کے ساتھ) خدا نہ کرے کہ میں تمہاری خبر مرگ لے جاؤں!

زا کہاں ایک پہاڑی کی ڈھالو سطح پر کچھ روشنی نظر آئی، جس پر پہلے زمرد کی نظر پڑی اور اس نے چونک کے کہا: "یہ روشنی کیسی؟" حسین نے بھی اس روشنی کو حیرت سے دیکھا ور کہا: "خدا جانے کیا بات ہے، اور دیکھو ادھر ہی بڑھتی چلی آتی ہے۔ اس رات کی تاریکی میں یہاں آنے والے کون لوگ ہو سکتے ہیں؟"

دونوں عاشق و معشوق روشنی کو گھبرا کے اور ساعت بہ ساعت زیادہ متحیزہو کے دیکھ رہے تھے کہ وہ بالکل قریب آ گئی۔ بڑی بڑی پندرہ بیس مشعلیں تھیں اور ان کے نیچے حسین و پری جمال عورتوں کا ایک بڑا غول، جن کی صورت دیکھتے ہی زمرد اور حسین دونوں نے ایک چیخ ماری؛ دہشت زدگی کی آواز میں دونوں کی زبان سے نکلا "پریاں" اور دونوں غش کھا کے بے ہوش ہو گئے۔


دوسرا باب: "بہ مے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید"

صبح کا وقت تھا اور نسیم کے جھونکے چل رہے تھے کہ مرغانَ سحر نے اپنے نشیمنوں سے نکل نکل کے حسین کو خواب بے ہوشی سے جگایا۔ خمار کی سی کروٹیں بدل کے آنکھیں ملتا ہوا اُٹھا اور چاروں طرف مڑ مڑ کے دیکھا مگر زمرد کا کہیں پتا نہ تھا۔ جب معشوقۂ دل ربا کی پیاری اور محبت بھری صورت کسی طرف نظر نہ آئی تو کلیجا دھک سے ہو گیا۔ ناتوانی اور سر پھرنے کی وجہ سے کئی دفعہ گر کے اٹھا اور لڑکھڑاتا ہوا چلا۔ آس پاس ہر جگہ دیکھا، ہر طرف نظر دوڑا دوڑا کے ڈھونڈا لیکن نازنین و ناز آفریں زمرد کا کہیں نام و نشان نہیں۔ آخر ہر طرف سے مایوس ہو کے اور جستجو میں تھک کے موسیٰ کی قبر کے پاس آ کے بیٹھ گیا اور نہایت ہی حسرت و اندوہ کے عالم میں آنسو بہا بہا کے کہنے لگا: "پیاری زمرد تو کہاں گئ؟ آہ! کیا آسمان و زمین کھا گئے یا رات کی پریاں تجھے بھی ساتھ لے گئیں۔"

اتفاقاً موسیٰ کی قبر پر نظر جا پڑی اور یہ دیکھ کے متعجب ہوا کہ کچھ بدلی ہوئی سی ہے اور دو ایک پتھر زیادہ ہیں جو کل شام نہ تھے۔ حیرت کم نہیں ہوئی تھی کہ اس چٹان پر نظر گئی جس پر موسیٰ کا نام کندہ تھا اور اس کتابے میں بھی کچھ تغیر دیکھ کے غور سے پڑھنے لگا۔ کسی قدر بلند آواز میں اس کی زبان سے نکلا: "موسیٰ و زمرد" اور اس کے ساتھ ہی چیخ مار کے وہ پھر سے بے ہوش ہو گیا۔ غم و اندوہ کے فوری جھٹکے پر طبیعت پھر غالب آئی، ہوش آیا اور دل میں کہا "افسوس وہی ہوا جو زمرد کہتی تھی۔ وہ مر گئی اور میں زندہ ہوں۔آہ! پریاں بڑی ظالم تھیں، اسے مار ڈالا اور مجھے نیم جان چھوڑ گئیں۔ آہ! وہ تو میری جان تھی پھر اس کے بغیر میں کیوں زندہ ہوں؟"

یہ کہہ کے اس چٹان سے سر ٹکرانے لگا جس پر دونوں بہن بھائیوں کے نام کندہ تھے۔ دل میں آئی کہ قبر کھول کے اپنے آپ کو بھی اس میں دفن کر دے۔ بلکہ اس ارادے سے چلا تھا کہ مذہب کے فرشتے نے کان میں کہا: "یہ دین کے خلاف اور مرنے والوں کی توہین ہے۔" فرشتۂ غیب کی یہ آواز سنتے ہی اس نے زور سے چلاّ کے کہا: "تو آہ پھر میں کیا کروں؟" اور یہ کہہ کے زمیں پر گرا اور تڑپنے لگا۔دیر تک تڑپنے اور نالہ و زاری کے بعد اُٹھا اور دوڑ کے موسیٰ کی قبر سے لپٹ گیا جسے اب وہ زمرد کی تربت سمجھتا ہے، اور جس طرح کوئی کسی زندہ شخص کی طرف متوجہ ہو کے باتیں کرتا ہے اسی طرح اس قبر کی طرف خطاب کر کے کہنے لگا:

"پیاری زمرد مرنا میرے اختیار میں نہیں؛ خودکشی حرام ہے اور جینا بے سود و بے مزہ، لیکن کب تک؟ مرنا برحق ہے اور موت ایک دن آنی ہی ہے، پھر اس کا انتظار اسی جگہ کیوں نہ کیا جائے زندگی کے ان باقی دنوں میں تیری قبر میری مونس و جلیس ہو گی اور تیرا خیال میرا بے وفا معشوق۔ بس اب یہیں رہوں گا اور یہیں مروں گا۔ ہائے جس طرح تیرے بھائی نے تجھے اپنے پاس بلایا اسی طرح تو مجھے بلا لے۔ تیری وصیت مجھ سے نہیں پوری ہو سکتی۔ اب میں یہیں کا ہوں۔ کیا عجب کہ ان پریوں کا پھر کبھی ادھر گزر ہو؛ وہ بڑی آسانی سے مجھے تیرے پاس پہنچا دیں گی۔"

دل میں یہ فیصلہ کر لینے کر بعد حسین کو کسی قدر تسکین سی ہو گئی۔ قبر پر سے اٹھ کے نہر کے کنارے گیا؛ پر نم آنکھوں پر پاک و صاف پانی کے چھینٹے دیے، وضو کیا اور قبر کے برابر کھڑے ہوکے چند نوافل ادا کیں۔ پھر بیٹھ کے انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ زمرد کے لیے دعائے مغفرت کرنے لگا اور ہمیشہ کے لیے یہیں کی سکونت اختیار کر لی۔


حسین نے کچھ ایسے مضبوط دل سے اپنے لیے یہ زندگی اختیار کی تھی اور موت کی دعا مانگنے یا جان ستاں پریوں کے انتظار میں اسے کچھ ایسا مزا ملنے لگا تھا کہ اب اسے نہ وطن یاد ہے اور نہ وہ ارادہ حج۔ زمرد کا خیال اس کا قبلہ ہے اور وہ مشترک قبر اس کی مسجد۔ گھاس پات یا کبھی کبھی چڑیوں کے شکار پر زندگی بسر ہوتی ہے۔اور پیامِ مرگ کا ہر گھڑی انتظار رہتا ہے۔ جب کبھی اندوہ و غم کا زیادہ ہجوم ہوتا ہے تو اپنی نازنین معشوقہ کی قبر سے لپٹ کے اور رو دھو کے اپنے دل کی بھڑاس نکالتا ہے۔

اس حالت میں رہتے اور موسیٰ اور زمرد کی تربت کا مجاور بنے اسے چھ مہینے گزر گئے۔ جاڑوں کا پورا موسم ان پہاڑوں پر بسر ہوا، جہاں ایک عرصے تک ان مظلوم شہیدان حسرت کی قبر پر برف کی چادر چڑھی رہی۔ موسم کی سخت سردی اور برف باری اس نے صبر شکر کے ساتھ جھیل لی۔ اب بہار کا زمانہ ہے اور ہر طرف پہاڑوں کے پہلو، نشیبی وادیاں اور یہ سارا مرغ زار پھولوں سے بھرا ہوا ہے۔ ہوا کے جھونکے ہمیشہ معطر اور مشکبار رہتے ہیں اور دل کا ولولہ ساعت بہ ساعت زیادہ بڑھتا جاتا ہے۔ حسین کا غم اب پہلے سے زیادہ جوش و خروش پر ہے۔اب اس بہار کو دیکھ کے اسے پریوں کے آنے کا زیادہ یقین ہے، اور ان ظالم پری وشوں کے انتظار میں بے صبری اور بے چینی پیدا ہو چلی ہے: "افسوس! موسیٰ اور زمرد کا کام تو پریوں نے ایک ہی دن میں تمام کر دیا اور میں ایسا بدنصیب ہوں کہ انتظار ہی انتظار میں چھ مہینے گزر گئے اور وہ کیوں ادھر کا راستہ ہی بھول گئیں۔"

ایک دن صبح کو سو کے اٹھا تو خلاف معمول زمرد کی قبر پر ایک کاغذ پڑا ملا۔ حیرت و شوق سے دوڑ کے اسے اٹھایا اور پڑھاتو چند لمحے تک نقشِ حیرت بنا کھڑا رہا بار بار تحریر کو غور کر کے دیکھتا اور کہتا: "نگاہ تو نہیں غلطی کر رہی؟"۔ مگر ساعت بہ ساعت یقین پختہ ہوتا جاتا کہ خاص زمرد کے ہاتھ کی تحریر ہے۔ اس خط کی عبارت یہ تھی:

"حسین! میں اس عالم میں نہایت خوش ہوں۔ یہاں کی مسرتیں تیرے وہم و قیاس سے بالا ہیں۔ میں اسی باغ فردوس میں ہوں جس کا قرآن اور تمام کتب سماوی میں ہر مسلمان اور خدا شناس سے وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ سب لذتیں خدا کی مہربانی سے مجھے حاصل ہیں۔ زہرہ و مشتری جن کے حسن کی شعاعیں تجھے دور سے نظر آتی ہیں میرے مونس و جلیس ہیں۔ ان کا قصہ تو سن چکا ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ اس عالم نور اور اس مرکز لاہوت کی مسرتیں کتنی دل فریب ہیں کہ انھیں ہاروت و ماروت کی جاں بازی کا خیال بھی نہیں آتا۔مگر میں یہاں بھی تیرے لیے حیران اور تجھ سے ملنے کی مشتاق ہوں۔ فرشتوں اور دیگر آسمانی روحوں کے ذریعے مجھے برابر معلوم ہوتا رہا کہ تو میری قبر کا مجاور بنا بیٹھا ہے۔ وہ مادی کشش جو ایک عرصے تک روح کو عالم عناصر کی طرف متوجہ رکھتی ہے، مجھے بارہا میری قبر پر لے گئی۔ میں نے تجھے اپنی قبر سے لپٹ کے روتے دیکھا اور خود بھی گھنٹوں تیرے ساتھ کھڑی ہو کے رویا کی۔مگر افسوس نہ تیری دنیاوی آنکھیں میری صورت دیکھ سکتی تھیں اور نہ تیرے مادی کان میرے رونے کی آواز سن سکتے تھے۔ تو ناحق موت کا منتظر ہے ؛ ابھی تجھے بہت دنوں دنیا میں رہنا ہے۔ وہ وقت دور ہے جب کہ مجھے تیرے وصال کی خوشی حاصل ہو گی۔ وہ باغ جہاں تو ہے پریوں کا نشیمن تھا مگر تیرے سبب سے وہ وہاں نہیں آ سکتیں اور چوں کہ ابھی تیرے مرنے کا وقت نہیں آیا، لہٰذا تجھے قتل بھی نہیں کر سکتیں۔۔ یہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے وہ کسی طرح اپنے تفریح گاہ کو تجھ سے خالی نہیں کروا سکتیں۔ مجبوراً خود ان ہی کو اپنا نشیمن چھوڑ دینا پڑا۔ افسوس تو نے میری وصیت پر عمل نہ کیا۔ بدنام کرنے والے اور میرے نام پر تہمت لگانے والے اسی طرح ذلیل کر رہے ہیں۔ جن کے الزاموں کا طومار مجھے بہت ستاتا ہے۔ اسی وجہ سے میں تجھے پھر اپنی وصیت یاد دلاتی ہوں اور نہایت ہی آرزو کے ساتھ کہتی ہوں کہ جا اور میری وصیت پوری کر۔

تجھ سے دور اور تیری دل دادہ — زمرد

حسین نے ہزارہا دفعہ اس خط کو پڑھا۔ اس کے طرز تحریر اور الفاظ کوٍ قریب سے اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے دیکھا، کسی طرح سمجھ میں نہ آتا تھا کہ مضمون کیا ہے۔ایک دفعہ گھبرا کے بولا: "کیا زمرد زندہ ہے "پھر آپ ہی کہنے لگا، "نہیں، یہ ممکن نہیں اور وہ خود ہی لکھ رہی ہے کہ دوسرے عالم میں ہے اور فردوسَ بریں کی سیر کر رہی ہے۔ پھر یہ خط کیوں کر آیا اور کون لایا۔" دیر تک غور کرتا رہا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔ پہلے دل میں آئی کہ زمرد کی ہدایت کے بموجب واپس چلا جائے مگر پھر آپ ہی بولا؛ "نہیں، یہ بالکل بے حاصل ہو گا۔ اول تو وہاں تک جایا کس سے جائے گا اور با لفرض اگر جاؤں بھی تو اس قصے کا یقین کس کو آئے گا؛ سب مجھے جھٹلا کے بے وقوف بنائیں گے۔ نہیں میں نہیں جا سکتا۔ اب تو میں عہد کر چکا کہ زندگی کے باقی ماندہ دن اسی قبر اور زمرد کی یادگار کے پاس بسر کروں گا۔ زمرد کہتی ہے کہ ابھی مجھے بہت دنوں ایڑیاں رگڑنا ہیں؛ بہتر؛ رگڑوں گا، اور جہاں تک جھیلا جائے گا جھیلوں گا۔ اس جگہ ایڑیاں رگڑنا بھی زمانے کی خاک چھاننے سے اچھا ہے۔افسوس زمرد دل میں خفا ہو گی کہ اب بھی اس کی وصیت نہ پوری کی، لیکن میں اپنے عذرات پیش کیے دیتا ہوں۔ جو فرشتے میری روز روز کی خبر اس تک پہنچاتے ہیں، میرا عذر بھی اس کے گوش گزار کر دیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت وہ کھڑی مجھے دیکھ رہی ہو۔ میری باتیں اپنے کانوں سے سن رہی ہو۔ممکن کیا معنی بالکل قریں قیاس ہے، اب اپنے خط کا جواب سننے ا س کی روح ضرور یہاں آئی ہو گی؛ ہاں تو جو کچھ کہنا ہے اسی سے کیوں نہ کہہ دوں۔"

یہ خیال اس کے دل میں جم گیا اور زمرد کی قبر کی دیکھ دیکھ کے یوں کہنا شروع کیا:

"پیاری زمرد! نہ میں اس عالم نور میں ہوں جس میں تو ہے اور نہ میرے پاس وہ نورانی نامہ بر ہیں جو مجھ خاکی پیکر کا خط تجھ تک پہنچا دیں۔ اپنی نورانی اور نوری توجہ سے کام لے اور خود میری زبان سے میرا عذر سن۔ او حور وش اور خود مقبولِ الٰہی نازنیں! او غواص دریائے رموز وحدت و کثرت! کیا عجب کہ اپنے نور اور تجرد کی آنکھوں سے تو اس وقت میری ستم زدگی کا تماشا دیکھ رہی ہویا یہ میری آہ و زاری کی جگر دوز آواز تیرے روحانی کانوں تک پہنچ رہی ہو۔ زمرد! مجھے ان لوگوں کے پاس نہ بھیج جن کے فہم و ادراک سے تیری نورانیت اور تیری مقبولیت اور معصومیت کا قصہ بالا تر ہے۔ وہ میرے کہنے کو سچ نہ مانیں گے، لہٰذا اپنے عشق میں مجھے اس ذلت و رسوائی سے بچا اور اگر بارگاہ لم یزل میں تیری آواز کچھ بھی اثر رکھتی ہو تو مجھے کوشش کر کے اپنے پاس بلا۔ ان پریوں کو بھیج اور جلدی بھیج کہ اپنے تفریح گاہ کو مجھ سے خالی کر لیں۔ میری روح تیرے شوق میں ایک ذبح کیے ہوئے طائر کی طرح تڑپ رہی ہے اور اس مادی پنجرے سے نکلنے کے لیے پھڑکتی ہے۔ او محبت والی نازنین! مجھے کہیں اور نہ بھیج بلکہ اپنے پاس بلا۔"


اس قسم کے خیالات ظاہر کرتے ہوئے حسین کا جوش اس قدر بڑھ گیا کہ بے تاب ہو کے زمین پر گرا اور لوٹنے اور تڑپنے لگا۔ اور جب ناتوانی زیادہ ہوئی تو قبر سے لپٹ کر بے ہوش ہو گیا۔ اس اس خط نے اس کا جوش بڑھا دیا تھا اور اس کے دن پہلے سے زیادہ غم و اندوہ میں گزر رہے تھے۔ زمرد نے عالم سروشستان سے جو مراسلت کی تھی اس نے دل کے جذبات یکایک ابھار دیا تھا۔ روز مینونشین معشوقہ کو خواب میں دیکھتا اور روز ایک نیا خیال پیدا ہوتا۔ شاید عالم آخرت کا اتنا علم الیقین کسی مسلمان کو کم ہو گا جتنا کہ فی الحال حسین کو تھا۔دنیا ا س کی نظر میں ہیچ تھی اور اپنے آپ کو عالم نور و ظلمت کے مابین ایک برزخ میں پاتا اور بے صبری و خود فراموشی کے ساتھ چاہتا تھا کہ کسی طرح اس مادی اور جسمانی جامے کو چاک کر کے عالم نور میں جا پہنچے۔جواب دیے کو بھی ایک مہینہ ہو گیا، جس کی ہر گھڑی زمرد کے نئے خط کے انتظار میں گزری تھی، آخر انتظار کا زمانہ ختم ہوا ور ایک اور خط ملا جس کا مضمون یہ تھا:

اے محبوس ظلمت کدہ ارض! میری جستجو میں تو حد سے گزرتا جا تا ہے۔ اور یہ نہ سمجھ کہ مجھ پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ میرے تعلقات تیرے ساتھ روحانی تھے۔ اور یہی سبب ہے کہ اس عالم میں بھی جہاں ہر طرف مسرتیں ہجوم کیے ہوئے ہیں اور خداوند جل و علا نے ایک خاص بعد از فہم و ادراک لذت میرے دل میں پیدا کر دی ہے میں تیری طرف سے اپنا خیال نہیں ہٹا سکتی۔ تیری یاد میں یہ روحانی لذتیں بھی میرے دل سے غم کا کانٹا نہیں نکال سکتیں۔

خیر اب تو نے پورا امتحان دیا ہے اور کوئی چیز تیرے دل سے میرا خیال نہیں نکال سکتی۔ تو مایوس نہ ہو اور مجھ سے ملنے کا سامان کر۔ یاد رکھ کہ یہ وہ جگہ نہیں ہے جہاں تو مجھے پا سکے گا۔ میں تجھ سے قریب بھی ہوں اور دور بھی ہوں لیکن جس دروازے سے تو میرے پاس آ سکے گا وہ بہت فاصلے پر ہے اور وہاں تک تو بڑی محنت و ریاضت سے پہنچ سکے گا۔ ا س کام کے لیے تجھے نفس کشی و ریاضت بھی کرنا ہو گی اور بڑے بڑے سفر بھی کرنا پڑیں گے۔ اس طرح بے مرشد وہ رہبر پہاڑوں سے ٹکرانا بے سود ہے، اور نہ اس رونے دھونے سے کچھ ہو گا۔ اگر مجھ سے ملنے کا سچا شوق رکھتا ہے تو اس وادی سے نکل اور کوہ جودی کی مغربی گھاٹی میں ایک بڑا غار ہے جس میں بڑے بڑے خدا شناس لوگ چلہ کشی کر چکے ہیں۔ لوگ نہیں جانتے مگر مجھے یہاں آ کے معلوم ہوا کہ جس غار میں جناب ابراہیم علیہ اسلام نے کواکب کے طلوع و غروب سے نسخ کر کے خدا کو پہچانا تھا، وہ یہی غار ہے، اب لوگ اس غار کو ارض شام میں بتاتے ہیں لیکن یہ صریح جھوٹ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کا بچپن شام میں نہیں گزرا بلکہ اس سرزمین میں جہاں ان کا وطن تھا اور جہاں نوح علیہ اسلام کی کشتی ٹھہرنے کے بعد ان کی نسل سکونت پذیر ہو گئی تھی۔ اس غار میں تو چالیس دن تک بیٹھ کے چلہ کھینچ اور کوشش کر کہ اس مدت میں ہر چوتھے دن تھوڑی سی نباتی قوت لا یموت پر زندگی بسر کرے۔ یہ بھی ضروری ہی کہ پورے چلے بھر میں صرف ایک صورت تیرے سامنے ہو اور صرف ایک خیال تیرے دل میں۔وہ صورت تو میری ہو اور وہ خیال یہ ان مرشد سے ملنے کا جن کے مریدوں میں شامل ہونے کو تو غار سے نکل کے روانہ ہو گا۔ اس چلے کی تنہائی میں تو اکثر دیکھے گا کہ میں تجھے اپنی طرف بلا رہی ہو؛ مگر خبردار اس خیالی پیکر کے دھوکے میں نہیں آنا۔ کہیں ذرا بھی تیرے قدم کو لغزش ہوئی تو سمجھ لے کہ مجھ سے ملنے کی کوئی امید نہیں۔ چالیس دن کے بعد پچھلی رات کو اس غار اور کوہ جودی کی گھاٹیوں سے نکل کے سرزمین شام کو روانہ ہو اور بغیر اس کے کہ کسی اور جگہ قیام کرے، بہ خط مستقیم شہر خلیل میں جا۔ وہاں کے مشہور تہ خانے میں حضرت یعقوب و یوسف علیہم اسلام کے جنازے رکھے ہوئے ہیں۔ لوگوں کی آنکھ بچا کے اتر۔ لوگ تجھے روکیں گے مگر ایسی کوشش کر کہ نگہبانوں اور مجاوروں کو خبر نہ ہو اور تو اندر پہنچ جائے۔ چالیس دن تک ان دونوں جنازوں کے درمیان میں بیٹھ کے چلہ کھینچ۔ پھر وہاں سے نکل کے شہر حلب کو جا۔ وہاں محلہ ارامنہ کے عقب میں تجھے ایک چھوٹی سی مسجد ملے گی جو مسجد الشاسمین کہلاتی ہے۔ اس مسجد میں جا کے ٹھر۔ دوسرے ہی دن نماز فجر کی جماعت میں ایک شخص آئے گا جو صوف کے کپڑے پہنے ہو گا۔ اس کے بال لمبے ہوں گے اور ایک سیاہ کملی میں اپنا سارا جسم چھپائے ہو گا۔اس شخص کی چھوٹی ڈاڑھی میں نصف سے زیادہ بال سفید نظر آئیں گے اور اس کا عمامہ سبز ہو گا اس لیے کہ سادات بنی فاطمہ سے ہے۔اس نورستان میں اگرچہ وہ کسی اور معزز خطاب سے یاد کیا جاتا ہے اس عالم عناصر میں اس کا نام الشریف علی وجودی ہے۔ یہ شخص اگرچہ بالکل منکسرانہ مزاج و وضع کا نظر آئے گا مگر اس کی آنکھوں سے ریاضت و نفس کشی اور جذبات روحانی زیادہ ہونے کی وجہ سے شعلے نکلتے ہوں گے۔ خوب یاد رکھ کہ جب تک تو شریف علی وجودی کے سامنے نہ جا پہنچے گا وہ تیری طرف نہ توجہ کریں گے۔ ان بتائی ہوئی نشانیوں سے تو ان کو پہچان لینا اور ان سے حق کا خواستگار ہونا۔یہی شخص تجھ کو مجھ سے ملا سکتا ہے اور اسی کے ہاتھ میں ہماری کامیابی ہے۔ اگر میرا شیدا اور میرا آرزومند ہے تو جب تک مقصد نہ بر آئے شیخ کی خدمت اور غلامی کرنا۔ اگر تو پورے ایک سال تک شریف علی کی خدمت میں رہے گا تو کوئی ایسا موقع ضرور پائے گا جب کہ وہ ایک جوش اور ولولے میں انسان کو ملاء اعلیٰ کی سیر کر دینے کا دعوی کریں گے۔ یہ دعویٰ سنتے ہی ان کے قدموں پر گر کے اپنی دلی آرزو ظاہر کرنا؛ وہ بے شک منظور کریں گے۔ مگر اس کا خیال رہے کہ شیخ کے ہر حکم کی تعمیل خواہ تیری سمجھ آئے یہ نہ آئے بے عذر اور بلا حجت کرنا۔

"بہ مے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید"

اگر یہ سب مراحل تو نے طے کر لیے اور شیخ کی اطاعت میں پوری سرگرمی اور گرم جوشی دکھا دی تو جان لے کہ میرا آغوش تیرے لیے کھلا ہوا ہے۔ تجھ سے زیادہ میں تیرے لیے حیران ہوں۔بس اب جلدی اس وادی اور میری قبر کو چھوڑ اور مجھ سے ملنے کی کوشش میں استقلال و مستعدی دکھا۔

تیری دیدا اور مشتاق

زمرد


حسین اپنے جوش محبت اور وطن و احباب سے متنفر ہو جانے کی وجہ سے زمرد کی پہلی وصیت اور اس کے بعد گزشتہ خط پر عمل نہیں کر سکتا تھا مگر اب اس خط کے بعد ممکن نہ تھا کہ ایک گھڑی بھر کے لیے بھی وہ اس وادی میں ٹھہر سکے۔ زمرد کی محبت اور وفاشعاری یاد آئی، پلے نہایت ہی جوش و خروش کے ساتھ زمرد کی قبر سے رخصت ہوا پھر خط کو کئی بار چوم کے اور آنکھوں سے لگا کے سینے میں دل سے لگا کے رکھا اور کمر باندھ کے چل کھڑا ہوا۔ تنگ و تاریک گھاٹی سے بہ ہزار دشواری سنبھل سنبھل کے نکلا اور اسی مقام پر پہنچا جہاں اپنے اور زمرد کے گدھوں کو درختوں سے باندھ کر چھوڑ گیا تھا۔دونوں گدھے بندھے ہی بندھے سوکھ سوکھ کے سردی و برف باری کے صدمے اٹھا اٹھا کے مر گر گئے تھے۔ ان کی ہڈیاں درخت نے نیچے پڑی ہوئی تھیً۔ مگر یہ دیکھ کے وہ حیران ہوا کی قدیم گدھے کے بدلے اب ایک نیا اور تازہ دم گدھا اُسی درخت میں بندھا اور کسا کھڑا ہے۔ خلاف امید اس سواری کو پا کر اس نے خداوند کریم کا شکریہ ادا کیا جس نے اس عالم نور کے بہت سے رموز سے اسے اسن دینا میں ہی آشنا کر دیا تھا۔ اور آگے کی راہ لی۔ جہاں تک راستہ خراب اور پیچیدہ تھا وہیں تک تو وہ گدھے کا دہانہ پکڑے ہوئے پاپیادہ گیا اور جب صاف اور کشادہ زمین مل گئی تو اس خدا کی دی ہوئی سواری پر سوار ہو کے سیدھا مغرب کی طرف چل کھڑا ہوا۔ چونکہ اس کوہستان کا سلسلہ بھی مشرق سے مغرب کو گیا ہے لہٰذا اس کے دام ہی دام میں بادیہ پیمائی شروع کی اور دو مہینے کی دشت نوردی کے بعد علاقہ آذر بائیجان کے شہر تبریز میں جا پہنچا۔ جہاں سے کوہ جودی دس بارہ دن کی مسافت پر ہے۔ تبریز ایسا با رونق شہر تھا کہ حسین کے دل میں آئی دو دن ٹھہر کے سیر کر لے مگر زمرد کی تاکید یاد آئی اور بغیر اس کے کہ کارواں سرا میں کمر بھی کھولی ہو، آگے کی راہ لی اور دس روز کر دشت نوردی کے بعد کوہ جودی کی سر بہ فلک چوٹی کے نیچے جا کھڑا ہوا۔

کوہ جودی بہت بلند پہاڑ ہے اور ایران و ایشیائے کوچک بلکہ سلسلہ کوہ قاف کی اکثر چوٹیوں سے زیادہ بلند ہے۔ حسین پہلے ایک بڑا چکر کھا کے اس زبردست اور برف سے ڈھکے ہوئے قلعے کے مشرق پہلو پر نکل گیا اور اس غار کو ڈھونڈنے لگا جس میں اسے چلہ کشی کرنا تھی۔ کئی روز تک چٹانوں اور گھاٹیوں میں ٹکراتے رہنے کے بعد غار ملا۔ دور دور کے گاؤں والے اکثر اس غار کی زیارت اور اس کے تاریک دہانے پر کچھ نہ کچھ چڑھانے کو آتے رہتے تھے جن میں اس کی قدیم برکتوں کے قصے بہت مشہور تھے اور یہود و نصاریٰ اور مسلمان سب اس کو حرمت و ادب کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ انھیں گاؤں والوں میں سے ایک زائر کی زبانی حسین کو اس کے حالات معلوم ہوئے اور سمجھ گیا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں اسے اپنی ریاضت و نفس کشی کا امتحان دینا ہے، اور جہاں جناب ابراہیم علیہ سلام نے خدا کو پہچانا تھا۔

دن کو جب حسین اس غار کے دہانے پر پہنچتا ہے اضلاع و جوانب کے چند خوش عقیدہ زائروں کا مجمع تھا۔ شام کو ان کے واپس جانے کے بعد جیسے ہی آفتاب غروب ہوا وہ خدا کا نام لے کر اندر گھسا۔ غار میں جاتے ہی وہ ریاضت میں مشغول ہو گیا اور کوشش کرنے لگا کہ وہاں کی بھیانک تاریکی میں زمرد کی خیالی تصویر کو چراغ بنا کے ہمیشہ نظر کے سامنے رکھے۔ ہر چوتھے دن پچھلی رات کو نکل کے گھاس اور پتوں سے بھوک کی حدت کم کر لیتا اور پھر اسی خلوت کدے میں جا بیٹھتا۔

آخر چلہ پورا کر کے ہمارے پر جوش نوجوان نے شام کی راہ لی۔ تین مہینے کے سفر کے بعد مقدس خلیل کی عمارتیں نظر کے سامنے تھیں۔ آبادی میں داخل ہو کے سیدھا اس تہ خانے پر پہنچا۔ مگر یہاں نیچے اترنا بہت دشوار تھا اس لیے کہ ہر وقت لوگوں کا مجمع رہتا اور خرابی یہ تھی کہ جو کوئی اس مقدس غار میں اترنے کا ارادہ کرے عام مجاوروں کے عقیدے میں واجب القتل تھا۔ حسین نے اپنے ارادے کو چھپایا اور مجاورین کو دوست بنا کے اس بات کی اجازت حاصل کر لی کہ اترنے کے راستے کو قریب ہی شب باش ہو۔ کئی راتیں جاگ کے کاٹیں مگر موقع نہ ملا۔ اس لیے کہ اکثر لوگ یہاں پاس ہی شب بیداری کرتے تھے اور ایسا کوئی وقت نہ ملتا جب لوگ مصروف عبادت و دعا نہ ہوں۔ دو تین ہفتے کے بعد ایک مرتبہ پچھلی رات کو اٹھ کے دیکھا تو میدان صاف تھ، اور جو لوگ تھے، سو رہے تھے۔ چپکے چپکے دبے پاؤں تہ خانے کے دروازے پر گیا اور چاروں طرف دیکھ کے جب اطمینان کر لیا کہ کوئی نہیں دیکھ رہا ہے تو بے تکلف نیچے اتر گیا۔


اس مقام پر جانا بڑی جرأت کا کام تھا۔ ان انبیائے عضام کا رعب ساعت بہ ساعت دل پر غالب آتا جاتا تھا۔ پاؤں کانپ رہے تھے اور دل دھڑکتا تھا۔ تاہم زمرد کا شوق ان تمام دلی کمزوریوں پر غالب آیا اور وہ برابر بڑھتا چلا جاتا تھا۔ بار بار اسے معلوم ہوتا تھا کہ جیسے فرشتے روک رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس مقدس جگہ کو اپنے قدموں سے ناپاک نہ کر۔ مگر اس سب خیالات کو مٹا مٹا کے وہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ہاتھوں اور پاؤں سے ٹٹولتا ہوا تہ تک پہنچ گیا۔ رات کا وقت اور پھر وہ تاریک مقام، حسین نیچے پہنچ کے پریشان ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ تو سوجھائی نہیں دیتا ان برگزیدہ پیغمبروں کے جنازے کیوں کر نظر آئیں گے۔ عرصے تک ایک ہی جگہ پر کھڑا سوچتا رہا۔ اور اب دل مضبوط کر کے آمادہ ہوا تھا کہ ٹٹول ٹٹول کے آگے بڑھے ناگہاں صبح کی ہلکی ہلکی روشنی کی شعاعیں اوپر سے پہنچیں اور وہ ٹھہر گیا کہ روز روشن ہولے تو شاید زیادہ آسانی سے اپنے معبودہ مقام پر پہنچ سکوں گا۔ اور یہی ہوا دن کی روشنی نے اندھیرا کم کر دیا اور اسے کئی لاشیں چبوتروں پر رکھی نظر آئیں جن میں سب کے درمیان میں حضرت یعقوب و حضرت یوسف علیہم سلام کے جسم تھے۔ ان کا انتقال چوں کہ مصر میں ہوا تھا لہٰذا قدیم مصریوں کے مذاق پر ان کی ممیاں بنائی گئی تھیں۔۔ جسم تو گلی تابوتوں میں تھے مگر چہرے کھلے ہوئے تھے جن سے اس تاریکی میں عجیب رعب و جلال برستا نظر آتا تھا۔ حسین یہ مقدس چہرے دیکھ کے سر سے پاؤں تک کانپ گیا اور کسی طرح قدم آگے بڑھانے کی جرأت نہ ہوتی تھی۔ چند لمحے تک مرعوب اور سہما کھڑا رہا، مگر پھر جی کڑا کر کے قدم آگے بڑھایا اور دونوں تابوتوں کے درمیان میں جا کے چپکے سے بیٹھ گیا جہاں دونوں با ہیبت چہرے ہر وقت پیش نظر رہتے۔ اور ان کا رعب اس قدر غالب تھا کہ زمرد کے خیال کو وہ بہت مشکل سے آنکھوں کے سامنے متشکل کر سکتا تھا۔ مگر کوہ جودی کے چلے کی کوششوں نے وہ پیاری صورت زیادہ استقلال سے نظر کے سامنے قائم کر دی تھی۔ اور تھوڑی دیر ہی کوشش سے ان دونوں متبرک چہروں کے درمیان وہ اپنی معشوقہ کا چہرہ دیکھ لیا کرتا تھا۔

الغرض یہاں بھی وہ چلہ کشی میں مشغول ہو گیا۔ مگر یہاں کوہ جودی کے غار کی طرح یہ ممکن نہ تھا کہ کسی وقت نکل کے قوت لایموت حاصل کر لے۔ اس کا اسے پہلے ہی سے خیال تھا اور اس ضرورت سے تھوڑا سا پنیر چادر میں باندھ کر لیتا آیا تھا۔ دو تین ٹکڑے چوتھے دن کھا کر خدا کا شکر گزار ہوتا۔ خدا خدا کر کے یہ چلہ بھی پورا ہوا اور اکتالیسویں رات کو وہ چپکے چپکے اور دبے پاؤں باہر نکلا کہ کسی کو خبر بھی نہ ہو اور وہ حلب کی راہ لے۔ مگر لوگ جاگ رہے تھے جن میں سے بعض اسے پہلے ہی دیکھ چکے تھے۔ انھوں نے دیکھتے ہی دیکھتے غل مچا کے حملہ کیا اور حسین غار سے نکلتے ہی مجاورین کے ہاتھ میں گرفتار تھا۔ ایک بڑی سخت بے ادبی اور گستاخی کا الزام اس پر لگایا گیا تھا۔اور قریب تھا کہ قتل کر ڈالا جائے مگر اتفاق یا اس کی خوش قسمتی شہر خلیل کا حکمران اسی روز ایک باطنی فدائی کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ لوگ اگرچہ باطنیہ لوگوں سے ڈرتے تھے مگ یہ اتنا بڑا اہم معاملہ تھا کہ انتقام کے درپے ہو گئے۔ اور باطنیوں کے ایک گاؤں پر تاخت کرنے کا سامان ہی کر رہے تھے کہ باطینوں کا ایک بڑا بھاری گروہ خود ان پر آ پڑا۔سخت قتل و خون ہوا۔ بہت سے لوگ مارے گئے اور اسی بے امنی کی حالت میں حسین مجاوروں کی قید سے چھوٹ کے حلب کو روانہ ہوا۔

آٹھویں دن شام کے وقت حلب میں داخل ہوا۔ راہ گیروں سے پوچھتا ہوا محلہ ارامنہ میں اور پھر مسجد الشماسین میں پہنچا۔ یہاں آتے ہی کمر کھول دی؛ سر شام ہی کچھ کھا پی لے عشاء کی نماز پڑھی اور پڑ کے سو گیا۔ اگرچہ تھکا ماندہ تھا مگر زمرد کے وصال کا شوق سب پر غالب تھا۔ آدھی رات سے زیادہ نہ گزری ہو گی کہ آنکھ کھل گئی اور صبح تک نماز فجر کے انتظار میں کروٹیں بدلتا رہا۔ صبح کی اذان سے پہلے ہی وضو کر کے تیار ہو گیا اور دروازے پر بیٹھ کے ہر آنے والے کی صورت کا مطالعہ کرنے لگا۔ آس پاس کے مکانوں والے نیند کے خمار میں لّڑکھڑاتے اور ٹھوکریں کھاتے ہوئے آتے اور وضو میں مشغول ہو جاتے۔ حسین کو اکثر لوگوں پر شیخ شریف علی وجودی کی صورت کا گمان ہوتا تھا۔ہر آنے والے میں اگر کوئی ایک علامت ہوتی تو اور علامتیں نہ پائی جاتیں۔ آخر دل ہی دل میں پریشان ہونے لگا اور خود اپنے سے خطاب کر کے چپکے سے کہا: "مجھے یقین نہیں کہ شیخ کو پہچان سکوں"۔ یہ جملہ اس کی زبان سے نکلا ہی تھی کہ اسی حلیے اور وضع کا ایک شخص آیا ا س کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کے کھڑا ہو گیا اور مسکرا کے نہایت ہی تسلی و تشفی کے لہجے میں بولا: "حسین! میں جانتا ہوں کہ تو میری تلاش میں آیا ہے "


اتنا سننا تھا کہ حسین قدموں پر گر پڑا اور شیخ شریف علی وجودی کے قدم چوم چوم کے اور ان کے پاؤں کو اپنے آنسوؤں سے دھو دھو کے کہنے لگا: "یا حضرت! میری مدد کیجیے۔ صرف آپ ہی کی رہبری سے مجھے حق کا راستہ مل سکتا ہے۔ جس صراط مستقیم پر چل کے انسان خدا اور عالم ارواح کو پہچان سکے وہ صرف آپ ہی جانتے ہیں۔"

شیخ: (جلال میں آ کے) اے بحر وجود اور دریائے وحدت کے ذلیل و ناپاک قطرے! تیرا کیا حوصلہ کہ اس وجود غیر وجوٗد اور اس لاہوت غیر متنوع کی رموز سمجھ سکے؟

(باطنین کا یہ عقیدہ تھا کہ خدا کی طرف کسی صفت کا منسوب کرنا کفر ہے۔ اور بظاہر جو صفات قرآن میں اس مذکور ہیں وہ اس اعتبار سے ہیں کہ یہ صفات اس نے مخلوق کو عطا کیے۔یعنی خدا کو نور کہیں تو منور بصیر کہیں تو مبصر بصیرت دینے والا اور اسی طرح موجود کہیں تو موجود کرنے ولا مراد ہے۔ اسی سے وہ صفات کو منسوب کر کے پھر نفی بھی کر دیا کرتے تھے۔ یعنی کہتے تھے موجود غیر موجود، نور لا نور وغیرہ۔

حسین: بے شک میری کوئی ہستی نہیں مگر جب آپ کے سے شناورِ بحر وحدت کا ہاتھ پکڑ لوں گا تو کیا عجب کہ اس طوفان خیز دریا سے پار ہو جاؤں۔
اور رو رو کے پھر سے شیخ کے قدم چومنے لگا۔

شیخ کا جلال کسی قدر کم ہوا۔ انھوں نے حسین کو ہاتھ پکڑ کے اٹھایا اور سینے سے لگا لیا۔ اپنا سینہ کئی دفعہ خوب روز سے اس کے سینے سے رگڑا اور کہا: "اچھا آ میرے ساتھ چل؛ میں تیرے ضبط و ظرف کا اندازہ کروں گا، اور جب معلوم ہولے گا کہ تیری طلب کہاں تک صادق ہے، اس وقت تجھے اپنے حلقہ ذوق میں شریک کروں گا۔"

حسین نے یہ سن کے شکر گزاری کے طریقے سے سر اٹھایا؛ شیخ کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور ان کے ساتھ جا کے نماز میں شریک ہوا۔ نماز کے بعد شیخ علی وجودی اسے اپنی خانقاہ میں لے گئے جو شہر سے فاصلے پر ایک غیر آباد مقام میں تھی۔ حسین کو یہ خیال کر کے تعجب ہوا کہ مسجد شماسین کو کیا خاص تخصیص ہے کہ شیخ وہاں فجر کی نماز ادا کرنے کو گئے تھے۔اس کا راز دریافت کرنے کو پوچھا: "کیا حضرت ہر روز نماز کے لیے اسی مسجد میں تشریف لے جاتے ہیں؟"

شیخ: (لاپروائی سے) نہیں صرف آج ہی گیا تھا! حسین: تو شاید کسی خاص کام کے لیے ادھر تشریف لے جانے کا اتفاق ہوا ہو گا؟
شیخ: (ذرا ہرہمی سے)"ولا تجسسو (قرآن کی آیت ہے۔ مراد یہ ہے کہ لوگوں کے افعال کی جستجو نہ کیا کرو)!ان رموز معنی کے پیچھے نہ پڑنا چاہیے۔ اگر سچا شوق ہے تو کبھی خود ہی سارا راز کھل جائے گا۔ اب حرف سوال تیرے منہ سے نکل ہی گیا تو لے بتائے دیتا ہوں۔ سن! جو لوگ خدا کے انوار ازلی و سرمدی کا انعکاس اپنے دل پر کرتے ہیں ان کی آنکھوں سے حجاب کا پردہ گر جاتا ہے۔اور جہاں جہاں وہ نور لا نور اپنی کرنیں ڈالتا ہے وہاں ان کی آنکھوں کی شعاعیں بھی پہنچ جاتی ہیں۔ میرا یہ جسم مادی اسی خانقاہ میں تھا۔مگر ان آنکھوں کی تیز شعاعیں کوہ البرز کے پہلو میں تھیں جب تو زمرد کی قبر سے لپٹا ہوا رو رہا تھا۔ پھر جبل جودی کے غار ابراہیم میں تھیں جب زمرد کی تصویر تیرے سامنے اور میری جستجو تیرے دل میں تھی۔ پھر یہ شعاعیں اس تیرہ و تار تہ خانے میں تھیں جہاں یعقوب و یوسف علیہم اسلام کے چہروں کے درمیان میں تو زمرد کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ پھر میں نے تیری اس بے کسی کو بھی دیکھا جب تو شہر خلیل کے مجاوروں کے ہاتھ میں اسیر تھا۔ تیری ہی مدد کے لیے میں نے اپنے دوستوں کو بھیجا۔ انھوں نے شہر والوں پر حملہ کر کے تجھے ادھر آنے کا موقع دیا۔ یہ کہتے وقت شیخ کی آنکھیں اس تیزی سے چمکیں کہ حسین بالکل سہہ نہ سکا اور شیخ کے قدموں پر سر رکھ کے ایک مجذوباتی جوش کے ساتھ کہنے لگا: "آپ سب جانے ہیں کوئی راز آپ سے پوشیدہ نہیں۔ میری آرزو و تمنا بھی آپ کو معلوم۔۔۔۔۔"


شیخ: (جوش و خروش سے) سب جانتا ہوں، مگر ابھی ا س کے اظہار کا وقت نہیں آیا۔ اس شوق کا تیری زبان سے ظاہر ہونا کسی خاص وقت اور خاص حال و کیفیت ہر موقوف ہے۔ بس اب اس وقت خاموش رہنا چاہیے۔

یہ حکم سن کے حسین اس قدر مرعوب ہوا کہ زمین پر پڑے ہی پڑے کانپنے لگا۔ تھوڑی دیر کے بعد شیخ نے اسے اٹھا کے بٹھایا۔ سینے اور آنکھوں پر اپنا دست برکت پھیر کے ا س کے دل کو تسلی دی اور کہا: "حسین تو میری خانقاہ میں اور خاص میری صحبت میں رہا کر، اور جس قدر زیادہ خدمت کرے گا اور جس مستعدی سے بلا عذر و حجت میرے احکام کی جو اصل میں احکام الٰہی ہیں کی تعمیل کرے گا اسی قدر جلد کامیاب ہو گا۔ مگر یہ خوب سمجھ لے کہ ابھی تیرا ظرف اور تیرا دل اس قابل نہیں ہوا کا تنوعات ربانی اور انقلابات قدرت کے اسباب و علل سمجھ سکے۔ موسیٰ و خضر کا قصہ ہر وقت پیش نظر رکھنا اور یہ یقین کر لے کہ ہر ظاہر کا ایک باطن ہے، نتائج ہمیشہ باطن پر مترتب ہوتے ہیں۔ ظاہر پرست رموز قدرت کو نہیں سمجھ سکتے۔ سزا و جزا روح کے لیے ہے جو باطن پر منصرف رہتی ہے اور ہمیشہ دل کے اندر اور نیت پر حکمران ہے۔ یہ ظاہری ارکان و جوارح اسی مادے میں مل جائیں گے اور یہیں رہیں گے۔ لہٰذا اس کی حرکات کا کوئی اعتبار نہیں۔وہ قاضی و مفتی جاہل و لا نور یزدانی سے دور ہیں جو ظاہری افعال و حرکات پر حکم دیتے ہیں۔ خضر و موسیٰ کے قصے میں اس لاہوت اکبر نے موسیٰ کے کی تائید نہیں کی جو ظاہر پرستی کر رہے تھے، بلکہ خضر کے موافق فیصلہ کیا جو رموز باطنی اور ارادہ صمدانی کو سمجھ رہے تھے۔ اسی طرح دیکھو ابراہیم علیہ سلام نے جب بی بی کو بہن بتایا تو ظاہر پرست بہت بہت گھبرائے کہ پیمبر کی عصمت میں فرق آ گیا۔ مگر ان کی جہالت ہے۔ خدا ابراہیم علیہ اسلام کے دل کو دیکھ رہا تھا۔

الحاصل اے حسین! تو خوب سمجھ لے کہ ہر ظاہر کا ایک باطن ہے اور خدا باطن کا طرف دار ہے۔ تجھے شیخ اور مرشد کی اطاعت آنکھیں بند کر کے اسی طرح کرنی چاہیے جیسی اطاعت کی خواہش خضر نے موسیٰ سے کی تھی۔ "

حسین: (سینے پر ہاتھ رکھ کے) بے شک میں ایسی ہی اطاعت کروں گا۔ مگر کیا معاصی اور برے کاموں کا بھی بے سمجھے ارتکاب کر لینا چاہیے؟
شیخ: (نہایت ہی جلال کے ساتھ اور آنکھیں سرخ کر کے)کیا تجھے یہ گمان ہے کہ مرشد برے کام کا حکم دے گا؟
حسین: (ڈر کے اور اخلاقی کمزوری کی شان سے) نہیں لیکن ممکن ہے کہ مرید اور عقیدت کیش کو وہ فعل گناہ نظر آتا ہو؟
شیخ: ممکن ہے۔ مگر اس کا باطن گناہ نہیں اور نتائج صرف باطن پر مترتب ہوتے ہیں۔
حسین: مگر اسی باطن پر جو مرتکب اور کرنے والے کے دل میں ہو۔ میں ایک فعل کا ارتکاب کروں تو اس کے نتائج اسی نیت پر مترتب ہونگے جو میرے دل میں ہے۔ اگر مجھے اس کا باطنی اچھا رخ معلوم نہیں تو خواہ مخوہ میری نیت بھی بری ہی ہو گی۔ اور جب میری نیت بری ہو گی تو نتیجہ بھی اس نیت کے مطابق برا ہونا چاہیے۔
شیخ: (ذرا جوش میں آ کے اور آنکھیں سرخ کر کے) تو کیا تیرے نزدیک شیخ کی نیت پر شبہ کیا جا سکتا ہے؟ اور اسی پہلے رازِ لاہوتی کو تسلیم کرنے سے تجھے ان کار ہے؟
حسین: (شیخ کے قدموں پر گر کے) ہر گز نہیں مگر میری یہ باتیں محض اس لیے ہیں کہ "لیطمئن قلبی (قرآن کی آیت ہے تاکہ میرے دل کو اطمینان حاصل ہو جائے)" اور خدا وہ روزِ بد نہ لائے کہ میں شیخ کی نیت پر شبہ کروں۔

یہ جواب سن کے شیخ نے حسین کو اٹھا کے سینے سے لگایا اور اس کی پیٹھ پر شفقت کا ہاتھ پھر کے کہا: "سن! بے شک تیرے دل میں ابھی شکوک آتے ہوں گے مگر اس راہِ باطن میں جو جو قدم آگے بڑھانے کا تجھے نظر آتا جائے گا کہ مرید کی وقعت ایک بے جان آلے سے زیادہ نہیں۔ مرید بعینہ ایک تلوار ہے جس کے قبضے پر شیخ کا ہاتھ ہو۔ اور تو سمجھ سکتا ہے کہ تلوار برے بھلے جس کا سر چاہے اڑا دے۔ مگر الزام یا تحسین کی نسبت تلوار سے نہیں کی جا سکتی، بلکہ یہ چیزیں اسی کی طرف منسوب ہوتی ہیں جو اس تلوار کو ہاتھ میں لیے ہو۔ یقین ہے کہ اب تیرا شک رفع ہو گیا ہو گا اور تو سمجھنے لگا ہو گا کہ مرید کے افعال کا باطنی پہلو شیخ کی نیت سے متعلق ہے نہ خود مرید کے ارادے سے۔ جب اس طرح اطاعت و مستعدی دکھا کے انسان ارادت کے مدارج طے کر چکتا ہے اس وقت ارشاد کے درجے کو پہنچتا ہے اور اسی وقت اس کی نیت قابلِ اعتبار اور بنائے نتائج ہوتی ہے۔ لیکن جب تک وہ ارادت کے درجے طے کر راہا ہے اس کے ارادوں اور اس کی نیت کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس وقت تک اس کے ہر قول و فعل کا ذمہ دار شیخ اور مرشد ہے۔"


حسین: (جوش و خروش سے شیخ کا ہاتھ چوم کر) بے شک بجا ہے۔ اب میری آنکھوں کے سامنے سے حقیقت کا پردہ اٹھ گیا اور مجھے کسی حکم کی تعمیل میں عذر نہ ہو گا۔
شیخ: "حسین! مرید کے سر پہ بڑی نازک ذمہ داری ہے اس سے زیادہ نفس کشی کیا ہو سکتی ہے کہ انسان اپنے دل اور اپنی عقل کو اپنے افعال سے بالکل الگ کر دے ؛ مگر تو غور کرے گا تو معلوم ہو جائے گا کہ یہ احکام الٰہی اور رفتار زمانہ کے بالکل موافق ہے۔ جن کاموں کی تعمیل خضر نے کی اور جن میں موسیٰ سے مدد لی ان کا باطنی پہلو صرف خضر کے دل میں تھا اور موسیٰ کی نیت میں وہ قطعی معاصی و گناہ تھے۔ مگر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ موسیٰ نے گناہ کیا اور اتنے اتنے بڑے کبائر میں شریک ہوئے۔ ایسا کیوں ہوا؛ محض اس لیے کہ اس عالم باطنی میں خضر مرشد اور موسیٰ مرید تھے۔ اس کی تعمیل خود ظاہر پرستوں میں روز ہوتی رہتی ہے۔ طبیب بظاہر نہایت حار بلکہ سمی دوا دیتا ہے اور مریض اگرچہ اس کے منافع سے بے خبر ہے مگر بلا تامل کھا لیتا ہے اور نتیجہ وہی ہوتا ہے اور وہی سمجھا جاتا ے جو طبیب کی نیت میں ہے۔ ماں باپ لڑکے کو کسی کام پر مارتے ہیں، لڑکا اس کام کو اپنے دل میں اچھا سمجھ کے کرتا ہے مگر ماں باپ اپنے ہی دل اور اپنے ہی خیال کی مضرت کی بنیاد پر مارتے ہیں۔ اور اس مار کا نتیجہ ہر ایک کے نزدیک اچھا۔۔۔۔۔"

یہ تقریر ایسی موثر تھی کہ حسین اس سے زیادہ سننے کی تاب نا لا سکا اور ایک نہایت بے خودی کی وضع سے جوش میں آ کے چلا اٹھا: "بے شک آپ بجا فرماتے ہیں۔ میرے دل کو اطمینان ہو گیا اور کبھی کسی حکم سے سرتابی نہ کروں گا۔"

اس علم غیب اور اس مدلل تقریر نے حسین کو شیخ علی وجودی کا ایسا گرویدہ بنا دیا کہ اس کی نظر میں اب سوا شیخ کے اور کسی چیز کی ہستی نہ تھی۔ اس کے کانوں میں ہر وقت شیخ کی آواز گونجتی، اس کی آنکھوں کے سامنے ہر گھڑی شیخ کی تصویر بھرتی اور اس کے دل میں ہر لحظہ شیخ کے احکام کا انتظار رہتا۔ زمرد کی تصویر بھی اب اسی طرح ہمیشہ پیش نظر نہ تھی بلکہ کبھی کبھی خانقاہ کے حجرے میں لیٹ کے وہ زمرد کو خیال کی طرف متوجہ ہو کے کہتا: "پیاری زمرد! تو نے مجھے کہاں بھیجا ہے کہ خود تجھے بھولا جاتا ہوں؟"الغرض اب پورے کمال کے ساتھ اسے فنا فی الشیخ کا درجہ حاصل تھا۔

حسین کو ارادت و عقیدت مندیکے ساتھ شیخ کی خدمت کرنے گیارہ مہینے گزر گئے ؛ اس نمانے میں ایک مرتبہ شیخ تین مہینے کے لیے غائب رہے اور کسی ایسے سفر پر گئے جس کو انھوں نے بالکل راز رکھا۔ حسین ا نکی غیر موجودگی میں خانقاہ ہی میں رہا مگر اتنی مدت می اسے معلوم ہو گیا کہ شیخ علی وجودی کے مرید و معتقد کن کن شہروں اور کتنی کتنی دور پھیلے ہوئے ہیں۔ جن کا معمول تھا کہ سال میں ایک مرتبہ دور دراز کا سفر کر کے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے اور نئے نئے عجیب و غریب احکام سن کے واپس جاتے اور ان کی فوراً تعمیل ہوتی۔ ایک طرف خراسان، مکران، سیستان، فارس، رودبار، آذر بائجان، عراق عرب اور عراق عجم کے مرید آتے اور دوسری طرف عمان، حضرت موت، حجاز، یمن، زنجبار، مصر، طرابلس الغرب، الجزیرہ اور تمام علاقہ افریقہ و ایشیائے کوچک کے معتقد۔ یہ سب لوگ مختلف وضع و لباس میں ہوتے اور پوشیدہ ہی پوشیدہ اکثر راتوں کو شیخ سے مل کے صبح ہونے سے پہلے ہی چلے جاتے۔ حسین اس امر کو نہایت ہی وقعت کی نظر سے دیکھتا کہ شیخ کے خوشہ چین اور ارادت مند کن کن اقطاع عالم میں پھیلے ہوئی ہیں اور اتنے بڑے اژر اور حکومت کے ساتھ بظاہر کس سادگی اور بے نفسی کی زندگی بسر کرتے ہیں۔

ایک رات کو شیخ کے گرد دس بارہ مریدوں کا مجمع تھا، حسین بھی نہایت ہی ادب کے ساتھ ایک کونے میں بیٹھا تھا اور شیخ کی زبان فیض ترجمان بہت بڑے بڑے رموز حکمی اور روحانی کھول رہی تھی۔ ایک شخص نے جو مصر سے آیٰا ہوا تھا ادب سے مگر شک کرنے کے لہجے میں کہا: "میری سمجھ میں نہیں آتا کہ انسان جب اس جسم خاکی کو اسی خاک دان میں چھوڑ جاتا ہے تو جنت کی مسرتوں میں اسے کیوں کر لطف آتا ہے؟"

اس کے جواب میں شیخ نے کسی قدر برہمی سے کہا: "بعینہ ایسے ہی جس طرح کہ تم دنیا میں اس جسم کے ساتھ مزہ اٹھاتے ہو"

شخص: کیوں کر؟ جب لذت اور درد تو صرف جسم کے لواحق میں سے ہیں؟
شیخ: (ذرا اور جوش میں آ کے) روح تو بے جسم ہوتی ہے مگر اسے معلوم یہی ہوتا ہے کہ گویا جسم میں ہے۔
شخص: یہ کیوں کر ہو سکتا ہے؟ جب مادے کی کثافت ہی نہیں تو اسے متشکل اور متحیزکون چیز کرتی ہے؟ یہ سن کے شیخ کی برہمی اعتدال سے زیادہ ہو گئی۔ انھوں نے حسین کو پکار کے قریب بلایا اور کہا: "بتا جب تو کوہ البرز کی گھاٹی، کو جودی کے غار اور شہر خلیل کے تیرہ و تار تہ خانے میں تھا اس وقت تجھے میرے وہاں موجود ہونے تیری حالت دیکھتے رہنے کا یقین ہے؟"
حسین: (سینے پر ہاتھ رکھ کے) بے شک ہے۔ گو میری ناتواں آنکھیں نہ دیکھتی ہوں مگر حضرت کا جلوہ ضرور موجود تھا ورنہ وہاں کے رموز حضرت کو کیوں کر معلوم ہو سکتے۔

یہ سن کے شیخ نے ذرا فخر وناز کی شان سے گرد کے لوگوں کو دیکھا اور سب کے بعد اس شخص کے چہرے پر جس نے شک کیا تھا اپنی تیز نظریں جما دیں۔ مگر ا س کے دل کو ابھی اطمینان نہیں ہوا تھا۔ شیخ علی وجودی کی اتنی برہم مزاجی دیکھ چکنے پر بھی معترضانہ طریقے سے بول اٹھا: "بے شک آپ وہاں موجود ہونگے اور حسین کے ہر حال کو دیکھ رہے ہوں گے مگر صرف آپ کی روح تھی اور متشکل نہیں ہوئی تھی۔ ایسا ہوتا تو حسین آنکھوں سے بھی آپ کے نورانی جلوے کو دیکھ لیتا۔"


یہ سنتے ہی شیخ کو تاب نہ رہی؛ زرو میں آ کے اٹھ کھڑے ہوئے، آنکھوں کی چمک دو چند ہو گئی منہ میں کف بھر آیا ور اس شخص کی طرف دیکھ کے کہا: "یہ مشت خاک نہایت ہی سرکش ہے یہ اس نور لا نور کے شہود و وجود کو نہ سمجھتی ہے اور نہ سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ کسی کو یہ راز بھی نہیں معلوم کہ دنیا کیوں ہے اور یہ روح لطیف اس پیکر خاکی میں ایک مدت تک کیوں قید رکھی جاتی ہے؟ اس کا راز مجھ سے سنو۔ میں وہ شخص ہوں جو سروشستان اور عالم لاہوت کا ایک آن میں دورہ کرتا ہوں۔ اور ان رموز کو جو اس اولی تنوع نور لاہوتی یعنی عرش اعلیٰ کے اطراف میں لکھے ہیں پڑھ آتا ہوں۔ اصل یہ ہے کہ جسم میں آنے سے پیشتر روح مجرد میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ کسی مادی مسرت سے لطف اٹھا سکے۔ اس وقت وہ محض مفر ہوتی ہے اور حظوظ و لذائذ سے فائدہ یاب ہونے کے طریقوں سے بالکل بے خبر۔صرف اسی چیز کا سبق لینے کے لیے وہ اس جسم خاکی میں رکھی جاتی ہے۔ وہ حدود زمانہ جسے تم زندگی کہتے ہو اور ہم روحوں کے کمال حاصل کرنے کا مدرسہ صرف اسی لیے ہے کہ روح لطیف اس مادے کے ساتھ علائق پیدا کر کے ہر قسم کی لذتوں اور ہر قسم کے الموں سے اتنی آشنائی پیدا کر لے کہ اس سے علیحدہ ہونے کے بعد بھی جب چاہے اپنے آپ کو متحیزو متشکل اور لذت و الم سے متاثر کر سکے۔ جس طرح کوئی شخص مدارج روحانی طے کرنے کے بعد یہ صلاحیت اور قوت حاصل کر لیتا ہے کہ اس جسم میں رہنے کی حالت میں بھی اپنے آپ کو غائب یا روح مجردہ کی طرح غیر متشکل و غیر متحیز بنا لے اسی طرح روح انسانی عموماً اس جسم خاکی کے حجرے میں بند ہو کے اتنا چلہ کھینچ لیتی ہے کہ اس کے چھوڑنے کے بعد بھی جب چاہے اور جیسی شکل میں چاہے نمودار اور آشکارا ہو جائے۔ بہت سے با کمال بزرگوں یا شہیدوں کو سنا ہو گا کہ ان کے جسم تو قبر کے کونے میں پڑے سڑ رہے تھے مگر روح اکثر لوگوں کی نظر کے سامنے اپنی سی یا کسی دوسری شکل میں نمودار ہو گئی۔ صرف ایک روح ہے جس نے بغیر جسم میں آئے اس کمال کو حاصل کر لیا۔ اس سے مراد جبرائیل علیہ سلام ہیں جو کبھی وحیہ کلبی اور کبھی دیگر پیکروں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے نمودار ہوئے۔ مگر اس راز کا جاننے ولا اس عالم میں میرے سوا کوئی نہیں کہ جبرائیل نے یہ کمال روح کیوں کر حاصل کیا۔ سنو! مسیح کی ولادت کو اسی رمز سے تعلق ہے۔ جبرائیل ہی تھے جو مریم صدیقہ کے جسم میں حلول کر کے مسیح کو صورت میں متحیزہوئے اور تھوڑے ہی زمانے میں اپنا روحی کمال حاصل کر کے چلے گئے۔ مسیحیوں کو دھوکا ہوا کہ خدا تھا۔ مگر نہیں، وہ صرف ایک روح تھی جو ایک جسم سے جس میں دوسری روح بھی موجود تھی، کمالات جسمانی حاصل کر کے آسمان پر چلی گئی۔ مسیح کو روح ایک دوسری روح تھی جو اس کے جسم میں تھی۔ مگر اسی کے ساتھ جبرائیل کی روح بھی ان کے پیکر میں اتر کے چند روز رہی اور مسیح کے جسم سے الوہیت کی شان نمودار کر کے غائب ہو گئی۔ مردوں کو زندہ کر دینا یہ مسیح کا کام نہ تھا بلکہ صرف جبرائیل کی ملکوتی وقت کا مشہور و مسلم نتیجہ تھا جس کا تجربہ لوگوں کو موسیٰ کے عہد میں بھی ہو چکا تھا(بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جب موسیٰ علیہ سلام نے بحر قلزم میں قدم بڑھائے تو فرعون نے تعاقب میں بڑھنا چاہا مگر اس کا گھوڑا نہ بڑھتا تھا۔ پھر جبرائیل ایک گھوڑی پر سوار نمودار ہوئے اور بڑھے جن کے ساتھ فرعون کا گھوڑا بھی آگے بڑھا۔ سامری نے جبرائیل کی گھوڑی کے قدم کے نیچے کی مٹی اٹھا کے رکھ لی تھی اور اس مٹی کے ڈالنے سے وہ گوسالا بولنے لگا جس کی بنی اسرائیل نے پرستش کی تھی۔)۔ مگر جن کو خدا نے چشم بینا نہیں دی آج بھی نہیں سمجھ سکتے اور مسیح کے اس معجزے کو یاد کر کے پریشان ہوتے ہیں۔ الغرض یہ متحیز اور متشکل ہو سکنے کا کمال ہے اور جس کے حاصل کرنے کے لیے ہر روح دنیا میں آئی ہے اور یہاں سے جانے کے بعد اسی کمال کے مطابق جنت و دوزخ میں اپنے کردار کا جزا و ثواب پاتی ہے۔

تم میرے کمالات سے ناواقف ہو۔ میں وہ شخص ہوں کہ خود ہی نہیں بلکہ ہر شخص کو اس ملاء اعلی پر پہنچا کے وہاں کی ہر چیز دکھا سکتا ہوں۔ اور میرے اختیار میں ہے کہ محبت کے روحانی پیکروں کو اس جسم خاکی کے سامنے لا کے کھڑا۔۔۔۔۔۔"

شیخ نے یہیں تک کہا تھا کہ حسین روتا اور التجا کرتا ہوا ان کے قدموں میں گرا اور کہا: "یا حضرت! مجھے کسی مسئلے میں شک نہیں مگر اتنی تمنا کے کہ اس سروشستان اور جنت میں ہو آؤں۔ وقت آ گیا کہ اپنی التجا آُ پکے سامنے پیش کروں اور یقین ہے کہ محروم نہ رہوں گا۔"

حسین دیر تک شیخ کے قدموں پر لوٹتا رہا، مگر شیخ اس قدر جوش میں بھے ہوئے تھے کہ چند ساعت تک خاموش کھڑے رہے، پھر اس کو اٹھا کے بٹھایا اور کہا: "حسین! میرے اس وقت کے جوش سے تو نے بہت بڑا فائدہ اٹھایا۔ خیر، اب اس وقت تو تامل کر؛ کل تنہائی میں پھر درخواست کرنا۔ بے شک وقت آ گیا ہے کہ تجھے اس محنت و ریاضت کا پھل ملے۔ مگر ابھی تیرا امتحان باقی ہے اور سخت امتحان۔ مجھے ابھی دیکھنا ہے کہ تو نے کہاں تک اپنے آُ پکو مرشد کے ہاتھ میں دیا ہے اور یاد رکھ کہ جس قدر تجھے مرشد کا حکم بجا لانے میں تامل ہو گا اسی قدر اپنا مقصد حاصل کرنے میں دیر ہو گی۔"

سب مرید رخصت ہو کے چلے گئے ؛ حسین بھی اپنے بچھونے پر لیٹا۔ مگر یہ رات اسے نہایت ہی انتظار و اضطراب سے بھرپور لگی اس لیے کہ "آتش شوق تیز تو گر دد" کا مضمون تھا۔ صبح کو نماز کے بعد جیسے ہی شیخ شریف علی وجودی نے وظیفے سے فراغت پائی، اور اد ختم کر کے بیٹھے ہی تھے کہ حسین جا کے قدموں میں گر پڑا اور چلایا: "اب زیادہ صبر کی تاب نہیں۔ آپ کو سب حالات خود ہی معلوم ہیں۔ مجھے کہنے کی بھی ضرورت نہیں۔ مگر خدا کے لیے زمرد سے جلدی ملائیے۔"

شیخ: بہتر تو زمرد سے ملے گا اس کے وصل سے کامیاب ہو گا۔ مگر اس کے لیے اچھی طرح تیار ہے؟
حسین: دل و جان سے تیار۔
شیخ: دیکھ تجھے تامل نہ ہو؟
حسین: ذرا نہیں۔
شیخ: تیرے دل میں شک اور بد عقیدگی پیدا نہ ہو؟
حسین: ہر گز نہیں۔
شیخ: جرات کا کام ہے!
حسین: میں جان لڑا دوں گا۔
شیخ: اس میں خطرے بھی ہیں؟
حسین: ہوں۔
شیخ: تو سن!
حسین: ارشاد؟
شیخ: یہی نہیں دل مضبوط کر لے۔
حسین: خوب


تیسرا باب: ملاءِ اعلیٰ کا سفر

امام نجم الدین نیشا پوری اس عہد کے بہت بڑے امام تھے۔تمام زمانے میں ان کی اور ان کے علم و فضل کی شہرت تھی اور شاید کوئی مقام نہ ہو گا جہاں ان کے شاگرد مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت کی مقتدائی نہ کر رہے ہوں۔حسین کے وہ استاد و مرشد ہی نہیں بلکہ چچا بھی تھے، ان کا اصلی وطن شہر آمل میں تھا مگر کم عمری ہی میں طلبِ علم کے شوق میں گھر سے نکل گئے تھے۔ دنیا کی بڑی بڑی درس گاہوں میں شریک ہوکے بغداد پہنچے! ایک مدت دراز تک مدرسہ نظامیہ میں طالب علمی کی۔ پھر مشرقی بلاد علم کی سیاحت میں مشغول ہوئے بخارا و ہرات کی علمی صحبتوں میں شریک ہوکے اور وہاں کے علماء کی درس گاہوں سے خوشہ چینی کر کے نیشا پور میں آئے اور وہیں متوطن ہو گئے۔ آپ ان دنوں وہ علم و فضل کے بڑے مرکز اور خدا شناسی کے نام ور قطب بنے ہوئے تھے۔ حسین نے ایک ایسے نیک نفس اور با خدا عزیز کے قتل کرنے کا حکم سنا تو یکایک کچھ ایسی حیرت وہ پریشانی غالب ہوئی کہ بے ہوش ہو گیا۔

شیخ علی وجودی نے اس کے ہوش میں لانے کی کوئی تدبیر نہ کی بلکہ اسی طرح زمین پر پڑا رہنے دیا۔ تھوڑی دیر تک تو وہ انتظار کرتے رہے کہ حسین خود ہی ہوش میں آ کے حکم بجا لانے کا وعدہ کرے مگر جب اسے ہوش آنے میں دیر ہوئی تو اسی طرح چھوڑ کے ایک دوسرے حجرے میں چلے گئے۔ شاید دو گھنٹوں کے بعد حسین کو ہوش آیا اور اس کے ساتھ ہی شیخ کا واجب التعمیل حکم بھی یاد آیا۔ قریب تھا کہ دریائے غفلت میں پھر ایک غوطہ لگائے مگر سنبھلا اور اٹھ کر چاروں طرف دیکھا: شیخ علی وجودی غائب تھے اور تنہا وہی وہ تھا۔ گزشتہ باتوں کو یاد کر کے حیرت کرنے لگا: "کیا مجھے شیخ کا مفہوم سمجھنے میں غلطی ہوئی؟ بے شک ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ ایسے نیک نفس اور حقیقت بین شیخ نے تو اس قسم کے سخت ظلم اور گناہ کا حکم نہ دیا ہو گا۔ مجھے قتل عمد کی ہدایت اور قتل بھی کس کا؟ شیخ نجم الدین نیشا پوری کا، جن سے بڑا عالم و فاضل اس وقت صفحۂ ہستی پر نہیں! یقیناً مجھ سے غلطی ہوئی۔ مگر فرض کیا جائے کی شیخ نے یہی حکم دیا ہے تو کیا مجھ سے یہ ہو سکے گا کہ اپنے استاد، مرشد اور با خدا چچا کو قتل کر ڈالوں؟(کانپ کر) بہت مشکل معلوم ہوتا ہے۔ دنیا کیا کہے گی؟ اور پھر دین میں بھی تو ہے کہ"من قتل مومناً مت عمداً فقد کفر۔"اس حکم کو بجا لا کے سوا ا س کے کہ روسیاہی دارین حاصل کروں اور کوئی فائدہ نہیں نظر آتا۔ لیکن ہاں شیخ نے کہا تھا کہ ہر ظاہر کا ایک باطن ہے ؛ اس میں بھی کوئی فائدہ ضرور پوشیدہ ہو گا۔ حقیقت بینی اور رموز قدرت جاننے میں امام نجم الدین، شیخ علی وجودی ک مقابلہ نہیں کر سکتے اور نہ یہ خیال میں آتا ہے کہ شیخ علی وجودی کی نیت بری ہو گی۔ کوئی تعجب نہیں اگر کسی روحانی مصلحت سے انھوں نے بہ ظاہر ایسے مکورہ کام کا حکم دے دیا ہو۔اس میں بھی کوئی فائدہ ضرور مقصود ہو گا۔ حقیقت بینی اور رموز قدرت جاننے میں امام نجم الدین، شیخ علی وجودی کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اور نہ یہ خیال میں آتا ہے کہ شیخ علی وجودی کی نیت بری ہے۔ کوئی تعجب نہیں اگر کسی روحانی مصلحت سے انھوں نے بہ ظاہر ایسے مکروہ کام کا حکم دے دیا ہو۔واقعی اگر یہ ہی حکم ہوا ہے تو مجھے تامل نہ کرنا چاہیے، یہ میرا پہلا امتحان ہے، اگر ذرا بھی عذر کیا تو گناہ گار بھی ہوں گا اور زمرد کے وصال سے بھی محروم رہوں گا۔اس تعمیل حکم میں دینی فائدہ تو بدیہی ہے کیوں کہ شیخ کا امر واجب الاذعان ہے۔ باقی رہی دنیاوی بدنامی، اول تو اس کی کوئی ہستی نہیں، اور اگر کسی قدر ہے بھی تو اس کے عوض یہ کتنا بڑا فائدہ ہے کہ پیاری زمرد کی ہم کناری اسی زندگی میں نصیب ہو جائے گی۔بے شک مجھے کسی قسم کا عذر نہ کرنا چاہیے۔

دل میں ی خیالات جما کے حسین حجرے سے نکلا اور مختلف حجروں میں ڈھونڈتا ہوا اس حجرے میں پہنچا جس میں شیخ علی وجودی تھے۔ ان کی صورت دیکھتے ہی قدموں پر سر رکھ دیا اور چلایا: "مجھے وہ حکم نہیں یاد رہا۔جلدی بتائیے کہ تعمیل کو روانہ ہوں۔"

شیخ: دیکھو تمہیں اب کی تامل نہ ہو۔مجھے اندیشہ ہے کہ تمھارے دل میں بدگمانی پیدا ہو اور تم اپنی ساری محنت ضائع کر دو۔ خوب یاد رکھو کہ ہر ظاہر کا ایک باطن ہے۔
حسین: خوب یاد ہے اور مجھے ذرا تامل نہ ہو گا۔
شیخ: تو جاؤ امام نجم الدین نیشاپوری کو قتل کر دو۔
حسین: (دل کو مضبوط کر کے)بہتر، اگر میں مار ڈالا گیا؟
شیخ: کوئی مضائقہ نہیں، بلا زحمت زمرد سے جا ملو گے۔مگر مجھے معلوم ہے ایسا نہ ہو گا۔
حسین: تو میں رخصت ہوتا ہوں۔
شیخ: ٹھہرو!(ایک تیز خنجر نکال کے) لو! اس خنجر کو اپنے پاس چھپا کے رکھو اور جس وقت موقع ملے اسی سے کام لینا۔


وہ مرشد کا عطا کیا ہوا خنجر لے کے حسین نے اپنے استاد کی جان لینے کے لیے مشرق کی راہ لی۔ ڈیڑھ مہینے بعد بغداد پہنچا؛ وہاں سے چل کے اصفہان اور اصفہان سے ایک مہینے بعد نیشا پور پہنچ گیا۔حلب سے نکلے چار مہینے ہوئے تھے کہ وہ امام نجم الدین کی درسگاہ میں داخل ہو گیا۔ امام موصوف پہچانتے ہی بغل گیر ہوئے اور بے انتہا شفقت سے پیش آئے۔

گھر کے خطوط سے انھیں یہ خبر معلوم ہو چکی تھی کہ حسین ایک شریف لڑکی کو ساتھ لے کے بدنامی کے ساتھ نکل گیا۔ جس کا تذکرہ کر کے انھوں نے افسوس کیا اور کہا: " حسین!مجھے ایسی امید نہ تھی کہ علم کو اس ذوق و شوق سے حاصل کر کے تم اس کی بے حرمتی کرو گے۔"
حسین: یا عم! میں کسی بری نیت سے نہیں گیا تھا؛ زمرد کا عقد میرے ہی ساتھ ہونے والا تھا اور وہ حج کی بے انتہا مشتاق تھی۔ اسی علم دین کی وجہ سے مجھے نہ گوارہ ہوا کہ اس کی اس دینی خواہش کا لحاظ نہ کروں، بے تامل ساتھ لے کے چل کھڑا ہوا۔
امام: اور اب کہاں ہے؟
حسین: جبال طالقان کی گھاٹیوں میں پریوں کے ہاتھ سے مار ڈالی گئی۔
امام: (مسکرا کر) ایسا مہمل و بے سروپا قصہ بنانے سے کیا حاصل جسے کوئی تسلیم ہی نہ کرے گا؟
حسین: جس بے تکلفی سے میں نے یہ قصہ بیان کر دیا ہے ؛ اسی سے آپ اندازہ فرما سکتے ہیں کہ میرے بیان میں کسی بناوٹ کو دخل نہیں۔
امام: خیر اب یہاں کس غرض سے آئے ہو؟
حسین: آپ کے حلقہ درس میں شریک ہونے کے لیے۔زمرد کے غم میں میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ علائق دنیوی کو چھوڑ دوں اور چاہتا ہوں کہ یہ باقی ماندہ زندگی تحصیل علم میں ہی صرف ہو جائے۔
امام: اگر ایسا ہے تو خدا تمہارے ارادے میں برکت دے اور تمہیں توفیق ہو کہ میرے بعد اس درسگاہ کے مالک بنو۔

الغرض حسین امام نجم الدین نیشا پوری کے خوشہ چینوں میں شامل ہو گیا، اور چوں کہ بھتیجا تھا، ان کے دل میں روز بروز اپنا زیادہ اعتبار پیدا کرتا گیا۔مگر اس کے ساتھ ہی وہ اپنا موقع بھی ڈھونڈ رہا تھا۔ امام اکثر اوقات طلبا اور معتقدین کے مجمع میں رہتے جس کی وجہ سے تین مہینے گزر گئے اور حسین کو خنجر نکالنے کا موقع نہ ملا۔ چوتھے مہینے میں چھ دن ہی گزرے تھے کہ اتفاقاً امام کو بخار نے شدت سے آ لیا اور کئی دن تک درس وہ تدریس کا سلسلہ موقوف رہا۔ اس بیکاری کے زمانے میں اکثر طلبا تو ادھر ادھر سیر میں رہتے مگر حسین نے شیخ کی تیمار داری میں انتہا سے زیادہ گرم جوشی اور سعادت مندی کا مظاہرہ کیا۔ شب و روز ان کی دیکھ بھال اور خدمت گزاری میں مصروف رہتا۔

امام کو بخار آئے چھٹا دن تھا کہ ایک رات کو اتفاقاً ان کے حجرے میں اکیلا حسین ہی تھا۔ رات زیادہ آ چکی تھی اور امام بچھونے پر لیٹے ناتوانی کی آواز میں باتیں کر رہے تھے۔ حسین خلاف معمول آج زیادہ خاموش تھا۔ ان کی باتوں پر ہنکاری تو ضرور بھرتا تھا مگر اس کے سوا کوئی لفظ اس کی زبان سے نہ نکلتا تھا۔ کئی مرتبہ امام کو تعجب بھی ہوا، بلکہ ایک مرتبہ پوچھنے لگے: "حسین آج تم خاموش کیوں ہو؟" مگر حسین نے "یوں ہی" کہہ کے ٹال دیا۔حسین ساکت تھا اور بار بار باہر نکل کے تاروں سے دریافت کرتا تھا کہ رات کتنی آئی۔ آخر آدھی رات گزر گئی اور حسین کو اطمینان ہو گیا کہ اب صبح تک کوئی نہیں آئے گا۔ اس بات کا یقین کر کے اس نے حجرے کا دروازہ خوب مضبوطی سے بند کر لیا اور پاس جا کے دیکھا تو امام کی بھی آنکھ لگ گئی تھی۔ دیر تک کھڑا ان کی صورت دیکھتا رہا۔ اس کی آنکھوں میں خون اترتا آتا تھا ساعت بہ ساعت اپنے بزرگ اور استاد پر کاری وار کرنے کے لیے تیار ہوتا جاتا تھا۔ اس قسم کے خوں ریز کاموں سے وہ کبھی آشنا نہ تھا؛ دل کو زور دے دے کے ابھارتا تھا مگر خیالات ایسا پلٹا کھاتے کہ بار بار ہمت ہار دیتا۔ حجرے میں ہر طرف اسے ایسی خیالی صورتیں دکھائی دیتیں اور ان کا رعب پڑتا تھا کہ معلوم ہوتا جیسے فرشتے یا کسی اور قسم کی غیر جسمانی مخلوق امام کی حفاظت پر مامور ہے۔خود امام کا چہرہ اس کے خیال کی آنکھوں میں کبھی نہایت ہی نورانی بن کے سفارش کرتا اور کبھی بھیانک اور مہیب نظر آ کے ڈرا دیتا۔ مگر ان سب خیالات کو اس نے مٹایا؛ شیخ علی وجودی کا عطا کیا ہوا خنجر نکال کے اس کی باڑھ دیکھی اور یکایک دل مضبوط کر کے امام کے سینے پہ چڑھ بیٹھا۔ امام نے چونک کے آنکھ کھولی ہی تھی اور چلانے ہی کو تھے کہ اس کا بایاں ہاتھ اُن کے منہ پر اور خنجر ان کے دل میں تھا۔ چند ہی لمحے میں امام کی روح پرواز کر گئی۔ خون تمام حجرے میں پھیلا ہوا تھا۔ بے جان لاش خون آلود کپڑوں میں لپٹی بستر پر پڑی تھی۔ اور گو یہ کوئی روز آوری کا کام نہ تھا مگر حسین کے دل کو اتنی بڑی شدید حرکت ہوئی تھی کہ کھڑا ہانپ رہا تھا اور بار بار اپنے ہاتھ کے معصوم شہید کی مظلومانہ صورت کو ڈر ڈر کے دیکھتا۔ آخر حسین نے ان سب چیزوں کو اسی حال میں چھوڑا، حجرے میں خوفناک سین پر سہمی ہوئی آنکھوں سے آخری نظر ڈالی اور دروازہ کھول کے نکلا۔حجرے کا دروازہ باہر سے بند کر دیا اور چپکے چپکے قدم اٹھاتا ہوا چلا۔ شاید زیادہ وقت نہ صرف ہوا ہو گا کہ وہ شیخ کی خانقاہ سے دور نکل گیا۔


نیشا پور کے گرد نہایت ہی مضبوط فصیل تھی اور پھاٹک رات کو بند ہو جاتے تھے جس کے سبب سے اس وقت اسے شہر سے باہر نکلنے میں بہت دشواری نظر آئی۔ مگر وہ جان پر کھیل کے ایک تیرہ و تار بدرو سے باہر نکلا، اور نکلتے ہی نہایت تیزی سے بھاگا، تاکہ صبح ہونے سے پہلے ہی اتنی دور نکل جائے کہ اسے کوئی پا نہ سکے۔

دوسرے دن جب وہ شوق کے پروں سے اڑتا ہوا خراسان کے مغربی میدان اور جنگل قطع کرتا چلا جاتا تھا، اس وقت اس کے حواس ذرا ٹھکانے ہوئے اور اپنا ظلم و گناہ یاد آیا جو ہر پہلو سے برا نظر آتا تھا۔ اس خیال کے مٹانے کی برابر کوشش کرتا تھا مگر بار بار زبان سے ایک آہ کے ساتھ یہ جملہ نکل ہی جاتا تھا کہ "میں بڑا گناہگار ہوں!" اس کا دل اور اس کا ایمان اس پر لعنت کر رہا تھا۔ لعنت اور پھٹکار کی آواز کان میں آتی تھی اور وہ چونک چونک کے کہتا کہ " اس فعل کے ذمہ دار شیخ علی وجود ہیں" مگر خود ہی دل میں قائل ہو جاتا کہ امام کا کام تو میرے ہاتھ اور میری سنگدلی نے تمام کیا ہے، ذمہ داری کسی اور کے سر کیوں کر جا سکتی ہے۔اب اس کے دل نے شیخ کے اس اصول میں بھی شک پیدا کیا کہ مرید مرشد کے ہاتھ میں صرف ایک بے جان اور غیر ذمہ دار آلے کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ آپ ہی آپ کہنے لگا: " انھیں علمائے روحانین کا یہ مسئلہ اگر صحیح ہے کہ ثواب اور عذاب اسی لذت و الم کا نام ہے جو اپنے کردار کے نتائج میں خود اپنے کانشس اور دل کی تحسین و ملامت سے پیدا ہوتے ہیں تو انسان کے فعل کا کوئی دوسرا ذمہ دار نہیں ہو سکتا۔ فرض کرو کہ میں نے ایک کام کیا اور گو وہ کسی مشیر و صلاح کار کے خیال میں اچھا ہو مگر میرے نزدیک برا اور قابل ملامت ہے توا س کے ارتکاب پر میرا دل مجھ پر ضرور لعنت کرے گا۔ اور جب اسی لعنت کے الم کو اصطلاحِ شرع میں عذاب سے تعبیر کیا ہے، تو بے شک میں دوزخ اور عذاب سے نہ بچ سکوں گا۔"الغرض خود حسین کے دل نے اسے قائل کیا؛ اب وہ پچھتا رہا ہے اور سخت روحانی تکلیف میں مبتلا ہے مگر اس کے ساتھ ہی شیخ علی وجودی کی وقعت بھی ساتھ ہی دل میں موجود ہے۔شیخ کی وہ ایسی ایسی کرامتیں دیکھ چکا ہے کہ ان پر بدگمانی نہیں کر سکتا، بلکہ بعض اوقات ڈر جاتا ہے کہ کہ شیخ غیب کے اور دلوں کے حالات سے واقف ہیں، میرے یہ شکوک کہیں ان کو معلوم ہو گئے تو غضب ہو جائے گا۔ ادھر سے بھی جاؤں گا اور ادھر سے بھی۔ اتنے بڑے گناہ کے ارتکاب کے بعد بھی زمرد کے وصال سے محروم رہا تو حسرت ہی رہ جائے گی۔

حسین اسی قسم کے خیالات دل میں لیے ندامت کے دریا میں غرق اپنے فعل پر پچھتاتا ہوا شہر حلب میں داخل ہوا اور شیخ کے سامنے جاتے ہی قدموں پر گرنے کو تھا کہ انھوں نے اُٹھا کے گلے سے لگا لیا اور نہایت ہی جوش سے کہا: "حسین!تو اپنے امتحان میں پورا اُترا اور اب زمرد تجھ سے زیادہ تیری مشتاق ہے۔ اُس نور لا نور نے انوار ازلی نے تیرے دل پر پورا انعکاس کیا اور تیرے جسم کی اس مشت خاک نے یہ صلاحیت پیدا کر لی کہ اس عالم نور اور سروشستان کی تجلیات کی متحمل ہو سکے۔"

حسین: مگر یا حضرت! میرے دل میں اپنے اس ظالمانہ فعل کی نسبت طرح طرح کے شبہات پیدا ہوتے ہیں؟
شیخ: (جوش میں آ کر) بے شک پیدا ہوتے ہوں گے۔ روح اس مادے کی کثافت سے بڑی دشواریوں سے علیحدہ ہو سکتی ہے اور صرف یہی چیز ہے جو ان شکوک و شبہات کو پیدا کرتی ہے۔ وہ مرکز اشراقی جو باوجود لاحی ہونے کے حیات سرمدی کا سرچشمہ ہے، اس جسمانی روح پر جو قفس عنصری میں مقید ہے، اپنے تنوعات کو بمشکل آشکارا کر سکتا ہے۔
حسین: مگر ایسے اطمینان بخش نصائح ارشاد ہوں کہ دل سے یہ شبہات نکل جائیں۔


شیخ: سن اے حسین!استقلال تیرے شکوک کو دور کر دے گا، بشرطیکہ تو ان کو دفع کرنے کی کوشش میں مشغول رہے۔ مگر تیرے اطمینان کے لیے میں کہہ سکتا ہوں کہ دنیا میں تکمیل نفس اسی کا نام ہے اور یہی منشاء الہیٰات ہے کہ روح کے تعلقات اس جسم سے علیحدہ کیے جائیں۔ جسمانی افعال پر تصرف کرتے کرتے روح عادی ہو جاتی ہے کہ بلا استعانت مادہ کوئی کام نہ کر سکے۔ اور وہ روحییں جو جسم کے چھوڑتے وقت تک انھِیں مادیات میں پھنسی رہ گئیں وہ بعدمیں بھی ہر وقت اپنے گرد مادے کا تیرہ و تار غبار پاتی ہیں۔ اور یہی چیز اصطلاح شرع میں اِن کا دوزخ ہے۔ نجات کی کوشش یوں ہونی چاہیے کہ زندگی ہی میں روح کے علائق جسم سے کم کر دیے جائیں۔اس کوشش میں ابتدا اس سے ہوتی ہے کہ جسم سے ایسے کام لیے جائیں جن سے روح کو تعلق نہ ہو۔ روح بیتاب ہو ہوکے اُن کی طرف متوجہ ہونا چاہے اور انسان بہادری اور مضبوطی سے اُسے جبراً روکے۔یہی الہیٰات کی تعلیم اولیٰ ہے دوسری یعنی تعلیم وسطیٰ یہ ہے کہ روح ایسے کام کرے جن سے جسم کو کوئی تعلق نہ ہو۔ جو لوگ دور دراز شہروں میں اپنی روح سے اثر ڈال دیا کرتے ہیں ان کی نسبت سمجھ لینا چاہیے کہ وہ عالم روحانیات کے اس درمیانی درجے کو طے کر رہے ہیں۔ اس کے بعد تیسرا درجہ یہ ہے کہ روح جسم سے اتنی علیحدگی حاصل کر لے کہ اس نور لا نور کے ان کشافات کی جستجو میں مادے سے مبرا و منزہ ہوکے ملکوت اور عالمِ لاہوت کی سیر کرے۔ اور اس تیسرے درجے یا اس اعلیٰ جستجو کے زمانے میں جو کوئی مر جاتا ہے وہ جسم خاکی کو الوداع کہتے ہی اس نقطہ اولیٰ یا ذات واجب الوجود اور علت العلل سے جا ملتا ہے۔ اس وقت اُسے وہ اعلیٰ کمال روحانی حاصل ہوتا ہے جس کی تحصیل کے لیے اس نے عالم مادی کی یہ قید اٹھائی تھی اور اس آخشیجستان کے مصائب میں مبتلاہواتھا۔۔ اب اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ ایک طرف تو تعلقات جسدی کی مادی تعلیمات سے اس میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ جب چاہے اہل عالم کے سامنے اپنے آپ کو متہیز اور متشکل کر کے دکھا دے اور دوسری طرف اس میں کمال روحانیت و تجرد اس درجے کا ہوتا ہے کہ جب چاہے اس نقطۂ ازل اور اولیٰ مرکز نور لا نور سے جا ملے۔لہٰذا اے حسین! تو اس مدرسۂ روحانیت کی ابتدائی جماعت میں ہے اور ابھی اسی امر کی مشق کر رہا ہے کہ تیرے ارکان و جوارح سے ایسے افعال و حرکات صادرہوں جن کی طرف روح بے صبری سے متوجہ ہو اور تو اسے زبردستیاں اور نفس کشیاں کرے دوسری طرف منسوب کرے۔یہ لعنت و ملامت جو تیرا نفس اور تیری روح تجھ پر کر رہی ہے، اسی تعلق روحی کا نام ہے جس کے قطع کرنے کی تجھے کوشش کرنا چاہیے۔اور جس تو یہ کمال حاصل کر لے گا کہ تیری روح تیرے اعضاء کے کسی فعل کی طرف توجہ ہی نہ ہوا ُس وقت تُو درجہ توحید میں قدم رکھے گا۔

حسین: تو میں ان الزاموں اورملامتوں کی پرواہ نہ کروں جو خود میرے دل سے مجھ پر پڑ رہی ہیں؟
شیخ: ہرگز نہیں، اسی امر کی تجھے مشق کرنا ہے اور اس نور ولا نور کی طرف توجہ کرنے کا یہی پہلا زینہ ہے۔
حسین: حضرت! اس خداوند جل و علا کو نور لا نور کیوں فرماتے ہیں اس کا رمز میں نہیں سمجھ سکا۔ وہ حضرت رب العزت بے شک نور ہے مگر لا نور کیوں؟
شیخ: (برہم ہوکے) وہ نقطہ وحدت اور وہ سر چشمہ تکوین اس سے بالکل منزہ ہے کہ ہم اپنے مادی خیال کے صفات کو اس کی جانب منسوب کریں۔ وہ ایسا ہے کہ "لیس کمثلہ شئی"۔
حسین: مگر جب خود اللہ جل شانہ ہی نے ان صفات کو اپنی طرف منسوب کر لیا تو ہمیں کیا تامل ہو سکتا ہے؟

شیخ علی وجودی کی برہمی کی اب کوئی انتہا نہ تھی۔ انھوں نے اب کے حسین کے غضب آلود اور آتش بار آنکھوں سے گھور کے دیکھا اور بولے: "بے شک انسان ظلوم و جہول ہے!یہ تیرے خیال مین نہیں آتا کہ ہم بھی محض اسی کے ارشاد کے موجب ان صفات کو اس کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ ہم اسے نور کہتے ہیں مگر چوں کہ ہمارے خیال کے نور سے وہ منزہ ہے، لہٰذا پھر اسے لا نور بھی کہہ دیتے ہیں۔"

حسین: بے شک صحیح ہے ؛ اب میرا اطمینان ہو گیا؛ اور انشاءاللہ کبھی اپنے افعال پر نہ پچھتاؤں گا۔لیکن اُمیدوار ہوں کہ اب مجھے وہ سروشستان دکھا دیا جائے جہاں میری زمرد ان اجرام فلکی کے پہلو میں بیٹھی جلوہ افگنی کر رہی ہے۔
شیخ: بہتر۔

یہ کہہ کے شیخ نے اٹھ کے اپنا کتابوں کا صندوق کھولا، اس میں سے ایک چھوٹی سی کتاب نکالی، پھر اس کے ورق الٹ کے ایک خط نکالا اور اس خط کو حسین کے ہاتھ میں دے کر کہا: "لے!اس خط کو احتیاط سے رکھ اور اسی وقت روانہ ہوکے شہر اصفہان کی راہ لے۔یاد رکھ کہ اصفہان کے شمالی پھاٹک کے باہر ایک شکستہ اور قریب الانہدام مسجد ہے۔ اس مسجد میں تُو ایک فقیر کو پائے گا جو بظاہر تو بھیک مانگتا ہے مگر باطن میں بڑا خدا شناس شخص ہے۔یہ فقیر ہر وقت ایک دنبے کی کھال اوڑھے رہتا ہے اور انکساراً یہ صدا لگا کے راہ گیروں سے مانگتا ہے کہ "دہن سگ بہ لقمہ دوختہ بہ"۔ کاظم جنونی(نسخہ مطبوعہ قومی پریس دہلی 1321ھ میں کاظم جنونی کو بعض مقامات پر کاظم جنوبی لکھا گیا ہے۔کاظم جنوبی بھی صحیح ہو سکتا ہے۔ لیکن چوں کہ بیشتر مقامات پر جنونی ہے، اس لیے زیر نظر نسخے میں لفظ جنونی کو ترجیح دی گئی ہے اور ہر جگہ کاظم جنونی لکھا گیا ہے۔) اس کا نام ہے۔ یہ خط لے جا کے اُس شخص کے ہاتھ میں دے اور میرا سلام کہہ۔ رات کو وہ تجھے ایک غار میں لے جائے گا، جہاں تو ایک بڑے واقفِ اسرارِ سرمدی سے ملے گا اور اسی وقت تو جنت کے مدارج طے کرنا شروع کرے گا اور چند ہی روز کی زندگی میں جو زیادہ تر خواب کی سی ہو گی، فردوس بریں کی اعلیٰ منازل میں جاپہنچے گا۔"


حسین نے یہ خط لے کے شیخ کے ہاتھ کو بوسہ دیا، پھر رخصت ہونے کے طریقے سے اس کے قدم چومے اور اصفہان کے طرف رخ کر کے چل کھڑا ہوا۔اس کا یہ سفر زیادہ اطمینان بخش تھا۔ گناہ کی ندامت و ملامت کے اثر کو شیخ علی وجودی کی تقریر نے اس کے دل سے بالکل محو کر دیا تھا۔ امید و آرزو کا باغ اس کی آنکھوں کے سامنے تھا اور معلوم ہوتا تھا کہ گویا زمرد آ کے ہم کنار ہوا ہی چاہتی ہے۔الغرض اسی اطمینان اور انھی مسرتوں کے ساتھ بغداد ہوتا ہوا اصفہان پہنچا۔شمالی پھاٹک کے باہر مسجد کے دروازے پر متردد کھڑا تھا کہ کان میں آواز آئی"دہن سگ بہ لقمہ دوختہ بہ" فوراً دوڑ کے مسجد میں گیا ور شیخ کا خط نکال کے کاظم جنونی کے ہاتھ میں دے دیا جو دنبے کی کھال اوڑھے بیٹھا زورو شور سے صدائیں لگا رہا تھا۔

کاظم جنونی نے حسین کو حیرت و استعجاب کی نظر سے دیکھا اور ایک جوش وحشت کے لہجے میں چلا اُٹھا: "حذر! حذر! از اہل عالم حذر!!" مگر جب خط کو پڑھا تو فوراً اٹھ کے بغل گیر ہوا اور کہا" میں نہیں سمجھا تھا کہ شجر معرفت کی ایک شاخ تم بھی ہو۔ آؤ بیٹھو، کھا پی کے آرام لو، رات ہو تو تم کو شیخ الجب(جب غار کو کہتے ہیں۔شیخ الجب سے مراد ہے غار والا شیخ) کے پاس لے چلوں۔ انھوں نے غیابتہ الجب(یعنی غار میں چھپ جانا) اختیار کر لی ہے۔ دن چوں کہ مظہر نور ہے لہٰذا دن بھر وہ اپنے اوپر انوار لاہوت اکبر کا انعکاس کرتے ہیں اور رات چوں کے تیرہ و تار اور نمونۂ ظلمت ہے لہٰذا اسی ظلمت میں وہ مادی پیکروں سے ایک گونہ علاقہ پیدا کر لیتے ہیں۔"

حسین: مگر معلوم نہیں مجھ سے گناہ گاروں اور سیہ کاروں سے وہ ملنا بھی پسند کریں گے یا نہیں؟
کاظم جنونی: ضرور ملیں گے ؛ شجر معرفت کی ایک شاخ تم بھی تو ہو۔

حسین دن بھر اسی مسجد میں رہا اور شام کے بعد جب ایک ثلث رات گزر گئی تو کاظم جنونی اسے ساتھ لے کے بیرونی کوہستان کی طرف روانہ ہوا۔بہت سے نشیب و فراز طے کرے اور کئی گھاٹیوں سے گزر کے کاظم ایک بڑے غار کے دہانے پر ٹھہر گیا اور زور سے چلّایا: "یا شیخ الجب! ظلمت مادہ میں ایک جگنو چمکا ہے۔" مگر کچھ جواب نہ ملا۔ پھر کاظم جنونی نے پکار کے کہا: "ایک آئینے سے پردہ اُٹھا جو تجلیات انوار لاہوتی سے منعکس ہونا چاہتا ہے۔" اب بھی کوئی آواز نہ آئی۔ کاظم جنونی پھر پکارا: "ایک آخشیجی پیکر کا مقید اسرارِ سروشستان جاننے کے لیے بے صبر ہے۔" اس تیسری صدا پر غار کے اندر سے چٹانوں میں گونجتی اور اندھیرے میں سنسناتی ہوئی آواز آئی: "مرحبا! جوان آملی مرحبا! جنت کی ایک حور دو سال تیرے سے تیرے فراق میں بے تاب ہے۔ میں نے اپنی سیر لاہوتی میں ایک طرف اس حور کو فردوس بریں کے کوشکوں میں روتے اور دوسری طرف تجھے راہ طلب میں قدم مارتے دیکھا ہے۔ اب یہیں سے تجھے لذائذ سروشستانی حاصل ہونے لگیں گے ؛ آ اور قدرت کے کرشمے دیکھ۔"

اس جملے کے ساتھ ہی غار کی تہ میں ایک روشنی نمودار ہوئی اور کاظم جنونی نے حسین سے کہا: " بس اب آگے میں نہیں چل سکتا، مجال نہیں کہ ایک قدم بھی آگے بڑھاؤں۔"
حسین: کیوں؟
کاظم جنونی:

اگر یک سر موے برتر پرم
فروغ تجلی بسوز پرم

جاؤ اور یقین جانو کہ تم شجر معرفت کی ایک شاخ ہو۔

یہ سنتے ہی حسین نے کاظم جنونی کو اوپر چھوڑا اور خود جوش دل کی بے خودی میں امید و آرزو کے خواب دیکھتا ہوا غار میں اترا۔ تھوڑی دور تک تو ادھر اُدھر کی چٹانوں سے ٹکریں کھاتا رہا مگر جب انتہا پر پہنچ گیا جہاں اُسے روشنی نظر آئی تھی تو داہنی طرف ایک زینہ ملا۔اس زینے کے ذریعے وہ اور زیادہ نیچے گیا تو اپنے وہم و گمان کے خلاف اس خوفناک کوہستان اور درندوں کے مسکن کے نیچے ایک نہایت ہی وسیع، عالی شان اور بہت با رونق مکان نظر آیا جس میں ہر طرف کافوری شمعیں روشن تھیں۔ عود و لوبان سلگ رہا تھا۔ در و دیوار پر طلائی رنگ پھیر کے نقش و نگار بنائے گئے تھے اور انھیں بیل بوٹوں میں رنگین پتھر اور شیشے کے ٹکڑے جڑے تھے۔ جن پر شمعوں کا عکس پڑ کے ہر سمت ایک عجب عالم نور پیدا کر رہا تھا۔ حسین اس تمام سامان عیش کو دیکھ کے مبہوت و از خود رفتہ ہو گیا ور ایک بے صبری کے جوش میں چلاّ اٹھا "کیا فردوسِ بریں یہی ہے؟"

کہیں قریب ہی سے تسلی آمیز لہجے میں آواز آئی: " نہیں ، مگر سروشستان کی سیر کرنے والوں کے لیے یہ پہلی منزل ہے جس میں ٹھہرا کے وہ اس قابل بنائے جاتے ہیں کہ جنت کی مسرتو ں کو یکایک دیکھ کے از خود رفتہ نہ ہو جائیں۔‘

حسین: مگر آپ کون ہیں اور کہاں ہیں کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوکے شکر گزار ہوں؟
آواز: میں تیرے قریب ہی ہوں۔


ناگہاں ایک لاجوردی منقش پردہ جو پہلے دیوار کا دھوکا دے رہا تھا، کھنچ کے نظر سے غائب ہو گیا اور ایک معمر مگر قوی الجثہ اور نہایت ہی نورانی صورت کا آدمی نظر آیا جو زرتار مسند پر گاؤ تکیے سے لگا ہوا عجب بے پروائی اور بے نیازی کی شان سے بیٹھا تھا۔اُس کا نورانی چہرہ آئینے کی طرح صاف تھا ور اس وقت چاروں طرف سے شمعوں اور نیز در و دیوار کے شیشوں کی ضو پڑنے سے آفتاب کی مثل چمک رہا تھا اور سفید لمبی ڈاڑھی مقیش کی جھالر یا آفتاب کی کرنوں کا دھوکا دیتی تھی۔

حسین یہ نورانی صورت دیکھتے ہی پروانے کی طرح دوڑ کے قدموں پر گرا اور کہا: " آپ کون ہیں؟ شاید رضوان آپ ہی کا نام ہے؟" پیر مرد: نہیں ، ابھی تُو اس تیرہ خاک دان عنصری ہی کی حدود میں ہے۔ مگر ہاں تیری آنکھوں پر سے پہلا پردہ اُٹھا ہے۔ اہل دنیا مجھے شیخ الجب کہتے ہیں مگر اہل حقیقت کی اصطلاح میں طور معنی کہلاتا ہوں۔ حسین: (حیرت سے)طور معنی! حقیقت میں یہ نور ہو گا جو موسیٰ کو طور پر نظر آیا تھا۔
طور معنی: مگر تُو اسے ستر ہزار حجابوں کے اندر سے دیکھ رہا ہے۔
حسین: للہ وہ سب پردے بھی اُٹھا دیجیے۔
طور معنی: ابھی ان مادی کثیف آنکھوں میں اس کی قابلیت نہیں، مگر صبر کر، اسی کا سامان ہو رہا ہے اور یہ سب پردے اُٹھ جائیں گے۔

یکایک ایک خوبصورت نوعمر لڑکے نے آ کے ایک شربت کا لبریز جام طور معنی کے ہاتھ میں دیا اور طور معنی نے اُسے اپنے ہاتھ سے حسین کی طرف بڑھا کے کہا: " لے اس جام کو پی اور ملکوت سے ایک درجہ اور قریب ہو جا۔" حسین نے فوراً وہ جام پی لیا جس کے ساتھ ہی اس کا دماغ چکر کھانے لگا اور وہ طور معنی کے سامنے لیٹ کے غافل سو گیا۔

اس غفلت اور از خود رفتگی کی نیند میں کئی دفعہ اس کی آنکھ کھلی اور ہر مرتبہ وہ اپنے آپ کو ایک نئے مقام میں پاتا تھا۔ کبھی سرسبز و شاداب میدانوں میں ہوتا اور کبھی وحشت ناک اور پُر خطر گھاٹیوں میں ۔ ہر بیداری میں فرشتے یا انسان تھے مگر کسی غیر معمولی قسم کے لوگ اسے سروشستان سے اور زیادہ قریب ہونے کا یقین دلاتے اور وہ یقین کر لیتا۔آخر ایک مرتبہ اس کی آنکھ کھلی تو اوہ ایک نئے جوان شخص کے سامنے تھا۔ یہ شخص حریر سرخ کے کپڑے پہنے تھا جس پر سنہرا کام تھا۔ ا س کے سر پر نہایت ہی قیمتی اور بیش قیمت تاج تھا اور اس میں اعلیٰ درجے کے جواہرات ٹکے ہوئے تھے۔حسین کی آنکھ جیسے ہی اس خوبصورت نوجوان کے سامنے کھلی جو شاہانہ لباس پہنے اور مرصع تاج سر پر رکھے تھا، نہایت ہی التجا اور عاجزی کے لہجے میں کہنے لگا: " امید و انتظار نے بے صبر کر دیا ہے۔" شخص: اے جسم خاکی! تو مراحل تجرد کو طے کر چکا۔تجھے نہیں خبر کہ تو آسمان کے قریب اور فردوس بریں کے دروازے پر ہے۔ اب نہ گھبرا؛ ملائکہ مقربین تیرے انتظار میں ہیں اور حوریں تیرے لیے بناؤ سنگار کر رہی ہیں۔
حسین: اور آپ کون ہیں؟
شخص: میں وہ برزخ ہوں جو لاہوت و ناسوت میں واسطہ ہے۔ یہی میرا جسم ہے جو کبھی نور بن کے طور سینا پر چمکا تھا۔ یہی وہ نور ہے جو مسیح کے جسم سے خدائی کی شان دکھاتا رہا تھا اور مُردوں میں زندگی کی چراغ روشن کر دیتا تھا۔ یہی وہ نور ہے جو ازراق مجرد کی شان سے رسول آخر الزمان(صلی اللہ علیہ و سلم) کے سینے میں چمکا اور یہی وہ نور ہے جو امامت کی مشعل روشن کر کے معصوم جسدوں کو بدلتا رہا۔


حسین: تو آپ ہی جبرئیل ہیں؟
شخص: جبرئیل بھی میرے ہی تنوعات کی ایک چھوٹی سی شمع ہے۔
حسین: شاید آپ ہی وہ حی لایموت ہیں؟
شخص: حی لایموت نہیں، حی لا حی۔ مگر اس تشخص کے ساتھ میں یہ دعویٰ نہیں کر سکتا، گو یہ ضرور کہوں گا کہ "انا خالق الارواح، انافائق الاصباح"(میں ہی پیدا کرنے والا ہوں روحوں کا اور میں ہی چاک کرنے والا(دامان) سحر کا ہوں۔ لیکن اس وقت تو ایک پیکر متحیز میں ہوں اور وہ امام بن کے نمودار ہوا ہوں جس پر ایمان لانا ہر مکلف پر فرض ہے۔
حسین: (ہاتھ سے ہاتھ ملا کے) تو میں بھی آپ کی امامت اور اس مظہر نقطۂ وحدت کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔
شخص: حسین سن! تو منزل مقصود کو پہنچ گیا۔ مدارج صعود طے ہو گئے اور عنقریب اُ س پر شوق آغوش میں ہو گا جو دو سال سے تیرے لیے کھلا ہوا ہے۔اگرچہ اب کوئی دنیاوی عبادت تجھ پر فرض نہیں۔تاہم ارضی کثافت کا باقی ماندہ اثر دل سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ اس سروشستان کے پھاٹک پر تین دن تک بیٹھ کے تو ایک مختصر سی عبادت کرے۔ لیکن شبانہ روز تیری زبان سے صرف یہ ہی کلمہ نکلنا چاہیے کہ" یا مرکز النور اغرقی فی بحار انوارک"(اے مرکز نور! مجھے اپنے نوروں کے سمندر میں غرق کر!) مگر شرط یہ ہے کہ چاہے کچھ کھا لے مگر ان تین دن میں پانی کا کوئی قطرہ تیرے حلق سے نہ اترے۔

اتنا کہہ کے تاجدار شخص چند روٹیاں چھوڑ کے چلا گیا اور اس کے جاتے ہی مکان کے سب دروازے یکایک اور ایک ساتھ بند ہو گئے۔حسین پہلے تو یہ حالت اور اپنی تنہائی دیکھ کے گھبرایا مگر فورّا اس کے آخری مرشد و امام کی نصیحت یاد آئی اور ریاضت و وظیفے میں مشغول ہو گیا۔ علی الاتصال ایک ہی جملہ کہتے رہنے اور پھر پانی نہ پینے کا یہ نتیجہ نکلا کہ تیسرے روز پیاس نے مجنوں بنا دیا تھا۔ہونٹوں سے لے کے سینے تک سارا گلا خشک تھا اور سوا سائیں سائیں کے کوئی آواز نہ نکلتی تھی، مگر زمرد کے شوق میں وظیفے سے زبان نہ رکی اور اسی استقلال اور خود فراموشی سے دعا پڑھے جاتا تھا۔

تیسرے روز حسین زبان حال سے العطش پکار رہا تھا کہ وہ تاج دار نوجوان شاہانہ لباس پہنے ہوئے آیا اور کہا: " لے! اب سفر جنت کے لیے تیار ہو۔ تیری ریاضت پوری ہوئی، تُو نے سب مراحلِ یقین طے کر لیے اور کوئی چیز نہیں باقی رہی جو اس راہ میں تیری مزاحم ہو۔مگر ہاں تو پیاسا ہے، ذرا اپنے آپ کو تازہ دم کر لے۔"اس شخص کی زبان سے یہ جملہ پوری طرح نکلنے بھی نہ پایا تھا کہ ایک نہایت ہی حسین و نازنین عورت ایک سونے کا مرصع جام ہاتھ میں لیے جو ایک خاص قسم کے لطیف و خوش رنگ شربت سے ملبب تھا، حاضر ہوئی؛ اس شخص نے جام کو اس حسینہ کے ہاتھ سے لے کر حسین کی طرف بڑھایا اور کہا: " لے یہی وہ شراب طہور ہے جس کے دور فردوس بریں میں ہمیشہ چلتے رہتے ہیں۔اس کے پینے سے تیری پیاس، ماندگی، تھکن اور جملہ بدمزگیاں جاتی رہیں گی اورتو نہایت ہی نورانی و روحانی سرور کے ساتھ جنت میں داخل ہو گا۔"

حسین نے فوراً وہ جام لے کے منہ سے لگا لیا اور پیاس کی ایسی شدت تھی کہ دو ہی تین گھونٹ میں اُتار گیا۔ایک لحظہ نہ گزرا ہو گا کہ اُسے اپنے سر میں ایک گرانی سے معلوم ہونے لگی جس کے ساتھ ہی خمار آلود آنکھیں چھپک جھپک کے بند ہو گئیں۔وہ بے ہوش تھا اور بے ہوش بھی ایسا کہ سرو پا کی خبر نہ تھی۔


چوتھا باب: فردوس بریں

حسین کو نہیں خبر کہ یہ غفلت کتنی دی تلک اُس پر طاری رہی، لیکن مدہوشی تھوڑی تھوڑی کم ہوئی تھی اور نشۂ غفلت اُترنا شروع ہوا تھا کہ ایک نہایت ہی دل کش اور وجد پیدا کرنے والے نغمے کی آواز کان میں آئی اور ایسا معلوم ہوا کہ گویا دل فریب و دلربا پری پیکروں کا ایک طائفہ عجیب و غریب اور انتہا سے زیادہ پر لطف باجوں اور مزامیر کے ساتھ اپنے نور کے گلوں سے ولولہ خیزی اور بہار کی مسرت انگیز دھن میں یہ ترانہ مبارکباد گا رہا ہے کہ "سلام علیکم طبتم فادخلوھا خالدین"۔ ایک جوش مسرت کی بے اختیاری سے اس نے گھبرا کے آنکھیں کھول دیں۔ ہر طرف ایسا سماں نظر آیا کہ جدھر نظر جاتی ہے " کرشمہ دامن دل میکشد کہ جا ایں جاست"۔

حسین نے اس وقت اپنے آُ پکو اس حالت میں پایا کہ ایک طلا کار اور مرصع کشتی میں سوار ہے اور نازک بدن پری جمال لڑکوں کی کوشش سے وہ کشتی ایک پتلی مگر بہت ہی دل کش نہر کے کنارے ابھی ابھی آ کے ٹھہری ہے۔ نرم اور نظر فریب سبزے کو شفاف اور پاک و صاف پانی اپنی روانی میں چومتا ہوا نکلا جاتا ہے۔ بعض مقامات پر گنجان اور سایہ دار درخت ہیں جو پیچیدہ اور خم دار زلفوں کی طرح نہر کی گوری مگر خم آلود پیشانی پر دونوں طرف سے جھک پڑے ہیں مگر جہاں پر کشتی آ کے کنارے لگی ہے وہاں ایک کشادہ مرغزار ہے۔ ان خوبصورت ملاحوں کے کہنے کے بموجب وہ کشتی سے اتر کے سبزہ زار کی سیر کرنے لگا۔ وہاں جا کے دیکھا تو اور حیرت ہوئی۔ پانی کے پاس ہی سبزے کا ایک پتلا اور برابر حاشیہ چھوڑ کے شگفتہ اور خوش رنگ پھولوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جو نہر کے دونوں جانب حد نظر تک پھیلتے چلے گئے ہیں۔ اگرچہ پھولوں میں شادابی و خوش رنگی کی وہی شان ہے جو صرف خودرو پھولوں میں نظر آتی ہے مگر اس قدرتی بہار کے ساتھ یہ لطف بھی ہے کہ نہایت ہی لیاقت بلکہ بظاہر مافوق العادت ہوشیاری و دانائی سے چمن بندی کی گئی ہے۔ چمنوں کی بعض قطاریں تو ایسی ہیں جن میں ایک ہی قسم اور ایک ہی رنگ کے پھول ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ایک ہی قوم اور ایک ہی وردی کی فوج مختلف کمپنیوں پر تقسیم ہوتی حد نظر تک چلی گئی ہے۔ مگر اکثر چمن ایسے ہیں جن میں مختلف رنگ کے پھولوں کو ترتیب دے کے زمین پر ایسی ایسی گلکاریاں کی گئی ہیں کہ عقل انسانی حیرت میں آ جاتی ہے۔ سارا مرغزار اور ساری وادی جو کوسوں تک پھیلی ہوئی ہے اور جسے خوب صورت، متوازی اور سرسبز و شاداب پہاڑوں نے اپنے حلقے میں کر لیا ہے، از سر تا پا ان ہی چمنو ں اور پھولوں سے بھری ہے۔ اور مختلف نہریں جو آبشاروں کی شان سے اور پانی کی چادریں بن بن کے پہاڑوں سے اتری ہیں اور انھی ہی چمنوں اور پھولوں کے درمیان میں جابجا بہ رہی ہیں۔ اور ان کے پانی نے خواہ پھولوں کو خوش بو سے متاثر ہوکے یا کسی اور وجہ سے گلاب اور کیوڑے کی شان پیدا کر لی ہے۔ یہ نہریں زبان حال سے پکار پکار کے کہہ رہی ہیں کہ ہم ہی تسنیم و سلسبیل ہیں۔ راستوں اور روشوں کی ترتیب میں یہ معجز نما کیفیت پیدا ہو گئی ہے کہ ہر چمن کے ایک پہلو کو نہر دھوتی ہے تو اس کے دوسرے پہلو کو ایک چھوٹی سی خوش نما سڑک اپنے آغوش میں لیتی ہے۔یہ سڑکیں چمن سے بھی زیادہ کمال صناعی دکھا رہی ہیں۔ مختلف قسم اور مختلف رنگ کے سنگریزوں سے ان سڑکوں کی تعمیر میں کام لیا گیا ہے اور ہر سڑک پر ایک خاص رنگ کے سنگ ریزے بچھا کے کوئی سڑک فیروزے کی، کوئی زمرد کی، کوئی یاقوت کی اور کوئی نیلم کی بنا دی گئی ہے۔ پھر ترتیب میں یہ لطف ہے کہ جس رنگ کے پھولوں کا چمن ہے اسی کے مناسب و موزوں رنگ کی پتلی خوش نما سڑک اس کے پہلو سے گزری ہے۔ نغمہ سجن طیور ان چمنوں میں اڑتے پھرتے ہیں، پھولوں کے قریب بیٹھ بیٹھ کے عشق و محبت کی داستان سناتے ہیں اور خدا جانے کس کمال استادی سے تعلیم دی گئی ہے کہ اکثر آنے جانے والے جہاں دیگر اطراف سے پری پیکروں کے نوران گلوں سے خیر مقدم کا ترانہ سنتے ہیں، وہاں اس نغمہ سنج طیور کا بینڈ بھی اپنے قدرتی ارغنون سے یہی کلمۂ خیر مقدم سناتا ہے کہ " سلام علیکم طبتم فادخلوھا خالدین"۔

حسین نے نہایت ہی جوش و حیرت سے دیکھا کہ ان ہی چمنوں میں جا بہ جا نہروں کے کنارے کنارے سونے چاندی کے تخت بچھے ہیں جن پر ریشمی پھول دار کپڑوں کا فرش ہے۔ لوگ پر تکلف اور طلائی گاؤ تکیوں سے پیٹھ لگائے دل فریب اور ہوش ربا کم سن لڑکیوں کو پہلو میں لیے بیٹھے ہیں اور جنت کی بے فکریوں سے لطف اٹھا رہے ہیں۔خوب صورت خوب صوت آفتِ روزگار لڑکے کہیں تو سامنے دست بستہ کھڑے ہیں اور کہیں نہایت ہی نزاکت اور دل فریب حرکتوں سے ساقی گری کرتے ہیں۔ شراب کے دور چل رہے ہیں اور گزک کے لیے سدھائے یا قدرت کے سکھائے ہوئے طیور پھل دار درختوں سے پھل توڑ توڑ کے لاتے ہیں اور ان کے سامنے رکھ کے اڑ جاتے ہیں۔پھل ہی نہیں، یہ خوش نما طیور کپڑوں میں لپٹے کبابوں کی پوٹلیاں بھی لاتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے مے کشی و شاہد پرستی کا پورا سامان فرام کر دیتے ہیں۔ سب سے زیادہ جس چیز نے حسین کو متوجہ کیا وہ یہ بات تھی کہ یہ سب لوگ بے غل و غش نہایت بے فکری و اطمینان سے ان لذتوں کے مزے لوٹ رہے تھے اور خبر بھی نہ ہوتی تھی کہ پاس سے کون گزرتا ہے اور انھیں کس نظر سے دیکھتا ہے۔ نہ کسی کو کسی سے حسد تھا اور نہ کسی کو کسی لطف کے چھپانے کی ضرورت تھی:

بہشت آنجا کے آزارے نباشد
کسے را با کسے کارے نباشد


یہ عالم دیکھ کے حسین کے کے دل میں ایک جوش و ولولہ پیدا ہوا۔ اس نے کسی قدر بلند آواز میں کہا: " بے شک فردوس بریں یہی ہے! یہیں آکے نیکوں کاروں اور ایمان داروں کو اپنے اعمال نیک کا صلہ ملتا ہے۔ مگر افسوس! اے زمرد تو کہاں۔۔۔۔۔؟" یہ جملہ ناتمام ہی تھا کہ پاس کے چمن کے پھولوں کے نیچے سے ایک شیریں و دلکش آواز میں کسی نے کہا: " تو ابھی جنت کے چمنوں ہی کو دیکھ رہا ہے، ذرا محلوں اور قصروں کو بھی نظر اُ ٹھا کے دیکھ!" پہلو سے تو اس نے یہ آواز سنی اور سامنے سے ایک نہایت ہی نازک اندام اور قیامت خرام نازنین نے آ کے گلے میں بانہیں ڈال دیں اور مسکرا کے کہا: "میں بھی تیرے لیے ہوں۔" حسین ذرا جھجک کے اس سے علیحدہ ہوا اور غور سے اس کو صورت دیکھ کے کہا: "مگر میں پیاری زمرد کے سوا کسی کو نہیں چاہتا؛ بتاؤ وہ کہاں ہے؟"
نازنین: وہ بھی مل جائیں گی۔ آُ پ کی خوشی کا پیمانہ تنگ ہے۔ ذرا ان سرمدی مسرتوں سے نگاہ اور دل آشنا ہولیں تو اُن سے ملیے گا۔وہ جو سامنے موتی کا قصر ہے، آپ ہی کے لیے ہے اور زمرد اسی میں ہے.

حسین نے نظر اٹھا کے اس رفیع الشان قصر کو دیکھا اور اس کے ساتھ ہی اس کی نظر دیگر عمارتوں پر بھی جا پڑی اور اُسے نظر آیا کہ یہ عمارتیں باغوں سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہیں۔ بعض بالکل سونے کی، بعض چاندی کی، بعض مونگے کی اور بعض موتیوں کی نظر آتی ہیں۔ یہ تمام مکانات جو حسب حیثیت محل، قصر اور کوشک کے لفظ سے تعبیر کیے جا سکتے ہیں۔مذکورہ اشیا کے علاوہ ان میں کوئی فیروزے کا، کوئی زمرد کا، کوئی یاقوت کا اور کوئی ہیرے کا ہے۔ موتی کے محل جن میں سے ایک خاص حسین کے لیے ہے، کچھ ایسے آب دار رنگ میں رنگے ہوئے ہیں کہ نیچے سے اوپر تک ایک ہی موتی میں ترشے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ ان میں جابجا صدف صادق کے جھلکتے ہوئے ٹکڑے جڑے ہیں۔تمام محلوں پر علاوہ اس رنگ کے جس کی طرف وہ محل منسوب ہیں، ہر در و دیوار کے گرد بلور اور شیشے کے ٹکڑوں کا حاشیہ بنا ہوا ہے اور ان شیشیوں کے نیچے ڈاک دی ہوئی ہے۔ یہ آئینے دن کو آفتاب کی ضو میں اور رات کو ہزارہا کافوری شمعوں کی روشنی میں اس قدر جگمگا اٹھتے ہیں کہ تیز سے تیز نگاہ خیرگی کرنے لگتی ہے۔ اس کے علاوہ ان ہی دیواروں میں اندر باہر جواہرات بھی جڑے ہیں جو اپنی کرنیں چمکا چمکا کے ایک عجیب لطف پیدا کرتے ہیں۔ بہر تقدیر اس مجموعی سامان، سنہرے، روپہلے اور رنگ برنگ قصروں، ان کے آئینوں اور جواہرات نے ہر چہار طرف ایک ایسی نور کی کیفیت پیدا کر رکھی ہے کہ نظر پڑتے ہی انسان کے دل میں ایک جوش اور ولولہ پیدا ہو جاتا ہے۔

حسین ان محلوں کو دیکھ کے ذرا تھوڑی دیر تک تو مبہوت کھڑا رہا مگر ہوش آتے ہی اس خاص محل کی طرف دوڑا جس کی نسبت اس پری پیکر حور کی زبانی سنا تھا کہ خاص اس کے لیے ہے اور جس میں پیاری زمرد کے ملنے کی امید تھی۔اب اس کے جذبات دلی اور اس جوش و خروش سے زمرد کی طرف متوجہ تھے کہ اس نے کسی چیز کی طرف نظر نہ اٹھائی، نہ کس سامان عشرت کو دیکھا اور سیدھا اس قصر دُری کے دروازے پر جا پہنچا۔ زمرد بھی استقبال کے لیے محل سے باہر نکل آئی تھی اور ایک غیر معمولی مگر نہایت دل ربا وضع سے بال کھولے اور زلفوں کو شانوں اورپیٹھ پر بکھرائے کھڑی تھی۔ آنکھیں دوچار ہونا تھیں کہ بے اختیاری جوش میں ایک دوسرے کا نام نکلا اور دوڑ کے لپٹ گئے۔ حسین تو محو حیرت تھا ہی، زمرد کے چہرے سے بھی ایک غیر معمولی مسرت و جوش اور کسی قدر حیرت کے آثار نمایاں تھے۔ دیر تک دونوں لپٹے رہے اور حسین دل کی پر جوش حرکت سے بے اختیار ہوکے رونے لگا۔ اس کی سانس سے رونے کا پتا پا کے زمرد نے اپنے آپ کو علیحدہ کیا اور کہا: " حسین یہاں رونا حرام ہے، بس اب آنسو پونچھ ڈالو۔"

حسین: (آنسو پونچھ کے)زمرد! یہی فردوس بریں ہے؟
زمرد" یہی!
حسین: تم یہاں چلی آئیں اور مجھے اسی درد و الم میں چھوڑ دیا؟
زمرد: یہ میرے اختیار کی بات تھی؟ مجھے تو ایک اتفاقی شہادت نے یہاں پہنچا دیا مگر تمہاری زندگی باقی تھی اور ضرور تھا کہ اتنے مدارج وہ مراحل طے کر کے یہاں آؤ۔ مگر سچ کہتی ہوں کہ اس جنت میں بھی تمھارے فراق نے کبھی چین نہ لینے دیا۔ کیا کہوں کن دشواریوں سے مجھے اتنی اجازت ملی ہے کہ تمھیں اپنے پاس آنے کا راستہ اور طریقہ بتاؤں۔
حسین: میرے تو ایسے اعمال تھے کہ شاید مر کے بھی یہاں نہ پہنچ سکتا؛ صرف تمھاری محبت تھی جو خضرِ طریقت بن کے لائی۔
زمرد: لیکن اگر تمھارے دل میں طلب صادق نہ ہوتی تو میں کیا کر سکتی تھی؟
حسین: مگر اس طلب سے یہ تھوڑا ہی ممکن تھا کہ میں اس ملاء اعلیٰ میں آ پہنچتا۔میں تو دل میں ٹھان چکا تھا کہ اس قبر کے پاس اور اس چٹان کے سامنے جس پر تمھارا پیارا نام کندہ ہے، پڑے پڑے دم توڑ دوں گا۔
زمرد: خیر یہ باتیں تو ہوتی ہی رہیں گی، اب اندر چل کے آرام سے بیٹھو، شراب طہور کے دو ایک جام پیو اور دیکھو اس خداوند جل و علا نے تمھارے لیے کیسے کیسے سامان راحت اور کیسی کیسی لذتیں فراہم کر رکھی ہیں۔

یہ کہہ کے زمرد حسین کو اندر لے گئی۔


جس وقت حسین نہر کے کنارے کشتی سے اُترا ہے۔ سر شام کا وقت تھا، مگر اب رات ہو گئی تھی۔ ہر طرف کافوری شمعیں روشن ہوئیں اور ایک خاص قسم کی ٹھنڈی روشنی جس کا پتا نہ چلتا تھا کہ کہا ں سے آتی ہے اور کیوں کر پیدا ہوتی ہے، دروازوں، بلند کھڑکیوں اور چھت کے روشن دانوں سے رہ رہ کے چمک اُٹھتی تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ گویا یکایک ہزار ہا مہتابیاں چھوڑ دی گئیں۔اس تیز روشنی میں شمعیں ماند پڑ جاتی تھیں اور پیارے ہم صحبتوں کا چہرہ ایک دوسرے کو زیادہ بھلا اور دل فریب نظر آنے لگتا تھا۔ اس غیبی روشنی کو حسین نے حیرت سے دیکھا اور دریافت کرنے کے لیے کہ یہ کیسی روشنی ہے، وہ بار بار دروازے سے جھانک کے باہر دیکھتا مگر کچھ حال نہ کھلا؛ صرف اتنا معلوم ہوا کہ اس روشنی کا مرکز و منشا گرد کی پہاڑیوں کی چوٹیوں پر ہے، جہاں وہ زیادہ چمکتی ہے اور وہیں سے اس کی کرنیں آ کے تمام مکانات کو روشن کر دیتی ہیں۔ ایک یہ بات بھی اس نے دیکھی کہ یہ روشنی جب پوری تیزی اور کمال پر آ جاتی تو چاروں طرف سے لوگ چلاّ اٹھتے: " ہٰذا الذی ما وعدی ربی" بلکہ سب کے ساتھ ایک بے اختیاری کے جوش میں یہی کلمہ خود حسین کی زبان سے بھی کئی بار نکل گیا۔ جب اس روشنی کا راز حسین کے حل کیے حل نہ ہو سکا تو اس نے زمرد سے پوچھا" یہ کیسی روشنی ہے؟"

زمرد: تم نے نہیں پہچاناِ یہی تو وہ نور الٰہی ہے جو موسیٰ کو وادیِ ایمن میں نظر آیا تھا۔ تم نے قرآن و احادیث میں پڑھا ہے کہ جنت میں خدا کا دیدار ہو گا، اُس سے یہی نور عبارت ہے۔
حسین: تو یہی خداوند جل و علا ہے؟
زمرد: یہ تو نہیں کہہ سکتے مگر ہاں اس کے تنوع اولیٰ کی سب سے زیادہ مکمل اور سچی تصویر یہی ہے۔

یہ جواب سن کے حسین اس نور کے سامنے سجدے مین گر پڑا مگر زمرد نے اُٹھایا اور کہا: " یہاں عبادت کی تکلیف نہیں؛ یہ نور صرف اس غرض سے ہے کہ لوگوں کے دل میں اطمینان کی مسرت پیدا ہو۔"

اب حسین نے مکان کے فرش اور تمام سامان کو دیکھا اور اُسے یقین ہو گیا کہ یہ سب نوری سامان ہے جو دنیا میں نہ کبھی انسان کے دل میں گزرا ہے اور نہ کسی کے قیاس و گمان میں آ سکتا ہے۔زمرد اس کے ہاتھ میں ہاتھ دیے یہاں کی تمام عجوبہ چیزیں اُسے دکھاتی پھرتی تھی، اور ہر چیز پر وہ خدائے ذوالجلال والاکرام کی قدرت و مرحمت کا جوش و خروش سے اعتراف کرتا۔اور آخر پھرتے پھرتے ایک مقام پر رک کے وہ نہایت گرم جوشی کے ساتھ زمرد سے لپٹ گیا اور کہا: " یہ سب لطف اور یہ سارے سامان عیش ہیں مگر زمرد میرے لیے کوئی تجھ سے بڑی نعمت نہیں ہو سکتی۔"
زمرد: یہی محبت تمھیں یہاں لائی ہے، ورنہ یہ وہ مقام ہے جہاں کسی زندہ انسان کا بہت کم گزر ہوا ہے۔یہ تمھاری بڑی فضیلت ہے کہ اس جسم خاکی کے ساتھ اس نورستان میں آ پہنچے۔

حسین کو جنت میں پھرتے اور زمرد کے حسن و جمال سے فائدہ اٹھاتے ایک پورا ہفتہ گزر گیا اور یہ ہفتہ اس حالت میں گزرا کہ دل کش اور نشاط انگیز نغموں کی آواز اکثر کانوں میں گونجتی رہتی، اور بہت سی حوریں اس کی خدمت کو حاضر تھیں اور سب پری جمال و زاہد فریب تھیں، مگر اُسے زمرد کے سوا کسی سے کچھ علاقہ نہ تھا۔ ہر وقت زمرد کی بغل میں ہاتھ رہتا اور دونوں ہمیشہ فرحت بخش وادیوں اور روح افزا مرغزاروں میں ٹہلتے رہتے۔ زمرد نے اتنے ہی زمانے میں اسے یہاں کی تمام نزہت گاہیں اور سب دل چسپ مقامات دکھا دیے۔ ایک مرتبہ حسین نے کہا: " زمرد!میں تو سنتا تھا کہ جنت میں ہمیشہ صبح کا وقت رہتا ہے مگر آ کے دیکھا تو یہاں بھی وہی دنیا کے سے تغیرات زمانہ موجود ہیں۔؟"

زمرد: اس امر میں لوگوں سے سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ ہر وقت صبح رہتی ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ اور کسی وقت کا لطف انسان اٹھا سکتا ہی نہیں ایسا ہو تو جنت سے ایک بڑا لطف اٹھ جائے اصل مطلب یہ ہے کہ یہاں ہر وقت کوئی ایسا مقام ضرور مل جائے گا جہاں انسان جس وقت کا چاہے لطف اٹھا لے۔
حسین: یہ کیوں کر؟
زمرد: زبان سے کہنے کی نہیں، میں چل کے تمھیں آنکھوں سے دکھائے دیتی ہوں۔
یہ کہہ کے زمرد اسے ساتھ لیے ہوئی قصر دُری سے باہر نکلی اور کہا: " دیکھو یہاں دوپر کا سماں، اب آگے چلو۔ تھوڑی دیر بعد دونوں ایک ایسے درختوں سے گھرے ہوئے سبزہ زار میں پہنچے جہاں آفتاب کی روشنی کو درخت روکے تھے۔ہر طرف سے اندھیرا جھکا ہوا تھا اور مشرق قلعہ ہائے کوہ سے ایک ہلکی ہلکی روشنی نمودار تھی۔ زمرد یہاں پہنچ کے بولی: " دیکھو یہ صبح کا وقت ہے ؛ ہے نا؟"
حسین: بے شک ہے۔
زمرد: آگے چلو۔


یہاں سے روانہ ہوکے تھوڑی دیر میں دونوں ایک ایسی چھوٹی سے وادی میں پہنچے جو ہر طرف سے پہاڑیوں میں گھری ہوئی تھی۔ یہاں بھی درختوں نے حفیف تاریکی پیدا کر دی تھی اور ذرا فاصلے کے مقامات پر ہلکا ہلکا دھواں اُٹھتا نظر آ رہا تھا؛ کہیں کہیں چراغ جلنے لگے تھے ؛ طیور کے چہچہانے کا شور بلند تھا۔ اور مغرب کے قلے پر آفتاب غروب ہونے کی سی شعاع نظر آ رہی تھی۔ زمرد نے یہاں رک کے کہا" اور یہ شام ہوئی۔"
حسین: اس میں کسے شک ہو سکتا ہے!
زمرد: دن کا سماں دیکھ چکے، صبح دیکھ چکے اور شام بھی دیکھ لی؛ صرف رات کالطف باقی ہے، چلو وہ بھی دکھائے دیتی ہوں۔

یہاں سے واپس آ کے زمرد حسین کو لیے ہوئے ایک پہاڑ کے غار میں داخل ہوئی جہاں نہایت خوبی سے ایک نشیبی راستہ بنا ہوا تھا۔ زینے نہ تھے بلکہ زمین جو پختہ، مسطح اور رنگ برنگ تھی، ساعت بہ ساعت نیچی ہوتی جاتی تھی۔ اسی زمین دوز راستے میں جاتے جاتے دونوں ایک نہایت ہی عالی شان اور پر تکلف قصر میں پہنچے جس میں ہر جگہ کافوری شمعیں روشن تھیں۔ جھاڑ اور فانوس کثرت سے لٹک رہے تھے اور درودیوار پر بلور اورشیشیے کے رنگ برنگ ٹکڑوں کو ان شمعوں کی شعاعیں کچھ ایسی عجیب و غیرب روشنی سے چمکا رہی تھیں کہ نظر خیرہ ہوئی جاتی تھی۔

زمرد: دیکھو یہ رات ہے اور کیسی پیاری رات!
حسین: پیاری زمرد! اگر تو ساتھ ہوتو ہر چیز پیاری ہے۔

یہ سب سامان دیکھ کے دونوں اپنے قصر میں واپس آئے اور باہم عشق و محبت کی باتیں کرنے لگے، مگر پیشتر کے برخلاف زمرد اکسی قدر افسردہ سی تھی۔ اس کے چہرے سے ظاہر ہواتا تھا کہ گو زبردستی کوشش کرکرے چہرے کو بشاش بناتی ہے مگر اندر سے دل بیٹھا جاتا ہے۔حسین نے اس امر کو حیرت سے دیکھا ور کہا: " زمرد! اس فردوس بریں میں بھی آج تم مجھے ملول نظر آتی ہو؟"
زمرد: نہیں، مگر ہاں! گزشتہ مفارقت کسی کسی وقت یار آ جاتی ہے تو خواہ مخواہ دل بھر آتا ہے۔
حسین: مگر خدا نے وہ مصیبت کاٹ دی اور اب امید ہے کہ ہم دونوں ہمیشہ یوں ہی ایک دوسرے کے وصل سے لطف اٹھاتے رہیں گے۔
زمرد: خرا کرے ایسا ہو، مگر حسین ابھی مجھے اس کی امید نہیں۔
حسین: (حیرت سے) امید نہیں؟ یہ جنت ہے جس کے لطف سرمدی و ابدی ہیں۔یہاں کسی دشمن کا اندیشہ ہو سکتا ہے، نہ کسی حاسد کا حسد۔ پھر نا امیدی و حسرت نصیبی کا کیا سبب؟" و لا تقنطوا من رحمۃ اللہ۔"
زمرد: بے شک، مگر حسین تم یہاں قبل از وقت آئے ہو اور ابدی اور سرمدی لطف اُ ٹھانے کے لیے وہی لوگ آتے ہیں جو مرنے کے بعد دنیا سے قطع تعلق کر کے آئیں۔تم نے ابھی اسی مادی دنیا کے علائق قطع نہیں کیے اور اُ س مادی جسم کو ساتھ لائے ہو جس کو وہیں دنیا میں چھوڑنے کے لے تمھیں ایک دفعہ اس عالم میں ضرور جانا ہے۔ دیکھو حضرت مسیح (ع) یہاں زندہ آئے اور اب تک ہیں مگر انھیں کبھی کسی لطف میں پوا مزہ نہیں آتا، اس لیے کہ جانتے ہیں یہ قفس عنصری چھوڑنے کے یے ایک مرتبہ دنیا میں پھر جانا ہے۔ اصل یہ ہے کہ کثافت مادہ اس نورستان میں رہ ہی نہیں سکتی۔
حسین: افسوس! پھر میں کب جاؤں گا؟
زمرد: جب حکم ہو جائے، مگر مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جلدی جانا پڑے گا، اس لیے کہ وہاں کی کئی شدید ضرورتیں تمھیں بلا رہی ہیں۔


حسین یہ سن کے آبدیدہ ہو گیا اور نہایت ہی جوش دل سے ایک آہ سرد کھینچ کے بولا: " آہ! روئے گل سیر ندیدیم و بہار آخر شد! مجھے تو ابھی تیرے وصال کا بھی لطف نہیں حاصل ہوا۔ مگر زمرد مجھ سے تو اب نہ جایا جائے گا۔ اب اس وقت سے میں ہر وقت تیرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے رہوں گا تاکہ کوئی مجھے تجھ سے جدا نہ کر دے۔" یہ سن کے زمرد بھی آبدیدہ ہو گئی اور بولی: " حسین! یہ امر تمھارے اختیار سے باہر ہے۔ جب وقت آئے گا خبر بھی نہ ہو گی، اور ادنیٰ غنودگی تمھیں وہاں پہنچا دے گی۔"
حسین: (روکر) پھر اب تو مجھ سے تمھارے فراق کی مصیبت برداشت نہ کی جائے گی۔ جاتے ہی اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالوں گا اور تم سے چھوٹے ایک گھڑی بھی نہ گزری ہو گی کہ تمھارے پاس آپہنچوں گا۔
زمرد: کہیں ایسا غضب بھی نہ کرنا۔ خود کشی کر لی تو جنت تم پر حرام ہو جائے گی۔ پھر تو قیامت تک بھی ملنے کی امید نہ رہے گی۔
حسین: ( زور سے سینے پر ہاتھ مار کے) ہائے مجھ سے کیوں کر زندہ رہا جائے ا۔ زمرد! خدا کے لیے کوئی تدبیر بتا ورنہ یہ سمجھ لے کہ ہمیشہ کے لیے مایوسی ہے، اس لیے کہ اب میں دنیا میں جا کے زندہ نہیں رہ سکتا۔ ہزار روکوں مگر میرا خنجر میرے سینے پر اُٹھ ہی جائے گا۔اچھا! اگر یہ نہیں تو تم بھی میرے ساتھ چلو؟
زمرد: یہ تو کسی طرح ممکن ہی نہیں۔ حسین! یہ نہ سمجھو یہ میں اپنے بس میں۔۔۔۔۔۔۔

اتنا ہی لفظ زبان سے نکلا تھا کہ کانپنے لگی اور اٹھ کے ادھر اُدھر دیکھا کہ کوئی سن تو نہیں رہا ہے، مگر جب کوئی نظر نہ آیا تو اطمینان سے آ کے پاس بیٹھ گئی اور بولی: " حسین! اب ان باتوں سے کوئی فائدہ نہیں، تمھارا واپس جانے کا وقت آ گیا۔
حسین: (بے صبری سے چلاّ کے) آ گیا؟ ابھی سے؟ نہیں میں ابھی نہیں جاؤں گا۔ یہ کہ کے زمرد کودونوں ہاتھوں سے بھینچ کے پکڑ لیا۔
زمرد: ان باتوں سے کوئی فائدہ نہیں۔ جتنی زیادہ بے صبری دکھاؤ گے، اتنے ہی زیادہ خراب ہو گے۔ اس وقت تنہائی میں باتیں کرنے کا ذرا موقع مل گیا ہے، غنیمت سمجھو اور جو کچھ کہتی ہوں سنو؛ کوئی آ گیا تو یہ موقع بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔ پھر عمر بھر کف افسوس ملو گے ؛ ساری دنیا میں بھٹتے پھرو گے اور مطلب نہ نکلے گا۔
حسین: ( اپنے آپ کو سنبھال کر) اچھا سنتا ہوں۔ پیاری زمرد تم ہی کوئی تدبیر بتاؤ گی تو کام چلے گا۔ ورنہ۔۔۔۔۔۔۔مگر یہ جملہ نہیں پورا ہونے پایا تھا کہ جی بھر آیا اور زار و قطار رونے لگا۔
زمرد: ( اپنے نازک ہاتھ سے اس کا منہ بند کر کے) کیا غضب کرتے ہو! خدا کے لیے سنبھلو؛ دنیا میں جا کے جی بھر کے رو لینا، مگر ابھی میری ایک بات ذرا ہوش و حواس درست کر کے سن لو۔
حسین: ( نہ رکنے والے جوشِ گریہ کو روک کے) کہو پیاری زمرد! دل و جان سے سن رہا ہوں۔
زمرد: یہاں سے جانے ک ے بعد پہلے تو تم کوشش کرنا کہ وہی لوگ جن کی مدد سے اس دفعہ یہاں آئے، انھیں لوگوں کی اطاعت کر کے اور انھیں خوش کر کے پھر یہاں آنے کا موقع پاؤ۔اپنی حاجت روائی کے لیے تم ان کے کسی حکم سے انحراف نہ کرنا۔ لیکن اگر وہ تمھیں یہاں دوبارہ بھیجنے کا کسی طرح وعدہ نہ کریں اور سب طرف سے مایوس ہو جاؤ تو پھر اسی وادی میں آ کے ٹھہرنا جہاں میری قبر ہے اورجہاں خط بھیج کے میں نے تمھیں یہاں آنے کی تدبیر بتائی تھی۔
حسین: کوہ طالقان میں
زمرد: ہاں ہاں وہیں۔ اگر تم ایک مہینے تک وہاں ٹھہرو گے تو میں پھر کوئی تدبیر بتاؤں گی۔ دیکھو خبردار کسی کو خبر نہ ہو کہ میں نے وہاں بلایا ہے۔
حسین: مگر پیاری زمرد! وہ تدبیر اسی وقت نہ بتا دو کہ یہاں سے جاتے ہی اُس پر عمل درآمد شروع کر دوں؟
زمرد: افسوس! تم نہیں سمجھ سکتے۔ بس تمھیں وہی کرنا چاہیے جو میں بتاتی ہوں۔ وہ تدبیر اس وقت بتانے کی نہیں۔
حسین: دیکھوں اب کتنے دنوں ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں۔
زمرد: صبر کرو اور ضبط سے کام لو! اور خبردار ایسی کم زوری اور بزدلی نہ دکھانا کہ خود کشی کا ارادہ کر لو۔
حسین: میں اسی کو ڈرتا ہوں۔ پیاری زمرد! تیرے عشق میں بعض وقت نہ اپنے ہوش میں ہوتا ہوں اور نہ اپنا نیک و بد سمجھتا ہوں۔ یہ تیرے ہی لیے تھا کہ میں نے اپنے چچا اور شیخ وقت امام نجم الدین نیشا پوری کو قتل کر ڈالا۔
زمرد: جانتی ہوں مگر اس میں مجھ کو نہ شریک کرو (کچھ آہٹ پا کے)بس اب خاموش ہو رہو۔

ناگہاں چھ سات حوریں ناز و انداز سے قدم رکھتی ہوئی سامنے آئیں اور محبت کے لہجے میں حسین سے کہنے لگیں: " اب چلے کے باہر کی سیر کیجیے اور ان نورانی تختوں پر جلوہ افروز ہو جیے جو چمنوں کے درمیان میں میں ہیں۔ اس وقت کی بہار دیکھنے کے قابل ہے اور شرابِ طہور کے جاموں میں خاص مزہ ہے۔"
حسین: میں تو یہاں تنہا ہی اچھا ہوں۔
زمرد: تو وہاں چلے چلنے میں کیا مضائقہ ہے؟ چلو مین بھی ساتھ چلتی ہوں۔
حسین: اگر تمھاری بھی یہی مرضی ہے تو مجھے کا عذر ہو سکتا ہے!

رشتۂ در گردنم افگندہ دوست
مہ برد ہر جا کہ خاطرخواہ اوست

چلو!

اتنی دیر میں اورسب حوریں بھی آ گئیں اور زمرد حسین کو ساتھ لیے قصر دُری کے باہر نکلی۔ سب کے سب لالہ زار کے درمیان میان طلائی تختوں پر جا کے بیٹھے۔ تخت کے دونوں جانب دو حوض تھے جن میں ایک میں میٹھا دودھ بھرا تھا ور دوسرے میں شراب ارغوانی چھلک رہی تھی اور بغیر کہے صرف واقعات سے یقین دلایا جاتا تھا کہ ایک حوض کوثر اور دوسرا شراب طہور کا حوض ہے۔ سامنے چند حوریں بیٹھ کے عجب دل ربا ور وجد میں لانے والی دھن میں گانے لگیں۔دو چار غلمان یعنی خوب صورت کم عمر لڑکے سونے کے جام و صراحی لا کے کھڑے ہو گئے اور نغمہ و سرود کے ساتھ دور بھی چلنے لگا۔ دو چار جاموں نے حسین پر از خود رفتگی کی کیفیت پیدا کر دی اور جب وہ اس عالم نور کو بے خودی کی نیم باز آنکھوں سے دیکھ رہا تھا، اُسے نظر آیا کہ زمرد ایک ہاتھ تو اس کے گلے میں ڈالے ہے اور دوسرے ہاتھ سے ایک چھلکتا ہوا جام اس کے منہ سے لگا رہی ہے۔حسین اس لطف صحبت کا دل ہی دل میں مزا اُٹھا کے اس جام کو پی گیا مگر پینے کے بعد معلوم ہوا کہ جیسے زمرد کی آنکھوں سے موتوں کی طرح آنسو ٹپک رہے ہیں۔ بے خودی کے جوش میں پیاری دل ربا کی دل دہی کے لیے بڑھنے ہی کو تھا کہ مدہوش گر پڑا۔ بس اس کے بعد اسے اپنے پرائے کی خبر نہ تھی۔


پانچواں باب: پھر وہی عالم عناصر

دیر کی آزاد رساں غفلت اور بے ہوشی کے بعد حسین ذرا ہوشیار رہنے لگا تھا کہ کان میں آواز آئی: " اے جسم خاکی! اُٹھ اور اس برزخ کبریٰ کا ہاتھ چوم جو تیرا امام ہے اور جس نے صرف تیرے لیے باوجود مجردِ محض ہونے کے صورتِ مادی اختیار کر لی ہے۔"

حسین نے بے ساختہ آنکھ کھول دی اور باغ جنت یا زمرد کے پہلو کے بدلے اپنے کو اُ س تاجدار شخص کے سامنے پایا جس کے ہاتھ پر اسن ے بیعت کی تھی اور جو اس سفر جنت کی آخری منزل پر ملا تھا۔ حسین آنکھیں ملتا ہوا ادب سے اُٹھ بیٹھا اور اس کے قدموں پر گر کے سر رگڑ کے کہنے لگا" ممکن بیدار ازیں خوابم خدارا۔"
شخص: نہیں، تجھے پھر عالم ارضی میں جانا ہے۔ ہوشیار ہو جا کہ مشائخ باطن سے ہرگز گریز نہ کرنا۔ میرا یہ ہاتھ جس میں نور کے سوا مادے کا بہت ہی کم جز ہے، تیرے ہاتھ سے مل چکا ہے اور ہمیشہ ان لوگوں کے ہاتھ پر رہتا ہے جن کے وسیلے سے تیری اس ملاء اعلیٰ تک رسائی ہوئی۔
حسین: مگر میں ابھی اور چند روز جنت میں رہنے کا آرزو مند ہوں۔
شخص: اس مادی عالم کی زندگی میں یہ بھی تیرے حوصلے اور تیری ہوس سے زیادہ تھا، اب اس زندگی میں ممکن نہیں کہ تو پھر اس روحانی عشرت کدے میں آ سکے۔جا اور اس وقت کا منتظر رہ جب کہ کسی دینی کوشش میں یا امام و مرشد کے حکم سے تو جام فنا پیے گا۔
حسین: تو آپ میرے امام ہیں اور آپ ہی جام فنا پلا کے مجھے فردوس بریں میں پہنچا دیجیے۔
شخص: ابھی ملاء اعلیٰ کی سرحد ہے اوریہاں فنا نہیں۔

اتنے میں وہی پہلی پری وش نازنین لبریز جام ہاتھ میں لیے ہوئی آئی جس کے دیکھتے ہی اس شخص نے کہا: "بس اب زیادہ حجت نہ کر اور لے، یہ شراب طہور کا آخری جام پی۔"

یہ کہہ کے اس نے جام اپنے ہاتھ سے حسین کی طرف بڑھایا۔

حسین اب جانتا تھا کہ یہ شراب طہور داروئے بے ہوشی کا اثر رکھتی ہے اور جس طرح اس کا نشہ پہلے عالم بالا میں لے آیٰا، اب حضیضِ ظلمتٌ میں لے جائے گا، مگر مایوسی کی تکلیف نے پیاس اس قدر تیز کر دی تھی کہ ان کار کی جرات نہ ہوئی؛ بے تکلف لے کے پی گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ مدہوشی تھی اور وہی خود فراموشی۔ پھر اسی طرح تھوڑی تھوڑی دیر بعد آنکھیں کھول کے وہ مختلف سین دیکھنے لگا۔حیرت زدہ آنکھوں کے سامنے کبھی دشت و در تھے اور کبھی پہاڑوں کی بلندی و پستی۔ آخر ایک شب کو اس کی آنکھ شیخ الجب کے سامنے کھلی۔راہ جنت کے اس پہلے نگہبان نے اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر کے کہا: "حسین! تو پھر اس تیرہ خاک دان عنصری کی حدود میں آ گیا، اور ان آنکھوں سے جو انوار محصنہ و مجردہ کو دیکھ چکی ہیں، پھر نور سینا کو اسی طرح ستر ہزار حجابوں میں دیکھ رہا ہے۔"
حسین: (آب دیدہ ہو کر) مگر میں تو اس ظلمت کدہ خاکی میں نہیں آنا چاہتا تھا۔
طور معنی: بے شک نہ چاہتا ہو گا۔ جذبات نور وحدت ایسی ہی کشش رکھتے ہیں مگر کیوں کر ممکن تھا کہ اس جسم خاکی کا دھبا اس نورستان مین ہمیشہ قائم رہتا۔
حسین: تو لِلّہ کوشش کیجیے کہ اسی وقت اس جسم خاکی کو چھوڑ کے اس سروشستان اعلیٰ کا راستہ لوں۔
طور معنی: ان امور میں شیخ علی وجودی ہی تمھارا اطمینان کر سکتے ہیں‘ اُن کے پاس جاؤ اور وہ جو کہیں اُس پر عمل کرو۔
حسین: ( جوش دل سے نوحہ وہ بکا کر کے) افسوس! میری اتنی ریاضت اور یہ مدتوں کی آرزومندی صرف اتنے مختصر زمانے کے لیے تھی؟ آہ کیاکروں کہ پھر زمرد کا وصال نصیب ہو؟

اس کے بعد حسین پھوٹ پھوٹ کے اور زار و قطار رونے لگا اور یہاں تک رویا کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔

طور معنی: اے بلند حوصلہ مشت غبار! میرے عزلت کدے کو خالی کر اور صفحہ ارضی پرجا کے اُس میعاد کو پورا کر، جتنے دنوں کے لیے تو ظلمت کدۂ ارض میں گرفتار ہے۔
حسین: کاش یہی معلوم ہوتا کہ اس مشت غار کوکب تک اس عالم میں سرگرداں پھرنا اور خاک اڑانا ہے۔
طور معنی: تیرے لیے ان رموز کا حل کرنا شیخ علی وجودی کا کام ہے، اس لیے وہی تیرے مرشد ہیں۔ مگر ہاں، میں تجھے ایک راز بتا سکتا ہوں؛ وہ یہ کہ پھر اس عالم نور کی زیارت فقط امام کے اختیار میں ہے جس کے ہاتھ پر تو بیعت کر چکا ہے جو لاہوت و ناسوت کا برزخ ہے جو مختلف جسد ہائے امامت و نبوت میں ظاہر ہوتی رہی۔
حسین: مگر ان تک رسائی کیوں کر ہو سکتی ہے ؛ وہ ملاء اعلیٰ پر ہیں اور میں اس قعر ظلمت میں پھینک دیا گیا؟
طور معنی: گو ان کا مرکز و مقروبی نورستان اعلیٰ ہے مگر ایک گو نا تعلقات مادہ، جن کی وجہ سے انھوں نے بہت سے جسم ہائے امامت بدلے، انھیں اکثر اوقات اس آخشیجستان میں کھینچ لاتے ہیں۔لیکن بغیر مرشد کے اس غرض میں کامیابی نہیں حاصل ہو سکتی۔اگر تو اصرار کرے گا تو تیرے مرشد شیخ علی وجودی اس امر میں تیری مدد کریں گے۔بس اب تو اس خلوت کدۂ نور کو خالی کر اور مرشد کی قدم بوسی کے لیے روانہ ہو۔


اس تقریر نے امید کا ایک دھندلا سا چراغ پھر اس کے سینے میں روشن کیا، جس کی روشنی میں وہ غار کے باہر نکلا۔لیکن اس کی حیرت کی کوئی انتہا نہ تھی، جب دیکھا کہ کاظم جنونی غار کے دھانے پر اُسی وضع و حالت میں کھڑا ہے جس وضع و حالت میں کہ وہ اسے چھوڑ کے گیا تھا۔کاظم جنونی اُس کی صورت دیکھتے ہی بولا: " اب تو تم کو اطمینان ہو گیا کہ شجرِ معرفت کی ایک شاخ تم بھی ہو۔"
حسین: اور آپ یہاں کب آئے؟
کاظم جنونی: ابھی تمھارے ساتھ ہی آیا تھا۔
حسین: ابھی؟
کاظم جنونی: ہاں ابھی! حسین: مجھے تم سے رخصت ہوئے کئی ہفتے گزر گئے۔
کاظم جنونی: ( ہنس کر) اُس عالم اور اس عالم میں بڑا فرق ہے یہاں کا ایک دن وہاں کے ستر برس کے برابر ہے۔
حسین: وہ ایک گھڑی سہی مگر تم یہاں ٹھہرے کیوں رہے؟
کاظم جنونی: امام قائمِ قیامت کا حکم یوں ہی تھا۔
حسین: امام قائم قیامت کون؟
کاظم جنونی: وہی جن کے ہاتھ پر اس عالم نور کے سفر میں تم نے بیعت کی ہو گی ۔
حسین: مگر ان کے احکام تم تک کیوں کر پہنچ گئی؟
کاظم جنونی: ان ہی مرشد کے ذریعے سے جو راہ حقیقت طے کرنے کے لیے میرے ان کے درمیان میں واسطہ ہیں۔
حسین: تو شاید تمھارے مرشد یہاں آئے ہوں گے؟
کاظم جنونی: اس کی کچھ ضرورت نہیں؛ وہ ایک توجہ سے اپنے خیالات میرے دل میں پیدا کر دیتے ہیں۔
حسین: افسوس میں جنت سے زبردستی کھینچ نکالا گیا!
کاظم جنونی: ان رموز ربانی کی شکایت نہ کرو! اور ان کے مصالح دریافت کرنا ہیں تو اپنے مرشد شیخ علی وجودی کے پاس چلے جاؤ۔ مگر یاد رکھنا کہ اب تم عالم نور کی سیر کر آئے ہو لہٰذا ان کو اسی روحانی لقب سے یاد کرنا جو اس سروشستان میں مشہور ہے۔
حسین: کیا ان کا کوئی اور لقب بھی ہے؟ میں نے تو نہیں سنا۔
کاظم جنونی: ہاں، اس عالم عناصر میں تو ان کا یہی نام ہے جو تم جانتے ہو مگر اس عالم نور میں وہ وادیِ ایمن کہے جاتے ہیں۔
حسین: (تعجب سے) وادیِ ایمن! (اور پھر ذرا سوچ کے) بے شک انھیں وادیِ ایمن ہی کہنا چاہیے ان ہی کے پہلو میں مجھے نور اور حقیقت کی پہلی شعاع نظر آئی۔ کاظم جنونی: بس اب چلو اور حلب کا ارادہ کرو۔
حسین: مگر مجھے اتنا ضرور بتا دیجیے کہ اس عالم نور میں کبھی پھر بھی میرا گزر ہو سکے گا؟
کاظم جنونی: اس امر میں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا، مگر ہاں یہ یقینی ہے کہ اگر تمھارے مرشد کی توجہ ہو تو سب باتیں ممکن ہیں۔

کاظم جنونی نے اس جملے سے حسین کے سینے میں امید کے چراغ کو ذرا اور اُکسا دیا۔آخر دونوں نے اس وحشت ناک مسکن دام ودد کو چھوڑا اور شہر اصفہان میں آئے۔ کاظم جنونی نے اپنی مسجد کے دروازے پر پہنچتے ہی آواز لگائی" دہن سگ بہ لقمہ دوختہ بہ" جس کے بعد حسین نے اسے رخصت کیا اور شہر حلب کی راہ لی۔


اس سفر میں حسین ہر وقت جنت اور اُس کی حوروں کی ادھیڑ بن میں رہتا۔ اگرچہ اس کا جسم اس دنیا میں تھا لیکن اُس کے خیالات اور اس کے اعتقاد میں اس کی روح علی الدوام اس دوسرے عالم نور کے مزے لیتی رہتی۔وہ دل میں کہتا: " اتنے انقلابات کے بعد اب مجھے یہ تو معلوم ہو گیا کہ ‘موتو قبل ان تموتو‘ کے کیا معنی ہیں؛ یا اس دنیا میں رہنے سہنے کے ساتھ انسان اس عنصرستان سے قطع تعلق کر کے اپنی زندگی کا زیادہ حصہ عالم ملکوت میں کیوں کر صرف کرتا ہے۔ اب اس مرتبہ جب کہ اصفہان سے حلب کو جا رہا تھا، اُسے ایک بہت ہی نئی اور حیرت میں ڈالنے والی چیز نظر آئی۔وہ جس گاؤں سے گزرتا یا جس دشت و در میں گزرتا، اکثر لوگ خودبخود اسے پچان لیتے کہ جنت کی سیر کر آیا ہے اور پاس آ آ کے مبارکباد دیتے۔وہ دل ہی دل میں پریشان تھا کہ یہ کیا بات ہے اور کون سی علامت ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو میری حالت معلوم ہو جاتی ہے۔ بعض لوگوں سے اس راز کو دریافت بھی کیا مگر کسی نے کچھ نہ بتایا۔ زمرد اب اس کے دل و دماغ پر پہلے سے زیادہ حاوی تھی۔اُٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے ہر حالت میں اس کی دل فریب تصویر پیش نظر رہتی۔ وہ کبھی اپنی طرف بلاتی تھی اور کبھی صبر و تحمل کی تاکید کرتی تھی۔یہی مزیدار اور پریشان کن خواب دیکھتا ہوا وہ شہر حلب میں پہنچا اور شیخ علی وجودی کے سامنے جاتے ہی اُ ن کے قدموں پر گر پڑا۔ شیخ نے اُٹھا کے اُس کی پیشانی چومی اور پیٹھ ٹھونک کے اپنے برابر بٹھایا اور کہا: "اے حسین! تو لاہوت اکبر کی سیر کر آیا؟"

حسین: یا شیخ! اس عالم نور کی میں نے پوری کیفیت دیکھ لی۔ اور اے وادیِ ایمن! تیرے پہلو میں مجھے وہ جلوہ نظر آ گیا جس کے اشیاق کے سوال پر موسیٰ کو بھی لن ترانی کا جواب ملا تھا۔ مگر کیا کہوں کہ میں نے کن حسرتوں سے اس حیّز نور کو چھوڑا ہے!۔
شیخ: اے تیرہ و تار مشت غبار! بتا تو، تو نے وہاں کیا دیکھا؟
حسین: ایسا کچھ دیکھا کہ آنکھوں کو تمنا رہ گئی۔
شیخ: جذبات نور ایسے ہی ہوتے ہیں۔ زمرد سے ملا تھا؟
حسین: ( شیخ کے قدم چوم کے) ملا تھا، مگر ابھی سیری نہیں ہوئی۔ آہ! جی بھر کے دیکھنے بھی نہ پایا تھا کہ وہ نظر کے سامنے سے غائب ہو گئی۔
شیخ: مگر تیرا یہ جسم خاکی اس نورستان میں زیادہ نہیں ٹھہر سکتا تھا۔ اگرچہ تو کہتا ہے اور تجھے یقین ہے کہ اس عالم نور کو تو نے آنکھوں سے دیکھ لیا مگر اے حسین میں کہتا ہوں کہ تو نے نہیں دیکھا۔
حسین: نہیں اے شیخ اور اے وادیِ ایمن! میں نے دیکھا ور اپنے خیال کی آنکھوں سے اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں۔

حسین کا یہ جواب سنتے ہی شیخ کو جلال آ گیا۔ منہ میں کف بھر آیا، آنکھیں سرخ ہو گئیں اور ایک دفعہ جوش میں آکے اُٹھ کھڑے ہوئے۔حسین مارے خوف کے سر سے پاؤں تک کانپ گیا اور انھوں نے کہنا شروع کیا: " اے متکبر و مغرور مشتِ خاک! تیری کیا مجال کہ اس نور لم یزل کو ان ذلیل آنکھوں سے دیکھ سکے۔ تو ان مادی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا جن میں انوار ازلیہ کی اشعاع لامعہ آدھی ضو کے ساتھ بھی نہیں چمک سکیں۔تیرے جسم کے سامنے وہ نور غیر متحیز متحیز بن کے نمایاں ہواتھا۔ اس کی اصلی کیفیات کو تیری یہ آنکھیں کسی طرح معلوم نہیں کر سکتی تھیں۔مگر ہاں توان انوار کو دیکھے گا اور ان کی اصلی حالت و کیفیت میں دیکھے گا، مگر کب؟ جب اس جسم خاکی کو چھوڑ کے اور مجرد محض بن کے اس حیز نور میں جائے گا۔ اس وقت تجھے یہ بھی نظر آ جائے گا کہ اسی نور ازل کا ایک چراغ تو بھی ہے۔"

حسین: (کانپتی ہوئی آواز سے) مگر میں تو ابھی وہاں سے آنا نہیں چاہتا تھا۔
شیخ: بے شک نہ چاہتا ہو گا، مگر یہ ممکن نہ تھا۔ نور محض کثافت مادہ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
حسین: لیکن اے شیخ! آپ وادیِ ایمن ہیں؛ اگر آپ چاہیں تو میں پھر اس عالم نور میں جا سکتا ہوں۔آہ! زمرد کے لیے بہت پریشان ہوں۔
شیخ: (پھر طیش میں آ کے) اگر ہوس است ہمیں قدر بس است۔اُس سروشستان کو مادے کے قبول کرنے کی اس سے زیادہ زحمت نہیں دی جا سکتی۔آگ میں کسی مادی چیز کو ڈال دو تو اپنا تصرف کرنے کے بعد باقی ماندہ کثافت کو الگ پھینک دیتی ہے۔ اسی طرح اس نورستان نے تیرے جسم کو اپنے حیز سے نکال کے پھینک دیا۔ حسین: تو پھر آپ اپنے ہی ہاتھ سے مجھے اس جسم خاکی کی قید سے آزاد کیجیے تاکہ تجرد اختیار کر کے جاؤں اور پیاری زمرد کو اپنے آغوش میں لے لوں۔ کیا عجب کہ اس وقت تک وہ میرے شوق میں اپنا آغوش پھیلائے ہوئے ہو۔
شیخ: اب وہاں تک تیری رسائی صرف امام قائم قیامت کی دستگیری سے ہو سکتی ہے۔
حسین: گو میں اس برزخ کبریٰ کے ہاتھ پر بیعت کر چکا ہوں مگر اس درگاہ میں میری رسائی اسی وقت ہو گی جب آپ میری مدد کریں گے۔ آپ کی دستگیری سب پر مقدم ہے۔ شیخ: اچھا مایوس نہ ہو۔ مجھے تیرا ایک دفعہ اور امتحان لینا ہے ؛ اگر تو اس امتحان میں پورا اترا تو میں تجھے اس دربار امامت میں سفارش کے ساتھ پہنچا دوں گا۔
حسین: جلدی فرمائیے، جو حکم ہو اُ س کے بجا لانے کو تیار ہوں۔ میں موت کا سب سے زیادہ آرزو مند ہوں۔ اگر اس امتحان ہی میں مجھے موت نصیب ہو گئی تو اس سے زیادہ میری کیا خوش قسمتی ہو گی۔
شیخ: اسی وقت شہر دمشق کی راہ لے اور جس طرح بنے امام نصر بن احمد کو جو ہم باطنین کے خلاف وعظ کہا کرتے ہیں، قتل کر کے واپس آ۔
حسین: ابھی چلا، مگر مجھے اتنا اور بتا دیجیے کہ کیا ہم ہی وہ باطنین ہیں جنھیں کبھی لوگ قرامطہ اور کبھی ملاحدہ کے نام سے یاد کرتے ہیں؟
شیخ: بے شک! ہم اسماعیل بن جعفر صادق علیہ السلام کی امامت کے مدعی ہیں، اور چونکہ امامت ظاہر ہو گئی، لہٰذا ہم پر فرض ہے کہ اس کی تبلیغ و تقابت، خفیہ اور باطنی طریقوں سے کریں۔انوار ازل نے یہ قدیم ہی سے فیصلہ کر دیا ہے کہ جب تک امامت ظاہر رہتی ہے تقابت و تبلیغ خفیہ ہوتی ہے اور جب امامت مخفی و باطن ہو جاتی ہے تو نقابت وتبلیغ اعلانیہ ہونے لگتی ہے.
حسین: مگر اس کا سبب میری ناقص فہم سے بالا ہے۔
شیخ: بے شک بالا ہے ( زور سے گھور کے) اور تیرے جاہلانہ شکوک اور زیادہ بالا کرتے جاتے ہیں۔خود خدا کی طرف اپنا خیال لے جا وہ مخفی ہے اور اسی لے اس کی توحید کی تبلیغ اعلانیہ ہوتی ہے۔
حسین: مگر یا وادیِ ایمن! نبوت تو ظاہر رہی اور اس کے ظہور کے زمانے میں برابر اعلانیہ تبلیغ ہوتی تھی۔


شیخ علی وجودی کے منہ میں پھر کف بھر آیا اور سخت برہمی کے لہجے میں وہ چلائے: "ابھی تک شیطان تیرے دل میں بیٹھا ہے، وہ تجھے بہکا رہا ہے اور تو پھر عالم نور میں جانے کی آرزو کرتا ہے؟اس نظام کا تعلق صرف امامت سے ہے۔ نبوت ہمیشہ ظاہر رہی اور ظہور کے زمانے میں اعلانیہ تبلیغ بھی ہوتی رہی؛ تاہم نبوت اور رسالت کس چیز کی طرف لوگوں کو بلاتی ہے؟ خدا کی طرف اور فردوس بریں کی طرف اور یہ دونوں دنیا کی نظر سے مخفی ہیں۔"
حسین: (ڈرتے ڈرتے) مگر امامت بھی تو انھی دو چیزوں کی طرف بلاتی ہے؟

اب تو شیخ کو غصے نے آپے سے باہر کر دیا تھا، ایک دفعہ چمک کے اُٹھے کھڑے ہوئے اور کہا: تو عالم نور کی سیر کر آنے پر بھی شکی اور جاہل ہے۔عہد نبوت میں جنت اور وہ نور لا نور اس قدر نمایاں نہ تھے جتنے کہ اب عہد امامت میں ہیں۔ رسالت نے کبھی کسی مادی پیکر کو اس سروشستان میں نہیں بھیجا اور امامت برابر بھیج رہی ہے، جس کا قطعی نتیجہ ہے کہ فردوس بریں اور وہ نور ازلی پہلے مخفی تھے اور اب نمایاں ہیں۔ اور چوں کہ اب نمایاں ہیں ، لہٰذا تبلیغ و نقابت کو خفیہ طریقے سے ہی اپنا عمل کرنا چاہیے۔"
حسین: یا وادیِ ایمن! اب مجھے اطمینان ہو گیا، اور ضرور تھا کہ اپنے ا ن شکوک کو دفع کرتا، اس لیے کہ میں نے اس مذہب کی نسبت بہت سی بے سر و پا باتیں ستی تھیں، اور سنا تھا کہ التمونت کے قلعے میں لوگ طرح طرح کے فریبوں سے اس مذہب کے پابند بنائے جاتے ہیں۔
شیخ: یہ دشمنوں اور جہلا کی افترا پردازیاں ہیں۔ایسے لوگ جن کو چشم بصیرت نہیں اور جو ان انوار ازلیہ کے سامنے خفاش سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے، ان کے کہنے کا کیا اعتبار؟اتنے مدارج یقین طے کر کے تجھے یقین آ گیا ہو گا کہ ہم کس ملاءِ اعلیٰ پر ہیں اور آسانی سے سروشستان کی سیر کراتے ہیں۔ اور وہ کس قعر جہالت میں پڑے ہیں اور کس طرح تحت الثریٰ کی طرف روز بروز زیادہ دھنستے چلے جاتے ہیں۔
حسین: مجھے معلوم ہے۔

یہ کہہ کے حسین شیخ سے رخصت ہوا اور امام نصر بن احمد کی جان لینے کے لیے دمشق کی راہ لی۔

حسین اب ایسے کاموں کے لیے زیادہ جری تھا۔پہلے موقع پر جو شبہات اس کے دل میں پیدا ہوئے تھے، اب نام کو بھی نہ تھے۔اس کو یقین تھا کہ جنت یقیناً انھیں لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کا وہ معتقد ہے اور ان کے اشارے پر ہر برے یا بھلے کام کا کرنا ہی ذریعۂ نجات ہے۔باوجود اس کے کے ایک جلیل القدر عالم کے قتل میں اس کے دل نے کسی قدر پس وپیش ضرور کیا، مگر شیخ اور زمرد کے خیال نے پھر اس کا دل آگے بڑھایا۔وہ نہایت ہی سنگدلی کے ساتھ مرشد کے وحشیانہ حکم کی تعمیل کے لیے دمشق پہنچا اور امام نصر کے عقیدت کیشوں میں شامل ہو گیا۔

اس سفر میں بھی وہ حیرت سے دیکھتا تھا کہ بعض لوگ راہ چلتے پہچان لیتے اور اس سے بغل گیر ہوتے اور یک جہتی و اخوت کا ثبوت دیتے، جس سے اُسے یہ بھی نظر آ جاتا تھا کہ اُس کے ہم عقیدہ و ہم خیال کس کثرت سے دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔خوش نصیبی یا دل کی بے صبری سے مہینے بھر میں اسے اپنی غرض حاصل کرنے کا موقع مل گیا۔ ایک پچھلی رات کو جب کہ امام نصر پڑوس کی مسجد میں اور سب سے چھپانے کے لیے اندھیرے میں تن تنہا کھڑے نماز تہجد ادا کر رہے تھے، حسین کا خنجر ان کے دل میں اُتر گیا۔حسین نے ایک ہاتھ سے ان کا منہ بند کر لیا تھا اور قتل کر کے گراتے ہی سینے پر چڑھ بیٹھا اور انھیں نیچے دبا کے بیٹھ گیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نہ ان کی آواز نکلنے پائی اور نہ تڑپنے پائے۔ جب لاش بالکل ٹھنڈی ہو گئی تو وہ پچھلی رات کے سناٹے ہی میں مسجد سے نکلا چلا گیا۔ راستے میں ایک نہر کے کنارے کپڑے دھوئے اور حلب کو روانہ ہوا۔

شیخ علی وجودی نے اس کی کارگزاری کی داد دی اور اس کی پیٹھ ٹھونک کے کہا: "حسین! تو مراحل یقین کو بہت جلد طے کر رہا ہے، امید ہے کہ اپنے اغراض میں کامیاب ہو۔"
حسین: یا وادیِ ایمن! مجھے ایک امر پر بڑی حیرت ہے ؛ میں جہاں جاتا ہوں اور جس جگہ ہوتا ہوں میرے ہم خیال و ہم عقیدہ صورت دیکھتے ہی مجھے پہچان لیتے ہیں اور میں ان کو نہیں پہچان سکتا۔

یہ سنتے یہ شیخ نے اپنے صندوق سے ایک آئینہ نکالا اور اُسے دکھا کے کہا: "اپنی صورت دیکھ، تجھے اپنے چہرے پر کوئی چیز نظر آتی ہے؟"
حسین: ہاں پیشانی پر ایک داغ ہے، مگر معلوم نہیں کیا داغ ہے ؛ شاید بچپن میں کبھی گر پڑا ہوں گا۔
شیخ: (مسکرا کے) نہیں، یہ حور کے بوسے کا نشان ہے، یہی ایک مہر ہے جو ہمیشہ اس بات کا ثبوت دیتی ہے کہ انسان اپنے اس قفس عنصری کے ساتھ فردوس بریں کی سیر کر آیا ہے۔
حسین: تو جن لوگوں نے مجھے پہچانا، غالباً ان کی پیشانیوں پر بھی یہ حور کے بوسے کا نشان موجود ہو گا؟
شیخ: بے شک ہو گا؛ میری پیشانی پر بھی موجود ہے۔
حسین: ( شیخ کی پیشانی پر بھی وہ اپنا سا داغ دیکھ کے) بے شک یہ مدارج یقین طے کرنے کا تمغہ ہے۔
شیخ: حسین! یہ بہت بڑی چیز ہے۔ مرنے کے بعد سب مومنین جنت میں جائیں گے، مگر جو لوگ دنیاوی زندگی ہی میں اُس مرکز نور کی سیر کر چکے ہیں، ان کا یہ فخروہاں بھی موجود رہے گا۔یہ داغ وہاں پیشانیوں پر نور کی طرح چمکے گا اور عام ناجیوں میں ہم لوگوں کو ممتاز ثابت کرے گا۔
حسین: مگر مجھے یہ داغ اس دنیا ہی میں عزیز ہے۔کاش! میرے لب میری پیشانی تک پہنچ سکتے کہ میں اس داغ کو بوسے دے دے کے اپنے دل کی تسلی کرتا۔میری پیشانی پر سوا زمرد کے اور کسی کے بوسے کا نشان نہیں ہو سکتا۔اگر میرے بوسے لیے ہیں تو صرف اسی کے لبِ لعلیں نے۔

بوسم منِ بے برگ ونوا برگِ حنارا
تا بوسہ یہ پیغام دبم آن کف پا را

مگر افسوس! جس طرح زمرد میرے دل میں ہے لیکن ہاتھ نہیں آ سکتی اسی طرح اس کے بوسے کا نشان ہر وقت میرے پاس ہے اور مجال نہیں کہ اپنے مشتاق ہونٹوں وہاں تک پہنچا سکوں۔


شیخ: اب ان شاعرانہ خیالات کو دور کرو اور امام قائم قیامت کی قدم بوسی کے لیے تیار ہو۔
حسین: لبیک! مگر یا وادیِ ایمن!اتنا اور بتا دیجیے کہ ان کو امام قائم قیامت کیوں کہتے ہیں؟
شیخ: یہ بھی رموز ربانی میں سے ایک رمز ہے۔ تجھے شاید ابھی تک اُن ائمہ کے نام بھی نہ معلوم ہوں گے جو نور لم یزلی کی شعاعیں ہیں اور مختلف اوقات میں مختلف جسدوں میں میں نمایاں ہوتی رہیں۔یہی ائمہ ہمیشہ ناسوت اکبر ہوتے رہے ہیں۔وہی نور جو آدم ع، نوح ع، ابراہیمؑ، موسیٰؑ، داوودؑ، سلیمانؑ، عیسیٰؑ اور محمد صلواۃ اللہ علیھم کے اجساد مطہرہ سے لمعہ افگن ہوتا رہا تھا، آخر علی مرتضیٰ کے جسد انور میں نمودار ہوا، اور چوں کہ اب نبوت ختم ہو چکی تھی، لہٰذا اُس ایک نور یا ایک روح نے مختلف اجساد بدلنے شروع کیے۔ پھر حسین و علی و زین العابدین و محمد باقر علیھم اسلام کے اجساد کی سیر کرتے کرے وہ نور جناب جعفر صادق کے جسد انور میں نمایاں ہوا اور وہ زندہ ہی تھے کہ ان کے پیکر جسدی کو چھوڑ کے پہلے جناب اسماعیل میں پھر محمد مکتوم ابن اسماعیل میں جو سابع نام تھے آیا۔ چند روز تک وہ نور سلسلہ وار امام منصور بن محمد مکتوم، جعفر مصدق اور حبیب بن جعفر کے اجساد مطہرہ میں خفیہ ہی خفیہ لمعہ فگن رہا۔جناب اسماعیل سے اس وقت تک امامت مخفی رہی تھی۔اب یاکت اس نور نے عبیداللہ مہدی کی ذات سے نمایاں ہوکے اپنی پوری تنویر دکھا دی اور امامت ظاہر ہو گئی۔ اس کے بعد وہ نور برابر علانیہ طور پر مختلف اجساد طاہرہ کو بدلتا رہا۔ پہلے قائم بامراللہ کے جسم سے، پھر منصور کے، پھر المعزالدین اللہ کے، پھر عزیز باللہ کے، پھر حاکم بامر اللہ کے، پھر الظاہر الاعزاز دین اللہ کے، پھر المستنصر باللہ کے جسم سے چمکا۔مستنصر باللہ کے بعد نزار، پھر حسن بن محمد یعنی علی زکرۃ السلام، پھر محمد اب علی زکرۃالسلام کے جسموں نے لاہوتیت کبریٰ کا درجہ پایا، اور فی الحال وہی انوار ازلی رکن الدین خور شاہ کے جمال جہاں آرا سے نمودار ہیں جو فرمانروائے النمونت ہیں۔ اور وہی امام قائم قیامت البرزخ بین الاہوت و الناسوت اور وہ تجلی ہیں جو مختلف جسد ہائے امامت و نبوت سے لمعہ افگن رہی تھی۔
حسین: ( حیرت سے) وہی جن کے ہاتھ پر میں نے اس عالم لاہوت میں بیعت کی تھی؟
شیخ: وہی!
حسین: مگر آپ تو فرماتے ہیں کہ وہ التمونت کے فرمانروا ہیں؟
شیخ: بے شک ہیں! مگر یہ علائق دنیوی ان کے تجرد اور ان کی اس نورانیت کو جو عالم سروش میں لے جاتی ہے، دھندلا نہیں کر سکتے۔ امامِ دینی و عام لوگوں مین یہی فرق ہے کہ جس چیز کو ہم محنت و ریاضت سے حاصل کرتے ہیں انھیں فطرتاً بدرجہ اُتم حاصل رہتی ہے۔اسی لحاظ سے وہ عالمین کے برزخ کہے جاتے ہیں۔
حسین: اور وہ امام قائم قیامت کیوں کہلاتے ہیں؟
شیخ: (کسی قدر برہم ہوتے ہوئے رک کر) ہاں میں نے اس کا راز ابھی تک نہیں بتایا۔ امامین مستنصر و نزار کے عہد میں انھیں انواز ازلی کی ایک نئی اور غیر معمولی شمع روشن ہوئی تھی۔ گو یہ شمع دراصل اسی قدم نور امامت کا انعکاس تھی مگر اتنا بڑا انعکاس کامل کہ اس کی ضو سے تمام ممالک ارض چمک اُٹھے۔اس سے وہ چراغ نور مراد ہے جو احسن بن صباح کے جسم صافی میں چمکا تھا۔ یہ لقب قائم قیامت اسی آئینہ پرتو ایزدی کا ہے جس نے یکایک صعود مدار اعلیٰ اور نورستان میں پہنچ جانے کے اتنے صحیح ذریعے مخلوق میں پیدا کر دیے کہ ادنیٰ ادنیٰ لوگوں کو وہ کمال حاصل ہو گیا جو گذشتہ کئی عہدوں میں میں سوائے انبیا اور ائمہ کے کسی کو حاصل نہ تھا۔پہلے کوئی فردوس بریں میں جانے کا خیال بھی نہ کر سکتا تھا مگر اب اس اعلیٰ پرتو ایزدی کے ظہور کے بعد یہ حالت ہے کہ میں آنکھیں بند کر کے ایک دم میں اس عالم نور کی سیر کر آتا ہوں اور تم اور تم سے صدہا مومنین اس سروشستان میں جا کے حوروں کی ہمکناری کا مزا اُٹھا آئے ہیں۔قیامت کے معنی ظاہر پرستوں میں اس وقت کے ہیں جب دنیا کی زندگی ختم ہو جائے گی مگر حقیقت شناس جانتے ہیں کہ قیامت صرف اس حالت یا وقت کا نام ہے جب کہ مخلوق کو خالق سے یا پرتو کے نور سے قربت ہو جائے۔حسن بن صباح نے چونکہ اپنے عہد سے مخلوق کو تقرب کے ایسے درجے پر پہنچا دیا، لہٰذا وہ امام قائم قیامت کہلاتے ہں، یعنی وہ امام جس کی بہ دولت مخلوق و خالق میں قربت ہو گئی۔اور اسی قربت کا نتیجہ ہے کہ ان کے چند ہی روز بعد امام علی زکرۃ السلام میں وہ امامت قدیمہ جو جناب علی المرتضیٰ سے نسلاً بعد نسل چلی آتی تھی اور نیز وہ امامت قائم قیامت جس کا چراغ پہلے پہل حسن بن صباح کے حیز میں روشن ہوا تھا، دونوں امامتیں(دونوں امامتیں اس طرح جمع ہوئیں کہ قائم قیامت کی امامت تو حسن بن صباح کی جانشینی سے ملی اور دوسری امامت قدیمہ اس طریقے سے کہ علی زکرۃالسلام نے بڑی تاویلوں اور رکیک توجیہات سے دعویٰ کیا تھا کہ میں اس کا بیٹا نہیں جس کی طرف منسوب ہوں بلکہ دراصل میں نزار بن مستنصر فاطمی کے ایک بیٹے کا بیٹا ہوں جو قلعہ التمونت میں چھپا ہوا تھا۔اس طرح اپنا سلسلہ نسب بنی فاطمہ سے ملا کے اس نے خود سیاد ہونے اور امامت موروثی پانے کا دعویٰ کیا تھا۔) جمع ہو گئیں اور یکایک انوار لم یزلی ہیجان میں آ گئے۔بس اسی وقت سے تمام تکلیفات شرعیہ بندوں پر سے اُٹھا دیے گئے۔رمضان کی 27 کو اس قربت نور پرتو کا یہ جلوہ نظر آیا تھا، یعنی مومنین شرعی قیدوں سے آزاد ہوئے تھے۔ اسی سبب سے وہ دن ہمارے لیے عید ہے، اور اس کی یاد میں یہ وظیفہ ہر وقت اور ہمیشہ ہماری زبان پر رہتا ہے:

برداشت غل شرع بہ تائید ایزدی
مخدوم روزگار علی ذکرۃ اسلام


حسین: (متحیر ہو کے) مگر میں تو دیکھتا ہوں کہ آپ شب و روز ریاضت ہی میں مشغول رہتے ہیں اور آپ ہی کی طرح اس فرقۂ ناجیہ کے جتنے پیرو مجھے ملے سب پابند شرع، بڑے محتاط اور بڑے متقی و پرہیز گار نظر آئے۔
شیخ: جو لوگ عرفان و حقیقت کے مدارج طے کرنا چاہتے ہیں ان کو بے شک عبادت و ریاضت کرنی پڑتی ہے، مگر مومنین پر فرض اب کوئی عبادت نہیں۔خاصۃً ان برگزیدگان بارگاہ لم یزلی کے لیے جو امام قائم قیامت سے تقرب رکھتے ہیں۔
حسین: مگر یا وادیِ ایمن! میرا دل پھر آپ کی توجہ کا محتاج ہے۔ تکلیفات شرعیہ کا اٹھا دینا ایک ایس چیز ہے جس سے میرے دل میں شکوک پیدا ہوتے ہیں۔ شیخ: ( برہمی کے ساتھ) اتنے مدارج حقیقت طے کرنے پر بھی شک؟سروشستان اور عالم نور کی سیر کر چکنے کے بعد بھی شک؟ اب یہ شک نہیں گستاخی ہے۔جانتا ہے کہ ساری عبادتیں خداوند جل و علا کی قربت حاصل کرنے کے لیے ہیں اور جب وہ قربت حاصل ہو جائے تو پھر کسی عبادت کی ضرورت نہیں رہتی، تم نے سنا ہے اور دیکھ بھی لیا ہو گا کہ فردوس بریں میں کوئی شخص عبادت کا مکلف نہیں۔ اس لیے کہ جس تقرب انوار لم یزلی کے لیے وہ عبادت کرتے ہیں وہ وہاں پر ہر ایک کو یونہی حاصل ہے۔
حسین: بے شک! وہ مرکز نور منزل مقصود ہے۔اور عبادت اس کا راستہ ہے۔جنت میں پہنچ جانے کے بعد کسی عبادت کی ضرورت نہیں رہتی لیکن مومنین ابھی اس کے باہر ہیں ان کی نسبت نہیں کہ وہ منزل مقصود کو پہنچ گئے۔ وہ چل رہے ہں، راستے میں ہیں، لہٰذا ان کو عبادت کرنے کاحکم بھی ہے۔
شیخ: (انتہا سے زیادہ از خود رفتہ ہوکے اور منہ میں کف لا کے)اس پیکر خاکی کو شہبات ہی نے خراب کیا یہ برابر شک کرتا ہے اور اپنے شکوک میں غرق ہو جاتا ہے۔سن اے حسین!امام قائم قیامت نے یہ بتایا ہے کہ وہ اس عالم نور میں ہیں عالم عنصری سے باہر، اس سے یہی معنی تھے کہ ظاہراً ان کا جسد اس عالم مادی میں نظر آتا ہے دراصل وہ ان مادیات سے دور اور اس سروشستان اعلیٰ میں ہیں۔ ان سے ملنے اور ان کے جوار میں جانے کے یہی معنی ہیں کہ گویا انسان اس تیرہ ظلمت سے نکل کے لاہوت اکبر کے قریب جا پہنچے پھر وہاں پہنچ جانے کے بعد عبادت کیسی؟
حسین: بجا ہے میرا شبہ دور ہو گیا۔آپ کی تقریر سے ہمیشہ میرے دل کے شکوک دور ہو جاتے ہیں۔اور اسی اطمینان حاصل کرنے کے لیے میں اپنے شبہوں کو بلا تامل آپ کی خدمت میں عرض کر دیتا ہوں۔
شیخ: تم اس امتحان میں بھی پورے اترے۔ اب میں تم کو امام علیہ السلام کی خدمت میں بھیجتا ہوں۔جاؤ اور ان کے احکام کی بلا عذر اطاعت کرو۔آج صفر کی 20 ہے رمضان کی 27 کو عید قائم قیامت ہو گی؛ اس تاریخ کو میں بھی وہاں آؤں گا اور شیخ طور معنی بھی وہاں موجود ہونگے۔ اگر اتنے دنوں میں تم نے امام قائم قیامت پر اپنی اطاعت کیشی و عقیدت کا پورا اثر ڈال دیا تو میں بھی تمھاری سفارش کروں گا اور طور معنی بھی کریں گے اور اسی وقت تم کو زمرد سے ملنے میں کامیابی بھی حاصل ہو گی مگر خیال رکھو کہ اس اعلیٰ دربار امامت میں انسان کے سر سے بہت سے تکلیفات شروعیہ اٹھ جاتے ہیں۔وہاں کی عبادت صرف اطاعت و انقیاد ہے۔ اور اس میں کوتاہی ہوئی تو پھر ا س کا علاج نہ میرے پاس ہے اور نہ کسی اور شخص کے پاس۔اس در کا راندہ مردود ازلی اور رحمت الٰہی سے ہیشہ کے لیے محروم ہے۔
حسین: میں کسی حکم سے سرتابی نہ کروں گا۔
شیخ: وہ ایسا مقام بھی نہیں جہاں تم اپنے دل کے شکوک اسی بے تکلفی سے ظاہر کر دیا کرو جس طرح میرے سامنے کرتے رہے ہو۔
حسین: کبھی کسی امر میں شک نہ کروں گا۔
شیخ: اگر اتنے مضبوط ہو تو کل صبح کو تم یہاں سے روانہ ہوکے التمونت کی راہ لو۔ میں ایک خط دوں گا اسے لے امام کی خدمت میں حاضر ہونا اور جب تک وہاں سے یا مجھ سے کوئی اور حکم نہ ملے اس دربار کو نہ چھوڑنا۔
حسین: ہرگز نہیں۔اور یہ کہہ کے اس نے پھر شیخ کے قدم چوم لیے۔


دوسرے دن علی الصباح وہ شیخ علی وجودی سے خط سفارشی لے کے رخصت ہوا اور مشرق کی راہ لی۔چند روز میں اصفہان ہوتا ہوا علاقہ رودبار میں پہنچا۔ اس سفر میں وہ اپنے ہم مذہبوں کو حوروں کے بوسے کے نشان سے کہے سنے اور بنائے بغیر پہچان لیا کرتا تھا جو ہر شہر اور گاؤں میں اسے ملتے اور اس کے ساتھ نہایت ہی خلوص اور عقیدت سے پیش آتے۔

دیلم کے ایک گاؤں میں ایک باطنی شخص جو اپنی پیشانی کے نشان سے بتا رہا تھا کہ وہ بھی جنت الفردوس کی ہوا کھا آیا ہے، حسین کو نہایت ہی خلوص و پاک دلی سے اپنے گھر لے آیا اور کئی دن تک مہمان رکھا۔

اس شخص کے گھر پر ایک صحبت میں کئی ایسے باطنی ہوئے جن کو اسی دو سال کے اندر جنت کی ہوا کھلائی گئی تھی۔لوگوں نے صحبت کو اغیار سے خالی اور اپنے ہم خیال لوگوں ہی پر محدود دیکھ کے باہم جنت کا بیان شروع کیا۔اثنائے کلام میں ایک شخص بولا: " مگر مجھے جنت میں بھی ایک تمنا رہ گئی۔"
دوسرا: (حیرت سے) وہ کیا؟
پہلا: وہاں ایک ایسی دلفریب نازنین نظر آئی کہ دل بے اختیار ہاتھ سے نکل گیا، لیکن خدا جانے کیا بات تھی کہ ہزار کوشش کی مگر اس آفت زمانہ حور نے بات کا جواب تک نہ دیا۔
دوسرا: واقعی تعجب کا مقام ہے۔جنت میں تو ایسا نہ ہونا چاہیے۔کسی حور کی طرف تمھارے دل کو میلان ہو اور وہ التفات نہ کرے تو یقیناً سارا لطف خاک میں مل جائے گا۔یہ سن کے ایک تیسرا شخص بول اُٹھا: "حقیقت میں اس قسم کے بعض تقصانات وہاں انسان کو نظر آ جاتے ہیں۔اس مسئلے کو میں نے شیخ کے سامنے بھی پیش کیا تھا جنھوں نے بہت آسانی سے میرا اطمینان کر دیا۔اُنھوں نے بڑے جوش و خروش سے کہا تھا اور گویا اس وقت بھی میرے کانوں میں کھڑے کہہ رہے ہیں: " تم اپنے مادی پیکر کے ساتھ ہزارہا کثافتیں اور دنائتیں لے کر تو اس عالم نور میں جاتے ہو اور پھر امید کرتے ہو کہ سروشستان کو اسی پاک و مجرد حیثیت سے دیکھو جس طرح غیر مادی آنکھیں دیکھتی ہیں۔یہ خود تمھارے نقصان اور تمھارے مادی عجز ہیں جو اس حیز نور کو معیوب دکھاتے ہیں۔"
پہلا: اور ہاں میں نے یہ بھی سنا تھا کہ اس حور کو وہ تجرد بھی حاصل نہیں ہوا جو اوروں کو ہے، اس لیے کہ اس کے مادی تعلقات منقطع نہیں ہونے پائے تھے۔
دوسرا: بے شک یہی سبب ہو گا، اول تو اس حور میں ذاتاً یہ نقصان موجود تھا، پھر تمھیں اپنی مادی آنکھوں سے اور زیادہ بدنما نظر آیا۔
حسین: (کسی قدر تعلق خاطر سے) اور کچھ یہ بھی معلوم ہوا کہ اس حور کا نام کیا تھا؟
پہلا: ہاں مجھے بتایا گیا کہ اس کا نام زمرد ہے اور میری حور نے جس کے آغوش کا مزہ مجھے زندگی بھر نہ بھولے گا، یہ بھی بتایا کہ اسے کسی خاکی پیکر سے اس قدر تعلق ہے کہ جنت کی سیر کرنے والوں میں کسی کی طرف التفات نہیں کرتی۔

دوسرے دن حسین یہاں سے رخصت ہوکے آگے روانہ ہوا اور دو ہی چار روز میں قلعہ التمونت کے پھاٹک پر کھڑا تھا۔


چھٹا باب: مردودِ ازلی

قلعہ التمونت کے پھاٹک پر حسین کو روکا گیا اور چوں کہ اندر داخل ہونے کا اجازت نامہ پیش نہیں کر سکا، لہٰذا وہی خط جو شیخ علی وجودی نے دیا تھا اس سے لے کے پہلے قلعہ دار کے پاس بھیجا گیا، پھر رکن الدین خور شاہ کے ملاحظے میں پیش ہوا، جو ان دنوں تمام باطنین کا امام اور علی ذکرۃ السلام کا پوتا تھا۔خور شاہ کا ہنوز عنفوان شباب تھا مگر چوں کہ ان لوگوں کے عقیدے میں امام پیدا ہوتے ہی امام ہوتا ہے، لہٰذا اس کے تقدس و وجاہت میں نو عمری سے کوئی فرق نہیں آنے پاتا۔ ان کے نزدیک اگر رتبۂ اما متحاصل ہو تو ایک چھ برس کا بچہ اور ساٹھ برس کا بوڑھا دونوں یکساں معصوم ہیں اور دونوں کے احکام یکساں واجب التعمیل ہیں۔یہ سلطنت اور مذہب دونوں حسن بن صباح کی بے نظیر کوششوں سے قائم ہوئے تھے جس کو اب ڈیڑھ سو برس گزر چکے، اور باوجود یکہ دنیا میں بڑے بڑے انقلابات ہو گئے مگر اس خاندان کا وہی دور دورہ رہا۔ بعض دلیر اور اولو العزم حملہ آوروں نے دو ایک مرتبہ یہاں کی پولیٹیکل قوت کو ضرر پہنچا دیا مگر مذہبی اثر اب پہلے سے بھی زیادہ ترقی پر ہے اور اتمونت کا قلعہ اسی طرح محفوظ اور مامون چلا آتا ہے جس پر مخالفت کے ساتھ کوئی پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔

مذہبی مقتدائی کا تاج تو یہاں کے تاج داروں کے سر پر ابتدا ہی سے تھا مگر علی ذکرۃالسلام کے عہد سے یہ لوگ اپنے آپ کو امام اور یادگار خاندان بنی فاطمہ بھی کہنے لگے اس لیے کہ ذکرۃ السلام نے دعویٰ کیا کہ میں جب بچہ تھا، نزار بن مستنصر فاطمی کے پوتے سے مخفی طور پر بدل لیا گیا۔اس وقت سے ان لوگوں نے علانیہ امامت کا دعویٰ کر دیا اور اب اپنے آپ کو نور محض اور لوہوت و ناسوت کا برزخ ظاہر کرتے ہیں۔جو لوگ بادشاہ یا امام کے احکام کو بے عذر و بے حجت آنکھیں بند کر کے بجا لاتے ہیں اور جن کے خنجر سے سارا زمانہ کانپ رہا ہے، فدائی کہلاتے ہیں۔اور ان کی یہ حالت ہے کہ مقتدا اور فرمانروا کے حکم پر جان دینا اور خودکشی کر لینا بھی ذریعۂ نجات سمجھتے ہیں۔انھیں فدائیوں کی وجہ سے جو رعب داب رکن الدین خور شاہ کے دربار میں ہے، شاید اس عہد کے کسی بادشاہ کے دربار میں نہ نظر آتا ہو گا۔یہاں کسی کی اتنی مجال بھی نہیں کہ بادشاہ کے سامنے بے ادبی و مخالفت کا خیال بھی دل میں لا سکے۔

شیخ علی وجودی کا خط دیکھتے ہی حسین کو باریابی کی اجازت دی گئی۔بڑے بڑے قوی ہیکل اور مہیب شکل و شمائل کے فدائی اُسے پکڑ کے خور شاہ کے سامنے لے گئے۔حسین نے سامنے جا کے جیسے ہی فرمانروائے التمونت کی صورت دیکھی دوڑ کے قدموں پر گر پڑا اور چلایا: " ہٰذا امامی! ہٰذا امامی!"رکن الدین اس کو اٹھانے کے لیے جھکنے ہی کو تھا کہ اہل دربار میں سے بعض ممتاز لوگوں ے اسے اٹھا کر کھڑا کیا اور کہا: " بے شک یہی امام زمانہ اور نور محض ہیں مگر ادب و صبر سے کام لو اور جو التجا ہو پیش کرو۔"
خور شاہ: اے نوجوان آملی!تجھ میں کیا بات ہی کہ وادیِ ایمن تیری انتہا سے زیادہ تعریف کرتے ہیں؟ وہ تیرے علم و فضل کے بھی مداح ہیں اور تیری بہادری و جان بازی کے بھی؟
حسین: (ادب سے زمیں چوم کے)صرف اس سبب سے کہ میں نے ان کی خدمت گزاری میں موئی دقیقہ نہیں اٹھارکھا، اور کبھی اس بحر حقیقت کے حکم سے انحراف کرنے کی جرات نہ کی۔
خور شاہ: اور اب شیخ نے یہاں کس غرض سے بھیجا ہے؟
حسین: یا امام قائم قیامت! میں فردوس بریں کو ایک نظر اور دیکھنا چاہتا ہوں۔
خور شاہ: (غور کر کے) ابھی تک تو ان اشعات انوار لم یزلی سے یہی آواز آ رہی ہے کہ "لن ترانی!"
حسین: مگر امام قائم قیامت کی توجہ نے شفاعت کی تو ممکن نہیں کہ میری آرزو بر نہ آئے۔
خور شاہ: اے بوالہوس پیکر خاکی! ابھی اس کے متعلق تجھے کسی قسم کی امید نہیں دلائی جا سکتی۔


یہ کہ کے خور شاہ ایک اور شخص کی طرف متوجہ ہونے کو تھا کہ حسین نے آب دیدہ ہوکے اور نہایت ہی پر درد اور مایوسی کی آواز میں کہا: "تو اس ادنیٰ جانثار کو بار گاہ امامت سے اجازت ملے کہ اسی آستانے پر ٹھہر کے اس وقت کا انتظار کرے جبکہ یہ آرزو بر آئے گی۔آئندہ عید قائم قیامت کے موقع پر وادیِ ایمن بھی ہاں تشریف لائیں گے۔ کیا عجب کہ اس دن جب کہ میرے مرشد اور امام یکجا ہوں گے اور مخلوق کو خالق یا پرتو کو نور سے زیادہ قوت فربت ہو گی، میری دعا قبول ہو جائے۔"
خور شاہ: اچھا ٹھہرو، مگر یہ خیال رہے کہ یہاں کے امتحان زیادہ سخت ہیں۔
حسین: میں ہر قسم کا امتحان دینے کو تیار ہوں۔
خور شاہ نے اس کے بعد دوسرے شخص کی طرف توجہ کی اور پوچھا "دیدار! تم کب آئے؟"
دیدار: ( ہاتھ جوڑ کے) آج ہی صبح کو!
خور شاہ: اور جس کام کے لیے گئے تھے و پورا ہو گیا؟
دیدار: میرا خنجر کبھی خالی گیا ہے؟ اگرچہ یہ مہم دشوار تھی مگر میں جنت کے شوق میں وہاں پہنچا اور امام کے حکم کو نہایت ہی کامیابی کے ساتھ پورا کیا۔
خور شاہ: ہاں بیان کرو تم نے چغتائی خان کو کیوں کر قتل کیا؟
دیدار: یا امام قائم قیامت! ترکستان میں اس جاں نثارکا نام متقہ تھا۔ وہاں کی مختلف صحبتوں میں شریک ہو کے فدوی نے اسی ہر دل عزیزی پیدا کی کہ منقو خان چغتائی خان بہادر کے بیٹے کے دل میں مجھ سے ملنے کا شوق پیدا ہوا۔اس نے مجھے بلوا کے اپنے گھر میں رکھا اور کئی مہینے تک یہ حالت رہی کہ جب تک میں یہ ہوتا کسی بات میں اس کا دل نہ لگتا۔اس نے مجھے اپنے باپ سے ملایا۔اب چغتائی خان بھی میری باتوں کا دیوانہ تھا۔

چند روز بعد دونوں باپ بیٹوں کا میرے سوا کوئی انیس و جلیس نہ تھا۔چغتائی اپنی ذات سے ایسا زبردست اور قوی واقع ہوا تھا کہ اس پر حملہ کر کے کامیاب ہون مجھے نہایت دشوار نظر آیا اور اسی وجہ سے مجھے کئی مرتبہ موقع ملنے پر بھی جرات نہ ہوئی۔آخر ایک روز رات کو جب کہ ہلاکو خان کسی بڑی مہم سے واپس آیا تھا اور منقو خان اس کے ملنے کو گیا تھا، چغتائی خان مجھے تنہا سوتا ہوا مل گیا۔ اس سے زیادہ مناسب موقع ملنے کی امید نہیں ہو سکتی تھی۔میں نے چپکے ہی چپکے پہلے ا س کے ہاتھ پاؤں باندھے اور پھر سینے پر چڑھ کے اس کا کام تمام کیا۔ چغتائی خاں کے قتل کے بعد میں واپس چلا آتا، مگر مجھے حکم تھا کہ ان لوگوں کو یہ بتا بھی دوں کہ چغتائی خاں کے قتل کی وجہ کیا ہے۔اس غرض کے لیے ان تمام حالات کو ایک خط میں لکھ کر میں نے پہلے ہی اپنے پاس رکھ لیا تھا، اب اسی خط کولے کر ہلاکو خان کی فرودگاہ کی طرف چال، خوش نصیبی سے چغتائی خاں کی بیٹی راستے میں مل گئی جو ہلاکو خاں سے مل کے اپنے گھر کو آ رہی تھی۔رات کے اندھیرے میں میں نے وہ خط اس کے ہاتھ میں چپکے رکھ دیا ور بھاگ کے قریب کے جنگل میں چھپ رہا۔صبح دوسرے دن مجھے معلوم ہوا کہ قراقرم(تاتاریوں کا قدیم دارالسلطنت جو کاشغر کے قریب ہے) ماتم کدہ بنا ہوا ہے اور ہر شخص کو میری جستجو ہے۔بعد موقع پا کے میں نے ایک غار میں پناہ لی اور پورے آٹھ دن اسی حالت میں چھپا بیٹھا رہا۔نویں دن جب میدان خالی نظر آیا تو اس غار سے نکل کر ادھر کو روانہ ہوا، جس کے تین مہینے بعد اب آستاں بوسی کی عزت حاصل کر رہا ہوں۔
خور شاہ: بے شک دیدار تم نے بڑا کام کیا اور مستحق ہو کہ تمھیں آج ہی جنت کی سیر کرائی جائے۔

یہ سنتے ہی دیدار بادشاہ کے قدموں پر گر پڑا، گمر خور شاہ نے خود اسے اپنے ہاتھ سے اٹھایا اور ساتھ لے جانے کو تھا کہ حسین نے از خود رفتگی کے جوش کے ساتھ کہا: "اے بے رحم بادشاہ!میں سب سے زیادہ جنت میں جانے کا آرزومند ہوں۔اگر یوں نہیں تو میرا کوئی امتحان ہو۔ بتایا جائے کہ میں بھی کسی کو قتل کروں، مگر آہ!زمرد کے فراق میں صبر نہیں ہو سکتا۔
خور شاہ: ابھی نہ تمھارا امتحان لیا جا سکتا ہے اور نہ تم کو باغ فردوس میں جانے کا کوئی استحقاق ہے۔
حسین: ( جوش و خروش سے) مجھ سے زیادہ کوئی مستحق نہیں! میں نے امام نجم الدین نیشاپوری کی زندگی کا چراغ گل کیا ہے، امام نصر بن احمد کے خون میں ہاتھ رنگ چکا ہوں، اب اس کے بعد بھی کیا کوئی مجھ سے زیادہ مستحق ہو سکتا ہے؟میں صرف اپنی بے صبری کی وجہ سے مستحق نہیں بلکہ ایک میں و نشین حور بھی میرے لیے حیران و پریشان ہے۔


یہ گستاخانہ جمہ سنتے ہی سب لوگ چونک پڑے۔بعض حسین پر حملہ کرنے کو جھپٹے۔ قریب تھا کہ گرد کے قوی ہیکل غلام اس کی بوٹیاں اڑا دیتے، مگر خور شاہ نے خود ہاتھ کے اشارے سے سب کو روکا اور نہایت ہی متانت کے ساتھ حسین کی طرف دیکھ کے بولا: "اس گستاخی اور بدتمیزی کی سزا میں تم سے کہا جاتا ہے کہ فوراً قلعے سے باہر نکل جاؤ، اور تم ہرگز اس کے مجاز نہیں کہ اس فردوس بریں کی پاک زمیں تمھارے قدم سے ناپاک کی جائے۔تمھاری سزا قتل تھی، چند ایسے اسباب ہیں جن کی وجہ سے میں تمھارے قتل تو مناسب خیال نہیں کرا۔مگر اب یہ نہیں ہو سکتا کہ تم اس قلعے میں اک گھّی کے لیے بھی ٹھہرنے پاؤ۔"

حسین کو فوراً اپنی گستاخی کا خیال آیا۔ ایک بے اختیاری کی شان سے وہ زمیں پر گر پڑا ور عاجزی کے لہجے میں رو و کے کہنے لگا: " یا امام قائم قیامت! میری خطا معاف ہو! میں جوش عشق میں بے اختیار و بے خود ہو گیا تھا۔" لیکن بالکل شنوائی نہ ہوئی۔ خور شاہ دیدار کو لیے ہوئی اپنے محل میں چلا گیا۔اور اس کے جاتے ہی لوگوں نے حسین کو زبردستی قلعے سے دھکے دے کے قلعے سے نکال دی۔ اُس نے ہزار منت و سماجت کی مگر ایک پیش نہ گئی، بلکہ بعض لوگوں نے کہا کہ: " تم بڑے خوش نصیب تھے کہ صرف خارج البلد کیے جاتے ہو، ورنہ یہاں گستاخی کی سزا قتل ہے۔"

حسین: پھر اب میں کیا کروں اور کہاں جاؤں؟
لوگ: ہم نہیں جانتے، تمھیں اختیار ہے۔

حسین کی مایوسی کی اس وقت کوئی انتہا نہ تھی۔ صرف یہی نہ تھا کہ وہ زمرد کے وصال سے مایوس ہو گیا بلکہ اپنے آپ کو رحمت باری اور نجات سرمدی سے بھی دور سمجھتا تھا۔ اُس کے عقیدے میں تھا کہ جب میں اس درگاہ سے مردود ہو گیا تو پھر کہیں ٹھکانا نہ لگے گا۔التمونت کے باہر پہاڑوں میں روتا اور چٹانوں سے سر ٹکراتا تھا۔دل میں آئی کہ اپنے شیخ شریف علی وجودی کے پاس جائے ان سے معافی کی درخواست کرے۔ مگر خیال کہ اس بارگاہ امامت سے نکالے جانے کے بعد وہ بھی اپنے وہاں پناہ نہ دیں گے۔ خیال ہر برف لے جاتا اور ہر طرف مایوسی کے آثار نظر آتے۔آخر اسے زمرد کی نصیحت یاد آئی اور اس کے ساتھ ہی کوہ البرز کی اس گھاٹی اور زمرد کی قبر کی تصویر آنکھوں کے سامنے پھر گئی۔ یکایک آپ ہی کہہ اُٹھا: " تو مجھے وہیں چلنا چاہیے ؛ بس اب میرے لیے وہاں کے سوا اور کوئی پناہ کی جگہ نہیں۔" مگر اس کے ساتھ ہی دل میں خیال گزرا کہ اب تو وہاں بھی مقصد وری کی امید نہیں۔جب اس نورستان اور سروشستان سے میرے تعلقات مطلقاً منقطع کر دیے گئے تو وہ بھی مجھ سے ناخوش ہو گی۔ اور اگر بالفرض خوش بھی ہویا قدیک محبت اُس کے دل میں باقی بھی ہو تو یہ کیوں کر ممکن ہو گا کہ امام اور مرشد کے حکم کے خلاب وہ مجھے کسی قسم مدد دے سکے؟ اب تو اتنی بھی امید نہیں نظر آتی کہ پہلے کی برح اور اپنے وعدے کے مطابق وہ مجھے کامیابی کا کوئی راستہ بتا سکے۔"یہ خیال کر کے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔بار بار دل میں آتی تھی کہ انھیں پہاڑوں سے ٹکرا کے خودکشی کر لے مگر اس میں اور زیادہ مایوسی کا یقین تھا۔آخر اس نے دل میں یہی فیصلہ کیا کہ چلو زمرد ہی کہ قبر پر چل کے بیٹھوں۔ اگر مایوسی ہو گی تو بھی یہ کیا کم ہے کہ دل کی الجھن زیادہ بڑھے گی تو اس حور وش کی قبر کو سینے سے لگا لوں گا۔


یہ فیصلہ کر کے وہ روتا اور سر دھنتا ہوا پہلے قزوین گیا ور پھر قزوین سے نکل کے کوہ زلبرز کی اُسی پرانی گھاٹی میں پہنچا اور وہیں مقیم ہو گیا۔اتنے انقلابات اور اتنی سرگردانی کے بعد اب پھر وہ معشوقۂ دل ربا کی تربت کا مجاور ہے۔ اُسی طرح شب و روز عبادت و فاتحہ خوانی میں مصروف رہتا ہے۔قبر کے پاس بیٹھ بیٹھ کے گھنٹوں زمرد کے خیال سے باتیں کرتا ہے اور بار بار روکے کہتا ہے: "اے میں و نشین نازنین! خدا کے لیے اپنی قبر کی طرف توجہ کر اور دیکھ کہ میں کیسا حیران و پریشان ہون!آہ تیرے عقیق اور تیرے فراق کی بے صبری نے دونوں جہان سے کھویا۔نہ ادھر ک ہوا نہ اُدھر۔نہ اس دنیا ہی کے کام کا رہا اور نہ اس عالم کے کام کا۔مگر او معشوقۂ با وفا! او بارگاہ لم یزل کی مقبول نازنین! میرے حال زار پر توجہ کر۔ اس درگاہ میں میری شفاعت کر اور اپنی محبت کا صدقہ مجھے اپنے وصل سے مایوس نہ رکھ۔"

یہی خیالات تھے جن کو وہ قبر کے سامنے ظاہر کرتا اور یہی دعا تھی جو ہر وقت اس کے لب پر رہتی۔آخر ایک دن اُس کی امید بر آئی۔صبح سویری آنکھ کھول کے دیکھا تو قبر پر زمردکا خط رکھا ہوا تھا۔ایک ہی نہیں بلکہ دو خط، جن میں سے ایک تو سادے لفافے میں بند تھا اور دوسرا کھلا ہوا۔حسین نے دونوں خطوں کو اٹھا کے چوما، آنکھوں سے لگایا اور کھلے خط کو پڑھنے لگا، جس کا مضمون حسب ذیل تھا:

"حسین! تو نے بڑی غلطی کی امام قائم قیامت کی خدمت میں اور گستاخی!۔ غنیمت ہے تو بچ گیا۔افسوس! میں اپنے دل کو تیری طرف سے نہیں پھیر سکتی۔ چند روز کے لیے یہاں آکے تو اور مجھے بے تاب کر گیا اور اسی بے تابی کا نتیجہ ہے جو میں تجھے یہ خط لکھ رہی ہوں۔افسوس! میں وہ کام کرنے پر آمادہ ہو گئی جو مجھے نہ کرنا چاہیے تھی۔مگر مجبوری تھی؛ جو بات ہونے والی تھی اکیوں کر رکتی۔خیر، اب تو استعدی سے میری تدبیر پر کاربند ہو۔ مگر یہ سمجھ لے کہ یہ بہت ہی نازک کام ہے جسے بہت ضبط اور تحمل سے انجام دینا چاہیے۔اگر تو نے ذرا بھی میرے مشورے کے خلاف کیا تو تجھے بھی ضرر پہنچے گا اور مجھے بھی اور پھر ہم کبھی نہ مل سکیں گے۔یہ آخری اور سخت تدبیر ہے اور اس کے عمل میں لانے پر میں اس وقت مجبور ہوئی ہوں جب یقین ہو گیا کہ اب تیرے لیے امید و آرزو کے سب دروازے بند ہو گئے۔ یہ دوسرا خط جو تجھے اس خط کے ساتھ ملے گا اور بند ہے، اسے اسی طرح بند رکھ، اس کو لے کے مزق کی طرف روانہ ہو اور سیدھا شہر قراقرم میں جا جو کہ کاشغر کے قریب ہے اور وہاں مغلوں کے شاہی خاندان کی ایک ملکہ ہے بلغان خاتون، کوشش کر کے اس سے تنہائی میں مل اور میرا خط اسے دے دے۔ تو اس امر کی کوشش نہ کر کہ اس میں کیا اور اور نہ اس امر کو بلغان خاتون کو پوچھنا وہ تجھ سے جو سوال کرے پس اس کا صحیح جواب دے دے۔اور ملکہ بلغان خاتون جس امر کا ارادہ کرے اس میں اس کی مدد کر۔اگر وہ تیرے ساتھ آنا چاہے تو اُسے اور جو لوگ اس کے ساتھ ہوں اُنس سب کو میری قبر پر لا کے کھڑا کر دے۔بلغان خاتون غالباً تجھ سے اخلاق سے پیش آئے گی، اور یقین ہے کہ اپنی قوم کے ایک لشکر کے ساتھ ادھر ہی آنے کا ارادہ کرے۔ تو خموشی سے اُس کی رہبری کرنا۔ اور منتظر رہ کہ پردۂ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔

بس تیری دل دادہ۔۔۔۔زمرد"


حسین نے یہ خط پڑھنے ہی دوسرے خط کو احتیاط سے اپنے سینے میں رکھ لیا اور فوراً قراقرم کی طرف چل کھڑا ہوا۔ راستے میں بار بار اس کے دل میں یہ خیال آتا تھا کہ مجھے وہاں بھیجنے سے زمرد کی کیاغرض ہے؟ مگر اس خیال کو وہ خود ہی مٹایا اور کہتا: " ان معاملات کے تجسس سے زمرد نے منع کیا ہے۔"تا ہم ایک چیز کی اسے بڑی فکر تھی۔ وہ یہ کہ زمرد نے ملکہ کے سوالوں کا سچ سچ جواب دیدے کی ہدایت کہ ہے اور میں ایسے ایسے کام کر چکا ہوں جن کے ظاہر کرنے میں ہر جگہ جان کا اندیشہ ہے۔کیا یہ بتادوں کہ میں نے امام نجم الدین نیشا پوری کو بے خطا و بے قصور قتل کیا، یا مام نصر بن احمد کی نماز پڑھنے میں جان لی؟ اور سب باتیں درکنار وہاں تو شاید اگر یہ بی معلوم ہو گیا کہ مجھے فرقہ باطنیہ سے کوئی تعلق ہے تو واجب القتل قرار دے دیا جاؤں۔

کئی مہینے جو اسے منازل سفر طے کرنے میں صرف ہوئے انھیں خیالات اور اسی قسم کے ترددات میں گزرے آخر وہ ہرات ہوتا ہوا ترکستان کی حدود میں داخل ہوا اور چند روز بعد خاص شہر قراقرم میں وارد ہوا، جو تاتاریوں کا مرکز اور پائے تخت تھا۔قراقرم پہنچ کے بھی اُسے کئی مہینے ہو گئے مگر شاہ زادی بلغان خاتون تک رسائی نہ ہوئی جس کے حسن و جمال کے قصے سارے شہر میں مشہور تھے اور کہا جات تھا کہ وہ اپنے باب کے مارے جانے کے صدمے سے تمام لذائذ دنیوی سے علیحدہ ہو گئی ہے۔آبادی سے باہر اس کا ایک باغ تھا جس میں ایک وسیع اور دل چسپ شکارگاہ بھی بھی ہوئی تھی، مگر باپ کے غم نے ایسا پژمردہ کر دیا تھا کہ اس نے اب اس باغ میں آنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ ایک دن حسین وسط شہر میں کھڑا تھا کہ ناگہاں غل ہوا: "شاہزادہ بلغان خاتون آتی ہے۔" وہ سڑک ے کنارے ٹھہر گیا اور زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا کہ ملکہ کئی سہیلیوں کے ساتھ گھوڑوں پر سوار آئی اور نکل گئی۔حسین شاید جرات کر کے اور جان پر کھیل کر خط ا س کے ہاتھ میں دے دیتا مگر زمرد نے تاکید کی تھی کہ تنہائی میں دینا۔ مایوسی کیصورت بنائے خاموش کھڑا رہ گیا۔ اور جب شاہزادی نکل گئی تو دل میں کہنے لگا: " یہ تو مشکل نظر آتا ہے کہ اس ناز آفریں ملکہ کہ خواب گاہ تک میری رسائی ہو۔"

اور چند روز گزر گئے اور اب سنا گیا کہ شاہزادی نے مدت کے بعد باغ اور شکار گاہ میں جانے کا ارادہ کیا ہے۔حسین کو امید پیدا ہوئی کہ غالباً وہاں موقع مل جائے۔اسی خیال سے وہ پہلے ہی سے جا کے شکارگاہ میں چھپ رہا۔ وہاں بھی ملکہ بلغان خاتون آئی اور چلی بھی گئی مگر حسین کو موقع نہ ملنا تھا نہ ملا۔ کئی دفعہ وہ ملکہ سے دوچار ہوا مگر ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی سہیلی ضرور موجود تھی۔

اب حسین کو زیادہ مایوسی ہوئی۔ آخری تدبیر یہ تھی کہ نوکری کا امیدوار بن کے ملکہ کی ڈیوڑھی تک پہنچا اور ملازمت کی درخواست دی۔ اتنے دنوں قراقرم میں رہ کے اس نے چند ایسے دوست بھی پیدا کر لیے تھے جنھوں نے اس کی سفارش کیا ور اُسے بہ دشواری ملکہ کے داروغۂ اصطبل ہونے کی عزت حاصل ہو گئی۔ اس نوکری کے بعد بھی دو مہینے تک اسے تنہائی میں ملنے کا موقع نہ ملا۔آخر ایک مرتبہ صبح سویرے جب کہ ملکہ اپنے بستر ناز سے اُٹھ کے غسل خانے کو جا رہی تھی اور بالکل اکیلی تھی، وہ سامنے گیا اور جھک کے سلام کیا۔بلغان خاتون حسین کو غیر معمولی طور پر ساد راہ دیکھ کے ٹھہر گئی اور پوچھا: "کیوں؟"

حسین: (سامنے زمیں چوم کے) سب خیریت ہے مگر شاہ زادی کی خدمت میں ایک خط پہنچانا ہے جس کو لیے ہوئے چھ مہینے سے قراقرم میں پھر رہا ہوں اور صرف اس وجہ سے کہ بغیر تنہائی کے مجھے اس خط کے پیش کرنے کی اجازت نہ تھی، اتنی تاخیر ہوئی۔اسی غرض کے لیے مجبوراً میں نے شاہزادی کی ملازمت اختیار کیا۔بڑی بڑی نامرادیوں کے بعد خوش نصیبی سے آج اس خط کے پیش کرنے کا موقع ملا ہے۔


یہ کہہ ک اس نے زمرد کا خط نکال کے شہزادی کی طرف بڑھایا۔

شاہد زادی بلغان خاتون تاتاری عورتوں میں نہیں، تاتاری رؤسا کے خالف بھی ایک نہایت ہی شائستہ اور تعلیم یافتہ ملکہ تھی۔وہ فارسی زبان میں بے تکلف گفتگو کرتی تھی۔ اسی قدر نہیں بلکہ شعرائے فارس کے کلام کی اچھی طرح داد دے سکتی تھی اور مشکل سے مشکل اور بلیغ سے بلیغ فارسی کو بوجہ احسن سمجھ لیتی تھی۔خط کو ہاتھ میں لیتے ی اس نے غور سے دیکھ اور لفافے کو سادہ پا کے تعجب سے حسین کو صورت دیکھ اور پوچھا:

" اور یہ خط بھیجا کس نے ہے؟"

حسین: شاہ زادی کو پڑھنے کے بعد خود ہی معلوم ہو جائے گا۔مجھے صرف اتنا ہی معلوم ہے کہ یہ خط کسی انسان کا نہیں بلکہ ایک حور کی طرف سے ہے جس کا نشیمن اس سروشستان اعلیٰ اور حیز نور میں ہے۔
بلغان خاتون یہ جواب سن کے اور حیرت زدہ ہو گئی، حسین کی صورت دیکھی اور پوچھا: " اگر فردوس بریں کی کسی حور کا خط ہے تو تم کو کیوں کر ملا اور تم سے اس کو کیا تعلق؟"
حسین: بس اتنا ہی تعلق ہے کہ میں اس کی یاد میں سر دھنتا ہوں، اور کبھی کبھی وہ کوئی خط کسی روحانی ذریعے سے میرے پاس پہنچا دیتی ہے۔

تاتاری شاہ زادی یہ جواب سن کے اور متحیر ہوئی۔دیر تک حسین کو غور سے دیکھتی رہی اور پھر دل میں کچھ سوچ کے بولی: "اچھا، اب اس وقت تم جاؤ؛ اس خط کو اس میں ان سے پڑھ کر میں تم پھر بلاؤں گی اور جو کچھ پوچھا ہو گا پوچھ لوں گی۔"
حسین: (سینے پر ادب سے ہاتھ رکھ کے) بتر، مگر اتنا خیال رہے کہ اس بارے میں جو کچھ دریافت فرمانا ہو، شاہ زادی اسی طرح تنہائی میں بلا کے دریافت فرمائیں۔میں اپنے راز کسی اور کے سامنے صحیح طور پر نہیں عرض کر سکتا۔
بلغان خاتون: میں اکیلی ہی ملوں گی۔

یہ خط ار حسین کا بیان ایسی غیر معمولی چیزیں تھی کہ شاہزادی بلغان خاتون نہانا بھی بھول گئی۔ حسین کے واپس جاتے ہی پھر اپنی خواب گاہ کی طرف پلٹ گئی۔تنہا بیٹھ کے خط کو کھولا اور نہایت توجہ و مستعدی سے پڑھنے لگی۔مضمون حسب ذیل تھا:

" او غم زدہ اور نیک دل شاہ زادی! تو اپنے باپ کے غم میں مبتلا ہے جو باطنین کے فدائی دیدار کے ہاتھ سے نہایت دغا بازی سے قتل ہوا۔مجھے تیرے رنج و الم سے ہم دردی ہے اور اسی لیے اپنے منصب کے خلاف تجھے خبر دیتی ہوں کہ دیدار یہاں التمونت میں بیٹھا جنت کے مزے لوٹ رہا ہے۔اگر اپنے باب کا انتقام لینا چاہتی ہے، اگر اس جنت کا لطف دیکھنا چاہتی ہے، اگر دنیا کے پردے سے ایک بہت بڑا فتنہ دور کرنا چاہتی ہے تو اسی حسین کے ساتھ جو میرا خط لایا ہے، اور جو جنت کی زیارت کے شوق میں عقل و ہوش بلکہ دین و ایمان تک کھو چکا ہے، کوہ البرز کی وادی میں میری تربت پر آ؛ قبر کے پتھروں کو میں الٹ، اُس کے نیچے تو میرا دوسرا خط پائے گی جو تیری رہبری کرے گا اور تو اپنے باپ کے انتقام کے ساتھ ایک بہت بڑے طلسم کو توڑ کے دنیا کا سب سے بڑا راز کھولے گی۔اس وقت تجھے معلوم ہو جائے گا کہ دنیا اور ملاء اعلیٰ میں کتنا فرق ہے۔حسین سے تو اس کے حالات پوچھ سکتی ہے جس سے تجھے معلوم ہو گا کہ اس کے دل پر اس فردوس بریں کا کتنا اثر ہے جہاں میں ہوں۔یہی جنت میں تجھے بے منت دکھاؤں گی۔اور تیری مجرم تیرے ہاتھ میں ہو گا۔مگر خیال رہے کہ رمضان کی صبح کو تو میری تربت پر موجود ہو۔اس کے ساتھ یہ بھی ضرور ہے کہ کافی تعداد میں ایک تاتاری لشکر بھی تیرے قریب ہی موجود رہے۔لیکن میری قبر پر تجھے اپنے ساتھ میں چار آدمیوں سے زیادہ گروہ کو نہ لانا چاہیے۔

مینو نشین۔۔زمرد"


بلغان خاتون کے حق میں یہ خط کسی جادو یا تسخیر کے تعقیذ سے کم اثر نہ رکھتا تھا جس کو پڑھتے پڑھتے کبھی وہ انتہا سے زیادہ غضب ناک ہو جاتی اور کبھی کسی خاص مگر حیرت و خیال سے اس کے دل کو گونہ تسکین ہو جاتی اور تعجب کی کوئی انتہا نہ تھی۔اس نے خط کو اول آخر تک کئی مرتبہ پڑھا اور کچھ سوچنے لگی، پھر پڑھا اور پھر غوطے میں آ گئی؛ پھر پڑھا، پھر متفکر چہرہ بنا یا اور نازک گلابی رخساروں کو ہاتھ پر رکھ کے سوچنے لگی۔ آخر دیر تک تردد و انتشار کے بعد اُس نے حسین کو اپنے سامنے بلوایا اور پوچھنے لگی: " تم جانتے ہو اس خط میں کیا لکھا ہے؟"

حسین: نہیں ، مجھے ایک لفظ کی بھی خبر نہیں۔
یہ جواب پا کے بلغان خاتون نے متجسس نگاہ سے حسین کو گھور کے دیکھا اور پوچھا: " تم مذہب باطنیہ کے پابند ہو؟"
حسین: (ڈر کے)جی ہاں۔
بلغان خاتون: تم نے جنت کی بھی سیر کی ہے؟
حسین: ایک بار دیکھا ہے اور دوبارہ دیکھنے کی ہوس ہے۔
بلغان خاتون: اچھا تمھاری یہ ہوس پوری ہو جائے گی، مگر کیا تمھارا شمار بھی فدائیوں میں ہوتا ہے؟
حسین: البتہ!
یہ جواب سن کے بلغان خاتون نے حسین کو پھر گھور کے دیکھا اور پوچھا: " توتم نے کتنے لوگوں کی جان لی ہے؟"
حسین: صرف دو شخصوں کی۔ مگر بہت بڑے بڑے شخص، جن کے قتل کرنا مجھے بھی افسوس ہے۔
بلغان خاتون: ان پر خنجر چلاتے وقت تمھیں ترس نہ آیا؟
حسین: آیا تھا، مگر مرشد کے حکم سے میں انحراف نہ کر سکتا تھا۔
بلغان خاتون: ( تعجب سے) مرشد کے حکم سے اتنے بڑے گناہ کا ارتکاب کر لینے میں کیاتمھیں اپنے نیک و بد کا بھی خیال نہیں آتا؟
حسین: نیک وہ بد ہمیں نظر ہی کب آ سکتا ہے؟ ہم ہر چیز کے ظاہر کو دیکھتے ہیں اور شیخ کی نگاہیں باطن پر، یایوں کہنا چاہیے کہ اصلی حقیقت پر پڑتی ہیں۔
بلغان خاتون: اگر مرشد کنویں میں گرنے کو کہے تو تم گر پڑو گے؟
حسین: بلا تامل! یہی ہمارا پہلا عقیدہ اور پہلی ریاضت ہے۔مرشد جس خوبی کو دیکھ کے حکم دیتا ہے اس کے سامنے برائی یا مضرت کی کوئی ہستی ہی نہیں جو ہیں نظر آتی ہے۔
بلغان خاتون: زمرد سے تم سے کیوں کر مفارقت ہوئی؟
حسین: میں منع کرتا رہا، اس نے مانا نہیں اور کوہ البرز کی اس گھاٹی میں چلی گئی جہاں کبھی کبھی پریوں کا گزر ہوتا ہے۔ہمارے جاتے ہی پریاں بھی آ پہنچیں۔ انھون ے آتے ہی اسے مار ڈالا۔ اس کی وہاں قبر بنا دی جس پر میں مدتوں آہ و زاری کرتا رہا۔شہادت نے زمرد کو فردوس بریں میں پہنچا دیا اور میں قبر پر پڑا اپنی موت کا منتظر تھا کہ زمرد نے فردوس بریں سے ایک خط بھیج کے مجھے فرقۂ ناجی باطنیہ میں داخل ہونے کی ہدایت کی اور اپنے پاس پہنچنے کا طریقہ بتایا۔اس کی ہدایتوں کے مطابق عمل کر کے میں ایک بار ا س کے دیدار سے شرف یاب ہو چکا ہوں، مگر افسوس! پھر ملنے کی امید نہیں۔اب دوبارہ یہ کوشش اسی کی زیارت کے لیے آپ کے ذریعے سے شروع ہوئی ہے، مگر چوں کہ مجھے کچھ پوچھنے کی اجازت ہیں لہٰذا میں آُ کے سامنے اپنی کوئی آرزو بھی پیش نہیں کر سکتا۔
بلغان خاتون حسین کو اس سادہ مزاجی پر حیرت سی ہوئی؛ وہ کسی قدر مسکرائی اور کہا: " بے شک تم اپنی آرزو میں بارمراد ہو گے اور تمہاری تمنا بر آئے گی۔لین مجھے بھی اسی مقام تک پہنچا دو جہاں زمرد کی قبر ہے اور جہاں تم کہتے ہو پریوں کا نشیمن ہے۔"
حسین: اس امر کا تو مجھے وہیں سے حکم ہو چکا ہے ‘شاہ زادی جس تشریف لے چلیں، یہ غلام ہم رکاب ہو گا۔
بلغان خاتون: حسین: اگر میں کسی شخص کے قتل کرنے کو کہوں تو تم اسے قتل کر ڈالو گے؟
حسین: بے شک!بشرطیکہ اس کے قتل کرنے میں کوئی مضائقہ نہ ہو۔
بلغان خاتون: یہ قید تم مرشد سے بھی لگاتے ہو؟
حسین: نہیں، مرشد کے تعلقات مرید کے ساتھ اور قسم کے ہیں۔اُن کے ہاتھ میں مرید کو ایک بے جان آلے کی طرح رہنا چاہیے۔
بلغان خاتون: خیر تواب میں سفر کا سامان کرتی ہوں، تم بھی تیار ہو جاؤ۔
حسین: میں ہر وقت تیار ہوں۔

یہ کہہ کے شاہ زادی نے حسین کو رخصت کیا اور خود حمام میں گئی۔مگر ا س کی حیرت کسی طرح کم ہونے کو نہ آتی تھی۔لوگ اس کے مزاج میں کوئی غیر معمولی تغیر پاتے تھے جس کے متعلق ہر شخص سوال کرتا مگر وہ خاموش تھی اور حیرت زدہ۔دوسرے دل علی الصباح اس نے ایک سانڈنی سوار کو اپنا ایک خط دے کے کسی طرف روانہ کیا اور کود بھی روانگی کا سامان کرنے لگی۔مگر اس کے لیے ضرور تھا کہ اپنے ابن عم اور شہنشاہ ترکستان منقو خاں سے اجازت حاصل کرے، جس کے لیے وہ ایک ترددمیں تھی۔

منقو خاں کو بلغان خاتون کا ابن عم کہا گیا ہے اور چغتائی خاں کی بیٹی۔اس طرح وہ منکو خاں ، قبلائی خاں، ہلاکو خاں (پسران تولی خان) کی چچا زاد بہن ہوئی۔ تاہم تاریخ میں یہ کردار نہیں ملتا۔ شرر کا یہ کردار فرضی ہے۔)


ساتواں باب: بلغان خاتون کا سفر

جس روز حسین نے اپنی مینو نشین معشوقہ زمرد کا خط بلغان خاتون کو پہنچایا ہے، اس کے ایک ہفتے کے بعد صبح کے وقت وہ تاتاری شہزادی اپنے بھائی منقو خاں کے پاس گئی۔ منقوخاں کے پاس اس وقت خاندانِ تاتاری کے کئی معزز رؤسا موجود تھے، جن کے سامنے کچھ کہتے ہوئی وہ جھجھکی اور دیر تک خاموش بیٹھی رہی۔اس کو چپ دیکھ کے منقو خاں نے کہا: " بہن! یہ غیر معمولی سکوت کیسا؟"
ایک درباری: شاہ زادی اپنے والد کے غم کو ابھی تک نہیں بھولیں۔
منقو خاں: ہاں بلغان! اب تو اس غم کو چھوڑ دو۔ اتنے دنوں تک غم و الم میں مبتلا رہنا ہماری قومی شجاعت کے خلاف ہے۔
بلغان خاتون: آہ بھائی یہ غم بھول سکتا ہے؟ ( تھوڑے سکوت کے بعد) خیر، اب یہ باتیں تو ہوتی ہی رہیں گی، اس وقت میں ایک ضروری کام کو آئی ہوں۔
منقو خاں: وہ کیا؟
بلغان خاتون: بھائی! آپ نے تو بہت سی مہمیں سر کی ہیں، مگر اب ارادہ ہے کہ ایک مہم کو میں خاص اپنے ہاتھ سے انجام دوں۔

اس جملے کے سنتے ہی سب لوگ حیرت میں آ گئے اور منقو خاں نے اُسے گھور کے دیکھا ور پوچھا: " بہن خیر! تو ہے؟کیسی مہم؟ کیا میرے اسلحے نے جواب دے دیا؟فقط تمھارے کہہ دینے کی ضرورت ہے ؛ جس ملک یا قوم کو کہو، تم تو تم ہو، میرے جانے کی بھی ضرورت نہیں۔ہمارے بہادر سپاہی جائیں گے اور ایک آن میں تہ و بالا کر دیں گے۔"
بلغان خاتون: یہ صحیح ہے، مگر میں چاہتی ہوں کہ اس کام کو خاص اپنے ہاتھ سے انجام دوں۔
منقو خاں: آخر کون سا کام ہے؟ اور کس ملک پر فوج کشی کا ارادہ ہے؟
اس کے جواب میں بلغان خاتون نے زمرد کا خط اس کے سامنے رکھ دیا اور کہا: "پہلے اسے پڑھ لیجیے، پھر پوچھیے گا۔"
منقو خاں نے خط کو اول سے آخر تک پڑھا، لیکن ختم کرنے سے پہلے ہی اس کی آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے۔اس نے غضب آلود چشم و ابرو اور خم شدہ ہونٹوں سے خط کو تمام کر کے غصے سے پھینک دیا اور کہا: " بہتر بہن! تم مطمئن رہو؛ میں کل ہی ہلاکو خاں کو لکھتا ہوں۔"
بلغان خاتون: نہیں، یہ میرا کام ہے اور میرے ہی ہاتھ سے پورا ہو گا۔
منقو خاں: تم جا کے کیا کرو گی؟ جنگ و پیکار تمھارا کام نہیں۔
بلغان خاتون: اسی خیال کو دنیا سے مٹا کے میں ثابت کرنا چاہتی ہوں کہ عورتیں بھی ویسی ہی بہادر ہیں جیسے مرد۔اگر موقع دیا جائے تو وہ بھی کسی معاملے میں مردوں سے کم نہ رہیں گی۔اور ابھی تو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہاں لڑائی کی بھی ضرورت ہو گی یا نہیں۔
منقو خاں: بے شک ہو گی؛ بغیر اس کے کامیابی ممکن نہی۔ باقی رہی عورتوں کی شجاعت، میں تسلیم کرتا ہوں کہ عورتوں کی حکومت مردوں سے بڑھی ہوئی ہے۔بڑے بڑے تاج دار اور بڑے صف شکن جو عالم کے تخت الٹ دیتے ہیں اور ساری دنیا کے بہادروں کے دست و بازو کو تھکا دیتے ہیں، ان پر بھی جو حکومت کرتی ہے وہ عورت ہے۔مگر عورت کے اسلحہ دوسرے ہیں۔۔وہ تیر اور خدنگ، شمشیر و خنجر سے نہیں لڑتی، بلکہ اپنے حریفوں پر تیرِ نظر، خدنگِ ناز، شمشیر ابرو اور خنجر مژگاں سے فتح یاب ہوتی ہے۔ لیکن عورت کے یہ اسلحے میدانوں میں کارگر نہیں ہو سکتے جس میدان میں تم جانا چاہتی ہو۔ ایسے میدانوں کی فتح مردوں ہی کے اسلحے کے نام پر ہے۔


بلغان خاتون نے اس جواب پر شرمندہ ہو کے سر جھکا لیا، مگر نیچی نظروں ہی میں اس نے پھر متانت پیدا کی اور کہا: " بھائی! ایسا نہ سمجھیے۔ میں اسی طرح بہادری اور جاں بازی سے مقابلہ کروں گی جس طرح کسی بہادر تاتاری لڑکی کو لڑنا چاہیے۔"
منقوخاں: یہ میں جانتا ہوں، مگر جس وقت تک ہم لوگ زندہ موجود ہیں تم سی نازنین کو میدان جنگ میں قدم رکھنے کی زحمت نہیں دی جا سکتی۔اور آخر تمھارے جانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟
بلغان خاتون: صرف یہ میرا کام ہے اور اپنے فرض سے میں آپ ہی سبکدوش ہونا چاہتی ہوں۔
منقو خاں: خیر ایسا ہی شوق ہے تو چلو، مگر میں بھی ساتھ چلوں گا، یہ مجھے نہیں گوارا ہو سکتا کہ خاندان مغلیہ کی ایک معزز شاہزادی اپنے نامور عزیزوں کے ہوتے ہوئی تن تنہا میدان کارزار میں قدم رکھے۔
بلغان خاتون: مگر بھائی، وہاں کسی بڑی لڑائی کی امید ہی نہیں؛ ہمارے چند سپاہی بھی ہوں گے تو کامیاب ہو جائیں گے۔
منقوخاں: یہ نہ سمجھو۔جو لوگ سردار کے ادنیٰ اشارے پر جان دینے کو تیار ہو جائیں اُن سے ڈرنا چاہیے۔
بلغان خاتون: مگر تاتاریوں کا رعب آج کل دلوں پر اس قدر بیٹھا ہوا ہے کہ میں تو یہ سمجھتی ہوں وہ لوگ بے لڑے بھڑے ہتھیار رکھ دیں گے۔
منقو خاں: بے شک ہمارا ایسا ہی رعب ہے، مگر پھر بھی ایک قدیم اور ڈیڑھ سو برس کے شاہی و مذہبی خاندان کو جڑ سے اکھاڑ کے پھینک دینا آسان نہیں۔

منقو خاں آخر تک اصرار کرتا رہا مگر شہزادی بلغان خاتون نے اس کی شرکت کسی طرح گوارا نہ کی۔ جب دیکھا کہ تاجدار بھائی کسی طرح منظوری نہیں دیتا تو جھک کے اس کے کان میں کچھ کہا جسے سن کے تھوری دیر تک غور کرتا رہا، اور آخر بڑی دیر کی حجت و تکرار کے بعد قرار پایا کہ اُولو العزم شاہزادی پانچ سو سوار ساتھ لے کو روانہ ہو جائے۔ بلغان خاتون واپسی کے لیے اٹھتے اٹھتے ٹھہر گئی اور خط کو دوبارہ بھائی کے سامنے پیش کر کے بولی: " مگر ذرا دیکھ کے یہ بھی بتلا دیجیے کہ مجھے کب یہاں سے روانہ ہو جانا چاہیے؟زمرد نے کس تاریخ کو بلایا ہے؟"

منقو خاں: ( خط پڑھ کے) رمضان کی 27 تاریخ۔
بلغان خاتون: خدا جانے اس تاریخ کے معین کرے سے کیا غرض ہے، تو پھر مجھے کوچ کر دینا چاہیے؟
منقو خاں: اس میں بھی کوئی بات ضرور ہے اور میری سمجھ میں تو یہ بھی نہیں آتا کہ اس گھاٹی میں پہنچنے کے بعد تمھیں کیا پیش آئے گا۔ممکن ہے اس عورت نے جو اپنے آپ کو حور بتاتی ہے فریب کیا ہو۔
بلغان خاتون: اس کی تحریر اور اس کے اس بے تکلفانہ دعوت سے مجھے فریب کی امید نہی۔ باوجود اس کے محض اسی خیال سے میں نے تھوڑے سے سپاہی ساتھ لے جانے کا ارادہ کر لیا۔اور آپ تو جانتے ہیں کہ اپنی حفاظت کا میں نے پورا بندوبست کر لیا ہے۔ہاں تو زمرد نے رمضان کی 27 تاریخ کو مجھے بلایا ہے اور آج کون تاریخ ہے؟
منقو خاں: جمادی الاول کی 20۔ قریب قریب چار مہینے باقی ہیں۔ راستہ بھی تین مہینے سے کم کا نہیں۔اگر جلدی پہنچ گئیں تو راستے میں کسی جگہ ٹھہر جانا۔ اگر جانا ہے تو کل ہی کوچ کر دینا چاہیے۔


اس کے بعد منقو خاں نے کچھ آپ ہی سوچ کے کہا: "ہاں! خوب یاد آیا، بلغان خاتون! ایک دو دن اور ٹھہر جاؤ۔آج کے چوتھے دن ہلاکو خاں کی کمک کو چالیس ہزار سپاہیوں کا بڑا بھاری لشکر جانے ولا ہے جس کو طولی خاں لے جائے گا؛ اسی کے ساتھ تم بھی ہولینا۔یہ لوگ بھی اسی طرف جائیں گے جدھر تم جاتی ہو، بلکہ انھیں تم سے آگے جانا ہے۔ہلاکو خاں دیلم میں ہے اور سلطان دیلم کی تخت گاہ پر قابض ہو چکا ہے۔ فی الحال اُس کا تعاقب کر رہا ہے۔اس فوج کے پہنچنے کے بعد وہ ارض عراق کا عزم کرے گا اور ارادہ ہے کہ خلیفۂ بغداد کو بھی اس کی سرتابیوں اور غرور کی سزا دی جائے۔

بلغان خاتون: ایک دو دن کی بات ہے، میں ٹھہر جاؤں گی۔ان تمام امور کا تصفیہ کر کے بلغان خاتون اپنے مکان کو واپس آئی اور حسین کو بلا کے کہہ دیا: " پرسوں کوچ ہے، تیار ہو رہو۔"حسین نے سینے پر ہاتھ رکھ کے اور ادب سے سر جھکا کے جواب دیا: " مجھے تو جس وقت حکم ہو حاضر ہوں۔"

دوسری طرف منقو خاں کا بیٹا طولی خاں بھی کوچ کا سامان کرنے لگا اور اس کے ساتھ کے لیے چالیس ہزارجوانوں کو تیاری کا حکم دے دیا گیا۔ آخری رات سپاہیوں نے عجیب ذوق و شوق اور بڑی دھوم دھام میں بسر کی۔ قراقرم کے در و دیوار سے جوش و خروش نمایاں تھا۔ہر طرف ایک چہل پہل تھی، لوگ اِدھر اُدھر دوڑتے پھرتے تھے۔جو اپنے گھروں اورخیموں میں تھے وہ خوشی خوشی اسلحہ بھی درست کرتے جاتے تھے اور عزیزوں یابیوی بچوں سے بھی رخصت ہوتے جاتے تھے۔صبح سویرے ہی کوچ کا طبل بجا اور تاتاریوں کے غول اپنے اپنے نشانوں اور بیرکوں کے نیچے جوش و مسرت میں کودتے، اپنے قومی گیتوں کو گاتے اور شور کرتے آگے بڑھے۔

یہ فوج مختلف حصوں میں تقسیم ہوکے روانہ ہوئی۔ قرافل کے پانچ ہزار جوان آگے بڑھ گئے۔ پھر جرانغار و برانغار پانچ پانچ ہزار کی ٹکڑیاں داہنے باہنے پھر گئیں، پانچ ہی ہزار کا ایک گروہ پیچھے قول میں رہا اور درمیان یا قلب میں پورے بیس ہزار ترک جدا جدا فوجوں اور پرچموں میں بٹے ہوئے آگے پیچھے روانہ ہوئے، جن کے بیچ میں طولی خاں اور بلغان خاتون دو مضبوط اور گھٹے ہوئے ترکی گھوڑوں پر سوار تھے۔ تاتاری کمانیں اور نیزے چاروں طرف سے حلقہ کیا ہوئے تھے۔اور ہر چہار طرف سے جوش و ولولے کی صدائیں اور فتح و نصرت کے نعرے بلند ہو رہے تھے۔

تاتاریوں کا یہ طوفان ایک ٹڈی دل کی طرح راستے کی تمام چیزوں کو خراب و تباہ کرتا چلا جاتا تھا۔جو گاؤں نظر آتا آدمیوں سے خالی ملتا، اس لیے کہ ان بے رحم و جری لٹیروں کی آمد کی خبر پاتے ہی لوگ اپنے گھر چھوڑ چھاڑ کے بھاگ کھڑے ہوتے، جن کے ویران و غیر آباد گھروں اور مکانوں کو آگ لگا دی جاتی۔یہ لوگ جوں جوں آگے بڑھتے شہر اور گاؤں مسمار و منہدم اور جل جل کے خاک سیاہ ہوتے جاتے۔رعایا میں سے مرد، عورت، بوڑھا، بچہ جو شخص ملتا ان انسان کا شکار کھیلنے والے وحشیوں کے ہاتھ سے قتل ہو جاتا۔ الغرض یہ لوگ تمام علاقہ غزنی و خراسان کو تباہ کرتے بحر خزر کے کنارے کنارے چلے اور مازندران پہنچے۔ پھر وہاں کے گاؤ ں تخت تاراج کر کے آذربائیجان کی طرف نکل گئے اسلیے کہ ہلاکو کے اسی طرف ہونے کی خبر تھی، کیوں کہ وہ سلطان دیلم کے تعاقب میں شمال کی طرف زیادہ بڑھ گیا تھا۔مگر بلغان خاتون اپنے ساتھ کے پانچ سو سواروں کے ساتھ جبال طالقان کے دامن میں نہر ویرنجان کے قریب خیمہ زن ہو گئی۔ عین اس مقام پر جہاں اس ناول کی ابتدا میں ہم نے حسین و زمرد کو پایا تھا۔جس وقت یہ پانچ سو تاتاری اس سر زمیں پر پہنچے ہیں رمضان کی 18 تاریخ تھی۔مجبوراً چند روز اسی جگہ فروکش رہنا پڑا جس سے زیادہ کوئی مصیبت تاتاری لشکر کے لیے نہ تھی۔ان لوگوں کے لیے یہ معمول تھا کہ جب تک لوٹتے مارتے رہتے اسی وقت تک اچھے اور خوش حال رہتے اور جہاں کسی جگہ قیام ہو گیا، محض اس وجہ سے کہ نئے شہر اور قصبے لوٹنے کو نہ ملتے، فاقے کرنے لگتے۔لیکن یہاں کیا کرتے؟ مجبوری تھی، سب نے انتظار کے دن فقر و فاقے سے بسر کیے، نویں دن ٹھیک 27 تاریخ کو بلغان خاتون صبح ہی سے کسی کے انتظار میں تھی اور جوں جوں دیر ہوتی جاتی تھی اس کی پریشانی بڑھتی جاتی تھی۔ آخر جب اس نے دیکھ کہ وقت نکلا چلا جاتا ہے تو بڑے پس و پیش کے بعد تین زبردست فوجی جوانوں کو ساتھ لے کے چل کھڑی ہوئی اور حسین اس کا رہبر ہوا۔باقی ماندہ تمام ہمراہی وہیں چھوڑ دیے گئے۔حسین اور تاتاری شہزادی سڑک چھوڑ کے نہر ویرنجان کے کنارے کنارے چلے اور بہ دقت و دشواری گھاٹیوں اورجنگلوں سے گزر کے اس مرغزار میں جا پہنچے۔حسین نے زمرد کی قبر بتا کے فاتحہ خوانی کی اور کہا:

" یہی پتھر ہیں جن کے نیچے میری زمرد کا پیکر عنصری آرام کر رہا ہے۔"


بلغان خاتون نے زمرد کا خط نکال کے پھر پڑھا اور زمرد کی ہدایت کے مطابق قبر کے پتھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے ہٹانے لگی۔ چار ہی پانچ پتھر ہٹے ہونگے کہ حسب وعدہ زمرد کا دوسرا خط مل گیا جسے کھول کے اس نے چپکے چپکے پڑھا اور ذرا متردد ہوکے سامنے کی طرف نظر بڑھا بڑھا کے دیکھنے لگی۔

چند ہی لمحوں کے بعد سوچا اور اپنے ایک ہمراہی کے کان میں کچھ کہنے کو جھکی۔ تاتاری سپاہی شاہزادی کا راز سنتے ہیں واپس روانہ ہوا اور وہ خود حسین کی طرف دیکھ کے بولی: "چلو"
حسین: کہاں؟
بلغان خاتون: جہاں میں چلوں۔

اتنا کہتے ہیں باقی ماندہ سپاہیوں کو ساتھ آنے کا اشارہ کیا اور چل کھڑی ہوئی۔حسین کو بھلا کیا مجال ان کار تھی، بے عذر ساتھ ہولیا۔

بلغان خاتون اس وادی کے شمالی کونے کی طرف چلی۔اسی طرف جدھر سے حسین نے کبھی پریوں کو آتے دیکھا تھا۔جاتے جاتے تقریباً دو گھنٹے کے بعد وہ ایک سرسبز پہاڑ کے دامن میں پہنچی، اور گو اس طرف کوئی راستہ نہیں نظر آتا تھا مگر وہ برابر بڑھتی چلی جاتی تھی۔ حسین ایک عقیدت کیش مرید کی شان سے بے عذر اطاعت کر رہا تھا، مگر ہمراہی سپاہیوں کو حیرت تھی کہ شاہزادی انھیں کہاں لیے جاتی ہے بلکہ ایک نے آگے بڑھ کے ادب سے پوچھا بھی کہ: "ادھر تو راستہ نہیں ہے؟" جس کے جواب میں بلغان خاتون نے کہا: "کچھ بولو چالو نہیں، خاموش چلے آؤ۔"

پہاڑ کی جڑ میں پہنچ کے وہ ایک تیرۂ تار غار میں گھسی اور ساتھیوں سے کہا: اس طرح چلو کہ کسی کو آہٹ معلوم نہ ہو۔"شاہزادی کے حکم کے مطابق سب لوگوں سے جہاں تک ممکن تھا آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے چلے۔غار کے اندر بالکل اندھیرا تھا اور سب ہاتھوں سے ٹٹولتے اور دونوں طرف کی کنگروں سے بچتے چلے جاتے تھے۔پندرہ بیس منٹ کے بعد دور اوپر کچھ روشنی نظر آئی جس کی نسبت معلوم ہوا کہ غار کے اس طرف کا دہانہ ہے۔ آخر بلغان خاتون اس غار سے باہر نکلی مگر جب غار سے باہر نکل کے دیکھا تو یہ مقام بھی کچھ کم وحشت ناک نہیں، اس لیے کہ یہاں بہت ہی گھنا جنگل تھا، جس کے درخت اسطرح ملے اور جڑے تھے کہ آفتاب کی روشنی بمشکل زمیں تک پہنچتی تھی۔

شاہزادی اس جنگل میں پہنچتے ہی بائیں ہاتھ کی طرف مڑ گئی۔اب اُس کا رخ مغرب کی طرف تھا اور درختوں میں پھنستی اور کانٹوں میں الجھتی برابر آگے چلی جاتی تھی۔ ساتھ والے اس دشوار گزار راستے کو دیکھ کے گھبرا گئے تھے اور دل میں حیران تھے۔آخر یہ جنگل یکایک ایک پہاڑ کے پاس ختم ہو گیاجہاں پہنچ کے شاہزادی پھر داہنے ہاتھ کی طرف مڑی اور پہاڑ کے دامن ہی دامن میں دور تک چلی گئی۔ ایک مقام پر پہنچ کے اسے نظر آیا کہ جیسے کسی ناگہانی صدمے کے باعث پہاڑ پھٹ گیا ہے اور درمیان میں ایک بہت ہی پتلی اور لمبی گلی پیدا ہو گئی ہے، جس سے ایک سے زیادہ آدمیوں کا گزرنہیں ہو سکتا۔

بلغان خاتون نے اس گلی کو غور سے دیکھا، چاروں طرف نظر دوڑائی اور جیسے دل ہی دل میں کچھ مطمئن ہوکے اس گلی کے اندر گھسی، مگر اندر جانے سے پہلے اس نے ایک اور ہمراہی سپاہی کے کان میں جھک کے کچھ کہا جس کے ساتھ ہی وہ بھی واپس چلا گیا۔ اب شاہزادی، حسین اور باقی ماندہ ایک جوان کو ساتھ لے کے گلی میں داخل ہوئی۔گلی کے اندر ایک مقام پر ایک گٹھڑی پڑی ملی جسے شاہزادی نے کھول کے دیکھا اس کے اندر ایک زنانہ کپڑوں کا جوڑا تھا ور دو مردانے جوڑے بالکل دہقانیوں اور گائے بھینس پالنے والوں کی وضع کے تھے۔شہزادی نے دونوں جوڑے حسین اور اپنے دوسرے ساتھ کو دے کے کہا: " اپنے کپڑے اتار کے یہاں رکھ دو اور یہ کپڑے پہن لو۔"یہ کہہ کے وہ خود بھی ہو زنانہ جوڑا پہننے لگی۔ جب سب کپڑے پہن کے تیار ہو گئے تو اگرچہ یہاں اندھیرا تھا، حسین کو شاہزادی کی وضع و لباس پر حیرت ہوئی اور وہ تعجب سے دیکھنے لگا۔


بلغان خاتون: کیوں حسین! تعجب کس بات کا؟
حسین: کیاعرض کروں، یہ لباس پہن کے تو آپ دنیاوی شاہزادی نہیں، آسمانی حور معلوم ہوتی ہیں۔

بلغان خاتون یہ سن کے مسکرائی اور بولی: " بس چپکے سے چلے آؤ!" اور آگے کو روانہ ہوئی۔یکایک معلوم ہوا کہ آڑی چٹان نے راستہ بند کر دیا ہے۔ بلغان خاتون نے جب مڑ کے دیکھا تو نیچے ایک چھوٹا سا سوراخ نظر آیا جس میں سے ایک آدمی بمشکل سمٹ سمٹا کے نکل سکتا تھا۔اسی سوراخ سے وہ نکلی اور ہمراہیوں کو بھی نکلنے کا حکم دیا۔اس دشواری کو جھیل کے شاہ زادی آگے بڑھی، لیکن ایک سب سے بڑی مشکل نظر آئی۔وہ یہ کہ ایک زبردست فولادی دروازہ تھا جو دوسری طرف سے بند تھا۔مگر بلغان خاتون نے دروازے کے داہنے بازو کے برابر سے ایک پتھر نکالا جس کے ہٹتے ہی ایک روشن دان سا ہو گیا اس روشن دان میں ہاتھ ڈال کے اس نے دروازے کی کنڈی کھول لی اور حسین کی روز آوری سے دروازہ اندر کی طرف ہٹ آیا اور جانے کا راستہ ہو گیا۔

اس دروازے سے نکلتے ہی بلغان خاتون نے حیرت سے دیکھا کہ عجب فرحت بخش اور راحت افزا چمن لگے ہوئے ہیں۔پھولوں کی بہار اور طیور کی نغمہ سنجیاں دیکھتے ہی بے ساختہ اس کی زبان نکل گیا "واہ"۔مگر حسین جو اس مقام کو آنکھیں پھاڑ کے اور حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ شاہزادی کی زمان سے یہ لفظ سن کے بولا: " مجھے تو فردوسِ بریں یہی معلوم ہوتی ہے مگر کیوں کر کہوں؟"

بلغان خاتون: اب میں تمھیں حور نظر آئی ہوں تو ضرور ہے کہ یہ باغ جنت نظر آئے۔مگر پھر غور سے دیکھو کیا یہی وہ فردوس بریں ہے جس کی تم سیر کر چکے ہو۔" یہ کہہ کے شاہ زادہ ذرا مسکرائی۔
حسین: بعینہ وہی مقام معلوم ہوتا ہے۔خداوندا! میں خواب دیکھتا ہوں یا بیدار ہوں؟ اور ہاں دیکھیے طیور کے نغمے سے بھی وہی آواز نکلتی ہے " سلام علیکم طبتم فادخلوہا خالدین۔"
بلغان خاتون: اس کے کیا معنی؟
حسین: اللہ جل شانہ نے قر آن پاک میں وعدہ کیا ہے کہ جنت میں انھں الفاظ سے لوگوں کا خیر مقدم کیا جائے گا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ " تم پر سلام ہو!پاک ہو گئے تم لوگ اور ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل ہو!"

حسین نے زبان سے تو یہ جواب دے دیا مگر اس وقت دل و دماغ اور آنکھوں پر ہر ساعت زیادہ حیرت مستولی ہوتی جاتی تھی۔ وہ ہر چیز کو گھبرا گھبرا کے دیکھتا اور بار بار کہہ اُٹھتا؛ " یا تو میں آسمان پر پہنچ گیا یا فردوس بریں نیچے اتر آئی۔یہ تو بعینہ وہی باغ ہے جس میں مَیں زمرد کے ساتھ سیر کرتا پھرتا تھا۔"

بلغان خاتون: فردوس بریں تو تم پہنچ ہی گئے، اب مطمئن رہو زمرد سے بھی ملا دوں گی۔

حسین کو جنت میں پہنچ جانے کا تو یقین ہو ہی گیا تھا شاہزادی کی زبان سے یہ فقرہ سن کے اس کے قدموں پر گر پڑا اور کہنے لگا: " آپ نے اس راہ میں رہبری کی ہے جس میں اب شیخ علی وجودی سے بھی دست گیری کی امید نہ تھی۔یہ احسان ہمیشہ لوح دل پر نقش رہے گا۔"
بلغان خاتون: ( حسین کو زمین سے اٹھا کے) ذرا صبر و تحمل سے کام لو۔ زمرد سے ملنے کے لیے شرط ہے کہ چپکے ساتھ چلے چلو۔ایسا اضطراب ظاہر کرو گے تو کام بگڑ جائے گا۔


یہ کہہ کے شہزادی نے پھر زمرد کا خط نکال کے پڑھا اور دونوں ہمراہیوں کو ساتھ لیے ہوئے ایک جانب چل کھڑی ہوئی اور چند منٹ میں وہ قصروں اور کوشکوں کے قریب تھی۔

حسین اس نظر فریب سین کو کھڑا نہایت ہی حیرانی و از خود رفتگی سے دیکھ رہا تھا۔ ناگہاں ایک حسین و نازنین عورت شاہزادی کے سامنے آئی اور اس کے پاؤں چومنے کو جھکی۔

بلغان خاتون: تم کون ہو؟ مگر اس کے ساتھ ہی حسین کی نظر جا پڑی؛ ایک بے اختیاری و خود فراموشی کے جوش میں اس کی زبان سے نکلا: " زمرد!" ا اور دوڑ کے لپٹ گیا۔
زمرد: ( حسین کو اپنے سے علیحدہ کر کے) ذرا صبر کرو، پہلے مجھے شاہزادی کے سامنے اپنی احسان مندی ظاہر کرنے دو۔
بلغان خاتون: تو تم ہی زمرد ہو؟ یہ کہہ کے اس نے زمرد کو گلے سے لگا لیا اور بولی: "میں نے تو کیا احسان کیا ہے، ہاں تمھاری البتہ انتہا سے زیادہ شکر گزار ہوں۔اگر تم مدد نہ کرتیں تو مجھے غم و الم سے کبھی نجات نہ ملتی۔"
زمرد: (ذرا مسکرا کے اور کسی قدر ندامت سے) مگر شاہ زادی! اس میں میری بھی خود غرضی شامل تھی۔
بلغان خاتون: اسے خود غرضی نہ کہنا چاہیے ؛ یہ اس سادہ لوح نوجوان پر تمھارا احسان ہے کہ اپنی محبت سے اسے عزت بخشی اور اتنے بڑے اور اس قدر گہرے فریب سے نجات دلائی۔

اس کے بعد زمرد حسین کی طرف متوجہ ہوئی اور پوچھا: " اب تو تم پر سارا راز کھل گیا؟"
حسین: راز کیسا؟ میں نے تو شاہ زادی کے حکم کی اطاعت کی، اور صرف اس وجہ سے کہ تمھاری ہدایت یہی تھی۔
بلغان خاتون: نہیں میں نے بھی ان سے کچھ نہیں کہا اور نہ تمھارا کوئی خط دکھایا ہے۔مگر جب سے یہ اس باغ میں داخل ہوئے ہیں انتہا سے زیادہ پریشان و بدحواس ہیں۔اب اپنے ساتھ لے جاؤ اور جو کچھ کہنا ہو کہہ دو، تاکہ یہ وحشت ذرا دور ہو اور آدمی بنیں۔
زمرد: افسوس!اس غلطی میں یہ ایسے ایسے کام کر چکے ہیں کہ اطمینان تو انھیں بڑی مشکلوں سے نصیب ہو گا۔
بلغان خاتون: لیکن اب یہی مصلحت ہے کہ انھیں اپنے قصر میں لے جاؤ اور کوشش کرو کہ ان کی آنکھوں کے سامنے سے فریب کا پردہ ہٹے۔ مگر ہاں پہلے مجھے تو بتا دو کہ یہاں کسی کا خوف تو نہیں؟تمھارے لکھنے کے مطابق میں آنے کو تو چلی آئی مگر اندیشہ ہے کہ کوئی خرابی نہ اٹھ کھڑی ہو۔
زمرد: شاہزادی! آپ مطمئن رہیے، کسی بات کا اندیشہ نہیں۔آج شام تک آپ یہاں بے کھٹکے رہ سکتی ہیں۔مگر وہ جو میں نے لکھا تھا اس کا بھی بندوبست آپ نے کر لیا ہے؟
بلغان خاتون: سب سامان کر چکی ہوں، اگرچہ اس کے متعلق مجھے ذرا تردد ہے۔
زمرد: وہ کیا؟
شاہ زادی: خیر کوئی مضائقہ نہیں، اس کو پھر بیان کروں گی۔یہ کہہ کے اس نے باقی ماندہ جوان کو بھی جو ساتھ آیا تھا، کان میں کچھ کہہ کے واپس بھیج دیا اور زمرد سے پوچھنے لگی: "اور یہ تو بتاؤ کہ قلعے پر کدھر سے حملہ ہو سکتا ہے؟"
زمرد: آپ قلعے میں ہی ہیں، مگر اتنا حصہ قلعے سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔اگرچہ غیر لوگ یہاں نہر ویرنجان کے ذریعے سے اور بیرونی دیوار کے نیچے سے لائے جاتے ہیں، مگر اسی نہر کے اُس طرف خور شاہ کا محل ہے۔
حسین: ( چونک کے) خور شاہ کا محل! وہ یہاں کہاں؟ وہ تو قلعہ التمونت میں ہے؟
بلغان خاتون: ( ہنس کے) اب انھیں ان کے قصر دری ہی میں پہنچادو جس کے دیکھنے کا انھیں شوق ہو گا۔باقی باتیں پھر آ کے کرنا۔یہ اگر یہاں موجود رہے تو بات نہ کرنے دیں گے۔
زمرد: بے شک شاہ زادی! آپ بجا فرماتی ہیں۔ میں انھیں وہاں بٹھا کے ابھی آتی ہوں۔


یہ کہہ کے اس نے حسین کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا جو ابھی تک بے ہوشی کے عالم میں کھڑا تھا اور شاہ زادی کو تنہا چھوڑ کے اسے کھینچتی ہوئی اپنے قصر دری میں لے گئی۔حسین راستے بھر اس سے طرح طرح کے سوالات کرتا رہا، مگر زمرد نے ہر سوال کے جواب میں یہی کہا کہ پھر بتا دوں گی، اور اسے قصر میں بٹھا کے شاہ زادی کے سامنے واپس آئی اور ادب سے کھڑی ہو گئی۔

بلغان خاتون: ہاں تو خور شاہ کے محل کو یہاں سے راستہ گیا ہے؟
زمرد: جی ہاں! وہ روز یہاں آکے عیش و عشرت میں مشغول ہوا کرتا ہے۔آپ اس راستے سے اپنے تمام ہمراہیوں کے ساتھ بآسانی پہنچ جائیں گی۔پہلے نہر کا سنہرا پل ہے، اس کے اترتے ہی آپ کو ایک سیدھا راستہ ملے گا جو خور شاہ کے حرم سرا کو گیا ہے، جس میں داخل ہوتے ہی آپ سجھ لیجیے کہ التمونت میں پہنچ گئیں۔آج عید کا دن ہے اور معمول یہ ہے کہ اس زمانے میں کوئی شخص جنت میں نہیں لایا جاتا اور نہ خود خور شاہ آ سکتا ہے، اس لیے کہ اس علاقے کے تمام معززو مقرب لوگ اور نیز دور دور کے سربرآوردہ اور نامی نقیب امام کی زیارت کو آتے ہیں اور قلعے میں عام معتقدین کا بڑا بھاری مجمع رہتا ہے۔اسی خیال سے میں نے آپ کو رمضان کی 27 تاریخ کو بلایا، کیوں کہ اس دن لازمی طور پر یہ باغ غیروں سے خالی رہتا ہے اور خود خور شاہ کو بھی تین چار دن تک یہاں آنے کی فرصت نہیں ملتی۔اگر اور کوئی زمانہ ہوتا تو اب تک آپ کے آنے کا حال قلعے میں معلوم ہو گیا ہوتا۔
بلغان خاتون: تو ابھی کسی کو ہمارے آنے کی خبر نہیں؟
زمرد: بالکل نہیں۔ اول تو یہاں کوئی مرد نہیں جولوگوں کو خبر کر کے لڑائی کا سامان کرے ؛ اور شاید کوئی عورت بھاگ کے چلی بھی جاتی، مگر میں نے آج صبح سے ہی سنہرے پل کے پھاٹک میں قفل لگا دیا ہے اور کنجی میرے پاس ہے۔ لہٰذا ممکن نہیں کہ کوئی بھی بھاگ کے پھاٹک کے قلعے میں جا سکا ہو۔اور لطف یہ کہ ان دنوں ادھر سے بھی کوئی آنے والا نہیں۔
بلغان خاتون: یہ تو بہت اچھی بات ہوئی۔تم کہتی ہو آج عید ہے جب کہ قلعے میں خوشی کا جوش و خروش ہو گا۔ بس کوئی فکر نہیں۔آج شام سے پہلے ہی ہمارا حملہ ہو جائے گا۔مگر زمرد مجھے ایک بات کا تردد ہے۔جس فوج کو میں نے اپنی مدد کے لیے بلایا تھا اس کا ابھی تک پتا نہیں۔ میرے ہمراہ صرف پانچ سو سپاہی ہیں جو شاید کافی نہ ہو سکیں۔
زمرد: میں تو سمجھتی ہوں کہ پانچ سو جوان بھی قلع پر ادھر سے جا کے قبضہ کر لیں گے۔
بلغان خاتون: مگر مجھے یقین ہے کہ ہماری کمک ضرور آئے گی، صرف شام تک کی مہلت چاہیے۔
زمرد: شام کیا معنی آپ کل تک یونہی مخفی رہ سکتی ہیں۔کوئی اندیشے کا مقام نہیں۔بس جب تک وقت آئے یہاں آرام فرمائے۔ آپ تھک بھی گئی ہونگی سستانے کے لیے اچھی مہلت مل گئی۔

اس کے بعد شاہ زادی نے پوچھا: " اور زمرد!یہ لباس جو تم نے میرے اور میرے دونوں ساتھیوں کے یے تجویز کیا، اس میں کیا مصلحت تھی؟"
زمرد: شاہزادی! آپ کا لباس تو وہی حوروں کا لباس ہے جس کو لوگ یہاں حلۂ جنت سمجھتے ہیں۔اس لباس کی وجہ سے کسی کو آپ پر بدگمانی نہیں ہو سکتی۔
بلغان خاتون: شاید اسی لیے مجھے وہ کپڑے پہنے دیکھ کے حسین نے کہا تھا کہ آپ حور معلوم ہوتی ہیں۔"

یہ جملہ سن کے زمرد بہت ہنسی اور بولی: " مگر اپنے لباس کے متعلق انھوں نے کچھ نہ کہا؟"
بلغان خاتون: اور ہاں ، مردوں کے بارے میں تم نے ایسا بیہودہ لباس کیوں تجویز کیا؟
زمرد: اس لیے کہ مردوں میں عموماً یہاں وہی دودھ والے آیا کرتے ہیں جو یہاں کی نہروں میں دودھ اور شراب بھرتے ہیں۔اگر کوئی مرد اس لباس کو پہنے ہوئے یہاں آئے تو کسی کو خیال بھی نہ ہو گا کہ کوئی غیر ہے۔
شاہ زادی: مگر ایسا نہ ہو کہ کسی کو خبر ہو جائے اور قبل از وقت راز کھل جائے۔
زمرد: کسی کو خبر نہ ہو گی، آپ شوق سے یہاں فروکش ہوں۔عید کے دن کسی کو یہاں آنے کی فرصت ہی نہیں ہوتی۔
بلغان خاتون: بہتر! میں یہیں ٹھہر جاؤں گی، مگر مجھے چل کے ذرا جنت کی سیر کرا دو اور وہ پل اور سڑک بھی دکھا دو تاکہ راستہ خوب پہچان لوں۔
زمرد: چلیے!

اس تجویز کے بعد دونوں حسین و نازنین عورتیں قصروں اور کوشکوں کو قطع کرتی اور باغوں اور چمنو ں کی بہار دیکھتی ہوئیں اس بڑی نہر کے کنارے پہنچیں جہاں سے لوگ سونے کی کشتی میں بٹھا کے جنت میں لائے جاتے تھے۔اس سنہرے پل کے پھاٹک میں قفل لگا ہوا تھا، جسے زمرد نے کھولا اور دنوں لڑکیاں دوسری طرف کے میدان میں اتریں۔ادھر بھی پھولوں کا ایک مسطح تختہ دور تک پھیلا ہوا تھا اور درمیان سے ایک سڑک گزری تھی جو تھوڑی دور جا کر سایہ دار درختوں کے ایک جھنڈ میں غائب ہو گئی تھی۔انھیں درختوں کی دوسری طرف حرم سرا کا راستہ تھا۔

یہ دلچسپ سیر کر کے شاہزادی واپس آئی اور زمرد کے انتخاب کے مطابق ایک عالی شان فیروزی کوشک میں جا کے فروکش ہو گئی۔زمرد دیر تک اس کے پاس بیٹھی رہی، اور جب دیکھا کہ شاہزادی بلغان خاتون لیٹ کے آرام کرنا چاہتی ہے تو اس سے رخصت ہوکے دروازہ اندر سے بند کروا لیا اور اپنے قصر کی طرف واپس روانہ ہوئی۔


آٹھواں باب: افشائے راز

حیرت زدہ و حواس باختہ نوجوان حسین کو زمرد شاہ زادی کی تجویز کے مطابق قصر دری میں چھوڑ کے واپس گئی تو وہ گھبرا کے ایک ایک چیز کو دیکھتا اور اپنے دل سے پوچھتا تھا کہ کیا حقیقت میں یہ وہی مقام ہے جہاں میں امام قائم قیامت کی مدد سے آیا تھا؟ مگر وہ تو ملاء اعلی پر تھا اور یہ زمین ہی پر ہے! لیکن کیوں کر شک کیا جائے!خود زمرد بھی تو موجود ہے۔ اگر یہ کوئی دنیاوی باغ ہے تو وہ کیوں کر چلی آئی؟ خود اسی نے لکھا تھا کہ جنت میں ہوں اور فردوس بریں کی سیر کر رہی ہوں۔آخر اسے جھوٹ بولنے سے فائدہ؟ اس کے بعد وہ محل کے برآمدے پر آ کے کھڑا ہوا ور ایک ایک عمارت، ایک ایک چمن کو غور سے اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے دیکھنے لگا۔ ہر چیز وہی اور ویسی ہی تھی جیسی کہ پہلے نظر سے گزری تھی۔ قصروں کے روکار پر اسی طرح جواہرات جڑے ہوئے تھے۔ ان کی وضع بھی ویسی ہی تھی جیسی کہ پہلے نظر سے گزری تھی۔چمنوں کا بھی وہی رنگ اور نقشہ تھا۔سڑکیں اور روشیں بھی اسی طرح رنگ برنگ اور نظر فریب تھیں۔سونے چاندی کے تخت آج بھی اسی پہلی شان سے بچھے تھے۔ نہریں بھی اسی طرح مستانہ روی سے بہ رہی تھیں۔ ہاں صرف ایک چیز کی کمی تھی کہ وجد میں لانے والا گانا نہ تھا۔ مگر جب طیور کی زبان سے وہی قرآنی ترانہ خیرمقدم سن لیا تو ادھر سے بھی شک جاتا رہا۔ وہ اسی پس و پیش میں تھا ایک طائر نے ایک تازہ و شاداب سیب اپنی چونچ میں لا کے اس کے سامنے ڈال دیا ور وہ چونک کے بول اُٹھا: " یہ بھی خاص فردوس بریں کی علامت ہے۔"

حسین کے خیالات میں ایک عجیب قسم کا تردد و اضطراب تھا اور یہ معما کسی طرح حل ہونے کو نہ آتا تھا کہ سامنے سے زمرد آتی نظر آئی جو شاہزادی سے رخصت ہوکے اس کے پاس آ رہی تھی۔اس کی دل ربا اور ناز آفرین صورت دیکھتے ہی وفور جوش سے حسین کا دل دھڑکنے لگا اور عشق کے جذبات نے یک بہ یک ایسی بے اختیاری کی حالت طاری کی کہ برآمدے سے اتر کے استقبال کو دوڑا اور دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔

حسین: پیاری زمرد! للہ بتا کہ میں کس عالم میں ہوں؟ اور یہ کیا دیکھ رہا ہوں؟
زمرد؛ (مسکرا کے)وہی دیکھ رہے ہو جو ایک دفعہ دیکھ چکے ہو۔
حسین: وہی! یعنی ملاء اعلیٰ پر ہوں۔
زمرد؛ واقعی جو ساز و سامان نظر آ رہا ہے وہ اس کے لحاظ سے اس جگہ کو ملاء اعلیٰ ہی کہنا چاہیے۔
حسین: کہنا چاہیے؟ تو کیا اصل میں نہیں ہے؟
زمرد: تم ہی اپنے دل سے پوچھو۔تم نے اس مقام کو زمین پر پایا یا آسمان پر؟
حسین: آیا تو زمین کے راستے سے ہی ہوں ۔
زمرد: تو زمین پر ہی سمجھو۔
حسین: مگر کیوں کر سمجھوں؟ تمھاری قبر، تمھارے وہ خطوط، یہاں تک آنے کے وہ گزشتہ ذریعے، ان تمام باتوں میں سے جس چیز کا خیال کرتا ہوں اسی امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ کوئی اور عالم ہے اور یہاں کی مسرتیں دنیاوی مسرتوں سے بالا ہیں۔
یہ باتیں کرتے ہوئی دونوں قصر میں داخل ہوئے اور زمرد نے کہا: " یہاں کی مسرتیں تو بے شک دنیا کی عام مسرتوں سے بالا ہیں مگر یہ نہ سمجھو کہ تم دنیا سے نکل کے کسی اور جگہ آ گئے ہو۔"
حسین: پھر وہ سب واقعات جو گزر چکے ہیں ان کی نسبت کیا خیال کروں؟
زمرد: وہ سب میری مجبوری، میری بے دست و پائی اور تمھاری سادہ لوحی کا نتیجہ تھے۔
حسین: میں اس کا مطلب نہیں سمجھا؟
زمرد: گھبراؤ نہیں، سب سمجھ جاؤ گے۔ مگر افسوس جس قدر زیادہ سمجھو گے اسی قدر زیادہ پریشان ہو گے اور اپنے کیے پر پچھتاؤ گے۔
حسین: زمرد! اب مجھے تیری صورت پر بھی شبہ ہوتا ہے۔ تو وہی زمرد ہے جو میرے ساتھ آمل سے آئی تھی؟
حسین کی زبان سے یہ سادگی کا یہ سوال سن کے زمرد کو ہنسی آ گئی مگر ضبط کیا، اور ایک عجیب دل فریب ادا کے ساتھ پُر معنی اور شوخ چتونوں سے دیکھ کے بولی: "نہیں، دوسری ہوں۔"


اس جواب کو حسین نے سنا ہی نہیں۔اس نے زمرد کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور غور سے دیکھ کے بولا: " یہ وہی نورانی جسم ہے یا میرے جسم کا سا مادی پتلا؟"
زمرد: " ہوش کی باتیں کرو۔ تم بالکل از خود رفتہ ہوئے جاتے ہو۔اور تمھاری آنکھوں کے سامنے سے ایک بڑا طلسم ٹوٹا ہے۔ جس کے اثر سے تمھارے حواس نہں ٹھکانے رہے۔ذرا ہوش میں آؤ اور حواس کی باتیں کرو کہ سارا راز اور تمام سرگزشت بیان کروں۔
حسین: پیاری زمرد! جلدی بیان کر۔ اس لاعلمی اور ناواقفی نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے۔
زمرد: سنو! اس وادی میں ہم دونوں نے جن پریوں کو دیکھا تھا وہ پریاں نہ تھیں بلکہ اسی مصنوعی جنت کی حوریں۔۔۔۔
حسین: (حیرت سے بات کاٹ کے) مصنوعی جنت؟ تو یہ وہ جنت نہیں ہے جس کا مومنین سے وعدہ کیا گیا ہے؟
زمرد: ذرا صبر کرو۔ خیر تم تو وہاں بے ہوش ہو گئے اور مجھے وہ یہاں پکڑ لائیں۔ نہ میں ماری گئی اور نہ شہید ہوئی، مگر صرف اس لیے کہ تم کو میرے مرنے کا یقین آ جائے، انھوں نے واپسی سے پہلے بھائی کی قبر میں ذرا تغیر پیدا کیا اور اسی وقت رات کو مجھ سے پوچھ کے بھائی کے نام کے برابر میں میرا نام بھی کندہ کر دیا۔ اس غرض سے کہ تم مجھ سے مایوس اور میرے خیال سے دست بردار ہوکے چلے جاؤ؛ اس وادی کی خطرناک حالت ہر ملنے والے سے بیان کرو اور یہاں کی پریوں کی ہیبت ہر شخص کے دل میں بٹھا دو۔
حسین: تو تم زندہ ہو؟ اور یہ کہہ کے زمرد کو سر سے پاؤں تک گھور گھور کے دیکھنے لگا۔
زمرد: (جھنجھلا کے) نہیں چڑیل ہو گئی ہوں۔ حسین نے اس کا کچھ جواب نہیں دیا ور زمرد نے ایک لمحہ توقف کے بعد پھر سلسلہ کلام شروع کیا: " تو تم کو یہ دھوکا دیا گیا اور میں یہاں لائے جانے کے بعد انھِیں عورتوں میں شامل کر دی گئی جو یہاں حوریں کہلاتی ہیں۔چند روز بعد دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ تم اسی طرح میری قبر کے مجاور بنے بیٹے ہو اور جانے کا نام ہی نہیں لیتے۔ آخر یہاں غور کیا گیا کہ وہ وادی تم سے کیوں کر خالی کروائی جائے۔اکثروں کی رائے تھی کہ قتل کر ڈالنا چاہیے مگر اتفاق سے میری ایک تدبیر کارگر ہو گئی اور تجویز قرار پائی کہ کسی ایسے طریقے سے تمھیں وطن واپس جانے کی ہدایت کی جائے کہ کسی کا لگاؤ ثابت نہ ہو، اور تم بغیر اس کے کہ کسی قسم کی بدگمانی کرو وہ وادی چھوڑ دو۔ اسی تجویز کا نتیجہ میرا پہلا خط تھا جس میں تم سے میری وصیت پوری کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔وہ خط میرے ہی ہاتھ سے لکھوایا گیا اور مجھ (ہی)سے حالات دریافت کر کے اس کے مضمون کا مسودہ تیار کیا گیا۔مگر حسین! وہ خط صاف کرتے وقت میں چپکے چپکے بہت روئی تھی، اس لیے کہ جانتی تھی خود اپنے ہاتھوں دائمی مفارقت کا سامان کر رہی ہوں۔ خیر وہ خط تمھارے پاس گیا اور یقین تھا کہ تم چلے جاؤ گے مگر تین چار روز بعد جب دریافت کیا گیا معلوم ہوا کہ تم اب بھی وہیں اسی طرح بیٹھے ہو۔اور گویا تمہارے ارادے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔"


حسین: بے شک نہیں ہوئی تھی۔ زمرد! میں مرجاتا ور وہاں سے نہ ہٹتا۔
زمرد: " جب یہ معلوم ہوا تو لوگوں کو پھر فکر پیدا ہوئی، اب کیا کیا جائے؟ اب کوئی تدبیر میرے ذہن میں نہ آتی تھی اور دل می ڈر رہی تھی کہ کہیں یہ غضب نہ ہو کہ لوگ تمھارے مار ڈالنے پر آمادہ ہو جائی۔اتفاقاً انھیں دنوں میں خبر آئی کہ امام نجم الدین نیشا پوری باطنین کے خلاف زورو شور سے وعظ کر رہے ہیں، اور تدبیریں کی جا رہی تھی کہ کسی فدائی کے ہاتھوں وہ قتل کرا دیے جائیں۔کمبختی یا شامت اعمال میری زبان سے نکل گیا کہ وہ تمھارے چچا اور تمھارے استاد و مرشد ہیں۔ یہ خبر جیسے ہی یہاں کے باد شاہ خور شاہ کے کان میں پہنچی اس نے خیال کیا کہ وہ امام عالی مقام تمھارے ہاتھ سے قتل ہوں تو زیادہ مناسب ہو گا۔اس طرح زمانے بھر کو معلوم ہو جائے گا کہ مذہب باطنیہ دلوں پر کس قدر گہرا اثر ڈالتا ہے کہ انسان اپنے عزیزو اقارب، استادو مرشد تک کی پروا نہیں کرتا۔تمھارے خنجر سے ان کا قتل ہو ان ایک ساتھ اتنی باتوں کا ثبوت دے سکتا تھا کہ بھتیجے نے چچا کو، شاگرد نے استاد کو، مرید نے مرشد کو بلا تامل ثواب سمجھ کے قتل کر ڈالا۔

زمرد نے یہیں تک کہا تھا کہ حسین نے بے اختیار ایک ٹھنڈی سانس لی اور آب دیدہ ہوکے بولا: " افسوس! میں نے کتنا بڑا ظلم اور گناہ کیا۔ آہ! ایسے معصوم امام، شفیق بزرگ اور خدا شناس مرشد کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے، زمرد! یہ تیرے ہی شوق میں اور تیری ہی ہدایت کی وجہ سے تھا، ورنہ میں اتنے بڑے ظلم کی جرات ہرگز نہ کرتا۔"
زمرد: حسین! میں نے پہلے بھی کہا تھا ور اب بھی کہتی ہوں کہ اس گناہ میں مجھے نہ شریک کرو۔۔ مجھے جب اس کا خیال آ جاتا ہے کانپ اٹھتی ہوں مگر خیر اب یہ ذکر جانے ہی دو۔ایک ہونے والی بات تھی جس کو کوئی نہ روک سکتا تھا۔ میں نے اگر تمھیں اس کام کے لیے تیار کیا تو اپنے بس میں نہ تھی، اور تم اگر آمادہ ہو گئے تو اپنے ہوش میں نہ تھے۔
حسین: ( زور سے سینہ پیٹ کر) مگر افسوس، زمرد! یہ عذر خدا کے سامنے نہ سنے جائیں گے۔ میں نہ مجنون تھا، نہ بے ہوش؛ صاف نظر آ رہا تھا کہ ایک گناہ عظیم کر رہا ہوں میگر تیرا شوق بار بار دل کو ابھار کے آمادہ۔۔۔۔۔
زمرد: ( بے تابی سے بات کاٹ کے) ہائے پھر میرا نام۔۔۔۔۔!خدا کے لیے حسین! مجھے اپنے ساتھ نہ گنو ( روکے اور آنسو بہا کے) میں نے جو کچھ کیا ہے مجبوری اور بے بسی سے۔افسوس! خود اپنے دل سے تو لعنت کی آواز سن رہی تھی، اب تمھاری زبان سے بھی وہی سنتی ہوں۔"

یہ کہہ کے زمرد زار و قطار رونے لگی۔حسین نے بے اختیاری کی جلدی سے اس کے آنسو پونچھے اور کہا: "زمرد! بے شک تو بے خطا ہے۔ اگر میں نے تیرا دل دکھایا تو معاف کر اور آگے بتا کہ پھر کیا ہو؟"
زمرد: ( رومال سے آنسو پونچھ کر) پھر تم کو دوسرا خط ملا جس میں تمھیں کوہ جودی کے غار اور شہر خلیل کے تہ خانے میں چلہ کشی کرنے اور پھر حلب میں جا کے شیخ علی وجودی سے ملنے کی ہدایت کی گئی تھی۔وہ خط بھی اسی طرح بھیجا گیا کہ اس کا مسودہ لکھ کے مجھے دیا گیا اور جب میں نے اپنے ہاتھ سے صاف کر دیا تو میری قبر پر رکھوا دیا گیا۔
حسین: لیکن اگر اتنا ہی کام تھا کہ امام نجم الدین نیشا پوری قتل کر ڈالے جائیں تو مجھے اتنے چکر کیوں دیے گئے اور میرے راستے میں یہ بے کار کی دشواریاں کیوں پیدا کی گئیں؟
زمرد: اس لیے کہ تمھارے شوق میں ہیجان اور بے صبری پیدا ہو۔ اگر بغیر اتنے چلے کھنچوائے اور بغیر علی وجودی کے پاس ایک سال تک انتظار کرائے کہہ دیا جاتا تو تم اتنے بڑے گناہ کے ارتکاب پر ہرگز آمادہ نہ ہوتے۔
حسین: زمرد! تیرا شوق میرے دل میں اس قدر تھا کہ جس کام کو کہا جاتا اسی وقت پورا کرنے کو تیار ہو جاتا۔
زمرد: (ہنس کے) خیر تو ان کو نہیں معلوم تھا کہ تم اتنے بیوقوف ہو اور تمھارے اخلاق اس قدر کمزور ہیں۔
حسین: مگر کیوں کر کہوں؟ زمرد! مجھے تیری باتوں کا یقین نہیں آتا۔ان آنکھوں سے ایسی ایسی کرامتیں اور عقل انسانی سے اس قدر بالا باتیں دیکھ چکا ہوں کہ ان لوگوں کی خدا شناسی سے ان کار کرنے کی کسی طرح جرات نہیں ہوتی۔ جن گدھوں پر ہم دونوں سوار ہوکے آئے تھے وہ تو مر چکے تھے، مگر مجھے ایک نیا تازہ دم گدھا اسی درخت میں بندھا ملا۔ اور ایسا خوب صورت، توانا تندرست اور تیز رو کہ اس وقت تک میں یہی سمجھتا ہوں کہ میری سواری کے لیے خاص خدا کے پاس سے آیا تھا۔
زمرد: وہ گدھا یہیں س بھیجا گیا تھا۔ جس وقت تمھارے نام کا خط قبر پر رکھوایا گیا ہے، اسی وقت وہ گدھا ایک دوسرے راستے سے بھیج کے اس درخت میں بندھوا دیا گیا تھا۔


حسین نے اس جواب کو حیرت سے سنا اور بولا: "عجب! مگر پھر بھی میرے شبہات دور نہیں ہوتے۔ آخر شیخ علی وجودی کو میرے سب حالات کیوں کر معلوم ہو گئے، وہ یہاں سے ہزارہا کوس کے فاصلے پر ہیں؟"
زمرد: تمھارے روانہ ہونے کے ساتھ ہی ان کو تمام واقعات کی خبر کر دی گئی تھی۔ ان کو لکھ بھیجا گیا تھا کہ تم امام نجم الدین کے بھتیجے، شاگرد اور مرید ہو۔ انھیں کے قتل کا تم سے کام لینا ہے، اوروہاں پہنچنے سے پہلے تم کوہ جودی کے غار اور خلیل کے تہ خانے میں چلہ کھینچو گے۔ یہ سب باتیں ان کو دوسے ذریعوں سے معلوم ہو چکی تھیں، مگر انھوں نے غیب دانی اور کرامت کی شان سے بیان کر کے تمھیں اپنا فریفتہ بنایا۔

حسین اب نہایت ہی متعجب تھا، وہ حیرت کے دریا میں غرق تھا اور کسی طرح تھاہ نہ ملتی تھی۔ زمرد اپنی بات پوری کر کے خاموش ہوئی اور وہ سوچ میں پڑا تھا۔ آخر اس نے سخت حیرت زدگی کی شان سے آنکھیں اٹھا کے کہا: "زمرد سچ بتا، یہ سب باتیں تو سچ کہہ رہی ہے یا مجھے دھوکا دے رہی ہے؟ مجھے تو اپنی تمام گزشتہ زندگی ایک خواب کی سی معلوم ہوتی ہے۔متردد ہوں کہ تیری اس ملاقات اور ان سب باتوں کو خواب سمجھوں یا ان تمام واقعات کو جو تجھ سے جدا ہونے کے بعد پیش آئے، کیا حقیقت میں میں اتنا بڑا بے وقوف ہوں کہ ایسے عظیم الشان فریب اور جعل میں مبتلاہو گیا؟لیکن زمرد! اگر یہ سب سکھائی پڑھائی باتیں تھیں تو علی وجودی کو اسی قدر معلوم ہوتا جس قدر کہ یہاں سے بتایا گیا تھا؛ انھیں یہ کیوں کر معلوم ہو گیا کہ میں شہر خلیل کے مجاوروں کے ہاتھ میں گرفتارہو گیا تھا اور باطنین کے ناگہاں آپڑنے سے چھوٹ کے بھاگا؟"
زمرد: حسین! تم حقیقت میں بڑے سادہ لوح ہو۔اس کا سبب میں بغیر جانے سمجھ گئی اور تم نہیں سمجھ سکتے؟ لیکن حقیقت میں تم مجبور ہو۔تمھارے دل و دماغ پر ہر طرف سے اتنا اثر ڈال گیا کہ اب بمشکل تم ان باتوں کو اپنے دماغ سے نکال سکتے ہو۔کیا تم کو نہیں معلوم کہ باطنین دنیا کے ہر کونے میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان کی سازشوں کا جال ہر گاؤں اور چھوٹے سے چھوٹے قریے تک پر پڑا ہوا ہے؟علی وجودی کے پاس تم پورے ایک سال رہے، ممکن نہیں کہ اس کا حال تمھیں نہ معلوم ہو گیا ہو۔
حسین: ہاں ! میں نے البتہ یہ دیکھا کہ ان کے معتقد تمام اطراف عالم میں پھیلے ہوئے ہیں اور ہر سال میں ایک دفعہ ان کی زیارت کو بھی آتے ہیں۔ اور مجھے یہ بھی نظر آیا کہ وہ لوگ پوشیدہ طور پر اور صرف رات کو مل کے چلے جاتے ہیں۔
زمرد: اسی سے سمجھ سکتے ہو کہ ان کے ہاتھ میں خبریں پہنچے کے کتنے بڑے ذریعے موجود ہیں۔ تم نے جس وقت اس وادی کو چھوڑا تھا اس وقت سے آخر ورود حلب تک ہر منزل اور ہر مقام پر تمھاری نگرانی ہوتی ہو گی اور تمھاری روز روز کی خبر علی وجودی کو پہنچتی ہو گی۔ کچھ تم ہی پر منحصر نہیں، ان باطنین کے پنجے میں جو شخص پڑتا ہے اسی طرح نظروں میں رکھا جاتا ہے۔پھر کون تعجب کی بات تھی کہ اگر تمھاری خلیل کی گرفتاری کا حال ان کو معلوم ہو گیا؟
حسین: مجھے اس پر حیرت نہیں؛ حیرت تو یہ بات ہے کہ شیخ کہتے تھے کہ انھیں کے اشارے سے باطنین نے حملہ کر کے مجھے قید سے آزاد کرایا۔
زمرد: کوئی تعجب کی بات نہیں۔ بے شک علی وجودی نے تمھارے چھڑانے کے لیے اپنے معتقدوں کو حملہ کرنے کا حکم دے دیا ہو گا۔
حسین: مگر کیوں کر حکم دے دیا ہو گا؟ میری گرفتاری کی خبر پہنچنے اوروہاں سے حملے کا حکم آنے میں بھی تو آخر کچھ زمانہ لگتا؟وہاں تو یہ واقعہ پیش آیا کہ جس رات کومیں نکلنے والا تھا اور میرے باہر آنے سے پیش تر ہی خلیل کا حاکم باطنین کے ہاتھ سے قتل ہوا، اور پھر میں گرفتار ہوا تو اس کو بھی پورا ایک دل نہیں گزرنے پایا تھا کہ ان کا ایک بڑا گروہ شہر پر آ پڑا۔ان تمام باتوں کی تکمیل اتنی جلدی کیوں کرہو سکتی تھی؟


زمرد: (ذرا تامل کر کے) یہ کون مشکل ہے؟ باطنین کو معلوم ہو گا کہ تم کس روز تہ خانے میں اترے تھے اور کس روز نکلو گے، اور یہ بھی سمجھتے ہوں گے کہ جس روز نکلو گے یہ مشکلات ضرور پیش آئیں گی۔ بس اس زمانے میں انھوں نے شیخ علی وجودی کو خبر کر کے مدد کا اشارہ پایا ہو گا۔اسی کے مطابق دن گنتے رہے اور ٹھیک چالیسویں دن، جس دن تم نکلنے والے تھے، انھوں نے رئیس شہر کو قتل کر ڈالا کہ لوگ دوسری فکر میں رہیں اورتم چپکے سے نکل کے بھاگ جاؤ۔ مگر جب انھیں خبر پہنچی کہ اس رئیس کے قتل سے بھی کچھ فائدہ نہ ہوا اور تم مجاوروں کا ہاتھ سے گرفتار ہو گئے تو انھوں نے یکایک حملہ کر کے شہر میں کھلبلی ڈال دی اور تمھیں چھوٹ کے بھاگ جانے کا موقع مل گیا۔
حسین: ( زور سے آہ سرد بھر کے) تو زمرد افسوس! یہ سب جھوٹ تھا؟ شیخ علی وجودی کا سا شخص اور اتنا بڑا مکار کیوں کر کہوں؟ زمرد! ان کرامتوں اور اس غیب دانی کے علاوہ ان کا علم و فصل اس پائے کا ہے اور ان کے ہر ہر لفظ سے ایسی خدا شناسی اور آشنائے رموز وحدت ہونے کی بو آتی ہے کہ چاہتا ہوں، مگر ان پر بدگمانی کرنے کی جرات نہیں ہوتی۔اتنا بڑا عالم و فاضل، ایسا نکتہ سنج اور دقیقہ رس اور اتنا بڑا فریبی! میں امام نجم الدین کی صحبت میں رہ چکا تھا، مگر پیاری زمرد! سچ کہتا ہوں کہ جو بات مجھے شیخ علی وجودی میں نظر آئی اور جس آسانی سے وہ دل کے شکوک رفع کر دیتے ہیں امام نجم الدین میں اس کا عشر عشیر بھی نہ تھا۔
زمرد: بے شک ایسا ہی ہو گا! مگر بات یہ تھی کہ امام نجم الدین کے دل میں جو آتا ہو گا سادگی اور بے تکلفی سے کہہ گزرتے ہونگے۔انھوں نے اپنا بنانے اور اپنا اثر ڈالنے کے لیے کبھی کوئی کوشش نہ کی ہو گی۔اور شیخ علی وجودی کا ہر لفظ بنا ہوا اور دل پر اثر ڈالنے کے لیے ہوتا ہے۔اس کے ہر فقرے میں پوری ریاکاری ہوتی ہے۔ جھوٹ اور سچ میں یہی فرق ہے۔ اور اسی سبب سے ہمیشہ قاعدہ ہے کہ کیا دو فریبی کی باتیں ایک راست باز اور سادہ مزاج شخص کی باتوں سے زیادہ دل چسپ اور زیادہ دل نشین ہوا کرتی ہیں۔یقین ہے کہ شیخ علی وجودی سے مل کے تم کو خدا شناسی کا بہت عمدہ سبق مل گیا ہو گا۔
حسین: ( زور سے سینے پر ہاتھ مار کے) ہاں! خوب سبق ملا، مگر خبر اس وقت ہوئی ہے جب کہ پورا جادو اثر کر چکا، اور میں ساری دنیا سے زیادہ ظالم، سیہ کار، بے دین اور بے وقوف بن چکا، افسوس! تمام عمر پھچتاؤں گا اور نہ پچھتا چکوں گا، مگر زمرد! کیا کہوں، اب بھی یہ سب باتیں خواب معلوم ہوتی ہیں۔طور معنی اور اس کے نورانی قصر کی صورت اس وقت تک میری آنکھوں کے سامنے پھر رہی ہے۔
زمرد: ہاں وہ بھی اس مذہب کا ایک بڑا رکن ہے۔اس وقت تک صرف دوہی شخص شاہ التمونت کو ملے ہیں جن سے اچھا نقیب و داعی اس مذہب باطنیہ کو نہیں نصیب ہو سکا۔طور معنی اور علی وجودی، جو یہاں وادیِ ایمن کے نام سے یاد کیے جاتے ہے۔ان دونوں نے اپنی گہری سازشوں سے صدہا امرا، وزرا اور علما و فضلا قتل کرا ڈالے۔ اور چوں کہ اس جنت اور ملاء اعلیٰ کی اصلیت کو اچھی طرح جانتے ہیں لہٰذا ان پر سارا فریب کھلا ہوا ہے ا ور وہ لوگوں کو جان بوجھ کر گمراہ کرتے ہیں۔طور معنی بھی لوگوں سے کم ملتا ہے مگر وادیِ ایمن نے لوگوں کو بہت خراب کیا۔دین کو جتنا بڑا ضرر اس شخص کے ہاتھوں پہنچا شاید کبھی کسی کے ہاتھ سے نہ پہنچا ہو گا۔


حسین: تو کیا وہ طور معنی کا وہ زمین دوز قصر بھی کوئی قدرتی کرشمہ نہیں؛ اسی جنت کی طرح وہ بھی لوگوں کے فریب دینے کے لیے بنا دیا گیا ہے؟
زمرد: ( مسکرا کے) کیا تمھیں اب بھی شک ہے؟
حسین: شک نہیں؛ پیاری زمرد! تیری باتوں کا یقین ہے مگر کیا بتاؤں ان آنکھوں کے سامنے کیسی کیسی کیفیتیں گزر چکی ہیں اور ان کانوں نے کیسے کیسے روشن اور دل فریب الفاظ سنے ہیں! خیر یہ بھی نہ سہی۔مگر طور معنی کا قصر تو اصفہان میں ہے، وہاں کے غار سے میں یہاں کیوں کر پہنچ گیا؟
زمرد: التمونت کا نام چوں کہ کسی قدر مشہور ہو گیا ہے اور بعض لوگ بھڑک گئے ہیں لہٰذا جن لوگوں کی نسبت ایسا خیال ہوتا ہے، وہ اصفہان اور طور معنی ہی کے ذریعے سے یہاں لائے جاتے ہیں۔اور سارا راز مخفی رکھنے کے لیے یہ تدبیر عمل میں آتی ہے کہ طور معنی انھیں بے ہوش کر کے اونٹوں کی محملوں پر سوار کراتا ہے جو راز دار اور معتبر ساربانوں کے ذریعے سے التمونت پہنچا دیے جاتے ہیں ۔ہر منزل پر رات کو کسی جگہ ان لوگوں کو ہوش میں لا کے کچھ کھلا پلا دیتے ہیں اور پھر بے ہوش کر کے آگے روانہ ہوتے ہیں۔
حسین: (چونک کر) تو میں جو اپنے آپ کو کبھی جنگل میں پاتا تھا اور کبھی پہاڑوں میں وہ یہی تھا کہ اصفہان سے روانہ ہوکے التمونت کے منازل قطع کر رہا تھا؟
زمرد: اور کیا؟
حسین: ( حیرت سے) اور یہ لوگ انسان کو بے ہوش کیونکر کرتے ہیں؟
زمرد: ایک پتی ہے حشیش (بھنگ) اسے کے ذریعے۔کبھی ا س کا شربت پلا کے اور کبھی اسے غذاؤں اور مٹھائیوں میں ملا کے۔
حسین: (بے صبری سے)تو طور معنی نے جو جام شراب پلایا وہ اسی حشیش کا جام تھا؟
زمرد: بے شک!
حسین: افسوس! مجھے مسکرات بھی پلائے گئے؟ آہ! کوئی گناہ نہیں جو اٹھ رہا ہو۔ زمرد! تو ناراض نہ ہو، کیوں کہ صرف تیرے وصال کی آرزو نے اندھا کر دیا تھا، ورنہ میں اتنا مجنون و فاترالعقل نہ تھا۔ تیری محبت کی کہ حالت ہے کہ دیکھ تیرے بوسے کا یہ نشان جو میری پیشانی پر موجود ہے، مجھے جان و دل سے زیادہ عزیز ہے۔چاہتا تھا، کہ اس نشان کے بوسے لے لے کے اپنے دل کی تسلی کروں مگر یہ مشتاق ہونٹ کسی طرح وہاں تک نہ پہنچ سکے۔

حسین کی ان باتوں پر زمرد کچھ ایسی شرما گئی تھی کہ ا س کے خاموش ہو جانے کے بعد بھی دیر تک آنکھیں نیچی کیے رہی اور کئی منٹ کے بعد جذبات شرم کو دبا کے بولی: " حسین! نہ بوسہ لینے سے کسی شخص کے جسم پر داغ بن جاتا ہے اور نہ میں اتنی بے حیا ہوں۔"
حسیں: (بات کاٹ کے) اچھا، تمھارے سوا اور کسی نے میرا بوسہ لیا ہو گا؟ میں نے کسی کو منہ تک تو لگایا نہیں!
زمرد: (اسی طرح نظریں جھکائے جھکائے) اب مجھ سے بے شرمی کی باتیں نہ کہلواؤ۔یہ تم کو فریب دیا گیا ہے۔ نہ یہ بوسے کا نشان ہے اور نہ عشق بازی کی پہچان، بلکہ یہ ایک علامت ہے جو پر شخص کی پیشانی پر لوہے سے داغ کے بنا دی جاتی ہے جو اس جنت میں لایا جاتا ہے۔
حسین: داغ ہوتا تو مجھے یاد نہ ہوتا؟
زمرد: یہ داغ بے ہوش کر کے بنایا جاتا ہے۔ اور تم جب التمونت سے اصفہان کو جا رہے ہو گے اسی وقت بنایا گیا ہو گا۔
حسین: ( زور سے سینہ کوٹ کے) افسوس! گل لینے گئے تھے داغ لائے!


اس کے بعد حسین دیر تک دل ہی دل میں اپنی حالت پر افسوس کرتا رہا اور پھر ایک دفعہ چونک کے بولا "زمرد!" افسوس بڑا دھوکا ہوا؛ تو نے مجھے اسی وقت کیوں نہ بتا دیا جب میں تیرے پاس لایا گیا تھا۔ اس وقت تو تو بھی مجھے یقین دلا رہی تھی کہ یہ سب ملاء اعلیٰ کی چیزیں ہیں۔"

یہ سن کے زمرد آب دیدہ ہو گئی اور ایک درد کی آواز میں بولی: "میری قسمت ہی میں یہ لکھا تھا کہ تمھیں دھوکا دوں گی۔" زمرد کو آب دیدہ اور ملول دیکھ کے حسین کے دل پر ایک چوٹ سی لگی اور بے اختیاری کے ساتھ با وفا معشوقہ کے آنسو پونچھ کے کہنے لگا: " زمرد مجھے یہ خیال نہ تھا کہ اس سوال سے سے تیرے دل کو صدمہ پہنچے گا۔اچھا جانے دے، وعدہ کرتا ہوں کہ پھر ایسی باتیں نہ پوچھوں گا۔"
زمرد: تم زخم پر اور نمک چھڑکتے ہو۔ اس وقت تک تم نے سب کچھ پوچھا مگر یہ نہ پوچھا کہ تم سے چھوٹ کے مجھ کم بخت کے سر پر کیا گزری۔ تم تو آزاد تھے، دنیا میں پھر رہے تھے مگر آہ میں قید تھی، اور کیا کہوں کہ کس عذاب میں مبتلا تھی۔یہ بات میرے اختیار میں نہ تھی کہ کسی راز کا ایک ذرا سے اشارہ بھی دے سکوں۔" اتنا کہہ کے زمرد زار و قطار رونے لگی۔
حسین: (گلے لگا کر اور آنسو پونچھ کے) بے شک مجھ سے غلطی ہوئی کہ ان باتوں کا پوچھنا بھول گیا مگر سچ کہتا ہوں کہ میں نے اس وقت تک کوئی بات سوچ سمجھ کے نہیں پوچھی۔ یہ جو کچھ پوچھا ہے، میں نے نہیں پوچھا بلکہ حیرت و بے خودی پچھوا رہی تھی۔ایسی از خود رفتگی کی حالت میں کوئی فرو گزاشت ہوئی ہو تو معاف کر۔
زمرد: خیر اب تم نے یہ داستان چھیڑی ہے تو لو سنو۔یہ باغ فدائیوں اور باطنیوں کے اعتقاد میں تو جنت الفردوس اور ملاء اعلیٰ یا سرمدی عشرت کدہ ہے مگر سچ پوچھو تو شاہان التمونت کی عشرت سرا یا حرم سرا کی حیثیت رکھتا ہے۔ڈیڑھ سو برس کی متواتر کوششیں روز بروز اس کی رونق بڑھاتی رہیں، اور چوں کہ اس سے مذہبی کام لیا جاتا تھا لہٰذا ہر چیز کے بنانے میں بھی کوشش کی گئی کہ اس کی خوش نمائی اور دل فریبی انسان کے حوصلے سے زیادہ اور اس کے محو حیرت کر دینے کے لیے کافی ہو۔یہ محل جو دیکھتے ہو کہ سونے چاندی اور مونگے موتی کے نظر آتے ہیں، صرف نقرئی طلائی اور ان کے جواہرات کے رنگ میں رنگ دیے گئے ہیں، ورنہ وہی اینٹ اور چونا ہے جس سے ہر جگہ مکان بنائے جاتے ہیں۔نہروں کو جاری کرنے میں البتہ بڑی محنت سے کام لیا گیا۔ مگر یہاں قدرتی طور پر پہاڑوں سے آبشار اور نہریں جاری کرنے کا سامان موجود تھا۔یہ بڑی نہر جواس باغ کے درمیان میں بھی ہے اور جس پر ایک سنہرا پل قائم ہے، وہی نہر ویرنجان ہے جس کے کنارے تم نے مدتوں آہ و زاری کی ہے۔

حسین: (حیرت سے) یہ وہی نہر ہے؟
زمرد: " وہی! یہ نہر خاص شاہی قصر سے بہتی ہوئی یہاں آئی ہے اور یہاں سے چند ایسی گھاٹیوں میں ہوکے جن میں گزرنا غیر ممکن ہے، اس فرحت بخش وادی میں پہنچ گئی ہے۔"
حسین: اور زمرد وہ روشنی کیسی تھی جسے تو نے نور یزدانی بتایا تھا؟
زمرد: وہ روشنی صرف یہ تھی کہ گرد کی پہاٹیوں پر رات کو بہت تیز روشنی اور پوری قوت کی مہتابیں چھوڑی جاتی تھیں جن کا عکس یہاں کے آئینوں اور شیشوں پر لے کے قوی اور تیز کیا جاتا تھا۔ اس روشنی کا سامان صرف اس زمانے میں کیا جاتا ہے جب یہاں کوئی شخص معتقد بنانے کے لیے لیا گیا ہو۔ اس وقت سب کو حکم رہتا ہے کہ جب وہ روشنی تیزی سے چمکے تو چلا کے کہیں "ھٰذا الذی ما وعدنی ربی"۔اور وہ دودھ اور شراب کے حوض بھی اسی ضرورت کے موقع پر لبریز کیے جاتے ہیں۔ لوگوں کا تختوں پر بیٹھنا، غلمانوں کا شراب پلانا اور ان کی بے فکری و خالص مسرت کے تماشے بھی اسی موقع پر دکھائے جاتے ہیں۔
حسین: اور یہ طیور کا نغمہ اور ان کا پھل توڑ توڑ کے لانا؟
زمرد: یہ کون بڑی بات ہے۔ چند سدھائے ہوئی طیور چھوڑ دیے گئے ہیں جن کو پھلوں کے توڑ لانے اور بغیر بھڑکے ہوئے لوگوں کے سامنے رکھ کے اڑ جانے کی مشق کرا دی گئی ہے۔ اسی طرح یہاں کے طیور کو قرآن پاک یہ یہ آیت بھی "سلام علیکم طبتم فادخلوھا خالدین" یاد کرا دی گئی ہے جس کو ہر وقت رٹا کرتے ہیں۔
حسین: بڑا گہرا فریب ہے! بھلا کوئی کیوں کر سمجھ سکتا ہے۔ اور ہاں! زمرد جنت کے راز بتانے میں تو اپنی سرگزشت کہنا تو بھول ہی گئی؟
زمرد: میری مصیبت کیا پوچھتے ہو! میں ہی تھی جو ان سب آفتوں کو جھیل گئی۔کوئی اور ہوتا تو اب تک خاک میں مل چکا ہوتا۔
حسین: نہیں پیاری زمرد! ایسی باتیں زبان سے نہ نکال، میرے دل کو صدمہ ہوتا ہے۔ خدا کا ہزار ہزار شکر ہے کہ وہ سب مصیبتیں کٹ گئیں اور ہم اب پھر سے ایک دوسے کے آغوش میں ہیں۔


زمرد: اصل میں میں یہاں صرف ایک حور بنائے جانے کے لیے لائی گئی تھی۔ خور شاہ، اس کے ہم راز اہل دربار اور یہاں کی تمام حوروں کو ہمیشہ کسی خوب صورت عورت کی جستجو رہتی ہے تاکہ اس کے حسن و جمال سے جنت میں زیادہ سے زیادہ دل چسپی پیدا کریں۔ جب میں خور شاہ کے سامنے پیش کی گئی تو بد نصیبی سے اس کی نظر میں معمول سے زیادہ اور جنت کی تمام حوروں سے بڑھ کے خوبصورت ثابت ہوئی۔ اس نے ارادہ کیا کہ مجھے خالص اپنے لیے مخصوص کر لے۔ میں یہ خبر سن کے انتہا سے زیادہ پریشان ہوئی اور آخر دل میں فیصلہ کر لیا کہ چاہے مار ڈالی جاؤں مگر اس بے عزتی کو نہ گوارا کروں گی۔ابتدا میں مجھے طرح طرح کے لالچ دیے گئے۔ بتایا گیا کہ اس کی بی بی ہونے کے بعد تاج میرے سر پر رکھا جائے گا اور ایک عالی مرتبہ ملکہ بنوں گی، مگر میں نے کسی طرح نہ منظور کیا، اور جب اسے میری رضامندی سے مایوسی ہو گئی تو وہ ظلم پر آمادہ ہوا اور طرح طرح کی تکلیفیں دی جانے لگیں۔ دو ڈھائی مہینے اسی حال میں گزر گئے کہ میں ہر وقت موت کا انتظار کرتی تھی۔

معشوقۂ باوفا کی یہ مصیبت و وفا کیشی سن کے آنکھوں میں انسو بھر آئے اور ٹھنڈا سانس لے کے کہنے لگا" " زمرد! میرے لیے تو نے بڑی بڑی مصیبتیں اٹھائیں۔"

زمرد: یہ مصیبت نہ تھی بلکہ اسے میں راحت سمجھتی تھی، اس لیے کہ ابے عزتی اور آبروریزی سے بچی ہوئی تھی۔اب خور شاہ ناکامی کے غصے سے میرے قتل پر آمادہ ہو گیا تھا، لیکن اتفاقاً کسی دوست نے رائے دی کہ ایسے کام جو کہ کسی کے دل میں محبت پیدا کرنے سے تعلق ہو، ظلم و جور و زبردستوں سے نہیں نکلتے ؛ بہتر یہ ہو گا کہ چند روز کے لیے زمرد کو جنت کے ایک محل میں چھوڑ دیجیے ؛ وہاں جب ایک عرصے تک راحت و عیش میں رہے گی تو اپنے رنج و غم کو بھول جائے گیا اور آخر جوانی کے جذبات غالب آ کے اسے خود ہی آپ کی معشوقہ بننے پر آمادہ کر دیں گے۔ یہ رائے اسے پسند آ گئی اور میں اس کے محل سے لا کے اس جنت اور اسی قصر دری میں رکھ دی گئی۔ یہ ایسا محفوظ مقام ہے کہ خور شاہ کے خیال میں بھی نہ تھا کہ یہاں کبھی پرندہ پر مار سکے گا۔ باہر کا کوئی شخص یہاں آنہ سکتا تھا اور جو معتقد بنانے کے لیے لائے بھی جاتے تھے تو ان کی ہر وقت نگرانی ہوتی تھی اور کوشش کی جاتی تھی کہ سوا ایک آدھ بات کر لینے کے میں ان سے زیادہ مل بھی نہ سکوں۔ اوروں پر کیا منحصر ہے، جب میں تم سے ملی ہوں، اس وقت بھی ان امور کی پوری نگرانی کی جاتی تھی اور مجال نہ تھی کہ سوا تمھارے بہلانے اور بہکانے کے میں تم سے ذرا بھی بے تکلف ہو سکوں۔یہاں مجھے ہر بات کا آرام تھا۔رات دن عیش و عشرت میں گزرتی تھی، اور خور شاہ کے اشارے پر یہاں کی تمام حوریں میری لونڈیاں بنی رہتیں اور ہر وقت میرا دل بہلانے کی کوشش کرتیں۔ حسین یہ سب سامان مسرت موجود تھا مگر میرے دل کو کسی طرح چین نہ آتا۔ تمھاری صورت ہر گھڑی آنکھوں کے سامنے رہی اور طرح طرح کی تدبیریں سوچا کرتی کہ کسی طرح یہاں سے نکلا بھاگوں ۔ انھیں دنوں تمھارے قتل کے بارے میں بھی مشورے ہوتے اور روز میرا لہو خشک ہوا کرتا۔ایک رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے ایک لق و دق میدان میں کھڑی ہوں؛ ناگہاں سامنے سے تم نظر آئے اور مجھ سے ملنے کو بے تحاشا دوڑے۔یکایک کسی شخص نے ایک درخت کی آڑ سے نکل کے تمھارے سینے میں ایک چھری ماری۔ تم وہ زخم کھاتے ہی سینہ پکڑ کے کھڑے ہو گئے اور میں بے اختیار روتی اور چیخیں مارتی تمھاری طرف دوڑی۔ بس اسی حال میں چیختے چیختے میری آنکھ کھل گئی۔اب کہاں چین پڑ سکتا تھا، باقی رات میں نے روکے بسر کی، اور صبح کو حیران و پریشان بیٹھی تھی کہ مرجان نام کی یہاں کی ایک حور جو مجھ سے کسی قدر مانوس ہو گئی تھی اور جس سے میں کبھی کبھی دو ایک باتیں کر لیا کرتی تھی، میرے پاس آئی اور ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد بولی: " زمرد! تم نے کچھ اور بھی سنا؟ وہ نوجوان حسین جو تمھارے ساتھ تھا اب تک اسی وادی میں تمھاری قبر سے لپٹا بیٹھ ہے۔"اس موقع پر مجھے ضبط سے کام لینا چاہیے تھا مگر نہ رہا گیا؛ بے اختیار ایک ٹھنڈی سانس لے کے بول اٹھی: " حسین ابھی تک وہیں ہیں؟"


مرجان: ہاں۔ مگر اب یقین ہے کہ دو ہی ایک روز میں وہ مقام ان سے خالی ہو جائے گا۔
میں نے گھبرا کے پوچھا: "کیوں؟"
مرجان: وہ مقام ہم لوگوں کی سیر گاہ ہے اور اسی سبب سے خور شاہ چاہتے ہیں کہ وہاں کوئی ایسا شخص نہ رہے جو ہمارا راز نہ جانتا ہو۔ تمھارے ساتھی نوجوان کی نسبت پہلے تو یہ خیال تھا کہ جب بالکل مایوسی ہو جائے گی تو چلا جائے گا، اور اسی غرض سے تمھاری قبر بنادی گئی ہے، پتھر پر تمھارا نام کندہ کر دیا گیا کہ تمھارے مرنے کا اسے یقین ہو جائے اور واپس جا کے اور لوگوں کو بھی ادھر آنے سے روکے، مگر یہ تدبیر بے کار گئی۔لہٰذا مجبور ہوکے اب یہ تجویز قرار پائی ہے کہ جس طرح بنے اس کا کام تمام کر دیا جائے۔" حسین! میں نہیں کہہ سکتی کہ یہ جملہ سنتے ہی میرے دل کی کیا حالت ہوئی۔گھبرا کے اور بالکل بے اختیاری کے ساتھ کہہ اٹھی: " تو پھر مجھے بھی مار ڈالو"۔ میری بدحواسی دیکھ کے مرجان بولی: " اگر اس کو بچانا چاہتی ہو تو ایک کام کرو؛ خور شاہ کے سامنے چل کے خود اپنی زبان سے سفارش کرو۔" یہ ایسی بات تھی کہ جس کو میں ہرگز نہ مانتی مگر فقط اتنے خیال سے کہ تمھاری جان بچتی ہے طوعاً و کرہاً گئی۔ اور جب اس نے مسکرا کے مجھ سے کچھ بات کرنے کا ارادہ کیا تو میں نے آہ و زاری سے کہا "خدا کے لیے اس نوجوان کی جان نہ لیجیے جو میری یاد میں پڑا رو رہا ہے۔"میری درخواست سنتے ہی اس نے نہایت متین صوت بنائی مجھے بہت گھور کے اور غصے کی نگاہ سے دیکھا، اس لیے کہ میرے تمھارے تعلقات نے اس کے دل کو بڑا صدمہ پہنچایا اور نہایت ہی برہمی کی آواز سے پوچھنے لگا: " وہ تمھارا کون ہے؟"
میں: وہ میرا عزیز ہے۔اسی کے ساتھ کھیل کود کے اور اسی کے ساتھ پڑھ لکھ کے میں بڑی ہوئی ہوں اور اسی سے میری شادی ہونے والی ہے۔اس سبب سے اکیلا وہی میری جان و مال کا مالک ہے۔
خور شاہ: تمھاری شادی ابھی اس کے ساتھ نہیں ہوئی؟

میں نے نظر نیچی کر کے جواب دیا: "نہیں!"

یہ جواب سن کے خور شاہ نے مجھے بدگمانی کی متجسس نگاہوں سے دیکھا اور پوچھا: " مگر شادی سے پہلے ہی تمھارے اس کے ایسے تعلقات ہو گئے کہ گھر بار چھوڑ کے ساتھ نکل کھڑی ہوئی تو یہ سمجھنا چاہیے کہ تمھاری عفت میں داغ لگ گیا؟"

اس کا جواب دیتے وقت مجھے بے انتہا شرم معلوم ہوئی۔ کسی طرح کوئی لفظ میری زبان سے نہ نکلتا تھا مگر صرف اپنی اور تمھاری جان بچانے کی غرض سے میں نے دل کڑا کر کے اور بے حیائی گوارا کر کے جواب دیا: " میں ایک توا اپنے بھائی کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کو اور دوسرے حج کے لیے گھر سے نکلی تھی، مگر ہاں یہ البتہ ارادہ تھا کہ قزوین پہنچ کے عقد کرلوں گی۔"
خور شاہ: نکاح کی رسم تو خیر قزوین میں ادا ہوتی مگر غالباً تم میں اس میں میاں بی بی والے تعلقات پہلے ہی قائم ہو چکے تھے؟

اس سوال پر میں اس قدر شرمائی کہ سارا جسم پسینے پسینے ہو گیا اور نظر نیچی کر کے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ شرم کے مارے آنکھیں بند کر کے جواب دیا: " نہیں میری عصمت میں کوئی فرق نہیں آیا۔"

اتنا سنتے ہی خور شاہ ایک بے اختیاری کے جوش سے یہ کہتا ہوا میری طرف دوڑا: " شکر ہے میری نازنین کے پاک جسم کو ابھی کسی کا ہاتھ نہیں لگا!" قریب تھا کہ وہ مجھے گلے لگا لے مگر میں نے دونوں ہاتھوں سے الگ ہی روکا اور اس کے ہاتھ سے بچنے کے لیے پاؤں کے پاس زمین پر گر کے کہنے لگی: " اس نوجوان کی جان نہ لیجیے ورنہ میں بے موت مر جاؤں گی۔" خور شاہ دیر تک سوچتا رہا۔پھر مجھے اٹھا کے بولا: " زمرد! یہ بہت ضروری ہے کہ وہ وادی اس ضدی شخص سے خالی کی جائے۔"
میں: آہ! میں نے اسے وصیت کر دی تھی کہ مرجاؤں تو گھر جا کے عزیزوں کو میری عفت و پاک دامنی کا یقین دلاؤ۔مگر افسوس اس نے نہ مانا!"


یہ سنتے ہی خور شاہ چونک پڑ ا اور بولا: " کیا تم نے اسے گھر جانے کی وصیت کی تھی؟"
میں: جی ہاں ۔وصیت کیسی، بہت تاکید اور اصرار سے کہا تھا۔
خور شاہ: تو خیر کوئی مضائقہ نہیں۔ایک نہایت عمدہ تدبیر ہے۔وہ وادی بھی اس سے خالی ہو جائے گی اور اسے کسی قسم کا ضرر بھی نہ پہنچے گا۔ مگر زمرد! یہ صرف تمھاری نظر محبت کی امید پر منحصر ہے۔

اس کے جواب میں کچھ کہنا مجھے بالکل بے موقع معلوم ہوا۔خاموش کھڑی رہی۔اور خور شاہ نے قلم دوات منگوا کے ایک خط کا مسودہ لکھا اور اسے میری طرف بڑھا کے کہا: "اسے تم اپنے ہاتھ سے صاف کر دو۔" میں نے اسے وہیں اس کے سامنے زمین پر بیٹھ کے صاف کر دیا اور واپس نہیں آنے پائی تھی کہ ایک دودھ لانے والے دہقانی کو بلوا کے خور شاہ نے وہ خط اس کے حوالے کیا اور حکم دیا کہ تمھاری غفلت میں قبرپر رکھوا دیا جائے۔یہ میرا پہلا خط تھا۔ میں اسی کا حال پہلے بھی بیان کر چکی ہوں۔ مگر پھر کہتی ہوں کہ کیسے کیسے مظالم ہوئے ہیں اور کیسی کیسی مجبوریاں پیش آئیں ہیں جب میں نے تم کو وہ خط لکھا ہے۔ اس خط کے روانہ ہو چکنے کے بعد جب میں جنت میں واپس آئی تو انتہا سے زیادہ حیران تھی۔ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اب مجھ سے مایوس ہوکے تم گھر چلے جاؤ گے۔روز اسی ادھیڑ بن میں رہتی تھی کہ تمھاری زبان سے میری موت کا قصہ سن کے اماں اور ابا کے دل پر کیا گزری ہو گی۔کئی ہفتے اسی حالت میں گزر گئے۔ وہ حور جس کا نام مرجان تھا، روز میرے پاس آتی اور ہمیشہ ہمدردی ظاہر کرتی، مگر مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ خور شاہ کی سکھائی پڑھائی تھی اور اس سے روز جا جا کے کہہ دیا کرتی تھی کہ میں تمھارے لیے کس قدر حیران رہتی ہوں۔ایک دن اس نے باتوں باتوں میں پوچھا: " زمرد! تمھارا مکان آمل میں ہے؟" میں چونک کے بولی: "ہاں !کیوں؟"

مرجان: وہیں ایک زبردست عالم، جو فی الحال نیشا پور میں رہتے ہیں، لوگوں کو ہمارے خلاف بہکا رہے ہیں اور اس جنت کو فریب بتاتے ہیں۔
میں: کون؟امام نجم الدین نیشا پوری تو نہیں؟
مرجان: ہاں ہاں وہی۔ ان کے قتل کی تجویز ہو رہی ہے۔
میں: (چونک کر)ہائے یہ تو بڑا ظلم ہو گا! وہ بڑے با خدا عالم ہیں ۔حسین کے استاد ہیں اور انھیں کے وہ مرید بھی ہیں۔
مرجان: (تعجب کر کے) حسین ان کے شاگرد اور مرید ہیں؟
میں: اتنا ہی نہیں، ان کے بھتیجے بھی ہیں وہ۔

اس کے بعد میں دل میں افسوس کرتی رہی کہ یہ ظالم ناحق ایک با خدا شخص کی جان لیتے ہیں۔اور انھیں خیالات کی وجہ سے رات کو کئی پریشان اور مہیب خواب دیکھے۔دوسرے دن اٹھ کے بیٹھی ہی تھی، اور آفتاب اچھی طرح بلند نہیں ہونے پایا تھا کہ مرجان آئی اور کہنے لگی: "چلو زمرد! تمہیں خور شاہ نے بلایا ہے۔"


میں: ( پریشانی کی صورت بنا کے) کیوں؟
مرجان: یہ میں کیا جانوں، مگر اسی وقت چلو۔ مجبوراً میں اس کے ساتھ گئی۔ وہاں جا کے دیکھا تو ایک خوب صورت لڑکی کے ہاتھ سے لے لے کے جام شراب پی رہا تھا۔میری صورت دیکھتے ہی بولا: "زمرد! تم کسی طرح حسین کے خیال کو نہیں چھوڑتیں۔اگر میری آرزو پوری کرے کا اقرار کرو تو تمھیں حسین سے ملانے کا وعدہ بھی کرتا ہوں۔" یہ الفاظ سنتے ہی میرے دل میں ایک خفیف سی مسرت پیدا ہوئی مگر اس کی شرط بالکل ایسے تھی جیسے شربت کے جام میں زہر ملا ہو۔تاہم میں نے اور کسی خیال کو دل ہی دل میں دبا کے کہا: " اگر آپ کے رحم نے مجھے ان سے ملا دیا تو زندگی بھر لونڈی رہوں گی۔" میرے اس جواب سے وہ خوش ہوا اور فوراً ایک دوسے خط کا مسودہ دے کر کہا: "اس کو اپنے قلم سے صاف کر دو۔: میں نے مسودہ ہاتھ میں لے کے قبل اس کے کہ پڑھا ہو خور شاہ کی طرف دیکھ کو پوچھا: " اب تو حسین اس وادی سے چلے گئے ہوں گے؟"
خور شاہ: نہیں، اس نے تمھارے پہلے خط کی ذرا بھی پرواہ نہیں کی۔اسی طرح قبر کا مجاور بنا بیٹھا ہے۔تم اسے اپنا باوفا اور سچا عاشق سمجھتی تھیں مگر وہ تمھاری پروا بھی نہیں کرتا۔اس دل کش وادی میں اس کا ایسا دل لگا کہ اب تھارے حکم کو بھی نہیں مانتا۔
میں: نہیں۔ وہ ایسے ہی با وفا ہیں جیسا کہ میں سمجھتی ہوں۔ جس طرح میری جدائی نہ گوارا کی تھی، اسی طرح اب انھیں میری قبر کی مفارقت بھی گوارا نہ ہو گی۔
حسین: ( جوش میں آکر) بے شک زمرد! صرف اسی خیال سے میں نے تیرا پہلا حکم نہیں مانا۔
زمرد: خیر، میری زبان سے یہ باتیں سن کے اس نے ایک حیرت کے ساتھ مجھے گھور کے دیکھا اور کسی قدر پست آواز میں بولا: " یہ مسودہ جلدی صاف کر دو کہ وہ تم سے ملنے کا سامان کرے۔" مجھے اس مسودے کے پڑھتے ہی حیرت ہو گئی۔ پڑھتی جاتی تھی اور دل میں کہتی جاتی کہ کہ یہ لوگ کس قدر مکار اور فریبی ہیں۔بہرحال میں نے خط صاف کر کے دیا ور چلی آئی۔ دوسے دن مجھے مرجان کی زبانی معلوم ہوا کہ وہ خط تمھارے پاس بھیج دیا گیا۔ اور اس سے غرض یہ تی کہ تمھیں شیخ علی وجودی کا معتقد بنا کے انھیں کے ذریعے تمھارے ہاتھ سے امام نجم الدین نیشاپوری تمھارے ہاتھ سے قتل کرائے جائیں اس کے صلے میں تم جنت کی سیر کرو اور مجھے تم سے ملنے کا موقع ملے۔حسین! کیا کہوں کہ یہ حال معلوم ہوتے ہی میں نے اپنے اوپر کتنی لعنت و ملامت کی ہے۔ میں دل میں ڈرتی تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میری وجہ سے ان کے خون میں اپنے ہاتھ رنگ لو دعا کرتی تھی کہ خد کرے پہلے خط کی طرح تم اس خط پر بھی عمل نہ کرو۔ مگر جب معلوم ہوا کہ یہاں کے بھیجے ہوئے گدھے پر سوار ہوکے تم روانہ ہو گئے ہو تو دل میں اور ڈری اور دعا کرنے لگی کہ خداوندا! حسین کو اس گناہ سے بچا! مگر مدت کے بعد جب معلوم ہوا کہ اب دو ہی تین دن میں تم جنت میں آیا چاہتے ہو تو مجھے یقین ہو گیا کہ تم ان ظالموں کے پھندے میں پھنس گئے۔ جب تم اس وادی کو چھوڑ کے چلے گئے تو یہاں کی حوریں پھر اکثر اوقات سیر و تفریح کے لیے وہاں جانے لگیں۔ جن کے ساتھ خور شاہ کی اجازت سے کبھی کبھار میں بھی چلی جاتی تھی، اور اپنی قبر کو دیکھ کے تمھارے خیال سے اکثر دل ہی دل میں روتی۔ جب تم جنت میں آئے ہو اس سے پہلے ہی مجھے بتا دیا گیا تھا کہ تم سے کیوں کر ملوں ، کس قسم کی باتیں کروں اورتمھارے اعتقاد کو کس طرح بڑحاؤں۔تاکید تھی کہ اگر ا س کے ذرا بھی خلاف ہوا اور ذرا سا بھی راز تم پر ظاہر ہو گیا تو پہلے تم مار ڈالے جاؤ گے اور پھر میں۔ہر وقت یہاں میری اور تمھاری نگرانی ہوتی رہتی تھی اور مجھے تم سے ایک لفظ کہنے کا موقع بھی نہ ملتا تھا۔ اس کے علاوہ مجھے تمھاری یہ حالت نظر آئی کہ جیسے تم پر کوئی سخت جادو چلا ہوا تھا اور اپنے ہر نیک و بد سے بے خبر تھے۔ایسی حالت میں اس کی بھی امید نہ تھی کہ تم سے کچھ کہوں گی تو تم اسے ضبط کر کے چھپا سکو گے۔اسی خیال سے میں نے کچھ نہ کہا۔ تاہم موقع پا کر اتنا بتا دیا کہ نا امیدی کی حالت میں مری قبر پر آنا، اور آخر اسی تدبیر سے خدا نے کامیاب کیا۔ مگر حسین! میں نے تمھارے لیے خور شاہ کے ہاتھ سے بڑ بڑے ظلم اٹھائے۔برائے نام جنت تھی۔ تمھارے جانے کے بعد اور زیادہ سختیاں ہوئیں اور اب خور شاہ کو خیال ہو چلا تھا کہ میں کبھی اس کے موافق نہ ہوں گی، مگر لوگوں کے کہنے سننے اور اس کے دلی میلان کا نتیجہ تھا کہ اس وقت زندہ ہوں۔

حسین: (زمرد کو گلے لگا کے) غنیمت ہے کہ اتنی مصیبتوں کے بعد ہم پھر مل گئے۔مگر اب مجھے ضرور ہے کہ ان ظالموں سے ان باتوں کا انتقام بھی لوں۔جب تک انتقام نہ لوں گا کبھی آرام سے بیٹھنا نہ نصیب ہو گا۔ میرے گناہوں کا کفارہ یہی ہے کہ دنیا کو خور شاہ، علی وجودی اور طور معنی کی نجاست سے پاک کروں ۔جس طرح ابھی تک ان لوگوں کا فدائی تھا، اب دین کا سچا فدائی بنوں گا۔ہر ایک مستقر پر جاؤں گا اور اسی طرح فریب و مکر سے ان لوگوں کو جنت کے بہانے دوزخ میں بھیجوں گا۔
زمرد: تمھیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں ، فی الحال عید قائم قیامت ہے ؛ یہ سب لوگ یہیں آئے ہوئے ہیں، اسی قلعے میں موجود ہیں، اور ان کی سزا دہی کا بھی پورا انتظام ہو گیا ہے۔آج ہی شام تک تمھیں موقع مل جائے گا کہ شاہ زادی بلغان خاتون کے ساتھ خور شاہ کے محل اور قلعے میں گھس کے ایک ہی وقت میں تینوں شخصوں کا کام تمام کر دو۔
حسین: زمرد! تجھے یہاں کے سب حالات کیوں کر معلوم ہو گئے؟
زمرد: حوروں اور جنت والوں سے کوئی راز چھپا تھوڑی ہی ہے۔ مرجان کی طرح یہاں کی بعض حوریں خور شاہ کے محل میں جاتی ہیں اور ان میں سے ایک ہر وقت اس کی صحبت میں موجود رہتی ہے۔یہ حوریں جب واپس آتی ہیں تو جو دیکھتی سنتی ہیں دوسروں سے کہہ دیتی ہیں۔ اس طرح تھوڑی ہی دیر میں ہر بات سب میں مشہور ہوا جاتی تھی، اور کسی نہ کسی ذریعے سے میں بھی سن لیتی تھی۔اور ہاں حسین! یہ تو بتاؤ کہ شاہزادی کے ساتھ کتنی فوج ہے؟
حسین: فوج! تھوڑے سے جوان ہونگے۔

ناگہاں ایک شور و ہنگامے کی آواز بلند ہوئی۔ دونوں گھبرا کے محل سے باہر نکل آئے اور ہزارہا سپاہیوں کا عظیم الشان لشکر دیکھ کے اس محل کی طرف دوڑے جس میں شہزادی بلغان خاتون آرام کر رہی تھی۔


نواں باب: انتقام

حسین اور زمرد نے اپنے قصر دری سے نکل کے دیکھا تو عجب عالم نظر آیا۔ جنت کے آرام و اطمینان میں فرق آ گیا تھا اور معلوم ہوتا تھا گویا فردوس بریں میں قیامت آ گئی۔خوب رو اور پری چہرہ حور و غلمان جوا پنے حسن و جمال سے ہر ایک کو نورانی پیکر ہونے کا دھوکا دیتے تھے قصروں اور کوشکوں سے نکل نکل کے بد حواس بھاگے اور ایک دوسرے کی آڑ میں چھپنے لگے۔ ہر طرف ایک تہلکہ پڑ گیا۔جہاں رونا حرام بتایا جاتا تھا وہیں ہر طرف رونے پیٹنے اور نوحہ و بکا کی آواز بلند ہوئی۔ ایک عظیم الشان اور بڑا بھاری تاتاری لشکر جنت میں داخل ہو گیا تھا جس کے سپاہی ہر چہار طرف پھیلتے جاتے تھے۔قصروں اور کوشکوں میں لوٹ مار مچ گئی تھی۔ خوبصورت لڑکیاں اور پری جمال لڑکے گرفتار ہو رہے تھے۔جن کی سہمی ہوئی صورتوں ، چیخ و پکار کی آوازوں نے عجب نازک گھڑی کا سماں پیدا کر رکھا تھا۔

یہ وحشت انگیز اور بدحواس کرنے والا سماں دیکھتے ہی زمرد اور حسین دوڑتے ہوئے اس قصر میں پہنچے جہاں شاہزادی آرام کر رہی تھی۔ زمرد شہزادی کی آرام گاہ کے قریب پہنچ کے دستک دینے ہی کو تھی کہ ایک وحشی و غارت گر تاتاری اس کی صورت دیکھ کے جھپٹ پڑا۔ قریب تھا کہ اور سب حوروں کی طرح وہ بھی گرفتار ہو جاتی۔ مگر حسین سے یہ دیکھ کے رہا نہ گیا؛ اور کوئی ہتھیار تو پاس نہ تھا، وہی اپنا فدائیت کا خنجر لے کے دوڑا۔قریب تھا کہ اس میں اور تاتاری میں لڑائی ہو جائے کہ ناگہاں کمرے کا دروازہ کھلا اور خوبصورت شاہ زادی بلغان خاتون اپنے بکھرے ہوئے لٹکتے بالوں کے ساتھ لباس کے لمبے لمبے دامنوں کو زمین پر لٹاتی ہوئی نکلی اور تاتاری زبان میں چلا کے بولی: " ٹھہرو!"شاہ زادی کی صورت دیکھتے ہی تاتاری دوڑ کے اس کے قدموں پر گر پڑا اور عرض کیا: " ہم حضور کی تلاش میں تھے۔"

شاہزادی: تم میرے ساتھ والوں میں سے ہو؟
تاتاری: نہیں!
شاہزادی: (خوش ہوکے)تو بھائی آ گئے؟
تاتاری: جی ہاں۔

ناگہاں تاتاریوں کا ایک بڑا بھاری غول نظر آیا، جن کے درمیان میں خود ہلاکو خاں بھی موجود تھا۔شمشیر برہنہ اس کے ہاتھ میں تھی۔ عمامے میں کلغی لگی تھی، جس پر مغلئی نیزے اور تاتاری بیرقیں سایہ کیے ہوئے تھی۔ اس شان سے اس کے شاہی خاندان میں ہونے اور نیز تمام فوج کے سردار ہونے کا پورا پتہ چلتا تھا۔ہلاکو خاں کو آتے دیکھ کے بلغان خاتون کمرے سے نکل کے استقبال کو دوڑی۔ بہن بھائی جوش و خروش سے ملے، وحشی اور غارت گر جوانوں نے ایک گھڑی کے لیے مہذب بن کے اور مرتب ہوکے اپنی حسین و نازنین شاہ زادی کو سلام کیا اور ہر طرف سے خوشی و مسرت کے نعرے بلند ہونے لگے۔

بلغان خاتون: (ہلاکو خان سے) بھائی آپ کب آئے؟ مجھے تو تردد پیدا ہو چلا تھا۔
ھلاکو خان: تم لکھتیں اور میں نہ آتا؟ اس میں شک نہیں کہ اس وقت سلطان دیلم کے تعاقب میں عجلت کرنے کی ضرورت تھی، مگر تمھارا خط دیکھتے ہی مجبور ہونا پڑا۔ میں نے تھوڑی سے فوج اس کے تعاقب میں چھوڑ دی اور باقی لوگوں کو ساتھ لے کے چلا آیا۔
بلغان خاتون: میں روانہ ہونے سے کئی دن پہلے آہ کو اطلاع دے چکی تھی، اسی خیال سے زیادہ فوج اپنے ہمراہ نہیں لائی، لیکن آج صبح سے جوں جوں آُ پ کے پہنچنے میں تاخیر ہوتی تھی، میرا تردد بڑھتا جاتا تھا۔
ہلاکو خاں: میں نے بہت کوشش کی کہ صبح تڑکے پہنچ جاؤں مگر کسی طرح نہ پہنچ سکا۔ خیر اب بھی چنداں دیر نہیں ہوئی۔


اس کے بعد بلغان خاتون نے زمرد اور حسین کو ہلاکوخاں کے قدموں پر گرایا اور کہا: " یہی لوگ ہیں جن کی مدد سے میں یہاں تک آ سکی۔" ہلاکو خاں نے دونوں کو اٹھا کے گلے لگایا اور کہا: " اپنی بہن کی طرف سے میں بھی تمھارا شکر گزار ہوں۔" دونوں نے پھر جھک کے اس کے قدم چومے اور کہا: " حضور ہی کی وجہ سے ہم کو اس قید سے نجات ملی، ورنہ زندگی بھر نجات کی امید نہ تھی۔"
بلغان خاتون: اور بھائی آپ کے ہمراہ کتنی فوج ہے؟
ہلاکو خاں: میں پچاس ہزار فوج لے کے چلا تھا، راستے میں وہ چالیس ہزار جوان اور مل گئے جو تمھارے ساتھ آئے تھے۔ اب کل نوے ہزار جانباز تاتاری میرے ہمراہ ہیں، مگر ان میں سے صرف پانچ ہزار آدمی اندر لایا ہوں، اس لیے کہ راستے کی دشواریوں کے باعث اس سے زیادہ فوج کا یہاں لانا غیر ممکن تھا۔
بلغان خاتون: اور باقی ماندہ فوج وہیں نہر کے کنارے ٹھہری ہو گی؟
ہلاکو خاں" نہیں، میں نے کئی منزل پیشتر سے اپنی فوج کے چالیس ہزار آدمی قلعہ التمونت پر بھیج دیے تھے، جو آج ہی پہنچ گئے ہونگے اور قلعے کے اندر سے ہمارے طبل و قرنا کی آواز سنتے ہی یورش کر دیں گے۔ نہر ویرنجان کے کنارے پہنچ کے جب مجھے معلوم ہوا کہ زیادہ آدمی یہاں تک نہیں پہنچ سکتے تو میں نے طولی خاں کو تمام باقی ماندہ فوج پر سردار مقرر کر کے حکم دے دیا کہ وہ بھی التمونت ہی پر جا کے حملہ کرے۔ اس کے ساتھ 45 ہزار فوج ہے۔مجھے اندیشہ تھا یہ لوگ وقت پر نہ پہنچ سکیں گے مگر اتفاقاً خوش قسمتی سے ایک یہیں کا کوہستانی مل گیا جس نے بتایا کہ التمونت بہت قریب ہے اور زیادہ سے زیادہ پانچ گھنٹے میں یہ پورا لشکر وہاں پہنچ سکتا ہے۔طولی خاں اس شخص کو ساتھ لے کے گیا ہے اور یقین ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں وہ بھی قلعے کے پھاٹک پر پہنچ گیا ہو گا۔ خیر اب یہ بتاؤ کہ قلعے کا راستہ کدھر سے ہے؟
بلغان خاتون: تو بھائی! تھوڑی دیر یہاں ٹھہر کے سستا لو، پھر چلنا، تم ابھی منزل مارے اور تھکے ماندے چلے آتے ہو۔
ہلاکو خاں: (ہنس کے) ہمارا آرام اسی میں ہے کہ جوہر شجاعت دکھانے کو کوئی اچھا میدان جنگ ملے۔جب تک فتح نہ حاصل ہولے اس وقت تک کوئی چیز ہماری تھکن کو نہیں مٹا سکتی۔ ہاں تمھارے تھکنے کا البتہ مجھے لحاظ ہوتا، مگر تم مجھ سے پہلے ہی یہاں پہنچ چکی تھیں اور اچھی طرح سستا چکی ہو، لہٰذا اب کسی بات کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔
حسین: (جوش و خروش سے قدم آگے بڑھا کے) حضور! بے شک انتظار نہ کرنا چاہیے۔مجھے ان لوگوں نے اتنا بڑا فریب دیا ہے، اور میرے ہاتھ سے ایسے ایسے گناہ کرائے ہیں کہ جب تک ان میں سے خاص تین شخصوں کی جان نہ لے لوں گا، چین نہ پڑے گا۔ہر وقت میرے دل سے انتقام کی آواز نکلتی ہے اور پریشان ہو جاتا ہوں۔
ہلاکو خاں: (مسکرا کے) ہاں ذرا بیان تو کرو کہ تمھیں کیوں کر فریب دیا گیا تھا؟


شاہی حکم کی تعمیل میں حسین نے اپنی ساری سرگزشت مختصر الفاظ میں بیان کی اور آخر میں آبدیدہ ہوکے کہنے لگا: "افسوس! زمرد کی محبت کے نام سے مجھے اتنے بڑے اور ایسے ایسے فریب دیے گئے ہیں کہ جب تک زندہ ہوں اپنے اوپر لعنت کرتا رہوں گا۔"

ہلاکو خاں: (حیرت سے) عجب! واقعی ان لوگوں نے دنیا پر ریاکاری و مکاری کا عجیب جال ڈال رکھا تھا۔اب اس قلعے کی فتح کے بعد میرا ارادہ ہے کہ ملاحدہ کی نجاست سے ساری دنیا کو پاک کر دوں۔
حسین: اگر ایسا ہوا تو خدا آپ سے بہت خوش ہو گا، اور دنیا ہمیشہ کے لیے آپ کے مبارک اسلحہ کی ممنونِ احسان رہے گی۔
ہلاکو خاں: تو چلو، اب تاخیر میں نقصان ہے۔ہماری فوج جو قلعے کے گرد اتری ہوئی ہے، متردد و پریشان ہو گی۔
زمرد: یہ کام میرے ذمے ہے۔ حضور! آپ کی اس لونڈی کے سوا کوئی اس راستے سے واقف نہیں ہے۔مگر اپنے ہمراہیوں کو حکم دے دیجیے کہ جب تک محل کے اندر نہ داخل ہولیں، نہایت خموشی سے چلیں۔کہیں پہلے سے خبر ہو گئی تو محل سرا کا پھاٹک بند کر لیا جائے گا اور پھر قلعے سے نکل جانے میں بڑی بڑی دشواریاں پیش آئیں گی۔

زمرد کی ہدایت کی مطابق ہلاکو خاں نے اپنے تمام ساتھیوں کو ساکت و صامت رہنے اور آہستہ آہستہ قدم اٹھانے کا حکم دے دیا۔ وہ پانچ سو تاتاری جو قراقرم سے شاہ زادی کے ہمراہ آئے تھے اور اب اس پانچ ہزار فوج کے بعد وہ بھی جنت کے اندر داخل ہو گئے تھے، یہیں جنت میں چھوڑ دیے گئے تاکہ اسیر شدہ حور و غلمان کی حفاظت کریں۔اورہلاکوخاں التمونت کے قصر شاہی کی طرف اس شان سے روانہ ہوا کہ آگے آگے سے حسین تھا۔ اسے اب کسی تاتاری جوان سے ایک تلوار مل گئی تھی جسے وہ غضب اور انتقام کے ارادے سے علم کیے ہوئے تھا۔ا س کے پیچھے خود ہلاکو خاں جس کے داہنی جانت بلغان خاتون تھی اور بائیں طرف زمرد اور ان کے پیچھے پانچ ہزار تاتوریوں کا غول تھا جو باوجود اژدحام اور جوش خروش کے نہایت ہی سکوت و متانت کے ساتھ آہستہ آہستہ آگے بڑھتا چلا جاتا تھا۔
نہر ویرنجان کے اس طرف کے تمام چمن اور دل کش قطعات باغ طے کر کے یہ پُر سطوت گروہ سنہرے پل پر پہنچا۔زمرد نے بڑھ کے پل کا قفل کھولا اس لیے کہ اس نے آج صبح کو راستہ روکنے کے لیے اس پل میں قفل ڈال دیا تھا۔ پل کا پھاٹک کھلتے ہی سب لوگ نہر سے اتر کے اُدھر کے پر فضا اور دل کش مرغزار میں داخل ہوئے اور زمرد کے بتانے کے موافق ایک خوش نما اور خوش سواد راستے سے گزر کے بڑے بڑے سایہ دار درختوں کی ایک جھنڈ میں پہنچے۔انھیں درختوں کے گھونگٹ میں رکن الدین خور شاہ کی محل سرا کا خوبصورت چہرہ(دروازہ) چھپا ہوا تھا۔دروازے کی صورت دیکھتے ہی یہ لوگ دوڑ کے اندر گھس پڑے اور قبل اس کے کہ کسی کو خبر ہو، ایک طولانی ڈیوڑھی کو قطع کر کے خوش نما اور نزہت بخش خانہ باغ میں جا پہنچے، جو اپنی شادابی و دل کشی میں التمونت کی جنت سے کم نہ تھا۔


ان غیر خلل اندازوں کی صورت دیکھتے ہی چند سپاہی جو پہرے پر متعین تھے، اپنے اسلحہ لے لے کے دوڑے، مگر جب دیکھا کہ تاتاریوں کا ایک لشکر ہے تو بدحواس بھاگنے لگے دوچار تو مارے گئے اور بقیۃ السیف نے بھاگ کے سارے محل اور قلعے میں ہلچل مچا دی۔قلعے میں مذہبی عید کی رسمیں بجا لائی جا رہی تھیں اور بیرونی اور نیز یہاں کے لوگوں کا ایک بڑا بھاری مجمع تھا۔اگر حواس سے کام لیا جاتا تو ممکن تھا کہ ایک معرکے کی لڑائی ہوتی، مگر تاتاریوں کی ہیبت ان دنوں ساری دینا میں ببیٹھی ہوئی تھی۔ ان کے قلعے میں داخل ہو جانے کا نام سنتے ہی سب کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ خود خور شاہ جو کھڑا خطبہ پڑھ رہا تھا، منبر سے اُتر کے بدحواس بھاگا کہ کسی کونے میں جا چھپے، مگر جانے نہ پاتا تھا، اس لیے کہ محل کی نازک اندام و پری جمال عورتیں برہنہ سر اور برہنہ پا بھاگ بھاک کے آتی تھیں اور قدم قدم پر اس کے دامن سے لپٹ کے پناہ مانگتی تھیں۔اس وقت تک یہاں اس کی خبر نہ تھی کہ قلعے کے گرد بھی ایک بڑا بھاری اور عظیم الشان تاتاری لشکر محاصرہ کیے ہوئے ہے۔ بادشاہ اور معتقدوں کو بدحواس دیکھ کے تمام سپاہی اور اہل قلعہ، داعی اور فدائی قلعلے کے پھاٹک کھول کے بزدلی اور خوف کی آوازیں بلند کرتے ہوئے باہر نکلے جن کے نکلتے ہی قلعے کے اندر سے مغلئی طبل و قرنا بجے اور تاتاریوں کے باہر والے لشکر نے اپنے قومی باجوں کی آواز سنتے ہی خود اپنا طبل بجا دیا اور فوراً حملہ کر دیا۔ بھاگ کے باہر جانے والے، تاتاری لشکر کے متلاطم سمندر کو ایک طوفان کی طرح اپنی طرف آتے دیکھ کے نہایت ہی از خود رفتگی کے ساتھ الٹے پھرے، جن کا طولی خاں کے لشکر نے بڑی پھرتی سے تعاقب کی اور باہر کے مغلئی جان باز ان کو قتل کرتے ہوئے قلعے کے اندر گھس پڑے۔

اب قلعے کے اندر سخت طوفان بپا تھا۔ہر طرف قتل عام کا سماں نظر آ رہا تھا۔بوڑھے، بچے، زن و مرد، اہل حرفہ اور سپاہی سب بلا استثنا و امتیاز قتل ہو رہے تھے۔ایک عجب ہنگامہ تھا جس میں تیر اور نیزے، تلوار اور چھری اور گزر اور تبر کی ہوش ربا آوازوں کے ساتھ تاتاری لٹیروں کی وحشت ناک چیخیں، عورتوں اور بچوں کی آہ و زاری اور رونے پیٹنے کی آوازیں ایک ساتھ سنی جاتی تھیں۔

ہلاکو خان اور بلغان خاتون کے ہمراہی خور شاہ کے محل کے ایک ایک کمرے اور دالان میں گھس گھس کے خوف زدہ عورتوں اور مردوں ، بوڑھوں اور بچوں کو نکال نکال کے ہنکاتے ہوئی اس بڑے میدان میں لائے جہاں ابھی چند منٹ پہلے عید کا جشن ہو رہا تھا اور عیش و مسرت کے پر جوش نعرے بلند تھے۔دوسری طرف سے باہر بھاگنے والوں کو طولی خان کے ہمراہیوں نے نہایت ہی بدحواسی کے ساتھ بھگا بھگا کے اندر کیا۔اور وہ بھی اسی میدان میں آ کے اپنے مظلوم و پریشان دوستوں سے اندھوں کی طرح ٹکرانے لگے۔ کسی کو اپنے پرائے کا ہوش نہ تھا۔ہر شخص کے حواس غائب تھے اور جو دوست دشمن میں سے کسی کو پاتا مجنونوں یا ڈوبنے والوں کی طرح اس کے دامن سے لپٹ کے پناہ مانگتا۔یہ دل خراش سین زمرد کے دل پر نہایت ہی اثر کر رہا تھا۔اور ان لوگوں کی بے کسی دیکھ دیکھ کے رو اُٹھتی تھی۔کئی مرتبہ قلعے کی بعض ستم زدہ عورتوں کے ساتھ اس کی زبان سے بھی چیخ کی آواز نکل گئی۔ زمرد کی پریشانی دیکھ کے بلغان خاتون اس کے قریب آئی اور کہنے لگی: "زمرد! میں نہ جانتی تھی کہ تمھارا دل اس قدر کمزور ہے، ورنہ تم کو یہاں نہ لاتی۔"

زمرد: (روکے) شاہزادی! یہ سب میرا کیا ہوا ہے۔ ہر خون کا قطرہ جو اس وقت قلعے میں گر رہا ہے اور گرے گا، اس کے گناہ میں میرا نام بھی لکھا جائے گا۔اور ممکن نہیں کہ ا س کے انتقام سے میں بچ سکوں۔
بلغان خاتون: یہ صرف تمھارے دل کا بودا پن ہے، ورنہ ان لوگوں کا قتل کرنا ہرگز گناہ نہیں ۔ ذرا یہ تو خیال کرو کہ اس وقت ہم کیسے کیسے مقدس بزرگوں اور نامور لوگوں کا بدلہ لے رہے ہیں۔جتنے لوگ یہاں مارے جائیں گے، ان سے زیادہ روحیں اس وقت خوش ہو رہی ہونگی اور ہمارے لیے خدا سے مغفرت کی خواست گار ہونگی۔
زمرد: (ہچکیاں لے لے کے) جو کچھ ہو، مگر شاہزادی مجھ سے یہ ظلم و جور نہیں دیکھا جاتا۔
بلغان خاتون: جب یہ ظلم و جور دل پر اثر کرے تو ان مظالم کو یاد کر لو جو ان ظالموں کے ہاتھ سے دنیا پر ہوتے رہے۔


تھوڑی ہی دیر میں قلعے کی نصف سے زیاد آبادی قتل ہو گئی۔ لاشیں ہر طرف تڑپ رہی تھی۔ ہر طرف پھڑکتی ہوئی آ آ کے ایک مقام پر بہت سی جمع ہو جاتیں، اور ایک دوسری کو اپنے خون میں رنگتیں، اور لپٹ لپٹ کے اچھلتی تھیں؛ مگر قاتلوں کا خیال بھی اس طرف نہ جاتا تھا۔وہ برابر نئے بے سر دھڑوں کو گرا گرا کے انھیں تڑپتی ہوئی لاشوں کے تودوں کی طرف بھیج رہے تھے۔

اب ہلاکوں خاں اسی منبر پر جا کھڑا ہوا تھا جس پر سے خور شاہ خطبے کو ناتمام چھوڑ کے اترا تھا۔ برہنہ و خون آلود تلوار اس کے ہاتھ میں تھی اور اس کی بہن شہزادی بلغان خاتون منبر کے نیچے اس کے قریب ہی کھڑی تھی۔ حسین اگرچہ فوجی آدمی نہ تھا مگر اسے انتقام کا پورا موقعہ ملا تھا اور دل کی آگ ملاحدہ کے قتل کی پیاس کو تیز کر رہی تھی۔ تاتاریوں کی بھیڑ میں گھس گھس کے اوہ ان خاص لوگوں کو ڈھونڈتا پھرتا تھا جنھیں اس نے پہلے سے اپنا شکار تجویز کر لیا تھا۔ ناگہاں ایک شخص دوڑ کے اس کے دامن سے لپٹ گیا اور اس کے منہ سے آواز نکلی: " حسین، مجھے بچا! میں جانتا ہوں کہ تو شجر معرفت کی ایک شاخ ہے۔" حسین سمجھ گیا کہ کاظم جنونی ہے۔دل میں آئی کی ایک ہی وار میں اس کا سر اڑا دے مگر خود ہی سوچا کہ اس سے طور معنی اور علی وجودی کا پتہ لگ جائے گا۔یہ خیال آتے ہی اس نے ذرا دوستی کی شان سے کاظم جنونی کے کان کی طرف جھک کے پوچھا: "اور طور معنی کہاں ہیں؟"

کاظم جنونی نے یہ سنتے ہی سر اٹھا کے ادھر ادھر دیکھا اور شکستہ حال بڈھے کی طرف جو کئی آدمیوں کے درمیان زمیں پر ننگے سر بیٹھا تھا، اشارہ کیا، اور پھر زمیں پر گر کے کہنے لگا: " اے شجر معرفت! مجھے پناہ دے!" حسین نے غضب آلود تیوروں سے اس کی اس ذلیل خوشامد کو دیکھا ور یہ کہہ کے کہ: "تجھ سے ذلیل فریبی کے لیے پناہ نہیں ہے " ا س کا سر اڑا دیا۔ کاظم جنونی کو تڑپتا چھوڑ کے وہ اس بڈھے کی طرف گیا اور دیر میں پہچان سکا کہ طور معنی وہی ہے۔حسین نے اس مجمع کے اندر ہاتھ ڈال کے اسے باہر کھینچا اور کہا: " آج تو میں نے وہ ستر ہزار حجاب خود ہی چاک کر ڈالے اور نور سینا کو بے حجاب دیکھ رہا ہوں۔"یہ جملہ سنتے ہی طور معنی نے حیرت و استعجاب سے حسین کی طرف دیکھا اور کہا: " اے نوجوان! تو کون ہے کہ رمز حقیقت سے آگاہ معلوم ہوتا ہے؟"

حسین: ہاں خوب آگاہ ہوں، مگر اپ نے شاید مجھے نہیں پہچانا؟
طور معنی: نہیں، بالکل نہیں۔

یہ جواب سنتے ہی حسین نے غصے میں آ کے ا س کے منہ پر تھوک دیا اور کہا: " یا تو وہ کشف تھا کہ بغیر اس کے کہ میری صورت دیکھے اور میری آواز سنے تو نے کہا تھا: " اے نوجوان آملی مرحبا!" یا آج مجھے دیکھ کے بھی نہیں پہچان سکتا؟ تیری سب سازشیں کھل گئیں اور معلوم ہو گیا کہ تو کتنا بڑا مکار و بدمعاش ہے۔" اس جواب پر طور معنی جھک کے حسین کے قدم چومنے لگا اور رقت و بدحواسی کی آواز میں بولا: " رحم اے جوان آملی رحم!"
حسین: ہرگز نہیں! تو ایک فتنہ ہے جس سے دنیا کو جہاں تک جلد ہو سکے خالی کرنا چاہیے۔"

یہ کہہ کے حسین طور معنی کے سینے پر چڑھ بیٹھا؛ تلوار زمیں پر ڈال دی اور کمر سے خنجر نکال کے بولا: "یہی وہ فدائیت کا خنجر ہے جو میری کمر میں بندھوایا گیا تھا۔ اسی سے میں نے امام نصر بن احمد کے سے نیک بزرگ کی جان لی تھی اور اسی سے آج تیرا سینہ چاک کرتا ہوں۔"

طور معنی کچھ کہنے کو تھا کہ حسین کا خنجر ا س کے سینے کے اندر تیر گیا۔ ایک ہی وار میں ایڑیاں رگڑ کے اس نے ایک آہ کے ساتھ جان دی اور حسین اپنی تلوار لے کے کھڑا نہیں ہونے پایا تھا کہ دیکھا کسی قدر فاصلے پر ہلاکوخاں کے قریب ہی ایک تاتاری شخص کسی ضعیف العمر بڈھے کو اسی کے عمامے سے باندھ کے کھینچ رہا ہے۔حسین نے دور سے دیکھتے ہی پہچان لیا کہ علی وجودی ہے ؛ بے اختیار دوڑا ہوا گیا اور پگڑی کو درمیان میں پکڑ کے چلایا: "یہ میرا مجرم ہے۔"


تاتاری: کیوں؟گرفتار میں نے کیا اور مجرم تمھارا ہو گیا؟
حسین: ہاں، اس لیے کہ میرا قدیمی مجرم ہے۔"

اس جملے کے ساتھ ہی ہلاکوخاں نے بھی اس تاتاری کو اشارہ کیا کہ اس قیدی کو حسین ہی کے سپرد کر دے۔حسین علی وجودی کو اسی طرح اس کے عمامے سے کھینچتا ہوا ایک طرف لے گیا اور جب دیکھا کہ لوگوں کے ہجوم سے باہر نکل آیا ہے تو عمامے کو جھٹکا دے کے پوچھا: " مجھے پہچانا؟"

علی وجودی کچھ ایسی مایوسی و از خود رفتگی کی حالت میں تھا کہ اس وقت تک اس نے دیکھا بھی نہ تھا کہ ا س کے سر پر کیا گزر رہی ہے اور کس کے ہاتھ میں گرفتا ہے۔حسین کی آواز سن کے اس نے سر اُٹھایا اور پہچانتے ہی ایک دفعہ چلا اٹھا: "آہا حسین! مجھے تیری جستجو تھی۔جب قلعہ التمونت سے تیرے نکالے جانے کی خبر معلوم ہوئی تو مجھے بہت صدمہ ہوا۔افسوس! اگر تو میرے پاس چلا آتا تو اس طرح ناکام نہ رہتا۔"

دراصل علی وجودی یہ نہیں سمجھتا تھا کہ حسین اب اس کے عقائد کے خلاف ہے۔اسے خیال گزرا کہ یہ اب تک میرا معتقد ہے اور اسی وجہ سے مجھے تاتاریوں کے ہاتھ سے چھڑا کے یہاں لایا ہے۔

حسین: (عقیدت کی شان سے عمامے کا سرا چھوڑ کے) مگر آپ تو غیب کی باتیں معلوم کر لیا کرتے ہیں۔آپ نے اپنی سیر لاہوتی میں بے شک دریافت کر لیا ہو گا کہ میں کن پہاڑوں اور گھاٹیوں میں سر ٹکراتا پھرتا تھا؟"

یہ سن کے علی وجودی نے حسین کو بدگمانی کی نظر سے دیکھا اور کہا: "وہ سیر لاہوتی اسی وقت ہوتی ہے جب آدمی توجہ قلبی سے کام لے۔ دراصل میں نے تیرا حال دریافت کرنے کی طرف کبھی توجہ ہی نہیں کی تھی۔"

حسین: مگر یہ امید نہ تھی کہ مجھ سے عقیدت کیش کو آپ بالکل چھوڑ دیں گے۔
علی وجودی: اور حسین یہ فتنہ کیوں کر بپا ہوا؟ یقین ہے تجھے معلوم ہو گا، اس لیے کہ تیرے کہنے سے تاتاریوں نے میری جان چھوڑ دی؟
حسین: آپ کو پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟آپ کو ہر امر ایک ادنیٰ توجہ قلبی سے معلوم ہو جاتا ہے۔
علی وجودی: اتنا جاننے پر بھی تو عالم ارواح کے رموز سے نا آشنا ہے؟ جن لوگوں کو ان رموزمیں کمال حاصل ہوتا ہے انھیں کو کبھی اپنی خبر بھی نہیں رہتی۔سنا نہیں کہ:

گہے بر طارم اعلیٰ نشینم
گہے بر پشت پائے خود نہ بینم


حسین: رکن الدین خور شاہ نے مجھے جنت میں بھیجنے سے ان کار کیا، اپنے قلعے سے نکلوا دیا، جس کے بعد مجھے مایوسی تھی اور عجب بے کسی کی حالت میں تھا۔ا فسوس!اس وقت آپ نے بھی خبر نہ لی۔مگر معاملہ دگرگوں ہونے والا تھا۔تقدیر نے مجھے ایک اور شخص سے ملایا اور اب اس کی برکت و رہبری سے میں جنت میں پہنچا اور زمرد کی ہم کناری نصیب ہوئی۔افسوس! کہ اب میں آپ کے مریدوں سے نکل گیا اور اس کے مریدوں اور معتقدوں میں شامل ہوں۔
علی وجودی: وہ کون شخص ہے؟
حسین: تاتاریوں کا سردار ہلاکو خاں۔اور اس کے شرائط بہت سخت ہیں۔

علی وجودی نے یہ سنتے ہی سر سے پاؤں تک کانپ کے حسین کی صوت دیکھی اور پوچھا: "وہ شرائط کیا ہیں؟"
حسین: وہ یہ کہ آپ اور آپ کے سے جتنے مکار اور سیہ کار ملاحدہ ملیں، ان کا سر تن سے اُڑا دوں۔
علی وجودی: (سہم کے) اور ایسے ظالمانہ احکام بجا لانے میں تامل نہیں؟
حسین: بالکل نہیں! اس کا سبق تو آپ ہی سے مل چکا ہے کہ مرید کو مرشد کے ہاتھ میں ایک بے جان آلے کی طرح رہنا چاہیے۔ ہر ظاہر کا ایک باطن ہے۔ اور اس کا باطن میرے مرشد کے نزدیک بہت ہی اچھا اور خدا کی درگاہ میں مقبول ہے۔
علی وجودی نے شرما کے اور لاجواب ہوکے سر جھکا لیا اور کہا: " مگر جو کچھ ہو تمھیں رحم سے کام لینا چاہیے۔ ظلم خدا کو نہیں پسند ہو سکتا۔"

اس جواب پر حسین کو بہت غصہ آیا مگر اس نے ضبط کر کے اپنے تئیں روکا اور کہا: " بے شک خدا کو ظلم نہیں پسند ہے، اور اسی وجہ سے امام نجم الدین نیشا پوری کی روح آج تک پکار پکار کے کہہ رہی ہے کہ میرا خون علی وجودی کے گردن پر ہے۔ یہ سنتے ہی علی وجودی سر سے پاؤں تک کانپنے لگا، اور تھوڑی دیر کے بعد جب اس کے دل کو ذرا سکون ہولیا تو بولا: " مگر مجھ کو تمھارے ساتھ ایسے تعلقات رہ چکے ہیں کہ مجھے تم سے کسی بے رحمی کی امید نہیں۔"
حسین: امام نجم الدین نیشا پوری سے زیادہ مجھے آپ سے تعلق نہیں رہا ہے ؛ وہ میرے چچا تھے، استاد تھے اور مرشد تھے۔
اب علی وجودی کو خوف نے اس کے اختیار سے باہر کر دیا تھا؛ وہ ایک دفعہ روتا ہوا حسین کے قدموں پر گرا اور چلایا: "رحم رحم!"
حسین: ہرگز نہیں! ہزار ہا پاک اور مقدس روحیں فریاد کر رہی ہیں جو یقیناً اب تمھاری نظر کے سامنے ہوں گی اور تمھیں چاروں طرف سے دھمکا رہی ہونگی۔

اور بے شک علی وجودی کی اس وقت یہی حالت تھی۔ وہ بار بار چاروں طرف گھبرا گھبرا کے دیکھتا تھا اور ہر طرف اسے کسی اپنے ہی مظلوم کی تصویر چھریوں اور خنجروں سے دھمکاتی نظر آتی تھی۔

عین اسی حالت میں جب کہ اُسے چاروں طرف چھریاں ہی چھریاں نظر آ رہی تھیں، حسین نے اپنا وہ خنجر کمر سے نکالا اور اس کی آنکھوں کے سامنے کر کے کہا: "یہی وہ خنجر ہے جو مجھے تم سے ملا تھا اور جو امام نجم الدین نیشا پوری اور امام نصر بن احمد کے سینوں میں خاص تمھارے حکم اور میرے ہاتھ سے تیر چکا ہے۔یہ خنجر آج تک باقی ہے اور صرف اسی لیے کہ تمھارے سینے میں خاص میرے ہاتھ سے اُتر جائے۔اسے اچھی طرح پہچان لو اور تیار ہو جاؤ کہ انتقام کا وقت آ گیا۔


یہ کلمات سن کے علی وجودی پھر کانپ گیا اور رو رو کے کہنے لگا: " مجھے نہ مارو، اب میں کبھی اس مذہب باطنیہ کی طرف داری نہ کروں گا۔"
حسین: مگر تمھارا یہ عہد میرے دامن سے وہ خون کے دھبے نہیں چھڑا سکتا جو تمھاری سیہ کاریوں سے لگے ہیں۔یہ کہہ کے حسین نے علی وجودی کو زمیں پر گرا دیا اور اس کے سینے پر چڑھ کے پھر اس کا خنجر اس کی آنکھوں کے سامنے پیش کیا اور کہا: "دیکھ لو اور خوب پہچان لو کہ یہ وہی تمھارا خنجر ہے۔"
درحقیقت علی وجودی کی موت بہت بری موت تھی۔اس وقت تمام گناہ طرح طرح کی بھیانک صورتوں کا جامہ پہن کے اس کی آنکھوں کے سامنے کھڑے تھے۔ وہ ہزار ہا مظلوم روحوں کو دیکھ رہا تھا جو خنجر دکھا دکھا کے اسے ڈرا اور دھمکا رہی تھیں۔اس نے ان تمام چیزوں سے گھبرا کے آنکھیں بند کر لیں اور حسین کو کہا: ‘ خدا کے لیے مجھے چھوڑ دے اور میری بے کسی پر ترس کھا!"
حسین: نہیں! جس کے دل میں خود ہی خدا کا خوف اور ترس نہیں، اس پر ترس آنا گناہ ہے۔
علی وجودی: تو کمبخت کہیں جلدی کام تمام کر؛ ان بلاؤں سے پیچھا چھُوٹے جو مجھے گھیرے ہوئے ہیں۔
حسین: میں فقط اتنے ہی کے لیے تامل کر ہا ہوں کہ تجھے موت کی نازک اور پر خطر گھڑی کا اچھی طرح مزا مل لے تو تیرا کام تمام کروں۔

اب علی وجودی بہت بے تاب تھا۔ حسین کے نیچے دبا ہوا تھا اور حسین اس کا دیا ہوا خنجر ا س کی آنکھوں کے سامنے پیش کر رہا تھا، جس کی ڈراؤنی صورت سے ڈر ڈر کے وہ اپنا منہ ادھر اُدھر ہٹا لیتا تھا اور کہتا تھا: " خدا کے لیے اس چیز کو میری نظروں کے سامنے سے دور کرو۔"

آخر بڑی دیر کے بعد جب حسین نے دیکھا کہ اب بہت دیر ہو گئی اور قریب قریب قلعے کی ساری رعایا قتل ہو گئی تو اس نے بھی خنجر بھونک بھونک کے اور آزار دے دے کر علی وجودی کا کام تمام کیا۔اپنے سب سے بڑے بہکانے والے سے یوں انتقام لے کے وہ پھر ہلاکو خاں کے قریب گیا۔ اب تاتاریوں کے قتل کرنے کے لیے کوئی شخص نہ ملتا تھا۔اتنے بڑ قتل عام کے بعد ان کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا اور وہ مجنونوں، کتوں یا وحشی درندوں کی طرح ادھر اُدھر دوڑتے پھرتے تھے کہ کوئی ملے تو اس کو قتل کر کے دل کا بخار نکالیں۔ سوائے چند خاص کم سن اور حسین عورتوں کے جو لونڈیاں بنانے کے لیے بچا لی گئی تھیں قلعہ التمونت میں کوئی شخص باقی نہیں رہا تھا۔
اب خود فرماں روائے التمونت رکن الدین خور شاہ کی جستجو تھی۔ لوگ دیر سے ڈھونڈھ رہے تھے اور کہیں پتا نہ لگتا تھا۔ آخر ایک تاتاری کسی تہ خانے میں گھس کے اسے پکڑ لایا۔جیسے ہی وہ ہلاکو خاں کے سامنے پیش ہوا اور تاتاری سالار فوج کے آگے سر جھکا کے کھڑا ہوا، حسین نے جھپٹ کے ارادہ کیا کہ اپنے خنجر سے اس کا کام بھی تمام کر دے، مگر ہلاکو خاں نے چلا کے روکا اور کئی مغلوں نے بڑھ کے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

ہلاکو خاں: یہ یہاں کا بادشاہ ہے اور بے کسی کی صورت بنا کے پناہ مانگتا ہوا ایا ہے، لہٰذا اسے کی جان بخشی کرنی چاہیے۔
حسین: حضور! اگر یہ بچ رہا تو دنیا میں بہت بڑا فتنہ رہ جائے گا۔یہ ساری سازشیں اور تمام خرابیاں اسی کی ذات سے تھیں۔
ہلاکو خاں: اب وہ سازش کرنے والے ہی نہیں رہے تو یہ کیا کر لے گا۔سب کیاد اور فریبی خاک و خون میں لوٹ رہے ہیں۔ یہ ایک نا تجربہ کار نوجوان دنیا کو ضرر نہیں پہنچا سکتا۔
حسین: ایسا نہیں ہے کہ کوئی معتقد نہ رہا ہو؛ مصر و شام سے لے کے سندھ تک اس کے معتقد ہر جگہ پھیلے ہوئی ہیں۔
ہلاکو خاں: میں ان مقامات میں بھی جاؤں گا اور اس کے معتقدین سے دنیا کو خالی کر دوں گا۔ مگر اس کے لیے یہی سزا کافی ہے کہ جلا وطن کر دیا جائے۔ اس کے بعد اس نے خور شاہ کی طرف دیکھ کے کہا: " بے شک تمھارا فتنہ بہت بڑا تھا، مگر اس بے کسانہ خموشی پر ترس کھا کے تمھاری جان بچائی جاتی ہے، مگر اس کے ساتھ حکم دیا جاتا ہے کہ ترکستان میں ، جہاں تم کو کوئی مرید و معتقد نہ مل سکے گا، جا کے اپنی زندگی کے باقی ماندہ دن بسر کرو، یہ جتنی عورتیں یہاں ہیں، ان میں سے کوئی تمھیں نہ دی جائے گی۔ممکن ہے اس کے ذریعے سے پھر تمھارا فساد دنیا کو فریب دینے لگے۔ ترکستان میں جا کے تم کو اختیار ہے کہ چاہنا تو کسی تاتاری لڑکی سے عقد کر لینا۔


اس حکم کے ساتھ ہی ایک مغلئی دستے نے اسے اپنی حراست میں لے لیا۔جس نے التمونت کے آخری تاجدار کو بحر حزر کے اس پار ترکستان کے کسی گم نام گاؤں میں پہنچا دیا۔ اور یہاں جب قلعہ آدمیوں سے خالی ہو گیا تو تاتاری لٹیرے دولت لوٹنے، محلوں کو کھودنے اور آگ لگانے میں مشغول ہو گئے۔محل اور جنت میں ہر جگہ آگ لگا دی گئی۔ وہ قصر اور کوشکیں کھود کھود کے زمین کے برابر کر دی گئیں اور باغ اور محل جو جنت بنے ہوئی تھے اور جنت ہی سمجھے جاتے تھے، محض مٹی اور اینٹوں کے ڈھیر رہ گئے اور تاتاریوں نے انھیں آناً فاناً ایسا کر دیا کہ نہ کوئی رہنے والا تھا اور نہ کوئی رونے والا۔

حسین اپنے دل کی آگ بجھا کے اور انتقام لے کے جب زمرد کے قریب گیا تو وہ نہایت ہی پریشان اور بدحواس تھی۔ وفا کیش معشوقہ کو اس قدر پریشان دیکھ کے اُس نے پوچھا: "زمرد! اب پریشانی کس بات کی؟‘
زمرد: (رونی آواز میں) اتنا قتل عام، ایس خون ریزی ہو چکی اور پوچھتے ہو پریشانی کس بات کی؟
حسین: ان ظالموں کی تباہی اپر خوش ہونا چاہیے یا غمگین؟
زمرد: تم خوش ہولو، جس کا دل خدا نے پتھر کا بنایا ہے۔ایسا وحشت ناک سماں دیکھنا کیا معنی، کبھی میر ے خیال میں بھی نہ گزرا تھا۔میں ایسی حالتوں کے دیکھنے کی عادی نہیں۔
حسین: خیر اب بتاؤ کی ارادہ ہے؟

شاہ زادی بلغان خاتون قریب کھڑی تھی، یہ جملہ سنتے ہی پاس آئی اور بولی: " ارادہ کیا! اب تم دونوں میرے ساتھ چلو۔زمرد کو اپنی بہن سے زیادہ عزیز رکھوں گی اور تم کو بھی کسی بات کی تکلیف نہ ہو گی۔"
زمرد: نہیں شا ہزادی! ہم دونوں نے بڑے بڑے گناہ کیے ہیں۔حج کا ارادہ کر کے گھر سے نکلے تھے، تقدیر نے ان مصیبتوں میں مبتلا کر دیا۔ اب ہمارا فرض ہے کہ پہلے حج کر لیں تو پھر اور کوئی کام کریں۔ اگر زندگی باقی ہے تو یہ فرض دا کر کے ہم دونوں وہیں قراقرم میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو جائیں گے۔ میں جب تک وہاں خاص خانۂ خدا میں اپنے لیے دعائے مغفرت نہ کروں گی، اس وقت تک یہ ندامت نہ مٹے گی جو ہر وقت دل میں موجود رہتی ہے اور کوئی وقت نہیں گزرتا کہ نہ ستاتی ہو۔
حسین: بے شک زمرد کا کہنا ٹھیک ہے۔میرا دل ہمیشہ مجھ پر لعنت کیا کرتا ہے ؛ شاید وہاں جا کے اور اس مقدس مقام میں دعا کر کے یہ بات دور ہو جائے۔
بلغان خاتون: کیوں کر کہوں، دل تو نہیں چاہتا کہ تم کو جدا کروں۔مگر اب تم کو اصرار ہے اور مکے جانے کو اپنا فرض سمجھتے ہو تو مجھے روکنا بے فائدہ معلوم ہوتا ہے۔لیکن میری ایک بات مان لو۔
زمرد: جو حکم ہو آپ کا ہر حکم بجا لانا ہمارا فرض ہے۔
بلغان خاتون: تم دونوں باہم عقد کرنے کی غرض سے گھر سے نکلے تھے ؛ میں چاہتی ہوں کہ جدا ہونے سے پہلے تم دونوں کا عقد کر دوں تاکہ وطن واپس جانے کے قبل ہی مجھے معلوم ہو جائے کہ تم دونوں میں باہمی اتفاق کی صورت پیدا ہو گئی ہے اور یہ بات یاد کر کے میں اپنا دل خوش کر لیا کروں کہ تمھاری آرزوئیں میرے ہی ہاتھ سے پوری ہوئیں۔

یہ ایسی درخواست نہ تھی جس سے کسی کو ان کار ہوتا، حسین نے تو صاف الفاظ میں رضامندی ظاہر کر دی، مگر زمرد مسکرائی اور ایک شرم کی آواز میں سر جھکا کے بولی: " اب میں آپ کی لونڈی ہوں اور جو حکم ہو اس سے ان کار نہیں کر سکتی۔"

دوسرے دن علی الصباح ہلاکو خاں نے فتح کی خوشی میں اور مال غنیمت تقسیم کرنے کے لیے بڑا بھاری جشن کیا، جس کے لیے فوج کے معزز افسروں کی ایک محفل مرتب کی گئی۔گزشتہ فتح پر بڑے جوش و خروش سے اظہار مسرت کیا گیا، اور اسی کامیاب و ظفر کی یادگار میں بلغان خاتون کی درخواست اور ہلاکو خاں کے حکم سے شیخ نصیر الدین طوسی سے محقق زمانہ اور علامۂ روزگار نے، جن کی تاتاریوں میں بڑی عزت، قدر و منزلت تھی اور جو اس موقع پر موجود تھے، حسین اور زمرد کا نکاح پڑھایا۔
اس کاروائی کے بعد سب آپس میں رخصت ہوئے۔بلغان خاتون نے اپنے ہمراہیوں کے ساتھ قراقرم کا راستہ لیا۔ ہلاکو خاں اپنی فوج ظفر موج کے ساتھ آذر بائیجان کی طرف کوچ کر گیا۔حسین اور زمرد پھر اسی شان سے جس طرح پہلے گھر سے نکلے تھے، ارض حجاز کی طرف روانہ ہوئے۔اور التمونت کے کھنڈروں اور ان کی تمام لاشوں پر صرف گدھوں اور مردار خوار طیور کے بڑے بڑے غول چھوڑ گئے۔

زمرد اور حسین نے مکہ معظمہ پہنچ کر اور غلاف کعبہ پکڑ کے نہایت ہی رقت قلب اور جوش دل سے مغفرت کی دعا مانگی کہ: " یا بار الٰہا! ہمیں تمام گناہوں سے نجات دے! اگرچہ ہم نے تیری نافرمانیاں کیں، تیرے مقبول بے گناہ بندوں کی جانیں لیں، مگر ایک بڑے فریب میں مبتلا تھے۔شیطان کا ہم پر اس قدر تصرف تھا کہ گناہوں کی برائیاں نظر میں نہ آتی تھیں۔ہم نے گناہ کیے مگر ثواب سمجھ کے، ہمارے قدم کو لغزشیں ہوئیں مگر ایک بڑے فریب میں مبتلا ہوکے۔تو عالم الغیب ہے، دلوں کی باتیں جانتا ہے ؛ ہماری بے کسی و بے بسی کو دیکھ اور ان سخت گناہوں سے درگزر!" اس طرح گناہوں کا دل سے زنگ مٹا کے واپس روانہ ہوئے۔چند روز اپنے وطن شہر آمل میں رہے اور باقی زندگی قراقرم میں جا کے شہزادی بلغان خاتون کی صحبت میں صرف کر دی۔


حواشی

حواشی: 1- منقو کو چغتائی خان کا بیٹا کہا گیا ہے۔منکو قا ان یا منگو،چنگیز خان کے چھوٹے بیٹے تولی خان کا فرزند ہے۔اور اوکتائی یا اغتائی یا اغدائی خلف چنگیز خان کے بعد خاقان بنا۔روضۃ الصفا جلد پنجم مطبوعہ نول کشور طبع چہارم 1905 ع ‌ میں‌منکو قا ان نام ملتا ہے اور یہ تولی (یا تولوئی) ابن چنگیز کا (جو چنگیز خان کا چھوٹا بیٹا تھا) بیٹا ہے۔کیوک خاں‌خلف اغتائی خان کے بعد جانشین مملکت چنگیز خان ہوا۔شرر کا یہ کہنا کہ منقو (منکو یا منگو )چغتائی کا بیٹا ہے ،درست نہیں۔

2۔تولی خان چنگیز خان کا چھوٹا بیٹا ہے اور منگو خان کا باپ ہے شرر کو تسامح ہوا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے:: روضۃ الصفا جلد پنجم مطبع نول کشور ص 41 تا 75۔ تاریخ اسلام جلد اول (عمدۃ الکلام فی تاریخ اساطین الاسلام)ص 105 از ذاکر حسین جعفر،مطبوعہ جے ،اینڈ سنز پرنٹنگ ورکس دہلی 1918ع۔ چنگیز خان از ہیرلڈ لیم مترجم عزیز احمد ناشر مکتبہ جدید ص 215 تا 219 تاتاریوں کی یلغار،ناشر غلام علی اینڈ سنز ص 88تا