اردو ویب ڈیجیٹل لائبریری
×

اطلاع

فی الحال کتابیں محض آن لائن پڑھنے کے لئے دستیاب ہیں. ڈاؤن لوڈ کے قابل کتابوں کی فارمیٹنگ کا کام جاری ہے.

Dard ki Neeli Ragein

درد کی نیلی رگیں


مصنف فرزانہ نیناں
تعداد الفاظ 10747
تعداد منفرد الفاظ 2580
مناظر 33826
ڈاؤنلوڈ 0
کبھی تم بھی ہم کو ہی سوچنا، رہا دل کہاں، کبھی کھوجنا ۔۔۔ فرزانہ نیناں

حمد

یا رب نفس نفس میں ہے پنہاں ترا پیام
دنیا کا ذرہ ذرہ کرے ورد تیر ا نام

تیرے ہی نور سے ہیں فروزاں مہ و نجوم
روشن ہے آفتاب، رخشاں مہِ تمام

سیراب سب ہوئے ترے زمزم کے فیض سے
لوٹا نہیں ہے در سے ترے کوئی تشنہ کام

مل جائے مجھ کو ایک ہی سجدہ نصیب سے
گھر میں ترے جہاں ہے براہیم کا مقام

کر لے قبول ساری دعائیں جو دل میں ہیں
نیناں یہاں سے جائے گی ہرگز نہ تشنہ کام


نعت

دل مرے ساتھ اب مدینے چل
چل گناہوں کے داغ دھونے چل

رات دن ہم جو کرتے رہتے ہیں
اُن خطاؤں پہ آج رونے چل

آپ کے روضۂ مقدس کا
کر طواف اور کونے کونے چل

آبِ زمزم کے پاک قطروں سے
اپنے اعمال کو بھی دھونے چل

خاکِ طیبہ بڑی مبارک ہے
اُس میں اپنی دعائیں بونے چل

بھر لے نیناں میں نور کے موتی
ان کو پلکوں میں پھر پرونے چل


غزلیں

غزل

درد کی نیلی رگیں یادوں میں جلنے کے سبب
ساری چیخیں روک لیتی ہیں سنبھلنے کے سبب

درد کی نیلی رگیں تو شور کرتی ہیں بہت
پیکرِ نازک میں اس دل کے مچلنے کے سبب

درد کی نیلی رگیں برفاب بستر میں پڑی
ٹوٹ جاتی ہیں ترے خوابوں میں چلنے کے سبب

درد کی نیلی رگیں عمروں کے نیلے پھیر کو
زرد کرتی جاتی ہیں صحرا میں پلنے کے سبب

درد کی نیلی رگیں ہاتھوں میں دوشیزاؤں کی
چوڑیاں تک توڑ دیتی ہیں بکھرنے کے سبب

درد کی نیلی رگیں ٹھنڈی ہوا سے اشک ریز
سر خ ہوتی رہتی ہیں آ نسو نگلنے کے سبب

درد کی نیلی رگیں نیناں سمندر بن گئیں
ہجر کی راتوں کا پہلا چاند ڈھلنے کے سبب


غزل

مثالِ برگ میں خود کو اڑانا چاہتی ہوں
ہوائے تند پہ مسکن بنانا چاہتی ہوں

وہ جن کی آنکھوں میں ہوتا ہے زندگی میں ملال
اسی قبیلے سے خود کو ملانا چاہتی ہوں

جہاں کے بند ہیں صدیوں سے مجھ پہ دروازے
میں ایک بار اسی گھر میں جانا چاہتی ہوں

ستم شعار کی چوکھٹ پہ عدل کی زنجیر
برائے داد رسی اب ہلانا چاہتی ہوں

نجانے کیسے گزاروں گی ہجر کی ساعت
گھڑی کو توڑ کے سب بھول جانا چاہتی ہوں

مسافتوں کو ملی منزلِ طلب نیناں
وفا کی راہ میں اپنا، ٹھکانہ چاہتی ہو ں


غزل

درد کی نیلی رگیں تہہ سے اُبھر آتی ہیں
یاد کے زخم میں چنگاریاں در آتی ہیں

روز پرچھائیاں یادوں کی پرندے بن کر
گھر کے پچھواڑے کے پیپل پہ اتر آتی ہیں

صورتیں بنتی ہیں چاہت کی یہ کس مٹی سی
بارہا مٹ کے بھی یہ بار دگر آتی ہیں

اودے اودے سے صفورے کی گھنی ٹہنیوں سی
یاد کی سر مئی کرنیں سی گز ر آتی ہیں

روز کھڑکی سے قریب آم کے اس پیڑ کے پاس
طوطیاں چونچ میں لے لے کے سحر آ تی ہیں


غزل

اک وراثت کی طرح گاؤں کی گڑ سی باتیں
گٹھڑیاں باندھ کے اس دل کے نگر آتی ہیں

جتنا بھی چاہوں درِ یار سے بچ کر نکلوں
تہمتیں اتنی زیادہ مرے سَر آتی ہیں

اتنی سی بات پہ اچھی نہیں شوریدہ سری
شام کو چڑیاں تو سب اپنے ہی گھر آتی ہیں

شرم سے الجھے دوپٹے کی جو کھولوں گر ہیں
دل کی نیناں رگیں سب کھلتی نظر آتی ہیں


غزل

روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا
روز سوچا ہے کہ تم میرے ہو!، میرے ہو نا!

میں تو اک کانچ کے دریا میں بہی جاتی ہوں
کھنکھناتے ہوئے ہمراز مجھے سن لو نا!

کان میں میں نے پہن لی ہے تمہاری آواز
اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا

میری خاموشی کو چپکے سے سجا دو آ کر
اک غزل تم بھی مرے نام کبھی لکھو نا!

روح میں گیت اتر جاتے ہیں جیسے خوشبو
گنگناتی سی کو ئی شام مجھے بھیجو نا!

چاندنی اوس کے قطروں میں سمٹ جائیگی
تیرگی صبح سویرے میں کہیں کھو دو نا!

پھر سے آنکھوں میں کوئی رنگ سجا لے نیناں
کب سے خوابوں کو یہاں بھول گئی تھی بونا


غزل

ترے خیال سے آنکھیں ملانے والی ہوں
نئے سروپ کا جادو جگانے والی ہوں

میں سینت سینت کے رکھے ہوئے لحافوں سے
تمہارے لمس کی گرمی چرانے والی ہوں

اُسے جو دھوپ لئے دل کے گاؤں میں اترا
رہٹ سے، چاہَ، کا پانی پلانے والی ہوں

کہو کہ چھاؤں مری خود سمیٹ لے آ کر
میں اب گھٹا کا پراندہ ہلانے والی ہوں

جہاں پہ آم کی گٹھلی دبی تھی بھوبھل میں
وہیں پہ اپنے دکھوں کو تپانے والی ہوں

اس اَلگنی پہ اکیلے لرزتے قطرے کو
بنا کے نیناں میں سرمہ لگانے والی ہوں


غزل

آدھی رات کے شاید سپنے جھوٹے تھے
یا پھر پہلی بار ستارے ٹوٹے تھے

جس دن گھر سے بھاگ کے شہر میں پہنچی تھی
بھاگ بھری کے بھاگ اُسی دن پھوٹے تھے

مذہب کی بنیاد پہ کیا تقسیم ہوئے
ہمسایوں نے ہمسائے ہی لوٹے تھے

شوخ نظر کی چٹکی نے نقصان کیا
ہاتھوں سے چائے کے برتن چھوٹے تھے

اوڑھ کے پھرتی تھی جو نیناں ساری رات
اُس ریشم کی شال پہ یاد کے بوٹے تھے


غزل

مرے خیال کے برعکس، وہ بھی کیسا ہے
میں چھاؤں چھاؤں سی لڑکی وہ دھوپ جیسا ہے

ہزار شور میں رہنے کے باوجود اس کا
وہ بات کرنے کا لہجہ کھنکتی لَے سا ہے

ہے تتلیوں کے پروں پر لکھا ہوا چہرہ
دریچہ کھول کے دیکھا تو رنگ ایسا ہے

تمہیں گلاب کے کھلنے کی کیا صدا آتی
تمہارے گرد تو ہر وقت صرف پیسا ہے

تپش سے جلنے لگی ہے نگاہ پانی میں
جو مینہ برستا ہے وہ بھی عجیب شے سا ہے

میں اپنے دل کی گواہی کو کیسے جھٹلاؤں
جو کہہ رہا ہے مرا دل، وہ بالکل ایسا ہے

یونہی نہیں تمہیں نیناں نے روشنی لکھّا
تمہارے ساتھ ہمارا یہ رشتہ طے سا ہے


غزل

آسماں کے رنگوں میں رنگ ہے شہابی سا
دھیان میں ہے پھر چہرہ ایک ماہتابی سا

منظروں نے کرنوں کا پیرہن جو پہنا ہے
میں نے اس کا رکھا ہے نام آفتابی سا

تم عجیب قا تل ہو، روح قتل کرتے ہو
داغتے ہو پھر ما تھا چاند کی رکابی سا

کون کہہ گیا ہے مو ت ٹوٹنے سے آتی ہے
گل نے تو بکھر کے باغ کر دیا گلا بی سا

پھر ہوا چلی شاید بھولے بسرے خوابوں کی
دل میں اٹھ رہا ہے کچھ شوق اضطرابی سا

تلخیوں نے پھر شا ید اک سوال دہرایا
گھل رہا ہے ہو نٹوں میں ذائقہ جو ابی سا

حرف پیار کے سارے آ گئے تھے آنکھوں میں
جب لیا تھا ہاتھوں میں چہرہ وہ کتابی سا

بوند بوند ہوتی ہے رنگ و نور کی برکھا
جب بھی موسم آیا ہے نیناں میں شرابی سا


غزل

جب بھی خوشبو سا مرے دل نے بکھرنا چاہا
رنگ پھولوں نے مرے خون میں بھرنا چاہا

راہ میں سوچ کی دیوار اٹھا دی اس نے
الجھنوں سے جو کبھی میں نے گزرنا چاہا

میری تقدیر سے وہ بابِ اثر بند ملا
جب دعاؤں کے پرندوں نے اترنا چاہا

چل دیا ساتھ ہی میرے تری یادوں کا ہجوم
راہ سے زیست کی تنہا جو گزرنا چاہا

جال پھیلا دئے کیا کیا مرے اندیشوں نے
جب بھی لمحات کی موجوں میں اترنا چاہا

بھیڑ پنگھٹ پہ چلی ساتھ مرے خوابوں کی
پیاسے نیناں کو وہاں جا کے جو بھرنا چاہا


غزل

کوئی بھی نہ دیوار پر سے پکارے
مگر ذہن یادوں کے اپلے اتارے

میں پلکیں بچھاتی رہوں گی ہوا پر
مجھے ہیں محبت کے آداب پیارے

قبیلے کے خنجر بھی لٹکے ہوئے ہیں
کھڑی ہیں جہاں لڑکیاں دل کو ہارے

پلٹ کر صدا کوئی آتی نہیں جب
مر ا دل کسی کو کہاں تک پکارے

بنایا ہے تنکوں سے اک آشیانہ
کھڑی ہوں ابھی تک اسی کے سہارے

بہت ذائقوں کو سمیٹے ہوئے تھے
یہ جذبوں کے جھرنے نہ میٹھے نہ کھارے

مسلسل مرے سا تھ چلتی رہی ہے
ہوا دھیرے دھیری، سمندر کنارے

لگاتار روتی ہے لہروں کی پائل
سدا جھیل میں ہیں شکاری، شکارے

کسک میں ہے نیناں بلا خیز سوزش
دہکتے ہیں سینے کے اندر شرارے


غزل

مرے قریب ہی گو زرد شال رکھی ہے
بدن پہ میں نے مگر برف ڈال رکھی ہے

سنائی دی وہی آواز سبز پتوں سے
کسی کی یاد ہوا نے سنبھال رکھی ہے

بھٹک بھٹک گئی سسی تھلوں کے ٹیلے پر
یہ گوٹھ پیار کی گو دیکھ بھا ل رکھی ہے

ہمارے دل پہ محبت کا وار اچانک تھا
رکھی ہی رہ گئی جس جا پہ ڈھال رکھی ہے

رہیں گے نام وہ پیڑوں پہ نقش صدیوں تک
چڑھا کے جن پہ بہاروں نے چھال رکھی ہے

کلائیوں میں کھنک کر رگوں کو کاٹا ہے
کہ چوڑیوں نے ستم کی بھی چال رکھی ہے

تلاش بستی میں کرتا ہے جس کو شہزادہ
وہ مورنی کسی جنگل نے پال رکھی ہے

میں تکتی رہتی ہوں اس سایہ دار برگد کو
گھنیری زلف کی اس میں مثال رکھی ہے

رہِ یقیں پہ قدم اٹھ نہیں سکا نیناں
گماں نے پاؤں میں زنجیر ڈال رکھی ہے


غزل

ہے ذرا سا سفر، گزارا کر
چند لمحے فقط گوارا کر

دھوپ میں نظم بادلوں پر لکھ
کوئی پرچھائیں استعارا کر

چھوئی موئی کی ایک پتی ہوں
دور ہی سے میرا نظارہ کر

آسمانوں سے روشنی جیسا
مجھ پہ الہام اک ستارا کر

پہلے دیکھا تھا جس محبت سے
اک نظر پھر وہی دوبارہ کر

کھو نہ جائے غبار میں نیناں
مجھ کو اے زندگی پکارا کر


غزل

شام کی گنگناہٹوں میں گم
ہوں عجب، سنسناہٹوں میں گم

دل کسی درد سے بھر آیا ہے
تھا تری مسکراہٹوں میں گم

بیتے لمحوں کا بوجھ ڈھو ڈھو کر
ہو گئی ہوں تھکاوٹوں میں گم

تیرا لہجہ تو روح کھینچتا ہے
جسم و جاں ہیں رکاوٹوں میں گم

آنکھ لائی تھی قرض بینائی
اب یہ ہے جگمگاہٹوں میں گم

چاندنی کھل کے رو نہیں سکتی
رات، دن کی لگاوٹوں میں گم

چہرے تو روشنی سے بنتے ہیں
آئینے ہیں بناوٹوں میں گم

میری پازیب رقص میں زخمی
بزم ہے جھنجھناہٹوں میں گم

آہ و نالہ کی تیز یورش میں
جسم ہے تھرتھراہٹوں میں گم

ہوں ابھی تیرے دل کے جنگل میں
گل رُتوں کی تراوٹوں میں گم

ہونٹ تک بات لا کے نیناں میں
کیوں ہوئی ہچکچاہٹوں میں گم


غزل

منزل کو رہگزر میں کبھی رکھ دیا کرو
اپنی طلب سفر میں کبھی رکھ دیا کرو

جن پر وصالِ یار کا طاری رہے نشہ
وہ حوصلے نہ ڈر میں کبھی رکھ دیا کرو

تاروں بھرے فلک سی، اڑانیں گری ہوئی
بے جاں شکستہ پر میں کبھی رکھ دیا کرو

ممکن ہے اس کو بھی کبھی لے آئے چاند رات
کچھ پھول سونے گھر میں کبھی رکھ دیا کرو

حالات میں پسی ہوئی مجبوریوں کو تم
احباب کی نظر میں کبھی رکھ دیا کرو

پیاسوں کے واسطے یہی نیناں بھرے بھرے
جلتے جھلستے، تھر میں کبھی رکھ دیا کرو


غزل

ہر سوال اب مرا شِکستہ ہے
وہ جواباً زبانِ بستہ ہے

روح مضبوط کیسے رکھوں میں
جسم میرا ازل سے خستہ ہے

زندگی کے ہزار رستے ہیں
میرے قدموں کا ایک رستہ ہے

سبق آگے کا میں پڑھوں کیسے
پاس میرے تو پہلا بستہ ہے

ہے بلند آدمی ذہانت سے
ذہنیت پست ہو تو پستہ ہے

اس کا تیار ہو گیا تختہ
چھین کر تخت جو نشستہ ہے

دردِ دل کا سبق کیا تھا حفظ
یاد نیناں وہ جستہ جستہ ہے


غزل

دھوپ گر نہ صحرا کے، راز کہہ گئی ہوتی
میں تو بہتے دریا کی ساتھ بہہ گئی ہوتی

اس طرح نہ پانی کے پاؤں تیز تیز اٹھتے
غرق ہونے کی افواہ تہہ میں رہ گئی ہوتی

چاند ٹوٹ جائے گا، کانچ کے سمندر میں
کاش میں بھی پونم کی شب میں گہہ گئی ہوتی

دل سے کھیلنے والا، کیوں پڑوس سے جاتا
چار دِن سلوک اس کا، اور سہہ گئی ہوتی

کوئی چہرہ نیناں میں روشنی جلا دیتا
بات یہ ہماری تا مہر و مہ گئی ہوتی


غزل

بہت آسان تھا اس کی محبت کو دعا کرنا
بہت مشکل ہے بندے کو مگر اپنا خدا کرنا

کہاں تک کھینچنا دیوار پر سادہ لکیروں کو
تمہاری یاد میں کب تک انھیں بیٹھے گنا کرنا

نجانے کس لیئے سیکھا طریقہ یہ ہواؤں نے
مرے کمرے میں سناٹے زبردستی بھرا کرنا

لہو کی طرح رگ رگ میں جو پیہم درد بہتا ہے
زمیں کی تہہ میں لے جائے تو کیا اس کا گلہ کرنا

محبت کرنے والوں کی کہانی بس یہی تو ہے
کبھی نیناں میں بھر جانا کبھی دل میں رچا کرنا

حقیقی داستانوں کا فسانہ بھی کوئی لکھے
محبت کرنے والوں کے لئے نیناں دعا کرنا


غزل

دشمنِ جاں کوئی مہمان بناتی ہوں میں
آج فرزانہ کو نادان بناتی ہوں میں

بخش دیتی ہوں مناظر کو رو پہلا ریشم
جسم کو چاندنی کا تھان بناتی ہوں میں

جان رکھ دیتی ہوں طوطے کے بدن میں اپنی
اور طوطے کو بھی بے جان بناتی ہوں میں

رشتہ طے کرتی ہوں گڑیا کا پڑوسن کے گھر
سارا شادی کا بھی سامان بناتی ہوں میں

شام ڈھلنے سے مجھے دیکھ سحر ہونے تک
کیسے امید کو ارمان بناتی ہوں میں

جانے کس دھن میں سجا کر یہ کرن سا پیکر
خود کو آئینے سے انجان بناتی ہوں میں

یہ کسے دل کی سرائے میں بسا کر نیناں
اس کو اپنے لئے سنسان بناتی ہوں میں


غزل

خواہشیں ہوش کھوئے جاتی ہیں
درد کے بیچ بوئے جاتی ہیں

انگلیوں سے لہو ٹپکنے لگا
پھر بھی کلیاں پروئے جاتی ہیں

کیسا نشہ ہے سرخ پھولوں میں
تتلیاں ان پہ سوئے جاتی ہیں

کتنی پیا ری ہیں چاندنی راتیں
تم کو دل میں سموئے جاتی ہیں

چوڑیاں بھولے بسرے بچپن کی
کیسی ٹیسیں چبھوئے جاتی ہیں

کچھ بھی اس نے کہا نہیں لیکن
آنکھیں ہر لمحہ روئے جا تی ہیں

وقتِ رخصت خوشی کی بوندیں کیوں
میرا گھونگھٹ بھِگوئے جاتی ہیں

دھوپ سے میں نے بھر دیا آنگن
بارشیں پھر بھی ہوئے جاتی ہیں

میرے نیناں کو حسرتیں میری
آنسوؤں میں ڈبوئے جا تی ہیں


غزل

رتجگے کرتی ہوئی پاگل ہوا کچھ ٹھہر جا
میں جلا لوں پیار کی مشعل ہوا کچھ ٹھہر جا

دستکوں کو ہاتھ تک جانے کا موقعہ دے ذرا
چلمنوں میں جھانکتی بیکل ہوا کچھ ٹھہر جا

آرزو کے کچھ ستارے اور ٹانکوں گی ابھی
میرا چھوٹا پڑ گیا آنچل ہوا کچھ ٹھہر جا

توڑ دیتی ہیں چٹانیں الفتو ں کی نرمیاں
تند خوئی چھوڑ، بن کومل ہوا کچھ ٹھہر جا

کچے خوابوں کے گھروندوں کو ذرا پکنے تو دے
ہو چکیں اٹھکیلیاں چنچل ہوا کچھ ٹھہر جا

پیار کا ساون کبھی برسات سے پہلے بھی لا
دیکھ کتنے پیڑ ہیں گھائل ہوا کچھ ٹھہر جا

روٹھے نیناں مان جائیں کچھ جتن اس کا بھی کر
ہلکے ہلکے آ کے پنکھا جھل، ہوا کچھ ٹھہر جا


غزل

اس کو احساس کی خوشبو سے رہا کرنا تھا
پھول کو شاخ سے کھلتے ہی جدا کرنا تھا

پوچھ بارش سے وہ ہنستے ہوئے روتی کیوں ہے
شامِ گلشن کو نشہ بار ذرا کرنا تھا

تلخ لمحات نہیں دیتے کبھی پیاسوں کو
آسر ا دے کے ہمیں کچھ تو بھلا کرنا تھا

چاند پورا تھا اسے تکتے رہے یوں شب بھر
اپنی یادوں کا ہمیں زخم ہرا کر نا تھا

دونوں سمتوں کو ہی مڑنا تھا مخالف جانب
ساتھ اپنا ہمیں شعروں میں لکھا کرنا تھا

کرب سے آئی ہے نیناں میں یہ نیلاہٹ بھی
ضبطِ غم کا ہمیں کچھ فرض ادا کرنا تھا


غزل

تتلیاں ہی تتلیاں ہیں تم جو میرے سات ہو
دلنشیں موسم ہے جیسے دھوپ میں برسات ہو

ہے یہی بوندوں کی کوشش میری کھڑکی توڑ دیں
جس طرح ہو درد میرا، اور ان کی گھات ہو

کیوں تذبذب میں رہو، اپناؤ یا پھر چھوڑ دو
کیفیت جیسی بھی ہو، آؤ اس پر بات ہو

یوں دھندلکے میں ہوا محسوس، میرے ہاتھ کو
اتفاقاً چھو گیا جو وہ تمہارا ہات ہو

پھر سروتے نے سپاری، ٹکڑے ٹکڑے کاٹ کر
پان میں رکھ دی ہے جیسے کوئی رسمی بات ہو

جیت سکتی ہوں میں آسانی سے بازی پیار کی
میرے دل کو ضد ہے لیکن، ہار جاؤں، مات ہو

دن کے روشن دان سے، جھانکے اجالا گرم گرم
تیل بھی کم ہو دیئے میں اور ٹھنڈی رات ہو

کھینچ لاتا ہے کوئی چہرہ بھی نیناں میں دھنک
کیوں مرتب پھر نہ رنگوں کی یہاں بہتات ہو


غزل

ہوا کے شور کو رکھنا اسیر جنگل میں
میں سن رہی ہوں قلم کی صریر جنگل میں

ہتھیلیوں پہ ہوا سنسناتی پھرتی ہے
میں اس کی چاہَ کی ڈھونڈوں لکیر جنگل میں

خیال رکھنا ہے پیڑوں کا خشک سالی میں
نکالنی ہے مجھے جوئے شیر جنگل میں

دیارِ جاں میں پھرے رات دندناتی ہوئے
ادھر ہے قید سحر کا سفیر جنگل میں

عجیب لوگ ہیں دل کے شکار پر نکلی
کمان شہر میں رکھتے ہیں تیر جنگل میں

طلب کے شہر میں تھا جو سدا قیام پذیر
سنا ہے رہتا ہے اب وہ فقیر جنگل میں

کبھی جو چھو کے گزر جائے نرم سا جھونکا
یہ زلف لے کر اڑائے شریر جنگل میں

بڑے سکون سے رہتے ہیں لوگ بستی کی
رکھی ہے دشت میں غیرت، ضمیر جنگل میں

ہوا میں آج بھی روتی ہے بانسری نیناں
اداس پھرتی ہے صدیوں سے ہیر جنگل میں


غزل

صبح کے روپ میں جب دیکھنے جاتی ہوں اسے
شیشے کی ایک کرن بن کے جگاتی ہوں اسے

بال کھولے ہوئے پھرتی ہوں کسی خواب کے ساتھ
شام کو روز ہی، روتی ہوں، رُلاتی ہوں اسے

یاد میر ی بھی پڑی رہتی ہے تکیے کے تلے
آخری خط کی طرح روز جلاتی ہوں اسے

راہ میں اس کی بچھا دیتی ہوں ٹوٹی چوڑی
چبھ کے کانٹے کی طرح روز ستاتی ہوں اسی

بھولے بسرے کسی لمحے کی مہکتی خوشبو
گوندھ کر اپنے پراندے میں جھلاتی ہوں اسے


غزل

تخلیق کا عمل اسے سچی خوشی لگا
عورت کو کربِ ذات نئی زندگی لگا

لگتا ہے مجھ کو میں کسی مردہ بدن میں تھی
جینے کا حوصلہ جو ملا اجنبی لگا

آتی ہوئی رتوں کی اچانک خبر ملی
جب رنگ ڈھالنے کوئی تازہ کلی لگا

سپنے میں کیا لکھا ہے یہ تو نے نگارِ شب
وہ چاند کی مثال مجھے چاند ہی لگا

اک جھیل میں کنول پہ وہ محوِ خرام خواب
آنکھوں کے پانیوں کی مجھے شاعری لگا

خوشبو سے جس کی رہتی ہوں سرشار و دم بخود
پیکر مرا اسی کو بہت کامنی لگا

نیناں، اڑی جو نیند، تو اک جاں فزا خیال
خوشبو لگا بہار لگا روشنی لگا


غزل

ان بادلوں میں روشن چہرہ ٹھہر گیا ہے
میری نظر میں کوئی جلوہ ٹھہر گیا ہے

اشکوں کے پانیوں میں اترا کسی کا چہرہ
بہتا ہوا اچانک دریا ٹھہر گیا ہے

آنکھوں کی سیپیاں تو خالی پڑی ہوئی ہیں
پلکوں پہ میری کیسے قطرہ ٹھہر گیا ہے

جس نے مجھے چھوا تھا، نشتر تھا وہ ہوا کا
زخم ایک میرے دل میں گہرا ٹھہر گیا ہے

نیلی رتوں میں کوئی آ کر ملا تھا شاید
اک زہر سا رگوں میں جس کا ٹھہر گیا ہے

کیسا عجب سفر ہے د ل کی مسافتوں کا
میں چل رہی ہوں لیکن رستہ ٹھہر گیا ہے

گردش رکی ہوئی ہے میرے لہو کی نیناں
یا وقت کا کہیں پر پہیہ ٹھہر گیا ہے


غزل

بے روح لڑکیوں کا ٹھکانہ بنا ہوا
کمرہ ہے میرا آئینہ خانہ بنا ہوا

میں نے تو کوئی بات، کسی سے نہیں کہی
سوچا ہے جو وہی ہے فسانہ بنا ہوا

ندیا میں کس نے رکھ دیئے جلتے ہوئے چراغ
موسم ہے چشمِ تر کا سہانا بنا ہوا

عورت کا ذہن مرد کی اس کائنات میں
اب تک ہے الجھنوں کا نشانہ بنا ہوا

ممکن ہے مار دے مجھے، اس کی کوئی خبر
دشمن ہے جس کا، میرا گھرانہ بنا ہوا

بارش کی آگ ہے مرے اندر لگی ہوئی
بادل ہے آنسوؤں کا بہانہ بنا ہوا

نیناں کئی برس سے ہوا کی ہوں ہم نفس
ہے یہ بدن اُسی کا خزانہ بنا ہوا


غزل

خوبصورت جنتوں میں سانپ چھوڑے رات بھر
مسکراتی ساعتوں کے لیکھ پھوڑے رات بھر

شمع کی لو ہے کہ ہے یہ آتشِ ہجراں کی آنچ
ہم پگھلتے جا رہے ہیں تھوڑے تھوڑے رات بھر

میں نے دل کی ریت پر اشکوں سے لکھی یہ غزل
اور دریاؤں کے رخ پلکوں سے موڑے رات بھر

ریشمی یادوں کے گچھے کھل رہے ہیں دم بہ دم
بھیگے بھیگے چاند سے موتی نچوڑے رات بھر

دیکھتا رہتا ہے وہ نیناں لئے اب دم بخود
توڑنے والے کے میں نے خواب جوڑے رات بھر


غزل

سہیلی خبر کچھ نہیں میں کہاں ہوں
میں ہیرا کہ موتی، نہاں ہوں، عیاں ہوں

میں نس نس میں ٹکرائی ہوں خواہشوں سے
میں گرتا ہوا ایک خالی مکاں ہوں

ہواؤں میں اُڑتی ہوئی ریت ہے وہ
میں بکھری ہوئی پھول کی پتیاں ہوں

بہت خوبصورت ہوئی میری دنیا
جہاں تم ہو آباد میں بھی وہاں ہوں

اٹھاتے نہیں اب تو بچے بھی ان کو
میں ساحل پہ بکھری ہوئی سیپیاں ہوں

کھڑی ہوں ابھی تک مقابل ہوا کے
بڑی مضمحل ہوں، بڑی سخت جاں ہوں

ستاروں سے آنکھیں بھری جا رہی ہیں
تمہی نے کہا تھا کہ میں کہکشاں ہوں

انگوٹھی مری آپ چلتی ہے نیناں
میں خود سے یہ گڑوی بجاتی کہاں ہوں


غزل

بسی ہے یاد کوئی آ کے میرے کاجل میں
لپٹ گیا ہے ادھورا خیال آنچل میں

میں ایک سیپ ابھی مجھ کو تہہ میں رہنے دو
گہر بنا نہیں کرتے ہیں ایک دو پل میں

اسی چراغ کی لو سے یہ دل دھڑکتا ہے
جلائے رکھتی ہوں جس کو شبِ مسلسل میں

ٹپک رہے ہیں در و بام سے مرے آنسو
چھپے ہوئے تھے ابھی تک وہ جیسے بادل میں

میں زندگی کے لئے پھول چننا چاہتی ہوں
کہیں اداس نہ ہو وہ، خزاں زدہ کل میں

خزاں کا دور ہے لیکن کسی کی چاہت سے
دھڑک رہی ہے بہار ایک ایک کونپل میں

جو تتلیوں کی طرح سوگوار ہے نیناں
اکیلی گھومتی ہے زندگی کے جنگل میں


غزل

بام و در ہیں ترے اشکوں سے فروزاں نیناں
گھر میں اچھا نہیں اس درجہ چراغاں نیناں

کوئی بادل تو برستا رہا مجھ پر لیکن
دل ابھی تک ہے اسی طرح بیاباں نیناں

میری ہر صبح ہوئی ایک مسلسل ماتم
میری ہر شام ہوئی شام غریباں نیناں

اب مسلسل ترے کوچے میں جھڑی رہنی ہے
یاد کے ابر ہوئے ہیں ترے مہماں نیناں

چاند رکھا ہے کہیں، دھوپ کہیں رکھی ہے
رہ گیا یہ مرے گھر میں ترا ساماں نیناں

اپنے چہرے پہ کوئی وصل کا افسوں لکھ لے
حرف جیسے ہوں پرستان کی پریاں نیناں

اپنے چھالوں پہ لگا لے کوئی تازہ نشتر
اب تو اس درد کا کر لے کوئی درماں نیناں

کہ دے پائل کی چھنا چھن سے ذرا تھم جائے
کیونکہ جنگل میں کئی مور ہیں رقصاں، نیناں

چونکتی رہتی ہوں اکثر میں اکیلی گھر میں
کوئی تو ہے جو صدا دیتا ہے، نیناں نیناں


غزل

میں چھوٹی سی لڑکی بہت ہی بڑی ہوں
کہ ہر جنگ اپنی ا کیلی لڑی ہوں

بدن کی چٹانوں پہ کائی جمی ہے
کہ صدیوں سے ساحل پہ تنہا کھڑی ہوں

ہوا کے ورق پر لکھی اک غزل تھی
خزاں آئی تو شاخ سے گر پڑی ہوں

ملی ہیں مجھے لحظہ لحظہ کی خبریں
کسی کی کلا ئی کی شاید گھڑی ہوں

ہے لبریز دل انتظاروں سے میرا
میں کتبے کی صورت گلی میں گڑی ہوں

خلا سے مجھے آ رہی ہیں صدائیں
مگر میں تو پچھلی صدی میں جڑی ہوں

میں اک گوشۂ عافیت سے نکل کر
وہ پگلی ہوں، دنیا سے پھر لڑ پڑی ہوں

وہ کرتا ہے نیناں میں بسنے کی باتیں
مگر میں تو اپنی ہی ضد میں پڑی ہوں


غزل

مسلسل زلزلے ہیں چشمِ نم میں
قیامت کروٹیں لیتی ہے غم میں

عقیدوں کے پہن کر پاک چھلّے
بھٹکتی پھر رہی ہوں میں حرم میں

سفر تھوڑا بھی ہم طے کر نہ پائے
ذرا سا فاصلہ تھا تم میں ہم میں

مرے گھر سے تری دہلیز تک تو
بجی تھیں پائلیں ہر ہر قدم میں

ابھی تک یاد ہے اس کی وجاہت
ملا تھا جو مجھے پچھلے جنم میں

ٹھٹھک جاتی ہوں اکثر لکھتے لکھتے
ابھر آتے ہیں دو نینا ں قلم میں


غزل

روشنی سے شبیں چراتی ہوں
روز دکھ کے دئیے جلاتی ہوں

چاند چاہت کے لکھتی رہتی ہوں
خواہشیں لفظ سے بناتی ہوں

پاؤں دھرتی سے کھینچ لیتی ہوں
تارے آکاش سے بلاتی ہوں

عشق ہے شکوہ سنج ویسے بھی
میں کہاں تم کو آزماتی ہوں

پاگلوں کی طرح نہیں روتی
کھل کے آنسو مگر بہاتی ہوں

بات رہ جاتی ہے ادھوری سی
اس کے لہجے میں ڈوب جاتی ہوں

دھیرے دھیرے اترتی ہیں یادیں
دھیرے دھیرے مکاں سجاتی ہوں

گہری گہری سی کالی آنکھوں میں
اجلے سپنوں کو میں چھپاتی ہوں

جاگنے والے چاند کو نیناں
دور سے لوریاں سناتی ہوں


غزل

کوئی سرگوشیوں سے کیوں بولے
میری خاموشیوں سے کیوں بولے

میں خزاں رنگ ہوں ہمیشہ سے
جسم خوش پوشیوں سے کیوں بولے

در و دیوار تم بھی چپ رہتے
مصلحت کوشیوں سے کیوں بولے

سب کو یہ فکر ہے سرِ محفل
دل طرب جوشیوں سے کیوں بولے

سونا اپنی جگہ پہ سونا ہے
کھوٹ، زر پوشیوں سے کیوں بولے

ہے یہ بہتر حواس کھو جائیں
نیناں مدہوشیوں سے کیوں بولے


غزل

چٹانوں سے وہ ٹکر ا کر، گری ہے آبشاروں میں
رہی ندیا مگر قیدی ہمیشہ دو کناروں میں

کھلی ہے کاغذی پھولوں کی شادابی درختوں پر
چھپی ہے میرے اندر کی خزاں فرضی بہاروں میں

کہیں بھیگے ہوئے جھونکے کلی کو چوم جاتے ہیں
کہیں بپھری ہوئی پاگل ہوا ہے آبشاروں میں

کبھی ہم نیل کے پانی میں اس انداز سے ڈولیں
کہ اپنی داستاں لکھ دیں اُسی دجلہ کے دھاروں میں

مجھے قوموں کی ہجرت کیوں تعجب خیز لگتی ہے
یہ کونجیں کس قدر لمبے سفر کرتی ہیں ڈاروں میں

مری چشمِ تمنا میں تری صورت اتر آئی
دکھائی دے رہا ہے چاند اشکوں کے ستاروں میں

حویلی کا سماں وہ ہے، نہ وہ پہلی کہانی ہے
نہ دلہن پر وہ جوبن ہے نہ جھلمل ہے غراروں میں

مجھے بھیگی سڑک پر چلتے چلتے یونہی یاد آیا
یہ بوندیں سنسنائی تھیں کبھی خوابی نظاروں میں

بدن کی پالکی کب تک اٹھائیں گے مرے کاندھے
اٹھے گا بوجھ یہ اک دن، کبھی بٹ کر کہاروں میں

بلا کی چاندنی بکھری ہوئی ہے ہر طرف نیناں
سہیلی چل بِرہ کے گیت گائیں، سبزہ زاروں میں


غزل

زلف کو صندلی جھونکا جو کبھی کھولے گا
جسم ٹوٹے ہوئے پتے کی طرح ڈولے گا

بادشاہوں کی طرح دل پہ حکومت کر کے
وہ مجھے تاش کے پتوں کی طرح رولے گا

جنبش لب سے بھی ہوتا ہے عیاں سب مطلب
وہ مری بات ترازو میں مگر تولے گا

کسی برگد کی گھنی شاخ سے دل کا پنچھی
میری تنہا ئی کو دیکھے گا تو کچھ بولے گا

چاند پونم کا سرکتی ہوئی ناگن کی طرح
نیلگوں زہر مرے خون میں آ گھولے گا

اڑ گیا سوچ کا پنچھی بھی وہاں سے نیناں
کوئی سنسان بنیرے پہ نہیں بولے گا


غزل

سب اختیار اس کاہے، کم اختیار میں
شاید اسی لئے ہوئی، بے اعتبار میں

پھرتی ہے مرے گھر میں اماوس کی سرد رات
دالان میں کھڑی ہوں بہت بے قرار میں

تھل سے کسی کا اونٹ سلامت گزر گیا
راہِ وفا میں رہ گئی مثلِ غبار میں

انگلی میں رہ گئی ہے انگوٹھی گھِسی ہوئی
لاؤں کہاں سے اب وہی نقش و نگار میں

جی چاہتا ہے رات کے بھرپور جسم سے
وحشت سمیٹ لوں تری دیوانہ وار میں

پارس نے دفعتاً مجھے سونا بنا دیا
قسمت سے آج ہو گئی سرمایہ دار میں

نیلے سمندروں کا نشہ بڑھ نہ جائے گا
موتی نکال لاؤں اگر بے شمار میں

میں ضبطِ غم کی آخری حد تک گئی مگر
ہر شخص کی نگاہ میں ہوں سوگوار میں

نیناں مجھے بھی دیکھ رتیں اوڑھ اوڑھ کر
قو سِ قزح کبھی ہوں کبھی اشک بار میں


غزل

اُس نے نرم کلیوں کو روند روند پاؤں سے
تازگی بہاروں کی چھین لی اداؤں سے

بھیج اپنے لہجے کی نرم گر م کچھ تپش
برف کب پگھلتی ہے، چاند کی شعاعوں سے

پاؤں میں خیالوں کے، راستے بچھائے ہیں
آج ہی چرانے ہیں، پھول اس کے گاؤں سے

دور دور رہتی ہے ایک غمزدہ لڑکی
ہجر توں کی راہوں سے، وصل کی سراؤں سے

تیرے جسم کی خوشبو، شام کی اداسی میں
موتیے کے پھولوں نے چھین لی ہواؤں سے

پیار کی کہانی میں سچ اگر ملے نیناں
عمر باندھ لیتی ہیں لڑکیاں وفاؤں سے


غزل

نرم گرم شاموں کو بھول بھول جاتی ہوں
دل پہ لکھے نامو ں کو بھول بھول جاتی ہوں

بھیجنے کسی کو ہو ں پھول، کارڈ، تصویریں
میں ضروری کاموں کو بھول بھول جاتی ہوں

روشنی ہو، رعنائی، رنگ ہو کہ خوشبو ہو
سب حسیں مقاموں کو بھول بھول جاتی ہوں

صاف استعاروں کو، مستند اشاروں کو
پیار کے سلاموں کو بھول بھول جاتی ہوں

سیب اور چیری تو روز لے کے آتی ہوں
اپنے سندھڑی آموں کو بھول بھول جاتی ہوں

دل کے راستے آ کر بس گئے ہیں نیناں میں
اَن گِنت پیاموں کو بھول بھول جاتی ہوں


غزل

چھلکا چھلکا رہتا ہے، درد سے بھرا ساون
پیار کے لئے لمحہ، بھول جانے کو جیون

خوش جمال نے کیسی، آگ میں جلا یا ہے
میں تو جیسے بھٹی میں، تپ کے ہو گئی کندن

جو چھپا ہے زلفوں کی کالی کالی بدلی میں
ڈس نہ لے کہیں اس کو پاس جا کے یہ ناگن

دھل گئی دھنک ساری بارشوں کی جھڑیوں میں
جھلملا گیا تیرے روپ انوپ کا آنگن

رات دن سویروں سا خواب جلتا رہتا ہے
شام رنگ جنگل میں، میں ہوں اور مرا ساجن

آ بھی جا کہ پانی پر پھر شکارے بہتے ہیں
مانجھی گیت گاتے ہیں سوگوار ہے برہن

آئینے میں اک چہرہ با ت کر نے آتا ہے
دیکھنے کو بیٹھی ہوں بن سنور کے جب درپن

ہو چکے ہیں بوسیدہ نرم سانس کے ڈورے
اب بکھرنے والی ہے جو پروئی تھی دھڑکن

رات بھیگتی ہے جب آرزو کے ڈیرے پر
کیسی کھنکھناتی ہے تیر ی یاد کی جھانجھن

روح کے دریچوں میں ہجر بس گیا جب سے
آ کے لے گیا پیتم، مجھ سے میرا تن من دھن

درد کی حویلی میں چاندنی کہاں نیناں
اب یہاں اندھیرا ہے، بند ہیں سبھی روزن


غزل

مرے گھر میں محبت خوبصورت شام آنے دے
سنہری ریت کے صحراؤں کا پیغام آنے دے

طواف اس پر بھی تو واجب ہے نیناں کعبۂ دل کا
ٹھہر جا تو اسے بھی اس طرف دو گام آنے دے


غزل

وہ مور پنکھ سے ہر زخم جھلنے جائے گا
سلگتی آگ سے زندہ نکلنے جائے گا

رکی رکی ہے پتنگوں کی سانس آج کی رات
تھرکتی شمع پہ اب کون، جلنے جائے گا

دلوں کے سب در و دیوار توڑ کر یہ وقت
محل کو اور کھنڈر میں بدلنے جائے گا

خزاں جب آئے گی، تو پھول پھول کا جوبن
کہاں بہار کے سانچے میں ڈھلنے جائے گا

ہمیں کو آگ لگا کے، چلا گیا ہے کہیں
کہا تھا جس نے مرے ساتھ جلنے جائے گا

تمام چاند ستاروں کے دن معین ہیں
اندھیرا ان کو بھی آخر نگلنے جائے گا

بہت دنوں سے یہ آنسو رکے تھے نیناں میں
سمندر آج، نگینے اگلنے جائے گا


غزل

ابر بھی جھیل پر برستا ہے
کھیت اک بوند کو ترستا ہے

درد سہہ کر بھی ملتی ہے تسکین
وہ شکنجہ کچھ ایسے کستا ہے

اس کی مرضی پہ ہے عروج و زوال
بخت ساز آسماں پہ بستا ہے

احتیاطاً ذرا سا دور رہیں
اب تو ہر ایک شخص ڈستا ہے

ہم بھی جوہر شناس ہیں جاناں
دل کا سودا بھی کوئی سستا ہے

ریت بن کر بکھر گئے نیناں
میری آہوں سے تھل جھلستا ہے


غزل

پاس منزل کے پہنچ کر کوئی موڑا نہ کرے
آدھے رستے میں ہمیشہ مجھے چھوڑا نہ کرے

بھیک کی طرح وہ دیتا ہے رفاقت مجھ کو
اتنا احسان میری جان پہ تھوڑا نہ کرے

ٹوٹ کر چور اگر ہو گئی جڑنے کی نہیں
کوئی طعنوں سے انا کو مری پھوڑا نہ کرے

وہ حفاظت نہیں کرتا، نہ کرے، رہنے دو
زخم سے میرے، مرا درد نچوڑا نہ کرے

برف لمحات میں، تنہائی سے ڈر لگتا ہے
سرد لمحوں کو، مری ذات میں جوڑا نہ کرے

چوڑیاں کر نہیں سکتی ہیں تشدد برداشت
جاتے جاتے وہ کلائی کو مروڑا نہ کرے

میں تیاگ آئی ہوں جس کے لیئے سب کو نیناں
کم سے کم وہ تو مرے مان کو توڑا نہ کرے


غزل

اپنی صدا سے اپنی شناسائی کھو گئی
تنہائیوں کے شور میں تنہائی کھو گئی

سینے میں گھٹ رہی ہے محبت کی سانس سانس
چلتی تھی میرے گھر میں جو پروائی کھو گئی

بارات دیکھ کر کسی گھبرو کی رات کو
سسکاریوں کے شور میں شہنائی کھو گئی

دریافت آسمان کی بھائی نہیں ہمیں
سیارے دیکھتے ہوئے بینائی کھو گئی

افسانہ بن گئے مری تاریخ کے ورق
اسلاف کے ہنر کی پذیرائی کھو گئی

چھائی ہوئی ہے دھند نگاہوں کے سامنے
نیناں ان آئینوں کی بھی زیبائی کھو گئی


غزل

ملے گی میری بھی کوئی نشانی چیزوں میں
پڑی ہوئی ہوں کہیں میں پرانی چیزوں میں

مرے وجود سے قائم ہیں بام و در میری
سمٹ رہی ہے مری لامکانی چیزوں میں

لپک رہا ہے میری سمت نقرئی بازار
مچل رہی ہے کوئی شادمانی چیزوں میں

یہ خوشنما ئی لہو کے عوض خریدی ہے
گھلا ہوا ہے نگاہوں کا پانی چیزوں میں

بہشت سے ہی میں آئی زمین پر لیکن
شمار میرا نہیں آسمانی چیزوں میں

یہ جانتے ہوئے کوئی وفا شناس نہیں
بسر ہوئی ہے مری زندگانی چیزوں میں

وہ اور ہوتی ہیں جو ٹوٹتی نہیں شاید
لکھا گیا ہے مجھے آنی جانی چیزوں میں

پھر آیا بھولا ہوا خواب، رات میں نیناں
لکھی ہوئی تھی پرانی، کہانی چیزوں میں


غزل

زخم یادوں کے نہیں مٹتے ہیں آسانی سے
داغ دھلتے ہیں کہاں بہتے ہوئے پانی سے

دیکھتی جاتی ہوں میلے کا تماشہ چپ چاپ
کیا پتہ بول پڑے آنکھ ہی ویرانی سے

روشنی کا یہ خزانہ مری آنکھیں ہی نہ ہوں
شمع تو میں نے بجھا دی ہے پریشانی سے

میرے چہرے میں جھلکتا ہے کسی اور کا عکس
آئنہ دیکھ رہا ہے مجھے حیرانی سے

باندھ لی میں نے دعا رختِ سفر میں نیناں
ڈر جو لگتا ہے مجھے بے سرو سامانی سے


غزل

خوشیوں پہ وبالوں کا گماں ہونے لگا ہے
جانسوز خیالوں کا گماں ہونے لگا ہے

ڈرتی ہوں کہ آنسو نہ جوابوں میں امڈ آئیں
آنکھوں میں سوالوں کا گماں ہونے لگا ہے

ان اونچی اڑانوں سے معلق ہوں فضا میں
پھر مجھ کو زوالوں کا گماں ہونے لگا ہے

اک روز گزرتا ہے کچھ اس حال میں میرا
اک رات پہ سالوں کا گماں ہونے لگا ہے

پھول اس نے مرے لان پہ جو زرد بچھائے
نیناں میں ملالوں کا گماں ہونے لگا ہے


غزل

تاش کے گھر بنائے بیٹھی ہوں
کانچ کے پر لگائے بیٹھی ہوں

رسمِ یاراں کو توڑنا ہوگا
حوصلے یوں بڑھائے بیٹھی ہوں

ہر طرف ڈھل رہے ہیں اندھیارے
دل کا دیپک جلائے بیٹھی ہوں

گھونسلے وہ پرند چھوڑ گئے
آس جن کی لگائے بیٹھی ہوں

یاد زنجیر بن نہ جائے کہیں
پاؤں اپنے اُٹھائے بیٹھی ہوں

میں ستارہ ہوں اس کی قسمت کا
آس اس کی لگائے بیٹھی ہوں

یہ دیا بھی کہیں نہ بجھ جائے
جو ہوا سے چھپائے بیٹھی ہوں


غزل

مری خامشی میں بھی اعجاز آئے
کسی سمت سے کو ئی آواز آئے

وہ چہر ہ نہ جانے کہاں کھو گیا ہے
کہیں سے کبھی کوئی دم ساز آئے

کسی نے تراشا نہ اس دل کا پتھر
مرے شہر میں کتنے بت ساز آئے

وہ اڑ جائے نیلی رگوں سے نکل کر
مرے درد کو اتنی پرواز آئے

سزا بے گناہی کی میں کاٹتی ہوں
کہاں مجھ کو جینے کے انداز آئے

محبت اے بے دید پاگل محبت
ہمیں چھوڑ دی، دیکھ ہم باز آئے

دوا تشنہ کامی کی لے کر وہ نیناں
کبھی تو وہ آئے، بصد ناز آئے


غزل

چھائی ہوئی ہیں یاس کی گہری خموشیاں
کب تک رہیں گی نصب یہ قبروں پہ تختیاں

سوکھے ہوئے درخت پہ بارش کا تھا کرم
نشے سے بھر گئیں مرے گلشن کی ڈالیاں

حالات نے جو بیج مرے دل میں بوئے ہیں
پھوٹا کریں گی ان میں سے شبنم کی بالیاں

احساس تک نہیں تمہیں، جھونکا اداس سا
اک بار تم کو چھونے سے ہوتا ہے خوش گماں

ہم سب کو تشنگی نے کیا اس طرح نڈھال
یک لخت سب نے منہ سے لگائیں پیالیاں

پھر بانسری بجی ہے کہیں درد سے بھری
پھر رو پڑی ہیں میرے خیالوں کی شوخیاں

کیا اب کوئی چراغ افق پر رہا نہیں
صدیوں سے آ رہی ہیں جو تاریک بدلیاں

خیمے اُکھیڑتے ہوئے سانسیں اُکھڑ گئیں
کب تک رہیں گی ساتھ یہ خانہ بدوشیاں

نیناں، وہ کس لگن سے تجھے کر رہا ہے یاد
تجھ کو جو آ رہی ہیں لگاتار ہچکیاں


غزل

ان آنکھوں کو سپنے دکھائے تو ہوتے
کبھی تم نے دیپک جلائے تو ہوتے

قدم روکتا کب سیہ پوش جنگل
امیدوں کے جگنو اڑائے تو ہوتے

پہنچتی اتر کر حسیں وادیوں میں
پہاڑوں پہ رستے بنائے تو ہوتے

سمندر کو صحراؤں میں لے کے آتے
کچھ انداز اپنے سکھائے تو ہوتے

لئے میں بھی کچا گھڑا منتظر تھی
تم اس پار دریا پہ آئے تو ہوتے

سرِ عام دربار میں رقص کرتی
روایت کے نغمے سنائے تو ہوتے

کوئی ہو بھی سکتا تھا نیناں گلی میں
دریچے سے پردے ہٹائے تو ہوتے


غزل

کبھی بدلی سجیلی دھوپ کو آ کر بھگوتی ہے
کبھی پروائی یادوں میں حسیں موتی پروتی ہے

انھیں زینوں پہ چڑھتے پہلے کیسی کھنکھناتی تھی
نگوڑی پائل اب جو پاؤں میں کانٹے چبھوتی ہے

بچھڑتے وقت اندازہ نہ تھا اتنی خزاؤں کا
نہ جانے سادہ دل لڑکی ابھی کیا اور کھوتی ہے

اسے چھم چھم برستی رت نے کل کیا بات کہہ دی ہے
سبک ندیا جو اب تک سینہ کوبی کر کے روتی ہے

گزرتی ہے بڑے آرام سے اب جاگتے نیناں
یہ مجھ پر کھل گیا جب سے مری تقدیر سوتی ہے


غزل

گر میں دریا کے پا س آؤں گی
ڈر بھی لگتا ہے ڈوب جاؤں گی

تیرے اشکوں کے قیمتی موتی
میں گلو بند میں جڑاؤں گی

میرے جگنو سے پر سلامت ہیں
میں تمہیں راستہ دکھاؤں گی

ناریل کی سفید قاشوں سے
روپ کی چاندنی بچھاؤں گی

دشتِ جاں میں فراق کے خیمے
روز لگواؤں گی، گراؤں گی

اپنے بچوں کے واسطے نیناں
ایک جنت سا گھر بناؤں گی


غزل

خوشبوؤں سے کلام مت کرنا
شہر میں دیکھ شام مت کرنا

تتلیاں، پھول، خو اب، خوشبو تم
اب کبٍھی میرے نام مت کرنا

اپنے آنچل میں رنگ سب بھرنا
رنگ یکساں تمام مت کرنا

فون پر تم ملے ہو مشکل سے
گفتگو کو تمام مت کرنا

آنسوؤں کی شفق ہے آنکھوں میں
کہہ کے لوگوں میں عام مت کرنا

میرے اعزاز میں کسی کے گھر
شام کا اہتمام مت کرنا

حرمتِ دل کا جو نہ ہو قائل
اس کے گھر میں قیام مت کرنا

شیشۂ دل پہ جو گریں پتھر
ان کا تم احترام مت کرنا

لڑکھڑا جائے گی زباں نیناں
اس سے ہرگز کلام مت کرنا


غزل

ستارہ ایک چلو آسماں سے ٹوٹ گیا
پیالہ حادثۂ ناگہاں سے ٹوٹ گیا

سفر کی آخری منزل پہ جانے والے گئی
چلا تھا ساتھ کہاں پر کہاں سے ٹوٹ گیا

سمجھ میں کیوں نہیں آتا یہ کیا معمہ ہے
یقیں کا رشتہ اچانک گماں سے ٹوٹ گیا

جو دل کے غار میں تعویذ لکھ کے رکھتا تھا
اُسی کا رابطہ، تسبیح خواں سے ٹوٹ گیا

رہیں گی تم سے خیالات میں ملاقاتیں
بحال سلسلہ ہوگا جہاں سے ٹوٹ گیا

میں تم سے کہہ نہیں پائی تھی ماجرا دل کا
کہ واسطہ ہی مکیں کا مکاں سے ٹوٹ گیا

خزاں کے آنے سے پہلے یہ کیا ہوا نیناں
ہزار رشتۂ گل، گلستاں سے ٹوٹ گیا


غزل

جسے ڈبو کے گیا تھا حباب پانی میں
لہر وہ کھاتی رہی پیچ و تاب پانی میں

کبھی تو تارِ رگِ جاں بھی چھیڑ کر دیکھو
بجانے جاتے ہو اکثر رباب پانی میں

تری نگاہ بہت ہے مرے لئے ساقی
نہ گھول مجھ کو بنا کر شراب پانی میں

خبر چھپی ہے جو لڑکی کی وہ نئی تو نہیں
اُتر گئی تھی جو ہو کر خراب پانی میں

پھر اپنی آگ بجھانے کوئی کہاں جائے
لگائے آگ اگر ماہتاب پانی میں

گہر ہمارے بھی نیناں کے دیکھ لو آ کر
تمام سیپ نہیں لا جواب پانی میں


غزل

مرجھائے ہوئے جسم سجا کیوں نہیں دیتے
سورج سے بچانے کی ردا کیوں نہیں دیتے

کَن اکھیوں سے دیکھو گے فضاؤں میں کہاں تک
تم سوکھی زمینوں کو دعا کیوں نہیں دیتے

کٹیا میں پلٹ آئے گی سنیاس اٹھائے
تم اپنی پجارن کو پتا کیوں نہیں دیتے

ویران روش کو بھی سجاوٹ کی طلب ہے
تم شاخ گلابوں کی لگا کیوں نہیں دیتے

لہروں میں کو ئی شور نہ گرداب میں گرمی
سوئی ہوئی ندی کو جگا کیوں نہیں دیتے

جب رنگ اٹھا لے تو برش روک نہ پائے
فنکار کو وہ شکل دکھا کیوں نہیں دیتے


غزل

رات بھر دیکھے پہاڑوں پہ برستے موسم
لالہ رُو بھیگے کناروں پہ سلگتے موسم

رات کے خالی کٹورے کو لبالب کر کے
کس قدر خوشبو چھڑ کتے ہیں بہکتے موسم

شام ہوتی ہے تو پھر گیت جگا دیتے ہیں
پائلوں میں کسی گھنگھرو کے کھنکتے موسم

شوخ بوندوں کی طرح جا کے اٹک جاتے ہیں
جسم کی کوری صراحی پہ چمکتے موسم

کیا پتہ کب، یہ کسی شاخ کو بنجر کر دیں
نرم مٹی کو سکھا کر یہ سسکتے موسم

زرد پتوں میں کسی یاد کی جامن کے تلے
کھیلتے رہتے ہیں بچپن کے چہکتے موسم

باندھ کے پر کہیں لے جائیں گے مجھ کو نیناں
خواب میں اُڑتے پرندوں سے گزرتے موسم


غزل

اداسیوں کے عذابوں سے پیار رکھتی ہوں
نفس نفس میں شبِ انتظار رکھتی ہوں

یہ دیکھ کتنی منور ہے میری تنہائی
چراغ، بامِ مژہ پر ہزار رکھتی ہوں

نہ چاند ہے نہ ستارہ نہ کوئی جگنو ہے
نصیب میں کئی شب ہائے تار رکھتی ہوں

کہاں سے آئے گا نیلے سمندروں کا نشہ
میں اپنی آنکھ میں غم کا خمار رکھتی ہوں

مثالِ برق چمکتی ہوں بے قراری میں
میں روشنی کی لپک بر قرار رکھتی ہوں

جلی ہوئی سہی دشتِ فراق میں لیکن
کسی کی یاد سے دل پُر بہار رکھتی ہوں


غزل

دل سے مت روٹھ مرے، دیکھ منا لے اس کو
کھو نہ جائے کہیں سینے سے لگا لے اس کو

وہ مسافر اسے منزل کی طرف جانا تھا
اس لئے کر دیا رستے کے حوالے اس کو

مدتوں وجد میں رہتے ہوئے دیوانے کو
ہوش آیا ہے تو ہر بات سنا لے اس کو

کس لئے اب شبِ تاریک سے گھبراتی ہوں
خود ہی جب بخش دیئے سارے اجالے اس کو

کچھ ضروری تو نہیں آپ کو سب کچھ مل جائے
جو ملے کیجئے دامن کے حوالے اس کو

نیلگوں جھیل میں ہے چاند کا سایہ لرزاں
موجِ ساکت بھی کوئی آئے سنبھالے اس کو

اپنے بے سمت بھٹکتے ہوئے نیناں کی قسم
کتنے خوش بخت ہیں سب دیکھنے والے اس کو


غزل

اب کے ٹس سے مس نہیں ہونا ہوا کے زور پر
بے دھڑک لکھے وہ ان پتوں پہ رائے بے حساب

نیلمیں نیناں میں جلتے بجھتے ہیں نیلے چراغ
خالی کمرے میں چلے آتے ہیں سائے بے حساب


نظمیں

جانے کہاں پہ دل ہے رکھا!

آج کا دن بھی، پھیکا پھیکا
کھڑکی سے چھپ کر تکتا ہے
میں ہاری، یا وہ ہے جیتا
روز کا ہی معمول ہے یہ تو
کل بھی بیتا آج بھی بیتا
درد بھی ویسا ہی بالکل ہے
تھوڑا تھوڑا، میٹھا میٹھا
چولھا، چوکا، جھاڑو، پونچھا
سب کچھ کر بیٹھی تب سوچا
ہر شے پونچھ کے، جھاڑ کے دیکھا
جانے کہاں پہ دل ہے رکھا!


کوئی اگر مر جائے تو

کڑی دھوپ میں چلتے چلتی، سایہ، اَگر مل جائے تو!
اک قطرے کو ترستے ترستی، پیاس، اگر بجھ جائے تو!
برسوں سے، خواہش کے جزیرے ویراں ویراں اُجڑے ہوں
اور سپنوں کے ڈھیر سجا کر، کوئی اگر رکھ جائے تو!
بادل، شکل بنائیں جب، نیل آکاش پہ رنگوں کے
اُن رنگوں میں اس کا چہرہ، آ کے اگر رُک جائے تو!
خاموشی ہی خاموشی ہو، دل کی گہری پاتالوں میں
کچھ نہیں کہتے کہتے گر، کوئی سب کہہ جائے تو!
زندہ رہنا سیکھ لیا ہو، سارے دکھوں سے ہار کے جب
بیتے سپنے، پا کے خوشی سے، کوئی اگر مر جائے تو!


دو سیاہ آنکھیں

بڑی بڑی دو سیاہ آنکھیں
تمہارے چہرے میں کھو گئی ہیں
تمہاری آواز، چلتے چلتے
یہ چاہتی ہیں کہ اب عبادت، صبح ہو یا شام ہو، مگر ہو،
تمہارا چہرہ تمہارا چہرہ
جو نیلگوں لہر میں ڈبو دے
مجھے ڈبو دے، مجھے ڈبو دے
مرے بدن کے تمام کانٹے چنے اور اپنے بھی پاؤں رکھ دے
وفا کے ٹھنڈے سے پانیوں میں
محبتوں کی، روانیوں میں
بڑی بڑی دو سیاہ آنکھیں
تمہارے چہرے میں، کھو گئی ہیں!


دریائے نیل

اپنا رستہ ڈھونڈنا اکثر
اتنا سہل نہیں ہوتا ہے
لوگوں کے اس جنگل میں
چلنا سہل نہیں ہوتا ہے
یہ تو کوئی جگنو ہے جو
لے کر روشن سی قندیل
کبھی کبھی، یوں راہ بنائے
جیسے ہو، دریائے نیل۔!


پگلی

سپنے بنتے نیناں پر
ہونٹ جب اپنے رکھ دو گے
دھیرے دھیرے سرگوشی میں، کانوں سے، کچھ کہدو گے
اور میںآنکھیں موندے موندے
کروٹ اپنی بدلوں گی
گہری نیند کی شوخ ادا کو، چپکے چپکے، کھولوں گی
آنچل میں چہرے کو چھپا کر، کَن اَکھیوں سے دیکھوں گی
چاند کی چوڑی سے کرنیں، چھن چھن، چھن چھن، ٹوٹیں گی
جھیل سی ٹھہری دھڑکن اُس دَم
دھک دھک، دھک دھک بولے گی
اور تم بھی، دھیرے سے ہنس کر
مجھ کو کہہ دو گے
پگلی!


نیلگوں فضاؤں میں

نیلگوں فضاؤں میں
شور ہے بپا دل میں
شدتوں کے موسم کی چاہتیں سوا دل میں
حبس ہے بھرا دل میں
میں اداس گلیوں کی اک اداس باسی ہوں
بادلوں کے پردے سے واہموں کو ڈھکتی ہوں
خوشبوئیں، گلابوں کے جسم سے نکلتی ہیں
روشنی کی امیدیں، کونپلوں پہ چلتی ہیں
پھر بہار آنے سے پہلے ٹوٹ جاتی ہیں
چوڑیاں بھی ہاتھوں میں ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں
جسم کے شگوفوں میں، رنگ چھوڑ جاتی ہیں
بس سنہرے لہجے کی روشنی، ہے لو جیسی


سنہرا لہجہ

ہونٹ سے پرے دل میں
کام کی دعا ایسی
کس کو یہ خبر لیکن، اِس سنہرے لہجے میں
کھارے کھارے پانی سا
بد گمانیوں سے پُر
زہر، ایسا گھل جائے
جس سے ایک دم سارا
سنہرا لہجہدھل جائے!


پتھر کی لڑکی

اگر میں پتھر کی لڑکی ہوتی
تو اپنے پیکر کی سبز رت پر، بہت سی کائی اگایا کرتی
بہت سے تاریک خواب بنتی
تو میں اذیت کی ملگجی انگنت اداسی کے رنگ چنتی
اگر میں پتھر کی لڑکی ہوتی
میں اپنے پلو میں سوگ باندھے، کسی کو ان کا پتہ نہ دیتی
اجالے کو ٹھوکروں میں رکھتی، خموشیوں کے ببول چنتی
سماعتوں کے تمام افسون، پاش کرتی، میں کچھ نہ سنتی
دہکتی کرنوں کا جھرنا ہوتی
سفر کے ہر ایک مرحلے پر، میں رہزنوں کی طرح مکرتی
وہم اگاتی، گمان رکھتی
تمہاری ساری وجاہتوں کو میں سو طرح، پارہ پارہ کرتی
نہ تم کو یوں آئینہ بناتی
اگر میں پتھر کی لڑکی ہو تی!


چاندنی کے ہالے میں کس کو کھوجتی ہو تم

چاندنی کے ہالے میں کس کو کھوجتی ہو تم
چھپ کے یوں اداسی میں کس کو سوچتی ہو تم
بار بار چوڑی کے سُر کسے سناتی ہو
شور سے صدا کس کی توڑ توڑ لاتی ہو
بزم میں بہاروں کی، کھوئی کھوئی لگتی ہو
دوستوں کے مجمع میں، کیوں اکیلی رہتی ہو
موج موج بہتی ہو، آنسوؤں میں رہتی ہو
جھالروں سے پلکوں کی، ٹوٹ ٹوٹ جاتی ہو
بلبلے کی صورت میں پھوٹ پھوٹ جاتی ہو
دھند سے لپٹ کر کیوں، سونی راہ تکتی ہو
کھڑکیوں سے برکھا کو، دیکھ کر بلکتی ہو
سارے سپنے آنکھوں سے، ایک بار بہنے دو
رات کی ابھاگن کو تارہ تارہ گہنے دو


تم یہ کورا رہنے دو!

ماضی، حال، مستقبل، کچھ تو کورا رہنے دو
پُل کے نیچے بہنے دو آنسوؤں کی یہ ندیاں
وقت چلتا جائے گا، بیت جائیں گی صدیاں
بے حسوں کی بستی میں، بے حسی کو رہنے دو
دل تو پورا پاگل ہے اس کو پورا رہنے دو
یہ جو کہتا رہتا ہے، اس کو بھی وہ کہنے دو
اس کو کورا رہنے دو
تم یہ کورا رہنے دو!


خوشبو

کل، ملبوس نکالا اپنا، ہلکا، کاسنی رنگت کا
دھڑ سے، کھول کے دل کے پٹ کو
خوشبو، سن سن کرتی آئی
جیسے نیل کنارے پر لہراتا اک چنچل آنچل
جیسے سرد اماوس میں کُرتا جھلمل تاروں کا
جیسے سرخ گلابوں کی رم جھم کے پھندنے کلیاں
جیسے رات کی رانی بن کے جھالر سر سر کرتی ہو
جیسے چمبیلی چمپا کے گہنے ہاتھوں سے لپٹیں
جیسے سبزے پر مخمل کی گرگابی کے نگ دمکیَں
جیسے بوگن ویلیا کے سب گرتے ہوئے گھنگھرو چھنکیں
جیسے ہار سنگھار کا ریشم نارنجی چہرہ کو پونچھے
جیسے بنفشے کی مسکانیں درد اُدھیڑیں، سیون سیون
جیسے سدا بہار کے چھلے پہنے کوئی انگلی میں
جیسے نرگس، نیلے پیلی، ڈورے ڈالے نیناں میں
لیکن رجنی گندھا کی سوکھی سوکھی شاخ پہ اٹکی
ایک کلی نے یاد مجھے وہ سوندھی سی پہنائی ہے
جس کی قبر کو گیندے کی چادر سے


گہر ساز

سنہرے بالوں کی نرم خوشبو
جو شبنمی موتیوں سے تم نے، سلگ سلگ کر اتار دی ہے
اداسیوں کے مچلتے جھمکوں، کی آب کتنی سنوار دی ہے
جلا کے کندن کا ہار کی ہے
وہ شوخ گردن کے گرد، اب تک
تمھارے ریشم سے لمس دھاگوں کی گرہیں، بنتی ہی جا رہی ہے
نجانے کب سے بلا رہی ہے
بلا رہی ہی، بلا رہی ہی، بہت ہی وہمی، بہت ہی سہمی
مجھے گہر ساز توڑ دے گا،
سوال یہ سرسرا رہا ہے!
اور ایسا اک دن اگر ہوا تو
تمہاری مندری کے تن کا ہیرا
تمہاری سونا تو چاٹ لے گی!


بغیر انجام کی منزل

بہت گہرا کنواں ہے
اورزنگ آلود، میرا ڈول
بہت محتاط ہو کر تہہ میں اس کو میں نے ڈالا تھا
مگر میں کیا بتاؤں
اب کی بار اس نے بھرا ہے کیا
بہت سے گرم گرم آنسو
بہت ہی خشک خشک آہیں
نہایت اَن چھوئی خواہش
بہشتی منظروں کے خواب
کسی کی مسکراہٹ، کھوکھلی سی، پھیکی پھیکی سی
کسی کے مطلبی حیلے، سلگتے زخم کے ٹیلے
چبھن کی کرچیاں، اُجڑی ہوئی کچھ بستیاں بے آب
وہ نیلے اور زہریلے
دہکتے درد کی ٹیسیں
کئی سوکھے ہوئے تالاب
وہاں شاید ہے اک صحرا، جہاں اگتا نہیں جنگل
وہیں ہم پھینک آتے ہیں اٹھا کر اپنی ہر مشکل
نہیں فرصت کہ یہ سوچیں
کبھی تھک ہار کر ہی، پیاس کی شدت مٹانے کو
کوئی ٹوٹے ہوئے پتوں کی مانند، اڑ کے آ جائے
یہ بنجر پن کہیں اس کی، لگن کو توڑ نہ جائے
وہ شاید چاند کے سائے کے پیچھے، پھر نہ جائے گا
کسی آہٹ میں پائے گا
ستاروں سی کوئی جھلمل
بغیر انجام کی منزل!


آخری خواہش

ندی کنارے خواب پڑا تھا،
ٹوٹا پھوٹا، بے سد ھ، بیکل
لہریں مچل کراس کو تکتیں،
سانجھ سویرے، آ کر پل پل
سیپی چنتے چنتے میں بھی جانے کیوں چھو بیٹھی اس کو
یہ احساس ہوا کہ اُس میں، روح ابھی تک جاگ رہی ہے
ہاتھ کو میرے اس کی حرارت دھیرے دھیرے تاپ رہی ہے
تب آغوش میں اس کو اُٹھایا،
اک اوندھی کشتی کے نیچے، تھوڑا سا رکھا تھا سایہ
نرم سی گیلی ریت کا میں نے بستر ایک بچھایا
سانس دیا ہونٹوں سے اس کو
تب کچھ ہوش میں آیا
پھر اکھڑے اکھڑے جملوں میں اس نے یہ بتلایا
پھینک گئے ہیں اس کو اپنے، سنگی ساتھی بھائی،
سن کر اس کی پوری کہانی، دیر تک مجھ کو سانس نہ آئی
آخری خواہش مجھ کو دے کر،
نیناں میں چاہت کو سمو کر
نیند ہمیشہ کی جا سویا،
اپنے دکھ کو مجھ میں بویا
پلک پلک، موتی بنتی ہوں،
سارے بدن کو پھونک چکی ہوں
لیکن میری، روح بچی ہے
دور اسی ندیا کے کنارے، آج بھی بیٹھی سوچ رہی ہے
شاید سیپیاں چنتے چنتے، کوئی مجھے چن کر لے جائے
ٹھنڈی ریت پہ خواب بچھائے
میرے بند پپوٹے چھوکر،
شاید وہ، اوجھل ہو جائے
گہری گہری جھیل کی تہہ سے،
کبھی نہ باہر آ نے پائے!


وہ پیلے پیڑ کیوں روئے

مسافر تم ذرا سوچو،
یہ اجلی دھوپ جاتے پل
وہ پیلے پیڑ کیوں روئے!
گلابی پھول کھلتے پل، وہ پیلے پیڑ کیوں روئے!
گھنیری شام اپنی زلف کے سائے میں چھپتی ہے
سمندر، بند آنکھوں سے اگر اپنے پپوٹوں میں
کبھی لبریز ہوتا ہے
اگر سوچوں کی لہریں، رفتہ رفتہ ٹوٹ جاتی ہیں
تو قسمت کے سرابوں پر،
اڑی رنگت کے چھینٹوں پر
وہ پیلے پیڑ کیوں روئے!
وہ مدھم چاند کیوں خنجر لیئے چھپ چھپ کے چلتا ہے
محبت چاندنی بن کر، جب اس کے دل میں رہتی ہے
تو پتھر ہاتھ میں پا کر، وہ پیلے پیڑ کیوں روئے!
بہت پر خار ہیں رستے، بہت بیزار ہیں رستے
جدائی کی فصیلوں سے گزرتے بادلوں کی بجلیوں کو بھول بیٹھے ہیں
جنھیں تم بھول بیٹھے ہو،
وہ اب واپس نہ آئیں گے
کبھی واپس نہ آئیں گے،
وہ واپس آ نہیں سکتے
شگوفے کھل رہے ہیں پھر
کوئی رت بھی نہیں نیلی
کسی ناسور لمحے پر، نہیں یہ آنکھ اب گیلی
اک استفسار باقی ہے
وہ پیلے پیڑ کیوں روئے؟


ٹوٹے پر چڑیاں

درختوں سے ہرے پتے، ہوا کیوں نوچ لیتی ہے!
وہ ان چڑیو ں کے ٹوٹے پَر،
کہاں پر بیچ دیتی ہے!
انھیں جو مول کوئی لے
دکھوں سے تول کوئی لے
اگر دل میں یہ چبھ جائیں
تو گہرے نقش کھب جائیں
اگر ہم وقت سے چھپ کر کہیں بے وقت ہو جائیں
اور ان چڑیوں کی صورت
وقعت اپنی ہم بھی کھو جائیں
تو کیا پھر بھی، لگا تار ایسے سناٹوں کی گہری دھول
یہاں اُڑ اُڑ کر آئے گی!
تو کیا پھر سوکھی سوکھی ٹہنیوں کی کوکھ میں غمناک سانسوں کو
وہی بپتا سنائے گی!
ہرے پتوں کی ہر کونپل
جو اپنی خشک آنکھوں میں، نمی کے پھول چنتی ہے
ٹپک کر بوند کی مانند، رشتے توڑ جائے گی!
ہم اپنی سسکیاں چل کر کسی خندق کی گہرائی میں
جا کر دفن کر آئیں!
ہوا کے تیز ناخن بھی تراش آئیں
تو پھر ان ٹوٹے پَر چڑیوں کو بھی،
پرواز آئے گی
ہماری بے صدا باتوں میں بھی،
آواز آئے گی!


کب تم مجھ کو یاد کرو گے؟

وقت کے الجھے الجھے دھاگے،
جب دل توڑ کے چل دیں گے
پگڈنڈی پر پیلے پتے تم کو تنہا دیکھیں گے
پیڑوں کے سینے پر لکھے، نام بھی ہو جائیں تحلیل،
اور ہوا بھی سمت کو اپنی کر جائے، تبدیل
بھینی بھینی خوشبو ہم کو، ہر اک گام پکارے گی،
کر کے یخ بستہ جب ہم کو، برف اس پار سدھارے گی
دھوپ صداؤں کے سکے،
جب کانوں میں کھنکائے گی،
گرجا گھر کی اونچی برجی،
چاند کا چہرہ چومے گی
بارش، مسکانوں کے موتی، پتھر پر جب پھوڑے گی
اور برستی بوندوں کے دھاروں پر دھارے جوڑے گی
گرم گرم، انگاروں جیسی، آنسو آنکھ سے ابلیں گے،
دل کے ارماں، اک مدت کے بعد، تڑپ کر نکلیں گے
جب احساس کی دنیا میں پھر، اور نہ گھنگھرو چھنکیں گے
صرف خموشی گونجے گی تب،
آنے والے موسم کی،
کھڑکی پر، دستک بھی نہ ہوگی،
کوئی سریلی رم جھم کی
شام کے سناٹے میں بدن پر،
کوٹ تمہارا جھولے گا
یادوں کا لمس ٹٹولے گا،
گھور اداسی چھولے گا
اونچی اونچی باتوں سے تم، خاموشی میں شور کرو گے
گیت پرانے سن کر، ٹھنڈی سانسیں بھر کر، بور کرو گے
اس پل شب کی تنہائی میں
اپنے دل کو شاد کرو گے
بولومجھ کو یاد کرو گے؟؟؟


فقط ایک پھول!

پرندے لوٹتے دیکھے، تو یہ دھوکا ہوا مجھ کو
کہ شاید جستجو میری،
یا کوئی آرزو میری،
ترے در سے پلٹ آئی
مجھے تنہا بیاباں سے گزرتے لگ رہا ہے ڈر
جدائی کے شجر کی اب حفاظت بس سے باہر ہے
یہ پانی آنکھ سے گرتا،
اگر سیلاب ہو جائے
یہ پیلی دھوپ، مہکی رُت،
سراب و خواب ہو جائے
تو پھر اس تشنہ روش میں،
پھوٹتی کلیوں کے سب نغمے
سنانے کو ترستی خواہشیں، ناکام ٹھہریں گی
مثالِ رفتگاں، جاتے ہوئے مہکے ہوئے لمحے
خزاں کے زرد پتوں کے لئے ہی قرض لے آؤ
مسلسل جو اُداسی پر اداسی،
یوں برستی ہے
کہیں مرجھا نہ دے، سرسبز اس شاخِ محبت کو
تعلق کی بھی میری جان، اک میعاد ہوتی ہے
پھر اس کے بعد،
ہر بندھن سے جان آزاد ہوتی ہے
خزاں کی جیت سے پہلی
ذرا یہ دھیان کر لینا
کہ سینے میں، مرا دل ہے
فقط اِک پھول!


تمہاری یاد

سونی سونی، خالی خالی
اک سرمئی حویلی میں
راگ
ستار نے چھیڑا ہے
اک جلتی مشعل لے کر ۔شب ۔ ملنے کو آئی ہے
فانوسوں کی چھن چھن، چھن میں
جھلمل جھلمل، چاندنی پر
رقص، ہوا کا جاری ہے
سوکھی چنبیلی کی اک بیل
خستہ ستون سے لپٹی ہے
اور، تھرکتی لَو کا رنگ۔لے کر لاکھوں ننھے دیپ
دل کے طاق پہ جل اُٹھے ہیں
آئی جیسے
تمہاری یاد!


میلہ ہے بستی میں دو دن

میلہ ہے بستی میں دو دن
رات بھی ناچے، جھومے دن
جھولے والے، دور دور سے لائے ہیں تہوار
کھٹ مٹھے جذبوں سے مہکا مہکا ہے بازار
شیشے کے صندوق میں، چوڑی والا، خواب سجا کر لایا
اپنی چونچ میں اک طوطے نے،
جانے کس کا حال دبایا
رس گنے کا ٹپ ٹپ کر کے،
رستا جائے مشینوں سے
اونٹوں کے کوہانوں پر، موتی کی جھالر ٹنکی ہوئی
سبک قدم میلے کی جانب، ٹھمک ٹھمک کر چلتے ہیں
دودھیا ناریل جیسا چاند،
اترے گا میدان میں آج
آوازوں کی بین پہ جوگن،
ناچ ناچ کے ہوگی ماند


پہلی خوشی

اب کے برس بھی ململ کا یہ لہراتا دھانی آنچل
اُڑتا ہے مجھ سے بھی تیز
آج کناروں میں اس کے،
اک ریشم جیسی پھسلن ہے
لہراتا سُر، پگڈنڈی پر کس تیزی سے دوڑا ہے
جیسے ملنے آئے
پھر مجھ سے وہ
پہلی خوشی!


سوندھی مٹی کی یہ صراحی

سوندھی مٹی کی یہ صراحی،
قطرہ قطرہ، گونج رہی ہے
بھیگی بھیگی شبنم کی، رم جھم کرتی جھنکاروں سے
جب بھی کوئی پیاس بجھانے،
اوک میں پانی بھرتا ہے
جانے کیسی، چوری چوری،
پار، سمندر کرتا ہے
سوندھی سوندھی خوشبو،
اس کی روح کے پار اُترتی ہے
دوربہت ہی دور، جزیروں میں، جو تارے گرتے ہیں
ان کی یاد میں پگڈنڈی پر،
سبک روی سے چلتی ہے
دھوپ چھاؤں میں، سال، مہینے،
پنچھی بن کر اُڑتے ہیں
آنکھ، پرونے لگتی ہے، کچھ نتھرے لمحے، صراحی سے
پینے والے میں تتلی کے، پَر،
خود سے اُگ آتے ہیں
نیلے پانی کی ٹھنڈک سے،
آنکھیں مندنے لگتی ہیں
دل کہتا ہے، قطروں کی ان لا وارث آوازوں کو
کانچ کے دریا کی تہہ میں،
اک ڈوبنے والی کشتی پر
پھر سے بٹھا کر، دور، اُسی ساحل تک جا کر پہنچائیں
جس کی ریت کی سوندھی خوشبو
سب کو پاگل کرتی ہے!


کبھی تم بھی ہم کو ہی سوچنا

کبھی تم بھی ہم کو ہی سوچنا،
رہا دل کہاں، کبھی کھوجنا
کبھی اُڑتے پنچھی دبوچنا،
کبھی خود کھرنڈ کو نوچنا
کبھی جب شفق میں ہنسی کھلے،
کسی نین جھیل میں، خوں ملے
تو اداس چاند کو، دیکھنا،
کوئی رخ اکیلے ہی ڈھونڈنا
یہ رُتیں جو دھیرے سے چھوتی ہیں
ہمیں، خوشبوؤں سے بھگوتی ہیں
یہ رُتیں نہ پھر کبھی آئیں گی،
یہ جو روٹھ روٹھ کے جائیں گی
یہ رُتیں انوکھا سرور ہیں
کہ یہ پاس ہو کے بھی دور ہیں
انھیں تم دُعاؤں میں ڈھلنے دو،
انہیں آسمان کو، چلنے دو
سُنو ہوک جب کسی کونج میں
اِنہیں سرد، ہواؤں کی گونج میں
تو اداس چاند کو، دیکھنا
کبھی تم بھی، ہم کو ہی سوچنا!


تنہائیوں‌کی دھوپ

مجھے تنہائیوں کی دھوپ میں چلنے کی عادت ہے
کوئی بھی کیفیت، دل میں زیادہ دیر کب اترے
وہی تو جانتا ہے، منتظر تھی کب سے میں اس کی،
سوالِ خامشی کے گرم میلوں کی دوپہروں میں
وہ آنکھیں جانتی ہیں، دیر تک اس بند مٹھی میں
میں اس بہتے ہوئے پانی کو، روکے رہ نہیں سکتی
خراشیں دُکھ رہی ہیں، پانی پڑتے ہی جلن، کچھ اور بھی ہوگی
جنوں کے حرف یکدم آنسوؤں کا اوڑھ کر چہرہ،
ٹپک کر چیختی چنگھاڑتی لہریں بہاتے ہیں
خدا جانے، میں اپنی دھوپ کی پگڈنڈیوں کے موڑ،
اندھیروں کے تعاقب میں کیوں ایسے دوڑ کر اتری
کہ ٹھاٹھیں مارتا پانی،
مری آنکھوں کی ساری سرخ اینٹیں توڑ کر نکلا
یہ آنکھیں جانتی تھیں پانی پڑتے ہی جلن،
کچھ اور بھی ہوگی
وہی یہ جانتا تھا،
منتظر اس کی تھی میں کب سے
وہی اک پیاس تھی جو خشک ہونٹوں پر بنی سسکی،
اسی پانی کی، اس کو بھی بہت دن سے ضرورت تھی
کسی سائے بنا اس نے کبھی چلنا نہیں سیکھا
کسی بھیگی اداسی کا بھی، کوئی پل نہیں چکھا
سو میں نے بخش دی، وہ بھی
جو گھر میں ٹین کی چھت تھی
مجھے تنہائیوں کی دھوپ میں جلنے کی عادت تھی
مجھے تنہائیوں کی دھوپ میں چلنے کی عادت ہے!


ناریل کا پیڑ

ساحل کے پاس تنہا
اک پیڑ ناریل کا
اک خواب ڈھونڈھتا ہے
یادوں میں بھیگا بھیگا
آنچل سے نیلے تن میں، آکاش جیسے پیاسے
سیپوں کے ٹوٹے پھوٹے خالی پڑے ہیں کاسے
وہ ریت بھی نہیں ہے
جس پر لکھا تھا تم نے
ساگر سکوت میں ہے
لہریں بھی سو رہی ہیں
اک قاش، بے دلی سے بس چاند کی پڑی ہے
کومل سی یاد کوئی
تنہا جہاں کھڑی ہے
اُس ناریل کے نیچے!


ماں

بڑا محروم موسم ہے تمہاری یاد کا اے ماں
نجانے کس نگر کو چھوڑ کر چل دی ہو مجھ کو ماں!
شفق چہروں میں اکثر ڈھونڈتی رہتی ہوں، میں تم کو
کسی کا ہاتھ سر پہ ہو، تو لگتا ہے تم آئی ہو
کوئی تو ہو، جو پوچھے، کیوں ترے اندر اداسی ہے
مرے دل کے گھروندے کی صراحی کتنی پیاسی ہے
مجھے جادوئی لگتی ہیں تمہاری، قربتیں اب تو
مری یادوں میں رہتی ہیں تمہاری شفقتیں اب تو
کبھی لگتا ہے، خوشبو کی طرح مجھ سے لپٹتی ہو
کبھی لگتا ہے یوں، ماتھے پہ بوسے ثبت کر تی ہو
کوئی لہجہ، ترے جیسا، مرے من میں اتر جائے
کوئی آواز، میری تشنگی کی گود، بھر جائے
کوئی ایسے دعائیں دے کہ جیسے تان لہرائے
کسی کی آنکھ میں، آنسو لرزتے ہوں، مری خاطر
مجھے پردیس بھی بھیجے، لڑے بھی وہ مری خاطر
مگر جب لوٹتی ہوں ساری یادیں لے کے آنچل میں
تو سایہ تک نہیں ملتا کسی گنجان بادل میں
کوئی لوری نہیں سنتی ہوں میں اب دل کی ہلچل میں
تمہاری فرقتوں کا درد بھر لیتی ہوں کاجل میں
کہیں سے بھی دعاؤں کی نہیں آتی مجھے خوشبو
مری خاطر کسی کی آنکھ میں، اترے نہیں آنسو
محبت پاش نظروں سے مجھے تم بھی تکا کرتیں
مدرز ڈے پر کسی تحفے کی مجھ سے آرزو کرتیں
سجا کر طشت میں چاندی کے تم کو ناشتہ دیتی
بہت سے پھول گلدانوں میں، لا کر میں سجا دیتی
کوئی موہوم سا بھی سلسلہ، باقی کہاں باہم
کہ اب برسیں مرے نیناں تمہاری دید کو چھم چھم
دلاؤں ایک ٹوٹے دل سے چاہت کا یقیں کیسے
مری ماں آسمانوں سے تجھے لاؤں یہاں کیسے
نجانے کون سی دنیا میں جا کے بس گئی ہو ماں
بڑا محروم موسم ہے تمہاری یاد کا، اے ماں!