اردو ویب ڈیجیٹل لائبریری
×

اطلاع

فی الحال کتابیں محض آن لائن پڑھنے کے لئے دستیاب ہیں. ڈاؤن لوڈ کے قابل کتابوں کی فارمیٹنگ کا کام جاری ہے.

Aik Jaanib Chaandni

ایک جانب چاندنی


مصنف احمد فواد
تعداد الفاظ 18228
تعداد منفرد الفاظ 2819
مناظر 17889
ڈاؤنلوڈ 0
احمد فواد نے قدرت کی خوبصورتی کو دیکھا اور اسے شعر میں سمو دیا۔ احمد فواد کے اپنے الفاظ یوں بیان کرتے ہیں: خوش قسمتی سے میرے لیے دنیا میں آتے ہوئے دروازہ ایسی جگہ سے کھولا گیا جہاں منظر بڑا خوب صورت تھا۔ اوپر آسمان کی نیلی جھیل اور نیچے دور تک نظر آتا اباسین کا شفاف نیلا پانی۔ اس لیے مشکل میں پڑ گئے۔ دل کہاں جائے بچارہ زندگی مشکل میں ہے ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

انتساب

دُنیا کو خوب صورت بنانے میں لگے
سلیقہ مند ہاتھوں کے نام

صحرا کی طرف اس لیے جاتا ہے مِرا دل
دُنیا میں یہ دُنیا سے بغاوت کی جگہ ہے
جاتے ہوئے کہتے ہیں ہر اِک بار پرندے
کچھ شرم کرو یہ بھی سکونت کی جگہ ہے


احمد فواد، ایک تعارف

احمد فواد کا اصل نام فرید احمد ہے۔ 1954ء میں سوات کے شگہ، شانگلہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ میں حاصل کی۔ حیدرآباد بورڈ سے میٹرک کیا۔ بی اے (آنرز) ، تاریخ اور انگریزی میں ایم اے کراچی یونی ورسٹی سے کئے۔ ان کی مادری زبان پشتو ہے لیکن اردو، عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں پر پوری دسترس رکھتے ہیں۔ فرانسیسی زبان سے بھی تھوڑی بہت شناسائی ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری کا آغاز ساتویں جماعت سے کیا ہے۔ کراچی یونی ورسٹی کے مشاعروں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے اور اپنی منفرد شاعری کی وجہ سے پوری یونی ورسٹی میں خاص شہرت رکھتے تھے۔ اس طرح کراچی یونی ورسٹی سے باہر بھی ادبی حلقوں میں ان کی شاعری کو اپنی جدت اور انفرادیت کی وجہ سے ہمہ گیر شہرت مل گئی تھی۔ اپنے منفرد اُسلوب کی وجہ سے ان کو ادبی حلقوں میں ایک خاص مقام دیا جاتا ہے۔

زمانۂ طالب علمی میں کراچی سے شائع ہونے والے اخبارات روزنامہ جسارت، نوائے وقت اور پندرہ روزہ وقت کے ساتھ منسلک رہے۔روزنامہ امت کراچی میں کافی عرصہ تک کالم لکھتے رہے ہیں۔ آج کل گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہانزیب کالج سیدو شریف، سوات میں انگریزی ڈیپارٹمنٹ کے چئیرمین کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

احمد فواد کے زیرِ نظر شعری مجموعے سمیت ان کے تین شعری مجموعے زیورِ طبع سے آراستہ ہو چکے ہیں۔ جن کے نام یہ ہیں۔ یہ کوئی کتاب نہیں، دل ورق ورق تیرا اور ایک جانب چاندنی۔ ان کا ایک شعری مجموعہ پشتو زبان میں بھی "کہ تہ راغلے زہ بہ گل شم" کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ انھوں نے اردو میں ایک ناول بھی لکھا ہے جب کہ ان کا چوتھا شعری مجموعہ زیرِ طبع ہے۔
ان کی شاعری میں تازگی اور نیا پن ہے۔ خصوصاً اچھی نظم لکھتے ہیں۔ احمد فواد اپنی شاعری میں کائنات کے خوب صورت عناصر مثلاً آسمان، زمین، سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، دریا، بیل بوٹے، پھول اور سمندر وغیرہ بہت عمدگی سے تشبیہات اور استعاروں کی شکل میں استعمال کرتے ہیں۔

ان کا نیا شعری مجموعہ "ایک جانب چاندنی" اردو محفل کی لائبریری میں بطور خاص پوسٹ کیا جاتا ہے۔ اس کتاب کے ناشر کی حیثیت سے اس کے حقوق میں اردو محفل کی لائبریری کو تفویض کرتا ہوں۔ تاہم اس کی کتابی صورت میں اشاعت کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

فضل ربی راہی
25 مئی 2007ء


کچھ اپنی زباں میں

خوش قسمتی سے میرے لیے دنیا میں آتے ہوئے دروازہ ایسی جگہ سے کھولا گیا جہاں منظر بڑا خوب صورت تھا۔ اوپر آسمان کی نیلی جھیل اور نیچے دور تک نظر آتا اباسین کا شفاف نیلا پانی۔ اس لیے مشکل میں پڑ گئے۔

دل کہاں جائے بچارہ زندگی مشکل میں ہے
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

اس سے پہلے بھی اپنے اندر کی یہ دُنیا دکھانے کے لئے "یہ کوئی کتاب نہیں"، "دل ورق ورق تیرا" اور "کہ تہ راغلے زہ بہ گل شم" جیسے دروازے کھولے ہیں۔ "ایک جانب چاندنی" کی صورت ایک نیا دروازہ کھول رہا ہوں۔

صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے

احمد فواد


غزل

جب کلی نے لیا تیرا نام
پھول بن کر کھِلا تیرا نام

جس سے ہے چار سو روشنی
ہے وہ روشن دیا تیرا نام

دل میں لاکھوں دئیے جل اٹھے
جب بھی میں نے لیا تیرا نام

پھر یہاں میں جہاں بھی گیا
ساتھ چلتا رہا تیرا نام

غنچۂ دل سے لپٹا ہوا
مثلِ موجِ صبا تیرا نام

یہ جہاں خاک کا ڈھیر ہے
اس میں رنگ و نوا تیرا نام

سانس لیتا ہوں بس اس لئے
ہے ہوا میں گھلا تیرا نام

تیری تعریف میں کیا کہوں
ہے خود اپنی ثنا تیرا نام

ذرّۂ خاک خورشید ہے
جب سے اس پر کھلا تیرا نام

سب زمیں آسماں چھوڑ کر
میں نے اپنا لیا تیرا نام

ہر مسرت کی تمہید ہے
ہر مرض کی دوا تیرا نام

باقی سب نام مر کھپ گئے
ہر طرف چھا گیا تیرا نام

رات دن ڈھونڈتا ہوں تجھے
ہے لبوں پر سدا تیرا نام

آنسوؤں میں ترا ذکر ہے
قہقہوں میں ملا تیرا نام


غزل

دھوپ ہو کر بچھا تیرا نام
تتلی بن کر اڑا تیرا نام

میں تو مسکین و محتاج تھا
پھر مجھے مل گیا تیرا نام

تو ہی آغاز و انجام ہے
مبتدا منتہا تیرا نام

میں کسی کو نہیں جانتا
جب سے ہے آشنا تیرا نام

پیاس سے کیا تعلّق مجھے
لمحہ لمحہ پیا تیرا نام

میری ہر سانس بیمار تھی
ہو گیا ہے شفا تیرا نام

اور اب کچھ نہیں چاہئے
ہے بہت اے خدا تیرا نام

جب بھی دنیا کی یورش ہوئی
میں نے آگے کیا تیرا نام

سب سے ملنے پہ مجبور ہوں
ہے یہاں جا بجا تیرا نام

پھر زمیں پر بہار آ گئی
ہر طرف ہنس پڑا تیرا نام

یہ جہاں وہ جہاں کچھ نہیں
سب سے اچھا صِلہ تیرا نام

خود بخود زخم بھرنے لگے
ہے وہ حرفِ دعا تیرا نام

اب وہ دن بھی ضرور آئے گا
لیں گے شاہ و گدا تیرا نام

زندگی کیا رہے نا رہے
اب نہ ہوگا جدا تیرا نام

آنسوؤں کے بڑے شہر میں
مسکراتا رہا تیرا نام


غزل

بن کے چھایا نشہ تیرا نام
چاندنی میں ڈھلا تیرا نام

لوگ دنیا میں مشغول ہیں
میرے ارض و سما تیرا نام

خود کو اُس پر نچھاور کیا
جس کے منہ سے سنا تیرا نام

چھوڑ کر سب جہاں چل دیا
ہے مجسّم وفا تیرا نام

پیاسے صحرا گلستان ہیں
ہے برستی گھٹا تیرا نام

اب چھپانے سے کیا فائدہ
لے لیا برملا تیرا نام

مسکراہٹ کی تفصیل ہے
آنسوؤں میں دھُلا تیرا نام

ہم تو فانی ہیں مر جائیں گے
بس رہے گا سدا تیرا نام

ہم جو مجبور و لاچار تھے
ہم نے اونچا کیا تیرا نام

ڈھونڈتے ہیں ستارے تجھے
پوچھتی ہے ضیاء تیرا نام


غزل

مجھ سے پھر وہ جدا ہو رہا ہے
اے زمانے یہ کیا ہو رہا ہے

زندگی اب تِرا کیا بنے گا
لمحہ لمحہ فنا ہو رہا ہے

کیسی پاگل ہوا چل پڑی ہے
ہر کوئی مبتلا ہو رہا ہے

پہلے ہوتا ہو شاید روا بھی
اب تو سب ناروا ہو رہا ہے

کچھ خبر بھی ہے تجھ کو خدایا
تیری دنیا میں کیا ہو رہا ہے

آگ کیسی لگی پانیوں میں
کیوں سمندر ہوا ہو رہا ہے

کیوں زمانہ ہے یہ گردشوں میں
اس میں کس کا بھلا ہو رہا ہے

وہ جو کرتے تھے سب سے چھپا کے
اب وہ سب برملا ہو رہا ہے


غزل

فقط اک بار وہ صورت دکھا دے
پھر اُس کے بعد یہ دنیا جلا دے

اگر رکھی ہے دل میں آگ اتنی
کہیں سے چند آنسو بھی دِلا دے

نہیں ہے گر کوئی جینے کی صورت
تو مرنے کا ہی تھوڑا حوصلہ دے

تری دنیا میں اب لگتا نہیں دل
اٹھا دے اب مجھے یاں سے اٹھا دے


غزل

میں کن چشموں سے ان کا حال پوچھوں
وہ دریا جو زمیں میں کھو گئے ہیں

تمہیں اب کون آئے گا منانے
مری آنکھوں کے نغمے سو گئے ہیں

کہوں کیا کیسے کیسے ہنستے چہرے
مرے سینہ میں آنسو بو گئے ہیں

نہ راس آئی انہیں پھر کوئی محفل
تری محفل سے اٹھ کر جو گئے ہیں

خوشا یہ آنسوؤں کے تازہ چشمے
دلوں کے زخم سارے دھو گئے ہیں

تمہارا ہاتھ کیا ہاتھوں میں آیا
وہ سارے خواب پورے ہو گئے ہیں


غزل

کہکشاں میں جگہ بنا لوں گا
میں بھی کچھ دیر ٹمٹما لوں گا

تم سمندر کا دل بڑھاتے رہو
آسمانوں کو میں بچا لوں گا

گر تمہاری خوشی اسی میں ہے
دل کو دنیا سے میں اٹھا لوں گا

تیرے جانے سے کچھ نہیں ہوتا
شہر یہ پھر سے میں بسا لوں گا

تجھ کو فرصت نہیں تو رہنے دے
کام دنیا کا میں چلا لوں گا

اب یہ یادوں کے دیپ بجھنے دے
میں ستارہ کوئی جلا لوں گا

آرزوئیں عزیز ہیں ساری
تم سے میں سب کا خوں بہا لوں گا

اب محبت سے ہو گئی نفرت
تُو ملا گر تو زہر کھالوں گا

لے یہ دنیا تجھے مبارک ہو
میں نیا اک جہاں بنا لوں گا

دل تو اپنا میں تجھ کو دے دیتا
اس کے بدلہ میں تجھ سے کیا لوں گا

آج کل تو نہیں ذرا فرصت
پھر کسی دن تجھے منا لوں گا


غزل

کوئی غم یا خوشی نہیں ہو گی
اب یہاں زندگی نہیں ہو گی

وہ جو اس دل میں امڈی رہتی تھی
وہ خوشی اب کبھی نہیں ہو گی

ہر طرف ایسی دھوپ پھیلی ہے
جیسے اب رات ہی نہیں ہو گی

تم کسی اور کو تلاش کرو
مجھ سے یہ دل لگی نہیں ہو گی

چاند تارے سب اپنے گھر جائیں
ان سے اب روشنی نہیں ہو گی

تیرا غم جب تلک سلامت ہے
آنسوؤں میں کمی نہیں ہو گی

اب تو روٹھے ہیں اس طرح گویا
اب کبھی بات ہی نہیں ہو گی


غزل

اور اُس کا نہ انتظار کرو
جو بھی مل جائے اُس سے پیار کرو

چاند کے ساتھ شب میں سویا تھا
آؤ سب مجھ کو سنگسار کرو

صرف دامن کا چاک کیا معنی
سب لباس اپنا تار تار کرو

عشق سودا ہے صرف گھاٹے کا
اب کوئی اور کاروبار کرو

جس پہ رکھّا نہ ہو کسی نے قدم
راستہ ایسا اختیار کرو

تم بھی جھوٹے ہو وہ بھی جھوٹا ہے
اب کسی کا نہ اعتبار کرو

چاک دامن یہاں ہزاروں ہیں
تم سے جو بھی کہے بہار کرو


غزل

میرے دل میں اگر نہ گھر کرتا
تو کہاں زندگی بسر کرتا

کون اس راستہ سے گزرا ہے
چاند تارے ادھر ادھر کرتا

پھر وہ بدمست آفتاب آیا
سب گھٹاؤں کو دربدر کرتا

کس کی تصویر کو میں دن کہتا
کس کے خوابوں میں شب بسر کرتا

جاؤں ہونے سے پھر نہ ہونے میں
آسمانوں کو رہگزر کرتا

اپنا دل بھی اُسی کو دے آیا
اور کیا میرا نامہ بر کرتا

اک حسیں چشم دل میں آیا ہے
ساری دنیا اِدھر اُدھر کرتا

کیا خدائی میں فرق آ جاتا
میری جانب اگر نظر کرتا

تیرے سینہ میں دل اگر ہوتا
تجھ پہ نالہ کوئی اثر کرتا

کون پلکیں جھکائے گزرا ہے
خود سے ہر شے کو بے خبر کرتا

تو نہ آتا تو اس خرابے میں
پھر کوئی شاعری کدھر کرتا


غزل

بجھ گئے تیری راہ تکتے ہوئے
آنسوؤں کے کئی ہزار دیئے

وہ جو معصوم بھولا بھالا ہے
اُس نے اس دل پہ کتنے ظلم کئے

خواب میں بھی وہ لڑکھڑاتا ہے
تیری آنکھوں سے جو شراب پئے

ہو گئے پیشہ ور رفوگر ہم
زندگانی میں اتنے زخم سیئے

تجھ سے ملنے کی کوئی آس نہیں
ہے یہی زندگی تو کون جیئے

یوں تو لاکھوں حسین صورت ہیں
دل دھڑکتا ہے صرف تیرے لئے


غزل

جو کبھی کہہ سکا نہ کہنے دے
آج لفظوں سے خون بہنے دے

اب کوئی اور بات کر مجھ سے
یہ فراق و وصال رہنے دے

ایک ہی جیسے رات دن کب تک
کوئی تازہ عذاب سہنے دے

جن کی خوشبو نہ وقت چھین سکے
ایسے کلیوں کے مجھ کو گہنے دے


غزل

لمحہ لمحہ کی آنکھ پُر نم ہے
کون کہتا ہے وقت مرہم ہے

موت کے منہ کو خوں لگا ایسا
ہر طرف زندگی کا ماتم ہے

میرا ہر لفظ گونگا بہرا ہے
اس کی ہر اک نگاہ مبہم ہے

پھر کوئی حادثہ ہوا ہوگا
دل کی آواز کتنی مدّھم ہے

شوق کا آج امتحاں ہوگا
دیکھیں کتنا نگاہ میں دم ہے

ٹھیک ہے داستانِ یوسف بھی
میرا محبوب کیا کوئی کم ہے

اس زمیں آسماں کی خیر نہیں
آج اُس کا مزاج برہم ہے

سب دئیے اُس کے سامنے گُل ہیں
کون شعلہ ہے کون شبنم ہے


غزل

اُس پر اس کا اثر تو کیا ہوگا
دیکھ کر اور خوش ہُوا ہوگا

کیسے اس بات کا یقیں آئے
تو بھی اس خاک سے بنا ہوگا

جو بھی ملتا ہے پوچھ لیتا ہوں
سوچتا ہوں اسے پتا ہوگا

صرف ہم جان سے ہی جائیں گے
تیرے جانے سے اور کیا ہوگا

راستہ میں کہیں کھڑا ہوگا
پھر خلاؤں میں تک رہا ہوگا

رہگزاروں میں آج بھی تنہا
کوئی دیوانہ گھومتا ہوگا


غزل

میں اپنا درد ہوا کے سپرد کرتا رہا
سماعتوں کا دریچہ کھلا نہ در کوئی

تم اپنے نالہ و فریاد سے ہی جاؤ گے
یہاں کسی پہ بھی ہوتا نہیں اثر کوئی

ہر ایک سانس میں اس راستہ میں ہار آیا
تِرا پتہ ہے نہ اپنی ملی خبر کوئی

یہ آسمان و زمیں سب اُسی کے لگتے ہیں
اٹھے یہاں سے مگر جائے گا کدھر کوئی

کہاں نہ جانے وہ خوشیوں کا باب کھُل جائے
اسی خیال میں پھرتا ہے دربدر کوئی

میں جانتا ہوں یہ تاروں کا سلسلہ کیا ہے
جلا کے بھول گیا دیپ بام پر کوئی

ہوا کے ساتھ نہ لڑتے تو اور کیا کرتے
نہ اپنا دوست نہ غمخوار ہے نہ گھر کوئی

نہ جانے کب سے کھلی ہیں یہ کھڑکیاں دونوں
اٹھے ہماری طرف بھی ذرا نظر کوئی

تمہاری آنکھوں کی جنّت سے جو نکالا گیا
نہ اُس کو شام ملی ہے نہ پھر سَحر کوئی

ہر ایک سمت وہ جلوہ فروش بیٹھا ہے
بچائے رکھے گا کب تک دل و نظر کوئی

فواد ایسے کھلونوں سے کب بہلتا ہے
اٹھا کے طاق پہ رکھ دے یہ بحر و بر کوئی


غزل

جو بھی پیتا ہے پھر نہیں اٹھتا
موت اس جام میں بھرا کیا ہے

ہر طرف بے خودی سی طاری ہے
تیری آنکھوں میں یہ نشہ کیا ہے

ایسے پھرتی ہے پاگلوں کی طرح
تجھ کو بادِ صبا ہوا کیا ہے

سب کھلونے ہیں ٹوٹ جائیں گے
شاہ کیا چیز ہے گدا کیا ہے

رات دن کیوں ہے ایک چکّر میں
تجھ کو تکلیف اے ہوا کیا ہے

کون رکھتا ہے پھول میں خوشبو
یہ ستاروں کا قافلہ کیا ہے

کیوں زمانہ ہے ایک گردش میں
رات دن کا یہ سلسلہ کیا ہے

ہے مکاں سے پَرے مکاں جس کا
اُس کو دنیا میں ڈھونڈتا کیا ہے

کس لئے موت سے گریزاں ہے
زندگی نے تجھے دِیا کیا ہے

آسمانوں کو تکتا رہتا ہوں
آسمانوں سے ماورا کیا ہے

جی میں آتا ہے جو بھی کر گزرو
یاں روا کیا ہے ناروا کیا ہے

ساری آنکھیں ہیں اس کی آنکھوں میں
ان میں کھو جاؤ سوچتا کیا ہے

کون رس گھولتا ہے کانوں میں
دل کے نزدیک یہ صدا کیا ہے

سب کے ہونٹوں پہ ایک قصّہ ہے
شاعری میں نیا دھرا کیا ہے

پھر کوئی خون ہو گیا دل میں
آنسوؤں میں یہ رنگ سا کیا ہے

اب بھی اُس بے وفا پہ مرتا ہے
اور اس دل کا سانحہ کیا ہے

خاک میں سب کو کیوں ملاتا ہے
ساری مخلوق کی خطا کیا ہے


غزل

خاک کو خاک میں ملا دے گا
اور تُو کیا مجھے سزا دے گا

دل میں پوشیدہ وہ جہنّم ہے
سب زمیں آسماں جلا دے گا

تیرے چہرہ کا رنگ مجھ سے ہے
تو مجھے کس طرح مٹا دے گا

چاہنے والے سارے جھوٹے ہیں
دل بھی اک دن تجھے بھلا دے گا

تو بھی دنیا میں ہو گیا شامل
اب مجھے کون حوصلہ دے گا

خاک ہو جائیں گے گلاب تمام
سب ستارے کوئی بجھا دے گا

ذرّے ذرّے کا دل ٹٹولا ہے
کوئی سوچا ترا پتہ دے گا

تو کہ ناواقفِ محبت ہے
تو محبت کا کیا صلہ دے گا

تجھ سے آباد ہے یہ ویرانہ
دل ہمیشہ تجھے دعا دے گا

زندگی سخت کام ہے اک دن
سانس لینا تجھے تھکا دے گا

پوری قوّت سے دل اگر رویا
ان ستاروں کے دل ہلا دے گا

دیکھ کر دن نثار ہو جائے
ایسی ہر رات وہ ضیاء دے گا

وہ تو سیلاب ہے محبت کا
خس و خاشاک کو بہا دے گا

آؤ اس دل سے دوستی کر لو
تم کو جینے کے گُر سکھا دے گا

نیند سے سب کو جو اٹھاتا ہے
سب کو اک روز وہ سلا دے گا

چھین کر دھوپ کا جلا ملبوس
چاندنی کی نئی ردا دے گا

جن کی آنکھوں میں صبح ہنستی ہے
ایسے پھولوں کے ہار لادے گا

تو نے اُس شخص کو بھی مار دیا
اب تجھے کون یاں صدا دے گا

یہ محبت نہیں عبادت ہے
دل تجھے دیوتا بنا دے گا


غزل

آ گیا آج وہ زمانہ بھی
کفر ٹھہرا ہے دل لگانا بھی

جس کو ہم آسمان کہتے تھے
پھٹ گیا ہے وہ شامیانہ بھی

دیکھ کر تو یقیں نہیں آتا
بند ہوگا یہ کارخانہ بھی

قیس و فرہاد اٹھ گئے اک دن
ختم ہوگا ترا فسانہ بھی

تجھ سے مل کر اداس ہوتا ہے
ہوگا دل سا کوئی دوانہ بھی

چاہے جانا بھی تجھ کو مشکل ہے
اور مشکل ہے بھول جانا بھی

یوں تو پہلے بھی کونسا گھر تھا
چھن گیا آج وہ ٹھکانہ بھی

ایک پل بھی کہیں قرار نہیں
کیا مصیبت ہے دل لگانا بھی

جو بنانے میں اتنا وقت لگا
کیا ضروری ہے وہ مٹانا بھی

جب تعلق نہیں رہا تجھ سے
چھوڑ دے اب یہ آزمانا بھی

کیا کریں اب تو اُس سے ملنے کا
کوئی ملتا نہیں بہانہ بھی

جب صبا ساتھ ساتھ چلتی تھی
آہ کیسا تھا وہ زمانہ بھی

اتنی کم گوئی بھی نہیں اچھی
سُن کے سب کی انہیں سنانا بھی

اب تو ممکن نظر نہیں آتا
دل کو اس راہ سے ہٹانا بھی

چوٹ کھانا تو کوئی بات نہ تھی
لیکن اُس پر یہ مسکرانا بھی

کیا تمہارے لئے ضروری ہے
ساری مخلوق کو ستانا بھی

ٹھیک ہے سب سے دل لگی لیکن
آ کے پھر مجھ کو سب بتانا بھی

تیری آنکھوں نے بھی کہا مجھ سے
کچھ طبعیت تھی شاعرانہ بھی

دل بھی کچھ خوش یہاں نہیں رہتا
اٹھ گیا یاں سے آب و دانہ بھی


غزل

کوئی اس سے یہاں بچا بھی ہے
اس مرض کی کوئی دوا بھی ہے

ان ستاروں میں ان نظاروں میں
دیکھنا اُس کا نقشِ پا بھی ہے

ڈوب کر اُس سے کیا گلہ کرتے
وہ خدا بھی ہے نا خدا بھی ہے

صرف تو ہی یہاں نہیں موجود
کوئی لگتا ہے دوسرا بھی ہے

ایک انساں کے کتنے چہرے ہیں
وہ جو اچھا ہے وہ بُرا بھی ہے

اتنا پاگل نہیں رہا اب دل
سوچتا بھی ہے بولتا بھی ہے

کچھ دنوں سے تو ایسا لگتا ہے
کوئی دل میں تیرے سوا بھی ہے

جس سے روشن ہیں روز و شب میرے
وہ محبت ہی اک سزا بھی ہے

تو جو سرچشمہ ہے مسرت کا
تجھ سے مل کر یہ دل دکھا بھی ہے

صرف یہ نیلا آسمان نہیں
بیچ میں اور فاصلہ بھی ہے

ایک اک لمحہ سب بدلتا ہے
جو پرانا ہے وہ نیا بھی ہے

جس سے ملنے سے دل گریزاں ہے
ہر گھڑی اُس کو ڈھونڈتا بھی ہے


غزل

بس یہی سوچ کر گلہ بھی ہے
آپ نے حالِ دل سنا بھی ہے

ہر طرف ایک آہ و زاری ہے
اس نظر سے کوئی بچا بھی ہے

آپ کو کیا خبر محبت کی
آپ نے دل کبھی دیا بھی ہے

ایک سے دن ہیں ایک سی راتیں
تیری دنیا میں کچھ نیا بھی ہے

اب بھی یہ دل اُسی پہ مرتا ہے
ظلم کی کوئی انتہا بھی ہے

اے ستارو اسی فضا میں کہیں
دل کا ٹوٹا ہوا دیا بھی ہے

آؤ رہ جائیں اُس کی آنکھوں میں
دھوپ بھی ہے یہاں گھٹا بھی ہے

اس تغافل کا کیا سبب ہوگا
جب وہ سب حال جانتا بھی ہے

کچھ تو عادت ہے لڑکھڑانے کی
کچھ تری آنکھ میں نشہ بھی ہے

تیری خاطر جو خود کو ہار آیا
اُس دوانے کا کچھ پتہ بھی ہے

دن کی آنکھیں جو چھین لیتے ہیں
ان میں شامل وہ دلربا بھی ہے

چھوڑو اب جان سے بھی جاؤ گے
کیا بچھڑ کر کوئی ملا بھی ہے


غزل

دل تجھے دیکھ دیکھ ڈولے گا
منہ سے اک لفظ بھی نہ بولے گا

دیکھنا یہ حقیر پُر تقصیر
سارے اسرار تیرے کھولے گا

چل بسا رات وہ ستارہ بھی
اب یہ کھڑکی کوئی نہ کھولے گا

خاک پر خاک کچھ اثر ہوگا
چھوڑ موتی کہاں یہ رولے گا

کس کو معلوم تھا کہ خود یہ دل
میری دنیا میں زھر گھولے گا


غزل

شاعری کو دکاں بنا دوں گا
میں تجھے داستاں بنا دوں گا

چاند تارے سمیٹ کر سارے
اک نیا آسماں بنا دوں گا

تیرا چہرہ اتار کر دل میں
خود کو میں جاوداں بنا دوں گا

تو یہاں خوش نہیں تو تیرے لئے
کوئی تازہ جہاں بنا دوں گا

چھیڑ کر نغمۂ محبت پھر
دل کو میں نوجواں بنا دوں گا

شاعری کے لطیف لہجہ سے
پھر تجھے مہرباں بنا دوں گا

اپنا دل بانٹ کر ہواؤں میں
سب کو پھر نغمہ خواں بنا دوں گا


غزل

کچھ تو ظالم تری نگہ بھی ہے
دل کو مرنے کا شوق سا بھی ہے

موت اُس قصرِ ناز کی جانب
کیا کوئی اور راستہ بھی ہے

جو تجھے ڈھونڈنے گیا خود سے
اُس بچارے کا کچھ پتہ بھی ہے

ڈوب جا اُس کی گہری آنکھوں میں
اس مرض کی یہی دوا بھی ہے

ہر طرف تجھ کو ڈھونڈتا پھرتا
چاند تاروں کا قافلہ بھی ہے

میں نہیں خاک میں کھلا تنہا
اور پھولوں کا سلسلہ بھی ہے

تجھ کو شاید یقیں نہ آئے مگر
کوئی دل میں ترے سوا بھی ہے

اس کمینی ذلیل دنیا میں
دل کا غنچہ کبھی کھلا بھی ہے

اب فقط دیکھنے کا شوق نہیں
بات کرنے کا حوصلہ بھی ہے

عشق کی سب نئی کتابوں میں
دیکھ اب اپنا تذکرہ بھی ہے

خاک میں اس طرح میں کیوں ملتا
اس میں شامل تری رضا بھی ہے

دیکھتے رہنا رات دن آنکھیں
یہ نظر کے لئے شفا بھی ہے

بس یہی سوچ کر خموش رہے
راہزن ہی تو رہنما بھی ہے


غزل

دل اسی بات پر خفا بھی ہے
آپ سے میں نے سب کہا بھی ہے

آج پھر وہ نظر اٹھی ہو گی
اس لئے درد کچھ سوا بھی ہے

دیکھ کر سب نے موند لیں آنکھیں
کوئی دنیا سے خوش گیا بھی ہے

جانے کیوں اجنبی سا لگتا ہے
وہ جو کم بخت آشنا بھی ہے

توڑ کر دل کہاں پہ جاؤ گے
اس سے اچھی کوئی جگہ بھی ہے

جان سے تو گزر ہی جائیں گے
مشکل اک اور مرحلہ بھی ہے

سخت ناراض ہے یہ دل جس سے
ٹوٹ کر اُس کو چاہتا بھی ہے

تیری شفّاف گہری آنکھوں میں
اک جہاں اس سے ماورا بھی ہے

دل کو تاراج کرنے والے سُن
اس حویلی میں تو رہا بھی ہے

رات دن تجھ کو تکتا رہتا ہوں
اور بندے کی کچھ خطا بھی ہے

سانس لینے کی اس مشقّت میں
تلخ و شیریں سا اک مزہ بھی ہے


غزل

کس نے اس طرح مرے دل کی طرح ڈالی ہے
پہلے دن سے یہ کرایہ کے لئے خالی ہے

اس تغافل سے تو لگتا ہے کہ اب اپنے لئے
کائنات اُس نے کوئی اور بنا ڈالی ہے

تیرے آنے کی تو صورت ہے نہ امید کوئی
بھیج دے کوئی کرن رات بہت کالی ہے

تم تو پاگل ہو چلو جاؤ کہیں اور مرو
نام لینا بھی محبت کا یہاں گالی ہے

آپ مجرم ہیں نہیں اس میں کسی کا بھی قصور
ہم نے خود جان کے یہ دل کی بلا پالی ہے

تجھ کو دیکھے گا نہ سوچے گا نہ اب چاہے گا
آج اِس دل نے کوئی ایسی قسم کھا لی ہے

جانے کیا سوچ کے اس پیڑ کو اپنایا تھا
پھول ہیں اس میں نہ پتّے نہ کوئی ڈالی ہے

دل کو ہم سارے زمانہ سے جدا جانتے تھے
اب کھلا ہے کہ یہی سب سے بڑا جعلی ہے


غزل

بجھ گئے ہیں جو دئے جلتے تھے اُن گالوں میں
اب کوئی بھی نہیں آئے گا تری چالوں میں

ایک ہی پَل میں وہ کس طرح زمیں بوس ہوئی
وہ عمارت جو بنائی تھی کئی سالوں میں

کل تو تقدیر ترے ساتھ پھرا کرتی تھی
آج پوچھے گا تجھے کون بُرے حالوں میں

وقت جس نے انہیں بچپن میں لگایا تھا خضاب
کرنے آیا ہے سفیدی بھی ترے بالوں میں

نکتہ سنجی نہیں آواز کی لے دیکھتے ہیں
شاعری آ کے کہاں پھنس گئی قوّالوں میں

اپنے ہونے پہ ندامت کا وہ احساس رہا
کٹ گئی عمر جلوسوں میں کچھ ہڑتالوں میں


غزل

نہیں یہ ذہن تنہا الجھنوں میں
ہے میرا دل بھی مشکل مرحلوں میں

مرا پھولوں سے مطلب پھول وہ ہیں
جو کھلتے ہیں ہمیشہ آئینوں میں

میں اُن اشکوں کا ماتم کر رہا ہوں
جو دب کر رہ گئے ہیں قہقہوں میں

نکل کر خود سے تجھ کو ڈھونڈتے ہیں
ہے میرا نام بھی اُن پاگلوں میں

یہ سارے چاند تارے اجنبی ہیں
کوئی اپنا نہیں ان جمگھٹوں میں

نہ جانے کس طرف سے آئے گا وہ
بکھر کر رہ گیا ہوں راستوں میں

سمجھتا ہی نہیں ہے بات کوئی
یہ بھیجا ہے مجھے کن جاہلوں میں

جو تیرے راستہ میں جل رہے ہیں
ہے میرا دل بھی اُن ٹوٹے دیوں میں

جلا کرتے تھے جن سے چاند تارے
وہ چہرے بجھ گئے ہیں مقبروں میں

کہاں ہمراہ دنیا چل رہی تھی
کہاں تنہا کھڑا ہوں منزلوں میں

بہار آ کر گلی میں رک گئی ہے
گلاب ایسے کھلے ہیں کھڑکیوں میں

نئے غنچوں کے آؤ گیت گائیں
دھرا کیا ہے پرانی چاہتوں میں

تجھے پاکر بھی آنکھیں جاگتی ہیں
مزہ دیکھا ہے ایسا رتجگوں میں


غزل

نظر آیا ہے وہ آ کر بنوں میں
جسے ڈھونڈا سدا آبادیوں میں

یہ اب کس کی سواری آ رہی ہے
درخت آئے کھڑے ہیں راستوں میں

ستارے کیسی باتیں کر رہے ہیں
یہ کس کا تذکرہ ہے تتلیوں میں

پرندے کس کے نغمے گا رہے ہیں
خموشی کیوں ہے اتنی پتھروں میں

یہ دریا رات دن کیوں چل رہے ہیں
یہ کس نے آگ بانٹی جگنوؤں میں

زمیں کس کو خلا میں ڈھونڈتی ہے
یہ کون آیا کھڑا ہے بادلوں میں

پہاڑوں نے اِنہیں کیا کہہ دیا ہے
یہ کیسا شور اٹھا ہے ندّیوں میں

یہ سارے لفظ کس جانب رواں ہیں
یہ کیا جھگڑا ہے سارے شاعروں میں

ہَوا کس کے لئے یوں دربدر ہے
کھلائے پھول کس نے دلدلوں میں

کھڑی ہے شام کیوں یوں مضمحل سی
سحر کیوں پھر رہی ہے جنگلوں میں

کہاں جاتے ہیں گر کر زرد پتّے
چھڑی ہے بحث یہ کیا بلبلوں میں

سمندر روز و شب کیوں مضطرب ہے
اترتا کون ہے یہ بارشوں میں

صبا کیوں ہر کلی کو چومتی ہے
یہ پاگل پن ہے کیسا پانیوں میں

ہنسی میں گونجتے ہیں کس کے نغمے
جلائے دیپ کس نے آنسوؤں میں

جنوں کو جانے یہ کیا ہو گیا ہے
یہ کیسی بے رخی ہے گلرخوں میں

اجالے کیا ہوئے اُن عارضوں کے
کمی کیسی ہے دل کی وحشتوں میں

گلا کیوں گھٹ رہا ہے خواہشوں کا
یہ سنّاٹا ہے کیسا ولولوں میں

وہ پاس آ کر بھی مجھ سے کیوں جدا ہے
یہ دوری کیوں ہے اتنی قربتوں میں


غزل

نہ اب شعلے بھڑکتے ہیں دلوں میں
نہ وہ شوخی رہی ہے دلبروں میں

بھری ہیں ہوشمندی کی کتابیں
اڑی ہے خاک ایسی میکدوں میں

میں ان لوگوں سے مل کر کیا کروں گا
نہیں لگتا ہے یہ دل محفلوں میں

اکیلا اس لئے میں گھومتا ہوں
وہ آتا ہے ہمیشہ خلوتوں میں

کھلی ہیں ہر طرف وہ درسگاہیں
اضافہ ہو رہا ہے جاہلوں میں

زمیں کا رنگ خاکی ہو گیا ہے
بچاری کب سے ہے ان گردشوں میں

سمندر کے سمندر پی گئے ہیں
یہ کیسی پیاس ہے ان ساحلوں میں

وہ آنکھوں کے پیالے بھول جاؤ
شراب اب بک رہی ہے بوتلوں میں

گلابوں میں وہ چہرہ جھانکتا ہے
چمکتی ہیں وہ آنکھیں بجلیوں میں

اب اس جلتے جہنم سے نکالو
چھپا لے مجھ کو اپنے بازوؤں میں

گزر جاتا ہے جو آنکھیں چرائے
وہی رہتا ہے دل کی دھڑکنوں میں

مری ہر سانس جس کے واسطے تھی
کھڑا ہے وہ بھی میرے قاتلوں میں

حریمِ دل ہے قصرِ ناز جس کا
اُسے کیا ڈھونڈتا ہے مسجدوں میں


دل کے دروازہ پہ۔۔۔

دل کے دروازہ پہ اک نظم نے دستک دی ہے
اِن دو آنکھوں کو سمندر کے کنارے لکھ دے
گہری جھیلوں میں ستاروں کے دئے جلتے ہیں
دھوپ نے سبز درختوں کے وطن لوٹ لئے
دل کے دروازہ پہ اک نظم نے دستک دی ہے
دونوں ہاتھوں میں نئے سرخ گلاب
چودھویں رات کا مہتاب لئے
دل کے دروازہ پہ اک نظم نے دستک دی ہے
جیسے آفاق کے رخسار دھک اٹھتے ہیں
جیسے صحراؤں میں گلزار مہک اٹھتے ہیں
جیسے نغموں کو کوئی باندھ کے لے جاتا ہے
جیسے دریا کسی ویرانے میں کھو جاتے ہیں
دل کے دروازہ پہ اک نظم نے دستک دی ہے
آنسوؤں میں نئے آلام کے پیوند لگے
اس نئے درد کا درمان بھی مل جائے گا
تتلیاں کس کے تصور میں یوں دیوانی بنی پھرتی ہیں
خاک کے سینہ میں رنگوں کے کئی قریے ہیں
سبز پتوں کو خزاں سے نہیں ملنے دینا
دل کے دروازہ پہ


ان دو آنکھوں۔۔۔

ان دو آنکھوں میں بہت دور کہیں
گزرے موہوم زمانوں کی خموشی پہنے
ایک محجوب خوشی رہتی ہے
صاف شفّاف فضاؤں میں
نگاہوں کی حدوں سے آگے
خواب آوارہ پرندوں کی طرح
دھیمے لہجہ میں
کسی گیت کا بازو تھامے
پھر میرے دل کی طرف آتے ہیں
ان دو آنکھوں سے کوئی جا کے کہے
آسمانوں سے زمیں پر آئیں
کوئی تارہ کوئی بادل کوئی نغمہ لے کر
کوئی دریا کوئی چشمہ کوئی جھونکا لے کر


تازہ سینہ میں۔۔۔

تازہ سینہ میں محبت کا فسوں جاگا ہے
خواب زاروں سے ستاروں کے سفینے اترے
گھنٹیاں ننگے قدم، خاک بسر، جانے کہاں جاتی ہیں
اس نئے دکھ کے لئے کوئی نئی دنیا ہو
ہوں نئے پیڑ نیا چاند نیا سورج ہو
ہوں نئے حرف نئے لفظ نئی نظمیں ہوں
چاندنی رات کا ملبوس نہ یوں میلا ہو
دھوپ کے لہجہ میں نرمی ہو شرافت ہو
محبت کی سی شیرینی ہو
دو نئے ہاتھ نئے ہونٹ نئی آنکھیں ہوں
ہو نیا ذہن نئی روح نئی صورت ہو
اک نیا دل ہو
جو پاگل ہو
محبت کے لئے خود کو جلا سکتا ہو
جس میں صحراؤں کی وسعت ہو
سمندر کی سی گہرائی ہو
جس میں خاموشی ہو
ہیبت ہو پریشانی ہو
خاک میں رفعت افلاک ملا سکتا ہو
نیند سے مردہ پہاڑوں کو اٹھا سکتا ہو


یہ جو گہری اُداس۔۔۔

یہ جو گہری اُداس آنکھیں ہیں
ان میں خوابیدہ سب زمانے ہیں
سارے پھول ان کے نام لیوا ہیں
چاند تاروں میں ان کی باتیں ہیں
ان کی باہوں میں سب سمندر ہیں
گیت دریا انہی کا گاتے ہیں
ان سے چلتی ہے عشق کی دنیا
شعر سب ان کی وارداتیں ہیں
آسماں ان کا اک تصور ہے
وقت بے چارہ ان کا نوکر ہے
ان کی ہر بات مے کا پیالہ ہے
ان سے ہر سمت پہ اجالا ہے
ان میں گزرے دنوں کا جادو ہے
ان میں آتی رُتوں کی خوشبو ہے
چاندنی ان میں دھوپ ان میں ہے
حسن کا سارا روپ ان میں ہے
دکھ کی گہرائیاں بھی ان میں ہیں
سکھ کی انگڑائیاں بھی ان میں ہیں
ان میں خوابوں کی وہ کتاب بھی ہے
دل کا ٹوٹا ہوا رباب بھی ہے
میری ساری خوشی انہی سے ہے
دل میں یہ روشنی انہی سے ہے
یہ جو گہری اُداس آنکھیں ہیں


زندگی کیا ہے۔۔۔

زندگی کیا ہے ان آنکھوں کی بشارت ہی تو ہے
ورنہ دنیا تو نرا گھپلہ ہے
شہر کیا شور و شغب مکر و ریا جھوٹ کی تصویریں ہیں
اک طرف جلتے ہوئے گھر ہیں
جہاں بچوں کی کمھلائی ہوئی چیخیں ہیں
خاک میں پھولوں کی مٹتی ہوئی تحریریں ہیں
دوسری سمت فصیلوں میں کہیں قید خوشی
جاں بلب ننگے بدن ہنستی ہے اک مفلس و قلاش ہنسی
کھوکھلی سنگدل اوباش ہنسی
اک طرف عرصۂ فرقت ہے محبت کی پرانی بستی
ہر گلی کوچے میں اشکوں کے نئے جھگڑے ہیں
دور تک آہوں کی پھیلی ہوئی جآ گیریں ہیں
دوسری سمت سیاست ہے
جہاں چھوٹی بڑی توندوں کا بدمست ہجوم
ریشمی سرخ لبادوں میں پڑی لاشوں پہ منڈلاتا ہے
سب کے ہاتھوں میں خوشامد کی چمکتی ہوئی شمشیریں ہیں
اک طرف خوابوں کے قصبہ میں
کوئی درد کا اک تارہ لئے روتا ہے
زرد رخساروں کے ویران دریچے کے قریب
اک دیا بچھڑے ہوئے گیت لئے سوتا ہے
دوسری سمت صداؤں کی نئی منڈی میں
گونگے الفاظ پہ الفاظ چڑھے بیٹھے ہیں
سب کے کانوں میں پڑی شور کی زنجیریں ہیں
اور اُس سمت ان آنکھوں میں نئی صبح کے آثار نظر آتے ہیں
روشنی کے لب و رخسار نظر آتے ہیں
اجنبی لوگ بھی دلدار نظر آتے ہیں
ہر نئی نظم مری اُس کی عنایت ہی تو ہے
زندگی کیا ہے ان آنکھوں کی بشارت ہی تو ہے


خوبصورت آشنا۔۔۔

خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام
زرد کلیاں سرخ شعلے سرد رات
اجلی سندر ساعتوں کی جاگتی پیشانیاں
قہقہوں کے ہاتھ پکڑے دور جاتی گھنٹیاں
خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام
مردہ خوابوں کے کفن بچھڑے ہوئے نغموں کے گھر
تازہ اشکوں کے علاقے بوڑھی آہوں کے دیار
خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام
دور تنہا وادیوں میں گیت گاتی ندّیاں
خواب گوں راہوں میں گھر کا راستہ بھولی ہوئی پگڈنڈیاں
خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام
خاک کے آنگن میں ہنستے کھیلتے تازہ گلاب
دھوپ کی شعلہ بیانی چاند کا شیریں کلام
خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام
بے حیا کوّوں کی باتیں نیک خو بارش کے گیت
رات کے قدموں کی آہٹ سُن کے روتی زرد شام
خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام
جنگجو شہروں کی گلیاں چیختی چلّاتی دھول
چاندنی میں گم مہکتے چاہتوں کے سرخ پھول
خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام
سبز پتّوں کو پکڑ کر چومتی عیاش دھوپ
بے سبب گلیوں میں دن بھر جھومتی اوباش دھوپ
خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام
آسماں کی جھیل میں بہتے ہوئے تاروں کے گیت
تتلیوں کے رنگ پہنے اڑتے گلزاروں کے گیت
خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام
گہرے نیلے پانیوں میں رقص کرتی کشتیاں
شام کے آنگن میں کھلتی نیم پاگل کھڑکیاں
خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام


خودغرض

چاہے شب بے نقاب ہو جائے
دن کی صورت خراب ہو جائے
آسماں چاہے صرف گالی ہو
یہ سمندر کا جام خالی ہو
چاہے پھولوں کے دل پریشاں ہوں
گاؤں برباد شہر ویراں ہوں
سارے دریا کہیں پہ کھو جائیں
چاند تارے یہ جا کے سو جائیں
سب شعاعیں سیاہ ہو جائیں
سارے نغمے تباہ ہو جائیں
حرف اڑ جائیں لفظ مر جائیں
پیڑ دنیا سے کوچ کر جائیں
قہقہے آنسوؤں کے ساتھ رہیں
راستے سارے خالی ہاتھ رہیں
تتلیاں کیکڑوں کی صورت ہوں
مکّھیاں حسن کی علامت ہوں
سب کتابیں جہاں سے اٹھ جائیں
فکر کے سب خزانے لُٹ جائیں
زندگی موت کی سیاہی ہو
ہر نئی سانس اک تباہی ہو
خانہ جنگی ہو یا بغاوت ہو
سب کو اک دوسرے سے نفرت ہو
صبح میں شام چاہے مدغم ہو
نظمِ کُل کائنات برہم ہو
وہ خدا ہو نہ یہ خدائی ہو
حاکم وقت چاہے نائی ہو
گرکے افلاک خاک ہو جائیں
کہکشاں جل کے راکھ ہو جائیں
بس مرا یار میرے ساتھ رہے
یونہی ہاتھوں میں اُس کا ہاتھ رہے


اور

اور ہم نے ایک دوسرے کو کھو دیا
بادل دور سمندر کی آغوش میں پڑے سوتے رہے
بلیاں برسرِ عام
ہم بستری کے حق میں پر تشدد مظاہرے کرتی رہیں
شہر گالم گلوچ میں مصروف رہے
پہاڑ احمقوں کی طرح کھڑے آسمان کا منہ تکتے رہے
دریا ڈھلانوں پر پھسلتے رہے
گاؤں لاپرواہی سے سر جھکائے اونگھتے رہے
کسی نے ہماری طرف توجہ نہیں دی
جیسے ناخن کو گوشت سے الگ کردیا جائے
وہ چیخ کسی نے نہیں سنی
کوئی دروازہ نہیں کھلا
بس
ایک چھوٹے سے پرندہ نے اس درد کو سمیٹ لیا
اور
ایک گیت بن کر ان خالی صفحات میں اڑنے لگا


سبا تینی سبا تینی

تری آنکھیں زمیں کی آخری سرحد کی نگراں ہیں
محبت کی نگہباں ہیں
سباتینی سباتینی [1]

سمندر کی جواں لہروں کا بہتا خواب ہیں دونوں
کسی کی جستجو میں رات دن بے تاب ہیں دونوں
مئے نایاب ہیں دونوں
سباتینی سباتینی

محبت کرنے والوں کی طرح ہر وقت لڑتی ہیں
کسی نوکیلے خنجر کی طرح سینہ میں گڑتی ہیں
سباتینی سباتینی

یہ گہرے پانیوں کا عکس بن کر مسکراتی ہیں
زمیں کی بندشوں کو بھول جاتی ہیں
سباتینی سباتینی

میں نیرودا [2] کی نظمیں لے کے تیرے پاس آیا ہوں
جنوبی ایشیا کے جنگلوں میں رہنے والے خواب لایا ہوں
سباتینی سباتینی

مرے پہلو میں اک دریا ہے
جس کا
مضطرب بے چین پانی تیری تصویر یں بناتا ہے
مٹاتا ہے
سباتینی سباتینی

یہ دل اک آئینہ ہے جس میں تجھ کو باندھ رکھا ہے
ترے ہونٹوں کو لاکھوں بار چکھا ہے
مگر یہ پیاس ہر دم آس
کا پیالہ لئے کہتی ہے وہ تو اک سمندر ہے
سباتینی سباتینی

مجھے تو یہ زمیں ٹینس کا کوئی بال لگتی ہے
تری آنکھوں کی کوئی چال لگتی ہے
سباتینی سباتینی

کسی پچھلے جنم میں ایسا لگتا ہے
میں تیرے ساتھ گھوما ہوں
اجالوں سے بھی اُجلے یہ لب و رخسار چومے ہیں
سباتینی سباتینی

تری باہوں میں زخمی بجلیوں کی داستانیں ہیں
ہواؤں کی کمانیں ہیں
سباتینی سباتینی

  1. ارجنٹائن کی ایک ٹینس کھلاڑی
  2. چلّی سے تعلق رکھنے والا ہسپانوی زبان کا مشہور شاعر

گھوڑا گلی میں ایک شام

جب دھوپ مر رہی تھی
شام آہیں بھر رہی تھی
گزرے ہوئے دنوں کے چہرے بجھے ہوئے تھے
آنکھیں دھواں دھواں تھیں
غنچے جلے ہوئے تھے
دور آسماں کے دل میں خنجر گڑے ہوئے تھے
ہر دن چلا گیا تھا ہر رات سو گئی تھی
ایسے میں تم نے آ کر اس دل کو گدگدایا
انجان مسرتوں نے دروازہ کھٹکھٹایا
برسوں کی وحشتوں کو اک دم قرار آیا
دیکھا تجھے تو ہر سو پھر سے بہار آئی
چہرہ تو جانتا ہوں کیا نام بھی وہی ہے
آنکھوں کو میرے دل سے کیا کام بھی وہی ہے
اے اجنبی شناسا
برسوں سے پھر رہا تھا میں اس طرح سے پیاسا
اے پہلی مسکراہٹ
تھوڑا سا دے دلاسہ
دیدے مجھے اجازت خود میں تجھے ملا لوں
اس بند کارخانے کا کام پھر چلا لوں


پانیوں کو جانے کیوں

پانیوں کو جانے کیوں
اس طرح کی جلدی ہے
یہ زمیں کے چہرہ پر
کس نے خاک مَل دی ہے


آفاق کے کنارے۔۔۔

سورج کے بہتے خوں سے گلنار ہو گئے ہیں
وہ دھوپ کی صراحی ٹوٹی ہوئی پڑی ہے
پھر شام کی سیاہی دہلیز پر کھڑی ہے
کیا رات ہو گئی ہے
ڈرتے تھے جس سے سارے
وہ بات ہو گئی ہے
مہجور وادیوں میں
متروک راستوں پر
گمنام جنگلوں میں
روتی ہوئی شعاعیں اک خواب بُن رہی ہیں
ظلمت کی داستاں کا اک باب سن رہی ہیں
تیری تلاش میں پھر نکلیں گے چاند تارے
مجھ سے نہ جانے کتنے پھرتے ہیں مارے مارے


یہ دل پاگل۔۔۔

یہ دل پاگل
سدا بے کل
نظر آتی ہے ہر بستی اسے جنگل
یہ دل پاگل
حسیں چہروں پہ مرنے کے لیے ہر وقت آمادہ
بظاہر دیکھنے میں ہے بہت بھولا بہت سادہ
دھڑکتا ہے بہت مدّھم بہت کومل
یہ دل پاگل
محبت کی کہانی میں ہمیشہ مرکزی کردار کرتا ہے
نہیں جو تھوکتا اس پر یہ اُس سے پیار کرتا ہے
ہمیشہ سے یہی گھاٹے کا کاروبار کرتا ہے
ازل سے ہے بچارہ عقل سے پیدل
یہ دل پاگل
نہ اس کی بھوک مٹتی ہے نہ اس کی پیاس مرتی ہے
جھپٹ کر کھولتا ہے ہر حسیں آنکھوں کا دروازہ
بھگتتا ہوں میں اس کے بعد خمیازہ
مرے اعصاب اس نے کر دئے ہیں شل
یہ دل پاگل
بہت شوقین ہے وحشت کدے آباد کرنے کا
نئی ہنستی ہوئی آبادیاں برباد کرنے کا
سدا گزرے ہوئے لمحوں کو بیٹھا یاد کرنے کا
کبھی ہنستا ہوا شعلہ کبھی روتا ہوا بادل
یہ دل پاگل
کبھی شفاف نیلی جھیل سی آنکھوں پہ روتا ہے
کبھی کالی سیہ آنکھوں کے نقشے یاد کرتا ہے
کبھی ہونٹوں کا پیمانہ کبھی نظروں سے یارانہ
اٹھا لیتا ہے مستی میں سُبو مل جائے یا بوتل
یہ دل پاگل


غزل

بہہ رہی ہے قریہ قریہ کو بکو
چاندنی کی نرم شیریں گفتگو

جس کو بارش کی کتابیں یاد تھیں
پیاس کے صحرا میں ہے وہ آبجو

تو نہیں ہے گر تو دل کو رات دن
مضطرب رکھتی ہے کس کی جستجو

کس کو آنکھیں ڈھونڈتی ہیں ہر طرف
پل رہی ہے دل میں کس کی آرزو

تجھ سے ملنے کا اگر امکاں نہیں
کیا کروں گا میں جہانِ رنگ و بو

میں گرا دوں گا یہ دیواریں تمام
بات ہو گی تجھ سے اک دن روبرو

کس کی خاطر ہے یہ ہنگامہ بپا
کون ہے وہ کس کے ہیں یہ کاخ و کو

اب جدائی کی شکایت کیا کروں
اب تو ہر جانب نظر آتا ہے تو

آؤ میرے دل کے سایہ میں رہو
دیکھ باہر چل رہی ہے تیز لُو

کھل کے ہو جاتا ہے وہ ہنستا گلاب
خوں سے کر لیتا ہے جو غنچہ وضو

تیرا اک خاکہ بنانے کے لئے
پی رہا ہے کب سے دل اپنا لہو

یوں تو سب پھولوں میں تیرا عکس ہے
کوئی بھی تجھ سا نہیں ہے ہو بہو


غزل

تجھ تک آنے کے لئے ہے یہ نشانی کافی
مسکراتے ہوئے اک شاخ پہ دو رنگ کے پھول

دیکھو یہ جوش نمو کیسی قیامت شے ہے
لب آہن پہ کھلا دیتی ہے یوں زنگ کے پھول

کوئی موسم ہو انہیں اس سے سروکار نہیں
ہنستے رہتے ہیں ہر اک حال میں یہ سنگ کے پھول

آئینہ دیکھ کے یوں ناز سے شرماؤ نہیں
دیکھنا اور بھی ہوں گے کہیں اس ڈھنگ کے پھول

چاہنے والوں کی یہ فوج بکھر جائے گی
خواب ہو جائیں گے اک روز یہ اورنگ کے پھول

صرف عارض کے گلابوں کا نہیں مجھ پہ طواف
چومنا فرض ہے میرے لئے ہر رنگ کے پھول

ان کے آنگن میں بھی بربادی سدا راج کرے
بوتے رہتے ہیں جو ہر وقت یہاں جنگ کے پھول

آؤ سب مل کے کریں موت کی ایسی تیسی
توڑتی رہتی ہے بیدرد یوں ہر رنگ کے پھول


غزل

اپنے گھر کو بھی کہیں آگ لگاتا ہے کوئی
دل میں رہنے کا نرالا ہے یہ دستور ترا

اور کیا تجھ سے محبت کا صلہ چاہے گا
ساری دنیا میں دوانہ ہوا مشہور ترا

وہ تو رہتا ہے کہیں تیرے رگ جاں کے قریب
اب بھی تو دور ہے اُس سے تو یہ مقدور ترا

کبھی تاروں کبھی پھولوں کی طرف جاتا ہوں
ہر طرف ڈھونڈ رہا ہوں رخ مستور ترا

تجھ پہ لاکھوں ہیں دل و جاں سے گزرنے والے
چاہنے والا ہر اک شخص ہے منصور ترا

دل ہے کم بخت یہ کہتے ہیں زمانے والے
میرے سینہ میں دھڑکتا ہے جو ناسور ترا

تو کہے گر تو جہنّم بھی ہے ہر وقت قبول
مجھ کو ہر فیصلہ اے دوست ہے منظور ترا

آسماں آ کے در سنگ پہ جھک جاتے ہیں
ایسے رہتا ہے زمانہ میں یہ مغرور ترا

جب سے دیکھا ہے تجھے چین نہیں دل کو نصیب
رات دن یونہی دھڑکتا ہے یہ مزدور ترا

تجھ کو پاکر بھی وہی زرد ہے رنگت اُس کی
اب بھی مغموم نظر آتا ہے مسرور ترا

میں نے گر ایک غزل بھی ترے ہونٹوں پہ لکھی
نام آفاق میں ہو جائے گا مشہور ترا

جانے کیا چیز نگاہوں سے پلا دیتا ہے
ہوش میں پھر نہیں آیا کوئی مخمور ترا

چاند تارے بھی اُسی وصف کے پیرائے ہیں
وہ جو کرتی ہے بیاں سورۂ النور ترا

چھوڑ اس بات پہ دن رات پریشاں رہنا
خود وہ کر دے گا کسی روز یہ دکھ دور ترا

ہر طرف بکھرے ہوئے درد کے افسانے ہیں
شہر کا شہر نظر آتا ہے مہجور ترا


غزل

چھوڑ کر وہ جہاں چلا آیا
تجھ سے ملنے یہاں چلا آیا

یہ تو سوداگروں کی بستی ہے
سوچتا ہوں کہاں چلا آیا

عقل مجھ کو نہیں خرید سکی
ہو کے میں بدگماں چلا آیا

بچھ گئی ہے زمیں ضیافت کو
کون یہ میہماں چلا آیا

پھر فضاؤں سے وجد برسے گا
پھر وہی نغمہ خواں چلا آیا

ڈھونڈنے کس کو ان خلاؤں میں
نور کا کارواں چلا آیا

کون یوں رات کے اندھیرے میں
لے کے یہ کہکشاں چلا آیا

پھر ستاروں کو کون پوچھے گا
گر مِرا مہرباں چلا آیا

کیوں زمیں اس طرح ہے گردش میں
کیوں یہاں آسماں چلا آیا

سُن کے شہرت تمہاری آنکھوں کی
حلقۂ میکشاں چلا آیا

دیکھتے رہ گئے وہ سب طوفاں
کھول کے بادباں چلا آیا

شرم سے سرخ ہو گئیں کلیاں
کون یہ درمیاں چلا آیا


غزل

عالمِ نزع میں اب تیرہ شبی لگتی ہے
آج سورج کی ہر اک بات کھری لگتی ہے

چاندنی حسن کا بازار لگا ہو گویا
مجھ کو یہ تاروں بھری رات بھلی لگتی ہے

ایک ٹوٹا ہوا پیمانہ لئے ہاتھوں میں
روز آتی ہے سحر روز نئی لگتی ہے

موت سے اب کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا
اب مجھے اس کی ہر اک بات بُری لگتی ہے

یہ جو مٹی سے نکلتے ہیں گلابی چہرے
اُسی فنکار کی سب کاریگری لگتی ہے

دن کی قسمت میں بس ایک یہی سورج ہے
جو سمجھتے ہیں انہیں رات غنی لگتی ہے

یہ جو ہر وقت یوں بولائے ہوئے پھرتے ہو
ہو نہ ہو یہ تو وہی دل کی لگی لگتی ہے

جسم و دل جس کے لئے سارے زمانے سے لڑے
اب اُسی بات پہ دونوں میں ٹھنی لگتی ہے

اب تو ہر شہر ترا شہر نظر آتا ہے
اب تو ہر ایک گلی تیری گلی لگتی ہے

دل کو کس کس سے کہاں تک میں بچائے رکھتا
ہر حسیں آنکھ یہاں جادو بھری لگتی ہے

دل کے جانے کا ہی خطرہ تھا مجھے پہلے پہل
عشق میں اب تو مِری جاں پہ بنی لگتی ہے

اس سے بڑھ کر کوئی تعریف بھلا کیا ہو گی
اچھی صورت ہے نگاہوں کو بھلی لگتی ہے

دل کی بے چینی تجھے پا کے ذرا کم نہ ہوئی
اب بھی دنیا میں کسی شے کی کمی لگتی ہے

سانس لینے میں جو اک لطف تھا باقی نہ رہا
زندگی اب فقط اک دردِ سری لگتی ہے

آپ چاہیں تو زمانہ کو بدل کر رکھ دیں
آپ کے ہاتھ میں جادو کی چھڑی لگتی ہے

شہر وحشت ابھی آباد رہے گا کچھ دن
ابھی قسمت میں مری دربدری لگتی ہے


غزل

دل میں پوشیدہ کیا خزینے ہیں
آنسو نکلے ہیں یا نگینے ہیں

آسماں تیری جھیل میں کب سے
روشنی کے رواں سفینے ہیں

جس پہ مرتے ہیں اس سے ڈرتے ہیں
چاہتوں کے عجب قرینے ہیں

تم بھی کچھ بے وفا سے لگتے ہو
دوست احباب بھی کمینے ہیں

جن کی اشکوں سے آبیاری کی
بیٹھ کر اب وہ زخم سینے میں

پھول ہنستے ہیں جب بھی آتے ہیں
خاک میں کس کے یہ دفینے ہیں

یا جدائی گراں تھی لمحوں کی
راہ میں یا کھڑے مہینے ہیں


غزل

تری نگاہ کا نیلم ترے لبوں کے عقیق
سوادِ غم میں سدا سے مرے جنوں کے رفیق

زمانہ اس لئے سب تجھ پہ جان دیتا ہے
تری نگاہ عنایت تری زبان خلیق

یہ آسمان کی ہم عصر نیلگوں آنکھیں
نظر ملائیں تو گہرے سمندروں سے عمیق

جو لوگ دور کھڑے ہم پہ مسکراتے ہیں
انہیں بھی حد سے گزرنے کی اب ملے توفیق

تری نگاہ بھی ناکام لوٹ جائے گی
کتاب عشق کا کھلتا ہے اب وہ باب دقیق

زمین ماں کی طرح سب سے پیار کرتی ہے
شفیق باپ سے بڑھ کر ہے آسمان شفیق


غزل

چاہنے والے خوب جیتے ہیں
زخم کھاتے ہیں اشک پیتے ہیں

تری یاد یں بھی ساتھ چھوڑ گئیں
ایسے لمحے بھی ہم پہ بیتے ہیں

ایسے لوگوں کی اب ضرورت ہے
وہ دلوں کے جو چاک سیتے ہیں

کیا عجب کھیل ہے محبت بھی
ہارنے والے لوگ جیتے ہیں

جب سے آنکھوں کی یہ دکان کھلی
رات دن ہم شراب پیتے ہیں

دل سے سب کو لگا کے رکھوں گا
آپ کے سارے غم چہیتے ہیں


غزل

بدل گیا ہے وہ فرسودہ عاشقی کا نظام
چُنا ہے مُجھ کو نئے عاشقوں نے اپنا امام

جہاں سے سیکھ کے آتے ہیں گفتگو دریا
وہیں سے مجھ پہ اتارا گیا یہ درد کلام

کھُلا ملا تھا وہ آنکھوں کا میکدہ شب بھر
نہ پوچھ کیسے چڑھائے ہیں ہم نے جام پہ جام

نہ ڈھنگ سے کبھی عقل و خِرد کی بات سنی
نہ اختیار کیا ہے رہِ جنوں کو تمام

جو ترے ذکر سے لمحوں کا پیٹ بھرتے ہیں
اُن احمقوں میں نمایاں کھڑا ہے اب مرا نام

اب آ کے بات کرے ہم سے وصل کا سورج
بہت سنا ہے شبِ ہجر کا سیاہ کلام

جو دھوپ بن کے مری زندگی میں پھیل گئی
ہمیشہ دل میں رہے گا اب اُس نظر کا قیام

جہاں پہ دل میں بھڑکتے تھے آگ کے شعلے
وہاں سے دور نہ تھا آنسوؤں کا صدر مقام


غزل

اب آسمان کے آگے نہ ہاتھ پھیلانا
زمیں کے حسن کی خود پاسبان ہے مٹی

کہیں گلاب سے چہروں کو روند ڈالا ہے
کہیں پہ ماں کی طرح مہربان ہے مٹی

کوئی بھی آئے سکندر ہو یا قلندر ہو
ہر اک کے واسطے جائے امان ہے مٹی

زمانہ چھین سکا ہے نہ اس کی شادابی
اُسی طرح سے ابھی تک جوان ہے مٹی

کوئی بھی آ کے یہاں سے کہیں نہیں جاتا
عجیب جادو بھری داستان ہے مٹی

نکل کے اس سے میں باہر قدم نہ رکھّوں گا
مری زمین میرا آسمان ہے مٹی

خموش ہو گئے وہ ساز وہ جلال و جمال
اب اُن دنوں کی فقط ترجمان ہے مٹی

جو آسمان سے نیچے قدم نہ رکھتے تھے
اب اُن ستاروں کا نام و نشان ہے مٹی

قدم قدم پہ یہاں بستیاں ہیں پھولوں کی
حسین لوگوں کی اک ایسی کان ہے مٹی

کسی کے دور کے جلوؤں سے مجھ کو کیا لینا
مرا یقین ہے مرا گمان ہے مٹی

یہ گفتگو کا سلیقہ مجھے اسی سے ملا
دُکھی دلوں کی ازل سے زبان ہے مٹی

کھلا ہوا ہے ہر اک کے لئے یہ دروازہ
ہو میہمان کوئی میزبان ہے مٹی


غزل

ہے سمندر کہیں چلّاتی ہوا ہے پانی
کہیں دریا ہے کہیں اڑتی گھٹا ہے پانی

اُس کے رخساروں میں بن جاتا ہے یہ سرخ گلاب
جلتی آہوں کی مرے دل میں چتا ہے پانی

کہیں شاداب درختوں کا نیا سبز لباس
آسمانوں کی کہیں نیلی ردا ہے پانی

سرخ پھولوں کے نئے شہر ہوئے ہیں آباد
خاک سے جب بھی یہاں آ کے ملا ہے پانی

اس کی فرقت میں بیابانوں کے گھر جاگتے ہیں
جانے کیا بات ہے کیوں ان سے خفا ہے پانی

جس سے ملتا ہے اُسی رنگ میں ڈھل جاتا ہے
کہیں نغمہ ہے کہیں ناز و ادا ہے پانی

تازہ اشکوں کی روایات گواہی دیں گی
آگ سے کس نے کہا ہے کہ جد اہے پانی

ٹوٹ پڑتا ہے کہیں قہر و غضب کی صورت
پیار ہے بس کہیں تسلیم و رضا ہے پانی

اب وہی پیڑ بنے سر پہ چڑھے جاتے ہیں
میں نے جن پودوں کو دن رات دیا ہے پانی

یوں تو ریشم کی طرح پاؤں میں بچھ جاتا ہے
گر بپھر جائے تو پھر ایک بلا ہے پانی

گنگناتا ہے کہیں ناز سے بل کھاتا ہے
کس سے ملنے کے لئے گھر سے چلا ہے پانی

ا س کی رگ رگ میں ترا عکس نظر آتا ہے
بس شب و روز تری حمد و ثنا ہے پانی

پیاسے ہونٹوں سے کبھی اس کی حقیقت نہ کھُلی
بددعا ہے تو کبھی حرفِ دعا ہے پانی

گردش وقت سے تصویر نہ یہ دھندلائی
جب بھی ملتا ہے تو لگتا ہے نیا ہے پانی

اپنی تخلیق کے اس حال پہ روتا ہوگا
گر نہیں اشک تو کیا اور بتا ہے پانی

اُس کو پانے کے لئے خود کو مٹانا ہوگا
جان پر کھیل کے گلزار بنا ہے پانی

جا کے افلاک سے ہر بار پلٹ آتا ہے
خاک پر ایسے دل و جاں سے فدا ہے پانی

شہر کے شہر اٹھے اس کی سواگت کے لئے
جب کسی سمت محبت سے بڑھا ہے پانی


غزل

بارشوں کے گھر بساتے ہیں پرندے اور درخت
دھوپ کی قلمیں لگاتے ہیں پرندے اور درخت

چلتے چلتے ہر قدم پر لڑکھڑا جاتا ہوں میں
مجھ کو گرنے سے بچاتے ہیں پرندے اور درخت

کاغذی چہروں سے میری شاعری کو کیا غرض
میرے سارے گیت گاتے ہیں پرندے اور درخت

زندگی بے چین ہے دنیا سے جانے کے لئے
یہ تو اُس کا دل بڑھاتے ہیں پرندے اور درخت

سارے تنہائی کے قصّے بھول جاتا ہے یہ دل
محفلیں ایسی سجاتے ہیں پرندے اور درخت

آؤ کھل کر تم بھی اپنی داستانِ غم کہو
ہر کسی کا غم بٹاتے ہیں پرندے اور درخت

گنگناتے سرخ نغمے لہلہاتے سبز رنگ
خاک سے کیا کیا اٹھاتے ہیں پرندے اور درخت

کچھ نہیں کرتا میں ان کی میزبانی کے لئے
اپنے موسم ساتھ لاتے ہیں پرندے اور درخت

جب ہواؤں کو سناتا ہوں کوئی تازہ کلام
ساتھ میرے گنگناتے ہیں پرندے اور درخت

یہ ہوا بے چین پھرتی ہے یہاں کس کے لئے
بات کیا سب سے چھپاتے ہیں پرندے اور درخت

جب سے یادوں میں کھلی رکھی ہے دریا کی کتاب
روز اُس کو پڑھنے آتے ہیں پرندے اور درخت

وہ جو پہلی بار میں نے آنکھ کھولی تھی وہاں
یاد وہ منظر دلاتے ہیں پرندے اور درخت

خود سے کتنی بار میں ان راستوں میں گم ہوا
جا کے مجھ کو ڈھونڈ لاتے ہیں پرندے اور درخت


غزل

گھر کے باہر گھر کے اندر جو بھی ہو
دیکھتی ہیں سب بچاری کھڑکیاں

دھوپ میں کرتی ہیں شامل چاندنی
ایسی دیکھی ہیں لکھاری کھڑکیاں

جن سے آتی ہے دلوں میں روشنی
ہم نے کھولی ہیں وہ ساری کھڑکیاں

دھوپ کے آنگن میں کھلتی ہیں تمام
جانتا ہوں میں تمہاری کھڑکیاں

چاند ہو سورج ہو یا بادِ نسیم
ہار جاتی ہیں کنواری کھڑکیاں

بند رکھنا ان کا اب ممکن نہیں
کھول دو آ کر ہماری کھڑکیاں

ہاتھ پھیلائے کھڑی ہیں سامنے
یہ ہمیشہ سے بھکاری کھڑکیاں

لوٹ جاتی ہے جنہیں چھوکر صبا
ہائے وہ قسمت کی ماری کھڑکیاں

لطف اٹھا لیتے ہیں دروازے تمام
کرتی ہیں دن رات خواری کھڑکیاں

مجھ کو لے جاتی ہیں خوابوں کے نگر
اس لئے لگتی ہیں پیاری کھڑکیاں


غزل

شہر کی اس تنگ دامانی سے یہ دل تنگ ہے
مجھ کو رہنے کے لئے چھوٹا سا کوئی گاؤں دے

اب تو اس بستی پہ نازل موسموں کا قہر ہو
گرمیوں میں دھوپ ایسی سردیوں میں چھاؤں دے

یہ تو ہر رستے پہ چلنے کے لئے تیار ہیں
جو فقط تیری طرف اٹھیں مجھے وہ پاؤں دے

ہم تمہارے ہیں ہمیں اس بات سے مطلب نہیں
آنسوؤں کے شہر دے یا قہقہوں کے گاؤں دے


غزل

جس کو اپنانے میں اک عرصہ لگا
اجنبی ہونے میں بس لمحہ لگا

لوگ تو پہلے سے تھے ناآشنا
آج آئینہ بھی بیگانہ لگا

اس لئے دل میں بلایا ہے تجھے
اپنا اپنا سا تیرا چہرہ لگا

ٹھیک ہے سب کچھ مگر اس کے بغیر
یہ جہاں مجھ کو تو ویرانہ لگا

سہمی سہمی جا رہی ہے چاندنی
پیچھے پیچھے ہے وہی لڑکا لگا

سب کو دریا کے حوالہ کر دیا
پھر کنارہ سے سفینہ آ لگا

پہلے صحرا پر ہوا گھر کا گماں
رفتہ رفتہ گھر بھی اک صحرا لگا

کب اٹھا لے ہاتھ سر سے آسماں
ہے زمیں کو رات دن دھڑکا لگا

اس قدر کھائے ہیں وعدوں سے فریب
اب ترا آنا بھی اک دھوکہ لگا

بارشوں کے بعد اُجلا آسماں
تیری آنکھوں میں بہت اچھا لگا

دیکھنے والوں کی حالت غیر ہے
اور ان آنکھوں میں مت سرمہ لگا

حسن ہو تو چاہنے والے بہت
عاشقوں کا ہے یہاں میلہ لگا

وہ جو پھولوں سے بھی نازک ہے اُسے
چومنے میں جان کا خطرہ لگا

چاندنی کے دیس سے آیا ہوا
اجنبی تھا وہ مگر اپنا لگا

اتنی آہیں اتنے آنسو چل بسے
اس محبت پر بڑا پیسہ لگا

عمر بھر کی ناتمامی کا صلہ
ہے یہ اُس کو دیکھ کے ایسا لگا


غزل

نہیں قبول مجھے آفتاب کی مرضی
مری زمیں پہ چلے گی جناب کی مرضی

یہ خودکشی نہیں تاثیر ہے محبت کی
خود اپنا خون کرے گر گلاب کی مرضی

اٹھا کے رات کی باہوں میں اُس کو ڈال دیا
کسی نے پوچھی نہیں ماہتاب کی مرضی

ہر ایک لفظ مقفل ہر ایک حرف خموش
کسی پہ کیسے کھلے دل کتاب کی مرضی

ہمیں تو پینے سے مطلب ہے خوب پیتے ہیں
اثر کرے نہ کرے اب شراب کی مرضی

سب آسمان و زمیں درد سے ہوئے بوجھل
فضا میں پھیل گئی ہے رباب کی مرضی

ہمیشہ دل کے خیالات کی حمایت کی
کبھی نہ مانی گناہ و ثواب کی مرضی


غزل

یہاں ہر وقت یہ میلہ رہے گا
مگر یہ دل یونہی تنہا رہے گا

جلیں گے جب تلک یہ چاند تارے
ہمارے عشق کا چرچا رہے گا

یہ دل بھی ڈوب جائے گا کسی دن
چڑھا جب حُسن کا دریا رہے گا

خلاؤں میں زمیں گم ہو گئی ہے
اکیلا آسماں روتا رہے گا

تجھے یوں بھولنا ممکن نہیں ہے
ابھی دل میں تِرا سودا رہے گا

خوشی کی لاش کاندھوں پر اٹھائے
یہ دکھ کا کارواں چلتا رہے گا

ترے آنے کی کیا خوشیاں منائیں
لگا جانے کا جب دھڑکا رہے گا


غزل

محبت پر یہاں پہرہ رہے گا
تو اس دنیا میں کوئی کیا رہے گا

تری محفل سے اٹھ کر جا رہے ہیں
نہ ہم ہوں گے نہ یہ جھگڑا رہے گا

رہے آنکھوں کی یہ جوڑی سلامت
ہمیشہ دل میں یہ مجمع رہے گا

بچھڑنا تیرا ایسا سانحہ ہے
سدا ہونٹوں پہ یہ قصّہ رہے گا

سدا اغیار کی باتیں سنیں گے
سدا احباب سے ملنا رہے گا

نہیں ہے وہ تو اُس کو بھول جاؤ
کہاں تک ہاتھ یوں ملتا رہے گا

تمہارا خوبصورت ہنستا چہرہ
مرا قبلہ مرا کعبہ رہے گا

اگر اس کے یہی لچھّن رہیں گے
تو دل کا حال یہ ہوتا رہے گا

نہ یہ جنگل نہ یہ صحرا رہیں گے
یہاں باقی ترا چہرہ رہے گا

ملیں گے خاک میں سب پست و بالا
تمہارا نام بس اونچا رہے گا


غزل

انتا ہوں میں یہ سورج کا دیا بجھ جائے گا
ہر طرف پھر رات کا آنچل کوئی لہرائے گا

پھر مرے دل میں کھلیں گے زرد لمحوں کے گلاب
بے طرح پھر سے وہی ظالم مجھے یاد آئے گا

آسمانوں سے پرے منزل بلاتی ہے کوئی
تو مجھے کب تک یہاں اس خاک میں بہلائے گا

دل کو ان باتوں سے کوئی فرق تو پڑتا نہیں
شوق سے کل پھر وہاں جائے گا جوتے کھائے گا

ٹوٹ کر آیا ہے اس ظالم یہ کہتے ہیں شباب
اب تو اُس کو دیکھ کے دل اور بھی للچائے گا

ہر حسیں چہرہ پہ مر مٹنے کی عادت چھوڑ دے
دل کو لیکن کیسے کوئی بات یہ سمجھائے گا

وصل کا یہ لمحہ دل میں باندھ رکھوں گا کہیں
پھر ابد تک یہ مری تنہائیاں مہکائے گا

میری آنکھیں بند ہونے کا ہے شاید منتظر
رات دن پھر گیت میرے یہ زمانہ گائے گا

تجھ سے کج رفتار پہلے بھی کئی آئے گئے
آسماں اک روز تیرا دور بھی لد جائے گا


غزل

دل کہاں جائے بچارہ زندگی مشکل میں ہے
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

چاہنے والے پریشاں ہیں کہ کس کا ساتھ دیں
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

اس لئے دل چسپ لگتی ہے محبت کی کتاب
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

خود کو پاگل پن سے کیسے دور رکھ سکتا ہوں میں
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

مجھ پہ تیرے حُسن کا سب راز آخر کھل گیا
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

جانے اس کم بخت دل کو اور اب کیا چاہئے
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

تیرا چہرہ حیرتوں کا اک طلسمی باب ہے
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

تیرے ہونے کا یہاں کیا اور مانگیں گے ثبوت
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ


غزل

چاند تارے ناچتے ہیں دف بجا کر خواب میں
یوں وہ سینہ سے لگا ہے مسکرا کر خواب میں

جاگتے میں جس کو چھونا بھی نہیں ممکن مجھے
چوم لیتا ہوں میں اُس کو روز جا کر خواب میں

کیسی کیسی اونچی دیواروں کا پہرہ توڑ کر
اُس کو لایا ہوں زبردستی اٹھا کر خواب میں

وہ جو دن کی روشنی میں سامنے آتا نہیں
بیٹھ جاتا ہے وہ میرے ساتھ آ کر خواب میں

اب نہیں اٹھے گی اس جانب کوئی میلی نظر
میں نے رکھا ہے اُسے سب سے چھپا کر خواب میں

آنسوؤں کی داستانیں قہقہوں کے رتجگے
سب کہوں گا تجھ سے پہلو میں بٹھا کر خواب میں

نیند سے رہتا ہوں میں دست و گریباں رات دن
جب چلا جاتا ہے تو صورت دکھا کر خواب میں

دو قدم بھی ساتھ چلنے سے جو گھبراتا تھا میں
آج اُسے لایا ہوں باتوں میں لگا کر خواب میں

تجھ سے کب کہتا ہوں ظالم ساتھ رہنے کے لئے
یونہی آ کے ایک دو بوسے دیا کر خواب میں

جس کی جانب دیکھنا بھی ان دنوں ممنوع ہے
اس کو میں ہر رات لاتا ہوں بھگا کر خواب میں

وہ جو کوشش سے بھی ہونٹوں پر کبھی آتی نہیں
قید سے اُن ساری باتوں کو رِہا کر خواب میں

دن میں جن سے بات کرنے کی تجھے مہلت نہیں
ایک دو پل کے لئے اُن سے ملا کر خواب میں

جس سے ملنے کا کوئی امکاں کوئی صورت نہ ہو
اُس کو لے آتا ہوں میں اپنا بنا کر خواب میں

جانے کیسے دھول وہ آنکھوں میں سب کی جھونک کر
ہونٹ رکھ دیتا ہے ان ہونٹوں پہ آ کر خواب میں

صبح دم ظالم سے جا کر داد کا طالب ہوا
رات اُس کو یہ غزل اپنی سنا کر خواب میں


غزل

سوال ایک تھا لیکن ملے جواب بہت
پڑھی ہے میں نے محبت کی یہ کتاب بہت

گئی بہار تو پھر کون حال پوچھے گا
کرو نہ چاہنے والوں سے اجتناب بہت

یہ آسمان و زمیں سب تمہیں مبارک ہوں
مرے لئے ہے یہ ٹوٹا ہوا رباب بہت

یہاں پہ دیکھو ذرا احتیاط سے رہنا
ملے ہیں پہلے بھی اس خاک میں گلاب بہت

میں جانتا ہوں انہیں وقت کے حواری ہیں
جو لوگ خود کو سمجھتے ہیں کامیاب بہت

رہِ جنوں میں اکیلا نہیں میں خوار و زبوں
مری طرح سے ہوئے ہیں یہاں خراب بہت

کسی نے کاسۂ سائل میں کچھ نہیں ڈالا
سمندروں سے میں کرتا رہا خطاب بہت

کھلی ہوئی ہیں دکانیں کئی نگاہوں کی
طلب ہو دل میں تو پینے کو ہے شراب بہت

خدا کرے وہ مرا آفتاب آ نکلے
دلوں میں آگ لگاتا ہے ماہتاب بہت

سنا کے قصّہ تمہیں کس لئے اداس کریں
کہ ہم پہ ٹوٹے ہیں اس طرح کے عذاب بہت

تلاشِ یار میں نکلے تھے جاں سے ہار گئے
خبر نہ تھی کہ وہ ظالم ہے دیر یاب بہت

کبھی وہ بھول کے بھی اس طرف نہیں آیا
اگر چہ آتے ہیں آنکھوں میں اُس کے خواب بہت

اسی لئے ترے کوچہ میں اب وہ بھیڑ نہیں
کہ لطف کم ہے تری آنکھ میں عتاب بہت

یہاں رہے گا ترے اقتدار کو خطرہ
کہ آتے رہتے ہیں اس دل میں انقلاب بہت

کسی کو بھیج کے احوال تو کیا معلوم
مرے لئے تو یہی لطف ہے جناب بہت


غزل

میں سوچتا تھا کسی دن تجھے بھلا دوں گا
یہ انتظار کے سارے دئے بجھا دوں گا

تمہارے بعد بھی رونق لگی ہوئی ہے یہاں
ذلیل شہر کو اب آگ میں لگا دوں گا

ہمیشہ آتے ہیں اس سے مری زمیں پہ عذاب
اس آسماں کو یہاں سے کہیں ہٹا دوں گا

ہمارے بیچ زمانہ اگر کبھی آیا
یہاں پہ خون کی میں ندیاں بہا دوں گا

دھواں یہ دھول یہ ہر سمت منہ بسورتے لوگ
تمہیں یہاں سے میں جانے کا مشورہ دوں گا

غرور حسن تمہارا ہو یا انا میری
یہ ساری بیچ کی دیواریں میں گرا دوں گا

مری طرح سے اُسے تم بھی بھول جاؤ گے
ملول مت ہو وہ نسخہ تمہیں بتا دوں گا

یہ دل کی ساری زمیں اب تری امانت ہے
یہاں جو نقش ہیں تیرے سوا مٹا دوں گا

تری تلاش رہے گی میں اب رہوں نہ رہوں
حدودِ جاں سے نکل کر تجھے صدا دوں گا

نہیں سنوں گا میں اس دل کی اور بات کوئی
گراب یہ بولا تو اُس کا گلا دبا دوں گا

یہ خود سے آگ میں جلنا ہے سوچ لو پیارے
میں شاعری کے طریقے تمہیں سکھا دوں گا

فقیرِ حُسن ہوں کچھ دے دلا کے رخصت کر
ہر ایک بوسہ پہ دل کھول کے دعا دوں گا


غزل

چھپا ملا تھا جو اک خواب کی رداؤں میں
وہ شہر میں نظر آیا کہیں نہ گاؤں میں

الم نصیبو! یہ دکھ سارے بھول جاؤ گے
بڑا سکوں ہے محبت کی ٹھنڈی چھاؤں میں

کہیں پہ دھوپ میں صورت تری نظر آئی
جھلک ملی ہے کبھی بھاگتی گھٹاؤں میں

نہ اب وہ گالوں میں ہنستے ہوئے گلاب رہے
نہ اب وہ کاٹ رہی ہے تری اداؤں میں

مری طرح کے جنوں پیشہ بھی ہوئے نایاب
تری طرح بھی نہیں کوئی دلرباؤں میں

یہ کس نے شہر میں تنہائیاں بچھا دی ہیں
یہ کس کو ڈھونڈنے آئے ہیں لوگ گاؤں میں

خود اٹھ کے ساتھ چلا آئے وصل کا سورج
ہو کوئی بات بھی اب ہجر کی دعاؤں میں

ملا ہے آج جو اک اجنبی کی صورت میں
یہ شخص تھا کبھی اس دل کے آشناؤں میں

ذلیل کر کے جنہیں آپ نے نکال دیا
وہ اپنا نام چلے لکھنے پارساؤں میں


غزل

دریاؤں کی گپ شپ کا نشہ ایسا چڑھا ہے
سنتا نہیں اب کوئی سمندر کی کہانی

لے ڈوبی یہ سورج سے ملاقات کی خواہش
دو پل میں ہوئی ختم گلِ تر کی کہانی

یہ ہنستی حکایت تو زمانہ کے لئے ہے
تم آؤ سنو اب مرے اندر کی کہانی

یوں ناز سے اس خاک پہ چلنا نہیں اچھا
تم نے بھی سُنی ہو گی سکندر کی کہانی

مہتاب کی وادی سے نئے پھول چرا کر
لکھوں گا کسی دن رخ انور کی کہانی

تاریخ ہے اک چشمِ جفا کار کی یارو
تلوار کا قصّہ ہے نہ خنجر کی کہانی

شاہوں سے کبھی کوئی تعلق نہیں رکھا
لکھی ہے ہمیشہ دل ابتر کی کہانی

دنیا میں حسینوں کی کمی اب بھی نہیں ہے
لکھی ہے ہمیشہ اسی دلبر کی کہانی

کب تک یہ زمیں گھومے گی اس طرح خلا میں
کب تک میں سناؤں گا ستمگر کی کہانی

پاگل ہوا جس کے لئے اک رات سمندر
لکھنی ہے اُسی چاند سے پیکر کی کہانی

سننی ہے تو اس فن میں قلم طاق ہے میرا
شعلوں کی زباں میں کسی اخگر کی کہانی

دل کیسے ہوا سُن کے یہ آمادۂ وحشت
صحرا کا بیاں ہے نہ مرے گھر کی کہانی

جیتے ہوئے لوگوں نے کیا اور بھی مایوس
سنتا کسی ہارے ہوئے لشکر کی کہانی


غزل

مٹی سے اٹھا کر مجھے خورشید بنایا
گو اہل نہ تھی اس کی کسی طور مری خاک

تم روزِ ازل دے کے وچن بھول گئے ہو
سہتی ہے ابھی تک ستم و جور مری خاک

اس قید کی لعنت سے نکل جاؤں کسی طور
دن رات لگاتی ہے بڑا زور مری خاک

یہ وسعتِ افلاک تو میں ناپ چکا ہوں
اب ڈھونڈنے جائے گی کہاں اور میری خاک

یوں خاک میں تنہا وہ مجھے چھوڑ گیا ہے
اس بات یہ کرتی ہے بہت شور مری خاک

دیکھا ہے یہاں چاروں طرف ایک خلا ہے
حیراں ہوں میں اب جائے گی کس اور مری خاک

یہ پیار سے تکتی ہوئی آنکھیں نہ رہیں گی
آ جاؤ کہ پہنچی ہے لبِ گور مری خاک

تو تازہ جہانوں میں کہیں اپنے مگن ہے
پھرتی ہے یہاں اب بھی کریکور* مری خاک

میں کس کے لئے گھر سے یہاں دور پڑا ہوں
کرتی نہیں اس بات پہ کیوں غور مری خاک

جب چاروں طرف تیرے سوا کوئی نہیں تھا
پھر ڈھونڈتی پھرتی ہے وہی دور مری خاک

مجبور ہے مقہور ہے مردود ہے لیکن
ہاتھوں سے نہ چھوڑے گی تری ڈور مری خاک

واں سے تو دیا تو نے مجھے دیس نکالا
اب یاں سے نہ لے جائے کوئی چور مری خاک

یوں میری نگاہوں سے اگر دور رہو گے
اس طرح تو بھٹکے گی یہاں اور مری خاک

آوارہ ستاروں کی طرح کیسے رہوں گا
پابندِ محبت ہے بہر طور مری خاک

بادل سے سنوں گا کوئی بارش کی کہانی
ہو جائے گی پھر اُس سے شرابور مری خاک

میں رفعتِ افلاک سے مرعوب نہیں ہوں
کنعاں ہے مدائن ہے کہیں ثور مری خاک

  • کَرِیکور پشتو لفظ ہے جس کا مطلب ہے در بدر

غزل

نکلو گے مرے دل سے تو جل جاؤ گے فوراً
اس دھوپ کی بستی میں کہاں چاند کا مسکن

تم اٹھ کے ستاروں سے کہاں لڑنے چلے ہو
میں نے تو کہی تھی فقط اک بات مذاقاً

جس بات پہ کل دیدہ و دل ایک ہوئے تھے
دونوں میں ہوئی آج اُسی بات پہ اَن بَن

دنیا میں بھی اب چین سے رہنے نہیں دیتا
جنّت سے بھی اک روز نکالا مجھے جبراً

آنکھوں سے نہ ہونٹوں سے نہ ہاتھوں سے کھُلا تو
سورج کا ہے دالان کہ مہتاب کا آنگن

مل جائے گا آ جاؤ تمہیں بھی کوئی گوشہ
دل اتنی تمنّاؤں کا پہلے سے ہے مدفن

تاروں کی طرح آؤ کرو تم بھی تماشہ
پھر رات ہوئی آیا ہے پھر درد پہ جوبن

یہ سوچ کے اب کوئی شکایت نہیں کرتا
دنیا میں محبت پہ ہمیشہ سے ہے قدغن

اب آ کے ترے سامنے مبہوت کھڑا ہوں
حیراں ہوں میں انگشت بدنداں ہے مرا فن

مشکل ہے بتانا بھی چھپانا بھی ہے مشکل
ٹوٹا ہے کچھ اس طور سے وہ پیار کا بندھن

اس دل کا کوئی ٹھیک نہیں اتنا نہ پھولو
تم پر بھی کسی روز چڑھا لائے گا سو تن

معلوم ہے اب سارے زمانہ کو پتہ ہے
ہاں تم سے تو کہتا نہیں یہ بات میں قصداً

میں نے بھی بہت اچھی طرح سوچ لیا ہے
اب تم پہ لُٹا دوں گا کسی روز یہ تن من

یہ سارا تو اک عمرِ گذشتہ کا ہے قصہ
اب اُس سے مرا کوئی تعلق نہیں قطعاً

رو رو کے اُسے ہم نے کئی بار بلایا
پھر لوٹ کے آیا نہیں اک بار بھی بچپن

مجھ پر وہ کبھی جان کے یہ ظلم نہ کرتا
معلوم ہے مجھ کو وہ بڑا نیک ہے طبعاً


غزل

تمہارے لئے دل میں اب بھی جگہ ہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیا خبر
ابھی مجھ پہ طاری وہی اک نشہ ہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیا خبر

تمہیں قہقہوں کی کہانی سے مطلب ہے ہنستے رہو گے
کہاں آنسوؤں کا چلا قافلہ ہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیا خبر

کوئی آسماں پر ستاروں کی شمعیں لئے منتظر ہے
اکیلا نہ جانے وہ کب سے کھڑا ہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیا خبر

ہر اک سانس میری شرابور آتی ہے خوشبو میں تیری
یہ کیسی جدائی یہ کیا فاصلہ ہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیا خبر

زمیں آسماں جیل خانہ ہے تیرا میں سب جانتا ہوں
یہ جینا نہیں ہے فقط اک سزا ہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیا خبر ہے

اذیت کے صحرا میں جل کر بھسم ہو گئی روح میری
کوئی شعر جب مجھ پہ نازل ہوا ہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیا خبر

یہ سورج یہ سب چاند تارے پہنچ کے وہاں کھو گئے ہیں
مرے دل میں اتنا بڑا اک خلا ہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیا خبر

کہاں جائیں کس سے شکستہ دلی کو دلاسہ ملے گا
کہ دشمن یہاں ساری آب و ہوا ہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیا خبر

زمانہ کے پہلو میں چلتے ہوئے تم نے دیکھا نہیں اس طرف
ابھی تک مرے دل میں اسکا گلہ ہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیا خبر


غزل

بھولے سے بھی آئے نہ کوئی چاہنے والا
اس شہر میں ہے حسن کا دستور نرالا

اک رات کی دہشت کا ٹھکانہ ہے مرا دل
تم ڈھونڈنے آئے ہو کہاں دن کا اجالا

میرا تو چلو ٹھیک ہے مجرم ہوں تمہارا
ان چاند ستاروں کو یہاں کس نے اچھالا

اس طرح سے ٹوٹیں گے اگر روز یہاں دل
نکلے گا بہت جلد محبت کا دِوالہ

کرتے ہیں بہت آپ حسینوں کی وکالت
اے کاش! پڑے ان سے کبھی آپ کو پالا

بس دل پہ حکومت کا طریقہ اسے آئے
محبوب حقیقت میں نہ گورا ہے نہ کالا

ممکن ہی نہ تھی اور ترے ناز کی تردید
میں نے تو بہت چاہا بہت دل کو سنبھالا

نظموں سے تو کھنچتی نہیں اس حسن کی تصویر
لکھوں گا اب اس پر کوئی پُر زور مقالہ

یہ سبزۂ خط حسن کی تنسیخ نہیں ہے
دیکھا نہیں کیا تم نے کبھی چاند کا ہالہ

اس طرح سے رو رو کے نہ کر عشق کی تذلیل
اب جا کے کسی روز اسے گھر سے اٹھا لا

دل اٹھ کے ہر اک پیاس کی تردید کرے گا
آئے گا جہاں بھی ترے ہونٹوں کا حوالہ

اب لوٹ کے آنا وہاں اچھا نہیں لگتا
جس گھر سے مجھے تو نے ہے اس طرح نکالا

لگتا ہے یہ دل اب بھی تجھے بھولا نہیں ہے
نکلا ہے تری یاد میں اک اور رسالہ

پھر اٹھ کے یہاں سے وہ کہیں جا نہیں سکتا
اک بار جو ہونٹوں سے لگا لے یہ پیالہ

اس طرح گنوا ڈالو گے ہر ایک کی توقیر
ہر ایک کی خدمت میں نہ آداب بجا لا


غزل

احمق ہیں جو کہتے ہیں محبت کی جگہ ہے
دنیا تو فقط اہلِ تجارت کی جگہ ہے

فرعونوں کی بستی ہے یہاں دب کے نہ رہنا
نخوت کی تکبّر کی رعونت کی جگہ ہے

ظاہر ہے یہاں تم بھی کبھی خوش نہ رہو گے
اک درد کا مسکن ہے اذیّت کی جگہ ہے

آسانی سے ملتی نہیں جینے کی اجازت
پھر سوچ لو دنیا بڑی ہمّت کی جگہ ہے

اس شہر میں تم خوار و پریشان پھرو گے
یہ لوگ کمینے ہیں رِذالت کی جگہ ہے

اے دل تجھے اک بوسہ بھی مشکل سے ملے گا
یہ حسن کا بازار ہے دولت کی جگہ ہے

یہ سوچ کے خاموشی سے ہر ظلم سہا ہے
اپنوں سے نہ غیروں سے شکایت کی جگہ ہے

خود اپنی ہی مخلوق کو برباد کرو گے
افسوس کی یہ بات ہے حیرت کی جگہ ہے

دل میرا کسی حال میں خوش رہ نہیں سکتا
جلوت کا مکاں ہے نہ یہ خلوت کی جگہ ہے

راحت کا یہاں کوئی تصور نہیں ملتا
معلوم ہے سب کو یہ مصیبت کی جگہ ہے

انجام کا سوچو گے تو بے چین پھرو گے
آرام سے سو جاؤ یہ غفلت کی جگہ ہے

پاگل ہو جو کرتے ہو یہاں عشق کی تلقین
دنیا تو ہر اک شخص سے نفرت کی جگہ ہے

جاتے ہوئے کہتے ہیں ہر اک بار پرندے
کچھ شرم کرو یہ بھی سکونت کی جگہ ہے

بس شرط ہے یہ دل میں محبت ہو کسی کی
صحرا ہی نہیں شہر بھی وحشت کی جگہ ہے

جانے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں اب
دیکھو یہ زمیں کیسی قیامت کی جگہ ہے

آئے ہو تو جاؤ گے یہاں بچ نہ سکو گے
یہ موت کی منزل ہے ہلاکت کی جگہ ہے

اے اہل جنوں آؤ یہاں کچھ نہیں رکھا
ناداں ہیں یہ سب لوگ حماقت کی جگہ ہے

کس بات پہ غمگین ہوں کس بات پہ میں خوش
ذلت کی جگہ ہے نہ یہ عزت کی جگہ ہے

صحرا کی طرف اس لئے جاتا ہے مرا دل
دنیا میں یہ دنیا سے بغاوت کی جگہ ہے


غزل

دنیا کی کسی بات کا قائل تو نہیں ہوں
اب بھی میں تری یاد سے غافل تو نہیں ہوں

مجھ سے تو مناسب نہیں اس طرح کا برتاؤ
عاشق ہوں تمہارا کوئی سائل تو نہیں ہوں

کر لوں گا کسی روز یقیناً تجھے تسخیر
میں آج کے حالات سے بد دل تو نہیں ہوں

لوگوں سے تو پہلے بھی تعلق نہیں رکھا
میں آج بھی اس بھیڑ میں شامل تو نہیں ہوں

خورشید کا اک خاک کے ذرّہ سے ہے رشتہ
اس لطف و عنایت کے میں قابل تو نہیں ہوں

کس طرح کا انصاف ہے یہ داور محشر
مقتول ہوں میں حسن کا قاتل تو نہیں ہوں

اس قید سے نکلوں گا تو جاؤں گا بہت دور
رستہ ہوں میں اپنی کوئی منزل تو نہیں ہوں

سکھ چین سے رہنا مری فطرت میں نہیں ہے
دریا ہوں کسی بحر کا ساحل تو نہیں ہوں

دن رات جلوں گا تو شکایت بھی کروں گا
انساں ہوں ترے رخ کا کوئی تل تو نہیں ہوں

چاہو تو سمجھ جاؤ گے اک دن مرا مطلب
دشوار سہی اتنا بھی مشکل تو نہیں ہوں

بدلی ہوئی نظروں کی نہ ہو گی مجھے پہچان
ناداں ہوں مگر اتنا بھی جاہل تو نہیں ہوں

کیا سوچ کے تم مجھ سے ہو اس طرح گریزاں
کڑوا ہوں مگر زہرِ ہلاہل تو نہیں ہوں

مجھ سے تو ہر اک طرح کی تقصیر ہوئی ہے
ناقص ہوں بہت میں کوئی کامل تو نہیں ہوں

تو جیت بھی جائے تو کوئی بات نہیں ہے
میں کوئی برابر کا مقابل تو نہیں ہوں

کر دوں گا کسی روز یہ جاں تجھ پہ نچھاور
صد شکر کہ دیوانہ ہوں بُزدل تو نہیں ہوں


غزل

جب اونچے پہاڑوں سے اتر آتے ہیں دریا
کاندھوں پہ سمندر کو اٹھا لاتے ہیں دریا

لگتے ہیں مگر ہم سے جنوں پیشہ کہاں ہیں
صحراؤں میں جاتے ہوئے گھبراتے ہیں دریا

سرگوشیاں کرتے ہوئے دن رات اچانک
رستہ میں کوئی آئے تو چلّاتے ہیں دریا

ہر وقت کی اس دوڑ سے تھک ہار کے اک روز
پہلو میں سمندر کے سمٹ جاتے ہیں دریا

معلوم ہے پھینکیں گے یہ سب ان میں غلاظت
شہروں سے یہاں اس لئے کتراتے ہیں دریا

چلتے ہوئے رکتے نہیں اک پل کے لئے بھی
معلوم نہیں ایسا بھی کیا کھاتے ہیں دریا

منزل سے سروکار نہ انجام کا ڈر ہے
ہر راہ پہ بل کھاتے ہیں اٹھلاتے ہیں دریا

اک روز تمہیں ساتھ لئے گھر کو چلیں گے
ہر روز کناروں کو یہ سمجھاتے ہیں دریا

اس طرح بھی پھرتا ہے کوئی اپنی خوشی سے
احکام سمندر کے بجا لاتے ہیں دریا

میری تو کوئی لفظ سمجھ میں نہیں آتا
اے کاش بتا دے کوئی کیا گاتے ہیں دریا

لگتا ہے بچاروں کی نظر ٹھیک نہیں ہے
چلتے ہوئے ہر چیز سے ٹکراتے ہیں دریا

جانا ہے کہاں ان کو کوئی کہہ نہیں سکتا
جس سمت بھی دل چاہے نکل جاتے ہیں دریا

ہونٹوں پہ ہے ہر وقت کوئی تازہ کہانی
یا ایک ہی قصہ ہے جو دھراتے ہیں دریا

نزدیک چلے آتے ہیں گھبرا کے کنارے
غصّہ میں کچھ اس طرح سے غرّاتے ہیں دریا

پتھر کی ہو تحریر تو شاید سمجھ آئے
مٹی کی تو ہر بات کو ٹھکراتے ہیں دریا

ڈرتے ہیں کہیں آگ نہ لگ جائے انہیں بھی
اس طرح بیابانوں کو ترساتے ہیں دریا

اڑنے کے لئے آج بھی رہتے ہیں پریشاں
بارش کی طرف دیکھ کے للچاتے ہیں دریا

گھر بار کے چکرّ میں کبھی یہ نہیں پڑتے
آوارہ مزاجوں کو بہت بھاتے ہیں دریا

یوں خاک میں منہ اپنا چھپاتے ہیں ہمیشہ
کیا بات ہے کیوں اس طرح شرماتے ہیں دریا


غزل

کہیں پہ جا کے محبت کو دفن کر دوں گا
پھر اُس کی قبر کو آہوں سے اپنی بھر دوں گا

سب آسمان و زمیں آج سے تمہارے ہیں
یہ کائنات میں اب تیرے نام کر دوں گا

خزاں کے ڈر سے یہ چہرہ اگر ملول ہوا
کہیں سے لا کے نئے رنگ اس میں بھر دوں گا

جو جل رہا ہوں تری آگ میں یہ کافی ہے
میں خشک پیڑ ہوں کیا پھول کیا ثمر دوں گا

تمہارے ساتھ وہ دل کی اداسیاں بھی گئیں
کہاں سے اپنی دعاؤں کو میں اثر دوں گا

میں جانتا ہوں کٹھن ہے تمہاری راہ بہت
کہیں سے لے کے نئے دل کو بال و پر دوں گا

تمہارے آنے سے دنیا بدل گئی ساری
نئی ہے رات اب اس کو نئی سحر دوں گا

کھلی فضاؤں میں یوں رات بھر بھٹکتے ہیں
میں لے کے چاند ستاروں کو کوئی گھر دوں گا

ہر ایک موڑ پہ بستی ہے سرخ پھولوں کی
اکیلی جان یہ اپنی کدھر کدھر دوں گا

قدم قدم پہ نئے حادثوں سے ملتا ہوں
کہاں سے لا کے میں اچھی کوئی خبر دوں گا

بہت امیر ہوں اس شاعری کی دولت سے
ہر ایک بوسہ پہ تجھ کو یہ مال و زر دوں گا

کوئی نہیں ہے یہاں جس سے دل کی بات کہوں
میں اس جہان کو دیکھو تباہ کر دوں گا

یہ انس و جن و ملائک کریں گے رشک تمام
میں دیکھ لینا کسی دن وہ کام کر دوں گا

ملا کے دیکھ لے اس کو تمام حوروں سے
مقابلہ کے لئے تجھ کو اک بشر دوں گا

یہ مانتا ہوں تجھے دیکھنا ہلاکت ہے
میں خود کو دیکھنا اک دن ہلاک کر دوں گا

مری طرح سے تجھے تاکہ سارے دیکھ سکیں
میں کچھ دنوں کے لئے سب کو یہ نظر دوں گا


غزل

وہ مہر منور ہے کہ یہ ماہ مبیں ہے
پہلے کی طرح آج بھی تو سب سے حسیں ہے

افلاک سے باقی نہیں اس کا کوئی رشتہ
بس آج سے یہ ساری زمیں میری زمیں ہے

اس ارض و سما پر ہے ہمارا بھی کوئی حق
یہ آپ کے اجداد کی میراث نہیں ہے

فرہاد کے گھر سے نہیں میرا بھی تعلق
تیرا بھی کوئی چال چلن ٹھیک نہیں ہے

اب تجھ سے ملاقات تو آسان ہے لیکن
اب تجھ سے وہ پہلی سی محبت ہی نہیں ہے

یہ وقت کا مرہم بھی میرے کام نہ آیا
وہ درد ترا آج بھی اس دل میں مکیں ہے

دل ٹوٹ نہ جائے ترے برتاؤ سے دیکھو
دنیا میں یہی آج محبت کا امیں ہے


غزل

اس لڑکیوں کی بھیڑ میں لیلیٰ نہیں کوئی
مجنوں بہت ہیں شہر میں صحرا نہیں کوئی

ہاتھوں میں ہاتھ دے کے یہاں گھومتے ہیں یہ
اب زندگی سے موت کا جھگڑا نہیں کوئی

اب آپکی نگاہ کسی اور سمت ہے
اچھا ہے دل کے جانے کا خطرہ نہیں کوئی

کیا بات ہے وہ سارے دِوانے کدھر گئے
چرچا تمہارے حُسن کا کرتا نہیں کوئی

سب مہ رخوں سے میرا تعارف ہے کچھ نہ کچھ
اس شہر میں جناب سے اچھا نہیں کوئی

یوں گھوم پھر کے اور بھی ہو جاؤ گے خراب
اس درد کا جہاں میں مداوا نہیں کوئی

دل کی کلی کھلے تو یہاں کس طرح کھلے
اس شہر میں تو پھول بھی ہنستا نہیں کوئی

مشکل نہیں ہے اتنی سمندر سے بات چیت
اچھا یہ ہے کہ راہ میں دریا نہیں کوئی

کھیلیں ضرور آپ مگر احتیاط سے
دل ہے مرا حضور کھلونا نہیں کوئی

تجھ سے ملے تو سب سے ملاقات ہو گئی
ملنے کی اب کسی سے تمنا نہیں کوئی

یوں کیسے منہ اٹھائے چلے آ رہے ہیں سب
یہ زندگی ہے کھیل تماشا نہیں کوئی

رکھنا خیال اس کا تمہارا یہ فرض ہے
دل کے مکاں میں اور تو رہتا نہیں کوئی

تیرے خلاف آج سے اعلانِ جنگ ہے
اب مجھ کو اس جہان کی پروا نہیں کوئی

رہتے ہو تم بھی سارے جہاں سے الگ تھلگ
میرا بھی اس جہاں میں ٹھکانہ نہیں کوئی

دنیا سے آج تک ہے بس اس بات پر گلہ
دنیا میں آج تک مجھے سمجھا نہیں کوئی


غزل

صحرا میں گھومنے کا مجھے یونہی شوق ہے
میں نے تمہارے عشق کا دعویٰ نہیں کیا

رہتی تھی اس میں ایک محبت کی کائنات
دل توڑ کے یہ آپ نے اچھا نہیں کیا

جاں دے کے اور ہو گئے ہم لوگ سرخرو
گھاٹے کے کاروبار میں گھاٹا نہیں کیا

دنیا تو مل رہی تھی یہاں کوڑیوں کے مول
ہم نے ہی اپنے عشق کا سودا نہیں کیا

اخبار میں نہ دی کبھی اس درد کی خبر
اس ظلم پر بھی آپ کو رسوا نہیں کیا

اس دل کو داد دیجئے سمجھا نہیں تمہیں
ورنہ جناب آپ نے کیا،کیا نہیں کیا

بس حُسن کا غلام رہا ہوں تمام عمر
شاہوں کے سامنے کبھی سجدہ نہیں کیا

دنیا کو چھوڑنے کا سبب مختصر یہ ہے
جینا ترے بغیر گوارہ نہیں کیا

انصاف تو یہی ہے تجھے بھی سزا ملے
جب میں نے کوئی جرم بھی تنہا نہیں کیا

کاٹی ہے اس جہان میں مٹی کی قید بھی
ہم نے تری خوشی کے لئے کیا نہیں کیا

پھینکا ہے یہ اٹھا کے کہاں سے کہاں مجھے
اس پر بھی آپ سے کبھی شکوہ نہیں کیا

خود بھی تمہاری راہ میں جلتا رہا ہوں رات
تاروں سے میں نے صرف اجالا نہیں کیا

کیوں ہو رہا ہے مجھ سے یہاں ناروا سلوک
تو نے اگر مذاق میں پیدا نہیں کیا

زندہ ہے مجھ سے آج یہاں رسم عاشقی
ناکامیوں پہ دل کبھی چھوٹا نہیں کیا

مرضی تھی دل کی اس لئے تجھ پر ہوئے نثار
ہم نے کسی کے کہنے پہ ایسا نہیں کیا

اب آپکی نگاہ میں جادو نہیں رہا
سچ کہہ دیا ہے آپ سے دھوکہ نہیں کیا


غزل

اداسیوں نے بنائے ہیں گھونسلے اس میں
مسرّتوں سے کبھی سر ہوا نہ دل کا درخت

بہار آئی کئی بار اس طرف لیکن
تمہاری یاد سے جانبر ہوا نہ دل کا درخت

تمہارے جاتے ہی وہ دور اس کا ختم ہوا
پھر اُس کے بعد تناور ہوا نہ دل کا درخت

خزاں سے اپنے تعلق پہ اس کو ناز رہا
کبھی بہار کا نوکر ہوا نہ دل کا درخت

وہ پتے زرد ہوئے سارے پھول مرجھائے
کسی خوشی کا کبھی گھر ہوا نہ دل کا درخت

جہاں جہاں بھی گھنے مال و زر کے جنگل ہیں
پھر اُس زمیں کا مقدّر ہوا نہ دل کا درخت

تمہارے بعد کئی موسموں نے کوشش کی
مگر وہ پھولوں کی چادر ہوا نہ دل کا درخت

یہ سب طیور اُسی کا کلام پڑھتے تھے
پھر اُس طرح سے سخنور ہوا نہ دل کا درخت

وہ پہلے پیار کی بارش عجیب بارش تھی
کسی سے ویسا مسخّر ہوا نہ دل کا درخت


غزل

وہ اس زمین پہ رہتی تھی آسماں کی طرح
کوئی نہیں ہے یہاں آج میری ماں کی طرح

اب آنسوؤں کی کتابیں کبھی نہ لکھوں گا
کہ ڈال دی ہے نئی نالہ و فغاں کی طرح

اُسی کے دم سے یہ مٹی کا گھر منور تھا
وہ جس کی قبر چمکتی ہے کہکشاں کی طرح

وہ خود بھی لڑتی تھی سورج سے روز میرے لئے
ہے اُس کی یاد بھی اک ابرِ مہرباں کی طرح

طویل رات کا مسکن جو آج لگتا ہے
یہی مکان تھا اک روز لامکاں کی طرح

اب اُس کی موت پہ خود موت بھی پریشاں ہے
کہ اس طرح سے پڑی عمر جاوداں کی طرح

جہاں کو آج بھی اُس کی بڑی ضرورت ہے
رہے گی اب وہ محبت کی داستاں کی طرح

ترس رہا ہوں میں پانی کی بوند بوند کو اب
حیات ہو گئی اک دشتِ بے اماں کی طرح


غزل

زمیں سے خوب لڑا آسماں سے کچھ نہ کہا
تمہاری موت پہ اللہ میاں سے کچھ نہ کہا

یہ زرد رنگ ہی تشہیر کا سبب ہوگا
خود اپنے منہ سے تو میں نے جہاں سے کچھ نہ کہا

سلوک غم سے مناسب میں اور کیا کرتا
خموش ہو گیا آہ و فغاں سے کچھ نہ کہا

تمہارے دکھ نے کیا کتنا سربلند مجھے
کہ جل کے راکھ ہوا لامکاں سے کچھ نہ کہا

مقابلہ کی سکت موت سے کسی میں نہ تھی
اسی لئے تو کبھی انس و جاں نے کچھ نہ کہا

فضا میں درد بکھیرا ہوا سے باتیں کیں
زیادہ اور تو کون و مکاں سے کچھ نہ کہا

بچارے اتنا بڑا بوجھ کیا اٹھائیں گے
یہ بات سوچ کے لفظ و بیاں سے کچھ نہ کہا

جدائی میرے لئے کس قدر کٹھن ہو گی
میں جانتا تھا مگر پھر بھی ماں سے کچھ نہ کہا

فریضہ سونپ کے آنکھوں کو رونے دھونے کا
پھر اُس کے بعد دل ناتواں سے کچھ نہ کہا

وہ موسموں سے تعلق نہیں رہا باقی
تمہارے بعد بہار و خزاں سے کچھ نہ کہا

تمہارے ذکر سے دل میں شگاف پڑتے ہیں
اسی لئے تو کسی مہرباں سے کچھ نہ کہا

ان آنسوؤں نے جو دل کی زمیں پہ گرتے ہیں
تمہارے بارے میں آب رواں سے کچھ نہ کہا

تمہارے دکھ کا کسی سے علاج کیا ہوتا
یقیں کی بات تھی وہم و گماں سے کچھ نہ کہا


غزل

دو دن میں پھیل جائے گی اس درد کی خبر
یہ بوجھ آنسوؤں سے سنبھالا نہ جائے گا

ہر سانس کی جبیں پہ ترے نقش ثبت ہیں
اس زندگی سے تیرا حوالہ نہ جائے گا

اب تو کرے گی ان کی وہاں خوب دیکھ بھال
تاروں کو اب خلا میں اچھالا نہ جائے گا

جب تو وہاں رہے گی تو کیا فکر ہے ہمیں
جنت سے اب کسی کو نکالا نہ جائے گا

تجھ سے سیاہ بخت کو وہ روشنی ملی
مٹی سے اب کبھی یہ اجالا نہ جائے گا

اب اس کے پاس کوئی نہیں ہے تری طرح
اب زندگی سے موت کو ٹالا نہ جائے گا

قدرت بھی آج سوچ کے یہ سوگوار ہے
مٹی سے اور یوں کوئی ڈھالا نہ جائے گا


غزل

کسی نے بھی تو محبت کی داستاں نہ سنی
تمہارے بعد یہاں میں بہت ذلیل ہوا

وہ جس پہ سرمد و حلاّج ہو گئے قرباں
اُسی نگاہ کا میں بھی یہاں قتیل ہوا

تمہارے جانے کا صدمہ عظیم صدمہ ہے
اُسی سے آج میں اشکوں میں خود کفیل ہوا

یہ عشق کھیل نہیں جناب بچّوں کا
یہاں جو آگ میں کودا ہے وہ خلیل ہوا

ہمیشہ سے یونہی پھولوں کو اس نے روندا ہے
شریف کب تھا زمانہ جو اب رذیل ہوا

یہ جس نگاہ سے دل کا علاج کرتے ہیں
اُسی نگاہ سے مل کر یہ دل علیل ہوا

حیات کیا تھی مسلسل عذاب کاٹا ہے
ہر ایک لمحہ ترے ہجر کا طویل ہوا

وہ جس نے کوہ و بیاباں کو کر دیا سیراب
ذرا سا مجھ کو پلانے میں کیوں بخیل ہوا

غموں کی خوب یہاں دل نے سرپرستی کی
نہیں تھا جس کا کوئی اُس کا یہ کفیل ہوا

تری تلاش میں پھرتا نہ اس طرح بے کل
یہ دل کا درد تری ذات پر دلیل ہوا


غزل

تیری گلی میں ظرف سے بڑھ کر ملا مجھے
اک پیالہ جستجو تھی سمندر ملا مجھے

میں چل پڑا تھا اور کسی شاھراہ پر
خنجر بدست یادوں کا لشکر ملا مجھے

دریائے شب سے پار اترنا محال تھا
ٹوٹا ہوا سفینۂ خاور ملا مجھے

تاروں میں اُس کا عکس ہے پھولوں میں اُس کا رنگ
میں جس طرف گیا مرا د لبر ملا مجھے

ہر ذرّہ با کمال ہے ہر پتّہ بے مثال
دنیا میں خود سے کوئی نہ کمتر ملا مجھے

کب سے بھٹک رہا ہوں میں اس دشت میں مگر
خود سے کبھی ملا نہ ترا در ملا مجھے

ہوتا نہیں ہے تجھ پہ کسی بات کا اثر
لگتا ہے تیرے روپ میں پتھر ملا مجھے

بے کیف کٹ رہی تھی مسلسل یہ زندگی
پھر خواب میں وہ خواب سا پیکر ملا مجھے

اس بات پر کروں گا میں دن رات احتجاج
کس جرم میں یہ خاک کا بستر ملا مجھے

مجھ کو نہیں رہی کبھی منظر کی جستجو
گھر کے قریب کوئے ستمگر ملا مجھے

جب تک رہا میں خود میں بھٹکتا رہا یہاں
جب خود کو کھو دیا تو ترا در ملا مجھے

مٹی میں ڈھونڈتا ہوا کچھ بوڑھا آسماں
میں جس طرف گیا یہی منظر ملا مجھے

کرتے ہیں لوگ حسن سے یاں ناروا سلوک
روتے ہوئے ہمیشہ گلِ تر ملا مجھے


غزل

سنتا ہے کوئی بات نہ کہتا ہے آسماں
دن رات بس زمین کو تکتا ہے آسماں

کوئی نہیں جو اس سے کرے دو گھڑی کو بات
میں سوچتا ہوں کتنا اکیلا ہے آسماں

آتا ہے اب وہ لطف نہ چڑھتا ہے وہ سرور
یوں دیکھنے میں آج بھی نیلا ہے آسماں

میں آج بھی جہاں میں غریب الدیار ہوں
اپنی ہوئی زمین نہ اپنا ہے آسماں

یہ کس کو جیتنے کے لئے بے قرار ہے
کیوں ہر گھڑی لباس بدلتا ہے آسماں

لگتا ہے اس کو بھی کوئی دکھڑا لگا ہوا
چھپ چھپ کے سب سے رات کو روتا ہے آسماں

قوّت میں آج بھی ہے جوانوں کے سر کا تاج
گو عمر کے لحاظ سے بوڑھا ہے آسماں

ذلّت ہے کائنات میں اب خاک کا مقام
جب سے مری زمین سے روٹھا ہے آسماں

اُس چشمِ نیلگوں کا سراپا نہیں اگر
پھر آپ ہی بتائیں مجھے کیا ہے آسماں

ہر وقت اس پہ ٹوٹتے رہتے ہیں اب عذاب
اچھی طرح زمیں کو سمجھتا ہے آسماں

جانے بھگت رہا ہے یہ کس جرم کی سزا
لٹکا ہوا خلا میں جو رہتا ہے آسماں

مجھ کو ذلیل کر کے ملے گی اسے خوشی
میں جانتا ہوں کتنا کمینہ ہے آسماں

نیلے سے ایک پل میں یہ ہو جائے گا سفید
دیکھو تو کیا عجیب تماشا ہے آسماں

کہتے ہیں لوگ اس کی حقیقت نہیں کوئی
کیا صرف دل زدوں کی تمنا ہے آسماں


غزل

نیلا اسی لئے نظر آتا ہے آسماں
آنکھوں سے تیرے رنگ چراتا ہے آسماں

ہر سال اس کو بھیج کے پھولوں کا اک لباس
مٹی پہ کتنا رعب جماتا ہے آسماں

ہر رات اپنے ہاتھ میں لیکر نئے چراغ
بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھاتا ہے آسماں

اب بھی حرام خور کی چالیں نہیں گئیں
بالوں میں گو خضاب لگاتا ہے آسماں

رہتا ہے اس پہ جیسے ہمیشہ ہی غسل فرض
ملتا ہے جب بھی پانی نہاتا ہے آسماں

تازہ نقوش دیکھتے رہنے کے شوق میں
پچھلے تمام نقش مٹاتا ہے آسماں

سنتا نہیں زمین کی چھوٹی سی کوئی بات
سب اپنا ہی کلام سناتا ہے آسماں

کرتی ہے رات اس لئے اس تیرگی پہ ناز
تاروں کی اس میں فصل اگاتا ہے آسماں

تنہا زمین کے لئے ممکن نہیں یہ کام
دن رات اس کا ہاتھ بٹاتا ہے آسماں

رہتی ہے میری خاک سدا حیرتوں میں گم
ہر روز اک کمال دکھاتا ہے آسماں

ہر رات کس کا کرتا ہے اس طرح انتظار
کس کے لئے یہ دیپ جلاتا ہے آسماں

ہم نے تو اس کا کچھ بھی بگاڑا نہیں کبھی
پھر کس لئے خلا میں نچاتا ہے آسماں

یا بھول کے بھی اس کی طرف دیکھتا نہیں
یا خاک میں گلاب کھلاتا ہے آسماں

ہم قید میں ہیں اس کے بھلا اور کیا کریں
بس دیکھتے ہیں جو بھی دکھاتا ہے آسماں

گلیوں میں سج کے رات کو پھرتے ہیں اس طرح
تاروں سے اب بھی پیشہ کراتا ہے آسماں

اس کو نہیں ہے گرچہ ہمارا کوئی خیال
لیکن ہمیں تو آج بھی بھاتا ہے آسماں

سیلاب بھیجتا ہے کبھی قحط سالیاں
مجھ کو طرح طرح سے دباتا ہے آسماں

کس طرح اس سے رکھے گا اچھی کوئی امید
جب رات دن عذاب ہی لاتا ہے آسماں

ملنے کی جانے کس سے یہ تقریب ہے کہ یوں
ہر رات اپنے گھر کو سجاتا ہے آسماں

میں جانتا ہوں یہ بھی کوئی ہو گی اس کی چال
کب دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے آسماں

میرا نہیں قصور ستاروں سے پوچھ لو
گھر کے چراغ خود ہی بجھاتا ہے آسماں

تاروں کو بیچ دیتا ہے ہر تیرگی کے ہاتھ
روزی اسی طرح سے کماتا ہے آسماں

آؤ تہیں بھی آج دکھائیں یہ معجزہ
آنکھوں میں کس طرح سے سماتا ہے آسماں

بس یونہی اس کے در کا کئے جاتی ہے طواف
قابو میں کب زمین کے آتا ہے آسماں

ممکن نہیں ہے خاک سے اس کا کوئی ملاپ
یونہی مرا مذاق اڑاتا ہے آسماں


غزل

بن ٹھن کے رات آتی ہے ہر رات اس کے پاس
کہتے ہیں پھر بھی لوگ کنوارا ہے آسماں

اس کھیل میں بھی دیکھنا ہو گی ہمیں ہی مات
بازی کبھی زمین سے ہارا ہے آسماں

ٹوٹے ہوئے دلوں پہ اسی ناز سے چلو
سب جانتے ہیں آج تمہارا ہے آسماں

کس طرح روشنی کا چلائیں گے یہ نظام
تاروں کی تربیت کا ادارہ ہے آسماں

دل اس کو دیکھتے ہی مچلتے ہیں اسطرح
اڑتا کوئی خلا میں غبارہ ہے آسماں

مٹتا ہے دیکھ دیکھ کے احساس تشنگی
سیرابیوں کا ایسا نظارہ ہے آسماں

ہوں اس لئے اب اس پہ دل و جان سے فدا
میں نے زمین کے لئے ہارا ہے آسماں

یہ صاحبِ جمال ہے کیا صاحبِ کمال
آنکھوں میں اس طرح سے اتارا ہے آسماں

دیکھا نہیں کسی نے بھی جا کر قریب سے
شاید اسی لئے ہمیں پیارا ہے آسماں

اس حسن و دلکشی کا سبب صرف تو نہیں
ہم نے بھی آنسوؤں سے نکھارا ہے آسماں

سورج کو کیسے سونپ دیں اب اس کی باگ ڈور
تاروں نے اپنے خوں سے سنوارا ہے آسماں

مایوس ہوکے دیکھتے ہیں سب اسی طرف
ٹوٹے ہوئے دلوں کا سہارا ہے آسماں


غزل

اُن نگاہوں کو ہم آواز کیا ہے میں نے
تب کہیں گیت کا آغاز کیا ہے میں نے

ختم ہو تاکہ ستاروں کی اجارہ داری
خاک کو مائل پرواز کیا ہے میں نے

آپ کو اک نئی خفّت سے بچانے کے لئے
چاندنی کو نظر انداز کیا ہے میں نے

آسمانوں کی طرف اور نہیں دیکھوں گا
اک نئے دور کا آغاز کیا ہے میں نے

روٹھے لوگوں کو منانے میں مزہ آتا ہے
جان کر آپ کو ناراض کیا ہے میں نے

تم مجھے چھوڑ کے اس طرح نہیں جا سکتے
اس تعلق پہ بہت ناز کیا ہے میں نے

وہ جو صدیوں سے یہاں بند پڑا تھا دیکھو
شاعری کا وہی در باز کیا ہے میں نے

سُن کے مبہوت ہوئی جاتی ہے دنیا ساری
شعر لکھّے ہیں کہ اعجاز کیا ہے میں نے

عشق میں نام کمانا کوئی آسان نہ تھا
سارے احباب کو ناراض کیا ہے میں نے

صرف لوگوں کو بتانے سے تسلّی نہ ہوئی
چاند تاروں کو بھی ہم راز کیا ہے میں نے

اور بھی ہوں گے کئی چاہنے والے لیکن
آپ کے نام کو ممتاز کیا ہے میں نے

آسمانوں سے پرے کرتا ہے اب جا کے شکار
طائرِ دل کو وہ شہباز کیا ہے میں نے

شاعروں سے جو ترے بعد کبھی ہو نہ سکا
کام وہ حافظِ شیراز کیا ہے میں نے


غزل

پھر آسمان کے نخرے اٹھا رہا ہوگا
کسی ستارہ سے آنکھیں لڑا رہا ہوگا

فواد کا تو یہاں اور کام ہی کیا ہے
صبا کو روک کے نظمیں سنا رہا ہوگا

اُسے یہ ہوش کی سب محفلیں پسند نہیں
پھر اُس گلی میں کہیں لڑ کھڑا رہا ہوگا

وہ ہنستے گاتے درختوں پہ جان دیتا ہے
انہیں کہیں پہ کھڑا گدگدا رہا ہوگا

بہت دنوں سے وہ گھر لوٹ کر نہیں آیا
ہوا کے ساتھ کہیں گنگنا رہا ہوگا

تمہارے آنے سے مایوس ہو کے غصّہ میں
پھر اٹھ کے چاند ستارے بجھا رہا ہوگا

یہ منہ بسورتے لوگ اُس کو زہر لگتے ہیں
وہ ان کا دور کھڑا منہ چڑا رہا ہوگا

وہ جانتا ہے کہ اُس کا دماغ ٹھیک نہیں
یہ سوچ سوچ کے خود مسکرا رہا ہوگا

وہ بیوقوف تمہیں آج بھی نہیں بھولا
تمہاری یاد میں آنسو بہا رہا ہوگا

تمہارے آنے کی کوئی خبر ملی ہو گی
تمہاری راہ میں کلیاں بچھا رہا ہوگا

ہم اپنی مرضی کے مالک ہیں آسماں کیا ہے
زمیں کو پھر یہی پٹّی پڑھا رہا ہوگا

تم اُس کو ڈھونڈنے آئے ہو نیند کے گھر میں
وہ چاندنی سے کھڑا گپ لگا رہا ہوگا

نئے شگوفوں کی بستی سے دو قدم آگے
وہ تتلیوں کے لئے گھر بنا رہا ہوگا

زمیں کو پھر کسی سورج نے آنکھ ماری ہے
یہ بات سُن کے وہ پھر تلملا رہا ہوگا

وہ جس کو سُن کے سب اس کا مذاق اڑاتے ہیں
کسی کو پھر وہی قصہ سنا رہا ہوگا

بہار آئی ہے اُس کو ابھی نہیں معلوم
وہ زرد پتوں کو ٹیوشن پڑھا رہا ہوگا

وہ اب یہاں سے کہیں دور جا نہیں سکتا
ستارہ بن کے یہاں جگمگا رہا ہوگا

خوشی سے اب بھی نہیں کوئی واسطہ اس کا
اداسیوں کا کہیں دل بڑھا رہا ہوگا

وہ آنسوؤں کی خطابت میں طاق ہے اب بھی
پھر اپنی باتوں سے سب کو رُلا رہا ہوگا

وہ زندگی سے تعلق پہ شرمسار رہا
اب اپنی موت پہ خوشیاں منا رہا ہوگا

کسی نے اُس سے کیا ہوگا شام کا وعدہ
وہ انتظار میں شب بھر کھڑا رہا ہوگا


غزل

ہوا نے چھین لیا آ کے میرے ہونٹوں سے
وہ ایک گیت جو میں گنگنا رہا تھا ابھی

وہ جا کے نیند کے پہلو میں مجھ سے چھپنے لگا
میں اُس کو اپنی کہانی سنا رہا تھا ابھی

کہ دل میں آ کے نیا تیر ہو گیا پیوست
پرانا زخم میں اُس کو دکھا رہا تھا ابھی

برس رہی تھی زمیں پر عجیب مدہوشی
نہ جانے کون فضاؤں میں گا رہا تھا ابھی

افق کے پار یہ ڈوبا ہے کس طرح سورج
یہیں پہ بیٹھ کے باتیں بنا رہا تھا ابھی

اٹھا کے دھوپ نے گھر سے مجھے نکال دیا
میں انتظار کی شمعیں جلا رہا تھا ابھی

جو سب کو ہنسنے کی تلقین کرتا رہتا ہے
وہ میرے سامنے آنسو بہا رہا تھا ابھی

وہ جس کا نام پڑا ہے خموش لوگوں میں
یہاں پہ لفظوں کے دریا بہا رہا تھا ابھی


غزل

میں کس کے کہنے پہ اس خاکداں میں آیا ہوں
نظر سے کس کے لئے آپ نے گرایا ہوں

کچھ ان پہ بھی تری آواز کی پھوار پڑے
حضور میں یہ سماعت کے پھول لایا ہوں

میں تجھ سے آج بھی انصاف کا نہیں طالب
میں جانتا ہوں وہ اپنے ہیں میں پرایا ہوں

ہمیشہ تجھ سے تعلق پہ مجھ کو ناز رہا
ہر ایک زخم پہ سو بار مسکرایا ہوں

وہ سوچتا تھا چلو کام ہو گیا اس کا
مگر میں خاک میں کچھ اور جگمگایا ہوں

یہ نغمہ بار پرندے یہ خوش گلو دریا
مقابلہ میں ذرا میں بھی گنگنایا ہوں

اسی لئے تو مجھے آنسوؤں سے رغبت ہے
میں اس جہان میں زخمی دلوں کا سایہ ہوں

مدام رہتی ہیں کیوں آندھیاں تعاقب میں
جلا نہیں ہوں میں خود آپ نے جلایا ہوں

وہ آسمانوں پہ جانے کی آرزو نہ رہی
کچھ اس طرح سے میں اس خاک میں سمایا ہوں

تو جانے کون جہانوں میں ہو گیا مصروف
یہ سوچ سوچ کے ہر لمحہ تلملایا ہوں

مری تلاش میں نکلے ہیں کیوں رسول یہاں
خود اپنے ہاتھ سے جب آپ نے گنوایا ہوں


غزل

ہمارے دل کی بجا دی ہے اُس نے اینٹ سے اینٹ
ہمارے آگے کبھی اُس کا نام مت لینا

اُسی نگاہ سے پینے میں لطف ہے سارا
علاوہ اس کے کوئی اور جام مت لینا

اسی سبب سے ہے دنیا میں آسماں بدنام
تم اپنے ہاتھ میں یہ انتظام مت لینا

دل و نظر کی بقا ہے فقط محبت میں
دل و نظر سے کوئی اور کام مت لینا

یہاں پہ اچھا ہے جتنا بھی مختصر ہو قیام
ذلیل ہو گے حیاتِ دوام مت لینا

یہ سارے لوگ تمہارا مذاق اڑاتے ہیں
جہاں میں اور محبت کا نام مت لینا

رہو گے چاند کی سرگوشیوں سے بھی محروم
کسی سے دھوپ کا جلتا کلام مت لینا

اگرچہ تم پہ ہوا ہے یہاں پہ ظلم بہت
کسی سے اس کا مگر انتقام مت لینا


غزل

تمہارے لئے مسکراتی سحر ہے
ہمارے لئے رات کا یہ نگر ہے

اکیلے یہاں بیٹھ کر کیا کریں گے
بلایا ہے جس نے ہمیں وہ کدھر ہے

پریشاں ہوں کس کس کا سُرمہ بناؤں
یہاں تو ہر اک کی اُسی پر نظر ہے

ا جالا ہیں رخسار جادو ہیں آنکھیں
بظاہر وہ سب کی طرح اک بشر ہے

وہ جس نے ہمیشہ ہمیں دکھ دیئے ہیں
تماشہ تو یہ ہے وہی چارہ گر ہے

نکل کر وہاں سے کہیں دل نہ ٹھہرا
بچارہ ابھی تک یہاں دربدر ہے

کسی دن یہ پتھر بھی باتیں کرے گا
محبت کی نظروں میں اتنا اثر ہے

جو پلکوں سے گِر جائے آنسو کا قطرہ
جو پلکوں میں رہ جائے گا وہ گہر ہے

وہ ذلّت وہ خواری بھی اس کے سبب تھی
محبت کا سہرہ بھی اس دل کے سر ہے

کوئی آ رہا ہے کوئی جا رہا ہے
سمجھتے ہیں دنیا کو خالہ کا گھر ہے

نہ کوئی پیام اُس کی جانب سے آیا
نہ ملتا کہیں اب مرا نامہ بر ہے


غزل

سمندروں سے کوئی کام ہی نہیں پڑتا
ہمارے پاس ہے یہ آسماں کی نیلی جھیل

کوئی تو ایک ہی قطرہ سے ہو گیا مدہوش
کسی کی پیاس ہے یہ آسماں کی نیلی جھیل

سنا ہے ڈوب گئی رات چاند کی کشتی
بہت اداس ہے یہ آسماں کی نیلی جھیل

بھٹک رہی ہے خلاؤں میں کب سے اس کے لئے
زمیں کی آس ہے یہ آسماں کی نیلی جھیل

بہت سے لوگ تو کہتے ہیں اور کچھ بھی نہیں
بس اک قیاس ہے یہ آسماں کی نیلی جھیل

جڑے ہوئے ہیں ستارے اسی لئے اس میں
ترا لباس ہے یہ آسماں کی نیلی جھیل

وہ ناز کرنے میں ہر وقت حق بجانب ہے
وہ جس کے پاس ہے یہ آسماں کی نیلی جھیل

اسی کو پیتی ہیں دن رات تشنہ لب آنکھیں
مری اساس ہے یہ آسماں کی نیلی جھیل

تری نگاہ میں کھوئے ہوئے سمندر کا
اک اقتباس ہے یہ آسماں کی نیلی جھیل

اسی لئے تو گوارا ہوئی یہ خاک مجھے
نظر کو راس ہے یہ آسماں کی نیلی جھیل

میں دیکھ لینا کسی روز اس کو پی لوں گا
بھرا گلاس ہے یہ آسماں کی نیلی جھیل


غزل

زمین ان کی ہر اک بات مان لیتی ہے
کہاں سے سیکھ کے آتے ہیں گفتگو دریا

یہ کس کی یاد میں اشکوں کے بند ٹوٹے ہیں
یہ کس کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں کو بکو دریا

جوان ہوتے ہی سب گھر سے بھاگ جاتے ہیں
کبھی نہ چھوڑیں گے لگتا ہے اپنی خو دریا

سمندروں سے بغاوت کا شوق ہے لیکن
مقابلہ پہ نہیں آتے دو بدو دریا

وہ جس کو دور کہیں آسماں میں بھول آئے
اب اس کی خاک میں کرتے ہیں جستجو دریا

جو میں نے خوابوں کی وادی میں بہتے دیکھا تھا
نہیں ہے کوئی یہاں ویسا ہو بہو دریا

کہیں پہ خاک میں پوشیدہ اک خزانہ ہے
اُسی کی کھوج میں پھرتے ہیں چار سو دریا

سفر میں رہنے سے آداب سیکھ جاتے ہیں
وگر نہ ہوتے ہیں حد درجہ تند خو دریا

گھروں سے حلف اٹھاتے ہوئے نکلتے ہیں
نہیں کریں گے کبھی گھر کی آرزو دریا

خود اپنے آپ سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے
بہت سے ایسے بھی دیکھے ہیں تند خو دریا

تمام عمر یہ اپنوں سے دور رہتے ہیں
بس اتفاق سے ملتے ہیں روبرو دریا

یہ کس کے خون کا لیتے ہیں انتقام اس سے
زمیں کا پیتے ہیں ہر وقت کیوں لہو دریا

نہ جانے کون ہیں آئے ہیں کس کی شادی میں
یہ نغمہ بار پرندے یہ خوش گلو دریا

اسی لئے تو یہ سب میکشوں سے بہتر ہیں
شراب پیتے ہیں بے ساغر و سبو دریا


غزل

وہ دبدبہ نہ اجالا نہ شان و شوکت ہے
تمہارے سامنے بے اختیار ہے سورج

بچھڑ گئی ہے کہیں چاندنی اندھیرے میں
اُسی کی یاد میں یوں بے قرار ہے سورج

جہاں میں اس کا بھی شاید کوئی ٹھکانہ نہیں
مری طرح سے غریب الدّیار ہے سورج

خلا میں اور بھی روشن کئی ستارے ہیں
تمہارے فن کا مگر شاہکار ہے سورج

یہ اور بات سحر کو نہ کر سکا آزاد
لڑا تو رات سے مردانہ وار ہے سورج

بلند ہم نے کیا تھا علم بغاوت کا
ہمارے خون سے ہی داغدار ہے سورج

نہیں کریں گے کوئی ساز باز اس کے خلاف
دفع ہو رات ہمارا تو یار ہے سورج

یہ چاند تارے سبھی اُس کے ہاں ملازم ہیں
بہت بڑا کوئی سرمایہ دار ہے سورج

کسی نے رات کو پھر اس سے بات کی ہو گی
پھر آج غصہ میں جلتا شرار ہے سورج

چلو یہاں سے کہیں اور اب کریں ہجرت
یہاں تو سر پہ ہمیشہ سوار ہے سورج

کہیں پہ ایک بھڑکتا ہوا جہنّم ہے
کہیں پہ صرف محبت ہے پیار ہے سورج

بڑے بڑوں کو یہاں سے اکھاڑ ڈالا ہے
اگرچہ یوں تو نحیف و نزار ہے سورج

کہیں اٹھا کے اسے اب سنبھال کر رکھو
گئے دنوں کی کوئی یاد گار ہے سورج

خلا میں تاکہ وہ ہارے نہ حوصلہ اپنا
زمیں کے نام کسی کی پکار ہے سورج

کہیں پہ بیٹھ کے آرام کیوں نہیں کرتا
ہوا کے گھوڑے پہ ہر دم سوار ہے سورج

نیا ستارہ کوئی آسماں سے ٹوٹا ہے
کئی دنوں سے بہت سوگوار ہے سورج

ہمیشہ ڈرتے ہوئے اس سے ملنے جاتا ہوں
نہ جانے نور ہے تیرا کہ نار ہے سورج