اردو ویب ڈیجیٹل لائبریری
×

اطلاع

فی الحال کتابیں محض آن لائن پڑھنے کے لئے دستیاب ہیں. ڈاؤن لوڈ کے قابل کتابوں کی فارمیٹنگ کا کام جاری ہے.

Quran Per Amal

قرآن پر عمل


مصنف سمیہ رمضان
مؤلف محمد ظہیر الدین بھٹی
سن اشاعت اول 2005
تعداد الفاظ 45841
تعداد منفرد الفاظ 4859
مناظر 15287
ڈاؤنلوڈ 0
سمیہ رمضان کے مضامین کا ایک سلسلہ کویت کے ایک اخبار میں "المجتمع" میں شایع ہوا۔ یہ مجموعہ انھی مضامین پر مشتمل ہے۔

پیش لفظ

بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ یہ دور خواتین کا کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے۔ مغرب اور اسلام کی تہذیبی کش مکش میں بھی ان کے مقام و منصب کو طے کرنے کا مسئلہ سرِ فہرست ہے۔ ہمارے معاشروں میں انہیں ان کا مقام دلانے کی سرکاری اور غیر سرکاری کوششیں تھی کچھ زیادہ ہی نمایاں ہیں۔ اسی کا ایک پہلو یہ ہے کہ احیائے دین کے لیے جو کوشش ہو رہی ہے اس میں بھی سرگرمی سے تعاون کرنے والوں میں خواتین ہی آگے ہیں۔ نو مسلموں کی داستانیں پڑھیں تو اس میں بھی خواتین ہی زیادہ نظر آتی ہیں۔

قرآن جو دعوت پیش کرتا ہے اس پر عمل میں مرد و عورت کی تخصیص نہیں ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے سے پاکستان میں اور عالم اسلام کے دوسرے ممالک میں رجوع الی القرآن کی ایک تحریک برپا ہے۔ ادارے قائم ہو رہے ہیں، فہم قرآن کے لیے مختلف طرح کے کورس اور نصابات تجویز کیے جا رہے ہیں۔ درس قرآن کے 10، 10 روز کے سلسلے جاری ہیں۔ جن میں ہزارہا مرد و خواتین شرکت کر رہے ہیں۔ بعض حضرات و خواتین کے نام اس حوالے سے معروف ہو گئے ہیں۔

اسی سلسلے میں کویت کے رسالہ "المجتمع" میں ایک سلسلہ مضامین شائع ہوا۔ اس میں محترمہ سمیہ رمضان نے اپنے حلقہ درس کا حال لکھا ہے۔ قرآن کی محض تبلیغ پر اکتفا نہ کیا بلکہ ہر دفعہ ایک آیت کا انتخاب کر کے شرکا نے اس پر عمل بھی کیا اور اپنے تجربات سے آگاہ کیا۔ عربی میں بہت اچھی اور مفید چیزیں نظر پڑتی ہیں لیکن ہمارے کسی ادارے کے پاس ترجمے کا کوئی نظم نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف عربی بلکہ دوسری زبانوں کی مفید چیزوں سلے اردو جاننے والے محروم ہیں۔ حسنِ اتفاق سے ہمارے رفیق محمد ظہیر الدین بھٹی کو یہ سلسلہ پسند آیا اور اتنا پسند آیا کہ انہوں نے اس کا ترجمہ کر ڈالا۔

منشورات اسے شائع کر رہا ہے۔ آپ خود دیکھیں گے کہ اس میں 14 موضوعات کے تحت جو تجربات بیان کیئے گئے ہیں، ان میں قرآن پر عمل کے فوائد و ثمرات دو اور دو چار کی طرح واضح ہو کر سامنے آتے ہیں، بنیادی عقائد درست ہوتے ہیں، نیز یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ مسلم معاشروں میں خواتین کو ایک جیسے مسائل درپیش ہیں۔ یقیناً ہماری خواتین اس میں بہت کچھ رہنمائی پائیں گی۔ لیکن اصل فائدے کی بات تو یہ ہو گی کہ وہ حلقہ ہائے درس قرآن قائم کر کے اس انداز کو اختیار کر کے عمل کی کوشش کریں۔

خواتین کے حوالے سے اس کتاب کی اشاعت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ مردوں کے لیے نہیں ہے۔ مرد عموماً خواتین سے متعلق چیزوں کو زیادہ دلچسپی اور شوق سے دیکھتے اور پڑھتے ہیں۔ امید ہے کہ وہ اس کتاب سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عمل بالقرآن کی مشق کریں گے۔ درس گاہوں میں مقیم طلبہ و طالبات کے لیے زیادہ موقع ہے کہ وہ یہ مشق کریں اور اس پیغام کو اپنے گھرانوں اور خاندانوں میں لے جائیں۔


انقلاب بالقرآن اور اس کے تقاضے

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے:

من قرء حرفاً من کتاب اللہ فلہ بہ حسنۃ والحسنۃ بعشر امثالھا، لا اقول الم حرف الم حرف و لکن الف حرف و لام حرف و میم حرف۔

یہ حدیث حسن ہے۔ اسے ترمذی نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر دس نیکیوں کا ہوتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے، لام دوسرا حرف ہے اور میم تیسرا حرف ہے۔

اس حدیث سے یہ غلط مفہوم لیا گیا ہے کہ تلاوت بلا سوچے سمجھے کی جائے اور اس پر عمل نہ کیا جائے تب بھی اجر و ثواب ملتا ہے۔ جس طرح قرآن مجید کی آیات ایک دوسرے کی توضیح و تشریح کرتی ہیں اسی طرح حدیث کی وضاحت قرآنی آیات اور دیگر احادیث سے ہوتی ہے۔ قرآن مجید نے تو تدبر پر زور دیا ہے۔

افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالھا (محمد 24:47)

کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا، یا (ان کے) دلوں پر قفل چڑھے ہوئے ہیں.

احادیث میں بھی قرات اور عمل دونوں کو یکجا بیان کیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا

من قرء القرآن و عمل بما فیہ البس والداہ تاجاء یوم القیامۃ

جس نے قرآن پڑھا اور جو کچھ قرآن میں ہے اس پر عمل کیا اس کے ماں باپ کو قیامت کے دن ایک تاج پہنایا جائے گا۔ (احمد، ابو داؤد)

اگر قرآن خوانی کا واحد مقصد حصولِ اجر و ثواب ہے تو پھر اور بہت سے ایسے وظائف و کلمات ہیں جنہیں پڑھ کر ہم کہیں زیادہ مقدار میں ثواب کما سکتے ہیں۔ مثلاً آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے، "جو بازار میں جائے اور یہ پڑھ لے.

لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد یحی و یمیت و ھو حی لا یموت بیدہ الخیر و ھو علی کل شیء قدیر۔

تو اسے دس لاکھ نیکیاں ملیں گی اور اس کے دس لاکھ گناہ مٹا دیئے جائیں گے اور اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔(الجامع الصغیر)۔

ان سطور کا مقصد قرآن مجید کی قرات پر ملنے والے اجر و ثواب کی شان کو کم کرنا نہیں بلکہ یہ ہے کہ مسلمان قرآن حکیم کے بارے میں اپنا عملی رویہ تبدیل کریں۔ قرآن مجید کی حقیقی قدر و قیمت اور برکت اس کے معانی میں مضمر ہے۔ لفظ تو معنی کے ادراک کا محض ایک ذریعہ ہوا کرتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے "جس نے ایک حرف پڑھا اس کے لیے دس نیکیاں ہیں۔" کا ہدف اجر و ثواب بتا کر امت مسلمہ کو قرآن سے جڑے رہنے کی ترغیب دینا ہے۔ اس ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ مسلمان کسی جگہ بیٹھ کر محض الفاظ پڑھ ڈالے اور مفہوم و مطلب نہ سمجھے۔ اگر کسی طالب علم کا والد اسے یہ کہتا ہے کہ بیٹا پڑھو، تو اس کا مقصد یہ ہر گز نہیں ہوتا کہ بیٹا محض الفاظ پڑھ لے اور سبق کو نہ سمجھے۔

اگر ہم نزول قرآن کے اعلیٰ مقصد کو سامنے رکھیں اور پھر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشاد مبارک کو اس کے ساتھ مربوط کریں تو یہ بات سامنے آئے گی کہ ثواب بتا کر ترغیب دینے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان قرآن کو ہمیشہ پڑھتے رہیں۔ اس قرآن سے ہدایت پائیں اور اپنے تمام اخلاقی و روحانی امراض سے شفا حاصل کریں۔ قرآنی خطاب کے معنی و مقصود کو سمجھے بغیر اس کا ثواب کی خاطر پڑھ لینا بہت کم پر قناعت کر لینا ہے۔ اصل مقصد تو عمل ہے اور عمل کی نوبت سمجھنے کے بعد آیا کرتی ہے۔


ایک خدا ترس خاتون نے ایک بچی کو اپنے گھر میں رکھا۔ اس بچی کے ماں باپ غریب تھے جو اس کے اخراجات پورا کرنے سے قاصر تھے۔ اس خاتون نے بچی کو اپنے گھر میں ہر طرح سے آرام سے رکھا۔ گھر میں خدمت کے لیے خادمہ پہلے سے موجود تھی۔ بچی کو پوشاک، خوراک اور تعلیم سبھی سہولتیں میسر تھیں، وہ لکھ پڑھ گئی، بڑی ہو گئی تو خاتون نے پہلی خادمہ کو فارغ کر دیا اور صبح سویرے نئی خادمہ کو سب کام ایک کاغذ پر لکھ کر دے دیئے۔ بچوں کو نہلانا، کپڑے استری کرنا، گھر کی صفائی ستھرائی اور کھانا پکانا وغیرہ۔ امیر عورت یہ کاغذ‌ دے کر مطمئن ہو گئی۔ جب وہ دوپہر کے وقت گھر واپس آئی تو دیکھا کہ نئی نوکرانی نے کوئی کام بھی نہیں کیا۔ بلا کر پوچھا تو جواب ملا کہ میں نے آپ کی تحریر کو بڑے احترام سے چوما ہے اور اسے بار بار پڑھتی رہی ہوں حتیٰ کہ یہ تحریر مجھے زبانی یاد ہو چکی ہے۔ یہ جواب سن کر امیر خاتون کا کیا ردِ عمل ہو گا؟ کیا وہ اس جواب پر اس نوکرانی کو تنخواہ، پوشاک، خوراک اور رہائیش مہیا کرئے گی یا ناراض ہو کر اسے گھر سے باہر نکال دے گی؟ کیا ہم مسلمانوں کا قرآن مجید کے ساتھ طرزِ عمل اس نوکرانی جیسا نہیں ہے؟ ہم قرآنی آیات پڑھنے کو کافی سمجھتے ہیں اور عمل نہیں کرتے۔ کیا اس صورت میں ہم اللہ تعالیٰ کے انعامات کے مستحق قرار پا سکتے ہیں؟

قرآن مجید تو آیات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ فرمایا ہے

كِتَابٌ اَنزَلْنَہُ اِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِہِ وَلِيَتَذَكَّرَ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ۔(ص 29:38)

یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو (اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم) ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل و فکر رکھنے والے اس سے سبق لیں۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بن عمرو بن العاص سے فرمایا کہ تین دن سے کم میں قرآن مجید ختم نہ کرو۔ اپنے اس ارشاد کی علت آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہ بیان فرمائی

لا یفقھہ من یقرؤہ اقل من ثلاث (الجامع الصغیر)

تین دنوں سے کم میں قرآن شریف پڑھنے والا اسے نہ سمجھ سکے گا۔

ہم میں سے ہر شخص جس کلام کو سنتا یا پڑھتا ہے اسے سمجھنے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس قاعدہ کا اطلاق قرآن حکیم پر کیوں نہیں کرتے؟ شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ "یہ معلوم ہے کہ ہر کلام کے معنی کو سمجھنا ہی اس کا مقصود ہوا کرتا ہے، محض اس کے الفاظ پڑھنا مطلوب نہیں ہوا کرتا۔ پس قرآن اس بات کا زیادہ حق دار ہے اور اس لائق ہے کہ اسے سمجھا جائے۔" (مقدمہ اصولِ ابن تیمیہ، ص 75)۔ الاستاذ حسن الھضیبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ "تلاوت میں انسان کی قرات کی مقدار کا اعتبار نہیں ہے۔ اصل اعتبار تو اس کے سمجھنے کی مقدار کا ہے۔ قرآن مجید، معانی سے مجرد ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم پر محض بطور برکت نازل نہیں ہوا بلکہ قرآن کی برکت اس پر عمل کرنے میں اور اسے زندگی کا دستور بنانے میں ہے۔ قرآن چلنے والوں کے لیے راہیں روشن کرتا ہے، لہٰذا ہمارا فرض ہے کہ جب ہم قرآن مجید پڑھیں تو تلاوت سے ہمارا مقصد ان معانی کو جاننا ہو، جو مراد ہیں۔ اس کے لیے قرآنی آیات میں تدبر کرنا ہو گا، انہیں سمجھنا ہو گا اور ان پر عمل کرنا ہو گا۔" (مقالات الاسلامیین فی رمضان محمد موسیٰ الشریف، ص 426)۔

قرآن کریم کی آیت:

افلا یتدبرون القران، ولو کان من عند غیر اللہ لوجدُوا فیہِ اختلافاً کثیراً (النساء 82:4)۔

کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف پایا جاتا۔

کی تفسیر میں علامہ قرطبی لکھتے ہیں:

"یہ آیت قرآن میں تدبر کرنے کے واجب ہونے پر دلالت کرتی ہے تا کہ قرآن کے معنی معلوم ہو سکیں۔" (الجامع لا حکام القرآن للقرطبی۔ ج5، ص 187)۔

تدبر قرآن اگرچہ پڑھنے اور سننے والے پر واجب ہے مگر یہ بھی خود غایت نہیں ہے بلکہ یہ قرآن کریم کے عظیم معجزاتی عمل کے لیے ایک ذریعہ ہے۔


قرآن ایک عظیم معجزہ

تمام مسلمان یہ جانتے ہیں کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے لیے آنے والا ایک عظیم معجزہ ہے۔ مگر یہ حقیقت بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس معجزے میں وہ کیا بات ہے جس کی وجہ سے یہ تمام سابقہ معجزوں پر سبقت لے گیا ہے؟ بعض اہلِ علم کا خیال ہے کہ قرآن کا اعجاز اس کے اسلوبِ بیان اور بلاغت میں ہے اور قرآن نے اس کا چیلنج بھی دیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کیونکہ قرآن ہر زمان و مکان کے لیے موزوں و مناسب ہے، اس لیے معجزہ ہے۔ قرآنِ کریم کے یہ سب وجوہِ اعجاز ہیں مگر قرآن کریم کا سب سے بڑا اعجاز اس کی انسانوں کو تبدیل کر دینے کی صلاحیت ہے۔ ہر انسان کو بدل ڈالنا تا کہ وہ ایک نئی قسم کا انسان بن جائے۔ اللہ کی معرفت رکھنے والا، عبادت گزار، اپنے تمام امور و حالات میں اللہ کی اطاعت کرنے والا۔

تبدیلی کی کیفیت

قرآن جو تبدیلی پیدا کرتا ہے اس کا آغاز دل میں قرآنی نور کے داخل ہونے سے ہوتا ہے۔ یہ نور دل میں گناہوں، غفلتوں اور خواہش کی پیروی سے جنم لینے والی تاریکی کو دور کرتا ہے۔ دل میں نور دھیرے دھیرے بڑھتا چلا جاتا ہے اور دل کے تمام احساسات میں روشنی اور زندگی کا احساس ہوتا ہے۔ یوں قرآن سمجھنے سے صاحبِ قرآن ایک نئی زندگی سے متعارف ہو جاتا ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے

او من کان میتا فاحیینہ و جعلنا لہ نورًا یمشیٰ بہ فی الناس کمن مثلہ فی الظلمٰت لیس بخارج منھا (الانعام 122:6)

ترجمہ: کیا وہ شخص جو پہلے مردہ تھا، پھر ہم نے اسے زندگی بخشی اور اس کو وہ روشنی عطا کی جس کے اجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے، اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہو اور کسی طرح ان سے نہ نکلتا ہو؟

معلوم ہوا کہ قرآن ایک روح ہے جو دل میں جا کر اسے زندہ کر دیتی ہے۔ ارشادِ ربانی ہے

و کذلک او حینا الیک روحا من امرنا، ما کنت تدری ما الکتٰبُ ولا الایمان ولکن جعلنہ نورا نھدی بہ من نشاہ من عبادنا، (الشوریٰ 52:42)۔

اور اسی طرح اے نبی! ہم نے اپنے حکم سے ایک روح تمھاری طرف وحی کی ہے۔ تمہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے، مگر اس روح کو ہم نے روشنی بنا دیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں۔

جونہی دل میں روح جاگزین ہو جاتی ہے تو دل نورِ ایمان سے جگمگا اٹھتا ہے، خواہشات اور حبِ دنیا دل سے نکل جاتی ہے اور اس کا واضح اثر انسان کے طرزِ عمل پر پڑتا ہے۔

آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم سے صحابہ نے پوچھا تھا کہ

افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ (الزمر 22:39)

اب کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا اور وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر چل رہا ہے.

میں شرح صدر سے کیا مراد ہے؟

تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا

اذا دخل النور القلب انشرح والفتح، قلنا یا رسول اللہ وما علامۃ ذلک قال الا نابۃ الی دار الخلود، والتجا فی عن دار الغرور، والاستعداد للموت قبل نزول (الحاکم، البیہقی فی الزہد)"

جب نور دل میں داخل ہوتا ہے تو دل کھِل اور کھُل جاتا ہے۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ اس کی کیا علامت ہے؟ فرمایا ہمیشہ کے گھر کی طرف رغبت و رجوع اور دنیا سے بے رخی و بے توجہی اور موت آنے سے پہلے اس کے لیے تیاری۔


قرآن کی قوتِ تاثیر

ارشادِ الٰہی ہے

ولو ان قُراناً سُیرت بہِ الجبالُ او قطِعت بہِ الارضُ او کُلِم بہِ الموتیٰ، بل للہِ الامرُ جمِیعًا، (الرعد 31:13)

اور کیا ہو جاتا اگر کوئی ایسا قرآن اتار دیا جاتا جس کے زور سے پہاڑ چلنے لگتے، یا زمین شق ہو جاتی یا مردے قبروں سے نکل کر بولنے لگتے؟ (اس طرح کی نشانیاں دکھا دینا کچھ مشکل نہیں ہے) بلکہ سارا اختیار ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یقیناً قرآن مجید کی تاثیر ہمارے تخیل سے بھی بہت زیادہ قوی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس کی مثال یوں فرمائی بیان فرمائی ہے

لو انزلنا ھٰذا القرآن علیٰ جبل لرایتہُ خاشعا مُتصدِعا من خشیۃِ اللہِ، و تِلک الامثال نضربھا للناس لعلھُم یتفکرون(الحشر 31:59)

اگر ہم نے یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتار دیا ہوتا تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دبا جا رہا ہے اور پھٹا پڑتا ہے۔ یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنی حالت پر غور کریں۔

علامہ قرطبی اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں، "اگر پہاڑوں کو عقل دی جاتی اور پھر اس قرآن کے ذریعے ان سے خطاب کیا جاتا تو پہاڑ قرآنی مواعظ کے سامنے جھک جاتے اور اپنی سختی و مضبوطی کے باوجود انہیں ہم خوفِ خدا سے پھٹا ہوا دیکھتے۔" (الجامع لا حکام القرآن، ج18، ص30)۔

اس مثال سے واضح ہے کہ قرآن مجید اپنی قوتِ تاثیر کی وجہ سے ہر ایک پر حجت ہے، لہٰذا اس شخص کا دعویٰ غلط ہے جو کہتا ہے کہ وہ قرآن سمجھنے کا اہل نہیں۔

قرآنی تبدیلی کا نمونہ

ہر وہ شخص جو قرآن کریم کا کتابِ ہدایت و شفا کے طور پر خیر مقدم کرتا ہے اور قرآن مجید کے ساتھ اس کا طرزِ عمل حقیقی ہوتا ہے، اس کی شخصیت میں قرآن انقلاب پیدا کر دیتا ہے اور اسے ایک نئے سانچے میں ڈھال دیتا ہے۔ قرآنی تبدیلی کا نمونہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ ہیں۔ وہ اسلام سے پہلے جاہلیت کی انتہا پر تھے مگر قرآن کی کٹھالی سے نکلے تو ایسے انسان تھے جن پر انسانیت آج تک فخر کرتی ہے۔

اس کتابِ عظیم میں انسانی زندگیوں میں انقلاب برپا کرنے کی قوت و تاثیر اور استعداد کس قدر ہے، اس کا اندازہ بھلا کون کر سکتا ہے؟ کون یہ سوچ سکتا ہے کہ ایک قوم جو صحرا میں رہتی ہو، غریب ہو، ننگے پاؤں ہو، لباس کا اہتمام نہ ہو، علم و دانش سے تہی ہو، اپنے زمانے کی سپر پاورز میں اس کا شمار نہ ہو، اس قوم کو بدلنے کے لیے قرآن آتا ہے تا کہ اس کی تشکیل جدید کرئے، اسے زمین کی پستی سے اٹھا کر آسمان کی بلندی تک پہنچا دے، اس قوم کے دلوں کو اللہ سے جوڑ دے تا کہ اس قوم کی غایت و مقصد صرف اللہ ہی بن جائے۔ قرآن مجید نے یہ تبدیلی چند برسوں میں کر دی اور ثابت کر دیا کہ اس بنیادی تبدیلی کے لیے ایک مختصر عرصہ کافی ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہوا؟ دراصل قرآن کریم کے ذریعے تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ قوم اس تغیر کے لیے آمادہ ہو۔

ان اللہ لا یُغیر ما بقومِ حتیٰ یُغیِرُو ما بِانفُسہِم (الرعد 11:13)۔

حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی۔

چند ہی سالوں کے بعد اس صحرا کے قلب سے ایک نئی قوت ابھری جس نے روم و فارس کی عظیم و قدیم سلطنتوں کو مٹا کے رکھ دیا اور عزت و ذلت کے پیمانے بدل دیئے۔


قرآن مجید پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا عمل

صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین میں قرآن کے ذریعے جو بنیادی تبدیلی آئی اس کا سبب ان کا قرآن سے تعلق تھا۔ وہ قرآن کی قدر و قیمت سے آگاہ تھے اور اس کے مقصدِ نزول کو خوب سمجھے ہوئے تھے۔ اس سلسلے میں ان کے لیے نمونہ و اسوہ ان کے استاد و معلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی تو زندگی کا محور ہی قرآن تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی قرآن کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہر سورت کو ترتیل سے پڑھا کرتے تھے۔ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ و سلم پوری رات اپنی نماز تہجد میں اس ایک آیت کو ہی دہراتے رہے:

اِن تُعذِبھُم فاِنھم عِبادک، واِن تغفرِ لھم فاِنک انت العزیز الحکیم (المائدۃ 118:5)۔

اگر آپ انہیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ غالب اور دانا ہیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم قرآن کی قوتِ تاثیر سے کس قدر اثر لیتے تھے، اس کا کچھ اندازہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ارشاد سے ہو سکتا ہے "مجھے سورہ ہود اور اس جیسی سورتوں نے وقت سے پہلے ہی بوڑھا کر دیا۔" (الجامع الصغیر)۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم قرآن پر عمل کرنے میں مسلمانوں کے لیے ایک نمونہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم قرآن پاک کے ترجمان تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بجا فرمایا تھا "کان خلقہ القرآن۔" قرآن آپ کا خلق و کردار تھا۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ کتاب کی شکل میں قرآن پڑھنے کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت کا بھی مطالعہ کریں، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم قرآنِ متحرک تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت، افعال و اقوال سب قرآن کی عملی شکل ہیں۔ قرآن کریم آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر اترتا تھا، اس لیے سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہی اس پر عمل کرتے تھے۔ قوانین قرآنی کی پیروی سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہی فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہ سب کچھ مجبوراً نہیں بلکہ بطیبِ خاطر کرتے تھے۔ قرآن کی محبت آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے قلبِ مقدس میں پیوست تھی۔ قرآن کی پیروی سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا دل دھڑکتا تھا۔ اتباع قرآن آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی فکر کا مرکز تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم قرآنی حکم کی تعمیل کے لیے بے تاب رہتے تھے۔ اس سلسلے میں اپنے تزکیہ نفس اور ہمت عالیہ کو خوب کام میں لاتے۔ آئیے یہاں پر ہم چند مثالیں دیکھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کس شان کے ساتھ قرآن کے ہر حکم کی تعمیل فرمایا کرتے تھے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں سے الگ تھلگ رہ رہے تھے اور غارِ حرا میں جا کر تخلیہ و تفکر کے دن گزار رہے تھے۔ جب وحی سے سرفراز ہوئے اور قریبی رشتہ داروں اور پھر تمام انسانوں کو ڈرانے اور ان تک اللہ کا پیغام پہنچانے کا حکم ملا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے گوشہ نشینی اور عزلت کی زندگی فوراً چھوڑ دی اور اپنے آپ کو دعوت الی اللہ کے لیے وقف کر دیا۔ مکہ کی برتر قوت اور قبائل کی سخت گیری کی قطعاً پروا نہ کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی پوری زندگی کو دعوت کا عملِ مسلسل بنا دیا۔ نہ اکتائے، نہ تھکے اور آخری سانس تک اس میں مصروف رہے۔

قرآن شریف نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو صبر و ثبات کو حکم دیا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم مکہ میں کافروں کی مخالفتوں، طائف میں جاہلوں کے تشدد اور مدینہ میں یہودیوں اور منافقوں کی سازشوں کے سامنے صبر س ثبات کا ایک پہاڑ معلوم ہوتے تھے۔

مدینہ میں جہاد کا حکم ملا تو مدنی زندگی جہاد میں ڈھل گئی۔ غزوات، سرایا، جنگ و صلح، جنگی مہمیں، لشکر کشی اور فتوحات یہ سب کیا تھا؟ قرآنی حکم کی تعمیل ہی تو تھی۔

قرآن مجید نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو پریشان حالوں کی مدد کا حکم دیا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے قرض لے لے کر بھی حاجت مندوں کی مدد کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم فقر و فاقہ کا اندیشہ نہ کرتے تھے، بند و تیز ہوا سے بھی بڑھ کر سخاوت فرمایا کرتے تھے۔

قرآن حکیم نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو عہد کی پابندی کا حکم دیا تو کیفیت یہ تھی دشمن تک بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے وعدوں پر یقین کرتے تھے۔

قرآن نے عفو و درگزر کے لیے کہا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے سخت ذاتی دشمنوں تک کو معاف کر دیا اور کبھی ذاتی انتقام نہیں لیا۔

قرآن نے رحم کرنے کا حکم دیا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم انسانوں پر اتنے مہربان تھے جتنی ایک ماں اپنے چھوٹے بچے پر، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔

قرآن نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو عدل و انصاف سے کام لینے کے لیے کہا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے عدل پر حیرت، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کو نہیں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے دشمنوں کو ہوا کرتی تھی۔

قرآن اگر کسی مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے واقعے اور معاملے کی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو بشارت دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے نزدیک یہ واقعہ عین الیقین سے زیادہ لائق اعتماد ٹھہرتا۔


قرآن مجید نے انبیائے کرام کے واقعات بیان کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو حکم دیا:

أُولئِکَ الَّذِینَ هَدَی اللّهُ فَبِهُداهُمُ اقْتَدِهْ (الانعام 90:6)

اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم، وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستے پر تم چلو۔

آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ حکم ملا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان انبیا کی ان تمام صفات کو اپنا لیا جن کی قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے تحسین فرمائی تھی۔ حضرت نوح علیہ السلام کی اپنی دعوت پر استقامت، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی محبت اور عزم، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اخلاص اور صلابت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زہد اور نرم دلی، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اپنے رب کے حکم کے سامنے اطاعت و تسلیم، حضرت داؤد علیہ السلام کی اطاعت و حمد الٰہی، حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکمت و دانائی اور شکر، حضرت یوسف علیہ السلام کی عفت و احسان اور حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر۔

سب انبیائے کرام کو توحید پر کاربند رہنے اور عقیدہ توحید کی تبلیغ کا حکم ملا تھا مگر جس شان کے ساتھ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے دنیا میں توحید کا ڈنکا بجایا، اپنی امت کو توحید کی اہمیت سے آگاہ کیا اس کی مثال نہیں ملتی، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے شرک کے ظاہری و باطنی پہلو سے اپنی اُمت کو خبردار کیا اور شرک جلی و خفی کا ہر دروازہ بند کر دیا۔

قرآن مجید نے حکم دیا:

بلِ اللہ فاعبدو کن من الشٰکرین (الزمر 66:39)

لہٰذا، اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم تم بس اللہ ہی کی بندگی کرو اور شکر گزار بندوں میں سے ہو جاؤ۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم عبادت و شکر میں رات دن گزار دیتے۔ رات کو آرام کرنے کے بعد جب بیدار ہوتے تو حمد و شکر کے کلمات زبان سے ادا فرماتے اور پھر پورا دن ہر ہر موقعہ پر حمد و شکر بجا لاتے۔کھانا کھانے کے بعد، دودھ اور پانی پینے کے بعد، لباس پہننے کے بعد، آئینہ دیکھنے کے بعد، پہلی رات کا چاند دیکھنے کے بعد، وضو کرنے کے بعد، وضو کرنے کے دوران، قضائے حاجت کے لیے جانے سے پہلے اور اس کے بعد، کسی کی بیمار پرسی کرتے وقت، نیا پھل کھاتے ہوئے، غرض یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی حیاتِ مبارکہ کو کوئی لمحہ ایسا نہ تھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم حمد و شکر بجا نہ لاتے۔ رات کو سوتے تو بہت سی دعائیں اور کلمات حمد و شکر ادا کر کے سوتے۔

قرآن مجید نے حکم دیا:

و کلوا واشربو ولا تسرِ فوا (الاعراف 31:7)

اور کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو" آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسراف سے بچنے کی تلقین فرمائی، فرمایا

ہم ایسے لوگ ہیں کہ جب تک بھوک نہ لگے کھاتے نہیں اور ابھی بھوک باقی ہوتی ہے کہ کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔" آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے ساتھیوں سے فرمایا کرتے تھے، "پانی کے استعمال میں بھی حد سے تجاوز ہوتا ہے۔ اس لیے پانی میں بھی اسراف نہ کرو، اگرچہ تم بہتے دریا پر ہی ہو۔"

قرآن ہم کو پانی کی نعمت کے بارے میں کہتا ہے،

لو نشاءُ فعلناہ اُجاجا فلو لا تشکرون (الواقعۃ 70:56)

ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بنا کر رکھ دیں، پھر کیوں تم شکر گزار نہیں ہوتے؟


آپ صلی اللہ علیہ و سلم پانی پینے کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے

الحمد للہ الذی جعلہ عذبا فراتا برحمتہ ولو یشاء لجعلہ اجاجاً بذنوبنا

اللہ کے لیے حمد و شکر ہے جس نے اپنی رحمت سے پانی کو شیریں اور بہت میٹھا بنا دیا اور اگر وہ چاہتا تو ہمارے (انسانوں کے) گناہوں کی وجہ سے اسے سخت کھاری و تلخ بنا دیتا۔

قرآن کہتا ہے:

فسبح بحمدِ ربک و کُن من السٰجدین (الحجر 98:15)

اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو، اس کی جناب میں سجدہ بجا لاؤ۔

نیر ایک جگہ فرمایا:

اور اپنے رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح کرو سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور ان کے کناروں پر بھی، شاید کہ تم راضی ہو جاؤ۔

اس قرآنی حکم کی تعمیل میں آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کی زبانِ مبارک ہر وقت ذکرِ الٰہی سے تر رہتی تھی، سورج نکلنے سے پہلے، سورج نکلنے کے بعد، اذان کے ساتھ ساتھ، اذان کے بعد، نماز سے پہلے، نماز میں اور نماز کے بعد، رات اور دن کے ہر مناسب موقعہ پر، گویا کہ پورا دن، رات کا بڑا حصہ تکبیر، تسبیح، تحمید، تہلیل، استغفار اور دعا میں گزرتا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو مخاطب کر کے فرمایا:

یٰایھا المزمل۔ قُم الیل اِلا قلیلا۔ نصفہ اوِانقص منہ قلیلا۔ او زد علیہ و رتل القرآن ترتیلا۔ (المزمل 1:73-4)

اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے، رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم، آدھی رات یا اس سے کچھ کم کر لو، یا اس کچھ زیادہ بڑھا دو اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم شب زندہ دار رہتے، نماز میں کھڑے ہو کر اپنے پروردگار سے سرگوشی کرتے رہتے، حتیٰ کہ اس حالت میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے قدم مبارک سوج جاتے اور آرام کے مشورے پر فرمایا کرتے:

افلا اکون عبدًا شکورا۔

کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔

ہم ان چند مثالوں پر اکتفا کرتے ہیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی پوری زندگی قرآن کی اتباع تھی۔ یہ تھے ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ و سلم، ہمارے لیے مثال اور نمونہ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا دن عمل، دعوت، جہاد، فیصلے کرنے، بیان، خطاب، ذکر، عبادت اور رہنمائی میں بسر ہوتا۔ رات تہجد، دُعا، مناجات، اپنے خالق و مالک سے سرگوشی میں گزر جاتی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس طرح اپنی پوری زندگی کے ماہ و سال گزار دیئے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے طرزِ عمل اور طریق کار میں تبدیلی نہ آئی۔ یہ تھے ہمارے آقا، ہمارے رسول، ہمارے رہنما، ہمارے قائد، جن پر قرآن اترتا تھا۔

سب سے بہتر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن سمجھا۔
سب سے بہتر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہی قرآن میں تدبر کیا۔
سب سے بہتر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن کو واضح کیا۔
سب سے بڑھ کر قرآن کی تعلیم دینے والے آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہی تھے۔
سب سے بڑھ کر قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنے والے آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہی تھے۔

اس لیے قرآن نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو انسانیت کے لیے اسوۂ حسنہ ٹھہرایا اور قرآن مجید نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں کیا خوب فرمایا:

اِن اللہ و ملٰئکتہُ یُصلُون علی النبی، یٰایھُا الذین اٰمنُوا صلُوا علیہِ و سلِمُوا تسلِیما۔(الاحزاب 56:33)

اللہ اور اس کے ملائکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔


صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا قرآن سے تعلق

قرآن نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو قرآن سے کس قدر شیفتگی تھی اور وہ قرآن سے کس حد تک متاثر تھے، اس کا اندازہ کچھ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ غزوہ ذات الرقاع میں عباد بن بشیر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ دونوں کی باری باری پہرہ دینے کی ڈیوٹی تھی تا کہ رات کے وقت کوئی دشمن مسلمانوں کے لشکر پر حملہ نہ کرئے۔ حضرت عباد بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ رات کے پہلے حصے میں سو جائیں، میں پہرہ دوں گا۔ جب حضرت عباد بن بشیر رضی اللہ عنہ نے پہرہ دیتے ہوئے دیکھا کہ خطرے کی کوئی بات نہیں تو انہوں نے نماز پڑھنی شروع کر دی، اتنے میں ایک مشرک آیا اور اس نے تیر مارا۔ حضرت عباد بن بشیر رضی اللہ عنہ نے نماز کے دوران ہی تیر کھینچ کر نکال دیا اور نماز میں مصروف رہے، مشرک نے دوسرا تیر مارا، حضرت عباد بن بشیر رضی اللہ عنہ نماز میں قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے، انہوں نے کھینچ کر تیر نکال دیا، مشرک نے تیسرا تیر مارا تو انہوں نے تیر نکالا اور تلاوت ختم کی اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو جگایا۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے کہا، آپ نے مجھے پہلا تیر لگنے پر ہی جگا دیا ہوتا، فرمایا میں نماز میں ایک سورت پڑھ رہا تھا، اس لیے میں نے سورت مکمل کیئے بغیر نماز ختم کرنا مناسب نہ جانا۔ مگر جب دشمن نے بار بار تیر اندازی کی تو میں نے نماز ختم کر کے آپ کو جگا دیا۔ اللہ کی قسم، اگر مجھے اندیشہ نہ ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے جس جگہ پہرہ دینے کے لیے متعین فرمایا ہے، اسے خطرہ لاحق ہے تو میں سورت پڑھتا ہی رہتا، یا یہ سورت مکمل ہو جاتی یا اسی میں میری جان چلی جاتی۔ (السیرۃ النبویۃ لا بن ہشام)۔

قرآن کی حقیقی قدر و قیمت اس کے معانی میں پوشیدہ ہے۔ قرآن اپنے پڑھنے والوں میں بنیادی تبدیلی پیدا کر دیتا ہے، ان کی عقل کی تشکیل نو کرتا ہے، انکے قلوب میں نئی روح پھونک دیتا ہے، ان کے نفس کی ایسی تربیت کر دیتا ہے کہ قرآن کا مطالعہ کرنے والے اللہ کی صفات کے عالم، اخلاص و بصیرت سے اس کی عبادت کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کے احکام و قوانین کی پابندی کرنے والے ہو جاتے ہیں۔ انسانوں میں قرآن کریم کے ذریعے ہونے والی یہ تبدیلی صرف اسی صورت میں ہوتی ہے جب اس کا تدبر سے مطالعہ کیا جائے اور ساتھ ساتھ اس پر عمل بھی کیا جائے۔ قرآن کے الفاظ کو محض زبان سے پڑھ لینے سے نہ تبدیلی آتی ہے نہ یہ فوائد و ثمرات ہوتے ہیں۔ قرآن پڑھنے والے ہزار بار بھی کیوں نہ ختم کر لیں، محض سرسری اور فرفر تیز پڑھنے سے کبھی تبدیلی نہیں آتی۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین قرآن شریف کو جلد جلد پڑھ ڈالنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا گیا کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ ان میں سے ایک رات میں دو یا تین بار قرآن پڑھ ڈالتا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، ان لوگوں نے پڑھا مگر نہ پڑھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پوری رات قیام فرماتے تھے اور اس میں البقرۃ، آل عمران اور النساء سورتیں پڑھتے تھے۔ اگر اس میں خوش خبری ہوتی تو اللہ تعالیٰ سے اسے طلب کرتے، اگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم ایسی آیت پڑھتے جس میں ڈرایا گیا ہے تو اللہ سے اس کی پناہ مانگتے۔ (ابن المبارک نے یہ حدیث الزہد میں بیان کی ہے۔ حدیث نمبر 1196، ص 421)۔

حضرت ابو جمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: میں بہت تیز پڑھنے والا ہوں۔ میں تین دن میں قرآن شریف پڑھ لیتا ہوں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے تو ایک رات میں سورۃ البقرہ پڑھنا، اس میں تدبر کرنا اور اسے ترتیل سے پڑھنا زیادہ پسند ہے اس طرح پڑھنے سے جیسے تم بتا رہے ہو۔ (فضائل القرآن لابی عبید ص 157)۔

قرآن کے ساتھ ہمارا رویہ

ہمارے پاس بھی وہی قرآن ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے پاس تھا۔ قرآن نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو ایک منفرد انسانی گروہ میں بدل دیا۔ کیا قرآن اب اس طرح کی تبدیلی لانے سے قاصر ہے؟ کیا قرآن کی کارکردگی ختم ہو گئی ہے؟ ایسا ہرگز نہیں، تو پھر بات کیا ہے؟ قرآن مجید تو ایک دائمی معجزہ ہے۔ یقیناً نقص ہمارے اندر ہے، کوتاہی ہماری ہے۔ قرآن ہر گھر میں موجود ہے۔ ریڈیو سٹیشن اور ٹیلی ویژن سنٹر مختلف مسلم ممالک میں اپنے چینل سے رات دن قرآن کریم نشر کر رہے ہیں۔ پوری اُمتِ اسلامیہ میں اس وقت لاکھوں قرآن مجید کے حفاظ موجود ہیں، اتنے حفاظ تو عہدِ نبوی اور عہدِ خلفائے راشدین میں نہ تھے۔ اس سب کے باوجود، اس قدر اہتمام کے ہوتے ہوئے بھی قرآن کریم کے ذریعے مطلوبہ تبدیلی عمل میں نہیں آ رہی؟ اس کی وجہ کیا ہے؟

واضح بات ہے کہ ہم ان شرطوں کو پورا نہیں کر رہے جو قرآن کے معجزانہ اثرات کے ظہور کے لیے ضروری ہیں اور جن کی تکمیل سے قرآن تبدیلی کا عمل سر انجام دیتا ہے۔ ہماری ساری توجہ قرآن کے الفاظ پر ہے۔ "تعلیم قرآن" کا مطلب ہم نے صرف یہ سمجھا ہے کہ قرآن کے الفاظ سیکھے جائیں اور قرآن کو پڑھنے کی کیفیت سیکھ لی جائے، اس کے الفاظ کو صحیح مخارج سے ادا کرنے کا طریقہ ہمیں آتا ہو، اور ان حروف کی صفات کو صوتی لحاظ سے درست ادا کیا جائے۔ ہم نے قرآن کے معانی تک رسائی پر توجہ دی ہے نہ اس میں کچھ زیادہ دلچسپی لی ہے اور عمل کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

قرآن کے ساتھ ہمارے اس ظاہری شکل تک محدود طرزِ عمل نے ہمیں قرآن کے حقیقی منافع پانے سے روک دیا ہے۔ کتابِ زندہ کے ساتھ ہمارے اس عجیب و غریب رویئے کا نتیجہ ہمارے لیے نہایت مہلک ہے۔ قرآن کریم کا یہ اعجاز کہ وہ نفوس میں تبدیلی پیدا کر دیتا ہے، ہماری بے عملی و کاہلی کی وجہ سے ظاہر نہیں ہو رہا۔ قول و فعل میں تضاد بڑھ چکا ہے۔ ہماری دلچسپیاں بدل چکی ہیں۔ دنیا سے تعلق اور اس کی محبت میں اضافہ ہوا ہے۔ آج ہماری حالت وہی ہو چکی ہے جس کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے پیش گوئی فرمائی تھی۔ "قریب ہے کہ قومیں تم پر حملہ کرنے کے لیے ایک دوسرے کر ایسے بلائیں جیسے کھانا کھانے والے دسترخوان پر ایک دوسرے کو بلایا کرتے ہیں۔ ایک شخص نے عرض کیا ’ کیا ہم اس وقت تھوڑی تعداد میں ہوں گے؟‘ فرمایا، ’ نہیں بلکہ اس وقت تم لوگ تعداد میں بہت زیادہ ہو گے۔ مگر سیلاب کے جھاگ کی مانند ہو گے۔ اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں میں تمہارا دبدبہ ختم کر دے گا۔‘ ایک کہنے والے نے کہا، یا رسول اللہ وہن کیا چیز ہے؟ فرمایا ؛ دنیا کی محبت اور موت سے نفرت۔" (السلسلۃ الصحیحۃ)

اگر ہم مسلمان اپنے اندر حقیقی تبدیلی پیدا کرنا چاہتے ہیں تو پھر آئیے قرآن کی طرف رجوع کرنے کا اس سے بہتر کوئی موقع نہیں۔ عراق اور افغانستان کے موجودہ حالات ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ کیا عراق پر دھاوا بولنے کے لیے امریکہ نے اپنے حامیوں کو اسی طرح نہیں بلایا جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے خبر دی تھی؟


قرآن سے استفادے کا درست طریقہ

قرآن مجید کا مطالعہ یہ سمجھ کر کرنا چاہیے کہ یہ پڑھنے والے سے براہ راست خطاب ہے اور انسان کی دنیا و آخرت کی سعادت کی کنجی یہی کتاب ہے۔ انسان کی حالت خواہ کیسی ہی خراب کیوں نہ ہو، یہ کتاب اسے بدل سکتی ہے۔ قرآن پڑھنے والا اگر یہ شعور رکھتا ہے تو اسے قرآن مجید سے استفادے کا طریقہ بتانے کی بھی ضرورت نہیں۔ یہی احساس اس میں تبدیلی لانے کے لیے کافی ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ ہمارا قرآن خوانی کا طریقہ صدیوں سے ایسا چلا آ رہا ہے کہ ہم قرآن سے صحیح معنوں میں استفادے سے محروم ہیں، گویا صدیوں سے ہمارے مسلسل غلط طرزِ عمل نے ہمارے اور قرآن شریف کے نفع پہنچانے کے مابین ایک نفسیاتی رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔

اگر ہم قرآن شریف سے واقعی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں درج ذیل امور کا خیال رکھنا چاہیے:

1: قرآن مجید سے دلچسپی

قرآن مجید سے ہمارا تعلق اتنا مضبوط ہو، ہمیں اتنی دلچسپی ہو کہ یہ ہماری تمام تر توجہات کا مرکز بن جائے۔ ہماری اولین ترجیح یہی ہو۔ خواہ حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں، ہم روزانہ باقاعدگی سے اس کی تلاوت کریں۔ ہم کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں، اس کے لیے ہر حال میں وقت نکالیں۔ یاد رہے کہ مطالعہ قرآن کے نتیجے میں‌ ہونے والی تبدیلی کی رفتار تیز نہیں ہوتی۔ یہ تبدیلی بتدریج آتی ہے۔ مطالعہ قرآن کا عمل تب ہی ثمر آور بنتا ہے جب اسے تسلسل و دوام کے ساتھ کیا جائے اور ہمارا ایک دن بھی قرآن کریم کی زیارت و ملاقات کے بغیر نہ گزرے۔ ہم جتنا قرآن کو وقت دیں گے، اتنا ہی وہ ہمیں نفع دے گا۔ جو خوش نصیب دن میں کئی بار قرآن شریف کا مطالعہ کرتا ہے وہ کامیاب و کامران ہوتا ہے۔ قرآن کے لفظ و معنی دونوں ہی سے استفادہ کرنا چاہیے۔

2: مناسب جگہ

قرآن شریف کے ذریعے تبدیلی لانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کے مطالعے کے لیے موزوں و مناسب جگہ منتخب کریں۔ ہم ایک معزز مہمان کا استقبال اپنے گھر میں جس طرح کرتے ہیں، اس سے کہیں بڑھ کر قرآن کا خیر مقدم کریں۔ شور و شغب سے خالی پُر سکون جگہ میں قرآن کریم سے ملاقات کریں۔ اس سے حسنِ فہم میں مدد ملتی ہے۔ گوشہ تنہائی میسر ہو تو از بس غنیمت ہے۔ ہم وہاں بیٹھ کر دورانِ مطالعہ اپنے احساسات کا بخوبی اظہار کر سکتے ہیں۔ تنہائی میں رونے، آنسو بہانے، دعا کرنے اور سبحان اللہ کہنے میں خاص لطف آتا ہے۔ قاری متعلقہ آیات کے مطابق اپنی باطنی کیفیت کے اظہار کا موقع پاتا ہے۔

3: موزوں وقت

مناسب جگہ کے ساتھ ساتھ موزوں وقت کا ہونا بھی ضروری ہے۔ انسان اس وقت قرآن شریف پڑھے جب ہو چست، چاک و چوبند اور جسمانی و ذہنی لحاظ سے مستعد و آمادہ ہو۔ اگر انسان تھکا ماندہ ہو، نیند آ رہی ہو، بخار یا درد ہو تو ایسی حالت میں مطالعہ قرآن نہ کرنا چاہیے۔ وضو کرنے کے بعد، جس میں مسواک بطورِ خاص ہو، قرآن شریف پڑھا جائے تو زیادہ نفع ہو گا۔

4: ٹھہر ٹھہر کا پڑھنا

ہم رک رک کر، ٹھہر ٹھہر کر قرآن مجید پڑھیں، الفاظ کی ادائیگی درست ہو۔ حروف و الفاظ مکمل اور درست ادا کریں۔ اس طرح تیز تیز پڑھنا کہ حروف ٹوٹ جائیں، الفاظ ادھورے رہ جائیں، حسنِ ترتیل کے خلاف ہے اور محض ایک بے فائدہ عمل ہے۔ ہمیں

ورتلِ القراٰن ترتیلا

اور "قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو" کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔

ہمارا مقصد قرآن ختم کرنا یا سورہ مکمل کرنا نہ ہو۔ ختم قرآن کے لیے ہم تلاوت کی رفتار بڑھا دیتے ہیں۔ خاص طور پر رمضان شریف میں کئی کئی ختم کرنے کا ہمارا شوق ہمیں تیز رفتاری پر آمادہ کر دیتا ہے۔ ہم اب تک نہ جانے کتنے ختم کر چکے ہیں۔ رمضان شریف میں ایک ایک مسلمان نے کئی کئی ختم قرآن کر ڈالے۔ مگر اس کا فائدہ کیا ہوا؟ اس سے ہمارے اندر کیا تبدیلی آئی؟ اپنے بہن بھائیوں اور دوست احباب کے ساتھ ہمارا مقابلہ مقدارِ تلاوت میں نہ ہو بلکہ اس بات پر ہو کہ ہم نے آیاتِ قرآنی سے کتنی باتیں سمجھی ہیں؟ کتنے نکات ہمارے ذہنوں میں آئے ہیں؟ ہمارے ایمان و یقین میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟

5: توجہ سے مطالعہ کرنا

قرآن کریم کا مطالعہ ہم کم از کم دینا کی کسی کتاب کی طرح تو کریں۔ ہم جب کسی کتاب، رسالے یا اخبار کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم جو کچھ پڑھتے ہیں، اسے سمجھتے جاتے ہیں۔ جو بات سمجھ نہیں آتی، اسے دوبارہ پڑھتے ہیں تاکہ سمجھ میں آئے۔ قرآن مجید کو بھی ہم کم از کم اسی طرح پڑھیں۔ ذہنی طور پر حاضر ہوں۔ اگر کسی وجہ سے ذہن پراگندہ ہو یا بھٹکنے لگے تو آیات کو دوبارہ پڑھیں۔ ہمیں پہلے پہل اس طرح مطالعہ کرنے میں دقت محسوس ہو گی کیوں کہ ہم الفاظ کو معانی سے الگ کر کے پڑھنے کے عادی ہیں لیکن مسلسل مشق سے ہماری یہ پرانی عادت جاتی رہے گی۔

6: سرِ تسلیم خم

قرآن مجید کے مخاطب تمام انسان ہیں۔ یہ ان سے براہ راست خطاب کرتا ہے۔ اس خطاب میں سوال و جواب ہیں، وعدے وعید ہیں، اوامر و نواہی ہیں۔ لہٰذا پڑھتے وقت ہمارا فرض ہے کہ ہم قرآن کے سوالوں کے سوالوں کے جوابات دیں۔ اس کے احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے، سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر اور استغفر اللہ کے کلمات حسبِ موقع و محل ادا کریں۔ سجدے کی آیات پر سجدہ کریں۔ دعا کے بعد آمین کہیں۔ جہنم کا بیان پڑھیں تو آگ سے پناہ مانگیں، جنت کا تذکرہ پڑھیں تو پروردگار سے جنت کا سوال کریں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا یہی طریقہ تھا۔ اس طرح کا طرزِ عمل اختیار کرنے سے ہم پراگندہ ذہنی اور عدم توجہ سے محفوظ رہیں گے۔

7: ہدف - معانی

بعض پر جوش مسلمان جب تدبر قرآن کا آغاز کرتے ہیں تو ایک ایک لفظ پر غور و فکر کرتے ہیں مگر چند دنوں تک اسے نبھا پاتے ہیں۔ اکتا کر پھر اسی پرانی ڈگر پہ چل پڑتے ہیں اور فہم و تدبر کے بغیر ہی پڑھنے لکھنے لگتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون سا طریقہ ہے کہ تدبر و تفکر بھی ہو اور غیر معمولی تاخیر بھی نہ ہو۔ آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم آیت کا اجمالی مطلب سمجھتے جائیں۔ جن الفاظ کے معانی، عربی جاننے کے باوجود نہیں جانتے، سیاق و سباق سے ان کے معنی سمجھیں، جیسے ہم انگریزی میں کوئی مضمون یا خبر پڑھتے ہیں تو ہمیں ہر لفظ کا تفصیلی مفہوم معلوم نہیں ہوتا مگر ہم کلام لے اسلوب و انداز اور سیاقِ کلام سے اس عبارت کا اجمالی مطلب سمجھ لیتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشادِ گرامی ہے "قرآن یوں نہیں اترا کہ اس کا بعض حصہ دوسرے حصے کی تکذیب کرتا ہو، بلکہ اس کا ہر حصہ دوسرے حصوں کی تصدیق کرتا ہے۔ تم لوگ قرآن میں سے جو سمجھ جاؤ اس پر عمل کرو اور جس کا مطلب نہ سمجھ پاؤ اسے قرآن جاننے والے کی طرف لوٹاؤ (یعنی اس سے سمجھ لو)۔"(یہ حدیث حس ہے۔ مسند امام احمد، سنن ابن ماجہ)۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم الفاظ کے معانی جاننے کی کوشش نہ کریں، یا کتب تفاسیر کی طرف سرے سے رجوع ہی نہ کریں۔ مطلب صرف یہ ہے کہ ہم تفسیر کے لیے الگ وقت رکھیں اور مطالعہ کتاب اللہ کے لیے الگ وقت مختص کریں۔ تلاوت سے ہمارا مقصد "دل کو زندہ "کرنا ہو۔ اس کے لیے ہمیں تفاسیر کے بغیر قرآن مجید سے براہ راست ملاقات کرنا ہو گی۔

8: آیات کو بار بار پڑھنا

ہم نے قرآن شریف سے استفادے کے لیے اب تک جو معروضات کی ہیں، یہ سب عقل سے تعلق رکھتی ہیں جو علم و دانش کا مرکز ہے۔ اب جو ہم طریقہ بیان کر رہے ہیں یہ قلب کے لیے ہے۔ قلب ایمان کا محل ہے۔ دل انسان کے اندرونی جذبات و احساسات کا مرکز ہے۔ دل میں جتنا ایمان زیادہ ہو گا اتنے ہی اعمال صالح ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان جذبہ و احساس سے عبارت ہے۔ ہمارا اثر قبول کرنا، سرِ تسلیم خم کر دینا، متاثر ہونا، نماز، دعا اور تلاوت کلام اللہ میں ایمان کا بڑھنا سب کا تعلق دل سے ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے:

واذا تُلِیت علیھم ایٰتہ زادتھُم اِیماناً (الانفال 2:8)

اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔

قرآن مجید ایمان میں اضافہ کرنے کے اہم ذرائع میں سے ایک ہے۔ ابتدا میں قرآن کریم کی تاثیر کی مقدار کم ہو گی مگر جب بیان کردہ تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تو اس میں بتدریج اضافہ ہو جائے گا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور صحابیات رضی اللہ عنہا بعض اوقات ایک ہی آیت کو بار بار پڑھتے رہتے تھے۔ حضرت عبادۃ بن حمزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ یہ آیت پڑھ رہی تھیں:

فمن اللہ علینا و وقٰنا عذاب السموم (الطور 27:52)

آخر کار اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہمیں جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا۔

میں ان کے پاس ٹھہرا رہا تو وہ اسی آیت ہی کو دہراتی رہیں اور دعا کرتی رہیں۔ اپنے مقصد سے فارغ ہو کر واپس آیا تو ابھی تک وہ اسی آیت کر دہرا رہی تھیں اور دعا کر رہی تھیں (مختصر قیال اللیل لمحمد بن نصہٰ ص 149)۔


خواتین کے منفرد تجربات

حال ہی میں ایک عرب ملک میں قرآن کریم پر عمل کرنے کی عملی دعوت کا آغاز ہوا ہے۔ یہ تحریک جدید تعلیم یافتہ خواتین نے شروع کی ہے۔ تھوڑے ہی عرصے میں اس مبارک اقدام کے حیران کن مگر خوش گوار نتائج سامنے آئے ہیں۔ محترمہ سمیع رمضان اس تحریک کی بانی ہیں۔ انہوں نے سوکس اور پولٹیکل سائنسز کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے۔ انہوں نے اس مضامین میں تخصص‌کی بجائے علوم شریعت کی رخ کیا اور کئی برس تک انہیں حاصل کیا۔ ان مضامین میں تخصص کرنے کے بعد انہوں نے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ وہ اپنی رفیقات کے ساتھ پڑوسیوں کے گھروں میں جا کر انہیں تعلیم دیتیں اور دینی معاملات سے متعارف کرواتیں۔

محترمہ سمیہ رمضان اپنے محلے کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے گئیں تو انہوں نے نماز کے بعد وہاں موجود خواتین سے گفتگو میں یہ طے کیا کہ ہفتے میں ایک بار جمعہ کی نماز کے بعد سب خواتین کی ایک نشست ہوا کرئے گی۔ ہر جمعے کو عورتوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ عورتیں اپنی رشتہ داروں اور پڑوسنوں کو ساتھ لانے لگیں۔ ان میں سے بہت سی عورتیں محترمہ سمیہ سے اپنے مسائل اور پریشانیاں بیان کرتیں۔ محترمہ انتہائی راز داری سے انہیں جواب دیتیں اور ہر مشکل کا حل بتاتیں۔ محترمہ اس نتیجے پر پہنچیں کہ ان میں سے بہت سی مشکلات کا حل معمولی سی کوشش سے ممکن ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے مسائل و مشکلات کو قرآن مجید کے سامنے پیش کریں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات سے مدد لیں۔

ایک دن درس دینے کے بعد محترمہ نے خواتین سے کہا آج ہم ایک نئے پروگرام کا آغاز کر رہے ہیں۔ ہم اپنی تمام مشکلات کو قرآن سے حل کریں گے اور ہم جو کچھ قرآن سے سمجھیں گے عملی زندگی پر اسے منطبق کریں گے۔ ہم ہر ہفتے ایک آیت لیں گے۔ پورا ہفتہ اسے ہی دہراتے رہیں گے۔ ہم یہ آیت حفظ کریں گے۔ اور پر عمل درآمد کریں گے۔ اس آیت کا عملی اطلاق کریں گے۔ اس آیت سے ہی ہم حرکت کریں گے، اس کے حکم اور منشا کی پابندی کریں گے اور یوں یہ آیت ہماری زندگی کا حصہ بن جائے گی۔ خواہ اس پر عمل کرنے میں ایک ہفتہ لگے یا ہفتے سے زیادہ وقت۔ اس کے بعد ہم پھر دوسری آیت لیں گے۔ اس پر اچھی طرح عمل ہو چکے گا تو پھر ایک اور آیت لیں گے۔ یوں ہم دیکھیں گے کہ نتیجہ کیا سامنے آتا ہے؟

قصہ مختصر، نتیجہ نہایت ہی شان دار نکلا۔ بہت سے مسائل حل ہوئے، بہت سی مشکلیں ختم ہوئیں، بڑی حد تک لوگوں کو سکون و اطمینان کی دولت ملی۔ خاندانی جھگڑے کم ہو گئے۔ اُجڑے ہوئے گھر بسنے لگے۔ روٹھے ہوئے راضی ہوئے۔ بہت سے شوہروں نے اپنی بیویوں کے رویے کی تبدیلی کو سراہا اور اسے ایک خوشگوار انقلاب قرار دیا۔ درس کے لیے اب عورتیں بڑی تعداد میں آنے لگیں، یہاں تک کہ عورتوں کے لیے مختص درس گاہ میں بیٹھنے کی گنجایش نہ رہی۔ اب درس مسجد کے مرکزی حصے میں، جہاں مرد نماز ادا کرتے ہیں، ہونے لگا مگر جلد ہی مسجد بھی تنگ معلوم ہونے لگی۔ یہ درس صرف عورتوں کے لیے ہوتے تھے۔ مردوں کو اجازت نہ تھی مگر عورتوں کے درس سننے کے نتیجے میں گھروں میں ماحول بدلا تو مردوں نے بھی مسجد کا رخ کیا۔ یہ دیکھ کر مسجد کی انتظامیہ نے مسجد کی توسیع کا فیصلہ کیا۔

یہ تو تھی اس مبارک سلسلے کے آغاز کی روداد۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ آیات پر عمل کیسے ہو رہا ہے؟ حکمِ قرآنی پر خواتین نے عمل کا تجربہ کیسے کیا؟ ان خوش گوار واقعات میں سے کچھ یہاں پیش کیئے جا رہے ہیں۔


گھر میں چیخنا چلانا

ہفتہ وار درسِ قرآن ہو چکا تو حسبِ معمول گزشتہ ہفتے کے بارے میں خواتین نے اپنے تاثرات و مشاہدات سنانے شروع کیئے۔ ساتھ ساتھ ان پر تبصرے بھی ہوتے جا رہے تھے کہ ایک خاتون بولیں :

"اللہ کا فضل ہے کہ میں نے اپنی ساری خامیوں اور کمزوریوں کو دور کر لیا ہے۔ میں نے، میرے خاوند اور میرے بچوں نے بفضل خدا مل کر گھر کے ماحول کو خوش گوار بنا رکھا ہے مگر میرے اندر ایک کمزوری ہے جس سے میں جان نہیں چھڑا سکی ہوں۔ یہ ہے میری بلند آواز۔ میری کئی بہنوں کو بھی اونچی آواز میں چلانے کا مرض ہے۔ وہ بھی اس سے چھٹکارا چاہتی ہیں۔"

اس پر میں نے کہا: آج ہماری نشست میں اس آیت پر غور ہونا چاہیے۔

واغضض من صوتک، ان انکر الاصوات لصوت الحمیر (لقمان 19:31)

اور اپنی آواز ذرا پست رکھ، سب آوازوں سے زیادہ بری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے۔

ہم اس آیت کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ اسی آیت کی روشنی میں سوچیں گے اور اسی پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہم اسے برابر دہراتے رہیں گے تاکہ اللہ ہم سب کو اپنی آواز دھیمی کرنے کی توفیق دے۔ ہم سب خواتین نے یہ طے کر لیا کہ ہم اس آیت کو اتنا دہرائیں گی کہ یہ آیت گویا ہمارے دلوں میں سرایت کر گئی ہے اور ہمارے دلوں کو اس نے روشن و منور کر دیا ہے۔ آئیے دیکھیں کہ یہ آیت کریمہ کیا نتائج دکھاتی ہے؟

جس خاتون کو اونچا بولنے اور چیخنے چلانے کا دورہ پڑتا تھا اور جس نے ہفتہ وار درسِ قرآن میں مجھ سے مشورہ طلب کیا تھا، اسے درس سنے اور درج بالا آیت کا نسخہ ہم سے لیے ابھی چند ہی دن ہوئے تھے کہ اس کی پڑوسن نے اسے ٹیلی فون کیا اور پوچھا۔ "میں نے کئی دن سے آپ کی آواز نہیں سنی، خیریت تو ہے؟" متاثرہ خاتون نے جواب دیا "بالکل خیریت ہے، آپ آ جائیے، درس میں تو ابھی بہت دن ہیں۔ میں اتنا انتظار نہیں کر سکتی تھی۔ اگر اپ کے پاس کچھ وقت ہے تو میری بات سننے کے لیے آ جائیے۔" پڑوسن جلد ہی پہنچ گئیں تو خاتون نے کہا۔

"جیسا کہ درس میں محترمہ سمیہ نے رہنمائی کی تھی، میں یہ آیت بار بار دہراتی رہی، حتیٰ کہ مجھے حفظ ہو گئی۔ یوں ایک دن گزر گیا۔ اگلے دن کی صبح حسبِ معمول بچے اسکول جانے کے لیے تیاری کر رہے تھے۔ اس مرحلے پر جیسا کہ آپ کو معلوم ہے میری حالت انتہائی قابلِ رحم ہوتی ہے۔ ایک ہی وقت میں ہر کوئی اپنی اپنی چیز مانگ رہا ہوتا ہے۔ مجھے اس موقع پر چلانے کی عادت تھی، میں بچوں کے ساتھ چیخ چیخ کر باتیں کرتی تھی، مگر اس صبح میں نے آیت کریمہ

واغضض من صوتک، ان انکر الاصوات لصوت الحمیر

پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس آیت کے نفاذ کے حقیقی ٹسٹ کے وقت، بچوں کے رویے کی وجہ سے میرے رویے میں بھی شدت آنے لگی۔ میرے مزاج میں آج پھر تیزی آنے لگی، کیوں کہ ایک بچے کو جوتا نہیں مل رہا تھا، دوسرے کو بیلٹ تیسرے کو پین اور چوتھے کو بستہ۔ یہ سن کر میری کیفیت وہی ہو گئی جو پہلے ہوتی تھی۔ میں نے بچوں کو زور زور سے ڈانٹنا شروع کر دیا۔ مگر اسی لمحے میں نے محسوس کیا کہ میرا چہرہ سرخ ہو گیا ہے اور میری شکل گدھے کی سی ہر رہی ہے، کان گدھے کی طرح لمبے ہو رہے ہیں۔ میں نے فوراً سوچا کہ گدھے کی طرح آواز نکالنے سے تو ہمیں روکا گیا ہے۔ ہمیں اپنی آواز گدھے سے مشابہ نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے جب روک دیا ہے، اپنا حکم دے دیا ہے تو پھر ہمیں اس حکم کی تعمیل کرنی چاہیے۔ کہیں ہماری شکل بگڑ نہ جائے، ہم یہودیوں کی طرح خنزیروں اور بندروں کی صورت میں مسخ نہ کر دیئے جائیں۔

میں چیخنے چلانے کی اس تشبیہہ کا تصور کر کے شرمندہ ہوئی، کیوں کہ اس طرح میں انسانوں سے نکل کر حیوانوں کے زمرے میں داخل ہو چکی تھی۔ یہ تصور آتے ہی میں بچوں کے لیے نرم پڑ گئی اور آہستہ آہستہ بولنے لگی۔ "ہاں یہ لے لو، یہ تمھارا جوتا ہے۔ قلم بھی یہیں کہیں ہو گا۔ تم نے اپنی ضروری چیزیں کل ہی اپنے بستے میں کیوں نہ رکھ لیں۔"یوں یہ مشکل ترین مرحلہ آسانی سے گزر گیا۔ ان چند منٹوں میں، میرا غصہ اپنی انتہا کو پہنچ جایا کرتا تھا اور مجھے اپنی جان نکلتی محسوس ہوتی تھی۔ اس دن یہ لمحے سکون و قرار سے گزر گئے۔

میں امتحان میں کامیاب ہو گئی، جی ہاں میں پاس ہو گئی۔ چند دن سے میرا یہی حال ہے۔ میرا یہ سکون و قرار اور دھیمی آواز اور لہجے کو دیکھ کر میرا خاوند پہلے تو پریشان ہوا۔ پوچھنے لگا، تم بیمار تو نہیں ہو؟ میں نے جواب دیا، جی ہاں میں بیمار تھی، مریضہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دے دی۔ اللہ نے قرآن مجید پر عمل کے ذریعے مجھے صحت عطا فرما دی۔ میرے میاں نے میری یہ بات سنی تو اسے یقین نہیں آ رہا تھا۔ پھر کہنے لگا یہ تو اچھی بات ہے۔ بڑا اچھا ہے کہ تبدیلی خود تمہاری طرف سے آئی ہے۔ کاش کہ یہ تبدیلی جاری رہے۔ میں نے جلدی سے جواب دیا، اب ان شاء اللہ یہی حالت رہے گی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان میرے دل میں ہمیشہ جاگزیں رہے گا۔ مجھے تو اللہ کے قرآن نے زندگی کے ایک انتہائی خوش گوار رخ سے متعارف کروا دیا ہے۔"

قرآن کریم کی اس آیت پر عمل کرنے کا تجربہ تقریباً تمام خواتین نے اپنے اپنے گھروں میں کیا۔ تجربہ کامیاب رہا۔ واقعی قرآن مجید کو پاکیزہ انسانی نفوس پر کنٹرول حاصل ہے۔ صرف عمل کرنے کا ارادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ قرآن انسانوں کو تبدیل کرنے پر قادر ہے۔ جو انسان بھی ایک بار قرآن پر عمل کی حلاوت کا مزہ چکھ لیتا ہے وہ قرآن کو پھر کبھی نہیں چھوڑتا۔ یہ انسان اپنے آپ کو قرآنی سانچے میں ڈھالنے، اپنے آپ کو بہتر میں تبدیل کرنے اور بالآخر اپنے تئیں قرآن کے رنگ میں رنگنے کا عمل جاری رکھتا ہے۔ یہ مسلسل ارتقا کا عمل ہے۔


نمازِ فجر کے لیے بیدار ہونا

قرآن مجید تو اترا ہی عمل کے لیے ہے۔ قرآن کی رہنمائی میں سفر زندگی طے کرنا دراصل دنیا میں جنت میں رہنا ہے۔ قرآن مجید پر عمل کرنے سے کتنے زخم مندمل ہوئے، کتنی جدائیاں ختم ہوئیں، کتنے گھر، جو تباہی کے کنارے پر پہنچ چکے تھے، سلامتی کے گھر بنے۔ یہ سب کچھ قرآن کریم پر عمل کرنے کی برکت ہے۔ قرآنی رہنمائی سے انفرادی اصلاح کس طرح ہوتی ہے؟ اس سلسلے میں ایک بہن کا تجربہ اس کے اپنے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔

"مجھے رات دیر تک جاگتے رہنے کی عادت تھی۔ جب صبح مؤذن نمازِ فجر کے لیے اذان دیتا تھا، میں غافل و لاپروا سوئی رہتی۔ اللہ کے فرشتے مجھے نمازیوں میں نہ پاتے۔ اس مبارک وقت میں میں اور میرے گھر والے شیطان کی گرفت میں ہوتے تھے۔ ہم سب گہری نیند سوتے۔ بیدار ہونے کے بعد مجھے سارا دن قلق رہتا۔ میں نے کئی بار صبح سویرے نماز کے لیے اٹھنے کا فیصلہ کیا مگر اس فیصلے نے کبھی عمل کی صورت اختیار نہ کی۔ ہر بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب محترمہ سمیہ رمضان کی زیرِ نگرانی قرآنی آیات پر عمل کا تجربہ شروع نہیں ہوا تھا۔ جونہی مجھے معلوم ہوا کہ محترمہ سمیہ نے بہت سی بہنوں کے مسائل حل کر دیئے ہیں تو میں نے بھی اپنا مسئلہ حل کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔ محترمہ سے مشورہ کیا تو انہوں نے مجھے اس ارشادِ الٰہی کے بار بار دہرانے کی تاکید کی

الذی یٰرک حین تقُوم۔ و تقلبک فی السٰجدین۔ (الشعرا 219،218:26)-

جو تمہیں اس وقت دیکھ رہا ہوتا ہے جب تم اٹھتے ہو اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہے۔

چنانچہ میں اس نورانی ارشاد کو دہراتی رہتی اور میں نے کوشش کی کہ یہ ارشاد مبارک جس طرح میری زبان پر جاری ہے اسی طرح دل میں بھی پیوست ہو جائے۔

بالآخر وہ وقت آ گیا، فیصلہ کن وقت، آیت کے مطابق حرکت کرنے کا لمحہ۔ ادھر مؤذن نے اللہ اکبر، اللہ اکبر کے کلمات ادا کیئے، ادھر میں نے اپنے بستر پر کروٹیں بدلنا شروع کر دیں۔ میں مؤذن کی آواز پر لبیک کہنے سے ہچکچا رہی تھی۔ شیطان میرے لیے نیند کو خوشگوار بنا کر پیش کر رہا تھا اور نماز کے معاملے کو میری نظر میں معمولی بنا کر دکھا رہا تھا۔ ادھر مؤذن کے کلمات مجھے یہ حقیقت یاد دلا رہے تھے کہ میں مسلمان ہوں۔ مؤذن کہہ رہا تھا:

اشھد ان لا الٰہ الا اللہ۔

اب مؤذن میرے رسولِ محترم صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر کر رہا تھا۔

اشھد ان محمد رسول اللہ۔

مؤذن مجھے بتا رہا تھا کہ فلاح و کامیابی نماز ادا کرنے میں ہے:

حی علی الفلاح۔

مؤذن کے یہ الفاظ اور قرآن کی اس آیت کے کلمات جسے بار بار پڑھنے اور عمل کرنے کا مجھے مشورہ دیا گیا تھا، مجھے نماز کے لیے پکار رہے تھے۔ پھر اذان اور آیت کے کلمات میرے دل میں پیوست ہوتے چلے گئے۔ اب نیند میری آنکھوں سے جا چکی تھی، میں نے اللہ رحمان کو اپنے قریب محسوس کیا اور اس احساس کے ہوتے ہی میں اٹھ کر بیٹھ گئی۔ میں نے اپنے کپڑے سنبھالے، بڑی شدت سے احساس ہوا کہ میں کمرے میں تنہا نہیں ہوں۔ یہاں کوئی اور بھی ہے۔ وہی جو میری شاہ رگ سے بھی زیادہ میرے قریب ہے۔ اس کے قرب کا احساس ہوا تو میں طہارت کے لیے لپکی، وضو کیا اور نماز فجر ادا کرنے کے لیے اپنے خالق و مالک کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ یہی وہ نماز تھی جس کے پڑھنے کی مجھے بے حد حسرت رہی۔ کتنی بار ارادے باندھے اور توڑے۔ میری آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں اور نماز کے بعد میرے ہونٹوں پر یہ الفاظ تھے : اللہ تیرا شکر ہے۔ وہ ذات ہر قسم کے عیب و نقص سے پاک ہے جس نے مجھے، میرے مرنے سے پہلے اس نماز کی توفیق دی اور یوں مجھ پر بڑا کرم کیا۔ اللہ نے مجھ پر چار نہیں پانچ نمازیں فرض کی تھیں مگر میں اپنی سستی و کاہلی کے سبب صرف چار نمازیں ہی ادا کرتی رہی۔ میں نے رو رو کر اللہ سے اپنے اس گناہ کی معافی مانگی اور بارگاہِ الٰہی میں دُعا کی کہ وہ مجھے آخری عمر تک اسی طرح پانچوں نمازیں ادا کرنے کی توفیق دے۔

توبہ و استغفار کے بعد میں پُر سکون ہو کر بیٹھ گئی۔ میرے سامنے میری زندگی کی فلم چلنے لگی۔ میں چشمِ تصور سے اپنی گزری ہوئی زندگی کے مناظر دیکھ رہی تھی۔ میں ایک عام سی لڑکی تھی، جس کی زندگی کا کوئی واضح ہدف نہ تھا۔ میری زندگی کولھو کے ایک بیل کی مانند گھوم رہی تھی جس طرح مجھ سے پہلے بہت سے لوگ گھوم چکے تھے۔ ایک بے مقصد زندگی۔ بالآخر میری شادی ہو گئی۔ مجھے اپنے شوہر کے خیالات و افکار سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ مجھے تو اس کی پوزیشن اور مال و دولت سے غرض تھی۔ اسے بھی نماز روزے سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ صرف دنیا کی گہما گہمی سے سروکار تھا۔ زندگی کا گاڑی یونہی چلتی رہی۔ دنیا میں بچے بھی آ گئے۔ مجھے اپنے بچوں سے تعلق تھا تو اتنا کہ وہ کیا کھاتے ہیں؟ کیا پہنتے ہیں؟ اسکول جاتے ہیں؟ پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟ ہوم ورک کیسے ہو رہا ہے؟ میں نے اپنے بچوں سے کبھی بھول کر بھی نہ پوچھا کہ انہوں نے نماز پڑھی ہے یا نہیں؟ انہوں نے کتنا قرآن شریف حفظ کر لیا ہے؟ کیا وہ انبیائے کرام علیہ السلام کے حالات سے واقف ہیں؟ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی کے بارے میں کچھ پتا ہے؟ مجھے بچوں کے ان معاملات میں قطعاً دلچسپی نہ تھی بلکہ میں تو دیر تک ان کے ساتھ ٹیلی ویژن سیٹ کے سامنے بیٹھی رہتی۔ میں ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے پروگراموں، ڈراموں اور فلموں کی بچوں کے لیے تشریح کرتی تاکہ انہیں سمجھنے میں دشواری نہ ہو۔

میں نماز پڑھ کے بیٹھی تھی، پچھلی زندگی کے بیتے ہوئے رات دن کی یہ فلم میرے ذہن کی اسکرین پر چل رہی تھی کہ میں یکایک اپنے خاوند کے خراٹوں سے چونک پڑی۔ مناظر دھندلا گئے۔ میرا رفیقِ زندگی خوابِ خرگوش کے مزے لے رہا تھا۔ میں نے چاہا کہ اسے جگاؤں، اسے نماز کے لیے بیدار کروں اور اپنا قصہ بھی سناؤں۔ میں نے اسے اس کا نام لے کر نہیں جگایا، جیسا کہ میرا معمول تھا بلکہ میں نے آج اس کے کندھوں پر جھک کر قدرے بلند آواز سے یہ آیت پڑھی:

الذی یٰرک تقوم و تقلبک فی السٰجدین۔

یہ آیت سن کر میرا خاوند اٹھا، وضو کیا، نماز پڑھی اور پھر آ کر میرے پاس بیٹھ گیا۔ کہنے لگا، آج کی صبح کتنی مبارک اور کس قدر حسین ہے کہ آج مجھے تم سے قرآن سننے کا موقع ملا۔ میں اسے اپنی بڑی خوش قسمتی سمجھتا ہوں۔ میں نے کہا، خوش قسمتی تو میری ہے کہ میں نے آج مؤذن کی اذان سن کر قرآن کی آیت پر عمل کیا ہے۔ خوش قسمت میں ہوں کہ میں نے آج تمہیں پہلی بار نمازِ فجر پڑھتے دیکھا ہے۔ یہ سن کر میرے شوہر کا دل نورِ ایمان سے جگمگا اٹھا۔ اس نے کہا، "میں تمہیں ایک عجیب بات سناتا ہوں۔ میرے ساتھ یہ واقعہ ہوا کہ میں کل جب گھر واپس آ رہا تھا اور اپنی گاڑی میں ریڈیو کی سوئی گھما رہا تھا تو یہ قرآن کریم اسٹیشن پر آ کر رک گئی۔ میں نے چاہا کہ اس اسٹیشن سے سوئی کو ہٹا دوں لیکن اس سے پہلے ہی ٹریفک پولیس نے مجھے گاڑی روکنے کا اشارہ کیا۔ مجھے اس وقت قرآن سنتے ہوئے یہی احساس ہوا کہ اللہ مجھ سے خطاب کر رہا ہے۔ تم جانتی ہو کہ میرا رب مجھ سے کیا کہہ رہا تھا:

وما قدروا اللہ حق قدرہ، والارض جمیعا قبضتہ یوم القیمۃ و السمٰوٰتُ مطویٰت بیمینہ، سبحٰنہُ و تعٰلیٰ عما یشرکون (الزمر 67:39)-

ان لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ (اس کی قدرتِ کاملہ کا حال تو یہ ہے کہ) قیامت کے روز پوری زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ پاک اور بالاتر ہے وہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔"


قرآن کریم کے اس ارشاد نے میرے پورے وجود کو ہلا کر رکھ دیا۔ میں سمندر کے ساتھ ساتھ جا رہا تھا، میں نے اپنے ہاتھ کی مٹھی کو دیکھا اور پھر سمندر کی جانب دیکھا۔ اس فرق نے مجھے جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ یہ سمندر تو کچھ بھی نہیں، اللہ کے ہاتھ میں تو پوری زمین ہے۔ اللہ کس قدر بڑا ہے؟ میں نے سنتے ہی یہ آیت یاد کر لی، مجھے محسوس ہوا گویا یہ آیت میرے دل میں ہے اور میرا دل اسی سے دھڑک رہا ہے۔ مجھے اپنے پورے جسم میں ایک سکون و حلاوت کا ادراک ہوا۔ اور میرے پروردگار کا فضل مجھ پر آج اس وقت پورا ہوا جب تم نے قرآن مجید کی آیت پڑھ کر جگایا۔ مجھے تم نے نہیں جگایا، بلکہ مجھے اللہ نے جگایا ہے، نمازِ فجر ادا کرنے کے لیے۔"

میں نے کہا کہ مجھے بھی میرے رب ہی نے آیت کریمہ سے جگایا ہے۔ میرے اور تمہارے عمل سے یہ آیت زندہ متحرک ہوئی لے۔ میرے شوہر نے ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ "میری عمر چالیس سال سے زائد ہو گئی ہے۔ قرآن میرے گھر میں موجود ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ میں قرآن پڑھتا نہیں ہوں۔ میں پڑھتا ہوں، بہت سی سورتیں اور آیتیں حفظ بھی ہیں۔ مگر میرے اور قرآن کریم کے درمیان ایک رکاوٹ تھی۔" میں نے فوراً جواب دیا، "جی ہاں، یہ رکاوٹ تھی، قرآن کے مطابق عمل نہ کرنے کی، قرآن کے مطابق حرکت نہ کرنے کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم تو زمین پر چلتا ہوا قرآن تھے۔ ہم بھی زمین پر چلتے ہیں مگر قرآن کے ساتھ نہیں۔" میں نے کہ کہا اور زار و قطار رونے لگی۔

میرے خاوند کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے، وہ یک دم کھڑا ہو گیا۔ بچوں کے کمرے کی جانب بڑھا۔ اس نے کمرے کی لائٹ آن کر دی۔ پھر آف کر دی۔ چند بار ایسا کیا تو بچے جگ اُٹھے۔ اس نے نماز کے لیے زور سے اللہ اکبر کہا۔ بچے حیران و پریشان تھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ میرے رفیقِ زندگی نے بچوں سے کہا، "جانتے ہو ہمیں کون ملنے آیا ہے؟ اور ہمیں اب دیکھ رہا ہے؟ اللہ تم لوگوں سے ملنے آیا ہے۔" بچوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، ان کا والد بڑی میٹھی آواز میں پڑھ رہا تھا، "جو تمہیں اس وقت دیکھ رہا ہوتا ہے جب تم اٹھتے ہو اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہے۔" پھر اس نے کہا۔ "آج گھر میں نماز پڑھ لو۔ کل سے ان شاء اللہ مسجد میں نماز پڑھنے جائیں گے۔" میرا شوہر بچوں کو نماز پڑھتے دیکھتا رہا۔ سب نے نماز پڑھ لی تو اس کا دل مطمئن ہوا۔ پھر اس کا ذہن اس آیت کی طرف منتقل ہوا۔

و کان یامُر اھلہ بِالصلٰوۃ، و کان عند ربہ مرضیا (مریم 55:19)-

وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک ایک پسندیدہ انسان تھا۔

اس نے اللہ سے دعا کی۔ "یا اللہ مجھ سے راضی ہو جا، مجھے معاف فرما دے، مجھ پر رحم کر۔" پھر مجھ سے کہنے لگا۔ "آج سے تم بچوں کی نگرانی کرو گی اور انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو گی۔" میں نے کہا، یہ میری نہیں سنتے، مجھے انہیں نماز کا پابند بنانے میں کافی محنت کرنا پڑے گی۔ خاوند نے مجھے مشورہ دیا کہ تم انہیں اس آیت سے متحرک کرو، "وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک ایک پسندیدہ انسان تھا۔"

میں نے اپنے بچوں کو نماز کا پابند بنانے کا تہیہ کر لیا۔ میں نے ایک بڑا چارٹ لیا اور یہ آیت جلی خط میں اس پر لکھ دی۔

الذی یٰرک حین تقُوم و تقلُبک فی السٰجدین۔

یہ تھی نمازِ فجر پڑھنے کے لیے قرآن کریم کے مطابق حرکت کرنے کی برکت کی حقیقی کہانی۔

اسی خاتون نے مسجد میں آ کر یہی آیت ایک بڑے چارٹ پر لکھوا کر وہاں آویزاں کر دی اور درس سننے آنے والی اپنی تمام بہنوں کو اپنے تجربے سے آگاہ کیا۔

ہم میں سے ہر ایک اس امر کا محتاج ہے کہ وہ اپنی آنکھوں پر پڑے ہوئے پردوں کو ہٹا دے، دلوں پر لگی مہروں کو کھرچ کھرچ کر پھینک دے۔ دلوں پر پڑے ہوئے غفلت کے پردوں کی وجہ سے ہم بلا سوچے سمجھے یونہی قرآن مجید پڑھتے رہتے ہیں۔ نہ ہم سمجھتے ہیں، نہ عمل کرتے ہیں۔ ہماری یہ دعوت صرف مسلمان عورتوں کے لیے ہی مخصوص نہیں ہے۔ ہم پوری دنیا کے مسلمانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ آئیے، ہم قرآن کا مطالعہ روحِ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور ارواح صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے ساتھ کریں۔ وہی جذبہ، وہی ولولہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں تھا ہمارے اندر آ جائے۔ ہم قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت یہ احساس کریں کہ یہ نورانی آیات کتابوں، کیسٹوں اور سی ڈیوں سے نکل کر ہمارے سامنے کھڑی ہیں۔ وہ ہمیں بلا رہی ہیں، پکار رہی ہیں۔ اور خالق و مالک کی وحدانیت کا اعلان کر رہی ہیں۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ قرآن جس بات کا ہمیں حکم دے گا ہم اس کی تعمیل کریں گے، اور جس بات سے روکے گا اس سے رک جائیں گے۔


طلاق کی دھمکی

خواتین میں قرآنِ عظیم پر عمل کرنے کی اس تحریک کا مقصد اپنی زندگی کی ہر چیز کو اللہ کی پسند کے مطابق بدلنا ہے۔ یہ دعوت دنیا میں جنتی زندگی گزارنے کی دعوت دیتی ہے یعنی قرآنِ کریم کی آیات کو عملی شکل دینے کی دعوت۔ ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ محض تلاوت پر اکتفا نہ کریں، تلاوت کی اور بس قرآن مجید بند کیا اور یوں آیتوں کو بھی بند کر دیا۔ قرآن کی آیتوں کو عملی صورت دینا ہر مسلمان کا فرض ہے تا کہ ان آیتوں سے دل دھڑکیں اور اعضا و جوارح اس کے مطابق کام کریں۔ جب ہم قرآن کے مطابق عمل کریں گے تو یہ کتاب ہمارے دلوں کی بہار بن جائے گی اور ہمارے سارے دکھ اور غم جاتے رہیں گے۔ اب ہم قرآن کریم کی ایک آیت پر عمل کا حقیقی زندہ تجربہ بیان کرتے ہیں۔ اس تجربے میں عورتوں کے ایک گروپ نے حصہ لیا۔ ان عورتوں کو اس بات کی تعلیم و تربیت دی گئی کہ انہیں آیات قرآنی پر کس طرح عمل کرنا ہے۔ اس تجربے کے مفید اور دوررس نتائج نکلے۔ آئیے اس تجربے کی تفصیلات دیکھتے ہیں۔

طلاق ایک ایسا خطرناک اور تباہ کن اقدام ہے جس سے پل بھر میں ہنستا بستا گھر اُجڑ جاتا ہے۔ خوشی و مسرت غمی اور دکھ میں بدل جاتی ہے۔ طلاق پر سکون مستحکم خاندان کو اکھیڑ کے رکھ دیتی ہے۔ طلاق معاشرے میں سیاہ دھبے چھوڑ دیتی ہے۔ بیوی کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔ بچے الگ حیران و پریشان ہوتے ہیں۔ ماں کے ساتھ رہیں تو باپ کی شفقت و نگرانی سے محروم، باپ کے پاس رہیں تو ماں کی ممتا اور مہربانی سے محروم۔ خاوند الگ پریشان اور مخبوط الحواس ہو جاتا ہے۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا کرئے؟ وہ پریشانی میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اسی ادھیڑ بن میں رہتا ہے کہ نئی شادی کر لے یا کچھ عرصہ کے لیے رک جائے؟ نئی شادی کرنے کے بعد بہت سے باپ اپنی پہلی بیوی کی اولاد کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور انہیں یوں بھول جاتے ہیں جیسے ان کے بچے تھے ہی نہیں۔

مشکلات کا ایک ایسا چکر چل پڑتا ہے جو ختم ہونے میں نہیں آتا۔ یہ مشکلات دنوں، مہینوں میں ختم نہیں ہو جاتیں بلکہ سالہا سال تک رہتی ہیں۔ معاشرے کو طلاق کی وجہ سے کئی مشکلات سے واسطہ پڑتا ہے۔ گھر نحوست کدے بن جاتے ہیں اور عدالتوں میں معاشرے کی معزز خواتین و حضرات ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ گھروں کے پردے کی باتیں عدالتوں میں بر سرِ عام بیان ہوتی ہیں تو رسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ خود میاں بیوی ہر سننے اور دیکھنے والے کے لیے اپنے راز بیان کرتے ہیں۔ بچوں کا اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں ہوتا۔ وہ ماں باپ کے ہوتے ہوئے بھی دونوں کی شفقت و پیار سے محروم ہو جاتے ہیں۔ نہ باپ سے بات کر سکتے ہیں نہ ماں سے۔ اگر ماں کے پاس رہ رہے ہیں تو وہ انہیں ان کے باپ سے بات تک نہیں کرنے دیتی اور اگر باپ کے پاس رہ رہے ہوں تو وہ انہیں ان کی ماں سے بات کروانے یا ملاقات کا روادار نہیں ہوتا۔ طلاق کے اس بھیانک مسئلے کا حل بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں رکھ دیا ہے۔ افسوس، کہ ہم کتاب اللہ کے الفاظ کو پڑھتے اور سمجھتے ہیں مگر ان پر عمل نہیں کرتے۔

ہم نے مسجد میں ہفتہ وار درسِ قرآن کے دوران اس پیچیدہ اور مشکل مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی۔ مسجد میں ہم تمام عورتوں نے یہ عہد کر رکھا تھا کہ ہم جس زوال و پستی کا شکار ہیں اس سے نکلنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک آیاتِ قرآنی کے ذریعے زوال کے گڑھے سے نکلے۔ چنانچہ اس عہد کو وفا کرنے کے لیے جب اگلے ہفتے کے لیے قرآن کریم کی آیت کا انتخاب کرنے کا مرحلہ آیا تو ہم نے ایک بار پھر یہ عہد کیا کہ قرآن کریم کی آیت پر عمل کرتے ہوئے ہم اپنی خواہشات اور اپنے ماحول کی بندشوں اور رسموں کی پرواہ نہیں کریں گے۔

اس مرتبہ ہم نے اس ارشاد ربانی کے بارے میں طے کیا:

يَا َيّھَُا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاء فَطَلِّقُوھُنَّ لِعِدَّتھِِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّۃَ، وَاتَّقُوا اللَّہَ رَبَّكُمْ، لاَ تُخْرِجُوھُنَّ مِن بُيُوتھِِنَّ وَلاَ يَخْرُجْنَ اِلاَ اَن يَاْتِينَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَيِّنَۃٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّۃِ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّۃِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَۃُ لاَ تَدْرِي لَعَلَّ اللَّہَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ اَمْرًا (الطلاق 1:65)۔

اے نبی، جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے لیے طلاق دیا کرو اور عدت کے زمانے کا ٹھیک ٹھیک شمار کرو اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے۔ (زمانہ عدت میں) نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں الاّ یہ کہ وہ کسی صریح برائی کی مرتکب ہوں۔ یہ اللہ کی مقرر کر دہ حدیں ہیں اور جو کوئی اللہ کی حدوں سے تجاوز کرئے گا، وہ اپنے اوپر خود ظلم کرئے گا۔ تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ (موافقت کی) کوئی صورت پیدا کر دے۔

تلاوت کے بعد جب اس آیت کی تفسیر بیان ہوئی تا کہ خواتین کو یہ معلوم ہو سکے کہ اس آیت پر کیسے عمل کرنا ہے اور اس کے ذریعے اللہ کے واضح حکم کو کیسے نافذ کرنا ہے تو درس میں شامل ایک خاتون نے پکار کر کہا، "ذرا ٹھہریئے، آپ لوگ کیا بات کر رہے ہیں؟ کیا طلاق یافتہ عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوران عدت اپنے (خاوند کے) گھر میں ٹھہرے؟ میں نے اس خاتون پر واضح کر دیا کہ مطلقہ کے لیے خاوند کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم اللہ رحمان و رحیم نے دیا ہے تاکہ اس دوران موافقت کی کوئی صورت پیدا ہو جائے۔ میاں بیوی اپنے گھر میں ایک ساتھ رہیں اور اپنے اپنے اہلِ خاندان کی مداخلت سے محفوظ رہیں تو شاید ان میں ساز گاری پیدا ہو جائے اور وہ از سرِ نو خیر و عافیت کے ساتھ رہنے لگیں۔ بیوی کا گھر سے نکل کر جانا یا اسے نکال دینا اشتعال کا سبب بنتا ہے جس سے بہتوں کے دلوں کو تپش و حرارت پہنچتی ہے۔ غصہ، نفرت، اشتعال، مخالفت اور شکوہ شکایت کا ماحول شیطان کے لیے موسمِ بہار ہوتا ہے۔ معاملات کی باگ ڈور شیطان کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے تو علیحدگی اور جدائی تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ یوں شیطان کی خوشی کی کوئی حد نہیں رہتی۔

میری یہ وضاحت سن کر سوال کرنے والی خاتون نے بتایا، "ہائے میری بدبختی و بدنصیبی کہ دینِ اسلام سے ناواقفیت میرے گھر کے اجڑنے کا سبب بنی۔ قرآن کریم سے میری لاعلمی نے میرے بچوں کو مجھ سے دور کر دیا۔ میرے خاوند اور میرے درمیان معمولی سا اختلاف ہوا۔ بات بالکل چھوٹی سی تھی۔ اس بات سے میرا خاوند مشتعل نہ ہوتا مگر میں نے بلا وجہ کچھ ایسی باتیں کر دیں کہ اس کا غیض و غضب اپنی انتہا کو جا پہنچا۔ غصے کے سبب میرا شوہر ہوش و ہواس میں نہ رہا اور اس نے طلاق کا لفظ بول دیا۔ یہ لفظ سنتے ہی میں نے جلدی سے اپنا سامان باندھا اور گھر سے نکل پڑی۔ دل درد سے لبریز تھا اور آنکھیں آنسوؤں سے۔ میں جونہی اپنے میکے پہنچی تو میری کہانی سن کر میرے میکے کا ہر فرد میرے خاوند سے میری توہین کا بدلہ لینے کے لیے بے تاب تھا۔ میرے خاوند نے کہلا بھیجا کہ گھر واپس چلی آؤ مگر میں نے اس کی یہ پیش کش حقارت سے ٹھکرا دی۔ یوں میرے نفس نے اور میری انانیت نے مجھے غور و فکر اور درست فیصلہ کرنے سے محروم کر دیا۔

آپ نے جو آیت ابھی پڑھی ہے، میں یہ آیت کئی بار پڑھ چکی ہوں مگر افسوس کہ میں نے اسے سمجھنے کی ایک بار بھی کوشش نہ کی۔ مجھے نہ اس کی سمجھ آئی اور نہ میں نے کبھی اسے سمجھنے کی کوشش کی۔ عدت گزارنے کے بعد، ہم میاں بیوی میں علیحدگی ہو گئی۔ عدت کے دوران اپنے گھر سے نکلنے کے گناہ کا ارتکاب بھی کیا۔ میں خاوند سے بھی محروم ہوئی اور اللہ تعالیٰ کے صاف اور واضح حکم کی مخالفت کا گناہ بھی مول لیا۔"

اس غمزدہ خاتون نے زار و قطار روتے ہوئے کہا، "ہائے میری شامت و بد بختی، میں‌‌ آپ سب سے درخواست کرتی ہوں کہ آپ لوگوں نے کتاب اللہ پر عمل کو جا عہد کیا ہے، اس پر مہربانی فرما کر سختی سے کاربند رہنا۔"

یہ دکھ بھری داستان سن کر ہم نے ایک بار پھر آیت کریمہ پر عمل کرنے کے پختہ عہد کی تجدید کی اور پورے عزم کے ساتھ اس راستے پر گامزن رہنے کا عہد کیا۔

کچھ عرصہ بعد ہم نے بہنوں سے طلاق کے بارے میں‌ ارشاد رب العزت پر عمل کے تجربات سننے کا ارادہ کیا۔

ایک بہن نے کہا، "جب سے میں نے مولیٰ کریم کے ساتھ یہ عہد کیا تھا کہ میرے قول و فعل پر آیت کریمہ ہی کی حکمرانی ہو گی تو میں ہمیشہ یہ دعا کرتی رہتی تھی کہ جب حقیقی عمل کا موقع آئے تو اللہ مجھے استقامت دینا تاکہ میں عملاً قرآن کے مطابق اقدام کروں۔ میرا خاوند جذباتی آدمی ہے، اکثر غصے میں‌ آ کر اول فول بکنے لگتا ہے۔ آیت کریمہ پر عمل درآمد کے دور سے پہلے تو میں بھی مشتعل ہو جاتی اور اسے ترکی بہ ترکی جواب دیتی۔ ہم میاں بیوی کی یہ حالت دیکھ کر ہمارا چھوٹا بیٹا چپ چاپ رہتا، صدمے سے کچھ نہ بولتا تھا۔ ہم میاں بیوی اس کیفیت میں ایک دوسرے کی بات سننے کی بجائے اپنی اپنی بات پر ڈٹے رہتے۔

یہ منظر اب پھر سامنے آیا لیکن اب میرے دل کی کیفیت بدل چکی تھی۔ میں نے اللہ سے لو لگائے رکھی اور قرآن کریم کی آیات پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ آج میری پوری کوشش یہ تھی کہ میں خاوند کو مشتعل نہ کروں۔ مجھ پر بے چینی و بے قراری کی ایک عجیب کیفیت طاری تھی۔ میں چاہتی تھی کہ گھر سے نکل کر اپنے گھر کے قریب مسجد میں چلی جاؤں، مسجد ہی کو اپنی پناہ گاہ اور سکون قرار کی جگہ سمجھتی تھی۔ کبھی یہ خیال آتا کہ اپنی کسی مسلمان بہن کے پاس چلی جاؤں تا کہ وہ ہمدردی کے چند بول بول کر مجھے تسلی دے اور میری ڈھارس بندھائے اور یوں میرے دل کو سکون و ٹھنڈک نصیب ہو۔ میری حالت تو یہ تھی، ادھر میرا خاوند آپے سے باہر ہو رہا تھا، غصے کے مارے اس کا برا حال تھا، اس کی غضب آلودہ باتوں سے یہ محسوس ہوتا تھا کہ وہ مجھے طلاق دینے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔

کئی بار خاوند کو جواب دینے کا شیطانی خیال دل میں آیا مگر میں نے ہر بار اپنے اوپر قابو پا لیا۔ میں نے اللہ کا ذکر اور اس کی تسبیح و تقدیس شروع کر دی۔ میں ساتھ ساتھ یہ بھی سوچتی رہی کہ اگر خدانخواستہ میرے خاوند نے طلاق کا لفظ منہ سے نکال ہی دیا تو پھر مجھے خاوند کے گھر میں یہیں رہنا ہو گا۔ میں تو چاہتی ہوں کہ مسجد میں جاؤں وہاں ہفتہ وار درسِ قرآن سنوں۔ عدت کے دوران تو میں گھر سے باہر نہ نکل سکوں گی۔ کیا میں درسِ قرآن کی مجلس سے بھی محروم ہو جاؤں گی۔ یہ خیال میرے لیے سوہانِ روح بن رہا تھا۔ اللہ کے گھر میں جا کر تو ہم پاکیزہ فضاؤں میں قرآن مجید کی آیات سمجھتی ہیں اور پھر ان پر عمل کا اقرار کر کے وہاں سے باہر نکلتی ہیں۔ عدت گزرانے کے لیے اپنے خاوند کے گھر میں یوں پابند ہو کر رہنا کہ درس قرآن سننے کے لیے مسجد میں بھی نہ جا سکوں، میرے لیے بے چینی کا سبب بن رہا تھا۔ درسِ قرآن کے حلقے نے تو میری زندگی کو ایسی تابندگی بخشی تھی جس کا میں اس سے پہلے تصور بھی نہ کر سکتی کتھی۔ میں کثرت سے قرآن پڑھا کرتی تھی مگر اللہ کا کلام میرے گلے سے نیچے نہیں اترتا تھا۔ میں تصورات کی دنیا سے باہر نکلی تو کیا دیکھتی ہوں کہ میرے بچے نے اپنے باپ پر نظریں گاڑ رکھی ہیں، گویا زبانِ حال سے اسے کہہ رہا ہے کہ وہ بھی امی کی طرح خاموش ہو جائے۔ میں نے بچے کو اپنی گود میں لے لیا اور اللہ سے دعا کرنے لگی کہ وہ خاوند کو پرسکون کر دے۔

"آہستہ آہستہ میرے شوہر کے غصے کا پارہ نیچے اترنے لگا اور وہ خاموشی کسے اپنے کام کرنے لگا۔ پھر بیٹھ کر استغفار پڑھنے لگا جب کہ میں اپنی جگہ سے نہ ہٹی، تسبیح و ذکر میں مشغول رہی اور اللہ سے دعا کرتی رہی۔ بعد میں جب انکا غصہ ٹھنڈا ہو گیا تو انہوں نے کہا، "میں بہت معذرت خواہ ہوں، مجھے برابر اس بات کا اندیشہ رہا کہ تم میری باتوں کا حسب عادت تابڑ توڑ جواب دو گی۔ آج طلاق کا لفظ میرے ہونٹوں کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا۔ میں حیران ہوں کہ آج تم نے طلاق کا مطالبہ نہیں کیا۔ پہلے تم کہتی تھیں کہ مجھے طلاق دے دو، مگر میں نہیں دیتا تھا۔ آج میں نے سوچ رکھا تھا کہ تمہاری طرف سے طلاق کا مطالبہ ہوتے ہی میں تڑاق سے طلاق دے دوں گا۔ تم نے آج حسبِ معمول طلاق کا مطالبہ کیوں نہی کیا؟" میں نے جواب دیا، "میرے رب نے مجھے اپنی کتاب کے ذریعے اور اپنے احکام کے ذریعے ادب سکھا دیا ہے۔ میں پہلے سوچا کرتی تھی کہ طلاق سے مجھے آزادی مل جائے گی مگر میرے سوچ اللہ کی کتاب کی عملی تعبیر سے یکسر متصادم تھی۔"

اس بہن نے اپنی یہ داستان سنا کر ہمیں بتایا، "اس دن کے بعد سے اب تک ہم گھر میں خوش و خرم پیار محبت سے رہ رہے ہیں۔ ایسا اتفاق، امن و سلامتی اور سکون و اطمینان ہمیں اس سے پہلے کبھی نصیب نہیں ہوا تھا۔ شکر ہے کہ میرے زبان اس دن قرآن کی برکت سے بند رہی اور میں نے کہیں خاوند سے یہ نہیں کہہ دیا کہ مجھے طلاق دے دو۔ پہلے مجھے شیطان طلاق کو خوش نما بنا کر پیش کرتا تھا۔ وہ اسے میری آزادی قرار دیتا تھا۔ جب کہ فی الحقیقت طلاق تو پابندی ہے۔ اس واقعے کے بعد میرے خاوند میں بھی کافی تبدیلی آ چکی ہے۔ اس کا رویہ بہت کچھ بدل گیا ہے۔ اس نے اپنے غیض و غضب اور نفرت و عناد پر قابو پا لیا ہے کیوں کہ میرے پُر سکون ردِ عمل پر اسے کافی کچھ معذرت کرنا پڑتی تھی۔ میں جتنا بھی اللہ کا شکر ادا کروں، کم ہے کہ اس نے میرے لیے قرآن سمجھنے کا کام آسان کر دیا۔ اسی نے قرآن کے مطابق رویے اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ شکر گزاری بھی اسی مہربان کی توفیق سے ممکن ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس کی کتاب قرآن مجید کی ایک آیت پر عمل کرنے کی برکت سے میرا گھر بربادی سے بچ گیا۔"

جب یہ بہن اپنا واقعہ سنا چکی تو حلقہ درس میں موجود خواتین میں سے ایک خاتون نے بات کرنے کے لیے اپنا سر اٹھایا، لیکن پھر شرما کر جلدی سے نیچے کر لیا۔ تھوڑی دیر تک وہ اس کش مکش میں مبتلا رہی، پھر ہمت کی اور بات کرنے کی اجازت طلب کی۔

اجازت ملنے کے بعد اس نے بتایا، "میرا خاوند دل کا اچھا ہے مگر ہے غصے والا، اپنے فیصلوں میں جلد باز اور عجلت پسند، مجھے بھی اس سے کچھ کچھ نفرت تھی۔ اگر وہ میرے خلاف ایک بات کرتا تو میں اس کے خلاف دس باتیں کرتی۔ میں اس کو ہر گام پر ٹوک دیتی اور اسے شدید تنقید کا نشانہ بناتی۔ وہ اگر مجھے کوئی کام کرنے کے لیے کہتا تو میرے ردِ عمل کے بعد اسے یوں محسوس ہوتا جیسے اس کا واسطہ کسی چٹان سے پڑا ہے۔ ایک روز ہمارے درمیان تلخ کلامی نے شدت اختیار کر لی۔ بک بک اور جھک جھک کے ایک ایسے ہی دورے کے بعد اس نے مجھے آواز دی۔ میں سمجھی کہ شاید میرے ساتھ صلح صفائی کرنا چاہتا ہے۔ میں نے اس کی طرف توجہ کی تو میرا نام لے کر کہنے لگا، "تمہیں طلاق ہے۔" میں نے کہا، "تم کیا کہہ رہے ہو؟ میرے بچوں کا کیا بنے گا؟ میرے پانچ بچے ہیں، ان کا انجام کیا ہو گا؟ طلاق کا لفظ تم نے کتنی آسانی سے کہہ دیا ہے۔" میری ان باتوں کا اس پر بالکل اثر نہیں ہو رہا تھا۔ گویا میرا چیخنا چلانا بے سود اور فضول تھا۔ میں جلدی سے اپنے کمرے کی طرف لپکی، اور انتہائی غصے کی حالت میں اپنے سوٹ کیس میں خاص خاص کپڑے رکھنے لگی۔ اس دوران بچے رو رہے تھے، چلا رہے تھے۔ ان کے رونے کی آواز سن کر سنگ دل سے سنگ دل شخص کا دل بھی پسیج جاتا۔ میں نے اپنا سوٹ کیس بند کیا تو اس کے ساتھ ہی اس ظالم شخص کی طرف سے اپنے دل کو بھی بند کر لیا۔"

"جونہی میں نے گھر سے نکلنے کا ارادہ کیا تو مجھے اللہ تعالیٰ کے اس حکم نے باہر جانے سے روک دیا۔

و لا یخرجن

اور نہ وہ خود نکلیں۔

میں دروازہ بند کر کے کمرے میں بیٹھ گئی اور سوچنے لگی یا اللہ اب میں کیا کروں؟ میں مسلسل رو رہی تھی، میرے پاس میرے بچے بیٹھ کر مجھے تسلی دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ میرے آنسو پونچھ رہے تھے۔ جب مجھے قدرے سکون ہو گیا تو خاوند کمرے کے دروازے کے پاس آ کر کہنے لگا، "تم گئیں کیوں نہیں؟ کیا میں نے تمہیں طلاق نہیں دے دی؟" میں نے اس سے بڑے انکسار سے کہا، "ایک بہت بڑی چیز مجھے جانے سے روک رہی ہے؟" اس نے تمسخر کرتے ہوئے کہا۔ "یہ بہت بڑی چیز کیا ہے؟" میں نے کہا، "اللہ۔ اللہ نے اپنی ایک آیت کے ذریعے مجھے جانے سے روک رکھا ہے۔"خاوند بولا، "اب تم قرآن کی بات کر رہی ہو۔ تم جب پہلے میری حکم عدولی کرتی تھیں اور میرے حقوق کو نظر انداز کرتی تھیں تو اس وقت تمہیں قرآن یاد نہیں آتا تھا؟ اب تم ایک طلاق یافتہ عورت ہو اور تمہیں یہاں رہنے کا کوئی حق نہیں۔" میں نے جواب دیا، "یہ تو آپ کہہ رہے ہیں اور اس گھر کا مالک کچھ اور کہہ رہا ہے۔ وہ تو طلاق دینے والے مردوں سے مخاطب ہو کر فرما رہا ہے۔

لاَ تُخْرِجُوھُنَّ مِن بُيُوتھِِنَّ وَلاَ يَخْرُجْنَ (الطلاق 1:65)۔

نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں۔

اللہ کا یہ حکم مجھ پر بھی نافذ ہے اور آپ پر بھی۔ میرے لیے اتنی سزا کافی ہے جو میں نے قرآن کے مطابق نہ چل کر پا لی ہے۔" جب میرے خاوند نے دیکھا کہ میں یہاں ہی رہنے پر بضد ہوں تو اس نے بھی اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

"اپنے خاوند کے ساتھ طلاق کے بعد رہنے کے قرآنی حکم پر عمل کرنے کا خوش گوار نتیجہ یہ نکلا کہ میرے خاوند نے میرے ساتھ بول چال شروع کر دی۔ آہستہ آہستہ ہم دونوں ایک دوسرے کے قریب آنے لگے اور ایک دوسرے کو خوش رکھنے کی کوشش کرنے لگے۔ ایک ماہ کے بعد ہی گھر سکون و قرار اور محبت و پیار کا گہوارہ بن گیا۔ میرے خاوند نے طلاق سے رجوع کر لیا۔ اس کے اس اقدام نے میرے مسرتوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ میری دعائیں رنگ لائیں اور قرآن کی برکت سے میری زندگی، میرا گھر، میرے بچے اور میرا خاندان ایک بہت بڑے معاشرتی المیے سے بچ گئے۔ میرے بچے بھٹکنے اور نفسیاتی مریض بننے سے بچ گئے۔ میں بے حد خوش و خرم ہوں اور کہتی ہوں کہ میرے سچے دانا رب نے کس قدر درست فرمایا تھا:

لَعَلَّ اللَّہَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ اَمْرًا (الطلاق 1:65)۔

شاید اس کے بعد اللہ موافقت کی کوئی صورت پیدا کر دے۔"صدق اللہ الصادق الحکیم۔

"میری عزیز بہنو، میں اپنے گھر میں اپنے کے ساتھ رہنے پر بہت خوش ہوں۔ میرے مشکل دن گزر گئے۔ میری اب یہی کوشش ہوتی ہے کہ ہر ممکن طریقے سے اپنے خاوند کو خوش کروں اور اس کے کھانے پینے، لباس اور راحت کا خیال رکھوں۔ مجھے افسوس ہے کہ پہلے میرا طرزِ عمل درست نہیں تھا۔ مجھے اپنے سابقہ رویے پر سخت ندامت ہے، میں اس قصور و کوتاہی کی تلافی کے لیے خاوند کی زیادہ خدمت کرتی ہوں، نوافل اور استغفار کرتی ہوں۔ میں دعا کیا کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ اب مجھے اتنی فرصت دے کہ میں اپنی خدمت و محبت سے اپنے خاوند کا دل جیت لوں۔ وہ فی الحقیقت ایک اچھا آدمی ہے۔ وہ چاہتا تھا کہ میں اس کی شرافت کو اس کی کمزوری نہ سمجھوں۔"

"یہ ہے میرا واقعہ۔ اس وقت ہمارے تعلقات بہت زیادہ خوشگوار ہیں۔ ہم میں جو محبت، رواداری اور ہم آہنگی اس وقت ہے وہ پہلے کبھی نہ تھی۔ پاک ہے اللہ، انسانوں کو پیدا کرنے والا، نفسِ انسانی کو جاننے والا، اس لیے اس نے یہ حکم دیا کہ مطلقہ خاتون اپنے گھر میں خاوند کے ساتھ رہے تاکہ عدت کے دوران میں اس مسئلے کا کوئی خوشگوار و پسندیدہ حل نکل آئے۔ میں اپنی بہنوں سے درخواست کرتی ہوں کہ اگر کسی بہن کو خدانخواستہ ایسی صورت حال سے دوچار ہونا پڑے تو وہ گھر سے نہ نکلے، اپنی نفسانیت و انانیت کو ترجیح نہ دے بلکہ اللہ سبحانہ کے حکیمانہ حکم پر عمل کرئے۔ عورتوں کو ایسے مواقع پر اپنی "عزت "کا بھرم رکھنے کے لیے نہیں سوچنا چاہیے، بلکہ اللہ کے حکم کی تعمیل میں ہی عزت سمجھنا چاہیے۔ اللہ کے حکم کی نافرمانی کر کے خود ہی اپنے گھر کو برباد کر لینا کہاں کی دانشمندی ہے۔"

یہ تھا اس متاثرہ خاتون کا واقعہ۔ میں نے یہ سن کر بارگاہِ الٰہی میں سجدہ شکر ادا کیا۔ کیا عظمت ہے آیات قرآنی کی۔ ہم نے جب اپنے ہفتہ وار درس قرآن میں یہ تجربات سنے، دیکھے تو اللہ حکیم کی حکمت اور اللہ علیم کے علم پر ہمارے ایمان میں اضافہ ہوا۔ اللہ سبحانہ، تنہا اس بات پر قادر ہے کہ وہ ہماری جہالت اور نا سمجھی سے جنم لینے والے تمام مسائل حل کر دے۔ اللہ کی مضبوط رسی ہمیں جہالت کی تاریکیوں سے علم و دانش کی روشنی میں لے جانے کے لیے کافی ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم آیاتِ قرآنی کے مطابق چلیں اور ہمارا ردِ عمل اللہ رحمان کے احکام کے مطابق ہو۔

یہ تو صرف چند مثالیں ہیں۔ قرآن مجید کے درس اور ہر ہفتے کے لیے ایک آیت کا انتخاب، اس کے مطابق زندگیوں کو ڈھالنے کا پختہ عہد جاری ہے۔ ہم نے اس کے علاوہ بھی اللہ کی کتاب کے مطابق چلنے کے کئی خوش گوار تجربات و مشاہدات سنے جن کے نتیجے میں گھر سکون کا گہوارہ بنے اور اہل خانہ نے اطمینان و سکینت کے ماحول میں زندگی گزارنی شروع کی۔ یہ سب نتیجہ ہے قرآنِ مجید کو سمجھنے کا، اس کے مطابق چلنے کا اور قرآن کے احکام کے مطابق اپنی اصلاح کرنے کا۔


لڑنا جھگڑنا اور ناراضی

لڑنے جھگڑنے اور پھر ناراض ہو کر قطع تعلق کر لینے کو بہت سے لوگ مشکلات و مسائل کا آسان ترین حل سمجھتے ہیں۔ بالخصوص عورتیں حقائق سے فرار کے لیے قطع تعلق اور ناراضی کو اپنا مؤثر ہتھیار سمجھتی ہیں۔ اپنی نادانی سے وہ اسے اپنا حامی و مددگار جانتی ہیں حالاں کہ ناراضی سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے۔ ایک عورت اپنے سسرال والوں سے لڑ جھگڑ کر بول چال بند کر لیتی ہے۔ دوسری عورت اپنی پڑوسن سے جھگڑا کرنے کے بعد آنا جانا بند کر دیتی ہے۔ کوئی خاتون اپنے بھائی اور اپنے بھائی کے گھر والوں سے مخاصمت رکھتی ہے۔ کوئی اپنی نند سے بے زار ہے اور اس سے مسلسل محاذ آرا ہے۔ حتیٰ کہ کئی عورتیں اپنے ماں باپ سے بھی تعلقات ختم کر لیتی ہیں۔ جب ان عورتوں سے اس کا سبب پوچھا جاتا ہے تو وہ جواب دیتی ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ نہیں فرمایا،

واھجر ھُم ھجرا جمیلا (المزمل 10:73)-

اور شرافت کے ساتھ ان سے الگ ہو جاؤ۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ سارے عزیز و اقارب، رشتہ دار اور پڑوسی کافر ہیں؟ کیوں کہ اس آیت میں تو کافروں سے الگ ہو جانے کا حکم ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ تو صلہ رحمی کی تاکید کی گئی ہے۔ جب ایسی زود رنج جھگڑالو خواتین سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا یہ سارے لوگ کافر ہیں، تو ان کا جواب نفی میں ہوتا ہے۔ جب آپ بھی مسلمان ہیں، تو پھر ان سے قطع تعلق کیوں؟

یہ حقیقت ہر مسلمان پر واضح ہے کہ جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان سے قطع تعلق کر لیتا ہے اس کا کوئی عمل بھی اس وقت تک آسمان کی بلندیوں کی طرف نہیں جب تک کہ تعلقات بحال نہ ہوں اور ناراضی ختم نہ ہو جائے۔ جھگڑا ایک ایسا تیر ہے جس کا ہدف دشمن نہیں ہوتا بلکہ ہمارا اپنا گلا ہوتا ہے۔ اگر ہمارے نیک اعمال قبول نہ ہوں تو ایسی دنیا کا ہمیں کیا فائدہ؟

کئی خواتین کا موقف یہ ہوتا ہے کہ وہ ناراضی اور قطع تعلقات کے ذریعے امن و سکون میں آ جاتی ہیں، مشکلات سے بچ جاتی ہیں۔ ان کا کسی سے تصادم ہوتا ہے نہ جھگڑا۔ ان کا یہ موقف سراسر غلط ہے اس لیے کہ ہم اپنے قریبی رشتہ داروں کے بغیر کیسے زندہ رہ سکتے ہیں؟ کیا کوئی عورت اپنے خاوند سے ناراضی مول لے کر سکون سے زندگی گزار سکتی ہے؟ کیا ایسی "زندگی "زندگی ہے؟ کیا ایسی عورت یا مرد خوش بخت ہے۔ لڑنا جھگڑنا، قطع تعلق اور ناراضی تو مسلم معاشرے کے لیے انتہائی ضرر رساں ہے۔ اس سے محبتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ چاہتیں باقی نہیں رہتیں، الفت ختم ہو جاتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کوئی مسلمان مرد یا عورت کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لے، حقائق سے نظریں چرائے، بدبختی کو خوش بختی، شقاوت کو سعادت اور حرماں نصیبی و محرومی کو کامرانی خیال کرئے۔

میں نے اپنے ایک ہفتہ وار درس قرآن میں اپنی تمام سننے والیوں سے درخواست کی کہ آئیے ہم سعادت کی کنجی پکڑیں اور پھر اسے استعمال کر کے دیکھیں کہ ہمیں کتنا سکون، چین اور قرار ملتا ہے۔ ہم پر ابدی سعادت کے دروازے کیسے کھلتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ آج کی کنجی یہ ارشادِ الٰہی ہے

اِدفع بِالتی ھِی احسنُ فاِذا الذِی بینک و بینہ عداوۃ کانہ ولِی حمیم۔ (حم السجدہ 34:31)-

تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو، تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔

میں نے اس آیت کا مدعا و مفہوم واضح کیا اور بہنوں کو بتایا کہ اس آیت پر عمل کرنے کے لیے ہمیں اللہ پر کامل یقین اور مسلسل صبر و برداشت سے کام لینا ہو گا۔ میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس آیت کے منشا پر عمل کرنے اور اس کے مطابق چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔اب ہمیں عمل کے نتیجے کا انتظار کرنا ہو گا۔ اب تک ہم اپنے مسائل کو نظر انداز کرتے رہے ہیں۔ ہمیں مشکلات سے فرار کی عادت پڑ چکی ہے۔ ہمیں‌ اب حقائق کا سامنا کرنا ہو گا۔ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے مخالف کے ساتھ ایک عملی تجربہ کرنا ہو گا۔ پھر ہم دیکھیں گے کہ دشمن کو "جگری دوست" میں تبدیل کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے اور کتنی محنت درکار ہوتی ہے؟ ہو سکتا ہے کہ آپ میں سے کئی اگلے ہفتوں کے درسِ قرآن میں آ کر رو رو کر یہ بتائے کہ جی میں تو اپنی فلاں مخالف کے پاس گئی تھی، اسے منانے اور راضی کرنے کے لیے بہت کوشش کی لیکن مجھے کامیابی نہیں ہوئی۔ میں اپنی ان بہنوں سے کہوں گی کہ وہ اپنے ساتھ صبر و برداشت کی دولت بھی لے کر جائیں۔ آپ مخالف کے پاس اکیلی نہ جائیں، اپنے ساتھ صبر و برداشت کو لے کر جائیں، بار بار جائیں، مایوس نہ ہوں۔

کئی دن بیت گئے، کئی ہفتے بیت گئے۔ ابھی ہم نے قرآن کریم کی اس آیت پر ہونے والے عمل کا جائزہ نہیں لیا تھا۔ ایک دن میں نے معزز خواتین سے کہا، "آج آپ لوگوں کے تجربات سننے کا وقت آن پہنچا ہے۔ وہ کون کون خوش قسمت ہیں جنہوں نے اس آیت کریمہ پر یقین کرنے اور اسے دل میں جگہ دینے کے بعد اپنے حواس و جوارع سے بھی اس پر عمل کیا ہے؟

اس پر حاضرین میں سے ایک نے بتایا، "الحمد للہ، مجھے اس پر عمل کی توفیق ملی ہے۔ میرا اپنی نند کے ساتھ جھگڑا تھا۔ وہ بڑی زود رنج ہے۔ مجھے اس سے کئی ناپسندیدہ و ناگوار باتیں سننا پڑتی تھیں۔ اس لیے میں نے اس سے نہ ملنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس نے میرے اس فیصلے کا ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ میں اصل میں اسے پسند کرتی ہوں کہ وہ میرے شوہر کی بہن ہے، میری نند ہے، میرے بچوں کی پھوپھی ہے۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ شیطان ہمیں بہکاتا ہے، ہمارے غلط کام خوش نما بنا کر پیش کرتا ہے تو ہم انہیں اچھا سمجھنے لگتے ہیں۔ جب یہاں درسِ قرآن کریم میں اس آیت کے بارے میں طے کیا تو میں نے گھر جا کر اس آیت کریمہ کو بار بار پڑھا اور فیصلہ کیا کہ میں دل و جان سے اس آیت پر عمل کروں گی۔ فیصلہ کر لینا تو آسان تھا مگر اس پر عمل درآمد اتنا آسان نہ تھا۔ خطرہ تھا کہ میری نند نہیں مانے گی، رکاوٹ ڈالے گی۔

میں مناسب موقعے کی تلاش میں تھی تاکہ اس ناراضی کو ختم کروں۔ مجھے جلد ہی موقعہ مل گیا۔ مجھے معلوم ہوا کہ میری نند ہسپتال میں داخل ہے۔ اس کے یہاں تیسرے بچے کی ولادت ہوئی تھی۔ میں نے اپنے خاوند سے اصرار کیا کہ وہ مجھے ہسپتال لے جائے تاکہ میں اس کی بہن سے ملاقات کروں۔ پہلے تو وہ حیران ہوا۔ پھر بڑی خوشی سے مجھے اپنے ساتھ ہسپتال لے گیا۔ میرا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔ دھک دھک کر رہا تھا۔ میں نے دروازہ کھولا اور مسکراہٹ کے ساتھ اندر چلی گئی۔ میں نے اپنی نند کو بچے کی پیدائش پر اور اس کی جان کی سلامتی پر مبارک دی۔ مگر وہ میرے طرف متوجہ نہ ہوئی اور اپنے بھائی سے ہی باتیں کرتی رہی۔ میرا خاوند پریشان تھا اور اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرئے۔ میں نے نومولود بچے کو اٹھایا، اسے پیار کیا۔ میں نے نند کو خوش خبری دی کہ اس کا بچہ خوبصورت ہے اور ان شاء اللہ سعادت مند بنے گا۔


میری یہ باتیں سن کر وہ ہلکی سی مسکرائی۔ خیر ہماری ملاقات ختم ہوئی۔ میں کار میں بیٹھی تو میں نے ایک آہ سرد کھینچی جو میرے خاوند نے سن لی۔ میں نے اسی وقت اپنے دل میں تہیہ کر لیا کہ میں کبھی ہار نہ مانوں گی۔ اللہ کا کلام سچا ہے۔ میرے اندیشے غلط ہیں۔ میں نے تو حسنِ سلوک کیا ہے، اب صرف "جگری دوست "بننا رہ گیا ہے۔ مجھے صبر کرنا ہو گا۔ صبر کے لیے وقت درکار ہے۔ گھر پہنچتے ہی میں نے اندیشہ ہائے دور دراز کر اپنے دل و دماغ سے جھٹک دیا اور بدی کو نیکی سے دفع کرنے کا عزم مصمم کر لیا۔ میں نے بچوں کے لیے کھانا تیار کیا اور کھانا لے کر نند کے گھر جا پہنچی۔ ان کی خیریت دریافت کی۔ واپس آ کر رات کو انتہائی امن و سکون سے سوئی۔ مجھے اللہ کے حکم کی تعمیل کی مسرت تھی اور اس بات کا یقین تھا کہ مفید نتائج جلد سامنے آئیں گے۔

اگلے دن میں نے اپنی نند کے ردِ عمل کے بارے میں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ میرے طرزِ عمل سے خوش ہے اور میری شکر گزار ہے۔ میں نے اس کے بچوں کے ساتھ جو سلوک کیا تھا اس کا اس پر خوش گوار اثر پڑا۔ میں نے اس دن بھی کھانا تیار کیا، یہ کھانا پہلے کھانے سے بڑھ کر تھا۔ میں کھانا لے کر پھر نند کے گھر گئی۔ اب میری کوششوں اور محنت کا نتیجہ سامنے آنے لگا تھا۔

میں اس کے بچوں کا خیال رکھنے لگی۔ اب میری نند میرے ساتھ محبت و نرمی سے باتیں کرنے لگی۔ اس نے مجھے اپنے بیٹے کے عقیقے کی تقریب میں شامل ہونے کے لیے کہا۔ مجھے کیا انکار ہو سکتا تھا۔ جب میں تقریب میں شرکت کے لیے اس کے گھر گئی تو اس نے بڑی گرم جوشی سے میرا خیر مقدم کیا، یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ ایک طویل جدائی کے بعد مجھ سے مل رہی ہے۔ میں نے اسے گلے لگا لیا۔ مجھے اپنی خوش بختی پر رشک آ رہا تھا۔ اللہ نے میرے عمل کو قبول فرما لیا تھا اور مجھے انعام سے نوازا تھا۔ اب مجھے اپنی نند سب عورتوں سے محبوب تھی۔

حالانکہ شیطان نے ہمارے مابین غلط فہمی ڈال دی تھی۔ میری عزیز بہنو، قرآنی الفاظ بڑے جامع اور پُر حکمت ہیں۔ نفسِ انسانی جب اللہ کی اطاعت کر لیتا ہے تو اس میں کتنی بڑی تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔

اس خاتون نے اپنا تجربہ بیان کر لیا تو میں نے اس خاتون سے کہا، "آپ کی نند میں تبدیلی اس لیے آئی کہ آپ نے پہل کی۔ آپ کے سامنے ایک ہدف تھا۔ وہ تھا اللہ کی رضا۔ آپ نے پیشِ نظر مقصد کے لیے قرآن کا ذریعہ اختیار کیا۔ آپ نے قرآن مجید پر عمل کیا۔ اللہ سے مدد طلب کی اور صبر سے کام لیا تو اللہ تعالیٰ جو دلوں کا خالق اور جسموں کا مالک ہے اس نے دلوں کو آپ کے لیے نرم و گداز کر دیا، دشمنی دوستی میں بدل گئی۔

ایک اور خاتون نے کہا، "کیا آپ کے پاس اتنا وقت ہے کہ میں اپنا تجربہ بیان کروں۔ مجھے خود اس تجربے کے نتیجے کا یقین نہیں آ رہا۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے۔" میں نے اسے اپنا واقعہ بیان کرنے کی اجازت دی تو وہ یوں گویا ہوئی۔

"میری ایک پڑوسن تھی جسے میں بہت پسند کرتی تھی۔ مجھے اس سے اتنی محبت ہو گئی کہ میں نے اپنے کئی رازوں سے اسے آگاہ کر دیا۔ بات یہ ہے کہ میرے میکے والے یہاں سے بہت دور ہیں، کوئی اور قریبی عزیز بھی یہاں نہیں رہتا، اس لیے یہ پڑوسن ہی میری قریبی اور عزیزہ تھی۔ محبت و دوستی کے چند سال بعد میں نے دیکھا کہ میری پڑوسن کا رویہ تبدیل ہو گیا ہے۔ وہ میرے بارے میں بدگمانی میں مبتلا ہو گئی ہے۔ مجھ سے کھچی کھچی رہنے لگی ہے۔ وہ میری طرف ایسی باتیں منسوب کر دیتی جو میں نے کبھی نہ کی ہوتیں۔ میں نے اسے منانے اور اس کی غلط فہمیاں دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر بے سود۔ ان نے شیطانی وسوسہ اندازی کا شکار ہو کر مجھ سے بالآخر مکمل قطع تعلق کر لیا۔ بول چال، آنا جانا سب بند ہو گیا۔ وہ اب میرے ساتھ بیٹھنے کی بھی روادار نہ رہی۔ اب تو میں نے بھی اپنی عزت و حمیت اسی میں سمجھی کہ اس کے ساتھ تعلقات منقطع کر دوں۔ یہی صورت حال جاری تھی کہ میں درسِ قرآن میں شمولیت اختیار کر لی اور ہم نے سورۃ حم السجدۃ کی اس آیت پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب اس آیت کی تشریح ہو رہی تھی تو میں سوچ رہی تھی کہ میں نے تو کوشش کی مگر رائیگاں گئی۔ میں یہ سوچ ہی رہی تھی کہ ہماری استانی صاحبہ نے ان الفاظ کی تلاوت کی

وَمَا يُلَقَّااِلا الَّذِينَ صَبَرُوا (حٰم السجدہ 35:41)-

یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں۔

اس وقت میں پکار اٹھی کہ صبر تو میں نے کیا ہی نہیں۔ میں مسجد کے حلقہ درسِ قرآن سے واپس آئی تو میں نے یہ پختہ عہد کر لیا تھا کہ میں مسلسل کوشاں رہوں گی اور ناکامی سے بچنے کے لیے صبر کرتی رہوں گی۔ میری یہ ناراض سہیلی چوتھی منزل پر رہتی تھی۔ ہر سیڑھی پر شیطان یہی کہتا تھا کہ واپس چلی جاؤ مگر میرا عزم صمیم مجھے شیطانی وسوسے کا شکار ہونے سے روکتا رہا اور میں برابر سیڑھیاں چڑھتی چلی گئی۔ اب میں اپنی سہیلی کے گھر کے دروازے کے سامنے کھڑی تھی۔ میں نے ایک بار اس تحفے کو دیکھا جو میں اس کے لیے لائی تھی۔ کال بیل پر ہاتھ رکھا تو سوچا کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ میں نے ہر قسم کے رد عمل کا سامنا کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر رکھا تھا۔ کیونکہ میں یہاں اپنی پڑوسن کے لیے نہیں آئی بلکہ اللہ کے لیے آئی ہوں۔ میرا مقصد اس کی رضا حاصل کرنا ہے۔

"دروازہ کھلا تو وہ میرے سامنے کھڑی تھی۔ میں نے پورے اعتماد اور محبت سے کہا، "کیا آپ مجھے اندر آنے کی اجازت دیں گی؟" اس نے یک دم پورا دروازہ کھول دیا۔ مجھے اندر لے گئی۔ وہ ایک طویل جدائی کے بعد میرے وہاں آ جانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ ہم نے باتیں شروع کیں۔ ہر قسم کے موضوعات پر، مگر عتاب و ملامت کے ادنیٰ اشارے کے بغیر۔ مکھے ایسے معلوم ہو رہا تھا کہ میں اپنی سہیلی کے گھر میں نہیں بلکہ اللہ رحمان و رحیم کے باغ میں بیٹھی ہوں۔ میں نے کچھ دیر وہاں بیٹھنے اور باتیں کرنے کے بعد سوچا کہ اللہ تعالیٰ کی ایک آیت پر چلنے اور اس کے مطابق حرکت کرنے کے نور نے میرے روح و بدن کو تاریکیوں کی نحوست سے نکال دیا ہے۔ اب میری پڑوسن میری گرم جوش جگری سہیلی بن چکی ہے۔ میں نے صبر سے کام لیا۔ صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ برائی کا بدلہ اچھائی سے دیا۔ مایوس نہیں ہوئی۔ میں اپنی خوش قسمتی پر نازاں ہوں۔ میں اپنی مسرت کا اظہار الفاظ کی صورت میں کرنے سے عاجز ہوں اور آپ کی شکر گزار ہوں۔"

میں نے اس بہن سے کہا، آپ میرا شکریہ ادا نہ کریں بلکہ خالق کائنات اور مالکِ جسم و جان کا شکر ادا کریں جس نے ہمیں اپنی خواہشات کا شکار نہیں بننے دیا۔ ہمیں دوسروں کی اغراض و خواہشات کا نشانہ بننے کے لیے تنہا نہیں چھوڑ دیا بلکہ اپنے کلام مقدس سے ہماری رہنمائی فرمائی۔ قرآن مجید پر عمل کی توفیق ارزاں فرمائی۔ خالقِ نفس و جان ہی بہتر جانتا ہے کہ انسانوں کی بھلائی کس میں۔ پس شکرِ لا محدود ہے اس ذاتِ بزرگ و برتر کا، جس نے انسانوں کی بہبود و منفعت کے لیے اپنی آخری کتاب اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعے دنیا میں بھیجی۔


نفرت و کدورت

میرے ہفتہ وار درسِ قرآن سننے والی خواتین میں سے ایک معزز خاتون میرے غریب خانے پر تشریف لائیں اور کہنے لگیں، "باجی، میں مسجد میں آپ کا درس سنتی ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں فضا میں اڑنے والا کوئی پرندہ ہوں۔ آپ کی باتوں سے میرے دل و دماغ کو تسکین ملتی ہے، مگر گھر پہنچ کر زندگی کے تقاضوں کی تلخی اتنی شدید ہوتی ہے کہ مسجد میں بیان ہونے والے اقوال اور میرے افعال میں کوئی مناسبت نہیں رہتی۔" یہ کہہ کر وہ بہن زار و قطار رونے لگیں۔ میرے لیے یہ کوئی انوکھی بات نہ تھی۔ بہت سی بہنوں کو اسی تضاد کا سامنا ہے۔ حتیٰ کہ کئی شوہر محض اس لیے اپنی بیویوں کو درسِ قرآن میں ہی جانے سے روک دیتے ہیں کہ ان خواتین کی زندگیوں اور کاموں پر ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ خیر میں نے اس ملاقاتی بہن کو دلاسا دیا، اس کی ڈھارس بندھائی اور دریافت کیا کہ وہ اپنا اصل مسئلہ بتائے تاکہ مجھے رونے کا سبب معلوم ہو سکے۔ حوصلہ پا کر اس بہن نے بتایا:

"میرا خاوند نہایت جذباتی اور غصیلا ہے۔ بہت جلد بھڑک اٹھتا ہے۔ اس کے اس مزاج کی وجہ سے میں بھی اسے سخت الفاظ میں جواب دینے پر مجبور ہو جاتی ہوں۔ وہ بھی اسی طرح جواب دیتا ہے۔ میں اس سے نفرت کرتی ہوں اور دل میں اس کے خلاف کدورت رکھتی ہوں۔ میں اپنے اس رویے پر دل ہی دل میں نادم بھی رہتی ہوں۔ مجھے یہ تلخ احساس ستاتا رہتا ہے کہ میرا انجام بہت برا ہو گا۔"

میں نے مسکرا کر کہا، اس کا علاج یہ ہے کہ ہم قرآن مجید کا دامن تھام لیں، قرآن کی طرف رجوع کریں اور اس کے مطابق چلیں۔ وہ بہن کہنے لگی، "اسی لیے تو میں آپ کے پاس آئی ہوں۔"اب اس نے اپنے آنسو پونچھ لیے تھے اور اس کی آنکھوں میں امید کی کرن چمک رہی تھی۔ میں نے اس سے کہا، اللہ سبحانہ نے اپنی آیتیں نازل ہی اس لیے کی ہیں کہ ہم ان کا مطالعہ کریں، انہیں سمجھیں اور پھر ان پر عمل کریں۔ ہمیں پہلے ایک اصول پر متفق ہو جانا چاہیے۔ کیا آپ میرے ساتھ اس بات پر اتفاق کریں گی کہ آپ کی جنت کی کنجی آپ کے خاوند کے ہاتھ میں ہے؟ اور جب تک آپ کا شوہر یہ کنجی خوشی سے آپ کو نہ تھما دے آپ جنت میں نہیں جا سکتیں۔ اس نے جواب دیا، "یہی بات تو مجھے پریشان کرتی ہے۔" میں نے عرض کیا، اگر آپ کو یقین ہے کہ اپنے خاوند سے چابی لیے بغیر آپ جنت کا دروازہ نہیں کھول سکتیں تو میری عزیز بہن، اپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کا سرتاج آپ کا دشمن نہیں ہے۔ وہ تو سب لوگوں سے بڑھ کر آپ کا قریبی اور محبوب ہے۔ اسی کی رضامندی کی بدولت آپ اپنے رب کی رضا کی مستحق بن سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی عنایات حاصل کرنے کہ یہی طریقہ ہے۔

"ہم اب قرآن مجید کی آیات پر عمل کر کے اس کدورت کا علاج کریں گے جو آپ کے دل میں اپنے خاوند کے خلاف ہے۔ آپ ہی نہیں بلکہ قرآنی ارشادات کی برکت سے درس میں شریک تمام بہنیں اپنے خاوند، بھائی، بہن، پڑوسن اور بچوں کے خلاف اپنے دلوں میں موجود کدورت کا علاج کر سکیں گی۔ آپ کا شوہر اگر آپ کے ساتھ بدسلوکی کرئے تو بھی آپ اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ اگر وہ آپ کے ساتھ لڑ جھگڑ کر اپنے کام پر چلا جائے تو آپ گھبرائیں نہیں۔ شش و پنج میں مبتلا نہ ہوں۔ شیطانی وسوسوں پر کان نہ دھریں۔ اپنے اعصاب و افکار پر بوجھ نہ ڈالیں۔ خاوند کی برائی کے مقابلہ میں اچھائی کریں۔ آپ قرآن مجید کی اس آیت پر عمل کریں

اِدْفَعْ بِالَّتِي ھِيَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَہُ عَدَاوَۃٌ كَاَنَّہُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (حٰم السجدۃ 34:21)-

تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو، تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا۔

آپ اللہ کا نام لے کر اس کے حکم کی تعمیل کے لیے کھڑی ہو جائیے اور اس سلسلے میں اپنی پوری طاقت استعمال کیجیئے۔ عمدہ سے عمدہ تدبیر کیجیئے۔ اپنے شوہر کو راضی کرنے کے لیے ہر ترکیب آزمائیے۔ وہ گھر آئے تو مسکرا کر اس کا استقبال کیجیئے۔ اس کے لیے اس کا پسندیدہ کھانا تیار کیجیئے۔ بہترین کپڑے زیبِ تن کیجیئے۔ خندہ پیشانی سے پیش آنا، مسکراہٹ قائم رکھنا، بات بات نہ نہ الجھنا، ان اصولوں کو اپنائیے۔ اگر اس کی کسی بات پر ناراضی کا اظہار بھی کرنا ہے تو اس کے لیے مناسب وقت کا انتخاب ہونا چاہیے۔ آپ جائیں اور اس آیت مبارکہ پر عمل کریں۔ آپ دیکھیں گی کہ اس کے کتنے عمدہ نتائج سامنے آتے ہیں۔ آپ سے پہلے کئی بہنیں اس آیت پر عمل کر چکی ہیں۔ آپ بھی تجربہ کر لیں۔ لوگ اس آیت کو پڑھتے ہیں مگر اس پر عمل بہت کم ہی کرتے ہیں۔"

میری یہ نصیحت آموز باتیں سن کر وہ بہن بولی، "واللہ، یہ کام تو بہت مشکل معلوم ہوتا ہے۔" میں نے جواب میں کہا، "آپ کا یہ خیال درست نہیں۔ یہ شیطانی اکساہٹ ہے۔ قرآن مجید تو انسانوں کی طبیعتوں اور مزاجوں کی مناسبت سے ہی راہنمائی دیتا ہے۔ اللہ اپنی مخلوق کو بہتر جانتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ اس قرآن کی کسی آیت پر عمل کرنا دشوار ہے، قرآنی حکمت اور ربانی مصلحت کے خلاف ہے۔ اگر آپ کے ذہن میں کبھی اس قسم کا خیال پیدا ہو تو فوراً اس آیت پر عمل کیجیئے

وَاِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّہِ، اِنَّہُ ھُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (حٰم السجدۃ 36:41)

اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو، وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔


جب آپ سننے دیکھنے اور جاننے والی ذات کی پناہ میں آ جائیں گی تو وہ آپ کو شیطانی وسوسوں سے محفوظ رکھے گا۔ یہ سن کر وہ کہنے لگی، "میں ان شاء اللہ ایسا ہی کروں گی اور کر کے رہوں گی۔" میں نے کہا، "آپ کے علاوہ بہت سے لوگ اس آیت پر عمل کر چکے ہیں۔ اگر پھر بھی آپ کو امر الٰہی اور حکم ربانی پر عمل درآمد میں سستی و کوتاہی کا سامنا کرنا پڑے تو آپ یہ کلمات پڑھ لیا کریں۔

وَقُل رَّبِّ اَعُوذُ بِكَ مِنْ ھَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ، وَاَعُوذُ بِكَ رَبِّ اَن يَحْضُرُونِ (سورۃ المؤمنون 98،97:23)

پروردگار، میں شیاطین کی اکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بلکہ اے میرے رب، میں تو اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں۔

آپ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ قرآن مجید پر عمل کرنے کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ صبر و استقامت اور اللہ سے قوی اُمید۔ ان دونوں صفات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل آسان ہو جاتا ہے۔

وَمَا يُلَقٰھَا اِلاّ الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقٰھَا اِلاّ ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ (حٰم السجدہ 35:41) -

یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیب والے ہیں۔

وہ بولی، "اے رحمٰن میری مدد کر۔"

میں نے کہا، "آپ رحمٰن کی مدد چاہتی ہیں تو اپنے خاوند کو معاف کر دیں اور یاد کریں کہ جب وہ غصے کی حالت میں نہیں ہوتا تو اس نے آپ پر کتنے احسانات کیے ہیں۔ آپ کے ساتھ کیسا حسنِ سلوک کیا ہے۔ آپ غصے سے بچیں۔ کیوں کہ ایمان والوں کی صفت تو یہ ہے کہ

وَاِذَا مَا غَضِبُوا ھُمْ يَغْفِرُونَ (الشوری 37:42)

اور اگر غصہ آ جائے تو درگزر کر جاتے ہیں۔

کیا آپ نے کئی گناہ اور غلطیاں نہیں کیں جن کے بارے میں آپ چاہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دے۔ یہ آپ کے لیے ایک سنہری موقعہ ہے، اسے غنیمت سمجھ کر فائدہ اٹھائیے۔

وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا اَلاَ تُحِبُّونَ اَن يَغْفِرَ اللَّہُ لَكُمْ (النور 22:24)

انہیں معاف کر دینا چاہیے اور درگزر کرنا چاہیے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے؟

"اللہ تعالیٰ کو تو یہ معلوم ہے کہ اس وقت آپ کا دل غصے سے بھرا ہوا ہے۔ اگر آپ نے اپنے غصے پر قابو پا لیا تو اللہ آپ کو صالحین کا مرتبہ عطا فرمائے گا۔ آپ اپنے قول و فعل میں غصے کے اظہار سے اجتناب کریں،

وَالْكٰاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّہُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (آل عمران 134:3) -

جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں، ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔

وہ بولی، "سبحان اللہ، مجھے تو ایسے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ آیت میں پہلی بار سن رہی ہوں۔"

میں نے کہا، میں چاہتی ہوں کہ آپ اس آیت پر عمل کریں اور اس کی حلاوت سے لطف اندوز ہوں۔ اس نے کہا، "باتیں کرنا تو بہت آسان ہے لیکن میرے لیے اپنے غصے پر قابو پانا کیسے ممکن ہو گا۔ میرا غصہ تو ایک آتش فشاں لاوے کی طرح ہے، جب تک پھٹ نہیں جاتا اسے سکون نہیں ہوتا۔"

میں نے کہا، "کیا میں آپ کو یہ بتا نہیں چکی ہوں کہ اللہ جو ہمارا خالق ہے، مالک ہے، وہی ہمارے مسائل کے حل کا صحیح طریقہ جانتا ہے۔ اس خلاق علیم نے آپ کو اپنے غصے کے آتش فشاں پر کنٹرول کرنے کی صلاحیت دے رکھی ہے مگر آپ اب تک اس صلاحیت کو بروئے کار نہیں لائیں۔ ارشادِ الٰہی ہے

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَاْتِيَكَ الْيَقِينُ (الحجر 99،98:15)

اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو، اس کی جناب میں سجدہ بجا لاؤ اور اس آخری گھڑی تک اپنے رب کی بندگی کرتے رہو، جس کا آنا یقینی ہے۔


اب میں آپ کے سامنے ایک تعلیم یافتہ سمجھدار بہن کا عملی تجربہ بیان کرتی ہوں جس نے اللہ کی آیتوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالا۔ اس نے اس بات کا تہیہ کر لیا تھا کہ کہ قرآن کریم اس کے صرف قلب و لسان پر نہ ہو بلکہ اس کے تمام اعضا قرآن کے مطابق حرکت کریں گے۔ یہ بہن اپنی داستان یوں سناتی ہے:

"ایک دن میرے خاوند نے مجھے معمولی سی بات پر ڈانٹنا شروع کر دیا۔ اس کا غصہ دھیرے دھیرے بڑھنے لگا، وہ زور زور سے چیخنے چلانے لگا۔ میں پہلے تو آرام سے سنتی رہی پھر میرے اندر غصہ بھڑکنے لگا۔ غصے کا ایک آتش فشاں لاوا تھا جو پھٹنے اور باہر نکلنے کے لیے بےتاب و بےقرار تھا۔ میں اسے چلا چلا کر جواب دینے کے لیے تقریباً تیار ہی تھی، کہ میرا دھیان اللہ کے کلمات کی طرف چلا گیا۔ میں اللہ کے کلمات اپنے زیادہ قریب محسوس کرنے لگی۔ مجھے آیاتِ قرآنی سے تقویت مل رہی تھی۔ میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ میرے ردِ عمل کا صحیح علاج یہ ہے کہ میں اللہ کی تسبیح کروں، جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَاْتِيَكَ الْيَقِينُ (الحجر 99،98:15)

میں نے اپنے آپ سے کہا، کیا میں اس وقت تسبیح کرنے کی پوزیشن میں ہوں؟ میں نے شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کی اور اپنے آپ سے کہا کہ میرے نفس میں جو کچھ ہے، اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ یہ سوچ کر میں نے

وَذَا النُّونِ لاّ اِلٰہ اِلا اَنتَ سُبْحَانَكَ اِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ

اور اسی طرح کے دیگر تسبیح کے کلمات پڑھنے شروع کر دیے۔ ادھر میرا خاوند جو اس کے منہ میں آتا تھا، مسلسل بلا مقصد بکے جا رہا تھا۔ گویا شیطان نے اس قبضہ کر لیا تھا۔ وہ شیطانی وسوسہ اندازی کا نشانہ بنا ہوا تھا۔ میں نے اب معرکہ کارزار سے پسپائی اختیار کی۔ وضو کیا اور سجدہ گزاروں میں شامل ہونے کا ارادہ کر کے نماز شروع کر دی۔ نماز شروع کرنا تھی کہ خاوند خاموش ہو گیا۔ وہ حیران و ششدر تھا۔ ندامت و خجالت میں مبتلا تھا۔ اس نے تھی "میدانِ جنگ" سے رخ موڑ کر اللہ کی طرف منہ کر لیا۔ وہ استغفار کرنے لگا حتیٰ کہ بالکل پُر سکون ہو گیا۔ اب وہ مجھے راضی کرنا چاہتا تھا۔ میں غصے میں آئی ہی نہ تھی اس لیے پُر سکون و مطمئن تھی۔ وہ مجھے نرم دم گفتگو پا کر حیران ہوا۔ میں مسکرا رہی تھی اور اس کے غصے کے دورے پر اسے ڈانٹ ڈپٹ بھی نہیں کر رہی تھی۔ اس پر وہ سراپا حیرت تھا۔ میں نے پہل کرتے ہوئے کہا، "میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ آپ مجھے میری جنت کی کنجی دے دیجیئے۔ مجھے جنت کا بہت اشتیاق ہے۔ میں شیطان کو اپنے اس خواب کی تعبیر پانے میں حائل نہیں ہونے دوں گی۔"

خاوند نے یہ سن کر کہا، "آپ ہمیشہ کہا کرتی تھیں، قرآن دنیا کی جنت ہے۔ آج آپ نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ واقعی قرآن دنیا کی جنت ہے۔"اسی دن سے میں اور میرا خاوند "درسِ قرآن"کے دن کا انتظار کرتے رہتے ہیں تاکہ دیگر آیات پر بھی عمل کا موقع ملے۔ یوں ہم سب قرآن کریم پر عمل کرتے ہیں۔ ہم میاں بیوی بھی اور ہماری اولاد بھی۔ اللہ کے فضل اور قرآن کریم کے معجزے کی برکت سے ہمارا گھر جنت بن چکا ہے۔"

یہ ایمان افراز واقعہ سن کر میری مہمان بہن نے اقرار کیا، "آج سے ہی میں کتاب اللہ کے مطابق اپنے آپ کو تبدیل کروں گی۔"

مہمان بہن رخصت ہوئی۔ میں اس کے لیے دعا گو رہی۔ ایک دن میں‌جب درسِ قرآن دینے کے لیے مسجد گئی تو مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ یہی بہن ایک اور خاتون کے پاس بیٹھی اس کے آنسو پونچھ رہی تھی اور اسے دلاسہ دے رہی تھی کہ کس طرح قرآن کریم کے مطابق چلنے میں ہی ہمارے تمام مسائل و مشکلات کا حل ہے۔ اس کا چہرہ سکون و طمانیت کی مظہر تھا۔ اس کی خوبصورتی پہلے سے بڑھ کر تھی۔ مجھے یہ دیکھ کر ایک صحابی یاد آئے۔ ان کے بارے میں‌ رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ اہل جنت میں‌ سے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس ٹوہ میں لگے کہ معلوم کریں کہ اس صحابی کا وہ کون سا عمل ہے جس کی بنا پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں جنتی قرار دیا ہے۔ وہ اس مقصد کے لیے چند دن تک اس صحابی کے گھر مہمان بن کے رہے تا کہ دیکھیں کہ یہ کیا کرتے ہی؟ ان کا آنا جانا، اٹھنا بیٹھنا کیسا ہے؟ ان کی عبادات کی کیا کیفیت ہے؟ وہاں رہ کر دیکھا کہ ان کی نمازیں، روزے، تہجد اور نوافل تو کوئی زیادہ مقدار میں نہیں۔ آخر جب جنت کی بشارت دیئے جانے کے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشاد کی حکمت نہ سمجھ پائے تو خود اس صحابی سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کے بارے میں فرمایا تھا "انہ من اھل الجنۃ۔"آخر آپ کون سا ایسا عمل کرتے ہیں جس کی بنا پر آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ بشارت دی ہے۔ مجھے بتائیے تا کہ میں بھی آپ کی پیروی کروں۔ اس صحابی نے اس کے جواب میں سوچ کر کہا، "میرے اندر اور تو کوئی خاص ایسا نمایاں و منفرد وصف نہیں۔ البتہ یہ ہے کہ جب میں سونے لگتا ہوں تو میرے سینے میں‌ کسی انسان کے خلاف کدورت نہیں ہوتی۔ میں عفو و درگزر کر کے مطمئن و پُر سکون ہو کر سوتا ہوں۔


تسبیح

کچھ عورتیں مجھ سے ملنے آئیں۔ وہ قرآن مجید پر عمل کرنے کے پروگرام کے بارے میں جاننا چاہتی تھیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ قرآن پر عمل کرنے کے لیے سب سے بہترین مثال اور نمونہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم آیات کو قرآن کے صفحات سے باہر نکال کر عمل کی دنیا میں لے جائیں۔ یوں ہم اپنی دنیا کو اللہ کی رضا اور منشا کے مطابق تعمیر کریں۔ پہلے تلاوت و قرات کا طریقہ درست کریں۔ پھر اس کی تفسیر و تشریح سمجھیں۔ پھر ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علی و سلم نے کس طرح اس آیت پر اپنے اقوال و افعال کے ذریعے عمل کیا ہے۔ اس کے بعد ہم میں سے ہر ایک اپنے آپ سے یہ پوچھے کہ اللہ حکیم و کبیر کی نازل کردہ یہ آیت مجھ سے کیا مطالبہ اور تقاضا کر رہی ہے؟

ان میں سے ایک خاتون نے کہا، "یہ تو ایک مشکل اور طویل المیعاد کام ہے۔ مجھے نتیجے تک پہنچنے میں بہت وقت لگے گا۔ اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ میں مطلوبہ نتیجے تک پہنچ سکوں گی یا نہیں۔"

میں نے کہا، "یہ قرآن مجید کا ہی بتایا ہوا طریقہ ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔اللہ سبحانہ نے اپنے نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام پر قرآن نازل فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پر عمل کر کے دکھایا۔ اب ہمیں قرآن کے احکام پر عمل کرنا اور اس کی منشا کے مطابق چلنا ہے۔ ہم اپنی زندگیاں قرآن کے مطابق ڈھالیں گے تو دنیا میں اخلاق حسنہ کا دور دورہ ہو گا اور ہم اللہ کے وعدے کے مطابق زمین کے وارث بنیں گے۔

وَعَدَ اللَّہُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّھُم فِي الاَرْضِ۔ (النور 55:24) -

اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو زمین میں خلیفہ بنائے گا۔

ہم لوگ باتیں تو بہت بناتے ہیں مگر کتاب اللہ کی ایک آیت پر بھی عمل کے لیے آمادہ نہیں ہوتے۔

ان خواتین کے ساتھ یہ طے پایا کہ صرف ایک آیت پر ہم سب مل کر عمل کریں گے، چنانچہ ہم نے ایک آیت مقرر کر لی۔ میں نے اس آیت کی تفسیر بیان کی۔ پھر میں نے ان خواتین سے عرض کیا "اس آیت پر عمل درآمد کیسے کیا جائے؟ میں اس کی کیفیت آپ کے سامنے بیان نہیں کروں گی۔ میں اسے آپ پر چھوڑتی ہوں۔ مگر میں آپ سے یہ درخواست ضرور کروں گی کہ آپ اس آیت کو بار بار دہرائیں اور اس کے مطلب کو اپنے ذہنوں میں رکھیں۔ آیت یہ تھی:

وَاِن مِّن شَيْءٍ اِلاَّ يُسَبِّحُ بِحَمْدَہِ وَلَـكِن لاَّ تَفْقَھُونَ تَسْبِيحَھُمْ (بنی اسرائیل 44:17)

کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو، مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو۔

میں نے بہنوں سے یہ بھی کہا کہ یہ آیت صرف آپ کی زبانوں پر ہی نہ رہے بلکہ آپ کے دلوں میں بھی موجود رہے۔ یہ خواتین رخصت ہوئیں۔ چند دنوں کے بعد وہ مجھ سے بھی پہلے وقتِ مقررہ پر درس گاہ میں پہنچ گئیں۔ ہر بہن یہ چاہتی تھی کہ وہ پہلے بولے۔ میں نے دریافت کیا کہ آیت کریمہ کے ساتھ آپ لوگوں کی ہم نشینی کیسی رہی؟ ایک خاتون نے پر جوش انداز میں‌ اپنا تجربہ یوں بیان کیا:

"میں شادی شدہ ہوں اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ ہمارے گھر میں کوئی خادمہ نہیں۔ سارا کام مجھے ہی کرنا ہوتا ہے۔ میرا شوہر کام کے لیے باہر جاتا ہے اور ہر روز تاخیر سے گھر پہنچتا ہے۔ بڑے بچے اپنے اسکولوں میں جاتے ہیں جب کہ چھوٹے بچے گھر میں میرے پاس ہوتے ہیں۔ صبح سویرے سے لیکر شام تک مجھے مسلسل کام کرنا پڑتا ہے۔ گھر کے چھوٹے بڑے سب کام مجھے ہی کرنے ہوتے ہیں۔ گھر کا ہر فرد مجھ سے کوئی نہ کوئی کام کرنے کے لیے کہتا ہے۔ کبھی کبھی تو شیطان میرے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے، تم کیا ہو؟ تم ایک نوکرانی ہو، بلکہ نوکرانی تم سے بہتر ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اس کے کام کی مقدار اور نوعیت مقرر و متعین ہوتی ہے، پھر اسے تنخواہ ملا کرتی ہے۔ میں کئی بار اس وسوسہ اندازی سے متاثر بھی ہو جاتی، یعنی شیطان مجھے بہکانے میں کامیاب ہو جاتا۔ میں سستی سے کام کرنے لگتی۔ پھر بھی با دلِ نخواستہ ہی سہی، گھر کے سب کام مجھے ہی کرنا تھے۔"

"یہ میری اور میرے اہل خانہ کی خوش قسمتی ہے کہ مجھے آپ کے یہاں درس قرآن کی محفل میں شرکت کا موقعہ ملا اور پھر آپ کی طرف سے متعین کردہ آیت پر عمل کا ارادہ کیا۔ میں ایک دن صبح سویرے بیٹھی یہ سوچ رہی تھی کہ آج تو مجھے بہت سے کام کرنا ہیں۔ سخت کام کاج کے تصور سے ہی میرا مورال پست ہو رہا تھا۔ میں نے اپنے آپ سے پوچھا پہلے کون سا کام کروں؟ میں آیت کریمہ کو بھی دہرا رہی تھی کہ میری نظر میز کی طرف گئی۔ اس پر دھول پڑی تھی۔ میں نے اپنے آپ سے پوچھا، سبحان اللہ، کیا یہ میز بھی تسبیح کرتی ہے؟ پھر میرے منہ سے یہ الفاظ خودبخود نکلے "کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو، مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو۔"میں دیکھتی ہوں یہ میز کیسے تسبیح کرتی ہے؟ میں نے اپنے آپ سے پوچھا۔ مجھے فوراً یہ جواب ملا، "تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو؟"

"میں ایک غیر ارادی حرکت کے ساتھ اٹھی، کپڑا لیا اور تسبیح کرنے والی میز سے دھول صاف کر دی۔ مجھے میز سے انس سا محسوس ہوا۔ ہم دونوں تسبیح کرنے والے ہیں۔ پھر میں نے گھر کی کتابوں کی، الماری اور دوسری چیزوں کی صفائی کی۔ اب میں باورچی خانہ میں تھی۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے یہاں کی ہر چیز تسبیح کر رہی ہو۔ دیواریں، چولہا، گیس، برتن، میں نے سوچا، جو کھانا میں تیار کرتی ہوں وہ بھی اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔ مجھے ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ ہر چیز کی تسبیح کرنے کے ادراک کے ساتھ ہی میری زندگی میں کتنا بڑا انقلاب آ چکا ہے۔ یہ حقائق جان کر زندگی کتنی خوش گوار، حسین اور با مقصد ہو چکی ہے۔ ایک عجیب بات یہ ہوئی کہ اب گھر کے کام کاج میں پہلے سے کم وقت لگنے لگا۔ اس کے ساتھ ہی مجھے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا یاد آئیں۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک خادمہ کی درخواست کرنے گئیں تاکہ خادمہ کام کاج میں ان کا ہاتھ بٹائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں خادمہ عطا کرنے کے بجائے خادمہ سے بہتر جو چیز عطا فرمائی وہ تسبیح کا عمل تھا۔ میں پہلے یہ خیال کرتی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں تسبیح کرنے کے لیے اس لیے فرمایا تاکہ انہیں نفسیاتی تقویت ملے اور وہ کام کو آسان سمجھنے لگیں۔ میں نے تو کبھی یہ سوچا بھی نہ تھا کہ تسبیح کرنے سے کام کرنے میں مدد ملتی ہے۔ انسان کے لیے کام کی مشقت آسان ہو جاتی ہے لہٰذا وہ تھوڑے وقت میں زیادہ کام کر لیتا ہے۔"

"مسلمان تسبیح کرتے وقت ایک خوش گوار بلکہ شاندار ذہنی و نفسیاتی کیفیت سے سرشار ہوتا ہے۔ اسے تھکاوٹ اور مشقت کی احساس ہی نہیں ہوتا، یا بالکل معمولی تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔ میں اپنی ہر بہن بلکہ ہر فرد اور محنت کش انسان کو یہ مشورہ دیتی ہوں کہ وہ کام کرتے ہوئے سبحان اللہ، سبحان اللہ، سبحان اللہ سبحان اللہ العظیم جیسے تسبیح کے کلمات کی ادایگی کو اپنا طریقہ بنائے۔ کام آسان بھی ہو گا اور خوش گوار بھی۔ جلد بھی اور بسہولت بھی۔"

اس بہن نے جب اپنا تجربہ بیان کر لیا تو میں نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، میری پیاری بہنوں، قرآن مجید کے مطابق عمل کرنے اور اپنے آپ کو قرآن کے سانچے میں ڈھالنے سے یہی مراد ہے۔ جیسے ہماری اس بہن نے صرف آیت کے الفاظ دہرانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ آیت کو اپنے دل میں جگہ دی اور اپنے حواس اور جوارح کو آیت سے ہم آہنگ کیا۔ قرآن پر عمل کا یہی طریقہ کار ہونا چاہیے۔


ٹی وی اور دیواروں کی تسبیح

ایک لڑکی نے اٹھ کر کہا، "اب میری بات سنو، میرا معاملہ بہت ہی عجیب ہے۔ میں میڈیکل کالج کی طالبہ ہوں۔ میرے اساتذہ یہ بتاتے رہتے ہیں کہ اللہ نے انسان کو کس طرح بنایا ہے، وہ جسم انسانی کے مختلف نظاموں سے ہمیں آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ میں خالق کی کاریگری پر متعجب ہو کر "سبحان اللہ" کہہ دیا کرتی تھی۔ مگر یہ الفاظ صرف میری زبان سے ادا ہوتے تھے۔ مجھے اس بات کا علم نہ تھا کہ مجھے اللہ کی نعمتوں کا شکر عملی طور پر بجا لانا چاہیے۔ مجھے اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو خالق کی رضا کے لیے استعمال کرنا چاہیے اور میرا نصب العین صرف اللہ کو راضی کرنا ہونا چاہیے۔ مگر مذکورہ آیت تفویض کیئے جانے کے بعد تو اللہ سبحانہ نے میرے قلب و ذہن کو روشن کر دیا۔ میں اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے اور سوتے جاگتے اس آیت کو دہراتی رہتی تھی حتیٰ کہ اس آیت کی محبت میرے دل میں سرایت کر گئی۔"

"ایک دن میں نے حسبِ معمول ریموٹ کنٹرول ہاتھ میں لیے ٹیلی ویژن سکرین پر اپنی پسند کی فیچر فلم دیکھنا چاہی۔ فلم شروع ہو گئی۔ کئی مناظر سامنے آئے۔ میں فلم دیکھ رہی تھی مگر ایک مسلمان کی حیثیت سے میرے جذبات مجروح ہو رہے تھے۔ یک دم مجھے خیال آیا کہ یہ ٹیلی ویژن سیٹ بھی ضرور اللہ کی تسبیح کرتا ہو گا؟ پھر مجھے اپنے خیال کی معقولیت کا احساس ہوا۔ اس لیے کہ "کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو۔" مجھے اس بات کا پختہ یقین ہو گیا کہ ٹیلی ویژن سیٹ اور یہ پورا سسٹم اللہ کی تسبیح کر رہا ہے۔ میرے رب کی تسبیح کر رہا ہے۔ اللہ نے تو اس سسٹم کر اپنی تسبیح کے لیے مسخر کیا ہے۔ اللہ نے اسے ہمارے ماتحت کر دیا ہے تا کہ اللہ ہمیں آزمائے کہ کون اچھے عمل کرتا ہے اور کون برے۔ مجھے اپنے اندر سے یہ آواز سنائی دی کہ ٹیلی ویژن سیٹ تو تسبیح کرنے والوں میں سے ایک ہے لیکن میں نے اسے اذیت دی ہے۔ کیوں کہ میں نے اس کی اسکرین پر ایسی چیز پیش کر دی جو اللہ کو ناراض کرنے والی ہے۔ معاً مجھے خیال آیا کہ ٹیلی ویژن سیٹ مجھ سے نفرت کرتا ہے، اسے بےہودہ پروگراموں، فضول ڈراموں اور لچر فلموں سے بھی سخت نفرت ہے مگر وہ مجبور ہے۔ یہ سیٹ روزِ قیامت بارگاہِ الٰہی میں میرے خلاف گواہی دے گا۔ اللہ کے حضور میری شکایت کرئے گا۔"

"بس اسی خیال کا آنا تھا کہ غیر شعوری طور پر میری انگلیاں ریموٹ کنٹرول پر پڑیں اور میں نے وہ فلم بند کر دی۔ یوں اللہ تعالیٰ نے اپنی اس آیت کی برکت سے مجھے بے ہودہ فلموں اور ڈراموں سے نجات دلا دی۔ اسی لمحے میں نے یہ عہد کر لیا کہ میں کبھی بھی ٹیلی ویژن سیٹ کو اذیت نہیں پہنچاؤں گی اور اس پر وہی چیز چلاؤں گی جو اللہ کو پسند ہو گی۔

"میرے اس فیصلے سے مجھے جو سکون و قرار اور طمانیت و نفسیاتی مسرت ملی، اس کا اندازہ آپ شاید نہ لگا سکیں۔ میں جس طرح اپنی عمرِ عزیز ضائع کر رہی تھی، اب اس پر ندامت ہوتی ہے۔ میں فضولیات سے بچ گئی ہوں، مجھے اللہ کی نعمتوں پر عملی شکر ادا کرنے کا طریقہ معلوم ہو گیا ہے۔ میرا ہاتھ اللہ کی رضا کے لیے کام کرئے تو یہ اللہ کا شکر ہے۔ میری آنکھ اللہ کی رضا کے لیے دیکھے تو یہ اللہ کا شکر ہے۔ میرے پاؤں ان مقامات کی طرف چلتے ہیں جہاں اللہ کی اطاعت کی جاتی ہے تو یہ پاؤں کی نعمت پر اللہ کا شکر ہے۔ غرض یہ کہ اللہ کی نعمتوں کا شکر اور اس کی تسبیح زبان بھی کرتی ہے، حواس بھی کرتے ہیں اور جوارح بھی۔"

تسبیح کی برکت سے گناہ کبیرہ چھوڑ دیا

اس لڑکی کا بیان ابھی ختم ہی ہوا تھا کہ ایک اور بہن نے اپنا تجربہ بیان کرنا شروع کیا۔ انہوں نے کہا "اس آیت کریمہ پر عمل کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مجھے گناہ کبیرہ ترک کرنے کی توفیق دی۔" سب حاضرین نے حیران ہو کر اس کی طرف دیکھا تو اس نے کہا، "جی ہاں، اس قرآنی آیت کی برکت عظیم سے میں نے غیبت جیے گناہ کبیرہ کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ بات یہ ہوئی کہ ایک دن میں نے اپنی امی کو فون کیا تا کہ ان کی خیریت و عافیت معلوم کروں۔ بات شروع ہوئی تو اس کا رخ کئی رشتہ دار خواتین کی طرف پھر گیا۔ ہم ماں بیٹی بڑے مزے کے ساتھ باتیں کر رہی تھیں۔ دشمن غالب تھا اور ہم دونوں غیبت کیئے جا رہی تھیں۔ اسی دوران اچانک میرے دل میں خیال آیا کہ یہ ٹیلی فون سیٹ تو تسبیح کرتا ہے،

وان من شیء الا یسبح،

لہٰذا ٹیلی فون سیٹ ہماری اس گفتگو سے خوش نہ ہو گا۔ میں نے والدہ سے رشتہ دار عورتوں کے متعلق غیبت پر مبنی گفتگو کو منقطع کر دیا اور اب قران حکیم پر عمل کرنے کے موضوع پر گفتگو کرنے لگی۔ میں نے امی کو بتایا کہ ان دنوں ہمیں کون سے آیت عمل کے لیے تفویض ہوئی ہے۔ میں نے انہیں یہ بھی بتا دیا کہ ابھی ابھی ٹیلی فون سیٹ کے تسبیح کرنے کے بارے میں میں نے کیا سوچا ہے۔ میں نے امی کو بتایا کہ غیبت جیسے گناہ کبیرہ کے لیے استعمال کر کے اس تسبیح کرنے والے آلے کو ہم نے کتنی اذیت پہنچائی ہے۔"

"غرض یہ کہ میں نے ارشادِ الٰہی "کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو مگر تم اس تسبیح سمجھتے نہیں ہو" پر عمل کیا۔ میں نے غیبت کے موضوع کو چھوڑ کر قرآن کریم پر عمل، تہجد، فجر کی نماز وغیرہ کے بارے میں گفتگو شروع کر دی۔ یوں ہماری ٹیلی فون پر گفتگو ختم ہوئی مگر مجھے ایک آئیڈیا ملا۔ میں پہلے بھی ٹیلی فون سیٹ صاف رکھتی تھی اور اس کے ارد گرد کی چیزیں بھی صاف کرتی تھی لیکن اگ مجھے ٹیلی فون سیٹ اور اپنے مابین ایک دلچسپ تعلق کا احساس ہوتا ہے۔ ہم دونوں ایک ہی رب کی تسبیح کرنے والے ہیں۔ ہمارے عمل کرنے سے آیاتِ الٰہی بالکل واضح اور نکھر کر ہمارے سامنے آ جاتی ہیں۔"

ایک اور بہن اپنا واقعہ سنانا چاہتی تھیں لیکن وقت ختم ہونے کی وجہ سے ہم ان کی بات نہ سن سکے۔

غرض یہ کہ اس آیتِ کریمہ کے بارے میں محفل درسِ قرآن کے شرکا کے تجربات نے تمام بہنوں پر خوشگوار اثرات چھوڑے۔ یہ بھی واضح ہوا کہ قرآن پر عمل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس کے لیے آمادہ ہو جائیں، تدبر و تفکر سے کام لیں اور پھر عمل پیرا ہوں۔


بچوں پر اثرات

میں جب مسجد سے نکل کر گھر کے لیے روانہ ہونے لگی تو ایک بہن نے گھر تک میرے ساتھ چلنے پر اصرار کیا۔ راستے میں اس نے ایک ایسی بات بتائی جس نے مجھے بے حد متاثر کیا۔

اس بہن نے بتایا، "میرا ایک بھانجا ہے جو پانچ سال سے کچھ ہی بڑا ہے۔ وہ میزوں، دیواروں اور دروازوں پر لکیریں بناتا رہتا ہے۔ ہم نے بہت کوشش کی کہ وہ اس حرکت سے باز آ جائے، نرمی و سختی سے سمجھایا، مار پیٹ بھی کی مگر بے سود۔ جب میں نے آپ کے درسِ قرآن میں شمولیت اختیار کی اور اللہ سبحانہ کا یہ ارشاد

وَاِن مِّن شَيْءٍ اِلاَّ يُسَبِّحُ بِحَمْدَہِ وَلَـكِن لاَّ تَفْقَھُونَ تَسْبِيحَھُمْ (بنی اسرائیل 44:17)

ہمیں عمل کرنے کے لیے تفویض ہوا تو میں‌ اس آیت کو دہراتی رہتی تھی۔ مجھے اس بات کا بے حد اشتیاق تھا کہ میرے حواس اور جوارح میں سے کوئی ایک اس پر کسی طرح عمل کرئے، اس کے مطابق میری سوچ بنے، اس کے مطابق میرے اعضائے بدن کام کریں۔

"میں نے اپنے بھانجے کو دیکھا کہ وہ ایک نئی میز پر ہر طرف سے مارکر سے لائنیں لگا رہا ہے۔ اس نے میز پر لکیریں ہی لکیریں بنا دیں۔ میں نے بھانجے کو اپنے پاس بلا کر بڑے پیار اور سکون سے کہا، کیا تم جانتے ہو کہ یہ میز تسبیح کرتی ہے؟ اس نے سخت حیرانی کے ساتھ میرے طرف دیکھا۔ اس کا منہ کھلا ہوا تھا۔ اس نے کہا، "سچ؟"میں نے اسے بتایا، جی ہاں، یہ بات ہمیں اللہ نے بتائی ہے، جو ہر چیز کو جانتا ہے۔ تم جانتے ہو کہ تم میز کو کتنا گندا کر دیا ہے؟"ضرور میز غصے میں ہے اور یہ اللہ کے حضور تمہارے خلاف شکایت کرئے گی۔"

"بچے نے میری طرف دیکھا، پھر میز کی طرف دیکھا۔ پھر اپنا کان میز سے لگا کر بولا، "مگر مجھے تو کوئی آواز نہیں آ رہی۔ میں تو کچھ بھی نہیں سن رہا۔۔"میں نے کیا، "مجھے معلوم ہے، یہ بات اللہ پاک نے بتا دی ہے کہ ہم لوگ ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں۔"بچہ تھوڑی دیر ٹھہرا رہا۔ پھر اس نے ایک کپڑا اٹھایا اور انتہائی خاموشی کے ساتھ میز صاف کرنے لگا۔ آہستہ آہستہ لیکن جوش و جذبے سے وہ میز صاف کر رہا تھا۔ اس کی رفتار میں تیزی آ رہی تھی تا کہ وہ جلد از جلد میز کو مارکر کے نشانات سے صاف کر دے۔ پھر اس نے ایک اور کپڑا لیا اور دوسری نشان زدہ چیزوں کو صاف کرنے لگا۔ میں نے کہا، اب میں بھی تمہاری مدد کروں گی۔ بولا، "ہاں خالہ، آپ میری مدد کریں تاکہ ہم تمام چیزوں سے نشانات صاف کر دیں۔ کیونکہ یہ ساری چیزیں تسبیح کرتی ہیں۔"

"شام کو اس کی والدہ ڈیوٹی سے واپس آئیں تو ان سے لپٹ گیا۔ کہنے لگا، "امی، کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ میز تسبیح کرتی ہے؟"اس نے اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے میز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ اس کی امی نے جواب دیا، "ہاں بیٹا، کیوں نہیں۔ ہر چیز اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتی ہے۔"میرے بھانجے نے اب پہلے میری طرف دیکھا اور پھر کمرے کی ہر چیز کی طرف دیکھا۔ وہ جلد ہی گہری نیند سو گیا۔ اس دن کے بعد اس نے سوائے لکھنے کے مخصوص کاغذ کے سوا کبھی کسی چیز پر لکیریں نہیں لگائیں۔ اگ وہ اپنے ہم عمر ساتھیوں سے کہتا رہتا ہے کہ میں تسبیح کرتا ہوں۔ ایک بار میں نے خود سنا کہ وہ اپنے بڑے بھائی سے کہہ رہا تھا، "مجھے مت مارو، میں تسبیح کرتا ہوں۔"تو مجھے بہت ہنسی آئی اور میں شدتِ مسرت سے رو پڑی۔"

قرآنی آیات پر عمل کی بہت ضرورت ہے۔ قرآن مجید اللہ نے اتارا ہی اس لیے ہے کہ لوگ اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالیں۔ جس بات کو ایک پانچ سال کے بچے نے سمجھ لیا، نہ جانے بڑی عمر کے لوگ اسے کب سمجھیں گے؟


والدین سے حسن سلوک

والدین سے حسن سلوک کے بارے میں گفتگو کرنا تو بہت آسان ہے۔ اس موضوع پر تقریر کا اہتمام بھی کوئی مشکل کام نہیں۔ مگر عملاً والدین کی خدمت کرنا، ان سے نیک برتاؤ کرنا اتنا آسان نہیں۔ اس کے لیے اللہ پر گہرا اور مضبوط ایمان چاہیے۔ صبر و برداشت چاہیے۔ سب سے بڑھ کر ایک بیٹی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے لیے شیریں زبان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کے ساتھ مسلسل حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ اپنے رازوں کو وہی بہتر جانتا ہے۔ والدین سے اچھا برتاؤ ایک ایسا عملِ صالح ہے جس سے اخلاص کی خوشبو مہکتی ہے۔ یہ اللہ کی دائمی اطاعت کا ثبوت ہے۔ غرض یہ کہ والدین سے حسن سلوک کا شمار ان بنیادی خوبیوں میں ہوتا ہے جن کی تربیت مسلم معاشرے کے تمام افراد کو ملنی چاہیے۔ نہ صرف قرآن مجید نے بلکہ رسول کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید فرمائی ہے۔

ہم نے اپنے ہفتہ وار درس قرآن مجید میں یہ طے کیا کہ ہم اس بار اس ارشادِ الٰہی پر عمل کریں گے۔

فَلاَ تَقُل لَّھُمَآ اُفٍّ وَلاَ تَنْھَرْھُمَا (بنی اسرائیل 23:17) -

پس انہیں اُف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑک کر جواب دو۔

ہم نے اپنے دستور کے مطابق اس آیت کی تشریح و تفسیر بیان کی۔ اس پر مکمل گفتگو کی۔ پھر یہ طے پا گیا کہ ہم میں سے کوئی بھی نہ تو اپنے ماں باپ کو جھڑکے اور نہ ہی انہیں اذیت پہنچائے خواہ وہ کچھ ہی کریں یا کہیں۔

جب کچھ عرصہ بعد تجربات بیان کرنے کا وقت آیا تو درس میں شریک ہونے والی خواتین میں سے پانچ خواتین نے قرآن کریم کی آیت کے اس مختصر حصے پر عمل کرنے کے اپنے تجربات سے آگاہ کیا۔

عامل کے بجائے اللہ

"میری امی مجھ سے ملنے کے لیے میرے گھر آئی ہوئی تھیں۔ وہ دکھی اور پریشان نظر آ رہی تھیں۔ میں نے خیریت دریافت کی تو کہنے لگیں "تیری بہن کی شادی میں کافی دیر ہو چکی ہے۔ مجھے کچھ لوگوں نے بتایا ہے کہ اس غیر معمولی تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ اس پر جادو کیا گیا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ اس کوئی جن قابض ہے جو اس کی شادی نہیں ہونے دیتا۔ اس لیے بیٹی آپ میرے ساتھ چلیں، تاکہ لوگ جس عامل کا بتاتے ہیں، ہم اس کے پاس جائیں تاکہ وہ ہماری مدد کرئے اور تیری بہن کی شادی جلد ہو جائے۔" میری امی نے یہ بات کی تو مجھے بہت صدمہ پہنچا۔ میں نے انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی

وَاِن يَمْسَسْكَ اللّہُ بِضُرٍّ فَلاَ كَاشِفَ لَہُ اِلاَّ ھُوَ، وَاِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَھُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدُيرٌ (الانعام 17:6) -

اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے، اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

والدہ غصے میں تھیں، وہ کہنے لگیں "میں اپنی بیٹی کو نقصان سے بچانے جا رہی ہوں۔ اس میں کیا حرج ہے؟ میں کسی کو ضرر نہیں پہنچا رہی۔ کسی کا نقصان نہیں کر رہی۔ مگر تم اپنی بہن کے ساتھ تعاون کرنا نہیں چاہتیں، تم اس کے فائدے میں خوش نہیں ہو۔" اس پر ہم دونوں ماں بیٹی میں جھگڑا ہونے لگا۔ میں نے یہ سمجھا کہ میں حق پر ہوں، میری ماں باطل پر ہے، مجھے حق کی حمایت کرنا ہے۔ لیکن افسوس کہ میں شیطان کی اکساہٹ پر حق کی حمایت باطل طریقے سے کرنے لگی۔ میں نے اپنی والدہ کا خیال نہ کیا اور حق کی حمایت کے جوش میں اپنی آواز امی کی آواز سے بلند کر لی۔ فوراً مجھے خیال آیا کہ ہم نے مجلس درسِ قرآن میں کیا طے کیا تھا؟ مجھے آیت یاد آ گئی۔ میں نے اپنی آواز بالکل دھیمی کر لی۔ مجھے اب سکون محسوس ہونے لگا۔ جذبات کی شدت و حدت ختم ہو گئی۔ والدہ کا احترام غالب آ گیا۔ میں نے آگے بڑھ کر اپنی والدہ کا ہاتھ چوم لیا۔ گستاخی پر معذرت کی اور انہیں راضی کرنے کی بھرپور کوشش کرنے لگی۔

"اب امی بھی خاموش اور پُر سکون تھیں۔ کچھ دیر کے بعد انہوں نے مجھ سے دریافت کیا، "اچھا تو میرے ساتھ کب چلے گی؟ یہ عامل بڑا مشہور ہے۔ دور دور تک اس کی شہرت پہنچ چکی ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ بندہ تیری بہن کی شادی کے سلسلہ میں ہماری مدد کرئے گا۔ میں اس کو معاوضہ دوں گی۔" میں نے بڑی محبت اور چاہت سے کہا، لیکن ایک اور صاحب بھی ہیں جو آپ کی مدد بھی کریں گے، آپ سے کوئی فیس بھی طلب نہیں کریں گے۔ ان کا عمل بھی یقینی ہے۔ ان کے کام کی مکمل گارنٹی ہے۔ بلکہ جب تک آپ کا یہ کام ہو نہیں جاتا وہ ذاتی طور پر آپ کو سکون و اطمینان فراہم کریں گے۔

یہ سن کر میری والدہ نے بے ساختہ سبحان اللہ کہا اور بولیں "میری سہیلیوں اور جاننے والی عورتوں نے تو مجھے ایسے عامل کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ لیکن اگر تجھے اس پر اعتماد ہے، یقین ہے تو کوئی بات نہیں، ہم اسی کے پاس چلے جائیں گے۔ اس میں کوئی مشکل نہیں۔" میں نے عرض کیا، "امی جان، اس عامل کا کیا کہنا۔ اس کی صلاحیت اور استعداد تو بے حد و بے شمار ہے۔ بلکہ اس کا تو یہ حال ہے کہ جب وہ کسی کام کے کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ ہو جا تو وہ کام فوراً ہو جاتا ہے۔ وہ آپ سے مال بھی نہیں لے گا کیوں کہ وہ خود مال دار ہے۔ اس میں لالچ و طمع نہیں، وہ تو سخی ہے، خود لوگوں کو دیتا ہے۔ امی جان، آپ اسی سے ملئیے اور اس سے درخواست کیجیئے۔"

"میری والدہ میری یہ باتیں سن کر بہت خوش ہوئیں۔ کہنے لگیں "واللہ میں اس عامل کے بارے میں تمہاری باتیں سن کر بہت خوش ہوں۔ مگر میری پیاری بیٹی، ہمیں اب دیر نہیں کرنی چاہیے۔ تم اس سے ملنے کا وقت لے لو، تو ہم اس کے پاس جائیں۔ اس بات کا خیال رکھنا کہ وقتِ ملاقات جلد مل جائے۔" میں نے عرض کیا، ٹھیک ہے۔ ہم دیر نہیں کرتے۔ ہم اس کے پاس چلتے ہیں۔ دیکھیں وہ تو ہمارے پاس ہی آ گئے ہیں۔ امی نے حیران و پریشان ہو کر دائیں بائیں دیکھا۔ میں نے فوراً قبلہ کی طرف رخ کر لیا اور دعا کرنے لگی۔"

"میں گڑ گڑا کر، تضرع اور آہ و زاری سے فریاد کرتی رہی۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے مدد مانگتی رہی، اس کے سامنے دستِ سوال دراز کرتی رہی۔ میری والدہ زار و قطار رو رہی تھیں۔ وہ سجدے میں گر پڑی تھیں۔ توبہ و استغفار میں مشغول تھیں۔ اللہ سے مانگ رہی تھیں۔ جب مانگنے والا اس طرح مانگتا ہے تو اس کی مانگ پوری کی جاتی ہے۔ وہ سخی داتا کب کسی کی جھولی کو خالی ہاتھ جانے دیتا ہے۔"

جب یہ بہن اپنا ایمان افروز واقعہ سنا رہی تھیں تو ہر آنکھ اشک بار تھی۔


والدین میں تبدیلی

جب یہ بہن اپنا ایمان افروز واقعہ سنا چکیں تو محفل میں سے ایک آواز ابھری، "کیا میں کچھ عرض کر سکتی ہوں۔ کیا آپ لوگ میرا واقعہ سننا پسند کریں گے؟" ہم سب کی نظریں آواز کی سمت اٹھیں تو ایک دوشیزہ کھڑی تھی۔ اس کی عمر ابھی بیس سال بھی نہ ہوئی تھی۔ اس نے اپنا واقعہ کچھ یوں سنایا۔

"میں ماں باپ کی اکلوتی بیٹی ہوں۔ میرا کوئی اور بہن بھائی نہیں۔ اس لیے والدین میرا بہت خیال کرتے ہیں۔ بہت پیار کرتے ہیں۔ انہوں نے مجھے لاڈ پیار سے پالا ہے اور میری ہر بات مانی ہے۔ زندگی بڑے مزے سے گزر رہی تھی۔ والد جو کما کر لاتے، ہم حلال حرام کی تمیز کیے بغیر کھاتے۔ زندگی اسی ڈگر پر چل رہی تھی کہ اللہ نے مجھے آپ جیسی محترم مستورات کی محفل میں شرکت کی توفیق بخشی۔ یوں مجھے ایک نئی شیریں چیز کے ذائقے سے آشنا ہونے کا موقع ملا۔ یہ پیاری اور میٹھی چیز قرآن کریم ہے۔ اللہ سبحانہ کا کلام۔ اس کی حلاوت و لذت کا کیا کہنا۔ میری اس سے بڑی کیا سعادت ہو سکتی ہے کہ میں اپنے آپ کو آیت قرآنی کے سپرد کر دوں، اس پر عمل کروں اور لوگوں کو میرے ذریعے یہ معلوم ہو کہ قرآن پر عمل کا تجربہ کیسے ہوتا ہے۔"

"یہ سعادت تو بہت بڑی ہے، مگر ہمارے گھر میں ایک کش مکش شروع ہو گئی۔ میرے اور میرے والدین کے درمیان ایک تصادم کی صورت پیدا ہو گئی۔ وہ چاہتے تھے کہ میں ان کی مرضی پہ چلوں، وہ کام کروں جو وہ اپنے تصور کے مطابق، میرے دنیوی فائدے کے لیے چاہتے تھے۔ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کا فرق نہ کروں۔ وہ مجھے مجبور کرنا چاہتے تھے کہ میں ان کے ساتھ کلب جایا کروں، وہاں دوست بناؤں۔ وہاں جا کر دوستوں سے کھیلوں، ورزشیں کروں اور مختلف کھیلوں میں حصہ لوں۔ میں کلب جانے کے لیے ان کی پسند کا لباس زیبِ تن کروں تاکہ سب کی نظروں میں جچوں، سب مجھے پسند کریں۔ کلب کے کھیلوں میں لازماً شرکت کروں تاکہ وہاں نوجوان مجھے دیکھیں، پسند کریں۔ ان کی خواہش تھی کہ میرے جسم کا زیادہ تر حصہ بے لباس ہو۔ وہ مجھے مجبور کرتے تھے کہ میں تھیٹر دیکھوں، ڈرامے دیکھوں، خواہ وہ کتنے ہی بے ہودہ اور لچر کیوں نہ ہوں۔"

"والدین کے تقاضے اور ان کا اصرار اس مجلسِ درسِ قرآن سے بالکل متصادم تھا۔ میں نے اگر آپ کی اس مبارک محفل میں شرکت نہ کی ہوتی تو شاید میں اپنے والدین کے اصرار پر ان کے مطالبات مان لیتی مگر میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے اس مقدس مجلس میں شرکت کا موقعہ ملا۔ شروع شروع میں تو میں والدین کے سامنے چلا چلا کر بولتی تھی۔ میں ان کے ساتھ کلب اور تھیٹر میں جانے سے انکار کر دیتی اور اپنے کمرے میں گھس کر اندر سے دروازہ بند کر لیتی۔ میں جب بھی ان سے ملتی نہایت ترش روئی کے ساتھ، روکھے پھیکے انداز میں۔ میں سمجھتی تھی کہ میرا اپنے والدین کے ساتھ اس طرح ترش روئی سے پیش آنا اطاعتِ الٰہی کی معراج اور جہادِ اکبر ہے۔ مگر جب آپ کی طرف سے

"فَلاَ تَقُل لَّھُمَآ اُفٍّ وَلاَ تَنْھَرْھُمَا (بنی اسرائیل 23:17)"

پر عمل کرنے کا کام تفویض ہوا تو صورتِ حال بالکل بدل گئی۔تیوری چڑھانے کے بجائے میں مسکرانے لگی۔ دروازہ بند کرنے کے بجائے میں انکے ساتھ بیٹھنے لگی۔ میں اس نے محبت و احترام سے بات کرتی، ان کی مدد کرتی۔ میں ان کا شکریہ ادا کرتی کہ انہوں نے میرے لیے اتنی تکلیفیں برداشت کیں ہیں اور اتنا مال صرف کیا ہے۔ میں تو امرِ الٰہی کی پابندی کر رہی تھی۔ میں نے آہستہ آہستہ انہیں اپنی نئی سہیلیوں سے واقف کروایا۔ میں نے انہیں بتایا کہ یوں کریں تو اللہ خوش ہوتا ہے، فلاں کام کریں تو اللہ راضی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فلاں چیز کے بارے میں یہ حکم ہے۔ اللہ نے فلاں کام سے روکا ہے۔"

"میں نے دیکھا کہ میرے والدہ کافی بدل گئی ہیں۔ وہ مجھ سے قرآن کریم اور اسلام کے بارے میں زیادہ معلومات لینے میں دلچسپی لے رہی ہیں۔ وہ اپنے سابقہ خیالات و اعمال پر نادم ہیں۔ یہ ندامت ان کے چہرے سے عیاں تھی۔ میں آپ سب کو یہ بتا کر حیران کرنا چاہوں گی کہ میری امی میرے ساتھ بیٹھی ہیں۔"

ماں نے اٹھ کر اپنی بیٹی کو گلے لگایا اور وہ اس کے چہرے کو مسلسل چومنے لگی۔ ہم سب نے یہ دیکھا تو اللہ سبحانہ کی قدرت پر حیران تھیں کہ وہ کس طرح دلوں کو بدل دیتا ہے۔ اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے۔

ایک بہن کا عجیب تجربہ

یہ ایمان افروز منظر ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ ایک خاتون کھڑی ہوئیں۔ انہوں نے حسرت بھری نظر ماں بیٹی پر ڈالی اور پھر یوں گویا ہوئیں، "سبحان اللہ، یہ سب کچھ کیسے ہو گیا؟ میری امی تو میری کوئی بات نہیں مانتیں۔ میں نے انہیں منانے اور قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے مگر بے سود۔"

ہم نے اس بہن کو بتایا کہ اس کے لیے صبر و برداشت چاہیے۔ ہمیں محنت کرنی چاہیے۔ استقلال سے کام لینا چاہیے۔ آپ کو آیات پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ دعا سے بھی کام لینا چاہیے۔ ال لیے کہ دل تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے قبضے میں ہیں۔ وہ جس طرف چاہے دلوں کو پھیر دیتا ہے۔ آپ کا کام عمل کرنا ہے، دعا کرنا ہے اور رحمت الٰہی سے کبھی بھی مایوس نہ ہونا ہے۔ اس کے بعد تمام شرکائے درس نے وعدہ کیا کہ سب رات کی تنہائیوں میں اس بہن کی والدہ کے لیے دست بہ دعا ہوں گی۔

اختتامِ درس پر ہم نے یہ طے کیا کہ ابھی اس آیت پر ہی عمل رہے گا۔ اس کے ساتھ اس آیت کے مزید یہ الفاظ بھی شامل ہوئے

"قُل لَّھُمَا قَوْلاً كَرِيمًا (بنی اسرائیل 23:17) -

بلکہ ان سے احترام سے بات کرو۔

اب ہم اس آیت کے ساتھ ہفتہ گزاریں گے۔ ہم اس آیت کو دہراتے رہیں گے حتیٰ کہ یہ آیت ہمارے دلوں میں جاگزیں ہو جائے۔ پھر ہمارے اعضا و جوارح اس پر عمل کریں گے۔ ہم اپنے حواس بھی اس آیت پر عمل کے لیے استعمال کریں گے اور آئندہ ملاقات میں اس آیت کے تجربات بیان ہوں گے۔

بات تو بظاہر بہت آسان معلوم ہوتی ہے۔ مگر ہر انسان کی کچھ مخصوص عادات ہوتی ہیں۔ جن پر اس کی پرورش ہوئی ہوتی ہے۔ ان عادات کو چھوڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ والدین کے ساتھ بات کرنے اور عام انسان کے ساتھ بات کرنے میں بہت فرق ہے۔ کوئی تو اپنے والدین کے ساتھ ترش رو ہو کر بات کرتا ہے۔ ان کی ہر بات کو رد کر دیتا ہے۔ لاپرواہی سے جواب دیتا ہے۔ کوئی اپنے ماں باپ سے عام روایتی طریقے کے مطابق بات کرتا ہے۔ جب کہ کوئی شخص اپنے والدین کے ساتھ سختی سے پیش آتا ہے اور اسے اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ کوئی ایسا بھی ہے جسے یہ بات یاد نہیں کہ اس نے اپنی پوری زندگی میں کبھی ایک بار بھی اپنے والد یا والدہ کا ہاتھ چوما ہو۔ ذیل میں کچھ تجربات درج کیئے جاتے ہیں جس سے بات واضح ہو جائے گی۔


والدین سے محبت کا اظہار

"جب میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد "بلکہ ان سے احترام سے بات کرو" دہرایا کرتی تھی تو میں سمجھتی تھی کہ یہ تو محض چند منتخب الفاظ دہرا دینے کی بات ہے۔ والدین کے سامنے چند جچے تلے جملے کہہ دیئے جائیں تو ان کا احترام ہو جاتا ہے۔ مگر یہ میرا محض گمان ثابت ہوا، اس کا حقائق سے کوئی تعلق نہ تھا۔ میں ایک بار اپنی والدہ محترمہ کے پاس گئی، پہلے سے کچھ جملے سوچ لیے تھے۔ خیال یہ تھا کہ یہ جملے دہرا دوں گی۔ میں نے والدہ کے سامنے جا کر یہ رٹے ہوئے فقرے ادا کرنے چاہے مگر میری زبان بند ہو گئی۔ مجھے سخت صدمہ پہنچا کہ میں اپنی والدہ کے روبرو چند جملے نہ کہہ پائی اور پہلی ہی کوشش میں ناکام ہو گئی۔ پھر میں نے از سرِ نو اپنے اندر جرات کو مجتمع کیا اور چاہا کہ اپنے والد بزرگوار کے سامنے اپنے ادب و احترام کا اظہار کر پاؤں، ان کو یہ باور کرا دوں کہ مجھے ان سے کتنا پیار اور تعلق ہے۔ مگر اس بار بھی جملے دھرے کے دھرے رہ گئے۔"

"اس بار میں نے اپنے آپ سے کہا اللہ چاہے گا تو ناکام نہیں رہوں گی۔ بات تو معمولی سی ہے۔ مجھے کیا ہو گیا ہے؟ میرے اندر سے آواز آئی، جب تو یہ فقرے ادا کرئے گی تو تیرے ماں باپ حیران ہو جائیں گے۔ ہو سکتا ہے تو ہنس پڑے اور اپنے بہن بھائیوں کے تمسخر کا نشانہ بنے۔ اس پر میں نے اللہ سبحانہ سے دعا کی کہ یا اللہ مجھے اپنی آیت پر عمل کا شرف عطا فرما۔ پھر مجھے ایک خیال آیا۔ میں بازار گئی، جہاں گل فروش پھول بیچتے ہیں۔ میں نے وہاں سے اپنی امی اور ابا کے لیے پھول خریدے۔ گھر آ کر میں نے پہلے اپنی امی کو پھول پیش کیے اور ساتھ ہی یہ الفاظ کہے، "میری میٹھی ماں، یہ آپ کے لیے ہیں۔"اس پر میری امی مسکرائیں۔ میں ان کی اس مسکراہٹ کو کبھی بھول نہ سکوں گی۔ مرتے دم تک یاد رکھوں گی۔ وہ مجھے کہہ رہی تھیں، "کیا میں تمہارے نزدیک ایسی ہوں؟" میں نے جواب دیا، "امی آپ مجھے پوری دنیا سے زیادہ پیاری ہیں۔ آپ مجھے کُل جہاں سے زیادہ عزیز ہیں۔ آپ میرے نزدیک اس کائنات میں سب سے زیادہ قیمتی ہیں۔ آپ کے بغیر یہ عالم سراب ہے۔"

"میں نے یہ الفاظ کہہ دیئے اور اپنی امی کا ردِ عمل جاننے کا انتظار نہیں کیا، سیدھی اپنے والد صاحب کے پاس چلی گئی اور انہیں پھول پیش کرتے ہوئے کہا، "میری طرف سے آپ کے لیے چند پھول۔ اللہ بہترین جزا دے۔ میں آپ کے لیے بہت دعا کرتی ہوں۔" ابا جی نے مجھ سے کہا، "خیر ہو، خیریت ہے؟ آج آپ بہت خوش ہیں، کیا بات ہے؟" میں نے جواب دیا، "جی ہاں۔ میں آپ دونوں سے بہت خوش ہوں۔"

"میں نے فوراً اپنے کمرے کا رخ کیا۔ میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا، بات تو بہت آسان تھی۔ اب میں کتنی خوش بخت ہوں۔ میرے والدین نے میرے اظہار محبت کو قبول کر لیا ہے۔ اب میں والدین کے ہاتھوں پر بوسہ دیتی ہوں۔ میری زندگی اب با معنیٰ ہو چکی ہے۔ مجھے زندگی کا اس سے پہلے کبھی اتنا لطف نہیں آیا تھا۔ میں آپ سب سے یہی درخواست کرتی ہوں کہ قرآن کریم کے اس حکم پر عمل کیجیئے اور سعادت دارین حاصل کیجیئے۔"

ایک بھائی کا والدین سے حسن کلام

اس کے بعد ایک خاتون نے کہا، "جس بہن نے ابھی ابھی اپنا واقعہ بیان کیا ہے وہ بہت خوش نصیب ہے۔ میں نے تو اپنے والدین کے سامنے اتنے اچھے جملے ادا نہیں کیئے۔ البتہ میرا ایک بھائی ہے۔ وہ میرا انتظار کرتا رہتا ہے۔ میں جوں ہی درسِ قرآن سن کر گھر جاتی ہوں تو فوراً میرے پاس آتا ہے اور معلوم کرتا ہے کہ آج کے درس میں عمل و حرکت کے لیے کون سی آیت منتخب ہوئی ہے۔ میں اس آیت کی شرح و تفسیر بیان کرتی ہوں۔ معانی اور سبب نزول بتاتی ہوں۔ چنانچہ اس نے مجھ سے عمل کے لیے یہ آیت لے لی

"قُل لَّھُمَا قَوْلاً كَرِيمًا (بنی اسرائیل 23:17)۔

یہ آیت اس کی زبان پر رواں ہو گئی اور اس کے عمل کا محرک بنی۔ اس کے بعد والدین کے ساتھ اس کا طرزِ عمل بالکل بدل گیا ہے۔ میرے ماں باپ اس کے لیے ہر وقت دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ میں چند دن پہلے اپنی امی کو یہ کہتے ہوئے سن چکی ہوں کہ شاید اللہ تعالیٰ مجھے یہ نیک و فرماں بردار بیٹا جننے کی وجہ سے جنت میں داخل فرمائے گا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں اب کیا کروں؟ میرا بھائی مجھ سبقت لے گیا ہے۔"

اس پر ایک خاتون نے اس کی ہمت بندھاتے ہوئے مشورہ دیا کہ آپ بار بار کوشش کریں۔ ہم سب کو قرآن کریم پر عمل کے لیے محنت و کوشش سے کام لینا چاہیے۔ قرآن کریم کے مطابق عمل کرنا ہی سب سے زیادہ بہتر ہے۔

میراث

میراث اللہ کی حدوں میں سے ایک حد ہے۔ اسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے خود ہی مقرر فرمایا ہے۔ میراث کی تقسیم کے اصول و قواعد کا تعین اللہ نے کر دیا ہے۔ اسے کسی انسان کی مرضی اور صواب دید پر نہیں چھوڑا۔اس نے اپنی حکمت بالغہ اور عدل سے کام لیتے ہوئے میراث کے بارے میں جامع احکام دے دیئے ہیں۔ نصاب اور حدیں مقرر فرما دی ہیں۔ ورثا متعین کر دیئے ہیں۔

ہم نے اپنے درس قرآن میں آیات میراث کی تشریح و توضیح کی تا کہ ہم سب ان آیات کے مطابق چلیں اور اپنے اوپر ان کا اطلاق کریں۔ درس کے بعد متفقہ طور پر یہ طے پایا کہ ورثے کی ان تمام آیات پر عمل درآمد کیا جائے جن کا آغاز اس آیت سے ہوتا ہے،

يُوصِيكُمُ اللّہُ فِي اَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الاُنثَيَيْنِ (النساء 11:4) -

تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے۔ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔


زیورات کی تقسیم

ایک خاتون میرے پاس آئیں اور مجھے بتایا، "میری والدہ فوت ہو گئیں، ان کے وارث ہم دو بہن بھائی تھے۔ میں نے اپنی والدہ کا سارا سونا لے لیا۔ جیسا کہ ہمارے ملک میں دستور ہے۔ زمین بیٹے لے لیتے ہیں، بہنوں کو نہیں دیتے تاکہ کوئی غیر ہماری آبائی زمین کا حصہ دار نہ بن سکے۔ بیٹیاں سونا اور زیورات لے لیتی ہیں تاکہ کوئی غیر عورت ان زیورات کو نہ پہن سکے اور مرحومہ کی بیٹیاں ہی انہیں استعمال کریں۔ میری والدہ کو فوت ہوئے کئی سال گزر چکے لیں۔ سونا ابھی تک میرے پاس ہی ہے۔ بھائی نے اس میں سے نہ کچھ لیا ہے، نہ ہی میں نے اسے دیا ہے اور نہ ہی میرے بھائی نے مجھ سے کبھی اس کا مطالبہ کیا ہے۔ اب میں ورثے والی آیات پر عمل کرنا چاہتی ہوں۔ آپ بتائیے میں‌ کیا کروں؟ میری والدہ اور میری بھابھی کے مابین چپقلش سی رہتی تھی۔ اس لیے میں اپنی بھابھی کو دیکھنے کی بھی روادار نہیں ہوں۔ کجا یہ کہ میں اسے اپنی والدہ مرحومہ کے زیورات پہنے دیکھوں۔ میری وہ والدہ جسے اس بھابھی نے ستایا اور ان سے ترک تعلق کیئے رکھا۔"

میں نے کہا، "میری عزیز بہن، میراث تو دراصل اللہ کی ملکیت ہے۔ اللہ نے ہمیں اس میں نائب بنایا ہے۔ جب بھی کسی مسلمان کی وفات ہوتی ہے تو اللہ کے ارادے اور اذن کے مطابق ہی ان آیات کی رو سے اس کی میراث مستحقین میں تقسیم کی جاتی ہے۔ لہٰذا اس اصول کے مطابق یہ سونے کے زیورات آپ کی ملکیت نہیں ہیں، نہ آپ کا حق ہیں۔ یہ زیورات اللہ کا حق ہیں۔ اللہ نے یہ بتا دیا ہے کہ اس کا مستحق کون ہے۔ پس اللہ کی منشا و مراد یعنی اس کے قرآن کریم کی رہنمائی کے مطابق ہی یہ زیورات تقسیم ہوں تو اللہ راضی ہے۔ جو شخص اللہ کا حق ادا نہیں کرتا، اسے اللہ سبحانہ کی طرف سے سخت سزا ملے گی۔"

سوال کرنے والی خاتون نے اپنے چہرے کو ہتھیلیوں کی گرفت میں لیتے ہوئے کہا، "معاذ اللہ، میرا مقصد اللہ کی حدود سے تجاوز کرنا نہیں ہے۔ میں تو یہ بتانا چاہتی تھی کہ ہمارے یہاں رواج اور عرف کیا کیا ہیں؟ انہی رواجوں پر کئی نسلوں سے عمل درآمد ہوتا چلا آ رہا ہے۔"

میں نے کہا، "اسی لیے تو ہم نے آیاتِ قرآنی پر چلنے کا عہد کیا ہے تاکہ غیر اللہ کے طریقوں کو چھوڑ دیں۔ اس قسم کے رسم و رواج تو محض خواہشاتِ نفسانی ہیں۔ لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں حالانکہ اللہ نے ان رسوم و رواج کے حق میں کوئی آیت نازل نہیں کی۔"

"پیاری بہن، آپ اصل مالک سے مدد لیجیئے، اس کے حکمت بھرے احکام کے آگے جھک جائیے۔ اللہ سبحانہ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق تمام ورثہ تقسیم کر دیجیئے۔ ہر حق دار کو اللہ کے قانون کے مطابق اس کا حصہ دیجیئے۔ آپ کے بھائی کے پاس آپ کا کوئی حق ہے تو تقاضا کیجیئے، مطالبہ کیجیئے۔ اللہ کے حکم و امر کو نافذ کیجیئے۔ جب ہر حق دار اپنا حق لے لے، تو اس کے بعد اگر وہ دل سے چاہے تو کسی چیز سے کسی دوسرے کے حق میں دست بردار ہو سکتا ہے۔ کوئی چیز اپنے کسی عزیز کو ہبہ کر سکتا ہے۔ اس کے لیے کامل رضا مندی ہونا ضروری ہے۔ اس میں شرم و لحاظ، عرف و رواج اور پیرویِ خواہشات کا دخل نہیں ہونا چاہیے۔"

سوال پوچھنے والی بہن نے کہا کہ "میں ان شاء اللہ اللہ کی آیات کے مطابق چلوں گی۔"

چند دنوں کے بعد یہی بہن میرے گھر آئی۔ خوشی و مسرت سے اس کا چہرہ دمک رہا تھا۔ آتے ہی کہنے لگی، "پیاری باجی اللہ کی آیات نے میرے سینے کے بوجھ کو بالکل ہلکا کر دیا ہے۔ میں جب آپ سے ملاقات کے بعد گھر پہنچی تو مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میں چور ہوں اور میں معاذ اللہ اللہ کا مال چرایا ہے۔ اللہ کا مال جس میں وہ اپنی حکمت و ارادے سے تصرف کرتا ہے۔ میں نے اللہ کی ملکیت میں سے وہ کچھ چرا کر اپنے پاس رکھ لیا ہے، جس کی میں شرعاً و قانوناً حق دار نہ تھی۔ میں نے مالکِ حقیقی سے اجازت لیے بغیر مال پر قبضہ کر لیا ہے۔ مجھے رہ رہ کر یہ خیال آتا رہا کہ یہ مال اللہ کا تھا۔ اللہ نے میری والدہ کو اس کا مالک بنایا تھا۔ والدہ فوت ہوئیں تو اس مال کا مالک پھر اللہ پاک بن گیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس مال کو اللہ کے بتائے ہوئے قوانین و احکام کے مطابق حق داروں میں تقسیم کیا جاتا۔ والدہ کی وفات کے ساتھ ہی ان کا حق ملکیت ختم ہو گیا تھا۔ میں نے اللہ کے مال پر قبضہ جما کر چوری کی۔ مجھے یہ احساس شدت سے رہنے لگا۔"

میں نے کہا، "گھبرایئے نہیں۔ یہ احساس زیاں بہت قیمتی ہے۔ گویا آپ اپنے کیئے پر نادم و پشیمان ہیں اور اللہ کی آیات پر عمل کے لیے آمادہ ہیں۔"

"بہن، آپ نے درست فرمایا۔ یہ احساسِ جرم واقعی ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ یہ احساس ہی مجھے مجبور کر رہا تھا۔ چنانچہ میں اپنے بھائی کے پاس گئی، اپنے ساتھ امی کا سارا سونا اور زیورات لیتی گئی۔ میں نے جا کر بھائی سے کہا، اب وقت آ چکا ہے کہ سارے فیصلے اللہ کے حکم کے مطابق ہوں۔ ہمارے اور آپ لوگوں کے مابین تمام جھگڑوں کا فیصلہ قرآن کے مطابق ہو گا۔ ہم سب کو ان آیات پر عمل کرنے کا اجر و ثواب ملے گا۔ اب ہم سونے اور زیورات کو تقسیم کریں گے۔ مگر یہ تقسیم ہماری خواہشات اور رسوم رواج کے مطابق نہ ہو گی بلکہ اللہ کے ارادے کے مطابق ہو گی۔"

"میرے بھائی نے شرم و لحاظ اور مروت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "میں آپ کے حق میں اپنے تمام حقوق سے دست بردار ہوتا ہوں۔" میں نے جواب دیا، "بھائی جان، ابھی نہیں۔ پہلے آپ اپنا پورا حصہ لے لیں۔ پھر آپ اپنی مرضی سے جو کچھ مجھے دیں گے، میں قبول کر لوں گی۔ اپ ابھی سے کچھ طے نہ کریں۔ دو دن تک آپ اپنا حصہ اپنے پاس رکھیں۔ دو دن کے بعد آپ جو چاہیں فیصلہ کریں۔ مجھے کوئی اعتراض نہ ہو گا۔"

"دو دنوں کے بعد بھائی صاحب میرے پاس تشریف لائے۔ ان کے پاس کچھ زیورات تھے۔ انہوں نے زیادہ تر زیورات اپنے پاس رکھ لیے تھے۔ بھائی صاحب بولے، "میری طرف سے یہ آپ کے لیے تحفہ ہے۔"میں قسم اٹھا کر کہتی ہوں کہ ان تھوڑے سے زیورات کو بطور تحفہ وصول کر کے اتنی زیادہ خوشی ہوئی جتنی مجھے تمام زیورات لے کر بھی حاصل نہ ہوئی تھی۔ اللہ کی آیات نے مجھ پر بہت کرم کیا ہے۔ میں قرآن نازل کرنے والے کی شکرگزار ہوں اور پھر درس قرآن کا اہتمام کرنے والوں کی سپاس گزار ہوں۔"

اس بہن کی گفتگو سے میں بہت متاثر ہوئی۔ عورتوں کو سونے، چاندی اور زیورات سے بہت دل چسپی ہوتی ہے۔ لیکن اس بہن نے جرات سے کام لے کر اپنی تمام تر خواہشات و ترغیبات کو بالائے طاق رکھ کر، رسم و رواج کو چھوڑ کر، اللہ کے مضبوط قلعے میں پناہ لی۔ اس جرات آمیز اقدام سے اس کے ایمان میں بے پناہ اضافہ ہوا۔


دوسرا تجربہ

میں اپنی ایک سہیلی کے گھر گئی تاکہ اسے اس کی بیٹی کی شادی کی مبارک دے سکوں۔ دورانِ ملاقات میری میزبان نے کہا، "اللہ کا شکر ہے جو آپ کو یہاں لے آیا۔ میرے اور میری امی کے درمیان کچھ اختلافات ہیں۔ ہم دونوں آپ کو منصف بناتی ہیں۔ آپ ہمارے اس جھگڑے کا فیصلہ کریں۔ آپ کو فیصلہ ہم دونوں ماں بیٹی صدق دل سے قبول کر لیں گی۔" اس کی امی بھی وہیں بیٹھی ہوئی تھیں۔ اس ایک بیٹی کے سوا ان کی کوئی اولاد نہ تھی اور نہ ہی اس بیٹی کے سوا دنیا میں ان کا کوئی اور قریبی عزیز تھا۔ اسی لیے وہ اپنی بیٹی کے پاس رہ رہی تھیں۔ اس سے الگ نہ رہ سکتی تھیں، نہ اس نے کبھی اپنی بیٹی سے الگ رہنے کا سوچا تھا۔ میں نے ماں کی طرف دیکھا تو مجھے اس کے چہرے پر حیرت اور پریشانی نظر آئی۔

میزبان خاتون نے کہا، "باجی جیسا کہ آپ جانتی ہیں میں اپنی والدہ کی اکلوتی اولاد ہوں۔ میں اور امی گویا یک جان ہیں۔ میرا ایک ماموں ہے جو کبھی اپنی بہن سے ملنے کے لیے نہیں آتا، نہ ہی ان کی خیر و عافیت دریافت کرتا ہے۔ میری والدہ کی وفات کے بعد لازمی طور پر اسے بھی ترکے میں سے حصہ ملے گا حالانکہ اس نے میری والدہ کا کوئی حق بھی ادا نہیں کیا۔ میں امی سے کہتی رہتی ہوں کہ وہ ایک دستاویز لکھ دیں جس کی رو سے ان کے سارے ترکے کی میں ہی وارث بنوں۔ میرا ماموں وارث نہ بن سکے اور امی کے مال و سامان سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ میری امی کہتی ہیں کہ میں بھی یہی چاہتی ہوں مگر اللہ سے ڈرتی ہوں۔ اس لیے ہمیں آپ کی رائے اور مشورے کی ضرورت ہے۔

میں نے اس کی والدہ کی طرف بہت احترام سے دیکھا اور عرض کیا، میں آپ کی رائے خود آپ سے سننا چاہتی ہوں۔ والدہ نے کہا، "میں اللہ سے ڈرتی ہوں۔ زندگی اور عمر اس کے قبضے میں ہے۔ میں یہ دستاویز کیسے لکھ دوں۔ اگر اتفاق سے میری بیٹی مجھ سے پہلے فوت ہو جائے تو کیا میرا داماد اور اس کے بچے مجھے جائیداد سے محروم نہ کر دیں گے۔ یوں میری زندگی میں وہ مجھے میرے مال سے محروم کر دیں گے اور میرا سارا مال و دولت ان کی ملکیت بن جائے گا۔"

بیٹی نے جواب دیا، "امی آپ چاہتی ہیں کہ میں آپ کی زندگی میں مر جاؤں؟ اور آپ میرے بعد زندہ رہیں۔"ماں نے کہا، "بیٹی زندگی کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ کس نے کتنا زندہ رہنا ہے کس نے پہلے فوت ہونا ہے اور کس نے بعد میں۔"

بیٹی صحت مند اور توانا تھی۔ ماں بوڑھی تھی مگر اس کا چہرہ ایمان سے تمتما رہا تھا۔ میں نے ماں کی بجائے اس کی بیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "میری پیاری بہن، زندگی اور موت کے فیصلے ساتوں آسمانوں کی بلندیوں پر بہت پہلے ہو چکے ہیں۔ خالقِ کائنات نے یہ فیصلے کر دیئے ہیں۔ آپ کی والدہ جب خوفِ خدا کی بات کرتی ہیں تو انہیں ایسا کرنے کا حق ہے۔ ورثے کی تقسیم کا تعلق حدودِ الٰہی سے ہے۔ کسی بھی جوان مرد یا عورت کو اس میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں خواہ وہ اپنے آپ کو کتنا ہی عقل مند اور ذہین کیوں نہ سمجھتا ہو۔ آپ کی والدہ اگر اپنے رب کے حضور پیش ہونے کے لیے تیاری کر رہی ہیں، تو اس میں آپ کا کیا نقصان ہے؟ اور آپ کو کیا اعتراض ہے؟ آپ کی والدہ صحیح کہتی ہیں کہ ان کی وفات کے بعد مال ان کا نہیں رہے گا بلکہ یہ اللہ کا مال ہو جائے گا۔ اللہ کا حق ہو گا اور وہی اس کا مالک ہو گا۔ اس مال کو تقسیم کرنے کا حق بھی اللہ ہی کو ہے۔ وہ جیسے چاہے تقسیم کرے۔

"باقی رہا آپ کا اپنی والدہ سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ ساری جائیداد آپ کے نام لکھ دیں، یہ سراسر احکامِ الٰہی سے تجاوز ہے۔ ماموں کے بے رخی کو آپ نے انہیں جائیداد سے محروم کرنے اور خود اس پر قبضہ کرنے کا ایک حیلہ بنا رکھا ہے۔ یہ حیلہ آپ کے ذہن کی اختراع ہے۔ یہودیوں نے بھی احکامِ الٰہی کی تعمیل سے بچنے کے لیے اسی قسم کی حیلہ تراشیاں کی تھیں۔ اسی لیے انہیں بندر اور سؤر بنا دیا گیا تھا۔ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں سنا

فَاِن كُنَّ نِسَاء فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَھُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَاِن كَانَتْ وَاحِدَۃً فَلَھَا النِّصْفُ (النساء 11:4) -

اگر میت کی (وارث) دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو انہیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے۔

"آپ اس آیت کو بار بار پڑھیے اور پھر اپنے آپ سے پوچھیئے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اپنے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر کیوں اتاری ہیں؟ پھر یہ بھی سوچیئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ آیات ہم تک پہنچانے کے لیے کتنی تکالیف برداشت فرمائی ہیں۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ ساری محنتیں اور مشقتیں اور یہ ساری تگ و دو محض اس لیے کی ہے کہ یہ آیات کتاب کے اندر بند پڑی رہیں اور کتاب کو خوبصورت جلد اور منقش و مزین غلاف میں لپیٹ کر رکھ دیا جائے؟"

"میری بہن، خواہشات کی بیڑیوں نے آپ کی حرکت روک رکھی ہے۔ اس لیے آپ آیات کے مطابق چلنے سے قاصر ہیں۔ آپ سوچیں اور بار بار سوچیں کہ اللہ نے اپنی آیات بند رکھنے کے لیے نازل کی ہیں یا اس لیے اتاری ہیں کہ دنیا کو صداقت و عدالت اور نور سے بھر دیں۔ آپ بار بار اللہ کے اس حکم کو دہرائیں، بار بار پڑھیں

وَاِن كَانَتْ وَاحِدَۃً فَلَھَا النِّصْفُ (النساء 11:4) -

اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے۔

"نصف تو آپ کا ہے مگر باقی نصف میں تصرف کرنے کا اختیار آپ کو نہیں۔ باقی نصف اللہ کی ملکیت ہے۔ وہ اس کے حکمت و عدل سے بھرپور قانون کے مطابق تقسیم ہو گا۔ آپ اللہ پر اعتماد کریں، اس پر یقین کریں۔ آپ اس محبت کو یاد کریں جو اللہ سے آپ کو ہے۔ آپ تصور میں لائیں اس نماز کو جو آپ اللہ کی بندگی کرتے ہوئے ادا کرتی ہیں۔ اپنے روزوں اور صدقہ و خیرات کو یاد کریں جنہیں آپ اللہ کے حکم کی تعمیل اور اس کی محبت میں رکھتی اور دیتی ہیں۔ میراث کے بارے میں اللہ کا حکم نماز، روزے اور صدقے کے حکم سے الگ نہیں ہے۔ جس طرح آپ اللہ کی خاطر اس کے باقی احکام کی تعمیل کرتی ہیں، اسی طرح آپ کو ترکے کی تقسیم کے بارے میں بھی اس کے حکم کی اطاعت کرنا چاہیے۔ میں تو سمجھتی ہوں کہ آپ کو ایسی عظیم عورت کی بیٹی ہونے پر فخر کرنا چاہیے جو شریعتِ اسلامیہ کے احکام پر عمل کرنے کے لیے اپنی خدمت گزار محبوب اکلوتی بیٹی کی بھی پرواہ نہیں کرتی۔"

یہ باتیں ہو چکیں تو میں نے واپسی کے لیے اجازت مانگی۔ میں ان دونوں کے لیے دعا کرتی رہی کہ اللہ انہیں متفق کرئے اور ماں بیٹی دونوں کو حکمِ رب کی اتباع کو توفیق ارزاں ہو۔

درس قرآن کے دن ماں بیٹی دونوں آئیں۔ بیٹی نے ہنستے ہوئے بتایا کہ "میں غور و فکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ میرے خیالات شیطانی وسوسوں کے سوا کچھ نہ تھے۔ میں اللہ کے فیصلے پر راضی ہوں۔ میرے دل میں اپنے ماموں کے خلاف اب ذرا بھی کدورت نہیں۔ میرا دل الحمد للہ اب بالکل صاف ہے۔"

میراث کے بارے میں حکمِ الٰہی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے بعد ابھی ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ یہ بیٹی اللہ کو پیاری ہو گئی۔ ماں اب تک موجود ہے، زندہ ہے اور اپنا رزق کھا رہی ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہماری اس بہن کو اللہ کے حکم پر چلنے کی توفیق ملی، اس سے پہلے کہ اس کی قبر پر مٹی پڑتی۔


بروقت تقسیم

ایک خاتون کا شوہر فوت ہو گیا۔ اس کی اولاد میں سے کچھ شادی شدہ تھے، باقی چھوٹے تھے اور اس بیوہ کی سرپرستی میں تھے۔ خاوند کے وفات کے بعد بیوہ نے مرحوم کی تمام جائیداد اپنے پاس رکھ لی، تقسیم نہ کی اور جس طرح شوہر کی زندگی میں گھر کا نظام چل رہا تھا اسی ڈگر پر چلتا رہا۔ بیوہ کا کہنا یہ تھا۔ کہ اس کے چھوٹے بچوں کی تربیت و تعلیم کے لیے مال کی ضرورت ہے۔ اس نے جس طرح اپنے بڑی بچوں کی تعلیم و تربیت کی ہے، اسی طرح وہ اپنے چھوٹے بچوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام کرئے گی۔ شادی شدہ بچوں نے والدہ کی بات سے اتفاق کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے بطیب خاطر ایسا نہ کیا بلکہ محض شرم، لحاظ اور مروت میں آ کر۔ گویا بامر مجبوری اور با دلِ نخواستہ اپنی والدہ کی رائے مانی۔ وہ دل سے رضامند نہ تھے۔ شوہر نے ایک بڑی دکان ترکے میں چھوڑی تھی جو بہت کامیابی سے چل رہی تھی اور اس سے خاطر خواہ آمدنی ہوتی تھی مگر جب بیوہ نے تمام انتظام و انصرام سنبھالا تو آہستہ آہستہ تجارت کساد بازاری کا شکار ہونے لگی۔ دکان کی آمدنی دھیرے دھیرے کم ہوتی چلی گئی۔ اگر صورتحال یونہی جاری رہتی تو پورا گھر متاثر ہوتا۔ اپنی معاشی حالت ابتر دیکھ کر بیوہ خاتون نے مسجد کا رخ کیا۔ درسِ قرآن سننے لگی تاکہ درسِ قرآن کی برکت سے اللہ تعالیٰ اسے اور اس کی اولاد کو تاریک مستقبل سے محفوظ رکھے۔

جب ہم نے ایک درسِ قرآن میں عمل درآمد کے لیے میراث کی آیات منتخب کیں تو بیوہ خاتون نے کہا، "میں سمجھتی ہوں کہ ہماری تجارت کو جس خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کی وجہ میرا وہ رویہ ہے جو میں نے اللہ کے واضح و صریح احکام کے خلاف اختیار کیا ہے۔ میں نے اپنی مرضی مسلط کی۔ کسی سے کوئی مشورہ نہیں لیا۔"

اس بیوہ خاتون نے مجلسِ درسِ قرآن میں اظہارِ ندامت و پشیمانی کرنے کے بعد گھر جا کر اپنے تمام چھوٹے بڑے بچوں کو اکٹھا کیا اور اللہ سبحانہ کی ہدایات کے مطابق تمام جائیداد تقسیم کر دی۔ اس کے بعد اس نے اپنے حصے اور چھوٹے بچوں کے حصے کی جائیداد میں کاروبار شروع کر دیا۔ تھوڑے ہی عرصے بعد کاروبار پھلنے پھولنے لگا۔ یہ سب اللہ کی آیت پر عمل کرنے کا نتیجہ تھا۔ باقی رہا وہ اجر و ثواب جو آخرت میں ملے گا تو اس کا کون شمار کر سکتا ہے؟

ہمارا فرض ہے کہ رسم و رواج کے بجائے اللہ کے احکام پر عمل کریں۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع کریں۔ خواہشات و اغراض کی تاریکیوں سے نکل کر قرآن کی روشنی میں آ جائیں۔ ہمیں اپنے تمام افعال و اعمال کو قرآن و سنت کے سامنے پیش کرنا ہو گا اور اپنی عاداتِ باطلہ کو ترک کرنا ہو گا۔ یوں ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب ہو جائیں گے جس میں دنیا کو قرآن متحرک نظر آئے گا۔ جب ایسا ہو گا تو ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے۔ اللہ کا ہم سے یہ وعدہ ہے۔ اس وقت زمین اپنے پروردگار کے نور سے جگمگا اٹھے گی۔ زمین نور، رحمت اور محبت سے بھر جائے گی۔

نفسیاتی کیفیت کا شکار نوجوان

مسجد کے درسِ قرآن میں شرکت کرنے والی بہنوں میں سے کچھ بہت سرگرم تھیں۔ ایک بہن تو بہت ہنس مکھ تھیں۔ ہر ایک سے خندہ پیشانی سے ملتیں اور مسکرا مسکرا کر باتیں کرتیں۔ باتیں اتنی شیریں و دلچسپ جیسے منہ سے پھول جھڑ رہے ہوں۔ ایک روز دیکھا تو مسکراہٹ غائب، افسردہ و پژمردہ۔ نہ باتوں میں مٹھاس، نہ ملنے ملانے میں تپاک، اگلے درس میں آئیں تو کئی جسمانی عوارض کی شکایت کرنے لگیں۔ میں چاہتی تھی کہ تخلیے میں ان سے ملوں کہ شاید ان کے کسی کام آؤں اور کوئی مدد کر سکوں۔ مجھے تخلیے کے لیے زیادہ زحمت نہ کرنا پڑی۔ جلد ہی اس کا موقع مل گیا۔ وہ بھی گویا ملاقات کی منتظر اور اس کے لیے تیار تھیں۔ میرے پوچھنے پر بولیں:

"واللہ میں بہت دکھی ہوں، پریشان ہوں۔ ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے تند و تیز آندھی مجھے اٹھا کر گھما رہی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں کہاں ہوں؟ میری زندگی سلیقے و قرینے سے چل رہی تھی۔ میں الحمد للہ اپنے بچوں کی تربیت میں مصروف تھی۔ کتاب و سنت کی راہ نمائی میں بچوں کی تربیت ہو رہی تھی۔ میں نے خاوند کا انتخاب اپنی مرضی سے کیا تھا۔ وہ ایک صالح، با عمل، صاحب علم شخص ہیں۔ وہ علم و حکمت اور خوفِ خدا کے سلسلے میں میرے معاون ہیں۔ میں جیسے خاوند کی متمنی تھی، وہ ایسے ہی نکلے، بلکہ اس سے بھی بہتر۔"

"میرے بچے مجھ سے زیادہ دین دار نکلے، بچے بھی اور بچیاں بھی۔ میرا ایک بیٹا مسجد میں جا کر با جماعت نماز پڑھتا تھا۔ عمدہ اخلاق کا مالک تھا، شریف و متین، کم گو، مگر اچانک نہ جانے اسے کیا ہوا کہ اس کی خاموشی ختم ہو گئی۔ اب وہ بجلی کی طرح کڑکتا ہے، اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ چلا چلا کر کرخت لہجے میں بات کرتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ اپنے والد کے ساتھ بھی بدتمیزی کر لیتا۔ نمازیں پڑھتا ہے مگر فرض کی حد تک، سنت اور نفل ترک کر دیے ہیں۔ پہلے وہ گھر بھر میں ہر دل عزیز تھا، اب سب اُس سے دور رہنا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ بات چیت کرنے سے بھی اجتناب کرتے ہیں۔"

"وہ اب ہر وقت اپنے کمرے میں بیٹھا رہتا ہے۔ کہیں ادھر ادھر نہیں جاتا۔ اگر میں اصرار کر کے اسے اپنے کمرے سے نکلنے پر مجبور کروں یا بہن بھائیوں کے ساتھ آ کر بیٹھنے پر زور دوں تو اس کا رویہ ایسا وحشت انگیز اور تکلیف دہ ہوتا ہے کہ مجھے ندامت ہونے لگتی ہے۔ سوچتی ہوں، کاش، میں نے اسے کمرے کی تنہائی سے باہر نکلنے پر مجبور نہ کیا ہوتا۔ وہ نفسیاتی مریض بن چکا ہے۔ اپنے آپ کو مظلوم سمجھتا ہے۔ اپنے ارد گرد کے تمام افراد کو ظالم سمجھتا ہے۔ حال یہ ہے کہ میں جب بھی اللہ کی رضا کی خاطر کوئی کام کرنے لگتی ہوں تو وہ میرے راستے میں حائل ہو جاتا ہے۔ آج کل میرا ذہن ہر وقت اسی کے بارے میں سوچتا ہے۔ میں اس کے بارے میں سوچ سوچ کر تھک چکی ہوں۔ وہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔ میں نے اس کی پرورش، نگہداشت و پرداخت میں اپنی بہترین صلاحیتیں استعمال کی ہیں۔ میں نے اس کی خاطر کتنی راتیں جاگ کر گزاری تھیں۔ مگر میری ساری محنت اور تگ و دو رائیگاں گئی۔ مختصر یہ کہ اس کے بہن بھائی ناراض ہیں۔ کوئی اس کے ساتھ بات چیت کرنے کا بھی روادار نہیں۔ آپ میری حالت کا خود اندازہ کیجیئے، میں جو لوگوں میں صلح کراتی رہتی تھی، دوسرے لوگوں کے معاملات کی درستی کے لیے کوشاں رہا کرتی تھی، اب اپنے گھر کی سدھار سے قاصر ہوں۔ میرا لختِ جگر میری بات نہیں مانتا۔"

اس بہن کی یہ درد ناک داستان سن کر میں نے کہا، میری عزیزہ، کہ صرف تنہا آپ کا مسئلہ نہیں ہے۔ بہت سے دین دار گھرانے اسی نوعیت کے مسائل اور نفسیاتی خلفشار سے گزر رہے ہیں۔ ہر پابندِ شریعت گھرانے میں کوئی ایسا لڑکا یا لڑکی بگڑ کر گھر والوں کے لیے وبالِ جان بن جاتا ہے۔ اس نوجوان یا اس دوشیزہ کے خیالات، اقوال اور اعمال سب سے مختلف ہوتے ہیں۔ زیادہ تر ایسا عمر کے اس حصے میں ہوتا ہے جسے اوائل بلوغت کا دور کہا جاتا ہے یعنی جب لڑکپن اور نوجوانی کا سنگم ہوتا ہے۔ عمر کے اس نازک حصے میں نوجوان بے پناہ صلاحیتوں سے بھرا ہوتا ہے۔ اس عمر میں اس کے وجود میں قوت دھماکہ خیز ہو جاتی ہے۔ وہ کسی آتش فشاں کی طرح پھٹ رہا ہوتا ہے۔ نوجوان اپنے اندر آزادی اور قوت کا ادراک کرتا ہے۔ عنفوانِ شباب کے اس دور میں "نہیں" کا لفظ اس کی خصوصیت بن جاتا ہے۔

قرآن کریم نے بہت سے نوجوانوں کے واقعات و حالات قیامت تک کے انسانوں کی رہنمائی کے لیے محفوظ کر دیئے ہیں۔ ان نوجوانوں کی قوتیں باطل کے انکار میں نقطہ عروج پر تھیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، اصحاب کہف اور کھائیوں والے (اصحاب الاخدود) سب نوجوان ہی تھے۔ انہوں نے باطل نظام کے خلاف حریت کا علم بلند کیا۔ انہوں نے "نہیں" استعمال کیا لیکن باطل کے خلاف۔ ان افراد نے اپنے اقوال و اعمال سے باطل کی نفی کی اور حق کا اثبات کیا۔ اس کے برعکس حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے نے حق سے سرتابی کی، گویا حق کے خلاف "نہیں" کہا اور سرِ تسلیم خم کرنے سے انکار کر دیا۔


بات صرف سمجھنے کی ہے۔ بہت سے والدین گھبرا جاتے ہیں۔ وہ عمر کے اس دور کی نزاکت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہو حیران ہوتے ہیں کہ بچوں نے سرتابی، سرکشی، مخالفت اور مزاحمت کا رویہ کیوں اپنا لیا ہے؟ وہ اپنی اولاد کی "نہیں" سے بے تاب ہو جاتے ہیں۔ والدین اپنی اولاد کو نرمی یا سختی سے سمجھاتے ہیں۔ بچے بے رخی اور عدم التفات سے پیش آتے ہیں۔ زیادہ تر والدین کی کوشش مفید ہونے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔

پریشان بہن بول پڑیں، "واللہ ہمارے ساتھ یہی کچھ ہوا۔ آپ کے بیان سے تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ گویا آپ ہمارے ساتھ ساتھ تھیں۔"

میں نے کہا، "آپ کے بچے کا کیس اتنا بگڑ چکا ہے کہ اب اس کی اصلاح کرنا ہمارے بس میں نہیں رہا۔ اب تو اس کا ایک ہی حل ہے کہ اللہ کی طرف رجوع کیا جائے۔ اس کا بتایا ہوا حل استعمال کیا جائے۔ اللہ نے ہماری رہنمائی کر دی ہے۔ ہمارا فرض ہے۔ کہ ہم اس رہنما کا ہاتھ تھامیں اور اپنے تمام مسائل حل کر لیں۔

"بہن میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں کہ میں اس رہنما کا ہاتھ کبھی نہ چھوڑوں گی۔ آپ مجھے صرف وہ آیت بتا دیجیئے جس پر مجھے عمل کرنا ہے، جس کے مطابق مجھے چلنا ہے۔"

میں نے کہا، ارشادِ الٰہی ہے،

وَمَن يَتَّقِ اللَّہَ يَجْعَل لَّہُ مَخْرَجًا (الطلاق 2:65) -

جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرئے گا اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا۔

جیسا کہ آپ دیکھ رہی ہیں اللہ کے راستے کے سوا، سب راستے بند ہو چکے ہیں۔ آپ کے سامنے صرف اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کا راستہ کھلا ہے۔ معاف کرنا، میرا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ آپ اللہ سے ڈرتی نہیں، بلکہ مطلب یہ ہے

اس نے میری بات کاٹ دی اور بولی "میں خوب سمجھتی ہوں جو کچھ آپ کہنا چاہتی ہیں۔ میں ہر حالت میں تقویٰ کا دامن پکڑے رہوں گی۔ کسی بھی حال میں تقویٰ ترک نہیں کروں گی۔ تقویٰ، میرے احوال، میرے افعال، میرے اقوال بلکہ میری فکر میں ہمیشہ رہے گا۔"

اپنے بیٹے کے بارے میں پریشان خاتون نے تقویٰ اختیار کرنے کا عہد و پیمان کرنے کے بعد اجازت طلب کی۔ خدا حافظ کہنے کے لیے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا۔ اس وقت اس کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے۔

مَن يَتَّقِ اللَّہَ يَجْعَل لَّہُ مَخْرَجًا (الطلاق 2:65)۔

میرے رب نے سچ فرمایا ہے۔ اللہ کے وعدہ سچا ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اب مجھے اللہ کے وعدے کی صداقت کا اپنے اوپر تجربہ کرنا ہے۔

میں نے اس پریشان حال بہن کو اللہ حافظ کہا، اس کے لیے دعا کی۔ صدق دل سے اس کی کامیابی و کامرانی کی دعا۔ اب جب بھی ملاقات ہوتی تو وہ ضرور اس آیت کو دہراتی، مجھ سے دعا کی درخواست کرتی، بلکہ ہر ملنے والی سے یہ کہتی کہ وہ اس کی ثابت قدمی کے لیے دعا کرئے۔ پہلے تو اس کی سوچ کا محور اس کا بیٹا اور اس کے اقوال و اعمال تھے۔ وہ لوگوں سے کہتی کہ اس کے بیٹے کے لیے دعا کریں کہ اللہ اسے ہدایت دے۔ مگر اب اس کی فکر کا مرکز یہ ہوتا کہ وہ کیسے تقویٰ اختیار کرئے۔ بالآخر وہ تقویٰ اختیار کر کے اپنے بیٹے کو راہِ راست پر لانے میں کامیاب ہو گئی۔ اس کی داستان اسی بہن سے سنیے۔ مسجد میں حلقہ درسِ قرآن میں‌ اس نے اپنی روداد سناتے ہوئے کہا :

"میری عزیز بہنو، میں نے اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اپنے تمام امور و معاملات کو تقویٰ کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے بہت کچھ کیا۔ میں اپنے بیٹے کو شیطان کی گرفت سے بچانا چاہتی تھی۔ اس لیے فیصلہ کیا کہ نمازِ فجر سے پہلے تہجد کیوں نہ پڑھ لیا کروں۔ ابتدا میں فجر سے پہلے دو رکعت نماز تہجد پڑھ لیتی۔ پھر بتدریج آٹھ رکعت تک پڑھنے لگی۔ نماز تہجد ادا کرنے سے ایسا سکون ملا جیسے مجھے دنیا میں جنت اور اس کے خزانے مل گئے ہوں۔ میں نے فجر کی نماز میں طویل قرات کرنے کا تہیہ کیا تو مجھے اس کے لیے قرآن کریم کی مزید سورتیں حفظ کرنا پڑیں۔ حفظ کرنے سے مجھے بے پناہ سکون و اطمینان ملا۔ اس کا اندازہ صرف اسی کو ہو سکتا ہے جو قرآن کریم کی آیات حفظ کرتا ہو۔ اس کے ساتھ ہی یہ جذبہ پیدا ہوا کہ لوگوں کے ساتھ میرے معاملات صاف ہوں۔ خاص طور پر اپنی اولاد کے ساتھ میرا رویہ درست اور پُر سکون ہو۔"

"میری یہ بھی کوشش رہی کہ اپنے پروردگار کی رضا کے لیے اپنے خاوند کو خوش کروں۔ میں خاوند کی خدمت و اطاعت کرتے وقت یہ احساس کرتی کہ میرا مقصد رب کی رضا حاصل کرنا ہے۔ مجھے بہت اطمینان حاصل ہوتا۔ یقین تھا کہ میرا پروردگار مجھے اس کا اجر عطا فرمائے گا۔ میں جو کام بھی کرتی، خلوصِ نیت سے کرتی۔ اس کے ساتھ ساتھ میں کثرت سے اپنے بیٹے کے بدل جانے کی دعا کرتی رہتی تھی۔"

"اس خلوص سے عبادت، معاملات اور دعائیں کرنے کے نتیجے میں میرا روحانی مورال بہت بلند ہو گیا۔ کبھی تو مجھے ایسا محسوس ہوتا جیسے میں فضا کی پنہائیوں میں محو پرواز ہوں، بلندیوں میں اڑ رہی ہوں۔ میں نے پڑوسنوں اور سہیلیوں کے ساتھ اپنے تعلقات پر بھی نظر ثانی کی۔ اسی طرح میں نے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ بھی تعلقات بحال کیے۔ کیوں کہ مجھے یہ حدیث یاد آ گئی،

انی خلقت الرحم و اشتققت لہ اسماّ من اسمی فمن و صلہ و صلتہ و من قطعہ قطعتہ۔ (حدیث قدسی)

میں نے رحم پیدا کیا اور اپنے نام سے رکھا۔ جس نے صلہ رحمی کی میں اسے ملوں گا اور جس نے صلہ رحمی کو قطع کیا میں بھی اسے قطع کر دوں گا۔

"مجھے یہ حدیث یاد آئی تو میں نے فوراً کپڑے تبدیل کیئے، اپنے ایک چچا کے گھر چل پڑی جو میرے ساتھ ناراض تھے۔ ان کے فلیٹ پر پہنچ کر میں نے خلاف معمول لفٹ استعمال نہ کی، بلکہ سیڑھیوں کے ذریعے اوپر چڑھنے لگی۔ ہر سیڑھی پر پاؤں رکھتے ہوئے یہ دعا کرتی تھی کہ یا اللہ میں تیرے حکم کی تعمیل میں قریبی رشتہ داروں سے تعلقات جوڑ رہی ہوں، تو بھی مجھے اپنے ساتھ جوڑ، میں سیٹرھیوں سے اتروں تو تعلقات بحال ہوں۔ دعائیں کرتے کرتے میں اپنے چچا کے گھر کے دروازے پر جا پہنچی۔ جب دروازہ کھولا تو مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے میرے لیے رحمت کا دروازہ کھول دیا ہے۔ میں ہنستی مسکراتی سلام کرتی ان کے پاس پہنچی۔ واپس آئی تو گھر آتے ہوئے مجھے مکمل سکون و اطمینان حاصل تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے سینے سے بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہے۔"

"اب جب بھی میں اللہ کی رضا کی خاطر کوئی نیک کام کرتی ہوں تو اپنے رب کو اپنے قریب محسوس کرتی ہوں اور مجھے اتنا سکون ملتا ہے جیسے میں نے ایک ہزار رکعت نوافل ادا کیئے ہوں۔"

"مجھے اس تجربے نے اس قابل کر دیا ہے کہ میں تقلیدی و وراثتی ایمان اور حقیقی یقین و ایمان کے مابین فرق محسوس کرتی ہوں۔ مجھے اس آیت کریمہ

وَمَن يَتَّقِ اللَّہَ يَجْعَل لَّہُ مَخْرَجًا (الطلاق 2:65)

پر عمل کرنے کا خوب خوب موقع ملا ہے۔ جلد ہی میرے حالات بدل گئے، میرا دکھ ختم ہو گیا اور غم خوشی میں بدل گیا۔

"میں نے اپنے بیٹے کے ساتھ طرزِ عمل میں صبر و برداشت سے کام لیا۔ میں نے اپنے بیٹے کے لیے بہت دعائیں کیں۔ میں سجدے میں اس کے لیے بہت دعائیں کرتی تھی۔ جب بھی نماز پڑھتی، تلاوت کرتی، ذکر کرتی تو اپنے بیٹے کے لیے دعائیں کرتی رہتی۔ اس میں کئی سال بیت گئے۔ حتیٰ کہ اللہ کریم نے میرا بیٹا مجھے واپس کر دیا۔ اس نے اپنی تنہائی ختم کر دی۔ گوشہ نشینی ترک کر دی۔ بدتمیزی چھوڑ دی۔ ان نے اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ جب اپنا گستاخانہ رویہ ترک کر دیا تو گھر والوں نے بھی اسے از سر نو قبول کر لیا۔"

جب یہ بہن اپنے گستاخ بیٹے کی بے راہ روی ترک کرنے اور دوبارہ محبت و اطاعت کا رویہ اپنا لینے کی ایمان افروز داستان سنا رہی تھی تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ مجلسِ درسِ قرآن کی تمام شرکا کی آنکھیں بھی اشکبار تھیں۔ تمام حاضرین نے اسے مبارکباد دی۔

دیکھیئے ایک آیت کریمہ پر صبر و استقلال سے عمل کرنے کا نتیجہ کیسا خوش گوار نکلا۔ اگر ہم اپنی مشکلات کا حل قرآن کریم کے ذریعے کریں تو ہماری تمام مشکلات اور ہمارے تمام مسائل حل ہو جائیں۔ قرآن کریم کے بابرکت ہونے کا یہی مطلب ہے کہ اگر اس کی آیات کے احکام و نواہی پر اور ان آیات کی حکمت و دانش پر عمل کیا جائے، اس کے بیان کردہ قصص سے عبرت حاصل کی جائے تو اس سے انفرادی و اجتماعی دونوں سطح پر برکات و سعادات ملتی ہیں۔ مسلم معاشرہ اپنی منزل، جنت کی طرف رواں دواں رہتا ہے۔


مزاروں پر دعائیں

مجھے ایک گاؤں کی طرف سے دعوت ملی کہ میں وہاں عورتوں سے خطاب کروں اور انہیں دین اسلام کے حقائق سے روشناس کروں۔ یہ گاؤں اب شہر کے مضافات میں شامل ہو چکا ہے۔ بلکہ اسے دار الحکومت کا حصہ کہا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں۔ شہر کا حصہ شمار ہونے کے باوجود یہ گاؤں ہے کیونکہ اس کے مکینوں کے عقائد و نظریات میرے ملک کے جنوبی علاقے کے بہت سے دیہاتوں سے ملتے جلتے ہیں۔ گویا یہ گاؤں اپنے محل و وقوع کے لحاظ سے تو شہر کا حصہ ہے لیکن اپنے اعتقادات کی رو سے ملک کے کسی پسماندہ گاؤں کی مانند ہے۔ مجھے یہ دعوت ملی تو خوشی ہوئی۔ اللہ مجھے اس گاؤں کی عورتوں سے متعارف ہونے کا موقع فراہم کر رہا تھا۔ میں سمجھتی ہوں کہ عورت گھر کا آئینہ ہوتی ہے۔ آپ کسی عورت کے ذریعے اس کے گھر والوں کی حقیقت کو بہت قریب سے جان سکتے ہیں۔ اسی طرح کسی گاؤں کی بہت سی عورتوں کو دیکھ کر، اس گاؤں کے باشندوں کے بارے میں ایک رائے قائم کی جا سکتی ہے۔

مجھے اجتماع گاہ تلاش کرنے میں کسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ یہ مسجد کے قریب ایک مشہور گھر تھا۔ گاؤں کی عورتیں جمع تھیں۔ میں نے سلام و دعا کے بعد حاضرین پر نگاہ ڈالی تو عورتوں کی ایک بڑی تعداد کو موجود پایا۔ وہ غیر معمولی طور پر خوش تھیں۔ ان عورتوں کے قریب ہی طرح طرح کے برتن پڑے تھے۔ کھانے پینے کی برتنوں کے ڈھیر دیکھ کر میں‌ حیران ہوئی۔ میں نے برتنوں کے بارے میں پوچھا تو مجھے بتایا گیا "فلاں بزرگ کا آج یومِ ولادت ہے۔ وہ آپ کے دائیں طرف دفن ہیں۔" میں نے تیزی سے دائیں طرف دیکھا تا ایک مزار نظر آیا۔ میں نے ان بہنوں سے نرمی سے پوچھا، "اس دن آپ لوگ کیا کرتے ہیں؟" خواتین بولیں، "ہم تو جی اس دن کا پورا سال بے تابی سے انتظار کرتے ہیں۔ جانور ذبح کرتے ہیں۔ اس دن کے لیے خصوصی کھانے تیار کیے جاتے ہیں۔ ہم صاحبِ مزار سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے دعا کریں۔"

یہ سن کر مجھے صدمہ پہنچا۔ کیا یہ اعلانیہ شرک نہیں ہے؟ میں نے جب وضاحت کی اور حقیقت سے آگاہ کیا تو ایک عورت بولی۔ "ہم اس بزرگ کی عبادت نہیں کرتے۔ ہم تو اللہ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اس نیک بزرگ کا قرب عطا فرمائے۔ اس لیے یہ ایک مبارک و متبرک بزرگ ہیں اور ان کے مزار پر مانگی جانے والی ہر دعا قبول ہوتی ہے۔"

یہ عورت بزعمِ خویش اس طرح وضاحت کر رہی تھی جیسے میری جہالت کو دور کر رہی ہو۔ میں نے بحث و تکرار اور مجادلہ و مناظرہ سے بچتے ہوئے خاموشی اختیار کر لی اور درسِ قرآن کریم شروع کر دیا۔ مجھے یہاں درس کے لیے ہی مدعو کیا گیا تھا۔ درس کے آغاز میں ہی اس آیت نے مجھے اپنی طرف کھینچا، اس لیے میں نے اس کی تشریح و توضیح کرنا ہی بہتر سمجھا اور یہ بھی بتانا چاہا کہ اس آیت کریمہ پر عمل درآمد کیسے کرنا ہو گا؟ آیت یہ تھی

فَاعْبُدِ اللَّہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّينَ (الزمر 2:39)-

لہٰذا تم اللہ ہی کی بندگی کرو، دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے۔

میں نے مناسب سمجھا کہ گاؤں کے ماحول سے ہی ایک مثال پیش کروں: "کسی زراعت پیشہ خاندان کو ایک بیل خریدنے کی ضرورت تھی۔ گھر کی مالکن نے ہمت کی اور تھوڑی تھوڑی رقم بچا کر رکھتی رہی۔ حتیٰ کہ اس کے پاس اتنی رقم اکٹھی ہو گئی جس سے ایک بیل خریدا جا سکتا ہے۔ با ہمت کسان عورت نے وہ رقم اپنے خاوند کو دی۔ خاوند ایک بڑے زمیندار کے پاس گیا اور اس کے یہاں سے من پسند بیل خرید لایا۔ بیل گھر آیا تو گھر والوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ بیوی نے بیل کو دیکھا تو بہت خوش ہوئی۔ بچے خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔ گھر کا ہر فرد بے حد مسرور تھا۔ انہوں نے بیل کی خدمت شروع کر دی۔ گھاس ڈالا، چارہ ڈالا، پانی پلایا۔ پھر وہ خوشی خوشی اسے رہٹ پر لے گئے تاکہ بیل کے ذریعے کنویں سے پانی نکالیں اور کھیتوں کو سیراب کریں۔

رہٹ میں بیل جوتنے کا خوش نما منظر دیکھنے کے لیے پڑوسی تھی آئے تھے۔ اب کسان نے آگے بڑھ کر بیل کو رہٹ سے پانی نکالنے کے لیے جوتنا چاہا تو بیل نے کسان کو سینگوں سے مارنے کی کوشش کی۔ ہوشیار کسان بیل کی ٹکر سے بچ گیا۔ اب جو کوئی بھی بیل کے قریب جاتا، بیل اسے سینگوں سے دھکیلنے کے لیے تیار رہتا۔ بیل بہت غصے میں تھا۔ بالآخر ایک دلیر پڑوسی کسان ہمت کر کے آگے بڑھا اور اسے پکڑ کر اپنے ڈیرے کی طرف لے جانے لگا۔ بیل اس کے ساتھ جا رہا تھا اور کچھ مزاحمت نہ کر رہا تھا۔ پڑوسی کسان نے اسے اپنے رہٹ میں جوت دیا تو وہ بیل بڑے مزے سے گھومنے لگا۔ پہلے دن تو یہی ہوا۔ دوسرے دن پھر ایسے ہی ہوا۔ بیل کھاتا پیتا تو اپنے مالک کے پاس تھا، مگر اسے سکون پڑوسی کے کھیت اور اس کے رہٹ سے پانی نکالنے میں ملتا تھا۔ میں آپ بہنوں سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ ایسے بیل کے بارے میں، جو کھاتا اپنے مالک کے پاس ہو مگر اسے سکون غیر کے پاس کام کرنے سے ملتا ہو، مالک کا ردِ عمل کیا ہو گا؟ اپنے مالک کی زمین سے گھاس کھاتا ہو مگر وہ خدمت اپنے مالک کے بجائے کسی اور کی کرتا ہو؟ آپ خود بتائیے کہ ایسے بیل کا مالک اس کے ساتھ کیا سلوک کرئے؟"

ایک خاتون نے جواب دیا، "بہت عجیب بات ہے۔ ایسا بیل اس لائق ہے کہ اسے بیچ دیا جائے یا ذبح کر دیا جائے۔"

میں نے مسکرا کر گاؤں کی عورتوں سے کہا، "اللہ کتنا مہربان ہے، کتنا کریم ہے۔ وہ نہ ہمیں ذبح کرتا ہے، نہ بیچتا ہے، بلکہ اپنی اطاعت کی دعوت دیتا ہے۔ ہم اللہ کا رزق کھاتے ہیں مگر اپنے جانوروں کو اوروں کے لیے ذبح کرتے ہیں۔ ہم ایسے جشن مناتے ہیں جن کی اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ بلکہ ہم میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرے بھی نفع نقصان پہنچانے والے ہیں۔ یہ عقیدہ رکھ کر ہم انہی کو اپنی حاجت روائی کے لیے پکارتے ہیں۔"


ایک عورت نے کھڑے ہو کر کہا، "مگر ہم تو اپنے اس بزرگ کی عبادت نہیں کرتے۔"

میں نے بزرگ کے مزار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "یہ بزرگ جو یہاں اپنی قبر میں آرام فرما ہیں، وہ تو آپ کی دعاؤں کے محتاج ہیں۔ آپ کو چاہیے کہ اللہ حیّ و قیوم کو پکاریں۔ اس سے دعا کریں کہ وہ اس بزرگ پر بھی رحم فرمائے اور آپ سب پر بھی رحم فرمائے۔ بات یہ ہے کہ میت بے اختیار ہو جاتی ہے۔ اگر زندہ کے پاس کچھ بھی اختیار ہو تو وہ کبھی نہ مرے۔ نہ مٹی کے نیچے دفن ہو۔"

یہ سن کر ایک عورت بے تاب ہو کر اٹھی۔ وہ بہت غصے میں تھی۔ کہنے لگی، "پیاری باجی، ہم اللہ کی خاطر آپ سے محبت کرتی ہیں۔ آپ ہمیں بہت پسند ہیں۔ مگر اندیشہ یہ ہے کہ کہیں ہمارے یہ بزرگ آپ کو مار نہ ڈالیں۔"

میں نے سب عورتوں کی جانب دیکھا اور کہا، "آپ کی یہ بہن سمجھتی ہے کہ ایک فوت شدہ آدمی کے پاس اتنی قوت ہے کہ وہ زندہ کو مار ڈالے۔"

اس بات چیت کے بعد میں نے زیرِ درس آیت کی تشریح و تفسیر کرنا شروع کر دی۔ میں نے حاضرین کو بتایا کہ اس آیت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اسوۂ حسنہ کی روشنی میں کس طرح عمل کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے لیے نمونہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہیں نہ کہ ہمارے آباؤ اجداد۔

اب میں نے تمام بہنوں سے درخواست کی کہ وہ اپنی اپنی زندگی کا وہ سخت ترین واقعہ یاد کریں جب وہ کسی تکلیف یا بیماری میں مبتلا ہو گئی ہوں اور پھر مجھے سوچ کر بتائیں کہ انہوں نے سب سے پہلے کس کو پکارا، کِسے یاد کیا۔ ارشادِ الٰہی ہے،

وَظَنُّواْ اَنَّھُمْ اُحِيطَ بھِمْ دَعَوُاْ اللّہَ مُخْلِصِينَ لَہُ الدِّينَ (یونس 22:10)

اور (جب) مسافر سمجھ لیتے ہیں کہ طوفان میں گھِر گئے، اس وقت سب اپنے دین کو اللہ ہی کے لیے خالص کر کے اس سے دعائیں مانگتے ہیں۔

کئی عورتوں نے بیک زبان کہا، "ہم سب سے پہلے اللہ کو پکارتی ہیں۔ پھر ہم کھانے پینے کی کچھ چیزیں لے کر بزرگ کے مزار پر حاضری دیتی ہیں اور یہ چیزیں یہاں تقسیم کر دیتی ہیں۔ ہم مزار کے پاس آ کر دعائیں کرتی ہیں۔"

میں نے جواب دیا، "میں اسی بات کی تشریح کرنا چاہتی ہوں۔ خلوص و اخلاص کا تقاضا تو یہ ہے کہ آپ ہمیشہ اللہ سے ہی مانگیں۔ اللہ کے سوا کسی اور سے نہ مانگیں۔ دعا کرتے ہوئے آپ کے قلب و فکر میں اللہ کے سوا کچھ نہ ہو۔ اللہ لا شریک سے ہی مانگیں۔ وہ قادر و قیوم ہے۔ وہ اپنی مدد کے لیے کسی کا محتاج نہیں بلکہ ہر ایک کی اعانت فرمانے والا ہے۔ جو بہن بھی

فَاعْبُدِ اللَّہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّينَ (الزمر 2:39)

پر عمل درآمد کا ارادہ کرنا چاہے، تو یوں محسوس کرئے جیسے اللہ کے سوا اس کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔

گاؤں کے درس سے فارغ ہو کر میں گھر آئی۔ اپنے معمول کے درسِ قرآن کے لیے جب میں درس گاہ پہنچی تو یہ دیکھ کر میرے حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس گاؤں کی عورتوں کی ایک تعداد وہاں موجود تھی۔ مجھے حیرت کے ساتھ ساتھ مسرت بھی ہوئی۔ میں نے ان کا والہانہ خیر مقدم کیا۔ اب وہ ہماری مجلس کی مستقل شرکا تھیں۔ عمل کے لیے جو آیت ملتی، ہمارے ساتھ وہ بھی اس میں شریک ہوتیں اور اپنے ایمان افروز تجربات سے ہمیں آگاہ کرتیں۔ یہ بہنیں اپنے گاؤں کی دوسری عورتوں سے بھی رابطے میں رہتیں۔ ان کی تعلیم کا بندوبست کرتیں۔ انہوں نے اپنی ان تھک محنت سے عورتوں کی آنکھوں پر پڑی غفلت کی پٹی اتار دی اور ان کے دماغوں پر چڑھے ہوئے جہالت کے غلاف اتار دیئے۔ میں نے گاؤں میں جا کر جس آیت کریمہ کی تفسیر کی تھی اور اس کے مطابق چلنے کی ترغیب دی تھی، دھیرے دھیرے گاؤں کی تمام بہنوں پر اس کا اثر ہوا۔ بزرگ کے مزار پر بزرگ کی خوشنودی کے لیے ہونے والے ذبیحے اب متروک ہو چکے ہیں۔

اس گاؤں میں اب بھی کچھ بہنیں بے چاری غافل ہیں۔ میں اپنی ان بہنوں کو غفلت میں مبتلا سمجھتی ہوں۔ انہیں مشرک نہیں کہتی۔ قبروں پر کبھی کبھار حصولِ عبرت کے لیے جانا برا نہیں۔ وہاں رک کر اہلِ قبور کے لیے دعا کرنا بھی ممنوع نہیں۔ البتہ عورتوں کا باقاعدگی کے ساتھ، زیب و زینت کر کے قبروں پر جانا دینِ اسلام کی نظر میں مستحن نہیں۔ اسی طرح قبروں میں مدفون اولیاء اللہ اور بزرگوں کو حاجت روا، مشکل کشا اور فریاد رس سمجھنا اور ہر طرح کے اختیارات کا مالک سمجھنا بھی اسلامی تعلیمات سے غفلت کا نتیجہ ہے۔

درسِ قرآن میں شریک ایک بہن نے تمام بہنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا،

"میں نے جب سے درسِ قرآن دینے والی ہماری بہن محترمہ سمیہ رمضان سے اس آیت کی تشریح سنی ہے، یعنی، "تم اللہ ہی کی بندگی کرو، دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے" غفلت کے پردے اتر گئے ہیں۔ میں نے اس آیت کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ میں ہر کام سے پہلے اس آیت کو پڑھتی ہوں۔


صدقہ مصیبت کو ٹال دیتا ہے

میں ایک دن ایک مریضہ کی عیادت کے لیے گئی۔ اسے اتنے سخت درد ہوتے تھے کہ ٹلنے کا نام نہ لیتے تھے۔ میں نے اسے تسلی دی اور اسے اللہ کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دی۔ میں نے اس سے درخواست کی کہ وہ دفعِ مصیبت کے لیے صدقہ دے۔ مریضہ نہ کہا، "میں نے بہت صدقے دیے ہیں اور کسی کو بھی نہیں چھوڑا۔ میں نے اللہ کے لیے صدقہ دیا۔ اپنے گاؤں کے امام صاحب کو صدقہ دیا۔ بلکہ میں نے ملک کے تمام مشہور اولیاء کے لیے صدقے بھیجے ہیں، مگر فائدہ کوئی نہیں ہوا۔" اس کی باتوں سے مجھے مصیبت کی جڑ مل گئی۔ میں سمجھ گئی کہ خرابی کہاں ہے؟ یہ عورت غفلت کا شکار ہے۔ میں نے اسے اس غفلت سے نکالنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔

میں نے کہا، "صدقات تو صرف خالصتاً اللہ کے لیے ہوتے ہیں اور جو صدقات غیر اللہ کے لیے ہوتے ہیں، پروردگار انہیں قبول نہیں کرتا۔ آپ خالصتاً اللہ کو پکاریں، اس کے ساتھ کسی کو ذرہ برابر شریک نہ کریں۔ صرف تنہا وہی آپ کو شفا دینے پر قادر ہے۔"

"میں اللہ کے نام پر آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ آپ اس ارشاد الٰہی کے مطابق چلیں،

فَاعْبُدِ اللَّہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّينَ (الزمر 2:39)۔

صرف اللہ سے مانگیں۔ کسی اور سے مانگنے سے احتراز کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ دوا دارو بھی جاری رکھیں۔ تمام اسباب اختیار کریں۔ اللہ کے حضور توبہ کریں۔ اپنی نادانی و غفلت پر اللہ سے معذرت کریں۔ ہر وقت اسی سے مانگیں۔ دعا و التجا میں الحاح و اصرار کریں۔ کوئی آپ کو اللہ سے نہ پھیرنے پائے۔"

اس بیمار عورت نے وعدہ کیا کہ وہ میری باتوں پر عمل کرئے گی۔ میں جب بھی اس سے ملنے جاتی، ہر ملاقات پر اسے یاد دلاتی کہ ہمارے مابین کیا طے پا چکا ہے۔ وہ بھی اقرار کرتی کہ وہ اپنے عہد و پیمان پر قائم ہے۔ میں رات کی تنہائیوں میں اس کے لیے بہ کثرت دعائیں کرتی کہ اللہ اس کی غفلت سے بھی اسے نجات دے اور دردوں سے بھی نجات بخشے۔ یہ بہن دھیرے دھیرے بہتر ہونے لگی۔ اللہ تعالیٰ سے اس کا تعلق مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا۔ اسے تجربے سے معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کتنا قریب ہے، کتنا فریاد رس ہے، کتنا دعاؤں کو قبول فرمانے والا ہے۔ جتنا اس کے یقین میں اضافہ ہوا اتنی ہی اس کو جلد شفا ملی۔ وہ اپنے ماضی پر نادم اور اس کی تلافی کے لیے کثرت سے استغفار کرتی ہے۔

حاجات اللہ پوری کرتا ہے

ایک خاتون ہمارے درسِ قرآن کی مجلس میں تشریف لاتی ہیں۔ انہوں نے ایک قابل رشک کام سر انجام دیا۔ ان کی خوش نصیبی کا کیا کہنا۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری اس بہن کے ذریعے کئی عورتوں کو اسلام کی صحیح تعلیمات سے روشناس کرا دیا ہے اور اب وہ سب قرآن کریم کی روشنی میں سفرِ زندگی طے کر رہی ہیں۔

اس سعادت مند خاتون کی ملاقات اتفاقاً سر راہے عورتوں کے ایک گروپ سے ہوئی۔ یہ عورتیں ملک کے ایک بڑے شہر جانا چاہتی تھیں۔ انہیں معلوم ہوا تھا کہ وہاں ایک عورت رہتی ہے جس کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ ہر کام کر سکتی ہے۔ بگڑی تقدیر بنا سکتی ہے۔، بیماروں کو صحت، مریضوں کو شفا، بے اولادوں کو اولاد اور بانجھ کو حاملہ بنا سکتی ہے۔ ملک کے دور دراز گوشوں سے عورتیں اس کے حضور حاضر ہوتی ہیں بلکہ عالم عرب سے بھی عورتیں اس کی شہرت سن کر وہاں جا پہنچتی ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں عورتیں اس کے گھر کے سامنے زمین پر بیٹھی رہتی ہیں۔ ساری رات زمین پر انتظار میں براجمان رہتی ہیں تا کہ صبح اس سے جلد مل سکیں۔ یہ عورتیں اسی گاؤں کی رہنے والی تھیں جس گاؤں میں، میں درسِ قرآن کے لیے گئی تھی۔ اس خاتون نے اپنے گاؤں کی ان عورتوں سے جو اپنے گھروں سے نکل کر آمادہ بہ سفر تھیں، کہا، "کیا آپ لوگ اس عہد و قرار کو بھول گئی ہیں، یا جان بوجھ کر بھلا دیا ہے، جو ہم نے اپنے گاؤں میں اس دن کیا تھا، جب شہر سے محترمہ سمیہ رمضان درس کے لیے آئی تھیں۔ ہم سب نے

فَاعْبُدِ اللَّہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّينَ (الزمر 2:39)

کی آیت کے مطابق چلنے کا اقرار کیا تھا۔

ایک عورت نے کہا، "ہم جو کچھ کرنے جا رہی ہیں وہ اس آیت کریمہ کی خلاف تو نہیں۔ ہم جس نیک عورت کے پاس جا رہی ہیں، وہ تو محض ایک سبب ہے، کرنے والا تو اللہ ہے۔ فاعل حقیقی وہی ہے۔"

اس خاتون نے کہا، کیا وہ عورت غیب کی دعوے دار نہیں ہے؟ کیا اس کا یہ دعویٰ نہیں کہ وہ بیمار کو شفا دینے پر قادر ہے؟ دوشیزاؤں کی شادی کرا سکتی ہے؟ بانجھ کو حاملہ بنا سکتی ہے؟ اللہ کے لیے بندگی کو خالص کرتے ہوئے، کیا غیر اللہ کی طرف رجوع کرنا درست ہو سکتا ہے؟ ادھر ہمیں حق تعالیٰ وحدہٗ لا شریک کی قدرت پر اعتقاد ہے اور اُدھر ہم انسانوں کے پاس مرادیں پانے کے لیے چل پڑتے ہیں۔ یہ عورت لمبے چوڑے دعوے کرتی ہے مگر اس کے پاس اتنا علم نہیں کہ وہ کسی کام کی اہل ہوتی۔ وہ ڈاکٹر یا طبیبہ تو ہے نہیں کہ اس کے ہاتھ میں اللہ نے شفا دی ہو۔ باقی رہا کنواریوں کی شادی کرانا تو یہ صرف اللہ واحد ہی کا کام ہے۔ پھر آپ لوگ ایک طویل سفر کرنے کے بعد وہاں جائیں گی۔ سفر کی مشقت برداشت کریں گی۔ آپ لوگوں کا خیال بلکہ عقیدہ ہے کہ یہ عورت آپ کو نفع پہنچانے پر قادر ہے۔ آپ وہاں جا کر اس سے اپنی حاجت مانگیں گی۔ پھر اسے مال بھی دیں گی۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ سب کو اس عورت کی غیر معمولی قدرت پر یقین ہے۔ حالانکہ اللہ کے سوا کسی اور کے بارے میں‌ اس قسم کا عقیدہ رکھنا توحید کے منافی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم صرف اللہ تعالیٰ کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔ ساتھ ساتھ اسباب و ذرائع بھی کام میں لائیں۔ ایسا کرنے سے ہمیں کچھ نقصان نہ ہو گا۔ بلکہ ہمیں سفر کیے بغیر اور مال خرچ کیے بغیر مکمل فائدہ ہو گا۔ اللہ سے امید رکھنا، اسی کے حضور دست بدُعا رہنا ہی ہمارا کام ہے۔"


جس عورت کی شادی ہوئے کئی سال ہو چکے تھے اور وہ اب تک اولاد کی نعمت سے محروم تھی، میں نے اس کی طرف دیکھا اور کہا، "میں ایک ڈاکٹر کو جانتی ہوں۔ وہ بہت تجربہ کار ہے اور آپ کے جیسے مرض کی خصوصی ماہر ہے۔ میں آپ کو اس کے پاس لے جاؤں گی۔ مگر اس کے لیے آپ کو اپنے دینی فرائض کی ادائیگی کا خصوصی اہتمام کرنا ہو گا۔ نفلی عبادات زیادہ کرنا ہوں گی۔ سب نیک کام محض اللہ کی رضا و خوش نودی کی خاطر کرنا ہوں گے۔ آپ کو رات کی خاموشی میں نماز فجر سے پہلے کچھ رکعتیں ادا کرنا ہوں گی۔ اس کے ساتھ ہی آپ کا یہ پختہ یقین ہونا چاہیے کہ اللہ ہی قادر ہے۔ ڈاکٹر صاحب موصوف سے ملنے کے لیے میں پہلے سے وقت مختص کروا لوں گی۔ اپ ہمیں اللہ کا نام لے کر اپنے کام کر شروع کر دینا چاہیے۔"

بے اولاد عورت بولی، "سبحان اللہ، مجھے افسوس ہے کہ میں آیت کریمہ سے غافل رہی اور اس عہد و پیمان کو فراموش کر دیا جو ہم نے اپنے گاؤں میں درس قرآن کی تقریب میں کیا تھا۔ ان شاء اللہ اب اس آیت پر ضرور عمل کروں گی۔ مجھے اللہ کی ذات پر بہت بھروسہ ہے۔"

اب میں اس ماں کی طرف متوجہ ہوئی جو اپنی بیٹی کی شادی کے لیے بے چین تھی۔ میں نے اسے یاد دلایا کہ آخر اس کی بھی تو شادی ہوئی تھی۔ کیا وہ شادی کو اتنا مشکل کام سمجھنے لگی ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کے پاس جانے لگی ہے۔ اس نے کہا، "شیطان مردود نے مجھے بہکا دیا۔ اللہ مجھے ابلیس لعین کے شر سے بچائے۔ شکر ہے کہ آپ سے ملاقات ہو گئی۔ اب میں زندگی بھر اس عورت کے پاس نہیں جاؤں گی۔ اب اللہ کے حضور گڑگڑاؤں گی۔ اس کے حضور دعا کروں گی۔"

میں نے اُس ماں سے کہا، "‌آپ اگر چاہتی ہیں کہ آپ کی بیٹی کی جلد شادی ہو جائے تو آپ اور آپ کا میاں دونوں زیادہ سے زیادہ نیکی کے کام کریں اور تقویٰ اختیار کریں۔ جو کوئی تقویٰ اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے لیے مشکل سے نکلنے کی کوئی سبیل پیدا کر دیتا ہے۔ آپ سب اللہ سے مانگیں۔"

بیمار عورت سے میں نے عرض کیا، قرآن کریم کی اس آیت پر آپ نے غور نہیں کیا، جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ قول نقل کیا ہے،

وَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَ يَشْفِينِ (الشعراء 80:26)

اور جب بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔

درد کی تکلیف میں مبتلا عورت نے جواب دیا، "اللہ کی قسم مجھے اتنا درد ہوتا ہے کہ مجھ ڈوبتی ہوئی کو تنکے کا سہارا بھی بہت ہے۔"

میں نے کہا، خواہ اس تنکے میں آپ کی ہلاکت ہی کیوں نہ ہو؟ آپ کا تعلق صرف اللہ سے ہونا چاہیے، وہی آپ کو شفا دینے پر قادر ہے۔ آپ صرف اللہ سے مانگیں۔ صدقِ نیت اور خلوصِ دل سے

فَاعْبُدِ اللَّہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّينَ (الزمر 2:39)

کے ارشادِ ربانی پر عمل کریں۔پھر ہم سب نے متفقہ طور پر یہ طے کیا کہ ہم سب رات کی مخصوص گھڑی میں اپنے اپنے گھر میں اللہ کے حضور حاضر ہوں گی۔ اللہ واحد الاحد سے ملیں گی۔ اس سے درخواست، طلب، دعا اور التجا کریں گی۔

میں ہر رات اللہ کے حضور گڑگڑا کر یہ دُعائیں کرتی تھی کہ اللہ ہم سب کو سورۃ زمر کی آیت

فَاعْبُدِ اللَّہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّينَ

پر عمل کرنے کی توفیق دے اور سب بہنوں کو ان کی مرادیں ملیں۔ ادھر اللہ کی رحمت ہمارے انتظار میں تھی۔ اب میں درس قرآن کی مجلس میں حاضر سب بہنوں کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ جو عورت بے اولاد تھی، استقرار حمل سے محروم تھی، آج وہ یہاں میرے پاس بیٹھی ہے۔ اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی ہے۔ جس لڑکی کی شادی نہیں ہو رہی تھی وہ بھی آج میرے قریب بیٹھی ہے۔ میں اسے دلہن ہی کہوں گی۔ اس کی شادی ہوئے چند ماہ گزرے ہیں۔ یہ دیکھیے یہ محترمہ جن کے ہاتھ میں‌ تسبیح ہے، یہ بیمار تھیں، دردوں سے نڈھال رہتی تھیں۔ اب الحمد للہ یہ تندرست ہیں۔ اللہ نے اپنی قدرت سے انہیں شفا دی ہے۔ مسجد میں بیٹھی تمام خواتین نے ان عورتوں کی طرف دیکھا جن کی طرف میں نے اشارہ کیا تھا۔

اب ہر عورت پورے یقین و اعتقاد کے ساتھ اللہ سے اپنی مرادیں مانگ رہی تھی۔


جن نکالنا

اپنی مہمان کا میں نے پر جوش خیر مقدم کیا مگر وہ پریشان حال، افسردہ خاطر اور غمگین تھی۔ مجھے بالکل یاد نہیں کہ میں اس سے پہلے کب ملی تھی۔ بات صرف اتنی ہے کہ اس نے مجھ سے میر گھر آ کر ملنے کا کہا تو میں نے اسے فوراً بلا لیا۔ ابھی میں یہ ارادہ ہی کر رہی تھی کہ اس کی کبیدہ خاطری اور افسردگی کا سبب دریافت کروں کہ مہمان خاتون نے کہا، "اللہ آپ کو معاف کرئے، آج سے چند ماہ پہلے آپ لیکچر دینے کے فوراً بعد درس گاہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔ اگر اس دن آپ کو جلدی نہ ہوتی تو آپ میری بات سن لیتیں۔ اگر اس دن مجھے آپ سے ملنے کا موقع مل جاتا اور میں آپ سے مشورہ کر لیتی تو وہ کچھ نہ ہوتا جو ہوا ہے۔"

میں نے اس کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا، میری پیاری بہن، "اگر" تو شیطانی وسوسہ ہوتا ہے۔ جو ہونا تھا سو ہو گیا۔ آج کی بات کریں۔ نئے دن، نئی امید کی بات کریں۔ سختی کے بعد آسانی آتی ہے۔ تکلیف کے بعد آرام ملا کرتا ہے۔ عسر کے بعد یسر ہے۔ خاتون یہ سن کر رونے لگی۔ میں نے اس کو تسلی دی، اس کے آنسو خشک کیئے۔ اسے سکنجین کا گلاس پلایا۔ میں برابر اس کی دل جوئی کرتی رہی، حتیٰ کہ وہ پُر سکون ہو گئی۔ اور اس نے اپنی داستانِ درد و غم سنانی شروع کی۔

"اس دن میں آپ سے ملنا چاہتی تھی۔ اپنے بارے میں آپ سے مشورہ کرنا چاہتی تھی۔ میری بیٹی بہت زیادہ بیمار تھی۔ میرے گھر والوں نے مجھے کہا کہ میں اسے ایک مشہور "پیر" کے پاس لے جاؤں۔ وہ پیر جعلی تھا۔ میں نے اپنی مجبوری، نادانی، کم علمی، کم تجربہ کاری اور کسی صاحبِ علم کے مشورہ و نصیحت کے لیے دستیاب نہ ہو سکنے کی بنا پر گھر والوں کی بات مان لی۔ ہم اپنی بیٹی کو اسی جعلی پیر کے پاس لے گئے۔ اس پیر نے عجیب بات کہی، "تیری بیٹی بیمار ہے اور اس کی بیماری کا سبب تو خود ہے، تو جو اس کی ماں ہے۔ ایک جن تیرے وجود کے اندر داخل ہے جو تیری بیٹی کو بیمار کیئے ہوئے ہے۔ اگر تو اپنی بیٹی کو شفا و صحت دلانا چاہتی ہے، اسے تندرست دیکھنا چاہتی ہے تو پھر تیرے وجود سے وہ جن نکالنا پڑے گا۔"

یہ بات سن کر میں نے فوراً کہا، "یہ دھوکہ باز ہے، فراڈ کرنے والا ہے، دجال ہے۔"

اس خاتون نے افسردہ لہجے میں کہا، "کاش میں یہ الفاظ اس روز آپ کے منہ سے سن لیتی جس دن میں آپ سے مشورہ کرنا چاہتی تھی۔ مگر افسوس کہ یہ الفاظ نہ میں نے آپ سے سنے، نہ کسی اور سے۔ اس جعلی پیر کی بات ہم سب نے مان لی۔ میرے گھر والوں اور میں نے اس عامل کے ساتھ یہ طے کر لیا کہ وہ فلاں روز ہمارے گھر آئے گا تا کہ وہ میرے وجود سے جن نکالنے کی کاروائی کرئے۔ وہ مقررہ دن اور وقت پر آ پہنچا۔ اس نے آتے ہیں مختلف ہدایات دیں۔ اس نے میرے گھر والوں کو بتایا کہ وہ بچی کی ماں کے ساتھ تنہا کمرے میں داخل ہو گا۔ کیوں کہ یہ جن بہت طاقتور ہے، اس لیے عین ممکن ہے کہ وہ اپنے ارد گرد لوگوں کو دیکھ کر مشتعل ہو جائے اور کسی کو نقصان پہنچا دے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ عامل اور جن کے مابین سخت معرکہ آرائی کا اندیشہ ہے۔ اس لیے اگر آپ مریض بچی کی ماں کی چیخیں سنیں تو گھبرائیں نہیں، یہ دراصل جن کی چیخیں ہوں گی۔ اس وقت کوئی اندر آنے یا مداخلت کی کوشش نہ کرے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ لوگوں کی دخل اندازی سے ماں کو کوئی نقصان پہنچے، اس کی زندگی کو خطرہ پیش آ جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جن دخل دینے والے کو پکڑ لے۔

"میرے سادہ لوح گھر والوں نے عامل کی ہر بات مان لی اور اسے مکمل فرماں برداری کا یقین دلایا۔ انہوں نے اسے میرے ساتھ تنہائی میں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔ اسے یہ بھی کہہ دیا کہ وہ اندر سے دروازہ بند کر لے۔ میں اس وقت خوفزدہ اور پریشان تھی کہ دیکھوں میرے ساتھ کیا معاملہ پیش آتا ہے؟ جلد ہی میرا خوف اور میری پریشانی سخت گھبراہٹ میں بدل گئے جب مجھے اس عامل کے حقیقی ارادوں کا پتہ چلا۔ وہ دراصل چاہتا تھا کہ تنہائی سے فائدہ اٹھائے مگر میں نے شدید مزاحمت کی اور پوری قوت سے اسے دھکا دیا۔ دروازہ کھولا اور میں روتی ہوئی باہر نکل آئی۔ میرا حجاب کش مکش میں اتر گیا۔ اگر میں باہر بھاگنے میں دیر کرتی تو میرے کپڑے بھی پھٹ جاتے۔ قدرتی طور پر میرے گھر والوں نے اسے عامل اور جن کے مابین لڑائی سمجھا۔ میں نے بھی بہتر یہی سمجھا کہ اپنے گھر والوں کو اصل حقیقت سے مطلع نہ کروں تاکہ میرا خاوند میرے بارے میں کسی بدگمانی میں مبتلا نہ ہو۔"

اس با ہمت خاتون کی یہ بات سن کر میں نے اظہار افسوس کرتے ہوئے بتایا، "آپ کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے یہ ایک کہانی ہے جو بیسیوں سالوں سے دہرائی جا رہی ہے۔ یہ کہانی ہوتی بہت ہے مگر سامنے بہت تھوڑی آتی ہے۔ آپ اللہ کا شکر کیجیئے کہ سلامت رہیں اور اس مکار و دغا باز عامل کی حقیقی نیت کو سمجھ گئیں۔ آپ نے دلیری سے کام لیا ہے۔ آپ آئندہ درسِ قرآن سننے ضرور تشریف لائیے۔ میں مسجد میں ‌آپ کا انتظار کروں گی۔"

میں نے ان عاملوں، جعلی پیروں اور دھوکہ بازوں کے خلاف کھلم کھلا اعلان جنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ میں ان خطرناک و مہلک توہم پرستی کے خلاف ایک زبردست مہم چلانے جا رہی تھی۔ آئندہ درس قرآن کا موضوع "عالم جنات" تھا۔ وہ عالمِ نامعلوم جس کے بارے میں ہم انسان بہت کم جانتے ہیں۔ بلکہ جو کچھ قرآن اور حدیث میں آیا ہے، اسے بھی صحیح نہیں سمجھ پائے۔ قرآن و سنت میں جنات کے بارے میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہی حق ہے۔ اس کے ماسوا زیادہ تر قیاس آرائیاں اور خرافات ہیں۔

جنوں کے موضوع پر درس قرآن ہوا تو حاضرین نے حیران ہو کر بڑی توجہ سے سنا۔ بہت دلچسپی لی۔ وہ درس سننے میں اتنی محو اور منہمک تھیں کہ کسی کی حرکت کرنے کی آواز تک نہیں آ رہی تھی۔ اختتام درس کے بعد حسب معمول جو آیات عمل کے لیے منتخب ہوئیں وہ تھیں سورۃ الاعراف کی آیت 37 اور سورۃ سبا کی آیت 14۔ اس دونوں آیتوں سے یہ دو حقیقتیں بالکل واضح تھیں:

  1. جنات ہمیں دیکھتے ہیں مگر ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔

  2. جنات علم غیب نہیں رکھتے۔

    يَا بَنِي آدَمَ لاَ يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا اَخْرَجَ اَبَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّۃِ يَنزِعُ عَنْھُمَا لِبَاسَھُمَا لِيُرِيَھُمَا سَوْءَاتھِِمَا اِنَّہُ يَرَاكُمْ ھُوَ وَقَبِيلُہُ مِنْ حَيْثُ لاَ تَرَوْنَھُمْ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّيَاطِينَ اَوْلِيَاء لِلَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ (الاعراف 27:7)

اے بنی آدم، ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اسی طرح فتنے میں مبتلا کر دے جس طرح اس نے تمھارے والدین کو جنت سے نکلوایا تھا اور اس کے لباس ان پر سے اتروا دیے تھے تاکہ ان کی شرم گاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھولے۔ وہ اور اس کے ساتھی تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ ان شیاطین کو ہم نے اس لوگوں کا سرپرست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔

فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْہِ الْمَوْتَ مَا دَلَّھُمْ عَلَى مَوْتِہِ اِلَّا دَابَّۃُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنسَاَتَہُ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ اَن لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمھُِينِ (سبا 14:34)

پھر جب سلیمان علیہ السلام پر ہم نے موت کا فیصلہ نافذ کیا تو جنوں کو اس کی موت کا پتہ دینے والی کوئی چیز اس گھن کے سوا نہ تھی جو اس کے عصا کو کھا رہا تھا۔ اس طرح جب سلیمان علیہ السلام گر پڑا تو جنوں پر یہ بات کھل گئی کہ اگر وہ غیب جاننے والے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ ہوتے۔"

میں نے عرض کیا کہ اس مرتبہ ہم کو نہ صرف اپنے اعضا وجوارع اور حواس سے ان دونوں آیتوں سے واضح ہونے والی حقیقت پر عمل کرنا ہے بلکہ اپنے معاشرے کے تمام لوگوں کو بھی اس سے خبردار کرنا ہے تاکہ علم و دانش کی روشنی پھیلنے سے خرافات کے اندھیرے چھٹ جائیں اور دجالوں، شعبدہ بازوں اور شہوت پرستوں کے لیے کام کرنا ناممکن ہو جائے۔ یہ بھی طے پایا کہ آئندہ درس میں بہنیں اپنے تجربات بیان کریں گی۔


جس دن درسِ قرآن ہونا تھا، اس سے پہلی رات میرے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ ریسیور اٹھایا تو معلوم ہوا کہ ایک بہن اپنا تجربہ بیان کرنا چاہتی ہے۔ وہ درس کے وقت کا بھی انتظار نہ کر سکی۔ چنانچہ اس نے بتایا:

"آپ کا درس سنتے ہی میں مسجد سے نکلی تو اپنی سہیلی کے گھر کا راستہ لیا۔ اس سہیلی کی عادت تھی کہ وہ ہمیں جنوں اور دیووں کے بارے میں جھوٹے واقعات سناتی تھی۔ ہم اپنی نادانی سے اس کی باتوں اور کہانیوں کو سچ سمجھتے رہے۔ وہ کہتی تھی کہ وہ جنوں کو دیکھتی ہے، ان سے باتیں کرتی ہے اور ان کے ساتھ اس کے کئی معاملات ہیں۔ بلکہ اس کا ایک بھائی بھی ایک جننی سے شادی کر چکا ہے۔ وہ ہمیں اس جن کے بارے میں بتاتی کہ وہ سفید کپڑے پہن کر اس کے پاس بیٹھا رہتا ہے۔ اس نے ہمیں ایک اور جن کے بارے میں بتایا کہ اس کی ٹانگیں بکرے کی طرح ہیں۔ میں جب اس سے یہ کہانیاں سن کر گھر آتی تھی تو سخت خوف زدہ ہوتی تھی۔ مجھے اپنے ارد گرد سے خوف محسوس ہوتا تھا۔ حتیٰ کہ میں اپنے خیال سے بھی سہم جاتی تھی۔ میری سہیلیوں کا بھی یہی حال تھا۔ ہم سب کتاب و سنت سے لاعلم اور بے خبر ہونے کی وجہ سے اس کی باتوں کو درست سمجھتے تھے۔ مگر جب آپ نے گزشتہ درسِ قرآن میں یہ بتایا کہ انسان جنات کو نہیں دیکھ سکتے اور جنوں کو علم غیب نہیں ہے تو مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے روشنی کی ایک کرن میرے وجود میں سما گئی ہے اور جہالت ختم ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مجھے اپنے والد محترم کی بات یاد آ گئی جو وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ علم نور ہے۔"

"آپ کا درس قرآن سننے کے فوراً بعد میں سیدھی اپنی اس سہیلی کے پاس گئی۔ اس دفعہ میں خوف و دہشت اور مرعوبیت کے ساتھ اس کے گھر نہیں جا رہی تھی۔ اب تو میں یقین، علم اور اعتماد کے ساتھ جا رہی تھی۔ ملاقات ہونے پر میں نے بلا تکلف کہا، مجھے اس بات کا یقین ہو چکا ہے کہ ہم جنات کو بالکل نہیں دیکھ سکتے۔ آپ جو یہ کہتی ہیں کہ آپ جن دیکھتی ہیں یہ محض آپ کے خیالات ہیں۔ ان خیالات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں نے اسے قرآن شریف کی آیت سنائی اور کہا کہ وہ آئندہ نہ اس قسم کی باتیں کیا کرئے اور نہ ان خیالات و خرافات کو بیان کرئے۔ پھر میں نے اس سے کہا، آپ اپنے آپ سے سوال کریں کہ آپ سچی ہیں یا اللہ کی کتاب؟ اس نے فوراً جواب دیا، "اللہ کی کتاب سے بڑھ کر کس کی بات سچی ہو سکتی ہے؟ تاہم میں کئی چیزیں دیکھتی ہوں۔"میں فوراً بھانپ گئی کہ اس کو وقتاً فوقتاً بے ہوشی اور مرگی کے دورے پڑتے رہتے ہیں۔ یہ خیال آتے ہی میں نے بڑی شفقت و محبت سے اسے کہا، "میری پیاری بہن، اپ کو کسی ماہر نفسیات سے ضرور اور جلد ملنا چاہیے۔ تاخیر نہ کریں، کہیں آپ کی حالت زیادہ خراب نہ ہو جائے۔ مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ نفسیاتی علاج سے آپ جلد صحت مند ہو جائیں گی۔" میرے اصرار پر وہ اس شرط پر علاج کرانے کے لیے رضامند ہو گئی کہ میں‌کسی کے سامنے اس کا تذکرہ نہ کروں تاکہ لوگ اسے "نفسیاتی مریضہ" نہ سمجھنے لگیں۔ میں نے اس کی شرط قبول کر لی اور اپنی طرف سے یہ پابندی عاید کر دی کہ وہ اب پہلے کی طرح خرافات بیان کرنے سے اجتناب کرئے گی۔ اس نے وعدہ کر لیا۔"

اگلی صبح بیس سال کی ایک لڑکی پہلے سے ملاقات کا وقت طے کیئے بغیر مجھ سے ملنے آ گئی۔ اس نے شرماتے ہوئے کہا، "میں آپ کے سامنے اپنا ایک راز رکھنا چاہتی ہوں۔ اس راز نے مجھے بے چین و بے قرار کیا ہوا ہے اور میرا سکون غارت کر رکھا ہے۔ میں آپ کے پاس رہنمائی کے لیے حاضر ہوئی ہوں۔ میں نہیں جانتی کہ اللہ تعالیٰ میرا گناہ معاف کرئے گا یا نہیں؟ میں اپنے والدین کے خلاف ایک بڑے گناہ یعنی گستاخی کی مرتکب ہوئی ہوں۔ میں اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہوں۔ زیادہ لاڈ پیار نے مجھے والدین کا گستاخ بنا دیا ہے۔ میں ان کے سامنے چیختی چلاتی بلکہ انہیں ڈانتی بھی تھی۔ میں ان کی حکم عدولی کرتی، مجھے جو بھی کام کہتے میں اس کے خلاف کرتی۔ میں گھر کے کام کاج میں اپنی والدہ کا ہرگز ہاتھ نہ بٹاتی، اس کی مدد بالکل نہ کرتی بلکہ والدہ کے ساتھ ہمیشہ سکتی سے پیش آتی۔ میں اپنے ابا کا مذاق اڑاتی۔ جب گھر میں لوگ ملنے آئے ہوتے تو بھی میں اپنے والد کا مذاق اڑاتی، مجھے ان کی بڑی عمر کا بھی خیال نہ آتا، نہ ان کی شرافت کا لحاظ کرتی۔ میرا ان کے ساتھ یہ رویہ تھا مگر والدین مجھ سے بے حد پیار کرتے۔ ان کی محبت میں کمی نہ آئی۔ ایک دن ابا گھر آئے تو ان کے ساتھ میں نے ایک اجنبی آدمی دیکھا۔ دراصل میرے والدین چاہتے تھے کہ جتنا بھی خرچ ہو جائے، مال کی پرواہ نہیں مگر میرا جن نکل جائے۔ یہ اجنبی صاحب میرے وجود سے جن کو الگ کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔"

"میں دل ہی دل میں ‌مسکرائی اور اس جن والے ڈرامے کا حصہ بننے کا فیصلہ کر لیا۔ جن نکالنے والے صاحب کے سامنے بیٹھنے سے میں نے انکار نہ کیا۔ اس نے میرے قریب بیٹھ کر عجیب و نامانوس جملے بولنے شروع کر دیئے۔ وہ بیچ بیچ میں قرآنی آیات کے کچھ حصے بھی ملا دیتا تھا۔ وہ قرآنی آیات کو بھی درست طریقے سے نہیں پڑھ سکتا تھا۔ میں نے دل ہی دل میں سب کا مذاق اڑانے کا فیصلہ کر لیا۔ چند ہی لمحوں بعد میں نے اپنا لہجہ بدل لیا۔ جب وہ گھبرایا تو ایک بار تو میری ہنسی چھوٹنے لگی مگر میں نے اپنے آپ پر قابو پا لیا۔ کیوں کہ یک دم کھلکھلا کر ہنسنے سے سارا کھیل چوپٹ ہو جاتا۔"

"اپنے آپ پر ضبط پانے کے بعد میں نے اپنی آواز مزید سخت و کرخت کر لی۔ میں نے کچھ مہمل و فضول الفاظ بولنا شروع کر دیئے۔ یہ دیکھ کر میری امی غم میں رونے لگیں۔ پہلے تو وہ مجھے گستاخ سمجھتی تھیں، اب انہوں نے مجھے "جن زدہ" بھی سمجھنا شروع کر دیا۔ میرے ابا نے شفقت پدری سے بے قرار ہو کر مجھے اپنے قریب کرنا چاہا مگر میری نظر اس وقت "بابائے جنات" کی چھڑی پر پڑی۔ وہ اس چھڑی سے بیماروں کو پیٹتا تھا اور یہ تاثر دیتا تھا کہ وہ کسی انسان کو نہیں بلکہ جن کو پیٹ رہا ہے۔ اس چھڑی کی مار سے کتنے مرد، عورتیں، نوجوان لڑکیاں اور لڑکے بری طرح متاثر ہوئے تھے اور نفسیاتی مریض بن چکے تھے۔

"جونہی میری نظر چھڑی پر پڑی، میں نے اس کے ہاتھ سے چھڑی چھین لی۔ اب میں نے سب کی پٹائی کی۔ ماں، باپ، جن نکالنے والا، سبھی میری زد میں تھے۔ وہ چیختے، چلاتے اور روتے تھے۔ مگر میرا دل پتھر کی مانند ہو چکا تھا۔ اس واقعے کے بعد ماں باپ پریشان تھے اور پہلے سے بڑھ کر میرا ہر مطالبہ مانتے تھے۔

"اللہ تعالیٰ کو میرے والدین کی حالت پر رحم آیا۔ اس نے مجھے آپ لوگوں کے حلقہ درس میں شرکت کی توفیق دی۔ میں بہت تیزی سے بدل گئی۔ والدین کے ساتھ گستاخی، حکم عدولی، ضد وغیرہ سب کچھ چھوڑ دیا۔ میں نے آیات زیر درس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا شروع کر دیا۔ آپ نے پچھلے ہفتے جنات کے متعلق جو کچھ بتایا، اس نے میری آنکھیں کھول دیں۔ میں اپنے والدین کے ساتھ جو گستاخی کرتی رہی ہوں، اسے تو شاید اللہ تعالیٰ معاف فرما دے، مگر میں نے انہیں جو چھڑی سے پیٹا ہے، اسے معاف نہ کرئے گا۔ مجھ سے گناہ کبیرہ کا ارتکاب ہوا ہے۔ میں بہت پریشان ہوں۔ آپ اللہ کے لیے میری مدد کیجیئے۔ کیا اللہ میرے اتنے بڑے جرم کو معاف فرما دے گا؟"

میں نے اس سے کہا، "آپ صدق دل سے توبہ کریں۔ والدین سے حسنِ سلوک کریں۔ ان کی خدمت کریں۔"

چند دنوں بعد اس خاتون نے مجھے آ کر بتایا، "باجی میں نے آپ کی باتوں پر عمل کرنا شروع کیا تو میرے ماں باپ نے میری بدلی ہوئی حالت دیکھ کر اسے "عامل" کا کرشمہ قرار دیا۔ وہ دونوں اس کے پاس شکرانے کی رقم اور تحائف لے کر جا رہے تھے۔ میں نے انہیں بتایا کہ مجھے اللہ کے قرآن نے درست کیا ہے۔ وہ عامل تو فراڈی اور نوسر باز تھا۔ میں نے اپنے والدین سے کہا ہے کہ وہ عامل کو تحائف دینے کی بجائے اللہ کا شکر ادا کریں اور یہ رقم کسی مستحق کو دے دیں۔"

قرآنی آیات پر عمل کرنے سے ان شاء اللہ توہم پرستی، جہالت اور شعبدہ بازی کے بادل چھٹ جائیں گے اور زمین اپنے رب کے نور سے جگمگا اٹھے گی۔

وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُورِ رَبّھِاَ (الزمر 69:39) -

زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی۔


غیب کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں

یہ بات پہلے عرض کر چکی ہوں کہ ہمارے یہاں درس قرآن روایتی طریقے سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ پہلے زیر درس آیات کا تفصیلی تعارف پیش کیا جاتا ہے۔ یعنی ان کی تفسیر بیان ہوتی ہے۔ ان آیات سے اگر فقہی احکام متعلق ہوں تو انہیں پیش کیا جاتا ہے۔ شانِ نزول و اسباب پر گفتگو کی جاتی ہے۔ آیات محکم ہیں یا متشابہ، ناسخ ہیں یا منسوخ اس کا بھی تذکرہ ہوتا ہے۔ پھر زیر درس آیات اگر آسانی سے حفظ ہو سکیں تو انہیں حفظ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تلاوت کے احکام و آداب سکھائے جاتے ہیں۔ پھر سب سے آخر میں یہ عرض کیا جاتا ہے کہ ان آیات پر کیسے عمل کرنا ہے؟ آئندہ درس میں‌ عمل درآمد کے دوران پیش آنے والے تجربات سنے جاتے ہیں۔ بعض اوقات قرآنی علوم کے ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں۔ علم و معرفت سے لگاؤ رکھنے والی خواتین اور لڑکیاں باہمی محبت و مؤدت کے ماحول میں قرآنی دسترخوان سے سیر ہوتی ہیں۔

ہم نے علم تجوید و قرات کے ایک ماہر سے التماس کی کہ وہ ہمارے درس میں آ کر اس علم کے اصول و قواعد کی تعلیم دیں تاکہ تلاوت درست اور صحیح ہو سکے۔ قاری صاحب تشریف لانے لگے۔ شرکا بہت خوش تھیں۔ وہ علم تجوید کے قواعد کے مطابق قرآن شریف بہتر طور پر پڑھنے کے قابل ہو رہی تھیں۔ روز بروز ان کے علم میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ان کی زبانیں اور گلے تجوید کے اصول و ضوابط کے مطابق حرکت کر رہے تھے۔

قاری صاحب اپنے فن کے ماہر تھے مگر ان میں ایک خرابی یہ تھی کہ وہ دورانِ درس ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگتے تھے۔ وہ مزارات کی اہمیت اور اصحاب مزارات کی تقدیس میں مبالغے سے کام لیتے تھے۔ شرکائے درس ان کی مبالغہ آرائی کو ناپسند کرتی تھیں کیوں کہ انہیں قبروں کی زیارت کے احکام و عادات اچھی طرح معلوم تھے۔ تاہم خواتین کی ناپسند ابھی تک اکتاہٹ و بیزاری کے درجے میں نہ پہنچی تھی کیونکہ معلمِ تجوید کے علم و فن سے استفادہ زیادہ عزیز تھا۔ لہٰذا وہ ان کی ان باتوں کو صبر و برداشت سے سنتیں۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا۔ حتیٰ کہ ایک دن قاری صاحب نے ایک ایسی بات کہہ دی کہ خواتین کا برداشت کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور نوبت بحث و مباحثہ اور تکرار تک جا پہنچی۔

قاری صاحب ایک پیر کے عقیدت مند تھے۔ وہ پہلے بھی ان کا تذکرہ کرتے رہتے تھے۔ مگر اس دن انہوں نے اپنے شیخ کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے۔ یہاں تک کہہ دیا کہ میرے پیر صاحب تو غیب کا علم بھی جانتے ہیں۔ انہوں نے ایک قصہ سنایا کہ ایک دفعہ ایک جوڑے کا نکاح پڑھانے کے بعد حضرت نے دولہا اور دلہن کی تاریخ پیدائش دریافت فرمائی۔ پھر آپ نے ایک کاغذ پر اپنے قلم سے کچھ لکھا۔ کچھ حساب کیا اور دولہا کو ایک طرف لے جا کر کہا، "آپ کی شادی کا انجام ناکامی ہے۔ آپ جلد ہی دلہن کو طلاق دے دیں گے۔" دولہا نے حضرت پیر صاحب کو بہ نظرِ حقارت دیکھا اور آپ کے ارشاد کی کچھ پرواہ نہ کی۔ ابھی چند ہی ماہ گزرے تھے کہ اس دولہا نے اپنی دلہن کو طلاق دے دی۔ اب اس دولہا نے دوبارہ شادی کا ارادہ کیا تو حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ حضرت کچھ حساب کتاب کر کے یہ بتائیں کہ دوسری شادی اور دلہن کا انجام کیا ہو گا۔

قاری صاحب جب یہ واقعہ بیان کر چکے تو میں نے حاضرین کی طرف دیکھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہ انتہائی افسردہ و پریشان خاطر ہوں۔ میں نے معلمِ تجوید پر نگاہ ڈالی تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ وہ اپنی واضح کامیابی اور دندان شکن دلیل پر مسرور تھے۔ انہوں نے گویا یہ ثابت کر دیا تھا کہ ان کے حضرت صاحب کو علمِ غیب حاصل ہے۔ ادھر مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ مسجد کے ستون کانپ رہے ہیں اور استادِ قرات کے اس دعوی کی تردید میں کتاب اللہ کی آیات پڑھنے کے لیے بےقرار ہیں۔ وہ گویا زبانِ حال سے اس قاری قرآن کے من گھڑت اور جھوٹے بیان کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ میں نے بآوازِ بلند یہ آیت پڑھی،

عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْھِرُ عَلَى غَيْبِہِ اَحَدًا (الجن 26:72) -

وہ عالم الغیب ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔

تجوید کے مدرس نے انتہائی غصے سے میری طرف دیکھا۔ اس نے چیلنج کرنے والے انداز میں چلا کر کہا، "پوری آیت پڑھو، اس پر میں نے کہا،

اِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُولٍ فَاِنَّہُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْہِ وَمِنْ خَلْفِہِ رَصَدًا۔ لِيَعْلَمَ اَن قَدْ اَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبّھِِمْ وَاَحَاطَ بِمَا لَدَيْھِمْ وَاَحْصَى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا۔ (الجن 28:27:72) -

سوائے اس رسول کے جسے اس نے (غیب کا علم دینے کے لیے) پسند کر لیا ہو، تو اس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے۔ تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے اور وہ ان کے پورے ماحول کا احاطہ کیئے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے۔

اس پر قاری صاحب نے انتہائی نفرت سے کہا، "تم نے دیکھا؟"

میں نے بڑے وثوق و اطمینان سے جواب دیا، "یاد رکھیئے، آپ کے پیر صاحب ہوں یا کوئی نجومی، عمل کرنے والے، قسمت کا حال بتانے والے، ہندسے لکھ کر حساب کتاب کرنے والے، ان میں سے کوئی بھی یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ وہ اللہ کا برگزیدہ و منتخب رسول ہے۔ جب کہ اللہ اپنے علم غیب میں سے کچھ سے انہیں ہی سرفراز فرماتا ہے۔ جو واقعہ آپ نے بیان کیا ہے، اگر یہ سچا بھی ہو تو یہ آپ کے پیر صاحب کی غیب دانی کا ثبوت نہیں بلکہ محض ایک گمان ہے۔ گمان کبھی درست ہو جاتا ہے اور کبھی غلط ثابت ہو جاتا ہے۔ لوگوں کے مستقبل کے بارے میں اس قسم کے تُکے تخمین افترا کے سوا کچھ نہیں۔

یہ سن کر اس آدمی کو سخت غصہ آیا۔ غصے سے اس کا بدن کانپ رہا تھا۔ اس نے انتہائی بلند آواز میں چیخ کر کہا، "میں آپ کو یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ آپ میرے پیر و مرشد کی شان میں گستاخی کریں اور میرے سامنے ان کی توہین کریں۔" اب قاری غصے سے بےتاب ہو کر منہ سے جھاگ نکال رہا تھا۔

مسجد کے احترام کے پیش نظر میں نے خاموش رہنے کو ترجیح دی۔ قاری صاحب نے کہا کہ مجھے اجازت دیجیئے، مجھے اس وقت کہیں کام کے لیے جانا ہے۔ کسی سے وعدہ کر رکھا ہے۔ تاخیر نہ ہو جائے۔

معلم تجوید کے جانے کے بعد میرے حافظے کی اسکرین پر بہت سے نقوش ابھرنے لگے۔ مجھے شاعر کا یہ شعر یاد آیا۔

حکم المنجم ان طالع مولودی
یقضی علی بمیتۃ الغرق
قل اللمنجم صبحۃ الطوفان ھل
والد الجمیع بکوکب الغرق

ترجمہ: اگر نجومی میری پیدائش کا زائچہ بنائے اور دیکھ لے تو وہ میرے بارے میں ڈوب کر مرنے کا فیصلہ کرئے گا۔ نجومی سے طوفان کی صبح کہہ دیجیئے کہ کیا سارے لوگ، ڈوبنے والے ستارے ہی کے حساب سے پیدا ہوئے تھے۔


اس کے ساتھ ہی مجھے نہروان کا وہ واقعہ یاد آ گیا جو صحیح مسلم میں درج ہے۔ "حضرت امیر المؤمنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی طالب نے جنگ کے لیے کوچ کا حکم دیا تو مسافر بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا، "یا امیر المؤمنین، آپ اس گھڑی کوچ نہ فرمائیں، بلکہ دن کی تین گھڑیاں گزر جائیں تو اس وقت کوچ فرمائیں۔" حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا، "کیوں؟"، جواب دیا، "آپ اگر اس وقت کوچ کریں گے تو آپ کو اور آپ کے ہمراہیوں کو تکلیف و مصیبت سے واسطہ پڑے گا اور سخت نقصان پہنچے گا اور اگر آپ میری تجویز کر دہ گھڑی پر کوچ کریں گے تو آپ کو فتح نصیب ہو گی اور آپ کی تمنا پوری ہو گی۔" یہ سن کر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، "حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نجومی نہیں تھے اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد ہم میں سے کوئی نجومی ہے۔ جس کسی نے تمہاری بات کو سچ جانا، میں اسے اس لوگوں میں شمار کروں گا جو اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو کارساز سمجھ لیتے ہیں۔ اے اللہ، تیری فال کے سوا کوئی فال نہیں اور تیری خیر کے سوا کوئی خیر نہیں۔" پھر آپ نے مسافر بن عوف سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا، "ہم تجھے جھوٹا سمجھتے ہیں، تیرے مشورے کے خلاف چلتے ہیں اور ہم اسی وقت روانہ ہوں گے جس وقت چلنے سے تو ہمیں رکنے کا کہہ رہا ہے۔" اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے لشکریوں سے مخاطب ہو کر فرمایا، "اے لوگو، علمِ نجوم مت سیکھو، ہاں صرف اتنا سیکھو، جس سے تم خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ تلاش کر سکو۔ یاد رکھو کہ نجومی جادوگر کی مانند ہے۔ اور جادوگر کافر کی مانند جہنم کی آگ میں ہو گا۔ اے مسافر بن عوف اللہ کی قسم، اگر مجھے یہ اطلاع ملی کہ تو ستاروں میں دلچسپی لے رہا ہے اور پھر نجومیوں کی طرح کام کر رہا ہے تو میں تجھے قید میں رکھوں گا۔ جب تک تو زندہ ہے اور میں زندہ ہوں۔ میں اپنے اختیارات سے کام لے کر تجھے تمام عطیات سے بھی محروم کر رکھوں گا۔"

خطاب کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی وقت کوچ کیا جس وقت کوچ نہ کرنے کا آپ کو مشورہ دیا گیا تھا۔ دشمنوں سے مقابلہ کیا اور انہیں تہس نہس کر دیا۔ لڑائی کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہل لشکر سے فرمایا، "اے لوگو، اللہ پر توکل کرو اور اس پر بھروسہ کرو۔ اللہ دوسروں کے مقابلے میں تمہارے لیے کافی ہو گا۔" (القرطبی جلد 29، ص 28)۔

اس کے ساتھ ہی مجھے خلیفہ معتصم باللہ کا واقعہ یاد آ گیا۔ معتصم نے ایک مسلمان عورت کی بے ادبی کا بدلہ لینے کے لیے، جس نے وامعتصماہ، کہہ کر اسے پکارا تھا اور رومیوں کی عداوت اور مسلمانوں پر ظلم و تشدد کا بدلہ لینے کے لیے عموریہ پر چڑھائی کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے لشکر کو تیاری اور کوچ کا حکم دے دیا۔ نجومیوں نے حسبِ عادت خلیفہ کے مقرر کردہ وقت پر لشکر کے کوچ کرنے کی مخالفت کی کیوں کہ یہ گھڑی نحس تھی، سعد نہ تھی۔ اس کے حساب سے غیر مناسب تھی۔ مگر خلیفہ نے نجومیوں کی بات کی پرواہ کیے بغیر اسی وقت کوچ کا حکم دیا، لشکر کی قیادت کی اور عموریہ فتح کیا۔ رومیوں کو ذلت آمیز شکست ہوئی۔

مجھے یہ بات پہلے سے معلوم تھی کہ ہمارے مدرسِ تجوید کی اولاد نہیں ہے۔ اس کی بیوی مسلسل زیر علاج ہے۔ میں نے سوچا کہ اگر قاری صاحب کے پیر کو علم غیب ہے تو انہوں نے اسے اس عورت سے شادی کرنے سے کیوں نہیں روکا؟

میں اپنی سوچ سے باہر آئی۔ حاضرین کو دیکھا وہ حیرت زدہ اور گومگو کی کیفیت میں تھیں۔ ایک طرف ان کا علم غیب کے بارے میں قرآن و سنت پر مبنی علم تھا دوسری طرف استاذِ تجوید کا تجربہ اور دعویٰ تھا۔ میں نے اس تذبذب کو ختم کرنے کا فوری فیصلہ کیا۔ ان سے گفتگو شروع کی۔ پہلے میں نے انہیں بتایا کہ میں کیا سوچ رہی تھی۔ میں نے اس نے سوال کیا کہ اس ارشادِ الٰہی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

قُل لاَّ اَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلاَ ضَرًّا اِلاَّ مَا شَاء اللّہُ وَلَوْ كُنتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لاَسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ اِنْ اَنَاْ اِلاَّ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (الاعراف 188:7) -

اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان سے کہو کہ میں اپنی ذات کے لیے کسی نفع اور نقصان کی اختیار نہیں رکھتا، اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے۔ اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لیے حاصل کر لیتا اور مجھے کبھی نقصان نہ پہنچتا۔

تمام خواتین نے بیک زبان جواب دیا، "بے شک اللہ بزرگ و برتر نے سچ فرمایا ہے۔"

ایک خاتون نے کہا، "بعض علم غیب کے دعوے دار کہتے ہیں کہ انہیں غیب کا علم جنات کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔" میں نے اس کی تردید میں‌ یہ آیت پڑھی:

فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْہِ الْمَوْتَ مَا دَلَّھُمْ عَلَى مَوْتِہِ اِلَّا دَابَّۃُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنسَاَتَہُ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ اَن لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمھُِينِ (سبا 14:34) -

پھر جب سلیمان پر ہم نے موت کا فیصلہ نافذ کیا تو جنوں کو اس کی موت کا پتہ دینے والی کوئی چیز اس گھن کے سوا نہ تھی جو اس کے عصا کو کھا رہا تھا۔ اس طرح جب سلیمان گر پڑا تو جنوں پر یہ بات کھل گئی کہ اگر وہ غیب کے جاننے والے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے۔

میں نے عرض کیا کہ جنات غیب دانی کا دعویٰ کرتے تھے مگر اللہ نے ان کا جھوٹ کھول دیا اور انہیں رسوا کر دیا۔ مگر افسوس کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ اب تک جنوں اور دھوکہ بازوں کے ان دعووں کو درست سمجھتے ہیں اور اللہ سبحانہ کے کلام سے چشم پوشی کر لیتے ہیں۔ دیکھیے حضرت سیدنا نوح علیہ السلام اللہ کے نبی و رسول ہیں۔ اس کے باوجود وحی الٰہی کے ماسوا کسی بھی طرح سے معرفتِ غیب کی اپنی ذات سے نفی کرتے ہیں،

وَلاَ اَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَآئِنُ اللّہِ وَلاَ اَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلاَ اَقُولُ اِنِّي مَلَكٌ (ہود 31:11)-

اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں، نہ یہ میرا دعوی ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔

میں نے حاضرین کے چہروں پر سکون و اطمینان محسوس کیا، اس لیے کہ آیاتِ الٰہی اس قدر واضح و قاطع ہیں کہ ان میں شک و شبہ کی گنجایش ہی نہیں۔

قرات و تجوید کے مدرس جب اگلے درس میں تشریف لائے اور دورانِ درس حسب معمول حکایات و واقعات اور قصے بیان کرنے شروع کیے تو کسی نے بھی ان کی باتوں کو توجہ سے نہ سنا۔ خواتین کو اگر استاد کا احترام ملحوظ نہ ہوتا تو شاید قاری صاحب کو ذلت کا سامنا کرنا پڑتا۔ قاری صاحب جب تشریف لے گئے تو تمام خواتین نے سخت بیزاری کا اظہار کیا اور درخواست کی کہ انہیں اس امر کا پابند کر دیا جائے کہ وہ آئندہ اس قسم کے خلافِ قرآن واقعات بیان نہ کریں، نہ ہی اپنے انتہا پسندانہ نظریات کا پرچار کریں۔ میں نے اس موقعے سے فائدہ اٹھا کر یہ اعلان کر دیا کہ آئندہ ہمارے عمل کے لیے یہ آیت ہو گی،

عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْھِرُ عَلَى غَيْبِۃِ اَحَدًا (الجن 26:72) -

وہ عالم الغیب ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔

تمام حاضرین نے میری بھرپور تائید کی۔ ایک خاتون نے کہا، "ہو سکتا ہے کہ یہ قاری صاحب اور اس قماش کے دیگر لوگ اپنے دعووں کو حقیقت سمجھتے ہوں۔" ایک اور خاتون بولیں، "میں نے سنا ہے کہ کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ فرشتوں کو دیکھتے اور ان سے بات چیت کرتے ہیں۔ کئی تو اس حد تک جسارت کرتے ہیں کہ عرشِ الٰہی کو دیکھنے کا تصور کرتے ہیں۔"

تمام خواتین نے مدرسِ تجوید کے خیالات سے بحیثیت مجموعی اظہار بیزاری کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ہم آئندہ قاری موصوف کی خدمات سے استفادہ نہیں کریں گی۔ بلاشبہ وہ اپنے فن کے ماہر ہیں مگر علم کسی خاص شخص یا طبقے تک محدود نہیں۔ چنانچہ آئندہ درس میں قرات و تجوید سکھلانے کے لیے ایک ایسی خاتون تشریف لائیں جو اس فن میں ماہر تھیں۔


اولاد کے لیے دُعا

اللہ کے فضل و کرم سے مجھے کئے کالجوں اور مختلف زبانیں سکھانے والے اداروں میں قرآن کریم کی آیات پر عملی شکل دینے کے موضوع پر لیکچر اور دروسِ قرآن کا موقعہ ملا۔ طالبات اور معلمات کی ایک اچھی خاصی تعداد نے مثبت ردِ عمل ظاہر کیا۔ ان دروس کی برکت سے طالبات و معلمات کے مابین قریبی تعلقات قائم ہوئے۔ تعلیمی مصروفیات بھی اس تعلقِ قلبی میں حائل نہ ہو سکیں۔ حتیٰ کہ طالبات جب تعلیم سے فارغ ہو کر عملی زندگی میں آئیں تو بھی یہ تعلقات بحال رہے۔ کئی ایک نے شادی کے بعد بھی ان تعلقات کو برقرار رکھا۔

میری ایک طالبہ کو شادی کے بعد ایک بڑے نفسیاتی خلفشار سے دو چار ہونا پڑا۔ شادی ہوئے پانچ برس بیت چکے تھے مگر وہ اب تک اولاد کی نعمت سے محروم تھی۔ اس کا خاوند اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اس لیے اس کے سسر اور ساس اور دیگر قریبی رشتہ دار ہمیشہ اولاد کا ذکر حسرت سے کرتے۔ ان کے چہروں پر گویا یہ مطالبہ تحریر تھا کہ ان کی بہو کے ہاں اولاد ہونی چاہیے۔ اولاد کا نہ ہونا اس کا سب سے بڑا دکھ تھا۔ یہی اس کی فکر کا محور تھا۔ ایک دن تو اس کے ساس سسر نے زبان سے برملا کہہ دیا کہ اگر اس کے ہاں اولاد نہ ہوئی تو ان کی نسل نہ چلے گی اور وہ گوشہ گمنامی میں‌ جا پڑیں گے۔ دونوں نے اپنی بہو سے مشاہرۃ کا مطالبہ کیا۔

اسے ابتدا میں تو کچھ سمجھ نہ آیا کہ اسے کیا کرنا ہے؟ مشاہرۃ کیا چیز ہے؟ یہ عمل حلال ہے یا حرام؟ بالآخر وہ میرے پاس آئی تو میں نے اسے بتایا کہ یہ مشاہرۃ ایک قسم کا ٹونا ٹوٹکا ہے۔ اس کے کئے طریقے ہیں۔ عوام سمجھتے ہیں کہ جب خاص حالات میں کوئی عورت بانجھ ہو جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسے کوئی بانجھ عورت ملنے کے لیے آئی تھی جس کی نحوست کی وجہ سے وہ بھی بچے جننے کی صلاحیت سے محروم ہو گئی ہے۔ بانجھ پن دور کرنے کا ایک ٹوٹکا یہ ہے کہ شوہر اور عورت کو خاص قسم کی سبزیاں اور ترکاریاں دی جاتی ہیں۔ اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ایک مخصوص ہیئت پر جسے توہم پرست لوگ متعین کرتے ہیں اپنی بانجھ بیوی کے پاس جاتا ہے۔ غرض یہ کہ اس قسم کے طریقے اختیار کرنے کو عرب عوام مشاہرۃ کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کی تائید میں‌ کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ میں نے اس خاتون کو بتایا کہ آپ سے جس چیز کا مطالبہ کیا جا رہا ہے یہ محض خرافات ہے۔ یہ سب جھوٹ اور باطل ہے۔ شیطان اسے لوگوں کے سامنے خوش نما بنا کر پیش کرتا ہے۔ افسوس کہ اس قسم کی خرافات عام لوگوں کے عقائد کا جز بن چکی ہیں۔

میری یہ بات سن کر اولاد کی متمنی میری یہ طالبہ رونے لگی اور ذرا سنبھلی تو کہا، "آپ جانتی ہیں کہ مجھے ماں بننے کی شدید خواہش ہے۔ اگر میں ان لوگوں کی بات مان لوں تو بھی میرا کچھ نقصان نہ ہو گا۔ اب تو میری یہ حالت ہے جیسے میں رات کے وقت قبرستان میں چل رہی ہوں یا۔۔۔" میں نے اس کی بات کاٹ کر اسے دلاسہ اور تشفی دیتے ہوئے کہا، "آپ یہ مت کہیں کہ آپ کا نقصان نہ ہو گا۔ آپ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو گا کہ آپ حق پر ثابت قدمی ترک کر کے باطل کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گی۔ نجات کی امید پر ہلاکت کا راستہ اختیار کرنا کہاں کی دانش مندی ہے؟ میری عزیزہ، امید صرف اللہ یکتا و واحد سے رکھو۔ صرف اور صرف اللہ ہی اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کی تمنا پوری کرئے۔ غیر اللہ سے یہ امید رکھنا سراسر نادانی اور عدم توکل کی نشانی ہے۔

پھر آپ جو کچھ گھر والوں کے کہنے پر کرنے جا رہی ہیں، یہ علاج بھی تو نہیں ہے بلکہ آزمائش ہے۔ اس آزمائش کے ذریعے اللہ آپ کے ایمان بالحق کو جانچنا چاہتا ہے۔ آپ کے اخلاص کو دیکھنا چاہتا ہے۔ کیا آپ صرف اللہ دعا کرتی ہیں یا کسی اور سے بھی۔ اللہ سبحانہ اس کا جائزہ لینا چاہتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھیئے کہ اللہ عالم الغیب ہے۔ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ اس ابتلا، آزمائش اور جانچ کا مقصد و منشا یہ ہے کہ آپ کو خوبیوں اور خامیوں کو آپ پر واضح کر دیا جائے تاکہ آپ کو اپنی اصل حیثیت معلوم ہو،

ھُوَ الْحَيُّ لَا اِلَاَ اِلَّا ھُوَ فَادْعُوہُ مُخْلِصِينَ لَہُ الدِّينَ الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (المومن 65:40) -

وہی زندہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کو تم پکارو اپنے دین کو اس کے لیے خالص کر کے۔ ساری تعریف اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔

آپ کو قرآن کریم اور سنت مطہرہ کے مطابق عقیدہ رکھنا ہے اور اسی کے مطابق چلنا ہے۔ اللہ ہی کو پکارنا ہے۔ ارشادِ رب العزت ہے

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المومن 60:40) -

تمہارا رب کہتا ہے، مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔

صرف اللہ ہی دعا سنتا ہے اور اسے قبول فرماتا ہے۔ میری بیٹی، ان آیات کے مطابق چلو، انہیں یاد رکھو، ان کے مضمون و مدعا کو ہمیشہ نظروں کے سامنے رکھو حتی کہ ان آیات کا مفہوم و مقصود تمارے قلب و دماغ میں رچ بس ہو جائے۔ ان آیات سے تمہاری زبان تر رہے۔ پھر تم اس مقام پر پہنچ جاؤ کہ ایسے یقین سے سرشار ہو جاؤ کہ اللہ ہی تمہاری آرزو پوری کر سکنے پر قادر ہے۔ اس کی قدرت ہمارے تصور سے بلند تر و بالا ہے۔


اس کے بعد میں نے اسے مزید سمجھاتے ہوئے کہا۔ شاید آپ ہمارے حلقہ ہائے درس میں طے شدہ طریق کار کو فراموش کر چکی ہیں۔ ہم نے یہ طے کیا تھا کہ ہم کتاب اللہ اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے مطابق عملی زندگی گزاریں گے۔ قرآن و سنت پر ہمارا عمل حقیقی اور زندہ ہو گا۔ قرآن کریم کو سمجھنا اور پھر اس پر عمل کرنا، یہی تو ہمارے درسِ قرآن کی امتیازی خصوصیت ہے۔ اب ہمارا فرض ہے کہ ہمارے حلقہ درس قرآن کی تمام خواتین دعا کے سلسلے میں قرآنی آیات پر عمل کریں۔ آپ بھی اسی دعا کے طریقے کو اختیار کریں۔ ٹونے ٹوٹکے آپ کے لیے نقصان دہ ہیں۔ دنیا و آخرت کی بہتری اور منفعت صرف آیاتِ قرآن پر عمل کرنے میں مضمر ہے۔ آپ اس ارشاد الٰہی کے مطابق چلیں،

وَاسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَۃِ وَاِنَّھَا لَكَبِيرَۃٌ اِلاَّ عَلَى الْخَاشِعِينَ ہ الَّذِينَ يَظُنُّونَ اَنَّھُم مُّلاَقُو رَبّھِِمْ وَاَنَّھُمْ اِلَيْہِ رَاجِعُونَ (البقرۃ 45:2-46) -

صبر اور نماز سے مدد لو، بے شک نماز ایک سخت مشکل کام ہے۔ مگر ان فرماں بردار بندوں کے لیے مشکل نہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔

يَا اَيّھَاَ الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَۃِ اِنَّ اللّہَ مَعَ الصَّابِرِينَ (البقرۃ 153:2) -

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، صبر اور نماز سے مدد لو۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

آپ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ارشاد مبارک پر عمل کرنا ہو گا۔

اقرب ما یکون العبد من ھو ساجد فاکثرو الدعآء (مسلم شریف) -

سجدے کی حالت میں بندہ اپنے پروردگار کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ پس دعا زیادہ کیا کرو۔

لہٰذا جب آپ سجدہ کریں تو انتہائی عاجزی، انکساری اور گڑگڑا کر فریاد کریں۔ اس نے قبول کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ آپ ادھر ادھر جانے کی بجائے اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہوں۔ کسی اور کے در پر جانے کے بجائے اپنے گھر میں رہ کر اپنے مولیٰ سے ملیں۔ رات کی آخری تہائی میں بیدار ہو کر اللہ سے مناجات کریں۔ بخاری شریف میں ہے "ہمارا پروردگار تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمانِ دنیا پر نزول اجلال فرماتا ہے۔ جب رات کا ایک تہائی باقی رہ جاتا ہے۔ اس وقت وہ فرماتا ہے، "کون ہے جو مجھے پکارے کہ میں اس کی پکار کو قبول کروں؟ کون ہے مجھ سے مانگنے والا کہ میں اس کا مطالبہ پورا کروں؟ کون ہے جو مجھے سے مغفرت مانگے تاکہ میں اسے معاف کروں۔"

میری پیاری بیٹی، آپ ان مبارک لمحوں میں کہاں ہوتی ہیں؟ اگر واقعی آپ یہ چاہتی ہیں کہ اللہ آپ کی آرزو پوری کرے تو پھر اپنے دل سے شکوک و شبہات کے کانٹے نکال کر پھینک دیجیئے۔ آپ کو اللہ کی قدرت میں ذرہ برابر بھی شک نہ ہونا چاہیے۔ آپ جس بیٹے کے لیے ترس رہی ہیں، اللہ کے لیے عطا کرنا کچھ مشکل نہیں۔ آپ کو چاہیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی ہدایات کے مطابق کثرت سے استغفار اور تسبیح کریں۔ اپنے خاوند، اپنے والدین، اپنے قریبی عزیزوں، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ اور زیادہ حسن سلوک کریں۔ یاد رکھیئے اللہ آپ کے بہت ہی قریب ہے۔ آپ اس کے ساتھ رہیں۔ اللہ کے ماسوا کسی اور کی طرف مائل نہ ہوں۔ اس ارشاد الٰہی کہ ہمیشہ سامنے رکھیئے،

وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَاِنِّي قَرِيبٌ اُجِيبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُواْ لِي وَلْيُؤْمِنُواْ بِي لَعَلَّھُمْ يَرْشُدُونَ (البقرۃ 186:2) -

اور اے نبی صلی اللہ علی و سلم، میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں تو انہیں بتا دو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے، میں اس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں۔ لہٰذا انہیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں۔ (یہ بات تم انہیں سنا دو) شاید کہ وہ راہِ راست پا لیں۔

یہ ہیں اللہ کے ارشادات اور یہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ہدایات۔ انہیں میں دنیا و آخرت کی سعادت ہے۔ اب آپ بتائیے کہ آپ کب اللہ کی پیش کش کو قبول کر رہی ہیں اور اس پر کب سے عمل شروع کر رہی ہیں؟

پریشان حال خاتون وعدہ کر کے چلی گئی۔ دن گزرتے گئے۔ دو ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا تھا کہ ٹیلیفون کال آئی۔ میں نے سنا تو یہی خاتون تھی۔ مگر اب کی بار اس کی آواز می خوشی و مسرت تھی، جوش تھا۔ وہ کہہ رہی تھی، "جب اللہ عظیم کیس ذلیل و محتاج و حقیر بندے پر کرم کرتا ہے تو اسے بڑی آسانی اور سہولت کے ساتھ وہ کچھ عطا فرما دیتا ہے جس کے حاصل کرنے سے یہ بندہ عاجز و ناتواں ہو چکا ہوتا ہے۔ وہ اس حصول میں مال اور وقت ضائع کر چکا ہوتا ہے۔ اللہ سبحانہ اس کی مراد اتنی آسانی سے پوری کر دیتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے کہ یہ بندہ اللہ سبحانہ کی قدرتِ کاملہ کے سامنے کتنا بے بس و ناتواں ہے۔"


میں نے دریافت کیا، "آپ کس کے بارے میں بات کر رہی ہیں؟"

اس نے کہا، "میں حمل سے ہوں۔ جی ہاں اللہ نے مجھے دکھ کے بعد سکھ دیا ہے اور حزن و غم کے بعد خوشی و مسرت سے نوازا ہے۔ لیبارٹری رپورٹ میرے سامنے ہے جو مثبت (positive) ہے۔"

میں نے کہا، "جی ہاں، یہ سب اللہ سبحانہ کا کرم و انعام ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنا وعدہ پورا کیا اور پورے خلوص سے اللہ کے حضور دعا کی۔"

اس نے بتایا، "میں گزشتہ پانچ برسوں میں نامی گرامی معروف ڈاکٹروں کے پاس جا چکی ہوں۔ مرد ڈاکٹروں اور خاتوں ڈاکٹروں کے پاس۔ میں اپنے پروردگار سے ان پانچ برسوں میں دعا کرتی رہی ہوں مگر یہ دیا رسمی تھی۔ ہم نے دعاؤں کے الفاظ رٹے ہوئے ہیں۔ مثلاً ہمارا رب دیتا ہے، ہمارا رب آسانیاں فراہم کرتا ہے۔ ہمارا رب کریم ہے وغیرہ وغیرہ۔" اس قسم کے دعائیہ جملے میرے منہ سے نکلتے تھے مگر ان جملوں کا کوئی اثر میرے دل و دماغ پر نہیں پڑتا تھا۔ میرا جسم، میری روح، میری عقل ان جملوں کا کوئی اثر محسوس نہیں کرتی تھی۔ زبان پر تو دعائیں رہتیں مگر میرا دل دنیا سے متعلق تھا۔ قلت و لسان میں ہم آہنگی نہ تھی۔

جب اللہ رحمان کی رحمت نے مجھے ڈھانپ لیا تو زبان سے پہلے میرے دل نے آیاتِ قرآنی کے اثر کو محسوس کرنا شروع کیا۔ مجھے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا میں نے یہ آیت پہلے بار سنی ہو،

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المومن 60:40)۔

مجھے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے میرے جسم کا رواں رواں ہر لمحہ اللہ کو پکارتا ہے۔ مجھے اس وقت محسوس ہوا صرف کہ کانوں سے قرآن سننے اور قرآن سمجھنے، محسوس کرنے اور اس پر عمل کرنے میں کتنا فرق ہے۔ اللہ سبحانہ نے اپنی عظیم اور مبارک آیتیں نازل فرما کر مجھ پر کتنا کرم کیا ہے۔

میں باقاعدگی کے ساتھ تہجد کی نماز پڑھنے لگی۔ تہجد کی نماز ایک گھنا سایہ دار باغ ہے۔ تہجد کی مبارک ساعتوں میں ہی مجھے اللہ کے وجود، اس کے قرب، اس کی قدرت، اس کی قوت، اس کی ہمہ گیری اور ہر چیز پر اس کے تسلط کا احساس ہوا۔ یہ احساس جتنا تہجد کے وقت قوی ہوتا تھا کسی اور وقت نہیں۔ مجھے مکمل سکون و اطمینان مل گیا۔ میں جب آسمانوں اور زمیں کے پروردگار کے سامنے، مشرقوں اور مغربوں کے پروردگار کے حضور، واحد، قادر، غالب، عطا کرنے والے کے روبرو کھڑی ہوتی تھی تو مجھے اپنے پورے وجود میں سکون و اطمینان کی لہر سی دوڑتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔

ادھر اللہ سبحانہ نے میرے لیے ایک نشانی مقرر کرنے کا ارادہ فرما لیا۔ مجھے کچھ ایسا ہی احساس ہوا۔ ہم اپنی ساس سے ملنے گئے تو انہوں نے کہا کہ میں نے ایک عجیب و غریب خواب دیکھا ہے۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے سامنے ایک شال پڑی ہے۔ ایک آواز آئی کہ یہ شال منیٰ کو دے دینا کہ اس نے مشاہرۃ (ٹونے ٹوٹکے) سے انکار کیا تھا۔

میں نے اپنی ساس کے منہ سے جب یہ خواب سنا تو مجھے اپنے پورے جسم میں مسرت کا احساس ہوا۔ یہ گویا میرے لیے میری ساس کی زبانی ایک بشارت و خوش خبری تھی۔ یہی وہ خاتون تھیں جنہوں نے ٹونے ٹوٹکے کے لیے مجھ پر بے حد دباؤ ڈالا تھا اور بہت زیادہ اصرار کیا تھا جب کہ میری طرف سے انکار ہی تھا تو اللہ سبحانہ نے مجھے اس کا انعام دیا۔ اللہ نے میرے اس عمل کو شرفِ قبولیت سے نوازا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا، کیا اللہ نے میری دعا، آرزو اور التجا کو سن نہیں لیا؟ اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ اس نے مجھ پر کتنا کرم کیا ہے۔ کس شان سے اور کس طریقہ سے مجھے نوازا ہے؟

جب ہم میاں بیوی واپس آ رہے تھے، یعنی میرا خاوند اپنی والدہ اور میں اپنی ساس سے مل کر اپنے گھر کی طرف جا رہے تھے تو میں نے خاوند سے کہا، آپ کی امی نے ایک خواب بیان کیا ہے۔ کیوں نہ ہم لیبارٹری سے ٹیسٹ کرواتے چلیں۔ اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔ اس حیرت میں شفقت و محبت بھی شامل تھی۔ اس سے پہلے میں بیسیوں بار ٹیسٹ کروا چکی تھی اور ہر بار نتیجہ منفی (negative) ہوتا تھا۔ مگر آج اپنی ساس کا خواب سننے کے بعد مجھے یقین سا ہو چکا تھا کہ میں حمل سے ہوں۔ میں نے خاوند پر لیبارٹری جانے کے لیے زور دیا۔ میں نے لیبارٹری میں ٹھہر کر رپورٹ کا انتظار انتہائی بے تابی سے کیا۔ یہ لمحے صدیوں کی طرح طویل تھے۔ لیبارٹری کے کارکن نے جب میرا نام لے کر رزلٹ سنایا تو مجھے ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے میرے دل کی دھڑکن ہر کوئی سن رہا ہے۔ میرا دل سکون، اطمینان اور رضا سے معمور تھا۔ میں طمانیت کی بلند فضا میں محو پرواز تھی۔ مجھے ایسے سنائی دیا جیسے میرا خاوند کہہ رہا ہے، "کیا آپ کو یقین ہے کہ یہ رپورٹ ہماری ہی ہے؟ کیا یہ رپورٹ واقعی میری بیوی کی ہے؟ کیا واقعی نتیجہ "پازیٹو" ہے؟"

میرا دل بارگاہ رب العزت کی پناہ میں جھُک رہا تھا۔ میرے جسم نے میرے دل کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کی۔ میں فوراً سجدے میں گر پڑی، عاجزی و انکساری کے ساتھ، ربِ رحیم کا شکر ادا کرنے کے لیے۔

میں چاہتی تھی کہ میں سجدے سے اُٹھ کر تمام لوگوں سے بات کروں۔ میں ہر طبقے اور ہر سطح کے لوگوں سے خطاب کروں۔ میں ہر انسان سے ملوں اور چیخ چیخ کر پکار پکار کر کہوں، "آؤ، اللہ کی قدرت دیکھو۔ اللہ کی قدرت کا نظارہ کرنا ہو تو مجھے دیکھو، قدرت الٰہی نے میرے وجود میں ایک اور وجود ڈال دیا ہے۔ مجھے یہ وجود اللہ کے سوا کوئی اور نہ دے سکتا تھا۔ میرے بدن و روح کے مالک نے مجھے کتنے کرم سے نوازا ہے۔ سبحان اللہِ العظیم۔

بلا شبہ قرآن عظیم کی آیات اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیث نے ہی مجھے صراطِ مستقیم پر قائم رکھا ہے۔


قرآن کے مطابق زندگی

از خرم مراد

قرآن کی پیروی

اگر آپ پہلے ہی لمحے سے اس خدا کے آگے کامل سپردگی میں اپنے اندر تبدیلی لانا اور اپنی زندگی کی تعمیر نو کرنا شروع نہ کر دیں جس نے آپ کو قرآن دیا ہے تو قرآن پڑھنے سے آپ کو بہت تھوڑا فائدہ ہو گا، آپ کے حصے میں نقصان اور پریشانی تھی آ سکتی ہے۔ اگر عمل کے لیے قوتِ ارادی اور کوشش نہ ہو تو قلب کی کیفیات، روح کی وجد آفرینی اور علم میں اضافے سے آپ کو کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ اگر قرآن آپ کے اعمال پر کوئی اثر نہ ڈالے اور آپ اس کے احکامات کی اطاعت نہ کریں اور جو وہ منع کرتا ہے، اس سے نہ رکیں تو پھر سمجھ لیجیئے آپ قرآن کے قریب نہیں ہو رہے۔

قرآن کے ہر صفحے پر سر تسلیم خم کرنے، اطاعت کرنے، عمل کرنے اور تبدیلی لانے کی دعوت ہے۔ جو اس کے حکم تسلیم نہ کریں، انہیں کافر، ظالم اور فاسق کہا گہا ہے (المائدہ 44:5-47)۔ جن لوگوں کو اللہ کی کتاب دی گئی ہے لیکن وہ نہ اس کو سمجھتے ہیں نہ اس پر عمل کرتے ہیں، انہیں ایسے گدھے قرار دیا گیا جو بوجھ لادے ہوئے ہیں مگر جو کچھ لادے ہوئے ہیں، نہ اس کو جانتے ہیں نہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں (الجمعۃ 5:62)۔

یہ وہ لوگ ہیں جن کے خلاف اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قیامت کے روز فریاد کریں گے، "اے میرے رب، میری قوم نے اس قرآن کو پس انداز کردہ چیز بنا لیا تھا" (الفرقان 30:25)۔

قرآن کو ترک کر دینا، ایک طرف رکھ دینا اس کا مطلب ہے اس کو نہ پڑھنا، نہ سمجھنا، نہ اس کے مطابق زندگی گزارنا۔ اس کو ایک قصہ پارینہ سمجھنا جس کا اب کوئی کام نہیں رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن کی پیروی پر زور دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

"میری امت کے بہت سے منافق قرآن پڑھنے والوں میں سے ہوں گے۔" (احمد)

"وہ شخص قرآن کا سچا ماننے والا نہیں ہے جو اس کے حرام کیئے ہوئے کو حلال سمجھتا ہے۔" (ترمذی)

"قرآن کی تلاوت کرو تا کہ تم جو کچھ وہ منع کرتا ہے، اس سے رک سکو، اگر یہ تمہیں اس قابل نہ بنائے کہ تم رک جاؤ تو تم نے اس کی حقیقی معنوں میں تلاوت نہیں کی ہے۔" (طبرانی)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے لیے قرآن سیکھنے کا مطلب، اس کو پڑھنا، اس پر غور و فکر کرنا اور اس پر عمل کرنا ہوتا تھا۔ روایت ہے کہ:

"جو لوگ قرآن پڑھنے میں مشغول تھے، بتاتے ہیں کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جیسے لوگ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے دس آیات سیکھ لیتے تھے تو جب تک ان آیات میں علم اور عمل کے حوالے سے جو کچھ ہوتا تھا، اسے واقعی نہیں سیکھ لیتے تھے، آگے نہیں بڑھتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ انہوں نے قرآن اور علم ایک ساتھ سیکھا ہے۔ اس طرح بعض وقت وہ صرف ایک سورت سیکھنے میں کئی برس صرف کرتے تھے۔" (سیوطی: الاتقان فی علوم القران)۔

حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں، "تم نے رات کو اونٹ سمجھ لیا ہے جس پر تم قرآن کے مختلف مراحل سے گزرنے کے لیے سواری کرتے ہو۔ تم سے پہلے والے لوگ اسے اپنے مالک کے پیغامات سمجھتے تھے۔ رات کو اس پر غور و فکر کرتے تھے اور دن اس کے مطابق گزارتے تھے۔" (احیاء العلوم)

قرآن کے مطالعے سے آپ کے دل میں ایمان پیدا ہوتا چاہیے۔ اس ایمان کے مطابق آپ کی زندگی کو ڈھلنا چاہیے۔ یہ کوئی تدریجی مرحلہ وار عمل نہیں ہے جس میں آپ پہلے کئی برس قرآن پڑھنے میں، پھر اسے سمجھنے میں، پھر ایمان مضبوط کرنے میں صرف کریں۔ اور پھر اس کے بعد اس پر عمل کریں۔ جب آپ کلامِ الٰہی سنتے ہیں یا تلاوت کرتے ہیں تو آپ کے اندر ایمان کی چنگاری روشن ہو جاتی ہے۔ جب اندر ایمان داخل ہو جاتا ہے، تو آپ کی زندگی بدلنی شروع ہو جاتی ہے۔ جو بات آپ کو یاد رکھنی چاہیے وہ یہ کہ قرآن کے مطابق زندگی گزارنے کا سب سے زیادہ بنیادی تقاضا یہ ہے کہ آپ ایک بڑا فیصلہ کریں۔ دوسرے جو کچھ بھی کر رہے ہوں، معاشرے کے مطالبات کچھ بھی ہوں، آپ کے آس پاس کوئی بھی افکار غالب ہوں، آپ کو اپنی زندگی کا راستہ مکمل طور پر تبدیل کرنا ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ عظیم قربانیاں چاہتا ہے۔ لیکن اگر آپ قرآن کو خدا کا کلام تسلیم کر کے اس پر ایمان لا کر چھلانگ لگانے کو تیار نہ ہوں تو آپ جو وقت قرآن کے ساتھ صرف کر رہے ہیں، اس کا کوئی اچھا نتیجہ سامنے نہیں آئے گا۔

پہلے قدم پر، پہلے ہی لمحے یہ بالکل واضح کر دیا گیا ہے کہ قرآن صرف ان لوگوں کے لیے ہدایت ہے جو خدا کی مرضی کے خلاف زندگی گزارنے کے نقصانات اور اس کی ناراضی مول لینے سے بچنے کے لیے عمل کرنے کو تیار ہیں اور جو نتائج رکھتے ہیں، یہی متقی ہیں۔ (البقرۃ 1:2-5)ِ

قرآن علم اور عمل کے درمیان اور ایمان اور عمل صالح کے درمیان کوئی دوری اور فاصلہ تسلیم نہیں کرتا۔