اردو ویب ڈیجیٹل لائبریری
×

اطلاع

فی الحال کتابیں محض آن لائن پڑھنے کے لئے دستیاب ہیں. ڈاؤن لوڈ کے قابل کتابوں کی فارمیٹنگ کا کام جاری ہے.

Ehsas-E-Jamal

احساس جمال


مصنف صغیر صفی
تعداد الفاظ 6303
تعداد منفرد الفاظ 1592
مناظر 2185
ڈاؤنلوڈ 0
صفیؔ کی شاعری کا مجموعی تاثر رومانوی ہے' اور یہ احساسِ جمال شروع ہی سے اس کے لب و لہجہ کو رسیلا پن عطا کرتا ہے مگر اس کے ہاں عہدِ حاضر کا سیاسی اور سماجی شعور مفقود نہیں ہے۔

احساسِ جمال

انتساب

امی، ابو
اور اپنے پیارے بہن بھائیوں
تصویر، سحرش اور توقیر
کے نام


تصانیف

ایک تو ہی نہیں
دیر ہو گئی مجھ سے
احساسِ جمال


صفیؔ ایک ذہین اور انتھک تخلیق کار

"احساسِ جمال" ڈاکٹر سید صغیر صفیؔ کا تیسرا شعری مجموعہ ہے۔ اس سے پیشتر اس کے دو شعری مجموعے "ایک تو ہی نہیں" اور "دیر ہو گئی مجھ سے" زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر اہلِ سخن سے داد پا چکے ہیں۔ "ایک تو ہی نہیں" تو بارِ سوم شائع ہو رہا ہے۔ زیرِ نظر مجموعہ "احساسِ جمال" سے اس کے ارتقا کا پتہ چلتا ہے۔ سفر وہی ہے جو منزل کی طرف ہو' کام وہی ہے جو بہتری کی جانب ہو۔ اس کا سفر دائرے میں نہیں بلکہ افقی جانب ہے۔

صفیؔ ایک ذہین اور انتھک تخلیق کار ہے۔ وہ اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود اپنے محبوب شوق کو دل کا خون مہیا کرتا رہتا ہے اور اس نے گھر کے ایک کونے میں سخن کی شمع روشن کر رکھی ہے۔ اس کا تعلق کشمیر کے شہر ہجیرہ ضلع پونچھ سے ہے۔ اس کے ارد گرد خوبصورتی بکھری پڑی ہے لیکن اسے اس بات کا شعور بھی ہے کہ یہ جنتِ ارضی مسائل اور مصائب کا شکار ہے۔

اگرچہ صفیؔ کی شاعری کا مجموعی تاثر رومانوی ہے' اور یہ احساسِ جمال شروع ہی سے اس کے لب و لہجہ کو رسیلا پن عطا کرتا ہے مگر اس کے ہاں عہدِ حاضر کا سیاسی اور سماجی شعور مفقود نہیں ہے۔ خاص طور پر چیف جسٹس محمد افتخار چودھری اور منسٹر کے لیے لکھی ہوئی دونوں نظمیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ اس کی شاعری میں عزم اور حوصلہ بھی نظر آ تا ہے اور اس کا اظہار اس کے اس خوبصورت شعر میں دیکھئے:

رُک گئے تو منزلوں کے سب نشاں دھندلا گئے
چل پڑے تو خودبخود پھر راستہ بنتا گیا

اس نے جو بھی لکھا ہے' خونِ جگر سے لکھا ہے۔ اس کی نظمیں تصویروں کی طرح بولتی اور باتیں کرتی ہیں۔ زیادہ نظمیں اس کی خود نوشت معلوم ہوتی ہیں۔ غزلوں میں بھی کچھ ایسی ہی کیفیت نظر آتی ہے۔

تصویر کھینچ دی ہے تری حرف حرف میں
ہم نے بنا دیا ہے تجھے شاہکار دیکھ

آخر میں صفیؔ کے دو چار اشعار دیکھ لیجئے۔

ایسا نہیں کہ تم ہی ہمارے نہیں رہے
ہم لوگ بھی حضور تمہارے نہیں رہے
تنہا کیے عبور سبھی فاصلوں کے دشت
زندہ کبھی کسی کے سہارے نہیں رہے

اشک آنکھوں سے کبھی چھلکے نہیں تھے پہلے
اس طرح ٹوٹ کے ہم بکھرے نہیں تھے پہلے
تو نے نظروں سے گرا کر ہمیں بے مول کیا
ورنہ اتنے تو گئے گزرے نہیں تھے پہلے

وابستہ تیرے ساتھ ہیں اس دل کی دھڑکنیں
کتنا ہے دل پہ میرے تجھے اختیار دیکھ

اب آپ صغیر صفیؔ کے شہرِ سخن میں داخل ہو کر لطف اٹھائیے۔

دعاؤں کے ساتھ
سعداللہ شاہ
3 جولائی 2007ء


احساسِ جمال

میرے احساس میں خوشبو ہے تری چاہت کی
یہ ترے غم کا کرشمہ ہے کہ میں شاعر ہوں


نعت

مَیں نے پھولوں میں بہاروں میں تجھے دیکھا ہے
مَیں نے چاند اور ستاروں میں تجھے دیکھا ہے

لفظ در لفظ تمہیؐ جلوہ نما تھے جیسے
مَیں نے قرآن کے پاروں میں تجھے دیکھا ہے

بادشاہوں سے زیادہ ہے تری شان مگر
مَیں نے دکھ درد کے ماروں میں تجھے دیکھا ہے

شعر اقبالؒ کا ہے تیری جھلک سے روشن
مَیں نے حالیؔ کے اشاروں میں تجھے دیکھا ہے

حسن تیرا سبھی پھولوں سے عیاں ہوتا ہے
میں نے برکھا کی پھواروں میں تجھے دیکھا ہے


سلام

اسلام اپنے پاس ہے صدقہ حسینؑ کا
افضل ہے سب سجود میں سجدہ حسینؑ کا

اُن ظالموں نے اُس کا بھی رکھا نہیں لحاظ
تصویرِ مصطفیٰؐ تھا جو بیٹا حسینؑ کا

دوزخ کی آگ مجھ کو جلائے گی کس طرح
جیسا سہی مگر ہوں مَیں بیٹا حسینؑ کا

دنیا میں خوار اس لیے ہم ہو گئے صفیؔ
چھوڑا ہوا ہے ہم نے جو رستہ حسینؑ کا


بند آنکھیں مَیں کسی پل جو اچانک کھولوں
کیا تماشا ہو اگر سامنے تُو آ جائے

اَب یہ حسرت ہے کہ سینے سے لگا کر تجھ کو
اِس قدر روؤں کہ آنکھوں میں لہو آ جائے


غزلیں

ایک ہم ہیں کہ ترے بعد نہ جی پائیں گے
ایک تم ہو کہ نیا عشق کرو گے کل سے


غزل

ایسا نہیں کہ تم ہی ہمارے نہیں رہے
ہم لوگ بھی حضور تمہارے نہیں رہے

تنہا کیے عبور سبھی فاصلوں کے دشت
زندہ کبھی کسی کے سہارے نہیں رہے

لڑنا پڑا ہمیں بھی ہر اِک موج سے وہاں
جب اپنی دسترس میں کنارے نہیں رہے

اچھے دِنوں میں ساتھ تھے جو سائے کی طرح
مشکل میں ساتھ وہ بھی ہمارے نہیں رہے

بس اَب تو اُس کی یاد کی قندیل گُل کرو
شب جا چکی فلک پہ ستارے نہیں رہے

جانِ صفیؔ کریدتے ہو راکھ کس لیے
دِل بجھ چکا ہے اَب وہ شرارے نہیں رہے


غزل

بھول میری قبول کی اُس نے
نقد قیمت وصول کی اُس نے

کس کی چاہت تھی اُس کے سینے میں
بات جب با اُصول کی اُس نے

چاہیے اُس کو سب کی ہمدردی
اپنی صورت ملول کی اُس نے

دل نہیں مانتا کسی کی بھی
بحث ساری فضول کی اُس نے

کیسے ہنس کر صفیؔ مری خواہش
اپنے قدموں کی دھول کی اُس نے


غزل

چپ چاپ دُکھ سہو نہ شکایت کرو اُسے
کس نے تمہیں کہا تھا محبت کرو اُسے

یہ کیا کہ ہر کسی سے ہیں اُس کے ہی تذکرے
رسوا یوں سب کے سامنے اب مت کرو اُسے

دنیا تو کہہ رہی ہے محبت فریب ہے
اَب جا کے زخمِ دل کی وضاحت کرو اُسے

مَر ہی نہ جائے وہ کہیں تیرے فراق میں
قربت کا کوئی لمحہ عنایت کرو اُسے

دل کی شکستگی کا سبب وہ نہیں صفیؔ
اپنی خطا پہ تم نہ ملامت کرو اُسے


غزل

گو مجھ سے گریزاں تو وہ گلفام بہت تھا
پر شہر میں اُس کے تو مرا نام بہت تھا

کب مجھ کو تمنا تھی کہ بڑھ جائیں مراسم
ملنے مجھے آتا تھا وہ ہر شام بہت تھا

کچھ اِس میں بھی رہتا تھا تعلق کا گماں سا
اِلزام بھی آتا تھا تو اِلزام بہت تھا

مجھ کو بھی بجھا کر وہ پشیمان بہت ہے
جلتا ہوا دیپک' مَیں سرِ بام بہت تھا

صیاد نے کس زعم میں کاٹے ہیں مرے پر
میرے لیے زلفوں کا وہی دَام بہت تھا

مشہور ترے شہر میں کتنا ہوا آخر
ملنے سے تمہیں پہلے جو گمنام بہت تھا


غزل

بات دِل کی جسے کہا کرتے
ہم کسے درد آشنا کرتے

چاند راتوں میں داستانِ عشق
وہ جو کہتے تو ہم سنا کرتے

ایک ہی غم ہمیں اگر ہوتا
کچھ نہ کچھ ہم بھی حوصلہ کرتے

آنسو ہوتے جو اُن کی آنکھوں کے
اُن کے رخسار پر بہا کرتے

ہم اگر اُن کی آرزو ہوتے
اُن کے دِل میں صفیؔ رہا کرتے


غزل

اشک آنکھوں سے کبھی چھلکے نہیں تھے پہلے
اِس طرح ٹوٹ کے ہم بکھرے نہیں تھے پہلے

جیسے اَب ہے ترے دیدار کی حسرت ہم کو
تیری صورت کو یوں ہم ترسے نہیں تھے پہلے

تو نے نظروں سے گرا کر ہمیں بے مول کیا
ورنہ اتنے تو گئے گزرے نہیں تھے پہلے

میری چاہت کا اَثر ہونے لگا ہے اُن پر
وہ مجھے دیکھ کے یوں چھپتے نہیں تھے پہلے

دِل میں جل تھل کی تری یادوں نے جیسے اَب کے
اَبر صحرا پہ تو یوں برسے نہیں تھے پہلے

وہ بھی ناواقفِ اُلفت تھا ہمیں ملنے تک
عشق کو ہم بھی صفیؔ سمجھے نہیں تھے پہلے


غزل

ہم نے ترے ملال سے رشتہ بحال کر لیا
سارا جہاں بھُلا دیا تیرا خیال کر لیا

شہرِ غمِ جہاں میں تھے سو سو طرح کے غم مگر
ہم نے پسند جانِ جاں تیرا ملال کر لیا

تیرے بھی لب ہلے نہیں' میرے بھی لب ہلے نہیں
تو نے جواب دے دیا' میں نے سوال کر لیا

سہل کسی طرح نہ تھا تیرے بغیر جینا اور
تیرے بغیر جی گئے ہم نے کمال کر لیا

میری شکست میں چھپا کوئی عروج تھا صفیؔ
میں نے قبول اِس لیے اپنا زوال کر لیا


غزل

دل کا کہنا مان لیا تو لوگوں نے سو سو باتیں کیں
تنہائی کا زہر پیا تو لوگوں نے سو سو باتیں کیں

ہم نے جب کچھ کہنا چاہا' تم نے بھی آوارہ جانا
تنگ آ کر ہونٹوں کو سِیا تو لوگوں نے سو سو باتیں کیں

یہ دنیا گورکھ دھندہ ہے' لوگ یہاں کیا کچھ نہیں کرتے
ہم نے بس اِک پیار کیا تو لوگوں نے سو سو باتیں کیں

جب تک میرے ساتھ رہے تم' مجھ پر بھی الزام رہا یہ
پھر جب تم نے چھوڑ دیا تو لوگوں نے سو سو باتیں کیں

جس میخانے سے پیتا تھا سارا شہر صفیؔ جب اُس سے
ہم نے بھی اِک جام لیا تو لوگوں نے سو سو باتیں کیں


غزل

تیرے ہاتھوں پہ جب حنا مہکے
اُس کی خوشبو سے سب ہوا مہکے

تُو قدم دو قدم چلے جس پر
دیر تک پھر وہ راستہ مہکے

اُس سے جائے نہ مدتوں خوشبو
تو جو پہنے وہی قبا مہکے

نام جس میں تمہارا آ جائے
کیوں مرے لب پہ وہ دعا مہکے

مدتیں ہو گئیں تجھے دیکھے
آ بھی جا اَب کہ یہ فضا مہکے

وہ کھلا چھوڑ دے جو بالوں کو
اَبر جھومے' صفیؔ گھٹا مہکے


غزل

جھیل آنکھیں تھیں گلابوں سی جبیں رکھتا تھا
شام زلفوں میں چھپا کر وہ کہیں رکھتا تھا

دھوپ چھاؤں سا وہ اِک شخص مرے شہر میں تھا
دل میں ہاں اور وہ ہونٹوں پہ نہیں رکھتا تھا

اُس کے ہونٹوں پہ مہکتے تھے وفاؤں کے کنول
اپنی آنکھوں میں جو اشکوں کے نگیں رکھتا تھا

اُس کی مٹھی میں نہیں پیار کا اِک جگنو بھی
جو محبت کے ستاروں پہ یقیں رکھتا تھا

آپ اپنے میں بظاہر تو بہت خوش تھا صفیؔ
دل میں دُکھتی سی خراشیں بھی کہیں رکھتا تھا


غزل

روتے روتے ہنسنے لگو گے' ہنستے ہنستے رو جاؤ گے
پیار کسی سے کر کے دیکھو' میرے جیسے ہو جاؤ گے

کون ہے تم سے پہلے جس نے' غم کی ناؤ پار لگائی
اک دن تم بھی بوجھ غموں کا' ڈھوتے ڈھوتے سو جاؤ گے

جب بھی مجھ سے تم ملتے ہو' درد سنانے لگ جاتے ہو
ہم نے اپنا درد سنایا' رہ نہ سکو گے' رو جاؤ گے

ہر شخص سے الجھو روٹھو گے' دیواروں سے ٹکراؤ گے
جب پیار تمہیں ہو جائے گا' جب تم بھی کسی کے ہو جاؤ گے

جب یاد صفیؔ وہ آئے گا' جب اس کی یادیں چھیڑیں گی
تب خلوت ہو یا جلوت ہو' تم بیٹھے بیٹھے کھو جاؤ گے


غزل

اک وہ کہ فقط روٹھ کے جانے کے لیے تھا
اور میں کہ اُسے روز منانے کے لیے تھا

ہم جس کی تمنا میں ہوئے تارکِ دنیا
وہ شخص کسی اور زمانے کے لیے تھا

غیروں کے لیے تم نے جسے توڑ دیا ہے
وہ عہدِ رفاقت تو نبھانے کے لیے تھا

یہ کیا کہ عیاں سب پہ ترا پیار کیا ہے
یہ راز تو بس دل میں چھپانے کے لیے تھا

ہر بار وہ دھونے سے نمایاں ہی ہوا ہے
اِک داغ جو اُس دل سے مٹانے کے لیے تھا

اُس کو تو کبھی مجھ سے محبت ہی نہیں تھی
یہ کھیل تو دنیا کو دِکھانے کے لیے تھا


غزل

کیا گزرتی ہے تب بہاروں پر
پھول چڑھتے ہیں جب مزاروں پر

میں نے دیکھا ہے شب سمندر کو
ناچتے چاند کے اشاروں پر

دیکھ کر ڈوبتا ہوا مجھ کو
لوگ ہنستے رہے کناروں پر

کتنے بچے برہنہ پھرتے ہیں
روز چادر چڑھے مزاروں پر

اُس کے مفلوج ہو گئے پاؤں
جو بھی چلتا رہا سہاروں پر

تنگ ہونے لگی صفیؔ دنیا
گھر بسائیں گے اَب ستاروں پر


غزل

اُس سنگ سے بھی پھوٹی ہے کیا آبشار دیکھ
آنکھیں نہ موند اُس کو ذرا اشکبار دیکھ

وابستہ تیرے ساتھ ہیں اِس دل کی دھڑکنیں
کتنا ہے دِل پہ میرے تجھے اختیار دیکھ

ہوتا نہیں ہے یہ بھی تری یاد میں مخل
زنجیر ہو گیا ہے غمِ روزگار دیکھ

مجبورِ عشق' سایۂ دیوار ہوں پڑا
شامِ فراقِ یار مجھے بے قرار دیکھ

تصویر کھینچ دی ہے تری حرف حرف میں
ہم نے بنا دیا ہے تجھے شاہکار دیکھ


غزل

کیا بتائیں کہ کون جھوٹا ہے
سب نے حسبِ بساط لوٹا ہے

ٹھوکریں دربدر کی کھاتا ہوں
ہاتھ جب سے تمہارا چھوٹا ہے

جب بھی رویا کبھی ترے غم میں
میری آنکھوں سے خون پھوٹا ہے

لو کسی اور کے ہوئے ہم بھی
آج اس کا غرور ٹوٹا ہے

اِس کا تم اعتبار مت کرنا
یہ زمانہ صغیرؔ جھوٹا ہے


غزل

یوں نہ در بجا سو جا آج رات رہنے دے
سرپھری ہوا سو جا آج رات رہنے دے

حوصلہ نہیں مجھ میں اشک تک بہانے کا
یادِ یار جا سو جا آج رات رہنے دے

پھر نہ رکھ سکوں شاید' دھڑکنوں پہ میں قابو
بات مت بڑھا سو جا' آج رات رہنے دے

پھر کبھی تو رو لینا' اُس حسیں کی یادوں میں
اے دلِ خفا سو جا' آج رات رہنے دے


ایک شعر

مجھ کو بھلا دے اَب نہ مرا انتظار کر
میں تو تری بساط سے آگے نکل گیا


غزل

حال ہم اپنا جو لوگوں پہ عیاں کر دیتے
سانس لینا بھی ہمارا وہ گراں کر دیتے

ڈھونڈنے وہ مجھے آیا ہی نہیں ہے ورنہ
رہنمائی مرے قدموں کے نشاں کر دیتے

شدتِ غم سے یہ ممکن تھا پگھل جاتا وہ
غم ترا گر کسی پتھر سے بیاں کر دیتے

غم کے موسم میں بُخارات کی صورت آنسو
دِل سے اٹھتے تو پھر آنکھوں میں دھواں کر دیتے

ہم نے اچھا ہی کیا اشک سنبھالے ورنہ
ساتھ دنیا کو بھی ہم گریہ کناں کر دیتے


غزل

اگرچہ بانٹی ہیں ہم نے محبتیں کیا کیا
ہمیں ملی ہیں یہاں پھر بھی نفرتیں کیا کیا

ہمارے ساتھ بھی چلتے تھے قافلے کیسے
کبھی نصیب تھیں ہم کو رفاقتیں کیا کیا

تمہارے ہوتے بھی سو سو طرح کے دکھ تھے ہمیں
تمہارے بعد بھی آئیں قیامتیں کیا کیا

وہ شخص پارہ صفت ہے تو کیا کہے کوئی
وہ لمحہ لمحہ بدلتا ہے حالتیں کیا کیا

خیال، خواب، خموشی، فراق، تنہائی
وفا نے بخشی ہیں مجھ کو بھی نعمتیں کیا کیا

صفیؔ یہ درد کے سکے یہ اشک کے موتی
وہ بھیجتا ہے محبت کی اُجرتیں کیا کیا


غزل

کیا بھروسہ ہے، اِنہیں چھوڑ کے لاچار نہ جا
بِن ترے مر ہی نہ جائیں ترے بیمار نہ جا

مجھ کو روکا تھا سبھی نے کہ ترے کوچے میں
جو بھی جاتا ہے وہ ہوتا ہے گرفتار نہ جا

ناخدا سے بھی مراسم نہیں اچھے تیرے
اور ٹوٹے ہوئے کشتی کے بھی پتوار نہ جا

جلتے صحرا کا سفر ہے یہ محبت جس میں
کوئی بادل نہ کہیں سایۂ اشجار نہ جا

بِن ہمارے نہ ترے ناز اٹھائے گا کوئی
سوچ لے چھوڑ کے ہم ایسے پرستار نہ جا


غزل

عبث ہم خاک کے پتلے نِگوں تقدیر کیا کرتے
مقدر میں نہیں تھا جو اُسے تسخیر کیا کرتے

نہیں تھا ہاتھ میں جس کے ہمارے درد کا درماں
دِکھا کر زخم ہم اپنا اُسے دل گیر کیا کرتے

ہمارے درمیاں تھا فاصلہ اِک ہاتھ کا لیکن
پڑی تھی پاؤں میں رسموں کی جو زنجیر کیا کرتے

وہ جو سورج کے ہوتے بھی ترستے تھے اُجالے کو
مری تاریک راتوں کو عطا تنویر کیا کرتے

مقابل گر عدو ہوتے تو ہم ان سے نمٹ لیتے
مگر ہم دوستوں پر برہنہ شمشیر کیا کرتے

صفیؔ مدحت سرا ہم اُس کے سب اپنی جگہ لیکن
وہ خوشبو کا بدن تھا ہم اُسے تصویر کیا کرتے


غزل

پھول حیرت میں خار حیرت میں
اَب ہے ساری بہار حیرت میں

ایک شہکار ہے محبت کا
اُس پہ سارا غبار حیرت میں

مَیں نے دیکھے ہیں اُس کے آتے ہی
آئنے بے شمار حیرت میں

یہ ستارے بھی آسمانوں کے
کر لیے ہیں شمار حیرت میں

تھا تکبر، غرور پہلے تو
اور اَب انکسار حیرت میں

آپ حیرت زدہ ہوں اور آگے
دیکھتا ہوں حصار حیرت میں


غزل

یادوں میں صفیؔ اُس کی نہ تم اشک بہاؤ
اِک عام سی لڑکی تھی اُسے بھول بھی جاؤ

تجدیدِ رفاقت ہے تو کاہے کی ندامت
ملنا ہے تو پھر ہاتھ جھجک کر نہ ملاؤ

خنجر سے لگے ہوں تو وہ بھر جاتے ہیں اِک دن
بھرتے نہیں لیکن کبھی الفاظ کے گھاؤ

ایسا نہ ہو نازک سی کلائی کو جلا لو
دامن سے مرے تم نہ لگی آگ بجھاؤ

اُس کو تو جدائی کا ذرا دُکھ بھی نہیں ہے
اِک تم ہو کہ دن رات صفیؔ سوگ مناؤ


غزل

تمہاری اس قدر اے خوبصورت یار آنکھیں ہیں
بھری دنیا میں ایسی تو فقط دو چار آنکھیں ہیں

اُلجھ کر اِن سے پھر بچنا نہیں ممکن کسی کا بھی
اگر ناگن ہیں زلفیں تو تری تلوار آنکھیں ہیں


ایک شعر

رُک گئے تو منزلوں کے سب نشاں دھندلا گئے
چل پڑے تو خودبخود پھر راستہ بنتا گیا


غزل

مرضی ہے اُس کی مجھ سے محبت نہیں کرے
لیکن وہ میرے شہر سے ہجرت نہیں کرے

کہنا اُسے کہ اپنی محبت نہیں ہے جرم
لوگوں کو زخمِ دل کی وضاحت نہیں کرے

اِک شخص کی جدائی کوئی سانحہ نہیں
اتنی سی بات پر وہ قیامت نہیں کرے

جاتا نہیں ہے کچھ دمِ رخصت کسی کے ساتھ
دُنیا میں کوئی خواہشِ دولت نہیں کرے

وہ شخص آدمی نہیں پتھر ہے میرے دوست
دُنیا میں جو کسی سے محبت نہیں کرے

جکڑی ہوئی ہے رسم و رواجوں میں جب صفیؔ
عورت بھی کیا کرے جو بغاوت نہیں کرے


غزل

دیکھے گی اپنا چہرہ مری یاد آئے گی
وہ آئنے کے سامنے جب مسکرائے گی

پہچان لے گی میری محبت کو اُس گھڑی
وہ دل پہ اپنے جب بھی کوئی چوٹ کھائے گی

ایسا بھی وقت آئے گا مجھ کو یقین ہے
وہ ہر کسی کو میری کتابیں دِکھائے گی

چھیڑیں گی اُس کو نظم سنا کر یہ تتلیاں
کانوں میں میرے گیت ہوا گنگنائے گی

کس کو خبر تھی جان پہ بن آئے گی صفیؔ
سوچا تھا جب وہ بچھڑے گی تو بھول جائے گی


غزل

اپنے ہی دل کا ہے لہو کرنا
ایک پتھر کی آرزو کرنا

لب سلے تو ہمیں میسر تھا
پھر قلم سے بھی گفتگو کرنا

تم نے سیکھا ہے ہجر میں میرے
بھیگی آنکھوں سے گفتگو کرنا

اِس محبت میں اَب تو دانستہ
ہر کسی کو صفیؔ عدو کرنا


غزل

ایک تم پر عیاں نہیں ہوتا
درد ورنہ کہاں نہیں ہوتا

لوگ زندہ ہیں ایسے مر کر بھی
چاہتوں میں زیاں نہیں ہوتا

شعر کہنا صفیؔ نہیں ممکن
درد جب تک جواں نہیں ہوتا


غزل

دِل کو چھیڑے کبھی شہ رگ سے وہ کھیلے میری
مجھ کو ڈر ہے کہ کہیں جان نہ لے لے میری

دیر تک شب کوئی روتا رہا چپکے چپکے
سن کے رودادِ غمِ شوق اکیلے میری

اُلجھا رہتا ہوں شب و روز کئی فتنوں میں
جان لے لیں گے کسی دن یہ جھمیلے میری

سونپ کر چند حسیں خواب مری آنکھوں کو
مجھ کو ڈر ہے وہ کہیں نیند نہ لے لے میری

میرے بچپن میں جو لگتے تھے مرے گاؤں میں
اَب بھی یادداشت سے چمٹے ہیں وہ میلے میری


نظمیں

جہاں پہرے لگے ہیں اَب، کبھی اُس سمت جانے کی
کھلی ہم کو اجازت تھی مگر اب کون مانے گا

احساسِ جمال

بزمِ تنہائی میں روشن ہوئی پھر شمعِ خیال
پھر سے لو دینے لگا مجھ کو کوئی پیکرِ گِل
شاخِ جاں پر بھی لرزتا ہے کوئی قطرۂ غم
عود کے جیسے سلگنے لگا لاچار سا دِل
اندر اک چیز پگھلنے لگی دھیرے دھیرے
جیسے پکتا ہے کڑی دھوپ میں شاخوں پہ ثمر
پھر چٹخ جائے گی، اِس جسم کی خستہ سی چٹان
اور بہہ نکلے گا صحراؤں میں اک چشمۂ تر
ذات کا آئنہ دھندلا ہے مگر روز کہیں
اک ہیولا سا نظر آتا ہے سرِ بابِ ملال
ساحلِ جاں پہ خموشی کے سفینے میں کہیں
اِس قدر دِل سے ہم آغوش ہے احساسِ جمال
اتنا نزدیک ہو کوئی تو پتہ کیسے چلے
ذات سے میری الگ ہو کے کوئی کیسا ہے


بے خبری

جب بھی آنگن میں مرے وصل کا موسم آیا
تو نے تحفے میں مجھے ہجر کے ساون بخشے
شام جب بھی مری دہلیز پہ اُتری کوئی
میری جانب تو نے جلتے ہوئے سورج بھیجے
عمر وہ تھی کہ محبت کے ترانے لکھتا
تو نے بخشی ہیں مجھے درد میں ڈوبی نظمیں
تو کبھی کھول کے پڑھ میرا صحیفۂ اُلفت
خوں رُلا دیں گی تجھے زخم رسیدہ غزلیں
جب بھی سنسان ہوئے ہیں مرے گھر کے رستے
آیا پھر سے تو تماشۂ محبت کرنے
جب بھی میں سونے لگا چین کی نیندیں ظالم
آیا پھر سے تو مجھے زخم عنایت کرنے
پھر اچانک یوں ترا مجھ سے خفا ہو جانا
بھول کیا ہو گئی اے جانِ تمنا مجھ سے
میں ترے شہر سے گزروں، بنا پتھر کھائے
بے خبر تو کبھی اتنا تو نہیں تھا مجھ سے


کہاں وہ نیلم پری گئی تھی

محبتوں کے حسین دن تھے
رفاقتوں کا حسیں زمانہ
وہ جب بھی کالج کے راستوں پر قدم اٹھاتی
تو اُس کی آہٹ سے کتنی مانوس دھڑکنوں کا نظام چلتا
وہ جب کتابوں کو اپنے سینے کے ساتھ رکھے ہوئے
کرش[1^] ہال سے گزرتی
تو اُس کی زلفوں کی ایک جنبش پہ
لاکھ دِل تھے جو رقص کرتے
وہ جب کبھی کھلکھلا کے ہنستی
تو نا اُمیدی کے دھُندلکوں میں
محبتوں کے دیے جلاتی
وہ جس طرف بھی نظر اُٹھاتی
ہزار دِل تہہ و بالا کرتی
گئے وہ دن پھر، گئی وہ راتیں
نئے وہ دن پھر، نئی وہ راتیں
سو ایک دن ہم بچھڑ گئے تھے
سمے کا ساگر رَواں دَواں تھا
بدلتے موسم نے مجھ کو سب کچھ بھلا دیا تھا
کئی برس بعد کل اچانک مجھے ملی تو
اُداس چہرہ، سپاٹ لہجہ
نہ وہ اَدائیں، نہ وہ تبسم
سمے کی دیمک حسین پیکر کو کھا گئی تھی
وہ وقت کے ساتھ ساتھ کتنا بدل گئی تھی
کہاں وہ نیلم پری گئی تھی

  1. ایوب میڈیکل کالج ایبٹ آباد کے وسط میں اک ہال

وائرس

دِل میں رہتے ہیں چاٹتے ہیں لہو
رفتہ رفتہ یہ کرتے رہتے ہیں
کھوکھلی جسم و جاں کی دیواریں
جس طرح چاٹ لیتی ہے دیمک
سبز اشجار کی جواں لکڑی
وائرس ہیں یہ دِل کے اَرماں بھی


میری خواہش ہے

میری خواہش ہے جب ملو مجھ سے
جھکتی پلکوں کو تم اٹھا لینا
جب میں دیکھوں تمہیں محبت سے
جان کہہ کر مجھے بُلا لینا
سنگ راہوں میں دشت و صحرا میں
جس گھڑی چاہے آزما لینا
ہاتھ تیرا کبھی نہ چھوڑوں گا
مَیں ترا ساتھ عمر بھر دوں گا
تجھ پہ آنے نہ دوں گا حرف کوئی
سارے اِلزام اپنے سر لوں گا
چوم لوں گا بڑی عقیدت سے
تیری تصویر جب بھی دیکھوں گا
شعر سارے ترے لیے ہوں گے
غزلیں، نظمیں تجھی پہ لکھوں گا
اِتنی باتیں جو میں نے لکھی ہیں
اُن کی تکمیل اُس گھڑی ہو گی
ساری دنیا کو چھوڑ کر جب تو
میری دہلیز پر کھڑی ہو گی
پھر نہ آنکھوں میں اشک آئیں گے
پھر نہ برسات کی جھڑی ہو گی
مسکراہٹ کی نرم بانہوں میں
تیرے ہونٹوں کی پنکھڑی ہو گی
پوری دِل کی یہ بات کب ہو گی
سوچتا ہوں وہ رات کب ہو گی
مسکرائیں گے چاند تارے بھی
تو مرے ساتھ ساتھ کب ہو گی


ہرجائی

خوف آتا تھا کبھی جس کے تصور سے مجھے
روبرو آج مرے وقت وہ آیا آخر
جس کے ہونے سے تسلسل تھا مری سانسوں میں
ہو گیا مجھ سے وہی شخص پرایا آخر
مَیں تو سمجھا تھا کہ سچ ہے یہ محبت اُس کی
میری خاطر وہ جہاں چھوڑ کے آ سکتا ہے
کیا خبر تھی کہ وہ دولت کی ہوس میں اِک دن
پیار میرا بھی گھڑی بھر میں بھلا سکتا ہے


یہی وقت ہے بس

(چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی حمایت میں لکھی گئی نظم)

یہی وقت ہے بس
مرے دیس والو! اٹھو، کچھ تو ایسا کرو تم
یہاں کوئی انصاف سے پھر نہ کھیلے
یہی وقت ہے بس…
جہاں سے نیا موڑ لے گی یہ تاریخ اپنی
کوئی تو اٹھا ہے
کسی نے تو حق کی حمایت میں آواز اٹھائی ہے آخر
کسی نے تو ظلم و ستم کے اندھیرے میں
امید کی شمع کوئی جلائی ہے آخر
یہی وہ گھڑی ہے کہ جس میں وطن کو
محبِ وطن جاں نثاروں کی پھر سے ضرورت پڑی ہے
یہی ہے وہ لمحہ
کہ ذاتی مفاد و زیاں کو بھلا کر
ہم اِس مردِ منصور کے ساتھ ہو لیں
ہر اِک ہاتھ اپنا صداقت کے
ہاتھوں میں دے لے
یہی وقت ہے بس
جہاں سے نیا موڑ لے گی یہ تاریخ اپنی


تفریق

بڑے لوگوں کے اِن اونچے چمکتے دِلنشیں بنگلوں کی
بنیادوں میں کس خون شامل ہے
بڑے لوگوں کی گاڑی میں
صفیؔ پٹرول کے بدلے یہ کس کا خون جلتا ہے
یہ ملّیں، کارخانے کتنوں کے اَرماں
دھُوئیں کے سنگ اُڑاتے ہیں
سیاستدان کس طاقت پہ ایوانوں میں آتے ہیں
یہاں کتنے ہی مفلس ہیں
جنہیں دو وقت کی روٹی نہیں ملتی
مزے لے کر ڈبل روٹی یہ کس کے کتے کھاتے ہیں
یہ مفلس کون بچے ہیں
جنہیں بستے کتابیں تک نہیں ملتیں
بڑے اونچے سکولوں میں، پجارو میں
یہ کس کے بچے جاتے ہیں
خطا یاں کون کرتا ہے، تو پکڑا کون جاتا ہے
سبھی قانون مفلس تک کہ سارے ضابطے اُن پر
مجھے شکوہ نہیں کوئی، مگر اتنا بتا مولا!
سبھی دنیا جو تیری ہے تو یہ تفریق ہے کیسی
یہ کیا انصاف ہے مولا، بھلا یہ منصفی کیسی


فرق

مرے کمرے کی کھڑکی میں شجر اِک چیڑھ کا ہے جو
بہت حد تک وہ مجھ سے ملتا جلتا ہے
کبھی رونے لگوں غم میں تو میرے ساتھ روتا ہے
مجھے خوش دیکھ کر پہروں وہ ہنستا مسکراتا ہے
ہمیشہ جاگتا ہے ساتھ میرے ساتھ سوتا ہے
مری نظموں کو سنتا ہے، مجھے غزلیں سناتا ہے
مَیں جب تنہا خلا میں گھورتا ہوں تو مجھے آنکھیں دِکھاتا ہے
مری شکلیں بناتا ہے، مجھے گھنٹوں ستاتا ہے
مگر اک فرق ہے ہم میں …
صفیؔ وہ بعد بارش کے تو کھل اٹھتا ہے ہنستا، مسکراتا ہے
دسمبر کی ٹھٹھرتی بارشوں میں بھیگتا کوئی
مجھے جب یاد آتا ہے
مرا دِل ٹوٹ جاتا ہے


تری آنکھیں

تری آنکھیں…
تری آنکھوں کے اندر سُرمئی ڈورے
یہ جس کی دسترس میں ہوں
اُسے کیا لینا دنیا سے
اُسے کیا واسطہ حوروں کے نینوں سے
غرض کیا اُس کو پریوں کی جوانی سے
یقیں مانو…
"زمین و آسمانوں کی ضرورت ہیں"
محبت ہی محبت ہیں
تری آنکھیں
بہت ہی خوبصورت ہیں


کسی روز کالج کی جانب نکلنا

مرے ہم سفر میرے ہمدم سنو تو!
اگر تم کو تھوڑی سی فرصت ملے تو
کسی روز کالج کی جانب نکلنا
اُنہی راستوں پر ذرا پھر سے چلنا
اُنہی سیڑھیوں سے اَدا سے اترنا
اُسی ہال میں جا کے تم بیٹھ جانا
کرش ہال کہتا ہے جس کو زمانہ
تمہیں یاد آئے گی میری جوانی
مرا پیار میری وفا کی کہانی
تمہیں یاد آئے گا آوارہ شاعر
وہ مجنوں، وہ پاگل، وہ دیوانہ شاعر
گھٹائیں کہا جس نے زلفوں کو تیری
قیامت کہی جس نے تیری جوانی
سمندر کہا جس نے آنکھوں کو تیری
تمہیں سونپ دی جس نے اپنی جوانی
جو سہتا رہا ہنس کے تیری جفا کو
سمجھ ہی نہ پائی تو اُس کی وفا کو
مرا پیار گر چاہتی ہو سمجھنا
مرے ہم سفر میرے ہمدم سنو تو!
کسی روز کالج کی جانب نکلنا


راستہ بدلنے تک

اوٹ میں محبت کی
چھپ کے وار کرنے کا
اِس قدر مہارت سے
کھیل اس نے کھیلا تھا
بے خبر رہا ہوں میں
اَنت چال چلنے تک
راستہ بدلنے تک


ضد

تم نے کہا تھا
یاد ہے تم کو
کہ بہت بولتے ہو تم
بس اُس دن سے
میں نے اِن ہونٹوں پر تیرے
پیار کے قفل لگا رکھے ہیں
بولو کیا تم کھول سکو گی


Sorry

تمہیں اِحساس ہے اِس کا
اگر کوئی جان سے پیارا
اچانک پھیر لے نظریں
تو کیا دِل پر گزرتی ہے
کچھ ایسے دُکھ سے میں بھی
جون کی چوبیسویں *تاریخ کی
اُس رات گزرا تھا
کسی لمحے نہ سویا تھا
ہزاروں اشک رویا تھا
مرے بستر کی سہمی سلوٹوں پر
اشک تھے حیرت زدہ میرے
مری وہ سسکیاں، آئیں
جو اُس شب دِل سے نکلی تھیں
مرے کمرے کی دیواروں پہ
اپنا سر پٹختی تھیں
مرے کمرے کی روتی چھت کی
بھیگی آنکھوں سے وحشت
لہو اُس شب ٹپکتی تھی
عجب اِک ہُو کا عالم تھا
تمہیں اِس سے غرض ہی کیا
یہ باتیں دِل کی باتیں ہیں
جو دِل والے سمجھتے ہیں
مرے اشکوں، مری اُن سسکیوں، آہوں کی
بس اتنی سی قیمت ہے
ترا اِک فون کرنا اور مجھے روتے ہوئے کہنا
صفیؔ Sorry…
فقط Sorry…
اگرچہ لفظ چھوٹا ہے، مگر یوں ہے
ترے ہونٹوں سے نکلا ہے
اَرے یہ ہونٹ جو مجھ کو …
مَیں اِن کی لاج رکھتا ہوں
چلو مَیں مان جاتا ہوں
وگرنہ تم یقیں مانو
مری اُس رات کا دُکھ تو
تری Sorry پہ ہے بھاری … بہت بھاری

24 جون 2006ء


Too Late

میں ناں کہتا تھا جو مجھ سے بچھڑو گے تو مر جاؤں گا
اَب آنکھوں میں آنسو کیسے، اَب ہاتھوں کا مَلنا کیسا

کچھ تو بولو سہی
اے مرے دیس کے زندہ دل باسیو!
سر اٹھاؤ ذرا کچھ تو بولو سہی
کب تلک پیسو گے ظلم کی چکّیاں
کب تلک دیکھ پاؤ گے محرومیاں
گرد آلود ہے دیس کی سب فضا
سانس لینا بھی دوبھر یہاں اَب ہوا
حال سڑکوں کا اَبتر سے اَبتر ہوا
کان پھٹ جائیں گے سن کے شام و سحر
شور کرتی ہوئی گاڑیوں کی صدا
ایسے پھیلی ہوئی ہے غلاظت یہاں
پھوٹ پڑتی ہے روز اِک اَنوکھی وَبا
لے کے ڈوبیں گی اِک دن مرے دیس کو
اِن وزیروں مشیروں کی نادانیاں
کھا گئیں دیس کے صاف ماحول کو
چند مردہ ضمیروں کی من مانیاں
شہروں میں پینے کو صاف پانی نہیں
کیا ہمیں اَب بھی کچھ شرم آنی نہیں
اشک کب تک بہاؤ گے تنہائی میں
کب تلک دیکھو گے اپنی بربادیاں
اِس سے پہلے کہ لقمہ اَجل کا بنو
اِس سے پہلے لہو تھوکنے سب لگو
اَے مرے دیس کے زندہ دِل باسیو!
آنکھ کھولو ذرا کچھ تو دیکھو سہی
سر اٹھاؤ ذرا کچھ تو بولو سہی


کئی اور دکھ ہیں مجھ کو

یہ جو چاہتوں کے سپنے
مری آنکھ میں مرے ہیں
کئی نقش اُن کے آخر
مرے دِل میں رہ گئے ہیں
یہ کدورتوں کے گھاؤ
مَیں کہاں تلک بھلاؤں
"اِنہی کوششوں میں اِک دن
کہیں جان سے نہ جاؤں"
کبھی عدلیہ پہ حملے
کبھی مسجدوں میں جھگڑے
کبھی خون کی تجارت
کبھی عصمتوں کے سودے
کہیں حسرتوں کی بولی
کہیں خواب ٹوٹتے ہیں
کہیں مفلسوں کے چہرے
کوئی راہ ڈھونڈتے ہیں
کبھی نِکہتوں کے چرچے
کبھی بولیاں گلوں کی
ہمیں مار دیں گی آخر
یہ عداوتیں دِلوں کی
ہمیں لے کے بہہ رہا ہے
یہ عداوتوں کا دھارا
ہمیں موت سے گلہ کیوں
ہمیں زندگی نے مارا
انہیں کیا کریں مسیحا
وہ جو دل ہوئے ہیں روگی
جنہیں نفرتوں نے مارا
اُنہیں کیا بتائیں جوگی
تمہیں کیا وفا ملے گی
کئی اور کام مجھ کو
ترا غم بھی غم ہے لیکن
کئی اور دُکھ ہیں مجھ کو


Resistant

تمہیں کہتا نہیں تھا مَیں کہ وہ دھرتی
جہاں رسم و رواجوں کی کئی آکاس بیلیں ہوں
وہاں پودا محبت کا کبھی پرواں نہیں چڑھتا


اے منسٹر سنو!

(ہجیرہ میں قائم مقام وزیر اعظم کی آمد پر لکھی گئی نظم)

اے منسٹر سنو!
یہ مرا شہر یوں صاف ستھرا نہیں
جس طرح آپ کو یہ دِکھایا گیا
سامنے ہر دکاں کے یہاں
کل تلک تو غلاظت کے اَنبار تھے
جابجا تھیں کھڑی گاڑیاں اِس طرح
دو قدم چلنا بھی تھا گراں شہر میں
ایک بھی چوک میں، اِک اشارے پہ بھی
تب ٹریفک سپاہی نہ موجود تھا
فرد پولیس کا کوئی حاضر نہ تھا
آپ کے آنے کی جب خبر آ گئی
گاڑیاں ساری بیرونِ بازار بھیجی گئیں
کوڑا کرکٹ یہاں سے اٹھایا گیا
وردی والوں کو سڑکوں پہ لایا گیا
ناچ جنتا کو ہفتوں نچایا گیا
شہر اچھی طرح سے سجایا گیا
آپ کو تب کہیں جا کے حضرت بلایا گیا


بولو ناں!

پیپرز کے بعد اور چھٹیوں سے پہلے
ہر بار مجھے تم کہتی تھی
"اَب کے برس کچھ ایسا کرنا
جلدی جلدی لوٹ آنا تم
بِن تیرے میں رہ نہ سکوں گی
تاروں سے تری باتیں کروں گی
جلدی جلدی خط لکھنا تم
آپ مجھے کیوں تڑپاتے ہو
اچھا جانو! یوں کر لینا
دن کو چیٹ اور شام کو ای میل،اور پھر
جب بھی کالج کھل جائیں تو
جلدی جلدی آ جانا تم
سر رکھ کر سینے پہ تمہارے
بھول کے ہجر کے دن وہ سارے
تم بِن تھے جو مَیں نے گزارے
مَیں تو جانو! سو جاؤں گی
پھر سپنوں میں کھو جاؤں گی"
مجھ کو پیار کے خواب دِکھا کر
تنہا تم نے چھوڑ دیا ناں!
میرا پھولوں سا نازک دل
اپنے ہاتھوں توڑ دیا ناں!
بولو کیسے جی پاؤں گا
بولو ناں… تم کچھ بولو ناں!


ہم ملے کب تھے

کٹ رہا تھا یونہی زندگی کا سفر
ایک دن مل گئے ہم کسی موڑ پر
اِک حسیں شام ڈھلنے کو تیار تھی
ہنس رہی تھی سیہ رات سر پر کھڑی
میں بھی لمبی مسافت سے ہلکان تھا
اور وہ بھی تھکن سے بہت چور تھی
آبلہ پا تھے دونوں کٹھن تھا سفر
اُس گھڑی ہم نے یہ فیصلہ کر لیا
اِک سرائے میں شب کر لی جائے بسر
وہ بھی تیار تھی، مَیں بھی تیار تھا
شب گزاری کو ہم نے یہ طے کر لیا
کوئی مضمون ہو، چھیڑ لیں کوئی بات
وہ دسمبر کی شاید کوئی رات تھی
چھیڑ لی ہم نے فوراً ہی موسم کی بات
باتوں باتوں میں یوں بے تکلف ہوئے
جیسے برسوں کی اپنی شناسائی ہو
ایک لمحے کو لگنے لگا یوں کہ وہ
جیسے دنیا میں میرے لیے آئی ہو
رات پھر رات تھی وہ بھی اِک رات تھی
باتوں باتوں میں شب اپنی کٹ ہی گئی
صبح دم اَب جو ہم اُٹھ کے چلنے لگے
اِک ملاقات میں جانے کیا کھو دیا
راستے پیر کیونکر پکڑنے لگے
ہم جدا راستوں کے مسافر صفیؔ
عمر بھر ساتھ چلتے یہ قسمت نہ تھی
ایک پل کا تعلق، تعلق نہ تھا
اِک گھڑی کی رفاقت، محبت نہ تھی
راستے بھی جدا، منزلیں بھی الگ
اِس لیے لب پہ اپنے گلے ہی نہیں
کیا ملن کی خوشی کیا جدائی کا دکھ
اے دِلِ بے خبر ہم ملے ہی نہیں


یہاں بھی اک دن بہار ہو گی

(مقبوضہ کشمیر میں جاری جنگ آزادی کے پس منظر میں لکھی گئی نظم)

یہ رات دن تم جو جبر موسم میں صبر کے گُل کھلا رہے ہو
یہ جو صلیبوں کے سائے میں تم وطن کے نغمے سنا رہے ہو
یہ اپنے شانوں پہ اپنے پیاروں کے لاشے تم جو اٹھا رہے ہو
کہ بیج بو کے لہو کے لوگو! رہائی کے گُل کھلا رہے ہو
وطن کی مٹی میں پھول اِک دن محبتوں کے کِھلیں گے آخر
جدا جدا گر ہیں آج ہم تو ضرور کل کو مِلیں گے آخر
کسی سمے تو وطن سے اَب دُور دشمنوں کا یہ گند ہوگا
وطن کی مہکی فضا میں پرچم ہمارا ہی سر بلند ہو گا
مرے نگر کے چٹاں جیالو! مرے وطن کے نڈر سپوتو!
مرا چمن بھی کِھلے گا اِک دن، یہاں بھی اِک دن بہار ہوگی


بے بسی

کھیل ہے مقدر کا
ملنا اور بچھڑ جانا
زِیست کی جو گاڑی ہے
یہ تو بس مقدر کے
راستوں پہ چلتی ہے
راستے جدا سب کے
منزلیں الگ سب کی
اور یہاں مقدر بھی
کس کا کس سے ملتا ہے
"راستوں کی مرضی ہے"
جس طرف بھی لے جائیں
سامنے مقدر کے
زور کس کا چلتا ہے


بہانہ منتظر ہوگا

وفا کی ابتدا سے ہی
یہی دستور ہے اُس کا
اُسے ملنے بلاؤ جب
وہ وعدہ کر تو لیتی ہے
وہ قسمیں کھا تو لیتی ہے
مگر ملنے نہیں آتی
اُسے اچھا نہیں لگتا
کوئی وعدہ وفا کرنا
وہ ہنس کر توڑ دیتی ہے
سبھی قسمیں محبت کی
اُٹھی ہے دل میں جو خواہش
اُسے پھر آج ملنے کی
عجب سوچوں نے گھیرا ہے
بُلانے سے ذرا پہلے
دھڑکتا جا رہا ہے دِل
مجھے معلوم ہے شاید
اُسے ملنا جو چاہوں تو
بہانہ منتظر ہو گا


سادگی

ہم تجھ کو بھُلانے نکلے تھے
اِس کوشش میں ہم نے اپنی
جس شہر میں تیرا ڈیرہ تھا
اُس شہر کا رستہ چھوڑ دیا
جو تیری باتیں کرتا تھا
منہ ہر اُس شخص سے موڑ لیا
جو تیری یاد دِلاتا تھا
وہ رشتہ ناتا توڑ دیا
اِس کوشش میں آخر ہم نے
کیا کھویا ہے، کیا پایا ہے
آج اتنے برسوں بعد صفیؔ
جو تنہا بیٹھ کے سوچا ہے
ہم تجھ کو بھُلانے نکلے تھے
اور اپنا آپ گنوایا ہے


تو مرے پیار کے قابل ہی نہیں تھا شاید

تو مرے پیار کے قابل ہی نہیں تھا شاید
بے مروّت تو بھی دولت کا پجاری نکلا
بھا سکی تجھ کو نہ بے صرفہ محبت میری
دکھ ہے مجھ کو کبھی دل نہ پسیجا تیری
بین کرتی رہی یک طرفہ محبت میری
میں تمنا میں ترے پیار کی پاگل ہو کر
اپنے ماضی کی ہر اِک بات بھلا بیٹھا تھا
تیری قربت کا نشہ سر میں سمایا تھا مرے
کیا ہے دلبر مری اوقات بھلا بیٹھا تھا
"ایسا لگتا ہے کہ مجھ ہی سے کوئی بھول ہوئی"
تو مری زیست کا حاصل ہی نہیں تھا شاید
گو تجھے جان سے بڑھ کر میں نے چاہا لیکن
تو مرے پیار کے قابل ہی نہیں تھا شاید


ایک شعر

ہل رہی ہے ایک کرسی دھیرے دھیرے اَب تلک
جانے کب سے جا چکا ہے سامنے بیٹھا کوئی