اردو ویب ڈیجیٹل لائبریری
×

اطلاع

فی الحال کتابیں محض آن لائن پڑھنے کے لئے دستیاب ہیں. ڈاؤن لوڈ کے قابل کتابوں کی فارمیٹنگ کا کام جاری ہے.

Itna Aasman

اتنا آسمان


مصنف رفیع رضا
مؤلف اعجاز عبید
تعداد الفاظ 12967
تعداد منفرد الفاظ 2174
مناظر 19373
ڈاؤنلوڈ 0
مری زمین کی تقسیم ہی نہیں ہونی مرا وجود بھی ہجرت میں بٹنے والا ہے ۔۔۔مجموعہ غزل

غزل

گرتے ہُوئے ملبے میں ستارہ تو نہیں ہے
اب یہ میرے جانے کا اشارہ تو نہیں ہے!

جو گُنبدِ خاموش اُٹھایا تھا ازل سے
وُہ بوجھ ابھی سر سے اُتارا تو نہیں ہے

وُہ آخری آرام سڑک پر ہی مِلے گا
فُٹ پاتھ پہ چیخوں کا گُزارہ تو نہیں ہے

شمشان میں رکّھی ہوئی دُنیا کو کروں کیا
اب دیکھنے والا یہ نظارہ تو نہیں ہے

ترتیب سے رکّھے ہیں یہ خوابوں کے جنازے
آ دیکھ لے تیرا کوئی پیارا تو نہیں ہے

کیا پونچھنے والا ہے وُہ آنکھوں سے لہو کو
اُس نیلگوں دامن نے پُکارا تو نہیں ہے!

وحشت نے اُچھالی ہے مری خاک وگرنہ
اُڑنا میری مٹی کو گوارا تو نہیں ہے

کیوں دیدۂ افلاک میں افسوس چمکتا
یہ نظم ہے قُرآں کا سپارہ تو نہیں ہے


غزل

گُلِ سیاہ کِھلا ہے سو دیکھنا کیا ہے
یہ پُورے دن کا صِلہ ہے! سو دیکھنا کیا ہے

منڈیر وقت کی خستہ تھی میرے پاؤں تلے
ہوا کا سانس رُکا ہے سو دیکھنا کیا ہے

وُہ جس کو اپنے پروں پر بہت بھروسہ تھا
وُہی پرندہ گِرا ہے سو دیکھنا کیا ہے

اگر اُمنگ نہیں ہے تو میں بھی دنگ نہیں
لہو میں رنگ بچا ہے سو دیکھنا کیا ہے

بگُولہ سا کہیں چکرا رہا ہے وحشت میں
یہ شور دیکھا ہوا ہے سو دیکھنا کیا ہے

عجیب سنگِ حقیقت تھا عین دل پہ لگا
اب عکس ٹوٹ گیا ہے سو دیکھنا کیا ہے

دھُوئیں نے تان لی چادر تو میں ہوا اندھا
یہ "دیکھنا" ہی بُجھا ہے سو دیکھنا کیا ہے

خُود اپنے خواب کی نظروں میں آ گیا ہُوں میں
وُہ مُجھ کو دیکھ رہا ہے سو دیکھنا کیا ہے


غزل

جو دن کے ساتھ نکل کر غروب ہوتا ہوں
تو اپنے خُون میں ڈھل کر غروب ہوتا ہوں

غروب ہونے کی کُچھ اور صُورتیں بھی ہیں
مُجھے یہ کیا ہے کہ جل کر غروب ہوتا ہوں

پُکارتا ہے کسی اورکو اُفق لیکن
میں اپنا نام بدل کر غروب ہوتا ہوں

نہ جانے کون مُجھے اپنے پیچھے چھوڑ گیا
میں سارے دشت میں چل کر غروب ہوتا ہوں

پھر آبِ سُرخ کٹاؤ میں ڈھُونڈتا ہے مُجھے
میں آنکھیں زور سے مَل کر غروب ہوتا ہوں

کسے خبر کہ کسی دن کوئی طلوع نہ ہو
کئی دنوں سے سنبھل کر غروب ہوتا ہوں


غزل

ایک اس عُمر کا ہی کاٹنا کافی نہیں کیا
عشق کا بوجھ مری جاں پہ اضافی نہیں کیا

تیری اُمید پہ پُورا نہیں اُترا لیکن
میرے آنسو ترے نُقصان کی تلافی نہیں کیا

پسِ دیوار بھی دیوار کھڑی کر دی ہے
آپ ہی کہئیے کہ یہ وعدہ خلافی نہیں کیا

آسماں کی طرف اُمید سے جو دیکھتا ہوں
یہ مرا جُرم سہی اسکی معافی نہیں کیا

معجزے کیا ہُوئے وُہ ساری دُعائیں ہیں کہاں
اب کوئی دستِ مسیحائی بھی شافی نہیں کیا

عہد شکنی ہو خیانت ہو ریاکاری ہو
کُچھ بھی آدابِ سیاست کے مُنافی نہیں کیا

مُنفرد کیسے نہ مانیں گے یہ نقاد مُجھے
سب انوکھے مری غزلوں کے قوافی نہیں کیا


غزل

اوروں نے جب زمیں کو وراثت میں لے لیا
میں نے بھی آسمان کو غُربت میں لے لیا

سویا ہوا تھا شہر مگر، یُونہی خوف نے
میں جاگتا تھا، مُجھ کو حراست میں لے لیا

سوچا کہ کُچھ نہیں ہے تو دن ہی نکال لُوں
یہ کام رات میں نے فراغت میں لے لیا

مرکز میں اُس کے تھی کوئی منزل کِھلی ہوئی
جس دائرے نے مُجھ کو مسافت میں لے لیا

شُعلے کا رقص دیکھنے آئے ہوئے ہجوم!
مُجھ سے یہ کام سب نے محبت میں لے لیا

صف خالی ہو گئی سبھی وحشی نکل گئے
میں نے خُدا کا نام جو وحشت میں لے لیا

تُم مل گئے تو دیکھو تُمھاری خُوشی کو پھر
چاروں طرف سے دُکھ نے حفاظت میں لے لیا

پہلے کوئی خلا میرے دل کے قریب تھا
پھر اِس کو میری آنکھ نے وُسعت میں لے لیا

جیسے اُلٹ گئی کہیں ترتیب ِ خدّوخال
ذرّے نے کائنات کو حیرت میں لے لیا


غزل

جس طرف آنکھ اُٹھاتا ہوں اُدھر مٹی ہے
خاک دیکھوں مَیں کہ تا حدِّ نظر مٹی ہے

کھینچتا رہتا ہے کوئی مُجھے مٹی سے پرے
پر میں اُس سمت کو کِھنچتا ہُوں جدھر مٹی ہے

ایسے لگتا ہے کہ میں بیٹھ گیا ہوں تھک کر
ایسے لگتا ہے کہ اب محوِ سفر مٹی ہے

سبز ہونے سے حقیقت تو نہیں بدلے گی
لاکھ اِترائے مگر اصلِ شجر مٹی ہے

ہو گا افلاک پہ بھی دُکھ کا مداوا لیکن
کھُلے زخموں کے لئے زُود اثر مٹی ہے


غزل

میں نے لیا ہے آنکھ میں بھر اتنا آسمان
کیسے کرے گا دل میں سفر اتنا آسمان

جتنا نکل کے آیا ہے مُجھ کو یقین ہے
اب بھی بچا ہوا ہے اُدھر اتنا آسمان

جا کر مِلے گی پھر تو حدِ وقت سے فصیل
بُنیاد میں لگایا اگر اتنا آ سمان

اتنی کُشادگی سے کہاں پھِر سکے گا یہ
کر دُوں اگر میں آنکھ بدر اتنا آسمان

ظاہر ہے حاشئے میں وُہی لکھ رہا ہوں میں
دیتا ہے مُجھ کو جس کی خبر اتنا آسمان

اب بولنے لگا ہوں زمیں کے خلاف بھی
مُجھ کو بنا رہا ہے نڈر اتنا آسمان

وُہ کون معتبر ہے رضا مَیں بھی دیکھ لُوں
حیرت سے دیکھتا ہے جدھر اتنا آسمان


غزل

زمیں و آسماں کا کیا کیا جائے
اور ان کے درمیاں کا کیا کیا جائے

نہ پُوچھو اُس جہاں سے کیا ہوا تھا
یہ پُوچھو اِس جہاں کا کیا کیا جائے

زمیں تو کھوکھلی کر دی ہے ہم نے
اور اب سیّارگاں کا کیا کیا جائے

نہ چلنے دے جو اپنے کارواں کو
تو میرِ کارواں کا کیا کیا جائے

ہماری داستاں میں رو پڑی ہے
تُمھاری داستاں کا کیا کیا جائے

اکیلا ہی جسے میں سُن رہا ہوں
اب اُس شور و فغاں کا کیا کیا جائے

سفر میں اک ستارہ بھی بہت تھا
ہجومِ کہکشاں کا کیا کیا جائے

نتیجہ کُچھ بھی نکلے کُچھ تو نکلے
مسلسل امتحاں کا کیا کیا جائے

مقدس آگ پر ہی مُنحصر ہے!
ہمارے جسم و جاں کا کیا کیا جائے

جسے حیرت نہیں ہے اور شک ہے
اب ایسے بد گُماں کا کیا کیا جائے

نظر آتا ہے سر پر اور نہیں ہے!
رضا اس آسماں کا کیا کیا جائے


غزل

کسی صُورت بُلا ہی لیتی ہے
مُجھے شدّت بُلا ہی لیتی ہے

اتنی محنت سُخن میں کرتا ہوں
کہ سہولت بُلا ہی لیتی ہے

کسی آرام سے نہیں رُکتا
کوئی وحشت بُلا ہی لیتی ہے

کُچھ دنوں میں خفاسا پھرتا ہُوں
پھر محبت بُلا ہی لیتی ہے

میں قدامت پسندہوں لیکن
مُجھے جدّت بُلا ہی لیتی ہے

کُچھ تعلق نکل ہی آتا ہے
کوئی حیرت بُلا ہی لیتی ہے

سر سے اُونچی فصیل ہو جائے
تو بغاوت بُلا ہی لیتی ہے

صُورتِ حال ایسی، اپنے لئے
خُود قیامت بُلا ہی لیتی ہے

جہاں کوئی نہیں وکیل رضاؔ
وُہ عدالت بُلا ہی لیتی ہے


غزل

کھُلتا ہے یہ دشت آنکھ جھپکنے کے برابر
میں دیکھتا ہوں دیکھ نہ سکنے کے برابر

چلتا چلا جاتا ہوں پر اندیشہ لگا ہے
منزل نہ ملی گر مُجھے تھکنے کے برابر

سُننے سے تو خُوشبُو کا تعلق بھی نہیں ہے
کیوں بات وُہ کرتا ہے مہکنے کے برابر

کوشش تو یہ کرتا ہوں کہ چھُو لُوں میں فلک کو
دُوری ہے! مرا ہاتھ جھٹکنے کے برابر!!

اندازہ تری سمت کا ہوتا ہی نہیں ہے
آواز تو آتی ہے دھڑکنے کے برابر!

اُس بندِ قبا میں تو سبھی رنگ تھے لیکن
اک رنگ زیادہ تھا جھجھکنے کے برابر

میں بھی کوئی کم تھا کہ لپٹتا نہ اُسی سے
شُعلہ کوئی لپکا تھا جھڑکنے کے برابر

بینائی کو اب ڈھُونڈتا پھرتا ہوں رضا میں
بجلی کوئی چمکی تھی اُچکنے کے برابر!


غزل

میں پھر ملوں گا مُجھے آسماں پکڑنا ہے
اور آسمان سے اگلا جہاں پکڑنا ہے

اسے لگا کے، میں بیٹھا ہوا ہوں پھندے پر
یہ جان دے کے مُجھے اب زماں پکڑنا ہے

بنی ہوئی ہے فضا میں جو ایک پگڈنڈی
یہ راستہ ہے کہ میں نے دُھواں پکڑنا ہے

اگر چہ زادِ سفر تو یقین ہی ہوگا
مگر کہیں کہیں مُجھ کو گُماں پکڑنا ہے

میری نگاہ تو حیرت سے بات کرتی ہے
سو اس کو روکنا میری زباں پکڑنا ہے

بدن تھماتے ہُوئے یہ نہیں بتایا تھا
تمام عُمر یہ کوہِ گراں پکڑنا ہے

اے میرے خاک بدن پھر کبھی کریں گے کلام
مُجھے ابھی کوئی خوابِ رواں پکڑنا ہے

مُجھے تو دستِ اجل سے کوئی بھی کام نہیں
اُسے پتہ ہے کہ کس کو کہاں پکڑنا ہے


غزل

بہت ہی جاودانی لگ رہی ہے
مُجھے تُو آسمانی لگ رہی ہے

یہ میرے عشق کا پہلا ثمر ہے
مُجھے جو خُوش گُمانی لگ رہی ہے

یہ کس کا شُکر واجب ہو گیا ہے
یہ کس کی مہربانی لگ رہی ہے

یہ کوئی پانچواں موسم ہے مُجھ پر
مُجھے جو بے کرانی لگ رہی ہے

نئے اس آئینے کو کیا کروں میں
مری صُورت پُرانی لگ رہی ہے

یہ سُورج بُجھ رہا ہے جو اُفق میں
مُجھے اپنی کہانی لگ رہی ہے

کبھی آنا دکھاؤں گا تماشا!
مرے گھر لامکانی لگ رہی ہے

میں اپنا سانس تک روکے ہُوئے ہوں
گلے سے بد گُمانی لگ رہی ہے


غزل

جہان بھر کو بہت ہی انوکھا تُحفہ دیں
تمام اہلِ جہاں ایک سبز لمحہ دیں

میں سبز و سُرخ سے اُکتا گیا، معاف کریں
مُجھے سفید پروں کا کوئی پرندہ دیں

دُھواں دُھواں ہے فضا اور پانی گدلا ہے
ہم اگلی نسل کو یہ آسماں تو نیلا دیں

حضور آپ اگر دینے آئے ہیں کُچھ تو
یہی بہت ہے مری روشنی کو رستہ دیں

یہ دُشمنی تو بڑی ہی غریب نقدی ہے
تمام عہد کو اک دوستی کا سکّہ دیں

چلیں ہیں آپ جو لہرانے ساری دُنیا میں
اسی ترنگے سے ہم کو کوئی ستارہ دیں


علی زریون کے نام

ہمارے کام کی نہیں
ہمارے نام کی نہیں
مقدس آگ جو
جلانے آ گئی ہمیں
اسے ہماری خاک میں سے
کیا نکالنا ہے
کیا اُجالنا ہے
خاک خواب سے زیادہ کُچھ نہیں
چراغ آئینے کا خُون ہے
مگر یہ خاک آئینے میں دھُول ہے
یا آئینے پہ دھُول ہے؟
ہماری کوئی بھُول ہے؟
یا آگ کا اُصول ہے؟
جلانے آ گئی ہمیں
مقدس آگ جو ہمارے نام کی نہیں
ہمارے کام کی نہیں!!


غزل

یُوں درمیاں میں اپنا بدن آ گیا تمام
سُورج تھا اور زمین سے گہنا گیا تمام

دن کیطرح میں سارے جہاں کے لئے بھی تھا
لیکن تُمھارا دُکھ ہی مُجھے کھا گیا تمام

منظر کا ایک پھُول کھلا تھا نگاہ میں
حیرت جو کم ہوئی ہے تو کُمھلا گیا تمام

میں ڈھونڈ ہی لیا گیا پھر سنگِ رنج سے
اور دیکھتے ہی دیکھتے پتھرا گیا تمام

وحشت رگوں میں سُرخ سی یہ دوڑتی ہے کیا
کیا خوف ہے دلوں کو جو دھڑکا گیا تمام

اُس ہجر میں بھی ایک قیامت کا رنگ تھا
مُجھ میں کوئی پہاڑ سا دھُنکا گیا تمام


غزل

دل کو بہتر بنا لیا جائے
اسے پتھر بنا لیا جائے

وُہ جو باہر نہ بن سکا اب تک
اُسے اندر بنا لیا جائے

کسی اُجڑی نگاہ سے مل کر
کوئی منظر بنا لیا جائے

ڈر خُدا کا نہیں رہا باقی
تو نیا ڈر بنا لیا جائے

عُمر گُزری ہے چُپ کے گُنبد میں
شور کا در بنا لیا جائے

ہم نے انکار ہی تو کرنا ہے
اک پیمبر بنا لیا جائے

سارا الزام اُس پہ دھر دیں گے
کوئی رہبر بنا لیا جائے

آؤ لڑتے ہیں اپنے آپ سے ہم
آؤ لشکر بنا لیا جائے


حقیر نظم

حقیر نظم تھام کر
کھڑا ہوا ہوں میں!
مری حقیر نظم کو
کئی "عظیم لوگ" سیڑھی جان کر
قد آوری کے آسمان پر چلے گئے!
اگر میں اپنی ہر
حقیر نظم تھام نہ رکھوں
تو کتنے ہی "عظیم لوگ"
خاک میں گرے پڑے ملیں!
مگر حقیر لوگ یہ حقیر کام کس طرح کریں
حقیر جو ہُوئے!
میں کیا کروں کہ رُوح پر لکھی ہوئی
کوئی حقیر نظم
تھامنی پڑے گی جب تلک
مرے بدن میں رُوح ہے!
اور اپنی ضد پہ اب تلک
اڑا ہوا ہوں میں!
حقیر نظم تھام کر
کھڑا ہوا ہوں میں!!


آخری نظم

خالی پیٹ میں کتنی نظمیں لکھ سکتا ہوں
بکھرے دن کو اکٹھا کرنے والی
بھُوکی رات بھی مُجھ پر پل پڑتی ہے!
خالی پیٹ سوائے اپنی بھُوک کے کوئی اور
فحاشی کرنے سے قاصر ہے!
خالی پیٹ نمازیں بھی مقبول نہیں!
خالی خولی باتوں سے
خالی پیٹ کو متلی ہوتی ہے
کیوں نہ پھر میں اپنی آخری کوئی نظم لکھوں
جس میں اپنی ساری
گُزشتہ نظمیں ٹھونسوں
اور تُمھاری اُبھری توندوں پر رکھ دُوں
لیکن تُم میری آخری نظم پڑھو گے کیسے؟
حد سے زیادہ بھرے ہُوئے پیٹوں کا
ذھن بھی بھر جاتا
ہر آدم زاد کے اندر جو شاعر ہوتا ہے
وُہ شاعر بھی مر جاتا ہے
میں ایسے کرتا ہوں
اپنے اندر کے شاعر کے
مر جانے سے پہلے
کُچھ دن اور میں لکھ کر دیکھوں
خالی پیٹ میں کتنی نظمیں لکھ سکتا ہوں


غزل

ہٹو یہاں سے میاں! کوئی اور کام کرو
کہ آسماں نہ سُنے اور تُم کلام کرو

میں ایک شرط پہ آؤں گا بزمِ یاراں میں
مرے لئے کسی حیرت کا اہتمام کرو

لگی ہے دل پہ مگر پار تو نہیں اُتری
تُم اپنی بات ذرا اور بے نیام کرو

عجیب لوگ ہو بُنیاد رہنے دیتے ہو
گرا رہے ہو تو پھر پُورا انہدام کرو

کوئی چراغِ رُخِ یار محترم ہے تو
جہاں بھی دیکھو چراغوں کا احترام کرو

تُمھیں بتاؤں کہ کیسے اُڑان ہوتی ہے
مرے سُخن میں حدِ وقت پر خرام کرو

بتاؤں راز تُمھیں میرے کربلا والو
جو کر سکو مرا اندر سے قتلِ عام کرو

سمیٹنے میں مُجھے ساری رات لگنی ہے
بکھر گیا ہوں مرے دن کا اختتام کرو

یہ ایک چیز ہری رہ گئی ہے ورثے میں
رضا زمینِ سُخن بھی خُدا کے نام کرو


غزل

کون کہتا ہے کہ ایمان سے ڈر لگتا ہے
مُجھ کو اللہ کے دربان سے ڈر لگتا ہے

غیر کے ڈر کا وُہ اندازہ لگا سکتا ہے
جس مُسلماں کومُسلمان سے ڈر لگتا ہے

واعظا! مان لیا میں نے خُدا کو معبود
اب مُسلسل تری گردان سے ڈر لگتا ہے

آپ نے مُونہہ کو داڑھی سے چھُپایا کیوں ہے
آپ کو اپنی ہی پہچان سے ڈر لگتا ہے

جھانکتے کیوں نہیں خُود اپنے گریباں میں آپ
آپ کو اپنے گریبان سے ڈر لگتا ہے

دیکھئے آپ سے تو کوئی شکایت ہی نہیں
بس ذرا آپ کے ہذیان سے ڈر لگتا ہے

ایک کافور ہی آتا ہے تُمھیں سب میں پسند
عنبر و عود سے لوبان سے ڈر لگتا ہے

اپنے شیطان کو چھوڑا ہے زمانے میں کھُلا
مولوی کو مرے شیطان سے ڈر لگتا ہے

چندہ دینے کے لئے آتے ہیں مسجد کی طرف
میرے گھر والوں کو تاوان سے ڈر لگتا ہے

اُس سے حیوانی کا رُتبہ نہ کہیں چھن جائے
اب تو حیوان کو انسان سے ڈر لگتا ہے


غزل

اس بات کو لکھنا ہے سمندر کی لُغت میں
ڈُوبا ہوا اک جسم اُبھرنے کے لئے ہے

مُجھ سے تُو کبھی خاک ہٹائے تو یہ جانے
آئینہ ترے پاس سنورنے کے لئے ہے

یہ دشتِ محبّت کبھی کھولا ہی نہیں تھا
یہ راہ گُزر تیرے گُزرنے کے لئے ہے

اس سارے جہاں کو تو یہ کونا بھی ہے کافی
دل میں جگہ کُچھ اور بھی دھرنے کے لئے ہے

رُکنے سے بھی رُکتی نہیں دھڑکن مرے دل کی
لگتا نہیں پارہ یہ ٹھہرنے کے لئے ہے

شب بھی مری آنکھوں میں لگا لیتی ہے ڈیرہ
اور دن بھی مرے ساتھ بکھرنے کے لئے ہے

حیرت مُجھے لگتی ہے کوئی آٹھویں رنگت
یہ رنگ مری آنکھ میں بھرنے کے لئے ہے

جیسا بھی ہوں سینے سے لگا لو مُجھے یارو
اب وقت ذرا کم ہی سُدھرنے کے لئے ہے


غزل

اندر کوئی پارہ مُجھے رُکنے نہیں دیتا
باہر وُہ ستارہ مُجھے رُکنے نہیں دیتا

حیرت کسی صُورت مُجھے چلنے نہیں دیتی
او ر اگلا نظارہ مُجھے رُکنے نہیں دیتا

مٹّی میری تھک ہار کے گرتی ہے زمیں پر
یہ دل کا شرارہ مُجھے رُکنے نہیں دیتا

رُکنے کی تمنّا ہے کہ کھاتی ہے تھپیڑے
چلتا ہوا دھارا مُجھے رُکنے نہیں دیتا

اک بار تری آنکھ میں رُک جاتی ہے ساعت
پھر وقت دوبارہ مُجھے رُکنے نہیں دیتا

اک قوسِ قزح ہے کہ جھُلاتی ہے مرا رنگ
یہ اُس کا ہُلارا مُجھے رُکنے نہیں دیتا

وُہ پہلی محبت چلی آتی ہے بُلانے
وُہ پہلا خسارہ مُجھے رُکنے نہیں دیتا


غزل

عشق میں کم کوئی شدت نہیں کی جا سکتی
ورنہ مُجھ سے تو محبت نہیں کی جا سکتی

تھرتھرانا تو ہے شُعلے کی روایت پیارے
ترک مُجھ سے یہ روایت نہیں کی جا سکتی

کیا کسی اور کو دیکھا بھی نہیں جا سکتا
کیا کسی اور پہ حیرت نہیں کی جا سکتی

چاہیئے اب کسی حجرے کا بیابان مُجھے
ورنہ کھُل کر کوئی وحشت نہیں کی جا سکتی

دیکھ سکتا نہیں ہر وقت میں تیری جانب
مُجھ سے ہر وقت عبادت نہیں کی جا سکتی

شور اندر کا لپٹ جاتا ہے شنوائی سے
مُجھ سے باہر کی سماعت نہیں کی جا سکتی

اب تو ہر سال پتہ اُس کا بدل جاتا ہے
وُہ جو کہتا تھا کہ ہجرت نہیں کی جا سکتی

آئینہ اپنی خراشوں پہ تو بُجھ سکتا ہے
سنگ ریزوں سے شکایت نہیں کی جا سکتی

کرنا پڑ جائے اگر دل کے اندھیرے میں قیام
صاحبِ نُور سے حُجّت نہیں کی جا سکتی

میری مٹّی کو تُو مٹّی سے بدل سکتا ہے
اس سے کم تو مری قیمت نہیں کی جا سکتی


غزل

اے حُسنِ بے مثال! تُجھے کیا مثال دُوں
لے آئینہ سنبھال! تُجھے کیا مثال دُوں

تُو رنگِ بے پناہ تُو سر چشمۂِ خیال
میں زرد اور نڈھال! تُجھے کیا مثال دُوں

وحشت تو درمیاں کی کوئی آگ ہے حبیب
نہ ہجر نہ وصال! تُجھے کیا مثال دُوں

بس آ رہا ہوں تیرے الاؤ کی سمت میں
میری بھلا مجال! تُجھے کیا مثال دُوں

حیرت ہے رقص میں کیا تُجھے دیکھنے کے بعد؟
ذرّے کی یہ دھمال! تُجھے کیا مثال دُوں

میں تُجھ میں کیوں مگن مُجھے تیری ہی کیوں لگن
تُو دیکھ میرا حال! تُجھے کیا مثال دُوں

تُجھ سا کوئی جواب کبھی ڈھونڈتا ہے کیا
مُجھ سا کوئی سوال! تُجھے کیا مثال دُوں

تُو روشنی سے کیسے ڈھکے گا مرا وجود
مٹّی پہ مٹّی ڈال! تُجھے کیا مثال دُوں


غزل

پاؤں پہ اپنے آپ کھڑا ہو رہا ہوں میں
لے خاک تُو سنبھال! فنا ہو رہا ہوں میں

آ آ کے لگ رہے ہیں گلے سے جو حادثے
کیا اس کے بعد ان سے جُدا ہو رہا ہوں میں

لگتا ہے جیسے قرض تھا میں کائنات پر
ہر روز ہر جگہ پہ ادا ہو رہا ہوں میں

کرتی ہے ہر گھڑی مرے دل میں شُمارِ عُمر
قسطوں میں قید سے یُوں رہا ہو رہا ہوں میں

کوئی اگر کہیں ہے تو اپنا پتہ بھی دے
اک بار اور محوِ دُعا ہو رہا ہوں میں


غزل

نظر کے ساتھ میں منظر اُٹھا کے آتا ہوں
جسے اُٹھاتا ہوں یکسر اُٹھا کے آتا ہوں

بچی کُھچی کسی حیرت میں دن گُزرتا ہے
پھر اس حوالے سے میں سر اُٹھا کے آتا ہوں

بڑے سکون سے ملتا ہوں اُن دنوں سب سے
جب اندرون میں محشر اُٹھا کے آتا ہوں

وُہ آسمان مرے دل پہ جھُکتا رہتا ہے
جسے میں آنکھ سے اُوپر اُٹھا کے آتا ہوں

دبا ہوا کوئی سُر مُجھ میں سانس لیتا ہے
گھُٹا ہوا کوئی، تیور اُٹھا کے آتا ہوں

رُکا ہوا مرا رستہ مرے بدن سے ہے
ٹھہر! یہ راہ کا پتھر اُٹھا کے آتا ہوں


غزل

بات کی اس قدر کھری اک دن
جاں ہتھیلی پہ لا دھری اک دن

میں بضد ہوں اگر چہ ہے معلوم
سر کٹائے گی خُود سری اک دن

عُمر بھر موسموں سے لڑنا ہے
شاخ جو دیکھ لی ہری اک دن

سب تھے اپنے ضمیر کے قیدی
سب نے خُود کو کیا بری اک دن

نہ ملا تُم سے،اور سب سے ملا
آنکھ رنگوں سے نہ بھری اک دن

عُمر بھر پھر وُہ میرے ساتھ رہی
ملنے آئی تھی بے گھری اک دن

ابتری سارا سال ہوتی ہے
کیوں نہیں ہوتی بہتری اک دن

جس سے میں آسماں کو تکتا تھا
مُجھ سے بولی وُہی جھری اک دن

کوئی دکّن سے ملنے آیا تھا
بات کرنی تھی سو، کری اک دن


غزل

میرے وہم و گُمان میں بھی نہیں
کہ خُدا آسمان میں بھی نہیں

کونسی سمت پھر اُسے ڈھُونڈوں
وُہ اگر لا مکان میں بھی نہیں

نہ کناروں کا ہے سُراغ کوئی
اور کُچھ درمیان میں بھی نہیں

میں اُسے کیسے سوچ سکتا ہوں
وُہ اگر اس جہان میں بھی نہیں

روشنی سی پرکھ رہی ہے مُجھے
اور میں پُورے دھیان میں بھی نہیں

کُچھ پرندوں کے ساتھ بھی نہ ملا
کُچھ اکیلی اُڑان میں بھی نہیں

وار دُشمن نے کر دیا ہوتا
تیر اُسکی کمان میں بھی نہیں


غزل

بڑے جتن سے اکٹھا ہوا مرا چہرہ
یہ آئینہ ہے کہ ٹُوٹا ہوا مرا چہرہ

گلے ملے ہو تو کیا دیکھنا نہیں تُم نے
تُمھارے شانے پہ رکّھا ہوا مرا چہرہ

وُہ کوئی خاص نظر ہے تو ڈھُونڈ ہی لے گی
ہزار چہروں میں ترسا ہوا مرا چہرہ

میں چُپ رہوں گا تری بارگاہ میں لیکن
نظر تو آئے گا اُترا ہوا مرا چہرہ

میں اُٹھ کے آ گیا شُعلہ رخوں کی سنگت سے
کوئی نہ دیکھ لے جلتا ہوا مرا چہرہ

وُہ آسمان نہیں تھا دُکھن کی شدّت تھی
میں دیکھتا تھا کہ نیلا ہوا مرا چہرہ


غزل

نہیں کہ آنکھ میں پانی ذرا زیادہ ہے
ہمارے غم کی روانی ذرا زیادہ ہے

نکلتی جاتی ہے کُچھ تو زمین پاؤں سے
کُچھ آسمان کی ٹھانی ذرا زیادہ ہے

ہمیں خرید نہ پائی کسی کی نظرِ کرم
تو کیا ہُنر کی گرانی ذرا زیادہ ہے

سبھی کے پاؤں میں ہجرت بندھی ہوئی ہے مگر
ہماری نقل مکانی ذرا زیادہ ہے

ہم اپنے شہر جلاتے ہیں اپنے فتووں سے
ہماری شُعلہ بیانی ذرا زیادہ ہے

یہاں پہ صُبح کا کھلنا ابھی نہیں ممکن
یہاں پہ رات کی رانی ذرا زیادہ ہے

تُو کائنات تو کیا میرے دل پہ بات نہ کر
ترے لئے یہ کہانی ذرا زیادہ ہے


غزل

آ ملی شہر سے حد دل کی بیابانی کی
اتنی تعمیر ہوئی ہے میری ویرانی کی

اک جہاں پھیل رہا ہے مرے دل کے اندر
یہ اکٹھی کوئی صُورت ہے پریشانی کی

وُہ خلا ہے کہ سمٹتا ہی نہیں ہے مُجھ سے
ایسی حد پار ہوئی بے سر و سامانی کی

وُہ جو حیرت کے کھلونوں پہ مچل جاتا تھا
میں نے اب تک اُسی بچّے کی نگہبانی کی

آگ سے کھیلتی رہتی تھی جو مٹی میری
اس کو پڑنی تھی ضرورت بھی کبھی پانی کی

میری خواہش پہ الاؤ کوئی روشن تو ہوا
لو لرزتی ہی رہی میری پشیمانی کی

اب تو مٹی کے سوا کوئی خریدار نہیں
تُو نے قیمت ہی گرا دی مری پیشانی کی


غزل

کُچھ اور ہی ہے آنکھ میں بینائی سے آگے
میں دیکھتا ہوں زینت و زیبائی سے آگے

بے تاب کئے رکھتی ہے گہرائی میں مُجھ کو
اک تابِ تماشا ہے جو گہرائی سے آگے

لفظوں کو وہاں جاتے ہُوئے خوف بہت ہے
میں قافیہ پیما ہوں جس اُونچائی سے آگے

ورنہ کوئی امکاں نہ مری سوچ میں آتا
صُورت کوئی ہوگی تری یکتائی سے آگے

سر پر مُجھے نیلی سی یہ چادر نہیں کافی
رکھتا ہوں تعلق میں شناسائی سے آگے

ٹکرا کے پلٹتی ہی نہیں ہے مری آواز
سنّاٹا ہے کیا شور کی شنوائی سے آگے

رکھ بیٹھا تھا میں اپنا قدم،کیسے اُٹھاتا
اک اندھا خلا تھا کسی انگنائی سے آگے

لگتا ہے سُدھرنے کی نہیں صُورتِ حالات
اب چاہئیے کُچھ اور مسیحائی سے آگے

چلتے ہُوئے میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا
میں بھیڑ میں -گھر جاؤں گا تنہائی سے آگے

ملنے کو رضا میرے جُنوں سے بھی رُکا تھا
جاتا ہوا صُوفی کوئی دانائی سے آگے


غزل

وُہ جو مُجھ سے پرے کا عالم ہے
زرد میں کُچھ ہرے کا عالم ہے

کُچھ میں حیرت پہ آنکھ رکھتا ہوں
اور کُچھ سانورے کا عالم ہے

انتہا سے پلٹ کے آتا ہوں
سوچ، اک دائرے کا عالم ہے

تُجھ کو عالم پہ اختیار نہیں
کیا کسی دوسرے کا عالم ہے

ایسی جُرأت کہ چیخ اُٹھّا ہوں
کوئی حد سے ڈرے کا عالم ہے

گن رہا ہے کوئی تو سانسوں کو
ہر گھڑی نرخرے کا عالم ہے

بھول جا کہ مُجھے شکست ہوئی
یہ مرے پینترے کا عالم ہے


غزل

دن کے اُجلے سفید تن سے ہوا
جاگ اُٹھنا بھی کس کفن سے ہوا

رُوح پر سُرخیوں میں لکّھا ہے
کیا ہوا، کیسا تن بدن سے ہوا

خاک ہے! خاک میں ملاؤ اسے
فیصلہ میرے پیرہن سے ہوا

پھٹ پڑا اپنے آپ پر جو میں
سالہا سال کی گھُٹن سے ہوا

میرے اندر چھناک سے ٹُوٹی
آئینہ چُور جس تھکن سے ہوا

دُکھ میں دیکھو تو ایسے لگتا ہے
آسماں نیلگوں، دُکھن سے ہوا

بُجھ گئی آنکھ اور پھر میرا
آمنا سامنا کرن سے ہوا

نظر انداز میں ہوا لیکن
کسقدر ظلم حرف و فن سے ہوا

اب خبر دُور تک اُڑے گی رضاؔ
آگ کا رابطہ سُخن سے ہوا


غزل

دل لرزتا ہے خستہ زینے کا
کیا مُسافر نیا ہے سینے کا

کھنچ رہا ہوں میں سنگِ اسود پر
لُطف لے تو رہا ہوں جینے کا

تُجھ سے اے جوہری کوئی پُوچھے
خاک میں کام کیا نگینے کا

آنکھ کو کاٹ کر، بہا آنسو
کام دیکھو ذرا کمینے کا

میرا اپنا نظامِ شمسی ہے
مُنتظر تیرھویں مہینے کا

اک تعلق اُدھیڑ بیٹھا ہوں
سلنا باقی ہے میرے سینے کا

کارِ ھستی میں لکھ دیا جائے
یہ سُخن خُون اور پسینے کا

میں نے حیرت کو آنکھیں بیچی ہیں
مال میرا نہیں ہے چھینے کا

میں بھی اُتنا بکھر گیا ہوں رضاؔ
جتنا چرچا ہوا قرینے کا


غزل

لڑائی زور کی تھی جھنڈا گاڑ کر نکلا
میں سب کے سامنے خُود کو پچھاڑ کر نکلا

بہت دنوں کی خموشی تھی چیخ کر ٹُوٹی
جو خوف تھا میرے اندر سے دھاڑ کر نکلا

بہت سے لوگ تھے جو مُجھ کو یاد آنے تھے
سو میں کتاب کے کُچھ صفحے پھاڑ کر نکلا

گڑا ہوا بھی نہیں تھا زمیں میں ٹھیک سے میں
ہوا کا زور بھی مُجھ کو اُکھاڑ کر نکلا

وُہ زور و شور سے آباد کرنے آیا تھا
مگر وُہ بستیاں میری اُجاڑ کر نکلا

وُہ سب نمائشِ ظاہر پہ فخر کرتے تھے
میں جان بُوجھ کے حُلیہ بگاڑ کر نکلا

وُہ ماہ سال تو پیچھے ہی پڑ گئے تھے رضاؔ
سو ایک روز میں دامن کو جھاڑ کر نکلا


غزل

جا! مرا انہدام ہونے دے
یار! کوئی تو کام ہونے دے

ٹھہر جا راکھ میں ابھی کُچھ ہے
آگ کا اختتام ہونے دے

آنکھ آنسو سے بات کرتی ہے
اس کو محوِ کلام ہونے دے

جاتے جاتے نہ مُڑ کے دیکھ مُجھے
شام کے وقت شام ہونے دے

ان کچوکوں سے کون مرتا ہے
عشق کو بے نیام ہونے دے

کارِ دُنیا کو سب سمجھتا ہوں
یہ فسانہ تمام ہونے دے


غزل

سوال یہ تو نہیں لکڑی جل رہی ہے کوئی
سوال یہ ہے کہ کیا گیلی جل رہی ہے کوئی

مرا کلام کئی مرحلوں میں جلتا ہے
ابھی تو بات وُہی پہلی جل رہی ہے کوئی

میں جل رہا ہوں مگر اس قدر سُکون سے کیوں
بدی کے ساتھ مری نیکی جل رہی ہے کوئی

یہ موجِ عشق لپٹ کر جلا رہی ہے مُجھے
کہ راہ میں پڑی پگڈنڈی جل رہی ہے کوئی

مہک رہی ہے کوئی یاد گُفتگو کی طرح
سُلگ سُلگ کے "اگر بتّی " جل رہی ہے کوئی

تو کیا میں ہاتھ سے بھی سُورۂ جمیل پڑھوں
مری نگاہ میں کیا دھیمی جل رہی ہے کوئی

پتہ چلا ہے کہ تُم خوش نہیں تعلق میں
تُمھاری اُنگلی میں انگوٹھی جل رہی ہے کوئی


غزل

چاروں طرف سے بند ہوں خطرہ نہیں گیا
دل سے لگا ہوا کوئی دھڑکا نہیں گیا

بڑھنے لگا ہوں آج حدِ وقت کی طرف
اب تک کسی سفر سے میں روکا نہیں گیا

میں نے تو روشنی سے بہت دیر بات کی
اُس سے مرا کلام ہی سمجھا نہیں گیا

پہلی کئی دُعائیں مرے دل میں رو پڑیں
پھر مُجھ سے آسمان کو دیکھا نہیں گیا

اے عشق! میری کھال سلامت ہے کیوں ابھی
کیا ٹھیک سے زمیں پہ گھسیٹا نہیں گیا

باہر گلی میں دیکھ لیں چڑیاں مری ہوئیں
پھر مُجھ سے اپنے صحن میں اُترا نہیں گیا

وحشت کو چاہیئے کوئی بے حد کُشادگی
مُجھ سے تو اس زمین پہ، تڑپا نہیں گیا

یہ جو کنارِ چشم کٹاؤ ہے رنج ہے!
اے دل! یقین کر ابھی رویا نہیں گیا

حرف و ہُنر کی گٹھڑی سرِ عام کھُل گئی
اپنی کمائی لُوٹ کے بھاگا نہیں گیا


غزل

یہ جو اتنا لو سے لو کا فاصلہ رکھا گیا
یہ مرا ہم زاد تھا مُجھ سے جُدا رکھا گیا

گُم کدے میں حیرتوں کا سلسلہ رکھا گیا
مُجھ کو تنہا چھوڑ کر بھی رابطہ رکھا گیا

روشنی کے قُمقُمے سُوئے فلک چھوڑے گئے
گھُپ اندھیرے میں مرا پُورا پتہ رکھا گیا

اک دُعا لپٹی رہی میرے تنِ پُر خواب سے
رُت اگرچہ زرد تھی پر میں ہرا رکھا گیا

ایک مدت تو اُسے مانوس کر نے میں لگی
آنکھ پُوری جل اُٹھی تو پھر دیا رکھا گیا

میرے باہر کھوٹ کا بازار زوروں پر رہا
میری قیمت کیا لگے میں تو کھرا رکھا گیا

یاد کرنا تھا کسی کو ہنسنے رونے میں رضاؔ
در حقیقت اس لئے نامِ خُدا رکھا گیا


غزل

لمبا سفر ہے ہلکا سا سامان چاہیئے
یارو مُجھے دُعا نہیں امکان چاہیئے

شدت مرے مزاج کی مشکل پسند ہے
بحران سے نکلنے کو بحران چاہیئے

فارغ ہوں ان دنوں میں محبت کے کام سے
وحشت کو جلد ایک بیابان چاہیئے

ٹھہری ہوئی ہوا میں گُزارہ نہیں مرا
اے بادِ پُر سکُوں! مُجھے طوفان چاہیئے

تُو مل رہا ہے مُجھ سے مگر آگ ہے کدھر
مٹی کو کیا کروں میں، مُجھے جان چاہیئے

پہلے مُجھے گُماں تھا مگر اب یقین ہے
تکمیل کائنات کو انسان چاہیئے

الزام ورنہ مُجھ پہ لگے گا گُناہ کا
اس کار خیر کو کوئی شیطان چاہیئے


غزل

میں نے رضا جو اتنی اُجالی ہوئی ہے آنکھ
اک بے پنہ دیئے سے لڑا لی ہوئی ہے آنکھ

ایسا سُنہرا رنگ تھا اتنا سُنہرا جسم!
ایسے لگا کہ آگ میں ڈالی ہوئی ہے آنکھ

شاید اسے کہیں کوئی حیرت دبوچ لے
حدّ ِ نظر سے آگے اُچھالی ہوئی ہے آنکھ

اُس نے بھی تہہ بہ تہہ کوئی منظر سمو دیا
میں نے بھی چھُپ چھُپا کے نکالی ہوئی ہے آنکھ

جب کہہ رہے تھے لوگ "بچا جان اور نکل"
اُس وقت سے ہی میں نے بچا لی ہوئی ہے آنکھ

ایسے لگا مُجھے کسی تتلی کے پر جھڑے
ایسے لگا غُبار سے خالی ہوئی ہے آنکھ

دُکھ کا علاج ڈھُونڈ رہا تھا بہاؤ میں
رو رو کے میں نے اور دُکھا لی ہوئی ہے آنکھ

اندر بلا کا شور ہے باہر خبر نہیں
روشن ہوا ہے دل رضا کالی ہوئی ہے آنکھ


غزل

بھاڑ میں جائے دُنیا داری، بھاڑ میں جائیں لوگ
جیسے چاہیں باری باری، بھاڑ میں جائیں لوگ

پہلے کسی کو اپنے ہاتھوں، مار گرائیں آپ
بعد میں اُسکی عزّہ داری، بھاڑ میں جائیں لوگ

میں نے اپنا پاؤں لیا ہے، دلدل میں سے کھینچ
اب یہ اُن کی ذمہ داری، بھاڑ میں جائیں لوگ

وُہی بُجھانے آئے اس کو، بُجھے بُجھے یہ جسم
دئیے نے جن میں عُمر گُزاری، بھاڑ میں جائیں لوگ

اُٹھا کے پھینکا میں نے اپنے، سر کا سارا بوجھ
راس نہ آئی سہل انگاری، بھاڑ میں جائیں لوگ

ہوا سے مل کر سب نے لگایا، اپنا اپنا زور
بھڑک اُٹھی ہے اب چنگاری، بھاڑ میں جائیں لوگ

مری فضا میں، مرے خلا میں،اپنا کرے ہیں شور
مُجھ سے اُن کی یہ غدّاری، بھاڑ میں جائیں لوگ

مُجھ سے آ کر پُوچھ رہے ہیں، مری غزل کا بھاؤ
پیٹ بھرے ہوئے بیوپاری، بھاڑ میں جائیں لوگ

رہنے دے اب اُن کو آپس، میں یُوں گُتھم گُتھا
رفیع رضا کی علی سے یاری، بھاڑ میں جائیں لوگ


غزل

وُہ جب بھی آتا ہے باہر سے ہو کے جاتا ہے
مگر یہ عشق تو اندر سے ہو کے جاتا ہے

گُریز کرتے ہُوئے ماہتاب کو کیا ہے
کہ میرے جسم کے اُوپر سے ہو کے جاتا ہے

درِ حضور پہ آیا تو یہ کھُلا مُجھ پر
کہ راستہ تو مجاور سے ہو کے جاتا ہے

دھڑکتی رہتی ہے کوئی گھڑی مرے دل میں
یہ وقت میرے ہی چکر سے ہو کے جاتا ہے

میں جھاڑ دیتا ہوں گردِ سفر کو بالوں سے
ہُما کا سایہ مرے سر سے ہو کے جاتا ہے

زیادہ میں ہی گلے سے اُسے لگاتا ہوں
اگر چہ حادثہ اکثر سے ہو کے جاتا ہے

کوئی کوئی مرے دل میں قیام کرتا ہے
کوئی کوئی مرے پتھر سے ہو کے جاتا ہے

الگ تھلگ ہے فضا اور الگ تھلگ لہجہ
کوئی کوئی مرے محور سے ہو کے جاتا ہے

مرے سُخن کو کنارے سے دیکھنے والے
ٹھہر! کہاں تُو سمندر سے ہو کے جاتا ہے


غزل

یہ میں مثال ہوا یا، دیا مثال ہوا
ہوا کے سامنے جو بھی، رُکا مثال ہوا

عجیب عالم ِ عبرت ہے جبر کے ہاتھوں
وُہ بے زُبان ہے،جس کا کہا مثال ہوا

وُہ روشنی میری بینائی لے گئی پہلے
پھر اسکے بعد مرا دیکھنا مثال ہوا

اے دلنشین! تُجھے راز کی بتاؤں میں
جو میری آنکھ میں آیا، گیا، مثال ہوا

یہ بات میری نہیں بات ہے یہ لوگوں کی
وُہ سو گئے تو مرا جاگنا مثال ہوا

وُہ جھوٹ بال برابر تھا عکس میں لیکن
چھنک کے ٹوٹ گیا، آئینہ مثال ہوا

وہیں کہیں پہ کوئی موج پُرسکون ہوئی
وہیں کہیں پہ مرا ڈوبنا مثال ہوا

مُجھے مثال نہ رحم و کرم کی دی جائے
مرے لئے تو ہر اک سانحہ مثال ہوا

کسی نے ملنا تھا شہ رگ کے فاصلے پہ رضاؔ
سو اپنے ہاتھوں گلا کاٹنا مثال ہوا


غزل

تُو بھی مذہب بدست لگتا ہے
تُو بھی فرقہ پرست لگتا ہے

تیرے اندر کوئی خُمار نہیں
تُو مُجھے جھُوٹا مست لگتا ہے

آئینے سے بھی ڈر رہا ہے تُو
حوصلہ تیرا پست لگتا ہے

اُف یہ موضوعِ گُفتگو تو بدل
زخم پر ذکرِ ھست لگتا ہے

زندگی کتنے سال لیتی ہے
فاصلہ ایک جست لگتا ہے

فیصلہ تجھ پہ میرے ہونے کا
کیا یہاں پر الست لگتا ہے؟


غزل

دُھواں دُھواں ہی سہی آگ کا نشان تو ہے
کہ میرے بعد اُٹھا میرا خاندان تو ہے

شبِ شکست پرخچے اُڑے بھروسے کے
میں سوچتا تھا مرے سر پہ آسمان تو ہے

یہ جلتا زخم نہ خُود بھی کلام کرنے لگے
کہ میں نے زخم پہ رکھی ہوئی زُبان تو ہے

مرا کہا جو تری سوچ تک نہیں آتا
کوئی خلا کی طرح اپنے درمیان تو ہے

یہ ملحدوں نے جو ہجرت کی مُشرکوں کی طرف
وُہ اس لئے کہ زمیں پہ اُنہیں امان تو ہے


غزل

جو مُجھ کو گھیر رہا ہے وُہ ڈر نکال نہ دُوں
میں اپنے گرد سے دیوار و در نکال نہ دُوں

حسابِ عُمر سے تنگ آ گیا ہوں اب تو میں
یہ ماہ و سال یہ شام و سحر نکال نہ دُوں

پڑی ہوئی ہے بہاؤ میں زندگی یُوں بھی
کسی طرف سے میں اپنا بھنور نکال نہ دُوں

میں اور سمت میں اُڑتا ہوں اور سمت میں تُو
اے روشنی میں ترا اُجلا پر نکال نہ دُوں

ادھر اُدھر جو چمکتی ہے میری خُوش فہمی
تو اپنی خاک سے یہ سارا زر نکال نہ دُوں

پھراس کے بعد میں دیکھوں کہ دیکھتا کوئی ہے
میں اپنے آپ سے اپنا ہُنر نکال نہ دوں


غزل

جیسے گرے ہُوئے پہ مکاں ٹوٹ کر گرے
سر پر مرے، زمین و زماں ٹوٹ کر گرے

پارے وُہ روشنی کے مُجھے ڈھُونڈتے ہُوئے
میں جس جگہ گرا تھا وہاں ٹوٹ کر گرے

میں ہی نہیں بچا تو ترے آئینے سے کام
میری بلا سے سارا جہاں ٹوٹ کر گرے

آدھی صدی کے خواب کوئی کم نہیں تھے دوست
آخر وُہ سب ستارے کہاں ٹوٹ کر گرے

یہ کون سُن رہا ہے تشدد بھرا جواز
یہ کون کہہ رہا ہے فلاں ٹوٹ کر گرے

ملبہ ہی بیچنا ہے جو بازار میں رضاؔ
کیا فرق کس جگہ سے دُکاں ٹوٹ کر گرے


غزل

چراغ پہلے سے بھی معتبر بنا ہوا ہے
کبھی یہ دل تھا اور اب یہ نظر بنا ہوا ہے

یہ آئینہ ہے کہ ٹوٹا ہوا مرا چہرہ
درونِ ذات عجب اک خبر بنا ہوا ہے

میں اپنے کام میں تیکھا ہوں اپنے شوق میں وُہ
میں اُسکی آنکھ ہوں اور وُہ بھنور بنا ہوا ہے

مُجھے تو پہلے ہی حجرے میں اضطراب سا تھا
اور ان دنوں تو وُہ شیریں ثمر بنا ہوا ہے

عجیب نقش ہے اُس سے، مرے تعلق کا
دکھائی دیتا نہیں ہے مگر بنا ہوا ہے

مُجھے معاف ہی رکھ مُجھکو اپنا یار نہ کہہ
یہ حرفِ خیر ابھی حرفِ شر بنا ہوا ہے


غزل

لگا کے زخم وُہ کُچھ اور کام کرنے لگا
مرا لہو مگر اُس سے کلام کرنے لگا

وُہ تیز دھار چھُری اُس نے بغل میں رکھّی
اور اس کے بعد اُٹھا، رام رام کرنے لگا

خُدا کا نام لیا اور پھر بھرا ساغر
لو میں شراب کو خُود ہی حرام کرنے لگا

میں اُس کے سامنے بیٹھا کہ میں جھُکوں لیکن
وُہ شُعلہ رُو تو مرا احترام کرنے لگا

میں چند سال میں کیا اتنا ٹُوٹ پھُوٹ گیا
یہ آئینہ تو مرا انہدام کرنے لگا

پھسل گئیں مری نظریں پھر آسماں کی طرف
میں اس کے بعد وہیں پر خرام کرنے لگا

اگر چہ اُس سے خفا تھا مگر نجانے کیوں
میں ایک رات خُدا کو سلام کرنے لگا

کھُلی ہوئیں تھیں مری آنکھیں خواب کے اندر
رضا میں سو گیا، قصّہ تمام کرنے لگا


غزل

دو جہاں مست اپنے میلے میں
اے چراغ آ جلیں اکیلے میں

خاک پھر آگ اور پھر تُو بھی
آ پڑا ہے مرے جھمیلے میں

کوئی منظر خرید سکتا ہے
مجھکو حیرت کے ایک دھیلے میں

طے کیا مُجھ سے کُچھ کنارے نے
بہہ گیا پھر میں اپنے ریلے میں

ٹانک کر پھول اُسنے بالوں میں
کھول دی آنکھ میری بیلے میں

اک کرن مُجھ کو باندھ کر نکلی
اک شکن سو گئی گدیلے میں

زندگی اُڑ چکی مگر پیچھے
تتلیاں رہ گئیں ہیں ٹھیلے میں

ہاتھ میں بھُربھُرا کے ٹُوٹا ہے
خاک سمٹی ہوئی تھی ڈھیلے میں


غزل

یہ کیا جگہ ہے آگ کا بازار ہے کہاں
شعلہ رُخوں میں میرا خریدار ہے کہاں

یہ جو گُزر رہی ہے مُجھے چُوم چُوم کر
آخر یہ روشنی اُسے درکار ہے کہاں

اے وقت دیکھ میں ہی بچا اپنے سامنے
مُجھ میں چُنی ہوئی تری دیوار ہے کہاں

اُس نیلے آسماں سے پرے روشنی کا دل
اُس پار ہی سہی مگر اُس پار ہے کہاں

جس کی زباں کا زخم مری رُوح تک گیا
کون اُس سے پُوچھتا تری تلوار ہے کہاں

اے عقلِ کُل! یہ بات بڑی ہی عجیب ہے
پانی کو میں بتاؤں کہ منجدھار ہے کہاں

روشن تھا آئینہ تو طرف دار بن کے وُہ
مُجھ کو بُجھا گیا! میرا غدار ہے کہاں

میں نے اُٹھا لیا ہے اگرچہ صلیب کو
تاہم مرے قبیلے کا سالار ہے کہاں


غزل

تُو خُود ہی دیکھ دستِ قضا! تُو نے کیا کیا
بندوں نے یہ کیا تو بتا! تُو نے کیا کیا

میری نظر بھی ہو گئی اُس سے لہولہان
منظر کو رنگ ایسا عطا تُو نے کیا کیا

دُشمن تو کر رہا ہے جو کرتی ہے دُشمنی
حق اپنی دوستی کا ادا تُو نے کیا کیا

اُٹھّے ہُوئے یہ ہاتھ بھی گرنے لگے ہیں اب
پلٹی نہیں کسی کی دُعا تُو نے کیا کیا

چُپ چاپ میرے سر پہ تنے آسمان دیکھ
اپنی زمین پہ شور بپا تُو نے کیا کیا

"انساں لہو بہائے گا!" تُجھ سے کہا گیا
"میں جانتا ہوں"! تُو نے کہا، تُو نے کیا کیا

گرنے دے آنکھ سے یہی آنسو لہو بھرا
سب تُجھ سے پُوچھتے ہیں رضا تُو نے کیا کیا


غزل

وُہ علمِ کُل ہے خطا بھی ضرور دیکھتا ہے
تو پھر وُہ حرفِ دُعا بھی ضرور دیکھتا ہے

جو دے رہا ہے نظر کس لئے نہیں آتا
جو لے، وُہ دستِعطا بھی ضرور دیکھتا ہے

اکیلا میں نہیں موجود کی طرف تکتا
مُجھے وہاں سے خلا بھی ضرور دیکھتا ہے

مرے ہُنر کی یہ منطق بڑی نرالی ہے
بُرے میں کوئی بھلا بھی ضرور دیکھتا ہے

شکست کھا کے ہوا ہی اُسے نہیں تکتی
خُود اپنا شُعلہ دیا بھی ضرور دیکھتا ہے


غزل

بس اس میں کوئی آگ ہی سونے کی طرح ہے
ورنہ یہ مری خاک نہ ہونے کی طرح ہے

یہ آنکھ میں روکا ہوا آنسو ہی نہیں دوست
یہ تو کسی دُنیا کو ڈبونے کی طرح ہے

ہچکی ابھی آواز پہ کرتی ہے بھروسہ
رقّت ابھی اس دور میں رونے کی طرح ہے

میں دھیان میں ڈرتا ہوں کہیں ٹُوٹ نہ جائے
پرواز کی خواہش بھی کھلونے کی طرح ہے

اک نیند سے اُٹھتا ہوں نئی نیند کی خاطر
یہ وقت تو خُوش رنگ بچھونے کی طرح ہے

چلتا ہوں کسی سمت شب و روز اُٹھائے
سامان یہ کُچھ اور ہی ڈھونے کی طرح ہے

کُچھ دیر یہاں شور مچاتا ہوں غزل کا
یہ گوشۂ چُپ چاپ جو کونے کی طرح ہے


غزل

اے وقت کے امام کہیں میں نہ چل بسوں
کر مُجھ سے کُچھ کلام کہیں میں نہ چل بسوں

تیری نہیں ہے بات مرا مسئلہ ہے یہ
تُجھ کو تو ہے دوام کہیں میں نہ چل بسوں

اب ایسے چل چلاؤ میں رُکنا محال ہے
دعوت ہے اتنی عام کہیں میں نہ چل بسوں

گردش میں آ گیا ہے یہ پارا دماغ کا
کُچھ دیر مُجھ کو تھام کہیں میں نہ چل بسوں

رخشِ خیال ہے کہ تری روشنی کے پاس
پھرتا ہے بے لگام کہیں میں نہ چل بسوں

پہلے تو اسمِ خاک سے زندہ رہا ہوں میں
اب پڑھ کے تیرا نام کہیں میں نہ چل بسوں

سر پر لٹک رہی ہے مگر گرتی کیوں نہیں
شمشیر بے نیام! کہیں میں نہ چل بسوں

اب اپنے چاک پر بھی نظر ڈال کوزہ گر
میں رہ گیا ہوں خام، کہیں میں نہ چل بسوں


غزل

حرف کیا ہے! تُجھے نہیں معلوم
یہ خُدا ہے! تُجھے نہیں معلوم

یہ جو موجود ہے اسی میں کہیں
اک خلا ہے! تُجھے نہیں معلوم

یہ دُعا کی تُو چیر پھاڑ نہ کر
آسرا ہے! تُجھے نہیں معلوم

تب کہاں تھا، وُہ اب کہاں پر ہے
پُوجتا ہے! تُجھے نہیں معلوم

شُعلہ تیری طرف جھُکا تو تھا
کیا کہا ہے! تُجھے نہیں معلوم

صرف ملبہ گرا ترے سر پر
تُو کھڑا ہے! تُجھے نہیں معلوم

زرد کے بعد خُشک بھُورا رنگ
تُو ہرا ہے! تُجھے نہیں معلوم

عشق کا آخری سفر نامہ
لکھ چُکا ہے! تُجھے نہیں معلوم

آگ کس واسطے مقدس ہے
جل رہا ہے! تُجھے نہیں معلوم

ٹوٹا پھُوٹا، کٹا پھٹا منظر
آنکھ کیا ہے! تُجھے نہیں معلوم

عشق کھُلتا نہیں کسی پر بھی
دائرہ ہے! تُجھے نہیں معلوم

جنگ میں تیرا آخری ہتھیار
معجزہ ہے! تُجھے نہیں معلوم

قبر پر کاہے نام لکھتا ہے
خاک کیا ہے!تُجھے نہیں معلوم

روتے روتے یہ کیا ہوا تُجھ کو
ہنس پڑا ہے! تُجھے نہیں معلوم

جا میاں! اس سے کوئی چھیڑ نہ کر
یہ رضا ہے! تُجھے نہیں معلوم


غزل

بُجھتے بُجھتے، جلا کے آتش کو
بچ گیا میں بچا کے آتش کو

چل پڑا اور کُچھ نہیں سوچا
کیا کروں گا میں پا کے آتش کو

زندگی تھی کہ کوئی شُعلہ تھا
میں ملا تھر تھرا کے آتش کو

میں نے سب سے کہا رُکو ٹھہرو
دیکھتا ہوں میں جا کے آتش کو

اب گُزرتا ہوں چور سا بن کر
ہاتھ دایاں، دکھا کے آتش کو

ٹھہر شُعلے! کہاں کو جاتا ہے
اس طرح سے تپا کے آتش کو

میں نے دیکھا کہ کُچھ نہیں بدلا
پھر میں لایا گھُما کے آتش کو

میری آنکھوں کے جلتے پانی نے
لے لیا کربلا کے آتش کو

اب الاؤ میں آ گیا ہوں تو
میں جلوں گا بُجھا کے آتش کو

میں نے بیچی ہے اپنی خاک رضاؔ
اور لایا کما کے آتش کو


غزل

اب تک جو اعتبار میں آیا نہیں ہے تُو
پھر تو کسی شمار میں آیا نہیں ہے تُو

بس جان کے زیاں پہ ترے ہوش اُڑ گئے
کیا پہلے، کاروبار میں آیا نہیں ہے تُو

اب تک رُکا ہوا اُسی حیرت کدے میں ہے
لگتا ہے پھر خُمار میں آیا نہیں ہے تُو

وحشت کے بھی اُصول ہیں تُجھکو خبر نہیں
شاید کہ اس قطار میں آیا نہیں ہے تُو

مٹی بکھیرنے کا یہ موسم نہیں ہے دوست
اچھا ہوا بہار میں آیا نہیں ہے تُو

دُشمن سے ہی لڑا ہے ابھی خُود سے تُو نہیں
میدانِ کار زار میں آیا نہیں ہے تُو

لایا گیا تھا گھیر کے تُجھ کو جُنوں کے پاس
پھر اپنے اختیار میں آیا نہیں ہے تُو

باہر سے سُن رہا ہے الاؤ کی گُفتگو
در اصل بزمِ یار میں آیا نہیں ہے تُو

گردش ہے تیز تر تو رضا اُس کا کیا گلہ
کیا وقت کے فشار میں آیا نہیں ہے تُو


غزل

یہ بات طے ہے رضا جب تُو دھیان کھولے گا
تو اسکے بعد تُجھے تیرا گیان کھولے گا

تُو اپنے نام سے کیسے دُکان کھولے گا
کہ مال اُس کا ہے جس کا جہان کھولے گا

گھُٹا ہوا ہے ترا سانس تیرے لفظوں میں
تُجھے ابھی ترا حُسنِ بیان کھولے گا

اب اپنے دل پہ لئے جا رہا ہے اس کو تُو
مُجھے تو لگتا ہے تُو آسمان کھولے گا

نکلنے دے گا کیا آنسو کو آنکھ سے باہر
حدِ ادب پہ بھلا تُو زُبان کھولے گا

دبا اسے جو ترا شور تیرے اندر ہے
وگرنہ تُو تو یہاں سب کے کان کھولے گا

تُجھے خبر نہیں رستے میں کس جگہ ہے تُو
یہ راز اور کوئی رازدان کھولے گا

وُہ اس طرف کا رہا اور نہ اُس طرف کا رہا
مکان میں جو حدِ لا مکان کھولے گا

گرہ پڑی ہوئی دل میں اگر نہیں کھولی
تو اور کون ترا بادبان کھولے گا

بچا کھُچا یہی منظر سمیٹ آنکھوں میں
ترے لئے کیا الگ وُہ نشان کھولے گا

تُو خُود کو باندھ رہا ہے عجیب جدت سے
رضا تُجھے کوئی اہلِ زُبان کھولے گا


غزل

زندگی جتنی اذیت سے کئے جاتا ہوں
شاعری اُتنی سہولت سے کئے جاتا ہوں

تُو نے نفرت سے مری جان تو کیا لینی تھی
میں یہی کام محبت سے کئے جاتا ہوں

دن تو آسان طریقے سے گُزر سکتا تھا
میں ہی بس اس کو مشقت سے کئے جاتا ہوں

درِ توفیق کے کھُلتے ہی پلٹنا میرا
ہائے کیا کام میں ذلت سے کئے جاتا ہوں

ایک چلنا ہے کہ کھنچتا ہی چلا جاتا ہوں
ایک رُکنا ہے کہ طاقت سے کئے جاتا ہوں

وقت نا وقت کا رونا نہیں روتا ہر گز
جو بھی کرنا ہو میں شدت سے کئے جاتا ہوں

رنگ رکھتا ہوں کسی اور کی دہلیز پہ میں
خُود کو آراستہ وحشت سے کئے جاتا ہوں

آگ تُو اتنی مقدس ہے تو آ مُجھکو جلا
میں نظارہ تیرا حسرت سے کئے جاتا ہوں


غزل

ورق کتابِ ازل کا پلٹنے والا ہے
کہ جو جہاں ہے وہاں سے وُہ ہٹنے والا ہے

سو پھیلنے کی اُسی حد پہ علم جا کے رُکا
میں کہہ رہا تھا جہاں یہ سمٹنے والا ہے

مری زمین کی تقسیم ہی نہیں ہونی
مرا وجود بھی ہجرت میں بٹنے والا ہے

میں عین وقت پہ نکلا ہجوم سے باہر
لگا کہ غُصہ مرا مُجھ میں پھٹنے والا ہے

ہزار سمت سے آنا ہے میرے لفظوں نے
ابھی غُبار کہاں میرا چھٹنے والا ہے

یہ حاضری کا عقیدہ مرا عقیدہ نہیں
مُجھ پتہ ہے مرا نام کٹنے والا ہے

میں چیخ کی طرح منظر پہ جا کے لیٹ گیا
مُجھے لگا کوئی اُس پر جھپٹنے والا ہے

فشار وقت میں دن گھولتا ہے کُوزہ گر
وُہ میری خاک پہ کیا کیا اُلٹنے والا ہے

اے واعظا تُو خُدا کی طرف سے ہے ہی نہیں
اسی لئے ترا لہجہ ڈپٹنے والا ہے

ہوا چلی تو میں لپکا اُسی کی سمت رضاؔ
اُسے پتہ تو چلے کوئی ڈٹنے والا ہے


غزل

دل سے کانٹا نہ عُمر بھر نکلا
اس لئے جسم بے ثمر نکلا

ڈر رہا تھا میں گہری کھائی سے
پاؤں پھسلا تو میرا ڈر نکلا

میرے زخموں پہ پھاہے رکھنے کو
میرے اندر سے چارہ گر نکلا

آگ چُپ چاپ بُجھ رہی تھی مری
ناگہاں اُس میں سے شرر نکلا

آسماں کی طرف نظر اُٹھی
پھر پروں میں وُہ نیلا پر نکلا

اپنا لہجہ اور اپنی شنوائی
مُجھ پہ میرا بہت اثر نکلا

اسم ِ اعظم سے کم نہیں تھی یہ
اپنی مٹی کو پھونک کر نکلا

سارے کتبے مٹے ہُوئے تھے رضاؔ
شہر سارا ہی معتبر نکلا


غزل

چاک پر ایسے میرا سر گھُوما
میں رُکا اور کُوزہ گر گھُوما

نئی حیرت تھی اس لئے سب لوگ
رُک گئے اور میں بے خطر گھُوما

میں رُکا ہی نہیں کہ دیکھوں میں
آسماں پیچھے کس قدر گھُوما

خواب تھا اور وقت کی حد تھی
کیا بتاؤں کدھر کدھر گھُوما

عُمر پُوری گُزار دی لیکن
ایک پل سے بھی مُختصر گھُوما

میں نے اُس سے بڑی محبت کی
جو یہاں مُجھ سے پیشتر گھُوما

دیکھنے کی کہاں ضرورت تھی
بند آنکھوں سے بے بصر گھُوما

سیدھے رستے پہ وُہ نہیں تھے رضاؔ
رہبروں کو میں چھوڑ کر گھُوما


غزل

جو ہر کسی سے نئی دھمکیاں ملی ہوئی ہیں
میں لے رہا ہوں مُجھے سسکیاں ملی ہوئی ہیں

بچے کھُچے میری پوروں سے رنگ جھڑتے ہیں
بڑا غرور تھا کُچھ تتلیاں ملی ہوئی ہیں

زمین میری خراشوں سے خُون چکھتی ہے
رگڑ رہا ہوں کہ یہ ایڑیاں ملی ہوئی ہیں

اُدھیڑ ڈالتا اب تک مُجھے زمانہ مگر
لباسِ جان کی کُچھ دھجیاں ملی ہوئی ہیں

بندھے ہُوئے ہیں کسی ہاتھ سے سبھی دھاگے
مرے خلاف سبھی پُتلیاں ملی ہوئی ہیں

کبھی کبھی کوئی شعلہ بھی جاگ جاتا ہے
میں کیا کروں مجھے چنگاریاں ملی ہوئی ہیں

رُکا نہیں کسی حیرت کو دیکھ کر میں کبھی
مُجھے گُزرنے کو یہ بستیاں ملی ہوئی ہیں

تو اجنبی کی طرح مُجھ کو دیکھتا کیا ہے
مرے بدن سے تری دُوریاں ملی ہوئی ہیں


غزل

میں جی رہا ہوں ترے معجزے کے ہونے سے
یا مر رہا ہوں کسی دُوسرے کے ہونے سے

ترے الاؤ کے اندر ہی پھینک دیتا ہوں
مجھے گھمنڈ رہے نہ دئیے کے ہونے سے

میں خُود تو کُچھ بھی نہیں ہوں مگر کتاب ازل
پڑھی گئی تُو مرے حاشیے کے ہونے سے

بہت نڈھال رہا اپنے زرد عرصے میں
ہرا ہوا ہوں ترے رابطے کے ہونے سے

وُہ سلسلہ، میرا دن بھر طواف کرتا ہے
جو کٹ چکا ہے ترے سلسلے کے ہونے سے

میں کاٹ دُوں ابھی شہ رگ تو کیا رہے گا وُہ
جو ناز ہے تُجھے اس فاصلے کے ہونے سے

تو کیا دُعائیں کروں سانحوں کے ہونے کی
گلے ملے ہیں سبھی سانحے کے ہونے سے

بڑے بڑوں کا بھلا ہو گیا مرے مالک
ترے فقیر ترے سر پھرے کے ہونے سے

کھُلا یہ راز کہ وحدت میں کیا بڑائی ہے
میں جب حقیر ہوا جمگھٹے کے ہونے سے

میں رو رہا تھا کہ شاید بھُلا دیا گیا ہوں
میں ھنس پڑا ہوں نئے حادثے کے ہونے سے

میں تُجھ کو دیکھ چُکا اور تُجھ کو جان چُکا
میں تُجھ کو مان چُکا آئینے کے ہونے سے


غزل

کرتی تھی روز آہ و فُغاں، کھینچ لی گئی
مُنہ سے زباں دراز زباں کھینچ لی گئی

شُعلہ مرے چراغ کا لپکا ہوا کی سمت
ایسے لگا مُجھے میری جاں کھینچ لی گئی

خالی تڑپ رہا ہوں نشیبِ وجود میں
میر ے بدن سے رُوح ِ رواں کھینچ لی گئی

اک سمت یہ زمین تھی اُس سمت آسمان
دونوں طرف سے مُجھ پہ کماں کھینچ لی گئی

میں راستے میں تھا مُجھے عُریاں کیا گیا
اے وقت! میری کھال کہاں کھینچ لی گئی

ایسے لگا پہاڑ کوئی رہ میں آ گیا
ایسے لگا طنابِ جہاں کھینچ لی گئی

میرا اگر ابد سے تعلق نہیں رضاؔ
تصویر میری کیسے وہاں کھینچ لی گئی


غزل

کُچھ نہ کُچھ ہونے کا یہ ڈر نہیں جانے والا
ویسے اس خوف سے میں مر نہیں جانے والا

میرے ذرّے کو چمکنا ہے اُسی نُور کے ساتھ
وُہ مری خاک سے بچ کر نہیں جانے والا

قوس کی طرح سے آگے فقط اُترائی ہے
اس بُلندی سے میں اُوپر نہیں جانے والا

اس تنِ خاک سے نکلی ہے مری دھُوم تو اب
شور یہ لوٹ کے اندر نہیں جانے والا

کبھی ٹُو ٹا تو سبھی اہل نظر دیکھیں گے
میں اُفق سے کوئی چھُپ کر نہیں جانے والا

گُل آوارگی کیا پُورا کھلا ہے اس بار
کیا پلٹ کر میں کبھی گھر نہیں جانے والا

میں اگر زندہ رہوں گا تو چلا جاؤں گا
میں یہاں سے کبھی مر کر نہیں جانے والا

یہ جو افلاک کے رستے پہ پڑا ہوں میں رضاؔ
تو یہ لے کر مُجھے در در نہیں جانے والا


غزل

جو اتنا خاک کو میں نے اُچھال رکھا ہے
تو جا بکھرنے کا پُورا خیال رکھا ہے

میں چل رہا ہوں زمانے کے پیش و پس میں کہیں
بس اپنے آپ کو اس سے نکال رکھا ہے

سو اب تو اتنے مہذب بھی ہو گئے تُم لوگ
کہ سارے عہد کو خطرے میں ڈال رکھا ہے

تُمھارے ساتھ کئی اور اہل دانش ہیں
مرے جُنون نے جن کو سنبھال رکھا ہے

اُٹھا یہاں سے پُرانا جواب منہ نہ بنا
یہ میں نے لا کے نیا اک سوال رکھا ہے

مدد کے واسطے بُنیاد کی طرف سے آ
اُسے سنبھال جو میں نے سنبھال رکھا ہے

پتہ چلا کسی واعظ نے میرا شعر پڑھا
مرے چراغ نے کس کو اُجال رکھا ہے


غزل

کتاب سبز پہ رکھ اک گُلاب اور نکل
دکھا جو دیکھ چکا ہے تُو خواب اور نکل

تحفظات ہیں اب تک کئی چراغوں کو
اسی اُفق پہ مرے آفتاب اور نکل

ابھی تو تیرے تلاطم سے میں نہیں بھیگا
بھنور کی آنکھ سے اے رقص آب اور نکل

مری غزل کا یہ حجرہ ہے دھیان کا رستہ
یہاں پہ بحث سے کر اجتناب اور نکل

نئے ہیں لوگ سوالات بھی نئے لائے
اُٹھا یہاں سے پُرانا جواب اور نکل

یہ رولتا ہے کہاں سنگ و خشت میں خُود کو
اُٹھا یہ آنکھ رضا اور خواب اور نکل


غزل

خدائے سبز مری زرد خاک دیکھنے آ
یہ کس کا عشق ہوا ہے ہلاک دیکھنے آ

کتابِ نُور پہ رکّھی ہوئی نظر سے مل
تُو میرے دھیان کا یہ پہلا طاق دیکھنے آ

تجھے پتہ ہے بگولے کی آنکھ میں تُو ہے
تُو اپنے گرد مرا انہماک دیکھنے آ

اُڑا نہ ساتھ اگر نیلگُوں پروں والا
تو سانحہ کوئی اندوہناک دیکھنے آ

وُہ آگ جو کہ مقدس تھی آ ملی مُجھ سے
میں ہو گیا ہوں مکمل تُو چاک دیکھنے آ

خُوش آمدید! تُو آئے تو میرا نقش نہ ہو
خُوش آمدید! در خوابناک دیکھنے آ

ابھی تلک تو میں اسم وجود پڑھتا ہوں
براہ نُور مُجھے ٹھیک ٹھاک دیکھنے آ


غزل

زرد میں خُون جلانے سے ہوا
یا ترے چھوڑ کے جانے سے ہوا

اپنی پہچان بھی کھوئی میں نے
کیا مُجھے ہوش میں لانے سے ہوا

لہو رُخسار کی جانب دوڑا
یہ تجھے ساتھ لگانے سے ہوا

راکھ بُنیاد میں، منظر پہ دھُواں
میری آتش کو دبانے سے ہوا

علم دیوار کے ڈھے جانے کا
میری تصویر ہٹانے سے ہوا

میں گرا، سنگ گرے، خُون گرا
ایسا بے پر کی اُڑانے سے ہوا

یہ جو مٹی کا گلا بیٹھ گیا
عُمر بھر شور مچانے سے ہوا

عکس در عکس مری آنکھ رہی
تنہا میں آئینہ خانے سے ہوا

نہ سمندر سے اُبھرنا میرا
غلط اندازہ لگانے سے ہوا

دفن زندہ وُہ کھنڈر نہ ہوتا
شہر پر شہر بسانے سے ہوا

اُس کو اندازہ مری پیاس کا پھر
ریت کو پانی پلانے سے ہوا

میر و غالب بھی ہُوئے ہیں لیکن
میں مگر اپنے زمانے سے ہوا


غزل

میری وارفتگی سے دل نہ بھرا
دیکھ تیرا، خُودی سے دل نہ بھرا

دو جہاں سے بھی کیا بڑا ہے یہ
کیوں تری روشنی سے دل نہ بھرا

یُوں جلا میں دم وصال کہ بس
پھر مرا خُود کُشی سے دل نہ بھرا

نظم لکھی جو کائنات لکھی
کیا ترا شاعری سے دل نہ بھرا

آنکھ اُتنی خُوشی سے بھر آئی
میرا جتنی خُوشی سے دل نہ بھرا

رکّھے رکھی زُبان زخموں پر
درد کی چاشنی سے دل نہ بھرا

چار سُوشُعلہ رُو کھڑے تھے مگر
اُنکی دریا دلی سے دل نہ بھرا

ہدیۂ لا زوال ٹھکرا یا
بے پنہ سنسنی سے دل نہ بھرا

میں نے رکھی دُعا ہتھیلی پر
میرا بیچارگی سے دل نہ بھرا

میں پُکارا کوئی نہیں بولا
پھر مرا خامشی سے دل نہ بھرا

تُو نے اپنی جگہ جو رکھنی تھی
تُو نے بھی زندگی سے دل نہ بھرا

علم کیا تھا وبال جاں تھا رضاؔ
پر مرا آگہی سے دل نہ بھرا


غزل

ہوائے تیز ابھی تیرا کام رہتا ہے
تُو تھک گئی ہے مرا انہدام رہتا ہے

شب سیاہ تُو ہے بس مرے جل اُٹھنے تک
سُلگ گیا ہوں مرا انتقام رہتا ہے

تمھیں جو سُوجھا ہے اب شوق وقت پیمائی
مرا تو روز وھاں پہ خرام رہتا ہے

اُترنا پڑتا نہیں اپنے عرش سے اُس کو
مرے دماغ میں جس کا قیام رہتا ہے

کسی کو دشت کی وُسعت سمیٹنی ہو تو
مری نگاہ میں خُوب انتظام رہتا ہے

یہ ہو چُکا ہے، نیا واقعہ نہیں پیارے
کہ آتا جاتا فنا کا مقام رہتا ہے

اے کاذبینِ محبت مُجھے تو عشق ہوا
سو اب کہاں میرے اندر حرام رہتا ہے

میں روشنی کی زُباں روشنی سے سیکھوں گا
وُہ مُجھ کو دیکھ چُکی ہے کلام رہتا ہے

ٹھہر ابھی نہ اُٹھا تیغ برق اے مالک
تری سپاہ میں تیرا غلام رہتا ہے


غزل

یہ سارا عہد جو میرے خلاف نکلا ہے
گواہ کیا کوئی وعدہ معاف نکلا ہے

نگاہ کج لئے پھر! اپنا علم صنّاعی
پلٹ یہاں سے! مرا شیشہ صاف نکلا ہے

یہ کائنات اب آئی ہے میرے چکر میں
مرے طواف میں سب کا طواف نکلا ہے

عجیب بحث ہے ہونے کی اور اس میں کہیں
کسی خلا کی طرح اختلاف نکلا ہے

چہل پہل سی جو ہے میرے حجرہ دل میں
یہ عشق توڑ کے اب اعتکاف نکلا ہے

بہشت و دوزخ و برزخ سمجھ نہیں آئے
وہیں کہیں سے مرا انحراف نکلا ہے

مرے دماغ سے جھک کر مرے جُنوں کی طرف
شعاع وقت میں کُچھ انعطاف نکلا ہے

ذرا ٹھہر مرے جوہر کو ڈھُونڈنے والے
ابھی غلاف کے اندر غلاف نکلا ہے

گھُٹا ہوا تھا کوئی کلمہ آخری دم تک
جو سانس نکلا ہے تو اعتراف نکلا ہے


غزل

یہ آئینہ مُجھے دیوار میں لگانا ہے
اب آنے جانے کا رستہ بھی تو بنانا ہے

اگر چراغ مُجھے دیکھتے ہیں حیرت سے
تو اپنا نام انہیں میں نے کیوں بتانا ہے

یہ سنسنی مرے اندر پڑی نہیں رہنی
یہ شور میں نے ترے سامنے مچانا ہے

کسی خلا کی طرح مُجھ میں بڑھ رہا ہے تُو
سو تُجھ کو پانے میں کتنا مجھے گنوانا ہے

نقوش مٹی کے سنولا چُکے تپش سے اب
ترے الاؤ نے اندر سے کیا پکانا ہے

میں دائرے کے سفر سے نکلنے والا ہوں
بتا دے آج مُجھے اب کہاں پہ جانا ہے


غزل

کُشادگی مرے شُعلے کے تھرتھرانے کی
اور اُس پہ تنگ فضا اس قدر زمانے کی

کوئی مثال نہیں ہے کہیں پرندوں میں
کسی الاؤ کے اتنا قریب جانے کی

میں آج دشت کے اُس پار تک نہیں اُترا
بھلا یہ بھی کوئی افواہ تھی اُڑانے کی

کھڑا رہا کہیں محراب میں وُہ سجدے تک
وُہ بے کلی تھی اُسے میرا سر جھُکانے کی

ابھی ابھی جو ستارہ لکیر چھوڑ گیا
سو ہو نہ ہو یہ ہے کوشش مُجھے ہرانے کی

کوئی خیال ہمیشہ سفر پہ رہتا ہے
سو خواب کرتا ہے کوشش مُجھے جگانے کی

اُداس جھیل سی آنکھیں اور اسقدر گہری
مجھے تو پہلے ہی عادت تھی ڈوب جانے کی

میں مر رہا ہوں کسی اور زندگی کے لئے
نہیں ہے کوئی ضرورت مُجھے بچانے کی

جو ایک نقشِ ازل میرے ساتھ زرد ہوا
مُجھے لگن ہے اب اُس کو ہرا بنانے کی


غزل

تُو لو پذیر نہیں ہے تو جا رہا ہوں میں
یہ آخری ہے دیا جو جلا رہا ہوں میں

مری اُڑان تری سمت رہ گئی تھی کبھی
اُسے پھر اپنے پروں میں لگا رہا ہوں میں

یہ دشت کیا کوئی دیوارِ گریہ ہے جس سے
لپٹ لپٹ کے کسی کو دکھا رہا ہوں میں

وُہ آگ اتنی مقدس ہے کیا منارے پر
کہ اپنی آنکھ سے پانی بہا رہا ہوں میں

دم وصال مرا مسئلہ عجیب سا ہے
کہ سُنتا کم ہوں زیادہ سُنا رہا ہوں میں

وہاں پہ ریت تھی نم تھا یہ بحث لاحاصل
یہ دیکھنا ہے کہ کتنا ہرا رہا ہوں میں

اگر چہ ہجر کی ساعت اٹل نہیں لگتی
مگر ابھی سے پرندے اُڑا رہا ہوں میں

پڑھے ہُوئے کو لکھا میں نے ایک عُمر تلک
لکھے ہوئے کو رضا اب مٹا رہا ہوں میں


غزل

جو آنسوؤں کا کبھی اُس کے ہاں شُمار ہوا
تو دیکھ لینا کہ میں کتنا با وقار ہوا

کھڑے ہُوئے تھے وہاں پر کئی مقدس لوگ
میں شرمسار ہوا اور آشکار ہوا

یہ دن کی آخری سُرخی تھی رات سے پہلے
غروب مہر ہوا اور میں نثار ہوا

بہت سے لوگ وہاں اپنے نام لکھتے ہیں
جو راستہ مرے چلنے سے اُستوار ہوا!


غزل

واپس آتی ہوئی ہوائی کا
رنج ملبہ ہے نا رسائی کا

عشق نا قابلِ معافی ہے
کوئی موقع نہیں صفائی کا

دامن اُلٹا تو کُچھ نہیں نکلا
ہاتھ پھیلا رہا بُرائی کا

مُجھ میں وُہ خواہش نمو ہے جو
سبز رکھتی ہے رنگ کائی کا

آسماں آ کھڑا ہے کیوں سر پر
وقت آیا ہے کیا کٹائی کا

رنگ کچا اُتر گیا دل سے
آنکھ میں کام تھا دھُلائی کا

اے دھنک تُو بھی ٹھیک ہے لیکن
رنگ ہی زرد ہے جُدائی کا

نیا دھاگا ہے یہ تعلق اور
کام باقی ہے کُچھ سلائی کا

میں نے بھی تو حساب دینا ہے
اپنے لفظوں کی پائی پائی کا!


غزل

ذرا سی بات پہ تاؤ میں آ گیا ہوں میں
یہ اُس کا داؤ تھا داؤ میں آ گیا ہوں میں

کھنچا کھنچا سا تعلق،کھنچے کھنچے چہرے
مُجھے لگا کہ تناؤ میں آ گیا ہوں میں

مرے مزاج میں تھا کیا سوائے وحشت کے
ہوا کے ساتھ گھُماؤ میں آ گیا ہوں میں

یہ زندگی بھی شکنجے سی لگ رہی تھی مجھے
اور اب تو اسکے دباؤ میں آ گیا ہوں میں

درِ وصال میں پاؤں ابھی دھرا ہی تھا
مُجھے لگا کہ الاؤ میں آ گیا ہوں میں

یہ کائنات سمٹتی کہاں ہے کاندھوں پر
تو کیا ہوا جو جھُکاؤ میں آ گیا ہوں میں

وہاں جو وقت کی بندش تھی اب نہیں ہے وُہ
اب اس سے اگلے پڑاؤ میں آ گیا ہوں میں

کوئی مقام نہیں کوئی التزام نہیں
یُونہی کہیں ترے چاؤ میں آ گیا ہوں میں

تُو چاند ہے تو مُجھے پار بھی اُتار کے آ
مرے سخی تری ناؤ میں آ گیا ہوں میں


غزل

خُوش گُمانی میں بول بیٹھا ہوں
رائیگانی میں بول بیٹھا ہوں

اپنی حد سے گُزر نہ جاؤں میں
بے کرانی میں بول بیٹھا ہوں

اب مرا لہجہ کاٹا جائے گا
بے زبانی میں بول بیٹھا ہوں

کیا ضرورت مُجھے بڑھاپے کی
میں جوانی میں بول بیٹھا ہوں

یہ جو ہلچل سی بُلبُلوں سے ہے
گہرے پانی میں بول بیٹھا ہوں

میری رفتار کم نہیں ہونی
میں روانی میں بول بیٹھا ہوں

واپس آئی نُچی ہوئی آواز
کس گرانی میں بول بیٹھا ہوں

میرا اپنا کہا نہیں کُچھ بھی
ترجمانی میں بول بیٹھا ہوں

اے خُدا تُو معاف کر دے مُجھے
ہم زبانی میں بول بیٹھا ہوں

لوگ چُپ چاپ سُن رہے تھے جسے
اُس کہانی میں بول بیٹھا ہوں


غزل

میری مُٹھی میں سنگ باقی ہے
اس لئے میری جنگ باقی ہے

پہلی ہجرت کا ڈنگ باقی ہے
مُجھ میں اتنا فرنگ باقی ہے

واعظوں کا لفنگ باقی ہے
اور میرا ملنگ باقی ہے

جاں ہتھیلی پہ لے کے آیا ہوں
کیا کوئی اور ڈھنگ باقی ہے

خاکساری تو کر رہا ہوں میں
لہجے میں ہی دبنگ باقی ہے

آنکھ تک کیسے آ گئے آنسو
کسی دکھ کی سُرنگ باقی ہے

تیرے رنگوں نے کُچھ نہیں بدلا
مُجھ میں میرا ہی رنگ باقی ہے

سچ کے شعلے پہ کیا چلا اک دن
نطق میں اب بھی لنگ باقی ہے

یہ الاؤ نہیں بھڑکنا یار
دل شرارا سا انگ باقی ہے

دھیان کی ڈور کٹ نہیں سکتی
سو یہ میری پتنگ باقی ہے


غزل

جو لمحہ لمحہ یہاں سے گُزر رہا تھا وُہ
تو مٹھیوں میں مری ریت بھر رہا تھا وُہ

میں سانس روک کے بیٹھا تھا دیکھنے کے لئے
کہ میرے دھیان کی سیڑھی اُتر رہا تھا وُہ

بُجھی لکیر ذرا دیر سے ستارے کی
ضرور مُجھ سے کوئی بات کر رہا تھا وُہ

وُہ کہکشائیں سمٹتی تھیں پھیل جاتی تھیں
مُجھے سمیٹ کے کتنا بکھر رہا تھا وُہ

میں آئینے کی طرح اُس پہ کھُل رہا تھا رضاؔ
مرے وجود کے اندر سنور رہا تھا وُہ


غزل

کیا کسی کارِ ضرورت میں یہاں آئے ہو
یہ جو تُم میری محبت میں یہاں آئے ہو

عشق بننے میں ہیں در کار زمانے اس کو
تُم ابھی جسم کی عارت میں یہاں آئے ہو

ورنہ ملنے کا کوئی اور سلیقہ ڈھونڈو
پاس بیٹھو جو فراغت میں یہاں آئے ہو

رنگ تو زرد ہے آنکھوں میں چمک ہے لیکن
ہجر کے بعد کی حالت میں یہاں آئے ہو

میرے اندر کی بیابانی سے گھبرا گئے تُم
کیا کسی اور کی وحشت میں یہاں آئے ہو

ایسے اُٹھے ہو کہ بیٹھے بھی نہیں تھے جیسے
کیا کسی سانس کی مُہلت میں یہاں آئے ہو

تُمہیں لگتا ہے یہ آنا جو نہ آنے کی طرح
تُم اسی بار حقیقت میں یہاں آئے ہو

سچ تو یہ ہے کہ حدِ وقت پہ آیا میں ہوں
اور تُم میری رفاقت میں یہاں آئے ہو


غزل

مُجھے بیان کیا جا رہا تھا مٹی پر
بڑا گُمان کیا جا رہا تھا مٹی پر

دکھانے جانے لگے تھے جو شُعلہ رُو مُجھ کو
مُجھے جوان کیا جا رہا تھا مٹی پر

وُہ اپنا لمس مری آگ میں جھُلستی تھی
میں ہم زبان کیا جا رہا تھا مٹی پر

کبھی گیان کی سیڑھی پہ سانس لیتا تھا
کبھی میں دھیان کیا جا رہا تھا مٹی پر

وُہ اپنی دھُوپ بھی لایا تھا اپنی چھاؤں بھی
جو سائبان کیا جا رہا تھا مٹی پر

مُجھے بتایا گیا اب مُجھے بکھرنا ہے
سو بے نشان کیا جا رہا تھا مٹی پر

زمیں نکلتی چلی جا رہی تھی پیروں سے
میں آسمان کیا جا رہا تھا مٹی پر


غزل

میں جی رہا ہوں ترے معجزے کے ہونے سے
یا مر رہا ہوں کسی دُوسرے کے ہونے سے

ترے الاؤ کے اندر ہی پھینک دیتا ہوں
مجھے گھمنڈ رہے نہ دئیے کے ہونے سے

میں خُود تو کُچھ بھی نہیں ہوں مگر کتاب ازل
پڑھی گئی تُو مرے حاشئے کے ہونے سے

بہت نڈھال رہا اپنے زرد عرصے میں
ہرا ہوا ہوں ترے رابطے کے ہونے سے

وُہ سلسلہ، میرا دن بھر طواف کرتا ہے
جو کٹ چکا ہے ترے سلسلے کے ہونے سے

میں کاٹ دُوں ابھی شہ رگ تو کیا رہے گا وُہ
جو ناز ہے تُجھے اس فاصلے کے ہونے سے

تو کیا دُعائیں کروں سانحوں کے ہونے کیں
گلے ملے ہیں سبھی سانحے کے ہونے سے

بڑے بڑوں کا بھلا ہو گیا مرے مالک
ترے فقیر ترے سر پھرے کے ہونے سے

کھُلا یہ راز کہ وحدت میں کیا بڑائی ہے
میں جب حقیر ہوا جمگھٹے کے ہونے سے

میں رو رہا تھا کہ شاید بھُلا دیا گیا ہوں
میں ھنس پڑا ہوں نئے حادثے کے ہونے سے

میں تُجھ کو دیکھ چُکا اور تُجھ کو جان چُکا
میں تُجھ کو مان چُکا آئینے کے ہونے سے


غزل

مرے وجود سے تیرا نظارہ ممکن ہے
مُجھے نکال کے تُجھ کو خسارا ممکن ہے!

جو یہ مُجھے ذرا پرواز کی سہولت ہے
تو اس لئے یہاں میرا گُزارا ممکن ہے

میں اپنے دھارے سے آیا ہوں تیرے دھارے میں
سو تیرے دھارے میں کیا میرا دھارا ممکن ہے

ابھی تو جذب کی خاموش ساعتوں میں ہوں
پھر اس کے بعد کی مستی میں نعرہ ممکن ہے

لگی ہوئی کسی بُنیاد میں ہے آنکھ مری
سو روشنی سے بنا اک منارا ممکن ہے

میں اپنی آگ اُسی شُعلہ رُو سے لیتا ہوں
مرے الاؤ میں جس کا شرارا ممکن ہے

چلی ہوئی ہے ہوا اور اس میں میرے لئے
کسی بھی وقت کوئی بھی اشارا ممکن ہے

مرے خیال کی حد آپ کو نہیں ملتی
تو کائنات کا کیسے کنارا ممکن ہے


غزل

مرے پروں سے جو پر گیا ہے
فلک خسارے سے بھر گیا ہے

کوئی تو دیکھے کوئی تو سمجھے
یہ کس کا چہرہ اُتر گیا ہے

ستارہ ٹوٹا نہیں یہ پیارے
کوئی ادھر سے اُدھر گیا ہے

یہ دل دھڑکنے کا کیا سبب ہے
مُجھے تو لگتا ہے ڈر گیا ہے

پڑی وُہ رُخسار پر جُدائی
طمانچہ سا اک اُبھر گیا ہے

اُس آخری بات کا لبوں میں
جو ذائقہ تھا ٹھہر گیا ہے

یہ رُوح باہر سے جی رہی ہے
یہ جسم اندر سے مر گیا ہے

کوئی دریچہ ہی بول اُٹّھے
گلی کا دامن تو بھر گیا ہے

سسکتا رہتا ہے خالی رستہ
گُزرنے والا گُزر گیا ہے

وُہ سات رنگوں کا زہر تھا اور
جو کام کرنا تھا کر گیا ہے


غزل

میرا ایمان کس ایمان سے کم ہے پیارے
یہ جہاں کیا کسی قرآن سے کم ہے پیارے

در کھُلا قوسِ قزح کا نظر آتا ہے مگر
کیا یہ صحرا کسی دربان سے کم ہے پیارے

جو الاؤ تیرے ہونے کا بہا جاتا ہے
اُس میں رکنا کوئی اشنان سے کم ہے پیارے

وُہ جو چاہے تو مرے خواب سے لے زادِ سفر
جس کا ساماں میرے سامان سے کم ہے پیارے

چھوڑ اس کو کہ مری جان ترے ہاتھ میں ہے
تُو بتا کیا تُو مری جان سے کم ہے پیارے

کُچھ وھاں سے نہیں آیا ہے بُلاوہ اب تک
کُچھ یہاں پر ابھی طُوفا ن سے کم ہے پیارے

وسوسہ پھر مرے دل میں کسی جنت کا نہ ڈال
ناصحا! تُو کوئی شیطان سے کم ہے پیارے


غزل

ارے او واعظا! دھمکا رہا ہے کیا
فلک سے سر مرا ٹکرا رہا ہے کیا

یہ خالی ہاتھ لے کر آ رہا ہے کیا
ارے رُک جا! تُو پھر سے جا رہاھے کیا

نہیں معلوم تو معلوم کر پہلے
نہیں معلوم تو سمجھا رہا ہے کیا

یہ حیرت اب پُرانی ہو گئی پیارے
پُرانی بات کو دُہرا رہا ہے کیا

ترے دامن میں خواہش تک نہیں کوئی
تو پھر ایسے اسے پھیلا رہا ہے کیا

تری پلکیں جھپکنا بھُول بیٹھی ہیں
کوئی منظر تُجھے پتھرا رہا ہے کیا

گُلِ تر کو تُو ایسے دیکھتا کیوں ہے
ترے اندر کوئی صحرا رہا ہے کیا

خُدا غائب تو تُو حاضر، ہوا کیسے
یقیں کا آئینہ دھُندلا رہا ہے کیا

نشانی کس لئے رکھی مرے سر پر
خزانہ تُو کوئی دفنا رہا ہے کیا

تُجھے یہ کم یقینی لے نہیں ڈُوبی!
خُدا کے سامنے ھکلا رہا ہے کیا

ارے او واعظا! دھمکا رہا ہے کیا
فلک سے سر مرا ٹکرا رہا ہے کیا

یہ خالی ہاتھ لے کر آ رہا ہے کیا
ارے رُک جا! تُو پھر سے جا رہا ہے کیا

نہیں معلوم تو معلوم کر پہلے
نہیں معلوم تو سمجھا رہا ہے کیا

یہ حیرت اب پُرانی ہو گئی پیارے
پُرانی بات کو دُہرا رہا ہے کیا

ترے دامن میں خواہش تک نہیں کوئی
تو پھر ایسے اسے پھیلا رہا ہے کیا

تری پلکیں جھپکنا بھُول بیٹھی ہیں
کوئی منظر تُجھے پتھرا رہا ہے کیا

گُلِ تر کو تُو ایسے دیکھتا کیوں ہے
ترے اندر کوئی صحرا رہا ہے کیا

خُدا غائب تو تُو حاضر، ہوا کیسے
یقیں کا آئینہ دھُندلا رہا ہے کیا

نشانی کس لئے رکھی مرے سر پر
خزانہ تُو کوئی دفنا رہا ہے کیا

تُجھے یہ کم یقینی لے نہیں ڈُوبی!
خُدا کے سامنے ہکلا رہا ہے کیا


غزل

ہو جائے جسم، عشق پہ آسان اس کے بعد
لاؤں گا رُوح پر بھی میں ایمان اس کے بعد

اب تک تو مُجھ کو اپنے "احد" سے ہی کام ہے
آگے بڑھا تو دیکھوں گا گُنجان اس کے بعد

آتش کا اور خاک کا یہ کیسا امتزاج
کیا راکھ پر اُترنا ہے عرفان اس کے بعد

حیرت کدہ تو میرا پڑاؤ تھا اے فقیر
آئے گا کوئی اور ہی مہمان اس کے بعد

موجود کی نہیں ہے مُجھے فکر پر اُدھر
وُہ جو پڑا ہے وقت کاگھمسان اس کے بعد

گُزرا ہے تیرگی کا بگولہ ڈرا ڈرا
کیا آ رہا ہے نُور کا طوفان اس کے بعد

اس حرفِ مُستند پہ رضا میری ہی سند
آباد میں کروں گا یہ سُنسان اس کے بعد


غزل

کُچھ نہ کُچھ ہونے کا یہ ڈر نہیں جانے والا
ویسے اس خوف سے میں مر نہیں جانے والا

میرے ذرّے کو چمکنا ہے اُسی نُور کے ساتھ
وُہ مری خاک سے بچ کر نہیں جانے والا

قوس کی طرح سے آگے فقط اُترائی ہے
اس بُلندی سے میں اُوپر نہیں جانے والا

اس تنِ خاک سے نکلی ہے مری دھُوم تو اب
شور یہ لوٹ کے اندر نہیں جانے والا

کبھی ٹُو ٹا تو سبھی اہل نظر دیکھیں گے
میں اُفق سے کوئی چھُپ کر نہیں جانے والا

گُل آوارگی کیا پُورا کھلا ہے اس بار
کیا پلٹ کر میں کبھی گھر نہیں جانے والا

میں اگر زندہ رہوں گا تو چلا جاؤں گا
میں یہاں سے کبھی مر کر نہیں جانے والا

یہ جو افلاک کے رستے پہ پڑا ہوں میں رضاؔ
تو یہ لے کر مُجھے در در نہیں جانے والا


غزل

یُوں بات بات پہ کر کے مکالمہ مُجھ سے
وُہ کھُل رہا ہے مُسلسل ذرا ذرا مُجھ سے

میں شاخِ عُمر پہ بس سُوکھنے ہی والا تھا
لپٹ گیا کوئی آ کر ہرا بھرا مُجھ سے

میں اُس کے پہلے ورق پر رُکا ہوا ہوں ابھی
سو ختم ہو گا کہاں اب مُطالعہ مُجھ سے

پسند آ گئی کیسے اُسے یہ خاک مری
وُہ آسمان بھلا کیسے آ لگا مُجھ سے

وُہ گُل بدن ہے تو میں گُل بدن ہی لکھّوں گا
کہ سچ تو یہ ہے نہ ہوگا مبالغہ مُجھ سے

میں چل پڑا ہوں کسی سمت سوچتا بھی نہیں
سفر میں ختم کہاں ہو گا دائرہ مُجھ سے

یہ شاعری تو کوئی اور کر رہا ہے رضا
میں لکھ رہا ہوں وہی جو کہا گیا مُجھ سے


غزل

زندوں کو زندہ گاڑ کے کہتا ہے خوش رہو
مُردے گڑے اُکھاڑ کے کہتا ہے خوش رہو

کہتا ہے بستیوں کو بسانا ہے اُس کا کام
ساری زمیں اُجاڑ کے کہتا ہے خوش رہو

کرتا ہے یوں تو بیٹھ کے سب سے مذاکرات
ہر اک سے پھر بگاڑ کے کہتا ہے خوش رہو

آئین لکھتا رہتا ہے امن و امان کا
قرطاس امن پھاڑ کے کہتا ہے خوش رہو

نسلوں کو دے رہا ہے سبق سبزہ زار کا
پھل پھول سارے جھاڑ کے کہتا ہے خوش رہو

کہتا ہے اُس کے قد کے برابر کوئی نہیں
آئینے توڑ تاڑ کے کہتا ہے خوش رہو

کہتا ہے اب فضا پہ فقط اُس کا راج ہے
اور پنکھ سب کے جھاڑ کے کہتا ہے خوش رہو

کہتا ہے دھیمے لہجے میں ہے دوستی کا راز
اور اس کے بعد دھاڑ کے کہتا ہے خوش رہو

مٹی ہے اپنی ذات میں مٹ جائے گا رضا
لہجے میں جو پہاڑ کے، کہتا ہے خوش رہو