اردو ویب ڈیجیٹل لائبریری
×

اطلاع

فی الحال کتابیں محض آن لائن پڑھنے کے لئے دستیاب ہیں. ڈاؤن لوڈ کے قابل کتابوں کی فارمیٹنگ کا کام جاری ہے.

Urdu Afsana Aur Afsanay Ki Tanqeed

اُردو اَفسانہ اور افسانے کی تنقید


مصنف محمد حمید شاہد
تعداد الفاظ 77703
تعداد منفرد الفاظ 8074
مناظر 12604
ڈاؤنلوڈ 0
محمد حمید شاہد کے قلم سے

تنقید کی بنیاد: ٹیڑھی اینٹ کا شاخسانہ

یہ مان لینے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ مرزا نوشہ کی نثر کی تقلید میں اردو نثر نے اپنے آپ کو بدلا وہ جو بن بن کے لکھنے کا چلن ہو چلا تھا اور بنا بنا کر عبارت کو کھینچا جاتا تھا، لگ بھگ تب سے اس کا سلسلہ موقوف ہوا جب دساوری تخلیقات تراجم کی صورت میں اردو میں ڈھلنے لگیں۔ اردو زبان میں یہ جو وسعت آچلی تھی کہ وہ کہانی کے ہر تیور اور ہر جنبش کو اپنے اندر سمیٹ لینے پر قدر ت رکھنے لگے بظاہر یوں لگتا ہے کہ مغربی استبداد کے زمانے کی دین تھی۔ اسی "بظاہر" مےں خرابی یہ ہے کہ ہمارے فکشن کے ناقدین افسانے کے باب میں لگ بھگ سارے تنقیدی فیصلے کامن سینسن کے زور پر کرنے لگے ہیں حالاں کہ سب جانتے ہیں کہ یہ کامن سینس اتنی بھی کامن بھی نہیں ہوتی۔ اردوافسانے کی تاریخ کو بالعموم یا توعلامہ راشدالخیری کے افسانے "نصیر اور خدیجہ "سے شروع کیا جاتا ہے یا پھرمنشی پریم چند کو حقیقی بانی مان کر بات آگے بڑھالی جاتی ہے اور ایسے میں اس زمین سے اگی ہوئی اور اس فضا میں پلی بڑھی اس ساری روایت کی جانب پشت کر لی جاتی ہے جو افسانے کے سپر اسٹریکچر میں تو نظر نہ آتی تھی اس کے ڈیپ اسٹریکچر کا بہر حال جزو ہو گئی تھی۔ یہ جو میں بھی قبل ازیں سمعی روایت کے پچھڑنے کی بات کرتا رہا ہوں، داستان اور قصے کہانی کے پسپا ہونے کاقصہ سناتا رہا ہوں تو اس کے قطعا یہ معنی نہیں ہیں کہ ہمارے ہاں افسانے مغربی چولا پہن کرآیا تو اپنی روح سے محروم ہو گیا تھا۔

مجھے اپنی بات ڈھنگ سے کہنے کا موقع ملے تو عرض کرنا چاہوں گا کہ ادب کی تخلیق کا معاملہ کسی بھی سماج کی خارجی کروٹوں سے کہیں زیادہ اس کے اندر ہی اندر رواں تہذیبی لہروں سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ یہ تو مانا جا سکتا ہے کہ کسی بھی سماج میں آنے والی ثقافتی تبدیلیاں کسی کی ہیئت کو تبدیل کر دیتی ہیں جیسا کہ نظم اور خود افسانے کے باب میں ہوا یا پھر کسی صنف کو سرے سے ہی ماضی کا حصہ بنا دیں، داستان سے لے کر مثنوی تک کی مثال سامنے کی ہے، لیکن یہ کہاں ممکن ہے کہ یہ ثقافتی مظاہر، تخلیقی عمل کی تہذیبی کیمسٹری کو ہی بدل کر رکھ دیں۔ افسانے کے باب میں، جس تخلیقی عمل کی میں بات کر رہا ہوں، ہیئت کی تبدیلی کو تسلیم کیا گیا ہے مگر جو افسانوی بھید بھاؤ اس کے حصے میں آئے وہ ہماری اپنی تہذیبی روایت کی دین ہیں۔

رہ گئی وہ بات جو میں اوپر اردو افسانے کے لیے موزوں ہو جانے والی زبان کی بابت کہہ کر مرزا نوشہ سے جوڑ آیا ہوں تو یہاں بھی یہ وضاحت کیے دیتا ہوں کہ یہ وقوعہ ایکا ایکی نہیں ہو گیا تھا۔ سب جانتے ہیں کہ مسلمان فاتحین کے زمانے میں درباری زبان فارسی تھی اور وہیں ہماری غزل کی پرداخت ہوئی مگر یہ حقیقت بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ دربار سے باہر کھلی فضا میں اور لوگوں کے بیچ جو اردو زبان متشکل ہو رہی تھی وہ غزل کے بجائے نثر کے لیے موزوں تھی۔ مسلمان تاجروں اور سیاحوں کے ہندوستان کے مقامی لوگوں سے میل جول نے ایک ایسی زبان کے لیے راہ ہم وار کر دی تھی جس میں قصہ کہانی کا فطری عمل زندگی کو سمجھنے کا قرینہ ہوا۔ یہی سبب ہے کہ صوفی، سنت، فقیر سب اس کی طرف متوجہ ہوئے انہیں اپنی بات شاعری میں بھی کرنا ہوتی تو اسے کہانی بنا لیا کرتے تھے۔ جب صوفیا اور بھگتی تحریک کے شعرا اخلاص اور محبت کی کہانی کہہ رہے تھے تو لگ بھگ یہ چلن ہو چلا تھا کہ انسان، اس کی تخلیق اور کائنات کے حوالے سے اگر کوئی بنیادی اور بڑی بات کہنی ہے تو چاہے اسے منظوم ہی کیوں نہ کرنا پڑے کہانی سے مدد لی جائے ورنہ شاعری کے رموز و علائم تو درباروں سے وابستہ شاعروں کے ہاں مرتب ہو رہے تھے۔

لگ بھگ یہی وہ زمانہ بنتا ہے جب ہماری اردو ادب میں تنقید کی ضرورت محسوس کی جانے لگی تھی۔ مجھے خیال سا گزرتا ہے کہ اردو ادب کی تنقید کی ابتداء ہی خرابیوں سے ہوئی جس نے آگے چل کر جن رویوں کی طرح ڈالی وہ کم از کم فکشن کے حق بہتر تو کیا ثابت ہوتے قابل قبول بھی نہیں رہے۔بتایا گیا ہے کہ اردو میں تنقید کا چلن فارسی شعرا کے تذکروں کی تقلید سے ہوا۔ اس ضمن میں محمد عوفی کے لکھے ہوئے تذکرے "لباب الالباب" سے لے کر ابو طاہر خاتونی کے "مناحب الشعرا" تک کی بات صراحت کے ساتھ کی جاتی ہے اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ہندوستان میں فارسی میں شعرا کے تذکروں کا خوب خوب سلسلہ چل نکلا تھا اور ڈاکٹر علی رضا کے مطابق ایک وقت میں یہ تذکرے تین سو چودہ ہو گئے تھے۔ اسی تقلید میں جب میر تقی میر اردو شاعروں کا تذکرہ "نکات الشعرا" لکھ رہے تھے تو اردو نثر کا خوب چلن ہو چلا تھا مگر اسے اس بابت سوچنے کی توفیق نہ ہوئی۔ یاد رہے 1874 میں مکمل ہونے والے اس تذکرے میں اردو کے ایک سو تین شاعروں پر بات ہوتی ہے۔ اس تذکرے میں کئی خوبیاں ہوں گی مگر وہ خرابیاں جو اس کتاب کے بعد اردو تنقید میں راہ پا گئیں ان میں پہلی تو یہ ہے کہ ہم نثر کو بھی شاعری کے حوالے سے سمجھنے کی علت کا شکار ہو گئے ہیں۔ میر تقی میر نے اپنے تذکرے میں شاہ مبارک کے اس جسمانی عیب پر کہ اس کی ایک آنکھ نہیں تھی آڑے ہاتھوں لیا تھا لہذا ہماری تنقید کا یہ منصب ٹھہرا ہے کہ فن پارے پر کم فن کار کی شخصی کجیوں کو خوب خوب زیر بحث لانا ہے۔ میر تقی میر نے اپنے عہد کے کئی قابل ذکر شعرا کو اس لیے تذکرہ بدر کر دیا تھا کہ اس کی ان سے بنتی نہ تھی۔ مولانا محمد حسین آزاد نے بھی اپنے معروف تذکرے "آب حیات" کے پہلے ایڈیشن مومن جیسے اہم شاعر کو نظر انداز کر کے اور اپنے استاد ذوق کو غالب سے بھی زیادہ اہم شاعر سجھا کر لگ بھگ اسی چلن کو ہوا دی تھی۔ یہی وتیرہ بعد کے زمانے میں ہمارے ناقدین نے اپنا لیا، سامنے کی مثال ایک سرکاری ادبی ادارے کا افسانے کی روایت کے حوالے سے مرتب ہونے والی ایسی ضخیم کتاب کا چھاپنا ہے جس میں سے کئی اہم افسانہ نگاروں غائب ہو گئے تھے۔ لطف کی بات ہے کہ بعد میں ای نجی ادارے سے اسی مرتب کی اسی نوعیت کی ایک اور کتاب چھپتی ہے تو یہی غائب ہونے والے، تعلقات بہتر بنا لینے کی وجہ سے کتاب کا حصہ ہو گئے کہ اس بار کچھ ا ور اہم لکھنے والوں کو کتاب باہر ہونا تھا۔ یہ جو ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر ادبی فیصلے کرنے کا چلن ہے میں اسے ادبی بددیانتی سمجھتا ہوں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس طرز عمل نے فکشن کی تنقید کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔


اردو افسانہ اور ثقافتی لہریں

جس زمانے میں انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے اپنے سیاسی اور توسیعی عزائم کے ساتھ ہندوستان میں اندر تک گھس آئے اور کئی معاملات میں دخیل ہو گئے تھے تو انہیں اپنی ضرورتوں کے لیے مقامی زبانوں کی طرف متوجہ ہونا پڑا تھا۔ 1677ء میں قلعہ سینٹ جارج، مدراس کو کورٹ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے لکھا جانے والا مراسلہ، جس میں ملازمین کو ہندوستانی زبانیں سیکھنے پر تیس پونڈ انعام کا اعلان کیا گیا تھا، انگریزوں کی نیت کھول کھول کر بیان کر دیتا ہے۔ 1857ء میں قائم ہونے والے فورٹ ولیم کالج کا مقصد بھی یہی تھا۔ تاہم یہ ماننا ہو گا کہ ایک اور سطح پر اردو نے انگریز کی ان چالوں کا خوب خوب فائدہ اٹھایا اپنے تہذیبی پس منظر کو چھوڑے بغیر یہ زبان عوامی سطح پر مقبول ہوتی چلی گئی وہاں تک جہاں انسانی حیات اور اس کے تہذیبی حوالوں سے جڑی ہوئی کہانیاں ادھر ادھر موتیوں کی صورت بکھری ہوئی تھیں۔ جن تہذیبی حوالوں کی میں بات کر رہا ہوں ان میں زمین سے جڑنے والی تہذیب کا اپنے وجود کی مٹی جھاڑ کر اوپر اٹھنے اور نئے آفاق کو چھو لینے کی للک میں مبتلا اس تہذیب کا حوالہ بھی ملتا ہے جو مقامی تہذیبی مظاہر میں پیوست ہو کر ہماری کہانی کے لیے زیادہ بامعنی ہو گئے تھے۔ یوں اگر دیکھا جائے تو اردو افسانے کے مزاج کی جڑیں ہند اسلامی تہذیب میں بہت گہری ہیں۔

صاحب! یہ پس منظر جو میں تمہید باندھنے کی نیت سے اوپر کہہ آیا ہوں یہ اگر ذہن نشین رہے اور اب تک اس بات کو پا لیا گیا ہو کہ سماجی سطح پر ثقافتی تبدیلیوں سے کہیں زیادہ ادبی فن پاروں کی تعیین قدر اس تخلیقی عمل سے ہوتی ہے جس کے سوتے اس سماج کی تہذیبی روح سے پھوٹتے ہیں تو اردو افسانے کے اس تخلیقی چلن کو جو ابتدائی نمونوں سے اب تک چلا آ رہا ہے اسے صحیح صحیح آنکنے میں بہت سہولت رہے گی۔ اسی کسوٹی کا شاخسانہ ہے کہ راشد الخیری کو پہلا اَفسانہ نگار تو مانا جاتا ہے مگر پہلا حقیقی افسانہ نگار پریم چند کو قرار دیا جاتا ہے۔


تعیین قدر کا مسئلہ اور ضمنی حوالے

تخلیقی معیاروں پر فن پارے کی قدر قائم کرنے کے بجائے اسے کسی اور حوالے سے دیکھنے کے چلن نے اردو افسانے کی تاریخ مسخ کر کے رکھ دی۔ صرف افسانے ہی کی نہیں خود ادب کی بھی۔ اور یہ میں یوں کہہ رہا ہوں کہ اسی عادت نے ہمیں اصناف سے اصناف بھڑانے کی طرف مائل کیے رکھا ہے۔ کہیں دور کیوں جائیں ہمارے شمس الرحمن فاروقی بھی شاعری کے مقابلے میں نثر کو نیچا دکھانے کے جتن کرتے رہے ہیں۔ جس طرح میں اصناف کے درمیان اس طرح کی درجہ بندی کی ساری کوششوں کو کار لاحاصل سمجھتا ہوں بالکل اسی طرح میرا یقین ہے کہ صرف اور محض خارجی رویوں اور محرکات کی وجہ سے افسانہ نگاروں کی درجہ بندی کا غدر مچا دینا قطعاً نامعقول بات ہو گی۔

لیجئے اب اگر ہم یہ طے کر چکے ہیں کہ ہم ہر فن پارے کو اس کے اپنے ادبی معیاروں پر جانچیں گے تو سوال پیدا ہوتا ہے کون سے معیار؟ کیا ادبی معیار مستقل طور پر متعین کیے جا سکتے ہیں؟؟ یہ دوسرا سوال ہے جو پہلے سوال سے خود بخود نکل کھڑا ہوا ہے۔ میرا اس باب میں جواب "ہاں " بھی ہے اور "نہیں " بھی۔ ہاں، یوں کہ کسی تحریر کے لیے اس کا" تخلیق پارہ " ہونا ہی اس کے ادب پارہ ہونے کی بنیادی شرط ہے اور یہ مشقت سے نہیں بلکہ ایک تخلیقی عمل کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ایک تخلیق کار کے ہاں تخلیقی عمل کس طرح کام کرتا ہے اور اس کے بھید کیا ہے اس پر میں "تخلیق کے اسرار" کے عنوان سے ایک الگ مضمون میں کچھ باتیں کہہ آیا ہوں لہذا انہیں دہراؤں گا نہیں تاہم یہاں یہ کہنا ہے کہ وہ باتیں تخلیق کاروں کے ہاں تخلیقی عمل کی شناخت کے حوالے سے تھیں جب کہ اس وقت میرے سامنے مسئلہ افسانے کی قدر کے تعین لیے بنیادیں تلاش کرنے کا ہے۔ یہیں آگے بڑھنے سے پیشتر، وارث علوی نے افسانے کے مطالعے کے لیے جن پہلوؤں کی جانب نشان دہی کی تھی، ایک نظر ان پر ڈال لیتے ہیں:

"کہانی، پلاٹ، کردار، تمثیل، علامات، اساطیر، تیکنیک، تھیم، امیج، استعارہ، مرقع، تصویر گری، منظر نگاری، مقام، ماحول، فضا، قدرتی اور تہذیبی پس منظر، موزونیت، آہنگ، تضاد، تصادم، معروضیت، ڈرامائیت، لب و لہجہ، اسلوب، بیانیہ، لسانی ساخت، نقطہ نظر، جمالیاتی فاصلہ، طنز، ظرافتirony,، المیہ، طربیہ، نفسیاتی فلسفیانہ سماجی اخلاقی ڈائی منشن اور پھر موضوعات کے ان گنت ذیلی مباحث اور نکات" -- (افسانے کی تشریح:چند مسائل /وارث علوی )

موضوعات کی یہ وہ فہرست ہے جو وارث علوی نے افسانے کے ناقدین کے ہاتھ میں تھمائی، اس لائسنس کے ساتھ چاہو تو اس میں اضافہ کر لو اور اسے حق دیا کہ وہ افسانے کے جس پہلو کا اور جس پہلو سے افسانے کا مطالعہ کرنا چاہے کر سکتا ہے۔ یہ دعوا کہ محض بیانیہ یا زبان یا لسانی ساخت کا مطالعہ ہی افسانے کے تمام فنی اور معنوی اسرار کو منکشف کر سکتا ہے، درست نہیں۔ افسانے کے مطالعے کے لیے جو نسخہ وارث علوی نے افسانے کے ناقدین کے لیے تجویز کیا ہے، جب افسانے کی تعبیر کا معاملہ آتا ہے تو وہ خود بھی اس پر کامل یقین نہیں رکھ پاتا کیوں کہ بقول اس کے تعبیر ایک خود سر، خود پسند مغرور حسینہ ہے۔ افسانے میں ادبی سطح پر تعیین قدر نشان کے مسئلہ پر بات کرتے ہوئے وارث علوی کی فہرست مجھے یوں بوجھل لگتی ہے کہ اس میں بہت سے ایسے پہلو ہیں جن کے بغیر بھی افسانہ مکمل ہو جاتا ہے۔ مثلاً دیکھئے جس کہانی کی بات وارث علوی نے کی ہے ایک عرصہ تک اس کے بغیر کام چلایا جاتا رہا۔ اس سے پہلے تھیم اور پلاٹ کو عسکری نے اپنے افسانوں سے منہا کر کے دکھا دیا تھا اور بتا دیا تھا کہ یوں بھی افسانہ لکھا جا سکتا ہے۔ کتنی کہانیوں میں تمثیل کاری ہوتی ہے یا انہیں اساطیر سے جوڑا جاتا ہے؟؟۔ علامت کا معاملہ دلچسپ ہے۔ سچ پوچھیں تو ہر کامیاب کہانی مکمل ہونے کے بعد علامت کا فریضہ بھی سرانجام دے رہی ہوتی ہے۔ علامت کا وہ تصور جو ساٹھ اور ستر کے عشروں میں پروپیگنڈے کے زیر اثر ہر کہیں اچھالا جاتا رہا، اب مردود ہو گیا ہے۔ میرا خیال ہے اور آپ بھی اس سے اتفاق کریں گے کہ امیج، استعارہ، مرقع اور تصویر گری جیسے مباحث شاعری کا تجزیہ کرتے ہوئے تو مرکز میں رہتے ہیں افسانوں کو جانچتے ہوئے انہیں حاشیے پر جانا ہوتا ہے۔ غرض وارث علوی کی بنائی ہوئی فہرست کے آپ جس بھی حوالے کو اٹھائیں گے وہ ہمیں کسی بھی فن پارے کو مکمل طور پر جانچنے کے لیے ناکافی محسوس ہو گا۔ جب افسانے کی تعبیر کا معاملہ اتنا صاف نہیں ہے تو کسی بھی تخلیق کی ادبی قدر کا معاملہ اس سے کہیں گھمبیر ہو جاتا ہے۔


دیکھا جائے تو افسانے کی تشریح ہو یا تعبیر، ان دونوں کا معاملہ مواد سے ہوتا ہے یا پھر اس لسانی اور تکنیکی حیلوں سے جنہیں کام میں لا کر مواد کو ترتیب دیا جاتا ہے۔ اس سارے بکھیڑے میں تخلیقی عمل کس نہج پر کام کر رہا ہوتا ہے افسانے کے شارحین اور معبرین کو اس سے کچھ زیادہ واسطہ نہیں رہتا۔ یہیں اس غیر ادبی طرز عمل کی نشان دہی بھی ہو جانی چاہیے جس کے زہر اثر تخلیقات کے تجزیاتی مطالعات کا چلن ہو چلا ہے۔ لیجئے آپ مجھے بتانا چاہتے ہیں کہ اس بدعت کو کس نے شروع کیا تھا؟ بجا مگر مجھے یہ جواز بھی مرعوب نہیں کرتا اور اس کا سبب یہ ہے کہ تجزیاتی مطالعہ بنیادی طور پر کسی بھی فن پارے کے اجزاء کو الگ الگ کر کے دیکھنے کا نام ہے۔ ایسے میں تخلیقی عمل کا بھید جو فی الاصل کسی بھی تحریر کو فن پارہ بتاتا ہے، اوجھل رہتا ہے۔ مقام شکر ہے کہ تجزیہ بازی اور تجزیہ سازی کا یہ ڈھکوسلا افسانے کے باب میں زیادہ رواج نہیں پا سکا اور اس سے صرف نظم والے ہی مستفیض ہو رہے ہیں۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا تاہم یہاں کہنے کی بات یہ ہے کہ اس طرح کے تجزیاتی مطالعے بھی افسانے کی قدر قائم کرنے میں کام نہیں لائے جا سکتے۔

اردو افسانے کے ناقد کے لیے ان سارے رخنوں کو ذہن میں رکھنا ہو گا۔ اسے وہ ساری رکاوٹیں اور مشکلات الانگھنا ہوں گی جو ہمارے ہر فن مولا قسم کے ناقدین نے خوب خوب جتن کر کے ادھر ادھر پھیلا رکھی ہیں۔ مثلاً دیکھیے کہ وزیر آغا نے ایک زمانے میں افسانے کے تین ادوار قائم کیے تھے۔ ایک میں کچھ افسانہ نگاروں کو جھونکا، دوسرے اور تیسرے میں کچھ اور کو اوریوں افسانے کی تنقید کا فریضہ ادا کر کے کلانچیں بھرتا وہ دوسری طرف نکل گیا کہ اس طرح فکشن کی تنقید کا حق ادا ہو گیا تھا۔ شمس الرحمن فاروقی نے افسانے کی حمایت کے نام پر افسانے کی صنف پر ایسا مقدمہ قائم کیا کہ فکشن لکھ کر کفارہ ادا کرنے کے باوجود ابھی تک اپنے کہے کی وضاحتیں کرنا پڑ رہی ہیں۔ عسکری کو فکشن پر لکھنا آتا تھا مگر وہ بہت جلد فکشن لکھنے اور فکشن پر لکھنے سے اوب گیا۔ لگ بھگ ایسا ہی معاملہ اوروں کا ہے لہذا اس باب کے رخنے شمار کرنے بیٹھا ہوں تو بات ہیئت کے مطلق خادموں، رومانویت کو ہی حرف ادب سمجھنے والے نازک خیالوں، ترقی پسندی کے نام پر شدت پسندی کو رواج دینے والوں، عقل کو تخلیقی بھید کے مقابل لا کھڑا کرنے والے جدیدیوں سے ہوتی ہوئی ما بعد کے تنبے پر معنی کے بکھراؤ کا پکا راگ الاپنے والے گویوں تک پھیلے چلی جاتی ہے۔ جی، مجھے اب کہہ لینے دیجئے کہ افسانہ لکھتے ہوئے یا پھر بعد ازاں اسے ادب پارہ تسلیم کرتے ہوئے ان سارے معیاروں کو نئے سرے سے دیکھنا ہو گا کہ ساری خرابی اسی تنقیدی دھول دھپے کا شاخسانہ ہے جس کا نقشہ میں اوپر کھینچ آیا ہوں یا پھر جو اردو ادب کے پروفیسر حضرات اپنے طالب علموں کو رٹا کر انہیں کند ذہن بنائے چلے جانے کے لیے گھڑ لیا کرتے ہیں۔


نیا زمانہ، نئے تخلیقی مزاج کا افسانہ اور تنقیدی مسائل

صاحب افسانے کے باب میں جو مسائل مجھے پریشان کرتے ہیں ان میں سے ایک مسئلہ تو یہ ہے کہ اب آپ افسانے کو لمحہ رواں کے آشوب سے کنی کاٹ کر نہ تو لکھ سکتے ہیں نہ اس کی ادبی قدر کو طے کر سکتے ہیں۔ پھر اس لمحہ گزراں کی نیرنگیاں اور ستم ظریفیاں اتنی عجب ہیں کہ انہیں گرفت میں لینے بیٹھو تو روایتی صلاحیت والا آدمی پل بھر میں اتھلا ہو کر ننگا ہو جاتا ہے۔ میں اس پر زور دیتا آیا ہوں کہ تخلیقی عمل کے دوران لکھنے والا اکیلا ہو جایا کرتا ہے۔ اور اب اس باب میں یہ وضاحت کرنا پڑ رہی ہے کہ یہ بات اتنی سادہ نہیں ہے جتنی سہولت سے میں نے کہہ دی تھی۔ دیکھا جائے تو انفرادی شعور کسی نہ کسی سطح پر ثقافتی شعور کی لہروں سے غذا پا رہا ہوتا ہے۔یہ بات گرہ میں باندھنے کی ہے کہ یہ ثقافتی کروٹیں محض کسی جواں سال بیوہ کے بستر کی سلوٹیں نہیں ہوا کرتیں کہ انہیں تہذیبی شعور بہر حال اپنے زیر اثر رکھتا ہے۔ جی میں اسی تہذیبی شعور کی بات کر رہا ہوں جو بظاہر غیر فعال ہو رہا ہوتا ہے۔ اس سب پر مستزاد وہ تہذیبی اور ثقافتی لین دین ہے جس سے اجتماعی شعور روح عصر میں ڈھلنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ تماشا جو ناقد کی کھلی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہوتا ہے اور جسے وہ نئے زمانے میں افسانے کے تانے بانے کا حصہ بنتے صاف دیکھ رہا ہوتا ہے کیا وہ اسے افسانے کی تنقید سے الگ رکھ کر ادبی سطح پر درست نتیجہ اخذ کر سکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس باب میں اگر اس کا تنقیدی اور ادبی شعور تازہ نہیں ہے تو اسے افسانہ اور افسانے کی تنقید سے پہلے اپنی حسیات کی تربیت اور تازگی کا اہتمام کرنا چاہیے ورنہ بہت خرابی ہو گی۔

خرابی ہو گی؟۔۔۔۔کیا کہا صاحب؟ ہماری سدھائی ہوئی حسیات نے کیا اب تک افسانے کی تنقید کو کج راہ نہیں کر رکھا۔ ذرا ان صاحب کو دیکھنا جو نئے شعور کو افسانے کا حصہ بنتے دیکھ کر بھونچکے وہیں کے وہیں کھڑے ہیں بلکہ رخ بدل کر ماضی کی کہانیاں نئے شعور کے تازہ پانیوں سے دھوئے ادھر لڑھکاتے ہوئے کہے جاتے ہیں، حیرت ہے بھئی حیرت ہے۔

میرے لیے تو یہ حیران کن بات ہے کہ جب وہ معتبر لکھنے والا، جس نے ایک ادبی روایت کی طرح ڈالی ہو اپنا شمار نہ صرف اوپر والے حیرت زادوں میں کرے اس کا باقاعدہ ڈھنڈورچی بھی بن جائے۔ کسی زمانے میں یہ بات بھلی لگتی تھی کہ جب تک منظر آنکھ اوجھل نہیں ہو جاتا، چیزیں پرانی نہیں ہو جاتیں، واقعات ماضی کی دھول میں دفن نہیں ہو جاتے اور کردار مر مرا نہیں جاتے انہیں ادب نہیں بنایا جا سکتا۔ مگر اب میں سمجھتا ہوں کہ نئی صورت حال نے اس تصور تخلیق میں شگاف ڈال دیے ہیں۔ ہماری تنقید کو بھی یہ بات سمجھ لینا ہو گی۔ اس نئے تناظر میں ناقد کی ذمہ داری یوں بڑھ جاتی ہے کہ اسے افسانے کی ادبی قدر کا ادراک کرنے کے لیے اپنی حسوں کو نئے جمالیاتی بعد سے ہم آہنگ کرنا ہو گا۔ گزرے وقتوں میں جمالیاتی بعد کی عدم موجودگی یوں کھلتی نہ تھی کہ تب کہانی کا لوکیل ماضی میں رکھ کر فاصلاتی بعد سے قاری کو غچہ دینا آسان بلکہ کارگر فارمولا تھا۔ نئے عصر کی تیز بوچھاڑ میں بھیگتی ہوئی کہانی کو جانچنے والا جب تک یہ نہیں سمجھے گا کہ کسی بھی فن پارے میں جمالیاتی بعد محض اور صرف فاصلاتی بعد نہیں ہوتا تو وہ فن کار کے باطن سے کشید ہو کر فن پارے کی روح ہو جانے والی اس مقناطیسیت کو گرفت میں لے پائے گا جو اس تخلیق کا آہنگ بنا رہی ہوتی ہے۔ یاد رہے یہ آہنگ زبان کی سطح پر بھی کام کر رہا ہوتا ہے اور اس کے باطن میں معنیاتی سطح پر بھی۔


واقعہ، کہانی، افسانہ، زبان اور تخلیقی آہنگ

اب اگر بات زبان اور باطنی آہنگ کی چل نکلی ہے تو کہتا چلوں کہ میں ان لوگوں میں خود کو قطعاً شمار کرنا نہیں چاہوں گا جو تخلیق کو محض زبان یا پھر اس کے استعمال سے زیادہ کا درجہ دینا نہیں چاہتے اور فن پاروں کو بھی لسانی فارمولوں پر پرکھنے کو ادبی تنقید گردانتے ہیں تاہم مانتا ہوں کہ ان فارمولوں سے ابتدائی اور تیکنیکی نوعیت کی مدد لینے میں بھی کوئی قباحت نہیں ہے بالکل اسی طرح جس طرح اس باب میں دوسرے علوم کے اسالیب سے مدد لی جا سکتی ہے۔ دیکھا جائے تو زندگی کا تجربہ ہمارے اوپر افسانے کی طرح بیت رہا ہے۔ لہذا وقت اور دنیا کو سمجھنے کا بہترین وسیلہ یہی صنف بنتی ہے۔ افسانہ کہ جس کا کچھ حصہ زمین کے اندر گہری ہو چکی جڑ کی طرح ہوتا ہے: آنکھوں سے اوجھل مگر کئی تہوں اور پرتوں سے غذا کشید کرنے والی جڑ جیسا۔ دوسرا اس تنے کا سا، جس پر بظاہر درخت قائم ہوتا ہے۔ آپ اسے افسانے کے سپر اسٹریکچر سے تعبیر دے سکتے ہیں۔ افسانے کی تخلیقیت کو جانچنے کے لیے ہمیں اس کے اندر سے پھوٹتے اس جمالیاتی اور معنیاتی دھارے کی طرف رجوع کرنا ہو گا جو کراؤن کی طرح متن کو اپنے وجود سے ڈھک لیتا ہے۔ یوں دیکھیں تو زندگی کا ہر روپ اسی کراؤن کے اندر سے برآمد ہو رہا ہے بالکل ایسے ہی جیسے کہ جادوگر کے ہیٹ سے چھلانگیں لگاتا خرگوش یا فضاؤں میں قلابازیاں کھانے والا کبوتر برآمد ہوتا ہے۔ یاد رہے زندگی کو چاہے جتنے قرینے سے برتا جائے اور چاہے لاکھ احتیاط سے اس کانچ کے برتن کو اٹھایا جائے ہمیں اپنے مقدر کی ٹھوکر ضرور کھانا ہو گی اور ہمیں اپنے حصے کی حیرت کو وصول کرنا ہی ہو گا۔ تو یوں ہے کہ یہی حیرت اور یہی دکھ ہمیں کہانی کے کراؤن سے قسطوں میں برآمد کرتے ہیں جس سے کہانی کا بیانیہ متشکل ہو رہا ہوتا ہے۔

وہ بھائی لوگ جو افسانے کے بیانیہ سے مراد ماجرا کہنے کی ادا کو لیتے ہیں ان سے دست بستہ گزارش ہے کہ سیدھے سبھاؤ واقعہ چلا لینا اور بات ہے اور اسے فکشن کی زبان میں برت کر اس میں سے افسانہ نکال لانا بالکل دوسرا معاملہ ہے۔ یہاں بیانیہ سے میری مراد ٹھس ماجرائی بیان قطعاً نہیں ہے۔ میں جس بیانیہ کی بات کر رہا ہوں، کوئی بھی افسانہ اس کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا لہذا میرے لیے وہ ساری تنقید کار فضول ہو جاتی ہے جس میں مختلف افسانوں کو الگ الگ دکھانے کے لیے انہیں بیانیہ اور علامتی کے کھونٹے پر باندھا گیا ہے۔ ہمارے فکشن کے ناقدین کو اس بابت بھی ذرا ڈھنگ سے سوچنا ہو گا اور کسی بھی افسانے کی ادبی قامت ماپنے اور اس کی درجہ بندی کرتے ہوئے محض یہ کہہ کر پلو نہ چھڑانا ہو گا کہ فلاں افسانہ بیانیہ ہے اور فلاں علامتی۔ یہ علامتی کا قصہ بھی خوب ہے اس کے نام پر جو متنی کرتب بازی ہونی تھی وہ ہو چکی۔ اس نے افسانے کی جھولی میں جو کچھ ڈالنا تھا ڈال دیا تاہم اس سے وابستہ سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس نے تخلیق اور غیر تخلیق کا فرق معدوم کر دیا تھا۔ فکشن کے ناقدین کو یہ بات طے کرنا ہو گی کہ جس طرح کوئی بھی لفظ کسی شے، صورتحال، احساس، کیفیت یا ماہیت کی علامت بننے کے بعد ہی بامعنی ہوتا ہے اسی طرح کوئی بھی افسانہ جب تک قدرے برتر سطح کی علامت نہیں بن پاتا تخلیق پارہ کہلانے کا استحقاق نہیں رکھتا۔ دوسرے لفظوں میں افسانہ عام زندگی کا سچ نہیں ہوتا اس سے کہیں بڑا سچ ہوتا ہے۔ افسانے کی تنقید کا یہ بھی منصب ہے کہ وہ ہر افسانے کے بیانیہ سے چھوٹتی اس دوسرے معنیاتی اور جمالیاتی دھارے کو بھی زیر بحث لائے کہ فی الاصل یہی وہ تخلیقی علاقہ ہے جس میں پہنچ کر واقعہ، خیال، مشاہدہ یا احساس کہانی میں ڈھلتا ہے اور کہانی کا بخت بلند ہو تو افسانہ بن جاتی ہے۔


مارکیز کا کرنل:زبان بدلی، لحن بدل

الین ٹین "امریکن کریٹیکل ایسے" میں کہتا ہے۔

"ادب کا فرض ہے کہ وہ زبان کو سنوار دے جس کے تابع تمام ثقافتیں ہیں۔ اس کا فرض یہ بھی ہے کہ وہ ہمیں خبردار کر دے کہ جب زبان انسان کی توقع کے مطابق اپنا مقصد پورا نہیں کر سکتی۔"

الین ٹین کا کہا مجھے یوں یاد آیا کہ ادبی جریدے "صریر" میں فہیم اعظمی نے حسب سابق ایک نئے مسئلے پر قلم اٹھایا ہے اور وہ ہے "زبان کی شکست و ریخت کی حدود" کا مسئلہ ۔اگرچہ اس تحریر میں بحث کا مرکز کچھ اور ہے مگر اس کے مطالعے کے دوران مجھے گبرئیل گارسیا مارکیز کے ناول "کرنل کو کوئی خط نہیں لکھتا" کا کرنل بھی یاد آ نے لگا ہے جسے ایک لفظ۔جی ہاں محض ایک لفظ کو ادا کرنے کے لیے پچھتّر برس لگے تھے ۔اور جب وہ لفظ ادا ہو چکا تو گویا وہ آسودہ ہو گیا تھا۔۔۔۔

یاد رہے وہ لفظ ادبی زبان کا نہ تھا، عوامی زبان کا تھا۔

عوامی زبان اور ادبی زبان کے ضمن میں پہلے فہیم اعظمی کی بات سن لیجئے:

"ادبی زبان اور عوامی زبان میں ہمیشہ فرق ہوتا ہے۔ ادبی زبان، لہجہ، تلفظ اور اکثر معنی کے اعتبار سے عوامی زبان سے مختلف ہوتی ہے۔"

فہیم اعظمی کا فرمایا اپنی جگہ، مگر بعض اوقات محض ایک عوامی زبان کا عامیانہ لفظ زندگی کی پوری تفسیر بن جاتا ہے۔ اور ایسا ہی عامیانہ لفظ گبرئیل گارسیا مارکیز نے اپنے ناول کے مرکزی کردار (کرنل) کی زبان سے اگلوایا تھا۔

صاحب، اس سے پہلے کہ میں وہ لفظ تحریر کروں ۔تھوڑی سی جان پہچان گبرئیل گارسیا مارکیز کے ساتھ۔

لاطینی امریکہ کے ملک کولمبیا سے تعلق رکھنے والا نوبل انعام یافتہ یہ ادیب اپنے یورپی ناقدین کی نظر میں طلسمی حقیقت نگار ہے۔ جبکہ خود مارکیز کا کہنا ہے:

"میرے یورپی ناقدین میری کہانیوں کے طلسم سے تو باخبر ہیں مگر اس کے پیچھے پوشیدہ حقیقت کو نہیں دیکھ سکتے۔ اس کی وجہ یقیناً ان کی عقلیت پسندی ہے جو انہیں یہ سب کچھ دیکھنے سے مانع رکھتی ہے۔"

لاطینی امریکہ سے تعلق رکھنے والا یہ ادیب اپنے ناولوں اور افسانوں میں کہیں کہیں یوں منظر نگاری کرتا ہے کہ وہ ہمیں ایشیائی منظر نامہ لگنے لگتا ہے۔ "پتوں کا طوفان" "کرنل کو کوئی خط نہیں لکھتا" "بڑی ماما کا جنازہ" "منحوس وقت" "تنہائی کے سو سال" اور "وبا کے دنوں میں محبت" اس کی معروف کتابیں ہیں مگر ہم اس کالم میں صرف "کرنل کو کوئی خط نہیں لکھتا" کا تذکرہ کریں گے بلکہ خود کو صرف کرنل کے اس لفظ تک محدود رکھیں گے جسے ادا کرنے کے لیے اسے پچھتّر سال لگے۔۔۔۔

ایک عوامی لفظ۔۔۔۔

بلکہ ایک عامیانہ لفظ۔

میں آپ کے اشتیاق کو ہوا نہیں دے رہا مگر وہ لفظ جاننے سے پہلے کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ مارکیز نے کرنل کے کردار کی جس طرح تعمیر کی، چند سطریں اس بارے میں ہو جائیں تاکہ لفظ کی معنوی شدت کا کچھ تاثر آپ تک پہنچ سکے۔

کولمبیا کی خانہ جنگی، جو ایک ہزار روز تک جاری رہتی ہے، میں سے بچ جانے والا آزمودہ کار کرنل۔صابر و شاکر اور با وقار کرنل ۔اپنی پنشن کا بے سود انتظار کر رہا ہے اس کی بیوی بیمار اور ضعیف ہے اس کا بیٹا تشدد کی لہر میں مارا جا چکا ہے۔ گھر کا سارا اثاثہ بکتا چلا جاتا ہے مگر وہ اپنے بیٹے کی نشانی ایک مرغ ۔اصیل مرغ کو خود سے جدا نہیں کرتا۔

اس کی بیوی دمے کا شکار ہے اور مفلسی گھر کے کونوں کھدروں تک میں گھسی بیٹھی ہے۔ اس قدر، کہ انہیں خدشہ ہو چلا ہے کہ وہ بھوکے مر جائیں گے۔ ایسے میں اس کی بیوی مرغ بیچنے کا مشورہ دیتی ہے مگر بوڑھا کرنل نہیں مانتا تو اس کی بیوی۔ہمارے ہاں کی بیویوں کی طرح ۔شکایت کرتی ہے:

"ساری عمر میں نے اس لیے بھاڑ جھونکا تھا کہ اب آ کر مجھے معلوم ہو کہ میرے وقعت ایک مرغ سے بھی کم ہے۔"

کرنل کہتا ہے۔

"نہیں ۔ایسا نہیں ہے۔بلکہ مرغ کو نہ بیچ سکنے کا معاملہ کچھ اور ہے۔"

پھر جب فاقہ کشی میں صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو جاتا ہے تو کرنل کی بیوی کرنل کو اس کی فلالین کی قمیض کے کالر سے پکڑ کر جھنجھوڑتی ہوئی سوال کرتی ہے:

"اب ہم کھائیں گے کیا؟"

یہاں میں کرنل کا جواب نقل کرنے والا ہوں۔

وہ جواب جو صرف ایک لفظ پر مشتمل ہے۔۔۔۔

ایک عامیانہ لفظ پر۔

مگر جی چاہتا ہے کہ اس سے پہلے اپنے ارد گرد پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔ دیکھیں تو! عام فرد کی زندگی رفتہ رفتہ کتنی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ گذشتہ دنوں آٹے کا بحران آیا تو پورا ملک چیخ اٹھا۔ملک، جو قرضوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔اب کیا ہو گا؟ عام آدمی کے سامنے ایک ہی سوال ہے۔

وضع دار سوچتا ہے، کیا اس کی وضع داری کا بھرم قائم رہ سکے گا؟


مزدور سارا دن مزدوری کرتا ہے اور شام کو اس کی مٹھی میں اتنی رقم نہیں ہوتی کہ بیمار بیوی کے لئے دوا اور معصوم بچوں کے لئے غذا دونوں ایک ساتھ لے جا سکے۔ تنخواہ دار طبقہ گرانی کے سیلاب میں ڈبکیاں کھا رہا ہے۔ ایسے میں زبان کے ساتھ بھی عجب معاملہ ہوا ہے وہی جو صاف ستھری، سجی سجائی دکانوں سے نکل کر جمعہ یا اتوار بازاروں کے کیچڑ زدہ اور متعفن تھڑوں پر پہنچ جانے والی اشیائے خورد و نوش کے ساتھ ہوا ہے۔

ہاں تو میں کرنل کی زبان سے ادا ہونے والا ایک لفظ بتانے والا تھا۔

عوامی لفظ۔۔۔۔

بلکہ عامیانہ لفظ۔

وہی لفظ جس کو ادا کرنے کے لئے کرنل کو پچھتّر سال کا عرصہ لگا کہ کرنل کی ساری زندگی رکھ رکھاؤ والی زندگی تھی۔ اس نے ہمیشہ اپنی زبان کی حفاظت کی اور ہمیشہ بد تہذیبی کے خلاف رہا مگر جب اس کی بیمار اور ضعیف بیوی سوال کرتی ہے کہ:

"اب ہم کھائیں گے کیا؟"

تو کرنل کو جواب کے لئے صرف ایک لفظ ملتا ہے

عامیانہ لفظ۔وہ جواب میں کہتا ہے۔

"SHIT" (گونہہ)

اس متعفن لفظ کو ادا کرتے ہی پچھتّر سال کے بعد پہلی مرتبہ وہ اپنے آپ کو مکمل طور پر پاک صاف، واضح اور ناقابل تسخیر محسوس کرتا ہے۔

اور اب یقیناً فہیم اعظمی اتفاق کرنا ہو گا کہ بعض اوقات عامیانہ زبان کا لفظ بھی ادبی زبان کا لفظ بن جاتا ہے۔صاحب، عین اس لمحے ایک اور سوال میرے اندر سر اٹھا رہا ہے اور وہ ہے کہ جب دھڑ ا دھڑ عامیانہ لفظ ادبی تحریروں کا حصہ بننے لگیں تو پھر ادبی تحریروں اور عام تحریروں میں کیا فرق باقی رہ جائے گا؟

سور کہیں کے / شیام: پاکستان کے/ منٹو سور کہیں کے / شیام: پاکستان کے/ منٹو

انتظار حسین اور آصف فرخی کی مرتبہ وہ کتاب جو "پاکستانی کہانیاں" کے نام سے اُدھر ساہتیہ اکادمی دہلی نے چھاپی تھی، اُس میں سعادت حسن منٹو کو پا کر ہمارے ہندوستانی دوست، معروف فکشن نگار اور وہاں اردو سے ٹوٹ کر محبت کرنے والے مشرف عالم ذوقی نے اعتراض اٹھایا ہے کہ اے بھائیو، آپ نے منٹو کو پاکستانی کیوں بنا دیا؟

ذوقی کے ذہن میں یہ سوال کیوں در آیا؟ اِدھر کے کئی اور بھی تو ادیب تھے جن کے دل میں پاکستان کانٹے کی طرح کھٹکتا رہا ہے اور جن کی نظر میں پاکستان کے الگ وجود کے کوئی معنی بنتے ہی نہیں ہیں، ان کے بارے میں ذوقی نے ایسا کیوں نہ کہا؟۔ ایک وجہ تو مجھے صاف صاف دِکھتی ہے کہ اس دوسرے گروہ میں برا لکھنے والوں کی اتنی فراوانی ہے کہ اگر ذوقی ان کے بارے میں ایسا کہہ دیتا تو صاحب کون کافر تھا، جس کے ماتھے پر چنٹ بھی پڑتی۔ فوراً مان لیا جاتا اور کہہ دیا جاتا کہ لو بھائی یہ تمہارا اپنا ملبہ سے جب چاہو اٹھا لو، پھر شکرانے کے نوافل ادا کیے جاتے کہ خس کم جہاں پاک۔ اتنے چھوٹے سے ملک میں اتنا برا اور اُتھلا لکھنے والوں کی بہتات سے دم گھٹنے لگا ہے، بے شک لے لو کہ تمہارا ہندوستان بڑا ملک ہے وہاں ایک سے ایک برا سمایا ہوا ہے، ادھر سے مانگا ہوا جتھا وہاں بہ سہولت ان کے اندر کھپ سکتا ہے۔ مگر پیارے ذوقی سچ مانو اور یقین رکھو کہ منٹو ایسا اچھا اور سچا لکھنے والا پورے بھارت میں نہیں سما سکتا تھا لہذا وہ اُدھر سے اِدھر اٹھ آیا۔ اگر سما سکتا تو اپنے دوست شیام کے سینے میں ہی سما جاتا، شیام نے کیا منٹو کا بندھا اسباب دیکھ کر صرف دل رکھنے کو نہیں پوچھا تھا:

"چلے؟"

اور اپنے چوڑے سینے سے بھینچ کر اسے رخصت ہونے کو یہ نہیں کہہ دیا تھا:

"سور کہیں کے"


مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آخر ذوقی کو منٹو کا پاکستانی ہو جانا کیوں سمجھ میں نہیں آیا جب کہ شیام کو منٹو کا بندھا اسباب دیکھتے ہی یہ بات سمجھ میں آ گئی تھی؟ اس معاملے میں آصف "دنیا زاد۔ 31" میں بجا طور پر برہم ہوا ہے تاہم اس کا ذہن اپنے منتخب کردہ افسانوں کی کتاب کے دفاع اور منتخب کردہ افسانوں کے جواز میں زیادہ الجھا رہا۔ میں بھی ذوقی کی طرح انتظار اور آصف کے مذکورہ انتخاب سے کوئی زیادہ خوش نہیں ہوں مگر اپنی نا خوشی کی جو وجوہ ذوقی نے بتائی ہیں ان سے اتفاق کرنا بھی میرے لیے ممکن نہیں ہے۔ میں اس باب میں ان لوگوں کے ساتھ ہوں جو اسے مرتبین کی اپنی صوابدید اور ان کے اپنے ذوق کا معاملہ قرار دے کر ایک طرف ہو جاتے ہیں۔

اچھا ایک بار پھر منٹو کے حوالے سے اٹھائے گئے ذوقی کے سوال کی طرف آتے ہیں اور یہ گمان باندھ لیتے ہیں کہ ذوقی کی نظر سے منٹو کا لکھا ہوا اپنے دوست شیام کا وہ خاکہ نہیں گزرا ہو گا جس اوپر حوالہ آ چکا ہے۔ ذوقی کے مطابق" منٹو نے ہندوستان میں جنم لیا، ہندوستان میں دھکے کھائے۔ممبئی اور تب کے "بامبے" کے فلم اسٹوڈیو میں نوکری کی تھی لہذا وہ ہندوستانی ہوا۔، کہا جا سکتا ہے کہ اے صاحب، لگ بھگ اسی وزن کی رسوائیاں ہم نے بھی اس کی جھولی میں ڈالی ہیں۔ اس نے ممبئی میں جنم لیا تھا تو یوں ہے کہ اِدھر وہ ابدی نیند سوتا ہے، انگریزوں کی حکو مت والے ہندوستان میں اسے فحش نگار سمجھا گیا، پاکستان میں بھی تو اس کے حصے میں یہی کچھ آیا، دھکے اور فحاشی کے مقدمے۔ لہذا یہ تو کوئی دلیل نہ ہوئی۔

ذوقی کا مزید کہنا ہے کہ:

"منٹو کا "آئرن مین" ٹوبہ ٹیک سنگھ "نو مینس لینڈ" کے اس طرف جانے میں یقین نہیں رکھتا تھا۔ پاگل کہے جانے والے ٹوبہ ٹیک سنگھ کی فکر بھی یہی تھی کہ "ہندوستانی کون اور پاکستانی کون؟" شاید یہی فکر منٹو کی بھی رہی ہو۔"

ذوقی نے مضمون تو خوب باندھا تھا مگر اِس "شاید" کے لفظ نے اُس کے دل کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ یہ لفظ چغلی کھاتا ہے کہ جو کچھ وہ کہہ رہا ہے اُس پر اُسے خود بھی یقین نہیں ہے۔ کہ اندر کا شک اُس کی تحریر میں در آیا ہے۔ اب شک کی بُھربُھری بنیاد پر تعمیر ہونے والی عمارت کی پائیداری کا یقین کون کرے گا۔ سچ یہ ہے کہ منٹو وہ تھا ہی نہیں جو "ٹوبہ ٹیک سنگھ" تھا اور یہ بات ذوقی بھی اچھی طرح جانتا ہے۔

جس نے ٹوبہ ٹیک سنگھ کو پڑھا ہے وہ آگاہ ہے کہ منٹو کے اس افسانے میں پاگلوں کے تبادلے کا فیصلہ تقسیم کے تین سال بعد ہوا تھا جب کہ بشن سنگھ عرف ٹوبہ ٹیک سنگھ کو پاگل خانے میں داخل ہوئے پندرہ سال ہو چکے تھے۔ گویا بشن سنگھ کے پاگل ہونے کا زمانہ لگ بھگ 1933۔34 کا بنتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ اس سے بھی چار سال پہلے یعنی 1930ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے الہ آباد کے جلسے میں اقبال متحدہ اسلامی ریاست کے قیام کا خواب دکھا چکے تھے اور اس سے بھی پہلے یعنی 1920ء تک قائد اعظم کانگریس سے مایوس ہو کر اسے چھوڑ چکے تھے۔ تقسیم کی طرف لے جانے والے ان جیسے اہم واقعات کے ساتھ بشن سنگھ کے کردار کا کوئی کنارہ تک نہیں ملتا۔ اب اگر بشن سنگھ عرف ٹوبہ ٹیک سنگھ کے پندرہ سال پہلے پاگل ہو جانے یا قرار دیئے جانے جانے کی کوئی علامتی توجیہہ ممکن نہیں تو اس معاملے میں کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ خود منٹو سے مدد لی جائے۔ منٹو کا اَفسانہ بتاتا ہے:

"ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اس کی کئی زمینیں تھیں۔ اچھا کھاتا پیتا زمیندار تھا کہ دماغ الٹ گیا۔ اس کے رشتہ دار لوہے کی موٹی موٹی زنجیروں میں اسے باندھ کر لائے اور پاگل خانے میں داخل کر گئے۔"

یوں طے ہو جاتا ہے کہ افسانے میں بشن سنگھ کے پاگل پن کا جواز "فرقہ ورانہ فسادات" سے کسی طور جڑتا ہی نہیں ہے۔ افسانے کے متن میں زیادہ سے زیادہ اس شک کی گنجائش نکلتی ہے کہ اس کے رشتہ داروں نے اس کی زمینیں ہتھیانے کے لیے اُسے پاگل خانے میں داخل کرا دیا ہو گا ورنہ اَفسانہ تو کسی ذہنی دباؤ کی وجہ سے حواس کھو بیٹھنے کا ذکر کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ اور ہاں یہ بھی ہے کہ وہ سچ مچ کا پاگل تھا جب ہی تو ہر مہینے ایک ایک انگلی بڑھتی اپنی جوان ہو چکی بیٹی روپ کو ر کو بھی پہچان نہ پاتا تھا۔ بشن سنگھ اور اس جیسے دوسرے پاگلوں کو سامنے رکھ کر فتح محمد ملک نے اپنے مضمون "ٹوبہ ٹیک سنگھ: ایک نئی تعبیر" میں بجا طور پر لکھا ہے:

"پاکستان کا قیام بھلا پاگلوں کی سمجھ میں کیوں کر آ سکتا تھا۔"


لہذا ذوقی جیسے پیارو جان لو کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ نے "نو مینس لینڈ" میں مر کر وہی کیا جو ایک پاگل کر سکتا تھا اور منٹو کو وہ لکیر پھاند کر اِدھر آنا پڑا کہ اُس کے شعور نے اُسے یہی سجھایا تھا۔

ذوقی کا یہ بھی کہنا ہے کہ "منٹو کی کہانی " کھول دو" بھی اُس کے پاکستانی نہ ہونے کی روداد سناتی ہے۔ میں ذوقی کے اس دعوی کو یوں باطل سمجھتا ہوں کہ یہی کہانی مجھے اُس کے پاکستانی ہونے کی کہانی سناتی ہے۔ پاکستان آنے کے بعد منٹو نے جو دو پہلی کہانیاں لکھیں ان میں "کھول دو" شامل ہے۔ ذوقی نے دوسری کہانی کا نام نہیں لیا، میں لیے دیتا ہوں ۔۔۔۔" ٹھنڈا گوشت"۔ ترتیب میں یہ منٹو کی پہلی پاکستانی کہانی بنتی ہے۔ اس کہانی کا "گرم سکھ، کیسے "ٹھنڈا، ہو گیا تھا۔ کلونت کور جیسی عورت اُس کے سامنے کیوں بے بس ہو گئی۔جب ہنگامے ہوئے اور لوٹ مچی، ایشر سنگھ نے ایک گھر میں گھس کر چھ مردوں کو مار ڈالا اور جوان سال خوب صورت لڑکی کو کندھے پر اٹھا لایا تو وہ اس کے کندھے پر وہ لڑکی خود بخود کیسے مر گئی تھی۔ میں جتنا غور کرتا ہوں، اتنا ہی ساری صورت حال میرے اندر آئینہ ہوتی جاتی ہے۔ جہاں یہ اَفسانہ میرے اندر فسادیوں اور لوٹ مار کرنے والوں کے خلاف نفرت اُبھارتا ہے، وہیں مجھے ایک حساس پاکستانی سے بھی ملاتا ہے۔ ایسا پاکستانی جو فسادات اور قتل و غارت گری کو نفرت اور دُکھ سے دیکھتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اپنے خوابوں کی سرزمین کی طرف دیکھنے والوں کے ساتھ ایسا ہوتا۔ ذوقی ادھر دھیان دیتا تو یہی اَفسانہ اسے منٹو کے ہندوستانی نہ رہنے کی داستان بھی سنا دیتا۔ یہ وہ اَفسانہ ہے جسے قاسمی نے یہ کہہ کر چھاپنے سے انکار کر دیا تھا:

"منٹو صاحب، معاف کیجئے، اَفسانہ بہت اچھا ہے لیکن نقوش کے لیے بہت گرم ہے۔"

لہذا منٹو نے نقوش کے لیے دوسرا اَفسانہ لکھا۔مجھے کہنے دیجئے کہ۔۔۔۔اپنا دوسرا پاکستانی اَفسانہ ۔" کھول دو"۔ اور یہ وہی فسانہ ہے جو ذوقی کو مغالطے میں ڈالتا ہے۔

"کھول دو" کو سمجھنے کے لیے قیام پاکستان کے بعد کے بدلے ہوئے منٹو کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ میں اُس تبدیلی کی بات کر رہا ہوں جو حسن عسکری کو بھی نظر آ گئی تھی اور ممتاز شیریں کو بھی۔ مگر حیف کہ ایک ذوقی کو نظر نہیں آتی۔ منٹو نے "زحمت مہر درخشاں" میں لکھا تھا کہ پاکستان آنے کے بعد یہ الجھن پیدا کرنے والا سوال اس کے ذہن میں گونجتا رہا:

" کیا پاکستان کا ادب علیحدہ ہو گا۔ اگر ہو گا تو کیسے۔ وہ سب کچھ جو سالم ہندوستان میں لکھا گیا، اس کا مالک کون ہے۔ کیا اس کو بھی تقسیم کیا جائے گا۔ کیا ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کے بنیادی مسائل ایک جیسے نہیں۔ کیا ادھر اردو بالکل ناپید ہو جائے گی۔ یہاں پاکستان میں اردو کیا شکل اختیار کرے گی۔ کیا ہماری اسٹیٹ مذہبی اسٹیٹ ہے۔ اسٹیٹ کے تو ہم ہر حالت میں وفادار رہیں گے، مگر کیا حکومت پر نکتہ چینی کی اجازت ہو گی "۔۔۔۔اور۔۔۔۔" آزاد ہو کر کیا یہاں کے حالات فرنگی عہد حکومت کے حالات سے مختلف ہوں گے"

اب مجھے ایک دفعہ پھر روئے سخن ذوقی کی جانب کرنا ہے اور اُس کے دل سے پو چھنا ہے کہ اے پیارے، خدا لگتی کہو، پاکستان بننے کے بعد، پاکستان کے حوالے سے، دل سے پاکستانی بنے بغیر اتنے بنیادی سوالات کیا منٹو کے تخلیقی وجود کا حصہ ہو سکتے تھے؟۔ تو یوں ہے کہ منٹو پاکستان آیا اور پاکستان کا وفادار ہو گیا۔ وہ تقسیم سے پہلے تقسیم کا مخالف تھا۔مانتا ہوں ضرور تھا مگر جب وہ یہاں آیا تو اُس کے یہاں بہت اُجلے خوابوں نے ڈیرے ڈال دیے تھے جہاں جہاں اسے ٹیڑھ نظر آیا وہاں وہاں اس نے بھر پور چوٹ لگائی۔ اَفسانہ "کھول دو" بھی ایسی ہی شدید چوٹ ہے۔ ایک سچے پاکستانی کی اُس معاشرتی روئیے پر بے رحم چوٹ جس نے ہمارے سنہرے خوابوں کو گدلا دیا تھا۔

ذوقی نے یہ بھی لکھا ہے:

"منٹو بے چارہ۔47کی تقسیم کے بعد 48ء میں پاکستان گیا وہ بھی اپنی بیوی کے زور دینے پر اور 55 میں اس کی موت ہو گئی۔"

ذوقی اس طرح منٹو کو "بے چارہ" لکھ کر اور ایک ہی جملے میں اسے پاکستان پہنچا اور مار کر اُس سے اُس کی پاکستانیت نہیں چھین سکے گا کہ اِس باب میں منٹو بہت کچھ کہہ کر مرا ہے۔یہ اس کے افسانوں میں بھی موجود ہے اور اس کی دوسری نثری تحریروں میں بھی۔ منٹو کے دوست کے حوالے سے جس تحریر کا اوپر میں ذکر کر آیا ہوں اُسی میں بتایا گیا ہے کہ تقسیم کے ہنگاموں کے دوران ایک مرتبہ منٹو نے اپنے دوست شیام سے پوچھا تھا:

"میں مسلمان ہوں، کیا تمہارا جی نہیں نہیں چاہتا کہ مجھے قتل کر دو۔"

شیام نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا:

"اِس وقت نہیں ۔لیکن اُس وقت جب کہ میں مسلمانوں کے ڈھائے ہوئے مظالم کی داستان سن رہا تھا۔میں تمہیں قتل کر سکتا تھا۔"

منٹو نے یہ سنا تو اس کے دل کو بہت دھچکا لگا تھا۔ جب ہندو اور مسلمان دھڑا دھڑ مارے جا رہے تھے تو شیام جیسے دوست کا "اِس وقت" کبھی بھی "اُس وقت" بن سکتا تھا۔ منٹو نے بعد غور کیا ۔۔۔۔پھر فیصلہ کیا، بیوی کے اصرار پر نہیں خود فیصلہ کیا اور اپنا اسباب باندھ لیا۔ شیام نے منٹو کو روکا نہیں، بندھا سامان دیکھ کر صرف اتنا کہا "چلے " اور منٹو کے "ہاں " کہنے پر اسے کو ئی حیرت نہیں ہوئی اس نے سامان بندھوانے میں منٹو کا ہاتھ بٹایا، برانڈی کی بوتل نکالی، دو پیگ بنائے اور کہا "ہپ ٹلا" پھر قہقہے لگا کر سینے سے لگایا اور کہا "سؤر کہیں کے"

منٹو نے آنسوؤں کو روکا اور جواب دیا "پاکستان کے"۔ اور۔ سیدھا اپنے ملک پاکستان چلا آیا۔


سعادت حسن منٹو:ایک نئی تعبیر

حسن عسکری نے لکھا تھا:

"منٹو تو ایک اسلوب تھا۔لکھنے کا نہیں جینے کا۔"

اُس نے یہ بھی لکھا تھا:

"واقعی منٹو بڑی خوفناک چیز تھا۔ وہ ایک بغیر جسم کے روح بن کر رہ گیا تھا۔۔۔۔منٹو سوچتا تو احساسات اور جسمانی افعال کے ذریعہ ہی تھا۔ لیکن یہ چیز وہ تھی جس کے متعلق اسپین کے صوفیوں نے کہا ہے کہ جسم کی بھی ایک روح ہوتی ہے، یہ روح منٹو نے پالی تھی۔۔۔۔منٹو نے اپنی روح کو بالکل ہی بے حفاظت چھوڑ دیا تھا۔ ہر چیز منٹو تک پہنچتی تھی۔ اور اتنے زور کا تصادم ہوتا کہ وہ چکرا کے رہ جاتا تھا۔"

تو یوں ہے کہ ہندوستان کے ٹوٹ کر آزاد ہونے اور مسلمانوں کے لیے ایک الگ مملکت کے قیام کے واقعات بھی ایسے تھے جن کا تصادم منٹو کی روح سے ہوا تھا، اور تصادم اتنے زور کا تھا کہ وہ چکرا کر رہ گیا تھا۔ یہ جسے میں نے چکرا جانا کہا ہے، فتح محمد ملک نے اسے اپنی نئی کتاب "سعادت حسن منٹو: ایک نئی تعبیر" میں بدل جانا لکھا ہے۔ خود پروفیسر ملک ہی کے الفاظ میں:

"پاکستان کے قیام نے منٹو کے فکر و احساس کی دُنیا کو منقلب کر کے رکھ دیا تھا۔"

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ:

"پاکستان پہنچتے ہی منٹو نے نئی زندگی کے نئے ممکنات کو کھنگالنا شروع کر دیا تھا۔"

وہ نئے ممکنات کیا تھے ان پر اس کتاب کے چھ نئے اور ایک پچاس سال پرانے مضمون میں تفصیل سے بات کی گئی ہے۔ اور ساتھ ہی ان اہم تحریروں کو ضمیمہ جات کی صورت بہم کر دیا گیا ہے جو اس موضوع پر معاون ہو سکتی تھیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد تبدیل ہو جانے والے منٹو کو ممتاز شیریں نے بہت پہلے شناخت کر لیا تھا۔اس نے "منٹو کا تغیر اور ارتقا" میں تقسیم کے بعد کے دور کو منٹو کی اَفسانہ نگاری کا نیا دور قرار دیا تھا۔ صرف وقت کے لحاظ سے نہیں بلکہ اس لحاظ سے بھی اس دورانئے میں اسے منٹو اپنی تخلیقات میں بدلا ہوا نظر آیا تھا۔ اس کتاب میں پروفیسر ملک کی دلچسپوں کا محور بھی یہی تبدیلی رہا ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ منٹو کی ہر اس تحریر سے بھر پور توجہ کے ساتھ گزرے ہیں جو منٹو نے پاکستان آنے کے بعد لکھی تھی۔

منٹو کی مثالیت پسندی، والے باب میں وہ "باسط"، افسانے کا تجزیہ کرتے ہیں۔ یہ منٹو کا کوئی اہم اَفسانہ نہیں بنتا، بلکہ میں اسے اس کے انتہائی کمزور افسانوں میں شمار کرتا ہوں، جو کچھ منٹو اس افسانے میں باسط کے ذریعے دکھا رہا تھا وہ مثال بنانے کو درست سہی مگر ہماری اپنی تہذیبی روئیے کی سدھائی ہوئی جبلت اور نفسیات سے مطابقت نہ رکھتا تھا تاہم پروفیسر ملک اس کے ذریعے تبدیل شدہ منٹو کی مثالیت پسندی کو دکھایا دیا ہے اور یہ بھی بتا دیا ہے کہ منٹو نے اس نئی مملکت میں کس سطح کے احترام انسانیت کا خواب دیکھا تھا۔

"منٹو کی پاکستانیت" کا عنوان پانے والا مضمون جہاں منٹو کے لکھے ہوئے شیام کے قلمی خاکے "مرلی کی دھن" سے معنی اخذ کرتا ہے وہیں پروفیسر ملک اس کے افسانوں "سہائے" اور "دو قومیں " سے ایسے منٹو کو تلاش کر لاتے ہیں جو روحانی اور تخلیقی سطح پر یہ ثابت کر رہا ہوتا ہے کہ پاکستان کی طرف آنا اس کا شعوری فیصلہ تھا اور بعد ازاں پاکستان کی روحانی شناخت کو قائم رکھنا اس کی اصل ترجیح بن گیا تھا۔ منٹو بدل گیا تھا مگر اس سر زمین کے لوگوں کے رویے نہیں بدلے تھے اور اس پر منٹو برہم ہوتا تھا۔ پروفیسر ملک کا کہنا ہے کہ برطانوی تربیت یافتہ حکمرانوں نے بہت جلد ہمیں عملاً دوبارہ مغربی طاقتوں کا غلام بنا دیا تھا جب کہ منٹو کی پاکستانیت کو یہ بات گورا نہ تھی۔ اس صورت حال پر منٹو نے صدائے احتجاج بلند کی تھی۔اپنے افسانوں میں ۔چچا سام کے نام اپنے خطوط میں ۔۔۔۔اور اپنے مضامین میں۔ جا بجا منٹو کی تحریروں میں اس احتجاجی لے کو دیکھا جا سکتا ہے اور اس حوالے سے ہم منٹو کی سچی پاکستانیت کو بھی شناخت کر سکتے ہیں۔


منٹو اس بات پر فخر کرتا تھا کہ وہ کشمیری تھا لہذا یہ کیوں کر ممکن تھا کہ وہ کشمیریوں کی غلامی پر کچھ نہ کہتا۔ پروفیسر ملک نے اپنے مضمون "سعادت حسن منٹو اور جنگ آزادیِ کشمیر" میں بتایا ہے کہ منٹو تنازعہ کشمیر میں پاکستان کو حق بجانب سمجھتا تھا۔ان کہنا ہے کہ منٹو نے اَفسانہ "آخری سلیوٹ" میں کشمیر کے حوالے سے پاک بھارت جنگ کی ذمہ داری برطانوی استعمار ڈالی اور " چچا منٹو کے نام بھتیجے کا خط " میں اس مسئلے کو نہ سلجھانے کا گناہ گار اقوام متحدہ کو ٹھہرایا۔انہوں نے اِس مضمون میں منٹو کے اَفسانہ " ٹیٹوال کا کتا" پر بھی بات کی ہے۔ یہ وہ اَفسانہ ہے کہ ہمارے ہاں کے دانش ور اس کی گمراہ کن تاویلیں کرتے ہوئے نہیں شرماتے تاہم پروفیسر ملک کے مطابق یہ اَفسانہ بتاتا ہے کہ "نہرو ماؤنٹ بیٹن گٹھ جوڑ" نے پرانے دوست فوجیوں کو ایک دوسرے کے مقابل کر دیا، جب کہ حکومتوں کی نا اہلیوں نے اس جنگ کو طویل تر کر کے نتیجہ خیز نہیں ہونے دیا تھا اور صورت یہاں تک پہنچ گئی کہ بے مصرف گولی چلنے لگی۔ کشمیر پر پاکستانی موقف سے منٹو کی ہم آہنگی کے ثبوت کے طور پر پروفیسر ملک نے اُس کی اُس تحریر کی بھی نشاندہی کی ہے جس میں منٹو نے اپنے محبوب ہندو دوست شیام کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا:

"پیارے شیام، میں بمبئے ٹاکیز چھوڑ کر چلا آیا تھا۔ کیا پنڈت جواہر لال نہرو کشمیر نہیں چھوڑ سکتے؟"

"انقلاب پسند منٹو اور نام نہاد ترقی پسند" کے عنوان سے اس کتاب میں ترقی پسندوں کی خوب خبر لی گئی ہے۔ اس باب میں منٹو کی ادبی اٹھان کو ایک ترقی پسند کی اٹھان کے طور پر دکھایا گیا ہے، جس نے اَفسانہ نگاری کی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے نامور اشتراکی ادیب اور مؤرخ باری علیگ کے زیر اثر عالمی فکشن کا بالعموم اور روسی فکشن کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ جس نے روسی ادب کے اس وقت تراجم کئے تھے جب انجمن ترقی پسند مصنفین کا قیام عمل میں بھی نہ آیا تھا۔ اس نے منتخب روسی افسانوں کا ترجمہ کر کے اردو دنیا میں ایک نئی ادبی تحریک کی راہ ہموار کی تھی۔ مگر طرفگی دیکھئے کہ یہی منٹو بعد ازاں ترقی پسندوں کو کھٹکنے لگا تھا۔ پروفیسر ملک نے اس باب میں دونوں کے رویوں کا جائزہ لے کر یہ ثابت کیا ہے کہ منٹو درست تھا۔ محمد حسن عسکری کی ادبی رفاقت منٹو کی غلطی نہ تھی بلکہ وہ اپنے روحانی اور سچے تخلیقی تقاضوں سے جڑ گیا تھا۔

اس نئی کتاب میں پروفیسر ملک نے منٹو کے معروف افسانے"ٹوبہ ٹیک سنگھ" کی ایک نئی تعبیر کی ہے ۔۔۔۔جو واقعی نئی ہے اور مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آج تک اردو ادب کے ناقدین نے اِس رُخ سے کیوں نہ سوچا۔ سب اسے منٹو کے تقسیم کے دوران کے فسادات پر لکھے ہوئے افسانوں کی ذیل میں رکھ کر دیکھتے رہے۔ بجا کہ ممتاز شیریں نے منٹو پر جم کر لکھا اور خوب لکھا اور صاحب یہ بھی درست کہ اس نے منٹو کے ان افسانوں کی فہرست بنائی جو اسے بہت پسند تھے تو اس میں جہاں "ہتک" "کالی شلوار" "بو" "نیا قانون" "بابو گوپی ناتھ" کے علاوہ "ممی" "موذیل" "ننگی آوازیں" "کھول دو" "ٹھنڈا گوشت" اور "سڑک کنارے" کے نام آتے ہیں وہیں قدرے نیچے سہی "ٹوبہ ٹیک سنگھ " کا نام بھی آتا ہے مگر اس افسانے کی کوئی تعبیر اس کے ہاں ملتی ہی نہیں ہے۔ یہی عالم، منٹو کو رجعت پسند بنانے کا طعنہ پانے والے، حسن عسکری کے ہاں ملتا ہے۔ دونوں اِس طرف توجہ دیتے تو بعد میں بہت میں آنے والے سوں کو ٹھوکریں کھانے سے روک سکتے تھے۔ یہی ٹھوکریں کھانے والے فتح محمد ملک کے اس مضمون کے اولین مخاطب ہیں۔ میں اس مضمون کو اس کتاب کا دل کہوں گا جسے چھوتے ہی میرا اپنا دل دھڑکنا بھول گیا تھا۔

منٹو کے شاہکار اَفسانہ"ٹوبہ ٹیک سنگھ" کی تعبیر جس طرح اور جس توجہ سے پروفیسر ملک نے کی ہے اُس پر دل ٹُھکتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس افسانے کی یہ تعبیر تھی تو یہ اَفسانہ سمجھنے میں اتنی دیر کیوں لگی۔ میں نے بہت غور کیا تو اپنے آپ کو وارث علوی کا متفق پایا کہ:

"اَفسانہ اپنے حسن کا راز فوراً سب پر ظاہر نہیں کرتا، وہ صاحب نظر نقاد کا انتظار کرتا ہے۔ افسانے کی معنیاتی بصیرت کا راز اس رشتے میں ہے جو نقاد افسانے سے قائم کرتا ہے۔ یہ رشتہ محبت، نشاط اور وارفتگی کا ہوتا ہے۔"


مجھے پروفیسر ملک کے ہاں منٹو کے اس افسانے کی تعبیر اور تشریح میں یہی نشاط، وارفتگی اور تنقیدی بصیرت ایک ساتھ متحرک نظر آتے ہیں۔ اسی تنقیدی بصیرت (جو ہر حال میں ایک قومی شعور سے وابستگی پر مصر اور نازاں رہتی ہے )کا فیصلہ ہے کہ "ٹوبہ ٹیک سنگھ" کا موضوع برطانوی ہند کی تقسیم نہیں ہے اور یہ بھی کہ یہ اَفسانہ فسادات کے پس منظر میں لکھا ہی نہیں گیا تھا۔ اس مضمون کے آغاز میں طارق علی پر گرفت کی گئی ہے جس نے اَفسانہ "ٹوبہ ٹیک سنگھ" کو برطانوی ہند کی تقسیم اور نسل کشی کے فسادات کا شاخسانہ کہا تھا۔ آگے چل کر لگ بھگ وارث علوی نے بھی اس باب میں ایسی ہی ٹھوکر کھائی اور انداز نظر قائم کیا کہ:

"ملک تقسیم ہوتے ہی بشن سنگھ جس پاگل خانہ میں تھا اس کے باہر بھی ایک بہت بڑا پاگل خانہ کھل گیا تھا۔۔۔۔رات کی رات جغرافیہ بدل گیا۔ روابط اور وابستگیاں بدل گئیں اور لوگ بہ تمام ہوش مندی ایک ملک سے دوسرے ملک ہجرت کرنے لگے۔"

فتح محمد ملک نے واضح کیا ہے کہ ہندوستان کی تقسیم دراصل برٹش انڈیا کی سامراجی وحدت ٹوٹنے کا وہ اہم واقعہ ہے جو دو قوموں کی آزاد قومی ریاستوں کے قیام کی نوید بن گیا تھا اور یہ قومیں اپنے اپنے جغرافیائی خطوں میں استعماری چنگل سے آزاد ہو گئی تھیں لہذا باہر کی دنیا پر پاگل خانے کے اندر کے واقعات اور صورت حال کو منطبق نہیں کیا جا سکتا۔ مصنف نے کہا ہے کہ منٹو کے افسانے کا موضوع نہ تو تقسیم ہے اور نہ ہی فسادات۔بلکہ اس افسانے کا موضوع حافظے کی گم شدگی اور تخیل کی موت ہے۔ پروفیسر ملک نے افسانے کے دیگر پاگل کرداروں کے ساتھ بشن سنگھ کا موازنہ اور تجزیہ کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ

دیگر کرداروں میں سے پہلا وہ تھا، جسے اس کے لواحقین پھانسی کی سزا سے بچانے کی خاطر پاگل قرار دے کر یہاں بند کروا گئے تھے۔ یہ کردار جانتا تھا کہ پاکستان کیا ہے اور کہاں ہے۔

دوسرے پاگل سکھ کردار کے محسوسات کی دنیا بھی قائم تھی اور محسوس کر رہا تھا کہ ہندوستان کہاں ہو گا بس اسے فکر تھی تو یہی کہ اسے" ہندستوڑوں" کی بولی نہیں آتی تھی۔

پروفیسر ملک نے جن دو مزید پاگل کرداروں کا تجزیہ کیا ہے وہ دونوں دماغ ماؤف ہوتے ہوئے بھی محسوس کر سکتے تھے ایک نے محمد علی جناح بن جانے کا دعوی کیا تھا اور دوسرے نے ماسٹر تارا سنگھ ہو جانے کا۔ دونوں کا رویہ انہیں الگ الگ قوم کا فرد بنا دیتا تھا۔

یوں یہ سارے کردار محسوسات کی محدود سطح پر سہی بیرونی دنیا اور اس کی تبدیلیوں سے جڑے ہوئے تھے۔ لیکن افسانے کا مرکزی کردار بشن سنگھ المعروف بیرونی دنیا سے بالکل کٹا ہوا تھا۔ پروفیسر ملک نے یہ ثابت کرنے کے بعد افسانے کے متن کے اس حصے کی طرف توجہ دلائی ہے جس میں منٹو نے اس کردار کا تعارف کراتے ہوئے لکھا تھا کہ وہ اپنے رشتہ داروں حتی کہ اپنی بیٹی تک کو نہیں پہچان سکتا تھا۔ یوں وہ اس افسانے کی ایسی تعبیر کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جس سے اس کی خبر ملتی ہے کہ تقسیم کے حوالے سے منٹو کا تخلیقی شعور کس سطح پر کام کر رہا تھا۔ پروفیسر ملک کا کہنا ہے کہ منٹو کی اس کہانی کی صرف ایک ہی تعبیر ممکن ہے اور وہ یہ کہ پاکستان کی تحریک ایک روحانی وابستگی کا کرشمہ تھی اور تحریک پاکستان قید مقامی سے رہائی اور خوابوں کی سرزمین سے وابستگی کا استعارہ تھی اور یہ بھی کہ الگ قوم کے لیے ایک خود مختار اور آزاد نظریاتی مملکت کے قیام کی بات بشن سنگھ جیسے پاگلوں کی سمجھ میں آ ہی نہیں سکتا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ قیام پاکستان کے بعد بدلے ہوئے تناظر میں منٹو فہمی کے لیے فتح محمد ملک کی یہ کتاب اس نئی تعبیر کے حوالے سے بہت اہم ہو جاتی ہے۔


بیدی کی عورت اور فاروقی کا غصہ

الفریڈی جیلینک نے اپنی تخلیقات میں اس بات کو موضوع بنایا ہے کہ ادب کی نئی دنیا میں مرد کا پلڑا بھاری ہے، اس کا زور چلتا ہے جب کہ زندہ گوشت پوست والی مکمل اور بھر پور عورت کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ اور یہ کہ لکھنے والوں کے ہاں عورت کی پیش کش کا تصور پہلے سے ساختہ یعنی stereotype ہے۔ بنا بنایا اور گھڑا گھڑایا۔، لگ بھگ اسی عنوان سے شمس الرحمن فاروقی نے راجندر سنگھ بیدی کے نام بھی چارج شیٹ جاری کی ہے۔ بیدی پر الگ سے اور جم کر شمس الرحمن فاروقی نے کچھ نہیں لکھا اور اس کا اسے اعتراف بھی ہے، تاہم شہزاد منظر کو دیئے گئے انٹرویو (مطبوعہ روشنائی کراچی: شمارہ۔41) میں اس نے بیدی کی عورت کا امیج اسٹیریو ٹائپ قسم کا قرار دے دیا۔ اس مکالمے میں پہلے تو شمس الرحمن فاروقی نے ان خواص کی گنتی کی، جن سے بیدی کی فکشن کام مقام متعین کرتے آئے ہیں اور پھر اس تناظر میں بیدی کی بڑائی کو معرض شک میں ڈال دیا۔ شمس الرحمن فاروقی کی بیدی سے شکایت کا خلاصہ یہ بنتا ہے کہ یہ جو ہندوستان اور پاکستان میں عام طور پر عورت کے بارے میں تصورات پائے جاتے ہیں کہ عورت گھریلو جانور ہوتی ہے۔ عورت میں مامتا ہوتی ہے، وہ نرم دل ہوتی ہے، لوگ اس پر بہت ظلم کرتے ہیں، وہ سخت دُکھ اٹھاتی ہے، تکلیفیں برداشت کرتی ہے، وہ محبت کی دیوی ہوتی ہے۔ یہ سب بیدی کے ہاں در آئے ہیں۔ اور یہ کہ بیدی نے عورت کے موضوع پر جو کچھ لکھا ہے اس سے اس کے افسانوں میں عورت کا امیج خاصا اسٹریو ٹائپ قسم کا بنتا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کے نزدیک بیدی نے عورت کی زبوں حالی کو اپنے افسانوں میں approve کیا بجائے اس کے کہ اس صورت حال کو ظاہر کر کے وہ عورت کے بارے میں کوئی alternative image پیش کرتا کہ عورت ایسی ہونی چاہیے یا عورت ایسی ہے یا وہ اندر سے ایسی ہے لیکن ہم لو گوں نے اور اس نظام اقدار نے عورت کو اتنا مظلوم بنا دیا ہے۔ اس قصور کی نشاندہی کر کے شمس الرحمن فاروقی بیدی، اس کے افسانے اور اس کے افسانوں کے کرداروں اور خاص طور پر اس کی عورتوں پر خوب برسا۔ پھر کئی کرداروں کے نام لئے اور کہا ان اسے غصہ آتا ہے۔ طرفہ دیکھئے کہ یہی بیدی کے تخلیق کردہ عورت کے وہ کردار ہیں جنہوں نے اردو فکشن کو با ثروت بنایا اور اب یہ بیدی کی کہانیوں سے نکل کر ہمارے دلوں میں بسنے لگے ہیں۔

بیدی کی جن عورتوں پر شمس الرحمن فاروقی برہم ہے ان میں "لاجونتی" بھی شامل ہے۔ پچھلے دنوں جب میں سارک ممالک کے تخلیقی ادب کا انتخاب کر رہا تھا تو بیدی کے بارے میں سوچتے ہی میرا دھیان فوراً "لاجونتی "کی طرف گیا تھا۔ اب شمس الرحمن فاروقی کو اس پر یوں برہم ہوتے پایا تو اپنے تئیں اردو فکشن کو اس کے بغیر دیکھنا چاہا۔ اب کیا بتاؤں صاحب، جہاں سے "لاجونتی " کو نکال پھینکا گیا تھا، وہاں ایک بہت بڑا کھانچا پڑ ا میں صاف دیکھ رہا تھا۔ اور یہ کھانچا ایسا تھا کہ کسی اور حیلے سے پاٹا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ دیکھئے جی، اگر مغویہ لاجونتی، غیر مردوں کے بیچ دن گزار کر پلٹی تھی، یوں کہ وہ خالص اسلامی طرز کا لال دوپٹہ اوڑھے ہوئے تھی، بائیں کو بکل مارے ہوئے، اور عین ایسے دنوں میں سے کچھ دن ادھر گزارے تھے جن میں کئی کئی عورتیں فسادیوں کی ہوسناکیوں کا شکار ہو رہی تھیں، اپنی عصمت اور عفت کو بچانے کے لیے زہر پھانک رہی تھیں، کوٹھوں سے چھلانگ مار رہی تھیں یا پھر کنوؤں میں کود رہیں تھیں ۔اور وہ آئی تھی ۔۔۔۔یوں، کہ سامنے اس کا مرد بالکل بدلا ہوا تھا، اسے لاجو نہیں، دیوی کی طرح دیکھ رہا تھا۔ اسے دھنک ڈالنے والا مرد، بچھ بچھ رہا تھا اور جو اس پر بیت چکی تھی وہ سننا ہی نہ چاہ رہا تھا۔ تو صاحب، یہ سندر لال تو وہ نہ ہوا جسے لاجو جانتی تھی۔جانتی تھی اور دل سے مانتی تھی۔ اس کا اپنا مرد جو پہلے اس کے ساتھ وہ کچھ کرتا تھا کہ بس وہی جانتی تھی مگر یوں کہ وہ اس شباہت کے ساتھ اس کی نفسیات کا حصہ ہو گیا تھا۔تو لاجونتی کے اس طرز عمل کے اس کے سوا اور کیا معنی نکل سکتے ہیں کہ وہ اپنی توہین برداشت نہیں کر پا رہی۔ "شی فیل ویری اِن ہیلیٹڈ" یہ بات امریکہ سے بیدی پر کام کرنے ہندوستان آنے والی ماڈرن قسم کی عورت جمیلہ رفیلمین کو فوراً سمجھ آ گئی تھی۔ اور، میں نہیں جانتا میرے محترم اور میرے پیارے شمس الرحمن فاروقی کو اس پر کیوں طیش آیا۔

اچھا، یوں کرتے ہیں کہ اسی ہلے میں بیدی کے افسانہ "متھن" کے ایک کردار "کیرتی" کو بھی ایک جھلک دیکھ لیتے ہیں کہ اس پربھی شمس الرحمن فاروقی بہت برہم ہے۔ اسے شکوہ ہے کہ بیدی نے زبردستی اسے اس صورتحال میں ڈال دیا ہے، حالاں کہ اسے گرنے سے بچایا جا سکتا تھا اور شمس الرحمن فاروقی کو کیرتی پر غصہ اس لیے آیا ہے کہ اس نے مورتیاں بنانے کی بجائے کوئی اور ذریعہ کیوں نہ اپنا لیا؟۔واہ صاحب واہ، یہ بھی خوب کہی، انسانی نفسیات کی وہ گرہ جو بیدی نے چٹکی میں کھول دکھائی ہے، وہی بیدی کی نا اہلی ٹھہری اور جو اَب ایک انوکھے مطالبے کے ساتھ ہاتھوں سے لگائی جا رہی ہے دانتوں سے بھی نہیں کھل پا رہی۔ اس نئی منطق کو مان لیں تو ہمارے لیے ادبی سرمائے کا غالب حصہ لائق اعتنا نہیں رہے گا۔ میں شمس الرحمن فاروقی کر تحریر کا گرویدہ ہوں۔ نیا زاویہ نکالنا، بات کو بڑے اعتماد اور سلیقے سے آگے بڑھانا اسے آتا ہے۔ یہ اوصاف اس کی دلیل میں زور پیدا کر دیتے ہیں۔ اسی لیے ممکن ہے، جس کی نگاہ میں اس افسانے کی خوب صورتیاں، باریکیاں، نفاستیں اور نزاکتیں نہ ہوں وہ اس کی یہ دلیل مان بھی چکا ہو مگر میں کیا کروں کہ شمس الرحمن فاروقی کے تنقیدی شعور کا گرویدہ ہو کر بھی اور کئی معاملات میں اس سے مرعوب ہوتے ہوئے بھی یہ منطق ہضم نہیں کر پایا ہوں۔


سچ پوچھئے تو میں منٹو کو بہت مانتا ہوں ۔بڑا افسانہ نگار۔ اردو فکشن پر اس کے بڑے احسان ہیں، اس نے کہانی کو چست کیا اور اس کی Pace میں اضافہ کر کے اس کی اثر انگیزی میں جادو بھر دیا، مگر جب بیدی کی کردارنگاری پر نگاہ پرتی ہے تو بہت سے مقامات ایسے بھی آتے ہیں کہ وہ منٹو سے کہیں آگے نکلتا صاف دکھائی دیتا ہے۔ " متھن " کی کیرتی بھی ایسے ہی کرداروں کی ذیل میں رکھی جا سکتی ہے۔ بیدی نے ان کرداروں کو زندگی کی عام شاہراہ سے اٹھایا ہے۔انہیں، جیسے وہ تھے اور جس صورت حال میں وہ پڑے ہوئے تھے، ویسے ہی اور وہیں پڑے ہوئے دکھایا ہے سہارے دے دے کر وہاں اٹھایا نہیں اور اپنی طے شدہ فکری ہَلاس میں ہشکارے مار مار کر انہیں وہاں سے نکالا بھی نہیں تاہم اس کا اہتمام ہو گیا ہے کہ وہ کردار گرا پڑا ہو کر بھی ہمیں ساتھ ملا لے اور ان سارے سماجی عوامل پر از سر نو سوچنے پر مائل کر دے جس نے ان کرداروں کو بقول شمس الرحمن فاروقی "اسٹیریو ٹائپ" بنا دیا ہے۔ صاحب اگر اسے کچھ اور suggest کرنا، نہیں کہتے تو اور کسے کہتے ہیں؟۔

اور ہاں، جہاں تک افسانے "متھن" کا معاملہ ہے تو مجھے بیدی سے، اگر کوئی شکایت ہو سکتی تھی تو اس افسانے کے عنوان کے حوالے سے ہو سکتی تھی۔ "کیرتی" کے بجائے "متھن "کیوں؟۔ ہاں کیرتی ہی اس کا عنوان سجتا اور پھبتا بھی، مگر اب جو شمس الرحمن فاروقی نے جھاڑ پچھوڑ کے بعد بیدی کی عورتوں کے عیب گنوائے ہیں تو سوچتا ہوں میں افسانہ "متھن" پڑھتے ہوئے کیرتی کے ساتھ اتنا وابستہ ہو کر بیدی سے کیوں گلہ گزار ہوا۔ چلو اس لہذا سے اچھا ہی ہوا کہ وہ اس کا نام ایک خام، غصہ دلانے اور جانجھ میں لانے والے واجب القطع کردار کے نام پر افسانے کا عنوان رکھنے سے بچ گیا۔ مگر اجازت ہو تو دست بستہ عرض کرنا ہے کہ جس صورت حال میں کیرتی پڑی ہوئی ہے کیا یہ مناسب نہیں ہے کہ پہلے اس کو دیکھ لیا جائے اور ان امکانات پر سوچ لیا جائے کہ کیا افسانہ نگار کے مصنوعی سہارے کے بغیر کیرتی وہاں سے نکل سکتی تھی؟۔ صرف اٹھارہ، انیس سالہ خوب صورت کیرتی۔جس کا باپ شلپ بناتا فن کی خدمت کرتا دو روٹیوں کے بیچ مر گیا تھا۔ٹیٹنس سے اور کتے کی موت۔ کیرتی کو وراثت میں بھوک ملی یا وہ بیمار ماں، جسے مقعد کا سرطان تھا۔اور ہاں اسے شلپ بنانے کا فن بھی تو باپ نے مرتے مرتے دیا تھا۔ گھر میں اوزار پڑے تھے، شلپ بنانے کا ہنر ہاتھ میں تھا، ماں چھاونی کے ہسپتال میں پڑی تھی، اس کے پیٹ میں سوراخ کر کے بول و براز خارج کرنے کو جو بوتل لگائی گئی تھی وہ خراب ہو گئی تھی۔ فوری بوتل بدلنا اور پھر اس کا آپریشن بہت ضروری ہو گیا تھا۔ ایسے میں کیرتی کو شلپ بنانے والے اوزاروں اور وراثت میں ملے ہنر پر تین حرف بھیجنے کا مشورہ؟

تو بس یوں ہے کہ میں کیرتی کے ساتھ ہوں جو اس نے کیا، اسے ویسا ہی کرنا چاہیئے تھا۔ تاہم میں جب بھی اس کہانی کو پڑھتا ہوں مجھے غصہ کیرتی پر نہیں آتا اس سماج پر آتا ہے جس میں کیرتیاں متھ بھری مورتیاں بنانے کی بجائے نیوڈ بنانے لگتی ہیں۔ یہ جو شمس الرحمن فاروقی نے نتیجہ نکالا ہے کہ بیدی ظلم سہنے ا ور مار کھانے والی عورت، یعنی فیملی کریکٹر بناتے ہوئے ایسا manipulate کرتا ہے گویا کہ وہ اسے approve کر رہا ہے، مجھے بجا معلوم نہیں ہوتا اس باب میں محمد عمر میمن ہی کا کہا دل کو بھاتا ہے کہ بیدی بظاہر جس کریکٹر کو approve کر رہا ہوتا ہے دراصل اسے dis-approve کر رہا ہوتا ہے۔ میں اس میں طرف اتنا اضافہ کروں گا کہ ایسا، صورت حال کی اسی manipulation سے ممکن ہوا ہے جس پر شمس الرحمن فاروقی کو اعتراض ہے۔

آغاز میں جیلینک کی کہی ہوئی بات کر کے میں فوراً بیدی کی طرف آگیا تھا اور اب یاد آیا ہے مجھے اس ضمن میں کچھ اور بھی کہنا تھا، کیا کہنا تھا؟ اوہ، میرے ساتھ عجب ہاتھ ہو گیا ہے جی، پہلے سب کچھ ذہن میں تازہ تھا، تازہ اور مربوط، مگر اب، سب کٹ پھٹ گیا ہے۔ اچھا یوں کرتا ہوں کہ جیلنیک کے بارے میں جو کچھ میں جان پایا ہوں وہی آپ کو بتائے دیتا ہوں۔ ہاں تو یوں ہے کہ جیلنیک کے ہاں جو موضوعات تکرار کے ساتھ اس کے تخلیقی تجربے کا حصہ بنے، وہ تھے جنسی امتیاز اور تشدد۔ لیجئے صاحب پہلے ہی جملے پر پوری بات یاد آئینہ ہو گئی کہ ایسے عورت زدہ لکھنے والوں اور لکھنے والیوں کی باڑھ ہمارے ہاں بھی آتی ہی رہتی ہے۔ جیلینیک کے ساتھ یہ ہوا ہے کہ وہ ویسی عورت نہ لکھنے، کہ جیسی وہ تھی، اور اسے اسٹریو ٹائپ قرار دے کر زندہ گوشت والی عورت کی طرف راغب رہنے کی وجہ سے فحش نگار کہلائی اور شدید تنقید کا نشانہ بنی ۔اور آپ جانتے ہی ہیں کہ ہمارے ہاں بھی جب جب سماج کی اس عورت سے اس کا اپنا چلن، اپنی سوچ اور اپنی زبان چھین کر لکھنے والے نے اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیا اور کہانی کے فریم ورک میں وہ نہ محسوس کرایا جو اسے کہنا تھا تو اس کا نتیجہ ادیب کے حق میں ہمیشہ اچھا نہ نکلا۔ اس پر اسی قسم کے الزامات لگے جیسے جیلینیک پر لگے تھے اور اسے متنازعہ بنا دیا گیا یا پھر اگر وہ بہت با کمال لکھنے والا نکلا تو بھی اس کے ایسے کرداروں کو پورے سماج کی نمائندگی نہ مل سکی۔ بہر حال یہ اعزاز بیدی کو جاتا ہے کہ اس نے عورت کو جس روپ میں بھی لکھا اس روپ میں عورت اسی دھرتی پر پورے قدموں سے چلتی تھی، اسی وسیب میں بسی ہوئی اور اسی تہذیب کے اندر سے پھوٹی ہوئی۔ اس نے بے شک اس کے منہ میں اپنی زبان نہیں دی اور اپنا سوچا ہوا چلن اس کے لیے نہیں چنا مگر اس نے عورت سے اس کی اپنی زبان چھینی، نہ اپنے تصور اور افکار کے کندھوں پر اسے اٹھایا۔ اس کے با وصف اسے جو کہنا اور جو کچھ سجھانا تھا وہ پوری طرح قاری کو سوجھ جاتا ہے۔


باقیات بیدی کا قصہ

جب وہ اٹھارہ برس کا تھا، اس نے ایک اُجڑے ہوئے کنویں میں چھلانگ لگا دی۔ عورت سے بھاگ کر جان دینا چاہی مگر بچا لیا گیا۔

لگ بھگ ساٹھ برس بعد ایک عمارت کی ساتویں منزل سے چھلانگ لگا کر خود کو مارنا چاہا۔اس بار عورت پیچھے نہ تھی آگے تھی۔

موت منہ موڑے رہے تو آدمی زندہ رہتا ہے، ملتفت ہو تو مر جاتا ہے۔اور عورت۔صاحب اس کا معاملہ خوب ہے یہ جینے دیتی ہے نہ مرنے دیتی ہے۔تب ہی تو سیانے کہتے ہیں "عورت کو بھاگنے دو، نہ اس سے بھاگو، وہ تمہارے بھاگ کا حصہ ہے لہذا آخری حد تک اس کے ساتھ ساتھ چلو۔نہ چل سکو تو حتی المقدور اسے ساتھ چلاؤ ورنہ چیتھڑے جاؤ گے۔ اس چلنے اور چلانے میں جی لبھانا ہوتا ہے اور جیبھ کو دابنا۔

اوہ بات راجندر سنگھ بیدی کی دو ناکام خود کشیوں کی ہو رہی تھی اور عورت بیچ میں آ گئی۔مگر۔یہ مگر ہے کہ "مگروں" اُترتا ہی نہیں ۔کیسے اُترے کہ عورت اگر، مگر، کی طرح ساتھ ہوتی ہے۔ پسلی کا ٹیڑھ زندگی کے وجود کا حصہ ہے۔سچ پوچھیں تو یہی زندگی ہے۔ سارے رنگ، ساری چھب اسی سے ہے۔ یہی ہیا ہے اور یہی اس کا ہیاؤ، قہقہے چہچہے بھی یہی اور قہر زہر بھی یہی۔یہ بات بیدی جانتا تھا، اس نے اپنی کہانیوں میں بتائی بھی مگر جب اپنے دل کو لگی تو کدال سے فصد کھلوانے کا قصد کیا۔ اٹھارویں برس کا بھگوڑا انیسویں ہی میں دام میں آگیا۔شادی سے بھاگا تھا، شادی ہو گئی۔ عورت سے بھاگا تھا عورت دل میں بس گئی۔یوں کہ دیسی بدیسی سب عورتیں اچھی لگنے لگیں۔ سوما دیوی سے شادی ہوئی سمن کے لئے سترویں منزل سے چھلانگ لگائی۔ بہت سی ایسی لاجونتیوں کو اپنی کہانیوں میں جگہ دی جو ہاتھ لگانے سے کملا جاتی تھیں اور رانوں جیسی بیٹیوں کی بھی، جنہیں ان کے ماں باپ اپنے افلاس سے تنگ آ کر روٹی کپڑے کے عوض تلو کے جیسے لوگوں کے ہاتھ بیچ دیتے تھے تاہم ساتھ ہی ساتھ پشپ منی جیسی بیٹی بھی تو اس کی کہانی میں ہے جو روتی ہے تو لکھنے والے کو بھی رلاتی ہے۔ بیدی لکھتا ہے "عورت مرد کا ملاپ ایک حیاتیاتی مقصد کے لئے ہے" اور ہاں شاید اسی لئے اس نے ایک آدھ میم سے ناجائز اولاد بھی پیدا کر ڈالی تھی۔ کہئے عورت خود سے ایک دفعہ بھاگنے کی چوک کرنے والوں کو کیسے کیسے مخمصوں میں ڈالتی ہے، کیسے بھد اُڑاتی ہے اور کس کس روپ میں آ کر دل میں اچک لیتی ہے۔

دانہ و دام، گرہن، کوکھ جلی، اپنے دکھ مجھے دے دو، ہاتھ ہمارے قلم ہوئے۔یہ بیدی کے افسانوں کے مجموعے ہیں۔ "ایک چادر میلی سی، اس کا ناولٹ ہے۔ خاکے اور مضامین الگ، ڈرامے اور فلمیں لکھیں اور اس قدر لکھیں کہ زندگی اسی میں بیت گئی۔ بیدی تقسیم کے فوراً بعد فلم کی طرف متوجہ ہوا تھا۔ بیدی کا کہنا تھا "وہی چیز جو میری خوبی تھی، فلم والوں کو میری خامی لگی، کہتے جائیے جائیے بیدی صاحب کہیں بیٹھ کر کہانیاں اور ناول لکھئے، فلم کے لئے لکھنا آپ کے بس کی بات نہیں۔" اُن دنوں کہ جب بیدی کی آنکھیں بقول جلیل با زید پوری سوکھی ہوئی ندی بن گئی تھیں اُ سنے کہا تھا "ستر سے اوپر فلمیں لکھنے، سلور جوبلیاں کرانے، بے شمار ایوارڈ پانے کے باوجود میں سمجھتا ہوں فلمی دنیا میں ایک اچھے ادیب کے لئے جگہ نہیں ہے۔"

فلمی دنیا میں جگہ نہ سہی ادبی دنیا میں تو ہوتی ہے۔اور سچی بات تو یہ ہے کہ ادھر ایک اچھے اور کھرے ادیب ہی کی جگہ ہوا کرتی ہے تب ہی تو بیدی نے وہ جگہ پالی۔ یہ باتیں مجھ سے یوں سرزد ہوئیں کہ راجندر سنگھ بیدی کی منتشر تحریروں اور انٹرویوز کو دو سو اڑتالیس صفحات میں سمیٹ لینے والی شمس الحق عثمانی کی مرتبہ کتاب "باقیات بیدی" کا مطالعہ پیش نظر ہے۔ مرتب نے اس کتاب کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: نقوشِ جاں، نقشِ فن، نقشِ دیگراں، نقوشِ نظر اور نقوشِ گفتار۔ ان پانچ حصوں میں کیا ہے، شمس الحق عثمانی نے اس کی تفصیل ساٹھ صفحات پر مشتمل "تعارف نامہ" میں مہیا کر دی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ غیر مدون تحریریں اور انٹرویوز وغیرہ انہیں بیدی صاحب نے اپنی زندگی ہی میں عنایت کئے تھے یا پھر بعد ازاں انہوں نے تحقیق و جستجو سے حاصل کیں۔ بیدی نے مرتب کے سامنے ایک ایسا انکشاف بھی کیا تھا جس نے ہمارے ان سب لکھنے والوں کی مشکل آسان کر دی ہے جو اپنی تحریروں پر دوسروں کی ایسی آراء سے ہمیشہ سے نالاں ہیں جن میں اُن کے مرتبے کا خیال ہی نہیں رکھا جاتا اور ایسے افراد کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں جو ان کی عین منشا کے مطابق "تنقید" لکھ سکیں۔ شمس الحق عثمانی کے مطابق اس انکشاف کی تفصیل یہ ہے کہ بیدی صاحب نے ایک مرتبہ انہیں بتایا تھا کہ ان کی پہلی کتاب "دانہ و دام" کی طبع اول کا دیباچہ خود انہوں نے لکھا تھا۔ ان کے اپنے الفاظ کے مطابق:

"نام تھے ایک ہنس راج صاحب، اُن کا گیا تھا۔ بس نام تھا اُن کا۔"


بیدی نے نہ صرف ہنس راج کی طرف سے اپنی کتاب کا دیباچہ لکھا، اس کی شخصیت کا رعب ڈالنے کے لئے اُسے لاہور کے ایک پرچے "اتالیق" کا ایڈیٹر بھی بنا دیا تھا۔ لاہور تو لاہور ہے صاحب، ایک اس کا اپنا دبدبہ، اس پر اضافہ یہ کہ وہاں کے ایک پرچے کا "ایڈیٹر، ہونے کا رعب۔ ایسے دیباچے کو اول اول جس نے دیکھا ہو گا اس میں تاب ضبط کہاں رہا ہو گا۔ اس اہتمام سے بیدی نے کیسے کیسے مواقع نکال لئے ہیں اس کی طرف اشارہ کر دینے سے بھی بہتوں کا بھلا ہو سکتا ہے، ہنس راج کے نام سے بقلم خود لکھتے ہیں:

"بیدی کی تحریر کے حسنِ قبول اور تاثیر سے کسی کو بھی انکار نہ ہو سکے گا۔ اس نو بیداری کی حالت کو (بیدی نے) کس خوبی سے نبھایا ہے۔ نفسِ تحت الشعور کی تشریح "ردِ عمل" میں مقامِ اوج کو پہنچ جاتی ہے۔"

اس آخری سطر میں کتنا فلسفہ، کتنا گہرا مطالعہ ہے۔

اس میں طباع مصنف نے جس چیز کی طرف اشارہ کیا ہے، وہ ہے بہت خطر ناک، مگر بیدی بت شکن کی سی قسم کا انسان (ICONOCLAST)ہے۔

"بھولا" اور "گرم کوٹ" میں گھریلو فضا کی تصویر اس حد تک کامیاب ہے کہ میں نے شاید ہی اردو کے کسی افسانے میں دیکھی ہو گی۔

اور مصنف نے نفسِ تحت الشعور کی کتنی کامیاب تصویر پیش کی ہے۔

اسی طرح "بھولا" بھی بیدی صاحب کی ایک ہمیشہ قائم رہنے والی کہانی ہے۔

کچھ اس لطیف پیرائے میں پیش کیا ہے کہ بے اختیار داد دینے کو جی چاہتا ہے۔

یہ سب کہانیاں اپنی اپنی جگہ پر ایک قابل فن کار کے نقوش قلم ہیں۔

میرے قیاس میں اگر رسوائے عام ترقی پسند ادب اور وقائع نگاری کا صحیح مفہوم کوئی مصنف سمجھا ہے تو وہ بیدی ہے۔

لیجئے صاحب اس دیباچے سے اقتباسات کا سلسلہ کچھ زیادہ ہی دراز ہو رہا ہے لہذا اسے یہیں موقوف کرتے ہیں اور اس "رسوائے عام ترقی پسند تحریک" کا ذکر کرتے ہیں جس کے حوالے سے نقاد ہمیں یہ بتاتے رہے کہ راجندر سنگھ بیدی اس کی عطا ہے (جب کہ خود بیدی کا موقف ہے کہ اس تحریک پر ان کی اپنی عنایات اس سے کہیں بھاری ہیں۔) نریش کمار شاد، یونس اگاسکر کے سوالات کے جواب میں بیدی نے کہا تھا:

"میرے نزدیک ترقی پسندی کا مفہوم وہ نہیں ہے جو میرے چند دوستوں کا ہے۔ میں کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ میرے لئے قانون وضع کرے یا کسی طرح سے میری حد بندی کرے۔"

جب آپ مادہ (MASS)پیدا کرتے ہیں تو روح اپنے آپ اس کا احاطہ کر لیتی ہے۔

یہ مارکس وادی لوگ جب صلاحیت، سپرٹ، سول کی باتیں کرتے ہیں، تب مجھے عجیب لگتا ہے۔بھول جاتے ہیں کہ جن باتوں سے درحقیقت انہوں نے انکار کر دیا ہے انہیں گھما پھرا کر یہ دوسرے الفاظ میں کہے جاتے ہیں۔

"میں فکر اور جذبے کے سلسلے میں خیال کو کوئی واضح شکل نہیں دیتا ہوں۔"

انہوں نے جس وقت ترقی پسند تحریک کی بنیاد رکھی، اُس وقت ہم اُس کے معنی نہیں سمجھتے تھے، کیوں کہ ہم نے نہ مارکسزم پڑھا تھا نہ کچھ، لیکن ترقی پسند اس لئے تھے کہ ہم عکاسی کرتے تھے اُس زندگی کی جو ہم جی رہے تھے۔انہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ ادیب جو زندگی کی عکاسی اس طریقے سے کرتا ہے، وہ ترقی پسند ہے۔اس لئے تم بھی ترقی پسند ہو۔

"ہم جسم و روح کے اعتبار سے اس تحریک کا حصہ ہو گئے تو اس تحریک نے ہمیں فائدہ پہنچایا اور ہم نے اس تحریک کو فائدہ پہنچایا۔ ہم آہستہ آہستہ دیکھنے لگے کہ اس (تحریک) میں کچھ جانب داریاں ہونے لگی ہیں۔یعنی جانب داری میں جانب داری۔"

بیدی اپنے بارے میں کچھ نہ لکھتا تو بھی اس کی کہانیاں اسے اردو ادب کا ایک بڑا افسانہ نگار ثابت کرنے کے لئے کافی تھیں۔ زبان و بیان کی ان ساری تسامحات کے با وصف جن کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ شروع شروع میں CONSCIOUS نہ ہونے کے سبب یہ اس کے افسانوں میں در آئی تھیں۔ اور اس کے باوجود بھی کہ وہ تفصیل نگاری کو محبوب رکھتا تھا جس کے سبب اس کا بیانیہ برجستہ نہ رہتا، سست ہو جاتا تھا، ہاں اس سب کے ہوتے ہوئے بھی کہ وہ اپنی کہانی کے متن پر لفظوں کے خارجی سطح کے بہاؤ کو غالب رکھتا تھا۔

افسانہ بیدی کی نظر میں کیا تھا، اس کا احوال بھی کتاب میں مل جاتا ہے۔ مثلاً یہی کہ:

"افسانہ ایک سکونی تماشا ہے کیوں کہ اس میں حرکات کی جگہ کیفیات ہوتی ہیں۔ یہ تھیٹر کیفیت (MOOD) کا ہے، حرکت (MOVEMENT) کا نہیں۔"

کہانی کا کوئی معین کلیہ نہیں۔ یہ زمین ہر صاحب طبع کا اجارہ ہے جس میں ہر تجربے کی اجازت ہے کیوں کہ اس میں عمل سے زیادہ نتیجے کو دیکھنا ہوتا ہے۔


میرے خیال میں اظہار حقیقت کے لئے ایک رومانوی نقطۂ نظر کی ضرورت ہے۔

مشاہدے کے بعد، پیش کرنے کے انداز کے متعلق سوچنا، بہ جائے خود کسی حد تک رومانوی عمل ہے اور اس اعتبار سے، مطلق حقیقت نگاری بہ حیثیت فن غیر موزوں ہے۔

جہاں ہمیں اس بات کا تقاضا ہے کہ افسانہ نگار کو عملی و عملی دسترس ہو وہاں اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ وہ بہت سی پڑھی لکھی چیزوں کو بھول سکے۔

عالم تمام حلقۂ دام خیال ہے، اب اس خیال کو دامِ خیال میں لا کر ہم نے ایک

افسانوی طرز کی سازش پیدا کر لی جس کی جزا افسانے کی صورت میں ملی اور سزا عمر قید کی شکل میں۔

افسانہ طویل یا مختصر۔خدا کے تصور سے شروع ہوتا ہے ایک سے انیک اور انیک سے پھر ایک ہو جاتا ہے۔

عجب سازش ہے نا کہ ابتدا میں انجام چھپا ہو اور انجام میں ابتدا کی صورت ہو۔ اسی چکر کو افسانہ کہتے ہیں۔

کہانی کی کتنی بھی شکل بدل جائے، کہانی ختم نہیں ہو سکتی۔

کوئی کتنا بھی پرانی کہانی سے بچنے کی کوشش کرے وہ اس کے بندھے ہوئے اصولوں سے بہت دور نہیں جا سکتا، ورنہ وہ کہانی نہ رہے گی۔

آپ کہانی کی اکائی کو دہائی میں بدل دیجئے لیکن اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ کہانی ایک بنیادی فن ہے جو بڑی محنت اور ریاضت سے ہاتھ آتا ہے اور دھیرے دھیرے آپ کے رگ و پے میں سرایت کر جاتا ہے۔ انسانی اساس کا احساس بن جاتا۔

تکنیک کا یہ طریقہ FARM LESSNESS تبھی مفید ہو گا، جمے گا صحیح طرح سے، جب کہ اسے دینے والے نے فارم پر پوری طرح مہارت حاصل کر لی ہو۔

تجرید تو ہر طرح کے آرٹ، چاہے کچھ بھی ہو، کی بنیاد میں ملتی ہے۔

آرٹ کی سب سے اہم بات ہے اُس کا چھپا ہوا ہونا۔کنسیل منٹ، وہ جو سو پردوں کے پیچھے چھپی ہوئی اپنے مختلف رنگ دکھا کر بے خود کر جاتی ہے۔

پیدائشی افسانہ نگار ہونا کوئی حقیقت نہیں۔ افسانہ نگار کی بنیادی خوبی اس کا حساس ہونا ہے۔باقی سب عرق ریزی اور مشق ہے۔

ایسی کہانیاں ہیں کہ جن کو لکھنے کے بعد ہم نے سر پیٹ لیا کہ لکھنے گئے تھے کوئی اندر کی چیز اور یہ صرف ہیئت ہو کے رہ گئی۔

افسانہ۔کہ آپ پہلے تین فقرے کیسے لکھتے ہیں۔

صاحب اس کتاب میں بتانے کو بہت کچھ ہے، سمجھنے اور سمجھانے کو بہت کچھ ہے، اختلاف کرنے اور تسلیم کر لینے کو بہت کچھ ہے۔انتا کچھ کہ دفتر کھلے جاتے ہیں۔ بات روکنے کو جی نہیں چاہتا، مجھے پڑھتے لکھتے کئی گھنٹے بیت گئے ہیں اور مجھے اپنی بیوی کا یہ جملہ بھی سنائی دے گیا ہے کہ کاش میں اُکتا کر یا تھک کر ہی اُٹھ جاتا، ۔میں قلم روک رہا ہوں لیکن چلتے چلتے بیدی کی کہی ہوئی ایک اور بات:

"بے شک اچھا انسان ہوئے بغیر اچھا ادب تخلیق نہیں ہو سکتا کیوں کہ ادیب کی ہر تخلیق اس کی شخصیت سے چھن کر آتی ہے۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ آدمی صرف دو نہیں دس بیس شخصیتوں میں جی سکے اور لکھنے کے عمل میں صرف ایک شخصیت کو بروئے کار لائے۔"


احمد ندیم قاسمی کا افسانہ: تخلیقی بنیادیں

کوئی دس گیارہ برس اُدھر کی بات ہے احمد ندیم قاسمی سے نیلوفر اقبال کے ہاں ایک طویل مکالمہ ہوا تھا۔ تب اور باتوں کے علاوہ اس کی سماجی حقیقت نگاری کی حقیقت بھی جاننا چاہی تھی کہ یار لوگ جب جب اس کے افسانے کی بات کرتے ہیں ساتھ ہی ترقی پسندوں کے اس رویے کا ذکر ہونے لگتا ہے جس میں ایک مخصوص زاویے سے سماج کو دیکھنا ہی حقیقت ٹھہرتا تھا۔ یوں گمان گزرنے لگتا ہے کہ جیسے ایک فارمولا قاسمی کے ہاتھ آگیا ہو گا بس اسی کے عین مطابق آنکھوں دیکھی کہانی افسانہ بن جاتی ہو گی۔ اس ملاقات میں ہی میں جان گیا تھا کہ جس طرح قاسمی کی ترقی پسندی ایک منزل پر جا کر اپنے ترقی پسند دوستوں سے مختلف ہو جاتی تھی اسی طرح حقیقت کا تصور بھی مختلف ہو گیا تھا اور اس کا سبب اس کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ قاسمی کا فرد اور سماج سے رشتہ بالائی سطح پر نہیں بنتا تھا وہ تو کہیں گہرائی میں جا کر بنتا تھا، مضبوطی کے ساتھ اور اس میں روحانی سطح پر بھید بھنور اپنا کام دکھاتے رہتے تھے۔

خیر! ایک ملاقات کا ذکر ہو رہا تھا اور اگر میں بھول نہیں رہا تو اس باب میں قاسمی کا نقطہ نظر جو بنا اس کا مفہوم اس کے سوا اور کچھ نہیں تھا کہ اس کے ہاں مجرد واقعہ نگاری اور مشاہدے کے وسیلے سے محض تصویر کشی کی کوئی گنجائش نہیں نکلتی تھی اور یہ بھی کہ جو ہم دیکھ رہے ہوتے ہیں فی الاصل حقیقت وہی نہیں ہوتی کہ وہ تو حقیقت کا ایک رُخ سے اظہار ہو سکتا، وہ رُخ جو ہمارے مشاہدے میں آیا یا آ سکتا تھا مگر ایک تخلیق کار کو لکھتے ہوئے خارجی حقیقت کے پیچھے کام کرنے والے تاریخی عمل کے ساتھ احساس کی سطح پر جڑنا ہوتا ہے۔ لگ بھگ یہ وہی بات تھی جو قاسمی نے اپنے ایک مضمون "حقیقت اور فنی حقیقت" میں کہی تھی جو بہت پہلے یعنی جون انیس سو ستاون کے نقوش میں چھپا تھا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ قاسمی عین آغاز ہی میں اپنے دوستوں سے اس باب میں مختلف ہو گیا تھا۔ اس الگ طرز احساس کا خود قاسمی کو بھی ادراک تھا تبھی تو اس نے کہا تھا:

"اگر ہم حقیقت پسندی اور صداقت پسندی کے فرق کو اپنے ذہنوں میں واضح کر لیں تو ادب و فن میں حقیقت کے اظہار سے متعلق ہماری تمام الجھنیں دور ہو سکتی ہیں اور یہی وہ نقطہ ہے جو ترقی پسند ادب کی تحریک کی ابتدا میں ایک حد تک نظر انداز کیا جاتا رہا۔" -- (حقیقت اور فنی حقیقت/احمد ندیم قاسمی)

یہ جو اوپر کی سطروں میں قاسمی کو اپنے ترقی پسند دوستوں کی ناقص حقیقت پسندی کا پول کھولتے ہوئے حجاب سا آگیا اور اسے "ابتدا میں ایک حد تک" کے اضافی الفاظ لکھنے پڑے تو اس کی تلافی اس کے قلم کی روانی نے یوں کر دی ہے کہ اگلے ہی جملے میں "ایک حد تک" ہونے والی غلطی ترقی پسندوں کے ہاں چلن بنتی دکھائی دیتی ہے۔ قاسمی نے حقیقت کے اس ناقص تصور کو کھلے لفظوں میں مسترد کر دیا تھا۔

قاسمی کی اسی تحریر کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کے ہاں حقیقت کی کئی سطحیں تھیں۔ خود اسی کے الفاظ میں:

  1. حقیقت جامد چیز نہیں ہوتی
  2. ہر خارجی حقیقت کے اندر متعدد لہریں رواں ہوتی ہیں
  3. اس کی ایک انفرادی حرکت ہوتی ہے
  4. اس کا ماضی کی تاریخی حقیقتوں سے رشتہ ہوتا ہے
  5. اور یہ مستقبل کے ساتھ بھی ایک رشتہ بناتی ہے

قاسمی نے حقیقت نگاری کو اس صداقت پسندی سے جوڑ ا جس میں حقیقت اور رومانیت کے درمیان موجود تضاد ختم ہو جاتا ہے۔ یوں قاسمی نے ایک تخلیق کار کو اپنے بنیادی وظیفے سے جڑنے کا قرینہ بتا دیا ہے۔ لگ بھگ یہ وہی نقطہ نظر بنتا ہے جس کے زہر اثر فیض نے منشی پریم چند کی حقیقت نگاری مسترد کیا تھا اور یہی وہ تخلیقی طرز عمل ہے جس میں ترقی پسندی کی لہر میں رومانیت کی لہر آمیز ہو کراس کے ہاں اپنا جادو جگانے لگی تھی۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ طرز احساس حقیقت کے باب میں اتنا راست اور جامع ہے کہ جس میں انسانی فہم کے تخلیقی عمل کے دوران اس بھید بھرے علاقے میں پہنچ جاتی ہے جہاں حقیقت مادے تک محدود رہتی ہے نہ مادی حقیقتوں کی نفی ہوتی ہے مگر فن پارے میں تیسری جہت کی گنجائش بھی نکل آیا کرتی ہے تاہم اس کا یہ اثر ضرور ہوا کہ اس طرز احساس نے قاسمی کے ہاں حقیقت اور رومان کو بہم کر کے جملے کی ساخت کو ٹھوس حقیقت نگاروں سے بہت مختلف بنا دیا تھا۔

صاحب، یہ جو قاسمی کے افسانوں پر بات کرنے کا ارادہ باندھ کر اس کی حقیقت نگاری کے تصور کو گرفت میں لینے کے جتن کرنے لگا ہوں تو اس کا سبب یہ ہے کہ میری نظر میں اس کے افسانے کا مزاج اس کے بغیر سمجھا ہی نہیں جا سکتا۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ قاسمی کے ہاں غالب رجحان رومانیت پسندی کا رہا ہے تاہم میں یہ ضرور کہوں گا کہ کہانی لکھتے ہوئے کبھی کبھی وہ شعوری طور پر اس کے زیر اثر رہا ہے مگر یہ واقعہ ہے کہ یہ کہانیاں بھی جوں جوں آگے بڑھتی گئیں سماجی حقیقت نگاری کی لپک اپنا اثر گہرا کرتی گئی۔ ممکن ہے میری یہ بات آپ فوری طور پر ہضم نہ کر پائیں اسی لیے میں آپ کی توجہ قاسمی کے چند افسانوں کے آغاز کے جملوں کی ساخت کی طرف چاہوں گا:

"ڈوبتا ہوا سورج ایک بدلی سے چھو گیا تو شام کو آگ لگ گئی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ شفق بدلی میں سما نہیں سکی اس لیے چھلک پڑی ہے۔" -- (افسانہ "بھرم"/احمد ندیم قاسمی)

"درختوں کی شاخیں رات کی خنکی میں ٹھٹھر کر رہ گئی ہیں۔ ہوا چلتی تو شاید ان کی رگوں میں اتری ہوئی برف جھڑ جاتی مگر ہوا بھی جیسے درختوں کے اس جھنڈ میں کہیں ٹھٹھری پڑی ہے۔ چاندنی میں کفن کی سی سفیدی ہے۔ فراخ اور ہموار لان پر ایک بلی دبے پاؤں بھاگی جا رہی ہے۔ وہ لان کے قوسی حاشیے پر اُگے ہوئے پھولوں پر ٹھٹھک کر رہ جاتی ہے اور اپنا ایک اگلا پنجہ اٹھا کر دم کو یوں حرکت دیتی ہے جیسے جادو کر رہی ہو۔" -- (افسانہ "زلیخا"/احمد ندیم قاسمی)

"آسمان پر کفن سا سفید بادل چھا رہا تھا اور ہوا میں کافور کی سی بُو بسی ہوئی تھی۔" -- (افسانہ "ماتم"/احمد ندیم قاسمی)

"انگڑائی کا تناؤ ابھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ انگڑائی ٹوٹ گئی۔ باہیں ادھ کٹی شاخوں کی طرح لٹک گئیں اور گالوں کی شفق زردی میں بدل گئی۔ باہیں کٹی شاخوں کی طرح لٹک گئیں اور گالوں کی زردی شفق میں بدل گئی۔" - (افسانہ "اکیلی"/احمد ندیم قاسمی)

"اُن دنوں تم سچ مچ کنول کا پھول تھیں۔ تمہاری پتیوں پر اگر کوئی بوند گرتی تو صرف پھسل کر گر جانے کے لیے۔ تمہاری پنکھڑیوں کا ہلکا ہلکا گلابی رنگ جو مرمریں سفیدی میں مبہم سی جھلکی مارتا تھا بالکل شفق کے مشابہ تھا۔ تم ہنستی تھیں تو صرف اس لیے کہ تم ہنسنے پر مجبور تھیں، مگر تمہارا رونا تمہاری بے لوث ہنسی سے بھی زیادہ لذت آمیز تھا۔" : (افسانہ "بھری دنیا میں"/احمد ندیم قاسمی)

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس ترقی پسند حقیقت نگار نے ڈوبتے ہوئے سورج کے بدلی سے چھڑ چھاڑ کے معاملے سے کوئی انقلابی معنی نہیں نکالے۔ درختوں کی شاخیں رات کی خنکی میں ٹھٹھر تی رہیں تو اس کے کوئی نظریاتی معنی نہیں ہیں۔ آسمان پر کفن سا سفید بادل جھول رہا ہے تو اس میں بھی بالا دست طبقے کی قہاری کی طرف اشارہ خطا ہو گیا ہے۔ انگڑائی کا تناؤ ٹوٹتا ہے اور گالوں کی زردی شفق میں بدل جاتی ہے مگر یہ نعرے کی سرخی نہیں بنتی۔ کہانی بے لوث لذت سے لطف اندوز کرتی رہتی ہے تاہم صاف صاف پتہ چل جاتا ہے کہ یہاں رومانیت کی مٹھاس زیادہ ہو گئی ہے جو کہیں کہیں کَھلنے لگتی ہے۔


اور ہاں صاحب، یہ بات ماننے کی ہے کہ قاسمی کے جن افسانوں کی ابتدائی سطور اوپر دی گئی ہیں وہ اس کے معروف اور کامیاب تسلیم کیے جانے والے افسانے نہیں کہلائے جا سکتے اور یہ بھی مان لیا جانا چاہیے کہ الحمد للہ، کنجری، پرمیشر سنگھ، رئیس خانہ، بین، اور لارنس آف تھلیبیا وغیرہ جیسے قاسمی کے نمائندہ افسانوں میں اس طرح کا شعوری اہتمام نہیں ملتا۔

"شادی سے پہلے مولوی ابل کے بڑے ٹھاٹھ تھے کھدر یا لٹھے کی تہبند کی جگہ گلابی رنگ کی سبز دھاریوں والی ریشمی خوشابی لنگی، دو گھوڑا بوسکی کی قمیض جس کی آستینوں کی چنٹوں کا شمار سینکڑوں میں تک پہنچتا تھا" -- (افسانہ "الحمد للہ"/احمد ندیم قاسمی)

"سرور گھر میں داخل ہوا تو ایک بہت بھاری خبر کے بوجھ سے اس کی کمر ٹوٹی جا رہی تھی، گلے کی رگیں پھول رہی تھیں، جیسے باتیں اس کے حلق میں آ کر لٹک گئی ہوں" -- (افسانہ "کنجری"/احمد ندیم قاسمی)

"اختر اپنی ماں سے یوں اچانک بچھڑ گیا جیسے بھاگتے ہوئے کسی کی جیب سے روپیہ گر پڑے، ابھی تھا اور ابھی غائب۔" -- (افسانہ "پرمیشر سنگھ"/احمد ندیم قاسمی)

"پلنگ اتنا چوڑا تھا کہ کہ اس پر جو کھیس بچھا تھا وہ چار کھیسوں کے برابر تھا۔ اس کے وسط میں پلش کے ایک تکیے کے سہارے بڑے ملک صاحب کا جسم ڈھیر پڑا تھا" -- (افسانہ "لارنس آف تھلیبیا"/احمد ندیم قاسمی)

آپ نے دیکھا صاحب کہ پہلے ہی جملے سے کہانی کا قضیہ سامنے آنے لگتا ہے۔ اس کے کردار متحرک ہو جاتے ہیں اور منظر واقعے سے جڑ جاتا ہے۔ قاسمی کے ان بڑے افسانوں کے ابتدائی جملوں وہ شعوری کوششیں کام نہیں کر رہی ہیں جو میں اس کے دوسرے اور قدرے غیر معروف افسانوں میں اوپر نشان زد کر آیا ہوں۔ تاہم جوں جوں آپ یہ معروف افسانے پڑھ کر آگے بڑھتے جائیں گے آپ محسوس کریں گے کہ قاسمی نے کہانی کو اپنی دھج سے آگے بڑھنے دیا ہے اور دونوں رویے غیر محسوس طریقے سے اسی بہاؤ میں آ کر آمیز ہو گئے ہیں۔ اس سارے معاملے سے میں نے اپنے تئیں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ قاسمی دل سے قائل تھا کہ مجرد اور ٹھوس حقیقت نگاری سے تخلیقی عمل خام رہ جاتا ہے لہذا وہ بعض اوقات شعوری طور پر جملوں کی ساخت ایسی بنا لیا کرتا جو رومانیت پسندوں کو مرغوب رہی تھی۔تاہم جہاں کہیں بھی دونوں رویے کسی شعوری کوشش کے بغیر بہم ہوئے کہانی مکمل ہو گئی اور تخلیق عمل اپنی دھج دکھا گیا۔

ایک اور چیز جس نے قاسمی کے افسانوں کی تخلیقی فضا کو مختلف کیا وہ اس کی دیہات نگاری ہے۔ یہ بات علم میں رہنی چاہیے کہ قاسمی انیس صد سولہ میں انگہ میں پیدا ہوا۔ اس کے خاندان کا ذریعہ معاش کاشتکاری تھا اور اگر آپ نے تھل کے اس بارانی علاقے کو نہیں دیکھ رکھا تو آپ گمان بھی نہیں باندھ سکیں گے کہ اس دور میں ایک معمولی کاشتکار کی زندگی کتنی تلخ ہو سکتی تھی۔ خود قاسمی نے اپنی کہانی کہتے ہوئے جیسی جھلک دکھائی ہے اس سے جیسا گمان بھی بنتا ہے ویسی ہی تصویر بنا لیں تو بھی آنسوؤں کا آنکھ کی پتلیوں تک اُمنڈ آنا یقینی ہو جاتا ہے۔

"مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مدرسے جانے سے پہلے میرے وہ آنسو بڑی احتیاط سے پونچھے جاتے تھے جو اماں سے محض ایک پیسہ حاصل کرنے میں ناکامی کے دکھ پر بہہ نکلتے ۔"

"پیاز یا سبز مرچ یا نمک مرچ کے مرکب سے روٹی کھاتے وقت زندگی بڑی سفاک معلوم ہونے لگتی تھی۔"


تاہم تلخ ہو جانے والی اس زندگی کی اپنی ایک لذت تھی۔ سسکتی ہوئی زندگی کے ساتھ ساتھ فرد سے فرد کی وابستگی کا جو ماحول ہم قاسمی کے افسانوں میں دیکھتے ہیں اس کے پیچھے نفسیاتی سطح پر قاسمی کی اپنی زندگی کی اٹھان، وجود کے ریشے ریشے میں اتر جانے والا تجربہ اور گہرا مشاہدہ کام کر رہا ہوتا ہے۔ اردو افسانے میں بلونت سنگھ کی دیہات نگاری بھی بہت اہم مگر اس کے ہاں دیہات کا سنگی چہرہ ابھرتا ہے، بیدی کے ہاں کا دیہات مجبوری میں پڑ چکے کرداروں کی لاچاری کے پیچھے رہ جاتا ہے۔ ان دونوں کا اپنا لطف ہے مگر قاسمی نے نہ تو اپنی دیہات نگاری میں کردار سازی کو نظر انداز کیا ہے نہ کردار نگاری کی للک میں دیہات کا چہرہ مسخ یا مدھم ہوا ہے۔ یوں اس کے افسانوں کا دیہات اس آنگن اور ان گلیوں کا سا ہو جاتا ہے جو خود قاسمی کی زندگی کا حصہ تھیں:

"عالم یہ تھا کہ جب ہم بہن بھائی اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتے، وہ چرخہ کاتتیں اور ہم پونیاں بناتے، وہ چکی پیستیں ہم مل کر گیت گاتے، وہ کوٹھے کی لپائی کرتیں اور ہم سیڑھی سے چمٹے کھڑے رہتے، بہرحال جب ہم اکٹھے ہوتے اور بارش ہونے لگتی تو اماں دہلیز کے پاس بیٹھ جاتیں۔ ہم تینوں ان کے آس پاس آ جاتے، باہر آنگن میں بلبلے ان گنت گنبدوں کا فرش بچھاتے اور آنگن کی بیریوں کے پتے اڑتے ہوئے اندر ہمارے پاس آ جاتے اور باہر گلیوں میں ننگ دھڑنگ بچے پرنالوں کے نیچے نہاتے اور چلاتے تو اماں ہمارے سروں پر ہاتھ پھیرتیں اور روتیں اور بڑے دکھ سے آپ ہی آپ کہتیں "بوند بوند پانی کے ساتھ فرشتہ اترتا ہے۔ اے فرشتو !خدا کے دربار میں جا کر مجھ دکھیا کی طرف سے عرض کرو کہ میں نے جو دکھ بھوگے، سو بھوگے، ان میرے بچوں کو کوئی دکھ نہ دینا میں نے انہیں بڑی مشکل سے پالا پوسا ہے۔"

یاد رہے اس دکھیاری کا سرتاج انیس صد چوبیس میں مر چکا تھا- تو یوں ہے کہ قاسمی کے ہاں دیہات بھی اسی عورت کی صورت سامنے آتا ہے جس کا خیال رکھنے والا مر چکا ہے، جس کے آنگن میں چھم چھم محبت میں گندھے رشتوں کی بارش ہو رہی ہے اور جس کے پرنالوں سے دکھ کا چھاجوں پانی برس رہا ہے۔ قاسمی کے افسانوں کے حوالے سے اس بات کو ریکارڈ پر لانا بہت اہم ہو جاتا ہے کہ کہانی لکھتے ہوئے قاسمی کے ہاں محض دیہات نگاری ہی اس کا مطمع نظر نہیں تھی بلکہ یوں تھا کہ کہانی کا بنیادی خیال، کردار نگاری اور دیہی ماحول ایک دوسرے کا لازمی جزو ہو جاتے تھے۔ قاسمی کے ایک معروف افسانے کا یہ ٹکڑا دیکھئے اس میں خدا بخش کے ساتھ اس کا یار ہے جو شہر سے آیا ہے۔ اس کا چہیتا نوکر بشکو بھی ساتھ ہے۔ نام تو اس کا بھی خدا بخش تھا مگر وہ نوکر تھا لہذا اس کی الگ سے شناخت ضروری تھی۔ بڑے ملک صاحب کے بیٹے نے اسے بشکو کہا اور یہی اس کی پہچان بن گیا۔ اسی بشکو کے بازو پر وہ باز ہے جس کا نام لارنس آف عربیا کی طرز پر خدا بخش نے لارنس آف تھلیبیا رکھ چھوڑا ہے۔ کہانی کے اس حصے تک پہنچتے پہنچتے ہم جان چکے ہیں کہ یہ لوگ ڈھائی تین میل کا فاصلہ طے کر کے سرخی مائل مٹی سے لپے ہوئے ایک گھروندے کے پاس پہنچ چکے ہیں۔یہ بابا یارو کا گھر ہے جو بعد میں، بقول خدا بخش "بد ذات، کنگلی اور قلاش" نکلی تھی۔ لارنس آف تھلیبیا کی قاتلہ۔ خدا بخش نے چپکے سے اترنے اور آہستہ آہستہ گھر کے قریب جانے کی تجویز پیش کی۔ اس ٹکڑے میں دیکھئے کہانی کے کردار، منظرنامہ اور معنی کا بہاؤ کیسے ایک دوسرے کا لازمی جزو ہو گئے ہیں:

"ایک بار میں اور بشکو یونہی چپکے سے آئے اور بابا یارو کے پاس ایک چارپائی پر بیٹھ گئے۔ بابا یارو اپنی رسیاں بٹنے میں مگن رہا، مائی بیگاں چولہے میں پھونکیں مارتی رہیں اور رنگی ٹوکے سے چارہ کترتی رہی، کسی کو پتہ ہی نہ چلا۔ پھر جب انہیں پتہ چلا تو بابا یارو اتنا شرمندہ ہوا کہ کچھ کہہ ہی نہ سکا۔ منہ سے بس پھب پھب کر کے رہ گیا۔ مائی بیگاں اپنے بڑھاپے کو گالیاں دیتی رہی اور رنگی تو اتنا ہنسی کہ جب بابا کی پھٹکار پر بھی اس کی ہنسی رکنے میں نہ آئی تو وہ اندر کوٹھے میں بھاگ گئی۔" -- (افسانہ "لارنس آف تھلیبیا"/احمد ندیم قاسمی)


اسی طرح قاسمی کے ایک اور افسانے "کنجری" میں کرداروں کا تعارف کراتے ہوئے بتایا جاتا ہے کہ کمالاں کا دادا سہراب خان پچاس کے پیٹے میں پہنچا تھا تو ملتان کی ایک مشہور طوائف زرتاج کو بیوی بنا لایا تھا۔ گاؤں والے اس بارے میں بے خبر تھے کہ زرتاج کوٹھے والی تھی تاہم زرتاج کے ہاں سرور کی پیدائش کے موقعے پر موجود دایہ نے اسے پہچان لیا کہ یہ تو وہی ملتان والی کنجری تاجی تھی۔ بس پھر کیا تھا ایک لفظ سارے گاؤں میں گونج گیا۔ قاسمی نے جس طرح سہراب خان کو گاؤں سے نکل بھاگنے پر مجبور کیا ہے اس میں کہانی اپنی حقیقی رفتار سے چلی ہے، کردار اپنی شباہت بناتے چلے گئے ہیں اور دیہی زندگی کا چلن بھی پوری طرح اجاگر ہو گیا ہے۔

اب آئیے قاسمی کے افسانوں کے موضوعات کی طرف اور صاحب اس باب میں اس پر دوسری رائے تو ہو ہی نہیں سکتی کہ اس کے ہاں بنیادی قضیہ وہی طبقاتی تضاد بنتا ہے جو ترقی پسندوں کو حد درجہ مرغوب رہا مگر یہ بھی ماننا ہو گا کہ اجتماعیت نگاری اس کا بنیادی مسئلہ نہیں رہا اور شاید یہی سبب ہے کہ قاسمی کی ہر کہانی کے کردار بطور فرد بھی اپنی شناخت بناتے ہیں۔ یوں دیکھیں تو قاسمی کے کئی کردار ایک موضوع کو کھولتے اور اجتماعی دکھ بیان کرنے کے جتن کرتے ہوئے ایک انسان کی کہانی بھی بن جاتے ہیں۔ ایک ایسی کہانی جس میں کردار محض کسی ایک طبقے کے نمائندہ نہیں رہتے کئی ہزار انسانوں کی نمائندہ علامت بن جاتے ہیں۔ یہ جو میں نے قاسمی کی کہانی کے علامت بن جانے کی بات کی ہے تو اس سے کسی غلط فہمی میں نہیں پڑنا چاہیے کہ قاسمی اس علامت نگاری سے بہت فاصلے پر رہا ہے جس کا چلن لگ بھگ دو دہائیوں کا مقبول فیشن رہا ہے۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا تاہم موقع نکل آیا ہے تو کہتا چلوں کہ یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ علامت نگاروں کی پسپائی کے بعد علامت نگاری کے امکانات ختم ہو گئے ہیں اور بتاتا چلوں کہ قاسمی کو بھی اس کا احساس تھا جب ہی تواس نے ایک افسانہ نگار خاتون کی کتاب کے دیباچے میں اس کی ایک کہانی کا ذکر کرتے ہوئے ایک مکمل علامت بن جانے کی بات کی تھی۔اور سچ پوچھیں تو اس باب میں یہ بات درست ہے کہ افسانہ اپنے خارج میں مکمل ہو اور اپنے باطنی بہاؤ اور بھید بھنوروں میں کسی بڑی صورت حال کی علامت بن جائے۔ ہاں تو بات ہو رہی تھی قاسمی کے افسانوں کے موضوعات کی، اس بارے میں اس کے افسانوں کے مجموعے "نیلا پتھر" کے آغاز میں موجود سطور کی طرف آپ کی توجہ چاہوں گا۔ قاسمی کا کہنا تھا:

"کسی بھی تخلیق کار کے لیے موضوعات کبھی کمیاب نہیں ہوتے۔ اگر وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے آس پاس موضوعات کم ہو رہے ہیں تو یہ کمی دراصل خود اس کے اندر ہوتی ہے۔" -- (گزارش/نیلا پتھر/احمد ندیم قاسمی)

قاسمی نے یہاں جو "کسی بھی تخلیق کار" کے الفاظ لکھے ہیں تو یقین جانئے اس سے مراد وہی تخلیق کار ہوں گے جو ساری عمر اپنے تخلیقی جذبوں کے ساتھ سچائی سے وابستہ رہتے ہیں۔ ( میرے قلم نے "سچائی" کی جگہ "ایمانداری" کا لفظ لکھ دیا تھا مگر میرا ما تھا ٹھنکا کہ اس لفظ سے تو کئی بے ایمانوں کی جبینیں شکن آلود ہو سکتی تھیں، لہذا اسے "سچائی" سے بدل لیا۔ممکن ہے میری یہ کوشش بھی خام نکلے کہ آج کل مطلق سچ کہیں نہیں ہوتا۔ صرف اس بات کو تسلیم کیا جاتا ہے جو" زمینی سچ" ہو۔ اور آپ جانتے ہی ہیں کہ زمین پر رینگنے والے سچ کا راستہ اور اس سچ کی زندگی کا مقدر کس طرح متعین کیا جاتا ہے)۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ ہمارے تخلیق کاروں کی وابستگیاں انہیں محدود موضوعات سے آگے دیکھنے ہی نہیں دیتیں۔ تاہم قاسمی نے یہ کیا ہے کہ ان حدوں کو توڑا ہے لہذا تخلیق بھی آخری عمر تک اس پر مہربان رہی ہے۔ میں نے تخمینہ لگایا ہے کہ اس خالص طرز عمل کی وجہ سے اس کے ہاں ایسے افسانوں کی تعداد زیادہ ہو گئی ہے جن میں کسی خاص نقطہ نظر کی تشریح کرنے کے بجائے کہانی کے اپنے وجود پر اکتفا اور اعتماد کرنے کا چلن اپنایا گیا ہے۔ اس سے قاسمی کے ہاں موضوعات کی رنگارنگی کا سماں بندھ گیا ہے۔ کہیں رشتے محترم ہو گئے ہیں تو کہیں خود انسانی وجود، کہیں ظالم اس کی نفرت کا نشانہ بنتا ہے تو کہیں وہ رویے جو جہالت کے مظاہر ہو گئے ہیں انہیں رد کیا گیا ہے۔ عورت کو بھی قاسمی نے بار بار اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے اور ہر بار، کم از کم میں نے تو یہی محسوس کیا ہے کہ، قاسمی مرد کرداروں کے مقابلے میں عورت کے ساتھ جا کھڑا ہوا ہے۔

صاحب اوپر میں کچھ افسانوں کو قاسمی کے کامیاب افسانے کہہ آیا ہوں اور کچھ کو اس درجے سے گرا دیا ہے تو یقین جانیے ایسا کرتے ہوئے میں نے قاسمی کی افسانہ نگاری کو دل سے تسلیم کرتے ہوئے دل ہی کے فیصلے کا کہا مانا ہے۔ میں ان افسانہ نگاروں میں سے نہیں ہوں جو قاسمی کے افسانے کا ذکر آنے پر اسے بہتر شاعر گرداننے لگیں، نہ ان شاعروں کو مانتا ہوں جو قاسمی کی شاعری کا ذکر درمیان میں چھوڑ کر اس کے افسانے کا قصیدہ لے بیٹھتے ہیں۔ ایک سے زیادہ تخلیقی جہات رکھنا میری نظر میں ایک غیر معمولی عطا ہے اور قاسمی غیر معمولی تخلیق کار تھا۔ پھر اس نے جتنی تعداد میں افسانے لکھے یہ بھی کوئی کم غیر معمولی بات نہیں ہے۔ افسانوں کی اتنی بڑی تعداد میں سب کو ایک معیار کا نہیں کہا جا سکتا اور یہ بات ایسی نہیں ہے جو قاسمی کے قد کو گھٹا دے۔ کسی بڑے افسانہ نگار کے لیے اتنی بات ہی کافی ہوتی ہے کہ اس کے قلم سے چند ایسے فن پارے نکل آئیں، جن کے بغیر ذکر کے بغیر فن کی تاریخ نامکمل رہ جاتی ہو۔ تو یوں ہے صاحب کہ وہ افسانے جنہیں میں نے کامیاب کہا انہیں اس یقین کے ساتھ کامیاب مانا بھی ہے کہ ان کے بغیر اردو افسانے کی تاریخ کو مکمل نہیں کہا جا سکتا۔


شوکت صدیقی کے افسانے

شوکت صدیقی کو یاد کرتے ہوئے مجھے اس کا ایک افسانہ "سیاہ فام" رہ رہ کر یاد آتا ہے کہ یہ وہی افسانہ ہے جو ایک بار میری راہ روک کر کھڑا ہو گیا تھا۔

آپ کو یاد ہی ہو گا کہ کچھ عرصہ پہلے تک ہر کہیں یہ بحث چل نکلی تھی کہ "دہشت گردی" کی کوئی تعریف متعین ہونی چاہیے، ایسی تعریف جو "حریت پسندی" کی حرمت بحال رکھ سکے۔ خیر، دہشت کا زمانہ تو ا بھی تک عروج پر ہے تاہم اب کوئی بھی دہشت کی تعریف متعین کرنے کا مطالبہ نہیں کر رہا، کہ دہشت اب انسانیت کی چھاتی پر مونگ دلنے لگی ہے اور لوگ اس انسانیت کش شیطان عظیم کو اچھی طرح جان گئے ہیں جس نے دہشت گردی کا مشغلہ چھوڑ کر بین الاقوامی دہشت گردی کے زور پر طاقت کے منابع ہتھیانے کا ارزاں شغل اختیار کر رکھا ہے۔ ہاں تو میں شوکت صدیقی کے افسانے "سیاہ فام" کی بات کر رہا تھا اور بتانا چاہ رہا تھا کہ یہ افسانہ میری راہ روک کر کھڑا ہو گیا تھا۔ واقعہ یوں ہے کہ میں نے اُن دنوں ایک کہانی لکھنا چاہی تو اس کا عنوان جمایا تھا "دہشت گرد کیسے بنتے ہیں؟" مگر اس عنوان کو لکھ کر جب کہانی لکھنا چاہی تو یوں لگا تھا جیسے شوکت صدیقی خود مسکراتے ہوئے سامنے آ کھڑے ہوئے تھے اور اپنی کہانی "سیاہ فام" مجھے تھما کر غائب ہو گئے تھے۔ میں نے کہانی کو پڑھا تو اپنی کہانی لکھنے کا ارادہ بدل دیا تھا کہ لکھی ہوئی کہانی کو مقرر لکھنے کی طرف میں کبھی بھی راغب نہ ہو پایا تھا۔

صاحبو یہ شوکت صدیقی کی وہی کہانی ہے جو سیاہ رات میں ایک دردناک چیخ کی طرح کھلتی ہے۔ ایک ویران سڑک ہے۔ زخموں سے چور ایک شخص سڑک کے بیچوں بیچ پڑا ہے۔شوکت صدیقی کو ہمیشہ یہ عزیز رہا ہے کہ وہ کہانی کو بہت آہستگی اور تفصیل سے آگے بڑھائیں۔ واقعہ نگاری اور تفصیل کاری کی یہ للک کئی دفعہ کہانی کے مرکزی قضیے سے دور لے جاتی ہے مگر وہ گھما پھرا کر کہانی کو وہیں لے آتے ہیں جہاں اسے بہر کیف پہنچنا چاہیے۔ تو یوں ہے کہ اس ہیر پھیر میں کہانی نے ہمیں بتایا کہ رات کی تاریکی میں کار کی ٹکر سے شدید زخمی ہو کر معذور ہونے والا عبداللہ دہشت پھیلانے کے لیے تیار ہو چکا تھا۔ تھانے والوں کی مٹھی گرم کر دی گئی تھی لہذا وہ مزید کارروائی کیسے کر سکتے تھے۔ حتی کہ شوکت صدیقی نے ہمیں یہ تک بتا دیا ہے کہ ٹکر مارنے والا کار کو پہنچنے والے نقصان کے عوض بیمہ کمپنی کو کلیم داخل کرنے کے جتن کر نے لگا تھا۔ دہاڑی پر کسی کا رکشا چلانے والے عبداللہ کی ٹانگ کاٹی جا چکی۔ وہ اب رکشا نہیں چلا سکے گا۔ اس کی چودہ سالہ بیٹی اتنی روشن خیال ہو چکی تھی کہ بھوک کو آتا دیکھ کر وہاں سے نکل بھاگے، سو وہ نکل بھاگی۔ بیوی نے اپنے تئیں بہت کوشش کی مگر گھر میں مفلسی نے ڈیرے ڈال دیے تھے۔ وہ بھوک جس نے معذور عبداللہ کو نہ چاہتے ہوئے بھی دہشت گرد بنا دیا تھا۔

شروع شروع میں عبداللہ تو انگریزوں کے قبرستان سے نکل کر آنے والی ایک انگریز کی روح کی طرح مکھن ٹوش مانگا کرتا تھا مگر یوں ہو گیا تھا کہ مکھن ٹوش مانگنے والا دہشت گرد سمجھا جانے لگا تھا لہذا سنسی پھیل جاتی تھی۔ جن پر زندگی کے دروازے تنگ کر دئیے جاتے ہیں وہ جسم و جاں کا رشتہ بحال رکھنا چاہیں تو اس عمل سے دہشت برآمد ہو جاتی ہے۔

میں نے جب "دہشت گرد کیسے بنتے ہیں؟" کے عنوان کے تحت کہانی لکھنا چاہی تھی تو اسی معذور ہو جانے والے عبداللہ کا مکھن ٹوش مکھن ٹوش کہتا ہیولا میرے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔

ناول نگار کی حیثیت سے شہرت پانے والے شوکت صدیقی کے افسانے پر بات چل نکلی ہے تو بتاتا چلوں کہ 20 مارچ 1923ء کو لکھنؤ میں پیدا ہونے والا یہ فن کار قیام پاکستان سے پہلے ہی افسانہ نگار کے طور پر اپنی شناخت بنا چکا تھا۔ شوکت صدیقی کے افسانوں کا پہلا مجموعہ "تیسرا آدمی" 1925میں شائع ہوا "اندھیرا اور اندھیرا" 1955 اور "راتوں کا شہر" 1956 میں۔ اس کے افسانوں کا چوتھا مجموعہ" کیمیا گر" 1984میں شائع ہوا تھا یعنی تب جب کہ وہ ایک ناول نگار کے طور پر شناخت مستحکم کر چکا تھا۔

میں نے افسانوں کے ان چاروں مجموعوں کے 38 افسانوں کے مطالعے کے دوران ایک بات شدت سے محسوس کی ہے کہ وہ کہانی کو چست بنانے کی طرف کبھی بھی راغب نہ رہا تھا۔ اس کے ہاں کرداروں کی چہل پہل ہوتی۔ مناظر بھی پوری تفصیل سے آتے اور ہر ہر واقعہ اپنی مکمل اور بھر پور جزئیات لیے ہوتا۔ مثلاً افسانہ "تاریک دن " میں دیکھئے کیسے کیسے مناظر اس افسانے کا حصہ ہو گئے ہیں اور کیسے کیسے کردار کتنے پہلو اجال گئے ہیں اس کے مرکزی کردار جوہی سے لے کر اس کے ضمنی کردار مرنالنی تک کو لے لیں ایک ایک کر کے کردار آئے چلے جاتے ہیں اور پوری طرح کہانی میں رچ بس کر معدوم ہوتے ہیں۔ تاہم یوں ہے کہ جب مر مر کر جینے والی جوہی کہانی کے اختتام پر خود کو رسوا کرنے والے ٹینری کے مالک خواجہ احسان اللہ پر اپنے حرام بچے کی ولدیت کا الزام دھرتی ہے تو کہانی جوہی کی بے ساختہ ہنسی پر مکمل ہو جاتی ہے۔


اسی طرح "اندھیرا اور اندھیرا" بظاہر اسرار، انوار، نفیسہ، رفو اور اماں جان کی کہانی ہے مگر پڑھنے لگیں تو کئی اور کردار بھی ان بنیادی کرداروں کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ "شریف آدمی" شوکت صدیقی کی بڑی کہانیوں میں سے ایک کہانی ہے۔ ماسٹر سکندر علی جیسے خود دار آدمی کی کہانی، جو مستری کو اس لیے بے غیرت سمجھتا ہے کہ اس نے انگریزوں جیسی وضع قطع والے اس شخص سے انگریزی میں چپ چاپ گالی کھا لی تھی جو ٹافیاں اور چاکلیٹ پھینک کران پر جھپٹنے والے بچوں کی تصاویر بنا رہا تھا۔ یہ وہی مستری ہے جس کے ہاں سے ماسٹر کی بیوی ضرورت کی اشیاء مانگ لایا کرتی تھی۔ اس نے ماسٹر سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو معقول معاوضے پر اس کے گھر کے کام کاج کے لیے بھیج دیا کرے مگر ماسٹر کی انا نے یہ برداشت نہیں کیا تھا مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ جب کہانی اپنا دائرہ مکمل کرتی ہے تو نادار ماسٹر سکندر علی ایک کلب کے پچھواڑے میں کچرے کے ڈھیر سے ایک ٹکڑا اپنی بیوی کی طرف یوں بڑھاتا ہے کہ اس کی بیوی اور قاری کی چیخ ایک ساتھ نکل جاتی ہے۔

ان افسانوں کو پڑھ کر میں کہہ سکتا ہوں کہ شوکت صدیقی کہانی لکھتے ہوئے خود کو محض مرکزی کرداروں تک محدود نہیں رکھتا تھا۔ ماحول بناتے ہوئے اس کی جزئیات کو بیان کرنا لازم گردانتا تھا اور اپنے کرداروں کی بے بسی لا چاری اور مظلومیت کو بیان کرنے کے لیے آخری حد تک حیلہ کیا کرتا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی وہ عناصر ہیں جو شوکت صدیقی کے لگ بھگ ہر افسانے کو معمول سے کہیں زیادہ طویل بنا دیتے ہیں۔ اور شاید اسی تخلیقی مزاج کے زیر اثر شوکت صدیقی ناول لکھنے کی طرف راغب ہو گیا تھا۔

کون نہیں جانتا کہ ناول نگار شوکت صدیقی نے افسانہ نگار شوکت صدیقی کو بہت جلد پچھاڑ دیا تھا۔ اس نے "خدا کی بستی" "جانگلوس" "چاردیواری" "کمیں گاہ" اور "جگنو" جیسے ناول لکھے اور واقعہ یہ ہے کہ "خدا کی بستی" سب پر نمبر لے گیا۔

تاہم کہا جا سکتا ہے کہ اس کے افسانے کے کرداروں نے اس کے ناول کو کمک پہنچائی۔ جب بھی شوکت صدیقی نے "خدا داد کالونی" جیسے افسانوں میں بالم، غازی یا پھر یار محمد ٹینی جیسے کردار تراشے تو ساتھ ہی ساتھ خدا کی بستی کے کے نوشہ، راجہ، شامی یا سلطانہ جیسے کرداروں کی بنیادیں بھی رکھ دی تھیں۔

افسانہ ہو یا ناول لکھتے ہوئے وہ مجبور اور بے بس کرداروں کے بہت قریب ہو جایا کرتا تھا۔ اس نے اپنے افسانوں اور ناول کی کہانیوں کا مواد گرد و پیش کی زندگی اور مختلف طبقوں کے مابین نفسیاتی کشمکش اٹھایا۔ ہجرت کا تجربہ اس کے ہاں بہت توجہ پاتا رہا ہے۔ اس اکھاڑ پچھاڑ میں بڑے شہر کے پہلو میں بن جانے والی کچی بستیوں کی زندگی کو اس نے اتنی تفصیل اور تاثیر سے سمیٹا ہے کہ شاید ہی کوئی اور لکھنے والا اس جانب اتنی بھرپور اور دردمندی سے توجہ دے پایا ہو۔

اور آخر میں یہ اعتراف بھی لازم ہو گیا ہے کہ "خدا کی بستی " اور "جانگلوس" نے ادبی اور عوامی ہر دو سطح پر بہت شہرت پائی۔ دونوں کی ڈرامائی تشکیل ہوئی۔ خدا کی بستی تو کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ شوکت صدیقی کی وفات کے بعد ایک خبر شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اس کے ناول خدا کی بستی کا 46 واں ایڈیشن زیر طبع ہے اور یہ کوئی کم اہم خبر نہیں ہے۔ تاہم جس طرح اپنی افتاد طبع کے مطابق افسانہ لکھتے ہوئے عبداللہ، ماسٹر سکندر علی، بالم یار محمد ٹینی، نفیسہ، رفو اور جوہی جیسے خوب صورت اور مکمل کردار تراشے ہیں وہ اپنی جگہ کم اہم نہیں ہے۔


اِنتظار حسین کو سمجھنے کے جتن

جب سے مجھے یہ کہا گیا ہے کہ انتظار حسین پر بات کرنی ہے میرے اندر عجب سی بے کلی دوڑ گئی ہے۔ اس کَھدبَد کا سبب اِس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ مجھے بات کرنے کے لیے آغاز نہیں مل رہا، ایسا آغاز جو بات کو پھیلاؤ کی طرف نہ دھکیلے اور اس امر کی ضمانت دے کہ میرے اس کوشش سے انتظار کی کہانیوں کی تخلیقی فضا روشن ہو کر سامنے آ جائے گی۔ میری مشکل یہ ہے کہ جس انتظار کو میں مانتا ہو ں وہ "آخری آدمی" "زرد کتا" اور "شہر افسوس" والا انتظار ہے اور اسے حد تک مانتا ہوں کہ اس باب میں اس جیسا کوئی اور نہیں مانتا، تاہم جب جب اِس اِنتظار کی بات کرنا چاہتا ہوں ایک اور انتظار اپنے تنقیدی بیانات کی کھڑاگ اٹھائے راہ روک کر ادھر کو لڑھا لیتا ہے ۔۔۔۔تویوں ہے، کہ پہلے اِن تنقیدی الجھیڑوں سے نبٹ لیں گے تو بات سہولت سے آگے بڑھ پائے گی۔

صاحب دیکھیے تو کتنی اُلجھانے والی بات ہے کہ عین اس زمانے میں بھی کہ جب ہر کہیں طبعزاد کہانی کاشہرہ ہے انتظار کے دل کو طبعزاد کہانی کا مطالبہ سرے سے بھاتا ہی نہیں ہے۔ 2006 میں چھپنے والی اپنی کتاب "نئی پرانی کہانیاں" کے ابتدائیے میں اس نے طبع زاد کہانی کے مطالبے کو نئے زمانے کے تعصبات کہا۔ ایسے تعصبات جن کی وجہ سے کہانی کی روایت بیچ کھنڈت پڑ گئی ہے۔ اس مسئلے کو انتظار نے بہت گھما پھرا کر اور بار بار لکھا ہے۔ کبھی تو اسے سماعی روایت کے رکنے کا سانحہ کہا، کبھی اس بہانے پرنٹنگ پریس کو برا بھلا کہا جو دھڑا دھڑ نئی کہانی چھاپ رہا ہے اور کبھی ہاتھ مل مل کر تشویش کا اظہار کیا کہ لو جی کہانی کی راہ تو اب کھوٹی ہو ئی ہے۔ وہ زمانہ گیا جب افسانہ لکھا جاتا تھا۔ وہ زمانہ کہ جب لمبی اور کالی رات میں الاؤ دہکتا تھا لوگ باگ اسی الاؤ کے گرد بیٹھتے تھے تو بھیگتی رات کے ساتھ کہانی بھی ٹھل پڑتی تھی۔ بقول انتظار:

"قدیم زمانے کے الاؤ سے لے کر میری نانی کی انگیٹھی تک کہانی کی تاریخ اسی طرح چلی ہے۔" -- (اِنتظار حسین/" اَدب اور سماعی روایت")

یہ جو نئے زمانے کی کہانی کو نظر انداز کرنے کے لیے انتظار کے اوپر نیچے بیانات آئے چلے جاتے ہیں تو انہی بیانات کے بیچ مجھے انتظار کے افسانوں کا وہ مجموعہ یاد آتا ہے جو 1952 ء میں چھپا تھا۔ میری مراد اس کے افسانوں کی پہلی کتاب "گلی کوچے" ہے جس کا دیباچہ پڑھ کر گماں گزرتا ہے کہ تب تک نانی کی انگیٹھی تک چلی آنے والی قصہ کہانی کی بعد میں بے چاری ہو جانے والی روایت کے دکھ کو اس نے اپنی چھاتی میں نہ بسایا تھا۔ اس کتاب کی کہانیاں پڑھ لیجئے "قیوما کی دکان" سے لے کر "استاد" تک، تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تو اُسی ٹھیٹھ سماجی حقیقت نگاری کی روایت میں لکھی گئی تھیں جو بعد میں انتظار کو کھلنے لگی تھی۔ اس کتاب کے "خریدو حلوا بیسن کا" "چوک" "اجودھیا" "پھر آئے گی" "عقیلہ خالہ" "رہ گیا شوقِ منزلِ مقصود" اور"روپ نگر کی سواریاں" جیسے افسانوں کو ذہن میں تازہ رکھ کر انتظار کا یہ تازہ ترین اعترافی بیان بھی سن لیجئے جس کے مطابق انتظار کا پہلا عشق کرشن چندر کا افسانہ تھا۔ افسانہ کرشن چندر کا مگر زبان سرشار کی۔ یہیں رہ رہ کر حسن عسکری کا اس کتاب کے حوالے سے ایک مختصر سا مضمون یاد آتا ہے، وہی مضمون، جس میں عسکری نے کہا تھا کہ کتاب کے سبھی افسانوں کی فضا، کردار، مکالمے بالکل ایک جیسے ہیں اور یہ کہ انتظار کواپنے کرداروں کی زندگیوں سے بس اتنی ہی دلچسپی رہی ہے جتنی کہ وہ اپنے شہر یا اپنے علاقے میں نظر آتی ہے۔ عسکری کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس علاقے سے ان کرداروں کو الگ کر لیں تو وہ بالکل مردہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ان کرداروں کی پیچھے رہ جانے والے علاقے ہی میں چلت پھرت سے عسکری نے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ انتظار نے اس سے خوب فائدہ اٹھایا، اپنے کرداروں کی اندرونی کمزوری کو چھپا لیا اور رِقّت کو لبھاؤ میں بدل کر افسانوں کا انجام آسان بنالیا۔ بقول اُس کے یہ بھی ایک قسم کی ادبی الاٹمنٹ تھی۔ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ مضمون عسکری نے تب لکھا تھا جب تقسیم کو ابھی پانچواں برس بھی مکمل نہ ہوا تھا۔ اس تناظر میں دیکھیں تو"ادبی الاٹمنٹ "کے طعنے کی معنویت اور اس کی سفاکی کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں رہتا۔


صاحب ہو نہ ہو، مجھے تو یہی گمان گزرتا ہے کہ انتظار کے دل پر عسکری کی اس چوٹ نے خوب اثر دکھایا تھا۔ "گلی کوچے" میں 1950ء تک کے افسانے شامل تھے جب کہ دوسرا مجموعہ "کنکری" 1955 ء میں چھپا گویا عسکری کی چوٹ لگانے تک انتظار نے اسی رنگ کی کئی کہانیاں تب تک لکھ لی ہوں گی باقی کے افسانوں میں بھی یاد کے سہارے کہانی کا چلن برقرار رکھا اور ثابت کرنا چاہا کہ وہ وار جو عسکری نے کیا تھا، وہ اسے پی گیا تھا۔ مگر میں جو انتظار کے سارے افسانوں کو ایک ساتھ رکھ کر پڑھتا ہوں اور پھر بعد میں یعنی 1967ء میں آنے والے مجموعے "آخری آدمی"اور بعد کے مجموعوں کی بابت سوچتا ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جو انتظار نے ایک بار ہاتھ لگانے پر بیر بہوٹی کے مکر بھرنے اور انٹوانٹی کھٹوانٹی لینے کی بات سنائی تھی تو یوں ہے عسکری کے بیان کے بعد کچھ عرصہ تک بیر بہوٹی کا چلن خود انتظار نے اپنائے رکھا۔ گویا سنا تھا نہ کچھ پڑھا تھا۔ پھر جب یار لوگ عسکری کے مذکورہ مضمون کو بھول بھلا گئے تو جھٹ انگڑائی لی اور کہانی کا چلن بدل کر رکھ دیا۔

اب کے انتظار نے جو کہانی لکھی اس کی دھج ہی الگ تھی۔ ان کہانیوں کے ذریعے ایک نیا معنیانی نظام متشکل ہوا۔ بدلے ہوئے انتظار کے سامنے ہند مسلم تہذیب اور وہ انسان تھا جو پاؤں کی مٹی جھاڑ کر تاریخی اور تہذیبی روایت میں دور کی زمینوں اور زمانوں کا سفر کرتا تھا۔ وہ آدمی جو گلی کوچوں سے جڑ کر ہی معتبر نہیں ہوتا تھا کہ اس کے روحانی اور داخلی تقاضے اس کے بدنی تقاضوں سے کہیں اعلی، برتر اور اہم ہو گئے تھے۔ جب میں نے "آخری آدمی" کی کہانیوں کو پڑھا تھا کہ جن میں صوفیائے کرام کے ملفوظات تھے، عہد نامہ عتیق کی خاص فضا تھی اور داستانوی کردار کہانیوں کے متن کا حصہ ہو کر انسان کو برتر سطح وجود پر جینے کا چلن سجھا رہے تھے تو ساتھ ہی سجاد باقر رضوی کے دیباچے کے اہتمام نے چونکایا بھی تھا۔ اس دیباچے میں قیامِ پاکستان کو ہندی مسلمانوں کی بھٹکتی روح کو جسم ملنے کے مترادف قرار دینے کے بعد انتظار کے افسانے کو قومی وجود کی تشخیص کی کوشش قرار دیا تھا۔

وہ چوٹیں جو عسکری نے لگائی تھی آپ کو یاد ہیں نا، اور وہ کردار بھی جو پیچھے رہ جانے والی گلیوں ہی میں زندہ رہ سکتے تھے۔ وہ کردار جو بقول عسکری غیر حقیقی نہیں تھے، عین مین حقیقی تھے مگر تھے شکست خوردہ اور خود افسانہ نگار کو بھی شکست زدہ بنا رہے تھے۔ ہاں اگر یہ سب آپ کو یاد ہے تو انتظار کی نئی جون لیتی ان کہانیوں کو پڑھ کر ماننا پڑھے گا کہ عسکری نے جو کہا تھا اس نے انتظار کو اس نئی راہ پر ڈال دیا تھا تب تک سماجی حقیقت نگاری، طبعزاد کہانی یا نئی کہانی سے اسے کوئی شکایت پیدا نہ ہوئی تھی۔ خود انتظار نے اپنی ایک تازہ تحریر میں مانا ہے کہ تقسیم اور فسادات کی بحث میں عسکری اور ممتاز شیریں نے جو سوال کھڑے کیے تھے اس نے انتظار کا کرشن چندر والی سماجی حقیقت نگاری سے عشق ماند کر دیا تھا گویا انتظار نے یہ کوچہ خود نہیں چھوڑا تھا عسکری نے چھڑوایا تھا اور یہ جو وہ آدمی کو برتر سطح وجود پر جینے کی تلقین کرنے لگا تھا "آخری آدمی" "زرد کتا" اور"ہڈیوں کا ڈھانچ" جیسے افسانوں میں، کہ جن میں مادی اور جسمانی خواہشات ہیچ ہو جاتی ہیں، آدمی لالچ اور حرص و ہوس سے بلند ہونے کی طرف راغب ہو جاتا ہے یا پھر کافکا کی کہانی"میٹا مارفوسسز" جیسا افسانہ "کایا کلپ" میں بے ہمت آدمی کے مکھی بن جانے کی بات کر کے یہ بتانا کہ آدمی ہمت کر کے اپنی جون رہے تو ہی آدمی ہے ۔تو یہ سب اختیاری نہ تھا ادھر عسکری نے دھکیلا تھا۔

اچھا دیکھئے، کہ یہ جو میں نے اوپر کہانیوں کا ذکر کیا ہے ان میں سے "آخری آدمی" وہ کہانی ہے جس میں آدمی کے بندر بن جانے کو انسان کے اپنی برتر سطح وجود سے گرنے کے مترادف بتایا گیا ہے۔ افسانہ "زرد کتا" میں نفس امارہ کا مارا ہوا آدمی زرد کتے کی پناہ میں پہنچ کر شرف انسانیت سے گر جاتا ہے۔ "ہڈیوں کا ڈھانچ" کا بھوک مارا آدمی جب نانبائی کی دکان سے گزرا اور پکتی ہنڈیا سے اٹھتی سوندھی سوندھی خوشبو اس کے نتھنوں میں گھسی تو اس سوال نے اسے بوکھلا دیا تھا کہ وہ کون تھا آدمی یا کتا۔ اور افسانہ "کایا کلپ" کا شہزادہ آزاد بخت ڈر اور خوف کی غلامی میں آ کر مکھی بنتا رہا یہاں تک کہ پھر اپنی جون میں پلٹ نہ پایا تو کیا یہ نہیں بتایا گیا کہ خوف سے مکھی بننے والا اپنے برتر سطح وجود کو پھر حاصل نہ کر پایا تھا۔ دیکھیے ان کہانیوں میں جہاں انسان کو اعلی اخلاقی اور روحانی اقدار سے جوڑ کر دیکھنے کی سعی کی گئی ہے وہیں یہ بھی تو بتلا دیا گیا ہے کہ آدمی جب شرف انسانیت سے گرتا ہے تو آدمی نہیں رہتا کتا اور مکھی جیسا ہو کر ذلیل، رسوا اور بے حیثیت ہو جاتا ہے۔

صاحب یہ جو میں نے آگے بڑھنے کی بجائے انتظار کے ہاں اس کی اپنی کہانیوں میں جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں سے آدمی کو الگ اور اعلی کر کے دکھا دیا ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ یہیں مجھے انتظار کا ایک ایسا تنقیدی بیان یاد آگیا ہے جس میں یہ دعوی موجود ہے کہ پرانے زمانے میں سب مخلوقات کی ایک ہی برادری تھی اور انتظار کو محبوب ہو جانے والے پرانے زمانے میں آدمی کے تصور میں یہ نہ تھا کہ وہ خود اشرف المخلوقات ہے۔ خود ہی کہیے بھلا ایسے میں قاری کیا کرے، اِس بیان کو گرہ میں باندھے جس میں آدمی، جانور، کیڑے مکوڑے اور پکھی برابر ہو گئے تھے یا اوپر کی کہانیوں میں شرف انسانیت سے گرتے آدمی کو کتا اور مکھی بن جانے کی ذلت سے دوچار دیکھ کر متضاد اور متصادم معنی کشید کرے۔ خیر یہ مخمصہ تو قاری کا ہے۔


اپنے قاری کے مخمصے کی پرواہ کیے بغیر پرانے زمانے کی اس خوبی کا انکشاف انتظار نے اپنی تازہ کتاب کے اسی آغازیے میں کیا ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ ایسا لکھتے ہو انتظار کو یہ یاد ہی نہیں رہا کہ ابھی ابھی تو اس کے قلم نے جنم چکر کی بات لکھی تھی اسی جنم چکر کی جس میں اچھے یا برے کرموں کی کارن آدمی دوسرے جنم میں پکھی یا جنور بن جاتا ہے۔ گویا یہاں بھی گدھا، کتا، گیدڑ بننا ایک لحاظ سے شرف انسانیت سے گرنا ٹھہرا۔ اگر ایسا ہی ہے تو انتظار کا یوں گھما پھرا کر بات کرنا آخر کیا معنی رکھتا ہے؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب آگے چل کر تلاش کریں گے کہ فی الحال مجھے انتظار کی کہانیوں کی ایک اور قسم کا تذکرہ کرنا ہے۔ جی، میری مراد ان کہانیوں سے ہے جن میں تہذیبی آدمی کے انہدام کا نوحہ کہا گیا ہے۔ آدمی کی اصل ذات، جو گم ہو گئی ہے ان کہانیوں کے مرکز میں آ گئی ہے اور روح اور بدن کے سوالات یا تو حاشیے پر چلے گئے ہیں یا پھر ان کا ذکر ہی معدوم ہو گیا ہے۔ اس باب میں فوری طور پر جن کہانیوں کی طرف دھیان جاتا ہے ان میں "شہر افسوس" اور "وہ جو دیوار چاٹ نہ سکے" جیسی کہانیاں شامل ہیں۔ دیکھا جا سکتا ہے کہ "شہر افسوس" میں کہیں تو فساد کی جگہ سے سلامت نکل آنے پر خدا کا شکر بجا لایا گیا ہے تو کہیں ان زخموں کے مندمل ہونے کی امید دلائی گئی ہے جو ہجرت کے دورانیے میں لگے تھے پھر غرناطہ کا تذکرہ آتا ہے اور مسلم تہذیب صدیوں کا تسلسل پا لیتی ہے۔ "وہ جو دیوار چاٹ نہ سکے" میں ایک دیوار ہے جسے دن بھر چاٹا جا رہا ہے۔ یاجوج ماجوج کی کہانی ذہن میں تازہ رہتی ہے۔ جنہیں سد سکندری کو چاٹ ڈالنا تھا وہ دو منھواں سانپ بن کر ایک دوسرے کو بلکہ اپنے آپ کو چاٹتے اور ڈستے رہے۔ تویوں اس افسانے کی جو تعبیر بنتی ہے وہ سب پر عیاں ہو جاتی ہے۔

کہیے صاحب کہ اب میں یہ نتیجہ آخر کیوں اخذ نہ کروں کہ اس مرحلے تک آتے آتے ہند مسلم تہذیب کی شناخت کا سوال انتظار کے لیے بہت اہم رہا۔ اس زمانے میں اس نے جو بھی کہانی لکھی اسے نئے زمانے سے جوڑ کر دیکھا اور دیکھنے کی طرف راغب بھی کیا۔ ہاں یہ بات قدرے بعد کی لگتی ہے کہ جب انتظار نے پرانے زمانوں کی گم شدہ کہانیوں کو تلاش کر کے نئے معنی دینے کا تردد کیے بغیر اپنی رنگ رس اچھالتی زبان میں لگ بھگ اسی پرانے ڈھب سے لکھ لینے کو کافی جانا۔ ان بعد کی کہانیوں کو پڑھیں تو یوں لگتا ہے یہ اس انتظار کی کہانیاں ہیں ہی نہیں جس نے انسان کو بدنی اور مادی سطح سے بلند کر کے دکھا یا اور اسے ایک وسیع تہذیبی تناظر میں دیکھا تھا۔ لیجئے جب یہ بڑے بڑے سوال نہ رہے تو آدمی، انسان بنے یا پکھی اور جانور انتظار کے لیے ایک سا ہو جاتا ہے۔ "نئی پرانی کہانیاں " نامی کتاب کو پڑھ کر تو یوں لگتا ہے کہ جس طرح اس نے انسان کی معنویت کو معرض سوال میں ڈال دیا ہے خود کہانی بھی معنی سے الگ ہو گئی ہے۔ یہیں انتظار کا مشورہ بھی سن لیں:

"اب زمانے کی بھی سنو۔ میں نے سوچا کہ کیا ضروری ہے کہ ماضی میں سانس لیتی کہانی کو کھینچ کر اپنے زمانے میں لایا جائے۔ کیوں نا ان کہانیوں کو انہیں کے زمانے میں جا کر ملا جائے۔ لیکن اگر کوئی کہانی ماضی سے نکل کر خود ہی ہمارے زمانے میں آ جائے اور آج کے سیاق و سباق میں اپنی معنویت اجاگر کرے تو کیا مضائقہ ہے۔" -- (نئی پرانی کہانیاں /انتظار حسین)

یہ جو انتظار نے دوسری بات کی ہے نئی معنویت والی تو میرا اس باب میں یہ خیال ہے کہ ایسی کسی پرانی کہانی کو از سر نو لکھنے کا کوئی جواز ہی نہیں ہے جو لکھنے والے کے لیے تخلیق نو کا جواز لے کر نہ آئے۔ خیر انتظار کا معاملہ دوسرا ہے اس نے ان کہانیوں کو حکمت کا گم شدہ لال جان کر اپنا مال قرار دے لیا ہے۔ اور طبع زاد کہانیوں کی مذمت کے بعد ایک کتاب میں انہیں جمع بھی کر دیا ہے۔ ایسے میں یہ جو آصف فرخی کے "دنیا زاد" کتاب۔18، میں ظفر اقبال نے ایک چبھتا ہوا سوال اٹھا دیا وہ بھی دھیان میں رہنا چاہیے۔ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ یہ انتظار کی کہانیاں کیسے ہو گئیں؟۔ یاد رہے اسی مضمون میں ظفر اقبال نے یہ بھی لکھ رکھا ہے:

"انتظار حسین جیسے اتنے بڑے فنکار سے قاری کی توقعات بھی اتنی ہی بڑی وابستہ ہیں اور یہ قدرتی بات ہے کیوں کہ بظاہر تو ایسا ہی لگ رہا ہے کہ دیو مالا کی اتنی پھیلی ہوئی افسانہ نگاری میں سے انہوں نے قینچی ہی کا استعمال قدرے مہارت سے کیا ہے، اور اپنے مطلب کی کہانیاں اس بنے بنائے میگا منظر نامے سے چھانٹ لی ہیں اور بس۔ اس سے آگے کیا ہے، کچھ پتا بھی نہیں چلتا، یعنی آگے سمندر بھی نہیں ہے اور اگر واقعتاً ایسا ہے تو یہ سیدھی سیدھی قاری کو بے وقوف بنانے والی بات ہوئی۔" -- (افسانے کی حقیقت ایک عام قاری کے نقطہ نظر سے/ ظفر اقبال/دنیازاد۔ 18)

مجھے عین آغاز میں ہی دھڑکا لگ گیا تھا کہ جس انتظار کو میں مانتا ہوں اس پر ڈھنگ سے بات نہیں ہو پائے گی۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ جی، مجھے ایک حیلہ اور کر لینے دیجئے اور کہنے دیجیے کہ اگر ظفر اقبال کا وہ بیان جو آصف فرخی نے دنیا زاد میں چھاپا ہے اگر وہ انتظار کے مجموعی کام کے تناظر میں ہے، تو سراسر غلط ہے۔ اس بیان کی زد میں پہلے دور کی وہ کہانیاں جو سماجی حقیقت نگاری کے اسلوب میں لکھی گئیں قطعاً نہیں آتیں۔ بعد کی وہ کہانیاں جن میں ہمارے اجتماعی لاشعور کی بازیافت یا تہذیبی شناخت کے لیے داستانوں اور اساطیر سے مدد لی گئی ہے انہیں بھی اس فہرست سے خارج کرنا ہو گا۔ حتی کہ یہ بیان "نئی پرانی کہانیاں " کی ان ایک دو کہانیوں پر بھی صادق نہیں آتا جن کے متن سے عصری معنویت کا ظہور کچھ یوں ہوا ہے کہ نئے پرانے زمانے رل مل گئے ہیں تاہم یہ ماننا ہو گا کہ مؤخر الذکر کہانیوں میں سے کسی تحریر کو طبع زاد کہانی کی سی شان عطا نہیں ہو سکی ہے۔ انتظار حسین کے جس کام کو میں ظفر اقبال کے اعتراضات سے الگ کر کے دیکھ رہا ہوں اگر اسے انتظار کے اپنے تنقیدی بیانات کو بھول کر، اور اردو فکشن کی روایت میں رکھ کر دیکھا جائے تو انتظار کا مقام بالکل جدا اور اس کا قد بہت اونچا دکھائی دینے لگتا ہے۔ یاد رہے جب میں ایسا کہہ رہا ہوتا ہوں تو میرے ذہن کے فلک پر "آخری آدمی" "زرد کتا" اور "شہر افسوس" جیسے شاہکار افسانے چمک رہے ہوتے ہیں اور کون نہیں جانتا کہ کسی کے فن کی قدر کا تعین اس کے اعلی کام سے کیا جاتا ہے۔ میرا دعوی ہے کہ اردو افسانے کی پوری روایت میں کوئی بھی نہیں ہے جس کے پاس ان الگ سی چھب رکھنے والی کہانیوں کے مزاج اور مواد کا ایک بھی افسانہ ہو۔


اردو اَفسانہ اور سمعی روایت

راجندر سنگھ بیدی کا ایک اَفسانہ ہے "بھولا" اِس میں بیوہ ہو جانے والی مایا کو اپنے بھائی کا استقبال کرنا ہے لہذا وہ چھاچھ کی کھٹاس کو دور کرنے کے لیے مکھن کو کنویں کے صاف پانی سے کئی بار دھوتی ہے۔ ننھے بھولے کو بھی اپنے ماموں کا انتظار ہے۔ ننھا بھولا، جو ماں سے گیتا محض اس لیے سنتا تھا کہ اسے کہانیاں سننے کا چسکا تھا۔ اسی شوق کے کارن وہ اپنے دادا کے پیٹ پر چڑھ کر بیٹھ جاتا اور یہ بھی نہ دیکھتا، دن ہے یا رات کہ اسے ہر حال میں کہانی سننا ہوتی تھی۔ دادا رات کو کہانی سنانا پسند کرتے تھے مگر اس رات یوں ہوا کہ دن بھر کے تھکے ہوئے دادا آسمان کے جنوبی گوشے میں روشن ہو کر مدھم ہو جانے والے ستارے کو دیکھتے ہوئے سو گئے۔ اٹھے تو بھولے سے شرمندہ تھے۔ اسی احساس کے زیر اثر دوپہر میں کہانی سنانے کا وعدہ کر لیا مگر دوپہر کو بھی فرصت نہ نکال پائے تو حیلہ کیا:

"بھولے میرے بچے۔۔۔۔دن کو کہانی سنانے سے مسافر راستہ بھول جاتے ہیں"

تاہم انہیں کہانی سنانا ہی پڑی۔

بھولے نے کہانی سنی اور اس کا ماموں راستہ بھول گیا۔ کہانی کے آخر میں یوں ہوتا ہے کہ بھولے ہوئے ماموں کو راستہ دکھانے کے لیے بھولا خود روشنی لے کر پہنچ جاتا ہے۔

اُردو افسانے کا قصہ بھی لگ بھگ ایسا ہی ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ کہانی تب ہی سنائی جا سکتی تھی جب نانیوں، دادیوں یا پھر داداؤں اور ناناؤں کو فرصت ملا کرتی تھی تاہم یوں ہے کہ اس زمانے میں کہانی سنانے کو بہرحال فرصت نکل ہی آیا کرتی تھے۔ دن کو سو طرح کے کرنے کے کام تھے، ایسے میں کہانی کے التوا کا یہی حیلہ کافی جانا گیا، دوپہر میں کہانی سناؤ تو مسافر راستہ بھول جاتے ہیں۔ مگر بعد میں یوں ہوا کہ کہانی سنانے والوں پر مصروفیت پل پڑی۔ کہانی سننے کے دیوانے فرصت کے لمحات کے انتظار میں اوب گئے تو خود روشنی اٹھا کر نکل کھڑے ہوئے۔

وہ جنہوں نے خود ہی روشنی اٹھا کر نکل کھڑے ہونے کو مناسب جانا، بعد والے لوگ تھے۔ کہانی کی تاہنگ نے کچھ اور طول کھینچا تو ایک چراغ ہتھیلی پر تھا، دوسرا بنیرے پر اور باقی گلی میں، یوں کہ روشنی کی قطار بنتی گئی، گلی کے بعد کھیتوں کے بیچ پگڈنڈی اور پھر وہاں بھی جہاں کوئی راستہ نہیں تھا مگر روشنی کی لکیر تھی کہ ادھر سے بھی گزرتی چلی جاتی تھی وہاں تک، جہاں کہانی مسافر کی طرح اوبڑ کھابڑ فروعی راستوں میں بھٹکتی پھرتی تھی۔ اب جو وہ پلٹے تو عجب تماشہ دیکھا کہ سارے چراغ بجلی کے قمقمے بن چکے تھے۔ دن رات کی تمیز ختم ہوتی تھی۔ اتنی چکا چوند میں کہانی کتنا بھٹک سکتی تھی سو وہ داستان اور قصے سے نکلی اور اُردو افسانے کی روشن گلیوں میں ٹھنک ٹھنک چلنے لگی۔ مگر انتظار حسین کی محسوسات نے شروع ہی سے کچھ ایسا چلن اپنایا رکھا ہے کہ کہانی کی ابتداء کا سوچتے ہی لمبی اور کالی رات یادوں کے دریچے پر دستک دینے لگتی ہے۔ دہکتا ہوا الاؤ ہے، الاؤ کے گرد بیٹھے ہوئے لوگ ہیں۔ رات بھیگتی رہتی اور کہانی چلتی رہتی۔ انتظار حسین کا کہنا ہے:

"قدیم زمانے کے الاؤ سے لے کر میری نانی کی انگیٹھی تک کہانی کی تاریخ اسی طرح چلی ہے۔" -- (انتظار حسین/ادب اور سماعی روایت)

انیسویں صدی کے دلی اور لکھنو میں گلاب اور کیوڑے سے مہکتی محفلوں میں سنائی جانے والی کہانیوں پر جھومتے زمانے کو انتظار حسین نے فکشن کی سمعی روایت کی آخری بہار کا زمانہ کہا کہ اس کے ساتھ وہ زمانہ آلگا تھا جب کہانی کہنے کے بجائے لکھنے کا چلن زور پکڑنے لگا تھا۔ پرنٹنگ پریس نے کہانی لکھنے کی روایت کو بڑھاوا دیا۔ انتظار حسین کے ہاں فکشن کی بہار کا جو تصور ہے وہ شمس الرحمن فاروقی کے ہاں سرے سے فکشن ہے ہی نہیں۔ دیکھئے اس تضاد نے مُعامِلہ کتنا دلچسپ کر دیا ہے۔ فاروقی کا بیان ہو بہو نقل کیے دیتا ہوں:

"فکشن کے بارے میں سب سے آسان بات یہ ہے کہ فکشن ان تمام طرح کے افسانوں سے الگ ہوتا ہے جن کا تعلق کم و بیش زبانی بیان سے ہے۔ لہذا داستان، عوامی کہانیاں، Fables، بچوں کی کہانیاں، Fairy Tales، یہ فکشن نہیں ہیں۔ محض اس وجہ سے نہیں کہ اصلاً ان کا تعلق زبانی بیان سے ہے، کیوں کہ بہت سی داستانیں وغیرہ لکھی بھی گئی ہیں، یا انہیں زبانی سن کر لکھا جا سکتا ہے، بلکہ اس وجہ سے زبانی بیان کی تیکنیک، اس کے فنی تقاضے اور ایک حد تک اس کی جمالیات، جس طرح کی ہوتی ہے، وہ ان تحریروں میں نظر نہیں آتی جنہیں ناول یا اَفسانہ کہا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اُردو، ہندی کے وہ قصے کہانیاں جو داستانی طرز کے ہیں، اگرچہ وہ کبھی سنائے نہیں گئے بلکہ چھپ کر مقبول ہوئے، مثلاً حاتم طائی، چار درویش، طوطامینا وغیرہ، وہ بھی فکشن نہیں ہیں۔ تمثیل یعنی Allegory بھی فکشن نہیں ہے۔" -- (شمس الرحمن فاروقی/افسانے میں کہانی پن کا مسئلہ)

انتظار اور فاروقی کے بیانات کی گونج کے میں، میں 1550ء کو مالا بار کے ساحل پر لگنے والے اس پرتگالی جہاز کو دیکھتا ہوں جو پہلی پار پرنٹنگ پریس کی مشینیں اور دوسرا سامان لے کر پہنچا تھا اور اس کے بعد1803ء تک قائم ہونے والے ان کئی چھاپہ خانوں سمیت فورٹ ولیم کالج کے اس پرنٹنگ پریس میں بھی جھانک آتا ہوں جس میں پہلی بار اُردو ٹائپ کی سہولت بہم کی گئی تھی تو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ پرنٹنگ پریس کو فکشن کی خوش بختی کا استعارہ کہوں یا سمعی روایت پر شب خون مارنے والوں کا ہر کارہ۔

انتظار نے صاف صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے:

"اور اب میری سمجھ میں آ رہا ہے کہ اُس زمانے سے اس زمانے تک آتے آتے کہانی کے ساتھ واردات کیا گزری ہے۔ اس کے دو بڑے دشمن پیدا ہو گئے۔ بجلی کی روشنی اور پرنٹنگ پریس۔ بجلی کی روشنی نے رات سے اس کا بھید بھرا اندھیرا چھین لیا ہے جس میں کہانی اپنا جادو جگاتی تھی ۔کہانی آگے کہی جاتی تھی، اب لکھی جاتی ہے۔ پہلے سمندر تھی۔ اب جوئے کم آب ہے۔ آگے دن میں کہانی سنانے پر مسافر راستہ بھولتے تھے۔ اب خود کہانی راستہ بھول گئی ہے۔" -- (انتظار حسین/ادب اور سماعی روایت)

مگر صاحب اس کا کیا کیا جائے کہ فاروقی کا اصرار ہے:

"فکشن وہ تحریر ہے جس میں زبانی بیان کا عنصر یا تو بالکل نہ ہو یا بہت کم ہو" -- (شمس الرحمن فاروقی/افسانے میں کہانی پن کا مسئلہ)

انتظار اور فاروقی نے ہمیں جس مخمصے میں ڈال دیا ہے اس سے سہولت سے کیوں کر نکلا جا سکتا ہے؟ انتظار کی بات مانو تو اُردو افسانے کے ارتقاء اور شناخت کی مکمل صدی کا قصہ حرف غلط لگتا ہے اور فاروقی کے اس کہے پر اعتبار کرو جو اوپر درج کر آیا ہوں تو جس برتے پر انتظار نے بعد کے زمانے کی کہانی کو جوئے کم آب کہا وہ سمندر، اور جسے سمندر جانا وہ فکشن کے باب میں سوکھی ہوئی نالی بھی نہیں رہتا۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ محض دو انتہاؤں پر سوچتے رہنے اور ذرا مختلف بات کہنے کے شوق کا شاخسانہ ہے۔ عجب بات ہے صاحب، چونکنا لازم ہوا، مختلف بات ہے جی، متوجہ تو ہونا پڑے گا، متوجہ ہوئے تو الجھنا مقدر ہوا۔مگر صورت واقعہ یہ ہے کہ یہ صورت واقعہ نہیں ہے۔


انتظار نے ادب کی جس سمعی روایت کے دشمن کے طور پر بجلی کی روشنی اور پرنٹنگ پریس کو قرار دیا ہے وہ کم از کم اُردو کے معاملے میں تو حلق سے اترتی ہی نہیں ہے۔ دیکھئے، جب ہم اُردو فکشن کی بات کر رہے ہیں تو یہ بات کسے معلوم نہیں کہ اُردو یونہی ہوا میں پیدا نہیں ہو گئی تھی۔ نہ ہی کسی صحیفے کی زبان ہو کر اوپر سے اتری اور ہم اس سے وابستہ ہو گئے۔ اُردو اسی سرزمین سے پھوٹی اور یہیں اس نے نمو پائی اور عین ایسے لوگوں کے بیچ شباہت بنائی جو پہلے سے قدیم زبانوں کے وارث چلے آتے تھے۔ یہ قدیم زبانیں اتنی بانجھ بھی نہیں تھیں کہ ان میں سرے سے کہانی اور قصے کی کوئی روایت ہی موجود نہ ہو۔ جب پہلے سے سب کچھ تھا تو پھر یکسر اس سے انکار ممکن ہی نہیں ہے۔ دیکھئے ایک ہزار قبل مسیح پہلے لکھی گئی لگ بھگ ان سو کہانیوں کو کس کھاتے میں ڈالا جائے گا جو تمثیل کی صورت ہیں اور جو ویدی ادب کے طور پر پہچانی جاتی ہیں یا پھر وہ جاتک کہانیاں جو گوتم بدھ نے پانچ سو قبل مسیح پہلے بیان کی تھیں کیا بعد میں آنے والی زبان کی روح میں نہ اتر سکی تھیں۔ اپنشد، پنج تنتر اور پرہت کتھا ہو یا کتھا سرت ساگر، جس کے بارے میں انتظار کا کہنا ہے کہ اس کی کہانیاں تو پہلے عالم بالا میں سنائی گئی تھیں، شو جی سنایا کرتے تھے، پاربتی سنا کرتی تھیں اور جو بعد میں راجہ کو سنانے کے لیے قلمبند ہو گئیں تو کیا اس سے نئی اُردو کہانی یکسر نابلد رہی اور یہ سب کچھ اس کی روایت کا حصہ نہیں ہو سکا ہے۔ میں اسے اس لیے نہیں مان سکتا کہ میں نے کہانیوں کو ایک زمانے سے دوسرے زمانے میں اور ایک زبان سے کئی زبانوں میں منتقل ہوتے پایا ہے۔ وہ کہانیاں جو سنسکرت اور دوسری ذیلی زبانوں کے سرمائے کے طور پر پہچانی جاتی ہیں ان سے ملتی جلتی کہانیوں کا سراغ اور زبانوں میں بھی ملتا ہے۔ وہ جو کہا جاتا ہے کہ حکیم برزویہ 550ء میں ایران سے ہندوستان آیا اور لوٹتے ہوئے کرتک اور دمنک کا قصہ ساتھ لے گیا تھا تویوں ہے صاحب، کہ ایسے واقعے تو دنیا کے ہر گوشے میں ہوئے ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کے لین دین کا امکان اردو افسانے کی بات ہوتے ہی ممکن کیوں نہیں رہتا۔ مان لینا چاہیے کہ اُردو کہانی کسی آہنی چاردیواری میں محبوس ہو کر پروان نہیں چڑھی اس نے بھی ان سے اثر قبول کیا ہے مگر سوچ میں رخنے تب پڑتے ہیں جب ہم مغرب سے مستعار لی ہوئی افسانے کی تیکنیک کے واقعے کو بیان کرتے ہوئے زبان اور تخلیقی اظہار کے اندر بھید کی صورت حلول کر جانے والی اس اپنی روایت کی طرف پشت کر کے کھڑے ہو جاتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ عین آغاز میں نہ سہی آگے چل کر فکشن کی روایت میں اسی زبانی روایت نے افسانے کے لیے زبان کے داخلی پیٹرن میں عجب طرح کے بھیدوں کی گنجائشیں رکھ دیں ہیں۔

صاحب ایک غلط بات انتہائی اصرار سے بار بار دہرائی جاتی ہے کہ جی کہانی تو بعد میں آئی، شاعری پہلے سے موجود تھی اور اسی سانس میں یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ دیکھئے جی شاعری میں شروع ہی سے قصہ اور کہانی بھی موجود رہا ہے۔ اب اگر ادب کی سمعی روایت کا موضوع چل نکلا ہے تو مجھے اس غلط فہمی کے باب میں کہنے دیجئے کہ شاعری کا جھنڈا اونچا دکھانے کے لیے اس طرح کی باتیں عموماً اس لیے گوارا کر لی جاتی رہی ہیں کہ شاعری کی لکھی ہوئی تاریخ قدرے پرانی ہے۔ تاہم کہانی کی سمعی روایت کو انسان جتنا قدیم تسلیم کر لینے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے اور یہ بھی مان لیا جانا چاہیے کہ کہانی کی اسی مستحکم سمعی روایت نے شاعری کے اندر کہا نی کہنے کو رواج دیا تھا۔ جس نے اپنا بھیتر روشن کرنے کو آگ مستعار لی آپ اسی کو گھر کی مالکن کہتے ہیں تو تعجب ہوتا ہے۔

خیر یہ تو جملہ معترضہ ہوا، ہاں بات فکشن کی روایت کی ہو رہی تھی اور ظاہر ہے میں جس روایت کی بات کر رہا ہوں نہ تو وہ مغربی افسانے کی روایت ہے اور نہ صرف و محض پریم چند اور ان کے فوراً بعد کے افسانے کی بیانیہ روایت جس کی شان، بقول فاروقی واقعات کی کثرت میں ہے۔ بلکہ میں تو اس روایت کی بات کر رہا ہوں جس کے اجزاء کو سہولت سے الگ الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا خارج ہمیں بہکاتا ہے کہ یہ روایت سات سمندر پار سے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ آئی مگر اس کا بھیتر کہانی کے اس بھید کے مقابل لا کھڑا کرتا ہے جس سے مغرب کا اَفسانہ کنی کاٹ کر نکلتا رہا ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے میں نے اپنی بات قبل از وقت کہہ دی کہ ابھی تو بہت سی دھند چھٹنا باقی ہے۔

جی صاحب، پہلے تو مجھے یہ کہنا ہے کہ جس زبانی روایت کو فاروقی فکشن کی ذیل میں نہیں لاتے اور انتظار جسے فکشن کا "ذیلدار" گردانتے ہیں اس میں موجود محض "جگمگاتی بصیرتیں" ہی فکشن نہیں ہیں۔ اور یہ جو بجلی کے بلب اور ٹیوب کی روشنی میں بیٹھ کر بعد کے زمانے میں اَفسانہ لکھا گیا ہے، اور پکی روشنائی سے جسے چھاپہ خانے گزشتہ ایک صدی سے بھی زائد عرصے سے مسلسل چھاپ رہے ہیں، تو یوں نہیں ہے کہ ان کی کہانیوں میں بصیرتوں کا کال پڑ گیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ فکشن نے بعد کے زمانے میں قصے اور داستان کی ہیئت کے بجائے مغرب سے آنے والی افسانے کی ہیئت کو ترجیح دی، ضرور دی، مگر تخلیقی تجربے کے دوران اپنے لہو کا حصہ بننے والی اپنی روایت کو اندر ہی اندر اپنا کام مکمل کرنے دیا۔ میں تو اس باب میں اُردو کے ان ابتدائی منظوم قصوں کا احسان بھی مانتا ہوں جو طبع زاد نہ سہی لیکن اس اپنی زمین سے اگے تھے یا پھر اس فضا میں نمو کی صلاحیت رکھتے تھے جس میں اُردو بن رہی تھی۔ یہ قصے ہندی کے ہوں یا عربی اور فارسی کے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ طوطی نامہ کی کہانیاں ہوں یا ہشت اشت کے قصے یا پھر ملک محمد جائسی کی پدماوت میں غلام علی کے اضافے۔ اسی طرح حاتم طائی، چہار درویش، لیلی مجنوں، کلیلہ و دمنہ سے کسی نہ کسی صورت کہانیاں نکل کر فکشن کی نئی ہیئت میں ایک حرکی قوت کے طور پر ظہور کرتی رہی ہیں۔ ملا وجہی کا نثری قصہ سب رس ہو یا میر تقی میر کی مثنوی شعلہ عشق، جسے مرزا رفع سودا نے نثر میں ڈھالا تھا، یقین کیجئے، جب میں یہ کہتا ہوں کہ اُردو افسانے کی ابتدا میں مغربی افسانے کا حصہ ہے تو اس وقت یہ سب میری نظروں سے اوجھل نہیں ہوتے۔ ہمارے افسانے کی عمارت کی اٹھان چاہے مغرب کی مرہون منت رہی مگر تخلیقی عمل کے دوران اس کی روح میں یہیں کی خوشبو رچی بسی رہی۔ ہماری کہانی اس باب میں فورٹ ولیم کالج کے منشیوں کے کام سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہے نہ ڈاکٹر گل کرسٹ کی خدمات کو پس پشت ڈالتی ہے مگر یوں ہے کہ اُردو افسانے کو جس طرح کی چست قبا چاہیے تھی وہ داستان کے پاس تھی نہ یہ قصے کوئی صورت سجھا پائے تھے۔ غالب نے نثرکی زبان چست کی، انگریزی تعلیم کے فروغ نے مغربی فکشن کی طرف راغب کیا۔ تعلیمی ضرورتوں کے پیش نظر کہانی نے کچھ ڈھنگ بدلا۔ یہیں ان چھاپہ خانوں کا تذکرہ بھی آتا ہے جو اخبارات ا ور دوسرے جرائد چھاپتے تھے اور جن کے پیٹ بھرنے کو پہلے پہل ناول قسطوں میں چھاپے گئے۔ ساتھ ہی ساتھ ترجمہ کیے ہوئے افسانے کام آئے اور طبع زاد افسانے کے لیے فضا تیار ہو گئی۔

صاحب، اُردو افسانے کی تاریخ لکھنے والے جس ترتیب سے واقعات لکھتے آئے ہیں اس پر ایمان لائیں تو اس سے یہ نتیجہ تو کم از کم ضرور نکلتا ہے کہ سماج جس جانب سفر کر رہا تھا کہانی اس سے کنارا نہیں کر گئی تھی۔ جی وہ اس سے الگ تھلگ ہو کر بیٹھ گئی تھی نہ آنکھیں بند کر کے اپنی دھن میں مگن تھی۔ اور ہاں وہ اگر الاؤ کے گرد ہی پھیرے ڈالتی رہتی تو بلب کی روشنی میں بیٹھنے والے اس کے چہرے کو دیکھ بھی نہ پاتے، پرنٹنگ پریس کا رخ نہ کرتی اور فقط چاندنی راتوں میں چاندنیاں بچھنے کی منتظر رہتی یا ان نانیوں اور دادیوں کی اور ہی دیکھتی رہتی جو ماضی کا چرخہ کاتتے کاتتے خود بھی ماضی کا قصہ اور حصہ ہو گئی ہیں تو آنے والے زمانوں میں کہانی کا قصہ بھی نانی دادی کا چرخہ ہو جاتا (یاد رہے پنجابی میں نانی کا چرخہ باقاعدہ ایک محاورہ ہے)۔


تاہم میں سمجھتا ہوں کہ انتظار حسین نے یہ جو بجلی کے بلب اور پرنٹنگ پریس کو کہانی کے دو بڑے دشمن کہا ہے تو اس کے وہ معنی ہو ہی نہیں سکتے جس کی طرف فوری طور پر دھیان چلا جاتا ہے۔ مجھے یوں لگنے لگا ہے جیسے یہاں انتظار نے لگ بھگ وہی بات کہہ دی ہے جو ڈبلیو بی ییٹس نے ٹنڈل اور ہکسلے کو ناپسندیدہ کرنے کے باب میں کہی تھی، یہی کہ انہوں نے اس سے اس کے بچپن کا معصوم مذہب چھین لیا تھا۔ مجھے تو کسی نئی، بنیادی یا پھر عظیم حقیقت/ سچائی کو سمجھنے کے لیے انتظار کا اپنی کہانیوں میں بار بار ماضی میں لوٹ جانا بھی کئی مقامات پر یوں بامعنی لگا ہے جیسے رلکے نے عربوں کے جاہلی دور کی شاعری میں سے ایک بھید کو تلاش کر لیا تھا۔یوں دیکھا جائے تو انتظار حسین کے کہے کے دو معنی نکل سکتے ہیں:

1- سمعی روایت کو نئی ایجادات نے ختم کر ڈالا ہے۔ اس نے انسانی مزاج کو اتنا متلون مزاج بنا دیا ہے کہ و ہ جم کر اور بیٹھ کر کہانی سن ہی نہیں سکتا لہذا قصے اور داستان کی روایت متروک ہوئی اور اس کے ساتھ ہی کہانی کی روایت میں رخنے پڑ گئے ہیں۔

یا پھر

2- مغرب سے آنے والی فکشن کی نئی اصناف (اَفسانہ اور ناول) نے سمعی روایت میں کہانی لکھنے کی تیکنیک کو روک دیا ہے جب کہ نئی کہانی لکھی ہی سمعی تیکنیک میں جا سکتی ہے۔اسے ترک کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ کہانی رستہ بھول گئی ہے

جی، یہ جو میں نے انتظار حسین کے ہاں سے اوپر والے دو سوالات اپنے حسن ظن کے برتے پر تراش لیے ہیں تو اس کا سبب یہ ہے کہ میں ان خوش گمان لوگوں میں سے ہوں جو کسی بھی تہذیبی رخنے کی وجہ سے تخلیقی افراد کے ہاں مستقل تخلیقی انجماد کی بابت سوچ ہی نہیں سکتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ انتہائی ناموافق حالات میں بھی سچے تخلیق کاروں کی ایک قلیل تعداد بہر حال موجود رہتی ہے اور وہ اپنے وجود کی سچائیوں کے سا تھ اپنے تخلیقی عمل سے جڑی رہتی ہے۔ میرے ہاں ایک اور خرابی بھی ہے میں شمس الرحمن فاروقی کی طرح شاعری ہی کو محض اور صرف تخلیقی سرگرمی مان کر اور جان کر الگ نہیں ہو جاتا کہ میں نثر میں تخلیق کے امکانات کا ایسا سمندر دیکھتا ہوں جس کا کوئی کنارہ نہیں ہے۔ کہانی بھی تخلیق ہی کی ایک اکائی ہے اور اس کی صرف وہ صورت ہو ہی نہیں سکتی تھی جو انتظار کی اس محبوب سمعی روایت کے آئینے میں دکھائی جا رہی ہے۔ اور ہاں یہیں میں ریکارڈ پر لاتا چلوں کہ یہ سمعی روایت انتظار تک اور ہم تک محض نانیوں اور دادیوں کے ذریعے نہیں پہنچی تھی اس کا بیشتر حصہ ان مردود چھاپہ خانوں سے چھپ کر ہی ایک زمانے میں توجہ حاصل کر پایا تھا۔ میں اُس زمانے کو کھینچ کھانچ کر انتظار کے اپنے زمانے سے جوڑ دیتا ہوں جس کے دندانے اس زمانے سے کے دندانوں کے اندر دھنسے ہوئے ہیں جس میں کہانی نے اپنی جون بدل لی ہے۔

روشن بلب کے نیچے لکھی گئی اور چھاپہ خانوں سے چھپ کر ہم تک پہنچنے والی انتظار کی اپنی کہانی کا یہ قرینہ رہا ہے کہ یہ دونوں زمانوں میں سانس لیتی ہے۔ یہ ماضی کی بھول بھلیاں میں ہمیں ڈال کر الگ نہیں ہو جاتی، وہاں سے نکلنے میں مدد بھی دیتی ہے یوں جیسے آریادنی شہزادی نے یونانی اسطورائی ہیرو تھیسیوس کی مدد کی تھی۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ جب تھیسیوس ایک خطرناک بھول بھلیاں میں داخل ہو گیا تھا تو اسی شہزادی نے دھاگے کا ایک گولا اسے تھما دیا تھا۔ اس گولے کی مدد سے وہ بھول بھلیاں سے نکل آیا تھا۔ مان لیا جانا چاہیے صاحب کہ انتظار کے سوا داستان، قصے اور لوک کہانیوں کی تیکنیک سے جڑ کر جس نے نئی کہانی لکھنی چاہی اس کے ہاتھ آریادنی شہزادی والا دھاگے کا گولا نہ آ سکا جو اسے اس بھول بھلیاں سے باہر نکال لاتا حتی کہ وہ زمانہ آگیا جس کے آشوب کو اس سارے عہد پر پھیلا کر بتایا جا رہا ہے جس میں کہانی کہی نہیں جاتی لکھی جاتی ہے۔ جی میری مراد اس آشوب سے ہے جو ہمارے ہاں علامت اور تجرید کے نام پر ایک وبا کی صورت پھوٹا، یوں کہ اچھے برے کی تمیز مٹ گئی اور کچھ وقت کے لیے ان رنگ رنگ کے کنکوؤں سے سارا آسمان اَٹ گیا۔مگر یاد رکھا جانا چاہیئے کہ اس میں بہت سارا مال بھرتی کا سہی، سارے کو گٹھڑی میں باندھ کر دریا برد نہیں کیا جا سکتا۔ اس زمانے کا ایک احسان تو ماننا ہی چاہیے کہ اس نے کہانی پر کچھ اور امکانات کھول دیئے۔اور اب جب کہ کم از کم دو سطحوں پر مربوط کہانی لکھی جا رہی ہے تو میں اسے گزشتہ عہد کے تمام کامیاب اور ناکام تجربوں کے ساتھ جوڑ کر اور جڑ کر ہی دیکھنے کی درخواست کروں گا کہ انصاف کا یہی قرینہ ہے۔


اب رہی یہ خوش فہمی کہ کہانی لکھی ہی سمعی تیکنیک میں جا سکتی ہے تو یوں ہے صاحب کہ جب تک میں انتظار کی "زرد کتا" اور "آخری آدمی" جیسی کہانیوں کے طلسم کدے میں رہتا ہوں تو ایسا ہی گمان باندھتا ہوں مگر اس سے نکلتے ہی ساری خوش فہمی کے غبارے کی ہوا بھی نکل جاتی ہے میں نے اگر ایسا کہا ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ میرے سامنے بلب کی روشنی اور پرنٹنگ پریس جیسے "دشمنوں" کو "دوست" جان کر لکھی گئی کہانیوں کی ایک لمبی قطار ہے جس میں زندگی کے بھید بھاؤ بھی ہیں اور عصری حسیت بھی۔ ان کہانیوں میں کچلنے اور روند ڈالنے والی زندگی سے منھ موڑ کر کسی اڑن کھٹولے میں بیٹھنے اور پرستان جا نکلنے کا رویہ ہے نہ ان کہانیوں کے کردار ان مہمات پر(چاہے ہمیں کچھ سجھانے کو ہی سہی) نکل کھڑے ہوتے ہیں جن کا تصور ہی محال ہے اور کہیں کہیں تو مضحکہ خیز ہو جاتا ہے۔

یہاں یہ سوال بنتا ہے کہ آخر کب تک آپ محض سمعی روایت کی محبت میں ان ساری کہانیوں کو رد کرتے رہیں گے جو ایک مستحکم روایت بنا چکی ہیں۔ مغربی روایت کی تیکنیک کو اپنا کر اپنی زمین اور اپنی تہذیبی مظاہر سے جڑ کر کہانی لکھنے کی جو طرح اُردو میں پڑ چکی ہے اس میں سمعی روایت کے تیکنیکی حوالے ملیں نہ ملیں کہانی اپنی نزاکتوں کے ساتھ ملتی ہے اور ضرور ملتی ہے۔ اب ایسے اُردو افسانے قطار اندر قطار مجھے لبھانے لگے ہیں جن میں کہانی اپنے بھید پوری نزاکتوں کے ساتھ سنبھالے ہوئے ہے۔ لیجئے جیسے جیسے مجھے یاد آ رہے ہیں ویسے ویسے لکھے جا رہا ہوں۔ پریم چند کی "کفن" کرشن چندر کی "بالکونی" راجندر سنگھ بیدی کی "لاجونتی" عصمت چغتائی کی "لحاف" سعادت حسن منٹو کی "سوگندھی" قرة العین حیدر کی "فوٹو گرافر" احمد ندیم قاسمی کی "کنجری" ممتاز مفتی کی "آپا" عزیز احمد کی "تصور شیخ" احمد علی کی "قید خانہ" غلام عباس کی "آنندی" حسن عسکری کی "پھسلن" اشفاق احمد کی "ہے گھوڑا" محمد خالد اختر کی "لالٹین" ڈاکٹر سلیم اختر کی "تیرہواں برج" بانو قدسیہ کی "کلو" زاہدہ حنا کی "راہ میں اجل ہے" عرش صدیقی کی "باہر کفن سے پاؤں" مسعود مفتی کی "تشنگی" انور خان کی "فن کاری" غیاث احمد گدی کی "تج دو تج دو" نیر مسعود کی "طاؤس چمن کی مینا" مسعود اشعر کی "میں نے جواب نہیں دیا" انور سجاد کی "گائے" سراج منیر کی "نالۂ نَے" بلراج ورما "پر کٹے پرندے" کنور سین کی "گلیڈی ایٹر" یونس جاوید کی "اناج کی خوشبو" سریندر پرکاش کی "بجوکا" جوگندر پال کی "جادو" سلام بن رزاق کی "معبر" ساجد رشید کی "ہانکا" خالدہ حسین کی "سلسلہ" سلام بن رزاق کی "انجام کار" محمد سلیم الرحمٰن کی "نیند کا بچپن" اسد محمد خان کی "موتبر کی باڑی" منشا یاد کی "پانی میں گھرا ہوا پانی" احمد ہمیش کی "مکھی" رشید امجد کی "بگل والا" رحمان مذنب "کی" پتلی جان "شمس الرحمن فاروقی کی "سوار" مُشَرّف احمد کی "پس مرگ" صدیق عالم "فور سیپس" نعیم آروی کی "گم شدہ جزیرہ" اقبال مجید کی "پوشاک" مرزا حامد بیگ کی "گناہ کی مزدوری" محمود واجد کی "خوشبو کا لمحہ" احمد جاوید کی "بھیڑیا" آصف فرخی کی "دیمک" نیلوفر اقبال کی "برف" سید محمد اشرف کی "لکڑ بھگا ہنسا" احمد داؤد کی "شہید" نگہت سلیم کی "جشنِ مرگ" طاہرہ اقبال کی "دیسوں میں" امجد طفیل کی "مچھلیاں شکار کرتی ہیں" انور زاہدی کی "پھپھوندی" جمیل احمد عدیل کی "رتن مالا اور کاتب کلام" عاصم بٹ کی "انتظار" فاروق سرور کی "گنجی چڑیا" فرحت پروین کی "منجمد" علی امام نقوی کی "ڈونگر باڑی کے گدھ" خالد جاوید کی "تفریح کی ایک دوپہر" مبین مرزا کی "قید سے بھاگتے ہوئے" صغیر ملال کی "آبادی" اے خیام کی "خالی ہاتھ" وقار بن الہی کی "اترنا دریا میں" شفق کی "نیلا خوف" گلزار کی "خوف" حامد سراج کی "ڈنگ" شوکت حیات کی "گنبد کے کبوتر" انور قمر کی "میرا باپ صندوق میں سوتا ہے" عامر فراز کی "پرانا شہر" مُشَرّف عالم ذوقی کی "فزکس، کیمسٹری، الجبرا" حفیظ خان کی "یہ جو عورت ہے" عطیہ سید کی "شہر ہول" نیلم بشیر احمد کی "گلابوں والی گلی" غافر شہزاد کی "خوابوں کی گرہ میں پڑی لڑکی" رفاقت حیات کی "چریا ملک" شمیم منظر کی "مسدود راستہ" اور ۔۔۔۔اور ۔کہئے بھلا ان جیسی ان گنت کہانیوں کو پڑھنے کے بعد بھی آپ کہہ سکتے ہیں کہ سمعی روایت کے رکنے سے کہانی گم ہو گئی ہے۔

تو یوں ہے صاحب کہ کہانی لکھے جانے کی روایت پر اس طرح کے نشتر چلانے سے وہ منظر نامہ قطعاً نہیں بن سکتا جو آپ بنانا چاہتے ہیں۔ خود کو افسانے کی نئی تیکنیک سے الگ رکھنے اور اس کی مستحکم ہو جانے والی روایت سے آنکھیں بند کر کے گزرنے کاآپ کو حق ہے سو اس حق کو استعمال کیجئے اور جیسی من میں آئے ویسی کہانی لکھیے مگر اس سے ایسے نتائج اخذ مت کیجئے جو سارا منظر نامہ ہی دھندلا کر رکھ دے۔


منشا یاد کا افسانہ اور سماجی معنویت

میرے اندر کھلبلی مچ گئی۔

عمر کے اس حصے میں، جب لطیف اور نازک جذبے سرد پڑ جاتے ہیں اور آدمی کے اندر کا بیل تھک کر تھان پر بیٹھا جگالی کر رہا ہوتا ہے۔ اسے ڈچکروں اور ٹھوکروں سے حرکت میں نہیں لایا جا سکتا۔ اسے ہلانے جلانے کے لیے تابڑ توڑ ڈنڈے برسانا پڑتے ہیں۔

اس کی موت کی خبر سن کر مجھے صدمہ ضرور ہوا جیسے بیٹھے بیٹھائے کسی نے ٹھوکر مار دی۔ میں چونکا اور پلٹ کر دیکھنا چاہا مگر میرے سینگوں پر دھرتی کا بوجھ تھا۔

صاحب، منشا یاد کی کہانی "سارنگی" کا یہ دلچسپ ٹکڑا عین تمہید میں آپ کو اس لیے سنا دیا ہے کہ مجھے تیزی سے بدلتے ہوئے سماج کے ساتھ جڑے رہنے کی شدید خواہش رکھنے والے منشا یاد کا لگ بھگ اپنے ہر دوسرے افسانے میں ایک عجب دھج سے چونکنا لطف دیتا رہا ہے۔

اسے آگے کا سفر کرنا ہے مگر اُسے بار بار بیک مرر دیکھنا پڑتا ہے۔ یاد رہے "بیک مرر" اس کا ایک افسانہ ہے اور ساتھ ہی ساتھ محبوب استعارہ بھی۔ وہ اس بیک مرر میں دیکھتا ہے، بار بار دیکھتا ہے، عقب میں تیزی سے معدوم ہوتے منظر نامے کو بھی اور ونڈ اسکرین میں سے تیر کی تیزی سے اپنی سمت بڑھتے نامانوس وقت کو بھی۔ جو کچھ جانا پہچانا ہے وہ اس کے اندر بس جاتا ہے اور جو سامنے ہے وہ اس دھرتی جیسا ہو جاتا ہے جسے بیل نے اپنے سینگوں پر اُٹھا رکھا ہے۔

ہم جو ماضی کے ساتھ ایک بامعنی رشتہ رکھنا چاہتے ہیں اور ارضیت کو اپنی سانسوں میں بسائے ہوئے ہیں، زمین سے چاہے جتنا اوپر اٹھ جائیں اپنے حصے کی مٹی اپنی مٹھی میں ضرور رکھتے ہیں۔ تو یوں ہے کہ منشا یاد کی مٹھی میں جو مٹی ہے وہ جگنو بن کر چمکتی ہے۔ ان سورجوں کی طرح جن کے مقابل آ کر نئے عہد کی صارفیت زدہ مجہول حسیت کے چراغ منہ چھپانے لگتے ہیں۔

منشا یاد کے افسانوں میں متشکل ہونے والے جس سماج کی میں بات کر رہا ہوں اس میں خالص اور پاکیزہ رشتوں میں ایسے ایسے کردار ملتے ہیں جن کا تصور مادیت زدگی نے مشکل بنا دیا ہے اور ایسی ایسی فضا ملتی ہے کہ جس کے اندر سے زندگی کی خوشبو کے جھرنے پھوٹ بہتے ہیں۔ مگر کون نہیں جانتا کہ ضرورت، پیداواریت اور سرمائے کی افزودگی کی بنیادوں پر اسارے جا رہے نئے عہد کے شیش محل کے اندر اس خوشبو کا داخلہ ممنوع ہے۔

مگر۔ماُسے تو اِس خوشبو کے ساتھ ہی اس کانچ محل میں داخل ہونا ہے۔

اور منشا یاد اس امتناع کو توڑنا چاہتا ہے۔

مجھے "سارنگی" کا جملہ ایک بار پھر دہرانے دیجئے:

"میں چونکا اور پلٹ کر دیکھنا چاہا مگر میرے سینگوں پر دھرتی کا بوجھ تھا۔"

تو یوں ہے کہ کہ منشا یاد نے ہمت کر کے اور نیت باندھ کر کچھ افسانے تو اسی دھرتی کے بارے میں لکھے ہیں جو سینگوں پر بوجھ کی طرح جھول رہی ہے اور بہت سارے افسانے اس مٹی کے بارے میں لکھے ہیں جو خوشبو بن گئی۔ وہ خوشبو جس نے انسان کا وجود بامعنی بنا دیا ہے۔

میں اس دونوں قسم کے افسانوں کی سماجی معنویت کو بھی الگ الگ پہچان سکتا ہوں۔


ایک قسم کے افسانوں کے اندر آدمی اڑیل بیل کی طرح دکھایا گیا ہے جسے اس کا مالک آگے کو کھنچتا ہے مگر بیل پیچھے کو زور لگاتا ہے حتی کہ مالک بپھر جاتا ہے۔ اس قبیل کے افسانوں کی ایک عمدہ مثال منشا یاد کا 8 اکتوبر کے سانحے کے حوالے سے لکھا گیا "آگے خاموشی ہے" کا نام پانے والا افسانہ ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ اس افسانے کا ماسٹر دین محمد اپنے طالب علموں سمیت ملبے کے اندر دب گیا تھا۔ اس کے شاگرد ایک ایک کر کے اس کے سامنے مرتے رہے اور وہ خود جرعہ جرعہ موت لنڈھاتے ہوئے بھی زندہ رہا۔ اور پھر یوں ہوا تھا کہ ہمارے نام نہاد دانش وروں کی رکی ہوئی سوچ کے تعفن نے اسے تڑپایا اور مار دیا تھا۔اس کہانی میں منشا یاد نے ماسٹر دین محمد کے ہاتھ میں اس کے مرنے سے پہلے جوتا تھمانا چاہا ہے کہ وہ اسے اُن دانش وروں کی سمت اُچھال سکے۔ اور سجھانے کا جتن کیا ہے کہ جمود زدہ متعفن سوچ رکھنے والوں کو جب تک چوٹ نہ لگے وہ اڑیل بیل کی طرح پیچھے ہی کو زور دیتے رہتے ہیں۔

اُس کا فیصلہ ہے کہ آگے نہ دیکھیں تو راستے مسدود ہو جاتے ہیں اور پلٹ کر دیکھنا بھول جائے تو شناخت گم ہو جاتی ہے۔

منشا یاد کے افسانوں پر بات کرتے ہوئے مجھے خواہش ہونے لگی ہے کہ اسی کی طرح چلتی ہوئی بات کی گاڑی کی ونڈ اسکرین سے نظر اٹھا کر بیک مرر میں دیکھوں۔ تو یوں ہے کہ اس بار وہ اڑیل بیل نظر آگیا ہے جس کا مالک اُسے آگے کھینچنے سے اُکتا گیا تھا اور بپھر کر اُس کے کولہوں پر چوٹ لگانا چاہتا تھا۔

دوسری قبیل کے افسانوں کی دنیا ہی کچھ اور ہے الگ سی مگر روح کو سرشار کرنے والی۔ان افسانوں میں فکری دائروں سے کہیں زیادہ زندگی کی تفہیم کی راہیں نکلتی ہیں۔ منشا یاد نے "شہر افسانہ" کی ابتدائی سطور میں لکھا ہے کہ "سائنسی علوم اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ انسان روز بروز مشین میں ڈھلتا جا رہا ہے۔ " مشین میں ڈھلتے مصروف آدمی کا جو ہیولا منشا یاد نے بنایا ہے وہ آدمی اپنے بنجراپے سے بولایا ہوا ہے۔ تاہم جب جب وہ اسی گھٹن زدہ ماحول کے مقابل دیہی زندگی کے کشادہ ماحول کو لے کر آیا تو یوں لگا جیسے تاریکی کی لمبی سرنگ کے اندر سے روشنی کی چیخ جادو بنسری کے سر کی طرح برآمد ہو گئی ہے، یوں کہ تاریک سرنگ کا دوسرا کنارہ روشن ہو گیا ہے۔

میں اسی روشن کنارے پر منشا یاد کے افسانے "اپنا گھر" کے میلے کچیلے مگر فرشتوں جیسے اس شخص کو دیکھتا ہوں جس کا دل اپنے بچوں سے ملنے کو چاہا تھا تو اس نے چارہ کاٹنا اور ہل چلانا وہیں موقوف کیا۔ بس پکڑی اور ملنے آگیا تھا۔

جسے میں نے تاریک غار سے شناخت کیا ہے منشا یاد کے مرکزی کردار نے اس صورت حال کا نقشہ اسی افسانے کے آغاز میں یوں کھینچا ہے۔

"وہی ہر طرف مداریوں کی طرح چتر چالاک آدمی اور آسمان میں تھگلی لگانے والی تیرہ تالن عورتیں۔ منافقت سے اٹی ہوئی صورتیں ۔۔۔۔خود غرضی کے جالے ۔۔۔۔سازشوں کی مکڑیاں اور وہی ٹانگیں کھینچنے اور میرے اٹھنے بیٹھنے کی جگہوں پر مرغیوں کی طرح گندگی پھیلاتے احباب۔ وہی ہر روز ایک طرح سو کر اٹھنا اور وہی ستر ستر قدم پیچھے ہٹ کر ایک دوسری سے ٹکریں مارتی دیواریں۔ بھاگم بھاگ دفتر کے لیے تیار ہونا ۔۔۔۔وہی میز اور وہی ایک جیسا ناشتہ۔۔۔۔وہی دفتر اور وہی انتظار میں بیٹھے ہوئے گدھوں کی طرح افسران بالا کی نظریں۔ وہی فائلیں اور وہی ایک جیسے قے کیے ہوئے لفظوں کے پیٹ بھرنا۔"

تو صاحب! یہ منظر نامہ جو منشا یاد نے دکھایا ہے اس نے نئے آدمی کے رنگ ڈھنگ اور چال ڈھال کے بے ڈھنگے پن کو ننگا کر دیا ہے۔ آدمی اپنے تہذیبی آہنگ سے نکل چکا ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے آدمی کا آدمی سے تعلق سماجی نہیں رہا بازاری ہو گیا ہے۔ عقیدے دم توڑنے لگے ہیں، عقیدت اور احترام کے قرینے قریہ بدر ہوئے اور اقدار بدل گئی ہیں۔ حقیقت کے معنی اُلجھ گئے اور سچائی Gray Areas کا رزق ہو گئی ہے۔ الفاظ ہیں، معنی عنقا ہیں۔ جملہ ہے مگر اس کے بطن میں مفہوم کا حمل ٹھہرتا ہی نہیں ہے۔ پریشان نظری ہے، فکری انتشار ہے۔شمیم حنفی نے اسے آڈن کے حوالے سے بتایا تھا کہ یہ "بے چینی" کا عہد ہے، فرانز الیگزنڈر نے اسے "عدم تعقل" کا دور کہا مگر یار لوگ تہذیبی اقدار پر شب خون مارنے والے اس عہد کو روشن خیال، ترقی یافتہ، اور انسانی فلاح کا عہد قرار دینے پر تلے بیٹھے ہیں۔ منشا یاد کے ہاں معاملہ یہ ہے کہ اس کی گفتگوؤں میں جتنی توجہ یہ بدلا ہوا زمانہ پاتا ہے اس کا تخلیقی وجود عین مین اِس تناسب سے اس تبدیلی کوقبول نہیں کر پاتا، کہ اپنے افسانوں کو جس سماجی معنویت سے وہ جگمگا رہا ہے اس کا غالب حصہ ارضیت، تہذیب اور روایت ہی میں پیوست ہے۔


میں نے کسی اور جگہ لکھا تھا کہ منشا یاد کو بیدی کی طرح گرہستن اور خاندان سے جڑی ہوئی عورت پر لکھنا اچھا لگتا ہے اور آج کی نشست میں اس پر یہ اضافہ کرنا ہے کہ اس کا سبب محض اور صرف یہ ہے کہ رشتوں میں جڑی ہوئی عورت ہی اسے سماج کے اندر بامعنی دِکھتی ہے۔ جب کہ رشتوں سے کٹی ہوئی عورت "شے" بن جاتی ہے، "صارف" ہوتی ہے یاپھر محض "کارآمد/بے کار" پُرزہ(اور لگ بھگ یہی بات تو مردوں کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔) یہی سبب ہے کہ ان رشتوں کے لیے وہ بہت کچھ قربان کر سکتا ہے حتی کہ اپنا عشق بھی۔ اس باب میں منشا یاد کے معروف افسانے "تیرہواں کھمبا" کو دھیان میں لائیے اور اس نوبیاہتا جوڑے کو بھی جو ریل کار میں سوار ہو گیا تھا۔ منشا یاد نے اپنے قاری کو ایک عجب صورت حال سے دوچار کرنے کے لیے اسی منظر نامے میں ایک تیسرے کردار کو بھی موجود رکھا ہے۔ یہ تیسرا شخص نوبیاہتا دلہن کی زندگی میں کبھی اہم رہا ہو گا مگر نئے اور تخلیقی رشتے سے جڑ جانے والی کے لیے (پرانا عشق بھولنا مشکل سہی)، نیا رشتہ اہم ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا رشتہ جو اپنی کیمسٹری میں چاہے عشق جتنا اخلاص نہ رکھتا ہو اس کی ایک سماجی معنویت ہوتی ہے۔ تو یوں ہے کہ اس افسانے کے آخر میں منہ زور عشق ہار جاتا اور تخلیقی رشتہ سماجی معنویت سے ہم کنار ہو جاتا ہے۔منشا یاد چاہتا تو اس تیسرے آدمی کو ریل سے کود کر خود کشی کی راہ دکھا دیتا، نوبیاہتا انجی کی چھاتی سے چیخ برآمد کر کے اس کے عشق کا بھانڈا پھوڑ کر سماجی رشتے میں دراڑیں ڈال سکتا تھا۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔جس گوں کا وہ آدمی ہے اس گوں کا آدمی اپنے کرداروں کو اوچھا نہیں رہنے دیتا انہیں وسیب کا ذمہ دار آدمی بنا دیتا ہے۔سو اس نے منہ زور عشق کو پچھاڑ دیا ہے اور سماج کو ایک تخلیقی رشتے سمیت بچا لیا ہے۔

جی مجھے موقع ملا ہے کہ میں منشا یاد کے افسانوں کا نہایت سنجیدگی سے مطالعہ کروں اور اس مطالعے میں محسوس کیا ہے کہ سماجی منظر نامے میں منشا یاد کے ہاں تخلیقی رشتے بہت احترام پاتے ہیں۔ "سزا اور بڑھا دی جائے" "سارنگی"اور "ساجھے کا کھیت" جیسی کہانیوں سے میں صحیح یا غلط اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مادی تعیش کے عہد میں، بنتی بگڑی حسیات والے نئے تفریحی آدمی سے کہیں زیادہ اسے تہذیبی اور سماجی آدمی بہت محبوب ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ جس دور میں منشا یاد نے شناخت پائی وہ علامت نگاری اور تجرید کا زمانہ تھا اور اس عہد کے افسانے میں اس نے سماجی اور تہذیبی علامت کے شعور کے ساتھ جو افسانے لکھے وہ الگ سے مطالعہ کا تقاضہ کرتے ہیں۔تاہم مجھے ان کے حوالے سے یہاں یہ کہنا ہے کہ اگر منشا یاد کو سماجی رشتوں میں بندھے آدمی سے محبت نہ ہوتی اور وہ فرد کے محض باطنی آشوب کو ہی کہانی کا وسیلہ بنانا چاہتا تو بھی اس ڈھنگ میں اس نے ایسی ایسی کامیاب کہانیاں لکھی ہیں کہ وہ بہت دور تک جا سکتا تھا مگر بہت جلد ادھر سے دامن جھٹک کر الگ ہو گیا۔محض دیہات نگاری بھی اس کا مسئلہ نہیں بن پایا ورنہ وہ بالا دست جاگیردار طبقے کی چیرہ دستیاں دکھا کر اور ہمارے دل دہلا کر بھی مقبول ہو سکتا تھا۔ ذرا تصور باندھیے "کچی پکی قبریں" والے کوڈو فقیر کا جس کی نظر کدال پر پڑی تھی تو فاتحانہ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر ناچنے لگی تھی۔ پکی قبریں ادھیڑ کران میں اپنے مردے رکھنے والے ایسے جی دار کردار اس کی کہانیوں میں آئے ضرور، مگر سماجی معنویت کے باب میں اس نے ترقی پسندوں کی طرح اسے طبقاتی مسئلے کے فیتے نہیں لگائے۔ اس کے کردار کہیں بھی اپنی شناخت گم نہیں کرتے پوری کہانی میں یوں رچے بسے ہوتے ہیں جیسے رات کی رانی کے بدن میں اس کی مست کر دینے والی مہک۔میلے ٹھیلے کے رسیا، نچلی ذاتوں کے کمی کمین، جنس کے مارے ہوئے مرد اور عورتیں، اپنوں سے پچھڑے ہوئے مگر ایسے کردار جن کے وجود کی مٹی کو خلوص کے پانیوں سے گوندھا گیا ہوتا ہے۔جو سماج کو جینے کے قابل بنانے کی للک رکھتے ہیں اور اپنے وسیب کی دانش کے امیں ہوتے ہیں۔

یوں تو عصری آگہی اور سیاسی شعور بھی منشا یاد کے افسانوں کا ایک قوی حوالہ بنتا ہے "1879 کا آخری افسانہ:پناہ" "بوکا" اور "کہانی کی رات" جیسے اہم افسانے اس باب میں عمدہ مثال ہیں کہ ایسے افسانوں میں منشا یاد نے تاریخ کو مسخ کرنے والے چہروں کو نوچ ڈالا ہے۔ عام آدمی کو مات دینے والے سیاست دانوں کو لتاڑا، جمہوریت کے حق میں آواز بلند کی اور سامراج کے دروغوں کے منہ پر تھوکا ہے مگر آج کی نشست میں میرا دھیان منشا یاد کی اس دھج کی طرف رہا ہے جو رواں منظر نامے سے اوب کر اور چونک کر عقب میں دیکھتا اور لمحہ لمحہ مادیت سے مات کھاتے آدمی کے ضمیر پر دستک دیتا رہا ہے۔اس نہج سے مطالعے نے مجھے حوصلہ دیا ہے کہ منشا یاد کی فکشن کے محبوب سروکاروں میں سماجی رشتوں کی مہک کو بھی قدرے نمایاں جگہ دوں کہ یہ ایسی مہک ہے جو سماج کو بامعنی اور تخلیقی بنا رہی ہے۔


پنجابی ناول ٹانواں ٹانواں تارا کے چند کردار

"بات پاواں بتولی پاواں" کی ذیل میں "ٹانواں ٹانواں تارا" کے مصنف محمد منشا یاد نے ایک عجب مغالطہ قاری کے ذہن میں ڈالنے کی سعی کی ہے پنجابی کا یہ ناول پڑھتے ہوئے اسے ذہن سے بالکل نکال دینا از بس ضروری ہے۔ مناسب یہ ہو گا کہ آپ دیباچہ ناول کے بالکل آخر میں پڑھیں ورنہ پہلے صفحے کی گمراہی آخر تک سنبھلنے نہ دے گی۔ دیباچے میں منشا یاد نے ناول کے آخری منظر نامے میں موجود اس بوڑھے کا ذکر کیا ہے جو پختہ سڑک کے بیچوں ننگے پاؤں چلا جا رہا تھا پھر جب اس نے چند بچوں کو ریت پر کھیلنے والے بچوں میں سے ایک وہ خود تھا جسے کتابوں اور خوابوں کی گھٹی پلائی گئی تھی، تب چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا اور کہانیوں نے اس کے اندر ککلی ڈالنا شروع کر دی تھی۔

ریت پر لکیریں بنانے، خوابوں اور کتابوں گھٹی اور کہانیوں کی ککلی والی باتوں کی حد تک میں منشا یاد سے متفق ہوں۔ یقیناً یہ سچ ہو گا مگر یہ بیان بالکل مغالطہ آمیز اور پانچ سو اٹھتر صفحوں والے ناول کے سارے متن سے متضاد ہے کہ وہ بچے جو اس وقت ریت پر لکیریں ڈال رہے تھے ان میں سے ایک ناول نگار خود تھا۔ اس لئے کہ جب وہ بوڑھا کہ جس کے حواس کی ڈور اس کی گرفت سے پھسل گئی تھی اور وہ کٹی پتنگ کی طرح تپتی سڑک کے فلک پر ننگے قدموں ڈول رہا تھا تب تک ناول نگار کے قدموں کے چھالے بھی صاف صاف دکھنے لگے تھے۔ ریت پر لکیریں ڈالنے کا وقت تو بہت پہلے بیت چکا تھا البتہ وہ ساری اذیت جو ریت پھانکتے اور کنکر چباتے بوڑھے کے چہرے پر جھلک دے رہی تھی اسے ناول نگار نے "ٹانواں ٹانواں تارا" کے ہر کردار کے مقدر کا حصہ بھی بنا ڈالا تھا۔ ایسے میں مجھے ڈاکٹر احسن فاروقی کا کہا یاد آیا:

"ناول زندگی کا آئینہ ضرور ہے مگر اس آئینے میں زندگی کا عکس گہری اور بدلی ہوئی حالت اختیار کر لیتا ہے"

"ٹانواں ٹانواں تارا" کا مصنف بھی اسی آئینے میں کہیں تو پوری طرح ایک کردار میں خود جا بیٹھتا ہے اور کہیں لخت لخت اپنا وجود چھوڑتا چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں ان بچوں سے بالکل مانوس نہیں ہو پاتا جو ریت پر بارہ کٹال کھیل رہے تھے تاہم اس بوڑھے کے بہت قریب ہو جاتا ہوں جس کے پاؤں میں چھالے پڑ گئے تھے۔

ڈاکٹر احسن فاروقی کی ہی ایک اور بات یاد آ رہی ہے:

"ناول میں زندگی کا نقشہ ہونا چاہئے، جیتا جاگتا۔اور یہ کہ ناول نگار کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے تجربات ہی کا بیان ناول میں کرے۔"

اس تناظر میں جب میں "ٹانواں ٹانواں تارا" دیکھتا ہوں تو غیر ارادی طور پر ہر اس مقام کو نشان زدہ کرتا چلا جاتا ہوں جہاں خود ناول نگار نے اپنے تجربات بیان کئے ہیں۔ ناول پڑھ چکتا ہوں تو میں دو کیفیات سے گزرتا ہوں پہلی یہ کہ میں نے صفحہ نمبر437 سے 472 کے مسلسل 35 صفحات کو چھوڑ کر لگ بھگ ہر دوسرے صفحے کو نشان زد کر دیا تھا۔ دوسرا احساس یہ تھا کہ احسن فاروقی نے جو کہا تھا وہ مکمل طور پر سچ نہیں تھا۔ تاہم یہ اپنی جگہ سچ ہے کہ منشا یاد نے زندگی کے بھر پور اظہار کے لئے مضبوط کردار نگاری کا سہارا لیا ہے اور اپنے کرداروں کو اس طرح خوبصورتی سے تعمیر کیا ہے کہ وہ ہمارے شعور میں جا بستے ہیں نہ صرف ہماری ہمدردیاں حاصل کر لیتے ہیں، بلکہ ہمارے دلوں کو بھی اپنی مٹھیوں میں لے لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھاباسو جیسے شیہنہ جوان کی بالکل آغاز ہی میں، محض بہتر صفحے گزرنے کے بعد، ٹانگیں ٹوٹ جاتی ہیں یا پھر معصوم اور پاکیزہ حسن والی نجی صفحہ نمبر 174 پرہی اپنی معصومیت اور عصمت سرور جیسے درندے کے ہاتھوں تار تار کروا بیٹھتی ہے تو یقین جانئے بڑا دکھ ہوتا ہے۔


ان کرداروں کے پیکر اتنی نفاست اور محبت سے تراشے گئے تھے کہ جب تک اپنی مکمل اور پاکیزہ صورت میں رہے اپنے ہونے کا بھر پور احساس دلاتے رہے مگر جونہی ناول نگار نے انہیں بے دردی سے داغدار کیا، سسکتی زندگی گزارتے نظر آئے۔ میں بھی ان کرداروں کے ساتھ ساتھ چلتا رہا ہوں۔ انہی کے ساتھ ہنستا اور روتا رہا ہوں۔ مگر جب یہ کردار ناول کے خالق کی بنائی ہوئی تقدیر کا شکار ہوئے تو میرے دل میں اس خواہش نے انگڑائی لی تھی کہ کاش ایسا نہ ہوتا۔ میں تصور کر سکتا ہوں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ناول کیا صورت اختیار کرتا مگر منشا یاد کے قلم کے جبر کا راستہ نہ "کاش" روکتا ہے اور نہ "اگر"۔ یوں وہ بڑی محبت سے تراشیدہ خوبصورت کرداروں کو بے دردی سے توڑ پھوڑ کر عین چلتے قصے کے وسط سے ایک اور کردار انتہائی مہارت سے تراشتا ہے۔ یہ نیا کردار خود بخود پہلے کردار کی کچھ یوں جگہ لے لیتا ہے کہ وہ ساری ہمدردیاں بھی جو پہلے کرداروں سے وابستہ تھیں، سمیٹ لیتا ہے۔ یہاں منشا یاد کا فن عروج پر پہنچ جاتا ہے اور یہیں سے ناول ایک نئی منزل کی سمت پھر سے رواں ہو جاتا ہے، یوں کہ قصے کے نئے پن کا جادو پھر سے سر چڑھ کر بولنے لگتا ہے۔ پے در پے وقوعے جنم لیتے ہیں، نئی نئی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں نئے اور اجنبی کردار یکایک سامنے آتے رہتے ہیں اور یوں سامنے آتے ہیں کہ پوری قامت کے ساتھ آنکھوں میں سما جاتے ہیں۔ تاہم یہ سارے کردار اس حد سے آگے نہیں بڑھتے جو مصنف نے ان کے لئے مقرر رکھ چھوڑی ہے۔ وہ مصنف کے لکھے کو نہ صرف برضا و رغبت قبول کرتے ہیں بلکہ اس حیثیت سے قاری بھی انہیں بسر و چشم قبول کرتا چلا جاتا ہے۔

صاحب، ایک کردار ایسا ہے کہ مصنف نے جس کے لئے پڑھنے والوں کے دلوں میں نرم گوشہ پیدا کرنے کو ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے مگر قاری اسے اپنے دل میں مناسب جگہ نہیں دے پاتا حالانکہ وہ کردار بہت خوبصورت اور بہت دلآویز ہے۔ یہ کردار نجی کی ناجائز اولاد اور سلیم کی محبوبہ نینا کا ہے، جو خالد کی لے پالک بلکہ اصل بیٹی کی طرح اس گھر میں رہتی ہے اور یوں رہتی ہے کہ اس کی خوشبو سے سارا گھر مہکتا رہتا ہے۔ جس کے وجود کی مہک سے خالد کے گھر کے درو دیوار سرشار تھے خالد کے بیٹے نعیم کے دل پراس وجود کی مہک دستک نہ دے پائی تھی۔ بالکل اسی طرح جس طرح قاری کے دل تک اس مہک کی دسترس نہیں ہو پاتی۔ یہ کردار آخر تک پہنچتے پہنچتے اس قدر بے بس لاچار اور مظلوم ہو جاتا ہے کہ بدلے میں اسے پڑھنے والوں کی ڈھیروں ہمدردیاں ملنی چاہئیں، مصنف بھی ایسا ہی چاہتا ہے مگر ایسا ہوتا نہیں ہے۔ قارئین کی ساری ہمدردیاں اس بوڑھے کی جھولی میں جا پڑتی ہیں جس کے ماتھے کا داغ اس خوبصورت لڑکی کو بنا دیا جاتا ہے، ہمدردیاں سمیٹنے والا بوڑھا کوئی اور نہیں اس ناول کا مرکزی کردار خالد ہے۔

نکے پنڈ میں پلنے بڑھنے والا خالد، جس کا باپ حکیم بن گیا تھا۔ ایک وقت تھا کہ خالد کے بزرگ بارہ تیرہ ایکڑ اراضی کے مالک تھے۔ یہ اراضی وہ خود ہی کاشت کرتے تھے لیکن اس کے دادا نے اپنی زمین ملک خوشی محمد کو لکھ دی اور خود سائیں جی ہو گئے تھے کہ انہیں اپنی نسل کو ختم ہونے سے بچانا تھا۔ خالد کی دادی نے چرخہ کات کات کر گھر کا خرچ پورا کیا۔ دادا جی فوت ہو گئے اور خالد ایسے ہی حالات میں پڑھ لکھ کر شہر پہنچ گیا۔ وکیل بنا، محبت کی۔ جس سے محبت کی اس سے شادی نہ کر سکا۔ جس سے شادی کی وہ زندگی کا حصہ نہ بن سکی۔ جو اس کے لئے اجڑ گئی اسے دیکھا تو تڑپ اٹھا کہ اس کو تو زندگی کا ساتھی ہونا چاہئے تھا۔ کفارہ یوں ادا کیا کہ اس کی ناجائز بیٹی کو اپنے گھر میں بیٹی بنا کر لا بسایا مگر اس کے دشمن نے اسی کو اس کے لئے گالی بنا دیا۔ وہ اپنے حواس کھو بیٹھا۔ اس کے لئے سب کچھ اندھیر ہو گیا تھا اور وہ ننگے پاؤں ریت کی ڈھیری پر جا بیٹھا تھا۔

قاری جو خالد کے ساتھ ساتھ چل رہا ہوتا ہے یہاں پہنچ کر اس کا دل بھی بیٹھ جاتا ہے۔ ایسے میں کئی خواہشیں جنم لیتی ہیں ۔ کاش مصنف اتنا بے درد نہ ہوتا، اسے عاشی سے ہی ملوا دیتا کہ جس کے بدن کے مہک ناول کے صفحوں سے بھی اٹھ رہی ہے۔ ایسا ممکن نہ تھا تو کاش ولی محمد سنیارے کی بیٹی نجمہ ہی اس کا مقدر بن جاتی کہ جو خود سونے کی ڈلی تھی۔ اور نہیں تو زینت کم از کم بالکل ملوانی نہ ہوتی، یوں ہوتی جیسے شہناز تھی، قہقہے لگانے والی، جملے پھینکنے والی، دلگیری کرنے والی، الجھنوں کو سلجھانے والی۔ مگر ناول جوں جوں آگے بڑھتا ہے ظالم دکھ کے پنجوں کی گرفت دل پر مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے۔ ایسے میں فرحانہ بھی بہت پیچھے رہ جاتی ہے اور میں سوچتا ہوں، فرحانہ کو اتنا پیچھے تو نہیں رہنا چاہئے تھا۔ مگر میرے چاہنے اور خواہش کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے، کہانی کو تو اسی نہج پر چلنا تھا جس پر ناول نگار چلانا چاہتا تھا۔ سو ناول جب اپنے اختتام کو پہنچتا ہے تو میں اپنے سارے "اگر مگر" بھول جاتا ہوں اور تسلیم کر لیتا ہوں کہ منشا یاد جیسا فنکار کہانی کو قاری کی مرضی سے نہیں بلکہ خود اپنی مرضی سے جیسے چاہتا ہے، چلاتا ہے اور یہ بھی اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ناول کے ایسے کردار پنجاب سے اور پنجابی زبان میں ہی تخلیق کئے جا سکتے تھے اور انہیں کوئی اور نہیں صرف منشا یاد ہی تراش سکتا تھا۔


رشید امجد کے افسانوں کا "میں"

لیجئے صاحب! بے پناہ تخلیقی امکانات رکھنے والے افسانہ نگار، محقق اور مدبر رشید امجد کو ایسے میں موضوع گفتگو بنایا جا رہا ہے جب خود اس کے تخلیقی قدم ڈگمگا رہے ہیں، پختہ سانسوں میں بوجھل پن اُترنے لگا ہے اور طے شدہ روشن مسافت ایک بوجھ بن کر اس کی کمر دہرا کرنے لگی ہے۔

مجھے اپنے محبوب افسانہ نگار رشید امجد کا یہ روپ بہت کھلنے لگا ہے۔ یہ نہیں ہے کہ مجھے اس کی روایت سے جڑی کہانی سے کوئی کد ہے بلکہ یوں ہے کہ اس کی نئی کہانی کی قامت اتنی پر شکوہ ہے کہ اس کی بیانیہ کہانی کہیں بھی جچتی نہیں ہے۔ پھر یہ بھی اپنی جگہ ایک واقعہ ہے کہ بہت سی اعلیٰ بیانیہ کہانیوں کو پڑھنے کے بعد رشید امجد کی بیانیہ کہانی ایک عدم اطمینان کی سی کیفیت سے دوچار کر دیتی ہے۔ میں اس کیفیت کے اظہار پر خود کو مجبور پاتا ہوں۔ تاہم عین اسی لمحے مجھے رشید امجد کے اس تخلیقی کمال کا اعتراف بھی کرنا ہے جو فقط اس نیک بخت کا ایسا مقدر ٹھہرا ہے جسے اس کی پسپائی بھی دھندلا نہیں سکی ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ وہ رشید امجد جس نے اپنے لئے ایک الگ اور منفرد مگر پر کٹھن راہ منتخب کی تھی تخلیق، تعمیر اور بالیدگی کے بیچ تمیز نہ کر سکنے والوں کی جانب سے ہونے والی یلغار سے بوکھلا اٹھا ہو اور کیا ممکن کہ اس نے ادبی بقا اور عافیت اسی پسپائی میں گمان کی ہو۔ اگر ایسا ہے تو اسے مقام حیرت سے زیادہ ادبی سانحہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ صاف صاف کہوں گا کہ مجھے صرف اس رشید امجد سے مطلب ہے جو بوکھلا کر اس اقرار میں فرار تلاش نہیں کرتا تھا کہ "کہانی افسانے سے کب غائب ہوئی تھی؟" بلکہ جو اس دکھ کی اذیت قطرہ قطرہ پی رہا تھا کہ۔ "لفظ دم توڑ رہے ہیں اور کتابیں سستے پن کی دلدل میں ڈوب رہی ہیں۔"

ایک ایسے عہد میں جب مردہ لفظوں کے جنازے اعزاز سے اٹھانے کو روایت کہا جانے لگے۔ جب عامیانہ واقعات اور گھسی پٹی تراکیب میں لتھڑے صفحات کی چکنی مجلد اور لذیذ کتابوں کے ذریعے ادبی سطح پر غیر تربیت یافتہ نابالغ قارئین میں شہرت اور مقبولیت کی ہوس عام ہو چکی ہو اور اسی پیمانے سے تخلیق پاروں کے وفات پا جانے یا زندہ بچ رہنے کی پیش گوئیاں ہونے لگیں ۔ اور ایسے عہد میں کہ جب مابعد جدیدیت کا مفہوم فقط جدیدیت کی نفی اور بانجھ حقیقت نگاری کی جانب مراجعت سمجھا جانے لگا ہو اور نعرہ لگایا جا رہا ہو کہ ابہام، تجرید، علامت، تمثیل، اسرار، ماورائیت، مسٹزم اور سمبالزم کا دور ختم ہوا اور "حلوہ قسم" کا ایسا ادب ہی مستحسن ٹھہرا جس سے بھرا "تباخ" ادب کے سیم زدہ محلوں کے مدقوق آوارہ لونڈوں کی دسترس میں آسانی سے ہوتا ہے۔ ایسے میں کسی بھی جینوئن اور اوریجنل لکھنے والے کا لڑکھڑا جانا انہونی بات نہیں ہے۔

رشید امجد کی حالیہ تخلیقی جہت کو میں اُس کے اُس آغاز کا ہی ایک عکس سمجھتا ہوں جو بہت پہلے اس کے پہلے ہی مجموعے "کاغذ کی فصیل" کے فوراً بعد معدوم ہو گیا تھا۔ تاہم تخلیقی ارتقا کے اس سفر کو جاننے کے لئے اسے جان لینا بھی ضروری ہے کہ اس پہلے مجموعے میں اس کا وہ سارا آشوب سمٹ آیا تھا جو خارجی سطح پر اس کے وجود کو جبر کے کلہاڑے سے مسلسل کاٹ رہا تھا۔ یہ وہ عہد تھا کہ ا سے اپنے اندر اترنے کی قطعاً اشتہا نہیں تھی اور وہ پٹی ہوئی سفاک حقیقت نگاری ہی کو معراج سمجھتا تھا۔ گذشتہ دنوں رشید امجد سے ایک طویل مکالمہ ہوا تو میں نے اس عہد کی محرومیوں کی کڑواہٹ کو اس کے لہجے میں محسوس کیا تھا۔ یہی کڑواہٹ اس کے ابتدائی افسانوں میں سرایت کر گئی تھی۔ اس نے اس عہد کے افسانوں کی بابت بتایا تھا کہ:

"ان کے موضوعات بڑے کنکریٹ تھے تکنیک روایتی بیانئے کی تھی اور موضوع بھی وہی تھا جس پر لکھا جا رہا تھا یعنی سیکس، فرسٹریشن اور مالی عدم استحکام۔"


رشید امجد جیسے تخلیق کار کے لئے طے شدہ راستوں پر چلنا ممکن نہ تھا لہذا وہ پہلے ہی مجموعے کے بعد اس عہد کی بھیڑ سے الگ کھڑا ہو گیا تھا۔ اپنے لئے نئی راہ کا انتخاب ممکن ہے وہ فیشن زدگی ہو جو اول اول انور سجاد، بلراج مین را، سریندر پرکاش اور احمد ہمیش کے ہاں در آئی تھی اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ذاتی آشوب جس کی کاٹ بہت گہری اور شدید تھی اس نے ایک نئے اسلوب کی سمت نمائی کی ہو۔ کچھ بھی ہو، واقعہ یہ کہ آغاز وسط اور انجام کے ساتھ بندھے واقعے کی روایت کے ساتھ چلنا رشید امجد کے لئے ممکن نہ تھا لیکن خارجی سطح پر داخل میں اترنے کی جتنی راہنمائی اسے میسر تھی وہ اتنی ناکافی تھی کہ اسے فکری انتشار کا شکار ہونا پڑا۔

"بے زار آدم کے بیٹے" سے شروع ہونے والے اس سفر میں پہلی بار اس "میں" سے تعارف ہوتا ہے جو ایک ہی سانس میں بہت کچھ کہنا چاہتا ہے مگر بات جب معنیاتی ہیولا مکمل کرتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک آنچ کی کسر باقی تھی جس نے شباہت مکمل نہ ہونے دی۔ یہ آنچ دراصل وہ نامیاتی وحدت ہے جو علامتوں کو امیج کی سطح تک بلند ہونے میں مدد دیتی ہے اور مکمل فن پارے کو جمالیاتی تکملہ سے شناسا کرتی ہے۔

اس عہد میں رشید امجد کے ہاں جملے تیز دھار آلے کی صورت آتے ہیں، شدید ضرب لگاتے ہوئے۔ اتنی شدید کہ جتنی شدت سے زندگی کی نا آسودگیوں نے اس پر وار کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ افسانوں میں اپنے ان دوستوں کا ذکر بھی کرتا ہے جو تقریباً اسی جیسے حالات سے دوچار تھے۔ یہاں گھر اس کے لئے اجنبی اور قبر کی مانند ہے۔ ہوٹل اور گلیاں اس کی پناہ گاہیں ہیں۔ آوارگی میں وہ تسکین محسوس کرتا ہے۔ رشتے ناطے اس پر بوجھ ہیں۔ ذمہ داریاں اس پر جبر ہیں۔ اسی جبر کے بطن سے عجب طرح کی جنسی نا آسودگی جنم لیتی ہے اور لایعنیت اور بے معنویت کی گھپ تاریکی میں اس کا بدن نگلنے لگتی ہے۔ ایسے میں وہ پھر ایک مجمعے میں جا کھڑا ہوتا ہے جو جدیدیت کو فیشن کی طرح قبول کرنے والے پر جوش نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ رشید امجد بہت دیر تک اور بہت اشتیاق کے ساتھ جدیدیت کے ان بے سُرے گوئیوں کی آواز کے ساتھ آواز ملانے کے باوجود یوں الگ پہچانا جاتا ہے کہ اس کی زبان کھردری نہیں ہوتی، ملائم رہتی ہے۔ یہی وہ عہد ہے جب وہ اپنی ذات میں گم ہونا چاہتا ہے ایسی ذات میں، جہاں انتشار ہی انتشار ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کے کرداروں کی شناخت باقی نہیں رہتی۔ ہر افسانہ گذشتہ افسانے کا تسلسل لگتا ہے۔ کہیں کہیں اس کے جملے غزل زدہ نظم کے مصرعوں کی صورت ڈھلنے لگتے ہیں۔ "بے زار آدم کے بیٹے" سے شروع ہونے والا یہ سفر "ریت پر گرفت" اور "سہ پہر کی خزاں" کے افسانوں میں بھی مسلسل نظر آتا ہے تاہم یہ ذاتی نا آسودگیاں رفتہ رفتہ اجتماعی محرومیوں کی سمت دیکھنے لگتی ہیں۔

"بے بارش پانی" غالباً وہ پہلا افسانہ ہے جس میں سماجی دکھ سے جڑنے کے واضح اشارات ملتے ہیں۔ اس افسانے میں رشید امجد نے ایک مدت کے بعد "میں" کے کردار کو جان بوجھ کر "اس" سے بدل دیا ہے تاہم میں سمجھتا ہوں کہ "اس" کا کردار بھی "میں" ہی کی توسیع ہے۔

"اس نے اس رات پہلا خواب دوبارہ دیکھا کہ وہ پھر اپنے بچوں کو منافقت کے پانی سے سینچ رہے ہیں اور ان کے کھیتوں میں فصلوں کی جگہ دیواریں اگ رہی ہیں " بھوک پھر بانٹی جا رہی ہے" اس نے بڑے چوک میں اعلان کیا کہ ہمیں تو کہا گیا تھا کہ بارش کے بعد بھوک بانٹنے والے بھی ہماری صفوں میں کھڑے ہوں گے۔"

"بے پانی کی بارش"

یہیں سے وہ رشید امجد انگڑائی لے کر بیدار ہوتا ہے جو اپنا الگ سے ادبی عقیدہ رکھتا ہے۔ یہ ایسا ادبی عقیدہ ہے جو اجتماعی عقیدے اور سماج سے جڑا ہوا ہے اور جس کے لئے اسے اپنے ماں باپ کے ساتھ ہجرت کرنا پڑی تھی۔ اس ادبی عقیدے کے جڑیں اب اس زمین میں پیوست ہو چکی تھیں۔ اسی زمین میں کہ جس کے اوپر اسے ایک پر آشوب دور سے گزرنا پڑا تھا۔ اس ادبی عقیدے کی مقامیت سے آفاقیت متاثر نہیں ہوئی تھی۔

فکری سطح پر ایک دبیز دھند کے کافی حد تک جھٹ جانے کے بعد وہ اعتماد سے اگلی منازل کی سمت قدم بڑھانے لگا۔ گو منزل واضح اور متعین تھی مگر بیچ میں اپنے "ہونے" یا "نہ ہونے" کے تذبذب کا ایک صحرا پڑتا تھا۔ رشید امجد کے لئے "ہستی" "نیستی" کا سوال صفا اور مروہ کی مقدس پہاڑیوں جیسا تھا جس کے بیچ وہ بے تکان دوڑتا رہا۔ "پھسلتی ڈھلوان پر نروان کا لمحہ" "لا" "منجمد اندھیرے میں روشنی کی ایک دراڑ"، "باہو کی نئی تعبیر"، "تشبیہوں سے باہر ایک پھڑپھڑاہٹ" اور کئی دوسرے افسانے شناخت اور پہچان کا سوال لے کر آتے ہیں۔ شناخت کا یہ مسئلہ "ڈوبتی پہچان" تک پہنچتے پہنچتے اس قدر شدید ہو جاتا ہے کہ "میں " ایک بار پھر جُل دے جاتا ہے اور "اس" کی ایسی توسیعی صورت میں ظہور پذیر ہوتا ہے جو اپنی ماں کی قبر بھول چکا ہے۔ یہ دراصل اس پورے بد نصیب معاشرے کا المیہ ہے جو اپنی ماں کو بھول چکا ہے۔ یہ ماں اس کا فکری مرکز بھی ہو سکتی ہے اور اس کی اپنی زمین بھی۔


"سہ پہر کی خزاں" اور "پت جھڑ میں خود کلامی" افسانوں کے وہ مجموعے ہیں جن میں سیاسی شعور پوری طرح کارفرما ہے۔ اس پر کٹے کبوتر کا تذکرہ ہو جو کندھوں پر بیٹھ گیا تھا یا اس شہر کا جس کے مکینوں کو تاریخ بنانے کا چسکا تھا مگر جن کا جغرافیہ روز بروز سکڑ رہا تھا، جہاں ریزہ ریزہ شہادت مقدر ٹھہری تھی اور جہاں درد کدال ہاتھ میں لئے قبر کھود رہا تھا، اندھیرا قطرہ قطرہ آسمان کے طشت سے پھوار کی صورت برس رہا تھا، جہاں بھوک بھونک بھونک کر بھنبھوڑتی تھی اور منجمد کر دینے والی سردی جسموں میں اتری تھی۔ یہاں کا سارا منظر نامہ سماج کی مجموعی زبوں حالی بیان کرتا ہے۔ ایسے سماج کی زبوں حالی، جس میں تماشا دیکھنے والا خود تماشا بن جاتا ہے اور جسے بالآخر زہر پی لینا ہوتا ہے۔

یہاں تک رشید امجد سے بہت سطحوں پر اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے مگر اپنے فکری ارتقا کے اس مرحلے کی تشکیل کے بعد اس کے اندر جو سرشاری اترتی ہے وہ قاری کو سیراب کر دیتی ہے۔ بعد کا مرحلہ "بھاگے ہے بیاباں مجھ سے" سے شروع ہوتا ہے یہ اور اس کے بعد آنے والے مجموعوں نے رشید امجد کو افسانے کی تاریخ میں ایک اہم اور مستند مقام سے نوازا ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر وہ بیانئے اور علامت تجرید اور تمثیل جیسے فروعی مسائل سے بہت حد تک آگے نکل چکا ہے۔ اس کے ہاں تخلیقی وارفتگی اپنے پورے جمال اور کمال کے ساتھ آ چکی ہے۔ "شدتِ امکان" تک پہنچتے پہنچتے وہ بہت سی شعوری منازل طے کر چکا ہے۔ اب وہ آدم کا بیزار بیٹا نہیں ہے۔ ماں بہن اور گھر کی ذمہ داریاں اس کے لئے بوجھ نہیں ہیں۔ مقدس رشتوں سے بندھا اس کا وجود کٹ کٹ کر معدوم ہونے کی بجائے اور نکھرتا چلا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اسے مرکز سے جڑنے کا اسم اعظم ہاتھ آ جاتا ہے۔ مرکزیت سے وابستگی اس کے لئے ایک خزانے کی حیثیت رکھتی ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ افسانہ نگار اس معاشرے سے مکمل طور پر وابستہ ہونا چاہتا ہے جس میں افراد کی اپنی انفرادیت بھی ایک تقدس رکھتی ہے۔ رفتہ رفتہ وہ فرد کی "نفی" اور "اثبات" کا سوال معاشرے اور سماج کی "نفی" اور "اثبات" پر منطبق کرنے لگا ہے۔ اسی مرحلے پر رشید امجد ایک مرشد کے ساتھ جا کھڑا ہوتا ہے۔

اگرچہ مکالمہ شروع ہی سے اس کے افسانوں کا وصف خاص رہا ہے مگر مرشد کے ظہور کے ساتھ ہی مکالمہ بہت زیادہ پر معنی اور مربوط ہو جاتا ہے اور پہلی بار محسوس ہوتا ہے کہ افسانہ اتنے عمیق اور اتنے وسیع امکانات کا حامل بھی ہو سکتا ہے۔ رشید امجد نے اپنی تخلیقی معراج کے اس مرحلے پر بہت خوبصورت افسانے دے کر اردو ادب کو فکری اور فنی سطح پر ثروت مند کیا ہے۔ اور "میں" کے ایک ایسے کردار کو متعارف کرایا ہے جو جامد نہیں ہے، ہر لمحہ متحرک ہے۔ جو بالکل ٹھوس نہیں ہے، پارے کی طرح ہے۔ جو اگرچہ ایگو ہے مگر ایک سپر ایگو کے تابع بھی ہے۔ جو بلاشبہ اول اول خود ارتکازی کے مرض میں مبتلا تھا مگر بعد ازاں خودی کے ارتکاز کا سمبل بن گیا۔ "میں " کا ایسا کردار یقیناً ایسی شباہت کے ساتھ اردو ادب میں پہلی بار نمودار ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے رشید امجد کو انور سجاد، بلراج مین راہ، سریندر پرکاش اور احمد ہمیش کی جدید افسانے میں تسلیم شدہ اولیت کے با وصف افسانے پر ساتوں در کھولنے والا قرار دیا ہے۔

اور اب امید لگائے بیٹھا ہو کہ وہ سپاٹ روایتی بیانئے کی طرف پلٹنے کی بجائے بیانئے، واقعے، علامت، استعارے، سمبل، تجرید وغیرہ کو باطنی سطح پر نئے سانچے میں ڈھالنے کی سمت متوجہ ہو گا۔ اگر ایسا ہو گیا تو یقین جانئے آنے والا عہد بھی رشید امجد کا ہو سکتا ہے۔


خالدہ حسین کا ناول " کاغذی گھاٹ " اور پوری عورت

(حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کے خصوصی پروگراموں کے سلسلے "ادب ستارہ" میں معروف افسانہ نگار خالدہ حسین کے اولین ناول "کاغذی گھاٹ" کو موضوع بنایا گیا۔ پروگرام کی صدارت افتخار عارف نے کی جب کہ مہمان خصوصی کشور ناہید ناہید تھیں۔ مضامین پڑھنے اور اظہار خیال کرنے والوں میں منشا یاد، شبنم شکیل، ڈاکٹر انور زاہدی، محمد حمید شاہد، نیلو فر اقبال اور اکبر حمیدی شامل تھے۔ اس تقریب میں راولپنڈی اسلام آباد کے ادیبوں اور شاعروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر پیش کیا جانے والا مضمون)

خالدہ حسین کا ناول "کاغذی گھاٹ" پڑھتے ہوئے مجھے رہ رہ کر وہ تقریب یاد آ رہی تھی جو ایک معروف مصور کی نجی گیلری میں ہو ئی تھی۔

جب میں اس تقریب میں پہنچا تھا تو باہر کی کسی یونیورسٹی میں خالدہ کی افسانہ نگاری پر مقالہ لکھنے والی خاتون، عورت کے پورے وجود کی بات کر رہی تھی ایسا وجود جس کے کندھوں پر سر بھی تھا۔ یہ تقریب ایک ویمن ایکٹی وسٹ ادیبہ نے منعقد کرائی تھی اور اس بات کا خاص اہتمام کیا تھا کہ اس میں ادیب کم اور قدرے رکھ رکھاؤ والی سوسائٹی کے با ذوق اور ادب سے محبت سے کہیں زیادہ سرپرستی کا رشتہ ظاہر کرنے والے مرد و زن کثرت سے شرکت فرمائیں۔ مجھے تو وہاں از راہ عنایت بلا لیا گیا تھا۔ مگر میرے ساتھ سانحہ یہ ہوا کہ میں خالدہ کے افسانوں میں پوری طرح موجود مکمل عورت کے اس بھرپور تذکرے کے ابتدائی جملے ہی سن پایا تھا کہ میری توجہ اُچٹ گئی۔ میں مسلسل دیواروں پر آویزاں ان فن پاروں کو دیکھ رہا تھا جن میں عورت کا بدن اپنی دلکش گولائیوں، ڈھلوانوں، اُبھاروں اور کوسوں کے ساتھ موجود تھا مگر کسی بھی تصویر میں عورت کے بدن پر لباس اور کندھوں پر سر نہیں تھا۔

صاحب، آپ مجھ پر پھبتی کس سکتے ہیں کہ ہو نہ ہو یہ ننگا پن میرے اندر ہے تبھی تو ان شاہ پاروں میں مجھے عورت ننگی نظر آئی ورنہ مصور نے تو اپنے فن کا کمال دکھایا تھا صرف چند لکیروں میں عورت کا پورا حسن دکھا دیا۔ پھر لکیریں ننگی کہاں ہوتی ہیں۔اور ایک سر ہی تو نہیں تھا۔ ایک سر، لگ بھگ ہر تصویر میں اضافی ہو گیا تھا، جہاں سر ہونا چاہیے تھا وہاں سے کینوس ختم ہو گیا تھا۔

خالدہ حسین کا ناول "کاغذی گھاٹ" وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں سے کینوس ختم ہو گیا تھا، جہاں کہیں سے فکری غذا پانے والی ترقی پسندی ختم ہو جاتی ہے، جہاں لایعنی جدیدیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔

ممکن ہے تصویر والی عورت کی بات ادھوری رہ گئی ہو۔ ممکن کیا، ایسا ہو چکا ہے، جہاں میری بات میں عورت کے وجود سے وابستہ لذت کو داخل ہونا چاہیے تھا وہاں کوسوں کمانوں سے میں برگشتہ ہو گیا ہوں ۔۔۔۔اتنا برگشتہ کہ اپنی اس حرکت پر میں تو باقاعدہ جھینپنے لگا ہوں۔

میرے اندر کئی بار پڑھے ہوئے یہ جملے گونج رہے ہیں کہ کرہ ارض پر سب سے حسین عورت کا بدن ہوتا ہے۔ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔ رنگ بولتے ہیں، رنگ گونجتے ہیں، رنگ اچھلتے ہیں، رنگ اچھالتے ہیں۔رنگ ہماری تصویروں کو جاذب نظر بناتے ہیں اور ہماری تحریروں میں لذت بھر دیتے ہیں۔


میں رنگ رس اچھالتے جملوں کی گونج سنتا ہوں اور ادبدا کر خالدہ حسین کے "کاغذی گھاٹ" کی طرف متوجہ ہو جاتا ہوں جہاں عورت ہے مگر لذت نہیں ہے اس کا خوب صورت بدن ہے مگر اس کا سر بھی سلامت ہے۔ لیکن ٹھہریے صاحب شاید میں اپنی بات درست طور پر شروع نہیں کر پایا اور مجھے خدشہ ہونے لگا ہے کہ اب تک آپ یہ گمان باندھ بیٹھے ہوں گے کہ عورتوں کے بارے میں یہ ایک عورت کا لکھا ہوا ناول ہے۔مجھے عین آغاز میں بتا دینا چاہیئے کہ یہ خیال ہی گمراہ کن ہے۔

جی ہاں میں ایسا کہہ رہا ہوں ۔اس کے باوجود کہ اس میں کئی عورتیں ہیں۔ عورتیں کم اور عورت گھاٹ اترنے والی لڑکیاں زیادہ۔

اس میں مونا ہے جس کے وسیلے سے ہم اس کہانی کے باطن میں جھانک سکتے ہیں۔ کہانیاں لکھنے والی، بہت سوچنے والی اور بہت ہی زیادہ کڑھنے والی مونا، جسے آخر کار ایک تکلیف دہ مستقبل کے سامنے جا کھڑا ہونا ہے۔ایسے مستقبل کے سامنے، جہاں اس کے تخلیقی وجود کو سمجھنے والا کوئی حسن حوصلہ دینے نہیں آئے گا۔

اس میں عائشہ ہے، گول گورے چہرے، سنہری آنکھوں اور سنہری بالوں والی۔ جو ناول کے آغاز میں کَسی ہوئی چٹیا میں پراندہ ڈالے داخل ہوتی ہے، بھرے بھرے سرخ ہونٹوں سے کتارا کھاتے ہوئے۔ اور پھر انتہائی کوشش سے وہ مقام حاصل کر لیتی ہے جس کی کم و بیش ہر لڑکی کو تمنا ہوتی ہے۔ پھولوں ایسی تر و تازہ لڑکی کے اس دل خوش کن انجام پر ناول نہیں رکتا اور حسیب کا وہ تکلیف دہ روپ دکھاتا جس سے مرد ذات سے نفرت پڑھنے والوں پر لازم ٹھہرتی ہے۔

اس میں آپا نور ہے۔یہ بھی گوری چٹی ہے اس کے بال بھی سنہری ہیں۔دھان پان سی لڑکی، نہر میں مچھلی کی طرح تیرنے والی۔۔۔۔بڑے مزے سے کپڑوں سمیت نہر پار کرنے والی۔ آپا نور جو اپنے بے پناہ حسن کے وجہ سے بے شمار حماقتیں کرتی ہے۔ اس ناول میں روشنی بن کر طلوع ہوتی ہے، یوں کہ متن جگمگانے لگتا ہے مگر جلد ہی پہلے سے کنبہ رکھنے والے مختار کے ساتھ شٹل کاک برقعے میں رخصت ہو جاتی ہے۔ رخصت کہاں ہوتی ہے، ناول کے آخر میں وہ انجام دکھانے آتی ہے جس سے ناول نگار نے اُسے دوچار کرنا تھا۔ اب کی بار خوب صورت آپا نور، خوب صورت نہیں رہتی، اُس کا چہرہ سانولا اور مرجھایا ہوا ہے، کھچڑی بال برقعے سے باہر جھانک رہے ہیں۔دانت چھدرے ہو گئے ہیں اور پیٹ پھولا ہوا ہے۔ لیجئے ایک مرتبہ پھر مرد پر تھوکنے کا موقع نکل آیا ہے۔

اس ناول میں کراچی سے پنجاب یونیورسٹی کے طلباء کے لئے چوڑیوں کا تحفہ لانے والی فربہ سی لڑکی شاہجہان بھی ہے یہ بھی گوری چٹی ہے، آنکھوں میں بھر بھر کاجل، شعلہ بیان مقرر، بولتے بولتے جس کی ناک پر پسینے کے قطرے جھلملانے لگے تھے، جس نے بے حد چست قمیض پہن رکھی تھی، ایسی کہ اس میں سے اس کا صحت مند جسم باہر چھلکا پڑتا تھا اور جس کی قمیض میں عین سینے پر ایک جانب کھونچ لگی ہوئی تھی۔ مردانہ وار آگے بڑھنے اور مردانہ نام رکھنے والی بھرے جسم والی شاہجہان بعد میں سندھ کے جتوئی خاندان میں بیاہ کر لیتی ہے اور ناول میں آخری بار یوں آتی ہے کہ اس کی قمیض پر کو ئی کھونچ نہیں ہوتی۔ اس نے بہت کچھ پا لیا ہوتا ہے مگر اس کے باوجود باتوں ہی باتوں میں اس کے سینے کے اندر سے ایسا کھونچ ڈھونڈ نکالتی ہے جس نے اسے دبلا اور دکھی کر رکھا ہوتا ہے۔

اس ناول میں خوب صورت افروز بھی ہے جس کے طفیل پورے متن میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ سائنس پڑھنے اور عالمی ادب گھول کر پی جانے والی افروز۔ یہ بہت کچھ کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے ساحر اور اختر الایمان کی نظمیں پڑھنے والی، انقلابی اور سربلند لڑکی۔ آخر میں جمال کے ساتھ بھاگ کر اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرتی ہے۔ اور مقدور بھر دکھ دیتی اور دکھ پاتی ہے۔


اب تک آپ اندازہ فرما ہی چکے ہوں گے کہ خالدہ حسین کے ناول میں لڑکیاں اور عورتیں آتی ہے اور انجام کار اپنے حصے کا دُکھ سمیٹ لیتی ہیں۔ اتنی ساری لڑکیوں اور عورتوں کے باوجود، مجھے پھر کہہ لینے دیجئے کہ یہ ناول عورتوں کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ہماری تاریخ کا نوحہ ہے۔ یہ ہماری تہذیبی ورثے سے جڑنے اور اس کے اندر موجود جبر کے کھانچوں کی کہانی ہے۔ یہ روایت کا قصہ ہے اور ناروا روایات پر حرف نفرین بھی۔اس میں ان طبقوں کے مکروہ چہروں پر تھوکا گیا ہے جنہوں نے ہمیں تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور اس اندرونی سامراج کی کلف لگی وردی بھی اتاری گئی ہے جو ہر بار اپنے ہی عوام کو اپنے بوٹوں تلے کچلتا ہے۔ اس میں موجودہ نظام کی خرابیاں اور ان کے محرکات بتائے گئے ہیں اور یہ بھی صاف صاف بتا دیا گیا ہے کہ ہم اوروں کے اشاروں پر ناچ کر اپنا آپ اجاڑ رہے ہیں۔آخر میں تو ناول صرف بتا تا ہے، نفرین بھیجتا ہے، کوستا ہے، جھلاتا ہے۔ اور تازیانے رسید کرتا ہے۔

خالدہ حسین کی ایک پہچان اس کا اسلوب بھی ہے۔ ساٹھ کی دہائی کے جدت پسندوں میں خالدہ حسین ہی وہ واحد افسانہ نگار ہے جو باقاعدگی سے اور تخلیقی جواز کے ساتھ افسانے لکھ رہی ہے۔وہ اپنے ہی تجربے سے منحرف ہو کر کہانی کہانی پکارنے والوں میں نہیں اور افسانے کی حد تک اپنے اسلوب سے وابستگی پر مطمئن اور مسرور بھی ہے۔ جو فیشن زدگی سے بچ کر اپنے تخلیقی تجربے کے ساتھ جڑا رہا ہو اس کے ہاں ایسے اطمینان کا آ جانا یقینی ہو جایا کرتا ہے۔ خالدہ حسین نے اپنے افسانوں میں خود کلامی کے وسیلے سے خوب کام لیا ہے۔ یہ خود کلامی کہیں تو سٹریم آف کانشی ایس نیس اور کہیں مونو لاگ کی صورت میں ظہور کرتی رہی ہے۔ وہ جانے پہچانے منظر نامے میں عجب کا قرینہ رکھ کر ایک دھند سے تجسس ابھارتی ہے اور اسی تجسس سے کئی سوال اٹھاتی ہے۔ اس کے ہاں تجرید اور علامت کا نظام اسی دھند کی دین ہے۔ تاہم، ہم دیکھتے ہیں کہ اپنے افسانوں میں وہ متن کو آگے بڑھاتے ہوئے خود آگے نہیں لپکتی جہاں ہوتی ہیں وہیں رہتی ہے، لہذا متن اس کا اپنا ذاتی جذبہ بن کر جذباتیت کا شکار نہیں ہوتا۔ یہ ایسا طرز عمل ہے جس سے پیچیدہ سے پیچیدہ بات وہ سہو لت اور سفاکی سے کہہ جاتی ہیں۔

مگر یہ تو افسانے کی بات ہے سایہ، شہر پناہ، سواری اور ہزار پایہ کی بات۔ پرندہ، پہچان اور مصروف عورت کی بات۔ زیر نظر ناول میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایسا ضروری بھی نہیں ہے کہ افسانے میں ایک خاص اسلوب سے وابستہ رہنے والے اسی اسلوب میں ناول کی بھی لکھیں۔ مجھے آپ کی بات سے دو سو فی صد اتفاق ہے۔ مگر کاغذی گھاٹ کو پڑھتے ہوئے آغاز میں کیا ایسا نہیں لگنے لگتا جیسے تخلیق کار کو اپنے اسلوب سے الگ ہوتے ہوئے بہت جتن کرنے پڑ رہے ہیں۔ممکن ہے میں نے ہی ایسا محسوس کیا ہو اور فی الاصل ایسا نہ ہو مگر میرے اس احساس کی بنیاد کہانی میں در آنے والی اور اکتا دینے والی سست روی ہے یہاں تک کہ کئی صفحے پڑھنے کے بعد مجھے یہ وسوسہ ہولائے دیتا تھا کہ کہانی آگے نہیں بڑھے گی یہی گھمن گھیریاں کھاتی رہے گی۔ کہانی میں ایک سے بڑھ کر ایک حسین اور زرخیز کردار آتا تھا اور وہیں ادھر ادھر ہو جاتا تھا، اسی حصے میں شہر اور سرخ اینٹوں والی گلیاں آتی تھیں، اونچے چوبارے آتے تھے، لکڑی کے چھجوں والے، تاریک صحنچیاں آتی تھیں۔ کھڑکیاں آتی تھیں جن پر باریک رنگین تیلیوں کی چقیں پڑی ہوئی تھیں کتنا بھر پور منظر ہے مگر کہانی وہیں رکی ہوئی تھی اور مڑ مڑ کر پیچھے دیکھ رہی تھی۔میں صاف دیکھ سکتا تھا کہ وہاں چھوٹے چھوٹے کمرے تھے، جو اس لیے کشادہ نظر آتے تھے کہ ان میں سامان ٹھسا ہوا نہیں تھا اور لوہے کے پینٹ کئے ہوئے صندوق تھے، اوپر تلے پڑے ہوئے۔ وہیں ایک کونے میں چھوٹی بڑی دیگچیوں کے مینار تھے۔دیوار پر کھونٹیوں کی لمبی قطار تھی، بڑے ابا کا کچہری کا کوٹ، دھوبی کی دھلی ہوئی اور کلف لگی شلوار، بڑی اماں کا شٹل کاک برقعہ اور بہت کچھ، جو ایک تہذیب کا نقشہ ابھارتا تھا اور ایسا ماحول بناتا تھا کہ آنکھوں کے سامنے ایک جہان آباد کر دیتا تھا مگر کہانی تھی کہ ادھر ہی گھومے جاتی تھی اور اس رفتار سے آگے نہیں بڑھتی تھی جس کی میں توقع کئے بیٹھا تھا۔ پہلے کسی کردار کا وجود اسارا جاتا اور پھر اسے ماحول میں لا بسایا جاتا وہ خود ماحول کے اندر کہانی کے بہاؤ میں اپنی شباہت کا سلسلہ مکمل نہیں کرتا تھا کرداروں کے اوصاف خود بخود نہیں کھل رہے تھا انہیں ناول نگار کو کھولنا پڑ رہا تھا بلاشبہ جزئیات میں تحریر کی یہ اکائیاں بہت خوب صورت اور دلکش تھیں مگر اس کے سبب وہ دھندلکا پیدا نہیں ہو رہا تھا جو خالدہ کے ہاں افسانوں میں آ کر اَسرار بھر دیا کرتا تھا ایسا اسرار کہ جو اپنے پاس ٹھہرا لیتا تھا۔


تاہم وہ خدشہ جس نے عین آغاز میں مجھے پچھاڑ دیا تھا بہت جلد، یہی کوئی دوسرے باب کے بعد، مکمل طور پر رفع ہو جاتا ہے اور کہانی بہت سے کرداروں سے ملاقات کے بعد آگے بڑھنا شروع کر دیتی ہے۔ ناول کا یہی وہ حصہ ہے جہاں صاف صاف محسوس ہونے لگتا ہے کہ خالدہ حسین نے اپنے اسلوب کی بجائے کہانی کے بیانیے سے وفاداری کا فیصلہ کر لیا ہے اور اسے فطری بہاؤ پر ڈالنے کے لیے سارے رخنے اٹھا لئے ہیں۔ اس کا نتیجہ بہت خوشگوار نکلتا ہے اور کہانی قدم قدم پر دکھ، درد کی فصل بو نے لگتی ہے ۔۔۔۔وہ دکھ درد جو اندر ہی اندر بہتا ہے اور محسوسات کی سطح کی سطح پر بہت کچھ سجھانے لگتا ہے۔یہاں پہنچ کر بیانیے کا ایک آہنگ قائم ہو جاتا ہے، جس کے سبب متن اور واقعات ایک ہی اسراع سے آگے بڑھتے ہیں۔ بیانیے کے اس خارجی بہاؤ کی وجہ سے ناول کے اِس حصے میں خودبخود ایک باطنی نظام قائم ہو جاتا ہے اور وہ سارا کچھ جو ناول نگار نے لکھتے ہوئے محسوس کیا یا جس تخلیقی تجربے کے تحریک پر یہ متن مکمل ہو رہا تھا، ہمارے دل پر بھی اترنے لگتا ہے۔ کہانی کے اس وسطی حصے میں بھی monologue ہے اور کہیں کہیں stream of consciousness کی تیکنیک کو برتا گیا ہے تاہم عمومی طور پر بات مکالموں میں کہی گئی ہے تاہم یہ سارے حربے متن کا تحرک مجروح نہیں کرتے۔ کہیں بھی محسوس نہیں ہوتا کہ ٹھہر ٹھہر کر ہمیں کچھ بتانے اور سمجھانے کی کو شش کی جا رہی ہے حتی کہ ناول اپنے آخری حصے میں داخل ہو جاتا ہے۔وہاں، جہاں اس کے کرداروں کو ان کے مقدر کے گھاٹ اُتارا جانا ہے۔ اُس مقدر کے گھاٹ، جو ناول نگار کے دست قدرت میں ہے۔

کہانی کے تمام خوب صورت نسوانی کردار لگ بھگ ایک سے انجام سے دوچار ہونے کے با وصف کَھلتے نہیں ایک شدید احساس کے بالمقابل لا کھڑا کرتے ہیں یہ ایسا احساس ہے جو جگر چیر ڈالتا ہے۔ سچ پوچھیں تو وہ ناول جو کرداروں سے پیوستہ بیانئے کے ذریعے لکھا جا رہا تھا یہاں پہنچ کر مکمل ہو جاتا ہے۔ مگر وہ موضوع، جسے خالدہ نے اپنے خاص تہذیبی رچاؤ، تاریخی شعور، ثقافتی پس منظر اور اپنے ادراک سے متشکل ہونے والے پیش منظر سے جڑ کر اُبھارنا تھا، جو بوجوہ کرداروں سے کٹ کر کہانی کے بہاؤ سے باہر رہ گیا تھا اسے پوری طرح متوجہ کر چکا تھا۔ خالدہ نے ناول کے آخر میں اسے بیان کرنے کے لیے ڈرامے کی اس تیکنیک کا سہارا لیا ہے جس میں تنہا کلامی کے ذریعے ان باتوں کو کہلوایا جاتا ہے جو دوسرے کرداروں سے تو نہیں کہی جا سکتیں مگر جن کی تطہیر ڈرامہ دیکھنے والوں پر ضروری ہوتی ہے۔ اس تیکنیک کے ذریعے، جسے غالباً سولی لوکی "soliloquy" کہتے ہیں، ناول کی مرکزی کردار مونا ہمارے اندر مردہ ہو چکے آدمی کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر جگاتی ہے۔ ہمارے بے حیا وجودوں پر کوڑے برساتی ہے۔ یہیں ہمیں وہ بتاتی ہے کہ ہم خوب صورت قوم ہوتے ہوئے بھی کتنے کریہہ ہیں۔یہاں راوی انفرادی اور اجتماعی سطح پر پسپائی ہی پسپائی لکھتا ہے۔مونا بتاتی ہے کہ جب کسی قوم کی فتح بس اسی پر منحصر ہو کہ وہ نوے ہزار شکست خوردہ سپاہ واپس لے آئے اور جو چھ ستمبر تو منائے مگر اکیس دسمبر منانا بھول جائے۔ اُن جہازوں کو تو نمائش میں رکھے جنہوں نے ایک ہی پھیرے میں دشمن کے پانچ پانچ جہازوں کو مار گرایا تھا اور ان جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کو اپنی ڈھٹائی کی بکل میں چھپا لے جو ہتھیار ڈالنے والوں کے بھائی بند اپنوں کو غیروں کی طرح کچل کر اُدھر سے بھر بھر کر لائے تھے تو ایسی قوم کا مقدر پسپائی ہی پسپائی ہوتا ہے۔ اُف خدایا! ناول میں اتنا بے پناہ کڑوا سچ کس قدر ٹھونس ٹھونس کر بھر دیا گیا ہے یہ ایسا سچ ہے جو فکشن کا بیانیہ سیدھے سبھاؤ اپنے اندر سمو لینے کی سکت نہیں رکھتا تا ہم خالدہ نے اسے ناول کے بیانیے کا حصہ بنا دیا ہے۔ کہانی کی اس ٹریٹمنٹ سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر بیان ہونے والا سچ ہمیں پچھاڑنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ میں خود کو خالدہ حسین کی دانش اور فکر سے یہاں پوری طرح ہم آہنگ پاتا ہوں، اتنا ہم آہنگ کہ اس کے جذبے اور دُکھ میرے اپنے سینے کی دھڑکن بن جاتے ہیں۔اور آخر میں مجھے کہہ لینے دیجئے کہ وہ جو فکشن کو سماج کی تخلیقی دستاویز نہیں مانتے جو ادبی متون سے عصریت، دانش اور فکر کو منہا کر کے اسے سر کٹی برہنہ عورت والے فن پارے جیسا لذیذ بنانے کو ہی تخلیقی سرگرمی سمجھتے ہیں ان کے لیے اس ناول میں بہت کچھ ہے اتنا کچھ کہ مردہ متون کی شرح پیدائش میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے۔


مظہر الاسلام کا ناول: محبت: مردہ پھولوں کی سمفنی

"موت کی طرف کھلی کھڑکی" اس خوفزدہ شخص کی کہانی ہے جس کے من میں اس خیال کا ناگ پھن پھیلا کر بیٹھ گیا تھا کہ وہ قتل کر دیا جائے گا۔یہ وہ کہانی ہے جو مجھے اس قدر پسند آئی تھی کہ موت سے خوفزدہ اس کردار کی بے چارگی دکھ بن کر میرے اندر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی تھی۔

"گھوڑوں کے شہر میں اکیلا آدمی"، "بارش کی باتوں میں بھیگتی لڑکی"، "گڑیا کی آنکھ سے شہر کو دیکھو" اور "خط میں پوسٹ کی ہوئی دوپہر" مظہر الاسلام کی ایسی ہی کہانیوں کے مجموعے ہیں۔ ان کہانیوں میں موت، اِنتظار، دکھ اور جدائی جیسے موضوعات اپنی ترکیب کے نئے پن کی مہک دیتے جملوں میں یوں جگہ پاتے ہیں کہ ہر جملہ لطف دے جاتا ہے۔ ان افسانوی جملوں کی ندرت میں اتنی چمک ہوتی ہے کہ کہانی میں کسی بڑی اکائی کی تلاش کی خواہش کا سایہ بس ایک لمحے کو لہرا کر ذہن کے کونوں کھدروں میں کہیں گم ہو جاتا ہے۔

یوں نہیں ہے کہ مظہر کی کہانیوں میں کوئی واقعہ، خیال یا احساس ایک مکمل دائرہ نہیں بناتا۔بہت سی کہانیوں میں یہ دائرہ بنتا بھی ہے اور کہیں کہیں تو وہ پرکار کا نوکیلا سرا سختی سے جما کر یوں گہری لکیر کھینچتا ہے کہ یہی لکیر کسی نوخیز لڑکی کی آنکھوں میں آنسوؤں سے پھیلنے والے کاجل کی طرح بھلی لگتی ہے۔ تاہم کہانی کے انجام کو آغاز سے جوڑ کر گھومتا دائرہ بنانا مظہر کا کبھی بھی مسئلہ نہیں رہا ہے کہ اسے تو جملہ لکھنا ہوتا ہے، شاندار افسانوی جملہ۔چھوئی موئی کی طرح خود میں سمٹا ہوا اور بند کنواری کلی کی طرح نوخیز۔جب تک مظہر افسانے تسلسل اور توانائی سے لکھتا رہا ایسے ہی جملوں میں اس کی پوری شخصیت خوشبو کی طرح بس جاتی تھی۔

"موت کی طرف کھلی کھڑکی" مظہر کے تیسرے مجموعے کی پہلی کہانی ہے۔ اس خوبصورت کہانی میں موت کی طرف کھلتی کھڑکی سے باہر جھانکتے شخص کے عقب میں کرسی پر بیٹھا ایک اور کردار بھی ہے جس کی طرف قاری کا فوری دھیان نہیں جاتا۔ یہ کردار موت سے خوفزدہ شخص کے خوف کی راکھ کرید رہا ہوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنی شخصیت کے چہرے سے پردہ بھی کھسکا رہا ہوتا ہے۔


جب اسرار بھری شخصیت کو اپنے تفتیشی جملوں سے ظاہر کرنے والا کردار موت سے خوفزدہ شخص سے استفسار کرتا ہے۔آخر اسے کیوں قتل کر دیا جائے گا؟۔تو موت کی کھڑکی سے باہر جھانکنے والے کا یہ جواب ہوتا ہے۔

"وجوہات تو کئی ہو سکتی ہیں۔ شہر کے بہت سے لوگوں کو میرا وجود ناگوار گزرتا ہے۔ بعض حلقوں میں، میں انا پرست اور خوددار بھی مشہور ہوں۔ کچھ احباب ابھی تک مجھ سے سمجھوتہ نہیں کر پائے۔ بہت سے ایسے ہیں جو میری تنقید سننا پسند نہیں کرتے۔ ایک دو ایسے بھی ہیں جن سے میری وفاداری ان کے دوستوں اور دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ بہت سے لوگوں کو میری باتیں کڑوی لگتی ہیں۔ کچھ لوگوں کو شکوہ ہے کہ میں انہیں ملنے نہیں جاتا۔اور پھر "وہ" بھی وجہ بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، وجوہات کا کیا ہے؟۔۔۔۔"

کرید کرید کر پوچھنے والے شخص کے سوال کرنے کا ڈھنگ، سگریٹ سلگانے اور یکے بعد دیگرے کش لینے کی عادت، مخصوص مسکراہٹ، جیب سے رومال نکال کر پیشانی سے پسینہ پونچھنا اور آخر کار جیب سے پستول نکال کر میز پر رکھنے اور قتل کا ارادہ ملتوی کر کے باہر نکل جانے کے انداز سے میں نے اندازہ لگایا تھا کہ وہ جو کہا جاتا ہے کہ کہانی کہنے والا اپنی کہانی کے کسی نہ کسی کردار کے پوست میں چھپ کر بیٹھ جاتا ہے تو یہی وہ کردار ہے جس میں خود افسانہ نگار چھپا بیٹھا ہے۔

مگر ایک مدت گزرنے کے بعد ابھی ابھی کہ جب میں مظہر کا پہلا ناول پڑھ کر اٹھا ہوں مجھے اپنے تب کے خیال کی مجہولیت کی بابت سوچ کر شدید ہنسی کا دورہ پڑا ہے۔ اتنا شدید دورہ کہ میری آنکھیں اس کہانی کی لڑکی کے ان شفاف آنسوؤں سے بھر گئی ہیں جو موت کی طرف کھلی کھڑکی سے باہر جھانکنے والے کے لئے اس کی آنکھوں سے اُمنڈ پڑے تھے۔

مظہرالاسلام کی کہانیوں نے اردو ادب اور میرے دل میں ایک جیسا مقام بنایا ہے۔ تاہم ساتھ ہی ساتھ مجھے یہ خدشہ بھی پریشان کرتا رہا ہے کہ اپنے تخلیقی تجربے کے لئے اسلوب کا جو احاطہ مظہر نے چنا ہے اس پر وہ خود تو بڑی سہولت اور مہارت کے ساتھ ہوادار، روشن اور خوشنما محل بنا سکتا ہے، کسی بھی دوسرے شخص کے لئے اس اسلوب کے احاطے میں پوری طرح سمانے اور مکمل سانسوں کے ساتھ ٹھہرنے کی انتہائی کم گنجائش ہے۔ بہت پہلے جب یہ سنا تھا کہ مظہر ناول لکھ رہا ہے اور یہ کہ اس کا عنوان "تابوت" ہو گا تو تب ہی سے مجھے اس ناول کا انتظار سا ہو چلا تھا۔ پھر خبر آئی کہ ناول کا نام بدل کر "محبت" رکھ دیا گیا ہے۔ بعد کا عرصہ مظہر کی تخلیقی جلا وطنی کا عرصہ ہے۔ اس دوران اس کی روشن اور اجلی تصویر پر بہت سی دھول تہہ در تہہ جمتی چلی گئی۔ اس سارے عرصے میں مجھے اس کے ناول کا مزید شدت سے انتظار رہنے لگا کہ نہ جانے مجھے کیوں یقین سا ہو چلا تھا کہ جونہی اس کا ناول منظر عام پر آئے گا ساری دھول آپ ہی آپ جھڑ جائے گی۔


وہ ناول جسے "محبت" یا "تابوت" کے نام سے آنا تھا، ایک چونکا دینے والے نام اور ایک بڑے دعوے کی صورت مکمل طباعتی جمال کے ساتھ سامنے آیا تو میں نے اپنے اندر اس کے مطالعے کے اشتیاق کو فزوں تر پایا۔ "محبت، مردہ پھولوں کی سمفنی" کہ جسے مصنف نے بقلم خود "دنیا سے ختم ہوتی ہوئی محبت کو بچانے کے لئے لکھا گیا ناول" قرار دیا ہے، ابھی ابھی پڑھ کر فارغ ہوا ہوں اور میری آنکھوں سے وہ شفاف اور سچے آنسو چھلک پڑے ہیں جو اس تحریر کے آغاز میں حوالہ بن کر آنے والی کہانی میں موجود اس لڑکی کی آنکھوں میں بھیگ بن کر اترے تھے جو موت سے خوفزدہ شخص سے محبت کرتی تھی۔

ناول کا ابتدائیہ وہ مکالمہ ہے جو "کہنے لگی" اور "میں نے کہا" کے بیچ بڑے بڑے دعووں سے عبارت پاتا ہے۔ اس مکالمے میں مظہر نے اپنے ناول کو محبت کا عجائب گھر، سایوں اور خوابوں میں لپٹے نادر نمونوں کا سانس لیتا میوزیم اور بیسویں صدی کی آخری دہائی کا تاج محل قرار دیا ہے۔ اس میں اس رکاوٹ کی جانب بھی اشارہ ملتا ہے جو ناول کی تکمیل میں تاخیر کا باعث تھی۔ مظہر نے اس رکاوٹ کو شدید تنہائی کے منہ زور تھپڑوں کا نام دیا ہے۔ تاہم یہیں وضاحت بھی کی ہے کہ اس کے باعث اس کے اندر کا ادیب لمبی تان کر سو گیا تھا، کہانی اس سے روٹھ گئی تھی اور اس کی اجلی تصویر پر دھول جمنے لگی تھی۔

ناول کے ابتدائیے میں جب ناول نگار ہر سچے دل کو محبت کا چرواہا اور اپنی ذات کو ایک ادیب، مصور، موسیقار، مجسمہ ساز اور کیمیا گر کا مجموعہ قرار دیتا ہے تو دھیان فوراً پائلو کوئلہو کے ناول "الکیمسٹ" کی طرف جاتا ہے۔الکیمسٹ میں بھی ایک چرواہا اور ایک کیمیا دان ہے۔ جن کا تذکرہ ناول کو اس قدر شاندار بنا دیتا ہے کہ اس جانب خیال جاتے ہی میرے اندر مظہر کے زیر نظر ناول کے لئے بھی بے پناہ تجسس بھر جاتا ہے اور میں کامل یکسوئی اور توجہ سے اسے پڑھنے میں مصروف ہو جاتا ہوں۔

امرتا پریتم اور ظفر عظیم کے نام منسوب اور اس ناول کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا حصہ "پھولوں کے سایوں کی سمفنی" دوسرا "پتوں کے سایوں کی سمفنی" جبکہ آخری حصہ "محبت کے سایوں کی سمفنی" ہے۔ یوں ناول کے نام اور ان تینوں حصص کے عنوانات میں سمفنی کے لفظ کا استعمال مجبور کرتا ہے کہ اسے علامت کی سطح پر سوچا جائے اور ناول کے متن میں اس کی تعبیر تلاش کی جائے۔ اسی خیال کے باعث میں نے گمان کیا تھا کہ پورا ناول ایک آرکسٹرا کی صورت ہو گا جس میں مفہوم اور احساس کی رو ایک نغمے کا سا آہنگ لئے ہو گی اور یہ کہ اس ناول کے تینوں حصوں میں سوناتا کی طرح بظاہر مختلف لیکن باہم متصل، مسلسل اور ہم آمیز چلتوں سے کام لیا گیا ہو گا۔ مگر حیف کہ ایسا نہ ہوا۔ ہوا یوں کہ ناول کے ابتدائیے میں سمفنی کا سرے سے ذکر ہی نہیں ہوتا۔ ناول مکمل طور پر پڑھنے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اسے یہ نام طباعت کے عرصے میں دیا گیا تھا۔ حیرت ہوتی ہے کہ اپنی کہانیوں میں علامت کو خوبصورتی سے برتنے والے مظہر کا دھیان سمفنی کو بطور علامت برتنے کی طرف کیو ں نہ گیا؟

چودہ ضمنی حصوں پر مشتمل "پھولوں کے سایوں کی سمفنی" سے موسوم پہلا اور طویل باب کہانی کے اس خارجی آہنگ اور جملوں کی ویسی ساخت پر مشتمل ہے جسے مظہر کی شناخت کہا جاتا ہے۔ تاہم کہانی کا معنوی نظام بہت کٹا پھٹا اور غیر مربوط ہے۔ کہانی پھولوں کے اس پر اسرار طوفان کے منظر نامے سے شروع ہوتی ہے جس نے پورے شہر میں تباہی مچادی تھی۔ بے محبت موسم میں، محبت سے منسوب پھولوں کے اس طوفان میں لازوال انسانی جذبوں کا سارا ریکارڈ بھیگ گیا تھا۔ سب کے دلوں پر جدائی طاری تھی۔ باہر پھولوں کی ناقابل برداشت بوچھاڑ تھی اور موت کی خماری میں مسحور اس ناول کا مرکزی کردار سلطان آدم اپنے فلیٹ کے کمرے میں خود کشی کے ذریعے محبت کو بچانے کا شغل فرما رہا تھا۔


ناول کا پہلا حصہ خود کشی کے اس دلچسپ بیان سے شروع ہوتا ہے اور سلطان آدم کی نعش کو اپنے اندر سمیٹ لینے والے تابوت کے اس کے اپنے گاؤں کی سمت روانہ ہونے پر پہنچ کر ختم ہو جاتا ہے اور مجھے یوں لگتا ہے ناول کا یہی وہ حصہ ہے جس کی تکمیل پر ناول کا نام "تابوت" تجویز ہوا تھا۔

سلطان آدم کی اس کہانی میں بے انتہا خوبصورت، خالص، سچی اور سنہری چھتیس سالہ اس نفیسہ کا بھی ذکر آتا ہے جو بڑی دلجمعی اور توجہ سے اپنے شوہر اور اپنی جنسی ضرورتیں پوری کرتی رہتی ہے تاہم جب سلطان آدم سے ملتی ہے تو ایک مختلف عورت بن جاتی ہے۔ پہلی ملاقات میں جب اسے پتہ چلتا ہے کہ سلطان آدم محبت کی نشانیاں جمع کرتا ہے، دنیا سے محبت بچانے کی کوشش میں مصروف ہے اور بے وفائی کو پھیلنے سے روکنے کا عزم لئے ہوئے ہے تو اسے سلطان آدم کی باتیں بہت عجیب لگتی ہیں۔

ناول نگار نے اپنے اس ناول میں جا بجا جسم کے گرد گھومنے والی محبت کی چیختے چنگھاڑتے جملوں میں مذمت کی ہے۔ نمونے کے لئے صرف دو جملے:

"محبت کا جنسی کشش اور دولت سے کوئی تعلق نہیں"

"کچھ مرد طوائف کے ساتھ رہتے ہیں اور اسے عورت بنا دیتے ہیں اور کچھ عورت کے ساتھ رہتے ہیں اور اسے طوائف بنا دیتے ہیں ۔"

اسی حصے میں وہ محبت کے حوالے سے یہ خوبصورت جملے بھی دیتا ہے:

"محبت کی کہانی دراصل سیلاب کی کہانی ہے جس میں آپ کی انا ڈوب جاتی ہے"

"کسی ایک بھی میلے لفظ، جملے، کج ادائی یا دل کی کسی غافل دھڑکن سے محبت کے سیب کو کیڑا لگ جاتا ہے۔"

صاحب یہ بات کتنی عجیب اور تکلیف دہ ہے کہ محبت کے حوالے سے اتنے خوبصورت جملے تخلیق کرنے والا اور جسم کے گرد گھومتی محبت کی مذمت کرنے والا خود اپنی کہانی کی محبت کو جسم سے اوپر اٹھا ہی نہیں پایا۔ مصنف کے ہاں جسم سے اوپر اٹھنے والی محبت کے کسی واضح تصور کی عدم موجودگی کے باعث لازوال محبت کی نشانیاں جمع کرنے والا سلطان آدم نفیسہ کو بے محبت لوگو ں سے متعارف کرانے کے دوران یہ اصرار کرتا ہوا ملتا ہے کہ:

"یک طرفہ محبت کوئی محبت نہیں ہوتی"

بے محبت لوگوں کی کہانیوں میں خضر لائبریرین کے قتل کی دلدوز خبر افسردگی بن کر برآمد ہوتی ہے۔ ناول نگار بتاتا ہے کہ قاتل لائبریرین کی بیوی شیریں کا چھوٹا بھائی تھا جو اسے چھوڑ کر ایک مالدار شخص کے پاس چلی گئی تھی۔ اس دلچسپ ضمنی کہانی میں ناول نگار لائبریرین کا یہ کارنامہ درج کرنا ضروری خیال کرتا ہے کہ وہ معاشرے کی کڑی روایات سے بغاوت کرنے والے نوجوان جوڑوں کو محبت کے نام پر اپنے گھر میں پناہ دیا کرتا تھا اور یہ بھی کہ جب شہر کی فٹ بال گراؤنڈ میں شراب پینے اور لڑکی کے ساتھ تنہائی میں گھومنے کے جرم میں انہیں کوڑے مارے جا رہے تھے تو عین اس وقت خضر لائبریرین نے ایک نوجوان جوڑے کی محبت بچانے کے لئے انہیں گھر میں پناہ دی تھی۔اتنا "شاندار" ریکارڈ رکھنے والے لائبریرین کی بیوی اسے محض اس لئے چھوڑ گئی تھی کہ اس کے جنسی ولولے اور جوش میں کمی آ چکی تھی۔

اپنے فلسفہ محبت کو جنس کے شیرے پر مکھی بنا کر بٹھانے کے بعد ناول نگار جانوروں اور پرندوں کو حنوط کرنے والے اس شخص کا قصہ چھیڑ دیتا ہے جس نے ایسے شکاری کی دوسری بیوی سے شادی کر لی تھی جو صرف پرندوں کا شکار کھیلتا تھا مگر پرندوں اور جانوروں کو حنوط کرنے والا شیر کا شکار کرنے کا دعویٰ کرتا تھا۔ بعد ازاں جب یہ کھلا کہ وہ جھوٹ بولتا تھا تو وہ اسے چھوڑ کر چلی گئی تھی۔


نفیسہ اور سلطان آدم کہانی میں ایک مرتبہ پھر ملتے ہیں۔ یہ دونوں کے درمیان آخری ملاقات ہے۔ اس ملاقات میں نفیسہ اپنا ایک خواب سناتی ہے جس میں کتابوں میں پڑی نظر انداز شدہ تتلیاں زندہ ہو گئی تھیں۔ سلطان آدم ان تتلیوں کو نیک لوگوں کی روحیں قرار دیتا ہے اور یہ پیغام اخذ کرتا ہے کہ:

"یہ موت کا موسم ہے۔ بہار کے سارے رنگ خودکشی کے ہوتے ہیں ۔"

پھر سارا زور اس بات پر صرف کر دیا جاتا ہے کہ خود کشی کا اپنا رنگ ہی نہیں مہک بھی ہوتی ہے اس کی اپنی ایک موج ہوتی ہے اس میں ترنگ اور گرم جوشی ہوتی ہے اور یہ کہ خود کشی اپنے محبوب کے آنسو پینے کا عمل ہے۔ خودکشی جیسے فرار کے عمل کو دھنک رنگ دے کر مہکتا فعل ثابت کرنے سے کیا ناول نگار ختم ہوتی محبت کو فنا کا ایک اور جرعہ پیش نہیں کر رہا؟ اگر ممکن ہو تو ناول نگار کو اس پر غور کرنا چاہئے اور جان لینا چاہئے کہ موت بے شک ایک خوبصورت تخلیقی عمل کی صورت عالمی ادب کا حصہ بنی ہے کہ یہ حیات نو کی علامت بھی ہوتی ہے مگر خود کشی کو فرار اور محبت کے علاوہ زندگی کی بھی توہین تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔

بات نفیسہ اور سلطان آدم کے بیچ آخری ملاقات کی ہو رہی تھی اسی ملاقات میں نفیسہ سلطان آدم کو ایک ایسا سفید لفافہ بھی دیتی ہے جو بعد میں اس کے ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے اور ہوا اسے ادھر اُدھر اڑائے لئے پھرتی ہے۔ لفافے، ہوا اور سلطان آدم میں آنکھ مچولی کی تفصیلات اتنی طویل ہو جاتی ہیں کہ پڑھنے والا سلطان آدم کی طرح ہلکان ہو جاتا ہے پھر جب وہ اس لفافے کو کھولتا ہے تو اس میں سے کوئی بھی ایسی چیز برآمد نہیں ہوتی جو سلطان آدم کی مشقت کا جواز فراہم کر سکے۔

ایک اور موت کے سرسری تذکرے کے بعد کہانی میں خود کشی کر کے مرنے والے شاعر امین مسافر کا تذکرہ اس کی کمزور اور بے رس نظموں کے ساتھ آتا ہے۔ خود کشی کے ذریعے زندگی کی توہین کرنے والے کی محبت کا قصہ بھی سن لیجئے۔ اسے ایک ایسی عورت سے ناقابل یقین حد تک محبت ہو گئی تھی جس کے دل میں پہلے ہی ایک مرد رہتا تھا اور جسے اس بات سے اتفاق نہیں تھا کہ دنیا کا امیر ترین شخص وہ ہوتا ہے جس کے پاس محبت ہوتی ہے۔ امین مسافر کی ناکام محبت کے بعد خود کشی والی شام وہی شام تھی جب ساڑھے چار گھنٹے قبل ہی پھولوں کو سلطان آدم کی خود کشی کی منصوبہ بندی کی خبر ہو گئی تھی اور شہر کے تمام پھولوں نے اسے روکنے کے لئے رات گئے تک ناکام کوشش کی تھی۔ مجھے یہاں CONVREVE کی وہ بات دہرانی ہے جو اس نے اپنے مختصر ناول INCOGNITA میں 1692ء میں کہی تھی۔

"ناول معروف اور جانے پہچانے عوامل پر مشتمل ہوتا ہے اور روزمرہ کے واقعات کی ترجمانی کرتا ہے۔ تعجب خیز واقعات اور حادثے بھی ہوتے ہیں لیکن ایسے نہیں جو ناقابل فہم اور ناقابل عمل ہوں یا پھر ہمارے عقائد اور خیالات سے بہت زیادہ بعید ہوں"

ایک بوسیدہ بات دہرانے کا یہ مقصد ہر گز نہیں ہے کہ میں ناقابل فہم اور ناقابل عمل صورت حال کو فکشن کا حصہ بنانے کے خلاف ہوں۔ ایسا ہو سکتا ہے مگر میرا ذاتی خیال ہے یہ تب ہی ممکن ہے جب واقعے، خیال یا احساس کو تحلیل کر کے اس کا جواز پیدا کر لیا جائے۔


بے جواز خود کشیوں، سیکنڈ ہینڈ محبتوں اور بے وفا عورتوں کے ایسے ہی تذکروں کے بعد مری ہوئی تتلیوں، پژمردہ پھولوں اور مردہ پرندوں کے دفنائے جانے کا منظر کھینچا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ کہانی میں سلطان آدم کا دوست عبداللہ اور صادق ترکھان داخل ہو جاتے ہیں۔ دونوں کی اپنی اپنی کہانیوں کے بیچ تابوت تیار ہوتا ہے اور سلطان آدم کی نعش تابوت میں بند ہو کر اس شہر سے رخصت ہو جاتی ہے جس میں مرحوم نے پچیس سال گزارے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ناول کا پہلا حصہ ختم ہو جاتا ہے۔ سچ جانئے تو یہیں پر ناول بھی ختم ہو جاتا ہے۔

یوں لگتا ہے ناول کے اگلے دو حصے مصنف نے ذہنی پراگندگی کے عرصے میں لکھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نہ تو ناول سے جڑ پائے ہیں اور نہ ہی آپس میں مربوط ہیں۔ تحریر بھی سپاٹ اور بے رس ہو گئی ہے۔ بے سمتی کی شکار اس کہانی میں رفاقت علی کا تذکرہ ہوتا ہے جو سلطان آدم کا دوست ہے اور جسے اس نے خود کشی سے پہلے چٹھی لکھی تھی۔ یہ چٹھی سلطان آدم کی اس خواہش کا جواز فراہم نہیں کرتی کہ آخر وہ گاؤں میں دفن ہونے اور شہر سے کسی بھی فرد کا میت کے ساتھ گاؤں نہ جانے پر کیوں مصر تھا۔ چوہدری شیر بہادر، رضیہ، ناہید، رکھا ماچھی، نور دین، گلابا چنگڑ، شیرو مصلی، کرمو سانسی، یوسف، شیرو، پرنسپل حسین، سفینہ سکول ٹیچر جمال، ریکارڈ کیپر مریم، پوسٹ ماسٹر حجازی، یاسمین، گل رانی، دلدار، فراست، جنید، چپڑاسی صدیق، ڈاکٹر ارشد، نذیر روگی، شوکت منیاری فروش، پائندہ خان، محبت جان اور روشن جان کی اپنی اپنی کہانیوں پر مشتمل اس دوسرے حصے کی طرح تیسرا حصہ بھی غیر متعلق واقعات سے اٹا پڑا ہے۔ اس آخری حصے میں جب کہانی تحریم، طالب زرگر، نرگس، مولوی رحمت اللہ، حافظ رمضان، کیلاش قبیلے اور کنٹکی سے ہوتی ہوئی شاہ پری کے اس سوال پر پہنچتی ہے کہ"محبت کیا ہوتی؟" تو ایک طویل وقفے کے بعد ایک خوبصورت جملہ لطف دے جاتا ہے:

"محبت کسی طوفانی موسم میں ایک ابابیل کا اچانک کھڑکی کے شیشے سے ٹکرا جانا ہے۔"

پیر شرافت، جہاں آرا اور فیروز کے تذکرے میں ایک بار پھر اس عورت کا ذکر ہوتا ہے جو وفا کے نام پر بے وفائی اور بے وفائی کی صورت میں وفا کے عمل سے گزرتی ہے۔ مصنف ناول میں کسی حد تک اپنا یہ پیغام ظاہر کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ:

"عورت سامنے کی چیزوں سے پیار کرتی ہے۔"

"عشق صرف مرد کرتا ہے۔"

"عورت صرف شادی کرتی ہے یا شادی کی غرض سے عشق اپنے اوپر طاری کر لیتی ہے۔"

"عورت ایک چھت او ر اپنی بقا کے لئے افزائش نسل کرتی ہے۔"

"عورت ایک جیل ہے۔"

"پہلے صرف مرد بے وفا ہوا کرتے تھے اب یہی بے وفائی عورت نے بھی سیکھ لی ہے۔"

"مرد عورت میں وفا تلاش کرنے لگا ہے تبھی تو محبت ختم ہوتی جا رہی ہے۔"

"اب عورت بھی دو مردوں سے محبت کا کھیل کھیلتی ہے۔"

"زندگی اس مکار عورت کی طرح ہے جو مالی اور جسمانی عیاشیوں کی خاطر کئی مردوں سے جز وقتی محبت کا کھیل رچاتی ہے۔"

"زندگی اس بے وفا عورت کی مانند ہے جس کی آنکھیں رات بھر کی میلی تھکن سے چور اور منہ لیس دار سانسوں کی بو کے بھبھکے چھوڑتا ہے۔"

مصنف نے عورت اور زندگی کے بارے میں اپنے اس نقطہ نظر کو قدرے واضح انداز میں سلطان آدم کی زبانی وہاں بیان کیا ہے جہاں ٹیچر سلطان آدم کو طلب کر کے اسے لڑکیوں سے الجھنے اور ان کے ساتھ بد سلوکی سے منع کرتا ہے۔ یہاں سلطان آدم یوں گویا ہوتا ہے۔۔۔۔

"ٹیچر یہ لڑکیاں نہیں بلیاں ہیں"

مصنف کا کہنا ہے کہ شاید یہی وجہ رہی ہو گی کہ زندگی بھر سلطان آدم ہمیشہ اس وقت کمرے سے باہر نکل جایا کرتا تھا جب وہ کسی بھی بلی کو کمرے میں داخل ہوتے ہوئے دیکھتا تھا۔ سلطان آدم کی زبان سے مصنف یہ جملے کہلواتا ہے:

"بلیاں مجھے اس لئے بھی اچھی نہیں لگتیں کہ وہ چوہے کھاتی ہیں، سات گھر پھرتی ہیں، ایک بلے پر اکتفا نہیں کرتیں، مکاری اور چالاکی سے گھات لگا کر معصوم پرندوں کا شکار کر لیتی ہے۔"


مصنف یہ بھی بتاتا ہے کہ سلطان آدم کو بلیوں کے زیادہ بچے جننے کی عادت بھی سخت ناگوار گزرتی تھی۔

مرد کو بھی اس ناول میں تقریباً اسی قسم کی بے وفائی کا مرتکب دکھایا گیا ہے مگر اسے اس قدر دلکش بنا کر پیش کیا گیا ہے کہ وہ محبت کو بچانے والا بن گیا ہے۔ اس کا جواز مصنف کے پاس کیا ہے؟ میں نہیں جانتا تاہم ناول میں اس کا کوئی جواز فراہم نہیں کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ رویہ مصنف کی نفسیاتی کجی کا شاخسانہ بن کا ظاہر ہوا ہے۔

ناول کے آخر میں مصنف سلطان آدم کی آخری خواہش کے احترام میں نصب کئے گئے لیٹر بکس کا تذکرہ کرتا ہے جسے معبد کا نام دیا گیا تھا۔ اور کنواری محبتوں سے اعتنا نہ رکھنے اور سیکنڈ ہینڈ گدلی محبتوں اور خود کشیوں کے ذریعے معدوم ہوتی محبت کو بچانے کا دعویدار مصنف اپنا ناول اس جملے پر ختم کرتا ہے۔

"محبت کی ایک نہیں کئی زندگیاں ہوتی ہیں"

میں نے پورے ناول میں کئی زندگیوں والی محبت کو باسی جنس کے متعفن شیرے پر ہی منڈلاتے پایا ہے۔ فکری سطح پر محبت کا کوئی اعلیٰ تصور پوری تحریر میں نہیں ملتا، بے شمار رنگوں کا تذکرہ ہوتا ہے مگر محبت کے ساتھ اپنے تشریحی یا علامتی تعلق کو ظاہر کئے بغیر یہ تذکرہ بھی بے کار چلا جاتا ہے۔ لفظ سمفنی اور ہارمنی کو بار بار دہرانے والے مصنف کا دعویٰ ہے کہ اس کے بچپن کے زمانے میں اس کی ماں نے ایک بہت بڑا پیانو اس کے اندر رکھ دیا تھا۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ مصنف کی بے اعتنائی سے اندر پڑا یہ پیانو اب کاٹھ کباڑ میں بدل چکا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو اسے ورجینیا وولف کا ناول The Voyage Out ضرور یاد ہوتا جس کا ایک کردار ناول لکھنے کے بارے میں یوں خیال ظاہر کرتا ہے:

"میں ناول اس طرح اور اس مقصد کے لئے لکھنا چاہتا ہوں جیسے کوئی پیانو پر بیٹھتا ہے۔ میں اصل شے کو نہیں دیکھتا اور نہ دیکھنا چاہتا ہوں۔ میرے پیش نظر تو وہ بات ہے جو چیزوں کی تہہ میں ہوتی ہے۔"

اور مصنف کو یقیناً اس سے اتفاق ہو گا کہ کسی بھی تخلیق پارے کی تہہ میں یا باطن میں آرگینک یونٹی ہی وہ واحد شے ہوتی ہے جو اسے فن پارے کا درجہ دے سکتی ہے۔

دنیا سے معدوم ہوتی محبت کو بچانے کے لئے لکھے جانے والے اس ناول میں محبت ہی کو موت کی طرف کھلنے والی کھڑکی میں کھڑے دیکھ کر میرے پورے بدن پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے کیونکہ میں اس کہے سے متفق ہوں کہ ہر لکھنے والا اپنے مشاہدات، تجربات، شعور اور لاشعور ہی کو لکھتا ہے اور بیچ میں نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی جبلت کو رکھتا چلا جاتا ہے۔ ایسے میں مجھے وہ شخص یاد آتا ہے جو "گڑیا کی آنکھ سے شہر کو دیکھو" کے پہلے افسانے میں موت کی کھڑکی سے باہر جھانک رہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی میرے لرزتے بدن پر ہنسی کا دورہ پڑتا ہے حتیٰ کہ آنکھیں اسی کہانی کی لڑکی کے شفاف آنسو مستعار لے لیتی ہیں۔

ہنسی مجھے اپنے پہلے کے صریح بے وقوفانہ اندازے پر چھوٹتی ہے۔ میں نے جس کردار کے پوست میں مصنف کو تلاش کیا تھا، وہ تو وہاں تھا ہی نہیں ۔تب میرا دھیان موت کی طرف کھلنے والی کھڑکی کی سمت ہو جاتا ہے اور وہاں وہ خوف زدہ شخص نظر آتا ہے جو خود ہی اپنی تخلیقی موت کو جرعہ جرعہ پی رہا ہوتا ہے۔ یہ دیکھ کر اتنے شدید صدمے سے دوچار ہوتا ہوں کہ میں آنکھوں سے اُمنڈتے آنسوؤں سے اپنا دامن بھگو لیتا ہوں۔


شبنم شکیل کے افسانوں کی عورت

شمس الرحمن فاروقی نے اپنے متنازعہ مضامین میں بڑی صنف سخن کی نشانی یہ بتائی تھی کہ وہ ہمہ وقت تبدیلیوں کی متحمل ہو سکتی ہے، اور اس کسوٹی پر افسانے کو پرکھتے ہوئے فیصلہ سنا دیا تھا کہ:

"افسانے کی چھوٹائی یہی ہے۔ اس میں اتنی جگہ نہیں ہے کہ نئے تجربات ہو سکیں، ایک آدھ بار تھوڑا بہت تلاطم ہوا اور بس"

"افسانے کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس کا بیانیہ کردار پوری طرح بدلا نہیں جا سکتا۔"

"افسانہ ایک معمولی صنف سخن ہے اور علی الخصوص شاعری کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا"

"افسانے کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس کا بیانیہ کردار پوری طرح بدلا نہیں جا سکتا"

"تاریخ کم بخت تو یہی بتاتی ہے کہ کوئی شخص صرف و محض افسانہ نگاری کے بانس پر چڑھ کر بڑا ادیب نہیں بن سکا ہے۔"


افسانے کی حمایت میں

"کم بخت تاریخ" واقعی بڑی عیار اور چالباز ہے، بظاہر کچھ کہتی ہے بہ باطن کچھ اور فیصلے صادر کر دیتی ہے۔مگر ساتھ ہی ساتھ ہے کہہ مکرنی، جو ظاہر کرتی ہے اس کے اندر ہی کہیں اس پہیلی کا جواب بھی چھپا ہوتا ہے۔ اسی" کم بخت، کا فیصلہ ہے کہ شاعر نثّار اور نقاد فاروقی کے ہم پلہ فکشن نگار فاروقی کب کا ہو چکا اب تو وہ قدم آگے نکالتا ہے اور اپنی شاعری سے بڑھ کر تو قیر، برتری اور قبولیت اسی ناس مارے افسانے اور ناول کے سبب پاتا ہے۔ صاحب !جسے عمر بھر آپ اصناف پر حکمرانی کے لائق گردانتے رہے، اسے سب اصناف سے اعلی و اولیٰ قرار دیتے رہے، اس میں حوصلہ تھا، نہ تڑ، کہ اُن تخلیقی تجربوں کو سہار سکتی جو اس کمزور، معمولی اور نہ بدلنے والی صنف نے کمال ہمت سے اور اپنے بھیتر کے دائروں اور بھنوروں کو بدل کر سہار لیے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے فاروقی صاحب اسلام آباد آئے تو میں نے نہایت ادب سے گزارش کی تھی کہ اصل قضیہ تخلیقیت ہے، شاعری یا نثر کی اصناف میں درجے بندی نہیں۔ اور یہاں بھی یہی دہرانا ہے کہ ہر صنف کا اپنا پنا علاقہ ہوتا ہے۔ اس علاقے کے اندر رہ کر تخلیقی تجربے کی خوبی یا خامی کے اندازے لگائے جا سکتے ہیں اور لگانے بھی چاہیئں۔ نثر اور شاعری کی اصناف کے بیچ مقابلہ اور تفریق تو الگ رہی میں تو شاعری کے مختلف اصناف میں اس قسم کا موازنہ بھی موزوں نہیں سمجھتا۔ اوہ بات کہیں اور نکلے جاتی ہے حالاں کہ مجھے شبنم شکیل کے افسانوں کے پہلے مجموعے " نہ قفس نہ آشیانہ" پر بات کرنی ہے۔ میرے بہکنے کی وجہ شبنم شکیل کا شاعری میں شناخت بنانے کے بعد افسانے کی طرف لپکنا ہے اور اس بات کا لطف لیجئے کہ گزشتہ قریب ترین زمانے میں کئی معروف شاعروں اور شاعرات نے شاعری کو اپنے تخلیقی اظہار کا وسیلہ ناکافی جانتے ہوئے، اس کوچے میں پوری سنجیدگی اور اخلاص سے قدم رکھ دیئے ہیں۔ اوہ کم بخت تاریخ تیرے یہ عجیب و غریب فیصلے۔


"شب زاد" اور "اضطراب" جیسے مقبول عام شعری مجموعوں کے بعد شاعرہ شبنم شکیل نے افسانہ نگار بنتے ہوئے اس زبان سے کوئی علاقہ نہیں رکھا جو غزل گو عموماً نثر لکھتے ہوئے اپنا چلن بنا لیا کرتے ہیں۔ نہ ہی اس نے شاعری سے مرعوب ان نثر نگاروں کی تقلید کی ہے جو دو دہائی پہلے سے فکشن کی نثر میں شاعرانہ رموز و علائم برتنے کو خوبی گمان کرتے رہے۔ رواں، سادہ، خط مستقیم میں چلتی شبنم کی نثر میں نئی اور تخلیقی فکشن کے بھید بھاؤ بھی کوئی بار نہیں پاتے کہ اس نے اپنا سارا دھیان کہانی کہہ دینے کی طرف مبذول رکھا ہے۔ میں ڈاکٹر سلیم اختر جتنا حوصلہ تو نہیں رکھتا ہوں کہ ان افسانوں کی بنیاد پر انہیں " تخلیقی رمز شناسی میں منفرد" کہہ دوں کہ شبنم کے ہاں شاعری کا تجربہ تخلیقی تجربے کے حوالے ان کی افسانہ نگاری سے کوسوں، قرنوں آگے اور بہت زیادہ لائق توجہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں تخلیق کار شبنم کو سمجھنے کے لیے بہرحال اس کی شاعری ہی کو پڑھا جانا چاہیے۔

"نہ قفس نہ آشیانہ"(کاش اس نام میں صرف ایک یعنی وسط والی "نہ" سے کام چلا لیا جاتا، مگر ایسے کیوں کیا جاتا کہ اقبال نے بھی تو یوں ہی لکھا تھا) کے آغاز میں شبنم نے لکھا ہے کہ:

"تجربات اور مشاہدات کے حوالے سے میں نے ایک بھر پور زندگی گزاری ہے۔ دل چاہتا ہے کہ ان سب واقعات کو دوسروں سے شیئر کروں مگر ان میں سے کچھ ایسے تھے کہ انہیں بیان کرنے سے ان کی بے وقعتی کا اندیشہ تھا اور کچھ ایسی کہ جن کا تقدس متقاضی تھا کہ اسے پامال نہ کیا جائے۔ "

شبنم نے زندگی کے بھر پور تجربات کے بیان کے لیے ان دو مجبوریوں کے با وصف یہ صورت نکالی ہے کہ

"چنانچہ میں نے چند واقعات کا انتخاب کیا اور انہیں افسانے کی شکل دے دی۔"

"ایسی صورت میں ان واقعات میں کچھ تبدیلیاں ناگزیر تھیں اور جائز بھی۔"

اس اعترافی بیان نے، کہ جسے خود شبنم شکیل نے "عذر گناہ" قرار دیا ہے، مجھے اس کے افسانوں سے زیادہ قریب کر دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ فکشن، ہو چکے واقعات اور حادثات کا عین مین بیان نہیں ہے۔ کامیاب فکشن نگار اس میں فکشن کے سچ کو حاوی ہونے دیتا ہے جو زندگی کے عام تجربے سے کہیں بڑھ کر عمیق، وسیع اور بامعنی ہوتا ہے اور یہی وہ کٹھالی ہے جس میں فکشن کا سچ نکھرتا اور نتھر تا ہے۔ اپنی زندگی پر بیتے واقعات سے جذباتی اور نفسیاتی وابستگی کو پچھاڑ کر صرف ان واقعات کا انتخاب، جن میں اس کا تخلیقی جوہر اپنی کارکردگی دکھا سکے فکشن نگار کا پہلا امتحان ہوتا ہے۔ شبنم شکیل اس سے بخوبی آگاہ ہے۔ یہی سبب ہے کہ افسانے پڑھتے ہوئے اس کا یہی "عذر گناہ" اس کے تخلیقی تجربے کے اخلاص کی گواہی بن گیا ہے۔ اس مجموعے میں کل گیارہ کہانیاں شامل ہیں یہ گیارہ کہانیاں گیارہ عورتوں کی بجائے ایک ہزار گیارہ عورتوں کی کہانیاں ہو گئی ہیں۔ یہ جو میں نے عورتوں کی کہانیاں لکھ دیا ہے تو خدارا یہ مت سمجھئے گا کہ میں نے ان افسانوں کو عورتوں کے الگ ڈبے میں چڑھا دیا ہے۔ یقین جانئے ان کہانیوں کا" نو دو گیارہ عورتیں اور اتنی ہی کہانیاں، والا معاملہ بھی نہیں ہے۔ پھر بھی انہیں عورتوں سے وابستہ کرنے کی ایک معقول وجہ ہے اور وہ ہے عورت کی زندگی کا انتہائی باریک بینی اور خلوص سے مطالعہ۔ میں جس شاعرہ شبنم شکیل کو جانتا ہوں اس کے ہاں طبقہ نسواں کی طرف سے بولتے اشعار ڈھونڈے سے مل جاتے ہیں، ضرور مل جاتے ہیں، مثلاً ایسے:

بنتِ حوا کسی چہرے سے نہ دھوکا کھائے
کینچلی سانپ بدلتا ہے نئی آپ ہی آپ

دیکھی ہیں میں نے ایسی بھی دکھیا سہاگنیں
بیاہی ہیں اور مانگ میں سیندور بھی نہیں

پریوں جیسی صورت والی بیٹھی راہ تکے
زر بھی مانگے ساتھ میں لیکن شہزادہ گلفام

یا پھر ایسے اشعار بھی مل جائیں گے

برسوں سے جس مکاں میں میری بود و باش ہے
اب کیا یہ لازمی ہے، وہی میرا گھر بھی ہو

مگر اس سب کے با وصف میرا اب بھی اصرار ہے کہ "معروف" فیمینسٹ شعور کی شاعری شبنم شکیل کی اصل شناخت نہیں۔ وہ اپنی شاعری میں کہیں بھی مرد ذات کی نہ تو نفرت میں مبتلا نظر آتی ہے، نہ ثقافتی و سماجی ڈھانچے کو تو ڑ کی کلی آزادی کی بات کرتی ہے اور نہ ہی مرد سے گریزاں ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس کی شاعری، مشرق کی ایک حساس اور با وقار بیٹی کی شاعری دِکھتی ہے۔


شبنم کے افسانوں کی عورتیں بھی مردوں کو نہیں لتاڑتیں اپنے ہی طبقے کی بہتر تفہیم کی صورت دکھاتی ہیں۔ مثلاً دیکھئے کہ اس مجموعے کے پہلے افسانے "ایک سیارے کے لوگ" میں ایک مرد موجود ہے۔ ایک ماسٹر جو امتحان میں لڑکوں کو نقل کراتا پکڑا گیا اور معطل ہو گیا۔ اس مرد کے کرتوت ایسے ہیں کہ اس کی بنیاد پر اس قبیل کے مردوں کے بہ سہولت پرخچے اڑائے جا سکتے تھے، مگر ایسا ہوتا نہیں ہے۔ یہ کہانی ایسے مرد کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال میں دو عورتوں (سوکنوں )کو رکھ کر دیکھتی ہے۔ ایک گھر کی مالکن کہ پہلے سے موجود ہے اور اختیار رکھتی ہے، دوسری اوپر سے زندگی میں حصہ دار بن کر آنے والی مگر ہر حصے سے محروم۔ ایک جس کی ماسٹر خوشامد کرتا ہے کہ اسے گھر میں سکون چاہیے اور دوسری وہ جسے لات مار کر کتیا کہتا ہے مگر رات چھپ چھپا کر اس کے پاس پہنچ جاتا ہے کہ اولاد بھی چاہیے۔ ایک اونتر نکھتر، دوسری بھرے پیٹ والی۔ دونوں کے بیچ ایک تناؤ ہے مگر دونوں کیسے ایک ہو جاتی ہیں کہانی عورت کی اسی نفسیات کو کھولتی ہے۔

"لال دیدی" کی کہانی کا مرد بھی قابل گردن زدنی ہے مگر کہانی کے مرکزے سے عورت کا یہ مطالعہ برآمد ہوتا ہے کہ سہولیات اور آسائشوں کی عادت اسے گھر بچانے کی خاطر ہر قسم کا ظلم سہنے کا حوصلہ رکھنے والی لال دیدی سے بہت پست کر دیتے ہیں۔ اس کہانی کی عطیہ بجا کہ لال دیدی نہیں بننا چاہتی مگر بن کیا جاتی ہے آسائشوں کے عوض اپنی خود داری اور عزت نفس قتل کر دینے والی۔ کہاں اپنے گھر کی کائنات بچانے کا جتن کرنے والی لال دیدی اور کہاں آسائشوں کو کلاوے ڈالتی عطیہ ۔تو یہ بھی عورت ہی کے روپ ہیں۔

"وہ دو گھنٹے" کی زرینہ بیگم، شبنم شکیل کی کہانی میں آنے تک کچھ فر بہی ہو چکی تھی اور آخر میں پہنچتے پہنچتے اتنی بے بس اور لاچار کہ آنسو نکل آتے ہیں مگر ایک وقت تھا کہ اس نے کئی مرد دیکھے اور بہت دولت سمیٹی تھی۔ مردوں کے ہاتھوں بلیک میل ہو کر گھر بسائے رکھنے پر لعنت بھیجنے والی زرینہ بیگم جب اپنی بیٹی سعیدہ کی طرح دوسری بیٹی صفورہ کو اجڑنے سے بچا لینے کے لیے چیک پر دستخط کر رہی تھی تو یہ خالص عورت ہی کی کہانی بن گئی تھی۔

"گہن" کی بیٹوں کے باپ کی کہانی بڑی منہ زور نکلی کہ خود ہی کہانی کے متن سے نکل کر قاری کا رستہ روک لیتی ہے مگر شبنم کی توجہ اس سے کہیں زیادہ، مری ماں اور نکھٹو باپ کی گھر سے بھاگ جانے بیٹی یا پھر پیچھے رہ جانے والی لنگڑی نغمانہ پاتی ہے۔ "دوسری ہجرت" کے شاہ جی کہانی میں اپنی مکمل قامت دکھاتے ہیں حتی کہ آخر تک آتے آتے طوائف کا بیٹا بھی ٹیکسی سے ٹکریں مار کر احتجاج کرتے ہوئے توجہ پا لیتا ہے مگر یہ کہانی پھر بھی کوٹھے والی دلشاد، یعنی ایک عورت ہی کی رہتی ہے۔ "سمجھوتا" میں ایک ماں کے دل کو ٹٹولا گیا ہے جو ممتا کے ہاتھوں بلوچ سردار کو بھائی کہہ کر اس سے اپنے معصوم بچوں کے لیے امان لے لیتی ہے۔ "اگر نامہ بر ملے" کی شادی شدہ عورت بھی خوفزدہ ہے وہ بھی سمجھوتا چاہتی ہے مگر جس سے سمجھوتا کرنے جا رہی ہے وہ چھلاوے کی طرح غائب ہو گیا ہے۔ "ناپاک" نو دس برس کے گول مٹول سرخ و سفید افغانی بچے، پانچ نمبر کوٹھی کے چوکیدار یا پھر محافظ سے مجرم بن جانے والی پولیس کی کہانی بہت سہولت سے بنائی جا سکتی تھی مگر جہاں کھڑے ہو کر شبنم نے اس سانحے کو دیکھا ہے وہاں سے یہ پچیس چھبیس برس کی لمبے قد والی عورت کی کہانی ہو گئی ہے جو چوکیدار کے ہاتھوں رسوا ہونے سے بچنے کے لیے اسے قتل کر کے تھانے پہنچ گئی تھی۔ مگر وہاں بھی لٹ گئی تو خود کو مار ڈالنا چاہا کہ اس کے سوا اسے سارے راستے مسدود لگنے لگے تھے۔ "ناپاک" کی عورت جتنی لاچار ہے اس سے اگلی کہانی "سودا" کی عورت اتنی ہی سفاک۔ خوب صورت بچے جن کر بیچ دینے والی۔"لیکن نہیں خواہاں کوئی" کی کہانی میں اگرچہ ایک ایسا کرنل ہے جو سب ہی حدیں توڑ ڈالتا ہے اور اپنی ہی نسل کو تباہی سے دوچار کر دیتا ہے مگر اس افسانے میں بھی یہ قرینہ رکھا گیا ہے کہ اس کی کہانی کرنل کی رکھیل نازی کے گرد گھومتی چلی جائے۔ یوں آپ نے دیکھا کہ شبنم شکیل نے بے شک عورت کی کہانیاں لکھی ہیں مگر کہیں بھی عورت کو عورت ہونے کے ناطے رعایتی نمبر نہیں دئیے نہ ہی اس اہتمام میں جتی رہی کہ مردوں کو برا بھلا کہنے کے لیے مواقع پیدا کرتی رہے۔

آخر میں اس افسانے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جس کے سبب میں شبنم شکیل کو ایک افسانہ نگار ماننے پر مجبور ہوا ہوں اور شاید یہی وہ افسانہ ہے جس کی وجہ سے میرے دل میں خواہش جاگی ہے کہ شبنم کو اور بھی افسانے لکھنے چاہئیں۔ وہ جو میں نے شروع میں کہا تھا کہ شبنم کی شاعری اس کی فکشن سے بہت آگے اور بہت توانا ہے، اس افسانے کو سامنے رکھوں تو میں توقع رکھ سکتا ہوں کہ اگر اس افسانے کو نقطہ آغاز مان کر آئندہ کا سفر جاری رکھا گیا تو اس کی فکشن نگاری بھی ایک روز اتنی ہی توانا ہو جائے گی۔ اس افسانے کہ جس کا عنوان " صلیب" جمایا گیا ہے، میں کہانی بہت متوازن ہے اور پہلی سطر سے آخر تک اسے سلیقے سے بنا گیا ہے۔ مسٹر اور مسز جوزف کے کردار ہوں یا نثار اور میری کے ایک کرسچین فیملی کے گھر کا ماحول ہو یا خوف زدہ لڑکی کا حریصانہ نظروں کے درمیان بازار سے گزرنے کا منظر، مکالمے ہوں یا رواں بیانیہ شبنم کا قلم اتنی مہارت سے چلا ہے کہ لطف آگیا ہے۔ امید کی جانے چاہئے کہ وہ اس افسانے کو آغاز مان کر اس میدان میں بھی بہت آگے تک جائے گی۔


مقصود الہٰی شیخ کا دِل اک بند کلی

میلان کنڈیرا نے THE ART OF NOVEL میں ایک کہاوت یوں نقل کی ہے:

"انسان سوچتا ہے اور خدا مسکراتا ہے"

کنڈیرا اپنی اس سوچ پر مسرت کا اظہار کرتا ہے کہ ناول کا فن دنیا میں خدائی آرزو کی بازگشت کے طور پر وجود پذیر ہوا ہے۔ خدا انسان پر کیوں مسکراتا ہے اس لئے کہ انسان سوچتا ہے لیکن سوچنے کے عمل کے دوران حقیقت اس کی گرفت سے نکل جاتی ہے انسان جوں جوں سوچتا ہے دوسرے انسانوں سے اس کے خیالات مختلف ہوتے جاتے ہیں۔ مقصود الہٰی شیخ کہ جس کے میں اب تک افسانے پڑھتا آیا تھا، کا پہلا ناول "دل اک بند کلی" پڑھا تو نہ جانے کیوں دھیان کی دیواروں سے خدائی قہقہے کی بازگشت مسلسل ٹکراتی محسوس ہوتی ہے۔ ڈاکٹر محمد علی صدیقی نے کہہ دیا:

"معلوم ہوتا ہے کہ مقصود الہٰی شیخ نے کسی اہم نام کو اپنے لئے بطور ماڈل نہیں چنا وہ جس طرح دیکھتے ہیں محسوس کرتے ہیں بیان کر دیتے ہیں۔"

میں ان سطروں کو بار بار پڑھتا ہوں اور قہقہے کی بازگشت شدید ہوتی جاتی ہے۔

ف۔ س اعجاز کا کہنا ہے:

"ناول "اک بند کلی" میں جنس اور مادے کے ساتھ ساتھ آدمی کے تجربات لا یعنیت پر ختم ہوتے ہیں جبکہ آدمی محض فطرت کا ایک تجربہ ہے فطرت اس سے سرشاری حاصل کرتی ہے۔"

قہقہہ اور اس کی بازگشت اب یقیناً آپ تک بھی پہنچ رہی ہو گی۔

مادے اور جنس کا تذکرہ چل نکلا ہے تو کچھ زندگی کا ذکر بھی ہو جائے کہ ان کے ساتھ زندگی لازم و ملزوم ٹھہرتی ہے۔مگر زندگی خود کیا ہے؟ سارتر کی زبانی ایک تلخ سی بات بھی سن لیں۔

"زندگی چپکنے والی غلاظت ہے جو بہتے بہتے جم گئی ہے"

خدائی قہقہوں کے نیچے بہت نیچے زندگی کی غلاظت میں لتھڑی سعدیہ وہ بنیادی کردار ہے جس کے گرد پورے ناول کا تانا بانا بنا گیا ہے۔ کہیں کہیں یہ کردار جنسی تعلقات کے وسیلے سے انسانی مراسم کی تفہیم کا باعث بنتا ہے اور کہیں کہیں اپنے غیر فطری رد عمل کے باعث الجھاتا چلا جاتا ہے۔

ایک باغی لڑکی، جو اپنا سب کچھ تج کر خود کو ایک نئی تہذیب کی تندو تیز لہروں کے تقریباً حوالے ہی کر دیتی ہے، کے معاشرتی پس منظر کی وہ اصل تصویر سامنے نہیں آتی جو اسے باغی بناتی ہے۔ فیروز کا رویہ بھی غیر فطری لگتا ہے مگر مظہر اور سعدیہ کے بیچ جو تعلق ہے اس نے ناول کو اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ وقت کی دھول سے محفوظ رہ سکے۔ اس ناول کے یہی دو بنیادی کردار ہیں جو فطرت کے قہقہے کی زد پر ہیں۔

فرینک کا پلر نے کہا تھا:

"انسان ایک بے معنی کائنات میں آتا ہے اور اپنے پر اسرار شعور کے طفیل اسے رہنے کے قابل بنا دیتا ہے۔"

سعدیہ کی ساری جدوجہد دراصل اس بے معنی کائنات کو رہنے کے قابل بنانے کا عمل نظر آتی ہے لیکن یوں محسوس ہوتا ہے یہ کردار یا اس کردار کو آگے بڑھانے والے سارے کردار یک رخی کہانی سے آگے نہیں بڑھتے۔ گویا ناول نگار نے ایسا کیمرہ اٹھا رکھا ہے جس میں زوم لینز لگے ہوئے ہیں وہ جس کی چاہتا ہے تصویر بنا دیتا ہے قریب سے۔بہت قریب سے یوں کہ جلد کے مسام تک نظر آنے لگتے ہیں مگر اسی لمحے وہ سارا منظر نامہ فریم کے ادھر ادھر سے کٹ کٹا کر غائب ہو جاتا ہے، جو ہوتا تو اپنے گہرے رنگو ں سے تصویر کی معنویت کو اور زیادہ وسیع، گھمبیر اور اثر انگیز بنا دیتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ حقیقت کا Graphic Disclosure کسی بھی فن پارے کے آفاقی اثرات اس کے موضوعی اور معروضی عناصر کے درمیان ربط کی صورت میں ہی ظہور پذیر ہو سکتے ہیں۔ میں اپنی بات واضح کرنے کے لئے اس کتاب کا حوالہ دینا چاہوں گا جو 1962ء میں ماسکو سے شائع ہوئی تھی کتاب کا نام STUDY OF SIGN SYSTEMS SYMPOSIUM ON THE STRUCTURAL ہے اس کتاب کے صفحہ نمبر 125 پر(B۔USPENSKY) ٰبی اسپنسکی نے خیال ظاہر کیا ہے کہ:

"کسی فنی تخلیق کو ایسے متن یعنی Textکے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جو علامت پر مشتمل ہے اور ہر شخص اس سے اپنے اپنے انداز کے معنی اخذ کر سکتا ہے۔" -- (امکانات)


ممکن ہے کہ آپ بی اسپنسکی کی اس بات سے متفق نہ ہوں۔ میں بھی کلی طور پر اس خیال کا ہم نوا نہیں ہوں مگر میری دیانت دارانہ رائے یہ ہے کہ فن پارے کے اندر کم از کم دو جہتیں ضرور ہونی چاہییں۔ یہ اوپری اور زیریں سطح ہو یا باطنی اور خارجی، شخصی اور معاشرتی سطح ہو یا انفرادی اور اجتماعی۔ دو سطحوں پر فن پارے کی تفہیم فن پارے کی عمر کو طوالت بخشتی ہے۔ باوجودیکہ مقصود الہٰی شیخ نے معاشرتی پس منظر ابھارنے والے سارے کرداروں کے محض خاکے بنائے ہیں اور آگے بڑھتے چلے گئے ہیں مگر پھر بھی جو اک ادھوری تصویر بنتی ہے اس میں ناول کے بنیادی تناظر کو سمجھنے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی۔

ناول نگار کا بنیادی موضوع انسان کی جبلت ہے خصوصاً ناول میں جنس کے اثرات کا مطالعہ ملتا ہے۔ انسان جو بنیادی طور پر فطرت پر قدرت رکھتا ہے یہاں جنس کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتا ہے چودھری جمال اور ہیڈ مسٹریس گل بانو کماندار کے مبینہ تعلق کی جانب اشارہ اسی ہیڈ مسٹریس اور اکبر جمال کے روابط ناول کے آخر میں جا کر فقیر اللہ کے کردار کی نئی توضیع، شوکت فیروز اور مظہر کے لئے سعدیہ کا رویہ، ناول کے کسی بھی کردار کے بنیادی روئیے کو لے لیں اصل تنازع ایک ہی بنتا ہے اور وہ ہے جنس۔

میں جنس کو شجر ممنوعہ نہیں سمجھتا عزیز احمد، سعادت حسن منٹو اور ابھی کل تک ممتاز مفتی بھی انسانی جبلتوں پر لکھتے رہے ہیں اور ان جبلتوں میں جو سب سے زیادہ ابھر کر سامنے آئی ہے وہ جنس ہی ہے۔ سعدیہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے تھوڑا سا ذکر The Unbearable Lighten of the being کا ہو جائے کہ اسے میں نے پڑھا بھی ہے اور اس کی فلمائی ہوئی صورت دیکھی بھی ہے ناول جس قدر گہرائی سے انسانی جبلتوں کی پرت پرت اتار کر سامنے رکھ دیتا ہے اس کی فلمائی صورت میں محض جنس کے بیان پر ہی سارا زور صرف ہوتا ہے۔ اس کہانی کا بنیادی کردار Tereza وہ مضطرب اور بے چین روح ہے جو زندگی کی لا یعنیت میں اپنے لئے معنویت تلاش کرتی پھرتی ہے۔ اس کردار کا مطالعہ یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ بالآخر جنسی حوالے سے انسان ایک دوسرے کے دیوانے کیوں ہو جاتے ہیں۔

"دل اک بند کلی" میں سعدیہ اور مظہر انسانی جبلت کی اسی سطح سے گزرتے ہیں ایک دوسرے کے لئے دیوانگی کی حد تک ان کا تعلق بڑھ جاتا ہے حتیٰ کہ بند دروازے کے باہر مظہر آ کر جان دے دیتا ہے۔ جنسی اذیت کی یہ سطح سمجھ میں آنے والی ہے مگر اس سوال کا کہیں جواب نہیں ملتا کہ وہ کیا عوامل تھے کہ جن کے ساتھ مظہر سچا رشتہ قائم نہ کر سکا اور تمنا کے ساتھ ایسا جائز اور قانونی رشتہ قائم کر لیا جس میں اس کی روح شریک نہیں ہوتی۔

TEREZA جیسے کردار کے مطالعے سے میں نے سعدیہ کا جنسی رویہ بھی سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ TEREZA اس مسئلے سے دوچار ہوتی ہے کہ جسم اور روح کے مابین کیا تعلق ہے۔ اس اثنا میں وہ ایک انجینئر کے ساتھ جنسی عمل سے گزرتی ہے تو اسے اچانک محسوس ہوتا ہے کہ اس عمل میں ان کا جسم شریک ہے، روح آنکھیں بند کر کے پرے کھڑی ہے۔ سعدیہ بھی احساس کی اسی سطح کو چھوتی نظر آتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ مظہر کے لئے تڑپتی ہے اور خواہش کرنے لگتی ہے چاہے مظہر نکاح نہ بھی کرے بس ایک بار اقرار کرے کہ وہ سدا اس کے ساتھ رہے گا۔ لیکن جب ناول کے آخر تک ایسا نہیں ہوتا تو وہ پھر جاتی ہے اس کی روح اکتا کر آنکھیں بند کر لیتی ہے اور محض اس کا جسم مظہر کا ساتھ دیتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ بھی اپنی توہین برداشت کرنے سے انکاری ہو جاتا ہے۔

مجھے یہاں منشا یاد کی کہانی "گدلا پانی" کی ابتدائی سطور یاد آ رہی ہیں:

"ممکن ہے آپ کو معلوم ہو کہ محبت اس کے بغیر تو قائم رہ سکتی لفظوں کے بغیر نہیں محبت بھی ایمان کی طرح زبان سے اقرار چاہتی ہے اور الفاظ مانگتی ہے اس کے بغیر ہوس کہلاتی ہے"


منشا یاد خوبصورت افسانہ نگار ہے لکھتا ہے تو مسئلے کی تہہ تک پہنچا دیتا ہے۔ گدلا پانی کی یہ ابتدائی سطور اگر ناول "دل اک بند کلی" کی ابتدا میں لکھ دی جائیں تو سارا قضیہ سمجھ میں آ جاتا ہے۔

اس مرحلے پر سارتر کی اس کہانی کا ذکر بھی ہو جانا چاہئے جس کی ہیروئین لولو اپنے شوہر کی عادی ہو جاتی ہے اس قدر عادی کہ اس کے نرم اور ڈھیلے ڈھالے بدن سے لطف لیتی ہے اس کا اپنا وجود ٹوٹتا رہتا ہے مگر وہ اپنی ساری اذیت پاؤں کے انگوٹھے، کہ جو اس نے اوپر اوڑھی چادر کے ایک سوراخ میں گھسیڑ رکھا ہوتا ہے، میں منتقل کر دیتی ہے۔ مقصود الہٰی شیخ کے مظہر کا جسم سارتر کے ہنری جیسا نہیں بلکہ سارتر ہی کے دوسرے کردار پیٹرسن جیسا ہے سخت مضبوط اور پر جوش۔ مگر جس طرح لولو کو ہنری کی عادت ہو جاتی ہے اسی طرح مظہر بھی سعدیہ کی کمزوری ماناجا سکتا ہے۔ بس اس فرق کے ساتھ کہ لولو بالآخر ہنری کے پاس پلٹ آتی ہے جبکہ سعدیہ کے دروازے پر مظہر جان دے دیتا ہے اور وہ گہری نیند سوئی رہتی ہے۔ البتہ جب اس کی آنکھ کھلتی ہے اور بدلا ہوا تالا کھول کر باہر نکلتی ہے تو چیخ کر مظہر کی اس نعش کی طرف لپکتی ہے جو ایمبولینس میں ڈال کر دور لے جائی جارہی ہوتی ہے۔ بات میلان کنڈیرا سے شروع ہوئی تھی اس کی ایک اور بات سن لیجیے۔کہتا ہے:

"جو کچھ ناول دریافت کر سکتا ہے وہ صرف ناول ہی سے ممکن ہے"

گویا علم ناول کی اخلاقیات ہے یا یوں کہہ لیں کہ وہ ناول جو کسی نہ کسی حوالے سے ہمیں کوئی علم نہیں دیتا ہے بہت جلد فراموش کر دیا جاتا ہے۔ سعدیہ اور مظہر کا کردار ان کے بیچ تعلق کی نوعیت دونوں کی جذباتی سطوح اور نفسیاتی تجزیہ وہ عناصر ہیں جو ہمیں علم کی اخلاقی سطح سے کہیں آگے سوچنے پر مجبور کرتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں یہ خاصیت ہی اس ناول اہم بنا دیتی ہے۔

$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$

محسنہ جیلانی کا افسانہ: "ٹیمز میں پھول"

ایک تاثر

محسنہ جیلانی کا افسانہ "ٹیمز میں پھول" ملا تو میرا دھیان فوراً اس کے افسانوں کے مجموعے " بکھرے ہوئے لوگ" کی طرف چلا گیا تھا۔یہ مجموعہ 2003ء میں نئی نسل کے ایک اہم افسانہ نگار مبین مرزا نے اپنے ادارے اکادمی بازیافت کراچی سے چھاپا اور مجھے پڑھنے کے لیے بھجوایا تھا۔ لگ بھگ اس کی ساری کہانیاں میرے ذہن میں تازہ ہو گئی ہیں اور اس کے ابتدائیے کے طور پر شامل مشفق خواجہ کا مضمون بھی، جس میں دیار غیر میں جا کر بس جانے مگر پلٹ پلٹ دیکھنے والوں کے المیے کی طرف توجہ دلائی گئی تھی۔

مشفق خواجہ کا کہنا تھا کہ محسنہ جیلانی، جو طویل عرصہ سے اُدھر برطانیہ میں مقیم ہے تو یوں کے کہ وہ پورے وجود سے اس معاشرت اور ماحول کا حصہ نہیں ہو پائی ہے اور پلٹ پلٹ کر اپنے دیس اور اپنے رشتہ داروں کو دیکھتی ہے۔ یوں جو دکھ اور اذیت کی ایک لہر سی محسنہ کے افسانوں میں چلتی رہتی ہے اسے مشفق خواجہ نے وطن سے دوری کے احساس کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی تھی۔ بظاہر یہ بات بہت معقول اور برمحل لگتی ہے اور سچ پوچھیں تو اسے ہر اس شخص کے حوالے سے بہ سہولت دہرایا جا سکتا ہے جو تلاش معاش میں یا کسی اور سبب اپنا دیس چھوڑنے پر مجبور ہوا اور اب واپس پلٹنا چاہے بھی تو ایسا نہیں کر پاتا مگر واقعہ یہ ہے کہ محسنہ جیلانی کی کہانیوں میں یہ احساس اس کے تخلیقی موٹیف کی صورت ظاہر نہیں ہوتا۔

میرا سوال یہ ہے کہ اپنی کہانیوں کو لکھتے ہوئے یہ جو محسنہ نے اپنے اردگرد پھیلی ہوئی دنیا اور ماحول سے کردار اٹھائے ہیں تو کیا ایسا ممکن نہیں تھا کہ اگر اسے دیار غیر میں رہنے کا تجربہ نہ ہوتا تو وہ اپنے دیس سے کردار اٹھاتے ہوئے لگ بھگ اسی موضوع کے افسانے لکھتی؟ اگر آپ نے محسنہ کے افسانے توجہ سے پڑھ رکھے ہیں تو مجھے یقین ہے کہ اس سوال کا جواب آپ کے پاس بھی "ہاں " کی صورت ہو گا۔ اگر ایسا ہے، اور یقیناً ایسا ہی ہے تو صاحب یہ بھی مان لیجئے کہ محسنہ کی کہانیوں میں اس کا مرکزی یا بنیادی سروکار محض مہاجرت نہیں ہے۔

مہاجرت نہیں تو کیا؟ اگر آپ کا یہ سوال ہے تو اس ضمن میں، آپ کی توجہ میں اس کی کہانیوں کے حوالے سے اس لطیف سی فضا کی طرف چاہوں گا جو محسنہ کے افسانے پڑھتے ہوئے میرے پورے وجود کو اپنے ہالے میں لئے رہی۔ جی ہاں، ایک ایسی لطیف فضا، جو ممتا کی آغوش کی طرح گداز اور مہربان تھی۔ مثلاً افسانہ "بکھرے ہوئے لوگ" کو ہی دیکھیے بظاہر اس ماں کی کہانی لگتی ہے جو مہاجرت کے عذاب سے دوچار ہے اور گمان باندھنا چاہتی ہے کہ شاید ہم اپنے معاشرے میں رہتے ہوتے تو وہ سانحہ نہ ہوتا جو اب ہو چکا ہے تاہم ساتھ ہی ساتھ یہ بھی تو دیکھیے کہ یہی ماں ایسا سوچتے ہوئے پورا یقین نہیں رکھتی اور "شاید" کا لفظ لگا دیتی ہے اور اسی جملے کے آس پاس ان بھر پور خاندانی زندگیوں کی شرط بھی لگاتے ہوئے دکھائی دیتی ہے جو ادھر سے معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ یوں دیکھیں تو اس افسانے کی بنیاد بھی ممتا کا وہ جذبہ ہو جاتا ہے جو محسنہ کے سینے میں ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ ایک ایسی ماں جس سے اس کا بیٹا دور ہو گیا تھا۔


کہانی کے بہاؤ میں اس دوری کا سبب یہ رکھا گیا ہے کہ ماں نے دوسری شادی کر لی تھی۔ بیٹا نئے باپ کے پہلے سے موجود بچوں میں گم نہ ہو پایا تو ماں سے بھی دور ہو گیا تھا۔ جس بھرپور خاندانی نظام میں دوسری شادی کی مجبوری بھی بچوں کو ماں سے بد ظن نہیں ہونے دیتی تھی وہ خاندانی نظام چوں کہ یہاں سے بھی معدوم ہوتا جا رہا ہے لہذا گھر کے باہر کا ماحول اس کہانی میں بھی ثانوی ہو جاتا ہے اور بنیادی نقطہ یہ سامنے آتا ہے کہ ایک ماں اور بچے کے درمیان خالص محبت کے رشتے کو استوار کرنے کے لیے ایک مستحکم خاندانی روایت کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ روایت جو مغرب سے مدت ہوئی رخصت ہو چکی اور وہی روایت جو ہمارے ہاں اب آخری دموں پر ہے۔

یہیں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ محسنہ کی ایک اور کہانی کو بھی دیکھ لیا جائے۔ جی مجھے آپ کی توجہ "عراق، عراق" کی طرف چاہیئے اور اس کہانی کی طرف آپ کی توجہ یوں چاہیے کہ اس کہانی میں سرے سے مہاجرت کا ٹول استعمال ہی نہیں ہوا ہے۔ اب ہمیں سہولت بہم ہو جاتی ہے کہ ہم محسنہ کی کہانی کے اصل سروکار تک پہنچ جائیں۔ "عراق، عراق" نامی یہ کہانی ایک زخمی ماں کی ہے جو لنگڑاتی ہوئی لاشوں کے درمیان چل رہی ہے۔ لاش جیسی اس ماں کو شہر کے بیچوں بیچ اس پناہ گاہ سے نکالا گیا تھا جس میں سوئے ہوئے بچوں اور ان کی ماؤں کے وجود امریکی طیاروں کی وحشیانہ بمباری سے چیتھڑے بن گئے تھے۔ جس ماں کی کہانی محسنہ نے لکھی ہے وہ زندہ بچ نکلی تھی۔ ایک ایسی گھریلو عورت جو نہیں جانتی کہ یہ جنگ عراق پر کیوں مسلط کی گئی تھی۔ اسے اس سوال کے جواب سے کوئی دلچسپی بھی نہیں کہ اس کی ساری دنیا تو اس کا چھوٹا سا خاندان تھا اور شاید پورا خاندان بھی نہیں محض ایک ننھا منا بچہ جو اس قیامت کے ہنگام کہیں کھو گیا تھا۔ وہ امریکی طیاروں کی وحشیانہ بمباری سے کچلے جانے والے بچوں کی لاشوں کو الٹ پلٹ کر اپنا بچہ ڈھونڈھ رہی تھی اس امید کے ساتھ کہ وہ زندہ ہو گا۔

اب تک ہم محسنہ کی کہانیوں سے یہ جان گئے ہیں کہ:

  1. وہ عورت کو مرکز میں رکھ کر کہانی لکھتی ہے۔
  2. ہر بار اس عورت کے دل سے ممتا کے جذبے کو نمایاں کرتی ہے۔
  3. اس فاصلے کی وجوہات دکھانے کے جتن کرتی ہے جو ماؤں اور ان کے جگر گوشوں کے درمیان آ گئے ہیں۔
  4. یہ کہانیاں لگ بھگ ایک ہی نکتے پر تمام ہوتی ہیں کہ عورت اپنی ممتا سے کسی صورت دست بردار ہونے کو تیار نہیں ہے۔

یہ جو میں ذرا تفصیل سے محسنہ جیلانی کے افسانوں کے تخلیقی محرکات کو تلاش کرنے میں جت گیا ہوں تو اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ میں زیر نظر افسانے" ٹیمز میں پھول" پر بات کرنے سے پہلے آپ کو وہ سارے خیالات جھٹک دینے کا مشورہ دینے والا ہوں جو بالعموم تارک الوطن ادیبوں کی تحریروں کو پڑھے بغیر یا سونگھ کر ایک فارمولے کے طور پر اپنا لیے جاتے ہیں۔ میرا یہ بھی اصرار ہے کہ "ٹیمز میں پھول" کو پڑھتے ہوئے آپ محسنہ کی دوسری کہانیوں سے ابھر کر سامنے آ جانے والے درج بالا چاروں نقاط ذہن میں تازہ رکھیں تاکہ زیر نظر کہانی میں اس تخلیقی محرک کو تلاش کیا جا سکے جو محسنہ کے بنیادی احساس کی صورت ظاہر ہو تا رہا ہے۔

"ٹیمز میں پھول" ایک نوجوان سنجے کی ماں سدیش کی کہانی ہے۔ شمالی لندن اس کہانی کا لوکیل ہے اور ایک ماں کا دل اس کہانی کے اندر سے پھوٹ بہنے والے احساس کا منبع۔ کوئی بیس برس پہلے کہانی کی عورت کو اس کا شوہر چھوڑ کر الگ ہو گیا تھا۔ جس معاشرے میں کہانی کی عورت رہ رہی ہے اس میں مرد کا عورت کو کسی اور عورت کے لیے یا کسی بھی وجہ کے بغیر چھوڑ دینا عام سی بات ہے مگر یہ بات کہانی کی عورت کے لیے بہت اہم اور شدید ہو گئی ہے۔ اگرچہ ازدواجی زندگی اس کے لیے کانٹوں بھرا رستہ تھا اور ان دونوں کے درمیان ذہنی طور پر کبھی بھی سمجھوتا نہ ہو پایا تھا کہ ہر جھگڑا طلاق کی دھمکیوں تک پہنچ جاتا تھا مگر اس سب کے باوجود:

"کم از کم اتنا تو تھا کہ دونوں کی تو تو میں میں سے گھر میں زندگی کے آثار تو تھے"


کہانی کے اس حصے سے ہم آگہی پاتے ہیں کہ ایک عورت کی زندگی میں ایک مرد کی کتنی اہمیت ہے اور یہ بھی ازواج میں تناؤ اور تلخی کے باوجود گھر میں زندگی کی موجودگی کے لیے یہ اہمیت بالکل ختم نہیں ہو جاتی۔ ایک ہموار زندگی کے لیے مرد اور عورت کے دائرہ کار کے تعین کو بھی اس کہانی میں نمایاں کیا گیا ہے۔ جب تک یہ ازدواجی زندگی، چاہے وہ جیسی بھی تھی، برقرار تھی تو عورت اپنے گھر میں مگن تھی اگرچہ روز روز کے لڑائی جھگڑے گھر کا سکون تلپٹ کر رہے تھے مگر اتنی اتھل پتھل نہ ہوئی تھی جتنی اس کے شوہر چھوڑ جانے کے بعد ہوتی ہے۔ اب اسے ملازمت کے لیے گھر سے نکلنا پڑتا ہے۔ گھر سے یوں نکلنے کو افسانے میں ایک المیے کی صورت دکھایا گیا ہے۔

یہ وہ دو وجوہ ہیں جو اس کے بیٹے سنجے کو باغی بنا دیتی ہیں حتی کہ وہ ایک اطالوی لڑکی سے یہ جھوٹ بول کر منگنی کر لیتا ہے کہ اس کی ماں دو سال پہلے کینسر سے مر گئی تھی اور اب وہ اکیلا ہے مگر جب یہ راز کھلتا ہے کہ اس نے ماں مرنے کا جھوٹ بولا تھا تو نہ صرف اطالوی لڑکی سنجے کو چھوڑ دیتی ہے، خود سنجے بھی اپنی ماں کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔

اکیلی رہ جانے والی ماں سدیش کا المیہ یوں شدید ہو جاتا ہے کہ وہ اس اکلاپے اور دکھ سہے چلے جانے پر اس لیے قانع ہو گئی ہے کہ وہ اس زندگی کو چھوڑنا ہی نہیں چاہتی جس کی وہ عادی ہو چکی ہے۔ جب اسے یہ کہا جاتا ہے کہ: "کیا تمھارے لیے یہ بہتر نہیں ہے کہ تم ہندوستان واپس چلی جاؤ۔ کم از کم وہاں ایسی تنہائی تو نہ ہو گئی" تو وہ پہلے تو وہاں اپنے بھائیوں کے اپنی اپنی دنیاؤں میں مگن ہو جانے کا بہانہ بناتی ہے اور پھر اصل وجہ یوں بیان کرتی ہے:

"سچی بات تو یہ ہے کہ اب میں اس معاشرے میں کبھی بھی فٹ نہ ہو پاؤں گی۔ دیکھو نا مجھے یہاں رہتے ہوئے تیس سال ہو گئے ہیں۔ مجھے یہ چار دیواری، یہ دو بیڈ روم کا چھوٹا سا گھر اچھا لگتا ہے۔ مجھے یہاں کا موسم، یہاں کے لوگ، مجھے یہاں کی صاف ستھری سڑکیں، یہاں کے پارک، سبزہ زار، ہرے بھرے درخت، لینڈ اسکیپ سب ہی اچھا لگتا ہے۔ اور تو اور مجھے یہاں کی تنہائی بھی بری نہیں لگتی ہے۔ پھر میں اس کی عادی ہو گئی ہوں۔"

اس طرح دیکھیں تو پردیس میں رہنا اور محض تنہا رہ جانا بھی سدیش کا مسئلہ نہیں ہے اسے یہ معاملہ بھی پریشان نہیں کرتا کہ اگر وہ اکیلے میں مر گئی تو اس کے ساتھ کیا ہو گا کہ سدیش کے مطابق:

"اگر کل کو مر مرا گئی تو میرے پھول گنگا میں نہ سہی کوئی ٹیمز میں ہی ڈال دے گا۔"

کہانی سدیش کے سارے معاملات یوں کھول کر بیان کرتے ہوئے اس ممتا کی طرف بار بار متوجہ کرتی رہتی ہے جو سدیش کے وجود میں ہمک رہی ہے اور یہی ممتا اس کہانی کی عورت کا بنیادی مسئلہ ہے۔ لیجئے صاحب اب میں ایک بار پھر یہ دہرانے کے لائق ہو گیا ہوں کہ محسنہ کی اس کہانی کا بنیادی سروکار بھی وہی ممتا کے جذبے کا رائیگاں چلا جانا ہے جس کی طرف وہ دوسری کہانیوں میں متوجہ کرتی آئی ہے۔ ہم اس کہانی میں موجود نقاط کو سمیٹتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ"ٹیمز میں پھول" کی مرکزی کردار سدیش کا سینہ اگرچہ ممتا کے جذبے سے چھلکتا ہوا دکھایا گیا ہے تاہم ساتھ ہی ساتھ ان منفی عوامل کو بھی اجال دیا گیا ہے جو عورت کے اس جذبے کو معدوم کرنے کے درپے ہیں:

  1. محض معاشی جدوجہد میں اپنے تہذیبی سر چشموں سے دوری
  2. کسی اور عورت کے لیے مرد کی اپنی عورت سے بے وفائی
  3. زندگی کی آسائشوں کی طلب اور عادت کو معاشرتی زندگی پر ترجیح
  4. عورت اور مرد کی زندگی کے دائرہ کار کی یکسانیت، اور عورت اور اس کے بچے کے درمیان بعد

ہم پہلے ہی جان چکے ہیں کہ محسنہ اس کہانی کی طرح لگ بھگ ہر کہانی میں ایک ماں کی ممتا کو نشان زد کرتی آئی ہے اور اسے بچا لینے کی طرف ہمیشہ ہمیں راغب کرتی رہی ہے۔ محسنہ کی یہ کہانیاں عین ایسے دورانیے میں سامنے آ رہی ہیں جب عورت ماں بننے کو آزار سمجھنے لگی ہے۔ جب رحم ہی میں بچوں کو قتل کر دینا معیوب نہیں رہا۔ خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکا ر ہے اور عورت مرد کے برابری کا نعرہ لگا کر عورت کو ممتا کے جذبے سے الگ کر کے اسے معاش کی بھٹی میں جھونکا جا رہا ہے۔ ایک گھر کا تصور جو کبھی ایک عورت کے سینے سے پھوٹتے ممتا کے جذبے کے طفیل جنت کے ہم مرتبہ ہوا کرتا تھا اس کا تصور اب دھندلا پڑ چکا ہے۔ یہ سب کچھ مارکیٹ اکانومی کے طرف داروں کے لیے تو خوب ہے کہ یوں عورت مارکیٹ کی چیز بن گئی ہے۔اشتہاروں میں آ کر ان کے کاروبار کو چمکانے والی یا پھر ایسی صارف کہ جو کچھ کماتی ہے انہی چمکتی چیزوں پر لٹا کر پھر خالی ہو کر کمانے میں جت جاتی ہے۔ اشتہار بنے، شئے بنے یا صارف، ہر حال میں رونق تو منڈی کی ہوتی ہے لہذا عالمی سرمایہ دار ممتا کے آزار سے پاک اس نئی عورت سے بہت خوش ہے کہ اسی کے طفیل اس کے ہاں زر کی افزودگی تیز تر ہو گئی ہے، تاہم میں یہ سمجھتا ہوں کہ محسنہ کی کہانیاں اس عالمی سرمایہ دار کی راہ مسدود کرنے پر اصرار کرتی ہیں اور اس کی تدبیر یہ سجھاتی ہیں کہ خاندان کے تہذیبی نظام کو معدوم ہونے سے نہ صرف بچا لیا جائے اس میں ماں کی حیثیت سے عورت کے اس مرکزی کردار کو بھی بحال کیا جائے جس میں اس کے پاؤں کے نیچے جنت ہوتی ہے اور اس کا دل ممتا کے جذبے سے کناروں تک بھرا ہوا ہوتا ہے۔ محسنہ سجھاتی ہے کہ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف عورت کو تنہا ہونے، رسوا ہونے، منڈی کی شئے بننے سے بچا لیں گے اپنی آئندہ کی نسلوں کو سنوار کر انسانیت کو بچا لینے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے۔


روایت اور تنقید

ترقی پسند تحریک کے لگ بھگ وہ سار ے طرف دار جو کل تک اپنی پسندیدہ تحریک کو کائنات میں جاری و ساری عمل ارتقا سے بتاتے تھے، اُدھر سے وقوف (enlighten) پکڑ نے اور اعتدال پسند (moderate) ہو جانے کا "نیا عالمی ایجنڈا، عطا ہوتے ہی جون بدل کر روشن خیال ہو گئے ہیں۔ اب تو یہ بھلے لوگ اپنے تئیں خود کو یورپ کی سترھویں اور اٹھارویں صدی کی زور پکڑنے والی enlightenment تحریک کا کارندہ جان کر مذہب کو پچھاڑنے کے لیے یہ مضامین سنانے میں جتے ہوئے ہیں کہ ما بعد الطبیعیات کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی، یہ سب فسانہ ہے اور اگر کچھ ہے تو بس مادہ ہے۔ اور یہ کہ اگر کوئی حقیقتِ مطلق ہے تو وہ بھی مادہ ہی ہے۔ ایسوں ہی کی بابت تو اگلے کہہ گئے ہیں:

کافیہ کا بھاگا بَن کو جا لاگا

جی چاہتا ہے کہ لنڈورے تعقل کے ان ڈھنڈورچیوں کو عقل کا ناخن لینے کا کہوں اور پوچھوں کہ صاحب جسے تم مادہ کہتے ہو اس کا سب سے چھوٹا ذرہ ایٹم ہی توہے!۔ میں ان کے سر اثبات میں حرکت کرتے دیکھ رہا ہوں کہ لیبارٹریوں میں تجربوں کے سہارے پھونک پھونک کر قدم رکھنے والی مجرد عقل کا یہی ابتدائی علم ہے۔ اب میں ان سے تصدیق چاہتا ہوں کہ، اس ایٹم کا ایک جسم بھی ہوتا ہے جسے nucleus کہتے ہیں - جواب پھر اثبات میں آتا ہے،۔ مثبت چارج اس جسم کے اندر ہے اور منفی نیوکلیس کے باہر- منفی چارج کا جمگھٹا الیکٹران کی ساخت میں اُسے گھیرے ہوئے ہے۔، مسلسل آگے پیچھے حرکت کر تے سر میری نگاہ میں ہیں۔ یہیں میں اپنا اصل سوال ٹکا دیتا ہوں کہ"ایٹم کے اس مجموعہ کے اندر اور باہر کیا اس کی روح نہیں ہوتی جو ان قوانین فطرت کو جانتی ہے جن کا مادہ پرست انکار کرتے ہیں؟

حیف کہ اس مقام پر عقل پرستوں کی عقل چرخے چڑھ، کَتنے کو نکل جاتی ہے اور بھاری بھرکم سر ساکت ہو جاتے ہیں۔ کسی ذرے سے دوسرے ذرے کو کس طرح ملنا ہے، تجربات کرنے والے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس باب میں ایک روح ان کی رہنمائی کرتی رہتی ہے۔ ایٹم ہلکے سے ہلکا ہو یعنی ہائیڈروجن کا، یا پھر بھاری سی بھاری ہو جیسے پلوٹونیم کا، ان کے الیکٹران یا پروٹون پر چارج ایک سا رہتا ہے۔ اور یہ کہ مجموعی حیثیت میں ایٹم neutral ہے لیکن اپنے اجزا میں اس کی برقی خاصیت سے ہی ایٹم کی زندگی کا تعلق ہے جو اس کے جسم کو فعال رکھے ہوئے ہے۔

تعقل پرستوں کا شعور ششدر رہتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی یہ کہہ دے کہ عقل کو ہاتھ مارو، تم تجربے سے ثابت کر چکے ہو کہ قوانین قدرت کا شعور نہ تو مادہ میں ہے اور نہ ہی برق میں، یہ تو ایٹم کی روح میں ہے جو سب پر محتوی ہے۔ اور یہ بھی کہ یہ وہی روح جس کا علاقہ ما بعد الطبیعیات میں پڑتا ہے تو وہ کیا بات ہے جو تمہیں تسلیم و رضا کے راستے سے روکتی ہے، تو بھی ایسوں کے ساکت ہو جانے والے سروں میں کوئی حرکت نظر نہ آئے گی کہ یہی وہ تو ہیں جن کی بابت فرما دیا گیا ہے،

صم بکم عم فہم لا یرجعون۔

مادہ اور مادہ پرستوں کا ذکر میں یوں لے بیٹھا ہوں کہ میں نے اپنی روایت سے صدق دل سے جڑے ہوئے ناقد جمال پانی پتی کی دو اہم کتب " اختلاف کے پہلو" اور "نفی سے اثبات تک " کو اوپر تلے پڑھ لیا ہے۔ اب رہ رہ کر دھیان مادیت پسندوں کی فکری بے چارگی کی سمت ہو رہا ہے اور شدت سے چاہنے لگا ہوں کہ ان جامد سروں والے مادہ پرستوں کو ان اہم کتب کے مطالعے کا مشورہ دے ڈالوں۔


میں جمال پانی پتی کی دو کتابیں ایسے عرصے میں پڑھنے کا مشورہ دے رہا ہوں جب تنقید پر بہت کڑا وقت آیا ہوا ہے۔ اتنا کڑا کہ یار لوگ ناقدوں اور گِدھوں کے ایک ساتھ غائب ہونے کی ناروا پھبتی کسنے کو بھی روا جاننے لگے ہیں۔ (محل نہیں ہے، مگر پھر بھی پابلو نرودا کی نظم Black Vulture یاد آ گئی۔ اس میں اُس نے گدھوں کو "God's spy" کہا تھا، یہ وہی پرندہ ہے جو solemnly settles on the ground, and folds up like an umbrella. اور ان گدھوں کا معاملہ یہ ہے کہ وسط ستمبر سے وسط اکتوبر میں مسلسل کئی برس کی جانے والی تحقیق کے مطابق یہ اوسطاً 1586 کی تعداد میں Salt Creek County Park, Washington میں جمع ہوتے ہیں) ۔ تھوک کے حساب سے لاشیں گرانے والے امریکہ کی ایک این جی او اگر مردے نوچنے والی گدھوں کی نسل بچانے کے لیے hatcheries قائم کر رہی ہے تو اس کی وجہ سمجھ میں آنے والی ہے مگر ایک ادیب کا ایسے ناقدوں کی نسل ختم ہونے پر تاسف کرنا، جس کا ذکر گدھوں کی نسل کے ساتھ کیا جا سکتا ہو، میرے لیے اچھنبے کا باعث ہو گیا ہے۔ اگر ہمارے اس بھائی کے ذہن میں مردہ فن پاروں، مردہ افکار اور مردہ مباحث کو مرغوب رکھنے والے ناقدین کی نسل ہے، تو مجھے کہنا ہے کہ اے بھائی صاحب، اس کے ختم ہونے پر ناحق رنجور ہوتے ہو، اسے ختم ہو ہی جانا چاہیے تھا۔ افسوس کہ ختم نہیں ہو رہی ہے بلکہ ناقدین کی ایک اور نسل کے ساتھ ہنسی خوشی پھل پھول رہی ہے جو بقول مشفق خواجہ سماجی تعلقات کی اُستواری میں رسمی تعریف و توصیف سے کام نکالنے کو ہی تنقید گردانتی ہے۔ تو نے کی رام جنی میں نے کیا رام جنا، کا نعرہ لگا ان دو گروہوں کے ساتھ مل جانے والی نئی تنقید نے تخلیقات اور زندگی کی تفہیم کے بارے میں مباحث اٹھاتے سوالات حتی کہ خود تخلیق کار سے موڑ کر صورت حال کو اور بھی گھمبیر بنا دیا ہے۔

یوں تو آٹھ نو برس پہلے جمال پانی پتی کی کتاب "ادب اور روایت" سنجیدہ فکر ادبی حلقوں میں مقام پا چکی تھی اور ان تازہ کتابوں میں شامل مضامین جب جب ادبی جرائد شائع ہوئے توجہ پاتے رہے تاہم کچھ عرصہ پہلے لکھے گئے مضامین کا ایک ساتھ ایسی صورت حال میں آنا، جس کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے، ایک پر لطف تجربہ ہو گیا ہے۔

دونوں کتابوں میں کل ملا کر سولہ مضامین ہیں اور سولہ کے سولہ ایسے کہ پڑھنے والا ہر جملے پر چوکنا رہتا ہے۔ کہیں عین نشانے پر لگنے والی چوٹ کا لطف، اور کہیں دلیل ایسی کہ دل ٹھکانے ہوتا ہے۔ تاہم ایسے بھی مقامات آتے رہتے ہیں کہ آپ شدید اختلاف کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ایسے مقامات آئے تو میرا قلم بے قابو ہوا اور بہت کچھ لکھتا چلا گیا مگر مجھے اپنے آپ کو بہت کچھ کہنے سے اس لیے روک دینا پڑا ہے کہ یہ دونوں کتابیں جان دار کتابوں کے قبیلے سے تعلق رکھتی ہے۔ ایسی کتابیں جو آپ کو انگیخت کریں، آپ سے سوال کریں، آپ کو اپنے ساتھ ملا لیں یا پھر اپنا دشمن بنا لیں، آپ کے بنے بنائے نظریات کو چیریں پھاڑیں اور جب آپ پڑھ کر انہیں ایک طرف رکھ دیں تو آپ کے دل میں جگہ بنا لیں۔واقعہ یہ ہے کہ جمال پانی پتی کی یہ دونوں کتابیں اب میرے دل میں جگہ بنا چکی ہیں۔


"اختلاف کے پہلو" کے کم و بیش ساتوں مضامین کے تانے بانے میں فکری رد عمل ہمک رہا ہے۔ "تغیر و حرکت سے ارتقا تک" کا عنوان پانے والے پہلے مضمون میں مصنف نے طبیعیات اور ما بعد الطبیعیات کے اس معاملے پر بڑی خوبی سے بحث کی ہے جو عصری صورت حال میں ایک بار پھر اہم ہو گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں:

"اصولاً ہر شے کی وجہِ جواز اُس شے سے ماورا کسی بلند تر سطحِ وجود ہی سے وابستہ ہوتی ہے، نہ کہ خود اُس کی اپنی سطح وجود سے۔ سو ظاہر ہے کہ یہ جواب ہمیں مادیّات اور طبیعیات کی عالم سے اوپر اُٹھا کر ما بعد الطبیعیات کی عالم میں لے جاتا ہے"

مادے کی یہ بحث روایت کے بارے میں پائی جانے والی اس عام غلط فہمی کو دور کرتے کرتے پھوٹی ہے کہ روایت حرکت کی نفی کرتی ہے۔ مجھے یہاں بتا دینا چاہیے کہ یہ مضمون مشہور ترقی پسند نقاد احمد ہمدانی کے خیالات پر جمال پانی پتی کا اختلافی رد عمل ہے جنہوں نے ترقی پسند تحریک کو کائنات میں جاری و ساری عملِ ارتقا سے متعلق بتایا تھا جب کہ روایتی فکر اور سائینسی عہد کی جدید فکر ان کے ہاں ایک دوسرے کی ضد ہو گئی تھیں۔ ترقی پسندی کے اس مبلغ نے تغیر و حرکت اور ترقی و ارتقا کے بارے میں روایت اور سائنسی فکر کے تضاد کو نمایاں کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ

"یہ کائنات مسلسل حرکت میں ہے اور حرکت کا لازمی نتیجہ تغیر یا تبدیلی ہے لہذا جدید سائنسی عہد میں حرکت کو حقیقت اور کائنات کا اصل الاصول سمجھا جاتا ہے۔"

اور یہ بھی فرمایا تھا کہ

"روایتی فکر حرکت کی بجائے سکون کو کائنات کا اصل الاصول قرار دیتی ہے اور حرکت کو التباس سمجھتی ہے"

جمال پانی پتی نے پہلے تو "التباس" کے بے محل استعمال پر شدید گرفت کی اور پھر حرکت و سکون اور تغیر و ثبات کے بارے میں سلیم احمد کے موقف کا سہارا لے کر واضح کیا کہ ما بعد الطبیعیات کے نقطۂ نظر سے سکون و ثبات کا مقام تغیر و حرکت سے بلند ہے کیوں کہ حرکت اور تغیر مادے کی صفت ہے اور مادے کا تعلق طبیعیات سے ہے۔ جب کہ ما بعد الطبیعیات اس عالم سے متعلق ہے جو ورائے مادہ ہے۔ سکون و ثبات بھی چوں کہ اسی عالم ما بعد الطبیعیات سے ہے، اس لیے ان کا درجہ حرکت و تغیر سے بلند ہے۔ یہیں یہ واضح کیا جاتا ہے کہ وہ تمام جدید فلسفے جو حرکت و تغیر ہی کو زندگی کی حقیقت اور کائنات کا اصلِ اصول مانتے ہیں اور کسی ایسی حقیقت تک نہیں پہنچتے جو حرکت و تغیر سے ماورا ہو۔ انہوں نے اقبال کا یہ شعر درج کیا:

فریب نظر ہے سکون و ثبات
تڑپتا ہے ہر ذرہ کائنات

اور گرفت فرمائی کہ اقبال بھی اس شعر میں ما بعد الطبیعیاتی فکر سے دور اور طبیعیات کے نقطہ نظر کے قریب ہو کر مادہ پر ستوں سے آملے ہیں۔


جس نتیجے پر جمال پانی پتی، جناب سلیم احمد کے وسیلے سے پہنچنا چاہتے ہیں، پہلے تو گرہ میں باندھ رکھیے کہ وہاں میں پہلے سے ہوں مگر جس طرح وہ پہنچتے ہیں اس پر دل ٹھکتا نہیں ہے۔ میری استدعا ہے کہ اقبال کے شعر کو ایک مرتبہ پھر پڑھ لیا جائے اور میری ان گزارشات کو بھی ذہن میں تازہ رکھا جائے جو ایٹم اور اس کی روح کے باب میں عین آغاز میں کر آیا ہوں۔ یہی تو وہ روح ہے جو ہر ساکت و ثابت ذرے کو تڑپ عطا کر رہی ہے یوں حرکت و تغیر کا تعلق بھی سکون و ثبات کی طرح ما بعد الطبیعیات سے جڑ جاتا ہے۔ اگر اس زاویے سے دیکھا جائے تو اقبال کے مادہ پرستوں سے آ ملنے کا طعنہ بھی ہاتھ پر ہاتھ مارتی عورتوں کی سٹھنی کا سا ہو جاتا ہے۔ خیر یہاں روایت سے متعلقین کا اعتراض وارد ہو سکتا ہے کہ آغاز میں جس منہاج علمی کو وسیلہ بنایا گیا ہے وہ روایتی فکر سے جڑتا نہیں ہے۔ اس باب میں مجھے اعتراف کرنا ہے کہ یہ حوصلہ میں نے جناب جمال پانی پتی کی تحریر سے پایا ہے۔ روایت سے متعلق اس ناقد کے ہاں علم کلام کے اصول تطبیق کو آپ دونوں کتابوں کے کئی صفحات پر متحرک دیکھ سکتے ہیں۔

جمال پانی پتی نے یہ جو کہا ہے کہ اسلام کی روایتی تہذیب جس اصلِ اصول پر قائم ہے، وہ ہے الآن کما کان، یعنی ایک ایسی غیر متغیر اور قائم و دائم حقیقت جس کا ظہور زمان و مکان میں ہر آن ایک نئی شان کے ساتھ ہوتا ہے، بہت بجا فرمایا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ روایتی تہذیبیں اپنے اصلِ اصول سے وابستہ رہنے کے لیے ثبات و دوام پر اس لیے زور دیتی ہیں کہ ان کے نزدیک زندگی کے دونوں اصولوں یعنی تغیر اور ثبات میں توازن ہونا چاہیے۔ تاہم یہاں جمال پانی پتی نے وضاحت کر دی ہے کہ یہ توازن مطلق اور بے قید حرکت سے نہیں، سکون کو حرکت اور تغیر کو ثبات کے تابع رکھنے ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ اس وضاحت کے بعد وہ جو توازن کے باب میں ترازو کے پلڑوں کے برابر ہونے کا تصور ابھرا تھا کافور ہو جاتا ہے اور وہ سائنس دان آ سامنے کھڑا ہوتا ہے جس نے کرہ ارض سے باہر قدم جما کر لیور کی مدد سے زمین کا گولا اُٹھا لینے کی بات کی تھی۔ اب ذرا مادے کو کرہ ارض کی جگہ رکھ کر اس روح کو لیو ر بنا لیں جو قوانین قدرت کا شعور نہ رکھنے والے مادے کو حرکت و تغیر عطا کر رہی ہے تو جمال پانی پتی کی بات فوراً سمجھ میں آ جائے گی۔

اقبال کی فکر میں دانش افرنگ کے کرشمے تلاش کرنے کا مشغلہ جمال پانی پتی کو مر غوب دِکھتا ہے اور اس کے لیے جہاں جہاں انہیں شاعر اقبال اور مفکر اقبال کو دو لخت کرنا پڑا ہے، انہوں نے بے درنگ کر دیا ہے۔ حالاں کہ وہ جانتے ہیں کہ اقبال The Reconstruction of Religious Thought in Islam میں اسلام کے تصور حقیقت کے بارے میں واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ:

"اسلام کے نزدیک حیات کی روحانی اساس ایک قائم و دائم وجود ہے جسے ہم اختلاف اور تغیر میں جلوہ گر دیکھتے ہیں"

اور یہ بھی کہ:

"اسلامی معاشرہ حقیقتِ مطلقہ کے اس تصور پر مبنی ہے تو یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ثبات اور تغیر دونوں خصوصیات کا لحاظ رکھے۔ اس کے پاس کچھ تو دوامی اصول ہونے چاہییں جو حیاتِ اجتماعیہ میں نظم و ضبط قائم رکھیں۔ کیوں کہ مسلسل تغیر کی اس بدلتی ہو ئی دنیا میں ہم اپنا قدم مضبوطی کے ساتھ جما سکتے ہیں تو دوامی اصولوں ہی کی بدولت۔"


مجھے تو اپنے خطبات اور اپنی شاعری میں دانش افرنگ کی جلوہ فرمائی کی بجائے ہر کہیں مدینہ و نجف کو آنکھوں کا سرمہ بنا لینے والا اقبال ہی نظر آیا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ میرے پاس جو عینک ہے اس میں اقبال کا پورا قد دِکھتا ہے جو مجموعی سراپے میں قابل قبول اور بہت سے مقامات پر قابل رشک ہو گیا ہے مگر جمال پانی پتی کا معاملہ الگ ہے وہ فکرِ اقبال کو مختلف پہلوؤں سے دیکھتے ہیں اور ہر پہلو کو الگ کر کے دیکھتے ہیں۔ مثلاً دیکھئے کہ اقبال کے ہاں جو اصول حرکت کام کرتا ہے وہ ان کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ میں نے سارے اختلافی معاملے کو بڑی ہمدردی اور اخلاص نیت سے جانچا ہے اور یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ فی الاصل دونوں نتائج کے اعتبار سے ایک ہی منزل پر پہنچتے ہیں۔ کیسے؟ اس کا احوال لکھنے بیٹھ گیا تو بات طول پکڑ لے گی لہذا اسے کسی اور وقت پر اٹھا رکھتے ہیں تاہم یہیں محمد سہیل عمر کی وہ تحریر یاد آتی ہے جس میں انہوں نے عسکری اور سلیم احمد کے ہاں پائے جانے والے اصول حرکت و تغیر کے فرق کو واضح کیا تھا۔ محمد سہیل عمر کے مطابق انسان اپنی ذات میں جسم، نفس اور روح کا مجموعہ ہے۔ جسم جمود، نفس حرکت و تغیر اور اور روح سکون۔ نفس کے روح یا پھر جسم پر تصرف سے خرد یا عقل پیدا ہوتی ہے۔ یہیں روح کو امرِ محض اور جسم کو خلقِ محض کہہ کر نفس کو دونوں کے بیچ پُل بتایا گیا اور ثابت کیا گیا کہ سلیم احمد کے تصور انسان میں تدریج کا رُخ روح سے نفس اور نفس سے جسم کی طرف تھا جب کہ عسکری صاحب کے ہاں یہ تدریج بر عکس تھی۔ محمد سہیل عمر کے ہاں بر عکس ہو جانے والے عسکری اور سلیم احمد، جس اصول کے تحت جمال پانی پتی کے ہاں ہم عکس ہو جاتے ہیں، کم و بیش اُسی اصول کے تحت یہ دونوں اور خود جمال پانی پتی بھی مجھے اقبال سے زیادہ دور نظر نہیں آتے اور مجموعی اعتبار سے اسی سلسلے سے جڑے نظر آتے ہیں۔

اقبال اور تصوف کے حوالے سے اگلے تینوں مضامین بھی بہت دلچسپ اور معلومات افزا ہیں۔ ان مضامین میں بہت سے مقامات پر میں نے خود کو جمال پانی پتی کے ساتھ کھڑے پایا ہے۔ سوامی تیرتھ کی صحبت میں ویدانت کے فلسفے کا مطالعہ کرنے والے اقبال نے مثنوی "اسرار خودی" کے دیباچے میں کہا تھا کہ "مسئلۂ انا کی تحقیق و تدقیق میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی ذہنی تاریخ میں ایک عجیب و غریب مماثلت پائی جاتی ہے اور وہ یہ کہ جس نقطہ خیال سے سری شنکر نے گیتا کی تفسیر کی اُسی نقطہ خیال سے محی الدین ابن عربی اندلسی نے قرآن شریف کی تفسیر کی" لیکن ہوتا یہ ہے کہ مثنوی "گلشنِ راز جدید" میں شنکر اور منصور حلاج کو ایک ہی صف میں کھڑا کر کے دونوں سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں تاہم بعض شارحین کے مطابق اقبال "اپنی زندگی کے آخری دور میں پھر سے وحدت الوجود کے حامی بن گئے تھے۔" اقبال کے ہاں فکر و نظر کی یہ تبدیلی جمال پانی پتی کے تین مضامین کا جواز بنتی ہے۔ ان مضامین میں شنکر کے ویدانتی فلسفے پر اقبال کے تصور خودی کے حوالے سے پر مغز بحث کی گئی ہے۔ اور اس خیال کی تردید کی گئی ہے کہ

  1. شنکر کے نزدیک جیو آتما (انسانی انا) فریب کا ایک پھندا ہے جسے گلے سے اُتار پھینکنا نجات کے لیے ضروری ہے
  2. شنکر نے اُپنشندوں کے فلسفہ ترک عمل کو ایک بار پھر زندہ کر کے اپنے منطقی طلسم سے اُس عروسِ معنی کو پھر محجوب کر دیا ہے جسے سری شنکر بے نقاب کرنا چاہتے تھے

اسی بحث کے بعد وہ ان ناقدین ادب سے خبردار کرتے ہیں جو عہد جدید کے مادی فلسفوں کے زیر اثر روح کا استعمال بھی جذبے کے معنی میں کر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اقبال کے ہاں شنکر کی طرح روح اور جسم یا تن و جاں دو مختلف الحقیقت یا متضاد چیزیں نہیں بلکہ دونوں ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں، اندر سے دیکھو تو روح، باہر سے دیکھو تو جسم۔ یوں وہ بجا طور پر اقبال اور شنکر کے باہم متضاد مؤقف کی شناخت کرتے ہیں۔ تاہم آگے چل کر وہ عملی، حقیقی اور ماورائی پہلوؤں سے اقبال کی خودی کو جیو آتما یا آتما (پرش) جیسا قرار دینے کے بعد رویوں کے فرق کی نشان دہی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اقبال نے حقیقی پہلو کی بجائے سارا زور اس کے عملی پہلو پر لگایا جب کہ شنکر خودی کے عملی پہلو کی بجائے آتما کو مکتی دلانے کی طرف راغب رہے۔


جمال پانی پتی نے بتانے کی سعی کی ہے کہ اقبال عشق کو اس باعث علم پر ترجیح دیتے ہیں کہ علم میں دولت، قدرت اور لذت تو ہوتی ہے، اپنا سراغ ہاتھ نہیں آتا۔ جب کہ بقول اُن کے شنکر کو اپنی حقیقت کا سراغ اپنے علم ہی سے ملتا ہے۔ ایسے میں جمال پانی پتی کو سلیم احمد مرحوم اور اقبال کا یہ شعر ایک ساتھ یاد آتا ہے:

مرے لیے ہے فقط زورِ حیدری کافی
ترا نصیب فلاطون کی تیزیِ ادراک

میں نہیں سمجھتا اس شعر میں اس معنی کے اشتباہ کی کوئی گنجائش نکل سکتی تھی کہ زورِ حیدری کو باب العلم کی مجموعی شخصیت پر فوقیت دی گئی ہے۔ پہلے اقبال پر یہ تہمت لگی کہ انہوں نے عشق کو علم پر ترجیح دی اور اب کہا جا رہا ہے کہ طاقت، علم پر فوقیت پا گئی۔ اور وہ بھی عین وہاں سے یہ معنی برآمد کئے گئے ہیں جہاں حیدر کرار کا تذکرہ ہی اس امر کا ضامن بن جاتا ہے کہ اقبال کو علم اور طاقت کا امتزاج دکھانا مقصود تھا۔ اقبال کے زاویۂ نظر کو بجا طور پر سمجھنے کے لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک نظر "The Reconstruction of Religious Thought in Islam" کی اس عبارت پر ڈال لی جائے:

"What is the character general structure of universe in which we live? Is there a permanent element in the constitution of this universe? How are we related to it? What place do we occupy in it, and what is the kind of conduct that benefits the place we occupy? These questions are common to religion, philosophy, and higher poetry"

ایک شخص جو حیات اور کائنات کے بارے میں اس نوع کے سوالات اُٹھا کر انہیں مذہب، فلسفے اور اعلی درجے کی شاعری کا مشترکہ مسئلہ قرار دے رہا ہو اس کے ہاں سے ان نتائج کا استخراج کم از کم مجھے تو ہضم نہیں ہو پا رہا۔ اقبال نے اگر زور دے کر یہ کہا ہے کہ:

"Quran,۔۔۔ .regards the hearing and sight as the most valuable Divine gifts and declares them to be accountable to God for their activity in this world."

تو سوچا جانا چاہیے کہ اقبال کے ہاں "سمع" اور "بصر" کی اس پذیرائی کے لگ بھگ کیا وہی معنی نہیں بنتے جو جمال پانی پتی نے اقبال کے ہاں روح اور جسم کے ارتباط باہمی کا سوال شناخت ہونے پر برآمد فرمائے تھے۔

اگلے دو مضامین بھی انہی فکری مباحث کو آگے بڑھاتے ہیں۔ پہلے تو وہ جناب احمد ہمدانی کے "وحدت الوجود" اور" تصوف" کو مترادف المعنی الفاظ کے طور پر استعمال کرنے سے پیدا ہونے والی الجھنوں کو سلجھاتے ہیں اور پھر بتاتے ہیں کہ پینتھی ازم (Pantheism) کا صحیح ترجمہ " وحدت الوجود" کی بجائے " ہمہ الہیت" ہے، یعنی "خدا کائنات سے ماورا نہیں بلکہ خدا اور کائنات دونوں ہم وجود ہیں۔" جمال پانی پتی "فصوص الحکم" کے بارے میں اقبال کا یہ کہنا "جہاں تک مجھے علم ہے فصوص میں سوائے الحاد اور زندقہ کے اور کچھ نہیں" کو بھی زیر بحث لاتے ہیں۔ مسئلہ قدم ارواح کملا اور مسئلہ تنزلات ستہ پر بھی اسی حصے میں بھر پور بحث ملتی ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس سارے مباحثے میں وہ ہمدانی صاحب کی فکر پر پٹڑا ہی پھیر دیتے ہیں۔

"غالب اور تصوف" کے عنوان سے کتاب میں شامل مضمون، نواب مصطفی خان شیفتہ کے پڑپوتے افتخار احمد عدنی کی کتاب "غالب شناسی کے کرشمے" کی فکر کو رد کرنے کا کرشمہ ہے۔ جمال پانی پتی اس مضمون میں اصرار کرتے ہیں کہ غالب کو تصوف اور مسائل تصوف سے شغف تو ضرور تھا مگر تصوف ان کے ہاں بغرض شعر گفتن آیا، یہ ان کا طبعی میلان نہ تھا۔ اس ضمن میں وہ غالب کے ان اشعار کو بطور دلیل لاتے ہیں جن میں منصور کی تنک ظرفی کے مقابلے میں غالب کی انانیت اور انفرادیت آ جاتی ہے۔ یہ وہی انانیت ہے جو غالب کو اپنی "انا" کسی بھی قیمت پر انائے حقیقی کے سپرد کرنے نہیں دیتی۔ جمال پانی پتی غالب کو حقیقی معنوں میں اُردو کے پہلے شاعر قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ انہیں روح عصر نے اپنی ترجمانی کے لیے منتخب کیا تھا اور یہ کہ اپنے بعد آنے والے سو سوا سو سال تک کے زمانے کے اہم ترین رجحانات بھی ان کی شاعری میں سے منعکس ہوتے چلے گئے ہیں۔ تاہم تصوف کے معاملے میں وہ غالب کی بجائے مولانا فضل حق کے طرف دار نکلے جنہوں نے غالب کو تصوف کی مبادیات سے بھی ناواقف قرار دیا تھا۔


ایک بار پھر اقبال، اور اس بار سلیم احمد کی کتاب "اقبال: ایک شاعر" کے حوالے سے۔ جمال پانی پتی نے اسے زندہ کتاب قرار دیتے ہوئے ان اعتراضات کو رد کیا ہے جو اس کتاب کے مندرجات پر وارد ہوئے ہیں۔ اس دفاع میں وہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ دراصل " اقبال: ایک شاعر" لکھتے وقت سلیم احمد کے ذہن میں سب سے پہلا سوال یہ تھا کہ اقبال شاعر ہیں یا ناظم؟ اور سلیم احمد چوں کہ اس نوع کے سوالات کو المیہ سمجھتے تھے لہذا وہ اپنے محبوب شاعر اقبال کے لئے آگے بڑھے۔ سلیم احمد میرے بھی محبوب ہیں مگر اس کا کیا کیجئے کہ سلیم احمد کے استاد مکرم پروفیسر کرار حسین کی اس بات نے دل میں جگہ بنا لی ہے کہ" موت کو اقبال کی شاعری کا مرکزی مسئلہ قرار دینے کے لیے اسے ان کے بطون ذات سے وابستہ کرنا ضروری نہ تھا۔" ہم دیکھتے ہیں کہ جمال پانی پتی کا سارا وزن سلیم احمد کے پلڑے میں ہے مگر پھر بھی حیات و موت کو التفات کے قابل نہ سمجھنے والے اقبال کی خودی اتنی با وزن نکلتی ہے کہ اس باب میں اُن کی ساری بحث کا پلڑا اوپر ہی کو اُٹھا رہتا ہے۔

"سر سید کا نظام تعلیم اور ہم" اس کتاب کا آخری مضمون ہے جس میں بجا طور پر سر سید کی تعلیمی پالیسی کے مایوس کن اور مضر اثرات کو نمایاں کر کے یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ تعلیم کا عام ہونا، جمہوریت کا آنا، علوم جدیدہ کی ترویج، سائنس اور ٹیکنالوجی کی طرف توجہ، یہ سب پیروی ¿ مغرب کی برکات سہی مگر مغربی مرعوبیت کے سبب بابائے اردو مولوی عبدالحق کے بقول "نقالوں کا طائفہ" پیدا ہو گیا تھا۔ آپ کی تشخیص بجا ہے جمال پانی پتی صاحب! افسوس کہ نقالوں کا یہی طائفہ اب قومی شناخت کو بھی مسخ کر چکا ہے۔

"اختلاف کے پہلو" میں شامل مضامین کا مطالعہ ہمیں جناب مشفق خواجہ کا ہم نوا بنا دیتا ہے کہ "جمال پانی پتی کی اُفتاد طبع نہ تو عام قسم کے سکۂ رائج الوقت حوالوں اور سوالوں کو قبول کرتی ہے اور نہ ہی ان کے تنقیدی منظر نامے میں غیر سنجیدہ موضوعات و مسائل کی کوئی گنجائش نکلتی ہے۔" یہی سبب ہے کہ ان سے بہت سے مقامات پر اختلاف تو کیا جا سکتا ہے مگر انہیں در گزر نہیں کیا جا سکتا۔

مشفق خواجہ کی رائے، جس سے میں اوپر اتفاق کر آیا ہوں، جمال پانی پتی کی دوسری زیر نظر کتاب "نفی سے اثبات تک" کے آغاز میں موجود "حرف اول" کا حصہ ہے۔ مشفق خواجہ صاحب کی باتوں کو "اختلاف کے پہلو" کے تناظر میں زیادہ سہولت سے سمجھا اور مانا جا سکتا ہے جو فکری مباحث کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ نفی اور اثبات والی کتاب یوں مختلف ہو گئی ہے کہ اس میں زیادہ تر مضامین کا تعلق بقول مصنف "معاصر تخلیقی یا تنقیدی ادب کے مسائل و معاملات سے ہے۔" جمال پانی پتی کی اس بات سے اِس اشتباہ کو شہ ملی ہے کہ "اختلاف کے پہلو" کا کوئی تعلق معاصر تخلیقی یا تنقیدی ادب کے مسائل و معاملات سے نہیں بنتا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ "اختلاف کے پہلو" میں اقبال کی شاعری اور خطبات کو زیر بحث لا کر نفی اور اثبات والی کتاب (کہ جس میں اولین اور نمایاں عنصر محمد حسن عسکری کی فکر ہو جاتی ہے) سے کہیں زیادہ عصری ادب اور جدید احساس سے جوڑ دیا گیا ہے۔ زیر نظر کتاب کے دوسرے حصے میں محب عارفی، ساقی فاروقی، نصیر ترابی، احسن سلیم اور فرید جاوید کی شاعری پر لکھے گئے مضامین کو شامل کر کے جمال پانی پتی نے ادبی تخلیقات کے حوالے سے لکھی جانے والی تنقید ہی سے مانوس قاری کے لیے بھی کچھ سہولتیں فراہم کر دی ہیں تاہم یہ مضامین بھی عمومی ڈگر سے ہٹ کر لکھے گئے ہیں۔ جب کہ تیسرے حصے میں ایک بنیادی مسئلے کو چھیڑ کر ہماری فکر ی رو کو ایک سمت عطا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

عہد جدید میں مغربی اثرات کے تحت جو نیا تصور پروان چڑھا ہے اس میں عقائد اور عبادات ثانوی ہو گئے ہیں اور اخلاق کی درستی کا مرتبہ بلند ٹھہرا ہے۔ اخلاق کے ہوتے ہوئے عقائد اور عبادات یعنی مذہب کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے؟ یہ وہ منطقی سوال ہے جو اہمیت و اعتبار سے ایمان، عقائد، عبادات اور اخلاقیات و احکام کی فطری ترتیب بدلنے سے پھوٹ پڑا ہے۔ "نعت گوئی کے تصور انسان" میں جمال پانی پتی بنیادی اہمیت ایمان کو دیتے ہیں۔ سر سید احمد خان، جو رسالہ "تہذیب الاخلاق" کے ذریعے اخلاق کے مرتبے عالی کرتے رہے اور مولانا الطاف حسین حالی، جو تمام ا دیان کا مقصد تہذیب الاخلاق کے سوا کچھ اور ماننے سے انکار کرتے تھے یا پھر مسدس مد و جزرِ اسلام والے مولانا حالی اسی باعث جمال پانی پتی کے ہاں لائق گرفت ٹھہرتے ہیں۔ یہیں محمد حسن عسکری کے اس جملے سی حظ اُٹھایا گیا ہے جو انہوں نے مسدس کے ان خوب صورت نعتیہ مصرعوں پر کسا تھا، "خطا کار سے در گزر کرنے والا" اور "اپنے پرائے کا غم کھانے والا۔" عسکری نے اُشغلا چھوڑا تھا کہ "خیر اتنا کام تو حالی خود بھی کر لیتے ہوں گے۔" تاہم جمال پانی پتی، ایمان کی بات کرتے ہوئے تسلیم کرتے ہیں کہ حالی اخلاقی آدمی ضرور تھے مگر ان کا مذہب اخلاق کے سائے میں نہ تھا۔ جمال پانی پتی نے عسکری کی فکر کی ترجمانی کرتے کرتے ان کے جملے کے لیے گنجائش نکالی اور اس سے حظ بھی اُٹھا لیا تاہم میرا معاملہ یہ ہے کہ میرے دل پر ملال کی بدلی سایہ فگن ہو گئی ہے۔ میں سمجھتا ہو کہ یہ قضیہ اُس طرزِ احساس کے سبب زیادہ گھمبیر ہو جاتا ہے جس میں ہم خلق عظیم کے مرتبہ عالیہ پر متمکن آقا ﷺ کی ذات کو ایک کُل میں دیکھنے کی بجائے ایمان و عقائد، عبادات اور اخلاقیات کے حوالوں سے اجزاء میں دیکھنے لگیں۔ حالی جب یہ نعتیہ اشعار کہہ رہے تھے تو اسی خلق عظیم کی طرف رفتہ رفتہ اور نہایت ادب سے بڑھ رہے تھے جو ایمان، عقائد، عبادات اور اعلی اخلاق کا امتزاجی شاہکار تھے۔ حالی کا غم کھانا اور درگزر کرنا خلق عظیم کے تصور سے وابستہ غم کھانے اور در گزر کرنے سے کیسے مماثل ہو سکتا ہے، صاحبو میں تو سمجھنے سے قاصر ہوں اور شاید یہی سبب ہے کہ میں اداس ہو گیا ہوں۔ تاہم جب جمال پانی پتی، عسکری کے، انسانی خوبیوں کا بہی کھاتا لکھنے والے حالی کو دیئے گئے طعنے کو قابل اعتنا نہیں سمجھتے تو وہاں حوصلہ بڑھتا ہے۔ وہ حالی کے دیوان میں شامل دو نعتیہ قصائد اور ایک نعت کے حوالے سے تسلیم کرتے ہیں کہ "حالی کی نظر دونوں جہات پر تھی۔" یاد رہے اب بات نعت کے تصور انسان کی طرف نکل آئی ہے اور یہاں نوری اور بشری یا پھر طبیعیاتی اور ما بعد الطبیعیاتی دونوں جہتوں کا تذکرہ ہو رہا ہے۔


یہیں جمال پانی پتی نے سلیم احمد کی وساطت سے بتایا ہے کہ عسکری جب "آدمی اور انسان" کے مسئلے سے اُلجھ رہے تھے تو محسن کاکوری کی نعت کا تصور انسان ان کی مدد کو آیا تھا۔ بات بجا ہو گی مگر اس مقام پر کراچی والے قمر جمیل مرحوم اور اسپین والے اونامونو ایک ساتھ میرے ذہن میں گھُسے آتے ہیں۔ قمر جمیل نے اپنے مضمون "اونامونو اور ادب" مشمولہ "جدید ادب کی سرحدیں" جلد اول میں رائے دی تھی کہ عسکری صاحب نے اونامونو کی کتاب "زندگی کے المیہ مفہوم" سے متاثر ہو کر "انسان اور آدمی" والا مضمون لکھا تھا اور بات سے بات نکالتے چلے گئے تھے۔ اوہ بات کسی اور طرف کو نکلے جاتی ہے، واپس پلٹتے ہیں کہ ادھر جمال پانی پتی ولی، سودا، غالب، اقبال، مولانا ظفر علی خان، احسان دانش، حفیظ ہوشیار پوری اور حفیظ جالندھری کے خوب صورت نعتیہ اشعار نقل کرنے بعد ہمیں بتا رہے ہیں کہ: "حالی سے شروع ہونے والے نعت گوئی کے دور جدید میں غالباً حفیظ جالندھری وہ آخری شاعر تھے جن کے ہاں حقیقت محمدیہ کے عقیدے کا بھرپور اظہار ملتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آج کل کی نعت میں زیادہ زور آپ کے پہلوئے بشریت پر دیا جاتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے مستثنیات کو نمایاں کیا گیا ہے اور اس باب میں ستار وارثی، شاہ انصار الہ آبادی، سلیم احمد اور حنیف اسعدی کے نعتیہ اشعار کو حوالے کے طور پر نقل کیا گیا ہے۔ حقیقت محمدیہ اور ذات محمد کی بحث میں مصنف کا موقف ہے کہ ان دونوں میں سے صرف اول الذکر ہی حقیقت ہے اور مو خر الذکر اس حقیقت کی مظہر۔ جمال پانی پتی کی یہ بات ذہن نشین رکھنے کے لائق ہے کہ نعتِ رسول کا موضوع بہت نازک ہے، ذرا سی بے احتیاطی سے بات بگڑ سکتی ہے۔

"محمد حسن عسکری: نفی سے اثبات تک" اس کتاب کا دوسرا مضمون ہے جو کتاب کا عنوان بھی ہو گیا ہے۔ فی الاصل دیکھا جائے تو جمال پانی پتی ہر دم اسی فکری علاقے ہی میں رہتے ہیں جو عسکری اور سلیم احمد کا مفتوحہ ہے۔ ان کی تحریروں میں ان دونوں سے اختلاف کے مواقع نہ ہونے کی برابر ہیں جبکہ اتفاق اور تصدیق کے مقامات برابر نکلتے ہی رہتے ہیں۔ اس کے با وصف تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس کی وجہ مرعوبیت نہیں، فکری ہم آہنگی ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس فکری علاقے میں رہتے ہوئے بھی تنقیدی حوالوں سے انہوں نے جس سنجیدگی سے کام کیا ہے اس نے انہیں اس سلسلے کا ایک قابل قدر نام بنا دیا ہے۔

زیر نظر مضمون کے تیور آغاز ہی میں بتا دیتے ہیں کہ وہ عسکری صاحب کے دفاع کا ارادہ رکھتے ہیں۔ عسکری صاحب کی زندگی میں ہی ایک بار مظفر علی سید نے کہہ دیا تھا کہ انہیں فرانسیسی آتی ہی نہیں تھی۔ اس جملے نے جمال پانی پتی کو یاد دلایا ہے کہ "فنون" کے کسی شمارے میں "ستارہ اور بادبان" پر تبصرہ کرتے ہوئے سجاد باقر رضوی نے انکشاف فرمایا تھا کہ "مظفر علی سید نے عسکری سے تھوڑی سی فرانسیسی پڑھ ڈالی۔ اس کے بعد یہ دعوی کرتے پھرے کہ میں عسکری کا شاگرد ہوں۔ عسکری صاحب کو خبر لگی تو وہ اس حقیقت سے انکاری ہوئے۔ اب جب سید صاحب سے کچھ نہ بن پڑا تو انہوں نے نعرہ لگایا کہ عسکری صاحب کو فرانسیسی آتی ہی نہیں"

پہلے تو، اس باب میں شہزاد منظر نے جو کہا اسے انہوں نے "بے پر کی اڑائی" کے کھاتے میں ڈالا اور بتایا کہ اس پر تو شمیم احمد نے "برشِ قلم" پھیر دیا تھا اور بعد ازاں واضح کیا کہ عسکری صاحب پر ہونے والے اعتراضات، خواہ ان کی زندگی میں ہوئے یا پھر موت کے بعد اسی قبیل کے تھے۔ اعتراضات کا جواب دیتے دیتے عسکری کی فکر کے شارح جمال پانی پتی کے قلم سے عسکری صاحب کی جو تصویر بنتی ہے اسکا دھندلا سا عکس اُن کے اِن بیانات میں دیکھا جا سکتا ہے:

  1. عسکری کا تصور روایت "جھلکیاں" سے "جدیدیت" تک آتے آتے متضاد نہیں ہوا تبدیل ہوا تھا۔
  2. "جھلکیاں" میں انہوں نے روایت کا وہی تصور پیش کیا جو مغرب میں سمجھا جاتا تھا اور "جدیدیت" میں وہ جسے مغرب بھول چکا تھا۔
  3. عسکری کا تصور روایت ایلیٹ کا تصور روایت نہیں رینے گینوں کا تصور روایت ہے۔
  4. جس وقت فرانس کے زوال پسندوں اور جمال پرستوں سے عسکری کے متاثر ہونے کا الزام لگا، عین اس وقت راں بو جیسے فن کاروں کے حوالے سے ہمیں بتا رہے تھے کہ اخلاقیات اور مذہب یا ایک ہمہ گیر نظامِ حیات کی اجازت کے بغیر حسن کو گھٹنوں پر بٹھانے کا انجام کس قدر ہول ناک ہو سکتا ہے۔
  5. عسکری کے ہاں ایک مرکزی روایت کا تصور ابتدا ہی سے موجود تھا۔
  6. یہ اعتراض درست سہی کہ عسکری ایک رائے پر قائم نہیں رہتے تھے، لیکن کیا زندگی بھر ایک ہی رائے پر قائم رہنا ادب یا زندگی میں کوئی بہت قابل قدر بات ہے؟
  7. سکری ترقی پسندوں سے اس لیے الگ ہوئے کہ وہ ادب کو سیاسی اور معاشی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھا رہے تھے اور ہمارے ہاں کے جدیدیوں سے اس لیے اتفاق نہ کر سکے کہ یہ لوگ انحراف و انکار کی ذہنیت ہی کو جدیدیت کے مترادف سمجھتے ہوئے انحراف و انکار یا نفی کے رویے ہی میں بند ہو کر رہ جاتے تھے۔
  8. عسکری صاحب کے ہاں مغرب کو رد کرنے کا مطلب مغرب سے بے تعلق یا بے خبر ہو جانا نہیں، بلکہ اس کا مطلب ہے مغرب کو اپنے اندر جذب کر کے اس سے اوپر اٹھنا یا آگے جانا ہے۔
  9. دراصل عسکری صاحب کا المیہ یہ ہے کہ انہیں نقاد بھی ملے تو ان گنوں کے جو ان کی سیدھی بات بھی ٹھیک سے نہیں سمجھ پاتے۔ کہو آم کی تو سنتے ہیں املی کی۔
  10. وہ جو عسکری صاحب نے کہا تھا کہ مغربی ادب کو سمجھنے کے لیے بھی مولانا اشرف علی تھانوی کی کتابوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے تو یہ بات سیدھی سی تھی کہ مغرب میں ایسی کتابیں ناپید ہیں جن سے مغرب کے روایتی فکر و ادب کو سمجھا جا سکتا تھا اور مسئلہ مذکورہ کا حل مولانا اشرف علی تھانوی کی کتابوں ہی میں مل سکتا تھا۔
  11. سوال یہ تھا کہ کیا مشرق اور مغرب کی روحانیت ایک ہی چیز ہے؟ عسکری صاحب نے ابن عربی کی "فصوص الحکم" اور کیرکے گورکی "خوف اور لرزہ" کے تقابلی مطالعے کے ذریعے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی۔
  12. مرکزی روایت کے تصور تک پہنچنے سے پہلے عسکری صاحب کے ذہنی اور روحانی سفر کا تعلق مغرب سے تھا، اس کے بعد مشرق سے ہو گیا۔ پہلے وہ مشرق کو مغرب کی آنکھ سے دیکھتے تھے، اب مغرب کو مشرق کی آنکھ سے دیکھنے لگے۔
  13. رینے گینوں سے متاثر ہونے کے بعد عسکری صاحب کے ذہن و فکر میں جو انقلابی تبدیلی واقع ہوئی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ادب کے تنقیدی معیارات مغربی ادب اور فکرو فلسفہ سے اخذ کرنے کی بجائے مشرق کے روایتی معیاراتِ تنقید سے ادب کا جائزہ لینے لگے تھے۔

"محمد حسن عسکری کا تصور روایت: ایک سوال" ڈاکٹر جمیل جالبی کے "مکالمہ۔1" میں شائع ہونے والے مضمون "حسن عسکری کا تصور روایت" کا رد عمل ہے۔ جمال پانی پتی کا اس مضمون پر اعتراض یہ ہے کہ عسکری کے تصور روایت اور ایلیٹ کے تصور روایت کے درمیان جو بنیادی فرق ہے اسے اِس میں زیادہ در خور اعتنا نہیں سمجھا گیا جب کہ عسکری صاحب نے آخری دور کے مضامین میں اپنے تصور روایت کی وضاحت کرتے ہوئے کہہ دیا تھا کہ اس کا ایلیٹ سے کوئی تعلق نہیں۔یہاں وہ وضاحت کرتے ہیں کہ ایلیٹ نے تاریخی شعور کو روایتی ادب کی بنیاد قرار دیا تھا جب کہ عسکری صاحب کے نزدیک روایتی ادب کی بنیاد ما بعد الطبعیاتی تصورِ حقیقت پر ہے۔ جمال پانی پتی اس مضمون میں جدید ادب پر روایتی معیار تنقید کے اطلاق کی گنجائشیں اور جواز نکالتے ہیں۔ اس باب میں عسکری صاحب کے حوالے سے ادبی تنقید کا ایک معیار شاہ وہاج الدین کی تصنیف"الکہف و الرقیم" کو قرار دیتے ہیں۔ مصنف کے نزدیک عسکری صاحب اگر ہمیں فلوبئیر اور بودلیئر سے شروع ہو کر جوائس، پاؤنڈ اور لارنس تک آنے والی مغربی روایت کو جذب کرنے کا مشورہ دیتے ہیں تو اس لیے کہ وہ ہمارے ادب کو مہملیت اور بے معنویت کے گرداب سے نکال کر بامعنی ادب کی تخلیق کا راستہ بتا سکیں۔

اب جن چار مضامین کا میں ذکر کرنے جا رہا ہوں وہ سب کی نوعیت فکری سے زیادہ ادبی بنتی ہے تاہم ان میں سے فکر کے عنصر کو بھی متحرک رکھا گیا۔ اس سلسلے کا پہلا مضمون "محب عارفی کا معنوی سفر " کا عنوان لیے ہوئے ہے۔ محب عارفی بقول جمال پانی پتی، روایتی طریقہ کار کے حوالے سے کسی سلسلے یا طریقت کے کسی ڈسپلن سے وابستہ نہیں تاہم وہ اپنی تربیت کے لحاظ سے روایتی اور اپنی تعلیم کے لحاظ سے جدید اور غیر روایتی آدمی ہیں۔ محب عارفی نے اپنی کتاب کا نام " مسلک معقولیت " رکھا تو جمال پانی پتی کے نزدیک اس کی معقولیت یہ ٹھہری کہ عقلیت کی تعلیم پانے والے محب عارفی کو انہوں نے عقل کی محدودیت کا واقف جانا۔ جمال پانی پتی نے محب عارفی کی اس معقولیت کے تصور کو فوراً بعد دھندلا دیا ہے کہ ان کے نزدیک مفہوم کی توسیع کے لیے انہوں نے عقلیت کی بجائے معقولیت کو اختیار کیا تھا مگر اپنی تمام تر کوشش کے باوجود عقلیت ہی کے محدود دائرے میں رہتے ہوئے احساس نارسائی کا شکار ہو گئے اور یہی احساسِ نارسائی ان کی شاعری میں در آیا۔ طرفہ تماشا دیکھئے کہ محب عارفی کے جن خوب صورت اشعار میں انہیں نارسائی کے سوا کچھ نہیں ملتا وہی میرے اندر اتھل پتھل مچا کر میرے وجود پر عجب کنائیوں کی پھوار برسا دیتے ہیں۔ محب عارفی کی معقول باتیں جمال پانی پتی کے لیے اس لیے مقبول نہیں ہوئی ہیں کہ وہ موجودات کی تحت المظاہری اصلیت معلوم کرنے کی شدید فطری طلب میں قرآن کے وسیلے سے عقل کی طرف نکل جاتے ہیں۔ جمال پانی پتی آخر کار تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن عقل کو بھی وسیلۂ معرفت کے طور پر تسلیم کرتا ہے مگر اس راندہ درگاہ عقل کا راستہ روکنے کے لیے سائنسی علوم کو مغرب کی شے قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مغرب کے سائنسی علوم علم کے ذرائع کو صرف حسی، عقلی اور عملی تجربے تک محدود کر کے رکھ دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اپنی میراث کے اس محدود استعمال پر کیا ہمیں اپنی میراث ہی سی منھ موڑ لینا چاہئے؟ جمال پانی پتی یقیناً ایسا نہیں چاہیں گے تبھی تو آخری جملے میں وہ محب عارفی کو قبول کرتے ہوئے یہ لکھ رہے ہیں کہ ان کا عقل سے کشف و الہام اور کشف و الہام سے وحی تک آنا ذرائع علم کی جامعیت کے حوالے سے نیک فال کی حیثیت رکھتا ہے۔

"دہری تلاش کا شاعر" کا عنوان پانے والا مضمون جدید شاعر ساقی فاروقی کے حوالے سے ہے۔ جمال پانی پتی درست شناخت کرتے ہیں کہ ساقی فاروقی اپنی سوچ اور طرز احساس ہی کے اعتبار سے جدید نہیں بلکہ اپنے طرز اظہار اور جمالیاتی وجدان کے اعتبار سے بھی جدید حسیت کے ایک اہم اور نمائندہ شاعر ہیں۔ انہوں نے ساقی فاروقی کے ادبی مسلک کو ان کی شخصیت کی طرح خاصا پیچیدہ قرار دیا تاہم اس جدید شاعر کے ہاں انہوں نے اس ناپسندیدگی کو ڈھونڈ نکالا ہے جو جدیدیت کے تنگنائے سے ساقی کو ہے۔ اس کی دلیل میں وہ ساقی کے اس بیان کو لاتے ہیں جس میں انہوں نے خود کو کمیٹڈ سوشلسٹ قرار دیا تھا پھر اپنے میلان طبع کو بائیں بازو والا کہا اور ساتھ ہی وضاحت کی تھی: یہ اس لیے نہیں ہے کہ Left to Right بلکہ اس لیے ہے کہ اسے گفتگو عوام سے ہے۔ جمال پانی پتی کو داد دی جانی چاہیے کہ انہوں نے ساقی فاروقی کے اس بیان سے وہ کچھ برآمد کر لیا جو ساقی، چاہے جتنے جتن کرتے، خود بھی برآمد نہ کر سکتے تھے کہ اس بیان معطوف میں انہوں نے کچھ ڈالا ہی نہیں ہوتا۔ جب ایک شاعر سب سے زیادہ یہ قرینہ رکھے کہ اس کی شاعری میں کسی خاص نظریے یا فلسفے کی ترجمانی کی بجائے شخصی بصیرت کا اظہار ہو اس کے ہاں سے کسی مسلک کی تلاش کیسے سودمند ثابت ہو سکتی ہے۔ ہم ساقی فاروقی کو اُن کے اِس وصف کی داد دینے کے لیے جمال پانی پتی کے ساتھ ہیں کہ وہ ایک مدت سے مغربی معاشرے میں بود و باش رکھنے کے باوجود اپنی ادبی اور ثقافتی روایات سے رشتہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اور یہ بھی درست ہے کہ کہ ساقی فاروقی اپنے ادب، اپنی زبان اور اپنے کلچر کے حوالے سے کسی احساس کمتری کا شکار بھی نہیں ہیں۔ اس مضمون میں ساقی کی نظموں اور غزلوں سے جدید طرز احساس کے پہلو بہ پہلو ماضی کی یادیں، مستقبل کے خواب اور موت کی اٹل حقیقت کا اعتراف دریافت کرتے کرتے جھوٹ اور خوف کا وہ دریا بھی ڈھونڈ نکالتے ہیں جس میں ہمارا شاعر ڈوب رہا ہے۔ جمال پانی پتی کا سوال ہے کہ کہیں یہ مغرب کا وہی معاشرہ تو نہیں جو اس کی ذات میں منعکس ہو رہا ہے۔ اس ساقی کے ہاں کہ جس نے خدا سمیت ہر اتھارٹی کو تسلیم کیا تھا، عرفان و آگہی کا حوالہ اس شعر سے بجا طور پر برآمد کرتے ہیں:

جس نے عرفان کی قندیل جلائی دِل میں
شک نہ کرنے کا حوالہ اسی رب سے آئے


جمال پانی پتی اسے شعور و احساس کی معنی خیز تبدیلی قرار دیتے ہیں کہ یہ انہیں خوئے انکار سے خوئے تسلیم کو لے آئی ہے۔ ساقی کے مزید اشعار سے اس خوئے تسلیم کی جھلکیاں دیکھ کر بھی ہم یہ کیسے بھول سکتے ہیں کہ عین آغاز میں انہیں پیچیدہ آدمی تسلیم کیا جا چکا ہے۔ اور سچ پوچھئے تو آخر میں جھلک دینے والی خوئے تسلیم نہیں بلکہ مستقل نوعیت کی پیچیدگی ہی ان کی اصل شناخت بنتی ہے۔

نصیر ترابی کے اولین شعری مجموعے "عکس فریادی" کے حوالے سے جمال پانی پتی کا مضمون "غزل کی تہذیب کا شاعر" بھی اس کتاب کا حصہ ہے۔ جمال پانی پتی نے رنجیدہ ہو کر کہا ہے کہ غزل کی روایت، غزل کی تہذیب اور غزل کے تہذیبی مزاج کی باتیں بہت سوں کی سمجھ میں اس لیے نہیں آ رہی ہیں کہ تہذیبی شکست و ریخت کے اس زمانے میں غزل کا رشتہ اس تہذیب اور تہذیبی اقدار کے اس نظام سے برائے نام رہ گیا ہے جس نے غزل کو پیدا کیا اور پروان چڑھایا۔ جب غزل کی تہذیب ہی نہیں ہے تو غزل کو اپنی بقا کے لیے نیا پن پیدا کرنے کے لیے روایت سے انحراف کی راہ اختیار کرنا پڑی جس کی حدیں بالعموم بھونڈے پن اور بوالعجبی سے جا ملیں یا پھر واقعیت نگاری پر اصرار سے غزل کے رمزی اور ایمائی تقاضوں کی نفی ہونے لگی۔ اپنی تہذیبی روایت پر اصرار کرنے والی غزل کے بارے میں جو سوال جمال پانی پتی کے ہاں در آیا ہے، یہ آج کا اہم ترین سوال ہے۔ اگر اردو کی سب سے مقبول صنف سخن، غزل کو اپنے تخلیقی وقار کے ساتھ زندہ رہنا ہے تو اس سوال کا معقول جواب تخلیقی اور جمالیاتی سطح پر نئے حسیاتی حوالوں سے جڑ کر تلاش کرنا ہو گا۔ جمال پانی پتی نے ناصر کاظمی اور عزیز حامد مدنی جیسے شعرا کے کام کو تخلیقی اور تہذیبی جہاد قرار دیتے ہوئے نصیر ترابی کو اسی کڑی سے بجا طور پر جوڑا ہے مگر کیا ایسا تخلیقی جہاد غزل کو تہذیبی روایت سے جوڑے رکھے گا یا پھر محض جدید منظر نامے میں چند انفرادی مثالوں کی صورت الگ تھلگ دیکھا جاتا رہے گا یہ سوال بھی اس لائق ہے کہ اس پر غور کیا جائے۔

"احسن سلیم اور جدیدیت کا اثباتی رخ" میں مصنف نے نثم گو احسن سلیم کو ایسا لکھنے والا قرار دیا ہے جو روایتی گلی سٹری لاش گھسیٹے پھرنے کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روایت کا شعور، جدید حسیت کے نو بہ نو رنگوں میں لپٹا ہوا ایک عجب انداز اور عجب شان سے ظاہر ہوتا ہے۔ احسن سلیم کی جدیدیت مصنف کو اس لیے قابل قبول ہے کہ ان کی جدیدیت انکار کی منزل سے گزرنے کے بعد اثبات کی طرف بڑھتی ہے اور یہ کہ اس کے ہاں صرف اس کا اپنا چہرہ ہی نہیں، اپنی تاریخ کا چہرہ بھی صاف نظر آتا ہے۔ فرید جاوید کی شاعری کا محاکمہ کرتے ہوئے انہوں نے اسے ایسا شاعر قرار دیا ہے جس کے الفاظ اور تجربات کی طرح اس کی دنیا بھی محدود تھی۔اس کی کل کائنات چند دوست، چند راتیں، نغمہ اور مے کی چند صحبتیں تھیں۔ اجنبیت، تنہائی، محرومی، نا آسودگی، طمانیت سے محروم گھریلو زندگی، غریب الوطنی، رنج و آلام اور مصائب فرید جاوید کی کل کائنات تھے۔ اسے اس نے اپنی تقدیر جان کر قبول کر لیا تھا۔ اور یہی سب کچھ اس کی شاعری کا حصہ ہوا۔ ایک بار پھر وہی سوال جو غزل کی بقا اور ارتقا کے سوال کے ساتھ جڑا ہوا ہے، پھر ہمارے سامنے آ کھڑا ہوا ہے۔ غزل کے لیے یہ بہت اعلی مواد سہی مگر کیا اس مواد سے جدید حسیاتی حوالوں اور سوالوں سے وابستہ انسان کو تخلیقی اور فکری سطح پر مطمئن کیا جا سکتا ہے۔

اور آخر میں "ایک بنیادی مسئلہ،۔ اور یہ بنیادی مسئلہ سائنس اور مذہب کی وہ کشمکش ہے جو مغرب میں انتہا کو پہنچی تو عیسائیت کے خاتمے کا باعث بنی اور ہمارے ہاں آئی تو ہمیں مضطرب کر دیا۔ جمال پانی پتی اس مضمون میں اضطراب میں مبتلا لوگوں کو دو طبقوں میں تقسیم کرتے ہیں۔

  1. سائنس کے ایسے طرف داروں کا طبقہ جو طرف دار ہوتے ہوئے بھی اس سے خوف کھاتا ہے۔
  2. سائنس کے ایسے مخالفین کا طبقہ جو مخالف ہو کر بھی اس کی جانب للچائی ہو نظروں سے دیکھتا ہے۔

جمال پانی پتی کا کہنا ہے کہ ہم اس کے حق میں ہوں یا خلاف، ہمارا رویہ اس کے رد و قبول کی کشمکش سے خالی نہیں ہوتا اور انجام کار پلڑا سائنس ہی کا بھاری نکلتا ہے۔ یہاں تک مسئلہ پوری طرح سمجھ میں آتا ہے۔ سر سید کی بابت جس نتیجے پر وہ اس مضمون میں پہنچے ہیں بالکل اسی نتیجے پر "اختلاف کے پہلو" کے آخری مضمون میں بھی پہنچے تھے جو ہمیں بجا معلوم ہوا تھا مگر جب وہ مغربی تہذیب اور سائنس کی بارے میں اقبال کے رویے میں تضاد نکالنا/ڈالنا چاہتے ہیں تو ان سے اختلاف کے شدید مواقع نکل آتے ہیں۔ اقبال جو علم اور سائنس کو مسلمانوں ہی کے اسلاف کی متاع گم گشتہ قرار دے کر اسے واپس حاصل کرنے پر اصرار کرتے تھے، جمال پانی پتی کو کیوں قابل قبول نہیں ہے میں اسے انتہائی درد مندی اور بے پناہ ہمدردی سے جاننا چاہتا ہوں۔ اگر اقبال اپنی شاعری میں مغربی تہذیب کو "فساد قلب و نظر" قرار دے رہے ہیں اور یہاں تک کہہ گزرتے ہیں کہ:

آہ از افرنگ و از آئینِ او
آہ از اندیشۂ لا دینِ او

اے کہ جاں را بازمی دانی زتن
سحرِ ایں تہذیبِ لا دینی شکن

تو اقبال کا یہ رویہ جمال پانی پتی کو قبول ہوتا ہے مگر جب وہ اپنی متاع کو واپس لینے کی بات کرتے ہیں تو یہ بات تسلیم کر لینے میں کیا رخنے آ جاتے ہیں۔ کیا یہ بات واضح نہیں کہ اقبال ان کی جدید تہذیب کو الگ کر کے صرف علم اور سائنس کو ترقی یافتہ صورت میں واپس لینے کی بات کر رہے ہیں۔ جب یہ بات نہیں سمجھی جاتی تو وہ مولوی بہت یاد آتے ہیں جنہیں شروع شروع میں مغربی سائنسی آلے لاؤڈ سپیکر سے ابلیس کی صدا سنائی دیتی تھی اور اب صبح و شام کھانستے بھی اسی میں ہیں۔


مان لیا کہ اقبال کے خطبات کے مخاطب وہ مسلمان تھے جو مغربی سائنس اور فلسفے سے متاثر ہو کر "محسوس کے خوگر" ہو چلے تھے۔ مگر کیا یہ رویہ درست ہو گا کہ محسوسات کے ان بندوں کو بے حسی اور لاتعلقی کے جہنم کا ایندھن بننے دیا جائے۔ یا یہ طرز عمل درست ہے کہ انہی کی محسوسات کو ما بعد الطبیعیات سے جوڑ دیا جائے۔ آخر اقبال کے معاملے میں آپ اتنی گنجائش پیدا کرنے کو کیوں تیار نہیں جتنی گنجائش محب عارفی والے مضمون میں صفحہ 121 پر یہ تسلیم کر کے پیدا فرما چکے ہیں کہ:

"خود قرآن بھی ہم سے کہتا ہے کہ ہم نے تمہیں آنکھیں، کان اور دل عطا کئے تاکہ تم ان کی ذریعے حق کو پہچانو، یعنی کشف و الہام تو رہے الگ، قرآن تو حواسِ ظاہری کو معرفت کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ اور یہ کہتا ہے کہ کائنات پر غور کرو۔ اس میں اللہ کی نشانیاں ہیں۔ یعنی قرآن کو بھی وسیلہ معرفت کے طور پر تسلیم کرتا ہے"

قرآن کی تعلیمات کے پیش نظر اگر یہی اقبال غور و فکر اور علم و نظر حتی کہ تحقیق اور تدبر کی زائیدہ سائنس سے اسی ما بعد الطبیعیات کی تصدیق تک جا پہنچتے ہیں جس کی تصدیق کے لیے آپ روایت پر اکتفا کرتے ہیں تو ان کا رویہ کیوں کر باطل ٹھہرتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ ما بعد الطبیعیات کا علم اقبال کی ہاں اس لیے ممکن ہو جاتا ہے کہ بظاہر دوئی سے دوچار موجود و معقول، ناظر و منظور اور موضوع و معروض کسی بالاتر سطح وجود یا مرتبہ وجود پر وحدت میں ڈھل جاتے ہیں۔ صاحب، اگر اقبال اپنے خطبات میں صرف یہ کہنے پر اکتفا کرتے کہ عالم اسلام کے تیزی مغرب کی طرف بڑھنے میں کوئی خرابی نہیں تو اعتراض کی گنجائش نکل سکتی تھی مگر جب وہ ساتھ ہی خبردار کرتے ہوئے اندیشہ ظاہر کرتے ہیں کہ کہیں اس تہذیب کی ظاہری چمک دمک راہ کی رکاوٹ نہ بن جائے اور ہم اس کے حقیقی جو ہر، ضمیر اور باطن تک پہنچنے سے قاصر رہیں تو جان لینا چاہیے کہ یہ حقیقی جو ہر، ضمیر اور باطن بھی ایک بالاتر سطح وجود پر وحدت میں ڈھل جاتا ہے۔

اور اب جب کہ میں یہ دونوں کتابیں بند کر کے ایک طرف رکھ رہا ہوں تو مجھے ایک اعتراف کرنا ہے۔ اور اعتراف یہ ہے صاحبو! کہ یہ مجھے پچھاڑ کر میرے سینے پر آ بیٹھی ہیں۔ ان کے مطالعہ مکمل ہوتے ہی میرے دل سے اِن کے لیے بے پناہ اُنس اُبل پڑا ہے۔ میں جتنا وقت جمال پانی پتی کی فکر و نظر کے ساتھ رہا ہوں، لفظ لفظ اور سطر سطر سے کلام کرتا رہا ہوں، اُلجھتا جھگڑتا یا پھر مرعوب ہوتا اور تسلیم کرتا رہا ہوں۔ زباں رواں، دلیل مضبوط، بات گہری۔ اپنے موضوعات سے کامل وابستگی، یوں کہ سارے مسائل ان کی اپنی زندگی کا مسئلہ لگنے لگے ہیں، ایک تہذیبی شخص کے زندہ وجود کا زندہ مسئلہ۔ مان لینا چاہیے کہ جہاں جہاں انہوں نے اختلاف کیا ہے ذاتیات کی بنیاد پر نہیں فکر و خیال کی بنیاد پر کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی تو وہ چلن ہے جو آج کی اردو تنقید کو درکار ہے۔ اب اگر میں ناقدین اور تخلیق کاروں کو مشورہ دوں کہ انہیں جمال پانی پتی کو پہلی فرصت میں یہ کتابیں پڑھ ڈالنا چاہییں، بلکہ فرصت نکال کر فوراً ہی پڑھ لینا چاہییں تو یقین کیجئے گا کہ یہ میرے دل کی آواز ہے۔ شاید اس طرح ہم اپنی تنقید کو تخلیقیت سے جوڑ سکیں، تخلیقات کے مغز سے کلام کر سکیں اور اپنے تخلیقی رویوں کو بھی با وقار بنا سکیں۔


فیض احمد فیض: فکر و فن اور نیا تناظر

فیض کی شاعری اور نئے تصادم

یہ ان دنوں کا قصہ ہے کہ گذشتہ صدی اپنی آخری سانسوں پر تھی اور لوگ اسے"دی موسٹ وائیلنٹ سنچری" کے نام سے موسوم کرنے لگے تھے۔ اور اب جب کہ اس صدی کے ابتدائی سال ہم پر بیت رہے ہیں کہنے والے صاف صاف کہنے لگے ہیں کہ صاحب یہ انسان اور انسانی اقدار کی سر بلندی کا نہیں، یہ تو دہشت کا زمانہ ہے۔

دہشت کے اس زمانی عرصے میں ہمارے یقین اور ایقان کو بے یقینی اور وسوسوں کی پھپھوندی لگ چکی ہے۔

ایسے اوندھا کر رکھ دینے والے زمانے میں یقین کی دولت سے مالا مال اور اپنے خون دل میں انگلیاں ڈبو کر شعر لکھنے والے فیض کو ہم یاد کرتے ہیں اور نئے حوالوں سے یاد کرتے ہیں تو دل امنگوں اور جذبوں سے کناروں تک بھر جاتا ہے۔

پہلے تو یہ بات کیا کم اہم ہو گی کہ عین اس عہد میں کہ جب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نام پر گاربیج انفارمیشن سے آج کے انسانی ذہن کو لاد کر ناکارہ کیا جا رہا ہے اور ڈس انفارمیشن کے حیلے سے ظالم حق پر اور مظلوم دہشت گرد ثابت ہو رہا ہے، ہم ایک شاعر کو یاد کر رہے ہیں۔

اس اعتبار سے دیکھیں تو یہ الٹی گنگا بہانے کی کوشش لگتی ہے۔

ایک ایسی کوشش جس کی مادے کی منڈی میں کوئی قیمت نہیں ہے۔

آج کل تو دہشت دہشت کھیلنے کا زمانہ چل رہا ہے کہ اس کی آڑ میں نئی نئی منڈیاں تلاش ہو رہی ہیں یوں دہشت منڈی کی چیز ہو کر بہت اہم ہو گئی ہے۔ لہذا دوسروں کے قومی وسائل اور توانائی کے سر چشموں پر دھونس دھاندلی اور طاقت سے قبضہ کرنا جائز ہوا۔ جہاں حملہ کرنا اور افواج بھیجنا بوجوہ موقوف کرنا پڑا ہے وہاں روشن خیالی اور اعتدال پسندی کے دل خوش کن نعرے کی سنہری زنجیر آدمی کے گلے میں ڈالی جا رہی ہے۔ سو صاحبو، عجب زمانہ آ لگا ہے کہ جس میں اپنی تہذیبی اقدار کا سوال قدامت پسندی اور کسی مربوط فکر اور نظریے کی بات کرنا ٹیکنالاجی کی برکات کا انکار اور بے وقت کی راگنی ہو گیا ہے۔ ایسے میں فیض کو یاد کرنا اور اس کی اس شاعری کو یاد کرنا جو سامراج پر کاری ضرب لگاتی ہے، کسی کی بھی پروا کیے بغیر، واقعی بڑے حوصلے کی بات ہے۔ حوصلے کا یہ قرینہ تو لگ بھگ فیض کے اس کہے پر چلنے کی کوشش سا ہو گیا ہے کہ:

متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خون دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے

نئے وقت کے تناظر میں فیض کی شاعری کا مطالعہ میرے لیے بہت پر لطف رہا ہے۔ دیکھیے ایک طرف نام نہاد روشن خیالی اور مجہول اعتدال پسندی کے پر فریب نغمے گونج رہے ہیں اور ادھر فیض کی شاعری ہے جس میں در زنداں پر صبا کی دستک کی بات ہوتی ہے۔ ایک طرف استعمار کے لاڈلے اپنے محبوب کی ہر قاتلانہ کروٹ پر سبحان اللہ اور ہر ٹھوکر پر حسبی اللہ کہتے نہیں تھک رہے اور دوسری طرف فیض کا فرمانا ہے:

بول، کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول، زباں اب تک تیری ہے
دیکھ کہ آہنگر کی دکاں میں
تند ہیں شعلے سرخ ہیں آہن
کھُلنے لگے قفلوں کے دہانے
پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن
بول، یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم و زباں کی موت سے پہلے
بول، کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول، جو کچھ کہنا ہے کہہ لے

فیض کا معاملہ یہ تھا کہ اس کے ہاں جسم کی موت اور زبان کی موت دو الگ الگ کیفیتیں تھیں جب کہ اس نئے عہد کے جملہ وارثان کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے لیے زبان کی موت سرے سے کوئی حادثہ ہی نہیں ہے۔ اور اس پر ایک اور سانحہ یہ گزرا ہے کہ ایسے میں ہمیں سمجھایا جا رہا ہے کہ زبانیں اہم ہوتی ہیں نہ ان کے بولنے والے۔ کہ اب صرف منڈی کی زبان اور منڈی کے آدمی کا چلن ہو گا۔ ہمیں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ کسی نظامِ فکر کی بات کرنا یا کسی نظام حیات سے وابستہ ہونا سب لا یعنی اور فرسودہ باتیں ہیں۔ ایسے میں فیض کو پڑھنا اور اس انسان کی بابت سوچنا جو مادے اور منڈی کے اس زمانے میں کائنات کے مرکز سے دھکیل کر حاشیے پر بھیج دیا گیا ہے اور ان افکار کی بابت سوچنا جس میں آدمی کا آدمی سے جڑنا اہم ہو جاتا ہے۔ آدمی جو فرد بھی ہے اور اجتماع سے جڑ کر انسانیت بھی تشکیل دیتا ہے۔ فیض کی شاعری ہمیں اسی انسانیت پر حملہ آور ہونے والے سامراج کے خلاف بغاوت پر اکساتی ہے۔یہ شاعری بتاتی ہے کہ سامراجیت ہر اک سیاہ شاخ کی کماں سے جتنے بھی تیر چلائے گئے وہ سب انسانیت کے جگر میں پیوست ہو کر ٹوٹے ہیں۔ تاہم زندہ معاشروں کا یہ چلن رہا ہے کہ انہوں نے ان تیروں کو اپنے جگر سے نوچ کر تیشہ بنا لیا ہے۔


ماننا پڑے گا کہ فیض اپنے دھیمے مزاج اور خود ضبطی کو چلن بنا لینے کی وجہ سے ان ترقی پسندوں سے بہت مختلف ہو گئے تھے جو اپنے بلند آہنگ شاعری سے فلک میں شگاف ڈالنے اور اپنی تدبیروں سے اسی آسمان میں تھگلی لگانے کے جتن کرتے کرتے ہلکان ہوئے۔ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ فیض کو رومانی رویہ عزیز رہا مگر اس سے کون منکر ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی شاعری میں مسلسل زندگی کی تلخ حقیقتوں کی طرف لپکتے رہے ہیں اور اسی لپک کی للک کو اپنے تخلیقی وجود کا حصہ بناتے رہے ہیں۔ اسی علاقے سے انہوں نے اپنی شاعری کے لیے جمالیاتی قرینے اخذ کیے اور یہ ایسے قرینے ہیں کہ ہم جیسے فیض کے ہاں دو آوازیں الگ سے شناخت کرنے والے بھی ان کی شاعری کے کشتگاں میں شامل ہو گئے ہیں۔ فیض نے آہنگ کے دیباچے میں مجاز کو انقلاب کا مطرب کہا تھا اور کسی نے خوب کہا ہے کہ انقلاب کے مطرب تو خود فیض تھے۔ ایک نئی طرز فغاں ایجاد کرنے والے۔ اور ایک ایسے انقلابی شاعر کہ جس کی شاعری پڑھتے ہوئے دل جھوم جھوم اٹھتا ہے اور قدموں میں مقتل کی طرف اٹھنے کا حوصلہ آ جاتا ہے:

رختِ دِل باندھ لو، دل فگارو چلو
پھر ہمیں قتل ہو آئیں، یارو چلو

یا پھر

شب کے ٹھہرے ہوئے پانی کی سیہ چادر پر
جا بجا رقص میں آنے لگے چاندی کے بھنور
چاند کے ہاتھ سے تاروں کے کنول گر گر کر
ڈوبتے، تیرتے، مرجھاتے رہے، کھلتے رہے
رات اور صبح بہت دیر گلے ملتے رہے

یہیں بتاتا چلوں کہ رات فیض کی شاعری کا ایک مرکزی استعارے کی صورت ظاہر ہوتی ہے جس کے مقابل وہ صبح اور طلوع سحر کو لے کر آتے رہے ہیں۔

رات باقی تھی ابھی سر بالیں آ کر
چاند نے مجھ سے کہا، جاگ سحر آئی ہے
جاگ اس شب، جو مئے خواب ترا حصہ تھی
جام کے لب سے تہ جام اتر آئی ہے

ہاں تو میں فیض کی شاعری کی جمالیاتی سلطنت کی بات کر رہا تھا اور اسی باب میں مجھے یہ کہنا ہے کہ فیض نے اپنی تہذیبی روایت سے ملنے والی زبان اور تمثالوں کو نئی معنویت کی مہک اور تاثیر کی کرامت عطا کی تھی۔ میں مانتا ہوں کہ کسی بھی فرد کی شاعری میں مضامین کی تکرار بہت کھٹکتی ہے۔ فیض کے ناقدین اس جانب انگشت نمائی کرتے آئے ہیں مگر میرا کہنا یہ ہے کہ فیض نے اپنے جمالیاتی وسیلوں سے دہرائے ہوئے مضامین کو الفاظ کے تخلیقی استعمال اور لہجے کو گداز رکھ کر اتنا مختلف بنا لیا تھا کہ پڑھنے والے کے سیدھا دل پر ہاتھ پڑتا ہے۔ فیض کے اسی ہنر کا قرینہ ہے کہ روایت کے خزینے سے وہ اپنی محبوبہ کے لیے رسوا ہوتے عاشق کو نکالتے ہیں اور اسے انقلابی بنا دیتے ہیں۔ یہاں گوشت پوست محبوبہ بھی اپنا منصب بدل کر انقلاب کی ساعت سعید ہو جاتی ہے۔ ایک طرف فیض کے ہاں رقیب روسیاہ، سامراجیت کی علامت بنا، محتسب اور شیخ جی جیسے سامراج کے ہرکارے ٹھہرے، جنوں سماجی انصاف کی للک ہوا، عقل عیار عسکری نظام سے سمجھوتے کا نشان بن گئی اور وصل کے معنی انقلاب ہو گئے تو دوسری طرف فیض کے ہاں یہ قرینہ بھی ملتا ہے کہ وہ ایسا کرتے ہوئے ان معنوں اور کیفیات کو سرے سے تلف نہیں ہونے دیتے جو ہماری تہذیبی اور شعری روایت کے اندر ان الفاظ اور تراکیب سے وابستہ چلے آتے ہیں۔

نہ سوالِ وصل، نہ عرضِ غم، نہ حکایتیں نہ شکایتیں
تیرے عہد میں دلِ زار کے سبھی اختیار چلے گئے

فیض کی شاعری کا فیضان یہ بھی ہے کہ اسے پڑھتے ہوئے ایک عجب طرح کے درد کی لذت عطا ہوتی ہے۔ وہ وجود جو لمحہ لمحہ منہدم ہو رہے ہوتے ہیں، توانائی اور قوت کی مئے سے مست ہو کر جھومنے لگتے ہیں۔ اس مئے کی مستی میں کوئی بھی محرومی یا نارسائی، رسوائی یا دل شکستگی کا سامان نہیں ہوتی، عزم اور حوصلے کا نشان ہو جاتی ہے۔اسی شاعری کا اعجاز ہے کہ زنداں کا پھاٹک محبوب کے آستان کا دروازہ بن جاتا ہے اور احترامِ آدمیت کی منزل، وصل جیسے لطف کا بدل ٹھہرتی ہے۔ میں نے کہا نا کہ فیض کی شاعری میں ظلم، ظالم، اہل جنوں، اہل ہوس، مدعی، منصفی، طواف، جسم و جان، فلک، فراق جیسے بظاہر روایتی الفاظ آئے ہی چلے جاتے ہیں اور یہ بھی کہہ آیا ہوں کہ فیض کا سوزِ دروں اور مزاج کی نرمی پا کر یہ الفاظ ایک نفاست اور خاص تخلیقی قرینے سے متن کا حصہ ہوتے ہیں جو صرف فیض ہی سے مختص ہے۔ یہاں اپنی بات دہر ا کر یہ اضافہ کرنا مقصود ہے کہ اس تخلیقی قرینے نے فیض کی شاعری میں اپنی تہذیبی زندگی کے بھید کو بھی ایک معنیاتی پرت کے طور محفوظ کر دیا ہے۔


فیض کے ہاں موضوع سخن ہو جانے والی زنداں کی ایک شام ہو یا زنداں کی ایک صبح، مجھے کسی نہ کسی حوالے سے آج کے عہد سے جڑی ہوئی لگتی ہے۔ ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ زینہ زینہ شام اتر چکی ہے۔ ہمارے روشن تہذیبی وجود کو لمحہ لمحہ قدم جمانے والی رات نگل لینے کے جتن کر رہی ہے۔ ہمارا تہذیبی وجود کیا خود انسانیت کو منڈی کی معیشت چرکے پر چرکا لگا رہی ہے۔ تہذیبی مکالمے کا فلسفہ مات کھا رہا ہے اور تہذیبی تصادم کی تھیوری کا الاؤ خوب خوب دہکایا جا رہا ہے۔ ایسے میں فیض کی شاعری کے ساتھ جڑنا ایک لحاظ سے سیاہ رات کی لمبی سرنگ کے دوسرے کنارے پر موجود اس روشن صبح کی امید سے جڑنا ہے جسے بہرحال ایک نہ ایک روز انسانیت کے بخت کا مقدر ہونا ہے۔

فی الاصل فیض اپنی زندگی میں ہی ان شاعروں میں پہچانے جاتے تھے جو اپنے بخت کا مقدر پا لینے کے لیے جہد مسلسل پر یقین رکھتے تھے تاہم وہ ان شاعروں سے الگ پہچانے جانے لگے تھے جن کے ہاں تجربہ اور حقیقت سامنے کی چیز ہیں۔ فیض کا قرینہ یہ رہا ہے کہ وہ اسے اپنے دھیمے رومانی مزاج کے معطر پانیوں سے دھو کر اور اپنے جذبوں کی نرم نرم مگر مسلسل آنچ سے تپا کر یوں چمکا لیا کرتے تھے کہ مصرعے کی تاثیر بدل جاتی تھی۔ یہی سبب ہے کہ سحر، رات، ظلمت، سویرا، مہتاب، ستارے، نور، افلاک جیسے عام سے الفاظ کا ذخیرہ فیض کی شاعری میں عام نہیں رہتا، اپنی الگ جمالیاتی قدر بنا لینے کی وجہ سے بہت اَہم ہو جاتا ہے۔ یہی لطیف جمالیاتی قدر، اجتماعی فرد سے جڑت اور انسانیت کش سامراج سے شدید نفرت اردو شاعری کے باب میں فیض کی عطا ہے اور یہ ایسی عطا ہے جس پر ہم بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں۔


فیض، اُردو افسانہ اور حقیقت نگاری

آپ کو فیض احمد فیض کا منشی پریم چند کی حقیقت نگاری کو نہایت بے دردی سے مسترد کر دینا تو یاد ہی ہو گا۔ نہیں تو یوں ہے کہ کچھ اشارے کر کے آپ کی یادداشت چمکائے دیتا ہوں۔ یہ گفتگو آل انڈیا ریڈیو لاہور سے 18 جون 1941 ء کو نشر ہونے ہوئی تھی اور فیض نے آغا عبدالحمید کو اس کے پریم چند کے حوالے سے "مجلس" میں چھپنے والے مضمون پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ تم نے تو اس تحریر میں پریم چند کو ٹالسٹائی بنا دیا اور دستوئیوسکی کا یوں ذکر کیا کہ وہ بھی چھوٹا معلوم ہونے لگتا ہے۔ آغا عبدالحمید نے لاکھ وضاحتیں کی اور دلیلیں دیں مگر فیض کا اصرار تھا کہ پریم چند کی حقیقت نگاری بہت حد تک محدود ہے۔ اس کے مطابق حقیقت ایک جامع چیز ہوتی ہے اور اس کی وضاحت وہی شخص کر سکتا ہے جس کے ذہن میں سماج کا مجموعی تصور موجود ہو جبکہ پریم چند کے ذہن میں یہ تصور موجود ہی نہیں تھا۔ پریم چند صرف ایک ہی طبقے کی زندگی کو نمایاں کر کے دکھانے کے قابل تھا۔فیض کا اعتراض یہ بھی تھا کہ پریم چند زندگی کے بہت سے پہلوؤں کے متعلق نہ صرف خاموش رہتا تھا بلکہ ان سے دانستہ چشم پوشی بھی کر لیا کرتا تھا۔یوں فیض نے صاف صاف فیصلہ سنا دیا تھا کہ منشی پریم چند اور جو کچھ بھی ہو حقیقت نگار ہر گز نہیں کہلایا جا سکتا۔

یاد رہے یہ پریم چند کی وہی حقیقت نگاری ہے جس کی نظیر سید سبط حسن کو کہیں اور نہیں ملتی تھی۔ افکار تازہ میں آپ نے اس کی وہ تحریر یقیناً دیکھی ہو گی جس میں سبط حسن نے پریم چند کی طرف سے پیش کیے گئے کسانوں کی آزادی کے تصور کو بہت سراہا اور اس کی تعبیر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے اس کی مراد سیاسی یا اقتصادی آزادی نہیں بلکہ تخلیقی عمل کی آزادی یعنی بشری آزادی تھی۔ سید سبط حسن کا موقف تھا کہ پریم چند کا یہ تصور روسو کی رومانیت نہیں بلکہ عین حقیقت شناسی تھی۔ اس نے اس کو ایک عظیم فن کار کی پرواز تخلیق کی معراج قرار دیا تھا۔ پریم چند کے ہیگل اور مارکس کے فلسفہ بیگانگی سے واقف ہونے کی بابت سید سبط حسن کو شک تھا تاہم وہ اس پر یقین رکھتا تھا کہ پریم چند کسانوں کے آزاد تخلیقی عمل کا موازنہ پرولتاریہ کے غیر آزاد تخلیقی عمل سے کیا کرتا تھا جس نے محنت کرنے والوں کو ہر قسم کی روحانی اور جسمانی آزادی سے محروم کر کے سرمائے کا غلام بنا دیا تھا۔ ایک ہی طبقے کی بھرپور نمائندگی پر پریم چند کو سید سبط حسن کا عین حقیقت شناس کہنا جب کہ فیض کا اس طرز عمل کو سراسر ناقص قرار دے کر اسے حقیقت نگار ہی نہ ماننا یقیناً اب آپ کو بھی میری طرح کھلنے لگا ہو گا۔

صاحب خدا لگتی کہوں تو افسانے میں حقیقت کا تصور شروع سے وہ نہیں رہا ہے جو نئے نئے سائنسی اور مادی نظریوں کے انسانی نفسیات اور حواس پر شب خون مارنے کے بعد ہو گیا ہے۔ افسانے کا فسوں تو مادی حقیقتوں سے ذرا فاصلے پر ہی اپنا رنگ جماتا تھا مگر عین بیسویں صدی کے آغاز میں یہ احساس شدید ہو گیا کہ انسان عقلی اور مادی سہاروں اور حوالوں کے بغیر بہتر طور پر زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ زندگی کی اس مجہول بہتری کے تصور کی زد میں انسان کی روحانی زندگی آ گئی اور سچ پوچھیں تو ایک اعتبار سے مادی زندگی کے نئے تصور نے انسانی کے تخلیقی وجود کو ہی تلپٹ کر کے رکھ دیا تھا۔ انسانی تصور کی اڑان میں سو طرح کے رخنے پڑ چکے تھے۔ اردو افسانے کو آغاز ہی میں اسی نئے بنتے بگڑتے انسان سے معاملہ درپیش تھا اردو تنقید عقلی اور اصلاحی رویوں پر زور دے رہے تھی لہذا افسانہ بھی ادبدا کر ادھر کو چل پڑا۔ کوئی مانے یا نہ مانے مگر یہ بھی واقعہ ہے کہ سائنسی رویے کلی طور پر انسانی جمالیات کا حصہ نہیں ہو سکتے اور اس کا سبب اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ سائنسی رویے اور مادی حقیقتیں سریت کو سرے سے مانتی ہی نہیں ہیں جب کہ سریت تخلیقی عمل کے محل سرا کا صدر دروازہ ہے۔

اچھا، ایسا بھی نہیں ہے کہ میں حقیقت کے سائنسی اور مادی تصور کو ادبی جمالیات سے کلی طور پر ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے تخلیقی عمل سے بارہ پتھر باہر کر رہا ہوں بلکہ سچ یہ ہے کہ میں افسانے کو حقیقت کے اس تصور کی طرف کھینچ لانے والوں کا ایک لحاظ سے احسان مانتا ہوں کہ انہوں نے انسانی لاشعور اور شعور میں ایک نئے طرح کے مگر مثبت تعلق کا علاقہ دریافت کرنے کی راہ دکھا دی تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مافوق الفطرت واقعات اردو افسانے سے بے دخل ہوتے چلے گئے۔ تاہم سید سبط حسن اور فیض دونوں حقیقت جس تصور کو اہم گردانتے رہے ہیں میری نظر میں وہ حقیقت کا بہت سطحی اور محدود تصور بنتا ہے۔ "ادب اور حقیقت " میں حسن عسکری نے بھی حقیقت کے اس تصور کو رد کیا تھا اس کا کہنا تھا کہ آرٹسٹ کے لیے حقیقت نہ تو چھپر ہیں، نہ محل نہ کمیونسٹ کا اعلان نامہ۔اس کے لیے تو حقیقت ایک احساس ہے، ایک سنسنی، ایک سرمستی، ایک ہسٹریا کا دورہ، یا وہ جسے شکسپیئر نے Fine Frenzy کہا تھا۔ "حسن عسکری نے اس معاملے میں صاف صاف کہہ دیا تھا کہ آرٹسٹ کے لیے شعور اور حقیقت ایک چیز ہے۔یوں دیکھیں تو حقیقت شناسی کے حوالے سے سید سبط حسن اور فیض کے ہاں حقیقت کے جو اختلافی علاقے دریافت ہوئے ہیں وہ اور بھی معمولی نوعیت کے لگنے لگتے ہیں۔ تخلیقی سطح پر حقیقت نگاری یہ نہیں ہے کہ ایک لکھنے والے نے زندگی کے کن کن گوشوں پر نظر کی اور کن کن طبقوں کو اہم جانا بلکہ میرے نزدیک تو حقیقت افروزی اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے لکھنے والا تخلیقی عمل کے دوران ایک بیکراں احساس کے زیر اثر ان عمیق جذبوں کو جگانے میں کامیاب ہو جائے جواس کی دھڑکنوں کو کائنات کے سینے میں گونجتی دھڑکنوں سے ہم آہنگ کر دے۔


انسانی فہم کے لیے اس کے ہونے کا احساس فی الاصل وہ علاقہ بنتا ہے جو بھیدوں سے بھرا ہوا ہے۔ ہونے کے مادی تصور پر قناعت کرنے والے افسانہ نگار حقیقت کے اس خارج سے جڑ جاتے ہیں جو بقول حسن عسکری شعور کا علاقہ ہیں۔ حقیقت کے اس جزوی علاقے کو اپنی کل کائنات بنا لینے والوں کا المیہ یہ رہا ہے کہ وہ نشاط ابدی سے بے گانہ ہو جاتے ہیں۔ جہاں جہاں اور جس جس نے حقیقت کے اس محدود تصور کے زیر اثر افسانہ نگاری کی وہ واقعہ نگاری کی سطح پر اتر آیا اور اس سطح کے نیچے جس روح کو تخلیقی عمل سے جاری ہو کر کائناتی حقیقتوں سے ہم آہنگ ہونا تھا ادھر متوجہ ہی نہ ہو سکا۔ یہ حقیقت سہی کہ انسان کو جسمانی سطح پر موت سے ہمکنار ہونا ہوتا ہے اور یہ بھی بجا کہ انسان کو اس موت کے مکروہ پنجے سے نہیں بچایا جا سکتا مگر کیا اس حقیقت کے زیر اثر یہ بھی لازم ہو گیا ہے کہ ہم انسان کے نصیب میں خود ہی تخلیقی، جمالیاتی اور روحانی موت بھی لکھ دیں۔فنا کے تصور کے ساتھ بقا کے تصور کو جوڑ لینے سے مادی حقیقتوں کی نفی نہیں ہوتی تاہم اس حقیقت کی محدودیت ختم ہو جاتی ہے۔ جو جو افسانہ نگار حقیقت کے محدود تصور کو غچہ دے کر کائناتی حقیقتوں سے جڑ گیا اس کے ہاں افسانے کا بیانیہ اکہرا نہیں رہا۔۔۔ اور یہی افسانے کی حقیقت نگاری ہے۔

فیض: فکر اور تنقید

اقبال کے بعد عوامی سطح پر سب سے زیادہ توقیر پانے والے فیض احمد فیض کے بارے میں اگر میں یہ کہہ دوں کہ وہ بہت بڑے تنقید نگار بھی تھے تو خدا لگتی کہوں کہ یہ بات قرین انصاف نہ ہو گی۔ میں بڑی حد تک خود فیض صاحب کی اُس بات سے متفق ہوں جو انہوں نے "میزان" کا دیباچہ تحریر کرتے وقت لکھ دی تھی، یہی کہ:

"ادبی مسائل پر سیر حاصل بحث کے لیے نہ کبھی فرصت میسر تھی نہ دماغ۔ ریڈیو پر اور مختلف محفلوں میں ان مسائل پر باتیں کرنے کے مواقع ملتے رہے، یہ مضامین ان ہی باتوں کا مجموعہ ہیں، اس لیے ان میں سخن علماء سے نہیں، عام پڑھنے لکھنے والوں سے ہے۔جو ادب کے بارے میں کچھ جاننا چاہتے ہیں۔"

آگے چل کر مزید لکھتے ہیں:

"بہت سی باتیں جو اس وقت (یعنی جوانی کے دنوں میں) بالکل نئی تھیں اب پامال نظر آتی ہیں اور بہت سے مسائل جو ان دنوں سادہ معلوم ہوتے تھے اب کافی پیچیدہ دکھائی دیتے ہیں۔"

یاد رہے فیض نے یہ سب کچھ اپنے مضامین کے مجموعے "میزان" کی پہلی اشاعت کے موقع پر یعنی 1960ء میں لکھا تھا اور لکھتے ہوئے پچیس سال پہلے والی جوانی کو یاد کیا تھا۔اس بیان کو دیکھیں تو میں چھپنے والے بیشتر مضامین کا دورانیہ 1935ء کے آس پاس کا بننا چاہیے۔ 1911ء میں پیدا ہونے والے فیض 1935ء میں عمر کے چو بیسویں سال میں تھے اور انگریزی کے استاد کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کرنے والے تھے۔ تب تک وہ جو کا م کر چکے تھے اسے یوں گنوایا جا سکتا ہے:

  • حفظ قرآن کی کوشش، اور مولوی ابراہیم میر سیالکوٹی سے عربی، فارسی اور اردو کی تعلیم، جس نے بقول فتح محمد ملک فیض کی شاعری کا لہجہ مارکسی جدلیات پر ایمان لانے کے با وصف مسلمان رکھا۔
  • شمس العلماء میر حسن ناز سے عربی فارسی میں دست گاہ، ایم اے انگریزی کرتے ہوئے ان کے اپنے بیان کے مطابق انگریزی ادب کے ساتھ ساتھ باقی یورپی ادب اور روس کے کلاسیکی ادب کا مطالعہ۔ اور اس قدر ڈوب کر مطالعہ کہ نظروں کے سامنے روس کی پوری دنیا گھوم گئی۔

1935ء ہی وہ سال بنتا ہے جب استاد فیض نے اپنے ایک ساتھی سے کیمونسٹ مینی فیسٹو لے کر پڑھا تھا اور اتنا پسند آیا تھا کہ وہ اسے پلٹ پلٹ کر پڑھتے رہے اور ہزار جان سے اس پر فدا ہوتے رہے۔ "مہ و سال آشنائی" میں لکھتے ہیں:

"انسان اور فطرت، فرد اور معاشرہ، معاشرہ اور طبقات، طبقے اور ذرائع پیداوار کی تقسیم، ذرائع پیداوار اور پیداواری رشتے، معاشرے کا ارتقائ، انسانوں کی دنیا کے پیچ در پیچ اور تہ بہ تہ رشتے ناطے، قدریں، عقیدے فکر و عمل وغیرہ وغیرہ کے بارے میں یوں محسوس ہوا کہ کسی نے اس پورے خزینۂ اسرار کی کنجی ہاتھ میں تھما دی ہے"

فیض کے "مہ و سال آشنائی" والے اس بیان کو سامنے رکھا جائے تو "میزان" کے دیباچے والی جوانی میں کچھ اور سال جمع کرنے پڑتے ہیں۔ "میزان" کے بعض مضامین کے آخر میں درج تاریخیں ان اضافی سالوں کا تعین کر دیتی ہیں اس ضمن کا آخری سال 1961 بنتا ہے۔ گویا فیض نے یہ مضامین پچیس سے پچاس سال کے عرصے میں لکھے تھے اور سچ تو یہ ہے کہ فیض کی شاعری کی جوانی کا یہی دورانیہ بنتا ہے۔ یاد رہے اس بیچ وہ 1936ء میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے قیام میں بھر پور حصہ لے چکے تھے فوج کے محکمہ تعلقات عامہ میں کپتان بننے اور میجر کے عہدے تک پہنچنے کے بعد 1947ء میں مستعفی ہو چکے تھے اور پھر اِن تحریروں سے واضح ہونے والے آخری سال کے قریبی عرصے میں پاکستان آرٹس کونسل لاہور کے سیکرٹری ہو گئے تھے۔تاہم اسے بھی دھیان میں رکھنا ہو گا کہ اسی دورانئے میں ان کا شعری مجموعہ "دست صبا" شائع ہو چکا تھا "مشہور مقدمہ سازش" اسیری اور اس کے تذکرے " زنداں نامہ "کے سبب وہ بہت شہرت بھی پا چکے تھے۔

یہ سارا پس منظر نگاہ میں رکھیں گے تو ان مضامین کی تفہیم بہت سہل ہو جائے گی۔ سہل ہونے کی بات میں نے فیض کے اپنے شخصی ہیجانات اور ترجیحات کو سمجھنے کے حوالے سے کی ہے ورنہ فیض نے اپنے سارے تنقیدی مضامین اور دیباچوں کو حد درجہ سادہ رہنے دیا ہے، اتنا سادہ کہ انہیں پڑھتے ہوئے تخلیقی عمل کی اِسراریت پر جما جمایا ایمان کہیں کہیں سے اُچٹنے لگتا ہے۔ اسے جملہ معترضہ ہر گز نہ جانیے گا کہ یہ کھٹکا وہاں وہاں ہوتا ہی رہتا ہے جہاں جہاں فیض اس طرح کے بیان دیتے ہیں:

"ترقی پسند ادب کا پہلا اور آخری مقصد بنیادی سماجی مسائل کی طرف توجہ دلانا ہے (ان مسائل میں غالباً طبقاتی کشمکش اور دنیوی آسائشوں کی تقسیم سب سے زیادہ اہم ہیں) اور سماج میں ایسے فکری یا عملی رجحانات پیدا کرنا جن سے ان مسائل کا حل نسبتاً آسان ہو جائے" -(ادب کا ترقی پسند نظریہ)

ایک ترقی پسندانہ فکر کے علم بردار کی حیثیت سے فیض کا بیان تسلیم کر بھی لیا جائے تو اس تخلیقی عمل کے کیا معنی بنتے ہیں جس میں امیجز ٹھوس نہیں رہتے سیال ہو جاتے ہیں، نورانی سی لکیریں یا پھر محض تصویری ہیولا بناتے ہیں۔ اور ان علامتوں کا کیا کرنا ہو گا جن کے ابعاد پھیلتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اندر ہی اندر ایک پیچیدہ معنیاتی نظام وضع ہونا شروع ہو جاتا ہے جو روح کے ساتھ جڑ کر باہر کے سارے مناظر کو ایسی تصویریں بنا دیتا ہے جن کی کوئی توجیح ان عمرانی مطالبات سے نہیں جڑتی جن کا فیض صاحب نے مطالبہ کیا ہے تو کیا ایسے میں باطن کے اس ارفع تجربے کی بنیاد پر اپنے قاری کو جمالیاتی فرحت اور باطنی ارتفاع سے ہمکنار کرنے کا سارا عمل تخلیقی سطح پر مردود ٹھہرے گا۔

ایسے میں فیض کی کئی خوب صورت نظمیں مجھے متوجہ کرنے لگی ہیں جو ترقی پسندانہ ادب کی فراہم کی گئی تشریح کو لائق اعتنا نہ جانتے ہوئے بھی اپنے قاری کو اُس کی داخلی اور حسی پس ماندگی سے نکال کر ایک ارفع درجے کی جمالیاتی فرحت سے ہمکنار کرتی ہیں۔ میں ایسی نظموں کو ادب کے اصل وظیفے کی رو سے اس ادب سے زیادہ ترقی پسندانہ سمجھتا ہوں جس میں قاری کو انگیخت کر کے ایک خاص علاقے کی طرف ہانکا جاتا ہے۔ فیض کی نظم "شام" "تنہائی " اور "زنداں کی ایک صبح " اس کی عمدہ ترین مثالیں ہیں۔ ایسی نظموں کے ساتھ ایسی غزلوں کی طرف بھی دھیان جاتا ہے جن کے ذریعے فیض غزل کے کلاسیکی اور رومانوی رنگ کو زندہ کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں ہر کہیں ان کی شخصیت کے سوز و گداز اور محسوساتی شدت نے تخلیقی عمل کو ایک لطیف جمالیاتی حسیت کا حصہ بنا دیا ہے۔

ادب کی جس تنقیدی تھیوری کا چلن فیض صاحب عام کرنے جا رہے تھے اس نے فراز تک آتے آتے بہت سے شاعروں کو گمراہ کیا اور اس نے خود فیض کی شاعری کو بیک وقت دو متضاد رویوں کے مقابل بھی کر دیا۔ میں دور نہیں جاتا صرف ایک مثال سامنے رکھتا ہوں اور یہ مثال پروفیسر فتح محمد ملک کی ہے جن کے دو مضامین میرے سامنے ہیں۔ ایک میں فیض کی شاعری سے دو آوازیں برآمد کی گئی ہیں اور یہاں تک کہہ دیا گیا کہ فیض مشق سخن کے دور میں ہی اپنی ذات کے بنیادی تقاضوں کو سمجھنے کی بجائے اپنے آپ کو شاعری کے رائج الوقت اشتراکی عقائد کے سانچہ میں ڈھالنا شروع کر دیا تھا۔ اور یہ کہ جوش کی طرح فیض کی بھی ایک نہیں دو شخصیتیں ہیں۔ اور بعد ازاں جب یہی بات "شام شہر یاراں " کی اشاعت پر انیس ناگی نے اپنے مضمون"بوڑھے شاعر کا المیہ" میں کہی تو دفع شر کے لیے پروفیسر ملک کا جو مضمون " فیض اور برہم نوجوان کا المیہ" سامنے آیا اس میں ان دو آوازوں کو شاعر کی اپنی زندگی اور ذات سے گرہ لگا کر ایک کر دیا گیا۔


فیض "شاعر کی قدریں" میں کہتے ہیں کہ آرٹ کی قطعی اور واحد قدر صرف جمالیاتی قدر نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شعر سے جو ہم جمالیاتی فرحت محسوس کرتے ہیں وہ شاعر ی کی دوسری قدروں سے متاثر ہوتی ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ شاعر کا تجربہ یعنی مضمون اور اس کا پیرایۂ اظہار ایک ہی پہلو کے دو مظہر ہیں۔فیض کی اس بات سے اختلاف ممکن نہیں ہے تاہم جب وہ جمالیاتی قدر کو سماجی اقدار کا سا بنا کر افادی فعل جیسا قرار دیتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ اس افادیت سے جمالیاتی قیمت بڑھتی ہے تو لامحالہ اختلاف کی گنجائشیں نکل آتی ہیں۔

"ادب اور جمہور" کے عنوان سے لکھتے ہوئے وہ ادیب کے ذہن کو ایسا آئینہ قرار دیتے ہیں جس میں سماجی حقیقت نگاری اور اس کا معاشرتی ماحول مجموعی طور پر منعکس ہوتا ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ادب کے بیشتر محرکات خارج میں ہوتے ہیں لیکن وہ اپنا کیمیائی عمل تو انسان کے باطن میں کرتا ہے ایسے میں ادب کا تخلیقی وجود صرف آئینہ نہیں رہتا۔ فیض کی بات مان لی جائے تو اس دوسری عمل کی نفی ہو جاتی ہے جو خارج کو پہلے تلپٹ کرتا ہے نوچتا کھسوٹتا ہے، گالتا اور پیستا ہے اور پھر اس خام مواد سے ایک نئے منظر نامے کو تخلیق کرتا ہے۔

"ہماری تنقیدی اصطلاحات" میں اپنے تنقیدی وسائل کی نشاندہی کی گئی ہے تشبیہ، استعارہ، سلاست روانی، بے ساختگی، شوخی، ظرافت، سوز و گداز، تصوف، مضمون آفرینی، معاملہ بندی، بندش، قافیہ، صنائع و بدائع یہ وہ تنقیدی اصطلاحات ہیں جو اس مضمون میں زیر بحث آئی ہیں۔"فنی تخلیق اور تخیل" میں فیض نے یہ ثابت کیا ہے کہ تخیل بجائے خود ایک تخلیقی عمل ہے۔ "خیالات کی شاعری" والے مضمون میں وہ اطلاع دیتے ہیں کہ اردو شاعری میں بحیثیت مجموعی خیالات کا عنصر دن بدن زیادہ ہوتا جا رہا ہے اور وہ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اس سے شاعر زیادہ سنجیدہ اور زیادہ ذمہ دار ہو چلے ہیں۔ انہیں جذبات کی صحت پر اعتماد نہیں رہا۔ بات جذبات اور خیالات کے متناسب امتزاج تک رہتی تو شاید نہ کھلتی۔ "موضوع اور طرز ادا "کے باب میں وہ لکھتے ہیں کہ اچھے ادب میں موضوع اور طرز ادا، اصل میں ایک ہی شے کے دو پہلو ہوتے ہیں اور ان میں دوئی کا تصور غلط ہے۔ جس امتزاج کی توقع "جذبات اور خیالات" کے باب میں کی جا رہی تھی وہ موضوع اور طرز ادا کے حوالے سے پوری طرح موجود ہے۔فیض بجا طور پر کہتے ہیں کہ "موضوع بغیر خوبیِ اظہار کے ناقص اور اظہار خوبی موضوع کے بغیر بے معنی ہے۔"

فیض قومی تہذیب کی تشکیل کو بہت اہم گردانتے ہیں "پاکستانی تہذیب کا مسئلہ" ان کے نزدیک یہی ہے کہ قومی مقام کو پہچاننے میں کوتاہی ہو رہی ہے۔ ایک اور مضمون میں ہر عہد کے نئے ادب کے بابت وہ کہتے ہیں کہ سماجی عروج و زوال کے ساتھ ساتھ زبان اور ادب کو بھی نشیب و فراز کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان کا نقطہ نظر ہے کہ اچھے ادب کی تخلیق کے لیے اور لوازمات کی علاوہ انفرادی اور اجتماعی ہیجان کا وجود لازمی ہے۔ایک اور جگہ انہوں نے لکھا ہے کہ ہمارے بیشتر نئے شعراء کا بہترین کلام وہی ہے جو ان کے اوائل سخن میں سے ہے۔ یاد رہے یہ وہی الزام ہے جو بعد ازاں وزیر آغا نے خو د فیض پر لگا یا تھا انہیں فیض کی ابتدائی شاعری میں تمثالوں کی تازگی، الفاظ، نیز لفظی تراکیب اور ان کا لہجہ منفرد لگا مگر بعد کی شاعری میں ان کے مطابق فیض نے کلاسیکی غزل کی امیجری اور لفظیات کا کلیشے کی صورت استعمال کیا۔


فیض کے بارے میں یہ متضاد آراء در اصل ان کی تنقیدی معتقدات کے وسیلے سے مسلسل سامنے لائی جاتی رہی ہیں۔ معاف کیجئے کہ میں ڈاکٹر آفتاب احمد کے اس کہے کو گمراہ کن سمجھتا ہوں کہ فیض کو مکمل سمجھنے کے لیے فیض کی شعری تخلیقات کے ساتھ ساتھ ان کے تنقیدی معتقدات کو پیش نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ فی الاصل معاملہ یہ ہے کہ فیض کے یہ تنقیدی مضامین ان کی شاعری کے مقابلے میں کوئی وقعت نہیں رکھتے۔ وہ اسرار جو خود فیض کی شاعری کو بقول کسے زبان پر تیر جانے والی بادۂ شیراز بنا دیا تھا وہ تو فیض کے ان مضامین میں کھلتا ہی نہیں ہے تاہم ان کی لفظیات اور تراکیب کو ہی کو سب کچھ سمجھ لینے والے فکری فقروں کی گمرہی کا سامان ان میں سے خوب خوب نکلتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ فیض کی شاعری کو پڑھتے ہوئے تو ان کے دولخت ہونے کا تاثر دھیما دھیما اُبھرتا ہے جب کہ ان کے نظریات اور ان کی تنقید پیش نگاہ ہو تو اس تاثر کو ان کی ساری شاعری پر پھیلا دینا پڑتا ہے۔

فیض کا اصل امتیاز اور ان کی بے پناہ مقبولیت کا سبب کچھ لو گوں کے قریب ان کی شخصیت کا گلیمر ہو تو ہو میرے نزدیک یہ ہے کہ فیض نے موضوع اور طرز ادا کا امتزاج تلاش کیا اور اپنے ادب کے ان تخلیقی وسائل کو بروئے کار لائے جن کا تذکرہ وہ "ہماری تنقیدی اصطلاحات" والے مضمون میں کرتے ہیں۔ انہوں نے قومی تہذیب کی تشکیل کی سعی بھی کی اور کلاسیکی غزل کی علامات کو اسی تہذیبی تشکیل کے لیے نئی معنویت دی یوں کہ وہ اپنی جڑوں اور روایات کے ساتھ جڑے رہے۔ فیض غالب کے طرف دار رہے اور اقبال کی روایت کو ایک سطح پر اپنایا بھی یوں دونوں کا ایک عجب امتزاج ان کے تخلیقی وجود کا حصہ ہو گیا جسے مارکسیت کا تڑکا بھی میسر تھا۔ انہوں نے مصرعوں کو کھردرا نہیں ہونے دیا، وہ بہاؤ میں خوب رواں رہے اور اثر انگیزی میں انتہائی لطیف۔ان کے مزاج کے دھیمے پن اور ایک خاص قسم کی نرگسیت نے ان کی ترقی پسندی میں آمیز ہو کر قاری کو یوں متوجہ کیا کہ اسے اپنا دکھ اس میں جھلک دینے لگا اور ساتھ ہی ساتھ ایک لذت بھی اسے مسحور کرنے لگی۔ جہاں کہیں یہ امتزاج نہیں بنا بے شک وہاں دوئی کا احساس بھی ہوا مگر وہاں بھی اسلوبیاتی خصائص نے ان کے معنیاتی رخنوں کو پاٹ دیا اور فیض کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے خلق خدا کو اپنی شاعری میں یاد رکھا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خلق خدا نے اپنی بے پناہ محبتیں ان پر نچھاور کیں۔


جو ن ایلیا کے نام ایک خط جو ڈیڈ لیٹر ثابت ہوا

جون ایلیا کی وفات کے ٹھیک ایک برس بعد ہمارے نظم نگار دوست مقصود وفا فیصل آباد سے اپنے جریدے کا خاص نمبر لانا چاہتے تھے۔مقصود نے گزشتہ ایک شمارے میں جون کے کچھ متنازعہ خطوط چھاپے جن کی گونج ابھی باقی تھی۔ مقصود کے اصرار پر جب جون کی شاعری پر لکھنے بیٹھا تو یہ خط کمپوز ہو گیا تھا۔ مقصود کا جریدہ بوجوہ شائع نہ ہو سکا اور یہ تحریر بھی ادھر ادھر ہو گئی۔ کچھ روز پہلے کچھ اور تلاش کرتے ہوئے اس پر نظر پڑی تو یوں لگا جیسے یہ ایک ڈیڈ لیٹر تھا۔ مرنے والے ایسے خطوط سے بے نیاز ہوہی جایا کرتے ہیں۔

اے جون ایلیا: فقط تمہارے لیے محمد حمید شاہد

پیارے جون! آداب

مرنا ہر کسی کو ہوتا ہے، اس لیے وہ مر جاتا ہے گذشتہ نومبر کے پہلے دہے میں تمہاری مدت حیات بھی تمام ہو گئی۔۔۔ مگر مجھے دیکھو کہ میں تمہیں خط لکھ رہا ہوں۔ ایک گزرے ہوئے شخص کو خط ۔۔۔ تم چاہو تو قہقہہ لگا سکتے ہو۔ مجھے بھی اپنی یہ حرکت بڑی احمقانہ لگتی ہے اور میں نہیں جانتا تمہیں یہ پرچہ عدم آباد کے پتے پر مل بھی پائے گا۔ ویسے سچ پو چھو تو اس کا تمہیں ملنا یا نہ ملنا میرا مسئلہ نہیں ہے۔ میرا مسئلہ تو یہ ہے کہ میں نے تمہارے وہ خطوط پڑھ لیے ہیں جن میں تمہاری روح حلول کر گئی ہے اور اب یہ صورت ہے کہ میں کوریا کے ان باشندوں جیسا ہو گیا ہوں جنہیں یقین تھا کہ درختوں کے نیچے مرنے والوں کی روحیں ہمیشہ کے لیے چھال کے اندر لکڑی میں اتر جاتی ہیں۔وہ درختوں کو کاٹتے ہوئے کیک شراب سور کا گوشت نذرانہ پیش کرتے تھے۔ میں نے تمہارے خط پڑھے تو مجھے یوں لگا جیسے نذرانے میں تمہاری روح مجھ سے الفاظ مانگتی تھی اور مجھے یہی مناسب معلوم ہوا کہ اس معاملے میں تمہارا تتبع کروں لہذا خط لکھنے بیٹھ گیا ہوں۔

پیارے جون، ذرا مڑ کر دیکھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ مدتِ مدید سے جس نے خون تھوکنے کو اپنا وتیرہ کر لیا ہو، کچھ ایسا وتیرہ کہ وہ اس کا پیشہ دِکھنے لگے تو اس کے ساتھ چلنے والوں کا اوب جانا انہونی کا ہونا نہیں ہوتا:

خون بھی تھوکا، سچ مچ تھوکا، اور یہ سب چالاکی تھی

لہذا تمہارے ساتھ بھی ویسا ہی ہوا جیسا ایسے میں ہوتا ہے۔۔۔ حتی کہ تمہیں اپنوں کی اکتائی ہوئی آوازیں صاف صاف سنائی دینے لگیں:

جون! او خون تھوکنے والے!
اب دِکھانا تجھے ہے کرتب کیا؟

اور تم نے یہ کرتب دکھایا کہ موت کی بانہوں میں سمٹ کر مر گئے:

یارو! کچھ تو ذکر کرو تم اس کی قیامت بانہوں کا
وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں، وہ تو مر جاتے ہوں گے

یہاں اس شعر کا محل کیا ہے؟ تم نے ہونٹوں میں ہنسی دابنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے، شعر فہمی کے معاملہ میں، میرے ٹھوکر کھانے کی بابت گما ں باندھا ہو گا اور سوچا ہو گا کہ "موت" اور "محبوبہ" کو ہم مرتبہ کیوں کر کہا جا سکتا ہے۔ تم ایسا سوچ سکتے ہو کہ تم بے پناہ محبت کی طلب میں مرتے رہنے کا چلن رکھتے تھے، مگر وہ جو" محبوبہ" کا عالی رتبہ پا لے اس کی محبت میں شاعرانہ انا کو مار دینے کا یارا شاید تم میں نہیں تھا۔ ایسے میں زاہدہ حنا کے نا م 15 نومبر 1969ء کو لکھے گئے تمہارے خط کے یہ جملے یاد آتے ہیں:

"آج مجھے نہ جانے کیوں ایک بات ہمیشہ سے زیادہ محسوس ہو رہی ہے اور وہ یہ کہ مجھے کسی نے چاہا نہیں ایسا چاہنا جسے واقعی چاہنا کہتے ہیں اور کسی قدر چاہا بھی تو اس کے ساتھ وہ سب کچھ بھی کیا جو بدخواہ اور دشمن ہی کر سکتا ہے۔ میری غیبت، برائی، میرے خلاف زبان اور وقت پر میرا ساتھ نہ دینا وغیرہ وغیرہ"


جسے اپنے چاہنے والے کی بابت ایسے وسوسے سنپولوں کی طرح ڈسنے لگیں وہ اکثر اپنے محبوب کو کھو دیتا ہے۔ رولومے نے کہا تھا کہ ایسے لوگ بہت جلد تنہا ہو جاتے ہیں اور یہ تنہائی خالی پن لے آتی ہے۔

وہ چھٹا خط جس پر کوئی تاریخ درج نہیں مگر جسے تم نے مقصود وفا کو دیتے ہوئے باقی خطوط کے ساتھ اس کے چھپنے کی خواہش کی تھی اسی خالی پن کا شاخسانہ لگتا ہے۔

اے جون!میں تمہارے حق میں لکھنے بیٹھا تھا خدا گواہ لکھنا بھی تمہارے حق میں چاہتا ہو ں کہ ہماری تہذیب میں مرنے والوں کی صرف نیکیاں گنوائی جاتی ہیں مگر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس قلم کو نہیں روک پا رہا جو فکشن نگار زاہدہ حنا اور تمہارے بچوں کی خاموش اذیت کو محسوس کر کے بہک گیا ہے۔ کاش تم نے یہ خط نہ لکھے ہوتے، لکھے تھے تو چھپنے کو نہ دیئے ہوتے، چھپ گئے تھے تو میری آنکھیں پھوٹ گئیں ہوتیں اور میں نے نہ پڑھے ہوتے۔ مگر حیف کہ یہ سب کچھ ہوا ہے اور اس کے باوجود کہ تمہارے مجموعے " یعنی" کی بعد از وفات کی اشاعت کی خبر نے مجھے چونکایا، ان خطوط کے لفظوں میں بھری آگ میں بھسم ہوتا رہا ہوں۔ اب یہ سطریں لکھ بیٹھا ہوں تو یوں ہے کہ میرے دل کا غبار چھٹ گیا ہے۔ میں تمہاری طرف دیکھ کر نادم ہو رہا ہوں کہ تم میری راہ روکے نہ جانے کب سے اپنی کھوکھلی رانوں پر استخوانی پنجے مارتے ہوئے دہرائے جاتے ہو:

بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا

پیارے جون، تم جانتے ہو کہ ادب کی طریقت میں کسی کے حق میں بولنے کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ اس کے فن اور اس کی فکر کو گفتگو کے لائق جانا جائے۔سو ان معنوں میں، میں جو عین آغاز میں کہہ آیا ہوں اسے بھی اپنے حق میں کہا ہوا جانو۔ اور ہاں سنو میں تمہارے مزاج سے آگاہ ہوں اور جانتا ہوں کہ تم مزاج کے اعتبار سے ترقی پسند نہ تھے ترقی پسندوں کی صحبت میں بیٹھ کر خود کو ان جیسا سمجھ بیٹھے تھے۔ کون جانے کہ یہ ان کا بہکاوا تھا یا ان حلقوں تک سرایت کیے رکھنے کی تہاری للک کہ بظاہر تم "اعلان جنگ" سے کم پر راضی ہونے والوں میں سے نظر نہیں آتے تھے۔۔۔ کم از کم تمہارے پہلے مجموعے "شاید" سے تو یہی پتہ چلتا ہے ۔۔۔ تاہم ادھر کان دھرو تو ایک بات کہوں کہ اس باب تم مجاز اور جالب کے بیچ بھٹکتے رہے ہو۔تمہارا المیہ تو وہ بھی نہیں بنتا جو فیض احمد فیض کا بن گیا تھا، وہی دو آوازوں والا۔ تم نے لکھا تھا:

"الم نصیبو! بہادری سے، ستم نصیبو! بہادری سے
صفوں کو اپنی درست کر لو کہ جنگ آغاز ہو چکی ہے"
(اعلان جنگ)

مگر حرام ہے کہ الم نصیبوں اور ستم نصیبوں کے کانوں پر جوں تک رینگی ہو۔ تاہم جب تم نے یہ کہا کہ:

خوب ہے شوق کا یہ پہلو بھی
میں بھی برباد ہو گیا تو بھی

تو سب تڑپ اٹھے یوں جیسے بربادی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں اور ایک خنجر سا دل میں اترتا محسوس کر رہے ہوں۔ تم ترقی پسندوں کے نرغے میں رہنے کے سبب جو "انقلابی" شاعری کرتے رہے اس کی لپک نرغہ ڈالنے والوں تک رہی ہو تو رہی ہو اس سے آگے نہ بڑھی۔ میں نے ایسی شاعری کو پوری توجہ سے پڑھا۔۔۔ شاعری کو بھی اور اس بحث کو بھی جو "شاید" کے مفصل دیباچے میں تم نے کی ہے۔ مگر طرفہ دیکھو کہ میں تمہاری ترقی پسندی کے باب میں جس قدر الجھتا جاتا تھا تمہاری رومانوی رویے کی صداقت پر اتنا ہی ایمان پختہ ہوتا جاتا تھا۔


جان من جون! "شاید" کے دیباچہ "نیاز مندانہ" کا ذکر چل نکلا ہے تو جی چاہنے لگا ہے کہ جنہیں تم نے اپنی فکری بنیادیں قرار دیا انہیں ذرا ترتیب سے دہرا لوں۔ کیا تم یہی کہنا چاہتے تھے نا!۔۔۔ بقول تمہارے:

  • تمہارا سب سے بڑا مسئلہ یقین سے محروم ہو جانے کی اذیت سے تعلق رکھتا تھا۔
  • ارتیابیت تمہارے نزدیک خوش آئند کیفیت نہیں تھی۔
  • کائنات کی ما بعد الطبیعاتی توجیہہ تمہارے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتی تھی
  • دلیل ولیل کچھ نہیں ہوتی یہ تو تاریخی، سماجی اور نفسیاتی تکییف (conditioning) ہوتی ہے جو کسی رائے اور مسلک کو رجحان پیدا کرتی ہے۔

جس یقین کے ساتھ تم یقین سے محروم ہونے کی بات کرتے ہو اس سے تمہارے بے یقین ہونے کا معاملہ مشکوک ہو جاتا ہے۔ بس ہوا یہ ہے کہ تم عین اٹھتی عمر میں ہیوم کو پڑھ کر چونکے، اس سے پہلے ترقی پسند تم پر وار کر چکے تھے بس پھر کیا تھا، بقول تمہارے تم "دین دنیا سے جاتے رہے" یہ تم سمجھتے ہو ۔۔۔ یا شاید تم ہمیں یہی کچھ باور کرانا چاہتے۔ مجھے تو یوں لگتا ہے جس طرح تم چونکے تھے اسی طرح اوروں کو چونکانا چاہتے تھے۔ تمہاری شاعری کی روح کا یہ حصہ نہ ہو سکا تو تم نے دیباچے کا حصہ بنا دیا۔ مگر یہ تو ایسا ہی تل نکلا جو گوری چٹی خاتون نے سلیمانی سرمے سے عین گال پر لگایا تھا اور پہلے بوسے ہی میں اڑنچھو ہو گیا۔

میرا جی چاہنے لگا ہے جون کہ اب تمہاری شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرنے والے ان جبری دھاروں کو نظر میں سمو لوں جو بہر طور تمہارے مقدر کا حصہ ہو گئے تھے۔ بے شک تم نے جب اپنے ایک انٹرویو میں یہ کہا تھا کہ "میں تو ایک جاہل ہوں۔ agnostic ہوں" تو ساتھ ہی تقدیر کی نفی کی تھی۔ تم مقدر کے اس جبر کو شناخت کر رہے تھے جس کی سبب انسان ایک "سلسلہ واقعات" سے نہیں نکل سکتا مگر اسے تقدیر ماننے سے انکاری تھے اور کہتے تھے کہ "اس کا ماورائی ہونا ضروری نہیں۔" مجھے تمہارے فکری الجھاووں کا سلسلہ تمہارے اس اعتراف سے جڑتا ہوا محسوس ہوتا ہے جس کے مطابق تم "تشکیک" کی "عذاب ناکی" سے دو چار تھے۔ ہاں تو میں اس جبر کی بات کر رہا تھا جو تمہارے نزدیک تقدیر نہیں اور میرے لیے تقدیر ہی کا درجہ رکھتی ہے کہ تم اس بارہ میں انتخاب کا کوئی اختیار نہیں رکھتے تھے۔ مثلاً یہ کہ

  • تم امروہہ میں پیدا ہوئے، 1936 کا سال تھا اور مارچ یا پھر دسمبر کا مہینہ۔
  • تمہیں علمی ماحول یوں میسر آیا کہ تمہارے دادا، پردادا شاعر تھے اور تمہارے والد شفیق حسن ایلیا بھی۔
  • تمہارے تینوں بھائی کمال امروہوی، رئیس امروہوی اور سید محمد تقی بھی شاعر یا فلسفی نکلے۔

تم امروہہ کے اس علمی ادبی فضا میں پیدا نہ ہوتے چیچوں کی ملیاں کی کسی تاریک گلی میں بسنے والے اس مفلس کے گھر پیدا ہوتے جس کے باپ داد سب ان پڑھ تھے اور جس کے نزدیک لفظ، معنی اور جمال کی بحث بے ہودہ اور صرف چکی کی مشقت واجب ہو جاتی ہے تو کیا تم پھر بھی اس کینڈے کے شاعر بن کر نکل سکتے تھے؟ اور کیا تم پھر بھی تقدیر کا یوں ہی انکار کر دیتے؟۔۔۔ میں جانتا ہوں تمہارا منطقی ذہن دونوں بار "نہیں" کہنے پر مجبور ہو گا۔۔۔ مگر میرا حوصلہ دیکھو کہ میں دونوں سوالوں کا جواب "ہاں" میں دینا چاہتا ہوں۔۔۔ اس لیے کہ میں مقدر پر یقین رکھتا ہوں۔۔۔ اور جس کے مقدر میں ہوتا ہے الفاظ اس کا سینہ روشن کر دیتے ہیں اور منزلیں خود اس کے لیے بانہیں وا کیے چلی آتی ہیں تاہم اس تقدیر کی بھی ایک منطق ہے کہ اس کے لیے اپنا اپنا "خنجر تیز رکھنا" پڑتا ہے۔ تو جون جی تقدیر اور ماورا کے حوالے سے اپنے آپ کو agnostic کہہ کر تم جو تضاد کی دھند بنا گئے ہو کوشش سے بھی وہ صاف نہیں ہوتی خصوصاً وہ جو تمہارے شعروں میں در آئی ہے۔ مثلاً جب تم یہ کہتے ہو کہ:

اب فقط عادتوں کی ورزش ہے
روح شامل نہیں شکایت میں

یا پھر

سلسلہ جنباں اک تنہا سے روح کسی تنہا کی تھی
ایک آواز ابھی آئی تھی، وہ آواز ہوا کی تھی


تو میں نہیں جانتا اے میرے پیارے جون، تمہارے agnostic ذہن میں اس "روح" کے کیا معنی نکلتے ہیں۔ فی الاصل ماورا تمہارے اندر کہیں یقین کی طرح موجود ہے تبھی تو روح کی روح تمہارے شعروں میں دندناتی پھرتی ہے۔ دیکھو جون، یہ روح وہ خاص جوہر ہی تو ہے جو فکر و شعور اور عقل و تمیز کا اختیار رکھتا ہے۔ اس بارہ میں میرے خدا کا کہا سنو، جس کے اب تم مہمان ہو اور جس پر میں کامل ایمان رکھتا ہوں۔

"یاد کرو اُس موقع کو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے ہوئے گارے سے ایک بشر پیدا کر رہا ہوں۔جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا" -(القرآن۔ سورہ الحجر: 82، 92)

یوں میرے ایمان کے مطابق تمہارے شعروں میں در آنے والی روح اس خدا کا ہلکا سا پرتو ہی تو ہے جس کی بابت تم خود تشکیل کردہ شک کے ابتلا سے دوچار ہو کر کہنے لگے تھے۔

حاصل "کن" ہے جہان خرابات
یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں

پھر بنایا خدا نے آدم کو
اپنی صورت پہ ایسی صورت میں

اور پھر آدمی نے غور کیا
چھپکلی کی لطیف صنعت میں

اے خدا (جو کہیں نہیں موجود)
کیا لکھا ہے ہماری قسمت میں

لو، یہیں اس الجھیڑے کا ذکر بھی ضروری ہو گیا ہے جسے تم نے دیباچے میں ملکتے ہوئے "تعقل کے خانوادے کی جدہ عالیہ منطق اور جد عالی تفلسف" کا مسئلہ قرار دیا۔ تم نہ جانے کیوں اس بحث کو اٹھانے سے پہلے اوروں کے کندھوں باری باری بندوق رکھ رہے تھے۔

  • تم نے بیکن کے منہ سے کہلوایا کہ یہ مسئلہ اتنا ہی پیچیدہ ہے کہ منطقی قیاس کے قابو میں نہیں آ سکتا۔
  • کانٹ کے اس قول سے مدد چاہی کہ ما بعد الطبیعی امور کو منطقی استدلال کے ذریعے ثابت نہیں کیا جا سکتا اور یہ کہ مذہب اور خدا عقل کی دست رس سے باہر ہیں۔
  • مسمی پلوٹی نس کا اسم نقل کر کے تم نے بتایا کہ خدا کے بارے میں یہ کہنا روا نہیں کہ وہ موجود ہے وہ تو وجود سے بر تر اور بر تر ہستی ہے
  • پھر تم ہماری محبتوں کا محور دیکھتے ہوئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول سنانے لگے کہ " کمال الاخلاص لہ نفی الصفات عنہ"
  • حلاج، ارسطو، کانٹ اور ہیگل کا نام لے لے کر تم نے بتا یا کہ وجود اور موجود کی کوئی بھی تعریف متعین نہیں کر سکا۔

یوں تم نے استخراج کیا کہ وجود کا مترادف ماہیت کا خارج میں ہونا ہے اور یہ کہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ خدا ہے تو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ خدا شے ہے یہیں تمہارے منطقی ذہن نے پانسہ پلٹا اور دور کی کوڑی لایا کہ اگر خدا شے نہیں ہے تو لا شے ہے۔ لاشے کے تم نے ہمارا دل رکھنے کو دو مفہوم نکالے ورنہ تم تو ایک ہی مفہوم کی طرف ہمیں گھسیٹے جاتے تھے لاسے کا ایک مفہوم جو تم نہیں سجھانا چاہتے تھے "لا موجود" تھا اور دوسرا جو ہمارے لیے تم نے نکالا وہ یہ تھا "وہ موجود جو شے نہ ہو کچھ اور ہو" یہ سوال ایسا تھا جس کے سبب تمہاری سارے استدلال کی عمارت ڈھے رہی تھی لہذا تم نے کہہ دیا "کچھ اور کیا؟"۔۔۔ کاش تم نے اس بزرگ کا ڈھیلا کھایا ہوتا جس سے سوال کرنے والے نے اصرار کیا تھا کہ اسے خدا دکھایا جائے۔ جسے ڈھیلا کس کر مارا گیا تھا وہ چوٹ کھا کر درد سے بلبلا اٹھا تو بزرگ نے پوچھا کیوں روتے ہو۔ اس نے کہا "درد ہے۔" بزرگ کا کہنا تھا درد موجود ہے تو دکھاؤ کیسا ہے؟۔ اگر ڈھیلا تم نے کھایا ہوتا تو اس موجود کے معنی بھی پتہ چل جاتے جو شے نہیں ہوتا اور یہ پٹا ہوا سوال فلسفیوں کے سلجھانے (یا پھر مزید الجھانے) کے لیے نہ اٹھا رکھتے۔

اور ہاں میں تمہاری ایسے سوالات کی ایسی ویسی الجھی ہوئی شاعری پڑھتا ہوں تو سوچتا ہوں اور الجھتا ہوں کہ میرا محبوب شاعر جون کہاں ہے؟ معاملہ یہ ہے کہ تمہاری شاعری میں اس طرح کے فکری اور ایقانی معاملات ترقی پسندانہ موضوعات کی طرح تمہارا تخلیقی مسئلہ بن ہی نہیں پائے ہیں۔ سچ ہے کہ تخلیق صرف سچے وجود تک علاقہ رکھتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان مباحث سے کہیں زیادہ مجھے وہاں لطف آیا ہے جہاں تم نے لکھا تھا:

"اگر انسانی ناف کے اوپر بالوں کی لکیر نہ پائی جاتی تو آخر کس نظامیات بدنی کو نقصان پہنچ جاتا؟ میں نے اپنی بعض محبوبات کی پنڈلیوں پربالوں کی جھلک دیکھی ہے اور بعض کی پنڈلیاں بالکل صاف پائی ہیں۔ بعض محبوبات کا پیالہ ناف گہرا پایا ہے بعض کا اتھلا"


سنو جون پیارے، اس کے باوجود کہ تم نے ایک انٹرویو میں اپنی جنسی زندگی کو قابل رحم حد تک کم بتایا اور حساب لگایا تو وہ پانچ برس نکلی، اس کے باوجود ناف پیالے اور پنڈلیوں والا تجربہ ما بعد الطبیعاتی سوال سی کہیں زیادہ رچاؤ کے ساتھ تمہاری شاعری کا حصہ ہو گیا ہے۔ لو اپنے کچھ اشعار سنو اور لذت لو:

تھا مست اس کے ناف پیالے کا میرا دل
اس لب کی آرزو میں مرا رنگ لال تھا

اپنی ورزش کے دھیان ہی سے ہمیں
مار رکھتے ہیں صندلیں راناں

میرا حق تو یہ تھا کہ گرد مرے
ہو اک انبوہ نار پستاناں

تھا جون اس کا ناف پیالہ یا مے کدہ
بس لڑکھڑا کے تشنہ لباناں چلے گئے

اتھلا سا ناف پیالہ ہماری نہیں تلاش
اے لڑکیو! بتاؤ بھنور کس کے پاس ہے

یہ میرا جوش محبت فقط عبارت ہے
تمہاری چمپئی رانوں کو نوچ کھانے سے

کیا بھلا ساغر سفال کہ ہم
ناف پیالے کو جام کر رہے ہیں

تو پیارے جون بے شک تم نعرے لگا کر چونکاتے رہے کہ "وہ یقیں ہے نہ گماں ہے تننا ھو یا ھو" مگر تن پر تمہارے ایسے تنتناتے شعروں کا طنطنہ ساری توجہ لے گیا۔

تاہم ان ساری معروضات سے یہ نہ سمجھ لینا کہ جس توجہ سے تم نے "شاید" کے دیباچے میں ان مباحث کو اٹھایا ہے اور پہلو بدل بدل کر مسلمات کے انہدام کی شعوری کوشش کی ہے مجھے وہ دلچسپ نہیں لگی۔ مجھے تو شروع ہی سے یہ کئی جہتوں کو زور دیتی بحث بہت لطف دیتی رہی حتی کہ میں ایک مرحلے پر یہ سمجھنے لگا تھا کہ بعد ازاں شاید یہ سب کچھ تمہارے شعری شعور کا حصہ ہو جائے گا۔۔۔ مگر آہ کہ ایسا نہ ہوا۔۔۔ واقعہ تو یہ ہے کہ دوسری کتاب تک آتے آتے ایسے سوالات کی شدت اور تمہاری ترقی پسندانہ بلند آہنگی دونوں عنقا ہو چکی تھیں۔

جون جی، اب تک اس حوالے سے ہی بات ہو پائی ہے جو تم اپنے شعری واردات میں نہیں تھے مگر اپنی نثر اس کا دعوی رکھتے رہے۔ نفی کی بات طول پکڑ گئی ہے لہذا مناسب معلوم ہوتا ہے ذرا ادھر کو ہو لیں جہاں تمہارا جیتا جاگتا وجود موجود ہے۔ میں نے جتنا بھی تمہیں پڑھا، میں تمہارے تہذیبی شعور سے سرشار ہوا۔ تمہاری غزل پوری طرح غزل کی روایت سے ہم آہنگ ہے۔ تم نئی نئی ردیفیں لا کر اس ہنر سے غزلیں کہتے آئے ہو کہ غزل کہنے والے بہت سے مقامات پر تمہاری تقلید پر مجبور ہوئے۔جی چاہتا ہے یہاں تمہاری ان غزلوں کی نشاندہی کی لیے کچھ اشعار درج کر دوں جن کی گونج تمہارے معروف ہم عصروں کی ہاں صاف سنائی دے رہی ہے:

میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم

جاؤ قرار بے دلاں، شام بخیر شب بخیر
صحن ہوا دھواں دھواں، شام بخیر شب بخیر

ملتے رہیے اسی تپاک کے ساتھ
بے وفائی کی انتہا کیجے

نام ہی کیا نشاں ہی کیا خواب و خیال ہو گئے
تیری مثال دے کے ہم تیری مثال ہو گئے

نظر پر بار ہو جاتے ہیں منظر
جہاں رہیو وہاں اکثر نہ رہیو

محبت کچھ نہ تھی جز بدحواسی
کہ وہ بند قبا ہم سے کھلا نئیں


مجھے تمہاری وہ غزلیں یاد آئے چلی جاتی ہیں جن کی خوشبو تمہاری گلی سے نکلی اور گلی گلی گئی اور جن سے ابھی تک سارا منظر نامہ مہکا ہوا ہے۔لو تمہاری کچھ اور ایسی ہی مقبول غزلوں کی نشاندہی کئے دیتا ہوں۔تم کہ گھٹنوں پر اوپر کو اٹھ کر، ایک ادا سے لمبی زلفیں لہراتے اور ڈرامہ کرتے ہوئے اپنی ہی رانوں کو پیٹ کر انہیں سنانے کے لیے موجود نہیں ہو مگر انہیں سننے، پڑھنے اور ان کی دھمک سینوں پر سہنے والے موجود ہیں اور تا دیر موجود رہیں گے:

جا بھی فقیہ سبز قدم، اب یہاں سے جا
میں تیری بات پی گیا پر یار سرخ ہیں

کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے

کیا وہ بساط الٹ گئی؟ ہاں وہ بساط الٹ گئی
کیا وہ جواں گزر گئے؟ ہاں وہ جواں گزر گئے

ہے بکھرنے کو یہ محفل رنگ و بو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
ہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے

ہجر میں جل رہا تھا میں اور پگھل رہا تھا میں
ایک خنک سی روشنی مجھ کو بچھا کے لے گئی

تو جون جی، انہی غزلوں میں تو تم ہو ۔۔۔ اپنے سچے اور مکمل وجود کے ساتھ ۔۔۔ کہیں شک کا شائبہ نہیں ہے، کہیں فکری الجھاوا نہیں ہے۔ اس لیے کہ تم فی الاصل فکری آدمی نہیں تھے۔۔۔ فکری، نہ انقلابی۔ تم تو چائے کی پیالی پیتے پیتے رو دینے والے تھے۔ روتے روتے ہنس دیتے، گم صم ہو جاتے۔ تم پڑھتے بہت تھے مگر اس کی کوئی سمت نہ تھی لہذا تمہیں بھی خاص سمت نہ مل سکی، الجھتے گئے۔ مربوط ہونا جانتے نہ تھے، مبغوض ہو گئے، اپنوں پر یوں بھڑکے جیسے آگ بھڑکتی ہے اور سب کچھ جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔تم ٹوٹ کر محبت کرنے والے تھے مگر پلٹ کر اپنی ہی محبت کو روند ڈالنے کا حوصلہ بھی رکھتے تھے والے۔ جس کیفیت میں ہوتے اسی کی انتہاؤں کو چھوتے۔ ایسا کیفیت والا آدمی غزل کو بہت بھاتا ہے۔ ہماری روایتی غزل کو۔۔۔ اور تم تو غزل کے تغزل پر راسخ ایمان رکھتے تھے لہذا تمہارا فطری تخلیقی اظہار غزل کی گراں قدر روایت کا حصہ ہو کر تمہیں امر کر گیا۔ رہے یہ سب فلسفیانہ مسائل، تو ان کا معاملہ یہ ہے کہ جان من، یہ تمہاری تہذیبی روایت کے سبب تمہاری مجبوری بن گئے تھے۔تم امروہہ سے آئے تھے ایسی تہذیب سے کٹ کر اور بچھڑ کر جو ہند مسلم روایت کی زائیدہ تھی اور اس روایت کا یہ خاصہ بھی تھا کہ مروج علوم میں دسترس حاصل کی جائے۔ بقول تمہارے "تم نے آنکھیں کھولیں تو اپنے گھر میں صبح سے شام تک شاعری، تاریخ، مذاہب، عالم، علم ہیئت (astronomy) اور فلسفے کا دفتر کھلا دیکھا اور بحث مباحثے کا ہنگامہ گرم پایا، لہذا ان علوم پر اور ان علوم کی بات کرنا اور ان پر فخر کرنا تمہاری سرشت کا حصہ ہو گیا۔ تو تم فخر سے اور اعتماد سے جن مباحث کو اپنے دیباچے میں چھیڑ آئے ہو میں ان کو اسی ذیل میں رکھتا ہوں۔ اور جس طرح باپ، دادا، پردادا کے شاعر اور عالم ہونے پر تمہارے منجھلے بھائی سید محمد تقی شعر کہنے لگے تھے مگر شاعری کو اپنا تخلیقی مسئلہ نہ بنا پائے اور اپنے اصل میدان فلسفہ کی طرف نکل گئے بعینہ تم شاعری کے کوچے میں نکل آئے ہو اور یہی تمہارے تخلیقی وجود کا حصہ ہو گئی ہے۔تاہم تمہارے اٹھائے ہوئے مباحث توجہ کھینچتے ہیں، تمہارے نقطہ نظر سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر یہ جو تم ایک تہذیبی آدمی ہونے کے سبب فخر سے بات اٹھاتے ہو اس پر کوئی بات نہیں دھری جا سکتی۔


تمہاری وہ نثر ی تحریریں جو تمہیں بے پناہ چاہنے والے اور میرے عزیز دوست مقصود وفا نے تمہیں انشائیہ نگار ثابت کرنے کے لیے مجھے ارسال کی ہے، وہ۔۔۔ معاف کرنا۔۔۔ تمہارے قد میں کوئی اضافہ نہیں کرتیں۔ مانتا ہوں کہ یہ اچھی تحریریں ہیں۔ ایک بہت ہی اچھے شاعر کی اچھی تحریریں ۔۔۔ مگر میں نے بہت جبر کر کے ان کو پڑھا ہے۔ ایسے میں، میں نہیں جانتا، ان پر کیا لکھا جا سکتا ہے؟۔ ہاں یہ ایسی ضرور ہیں کہ ان سے بعض جملے تمثالیے بن جانے کی قدرت رکھتے ہیں۔کہیں کہیں چمکتے ہوئے اور تیز دھار والے جملے ہیں جو چبھتے ہیں، کاٹتے ہیں اور لطف بھی دیتے ہیں۔اور یہ جو تم نے ہر کہیں منافقت پر خوب خوب ضربات لگائی ہیں تو انہوں نے مجھے تمہاری طرف یوں بار بار دیکھنے کو مجبور کیا ہے جیسے مجلس میں بیٹھا شخص منبر پر بیٹھے ذاکر اور عالم کو دیکھتا ہے۔ لو یوں کرتے ہیں کہ کچھ دیر کے لیے دانش دانش کھیلتے ہیں۔ میں تمہاری تحریروں کا یہ پلندہ لے کر ذرا اوپر ہو بیٹھتا ہوں ۔۔۔ اور تم ذرا یہاں سے بیٹھ کر سنو جہاں سے میں نے منہ اٹھا اٹھا کے تمہیں دیکھا اور سنا ہے تمہیں میری بات پر خود بخود یقین آ جائے گا:

  • "میں آزاد بدی کو زر خرید نیکی پر ترجیح دیتا ہوں۔نہ بکا ہوا جھوٹ میرے نزدیک بکے ہوئے سچ سے کہیں قابل قدر ہے"
  • "اقتدار اچھا بھی ہو سکتا ہے اور برا بھی، پر ایک بات دیکھی گئی ہے کہ عام طور پر اقتدار کی تائید وہی لوگ کرتی ہیں جو برے ہوتے ہیں۔"
  • "زبان بندی زبانوں کو بڑے غضب ناک لہجے سکھاتی ہے۔"
  • "ہاں انسان اپنے ہجوم میں کہیں گم ہو گیا ہے۔ ہاں سناٹوں کے اس انبوہ اور تنہائیوں کے اس جلوس میں وہ ایک دوسرے سے بچھڑ گئے ہیں۔"
  • "انسان کے سوا انسان میں اور کچھ نہ ڈھونڈیں۔"
  • "اے بھائی! سچ یہ ہے کہ ہم سب کی زندگی دھاندلی اور دھوکے کا دھندا ہے۔"
  • "اے خون کی گھونٹ پینے والو، تم سب اپنے ہی اوپر بھروسا کرو ۔۔۔ "
  • "اپنا سچ خود بولو، پھر دیکھنا کہ یہ جھوٹ بولنے اور بکواس کرنے والے بھی تمہارے دباؤ میں آ کر سچ بولنے لگیں گے۔"
  • "میں کہتا ہوں کہ اندر کی ہلاکت سے باہر کی ہلاکت ہزار گنا بہتر ہی۔ کسی بھی طرح اپنے آپ سے باہر نکلا چاہیے۔کسی بھی طرح۔"
  • "بھلا وہ یقین ہی کیا جسے دانش کی فاحشہ اور دلیل کی حرافہ ورغلا سکے۔"

سو، اے میرے پیارے جون، میں تمہاری اس نثر کے ورغلاوے اور دبدبے میں نہیں آیا ہوں مگر مجھ سے وعدہ لیا گیا تھا کہ تمہاری نثر پر میں لکھوں گا۔ میں نے اس کی یہ صورت نکالی کہ بیشتر گفتگو "شاید" کے دیباچہ پر کروں مگر ہوا یہ کہ بات ادھر کی کرتا پھسل کر تمہاری شاعری تک پہنچ جاتی رہی۔ تمہاری شاعری میں یہ جو قوت اور کشش ہے تمہاری انشائی تحریروں میں کہاں۔ میں تمہاری ان کتابوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتا جن کی فہرس دونوں کتابوں کی پس سر ورق پر موجود ہے۔ سنا ہے ان میں سے دو پمفلٹ شائع ہوئے تھے اور باقی مسودوں کی صورت اسماعیلی طریقہ والوں کے ہاں محفوظ ہیں۔ چھپ جانے والے کتابچے" جوہر صیقلی" اور "حسن بن صباح" کہیں دستیاب نہیں اور دوسرے مسودوں تک کسی کی رسائی نہیں۔ایسے میں تمہارے اس نثری سرمائے پر کیوں کر بات ہو سکتی ہے۔


کا ش تم نے "یعنی" کا دیباچہ ہی خود لکھ دیا ہوتا۔ یا حضرت شکیل زادہ عفی عنہ ہی کو اتنی ہمت میسر ہو جاتی کہ وہ تمہارے لکھے چار صفحے جوں کے توں نقل فرما دیتے اس طرح" حضرت" نے زور لگا لگا کر جو "معروضہ" لکھا ہے اس مشقت سے وہ بچ جاتے۔تم مقدمہ لکھتے یا تمہارا لکھا سامنے آ جاتا تو تمہاری نثر کے حوالے سے کچھ اور لکھنے کی سبیل نکل آتی۔ اور ہاں ایک اور کاش لگا لینے دو کہ"تمہارا دوسرا مجموعہ "یعنی" زقند بھر کر تمہارے پہلے مجموعے"شاید" سے آگے نہیں جا سکا، کاش اسے بھی تم خود ہی مرتب کر جاتے۔۔۔ انتخاب کر کے۔۔۔ ان 14 مجموعوں کے برابر غزلوں کو سامنے رکھتے ہوئے، جن کا تذکرہ "یعنی" کے دیباچے میں ہوا ہے۔ (اس عرصے میں تیسرا شعری مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے مگر افسوس کہ اس کا اثر دوسرے سے مختلف نہ نکلا۔ نیا اضافہ)

آخر میں اس نظم کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو تم نے اپنے بیٹے زریون کو بار بار مخاطب کر کے لکھی۔ یہ نظم ایک مفصل تجزیہ چاہتی ہے، میں یہ کسی اور وقت پر اٹھا رکھتا ہوں کہ یہاں صرف اس کا ذکر کر کے یہ بتانا مقصود ہے کہ میں نے اسے بار بار پڑھا ہے پڑھ پڑھ کر رویا ہوں ۔۔۔ رویا ہوں اور ہنسا ہوں:

میں تم کو یاد کر کے رونے لگتا ہوں تو ہنستا ہوں
ہمیشہ میں خدا حافظ، ہمیشہ میں خدا حافظ
خدا حافظ
خدا حافظ
(درخت زرد)

اجازت دو تمہارے ہی الفاظ دہراتا ہوں "خدا حافظ"

تمہیں از حد چاہنے والا
محمد حمید شاہد


ضیا جالندھری کی شاعری میں وقت اور زندگی کا تناظُر

کہتے ہیں دلی میں ایک تقریب کے بعد اپیندر ناتھ اشک نے اپنی نشست سے اٹھ کر کرسی کی پشت پر ہاتھ جمائے اور سب کو مخاطب کر کے کہا: دوستو میں آپ کو اس وقت کویتا سنا سکتا ہوں اور لطیفہ بھی۔ کہو کیا سناؤں؟۔ راجندر سنگھ بیدی نے سنا، قہقہہ لگایا، کہا: بھئی تم کویتا سناؤ، خود بخود لطیفہ بن جائے گی۔

عین ایسے زمانے میں کہ جب شاعری حسیاتی اور معنیاتی سطح پر لطیف ہونے کی بجائے اپنے مضمون میں مضحک ہو کر لطیفہ ہو جانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی، کبھی پھلجھڑی ہوتی ہے اور کبھی بجھارت، ضیا جالندھری جیسے گہرے شاعر پر بات کرنا بہت اہم ہو گیا ہے۔

ضیاء جالندھری کی تخلیقی شخصیت کو سمجھنے کے دورانئے میں میرا دھیان بار بار اس کی غزل کے کچھ اشعار کی طرف جاتا رہا ہے۔ یہ جانتے بوجھتے کہ غزل کبھی ضیا کی تخلیقی ترجیح نہیں رہی۔ مجھے یوں لگا ہے کہ اس نے کئی ایسے شعر کہہ رکھے ہیں جو اس کے تخلیقی بھید پر کھلنے والا دروازہ ہو سکتے ہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے اس کی ایک ہی غزل کے دو اشعار:

میں ذرہ ہوں پہ خیال و نظر میں لامحدود
تو بے کنار، ترا عکسِ بے کراں میں ہوں

عدم میں رکھ مجھے یا حیطہ ´ وجود میں رکھ
یہ "ہے" "نہیں" کی کشاکش نہ ہو جہاں میں ہوں

تویوں ہے کہ جہاں ضیا جالندھری ہے وہاں وقت ایک ڈھنگ سے اور ایک ڈھب پر نہیں چلتا۔ مجھے موقع ملا ہے کہ ضیا کو توجہ سے اور یکسو ہو کر پڑھوں۔ سچ یہ ہے کہ اسے توجہ کے بغیر پڑھا جا سکتا ہے نہ اس کیفیت سے لطف اٹھایا جا سکتا جس میں وقت کی کئی سطوح اپنی چھب دکھا کر معدوم ہوتی چلی جاتی ہیں۔ یہ معدوم ہونا تو میں نے ایک قاری کے نقطہ نظر سے لکھا ہے جب کہ ضیا کے ہاں آنے اور آ کر چلے جانے والے لمحات کی اس دھج میں بھی ایک عجب طرح کی نیاز مندی ہے میں نے محسوس کیا ہے کہ ضیا ایسے شاعروں میں سے نہیں ہے جو جا چکے لمحوں کو دفنا کر ہاتھ کی مٹی جھاڑ دیا کرتے ہیں۔ یہاں تو سب کچھ حاضر باش ہے، جو ہے وہ تو ہے ہی اور جو نہیں ہے وہ بھی موجود اور دسترس میں ہے:

تخیل میں ہر طلب ہے تحصیل
جو بات کہیں نہیں، یہاں ہے

ضیا کے تخلیقی مزاج کو سمجھنے کے لیے ایک اور غزل کا شعر درج کرنا چاہوں گا جس نے فوری طور پر میرا دھیان کھینچ لیا ہے:

یہ زیست ہے یا خواب کہ ہے اور نہیں ہے
اک عکس سرِ آب کہ ہے اور نہیں ہے


ضیا کی غزل میں ہونے اور نہ ہونے کے اس قضیے کو اگر خواب اور حقیقت کی صورت دیکھا جا سکتا ہے تو اس کی نظم میں اس کی کئی اور صورتیں بھی بنتی ہیں۔ ایسی صورتیں جنہیں وجودی سطح پر بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ اس کا سبب خود آزاد نظم کا مزاج ہو جو اوپر کی پرت پر اتنی تیز دھار ہو جاتی ہے کہ وجود کو چھیلتی اور چھیدتی چلی جاتی ہے۔ دیکھا جائے تو وجودیت کا فلسفہ ایک لحاظ سے غیریت اور بیگانگی کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔ یہ وہ بے گانگی ہے جو عالمی جنگوں کے بعد انسانی اقدار کی پسپائی کے نتیجے میں اس کا مقدر بنی۔ بعد میں انسان اپنی حقیقت کو سمجھنے کے لیے اپنی ترکیب اور اپنی عقل پر انحصار کر کے ٹھوکر پر ٹھوکریں کھانے لگا۔ جب سارے معاملات میں خام عقل دخیل ہو گئی تو دیوار کے اس طرف کچھ نہ رہا۔ سارے لباس تار تار کر دیے گئے اور پھر بھی حقیقت ہاتھ نہ آئی تو آدمی بوکھلا گیا۔ اسے یہ شکست قبول نہیں تھی۔ انسانی وجود کی ناگہانیت اور وحشت باولے کتے کی طرح آدمی پر چڑھ دوڑی تھی۔ وہاں جو آدمی جھیل رہا تھا۔ وہی اس کی شاعری کے بھیتر میں بھی سما گیا۔ جب جدید نظم ادھر سے ادھر آئی تو ہمارے نظم نگاروں کو بھی ان موضوعات میں کشش محسوس ہونے لگی تھی۔ تاہم انہیں بہت جلد احساس ہو گیا کہ دیوار کے اس طرف تو ایک پوری کائنات موجود ہے جس جانب تمنا کا دوسرا قدم بڑھایا جا سکتا ہے۔ ہمارے ہاں چوں کہ آدمی یوں اکیلا کبھی نہیں ہوا تھا۔ یہاں تہذیبی حوالوں اور انسانی اقدار نے انسان کے وجدان اور ایقان کو سہارا دے رکھا تھا لہذا شکست نہ ماننے اور اپنے باطنی وجود کے مکمل انہدام کو قبول نہ کرنے کے لیے مزاحمت کا انوکھا سلسلہ چل نکلا جو صارفیت کے اس عہد رواں تک چلا آتا ہے۔ اس مزاحمت کو ضیا کے ہاں "سر شام " سے "دم صبح " تک بطور نمایاں عنصر کے دیکھا جا سکتا ہے۔

تاہم جاننا ہو گا کہ ضیا کے ہاں مزاحمت کی یہ لہر پر شور نہیں ہے اس نے جا بجا نئی زندگی کی یخ بستگی کو دکھا کر، اس کے مقابلے میں فرد سے فرد کے سماجی سطح پر رشتوں سے جڑی ہوئی قدیم زندگی کی شعلگی کو رکھا ہے اور اپنے قاری کے اندر ایک میزان قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس باب میں مجھے آپ کی توجہ ضیا کی پہلی کتاب "سر شام " کی ایک نظم "ابو الہول " کی طرف چاہئیے۔ یہ نظم اپنی تیکنیک، مواد، احساس حتی کہ موضوع کی ٹریٹمنٹ کے حوالے سے نہ صرف ن م راشد اور میرا جی کے تخلیقی ضابطوں سے الگ دھج اختیار کرتی ہے ان ترقی پسندوں جیسا چلن بھی نہیں رکھتی جو ایسی نظموں کا عنوان "انسان عظیم ہے خدایا" رکھ کر اور اکہری بات کہہ کر آگے چل دیا کرتے ہیں۔ کیا یہ بات اہم اور قابل توجہ نہیں ہے کہ ضیا کی نظم میں تخاطب بھی جمالیاتی لہروں میں جذب ہو گیا ہے۔ تو یوں ہے صاحب کہ یہ نظم انسان کی عظمت کی تلاش سے جڑ نے کے دورانیے میں اس کے وجودی کرب کو، کہ جو اپنی قامت اور جسامت میں ابو الہول سے کسی صورت کم نہیں ہے، سے بھی پیوست رہتی ہے۔

کون نہیں جانتا کہ ابو الہول عجائب عالم میں شمار ہوتا ہے اور ہم تو یہ بھی گمان کیے بیٹھے ہیں کہ اس کائنات میں آدمی کا وجود بھی ابوالہول کی سی عظمت کی لیے ہوئے ہے۔ ضیا کی نظم کا قضیہ انسان کی عظمت نہیں بلکہ وہ زندگی ہے جس میں حرکت اور حرارت کو ہونا چاہیئے۔ یہی سبب ہے کہ وہ نظم کے پہلے حصے میں ابوالہول کو خواب گراں سے جگانے کی کوشش کر رہا ہے۔

جہانِ ریگ کے خوابِ گراں سے آج تو جاگ
ہزاروں قافلے آتے رہے، گزرتے رہے
تڑپ اٹھے ترے ہونٹوں پہ کاش اب کوئی راگ
جو تیرے دیدہ ¿ سنگیں سے درد بن کے بہے
یہ تیری تیرہ شبی بجلیوں کے ناز سہے
یوں ہی سلگتی رہے ترے دل میں زیست کی آگ

انسانی تاریخ کا جو حوالہ اس نظم میں ضیا کے سامنے ہے اس میں انسان نے بزعم خود اپنی عظمت کو اپنے وجود سے جوڑ رکھا ہے۔ آدمی جس جھونک میں اپنی اصل سے الگ ہو گیا ہے اس میں اس نشہ کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ کئی سانحات انسانی وجود پر گزرے ہیں مگر یہ سنگی ابوالہول ایک خواب مسلسل کا اسیر ہے اور نہیں جانتا کہ وہ زندگی تو موت ہوا کرتی ہے جس میں لگن اور لاگ کا چلن نہ ہو۔ انسانی رشتوں کا یہ روپ خالص مشرق کی دین اور اپنی روایت سے جڑت کی عطا ہے۔ جس گوں کے آدمی کا تصور ضیا کی نظموں سے متشکل ہوتا ہے اس میں یہ عناصر انسانی وجود کا لازمی جزو ہو گئے ہیں۔


تو یوں ہے کہ ضیا نے زندگی کو اس سرمائے کی طرح نہیں دیکھا ہے جسے جمع کرتے کرتے اتنا بڑا ڈھیر بنا لیا جائے کہ دیکھنے میں وہ ابوالہول ہو جائے۔ سرمائے اور اشیا کا بارودی ڈھیر، جس کی تہہ میں نئی زندگی کو چمک عطا کرنے والے کارکنوں اور سرمائے کو نمو دیے چلے جانے والے صارفین کی خواہشات کی لاشیں دفن ہوں۔ کون نہیں جانتا کہ وہ ابوالہول جس کی عظمت دیکھنے والوں کے سینوں پر ہیبت بن کر چڑھ دوڑتی ہے کتنی انسانی لاشوں کے ڈھیر پر تعمیر ہوا تھا۔ ضیا کو اس ہیبت سے کچھ لینا دینا نہیں ہے کہ اس کی نظر تو اس تیرہ شبی پر گڑھی ہوئی ہے جسے بجلیوں کے ناز سہنے چاہییں اور اس کا معاملہ تو اس دل سے ہے جس میں زیست کی آگ سلگتی رہتی ہے۔

ضیا کی اس نظم کے دوسرے حصے میں عافیت والی زندگی کو اس زندگی کے مقابل رکھ کر دیکھا گیا ہے، جس کی گھات میں فنا ہے۔ دل کا راز کہہ دینے کی تاہنگ میں مبتلا آدمی جن خطرات سے دوچار ہے ابوالہول کے دل سنگین کا وہ چوں کہ قضیہ نہیں بنتا لہذا خود اپنی آگ میں جل اٹھنا بھی یہاں کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہے۔

زندگی کے کئی روپ ضیا کا موضوع بنتے رہے ہیں۔ عظمت، ہمیشگی، تحرک، لاگ، لگاؤ، بے ثباتی غرض جہاں جہاں سے اس نے زندگی کو دیکھا ہے اس کی بالکل الگ سی تصویریں بنا کر رکھ دی ہیں۔ نظم "بے حسی " میں زندگی کی لاش ایک سرد تودے کے سوا کچھ اور نہیں ہے تو "بہاگ " میں شور، ہنسی، باتیں، گھومتے پہیئے، ہلتے ہاتھ اور پھر خدا حافظ کہتے ہونٹوں کے دورانیئے میں زندگی قضا ہو جاتی ہے۔ خالی سونی راہیں، سرد ہوا، پڑتی پھوا ر اور خشک ہوتے پتے، انتظار سے صورت پاتا شدید احساسِ تنہائی جو آج کے آدمی کا مقدر بنا دیا گیا ہے ضیا کی نظموں کا خاص موضوع ہے۔انسانی زندگی کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دینے والی یہ تنہائی اس کی اب تک کی آنے والی آخری کتاب "دم صبح " تک پھیلی ہوئی ہے۔ تاہم یہاں تک پہنچتے پہنچتے ضیا اپنی نظموں میں باقاعدہ اپنا سینہ کھول کر دکھانے اور یہ بتانے بھی لگا ہے کہ آ دمی کو ایک ایسی روشنی چاہیے جو تاریکی کے اس خلا کو پاٹ دے۔ ضیا کی نظر میں یہ روشنی انسان کے وجود کے اندر سے پھوٹ سکتی ہے۔ بس اسے کرنا یہ ہو گا کہ فرد کو فرد کے قریب لانا ہو گا۔

اس قدر یاد ہے چاہا تھا کہ تجھ تک پہنچوں
مرے رستے میں مگر
دانش شہرِ ہوس حائل تھی
دانش شہر ہوس
تہ بہ تہ سیل کی مانند بڑھی آتی تھی
دل گھٹا جاتا تھا
کون جانے تو کہاں ہے لیکن
میں یہ سینے کا خلا ساتھ لیے پھرتا ہوں
کو بہ کو، شہر بہ شہر
پوچھتا پھرتا ہوں کیا تم نے کہیں
روشنی دیکھی ہے اور اس کا خلا دیکھا ہے۔
(نظم: خلا)

صاحب مانتا ہوں کہ میں ضیا جالندھری کی نظم کی طرف براہ راست متوجہ نہیں ہوا تھا۔ یوں نہیں تھا کہ میں نے اس نظمیں دیکھی تک نہ تھا۔ جرائد میں یہاں وہاں چھپنے والی نظمیں پڑھتا رہا تھا مگر یکسو ہو کر اور ذرا جم کر پڑھنے کی جانب حمید نسیم کی کتاب "پانچ جدید شاعر" نے متوجہ کیا۔ پہلے میں ضیا کو ایسا شاعر سمجھتا رہا جو اپنی نظموں میں زندگی کی سلگتی بجھتی تصویریں دکھا کر الگ ہو جاتا اور اس سلگنے سے اٹھتے دھوئیں کا ایک احساس چھوڑ جایا کرتا تھا۔ میں اب جو میں اس کی شاعری کے حصار میں ہوں تو یہ بھی تسلیم کرنے لگا ہوں کہ ضیا ان شاعروں میں سے نہیں ہے جو ہر مزاج کے آدمی کی راہ روک کر کھڑے ہو جایا کرتے ہیں۔ اس کی نظم تو اپنی تفہیم کے لیے آدمی کی ایک الگ تہذیب مانگتی ہے۔ حمید نسیم نے بجا طور پر ضیا کو ان شاعروں میں شمار کیا تھا جن کے کلام کا رنگ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گہرا ہوتا چلا جاتا ہے اور جن کی شاعری نگاہوں کو خیرہ کرنے کے بجائے دل میں احساس و آگہی کی قندیل روشن کرتی ہے۔ بقول حمید نسیم اس قندیل کی لو نرم و خوشتاب بھی ہے اور دائمی بھی۔


تو یوں ہے کہ اب جب کہ میں "سر شام" سے "دم صبح" تک کی نظمیں، غزلیں اور گیت پڑھ چکا ہوں تو یہ بھی جان چکا ہوں کہ ضیا اپنے عہد کے شاعروں سے بالکل الگ اور نمایاں ہے، وہ یوں کہ اس نے زندگی کو ایک تسلسل میں دیکھا ہے ٹکڑوں میں نہیں۔ جس طرح فکریات کا شعبہ اقبال کو مرغوب تھا بظاہر یہ شعبہ ضیا کا نہیں بنتا تاہم پورے اخلاص سے اس کے کلام کا ایک تسلسل میں مطالعہ کرنے والا اس کے اس فکری دھارے سے خود کو الگ نہیں رکھ پاتا جو اس کی نظموں میں احساس کے دھیمے سروں کی صورت بہہ رہا ہوتا ہے۔ ضیا کی فکریات کا سلسلہ ان امیدوں سے جڑا ہوا ہے جو اسے زندگی سے رہیں۔یہ امیدیں گھمبیر نہیں سادہ ہیں مگر لطف یہ ہے کہ اس سادگی میں ایک گھماؤ اور گھمبیرتا ہے اور طرفگی یہ ہے ان کا برا ٓنا سہل نہیں ہے:

کتنا پرکار ہو گیا ہوں، کہ تھا
واسطہ تیری سادگی سے مجھے

اور

حیات خود ہے دہانِ نہنگ لا یعنی
جو ہے عدم کا مسافر ہے، میں چلا کہ میں ہوں

اپنے ہونے اور نہ ہونے کو وقت کے جس پیمانے سے ضیا نے ماپا ہے اس میں وقت سے جڑی زندگی کا تصور جامد اور ٹھٹھرا ہوا نہیں بلکہ حرکی ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس کے ہاں بننے والے امیجز متحجر نہیں ہوتے اور ان کا معنوی تپاک قاری تک پہنچتا رہتا ہے۔ وقت اور زندگی کے اس حرکی تصور میں دن اور رات میں بٹے وقت کو مکان اور مکین سے جوڑ کر بھی دیکھا گیا ہے اور اس سے جدا کر کے بھی۔ تاہم جہاں جہاں زندگی کی بے معنویت ضیا کھلنے لگتی ہے وہاں وہاں وہ وقت کو ایک جبر کی صورت عین انسانی چھاتی کے اوپر نیزے کی انی صورت ٹھہرا لیا کرتا ہے۔ "سر شام" سے شاعری کو آغاز دینے والے نے وقت کو وہاں سے گرفت میں لینا چاہا ہے جہاں وہ اپنا ایک مرحلہ مکمل کر کے پڑاؤ ڈالتا ہے۔ دم صبح تک آتے آتے اس کا مکالمہ زندگی کے افق پر تنی طویل اور مسلسل شب سے رہا ہے۔ تاہم آپ دیکھیں گے کہ ضیا نے بالکل ابتداء ہی میں اپنی ایک نظم میں دن بھر کی زندگی کو "صبح سے شام تک" کی دھجی میں باندھ کر دکھا دیا تھا۔ اس نظم میں پہلے صبح کی تصویر کچھ یوں بنتی ہے:

مست آنکھوں سے برستا ہے صبوحی کا خمار
پھول سے جسم پہ ہے شبنمی زرتار لباس
کروٹیں لیتا ہے دل میں اسے چھونے کا خیال
آنکھیں ملتے ہوئے جاگ اٹھتے ہیں لاکھوں احساس
یہ حسینہ مجھے اکساتی ہوئی آتی ہے ۔۔۔
"صبح سے شام تک"

زندگی سے محبوبہ کے جمال کی صورت جڑے ہوئے وقت کے اس طلوع میں کمال کی نرمی اور بے پناہ جاذبیت ہے۔ ضیا کا انسان وقت کے اسی روپ کو عزیز رکھنا چاہتا ہے کہ اس کی طلب میں رہ کر اسے لمحوں کی پازیبوں کے نغمے گونجتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔ اسی کے جسم کی لوچ میں لطف کی سیماب موجیں ہیں اور وقت کی یہی تو وہ حسینہ ہے جس کی نقرئی انگلیاں آفاق پہ لہراتی ہیں۔ تاہم مشرق سے اٹھا یہ وقت جونہی مغرب کی طرف جھک جاتا ہے تو ضیا کے مقابل زندگی کا ایک سلگتا ہوا منظر کھل جاتا ہے:

سر جھکائے ہوئے، منہ پھیر کے، خاموشی سے
دور مغرب کے دھندلکوں میں چلی جاتی ہے
میرے دل میں ہیں سلگتی ہوئی یادیں اس کی
انہی یادوں سے میری روح جلی جاتی ہے
کتنی تاریکیاں چپ چاپ سرک آئی ہیں ۔۔۔
"صبح سے شام تک"


یہ سوال ضیا کے لیے بہت اہم ہو گیا ہے کہ آخر انسان وقت کے اس جبر سے کیوں بندھا ہوا ہے۔ اور جب رات ہی کو آدمی کا مقدر ہونا ہے تو اس پر زندگی کی نرمگیں صبح کا منظر کیوں کھولا گیا ہے۔ اس پر روشن دوپہریں کیوں مہربان رہتی ہیں اس پر افق سے لالی کیوں برستی ہے اور آخر اس پر رات تن کر کیوں مسلسل ہو جاتی ہے۔ ضیا نے اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں اس پر بہت سوچا ہے اور اپنے تئیں یہ نتیجہ نکالا ہے کہ:

بساطِ ساکت کی وسعتوں میں
زمین، اہل زمین، افلاک، اہل افلاک
اپنی اپنی معینہ ساعتوں میں ایسے گزر رہے ہیں
کہ جیسے آنکھوں سے خواب گزریں
"ہم"

وقت کے تناظر میں ضیا کا زندگی سے یہ مکالمہ اتنا عظیم اور اتنا پر لطف ہو گیا ہے کہ اس میں چھوٹے بڑے غم اور خوشیاں جھوٹی، بے معنی اور نا پائیدار دکھنے لگی ہیں۔ وہ جو میں نے اوپر کہہ دیا تھا کہ جن معنوں میں ہم فکریات سے وابستہ لوگوں کا تصور کیا کرتے ہیں ان معنوں میں ضیا فکریات کا آدمی نہیں ہے اور یہاں اس پر یہ اضافہ کرنے کا جواز نکل آیا ہے کہ فکر کو احساس کی سطح پر برتنا بسا اوقات زیادہ خالص اور زیادہ بامعنی ہو جایا کرتا ہے۔ اس خالص پن اور معنویت کو ضیا جیسا شاعر ہی گرفت میں لے سکتا تھا جس کے داخلی مسطر پر کاتب وقت جو کچھ لکھتا ہے اس کی معنویت کا بار امانت اس کے دل پر منتقل ہوتا رہتا ہے۔ ضیا چوں کہ معروف معنوں میں مفکر نہیں ہے لہذا اس کے ہاں تبدیلی کی خواہش کی شدت کٹاری کی تیز دھار بننے کی بجائے روایت، جدت اور واردات کے بہم ہونے سے گہرے احساس کا روپ دھار گئی ہے میں نے دیکھا ہے کہ احساس کے ساتھ اس معاملے کے دوران بھی شاعر کا لاشعور بہت چوکس رہتا ہے۔ بظاہر منظر سامنے کا ہوتا ہے جس میں مختلف علامتیں سیال ہو کر بہ رہی ہوتی ہیں مگر لاشعور اسے انسان کی تہذیبی اور فکری تاریخ سے جوڑتا رہتا ہے۔ "بے حسی" "بھول" "آخرکار" "غم گسار" ویرانے"، "اجالا"، "بجھی ہوئی آگ"، " دکھاوا"، "یہ بہار"، " زمستان کی شام"ساملی" "ٹایپسٹ" غرض کوئی نظم اٹھائیں بظاہر منظر سامنے کا ہے جس میں کہیں تو پتے پتے پر موتی مچل رہے ہیں اور کہیں ایسی سرخوشی ہے جو شگوفوں سے سنبھالے نہیں سنبھلتی تاہم سرشاری، سرمستی اور سرفرازی کے ان مناظر پر محیط ہو جانے والے غم کا تسلسل اور افراط میں ہر دم کچرا بنتی ہوئی زندگی کو کسی نہ کسی بسنتی کی بہر حال ضرورت رہتی ہے۔

اور اب یوں ہے جیسے
ہمارے دلوں میں بھی کچرے کے انبار ہیں
ایسے انبار کوئی بھی جن کو اٹھاتا نہیں۔
"کچرا"

ایک طرف اگر زندگی کرنے کی للک سے کٹ کر اور اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی جستجو میں مر چکے ابوالہول جیسے سنگی آدمی کو وقت جس طرح بھرا بھرا کیے جا رہا اس کی تصویریں دکھائی گئی ہیں تو دوسری طرف اس کی شاعری کا مرکزی موضوع وہ تاہنگ ہے جس میں بہر حال کسی نہ کسی بسنتی کو آ جانا ہوتا ہے۔ جو آئے اور ہمارے اندر سے اس بظاہر ہیبت اور عظمت والی مگر فی الاصل مردہ ہو چکی زندگی کو اٹھا کر لے جائے جو کچرے کا ڈھیر بن چکی ہے۔


علی محمد فرشی کی طویل نظم: علینہ: نئی اوڈیسی

علی محمد فرشی کی طویل نظم "علینہ" جب ٹکڑے ٹکڑے سامنے آ رہی تھی، وقفے وقفے سے اور اپنے لئے مخصوص عنوانات پا کر، تو یوں لگتا تھا یہ عشق مزاج نظمو ں کا ایک سلسلہ سا ہے، الگ الگ اور مکمل۔ تاہم ہر نظم پہلی سے ذرا فاصلے پر۔

وہاں شام کا جھٹپٹا ہوتا ۔۔۔ یہاں ٹپیکل دوپہر۔۔۔ ادھر کل کی سیاہی ۔۔۔ اور ادھر آج کا چمکتا پُل ۔۔۔

اور "علینہ" یہاں وہاں اپنا مقام بدلتی نظر آتی۔

کبھی کبھی یوں لگتا کہ "علینہ" آسمانوں کی وسعتوں میں نور کی طرح پھیلی ہوئی ہے اور کبھی یوں کہ جیسے اس سیماب صفت کا قافلہ ہمارے اپنے قرب ہی میں بہتے سوال اور ٹھہر کر تعفن پھیلانے والے لئی کے کنارے پڑا ڈالے ہوئے ہے۔

خدا لگتی کہوں تو ماجرا یوں ہے کہ میں ایک مرحلے پر اس گماں سے بھی گزرا تھا، ہو نہ ہو نظم کی تخلیق کا یہ تجربہ اپنی نہاد میں ٹی ایس ایلیٹ کی "دی ویسٹ لینڈ"کے زیر اثر ہو رہا ہے۔ نظم کا ایک سمت بہے جانا، خارج کی ٹھوس اور کھردری زندگی کے نقوش ابھارتے ہوئے اور اپنے پہلو میں حسی، جمالیاتی اور معنوی جہات کے مقدس اسرار کا دھند بھرا منظر بناتے ہوئے۔ جب درمیان میں ہی کہیں فرشی نے نظموں کے اس سلسلے کو ایک مسلسل نظم کے حصے کہنا شروع کیا تو مجھے وہ عنوانات الجھاتے تھے جو اس نے "ویسٹ لینڈ" کی طرح نظم کے ہر ٹکڑے پر قائم کر دیئے تھے۔ فرشی کی "علینہ" صحرا کے منظر پر کھلی، ایلیٹ کے "خرابے کی پہلی چند سطروں میں بھی مردہ زمین، بے حس اور سوکھی ہوئی جڑوں کا ذکر ہوتا ہے اور اس پتھر کا بھی جس میں پانی کی کوئی صدا نہیں گونجتی۔ فرشی کی نظم میں مذہبی احساس جھلک دینے لگا تو ایلیٹ پھر یاد آ یا۔ "Four Quarters" والا اور "ویسٹ لینڈ" والا بھی۔ایک میں بقول مظفر علی سید، خدا سے کچھ پانے کے احساس کے سبب اس کے ہاں انکسار اور submission آ گیا تھا اور دوسری کا معاملہ یہ ہے کہ میں مذہبی احساس کی قوت سے کم از کم جس طرح کی توانائی پانے کی توقع رکھتا ہوں وہ بھی خرابے کی وسعت کا حصہ ہو گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ میرا اس طرف دھیان ہی نہ جاتا تھا کہ فرشی اس احساس سے گوئی قوت بھی پا سکتا تھا۔

حیف کہ عجلت میں آدمی کیسے کیسے گمان باندھ بیٹھتا ہے۔ بے شک ایسے گمانوں کا کچھ نہ کچھ محرک یا جواز تو ہوتا ہی ہو گا۔ ایسے ہی کہ جیسے "ویسٹ لینڈ" کے کچھ حصوں کو الگ کر کے اسے جنسی محبت اور ذہنی و جسمانی نامرادی کی نظم قرار دے ڈالنے والوں کے پاس بھی ایک جواز تھا۔ تاہم تخلیقی سچ تک پہنچنے کا یہ قرینہ نہیں ہے۔ مغالطوں کی عمر لمبی نہیں ہوتی، ٹکڑے کل کا جزو تو ہوتے ہیں، کُل کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ یہی سبب ہے کہ "علینہ" نے میرے ہاں جو ٹکڑوں کی صورت تصویر بنائی تھی، اس نظم کی تکمیل کے ساتھ ہی وہ تحلیل ہو گئی۔ اب ایک اجلا، روشن اور ماورائی پیکر میرے سامنے ہے۔ "علینہ" کا یہ ما بعد الطبیعاتی کردار پوری نظم میں کہیں بھی اپنے عالی منصب سے سبکدوش نہیں ہوتا۔


آخر "علینہ" ہی کیوں؟ سلمیٰ، سلیمہ، زرینہ اور سفینہ کیوں نہیں؟ جب تک "علینہ" مکمل صورت میں سامنے نہ آئی تھی مجھے اس سوال میں کوئی عیب محسوس نہ ہوتا تھا کہ سبع معلقہ کے ایک شاعر امراء اُلقیس نے اپنے قصیدے کو عنیزہ کے لقب سے معروف اپنی عم زاد اور محبوبہ "فاطمہ"کو "افاطم" کے تخاطب سے شروع کرتے ہوئے کہا تھا۔ "اے فاطمہ کج ادائیوں سے حذر کر، اگر تو نے مجھ سے جدا ہونے کا قصد کر ہی لیا ہے تو اس کے لیے کوئی دلکش انداز اپنا۔" یہاں "فاطمہ" نہ ہوتی تو امراء القیس کو کوئی بھی اور عورت مل سکتی تھی، اور اسے تو ملی بھی تھیں، تبھی تو اس کے قصیدے میں بدن کستوری سے خوشبو کی لپٹیں اٹھانے والی "ام الحویرث" اور اس جیسی حسینہ قبیلہ طے کی شاخ بنی۔ ینہان والی "ام الرباب" در آئی تھیں۔ اختر شیرانی کی "سلمیٰ" ہو یا ن م راشد کی "جہاں زاد" اور مصطفی زیدی کی "شہناز" سب ہی کا معاملہ ایک سا ہے۔ میونخ سے "شالاط" کے بجائے کوئی اور آ جاتی تو اس کی کیا ضمانت تھی کہ اس پر مجید امجد کی نظم اور اس کے دل کے دروازے بند رہتے۔ عورتوں کے نام لے لے کر نظمیں لکھنا اور نسوانی ناموں کو عنوان بنا لینا ہماری شعری روایت میں ایک عمومی سا رویہ رہا ہے۔ فرشی اگر اس روایت کو نبھاتا تو اپنی پسند اور سہولت کا کوئی بھی نام استعمال کر سکتا تھا۔ مگر اب کہ جب میں اس نظم سے پوری طرح گزر چکا ہوں یہ سوال میرے لیے سرے سے ہی لا یعنی، غیر متعلق

اور بے ہودہ ہو گیا ہے۔ نظم اس سوال سے کہیں اوپر اٹھ کر بہت بڑے سوالات اٹھانے لگی ہے اور "علینہ" کا اسم ان سوالات کے تقدس اور گمبھیر تا کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

میں نے "علینہ" کو سمجھنے کے لئے اسے شاعر کے نام سے جوڑا تو یوں لگا جیسے "علی" کی تکمیلی صورت "علینہ" ہو گئی ہے۔ اب جو دیکھتا ہوں تو علی فرشِ زمیں میں آدھا دھنسا "علی" اور "نہ" کو جوڑنے کے جتن کرتا دِکھتا ہے اور اوپر فلک کے کناروں سے "علینہ" کا وجود چھلک رہا ہے۔

عربی قواعد کے مطابق کسی اسم کے آخر میں "ہ" کا ورود ہو تو وہ مونث قرار پاتا ہے۔ اب اسم ذات "اﷲ" پر غور کریں کہ اس کے آخر میں بھی تو "ہ" ہے۔ تاہم اس ذاتِ اولیٰ کا جلال ایسا با کمال ہے کہ تانیث کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ علی محمد فرشی نے جزو ہو کر کل کی جس شناخت سے تخلیقی رشتہ جوڑا ہے وہ اپنے کامل وجود میں ہیبت کی وہ لپک نہیں رکھتا جو دلوں تک بھڑکتے شعلوں کی آنچ پہنچاتا ہے۔ اس مقدس اور ماورائی کردار میں فقط نرمگیں جمال ہی جمال ہے۔ یوں اس کے کومل نام اور روشن بدن پر اپنے لئے پکارے گئے اسمِ ذات کا تانیثی پیرہن سج جاتا ہے۔

دیکھئے ۔۔۔ نام کے اس عقدے کو ایک اور طرح سے بھی سلجھایا جا سکتا ہے۔ وہ یوں کہ "علینہ" کے حروف کو وہ اعداد دے دیجئے جو علم الاعداد میں ان کے نام لکھے جا چکے ہیں۔ اس اسم کا ایک مفرد عدد حاصل ہو گا "3۔" یہی مفرد عدد "اﷲ" کا بھی ہے۔ کیا یہ سارے اشارے "علینہ" کے ما بعد الطبیعاتی وجود پر دال نہیں ہیں؟

ساقی فاروقی نے اپنے ایک مضمون میں "The Human Condition" جیسی "ہولناک کتاب" سے اپنی یادداشت کے بل بوتے پر حوالہ نقل کرتے ہوئے آدمی کو چار سطحوں پر مجاہدے سے دوچار دکھایا تھا۔ پہلی سطح وہ ہے جسے Labour کہتے ہیں۔ زندگی قائم رکھنے اور آسانیوں کے حصول کے لئے محنت۔ دوسری سطح Making کہلائی۔ پہلی میں اگر روٹی کی طلب میں درانتی چلانے والا آتا ہے تو دوسری میں دستکار اور کاریگر۔ تیسری سطح Activity کی ہے، وہی جو سیاست دانوں، فوجیوں اور سائنس دانوں کے حصے میں آتی ہے، جبکہ مجاہدے کی ارفع سطح وہ ہے جو Contemplation کہلاتی ہے، فلسفیوں، صوفیوں اور تخلیق کاروں کا وصف۔ فرشی کی "علینہ" اسی مراقبے میں در آنے والے ارفع سچ کے بھیدوں بھرے پانیوں پر منعکس ہے۔ پانیو ں کا وجود بے کنار وقت کی وسعتوں میں پھیلتا جا رہا ہے، یوں کہ وقت کے معلوم کنگرے اس میں ڈوب گئے ہیں۔ اس طرح دیکھیں تو "علینہ" کا تخلیقی تجربہ نہ تو محض Poetic Labour ہے، نہ فقط Poem making کی کاریگری اور نہ ہی سماجی سطح پر شاعرانہ سرگرمی کہ یہ اس علاقے کی کہانی ہے جس میں سچے تخلیق کار اپنے زندہ لفظوں اور گہرے شعور کے سا تھ ہی داخل ہو سکتے ہیں۔ اسی گہرے اور ہمہ جہت شعور نے اسے زمان و مکان کی نئی معنویت کے مقابل کر دیا ہے۔

چوبیس اجزاء (دیباچہ +23 مناظر) اور 999 مصرعوں پر مشتمل یہ طویل نظم اپنے patternک ے اعتبار سے "علینہ" سے مخاطبہ ہے، جزو کا کُل سے تخاطب۔ "علینہ" نظم میں یوں آئی ہے کہ اس کی آنکھوں میں آسمانوں کی وسعت سما گئی ہے۔ اس کی برجیوں تلے زمانہ دست بستہ کھڑا ہے۔ سب اس کے نقرئی اسم کا ورد کرتے ہیں۔ اس کی تجلی بھری لاٹ کو دیکھنے کے لئے زمانے زمین بوس ہیں اور جھکی ہوئی کائناتوں کی گردشیں تھم تھم گئی ہیں۔ تاہم اس نظم کے چوتھے منظر میں وہ مقام بھی آتا ہے کہ عسکری کی بات یاد آتی ہے۔۔۔


آگے کیسے بڑھوں کہ پہلے عسکری کی بات بتانی ہے اور وہ یوں کہ ایک مرتبہ اس نے مولانا روم کا وہ شعر پڑھا تھا جو"من ز تن عریاں ۔۔۔ "سے شروع ہوتا ہے اور ساتھ ہی یہ سوال بھی کیا تھا کہ"کون عریاں ہوا۔۔۔ اور"۔۔۔ او از خیال"میں خدا جو کپڑے پہنے ہوئے تھا، وہ خیال کس کا تھا۔جواب دیا گیا "انسان کا۔"محمد حسن عسکری نے ترت کہا تھا"انسان ہی کا ہوا نا"تو صاحب، یہی paradoxتو آدمی کے اندر ہے، لباس بھی دیتا ہے اور نہاں بھی دیکھتا ہے۔۔۔ اور ہاں بات چوتھے منظر کی ہو رہی تھی اور عسکری یوں یاد آیا تھا کہ اس منظر میں ایسا مرحلہ آگیا تھا جب ازل اور ابد کے کہیں وسط میں چند لمحوں کے لئے چمکنے والے نے"علینہ"کے سارے حجروں کو منور کر دیا تھا۔بائیسویں منظر کی ایک منزل کی بھی یہی منزلت ہے کہ اس میں ایک موہوم امید الوہی غرفوں میں سوئی ہوئی نیند بھری ساعتوں کو خوابوں سے بیدار ہونے کی خوشبو عطا کر دیتی ہے۔

"علینہ"کا ما بعد اطبیعیاتی وجود اور"میں "کا یہی زمینی کردار نظم کے شروع سے آخر تک ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔"میں"ایک دو مقامات پر "علیزے" ہو گیا ہے۔شاعر کے اپنے نام کے صوتی منبع سے پھوٹنے والے یہ دونوں اسماء نظم کے کینوس کو کائنات کی سی وسعت عطا کر دیتے ہیں۔

شاعر کی اپنی ذات "علینہ" کے ماورائی کردار سے امید کے ایک مضبوط رشتے میں گندھی ہوئی ہے۔اس کے دل سے "علینہ" کی کائناتوں کے اجڑے ہوئے قافلے گزرتے ہیں۔یہ صلصال کے سلسلوں سے جڑا ہوا ہے اور گرد میں ڈوبے ہوئے اس زمانے جیسا ہے جسے زرد ذروں کی آندھیوں سے باہر نکلنے کا اسم بھول چکا ہے۔جہاں جہاں "علیزے"آیا ہے وہ "میں" کے کردار کا شوخ مظہر بن گیا ہے۔شوخی کی دھج دیکھیئے کے وہ "علینہ" کی الماری سے خوبصورت دنوں کا راز چرا لیتا ہے۔

نظم کے کردار امیجز اور سمبلز میں معجزاتی نشانیاں بن کر وجود پذیر ہوتے ہیں۔یہ نشانیاں زندگی کے نامعلوم علاقوں کو اجالے چلی جاتی ہیں۔کہیں تو وقت کا محدود تصور، لامحدود تصور سے پسپا ہوتا ہے اور کہیں مکان کی قید سے زمانہ آزاد ہو جاتا ہے۔کہیں ہونے کا کرب نہ ہونے کی معرفت سے مصافحہ کرتا ہے اور کہیں دنی دنیا سے اوپر اٹھ کر اپنے وجود کو دائمی بقا کے ازلی نو ر سے اجالنے کی تمنا سارے زمانوں پر محیط ہو جاتی ہے۔

"علینہ" میں کچھ اور کردار بھی وقفے وقفے سے طلوع ہوتے ہیں اور ایک نئی معنویت کا استعارہ بن کر مجموعی منظر نامے کا حصہ ہو جاتے ہیں۔ان ہی میں سے ایک سدھا رتھ ہے، وہی جو زمینی کشش سے نکل کر زمانے کے زینے روشن ہو گیا تھا۔ایک اور کردار یشودھا کا بھی ہے جو حقیقی اور زمینی ہے۔تاہم اس کی راتوں میں پھیلی سرد تنہائی کو شاعر نے یوں اجال دیا ہے کہ سدھا رتھ کی ساری ریاضت اس کے درد سینے میں ڈوب گئی ہے۔اس نظم میں ابن مریم کی پوروں سے بیمار جسموں کا دکھ محسوس کرنے والی نرسیں بھی ہیں اور وہ دق زدہ لڑکیاں بھی جن کے لئے مائرن کی ننھی سی ٹکیا ایسی گلابی پری بن جاتی ہے جو زندگی کی سانسوں سے چھاتیوں کو لبالب کر دیتی ہے۔

خمینی خمینی کی تکرار کرنے والی خلقت ہو یا اپنی بغلوں میں اسناد کی ردی دبائے منتظر نوجوان اور پنشن کی کاپیوں کے خالی خانوں میں خواہشوں کا ماہانہ اندراج کرانے والی بیوائیں، سبھی ایک لا متناہی دکھ کی عجیب کہانی سناتے ہیں، ایسا دکھ جو اس محدود زمان و مکاں کی آلائش سے جڑے رہنے کے سبب اس دھرتی کے باسیوں کا مقدر ہو گیا ہے۔اسی محدود انسانی فکری کارکردگی کی وجہ سے مشینی دماغوں سے روندنے کچلنے والے روبوٹ نکل آئے ہیں۔خلائی شٹل اور اڑن طشتریوں سے ایٹمی روشنیوں کے جھماکے میں سیاہ موت برسنے لگی ہے۔آدم کی دائمی روایت سے منسلک "علیزے" نے جو روشن دنوں کے راز "علینہ" کی الماری سے چرائے تھے اسے مغربی ساحروں نے تباہ کن ایٹمی موت سے بدل دیا ہے۔ان بدوؤں کو جن کے پاؤں تلے تیل کی نہریں رواں ہیں بے خبر ہیں کہ بازار میں زندگی کس بھاؤ بک رہی ہے۔ڈالروں کی بانجھ توانائی نے ایک مفلوج اور فاقہ زدہ عہد کو جنم دے دیا ہے، اور یہ ایسا عہد ہے جس میں نالیوں کے کناروں پر گن گن کر جیون کے قطرے بہانے والے ایک نئے سورج کی تمنا بھی رکھتے ہیں۔

یہ تمنا "علینہ" کے روشن وجود سے جڑی ہوئی ہے۔

پکارنے والے "علینہ، علینہ"۔۔۔ "علینا، علینا"۔۔۔۔۔۔ "علی نہ، علی نہ" اور ایلی، ایلی" کی صدا لگاتے ہوئے اپنی تصدیق کے گنجلکے چیستان سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

اسی تلاش پر یہ نظم اپنی تکمیلیت کو چھو لیتی ہے، یوں کہ امیجز اور سمبلز کا ایک روشن سلسلہ لطف و آگہی اور سرشاری سے ہمکنار کر دیتا ہے۔مرمریں برجیاں، نقرئی اسم، سرخ بوسے، سرد اقرار، درد کی نیلگوں راکھ، دیدار کی شربتی دھوپ، شش دری ممٹیاں، سونے چاندی کی دو روٹیاں، بھوک کے بگولے، زیر آب تیرتی مرگ مچھلیاں، گرد سے گل میں تبدیل ہونے کی تمنا، گھنی گاڑھی سیاہی، کم خواب گھاٹیاں، لفظوں کی صندل خوشبو، سوت کی انٹی میں تلنا، دردیلے دن، الو ہی الاؤ، گلابی تجلی، نیندوں بھری ساعتیں ۔۔۔ ۔۔۔ میں لکھتا جا رہا ہوں اور فرشی کی نئی بوطیقا "علینہ"کے بھید مجھ پر کھولتی چلی جاتی ہے۔


نطشے کے بقول ہر شخص اپنے اسلوب سے پہچانا جاتا ہے۔فرشی نے اپنے اسلوب کی اساس دانشورانہ جدوجہد کے بجائے داخلی تجربے سے حقیقت کی تخلیق اور توسیع پر رکھ کر خود کو دوسروں سے مختلف کر لیا ہے۔پھر وقت کے حوالے سے اس نے ایک بھر پور تصور کو"علینہ"کے سارے حصوں میں یوں اجال دیا ہے کہ ہر منظر آگے آنے والے منظر کی چوکھٹ بن جاتا ہے۔

رولومے نے ایک دلچسپ بات کہی تھی، دلچسپ بھی اور عجیب بھی۔اس کا کہنا تھا کہ "ایک کتے کو اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ ایک اور مہینہ یا ایک اور سال بیت گیا لیکن ایک انسان تو یہ سوچ کر گھبرا جاتا ہے۔"فرشی کے یہاں یہی تشویش ایک خوبصورت تخلیق کا محرک بن گئی ہے، کچھ اس طرح کہ وقت نے بھی نئی معنویت کے گلابی بوسے لے لئے ہیں۔

مجموعی طور پر "علینہ" کا نور جس نقطے پر مرتکز ہو رہا ہے وہ انسانی وجود ہے، وہی جسے سقراط نے عظیم بلندیوں کا گہوارہ قرار دیا تھا۔کیرکے گارڈ نے سقراط کے کہے سے یہ بنیادی نکتہ نکالا تھا کہ "ساری کائنات اسی وجود انسانی پر مرتکز ہے۔اس کا عرفان حقیقت اولیٰ کا عرفان ہے۔" یوں "علینہ"اور "علیزے" کے دونوں کردار ان دو شفاف آئینوں جیسے دکھنے لگے ہیں جو عکس در عکس ایک دوسرے کو زنجیر کئے ہوئے ہیں۔

یہی وہ اسباب ہیں جن کے برتے پر مجھے اصرار ہے کہ "علینہ"کو اردو کی معدودے چند باقی رہ جانے والی نظموں میں شمار کیا جائے گا۔آپ نے دیکھا کہ اس میں فرشی کی قوت متخیلہ کوندے کی طرح ایک ہی ساعت میں کئی زمینوں اور کئی زمانوں پر سے لپک کر ابدیت کے کناروں کو چھو لیتی ہے۔وہ اپنے امیجز کی تعمیر کے لئے اس بے کنار زمانی و مکانی علاقے سے غیر مانوس مماثلتیں اور انوکھی تضادات اور پھر ان کے جواز برآمد کر کے نظم کے کینوس پر یوں بکھیر دیتا ہے کہ ایک مربوط بصری اور معنوی نظام ترتیب پا جاتا ہے۔اس طرح فن پارے کے بطن سے ایسا طلسماتی ماحول وجود پذیر ہوتا ہے جس میں زمان و مکاں، قدیم و جدید، اساطیر و سائنس، فلسفہ و تصوف، ارتقاء و فنا، مذہب و تعقل، مادہ و روح، موت اور محبت سب ایک دوسرے سے مربوط ہو کر براہ راست ترسیل کے بجائے امیجز کے ذریعے نئی بوطیقا تشکیل دے دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس کے ہاں نہ تو معنی کی مطلقیت اور قطعیت ہوتی ہے اور نہ شاعرانہ تصنع۔یوں وہ اپنی نظم کے لئے ایسا نظام وضع کر لیتا ہے جس کے ذریعے انسان اور فطرت کے نامیاتی تعلق سے پیدا ہونے والے معلوم تضادات کے کنگروں سے وراء منطقے دریافت ہونے لگتے ہیں اور نظم دانشورانہ ادراک اور ارادی شعور سے اگلی منازل کی اوڈیسی بن جاتی ہے۔


حسن عابدی: جو حرف لکھے دور سے روشن نظر آئے

مجھے اعتراف کر لینے دیجئے کہ میں حسن عابدی کی طرف اس کی نظم "کوئی چیز بے کار نہیں" سے پہلے پوری طرح متوجہ نہ ہو پا یا تھا۔ میں نے یہ نظم آئندہ کراچی کی 2000ء میں چھپنے والی ایک اشاعت میں پڑھی تھی۔ بظاہر نظم ایک کباڑی کے دن بھر کے معمولات کے گرد گھومتی تھی مگر بیچ بیچ میں کوسوں کے اندر قدرے غیر متعلق بات کی طرف اشارہ کر کے اسے قومی سطح پر مجرمانہ بے عملی سے جوڑ دیا گیا تھا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی تھی، اس میں کاٹھ کباڑ سے جو امیجز بنائے گئے تھے وہ حیرت انگیز طور پر اتنے شفاف ہو گئے تھے کہ ان میں سے معنی کے ایک سے زائد دھارے پھوٹ بہے تھے۔ اور جب میں نظم کے آخر میں پہنچا تھا، وہاں جہاں اس کباڑی کے گول مٹول بچے کو تختے والی اس ریڑھی پر بیٹھا دکھایا گیا تھا جس پر دن بھر گلی گلی گھوم کر اکٹھی کی جانے والی ناکارہ چیزیں دھری ہوئی تھیں تو میرا دوران خون بڑھ گیا تھا۔ نظم یہاں پر رکی نہیں تھی کہ آگے چل کر کاٹھ کباڑ کو ایک بڑے کباڑی نے خریدنا تھا ۔۔۔ کاٹھ کباڑ کو، قومی ردی کو اور چھوٹے کباڑی کے گول مٹول بچے کو بھی، کہ اسی سے مال بنایا اور کمایا جانا تھا۔

یہ نظم میرے اندر دھرنا مار کر بیٹھ گئی۔ گہرے درد کی طرح ۔۔۔، نہیں شاید ایک طیش کی طرح جو آپ کے دوران خون کو معمول پر نہیں آنے دیتا، اسی رات میں نے خواب میں ایک کباڑی کو دیکھا تھا جو دروازوں پر دستک دے دے کر صدائیں لگاتا پھرتا تھا:

"ٹوٹا پھوٹا مال نکالو
بی بی خالی ہاتھ نہ ٹالو
لوہا لکڑی، خالی ڈبے، ناکارہ فرنیچر
کرنا کیا ہے گھر میں رکھ کر۔۔۔ "

میں نے نظر بھر کر اس کی تختے والی گاڑی کو دیکھا تھا ٹوٹی پھوٹی میز اور کرسی کے ساتھ بنیادی دفعات سے خالی آئین، مالی منصوبے، سرکاری اعلانات اور پتہ نہیں کیا کچھ ردی کی صورت بکھرا پڑا تھا۔ اسی کاٹھ کباڑ اور ردی کے پاس ہی ایک معصوم بچہ بھی بیٹھا ہوا تھا جس کے چہرے کی معصومیت کو اس ناکارہ اسباب سے اٹھنے والی دھول نے دھندلا دیا تھا۔

یوں کسی فن پارے کا اعصاب پر سوار ہو جانا میرے لیے بہت غیر معمولی تھا۔

پھر یوں ہوا کہ اس غیر معمولی فن کار کی نظمیں میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑھنے لگا اور لطف یہ ہے کہ ہر بار کوئی نہ کوئی پہلو مجھے دلکش دکھائی دے جاتا تھا۔ ان نظموں سے میں نے جس حسن عابدی کے خال و خد بنائے وہ اس بزرگ ترقی پسند صحافی کے طور پر معروف حسن عابدی سے قطعاً مختلف تھے جس کا ذکر گاہے گاہے میرے سننے میں آتا رہا تھا۔ ان نظموں میں جدید تر حسیات سے پوری تخلیقی سچائی کے ساتھ وابستہ ایسے شخص کا ہیولا بنتا تھا جس نے گذشتہ ربع صدی کے بدلے ہوئے تخلیقی لحن کو شعار کیا تھا اور یہی میری چوک تھی۔ جدید نظم پر مضمون لکھتے ہوئے اسی چوک نے مجھے ان بھائی لوگوں کی طرح منہ کے بل گرایا جو تخلیق کو مصنف سے بالکل الگ کر کے سمجھنے کے جتن کرتے ہیں اور آپ جانتے ہی ہیں کہ مصنف کو مردہ سمجھنے والوں کی تنقیدی تھیوریوں کے لاشے تھوڑے ہی عرصے میں تعفن چھوڑنے لگے ہیں۔


خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا، مجھے تو یہ بتانا ہے کوئی تین سال پہلے جب میں نے ایک مضمون میں نئی نظم کے کچھ اہم نام نشان زد کئے تھے تو حسن عابدی کو اسی تناظر میں اس نئی نسل میں شمار کر لیا تھا جس نے گزشتہ ربع صدی میں شناخت پائی تھی۔اس مضمون کے چھپنے پر آصف فرخی نے بجا طور پر میری گرفت کی تھی مگر ساتھ ہی ساتھ چند ایسے نظم نگاروں کا میرے مضمون میں ذکر نہ آنے پر برہمی کا اظہار بھی کر دیا تھا، جو مجھے قطعاً متاثر نہ کر پائے تھے۔ لہذا آصف فرخی کے خط کی جذباتی عبارت بہت جلد ذہن سے محو ہو گئی حتی کہ 2003 کی وہ شام آ گئی جب میرے لیے کراچی میں کچھ احباب جمع ہوئے جن میں حسن عابدی بھی تھا۔ بوٹا قد، اکہرا جسم، سفید بڑھے ہوئے بال جنہیں عدم دلچسپی سے کنگھی کیا گیا تھا، موٹے فریم والی عینک، وہ ملنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا تھا مگر یوں کہ نگاہ پوری طرح اٹھی ہوئی نہیں تھی اس کے چہرے پر ایک دھیمی سی مسکراہٹ تھی جو مزاج کی سنجیدگی نے دبا رکھی تھی۔ تعارف ہو چکا تو میں کھسیانا ہو رہا تھا مجھے آصف فرخی والی گرفت یاد آنے لگی۔ واقعی مجھ سے بہت خطا ہوئی تھی اور جب تک میں نے حسن عابدی سے اپنی خطا کی معافی نہیں مانگ لی میں بات آگے بڑھانے کے قابل نہیں ہوا۔۔۔ مگر یوں تھا کہ میرے معذرت چاہنے پر وہ اور بھی زمین کے قریب ہو گیا تھا اس پیڑ کی ڈالیوں کی طرح جو رس بھرے پھلوں سے لد کر جھک جاتی ہیں۔

باقی کی ملاقاتیں بھی گنی چنی ہیں مگر اس عرصے کا فیضان یہ ہے کہ حسن عابدی نے مجھے اس وقت تک شائع ہو چکے اپنے دونوں شعری مجموعے عطا کر کے موقع فراہم کر دیا تھا کہ میں اس کی شاعری دل جمعی سے پڑھ سکوں۔ اس کا تیسرا مجموعہ کچھ عرصہ پہلے آصف فرخی لیتے آیا۔جن کے ہاں لکھنا مشغلہ نہیں ہوتا زندگی اور موت جیسا مسئلہ ہو جاتا ہے وہ لاکھ فاصلے پر ہوں قریب آ جاتے ہیں تو یوں ہوا کہ ہم بہت قریب ہو گئے تھے۔اب میں اس حسن عابدی کو جان گیا تھا جس کی ساری زندگی مشقت سے عبارت تھی مگر جس کا دل انسان کی محبت میں کناروں تک چھلک رہا تھا جو محبت کو دل کی دین، اور محبت ہی کو ہر ذی نفس پر فرض اور آدمی کا آدمی پر قرض سمجھتا تھا مگر ساتھ ہی ساتھ اس سانحے پر رنجیدہ بھی تھا کہ شہر کی رسمیں جدا ہو گئی ہیں:

"یہاں کے آب و خاک و باد میں انکار کی خو ہے
شجر آغوش وا کرتے ہیں اور سائے نہیں ملتے

شناسائی کی خوشبو پر دریچے بند ہوتے ہیں
دعائیں در بدر پھرتی ہیں ماں جائے نہیں ملتے۔۔۔ "
محبت/حسن عابدی

عین ایسے عالم میں کہ جب بھونچال کی تباہ کاریوں کے بعد بچوں کی چیخوں کے سرخ پھول فضا کی چادر پر ہر کہیں نظر آتے ہیں مجھے اِس نامہربان منظر نامے کے طلسم سے نکلنے کے لیے وہ وظیفہ یاد آتا ہے جو حسن عابدی نے اپنی نظم "آنسو" میں بتایا تھا:

"بچوں کی آوازیں
آوازوں کے پھول
اور پھولوں کے ہار
کچھ بھی پاس نہ آئے
تب یہ سوچو
روح کی گرد آلود قبا میں، چاک بہت ہیں
کب سے دھوئے نہیں تھے
کب سے روئے نہیں تھے
تنہا بیٹھو، بیٹھ کے رو لو
دھول آنکھوں سے دھل جائے گی
دنیا نئی نظر آئے گی"
آنسو/حسن عابدی

جس روز حسن عابدی نے اپنی پہلی دو کتابیں "نوشت نے" اور "جریدہ" دی تھی تو یوں نہیں تھا کہ کتابیں لا کر چھاتی پھلا ئی اور دھڑ سے مجھے تھما دی تھی۔ بلکہ یوں تھا کہ ہم مبین مرزا کے ہاں طویل نشست کے بعد بہت دیر ساتھ ساتھ رہے، وہ بولتا کم اور سنتا زیادہ تھا۔ اس روز تو وہ بہت کم بول رہا تھا۔ اتنا کم کہ مجھے خدشہ ہونے لگا، کوئی بات ضرور ہے جو اسے کہنا ہے۔ اس خدشے نے مجھے بھی چپ لگا دی تھی۔ مجھے پوری طرح اپنی جانب متوجہ پا کر حسن عابدی نے اپنی لپیٹی ہوئی کتابیں میرے سامنے کیں اور کہا کہ قصور اُس کا اپنا تھا کہ ُاس کی کتابیں بہت کم لوگوں تک پہنچ پائی تھیں۔ میں نے اُن کتابوں کو تھام لیا اور پھر یوں ہوا کہ مجھے حسن عابدی کی محبت نے تھام لیا، اُس کے خلوص سے بھرے ہوئے لفظوں نے، اُس کے لہجے کے ٹھہراؤ نے اور اُس گہرے احساس نے جو اُس کی شاعری کا خاص وصف ہو گیا تھا۔

1955ء تک شاعر حسن عابدی، صحافی حسن عابدی کے نرغے میں تھا۔ تاہم "کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے" والا کرشمہ ہوا اور جنوری 1955 میں اس کی پہلا شعری مجموعہ "نوشت نے" شائع ہو گیا۔ اس مجموعے کے آغاز میں اس نے اعتراف کیا تھا کہ:

"میں نے صحافت کی، کالم نگاری کی، اخبار میں نوکری کی۔۔۔ بے روزگاری کاٹی ۔۔۔ مشقت سے منہ نہ موڑا، دل شکستہ تو ہوا مایوس نہیں ہوا۔اب سوچتا ہوں تو نادم ہوتا ہوں کہ میں نے شاعری کو اپنا اسلوب زیست کیوں نہ بنایا" - (گزارش، نوشت نے/حسن عابدی)


یہ ندامت ایسی تھی کہ اس نے زندگی کا اسلوب بدل لیا۔ اب صحافت اس کی زندگی میں اس مقام پر آ گئی تھی جہاں اسے ہونا چاہیے تھا۔ یہی سبب ہے 1998 میں اس کا دوسرا مجموعہ "جریدہ" شائع ہو گیا جب کہ کچھ ہی عرصہ پہلے اس کا تیسرا مجموعہ "فرار ہونا حروف کا بھی منظر عام پر آ چکا ہے۔ لیکن میں بات کر رہا تھا اس زمانے کی جب وہ صرف صحافی ہو کر رہ گیا تھا، ایسا صحافی جو ترقی پسند تحریک کا انڈر گراؤنڈ ورکر تھا اور انہیں کے تقاضوں کے عین مطابق شاعری کر لیا کرتا تھا۔ تب وہ اس تحریک کا اتنا اہم ورکر تھا کہ ایک وقت کی حکومت نے اسے راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار ہونے والوں کی فہرست میں رکھا۔ یہ گرفتار ہوا، سی کلاس کی صعوبتیں برداشت کیں مگر اپنی روش ترک نہ کی حتی کہ وہ زمانہ آ لگتا ہے جب ترقی پسندی دوا کے طور پر کان میں ڈالنے کو بھی باقی نہیں بچتی اور بچے کھچے اکثر انقلابی اتنے روشن خیال اور سیانے ہو گئے ہیں کہ اس روشن خیالی کی جھونک میں سب سے بڑے سامراج اور اس کے مقامی ہرکاروں کے مکروہ چہروں پر بوسے دیتے ہوئے انہیں ذرا بھی لاج نہیں آتی۔ فیض کا وہ شعر یاد کیجئے جس میں، پرورش لوح و قلم، کی بات کی گئی تھی اور بدلے ہوئے تناظر میں حسن عابدی کا ایک شعر بھی سن لیجئے:

عابدی پرورش جاں کا خیال آتا ہے
ان دنوں پرورش لوح و قلم سے پہلے

سو عین ایسے زمانے میں جب عالمی سرمایہ کاری سب کچھ بہائے چلی جاتی ہے۔ نظریاتی وابستگیوں معزز وظیفہ بے وقت کا راگ بنا دیا گیا ہے، ہم نے دیکھا کہ حسن عابدی سب سے الگ دھج سے کھڑا مسلسل سامراج کو للکارتا رہا، بغیر کسی خوف کے، پورے خلوص اور پورے تخلیقی رچاؤ کے ساتھ:

"ہلاکو اب جو تم بغداد آؤ گے
علی بابا کے سونے کے خریطے، خیمہ و خرگاہ سارے لٹ چکے ہوں گے
جہاں عشوہ طراز و حیلہ گر مرجینا رہتی تھی
وہاں اک اور ہی دنیا کے نوسر باز بیٹھے ہیں
یہاں مٹی میں جادو ہے، زمیں سونا اگلتی ہے
ہوا میں تیل کی بو ہے
ہلاکو اب جو تم بغداد آؤ گے
تو پھر واپس نہ جاؤ گے۔
ہلاکو اب جو تم بغداد آؤ گے
حسن عابدی

حسن عابدی کے مرنے کی خبر میرے لیے بہت اچانک تھی۔ ایک صبح میں نے حسب معمول اپنا میل باکس کھولا تو اس خبر پر مشتمل کراچی سے آنے والی ای میل میرے سامنے آ گئی تھی یوں کہ میں بہت دیر تک اسے پڑھ نہ پایا تھا۔ اسی ای میل میں لکھا تھا کہ حسن عابدی کل تک ٹھیک ٹھاک تھے۔ کسی تقریب میں شرکت کی اس کی رپورٹ ڈان کو بھیجی تھی۔ میں نے جھٹ ڈان کا ویب ایڈیشن نکالا وہاں حسن عابدی کی بھیجی ہوئی رپورٹ موجود تھی۔ مگر وہاں حسن عابدی نہیں تھا بس اس کے قلم کی مشقت تھی

صحافت کی دنیا سے وابستہ رہتے ہوئے، اس نے 1995 سے 2005 کے دورانئے میں اپنے آپ کو شاعری کے میدان میں یوں زندہ رکھا کہ اب وہ کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا۔بہت پہلے اس نے کہا تھا:

میں آبلہ پا دھوپ کے صحرا کا مسافر
سائے کا بھی احسان اٹھا کر نہیں رکھا

جو حرف لکھے دور سے روشن نظر آئے
رستے میں چراغوں کو بجھا کر نہیں رکھا


فاطمہ حسن: کہانیاں گُم ہو جاتی ہیں

میں جس فاطمہ حسن سے آگاہ رہا ہوں وہ "دستک سے در کا فاصلہ" والی ہے حالانکہ آصف فرخی، بہت دن گزرے اس کی کہانیوں کی کتاب مطالعہ کے لئے عطا کر گئے تھے۔
میں نے ساری کہانیاں تب ہی پڑھ ڈالی تھیں ۔۔۔ ایک ہی نشست میں۔ فاطمہ حسن کی کہانیاں ایک ہی ہلّے میں بڑھی جا سکتی ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے ایک بھولی بھالی بچی ایک ہی وقت میں ایک ساتھ کئی کھلونوں سے لطف اندوز ہو سکتی ہے۔۔۔ ایسے کھلونوں سے جو کترنوں سے بنائے جاتے ہیں۔ اپنے اصل کی چھانٹن لو کر بے وقعت ہو جانے والی کترنوں سے بچی کھیلتی ہے۔۔۔ پہروں کھیلتی ہے۔

انہیں کچھ عرصہ سنبھال کر رکھتی ہے۔۔۔ کچھ عرصہ ہی تو سنبھال کر رکھ سکتی ہے اور پھر یہ کترنیں گُم ہو جاتی ہیں۔ فاطمہ حسن کی ان گُم ہو جانے والی کہانیوں کی طرح جو بوسیدہ ڈٓئری سے برآمد ہو کر ایک کتاب میں سما گئی ہیں۔ ایک ہی ہلّے میں پڑھ لی جانے والی کتاب میں۔

میں نے وہ کتاب پڑھ تو لی تھی مگر ایک شاعرہ اپنے پورے وجود کے ساتھ میرے ساتھ موجود رہی۔ دستک سے در کا فاصلہ والی شاعرہ۔

"بہتے ہوئے پھول" اس کی شاعری کا پہلا مجموعہ تھا وہ میری نظر سے نہیں گزرا مگر "دستک سے در کا فاصلہ" ان جادوئی بادلوں کی طرح ہے جو اچانک پھٹ کر اپنا سارا پانی انڈیل دیتے ہیں آپ کے وجود کے Catchment ایریا میں ۔۔۔ یوں کہ آپ کے باطن میں موجود لئی کناروں سے چھلکنے لگتی ہے۔۔۔ اُبلنے لگتی ہے۔۔۔ طغیاں ہو جاتی ہے۔

اور وحشی ہو کر پھیل جاتی ہے۔
اتنی وحشت کہ محبت بھی سکوں دے نہ سکے
اتنی شدت کہ چٹختی ہو ہر اِک رگ جیسے
وہ تلاطم ہے کہ آنکھوں سے اُمنڈ آئے لہو
دل یہ لگتا ہے کہ جیسے کسی گرداب میں ہے
کیا کروں روؤں، ہنسوں، رقص کروں یا ماتم

جب وحشت میں جذبے کچھ اس طرح ٹھاٹھیں ماریں کہ روح اور بدن کے سارے طاس کا پانی لہو بن کر دل سے اور رگِ جاں سے اُمنڈ پڑے۔ اس شدت سے اور یوں دھاریں مار مار کر اُمنڈے کہ اندر سے خالی کر دے تو پہلی پناہ گاہ جی بھر کر رونا ہو سکت ہے۔۔۔ ذرا فاصلہ زیادہ ہو تو ساری شدت کو قہقہوں میں بھی اُڑایا جا سکتا ہے۔۔۔ بعن میں بغاوت کا غدر اُٹھے تو یہ تُندی رقص کی توانائی میں ڈھل سکتی ہے یا پھر عمر بھر کے لئے ماتمی علم تو اُٹھایا ہی جا سکتا ہے مگر فاطمہ حسن نے شعر کہے ہیں:

کہو تو نام میں دے دوں اسے محبت کا
جو اِک الاؤ ہے جلتی ہوئی رفاقت کا

یا پھر یوں کہ:

یہ جاگتی ہے تو پھر دیر تک جگاتی ہے
مرے وجود میں سوئی ہوئی جو وحشت ہے

وحشت کے ایسے عالم میں شاعری کے بھاگ جاگ اٹھا کرتے ہیں۔


ایسے میں غزلیں تو نوکِ قلم سے کاغذ پر اتر کر اہلے گہلے پھرنے لگتی ہیں۔

مگر کہانیاں ۔۔۔ جی ہاں کہانیاں گُم ہو جاتی ہیں ۔۔۔ شاعری کے دھارے کے بیچ میں اپنی بات روکتا ہوں کہ ژاں پال سارتر کی ایک بات یاد آ رہی ہے اس نے کچھ اس طرح کہا تھا:

"تخلیق حیوانی نفس کی وہ چیخ نہیں ہے جو درد سراسیمگی اور خوف کے عالم میں قضا ہو جاتی ہے۔"

مگر غزل تو ہے ۔۔۔ جذبوں سے بھری ہوئی رنگ پچکاری جیسی، دہشت سے نکلی ہوئی چیخ جیسی اور حیرت کے اس لمحے کی طرح جو عین صلیب پر اُترے اور زندگی کا جوہر کشید کرے۔

اگر ایسی نہ ہوتی تو افتخار عارف یہ کیوں کہتا:

جیسی لگی تھی دل میں آگ سیدی غزل ہوئی نہیں
لفظ سنبھل نہیں سکے درد کی تیز دھار میں

انتظار حسین کا کہنا ہے کہ شاعر تو ہمیشہ زندگی کا جوہر کشید کرنے والے لمحے کی تاک میں رہتا ہے اور میری ذاتی رائے یہ ہے کہ کہانیاں ایسے لمحوں میں گم ہو جاتی ہیں، شاعری میں یا پھر وقت کی چیزویں قبر میں۔

فاطمہ حسن نے یہ کہانیاں تب لکھی تھیں جب اس کی شاعری زندگی کا جوہر کشید کرنے میں طاق ہونے کے تیور دکھانے لگی تھی اور فاطمہ انہیں ایسے میں منظرِ عام پر لائی ہے جب شاعری کے لشکارے نے اسے اجال دیا ہے۔ ایک پہچان رکھنے والی شاعرہ پلٹ کر دیکھتی ہے تو گم ہو جانے والی کہانیوں کو تلاش کرتی ہے۔

مجھے اس کا یوں پلٹ کر دیکھنا کھَلتا نہیں ہے کہ ایسا ہونا بہت اچھا ہو سکتا ہے، ایک عورت جب چھوٹ چکے آنگن کو مُڑ کر دیکھتی ہے تو یوں اس کی چال میں نیا اعتماد اور نئی تمکنت آ جایا کرتی ہے مگر ہوا یوں ہے کہ فاطمہ حسن نے کہانیوں کو بالکل ویسا ہی رہنے دیا ہے جیسے وہ تھیں۔

ان میں وہ بوسیدہ نعرہ بھی کہیں کہیں جھلک دے جاتا ہے جو بعد میں مغرب کے ہوس ہونٹوں سے نیو ورلڈ آرڈر کی رال بن کر ٹپک پڑا اور جس کو J. C. Brook نے مغربی بنیاد پرستی کَہ دیا تھا۔ ایسی بنیاد پرستی جو Consumerismاور Marketism کے تحت عورت کو ایسی خود مختاری دیتی ہے جس میں وہ فقط جسم ہو جاتی ہے، خوش نما اور لذیذ جسم ۔۔۔ آرائشی اور تہنیتی کاغذوں میں لپٹا، بظاہر ہر کہیں موجود جسم مگر فی الوصل Consumers کی اشتہا بڑھاتا Commodity بن جاتا جسم، تاہم فاطمہ کی شاعری اور کہانیوں میں یہ نعرہ بہت دھیما ہے اور اس میں ویسی جھجک اور حیا ہے جو دستک کے لئے اُٹھے ہاتھ اور دستک کے لئے منتظر در کے درمیانی وقفے میں پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہ تو فہمیدہ ریاض بنتی ہے نہ کشور ناہید ۔۔۔ وہ فاطمہ حسن ہی رہتی ہے اور اپنی الگ شناخت بناتی ہے۔

آصف نے کتاب کے آخر میں شامل مضمون میں لکھا کہ جب کہانی کے نام پر فاطمہ حسن نے اسے ڈائری تھما دی تھی، تاریخیں بہت پرانی ہو چکی تھیں تو بیچ میں کئی صفحے سادہ تھے ۔۔۔ اس نے یہ بھی لکھا کہ کئی کہانیاں حاشئے پر تھیں، گھبراہٹ یا بے زاری کے مارے تیز تیز بے طرح اتاری ہوئی۔

یوں لگتا ہے آصف نے ان کہانیوں کو ایسے ہی چھاپ دیا ہے۔ Separators کی صورت خالی رہ جانے والے اوراق کے بیچ۔ ورنہ اس ساری کتاب میں چار سے زیادہ کہانیاں نہیں ہیں۔ پہلی کہانی کے کرداروں میں تو وہ ہے جو دھیرے دھیرے کچھ کہے جاتی ہے اپنے آپ سے، اپنی سہیلی سے یا پھر اس سے جس کے بارے میں اس کا گما ن ہے کہ اس کے سبب وہ شناخت سے محروم ہے۔

اس ایک کہانی کو "بلیک آرٹ"، "پری میچور برتھ"، "عام سی لڑکی"، "چھوٹے رے لوگ"، "چھتیس نمبر"، "وقت اور فاصلہ"، "چوتھے کونے کا آسیب"، "سفر میں"، "جھوٹے پھل"، "بدلتی ہوئی جون"، "تلاش" اور "وہ مجھے دیکھتی رہی" کی کترنوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔

کہیں کہیں یہ کترنیں سندھ کی چادر رلّی کی طرح ہو گئی ہیں ۔۔۔ دیر تک ساتھ دینے والی اور خوب صورت رنگوں کی پھوار چھوڑنے والی رلّی کی طرح۔

اور کہیں یہی کترن کہانیاں ان معصوم لڑکیوں جیسی ہو گئی ہیں جو کھیلنے کی عمر ہی میں جنسیاتی طور اس قدر بلوغت پا لیتی ہیں کہ ان پر "چھتیس نمبر" فٹ بیٹھتا ہے۔

چھتیس نمبر فاطمہ حسن کا افسانہ ہے، چونکانے والا مگر فی الاصل ایک کہانی بن جانے والی دوسری کہانیوں کا جزو بن جانے والا۔


تاہم وہ کہانیاں جو مختلف ہو گئی ہیں وہ صرف تین ہیں۔

  1. کہانی ایک شہزادی کی
  2. زمین کی حکایت اور
  3. ٹھہری ہوئی یاد

میں یہ مان لینے سے قاصر ہوں کہ یہ کہانیاں بھی اسی بوسیدہ ہو جانے والی ڈائری سے برآمد ہوئی تھیں کہ ان میں کہانی کا وہ بھید ہے جس کے سبب راہ گیر راستہ بھول جایا کرتے تھے۔

منشا یاد کہانیوں کے طویل یا مختصر رہ جانے سے دل چسپ نکتے برآمد کیا کرتے ہیں پھر اپنے نقطوں سے کسی بھی افسانہ نگا ر کے ہاں کامیاب افسانوں کی مناسب طوالت یوں تجویز کر دیا کرتے ہیں جیسے ایک ماہر نباض ماپ کر نسخہ تجویز کیا کرتا ہے۔

میں نہیں جانتا فاطمہ حسن کی کہانیوں کو پڑھ کر وہ کیا نسخہ تجویز فرمائیں گے تاہم اتنا جان گیا ہوں کہ شاعری کی چوندھ میں ڈھلتے جذبوں کو بھیدوں بھری رات میں زندگی سے جوڑنے والے شام سمے میں یہ کہانیاں تخلیق ہوئی ہیں۔

وقت کا اتنا کم وقفہ جب رکعتیں بھی سمٹ سمٹا کر کم رہ جاتی ہیں، زندگی کی گمراہی کو کیسے سمیٹ سکتا ہے۔

لہٰذا ہر کہانی اتنی ان کہی رہ گئی ہے جتنی کسی علامت، استعارے اور تمثیل نے بتانا تھی، جتنی کرداروں نے اپنی شباہت سے اجالنا تھی، واقعات نے اپنی ترتیب سے سمجھانا تھی اور کرافٹ نے جسے اپنے اندر گوندھنا تھا۔

تاہم وہ تین کہانیاں جنہیں فاطمہ حسن نے سنبھال لیا ہے، اپنے افسانے "وہ بچہ" کی ماں کے رحم میں پلٹ جانے والے بچے کی طرح انہیں واپس نہیں پلٹ جانے دیا، روک لیا ہے، گود لے لیا ہے، شاعری سے وقت نکال کر پوری توجہ سے انہیں لکھا ہے۔ یوں کہ وہ الگ سے دِکھنے لگی ہیں، گُم نہیں ہوئی ہیں۔

ایسی کہانیاں گُم ہونے کے لئے ہوتی ہی نہیں ہیں۔ چاہے زمینیں گُم ہو جائیں یا پھر زمین سے اُگنے والے رشتے گُم ہو جائیں، اِن کہانیوں کو زندہ رہنا ہوتا ہے، لکھنے والے کے وجود کی گواہی بن کر اور اسے زندہ رکھنے کے لئے۔ مجھے یقین ہے فاطمہ حسن ایسی کہانیاں لکھ سکتی ہے اور ضرور لکھے گی۔ یوں وہ شاعری کی طرح اُردو فکشن کا بھی معتبر نام بن سکتی ہے۔


جتندر بلو کی کہانیاں: ایک تاثر

جتندر بلو کے کہانی کہنے کے چلن کو جاننے کے لیے مجھے اس کی جس تازہ کہانی کا سہارا لینا پڑ رہا ہے، وہ ہے "ماں، بیٹی اور باپ۔" اگرچہ میرا خیال ہے کہ یہ کہانی جتندر بلو کی نمائندہ کہانیوں میں شمار نہیں کی جا سکتی تاہم اپنے مواد، کرداروں کے انتخاب، متن میں معنی کے بہاؤ، ماحول اور موضوع کے معاملات پر ایسے مواقع ضرور فراہم کرتی ہے کہ ہم اس کے مجموعی تخلیقی مزاج پر بات کر سکیں۔ "ماں، بیٹی اور باپ" کا عنوان قائم کر کے یہ آغاز ہی میں اعلان کر دیا گیا ہے کہ اس کہانی کا موضوع خاندان اور سماجی رشتے ہو گا اور یہ کہ اس کے نمایاں کرداروں کے لیے ان ہی تین رشتوں کو چنا گیا ہے۔ صاحب، آپ نے درست اندازہ لگایا مگر بات کھلی ہوئی ہونے کے باوجود اتنی آسان نہیں ہے لہذا ایک ترتیب سے آگے بڑھنے کے لیے اس کہانی کو چند نقاط میں سمیٹنا چاہوں گا۔ یاد رہے جتندر بلو کی کئی کہانیوں میں جنس اور محبت کی تکون موضوع بنتی رہی ہے دو مرد ایک عورت یا پھر ایک مرد اور دو عورتیں اور ان کے درمیان نفسیاتی، جنسی اور تہذیبی الجھنوں میں سے راستہ بناتی ہوئی محبت۔ اس کہانی میں بھی مرکزی کردار ایک باربرا کا بنتا ہے جب کہ دو مرد وں میں سے ایک کا تعلق انڈیا سے اور دوسرے کا بنگلہ دیش سے ہے:

1: کہانی واحد متکلم کے بیان سے شروع ہوتی ہے۔ یہ وہی فرد ہے جو انڈیا کا رہنے والا اور یہاں کی مذہبی کتابوں کو ماننے والا ہے۔

"میں نے اسے اپنی مذہبی کتابوں اور عقیدوں کا حوالہ دینا ضروری جانا۔ ۔۔۔"میں جانتا ہوں تم ان باتوں پر یقین نہیں رکھتیں؟ مگر ان میں بڑی سچائی ہے۔ کئی جنم تک آتماؤں کا ملن آپس میں رہتا ہے۔"۔۔۔ "ہاں، اور تم کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ انڈیا کے چار بڑے مذہب ہندومت، بدھ مت، جین مت اور سکھ مت یقین رکھتے ہیں کہ منش مرنے کے بعد اگلا جنم ضرور لیتا ہے اور اس کی آتما کا فیصلہ اس کے پچھلے جنم کے کرم کرتے ہیں کہ وہ کس کوکھ میں پرویش کرے گی؟"

2: ہندی مذاہب پر یقین رکھنے والا یہ بیان کنندہ انگریزوں کے ہاں اپنی معاشی مجبوریوں کی وجہ سے گیا تھا مگر وہاں رہ بس کر وہ اس ماحول کا حصہ نہیں بن سکا۔ خوب محنت کر کے وسائل جمع کرنے کے بعد چاہتا ہے کہ جلد اپنے وطن لوٹ جائے۔

"میرا جیون تو پرندوں کی مانند تھا، جو بھور ہوتے ہی آب و دانہ کی تلاش میں پرواز کر جاتے ہیں اور سانجھ ڈھلنے پر ہی گھونسلوں میں لوٹا کرتے ہیں لیکن میں تو پرندوں سے بھی چند ہاتھ آگے نکل گیا تھا "۔۔۔ "میری سائیکی اور لاشعور میں یہ خوف بیٹھا ہوا تھا کہ اگر میں زندگی کے سفر میں باربرا کے ساتھ کہیں بھی اٹک گیا تو میرے وہ منصوبے، جنہیں میں جلد یا بدیر عملی شکل دینا چاہتا ہوں، ادھورے رہ جائیں گے اور مجھے آخری سانس بھی پردیس میں لینا ہو گی لہذا میں نے خود پر جبر کیا۔"۔۔۔ "میں خود کو تمہاری دھرتی پر اجنبی سمجھتا ہوں۔ مجھے یہاں کا جیون زیادہ راس نہیں آیا۔ یہاں پیسے ضرور ہیں مگر بھید بھاؤ بہت زیادہ ہیں۔ پورا معاشرہ لالچ، خود غرضی اور استحصال کی بنیاد پر کھڑا ہے۔ میری کوشش شروع سے رہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیسہ بنا کر یہاں سے چلا جاؤں۔ "۔۔۔ "وہیں جہاں میں نے شعور پایا تھا۔ جہاں میرے سب اپنے پرائے موجود تھے۔" ۔۔۔ "تمہارا مطلب ہے بامبے؟"۔۔۔ "ہاں وہاں ساگر کنارے ایک چھوٹی سی کاٹیج بنانے کا ارادہ ہے۔"۔۔۔ "کاٹیج تو یہاں بھی بن سکتی ہے؟"۔۔۔ "ہاں کیوں نہیں ۔۔۔ لیکن میں اپنے کلچر اور اپنی تہذیب کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔۔۔ میرا دم گھٹتا ہے یہاں"


3: اگرچہ وہ مشرقی اقدار کا دل دادہ ہے اور اپنی تہذیبی اقدار سے وابستہ رہنا چاہتا ہے مگر اسے مقامی ماحول نے بھی بہت تبدیل کیا ہے۔ افسانے میں اس کردار کی اس جہت کو بھی بہت نمایاں کیا گیا ہے۔

"میرے پلنگ کے قریب میلے کچیلے کپڑے، میز پر ان گنت بے ترتیب کتابیں، رسالے، ایک کونے میں بیئر کے خالی ڈبے، خالی بوتلیں، کوفی ٹیبل پر سگریٹوں کی بھی ہوئی ٹرے اور۔۔۔ " "سیکس بھی زیر گفتگو رہتا"

4: سیکس کا موضوع یہاں باربرا کے حوالے سے زیر بحث آیا ہے۔ یہی وہ ماں عورت ہے جواس کہانی کے دو مردوں کے درمیان کہانی کے وسیلے سے جڑ گئی ہے۔ اس عورت کو میں نے ماں عورت کہا، تو اس کا سبب یہ ہے کہ کہانی میں اس کا بنیادی حوالہ یک ماں کا ہی بنتا ہے میگی کی بن بیاہی ماں۔ اس کردار کی شاندار شخصیت کا نقشہ افسانہ نگار نے یوں کھینچا ہے:

"باربرا نے شخصیت ہی کچھ ایسی پائی تھی کہ ہر کوئی اسے دیکھ کر پگھل جایا کرتا تھا۔۔۔ گورے چٹے بدن پر نیم سرخ چہرہ، حساس بلوریں آنکھیں، اٹھی ہوئی مخصوص برطانوی ناک، تنی ہوئی چھاتیاں اور گھنے بال۔ اس کا کسا ہوا بدن دیکھ کر گمان گزرتا کہ وہ اب تک کنواری ہے۔ ان چھوئی ہے اور کسی یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ ہے"۔۔۔ "باربرا حسین عورت تھی۔ہوش مند، تعلیم یافتہ، متوازن ذہن رکھتی تھی۔ مگر اس کا جیون ایک ایسے خطرناک موڑ سے گزر چکا تھا کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ون پیئرنٹ فیملی بن کر رہ گئی تھی۔ انجام یہ ہوا کہ اس کے آگے پیچھے، دائیں بائیں اندھیرا ہی اندھیرا پھیل گیا۔ پریشان باربرا صبر، جبر، جھلاہٹ اور جستجو کا شکار ہو کر رہ گئی تھی۔"

5: باربر کا کردار ایک ننھی منی بچی میگی کے ساتھ جڑ کر اپنے خال و خد یوں بدل لیتا ہے:

"وہ میرے کرسی پر بیٹھ گئی۔ خاموش، سنجیدہ، فکر مند۔ ٹکٹکی باندھے کبھی میگی کو دیکھتی اور کبھی مجھے۔" ۔۔۔ "باربرا نے سگریٹ سلگائی۔ کچھ سوچا اور پھر تلخی سے کہا: "میں دنیا کی ذرا بھی پروا نہیں کرتی۔"۔۔۔ "وہ تیزی سے بڑی ہو رہی ہے۔سال دوسال میں اسکول جانا شروع کر دے گی تو بچے اسے لّو چائلڈ کہہ کر چھیڑا کریں گے؟ اس کا مذاق اڑائیں ہے؟"۔۔۔ شاید تم نہیں جانتے۔ ہماری سوسائٹی میں لّو چائلڈ کا مطلب ہے باسٹرڈ چائلڈ آؤٹ آف ویڈ لاک (حرامی بچہ، بنا شادی کے جنا ہوا۔) میں اس خیال ہی سے کانپ اٹھتی ہوں جب کوئی میری بچی کو اس نظر سے دیکھے گا۔"۔۔۔ "میگی کو باپ کے نام کے ساتھ ایک باپ کی بھی ضرورت ہے۔"

6: جتندر بلو نے کہانی میں اس خوب صورت کردار کی صورت کو وہاں تو بالکل بدل کر رکھ دیا تھا جہاں اس نے میگی کے حوالے سے یہ سنگین صورت حال بیان کی جاتی ہے:

"اس کی شرارتیں بعض دفعہ اپنی ماں باربرا کے لیے وبال جان بن جاتیں۔اس سمے وہ مادرانہ پیار، محبت، ممتا غرضیکہ ہر جذبہ فرا، وش کیے اپنی بیٹی کو دیوانہ وار پیٹتی چلی جاتی۔ میگی چیختی چلاتی۔اس کا رونا دھونا سن کر میرا ایک ہی رد عمل ہوتا کہ باربرا اپنی بیٹی کو پیٹنے کے بجائے خود کو، اپنے حالات کو اور اپنے مقدر کو پیٹ رہی ہے۔ راہ شوق میں اٹھایا ہوا قدم کتنا مہنگا پڑتا ہے اور اس کی کتنی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔"

7: لیجئے صاحب اب ذرا اس تیسرے کردار کا ناک نقشہ بھی ملاحظہ ہو جو کہانی کے عین آغاز میں متن میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا مگر جسے افسانہ نگار لائق اعتنا نہ جانا تاہم آخر میں پھر وہ کہانی میں یوں داخل ہوا کہ اس کے مرکزی واحد متکلم کردار کی باربرا کا حق دار ٹھہرا تھا۔ کہانی کے بیان کنندہ کی طرح اس مکان کا لاجر اور سانولا سلونا ایشیائی بلکہ رنگت اس سے کہیں گہری، پھیلی ہوئی سرمئی آنکھیں، گھنگھریالے بال اور درمیانہ قد۔ مصیبت کا مارا بنگلہ دیشی احمد جس کی ماں مر گئی تھی اور جس کے پاس ٹکٹ کے پیسے نہیں تھے۔ یہی وہ شخص ہے جس سے باربرا نے شادی کا فیصلہ کیا تھا۔ کیوں کہ وہ دودھ میں نہائی ہوئی سفید حسین عورت بار برا کے نزدیک، انتہائی مخلص، ایماندار اور صاف گو آدمی تھا۔کہانی کے آخر میں ایک ایسا سوال آتا ہے جس کو درج کرنے کے لیے مجھے اوپر کئی اقتباسات دینا پڑے ہیں۔ یہ سوال کہانی کے واحد متکلم نے اپنی محبت باربرا کا گال چوم لینے اور اس کی آنکھوں میں اتر جانے کے بعد کیا تھا:

"کیا تم واقعی احمد کو دل سے پسند کرنے لگی ہو؟"

جتندر بلو نے کہانی کہنے کے جس چلن کو اپنا رکھا ہے اس میں سارے معاملات بیانیے میں چکائے جاتے ہیں اور سارے سوالوں کے جواب متن میں ہی دے دیئے جاتے ہیں۔ تو یوں ہے کہ اس باب میں یہیں باربرا کا جواب بھی موجود ہے:

"میگی کے جنم لینے پر میرے لیے پسند نا پسند اور چاہت کے دروازے بند ہو گئے تھے۔ ان کو کھولتے کھولتے میں تھک چکی ہوں۔ پھر زندگی میں کچھ پانے کو کچھ کھونا بھی تو پڑتا ہے نا۔"اس کے چہرے پر مفاہمت ہی مفاہمت تحریر تھی۔"


جتندر بلو نے جس وضاحت سے کہانی لکھی تھی اس سے کہیں زیادہ وضاحت اور فراخ دلی کے ساتھ میں نے کہانی کے بیان ہونے والے مسائل کو جتندر ہی کی زبانی بیان کر دیا ہے۔ مغرب انسانیت کی بنیادی اقدار سے دور جا رہا ہے۔ خاندان ٹوٹ رہے ہیں۔ رشتے معدوم ہو رہے ہیں اور وہاں کا انسان اندر سے تنہا ہوتا جا رہا ہے۔سارتر کے مطابق تنہا ہونے کا یہ عمل اتنا لطیف اور پراسرار ہے کہ مغرب کا انسان اس کے مقابل کوئی مزاحمت نہیں کر رہا ہے۔ اس نے امریکہ کے حوالے سے ایک جگہ لکھا تھا کہ کوئی جب سڑک پر نکلتا ہے، کسی دکان میں داخل ہوتا ہے، نشریات سنتا ہے، اشتہاروں کو دیکھتا ہے تو یوں محسوس کرتا ہے کہ سب اسی سے باتیں کر رہے ہیں۔ چمکتے دمکتے اشتہاروں کی لذیذ عورتوں سے باتیں کرنے والے آدمی کو جب یہی عورت بغیر رشتوں کے میسر آنے لگی تو اس المیے نے جنم لیا جسے جتندر بلو نے اپنی اس کہانی میں موضوع بنایا ہے۔ باسٹرڈ بچے جن کا کوئی جرم نہیں ہے۔ جو میگی کی طرح معصوم ہیں وہ کس کو باپ کہیں۔ کہانی کی باربرا اس حوالے سے مشرق کی طرف دیکھتی ہے۔ سانولے سلونے لوگوں کی طرح۔ جو ابھی تک ان رشتوں پر اعتقاد رکھتے ہیں۔

جتندر بلو نے یہ کہانی نہ صرف کہانی کے راوی کی کھال میں گھس کر لکھی ہے اس نے اپنی کھال بھی سلامت رکھی ہے۔ ایسے میں مجھے اس کی کئی ایسی کہانیاں یاد آ رہی ہیں جو اس نے اسی ڈھنگ سے لکھ رکھی ہیں۔ ان کہانیوں کو پڑھتے ہوئے کہیں کہیں تو یوں محسوس ہونے لگتا ہے جیسے وہ فکشن نہیں بلکہ اس سچ کو گرفت میں لینا چاہ رہا ہو جو اس نے دیکھ پرکھ رکھا ہوتا ہے یا پھر اسے بھگت رہا ہوتا ہے۔ جتندر کی مجموعی تخلیقی فضا کو سمجھنے کے لے میں نے جتندر بلو کی دوسری کہانیوں کی طرف رجوع کیا تو جی چاہنے لگا ہے کہ اس حوالے سے چند ٹکڑے آپ کی نذر کر دوں:

"کئی سالوں کے وقفے کے بعد میں اپنے وطن عزیز گیا تھا۔۔۔ میرے رشتے دار اور دوست احباب بھی اپنے رویوں کے ساتھ بدلے بدلے سے تھے۔ وہ مجھ سے زیادہ مغرب زدہ ہو چکے تھے۔ صرف لباس کے اعتبار سے ہی نہیں بلکہ ان کے دیکھنے، سوچنے اور محسوس کرنے کا ڈھنگ بھی بدلا بدلا سا تھا۔ لیکن بعض دوست ایسے بھی تھے جو اپنی دیرینہ اخلاقی، تہذیبی اور سماجی روایات سے جڑے ہوئے تھے۔ ان میں میرا ایک دوست انور بلگرامی بھی تھا۔" - (افسانہ "چکر")

"میں اور میری بیوی، جنہوں نے شادی کے روز رجسٹرار کے دفتر میں صدق دل سے یہ بول ادا کیے تھے کہ ہم امیری غریبی میں، غمی خوشی میں، بیماری تندرستی میں، دکھ سکھ میں اور ہر اونچ نیچ میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے اور آخری دم تک ساتھ بھی نبھائیں گے، اب اپنے اپنے کمرے کا دروازہ بند کیے یوں بیٹھے ہیں، گویا ہم میاں بیوی نہ ہوں، بلکہ کسی مکان کے کرایہ دار ہوں، جن کا آپس میں کوئی رشتہ، کوئی تعلق نہیں ہوتا۔" - (افسانہ "انوکھا سمبندھ")

"یہ سن کر میں خوش ہو گیا کہ پردیس میں بیٹھے بٹھائے میری قسمت کھل رہی ہے۔ مجھے ایک سلجھی ہوئی، ذہین، پڑھی لکھی اور سنجیدہ عورت کی صحبت نصیب ہو رہی تھی۔ اس کے محسوسات بھی کم و بیش یہی رہے ہوں گے۔ اسی کارن اس نے مجھے اگلے ہی ہفتے اپنے کمرے میں آنے کی دعوت دی تھی۔" - (افسانہ" تعلق")

"میں ان دنوں سترہ برس کی عمر کو پوری طرح نہ پہنچا تھا۔۔۔ لیکن مجھے ہر دم احساس رہنے لگا تھا کہ میں پورا بالغ ہو چکا ہوں۔دن میں اگر کوئی ہوش ربا بدن دِکھ جاتا تو وہ گھنٹوں میرے ساتھ رہتا اور رات میں نیند بھی حرام ہو جاتی۔" - (افسانہ "پہلا گناہ")

"ایک خوشگوار صبح میں ناشتے کے دوران چھری کانٹا پکڑے بیکن کا ٹکڑا کاٹ کر لبوں کی طرف بڑھا رہا رہا تھا کہ روتھ نے میرے قریب آ کر سرگوشی کی: "خوش ہو جاؤ"
"کیوں؟ کوئی خاص بات ہے؟"
"ہاں! میں تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔" - (افسانہ "فاصلہ")

"چتری صوفے سے اچھل پڑی۔ تیزی سے میرے قریب آئی اور اپنی بانہیں میری کمر میں ڈال کر میری پشت سے چپک گئی۔ پھر پوری طاقت سے مجھے بھینچ ڈالا۔ لگا کہ میں کسی اسٹیم رولر کی زد میں آگیا ہوں۔" - (افسانہ "چتری والا کیلا")

"اس کے لہجے کی آگ تیز تھی کہ میرے شریر کے بال ساتھ چھوڑتے ہوئے محسوس ہوئے۔ میں نے مزید وہاں رکنا مناسب نہیں سمجھا ان کو دیکھے بغیر ریسٹورنٹ سے چلا آیا اور گیلری کی بیرونی سیڑھیوں پر آن بیٹھا۔ سگریٹ پھونکتا برابر سوچتا رہا کہ مایا کے ساتھ مجھ کو اپنا تعلق رکھنا چاہیے یا ختم کر لینا چاہیے؟ ایسی ذلت میں نے کبھی برداشت نہ کی تھی۔ میری گردن سیڑھیوں میں دھنس چکی تھی اور میں پرورٹ، باسٹرڈ، فلتھی مائنڈ جیسے خطابات پر غور کر رہا تھا کہ آئے دن ان میں اضافہ ہو رہا تھا۔ - (افسانہ "پرورٹ")


جتندر بلو کی ان ساری کہانیوں کے اسلوب میں دو باتیں آپ فوراً نوٹ کر لیں گے:

  1. کہانی کا واحد متکلم کے سہارے آگے بڑھنا
  2. وضاحتی اور واقعاتی بیان کا اسلوب

میں یہ نہیں کہتا کہ جتندر نے ساری کہانیاں واحد متکلم کے سہارے لکھی ہیں لیکن لگتا یوں ہے کہ اس طریقہ کار میں اسے سہولت محسوس ہوتی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ اس تیکنیک کو سہولت کے ساتھ کہانی کو چست بنا لینے یا پھر بہ انداز دگر اسے مفصل لکھنے کے لیے بہ یک وقت استعمال میں لایا جا سکتا ہے تاہم جتندر کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو اس تیکنیک سے کہانی کو پھیلا لیا کرتے ہیں۔ بالعموم دیکھا گیا ہے اس قدر وضاحتی بیان کہانی کے اندر کسی بھید کے امکانات معدوم کر دیتا ہے۔ جتندر بلو نے اس کمی کو اپنے کرداروں کی ان نفسیاتی الجھنوں سے پورا کر دیا ہے جو کہانی میں تہذیبی سطح پر، اتصال، انجذاب یا پھر انتشار اور ٹکراؤ سے پھوٹتی رہتی ہیں۔ مجموعی حوالے سے دیکھا جائے تو جتندر کی کہانی کے بنیادی سروکار مشرقی اور مغربی تہذیب کا ٹکراؤ بنتا ہے۔ وہ مغرب میں جا کر اپنی تہذیبی جڑوں کو بھول نہیں پایا ہے اور کئی حوالوں سے اسے یہ تہذیبی حوالے بہت مرغوب ہیں۔ وہ مغرب کی جدید زندگی سے پوری طرح لطف اندوز ہوتے ہوئے بھی اسے قبول کرنے پر تیار ہیں ہے۔ جنس وہ دوسرا حوالہ جو جتندر کی کہانیوں میں واشگاف ہو گیا ہے۔ اکثر اوقات اس چیختی چنگھاڑتی اور اچھلتی کودتی جنس کے اظہار کے لیے اس کے ہاں عورت کا جو کردار منتخب کیا جاتا ہے وہ ادھیڑ عمر کا ہوتا ہے۔ کسی جنسی سانحے کو بھگت کر اس کی کہانیوں کا حصہ بننے والے ایسے کردار آخر کار جنسی آزادہ روی پر ایک ضرب لگاتے ہیں۔"

"ماں، بیٹی اور باپ" نامی اس کہانی میں بھی آپ نے دیکھا ہو گا کہ باربرا بھی آزاد جنسی تجربے سے گزر چکی ہے۔ حتی کہ ایک المناک صورتحال پڑنے کے باوجود جنس سے اسی انداز کے حظ کو ضروری سمجھتی ہے۔ کہانی کے واحد متکلم کا بھی لگ بھگ یہی رویہ ہے۔ حالاں کہ دونوں میں سے ایک کردار باسٹرڈ اولاد کو تہمت سمجھتا ہے تو دوسرا ان تہذیب سے جڑا ہوا نظر آتا جس میں اس طرح کے حرامی بچوں کی پیدائش کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جتندر کے تخلیقی مزاج کو سمجھنے کے لیے میں ایک بار پھر اس کی ایک اور کہانی "چتری والا کیلا" کا حوالہ دینا چاہوں گا۔ یہ جو میں نے کہا ہے کہ اسے نئی نویلی اور کنواری لڑکی سے کہیں زیادہ اپنی کہانی کے لیے جنسی سطح پر کچلی ہوئی عورت زیادہ مرغوب ہے تو اس کا ایک ثبوت اس کے اس افسانے کی عورتیں بھی ہیں۔ "چتری والا کیلا" کی مونا سنگھ چوہان بہت خوب صورت ہے، جوان اور پرکشش ہے، اور اس کا بدن اس کہانی کے واحد متکلم کے ہوش اڑا کر رکھ دیتا ہے مگر آخر کا ر کہانی جس عورت کے حق میں فیصلہ دیتی ہے، اس کی جلد چتری والے کیلے جیسی ہے۔ اس نے بھی زیر نظر کہانی کی باربرا کی طرح ایک حرامی بچی نیشا کو جن رکھا ہے۔ یاد رہے کہ یہ نیشا، ایملی یعنی چتری کی بیٹی بھی ہے اور بہن بھی۔ یوں دیکھا جائے تو ایک سطح پر ایملی کا یہی کردار جتندر کی اس تازہ کہانی میں باربرا کی صورت میں حک واضافہ کے ساتھ اسی جنسی مسئلے اوراس کے لوازمات کودہرا رہا ہے۔ صاحب دیکھا جائے تو انسانی رشتوں کی ٹوٹتی بنتی کہانی میں جنس مرکز میں ہی رہتی ہے۔ جتندر نے اپنی کہانیوں میں اس سے خوب خوب کام لیا ہے اور اسے تہذیبی حوالوں کے ساتھ جوڑ کراس کی تطہیر کا سامان بھی کر دیا ہے۔ ہمارے مشرق کے محبوب کرداروں کو جس طرح برطانوی معاشرے کی چکا چوند نے قدم قدم پر رپٹایا ہے جتندر بلو نے اس کی سرگزشت اپنی کہانیوں میں بیان کر دی ہے۔ اردو کی مہجر کہانیوں کے سرمائے میں جتندر کی کہانیوں رکھ کر دیکھا جائے تو ماننا پڑے گا کہ اتنی بڑی تعداد میں ایسے مختلف کرداروں کی دریافت اور زندگی کی نفسیاتی الجھنوں کی دھنک کا بیان اسے بہت اہم بنا دیتا ہے۔