اردو ویب ڈیجیٹل لائبریری
×

اطلاع

فی الحال کتابیں محض آن لائن پڑھنے کے لئے دستیاب ہیں. ڈاؤن لوڈ کے قابل کتابوں کی فارمیٹنگ کا کام جاری ہے.

Bahot Shor Suntay Thay

بہت شور سنتے تھے


مصنف زینت ساجدہ
مؤلف رحمت یوسف زئی
تعداد الفاظ 38818
تعداد منفرد الفاظ 4896
مناظر 23148
ڈاؤنلوڈ 0
زینت ساجدہ کی تخلیق "اسلوب اور بیاں" سے منتخب افسانے

نوٹ

یہ کتاب در اصل زینت ساجدہ کی کتاب "اسلوبِ بیاں اور" کا ہی حصہ ہے، لیکن محض افسانے ہونے کی وجہ سے اس برقی کتاب میں علیحدہ سے شائع کیا گیا ہے۔

اعجاز عبید


ارشی

"ارشی، میری جان ایک بات سنو ہماری"۔
"سناؤ ہماری شادی کی بات ہو گی، کیوں؟ ہاتھ لاؤ۔ دیکھو تو ہم ان کہی بات کیسے جان لیتے ہیں"۔
تمہیں تو ہر وقت شادی کی پڑی رہتی ہے۔ ہم کہہ رہے تھے آج شام ہمارے کالج میں پارٹی ہے۔ تم ہمیں چھوڑ آؤ گے نا"۔
"چل چل، بڑی آئی کالج والی۔ کہیں سے تیرے سسرے کے نوکر ہیں ہم؟ جو تجھے گھر سے کالج، کالج سے گھر پہنچایا کریں۔ ہشت۔ جا جا اپنا کام کر"۔
"خدا کی قسم بڑے بد تمیز ہو۔ جاؤ جو میں اب سے تمہارا کوئی کام کروں۔ بات کرنے کا سلیقہ تک نہیں۔ بی اماں سے شکایت ضرور کروں گی۔ آج شام تم سریتا کے گھر جا رہے ہو۔ تم آوارہ ہو گئے ہو، تم سگریٹ پینے لگے ہو۔ تم نے گذشتہ مہینے جو قرض لیا تھا مجھ سے، وہ ابھی تک نہیں لوٹایا، تم پاجی ہو اور"۔
"اور اور یہ کہ میں آج شام حسنیٰ کے ہاں جا رہا ہوں۔ کل تاش کھیلنے میں اس نے میرا ہاتھ دبا دیا تھا۔ چائے پیتے وقت مجھے دیکھ دیکھ کر آنکھیں چمکائی تھیں۔ اور کل شام کے اندھیرے اجالے میں جب میں وہاں سے لوٹ رہا تھا تو میرے بائیں ہاتھ پر لپ اسٹک کی لالی چپک گئی تھی اور میرے کوٹ کے کالر میں ریشمی بال اٹک گئے تھے۔ اور اور ……"۔
تمہارا سر۔ خود ہی شرارت کرتے ہو اور الزام لگاتے ہو حسنیٰ کے سر۔ سریتا کے سر۔ ٹھیر جاؤ، میں بابا سے کہہ دوں گی کہ ارشی سچ مچ بگڑ رہے ہیں"۔
"اور میں کہہ دوں گا چاچا سے کہ بٹیا کی جھٹ پٹ شادی کر دیجیے"
"الو ہو تم تو۔ تم خود ہی کر لو شادی۔ ہمیشہ لڑکیوں کی باتیں کرتے رہتے ہو۔ میں تو ابھی اور پڑھوں گی"۔

اور میں نے خوا ہ مخواہ زو ولوجی کے نوٹس اٹھا لیے اور بغیر پڑھے دھندلائی دھندلائی سطریں یو نہی دیکھنے لگی۔ میں کالج کیسے جاؤں گی؟ آج انو کا ناچ بھی ہے۔ چھم چھم چھما چھم۔ کیسی بجلی جیسی پھرتی ہے اس کے جسم میں۔ دیکھنے والوں کا دل بھی ناچ اٹھتا ہے۔ میرا تو جی چاہتا ہے، اس کوندتی بجلی کو اپنے دل میں چھپا لوں اور آنکھیں کیسے بناتی ہے وہ، اور کمر میں لچک کس غضب کی ہے۔ اے کاش وہ ہمیشہ یو نہی ناچتی رہے۔ میں ہمیشہ یونہی اسے دیکھتی رہوں۔ اللہ اگر عرشی اس سے شادی کر لیں تو کیا اچھا رہے۔ یہ بھی تو سچ مچ کے کرشن سانورے ہیں … مگر پاگل ہیں ارشی۔ یوں لڑکیوں کی باتیں کریں گے۔ شادی کے ارمان بھرے ذکر کریں گے۔ مگر جب کہو ارشی تم شادی کر لو تو انجان بن جائیں گے۔ کتنی اچھی اچھی لڑکیاں ہاتھ سے نکل گئیں۔ وہ شمسہ کتنی پیاری تھی۔ ہنستی تو معلوم ہوتا چنبیلی کی نازک نازک کلیاں ایک ساتھ چٹک گئیں۔ اس کی آواز میں کتنی مٹھاس تھی۔ کتنا کہا ارشی کر لو شادی شمسہ سے۔ مگر عقل ماری گئی تھی۔ بے چاری شادی کے دن کیسے پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔ اس کے بعد جیسے اسکی آنکھوں کی بجلیاں ماند پڑ گئیں۔ اور چنبیلی کے سارے پھول مرجھا گئے۔ مگر اللہ میں آج کالج کیسے جاؤں۔ وہاں تو جانا ضروری ہے۔ میں نے کلثوم سے بھی وعدہ کیا تھا کہ آج ضرور آؤں گی۔ اس نے میرے لیے جھینگر پکڑ لانے کا وعدہ کیا تھا۔ کل ڈسکشن ہے اور میں نے ابھی تک کوئی خاص پریکٹس نہیں کی اور بھئی یہ کیچوے تو بہت ستاتے ہیں۔ اووری تو کسی طرح نہیں نکلتی مجھ سے۔ خدا معلوم دیکھتے دیکھتے کہاں غائب ہو جاتی ہے۔ کلثوم سچ کہتی تھی "کہ بھئی ان مینڈکوں مچھلیوں کے ڈسکشن میں کیا رکھا ہے۔ شعر و ادب کا کوئی موضوع چنا ہوتا تو نے۔ روز روز مزے سے بیٹھے جذبات کا ڈسکشن کیا کرتی"۔ مگر یہ کلثوم،یہ ارشی، بی اماں، بابا، امی اور میں۔ بس اگر ہم اتنے ہی ایک جگہ کبھی رہ سکیں تو کتنا اچھا ہو، میں تو بھولے سے بھی جنت کو یاد نہ کروں۔ مگر بھئی آج ارشی نہیں لے جائیں گے تو میں کیا کروں؟ کاش آج کہیں سے جواد بھائی آ جاتے۔ کتنے اچھے ہیں وہ۔ مگر معلوم نہیں کیوں میرا دل نہیں چاہتا کہ ان کے ساتھ کہیں جاؤں۔ مگر آج ارشی کو ضرو ر دھمکی دوں گی کہ تمہارے اکیلے بجائے اب میں جواد کو بھائی بنا لوں گی اپنا۔ مگر ان کی اور بہنیں بھی تو ہیں۔ وہ ارشی کی طرح اکیلے کب ہیں۔ میں اکیلی، ارشی اکیلے، اور پھر بی اماں نے دودھ پلا کر ہم دونوں کو ایک کر دیا ہے۔ بڑی چچی جان نے کیوں دودھ نہیں پلایا اپنا۔ کیا مزے سے یہ دودھ کا رشتہ ہمیں بھائی بہن بنا دیتا ہے۔ مگر یہ ارشی تو بڑے بد تمیز ہیں۔


میں نے چاہا کہ پڑھے جاؤں۔ مگر ایک لفظ بھی تو نہیں پڑھا گیا۔ ایک لفظ بھی نہیں پڑھا تھا میں نے۔ بے ساختہ میری نگاہیں ارشی کی طرف دوڑ گئیں۔ وہ میری ہی طرف دیکھ رہے تھے۔

"اوہو۔ دیکھیں تو ہماری بٹیا کیا پڑھ رہی ہے۔ ایک صفحہ اتنا مشکل ہے کہ بار بار پڑھے جا رہی ہو"۔

میں شرمندہ ہو گئی۔ اس سے قبل کہ میں دیکھوں صفحہ پر کیا لکھا ہے، ارشی نے کاپی گھسیٹ لی۔ اچھا۔ اب میں بھی نہ کہہ دوں چچی اماں سے کہ کنواری بچیاں یہ کچھ پڑھتی ہیں۔ باپ رے باپ قیامت قریب آ گئی۔ بھئی فکر کرنا ہو گا اب تو اس کی، ورنہ ہاتھ سے نکلی"۔

ارشی نے سر پکڑ کر کچھ ایسے کہا کہ مجھے ہنسی آ گئی۔ اور وہ میرے گلے میں ہاتھ ڈال کر بولے۔ "آ گئی نا ہنسی میری منی کو، اٹھ چل۔ کیا یاد کرو گی ہمیں بھی۔ شام پہنچا دیں گے۔ مگر بھئی تو ہمارا کام وام کچھ نہیں کرتی۔ ذرا ہماری سرمئی شیروانی میں بٹن لگا دے"۔

میں نے سوچا چلو ارشی راضی تو ہوئے لے جانے پر۔ خیریت اسی میں ہے کہ جھٹ پٹ کام کر دو ان کا۔ اور میں نے بڑے سلیقے سے بٹن لگا دیئے۔ کتنا پیارا ہے بھائی میرا۔ اور وہ جواد عجیب مغرور ہیں بھئی۔ اور اتنے خوبصورت بھی تو نہیں جتنے ارشی ہیں۔ انہیں دیکھو تو کیسی بے چینی ہوتی ہے۔ ارشی کو دیکھو تو پیار آتا ہے۔ چودھویں کے چاند جیسی ٹھنڈک ہے ان میں۔

بٹن لگا کر شیروانی دی تو ارشاد ہوا "ہم شیو کریں گے منا۔ ذرا پانی تو گرم کر لا"۔
وقت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے۔ ابھی تو بہت وقت پڑا تھا جانے میں۔ اس لیے میں نے سوچا کیا ہرج ہے جو پانی گرم کر دوں۔ پانی رکھ کر جو جانے لگی تو فرمایا "ادھر دیکھو حمام میں آئینہ رکھا ہے۔ وہ لا کر ہمارے سامنے پکڑ کر کھڑی رہ۔ ہم یہیں پلنگ ہی پر شیو کریں گے۔ اب اٹھ کر کون آئینہ تک جائے۔

پھر حکم صادر ہوا حمام میں صابن رکھ۔ الماری سے تولیہ نکال لا"۔ واہ واہ کتنی پیاری بچی ہے میری، جو کہو جھٹ پٹ کر دیتی ہے۔ سونا ہے میری بٹیا، موتی ہے میری بھنو"۔

وہ حمام میں گا گا کر نہاتے رہے۔ میں اپنے دوپٹے کے بل کھولتی رہی۔ خیال تھا کہ اب جان چھوٹی۔ ذرا اطمینان سے تیار ہو سکوں گی۔ مگر یہ سب قسمت میں کہاں۔ حمام سے نکلے تو کہنے لگے "بھئی منو زمانہ ہو گیا تو نے ہمارے بالوں میں کنگھی نہیں کی"۔

ان کے بالوں میں کنگھی کرنا مجھے بہت پسند ہے۔ نرم نرم ریشم جیسے بال ہیں۔ گھنٹوں کنگھی کیے جاؤ مگر جی نہ اکتائے گا۔ گھنے ایسے کہ مانگ ہلکی کرن جیسی نکلتی ہے۔ لیکن اس وقت میرا جی چاہا ان کے بالوں کو اور الجھا دوں۔ کام کے بعد کام بتاتے جائیں گے۔ میں بے دلی سے کنگھی کرنے لگی۔ لیکن جلد ہی ان کے اندھیرے حسن نے مجھے کھینچ لیا اپنی طرف۔ ان گھنے بالوں میں منھ چھپا کر سو جاؤ تو کیسی میٹھی نیند آئے گی۔ مجھے اب تک یاد ہیں وہ دن جب ارشی کے گھنے بالوں میں منھ چھپا کر میں دن کے وقت بھی سوجایا کرتی تھی۔ بھینی بھینی خوشبو، نرم نرم سیاہ بال۔ دن کے وقت بھی نیند میں مجھے وہ لطف آتا جو آج کل برسات کی بھیگی اندھیری راتوں میں نرم نرم تکیے پر سوکر بھی نہیں آتا۔

بالوں میں جب کنگھی ہو چکی تو دو ہلکے ہلکے خم پڑ گئے۔ کیا ان خموں میں اپنی انگلیاں کوئی نہیں پھنسائے گا۔ حنائی انگلیاں کیا ان ریشمی گچھوں سے کھیلنے کے لیے بنیں ہی نہیں؟ کنگھی ختم ہو گئی تو ارشی نے یکایک کہا "تو بہ توبہ میں اپنے جوتوں میں پالش لگوانا بھول ہی گیا۔ یہ تو نہ ہو گا کہ منو ہمارے سارے کام کر دے۔ اور جوتوں کو یو نہی رہنے دے۔ کیسی اچھی ہے میری جان، ہے نا"؟


جی چاہا اپنا منھ نوچ لوں۔ لیکن پھر خیال آیا جہاں اتنا کام کر دیا ہے۔ یہ بھی کر دو۔ دل پر جبر کر کے میں نے جوتوں کو چمکایا۔ اور اب تو یقین ہو گیا ارشی ساتھ ضرور لے جائیں گے۔ وقت ختم ہو رہا تھا۔ مگر ارشی کے احکامات ختم ہی نہ ہو چکتے۔ مسلسل وہ بکتے جا رہے تھے۔ بھئی پیچھے سے دیکھو شیروانی کیسی لگ رہی ہے۔ وہ جوتا اٹھا لاؤ۔ ڈوریاں اچھی طرح باندھو۔ وہ خوشبو کی شیشی لاؤ۔ ادھر چھڑکو۔ میری ٹوپی کو برش کر دیا نا تم نے۔ میرا سگریٹ کیس کہاں ہے؟ ارے بھئی وہ میری ایک گذشتہ محبوب کا تحفہ ہے۔۔۔ سمجھا تم نے"۔

ہائے اللہ پارٹی کا وقت نکل نہ جائے اور میں نے دوڑ کر گھڑی دیکھی۔ دس پندرہ منٹ ہی رہ گئے تھے۔ مجھے پارٹی کا زیادہ افسوس نہ تھا لیکن کہیں انو کا ناچ ختم نہ ہو جائے۔ وہ بہت نخرے کرتی ہے۔ بہت زیادہ منتوں کے بعد تو راضی ہوئی ہے۔ میں نے بالوں میں جلدی جلدی کنگھی کی۔ جلدی میں ایک لٹ بھی کھسوٹ لی میں نے۔ خدا جانے بالوں کو باندھنے کا فیتہ کدھر گیا۔ ارے ابھی تو یہی تھا …۔

ارشی نے کمرے میں جھانک کر دیکھا۔ "ادھر بڑے ٹھاٹ ہیں بھائی"
"اللہ ارشی تم نہ باندھ دو میری چوٹی۔"
"ارے واہ تیرے بال چمٹ جائیں گے شیروانی سے اور یار دوست قہقہے لگائیں گے۔ فقرے کسیں گے۔ دن کے وقت کس کی زلفیں تیری باہوں پرپریشان ہوئی تھیں۔ اچھا سنوجلدی کرو وقت ہو گیا۔ بہت سنوارتی ہیں بھئی یہ لڑکیاں۔ گڑیوں کی طرح بس سجنا ہی ایک مقصد رہ گیا ہے۔ چلو چلو ارے منی باتھ روم تو دیکھ لے ذرا صاف ہے کہ نہیں۔ ہم جائیں گے"۔

اس آخری بات پر تو میری جان جل گئی، میں دوپٹے میں خوشبو بساتے ہوئے بولی"۔ ارشی میں کہتی ہوں بی اماں سے۔ اتنے سارے کام کئے تو سرکار بڑھنے ہی لگے۔ بی اماں"!

میں نے جونہی آواز دی ارشی کھٹ پٹ سلام کر کے سیڑھیوں پر سے پھلانگتے ہوئے بھاگ گئے۔ میں نے سوچا مذاق کر رہے ہیں۔ جائیں گے کہاں۔ مگر گھور گھر نیچے سے آواز آئی"حضور چل دیئے" میں نے دوڑ کر کھڑکی میں سے جھانکا۔ ارشی نے ہاتھ ہلا کر منھ چڑا دیا اور یہ جا وہ جا۔

اس وقت اتنا غصہ آیا کہ میرا جی چاہا چنے ہوئے دوپٹے سے گلے میں پھانسی لگا لوں. دوڑ دوڑ کر اتنا کام اور صلہ یہ ملا کہ چھوڑ کر چل دیئے۔ بے اختیار میں روپڑی۔ یا اللہ یا اللہ میاں تو ارشی کو ایسی بیوی دے،ایسی بیوی دے، ایسی."

میں بد دُعا ختم بھی نہ کر پائی تھی کہ ثریا آ گئی۔ مجھے خیال ہی نہ تھا یہ ارشی کے پڑوس ہی میں رہتی ہے۔ ورنہ کاہے کو اتنی خوشامد کرتی ان کی۔ میں ثریا کے ساتھ کالج چلی گئی۔ وہاں اتنی دل چسپیاں تھیں کہ خفگی کا خیال ہی نہ رہا۔ ارادہ تو یہی تھا کہ اب کبھی بھی ارشی سے بات نہ کروں گی۔ مر بھی جاؤں تب بھی نہیں،بی اماں سے کہہ دوں گی۔ آج چلیے میرے ساتھ امی، بابا میں اور آپ ساتھ رہیں گے۔ ارشی کو یہیں چھوڑ دیجئے۔ خواہ اکیلے گھر میں باولے بن کر رہیں خواہ ہاسٹل چلے جائیں۔ ہمیں کیا کالج نے غصہ ٹھنڈا کر دیا۔ بات نہ کروں گی۔ کٹی لے لوں گی۔ اس لیے میں نے بغیر ان کے کمرے کی طرف دیکھے اپنے کمرے کی راہ لی۔ صبح امی کے پاس چلی جاؤں گی اور نہیں تو کیاآج ثریا نہ آتی تو۔


ارے وہاں تو میرے سفید بستر پر ارشی جوتوں سمیٹ لیٹے ہوئے تھے۔ کمرے میں سگریٹ کی بو سے دم گھٹا جا رہا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی انہوں نے گھسیٹ لیا۔ ناراض ہو گئی منی۔ میری اپنی منی روٹھ گئی۔ جانے دے بھئی، اب جانے ہی دے۔ دیکھ تو ہم کیا لائے ہیں تیرے لیے۔ یہ چاکولیٹ، یہ بالوں کے فیتے، یہ سینٹ کی شیشی اور" "مجھے کچھ نہیں چاہیے"
"اچھا!" اور میری آنکھوں پر نرم نرم سیاہ بال ریشمی لچھوں کی طرح چھا گئے۔ میری پیشانی پر جیسے کسی نے کنول کا تاج سجا دیا ہو۔

ایک دن کالج سے لوٹی تو دیکھاارشی بیٹھے ہیں۔ ادھر پورا ایک ہفتہ وہ میرے ہاں نہیں آئے تھے۔ میرا بھی ان کے ہاں جانا نہ ہو سکا۔ پڑھائی سے لاکھ جان چھڑاؤں لیکن ہوم ورک اتنا ہوتا کہ تھکن کے مارے کہیں آنے جانے کو جی نہ چاہے۔ ارشی نے مجھے دیکھا تو وہیں سے آواز دی۔ "آؤ بی بی آو" دیکھو توکون آیا ہے۔ سنا تم نے یہ جواد آئے ہیں۔ میں پکڑ لایا ہوں انہیں۔ یہ ایک ٹینس کے پارٹنر کی تلاش میں ہیں۔ یہاں آوتو."

سچ مچ ادھر تخت پر جواد بھائی بیٹھے تھے۔ کتنے زمانے بعد آئے تھے یہ۔ مجھے جھجک محسوس ہوئی۔ ارشی خواہ مخواہ بے تکلفی کریں گے اور ان کے سامنے شرم آئے گی۔ اس لیے چاہا کہ سنی ان سنی کر کے گزر جاؤں۔ لیکن جواد بھائی نے خود ہی آواز دی"آؤ بی بی یہاں آ ونا."

مجبوراً جانا پڑا۔ آداب بھائی۔ اچھے تو ہیں آپ۔ میں نے اخلاقاً کہا۔

بہت دنوں بعد دیکھا تھا۔ تعلیم چھوڑے بھی انہیں دوسال ہو گئے۔ اس لیے شاید کچھ موٹے بھی ہو گئے تھے۔ شرارت کی جگہ اب سنجید گی نے لے لی تھی۔ سگریٹ پینے اور دھوئیں کے بادل اڑانے کا انداز بھی خوب آ گیا تھا۔ مگر ان کی نگاہوں کا غرور کچھ زیادہ بڑھ گیا تھا۔ نہ جانے ان کی نگاہوں میں بات کیا تھی، مجھے ایسے لگا کہ یکایک سورج تپ گیا۔ ان کا بانکپن،ان کی باتیں اور ان کی بے باک فطرت مجھے پسند ہے۔ لیکن یہ ان کی نگاہوں کا غرور ہمیشہ مجھے ڈرا دیتا۔ بے شک مجھے بزدل مرد پسند نہیں۔ جرات اور بے باکی اپنی جگہ اچھی صفات ہیں لیکن ان کی مغرور نگاہیں مجھے کچھ چھوٹا کچھ نیچا کر دتیں۔ میں اپنی نظروں میں پست نظر آنے لگتی۔

ارشی چودھویں کے چاند کی طرح روشن تھے۔ انھیں دیکھ کر جی خوش ہو جاتا۔ کچھ ٹھنڈک سی رگوں میں دوڑتی۔ ان سے بے تکلف ہو جانے کو جی چاہتا،ان کا دوست بن جانے میں کوئی قباحت نظر نہ آتی۔ اور باوجود پھکڑپن کے وہ کبھی ایسے لگے کہ میں جھجک جاتی۔ زوالوجی کے ہر غلط مسئلے پر آپ بحث کرتے۔ لیکن میں نے کچھ بھی محسوس نہیں کیا۔ مگر جواد بھائی کی مغرور آنکھیں. اس دفعہ یا تو ان میں زیادہ بیداری آ گئی تھی یا پھر میں انھیں زیادہ سمجھ رہی تھی۔ میں نے بے چین ہو کر ارشی کی طرف دیکھا۔


سنا تم نے کچھ. جواد کو ٹینس پارٹنر کی ضرورت ہے۔ بے چارا حیران ہو رہا ہے تم دلاؤ نا"
"میں کہاں سے دلاؤں بازار میں بکتے ہوں تو تم خود ہی نہ خرید لو۱ اور میں کہتی ہوں ارشی تم خود بن جاؤ نا پارٹنر ان کے" میں نے بات کرنے کی غرض سے کہا۔

جواد بھائی ہنس پڑے، ارشی کو بھی ہنسی آ گئی۔

"ارشی پارٹنر بن سکتے تو کبھی کے بن جاتے، مگر بی بی مجھے تو ایک لڑکی ساتھی کی ضرورت ہے۔
ساتھن کہنا زیادہ آسان ہے" ارشی نے خواہ مخواہ دخل دیا۔
"میں کہہ رہا تھا بی بی اگر تمھارے ساتھ کی لڑکیوں میں سے کوئی راضی ہو جائے تو مجھے بتا دینا۔ یوں تو کئی ایک لڑکیاں مل سکتی ہیں۔ لیکن میں ذرا اچھی لڑکی چاہتا ہوں۔ شایستہ اور مہذب۔ ہمارے کلب میں صرف نصرت ہی ایسی ہے کہ اسے میں لے سکتا تھا مگر عسکری نے مجھ سے پہلے ہی طے کر لیا"
"اچھا میں دیکھوں گی"
ضرور بھئی،اور سن جواد تجھے لڑکی مل جائے تو میرا کمیشن مت بھولنا، اور بی بی کو اجرت بھی ضرور دینا"۔
تمھیں کمیشن تو نہ دوں گا۔ ہاں بی بی کہے تو میں اسے ضرور وہ سب کچھ دوں گا جو وہ مانگے۔ کہے تو میں زوالوجی اور کیمسٹری کے نوٹس لادوں شفاعت سے لے کر"۔

"نہیں بھئی نوٹس تو وہ آپ ہی شفاعت، شرافت سے اچھے لکھ لیتی ہے۔ وہ کہتی ہے ارشی میرے لیے ایک دولہا ڈھونڈ دو۔ کیا کہوں یار مصیبت میں ہے جان میری۔ اب بھئی یہ تو میرے بس کا روگ نہیں کہ گلی گلی چکر لگاؤں اور آواز لگاتا پھروں کہ ہے بھئی کوئی مائی کا لال جو ایک نٹ کھٹ، جھٹ خفا، پھوہڑ، لڑاکا مگر پیاری لڑکی سے شادی کرے"۔

اللہ کتنے بد تمیز ہو ارشی تم، شرم نہیں آتی تمہیں ایسا کہتے ہوئے۔ میں نے کب کہا تھا تم سے۔ تم خود نہ کر لو اپنی شادی یوں گلی گلی گھوم کے"۔ اور میرا جی چاہا کہ ارشی کے تندرست بازو میں اپنے نکیلے دانت گڑو دوں۔ مگر پھر جواد بھائی کو دیکھا تو صرف ان کا ہاتھ موڑ کر رہ گئی۔ اتنے میں امی آ گئیں۔ راشی نے شکایت کی۔ "دیکھیے چچی جا ن کیسی بد تمیز ہے یہ۔ جواد کا رشتہ ان کی دوست صغرا سے ہو رہا ہے۔ جواد کے کہنے سے میں نے اس لڑکی کے اخلاق و عادات پوچھے تھے تو اس نے میرا ہاتھ مروڑ دیا۔ کہتی ہے تمہیں شرم نہیں آتی، بے چارے جواد بھی دل میں کیا کہتے ہوں گے"۔

امی نے مجھے ڈانٹا"بتاتی کیوں نہیں؟ ارشی لڑکی ہے کیا جوا سے شرم آئے گی۔ اور اس کی بدتمیزی کا کیا کہوں،ایک ان کے بابا اور ایک تم ہو ارشی اسے جی بھر کر بگاڑنے والے اور ہاں یہ صغرا کون ہے؟ میں نے تو کبھی نہیں دیکھا۔ کیوں منی تیرے ہی ساتھ پڑھتی ہے یہ"۔

جواد ہنس پڑے۔ یہاں میرے فرشتوں کو بھی خبر نہیں کہ یہ صغرا ہے کون بلا۔ ارشی خود ہی بولے۔ نہیں آپ نے نہیں دیکھا ہو گا۔ وہ ان کے ساتھ نہیں ہے۔ سکنڈ ایر میں پڑھتی ہے۔ ابھی تو یہ پہچانتی ہے اسے
جھوٹ بولے رام، گدھے برابر آم۔ میں کبھی بھولے سے بھی جھوٹ بولوں تو میری حالت ہی چغلی کھانے لگے۔ لیکن ارشی اس فن میں ماہر ہیں، بڑے ٹھنڈے دل سے جھوٹ بولیں گے اور پوری تفصیلات سے کام لیں گے۔
امی کہنے لگیں "ضرور کر لو بھائی شادی۔ خیر سے اب روزگار کے بھی ہو گئے۔ یہی تو دن ہیں شادی کے۔ ورنہ کب کرو گے۔ بھابی سے ملنا بھی نہیں ہوا۔ ورنہ ضرور پوچھتی ان سے کہ دیر کیوں ہو رہی ہے۔ یہ ہیں ایک ہمارے بابو ارشی، بوڑھے ہو کر شاید شادی کریں گے"۔
"اور نہیں توکیا۔ جبھی تو پیر دبوانے کی ضرورت پڑتی ہے"۔


مجھے ہنسی آ گئی۔ اور پھر میں وہاں سے چلی آئی۔ اپنے کمرے میں آ کر کچھ اپنا کام کرنے لگی۔ امی سے باتیں کر کے جاتے جاتے جواد بھائی میرے کمرے میں بھی آ گئے۔ ارشی وہیں امی سے گپ لڑا رہے ہوں گے۔ میں بے چین ہو گئی۔ بات کروں تو کیا کروں۔ وہ خود ہی پوچھنے لگے۔ "بی بی بھولنا مت۔ ٹینس کے لیے کوئی دلا دو۔ پھر ہم بہت سارے چاکولیٹ کھلائیں گے تمہیں۔ تم کبھی آتی نہیں ہمارے گھر۔ تم آؤ تو ہم اپنی کتابیں دکھائیں. اور ہاں بھئی برا نہ ماننا۔ ارشی تو یونہی کہتے ہیں"۔

معلوم نہیں کیوں مجھے شرارت سوجھی میں نے کہا" اچھا آپ کے لیے صغرا ڈھونڈ دوں گی۔ مگر شادی میرے امتحان کے بعد رکھئے گا بھائی تاکہ میں اطمینان سے شریک ہو سکوں۔

جواد بھائی ہنس پڑے۔ پھر کہنے لگے" اچھی بات ہے۔ تم جو کہو"۔ اور جاتے جاتے سگریٹ کا سارا دھواں میری طرف چھوڑ گئے۔ اور اس سے قبل کہ میں ناراضی کا اظہار کروں ان کی آنکھوں میں ایک شرارہ چمکا۔ پھر وہ مجھے بنانے کے انداز میں بولے "کہو تو میں بھی ارشی کی طرح گلیوں میں گھوم گھوم کر آواز لگاؤں. مگر تم نٹ کھٹ تو نہیں ہو"۔۔

میں نے کوئی جواب نہیں دیا اور وہ باہر چلے گئے۔ بہت دیر تک میرے کانوں میں یہی الفاظ گونجتے رہے۔ "مگر تم نٹ کھٹ تو نہیں ہو" معلوم نہیں کیوں لفظ نٹ کھٹ کے ساتھ کرشن اور رادھا میرے تخیل میں کوند جاتے۔ مگر یہاں یہ لفظ. بار بار میرے ذہن سے پردہ ساسرکتا مگر پھر تاریکی چھا جاتی۔ میں کچھ بھی نہ سمجھ سکی۔ اور جب ارشی خدا حافظ کہنے کو آئے تو میں ایک لفظ بھی نہ کہہ سکی۔ ارشی نے سمجھا میں خفا ہوں۔ پیار سے بولے "خفا ہو گئی ہو بٹو۔ اوں ہوں اچھی بی بی غصہ نہیں کرتی" بڑی معصومیت سے اپنا کان کھینچ لیا اور پھر اپنے" بٹن ہول" میں لگا ہوا سرخ گلاب مجھے رشوت میں دے کر بھاگ گئے۔

دوسرے دن چھٹی تھی۔ میرا جی چاہا ارشی آ جائیں تو کسی پکچر کو چل دیں۔ دیکھے ہوئے ادھر بہت دن ہو گئے تھے۔ ارشی آ گئے تو میں نے کہا چلو ارشی کچھ شاپنگ کرنی ہے۔ ایک آدھ اچھی سی پکچر بھی دیکھ ڈالیں آج۔ ارشی کہنے لگے۔ بھئی یہ بے جان فلمیں تو ہمیشہ ہی دیکھتے ہیں۔ آج تو کہے تو میں ایک جاندار فلم دکھا لاؤں تجھے۔ چل اسی بات پر میرے ساتھ چل۔ آج میں تجھے بہت سی باتیں سمجھادوگا"۔
"جنت میں! میں مفت کا اجازت نامہ لے آیا ہوں"۔ وہ ہنسے۔

میں بھی چلنے کو تیار ہو گئی۔ آدھے راستہ میں بتایا" حسنیٰ کے یہاں لے جائیں گے تجھے "اللہ ارشی سچ مچ تم بڑے اچھے ہو"۔ حسنیٰ نے گھر پر ایک چھوٹا موٹا کلب بنا رکھا تھا۔ جس کے صدر ارشی تھے۔ اس میں خاندان کے سارے کھلاڑی لڑکے اور لڑکیاں آیا کرتے۔ حسنیٰ معتمد تھی۔ ان دوسال کے عرصہ میں با رہا میں نے کہا تھا۔ مگر ارشی ٹال جاتے۔ آج وہ خود ہی لے جا رہے تھے۔ حسنیٰ کے یہاں پہنچے تو میری آنکھیں کھل گئیں۔ زندگی گھر سے کالج اور کالج سے گھر تک محدود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بھی اور بہت کچھ ہے۔ دلچسپیاں تو یہاں بہت تھیں۔ لیکن میں اپنے آپ کو کچھ اجنبی، کچھ گنوار محسوس کرتی رہی۔ مشرق و مغرب کا بعد تھا مجھ میں اور ان لوگوں میں۔ رنگے ہوئے ہونٹ، بنی ہوئی پلکیں، مصنوعی لہجہ اور کٹھ پتلیوں جیسی چال۔ یہاں میں نے نے ارشی کو بھی نئے روپ میں دیکھا۔ وہ راجہ اندر تھے اکھاڑے کے۔ یہاں بھی وہ بے تکلف مذاق کر رہے تھے۔ لیکن اس میں وہ معصومیت وہ خلوص نہ تھا جو مجھ سے باتیں کرتے وقت محسوس ہوتا۔ مجھ سے وہ غلیظ سے غلیظ باتیں بھی کر جاتے۔ تب بھی کچھ برائی نظر نہ آتی۔ اور یہاں وہ کسی کی طرف دیکھ بھی لیتے تو مجھے محسوس ہوتا کہ گناہ کر رہے ہیں۔


بار بار حسنیٰ کی انگلیاں ان سے الجھتی رہیں۔ بار بار ناہید کی اوڑھنی ان کے بازوؤں سے لپٹتی رہی۔ ہر قہقہہ کھوکھلا تھا۔ ہرمسکراہٹ بے جان تھی۔ مجھے تو وحشت سی ہونے لگی۔ اتنے میں جواد بھائی بھی آ نکلے۔ مگر وہ خود بھی ہر ایک سے ویسے ہی بن بن کے باتیں کر رہے تھے۔ ان کی آنکھوں کی شوخی میں مجھے گھناونا پن نظر آیا۔ میں نے نظریں پھیر لیں۔ مجھے جو دیکھا تو وہ حیرت زدہ ہو گئے۔ "ارے بی بی تم یہاں"؟ہاں،میں نے مختصر جواب دیا۔

ارشی لایا ہے تمہیں یہاں"۔ جی ہاں۔ میں نے کہا اور خدا معلوم میرے جی میں کیا آئی کہ میں نے کہا"آپ حسنیٰ کو بنا لیجئے نا پارٹنر اپنی۔ بہت اچھا کھیلتی ہے وہ" یہ میں جانتا ہوں۔ مگر بی بی میں صرف کھیل کے علاوہ بھی اپنی ساتھی میں کچھ چاہتا ہوں۔

آپ کچھ نہیں چاہتے۔ آپ صرف یہی کچھ چاہتے ہیں جو یہاں ہے۔ یہی مصنوعی قہقہے یہ غیر فطری شوخیاں، یہ دھوکہ باز فطرت،یہ امارت کے نظارے، آپ صرف یہی چاہتے ہیں۔

معلوم نہیں کیوں میں نے یہ سب کچھ تلخ لہجہ میں کہا، مگر میں نے دیکھا،جواد بھائی کی نگاہیں جھک گئیں۔ ان کی مغرور ادائیں پسپا ہو گئیں۔ میں نے پہلی دفعہ ان سے اپنے آپ کو بہت اونچا محسوس کیا۔ سورج اب بھی مجھے اپنے قریب محسوس ہوا، لیکن اس کی گرمی کو میں نے چپکے سے برداشت کر لیا۔

جب گھر لوٹی تو ارشی کھوئے کھوئے تھے اور میں بے چین۔ آج پہلی بار میں نے ان کی ٹھنڈی آنکھوں میں ایک خاموش شعلہ بھڑکتا دیکھا۔

با با دورے پر جانے لگے تو امی بھی ساتھ چلی گئیں۔ مجھے پھر بی اماں کے پاس جانا پڑا۔ وہ تو اس زمانے میں کالج کو چھٹیاں تھیں۔ ورنہ اتنی دور کون لے جاتا مجھے۔ چھٹیاں ارشی کے ساتھ بہت مزے سے گزرتی ہیں،پڑھنا وڑھنا خاک نہ ہوتا۔ لیکن دن لطف سے کٹتا۔ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ دن کیسے گزر رہے ہیں۔ ادھر جواد بھائی بھی ہر دوسرے تیسرے دن آنے لگے۔ تاش، قہقہے، سگریٹ، چائے، باتیں، باتیں، صرف باتیں، دنیا بھر کی باتیں. بس چلتا تو شاید ارشی اور جواد بھائی رات بھر بھی جاگا کرتے۔ بی اماں سرِ شام ہی سے ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگتیں۔

ایک دن جواد بھائی نہیں آئے۔ میں بی اماں کے پاس تخت پر لیٹی ہوئی تھی۔ ارشی نہا کر حمام سے نکلے۔ اور آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آپ کو دیکھتے رہے۔ یہ ان کی عادت تھی کہ اپنی صورت، اپنا جسم اور اپنے بازوؤں کو نئے نئے انداز سے دیکھتے،اور خود ہی خوش ہوتے۔ ساتھ ساتھ بی اماں اور مجھ سے داد طلب کرتے جاتے۔ جسم ان کاسچ مچ فولاد کا ڈھلا تھا۔ تنا ہوا اور چمکیلا۔ مچھلیاں پھڑکاتے تو میں نظر نہ ہٹاسکتی۔ اتنے قوی ہونے کے باوجود درشتی کا نام و نشان نہیں۔ دیکھنے میں بھی نرم نرم اور چاند کی طرح ٹھنڈے ٹھنڈے چمکیلے نظر آتے۔ اور ان کی گردن کا خم۔ ایسی پیاری گردن تھی اور وہ خم. یہاں گردن و شانہ آپس میں مل جاتے۔ میرا جب کبھی پیار کرنے کو جی چاہتا میں بائیں طرف ان کا یہی خم چوم لیتی۔ گرمی اور نرمی، وہاں ہونٹ رکھ دو تو سر اٹھانا یاد نہیں رہتا۔ گوشت میں گوشت جذب ہو جاتا ہے۔ کچھ اپنا پن کچھ انوکھا پن ہوتا اس پیار میں۔


ارشی شاید میری نگاہوں کا تعاقب کر رہے تھے۔ کہنے لگے جان اب تجھ میں جھجھک کیوں پیدا ہو گئی۔ بڑی بری بات. کیوں نہیں بے تکلف تو پہلے کی طرح پیار کر لیتی۔ دیکھ تو. ابھی ابھی نہا کے نکلا ہوں۔ گردن کے خم میں تازہ تازہ نرمی اور گرمی ہے۔ آ۔ آ بھی جا"
بی اماں کہنے لگیں "چل چل۔ دماغ خراب ہوا ہے تیرا، سب کے سامنے بھی ایسے ہی کرتا رہتا ہے۔ لوگ کیا کہیں گے بھلا، وقت وقت کی بات جدا ہوتی ہے"
"لوگ کیا کہیں گے؟ ہوتے کون ہیں وہ بولنے والے۔ جب دیکھئے تب آپ یہی کہیں گی۔ یہ ڈریہ خوف، تصنع اور بناوٹ پیدا کرتا ہے۔ آپ لوگوں کی یہی ذہنیت تو گندگی پیدا کرتی ہے۔ اسی میں گناہ جنم لیتے ہیں۔ معصوم پیار کو آپ برا کیوں سمجھتی ہیں۔ میں آپ کی اداس پیشانی چوم لوں یا بی بی کی آنکھیں تو اس میں برائی کیا ہے "۔

وہ جلدی سے کپڑے پہن کر آ گئے۔ آج ان کی آنکھوں میں ایک میٹھی سرگوشی جھانک رہی تھیں۔ میرا کان کھینچ کر اپنے منھ تک لے گئے۔ ان کے ابھرے ہوئے ہونٹوں کی ٹھنڈک نے میرے پپوٹوں پر نیند پھیلا دی تھی۔ انھوں نے زور سے کان کھینچا تو میں جھنجھلا گئی۔

"کیا ہے ارشی؟۔
زور زور سے چیخ کر کہنے لگے کان میں "سن تو ایک پرائیوٹ بات سنے گی۔۔۔۔؟
"تمہاری پبلک باتیں کون سی ہوتی ہیں ارشی؟
ہنس کے کہنے لگے۔ "نہیں بھنو سچ مچ کی پرائیوٹ بات ہے"۔
بی اماں نے پوچھا، یہ آخر کیا بات بات کر رہا ہے۔ سیدھے سیدھے بتاتا کیوں نہیں۔
"بی اماں! میں اس سے اظہار عشق کرنا چاہتا ہوں۔ اس کو پرائیوٹ بات کہتے ہیں۔
ارے ارے منھ سنبھال کے۔ تیری چچی جان سن لیں تو خفا ہی ہو جائیں۔ اور تیرے چچا جان کیا کہیں گے؟ سگا بھائی بھی ہو تو کیا، ہوش آنے پر سنبھل کر بولنا پڑتا ہے۔ کیا کہیں گے وہ بھلا"۔
"کہیں گے کیا؟ انہوں نے نہیں کیا ہو گا عشق؟ کون نہیں کرتا۔ اس کے مختلف روپ ہیں امی۔ مگر سب یہی کرتے ہیں۔ پھر کیوں نام لیتے شرمائیں کیوں۔ عمر کے ہر دور میں ہر پہلو سے ہم کھل کر عشق کریں، گناہ چھپانے میں ہے. اچھا میری پیاری بی اماں یہ تو بتائیے آپ سے میرے بابا نے عشق نہیں کیا ہو گا؟ میں سمجھتا ہوں وہ بھی میرے ہی جیسے ہوں گے۔ وہ اب ہوتے تب بھی یہی کرتے۔"

ارشی ہیں ایک بے وقوف۔ بھلا کیا ضرورت تھی ان کو مرحوم شوہر کی یاد دلانے کی۔ بی اماں کی آنکھوں میں نمی کی کہر پھیل گئی۔ پرانی،بہت پرانی باتیں یاد آ گئیں۔ آج سے بیس بائیس سال پہلے کی۔ وہ ہمارے پاس سے اٹھ گئیں۔ ان کا خوب صورت اداس چہرہ جو وقت سے پہلے ہی مرجھا چکا تھا آج پھر تمتما اٹھا۔ یہ یادیں بھی کتنی بے رحم ہوتی ہیں۔

"ارشی ان کے انداز بھی یہی تھے."
جب وہ چلی گئیں تو میں نے ارشی کا کان کاٹ لیا۔ تم کتنے گدھے ہو ارشی۔ کتنی اداس ہو گئیں وہ۔ اظہار عشق کرنے چلے تھے۔ بڑے آئے وہاں سے۔ کیا روز روز نہیں کرتے۔ جو آج نیا لاڈ امنڈ آیا۔ لے کے میری بی اماں کا دل دکھایا"۔


ارشی خود بھی سوچ میں پڑگئے۔ پھر کہنے لگے۔ "میں اکثر سوچتا رہتا ہوں بی بی کہ ہم سب محبت کے بھوکے ہیں، ہمیں ہمیشہ کسی نہ کسی کی محبت کی سخت ضرورت ہے۔ ماں ہو کہ بہن، بیوی ہو کہ بیٹی، باپ ہو کہ بھائی، بیٹا ہو کہ دوست، محبت کے سینچے بغیر زندگی کا پودا پنپ نہیں سکتا۔ پروان نہیں چڑھ سکتا، جب ہم حقیقت کو مانتے ہیں تو پھر کیوں نہیں کھل کر ایک دوسرے سے محبت کرتے، ایک دوسرے کو چاہتے، جذبات کا گلا ہم کیوں گھونٹا کرتے ہیں؟ ہم ایک دوسرے میں بعد کیوں پیدا کرتے ہیں! سچ جب کبھی تمھیں چچا ابا سے باتیں کرتے دیکھتا ہوں تو میرے دل میں محبت کا عجیب احساس جاگ اٹھتا ہے۔ تم کتنی بے حس ہو دور بیٹھی باتیں کیا کرتی ہو۔

اگر میرے بابا ہوتے تو میں ضرور انھیں پیار کرتا۔ تم تو امی سے بھی بے تکلف نہیں۔ مگر میرا جی تو اپنی بی اماں کو بچوں کی طرح پیار کرنے کو چاہتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے جان، کہ میں تجھے بھی اتنی شدت سے پیار کرتا ہوں۔ شدت مجھے بہت پسند ہے اور خصوصاً محبت میں، تو نے بھی تو وہی دودھ پیا ہے جس نے مجھے اس قدر محبت کا پیاسا بنا دیا ہے"۔

معلوم ہوتا ہے ارشی تم محبت کے موضوع پر کوئی خاص کتاب پڑھ کر آئے ہو۔ ایسے ہی محبت والے ہو تو شادی کیوں نہیں کر لیتے۔ دن رات بیٹھے بیوی کی پوجا کیا کرنا،
"میں تو آج کر لوں، واللہ ابھی کر لوں مگر مجھے لڑکی ملے تب نا"۔
"دنیا میں کیا لڑکیاں ہیں ہی نہیں۔ اور پھر تم جس لڑکی کو چاہو گے وہ آپ تمہاری ہو جائے گی۔ اتنے اچھے ہو تم۔ بھر پور زندگی، بے داغ سیرت اور پھر تم کتنے خوش مذاق ہو"۔

ارشی نے سگریٹ کا کش لے کر دھواں چھوڑ دیا۔ پھر کچھ سوچ کر بولے۔ "بی بی۔ وہ لڑکی کہاں جسے میرا دل پیار کرے۔ میں جو کچھ چاہتا ہوں وہ مجھے کہیں نظر نہیں آتا۔ یا پھر شاید میں نے ایسی لڑکیاں دیکھی ہی نہیں،مانا کہ پردہ بزرگوں کے نزدیک کچھ خوبیاں رکھتا ہے۔ مگر اکثر شریک زندگی کا انتخاب غلط ہو جاتا ہے۔ میں نے آج سے چار پانچ سال پہلے ایک لڑکی دیکھی تھیں۔ مگر میرے قریب پہنچنے تک دوسرے نے اسے اپنا لیا۔"

میں جانتی تھی کہ یہ لڑکی کون ہے۔ ارشی کو اس کے لیے پریشان بھی دیکھا تھا۔ اس کی شادی کے بعد اداس بھی دیکھا تھا۔ مگر پھروہ اپنی اصلی حالت پر آ گئے تھے۔ یہ تو مجھے آج ہی معلوم ہوا کہ صحیح قسم کی بیوی کا تصور اب بھی وہی ہے۔

میں نے ٹالنے کی غرض سے کہا" اوہو۔ بہت سنجیدگی سے سوچنے لگے ہو۔ اب تو۔ ارے بھئی حسنیٰ سے کیوں نہیں کر لیتے۔ صورت تو بڑی پیاری ہے۔ اور آپ کو چاہتی کتنا ہے۔

"تم صرف حسنیٰ کی صورت ہی دیکھتی رہو۔ اس کی سیرت کی جھلک نہیں دیکھی تم نے۔ یہی دکھانے تو میں تمہیں ایک دن وہاں لے گیا تھا۔ دیکھ لیا نا وہاں کس قدر دھوکا ہے،کتنا فریب ہے۔ میں قیامت تک اکیلا رہنا گوارا کر سکتا ہوں۔ مگر ریاکار محبت کے چند لمحے بھی مجھ پر بار ہو جاتے ہیں۔ مجھے گھن آتی ہے اس سے۔ یہ شایستہ طوائفیت ہے اور اسے میں انسانی زندگی کا سب سے برا مرض سمجھتا ہوں۔ اس سے گھن کھاتے ہوئے بھی میں نے اس پر نشتر لگائے ہیں بی بی"۔


"تو پھر ارشی تم مجھ جیسی کسی بے وقوف سے کر لو۔ جو عمر بھر کبھی ریاکاری کر ہی نہ سکے"
"میں اس وجہ سے تجھے زیادہ چاہتا ہوں جان۔ تو بہن بھی ہے دوست بھی، انسان بھی ہے۔ اور میری محبوب بھی۔ یہی وجہ ہے میں تجھ سے ہمیشہ کہتا ہوں جھجک جھجک کر اس معصومیت کو داغ مت لگانا"۔

وہ اٹھ کھڑے ہوئے، پھر میری ٹھوڑی کو نرمی سے دباتے ہوئے بولے۔ جواد بہت اچھا لڑکا ہے۔ تم اس سے کھل کر ملا کرو۔ اس کے خلوص کو پرکھو۔ میں چاہتا ہوں کم از کم تم، اپنے شریک زندگی کے انتخاب میں مجبور نہ رہو۔ بی بی ہمیشہ یاد رکھنا کہ جب صحیح قسم کے دل و دماغ،مرد و عورت مل جاتے ہیں تو خدا کا سب سے بڑا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ یہی مسرت باوجود انسانی زندگی میں فانی ہونے کے دائمی اور ابدی ہے۔ یہی سچی عبادت ہے۔"

پھر ہنس کر بولے "یہی پرائیوٹ بات تھی جیسے میں پکار کر کہنا چاہتا تھا"۔ مجھے ایسے لگا کہ تپتا ہوا سورج یکایک مسکرانے لگا۔ اور اس کی گرمی سے جلنے اور پریشان ہونے کی بجائے ایک نئی تازگی اور گرمیِ حیات مجھ میں پیدا ہو گئی۔ رات میرے دل و دماغ نے ایک نئی کروٹ لی۔ اور زندگی میں پہلی بار میں نے ایک مرد کا انوکھے روپ میں تصور کیا۔ کیا میں جواد کو اس سے قبل جانتی تھی؟۔

امتحان کا زمانہ تھا۔ بے حد مصروفیت۔ سراٹھانے کو مہلت نہ ملتی تھی۔ زوالوجی، باٹنی، کیمسٹری اور فزکس فلاں وچنیں۔ سال بھر بڑے اطمینان سے گزارا تھا میں نے۔ اور اب اس کا جرمانہ دینا تھا۔ ایسے میں ارشی اور جواد کبھی کبھی آ جاتے۔ ارشی مجھ سے کہتے ڈرنے کی کوئی بات نہیں جان۔ اس سال نہیں اگلے سال سہی۔ وہ خود بھی ایسے ہی بے فکرے تھے۔ باوجود ذہین ہونے کے انہوں نے کبھی ایک سال میں ایک امتحان نہیں پاس کیا۔ ہمیشہ رک رک کر آگے بڑھتے رہے۔ لیکن مجھے اس سال کامیاب ہو جانا ضروری معلوم ہوتا تھا۔ کیونکہ جب تک دماغ تصورات سے خالی اور بے فکر رہنا ہے۔ تب تک انسان پڑھ بھی سکتا ہے، لکھ بھی سکتا ہے اور سب کچھ کر سکتا ہے۔ لیکن ادھر دو مہینوں سے جواد جو میرے خیالوں میں بس گئے تھے، اس سے میں بہت سہمی ہوئی تھی۔ زندگی میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ تھا۔ اس لیے یہ بھی مشکل تھا۔ کہ ادھر سے خیالات کو ہٹا لوں۔ میں اچھی طرح سمجھ گئی تھی کہ اگر نکل گئی تو اسی سال، ورنہ کبھی امتحان نہ دے سکوں گی۔

غضب تو جب ہوا جب امتحان سے چند روز پہلے گھر میں گڑبڑ ہو گئی۔ دو اچھے رشتے میرے لیے آ گئے۔ بابا اور امی اس فکر میں تھے کہ کوئی اچھا آدمی رشتہ مانگے۔ اور ان کے نزدیک "اچھا" ہونا ظاہر تھا کہ میرے لیے کیا ہو سکتا ہے۔ ہم دونوں کی نگاہوں میں فرق ہوتا ہے۔ ماں باپ اپنے نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں کہ آدمی کیسا ہے، کھاتا پیتا، کمانے والا خاندانی ہے کہ نہیں،وہ کبھی نوجوانوں کے نقطۂ نظر سے نہیں دیکھتے کہ اس کا اپنا مذاق کیا ہے۔ اس کا دل میرے ساتھ دھڑک سکے گا کہ نہیں؟"

جواد کو خبر ہوئی تو بہت پریشان ہوئے۔ حالات کچھ ایسے پیدا ہو گئے تھے کہ ہم ایک دوسرے کے قریب آ گئے تھے۔ ہم ایک دوسرے کا انتخاب کر چکے تھے۔ اب اتفاق ایسا ہو گیا کہ ہمارا پریشان ہونا لازمی تھا۔ یہ تو ناممکن تھا کہ پھر سے زندگی الف بے سے شروع کی جاتی۔ جواد کا نہیں جانتی،میں اپنا کہتی ہوں کہ میں بہت آگے نکل آئی تھی۔

امتحان میں صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا تھا۔ اور میرے خیالات آوارہ بھٹک رہے تھے۔ زندگی معلق ہو گئی تھی۔ مجھے ایسی حالت میں پہلے خدا یاد آیا، پھر ارشی کے بالوں میں منہ چھپا کر روپڑی۔ مجھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ خواہ مخواہ انہوں نے ہی مجھے جنت کے خواب دکھائے۔ انہوں نے ہی مجھے وہ راستہ دکھا یا تھا جس پر چل کر میں بہت دور نکل آئی تھی۔ اور جہاں سے لوٹنا میرے لیے ناممکن تھا۔


میرے آنسوؤں کو دیکھ کر ارشی بالکل گھبرائے نہیں بلکہ اطمینان سے مسکراتے رہے ان کی مسکراہٹ میں دلی خوشی تھی۔ پھر میری سوجی ہوئی آنکھوں کے بوجھل پیوٹوں کو چوم کر بولے۔ "منی تم جس راستہ پر جا رہی ہو وہی سیدھا راستہ ہے۔ وہی تمھیں منزل تک لے جائے گا۔ مگر یہ بھی یاد رکھو۔ مسرت ہمیشہ آسمان سے ٹپک نہیں پڑتی۔ اس کے لیے ریاضت کی ضرورت ہے۔ قربانی کی ضرورت ہے۔ ہمت اور جرات کی ضرورت ہے۔ میں نے تمھارے سوئے ہوئے ضمیر کو بیدار کر دیا ہے۔ اس کی آواز سنو۔ جو وہ کہے تم وہی کرو۔ وہی انسان کا سب سے سچا اور مخلص دوست ہے۔ تم کبھی دھوکا نہیں کھا سکتیں۔ لیکن اگر تم نے اس کی آواز کو نہیں سنا اور اپنے کان بند کر لیے۔ تو میں تمھیں یقین دلاتا ہوں کہ پھر تم لاکھ قربانیاں کرو منزل تم سے دور ہی دور ہوتی جائے گی۔ لوگ تو صرف ایک موہوم امید پر بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں۔ خطرات کا مقابلہ کرتے ہیں اور تمہارے سامنے تو تمہارا مقصد زندہ موجود ہے۔ اس کے لیے صرف ہمت کی ضرورت ہے اور کچھ نہیں "آہستہ آہستہ وہ میری پیٹھ تھپکتے رہے، اور مجھ میں نئی قوت پیدا ہو گئی۔ میرے لہو کی روانی تیز تر ہو گئی۔

مگر ابھی جواد کو میں نے آزمایا نہیں تھا۔ مجھے کیا معلوم کہ اگر میں اپنے ماضی کو ٹھکرا کر آگے بڑھوں تو مستقبل میرا استقبال کرے گا۔ میں چاہتی تھی جواد مجھے سہارا دیں۔ یقین دلائیں۔ مگر وہ مغرور جواد، وہ با ہمت اور جری جواد خود نڈھال ہو گئے تھے۔ ان کے بال الجھ گئے،ان کی صورت پر وحشت سی چھا گئی۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ انہوں نے اپنا گریباں چاک کر ڈالا۔ میں مجنوں کی داستان کو دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ وہ زمانہ گزر گیا جب صحرا کی وسعت جنوں کو پناہ دیا کرتی۔ اب تو صحرا بھی بہ آسانی طے کیا جاسکتا ہے۔ اب تو دامن کو سیا جاسکتا ہے۔ اب بجائے ہمت ہارنے کے آگے بڑھنے اور سہارا دینے کی ضرورت ہے۔

بعض اوقات جواد کی حالت پر مجھے افسوس بھی ہوا۔ بعض اوقات غصہ بھی آیا۔ اگر مجھے یہ معلوم ہو جاتا کہ میرے بغیر بھی وہ ایک پر لطف زندگی گزار سکیں گے تو میں مطمئن ہو کر اکیلی اپنی قسمت سے نبٹ لیتی، مگر یہاں تو انہیں میری ضرورت تھی۔ اور وہ میرے لیے ہمت نہیں کر رہے تھے۔

امتحان آ گیا. اس کشمکش کے دوران میں میں نے پرچے کئے۔ ارشی ہر روز میرے پاس آتے۔ میری ہمت بندھاتے۔ انہیں دیکھ کر مجھے خیال ہوتا کہ دنیا میں اور کوئی نہ سہی ایک آدمی ایسا ہے جو میری تنہائی دور کر سکتا ہے۔ جو میرا دکھ بانٹ سکتا ہے۔ انہیں کی باتوں سے میں نے اپنے آپ پر بھروسہ کرنا سیکھ لیا۔ میں اب مقابلے کے لیے تیار ہو گئی۔ میں بزدلوں کی طرح ماتم کر کے اپنی قوتوں کو کمزور کرنا نہیں چاہتی تھی۔ اس لیے میں نے پرچے کئے۔ دل اگر چہ الجھتا رہا۔ دماغ پریشان ہوتا رہا۔ لیکن میں نے اپنا کام جاری رکھا۔

اور جب امتحان ختم ہو گیا تو مجھے ایسے لگا کہ اب میرے اور تفکرات کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں رہی۔ اب تو ہر لمحہ وہی خیالات رہتے۔ سیرو تفریح بھی نہیں۔ کلثوم کی باتوں میں حلاوت و شیرینی بھی نہیں رہی۔ میں چاہتی تھی کہ ارشی کی ہمت جواد میں منتقل ہو جائے۔ میں دن رات انتظار کرتی رہی کہ جواد میں کچھ تبدیلی پیدا ہو۔ ان میں آگے بڑھنے کی تمنا پیدا ہو۔


ارشی نے کہا"تم اسے تمناؤں کی جھلک دکھا دو وہ خود آگے بڑھے گا"۔ اور ارشی نے ایک رات مجھے کھانے پر بلایا۔ جواد بھی آ گئے وہاں۔ وہ خاموش تھے۔ وہ مایوس تھے۔ کھانے کے بعد میں اور ارشی آم کے پیڑوں کے گھنے جھنڈ میں چلے گئے۔ جواد بھی وہی آ گئے۔ کچھ دیر بعد چاند نکل آیا۔ چاند چپ چاپ مسکرا رہا تھا۔ میں ارشی کے کندھے پر ہاتھ رکھے، ان کا سہارا لیے چاند کوتکتی رہی۔ پھر میں نے بغیر کسی کو مخاطب کئے ہوئے کہا"یہ چاند بڑھتا گھٹنا رہتا ہے۔ لیکن پست ہمت نہیں ہوتا۔ ایک دفعہ ڈوب کر پھر نکل آتا ہے۔ یہ بالکل معدوم نہیں ہو جاتا آسمان سے۔ فطرت کا کوئی پہلو بھی ایسا نہیں جو مایوسی کا سبق دے۔"

جواد چپ چاپ چاند کو تکتے رہے پھر تھکے ہوئے لہجہ میں کہنے لگے "۔ مگر سب سے کیسے اکیلے مقابلہ کر سکوں گا۔ رشتہ دار ہیں، رقیب ہیں، دولت ہے اور عہدے ہیں۔ میں ان سب سے اکیلے کیسے نبٹ لوں"۔
"تو پھر آب حیات کی تمنا بھی چھوڑ دو۔ کیونکہ اس کے لیے ظلمات سے گزرنا لازمی ہے۔ تم ناکامیوں کے ڈر سے قدم ہی نہیں اٹھاتے۔ ورنہ تم اکیلے کب ہو۔ میری تمنائیں جب تمہارے ساتھ ہیں تو تم اکیلا کیوں سمجھتے ہو خود کو"۔
"مگر مجھے اس کا یقین کب ہے کہ تم میرا ساتھ دے سکوگی؟"
"تم جس طرح کہو میں یقین دلا دوں۔ لیکن میں تمھارا ساتھ اسی وقت دوں گی جب مجھے معلوم ہو جائے کہ تم میرے لیے ہو، ایک دنیا کا مقابلہ کرنے کو تیار ہو۔ ورنہ اگر تم چاہو کہ تم صرف دل کے اجڑنے کا ماتم کرتے رہو اور میں بھی اس ماتم میں اپنی زندگی خراب کر دوں تو یہ مجھ سے نہ ہو گا۔ نہ مجھ میں اتنی ہمت ہے کہ ایک دفعہ ہار کر پھر نئے سرے سے زندگی بسر کروں کیونکہ اس کے سوا بھی دنیا میں اور کام بھی ہیں۔ اب تم خواہ بے وفا با وفا کے الفاظ سے الجھتے رہو۔ یا اپنی قسمت کو کوستے رہو"۔

یہ تو میں نے جواد کے سوئے ہوئے انسان کو جگانے کے لیے کہہ دیا تھا۔ ورنہ میرا دل خوب جانتا تھا کہ ان سے دور رہ کر زندگی کتنی بے معنی ہے۔ میں ان کی قوتوں کو ٹٹول رہی تھی۔ اپنی وفا کا امتحان دینا مقصود نہ تھا، ارشی چپ چاپ مجھے دیکھ رہے تھے۔ کہنے لگے۔ "آج میں تجھ میں ایک نئی عورت دیکھ رہا ہوں۔ میں بہت خوش ہوں، بہت خوش"۔
بڑی دیر کے بعد جواد نے سراٹھایا اور کہنے لگے "جو کچھ بھی ہو میں آگے بڑھوں گا۔ مگر آج جد ا ہونے سے قبل میں جاہتا ہوں کہ تم کو اپنا سمجھوں۔

میں نے اپنی سفید نرم ہتھیلی آگے بڑھا دی۔ جواد نے جھک کر اسے چوم لیا۔ میرے سارے جسم میں بجلی سی دوڑ گئی۔ ایک نیا احساس جاگ اٹھا اور شاید میرا انگ رنگ بے قابو ہو جاتا اگر میں نے ارشی کا سہارا نہ لے لیا ہوتا۔ جواد جیسے مست ہو گئے۔ وہ آگے بڑھے۔ مرد ہمیشہ ایسے وقت اندھا ہو جاتا ہے۔ لیکن میری تو آنکھیں کھلی تھیں۔ میں اس حسین چاندنی رات، جواد اور ارشی کے علاوہ مستقبل کی لہروں کو بھی دیکھ رہی تھی۔ میں نے استقلال سے پراعتماد لہجے میں کہا"جواد اسی کو بہت سمجھو، یہی میرے لیے اقرار نامے کی مہر ہے۔ آج سے ضرور میں اپنی حفاظت تمھارے لیے کروں گی۔ وقت آنے پر میں اور آگے بھی بڑھ سکتی ہوں۔ ابھی نہیں. ارشی کی آنکھوں میں روشنی پیدا ہو گئی۔ ایک تعریف ایک مسرت کی لہر جس نے میرا ارادہ اور مستقل کر دیا۔ میں ان دونوں کو چاند کے ٹھنڈے سائے میں چھوڑ کر خود آ گئی۔ میرا دل مطمئن تھا۔ میں اس رات بی اماں کی گود میں سرر کھ کر آرام سے سوگئی۔ اور خوابوں میں بھی اس مہر کی حفاظت کرتی رہی۔ جو میری ہتھیلی میں موجود تھی، جس کے خیال ہی سے رگ رگ میں تمام جسم میں ایک لہر سی دوڑ جاتی۔


حالت بدل گئے۔ رفتہ رفتہ الجھنیں دور ہوتی گئیں۔ بدلیاں چھٹ گئیں۔ صاف صاف نکھرا ہوا آسمان نکل آیا۔ جو اد نے سچ مچ ہمت سے کام لیا۔ مجھے حیرت تھی، ان میں پھر وہی مغرور وہی جری انسان جاگ اٹھا تھا۔ اب تو اس میں دوگنی زندگی تھی۔ ارشی نے بابا اور امی کو ہموار کرنے میں، سمجھانے میں دریغ نہ کیا اور جس دن میرا نتیجہ لگا میں بے حد مطمئن تھی۔ اس دن صبح ارشی نے مجھے ایک خط دیا۔ میں نے دھڑکتے ہوئے دل سے اسے بڑی دیر بعد کھولا۔ کھولنے سے پہلے یہی سوچتی رہی کہ اس میں جواد نے کیا کیا لکھا ہو گا۔ جواد نے شاید دل کی دھڑکنوں کو الفاظ میں ڈھال دیا تھا۔ اسے پڑھ کر کتنی مسرت کتنی تسکین ہوئی۔ اس کا مجھے خود بھی ٹھیک سے اندازہ نہ تھا۔ ارشی نے کہا"بھئی بہت زیادہ خوش نہ ہونا۔ میں نے ہی لکھوایا ہے اس سے۔ ایک لمحہ کے لیے میں سنجیدہ ہو گئی۔ پھر سراٹھا کر میں نے ارشی کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں مسرت ناچ رہی تھی۔ ہم دونوں ہنس پڑے۔ پھر وہ جھک کرکان میں کہنے لگے "یاد ہے بی بی۔ آج سے دو مہینے پہلے چاند کی ٹھنڈی روشنی میں میرا سہارا لیے تم نے جواد سے وعدہ کیا تھا کہ وقت آنے پر وہ آگے بھی بڑھ سکتا ہے۔ خوب سوچ لو۔ آج چاند تو نہیں۔ لیکن ان تاروں کی روشنی میں وہ اپنا قرض ضرور وصول کرے گا۔ میں گواہی دوں گا۔

میں نے اپنا سرجھکا لیا۔ آج بھی میری ہتھیلی میں دو موٹے موٹے ہونٹ ابھرے جنہوں نے اپنی زندگی کی حرارت مجھ میں منتقل کر دی تھیں۔ میرا دل دھڑکنے لگا۔ کچھ نہیں کہا۔ رات آخر آ گئی۔ پھولوں میں گھری ہوئی۔ قہقہوں میں ڈوبی ہوئی۔ میں ہر ایک سے مبارک باد سنتی رہی اور آخر میں وہ آواز جس کی میں منتظر تھی۔ جب ہاتھ ملایا ہے تو فولادی پنجہ نے جیسے شکنجہ میں دبا دیا۔ سارے ہاتھ کو جیسے بجلی چھو گئی۔ میں نے تحفوں کے بنڈل رکھے۔ کمرے میں گئی۔ سب کھانے کے کمرے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ میں میز پر رکھ کر جونہی پلٹی اچانک کسی نے پکڑلیا۔ اس سے قبل میں سمجھوں کہ کیا ہو رہا ہے، جواد اپنا قرض وصول کر چکے تھے۔ میں بالکل گھبرا گئی۔ تمام جسم میں پسینہ کے فوارے جیسے پھوٹ نکلے ہوں۔ مگر جواد نہایت اطمینان سے کھڑے مسکرارہے تھے۔ وہی مسکراہٹ جس کی مغرور جھلک ہمیشہ مجھے نیچا دکھا دیتی۔

ہنس کر پوچھا"بہت ناراض ہو کیا؟ ایک لمحہ کے لیے میرے منہ سے کچھ نہ نکلا۔ لیکن دوسرے لمحہ میں خفگی سے کہا،"بہت بہت ناراض ہوں" اور میں پلٹ کر وہاں سے تیزی سے نکل گئی۔ اب بھی سارے جسم میں بجلیاں دوڑ رہی تھیں۔ اور میرے دماغ میں لہو شاید ایک دم چڑھ گیا تھا۔ یہ کیا چیز ہے۔ کیا چیز ہے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ میں آ کر ارشی کے سہارے صوفے پر گر پڑی اور ان کے کندھے پر سر ٹیک دیا۔ میرا دل بڑے زور سے دھڑک رہا تھا۔ کوئی سن لے تو؟ جواد کے گنگنانے کی آواز آئی۔ ع

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

میں اب بھی لرز رہی تھیں کانپ رہی تھی۔ ارشی نے پلٹ کر مجھے دیکھا۔ میری آنکھوں میں کچھ دیکھتے رہے۔ پھر ہنس کر بولے۔ "ہاتھ سے گئی"۔

جواد جب بھی موقعہ ملتا ضرور آ جاتے۔ گھر پر نہیں تو کبھی پھوپھی اماں کے یہاں مل گئے۔ کبھی چھوٹی چچی کے پاس۔ جب بھی ملتے ایک فاتح جیسی ہنسی ہنس دیتے۔ اب ساری وحشت اور دیوانگی د ور ہو گئی تھی۔ اب تو باقاعدہ بن سنور کر آتے اور چہرہ گلابی گلابی ہو رہا تھا۔ معلوم نہیں وہ مجنوں کہاں غائب ہو گیا تھا جس کی حالت پر افسوس کر کے گھنٹوں اکیلے میں میں نے آنسو بہائے تھے۔ راتوں کو جاگ جاگ کر دعائیں مانگی تھیں۔ الجھے ہوئے بالوں کو سلجھا دینے کو جب کتنا جی چاہتا۔ لیکن اب۔ اب وہاں کوئی اور ہی شخص تھاجسے میں پسند کرتی تھی، جس سے خائف تھی۔


ارشی بھائی بہت دنوں سے غائب تھے۔ بی اماں آئیں بھی تو نہیں آئے۔ میں نے چٹھی بھیجی لیکن جواب نہیں دیا۔ کہلا دیا فرصت نہیں ہے۔ آخر ایک دن جواد گھسیٹ لائے انھیں۔ دبلے ہو گئے تھے۔ رخساروں پر زردی چھا رہی تھیں۔ آنکھوں میں تھکن تھی۔ لیکن حسن میں بہت بڑھ گئے تھے۔ ٹوئیڈ کی سیاہی مائل شیروانی،سفید چوڑی دار پاجامہ اور پیروں میں سلیم شاہی جوتا۔ سرپر لکھنوی قسم کی ترچھی ٹوپی۔ ہر لباس پھٹا پڑتا ہے ان پر۔ میرا جی چاہا ایک دفعہ پیار کر لوں۔ مگر بہت دنوں بعد آئے تھے۔ اس لیے میں نے سوچا پہلے کی طرح ان سے کیوں نہ جھگڑا جائے۔ اس لیے میں نے شکایت کے لہجے میں کہا۔ "ارشد بھائی اب بھی نہ آتے آپ"۔

"میں کب آیا ہوں، یہی تمھارے جواد کھینچ لائے ہیں۔"
میرے دل کو جیسے کس نے دھکا دے دیا۔
"کہاں کے ارادے تھے" میں نے چوٹ کرنے کو کہا۔
"ذرا مشاعرہ میں شام کو جانا ہے۔"
"اوہو، آپ کو بھی اب شعر و ادب سے دل چسپی ہو گئی۔ خدا خیر کرے۔ وہ بھی ان جدید شعرا کے کلام سے آپ محظوظ ہوں گے۔ زہے قسمت" میں نے اپنی دانست میں بڑی تیکھی چوٹ کی تھی۔ جواب اس سے بڑھ کر تلخ ملا۔
"غربا نوازی ہے میری۔ باکس کا ٹکٹ لے لیا ہے میں نے۔ بے چارے غریب شاعر"
"بڑے ہمدرد ہو گئے ہیں غریبوں کے آپ۔ پہلے گگن محل کی بلندی سے نیچے اتر آیئے۔ یہ ٹوئیڈ کی شیروانی، یہ سلیم شاہی جوتے، یہ سب نکالیے اور پھاوڑا کدال سنبھالیے جناب"
"کہہ تو دیا کہ غریب پروری کا خیال ہے، رہا اور اترنے کا سوال، میں اتروں نہ اتروں،تم تو آسمان پر چڑھ گئیں"۔
امی نے ڈانٹا"یہ کیا ہے؟ اتنے دنوں بعد تو آیا ہے بے چارہ اور اس سے لڑنے لگی"۔

ارشی بغیر میری طرف دیکھے ہوئے چلے، گئے۔ میرے دل میں جیسے کسی نے کانٹا چبھو دیا۔ میں اکیلے میں خوب روئی۔ میں نے اس لیے انہیں نہیں چھیڑا تھا کہ مجھے رلا کر جائیں۔ ان سے عمر بھر تو لڑتی جھگڑتی رہی۔ گالیاں بھی دیں اور کوسنے بھی، لیکن ان کتنا پیار تھا۔ اب بھی میرا دل پکار پکار کر کہہ دہا تھا "آ جاؤ ارشی میں تمھارے بازو میں اپنے دانت گڑو دوں۔ تم میرے بالوں کی لٹ کھسوٹ لینا۔ میں تمھیں گالیاں دوں اور تم مجھے چپت لگا دینا۔ میں تمھاری گردن کے خم کو پیار کروں، تم میرے پپوٹوں پر کنول کھلا دینا۔ آ جاؤ ارشی۔ میرے اپنے ارشی۔

میں نے یہ بھی دیکھا کہ میں جب تک سرجھکائے تکیے میں اپنے آنسو جذب کرتی رہی، جواد مجھے کھڑے دیکھ رہے ہیں۔ جب میں نے سر اٹھایا تو ان آنکھوں میں رشک کی چمک تھی۔ انہوں نے میرے آنسو پونچھ ڈالے اور ذرا خفگی کے لہجہ میں کہا "تم روتی کیوں ہو؟ ارشی کے لیے کیوں روتی ہو اور اتنا پھوٹ پھوٹ کے۔ آخر ایسی کیا بات ہے۔"

جب مجھ سے صبر نہ ہو سکا تو میں خود گئی ارشی سے ملنے کے لیے۔ ان کو چھوڑنا تو میرے لیے ناممکن ہے۔ میری محبت کے پودے کو انہوں نے ہی سینچ سینچ کر اتنا پروان چڑھایا،مضبوط بنایا۔ انہوں نے ہی تو پہلی دفعہ میرے دل کو سکون، نطق کو اعجاز دیا تھا۔ اول اول انسان بنایا تھا۔ جواد سے ملایا تھا۔ کتنا صحیح انتخاب تھا ارشی کا۔ اور وہ خود اکیلے رہ جاتے۔ میں جاتے ہی لپٹ گئی ان سے۔ اگر چہ سر اٹھا کر مجھے دیکھا نہیں۔ لیکن وہی بے تکلف بازو میری کمر سے لپٹ گیا۔ ارشی کیسے زرد ہو رہے تھے۔ بال کیسے الجھ گئے تھے۔ مانگ کا تو پتہ ہی نہ تھا۔ یاتو ہر وقت بال بنے ہوئے رہتے۔ یہ الجھے ہوئے پریشان بال معلوم نہیں کتنے دنوں سے کنگھی سے نا آشنا تھے۔ خشک، ان کی خوشبو، مہک، نرمی اور چمک سب برباد ہو گئے تھے۔

"ارشی" میں نے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر کہا۔
"یہ کیا حال ہے تمھارے بالوں کا۔ تم نے کیا حالت بنا رکھی ہے اپنی"؟
"تمھاری بلا سے" ارشی نے جھڑک کر کہا۔ لیکن اس جھڑکی میں پیار کہیں چھپتا ہے۔
میں نے گردن کے خم میں ہونٹ گڑو کر کہا"دیکھو تو کیسی پتلی ہو گئی ہے گردن"۔
"تیرا کیا بگڑتا ہے۔ تو تو بھینس ہوتی جا رہی ہے۔"
"میں کہتی ہوں تم شادی کیوں نہیں کر لیتے۔ اب تو خیر سے روزگار سے بھی ہو گئے" میں نے امی کی نقل کی۔
"تیری شادی ہو رہی ہیں نابس۔ اب تجھے دوسروں کی کیا فکر۔ میں اپنے آپ ہی نہیں پل سکتا۔ دوسروں کو کہاں سے پالوں گا۔ آمدنی سے دس روپیہ زیادہ تو میرا اپنا خرچ ہے۔ بیوی کو کیا دوں گا۔ سب لڑکیاں تجھ جیسی گھورے پر تھوڑی پڑی سٹرتی ہیں کہ مفت میں لے لوں۔ پیسے کی دو دو"۔
مجھے ہنسی آ گئی۔ میں نے کہا "ریڈیو پر ہر مہینے ایک آدھ مضمون ہی پڑھ دو۔ دس پندرہ کی آمدنی ہو جائے گی۔"


ارشی کی آنکھوں میں پھر پرانی شرارت لوٹ آئی۔ گردن مروڑ دی، دوچار گھونسے لگائے۔ پھر غور سے میری صورت دیکھنے لگے۔ اور میری آنکھوں میں ٹھنڈک پھیل گئی۔ میں اسی کے لیے تو ترستی رہی تھی۔

"ایک بات کہوں"
"دو باتیں کہہ دونا"
"تیری یہ آنکھیں مجھے بہت پسند ہیں۔ میرے لیے ہمیشہ محفوظ رکھنا اچھا۔ وہ جواد بے ایمان ایسا ہے کہ آیا تک نہیں" ان کی آواز میں پیار کا شکوہ تھا۔
میں نے کہا"آنکھیں سچ مچ پسندہیں ارشی تولے لو تم ہی لے لو"۔
"بنتی ہے۔ بٹیا آج وعدہ کر کے کل ہی نہ بدل جائے شادی کے بعد تو کیا کہنا۔ آں "۔

میں مانجھے بیٹھ گئی۔ ارشی غائب رہے۔ شادی کے دن صبح کے وقت نکاح کی وکالت کرنے آئے۔ میں سب میں گھری بیٹھی تھی۔ کیسے ان سے باتیں کرتی۔ میرا جی بہت چاہا کہ ہاتھ پکڑ کر بٹھا لوں۔ ان کی گود میں سررکھ دوں اور پوچھوں کہ اتنا منانے کے باوجود تم روٹھے ہی رہے۔ آخر کیوں؟ مگر میں گھونگھٹ کی اوٹ میں روتی رہی۔ وہ چل دیے۔ شام تک میں نے آواز تک نہ سنی ان کی۔ سبھوں نے میری مانگ میں صندل لگایا۔ مجھے دعائیں دیں۔ مگر ارشی کہاں ہیں؟

جلوہ ہوا۔ رسمیں ہوئیں۔ فقرے کسے گئے۔ قہقہے لگے۔ میری صورت دیکھ کر جواد آرسی مصحف کے وقت شرارت سے گنگنائے۔ عارض چہ عارض، گیسو چہ گیسو، صبح چہ صبح، شامے چہ شامے" مگر ارشی کے داد دینے کی آواز نہ آئی۔ میرے گال میں کم از کم چٹکی تو بھرلیتے۔ ایک بال ہی نوچ لیتے۔ کچھ تو کرتے ارشی۔ میرا دل عجیب سا ہونے لگا۔ میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اتنا کہ مجھے ہوش نہ رہا۔ مجھے ایسے لگا جیسے ارشی نے اب مجھے چھوڑ دیا۔ ان کے بغیر میں کیسے رہوں گی۔ کیا اب وہ محبت،وہ بے جھجک مذاق، وہ پیار بھری جھڑکیاں،وہ حکم، وہ احکام، سب سے محروم ہو گئی۔ یہ ظلم ہے۔ میرا دل پھٹنے لگا۔ ارشی تم ادھر تو دیکھو تم کہاں ہو؟ تم کہاں ہو ارشی؟

جب بی اماں نے مجھے گلے لگایا اور سہاگ کی دعائیں دیں تو میں اور زیادہ مچل گئی۔ جس کی دعاؤں کی میں منتظر تھی وہ کہاں ہے؟ میں نے بی اماں سے دبے دبے پوچھا "ارشی کہاں ہیں ملے بغیر نہ جاؤں گی۔ مجھے وہیں لے چلو"اور بی اماں کے سہارے جب میں نے چل کر گھونگھٹ سرکایاتو ارشی ستون کا سہارا لیے اداس کھڑے تھے۔ آج بھی چاند جھلمل جھلمل ہنس رہا تھا۔ میں نے ارشی کے سینے پر سررکھ دیا جہاں پورے انیس سال میں نے سررکھ کر سکھ محسوس کیا تھا۔ میرے آنسو چپ چاپ بہنے لگے۔ میں نے دیکھا۔ اب بھی چپ ہیں۔ تو روکر کہا "ارشی تم کچھ بولو." ارشی نے چپ چاپ ایک بھٹکی ہوئی روح کی طرح جھک کر میری صورت دیکھی۔ میں نے ان آنکھوں میں اداسی دیکھی،تنہائی دیکھی گھبرائی گھبرائی،اکیلی روح شریر پتلیوں سے جھانک رہی تھیں۔ ساری شرارت آنکھوں میں سوگئی تھی جیسے ہونٹوں کے خم کا نپ رہے تھے۔ کچھ لمحے وہ یونہی مجھے دیکھتے رہے۔ پھر سینے سے لگا کر میری مانگ چوم لی۔ دو آنسو میری مانگ میں ٹپکے۔ اور میرے سر کی افشاں میں جذب ہو کر میری پیشانی پر ڈھلک آئے۔ اور پھر خود میرے آنسوؤں میں مل گئے۔ میں نے سسکیاں بھریں۔ آج ارشی کا دل رک رک کر دھڑک رہا تھا۔ شاید ساری دھڑکنیں کم بخت میرے دل نے لے لی تھیں اور اس سے قبل کہ میں ارشی سے پوچھوں "ارشی میری جان". جواد نے مجھے اپنی گود میں اٹھا لیا۔ اور لے چلے۔


آبشار

آج الماری صاف کر رہی تھی کہ اچانک برقی تارجیسے چھو گیا۔ ایک دستی میں لپٹی ہوئی تصویر نکل آئی۔ پُشت پر موٹے موٹے حرفوں میں لکھا تھا؎

سمجھ میں خاک نہ آئیں گے معنی و مطلب
مجھے نہ سُن کہ بہت دور کی صدا ہوں میں

عباس بھائی کی تصویر تھی۔ سنجیدہ و المناک آنکھیں لیکن ہنستے ہوئے ہو نٹ۔ ان کی تصویر میں بھی زندگی تھی۔ کوئی دوسال سے یہ تصویر میں نے اندر رکھ چھوڑی تھی کہ نہ نگاہوں کے سامنے آئے نہ مجھے پُرانی یادوں کی خوشگوار اور تلخ یا د آئے۔ دل کو بہلانے میں میں کامیاب بھی ہو گئی تھی۔ اب کبھی کبھی یاد بھی آ جائے تو میں فوراً ادھر اُدھر کے کاموں میں مصروف ہو جاتی۔ آنگن میں چھتری لگی ہو تو ادھر اُدھر کے کبوتر بھی بھٹکے بھٹکائے آ نکلتے ہیں۔ مگر ان کا کیا بھروسہ۔ دو گھڑی کو بیٹھے اور پھر اُفق کے پار اُڑ گئے۔ چمکارو، دانا کھلاؤ، مگر ان کی نگاہوں کی وحشت نہیں جاتی۔ ان سے پیار کرنا ہی بڑی بھُول ہے۔

عباس بھائی کا نام ہی نام سُنا تھا۔ ان کی اماں بیاہ کر گاؤں جو گئیں تو وہیں رہیں۔ جس گھر میں بھوئی شادی کے گیت گاتے ان کا میانہ لے گئے تھے وہاں سے ان کا جنازہ ہی نکلا۔ میکہ وہ پھر کبھی نہیں آئیں۔ صرف خیریت کے خط آتے رہے۔ اماں سے ان کا ذکر سُنا تھا، اور یہ بھی سُنا تھا کہ جب انھیں عباس پیدا ہوئے تو وہ انھیں دیکھنے گئی تھیں۔ خاصا تندرست اور خوب صورت لڑکا تھا۔ پھر اماں نے کبھی نہیں دیکھا۔ ان کی اماں کی موت نے تو خط و کتابت کا سلسلہ بھی بند کر دیا۔ پھر ان کے ابا بھی مر گئے اور اس وسیع دنیا کے اس چھوٹے سے گاؤں میں جہاں کی دھن مڑیاں، باؤلیاں، امرائی اور کھیت ان کا وطن تھے، وہ اکیلے رہ گئے۔ جب کوئی ناتا باقی نہ رہے تو دل میں خلاء پیدا ہو جاتا ہے،روح گھبرانے لگتی ہے۔ اگر عباس گھبرا کر گھر سے نکل گئے تو تعجب کی بات نہ تھی۔ ماں کے مرنے سے پہلے وہ مدراس سے تعلیم ختم کر چکے تھے۔ اماں جب ذکر کرتیں تو اسی افسوس کے ساتھ کہ ماں باپ کو بیٹے کے سہرے کے پھول کھلتے دیکھنا بھی نصیب نہ ہوا۔ ایک ہی بیٹا تو تھا،شادی پہلے ہی کر دی جاتی تو کیا بُرا تھا۔ لیکن قسمت میں لکھا ہو نا۔

اور اچانک ایک دن خط آیا کہ عباس بھائی ہمارے پاس آ رہے ہیں۔ اماں کی خوشی کا تو ٹھکانہ ہی نہ تھا۔ آخر اپنا گوشت و خون ہے خوشی کیسے نہ ہوتی۔ ہمیں بھی خواہش تھی کہ جلد آ جائیں تو اچھا۔ دیکھیں تو کیسے ہیں عباس بھائی۔ معلوم نہیں کہ مغرور ہوں گے کہ خشک مزاج ہوں گے۔ ہائے اللہ، اگر وہ خالص مدراسی طرز کے ہوں گے تو پھر بات کرنے میں بھی لطف نہ آئے گا۔

جب پہلے پہلے آئے تو اجنبیت کا احساس دونوں طرف تھا۔ مگر رفتہ رفتہ سارے گھر والوں سے بے تکلف ہو گئے۔ چھوٹے بچوں سے تو انتہائی دوستی ہو گئی۔ لطیفے سُنارہے ہیں، بیت بازی کر رہے ہیں۔ صبح سے شام تک دالان میں اُودھم مچایا کرتے۔ چرکی بِلّا کھیل رہے ہیں، پکِے گانے گا رہے ہیں.۔۔۔ بوڑھوں سے دوستی کرنے کا ڈھنگ بھی خوب یاد تھا۔ باباسے بات کریں گے تو ہندوستانی سیاست، بین قومیت، اور دیہات سدھار کے مسئلوں پر انتہائی سنجیدگی سے گفتگو کریں گے۔ پھوپی ماں سے بات کریں گے تو قیامت صغریٰ و قیامت کبریٰ، میزان حشر، حوض کوثر اور جنت کے متعلق جو معلومات بہشتی زیور اور کیمیائے سعادت میں بھی نہ ہوں، سناتے رہیں گے۔ چہرے پر ایسی معصومیت اور تقدس ٹپکے گا کہ فرشتے ان کے ہاتھ پر بیعت کر لیں. اماں سے بات کریں گے تو سارے گاؤں کے اور وہاں رہنے والوں کے حالات سنائیں گے۔ آس پاس کے گاؤں، وہاں کے خاندان اور وہاں کے آپس میں تعلقات کے متعلق تفصیلی داستانیں سُنائیں گے۔ کنکر والے سیٹھ نے پار سال خودکشی کر لی۔ کرشناپور کے پیرزادوں نے گانجہ پینا شروع کر دیا۔ گاؤں کے پٹیل مہتاب علی نے شکار کی لت میں اپنی بائیں آنکھ کھوئی۔ گاؤں کے جُلاہے کی بیوی زیبون،ساس بہو کی لڑائی سے اُکتا کر باؤلی میں کود گئی. یا اللہ۔


اور تو اور میری انّا بڑی بی سے بڑی دوستی تھی۔ گھنٹوں بیٹھے ہیں اور پُرانے زمانے کی کہانیاں انتہائی شوق ودلچسپی سے سُن رہے ہیں۔ بڑی بی منی کو سُلانے کے لیے لوریاں گاتیں تو آپ نامانوس الفاظ کے معنی پوچھا کرتے، ان سے مانگ کرپان کھاتے اور اتنے ادب سے جھُک کر آداب بجالاتے کہ بڑی بی خوش ہی ہو جاتیں، اور اتنی لمبی چوڑی دعائیں دیتیں ان کا گنوانا دشوار ہو جائے۔ کہتیں "بیٹا" تمھارے سہرے کے پھُول جلد کھلیں، ایسی حُور پری بیوی ملے تھوڑی تارا ماتھے چاند۔ ایسی بھاگوان ہو کہ ا ولاد سے سات گاؤں بسیں۔ تم کھاؤ پیو خوش رہو۔ اللہ تم ایک ہو تو اکیس کرے۔۔۔ اور۔۔۔

شمی بھولپن سے پوچھ بیٹھتی "بڑی بی" عباس بھائی کی دُلہن چاند تارے بنیں گے" تو سب بچے قہقہے لگاتے، اور عباس بھائی اپنی ہونے والی بیوی کی تصویر کھینچنے لگتے۔ بڑے پیار سے شمی کو گود میں اُٹھا لیتے اور کہتے "سُنو شمی میری دلہن نہ گوری ہو نہ کالی، لمبی ہوٹھنگنی۔ نہ ایسی دُبلی ہو کہ پھونک ماروں تو اُڑ جائے،نہ ایسی موٹی ہو کہ لوگ مُرمُروں کا تھیلا سمجھ بیٹھیں۔ نہ اتنی باتونی ہو کہ میرے کان کے پردے پھٹ جائیں، نہ اتنی بے زبان ہو کہ گھر قبرستان بن جائے،نہ اتنی." اور یہ خصوصیات کی فہرست طویل سے طویل تر ہوتی جاتی۔ بچے بڑی دلچسپی سے سُنتے، اور شمی ٹوک کر پوچھتی"اونہوں،مگر وہ تھوڑی تارا، ماتھے چاند کیا ہو گا"۔ تو وہ شمی کی پیشانی چوم کر بولتے "یہ چاند" اور تھوڑی کو پیار کر کے بولتے "یہ تارا" اور شمی مچل کر کہتی، تو بتاؤ نا آپ کی دُلہن ہم بھی دیکھیں گے۔ آں ہم بھی دیکھیں گے"۔ اور وہ کہتے آس پاس یہیں کہیں ہو گی،خوب ڈھونڈو۔ وہ اُکتا کر کہتی نہیں کہیں نہیں ملتی، تو کہتے جا کر آئینہ دیکھ لو۔۔۔ اور شمی کی صورت مجھ سے ملتی جلتی تھی۔

یوں ہم سب مل کے بیٹھے ہوں تو وہ بیچ میں بیٹھ جاتے اور خوب کھل کر باتیں کرتے۔ بچپن کی شرارتوں کا حال سُناتے۔ کالج کے زمانے کے لطیفے سُناتے، سب کو بناتے اور جانوروں کی بولیاں بولتے۔ لیکن جب کبھی مجھ سے اکیلے میں سامنا ہوتا تو نظر یں بچائے جاتے، اور یوں میری بھی ایسی فطرت نہیں کہ کسی سے جلد آنکھ چار کر سکوں۔ اس لئے ہم باوجود بہت زیادہ قریب رہنے کے دُور دُور ہوتے گئے۔

میراامتحان قریب آ رہا تھا،اور طبیعیات کے الف بے بھی میری سمجھ میں نہیں آئے تھے۔ میں حیران و پریشان، کوئی ٹیوٹر نہیں ملتا۔ میں نے اپنے کان پکڑے کہ انٹر کر لوں تو پھر طبیعیات کا بھُول کر نام نہ لوں۔ لیکن انٹر کروں تو کیسے؟ ایک دن میں یوں ہی کتاب لئے کھڑکی میں بیٹھی تھی، میرا دل ذرا بھی پڑھنے میں نہیں لگ رہا تھا۔ جی چاہتا تھا کہ آنگن میں خوب گھوموں پھروں، آموں کے بور کی خوشبو سونگھوں اور اور پتھر مار مار کر گورٹ املی توڑوں۔ یا پھر کوئی اچھا ساپکچر دیکھنے چلی جاؤں۔ یا طلعت آ جائے اور اُس سے باتیں کروں۔ لیکن ان میں سے کچھ بھی نہ ہوا۔ وقت گزرتا ہی گیا، گزرتا ہی چلا گیا اور شام کی اُداسی فضا میں سمٹ آئی۔ بچے دالان میں شور مچار ہے تھے۔ بڑی بی چھالیا کاٹ رہی تھیں اور اللہ رسولؐ کی باتیں سُنار ہی تھیں اور میں تیوری چڑھائے منھ بنائے اپنے آپ سے خفا رونے پر آمادہ بیٹھی تھی۔

"ارے، یہ ایسے کیوں بیٹھی ہے. کیوں بڑی بی تمھاری بی بی کو کیا ہو؟ "میاں اللہ آپ کو خوش رکھے وہ کیا سائنس کی بات ہے وہ پڑھ رہی ہیں، سمجھ میں نہیں آتا"بڑی بی نے پورا لکچر دے ڈالا ساتھ ہی پان دیا۔ جھُک کر آداب کیا،اور بڑے ادب سے لے کر کھا لیا انھوں نے،اور بڑی بی نے اپنی دعاؤں کا ریکارڈ بجانا شروع کر دیا۔ اللہ آپ کو خوش رکھے، اللہ آپ کو ہنستا کھیلتا رکھے ہنستے ہی گھر تو بستے ہیں."

"اور نہیں تو کیا۔ یہ تمھاری بی بی، ہمیشہ روتی بسورتی شکل، کو نسے مہینے میں پیدا ہوئی ہیں۔ محرمی ہیں محرمی۔۔"
اور میں نے خواہ مخواہ جواب دیا "آپ عیدی ہیں بس"۔
"واہ کیا کہنے۔ ارے بڑی بی تمھاری بی بی بھی بولنا جانتی ہیں۔ میں تو سمجھا تھا بس گونگی ہیں، یا پھر سمجھتی سمجھاتی خاک نہیں مگر اے لو ماشاء اللہ چشم بد دور کافی ہوشیار ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کچھ مدد دے سکوں تو یہ سائنس پڑھ لیں گی۔ کیوں؟"۔

میں خاموش ہو رہی۔ خدا خیر کرے آج تو بے تکلف نظر آ رہے تھے۔ میں جانتی تھی انھوں نے طبیعیات لے کر ہی ڈگری لی ہے۔ مگر کچھ کہنے کو میراجی نہ چاہا۔ بچے سب اِدھر اُدھر سے آ کر جمع ہو گئے تھے۔ کوئی اِدھر لٹک رہا ہے، کوئی ادھر کھینچ رہا ہے۔

مگر، بڑی بی نے کہا، میاں تم پڑھا دو نہ ذرا، تم بھی تو اے بی سی سی کیا کیا پاس ہیں۔۔۔" اس پر مجھے ہنسی آئی، اور جیسے معاہدہ پر دستخط ہو گئے۔


انھوں نے مجھ سے پوچھ لیا کہ طبیعیات کے کتنے باب پڑھانے ہوں گے۔ اس دن کتاب لے گئے شاید کمرے میں رات بھر پڑھتے رہے۔ دوسرے دن سے پڑھانے لگے۔ پڑھاتے میں میں نے محسوس کیا کہ بہت اچھے استاد بننے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ لہجہ با وجود مدراسی الاصل ہونے کے کافی دل کش تھا،اور سمجھانے میں مسائل کو اس قدر آسان بنا دیتے کہ مجھے حیرت ہونے لگی کہ آخر اس مضمون کو میں نے اتنا مشکل سمجھا ہی کیوں تھا۔ مضمون کی خشکی سے اُکتا ہٹ پیدا ہی نہ ہوئی،اور پڑھاتے پڑھاتے کبھی اِدھر اُدھر کی کوئی بات ضرور چھیڑ دیتے۔ اپنے استاد کے قصے،اپنی اسٹڈی کے حالات ایک دن کہنے لگے، "گو میں نے سائینس کے مضامین لیے تھے لیکن تم مجھے ادب یا فنون لطیفہ سے بے بہرہ نہ سمجھنا۔ مجھے اُردو کے بہترین شاعروں کابہترین کلام یاد ہے، اور فارسی میں میں حافظ اور خیام پرمٹا ہوا ہوں"۔

مجھے شرارت سوجھی تو میں نے پوچھ لیا "پھرتو آپ پینے پلانے کا شغل بھی فرماتے ہوں گے"۔
وہ ہنسے اور بولے "ہاں، ہمیشہ کیف دسُرور محسوس کرتا ہوں،لیکن یہ کوئی اور ہی نشہ ہے!"

میں نے پوچھا "وہ کیا؟" تو بولے میرؔ کا ایک شعر سُن لو؎

عمر بھر ہم رہے شرابی سے
دل پُر خوں کی اک گلابی سے

اور اس سے قبل کہ میں دل پُر خوں کی واردات کی طرف کوئی اشارہ کرتی یا اس نشہ کے متعلق تفصیلات پوچھتی انھوں نے موضٰوع ذرا بدل دیا،اور نیوٹن کے کلیۂ جاذبہ کے متعلق سمجھانے لگے۔

اِدھر جب سے عباس بھائی آ گئے تھے پک نک منانے کے پروگرام خوب بنا کرتے۔ نہ صرف ہمارے گھروں سے بلکہ خالہ امّی اور چھوٹے ماموں جان کے پاس سے بھی سب آ جاتے۔ وہاں سب لوگ دو ٹولیوں میں بٹ جاتے۔ بوڑھے اور بزرگ افراد شطرنجی پر سوزنی بچھا کر بیٹھ جاتے۔ اماں پاندان کھول لیتیں اور وہاں بھی دنیا جہان کے قصے چھڑ جاتے۔ یہ لوگ پک نک میں بھی گھر کی سی کیفیت پیدا کر لیتے، اور ظاہر تھا کہ ہمارا وہاں دل لگنا نا ممکن۔ ہم تو ادھر اُدھر چٹانوں میں،جھاڑیوں میں بھٹکا کرتے، حتیٰ کہ سُورج تپ کر سرپر آ جاتا۔ پھر کھانا کھانے بڑوں کی ٹولی میں جاتے،اور کھانے کے بعد ریت پر لوٹیں لگایا کرتے، اور پھر خالہ امی فرمائش کرتیں "عباس، ستارسُناؤ گے نا؟" عباس کو ستار بجانا خوب آتا تھا۔ انگلیاں ایسے چھیڑا کرتیں ستار کے تاروں کو کہ سُننے والوں کے دل کا تار تار جھنجھنا اُٹھے۔ عجیب سوز کی سی کیفیت ہوتی اور آنکھیں خواب ناک ہو جاتیں۔

عباس بھائی کو خود تو کچھ کام نہ تھا۔ تمام دن گھر میں رہتے۔ اماں سے سرجوڑ کے باتیں کیا کرتے، یا بڑی بی سے۔ یا پھر شعراء کے دیوان پڑھا کرتے۔ ایک بیاض ہمیشہ سرہانے رکھی رہتی تھی، جو شعر پسند آتے اُس میں لکھتے جاتے۔ میں نے اکثر اشعار اس میں سے چُرا لئے تھے۔ حیرت انگیز حد تک میرا اور ان کا مذاق یکساں تھا۔ مجھے یوں شعرو داب سے کوئی لگاؤ نہ تھا۔ لیکن جب سے یہ آئے تھے، میرا ذوق نکھرتا جا رہا تھا۔ کوئی چھٹی آتی تو عباس فوراً سے پیشتر پروگرام بنا لیتے۔ ساتھ لے جانے کی چیزوں کی فہرست بنتی۔ جانے والوں کے نام گنائے جاتے۔ کھانوں کا انتظام ہوتا، اور مقام کا انتخاب بھی خود ہی کر لیتے، اور جب وہ ایک دفعہ کسی سے کہہ دیتے تو کوئی انکار نہ کرتا۔ بابا یوں کہنے کو کہہ دیتے کہ بھئی ذرا کام کرنا ہے۔ مجھے دو چار سے ملنا بھی ہے میں آنہ سکوں گا،تم سب چلے جاؤ. لیکن عباس بھائی کے کہنے میں کوئی ایسی بات ہوتی کہ باوجود انکار کے بابا دفتر کا کام چھوڑ کے چلتے، اماں گھر بار چھوڑ کے چلتیں، خالہ امی بچوں کوسمیٹ کر آتیں اور چھوٹی ممانی جان اپنا مٹاپا سنبھال کر، مگر چلتے سبھی تھے۔ میں لاکھ بہانے بناؤں کہ کام بہت ہے، پڑھنا ہے،ہوم ورک کرنا ہے، لیکن وہ مانتے نہ تھے، سنتے ہی نہ تھے، بس فیصلہ کُن لہجے میں کہہ دیتے "تم چل رہی ہو"۔ دہی بڑوں کا ہاٹ کیس اور لیمن ڈراپس اور پیسٹری کے ڈبے تمہارے ذمّہ ہیں سنبھال کر لے چلنا، اور چار بجے چائے کے ساتھ دینا۔ گراموفون اور ریکارڈ اور ستار کی حفاظت خود کرتے، ماموں جان کی سات آٹھ سالہ بچی نا چتی خوب ہے، اس کے گھنگھرو اور لباس بھی خود سنبھال لیتے۔ اسد، احمد اور ارشد کو دوگانے گانے پر راضی کر لیتے۔ اور اس طرح زندگی میں قہقہہ، دلچسپی، رنگ اور رس، نور و نغمہ بھی کچھ پیدا ہوتا جا رہا تھا۔ ان کے آنے سے پہلے بھی ہم زندہ تھے اور سارے رشتہ دار بھی تھے۔ ہم فلم بھی دیکھا کرتے، پک نک بھی جایا کرتے اور لوگوں سے ملتے ملاتے بھی تھے، لیکن یہ بات کہاں تھی۔ ایک دن کالج سے آ کر کیا دیکھتی ہوں کہ گھر میں ایک ہنگامہ برپا ہے، چھوٹے بڑے سب ہی خوش ہیں۔ اماں باورچی خانے میں بیٹھی میٹھا پکا رہی ہیں۔ سلمیٰ اور صغریٰ ہوائیاں تراش رہی ہیں۔ بندؔو برتن صاف کر کے تھیلے میں بھر رہا ہے، اور عباس بھائی پٹرول کے کوپن لئے بیٹھے ہیں۔ مجھے دیکھتے ہی بولے "بی بی کل ہم پک نک پر جا رہے ہیں، لیکن ایک اور گیالن پیٹرول مل جاتا تو لطف آتا۔ کیونکہ ارادہ ہے کہ تین جگہ کی سیر ہو، آفتاب کا طلوع گولکنڈہ پر دیکھیں، دن گنڈی پیٹ کے کنارے اور شام حمایت ساگر میں ناچ اور رنگ میں بسر ہو، چاند جلد نکل آئے گا۔ تم اپنی کسی سہیلی سے کو پن لے کر دے سکتی ہو"!


میں نے طلعت سے دو کوپن منگوا دیئے، اور جب وہ میرے ذمّے کام لگانے لگے تو میں کتاب لے کر بیٹھ گئی۔ "عباس بھائی آپ ہمیشہ یہی کرتے ہیں۔ ہر چھٹی ماری جاتی ہے۔ اب کی دفعہ تو میں ہر گز ہر گز نہ آؤں گی۔ آپ سب چلے جائیے، میں گھر میں رہ کر خوب پڑھوں گی ذرا"۔

عباس بھائی ذرا آگے کو جھک کر بولے "حضور آپ کہیں تو پرسوں سارا سبق یاد دلا دوں گا، یا پھر کل سیر کرتے کرتے سب کلیات، نظریات اور خصوصیات زبانی یاد نہ کرا دوں تو عباس نہیں۔ اب چلئے بھی، محرم بڑی دور ہے"۔ اور واقعی انھیں چھوڑ نا تھا نہ میرا پیچھا چھوڑا۔ انھیں یہ کسی طرح اچھا نہ لگتا کہ کوئی فرد گھر میں رہ جائے اور پھر ایسی شان دار پک نک میں۔ کہنے لگے "صغریٰ، سلمیٰ کا بھی تو امتحان ہے، وہ بہانے نہیں کرتیں۔ اب چلو بھی"۔

میں نے کہا "نہیں، میں نے سوچ لیا ہے کل تو نہ جاؤں گی، واہ یہ بھی کوئی بات ہے"۔
"تم چلو گی نہیں سیدھے سیدھے تو ہم تمہیں پکڑ کر لے جائیں گے"۔
"ہشت جیسے میں ڈر جاؤں گی۔ میں ہر گز نہ آؤں گی"۔
"اچھا، کل دیکھ لینا، منھ اندھیرے گھسیٹ کر موٹر میں نہ ڈال دوں تو۔ تم سوتی تو غفلت میں ہو۔ بس، سب تمہیں پکڑ کر لے جائیں گے۔ ہاتھ پاؤں باندھ دیں گے اور تم ہو کونسی پہلوان شہر سے دو چار میل ادھر تک تمہارے منھ میں کپڑا ٹھونسے رکھیں گے"۔
"واہ، میں کمرہ بند کر کے سو رہوں تو؟" "وہ بھی کر دیکھ لینا، ہمیں جادو آتا ہے، تم چاہو تو قفل لگا لو۔ اسٹرلاک علی گڑھ کا جو چاہو سو۔ مگر دیکھ لینا دروازہ خود بہ خود کھل جائے گا"۔

اس رات مجھے بڑی دیر تک نیند نہ آئی۔ میں دیر تک پڑھتی رہی، کتاب ہاتھ میں تھی اور خیالات آوارہ بھٹک رہے تھے۔ خیال تھا کہ سوتے وقت اندر سے بند کر لوں اور قفل بھی لگا دوں۔ دیکھیں تو۔ لیکن یوں ہی پڑھتے پڑھتے، سوچتے سوچتے میں بیٹھی بیٹھی ہی سو گئی۔ مجھے کچھ یاد نہ آیا۔ نیند تو سولی پر بھی آ جاتی ہے اور مجھے ہر وقت ہر جگہ آ جاتی ہے. جب آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا آسمان پر ستارے پھیکے پڑ رہے ہیں۔ فضاء میں سحر کی ٹھنڈک اور چڑیوں کے اونگھتے جاگتے نغمے گھلے ہوئے ہیں، گھر میں اودھم مچی ہے، اور عباس بھائی مجھے گلو بند لپیٹ کر اٹھا لے جانے کو تیار کھڑے ہیں۔ نیند سے بوجھل پلکیں اُٹھانے اور آنکھیں کھولنے کے بعد میں نے صرف حُکم سُنا "چلو" اور بغیر سوچے سمجھے رات کی باتوں کا ان کے دعوے کا خیال کئے بغیر ان کے ساتھ چلی گئی، نیند ابھی ٹوٹی نہ تھی، انھوں نے کشن لگا دیا۔ اِدھر اُدھر معلوم نہیں کون کون بچّے تھے، میں پھر سوگئی۔ اور جب میں پوری طرح بیدار ہوئی تو سچ مچ گولکنڈہ کے کھنڈروں پر اُبھرتے ہوئے سورج کی ہلکی ہلکی نرم نرم کرنیں سونا بکھیر رہی تھیں اور سڑک پر بھاگتی ہوئی لاری اور موٹر کی آواز کے سوا دور دور کچھ نہ تھا۔ ارشدؔ اور اسدؔ کو رس گا رہے تھے، اور موٹروں کے پہیوں کی گھڑگھڑاہٹ میں آوازوں کا ملا جلا شور تھا۔ میں نے جب پوری طرح آنکھیں کھول دیں اور پوری طرح سنبھل کر بیٹھی تو دیکھا پاس کی سیٹ پر عباس بھائی بیٹھے ڈرائیو کر رہے ہیں۔ پیچھے بڑی بی، شمّی اور ننھا وجوّ ہے، اور سامنے کی لاری میں باقی سب لوگ بیٹھے ہیں اور وہ دوڑتی ہوئی ہم سے دور نکل گئی ہے۔ مجھے جب انھوں نے بیدار کیا تو کچھ سنجیدگی سے کچھ شرارت سے جھک کر انھوں نے آداب کیا، اور کہنے لگے

"کیوں، قائل ہو گئیں نا۔ دیکھو تم کہاں جا رہی ہو!"
میں نے خواہ مخواہ بننے کی کوشش کرتے ہوئے کہا
"اونھ، ہم ویسے ہی چلے آئے!" تو کہنے لگے. "تمہارے انکار کے اقرار کو سمجھتاہوں۔ میری ساحری کو تو تم نے تسلیم کر لیا! اور یوں ہی میں نے سچ مچ حیرت زدہ ہوتے ہوئے کہہ دیا "آپ جادو گر ضرور ہیں"۔


ایک لمحہ کو ان کی آنکھیں چھلکیں، لیکن پھر ان میں ایک افسردہ چمک آ گئی. اور پھر ہم دونوں نے کوئی بات نہیں کی۔ ان دنوں میں میں نے دیکھا تھا کہ ہنستے ہنستے یکایک چپ ہو جاتے، باتیں کرتے کرتے ایک لمحہ کو رک جاتے اور جیسے ان کی روح ان کے جسم سے نکل کر اُفق کے پار کہیں چلی جاتی۔

بہت دیر بعد انھوں نے پوچھا "گولکنڈہ پر رکو گی، ناشتہ کریں گے"۔ اور میں نے جواب دیا "نہیں، گنڈی پیٹ چلیے، مجھے یہ کھنڈر زیادہ پسند نہیں، وحشت سی ہوتی ہے۔ وہیں پانی کے کنارے چائے پئیں گے۔" انھوں نے کچھ نہیں کہا۔ مگر پھر تھوڑی دیر بعد بولے کھنڈروں سے تمہیں ڈر لگتا ہے! یہاں سکون و اطمینان نہیں ملتا۔ مگر یہ ہوتا ہے"۔

دھوپ چاروں طرف پھیل گئی تھی. وہاں وہ سب کچھ ہوا جو پک نِک کا لازمہ ہے۔ ناچ گانا، ستار، گراموفون، قصّے لطیفے۔ دو پہر جب ڈھل گئی اور سائے لمبے ہو گئے تو قریب کے بنے ہوئے تیر نے کے حوض میں عباس بھائی اور سب لڑکے تیرنے لگے، اور میں کنارے کھڑی ان کی قلابازیوں اور غوطوں کو دیکھتی رہی۔ نہا کر نکل آئے تو کہنے لگے "تم تیراکی سیکھتی کیوں نہیں؟" میں نے کہا "پانی سے ڈر لگتا ہے"۔ "ارے ارے کیا لڑکیوں کی خاص خصوصیت ہے یہ بات بات سے ڈرنا"۔ شام کی چائے پینے کے بعد ہم سب جھولتے رہے۔ میں جب جھولنے لگی تو اتنے زور سے جھونکا دیا ہے کہ میں پانی میں سرکے بل غوطہ لگاتے لگاتے بچی، اور ڈر کے مارے جھولے سے اتر آئی۔ وہاں شام کے چپ چاپ قدموں کو محسوس کرتے ہوئے اچانک ہم نے محسوس کیا کہ ہم سب اداس ہیں۔ ہنسی خوشی کے طوفان نے ہمیں تھکا دیا ہے، اور ہم وہیں ریت پر لیٹ کر سورج کے ڈوبنے کا انتظار کرنے لگے۔ ابھی تو وہ کنارے بڑھ رہا تھا۔ پانی کی لہروں سے کھیل رہا تھا۔ ہم یوں ہی لیٹے لیٹے اِدھر اُدھر دیکھتے رہے۔ آسمان کی نیلگوں ردا کو، اس پار دوسرے کنارے نظر آنے والی دھندلی چٹانوں کو اور ہوا کے جھونکوں سے پیار کرتے ہوئے درختوں اور پھولوں کو۔ میدان اور جنگل میں شام اچانک آ جاتی ہیً.۔۔ چنانچہ ایک دم شفق کی چند ری آسمان نے رنگی اور اندھیرا چاروں طرف پھیل گیا۔ ہم سب تھکے ہوئے قدموں اور بوجھل اعضاء کے ساتھ واپس چلے۔ واپسی میں ارشدؔ و اسدؔ نے فضاء کو طربناک بنانے کی کوشش کی۔ واپسی میں ہم دونوں لاری میں تھے۔ چھوٹے ماموں جان موٹر لے گئے۔ راستہ میں ہی پرانا موضوع پھر چھڑا، اور سب نے اصرار سے پوچھا "بابا سہرا کیسا باندھو گے"۔ اس سوال پر یوں تو عباس بھائی مذاق کیا کرتے لیکن آنکھوں میں خون سمٹ آ جاتا، اور جب گھر کے قریب پہنچے تو اچانک کہنے لگے "میں گاؤں جا رہا ہوں۔ کھیتوں میں فصلیں کٹائی کیلئے تیار ہوں گی بغیچے کی ترکاریوں میں نیا ذائقہ ہو گا، اور ہمارے گھر کی چھتوں پر چڑھی ہوئی بیلوں میں پھول کھلنے لگے ہوں گے۔ مجھے گھر بے حد یاد آ رہا ہے۔ ابھی اس وقت۔ پرسوں سے چار روز کی چھٹیاں ہیں آپ سب مجھے وہاں تک پہنچانے چلیں۔ اکیلے بھوتوں کی طرح وہاں واپس جاتے ہوئے گھبرا جاتا ہوں"۔


دوسرے دن بھی اس پر بحث ہوئی اور اچانک بابا نے فیصلہ کیا کہ ضرو ر عباس بھائی کے ساتھ جائیں گے، تفریح بھی ہو جائے گی اور اس اکیلے لڑکے کو اس کی زمین داری پر پہنچانے کا انتظام بھی ہو جائے گا۔ سب تیاریاں مکمل ہو گئیں تو میرے پاس آئے۔ کہنے لگے "تم نہ چلو گی بی بی، تم کہو گی پڑھنا ہے۔ لیکن ابھی تو کافی دن ہیں۔ تم چلو، ہمارے درختوں میں آم شاید آ رہے ہوں گے۔ یا اگر نہیں بھی تو ہم تمہیں دوسری چیزیں کھلائیں گے. وہاں روایتی دیہاتوں جیسا حُسن تو نہیں۔ دکن کے دیہات تہذیب اور نرم اخلاق سے ناآشنا ہیں، لیکن ان کھردرے لوگوں میں سادگی اور خلوص ضرور ہے،اور کھیتوں میں اور بغیچے میں لہلہا ہٹ ہو گی،کھلی فضاء میں چند دن رہ آؤ اور وہاں ہم تمھیں ایک بے حد حسین مقام دکھائیں گے۔"

میں نے اشتیاق سے پوچھا"کونسا مقام؟" اور معلوم نہیں کس جذبہ سے مجبور ہو کر میں نے کہہ دیا چلئے میں ضرور چلوں گی۔ کتابیں ساتھ لے چلیں گے ہر ج نہ ہو گا۔

اس سے انھیں بے انتہا خوشی ہوئی جیسے انھیں اُمید نہ ہو کہ میں ان کے ساتھ چل سکوں گی۔ انھوں نے کہا"گاؤں سے کچھ دور ندی بہتی ہے، اور ایک جگہ ذرا نشیب میں گرتی ہے۔ مقام کچھ ایسا بلند نہیں،لیکن پھر بھی وہاں بہاؤ تیز ہوتا ہے، اور جب گرتی ہے تو کئی چھوٹے چھوٹے آبشار بن جاتے ہیں۔ یوں آبشار بڑے حسین ہوتے ہیں لیکن ان چھوٹے چھوٹے آبشاروں کو دیکھنا بھی ایک کیفیت ہے۔ وہاں قریب غوطے لگاتا تیرتا، یا قریب کی چٹانوں پر بیٹھا ہوا میں نے ہر نظر سے،ہر زاویہ سے انھیں دیکھا۔ مجھے یقین ہے تم پسند کرو گی فطرت کے اس حُسن کو"۔

اور ہم سب ان کے ساتھ چلے۔ برسوں بعد کسے معلوم تھا کہ ہم وہاں جائیں گے۔ دیہات کو دیکھنے کا وہاں رہنے کا پہلا موقع تھا۔ پک نک سے ہزاروں گنا زیادہ لطف آتا۔ عباس بھائی وحشتِ دل سے مجبور ہو کر وہاں سے نکلے تھے،اور انھیں نکلے کئی مہینے ہوئے تھے ان کے آدمیوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ ان کے گھوڑے اور کتے بھی انھیں دیکھ کر جانوروں کی زبان میں اظہار محبت کرتے،گونگی اور مخلص محبت.۔

خاطر ایسی کرتے رہے کہ بچھے جا رہے ہیں بچے سے لے کر بڑے تک ہر ایک کی خوشی کا خیال ہر ایک کی پسند کی چیزیں مہیّا،ہر چیز میں تازگی حرارت اور نمو۔

اور ایک دن آبشار دیکھنے بھی سب چلے راستہ پتھر یلا، اور خشک تھا نیم کیکر اور کہیں کہیں آم کے جھنڈ تھے۔ راستہ میں سینڈ کی قطار یں تھیں۔ کہتے بچ کر چلو۔ آنکھ میں لگ جائے تو آنکھیں چلی جاتی ہیں۔ برساتی خشک تالوں میں نرم دھنس دھنس کرتی چمکیلی ریت تھی،اور ہم اس میں سے گزرتے رہے ادھر اُدھر پہاڑیوں کا سلسلہ تھا۔ سیاہ جلی ہوئی پہاڑیاں۔ کہتے لگے ان میں بڑے خوں خوار چیتے رہتے ہیں اجنبی مسافررات میں اِدھر سے جان سلامت نہیں لے جاسکتا۔ راستہ کی اس خشکی اور ناہمواری کے بعد ندی کے پاس پہنچے تو تھک گئے تھے لیکن منظر ایسا تھا کہ صحرا سراب معلوم ہوا دُور تک بل کھائی، چھوٹے چھوٹے جزیروں کے اطراف گھومتی ہوئی چمکیلی ندی بہہ رہی تھی پانی کناروں پر لال، بیچ میں گہرا نیلا تھا،اور اطراف دُور دُور تک کنارے کنارے سبزہ، جنگلی جھاڑیاں اور پرندوں کے غول تھے، اور چٹانوں میں گھرے ہوئے وہ چھوٹے چھوٹے آبشار،ایسا حسن اور ایسے بنجر علاقے میں۔ یقین ہی نہ آتا تھا۔ سہ پہر تک سب گھونگھے سیپیاں چنتے رہے۔ رنگین گول مول چکنے پتھر،جنگلی پھول،اور سنگھاڑے، سب تیرنے لگے۔ تیرنے کے لئے اتنا موزوں مقام تھا کہ.۔۔۔ اور ماموں جان بھی تیرنے پر آمادہ ہو گئے، اور سہ پہر کے ہنگاموں کے بعد سبھوں نے وہیں گرم گرم چائے پی، عباس بھائی نے ستار سُنایا۔ ارشد،اسداور سلمیٰ،صغری نے مل کر فلمی گیت گنگنائے۔ اور اس میں کسی نے یہ گیت بھی اُبھارا

او جینے والے ہنستے ہنستے جینا


میں نے پہلے بول کے بعد پھر گیت نہیں سُنا۔ میرے خیالات میرے ہی بنائے ہوئے ایک عالم میں چکر لگا رہے تھے،اور میں بہت دیر بعد چونکی۔ جب سب ایک دوسرے سے اچھے اشعار سُنانے کی فرمائش کر رہے تھے،عباس بھائی نے کہا"بی بی تم تو بڑی دُور چلی گئیں۔ کیا ہنسنے اور رونے کے فلسفہ پر غور ہو رہا تھا،سُناؤ بھئی۔ دو اشعار سُنانے کی شرط ہے۔"

اور خواہ مخواہ میں نے ان ہی کی بیاض سے یاد کیے ہوئے دو شعر سُنا دئے؎

تم نے کس دل کو دُکھایا ہے تمھیں کیا معلوم
کس صنم خانے کو ڈھایا ہے تمھیں کیا معلوم
ہم نے ہنس ہنس کے تیری بزم میں اے پیکر ناز
کتنی آہوں کو چھپایا ہے تمھیں کیا معلوم

عباس بھائی اچانک خاموش ہو گئے، اور بولے "آہا، ہمیشہ ایسے ہی روتے دھوتے اشعار سنائیں گی،بھئی خدا معلوم اتنی حسین و جمیل فضا میں بھی تم لوگوں کو رونا دھونا کیوں یاد آتا ہے!" اور پھر عباس بھائی اپنے آپ سے بیدار ہوتے ہوئے بولے "مال چوری کا ہے، بھئی اس کی سند نہیں کہ دوسروں کے پسندیدہ اشعار سُنا دیئے۔ آپ کی پسندبتائیے"!

"یہی ہے میری پسند۔ کیا آپ کا اجارہ ہے ان اشعار پر کہ کوئی پسند ہی نہ کرے"

وہ ہنسے، لیکن اس ہنسی میں افسردگی اور حیرت کی جھلک تھی۔

باری باری سبھوں نے شعر سُنائے اور پھر اچانک سب بچّے دو دو کر کے گھومنے چلے گئے۔ ہم دونوں اکیلے رہ گئے، اس بل کھائی ہوئی ندی کے کنارے ان چٹانوں کی آڑ میں جہاں پانی ٹکرا ٹکرا فطرت کا نغمہ گنگناتا ہے،اور جہاں اُگے ہوئے جنگلی زرد اور کاسنی پھول جھوم رہے تھے،ہم دونوں اکیلے تھے اور شام ہو رہی تھی۔

کچھ دیر خاموشی رہی۔ ہم دونوں سوچ رہے تھے۔ میرے تو خیالات کا سلسلہ ہی قائم نہ ہوتا اور عباس کی نگاہوں میں دھند لائی دھندلائی کچھ ماضی کی کیفیت تھی۔ وہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور یکایک بولے "آؤ بی بی، ان آبشاروں کے اطراف ایک دفعہ گھوم آئیں۔ میں چُپ چاپ ان کے ساتھ ہو گئی۔ کچھ دیر ہم یوں ہی ایک دوسرے کے قریب قریب لیکن الگ الگ چلتے رہے۔ ریت کی دھنس دھنس کے سوائے کوئی آواز نہ تھی، اور پھر وہ بولے "بی بی، کہانیاں سننے کا تمھیں شوق ہے نا! ایک کہانی سنوگی مگر ٹوکنا مت!" "سُنائیے" میں نے دلچسپی سے کہا لیکن خدا جانے کیوں ان کے لہجے میں متانت نے میرے دل کو دھڑکا دیا۔ انھوں نے آواز صاف کی اور پھر نرم اور میٹھے لیکن اداس و خوابناک لہجے میں بولے "ایک لڑکا تھا۔ گاؤں میں پیدا ہوا۔ وسیع زمینات، بغیچوں اور ا مرائیوں کا مالک بن کر۔ وہ اپنے ماں باپ کا ایک ہی بیٹا تھا۔ وہ پڑھنے کے لئے ایک بڑے شہر میں بھیجا گیا اور دن گزرتے گئے چھیٹوں میں وہ اپنے ماں باپ سے مل جاتا اس کی ماں کو بیاہ کا بڑا ارمان تھا اور اس کے باپ اپنے وارث کی نسل کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے۔ لیکن اس لڑکے کے دل میں خلاء سا تھا، اور روح ناآسود ہ اُسے کبھی کوئی لڑکی پسند نہ آئی، اور وہ بغیر کسی کی ذات میں دلچسپی لیے کے اُسے اپنا ساتھی بنانا نہ چاہتا تھا۔ بہت دن مہینے اور سال بیت گئے اور اچانک ایک سال لڑکی اُسے ملی۔ شمالی ہند سے وہ بی اے کی ڈگری لینے آئی تھی۔ سادہ سادہ چُپ چاپ سی لیکن اس کے اطراف کوئی مقناطیسی حلقہ تھا کہ وہ قریب گیا اور پھر ا س میں جذب ہو گیا لیکن اُسے کسی قسم کے اظہار کی ہمت نہ ہوئی۔ لڑکی کی باتوں میں اس قدر متانت اور سنجیدگی اور پارسائی ہوتی کہ وہ آگے بڑھنا چاہتا اور بڑھ نہ سکتا۔ اور پھر ایک دن چھیٹوں میں گھر آتے ہوئے اُس نے اس لڑکی کو دعوت دی اور ان ہی آبشاروں کا حُسن دیکھنے کے لیے وہ آئی۔ اس کی دوستی کافی گہری ہوچلی تھی۔ وہ دکن کا یہ خاموش دیہات اور اس کی زمینات دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ گھٹاؤں کا موسم تھا اور یہاں کی توبہ شکن برسات، ایک دن موسم صاف تھا تو وہ دونوں ان آبشاروں کے پاس چلے۔ بہت دیر تک گھومتے،سنگریزے اور سیپیاں چنتے رہے۔ آبشاروں کا دل گداز نغمہ پانی کے بہنے کی آواز سنتے رہے،اور اسی طرح اچانک چکر لگاتے لگاتے رُک کر اُس لڑکے نے اس لڑکی کا آنچل تھام لیا، اور بالکل جیسے کوئی حالت سحر میں بولتا ہے۔ اُس نے اظہار محبت کیا۔ وہ چاہتا ہے کہ زندگی کے اس طویل و سنسان، پر پیچ اور انجان راستے میں وہ اس کی ساتھی بن جائے۔ اس کے سہارے سہارے منزل تک پہنچنا کتنا آسان کتنا خوشگوار ہو گا۔ لڑکی ٹھٹک گئی،،مُسکرائی اور پھر بولی "پاگل نہ بنو۔ مجھے تم بہت پسند ہو، لیکن میری تو شادی ہو چکی"۔ لڑکے کے ہاتھ سے دامن چھوٹ گیا، وہ کچھ نہ کہہ سکا۔ لڑکی اُسے واقعات سُناتی رہی کہ وطن میں اُس کا شوہر موجود ہے۔ ان میں سوائے دوستی اور خلوص کے اب کچھ اور پیدا ہونا ناممکن ہے" اور پھر وہ جیسے یہ سب کچھ بھول کر پہلے کی طرح دلچسپ و شگفتہ باتیں کرنے لگی،اور اُس کا ساتھ دینے کے لیے لڑکا بھی ہنستا رہا۔ دوسرے دن وہ شہر چلی گئی اور اسی دن اس لڑکے کے دل کی دنیا ویران وسنسان ہو گئی، اور دل جس قدر اداس ہوتا گیا، قہقہے اُسی قدر چمک اُٹھے اور اس دن اس نے بیاض میں پسندیدہ شعر لکھے تھے؎

تم نے کس دل کو دُکھایا ہے تمھیں کیا معلوم
کس صنم خانہ کو ڈھایا ہے تمھیں کیا معلوم
ہم نے ہنس ہنس کے تری بزم میں اے پیکر ناز
کتنی آہوں کو چھپایا ہے تمھیں کیا معلوم

کچھ دیر رک کر وہ بولے. اے لو شام ہو گئی۔ سب کو سمیٹ کر لوٹ چلیں۔ اب تم بھی ہنس لو! پھر قہقہے اور واپسی کے ہنگامے۔ شام کی سیاہی اور اداسی گہری ہو گئی تھی۔ آبشار کی چادر سے جب ہوا کی لہر گزرتی تو معلوم ہوتا کوئی طویل بیماری کی اُداس رات میں سائیں سائیں کی آواز میں آہیں بھر رہا ہے اور دور بنسری کا گیت بج رہا تھا۔


کیا وقت ہے

سامنے والی عمارت دو منزلہ ہے۔ نیچے اور اُوپر کئی فلیٹ بنے ہیں۔ اُوپر کی منزل کے ایک فلیٹ کی بالکنی کے ایک کونے میں ایک بوڑھا اور بوڑھیا ہیں۔ صبح، شام جب کبھی نظر اس طرف اٹھتی ہے، وہ دونوں یو نہی آمنے سامنے اپنی اپنی کرسی پر بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ بوڑھے کے ہاتھ میں اخبار ہوتا ہے، وہ کبھی اخبار پڑھتا ہے اور کبھی پڑھتے پڑھتے اونگھ جاتا ہے۔ بڑھیا بالکنی کی ریلنگ کے سہارے بیٹھی خالی خالی نظروں سے بستی کو تکے جاتی ہے۔ وہ دیکھتی ہے مگر شاید کچھ نہیں دیکھتی، سنتی ہے پر کچھ نہیں سنتی۔ دونوں کی عمر کیا ہے، اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ بڑھاپے کی جس منزل میں وہ ہیں، وہاں سالوں کا حساب اور عمر کا سوال بے معنی ہو جاتا ہے۔ ان کے چہروں کی کیفیت میں یکسانیت اور ٹہراؤ ہے۔ کبھی ان میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا۔ نہ غم نہ خوشی، نہ لاگ نہ لگاؤ۔ کسی جذبے کی ہلکی سی پرچھائیں کا تک وہاں گذر نہیں۔ یہ چہرے کسی سے کچھ نہیں کہتے۔ وہ دونوں ہماری آپ کی بے حد مصروف پر شور اور ہنگامہ خیز زندگی کے درمیان رہتے ہوئے بھی ہر چیز سے بے تعلق دکھائی دیتے ہیں۔ انھیں دیکھ کر کبھی کبھی ایک چھوٹے سے سنسان ٹاپو کا احساس ہوتا ہے جو سمندر کے پھیلے ہوئے طوفانی سینے پر جما ہوا ہے۔ لہریں دندناتی، شور مچاتی اور جھاگ اڑاتی آتی ہیں اور اس کے کناروں سے سر ٹکرا کر لوٹ جاتی ہیں مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوتا اور نہ اس کی سنسان خاموشی میں کوئی فرق پڑتا ہے۔

اس فلیٹ میں بھی عمارت کے دوسرے فلیٹوں کی طرح دو کمرے ہیں، کچن اور باتھ روم ہیں۔ پیچھے اور سامنے برآمدہ ہے۔ ایک طرف آگے کو نکلی ہوئی چھجے دار چھوٹی سی بالکنی ہے۔ فلیٹ کافی آرام دہ ہے، بجلی، پانی، پنکھا، فرج ہر چیز موجود ہے۔ دوسرے فلیٹوں میں تنگی کا احساس ہوتا ہے۔ لوگ زیادہ ہیں یا بے ضرورت گھومتے پھرتے ہیں لیکن اس فلیٹ میں وسعت کا احساس ہوتا ہے۔ بوڑھے اور بوڑھی کی دنیا کمروں سے بھی بے تعلق ہے۔ انکا وجود بس چھوٹی سی بالکنی سے وابستہ ہے۔ کمرے سنسان اور بے کار پڑے ہیں۔

گھر میں دو نوکر ہیں، ایک عورت اور ایک مرد، وہ بھی عام نوکروں سے مختلف ہیں۔ مالک اور مالکن کے ہم زاد لگتے ہیں۔ عورت کمروں میں جھاڑو دیتی ہے، فرش صاف کرتی ہے، کپڑے دھوتی ہے اور برتن مانجھتی ہے۔ مرد بازار جاتا ہے، پھل، ترکاری اور ضرورت کی چیزیں خرید لاتا ہے، کھانا پکاتا ہے۔ عورت کام ختم کر کے بستی سے دور اپنے گھر چلی جاتی ہے اور مرد پچھلے برآمدے میں لیٹ جاتا ہے اور بیڑی پیتا ہے۔ گھر کا کام چپ چاپ نمٹ جاتا ہے۔ ہر کام وقت پر ہو جاتا ہے۔ نہ بک بک نہ جھک جھک۔ عام گھروں کی طرف نوکروں کے پیچھے نہ کوئی سر کھپاتا ہے نہ انھیں بار بار آواز دیتا ہے۔

بالکنی میں کرسیوں کے پاس ہی ایک چھوٹی سی میز رکھی ہوئی ہے۔ اس پر دواؤں کی بوتلیں پانی کا گلاس، جگ، پھلوں کی پلیٹ اور بسکٹوں کا ڈبا دھرا ہے۔ ایک کونے میں ریڈیو رکھا ہے۔ دونوں شاید اونچا سنتے ہیں۔ اس لیئے جب بھی ریڈیو بجتا ہے تو آواز بہت اونچی ہوتی ہے۔ سارا محلہ انھیں کے ریڈیو سے خبریں سنتا ہے۔ کرکٹ کے سیزن میں کمنٹری سنی جاتی ہے۔ ریڈیو ان کے لیے بولتا ہوا اخبار ہے۔ گانے اور دوسرے پروگرام سے انھیں کوئی دل چسپی نہیں۔ سامنے کی دیوار پر ایک بڑی گھڑی لٹکی ہوئی ہے، جس کا پنڈولم جھولتا رہتا ہے اور ہر آدھے گھنٹے بعد وقت کا اعلان کرتا ہے۔ ٹن، ٹن، ٹن،۔

جاڑا ہو یا گرمی دونوں بالکنی میں سارا دن گذار تے ہیں۔ رات بہت دیر گئے جب ساری بستی سوجاتی ہے وہ سونے کے لیے اندر کمروں میں جاتے ہیں اور صبح سویرے سب کے جاگنے سے پہلے پھر وہیں آن موجود ہوتے ہیں۔ اُن کے لیے ایک دن اور دوسرے دن میں کوئی فرق نہیں۔ ہاں جاڑا ہو تو بڑھیا شال اوڑھے لپیٹے رہتی ہے اور بوڑھا گرم کوٹ پہنا دکھائی دیتا ہے۔ گرمی میں صبح سے رات دیر گئے تک پنکھا چلتا رہتا ہے۔

اس عمارت اور آس پاس کی عمارتوں کے فلیٹوں میں ہر طرح کے لوگ آباد ہیں لیکن ہر بڑے شہر کی طرح یہ نئی بستیاں محلہ نہیں بن جاتیں۔ یہ ٹاورز ہیں محلہ نہیں۔ اُن کا اپنا چہرہ نہیں، شخصیت نہیں، انفرادی وجود نہیں۔ پرانے محلوں کی طرح یہاں ایک گھر کا دوسرے گھر سے کوئی تعلق نہیں۔ یہاں ہر فلیٹ ایک اکائی ہے، بے نام اکائی،. یہاں لوگ. جوان، بوڑھے، بچے، مرد اور عورتیں. اپنے فلیٹ کی چار دیواری میں محصور ہیں، پڑوس ہے لیکن کوئی پڑوسی نہیں۔


ہر فلیٹ کی اپنی دنیا ہے۔ لیکن ہر جگہ چہل پہل ہے، ہمہ ہمی ہے، زندگی ہے۔ کہیں شور و غل ہے، کہیں جھگڑے ہیں، کہیں ریڈیو کے گانے ہیں، کہیں عورتوں کے کوسے ہیں، کہیں بچوں کے قہقہے ہیں، کہیں ڈانٹ پھٹکار ہے، کہیں شکوے شکایتیں ہیں، غرض وہ سب کچھ ہے جو عام گھروں میں دن رات ہوتا رہتا ہے۔ لیکن ان کی صبح و شام یکساں نہیں ہوتی۔ اس کے برخلاف بوڑھے اور بڑھیا کے فلیٹ میں زندگی ایک حال پر قائم ہے۔ یہاں وقت رک سا گیا ہے۔ ایک ہی دن بار بار آتا ہے اور گذر جاتا ہے، گذرتا بھی نہیں گذارا جاتا ہے۔ باہر لمحے گھڑیوں میں، گھڑیاں دنوں میں، دن برسوں میں بدلتے جاتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک ہی لمحہ بار بار تکرار کر رہا ہے، برسوں سے، صدیوں سے، جانے کب سے، فلیٹ سے باہر، دوسرے فلیٹوں میں یا گلی اور بازار میں جو کچھ ہوتا ہے اس سے اس فلیٹ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

گلی میں سویرے میونسپلٹی کے لوگ جھاڑو لگاتے ہیں، پھر دودھ والے کی آواز سنائی دیتی ہے، اخبار بیچنے والے لڑکے چیخ چیخ کر اخبار بیچتے ہیں، سڑک پر بسیں اور کاریں دوڑتی ہیں، رکشہ والوں کی گھنٹیاں بجتی ہیں۔ ہر گھر سے مختلف قدو قامت کے بچے اور بچیاں کندھوں سے بستے لٹکائے شور مچاتے نکلتے ہیں یا سب ایک ساتھ باتیں کرنے لگتے ہیں۔ دفتروں میں کام کرنے والے مرد اور عورتیں ہاتھوں میں بیگ لیے، ٹفن سنبھالے تیز تیز قدم اٹھاتے سڑک کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ ہر گھر سے کپڑے دھونے اور نوکروں کو پکارنے کی آوازیں آتی ہیں. پھر ٹھیلے پر سامان بیچنے والوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ عورتیں اپنے اپنے دروازے پر کھڑی سامان خریدتی ہیں، دام چکاتی ہیں، پھٹکارتی ہیں۔ پھر کچھ دیر کے لیے سناٹا چھا جاتا ہے، عورتیں بھی چپ ہیں۔ زندگی چاروں طرف اونگھ رہی ہے۔ دوپہر ڈھلنے لگتی ہے تو برتن بیچنے والوں، کپڑا بیچنے والوں، پھیری والوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ فلیٹ جاگ اٹھتے ہیں۔ گھروں کی صفائی ہوتی ہے، عورتیں ایک دوسرے کو پکارتی ہیں، چھوٹے بچوں کے رونے کی آوازیں آتی ہیں، مائیں ڈانٹ ڈپٹ کر انھیں چپ کراتی ہیں۔ پھر چار بجتے ہیں۔ سڑک پر گاڑیوں کا شور بڑھنے لگتا ہے۔ مونگ پھلی والا اپنا ٹھیلا گلی کے نکّڑ پر کھڑا کر دیتا ہے۔ اسکول سے بچے لوٹ رہے ہیں۔ مونگ پھلی اور میٹھی گولیاں خرید رہے ہیں۔ آئس فروٹ اور کھلونے والوں کی آوازیں بلند ہوتی ہیں اور بچے اُدھر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ چھینا جھپٹی کرتے ہیں۔ اپنی کتابیں ایک طرف پھینک کر ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے لگتے ہیں۔ مائیں چلاّ چلاّ کر انھیں چپ کراتی ہیں۔ بیچ بچاؤ کرتی ہیں، ناشتہ کو بلاتی ہیں، مار پیٹ کرتی ہیں۔ بچے کچھ دیر کو ماؤں کے ساتھ گھروں میں چلے جاتے ہیں لیکن پھر شور مچاتے باہر نکل آتے ہیں۔ کہیں گولیاں کھیل رہے، کہیں لٹو گھما رہے ہیں اور کہیں گلی ڈنڈا۔ پتنگوں کے موسم میں ہر ایک کے ہاتھ میں پتنگ اور چرخ ہے۔ ہوا میں پتنگیں ڈول رہی ہیں، رنگ برنگی، چھوٹی بڑی، پتنگ کٹتی ہے تو لوٹنے کے لیے دوڑ پڑھتے ہیں، ایک دوسرے سے گتھ جاتے ہیں، دھنگا مشتی ہوتی ہے، تو تو میں میں ہوتی ہے۔

کالج کے طالب علم کتابیں گھروں میں پھینک کر اپنے اپنے لباس کی سج دھج دکھانے کیلئے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ گلی کے نکڑ پر دو دو چار چار کھڑے باتیں کر رہے ہیں، قہقہے لگا رہے ہیں، فقرے چست کر رہے ہیں، لڑکیوں پر آوازے کس رہے ہیں، خوش فعلیاں کر رہے ہیں۔

دفتروں میں کام کرنے والے تھکے مارے ڈھیلے ڈھالے قدم رکھتے گھروں کی طرف لوٹ رہے ہیں، مٹھ لٹکا ہوا ہے۔ گھرمیں داخل ہوتے ہیں، آرام کرسی میں ڈھیر ہو جاتے ہیں یا اپنی بیویوں پر غصہ اتارنے لگتے ہیں۔

شام ہوتے ہی ہرفلیٹ میں شور بڑھتا جاتا ہے۔ کھانا پکانے کا شور، بچوں کے کھانے اور کھلانے کا ہنگامہ، طالب علموں کا چلا چلا کر سبق یاد کرنا، چھوٹے بچوں کا رونا، ریڈیو کا شور. ہر فلیٹ کی ساری بتیاں روشن ہیں۔ پھر ایک ایک کر کے بتیاں بجھنے لگتی ہیں، دھیرے دھیرے سناٹا چھا جاتا ہے اور اندھیرے کی چادر ساری بستی پر پھیل جاتی ہے۔

یہ سب آواز یں، یہ ساری چہل پہل یہ شور یہ ہنگامہ، اس فلیٹ کے چاروں طرف دن بھر گھومتا رہتا ہے مگر فلیٹ میں داخلے کا راستہ اسے نہیں ملتا بلکہ سناٹا یہیں سے نکل کر ساری بستی پرچھا جاتا ہے۔ بوڑھا اور بڑھیا وقت کے ان ہنگاموں کو سناٹے میں بدلتا دیکھتے ہیں۔ انھیں ان ہنگاموں سے کوئی سروکار نہیں، وہ خود سناٹا ہیں، انھیں کہیں جانا ہے نہ آنا۔ گھر میں کوئی بچہ نہیں جو روئے اور اسے چپ کرانے کے لیے لوری گائی جائے یا کہانی سنائی جائے۔ کوئی نوجوان نہیں، جس کو دیر گئے گھر لوٹنے پر باز پرس کی جائے۔ نہ بہو ہے، جس سے جھگڑا ہو، نہ بیٹی ہے،جس سے سر میں تیل لگوایا جائے۔ کوئی نہیں۔ کوئی نہیں۔ بس وہ دونوں ہیں۔ انھیں آپس میں کچھ کہنا سننا بھی نہیں۔ کوئی موضوع نہیں، کوئی مسئلہ نہیں، سب باتیں کی جاچکی ہیں، تمام موضوع ختم ہیں۔


ان کے نام کیا ہیں؟ شاید وہ خود بھی اپنے نام بھول چکے ہوں۔ وہ بے آواز اور بے جان مورتیاں معلوم ہوتے اگر ہر پندرہ منٹ یا آدھ گھنٹے کے بعد ان کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ یہ آواز بھی شاید اس لیے اونچی ہوتی ہے کہ ایک دوسرے کو اپنے وجود کا احساس دلائیں۔

صبح مرغ اذاں بھی نہیں دیتا کہ فلیٹ میں بوڑھے کی آواز گونجتی ہے، اوہ کیا وقت ہو گا، اور بڑھیا شاید بڑی گھڑی دیکھتی اور وقت بتاتی ہے، ابھی چار بجے۔ اچھا،اچھا۔ بستی میں جھاڑو لگانے والوں کی آواز آتی ہے اور بوڑھا پوچھتا ہے، کیا وقت ہو گا؟ بڑھیا کہتی ہے،چھ بج گئے ہیں، چائے آ گئی ہے،پی لو، اخبار یہ رکھا ہے،۔ وقت گزر رہا ہے، بوڑھا انگڑائی لیتا ہے،کیا وقت ہے،کیا وقت ہو گا،؟ بڑھیا کہتی ہے، ساڑھے سات بجے ہیں ناشتہ کر لیں۔ کیا وقت ہو گا؟ آٹھ بجے ہیں، ریڈیو سن لیں۔ کیا وقت ہو گا؟ ۹ بجے ہیں دوائی کھالیں۔ کیا وقت ہو گا؟ گیارہ بجے ہیں،رس پی لیں۔ کیا وقت ہو گا؟ بارہ بجے ہیں، کھانا کھالیں۔ کیا وقت ہو گا؟ دو بجے ہیں آرام کر لیں، کیا وقت ہو گا؟ چار بجے ہیں، چائے پی لیں۔ کیا وقت ہو گا؟ چھ بجے ہیں دوائی کھا لیں، کیا وقت ہو گا؟ آٹھ بجے ہیں کھانا کھالیں۔ کیا وقت ہو گا؟ نو بجے ہیں، خبر یں سن لیں، کیا وقت ہو گا؟ کیا وقت ہو گا؟ کیا وقت ہو گا؟۔

بوڑھے کی آواز گنجیلی اور بھاری ہے، بڑھیا کی آواز سپاٹ ہے۔ بوڑھا صرف کیا وقت ہے کی گردان کرتا رہتا ہے۔ بڑھیا وقت اور پروگرام بتاتی جاتی ہے۔ ہر گھڑی کا کام بندھا ٹکا ہے۔ وہ اس کا اعلان کرتی رہتی ہے۔ نہ پوچھنے کا انداز بدلتا ہے اور نہ جواب دینے کا ڈھنگ۔ مقررہ وقت پر وہی سوال اور اس کا وہی مقررہ جواب۔ گھڑی کی سوئی گھومتی رہتی ہے، سکنڈ منٹ میں، منٹ گھنٹوں میں، گھنٹے دن رات میں اور دن رات ہفتوں اور مہینوں میں بدلتے رہتے ہیں لیکن ان کے لیے وقت وہی ہے جو تھا۔

بوڑھے کو پنشن ملتی ہے۔ پہلے وہ ایک بڑے مکان میں رہتے تھے،جس میں کئی کمرے، دالان،برآمدے اور صحن تھے۔ بیٹوں کے مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک جانے کے بعد، جب تک طاقت تھی وہ اس مکان میں رہا کیے۔ ان دنوں بوڑھا وقت گزاری کے لیے باغیچے میں صبح شام کھرپی لیے کام کیا کرتا تھا اور بڑھیا سلائی، بنائی اور پکوان سے دل بہلایا کرتی تھی۔ دونوں پابندی کے ساتھ ٹہلنے جایا کرتے تھے۔ لیکن تاب و تواں جواب دے چکے تو ڈھنڈار سے گھر سے وحشت ہونے لگی۔ انھوں نے مکان کرایہ پر اٹھا دیا اور اس فلیٹ میں اٹھ آئے۔ پنشن اور مکان کے کرایے سے ان کی گزاربسر بڑے آرام کے ساتھ ہو جاتی ہے۔

دونوں لڑکے باہر کے ملکوں میں خوب کماتے ہیں اور خوب خرچ کرتے ہیں مگر مصروف ہیں، بے حد مصروف۔ اس لیے ماں باپ کے ہاں آسکتے ہیں اور نہ انھیں بلاسکتے ہیں۔ ہر مہینے اپنی خیریت کا خط بھیج دیتے ہیں۔ اس خط سے ان کے درمیان رشتہ قائم ہے۔ ڈاکیہ مہینے میں ایک دو چکر اس گھر کے بھی لگا جاتا ہے اور دو خط،بجلی کا بل، کرایہ دار کا چیک پہنچا جاتا ہے۔ دودھ والا اور روٹی والا ہر مہینے مقررہ دن آ کر حساب لے جاتا ہے۔ اس میں کبھی کمی بیشی نہیں ہوتی۔ ہر ہفتے ڈاکٹر آتا ہے،نبض دل، اور خون کا دباؤ چک کرتا ہے اور وہی دوائیں لکھ جاتا ہے جو وہ مہینوں اور برسوں سے کھا رہے ہیں۔ کسی چیز میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، کوئی فرق نہیں آتا۔ ہر چیز وہی ہے، ہر چیز دہرائی جا رہی ہے مگر گزرتے وقت کی چپ چاپ مشین انھیں دھیرے دھیرے گھِس رہی ہے۔ تنہائی انھیں دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے، کھوکھلا کر رہی ہے۔

کیا وقت ہے؟
کیا وقت ہے؟
یہ وقت آخر کب گزرے گا، کب گزرے گا۔


اوتار

اودی اودی گھٹائیں جھوم کے اٹھی تھیں۔ شفاف نیلا آسمان دھندلا رہا تھا۔ اور میری کھڑکی سے ہوائیں یوں آ رہی تھیں جیسے کسی کا پیغام لائی ہوں۔ مگر میری اکیلی زندگی میں پیغام کہاں سے آتا۔ کہاں سے آئے گا؟ اس اداس اور اکیلی زندگی کے ستائیس سال گزر چکے تھے۔ سہ پہر کے سایوں کی طرح لمبے اور خاموش سال۔ یوں گھر میں سب ہی تھے لیکن اکیلے پن کا احساس کسی حالت میں بھی الگ نہیں ہوتا تھا۔ برسات کی دھوپ کی طرح کبھی کبھی کچھ ہلچل، کچھ خوش اور رنگین ساعتیں بھی آ جاتی تھیں، لیکن ان کی عمر بلبلوں سے زیادہ نہ تھیں۔ بلبلے جو یوں ہی پیدا ہوتے ہیں اور یوں ہی غائب ہو جاتے ہیں اور ندی کی دھاریوں ہی بہتی رہتی ہے،ازل سے ابد کی طرف، ہمیشہ، مسلسل۔

اور اس دن میرا دل سخت بے چین تھا۔ کیوں آخر میرے تصور کی دنیا اتنی اونچی، اتنی کومل اور اتنی انمول ہے کہ اس میں کوئی بہت دنوں تک رہ ہی نہیں سکتا۔ کوئی اس کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ کیا وہ آدمی پیدا ہی نہیں ہوا جو میرا ساتھی بنے۔ کیا وہ طوفان وقت کے تاریک لمحوں سے کبھی نہ ابھرے گا جو اس گھاٹ کے پتھر کو ہٹا سکتے۔ لاکھوں طوفان آئے اور گزر گئے۔ مگر لوگ کہتے ہیں میں بہت خشک ہوں، بددماغ ہوں، زمین پر رہتے ہوئے آسمان کی باتیں کرتی ہوں۔ میں یوں ہی ستاروں کی چھاؤں میں بادلوں کے دوش پر اڑتی رہوں گی، اڑتی رہوں گی۔ یہاں تک کہ ایک دن تصور کا یہ غبارہ پھٹ جائے گا۔ میرے پاؤں زمین کو چھولیں گے۔ اور میں دیکھوں گی کہ زندگی کا دن ڈھل گیا ہے اور شام ہوا چاہتی ہے۔ تو کیا یہ کہانیوں کی باتیں یہ شعر کے خواب اور فن کاروں کی تخلیق سب جھوٹی دنیا کی تصویریں ہیں۔ کیا یہ کردار کہیں نہیں ملیں گے۔ یہ نقش کبھی نہیں ابھریں گے۔

اور یوں ہی گھٹائیں جھوم کر اٹھتی رہیں۔ یوں ہی آسمان دھندلاتا رہا اور شام کے سائے میری کھڑکی میں سمٹ کر آتے رہے اور جاتے رہے۔ اور انھیں کے ساتھ برسات کی ہواؤں میں گھل کر ایک آواز میرے کانوں میں آئی۔ " نورانی گھر پر ہیں ؟"۔
"نہیں " میں نے یوں ہی جواب دیا۔ کسی نے سائیکل درست کی اور پھر کہا" آئیں تو کہہ دینا، اوتار آیا تھا"

میں بدلیوں سے نیچے ڈھلک گئی اور میں نے چونک کر دیکھا۔ میرے سامنے ایک دبلا پتلا، نازک نازک اور لمبا سا آدمی کھڑا تھا۔ بالوں کے گھونگر ہواؤں سے پریشان تھے مگر جس کی صورت پرسکون ہی سکون تھا جس کے نقش اتنے کٹے ہوئے تیکھے اور نازک تھے کہ معلوم ہوتا تھا ابھی ابھی کسی مصور کا خواب انگڑائی لے کر جاگ اٹھا ہے۔ مگر اس قدر نزاکت کے باوجود وہ مر د تھا۔ اور اس کی خواب آلود اٹھی ہوئی پلکوں سے جھانکتی ہوئی روشن آنکھوں نے مجھ سے کہا کہ وہ بہت بڑا فن کار ہے جس کا فن ابھی جنم لے رہا ہے۔ لیکن اسے دیکھتے ہوئے مجھے یوں لگا کہ اس کا فن بھی نرم و نازک لیکن ساتھ ہی سخت اور جاندار ہو گا۔ سنار کی چھوٹی سی ہتھوڑی کی طرح جو سونے کی سختی سے نازک اور خوب صورت نقش ابھارتی ہے۔ وہ اپنے قلم کی ایک جنبش سے زندگی کی برسرپیکار طاقتوں کو غنچہ و شبنم سے ہمکنار کر دے گا۔


اس نے سائیکل درست کی اور چلا گیا۔ میری آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ مگر نہیں، وہ گیا کہاں تھا؟ وہ تو یہیں رہ گیا تھا۔ اس کی آواز میرے کانوں میں پیار کے گیت کی طرح پگھل رہی تھی۔ اور اس کا نقش بار بار میری آنکھوں میں ابھر رہا تھا۔ یہ اوتار، یہی تو تھا جس کا میں سمندر کی اکیلی چٹان پر بیٹھی انتظار کر رہی تھی۔ یہی تو تھا وہ.اور آج ستائیس سال بعد آیا ہے۔ احمق کہیں کا۔ یہ نہ سوچا کہ اکیلی انتظار کرتے کرتے تھک جاؤں گی۔ دن ڈھل جائے گا۔ اتنی دیر سے آیا ہے۔ لیکن آتو گیا۔ وہ آ گیا نا، میرا ساتھی۔

بھائی جان نے پوچھا"کوئی آیا تھا کیا"؟ میں نے کہا "ہاں۔۔۔ اوتار"۔ کہنے لگے" لاحول ولاقوۃ! کیا عقل ہے تم لوگوں کی۔ کیوں جانے دیا بھلااسے، اتنا ضروری کام تھا اس سے۔ وہ آتا کب ہے! بڑی مشکل سے تو آیا تھا۔ ٹھیرایا کیوں نہیں؟ لاحول ولا قوۃ۔"

میں نے ہنستے ہوئے کہا "آخر کیا لعل جڑے ہیں اس میں۔ "بھائی جان نے کہا" ارے کیا عقل ہے تم لوگوں کی۔ معلوم ہے کون ہے وہ۔ ارے وہ تو علی جان کا بہنوئی ہے۔ کیا مزے سے پھلی کا پرمٹ مل جاتا۔ آج کل میں کتنا شارٹ ہوں تمھیں معلوم نہیں۔ اسے تو لوگ گھیرتے پھرتے ہیں۔ پروہ آتا نہیں اسے اپنی کتابوں اور خوابوں سے ہی فرصت نہیں۔ اس کی بات جان صاحب بہت سنتے ہیں۔ مگر ہے وہ خر دماغ۔ کتابوں کی دنیا سے ہٹ کر اسے شاید زندگی کی کوئی چیز بھی پسند نہیں۔ اپنی بیوی بھی پسند نہیں۔ جو جان صاحب کی سب سے چھوٹی بہن ہے۔ اور جس کی خاطر سناہے وہ بن بیا ہے بوڑھے ہو گئے۔ ارے،اسے تو اپنے بچے تک پسند نہیں۔ وہ تو بت ہے بت"۔

میرا دل ریت کے گھروندے کی طرح بیٹھ گیا۔ تو یہ بہنوئی ہے کسی کا۔ یعنی کس کی بہن کا میاں۔ کیسی محمل بات تھی یہ۔ کیسی ناممکن اور نامعقول سی۔ بھلا اوتار کہیں گرہستی آدمی ہو سکتا ہے۔ وہ کسی بیوی کا شوہر ہو سکتا ہے۔ وہ تو میرا آدمی ہے، جس کے لیے میں بیٹھی انتظار کرتی رہی تھی۔ خوابوں کی پری کی طرح۔ وہ اور پھلی کا پرمٹ، سچ بعض اوقات بھائی جان کا دماغ ہی چل جاتا ہے۔ جب وہ ایسی باتیں کرتے ہیں تو قطعاً بھائی جان نہیں لگتے۔ اگر مجھے ان سے اتنا پیار نہ ہوتا تو خدا جانے کیا کر بیٹھتی۔

اوتار شاید اس کا یوں ہی نام ہو دوستوں کا خطاب۔ ورنہ اس کا نام یوں میں نے سن رکھا تھا۔ لوگ کہتے تھے وہ کھوسٹ علی جان، وہی جو سامنت پربت کے سب سے اونچے، سب سے خوب صورت مکان میں رہ کر فقیری،تصوف اور عرفان کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ لیکن ہے پکا دلال۔ ایوانوں اور کوٹھیوں میں صدر سے نہیں چور دروازے سے داخل ہوتا ہے۔ رات کی تاریکیوں میں سیاسی قتل ناموں پر دستخط کرتا ہے۔ اور دن کے اجیالے میں قیادت کی سب سے اونچی کرسی پر بیٹھ کر راست اقدام کی دھمکیاں دیتا ہے۔ جناح کیپ سے گاندھی ٹوپی تک اس نے کئی بہروپ بھرے ہیں۔ اور لوگ کہتے ہیں کہ اس نے ابھی سے سرخ ٹائیاں اکٹھی کرنی شروع کر دی ہیں۔ یہ شاطر یہ بہروپیا دنیا میں صرف ایک ہی آدمی کی بات سنتا ہے۔ اور وہ ہے اس کی چھوٹی بہن کا میاں۔ لیکن جان کی چھوٹی بہن کے میاں کی تصویر میری آنکھوں میں کچھ اور ہی تھی۔ ایسی ہی جیسے اور لوگوں کی جوقومی جلسوں اور اصلاحی کاموں کے اسٹیج پر کردار کی حیثیت سے آتے ہیں، کٹھ پتلیوں کی طرح ناچتے ہیں اور غائب ہو جاتے ہیں۔ ارے یہ اوتار تو اس چھوٹی بہن کا میاں نہیں ہو سکتا۔ یہ تو صرف اوتار ہے جس نے سمندر کے جھاگ،چاند کی کرنوں، برساتی ندی کے راگ اور طوفان کی گھن گرج کے سنجوگ سے جنم لیا ہے۔


اور پھر اوتار گھر آتا رہا۔ مگر اب اس دن کی طرح بدلیوں کے ساتھ نہیں ابھرا۔ ہواؤں کے ساتھ کھڑکی میں داخل نہیں ہوا۔ بلکہ بھائی میاں کے ساتھ آیا۔ جیسے آیا نہیں لایا گیا ہو۔ بار بار وہ اپنے گھومے ہوئے بالوں کو سجا کر پریشان کرتا رہا اور کہتا رہا۔ اماں یار ابھی مجھے گنج میں ایک لکچر سننے جانا ہے۔ کسی سے میرا ملنا ضروری ہے۔ ہاں پھر آؤں گا۔

بھائی میاں نے لالچ دیا"اوتار" اتنی مزے دار چائے پلاؤں گا تجھے۔ اب بیٹھ بھی جا۔ اور مجھ سے آ کر کہنے لگے۔ دیکھو منی اسے چائے اچھی پلانا اور باتوں میں لگائے رکھنا، اب تم جو جو پڑھتی رہتی ہونا، وہ خبطی بھی ایسے ہی پڑھا کرتا ہے۔ کھانے پینے کے ساتھ پڑھنا لکھنا بھی اس کی بھوک پیاس ہے۔ بس تم باتیں کئے جاؤ۔ اپنی بھابی سے چائے کو کہہ دینا۔ وہ بھلا کیا کتابوں اور نظریوں کی باتیں کریں گی۔ میں ابھی آیا۔ ذرا درخواست کا مسودہ تیار کر لوں۔

اور وہ آتا رہا۔ بار بار آتا رہا۔ اس کی سائیکل پھاٹک سے باہر سٹرک پر کرر کرر کرتی آ کر رکتی۔ اور مجھے معلوم ہو جاتا کہ اوتار آ رہا ہے۔ اسے چائے پینے اور باتیں کرنے کا بہت شوق ہے۔ لوگ کہتے ہیں، بھئی اوتار کو نہیں دیکھا تم نے۔ کوئی بات نہیں۔ جہاں کہیں بھی کوئی شخص مسلسل چائے پیتا اور باتیں کرتا نظر آئے تو سمجھ لو وہ اوتار ہی ہے۔ چائے ایسے پیتا ہے جیسے کوئی کارنر ہاوس میں بیٹھا برسات کی شام کو مدیرا سپ کر رہا ہو۔ اور باتیں ایسی کرتا ہے کہ ہر لمحہ ایک نئی دنیا کا طلسم بلبلہ کی طرح ابھرتا ہے اور غائب ہو جاتا ہے۔ جی چاہتا ہے کانوں میں یوں ہی رس گھلتا رہے۔ چائے کے گھونٹ یوں ہی دل میں آگ لگاتے رہیں۔ اس سے باتیں کئے جاو، موضوع کی تلاش تو ہوتی نہیں، دنیا بھر کی باتیں ہنسی مذاق کی باتیں، اجنتا کے خواب سے لے کر تاج کی حقیقت تک کی باتیں۔ مہاتما بدھ کی خود فراموشی سے لے کر مارکس کی خود آگہی تک کی باتیں، ماڈرن ریویو سے لے کر فار اے لاسٹنگ پیس تک کی باتیں۔ شہر لب و رخسار سے لے کر صحن رسن و دار تک کی باتیں۔ کبھی نہ ختم ہونے والی،دلچسپ، انوکھی،نئی، دل موہ لینے والی باتیں۔

اور انھیں سن سن کر، محسوس کر کے، اپنے آپ میں جذب کر کے مجھے یوں لگا جیسے اس سے بہت دنوں کی جان پہچان ہے۔ یہ تو کوئی غیر آدمی ہے ہی نہیں۔ اپنا ہی اپنا ہے جس کے ساتھ رہتے رہتے مجھے جگ جگ بیت گئے ہیں۔ اور یہ بات کس قدر جھوٹ ہے کہ وہ علی جان کا بہنوئی ہے۔ اس کی بیوی ہے،بچے ہیں۔ ارے وہ تو میرا آدمی ہے، صرف میرا۔ اور ابھی میرے بچے کہاں ہوئے۔ وہ تو ابھی امکان کے اندھیرے میں ہیں۔ اور اس کی بیوی، وہ اڑھائی من کی موٹی بھینس جو اپنی ناک میں ہیرے کی کیل پہنتی ہے۔ اور ہر سال مسزواسوکے بڑھیا میڑنٹی ہوم کی آبا دی میں ایک عدد کا اضافہ کرتی ہے۔ وہ بھلا اوتار کی بیوی کیسے ہو سکتی ہے۔ میں تو دبلی پتلی گڑیا جیسی ہوں۔ میرے بالوں کے گھونگر میں اماوس کی رات کی سیاہی ہے۔ اور میرے رنگ میں کسی نے بنارس کی صبح، کشمیر کی کیسر اور شفق کی لالی کو گھول دیا ہے۔ میں ہی تو اوتار کی جنم جنم کی ساتھی ہوں۔ وہ اس دن جب ہم شاد نگر پکنک گئے تھے تو ایک بنجارے نے کس مزے سے اوتار کو کہا تھا"راجہ تم جگ جگ جیو" ایسی جوڑی تو کہاں نجر آوے ہے" اور لوگ کس قدر جھوٹ کہتے ہیں "وہی علی جان کی بہن عائشہ کا میاں ہے۔ ہنہہ

گھر کے سب لوگ کیا، ملنے جلنے والے تک کہتے تھے کہ میں اپنی بات پر اٹل ہوں، میں ضدی ہوں میں اکل کھری ہوں لیکن اوتار نے تو یہ محسوس کیا ہی نہیں "اور محسوس بھی کیسے کرتا۔، بات اس کے سامنے بھلا کیسے اٹل ہو سکتی ہے۔ وہ خود اٹل رہتا ہے اور میری بات ٹل جاتی ہے۔ وہ بڑی شان سے اپنے بالوں کے گھونگر کو سنوار کر پریشان کرتا ہوا حکم لگاتا ہے کہ یوں ہو گا اور یوں ہونا چاہئے اور میری سوچی ہوئی ساری بات بھول جاتی ہے۔ میں کہتی ہوں آج پکچر نہیں جاؤں گی، اور وہ کہتا ہے،دیکھو بھئی وہاں تم ہنسنا نہیں، میں ذرا گانوں میں آواز ملانے کا عادی ہوں اور میں ساتھ چلی جاتی ہوں، اور اکھل کھری میں اب کہاں رہی۔ میں ہی تو سوچ سوچ کر دعوتوں کے بہانے نکالتی ہوں کہ وہ آئے اور رونق محفل بنے۔ بات کر کے ہنسے اور میں اس کی تائید کروں۔


کتنی مشکل سے میں نے اپنے آپ کو ایک خول میں محفوظ کر لیا تھا،جس کے اندر تنہائی تھی اور باہر کی دنیا سے میں کتنی بے نیاز رہتی تھی۔ میں صرف اپنی ذات سے محبت کرتی تھی۔ میری ہر بات انوکھی تھی۔ میں بات بہت کم کرتی تھی۔ اس لیے تو لوگ مجھے عجیب سمجھتے تھے۔ اور میں نے سوچا تھا کہ اس خول میں کہیں بھی کوئی دراڑ نہیں پڑے گی۔ اور میں اس کے اندر بیک وقت تنہا اور انجمن بنی رہوں گی کہ ایک دن اوتار نے کہا.

"بھئی نورانی! بعض لوگ کتنے عجیب ہوتے ہیں۔ ناریل کی طرح اوپر سے جھوٹ ہی جھوٹ لیکن اندر ناریل، بھئی جس کا خول کتنا سخت، خشک کتنا برا ہوتا ہے لیکن جو اندر سے کتنا شیریں سفید اور ٹھنڈا ہوتا ہے"

بھائی میاں نے کہا"ہاں۔۔۔ جیسے منی" اور وہ میری طرف دیکھ کر مسکرا دیا۔ وہ مسکراہٹ اور وہ نظر جو اس پوری محفل میں سوائے میرے کسی نے بھی محسوس نہیں کی۔ وہ نظر جس کے لیے میں ہمیشہ انتظار کرتی رہی۔ وہ کتنے ہی آدمیوں میں کیوں نہ بیٹھا ہو، کسی موضوع پہ کیوں نہ بول رہا ہو، ہمیشہ وہ نظر تائید کے لیے میری طرف آتی تھی۔ اور شاید ادھر سے بھی جواب جاتا تھا کہ اس کے چہرے پر اطمینان جھلک اٹھتا۔ جیسے کہہ رہا ہو"ہم دو ہیں اور تم میرے ساتھ ہو۔

یہ نظر کبھی کسی نے محسوس ہی نہیں کی۔ یہ برق کی ایک جست کی طرح ہم دونوں کے درمیان گذر جاتی تھی۔ اور اس نظر کے سہارے دن چپ چاپ گذرتے رہے۔ لیکن نہیں، ان میں سہ پہر کے سایوں کی ادا سی رہی نہ تھکن۔ یہ تو اب پھولوں کے مکان بن گئے تھے، چنبیلی کی طرح ہنستے ہنستے چپ چاپ ڈھل جاتے۔ اور پھر نئے پھول کھل جاتے۔ اور وہ برق پاروں کی سی نظر جس میں تعریف ہوتی، پرستش ہوتی، سہارا ہوتا، ہر قسم کی باتیں ہوتیں اور پیار چھپا ہوتا۔

اور اس پیار کے سہارے میرے تصور میں کچھ نقش ابھرتے۔ اور میرا جی ان سب چیزوں کو چاہتا جن سے میں ان ستائیس سالوں میں محروم رہی۔ میرا اپنا گھر میری پھلواری، میرے بچے اور میرا ساتھی،سکون اور مسرت کی زندگی، جب زندگی کی کشمکش میں اکیلا پن نہیں ہوتا اور ہر مصیبت انگیز کرنے کے قابل ہی ہوتی ہے۔ ناقابل نہیں۔ اور میں سوچتی ایک گھر ہو گا، پانچ کمروں کا۔ سارا سفید اور خوبصورت۔ جس کے آس پاس کھلی ہوئی زمین ہو گی جس میں چنبیلی اور رات کی رانی کے پودے میں ہاتھ سے لگاؤں گی۔ اور ان کی خوشبو جب ہوا میں بسی ہوئی آئے گی تو سبز شیڈ کے بڈ روم میں نیند کتنی سہانی ہو گی۔ اور میرا کتاب خانہ جس میں اوتار کی اور میری اور بہت ساری کتابیں ہوں گی۔ اور اس کمرے میں وہ جھولتی ہوئی کرسی اور کھانے کے کمرے میں میرے ہاتھ کی پکی ہوئی ترکاریاں اور شامی کباب، نرسری میں میرے چھوٹے چھوٹے تین بچے اور صحن میں بنا ہوا وہ لوٹس پانڈ، وہ چائے کی میز، گھومنے والی میز، تاکہ اوتار ہر جگہ بیٹھ کر چائے پی سکے اور باتیں کر سکے۔ بہت دنوں سے جو میں نے ایک محبت کا ابلتا چشمہ اپنے سینے میں گھونٹ رکھا ہے، وہ پھوٹ نکلے گا اور اوتار کو جو ٹھنڈک جو سکون، جو گرمی اور اضطراب ملے گا وہ دنیا میں اور کہاں ہے۔ اور ہم دونوں ایک نئی دنیا بنانے کی سوچیں گے۔ ہر مہم اس کے ساتھ، اس کندھے کا سہارا لیے، کتنی آسان لگے گی۔ اور اس کے ساتھ لمبے سنسان، بھیانک اور خطرناک راستہ پر یونہی میں چلتی رہوں، چلتی رہوں، تو کبھی نہ تھکوں گی۔ اس کو نشانہ بنانا بھی آسان ہو گا اور نشانہ بننا بھی۔ اس کے ساتھ زندگی بہت اچھی گذرے گی۔ مجھے اوتار ہی چاہیئے۔ اور میری نس نس میں ایک نشہ جاگ اٹھتا، جیسے خیام کی رباعی جنم لے رہی ہو، اجنتا کا نقش ابھر رہا ہو پال رابسن کے ہونٹوں پر امن کا گیت مچل رہا ہو، اور میرے ہونٹوں کو کسی کے نازک اور پیوست ہو جانے والے ہونٹوں کی ایک دم چاہت ہوتی۔ مگر ایک. مگر ایک سایہ ابھرتا اور میرے تصور کا چاند نہیں، سورج بھی گہنا جاتا۔ اور مجھے بچوں کے تصور میں رہنے والی چڑیل کی طرح عائشہ خانم یاد آ جاتی جو علی جان کی بہن ہے۔ جو سامنت پر بت کے سب سے اونچے اور خوب صورت مکان میں رہتی ہے۔ جس کے بھائی کی دولت نے اوتار کو خریدا تھا۔ جیسے اس کے بھائی نے بہن کے لیے پیکار ڈ کار خرید لی ہو۔ اور وہ اس سے اسی طرح پیار کرتا تھا جیسے اپنے محکمہ کی نظامت کو۔


اور یوں میرے خوابوں کا گھروندا ٹوٹ پھوٹ جاتا۔ میرے سینہ میں ایک عجیب سی دم گھوٹنے والی کیفیت ہوتی۔ تم اب آئے تو کیا آئے۔ کس قدر دیر لگا دی تم نے۔ اب تم اتنے پاس ہو کر بھی دور کیوں ہو؟ آ جاؤ نا۔ میں صدیوں سے تمہارا انتظار کر رہی ہوں، اس شہزادی کی طرح جسے اونچی سنگین دیواروں والے محل میں قید رکھا گیا ہو کہ اس کا شہزادہ آئے اور نکال لے جائے۔ لیکن تم خود قیدی ہو مجھے بھی حیرت ہے کہ تمہارے آنے کی خبر ان دیواروں کو چیر کر مجھ تک کیسے آ پہنچی۔

اور پھر وہ کسی اچھی سی پوسٹ کے لیے ضلع پر چلا گیا۔ کیریئر بنانے کیلئے مصیبت بھی اٹھانی پڑتی ہے۔ مگر مصیبت زیادہ دنوں کی نہیں ہوتی۔ علی جان کا اثر پھر اسے کھینچ لائے گا۔ ان میں اتنی طاقت ہے کہ اوروں کے قلم سے اپنی بات لکھوائیں۔ لیکن اس کی غیر حاضری کے دن کتنے طویل کیسے صبر آزما ہو جاتے۔ اس وقت بس یوں معلوم ہوتا کہ کہانی کی شہزادی سو گئی ہے۔ ایک ویران قلعہ کے اندر۔ اور اس کی جان ایک طوطے میں ہے۔ اور وہ طوطا ایک جن لے گیا ہے. اور جب وہ آ جاتا تو بہاروں کو سمیٹ لاتا۔ پھر ایک دفعہ آیا تو وہ اپنے پاس آنے کی دعوت دے گیا۔ بھائی میاں تو فوراً تیار ہو گئے اور میں بھی۔ بھائی میاں کہہ رہے تھے، اب اگر وہ پرمٹ دے دے تو چاولوں کا پورا ٹھیکا اپنے ہی ہاتھ ہے۔ اور یہ کتنی ہی عجیب بات تھی کہ اوتار کے قدم میں کتنی برکت تھی، وہ کیا آیا خوش بختی کو اپنے ساتھ گھسیٹ لایا۔ بھائی کی بزنس خوب چمک گئی تھی۔ اور اب چاول کا پرمٹ لینا تھا۔ بھابی اور بھائی میاں پرمٹ کا سوچ رہے تھے مگر مجھے تو اوتار کے ہاں جانے کی جلدی تھی۔ وہاں اس کی بھینس ساتھ نہیں تھی۔ وہ بہت بڑے بھائی کی بہن تھی۔ اس لیے وہ اکیلا ہی چلا گیا۔

اور میں نے دیکھا وہ ایسے رہتا ہے جیسے اسکا کوئی نہ ہو۔ اسی وقت میرا دل چاہا کہ اس کے سر کو اپنے سینہ سے لگالوں۔ اس کے بالوں کے گھونگر کو سلجھاؤں، اور اسے ایک پاکیزہ آرام دہ، محبت سے بھر پور اور رفاقت بھری زندگی دوں۔ وہاں وہ کتابوں، گردو غبار، کاغذ کے پرزوں، چائے کی ٹوٹی پیالیوں اور بکھرے ہوئے سگریٹ کے ٹکڑوں کے درمیان بیٹھا تھا جیسے ان سب سے بالکل الگ ہو، مگر پھر بھی وہاں ہو۔ اور جب بھائی میاں نے کہا تھا، کیسے رہتے ہو اوتار؟ تو اس نے ہنستے ہوئے کہا تھا "بس ایسے ہی رہتا ہوں"۔ کیا کروں کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں۔ میں اس معاملہ میں قطعی ایک بڑا سا بچہ ہوں" اور وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ پھر اک دم باتوں کا طوفان سبھی کو بہا لے گیا۔ لیکن میں نے سوچا، جیسے اس کا یہ اشارہ میری طرف ہو۔ اور جیسے اس کی نظروں نے کہا کہ "تم نہیں ہو نا، اس لیے یہ سب کچھ ایسا ہے۔ تم آ جاؤ مگر نہیں۔ ہم دونوں دور دور رہنے کے لیے بنے ہیں۔ میرے اور تمہارے درمیان عائشہ خانم ہے، جس کا بنایا ہوا قلعہ بہت مضبوط ہے۔ اسے نہ میری ہنسی توڑ سکے گی نہ تمہاری کشمکش۔

اور اس دن میں نے اسے اپنی تمام رفاقت سونپ دی تھی، جیسے ہم دونوں میں معاہدہ ہو چکا ہو۔ میں اسے ہر چیز یاد دلاتی۔ اس کی زندگی کی اس بڑی کمی کو باوجود دور رہنے کے پورا کرتی۔ اسے میں نے یقین دلایا تھا کہ تم اکیلے نہیں ہو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔

لیکن بعض اوقات مجھے یہ سب کچھ جھوٹ لگتا۔ میرا دل آگے بڑھنے کو چاہتا اور مجبوری پر بے پناہ غصّہ آتا اور ان آنکھوں میں آنسو آ جاتے جو غم نا آشنا تھیں۔

ایک دن مجھے یوں لگا جیسے اوتار گھر ہی میں ہو۔ اس کے آنے کی مجھے کوئی خبر نہ تھی۔ مگر اس کے باوجود میں محسوس کر رہی تھی۔ بے اختیار میرے قدم بھائی میاں کی لائبریری کی طرف اٹھ گئے۔ وہاں اکثر وہ بیٹھا کرتا، چائے پیتا اور اخبار پڑھتا، تصویریں دیکھتا، میرے کمرے میں پہنچنے سے پہلے ہی ذرا سا پردہ ہوا سے ہلا۔ میں نے دیکھا کہ اوتار میز پر بیٹھا ہے۔ بھابی اس کے قریب ہی کھڑی ہے۔ اور وہ اس کی خواب آلود آنکھیں اور وہ اس کے کٹے ہوئے نازک نقش جھکے ہوئے ہیں۔ اور میری زندگی کا سورج اچانک بدلیوں میں چھپ گیا۔ میں یوں ٹھٹک گئی جیسے پالا مار گیا ہو۔ اور میرے دل سے دھواں سا اٹھا۔ جیسے اب سب کچھ ختم ہو چکا ہو. قریب ہی کسی کی آہٹ ہوئی۔ بھائی میاں کی آواز آئی۔ پلٹ کر جانامناسب نہ تھا۔ میں نے کمرہ میں قدم رکھا۔ اوتار کہہ رہا تھا، یہ پرمٹ نورانی کو دے دینا۔ ارے یہ رہے نورانی۔ بھئی منی وہ نئی آئی ہوئی کتاب وہی ہاورڈ فاسٹ والی. میں نے کچھ نہیں سنا۔ ادھر سے وہ نظر آئی۔ وہ برق پارے کی سی نظر۔ لیکن میں اسے کھلی آنکھوں سے لوٹا نہ سکی۔

خوابوں کی مالا ٹوٹ گئی۔ اور سب موتی ایک ایک کر کے بکھر گئے۔ کھو گئے۔


زنجیریں

ابتدائی مارچ کی گرم رات میں خنکی آ چکی تھی۔ فضاء میں سناٹا تھا۔ بستی سوئی ہوئی تھی، نیلے شفاف آسمان پر آدھا چاند اپنی خواب ناک روشنی پھیلا رہا تھا۔ کھڑکی کے باہر بانس کے جھنڈ کے پار تلک نگاہ جاتی تو اسے اپنے اکیلے پن اور تھکن کا احساس شدت سے ہونے لگتا۔ وہ تھکا ماندہ اور دلگیر تھا، جیسے کوئی بڑی دور دراز کی راہ طئے کر کے آئے اور منزل پر پہنچ کر معلوم ہو کہ یہ وہ منزل ہی نہیں جس کی تلاش تھی۔ سر بوجھل اور آنکھیں بھاری تھیں۔ بہت دیر کے امس کے بعد اب ہوا چلنے لگی تھی۔ کبھی کبھی رخ ادھر ہوتا تو ہوا کے جھونکے رات کی رانی کی تیز خوشبو سمیٹ لاتے اور مستی سی چھانے لگتی۔ اور رخ بدل جاتا تو کہیں دور سے چنبیلی کی کلیوں کی ہلکی ٹھنڈی خوشبو راحت پہنچا جاتی۔ مگر یہ راحت کا لمحہ عارضی ہوتا۔ اسے نیند ہی آ جاتی۔ نیند، سکون، چین سبھی جیسے اس کی زندگی سے بھاگ گئے ہوں۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ کچھ دیر کو غافل ہو کر سوجائے. سب کچھ بھول کر۔ تھوڑا سا قرار، ذرا سا سکون، مگر نیند کہاں۔ لمحہ بہ لمحہ سر بوجھل ہوتا جاتا تھا۔ اس کا بند بند ٹوٹ رہا تھا۔ ایک عجیب ویرانی کا احساس تھا۔ بے زاری، سخت بے زاری…… اور وہ تھک کر پلنگ پر گر پڑا۔ اسپرنگ لچکے اور خاموش ہو گئے۔ گدے کی نرمی سے اسے گرمی محسوس ہوئی۔ کمرہ میں خاموشی ہی خاموشی تھی۔ گھڑیاں کی مسلسل ٹک ٹک یا پتوں کی سرسراہٹ۔ پاس کے پلنگ پر اس کی بیوی اسکی ذہنی الجھنوں اور پریشانیوں سے بے خبر مست نیند سورہی تھی۔ اس کی سانسوں کا زیر و بم، اس کے جسم کی آسودہ غفلت کہتی تھی کہ وہ مطمئن نیند سورہی ہے، جیسے زندگی میں سب کچھ ٹھیک ٹھیک ہو۔ لیکن اس کے اپنے وجود میں دہکنے والی آگ کسی طرح بجھنے نہ پائی تھی۔ یونہی کروٹیں بدلتے بدلتے راتیں گذر جاتیں اور نیا بوجھل تھکا دینے والا دن شروع ہوتا۔ پھر وہی بے خواب راتیں پھر وہی نامراد دن۔ یکسانیت، بے معنی یکسانیت، دم گھونٹنے والا جمود، مٹا دینے والی بے حسی انھیں سے تنگ آ کر اس نے پینا شروع کیا تھا۔ ایک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے۔ مگر نہیں اب اس میں بھی خود فراموشی کا عالم نہیں ہوتا۔ اس کی اپنی آگ اس آتشیں سیال سے کہیں زیادہ دہکی ہوئی تھی۔

اس نے پھر اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔ خوبصورت نہ سہی، کچھ بری بھی نہ تھی۔ بے چاری کرتی بھی کیا، ناخن کے کیوٹکس اور بالوں کی لہروں کے علاوہ اسے سچ مچ کی باتیں بہت کم ہی معلوم تھیں۔ کچھ مغرور بھی تھی۔ یہ گھمنڈ بھی وہ جہیز میں لائی تھی۔ جسکے پاس گھمنڈ کرنے کے لیے کچھ اور نہ ہو تو وہ اپنی ساریوں، اپنے گھر اور باپ کے نام پر گھمنڈ نہ کرے تو کیا کرے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اتنے دنوں ساتھ رہتے رہتے گذر گئے تھے مگر آج تک کسی قسم کا انس اس نے محسوس ہی نہیں کیا تھا۔ دن جوں جوں گذرتے گئے تھے اس کے وجود سے نفرت ہی ہوتی جاتی۔ گھٹن سی محسوس ہوتی۔ یہ جذبہ اس وقت جنون اختیار کر جاتا جب اسے اپنے مجبور کر دیئے جانے کا خیال آتا۔ اس کا وجود اس پر مسلط ہی تو کیا گیا تھا۔ اور مجبوری سمجھ کر اسے انگیز کر لینا پڑا۔ آج تک بھی وہ انگیز کرتا جاتا تھا، جیسے کوئی اپنے دُکھتے دانت کو برداشت کرے مگر کب تک؟

اختر جانتی ہی نہ تھی کہ وہ کون ہے، کیا سوچتا ہے۔ وہ اس سے مطمئن تھی کہ اس کے اچھے بابا نے اس کے لیے ایک اچھا سامیاں ڈھونڈ لیا ہے۔ جس کا نام ہی سن کر ہر ایک چونک اٹھتا ہے۔ اوروں کی طرح وہ کبھی بگڑتا جھگڑ تا نہیں اور مہینے مہینے اپنی ساری تنخواہ لا کر اس کے ہاتھ پر رکھ دیتا ہے۔ کبھی کبھی اسے برا ضرور معلوم ہوتا کہ آخر کیوں نہیں وہ بھی دوسروں کی طرح اسمارٹ رہتا۔ اس کے ساتھ پکچر چلتا اور فیشن ایبل کلب کا ممبر بن جاتا مگر پھر اسے یہ سوچ کر شاید اطمینان ہو جاتا کہ فیشن سرکل میں جانے سے تو وہ نہیں روکتا۔

مگر وہ خود اپنی زندگی سے مطمئن نہ تھا۔ اسے اپنی زندگی کے فضول اور بے معنی ہونے کا احساس اب زیادہ ہونے لگا تھا۔ سارے خواب کس بری طرح ٹوٹ گئے تھے جیسے اب اس میں کچھ سوچنے اور کرنے کی سکت ہی نہ رہی ہو۔ وہ اپنے آپ ہی سے اجنبی بنتا جا رہا تھا۔ اسے اپنے آپ سے شرم آنے لگی تھی۔ ہر رات نیند کا انتظار کرتے کرتے یہ کربناک لمحے اسے اپنی یا د دلا دیتے۔ وہ کیا تھا اور کیا بن گیا۔ اسے کیا بن جانا پڑا۔


کبھی کبھی اسے دھوکا ہونے لگتا کہ یہ سب جھوٹ ہے۔ نہ اس کی بیوی ہے نہ بچے ہیں۔ نہ ہی اس کی شخصیت اور ذہانت قائم جنگ کے ہاتھ بک چکی ہے۔ وہ تو وہی پرانا صنم ہے بہتوں کا پیارا صنم۔ وہ آزاد ہے۔ زندگی میں بے زاری کہاں، راحت ہی راحت اور خلوص ہی خلوص۔ زندگی اسے پیار کرتی ہے اور وہ اسے پیا کرتا ہے۔ دماغ آزادی سے سوچتا ہے۔ قلم اور زبان اس کے اپنے بس میں ہیں۔ وہ تقریریں جو بڑے بڑے مجمعوں پرسحر کر دیتی تھیں، سننے والوں کے دلوں میں آگ سی لگ جاتی تھی۔ اچھے اچھے اہل فکر چپ اور مسحور ہو جاتے تھے۔ اس کا قلم وہ جادو کرنے والا قلم جو لکھتا تو اوروں کا دل بن کر لکھتا۔ وہ تو وہی صنم ہے، مخلص اور کھرا صنم، جو بھر پور زندگی کا پیغام بر ہے۔ کیا زندگی تھی ان دنوں۔ صبح سے شام تک مصروف رہا کرتا۔ کالج، ہوسٹل، کافی ہاوس اور آرٹ کارنر۔ کتابیں اخبار، مسائل اور ان کے حل کی تلاش۔ ان دنوں دنیا بڑی وسیع معلوم ہوتی تھی،دل ودماغ کے لیے فکر ونظر کے سب دروازے کھلے تھے۔ یہ آب وگل کی دنیا بڑی حسین تھی۔ وہ اس کے حسن کو پیار کرتا تھا۔ انسان کو پیار کرتا تھا۔ اس کے اندر شعور کی حرارت تھی اور و ہ کام کرتا تھا۔

کالج ہی میں اس کے ساتھی اسے صنم کہتے تھے اور بڑے پیار سے اسکا نام لیتے تھے۔ ساتھی ہی کیا سبھی صنم کہتے۔ اس نام میں پیار سمٹ آتا تھا۔ اتنے لمبے چوڑے پٹھان نام کے ساتھ اس کا نازک دبلا پتلا جسم، اور تیکھے موہ لینے والے خط و خال سبھی کو عجیب و غریب لگتے۔ اس کی طبیعت کی تیزی، غصہ اور غصہ کے بعد زود پشیمانی،وہ گھٹاؤں کی طرح امنڈنے اور برس کر کھل جانے کی عادت، وہ ضد وہ خود پرستی جو جچتی بھی تھی۔ ایک دن یونہی الجھ بیٹھا تھا تو کسی نے چپکے سے کہہ دیا بت کا فر اور دوسرے نے کہا صنم، یہی نام چل پڑا۔

صنم کالج میں تھا تو اپنی محفلوں کی جان تھا۔ فاضل جیسے بد مزاج اور مغرور استاد کو بھی کہنا پڑا کہ بھئی صنم نہ ہو تو پڑھانے میں لطف نہیں آتا۔ اور اسے پڑھاتے وقت ہر ایک یہی سوچتا کہ نہ جانے وہ کیا پوچھ بیٹھے اور میں کیا جواب دوں۔ استادوں کو بھی اپنا مقام بچا لینے کی خاطر باقاعدہ طالب علمی کرنی پڑتی ہے۔ وہ دن بہت اچھے تھے ان میں جیت ہی جیت تھی۔ یوں ہار جانے کا احساس نہ تھا۔ ہر لمحہ اس کے ہاتھ میں موم کی طرح پگھل جاتا تھا اور وہ اپنی پسند سے زندگی کو ڈھالتا جاتا۔

صنم چھ بہنوں کے بعد پیدا ہونے والا بھائی تھا۔ ساتویں مہینہ میں ہی وہ دنیا میں آ گیا۔ اور اس کی ماں نے اس مسرت میں اپنی جان کی بھینٹ دی۔ اس کے باپ نے ماں بن کر اسے پالا تھا۔ اکلوتے بیٹے کا جنم انھیں بہت مہنگا پڑا تھا۔ وہ اسے آنکھوں میں رکھتے تھے۔ کسی مالی کی سی دلسوزی کے ساتھ وہ اس کو مل پودے کو پالتے تھے۔ دھوپ اور پالے سے بچا کر نظر بھر کر دیکھتے ہوئے بھی وہ ڈرتے تھے۔ اچھے دن تو اچھے ہی تھے مگر جب برے دن آئے تب بھی انھوں نے صنم کو پریشان ہونے نہیں دیا۔ سینکڑوں مصیبتیں اٹھا کر انھوں نے اسے راحت پہنچائی اسے آگے بڑھنے دیا آہستہ آہستہ وہ اپنے ارمانوں کا پودا سینچ رہے تھے۔ انھیں معلوم تھا کہ رت آئے گی اور انھیں پھل مل جائے گا۔ اور ادھر صنم مستقبل کے اندیشوں سے بے خبر ساری دنیا کا بوجھ اٹھانے کو یوں تیار ہو رہا تھا جیسے گھر میں سب کچھ ٹھیک ہو۔ کالج میں طالب علموں کی تمام سرگرمیوں کی جان وہی تھا۔ اس کی ذہانت کا لوہا اپنے تو اپنے غیر بھی مانتے تھے اور کالج ہی کی کیا بات تھی۔ وہ تو ہر محفل کی رونق تھا۔ وہ نہ ہوتا تو لوگ اس کی باتیں کرتے اور جب وہ ہوتا تو اس سے باتیں کرتے۔ اس سے مل کر اس سے باتیں کر کے سبھی خوش ہوتے اور کبھی جو کوئی کھوٹا آدمی اس سے ملتا تو بہت دیر تک وہ اپنا کھوٹ نہ چھپا سکتا۔ ایسے آدمی اس سے خائف رہتے۔ اس کے سیدھے سادھے نازک جسم کے اندر کے انسان کے کھرے پن کا سبھی کو اعتراف تھا۔


تعلیم ختم کرتے کرتے ہی مختلف بازاروں میں اس کے دام لگنے لگے. اس جنس گراں کے بہت سے خریدار تھے۔ ایسے بھی جو اس کی ذات میں ایک نئے فتنے اور خطرے کو جنم لیتا دیکھ رہے تھے۔ وہ اسے ہر قیمت پر خرید کر اپاہج بنا دینا چاہتے تھے۔ عزیزانِ مصر کے لیے یوسف کا وجود ہی خطرناک ہے۔ وہ اسے لالچ دے رہے تھے۔ جیسے سپیرے زہر کے دانت نکال کر ناگ کو دودھ پلاتے ہیں۔ اور وہ بھی اس کے خریدار تھے جو اس کے ذہانت و شعور کو اپنے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ اکسپلائیٹ کرنے والوں کو مختلف حالات کو سازگار کرنے کے لیے اپنا رول بدلنا پڑتا ہے اور کسی نہ کسی ماسک کی ضرورت ہوتی ہے،مگر قائم جنگ سب سے زیادہ شاطر کھلاڑی تھا۔ اس نے دو سودے کیے اپنی بیٹی کے لیے پانسہ لگا کر اونچی بولی دی اور اپنے لیے خرید لیا۔

صنم ان سب سے بے خبر تھا۔ اسے تو خیال بھی نہ آتا کہ کوئی اسے یوں خرید سکتا ہے۔ وہ بکنے کی جنس ہی نہیں کہ سودا کیا جائے۔ وہ دنیا کو بدلنے کے پروگرام بناتا رہا۔ اسے کوئی لالچ نہ تھا۔ لالچ تو اسے ہوتا ہے جس کی گرہ میں کچھ نہ ہو۔ وہ خوب جانتا تھا کہ اسے کسی کے دیے ہوئے نام اور مقام کی ضرورت نہیں۔ وہ خود اپنی دنیا تعمیر کر سکتا ہے۔ ایک مصور کی سی سپردگی کے ساتھ وہ اپنی زندگی کا خاکہ تصور کے کینوس پر ابھارتا رہا۔ بے فکر اور بے نیاز. مگر حملہ پہلو ہی سے ہوا۔ صنم کے بابا نے اچانک اعلان کر دیا کہ صنم کی شادی ہو گی۔ شادی موت تو نہیں کہ صنم ڈر جائے۔ صنم نے اس خبر کی پذیرائی نہ کی۔ کہہ دیا،نہیں اس لاپرواہی سے جیسے کوئی اس سے کہے صنم سوٹ کا نیا کپڑا لے لو۔ اور وہ کہہ دے نہیں۔

ابھی اسے اتنی فرصت کہاں تھی کہ ان باتوں کو سوچے۔ ا بھی اس کے سامنے اس سے زیادہ اہم باتیں تھیں۔ وہ جو کچھ کرنا چاہتا تھا اس کے لیے پابندیوں سے آزادی ضروری تھی۔ پابندیاں قبول کرنے کی اس میں سکت تھی نہ شوق، ابھی تواس نے روزگار کی بات بھی نہیں سوچی تھی۔ اتنا تو وہ اپنے قلم سے پیدا کر سکتا ہے کہ اپنی اکیلی زندگی سادگی سے گزار سکے۔ وہ پابندیوں سے اس لیے نہیں بھاگ رہا تھا کہ اسے رہبانیت پسند تھی،یا وہ رشی منی بننا چاہتا تھا۔ نہیں وہ انسان تھا، زندگی سے محبت کرتا تھا اور ایک انسان ہی کی نارمل، مکمل اور بھر پور زندگی گزارنا چاہتا تھا۔ ایسی زندگی گزارنی مشکل تھی۔ وہ حیات کا ماحول ساز گار کرنا چاہتا تھا۔ جبھی مسرت مل سکے گی۔ گرہست بن جانے کی بات وہ نہیں سوچتا تھا کہ گرہستی کے معنی پابندیاں تھیں،سمجھوتہ بازی اور احتیاط تھی، اور وہ اپنا ایک لمحہ ایک لفظ یا اپنے جنون کی ایک معمولی سی ادا کو بھی کسی مصلحت کی خاطر قربان نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے کہا نہیں، شادی کے لیے تو عمر پڑی ہے۔ وہ کچھ بڈھا نہیں ہوا جاتا۔ کوئی ہم خیال مل جائے،اس کے جنون اور سر فروشی کا ساتھ دینے کے لیے تو اور بات ہے اور اس کے لیے وہ اندھیرے میں انتخاب کا قائل ہی نہ تھا۔ ابھی تک اس نے کسی سے کوئی لگاؤ بھی محسوس نہیں کیا تھا۔ پھر کیا ضرورت تھی جلد بازی کی۔

مگر اس کے بابا، صنم کے پٹھان بابا، جو عمر کے ان ڈھلتے دنوں میں بھی جان سے کھیلنے کا حوصلہ رکھتے تھے، انھوں نے فیصلہ کن لہجے میں کہا نہیں کیسے نہیں وہ صنم کی زبان سے نہیں سن ہی نہ سکتے تھے۔ اسے نازک پودے کی طرح پروان چڑھانے کے لیے انھیں زمانہ کی کڑی دوپہر سہنی پڑی تھیں۔ جسے انھوں نے کلپ لتا سمجھ کر خون جگر سے سینچا تھا وہ ان کا اکلوتا بیٹا تھا۔ بڑھا پے کی کمزو ری کا اکیلا سہارا۔ وہ اندھے کی لاٹھی کی طرح اسے عزیز رکھتے تھے،وہ کہے نہیں۔ صنم نے جب روزگار کا بہانہ کیا تو جواب ملا وہ تو بچہ ہے۔ ابھی سے فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ وہ بچہ کب رہتا ہے اور بڑا کب،اسے کسی نے سوچنے ہی نہ دیا۔ بات آسانی سے ٹلنے والی نہ تھی۔ بوڑھا باپ اسے رجھانے کے ڈھنگ جانتا تھا۔ جہاں تلوار کا م نہیں کرتی وہاں کبھی کبھی دو میٹھے بول جادو کر جاتے ہیں۔ وہ صنم کی سخت ضد مگر نرم دل سے واقف تھے۔ وہ خوب پہچانتے تھے کہ کب کیا بات اثر کرے گی۔ انھیں اچانک اپنے بڑھاپے کا احساس ہوا۔ اس کے سہرے کے پھول دیکھے بغیر مر جانے کو وہ کسی طرح تیار ہی نہ تھے۔ وہ تو ان کی اندھیری رات کا اکیلا تارا تھا۔ اسے انھوں نے ماں بن کر پالا تھا۔ پھر بھلا کیسے اس کی شادی کا ارمان لے کر قبر میں چلے جاتے۔ صنم پگھلنے لگا۔ ویسے بھی آج ماں ہوتی تو اس کی ضد کو شاید صنم پیار کر کے بھلا دیتا۔ آج بھی اسے ماں کا تصور جنت کی طرح لگتا۔ آرام اور سکون دینے والی آغوش کی طرح جس میں سررکھ کر آنکھیں بند کر لینے کی راحت کو وہ عمر بھر ترستا رہا، اور آج بہت زیادہ ترس رہا تھا۔ ماں ہوتی تو مان بھی جاتی۔ مگر مقابلہ باپ سے تھا۔ باپ بھی ایسا کرارا پٹھان جو بڑھاپے میں بھی سینکڑوں کا سینہ چیر دینے کا بل رکھتا ہو۔ کچھ دنوں کشمکش ہوتی رہی۔ وہ سمجھتا تھا کہ ابھی آغاز ہے۔ یہ کشمکش کافی صبر آزما تھی لیکن پریشانیوں کا بم اس دن پھٹ پڑا جب اسے معلوم ہوا کہ اس کے بابا نے سب کچھ کر لیا۔ اب اسے شادی کرنا ہے اور اس جگہ کرنا ہے جہاں اس سے پوچھے بغیر باپ نے بات طے کر دی ہے۔ اس سے مشورہ کرنے کی انھوں نے ضرورت ہی نہ سمجھی۔ وہ اس کے دشمن تو نہ تھے کہ برا چاہتے۔ وہ تو اسے بہکنے سے پہلے ہی نکیل ڈال دینا چاہتے تھے۔ اور ایسا تو ہوتا ہی ہے۔ اتنا کھرا گھرانا،ایسی ہڈی انھیں اپنے برابر کی کہاں ملتی۔ باپ نے نجابت کو دیکھا بہنوں نے دولت کو۔ اور فریق ثانی نے اس کو. اسے قائم جنگ کی اکلوتی بیٹی سے شادی کرنا تھی، جوان قدروں کا پرستار تھا جن سے صنم ٹکر لے رہا تھا۔ کتنی بڑی حماقت اور کیسا بڑا ظلم۔ گویا صنم نہ ہوا کھوٹا روپیہ ہوا جو ہر دام پر بھنا کر بھی بھنانے والا یوں خوش رہے کہ اچھی قیمت ملی۔ صنم شادی نہ کر سکتا تھا۔ اس کے بابا زبان نہ بدل سکتے تھے۔ یہ سب سے پہلی اور کڑی آزمائش تھی اس کی زندگی کی۔


صنم شاید اپنی بات پر اڑا رہتا۔ لیکن باپ نے بڑھاپے کا واسطہ دیا،خاندان کی عزت کا احساس دلایا۔ بڑی بہن بیوہ ہو چکی تھی۔ اس کو سنبھالنا اور باپ کے بعد سب کی دیکھ بھال کرنا صنم ہی کا تو فرض ہے۔ بڑھا پے میں صنم کی جوانی ہی کا تو انھیں سہارا چاہیے۔ وہ بہت دکھ جھیل چکے تھے اور اب انھیں آرام اور سکون کی ضرورت تھی اور آخر میں جان دے دینے کی دھمکی۔ یہ صرف دھمکی ہی نہ تھی۔ صنم یہ جانتا تھا۔ اس نے ہتھیار ڈال دیے، مچلے ہوئے دل کو منانا مشکل تھا۔ خود کو سمجھا تا رہا کہ چلو اس طرح وہ ماحول کو سدھار سکتا ہے۔ قائم جنگ جیسے کانشس روگ پر قابو ہو جائے تو بہت سے مسائل آسانی سے حل ہو سکتے ہیں۔ بات بغاوت سے چل کر اب سدھار پر آ گئی تھی۔

اور شادی کی شام آ گئی۔ جاڑے کی سانولی شام، جب فضا میں خواب آور نشہ ہوتا ہے۔ شہنائیاں بج اٹھیں۔ سوائے صنم کے گھر میں سبھی خوش تھے۔ کھدر پہن کر سیکل پر گھومنے والا، پبلک جلسوں میں بولنے والا، ادبی محفلوں میں جان ڈالنے والا صنم دولہا بنے گا۔ اس آنے والے دور سے اس کا ماحول کس قدر مختلف تھا۔ اس کا انداز،کیا وہ اس سے بے نیاز رہا تھا۔ سمندر کی طوفانی ہواؤں کی طرح بے خبر، مست اور آزاد فطرت اب جکڑ دی جانے والی تھی۔ دنوں وہ بال نہیں کٹوایا کرتا، ٹوپی خدا جانے کب خریدی تھی۔ پتلون کی کریز کا اسے خیال ہی نہ رہتا۔ جھولا ڈالے، چپل پہنے مزے میں گھومتا رہتا۔ لیکن اپنی روشن اور گہری آنکھوں کو سنجیدہ بنا کر بات کرنے لگتا تو بہت ہی بانکا دکھائی دیتا۔ مگر بھیا اب یہ کچھ نہیں چلے گا۔ شراب کو سانچے میں ڈھلنا ہی ہو گا۔ دوستوں اور ساتھیوں نے افسوس اور حسرت کے ملے جلے جذبات سے اسے دیکھا جیسے وہ کھویا جا رہا ہو۔ ایک اچھے ساتھی اور مخلص دوست کے کھو جانے کا یقین سا ہو گیا تھا۔ مگر صنم یہ سوچ ہی نہ سکتا تھا کہ اس میں کوئی تبدیلی آسکتی ہے۔ وہ اپنے دل کی اداسی چھپانے کے لیے دن بھر بغیر چین لیے گھومتا رہا۔ سہ پہر میں ایک میٹنگ اٹنڈ کی اور ادھر ادھر کاموں کا سلسلے میں پھرتا رہا۔ شام کے قریب اس کے دوست اسے پکڑ لائے۔ کہیں ایسا نہ ہو سنک میں ادھر اُدھر نکل جائے اور محفل بیٹھی انتظار کرتی رہے۔ زبردستی ساتھیوں نے ہی اسے پکڑ کر سنوارا۔ کمخواب کی شیروانی،سنہری دستار، کمر میں مرصع دستہ کی خاندانی تلوار، بہن سے سہرا بند ھوا کر جب وہ محفل میں آیا تو سب کی نظر یں اس پر جم کر رہ گئیں جیسے کسی اور طرف دیکھنا بھول گئی ہوں۔ تانبے کا بت جس کو کسی ماہر بت تراش نے ڈھالا تھا۔ اس کی پھبن کی بلائیں لے کر بھی آنکھیں تشنہ ہی رہتیں۔ معلوم ہوتا تھا اسے بنانے والے نے بڑی توجہ اور فرصت سے بنایا ہے۔ جیسے کانگڑ کی کسی پرسکون وا دی میں کسی بہار کی صبح اخروٹ کی لکڑی پر کشمیری کاریگر نقش ابھارے۔ وہ نقش ہی بنا ہوا تھا۔ ستا ہوا اداس چہرہ، مجروح نگاہیں، چپ چاپ،دل روٹھا روٹھا۔ قائم جنگ تو ایسے خوش تھے، گویا انھوں نے کوئی اقلیم جیتی ہو۔ سچ مچ انھوں نے صنم کو جیتا تھا۔

شادی کے بعداوس سی پڑ گئی۔ سرگر میاں یوں اس نے جاری رکھنے کی کوشش کی لیکن پھیکا پن آ گیا۔ گرہستی کا جال آہستہ آہستہ اسے جکڑتا ہی گیا۔ جیسے پر سکون گہرے تالاب میں آدمی کو سنگھاڑے کی لچکیلی بیلیں جکڑ لیتی ہیں۔ شادی اسے خوش تو کیا کرتی اسے معمولی آسودگی بھی نہ دے سکی۔ اس کے دہکتے ہوئے دل کا انگارہ برف کی طرح منجمد ہو گیا تھا۔ مگر یہ ٹھنڈی آگ جوانی کی ساری امنگوں، فکر و عمل کی ساری قوتوں کو بھسم اور یخ بستہ کرنے والی تھی،جیسے رگوں میں دوڑتا ہوا خون جم گیا ہو۔ گھر میں اپنا پن تو اس کے لیے تھا ہی نہیں۔ مگر ذمہ داریوں کا احساس ہوتا جا رہا تھا۔ عمل کی بے باکی مفقود ہو رہی تھی۔ ارمانوں کی کلیاں چپکے چپکے مرجھاتی جاتی تھیں۔ جیسے بہار رفتہ رفتہ چلی جاتی ہے اور اچانک ایک صبح خزاں کی ویرانی کا احساس ہونے لگتا ہے اسی طرح صنم کی زندگی سے حرارت اور شگفتگی جا رہی تھی۔

قدم اب بھی آگے ہی بڑھتا تھا مگر اس میں ہچکچا ہٹ آ گئی تھی۔ ہر کام کرنے سے پہلے وہ سوچنے لگا تھا محتاط ہو گیا تھا۔ اس احتیاط کے باوجود کبھی بہک جاتا تو قائم جنگ سنبھال لیتے۔ کبھی نرمی سے اور کبھی گرمی سے۔ ہر کام کر کے اسے جواب ضرور دینا پڑتا۔ کیوں اور کیسے۔ وہ اسے ایک لکچر پلاتے اور وہ کونین کی تلخ خوراک کی طرح چپکے سے پی جاتا۔ پہلے پہلے تو اسے اس محاسبہ کی عادت نہ تھی۔ لیکن اب رفتہ رفتہ لگام کی عادت پڑتی جا رہی تھی۔ کبھی بد لگامی کر بیٹھتا تو نصیحت کا چابک اسے ہموار راستہ پر ڈال دیتا۔ اوروں نے نہیں سب سے پہلے اس نے محسوس کیا کہ زندگی سے خلوص کا عنصر گھٹتا جا رہا ہے۔ دکھاوا بڑھ رہا ہے۔ پہلے کچھ کرتا تو یہی سوچتا کہ میں کیا کر رہا ہوں لیکن اب سوچتا کہ اور کیا سمجھتے ہیں۔ صداقت کے عزم اور استقلال کی سوچتامگر اب میں کھوکھلا پن آ گیا تھا. اور اس کھوکھلے پن کو چھپانے کے وہ ہزاروں جتن کرتا۔ جڑاؤ زیور کی طرح نگینوں کی چمک اور کاریگری کا حسن تو اس میں آ گیا تھا،مگر خالص سونے کا کھرا پن باقی نہ رہا تھا۔ یہ اس تضاد کا نتیجہ تھا جواس پرچھا گیا تھا۔ وہ اپنی پچھلی زندگی سے رشتہ توڑنا نہ چاہتا تھا۔ لیکن نئی زندگی سے منہ موڑنے یا اس سے چھڑانے کی اس میں سکت نہ تھی۔ وہ دو دنیاؤں کے درمیان کھڑا تھا۔ ایک طرف دشواریاں تھیں اور ایک طرف لالچ ہی لالچ۔ ادھر قائم جنگ جیسا منجھا ہوا شاطر بھی تھا۔ اس نے آہستہ آہستہ مختلف عنوانوں سے ماحول کو ایسا ساز گار کیا کہ صنم ڈھلک گیا۔ اب وہ اس کے ہاتھوں میں شطرنج کے مہرہ کی طرح تھا۔ جب جی چاہے چال چل سکتا۔ پھر بھی کوئی احساس رہ رہ کر اس کے دل میں ڈنک لگاتا۔ کبھی کبھی اسے اپنے سوچے ہوئے مقاصد یا د آتے۔ پرانے ساتھی یاد آتے، ان کی ان تھک کام کرنے کی باتیں یاد آتیں۔ اس کا دل زخمی فاختہ کی طرح پھڑپھڑانے لگتا۔ گھائل روح بے قرار ہو اٹھتی۔ اور شہر کے بڑے کلب کی رونق ماند پڑجاتی۔ شور اور قہقہے ڈوب جاتے اور اس کے اس سامنے رکھا ہوا جام مئے جام زہر معلوم ہوتا۔ کبھی کبھی پرانے ساتھیوں میں سے کسی سے سامنا ہو جاتا تو اس کی آنکھ جھینپ جاتی۔

قائم جنگ سمجھوتہ باز تھا۔ وہ ڈبل ڈیلنگ کاغذی تھا۔ نئی نسل سے بھی رشتہ جوڑنا چاہتا تھا اور اپنے مفاد کو بھی ہاتھ سے دینا گوارا نہ تھا۔ نئی نسل میں مقبول ہونا بھی فخر کی بات ہے۔ روشن خیالی کا پروپگنڈہ بھی ہو جاتا ہے اور اپنے آرام میں بھی فرق نہیں آتا۔ یہ بھی خوش اور وہ بھی راضی۔ اس لیے اس نے صنم کے جسم ہی کی نہیں ذہانت کی بھی قیمت لگائی تھی۔ ذرا سالہو لگا کر شہید بن جائیں تو شہادت کی ضرورت ہی کیا۔ اور ڈھنگ سے چال چلو تو جیت ہوتی ہے،لیکن ہارو تو ہار بھی نمایاں نہیں ہوتی۔


بہت دنوں تک صنم کی آنکھوں پر دھند چھائی رہی۔ سیر وسفر"آرام دہ زندگی،شہرت، ہر دل عزیزی،سردیوں میں آتش سیال اور گرمیوں میں کوڈی کنال اور اوٹی۔ اس کے بعد سوچنے کے لیے آخر کیا رہ جاتا۔ بات یہ نہیں کہ صنم نے دنیا میں اور سماج میں جو خامیاں دیکھی تھیں اور جن کو دور کرنے کے لیے بے چین ہو اٹھتا تھا وہ دور ہو گئی تھیں۔ مگر صنم اب جہاں رہتا تھا وہاں ان کی خبر ہی نہ ہوتی تھی۔ اب سوچتا بھی تھا تو تماشائی بن کر، سکون و اطمینان سے اُکتا کر، جیسے کوئی ٹریجک پکچر دیکھے یا فانی کا کوئی شعر گنگنائے۔ لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ کسی موضوع پر بات کرتے کرتے وہ چپ ہو جاتا۔ اور اسے اپنی ہر بات غلط معلوم ہونے لگتی۔ خواب کاطلسم ٹوٹنے لگتا اور پھر وہ نئے سرے سے گھبرا کر اپنے کو دھوکا دینے کی کوشش کرنے لگتا۔ اس کوشش میں وہ خود کیا تھا کیا کرتا ہے اور کیا سوچنا چاہیے سبھی باتیں گڈ مڈ ہو جاتیں۔ تصویر کے سارے رنگ خلط ملط ہو جاتے اور نقش ماند پڑ جاتے۔۔۔۔ وہ اپنا نہیں بن سکاتو کسی کا بھی نہ بن سکا۔ اس کے بابا کو شکایت تھی کہ وہ ان کی خبر گیری نہیں کرتا، بہنوں کو گلہ تھا کہ وہ دنوں صورت نہیں دکھا تا اور کبھی آتا بھی ہے تو غیروں کی طرح الگ الگ رہتا ہے اور جلدی بھاگ جاتا ہے۔ مگر خود صنم بے چارہ کیا کرتا۔ اس کے پرانے اور نئے ماحول میں توازن کہیں تھا ہی نہیں۔ ان میں کوئی مماثلت تھی ہی نہیں۔ وہ اب ان شاندار بلندیوں پر جا پہنچا تھا کہ بستیوں کی طرف نظر کرتے اسے شرم آتی. مگر یہ کھوکھلا پن اسے بے چین رکھتا۔ اس کی حالت اس بچے کی طرح تھی جوکسی میلہ میں کھو گیا ہو۔ میلہ کی دلچسپیوں نے اسے تھوڑی دیر کے لیے محو کر لیا ہو مگر جلد ہی کھوئے جانے کا احساس ہو جائے۔

یہ ہر وقت کی محکومیت اسے کھل جاتی۔ اور اس کا جی چاہتا آوارہ ہواؤں کی طرح ماحول سے کہیں فرار کر جائے۔ مگر اسے ناممکن پا کر وہ اداس ہو جاتا سگریٹ زیادہ پینے لگتا اور کتابوں کے اور اق زیادہ تیزی سے الٹتے جاتے۔

اس کی بیوی اس کی ساتھی نہ بن سکی تھی۔ ذہنی اعتبار سے وہ اب بھی اتنی ہی دور تھی۔ وہ کبھی اپنی بات اسے سمجھا نہ سکا۔ کیونکہ دونوں ایک دوسرے کو خبطی سمجھتے تھے۔ وہ اسے تو اپنے سے واقف نہ کراسکا۔ ہاں خود پیرس کی خوشبوؤں کا فرق جان گیا تھا۔ یہیں وہ بہک گیا۔ جس طرح پانی ہمواررستہ نہ پا کر بھی بہتا ہے۔ اسی طرح اس کا بھٹکنا لازمی تھا۔ وہ کب تک چپکا بیٹھا رہتا۔ اس کی ذہانت کب تک مفلوج رہتی۔ اب وہ پھر ایک بار محفلوں کی جان بننے لگا۔ لیکن نوعیت بدل گئی تھی۔ وہ اب اور ہی طبقے میں مقبول ہونا چاہتا تھا۔ کٹھ پتلیوں کا ناچ جہاں زندگی کا نام ہو، آدمی پڑھا لکھا ہو تو عیب کو بھی ہنر بنا لیتا ہے۔ نشانہ خطا کرنے نہیں پاتا۔ اب مختلف کاموں میں لوگ اس کی رفاقت کی ضرورت محسوس کرتے اور وہ ترقی، انسانیت اور عمل کا نام لے کرسب کچھ کر سکتا تھا۔

لوگ کہتے یا ر صنم توتو آذر ہے آذر۔ جسے چاہے صنم بنا دے۔ اور وہ اپنی تعریف سن کر خوش ہوتا۔ بالوں کے لہراتے ہوئے گچھوں کو وہ سرکی جنبش سے پیچھے کرتے ہوئے ہنستا۔ سگریٹ کے دھوئیں کا بادل چھا جاتا۔ اور اس کی زبان تیزی سے چلنے لگتی۔ وہ عہد حاضر کے تمام مسائل ہی پر نہیں بلکہ ہر قسم کے شخص سے اس کی دلچسپی کی بات کر سکتا تھا۔ اسے بڑی راحت سی محسوس ہوتی جب وہ محفلوں پر چھا جاتا اور لو گ کہتے صنم ہی چھا سکتا ہے۔ مگر کبھی کبھی باتیں کرتے کرتے وہ خود ہی چونک اٹھتا۔ اوروں سے کھیلتے کھیلتے وہ اداس ہو جاتا۔ اور یہ بات اسے بے چین کر دیتی کہ وہ خود بھی اوروں کے ہاتھوں میں کھلونا ہی بن گیا ہے۔ جو چاہتا ہے اپنے کام کی خاطر اسے یوں استعمال کرتا ہے جیسے جلسوں میں لوگ کرایہ کے مائیک استعمال کرتے ہیں۔ کیا اس کا کوئی مقصد نہیں؟کیا وہ اتنا ستا بک گیا؟اور اس کا جی بری طرح چاہتا کہ ایک بار پھر لوٹ جائے اور اپنے پرانے ساتھیوں سے جا ملے۔ ان میں یوں گھل مل جائے جیسے کبھی الگ ہی نہ ہوا ہو۔ اور کام کرتے کرتے وہ کہیں صنم. مگراس کے وہ ساتھی تواس سے بچنے لگے تھے، چھوت بیماری سے جیسے بچتے ہیں۔ اب ان میں سے کوئی بھی پہلے کی طرح اس سے مشورہ لینے بات چیت کرنے اور مسائل سمجھنے کے لیے نہیں آتا تھا۔ کبھی کوئی ملتا بھی تو یوں سرسری نگاہ ڈال کر گزر جاتا جیسے اس کی ذہنی موت پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ ایک دن وہ لال کے ہاں بیٹھا پی رہا تھا۔ اسے لال کے لیے ایک پلیٹ فارم تیار کرنا تھا۔ اس لیے لال آج کل اس کی بڑی خاطر مدارات کرتا تھا۔ پیتے پیتے وہ زور و شور سے بحث کرنے لگا کہ اچانک کسی نے ایک نام لیا۔ اس سے بھی تو ٹکر لینی ہو گی. تب تھوڑی دیر کے لیے دنیا اپنے محور پر الٹی گھوم گئی۔ اب بھی صنم میں اتنا جھوٹ اور اس کے بل پر اتنی طاقت نہیں تھی کہ اپنے اس پرانے ساتھی کے خلوص سے ٹکر لینے کی بات سوچ سکے۔ اس کا سر آپ ہی آپ جھک گیا۔ اس پرانی دنیا سے تعلقات ٹوٹ چکے تو کیا ہوا۔ وہ ان کے خلوص کی توہین نہ کر سکتا تھا۔ وہ اب بھی ان کا احترام کرتا تھا۔ انھیں سے محروم ہو کر وہ تو وہ اپنے آپ سے محروم ہو گیا تھا۔

اس دن وہ بہت اداس رہا۔ اداسی کے اندھیرے میں کوئی ہلکی سی امید کی کرن تک نہ تھی جو ڈھارس بندھاتی۔ اس کی گھریلو زندگی میں خوشی نہ تھی، رفاقت نہ تھی، بیوی کے نزدیک جانے کی کبھی وہ کوشش بھی کرتا تو قطبین کا فاصلہ بیچ میں حائل ہو جاتا۔ اس بے چاری کو معلوم ہی نہ تھا کہ اسے کیا ملا ہے۔ وہ تو عام باتیں عام راحتیں چاہتی تھی۔ صنم کے جوہر کی قدر اسے کبھی ہوہی نہ سکتی تھی۔ اور ہوتی بھی کیسے۔ صنم کی روح اس بے جان و بے عمل زندگی کے کھوکھلے پن پر فریاد کرنے لگتی۔ اس تضاد سے گھبرا جاتی۔ سب کچھ کھو کر ذرا سا بھی سکون نہ ملے تو پھر کیا ملا۔ اور انھیں دنوں اس کے پیاسے دل کو ایک پنگھٹ مل گیا۔ زندگی کی حقیقت سے آنکھیں چرا کر وہ اپنے ہی کو فریب دینا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ خوابوں کے سہارے زندہ رہنا جھوٹ ہے۔ مگر کچھ دیر ہی کے لیے سہی اپنے آپ کو بھلانا چاہتا تھا۔ شاید اس طرح زندگی کی ویرانی کم ہو جائے، اس کے اکیلے پن کو کوئی بانٹ لے۔


وہ دبے پاؤں کب اس کی زندگی میں چلی آئی،اسے معلوم ہی نہ ہوا۔ اور جب اسے خبر ہوئی تو وہ اس کے بہت قریب آ چکی تھی۔ گھنے جنگل میں کھو کر بہت دیر تک کوئی پیاسا گھومتا پھرے اور اچانک کسی چھل چھل کرتے ٹھنڈے پانی کے جھرنے پر جا پہنچے۔ یہی اس کی حالت ہوئی۔ اس نے جھجک کر نگاہیں اٹھائیں۔ دو روشن اور ملول آنکھیں، جو وقت سے پہلے سنجیدہ ہو گئی تھیں، وہ نشیلی آنکھیں جن میں شراب منجمد ہو گئی تھی۔ ان میں کس کے لیے حزن تھا؟ ان میں پیار تھا، بے پناہ پیار، کتنا اپنا پن۔ وہ اٹھتیں تو ایسے جیسے سوائے اس کے کسی کو دیکھنا نہیں ہے۔ ان میں کیسی تحسین ہوتی۔ وہ نگاہیں آتیں تو سجدہ کرتی ہوئی آتیں اور صنم کے دل کے اندر بیٹھا ہوا بت مست ہو جاتا۔ اسے واقعی بُت بنا کر پوجا جا رہا تھا۔ اور زندگی کی وہ شامیں،وہ برندا بن کی شامیں کیسے چپ چاپ، بغیر آہٹ کے دبے پاؤں گزر جاتیں،چنبیلی کے نرم و نازک پھول جس طرح ڈھلک جاتے ہیں۔ ہر شام کے بعد اسے دوسری شام کا انتظار رہتا۔ اور کبھی کبھی اس کا دل بے قرار ہو اٹھتا۔ جو شعلہ دور ہی دور دہکتا رہتا اور اسے یوں گرماتا جیسے سردیوں کی رات میں دور سے انگیٹھی۔ اس شعلہ کو چھو لینے کی خواہش کبھی بے تاب ہو اٹھتی۔ ناگ کو پیار کر لینے کی تمنا جاگ اٹھتی اس کے بعد کیا ہو گا۔ اس کے بعد وہ سوچنا ہی نہ چاہتا تھا۔

ہر شام جب اس کے قدم اٹھتے تو بے اختیار شوق انھیں وہیں لے جاتا۔ اسے یقین ہوتا کہ وہاں وہ آنکھیں رفاقت اور پیار سے بھر پور نگاہوں سے اس کی منتظر ہوں گی۔ وہی اس سے پوچھیں گی تم تھکے ہوئے کیوں ہو۔ آؤ بیٹھو۔ یہاں نہیں وہاں۔ آرام سے بیٹھو۔ چائے بنا دوں۔ پریشان ہو، بھلا کیوں۔ ہم نہیں سنتے۔ ہو گی کوئی بات۔ جینا ہے تو پریشانیاں آتی ہی رہیں گی۔ ان سے کیا ڈرنا۔ کیا آدمی یوں ہنسنا بولنا چھوڑ دے۔ چلو وہ پھر سنانا۔ اب تو باتیں کرو اپنی اور دنیا بھر کی۔ رسیلی اور نشہ انگیز باتیں۔ چلو چائے پی لو۔ تم چائے سِپ کرتے ہو تو میرا دل خوشی سے کھل جاتا ہے۔

یہ باتیں اس سے کوئی کہتا نہ تھا۔ مگر وہی خاموش نگاہیں اسے سب کچھ سنا جاتیں۔ وہ کتنا ہی تھکا ماندہ، اداس اور پریشان کیوں نہ ہوتا، کھِل جاتا۔ اسے وہی تسکین ملتی جو برسات کی ٹھنڈی اور بھیگی ہوئی رات میں گرم اور نرم گدوں پر چھپ کر سو جانے سے ملتی ہے۔ اور وہ سوچنے لگتا کہ سچ مچ کوئی بات تھی ہی نہیں۔ وہ ناحق پریشان ہوتا رہا۔ یہ ذہنی رفاقت یہ ہم راہی.۔ یونہی گزرتی رہی۔

مگر صرف یہ احساس بھی اس کے دل کو نہ بہلا سکا۔ وہاں جا کر اسے خوشی تو ہوئی مگر لوٹتے وقت اس کئے قدم بوجھل ہو جاتے۔ اس کا جی چاہتا اپنے بے قرار دل کو وہیں چھوڑ آئے۔ کسی کی نرم نگاہیں اور معطر سانسیں اسے لوریاں دیں اور وہ زلفوں کی گھٹا میں چھپ کر سوجائے۔ زندگی کے کھوکھلے پن اور اپنی محرومی کو بھول کر. اور جاگے تو اسے معلوم ہو کہ ہر ہر طرف سکھ ہی سکھ ہے،بہار ہی بہار ہے۔ ویرانی تو اس نے خواب میں دیکھی تھی۔ اور خواب ڈراؤ نے بھی ہوتے ہیں مگر آنکھ کھل جاتی ہے تو ان پر ہنسی ہی آتی ہے اور کوئی جب کہے وہ تو خواب تھا،اس میں سہم جانے کی کیا بات تھی تو زندگی میں مٹھاس بڑھ جائے، گھلاوٹ پیدا ہو جائے۔

مگر نہیں ہر روز امرت پئے، بغیر ہی اسے پیاسا لوٹ جانا ہوتا۔ اور یہ احساس اسے مارے ڈالتا تھا کہ منزل پر پہنچ کر بھی وہ محروم رہا۔ جوں جوں وقت گزرتا جاتا، اسے یقین سا ہوتا جاتا کہ یہی ہے جو میرے لیے ہے۔ گھر لوٹ آنا تو دنیا ہی دوسری ہوتی۔ اس کی بیوی، اس کے بچے، دونوں اس سے بے خبر کہ ہر روز اس پر کیا قیامت گزر جا تی ہے۔ اس کے دیر سے گھر آنے پر بیوی کبھی کبھی طنز کر بیٹھتی جیسے عورتیں کیا کرتی ہیں،اور اس کا دل باغی ہو اٹھتا۔ اسے نفرت سے ہو جاتی بیوی سے۔

مگر زنجیریں بڑی مضبوط تھیں اور وہ بزدل بن گیا تھا۔ بچوں کی طرف دیکھتا تو دل پگھلنے لگتا۔ تتلاتا ہوا ننھا منّا جب لٹ پٹاتے قدموں سے اس کی طرف آتا اور آتے ہوئے گر پڑتا، کہتا۔۔۔ ڈاڈ۔۔۔ ڈاڈ۔۔۔ تواس کا دل دھڑکتے میں رک جاتا۔ اور وہ نرم گرم بچے کو اٹھا کر پیار کرنے لگتا۔ بچہ موٹے موٹے ہاتھ گردن میں ڈال کر پیار سے جھکولے دیتا، پیار کرتا، بال کھینچتا اور خود ہی خوشی سے تالیاں بجانے لگتا تو صنم سوچتاکہ انہیں چھوڑ کر۔۔ کیا انھیں بھی چھوڑ کر۔


مگر اس کا دل کوئی فیصلہ نہ کر پاتا۔ وہ دو دنیاؤں کے درمیان جھولتا رہتا جب بھی اس کا دل بے قرار ہو اٹھتا تو چاہتا کہیں بھاگ جائے، سب باتیں نئی ہوں، سب چہرے نئے ہوں، اور نئے سرے سے زندگی کا آغاز کرے جیسے بچے کھیل میں لڑ پڑتے ہیں اور ادھورا کھیل یونہی چھوڑ کر پھر سے کھیلنے لگتے ہیں۔ اور ساری پرانی باتیں ہوں جھوٹ کی طرح ماند پڑ جائیں، منہ چھپا کر بھاگ جائیں جیسے صبح کے ابھرتے ہوئے پھیلتے ہوئے اجالے کے سامنے تاریکی بھاگ جاتی ہے۔ اور وہ اس کے ساتھ ہو، وہ سبک جسم، دراز قد، وہ ٹھنڈی آگ، وہ منجمد شراب، حیران و روشن آنکھوں میں سجدے۔ وہ ساتھ ہو۔ اسے و ہی چاہیے، اسے شہرت و نمود نہیں،وہی چاہیے،سکون چاہیے، اس کے وجود کا فردوس چاہیے۔ اس کے بغیر زندگی نامکمل و بے معنی ہے۔ یہ دور دور کی قربت نہیں۔ اسے تسکین چاہیے۔ مانا کہ تیرے رخ سے نگہ کامیاب ہے. مانا کہ. مگر نہیں، خوابوں کے سہارے دنوں زندہ نہیں رہا جاسکتا۔ لیکن زندگی کے سب دروازے اس پر بند تھے۔ اب کچھ نہیں ہو گا۔

مگر ایک دن اس نے سوچا یہ دروازے کھل بھی سکتے ہیں۔ یہ دیواریں ٹوٹ بھی سکتی ہیں وہ توڑے گا اس کو۔ بھلا وہ کیوں محروم رہے۔ وہ ترک کر دے گا سب کو اور نئی زندگی کا انتخاب کرے گا۔ لوٹتے وقت اس رات جب وہ رخصت کرنے آئی تھی تو اس سے رہا نہ جاتا تھا۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ کہہ دے،آؤ ہم کہیں بھاگ چلیں۔ آؤ میرے بازوؤں کا خلا کب سے بیتاب ہے۔ آؤ میں تمہارے لیے سب کچھ تج دوں گا۔ آؤ مجھے اپنی گود میں سررکھ کر سولینے دو۔ میری آنکھیں نیند کی راحت کو ترس گئی ہیں۔ آنکھیں بند کرتا ہوں تو تم سامنے آ جاتی ہو۔ کھول دیتا ہوں تو تمہارا انتظار کرتا ہوں تم آ جاؤ تو زندگی کی ساری تلخی دور ہو جائے گی۔

اور نہ جانے اس دن اس نے کیا کیا کہہ دیا۔ وہ آدھا چاند اپنے نشہ سے اسے پاگل بنا رہا تھا۔ مارچ کی گرم رات۔ وہ وحشی بنا جا رہا تھا۔ اسے صرف اتنا ہی یاد تھا معلوم نہیں اس نے کیا جواب دیا اور کیا سنا۔ یا یہ محض اس کے کانوں ہی کی گونج ہو۔

صنم۔ تم مجھے لینے تو چلے آئے لیکن کیا اس کے لیے سب کچھ چھوڑ دو گے۔ وہ بھی غلط ہے اور وہ بھی جو ٹھیک ہے۔ کیا تم خواب کے اندھیرے میں ہی نہیں حقائق کے اجالے میں یہی کہہ سکو گے۔ کیا تم ان سب سے ناتا توڑ لو گے جو نادانستہ یا دانستہ تمھاری زندگی میں ہیں۔ کیا صرف رفاقت کا احساس ہی کافی نہیں۔

اور وہ ہوش میں آ گیا تھا۔ گھر لوٹا تو راستہ سنسان تھا۔ فضا کی حدت میں ڈھلکتی رات کی خنکی آ چلی تھی۔ اور دھندلی چاندنی میں گھر پہنچتے پہنچتے اس پر ایک عالم گزر گیا۔

وہ اتنا تھکا ہوا تھا، جیسے ہارا ہوا جواری، مگر نہیں، اب وہ کچھ سوچنا نہیں چاہتا۔ دبے پاؤں کمرہ میں داخل ہو کر اس نے دیکھا تو بیوی بے خبر سورہی تھی اور ننھا بھی بے خبر اور اسے چہرے پر ایسی مسکراہٹ تھی جو ڈاڈ۔۔۔۔ ڈاڈی۔۔۔۔ کہتے وقت ہوتی ہے۔ اس کا دل دھڑکتے دھڑکتے رک گیا۔ اس کا کیا ہو گا۔ ایک غلطی کا علاج دوسری غلطی تو نہیں۔

اور وہ کھڑکی میں آ کھڑا ہوا۔ آسمان صاف نیلا ہٹ سے دمک رہا تھا۔ چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔ بانس کے جھنڈ میں ہوا سرسرار ہی تھی اور رات کی مست خوشبو ہوا میں گھلی ہوئی تھی۔ اسے ایسے لگا جیسے اس وسیع روح پر چھا جانے والے خلا کا کوئی مداوا ہی نہیں۔ زندگی کا زہر یونہی جرعہ جرعہ اسے پینا ہی پڑے گا۔ بوجھل سرکندھوں پر اٹھائے اسے چلنا ہو گا۔ اسے کسی کا سہارا لے کر نہیں آپ ہی اپنی منزل ڈھونڈنی ہو گی۔ کتنی ہی دیر سہی۔ اور وہ بسترپر بے بس ہو کر گر پڑا۔۔۔۔ وہ اپنے آپ سے ہار مان گیا۔


جھنگو میرا بھائی

پورے چار مہینے کشمیر میں گزار کر جھنگو لوٹا تو کچھ بد لا بد لا نظر آیا۔ میں نے خیال کیا شاید وہاں کی آب و ہوا نے اس پر اچھا اثر کیا ہے۔ مگر جب ایک ہفتہ گزر گیا پھر بھی اس نے کوئی لڑائی جھگڑا نہیں کیا نہ لڑکیوں کی برائی، تو میں سوچنے لگی آخر اسے کیا ہو گیا ہے۔ یا تو یہ حال تھا کہ جب گھر میں ہوا. میرے سر پر سوار. بات بے بات مجھ سے لڑے گا،میری ملنے والی لڑکیوں کی برائی کرے گا، ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان میں عیب نکالے گا، نقلیں اتارے گا، اور جو میں کہوں بھیا ذرا آئینے میں اپنی صورت بھی دیکھ لے تو، دو چار شریف آدمیوں سے پوچھ لے کہ تیرے اخلاق کیسے ہیں تو وہ بد تمیزی پراتر آتا، عورتوں کی طرح اس گھڑی کو کوستا جب اللہ میاں نے حوا کو پیدا کیا تھا اور افسوس کرتا کہ اللہ میاں بھی بڑے ستم ظریف ہیں کہ چار بہنوں کا بھائی بنا کر دنیا میں بھیجا اور وہ بھی ان سب سے چھوٹا۔ اگر اس کا بس چلتا تو وہ ہر لڑکی کو جنم لیتے ہی زندہ دفن کر دیتا۔ جاہلیت کے عرب بھی کس قدر سمجھ دار ہوا کرتے تھے.

بڑے بھائی صاحب ہم سے بہت بڑے تھے اور یوں بھی اپنی شادی کے بعد وہ الگ ہو گئے تھے۔ لے دے کے یہی جھنگو رہ گیا تھا، جیسے ہم پیار کرتے تھے۔ مگر پاجی کی عقل کچھ ایسی تھیں کہ ہم چاروں ہی سے لڑتا رہتا۔ چھٹیاں گزارنے جب امی کے ہاں جاتی تو خود بھی آ دھمکتا۔ وہی توتو میں میں ہونے لگتی۔ اور میں گھبرا کر ماموں کے پاس چلی جاتی۔ کنوار پن کی ساری چھٹیاں میں نے پنجاب کے دیہاتوں میں چشموں پر نہا نہا کر اور کنواریوں کے ساتھ کھیل کھیل کر گزاری تھیں۔ ہمیشہ حسرت ہی رہی کہ ہم سب بھائی بہن مل کر دو چار مہینے تو کبھی ساتھ رہیں۔ لیکن اس لڑاکے بد تمیز کے ساتھ رہنا بھی مشکل تھا۔ امی اسے چاہتی بھی زیادہ تھیں اس لیے اور بھی بگڑ گیا تھا۔

بی۔ اے کے بعد جب میں نے کہا کہ اب ایم۔ اے کروں گی تو بنانے لگا۔ کہتا باجی آخر آپ اور آپ کی طرح ہزاروں بے وقوف لڑکیاں کیوں خواہ مخواہ پڑھتی ہیں۔ پڑھ لکھ کر آپ کریں گی کیا۔ تم عورتیں تو اس لیے پیدا کی گئی ہیں کہ گھر میں بیٹھیں،برتن مانجھیں اور روٹی پکائیں،مرد رحم کھا کر کھانا کپڑا دیں تو صبر و شکر کے ساتھ کھالیں۔ بس اس پر لڑائی ہونے لگتی اور نوبت بد تمیزی تک پہنچ جاتی۔ وہ ثریا کے بنے ہوئے بال بگاڑ دیتا، فریدہ کے دوپٹے کی چنت کھول دیتا اور میری کتابوں کے اور اق پھاڑ لیتا۔ میں تو پاجی اور گدھا کہہ کر چپ ہو جاتی مگر ثریا اور فریدہ اس کے دھولیں لگاتیں،کان کھینچتیں اور پھر نماز پڑھ پڑھ کر دعا کرتیں کہ اللہ میاں اپنی قدرت کے صدقے جھنگو کو ایسی بیوی عطا فرما کہ کان پکڑ کر اٹھائے اور کان پکڑ کر بٹھائے۔ ہم بہنوں کا بدلہ وہ ضرور ہی لے۔ اس پر بڑی شان سے اکڑ کر کہتا" مابدولت ایسے بے وقوف نہیں کہ کسی لڑکی کو شرف قبولیت بخشیں"۔

امی جان کبھی ارمان سے ذکر کرتیں کہ میرے جھنگو کے لیے تو چاند سی لڑکی لاؤں گی۔ اس کی شادی میں سارے رشتہ داروں کو بلاؤں گی۔ تو ہم لوگ بھی انہیں مشورہ دیا کرتیں،امی زربفت کی شیروانی بنائیے جھنگو کے لیے، سرخ مخمل کا کارچوبی جوتا بھی ضرور ہو۔ ثریا کہتی امی دولہا کو چوڑی دار پاجامہ اچھا لگتا ہے مگر اس سوکھے مارے انسان پر کیا سجے گا۔ جھنگو پہلے تو انجان بننے کی کوشش کرتا مگر بعد گالیاں دینے لگتا۔ شادی کے نام سے جیسے مرچیں لگتی تھیں اسے۔ اس کے خیال میں سارے شادی والے مرد انتہائی بے وقوف تھے۔ اسے سخت حیرت ہوتی کہ لوگ آخر اتنی بری عورتوں کے ساتھ شادی کیوں کر لیتے ہیں۔ ویسے ہی زندگی کتنی حسین ہے اور کتنی خوشگوار۔

ہم مذاق میں کہتے جھنگو کر لونا شادی۔ تم تو ہمارے بھیا بڑے اچھے بھیا ہو۔


ہمارے لیے گڑیا جیسی بھابی لانا۔ امی کو بھی کتنا آرام ملے گا اور تمہاری قینچی زبان بھی ضرور قابو میں آ جائے گی۔ وہ بگڑ بگڑ کر جواب دیتا۔ اس پر ثریا کہتی"میں تو تمہارے بھلے کو کہتی ہوں. ہم سب کی شادی ہو جائے گی تو امی بے چاری اکیلی ہو جائیں گی اور تم کس سے لڑو گے۔ اس پر وہ باولا کتا بن جاتا۔ اسے کسی طرح گوارا نہ تھا کہ اس کی بہنیں کہیں بیاہی جائیں اور وہ "سالا" بن جائے۔ سالا اس کے نزدیک سب سے بڑی گالی تھی۔ گھنٹوں وہ اس پر جھگڑتا کہ ثریا نے شادی کر کے اسے سالا بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ کتنا گھناؤنا اور گندا لفظ ہے یہ۔ وہ چاہتا نہ خود شادی کرے نہ اس کی بہن۔ مگر فریدہ خواہ مخواہ اسے جلانے کر کہتی"جھنگو بیک وقت مجھے چار چھ آدمی پسند ہیں۔ تم بتاؤ کس سے کروں۔ جواد ٹھیک رہے گا۔ کیسا خوبصورت اور سجل ہے وہ۔ یا پھر شفقت بڑی اچھی طبیعت ہے اس کی۔ اور سن بھئی میں کہتی ہوں وہ ولی اللہ صاحب میں کیا برائی ہے۔ مانا کہ بال کھچڑی ہو گئی، عمر ذرا ڈھل گئی ہے مگر یہ بھی تو دیکھ دولت مند ہے،روپیہ بہت ملے گا۔

ثریا کہتی"نا بھئی۔ کوئی لاکھ روپیے دے تب بھی میں اس سے نہ کروں۔ مجھے تو ارشاد پسند ہے۔ وہ اگر ساتھی بن جائے تو زندگی کے دشوار گزار راستے کو میں ہنستے کھیلتے طے کر لوں۔ جھنگو کو بہت غصہ آتا۔ آنسو نکل پڑتے۔ حالاں کہ میں خوب جانتی تھی کہ فریدہ کو شادی سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اور ثریا کے لیے تو ابھی کئی سال پڑے ہیں۔ مگر میں خود بھی اسے غصہ ہوتے دیکھنا چاہتی۔ کبھی تو انسان کا دل دکھے۔

جھنگو کو عثمانیہ یونیورسٹی سے عشق تھا۔ اس لیے وہ بابا کے ساتھ زیادہ تر حیدرآباد میں ہی رہتا۔ کہتا ہماری یونیورسٹی کی عمارت ایسی شاندار ہے کہ تم دیکھو تو بس مر ہی تو جاؤ۔ ہمارے لیے اتنی آسانیاں ہیں کہ کیا بتاؤں۔ اور لڑکیاں چوہیوں کی طرح پڑھتی ہیں اپنے ایک الگ کالج میں، اور روتی رہتی ہیں۔ اگر تم بھی حیدرآباد میں ہوتیں تو اخلاق ایسے نہ بگڑتے۔ یہاں تم نے پردہ چھوڑ دیا ہے۔ لڑکوں کو بے وقوف بناتی رہتی ہو۔ وہاں آوتو پتا لگے۔ ہوں۔ صاحبزادیوں نے ایم۔ اے کے لیے کوشش کی تو وہاں بھی ہم نے ڈربے بنا رکھے ہیں۔ اب سنا ہے لندن جائیں گی۔ خس کم جہاں پاک، مگر بھئی میں تو کہتا ہوں یہ قطعاً ناجائز ہے۔ بغیر محرم کے بھلا لندن کیوں کر جائیں گی یہ۔

ثریا نے کہا" تم بن جاؤ نا محرم اور وہ تمہارے ساتھی، کیا نام ہے ان لوگوں کا، گدھے پاجی کہیں گے، جنھوں نے ایک خفیہ معاہدہ کر رکھا ہے شادی نہ کرنے کا، عورت دشمنی کو راہ نجات سمجھتے ہیں۔ اگر انہیں عورت نے جنم نہ دیا ہوتا تو خدا جانے اور کیا کرتے۔ اس دن نصرت خاں کی بہن سرور کہہ رہی تھی کہ اس کے بھائی نے اس سے معاہدہ کیا ہے کہ نہ وہ شادی کرے نے یہ۔ اچھا آؤ میری جان جھنگو، میں تم سے معاہدہ کروں شادی نہ کرنے کا۔ مگر تم میرا دوپٹہ چن دیا کرنا، میری ساڑھیوں پر استری کر دینا، اور کبھی کبھی مجھے اور میری سہیلیوں کو سینما لے جانا۔ جھنگو کچکچا کر ثریا کے بازو میں اپنے دانت گڑودیتا۔ وہ اس کے بالوں کو پکڑ کر ہلا دیتی۔

فریدہ بیچ بچاؤ کرتی، ادھر ادھر کی باتیں کر کے اسے بہلاتی۔ اور پھر جب وہ اپنے مخصوص لہجے میں ثریا کی کسی سہیلی کی نقل اتارتا اور برائی کرتا تو فریدہ میٹھے لہجے میں پوچھ بیٹھتی "جھنگو میرے بھیا، تم تو شادی نہیں کرو گے۔ مگر تم جو کہتے ہو یہ لڑکیاں مکار ہوتی ہیں،تم توا یسے حسین نہیں مگر یہ بھی ان کی عجیب فطرت ہے کہ جو ان سے بھاگے اس کو گرفتار کرتی ہیں۔ اب اگر کوئی تمہیں مجبور کر دے شادی پر تو کیا کرو گے۔ ہاں میرے بھائی، دنیا خواب ہے"۔ جھنگو اکڑ کر کہتا۔ مابدولت تک پہنچنا آسان نہیں اور سنو جب میں بڑا ہو جاؤں گا نا،تو بس بندوقیں خریدوں گا ایک نہ دو،ایک دم بیس بندوقیں۔ عمدہ عمدہ، کوئی میری طرف دیکھے تو گولی ماردوں گا۔ دکھا دوں گا کہ جناب ہم ایسے ویسے نہیں بلکہ بیس بندوقوں کے مالک ہیں۔ آپ ہی نہ بھاگ جائیں تو کہنا"۔ جھنگو اپنی دانست میں سمجھتا کہ لڑکیاں بندوق سے ڈر جاتی ہیں۔


امی کہیں، سب بچین کی باتیں ہیں۔ کوئی ایسا نہیں کہ بیس بندوقیں لیے جنگلوں میں مارا مارا پھرے۔ بڑا ہو کر آپ سمجھ آ جائے گی۔ اور امی ابھی سے بیسیوں لڑکیوں کے متعلق سوچتی رہیں کہ ان کی بہوب ننے کی کس میں زیادہ صلاحیت ہے۔ مگر میں تو سمجھتی کہ یہہ خبطی کا خبطی ہی رہے گا۔ ایسی نفرت بھی کہیں جاتی ہے۔

دو سال پہلے جب میری شادی ہونے لگی تو جھنگو کو یقین آ گیا کہ اب مذاق نہیں۔ سچ مچ کسی کا سالا بننا پڑے گا۔ بہت جھنجھلایا،امی سے ان کی شکایتیں کرتا رہا۔ شادی کے نقائص گنواتا رہا لیکن ان کے کان پر جوں نہ رینگی۔ تب میرے پاس آیا اور کہنے لگا"چھوڑو باجی اس کا خیال۔ تم جسے میاں بنانے چلی ہو، وہ تو مارواڑی ہے مارواڑی۔ اور تم کو یہ سوجھی کیا۔ ایم۔ اے کرو نا" مگر میں نے جھنگو کی طرح برہم چاری رہنے کی قسم تو نہیں کھائی تھی اس لیے انجان ہو گئی۔ ثریا اور فریدہ کو بڑی خوشی تھی۔ جھنگو کا سراب تو جھکے گا۔ جب میں بھی انجان ہو گئی تو اسے بہت بُرا لگا۔ خوب لڑائی ہوئی، بہت بگڑا،گھر چھوڑنے کی دھمکی دی۔ میرا منہ نہ دیکھنے کا اعلان کیا، مگر شادی ہو گئی۔ اور اتفاقات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ان کے ساتھ میرا بھی رہنا حیدرآباد ہی میں ہو گیا۔ مگر خدا کا بندہ جھنگو مجھ سے ملنے نہ آیا۔ وہ تو ناتا توڑنے پرتلا ہوا تھا۔ اس کی باجی ہو کر یہ گناہ کیا کم تھا میرا کہ میں نے شادی کر لی۔ میرا جی بہت تڑپا۔ یہ بھی ہمیشہ پوچھتے رہتے۔ آخر وہ عید میں بھی مجھ سے ملنے نہ آیا تو میں اداس ہو گئی۔ وطن سے اتنی دور، میکہ سے جدا، ایک بھائی یہاں ہو اور وہ بھی ملنے نہ آئے۔ میں اداس نہ ہوتی تو کیا کرتی۔

یہ خود ہی ہاسٹل گئے۔ سمجھا منا کر لائے۔ دوست بننے کی کوشش کرتے رہے۔ میں نے بھی بڑی خاطر کی۔ خواہ جھگڑا لو ہو خواہ لڑاکو، آخر وہ میرا بھائی تھا۔ میں نے کہا،آ جاؤ نا،یہاں آرام سے رہو گے۔ کھانا بھی گھر کار ہے گا۔ اگرچہ وہ آ گیا تھا مگر اس کے دل میں اب بھی نفرت تھی۔ کہنے لگا "شکریہ میں ہاسٹل میں رہتا ہوں۔ اس لیے کافی آرام ہے اور وہ تو جنت ہے جہاں کوئی عورت نہیں۔ میں نہیں رہتا تمہارے گھر۔ ہم تو وہیں رہیں گے شہزادوں کی طرح"۔

ان کی باتوں سے اتنا ہو گیا کہ کبھی کبھی آٹھویں پندرہویں آ جاتا۔ یہ بھی اسے دوست بنانا چاہتے تھے۔ اس لیے اکثر بندوق خرید نے کی تجویزیں ہوتیں، شکار کے پروگرام بنتے۔ میں نے کہہ دیا کہ "جھنگو تم اپنا شوق اپنے ہی تک ر کہو۔ انہیں شکار اور بندوق کا عاشق نہ بنا نا ورنہ میں کیا کروں گی۔ یہ تمہاری طرح اکیلے تو ہیں نہیں۔ میں بھی ہوں ان کی جان کے ساتھ" اس پر وہ ان سے کہتا"دیکھا بھائی آپ نے شادی کا نتیجہ، آپ کی آزادی ماری گئی"۔ اور یہ بن بن کے ٹھنڈی سانس لیتے اور کہتے "سچ کہتے ہو جھنگو تمہاری باجی سے شادی کر کے میں تو پچھتایا۔ کاش عورت دنیا میں نہ ہوتی تو کتنا سکون ہوتا۔ کتنی آزادی ہوتی" اور جھنگو فخر سے اکڑ گیا۔ ان سے تو وہ اچھی طرح بات چیت کر لیتا۔ لیکن مجھ سے وہی بے تکی باتیں کرتا۔ میری طبیعت بہت خراب تھی۔ میں نے سوچا،چلو ایک آدھ مہینہ امی کے وہاں رہ آؤں۔ ڈسمبر کی چھٹیاں گزارنے کو خود بھی وہاں آ دھمکا اور لگا میری جان کھانے۔ میں اپنی جان سے خود ہی بیزار کبھی کبھار آنکھیں بند کئے لیٹی رہوں، کبھی وہاں بیٹھی رہوں کبھی یہاں۔ مگر وہ برابر میرا سرکھاتا جائے گا۔ کہ نکھٹو ہے،سست ہے،باجی بہت کاہل ہے،امی اسے تو تپ دق ہو گئی ہے۔ سینے ٹوریم بھیج دیجئے۔ ایک منٹ وہ چین نہ لینے دیتا۔ عجیب و غریب بیماریاں مجھ سے منسوب کرتا۔ امی سرپیٹ لیتیں۔ "ہے ہے ایسی بری باتیں منہ سے نہ نکال" مگر وہ تو یہی کہے گا۔ ایک دن تو اس نے تشخیص کر دی کہ باجی کو ہیضہ ہو گیا تو میرے آنسو نکل آئے۔ اور میں ان کے ساتھ چلی آئی ساتھ ہی عہد کر لیا کہ اب تو کبھی نہ جاؤں جہاں وہ گدھا موجود ہو۔

بہت دنوں تک پھر بات چیت بند رہی۔ لیکن جب منو ہوا تو خود ہی آ گیا۔ شاید اس لیے کہ اسکا بھانجا مرد تھا۔ جاتے جاتے ایک ننھا سا طپنچہ دے گیا۔ میری جان جل گئی۔


گزشتہ سال جھنگو کی قانونی عمر نے اسے جائداد کا مالک بنا دیا۔ پھولے نہ سماتا تھا۔ خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ تھا۔ اب تو بندوق کی باتیں زیادہ ہونے لگیں۔ نئے نئے شکار کے پروگرام بننے لگے۔ مگر امی تو شادی کی سوچ رہی تھیں۔ اب انھوں نے سنجیدگی سے جو ڈانٹا تو ان سے بھی الجھ گیا۔ امی قسمت کو روتی رہیں اور ثرو فرو نے چھیڑ چھیڑ کراس کا ناک میں دم کر دیا۔ وہ کہتیں "چلو بھیا انسانوں سے نفرت سہی، تم جانوروں میں بیوی ڈھونڈ لو۔ ہم بڑے چاؤ سے بیاہ کر لائیں گے۔ قسم ہے اب صرف بھابھی کی تمنا رہ گئی"۔ وہ ہر ایک کو لاکھوں سناتا مگر خود سن نہ سکتا تھا۔ لڑتے جھگڑتے غصّہ کرتے آخر بیمار ہو گیا۔ ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ کہیں بھیج دیجئے۔ اچھی آب و ہوا میں خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔ یہ سن کر آپ بڑی خوشی سے کشمیر چلے گئے۔ چار مہینے وہاں گذار کر لوٹا ہے تو بالکل بدلا ہوا۔ چپ چاپ کچھ سوچتا ہوا۔ لڑائی بالکل ختم۔ میں نے کہا الٰہی خیر۔ ایسی کیا بات ہوئی کہ جھنگو کو چپ لگ گئی۔ حالاں کہ اس کی زبان کو تو بولنے کا پیدایشی روگ لگا تھا۔ اب کے اس نے بندوق کی باتیں کیں نہ لڑکیوں کی برائیاں۔ چھیڑ نے کو خود میں نے دو ایک لڑکیوں کے نام بھی لیے۔ شادی کی بات بھی چھیڑی مگر چپکا ہو رہا۔ ہر جمعہ کو ہاسٹل سے آ جاتا، مجھ سے کچھ کہنا چاہتا اور کہتے کہتے رک جاتا۔

ایک دن آیا تو میں منے کو لیے بیٹھی تھی۔ یہ بھی تھے۔ منو کو اس نے پیار کیا۔ اور گود میں لیکر کھلانے لگا۔ ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ اتفاق سے میں نے لڑکی کا ذکر کیا اور کہا اس کے تو گالوں پر گلاب کھلتے ہیں۔ جھنگو اس پر فوراً بول اٹھا۔ کیا بتاؤں باجی کشمیر کی عورتوں کے پاؤں بھی گلاب جیسے ہوتے ہیں۔ بلکہ گلاب تو مر بھی جاتے ہیں"۔ اس پر میں تو منہ کھول کر رہ گئی اور یہ ہنسنے لگے۔ گلے لگایا اور کہا "اور کیوں میرے بھائی جھنگو، آخر تم بھی پھنس گئے نا۔ ایک عورت ہی کے جال میں۔ دکنی ہو کہ پنجابی، مدرا سن ہو کہ کشمیری،میں بہت خوش ہوں جھنگو، بہت"۔ جھنگو کہہ کر پچھتا رہا تھا۔ شرمایا بہت۔ یہ تو اسے بنانے لگے۔ وہ بار بار کہتا "اس لیے تو میں کہتا نہ تھا"۔

اب میری سمجھ میں آ گیا کہ جھنگو چپ کیوں تھا۔ میں نے بنانا چھوڑ دیا۔ انھیں بھی منع کر دیا۔ میں اب بڑے پیار سے باتیں کرتی رہی۔ پہلے تو جھینپا جھینپا رہا۔ رفتہ رفتہ کھل گیا۔ ایک دن کہنے لگا "باجی بندوق تو بس ایک ہی بہت کافی ہے۔ البتہ میں بی۔ اے کرتے ہی کشمیر چلا جاؤں گا۔ وہاں سیب کا باغ لگاؤں گا۔ آپ کو کیا بتاؤں کشمیر کے سیب کیسے ہوتے ہیں۔ رسیلے، میٹھے، مگر مشکل تو یہ ہے باجی کہ وہاں باغ لگانے کی اجازت وہیں کے باشندوں کو ملتی ہے"۔ میں اس کا مطلب جان گئی۔ میں نے کہا۔ "وہاں شادی کر لو۔ رہنے کی اجازت مل جائے گی"۔ جھنگو لفظ شادی سن کر چپ ہو گیا۔ منہ پر سرخی چھا گئی۔ نفرت کی کوئی لہرنہ تھی بلکہ ایک دبی دبی مسرت جھلک رہی تھی۔ اس کی آنکھوں کی چمک۔۔۔۔ وہ خلا میں کچھ گھور رہی تھیں، کچھ یاد کر رہی تھیں۔ شاید کسی کشمیری دولہن کا خیال. اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ جب میں نے پھر کہا اور سنجیدگی سے تو اس نے آنکھیں جھکالیں اور ہولے سے کہا "وہاں میں نے ایک لڑکی بھی دیکھ لی ہے"۔

مجھے اپنے کانوں پر اعتبار نہ آیا کہ جھنگو کہہ رہا ہے "میں نے ایک لڑکی دیکھ لی ہے"۔ پھر وہ شادی کے متعلق کہنے لگا کہ "بس کروں گا تو وہیں کروں گا۔ ثری فرو کو نہیں لے جاتے مگر آپ اور بھائی صاحب ضرور چلیں گے"۔ جی میں آیا خوب مذاق اڑاؤں، اور اتنا بناوئں کہ وہ رونے لگے۔ مگر پھر میں نے سونچا،وہ اور کچھ نہیں بتائے گا۔ اس لیے کہا"ہاں جھنگو میں تو ضرور چلوں گی۔ مگر ان کو ساتھ نہیں لے جاتی۔ وہاں کشمیریوں کو دیکھ کر کہیں پھسل نہ جائیں۔ نا بابا یہ حماقت نہ ہو گی۔ تم جیسا برہم چاری بھی جب پھسل گیا تو ان کا کیا کہوں" وہ ہنسنے لگا۔ اور پہلی دفعہ میرا جی چاہا اسے پیار کر لوں۔ خاصا انسان بن گیا تھا وہ۔ میں نے کہا جھنگو یہ تو بتاؤ صرف لڑکی ہی دیکھی ہے یا اس کے ماں باپ سے بھی بات چیت کر لی ہے۔ بھیا تم اس کا اغوا تو نہیں کروگے۔ تمہیں تو شریف آدمی کی طرح شادی کر کے وہاں رہنا ہے۔ کشمیر کی جنت میں، ایک بندوق، سیب کا باغ اور گلاب جیسے پاؤں والی کشمیرن۔ بھلا جنت میں اس سے زیادہ اور کیا ہو گا"۔

جھنگو راز داری کے لہجہ میں بولا "باجی میں نے یہ سب کچھ طئے کر لیا ہے۔ لڑکی کا باپ فارسٹ رینجرہے۔ باغ لگانے میں وہ میری مدد کرے گا۔ بڑا اچھا آدمی ہے"۔ تو یہہ "فارسٹ رینجر" جھنگو کا سسرا تھا۔ سالوں کی تفصیل باقی رہ گئی۔ میں نے پوچھا "تم نے اپنی بیوی کے گلاب جیسے پاؤں ہی دیکھے ہیں یا صورت بھی دیکھی ہے۔ بھلا بتاؤ جب تم اس سے ملے تو وہ کیا کر رہی تھی"۔
کہنے لگا "میں نے اسے اچھی طرح دیکھا ہے اور کئی بار۔ اتنی بھولی بھولی ہے۔ وہ کھڑی … وہ رک گیا۔ میں نے کہا کہو کہو "تو یوں وہ کھڑی اپنی مرغیوں کو دانا کھلا رہی تھی" اس پر تو میرا جی چاہا ہنستے ہنستے لوٹ جاؤں اور واقعی میں ہنس پڑی۔ پھر کہا"اب چار چھ مہینے اور رہ گئے ہیں۔ محنت کر لو۔ بی۔ اے تو ہو ہی جاؤ گے " کہنے لگا "باجی اب یہاں رہنے کو جی نہیں چاہتا۔ اور موسم دیکھیے حیدرآباد کا کتنا خراب ہے۔ جی چاہتا ہے اپنی یونیورسٹی کی عمارت اٹھا کر لے جاؤں کشمیر"۔


اتنے میں یہ بھی آ گئے۔ اور کہنے لگے "واہ جھنگو تم اکیلے ہی جاؤ گے۔ مجھے بھی لے چلو اپنے ساتھ۔ قسمت ہو تو گلاب جیسے پاؤں والی کوئی مل ہی جائے گی۔ ہاں بھائی وہ تم نے فارسی غزلوں سے کام لیا ہو گا۔ ذرا میری بھی مدد کرنا۔ دو چار تو یاد ہی کر لوں گا۔ اور کیا کیا کرنا ہو گا بھائی۔ ان پڑھی لکھی لڑکیوں جیسی ناگن توہو گی نہیں۔ سیدھی سا دی ہو گی،کیوں جھنگو۔ میرے خیال میں زیادہ ایکٹنگ کی ضرورت نہ ہو گی۔ مگر بھائی سمر قند و بخارہ بخشنے والی بات ذرا ٹیڑھی ہے۔ خیر ادھار معاملہ چکائیں گے"۔

اور جب انھوں نے دیکھا کہ جھنگو برا ماننے کو ہے تو بات بدل کر بولے۔ "واہ جھنگو، الگ الگ سب کچھ۔ تمہاری شیروانی کا کپڑا اچھا ہے۔ کہاں سے لیا تم نے"۔ جھنگو بڑی شان سے بولا "کشمیر سے منگوایا ہے"۔ اللہ سمجھے،بھائی ایک ساڑھی منگوادو وہاں سے۔ سنا ہے وہاں کا سلک بہت اچھا ہوتا ہے۔ تو جھنگو نے مجھ سے کہا وہ ساڑھیوں کا بزنس نہیں کرتا۔ شاید اب اسے احساس ہوا تھا کہ میں بنا رہی ہوں۔ تب میں نے کہا "خیر جھنگو تم اپنی طرف سے خواہ کشمیر جاؤ خواہ کہیں اور مگر انھیں نہ لے جانا کہیں۔ میں تو کہتی ہوں شادی شدہ مرد کبھی کشمیر نہ جائیں ورنہ گھر کا اجڑنا لازمی ہے"۔ یہ ہنس پڑے۔ جھنگو اپنے آپ سے الجھتا چلا گیا۔

اب جھنگو کی مصروفیات اس قدر بڑھ گئیں تھیں کہ اس نے آنا کم کر دیا۔ سنا گیا کہ وہ کشمیر سے زور و شور کے ساتھ مراسلت کر رہا ہے اور خود بھی کشمیری بننے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ایک دن شاپنگ سے ہم واپس آ رہے تھے کہ راستہ میں مل گیا۔ چھٹیاں تھیں۔ میں نے پکڑ لیا۔ معلوم ہوا کہ آپ نے روزہ رکھنا چھوڑ دیا ہے۔ اس لیے نہیں رکھا اور یوں بھی ہمارے ساتھی نہیں رکھتے روزہ۔ میں اس پر بگڑی تو کہنے لگا "شکر کیجئے جو شراب نہیں پیتا"۔ میری تو سمجھ میں نہیں آیا کہ اسے آخر ہو کیا گیا۔

عید کے دن بھی دن چڑھے سوتا رہا۔ ناشتہ کے لیے میں نے اٹھایا تو الجھ پڑا۔ میں نے کہا بھیا، میری ساس خفا ہوتی ہیں کہ عید کے دن نحوست کیسی۔

"ساس آپ کی ہوں گی۔ میری تھوڑی ہیں کہ میں ان سے ڈروں، جائیے نہیں اٹھتے۔ نماز بھی نہیں پڑھیں"۔ وہ جوتوں سمیت پھر بستر پر لوٹ گیا۔ اور کہنے لگا"وقت کی پابندی یا کسی قسم کی پابندی سے مجھے نفرت ہے۔ اسی لیے تو میں ہندو ڈائننگ ہال میں کھانا کھاتا ہوں"۔ میں وہاں سے چلی آئی۔ کم بخت شادی کی پابندی قبول کرنے پر تلا ہوا تو تھا لیکن تمیز ابھی تک نہیں آئی تھی۔

بہت دیر بعد جب میں ادھر آئی تو دیکھا کہ ریڈیو سن رہا ہے اور کچھ کہہ رہا ہے۔ میں نے دیکھا تو معلوم ہوا کہ رات کی بھگوئی ہوئی کشمش ہے۔ میں نے پوچھا یہ کیا تو کہنے لگا، ہم اپنا رنگ گورا بنائیں گے۔ افوہ تو یہ ٹھاٹ ہیں۔ اس کشمیرن لڑکی کے لیے، اس گنوار کے لیے جو مرغیاں چراتی ہے۔ کم بخت کا نام بھی خدا جانے کیا ہے۔ شاداں۔۔۔۔ لہراں …

یہ اندر آتے ہوئے بولے "غم دوراں۔ کیوں جھنگو بھیا۔


اجنبی

جب بھی میں نے اپنے بچپن اور لڑکپن کو یاد کرنے کی کوشش کی، گذرے ہوئے دنوں کا کہرا آنکھوں کو دھندلا گیا۔ وہ سب کچھ جو گذرا تھا، میری اپنی زندگی کا جزو ہوتے ہوئے بھی کس قدر بھولا بسرا، گم شدہ، بلکہ مردہ لگتا تھا۔ گویا ہم زندہ رہتے ہوئے بھی لمحہ بہ لمحہ مرتے رہتے ہیں۔ بعض لوگوں کے لیے یہ گم شدہ دن کتنے زندہ ہوتے ہیں۔ کیوں اور کیسے۔ میرا خیال ہے وہ لوگ آموختہ کی طرح روزانہ ہر لمحہ سب کچھ دہراتے رہتے ہیں۔ لیکن آموختہ کے لیے یا تو اتنی فرصت چاہئیے کہ آپ اطمینان سے بیٹھے عمر گذشتہ کی کتاب کے ایک ایک ورق اور ایک ایک سطر کو بار بار دہراتے رہیں یا پھر وہ سب کچھ اتنا عزیز اور دل خوش کن ہو کہ آپ اس یاد کے الاؤ سے گرمی حیات حاصل کر سکیں۔ میری زندگی میں تو دونوں ہی باتیں مفقود ہیں۔

فرصت کا میری بھاگ دوڑ کی زندگی میں وجود کہاں۔ روز کنواں کھودنا اور روز پیاس بجھانا اور پھر یہ عمر گذشتہ کی کتاب آغاز سے ہی کٹی پھٹی، غلطیوں سے بھری پڑی ہے۔ جس میں نہ جب راحت تھی نہ اب کوئی خوشی۔ محرومی، تنگی، بد حالی کے اس دور میں بھی اندھیری رات میں اڑتے جگنوؤں کی طرح کچھ روشن لمحے ضرور ہیں۔ وہی عمر بھر میرا پیچھا کرتے رہے۔ مجھے بلاتے اور اپنی طرف راغب کرتے رہے، اور میں اسکول سے بھاگے ہوئے لڑکے کی طرح انھیں پکڑنے کی کوشش میں اندھیرے میں اِدھر اُدھر لپکتا بھٹکتا رہا۔ وہ کبھی میرے ہاتھ تو نہیں آئے مگر ان کو پانے کی آرزو کبھی کم بھی نہیں ہوئی۔

اس لیے جینے کی بھاگ دوڑ میں ذرا دم لینے کی مہلت ملی تو میں نے آئینہ دیکھا۔ یوں تو روز آئینہ دیکھتا رہا ہوں لیکن کبھی خیال بھی نہیں کیا کہ بیتے وقت کے دھارے نے عمر رفتہ کے کتنے ان مٹ نشان چہرے پر چھوڑے ہیں۔ اس وقت پہلی فرصت میں آئینہ دیکھنے کی بات ہی کچھ اور تھی اور جب آئینے میں اپنی شکل نظر آئی تو دل کو دھکا سا لگا۔ کھلنڈرا، معصوم،ہر آفت کو ہنس ہنس کر جھیلنے والا کہیں گم ہو چکا تھا۔ اس آئینے میں سے جو مجھے جھانک رہا تھا، وہ تو کسی گذری ہوئی جوانی کا غم زدہ چہرہ تھا۔ اور تب مجھے اچانک احساس ہوا کہ مجھے اپنی بچپن کی ساتھی یاسمین کو ڈھونڈ نکالنا ہے۔ اسی کی یاد تو تھی جو غم سے بوجھل زندگی کے اندھیرے میں جگنو کی طرح میری آنکھوں میں جھلملاتی رہی۔ مگر اسے کیسے ڈھونڈوں کہاں ڈھونڈوں.

بچپن میں ہم جہاں رہتے تھے تو ایک ہی گلی میں ہم دونوں کے گھر تھے۔ یا زیادہ بہتر ہو گا اگر یہ کہوں کہ سارے گلی محلے میں ہم دونوں کے گھر گویا برابر والوں کے تھے۔ یاسمین کے ابّا معاشی طور پر خوش حال، ملازم سرکار تھے تو ہم بھی چھوٹی موٹی زمین داری کے مالک اور ساتھ ساتھ میرے ابا نے تجارت کا بھی کچھ سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ میں اپنے گھر میں اکیلا لڑکا تھا۔ مجھ سے بڑی دو بہنیں تھیں۔ یاسمین کو جنم دیتے ہی اس کی ماں کا انتقال ہو چکا تھا۔ اسی لیے اس کا سب سے زیادہ لاڈ پیار ہوتا۔ بہن بھائی سب اس پر فدا تھے اور اس کے ابا تو گویا اس پر جان دیتے تھے۔ حالاں کہ ان کے ابا تو ایسے تھے کہ گھر میں ان کی آواز سے بچے سہمے رہتے تھے اور باہر گلی اور محلے کے سب بچوں کا ان کو دیکھنے سے دم نکلتا تھا۔ اونچے پورے، لحیم شحیم آدمی۔ آواز بھی گونج گرج والی۔ شائد جنگلات کے محکمہ میں ملازم تھے۔ کندھے سے دو نالی بندوق لٹکائے، فوجی جوتے پہنے آتے تو گلی میں سناٹا چھا جاتا۔ صرف ان کے جوتوں کی آواز دھمکتی رہتی۔ مہینے میں بیس پچیس دن تو ان کے گھر سے باہر ہی گذرتے مگر پانچ سات روز ہر مہینے گھر پر ضرور رہتے۔ لوگ کہتے تھے کہ پہلے مہینوں ان کی صورت نظر نہ آتی تھی مگر یاسمین کی ماں کی موت نے ان پر لازم کر دیا تھا کہ ہر مہینہ گھر کا چکر ضرور لگائیں۔

وہ جب گھر ہوتے یاسمین کی چاندی ہوتی۔ ہر وقت سائے کی طرح ساتھ ساتھ لگی رہتی سب بھائی بہنوں کی جھوٹی سچی شکایتیں کرتی اور ابّا سے انھیں ڈانٹ کھلوا کر تالیاں بجاتی۔ ملازم اسے خوش رکھتے، انھیں انعام ملتا۔ جو نا خوش کرتا اس کی پٹائی ہوتی۔ محلے کے لڑکوں کی بھی کم بختی ہوتی۔ ایک ایک کے کان کھینچواتی۔


محلے کے ہر گھر کے آنگن میں آم، امرود یا جامن کے پیڑ لگے تھے۔ بڑے لڑکے تو پڑھنے یا کام کرنے جاتے مگر چھوٹے لڑکوں کی پلٹن دن دن بھر ان پیڑوں پر چڑھ کر ادھم مچایا کرتی۔ گھر کے لوگ تنگ تھے مگر یہ کم بخت کب کسی کی سنتے تھے۔ لڑکیاں جب پیڑوں پر چڑھنے کی کوشش کرتیں تو ان کی مائیں چٹیا پکڑ کر گھسیٹ لیتیں۔ البتہ یا سمین کی چٹیا پکڑ کر گھسیٹنے والا کوئی نہ تھا۔ وہ بندریا کی طرح پیڑوں سے لٹکتی رہتی۔ وہ ہر ایک کی چغلی کھاتی تھی۔ اس لیے کوئی لڑکا اس سے خوش نہ تھا۔ سب اسے دھتکارتے۔ وہ بھی خوب خوب بدلہ لیا کرتی، لیکن اسے پیڑوں کی پھننگ پر چڑھنا نہ آتا تھا۔ اس لیے جب پیڑوں کی نچلی شاخیں پھلوں سے خالی ہو جاتیں تو اوپر چڑھنے والوں سے دوستی گانٹھنی ضروری تھی۔ اس وقت یا سمین کو منہ لگانے کوئی تیار نہ ہوتا تھا۔ جو لڑکیاں دوڑ دوڑ کر لڑکوں کے کام کرتیں، انھیں پانی پلاتیں، پتنگ اڑاتے وقت ان کی چرخ سنبھالتیں اور کیریاں کھانے کے لیے گھر سے نمک مرچ چرا کر لاتیں، ان بے چاری لڑکیوں کی طرف کچھ پھل پھینک دیے جاتے، مگر یا سمین کوتو سب نک چڑھی بلی کہتے تھے۔ جو بات بے بات پنجہ مارا کرتی۔ پھر کس کو کیا غرض کہ اسے پھل ملے کہ نہیں۔ اس کے دونوں بھائی بہت بڑے تھے اور کالج جاتے تھے۔ دونوں بہنیں پردے میں بٹھا دی گئی تھیں۔ اس لیے یاسمین کو سب لڑائیاں اکیلے ہی لڑنی پڑتیں۔ مجھے بے بسی کے وقت اس کی جھنجلائی ہوئی صورت پر پیار آتا۔ مگر وہ بھی بس ایک تھی کہ سمجھوتہ کرنے پر تیار ہی نہ ہوتی۔ اس لیے بس بپھری ہوئی ادھر ادھر اکیلی ہی ڈولا کرتی اور ابا کے آنے کے بعد چھوٹی سچی شکایتیں کر کے پٹانے یا ڈانٹ پلانے کی دھمکی دیتی۔

مگر مجھے کیوں اس پر اس قدر پیار آتا تھا مجھے نہیں معلوم۔ اکثر لڑکے اس بات پر میری مرمت کرتے کہ اس بلی کو کیوں پالتا ہے۔ اسے امرود یا جامن نہ ملیں تو ہمیں کیا۔ وہ کون ہماری بات سنتی ہے آخ تھو، چغل خور، اگر اب کی بار تو نے اسے امرود دئیے تو یاد رکھنا۔ مگر میں اس دھمکی کے باوجود اچھے اچھے پھل چھانٹ کر دیتا، اپنی جیبوں میں سب کی نظر بچا کر اس کا حصہ رکھ چھوڑتا اور جب وہ جھپٹ لیتی تو بھول کر بھی شکریہ ادا نہ کرتی۔ امرود یا دوسرے پھل ملنے تک تو بھیگی بلی بنی، بڑی بڑی حیران آنکھوں سے مجھے تکتی رہتی اور جوں ہی حصہ ملتا، بھاگ کھڑی ہوتی اور غرانے لگتی۔ میں لاکھ کہتا اچھا ٹھیر جا۔ آئندہ سے تجھے کچھ دیا ہو تو یاد رکھنا۔ اور وہ میرا منہ چڑا کر بھاگ جاتی۔

کچھ دن بعد تو ہماری دنیا ہی بدل گئی۔ پہلے بھی گھر کا حال ٹھیک نہ تھا۔ تنگی ترشی سے ہی بسر ہوتی تھی۔ مگر سفید پوشی نباہے جا رہے تھے۔ ابا کو تجارت میں گھاٹا ہوا۔ پھر وہ چل بسے۔ تھوڑی بہت زمین تھی، وہ رہن ہو گئی اور قرضہ کا بار بڑھنے لگا۔ ابا کی موت کے بعد تو جیسے ہر طرف سناٹا تھا۔ اچانک میں ایک کھلنڈرے لڑکے کی بجائے اپنی دو بہنوں کا سرپرست اور بیوہ ماں کا کفیل بنا دیا گیا۔ میرا ناآسودہ بچپن لڑکپن سے شوخی سے پینگ بڑھا نے بھی نہ پایا تھا کہ مجھے ایک جہاں دیدہ آدمی کی طرح سنجید گی سے زندگی کا بار اٹھانا پڑا۔

اس کے بعد کئی سال جیسے مد ہوشی میں گزرے۔ گھر بیچا،بہنوں کی شادیاں کرنی تھیں۔ اپنی ادھوری تعلیم کو کسی منزل پر پہنچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتا رہا۔ ٹیوشن کرتا، دکانوں پر چھوٹا موٹا حساب کتاب دیکھتا، کسی اخبار میں ترجمہ کا کام مل گیا تو وہ کر لیتا۔ پہلے ایک ماموں پھر دوسرے ماموں نے سہارا دیا۔ مگر رہی کفالت تو مجھے خود کرنی تھی۔ چند دن ہر ایک کے پاس گزارنے کے بعد میں نے اتنی دنیا دیکھ لی کہ جی بھر گیا۔ ماں کو اپنے آبائی دیہات پہنچا کر میں نے بمبئی کا راستہ لیا۔ اتنی ٹھوکریں کھا کر بمبئی پہنچا تو میں سترہ سال کا تھا۔ مگر نوجوانی کی امنگ گم تھی۔ بمبئی میں زندگی کو ہر رنگ میں دیکھا۔ فٹ پاتھ پرسویا، ہوٹلوں میں پیالیاں دھوئیں،خونچہ لگایا مگر ہر مہینے پابندی سے ماں کو خرچ بھیجتا رہا۔ کئی سال کی کشمکش و کشاکش کے بعد اک فرم میں مستقل نوکری مل گئی۔ میں نے ماں کو پاس بلا لیا۔ اب میرے پاس رہنے کو فلیٹ تھا،پہننے کو سوٹ، اور آمدنی اتنی تھی کہ فراغت سے دو ماں بیٹے زندگی گزار کر کچھ مستقبل کی بابت بھی سوچ سکیں۔ تبھی تو میں نے آئینہ دیکھا۔ مگر یہ تو بدلا چہرہ تھا۔

مگر ان تمام دنوں میں کبھی کبھی امرود کے پیڑے سے لٹکی یا سمین کا خیال آتا اور مجھے بے چین کر دیتا۔ وہ کبھی پتنگ اڑاتی ہوئی، کبھی ابا کی گود میں بیٹھی چغلیاں کھاتی ہوئی اور کبھی منہ چڑھا تی ہوئی میرے آس پاس ہی رہی۔ میں ہنسنا بھول چکا تھا،دوڑنا بھول گیا تھا۔ میں نے کہا نا وہ ساری زندگی اندھیرے میں گم ہو گئی تھی۔ مگر یا سمین کی مختلف شکلیں یاد کے جگنو بن کر اس اندھیرے میں مجھے للچاتی رہیں۔ لیکن جب کبھی میں نے اس بارے میں زیادہ کچھ سوچنا چاہا تو حالات نے دماغ کو ماوف کر دیا۔


ادھر ماں مسلسل بہو کے لیے اصرار کر رہی تھیں۔ بمبئی جیسے شہر میں دل بہلانے کو لڑکیاں بہت مل جاتی ہیں لیکن وہ جسے میری ماں بہو سمجھے یہاں کہاں؟ اپنے رشتہ داروں اور جان پہچان والوں کی بیٹوں کا تذکرہ کرتیں۔ میرے بھلا دینے والے رشتہ داروں کو بھی میری یاد بے قرار کرنے لگی۔ حتیٰ کہ میرے دونوں ماموں بھی جن کے گھر میں میرے لیے جگہ نہ تھی وہ باری باری سے آ کر ماں سے مل گئے اور انھوں نے ازراہ کرم اپنی اپنی بیٹی مجھ ناچیز سے بیاہ دینے کی بات چھیڑی۔ لیکن میرے ذہن کے گوشوں میں تو یادوں کے جگنو چمک رہے تھے۔

میں نے اپنے پرانے شہر کا ایک چکر لگایا۔ گلی کی گلی بدل گئی تھی۔ حالات نے لوگوں کو بہت بدل دیا تھا۔ کھوج کرنے سے پتہ چلا کہ یاسمین کے دونوں بھائی ترک وطن کرگئے۔ دونوں بہنیں بھی بیاہ کر دور دیس چلی گئیں۔ یاسمین کے ابا اسے لے کر بنگلور چلے گئے،جہاں ان کے کچھ عزیز جابسے تھے۔ یا سمین لکھ پڑھ گئی تھی اور اور ابا اس کا رشتہ اپنے انھیں عزیزوں میں کرنا چاہتے تھے۔

آخر میں نے فرصت نکال ہی لی۔ بمبئی میں پڑوس ہی میں کچھ جنوبی ہند والے بھی تھے۔ بنگلور میں انھیں میں سے ایک کی بہن رہتی تھی۔ میں چل پڑا۔ ایک موہوم امید پر میں یاسمین کو ڈھونڈنے چلا تھا۔ میرے پڑوسی کی بہن سے ادھر اُدھر کی باتوں میں میں نے ذکر کیا۔ بنگلور شہر میں باہر والے بہت ہیں لیکن میرے شہر کے لوگ کم کم ہی ہوں گے۔ اس لیے میں نے یا سمین کے ابا کا تذکرہ کیا اور یاسمین کا بھی۔ بولیں ارے انہیں تو میں خوب جانتی ہوں۔ ان کے ابا تو گزر گئے۔ یاسمین کی شادی ہوئے زمانہ ہوا۔ دو بچے ہیں،چلئے میں انھیں آپ سے ملا دوں۔

میری سمجھ میں نہ آیا کہ یہ سب سن کریاسمین سے ملنا چاہیے یا نہیں۔ لیکن سوچا جب یہاں تک آیا ہوں تو ایک نظر دیکھ جاؤں۔ پھر ساری یادوں کو دل سے محو کر کے اپنی زندگی میں کسی اور کو بسالوں۔ اس لیے میں ان بہن کو لیے یاسمین کے گھر جا پہنچا۔

گھر پہنچا تو دیکھا باہر کے صحن میں امرود کے پیڑ پر ایک ننھی منی لڑکی نیچے کھڑے لڑکے کا منہ چڑھا رہی ہے۔ ارے یہ تو یا سمین ہی تھی، ہو بہو یاسمین۔ مگر نہیں، یہ وہ کیسے ہو سکتی ہے۔ میں نے آواز دی بیٹا تم یاسمین کی بیٹی ہونا۔ تو وہ بالکل یاسمین کے سے غراتے لہجے میں بولی"ہوں پر تمھیں کیا"؟
میری ساتھی خاتون نے کہا،یہ تمہاری ممی کے رشتہ دار ہیں۔ ملنے آئے ہیں جاؤ ان سے کہہ آؤ۔

وہ لپک کر پیڑ سے اترنے لگی تو میں نے اسے باہوں میں جھیل لیا۔ اسے چوما اور بولا جاؤ گڑیا۔ کہو وہ امرود والے آئے ہیں۔ وہ اندر گئی اور اپنے ابا کو ساتھ لے آئی۔ میں اپنا تعارف کیسے کراؤں۔ پھر بولا کئی برس پہلے بچپن میں ہم ہمسائے تھے۔ میری بہنیں یا سمین کے ساتھ کی کھیلی ہوئی ہیں۔

وہ صاحب اندر لے گئے، بٹھایا،بڑی جرح کرتے رہے۔ کیسے آنا ہوا کیا کام ہے۔ میں نے کہا فرم کے کام سے آیاہوں۔ پچھلی بار اپنے شہر گیا تھا تو معلوم ہوا کہ یا سمین کے ابا گزر گئے۔ سوچا یاسمین کو پرُسہ دے آؤں۔ بہت دیر بعد یا سمین اندر سے نکلی۔ چائے کی ٹرے لیے اور چائے بنانے لگی۔ وہ کتنی بدل گئی تھی۔ موٹی بھدی سی عورت جس میں پھرتی اور چہل کا نام نہ تھا۔ زندگی سے مطمئن سپاٹ چہرے والی۔ وہ پہلے تو اجنبی آنکھوں سے مجھے دیکھتی رہی پھر بولی. آپ لوگ شاید میرے بچپن ہی میں محلہ چھوڑ گئے تھے۔ ابا بھی نہیں رہے کہ آپ کو پہچانتے۔ مجھے تو آپ کا نام بھی یا د نہیں۔

اور وہ سرجھکا کر پیالی میں چائے انڈیلنے لگی۔ بے تعلق اور اجنبی۔


چھوٹم جان

چھوٹی آپا۔ آداب۔ اس دفعہ خط لکھنے میں تم نے بڑی دیر لگا دی۔ بھئی یہ تو سوچا ہوتا کہ الطاف پر آج کل کیا گزر رہی ہو گی۔ مجھے تمہارے سب عذر قبول ہیں کہ بچے ستاتے ہیں، آیا نکل گئی، بھائی صاحب کی طبیعت ٹھیک نہیں،نوکر نہیں ملتے،گھر کا کام بہت بڑھ گیا ہے۔ یہ سب کچھ سہی، لیکن اتنا تو خیال کیجیے کہ میں روز آپ کے خط کی راہ دیکھا کرتا ہوں۔ یوں پڑھتا لکھتا ہوں کھاتا پیتا ہوں کھیل تفریح بھی جاری ہے۔ لیکن سچ پوچھو تو کان ڈاکیے کی آواز پر لگے رہتے ہیں۔ روز اس سے پوچھتا ہوں کیوں بھئی میرا کوئی خط ہے۔ وہ بھی ہنستا ہو گا کہ الطاف بابو کے پاس اتنے سارے خط تو روز آنہ ہی آتے ہیں لیکن اس کے بعد بھی وہی پر امید سوال ہوتا ہے۔ کوئی اور خط؟ کیا معنی اس کے۔ وہ جانے کیا سمجھتا ہے۔ کبھی کبھی آنکھیں مچ کر مسکرانا ہے۔ گویا میں کسی پرائیوٹ خط کا انتظار کر رہا ہوں (یہ اس کی اصطلاح ہے ) پاجی کہیں کا۔ میں اس سے کچھ نہیں کہتا۔ کیوں کہ وہ کبھی سمجھ نہیں سکتا۔ صرف مایوس ہو کر میں چلا آتا ہوں۔

چھوٹم۔ کیا بتاؤں میری پوری جان جسم سے الگ ہو کر تمہارے خط کے انتظار میں لگی رہتی ہے۔ وقت پر خط نہ آئے تو آدھی جان فوراً چلی جاتی ہے،لیکن آدھی کو میں بڑی مشکل سے سنبھال کر رکھتا ہوں۔ بہت سمجھتا تا مناتا ہوں، بہلاتا ہوں پھسلاتا ہوں، وہ کسی طرح مانتی ہی نہیں۔ اس کے باوجود بھی دوسرے دن خط نہ آئے تو آپ ہی سوچ لیجئے کہ آپ کے پیارے بھائی کی جان کا کیا حال ہوتا ہو گا، سچ کہتا ہوں تو اتنا غصہ آتا ہے کہ تم سے قطعاً روٹھ جاؤں۔ ہاسٹل چھوڑ علی گڑھ یا الہ آباد چل دوں۔ تمہیں اس کی اطلاع بھی نہ دوں اور تم رو رو کر ہلکان ہو جاؤ۔ میں خواب میں بھی صورت نہ دکھاؤں،لیکن پھر خیال ہوتا ہے کہ اس طرح اپنے آپ پربھی ظلم کرنا پڑے گا۔ تم سے دور اتنی دور کیسے رہ سکوں گا۔ اس وقت تو خط کی امید بھی نہ ہو گی۔ کبھی جی چاہتا ہے پہلی ٹرین سے تمہارے پاس آ جاؤں اور خوب شکایت کروں۔ بھائی صاحب سے لڑ بیٹھوں کہ انھوں نے میری اتنی پیاری بہن کو مجھ سے چھین لیا۔ منے اور بٹیا کے کان کھینچوں، گالوں میں چٹکی لوں کہ انھوں نے تمہیں اس قدر مصروف بنا دیا کہ تمہیں اب دو حرف چین سے لکھنے کی بھی فرصت نہیں۔ سچ کہتا ہوں اگر تم یوں ہی غفلت سے کام لو گی اور صبر کو زیادہ آزماؤ گی تو ایک دن اچانک آ جاؤں گا اور رات کے اندھیرے میں جب بھائی صاحب سور ہے ہوں تمھارے بچے بھی نیند میں غافل ہوں اور سارا گھر سنسان ہو تمہیں اٹھا لاؤں گا۔ جیسے ہم بچپن میں سنا کرتے تھے کہ پریزاد شہزاد یوں کر اٹھا لے جاتے تھے۔ بس اسی طرح۔ دوسرے دن وہ لوگ حیران ہو رہے ہوں تو ہوا کریں۔ تم بچوں کے لیے رو رہی ہو تو رویا کرو۔ تمہیں لا کر یہاں ہاسٹل میں اپنے کمرے میں بند کر دوں گا۔ افوہ کاش بتاسکتا،آج کل مجھے تمہاری کس قدر ضرورت ہے چھوٹم۔ میں اس دن کو یاد کر کے افسوس کرنے لگتا ہوں جب تم مجھ سے جدا ہوئی تمھیں۔ میں نے عزیز سے عزیز دوست سے زیادہ تمہیں پیار کیا۔ اتنا پیار تو میں اماں سے بھی نہیں کرتا۔ میں نے کتنا سمجھایا کہ بھئی شادی نہ کرو۔ مگر تم کہاں مانتی تھیں۔ جھوٹ موٹ کے آنسو بہائے اور اماں نے جس سے ہاتھ پکڑا دیا اس کے ساتھ چلی گئیں اور پھر وہ آنسو وانسو سب غلط۔ نہایت خوش۔ پہلے پہلے تو اتنا دکھ ہوا مجھے تمہیں خوش دیکھ کر، لیکن جب تم برابر خط لکھنے لگیں تو میرے رنج میں کمی ہو گئی تھی۔ میں نے دل کوسمجھا لیا کہ یوں بھی ہاسٹل میں رہتا ہوں۔ اب جھوٹم سے ملنا باتیں کرنا ناممکن ہے۔ اگر وہ روزانہ خط لکھ دیا کرے تو کافی ہے کہیں بھی رہے وہ، بس مجھ سے پیار کرتی رہے۔ لیکن اب تو رونے کو جی چاہتا ہے۔ چھوٹی تم مجھ پر اس قدر ظلم مت کرو۔ میں جانتا ہوں کہ تمھارے پیار میں کمی نہیں آئی۔ مگر صرف خیال مجھے تسکین نہیں دیتا۔۔۔ تم خط لکھا کرو، دیکھو چپ سادھ کر ظلم نہ کرو۔

جب تمھارا خط آیا تو میں خاموشی کے مارے پاگل ہو گیا تھا۔ کتنے دنوں سے آنکھیں ترس گئی تھیں تمھارے قلم کی تحریر دیکھنے کرو۔ میں نے تمہارے خط کو پیار کیا۔ شیروانی کے بائیں جیب میں رکھ لیا، بار بار پڑھتا۔ میرے ساتھی مجھے بنانے لگے، وہ تمھارا خط چھین کر پڑھنے لگے۔ انھیں یقین نہ آتا تھا کہ یہ میری چھوٹی آپا کا خط ہے مگر جب انھوں نے بار بار پڑھا تو ان کی آنکھوں میں مسرت کے آنسو آ گئے۔ میں نے ان کے چہرے پر تمنا کو دیکھا۔ گویا وہ سب کہہ رہے تھے کہ کاش ایسی بہن ہماری بھی ہوتی،جوایسے شفقت بھرے خط بھیجا کرتی۔ جو ہمارے دکھوں کو بانٹتی اور ایسی لمبی چوڑی دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی دعائیں بھیجتی جو زندگی میں قدم قدم پر ہماری حفاظت کرتیں۔ چھوٹی کیا سب بھائیوں کی بہنیں ان سے پیار نہیں کرتیں جیسے تم کرتی ہو، وہ کیسی بہنیں ہو گی، مگر شاید وہ بھائی اپنی بہنوں سے پیار نہ کرتے ہوں گے، اتنا نہ چاہتے ہوں گے۔۔ سچ! میں سوچتا ہوں کس قدر بد نصیب ہیں وہ جن کی کوئی بہن نہیں "جو ان کو دعائیں دیا کرتی، جوان سے پیار کرتی انھیں انسان بناتی زندگی کی مشکلات سے جب وہ گھبرا جائیں تو اپنے دو بول سے دل بڑھاتی۔ اس سے زیادہ بد نصیبی کا تصور میں کر ہی نہیں سکتا۔


میں نے کہا نا آج کل مجھے تمہاری بہت زیادہ ضرو رت ہے۔ مجھے ہمیشہ تمہاری ضرو رت رہتی ہے۔ میں خیال ہی نہیں کر سکتا کہ تمہارے بغیر میں کہاں رہتا،کیا بنتا۔ گھر کے ایسے ماحول میں جہاں کھانا پینا اور سورہنا، یا شادی کر کے بارہ بچوں کے باپ ہو جانا زندگی کی معراج ہو، میری تعلیم کا خدا جانے کیا حشر ہوتا۔ یہ تو تم ہی تھیں جنھوں نے میرا شوق دیکھ دیکھ کر مجھے بڑھاوے دیے،میری ہمت بندھائی اور صرف تمہاری وجہ سے میں گھر سے دور اعلیٰ تعلیم کے لیے یہاں آ گیا۔ بڑے بھائی صاحب ہمیشہ ڈانتے رہے۔ منجھلے بھائی جان خفا ہوتے رہے۔ چھوٹے بھائی میاں طنز کرتے رہے مذاق اڑاتے رہے۔ کہ لو اب یہ پڑھ لکھ کر کان میں قلم لگائے گا اور منشی بنے گا۔ لوگوں کی چاکری کرتا پھرے گا۔ ارے تجھے ہمارے خاندان میں جنم لینے کو کس نے کہا تھا. پیدا ہوتا کسی جوتیاں چٹخانے والے دفتری غلام کے گھر. ان کے خیال میں ہم خاندانی قاضیوں کی جائداد اور انعام اس قدر ہے کہ ہم دس کو کھلا کر کھائیں۔ دس طالب علموں کو پڑھائیں۔ ہم کو بھلا پڑھنے لکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ ہم محتاج ہیں کہ در در پھریں۔ ہمارے لیے بس کلام پاک پڑھنا دو چار حدیث کی کتابیں دیکھ لینا اور نکاح کا خطبہ سیکھ لینا کافی ہے۔ قاضی ہونا ہی کافی ہے۔ جبہ پہن دستار لگا کر غلط خطبہ بھی پڑھ جاوتو کوئی ٹوکنے کی ہمت نہیں کرتا کہ قاضی صاحب پیرو مرشد بگڑ جائیں تو عمر بھر کو ان کا نکاح نہ ہو سکے۔ بھلا دوسرے قاضیوں کی مجال بھی ہے کہ ہمارے علاقے میں قدم رکھ سکیں۔ تو پڑھنے میں جان کھپائے ہماری بلا۔ پورے علاقے میں کون ہے جو ہمارے آگے ہاتھ نہیں جوڑتا۔ اب بھی مہتاب پٹیل کو دیکھو بہت اتراتا تھا اپنی دولت پر بڑا گھمنڈ تھا۔ بیٹے کی شادی ہونے لگی تو کیسا بدلہ لیا ہے۔ پہلے تو فجر کے بعد آئی ہوئی برات گیارہ بجے تک ٹاپتی رہی، اس کے بعد قاضی صاحب مجلس میں پہنچے تو کہہ دیا کہ نکاح ناجائز، کیوں کہ دولہا نے سونے کا کنٹھا اور کڑے پہن رکھے ہیں۔ حدیث سے سونا پہننا حرام ہے،اس لیے نکاح نہیں ہو سکتا۔ اب بیٹا مہتاب کی آنکھیں کھلیں۔ پٹیلی دھیری رہ گئی۔ زیور اتارتے ہیں تو ناک کٹ جاتی ہے۔ پھر دلہن کی ماں کا اصرار ہے کہ زرین شال پٹکے میں ہو اور ہاتھ گلے میں چار سیر سونا پہنے. ایک گھنٹے تک ہاتھ جوڑے، ناک رگڑی اور اپنی پگڑی اتار کے قدموں میں رکھ دی"تب کہیں نکاح ہوا۔ ارے یہی کیا جب تک ہم فیصلہ نہ کریں کسی قسم کا کوئی مقدمہ ختم نہیں ہو پاتا۔ سب ہی کی روح کانپتی ہے تعلقدار تحصیلدار تک ہاتھ جوڑتے ہیں۔ عیدین کو گھر پر حاضری دیتے ہیں،اور مولانا کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ جہاں چوں بھی کی فوراً ان کے کسی عمل کو خلاف شرع قرار دے دیا۔ پھر تو ہمارے علاقے کے مومن جلاہے ہی انھیں نکال باہر کرنے کو کافی ہیں۔ اور ہمارے گھر کا بچہ یوں پڑھنے کی خاطر مارا مارا پھرے۔

تم ہنستی ہو گی مگر سچ کہو میں کچھ غلط کہتا ہوں۔ ہمارے گھر میں روز یہی ہوتا ہے نا۔ مجھے علم و عمل کی دُعا ہی نہیں دی۔ ہر عید بقرعید پر جو دُعا ملی اس کے الفاظ یہی تھے۔ "جیو۔ خوش ہو۔ چاند سی دلہن بیاہ لاؤ۔ اکیس بیٹوں کے باپ بنو۔ اور نسل چلاؤ۔ پوتے پڑ پوتوں کو کھلاؤ"۔ واہ زندگی کا تصور کیا خوب ہے۔ معلوم نہیں کیوں بچپن ہی سے میں ان دُعاؤں کو سن سن کر جل جایا کرتا۔ تم بھی تو کبھی چھیڑا کرتی تھیں نا۔۔ مجھے خود بڑی حیرت ہے کہ آخر میں بھی اپنے تینوں بھائیوں اور خاندان والوں کی طرح کاہل، سست، مغرور اور خود پسند کیوں نہیں۔ کیوں دو خاندانوں میں پھوٹ ڈال کر اپنا رعب اور وقار قائم نہیں کرتا کیوں سماع کے بہانے ناچ رنگ کی محفل نہیں کرتا۔ اور اللہ ہو کا نعرہ لگاتا اور دل میں خوش ہوتا کہ چلو اس بہانے اچھی اچھی عورتیں نظر آ گئیں۔

معلوم نہیں کیوں بچپن ہی سے مجھے ان چیزوں سے نفرت رہی۔ مگر جب میرے مقاصد کی ہر طرف سے مخالفت ہوئی تو میں نے ہمت ہار دی تھی۔ صرف تمہارے کہنے سے میں یہاں تک پہنچا ہوں اور شاید اور آگے بھی بڑھ سکوں۔ تم نے اور تمہاری دعاؤں نے مجھے میرے مقصد سے قریب کیا۔ مجھے احساس لایا کہ زندگی کے اس وسیع میدان میں میں اکیلا نہیں۔ تم میرے ساتھ ہو۔ مجھے جب پیسوں کی ضرورت ہوتی اور بھائی مخالفت کرتے تو تم اماں سے کہہ سن کر بھجوایا کرتیں۔ ایک دفعہ تم نے فیس دینے کے لیے اپنے ہاتھ کی چوڑیاں اور کان کے بندے اتار کر مجھے دیے تھے اور کہہ دیا تھا کہ فلاں کی شادی میں تم نے کہیں رکھے تھے چوری گئے۔ کیا میں اسے بھول سکتا ہوں۔ ہر امتحان میں جب میں امتیاز سے کامیاب ہوتا توسب مذاق اڑاتے لیکن صرف تم تعریف کرتیں اور میرا سر اونچا ہو جاتا۔

لیکن چھوٹم جان۔ آج کل میں سخت مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔ میں سمجھتا تھا شاید تمہارے پاس بھی میری شکایت ہو گی۔ مگر تم نے کچھ نہیں لکھا۔ شاید ان لوگوں نے یہ سمجھا ہو کہ ہمیشہ کی طرح کہیں تم اس دفعہ بھی میری طرفداری نہ کربیٹھو۔ تم اپنے اس بھائی کو اچھی طرح جانتی ہونا۔ عقل حیران ہے، کیا کروں۔ بڑے بھائی صاحب نے ناخلف کہا۔ بی اماں نے دودھ نہ بخشنے کی دھمکی دی، مجھے بھائی جان تو مجھے ننگ خاندان کہتے ہیں اور چھوٹے بھائی میاں مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں، ہم نہ کہتے تھے کالج میں پڑھ کر شہر میں رہ کر صاحب زادے ضرور بگڑ جائیں گے۔ آخر وہی ہوا،جس کا اندیشہ تھا۔ بھابھیوں نے اعلان کر دیا ہے کہ مجھ جیسے آزاد سے پردہ کریں گی۔ اور تو اور خورشید نے خط لکھا ہے کہ اگر میں اس سے شادی نہ کروں تو سچ مچ زہرکھالے گی۔


سب یہ الزام دیتے ہیں کہ میں خورشید سے اکثر ملتا رہتا تھا۔ بقول بڑی ا ٓپا جان میں نے معصوم بھولی بھالی لڑکی کو پھنسا یا۔ بقول بھابی اماں اسے محبت بھرے خطوط لکھے اور بقول بھابی جان اسے شہرکے سبزباغ دکھائے۔ اور چھوٹی دلہن بھابی نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ایسے کام گھر کے باہر ہوں تو کوئی بات نہیں مگر خاندان کی عزت تو نہیں بگاڑنا چاہیے۔ سچ کہتا ہوں چھوٹی میں بالکل بے قصور ہوں۔ تمھیں تو معلوم ہے تم دیکھ چکی ہو اور میں تمہیں با رہا لکھ چکاہوں کہ خورشید کو میں مثل اپنی بہنوں کے چاہتا ہوں۔ میں سب سے چھوٹا ہوں اس لیے چھوٹے بچوں سے مجھے دلچسپی رہی۔ میری تو کوئی چھوٹی بہن نہیں۔ اس لیے خالہ بی کے سب بچوں کو میں نے اپنے ننھے بھائی بہنوں کی طرح سمجھا اور جب میں نے دیکھا کہ خورشید میں واقعی ذہانت اور صلاحیت ہے،وہ پڑھنا چاہتی ہے تو میں نے اس کی

تعلیم میں دلچسپی لی۔ اس کی خاطر سارے خاندان سے لڑائی مول لی۔ اور خالہ بی کے ہاتھ جوڑ کر اسے اسکول میں شریک کروایا۔ اس کے لیے یہاں سے کتابیں بھیجتا رہا۔ جب کبھی چھٹیوں میں گھر گیا اور اس نے اپنی تعلیمی مشکلات کا ذکر کیا تومیں نے ریاضی اور انگلش میں اسے مدد دی۔ آج کل سب کہتے ہیں کہ میں انگریزی میں اس سے اظہار محبت کرتا رہا۔ خدا گواہ ہے،میں اسے انگریزی بولنا سکھایا کرتا تھا،اور یہاں آ کر بھی جب تمھیں اور بڑی آپا کی بچیوں کو خط لکھتا تو اسے بھی خط لکھتا۔ اس کے پڑھنے لکھنے سے مجھے دلچسپی تھی۔ اس خط میں یہی تاکید ہوتی کہ دل لگا کر پڑھا کرو۔ انگریزی لکھنے کی عشق کرو۔ خط درست کرو۔ چھوٹی چھوٹی انگریزی کہانیاں پڑھا کرو۔ انگریزی میں اپنی ڈائری لکھو، ہر خط میں مجھے لکھ بھیجو کہ تم نے کتنے نئے الفاظ لکھے اور ان کا استعمال کیا۔ اب بتاؤ اس میں وہ خاص محبت والی یا بہکانے والی بات کیا تھی۔ جب کبھی وہ مایوسی کااظہار کرتی یا لکھتی کہ گھر والے مسلسل مخالفت کرتے ہیں تو میں اسکا دل بڑھایا کرتا۔ تعریف کرتا۔ لکھتا تم بڑی اچھی بچی ہو، ہمت نہ ہارو، میری طرف دیکھو میں نے کس طرح سب مخالفتوں کو نیچا دکھایا۔ کبھی کبھی کوئی ایک آدھ کتاب، قلم دوات یا پیڈ تحفتاً بھیج دیتا تاکہ اس کا دل بڑھے، لیکن الزام یہ لگایا گیا کہ وہ سب"تحفہ ہائے محبت" تھے۔ سچ کہتا ہوں اس لفظ سے اس قدر کبھی نفرت نہیں ہوئی تھی، جو اس معاملہ میں اسے عجیب و غریب طریقہ پر استعمال ہوتا ہوا دیکھ کر ہوئی۔

وہ تو سب کچھ تھا مگر خورشید صاحب کا دماغ بھی خراب ہو گیا ہے۔ جانے وہ بھی کیا کیا سمجھتی تھی۔ یہاں میرے فرشتوں کو بھی خبر نہیں کہ اس نے میرے الفاظ اور سلوک کے کیا معنی پہنائے۔ کب مجھے اپنے دل کا دیوتا بنا لیا۔ میں تو بدستور اس سے برادرانہ شفقت کا سلوک کرتا رہا۔ قسم ہے اس کے سوا کوئی خیال، کسی قسم کا کبھی پیدا ہی نہیں ہوا۔

جب گزشتہ دفعہ میں وہاں سے آ رہا تھا تو خورشید نے ذکر کیا کہ ہائی اسکول کامیاب کرنے کے بعد اس کی خواہش ہے کہ وہ کالج میں پڑھے، لیکن یہ اس کے لیے ناممکن ہے۔ کیوں کہ کوئی اسے شہر نہ بھیجے گا اور ہاسٹل میں نہ رہنے دے گا۔ یوں بھی کالج میں پڑھنے والی اور ہاسٹل میں رہنے والی سب لڑکیاں ہمارے گھر والوں کے نزدیک دوزخی چڑیلیں ہیں۔ میں نے انتہائی سادگی سے اور اس کے شوق سے متاثر ہو کر کہا تھا کہ تم دل لگا کر پڑھو، میں اس کا انتظام کر دوں گا۔ بے فکر رہو میں اپنی تعلیم اس وقت تک ختم کر لوں گا۔ میرا ارادہ شہر ہی میں رہنے کا ہے. وہیں مکان لے لیں گے۔ اماں کو بلا لیں گے۔ میں ہاسٹل چھوڑ دوں گا۔ تم بھی آ جاتا اور ہم سب مل کر رہیں گے۔ تم جہاں تک پڑھنا چاہو پڑھو۔ جب تک میں زندہ ہوں میں تمہارا ساتھ دوں گا، وہ خوش ہو گئی۔

جب خالہ بی نے میرے سامنے خورشید کی شادی کا مسئلہ چھیڑا تو میں نے سختی سے مخالفت کی اور کہا اس کی عمر ہی کیا ہے جو آپ کو فکر ہو گئی۔ پڑھنے دیجئے۔ اس کی شادی کی غیر ضروری فکر چھوڑ دیجئے۔ خالہ بی نے کہا یہی سال اچھے پیاموں کے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد جب ٹھکرانا شروع کروتو نہیں آتے۔ میں نے کہا اس کا ذمہ میں لے لیتا ہوں آپ بے فکر رہیے۔ وقت پر آپ کو داماد مل جائے گا۔ یہ سب کہہ سن کر میں تو یہاں آ گیا۔ وہاں خدا جانے کیا ہوا کہ خالہ بی نے خورشید کے پیاموں کو یہ کہہ کر نہایت فراخ دلی سے رد کرنا شروع کیا کہ اس کی بات پکی ہو گئی ہے۔ خورشید کے خط زیادہ آنے لگے اس میں اکثر لکھا رہتا کہ آپ بار بار یا د آتے ہیں۔ میں بھی جواب دیتا کہ ہاں تم بھی اکثر یاد آتی ہو۔


اس سال میں اس قدر مصروف رہا کہ گھر جانے کا اتفاق ہی نہیں ہوا۔ اور جب میں امتحان کے بعد کہیں تفریح کے لیے باہر جانے کا ارادہ کر رہا تھا، گھر سے خط ملا کہ تمہاری شادی انہیں چھٹیوں میں ہونے والی ہے۔ کہیں مت جاؤ سیدھے گھر آؤ۔ آتے ہوئے کچھ اپنا پسندیدہ کپڑا بھی خرید لانا۔ خوب! شادی میری اور مقرر کرنے والے دوسرے۔ میں نے انکار میں خط لکھ دیا ہے کہ مجھے ابھی اس کی فکر نہیں۔ جب تک میں اپنے پیروں پر آپ کھڑا نہ ہو جاؤں اور اپنے خاندان کا ذمہ دار بننے کی صلاحیت مجھ میں پیدا نہ ہو جائے میں شادی نہیں کروں گا۔ اور میں جب بھی کروں گا اپنی مرضی سے کروں گا۔ یہ میری اپنی زندگی کا سوال ہے۔ یہاں مجھے مشورہ کی ضرورت نہیں۔ میں جانتا ہوں کہ میرا انتخاب میرے لیے موزوں ہو گا۔

آپ کہیں گی میں نے بہت زیادہ روشن خیالی برتی۔ لیکن آپ ہی بتائیے اور کیا لکھتا۔ وہاں سے جواب آپا کہ شادی تو تمہاری مرضی سے ہو رہی ہے۔ تمہاری پسند کی لڑکی خورشید سے۔ خالہ بی کہہ رہی ہیں کہ بیٹی کو ہم کب تک بٹھائے رکھیں۔ خاندان میں سب نام رکھتے ہیں، اور روپیے کی فکر تم کیوں

کرو، خدا کے فضل سے تم اور تمہاری اولاد بے فکر اور خوش رہ سکتے ہیں۔ کھانے کی فکر تمہارے دشمن کریں۔ شادی کی عمر یہی ہے۔ ہمارے سامنے یہ مبارک کام ہو جائے تو ہم اپنے فرض سے نچنت ہو جائیں گے. وغیرہ وغیرہ

میں خط پڑھ کر اپنے آ پ ہی پر خفا ہو رہا تھا کہ بھائی میاں آ گئے۔ شاید انھیں اندیشہ تھا کہ میں کچھ شرارت نہ کروں۔ وہ مجھے زبردستی گھر لے گئے۔ وہاں ایک عجیب ہنگامہ برپا تھا۔ باقاعدہ شادی کی تیار ی شروع ہو گئی تھی۔ بڑی آپا جان کا خط آیا کہ میاں پابندیوں سے کب تک بچو گے۔ اب دیکھوں گی کیسے گھر نہیں رہتے۔ شہر کیسے بھاگ بھاگ جاتے ہو۔ دلہن آ جائے گی توتم خود ہی ٹھیک ہو جاؤ گے۔ دیکھو تمہاری پہلی بیٹی پر میرے منے کا حق ہے۔ تمہارے پاس بھی شاید خط جانے والا تھا بلاوے کا۔ بھائی میاں جانے والے تھے تمہیں لینے کے لیے۔ اور ایک مزے کی بات سنو۔ خورشید صاحبہ مجھ سے پردہ کرنے لگیں. یا مظہر العجائب۔ سب کی عقل خراب ہو گئی۔ لیکن اسے کیا ہوا۔ بہر حال جب میں نے انکار، قطعی انکار کیا تو ہر قسم کے الزامات مجھ پر لگائے گئے، بھو نچال آ گیا، کسی کو شاید اس کی امید نہ تھی۔ خالہ بی نے کہا تم نے وعدہ کیا تھا اس لیے میں نے اچھے اچھے رشتے واپس کر دیے۔ خاندان کی بات تھی اور تم بھی میرے ہی تھے۔ اس لیے میں نے پیرزادوں کا رشتہ تک لوٹا دیا۔ کہہ دیا کہ بات گھر ہی میں پکی ہو گئی۔ تم نے دھوکا دیا۔ میری بچی الگ ہلکان ہو گئی۔ جب میں نے خورشید کو ڈانٹ کر خط لکھا کہ تم سے کچھ کہنا ہے آ کر ملو۔ جواب آیا کہ آپ کا حکم کنیز کے سر آنکھوں پر،لیکن ابھی نہیں۔

سچ کہتا ہوں، خون کھول گیا۔ میں نے بھی خوب زور زور سے باتیں کیں تاکہ خورشید سن لے۔ اور کہا میں ان سے شادی پر تیار نہیں، اور میں کس اور لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ جواب آیا کہ "آپ میری طرف سے ایک نہیں ہزار کر لیجئے،لیکن کنیز کے بعد"! خدا کی قسم سامنے ہوتی تو کان کھینچ لیتا، اور سنو اپنا چوکیدار بڈھا داؤد کیا کہتا ہے،کہنے لگا چنو میاں اتنا بگڑتے کیں ہیں۔ نام نسل کے لیے تو خاندان کی چھوری سے کرنا لازم ہے۔ دل چاہے پھر اپنے دل کی کر لائے۔ یہ تو چلا آتا ہے میاں خاص خواص کا۔ الگ رکھنا۔ آپ خوش سب خوش لیکن خاندان کی صحنک کھانے کے لیے تو اپنا لہو اپنی ہڈی ہو۔ آپ ابھی بچے ہیں میاں بھولے۔ کل تو اِتّے تھے بڑے حضور مرتے وقت.

ان سب باتوں سے میں اس قدر پریشان ہو گیا کہ اس شام سب کو اپنے سے خفا چھوڑ کر یہاں آ گیا۔ یہاں سب کی دھمکیاں اور خط روز آنہ آتے ہیں۔ خورشید نے تو باقاعدہ زہر کھا لینے کا اعلان کر دیا، اور لکھا ہے کہ وہ میرے سوا کسی اور کو اپنا ساتھی بنانے کے لیے قطعاً تیار نہیں۔ وہ مجھے اپنا خصم تسلیم کر چکی ہے۔


میں سخت پریشان ہوں۔ صرف خورشید کو میں نے لکھ دیا ہے، جلدی میں فیصلہ نہ کرو۔ انتظار کرو۔ وہ بھی میں نے اس لیے لکھا کہ عجب نہیں وہ نادان لڑکی اپنی جان کھودے یا کوشش کرے۔ اور خاندان بھر میں جھگڑے پھیل جائیں۔

چھوٹم جان۔ واقعات تمہارے سامنے ہیں۔ مجھے پریشانی کی وجہ نیند نہیں آتی۔ پہلے خدا یاد آیا پھر تم۔ مجھے امید ہے کہ تم مجھے سچ سمجھو گی۔ ٹھنڈے دل سے سوچوگی اور مشورہ دو گی۔ تم مجھے

دھوکا باز، بد نظر اور لفنگا تو نہ سمجھوگی جیسے سب ہی نے سمجھا ہے۔ اور میری انسانی ہمدردیوں کو غلط معنی نہ پہناؤ گی۔ اچھا ہے تم بھائی صاحب کو کسی طرح راضی کر کے میکے آ جاؤ۔ اماں اور خالہ بی کو سمجھاؤ۔ خورشید کو اس کے بچپن سے آگاہ کرو۔ تمہیں آئے ہوئے بھی بہت دن ہو گئے۔ ایسا بھی کیا اپنے گھر کے آگے پہلے گھر کو بھول جاؤ۔ تم آ جاؤ گی تو مجھ میں بھی ہمت آ جائے گی۔ تم سے اپنے دل کا حال بیان کر کے مجھے تسکین ہو گی۔ تم ایک ہی تو میری دوست ہو"غمگسار ہو۔

میں نے ان دوچار دنوں میں خوب غور کیا کہ اگر دل میں شادی کی کوئی خواہش ہو تو خورشید سے کر لوں، لیکن میں کسی طرح اس کا تصور اپنی بیوی کی طرح نہیں کر سکتا۔ یہ ایک دن دو دن کا معاملہ نہیں کہ مروت کے مارے مردار کھالوں۔ یہ میری زندگی مستقبل اور مقاصد کا معاملہ ہے۔ میں اپنی بیوی میں جو چند باتیں دیکھنا چاہتا ہوں وہ خورشید میں نہیں ہیں۔ میں اماں کی خاطر، بھائیوں کی خاطر یا کسی اور کی خاطر اپنی اور اس کی زندگی قربان نہیں کرنا چاہتا۔ کیوں کہ یہ معاملہ آج اگر قربانی سے سدھر بھی جائے تو کل اس کے نتائج خطرناک ہوں گے۔ میں زبردستی سے گلے میں ڈالا ہوا ڈھول بجانے پر کسی طرح آمادہ نہیں۔

کبھی کبھی خیال آتا ہے خورشید کے دل کا یہ خیال اس کی زندگی تباہ نہ کر دے یا اس کا کیا یقین ہے کہ ہمارے ماحول کو دیکھتے ہوئے مجھے اپنی پسند کی لڑکی مل جائے گی۔ ابھی تک کسی سے میں نے عام فہم معنوں میں محبت بھی نہیں کی۔ آخر کیا کروں؟

مگر میں نے سوچ لیا ہے کہ اگر اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے خاندان کو بھی ترک کرنا پڑے اور پوری زندگی اپنے آپ بنانی پڑے تب بھی میں تیار ہوں لیکن خواہ مخواہ میں دوسروں کی رائے کا خود کو پا بند نہیں بنا سکتا۔ آج میں خورشید کو بھی خط لکھ رہا ہوں۔ جس میں میں نے سختی سے محاسبہ کیا اس کے عمل کا، اور لکھا ہے کہ میرے گزشتہ خطوط پڑھ کر دیکھے، کیا ان میں اس قسم کا کوئی اشارہ بھی ہے، وہ خواہ مخواہ نو عمری کی جذباتیت میں بہہ نہ جائے بلکہ عقل سے کام لے، پڑھے لکھے اور مجھے صرف اپنا مخلص بڑا بھائی سمجھے۔ ابھی تو شادی کے لیے بہت دن پڑے ہیں۔ ابھی تو اسے پڑھنا لکھنا ہے۔ اپنے شوق کو پورا کرنا ہے۔ محبت گڑیوں کا کھیل نہیں۔

چھوٹی اور کیا لکھوں۔ تمہارے خط کا منتظر رہوں گا۔ مجھے یقین ہے سب مخالف ہو جائیں گے مگر تم ساتھ دو گی۔ اس طولانی دفتر کو دیکھ کر گھبرا نہ جانا. اچھی طرح غور کرنا اور جلد جواب دینا مجھے آج ہی سے جواب کا انتظار ہے۔ بھائی صاحب کو آداب عرض ہے۔ بچوں کو دُعا۔ اور تیرے لیے

چھوٹی قدم بوسی، دیدہ بوسی، دُعا،پیار، بہت سے ایک ہزار ایک پیار۔

ہمیشہ تمہیں چاہنے والا تمہارا چھوٹا بھائی الطاف


بہت شور سُنتے تھے!

کل تک جن جاگیرداروں سے لوگ نالاں تھے آج انھیں سے اپنا رشتہ ملانے کی سرتوڑکوشش میں مرے جاتے ہیں۔ جاگیرداروں کے پاس کل بھی کیا تھا صرف نام ہی نام۔ باقی کے کھاتے میں قرض ہی قرض ہوتا تھا۔ جانے وہ کون ایک آدھ ایسا ہوتا جو کچھ جوڑ جاڑ لیتا۔ مگر ٹھاٹ زوروں کے ہوتے۔ آمدنی سے زیادہ خرچ تھا۔ لیکن اب بھی بعض لوگوں کا خیال تھا کہ ہاتھی مرے بھی تو سوا لاکھ کا۔ اس لئے ان سے رشتہ جوڑنے میں ایک فائدہ تو یہ ہے کہ نام کے ساتھ دو ڈھائی سوبرس کی نوابی روایت ہاتھ آ جائے گی جسے اپنے ماضی کے کھاتے میں شامل کر کے فخر کیا جاسکتا ہے تو دوسرے مرے ہاتھی کے ہاتھی دانت بھی ہاتھ لگیں گے۔

چنانچہ بیگم امداد علی کے اکلوتے لڑکے نے پڑھائی میں نام نکالا تو اُنہوں نے بھی اپنے پر جھاڑے اور بہو کی تلاش میں اُونچی اڑان کی سوچنے لگیں۔ آج سے دس بیس سال پہلے تک شریف لوگ بیٹیاں گھر میں بٹھا کر بڈھی کر دیتے تھے مگر اپنے منہ سے لڑکا نہیں مانگتے تھے۔ مگر اِدھر ہواایسی بدلی تھی کہ اِدھر لڑکا مارکیٹ میں آیا اور اُدھر لڑکی والوں کے فرستادے گھر کا طواف کرنے لگے۔ جہیز کی فہرست سُنائی جا رہی ہے۔ زیورات کے عدد گنوائے جا رہے ہیں۔ امارت کی داستان سرائی ہو رہی ہے پھر بیگم امداد علی کا ہیرے کا مول بیٹا لوگوں کی نظر سے اُوجھل کیسے رہتا۔ اب بے چاری کا چائے پلانے کا بجٹ بہت بڑھ گیا تھا۔ وہ بہت سوچ سمجھ کر خرچ کرنے والوں میں سے تھیں۔ تبھی تو اپنے سلیقے سے رواداروں میں شمار ہونے لگا تھا۔ نہ آبائی جائیداد تھی نہ بالائی آمدنی کی گنجائش۔ میاں کا عہدہ بڑھا تو انہوں نے ظاہر داری کا ٹھاٹھ ٹھیک ٹھاک کر لیا تھا۔ جو جانتے نہیں تھے وہ تو خاصے مرعوب رہتے۔ مگر جو جانتے تھے وہ خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ اسی لئے وہ چاہتی تھیں خاندانی امارت کم از کم بہو کے جہیز میں چلی آئے تاکہ وہ سمدھیا نے کے ماضی کو اپنے ماضی سے آمیز کر سکیں۔ اس لئے چائے پلانے اور خاطر تواضع کرنے میں وہ فراخ دلی دکھانے لگیں۔

یوں تو کئی رشتے آئے مگر جب ایک ملنے والی نے ولی نواب کی پوتی کا ذکر چھیڑا تو اُن کی سمجھ میں آیا کہ جس گھرانے سے وہ خواب میں بھی رشتہ نہیں جوڑ سکیں تھیں آج وہاں بھی قسمت آزمائی آسان ہے۔ پھر بھی انہوں نے بھولپن سے کہا،وہ ٹھہرے امیرابن امیر اُن کے ہاں رشتوں کی کیا کمی۔ بیچ والی نے لسّانی شروع کی اے بہن نوابوں کے لڑکے پہلے ہی کون سے ڈھنگ کے تھے اب نئی مشکل یہ آن پڑی ہے کہ نئی لڑکیاں امیر ابن امیر نہیں دیکھتیں،پڑھا لکھا، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور نئے فیشن کا لڑکا پسند کرتی ہیں۔ اسی لئے دیکھ نہیں رہی ہو، سارے نواب اپنی بیٹیاں، بھانجیاں اوسط طبقے کے لوگوں میں بیاہ رہے ہیں۔ پھر تم کس بات میں کم ہو۔ لڑکا باہر جا کر لکھ پڑھ گیا۔ اعلیٰ عہدہ مل گیا پھر اکلوتی اولاد۔ تم ہاں کر دو تو میں بات چھیڑوں، تمھارا نہیں وہ تو میرا بیٹا ہے،جی چاہتا ہے اونچے گھرانے میں بات چلے تاکہ اور لوگ بھی دیکھیں اور رشک کریں کہ کیا قسمت لڑی ہے۔

ظاہر میں تو بیگم امداد بات ٹالنے کی کر رہی تھیں۔ زیادہ دلچسپی لینا نہیں چاہتی تھیں تاکہ ان بیوی کو شبہ نہ ہو کہ بات سنی نہیں کہ موم ہو گئیں۔ آخر بیٹے کی ماں ہیں پھر ایسے بیٹے کی۔ مگر سچ پوچھو تو سنتے ہی وہ اس رشتے پر ریجھ گئیں۔ ایک تو اونچا خاندان اور نہایت پرانے امیر ابن امیر، دوسرے سُنا تھا دولت ابھی تک قدم چُومتی ہے۔ شادی بیاہ میں اب بھی اُس گھرانے کی عورتیں بصرہ موتی اور سّچا الماس پہنتی ہیں۔


محتاط طریقے سے اُنہوں نے بات چلائی، پہلے تو ذرا رُکاوٹ کا اظہار ہوا۔ پھر کئی ہمدم و ہمراز اپنی رسائی کا دم بھرنے لگے اور انھیں سمجھا دیا کہ وہ اگر ہاں کہہ دیں تو اپنے کو جنم جنم سراہنا۔ کوئی کہتا جوڑے گھوڑے کی تو بات ہی منہ سے نہ نکالنا ورنہ سوچیں گے ہیں نا آخر معمولی لوگ، بدک جائیں گے۔ ارے پوچھنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ میں تو کہوں،بنا پوچھے ہی وہ آپ اشرفیاں گن دیں گے۔ کوئی کہتی تانبے کے برتن اب فیشن میں نہیں رہے۔ اور وہ دینے کیوں چلے،میں نے اُن کے حمام میں چاندی کا گنگال دیکھا ہے۔ تیسری کہتیں بھئی اب تو لوگ فرج، فیٹ جیسی چیزیں دیتے ہیں۔ غرض کبھی باغ اور بنگلے کی بات ہوتی،کبھی ہنی مون کے لیے سوئزرلینڈ بھیجوانے کی۔ بیگم امداد علی نے منہ سے بھانپ نہیں نکالی کہ کہیں کوئی جا کے غلط سلط نہ جڑ دے۔ بات چلتی رہی۔ انہوں نے ہاں کی تو انہوں نے جانا نصیب کھُل گئے۔ پھر آنے جانے والے ان کی ٹوہ لینے اور مشورے دینے لگے۔ ارے بہن چڑھاوے میں کہیں وہ عام سیٹ نہ لے جانا، دستور کے سب زیور تو لڑکی کے پاس ماں اور نانی کے ہوں گے ہی، تمھارے سیٹ کیا جچیں گے، بس ایک دوسیٹ ہیرے کے لے جاؤ۔ آج کل اسی کا رواج ہے۔ کوئی کہتیں پانچ سات جوڑے تو عام لوگ بری میں لے جاتے ہیں۔ تم اکیاون لے جانا، انھیں بھی معلوم ہو کہ رشتہ برابر کا ہے۔ ننگے بھوکے نہیں ہیں۔ کوئی آ کر کہہ جاتیں تم باتوں باتوں میں کہلو ا دینا فرنیچر کی ضرورت نہیں اللہ رکھے جما جمایا گھر ہے۔ اُٹھائی گیرے نہیں ہیں کہ بہو سامان لائے تو گھر بھرے۔ مگر میری مانو تم تھوڑی سی بھاری چیزیں خرید لو۔ سُنا ہے ڈاکٹر فاروقی کی بیٹی امریکہ چلی گئی۔ اکلوتی بیٹی تھی۔ تین پُشتوں کی گرہستی دی تھی۔ اب سُنا لڑکی نے لکھا ہے بیچ ڈالو، گھر بھی اور سامان بھی اور آپ یہاں چلے آؤ۔ آپ کہیں تو میں دیکھ آؤں آپ کے کام کی کیا کیا چیزیں ہیں۔ اسی طرح اُکسا کر اوپر کی منزل پر دو نئے ڈھنگ کے کمرے معہ حمام تیار ہوئے۔

غرض سارے کام مفت پھیرے کرنے والوں نے انجام دیئے۔ روپیہ بے حساب اُٹھا۔ مگر بیگم امداد سوچ سوچ کر صبر کر لیتیں۔ ٹھیک ہے، پلڑا ہلکا نہ ہونے پائے،چند دنوں کی بات ہے پھر دولت کی ریل پیل ہو گی۔ سلامی میں ہی اتنی اشرفیاں مل جائیں گی کہ بٹوری نہ جاسکیں۔

آخر کار شادی ہوئی۔ نہ دھوم نہ دھڑکا، نہ چوتھی نہ جالا، معلوم ہوا سمدھی صاحب رسومات کو یکسرترک کئے بیٹھے ہیں۔ بری تو زور دار گئی تھی مگر جہیز کا پتہ نہ تھا۔ بیاہ کے دن دولہن نے چڑھاوے کے زیور بھی نہیں پہنے تھے۔ معلوم ہوا اُن کے پاس دستور یہی ہے۔ رخصتی ہو کر دولہن گھر آ گئی۔ مگر سناٹاہی چھایا رہا۔ بیگم امداد جہیز کے سامان، پشتینی زیور، تُلواں جوڑوں اور سلامی کی اشرفیوں کا انتظار ہی دیکھتی رہیں۔ آخر مہینہ بھر یونہی گزر گیا تو بیٹے سے راز داری میں پوچھا۔ کیوں مُنے کچھ پتہ ہے تمہاری دولہن کا سامان کب آئے گا۔ اللہ رکھے تم آباد ہو گئے ہو۔ سامان سب سجادوں تو ذرا بڑے بھائی جان کے پاس ایک دو مہینے رہ آؤں، فالج نے زیر کر دیا۔ سُنا بہت یاد کر رہے ہیں۔ میں نے سوچا یکسوئی ہو جائے تو جاؤں۔ "ابھی اُن کا بیان جا رہی تھا کہ بیٹے نے سعادت مندی سے کہا" امّی سامان کیسا سامان، جہیز نہ زیور، بے چارے آپ تباہ حال ہیں،آپ سے تو شاید پہلے ہی معاملہ صاف کر دیا گیا تھا کہ خاندانی وجاہت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ کل ہی کی تو بات ہے ڈیوڑھی پر قرتی آئی تھی۔ میں نے معاملہ رفع دفع کیا۔ آپ ماموں جان کے پاس جا رہی ہوں تو کہوں اُوپر والے حصے میں دوچار مہینے قیام کر لیں پھر کوئی بندوبست کیا جاسکتا ہے. ماں کے کچھ کہنے سے پہلے ہی اُنہوں نے اپنی دولہن کو سُنا دیا۔ "ڈارلنگ میں کہتا ہوں تم خود جا کرامّی جان اور ا با جان کو لے آؤ"