اردو ویب ڈیجیٹل لائبریری
×

اطلاع

فی الحال کتابیں محض آن لائن پڑھنے کے لئے دستیاب ہیں. ڈاؤن لوڈ کے قابل کتابوں کی فارمیٹنگ کا کام جاری ہے.

اردو ادب کے مشہور افسانے


مؤلف حسن علی، قادر بخش
پبلشر کتاب گھر ڈاٹ کام
تعداد الفاظ 152080
تعداد منفرد الفاظ 12255
مناظر 87797
ڈاؤنلوڈ 0
اردو ادب سے مشہور و منتخب شدہ افسانے

آخری آدمی

(انتظار حسین)

الیاس اس قریے میں آخری آدمی تھا۔ اس نے عہد کیا تھا کہ معبود کی سوگند میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا ہوں اور میں آدمی ہی کی جون میں مروں گا۔ اور اس نے آدمی کی جون میں رہنے کی آخر دم تک کوشش کی۔

اور اس قریے سے تین دن پہلے بندر غائب ہو گئے تھے۔ لوگ پہلے حیران ہوئے اور پھر خوشی منائی کہ بندر جو فصلیں برباد اور باغ خراب کرتے تھے نابود ہو گئے۔ پر اس شخص نے جو انہیں سبت کے دن مچھلیوں کے شکار سے منع کیا کرتا تھا یہ کہا کہ بندر تو تمہارے درمیان موجود ہیں مگر یہ کہ تم دیکھتے نہیں۔ لوگوں نے اس کا برا مانا اور کہا کہ کیا تو ہم سے ٹھٹھا کرتا ہے اور اس نے کہا کہ بے شک ٹھٹھا تم نے خدا سے کیا کہ اس نے سبت کے دن مچھلیوں کے شکار سے منع کیا اور تم نے سبت کے دن مچھلیوں کا شکار کیا اور جان لو کہ وہ تم سے بڑا ٹھٹھا کرنے والا ہے۔

اس کے تیسرے دن یوں ہوا کہ الیعذر کی لونڈی گجر وم الیعذر کی خواب گاہ میں داخل ہوئی اور سہمی ہوئی الیعذر کی جورو کے پاس الٹے پاؤں آئی۔ پھر الیعذر کی جورو خواب گاہ تک گئی اور حیران و پریشان واپس آئی۔ پھر یہ خبر دور دور تک پھیل گئی اور دور دور سے لوگ الیعذر کے گھر آئے اور اس کی خواب گاہ تک جا کر ٹھٹھک ٹھٹھک گئے کہ الیعذر کی خواب گاہ میں الیعذر کی بجائے ایک بڑا بندر آرام کرتا تھا اور الیعذر نے پچھلے سبت کے دن سب سے زیادہ مچھلیاں پکڑی تھیں۔

پھر یوں ہوا کہ ایک نے دوسرے کو خبر دی کہ اے عزیز الیعذر بندر بن گیا ہے۔ اس پر دوسرا زور سے ہنسا۔ "تو نے مجھ سے ٹھٹھا کیا۔" اور وہ ہنستا چلا گیا، حتٰی کہ منہ اس کا سرخ پڑ گیا اور دانت نکل آئے اور چہرے کے خد و خال کھینچتے چلے گئے اور وہ بندر بن گیا۔ تب پہلا کمال حیران ہوا۔ منہ اس کا کھلا کا کھلا رہ گیا اور آنکھیں حیرت سے پھیلتی چلی گئیں اور پھر وہ بھی بندر بن گیا۔

اور الیاب ابن زبلون کو دیکھ کر ڈرا اور یوں بولا کہ اے زبلون کے بیٹے تجھے کیا ہوا ہے کہ تیرا چہرا بگڑ گیا ہے۔ ابن زبلون نے اس بات کا برا مانا اور غصے سے دانت کچکچانے لگا۔ تب الیاب مزید ڈرا اور چلا کر بولا کہ اے زبلون کے بیٹے! تیری ماں تیرے سوگ میں بیٹھے، ضرور تجھے کچھ ہو گیا ہے۔ اس پر ابن زبلون کا منہ غصے سے لال ہو گیا اور دانت کھینچ کر الیاب پر جھپٹا۔ تب الیاب پر خوف سے لرزہ طاری ہوا اور ابن زبلون کا چہرہ غصے سے اور الیاب کا چہرہ خوف سے بگڑتا چلا گیا۔ ابن زبلون غصے سے آپے سے باہر ہوا اور الیاب خوف سے اپنے آپ میں سکڑتا چلا گیا اور وہ دونوں کہ ایک مجسم غصہ اور ایک خوف کی پوت تھے آپس میں گتھ گئے۔ ان کے چہرے بگڑتے چلے گئے۔ پھر ان کے اعضا بگڑے۔ پھر ان کی آوازیں بگڑیں کہ الفاظ آپس میں مدغم ہوتے چلے گئے اور غیر ملفوظ آوازیں بن گئے۔ پھر وہ غیر ملفوظ آوازیں وحشیانہ چیخ بن گئیں اور پھر وہ بندر بن گئے۔

الیاسف نے کہ ان سب میں عقل مند تھا اور سب سے آخر تک آدمی بنا رہا۔ تشویش سے کہا کہ اے لوگو! ضرور ہمیں کچھ ہو گیا ہے۔ آؤ ہم اس شخص سے رجوع کریں جو ہمیں سبت کے دن مچھلیاں پکڑنے سے منع کرتا ہے۔ پھر الیاس لوگوں کو ہمراہ لے کر اس شخص کے گھر گیا۔ اور حلقہ زن ہو کے دیر تک پکارا کیا۔ تب وہ وہاں سے مایوس پھرا اور بڑی آواز سے بولا کہ اے لوگو! وہ شخص جو ہمیں سبت کے دن مچھلیاں پکڑنے سے منع کیا کرتا تھا آج ہمیں چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ اور اگر سوچو تو اس میں ہمارے لئے خرابی ہے۔ لوگوں نے یہ سنا اور دہل گئے۔ ایک بڑے خوف نے انہیں آ لیا۔

دہشت سے صورتیں ان کی چپٹی ہونے لگیں۔ اور خد و خال مسخ ہو تے چلے گئے۔ اور الیاسف نے گھوم کر دیکھا اور بندروں کے سوا کسی کونہ پایا۔ جاننا چاہئے کہ وہ بستی ایک بستی تھی۔ سمندر کے کنارے۔اونچے برجوں اور بڑے دروازوں والی حویلیوں کی بستی، بازاروں میں کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔ کٹورا بجتا تھا۔ پر دم کے دم میں بازار ویران اور اونچی ڈیوڑھیاں سونی ہو گئیں۔ اور اونچے برجوں میں عالی شان چھتوں پر بندر ہی بندر نظر آنے لگے اور الیاسف نے ہر اس سے چاروں سمت نظر دوڑائی اور سوچا کہ میں اکیلا آدمی ہوں اور اس خیال سے وہ ایسا ڈرا کہ اس کا خون جمنے لگا۔ مگر اسے الیاب یاد آیا کہ خوف سے کس طرح اس کی صورت بگڑتی چلی گئی اور وہ بندر بن گیا۔ تب الیاسف نے اپنے خوف پر غلبہ پا یا اور عزم باندھا کہ معبود کی سوگند میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا ہوں اور آدمی ہی کی جون میں مروں گا اور اس نے ایک احساسِ برتری کے ساتھ اپنے مسخ صورت ہم جنسوں کو دیکھا اور کہا۔ تحقیق میں ان میں سے نہیں ہوں کہ وہ بندر ہیں اور میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا۔ اور الیاسف نے اپنے ہم جنسوں سے نفرت کی۔ اس نے ان کی لال بھبوکا صورتوں اور بالوں سے ڈھکے ہوئے جسموں کو دیکھا اور نفرت سے چہرہ اس کا بگڑنے لگا مگر اسے اچانک زبان کا خیال آیا کہ نفرت کی شدت سے صورت اس کی مسخ ہو گئی تھی۔ اس نے کہا کہ الیاسف نفرت مت کر کہ نفرت سے آدمی کی کایا بدل جاتی ہے اور الیاسف نے نفرت سے کنارہ کیا۔


الیاسف نے نفرت سے کنارہ کیا اور کہا کہ بے شک میں انہی میں سے تھا اور اس نے وہ دن یاد کئے جب وہ ان میں سے تھا اور دل اس کا محبت کے جوش سے منڈنے لگا۔ اسے بنت الاخضر کی یاد آئی کہ فرعون کے رتھ کی دودھیا گھوڑیوں میں سے ایک گھوڑی کی مانند تھی۔ اور اس کے بڑے گھر کے در سرو کے اور کڑیاں صنوبر کی تھیں۔ اس یاد کے ساتھ الیاسف کو بیتے دن یاد آ گئے کہ وہ سرو کے دروں اور صنوبر کی کڑیوں والے مکان میں عقب سے گیا تھا اور چھپر کھٹ کے لئے اسے ٹٹولا جس کے لئے اس کا جی چاہتا تھا اور اس نے دیکھا لمبے بال اس کی رات کی بوندوں سے بھیگے ہوئے ہیں اور چھاتیاں ہرن کے بچوں کے موافق تڑپتی ہیں۔ اور پیٹ اس کا گندم کی ڈیوڑھی کی مانند ہے اور پاس اس کے صندل کا گول پیالہ ہے اور الیاسف نے بنت الاخضر کو یاد کیا اور ہرن کے بچوں اور گندم کی ڈھیر اور صندل کے گول پیالے کے تصور میں سرو کے دروں اور صنوبر کی کڑیوں والے گھر تک گیا۔ ساس نے خالی مکان کو دیکھا اور چھپر کھٹ پر اسے ٹٹولا۔ جس کے لئے اس کا جی چاہتا تھا اور پکارا کہ اے بنت الاخضر! تو کہاں ہے اور اے وہ کہ جس کے لئے میرا جی چاہتا ہے۔ دیکھ موسم کا بھاری مہینہ گزر گیا اور پھولوں کی کیاریاں ہری بھری ہو گئیں اور قمریاں اونچی شاخوں پر پھڑپھڑاتی ہیں۔ تو کہاں ہے؟ اے اخضر کی بیٹی! اے اونچی چھت پر بچھے ہوئے چھپر کھٹ پر آرام کرنے والی تجھے دشت میں دوڑتی ہوئی ہرنیوں اور چٹانوں کی دراڑوں میں چھپے ہوئے کبوتروں کی قسم تو نیچے اتر آ۔ اور مجھ سے آن مل کہ تیرے لئے میرا جی چاہتا ہے۔ الیاسف بار بار پکارتا کہ اس کا جی بھر آیا اور بنت الاخضر کو یاد کر کے رویا۔

الیاسف بنت الاخضر کو یاد کر کے رویا مگر اچانک الیعذر کی جورو یاد آئی جو الیعذر کو بندر کی جون میں دیکھ کر روئی تھی۔ حالانکہ اس کی ہڑکی بند ھ گئی اور بہتے آنسوؤں میں اس کے جمیل نقوش بگڑتے چلے گئے۔ اور ہڑکی کی آواز وحشی ہوتی چلی گئییہاں تک کہ اس کی جون بدل گئی۔ تب الیاسف نے خیال کیا۔ بنت الاخضر جن میں سے تھی ان میں مل گئی۔ اور بے شک جو جن میں سے ہے وہ ان کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور الیاسف نے اپنے تئیں کہا کہ اے الیاسف ان سے محبت مت کر مبادا تو ان میں سے ہو جائے اور الیاسف نے محبت سے کنارہ کیا اور ہم جنسوں کو نا جنس جان کر ان سے بے تعلق ہو گیا اور الیاسف نے ہرن کے بچوں اور گندم کی ڈھیری اور صندل کے گول پیالے کو فراموش کر دیا۔

الیاسف نے محبت سے کنارہ کیا اور اپنے ہم جنسوں کی لال بھبوکا صورتوں اور کھڑ ی دم دیکھ کر ہنسا اور الیاسف کو الیعذر کی جورو یاد آئی کہ وہ اس قریے کی حسین عورتوں میں سے تھی۔ وہ تاڑ کے درخت کی مثال تھی اور چھاتیاں اس کی انگور کے خوشوں کی مانند تھیں۔ اور الیعذر نے اس سے کہا تھا کہ جان لے کہ میں انگور کے خوشے توڑوں گا اور انگور کے خوشوں والی تڑپ کر ساحل کی طرف نکل گئی۔

الیعذر اس کے پیچھے پیچھے گیا اور پھل توڑا اور تاڑ کے درخت کو اپنے گھر لے آیا اور اب وہ ایک اونچے کنگرے پر الیعذر کی جوئیں بن بن کر کھاتی تھی۔ الیعذر جھری جھری لے کر کھڑا ہو جاتا اور وہ دم کھڑی کر کے اپنے لجلجے پنجوں پر اٹھ بیٹھی۔ اس کے ہنسنے کی آواز اتنی اونچی ہوتی کہ اسے ساری بستی گونجتی معلوم ہوئی اور وہ اپنے اتنی زور سے ہنسنے پر حیران ہوا مگر اچانک اسے اس شخص کا خیال آیا جو ہنستے ہنستے بندر بن گیا تھا اور الیاسف نے اپنے تئیں کہا۔ اے الیاسف تو ان پر مت ہنس مبادا تو ہنسی کی ایسا بن جائے اور الیاسف نے ہنسی سے کنارہ کیا۔

الیاسف نے ہنسی سے کنارہ کیا۔ الیاسف محبت اور نفرت سے غصہ اور ہمدردی سے رونے اور ہنسنے سے ہر کیفیت سے گزر گیا اور ہم جنسوں کو نا جنس جان کر ان سے بے تعلق ہو گیا۔ ان کا درختوں پر اچکنا، دانت پیس پیس کر کلکاریاں کرنا، کچے کچے پھلوں پر لڑنا اور ایک دوسرے کو لہو لہان کر دینا۔ یہ سب کچھ اسے آگے کبھی ہم جنسوں پر رلاتا تھا، کبھی ہنساتا تھا۔ کبھی غصہ دلاتا کہ وہ ان پر دانت پیسنے لگا اور انہیں حقارت سے دیکھتا اور یوں ہوا کہ انہیں لڑتے دیکھ کر اس نے غصہ کیا اور بڑی آواز سے جھڑکا۔ پھر خود اپنی آواز پر حیران ہوا۔ اور کسی کسی بندر نے اسے بے تعلقی سے دیکھا اور پھر لڑائی میں جٹ گیا۔ اور الیاسف کے تئیں لفظوں کی قدر کی جاتی رہی۔ کہ وہ اس کے اور اس کے ہم جنسوں کے درمیان رشتہ نہیں رہے تھے اور اس کا اس نے افسوس کیا۔ الیاسف نے افسوس کیا اپنے ہم جنسوں پر، اپنے آپ پر اور لفظ پر۔ افسوس ہے ان پر بوجہ اس کے وہ اس لفظ سے محروم ہو گئے۔ افسوس ہے مجھ پر بوجہ اس کے لفظ میرے ہاتھوں میں خالی برتن کی مثال بن کر رہ گیا۔ اور سوچو تو آج بڑے افسوس کا دن ہے۔ آج لفظ مر گیا۔ اور الیاسف نے لفظ کی موت کا نوحہ کیا اور خاموش ہو گیا۔

الیاسف خاموش ہو گیا اور محبت اور نفرت سے، غصے اور ہمدردی سے، ہنسنے اور رونے سے در گزرا۔ اور الیاسف نے اپنے ہم جنسوں کو نا جنس جان کر ان سے کنارہ کیا اور اپنی ذات کے اندر پناہ لی۔ الیاسف اپنی ذات کے اندر پناہ گیر جزیرے کے مانند بن گیا۔ سب سے بے تعلق، گہرے پانیوں کے درمیان خشکی کا ننھا سا نشان اور جزیرے نے کہا میں گہرے پانیوں کے درمیان زمین کا نشان بلند رکھو ں گا۔

الیاسف اپنے تئیں آدمیت کا جزیرہ جانتا تھا۔ گہرے پانیوں کے خلاف مدافعت کرنے لگا۔ اس نے اپنے گرد پشتہ بنا لیا کہ محبت اور نفرت، غصہ اور ہمدردی، غم اور خوشی اس پر یلغار نہ کریں کہ جذبے کی کوئی رو اسے بہا کر نہ لے جائے اور الیاسف اپنے جذبات سے خوف کرنے لگا۔ پھر جب وہ پشتہ تیار کر چکا تو اسے یوں لگا کہ اس کے سینے کے اندر پتھری پڑ گئی ہے۔ اس نے فکر مند ہو کر کہا کہ اے معبود میں اندر سے بدل رہا ہوں تب اس نے اپنے باہر پر نظر کی اور اسے گمان ہونے لگا کہ وہ پتھری پھیل کر باہر آ رہی ہے کہ اس کے اعضاء خشک، اس کی جلد بد رنگ اور اس کا لہو بے رس ہوتا جا رہا ہے۔ پھر اس نے مزید اپنے آپ پر غور کیا اور اسے مزید وسوسوں نے گھیرا۔ اسے لگا کہ اس کا بدن بالوں سے ڈھکتا جا رہا ہے۔ اور بال بد رنگ اور سخت ہوتے جا رہے ہیں۔ تب اسے اپنے بدن سے خوف آیا اور اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ خوف سے وہ اپنے اندر سمٹنے لگا۔ اسے یوں معلوم ہوا کہ اس کی ٹانگیں اور بازو مختصر اور سر چھوٹا ہوتا جا رہا ہے تب اسے مزید خوف ہوا اور اعضاء اس کے خوف سے مزید سکڑنے لگے اور اس نے سوچا کہ کیا میں بالکل معدوم ہو جاؤں گا۔

اور الیاسف نے الیاب کو یاد کیا کہ خوف سے اپنے اندر سمٹ کر وہ بندر بن گیا تھا۔ تب اس نے کہا کہ میں اندر کے خوف پر اسی طور غلبہ پاؤں گا جس طور میں نے باہر کے خوف پر غلبہ پایا تھا اور الیاسف نے اندر کے خوف پر غلبہ پا لیا۔ اور اس کے سمٹتے ہوئے اعضاء دوبارہ کھلنے اور پھیلنے لگے۔ اس کے اعضاء ڈھیلے پڑ گئے۔ اور اس کی انگلیاں لمبی اور بال بڑے اور کھڑے ہونے لگے۔ اور اس کی ہتھیلیاں اور تلوے چپٹے اور لجلجے ہو گئے اور اس کے جوڑ کھلنے لگے اور الیاسف کو گمان ہوا کہ اس کے سارے اعضاء بکھر جائیں گے تب اس نے عزم کر کے اپنے دانتوں کو بھینچا اور مٹھیاں کس کر باندھا اور اپنے آپ کو اکٹھا کرنے لگا۔


الیاسف نے اپنے بد ہیئت اعضاء کی تاب نہ لا کر آنکھیں بند کر لیں اور جب الیاسف نے آنکھیں بند کیں تو اسے لگا کہ اس کے اعضاء کی صورت بدلتی جا رہی ہے۔

اس نے ڈرتے ڈرتے اپنے آپ سے پوچھا کہ میں میں نہیں رہا۔ اس خیال سے دل اس کا ڈھہنے لگا۔ اس نے بہت ڈرتے ڈرتے ایک آنکھ کھولی اور چپکے سے اپنے اعضاء پر نظر کی۔ اسے ڈھارس ہوئی کہ اس کے اعضاء تو جیسے تھے ویسے ہی ہیں۔ اس نے دلیری سے آنکھیں کھولیں اور اطمینان سے اپنے بدن کو دیکھا اور کہا کہ بے شک میں اپنی جون میں ہوں مگر اس کے بعد آپ ہی آپ اسے پھر وسوسہ ہوا کہ جیسے اس کے اعضاء بگڑتے جا رہے ہیں اور اس نے پھر آنکھیں بند کر لیں۔

الیاسف نے آنکھیں بند کر لیں اور جب الیاسف نے آنکھیں بند کیں تو اس کا دھیان اندر کی طرف گیا اور اس نے جانا کہ وہ کسی اندھیرے کنویں میں دھنستا جا رہا ہے اور الیاسف کنویں میں دھنستے ہوئے ہم جنسوں کی پرانی صورتوں نے اس کا تعاقب کیا۔ اور گزری راتیں محاصرہ کرنے لگیں۔ الیاسف کو سبت کے دن ہم جنسوں کا مچھلیوں کا شکار کرنا یاد آیا کہ ان کے ہاتھوں مچھلیوں سے بھر ا سمندر مچھلیوں سے خالی ہونے لگا۔ اور اس کی ہوس بڑھتی گئی اور انہوں نے سبت کے دن بھی مچھلیوں کا شکار شروع کر دیا۔ تب اس شخص نے جو انہیں سبت کے دن مچھلیوں کے شکار سے منع کرتا تھا کہا کہ رب کی سو گند جس نے سمندر کو گہرے پانیوں والا بنایا اور گہرے پانیوں کی مچھلیوں کا مامن ٹھہرایا سمندر تمہارے دستِ ہوس سے پناہ مانگتا ہے اور سبت کے دن مچھلیوں پر ظلم کرنے سے باز رہو کہ مباد ا تم اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے قرار پاؤ۔ الیاسف نے کہا کہ معبود کی سوگند میں سبت کے دن مچھلیوں کا شکار نہیں کرو ں گا اور الیاسف عقل کا پتلا تھا۔ سمندر سے فاصلے پر ایک گڑھا کھودا اور نالی کھود کر اسے سمندر سے ملا دیا اور سبت کے دن مچھلیاں سطحِ آب پر آئیں تو تیرتی ہوئی نالی کی راہ گڑھے پر نکل گئیں۔ اور سبت کے دوسرے دن الیاسف نے اس گڑھے سے بہت سی مچھلیاں پکڑیں۔ وہ شخص جو سبت کے دن مچھلیاں پکڑنے سے منع کرتا تھا۔ یہ دیکھ کر بولا کہ تحقیق جس نے اللہ سے مکر کیا اللہ اس سے مکر کرے گا۔ اور بے شک اللہ زیادہ بڑا مکر کرنے والا ہے اور الیاسف یہ یاد کر کے پچھتایا اور وسوسہ کیا کہ کیا وہ مکر میں گھر گیا ہے۔ اس گھڑی اسے اپنی پوری ہستی ایک مکر نظر آئی۔ تب وہ اللہ کی بارگاہ میں گڑگڑایا کہ پیدا کرنے والے نے تو مجھے ایسا پیدا کیا جیسے پیدا کرنے کا حق ہے۔ تو نے مجھے بہترین کینڈے پر خلق کیا۔ اور اپنی مثال پر بنایا۔ پس اے پیدا کرنے والے تو اب مجھ سے مکر کرے گا اور مجھے ذلیل بندر کے اسلوب پر ڈھالے گا اور الیاسف اپنے حال پر رویا۔ اس کے بنائے پشت میں دراڑ پڑ گئی تھی اور سمندر کا پانی جزیرے میں آ رہا تھا۔

الیاسف اپنے حال پر رویا اور بندروں سے بھری بستی سے منہ موڑ کر جنگل کی سمت نکل گیا کہ اب اس بستی اسے جنگل سے زیادہ وحشت بھری نظر آتی تھی۔ اور دیواروں اور چھتوں والا گھر اس کے لئے لفظ کی طرح معنی کھو بیٹھا تھا۔ رات اس نے درخت کی ٹہنیوں پر چھپ کر بسر کی۔

جب صبح کو وہ جاگا تو اس کا سارا بدن دکھتا تھا اور ریڑھ کی ہڈی درد کرتی تھی۔ اس نے اپنے بگڑے اعضاء پر نظر کی کہ اس وقت کچھ زیادہ بگڑے بگڑے نظر آ رہے تھے۔ اس نے ڈرتے ڈرتے سوچا کیا میں میں ہی ہوں اور اس آن اسے خیال آیا کہ کاش بستی میں کوئی ایک انسان ہوتا کہ اسے بتا سکتا کہ وہ کس جون میں ہے اور یہ خیال آنے پر اس نے اپنے تئیں سوال کیا کہ کیا آدمی بنے رہنے کے لئے یہ لازم ہے کہ وہ آدمیوں کے درمیان ہو۔ پھر اس نے خود ہی جواب دیا کہ بیشک آدم اپنے تئیں ادھورا ہے کہ آدمی آدمی کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ اور جو جن میں سے ہے ان کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ اور جب اس نے یہ سوچا تو روح اس کی اندوہ سے بھر گئی اور وہ پکارا کہ اسے بنت الاخضر تو کہا ں ہے کہ تجھ بن میں ادھورا ہوں۔ اس آن الیاسف کو ہرن کے تڑپتے ہوئے بچوں اور گندم کی ڈھیری اور صندل کے گول پیالے کی یاد بے طرح آئی۔

جزیرے میں سمندر کا پانی امنڈا چلا آ رہا تھا اور الیاسف نے درد سے صدا کی۔ کہ اے بنت الاخضر اے وہ جس کے لئے میرا جی چاہتا ہے۔ تجھے میں اونچی چھت پر بچھے ہوئے چھپر کھٹ پر اور بڑے درختوں کی گھنی شاخوں میں اور بلند برجیوں میں ڈھونڈوں گا۔ تجھے سرپٹ دوڑی دودھیا گھوڑیوں کی قسم ہے۔ قسم ہے کبوتروں کی جب وہ بلندیوں پر پرواز کرے۔ قسم ہے تجھے رات کی جب وہ بھیگ جائے۔ قسم ہے تجھے رات کے اندھیرے کی جب وہ بدن میں اترنے لگے۔ قسم ہے تجھے اندھیرے اور نیند کی۔ اور پلکوں کی جب وہ نیند سے بوجھل ہو جائیں۔ تو مجھے آن مل کہ تیرے لئے میراجی چاہتا ہے اور جب اس نے یہ صدا کی تو بہت سے لفظ آپس میں گڈ مڈ ہو گئے جیسے زنجیر الجھ گئی ہو۔ جیسے لفظ مٹ رہے ہوں۔ جیسے اس کی آواز بدلتی جا رہی ہو اور الیاسف نے اپنی بدلتی ہوئی آواز پر غور کیا اور زبلون اور الیاب کو یاد کیا کہ کیوں کر ان کی آوازیں بگڑتی چلی گئی تھیں۔ الیاسف اپنی بدلتی ہوئی آواز کا تصور کر کے ڈرا اور سوچا کہ اے معبود کیا میں بدل گیا ہوں اور اس وقت اسے یہ نرالا خیال سوجھا کہ اے کاش کوئی ایسی چیز ہوتی کہ اس کے ذریعے وہ اپنا چہرہ دیکھ سکتا۔ مگر یہ خیال اسے بہت انہونا نظر آیا۔ اور اس نے درد سے کہا کہ اے معبود میں کیسے جانوں کہ میں نہیں بد لاہوں۔


آپا

(ممتاز مفتی)

جب کبھی بیٹھے بٹھائے، مجھے آپا یاد آتی ہے تو میری آنکھوں کے آگے چھوٹا سا بلوری دیا آ جاتا ہے جو نیم لو سے جل رہا ہو۔

مجھے یاد ہے کہ ایک رات ہم سب چپ چاپ باورچی خانے میں بیٹھے تھے۔ میں، آپا اور امی جان، کہ چھوٹا بدو بھاگتا ہوا آیا۔ ان دنوں بدو چھ سات سال کا ہو گا۔ کہنے لگا۔ "امی جان! میں بھی باہ کروں گا۔"

"واہ ابھی سے؟ اماں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ پھر کہنے لگیں۔ "اچھا بدو تمہارا بیاہ آپا سے کر دیں؟" "اونہوں" بدو نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔

اماں کہنے لگیں۔ "کیوں آپ کو کیا ہے؟"

"ہم تو چھاجو باجی سے باہ کریں گے۔" بدو نے آنکھیں چمکاتے ہوئے کہا۔اماں نے آپا کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور کہنے لگیں۔ "کیوں دیکھو تو آپا کیسی اچھی ہیں۔"

"ہوں بتاؤ تو بھلا۔ " اماں نے پوچھا۔ بدو نے آنکھیں اٹھا کر چاروں طرف دیکھا جیسے کچھ ڈھونڈ رہا ہو۔ پھر اس کی نگاہ چولہے پر آ کر رکی، چولہے میں اوپلے کا ایک جلا ہوا ٹکڑا پڑا تھا۔ بدو نے اس کی طرف اشارہ کیا اور بولا "ایسی!" اس بات پر ہم سب دیر تک ہنستے رہے۔ اتنے میں تصدق بھائی آ گئے۔ اماں کہنے لگیں۔"تصدق بدو سے پوچھنا تو آپا کیسی ہیں؟" آپا نے تصدق بھائی کو آتے ہوئے دیکھا تو منہ موڑ کر یوں بیٹھ گئی جیسے ہنڈیا پکانے میں منہمک ہو۔" "ہاں تو کیسی ہے آپا، بدو؟" وہ بولے۔ "بتاؤں؟" بدو چلا اور اس نے اوپلے کا ٹکڑا اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ غالباً وہ اسے ہاتھ میں لے کر ہمیں دکھانا چاہتا تھا مگر آپا نے جھٹ اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور انگلی ہلاتے ہوئے بولیں۔ "اونہہ۔" بدو رونے لگا تو اماں کہنے لگیں، پگلے اسے ہاتھ میں نہیں اٹھاتے، اس میں چنگاری ہے"وہ تو جلا ہوا ہے اماں!" بدو نے بسورتے ہوئے کہا۔ اماں بولیں" میرے لال تمہیں معلوم نہیں اس کے اندر تو آگ ہے۔ اوپر سے دکھائی نہیں دیتی۔" بدو نے بھولے پن سے پوچھا۔ "کیوں آپا اس میں آگ ہے۔" اس وقت آپا کے منہ پر ہلکی سی سرخی دوڑ گئی۔ "میں کیا جانوں؟" وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی اور پھنکنی اٹھا کر جلتی ہوئی آگ میں بے مصرف پھونکیں مارنے لگی۔

اب میں سمجھتی ہوں کہ آپا دل کی گہرائیوں میں جیتی تھی اور وہ گہرائیاں اتنی عمیق تھیں کہ بات ابھرتی بھی تو بھی نکل نہ سکتی۔ اس روز بدو نے کیسے پتے کی بات کہی تھی مگر میں کہا کرتی تھی۔ "آپا تم تو بس بیٹھ رہتی ہو۔" اور وہ مسکرا کر کہتی۔ "پگلی" اور اپنے کام میں لگ جاتی۔ ویسے وہ سارا دن کام میں لگی رہتی تھی۔ ہر وقت کوئی اسے کسی نہ کسی کام کو کہہ دیتا اور ایک ہی وقت میں اسے کئی کام کرنے پڑ جاتے۔ ادھر بدو چیختا۔ "آپا میرا دلیا۔" ادھر ابا گھورتے "سجادہ ابھی تک چائے کیوں نہیں بنی؟" بیچ میں اماں بول پڑتیں۔ "بیٹا دھوبی کب سے باہر کھڑا ہے؟" اور آپا چپ چاپ سارے کاموں سے نپٹ لیتی۔ یہ تو میں خوب جانتی تھی مگر اس کے باوجود جانے کیوں اسے کام کرتے ہوئے دیکھ کر یہ محسوس نہیں ہوتا تھا کہ وہ کام کر رہی ہے یا اتنا کام کرتی ہے۔ مجھے تو بس یہی معلوم تھا کہ وہ بیٹھی ہی رہتی ہے اور اسے ادھر ادھر گردن موڑنے میں بھی اتنی دیر لگتی ہے اور چلتی ہے تو چلتی ہوئی معلوم نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ میں نے آپا کو کبھی قہقہہ مار کر ہنستے ہوئے نہیں سنا تھا۔ زیادہ سے زیادہ وہ مسکرا دیا کرتی تھیں اور بس۔

البتہ وہ مسکرایا اکثر کرتی تھی۔ جب وہ مسکراتی تو اس کے ہونٹ کھل جاتے اور آنکھیں بھیگ جاتیں۔ ہاں تو میں سمجھتی تھی کہ آپا چپکی بیٹھی ہی رہتی ہے۔ ذرا نہیں ہلتی اور بن چلے لڑھک کر یہاں سے وہاں پہنچ جاتی ہے جیسے کسی نے اسے دھکیل دیا ہو۔ اس کے برعکس ساحرہ کتنے مزے میں چلتی تھی جیسے دادرے کی تال پر ناچ رہی ہو اور اپنی خالہ زاد بہن ساجو باجی کو چلتے دیکھ کر تو میں کبھی نہ اکتاتی۔ جی چاہتا تھا کہ باجی ہمیشہ میرے پاس رہے اور چلتی چلتی اس طرح گردن موڑ کر پنچم آواز میں کہے "ہیں جی! کیوں جی؟" اور اس کی کالی کالی آنکھوں کے گوشے مسکرانے لگیں۔ باجی کی بات بات مجھے کتنی پیاری تھی۔

ساحرہ اور ثریا ہمارے پڑوس میں رہتی تھیں۔ دن بھر ان کا مکان ان کے قہقہوں سے گونجتا رہتا جیسے کسی مندر میں گھنٹیاں بج رہی ہوں۔ بس میرا جی چاہتا تھا کہ انہیں کے گھر جا رہوں۔ ہمارے گھر رکھا ہی کیا تھا۔ ایک بیٹھ رہنے والی آپا، ایک "یہ کرو، وہ کرو" والی اماں اور دن بھر حقے میں گڑ گڑ کرنے والے ابا۔

اس روز جب میں نے ابا کو امی سے کہتے ہوئے سنا سچ بات تو یہ ہے مجھے بے حد غصہ آیا۔ "سجاہ کی ماں! معلوم ہوتا ہے ساحرہ کے گھر میں بہت سے برتن ہیں۔"

"کیوں؟" اماں پوچھنے لگیں۔

کہنے لگے۔ "بس تمام دن برتن ہی بجتے رہتے ہیں اور یا قہقہے لگتے ہیں جیسے میلہ لگا ہو۔"

اماں تنک کر بولیں۔ "مجھے کیا معلوم۔ آپ تو بس لوگوں کے گھر کی طرف کان لگائے بیٹھے رہتے ہیں۔"

ابا کہنے لگے۔ "افوہ! میرا تو مطلب ہے کہ جہاں لڑکی جوان ہوئی برتن بجنے لگے۔ بازار کے اس موڑ تک خبر ہو جاتی ہے کہ فلاں گھر میں لڑکی جوان ہو چکی ہے۔ مگر دیکھو نا ہماری سجادہ میں یہ بات نہیں۔" میں نے ابا کی بات سنی اور میرا دل کھولنے لگا۔ "بڑی آئی ہے۔ سجادہ جی ہاں! اپنی بیٹی جو ہوئی۔ " اس وقت میرا جی چاہتا تھا کہ جا کر باورچی خانے میں بیٹھی ہوئی آپا کا منہ چڑاؤں۔ اسی بات پر میں نے دن بھر کھانا نہ کھایا اور دل ہی دل میں کھولتی رہی۔ ابا جانتے ہی کیا ہیں۔ بس حقہ لیا اور گڑ گڑ کر لیا یا زیادہ سے زیادہ کتاب کھول کر بیٹھ گئے اور گٹ مٹ گٹ مٹ کرنے لگے جیسے کوئی بھٹیاری مکئ کے دانے بھون رہی ہو۔ سارے گھر میں لے دے کے صرف تصدق بھائی ہی تھے جو دلچسپ باتیں کیا کرتے تھے اور جب ابا گھر پر نہ ہوتے تو وہ بھاری آواز میں گایا بھی کرتے تھے۔ جانے وہ کون سا شعر تھاہاں

چپ چپ سے وہ بیٹھے ہیں آنکھوں میں نمی سی ہے
نازک سی نگاہوں میں نازک سا فسانہ ہے

آپا انہیں گاتے ہوئے سن کر کسی نہ کسی بات پر مسکرا دیتی اور کوئی بات نہ ہوئی تو وہ بدو کو ہلکا سا تھپڑ مار کر کہتی۔ "بدو رو نا" اور پھر آپ ہی بیٹھی مسکراتی رہتی۔


تصدق بھائی میرے پھوپھا کے بیٹے تھے۔ انہیں ہمارے گھر آئے یہی دو ماہ ہوئے ہوں گے۔ کالج میں پڑھتے تھے۔ پہلے تو وہ بورڈنگ میں رہا کرتے تھے پھر ایک دن جب پھوپھی آئی ہوئی تھی تو باتوں باتوں میں ان کا ذکر چھڑ گیا۔ پھوپھی کہنے لگی بورڈنگ میں کھانے کا انتظام ٹھیک نہیں۔ لڑکا آئے دن بیمار رہتا ہے۔ اماں اس بات پر خوب لڑیں۔ کہنے لگیں۔ "اپنا گھر موجود ہے تو بورڈنگ میں پڑے رہنے کا مطلب؟" پھر ان دونوں میں بہت سی باتیں ہوئیں۔ اماں کی تو عادت ہے کہ اگلی پچھلی تمام باتیں لے بیٹھتی ہیں۔ غرضیکہ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک ہفتے کے بعد تصدق بھائی بورڈنگ چھوڑ کر ہمارے ہاں آ ٹھہرے۔

تصدق بھائی مجھ سے اور بدو سے بڑی گپیں ہانکا کرتے تھے۔ ان کی باتیں بے حد دلچسپ ہوتیں۔ بدو سے تو وہ دن بھر نہ اکتاتے۔ البتہ آپا سے وہ زیادہ باتیں نہ کرتے۔ کرتے بھی کیسے، جب کبھی وہ آپا کے سامنے جاتے تو آپا کے دوپٹے کا پلو آپ ہی آپ سرک کر نیم گھونگھٹ سا بن جاتا۔ اور آپا کی بھیگی بھیگی آنکھیں جھک جاتیں اور وہ کسی نہ کسی کام میں شدت سے مصروف دکھائی دیتی۔ اب مجھے خیال آتا ہے کہ آپا ان کی باتیں غور سے سنا کرتی تھیں گو کہتی کچھ نہ تھی۔ بھائی صاحب بھی بدو سے آپا کے متعلق پوچھتے رہتے لیکن صرف اسی وقت جب وہ دونوں اکیلے ہوتے، پوچھتے۔ "تمہاری آپا کیا کر رہی ہے؟"

"آپا؟" بدو لا پرواہی سے دہراتا۔ "بیٹھی ہےبلاؤں؟"

بھائی صاحب گھبرا کر کہتے۔ "نہیں نہیں۔ اچھا بدو، آج تمہیں، یہ دیکھو اس طرف تمہیں دکھائیں۔" اور جب بدو کا دھیان ادھر ادھر ہو جاتا تو وہ مدھم آواز میں کہتے۔ "ارے یار تم تو مفت کا ڈھنڈورا ہو۔"

بدو چیخ اٹھتا۔ "کیا ہوں میں؟" اس پر وہ میز بجانے لگتے۔ ڈگمگ ڈگمگ ڈھنڈورا یعنی یہ ڈھنڈورا ہے، دیکھا؟ جسے ڈھول بھی کہتے ہیں ڈگمگ، ڈگمگ سمجھے؟" اور اکثر آپا آپا چلتے چلتے ان کے دروازے پر رک ٹھہر جاتی اور ان کی باتیں سنتی رہتی اور پھر چولہے کے پاس بیٹھ کر آپ ہی آپ مسکراتی۔ اس وقت اس کے سر سے دوپٹہ سرک جاتا، بالوں کی لٹ پھسل کر گال پر آ گرتی اور وہ بھیگی بھیگی آنکھیں چولہے میں ناچتے ہوئے شعلوں کی طرح جھومتیں۔ آپا کے ہونٹ یوں ہلتے گویا گاڑی ہو مگر الفاظ سنائی نہ دیتے۔ ایسے میں اگر اماں یا ابا باورچی خانے میں آ جاتے وہ ٹھٹھک کر یوں اپنا دوپٹہ، بال اور آنکھیں سنبھالتی گویا کسی بے تکلف محفل میں کوئی بیگانہ آ گھسا ہو۔

ایک دن میں، آپا اور اماں باہر صحن میں بیٹھی تھیں۔ اس وقت بھائی صاحب اندر اپنے کمرے میں بدو سے کہہ رہے تھے۔ "میرے یار ہم تو اس سے بیاہ کریں گے جو ہم سے انگریزی میں باتیں کر سکے، کتابیں پڑھ سکے، شطرنج، کیرم اور چڑیا کھیل سکے۔ چڑیا جانتے ہو؟ وہ گول گول پروں والا گیند بلے سے یوں ڈز، ٹن، ڈز اور سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہمیں مزے دار کھانے پکا کر کھلا سکے، سمجھے ؟"

بدو بولا، "ہم تو چھاجو باجی سے بیاہ کریں گے۔"

"انہہ!" بھائی صاحب کہنے لگے۔

بدو چیخنے لگا۔ "میں جانتا ہوں تم آپا سے بیاہ کرو گے۔ ہاں!" اس وقت اماں نے مسکرا کر آپا کی طرف دیکھا۔ مگر آپا اپنے پاؤں کے انگوٹھے کا ناخن توڑنے میں اس قدر مصروف تھی جیسے کچھ خبر ہی نہ ہو۔ اندر بھائی صاحب کہہ رہے تھے۔ "واہ تمہاری آپا فرنی پکاتی ہے تو اس میں پوری طرح شکر بھی نہیں ڈالتی۔ بالکل پھیکی۔ آخ تھو!"

بدو نے کہا "ابا جو کہتے ہیں فرنی میں کم میٹھا ہونا چاہئے۔"

"تو وہ اپنے ابا کے لئے پکاتی ہے نا۔ ہمارے لئے تو نہیں!"

"میں کہوں آپا سے؟" بدو چیخا۔

بھائی چلائے۔ "او پگلا۔ ڈھنڈورا۔ لو تمہیں ڈھنڈورا پیٹ کر دکھائیں۔ یہ دیکھو اس طرف ڈگمگ ڈگمگ۔" بدو پھر چلانے لگا۔ "میں جانتا ہوں تم میز بجا رہے ہو نا؟"۔ "ہاں ہاں اسی طرح ڈھنڈورا پٹتا ہے نا۔" بھائی صاحب کہہ رہے تھے "کشتیوں میں، اچھا بدو تم نے کبھی کشتی لڑی ہے، آؤ ہم تم کشتی لڑیں۔ میں ہوں گاما اور تم بدو پہلوان۔ لو آؤ، ٹھہرو، جب میں تین کہوں۔ " اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے مدھم آواز میں کہا۔ "ارے یار تمہاری دوستی تو مجھے بہت مہنگی پڑتی ہے۔"میرا خیال ہے آپا ہنسی نہ روک سکی اس لئے وہ اٹھ کر باورچی خانے میں چلی گئی۔ میرا تو ہنسی کے مارے دم نکلا جا رہا تھا اور اماں نے اپنے منہ میں دوپٹہ ٹھونس لیا تھا تاکہ آواز نہ نکلے۔

میں اور آپا دونوں اپنے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ بھائی صاحب آ گئے۔ کہنے لگے "کیا پڑھ رہی ہو جہنیا؟" ان کے منہ سے جہنیا سن کر مجھے بڑی خوشی ہوتی تھی۔

حالانکہ مجھے اپنے نام سے بے حد نفرت تھی۔ نور جہاں کیسا پرانا نام ہے۔ بولتے ہی منہ میں باسی روٹی کا مزا آنے لگتا ہے۔ میں تو نور جہاں سن کر یوں محسوس کیا کرتی تھی جیسے کسی تاریخ کی کتاب کے بوسیدہ ورق سے کوئی بوڑھی اماں سونٹا ٹیکتی ہوئی آ رہی ہوںمگر بھائی صاحب کو نام بگاڑ کر اسے سنوار دینے میں کمال حاصل تھا۔ ان کے منہ سے جہنیا سن کر مجھے اپنے نام سے کوئی شکایت نہ رہتی اور میں محسوس کرتی گویا ایران کی شہزادی ہوں۔ آپا کو وہ سجادہ سے سجدے کہا کر تھے مگر وہ تو بات تھی، جب آپا چھوٹی تھی۔ اب تو بھائی جان اسے سجد ے نہ کہتے بلکہ اس کا پورا نام تک لینے سے گھبراتے تھے۔ خیر میں نے جواب دے دیا۔ "سکول کا کام کر ہی ہوں۔"

پوچھنے لگے۔ "تم نے کوئی برنارڈ شا کی کتاب پڑھی ہے کیا؟"

میں نے کہا۔ "نہیں!"


انہوں نے میرے اور آپا کے درمیان دیوار پر لٹکی ہوئی گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔"تمہاری آپا نے تو ہارٹ بریک ہاؤس پڑھی ہو گی۔" وہ کنکھیوں سے آپا کی طرف دیکھ رہے تھے۔

آپا نے آنکھیں اٹھائے بغیر ہی سر ہلا دیا اور مدھم آواز میں کہا "نہیں!" اور سویٹر بننے میں لگی رہی۔

بھائی جان بولے "اوہ کیا بتاؤں جہنیا کہ وہ کیا چیز ہے، نشہ ہے نشہ، خالص شہد، تم اسے ضرور پڑھو بالکل آسان ہے یعنی امتحان کے بعد ضرور پڑھنا۔ میرے پاس پڑی ہے۔"

میں نے کہا۔"ضرور پڑھوں گی۔"

پھر پوچھنے لگے۔ "میں کہتا ہوں تمہاری آپا نے میٹرک کے بعد پڑھنا کیوں چھوڑ دیا؟"

میں نے چڑ کر کہا "مجھے کیا معلوم آپ خود ہی پوچھ لیجیئے۔" حالانکہ مجھے اچھی طرح سے معلوم تھا کہ آپا نے کالج جانے سے کیوں انکار کیا تھا۔ کہتی تھی میرا تو کالج جانے کو جی نہیں چاہتا۔ وہاں لڑکیوں کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے گویا کوئی نمائش گاہ ہو۔ درسگاہ تو معلوم ہی نہیں ہوتی جیسے مطالعہ کے بہانے میلہ لگا ہو۔" مجھے آپا کی یہ بات بہت بری لگی تھی۔ میں جانتی تھی کہ وہ گھر میں بیٹھ رہنے کے لئے کالج جانا نہیں چاہتی۔ بڑی آئی نکتہ چین۔ اس علاوہ جب کبھی بھائی جان آپا کی بات کرتے تو میں خواہ مخواہ چڑ جاتی۔ آپا تو بات کا جواب تک نہیں دیتی اور یہ آپا آپا کر رہے ہیں اور پھر آپا کی بات مجھ سے پوچھنے کا مطلب؟ میں کیا ٹیلی فون تھی؟ خود آپا سے پوچھ لیتے اور آپا، بیٹھی ہوئی گم سم آپا، بھیگی بلی۔

شام کو ابا کھانے پر بیٹھے ہوئے چلا اٹھے۔ "آج فیرنی میں اتنی شکر کیوں ہے؟ قند سے ہونٹ چپکے جاتے ہیں۔ سجادہ! سجادہ بیٹی کیا کھانڈ اتنی سستی ہو گئی ہے۔ ایک لقمہ نگلنا بھی مشکل ہے۔" شام آپا کی بھیگی بھیگی آنکھیں جھوم رہی تھیں۔ حالانکہ جب کبھی ابا جان خفا ہوتے تو آپا کا رنگ زرد پڑ جاتا۔ مگر اس وقت اس کے گال تمتما رہے تھے، کہنے لگی۔"شاید زیادہ پر گئی ہو۔" یہ کہہ کر وہ تو باورچی خانے میں چلی گئی اور میں دانت پیس رہی تھی۔ "شاید۔ کیا خوب۔ شاید۔"

ادھر ابا بدستور بڑبڑا رہے تھے۔ "چار پانچ دن سے دیکھ رہا ہوں کہ فیرنی میں قند بڑھتی جا رہی ہے۔" صحن میں اماں دوڑی دوڑی آئیں اور آتے ہی ابا پر برس پڑیں، جیسے ان کی عادت ہے۔ "آپ تو نا حق بگڑتے ہیں۔ آپ ہلکا میٹھا پسند کرتے ہیں تو کیا باقی لوگ بھی کم کھائیں؟ اللہ رکھے گھر میں جوان لڑکا ہے اس کا تو خیال کرنا چاہئے۔ "ابا کو جان چھڑانی مشکل ہو گئی، کہنے لگے۔ "ارے یہ بات ہے مجھے بتا دیا ہوتا میں کہتا ہوں سجادہ کی ماں" اور وہ دونوں کھسر پھسر کرنے لگے۔ آپا، ساحرہ کے گھر جانے کو تیار ہوئی تو میں بڑی حیران ہوئی۔ آپا اس سے ملنا تو کیا بات کرنا پسند نہیں کرتی تھی۔ بلکہ اس کے نام پر ہی ناک بھوں چڑھایا کرتی تھی۔ میں نے خیال کیا ضرور کوئی بھید ہے اس بات میں۔

کبھی کبھار ساحرہ دیوار کے ساتھ چارپائی کھڑی کر کے اس پر چڑھ کر ہماری طرف جھانکتی اور کسی نہ کسی بہانے سلسلۂ گفتگو کو دراز کرنے کی کوشش کرتی تو آپا بڑی بے دلی سے دو ایک باتوں سے اسے ٹال دیتی۔ آپ ہی آپ بول اٹھی۔ "ابھی تو اتنا کام پڑا ہے اور میں یہاں کھڑی ہوں۔" یہ کہہ کر وہ باورچی خانے میں جا بیٹھتی۔ خیر اس وقت تو میں چپ چاپ بیٹھی رہی مگر جب آپا لوٹ چکی تو کچھ دیر کے بعد چپکے سے میں بھی ساحرہ کے گھر جا پہنچی۔ باتوں ہی باتوں میں نے ذکر چھیڑ دیا۔ "آج آپا آئی تھی؟"

ساحرہ نے ناخن پر پالش لگاتے ہوئے کہا۔ "ہاں کوئی کتاب منگوانے کو کہہ گئی ہے نہ جانے کیا نام ہے اس کا ہاں! ہارٹ بریک ہاؤس۔"

آپا اس کتاب کو مجھ سے چھپا کر دراز میں رکھتی تھی۔ مجھے کیا معلوم نہ تھا۔ رات کو وہ بار بار کبھی میری طرف اور کبھی گھڑی کی طرف دیکھتی رہتی۔ اسے یوں مضطرب دیکھ کر میں دو ایک انگڑائیاں لیتی اور پھر کتاب بند کر کے رضائی میں یوں پڑ جاتی جیسے مدت سے گہری نیند میں ڈوب چکی ہوں۔ جب اسے یقین ہو جاتا کہ میں سو چکی ہوں تو دراز کھول کر کتاب نکال لیتی اور اسے پڑھنا شروع کر دیتی۔ آخر ایک دن مجھ سے نہ رہا گیا۔ میں نے رضائی سے منہ نکال کر پوچھ ہی لیا۔ "آپا یہ ہارٹ بریک ہاؤس کا مطلب کیا ہے۔ دل توڑنے والا گھر؟ اس کے کیا معنی ہوئے؟" آپا پہلے تو ٹھٹھک گئی، پھر وہ سنبھل کر اٹھی اور بیٹھ گئی۔ مگر اس نے میری بات کا جواب نہ دیا۔ میں نے اس کی خاموشی سے جل کر کہا۔

"اس لحاظ سے تو ہمارا گھر واقعی ہارٹ بریک ہے۔"

کہنے لگی۔ "میں کیا جانوں؟"

میں نے اسے جلانے کہ کہا۔ "ہاں! ہماری آپا بھلا کیا جانے؟" میرا خیال ہے یہ بات ضرور اسے بری لگی۔ کیونکہ اس نے کتاب رکھ دی اور بتی بجھا کر سو گئی۔

ایک دن یونہی پھرتے پھرتے میں بھائی جان کے کمرے میں جا نکلی۔ پہلے تو بھائی جان ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے۔ پھر پوچھنے لگے۔ "جہنیا، اچھا یہ بتاؤ کیا تمہاری آپا کو فروٹ سلاد بنانا آتا ہے؟" میں نے کہا "میں کیا جانوں؟ جا کر آپا سے پوچھ لیجئے۔" ہنس کر کہنے لگے۔ "آج کیا کسی سے لڑ کر آئی ہو۔"

"کیوں میں لڑاکا ہوں؟" میں نے کہا۔

بولے "نہیں ابھی تو لڑکی ہو شاید کسی دن لڑاکا ہو جاؤ۔" اس پر میری ہنسی نکل گئی۔ وہ کہنے لگے۔ "دیکھو جہنیا مجھے لڑنا بے حد پسند ہے۔ میں تو ایسی لڑکی سے بیاہ کروں گا جو باقاعدہ صبح سے شام تک لڑ سکے، ذرا نہ اکتائے۔" جانے کیوں میں شرما گئی اور بات بدلنے کی خاطر پوچھا۔ "فروٹ سلاد کیا ہوتا ہے بھائی جان؟"

بولے۔ "وہ بھی ہوتا ہے۔ سفید سفید، لال لال، کالا کالا، نیلا نیلا سا۔"میں ان کی بات سن کر بہت ہنسی، پھر کہنے لگے۔ "مجھے وہ بے حد پسند ہے، یہاں تو جہنیا ہم فیرنی کھا کر اکتا گئے۔ "میرا خیال ہے یہ آپا نے ضرور سن لی ہو گی۔ کیونکہ اسی شام کو وہ باورچی خانے میں بیٹھی "نعمت خانہ" پڑھ رہی تھی۔ اس دن کے بعد روز بلا ناغہ وہ کھانے پکانے سے فارغ ہو کر فروٹ سلاد بنانے کی مشق کیا کرتی اور ہم میں کوئی اس کے پاس چلا جاتا تو جھٹ فروٹ سلاد کی کشتی چھپا دیتی۔ ایک روز آپا کو چھیڑنے کی خاطر میں نے بدو سے کہا۔"بدو بھلا بوجھو تو وہ کشتی جو آپا کے پیچھے پڑی ہے اس میں کیا ہے؟"

بدو ہاتھ دھو کر آپا کے پیچھے پڑ گیا۔ حتیٰ کہ آپا کو وہ کشتی بدو کو دینی ہی پڑی۔ پھر میں نے بدو کو اور بھی چمکا دیا۔ میں نے کہا۔ "بدو جاؤ، بھائی جان سے پوچھو اس کھانے کا کیا نام ہے" بدو بھائی جان کے کمرے کی طرف جانے لگا تو آپا نے اٹھ کر وہ کشتی اس سے چھین لی اور میری طرف گھور کر دیکھا۔

اس روز پہلی مرتبہ آپا نے مجھے یوں گھورا تھا۔ اسی رات آپا شام ہی سے لیٹ گئی، مجھے صاف دکھائی دیتا تھا کہ وہ رضائی میں پڑی رو رہی ہے۔ اس وقت مجھے اپنی بات پر بہت افسوس ہوا۔ میرا جی چاہتا تھا کہ اٹھ کر آپا کے پاؤں پڑ جاؤں اور اسے خوب پیار کروں مگر میں ویسے ہی چپ چاپ بیٹھی رہی اور کتاب کا ایک لفظ تک نہ پڑھ سکی۔

انہی دنوں میری خالہ زاد بہن ساجدہ جسے ہم سب ساجو باجی کہا کرتے تھے، میٹرک کا امتحان دینے ہمارے گھر آ ٹھہری۔ ساجو باجی کے آنے پر ہمارے گھر میں رونق ہو گئی۔ ہمارا گھر بھی قہقہوں سے گونج اٹھا۔ ساحرہ اور ثریا چارپائیوں پر کھڑی ہو کر باجی سے باتیں کرتی رہتیں۔ بدو چھاجو باجی، چھاجو باجی چیختا پھرتا اور کہتا۔ "ہم تو چھاجو باجی سے باہ کریں گے۔"

باجی کہتی۔ "شکل تو دیکھو اپنی، پہلے منہ دھو آؤ۔" پھر وہ بھائی صاحب کی طرف یوں گردن موڑتی کہ کالی کالی آنکھوں کے گوشے مسکرانے لگتے اور پنچم تان میں پوچھتی۔ "ہے نا بھئی جا آن کیوں جی؟"


باجی کے منہ سے "بھئی جا آن" کچھ ایسا بھلا سنائی دیتا کہ میں خوشی سے پھولی نہ سماتی۔ اس کے برعکس جب کبھی آپا "بھائی صاحب" کہتی تو کیسا بھدا معلوم ہوتا۔ گویا وہ واقعی انہیں بھائی کہہ رہی ہو اور پھر "صاحب" جیسے حلق میں کچھ پھنسا ہوا ہو مگر باجی "صاحب" کی جگہ "جا آن" کہہ کر اس سادے سے لفظ میں جان ڈال دیتی تھی۔ "جا آن" کی گونج میں بھائی دب جاتا اور یہ محسوس ہی نہ ہوتا کہ وہ انہیں بھائی کہہ رہی ہے۔

اس کے علاوہ "بھائی جا آن" کہہ کر وہ اپنی کالی کالی چمکدار آنکھوں سے دیکھتی اور آنکھوں ہی آنکھوں میں مسکراتی تو سننے والے کو قطعی یہ گمان نہ ہوتا کہ اسے بھائی کہا گیا ہے۔ آپا کے "بھائی صاحب" اور باجی کے "بھائی جا آن" میں کتنا فرق تھا۔

باجی کے آنے پر آپا کا بیٹھ رہنا بالکل بیٹھ رہنا ہی رہ گیا۔ بدو نے بھائی جان سے کھیلنا چھوڑ دیا۔ وہ باجی کے گرد طواف کرتا رہتا اور باجی بھائی جان سے کبھی شطرنج کبھی کیرم کھیلتی۔

باجی کہتی۔ "بھئی جا آن ایک بورڈ لگے گا" یا بھائی جان اس کی موجودگی میں بدو سے کہتے"کیوں میاں بدو! کوئی ہے جو ہم سے شطرنج میں پٹنا چاہتا ہو؟" باجی بول اٹھتی۔ آپا سے پوچھئے۔ "بھائی جان کہتے۔ "اور تم؟" باجی جھوٹ موٹ کی سوچ میں پڑ جاتی، چہرے پر سنجیدگی پیدا کر لیتی، بھویں سمٹا لیتی اور تیوری چڑھا کر کھڑی رہتی پھر کہتی۔ "انہہ مجھ سے آپ پٹ جائیں گے۔" بھائی جان کھلکھلا کر ہنس پڑتے اور کہتے۔ "کل جو پٹی تھیں بھول گئیں کیا؟" وہ جواب دیتی۔ "میں نے کہا چلو بھئی جان کا لحاظ کرو۔ ورنہ دنیا کیا کہے گی کہ مجھ سے ہار گئے۔ اور پھر یوں ہنستی جیسے گھنگھرو بج رہے ہوں۔

رات کو بھائی جان باورچی خانے میں ہی کھانا کھانے بیٹھ گئے۔ آپا چپ چاپ چولھے کے سامنے بیٹھی تھی۔ بدو چھاجو باجی چھاجو باجی کہتا ہوا باجی کے دوپٹے کا پلو پکڑے اس کے آس پاس گھوم رہا تھا۔ باجی بھائی جان کو چھیڑ رہی تھی۔ کہتی تھی۔ "بھئی جا آن تو صرف ساڑھے چھ پھلکے کھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ فیرنی کی پلیٹ مل جائے تو قطعی مضائقہ نہیں۔ کریں بھی کیا۔ نہ کھائیں تو ممانی ناراض ہو جائیں۔ انہیں جو خوش رکھنا ہوا، ہے نا بھائی جا آن۔" ہم سب اس بات پر خوب ہنسے۔ پھر باجی ادھر ادھر ٹہلنے لگی اور آپا کے پیچھے جا کھڑ ی ہوئی۔ آپا کے پیچھے فروٹ سلاد کی کشتی پڑی تھی۔ باجی نے ڈھکنا سرکا کر دیکھا اور کشتی کو اٹھا لیا۔ پیشتر اس کے کہ آپا کچھ کہہ سکے۔ باجی وہ کشتی بھائی جان کی طرف لے آئی۔ "لیجئے بھائی جا آن" اس نے آنکھوں میں ہنستے ہوئے کہا۔ "آپ بھی کیا کہیں گے کہ ساجو باجی نے کبھی کچھ کھلایا ہی نہیں۔"

بھائی جان نے دو تین چمچے منہ میں ٹھونس کر کہا "خدا کی قسم بہت اچھا بنا ہے، کس نے بنایا ہے؟" ساجو باجی نے آپا کی طرف کنکھیوں سے دیکھا اور ہنستے ہوئے کہا۔ "ساجو باجی نے اور کس نے بھئی جا آن کے لئے۔ "بدو نے آپا کی منہ کی طرف غور سے دیکھا۔ آپا کا منہ لال ہو رہا تھا۔ بدو چلا اٹھا۔ "میں بتاؤں بھائی جان؟"آپا نے بدو کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور اسے گود میں اٹھا کر باہر چلی گئی۔ باجی کے قہقہوں سے کمرہ گونج اٹھا اور بدو کی بات آئی گئی ہو گئی۔

بھائی جان نے باجی کی طرف دیکھا۔ پھر جانے انہیں کیا ہوا۔ منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ آنکھیں باجی کے چہرے پر گڑ گئیں۔ جانے کیوں میں نے محسوس کیا جیسے کوئی زبردستی مجھے کمرے سے باہر گھسیٹ رہا ہو۔ میں باہر چلی آئی۔ باہر آپا، الگنی کے قریب کھڑی تھی۔ اندر بھائی صاحب نے مدھم آواز میں کچھ کہا۔ آپا نے کان سے دوپٹہ سرکا دیا۔ پھر باجی کی آواز آئی۔ "چھوڑئیے چھوڑئیے" اور پھر خاموشی چھا گئی۔

اگلے دن ہم صحن میں بیٹھے تھے۔ اس وقت بھائی جان اپنے کمرے میں پڑھ رہے تھے۔ بدو بھی کہیں ادھر ادھر کھیل رہا تھا۔ باجی حسبِ معمول بھائی جان کے کمرے میں چلی گئی، کہنے لگی۔"آج ایک دھندناتا بورڈ کر کے دکھاؤں۔ کیا رائے ہے آپ کی ؟" بھائی جان بولے۔ "واہ، یہاں سے کک لگاؤں تو جانے کہاں جا پڑو۔" غالباً انہوں نے باجی کی طرف زور سے پیر چلا یا ہو گا۔ وہ بناوٹی غصے سے چلائی۔ "واہ آپ تو ہمیشہ پیر ہی سے چھیڑتے ہیں!" بھائی جان معاً بول اٹھے "تو کیا ہاتھ سے"، "چپخاموش۔" باجی چیخی۔ اس کے بھاگنے کی آواز آئی۔ ایک منٹ تک تو پکڑ دھکڑ سنائی دی۔ پھر خاموشی چھا گئی۔

اتنے میں کہیں سے بدو بھاگتا ہوا آیا، کہنے لگا۔ "آپا اندر بھائی جان سے کشتی لڑے رہے ہیں۔ چلو دکھاؤں تمہیں چلو بھی۔" وہ آپا کا بازو پکڑ کر گھسیٹنے لگا۔ آپا کا رنگ ہلدی کی طرح زرد ہو رہا تھا اور وہ بت بنی کھڑی تھی۔ بدو نے آپا کو چھوڑ دیا۔ کہنے لگا۔ "اماں کہا ں ہے؟" اور وہ ماں کے پاس جانے کے لئے دوڑا۔ آپا نے لپک کر اسے گود میں اٹھا لیا۔ "آؤ تمہیں مٹھائی دوں۔" بدو بسورنے لگا۔ آپا بولیں "آؤ دیکھو تو کیسی اچھی مٹھائی ہے میرے پاس۔" اور اسے باورچی خانے میں لے گئی۔

اسی شام میں نے اپنی کتابوں کی الماری کھولی تو اس میں آپا کی ہارٹ بریک ہاؤس پڑی تھی۔ شاید آپا نے اسے وہاں رکھ دیا ہو۔ میں حیران ہوئی کہ بات کیا ہے مگر آپا باورچی خانے میں چپ چاپ بیٹھی تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ اس کے پیچھے فروٹ سلاد کی کشتی خالی پڑی تھی۔ البتہ آپا کے ہونٹ بھنچے ہوئے تھے۔

بھائی تصدق اور باجی کی شادی کے دو سال بعد ہمیں پہلی بار ان کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ اب باجی وہ باجی نہ تھی۔ اس کے وہ قہقہے بھی نہ تھے۔ اس کا رنگ زرد تھا اور ماتھے پر شکن چڑھی تھی۔ بھائی صاحب بھی چپ چاپ رہتے تھے۔ ایک شام اماں کے علاوہ ہم سب باورچی خانے میں بیٹھے تھے۔ بھائی کہنے لگے۔ بدو ساجو باجی سے بیاہ کرو گے؟

"اونہہ!" بدو نے کہا۔ "ہم باہ کریں گے ہی نہیں۔"

میں نے پوچھا۔ "بھائی جان یاد ہے جب بدو کہا کر تا تھا۔ ہم تو چھاجو باجی سے باہ کریں گے۔ " اماں نے پوچھا "آپا سے کیوں نہیں؟" تو کہنے لگا "بتاؤں آپا کیسی ہے؟" پھر چولھے میں جلے ہوئے اوپلے کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا۔ "ایسی!" اور چھاجو باجی؟ میں نے بدو کی طرح بجلی کے روشن بلب کی طرف انگلی سے اشارہ کیا۔"ایسی!" عین اسی وقت بجلی بجھ گئی اور کمرے میں انگاروں کی روشنی کے سوا اندھیرا چھا گیا۔ "ہاں یاد ہے!" بھائی جان نے کہا۔ پھر جب باجی کسی کام کے لئے باہر چلی گئی تو بھائی کہنے لگے۔ "نہ جانے اب بجلی کو کیا ہو گیا۔ جلتی بجھتی رہتی ہے۔" آپا چپ چاپ بیٹھی چولھے میں راکھ سے دبی ہوئی چنگاریوں کو کرید رہی تھی۔ بھائی جان نے مغموم سی آواز میں کہا "اف کتنی سردی ہے۔" پھر اٹھ کر آپا کے قریب چولہے کے سامنے جا بیٹھے اور ان سلگتے ہوئے اوپلوں سے آگ سینکنے لگے۔ بولے۔ "ممانی سچ کہتی تھیں کہ ان جھلسے ہوئے اوپلوں میں آگ دبی ہوتی ہے۔ اوپر سے نہیں دکھائی دیتی۔ کیوں سجدے؟" آپا پرے سرکنے لگی تو چھن سی آواز آئی جیسے کسی دبی ہوئی چنگاری پر پانی کی بوند پڑی ہو۔ بھائی جان منت بھری آواز میں کہنے لگے۔ "اب اس چنگاری کو تو نہ بجھاؤ سجدے، دیکھو تو کتنی ٹھنڈ ہے۔


آنندی

(غلام عبّاس)

بلدیہ کا اجلاس زوروں پر تھا۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور خلافِ معمول ایک ممبر بھی غیر حاضر نہ تھا۔ بلدیہ کے زیرِ بحث مسئلہ یہ تھا کہ زنان بازاری کو شہر بدر کر دیا جائے کیونکہ ان کا وجود انسانیت، شرافت اور تہذیب کے دامن پر بد نما داغ ہے۔

بلدیہ کے ایک بھاری بھرکم رکن جو ملک و قوم کے سچے خیر خواہ اور دردمند سمجھے جاتے تھے نہایت فصاحت سے تقریر کر رہے تھے۔

"اور پھر حضرات آپ یہ بھی خیال فرمائیے کہ ان کا قیام شہر کے ایک ایسے حصے میں ہے جو نہ صرف شہر کے بیچوں بیچ عام گزر گا ہ ہے بلکہ شہر کا سب سے بڑا تجارتی مرکز بھی ہے چنانچہ ہر شریف آدمی کو چار و ناچار اس بازار سے گزرنا پڑتا ہے۔ علاوہ ازیں شرفاء کی پاک دامن بہو بیٹیاں اس بازار کی تجارتی اہمیت کی وجہ سے یہاں آنے اور خرید و فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ صاحبان! یہ شریف زادیاں ان آبرو باختہ، نیم عریاں بیسواؤں کے بناؤ سنگار کو دیکھتی ہیں تو قدرتی طور پران کے دل میں بھی آرائش و دلربائی کی نئی نئی امنگیں اور ولولے پیدا ہوتے ہیں اور وہ اپنے غریب شوہروں سے طرح طرح کے غازوں، لونڈروں، زرق برق ساریوں اور قیمتی زیوروں کی فرمائشیں کرنے لگتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کا پُر مسرت گھر، ان کا راحت کدہ ہمیشہ کے لئے جہنم کا نمونہ بن جاتا ہے۔"

"اور صاحبان پھر آپ یہ بھی تو خیال فرمائیے کہ ہمارے نونہالانِ قوم جو درسگاہوں میں تعلیم پا رہے ہیں اور ان کی آئندہ ترقیوں سے قوم کی امیدیں وابستہ ہیں اور قیاس چاہتا ہے کہ ایک نہ ایک دن قوم کی کشتی کو بھنور سے نکالنے کا سہرا ان ہی کے سر بندھے گا، انہیں بھی صبح شام اسی بازار سے ہو کر آنا جاتا پڑتا ہے۔ یہ قحبائیں ہر وقت ابھرن سولہ سنگار کئے راہرو پر بے حجابانہ نگاہ و مژہ کے تیر و سناں برساتی اور اسے دعوتِ حسن دیتی ہیں۔ کیا انہیں دیکھ کر ہمارے بھولے بھالے نا تجربہ کار جوانی کے نشے میں محو، سود و زیاں سے بے پرو اہ نو نہالانِ قوم اپنے جذبات و خیالات اور اپنی اعلیٰ سیرت کو معصیت کے مسموم اثرات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟ صاحبان! کیا ان کا حسنِ زاہد فریب ہمارے نونہالانِ قوم کو جادۂ مستقیم سے بھٹکا کر، ان کے دل میں گناہ کی پر اسرار لذتوں کی تشنگی پیدا کر کے ایک بے کلی، ایک اضطراب، ایک ہیجان برپا نہ کر دیتا ہو گا"

اس موقع پر ایک رکن بلدیہ جو کسی زمانے میں مدرس رہ چکے تھے اور اعداد و شمار سے خاص شغف رکھتے تھے بول اٹھے:

"صاحبان، واضح رہے کہ امتحانوں میں ناکام رہنے والے طلبہ کا تناسب پچھلے پانچ سال کی نسبت ڈیوڑھا ہو گیا ہے۔"

ایک رکن نے جو چشمہ لگائے تھے اور ہفتہ وار اخبار کے مدیرِ اعزازی تھے، تقریر کرتے ہوئے کہا "حضرات ہمارے شہر سے روز بروز غیرت، شرافت، مردانگی، نیکو کاری و پرہیز گاری اٹھتی جا رہی ہے اور اس کی بجائے بے غیرتی، نا مردی، بزدلی، بدمعاشی، چوری اور جعل سازی کا دور دورہ ہو تا جا رہا ہے۔ منشیات کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ قتل و غارت گری، خودکشی اور دیوالیہ نکلنے کی وارداتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کا سبب محض ان زنانِ بازاری کا نا پاک وجود ہے کیونکہ ہمارے بھولے بھالے شہری ان کی زلفِ گرہ گیر کے اسیر ہو کر ہوش و خرد کھو بیٹھتے ہیں اور ان کی بارگاہ تک رسائی کی زیادہ سے زیادہ قیمت ادا کرنے کے لئے ہر جائز و ناجائز طریقہ سے زر حاصل کرتے ہیں۔ بعض اوقات وہ اس سعی و کوشش میں جامۂ انسانیت سے باہر ہو جاتے ہیں اور قبیح افعال کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ جانِ عزیزی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا جیل خانوں میں پڑے سڑتے ہیں۔"

ایک پنشن یافتہ معمر رکن جو ایک وسیع خاندان کے سرپرست تھے اور دنیا کا سرد و گرم دیکھ چکے تھے اور اب کش مکش حیات سے تھک کر باقی ماندہ عمر سستانے اور اپنے اہل و عیال کو اپنے سایہ میں پنپتا ہوا دیکھنے کے متمنی تھے، تقریر کرنے اٹھے۔۔ان کی آواز لرزتی ہوئی تھی اور لہجہ فریاد کا انداز لئے ہوئے تھا۔ بولے: صاحبان رات رات بھر ان لوگوں کے طبلے کی تھاپ، ان کی گلے بازیاں، ان کے عشاق کی دھینگا مشتی، گالی گلوچ، شور و غل ہا ہا ہا ہو ہو ہو، سن سن کر آس پاس کے رہنے والے شرفا کے کان پک گئے ہیں۔ رات کی نیند حرام ہے تو دن کا چین مفقود۔ علاوہ ازیں ان کے قرب سے ہماری بہو بیٹیوں کے اخلاق پر جو اثر پڑتا ہے اس کا اندازہ ہر صاحب اولاد خود کر سکتا ہے۔ آخری فقرہ کہتے کہتے ان کی آواز بھرا گئی اور وہ اس سے زیادہ کچھ نہ کہہ سکے۔ سب اراکین بلدیہ کو ان سے ہمدردی تھی کیونکہ بدقسمتی سے ان کا مکان اس بازار حسن کے عین وسط میں واقع تھا۔ ان کے بعد ایک رکن بلدیہ نے جو پرانی تہذیب کے علمبردار تھے اور آثار قدیمہ کو اولاد سے زیادہ عزیز رکھتے تھے تقریر کرتے ہوئے کہا۔

"حضرات! باہر سے جو سیاح اور ہمارے احباب اس مشہور اور تاریخی شہر کو دیکھنے آتے ہیں جب وہ اس بازار سے گزرتے ہیں اور اس کے متعلق استفسار کرتے ہیں تو یقین کیجئے کہ ہم پر گھڑوں پانی پڑ جاتا ہے۔"

اب صدر بلدیہ تقریر کرنے اٹھے۔ گو قد ٹھگنا اور ہاتھ پاؤں چھوٹے چھوٹے تھے مگر سر بڑا تھا۔ جس کی وجہ سے بردبار آدمی معلوم ہوتے تھے۔ لہجہ میں حد درجہ متانت تھی، بولے: "حضرات! میں اس امر میں قطعی طور پر آپ سے متفق ہوں کہ اس طبقہ کا وجود ہمارے شہر اور ہمارے تہذیب و تمدن کے لئے باعثِ صد عار ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ اس کا تدارک کس طرح کیا جائے۔ اگر ان لوگوں کو مجبور کیا جائے کہ یہ اپنا ذلیل پیشہ چھوڑ دیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ کھائیں گے کہاں سے؟" ایک صاحب بول اٹھے۔ "یہ عورتیں شادی کیوں نہیں کر لیتیں؟"

اس پر ایک طویل فرمائشی قہقہہ پڑا اور ہال کی ماتمی فضا میں یکبارگی شگفتگی کے آثار پیدا ہو گئے۔ جب اجلاس میں خاموشی ہوئی تو صاحب صدر بولے۔ "حضرات یہ تجویز با رہا ان لوگوں کے سامنے پیش کی جا چکی ہے۔ اس کا ان کی طرف سے یہ جواب دیا جاتا ہے کہ آسودہ اور عزت دار لوگ خاندانی حرمت و ناموس کے خیال سے انہیں اپنے گھروں میں گھسنے نہ دیں گے اور مفلس اور ادنیٰ طبقہ کے لوگوں کو جو محض ان کی دولت کے لئے ان سے شادی کرنے پر آمادہ ہوں گے، یہ عورتیں خود منہ نہیں لگائیں گی۔"

اس پر ایک صاحب بولے۔ "بلدیہ کو ان کے نجی معاملوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ بلدیہ کے سامنے تو یہ مسئلہ ہے کہ یہ لوگ چاہے جہنم میں جائیں مگر اس شہر کو خالی کر دیں۔"

صدر نے کہا "صاحبان یہ بھی آسان کام نہیں ہے۔ ان کی تعداد دس بیس نہیں سینکڑوں تک پہنچتی ہے اور پھر ان میں سے بہت سی عورتوں کے ذاتی مکانات ہیں۔"

یہ مسئلہ کوئی مہینے بھر تک بلدیہ کے زیر بحث رہا اور بالآخر تمام اراکین کی اتفاق رائے یہ امر قرار پایا کہ زنان بازاری کے مملوکہ مکانوں کو خرید لینا چاہئے اور انہیں رہنے کے لئے شہر سے کافی دور کوئی الگ تھلگ علاقہ دے دینا چاہئے۔ ان عورتوں نے بلدیہ کے اس فیصلہ کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ بعض نے نا فرمانی کر کے بھاری جرمانے اور قیدیں بھگتیں مگر بلدیہ کی مرضی کے آگے ان کی کوئی پیش نہ چل سکی اور چار و ناچار صبر کر کے رہ گئیں۔


اس کے بعد ایک عرصہ تک ان زنان بازاری کے مملوکہ مکانوں کی فہرستیں اور نقشے تیار ہو تے رہے اور مکانوں کے گاہک پیدا کئے جاتے رہے۔ بیشتر مکانوں کو بذریعۂ نیلام فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان عورتوں کو چھ مہینے تک شہر میں اپنے پرانے ہی مکانوں میں رہنے کی اجازت دے دی گئی تاکہ اس عرصہ میں وہ نئے علاقہ میں مکان وغیرہ بنوا سکیں۔

ان عورتوں کے لئے جو علاقہ منتخب کیا گیا وہ شہر سے چھ کوس دور تھا۔ پانچ کوس تک پکی سڑک جاتی تھی اور اس سے آگے کوس بھر کا کچا راستہ تھا۔ کسی زمانہ میں وہاں کوئی بستی ہو گی مگر اب تو کھنڈروں کے سوا کچھ نہ رہا تھا۔ جن میں سانپوں اور چمگادڑوں کے مسکن تھے اور دن دہاڑے اُلّو بولتا تھا۔ اس علاقے کے نواح میں کچے گھروندوں والے کئی چھوٹے چھوٹے گاؤں تھے۔ مگر کسی کا فاصلہ بھی یہاں سے دو ڈھائی میل سے کم نہ تھا۔ ان گاؤں کے بسنے والے کسان دن کے وقت کھیتی باڑی کرتے، یا یونہی پھرتے پھراتے ادھر نکل آتے ورنہ عام طور پر اس شہر خموشاں میں آدم زاد کی صورت نظر نہ آتی تھی۔ بعض اوقات روز روشن ہی میں گیدڑ اس علاقے میں پھرتے دیکھے گئے تھے۔

پانچ سو کچھ اوپر بیسواؤں میں سے صرف چودہ ایسی تھیں جو اپنے عشاق کی وابستگی یا خود اپنی دلبستگی یا کسی اور وجہ سے شہر کے قریب آزادانہ رہنے پر مجبور تھیں اور اپنے دولت مند چاہنے والوں کی مستقل مالی سرپرستی کے بھروسے بادل نا خواستہ اس علاقہ میں رہنے پر آمادہ ہو گئی تھیں ورنہ باقی عورتوں نے سوچ رکھا تھا کہ وہ یا تو اسی شہر کے ہوٹلوں کو اپنا مسکن بنائیں گی یا بظاہر پارسائی کا جامہ پہن کر شہر کے شریف محلوں کی کونوں کھدروں میں جا چھپیں گی یا پھر اس شہر کو چھوڑ کر کہیں اور نکل جائیں گی۔

یہ چودہ بیسوائیں اچھی خاصی مالدار تھیں۔ اس پر شہر میں ان کے جو مملوکہ مکان تھے،، ان کے دام انہیں اچھے وصول ہو گئے تھے اور اس علاقہ میں زمین کی قیمت برائے نام تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے ملنے والے دل و جان سے اس کی مالی امداد کرنے کی لئے تیا ر تھے۔ چنا نچہ انہوں نے اس علاقے میں جی کھول کر بڑے بڑے عالیشان مکان بنوانے کی ٹھانی۔ ایک اونچی اور ہموار جگہ جو ٹوٹی پھوٹی قبروں سے ہٹ کر تھی "منتخب کی گئی۔ زمین کے قطعے صاف کرائے اور چابک دست نقشہ نویسوں سے مکان کے نقشے بنوائے گئے اور چند ہی روز میں تعمیر کا کام شروع ہو گیا۔ دن بھر اینٹ، مٹی، چونا، شہتیر، گارڈر اور دوسرا عمارتی سامان گاڑیوں، چھکڑوں، خچروں، گدھوں اور انسانوں پر لد کر اس بستی میں آ تا اور منشی صاحب حساب کتاب کی کاپیا ں بغلوں میں دبائے انہیں گنواتے اور کاپیوں میں درج کرتے۔۔۔ میر صاحب معماروں کو کام کے متعلق ہدایات دیتے۔ معمار مزدوروں کو ڈانٹتے ڈپٹتے مزدور ادھر ادھر دوڑتے پھرتے۔ مزدور نیوں کو چلا چلا کر پکارتے اور اپنے ساتھ کام کرنے کے لئے بلاتے۔ غرض سارا دن ایک شور ایک ہنگامہ رہتا۔ اور سارا دن آ س پاس کے گاؤں کے دیہاتی اپنے کھیتوں میں اور دیہاتنیں اپنے گھروں میں ہوا کے جھو نکوں کے ساتھ دور سے آ تی ہوئی کھٹ کھٹ کی دھیمی آوازیں سنتی رہتیں۔

اس بستی کے کھنڈروں میں ایک جگہ مسجد کے آ ثار تھے اور اس کے پاس ہی ایک کنواں تھا جو بند پڑا تھا۔ راج مزدوروں نے کچھ تو پانی حاصل کرنے اور بیٹھ کر سستانے کی غرض سے اور کچھ ثواب کمانے اور اپنے نمازی بھائیوں کی عبادت گزاری کے خیال سے سب سے پہلے اس کی مرمت کی چونکہ یہ فائدہ بخش اور ثواب کا کام تھا، اس لئے کسی نے کچھ اعتراض نہ کیا چنانچہ دو تین روز میں مسجد تیار ہو گئی۔

دن کو بارہ بجے جیسے ہی کھانا کھانے کی چھٹی ہوئی دو ڈھائی سو راج، مزدور، میرِ عمارت، منشی اور ان بیسواؤں کے رشتے دار یا کارندے جو تعمیر کی نگرانی پر مامور تھے، اس مسجد کے آ س پاس جمع ہو جاتے اور اچھا خاصا میلہ سا لگ جاتا۔

ایک دن ایک دیہاتی بڑھیا جو پاس کے کسی گاؤں میں رہتی تھی، اس بستی کی خبر سن کر آ گئی۔ اس کے ساتھ ایک خورد سال لڑکا تھا۔ دونوں نے مسجد کے قریب ایک درخت کے نیچے گھٹیا سگریٹ، بیڑی، چنے اور گڑ کی بنی ہوئی مٹھائیوں کا خوانچہ لگا دیا۔ بڑھیا کو آئے ابھی دو دن بھی نہ گزرے تھے کہ ایک بوڑھا کسان کہیں سے ایک مٹکا اٹھا لایا اور کنویں کے پاس اینٹوں کا ایک چھو ٹا سا چبوترا بنا پیسے کے دو دو شکر کے شربت کے گلاس بیچنے لگا۔ ایک کنجڑے کو جو خبر ہوئی وہ ایک ٹوکرے میں خربوزے بھر کر لے آ یا اور خوانچہ والی بڑھیا کے پاس بیٹھ کر "لے لو خربوزے، شہد سے میٹھے خربوزے!" کی صدا لگانے لگا۔ ایک شخص نے کیا کیا، گھر سے سری پائے پکا، دیگچی میں رکھ، خوانچہ میں لگا، تھوڑی سی روٹیاں، مٹی کے دو تین پیالے اور ٹین کا ایک گلاس لے آ موجود ہو ا اور اسی بستی کے کارکنوں کو جنگل میں گھر کی ہنڈیا کا مزا چکھانے لگا۔

ظہر اور عصر کے وقت، میر عمارت، منشی، معمار اور دوسرے لوگ مزدوروں سے کنویں سے پانی نکلوا نکلوا کر وضو کرتے نظر آ تے۔ ایک شخص مسجد میں جا کر اذان دیتا، پھر ایک کو امام بنا دیا جاتا اور دوسرے لوگ اس کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھتے۔ کسی گاؤں میں ایک ملا کے کان میں جو یہ بھنک پڑی کہ فلاں مسجد میں امام کی ضرورت ہے وہ دوسرے ہی دن علی الصبح ایک سبز جزدان میں قرآن شریف، پنجسورہ، رحل اور مسئلے مسائل کے چند چھوٹے چھوٹے رسالے رکھ آ موجود ہوا اور اس مسجد کی امامت باقاعدہ طور پر اسے سونپ دی گئی۔

ہر روز تیسرے پہر گاؤں کا ایک کبابی سر پر اپنے سامان کا ٹوکرا اٹھائے آ جاتا اور خوانچہ والی بڑھیا کے پاس زمین پر چولہا بنا، کباب، کلیجی، دل اور گردے سیخوں پر چڑھا، بستی والوں کے ہاتھ بیچتا۔ ایک بھٹیاری نے جو یہ حال دیکھا تو اپنے میاں کو ساتھ لے کر مسجد کے سامنے میدان میں دھوپ سے بچنے کے لئے پھونس کا ایک چھپر ڈال کر تنور گرم کرنے لگی۔ کبھی کبھی ایک نوجوان دیہاتی نائی، پھٹی پرانی کسبت گلے میں ڈالے جوتوں کی ٹھوکروں سے راستہ روڑوں کو لڑھکاتا ادھر ادھر گشت کرتا دیکھنے میں آ جاتا۔

ان بیسواؤں کے مکانوں کی تعمیر کی نگرانی ان کے رشتہ دار یا کارندے تو کرتے ہی تھے، کسی کسی دن وہ دوپہر کے کھانے سے فارغ ہو کر اپنے عشاق کے ہمراہ خود بھی اپنے اپنے مکانوں کو بنتا دیکھنے آ جاتیں اور غروب آفتاب سے پہلے یہاں سے نہ جاتیں۔ اس موقع پر فقیروں اور فقیرنیوں کی ٹولیوں کی ٹولیاں نہ جانے کہاں سے آ جاتیں اور جب تک خیرات نہ لے لیتیں اپنی صداؤں سے برابر شور مچاتی رہتیں اور انہیں بات نہ کرنے دیتیں۔ کبھی کبھی شہر کے لفنگے، اوباش و بیکار مباش کچھ کیا کرو، کے مصداق شہر سے پیدل چل کر بیسواؤں کی اس نئی بستی کی سن گن لینے آ جاتے اور اگر اس دن بیسوائیں بھی آئی ہوتیں تو ان کی عید ہو جاتی۔ وہ ان سے دور ہٹ کر ان کے گردا گرد چکر لگاتے رہتے۔ فقرے کستے، بے تکے قہقہے لگاتے۔ عجیب عجیب شکلیں بناتے اور مجنونانہ حرکتیں کرتے۔ اس روز کبابی کی خوب بکری ہوتی۔

اس علاقے میں جہاں تھوڑے ہی دن پہلے ہو کا عالم تھا اب ہر طرف گہما گہمی اور چہل پہل نظر آنے لگی۔ شروع شروع میں اس علاقہ کی ویرانی میں ان بیسواؤں کو یہاں آ کر رہنے کے خیال سے جو وحشت ہوتی تھی، وہ بڑی حد تک جاتی رہی تھی اور اب وہ ہر مرتبہ خوش خوش اپنے مکانوں کی آرائش اور اپنے مرغوب رنگوں کے متعلق معماروں کو تاکیدیں کر جاتی تھیں۔

بستی میں ایک جگہ ایک ٹوٹا پھوٹا مزار تھا جو قرائن سے کسی بزرگ کا معلوم ہوتا تھا۔ جب یہ مکان نصف سے زیادہ تعمیر ہو چکے تو ایک دن بستی کے راج مزدوروں نے کیا دیکھا کہ مزار کے پاس دھواں اٹھ رہا ہے اور ایک سرخ سرخ آنکھوں والا لمبا تڑنگا مست فقیر، لنگوٹ باندھے چار ابرو کا صفایا کرائے اس مزار کے ارد گرد پھر رہا ہے اور کنکر پتھر اٹھا اٹھا کر پرے پھینک رہا ہے۔ دوپہر کو وہ فقیر ایک گھڑا لے کر کنویں پر آیا اور پانی بھر بھر کر مزار پر لے جانے اور اسے دھونے لگا۔ ایک دفعہ جو آیا تو کنویں پر دو تین راج مزدور کھڑے تھے۔ وہ نیم دیوانگی اور نیم فرزانگی کے عالم میں ان سے کہنے لگا۔ "جانتے ہو وہ کس کا مزار ہے؟ کڑک شاہ پیر بادشاہ کا! میرے باپ دادا، ان کے مجاور تھے۔" اس کے بعد اس نے ہنس ہنس کر اور آنکھوں میں آنسو بھر بھر کر پیر کڑک شاہ کی کچھ جلالی کراماتیں بھی ان راج مزدوروں سے بیان کیں۔

شام کو یہ فقیر کہیں سے مانگ تانگ کر مٹی کے دو دئے اور سرسوں کا تیل لے آیا اور پیر کڑک شاہ کی قبر کے سرہانے اور پائنتی چراغ روشن کر دئے۔ رات کو پچھلے پہر کبھی کبھی اس مزار سے اللہ ہو کا مست نعرہ سنائی دے جاتا۔


چھ مہینے گزرنے نہ پائے تھے کہ یہ چودہ مکان بن کر تیار ہو گئے۔ یہ سب کے سب دو منزلہ اور قریب قریب ایک ہی وضع کے تھے۔ سات ایک طرف اور سات دوسری طرف۔ بیچ میں چوڑی چکلی سڑک تھی۔ ہر ایک مکان کے نیچے چار چار دکانیں تھیں۔ مکان کی بالائی منزل میں سڑک کے رخ وسیع برآمدہ تھا۔ اس کے آگے بیٹھنے کے لئے کشتی نما شہ نشین بنائی گئی تھی۔ جس کے دونوں سروں پر یا تو سنگ مرمر کے مور رقص کر تے ہوئے بنائے گئے تھے اور یا جل پریوں کے مجسمے تراشے گئے تھے، جن کا آ دھا دھڑ مچھلی کا اور آدھا انسان کا تھا۔ برآ مدہ کے پیچھے جو بڑا کمرہ بیٹھنے کے لئے تھا۔ اس میں سنگ مر مر کے نازک نازک ستون بنائے گئے تھے۔۔ دیواروں پر خوش نما پچی کاری کی گئی تھی۔ فرش چمکدار پتھر کا بنایا گیا تھا۔ جب سنگ مر مر کے ستونو ں کے عکس اس فرش زمردیں پر پڑتے تو ایسا معلوم ہوتا گویا سفید براق پروں والے راج ہنسوں نے اپنی لمبی لمبی گردنیں جھیل میں ڈبو دی ہیں۔

بدھ کا شبھ دن، اسی بستی میں آنے کے لئے مقرر کیا گیا۔ اس روز اس بستی کی سب بیسواؤں نے مل کر بہت بھاری نیاز دلوائی۔ بستی کے کھلے میدان میں زمین کو صاف کرا کر شامیانے نصب کر دئے گئے۔ دیگیں کھڑکنے کی آواز اور گوشت اور گھی کی خوشبو، بیس بیس کوس سے فقیروں اور کتوں کو کھینچ لائی۔ دوپہر ہوتے ہوتے پیر کڑک شاہ کے مزار کے پاس جہاں لنگر تقسیم کیا جاتا تھا اس قدر فقیر جمع ہو گئے کہ عید کے روز کسی بڑے شہر کی جامع مسجد کے پاس بھی نہ ہوئے ہوں گے۔ پیر کڑک شاہ کے مزار کو خوب صاف کروایا اور دھلوایا گیا اور اس پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی اور اس مست فقیر کو نیا جوڑا سلوا کر پہنایا گیا، جسے اس نے پہنتے ہی پھاڑ ڈالا۔

شام کو شامیانے کے نیچے دودھ سی اجلی چاندنی کا فرش کر دیا گیا۔ گاؤ تکئے، پان دان، پیک دان، پیچواں دانی اور گلاب پاس رکھ لئے گئے اور راگ رنگ کی محفل سجائی گئی۔ دور دور سے بہت سی بیسواؤں کو بلوایا گیا جو ان کی سہیلیاں یا برادری کی تھیں۔ ان کے ساتھ ان کے بہت سے ملنے والے بھی آئے جن کے لئے ایک الگ شامیانے میں کرسیوں کا انتظام کیا گیا اور ان کے سامنے کے رخ چقیں ڈال دی گئیں۔ بے شمار گیسوں کی روشنی سے یہ جگہ بقعۂ نور بنی ہوئی تھی۔ ان بیسواؤں کے توندل سیاہ فام سازندے زربفت اور کمخواب کی شیروانیاں پہنے، عطر میں بسے ہوئے پھوئے کانوں میں رکھے، ادھر ادھر مونچھوں کو تاؤ دیتے پھرتے اور زرق برق لباسوں اور تتلی کے پر سے باریک ساریوں میں ملبوس، غازوں اور خوشبوؤں میں بسی ہوئی نازنین اٹھکیلیوں سے چلتیں۔ رات بھر رقص اور سرور کا ہنگامہ برپا رہا اور جنگل میں منگل ہو گیا۔

دو تین دن کے بعد جب اس جشن کی تھکاوٹ اتر گئی تو یہ بیسوائیں ساز و سامان کی فراہمی اور مکانوں کی آرائش میں مصروف ہو گئیں۔ جھاڑ، فانوس، ظروفِ بلّوری، قد آدم آئینے، نواڑی پلنگ، تصویریں اور قطعاتِ سنہری، چوکٹھوں میں جڑے ہوئے لائے گئے اور قرینے سے کمروں میں لگائے گئے اور کوئی آٹھ روز میں جا کر یہ مکان کیل کانٹے سے لیس ہوئے۔ یہ عورتیں دن کا بیشتر حصہ تو استادوں سے رقص و سرود کی تعلیم لینے، غزلیں یاد کرنے، دھنیں بٹھانے، سبق پڑھنے، تختی لکھنے، سینے پرونے، کاڑھنے، گراموفون سننے، استادوں سے تاش اور کیرم کھیلنے، ضلع جگت، نوک جھونک سے جی بہلانے یا سونے میں گزارتیں اور تیسرے پہر غسل خانوں میں نہانے جاتیں، جہاں ان کے ملازموں نے دستی پمپوں سے پانی نکال نکال کر ٹب بھر رکھے ہوتے۔ اس کے بعد وہ بناؤ سنگھار میں مصروف ہو جاتیں۔

جیسے ہی رات کا اندھیرا پھیلتا، یہ مکان گیسوں کی روشنی سے جگمگا اٹھتے جو جا بجا سنگ مر مر کے آدھے کھلے ہوئے کنولوں میں نہایت صفائی سے چھپائی گئے تھے اور ان مکانوں کی کھڑکیوں اور دروازوں کے کواڑوں کے شیشے جو پھول پتیوں کی وضع کے کاٹ کر جڑے گئے تھے ان کی قوسِ قزح کے رنگوں کی سی روشنیاں دور سے جھلمل جھلمل کرتی ہوئی نہایت بھلی معلوم ہوتیں۔ یہ بیسوائیں، بناؤ سنگار کئے برآمدوں میں ٹہلتی، آس پاس والیوں سے باتیں کرتیں، ہنستیں کھکھلاتیں۔ جب کھڑے کھڑے تھک جاتیں تو اندر کمرے میں چاندنی کے فرش پر گاؤ تکیوں سے لگ کر بیٹھ جاتیں۔ ان کے سازندے ساز ملاتے رہتے اور یہ چھالیہ کترتی رہتیں۔ جب رات ذرا بھیگ جاتی تو ان کے ملنے والے ٹوکروں میں شراب کی بوتلیں اور پھل پھلاری لئے اپنے دوستوں کے ساتھ موٹروں یا تانگوں میں بیٹھ کر آتے۔ اس بستی میں جن کے قدم رکھتے ہی ایک خاص گہما گہمی اور چہل پہل ہونے لگتی۔ نغمہ و سرود، ساز کے سر، رقص کرتی ہوئی نازنینوں کے گھنگھروؤں کی آواز، قلقلِ مینا میں مل کر ایک عجیب سرور کی سی کیفیت پیدا کر دیتی۔ عیش و مستی کے ان ہنگاموں میں معلوم بھی نہ ہوتا اور رات بیت جاتی۔

ان بیسواؤں کو اس بستی میں آئے ہوئے چند روز ہی ہوئے تھے کہ دکانوں کے کرایہ دار پیدا ہو گئے۔ جن کا کرایہ اس بستی کو آباد کرنے کے خیال سے بہت ہی کم رکھا گیا تھا۔ سب سے پہلے جو دکان دار آیا وہ وہی بڑھیا تھی جس نے سب سے پہلے مسجد کے سامنے درخت کے نیچے خوانچہ لگایا تھا۔ دکان کو پر کرنے کے لئے بڑھیا اور اس کا لڑکا سگریٹوں کے بہت سے ڈبے اٹھا لائے اور اسے منبر کے طاقوں میں سجا کر رکھ دیا گیا۔ بوتلوں میں رنگ دار پانی بھر دیا گیا تاکہ معلوم ہو کہ شربت کی بوتلیں ہیں۔

بڑھیا نے اپنے بساط کے مطابق کاغذی پھولوں اور سگریٹ کی ڈبیوں سے بنائی ہوئی بیلوں سے دکان کی کچھ آرائش بھی کی، بعض ایکٹروں اور ایکٹرسوں کی تصویریں بھی پرانے رسالوں سے نکال کر لئی سے دیواروں پر چپکا دیں۔ دکان کا اصل مال دو تین قسم کے سگریٹ کے تین تین چار چار پیکٹوں، بیڑی کے آٹھ دس بنڈلوں یا دیا سلائی کی نصف درجن ڈبیوں، پانی کی ڈھولی، پینے کے تمباکو کی تین چار ٹکیوں اور موم بتی کے نصف بنڈل سے زیادہ نہ تھا۔

دوسری دکان میں ایک بنیا، تیسری میں حلوائی اور شیر فروش، چوتھی میں قصائی، پانچویں میں کبابی اور چھٹی میں ایک کنجڑا آ بسے۔ کنجڑا آس پاس کے دیہات سے سستے داموں چار پانچ قسم کی سبزیاں لے آتا اور یہاں خاصے منافع پر بیچ دیتا۔ ایک آدھ ٹوکرا پھلوں کا بھی رکھ لیتا چونکہ دکان خاصی کھلی تھی۔ ایک پھول والا اس کا ساجھی بن گیا۔ وہ دن بھر پھولوں کے ہار، گجرے اور طرح طرح کے گہنے بناتا رہتا اور شام کو انہیں چنگیر میں ڈال کر ایک ایک مکان پر لے جاتا اور نہ صرف پھول ہی بیچ آتا بلکہ ہر جگہ ایک ایک دو دو گھڑی بیٹھ، سازندوں سے گپ شپ بھی ہانک لیتا اور حقے کے دم بھی لگا آتا۔ جس دن تماش بینوں کی کوئی ٹولی اس کی موجودگی میں ہی کوٹھے پر چڑھ آتی اور گانا بجانا شروع ہو جاتا تو وہ سازندوں کے ناک بھوں چڑھانے کے باوجود گھنٹوں اٹھنے کا نام نہ لیتا، مزے مزے سے گانے پر سر دھنتا اور بیوقوفوں کی طرح ایک ایک کی صورت تکتا رہتا۔ جس دن رات زیادہ گزر جاتی اور کوئی ہار بچ جاتا تو اسے اپنے گلے میں ڈال لیتا اور بستی کے باہر گلا پھاڑ پھاڑ کر گاتا پھرتا۔

ایک دن ایک بیسوا کا باپ اور بھائی جو درزیوں کا کام جانتے تھے، سینے کی ایک مشین رکھ کر بیٹھ گئے۔ ہوتے ہوتے ایک حجام بھی آگیا اور اپنے ساتھ ایک رنگریز کو بھی لیتا آیا۔ اس کی دکان کے باہر الگنی پر لٹکتے ہوئے طرح طرح کے رنگوں کے دوپٹے ہوا میں لہراتے ہوئے آنکھوں کو بھلے معلوم ہونے لگے۔

چند ہی روز گزرے تھے کہ ایک ٹٹ پونجئے بساطی نے جس کی دکان شہر میں چلتی نہ تھی، بلکہ اسے دکان کا کرایہ نکالنا بھی مشکل ہو جاتا تھا شہر کو خیر باد کہہ کر اس بستی کا رخ کیا۔ یہاں پر اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور اس کے طرح طرح کے لونڈر، قسم قسم کے پاؤڈر، صابن، کنگھیاں، بٹن، سوئی، دھاگا، لیس، فیتے، خوشبودار تیل، رومال، منجن وغیرہ کی خوب بکری ہونے لگی۔

اس بستی کے رہنے والوں کی سرپرستی اور ان کے مربیانہ سلوک کی وجہ سے اسی طرح دوسرے تیسرے روز کوئی نہ کوئی ٹٹ پونجیا دکاندار کوئی بزاز، کوئی پنساری، کوئی نیچہ بند، کوئی نانبائی مندے کی وجہ سے یا شہر کے بڑھتے ہوئے کرائے سے گھبرا کر اس بستی میں آ پناہ لیتا۔


ایک بڑے میاں عطار جو حکمت میں بھی کسی قدر دخل رکھتے تھے، ان کا جی شہر کی گنجان آبادی اور حکیموں اور دوا خانوں کی افراط سے جو گھبرایا تو وہ اپنے شاگردوں کو ساتھ لے کر شہر سے اٹھ آئے اور اس بستی میں ایک دکان کرایہ پر لے لی۔ سارا دن بڑے میاں اور ان کے شاگرد دواؤں کے ڈبوں، شربت کی بوتلوں اور مربے، چٹنی، اچار کے بویاموں کو الماریوں اور طاقوں میں اپنے اپنے ٹھکانے پر رکھتے رہے۔ ایک طاق میں طبِ اکبر، قرابادین قادری اور دوسری طبی کتابیں جما کر رکھ دیں۔ کواڑوں کی اندرونی جانب اور دیواروں کے ساتھ جو جگہ خالی بچی وہاں انہوں نے اپنے خاص الخاص مجربات کے اشتہارات سیاہ روشنائی سے جلی لکھ کر اور دفتیوں پر چپکا کر آویزاں کر دئے۔ ہر روز صبح کو بیسواؤں کے ملازم گلاس لے لے کر آ موجود ہوتے اور شربتِ بزوری، شربتِ بنفشہ، شربتِ انار اور ایسے ہی اور نزہت بخش، روح افزا شربت و عرق، خمیرہ گاؤ زبان اور تقویت پہنچانے والے مربے مع ورق ہائے نقرہ لے جاتے۔

جو دکانیں بچ رہیں، ان میں بیسواؤں کے بھائی بندوں اور سازندوں نے اپنی چارپائیاں ڈال دیں۔ دن بھر یہ لوگ ان دکانوں میں تاش چوسر اور شطرنج کھیلتے، بدن پر تیل ملواتے، سبزی گھوٹتے، بٹیروں کی پالیاں کراتے، تیتروں سے "سبحان تیری قدرت" کی رٹ لگواتے اور گھڑا بجا بجا کر گاتے۔

ایک بیسوا کے سازندے نے ایک دکان خالی دیکھ کر اپنے بھائی کو جو ساز بنانا جانتا تھا اس میں لا بٹھایا۔ دکان کی دیواروں کے ساتھ ساتھ کیلیں ٹھونک کر ٹوٹی پھوٹی مرمت طلب سارنگیاں، ستار، طنبورے، دلربا وغیرہ ٹانگ دئے گئے۔ یہ شخص ستار بجانے میں بھی کمال رکھتا تھا۔ شام وہ اپنی دکان میں ستار بجاتا، جس کی میٹھی آواز سن کر آس پاس کے دکان دار اپنی دکانوں سے اٹھ اٹھ کر آ جاتے اور دیر تک بت بنے ستار سنتے رہتے۔ اس ستار نواز کا ایک شاگرد تھا جو ریلوے کے دفتر میں کلرک تھا۔ اسے ستار سیکھنے کا بہت شوق تھا۔ جیسے ہی دفتر سے چھٹی ہوئی، سیدھا سائیکل اڑاتا ہوا اس بستی کا رخ کرتا اور گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ دکان ہی میں بیٹھ کر مشق کیا کرتا، غرض اس ستار نواز کے دم سے بستی میں خاصی رونق رہنے لگی۔

مسجد کے ملّا جی، جب تک تو یہ بستی زیر تعمیر رہی رات کو دیہات اپنے گھر چلے جاتے رہے۔ مگر اب جب کہ انہیں دونوں وقت مرغن کھانا بافراط پہنچنے لگا تو وہ رات کو بھی یہیں رہنے لگے۔ رفتہ رفتہ بعض بیسواؤں کے گھروں سے بچے بھی مسجد میں پڑھنے آنے لگے، جس سے ملا جی کو روپے پیسے کی آمدنی بھی ہو نے لگی۔

ایک شہر شہر گھومنے والی گھٹیا درجہ کی تھیٹریکل کمپنی کو جب زمین کے چڑھتے ہوئے کرایہ اور اپنی بے مائیگی کے باعث شہرمیں کہیں جگہ نہ ملی تو اس نے اس بستی کا رخ کیا اور ان بیسواؤں کے مکانوں سے کچھ فاصلہ پر میدان میں تنبو کھڑے کر کے ڈیرے ڈال دئے۔ اس کے ایکٹر ایکٹری کے فن سے محض نا بلد تھے۔ ان کے ڈریس پھٹے پرانے تھے جن کے بہت سے ستارے جھڑ چکے تھے اور یہ لوگ تماشہ بھی بہت دقیانوسی دکھاتے تھے مگر اس کے باوجود یہ کمپنی چل نکلی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ٹکٹ کے دام بہت کم تھے۔ شہر کے مزدور پیشہ لوگ، کارخانوں میں کام کرنے والے اور غریب غربا جو دن بھر کی کڑی محنت مشقت کی کسر شور و غل، خر مستیوں اور ادنیٰ عیاشیوں سے نکالنا چاہتے تھے، پانچ پانچ چھ چھ کی ٹولیاں بنا کر، گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے، ہنستے بولتے، بانسری اور الغوزے بجاتے، راہ چلتوں پر آوازے کستے، گالی گلوچ بکتے، شہر سے پیدل چل کر تھیٹر دیکھنے آتے اور لگے ہاتھوں بازارِ حسن کی سیر بھی کر جاتے۔ جب تک ناٹک شروع نہ ہوتا تھیٹر کا ایک مسخرہ تنبو کے باہر ایک سٹول پر کھڑا کبھی کولہو ہلاتا، کبھی منہ پھلاتا، کبھی آنکھیں مٹکاتا، عجیب عجیب حیا سوز حرکتیں کرتا جنہیں دیکھ کر یہ لوگ زور زور سے قہقہے لگاتے اور گالیوں کی صورت داد دیتے۔

رفتہ رفتہ دوسرے لوگ بھی اس بستی میں آنے شروع ہوئے۔ چنانچہ شہر کے بڑے بڑے چوکوں میں تانگے والے صدائیں لگانے لگے "آؤ، کوئی نئی بستی کو " شہر سے پانچ کوس تک جو پکی سڑک جاتی تھی اس پر پہنچ کر تانگے والے سواریوں سے انعام حاصل کرنے کے لالچ میں یا ان کی فرمائش پر تانگوں کی دوڑیں کراتے۔ منہ سے ہارن بجاتے اور جب کوئی تانگہ آگے نکل جاتا تو اس کی سواریاں نعروں سے آسمان سر پر اٹھا لیتیں۔ اس دوڑ میں غریب گھوڑوں کا برا حال ہو جاتا اور ان کے گلے میں پڑے ہوئے پھولوں کے ہاروں سے بجائے خوشبو کے پسینے کی بدبو آنے لگتی۔ رکشا والے، تانگے والوں سے کیوں پیچھے رہتے۔ وہ ان سے کم دام پر سواریاں بٹھا، طرارے بھرتے اور گھنگھرو بجاتے اس بستی کو جانے لگے۔ علاوہ ازیں ہر ہفتے کی شام کو اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ ایک ایک سائیکل پر دو دو لدے، جوق در جوق اس پُر اسرار بازار کی سیر دیکھنے آتے، جس سے ان کے خیال کے مطابق ان کے بڑوں نے خواہ مخواہ محروم کر دیا تھا۔

رفتہ رفتہ اس بستی کی شہرت چاروں طرف پھیلنے اور مکانوں اور دکانوں کی مانگ ہونے لگی۔ وہ بیسوائیں جو پہلے اس بستی میں آنے پر تیار نہ ہوتی تھیں اب اس کی دن دگنی رات چوگنی ترقی دیکھ کر اپنی بیوقوفی پر افسوس کرنے لگیں۔ کئی عورتوں نے تو جھٹ زمینیں خرید۔ ان بیسواؤں کے ساتھ اسی وضع قطع کے مکان بنوانے شروع کر دئے۔ علاوہ ازیں شہر کے بعض مہاجنوں نے بھی اس بستی کے آس پاس سستے داموں زمینیں خرید خرید کر کرایہ پر اٹھانے کے لئے چھوٹے چھوٹے کئی مکان بنوا ڈالے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ فاحشہ عورتیں جو ہوٹلوں اور شریف محلوں میں روپوش تھیں، مور و ملخ کی طرح اپنے نہال خانوں سے باہر نکل آئیں اور ان مکانوں میں آباد ہو گئیں۔ بعض چھوٹے چھوٹے مکانوں میں اس بستی کے وہ دکان دار آ بسے جو عیال دار تھے اور رات کو دکانوں میں سو نہ سکتے تھے۔

اس بستی میں آبادی تو خاصی ہو گئی تھی مگر ابھی تک بجلی کی روشنی کا انتظام نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ ان بیسواؤں اور بستی کے تمام رہنے والوں کی طرف سے سرکار کے پاس بجلی کے لئے درخواست بھیجی گئی، جو تھوڑے دنوں بعد منظور کر لی گئی۔ اس کے ساتھ ہی ایک ڈاکخانہ بھی کھول دیا گیا۔ ایک بڑے میاں ڈاکخانہ کے باہر ایک صندوقچے میں لفافے، کارڈ اور قلم دوات رکھ، بستی کے لوگوں کے خط پتر لکھنے لگے۔

ایک دفعہ بستی میں شرابیوں کی دو ٹولیوں کا فساد ہو گیا جس میں سوڈا واٹر کی بوتلوں، چاقوؤں اور اینٹوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا اور کئی لوگ سخت مجروح ہوئے۔ اس پر سرکار کو خیال آیا کہ اس بستی میں ایک تھانہ بھی کھول دینا چاہئے۔

تھیٹریکل کمپنی دو مہینے تک رہی اور اپنی بساط کے مطابق خاصا کما لے گئی۔ اس شہر کے ایک سینما مالک نے سوچا کیوں نہ اس بستی میں بھی ایک سینما کھول دیا جائے۔ یہ خیال آنے کی دیر تھی کہ اس نے جھٹ ایک موقع کی جگہ چن کر خرید لی اور جلد جلد تعمیر کا کام شروع کرا دیا۔ چند ہی مہینوں میں سینما ہال تیار ہو گیا۔ اس کے اندر ایک چھوٹا سا باغیچہ بھی لگوایا گیا تاکہ تماشائی اگر بائیسکوپ شروع ہونے سے پہلے آ جائیں تو آرام سے باغیچہ میں بیٹھ سکیں۔ ان کے ساتھ لوگ یونہی سستانے یا سیر دیکھنے کی غرض سے آ کر آ کر بیٹھنے لگے۔ یہ باغیچہ خاصی سیر گاہ بن گیا۔ رفتہ رفتہ سقے کٹورا بجاتے اس باغیچے میں آنے اور پیاسوں کی پیاس بجھانے لگے۔ سر کی تیل مالش والے نہایت گھٹیا قسم کے تیز خوشبو والے تیل کی شیشیاں واسکٹ کی جیبوں میں ٹھونسے، کاندھے پر میلا کچیلا تولیہ ڈالے، دل پسند، دل بہار مالش کی صدا لگاتے دردِ سر کے مریضوں کو اپنی خدمات پیش کرنے لگے۔

سینما کے مالک نے سینما ہال کی بیرونی جانب دو ایک مکان اور کئی دکانیں بھی بنوائیں۔ مکان میں تو ہوٹل کھل گیا جس میں رات کو قیام کرنے کے لئے کمرے بھی مل سکتے تھے اور دکانوں میں ایک سوڈا واٹر کی فیکٹری والا، ایک فوٹو گرافر، ایک سائیکل کی مرمت والا، ایک لانڈری والا، دو پنواڑی، ایک بوٹ شاپ والا اور ایک ڈاکٹر مع اپنے دوا خانہ کے آ رہے۔ ہوتے ہوتے پاس ہی ایک دکان میں کلال خانہ کھلنے کی اجازت مل گئی۔ فوٹوگرافر کی دکان کے باہر ایک کونے میں ایک گھڑی ساز نے آ ڈیرا جمایا اور ہر وقت محدب شیشہ آنکھوں پر چڑھائے گھڑیوں کے کل پرزوں میں غلطاں و پیچاں رہنے لگا۔

اس کے کچھ ہی دن بعد بستی میں نل، روشنی اور صفائی کے باقاعدہ انتظام کی طرف توجہ کی جانے لگی۔ سرکاری کارندے سرخ جھنڈیاں، جریبیں اور اونچ نیچ دیکھنے والے آلے لے کر آ پہنچے اور ناپ ناپ کر سڑکوں اور گلی کوچوں کی داغ بیل ڈالنے لگے اور بستی کی کچی سڑکوں پر سڑک کوٹنے والا انجن چلنے لگا۔

اس واقعہ کو بیس برس گزر چلے ہیں۔ یہ بستی اب ایک بھرا پرا شہر بن گئی ہے جس کا اپنا ریلوے سٹیشن بھی ہے اور ٹاؤن ہال بھی، کچہری بھی اور جیل خانہ بھی، آبادی ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ شہر میں ایک کالج، دو ہائی سکول، ایک لڑکوں کے لئے، ایک لڑکیوں کے لئے اور آٹھ پرائمری سکول ہیں جن میں میونسپلٹی کی طرف سے مفت تعلیم دی جاتی ہے۔ چھ سینما ہیں اور چار بنک جن میں سے دو دنیا کے بڑے بڑے بنکوں کی شاخیں ہیں۔

شہر سے دو روزانہ، تین ہفتہ وار اور دس ماہانہ رسائل و جرائد شائع ہوتے ہیں۔ ان میں چار ادبی، دو اخلاقی و معاشرتی و مذہبی، ایک صنعتی، ایک طبی، ایک زنانہ اور ایک بچوں کا رسالہ ہے۔ شہر کے مختلف حصوں میں بیس مسجدیں، پندرہ مندر اور دھرم شالے، چھ یتیم خانے، پانچ اناتھ آشرم اور تین بڑے سرکاری ہسپتال ہیں جن میں سے ایک صرف عورتوں کے لئے مخصوص ہے۔

شروع شروع میں کئی سال تک یہ شہر اپنے رہنے والوں کے نام کی مناسبت سے "حُسن آباد" کے نام سے موسوم کیا جاتا رہا مگر بعد میں اسے نامناسب سمجھ کر اس میں تھوڑی سی ترمیم کر دی گئی۔ یعنی بجائے "حُسن آباد" کے "حَسن آباد" کہلانے لگا۔ مگر یہ نام چل نہ سکا کیونکہ عوام حُسن اور حسن میں امتیاز نہ کرتے۔ آخر بڑی بڑی بوسیدہ کتابوں کی ورق گردانی اور پرانے نوشتوں کی چھان بین کے بعد اس کا اصلی نام دریافت کیا گیا جس سے یہ بستی آج سے سینکڑوں برس قبل اجڑنے سے پہلے موسوم تھی اور وہ نام ہے "آنندی۔"

یوں تو سارا شہر بھرا پرا، صاف ستھرا اور خوش نما ہے مگر سب سے خوبصورت، سب سے با رونق اور تجارت کا مرکز وہی بازار ہے جس میں زنانِ بازاری رہتی ہیں۔

آنندی بلدیہ کا اجلاس زوروں پر ہے، ہال کھچا کھچ بھرا ہوا ہے اور خلافِ معمول ایک ممبر بھی غیر حاضر نہیں۔ بلدیہ کے زیر بحث مسئلہ یہ ہے کہ زنانِ بازاری کو شہر بدر کر دیا جائے کیونکہ ان کا وجود انسانیت، شرافت اور تہذیب کے دامن پر بد نما داغ ہے۔

ایک فصیح البیان مقرر تقریر کر رہے ہیں۔ "معلوم نہیں وہ کیا مصلحت تھی جس کے زیرِ اثر اس ناپاک طبقے کو ہماری اس قدیمی اور تاریخی شہر کے عین بیچوں بیچ رہنے کی اجازت دی گئی" اس مرتبہ ان عورتوں کے لئے جو علاقہ منتخب کیا گیا وہ شہر سے بارہ کوس دور تھا۔

1940ء


اپنے دُکھ مجھے دے دو

(راجندر سنگھ بیدی)

اندو نے پہلی بار ایک نظر اوپر دیکھتے ہوئے پھر آنکھیں بند کر لیں اور صرف اتنا سا کہا۔ "جی" اسے خود اپنی آواز کسی پاتال سے آئی ہوئی سنائی دی۔

دیر تک کچھ ایسا ہی ہوتا رہا اور پھر ہولے ہولے بات چل نکلی۔ اب جو چلی سو چلی۔ وہ تھمنے ہی میں نہ آتی تھی۔ اندو کے پتا، اندو کی ماں، اندو کے بھائی، مدن کے بھائی بہن، باپ، ان کی ریلوے سیل سروس کی نوکری، ان کے مزاج، کپڑوں کی پسند، کھانے کی عادت، سبھی کا جائزہ لیا جانے لگا۔ بیچ بیچ میں مدن بات چیت کو توڑ کر کچھ اور ہی کرنا چاہتا تھا لیکن اندو طرح دے جاتی تھی۔ انتہائی مجبوری اور لاچاری میں مدن نے اپنی ماں کا ذکر چھیڑ دیا جو اسے سات سال کی عمر میں چھوڑ کر دق کے عارضے سے چلتی بنی تھی۔ "جتنی دیر زندہ رہی بیچاری" مدن نے کہا۔ "بابو جی کے ہاتھ میں دوائی کی شیشیاں رہیں۔ ہم اسپتال کی سیڑھیوں پر اور چھوٹا پاشی گھر میں چیونٹیوں کے بل پر سوتے رہے اور آخر ایک دن28 مارچ کی شام" اور مدن چپ ہو گیا۔ چند ہی لمحوں میں وہ رونے سے ذرا ادھر اور گھگھی سے ذرا اُدھر پہنچ گیا۔ اندو نے گھبرا کر مدن کا سر اپنی چھاتی سے لگا لیا۔ اس رونے نے پل بھر میں اندو کو اپنے پن سے ادھر اور بیگانے پن سے ادھر پہنچا دیا تھامدن اندو کے بارے میں کچھ اور بھی جاننا چاہتا تھا لیکن اندو نے اس کے ہاتھ پکڑ لئے اور کہا۔ "میں تو پڑھی لکھی نہیں ہو ں جیپر میں نے ماں باپ دیکھے ہیں، بھائی اور بھابھیاں دیکھی ہیں، بیسیوں اور لو گ دیکھے ہیں۔ اس لئے میں کچھ سمجھتی بوجھتی ہوںمیں اب تمہاری ہوںاپنے بدلے میں تم سے ایک ہی چیز مانگتی ہوں۔"

روتے وقت اور اس کے بعد بھی ایک نشہ سا تھا۔ مدن نے کچھ بے صبری اور؟؟؟؟کے ملے جلے شبدوں میں کہا"کیا مانگتی ہو؟ تم جو بھی کہو گی میں دو ں گا۔"

"پکی بات؟" اندو بولی۔

مدن نے کچھ اتادلے ہو کر کہا۔ "ہاں ہاں کہا جو پکی بات۔"

لیکن اس بیچ میں مدن کے من میں ایک وسوسہ آیامیرا کاروبار پہلے ہی مندا ہے، اگر اندو کوئی ایسی چیز مانگ لے جو میری پہنچ ہی سے باہر ہو تو پھر کیا ہو گا؟ لیکن اندو نے مدن کے سخت اور پھیلے ہوئے ہاتھوں کو اپنے ملائم ہاتھوں سے سمیٹتے ہوئے ان پر اپنے گال رکھتے ہوئے کہا۔

"تم اپنے دکھ مجھے دو۔"

مدن سخت حیران ہوا۔ ساتھ ہی اپنے آپ پر ایک بوجھ اترتا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے چاندنی میں ایک بار پھر اندو کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی لیکن وہ کچھ نہ جان پایا۔ اس نے سوچا یہ ماں یا کسی سہیلی کا رٹا ہوا فقرہ ہو گا جو اندو نے کہہ دیا۔ جبھی یہ جلتا ہوا آنسو مدن کے ہاتھ کی پشت پر گرا۔ اس نے اندو کو اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے کہا۔

"دئے!" لیکن ان سب باتوں نے مدن سے اس کی بہیمت چھین لی تھی۔

مہان ایک ایک کر کے سب رخصت ہوئے۔ چکلی بھابھی دو بچوں کو انگلیوں سے لگائے سیڑھیوں کی اونچ نیچ سے تیسرا پیٹ سنبھالتی ہوئی چل دی۔ دریا آباد والی پھوپھی جو اپنے "نولکھے " ہار کے گم ہو جانے پر شور مچاتی واویلا کرتی ہوئی بے ہوش ہو گئی تھی اور جو غسل خانے میں پڑا ہو ا مل گیا تھا، جہیز میں سے اپنے حصے کے تین کپڑے لے کر چلی گئی۔ پھر چاچا گئے۔ جن کو ان کے جے پی ہو جانے کی خبر تار کے ذریعے ملی تھی اور جو شاید بد حواسی میں مدن کی بجائے دلہن کا منہ چومنے چلے تھے۔

گھر میں بوڑھا باپ رہ گیا تھا اور چھوٹے بہن بھائی۔ چھوٹی دلاری تو ہر وقت بھابی کی ہی بغل میں گھسی رہتی۔ گلی محلے کی کوئی عورت دلہن کو دیکھے یا نہ دیکھے۔ دیکھے تو کتنی دیر دیکھے۔ یہ سب اس کے اختیار میں تھا۔ آخر یہ سب ختم ہوا اور آہستہ آہستہ پرانی ہو نے لگی لیکن کا کا جی کی اس نئی آبادی کے لوگ اب بھی آتے جاتے۔ مدن تو اس کے سامنے رک جاتے اور کسی بھی بہانے سے اندر چلے آتے۔ اندو انہیں دیکھتے ہی ایک دم گھونگٹ کھینچ لیتی لیکن اس چھوٹے سے وقفے میں جو کچھ دکھائی دے جاتا وہ بنا گھونگٹ کے دکھائی ہی نہ دے سکتا تھا۔

مدن کا کاروبار گندے بروزے کا تھا۔ کہیں بڑی سپلائی والے دو تین جنگلوں میں چیڑ اور دیودار کے پیڑوں کی جنگل میں آگ نے آ لیا تھا اور وہ دھڑا دھڑ جلتے ہوئے خاک سیاہ ہو کر رہ گئے تھے۔۔ شادی کی رات بالکل وہ نہ ہوا جو مدن نے سوچا تھا۔ جب چکلی بھابی نے پھسلا کر مدن کو بیچ والے کمرے میں دھکیل دیا تو اندو سامنے شالوں میں لپٹی اندھیرے کا بھاگ بنی جا رہی تھی۔ باہر چکلی بھابی اور دریا آباد والی پھوپھی اور دوسری عورتوں کی ہنسی، رات کے خاموش پانیوں میں مصری کی طرح دھیرے دھیرے گھل رہی تھی۔ عورتیں سب یہی سمجھتی تھیں کہ اتنا بڑا ہو جانے پر بھی مدن کچھ نہیں جانتا۔ کیونکہ جب اسے بیچ رات سے جگایا گیا تو وہ ہڑبڑا رہا تھا۔ "کہاں، کہاں لئے جا رہی ہو مجھے؟"

ان عورتوں کے اپنے اپنے دن بیت چکے تھے۔ پہلی رات کے بارے میں ان کے شریر شوہروں نے جو کچھ کہا اور مانا تھا، اس کی گونج ان کے کانوں میں باقی نہ رہی تھی۔ وہ خود رس بس چکی تھیں اور اب اپنی ایک اور بہن کو بسانے پر تلی ہوئی تھیں۔ زمین کی یہ بیٹیاں مرد کو تو یوں سمجھتی تھیں جیسے بادل کا ٹکڑا ہے جس کی طرف بارش کے لئے منہ اٹھا کر دیکھنا ہی پڑتا ہے۔ نہ برسے تو منتیں ماننی پڑتی ہیں۔ چڑھاوے چڑھانے پڑتے ہیں۔ جادو ٹونے کرنے ہوتے ہیں۔ حالانکہ مدن کالکا جی کی اس نئی آبادی میں گھر کے سامنے کی جگہ میں پڑا اسی وقت کا منتظر تھا۔ پھر شامتِ اعمال پڑوسی سبطے کی بھینس اس کی کھاٹ ہی کے پاس بندھی تھی جو بار بار پھنکارتی ہوئی مدن کو سونگھ لیتی تھی اور وہ ہاتھ اٹھا اٹھا کر اسے دور رکھنے کی کوشش کرتا۔ ایسے میں بھلا نیند کا سوال ہی کہاں تھا؟

سمندر کی لہروں اور عورت کے خون کو راستہ بتانے والا چاند ایک کھڑکی کے راستے سے اندر چلا آیا تھا اور دیکھ رہا تھا۔ دروازے کے اس طرف کھڑا مدن اگلا قدم کہاں رکھتا ہے۔ مدن کے اپنے اندر ایک گھن گرج سی ہو رہی تھی اور اسے اپنا آپ یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے بجلی کا کھمبا ہے جسے کان لگانے سے اسے اندر کی سنسناہٹ سنائی دے جائے گی۔ کچھ دیر یونہی کھڑے رہنے کے بعد اس نے آگے بڑھ کر پلنگ کو کھینچ کر چاندنی میں کر دیا تاکہ دلہن کا چہرہ تو دیکھ سکے۔ پھر وہ ٹھٹک گیا۔ جب اس نے سوچااندو میری بیوی ہے۔ کوئی پرائی عورت تو نہیں جسے نہ چھونے کا سبق بچپن ہی سے پڑھتا آیا ہوں۔ شالو میں لپٹی ہوئی دلہن کو دیکھتے ہوئے اس نے فرض کر لیا، وہاں اندو کا منہ ہو گا۔ اور جب ہاتھ بڑھا کر اس نے پاس پڑی گٹھڑی کو چھوا تو وہیں اندو کا منہ تھا۔ مدن نے سوچا تھا وہ آسانی سے مجھے اپنا آپ نہ دیکھنے دے گی لیکن اندو نے ایسا نہ کیا۔ جیسے پچھلے کئی سالوں سے وہ بھی اسی لمحے کی منتظر ہو اور کسی خیالی بھینس کے سونگھتے رہنے سے اسے بھی نیند نہ آ رہی ہو۔ غائب نیند اور بند آنکھوں کا کرب اندھیرے کے باوجود سامنے پھڑپھڑاتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ ٹھوڑی تک پہنچتے ہوئے عام طور پو چہرہ لمبوترا ہو جاتا ہے لیکن یہاں تو سبھی گول تھا۔ شاید اسی لئے چاندنی کی طرف گال اور ہونٹوں کے بیچ ایک سائے دار کھوہ سی بنی ہوئی تھی۔ جیسی دو سر سبز اور شاداب ٹیلوں کے بیچ ہوتی ہے۔ ماتھا کچھ تنگ تھا لیکن اس پر سے ایکا ایکی اٹھنے والے گھنگھریالے بال۔

جبھی اندو نے اپنا چہرہ چھڑا لیا جیسے وہ دیکھنے کی اجازت تو دیتی ہو لیکن اتنی دیر کے لئے نہیں۔ آخر شرم کی بھی تو کوئی حد ہوتی ہے۔ مدن نے ذرا سخت ہاتھوں سے یوں ہی سی ہوں ہاں کرتے ہوئے دلہن کا چہرہ پھر سے اوپر کو اٹھا دیا اور شرابی سی آواز میں کہا۔ "اندو!"

اندو کچھ ڈر سی گئی۔ زندگی میں پہلی بار کسی اجنبی نے اس کا نام اس انداز سے پکارا تھا اور وہ اجنبی کسی خدائی حق سے رات کے اندھیرے میں آہستہ آہستہ اس اکیلی بے یار و مددگار عورت کا اپنا ہوتا جا رہا تھا۔۔

"میں نے تو ابھی سے چار سوٹ اور کچھ برتن الگ کر ڈالے ہیں اس کے لئے اور جب مدن نے کوئی جواب نہ دیا تو اسے جھنجھوڑتے ہوئے بولی۔ "تم کیوں پریشان ہوتے ہویاد نہیں اپنا وچن؟ تم اپنے دکھ مجھے دے چکے ہو۔"


"ایں؟" مدن نے چونکتے ہوئے کہا اور جیسے بے فکر ہو گیا لیکن اب کے جب اس نے اندو کو اپنے ساتھ لپٹایا تو وہاں ایک جسم ہی نہیں رہ گیا تھا ساتھ ایک روح بھی شامل ہو گئی تھی۔

مدن کے لئے اندو روح ہی روح تھی۔ اندو کا جسم بھی تھا لیکن وہ ہمیشہ کسی نہ کسی وجہ سے مدن کی نظروں سے اوجھل ہی رہا۔ ایک پردہ تھا۔ خواب کے تاروں سے بنا ہوا۔ انہوں کے دھوئیں سے رنگین قہقہوں کی زر تاری سے چکا چوند جو ہر وقت اندو کو ڈھانپے رہتا تھا۔ مدن کی نگاہوں اور اس کے ہاتھوں کے دو شاسن صدیوں سے اس درو پدی کا چیر ہرن کرتے آئے تھے جو کہ عرفِ عام میں بیوی کہلاتی ہے لیکن ہمیشہ اسے آسمانوں سے تھانوں کے تھان، گزوں کے گز، کپڑا ننگا پن ڈھانپنے کے لئے ملتا آیا تھا۔ دو شاسن تھک ہار کے یہاں وہاں گرے پڑے تھے لیکن درو پدی وہیں کھڑی تھیں، عزت اور پاکیزگی کی ایک سفید اور بے داغ ساری میں ملبوس وہ دیوی لگ رہی تھی۔ اور مدن کے لوٹتے ہوئے ہاتھ خجالت کے پسینے سے تر ہوئے، جسے سکھانے کے لئے وہ انہیں اوپر ہوا میں اٹھا دیتا اور پھر ہاتھ کے پنجوں کو پورے طور پر پھیلا تا ہوا، ایک تشنجی کیفیت میں اپنی آنکھوں کی پھیلتی پھٹتی ہوئی پتلیوں کو سامنے رکھ دیا اور پھر انگلیوں کے بیچ میں سے جھانکتااندو کا مر مریں جسم خوش رنگ اور گداز سامنے پڑا ہوتا۔ استعمال کے لئے پاس، ابتذال کے لئے دورکبھی جب اندو کی ناکہ بندی ہو جاتی تو اس قسم کے فقرے ہوتے

"ہائے جی" گھر میں چھوٹے بڑے ہیں۔ وہ کیا کہیں گے؟

مدن کہتا۔ "چھوٹے سمجھتے نہیںبڑے انجان بن جاتے ہیں۔"

اسی دوران میں بابو دھنی رام کی تبدیلی سہارنپور ہو گئی۔ وہاں وہ ریلوے میل سروس میں سیلیکشن گریڈ کے ہیڈ کلرک ہو گئے۔ اتنا بڑا کوارٹر ملا کہ اس میں آٹھ کنبے رہ سکتے تھے لیکن بابو دھنی رام اس میں اکیلے ہی ٹانگیں پھیلائے کھڑے رہتے۔ زندگی بھر وہ بال بچوں سے کبھی علیٰحدہ نہیں ہوئے تھے۔ سخت گھریلو قسم کے آدمی۔ آخری زندگی میں اس تنہائی نے ان کے دل میں وحشت پیدا کر دی لیکن مجبوری تھی، بچے سب دلی میں مدن اور اندو کے پاس تھے اور وہیں اسکول میں پڑھتے تھے۔ سال کے خاتمے سے پہلے انہیں بیچ میں اٹھانا ان کی پڑھائی کے لئے اچھا نہ تھا۔ بابو جی کے دل کے دورے پڑنے لگے۔

بارے گرمی کی چھٹیاں ہوئیں۔ ان کے بار بار لکھنے پر مدن نے اندو کو کندن، پاشی اور دلاری کے ساتھ سہارنپور بھیج دیادھنی رام کی دنیا چمک اٹھی۔ کہاں انہیں دفتر کے کام کے بعد فرصت ہی فرصت تھی اور کہاں اب کام ہی کام تھا۔ بچے بچوں ہی کی طرح جہاں کپڑے اتارتے ہیں وہیں پڑے رہنے دیتے اور بابو جی انہیں سمیٹتے پھرتے۔ اپنے مدن سے دور السانی ہوئی رتی، اندو تو اپنے پہناوے تک سے غافل ہو گئی تھی۔ وہ رسوئی میں یوں پھرتی تھی جیسے کانجی ہاؤس میں گائے، باہر کی طرف منہ اٹھا اٹھا کر اپنے مالک کو ڈھونڈا کرتی ہو۔ کام وام کرنے کے بعد وہ کبھی اندر ٹرنکوں پر لیٹ جاتی۔ کبھی باہر کنیر کے بوٹے کے پاس اور کبھی آم کے پیڑ تلے جو آنگن میں کھڑا سینکڑوں ہزاروں دلوں کو تھامے ہوئے تھا۔

ساون بھادوں میں ڈھلنے لگا۔ آنگن میں سے باہر کا دریچہ کھلتا تو کنواریاں، نئی بیاہی ہوئی لڑکیاں پینگ بڑھاتے ہوئے گاتیںجھولا کن تے ڈارورے امریاںاور پھر گیت کے بول کے مطابق دو جھولتیں اور دو جھلاتیں اور کہیں چار مل جاتیں تو بھول بھلیاں ہو جاتیں۔ ادھیڑ عمر کی بوڑھی عورتیں ایک طرف کھڑی تکا کرتیں۔ اندو کو معلوم ہوتا جیسے وہ بھی ان میں شامل ہو گئی ہے۔ جبھی وہ منہ پھیر لیتی اور ٹھنڈی سانسیں بھرتی ہوئی سو جاتی۔ بابو جی پاس سے گزرتے تو اسے جگانے، اٹھانے کی ذرا بھی کوشش نہ کرتے۔

میسور اور آسام کی طرف سے منگوایا ہوا بیروزہ مہنگا پڑتا تھا اور لوگ اسے مہنگے داموں خریدنے کو تیار نہ تھے۔ ایک تو آمدنی کم ہو گئی تھی۔ اس پر مدن جلدی ہی دکان اور اس کے ساتھ والا دفتر بند کر کے گھر چلا آتا۔ گھر پہنچ کر اس کی ساری کوشش یہی ہوتی کہ سب کھائیں پئیں اور اپنے اپنے بستروں میں دبک جائیں۔ جب وہ کھاتے وقت خود تھالیاں اٹھا اٹھا کر باپ اور بہن کے سامنے رکھتا اور ان کے کھا چکنے کے جھوٹے برتنوں کو سمیٹ کر نل کے نیچے رکھ دیتا۔ سب سمجھتے بہو۔ بھابی نے مدن کے کان میں کچھ پھونکا ہے اور اب وہ گھر کے کام کاج میں دلچسپی لینے لگا ہے۔ مدن سب سے بڑا تھا۔ کندن اس سے چھوٹا اور پاشی سب سے چھوٹا۔ جب کندن بھابی کے سواگت میں سب کے ایک ساتھ بیٹھ کر کھانے پر اصرار کرتا تو باپ دھنی رام وہیں ڈانٹ دیتا۔

"کھاؤ تم۔ " وہ کہتا "وہ بھی کھا لیں گے" اور پھر رسوئی میں ادھر ادھر دیکھنے لگتا اور جب بہو کھانے پینے سے فارغ ہو جاتی اور برتنو ں کی طرف متوجہ ہوتی تو بابو دھنی رام اسے روکتے ہوئے کہتے۔ "رہنے دے بہو برتن صبح ہو جائیں گے۔"

اندو کہتی "نہیں بابو جیمیں ابھی کئے دیتی ہوں جھپاکے سے۔"

تب بابو دھنی رام ایک لرزتی ہوئی آواز میں کہتے "مدن کی ماں ہوتی بہو، تو یہ سب تمہیں نہ کرنے دیتی۔؟ اور اندو ایک دم اپنے ہاتھ روک لیتی۔

چھوٹا پاشی بھابی سے شرماتا تھا۔ اس خیال سے کہ دلہن کی گود جھٹ سے ہری ہو، چمکی بھابی اور دریا باد والی پھوپھی نے ایک رسم میں پاشی ہی کو اندو کی گود میں ڈالا تھا۔ جب سے اندو اسے نہ صرف دیور بلکہ اپنا بچہ سمجھنے لگی تھی۔ جب بھی وہ پیار سے پاشی کو اپنے بازوؤں میں لینے کی کوشش کرتی تو وہ گھبرا اٹھتا اور اپنا آپ چھڑا کر دو ہاتھ کی دوری پر کھڑا ہو جاتا۔ دیکھتا اور ہنستا رہتا۔ پاس آتا تو دور ہٹتا۔ ایک عجیب اتفاق سے ایسے میں بابو جی ہمیشہ وہیں موجود ہوتے اور پاشی کو ڈانٹتے ہوئے کہتے "ارے جانا بھابی پیا ر کرتی ہے ابھی سے مرد ہو گیا تو؟" اور دلاری تو پیچھا ہی نہ چھوڑتی اس کا۔ "میں تو بھابی کے ساتھ ہی سوؤں گی۔"کے اصرار نے بابو جی کے اندر کوئی جنا ردھن جگا دیا تھا۔ ایک رات اس بات پر دلاری کو زور سے چپت پڑی اور وہ گھر کی آدھی کچی، آدھی پکی نالی میں جا گری۔ اندو نے لپکتے ہوئے پکڑا تو سر سے دوپٹہ اڑ گیا۔ بالوں کے پھول اور چڑیاں، مانگ کا سیندور، کانوں کے کرن پھول سب ننگے ہو گئے۔ "بابو جی۔" اندو نے سانس کھینچتے ہوئے کہاایک ساتھ دلاری کو پکڑنے اور سر پر دوپٹہ اوڑھنے میں اندو کے پسینے چھوٹ گئے۔ اس بے ماں بچی کو چھاتی سے لگائے ہوئے اندو نے اسے ایک ایسے بستر میں سلا دیا جہاں سرہانے ہی سرہانے، تکئے ہی تکئے تھے۔ نہ کہیں پائنتی تھی نہ کاٹھ کے بازو۔ چوٹ تو ایک طرف کہیں کو چبھنے والی چیز بھی نہ تھی۔ پھر اندو کی انگلیاں دلاری کے پھوڑے ایسے سر پر چلتی ہوئی اسے دکھا بھی رہی تھیں اور مزا بھی دے رہی تھیں۔ دلاری کے گالوں پر بڑے بڑے اور پیارے پیارے گڑھے پڑتے تھے۔ اندو نے ان گڑھوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا "ہائے ری منی! تیری ساس مرے، کیسے گڑھے پڑ رہے ہیں گالوں پر!"

منی نے منی کی طرح کہا۔ "گڑھے تمہارے بھی تو پڑتے ہیں بھابی۔"

"ہاں منو!" اندو نے کہا اور ایک ٹھنڈا سانس لیا۔

مدن کو کسی بات پر غصہ تھا۔ وہ پاس ہی کھڑا سب کچھ سن رہا تھا۔ "میں تو کہتا ہوں ایک طرح سے اچھا ہی ہے۔"

"کیوں اچھا کیوں ہے؟" اندو نے پوچھا۔

"ہاںنہ اُگے بانس نہ بجے بانسریسانس نہ ہو تو کوئی جھگڑا نہیں رہتا۔" اندو نے ایکا ایکی خفا ہوتے ہوئے کہا۔ "تم جاؤ جی سو رہو جا کربڑے آئے ہوآدمی جیتا ہے تو لڑتا ہے نا؟ مر گھٹ کی چپ چاپ سے جھگڑے بھلے۔ جاؤ نہ رسوئی میں تمہارا کیا کام؟"

مدن کھسیانا ہو کر رہ گیا۔ بابو دھنی رام کی ڈانٹ سے باقی بچے تو پہلے ہی اپنے اپنے بستروں میں یوں جا پڑے تھے جیسے دفتروں میں چھٹیاں سٹارٹ ہو تی ہیں۔

لیکن مدن وہیں کھڑا رہا۔ احتیاج نے اسے ڈھیٹ اور بے شرم بنا دیا تھا لیکن اس وقت جب اندو نے بھی اسے ڈانٹ دیا تو وہ روہانسا ہو کر اندر چلا گیا۔

دیر تک مدن بستر میں پڑا کسمساتا رہا لیکن بابو جی کے خیال سے اندو کو آواز دینے کی ہمت نہ پڑتی تھی۔ اس کی بے صبری کی حد ہو گئی تھی۔ جب منی کو سلانے کے لئے اندو کی لوری کی آواز سنائی دی"تو آ نندیا رانی، بورائی مستانی۔"


وہی لوری جو دلاری منی کو سلا رہی تھی، مدن کی نیند بھگا رہی تھی۔ اپنے آپ سے بیزار ہو کر اس نے زور سے چادر سر پر کھینچ لی۔ سفید چادر کے سر پر لپیٹنے اور سانس کے بند کرنے سے خواہ مخواہ ایک مردے کا تصور پیدا ہو گیا۔ مدن کو یوں لگا جیسے وہ مر چکا ہے اور اس کی دلہن اندو اس کے پاس بیٹھی زور زور سے سر پیٹ رہی ہے، دیوار کے ساتھ کلائیاں مار مار کر چوڑیاں توڑ رہی ہے اور پھر باہر لپک جاتی ہے اور بانہیں اٹھا اٹھا کر اگلے محلے کے لوگوں سے فریاد کرتی ہے۔ "لوگو! میں لٹ گئی۔ " اب اسے دوپٹے کی پرواہ نہیں۔ قمیض کی پرواہ نہیں۔ مانگ کا سیندور، بالوں کے پھول اور چوڑیاں، جذبات اور خیالات کے طوطے تک اڑ چکے ہیں۔

مدن کی آنکھوں سے بے تحاشہ آنسو بہہ رہے تھے۔ حالانکہ رسوئی میں اندو ہنس رہی تھی۔ پل بھرمیں اپنے سہاگ کے اجڑنے اور پھر بس جانے سے بے خبر۔ مدن جب حقائق کی دنیا میں واپس آیا تو آنسو پونچھتے ہوئے اپنے اس رونے پر ہنسنے لگاادھر اندو تو ہنس رہی تھی لیکن اس کی ہنسی دبی دبی تھی۔ بابو جی کے خیال سے وہ کبھی اونچی آواز میں نہ ہنستی تھی جیسے کھلکھلاہٹ کوئی ننگا پن ہے، خاموشی، دوپٹہ اور دبی دبی ہنسی ایک گھونگٹ۔ پھر مدن نے اندو کا ایک خیالی بت بنایا اور اس سے بیسیوں باتیں کر ڈالیں۔ یوں اس سے پیار کیا جیسے ابھی تک نہ کیا تھاوہ پھر اپنی دنیا میں لوٹا جس میں ساتھ کا بستر خالی تھا۔ اس نے ہولے سے آواز دیاندوایک اونگھ سی آئی لیکن ساتھ ہی یوں لگا جیسے شادی کی رات والی، پڑوسی سبطے کی بھینس منہ کے پاس پھنکارنے لگی ہے۔ وہ ایک بے کلی کے عالم میں اٹھا، پھر رسوئی کی طرف دیکھتے، سر کو کھجاتے ہوئے دو تین جمائیاں لے کر لیٹ گیاسو گیا

مدن جیسے کانوں کو کوئی سندیسہ دے کر سویا تھا۔ جب اندو کی چوڑیاں بستر کی سلوٹیں سیدھی کرنے سے کھنک اٹھیں تو وہ بھی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ یوں ایک دم جاگنے میں محبت کا جذبہ اور بھی تیز ہو گیا تھا۔ پیار کی کروٹوں کو توڑے بغیر آدمی سو جائے اور ایکا ایکی اٹھے تو محبت دم توڑ دیتی ہے۔ مدن کا سارا بدن اندر کی آگ سے پھنک رہا تھا۔ اور یہی اس کے غصے کا کرن بن گیا۔ جب اس نے بوکھلائے ہوئے انداز میں کہا۔

"تو تم آ گئیں؟"

"ہاں۔"

"سنیسو مر گئی؟"

اندو جھکی جھکی ایک دم سیدھی کھڑی ہو گئی۔ "ہائے رام" اس نے ناک پر انگلی رکھتے ہوئے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔ "کیا کہہ رہے ہومرے کیوں بیچاری۔ ماں باپ کی ایک نہ ہی بیٹی۔"

"ہاںمدن نے کہا۔"بھابھی کی ایک ہی نند۔" اور ایک دم تحکمانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے بولا۔ "زیادہ منہ مت لگاؤ اس چڑیل کو۔"

"کیوں اس میں کیا پاپ ہے؟"

"یہی پاپ ہے" مدن نے اور چڑتے ہوئے کہا۔ "وہ پیچھا ہی نہیں چھوڑتی تمہارا۔ جب دیکھو جونک کی طرح چمٹی ہوئی ہے۔ دفان ہی نہیں ہوتی۔"

"ہااندو نے مدن کی چارپائی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ "بہنوں اور بیٹیوں کو یوں تو دھتکارنا نہیں چاہئے۔ بیچاری دو دن کی مہمان۔۔ آج نہیں تو کل۔ کل نہیں تو پرسوں۔ ایک دن تو چل ہی دے گی۔" اس کے بعد اندو کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن وہ چپ ہو گئی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اپنے ماں باپ، بھائی بہن چچا بھی گھوم گئے۔ کبھی وہ بھی ان کی دلاری تھی۔ جو پلک جھپکتے ہی نیاری ہو گئی۔ اور پھر دن رات اس کے نکالے جانے کی باتیں ہو نے لگیں۔ جیسے گھر میں کوئی بڑی سی باہنی ہے جس میں کوئی ناگن رہتی ہے اور جب تک وہ پکڑ کر پھنکوائی نہیں جاتی۔ گھر کے لوگ آرام کی نیند سو نہیں سکتے۔ دور دور سے کیلنے والے لتھن کرنے والے۔ دات چھوڑنے والے ماندری بلوائے گئے اور بڑے دھتورے اور موتی ساگر۔ آخر ایک دن اتر پچھم کی طرف سے لال آندھی آئی جو صاف ہوئی تو ایک لاری کھڑی تھی جس میں گوٹے کنری میں لپٹی ہوئی ایک دلہن بیٹھی تھی۔ پیچھے گھر میں ایک سر پر بجھتی ہوئی شہنائی بین کی آواز معلوم ہورہی تھی۔ پھر ایک دھچکے کے ساتھ لاری چل دی۔ مدن نے کچھ برافروختگی کے عالم میں کہا"تم عورتیں بڑی چالاک ہوتی ہو۔ ابھی کل ہی اس گھر میں آئی ہو اور یہاں کے سب لوگ تمہیں ہم سے زیادہ پیار کرنے لگے ہیں؟"

"ہاں!" اندو نے اثبات میں کہا۔

"یہ سب جھوٹ ہےیہ ہو ہی نہیں سکتا۔"

"تمہارا مطلب ہے میں"

"دکھاوا ہے یہ سب ہاں!"

"اچھا جی؟" اندو نے آنکھوں میں آنسو لاتے ہوئے کہا۔ "یہ سب دکھاوا ہے میرا؟ اور اندو اٹھ کر اپنے بستر میں چلی گئی۔ اور سرہانے میں منہ چھپا کر سسکیاں بھرنے لگی۔ مدن اسے منانے والا ہی تھا کہ اندو خود ہی اٹھ کر مدن کے پاس آ گئی اور سختی سے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی۔ "تم جو ہر وقت جلی کٹی کہتے رہتے ہوہوا کیا ہے تمہیں؟" مجھے تم سے کچھ نہیں لینا۔"

"تمہیں کچھ نہیں لینا مجھے تو لینا ہے۔" اندو بولی۔ زندگی بھر لینا ہے اور وہ چھینا جھپٹی کرنے لگی۔ مدن اسے دھتکارتا تھا اور وہ اس سے لپٹ لپٹ جاتی تھی۔ وہ اس مچھلی کی طرح تھی جو بہاؤ میں بہہ جانے کی بجائے آبشار کے تیز دھارے کو کاٹتی ہوئی اوپر ہی اوپر پہنچانا چاہتی ہو۔

چٹکیاں لیتے ہوئے، ہاتھ پکڑتی، روتی ہنستی وہ کہہ رہی تھی

"پھر مجھے پھاپھا کٹنی کہو گے؟"

"وہ تو سبھی عورتیں ہوتی ہیں۔"

"ٹھہروتمہاری تو" یوں معلوم ہوا جیسے اندو کوئی گالی دینے والی ہواور اس نے منہ میں کچھ منمنایا بھی۔ مدن نے مڑتے ہوئے کہا۔ "کیا کہا؟" اور اندو نے اب کی سنائی دینے والی آواز میں دہرایا۔ مدن کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ اگلے ہی لمحے اندو مدن کے بازوؤں میں تھی اور کہہ رہی تھی "تم مرد لوگ کیا جانو؟جس سے پیار ہوتا ہے اس کے سبھی عزیز پیارے معلوم ہوتے ہیں۔ کیا باپ کیا بھائی اور کیا بہن" اور ایکا ایکی کہیں دور سے دیکھتے ہوئے بولی۔ "میں تو دلاری منی کا بیاہ کروں گی۔"

"حد ہو گئی" مدن نے کہا۔ "ابھی ایک ہاتھ کی ہوئی نہیں اور بیاہ کی سوچنے لگیں۔"


"تمہیں ایک ہاتھ کی لگتی ہے نا؟" اندو بولی اور پھر اپنے ہاتھ مدن کی آنکھوں پر رکھتے ہوئے کہنے لگی۔ "ذرا آنکھیں بند کرو اور پھر کھولو۔" مدن نے سچ مچ ہی آنکھیں بند کر لیں اور جب کچھ دیر تک نہ کھولیں تو اندو بولی۔ "اب کھولو بھیاتنی دیر میں تو میں بوڑھی ہو جاؤں گی۔ جبھی مدن نے آنکھیں کھول دیں۔ لمحہ بھر کے لئے اسے یوں لگا جیسے سامنے اندو نہیں منی بیٹھی ہے اور وہ کھو سا گیا۔ بلکہ موقع نہ پا کر اس شلوار کو جو بہو دھوتی سے بدل آتی اور جسے وہ ہمیشہ اپنی ساس والے پرانے صندل کے صندوق پر پھینک دیتی، اٹھا کر کھونٹی پر لٹکا دیتے۔ ایسے میں انہیں سب سے نظریں بچانا پڑتیں لیکن ابھی شلوار کو سمیٹ کر مڑتے ہی تو نیچے کونے میں نگاہ بہو کے محرم پر پڑ جاتی۔ تب ان کی ہمت جواب دے جاتی اور وہ شتابی کمرے سے نگل بھاگتے۔ جیسے سانپ کا بچہ بل سے باہر آگیا ہو۔ پھر برآمدے میں ان کی آواز سنائی دینے لگی۔ اوم نموم بھوتے دا سو دیوا

اڑوس پڑوس کی عورتوں نے بابو جی کی خوبصورتی کی داستانیں دور دور تک پہنچا دی تھیں۔ جب کوئی عورت بابو جی کے سامنے بہو کے پیارے پن اور سڈول جسم کی باتیں کرتی تو وہ خوشی سے پھول جاتے اور کہتے "ہم تو دھنیہ ہو گئے، امی چند کی ماں! شکر ہے ہمارے گھر میں بھی کوئی صحت والا جیو آیا۔" اور یہ کہتے ہوئے ان کی نگاہیں کہیں دور پہنچ جاتیں۔ جہاں دق کے عارضے تھے۔ دوائی کی شیشیاں، اسپتال کی سیڑھیاں یا چیونٹیوں کے بل، نگاہ قریب آتی تو موٹے موٹے گدرائے ہوئے جسم والے کئی بچے بغل میں جانگھ پر، گردن پر چڑھتے اترتے ہوئے محسوس ہوتے اور ایسا معلوم ہوتا جیسے ابھی اور آ رہے ہیں۔ پہلو پر لیٹی ہوئی بہو کی کمر زمین کے ساتھ اور کولہے چھت کے ساتھ لگ رہے ہیں اور وہ دھڑا دھڑ بچے جنتی جا رہی ہے اور ان بچوں کی عمر میں کوئی فرق نہیں۔ کوئی بڑا ہے نہ چھوٹا۔ سبھی ایک سےجڑواںتوام اوم نمو بھگوتے

آس پاس کے سب لوگ جان گئے تھے۔ اندو بابو جی کی چہیتی بہو ہے۔ چنانچہ دودھ اور چھاچھ کے مٹکے دھنی رام کے گھر آنے لگے اور پھر ایک دم سلام دین گوجر نے فرمائش کر دی۔ اندو نے کہا "بی بی میرا بیٹا آر۔ ایم۔ ایس میں قلی رکھوا دو۔ اللہ تم کو اچھا دے گا۔ " اندو کے اشارے کی دیر تھی کہ سلام دین کا بیٹا نو کر ہو گیا۔ وہ بھی سارٹر، جو نہ ہو سکا اس کی قسمت، آسامیاں زیادہ نہ تھیں۔

بہو کے کھانے پینے اور اس کی صحت کا بابو جی خیال رکھتے تھے۔ دودھ پینے سے اندو کو چڑ تھی۔ وہ رات کے وقت خود دودھ کو بالائی میں پھینٹ، گلاس میں ڈال، بہو کو پلانے کے لئے اس کی کھٹیا کے پاس آ جاتے۔ اندو اپنے آپ کو سمیٹتے ہوئے اٹھتی اور کہتی۔"نہیں بابو جی مجھ سے نہیں پیا جاتا۔" "تیرا تو سسر بھی پئے گا۔ " وہ مذاق سے کہتے۔

"تو پھر آپ پی لیجیئے نا۔" اندو ہنستی ہوئی جواب دیتی اور بابو جی ایک مصنوعی غصے سے برس پڑتے۔ "تو چاہتی ہے بعد میں تیری بھی وہی حالت ہو جو تیری ساس کی ہوئی؟"

ہوںہوںاندو لاڈ سے روٹھنے لگی۔ آخر کیوں نہ روٹھتی۔ وہ لوگ نہیں روٹھتے جنہیں منانے والا کوئی نہ ہو لیکن یہاں منانے والے سب تھے، روٹھنے والا صرف ایک۔ جب اندو بابو جی کے ہاتھ سے گلاس نہ لیتی تو وہ اسے کھٹیا کے پاس سرہانے کے نیچے رکھ دیتےاور "لے یہ پڑا ہے"، تیری مرضی ہے تو پی نہیں مرضی تو نہ پی" کہتے ہوئے چل دیتے۔

اپنے بستر پر پہنچ کر دھنی رام دلاری منی کے پاس کھیلنے لگتے۔ دلاری کو بابو جی کے ننگے پنڈے کے ساتھ پنڈا گھسانے اور پھر پیٹ پر منہ رکھ کر پھنکڑا پھلانے کی عادت تھی۔ آج جب بابو جی اور منی یہ کھیل کھیل رہے تھے۔ ہنس ہنسا رہے تھے، تو منی نے بھابی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ "دودھ تو خراب ہو جائے گا بابو جی۔ بھابی تو پیتی ہی نہیں۔"

"پئے گی ضرور پئے گی بیٹا" بابو جی نے دوسرے ہاتھ سے پاشی کو لپٹاتے ہوئے کہا۔ "عورتیں گھر کی کسی چیز کو خراب ہوتے نہیں دیکھ سکتیں۔"

ابھی یہ فقرہ بابو جی کے منہ ہی میں ہوتا کہ ایک طرف سے "ہشہے خصم کھانی" کی آواز آنے لگتی۔ پتہ چلتا بہو بلی کو بھگا رہی ہے اور پھر غٹ غٹ سی سنائے دیتی اور سب جان لیتے بہوبھابی نے دودھ پی لیا۔ کچھ دیر کے بعد کندن بابو جی کے پاس آتا اور کہتا "بوجیبھابی رو رہی ہے۔"

"ہائیں؟" بابو جی کہتے اور پھر اٹھ کر اندھیرے میں دور اسی طرف دیکھنے لگتے جدھر بہو کی چارپائی پڑی ہوتی۔ کچھ دیر یوں ہی بیٹھے رہنے کے بعد وہ پھر لیٹ جاتے اور کچھ سمجھتے ہوئے کندن سے کہتے۔ "جاتو سو جاوہ بھی سو جائے گی اپنے آپ۔"

اور پھر لیٹتے ہوئے بابو دھنی رام آسمان پر کھلے ہوئے پرماتما کے گلزار کو دیکھنے لگتے اور اپنے من میں بھگوان سے پوچھتے" چاندی کے ان کھلتے بند ہوئے ہوئے پھولوں میں میرا پھول کہا ہے؟" اور پھر پورا آسمان انہیں درد کا ایک دریا دکھائی دینے لگتا اور کانوں میں مسلسل ایک ہاؤ کی آواز سنائی دیتی جسے سنتے ہوئے وہ کہتے۔"جب سے دنیا بنی ہے انسان کتنا رویا ہے!" اور روتے روتے سو جاتے۔

اندو کے جانے سے بیس پچیس روز ہی میں مدن نے واویلا شروع کر دیا۔ اس نے لکھا۔ میں بازار کی روٹیاں کھاتے کھاتے تنگ آگیا ہوں۔ مجھے قبض ہو گئی ہے۔ گردے کا درد شروع ہو گیا ہے۔ پھر جیسے دفتر کے لوگ چھٹی کی عرضی کے ساتھ ڈاکٹر کا سرٹیفکیٹ بھیج دیتے ہیں۔ مدن نے بابو جی کو ایک دوسرے سے تصدیق کی چھٹی لکھوا بھیجی۔ اس پر بھی جب کچھ نہ ہوا تو ایک ڈبل تارجوابی۔ جوابی تار کے پیسے مارے گئے لیکن بلا سے۔ اندو اور بچے لوٹ آئے تھے۔ مدن نے اندو سے دو دن سیدھے منہ بات ہی نہ کی۔ یہ دکھ بھی اندو ہی کا تھا۔ ایک دن مدن کو اکیلے میں پا کر وہ پکڑ بیٹھی اور بولی۔ "اتنا منہ پھلائے بیٹھے ہومیں نے کیا کیا ہے؟"

مدن نے اپنے آپ کو چھڑاتے ہوئے کہا۔ "چھوڑدور ہو جا میر آنکھوں سے کمی"

"یہی کہنے کے لئے اتنی دور سے بلوایا ہے؟"

"ہاں!"

"ہٹاؤ اب۔"

"خبرداریہ سب تمہارا ہی کیا دھرا ہے جو تم آنا چاہتی تو کیا بابو جی روک لیتے؟"

اندو نے بے بسی سے کہا۔ "ہائے جیتم بچوں کی سی باتیں کرتے ہو۔ میں انہیں بھلا کیسے کہہ سکتی تھی؟ سچ پوچھو تو تم نے مجھے بلوا کر بابو جی پر تو بڑا جلم کیا ہے۔"

"کیا مطلب ؟"

"مطلب کچھ نہیںان کا جی بہت لگا ہوا تھا بال بچوں میں۔"

"اور میرا جی؟"

"تمہارا جی؟" تم تو کہیں بھی لگا سکتے ہو۔ اندو نے شرارت سے کہا اور اس طرح سے مدن کی طرف دیکھا کہ اس کی مدافعت کی ساری قوتیں ختم ہو گئیں۔ یوں بھی اسے کسی اچھے سے بہانے کی تلاش تھی۔ ا س نے اندو کو پکڑ کر سینے سے لگا لیا۔ اور بولا۔ "بابو جی تم سے بہت خوش تھے؟"

"ہاں" اندو بولی۔ "ایک دن میں جاگی تو دیکھا سرہانے کھڑے مجھے دیکھ رہے ہیں۔"

"یہ نہیں ہو سکتا۔"

"اپنی قسم!"

"اپنی قسم نہیںمیری قسم کھاؤ۔"

"تمہاری قسم تو میں نہیں کھاتیکوئی کچھ بھی دے۔"


"ہاں!" مدن نے سوچتے ہوئے کہا۔ "کتابوں میں اسے سیکس کہتے ہیں۔"

"سیکس؟" اندو نے پوچھا وہ کیا ہوتا ہے؟۔

"وہی جو مرد اور عورت کے بیچ ہوتا ہے۔"

"ہائے رام!" اندو نے ایک دم پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔ "گندے کہیں کے شرم نہیں آئی بابو جی کے بارے میں ایسا سوچتے ہوئے؟"

"تو بابو جی کو نہ آئی تجھے دیکھتے ہوئے؟"

"کیوں؟" اندو نے بابو جی کی طرف داری کرتے ہوئے کہا۔ "وہ اپنی بہو کو دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے۔"

"کیوں نہیں۔ جب بہو تم ایسی ہو۔"

"تمہارا من گندا ہے۔ اندو نے نفرت سے کہا۔ اس لئے تمہارا کاروبار بھی گندے بروزے کا ہے۔ تمہاری کتابیں سب گندگی سے بھری پڑ ی ہیں۔ تمہیں اور تمہاری کتابوں کو اس کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ایسے تو جب میں بڑی ہو گئی تھی تو میرے پتا جی نے مجھ سے ادھک پیار کر نا شروع کر دیا تھا۔ تو کیا وہ بھیوہ تھا نگوڑاجس کا تم ابھی نام لے رہے تھے۔" اور پھر اندو بولی۔ "بابو جی کو یہاں بلا لو۔ ان کا وہاں جرا بھی جی نہیں لگتا۔ وہ دکھی ہوں گے تو کیا تم دکھی نہیں ہو گے؟"

مدن اپنے باپ سے بہت پیا ر کرتا تھا۔ گھر میں ماں کی موت نے بڑا ہونے کے کارن سب سے زیادہ اثر مدن پر ہی کیا تھا۔ اسے اچھی طرح سے یاد تھا۔ ماں کے بیمار رہنے کے باعث جب بھی اس کی موت کا خیال مدن کے دل میں آتا تو آنکھیں موند کر پرارتھنا شروع کر دیتااوم نمو بھگوتے دا سوویوا۔ اوم نمواب وہ نہیں چاہتا تھا کہ باپ کی چھتر چھایا بھی سر سے اٹھ جائے۔ خاص طور پر ایسے میں جبکہ وہ اپنے کاروبار کو بھی جما نہیں پایا تھا۔ اس نے غیر یقینی لہجے میں اندو سے صرف اتنا کہا۔ "ابھی رہنے دو بابو کو۔ شادی کے بعد ہم دونوں پہلی بار آزادی کے ساتھ مل سکتے ہیں۔"

تیسرے چوتھے روز بابو جی کا آنسوؤں میں ڈوبا ہوا خط آیا۔ میرے پیارے مدن کے تخاطب میں میرے پیارے کے الفاظ شور پانیوں میں دھل گئے تھے۔ لکھا تھا۔ "بہو کے یہاں ہونے پر میر ے تو وہی پرانے دن لوٹ آئے تھے، تمہاری ماں کے دن، جب ہماری نئی شادی ہوئی تھی تو وہ بھی ایسی ہی الہڑ تھی۔ ایسے میں اتارے ہوئے کپڑے ادھر ادھر پھینک دیتی۔ اور پتا جی سمیٹتے پھرتے۔ وہی صندل کا صندوق، وہی بیسویں خلجنمیں بازار جا رہا ہوں۔ آ رہا ہوں۔ کچھ نہیں تو دہی بڑے یا ربڑی لا رہا ہوں۔ اب گھر میں کوئی نہیں۔ وہ جگہ جہاں صندل کا صندوق پڑا تھا، خالی ہے" اور پھر ایک آدھ سطر اور دھل گئی تھی۔ آخر میں لکھا تھا۔ "دفتر سے لوٹتے سمے، یہاں کے بڑے بڑے اندھے کمروں میں داخل ہوتے ہوئے میرے من میں ایک ہول سا اٹھتا ہے۔ " اور پھر"بہوکا خیال رکھنا۔ اسے کسی ایسی ویسی دایہ کے حوالے مت کرنا۔"

اندو نے دونوں ہاتھوں سے چٹھی پکڑ لی۔ سانس کھینچ لی، آنکھیں پھیلاتی شرم سے پانی پانی ہوتی ہوئی بولی۔ "میں مر گئی۔ بابو جی کو کیسے پتہ چل گیا؟"

مدن نے چٹھی چھڑاتے ہوئے کہا۔ "بابو جی کیا کہتے ہیں؟دنیا دیکھی ہے۔ ہمیں پیدا کیا ہے۔

"ہاں مگر۔" اندو بولی۔ "ابھی دن ہی کے ہوئے ہیں۔"اور پھر اس نے ایک تیز سی نظر اپنے پیٹ پر ڈالی جس نے ابھی بڑھنا بھی شروع نہیں کیا تھا اور جیسے بابو جی یا کوئی اور دیکھ رہا ہو۔ اس نے ساری کا پلو اس پر کھینچ لیا اور کچھ سوچنے لگی۔ جبھی ایک چمک سی اس کے چہرے پر آئی اور وہ بولی۔"تمہاری سسرال سے شیرینی آئے گی۔"

"میری سسرال؟"اور ہاں۔ مدن نے راستہ پاتے ہوئے کہا۔ "کتنی شرم کی بات ہے۔ ابھی چھ آٹھ مہینے شادی کے ہوئے ہیں اور چلا آ رہا ہے۔ "اور اس نے اندو کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا۔

مدن کی ٹانگیں ابھی تک کانپ رہی تھیں۔ اس وقت خوف سے نہیںتسلی سے۔

"چلا آیا ہے یا تم لائے ہو؟"

"تمیہ سب قصور تمہارا ہے۔ کچھ عورتیں ہوتی ہی ایسی ہیں۔"

"تمہیں پسند نہیں؟"

"ایک دم نہیں"

"کیوں؟"

"چار دن تو مزے لے لیتی زندگی کے۔"

"کیا یہ جندگی کا مجا نہیں؟" اندو نے صدمہ زدہ لہجے میں کہا۔ مرد عورت شادی کس لئے کرتے ہیں؟ بھگوان نے بن مانگے دے دیا نا؟ پوچھو ان سے جن کے نہیں ہوتا۔ پھر وہ کیا کچھ کرتی ہیں۔ پیروں فقیروں کے پاس جاتی ہیں۔ سمادھیوں، مجاوروں پر چوٹیاں باندھتی ہیں، شرم و حیا تج کر دریاؤں کے کنارے ننگی ہو کر سرکنڈے کاٹتی، شمسانوں میں مسان جگاتی۔"

"اچھا! اچھا!" مدن بولا۔ "تم نے بکھان ہی شروع کر دیا۔ اولاد کے لئے تھوڑی عمر پڑی تھی۔؟"

"ہو گا تو!" اندو نے سرزنش کے انداز میں انگلی اٹھاتے ہوئے کہا۔"جب تم اسے ہاتھ بھی مت لگانا۔ وہ تمہارا نہیں، میرا ہو گا۔ تمہیں تو اس کی جرورت نہیں، پر اس کے دادا کو بہت ہے۔ یہ میں جانتی ہوں۔" اور پھر کچھ خجل، کچھ صدمہ زدہ ہو کر اندو نے اپنا منہ دونوں ہاتھوں سے چھپا لیا۔ وہ سوچتی تھی پیٹ میں اس ننھی سی جان کو پالینے کے سلسلے میں، اس جان کا ہوتا سوتا تھوڑی بہت ہمدردی تو کرے گا ہی لیکن مدن چپ چاپ بیٹھا رہا۔ ایک لفظ بھی اس نے منہ سے نہ نکالا۔ اندو نے چہرے پر سے ہاتھ اٹھا کر بدن کی طرف دیکھا اور ہونے والی پہلوٹن کے خاص انداز میں بولی۔ "وہ تو جو کچھ میں کہہ رہی ہوں سب پیچھے ہو گا۔ پہلے تو میں بچوں گی ہی نہیںمجھے بچپن سے وہم ہے اس بات کا۔"

مدن بھی جیسے خائف ہو گیایہ خوبصورت "چیز" جو حاملہ ہو جانے کے بعد اور بھی خوبصورت ہو گئی ہے مر جائے گی؟ اس نے پیٹھ کی طرف سے اندو کو تھام لیا اور پھر کھینچ کر اپنے بازوؤں میں لے آیا اور بولا۔ "تجھے کچھ نہ ہو گا اندومیں تو موت کے منہ سے بھی چھین کر لے آؤں گا تجھےاب ساوتری کی نہیں، سیہ دان کی باری ہے"

مدن سے لپٹ کر اندو بھول ہی گئی کہ اس کا اپنا بھی کوئی دکھ ہے

اس کے بعد بابو جی نے کچھ نہ لکھا۔ البتہ سہارنپور سے ایک سارٹر آیا جس نے صرف اتنا بتایا کہ بابو جی کو پھر سے دورے پڑنے لگے ہیں۔ ایک دورے میں تو وہ قریب قریب چل ہی بسے تھے۔ مدن ڈر گیا۔ اندو رونے لگی۔ سارٹر کے چلے جانے کے بعد ہمیشہ کی طرح مدن نے آنکھیں موند لیں اور من ہی من میں پڑھنے لگااوم نمو بھگوتے

دوسرے روز ہی مدن نے باپ کو چٹھی لکھیبابو جی! چلے آؤبچے بہت یاد کرتے ہیں اور آپ کی بہو بھی " لیکن آخری نوکری تھی۔ اپنے بس کی بات تھوڑی تھی۔ دھنی رام کے خط کے مطابق وہ چٹھی کا بندوبست کررہے تھےان کے بارے میں دن بہ دن مدن کا احساس جرم بڑھنے لگا۔"اگر میں اندو کو وہیں رہنے دیتا تو میرا کیا بگڑجاتا؟"


وجے دشمی سے ایک رات پہلے مدن اضطراب کے عالم میں بیچ والے کمرے کے باہر برآمدے میں ٹہل رہا تھا کہ اندر سے رو نے کی آواز آئی اور وہ چونک کر دروازے کی طرف لپکا۔ بیگم دایہ باہر آئی اور بولی۔ "مبارک ہو۔ "مبارک ہو بابو جیلڑکا ہوا ہے۔"

"لڑکا ؟" مدن نے کہا اور پھر متفکرانہ لہجے میں بولا۔ "بی بی کیسی ہے؟"۔

بیگم بولی۔ "خیر مہر ہےمیں نے ابھی تک اسے لڑکی ہی بتائی ہےزچہ زیادہ خوش ہو جائے تو ا س کی آنول نہیں گرتی نا۔"

"تو" مدن نے بیوقوفوں کی طرح آنکھیں جھپکتے ہوئے کہا اور کمرے میں جانے کے لئے آگے بڑھا۔ بیگم نے اسے وہیں روک دیا اور کہنے لگی۔ "تمہارا اندر کیا کام؟" اور پھر ایکا ایکی دروازہ بھیڑ کر اندر لپک گئی یا شاید اس لئے کہ جب کوئی اس دنیا میں آتا ہے تو ارد گرد کے لوگوں کی یہی حالت ہوتی ہے۔ مدن نے سن رکھا تھا جب لڑکا پیدا ہوتا ہے تو گھر کے در و دیوار لرزنے لگتے ہیں۔ گویا ڈر رہے ہیں کہ بڑا ہو کر ہمیں بیچے گا یا رکھے گا۔ مدن نے محسوس کیا کہ جیسے سچ مچ ہی دیواریں کانپ رہی تھیںزچگی کے لئے چکلی بھابی تو نہ آئی تھیں کیونکہ اس کا اپنا بچہ تو بہت چھوٹا تھا البتہ دریا آباد والی پھوپھی ضرور پہنچی تھیں جس نے پیدائش کے وقت رام، رام، رام، رام کی رٹ لگا دی تھی اور اب وہی رٹ مدھم ہو رہی تھی۔

زندگی بھر مدن کو اپنا آپ اس قدر فضول اور بیکار نہ لگا تھا۔ اتنے میں پھر دروازہ کھلا اور پھوپھی نکلی۔ برآمدے کی بجلی کی مدھم روشنی میں اس کا چہرہ بھوت کے چہرے کی طرح ایک دم دودھیا نظر آ رہا تھا۔ مدن نے اس کا راستہ روکتے ہوئے کہا"اندو ٹھیک ہے نا پھوپھی۔"

"ٹھیک ہے ٹھیک ہے ٹھیک ہے! پھوپھی نے تین چار بار کہا اور پھر اپنا لرزتا ہوا ہاتھ مدن کے سر پر رکھ کر اسے نیچا کیا، چوما اور باہر لپک گئی"

پھوپھی برآمدے کے دروازے میں سے باہر جاتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ وہ بیٹھک میں پہنچی جہاں باقی بچے سو رہے تھے۔ پھوپھی نے ایک ایک کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور پھر چھت کی طرف آنکھیں اٹھا کر منہ میں کچھ بولی اور پھر نڈھال سی ہو کر منی کے پاس لیٹ گئی اوندھیاس کے پھڑکتے ہوئے شانوں سے پتہ چل رہا تھا جیسے رو رہی ہے۔ مدن حیران ہواپھوپھی تو کئی زچگیوں سے گزر چکی ہے، پھر کیوں اس کی روح کانپ اٹھی ہےپھر ادھر کے کمرے سے ہر مل کی بو باہر لپکی۔ دھوئیں کا ایک غبار سا آیا۔ جس نے مدن کا احاطہ کر لیا۔ اس کا سر چکرا گیا۔ جبھی بیگم دایہ کپڑے میں کچھ لپیٹے ہوئے باہر نکلی۔ کپڑے پر خون ہی خون تھا۔ جس میں کچھ قطرے نکل کر فرش پر گر گئے۔ مدن کے ہوش اڑ گئے۔ اسے معلوم نہ تھا کہ وہ کہا ں ہے۔ آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور کچھ دکھائی نہ دے رہا تھا۔ بیچ میں اندو کی ایک نر گھلی سی آواز آئی۔"ہائےئے" اور پھر بچے کے رونے کی آواز۔"

تین چار دن میں بہت کچھ ہوا۔ مدن نے گھر کے ایک طرف گڑھا کھو د کر آنول کو دبا دیا۔ کتوں کو اندر آنے سے روکا لیکن اسے کچھ یاد نہ تھا۔ اسے یوں لگا جیسے ہرمل کی بو دماغ میں بس جانے کے بعد آج ہی اسے ہوش آیا ہے، کمرے میں وہ اکیلا ہی تھا اور اندونند اور جسووھااور دوسری طرف نند لالاندو نے بچے کی طرف دیکھا اور کچھ ٹوہ لینے کے سے انداز میں بولی۔ "بالک تم ہی پر گیا ہے۔"

"ہو گا۔" مدن نے ایک اچٹتی ہوئی نظر بچے پر ڈالتے ہوئے کہا۔ "میں تو کہتا ہوں شکر ہے بھگوان کا کہ تم بچ گئیں۔"

"ہاں!" اندو بولی۔ "میں تو سمجھتی تھی"

"شبھ شبھ بولو۔"مدن نے ایک دم اندو کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ "یہاں تو جو کچھ ہوا ہےمیں تو اب تمہارے پاس بھی نہیں پھٹکوں گا۔" اور مدن نے زبان دانتوں تلے دبا لی۔"

"توبہ کرو۔" اندو بولی۔

مدن نے اسی دم کان اپنے ہاتھ سے پکڑ لئےاور اندو نحیف آواز میں ہنسنے لگی۔

بچہ ہونے کے کئی روز تک اندو کی ناف ٹھکانے پر نہ آئی۔ وہ گھوم گھوم کر اس بچے کی تلاش کر رہی تھی جو اب اس سے پرے، باہر کی دنیا میں جا کر اپنی اصلی ماں کو بھول گیا تھا۔ اب سب کچھ ٹھیک تھا اور اندو شانتی سے اس دنیا کو تک رہی تھیمعلوم ہوتا تھا اس نے مدن ہی کے نہیں دنیا بھر کے گناہگاروں کے گناہ معاف کر دئے ہیں اور دیوی بن کر دیا اور کرونا کے پرساد بانٹ رہی ہےمدن نے اندو کے منہ کی طرف دیکھا اور سوچنے لگا۔ اس سارے خون خرابے کے بعد کچھ دبلی ہو کر اندو اور بھی اچھی لگنے لگی ہےجبھی ایکا ایکی اندو نے دونوں ہاتھ اپنی چھاتیوں پر رکھ لئے۔

"کیا ہوا؟" مدن نے پوچھا۔

"کچھ نہیں۔ اندو تھوڑا سا اٹھنے کی کوشش کر کے بولی۔ "اسے بھوک لگی ہے" اور اس نے بچے کی طرف اشارہ کیا۔

"اسے؟بھوک؟"مدن نے پہلے بچے کی طرف اور پھر اندو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا "تمہیں کیسے پتہ چلا؟"

"دیکھتے نہیں" اندو نیچے کی طرف نگاہ کرتے ہوئے بولی۔ "سب کچھ گیلا ہو گیا ہے۔"

مدن نے غور سے ڈھیلے ڈھالے گلے کی طرف دیکھا۔ جھر جھر دودھ بہہ رہا تھا اور ایک خاص قسم کی بو آ رہی تھی۔ پھر اندو نے بچے کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔

"اسے مجھے دے دو!"

مدن نے ہاتھ پنگھوڑے کی طرف بڑھایا اور اسی دم کھینچ لیا۔ پھر کچھ ہمت سے کام لیتے ہوئے اس نے بچے کو یوں اٹھایا جیسے وہ کوئی مرا ہوا چوہا ہے۔ آخر اس نے بچے کو اندو کی گود میں دے دیا۔ اندو مدن کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ "تم جاؤباہر۔"

"کیوں؟"باہر کیوں جاؤں؟" مدن نے پوچھا۔


"جاؤ نا۔ اندو نے کچھ مچلتے، کچھ شرماتے ہوئے کہا۔"تمہارے سامنے میں دودھ نہیں پلا سکوں گی۔" "ارے؟ مدن حیرت سے بولا" میرے سامنے؟نہیں پلا سکے گی۔" اور پھر نا سمجھی کے انداز میں سر کو جھٹکا دے کر باہر کی طرف چل نکلا۔ دروازے کے پاس پہنچ کر اس نے مڑتے ہوئے اندو پر ایک نگاہ ڈالی۔ اتنی خوبصورت اندو آج تک نہیں لگی تھی۔

بابو دھنی رام چھٹی پر گھر لوٹے تو وہ پہلے سے آدھے دکھائی پڑتے تھے۔ جب اندو نے پوتا ان کی گود میں دیا تو وہ کھل اٹھے۔ ان کے پیٹ کے اندر کوئی پھوڑا نکل آیا تھا جو چوبیس گھٹنے انہیں سولی پر لٹکائے رکھتا۔ اگر منا روتا تو بابو جی کی اس سے دس گنا بری حالت ہوتی۔

کئی علاج کئے گئے۔ بابو جی کے آخری علاج میں ڈاکٹر نے ادھنی کے برابر پندرہ بیس گولیاں روز کھانے کو دیں۔ پہلے ہی دن انہیں اتنا پسینہ آیا کہ دن میں تین تین چار چار بار کپڑے بدلنے پڑے۔ ہر بار مدن کپڑے اتار کر بالٹی میں نچوڑتا۔ صرف پسینے سے ہی بالٹی ایک چوتھائی ہو گئی تھی۔ رات انہیں متلی سی محسوس ہونے لگی تھی اور انہوں نے پکارا"بہو ذرا داتن تو دینا ذائقہ بہت خراب ہو رہا ہے۔" بہو بھاگی ہوئی گئی اور داتن لے کر آئی۔ بابو جی اٹھ کر داتن چبا ہی رہے تھے کہ ایک ابکائی آئی۔ ساتھ ہی خون کا پرنالہ لے آئی۔ بیٹے نے واپس سرہانے کی طرف لٹایا تو ان کی پتلیاں پھر چکی تھیں اور کوئی ہی دم میں وہ اوپر آسمان کے گلزار میں پہنچ چکے تھے جہاں انہوں نے اپنا پھول پہچان لیا تھا

منے کو پیدا ہوئے کُل بیس پچیس روز ہوئے تھے۔ اندو نے منہ نوچ کر، سر اور چھاتی پیٹ پیٹ کر خود کو نیلا کر لیا۔ مدن کے سامنے وہی منظر تھا جو اس نے تصور میں اپنے مرنے پر دیکھا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اندو نے چوڑیاں توڑنے کی بجائے اتار کر رکھ دی تھیں۔ سر پر راکھ نہیں ڈالی تھی لیکن زمین پر سے مٹی لگ جانے اور بالوں کے بکھر جانے سے چہرہ بھیانک ہو گیا تھا۔ "لوگو! میں لٹ گئی۔" کی جگہ اس نے ایک دل دوز آواز میں چلانا شروع کر دیا تھا۔ "لوگو! ہم لٹ گئے!"

گھر بارکا کتنا بوجھ مدن پر آ پڑا تھا۔ اب کا ابھی مدن کو پوری طرح اندازہ نہ تھا۔ صبح ہونے تک اس کا دل لپک کر منہ میں آگیا۔ وہ شاید بچ نہ پاتا۔ اگر وہ گھر کے باہر بدرو کے کنارے سیل چڑھی مٹی پر اوندھا لیٹ کر اپنے دل کو ٹھکانے پر نہ لاتادھرتی ماں نے چھاتی سے لگا کر اپنے بچے کو بچا لیا تھا۔ چھوٹے بچے کندن، دلاری منی، پاشی یوں چلا رہے تھے جیسے گھونسلے پر شکرے کے حملے پر چڑیا کے بونٹ چونچیں اٹھا اٹھا کر چیں چیں کرتے ہیں۔ انہیں اگر کوئی پروں کے اندر سمیٹتی ہے تو اندونالی کے کنارے پڑے پڑے مدن نے سوچا اب تو یہ دنیا میرے لئے ختم ہو گئی ہے۔ کیا میں جی سکوں گا؟ زندگی میں کبھی ہنس بھی سکوں گا؟ وہ اٹھا اور اٹھ کر گھر کے اندر چلا آیا۔

سیڑھیوں کے نیچے غسل خانہ تھا جس میں گھس کر اندر سے کواڑ بند کرتے ہوئے مدن نے ایک بار پھر اس سوال کو دہرایا"میں کبھی ہنس بھی سکوں گا؟" اور وہ کھل کھلا کر ہنس رہا تھا۔ حالانکہ اس کے باپ کی لاش ابھی پاس ہی بیٹھک میں پڑی تھی۔

باپ کو آگ میں حوالے کرنے سے پہلے مدن ارتھی پر پڑے ہوئے جسم کے سامنے ڈنڈوت کے انداز میں لیٹ گیا۔ یہ اس کا اپنے جنم داتا کو آخری پرنام تھا۔ تس پر بھی وہ رو نہ رہا تھا۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر ماتم میں شریک ہونے والے رشتہ دار محلہ سن سے رہ گئے۔ پھر ہندو راج کے مطابق سب سے بڑا بیٹا ہونے کی حیثیت سے مدن کو چتا جلانی پڑی۔ جلتی ہوئی کھوپڑی میں کپال کرپا کی لاٹھی مارنی پڑتیعورتیں باہر ہی سے شمشان کے کنویں پر سے نہا کر لوٹ چکی تھیں۔ جب مدن گھر پہنچا تو وہ کانپ رہا تھا۔ دھرتی ماں نے تھوڑی دیر کے لئے جو طاقت اپنے بیٹے کو دی تھی، رات گھر کے گھر آنے پر پھر سے ہول میں ڈھل گئیاسے کوئی سہارا چاہئے تھا، کسی ایسے جذبے کا سہارا جو موت سے بھی بڑا ہو۔ اس وقت دھرتی ماں کی بیٹی جنک دلاری اندو نے کسی گھڑے میں سے پیدا ہو کر اس رام کو اپنی بانہوں میں لے لیااس رات کو اگر اندو اپنا آپ یوں اس پر نثار نہ کرتی تو اتنا بڑا دکھ مدن کو لے ڈوبتا۔

دس ہی مہینے کے اندر اندر ان کا دوسرا بچہ چلا آیا۔ بیوی کو اس دوزخ کی آگ میں دھکیل کر خود اپنا دکھ بھول گیا تھا۔ کبھی کبھی اسے خیال آتا اگر میں شادی کے بعد بابو جی کے پاس گئی ہوتی تو اندو کو نہ بلا لیتا تو شاید وہ اتنی جلدی نہ چل دیتے لیکن پھر وہ باپ کی موت سے پیدا ہونے والے خسارے کو پورا کرنے میں لگ جاتاکاروبار جو پہلے بے توجہی کی وجہ سے بند ہو گیا تھامجبوراً چل نکلا ان دنوں بڑے بچے کو مدن کے پاس چھوڑ کر، چھوٹے کو چھاتی سے گلے لگائے اندو میکے چلی گئی۔ پیچھے منا طرح طرح کی ضد کرتا تھا جو کبھی مانی جاتی تھی اور کبھی نہیں بھی۔ میکے سے اندو کا خط آیامجھے یہاں اپنے بیٹے کے رونے کی آواز آ رہی ہے، اسے کوئی مارتا تو نہیں؟ مدن کو بڑی حیرت ہوئیایک جاہل ان پڑھ عورت ایسی باتیں کیسے لکھ سکتی ہے؟ پھر اس نے اپنے آپ سے پوچھاکیا یہ بھی کوئی رٹا ہوا فقرہ ہے؟

سال گزر گئے۔ پیسے کبھی اتنے نہ آئے کہ ان میں سے کچھ پیش ہو سکے لیکن گزارے کے مطابق آمدنی ضرور ہو جاتی تھی۔ دقت اس وقت پر ہوتی جب کوئی بڑا خرچ سامنے آ جاتاکندن کا داخلہ دینا ہے، دلاری منی کا شگن بھجوانا ہے۔ اس وقت مدن منہ لٹکا کر بیٹھ جاتا اور پھر اندو ایک طرف سے آتی مسکراتی ہوئی اور کہتی "کیوں دکھی ہو رہے ہو؟" مدن امید بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہتا۔ "دکھی نہ ہوں؟ کندن کا بی اے کا داخلہ دینا ہے منی" اندو پھر ہنستی اور کہتی۔ "چلو میرے ساتھ " اور مدن بھیڑ کے بچے کی طرح اندو کے پیچھے چل دیتا۔ اندو صندل کے صندوق کے پاس پہنچتی جسے کسی کو، مدن سمیت ہاتھ لگانے کی اجازت نہ تھی۔ کبھی کبھی اس بات پر خفا ہو کر مدن کہتا۔ "مرو گی تو اسے بھی چھاتی پر ڈال کے لے جانا۔"اور اندو کہتی۔ "ہاں! لے جاؤں گی۔" پھر اندو وہاں سے مطلوبہ رقم نکال کر سامنے رکھ دیتی۔

"یہ کہاں سے آ گئے؟"

"کہیں سے بھیتمہیں آم کھانے سے مطلب ہے۔"

"پھر بھی؟"

"تم جاؤ اپنا کام چلاؤ۔"


اور جب مدن زیادہ اصرار کرتا تو اندو کہتی۔ "میں نے ایک سیٹھ دوست بنایا ہے نا۔" اور پھر ہنسنے لگتی۔۔

جھوٹ جانتے ہوئے بھی مدن کو یہ مذاق اچھا نہ لگتا۔ پھر اندو کہتی۔ "میں پورا لٹیرا ہوںتم نہیں جانتے؟" سخی اور لٹیراجو ایک ہاتھ سے لوٹتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے گریب گربا کو دبا دیتا ہے"اس طرح منی کی شادی ہوئی جس پر ایسی ہی لوٹ کے زیور بکے۔ قرضہ چڑھا اور پھر اتر بھی گیا۔ ایسے ہی کندن بھی بیاہا گیا۔ ان شادیوں میں اندو ہی "ہتھ بھرا" کرتی تھی اور ماں کی جگہ کھڑی ہو جاتی۔ آسمان سے بابو جی اور ماں دیکھا کرتے اور پھول برساتے جو کسی کو نظر نہ آتے۔ پھر ایسا ہوا، اوپر ماں اور بابو جی میں جھگڑا چل گیا۔ ماں نے بابو جی سے کہا "تم تو بہو کے ہاتھ کی پکی کھا کر آئے ہو۔ اس کا سکھ بھی دیکھا ہے۔ پر میں نصیبوں جلی نے کچھ بھی نہیں دیکھا۔ " اور یہ جھگڑا دشنو، مہیش اور شیو تک پہنچا۔ انہوں نے ماں کے حق میں فیصلہ دے دیااور یوں ماں، مات لوک میں آ کر بہو کی کوکھ میں پڑیاور اندو کے یہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی پھر اندو ایسی دیوی بھی نہ تھی۔ جب کوئی اصول کی بات ہوتی تو نند دیور کیا خود مدن سے بھی لڑ پڑتیمدن راست بازی کی اس پتلی کو خفا ہو کر ہریش چند ر کی بیٹی کہا کرتا تھا۔ چونکہ اندو کی باتوں میں الجھاؤ ہونے کے باوجود سچائی اور دھرم قائم رہتے تھے، اس لئے مدن اور کنبے کے باقی سب لوگوں کی آنکھیں اندو کے سامنے نیچے رہتی تھیں۔ جھگڑا کتنا بھی بڑھ جائے۔ مدن اپنے شوہر ی زعم میں کتنا بھی اندو کی بات کو رد کر دے لیکن آخر سب ہی سر جھکائے ہوئے اندو ہی کی شرن میں آتے تھے اور اسی سے چھما مانگتے تھے۔

نئی بھابھی آئی۔ کہنے کو تو وہ بھی بیوی تھی لیکن اندو ایک عورت تھی، جسے بیوی کہتے ہیں۔ اس کے الٹ چھوٹی بھابھی رانی ایک بیوی تھی جسے عورت کہتے ہیں۔ رانی کے کارن بھائیوں میں جھگڑا ہوا اور جے پی چاچا کی معرفت جائیداد تقسیم ہوئیں جس میں ماں باپ کو جائیداد تو ایک طرف اندو کی اپنی بنائی ہوئی چیزیں بھی تقسیم کی زد میں آ گئیں اور اندو کلیجہ مسوس کر رہ گئی۔ جہاں سب کچھ ہو جانے کے بعد اور الگ ہو کر بھی کندن اور رانی ٹھیک سے نہیں بس سکے تھے، وہاں اندو کا نیا گھر دنوں ہی میں جگ مگ جگ مگ کرنے لگا تھا۔

بچی کی پیدائش کے بعد اندو کی صحت وہ نہ رہی۔ بچی ہر وقت اندو کی چھاتیوں سے چمٹی رہتی جہاں سبھی گوشت کے اس لوتھڑے پر تھو تھو کرتے تھے وہاں ایک اندو تھی جو اسے کلیجے سے لگائے پھرتی لیکن کبھی خود پریشان ہو اٹھتی اور بچی کو سامنے جھلنگے میں پھینکتے ہوئے کہہ اٹھتی۔ "تو مجھے بھی جینے دے گیماں؟" اور بچی چلا چلا کر رونے لگتی۔

مدن اندو سے کٹنے لگا۔ شادی سے لے کر اس وقت تک اسے وہ عورت نہ ملی تھی جس کا وہ متلاشی تھا۔ گندہ بروزہ بکنے لگا اور مدن نے بہت سا روپیہ اندو سے بالا بالا خرچ کرنا شروع کر دیا۔ بابو جی کے چلے جانے کے بعد کوئی پوچھنے والا بھی تو نہ تھا۔ پوری آزادی تھی۔

گویا پڑوسی سبطے کی بھینس پھر مدن کے منہ کے پاس پھنکارنے لگی۔ بلکہ بار بار پھنکارنے لگی۔ شادی کی رات والی بھینس تو بک چکی تھی لیکن اس کا مالک زندہ تھا۔ مدن اس کے ساتھ ایسی جگہوں پر جانے لگا جہاں روشنی اور سائے عجیب بے قاعدہ سی شکلیں بناتے ہیں۔ نکڑ پر بھی کبھی اندھیرے کی تکون بنتی ہے اور اوپر کھٹ سے روشنی کی ایک چوکور لہر آ کر اسے کاٹ دیتی ہے۔ کوئی تصویر پوری نہیں بنتی۔ معلوم ہوتا ہے بغل سے ایک پاجامہ نکلا اور آسمان کی طرف اڑ گیا۔ یا کسی کوٹ نے دیکھنے والا کا منہ پوری طرح سے ڈھانپ لیا۔ اور کوئی سانس کے لئے تڑپنے لگا۔ جبھی روشنی کی ایک چوکور لہر ایک چوکٹھا بن گئی اور اس میں ایک صورت آ کر کھڑ ہو گئی۔ دیکھنے والے نے ہاتھ بڑھایا تو وہ آر پار چلا گیا۔ جیسے وہاں کچھ بھی نہ تھا۔ پیچھے کوئی کتا رونے لگا۔ اوپر طبل نے اس کی آواز ڈبو دی۔

مدن کو اس کے تصور کے خد و خال ملے لیکن ہر جگہ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے آرٹسٹ سے ایک خط غلط لگ گیا یا ہنسی کی آواز ضرورت سے زیادہ بلند تھی اور مدنداغ صناعی اور متوازن ہنسی کی تلاش میں کھو گیا۔۔

سبطے نے اس وقت اپنی بیوی سے بات کی جب اس کی بیگم نے مدن کو مثالی شوہر کی حیثیت سے سبطے کے سامنے پیش کیا۔ پیش ہی نہیں کیا بلکہ منہ پہ مارا۔ اس کو اٹھا کر سبطے نے بیگم کے منہ پر دے مارا۔ معلوم ہوتا تھا کسی خونین تربوز کا گودا ہے جس کے رگ و ریشے بیگم کی ناک اس کی آنکھوں اور کانوں پر لگے ہوئے ہیں۔ کروڑ کروڑ گالی بکتی ہوئی بیگم نے حافظے کی ٹوکری میں سے گودا اور بیج اٹھائے اور اندو کے صاف ستھرے صحن میں بکھیر دئے۔

ایک اندو کی بجائے دو اندو ہو گئیں۔ ایک تو اندو خود تھی اور دوسری ایک کانپتا ہوا خط جو اندو کے پورے جسم کا احاطہ کئے ہوئے تھا اور جو نظر نہیں آ رہا تھامدن کہیں بھی جاتا تھا تو گھر سے ہو کرنہا دھو، اچھے کپڑے پہن، مگھئی کی ایک گلوری جس میں خوشبودار قوام لگا ہو، منہ میں رکھ کرلیکن اس دن مدن گھر آیا تو اندو کی شکل ہی دوسری تھی۔ اس نے چہرے پر پوڈر تھوپ رکھا تھا۔ گالوں پر روج لگا رکھی تھی۔ لپ اسٹک نہ ہونے پر ہونٹ ماتھے کی بندی سے رنگ لئے تھےاور بال کچھ اس طریقے سے بنائے تھے کہ مدن کی نظریں ان میں الجھ کر رہ گئیں۔ "کیا بات ہے آج ؟" مدن نے حیران ہو کر پوچھا۔

"کچھ نہیں" اندو نے مدن سے نظریں بچاتے ہوئے کہا۔ "آج فرصت ملی ہے۔"

شادی کے پندرہ بیس برس گزر جانے کے بعد اندو کو آج فرصت ملی تھی اور وہ بھی اس وقت جب چہرے پر جھائیاں آ چلی تھیں۔ ناک پر ایک سیاہ کاٹھی بن گئی تھی اور بلاؤز کے نیچے ننگے پیٹ کے پاس کمر پر چربی کی دو تہیں سی دکھائی دینے لگی تھیںآج اندو نے ایسا بندوبست کیا تھا کہ ان عیوب میں سے ایک بھی چیز نظر نہ آتی تھییوں بنی ٹھنی۔ کسی کسائی وہ بے حد حسین لگ رہی تھی"یہ نہیں ہو سکتا" مدن نے سوچا اور اسے ایک دھچکا سا لگا۔ اس نے پھر ایک بار مڑ کر اندو کی طرف دیکھا جیسے گھوڑوں کے بیوپاری کسی نامی گھوڑی کی طرف دیکھتے ہیںوہاں گھوڑی بھی تھی اور لال لگام بھییہاں جو غلط خط لگے تھے، شرابی آنکھوں کو نہ دیکھ سکےاندو سچ مچ خوبصورت تھی۔ آج بھی پندرہ سال کے بعد پھولاں، رشیدہ، مسز رابرٹ اور ان کی بہنیں ان کے سامنے پانی بھرتی تھیںپھر مدن کو رحم آنے لگا اور ایک ڈرآسمان پر کوئی خاص بادل بھی نہ تھے لیکن پانی پڑنا شروع ہو گیا۔ ادھر گھر کی گنگا طغیانی پر تھی اور اس کا پانی کناروں سے نکل نکل کر پوری اترائی اور اس کے آس پاس بسنے والے گاؤں اور قصبوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسی رفتار سے اگر پانی بہتا رہا تو اس میں کیلاش پربت بھی ڈوب جائے گاادھر بچی رونے لگی۔ ایسا رونا جو وہ آج تک نہ روئی تھی۔ مدن نے اس کی آواز سن کر آنکھیں بند کر لیں۔ کھولیں تو وہ سامنے کھڑی تھی۔ جوان عورت بن کرنہیں نہیں، وہ اندو تھی، اپنی ماں کی بیٹی، اپنی بیٹی کی ماں۔ جو اپنی آنکھوں کے دنیالے سے مسکرائی اور ہونٹوں کے کونے سے دیکھنے لگی۔

اسی کمرے میں جہاں ایک دن ہرمل کی دھونی نے مدن کو چکرا دیا تھا، آج اس کی خوشبو نے بوکھلا دیا تھا۔ ہلکی بارش تیز بارش سے خطرناک ہوتی ہے۔ اس لئے باہر کا پانی اوپر کسی کڑی میں سے رستا ہوا اندو اور مدن کے بیچ ٹپکنے لگالیکن مدن تو شرابی ہو رہا تھا۔ اس نشے میں اس کی آنکھیں سمٹنے لگیں اور تنفس تیز ہو کر ا نسان کا تنفس نہ رہا۔

"اندو" مدن نے کہا۔ اور اس کی آواز شادی کی رات والی پکار سے دو سر اوپر تھیاور اندو نے پرے دیکھتے ہوئے کہا۔ "جی " اور اس کی آواز دو سر نیچے تھیپھر آج چاندنی کی بجائے اماؤس تھی اس سے پہلے کہ مدن اندو کی طرف ہاتھ بڑھاتا۔ اندو خود ہی مدن سے لپٹ گئی۔ پھر مدن نے ہاتھ سے اندو کی ٹھوڑی اوپر اٹھائی اور دیکھنے لگا۔ اس نے کیا کھویا، کیا پایا ہے؟۔ اندو نے ایک نظر مدن کے سیاہ ہوتے ہوئے چہرے کی طرف پھینکی اور آنکھیں بند کر لیں۔


"یہ کیا؟" مدن نے چونکتے ہوئے کہا۔ "تمہاری آنکھیں سوجی ہوئی ہیں۔"

"یوں ہی" اندو نے کہا اور بچی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔ "رات بھر جگایا ہے اس چڑیل میا نے۔"

بچی اب تک خاموش ہو چکی تھی۔ گویا وہ دم سادھے دیکھ رہی تھی۔ اب کیا ہونے والا ہے؟ آسمان سے پانی پڑنا بند ہو گیا تھا؟ واقعی آسمان سے پانی پڑنا بند ہو گیا تھا۔ مدن نے پھر غور سے اندو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ "ہاں مگر یہ آنسو؟"

"خوشی کے ہیں" اندو نے جوا ب دیا۔ آج کی رات میری ہے۔ اور پھر ایک عجیب سی ہنسی ہنستے ہوئے وہ مدن سے چمٹ گئی۔ ایک تلذذ کے احساس سے مدن نے کہا۔ "آج برسوں کے بعد میرے من کی مراد پوری ہوئی اندو! میں نے ہمیشہ چاہا تھا"

"لیکن تم نے کہا نہیں۔" اندو بولی۔ "یاد ہے شادی والی رات میں نے تم نے سے کچھ مانگا تھا؟"

"ہاں!" مدن بولا۔ "اپنے دکھ مجھے دے دو۔"

"تم نے کچھ نہیں مانگا مجھ سے"

"میں نے ؟" مدن نے حیران ہوتے ہوئے کہا "میں کیا مانگتا؟ میں تو جو کچھ مانگ سکتا تھا وہ سب تم نے دے دیا۔ میرے عزیزوں سے پیاران کی تعلیم، بیاہ شادیاںیہ پیارے پیارے بچےیہ کچھ تو تم نے دے دیا۔"

"میں بھی یہی سمجھتی تھی۔" اندو بولی "لیکن اب جا کر پتہ چلا، ایسا نہیں۔"

"کیا مطلب؟"

"کچھ نہیں۔" پھر اندو نے رک کر کہا۔ " میں نے بھی ایک چیز رکھ لی۔"

"کیا چیز رکھ لی؟"

اندو کچھ دیر چپ رہی اور پھر اپنا منہ پرے کرتے ہوئے بولی "اپنی لاجاپنی خوشیاس وقت تم بھی کہہ دیتےاپنے سکھ مجھے دے دوتو میں" اور اندو کا گلا رندھ گیا۔ اور کچھ دیر بعد بولی۔ "اب تو میرے پاس کچھ بھی نہیں رہا۔"

مدن کے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ وہ زمین میں گڑ گیا۔ یہ ان پڑھ عورت؟کوئی رٹا ہوا فقرہ؟ نہیں تو یہ تو ابھی ہی زندگی کی بھٹی سے نکلا ہے۔ ابھی تو اس پر برابر ہتھوڑے پڑ رہے ہیں اور آتشیں برادہ چاروں طرف اڑ رہا ہے

کچھ دیر بعد مدن کے ہوش ٹھکانے آئے اور بولا۔ "میں سمجھ گیا اندو" پھر روتے ہوئے مدن اور اندو ایک دوسرے سے لپٹ گئےاندو نے مدن کا ہاتھ پکڑا اور اسے ایسی دنیاؤں میں لے گئی جہاں انسان مر کر ہی پہنچ سکتا ہے۔


بلاؤز

(سعادت حسن منٹو)

کچھ دنوں سے مومن بہت بے قرار تھا۔ اس کا وجود کچا پھوڑا سا بن گیا تھا۔ کام کرتے وقت، باتیں کرتے ہوئے، حتٰی کہ سوچتے ہوئے بھی اسے ایک عجیب قسم کا درد محسوس ہوتا تھا۔ ایسا درد جس کو اگر وہ بیان کرنا چاہتا تو نہ کر سکتا۔

بعض اوقات بیٹھے بیٹھے وہ ایک دم چونک پڑتا۔ دھندلے دھندلے خیالات جو عام حالتوں میں بے آواز بلبلوں کی طرح پیدا ہو کر مٹ جایا کرتے ہیں مومن کے دماغ میں بڑے شور کے ساتھ پیدا ہوتے اور شور ہی کے ساتھ پھٹتے۔ اس کے دل و دماغ کے نرم و نازک پردوں پر ہر وقت جیسے خار دار پاؤں والی چیونٹیاں سی رینگتی رہتی تھیں۔ ایک عجیب قسم کا کھنچاؤ اس کے اعضا میں پیدا ہو گیا تھا جس کے باعث اسے بہت تکلیف ہوتی تھی۔ اس تکلیف کی شدت جب بڑھ جاتی تو اس کے جی میں آتا کہ اپنے آپ کو ایک بڑے سے ہاون میں ڈال دے اور کسی سے کہے کہ مجھے کوٹنا شروع کر دیں۔

باورچی خانے میں گرم مصالحہ جات کوٹتے وقت جب لوہے سے لوہا ٹکراتا اور دھمکوں سے چھت میں ایک گونج سی دوڑ جاتی تو مومن کے ننگے پیروں کو یہ لرزش بہت بھلی معلوم ہوتی۔ پیروں کے ذریعے یہ لرزش اس کی تنی ہوئی پنڈلیوں اور رانوں میں دوڑتی ہوئی اس کے دل تک پہنچ جاتی جو تیز ہوا میں رکھے ہوئے دیے کی لو کی طرح کانپنا شروع کر دیتا۔

مومن کی عمر پندرہ برس تھی۔ شاید سولہواں بھی لگا ہو۔ اسے اپنی عمر کے متعلق صحیح اندازہ نہیں تھا۔ وہ ایک صحت مند اور تندرست لڑکا تھا جس کا لڑکپن تیزی سے جوانی کے میدان کی طرف بھاگ رہا تھا۔ اسی دوڑ نے جس سے مومن بالکل غافل تھا اس کے لہو کے ہر قطرے میں سنسنی پیدا کر دی۔ وہ اس کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرتا مگر ناکام رہتا۔

اس کے جسم میں کئی تبدیلیاں ہو رہی تھیں۔ گردن جو پہلے پتلی تھی اب موٹی ہو گئی تھی۔ بانہوں کے پٹھوں میں اینٹھن سی پیدا ہو گئی تھی۔ کنٹھ نکل رہا تھا۔ سینے پر گوشت کی موٹی تہہ ہو گئی تھی اور اب کچھ دنوں سے پستانوں میں گولیاں سی پڑ گئی تھیں، جگہ ابھر آئی تھی جیسے کسی نے ایک بنٹا اندر داخل کر دیا ہے۔ ان ابھاروں کو ہاتھ لگانے سے مومن کو بہت درد محسوس ہو تا تھا۔ کبھی کبھی کام کرنے کے دوران میں غیر ارادی طور پر جب کا ہاتھ ان گولیوں سے چھو جاتا تو وہ تڑپ اٹھتا۔ قمیض کے موٹے اور کھردرے کپڑے سے بھی اس کی تکلیف دہ سرسراہٹ محسوس ہوتی تھی۔

غسل خانے میں نہاتے وقت یا باورچی خانہ میں جب کوئی اور موجود نہ ہوتا۔ مومن اپنے قمیض کے بٹن کھول کر ان گولیوں کو غور سے دیکھتا۔ ہاتھوں سے مسلتا۔ درد ہوتا، ٹیسیں اٹھتیں جیسے جسم پھلوں سے لدے ہوئے پیڑ کی طرح زور سے ہلا دیا گیا ہو۔ کانپ کانپ جاتا مگر اس کے باوجود وہ اس درد پیدا کرنے والے کھیل میں مشغول رہتا۔ کبھی کبھی زیادہ دبانے پر یہ گولیاں پچک جاتیں اور ان کے منہ سے ایک لیس دار لعاب نکل آتا۔ اس کو دیکھ کر اس کا چہرہ کان کی لوؤں تک سرخ ہو جاتا۔ وہ یہ سمجھتا کہ اس سے کوئی گناہ سر زد ہو گیا ہے۔ گناہ اور ثواب کے متعلق مومن کا علم بہت محدود تھا۔ ہر وہ فعل جو ایک انسان دوسرے انسان کے سامنے نہ کر سکتا ہو، اس کے خیال کے مطابق گناہ تھا۔ چنانچہ جب شرم کے مارے اس کا چہرہ کان کی لوؤں تک سرخ ہو جاتا تو وہ جھٹ سے اپنی قمیض کے بٹن بند کر لیتا اور دل میں عہد کرتا کہ آئندہ ایسی فضول حرکت کبھی نہیں کر ے گا لیکن اس عہد کے باوجود دوسرے یا تیسرے روز تخلیے میں وہ پھر اسی کھیل میں مشغول ہو جاتا۔ مومن کا بھی بالکل یہی حال تھا۔ وہ کچھ دنوں سے موڑ مڑتا زندگی کے ایک ایسے راستے پر آ نکلا تھا جو زیادہ لمبا تو نہیں تھا مگر بے حد پُر خطر تھا۔ اس راستے پر اس کے قدم کبھی تیز تیز اٹھتے تھے، کبھی ہولے ہولے۔ وہ در اصل جانتا نہیں تھا کہ ایسے راستوں پر کس طرح چلنا چاہئے۔ انہیں جلدی طے کرنا چاہئے یا کچھ وقت لے کر آہستہ آہستہ ادھر ادھر کی چیزوں کا سہارا لے کر طے کرنا چاہئے۔ مومن کے ننگے پاؤں کے نیچے آنے والے شباب کی گول گول چکنی بنٹیاں پھسل رہی تھیں۔ وہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکتا تھا۔ اس لئے بے حد مضطرب تھا۔ اسی اضطراب کے باعث کئی بار کام کرتے کرتے چونک کر وہ غیر ارادی طور پر کسی کھونٹی کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیتا اور اس کے ساتھ لٹک جاتا۔ پھر اس کے دل میں خواہش پیدا ہوتی کہ ٹانگوں سے پکڑ کر اسے کوئی اتنا کھینچے کہ وہ ایک مہین تار بن جائے۔ یہ سب باتیں اس کے دماغ کے کسی ایسے گوشے میں پیدا ہوتی تھیں کہ وہ ٹھیک طور پر ان کا مطلب نہیں سمجھ سکتا تھا۔

مومن سے سب گھر والے خوش تھے۔ بڑا محنتی لڑکا تھا۔ جب ہر کام وقت پر کر دیتا تو کسی کو شکایت کا موقع کیسے ملتا۔ ڈپٹی صاحب کے یہاں اسے کام کرتے ہوئے صرف تین مہینے ہوئے تھے لیکن اس قلیل عرصے میں اس نے گھر کے ہر فرد کو اپنی محنت کش طبعیت سے متاثر کر لیا تھا۔ چھ روپے مہینے پر نوکر ہوا تھا مگر دوسرے مہینے ہی اس کی تنخواہ میں دو روپے بڑھا دئے گئے تھے۔ وہ اس گھر میں بہت خوش تھا اس لئے کہ اس کی یہاں قدر کی جاتی تھی مگر اب کچھ دنوں سے وہ بے قرار تھا۔ ایک عجیب قسم کی آوارگی اس کے دماغ میں پیدا ہو گئی تھی۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ وہ سارا دن بے مطلب بازاروں میں گھومتا پھرے یا کسی سنسان مقام پر جا کر لیٹا رہے۔

اب کام میں اس کا جی نہیں لگتا تھا لیکن اس بے دلی کے ہوتے ہوئے بھی وہ کاہلی نہیں برتتا تھا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ گھر میں کوئی بھی اس کے اندرونی انتشار سے واقف نہیں تھا۔ رضیہ تھی سو وہ دن بھر باجہ بجانے، نئی نئی فلمی طرزیں سیکھنے اور رسالے پڑھنے میں مصروف رہتی تھی۔ اس نے کبھی مومن کی نگرانی ہی نہ کی تھی۔ شکیلہ البتہ مومن سے ادھر ادھر کے کام لیتی تھی اور کبھی کبھی اسے ڈانٹتی بھی تھی مگر اب کچھ دنوں سے وہ بھی چند بلاؤزوں کے نمونے اتارنے میں بے طرح مشغول تھی۔ یہ بلاؤز اس کی ایک سہیلی کے تھے جسے نئی نئی تراشوں کے کپڑے پہننے کا بے حد شوق تھا۔ شکیلہ اس سے آٹھ بلاؤز مانگ کر لائی تھی اور کاغذوں پر ان کے نمونے اتار رہی تھی چنانچہ اس نے بھی کچھ دنوں سے مومن کی طرف دھیان نہیں دیا تھا۔

ڈپٹی صاحب کی بیوی سخت گیر عورت نہیں تھی۔ گھر میں دو نوکر تھے یعنی مومن کے علاوہ ایک بڑھیا بھی تھی جو زیادہ تر باورچی خانے کا کام کرتی تھی۔ مومن کبھی کبھی اس کا ہاتھ بٹا دیا کرتا تھا۔ ڈپٹی صاحب کی بیوی نے ممکن ہے مومن کی مستعدی میں کوئی کمی دیکھی ہو مگر اس نے مومن سے اس کا ذکر نہیں کیا تھا اور وہ انقلاب جس میں مومن کا دل و دماغ اور جسم گزر رہا تھا، اس سے تو ڈپٹی صاحب کی بیوی بالکل غافل تھی۔ چونکہ اس کا کوئی لڑکا نہیں تھا اس لئے وہ مومن کی ذہنی اور جسمانی تبدیلیوں کو نہیں سمجھ سکی اور پھر مومن نوکر تھانوکروں کے متعلق کون غور و فکر کرتا ہے۔ بچپن سے لے کر بڑھاپے تک وہ تمام منزلیں پیدل طے کر جاتے ہیں اور آس پاس کے آدمیوں کو خبر تک نہیں ہوتی۔

غیر شعوری طور پر وہ چاہتا تھا کہ کچھ ہوکیا ہو؟ بس کچھ ہو۔ میز پر قرینے سے چنی ہوئی پلیٹیں ایک دم اچھلنا شروع کریں۔ کیتلی پر رکھا ہوا ڈھکا پانی ایک ہی ابال سے اوپر کو اڑ جائے۔ نل کی جستی نال پر دباؤ ڈالے تو وہ دوہری ہو جائے اور اس میں سے پانی کا ایک فوارہ سا پھوٹ نکلے۔ اسے ایک ایسی زبردست انگڑائی آئے کہ اس کے سارے جوڑ جوڑ علیحدہ علیحدہ ہو جائیں اور اس میں ایک ڈھیلا پن پیدا ہو جائے۔

کوئی ایسی بات وقوع پذیر ہو جو اس نے پہلے کبھی نہ دیکھی ہو۔

مومن بہت بے قرار تھا۔ رضیہ نئی طرز سیکھنے میں مشغول تھی اور شکیلہ کاغذوں پر بلاؤزوں کے نئے نمونے اتار رہی تھی۔ جب اس نے یہ کام ختم کر لیا تو وہ نمونہ جو ان سب میں اچھا تھا، سامنے رکھ کر اپنے لئے اودی ساٹن کا بلاؤز بنانا شروع کر دیا۔ اب رضیہ کو بھی اپنا باجہ اور فلمی گانوں کی کاپی چھوڑ کر اس طرف متوجہ ہونا پڑا۔

شکیلہ ہر کام بڑے اہتمام اور چاؤ سے کرتی تھی۔ جب سینے پرونے بیٹھتی تو اس کی نشست بڑی پر اطمینان ہوتی تھی۔ اپنی چھوٹی بہن رضیہ کی طرح وہ افرا تفری پسند نہیں کرتی تھی۔ ایک ایک ٹانکا سوچ سمجھ کر بڑے اطمینان سے لگاتی تھی تاکہ غلطی کا امکان نہ رہے۔ پیمائش بھی اس کی بہت صحیح تھی۔ اس لئے کہ پہلے کاغذ کاٹ کر پھر کپڑا کاٹتی تھی یوں وقت زیادہ صرف ہوتا ہے مگر چیز بالکل فٹ تیار ہوتی تھی۔

شکیلہ بھر ے بھرے جسم کی صحت مند لڑکی تھی، ہاتھ بہت گدگدے تھے۔ گوشت بھری مخروطی انگلیوں کے آخر میں ہر جوڑ پر ایک ننھا گڑھا تھا جب مشین چلاتی تھی تو یہ ننھے گڑھے ہاتھ کی حرکت سے کبھی کبھی غائب ہو جاتے تھے۔

شکیلہ مشین بھی بڑے اطمینان سے چلاتی تھی۔ آہستہ آہستہ اس کی دو یا تین انگلیاں بڑی صفائی کے ساتھ مشین کی ہتھی گھماتی تھیں۔ کلائی میں ایک ہلکا سا خم پیدا ہو جاتا تھا۔ گردن ذرا ایک طرف کو جھک جاتی تھی اور بالوں کی ایک لٹ جسے شاید اپنے لئے کوئی مستقل جگہ نہیں ملتی تھی نیچے پھسل آتی تھی۔ شکیلہ اپنے کام میں اس قدر منہمک رہتی کہ اسے ہٹانے یا جمانے کی کوشش ہی نہیں کرتی تھی۔


جب شکیلہ اودی ساٹن سامنے پھیلا کر اپنے ماپ کا بلاؤز تراشنے لگی تو اسے ٹیپ کی ضرورت محسوس ہوئی۔ کیونکہ ان کا ٹیپ گھس گھسا کر اب بالکل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تھا۔ لوہے کا گز موجود تھا مگر اس سے کمر اور سینے کی پیمائش کیسے ہو سکتی ہے۔ اس کے اپنے کئی بلاؤز موجود تھے مگر اب چونکہ وہ پہلے سے کچھ موٹی ہو گئی تھی اس لئے ساری پیمائش دوبارہ کرنا چاہتی تھی۔ قمیض اتار کر اس نے مومن کو آواز دی۔ جب وہ آیا تو اس سے کہا "جاؤ مومن دوڑ کر چھ نمبر سے کپڑے کا گز لے آؤ۔ کہنا شکیلہ بی بی مانگتی ہے۔"

مومن کی نگاہیں شکیلہ کی سفید بنیان سے ٹکرائیں۔ وہ کئی بار شکیلہ بی بی کو ایسی بنیانوں میں دیکھ چکا تھا مگر آج اسے ایک عجیب قسم کی جھجک محسوس ہوئی۔ اس نے اپنی نگاہوں کا رخ دوسری طرف پھیر لیا اور گھبراہٹ میں کہا۔ "کیسا گز بی بی جی۔"

شکیلہ نے جواب دیا"کپڑے کا گزایک گز تو یہ تمہارے سامنے پڑا ہے۔ یہ لوہے کا ہے۔ ایک دوسرا گز بھی ہوتا ہے کپڑے کا۔ جاؤ چھ نمبر میں جاؤ اور دوڑ کے ان سے یہ گز لے آؤ۔ کہنا شکیلہ بی بی مانگتی ہے۔"

چھ نمبر کا فلیٹ بالکل قریب تھا۔ مومن فوراً ہی کپڑے کا گز لے کر آگیا۔ شکیلہ نے اس کے ہاتھ سے لے لیا اور کہا "یہاں ٹھہر جا۔ اسے ابھی واپس لے جانا۔" پھر وہ اپنی بہن رضیہ سے مخاطب ہوئی۔ ان لوگوں کی کوئی چیز اپنے پاس رکھ لی جائے تو وہ بڑھیا تقاضے کر کے پریشان کر دیتی ہےادھر آؤ یہ گز لو اور یہاں سے میرا ماپ لو۔

رضیہ نے شکیلہ کی کمر اور سینے کا ماپ لینا شروع کیا تو ان کے درمیان کئی باتیں ہوئیں۔ مومن دروازے کی دہلیز پر کھڑا تکلیف دہ خاموشی سے یہ باتیں سنتا رہا۔

"رضیہ تم گز کو کھینچ کر ماپ کیوں نہیں لیتیںپچھلی دفعہ بھی یہی ہوا۔ جب تم نے ماپ لیا اور میرے بلاؤز کا ستیا ناس ہو گیااوپر کے حصہ پر اگر کپڑا فٹ نہ آئے تو ادھر ادھر بغلوں میں جھول پڑ جاتے ہیں۔"

"کہاں کا لوں، کہاں کا نہ لوں۔ تم تو عجب مخمصے میں ڈال دیتی ہو۔ یہاں کا ماپ لینا شروع کیا تھا تو تم نے کہا ذرا اور نیچے کا لوذرا چھوٹا بڑا ہو گیا تو کون سی آفت آ جائے گی۔"

"بھئی واہچیز کے فٹ ہونے ہی میں ساری خوبصورتی ہوتی ہے۔ ثریا کو دیکھو کیسے فٹ کپڑے پہنتی ہے۔ مجال ہے جو کہیں شکن پڑے، کتنے خوبصورت معلوم ہوتے ہیں ایسے کپڑےلو اب تم ماپ لو۔"

یہ کہہ کر شکیلہ نے سانس کے ذریعے اپنا سینہ پھلانا شروع کیا۔ جب اچھی طرح پھول گیا تو سانس روک کر اس نے گھٹی گھٹی آواز میں کہا "لو اب جلدی کرو۔"

جب شکیلہ نے سینے کی ہوا خارج کی تو مومن کو ایسا محسوس ہوا کہ اس کے اندر ربڑ کے کئی غبارے پھٹ گئے ہیں۔ اس نے گھبرا کر کہا "گز لائیے بی بی جیدے آؤں۔"

شکیلہ نے اسے جھڑ ک دیا۔ "ذرا ٹھہر جا۔"

یہ کہتے ہوئے کپڑے کا گز اس کے ننگے بازو سے لپٹ گیا۔ جب شکیلہ نے اسے اتارنے کی کوشش کی تو مومن کو اس کی سفید بغل میں کالے کالے بالوں کا ایک گچھا نظر آیا۔ مومن کی اپنی بغلوں میں بھی ایسے ہی بال اگ رہے تھے مگر یہ گچھا اسے بہت بھلا معلوم ہوا۔ ایک سنسنی سی اس کے سارے بدن میں دوڑ گئی۔ ایک عجیب و غریب خواہش اس کے دل میں پیدا ہوئی کہ یہ کالے کالے بال اس کی مونچھیں بن جائیں۔ بچپن میں وہ بُھٹوں کے کالے اور سنہری بال نکال کر اپنی مونچھیں بنایا کرتا تھا۔ ان کو اپنے بالائی ہونٹ پر جماتے وقت جو سرسراہٹ اسے محسوس ہوتی تھی۔ اسی قسم کی سرسراہٹ اس خواہش نے اس کے بالائی ہونٹ اور ناک میں پیدا کر دی۔

شکیلہ کا بازو اب نیچے جھک گیا تھا اور بغل چھپ گئی تھی مگر مومن بھی کالے بالوں کا وہ گچھا دیکھ رہا تھا۔ اس کے تصور میں شکیلہ کا بازو دیر تک ویسے ہی اٹھا رہا اور بغل میں اس کے سیاہ بال جھانکتے رہے۔

تھوڑی دیر بعد شکیلہ نے مومن کو گز دے دیا اور کہا "جاؤ، واپس دے آؤ۔ کہنا بہت بہت شکریہ ادا کیا ہے۔"

مومن گز واپس دے کر باہر صحن میں بیٹھ گیا۔ اس کے دل و دماغ میں دھندلے دھندلے خیال پیدا ہو رہے تھے۔ دیر تک ان کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرتا رہا جب کچھ سمجھ میں نہ آیا تو اس نے غیر ارادی طور پر اپنا چھوٹا سا ٹرنک کھولا، جس میں اس نے عید کے لئے نئے کپڑے بنوا رکھے تھے۔ جب ٹرنک کا ڈھکنا کھولا اور نئے لٹھے کی بو اس کی ناک تک پہنچی تو اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ نہا دھو کر یہ نئے کپڑے پہن کر وہ سیدھا شکیلہ بی بی کے پاس جائے اور اسے سلام کرے۔ اس کی لٹھے کی شلوار کس طرح کھڑ کھڑ کرے گی اور اس کی رومی ٹوپی کا خیال آتے ہی مومن کی نگاہوں کے سامنے اس کا پھندنا آگیا اور پھندنا فوراً ہی ان کالے کالے بالوں کے گچھے میں تبدیل ہو گیا جو اس نے شکیلہ کی بغل میں دیکھا تھا۔ اس نے کپڑوں کے نیچے سے اپنی نئی رومی ٹوپی نکالی اور اس کے نرم اور لچکیلے پھندنے پر ہاتھ پھیرنا شروع ہی کیا تھا کہ اندر سے شکیلہ بی بی کی آواز آئی۔ "مومن"

مومن نے ٹوپی ٹرنک میں رکھی، ڈھکنا بند کیا اور اندر چلا گیا جہاں شکیلہ نمونے کے مطابق اودی ساٹن کے کئی ٹکڑے کاٹ چکی تھی۔ ان چمکیلے اور پھسل پھسل جانے والے ٹکڑوں کو ایک جگہ رکھ کر وہ مومن کی طرف متوجہ ہوئی۔ "میں نے تمہیں اتنی آوازیں دیں۔ سو گئے تھے کیا؟"

مومن کی زبان میں لکنت پیدا ہو گئی۔ "نہیں بی بی جی۔"

"تو پھر کیا کر رہے تھے؟"

"کچھکچھ بھی نہیں۔"

"کچھ تو ضرور کرتے ہو گے۔" شکیلہ یہ سوال کئے جا رہی تھی مگر اس کا دھیان اصل میں بلاؤز کی طرف تھا جسے اب اسے کچا کرنا تھا۔

مومن نے کھسیانی ہنسی کے ساتھ جواب دیا۔ ٹرنک کھول کر اپنے نئے کپڑے دیکھ رہا تھا۔

شکیلہ کھل کھلا کر ہنسی۔ رضیہ نے بھی اس کا ساتھ دیا۔

شکیلہ کو ہنستے دیکھ کر مومن کو ایک عجیب تسکین محسوس ہوئی اور اس تسکین نے اس کے دل میں یہ خواہش پیدا کی کہ وہ کوئی ایسی مضحکہ خیز طور پر احمقانہ حرکت کرے جس سے شکیلہ کو اور زیادہ ہنسنے کا موقع ملے چنانچہ لڑکیوں کی طرح جھینپ کر اور لہجے میں شرماہٹ پیدا کر کے اس نے کہا۔ "بڑی بی بی جی سے پیسے لے کر میں ریشمی رومال بھی لوں گا۔"

شکیلہ نے ہنستے ہوئے اس سے پوچھا۔ "کیا کرو گے اس رومال کو ؟"

مومن نے جھینپ کر جوا ب دیا۔ "گلے میں باندھ لو ں گا بی بی جیبڑا اچھا معلوم ہو گا۔"

یہ سن کر شکیلہ اور رضیہ دونوں دیر تک ہنستی رہیں۔

"گلے میں باندھو گے تو یاد رکھنا اسی سے پھانسی دے دوں گی" یہ کہہ کر شکیلہ نے اپنی ہنسی دبانے کی کوشش کی اور رضیہ سے کہا۔ "کم بخت نے مجھ سے کام ہی بھلا دیا۔ رضیہ میں نے اسے کیوں بلایا تھا؟"

رضیہ نے جواب نہ دیا اور نئی فلمی طرز گنگنانا شروع کر دی جو وہ دو روز سے سیکھ رہی تھی۔ اس دوران میں شکیلہ کو خود ہی یاد آگیا کہ اس نے مومن کو کیوں بلایا تھا۔

"دیکھو مومن میں تمہیں یہ بنیان اتار کر دیتی ہوں۔ دوائیوں کے پاس جو ایک دکان نئی کھلی ہے نا، وہاں جہاں تم اس دن میرے ساتھ گئے تھے۔ وہاں جاؤ اور پوچھ کے آؤ کہ ایسی چھ بنیانوں کے وہ کیا لے گاکہنا ہم چھ لیں گے۔ اس لئے کچھ رعایت ضرور کرےسمجھ لیا نا؟"

"مومن نے جواب دیا۔ "جی ہاں۔"

"اب تم پرے ہٹ جاؤ۔"


مومن باہر نکل کر دروازے کی اوٹ میں ہو گیا۔ چند لمحات کے بعد بنیان اس کے قدموں کے پاس آ گرا اور اندر سے شکیلہ کی آواز آئی۔ "کہنا ہم اس قسم کی ہی ڈیزائن کی بالکل یہی چیز لیں گے۔ فرق نہیں ہونا چاہئے۔"

مومن نے بہت اچھا کہہ کر بنیان اٹھا لیا جو پسینے کے باعث کچھ کچھ گیلا ہو رہا تھا جیسے کسی نے بھاپ پر رکھ کر فوراً ہی اٹھا لیا ہو۔ بدن کی بو بھی اس میں بسی ہوئی تھی۔ میٹھی میٹھی گرمی بھی تھی۔ یہ تمام چیزیں اس کو بہت بھلی معلوم ہوئیں۔

وہ اس بنیان کو جو بلی کے بچے کی طرح ملائم تھا، اپنے ہاتھوں میں مسلتا ہوا باہر چلا گیا۔ جب بھاؤ دریافت کر کے بازار سے واپس آیا تو شکیلہ بلاؤز کی سلائی شروع کر چکی تھی۔ اس اودی، اودی ساٹن کے بلاؤز کی جو مومن کی رومی ٹوپی کے پھندنے سے کہیں زیادہ چمکیلی اور لچک دار تھی۔ یہ بلاؤز شاید عید کے لئے تیار کیا جا رہا تھا کیونکہ عید اب بالکل قریب آ گئی تھی۔ مومن کو ایک دن میں کئی بار بلا گیا۔ دھاگہ لانے کے لئے، استری نکالنے کے لئے، سوئی ٹوٹ گئی تو نئی سوئی لانے کے لئے، شام کے قریب جب شکیلہ نے دوسرے روز پر باقی کام اٹھا دیا تو دھاگے کے ٹکڑے اور اودی ساٹن کی بیکار کترنیں اٹھانے کے لئے بھی اسے بلایا گیا۔

مومن نے اچھی طرح جگہ صاف کر دی۔ باقی سب چیزیں اٹھا کر باہر پھینک دیں مگر ساٹن کی چمکیلی کترنیں اپنی جیب میں رکھ لیںبالکل بے مطلب کیونکہ اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ ان کا کیا کر ے گا؟

دوسرے روز اس نے جیب سے کترنیں نکالیں اور الگ بیٹھ کر ان کے دھاگے الگ کرنے شروع کر دئے۔ دیر تک وہ اس کھیل میں مشغول رہا حتیٰ کہ دھاگے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کا ایک گچھا سا بن گیا۔ اس کو ہاتھ میں لے کر وہ دباتا رہا، مسلتا رہا لیکن اس کے تصور میں شکیلہ کی وہی بغل تھی جس میں اس نے کالے کالے بالوں کا ایک چھوٹا سا گچھا دیکھا تھا۔

اس دن بھی اسے شکیلہ نے کئی بار بلایااودی ساٹن کے بلاؤز کی ہر شکل اس کی نگاہوں کے سامنے آتی رہی۔

پہلے جب اسے کچا کیا گیا تھا تو اس پر سفید دھاگے کے بڑے بڑے ٹانکے جا بجا پھیلے ہوئے تھے۔ پھر اس پر استری پھیری گئی جس سے سب شکنیں دور ہو گئیں اور چمک بھی دوبالا ہو گئی۔ اس کے بعد کچی حالت ہی میں شکیلہ نے اسے پہنا۔ رضیہ کو دکھایا۔ دوسرے کمرے میں سنگھار میز کے پاس آئینے میں خود اس کو ہر پہلو سے اچھی دیکھا۔ جب پورا اطمینان ہو گیا تو اسے اتارا۔ جہاں جہاں تنگ یا کھلا تھا وہاں نشان لگائے۔ اس کی ساری خامیاں دور کیں۔ ایک بار پھر پہن کر دیکھا جب بالکل فٹ ہو گیا تو پکی سلائی شروع کی۔

اُدھر ساٹن کا یہ بلاؤز سیا جا رہا تھا، اِدھر مومن کے دماغ میں عجیب و غریب خیالوں کے ٹانکے ادھڑ رہے تھےجب اسے کمرے میں بلایا جاتا اور اس کی نگاہیں چمکیلی ساٹن کے بلاؤز پر پڑتیں تو اس کا جی چاہتا کہ وہ ہاتھ سے چھو کر اسے دیکھے صرف چھو کر ہی نہیں بلکہ اس کی ملائم اور روئیں دار سطح پر دیر تک ہاتھ پھیرتا رہے۔ اپنے کھردرے ہاتھ۔

اس نے ان ساٹن کے ٹکڑوں سے اس کی ملائمت کا اندازہ کر لیا تھا۔ دھاگے جو اس نے ان ٹکڑوں سے نکالے تھے اور بھی زیادہ ملائم ہو گئے تھے۔ جب اس نے ان کا گچھا بنایا تو دباتے وقت اسے معلوم ہوا کہ ان میں ربڑی کی سی لچک بھی ہےوہ جب بھی اندر آ کر بلاؤز کو دیکھتا تو کا خیال فوراً ان بالوں کی طرف دوڑ جاتا جو اس نے شکیلہ کی بغل میں دیکھے تھے۔ کالے کالے بال۔ مومن سوچتا تھا کہ وہ بھی ساٹن ہی کی طرح ملائم ہوں گے؟

بلاؤز بالآخر تیار ہو گیامومن کمرے کے فرش پر گیلا کپڑا پھیر رہا تھا کہ شکیلہ اندر آئی۔ قمیض اتار کر اس نے پلنگ پر رکھی۔ اس کے نیچے اسی قسم کا سفید بنیان تھا جس کا نمونہ لے کر مومن بھاؤ دریافت کرنے گیا تھااس کے اوپر شکیلہ نے اپنے ہاتھ کا سلا ہوا بلاؤز پہنا۔ سامنے کے ہک لگائے اور آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔

مومن نے فرش صاف کرتے ہوئے آئینہ کی طرف دیکھا۔ بلاؤز میں اب جان سی پڑ گئی تھی۔ ایک دو جگہ پر وہ اس قدر چمکتا تھا کہ معلوم ہوتا تھا ساٹن کا رنگ سفید ہو گیا ہےشکیلہ کی پیٹھ مومن کی طرف تھی جس پر ریڑھ کی ہڈی کی لمبی جھری بلاؤز فٹ ہونے کے باعث اپنی پوری گہرائی کے ساتھ نمایاں تھی۔ مومن سے رہا نہ گیا۔ چنانچہ اس نے کہا"بی بی جی، آپ نے درزیوں کو بھی مات کر دیا ہے۔"

شکیلہ اپنی تعریف سن کر خوش ہو ئی مگر وہ رضیہ کی رائے طلب کرنے کے لئے بے قرار تھی۔ اس لئے وہ صرف "اچھا ہے نا" کہہ کر باہر دوڑ گئیمومن آئینے کی طرف دیکھتا رہ گیا جس میں بلاؤز کا سیاہ اور چمکیلا عکس دیر تک موجود رہا۔

رات کو جب وہ پھر اس کمرے میں صراحی رکھنے کے لئے آیا تو اس نے کھونٹی پر لکڑی کے ہینگر میں اس بلاؤز کو دیکھا۔ کمرے میں کوئی موجود نہیں تھا۔ چنانچہ آگے بڑھ کر پہلے اس نے غور سے دیکھا پھر ڈرتے ڈرتے اس پر ہاتھ پھیرا۔ ایسا کرتے ہوئے یوں لگا کہ کوئی اس کے جسم کے ملائم روؤں پر ہولے ہولے بالکل ہوائی لمس کی طرح ہاتھ پھیر رہا ہے۔

رات کو جب وہ سویا تو اس نے کئی اوٹ پٹانگ خواب دیکھےڈپٹی صاحب نے پتھر کے کوئلوں کا ایک بڑا ڈھیر اسے کوٹنے کو کہا جب اس نے ایک کوئلہ اٹھایا اور اس پر ہتھوڑے کی ضرب لگائی تو وہ نرم نرم بالوں کا ایک گچھا بن گیایہ کالی کھانڈ کے مہین مہین تار تھے جن کا گولا بنا ہوا تھاپھر یہ گولے کالے رنگ کے غبارے بن کر ہوا میں اڑنے شروع ہو گئےبہت اوپر جا کر یہ پھٹنے لگےپھر آندھی آ گئی اور مومن کی رومی ٹوپی کا پھندنا کہیں غائب ہو گیاپھندنے کی تلاش میں نکلادیکھی اور ان دیکھی جگہوں میں گھومتا رہانئے لٹھے کی بو بھی یہیں کہیں سے آنا شروع ہو گئی۔ پھر نہ جانے کیا ہواایک کالی ساٹن کی بلاؤز پر اس کا ہاتھ پڑا کچھ دیر تک وہ کسی دھڑکتی ہوئی چیز پر اپنا ہاتھ پھیرتا رہا۔ پھر دفعتہً ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ تھوڑی دیر تک وہ کچھ سمجھ نہ سکا کیا ہو گیا ہے۔ اس کے بعد اسے خوف، تعجب اور ایک انوکھی ٹھیس کا احساس ہوا۔ اس کی حالت اس وقت عجیب و غریب تھیپہلے اسے تکلیف دہ حرارت محسوس ہوئی۔ مگر چند لمحات کے بعد ایک ٹھنڈی سی لہر اس کے جسم میں رینگنے لگی۔


عید گاہ

(منشی پریم چند)

رمضان کے پورے تیس روزوں کے بعد آج عید آئی۔ کتنی سہانی اور رنگین صبح ہے۔ بچے کی طرح پر تبسم درختوں پر کچھ عجیب ہریاول ہے۔ کھیتوں میں کچھ عجیب رونق ہے۔ آسمان پر کچھ عجیب فضا ہے۔ آج کا آفتاب دیکھ کتنا پیارا ہے گویا دُنیا کو عید کی خوشی پر مبارکباد دے رہا ہے۔ گاؤں میں کتنی چہل پہل ہے۔ عید گاہ جانے کی دھوم ہے۔ کسی کے کرتے میں بٹن نہیں ہیں تو سوئی تاگا لینے دوڑے جا رہا ہے۔ کسی کے جوتے سخت ہو گئے ہیں۔ اسے تیل اور پانی سے نرم کر رہا ہے۔ جلدی جلدی بیلوں کو سانی پانی دے دیں۔ عید گاہ سے لوٹتے لوٹتے دوپہر ہو جائے گی۔ تین کوس کا پیدل راستہ پھر سینکڑوں رشتے قرابت والوں سے ملنا ملانا۔ دوپہر سے پہلے لوٹنا غیر ممکن ہے۔ لڑکے سب سے زیادہ خوش ہیں۔ کسی نے ایک روزہ رکھا، وہ بھی دوپہر تک۔ کسی نے وہ بھی نہیں لیکن عید گاہ جانے کی خوشی ان کا حصہ ہے۔ روزے بڑے بوڑھوں کے لئے ہوں گے، بچوں کے لئے تو عید ہے۔ روز عید کا نام رٹتے تھے آج وہ آ گئی۔ اب جلدی پڑی ہوئی ہے کہ عید گاہ کیوں نہیں چلتے۔ انہیں گھر کی فکروں سے کیا واسطہ؟ سویّوں کے لئے گھر میں دودھ اور شکر میوے ہیں یا نہیں، اس کی انہیں کیا فکر؟ وہ کیا جانیں ابا کیوں بدحواس گاؤں کے مہاجن چودھری قاسم علی کے گھر دوڑے جا رہے ہیں، ان کی اپنی جیبوں میں تو قارون کا خزانہ رکھا ہوا ہے۔ بار بار جیب سے خزانہ نکال کر گنتے ہیں۔ دوستوں کو دکھاتے ہیں اور خوش ہو کر رکھ لیتے ہیں۔ ان ہی دو چار پیسوں میں دُنیا کی سات نعمتیں لائیں گے۔ کھلونے اور مٹھائیاں اور بگل اور خدا جانے کیا کیا۔ سب سے زیادہ خوش ہے حامد۔ وہ چار سال کا غریب خوب صورت بچہ ہے، جس کا باپ پچھلے سال ہیضہ کی نذر ہو گیا تھا اور ماں نہ جانے کیوں زرد ہوتی ہوتی ایک دن مر گئی۔ کسی کو پتہ نہ چلا کہ بیماری کیا ہے؟ کہتی کس سے؟ کون سننے والا تھا؟ دل پر جو گزرتی تھی سہتی تھی اور جب نہ سہا گیا تو دُنیا سے رُخصت ہو گئی۔ اب حامد اپنی بوڑھی دادی امینہ کی گود میں سوتا ہے اور اتنا ہی خوش ہے۔ اس کے ابا جان بڑی دُور روپے کمانے گئے تھے اور بہت سی تھیلیاں لے کر آئیں گے۔ امی جان اللہ میاں کے گھر مٹھائی لینے گئی ہیں۔ اس لئے خاموش ہے۔ حامد کے پاؤں میں جوتے نہیں ہیں۔ سر پر ایک پرانی دھرانی ٹوپی ہے جس کا گوٹہ سیاہ ہو گیا ہے پھر بھی وہ خوش ہے۔ جب اس کے ابّا جان تھیلیاں اور اماں جان نعمتیں لے کر آئیں گے تب وہ دل کے ارمان نکالے گا۔ تب دیکھے گا کہ محمود اور محسن آذر اور سمیع کہاں سے اتنے پیسے لاتے ہیں۔ دُنیا میں مصیبتوں کی ساری فوج لے کر آئے، اس کی ایک نگاہِ معصوم اسے پامال کرنے کے لئے کافی ہے۔

حامد اندر جا کر امینہ سے کہتا ہے، "تم ڈرنا نہیں امّاں! میں گاؤں والوں کا ساتھ نہ چھوڑوں گا۔ بالکل نہ ڈرنا لیکن امینہ کا دل نہیں مانتا۔ گاؤں کے بچے اپنے اپنے باپ کے ساتھ جا رہے ہیں۔ حامد کیا اکیلا ہی جائے گا۔ اس بھیڑ بھاڑ میں کہیں کھو جائے تو کیا ہو؟ نہیں امینہ اسے تنہا نہ جانے دے گی۔ ننھی سی جان۔ تین کوس چلے گا تو پاؤں میں چھالے نہ پڑ جائیں گے؟

مگر وہ چلی جائے تو یہاں سوّیاں کون پکائے گا، بھوکا پیاسا دوپہر کو لوٹے گا، کیا اس وقت سوّیاں پکانے بیٹھے گی۔ رونا تو یہ ہے کہ امینہ کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اس نے فہمین کے کپڑے سیے تھے۔ آٹھ آنے پیسے ملے تھے۔ اس اٹھنی کو ایمان کی طرح بچاتی چلی آئی تھی اس عید کے لئے لیکن گھر میں پیسے اور نہ تھے اور گوالن کے پیسے اور چڑھ گئے تھے، دینے پڑے۔ حامد کے لئے روز دو پیسے کا دودھ تو لینا پڑتا ہے اب کُل دو آنے پیسے بچ رہے ہیں۔

سمیع: سنا ہے چودھری صاحب کے قبضہ میں بہت سے جنات ہیں۔ کوئی چیز چوری چلی جائے، چودھری صاحب اس کا پتہ بتا دیں گے اور چور کا نام تک بتا دیں گے۔ جمعراتی کا بچھڑا اس دن کھو گیا تھا۔ تین دن حیران ہوئے، کہیں نہ ملا، تب جھک مار کر چودھری کے پاس گئے۔ چودھری نے کہا، مویشی خانہ میں ہے اور وہیں ملا۔ جنات آ کر انہیں سب خبریں دے جایا کرتے ہیں۔

اب ہر ایک کی سمجھ میں آ گیا کہ چودھری قاسم علی کے پاس کیوں اس قدر دولت ہے اور کیوں وہ قرب و جوار کے مواضعات کے مہاجن ہیں۔ جنات آ کر انہیں روپے دے جاتے ہیں۔ آگے چلئے یہ پولیس لائن ہے۔ یہاں پولیس والے قواعد کرتے ہیں۔ رائٹ لپ، پھام پھو۔

نوری نے تصحیح کی، "یہاں پولیس والے پہرہ دیتے ہیں۔ جب ہی تو انہیں بہت خبر ہے۔ اجی حضرت یہ لوگ چوریاں کراتے ہیں۔ شہر کے جتنے چور ڈاکو ہیں سب ان سے ملے رہتے ہیں۔ رات کو سب ایک محلّہ میں چوروں سے کہتے ہیں اور دوسرے محلّہ میں پکارتے ہیں جاگتے رہو۔ میرے ماموں صاحب ایک تھانہ میں سپاہی ہیں۔ بیس روپے مہینہ پاتے ہیں لیکن تھیلیاں بھر بھر گھر بھیجتے ہیں۔ میں نے ایک بار پوچھا تھا، ماموں اتنے روپے آپ چاہیں تو ایک دن میں لاکھوں بار لائیں۔ ہم تو اتنا ہی لیتے ہیں جس میں اپنی بدنامی نہ ہو اور نوکری بنی رہے۔

حامد نے تعجب سے پوچھا، "یہ لوگ چوری کراتے ہیں تو انہیں کوئی پکڑتا نہیں؟ " نوری نے اس کی کوتاہ فہمی پر رحم کھا کر کہا، "ارے احمق! انہیں کون پکڑے گا، پکڑنے والے تو یہ خود ہیں لیکن اللہ انہیں سزا بھی خوب دیتا ہے۔ تھوڑے دن ہوئے ماموں کے گھر میں آگ لگ گئی۔ سارا مال متاع جل گیا۔ ایک برتن تک نہ بچا۔ کئی دن تک درخت کے سائے کے نیچے سوئے، اللہ قسم پھر نہ جانے کہاں سے قرض لائے تو برتن بھانڈے آئے۔"

بستی گھنی ہونے لگی۔ عید گاہ جانے والوں کے مجمعے نظر آنے لگے۔ ایک سے ایک زرق برق پوشاک پہنے ہوئے۔ کوئی تانگے پر سوار کوئی موٹر پر چلتے تھے تو کپڑوں سے عطر کی خوشبو اُڑتی تھی۔

دہقانوں کی یہ مختصر سی ٹولی اپنی بے سر و سامانی سے بے حس اپنی خستہ حالی میں مگر صابر و شا کر چلی جاتی تھی۔ جس چیز کی طرف تاکتے تاکتے رہ جاتے اور پیچھے سے بار بار ہارن کی آواز ہونے پر بھی خبر نہ ہوتی تھی۔ محسن تو موٹر کے نیچے جاتے جاتے بچا۔

وہ عید گاہ نظر آئی۔ جماعت شروع ہو گئی ہے۔ املی کے گھنے درختوں کا سایہ ہے نیچے کھلا ہوا پختہ فرش ہے۔ جس پر جاجم بچھا ہوا ہے اور نمازیوں کی قطاریں ایک کے پیچھے دوسرے خدا جانے کہاں تک چلی گئی ہیں۔ پختہ فرش کے نیچے جاجم بھی نہیں۔ کئی قطاریں کھڑی ہیں جو آتے جاتے ہیں پیچھے کھڑے ہوتے جاتے ہیں۔ آگے اب جگہ نہیں رہی۔ یہاں کوئی رُتبہ اور عہدہ نہیں دیکھتا۔ اسلام کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ دہقانوں نے بھی وضو کیا اور جماعت میں شامل ہو گئے۔ کتنی باقاعدہ منظم جماعت ہے، لاکھوں آدمی ایک ساتھ جھکتے ہیں، ایک ساتھ دو زانو بیٹھ جاتے ہیں اور یہ عمل بار بار ہوتا ہے ایسا معلوم ہو رہا ہے گویا بجلی کی لاکھوں بتیاں ایک ساتھ روشن ہو جائیں اور ایک ساتھ بجھ جائیں۔ کتنا پُر احترام رعب انگیز نظارہ ہے۔ جس کی ہم آہنگی اور وسعت اور تعداد دلوں پر ایک وجدانی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔ گویا اخوت کا رشتہ ان تمام روحوں کو منسلک کئے ہوئے ہے۔

نماز ختم ہو گئی ہے لوگ باہم گلے مل رہے ہیں۔ کچھ لوگ محتاجوں اور سائلوں کو خیرات کر رہے ہیں۔ جو آج یہاں ہزاروں جمع ہو گئے ہیں۔ ہمارے دہقانوں نے مٹھائی اور کھلونوں کی دُکانوں پر یورش کی۔ بوڑھے بھی ان دلچسپیوں میں بچوں سے کم نہیں ہیں۔

یہ دیکھو ہنڈولا ہے ایک پیسہ دے کر آسمان پر جاتے معلوم ہوں گے۔ کبھی زمین پر گرتے ہیں یہ چرخی ہے لکڑی کے گھوڑے، اُونٹ، ہاتھی منجوں سے لٹکے ہوئے ہیں۔ ایک پیسہ دے کر بیٹھ جاؤ اور پچیس چکروں کا مزہ لو۔ محمود اور محسن دونوں ہنڈولے پر بیٹھے ہیں۔ آذر اور سمیع گھوڑوں پر۔"


ان کے بزرگ اتنے ہی طفلانہ اشتیاق سے چرخی پر بیٹھے ہیں۔ حامد دور کھڑا ہے تین ہی پیسے تو اس کے پاس ہیں۔ ذرا سا چکر کھانے کے لئے وہ اپنے خزانہ کا ثلث نہیں صَرف کر سکتا۔ محسن کا باپ بار بار اسے چرخی پر بلاتا ہے لیکن وہ راضی نہیں ہوتا۔ بوڑھے کہتے ہیں اس لڑکے میں ابھی سے اپنا پرایا آ گایا ہے۔ حامد سوچتا ہے، کیوں کسی کا احسان لوں؟ عسرت نے اسے ضرورت سے زیادہ ذکی الحس بنا دیا ہے۔ سب لو گ چرخی سے اُترتے ہیں۔ کھلونوں کی خرید شروع ہوتی ہے۔ سپاہی اور گجریا اور راجہ رانی اور وکیل اور دھوبی اور بہشتی بے امتیاز ران سے ران ملائے بیٹھے ہیں۔ دھوبی راجہ رانی کی بغل میں ہے اور بہشتی وکیل صاحب کی بغل میں۔ واہ کتنے خوبصورتبولا ہی چاہتے ہیں۔ محمود سپاہی پر لٹو ہو جاتا ہے خاکی وردی اور پگڑی لال، کندھے پر بندوق، معلوم ہوتا ہے ابھی قواعد کے لئے چلا آ رہا ہے۔ محسن کو بہشتی پسند آیا۔ کمر جھکی ہوئی ہے اس پر مشک کا دہانہ ایک ہاتھ سے پکڑے ہوئے ہے۔ دوسرے ہاتھ میں رسی ہے، کتنا بشاش چہرہ ہے، شاید کوئی گیت گا رہا ہے۔ مشک سے پانی ٹپکتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ نوری کو وکیل سے مناسبت ہے۔ کتنی عالمانہ صورت ہے، سیاہ چغہ نیچے سفید اچکن، اچکن کے سینہ کی جیب میں سنہری زنجیر، ایک ہاتھ میں قانون کی کتاب لئے ہوئے ہے۔ معلوم ہوتا ہے، ابھی کسی عدالت سے جرح یا بحث کر کے چلے آ رہے ہیں۔ یہ سب دو دو پیسے کے کھلونے ہیں۔ حامد کے پاس کل تین پیسے ہیں۔ اگر دو کا ایک کھلونا لے لے تو پھر اور کیا لے گا؟ نہیں کھلونے فضول ہیں۔ کہیں ہاتھ سے گر پڑے تو چور چور ہو جائے۔ ذرا سا پانی پڑ جائے تو سارا رنگ دُھل جائے۔ ان کھلونوں کو لے کر وہ کیا کرے گا، کس مصرف کے ہیں؟

محسن کہتا ہے، "میرا بہشتی روز پانی دے جائے گا صبح شام۔"

نوری بولی، "اور میرا وکیل روز مقدمے لڑے گا اور روز روپے لائے گا"

حامد کھلونوں کی مذمت کرتا ہے۔ مٹی کے ہی تو ہیں، گریں تو چکنا چور ہو جائیں، لیکن ہر چیز کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا ہے اور چاہتا ہے کہ ذرا دیر کے لئے انہیں ہاتھ میں لے سکتا۔ یہ بساطی کی دکان ہے، طرح طرح کی ضروری چیزیں، ایک چادر بچھی ہوئی ہے۔ گیند، سیٹیاں، بگل، بھنورے، ربڑ کے کھلونے اور ہزاروں چیزیں۔ محسن ایک سیٹی لیتا ہے محمود گیند، نوری ربڑ کا بت جو چوں چوں کرتا ہے اور سمیع ایک خنجری۔ اسے وہ بجا بجا کر گائے گا۔ حامد کھڑا ہر ایک کو حسرت سے دیکھ رہا ہے۔ جب اس کا رفیق کوئی چیز خرید لیتا ہے تو وہ بڑے اشتیاق سے ایک بار اسے ہاتھ میں لے کر دیکھنے لگتا ہے، لیکن لڑکے اتنے دوست نواز نہیں ہوتے۔ خاص کر جب کہ ابھی دلچسپی تازہ ہے۔ بے چارہ یوں ہی مایوس ہو کر رہ جاتا ہے۔

کھلونوں کے بعد مٹھائیوں کا نمبر آیا، کسی نے ریوڑیاں لی ہیں، کسی نے گلاب جامن، کسی نے سوہن حلوہ۔ مزے سے کھا رہے ہیں۔ حامد ان کی برادری سے خارج ہے۔ کمبخت کی جیب میں تین پیسے تو ہیں، کیوں نہیں کچھ لے کر کھاتا۔ حریص نگاہوں سے سب کی طرف دیکھتا ہے۔

محسن نے کہا، "حامد یہ ریوڑی لے جا کتنی خوشبودار ہیں۔"

حامد سمجھ گیا یہ محض شرارت کہے۔ محسن اتنا فیاض طبع نہ تھا۔ پھر بھی وہ اس کے پاس گیا۔ محسن نے دونے سے دو تین ریوڑیاں نکالیں۔ حامد کی طرف بڑھائیں۔ حامد نے ہاتھ پھیلایا۔ محسن نے ہاتھ کھینچ لیا اور ریوڑیاں اپنے منھ میں رکھ لیں۔ محمود اور نوری اور سمیع خوب تالیاں بجا بجا کر ہنسنے لگے۔ حامد کھسیانہ ہو گیا۔ محسن نے کہا۔

"اچھا اب ضرور دیں گے۔ یہ لے جاؤ۔ اللہ قسم۔"

حامد نے کہا، "رکھیے رکھیےکیا میرے پاس پیسے نہیں ہیں؟"

سمیع بولا، "تین ہی پیسے تو ہیں، کیا کیا لو گے؟"

محمود بولا، "تم اس سے مت بولو، حامد میرے پاس آؤ۔ یہ گلاب جامن لے لو"

حامد: "مٹھائی کون سی بڑی نعمت ہے۔ کتاب میں اس کی برائیاں لکھی ہیں۔"

محسن: لیکن جی میں کہہ رہے ہو گے کہ کچھ مل جائے تو کھا لیں۔ اپنے پیسے کیوں نہیں نکالتے؟" محمود: اس کی ہوشیاری میں سمجھتا ہوں۔ جب ہمارے سارے پیسے خرچ ہو جائیں گے، تب یہ مٹھائی لے گا اور ہمیں چڑا چڑا کر کھائے گا۔

حلوائیوں کی دُکانوں کے آگے کچھ دُکانیں لوہے کی چیزوں کی تھیں کچھ گلٹ اور ملمع کے زیورات کی۔ لڑکوں کے لئے یہاں دلچسپی کا کوئی سامان نہ تھا۔ حامد لوہے کی دُکان پر ایک لمحہ کے لئے رک گیا۔ دست پناہ رکھے ہوئے تھے۔ وہ دست پناہ خرید لے گا۔ ماں کے پاس دست پناہ نہیں ہے۔ توے سے روٹیاں اتارتی ہیں تو ہاتھ جل جاتا ہے۔ اگر وہ دست پناہ لے جا کر اماں کو دے دے تو وہ کتنی خوش ہوں گی۔ پھر ان کی انگلیاں کبھی نہیں جلیں گی، گھر میں ایک کام کی چیز ہو جائے گی۔ کھلونوں سے کیا فائدہ۔ مُفت میں پیسے خراب ہوتے ہیں۔ ذرا دیر ہی تو خوشی ہوتی ہے پھر تو انہیں کوئی آنکھ اُٹھا کر کبھی نہیں دیکھتا۔ یا تو گھر پہنچتے پہنچتے ٹوٹ پھوٹ کر برباد ہو جائیں گے یا چھوٹے بچے جو عید گاہ نہیں جا سکتے ہیں ضد کر کے لے لیں گے اور توڑ ڈالیں گے۔ دست پناہ کتنے فائدہ کی چیز ہے۔ روٹیاں توے سے اُتار لو، چولھے سے آگ نکال کر دے دو۔ اماں کو فرصت کہاں ہے بازار آئیں اور اتنے پیسے کہاں ملتے ہیں۔ روز ہاتھ جلا لیتی ہیں۔ اس کے ساتھی آگے بڑھ گئے ہیں۔ سبیل پر سب کے سب پانی پی رہے ہیں۔ کتنے لالچی ہیں۔ سب نے اتنی مٹھائیاں لیں کسی نے مجھے ایک بھی نہ دی۔ اس پر کہتے ہیں میرے ساتھ کھیلو۔ میری تختی دھو لاؤ۔ اب اگر یہاں محسن نے کوئی کام کرنے کو کہا تو خبر لوں گا، کھائیں مٹھائیآپ ہی منہ سڑے گا، پھوڑے پھنسیاں نکلیں گی۔ آپ ہی زبان چٹوری ہو جائے گی، تب پیسے چرائیں گے اور مار کھائیں گے۔ میری زبان کیوں خراب ہو گی۔ اس نے پھر سوچا، اماں دست پناہ دیکھتے ہی دوڑ کر میرے ہاتھ سے لے لیں گی اور کہیں گی۔ میرا بیٹا اپنی ماں کے لئے دست پناہ لایا ہے، ہزاروں دُعائیں دیں گی۔ پھر اسے پڑوسیوں کو دکھائیں گی۔ سارے گاؤں میں واہ واہ مچ جائے گی۔ ان لوگوں کے کھلونوں پر کون انہیں دُعائیں دے گا۔ بزرگوں کی دُعائیں سیدھی خدا کی درگاہ میں پہنچتی ہیں اور فوراً قبول ہوتی ہیں۔ میرے پاس بہت سے پیسے نہیں ہیں۔ جب ہی تو محسن اور محمود یوں مزاج دکھاتے ہیں۔ میں بھی ان کو مزاج دکھاؤں گا۔ وہ کھلونے کھیلیں، مٹھائیاں کھائیں میں غریب سہی۔ کسی سے کچھ مانگنے تو نہیں جاتا۔ آخر ابا کبھی نہ کبھی آئیں گے ہی پھر ان لوگوں سے پوچھوں گا کتنے کھلونے لو گے؟ ایک ایک کو ایک ٹوکری دوں اور دکھا دوں کہ دوستوں کے ساتھ اس طرح سلوک کیا جاتا ہے۔ جتنے غریب لڑکے ہیں سب کو اچھے اچھے کرتے دلوا دوں گا اور کتابیں دے دوں گا، یہ نہیں کہ ایک پیسہ کی ریوڑیاں لیں تو چڑا چڑا کر کھانے لگیں۔ دست پناہ دیکھ کر سب کے سب ہنسیں گے۔ احمق تو ہیں ہی سب۔ اس نے ڈرتے ڈرتے دُکاندار سے پوچھا، "یہ دست پناہ بیچو گے؟"

دکاندار نے اس کی طرف دیکھا اور ساتھ کوئی آدمی نہ دیکھ کر کہا، وہ تمہارے کام کا نہیں ہے۔

"بکاؤ ہے یا نہیں؟"

"بکاؤ ہے جی اور یہاں کیوں لاد کر لائے ہیں"

"تو بتلاتے کیوں نہیں؟ کے پیسے کا دو گے؟"

"چھ پیسے لگے لگا"

حامد کا دل بیٹھ گیا۔ کلیجہ مضبوط کر کے بولا، تین پیسے لو گے؟ اور آگے بڑھا کہ دُکاندار کی گھرکیاں نہ سنے، مگر دُکاندار نے گھرکیاں نہ دیں۔ دست پناہ اس کی طرف بڑھا دیا اور پیسے لے لئے۔ حامد نے دست پناہ کندھے پر رکھ لیا، گویا بندوق ہے اور شان سے اکڑتا ہوا اپنے رفیقوں کے پاس آیا۔ محسن نے ہنستے ہوئے کہا، "یہ دست پناہ لایا ہے۔ احمق اسے کیا کرو گے؟"

حامد نے دست پناہ کو زمین پر پٹک کر کہا، "ذرا اپنا بہشتی زمین پر گرا دو، ساری پسلیاں چور چور ہو جائیں گی بچو کی"


محمود: "تو یہ دست پناہ کوئی کھلونا ہے؟"

حامد: "کھلونا کیوں نہیں ہے؟ ابھی کندھے پر رکھا، بندوق ہو گیا" ہاتھ میں لے لیا فقیر کا چمٹا ہو گیا، چاہوں تو اس سے تمہاری ناک پکڑ لوں۔ ایک چمٹا دوں تو تم لوگوں کے سارے کھلونوں کی جان نکل جائے۔ تمہارے کھلونے کتنا ہی زور لگائیں، اس کا بال بیکا نہیں کر سکتے۔ میرا بہادر شیر ہے یہ دست پناہ۔"

سمیع متاثر ہو کر بدلا، "میری خنجری سے بدلو گے؟ دو آنے کی ہے"

حامد نے خنجری کی طرف حقارت سے دیکھ کر کہا، "میرا دست پناہ چاہے تو تمہاری خنجری کا پیٹ پھاڑ ڈالے۔ بس ایک چمڑے کی جھلی لگا دی، ڈھب ڈھب بولنے لگی۔ ذرا سا پانی لگے تو ختم ہو جائے۔ میرا بہادر دست پناہ تو آگ میں، پانی میں، آندھی میں، طوفان میں برابر ڈٹا رہے گا۔ میلہ بہت دور پیچھے چھوٹ چکا تھا۔ دس بج رہے تھے۔ گھر پہنچنے کی جلدی تھی۔ اب دست پناہ نہیں مل سکتا تھا۔ اب کسی کے پاس پیسے بھی تو نہیں رہے، حامد ہے بڑا ہوشیار۔ اب دو فریق ہو گئے، محمود، محسن اور نوری ایک طرف، حامد یکہ و تنہا دوسری طرف۔ سمیع غیر جانبدار ہے جس کی فتح دیکھے گا اس کی طرف ہو جائے گا۔ مناظرہ شروع ہو گیا۔ آج حامد کی زبان بڑی صفائی سے چل رہی ہے۔ اتحادِ ثلاثہ اس کے جارحانہ عمل سے پریشان ہو رہا ہے۔ ثلاثہ کے پاس تعداد کی طاقت ہے، حامد کے پاس حق اور اخلاق، ایک طرف مٹی ربڑ اور لکڑی کی چیزیں دوسری جانب اکیلا لوہا جو اس وقت اپنے آپ کو فولاد کہہ رہا ہے۔ وہ روئیں تن ہے صف شکن ہے اگر کہیں شیر کی آواز کان میں آ جائے تو میاں بہشتی کے اوسان خطا ہو جائیں۔ میاں سپاہی مٹکی بندوق چھوڑ کر بھاگیں۔ وکیل صاحب کا سارا قانون پیٹ میں سما جائے۔ چغے میں، منہ میں چھپا کر لیٹ جائیں۔ مگر بہادر یہ رُستمِ ہند لپک کر شیر کی گردن پر سوار ہو جائے گا اور اس کی آنکھیں نکال لے گا۔

محسن نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر کہا، "اچھا تمہارا دست پناہ پانی تو نہیں بھر سکتا۔ حامد نے دست پناہ کو سیدھا کر کے کہا کہ یہ بہشتی کو ایک ڈانٹ پلائے گا تو دوڑا ہوا پانی لا کر اس کے دروازے پر چھڑکنے لگے گا۔ جناب اس سے چاہے گھڑے مٹکے اور کونڈے بھر لو۔

محسن کا ناطقہ بند ہو گیا۔ نوری نے کمک پہنچائی، "بچہ گرفتار ہو جائیں تو عدالت میں بندھے بندھے پھریں گے۔ تب تو ہمارے وکیل صاحب ہی پیروی کریں گے۔ بولئے جناب"

حامد کے پاس اس وار کا دفیعہ اتنا آسان نہ تھا، دفعتاً اس نے ذرا مہلت پا جانے کے ارادے سے پوچھا، "اسے پکڑنے کون آئے گا؟"

محمود نے کہا، "یہ سپاہی بندوق والا"

حامد نے منھ چڑا کر کہا یہ بے چارے اس رستم ہند کو پکڑ لیں گے؟ اچھا لاؤ ابھی ذرا مقابلہ ہو جائے۔ اس کی صورت دیکھتے ہی بچہ کی ماں مر جائے گی، پکڑیں گے کیا بے چارے"

محسن نے تازہ دم ہو کر وار کیا، "تمہارے دست پناہ کا منھ روز آگ میں جلا کر ے گا۔" حامد کے پاس جواب تیار تھا، "آگ میں بہادر کودتے ہیں جناب۔ تمہارے یہ وکیل اور سپاہی اور بہشتی ڈرپوک ہیں۔ سب گھر میں گھس جائیں گے۔ آگ میں کودنا وہ کام ہے جو رُستم ہی کر سکتا ہے۔"

نوری نے انتہائی جدت سے کام لیا، "تمہارا دست پناہ باورچی خانہ میں زمین پر پڑا رہے گا۔ میرا وکیل شان سے میز کرسی لگا کر بیٹھے گا۔ اس جملہ نے مُردوں میں بھی جان ڈال دی، سمیع بھی جیت گیا۔"بے شک بڑے معرکے کی بات کہی، دست پناہ باورچی خانہ میں پڑا رہے گا"

حامد نے دھاندلی کی، میرا دست پناہ باورچی خانہ میں رہے گا، وکیل صاحب کرسی پر بیٹھیں گے تو جا کر انہیں زمین پر پٹک دے گا اور سارا قانون ان کے پیٹ میں ڈال دے گا۔

اس جواب میں بالکل جان نہ تھی، بالکل بے تکی سی بات تھی لیکن قانون پیٹ میں ڈالنے والی بات چھا گئی۔ تینوں سورما منھ تکتے رہ گئے۔ حامد نے میدان جیت لیا، گو ثلاثہ کے پاس ابھی گیند سیٹی اور بت ریزرو تھے مگر ان مشین گنوں کے سامنے ان بزدلوں کو کون پوچھتا ہے۔ دست پناہ رستمِ ہند ہے۔ اس میں کسی کو چوں چرا کی گنجائش نہیں۔"

فاتح کو مفتوحوں سے خوشامد کا مزاج ملتا ہے۔ وہ حامد کو ملنے لگا اور سب نے تین تین آنے خرچ کئے اور کوئی کام کی چیز نہ لا سکے۔ حامد نے تین ہی پیسوں میں رنگ جما لیا۔ کھلونوں کا کیا اعتبار۔ دو ایک دن میں ٹوٹ پھوٹ جائیں گے۔ حامد کا دست پناہ تو فاتح رہے گا۔ ہمیشہ صلح کی شرطیں طے ہونے لگیں۔

محسن نے کہا، "ذرا اپنا چمٹا دو۔ ہم بھی تو دیکھیں۔ تم چاہو تو ہمارا وکیل دیکھ لو حامد! ہمیں اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ وہ فیاض طبع فاتح ہے۔ دست پناہ باری باری سے محمود، محسن، نور اور سمیع سب کے ہاتھوں میں گیا اور ان کے کھلونے باری باری حامد کے ہاتھ میں آئے۔ کتنے خوبصورت کھلونے ہیں، معلوم ہوتا ہے بولا ہی چاہتے ہیں۔ مگر ان کھلونوں کے لئے انہیں دُعا کون دے گا؟ کون کون ان کھلونوں کو دیکھ کر اتنا خوش ہو گا جتنا اماں جان دست پناہ کو دیکھ کر ہوں گی۔ اسے اپنے طرزِ عمل پر مطلق پچھتاوا نہیں ہے۔ پھر اب دست پناہ تو ہے اور سب کا بادشاہ۔ راستے میں محمود نے ایک پیسے کی ککڑیاں لیں۔ اس میں حامد کو بھی خراج ملا حالانکہ وہ انکار کرتا رہا۔ محسن اور سمیع نے ایک ایک پیسے کے فالسے لئے، حامد کو خراج ملا۔ یہ سب رستم ہند کی برکت تھی۔

گیارہ بجے سارے گاؤں میں چہل پہل ہو گئی۔ میلے والے آ گئے۔ محسن کی چھوٹی بہن نے دوڑ کر بہشتی اس کے ہاتھ سے چھین لیا اور مارے خوشی جو اچھلی تو میاں بہشتی نیچے آ رہے اور عالمِ جاودانی کو سدھارے۔ اس پر بھائی بہن میں مار پیٹ ہوئی۔ دونوں خوب روئے۔ ان کی اماں جان یہ کہرام سن کر اور بگڑیں۔ دونوں کو اوپر سے دو دو چانٹے رسید کئے۔ میاں نوری کے وکیل صاحب کا حشر اس سے بھی بدتر ہوا۔ وکیل زمین پر یا طاق پرتو نہیں بیٹھ سکتا۔ اس کی پوزیشن کا لحاظ تو کرنا ہی ہو گا۔ دیوار میں دو کھونٹیاں گاڑی گئیں۔ ان پر چیڑ کا ایک پرانا پڑا رکھا گیا۔ پڑے پر سرخ رنگ کا ایک چیتھڑا بچھا دیا گیا جو منزلۂ قالین کا تھا۔ وکیل صاحب عالم بالا پہ جلوہ افروز ہوئے۔ یہیں سے قانونی بحث کریں گے۔ نوری ایک پنکھا لے کر جھلنے لگی۔ معلوم نہیں پنکھے کی ہوا سے یا پنکھے کی چوٹ سے وکیل صاحب عالم بالا سے دُنیائے فانی میں آ رہے۔ اور ان کی مجسمۂ خاکی کے پرزے ہوئے۔ پھر بڑے زور کا ماتم ہوا اور وکیل صاحب کی میت پارسی دستور کے مطابق کوڑے پر پھینک دی گئی تاکہ بے کار نہ جا کر زاغ و زغن کے کام آ جائے۔

اب رہے میاں محمود کے سپاہی۔ وہ محترم اور ذی رُعب ہستی ہے اپنے پیروں چلنے کی ذلت اسے گوارا نہیں۔ محمود نے اپنی بکری کا بچہ پکڑا اور اس پر سپاہی کو سوار کیا۔ محمود کی بہن ایک ہاتھ سے سپاہی کو پکڑے ہوئے تھی اور محمود بکری کے بچہ کا کان پکڑ کر اسے دروازے پر چلا رہا تھا اور اس کے دونوں بھائی سپاہی کی طرف سے "تھونے والے داگتے لہو" پکارتے چلتے تھے۔ معلوم نہیں کیا ہوا، میاں سپاہی اپنے گھوڑے کی پیٹھ سے گر پڑے اور اپنی بندوق لئے زمین پر آ رہے۔ ایک ٹانگ مضروب ہو گئی۔ مگر کوئی مضائقہ نہیں، محمود ہوشیار ڈاکٹر ہے۔ ڈاکٹر نگم اور بھاٹیہ اس کی شاگردی کر سکتے ہیں اور یہ ٹوٹی ٹانگ آناً فاناً میں جوڑ د ے گا۔ صرف گولر کا دودھ چاہئے۔ گولر کا دودھ آتا ہے۔ ٹانگ جوڑی جاتی ہے لیکن جوں ہی کھڑا ہوتا ہے، ٹانگ پھر الگ ہو جاتی ہے۔ عملِ جراحی ناکام ہو جاتا ہے۔ تب محمود اس کی دوسری ٹانگ بھی توڑ دیتا ہے۔ اب وہ آرام سے ایک جگہ بیٹھ سکتا ہے۔ ایک ٹانگ سے تو نہ چل سکتا تھا نہ بیٹھ سکتا تھا۔ اب وہ گوشہ میں بیٹھ کر ٹٹی کی آڑ میں شکار کھیلے گا۔

اب میاں حامد کا قصہ سنئے۔ امینہ اس کی آواز سنتے ہی دوڑی اور اسے گود میں اُٹھا کر پیار کرنے لگی۔ دفعتاً اس کے ہاتھ میں چمٹا دیکھ کر چونک پڑی۔

"یہ دست پناہ کہاں تھا بیٹا؟"

"میں نے مول لیا ہے، تین پیسے میں۔"

امینہ نے چھاتی پیٹ لی۔ "یہ کیسا بے سمجھ لڑکا ہے کہ دوپہر ہو گئی۔ نہ کچھ کھایا نہ پیا۔ لایا کیا یہ دست پناہ۔ سارے میلے میں تجھے اور کوئی چیز نہ ملی۔"

حامد نے خطاوارانہ انداز سے کہا، "تمہاری انگلیاں توے سے جل جاتی تھیں کہ نہیں؟"

امینہ کا غصہ فوراً شفقت میں تبدیل ہو گیا۔ اور شفقت بھی وہ نہیں جو منہ پر بیان ہوتی ہے اور اپنی ساری تاثیر لفظوں میں منتشر کر دیتی ہے۔ یہ بے زبان شفقت تھی۔ دردِ التجا میں ڈوبی ہوئی۔ اُف کتنی نفس کشی ہے۔ کتنی جانسوزی ہے۔ غریب نے اپنے طفلانہ اشتیاق کو روکنے کے لئے کتنا ضبط کیا۔ جب دوسرے لڑکے کھلونے لے رہے ہوں گے، مٹھائیاں کھا رہے ہوں گے، اس کا دل کتنا لہراتا ہو گا۔ اتنا ضبط اس سے ہوا۔ کیونکہ اپنی بوڑھی ماں کی یاد اسے وہاں بھی رہی۔ میرا لال میری کتنی فکر رکھتا ہے۔ اس کے دل میں ایک ایسا جذبہ پیدا ہوا کہ اس کے ہاتھ میں دُنیا کی بادشاہت آ جائے اور وہ اسے حامد کے اوپر نثار کر دے۔

اور تب بڑی دلچسپ بات ہوئی۔ بڑھیا امینہ ننھی سی امینہ بن گئی۔ وہ رونے لگی۔ دامن پھیلا کر حامد کو دُعائیں دیتی جاتی تھی اور آنکھوں سے آنسو کی بڑی بڑی بوندیں گراتی جاتی تھی۔ حامد اس کا راز کیا سمجھتا اور نہ شاید ہمارے بعض ناظرین ہی سمجھ سکیں گے۔


گڈریا

(اشفاق احمد)

یہ سردیوں کی ایک یخ بستہ اور طویل رات کی بات ہے۔ میں اپنے گرم گرم بستر میں سر ڈھانپے گہری نیند سو رہا تھا کہ کسی نے زور سے جھنجھوڑ کر مجھے جگا دیا۔

"کون ہے۔"میں نے چیخ کر پوچھا اور اس کے جواب میں ایک بڑا سا ہاتھ میرے سر سے ٹکرایا اور گھپ اندھیرے سے آواز آئی "تھانے والوں نے رانو کو گرفتار کر لیا۔"

"کیا؟" میں لرزتے ہوئے ہاتھ کو پرے دھکیلنا چاہا۔ "کیا ہے؟"

اور تاریکی کا بھوت بولا "تھانے والوں نے رانو کو گرفتار کر لیااس کا فارسی میں ترجمہ کرو۔"

"داؤ جی کے بچے" میں نے اونگھتے ہوئے کہا "آدھی آدھی رات کو تنگ کرتے ہودفع ہو جاؤ میں نہیں میں نہیں آپ کے گھر رہتا۔ میں نہیں پڑھتا داؤ جی کے بچےکتے!" اور میں رونے لگا۔

داؤ جی نے چمکار کر کہا "اگر پڑھے گا نہیں تو پاس کیسے ہو گا! پاس نہیں ہو گا تو بڑا آدمی نہ بن سکے گا، پھر لوگ تیرے داؤ کو کیسے جانیں گے؟"

"اللہ کرے سب مر جائیں۔ آپ بھی آپ کو جاننے والے بھیاور میں بھی میں بھی"

اپنی جواں مرگی پر ایسا رویا کہ دو ہی لمحوں میں گھگھی بندھ گئی۔

داؤ جی بڑے پیار سے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے جاتے تھے اور کہہ رہے تھے "بس اب چپ کر شاباشمیرا اچھا بیٹا۔ اس وقت یہ ترجمہ کر دے، پھر نہیں جگاؤں گا۔"

آنسوؤں کا تار ٹوٹتا جا رہا تھا۔ میں نے جل کر کہا "آج حرامزادے رانو کو پکڑ کر لے گئے کل کسی اور کو پکڑ لیں گے۔ آپ کا ترجمہ تو"

"نہیں نہیں" انہوں نے بات کاٹ کر کہا "میرا تیرا وعدہ رہا آج کے بعد رات کو جگا کر کچھ نہ پوچھوں گاشاباش اب بتا "تھانے والوں نے رانو کو گرفتار کر لیا۔" میں نے روٹھ کر کہا "مجھے نہیں آتا۔"

"فوراً نہیں کہہ دیتا ہے" انہوں نے سر سے ہاتھ اٹھا کر کہا "کوشش تو کرو۔" "نہیں کرتا!" میں نے جل کر جواب دیا۔

اس پر وہ ذرا ہنسے اور بولے "کارکنانِ گزمہ خانہ رانو را توقیف کردندکارکنانِ گزمہ خانہ، تھانے والے۔ بھولنا نہیں نیا لفظ ہے۔ نئی ترکیب ہے، دس مرتبہ کہو۔"

مجھے پتہ تھا کہ یہ بلا ٹلنے والی نہیں، نا چار گزمہ خانہ والوں کا پہاڑہ شروع کر دیا، جب دس مرتبہ کہہ چکا تو داؤ جی نے بڑی لجاجت سے کہا اب سارا فقرہ پانچ بار کہو۔ جب پنجگانہ مصیبت بھی ختم ہوئی تو انہوں نے مجھے آرام سے بسترمیں لٹاتے ہوئے اور رضائی اوڑھاتے ہوئے کہا۔ "بھولنا نہیں! صبح اٹھتے ہی پوچھوں گا۔" پھر وہ جدھر سے آئے تھے ادھر لوٹ گئے۔

شام کو جب میں ملا جی سے سیپارے کا سبق لے کر لوٹتا تو خراسیوں والی گلی سے ہو کر اپنے گھر جایا کرتا۔ اس گلی میں طرح طرح کے لوگ بستے تھے۔ مگر میں صرف موٹے ماشکی سے واقف تھا جس کو ہم سب "کدو کریلا ڈھائی آنے" کہتے تھے۔

ماشکی کے گھر کے ساتھ بکریوں کا ایک باڑہ تھا جس کے تین طرف کچے پکے مکانوں کی دیواریں اور سامنے آڑی ترچھی لکڑیوں اور خار دار جھاڑیوں کا اونچا اونچا جنگلا تھا۔ اس کے بعد ایک چوکور میدان آتا تھا، پھر لنگڑے کمہار کی کوٹھڑی اور اس کے ساتھ گیرو رنگی کھڑکیوں اور پیتل کی کیلوں والے دروازوں کا ایک چھوٹا سا پکا مکان۔ اس کے بعد گلی میں ذرا سا خم پیدا ہوتا اور قدرے تنگ ہو جاتی پھر جوں جوں اس کی لمبائی بڑھتی توں توں اس کے دونوں بازو بھی ایک دوسرے کے قریب آتے جاتے۔ شاید وہ ہمارے قصبے کی سب سے لمبی گلی تھی اور حد سے زیادہ سنسان! اس میں اکیلے چلتے ہوئے مجھے ہمیشہ یوں لگتا تھا جیسے میں بندوق کی نالی میں چلا جا رہا ہوں اور جونہی میں اس کے دہانے سے باہر نکلوں گا زور سے "ٹھائیں" ہو گا اور میں مر جاؤں گا۔ مگر شام کے وقت کوئی نہ کوئی راہگیر اس گلی میں ضرور مل جاتا اور میری جان بچ جاتی۔ ان آنے جانے والوں میں کبھی کبھار ایک سفید سی مونچھوں والا لمبا سا آدمی ہوتا جس کی شکل بارہ ماہ والے ملکھی سے بہت ملتی تھی۔ سر پر ململ کی بڑی سی پگڑی۔ ذرا سی خمیدہ کمر پر خاکی رنگ کا ڈھیلا اور لمبا کوٹ۔ کھدر کا تنگ پائجامہ اور پاؤں میں فلیٹ بوٹ۔ اکثر اس کے ساتھ میری ہی عمر کا ایک لڑکا بھی ہوتا جس نے عین اسی طرح کے کپڑے پہنے ہوتے اور وہ آدمی سر جھکائے اور اپنے کوٹ کی جیبوں کی ہاتھ ڈالے آہستہ آہستہ اس سے باتیں کیا کرتا۔ جب وہ میرے برابر آتے تو لڑکا میری طرف دیکھتا تھا اور میں اس کی طرف اور پھر ایک ثانیہ ٹھٹھکے بغیر گردنوں کو ذرا ذرا موڑتے ہم اپنی اپنی راہ پر چلتے جاتے۔

ایک دن میں اور میرا بھائی ٹھٹھیاں کے جوہڑ سے مچھلیاں پکڑنے کی ناکام کوشش کے بعد قصبہ کو واپس آ رہے تھے تو نہر کے پل پر یہی آدمی اپنی پگڑی گود میں ڈالے بیٹھا تھا اور اس کی سفید چٹیا میری مرغی کے پر کی طرح اس کے سر سے چپکی ہوئی تھی۔ اس کے قریب سے گزرتے ہوئے میرے بھائی نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر زور سے سلام کیا۔"داؤ جی سلام" اور داؤ جی نے سر ہلا کر جواب دیا۔ "جیتے رہو۔"

یہ جان کر کہ میرا بھائی اس سے واقف ہے میں بے حد خوش ہوا اور تھوڑی دیر بعد اپنی منمنی آواز میں چلایا۔ "داؤ جی سلام۔"

"جیتے رہو۔ جیتے رہو!!" انہوں نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر کہا اور میرے بھائی نے پٹاخ سے میرے زناٹے کا ایک تھپڑ دیا۔

"شیخی خورے، کتے" وہ چیخا۔ جب میں نے سلام کر دیا تو تیری کیا ضرورت رہ گئی تھی؟ ہر بات میں اپنی ٹانگ پھنساتا ہے کمینہ"بھلا کون ہے وہ؟"

"داؤ جی" میں نے بسور کر کہا۔

"کون داؤ جی" میرے بھائی نے تنک کر پوچھا۔

"وہ جو بیٹھے ہیں" میں نے آنسو پی کر کہا۔

"بکواس نہ کر" میرا بھائی چڑ گیا اور آنکھیں نکال کر بولا۔ ہر بات میں میری نقل کرتا ہے کتاشیخی خورا۔"

میں نہیں بولا اور اپنی خاموشی کے ساتھ راہ چلتا رہا۔ دراصل مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ داؤ جی سے تعارف ہو گیا۔ اس کا رنج نہ تھا کہ بھائی نے میرے تھپڑ کیوں مارا۔ وہ تو اس کی عادت تھی۔ بڑا تھا نا اس لئے ہر بات میں اپنی شیخی بگھارتا تھا۔

داؤ جی سے علیک سلیک تو ہو ہی گئی تھی اس لئے میں کوشش کر کے گلی میں سے اس وقت گزرنے لگا جب وہ آ جا رہے ہوں۔ انہیں سلام کر کے بڑا مزا آتا تھا اور جواب پا کر اس سے بھی زیادہ اس سے بھی زیادہ۔ جیتے رہو کچھ ایسی محبت سے کہتے کہ زندگی دو چند ہو سی جاتی اور آدمی زمین سے ذرا اوپر اٹھ کر ہوا میں چلنے لگتاسلام کا یہ سلسلہ کوئی سال بھر یونہی چلتا رہا اور اس اثناء میں مجھے اس قدر معلوم ہو سکا کہ داؤ جی گیرو رنگی کھڑکیوں والے مکان میں رہتے ہیں اور چھوٹا سا لڑکا ان کا بیٹا ہے۔ میں نے اپنے بھائی سے ان کے متعلق کچھ اور بھی پوچھنا چاہا مگر وہ بڑا سخت آدمی تھا اورمیری چھوٹی بات پر چڑ جاتا تھا۔ میرے ہر سوال کے جواب میں ا س کے پاس گھڑے گھڑائے دو فقرے ہوتے تھے۔ "تجھے کیا" اور "بکواس نہ کر" مگر خدا کا شکر ہے میرے تجسس کا یہ سلسلہ زیادہ دیر تک نہ چلا۔ اسلامیہ پرا ئمری سکول سے چوتھی پاس کر کے میں ایم۔ بی ہائی سکول کی پانچویں جماعت میں داخل ہوا تو وہی داؤ جی کا لڑکا میرا ہم جماعت نکلا۔ اس کی مدد سے اور اپنے بھائی کا احسان اٹھائے بغیر میں یہ جان گیا کہ داؤ جی کھتری تھے اور قصبہ کی منصفی میں عرضی نویسی کا کام کرتے تھے۔ لڑکے کا نام امی چند تھا اور وہ جماعت میں سب سے زیادہ ہشیار تھا۔ اس کی پگڑی کلاس بھر میں سب سے بڑی تھی اور چہرہ بلی کی طرح چھوٹا۔ چند لڑکے اسے میاؤں کہتے تھے اور باقی نیولا کہہ کر پکارتے تھے مگر میں داؤ جی کی وجہ سے اس کے اصلی نام ہی سے پکارتا تھا۔ اس لئے وہ میرا دوست بن گیا اور ہم نے ایک دوسرے کو نشانیاں دے کر پکے یار بننے کا وعدہ کر لیا تھا۔


گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہونے میں کوئی ایک ہفتہ ہو گا جب میں امی چند کے ساتھ پہلی مرتبہ اس کے گھر گیا۔ وہ گرمیوں کی ایک جھلسا دینے والی دوپہر تھی لیکن شیخ چلی کی کہانیاں حاصل کرنے کا شوق مجھ پر بھوت بن کر سوار تھا اور میں بھوک اور دھوپ دونوں سے بے پرواہ ہو کر سکول سے سیدھا اس کے ساتھ چل دیا۔

امی چند کا گھر چھوٹا سا تھا لیکن بہت ہی صاف ستھرا اور روشن۔ پیتل کی کیلوں والے دروازے کے بعد ذرا سی ڈیوڑھی تھی۔ آگے مستطیل صحن، سامنے سرخ رنگ کا برآمدہ اور اس کے پیچھے اتنا ہی بڑا کمرہ۔ صحن میں ایک طرف انار کا پیڑ۔ عقیق کے چند پودے اور دھنیا کی ایک چھوٹی سی کیار ی تھی۔ دوسری طرف چوڑی سیڑھیوں کا ایک زینہ جس کی محراب تلے مختصر سی رسوئی تھی۔ گیرو رنگی کھڑکیاں ڈیوڑھی سے ملحقہ بیٹھک میں کھلتی تھیں اور بیٹھک کا دروازہ نیلے رنگ کا تھا۔ جب ہم ڈیوڑھی میں داخل ہوئے تو امی چند نے چلا کر "بے بے نمستے!" کہا اور مجھے صحن کے بیچوں بیچ چھوڑ کر بیٹھک میں گھس گیا۔ برآمدے میں بوریا بچھائے بے بے مشین چلا رہی تھی اور اس کے پاس ہی ایک لڑکی بڑی سی قینچی سے کپڑے قطع کر رہی تھی۔ بے بے نے منہ ہی منہ میں کچھ جواب دیا اور ویسے ہی مشین چلا تی رہی۔ لڑکی نے نگاہیں اٹھا کر میری طرف دیکھا اور گردن موڑ کر کہا۔ "بے بے شاید ڈاکٹر صاحب کا لڑکا ہے۔"

مشین رک گئی۔

"ہاں ہاں" بے بے نے مسکرا کر کہا اور ہاتھ کے اشارے سے مجھے اپنی طرف بلایا۔ میں اپنے جز دان کی رسی مروڑتا اور ٹیڑھے ٹیڑھے پاؤں دھرتا برآمدے کے ستون کے ساتھ آ لگا۔

"کیا نام ہے تمہارا" بے بے نے چمکار کر پوچھا اور میں نے نگاہیں جھکا کر آہستہ سے اپنا نام بتا دیا۔ "آفتاب سے بہت شکل ملتی ہے۔" اس لڑکی نے قینچی زمین پر رکھ کر کہا۔ "ہے نا بے بے ؟"

"کیوں نہیں بھائی جو ہوا۔"

"آفتاب کیا؟" اندر سے آواز آئی، آفتاب کیا بیٹا؟"

"آفتاب کا بھائی ہے داؤ جی" لڑکی نے رکتے ہوئے کہا۔ "امی چند کے ساتھ آیا ہے۔"

اندر سے داؤ جی برآمد ہوئے۔ انہوں نے گھٹنوں تک اپنا پائجامہ چڑھا رکھا اور کرتہ اتارا ہوا تھا۔ مگر سر پر پگڑی بدستور تھی۔ پانی کی ہلکی سی بالٹی اٹھا وہ برآمدے میں آ گئے اور میری طرف غور سے دیکھتے ہوئے بولے۔ "ہاں بہت شکل ملتی ہے مگر میرا آفتاب بہت دبلا ہے اور یہ گولو مولو سا ہے۔" پھر بالٹی فرش پر رکھ کے انہوں نے میرے سر ہاتھ پھیرا اور پاس کا ٹھ کا ایک اسٹول کھینچ کر اس پر بیٹھ گئے۔ زمین سے پاؤں اٹھا کر انہوں نے آہستہ سے انہیں جھاڑا اور پھر بالٹی میں ڈال دئے۔ "آفتاب کا خط آتا ہے؟" انہوں نے بالٹی سے پانی کے چلو بھر بھر کر ٹانگوں پر ڈالتے ہوئے پوچھا۔ "آتا ہے جی" میں نے ہولے سے کہا۔ "پرسوں آیا تھا۔"

"کیا لکھتا ہے؟"۔

"پتا نہیں جی، ابا جی کو پتہ ہے۔"

"اچھا" انہوں نے سر ہلا کر کہا۔ "تو ابا جی سے پوچھا کرنا! جو پوچھتا نہیں اسے کسی بھی بات کا علم نہیں ہوتا۔"

میں چپ رہا۔

تھوڑی دیر انہوں نے ویسے ہی چلو ڈالتے ہوئے پوچھا۔ "کونسا سیپارہ پڑھ رہے ہو؟"

"چوتھا" میں نے وثوق سے جواب دیا۔

"کیا نام ہے تیسرے سیپارے کا؟" انہوں نے پوچھا۔

"جی نہیں پتہ۔ "میری آواز پھر ڈوب گئی۔

"تلک الرسل" انہوں نے پانی سے ہاتھ باہر نکال کر کہا۔ پھر تھوڑی دیر بعد وہ ہاتھ جھٹکتے اور ہوا میں لہراتے رہے۔ بے بے مشین چلاتی رہی۔ وہ لڑکی نعمت خانے سے روٹی نکال کر برآمدے کی چوکی پر لگانے لگی اور میں جزدان کی ڈوری کو کھولتا لپیٹتا رہا۔ امی چند ابھی تک بیٹھک کے اندر ہی تھا اور میں ستون کے ساتھ ساتھ جھینپ کی عمیق گہرائیوں میں اترتا جا رہا تھا، معاً داؤ جی نے نگاہیں میری طرف پھیر کر کہا

"سورة فاتحہ سناؤ۔"

"مجھے نہیں آتی جی" میں نے شرمندہ ہو کر کہا۔

انہوں نے حیرانی سے میری طرف دیکھا اور پوچھا "الحمدللہ بھی نہیں جانتے؟"

"الحمدللہ تو میں جانتا ہوں جی" میں نے جلدی سے کہا۔

وہ ذرا مسکرائے اور گویا اپنے آپ سے کہنے لگے۔ "ایک ہی بات ہے! ایک ہی بات ہے!!" پھر انہوں نے سر کے اشارے سے کہا سناؤ۔ جب میں سنانے لگا تو انہوں نے اپنا پائجامہ گھٹنوں سے نیچے کر لیا اور پگڑی کا شملہ چوڑا کر کے کندھوں پر ڈال دیا اور جب میں نے وَلَا الضَّالِّیْنَ کہا تو میر ے ساتھ ہی انہوں نے بھی آمین کہا۔ مجھے خیال ہوا کہ وہ ابھی اٹھ کر مجھے کچھ انعام دیں گے کیونکہ پہلی مرتبہ جب میں نے اپنے تایا جی کو الحمدللہ سنائی تھی تو انہوں نے بھی ایسے ہی آمین کہا تھا اور ساتھ ہی ایک روپیہ مجھے انعام بھی دیا تھا۔ مگر داؤ جی اسی طرح بیٹھے رہے بلکہ اور بھی پتھر ہو گئے۔ اتنے میں امی چند کتاب تلاش کر کے لے آیا اور جب میں چلنے لگا تو میں نے عادت کے خلاف آہستہ سے کہا "داؤ جی سلام" اور انہوں نے ویسے ہی ڈوبے ڈوبے ہولے سے جواب دیا۔ "جیتے رہو۔"

بے بے نے مشین روک کر کہا "کبھی کبھی امی چند کے ساتھ کھیلنے آ جایا کرو۔"

"ہاں ہاں آ جایا کر" داؤ جی چونک کر بولے۔ "آفتاب بھی آیا کرتا تھا" پھر انہوں نے بالٹی پر جھکتے ہوئے کہا "ہمارا آفتاب تو ہم سے بہت دور ہو گیا اور فارسی کا شعر سا پڑھنے لگے۔

یہ داؤ جی سے میری پہلی باقاعدہ ملاقات تھی اور اس ملاقات سے میں یہ نتائج اخذ کر کے چلا کہ داؤ جی بڑے کنجوس ہیں۔ حد سے زیادہ چپ ہیں اور کچھ بہرے سے ہیں۔ اسی دن شام کو میں نے اپنی اماں کو بتایا کہ میں داؤ جی کے گھر گیا تھا اور وہ آفتاب بھائی کو یاد کر رہے تھے۔

اماں نے قدرے تلخی سے کہا "تو مجھ سے پوچھ تو لیتا۔ بے شک آفتاب ان سے پڑھتا رہا ہے اور ان کی بہت عزت کرتا ہے مگر تیرے اباجی ان سے بولتے نہیں ہیں۔ کسی بات پر جھگڑا ہو گیا تھا سو اب تک ناراضگی چلی آتی ہے۔ اگر انہیں پتہ چل گیا کہ تو ان کے ہاں گیا تھا تو وہ خفا ہوں گے، پھر اماں نے ہمدرد بن کر کہا "اپنے ابا سے اس کا ذکر نہ کرنا۔"

میں ابا جی سے بھلا اس کا ذکر کیوں کرتا، مگر سچی بات تو یہ ہے کہ میں داؤ جی کے ہاں جاتا رہا اور خوب خوب ان سے معتبری کی باتیں کرتا رہا۔


وہ چٹائی بچھائے کوئی کتا ب پڑھ رہے ہوتے۔ میں آہستہ سے ان کے پیچھے جا کر کھڑا ہو جاتا اور وہ کتاب بند کر کے کہتے "گول آ گیا" پھر میری طرف مڑتے اور ہنس کر کہتے "کوئی گپ سنا" اور میں اپنی بساط کے اور سمجھ کے مطابق ڈھونڈ ڈھانڈ کے کوئی بات سناتا تو وہ خوب ہنستے۔ بس یونہی میرے لئے ہنستے حالانکہ مجھے اب محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایسی دلچسپ باتیں بھی نہ ہوتی تھیں، پھر وہ اپنے رجسٹر سے کوئی کاغذ نکال کر کہتے لے ایک سوال نکال۔ اس سے میری جان جاتی تھی لیکن ان کا وعدہ بڑا رسیلا ہوتا تھا کہ ایک سوال اور پندرہ منٹ باتیں۔ اس کے بعد ایک اور سوال اور پھر پندرہ منٹ گپیں۔ چنانچہ میں مان جاتا اور کاغذ لے کر بیٹھ جاتا لیکن ان کے خود ساختہ سوال کچھ ایسے الجھے ہوتے کہ اگلی باتوں اور اگلے سوالوں کا وقت بھی نکل جاتا۔ اگر خوش قسمی سے سوال جلد حل ہو جاتا تو وہ چٹائی کو ہاتھ لگا کر پوچھتے یہ کیا ہے؟ "چٹائی" میں منہ پھاڑ کر جواب دیتا "اوں ہوں" وہ سر ہلا کر کہتے "فارسی میں بتاؤ" تو میں تنک کر جواب دیتا "لو جی ہمیں کوئی فارسی پڑھائی جاتی ہے" اس پر وہ چمکار کر کہتے "میں جو پڑھاتا ہوں گولومیں جو سکھاتا ہوںسنو! فارسی میں بوریا، عربی میں حصیر" میں شرارت سے ہاتھ جوڑ کر کہتا "بخشو جی بخشو، فارسی بھی اور عربی بھی میں نہیں پڑھتا مجھے معاف کرو" مگر وہ سنی ان سنی ایک کر کے کہے جاتے فارسی بوریا، عربی حصیر۔ اور پھر کوئی چاہے اپنے کانوں میں سیسہ بھر لیتا۔ داؤ جی کے الفاظ گھستے چلے جاتے تھےامی چند کتابوں کا کیڑا تھا۔ سارا دن بیٹھک میں بیٹھا لکھتا پڑھتا رہتا۔ داؤ جی اس کے اوقات میں مخل نہ ہوتے تھے، لیکن ان کے داؤ امی چند پر بھی برابر ہوتے تھے، وہ اپنی نشست سے اٹھ کر گھڑے سے پانی پینے آیا، داؤ جی نے کتاب سے نگاہیں اٹھا کر پوچھا۔ "بیٹا؟؟؟؟ کیا ہے۔ اس نے گلاس کے ساتھ منہ لگائے لگائے "ڈیڈ" کہا اور پھر گلاس گھڑونچی تلے پھینک کر اپنے کمرے میں آگیا۔ داؤ جی پھر پڑھنے میں مصروف ہو گئے۔ گھر میں ان کو اپنی بیٹی سے بڑا پیار تھا۔ ہم سب اسے بی بی کہہ کر پکارتے تھے۔ اکیلے داؤ جی نے اس کا نام قرة رکھا ہوا تھا۔ اکثر بیٹھے بیٹھے ہانک لگا کر کہتے "قرة بیٹی یہ قینچی تجھ سے کب چھوٹے گی؟" اور وہ اس کے جواب میں مسکرا کر خاموش ہو جاتی۔ بے بے کو اس نام سے بڑی چڑ تھی۔ وہ چیخ کر جواب دیتی۔ "تم نے اس کا نام قرۃ رکھ کر اس کے بھاگ میں کرتے سینے لکھوا دئے ہیں۔ منہ اچھا نہ ہو تو شبد تو اچھے نکالنے چاہئیں" اور داؤ جی ایک لمبی سانس لے کر کہتے "جاہل اس کا مطلب کیا جانیں" اس پر بے بے کا غصہ چمک اٹھتا اور اس کے منہ میں جو کچھ آتا کہتی چلی جاتی۔ پہلے کوسنے، پھر بد دعائیں اور آخر میں گالیوں پر اتر آتی۔ بی بی رکتی تو داؤ جی کہتے "ہوائیں چلنے کو ہوتی ہیں بیٹا اور گالیاں برسنے کو، تم انہیں روکو مت، انہیں ٹوکو مت۔ پھر وہ اپنی کتابیں سمیٹتے اور اپنا محبوب حصیر اٹھا کر چپکے سے سیڑھیوں پر چڑھ جاتے۔

نویں جماعت کے شروع میں مجھے ایک بری عادت پڑ گئی اور اس بری عادت نے عجیب گل کھلائے۔ حکیم علی احمد مرحوم ہمارے قصبے کے ایک ہی حکیم تھے۔ علاج معالجہ سے ان کو کچھ ایسی دلچسپی نہ تھی لیکن باتیں بڑی مزیدار سناتے تھے۔ اولیاؤں کے تذکرے، جنوں بھوتوں کی کہانیاں اور حضرت سلیمانؑ اور ملکہ سبا کی گھریلو زندگی کی داستانیں ان کے تیر بہدف ٹوٹکے تھے۔ ان کے تنگ و تاریک مطب میں معجون کے چند ڈبوں، شربت کی دس پندرہ بوتلوں اور دو آتشی شیشیوں کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ دواؤں کے علاوہ وہ اپنی طلسماتی تقریر اور حضرت سلیمانؑ کے خاص صدری تعویذوں سے مریض کا علاج کیا کرتے تھے۔ انہی باتوں کے لئے دور دراز گاؤں کے مریض ان کے پاس کھنچے چلے آتے اور فیض یاب ہو کر جاتے۔ ہفتہ دو ہفتہ کی صحبت میں میرا ان کے ساتھ ایک معاہدہ ہو گیا، میں اپنے ہسپتال سے ان کے لئے خالی بوتلیں اور شیشیاں چرا کے لاتا اور اس کے بدلے وہ مجھے داستانِ امیر حمزہ کی جلدیں پڑھنے کے لئے دیا کرتے۔

یہ کتابیں کچھ ایسی دلچسپ تھیں کہ میں رات رات بھر اپنے بستر میں دبک کر انہیں پڑھا کرتا اور صبح دیر تک سویا رہتا، اماں میرے اس رویے سے سخت نالاں تھیں، ابا جی کو میری صحت برباد ہونے کا خطرہ لاحق تھا لیکن میں نے ان کو بتا دیا تھا کہ چاہے جان چلی جائے اب کے دسویں میں وظیفہ ضرور حاصل کروں گا۔ رات طلسم ہوشربا کے ایوانوں میں بسر ہوتی اور دن بینچ پر کھڑے ہو کر، سہ ماہی امتحان میں فیل ہوتے ہوتے بچا۔ ششماہی میں بیمار پڑ گیا اور سالانہ امتحان کے موقع پر حکیم جی کی مدد سے ماسٹروں سے مل ملا کر پاس ہو گیا۔

دسویں میں صندلی نامہ، فسانۂ آزاد اور الف لیلیٰ ساتھ ساتھ چلتے تھے، فسانۂ آزاد اور صندلی نامہ گھر پر رکھے تھے، لیکن الف لیلیٰ سکول کے ڈیسک میں بند رہتی۔ آخری بینچ پر جغرافیہ کی کتاب تلے سند باد جہازی کے ساتھ ساتھ چلتا اور اس طرح دنیا کی سیر کرتابائیس مئی کا واقعہ ہے کہ صبح دس بجے یونیورسٹی سے نتیجہ کی کتاب ایم۔ بی ہائی سکول پہنچی۔ امی چند نہ صرف سکول میں بلکہ ضلع بھر میں اول آیا تھا۔ چھ لڑکے فیل تھے اور بائیس پاس۔ حکیم جی کا جادو یونیورسٹی پر نہ چل سکا اور پنجاب کی جابر دانش گاہ نے میرا نام بھی ان چھ لڑکوں میں شامل کر دیا۔ اسی شام قبلہ گاہی نے بید سے میری پٹائی کی اور گھر سے باہر نکال دیا۔ میں ہسپتال کے رہٹ کی گدی پر آ بیٹھا اور رات گئے تک سوچتا رہا کہ اب کیا کرنا چاہئے اور اب کدھر جانا چاہئے۔ خدا کا ملک تنگ نہیں تھا اور میں عمرو عیار کے ہتھکنڈوں اور سند باد جہازی کے تمام طریقوں سے واقف تھا مگر پھر بھی کوئی راہ سجھائی نہ دیتی تھی۔ کوئی دو تین گھنٹے اسی طرح ساکت و جامد اس گدی پر بیٹھا زیست کرنے کی راہیں سوچتا رہا۔ اتنے میں اماں سفید چادر اوڑھے مجھے ڈھونڈتی ڈھونڈتی ادھر آ گئیں اور اباجی سے معافی لے دینے کا وعدہ کر کے مجھے پھر گھر لے گئیں۔ مجھے معافی وافی سے کوئی دلچسپی نہ تھی، مجھے تو بس ایک رات ا ور ان کے یہاں گزارنی تھی اور صبح سویرے اپنے سفر پر روانہ ہونا تھا، چنانچہ میں آرام سے ان کے ساتھ جا کر حسب معمول اپنے بستر پر دراز ہو گیا۔

اگلے دن میرے فیل ہونے والے ساتھیوں میں سے خوشیا کوڈو اور دیسو یب یب مسجد کے پچھواڑے ٹال کے پاس بیٹھے مل گئے۔ وہ لاہور جا کر بزنس کرنے کا پرو گرام بنا رہے تھے۔ دیسو یب یب نے مجھے بتایا کہ لاہور میں بڑا بزنس ہے کیونکہ اس کے بھایا جی اکثر اپنے دوست فتح چند کے ٹھیکوں کا ذکر کیا کرتے تھے جس نے سال کے اندر اندر دو کاریں خرید لی تھیں۔ میں نے ان سے بزنس کی نوعیت کے بارے میں پوچھا تو یب یب نے کہا لاہور میں ہر طرح کا بزنس مل جاتا ہے۔ بس ایک دفتر ہونا چاہئے اور اس کے سامنے بڑا سا سائن بورڈ۔ سائن بورڈ دیکھ کر لوگ خود ہی بزنس دے جاتے ہیں۔ اس وقت بزنس سے مراد وہ کرنسی نوٹ لے رہا تھا۔

میں نے ایک مرتبہ پھر وضاحت چاہی تو کوڈو چمک کر بولا "یار دیسو سب جانتا ہے۔ یہ بتا، تو تیار ہے یا نہیں؟"

پھر اس نے پلٹ کر دیسو سے پوچھا "انار کلی میں دفتر بنائیں گے نا؟"

دیسو نے ذرا سوچ کر کہا "انار کلی میں یا شاہ عالمی کے باہر دونوں ہی جگہیں ایک سی ہیں۔"

میں نے کہا انار کلی زیادہ مناسب ہے کیونکہ وہی زیادہ مشہور جگہ ہے اور اخباروں میں جتنے بھی اشتہار نکلتے ہیں ان میں انار کلی لاہور لکھا ہوتا ہے۔"

چنانچہ یہ طے پایا کہ اگلے دن دو بجے کی گاڑی سے ہم لاہور روانہ ہو جائیں!

گھر پہنچ کر میں سفر کی تیاری کرنے لگا۔ بوٹ پالش کر رہا تھا کہ نوکر نے آ کر شرارت سے مسکراتے ہوئے کہا "چلو جی ڈاکٹر صاحب بلاتے ہیں۔"

"کہاں ہیں؟" میں نے برش زمین پر رکھ دیا اور کھڑا ہو گیا۔

"ہسپتال میں " وہ بدستور مسکرا رہا تھا کیونکہ میری پٹائی کے روز حاضرین میں وہ بھی شامل تھا۔ میں ڈرتے ڈرتے برآمدے کی سیڑھیاں چڑھا۔ پھر آہستہ سے جالی والا دروازہ کھول کر اباجی کے کمرے میں داخل ہوا تو وہا ں ان کے علاوہ داؤ جی بھی بیٹھے تھے۔ میں نے سہمے سہمے داؤ جی کو سلام کیا اور اس کے جواب میں بڑی دیر کے بعد جیتے رہو کی مانوس دعا سنی۔

"ان کو پہچانتے ہو؟" اباجی نے سختی سے پوچھا۔

"بے شک" میں نے ایک مہذب سیلزمین کی طرح کہا۔

"بے شک کے بچے، حرامزادے، میں تیری یہ سب۔"

"نہ نہ ڈاکٹر صاحب" داؤ جی نے ہاتھ اوپر اٹھا کر کہا "یہ تو بہت ہی اچھا بچہ ہے اس کو تو"

اور ڈاکٹر صاحب نے بات کاٹ کر تلخی سے کہا "آپ نہیں جانتے منشی جی اس کمینے نے میری عزت خاک میں ملا دی۔"


"اب فکر نہ کریں " داؤ جی نے سر جھکائے کہا۔ "یہ ہمارے آفتاب سے بھی ذہین ہے اور ایک دن"

اب کے ڈاکٹر صاحب کو غصہ آگیا اور انہوں نے میز پر ہاتھ مار کر کہا "کیسی بات کرتے ہو منشی جی! یہ آفتاب کے جوتے کی برابری نہیں کر سکتا۔"

"کرے گا، کرے گاڈاکٹر صاحب" داؤ جی نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا "آپ خاطر جمع رکھیں۔"

پھر وہ اپنی کرسی سے اٹھے اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے "میں سیر کو چلتا ہوں، تم بھی میرے ساتھ آؤ، راستے میں باتیں کریں گے۔"

اباجی اسی طرح کرسی پر بیٹھے غصے کے عالم میں اپنا رجسٹر الٹ پلٹ کرتے اور بڑبڑاتے رہے۔ میں نے آہستہ آہستہ چل کر جالی والا دروازہ کھولا تو داؤ جی نے پیچھے مڑ کر کہا۔

"ڈاکٹر صاحب بھول نہ جائیے ابھی بھجوا دیجئے گا۔"

داؤ جی نے مجھے ادھر ادھر گھماتے اور مختلف درختوں کے نام فارسی میں بتاتے نہر کے اسی پل پر لے گئے جہاں پہلے پہل میرا ان سے تعارف ہوا تھا۔ اپنی مخصوص نشست پر بیٹھ کر انہوں نے پگڑی اتار کر گود میں ڈال لی سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ پھر انہوں نے آنکھیں بند کر لیں اور کہا "آج سے میں تمہیں پڑھاؤں گا اور اگر جماعت میں اول نہ لا سکا تو فرسٹ ڈویژن ضرور دلوا دوں گا۔ میرے ہر ارادے میں خداوند تعالیٰ کی مدد شامل ہوتی ہے اور اس ہستی نے مجھے اپنی رحمت سے کبھی مایوس نہیں کیا"

"مجھ سے پڑھائی نہ ہو گی" میں نے گستاخی سے بات کاٹی۔

"تو اور کیا ہو گا گولو؟" انہوں نے مسکرا کر پوچھا۔

میں نے کہا "میں بزنس کروں گا، روپیہ کماؤں گا اور اپنی کار لے کر یہاں ضرور آؤں گا، پھر دیکھنا" اب کے داؤ جی نے میری بات کاٹی اور بڑی محبت سے کہا "خدا ایک چھوڑ تجھے دس کاریں دے لیکن ایک ان پڑھ کی کار میں نہ میں بیٹھوں گا نہ ڈاکٹر صاحب۔"

میں نے جل کر کہا "مجھے کسی کی پرواہ نہیں ڈاکٹر صاحب اپنے گھر راضی، میں اپنے یہاں خوش۔"

انہوں نے حیران ہو کر پوچھا "میری بھی پرواہ نہیں؟" میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ وہ دکھی سے ہو گئے اور بار بار پوچھنے لگے۔

"میری بھی پرواہ نہیں؟"

"او گولو میری بھی پرواہ نہیں؟"

مجھے ان کے لہجے پر ترس آنے لگا اور میں نے آہستہ سے کہا۔ آپ کی تو ہے مگر" مگر انہوں نے میری بات نہ سنی اور کہنے لگے اگر اپنے حضرت کے سامنے میرے منہ سے ایسی بات نکل جاتی؟ اگر میں یہ کفر کا کلمہ کہہ جاتا تو تو " انہوں نے فورا پگڑی اٹھا کر سر پر رکھ لی اور ہاتھ جوڑ کہنے لگے۔ "میں حضور کے دربار کا ایک ادنیٰ کتا۔ میں حضرت مولانا کی خاک پا سے بد تر بندہ ہو کر آقا سے یہ کہتا۔ لعنت کا طوق نہ پہنتا؟ خاندانِ ابو جہل کا خانوادہ اور آقا کی ایک نظر کرم۔ حضرت کا ایک اشارہ۔ حضور نے چنتو کو منشی رام بنا دیا۔ لوگ کہتے ہیں منشی جی، میں کہتا ہوں رحمۃ اللہ علیہ کا کفش بردارلوگ سمجھتے ہیں" داؤ جی کبھی ہاتھ جوڑتے، کبھی سر جھکاتے کبھی انگلیاں چوم کر آنکھوں کو لگاتے اور بیچ بیچ میں فارسی کے اشعار پڑھتے جاتے۔ میں کچھ پریشان سا پشیمان سا، ان کا زانو چھو کر آہستہ آہستہ کہہ رہا تھا "داؤ جی! داؤ جی" اور داؤ جی "میرے آقا، میرے مولانا، میرے مرشد" کا وظیفہ کئے جاتے۔

جب جذب کا یہ عالم دور ہوا تو نگاہیں اوپر اٹھا کر بولے "کیا اچھا موسم ہے دن بھر دھوپ پڑتی ہے تو خوشگوار شاموں کا نزول ہوتا ہے " پھر وہ پل کی دیوار سے اٹھے اور بولے "چلو اب چلیں بازار سے تھوڑا سودا خریدنا ہے۔" میں جیسا سرکش و بد مزاج بن کر ان کے ساتھ آیا تھا، اس سے کہیں زیادہ منفعل اور خجل ان کے ساتھ لوٹا۔ گھمسے پنساری یعنی دیسو یب یب کے باپ کی دکان سے انہوں نے گھریلو ضرورت کی چند چیزیں خریدیں اور لفافے گود میں اٹھا کر چل دئے، میں بار بار ان سے لفافے لینے کی کوشش کرتا مگر ہمت نہ پڑتی۔ ایک عجیب سی شرم ایک انوکھی سی ہچکچاہٹ مانع تھی اور اسی تامل اور جھجک میں ڈوبتا ابھرتا میں ان کے گھر پہنچ گیا۔

وہاں پہنچ کر یہ بھید کھلا کہ اب میں انہی کے ہاں سویا کرو ں گا اور وہیں پڑھا کروں گا۔ کیونکہ میرا بستر مجھ سے بھی پہلے وہاں پہنچا ہوا تھا اور اس کے پاس ہی ہمارے یہاں سے بھیجی ہوئی ایک ہری کین لالٹین بھی رکھی تھی۔ بزنس مین بننا اور پاں پاں کرتی پیکارڈ اڑائے پھرنا میرے مقدر میں نہ تھا۔ گو میرے ساتھیوں کی روانگی کے تیسرے ہی روز بعد ان کے والدین بھی انہیں لاہور سے پکڑ لائے لیکن اگر میں ان کے ساتھ ہوتا تو شاید اس وقت انار کلی میں ہمارا دفتر، پتہ نہیں ترقی کے کون سے شاندار سال میں داخل ہو چکا ہوتا۔

داؤ جی نے میری زندگی اجیرن کر دی، مجھے تباہ کر دیا، مجھ پر جینا حرام کر دیا، سارا دن سکول کی بکواس میں گزرتا اور رات، گرمیوں کی مختصر رات، ان کے سوالات کا جواب دینے، کوٹھے پر ان کی کھاٹ میرے بستر کے ساتھ لگی ہے اور وہ مونگ، رسول اور مرالہ کی نہروں کے بابت پوچھ رہے ہیں، میں نے بالکل ٹھیک بتا دیا ہے، وہ پھر اسی سوال کو دہرا رہے ہیں، میں نے پھر ٹھیک بتا دیا ہے اور انہوں نے پھر انہی نہروں کو آگے لا کھڑا کیا ہے، میں جل جاتا اور جھڑک کر کہتا "مجھے نہیں پتہ میں نہیں بتاتا" تو وہ خاموش ہو جاتے اور دم سادھ لیتے، میں آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرتا تو وہ شرمندگی کنکر بن کر پتلیوں میں اتر جاتی۔

میں آہستہ سے کہتا "داؤ جی۔"

"ہوں" ایک گھمبیر سی آواز آتی۔

’دداؤ جی کچھ اور پوچھو۔"

داؤ جی نے کہا "بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے۔ اس کی ترکیب نحوی کرو۔"

میں نے سعادت مندی کے ساتھ کہا "جی یہ تو بہت لمبا فقرہ ہے صبح لکھ کر بتا دوں گا کوئی اور پوچھئے۔"

انہوں نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائے کہا "میرا گولو بہت اچھا ہے۔"

میں نے ذرا سوچ کر کہنا شروع کیا بہت اچھا صفت ہے، حرف ربط مل کر بنا مسند اور داؤ جی اٹھ کر چارپائی پر بیٹھ گئے۔ ہاتھ اٹھا کر بولے جانِ پدر، تجھے پہلے بھی کہا ہے مسند الیہ پہلے بنایا ہے۔

میں نے ترکیبِ نحوی سے جان چھڑانے کے لئے پوچھا "آپ مجھے جانِ پدر کیوں کہتے ہیں جانِ داؤ کیوں نہیں کہتے؟"

"شاباش" وہ خوش ہو کر کہتے "ایسی باتیں پوچھنے کی ہوتی ہیں۔ جان لفظ فارسی کا ہے اور داؤ بھاشا کا۔ ان کے درمیان فارسی اضافت نہیں لگ سکتی۔ جو لوگ دن بدن لکھتے یا بولتے ہیں سخت غلطی کرتے ہیں، روز بروز کہو یا دن پر دن اسی طرح سے"


اور جب میں سوچتا کہ یہ تو ترکیبِ نحوی سے بھی زیادہ خطرناک معاملے میں الجھ گیا ہوں تو جمائی لے کر پیار سے کہا "داؤ جی اب تو نیند آ رہی ہے!"

"اور وہ ترکیب نحوی؟" وہ جھٹ سے پوچھتے۔۔

اس کے بعد چاہے میں لاکھ بہانے کرتا ادھر ادھر کی ہزار باتیں کرتا، مگر وہ اپنی کھاٹ پر ایسے بیٹھے رہتے، بلکہ اگر ذرا سی دیر ہو جاتی تو کرسی پر رکھی ہوئی پگڑی اٹھا کر سر پر دھر لیتے۔ چنانچہ کچھ بھی ہوتا۔ ان کے ہر سوال کا خاطر خواہ جواب دینا پڑتا۔

امی چند کالج چلا گیا تو اس کی بیٹھک مجھے مل گئی اور داؤ جی کے دل میں اس کی محبت پر بھی میں نے قبضہ کر لیا۔ اب مجھے داؤ جی بہت اچھے لگنے لگے تھے لیکن ان کی باتیں جو اس وقت مجھے بری لگتی تھیں۔ وہ اب بھی بری لگتی ہیں بلکہ اب پہلے سے بھی کسی قدر زیادہ، شاید اس لئے کہ میں نفسیات کا ایک ہونہار طالب علم ہوں اور داؤ جی پرانے مُلّائی مکتب کے پروردہ تھے۔ سب سے بری عادت ان کی اٹھتے بیٹھتے سوال پوچھتے رہنے کی تھی اور دوسری کھیل کود سے منع کرنے کی۔ وہ تو بس یہ چاہتے تھے کہ آدمی پڑھتا رہے پڑھتا رہے اور جب اس مدقوق کی موت کا دن قریب آئے تو کتابوں کے ڈھیر پر جان دے دے۔ صحتِ جسمانی قائم رکھنے کے لئے ان کے پاس بس ایک ہی نسخہ تھا، لمبی سیر اور وہ بھی صبح کی۔ تقریباً سورج نکلنے سے دو گھنٹے پیشتر وہ مجھے بیٹھک میں جگانے آتے اور کندھا ہلا کر کہتے "اٹھو گولو موٹا ہو گیا بیٹا" دنیا جہاں کے والدین صبح جگانے کے لئے کہا کرتے ہیں کہ اٹھو بیٹا صبح ہو گئی یا سورج نکل آیا مگر وہ "موٹا ہو گیا" کہہ کر میری تذلیل کیا کرتے، میں منمناتا تو چمکار کر کہتے "بھدا ہو جائے گا بیٹا تو، گھوڑے پر ضلع کا دورہ کیسا کرے گا!" اور میں گرم گرم بستر سے ہاتھ جوڑ کر کہتا

"داؤ جی خدا کے لئے مجھے صبح نہ جگاؤ، چاہے مجھے قتل کر دو، جان سے مار ڈالو۔"

یہ فقرہ ان کی سب سے بڑی کمزوری تھی وہ فوراً میرے سر پر لحاف ڈال دیتے اور باہر نکل جاتے۔ بے بے کو ان داؤ جی سے اللہ واسطے کا بیر تھا اور داؤ جی ان سے بہت ڈرتے تھے، وہ سارا دن محلے والیوں کے کپڑے سیا کرتیں اور داؤ جی کو کوسنے دئے جاتیں۔ ان کی اس زبان درازی پر مجھے بڑا غصہ آتا تھا مگر دریا میں رہ کر مگر مچھ سے بیر نہ ہو سکتا تھا۔ کبھی کبھار جب وہ ناگفتنی گالیوں پر اتر آتیں تو داؤ جی میری بیٹھک میں آ جاتے اور کانوں پر ہاتھ رکھ کر کرسی پر بیٹھ جاتے۔ تھوڑی دیر بعد کہتے "غیبت کرنا بڑا گناہ ہے لیکن میرا خدا مجھے معاف کرے تیری بے بے بھٹیارن ہے اور اس کی سرائے میں، میں، میری قرة العین اور تھوڑا تھوڑا، تو بھی، ہم تینوں بڑے عاجز مسافر ہیں۔ " اور واقعی بے بے بھٹیارن سی تھی۔ ان کا رنگ سخت کالا تھا اور دانت بے حد سفید، ماتھا محراب دار اور آنکھیں چنیاں سی۔ چلتی تو ایسی گربہ پائی کے ساتھ جیسے (خدا مجھے معاف کرے) کٹنی کنسوئیاں لیتی پھرتی ہے۔ بچاری بی بی کو ایسی ایسی بری باتیں کہتی کہ وہ دو دو دن رو رو کر ہلکان ہوا کرتی۔ ایک امی چند کے ساتھ اس کی بنتی تھی شاید اس وجہ سے کہ ہم دونوں ہم شکل تھے یا شاید اس وجہ سے کہ اس کو بی بی کی طرح اپنے داؤ جی سے پیار نہ تھا۔ یوں تو بی بی بے چاری بہت اچھی لگتی تھی مگر اس سے میری بھی نہ بنتی۔ میں کوٹھے پر بیٹھا سوال نکال رہا ہوں، داؤ جی نیچے بیٹھے ہیں اور بی بی اوپر برساتی سے ایندھن لینے آئی تو ذرا رک کر مجھے دیکھا پھر منڈیر سے جھانک کر بولی، داؤ جی! پڑھ تو نہیں رہا، تنکوں کی طرح چارپائیاں بنا رہا ہے۔"

میں غصیل بچے کی طرح منہ چڑا کر کہتا "تجھے کیا، نہیں پڑھتا، تو کیوں بڑ بڑ کرتی ہےآئی بڑی تھانیدارنی۔"

اور داؤ جی نیچے سے ہانک لگا کر کہتے "نہ گولو مولو بہنوں سے جھگڑا نہیں کرتے۔"

اور میں زور سے چلاتا "پڑھ رہا ہوں جی، جھوٹ بولتی ہے۔"

داؤ جی آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آ جاتے اور کاپیوں کے نیچے نیم پوشیدہ چارپائیاں دیکھ کر کہتے "قرة بیٹا تو اس کو چڑایا نہ کر۔ یہ جن بڑی مشکل سے قابو کیا ہے۔ اگر ایک بار بگڑ گیا تو مشکل سے سنبھلے گا۔"

بی بی کہتی "کاپی اٹھا کر دیکھ لو داؤ جی اس کے نیچے ہے وہ چارپائی جس سے کھیل رہا تھا۔"

میں قہر آلود نگاہوں سے بی بی کو دیکھتا اور وہ لکڑیاں اٹھا کر نیچے اتر جاتی۔ پھر داؤ جی سمجھاتے کہ بی بی یہ کچھ تیرے فائدے کے لئے کہتی ہے ورنہ اسے کیا پڑی ہے کہ مجھے بتاتی پھرے۔ فیل ہویا پاس اس کی بلا سے! مگر وہ تیری بھلائی چاہتی ہے، تیری بہتری چاہتی ہے اور داؤ جی کی یہ بات ہر گز سمجھ میں نہ آتی تھی۔ میری شکایتیں کرنے والی میری بھلائی کیونکر چاہ سکتی تھی!۔

ان دنوں معمول یہ تھا کہ صبح دس بجے سے پہلے داؤ جی کے ہاں سے چل دیتا۔ گھر جا کر ناشتہ کرتا اور پھر سکول پہنچ جاتا۔ آدھی چھٹی پر میرا کھانا سکول بھیج دیا جاتا اور شام کو سکول بند ہونے پر گھر آ کے لالٹین تیل سے بھرتا اور داؤ جی کے یہاں آ جاتا۔ پھر رات کا کھانا بھی مجھے داؤ جی کے گھر ہی بھجوا دیا جاتا۔ جن ایام میں منصفی بند ہوتی، داؤ جی سکول کی گراؤنڈ میں آ کر بیٹھ جاتے اور میرا انتظار کرنے لگتے۔ وہاں سے گھر تک سوالات کی بوچھاڑ رہتی۔ سکول میں جو کچھ پڑھایا گیا ہوتا اس کی تفصیل پوچھتے، پھر مجھے گھر تک چھوڑ کر خود سیر کو چلے جاتے۔ ہمارے قصبہ میں منصفی کا کام مہینے میں دس دن ہوتا تھا اور بیس دن منصف صاحب بہادر کی کچہری ضلع میں رہتی تھی۔ یہ دس دن داؤ جی باقاعدہ کچہری میں گزارتے تھے۔ ایک آدھ عرضی آ جاتی تو دو چار روپے کما لیتے ورنہ فارغ اوقات میں وہاں بھی مطالعہ کا سلسلہ جاری رکھتے۔ بے بے کا کام اچھا تھا۔ اس کی کتر بیونت اور محلے والوں سے جوڑ توڑ اچھے مالی نتائج پیدا کرتی تھی۔ چونکہ پچھلے چند سالوں سے گھر کا بیشتر خرچ اس کی سلائی سے چلتا تھا، اس لئے وہ داؤ جی پر اور بھی حاوی ہو گئی تھی۔ ایک دن خلاف معمول داؤ جی کو لینے میں منصفی چلا گیا۔ اس وقت کچہری بند ہو گئی تھی اور داؤ جی نانبائی کے چھپر تلے ایک بینچ پر بیٹھے گڑ کی چائے پی رہے تھے۔ میں نے ہولے سے جا کر ان کا بستہ اٹھا لیا اور ان کے گلے میں بانہیں ڈال کر کہا "چلئے، آج میں آپ کو لینے آیا ہوں" انہوں نے میری طرف دیکھے بغیر چائے کے بڑے بڑے گھونٹ بھرے، ایک آنہ جیب سے نکال کر نانبائی کے حوالے کیا اور چپ چاپ میرے ساتھ چل دئے۔

میں نے شرارت سے ناچ کر کہا "گھر چلئے، بے بے کو بتاؤں گا کہ آپ چوری چوری یہاں چائے پیتے ہیں۔"

داؤ جی جیسے شرمندگی ٹالنے کو مسکرائے اور بولے "اس کی چائے بہت اچھی ہوتی ہے اور گڑ کی چائے سے تھکن بھی دور ہو جاتی ہے پھر یہ ایک آنہ میں گلاس بھر کے دیتا ہے۔ تم اپنی بے بے سے نہ کہنا، خواہ مخواہ ہنگامہ کھڑا کر دے گی۔ پھر انہوں نے خوفزدہ ہو کر کچھ مایوس ہو کر کہا "اس کی تو فطرت ہی ایسی ہے۔" اس دن مجھے داؤ جی پر رحم آیا۔ میرا جی ان کے لئے بہت کچھ کرنے کو چاہنے لگا مگر اس میں میں نے بے بے سے نہ کہنے کا ہی وعدہ کر کے ان کے کے لئے بہت کچھ کیا۔ جب اس واقعہ کا ذکر میں نے اماں سے کیا تو وہ بھی کبھی میرے ہاتھ اور کبھی نوکر کی معرفت داؤ جی کے ہاں دودھ، پھل اور چینی وغیرہ بھیجنے لگیں مگر اس رسد سے داؤ جی کو کبھی بھی کچھ نصیب نہ ہوا۔ ہاں بے بے کی نگاہوں میں میری قدر بڑھ گئی اور اس نے کسی حد تک مجھ سے رعایتی برتاؤ شروع کر دیا۔"

مجھے یاد ہے، ایک صبح میں دودھ سے بھرا تاملوٹ ان کے یہاں لے کر آیا تھا اور بے بے گھر نہ تھی۔ وہ اپنی سکھیوں کے ساتھ بابا ساون کے جوہڑ میں اشنان کرنے گئی تھی اور گھر میں صرف داؤ جی اور بی بی تھے۔ دودھ دیکھ کر داؤ جی نے کہا "چلو آج تینو ں چائے پئیں گے۔ میں دکان سے گڑ لے کر آتا ہوں، تم پانی چولہے پر رکھو۔" بی بی نے جلدی سے چولہا سلگایا۔ میں پتیلی میں پانی ڈال کر لایا اور پھر ہم دونوں وہیں چوکے پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ داؤ جی گڑ لے کر آ گئے تو انہوں نے کہا "تم دونوں اپنے اپنے کام پر بیٹھو چائے میں بناتا ہوں۔"چنانچہ بی بی مشین چلانے لگی اور میں ڈائریکٹ اِن ڈائریکٹ کی مشقیں لکھنے لگا۔ داؤ جی چولہا بھی جھونکتے جاتے تھے اور عادت کے مطابق مجھے بھی اونچے اونچے بتاتے جاتے تھے۔

گلیلیو نے کہا "زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔" گلیلیو نے دریافت کیا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ یہ نہ لکھ دینا کہ سورج کے گرد گھومتی ہے۔ پانی ابل رہا تھا داؤ جی خوش ہو رہے تھے۔ اسی خوشی میں جھوم جھوم کر وہ اپنا تازہ بنایا ہوا گیت گا رہے تھے۔ او گولو! او گولو! گلیلیو کی بات مت بھولنا، گلیلیو کی بات مت بھولنا۔ انہوں نے چائے کی پتی کھولتے ہوئے پانی میں ڈال دی۔ برتن ابھی تک چولہے پر ہی تھا اور داؤ جی ایک چھوٹے سے بچے کی طرح پانی کی گلب گل بل کے ساتھ گولو گلیلیو! گولو گلیلیو کئے جا رہے تھے، میں ہنس رہا تھا اور اپنا کام کئے جا رہا تھا، بی بی مسکرا رہی تھی اور مشین چلائے جاتی تھی اور ہم تینوں اپنے چھوٹے سے گھر میں بڑے ہی خوش تھے گویا سارے محلے بلکہ سارے قصبہ کی خوشیاں بڑے بڑے رنگین پروں والی پریوں کی طرح ہمارے گھر میں اتر آئی ہوں۔۔

اتنے میں دروازہ کھلا اور بے بے اندر داخل ہوئی۔ داؤ جی نے دروازہ کھلنے کی آواز پر پیچھے مڑ کر دیکھا اور ان کا رنگ فق ہو گیا۔ چمکتی ہوئی پتیلی سے گرم گرم بھاپ اٹھ رہی تھی۔ اس کے اندر چائے کے چھوٹے چھوٹے چھلاوے ایک دوسرے کے پیچھے شور مچاتے پھرتے تھے اور ممنوعہ کھیل رچانے والا بڈھا موقع پر پگڑا گیا۔ بے بے نے آگے بڑھ کر چولہے کی طرف دیکھا اور داؤ جی نے چوکے سے اٹھتے ہوئے معذرت بھرے لہجے میں کہا "چائے ہے!"


بے بے نے ایک دو ہتڑ داؤ جی کی کمر پر مارا اور کہا "بڈھے بروہا تجھے لاج نہیں آتی۔ تجھ پر بہار پھرے، تجھے یم سمیٹے، یہ تیرے چائے پینے کے دن ہیں۔ میں بیوہ گھر میں نہ تھی تو تجھے کسی کا ڈر نہ رہا۔ تیرے بھانویں میں کل کی مرتی آج مروں تیرا من راضی ہو۔ تیری آسیں پوری ہوں۔ کس مرن جوگی نے جنا اور کس لیکھ کی ریکھا نے میرے پلے باندھ دیاتجھے موت نہیں آتیاوں ہوں تجھے کیوں آئے گی" اس فقرے کی گردان کرتے ہوئے بے بے بھیڑنی کی طرح چوکے پر چڑھی کپڑے سے پتیلی پکڑ کر چولہے سے اٹھائی اور زمین پر دے ماری۔ گرم گرم چائے کے چھپاکے داؤ جی کی پنڈلیوں اور پاؤں پر گرے اور وہ "اوہ تیرا بھلا ہو جائے! او تیرا بھلا ہو جائے" کہتے وہاں سے ایک بچے کی طرح بھاگے اور بیٹھک میں گھس گئے۔ ان کے اس فرار بلکہ اندازِ فرار کو دیکھ کر میں اور بی بی ہنسے بنا نہ رہ سکے اور ہماری ہنسی کی آواز ایک ثانیہ کے لئے چاروں دیواروں سے ٹکرائی۔ میں تو خیر بچ گیا لیکن بے بے نے سیدھے جا کر بی بی کو بالوں سے پکڑ لیا اور چیخ کر بولی "میری سوت بڈھے سے تیرا کیا ناطہ ہے، بتا نہیں تو اپنی پران لیتی ہوں۔ تو نے اس کو چائے کی کنجی کیوں دی؟" بی بی بیچاری پھس پھس رونے لگی تو میں بھی اندر بیٹھک میں کھسک آیا۔ داؤ جی اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھے تھے اور اپنے پاؤں سہلا رہے تھے۔ پتہ نہیں انہیں اس حالت میں دیکھ کر مجھے پھر کیوں گدگدی ہوئی کہ میں الماری کے اندر منہ کر کے ہنسنے لگا، انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے پاس بلایا اور بولے "شکرِ کردگار کنم کہ گرفتارم بہ مصیبتے نہ کہ معصیتے۔

تھوڑی دیر رک کر پھر کہا "میں اس کے کتوں کا بھی کتا ہوں جس کے سرِ مُطہّر پر مکے کی ایک کم نصیب بڑھیا غلاظت پھینکا کرتی تھی۔"

میں نے حیرانی سے ان کی طرف دیکھا تو وہ بولے "آقائے نامدار کا ایک ادنیٰ حلقہ بگوش، گرم پانی کے چند چھینٹے پڑنے پر نالہ شیون کرے تو لعنت ہے اس کی زندگی پر۔ وہ اپنے محبوب کے طفیل نارِ جہنم سے بچائے۔ خدائے ابراہیمؑ مجھے جرأت عطا کرے، مولائے ایوبؑ مجھے صبر کی نعمت دے۔"

میں نے کہا "داؤ جی آقائے نامدار کون؟"

تو داؤ جی کو یہ سن کر ذرا تکلیف ہوئی۔ انہوں نے شفقت سے کہا "جان پدر یوں نہ پوچھا کر۔ میرے استاد، میرے حضرت کی روح کو مجھ سے بیزار نہ کر، وہ میرے آقا بھی تھے، میرے باپ بھی اور میرے استاد بھی، وہ تیرے دادا استاد ہیںدادا استاد" اور انہوں نے دونوں ہاتھ سینے پر رکھ لئے۔ آقائے نامدار کا لفظ اور کوتاہ و قسمتِ مجوزہ کی ترکیب میں نے پہلی بار داؤ جی سے سنی۔ یہ واقعہ سنانے میں انہوں نے کنتی ہی دیر لگا دی کیونکہ ایک ایک فقرے کے بعد فارسی کے بیشمار نعتیہ اشعار پڑھتے تھے اور بار بار اپنے استاد کی روح کو ثواب پہنچاتے تھے۔"

جب وہ یہ واقعہ بیان کر چکے تو میں نے بڑے ادب سے پوچھا "داؤ جی آپ کو اپنے استاد صاحب اس قدر اچھے کیوں لگتے تھے اور آپ ان کا نام لے کر ہاتھ کیوں جوڑتے ہیں اپنے آپ کو ان کا نوکر کیوں کہتے ہیں؟"

داؤ جی نے مسکرا کر کہا "جو طویلے کے ایک خر کو ایسا بنا دے کہ لوگ کہیں یہ منشی چنت رام جی ہیں۔ وہ مسیحا نہ ہو، آقا نہ ہو تو پھر کیا ہو؟"

میں چارپائی کے کونے سے آہستہ آہستہ پھسل کر بستر میں پہنچ گیا اور چاروں طرف رضائی لپیٹ کر داؤ جی کی طرف دیکھنے لگا جو سر جھکا کر کبھی اپنے پاؤں کی طرف دیکھتے تھے اور کبھی پنڈلیاں سہلاتے تھے۔ چھوٹے چھوٹے وقفوں کے بعد ذرا سا ہنستے اور پھر خاموش ہو جاتے۔

کہنے لگے "میں تمہارا کیا تھا اور کیا ہو گیاحضرت مولانا کی پہلی آواز کیا تھی! میری طرف سر مبارک اٹھا کر فرمایا، چوپال زادے ہمارے پاس آؤ، میں لاٹھی ٹیکتا ان کے پاس جا کھڑا ہوا۔ چھتہ پٹھار اور دیگر دیہات کے لڑکے نیم دائرہ بنائے ان کے سامنے بیٹھے سبق یاد کر رہے تھے۔ ایک دربار لگا تھا اور کسی کو آنکھ اوپر اٹھانے کی ہمت نہ تھیمیں حضور کے قریب گیا تو فرمایا، بھئی ہم تم کو روز یہاں بکریاں چراتے دیکھتے ہیں۔ انہیں چرنے چگنے کے لئے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جایا کرو اور کچھ پڑھ لیا کروپھر حضور نے میری عرض سنے بغیر پوچھا کہ کیا نام ہے تمہارا؟" میں نے گنواروں کی طرح کہا چنتومسکرائےتھوڑا سا ہنسے بھی فرمانے لگے پورا نام کیا ہے؟ پھر خود ہی بولے چنتو رام ہو گامیں نے سر ہلا دیاحضور کے شاگرد کتاب سے نظریں چرا کر میری طرف دیکھ رہے تھے۔ میرے گلے میں کھدر کا لمبا سا کرتہ تھا۔ پائجامہ کی بجائے صرف لنگوٹ بندھا تھا۔ پاؤں میں ادھوڑی کے موٹے جوتے اور سر پر سرخ رنگ کا جانگیہ لپیٹا ہوا تھا۔ بکریاں میری"

میں نے بات کاٹ کر پوچھا "آپ بکریاں چراتے تھے داؤ جی؟"

"ہاں ہاں " وہ فخر سے بولے "میں گڈریا تھا اور میرے باپ کی بارہ بکریاں تھیں۔"

حیرانی سے میرا منہ کھلا رہ گیا اور میں نے معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کے لئے جلدی سے پوچھا۔ "اور آپ سکول کے پاس بکریاں چرایا کرتے تھے۔"داؤ جی نے کرسی چارپائی کے قریب کھینچ لی اور اپنے پاؤں پائے پر رکھ کر بولے "جان پدر اس زمانے میں تو شہروں میں بھی سکول نہیں ہوتے تھے، میں گاؤں کی بات کر رہا ہوں۔ آج سے چوہتر برس پہلے کوئی تمہارے ایم بی ہائی سکول کا نام بھی جانتا تھا؟ وہ تو میرے آقا کو پڑھانے کا شوق تھا۔ ارد گرد کے لوگ اپنے لڑکے چار حرف پڑھنے کو ان کے پاس بھیج دیتےان کا سارا خاندان زیورِ تعلیم سے آراستہ اور دینی اور دنیوی نعمتوں سے مالا مال تھا۔ والد ان کے ضلع بھر کے ایک ہی حکیم اور چوٹی کے مبلغ تھے۔ جدِ امجد مہاراجہ کشمیر کے میر منشی۔ گھر میں علم کے دریا بہتے تھے، فارسی، عربی، جبر و مقابلہ، اقلیدس، حکمت اور علم ہیئت ان کے گھر کی لونڈیاں تھیں۔ حضور کے والد کو دیکھنا مجھے نصیب نہیں ہوا لیکن آپ کی زبانی ان کے تبحرِ علمی کی سب داستانیں سنیں، شیفتہ اور حکیم مومن خاں مومن سے ان کے بڑے مراسم تھے اور خود مولانا کی تعلیم دلی میں مفتی آزردہ مرحوم کی نگرانی میں ہوئی تھی"

مجھے داؤجی کے موضوع سے بھٹک جانے کا ڈر تھا اس لئے میں نے جلدی سے پوچھا۔ "پھر آپ نے حضرت مولانا کے پاس پڑھنا شروع کر دیا۔" "ہاں" داؤ جی اپنے آپ سے باتیں کرنے لگے، "ان کی باتیں ہی ایسی تھیں۔ ان کی نگاہیں ہی ایسی تھیں جس کی طرف توجہ فرماتے تھے، بندے سے مولا کر دیتے تھے۔ مٹی کے ذرے کو اکسیر کی خاصیت دے دیتے تھےمیں تو ا پنی لاٹھی زمین پر ڈال کر ان کے پاس بیٹھ گیا۔ فرمایا، اپنے بھائیوں کے بوریے پر بیٹھو۔ میں نے کہا جی اٹھارہ برس دھرتی پر بیٹھے گزر گئے اب کیا فرق پڑتا ہے۔ پھر مسکرا دئے اپنے چوبی صندوقچے سے حروف ابجد کا ایک مقوا نکالا اور بولے الف۔ بے۔ بے۔ تےسبحان اللہ کیا آواز تھی۔ کس شفقت سے بو لے تھے، کس لہجہ میں فرما رہے تھے الف، بے، پے، ت " اور جی داؤ جی ان حرفوں کا ورد کرتے ہوئے اپنے ماضی میں کھو گئے۔

تھوڑی دیر بعد انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ اٹھا کر کہا۔ "ادھر رہٹ تھا اور اس کے ساتھ مچھلیوں کا حوض۔" پھر انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ ہوا میں لہرا کر کہا "اور اس طرف مزارعین کے کوٹھے، دونوں کے درمیان حضور کا باغیچہ تھا اور سامنے ان کی عظیم الشان حویلی۔ اسی باغیچے میں ان کا مکتب تھا۔ درِ فیض کھلا تھا جس کا جی چاہے آئے، نہ مذہب کی قید نہ ملک کی پابندی"

میں نے کافی دیر سوچنے کے بعد با ادب با ملاحظہ قسم کا فقرہ تیار کر کے پوچھا "حضرت مولانا کا اسم گرامی شریف کیا تھا؟" تو پہلے انہوں نے میرا فقرہ ٹھیک کیا اور پھر بولے۔ "حضرت اسماعیل چشتی فرماتے تھے کہ ان کے والد ہمیشہ انہیں جانِ جاناں کہہ کر پکارتے تھے۔ کبھی جانِ جاناں کی رعایت سے مظہر جانِ جاناں بھی کہہ دیتے تھے۔

میں ایسی دلچسپ کہانی سننے کا ابھی اور خواہش مند تھا کہ داؤ جی اچانک رک گئے اور بولے۔ سب سڈی ایری سسٹم کیا تھا؟ ان انگریزوں کا برا ہو یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت میں آئے یا ملکہ وکٹوریہ کا فرمان لے، سارے معاملے میں کھنڈت ڈال دیتے ہیں۔ سوا کے پہاڑے کی طرح میں نے سب سڈی ایری سسٹم کا ڈھانچہ ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ پھر انہوں نے میز سے گرائمر کی کتاب اٹھائی اور بولے "باہر جا کر دیکھ کے آ کہ تیری بے بے کا غصہ کم ہوا یا نہیں۔" میں دوات میں پانی ڈالنے کے بہانے باہر گیا تو بے بے کو مشین چلاتے اور بی بی کو چکوا صاف کرتے پایا۔"

داؤ جی کی زندگی میں بے بے والا پہلو بڑا ہی کمزور تھا۔ جب وہ دیکھتے کہ گھر میں مطلع صاف ہے اور بے بے کے چہرے پر کوئی شکن نہیں ہے، تو وہ پکار کر کہتے "سب ایک ایک شعر سناؤ" پہلے مجھی سے تقاضا ہوتا اور میں چھوٹتے ہی کہتا:

لازم تھا کہ دیکھو میرا رستہ کوئی دن اور
تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور


اس پر وہ تالی بجاتے اور کہتے "اولین شعر نہ سنوں گا، اردو کا کم سنوں گا اور مسلسل نظم کا ہر گز نہ سنوں گا۔"

بی بی بھی میر ی طرح اکثر اس شعر سے شروع کرتی۔

شنیدم کہ شاپور دم در کشید
چو خسرو بر آتش قلم در کشید

اس پر داؤ جی ایک مرتبہ پھر آرڈر آرڈر پکارتے

بی بی قینچی رکھ کر کہتی:

شورے شد و از خوابِ عدم چشم کشوریم
دیدیم کہ باقی ست شبِ فتنہ غنودیم

داؤ جی شاباش تو ضرور کہہ دیتے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتے "بیٹا یہ شعر تُو کئی مرتبہ سنا چکی ہے۔"

پھر وہ بے بے کی طرف دیکھ کر کہتے۔ "بھئی آج تمہاری بے بے بھی ایک سنائے گی" مگر بے بے روکھا سا جواب دیتی "مجھے نہیں آتے شیر، کبت۔"

اس پر داؤ جی کہتے۔ "گھوڑیاں ہی سنا دے۔ اپنے بیٹوں کے بیاہ کی گھوڑیاں ہی گا دے۔

اس پر بے بے کے ہونٹ مسکرانے کو کرتے لیکن وہ مسکرا نہ سکتی اور داؤ جی عین عورتوں کی طرح گھوڑیاں گانے لگتے۔ ان کے درمیان کبھی امی چند اور کبھی میرا نام ٹانک دیتے۔ پھر کہتے "میں اپنے اس گولو مولو کی شادی پر سرخ پگڑی باندھوں گا۔ برات میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ساتھ چلوں گا اور نکاح نامے میں شہادت کے دستخط کروں گا۔ میں دستور کے مطابق شرما کر نگاہیں نیچی کر لیتا تو وہ کہتے۔ "پتہ نہیں اس ملک کے کسی شہر میں میری چھوٹی بہو پانچویں یا چھٹی جماعت میں پڑھ رہی ہو گی، ہفتہ میں ایک دن لڑکیوں کی خانہ داری ہوتی ہے۔ اس نے تو بہت سی چیزیں پکانی سیکھ لی ہو گی۔ پڑھنے میں بھی ہوشیار ہو گی۔ اس بدھو کو تو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ مادیاں گھوڑیاں ہوتی ہے یا مرغی۔ وہ تو فر فر سب کچھ سناتی ہو گی۔ میں تو اس کو فارسی پڑھاؤں گا پہلے اس کو خطاطی کی تعلیم دوں گا پھر خطِ شکستہ سکھاؤں گا۔ مستورات کو خطِ شکستہ نہیں آتا۔ میں اپنی بہو کو سکھا دوں گاسن گولو! پھر میں تیرے پاس ہی رہو گا۔ میں اور میری بہو فارسی میں باتیں کریں گے۔ وہ بات بات پر بفرمائید بفرمائید کہے گی اور تو احمقوں کی طرح منہ دیکھا کرے گا۔ پھر وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر جھکتے "خیلے خوب خیلے خوب" کہتے۔ جانِ پدر چرا ایں قدر زحمت می کشیخوبیاد دارماور پتہ نہیں کیا کیا کچھ کہتے۔ بچارے داؤ جی! چٹائی پر اپنی چھوٹی سی دنیا بسا کر اس میں فارسی کے فرمان جاری کئے جاتے

ایک دن جب چھت پر دھوپ پر بیٹھے ہوئے وہ ایسی ہی دنیا بسا چکے تھے تو ہولے سے مجھے کہنے لگے۔ "جس طرح خدا نے تجھے ایک نیک سیرت بیوی اور مجھے سعادت مند بہو عطا کی ہے ویسے ہی وہ اپنے فضل سے میرے امی چند کو بھی دے۔"

اس کے خیالات مجھے کچھ اچھے نہیں لگتے، یہ سوانگ یہ مسلم لیگ یہ بیلچہ پارٹیاں مجھے پسند نہیں اور امی چند لاٹھی چلانا گٹکا کھیلنا سیکھ رہا ہے میری تو وہ کب مانے گا، ہاں خدائے بزرگ و برتر اس کو ایک نیک مومن سی بیوی دلا دے تو وہ اسے راہِ راست پر لے آئے گی۔

اس مومن کے لفظ پر مجھے بہت تکلیف ہوئی اور میں چپ سا ہو گیا۔ چپ محض اس لئے ہوا تھا کہ اگر میں نے منہ کھولا تو یقیناً ایسی بات نکلے گی جس سے داؤ جی کو بڑا دکھ ہو گامیری اور امی چند کی تو خیر باتیں ہی تھیں، لیکن بارہ جنوری کو بی بی کی برات سچ مچ آ گئی۔ جیجا جی رام پرتاب کے بارے میں داؤ جی مجھے بہت کچھ بتا چکے تھے کہ وہ بہت اچھا لڑکا ہے اور اس شادی کے بارے میں انہوں نے جو استخارہ کیا تھا اس پر وہ پورا اترتا ہے۔ سب سے زیادہ خوشی داؤ جی کو اس بات کی تھی کہ ان کے سمدھی فارسی کے استاد تھے اور کبیر پنتھی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ بارہ تاریخ کی شام کو بی بی وداع ہونے لگی تو گھر بھرمیں کہرام مچ گیا، بے بے زار و قطار رو رہی ہے امی چند آنسو بہا رہا ہے اور محلے کی عورتیں پھس پھس کر رہی ہیں۔ میں دیوار کے ساتھ لگا کھڑا ہوں اور داؤ جی میرے کندھے پر ہاتھ رکھے کھڑے ہیں اور بار بار کہہ رہے ہیں آج زمین کچھ میرے پاؤ ں نہیں پکڑتی۔ میں توازن قائم نہیں رکھ سکتا۔ جیجا جی کے باپ بولے۔ "منشی جی اب ہمیں اجازت دیجئے" تو بی بی پچھاڑ کر گر پڑی۔ اسے چارپائی پر ڈالا، عورتیں ہوا کرنے لگیں اور داؤ جی میرا سہارا لے کر اس کی چارپائی کی طرف چلے۔ انہوں نے بی بی کو کندھے سے پکڑ کر اٹھایا اور کہا "یہ کیا ہوا بیٹا۔ اٹھو! یہ تو تمہاری نئی اور خود مختار زندگی کی پہلی گھڑی ہے۔ اسے یوں منحوس نہ بناؤ۔ بی بی اس طرح دھاڑیں مارتے ہوئے داؤ جی سے لپٹ گئی، انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا "قرة العین میں تیرا گنہگار ہوں کہ تجھے پڑھا نہ سکا۔ تیرے سامنے شرمندہ ہوں کہ تجھے علم کا جہیز نہ دے سکا۔ تو مجھے معاف کر دے گی اور شاید برخوردار رام پرتاب بھی لیکن میں اپنے کو معاف نہ کر سکوں گا۔ میں خطا کار ہوں اور میرا خجل سر تیرے سامنے خم ہے۔" یہ سن کر بی بی اور بھی زور زور سے رونے لگی اور داؤ جی کی آنکھوں سے کتنے سارے موٹے موٹے آنسوؤں کے قطرے ٹوٹ کر زمین پر گرے۔ ان کے سمدھی نے آگے بڑھ کر کہا۔ "منشی جی آپ فکر نہ کریں میں بیٹی کو کریما پڑھا دوں گا" داؤ جی ادھر پلٹے اور ہاتھ جوڑ کر کہا۔ "کریما تو یہ پڑھ چکی ہے، گلستان بوستان بھی ختم کر چکا ہوں، لیکن میری حسرت پوری نہیں ہوئی۔" اس پر وہ ہنس کر بولے۔ "ساری گلستان تو میں نے بھی نہیں پڑھی، جہاں عربی آتی تھی، آگے گزر جاتا تھا’داؤ جی اسی طرح ہاتھ جوڑے کتنی دیر خاموش کھڑے رہے، بی بی نے گوٹہ لگی سرخ رنگ کی ریشمی چادر سے ہاتھ نکال کر پہلے امی چند اور پھر میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور سکھیوں کے بازوؤں میں ڈیوڑھی کی طرف چل دی۔ داؤ جی میرا سہارا لے کر چلے تو انہوں نے مجھے اپنے ساتھ زور سے بھینچ کر کہا۔ "یہ لو یہ بھی رو رہا ہے۔ دیکھو ہمارا سہارا بنا پھرتا ہے۔ او گولواو مردم دیدہتجھے کیا ہو گیاجانِ پدر تو کیوں"

اس پر ان کا گلا رندھ گیا اور میرے آنسو بھی تیز ہو گئے۔ برات والے تانگوں اور اکوں پر سوار تھے۔ بی بی رتھ میں جا رہی تھی اور اس کے پیچھے امی چند اور میں اور ہمارے درمیان میں دا ؤ جی پیدل چل رہے تھے۔ اگر بی بی کی چیخ ذرا زور سے نکل جاتی تو داؤ جی آگے بڑھ کر رتھ کا پردہ اٹھا تے او ر کہتے۔ "لا حول پڑھو بیٹا، لاحول پڑھو۔"اور خود آنکھوں پر رکھے رکھے ان کی پگڑی کا شملہ بھیگ گیا تھا۔

رانو ہمارے محلے کا کثیف سا انسان تھا، بدی اور کینہ پروری اس کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھر ی تھی۔ وہ باڑہ جس کا میں نے ذکر کیا ہے، اسی کا تھا۔ اس میں بیس تیس بکریاں اور گائیں تھیں جن کا دودھ صبح و شام رانو گلی کے بغلی میدان میں بیٹھ کر بیچا کرتا تھا۔ تقریباً سارے محلے والے اسی سے دودھ لیتے تھے اور اس کی شرارتوں کی وجہ سے دبتے بھی تھے۔ ہمارے گھر کے آگے سے گزرتے ہوئے وہ یونہی شوقیہ لاٹھی زمین پر بجا کر داؤ جی کو "پنڈتا جے رام جی کی "کہہ کر سلام کیا کرتا۔


داؤ جی نے اسے کئی مرتبہ سمجھایا بھی کہ وہ پنڈت نہیں ہیں معمولی آدمی ہیں کیونکہ پنڈت ان کے نزدیک بڑے پڑھے لکھے اور فاضل آدمی کو کہا جا سکتا تھا لیکن رانو نہیں مانتا تھا وہ اپنی مونچھ کو چبا کر کہتا۔ "ارے بھئی جس کے سر پر بودی (چٹیا) ہو وہی پنڈت ہوتا ہے" چوروں یاروں سے اس کی آشنائی تھی شام کو اس کے باڑے میں جوا بھی ہوتا اور گندی اور فحش بولیوں کا مشاعرہ۔ بی بی کے جانے کے ایک دن بعد جب میں اس سے دودھ لینے گیا تو اس نے شرارت سے آنکھ میچ کر کہا۔ "مورنی تو چلی گئی بابو اب تو اس گھر میں رہ کر کیا لے گا۔" میں چپ رہا تو اس نے جھاگ والے دودھ میں ڈبہ پھیرتے ہوئے کہا۔ "گھر میں گنگا بہتی تھی سچ بتا کہ غوطہ لگایا کہ نہیں۔" مجھے اس بات پر غصہ آگیا اور میں نے تاملوٹ گھما کر اس کے سر پر دے مارا۔ اس ضربِ شدید سے خون وغیرہ تو برآمد نہ ہوا لیکن وہ چکرا کر تخت پر گرپڑا اور میں بھاگ گیا۔ داؤ جی کو سارا واقعہ سنا کر میں دوڑا دوڑا اپنے گھر گیا اور ابا جی سے ساری حکایت بیان کی۔ ان کی بدولت رانو کی تھانہ میں طلبی ہوئی اور حوالدار صاحب نے ہلکی سی گو شمالی کے بعد اسے سخت تنبیہ کر کے چھوڑ دیا۔ اس دن کے بعد رانو دا ؤ جی پر آتے جاتے طرح طرح کے فقرے کسنے لگا۔ وہ سب سے زیادہ مذاق ان کی بودی کا اڑایا کرتا تھا اور واقعی داؤ جی کے فاضل سر پر وہ چپٹی سی بودی ذرا اچھی نہ لگتی تھی۔ مگر وہ کہتے تھے۔ "یہ میری مرحوم ماں کی نشانی ہے اور مجھے اپنی زندگی کی طرح عزیز ہے۔ وہ اپنی آغوش میں میرا سر رکھ کر اسے دہی سے دھوتی تھی اور کڑوا تیل لگا کر چمکاتی تھی۔ گو میں نے حضرت مولانا کے سامنے کبھی بھی پگڑی اتارنے کی جسارت نہیں کی، لیکن وہ جانتے تھے اور جب میں دیال سنگھ میموریل ہائی سکول سے ایک سال کی ملازمت کے بعد چھٹیوں میں گاؤں آیا تو حضور نے پوچھا "شہر جا کر چوٹی تو نہیں کٹوا دی؟" تو میں نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر وہ بہت خوش ہوئے اور فرمایا تم سا سعادت مند بیٹا کم ماؤں کو نصیب ہوتا ہے اور ہم سا خوش قسمت استاد بھی خال خال ہو گا جسے تم ایسے شاگردوں کو پڑھانے کا فخر حاصل ہوا ہو، میں نے ان کے پاؤں چھو کر کہا حضور آپ مجھے شرمندہ کرتے ہیں۔ یہ سب آپ کے قدموں کی برکت ہے، ہنس کر فرمانے لگے چنت رام ہمارے پاؤں نہ چھوا کرو بھلا ایسے لمس کا کیا فائدہ جس کا ہمیں احساس نہ ہو۔ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میں نے کہا اگر کوئی مجھے بتا دے تو سمندر پھاڑ کر بھی آپ کے لئے دوائی نکال لاؤں۔ میں اپنی زندگی کی حرارت حضور کی ٹانگوں کے لئے نذر کر دوں لیکن میرا بس نہیں چلتاخاموش ہو گئے اور نگاہیں اوپر اٹھا کر بولے خدا کو یہی منظور ہے تو ایسے ہی سہی۔ تم سلامت رہو کہ تمہارے کندھوں پر میں نے کوئی دس سال بعد سارا گاؤں دیکھ لیا ہے" داؤ جی گزرے ایام کی تہہ میں اترتے ہوئے کہہ رہے تھے۔

"میں صبح سویرے حویلی کی ڈیوڑھی میں جا کر آواز دیتا "خادم آ گیا" مستورات ایک طرف ہو جاتیں تو حضور صحن سے آواز دے کر مجھے بلاتے اور میں اپنی قسمت کو سراہتا ہاتھ جوڑے جوڑے ان کی طرف بڑھتا۔ پاؤں چھوتا اور پھر حکم کا انتظار کرنے لگتا، وہ دعا دیتے میرے والدین کی خیریت پوچھتے، گاؤں کا حال دریافت فرماتے اور پھر کہتے "لو بھئی چنت رام ان گناہوں کی گٹھڑی کو اٹھا لو" میں سبدِ گل کی طرح انہیں اٹھاتا اور کمر پر لاد کر حویلی سے باہر آ جاتا۔ کبھی فرماتے، ہمیں باغ کا چکر دو کبھی حکم ہوتا سیدھے رہٹ کے پاس لے چلو اور کبھی کبھار بڑی نرمی سے کہتے چنت رام تھک نہ جاؤ تو ہمیں مسجد تک لے چلو۔ میں نے کئی بار عرض کیا کہ حضور ہر روز مسجد لے جایا کروں گا مگر نہیں مانے یہی فرماتے رہے کہ کبھی جی چاہتا ہے تو تم سے کہہ دیتا ہوں۔ میں وضو کرنے والے چبوترے پر بٹھا کر ان کے ہلکے ہلکے جوتے اتارتا اور انہیں جھولی میں رکھ کر دیوار سے لگ کر بیٹھ جاتا۔ چبوترے سے حضور خود گھسٹ کر صف کی جانب جاتے تھے۔ میں نے صرف ایک مرتبہ انہیں اس طرح جاتے دیکھا تھا اس کے بعد جرأت نہ ہوئی۔ ان کے جوتے اتارنے کے بعد دامن میں منہ چھپا لیتا اور پھر اسی وقت سر اٹھاتا جب وہ میرا نام لے کر یاد فرماتے۔ واپسی پر میں قصبے کی لمبی لمبی گلیوں کا چکر کاٹ کر حویلی کو لوٹتا۔ تو فرماتے ہم جانتے ہیں چنت رام تم ہماری خوشنودی کے لئے قصبہ کی سیر کراتے ہو لیکن ہمیں بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ ایک تو تم پر لدا لدا پھرتا ہوں اور مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ایک ہما ہے دوسرے تمہارا وقت ضائع کرتا ہوں۔ اور حضور سے کون کہہ سکتا کہ آقا یہ وقت ہی میری زندگی کا نقطۂ عروج ہے اور یہ تکلیف ہی میری حیات کا مرکز ہے۔

اور حضور سے کون کہہ سکتا کہ آقا یہ وقت ہی ایک ہما ہے جس نے اپنا سایہ محض میرے لئے وقف کر دیا ہےجس دن میں نے سکندر نامہ زبانی یاد کر کے انہیں سنایا۔ اس قدر خوش ہوئے گویا ہفت اقلیم کی بادشاہی نصیب ہو گئی۔ دین و دنیا کی ہر دعا سے مجھے مالا مال کیا۔ دستِ شفقت میرے سر پر پھیرا اور جیب سے ایک روپیہ نکال کر انعام دیا۔ میں نے اسے حجرِ اسود جان کر بوسہ دیا۔ آنکھوں سے لگایا اور سکندر کا افسر سمجھ کر پگڑی میں رکھ لیا۔ دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر دعائیں دے رہے تھے اور فرما رہے تھے جو کام ہم سے نہ ہو سکا وہ تو نے کر دکھایا۔ تو نیک ہے خدا نے تجھے یہ سعادت نصیب کی۔ چنت رام تیرا مویشی چرانا پیشہ ہے تُو شاہ بطحا کا پیرو ہے اس لئے خدائے عز و جل تجھے برکت دیتا ہے وہ تجھے اور بھی برکت دے گا۔ تجھے اور کشائش میسر آئے گی"

داؤ جی یہ باتیں کرتے کرتے گھٹنوں پر سر رکھ کر خاموش ہو گئے۔

میرا امتحان قریب آ رہا تھا اور داؤ جی سخت ہوتے جا رہے تھے۔ انہوں نے میرے ہر فارغ وقت پر کوئی نہ کوئی کام پھیلا دیا تھا۔ ایک مضمون سے عہدہ برا ہوتا تو دوسرے کی کتابیں نکال کر سر پر سوار ہو جاتے تھے۔ پانی پینے اٹھتا تو سایہ کی طرح ساتھ ساتھ چلے آتے اور نہیں تو تاریخ کے سن ہی پوچھتے جاتے۔ شام کے وقت سکول پہنچنے کا انہوں نے وطیرہ بنا لیا تھا۔ ایک دن میں سکول کے بڑے دروازے سے نکلنے کی بجائے بورڈنگ کی راہ پر کھسک لیا تو انہوں نے جماعت کے کمرے کے سامنے آ کر بیٹھنا شروع کر دیا۔ میں چڑچڑا اور ضدی ہونے کے علاوہ بد زبان بھی ہو گیا تھا۔ داؤ جی کے بچے، گویا میرا تکیہ کلام بن گیا تھا اور کبھی کبھی جب ان کی یا ان کے سوالات کی سختی بڑھ جاتی تو میں انہیں کتے کہنے سے بھی نہ چوکتا۔ ناراض ہو جاتے تو بس اس قدر کہتے "دیکھ لے ڈومنی تو کیسی باتیں کر رہا ہے۔ تیری بیوی بیاہ کر لاؤں گا تو پہلے اسے یہی بتاؤں گا کہ جانِ پدر یہ تیرے باپ کو کتا کہتا تھا۔ " میری گالیوں کے بدلے وہ مجھے ڈومنی کہا کرتے تھے۔ اگر انہیں زیادہ دکھ ہوتا تو منہ چڑی ڈومنی کہتے۔ اس سے زیادہ نہ انہیں غصہ آتا تھا نہ دکھ ہوتا تھا۔ میرے اصلی نام سے انہوں نے کبھی نہیں پکارا میرے بڑے بھائی کا ذکر آتا تو بیٹا آفتاب، برخوردار آفتاب کہہ کر انہیں یاد کرتے تھے لیکن میرے ہر روز نئے نئے نام رکھتے تھے۔ جن میں گولو انہیں بہت مرغوب تھا۔ طنبورا دوسرے درجہ پر مسٹر ہونق اور اخفش اسکوائر ان سب کے بعد آتے تھے اور ڈومنی صرف غصہ کی حالت میں۔ کبھی کبھی میں ان کو بہت دق کرتا۔ وہ اپنی چٹائی پر بیٹھے کچھ پڑھ رہے ہیں، مجھے الجبرے کا ایک سوال دے رکھا ہے اور میں سارے جہان کی ابجد کو ضرب دے دے کر تنگ آ چکا ہوں تو میں کاپیوں اور کتابوں کے ڈھیر کو پاؤں سے پرے دھکیل کر اونچے اونچے گانے لگتا۔

تیرے سامنے بیٹھ کے رونا تے دکھ تینوں نیو دسنا

دا ؤ جی حیرانی سے میری طرف دیکھتے تو میں تالیاں بجانے لگتا اور قوالی شروع کر دیتا۔ نیوں نیوں نیوں دسنا۔ تے دکھ تینوں نیوں دسنادسنا دسنا دسناتینوں تینوں تینوں۔ سارے گاما رونا رونا سارے گاما رونا روناتے دیکھ تینوں نیوں دسنا۔ وہ عینک کے اوپر سے مسکراتے۔ میرے پاس آ کر کاپی اٹھاتے، صفحہ نکالتے اور تالیوں کے درمیان اپنا بڑا سا ہاتھ کھڑا کر دیتے۔

"سن بیٹا" وہ بڑی محبت سے کہتے "یہ کوئی مشکل سوال ہے! " جونہی وہ سوال سمجھانے کے لئے ہاتھ نیچے کرتے میں پھر تالیاں بجانے لگتا۔ "دیکھ پھر، میں تیرا داؤ نہیں ہو؟" وہ بڑے مان سے پوچھتے۔

"نہیں" میں منہ پھاڑ کر کہتا۔

"تو اور کون ہے ؟" وہ مایوس سے ہو جاتے۔

"وہ سچی سرکار" میں انگلی آسمان کی طرف کر کے شرارت سے کہتا۔ وہ سچی سرکار، وہ سب کا پالنے والابول بکرے سب کا والی کون؟"

وہ میرے پاس سے اٹھ کر جانے لگتے تو میں ان کی کمر میں ہاتھ ڈال دیتا "داؤ جی خفا ہو گئے کیا۔" وہ مسکرانے لگتے۔ "چھوڑ طنبورے! چھوڑ بیٹا! میں تو پانی پینے جا رہا تھامجھے پانی تو پی آنے دے۔

میں جھوٹ موٹ برامان کر کہتا۔ "لوجی جب مجھے سوال سمجھنا ہوا داؤ جی کو پانی یاد آگیا۔"

وہ آرام سے بیٹھ جاتے اور کاپی کھول کر کہتے۔ "اخفش اسکوائر جب تجھے چار ایکس کا مربع نظر آ رہا تھا تو تو نے تیسرا فارمولا کیوں نہ لگایا اور اگر ایسا نہ بھی کرتا تو"اور اس کے بعد پتہ نہیں داؤ جی کتنے دن پانی نہ پیتے۔


فروری کے دوسرے ہفتہ کی بات ہے۔ امتحان میں کل ڈیڑھ مہینہ رہ گیا تھا اور مجھ پر آنے والے خطرناک وقت کا خوف بھوت بن کر سوار ہو گیا تھا۔ میں نے خود اپنی پڑھائی پہلے سے تیز کر دی تھی اور کافی سنجیدہ ہو گیا تھا لیکن جیومیٹری کے مسائل میری سمجھ میں نہ آتے تھے۔ داؤ جی نے بہت کوشش کی لیکن بات نہ بنی۔ آخر ایک دن انہوں نے کہا کُل باون پراپوزیشنیں ہیں زبانی یاد کر لے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ چنانچہ میں انہیں رٹنے میں مصروف ہو گیا لیکن جو پراپوزیشن رات کو یاد کرتا صبح کو بھول جاتا۔ میں دل برداشتہ ہو کر ہمت چھوڑ سی بیٹھا۔ ایک رات داؤ جی مجھ سے جیومیٹری کی شکلیں بنوا کر اور مشقیں سن کر اٹھے تو وہ بھی کچھ پریشان سے ہو گئے تھے۔ میں بار بار اٹکا تھا اور انہیں بہت کوفت ہوئی تھی۔ مجھے سونے کی تاکید کر کے وہ اپنے کمرے میں چلے گئے تو میں کاپی پینسل لے کر پھر بیٹھ گیا اور رات کے ڈیڑھ بجے تک لکھ لکھ کر رٹا لگاتا رہا مگر جب کتاب بند کر کے لکھنے لگتا تو چند فقروں کے بعد اٹک جاتا۔ مجھے داؤ جی کا مایوس چہرہ یاد کر کے اور اپنی حالت کا اندازہ کر کے رونا آگیا اور میں باہر صحن میں آ کر سیڑھیوں پر بیٹھ کے سچ مچ رونے لگا، گھٹنوں پر سر رکھے رو رہا تھا اور سردی کی شدت سے کانپ رہا تھا۔ اسی طرح بیٹھے بیٹھے کوئی ڈیڑھ گھنٹہ گزر گیا تو میں نے داؤ جی کی عزت بچانے کے لئے یہی ترکیب سوچی کہ ڈیوڑھی کا دروازہ کھول کر چپکے سے نکال جاؤں اور پھر واپس نہ آؤں۔ جب یہ فیصلہ کر چکا اور عملی قدم آگے بڑھانے کے لئے سر اوپر اٹھایا تو داؤ جی کمبل اوڑھے میرے پاس کھڑے تھے۔ انہوں نے مجھے بڑے پیار سے اپنے ساتھ لگایا تو سسکیوں کا لامتناہی سلسلہ صحن میں پھیل گیا۔ داؤ جی نے میرا سر چوم کر کہا۔ "لے بھئی طنبورے میں تو یوں نہ سمجھتا تھا تو تو بہت ہی کم ہمت نکلا۔" پھر انہوں نے مجھے اپنے ساتھ کمبل میں لپیٹ لیا اور بیٹھک میں لے آئے۔ بستر میں بٹھا کر انہوں نے میرے چاروں طرف رضائی لپیٹی اور خود پاؤں اوپر کر کے کرسی پر بیٹھ گئے۔

انہوں نے کہا "اقلیدس چیز ہی ایسی ہے۔ تو اس کے ہاتھوں یوں نالا ں ہے، میں اس سے اور طرح تنگ ہوا تھا۔ حضرت مولانا کے پاس جبر و مقابلہ اور اقلیدس کی جس قدر کتابیں تھیں انہیں میں اچھی طرح پڑھ کر اپنی کاپیوں پر اتار چکا تھا۔ کوئی ایسی بات نہیں تھی جس سے الجھن ہوتی۔ میں نے یہ جانا کہ ریاضی کا ماہر ہو گیا ہوں لیکن ایک رات میں اپنی کھاٹ پر پڑا متساوی الساقلین کے ایک مسئلہ پر غور کر رہا تھا کہ بات الجھ گئی۔ میں نے دیا جلا کر شکل بنائی اور اس پر غور کرنے لگا۔ جبر و مقابلہ کی رو سے اس کا جواب ٹھیک آتا تھا لیکن علمِ ہندسہ سے پایۂ ثبوت کو نہ پہنچتا تھا۔ میں ساری رات کاغذ سیاہ کرتا رہا لیکن تیری طرح سے رویا نہیں۔ علی الصبح میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے اپنے دستِ مبارک سے کاغذ پر شکل کھینچ کر سمجھانا شروع کیا لیکن جہاں مجھے الجھن ہوئی تھی وہیں حضرت مولانا کی طبعِ رسا کو بھی کوفت ہوئی۔ فرمانے لگے۔ "چنت رام اب ہم تم کو نہیں پڑھا سکتے۔ جب استاد اور شاگرد کا علم ایک سا ہو جائے تو شاگرد کو کسی اور معلم کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ " میں نے جرأت کر کے کہہ دیا کہ حضور اگر کوئی اور یہ جملہ کہتا تو میں اسے کفر کے مترادف سمجھتا لیکن آپ کا ہر حرف اور ہر شوشہ میرے لئے حکمِ ربانی سے کم نہیں۔ اس لئے خاموش ہو ں۔ بھلا آقائے غزنوی کے سامنے ایاز کی مجال! لیکن حضور مجھے بہت دکھ ہوا ہے۔ فرمانے لگے "تم بے حد جذباتی آدمی ہو۔ بات تو سن لی ہوتی، میں نے سر جھکا کر کہا ارشاد! فرمایا "دلی میں حکیم ناصر علی سیستانی علمِ ہندسہ کے بڑے ماہر ہیں اگر تم کو اس کا ایسا ہی شوق ہے تو ان کے پاس چلے جاؤ اور اکتسابِ علم کرو۔ ہم ان کے نام رقعہ لکھ دیں گے۔ میں نے رضا مندی ظاہر کی تو فرمایا اپنی والدہ سے پوچھ لینا اگر وہ رضامند ہوں تو ہمارے پاس آناوالدہ مرحومہ سے پوچھا اور ان سے اپنی مرضی کے مطابق جواب پانا انہونی بات تھی۔ چنانچہ میں نے ان سے نہیں پوچھا۔

حضور پوچھتے تو میں دروغ بیانی سے کام لیتا کہ گھر کی لپائی تپائی کر رہا ہوں جب فارغ ہوں گا تو والدہ سے عرض کروں گا۔"

چند ایام بڑے اضطرار کی حالت میں گزرے۔ میں دن رات اس شکل کو حل کرنے کی کوشش کرتا مگر صحیح جواب برآمد نہ ہوتا۔ اس لا ینحل مسئلہ سے طبیعت میں اور انتشار پیدا ہوا۔ میں دلی جانا چاہتا تھا لیکن حضور سے اجازت مل سکتی تھی نہ رقعہ، وہ والدہ کی رضامندی کے بغیر اجازت دینے والے نہ تھے اور والدہ اس بڑھاپا میں کیسے آمادہ ہو سکتی تھیںایک رات جب سارا گاؤں سو رہا تھا اور میں تیری طرح پریشان تھا تو میں نے اپنی والدہ کی پٹاری سے اس کی کل پونجی دو روپے چرائے اور نصف اس کے لئے چھوڑ کر گاؤں سے نکل گیا۔ خدا مجھے معاف کرے اور میرے دونوں بزرگوں کی روحوں کو مجھ پر مہربان رکھے! واقعی میں نے بڑا گناہ کیا اور ابد تک میرا سر ان دونوں کرم فرماؤں کے سامنے ندامت سے جھکا رہے گاگاؤں سے نکل کر میں حضور کی حویلی کے پیچھے ان کی مسند کے پاس پہنچا جہاں بیٹھ کر آپ پڑھاتے تھے۔ گھٹنوں کے بل ہو کر میں نے زمین کو بوسہ دیا اور دل میں کہا۔ "بد قسمت ہوں، بے اجازت جا رہا ہوں لیکن آپ کی دعاؤں کا عمر بھر محتاج رہوں گا۔ میرا قصور معاف نہ کیا تو آ کے قدموں میں جان دے دوں گا۔ اتنا کہہ کر اٹھا اور لاٹھی کندھے پر رکھ کر میں وہاں سے چل دیاسن رہا ہے؟" داؤ جی نے میری طرف غور سے دیکھ کر پوچھا۔

رضائی کے بیچ خارپشت بنے، میں نے آنکھیں جھپکائیں اور ہولے سے کہا۔ "جی؟"

داؤ جی نے پھر کہنا شروع کیا "قدرت نے میری کمال مدد کی۔ ان دنوں جاکھل جنید سرسہ حصار والی پٹڑی بن رہی تھی۔ یہی راستہ سیدھا دلی کو جاتا تھا اور یہیں مزدوری ملتی تھی۔ ایک دن میں مزدوری کرتا اور ایک دن چلتا، اس طرح تائیدِ غیبی کے سہارے سولہ دن میں دلی پہنچ گیا۔ منزل مقصود تو ہاتھ آ گئی تھی لیکن گوہرِ مقصود کا سراغ نہ ملتا تھا۔ جس کسی سے پوچھتا حکیم ناصر علی سیستانی کا دولت خانہ کہاں ہے، نفی میں جواب ملتا۔ دو دن ان کی تلاش جاری رہی لیکن پتہ نہ پا سکا۔ قسمت یاور تھی صحت اچھی تھی۔ انگریزوں کے لئے نئی کوٹھیاں بن رہی تھیں۔ وہاں کام پر جانے لگا۔ شام کو فارغ ہو کر حکیم صاحب کا پتہ معلوم کرتا اور رات کے وقت ایک دھرم شالہ میں کھیس پھینک کر گہری نیند سو جاتا۔ مثل مشہور ہے جوئندہ یابندہ! آخر ایک دن مجھے حکیم صاحب کی جائے رہائش معلوم ہو گئی، وہ پتھر پھوڑوں کے محلہ کی ایک تیرہ و تاریک گلی میں رہتے تھے شام کے وقت میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں فروکش تھے اور چند دوستوں سے اونچے اونچے گفتگو ہو رہی تھی۔ میں جوتے اتار کر دہلیز کے اندر کھڑا ہو گیا۔ ایک صاحب نے پوچھا۔"کون ہے؟" میں نے سلام کر کے کہا۔ "حکیم صاحب سے ملنا ہے۔" حکیم صاحب دوستوں کے حلقہ میں سر جھکائے بیٹھے تھے اور ان کی پشت میری طرف تھی۔ اسی طرح بیٹھے بولے "اسم گرامی" میں نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔ "پنجاب سے آیا ہوں اور " میں بات پوری بھی نہ کرپا یا تھا کہ زور سے بولے "اوہو! چنت رام ہو؟" میں کچھ جواب نہ دے سکا۔ فرمانے لگے۔ "مجھے اسماعیل کا خط ملا ہے لکھتا ہے شاید چنت رام تمہارے پاس آئے۔ ہمیں بتائے بغیر گھر سے فرار ہو گیا ہے اس کی مدد کرنا۔ " میں اسی طرح خاموش کھڑا رہا تو پاٹ دار آواز میں بولے "میاں اندر آ جاؤ کیا چپ کا روزہ رکھا ہے؟" میں ذرا آگے بڑھا تو بھی میری طرف نہ دیکھا اور ویسے ہی عروسِ نو کی طرح بیٹھے رہے۔ پھر قدرے تحکمانہ انداز میں کہا۔ "برخوردار بیٹھ جاؤ۔ میں وہیں بیٹھ گیا تو اپنے دوستوں سے فرمایا، بھئی ذرا ٹھہرو مجھے اس سے دو دو ہاتھ کر لینے دو۔ پھر حکم ہوا بتاؤ ہندسہ کا کونسا مسئلہ تمہاری سمجھ میں نہیں آتا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا تو انہوں نے اسی طرح کندھوں کی طرف اپنے ہاتھ بڑھائے اور آہستہ آہستہ کُرتا یوں اوپر کھینچ لیا کہ ان کی کمر برہنہ ہو گئی۔ پھر فرمایا۔ "بناؤ اپنی انگلی سے میری کمر پر ایک متساوی الساقین۔" مجھ پر سکتہ کا عالم طاری تھا۔ نہ آگے بڑھنے کی ہمت تھی نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت۔ ایک لمحہ کے بعد بولے، میاں جلدی کرو۔ نابینا ہوں۔ کاغذ قلم کچھ نہیں سمجھتا۔ میں ڈرتے ڈرتے آگے بڑھا اور ان کی چوڑی چکلی کمر پر ہانپتی ہوئی انگلیوں سے متساوی الساقین بنانے لگا۔ جب وہ غیر مرئی شکل بن چکی تو بولے اب اس نقطہ"س" سے خط "ب ج" پر عمود گراؤ۔ ایک تو میں گھبرایا ہوا تھا دوسرے وہاں کچھ نہ آتا تھا۔ یونہی اٹکل سے میں نے ایک مقام پر انگلی رکھ کر عمود گرانا چاہا تو تیزی سے بولے ہے ہے کیا کرتے ہو یہ نقطہ ہے کیا؟

پھر خود ہی بولے آہستہ آہستہ عادی ہو جاؤ گے۔ وہ بول رہے تھے اور میں مبہوت بیٹھا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ ابھی ان کے آخری جملے کے ساتھ نور کی لکیر متساوی الساقین بن کر ان کی کمر پر ابھر آئیں گی۔" پھر داؤ جی دلی کے دنوں میں ڈوب گئے۔ ان کی آنکھیں کھلی تھیں وہ میری طرف دیکھ رہے تھے لیکن مجھے نہیں دیکھ رہے تھے۔ میں نے بے چین ہو کر پوچھا۔ "پھر کیا ہوا داؤ جی؟"انہوں نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا "رات بہت گزر چکی ہے اب تو سو جا پھر بتاؤں گا۔" میں ضدی بچے کی طرح ان کے پیچھے پڑ گیا تو انہوں نے کہا۔ "پہلے وعدہ کر کہ آئندہ مایوس نہیں ہو گا اور ان چھوٹی چھوٹی پراپوزیشنوں کو پتاشے سمجھے گا" میں نے جواب دیا۔ "حلوہ سمجھوں گا آپ فکر نہ کریں" انہوں نے کھڑے کھڑے کمبل لپیٹتے ہوئے کہا۔ "بس مختصر یہ کہ میں ایک سال حکیم صاحب کی حضوری میں رہا اور اس بحرِ علم سے چند قطرے حاصل کر کے اپنی کور آنکھوں کو دھویا۔ واپسی پر میں سیدھا اپنے آقا کی خدمت میں پہنچا اور ان کے قدموں پر سر رکھ دیا۔ فرمانے لگے چنت رام اگر ہم میں قوت ہو تو ان پاؤں کو کھینچ لیں۔ اس پر میں رو دیا تو دستِ مبارک محبت سے میرے سر پر پھیر کر کہنے لگے، ہم تم سے ناراض نہیں ہیں لیکن ایک سال کی فرقت بہت طویل ہے۔ آئندہ کہیں جانا ہو تو ہمیں بھی ساتھ لے جانا، یہ کہتے ہوئے داؤ جی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ مجھے اسی طرح گم سم چھوڑ کر بیٹھک میں چلے گئے۔"


امتحان کی قربت سے میرا خون خشک ہو رہا تھا لیکن جسم پھول رہا تھا۔ داؤ جی کو میرے موٹاپے کی فکر رہنے لگی۔ اکثر میرے تھن متھنے ہاتھ پکڑ کر کہتے۔ "اسپِ تازی بن طویلہ خر نہ بن۔" مجھے ان کا یہ فقرہ بہت ناگوار گزرتا اور میں احتجاجاً ان سے کلام بند کر دیتا۔ میرے مسلسل مرن برت نے بھی ان پر کوئی اثر نہ کیا اور ان کی فکر، اندیشہ کی حد تک بڑھ گئی۔ ایک صبح سیر کو جانے سے پہلے انہوں نے مجھے آ جگایا اور میری منتوں، خوشامدوں، گالیوں اور جھڑکیوں کے باوجود بستر سے اٹھا کوٹ پہنا کر کھڑا کر دیا۔ پھر وہ مجھے بازو سے پکڑ کر گویا گھسیٹتے ہوئے باہر گئے۔ سردیوں کی صبح کوئی چار بجے کا عمل۔ گلی میں آدم نہ آدم زاد، تاریکی سے کچھ بھی دکھائی نہ دیتا تھا اور داؤ جی مجھے اسی طرح سیر کو لے جا رہے تھے۔ میں کچھ بک رہا تھا اور وہ کہہ رہے تھے ابھی گراں خوابی دور نہیں ہوئی ابھی طنبورا بڑبڑا رہا ہے۔ تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد کہتے کوئی سر نکال طنبورے کی آہنگ پر بجا یہ کیا کر رہا ہے! جب ہم بستی سے دور نکل گئے اور صبح کی یخ ہوا نے میری آنکھوں کو زبردستی کھول دیا تو داؤ جی نے میرا بازو چھوڑ دیا۔ سرداروں کا رہٹ آیا اور نکل گیا۔ ندی آئی اور پیچھے رہ گئی۔ قبرستان گزر گیا مگر داؤ جی تھے کہ کچھ آیتیں ہی پڑھتے چلے جا رہے تھے۔ جب تھبہ پر پہنچے تو میری روح فنا ہو گئی۔ یہاں سے لوگ دوپہر کے وقت بھی نہ گزرتے تھے کیونکہ پرانے زمانے میں یہاں ایک شہر غرق ہو ا تھا۔ مرنے والوں کی روحیں اسی ٹیلے پر رہتی تھیں اور آنے جانے والوں کا کلیجہ چبا جاتی تھیں۔ میں خوف سے کانپنے لگا تو داؤ جی نے میرے گلے کے گرد مفلر اچھی طرح لپیٹ کر کہا۔

سامنے ان دو کیکروں کے درمیان اپنی پوری رفتار سے دس چکر لگاؤ، پھر سو لمبی سانسیں کھینچو اور چھوڑ دو، تب میرے پاس آؤ، میں یہاں بیٹھتا ہوں، میں تھبہ سے جان بچانے کے لئے سیدھا ان کیکروں کی طرف روانہ ہو گیا۔ پہلے ایک بڑے سے ڈھیلے پر بیٹھ کر آرام کیا اور ساتھ ہی حساب لگایا کہ چھ چکروں گا وقت گزر چکا ہو گا، اس کے بعد آہستہ آہستہ اونٹ کی طرح کیکروں کے درمیان دوڑنے لگا اور جب دس یعنی چار چکر پورے ہو گئے تو پھر اسی ڈھیلے پر بیٹھ کر لمبی لمبی سانسیں کھینچنے لگا۔ ایک تو درخت پر عجیب و غریب قسم کے جانور بولنے لگے تھے دوسرے میری پسلی میں بلا کا درد شروع ہو گیا تھا۔ یہی مناسب سمجھا کہ تھبہ پر جا کر داؤ جی کو سوئے ہوئے اٹھاؤں اور گھر لے جا کر خوب خاطر کروں؟ غصہ سے بھرا اور دہشت سے لرزتا میں ٹیلے کے پاس پہنچا۔ داؤ جی تھبہ کی ٹھیکریوں پر گھٹنوں کے بل گرے ہوئے دیوانوں کی طرح سر مار رہے تھے اور اونچے اونچے اپنا محبوب شعر گار ہے تھے۔

جفا کم کن کہ فردا روزِ محشر
بہ پیشِ عاشقاں شرمندہ باشی!

کبھی دونوں ہتھیلیاں زور سے زمین پر مارتے اور سر اوپر اٹھا کر انگشتِ شہادت فضا میں یوں ہلاتے۔ جیسے کوئی ان کے سامنے کھڑا ہو اور اس سے کہہ رہے ہو دیکھ لو، سوچ لو میں تمہیںمیں تمہیں بتا رہا ہوں سنا رہا ہوںایک دھمکی دئے جاتے تھے۔ پھر تڑپ کر ٹھیکریوں پر گرتے اور جفا کم کن جفا کم کن کہتے ہوئے رونے لگتے۔ تھوڑی دیر میں ساکت و جامد کھڑا رہا اور پھر زور سے چیخ مار کر بجائے قصبہ کی طرف بھاگنے کے پھر کیکروں کی طرف دوڑ گیا۔ داؤ جی ضرور اسمِ اعظم جانتے تھے اور وہ جن قابو کر رہے تھے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک جن ان کے سامنے کھڑا دیکھا تھا۔ بالکل الف لیلیٰ با تصویر والا جن تھا۔ جب داؤ جی کا طلسم اس پر نہ چل سکا تو اس نے انہیں نیچے گرا لیا تھا۔ وہ چیخ رہے تھے جفا کم کن جفا کم کن مگر وہ چھوڑتا نہیں تھا۔ میں اسی ڈھیلے پر بیٹھ کر رونے لگاتھوڑی دیر بعد داؤ جی آئے انہوں نے پہلے جیسا چہرہ بنا کر کہا۔ "چل طنبورے" اور میں ڈرتا ڈرتا ان کے پیچھے ہو لیا۔ راستہ میں انہوں نے گلے میں لٹکتی ہوئی کھلی پگڑی کے دونوں کونے ہاتھ میں پکڑ لئے اور جھوم جھوم کر گانے لگے۔

تیرے لمے لمے وال فریدا ٹریا جا!

اس جادو گر کے پیچھے چلتے ہوئے میں نے ان آنکھوں سے واقعی ان آنکھوں سے دیکھا کہ ان کا سر تبدیل ہو گیا۔ ان کی لمبی لمبی زلفیں کندھوں پر جھولنے لگیں اور ان کا سارا وجود جٹا دھاری ہو گیااس کے بعد چاہے کوئی میری بوٹی بوٹی اڑا دیتا، میں ان کے ساتھ سیر کو ہر گز نہ جاتا!

اس واقعہ کے چند ہی دن بعد کا قصہ ہے کہ ہمارے گھر میں مٹی کے بڑے بڑے ڈھیلے اور اینٹوں کے ٹکڑے آ کر گرنے لگے۔ بے بے نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ کتیا کی بچوں کی طرح داؤ جی سے چمٹ گئی۔ سچ مچ ان سے لپٹ کر گئی اور انہیں دھکا دے کر زمین پر گرا دیا۔ وہ چلا رہی تھی۔ "بڈھے ٹوٹکی یہ سب تیرے منتر ہیں۔ یہ سب تیری خارسی ہے۔ تیرا کالا علم ہے جو الٹا ہمارے سر پر آگیا ہے۔ تیرے پریت میرے گھر میں اینٹیں پھینکتے ہیں۔ اجاڑ مانگتے ہیں۔ موت چاہتے ہیں۔" پھر وہ زور زور سے چیخنے لگی "میں مر گئی، میں جل گئی، لوگوں اس بڈھے نے میرے امی چند کی جان لینے کا سمبندھ کیا ہے۔ مجھ پر جادو کیا ہے اور میرا انگ انگ توڑ دیا ہے۔" امی چند تو داؤ جی کو اپنی زندگی کی طرح عزیز تھا اور اس کی جان کے دشمن بھلا وہ کیونکر ہو سکتے تھے لیکن جنوں کی خشت باری انہیں کی وجہ سے عمل میں آئی تھی۔ جب میں نے بھی بے بے کی تائید کی تو داؤ جی نے زندگی میں پہلی بار مجھے جھڑک کر کہا "تو احمق ہے اور تیری بے بے ام الجاہلینمیری ایک سال کی تعلیم کا یہ اثر ہوا کہ تو جنوں بھوتوں میں اعتقاد کرنے لگا۔ افسوس تو نے مجھے مایوس کر دیا، اے وائے کہ تو شعور کی بجائے عورتوں کے اعتقاد کا غلام نکلا۔ افسوس صد افسوس" بے بے کو اسی طرح چلاتے اور داؤ جی کو یوں کراہتے چھوڑ کر میں اوپر کوٹھے پر دھوپ میں جا بیٹھا اسی دن شام کو جب میں اپنے گھر جا رہا تھا تو راستے میں رانو نے اپنے مخصوص انداز میں آنکھ کانی کر کے پوچھا "بابو تیرے کوئی اینٹ ڈھیلا تو نہیں لگا؟ سنا ہے تمہارے پنڈت کے گھر میں روڑے گرتے ہیں۔"

میں نے اس کمینہ کے منہ لگنا پسند نہ کیا اور چپ چاپ ڈیوڑھی میں داخل ہو گیا۔ رات کے وقت داؤ جی مجھ سے جیومیٹری کی پراپوزیشن سنتے ہوئے پوچھنے لگے "بیٹا کیا تم سچ مچ جن، بھوت یا پری چڑیل کو کوئی مخلوق سمجھتے ہو؟" میں نے اثبات میں جواب دیا تو وہ ہنس پڑے اور بولے واقعی تو بہت بھولا ہے اور میں نے خواہ مخواہ جھڑ ک دیا۔ بھلا تو نے مجھے پہلے کیوں نہ بتایا کہ جن ہوتے ہیں اور اس طرح سے اینٹیں پھینک سکتے ہیں۔ ہم نے جو دلی اور پھتے مزدور کو بلا کر برساتی بنوائی ہے، وہ تیرے کسی جن کو کہہ کر بنوا لیتے لیکن یہ تو بتا کہ جن صرف اینٹیں پھینکنے کا کام ہی کرتے ہیں کہ چنائی بھی کر لیتے ہیں۔" میں نے جل کر کہا "جتنے مذاق چاہو کر لو مگر جس دن سر پھٹے گا اس دن پتہ چلے گا داؤ۔" داؤ جی نے کہا "تیرے جن کی پھینکی ہوئی اینٹ سے تو تا قیامت سر نہیں پھٹ سکتا اس لئے کہ وہ نہ ہے نہ اس سے اینٹ اٹھائی جا سکے گی اور نہ میرے تیرے یا تیری بے بے کے سر میں لگے گی۔"

پھر بولے۔ "سن! علمِ طبعی کا موٹا اصول ہے کہ کوئی مادی شے کسی غیر مادی وجود سے حرکت میں نہیں لائی جا سکتی سمجھ گیا۔"

"سمجھ گیا" میں نے چڑ کر کہا۔

ہمارے قصبہ میں ہائی سکول ضرور تھا لیکن میٹرک کا امتحان کا سنٹر نہ تھا۔ امتحان دینے کے لئے ہمیں ضلع جانا ہوتا تھا۔ چنانچہ وہ صبح آ گئی جس دن ہماری جماعت امتحان دینے کے لئے ضلع جا رہی تھی اور لاری کے ارد گرد والدین قسم کے لوگوں کا ہجوم تھا اور اس ہجوم میں داؤ جی کیسے پیچھے رہ سکتے تھے۔ اور سب لڑکوں کے گھر والے انہیں خیر و برکت کی دعاؤ ں سے نواز رہے تھے اور داؤ جی سارے سال کی پڑھائی کا خلاصہ تیار کر کے جلدی جلدی سوال پوچھ رہے تھے اور میرے ساتھ ساتھ خود ہی جواب دیتے جاتے تھے۔ اکبر کی اصطلاحات سے اچھل کر موسم کے تغیر و تبدل پر پہنچ جاتے وہاں سے پلٹتے تو "اس کے بعد ایک اور بادشاہ آیا کہ اپنی وضع سے ہندو معلوم ہوتا تھا۔ وہ نشہ میں چور تھا ایک صاحبِ جمال اس کا ہاتھ پکڑ کر لے آئی تھی اور جدھر چاہتی تھی پھراتی تھی " کہہ کر پوچھتے تھے یہ کون تھا؟

"جہانگیر " میں نے جواب دیا۔ اور وہ عورت۔ "نور جہان" ہم دونوں ایک ساتھ بولے"صفتِ مشبہ اور اسم فاعل میں فرق؟" میں نے دونوں کی تعریفیں بیان کیں۔ بولے مثالیں؟ میں نے مثالیں دیں۔ سب لڑکے لاری میں بیٹھ گئے اور میں ان سے جان چھڑا کر جلدی سے داخل ہوا تو گھوم کر کھڑکی کے پاس آ گئے اور پوچھنے لگے بریک ان اور بیک ان ٹو کو فقروں میں استعمال کرو۔ ان کا استعمال بھی ہو گیا اور موٹر سٹارٹ ہو چلی تو اس کے ساتھ قدم اٹھا کر بولے طنبورے مادیاں گھوڑیاں ماکیاں مرغیمادیاں گھوڑیاںماکیاںایک سال بعد خدا خدا کر کے یہ آواز دور ہوئی اور میں نے آزادی کا سانس لیا!

پہلے دن تاریخ کا پرچہ بہت اچھا ہوا۔ دوسرے دن جغرافیہ کا اس بھی بڑھ کر، تیسرے دن اتوار تھا اور اس کے بعد حساب کی باری تھی۔ اتوار کی صبح کو داؤ جی کا کوئی بیس صفحہ لمبا خط ملا جس میں الجبرے کے فارمولوں اور حساب کے قاعدوں کے علاوہ اور اور کوئی بات نہ تھی۔


حساب کا پرچہ کرنے کے بعد برآمدے میں میں نے لڑکوں سے جوابات ملائے تو سو میں سے اسی نمبر کا پرچہ ٹھیک تھا۔ میں خوشی سے پاگل ہو گیا۔ زمین پر پاؤں نہ پڑتا تھا اور میرے منہ سے مسرت کے نعرے نکل رہے تھے۔ جونہی میں نے برآمدے سے پاؤں باہر رکھا۔ داؤ جی کھیس کندھے پر ڈالے ایک لڑکے کا پرچہ دیکھ رہے تھے۔ میں چیخ مار کر ان سے لپٹ گیا۔ اور اسی نمبر!! اسی نمبر" کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ انہوں نے پرچہ میرے ہاتھ سے چھین کر تلخی سے پوچھا "کون سا سوال غلط ہو گیا؟" میں نے جھوم کر کہا "چار دیواری والا " جھلا کر بولے "تو نے کھڑکیاں اور دروازے منفی نہ کئے ہوں گے" میں نے ان کی کمر میں ہاتھ ڈال کر پیڑ کی طرح جھلاتے ہوئے کہا "ہاں ہاں جی گولی مارو کھڑکیوں کو " داؤ جی ڈوبی ہوئی آواز میں بولے "تو نے مجھے برباد کر دیا طنبورے سال کے تین سو پینسٹھ دن میں پکار پکار کر کہتا رہا سطحات کا سوال آنکھیں کھول کر حل کرنا مگر تو نے میری بات نہ مانی۔ بیس نمبر ضائع کئےپورے بیس نمبر۔"

اور داؤ جی کا چہرہ دیکھ کر میری اسی فیصد کامیابی بیس فیصد ناکامی کے نیچے یوں دب گئی گویا اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ راستہ بھر وہ اپنے آپ سے کہتے رہے۔ "اگر ممتحن اچھے دل کا ہوا تو دو ایک نمبر تو ضرور دے گا، تیرا باقی حل تو ٹھیک ہے۔" اس پرچے کے بعد داؤ جی امتحان کے آخری دن تک میرے ساتھ رہے۔ وہ رات کے بارہ بجے تک مجھے اس سرائے میں بیٹھ کر پڑھاتے جہاں کلاس مقیم تھی اور اس کے بعد بقول ان کے اپنے ایک دوست کے ہاں چلے جاتے۔ صبح آٹھ بجے پھر آ جاتے اور کمرہ امتحان تک میرے ساتھ چلتے۔

امتحان ختم ہوتے ہی میں نے داؤ جی کو یوں چھوڑ دیا گویا میری ان سے جان پہچان نہ تھی۔ سارا دن دوستوں یاروں کے ساتھ گھومتا اور شام کو ناولیں پڑھا کرتا۔ اس دوران میں اگر کبھی فرصت ملتی تو داؤ جی کو سلام کرنے بھی چلا جاتا۔ وہ اس بات پر مصر تھے کہ میں ہر روز کم از کم ایک گھنٹہ ان کے ساتھ گزاروں تاکہ وہ مجھے کالج کی پڑھائی کے لئے بھی تیار کریں لیکن میں ان کے پھندے میں آنے والا نہ تھا۔ مجھے کالج میں سو بار فیل ہونا گوارا تھا اور ہے لیکن داؤ جی سے پڑھنا منظور نہیں۔ پڑھنے کو چھوڑیئے ان سے باتیں کر نا بھی مشکل تھا۔ میں نے کچھ پوچھا۔ انہوں نے کہا اس کا فارسی میں ترجمہ کرو، میں نے کچھ جواب دیا فرمایا اس کی ترکیب نحوی کرو۔ حوالداروں کی گائے اندر گھس آئی میں اسے لکڑی سے باہر نکال رہا ہوں اور داؤ جی پوچھ رہے ہیں cow ناؤن ہے یا ورب۔ اب ہر عقل کا اندھا پانچویں جماعت پڑھا جانتا ہے کہ گائے اسم ہے مگر داؤ جی فرما رہے ہیں کہ اسم بھی ہے اور فعل بھی۔۔

cow to کا مطلب ہے ڈرانا، دھمکی دینا۔ اور یہ ان دنوں کی باتیں ہیں جب میں امتحان سے فارغ ہو کر نتیجہ کا انتظار کر رہا تھاپھر ایک دن وہ بھی آیا جب ہم چند دوست شکار کھیلنے کے لئے نکلے تو میں نے ان سے درخواست کی کہ منصفی کے آگے سے نہ جائیں کیونکہ وہاں داؤ جی ہوں گے اور مجھے روک کر شکار، بندوق اور کارتوسوں کے محاورے پوچھنے لگیں گے۔ بازار میں دکھائی دیتے تو میں کسی بغلی گلی میں گھس جاتا۔ گھر پر رسماً ملنے جاتا تو بے بے سے زیادہ اور داؤ جی سے کم باتیں کرتا۔ اکثر کہا کرتے۔ افسوس آفتاب کی طرح تو بھی ہمیں فراموش کر رہا ہے۔ میں شرارتاً خیلے خوب خیلے خوب کہہ کر ہنسنے لگتا۔

جس دن نتیجہ نکلا اور ابا جی لڈوؤں کی چھوٹی سی ٹوکری لے کر ان کے گھر گئے۔ داؤ جی سر جھکائے اپنے حصیر میں بیٹھے تھے۔ ابا جی کو دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور اندر سے کرسی اٹھا لائے اور اپنے بوریے کے پاس ڈال کر بولے "ڈاکٹر صاحب آپ کے سامنے شرمندہ ہوں، لیکن اسے بھی مقسوم کی خوبی سمجھئے، میرا خیال تھا کہ اس کی فرسٹ ڈویژن آ جائے گی لیکن اس کی بنیاد کمزور تھی"

"ایک ہی تو نمبر کم ہے۔" میں نے چمک کر بات کاٹی۔ اور وہ میری طرف دیکھ کر بولے "تو نہیں جانتا اس ایک نمبر سے میرا دل دو نیم ہو گیا ہے۔ خیر میں اسے منجانب اللہ خیال کرتا ہوں۔ پھر اباجی اور وہ باتیں کرنے لگے اور میں بے بے کے ساتھ گپیں لڑانے میں مشغول ہو گیا۔

اول اول کالج سے میں داؤ جی کے خطوں کا باقاعدہ جواب دیتا رہا۔ اس کے بعد بے قاعدگی سے لکھنے لگا اور آہستہ آہستہ یہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا۔ چھٹیوں میں جب گھر آتا تو جیسے سکول کے دیگر ماسٹروں سے ملتا ویسے ہی داؤ جی کو بھی سلام کر آتا۔ اب وہ مجھ سے سوال وغیرہ نہ پوچھتے تھے۔ کوٹ، پتلون اور ٹائی دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔ چارپائی پر بیٹھنے نہ دیتے۔ "اگر مجھے اٹھنے نہیں دیتا تو خود کرسی لے لے" اور میں کرسی کھینچ کر ان کے پاس ڈٹ جاتا۔ کالج لائبریری سے میں جو کتابیں ساتھ لایا کرتا انہیں دیکھنے کی تمنا ضرور کرتے اور میرے وعدے کے باوجود اگلے دن خود ہمارے گھر آ کر کتابیں دیکھ جاتے۔ امی چند بوجوہ کالج چھوڑ کر بنک میں ملازم ہو گیا تھا اور دلی چلا گیا تھا۔ بے بے کی سلائی کا کام بدستور تھا۔ داؤ جی منصفی جاتے تھے لیکن کچھ نہ لاتے تھے۔ بی بی کے خط آتے تھے وہ اپنے گھر میں خوش تھی کالج کی ایک سال کی زندگی نے مجھے داؤ جی سے بہت دور کھینچ لیا۔ وہ لڑکیاں جو دو سال پہلے ہمارے ساتھ آپو ٹاپو کھیلا کرتی تھیں بنت عم بنت بن گئی تھیں۔ سیکنڈ ائیر کے زمانے کی ہر چھٹی میں آپو ٹاپو میں گزارنے کی کوشش کرتا اور کسی حد تک کامیاب بھی ہوتا۔ گھر کی مختصر مسافت کے سامنے ایبٹ آباد کا طویل سفر زیادہ تسکین دہ اور سہانا بن گیا۔

انہی ایام میں میں نے پہلی مرتبہ ایک خوبصورت گلابی پیڈ اور ایسے ہی لفافوں کا ایک پیکٹ خریدا تھا اور ان پر نہ ابا جی کو خط لکھے جا سکتے تھے اور نہ ہی داؤ جی کو۔ نہ دسہرے کی چھٹیوں میں داؤ جی سے ملاقات ہو سکی تھی نہ کرسمس کی تعطیلات میں۔ ایسے ہی ایسٹر گزر گیا اور یوں ہی ایام گزرتے رہےملک کو آزادی ملنے لگی تو کچھ بلوے ہوئے پھر لڑائیاں شروع ہو گئیں۔ ہر طرف سے فسادات کی خبریں آنے لگیں اور اماں نے ہم سب کو گھر بلوا لیا۔ ہمارے لئے یہ بہت محفوظ جگہ تھی۔ بنئے ساہو کار گھر بار چھوڑ کر بھاگ رہے تھے لیکن دوسرے لوگ خاموش تھے۔ تھوڑے ہی دنوں بعد مہاجرین کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا اور وہی لوگ یہ خبر لائے کہ آزادی مل گئی! ایک دن ہمارے قصبے میں بھی چند گھروں کو آگ لگی اور دو ناکوں پر سخت لڑائی ہوئی۔ تھانے والے اور ملٹری کے سپاہیوں نے کرفیو لگا دیا اور جب کرفیو ختم ہوا تو سب ہندو سکھ قصبہ چھوڑ کر چل دئے، دوپہر کو اماں جی نے مجھے دا ؤ جی کی خبر لینے بھیجا تو اس جانی پہنچانی گلی میں عجیب و غریب صورتیں نظر آئیں۔ ہمارے گھر یعنی داؤ جی کے گھر کی ڈیوڑھی میں ایک بیل بندھا تھا اور اس کے پیچھے بوری کا پردہ لٹک رہا تھا۔ میں نے گھر آ کر بتایا کہ داؤ جی اور بے بے اپنا گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور یہ کہتے ہوئے میرا گلا رندھ گیا۔ اس دن مجھے یوں لگا جیسے داؤ جی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چلے گئے ہیں اور لوٹ کر نہ آئیں گے۔ داؤ جی ایسے بے وفا تھے!

کوئی تیسرے روز غروب آفتاب کے بعد جب میں مسجد میں نئے پنا ہ گزینوں کے نام نوٹ کر کے اور کمبل بھجوانے کا وعدہ کر کے اس گلی سے گزرا تو کھلے میدان میں سو دو سو آدمیوں کی بھیڑ جمع دیکھی، مہاجر لڑکے لاٹھیاں پکڑے نعرے لگا رہے تھے اور گالیاں دے رہے تھے۔ میں نے تماشائیوں کو پھاڑ کر مرکز میں گھسنے کی کوشش کی مگر مہاجرین کی خونخوار آنکھیں دیکھ کر سہم گیا۔ ایک لڑکا کسی بزرگ سے کہہ رہا تھا۔

"ساتھ والے گاؤں گیا ہوا تھا جب لوٹا تو اپنے گھر میں گھستا چلا گیا۔"

"کون سے گھر میں؟" بزرگ نے پوچھا۔

"رہتکی مہاجروں کے گھر میں" لڑکے نے کہا۔

"پھر کیا انہوں نے پکڑ لیا۔ دیکھا تو ہندو نکلا۔"

اتنے میں بھیڑ میں سے کسی نے چلا کر کہا۔ "اوئے رانو جلد آ اوئے جلدی آتیری سامیپنڈتتیری سامی۔" رانو بکریوں کا ریوڑ باڑے کی طرف لے جا رہا تھا۔ انہیں روک کر اور ایک لاٹھی والے لڑکے کو ان کے آگے کھڑا کر کے وہ بھیڑ میں گھس گیا۔ میرے دل کو ایک دھکا سا لگا جیسے انہوں نے داؤ جی کو پکڑ لیا ہو۔ میں نے ملزم کو دیکھے بغیر اپنے قریبی لوگوں سے کہا۔

"یہ بڑا اچھا آدمی ہے بڑا نیک آدمی ہےاسے کچھ مت کہویہ تویہ تو" خون میں نہائی ہوئی چند آنکھوں نے میری طرف دیکھا اور ایک نوجوان گنڈاسی تول کر بولا۔

"بتاؤں تجھے بھی آگیا بڑا حمایتی بن کرتیرے ساتھ کچھ ہوا نہیں نا" اور لوگوں نے گالیاں بک کر کہا۔ "انصار ہو گا شاید۔"

میں ڈر کر دوسری جانب بھیڑ میں گھس گیا۔ رانو کی قیادت میں اس کے دوست داؤ جی کو گھیرے کھڑے تھے اور رانو داؤ جی کی ٹھوڑی پکڑ کر ہلا رہا تھا اور پوچھ رہا تھا۔ اب بول بیٹا، اب بول" اور داؤ جی خاموش کھڑے تھے، ایک لڑکے نے پگڑی اتار کر کہا۔ "پہلے بودی کاٹو بودی" اور رانو نے مسواکیں کاٹنے والی درانتی سے داؤ جی کی بودی کاٹ دی۔ وہی لڑکا پھر بولا "بلا دیں جے؟" اور رانو ں نے کہا۔"جانے دو بڈھا ہے، میرے ساتھ بکریاں چرایا کرے گا۔" پھر اس نے داؤ جی کی ٹھوڑی اوپر اٹھاتے ہوئے کہا "کلمہ پڑھ پنڈتا" اور داؤ جی آہستہ سے بولے:

"کون سا؟"

رانو نے ان کے ننگے سر پر ایسا تھپڑ مارا کہ وہ گرتے گرتے بچے اور بولا "سالے کلمے بھی کوئی پانچ سات ہیں!"

جب وہ کلمہ پڑھ چکے تو رانو نے اپنی لاٹھی ان کے ہاتھ میں تھما کر کہا۔"چل بکریاں تیرا انتظار کرتی ہیں۔"

اور ننگے سر داؤ جی بکریوں کے پیچھے پیچھے یوں چلے جیسے لمبے لمبے بالوں والا فریدا چل رہا ہو!۔


گنڈاسا

(احمد ندیم قاسمی)

اکھاڑہ جم چکا تھا۔ طرفین نے اپنی اپنی "چوکیاں" چن لی تھیں۔ "پڑکوڈی" کے کھلاڑی جسموں پر تیل مل کر بجتے ہوئے ڈھول کے گرد گھوم رہے تھے۔ انہوں نے رنگین لنگوٹیں کس کر باندھ رکھی تھیں۔ ذرا ذرا سے سفید پھینٹھئے ان کے چپڑے ہوئے لانبے لابنے پٹوں کے نیچے سے گزر کر سر کے دونوں طرف کنول کے پھولوں کے سے طرے بنا رہے تھے۔ وسیع میدان کے چاروں طرف گپوں اور حقوں کے دور چل رہے تھے اور کھلاڑیوں کے ماضی اور مستقبل کو جانچا پرکھا جا رہا تھا۔ مشہور جوڑیاں ابھی میدان میں نہیں اتری تھیں۔ یہ نامور کھلاڑی اپنے دوستوں اور عقیدت مندوں کے گھیرے میں کھڑے اس شدت سے تیل چپڑوا رہے تھے کہ ان کے جسموں کو ڈھلتی دھوپ کی چمک نے بالکل تانبے کا سا رنگ دے دیا تھا، پھر یہ کھلاڑی بھی میدان میں آئے، انہوں نے بجتے ہوئے ڈھولوں کے گرد چکر کاٹے اور اپنی اپنی چوکیوں کے سامنے ناچتے کودتے ہوئے بھاگنے لگے اور پھر آناً فاناً سارے میدان میں ایک سرگوشی بھنور کی طرح گھوم گئی۔"مولا کہاں ہے؟"

مولا ہی کا کھیل دیکھنے تو یہ لوگ دور دراز کے دیہات سے کھنچے چلے آئے تھے۔ "مولا کا جوڑی وال تاجا بھی تو نہیں!" دوسرا بھنور پیدا ہوا لوگ پوربی چوکوں کی طرف تیز تیز قدم اٹھاتے بڑھنے لگے، جما ہوا پڑ ٹوٹ گیا۔ منتظمین نے لمبے لمبے بیدوں اور لاٹھیوں کو زمین پر مار مار کر بڑھتے ہوئے ہجوم کے سامنے گرد کا طوفان اڑانے کی کوشش کی کہ پڑ کا ٹوٹنا اچھا شگون نہ تھا مگر جب یہ سرگوشی ان کے کانوں میں سیروں بارود بھرا ہوا ایک گولا ایک چکرا دینے والے دھماکے سے پھٹ پڑا۔ ہر طرف سناٹا چھا گیا۔ لوگ پڑ کی چوکور حدوں کی طرف واپس جانے لگے۔ مولا اپنے جوڑی وال تاجے کے ساتھ میدان میں آگیا۔ اس نے پھندنوں اور ڈوریوں سے سجے اور لدے ہوئے ڈھول کے گرد بڑے وقار سے تین چکر کاٹے اور پھر ڈھول کو پوروں سے چھو کر یا علیؓ کا نعرہ لگانے کے لئے ہاتھ ہوا میں بلند کیا ہی تھا کہ ایک آواز ڈھولوں کی دھما دھم چیرتی پھاڑتی اس کے سینے پر گنڈاسا بن کر پڑی مولے" "اے مولے بیٹے۔ تیرا باپ قتل ہو گیا!"

مولا کا اٹھا ہوا ہاتھ سانپ کے پھن کی طرح لہرا گیا اور پھر ایک دم جیسے اس کے قدموں میں نہتے نکل آئے۔ "رنگے نے تیرے باپ کو ادھیڑ ڈالا ہے گنڈاسے سے!" ان کی ماں کی آواز نے اس کا تعاقب کیا!

پڑ ٹو ٹ گیا۔ ڈھول رک گئے۔ کھلاڑی جلدی جلدی کپڑے پہننے لگے۔ ہجوم میں افراتفری پیدا ہوئی اور پھر بھگدڑ مچ گئی۔ مولا کے جسم کا تانبا گاؤں کی گلیوں میں کونڈتے بکھیرتا اڑا جا رہا تھا۔ بہت پیچھے اس کا جوڑی وال تاجا اپنے اور مولا کے کپڑوں کی گٹھڑی سینے سے لگائے آ رہا تھا اور پھر اس کے پیچھے ایک خوف زدہ ہجوم تھا۔ جس گاؤں میں کسی شخص کو ننگے سر پھرنے کا حوصلہ نہ ہو سکتا تھا وہاں مولا صرف ایک گلابی لنگوٹ باندھے پہناریوں کی قطاروں، بھیڑوں، بکریوں کے ریوڑوں کو چیرتا ہوا لپکا جا رہا تھا اور جب وہ رنگے کی چوپال کے بالکل سامنے پہنچا تو سامنے ایک اور ہجوم میں سے پیر نور شاہ نکلے اور مولا کو للکار کر بولے۔ "رک جا مولے!"

مولا لپکا گیا مگر پھر ایک دم جیسے اس کے قدم جکڑ لئے گئے اور وہ بت کی طرح جم کر رہ گیا۔ پیر نور شاہ اس کے قریب آئے اور اپنی پاٹ دار آواز میں بولے۔ "تو آگے نہیں جائے گا مولا!"

ہانپتا ہوا مولا کچھ دیر پیر نور شاہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا رہا۔ پھر بولا "آگے نہیں جاؤں گا پیر جی تو زندہ کیوں رہوں گا؟"۔

"میں کہہ رہا ہوں" پیر جی "میں پر زور دیتے ہوئے دبدبے سے بولے۔"

مولا ہانپنے کے باوجود ایک ہی سانس میں بولتا چلا گیا۔ "تو پھر میرے منہ پر کالک بھی مل ڈالئے اور ناک بھی کاٹ ڈالئے میری، مجھے تو اپنے باپ کے خون کا بدلہ چکانا ہے پیر جی۔ بھیڑ بکریوں کی بات ہوتی تو میں آپ کے کہنے پر یہیں سے پلٹ جاتا۔"

مولا نے گردن کو بڑے زور سے جھٹکا دے کر رنگے کے چوپال کی طرف دیکھا۔ رنگا اور اس کے بیٹے بٹھوں سر گنڈاسے چڑھائے چوپائے پر تنے کھڑے تھے۔ رنگے کا بڑا لڑکا بولا۔

"آؤ بیٹے آؤ۔ گنڈاسے کے ایک ہی وار سے پھٹے ہوئے پیٹ میں سے انتڑیوں کا ڈھیرا نہ اگل ڈالوں تو قادا نام نہیں، میرا گنڈاسا جلد باز ہے اور کبڈی کھیلنے والے لاڈلے بیٹے باپ کے قتل کا بدلا نہیں لیتے، روتے ہیں اور کفن کا لٹھا ڈھونڈنے چلے جاتے ہیں۔"

مولا جیسے بات ختم ہونے کے انتظار میں تھا۔ ایک ہی رفتار میں چوپال کی سیڑھیوں پر پہنچ گیا۔ مگر اب کبڈی کے میدان کا ہجوم بھی پہنچ گیا تھا اور گاؤں کا گاؤں اس کے راستے میں حائل ہو گیا تھا۔ جسم پر تیل چپڑ رکھا تھا اس لئے وہ روکنے والوں کے ہاتھوں سے نکل نکل جاتا مگر پھر جکڑ لیا جاتا۔ ہجوم کا ایک حصہ رنگے اور اس کے تینوں بیٹوں کو بھی روک رہا تھا۔ چار گنڈاسے ڈوبتے ہوئے سورج کی روشنی میں جنوں کی طرح بار بار دانت چمکا رہے تھے کہ اچانک جیسے سارے ہجوم کو سانپ سو نگ گیا۔ پیر نور شاہ قرآن مجید کو دونوں ہاتھوں میں بلند کئے چوپال کی سیٹرھیوں پر آئے اور چلائے۔"اس کلام اللہ کا واسطہ اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ ورنہ بدبختو گاؤں کا گاؤں کٹ مرے گا۔ جاؤ تمہیں خدا اور رسولؑ کا واسطہ، قرآن پاک کا واسطہ، جاؤ، چلے جاؤ۔"

لوگ سر جھکا کر ادھر ادھر بکھرنے لگے۔ مولا نے جلدی سے تائے سے پٹکا لے کر ادب سے اپنے گھٹنوں کو چھپا لیا اور سیٹرھیوں پر سے اتر گیا۔ پیر صاحب قرآن مجید کو بغل میں لئے اس کے پاس آئے اور بولے۔"اللہ تعالی تمہیں صبر دے اور آج کے اس نیک کام کا اجر دے۔"

مولا آگے بڑھ گیا۔ تاجا اس کے ساتھ تھا اور جب وہ گلی کے موڑ پر پہنچے تو مولا نے پلٹ کر رنگے کی چوپال پر ایک نظر ڈالی۔

"تم تو رو رہے ہو مولے؟" تاجے نے بڑے دکھ سے کہا۔

اور مولا نے اپنے ننگے بازو کو آنکھوں پر رگڑ کر کہا۔ "تو کیا اب روؤں بھی نہیں؟"

"لوگ کیا کہیں گے؟" تاجے نے مشورہ دیا۔

"ہاں تاجے!" مولا نے دوسری بار بازو آنکھوں پر رگڑا۔ "میں بھی تو یہی سوچ رہا ہوں کہ لوگ کیا کہیں گے، میرے باپ کے خون پر مکھیاں اڑ رہی ہیں اور میں یہاں گلی میں ڈورے ہوئے کتے کی طرح دم دبائے بھاگا جا رہا ہوں ماں کے گھٹنے سے لگ کر رونے کے لئے!"

لیکن مولا ماں کے گھٹنے سے لگ کر رویا نہیں۔ وہ گھر کے دالان میں داخل ہوا تو رشتہ دار اس کے باپ کی لاش تھانے اٹھا لے جانے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ منہ پیٹتی اور بال نوچتی ماں اس کے پاس آئی اور "شرم تو نہیں آتی" کہہ کر منہ پھیر کر لاش کے پاس چلی گئی۔ مولا کے تیور اسی طرح تنے رہے۔ اس نے بڑھ کر باپ کی لاش کو کندھا دیا اور برادری کے ساتھ روانہ ہو گیا۔

اور ابھی لاش تھانے نہیں پہنچی ہو گی کہ رنگے کی چوپال پر قیامت مچ گئی۔ رنگا چوپال کی سیڑھیوں پر سے اترکر سامنے اپنے گھر میں داخل ہونے ہی لگا تھا کہ کہیں سے ایک گنڈاسا لپکا اور انتڑیوں کا ایک ڈھیر اس کے پھٹے ہوئے پیٹ سے باہر ابل کر اس کے گھر کی دہلیز پر بھاپ چھوڑنے لگا۔ کافی دیر کو افراتفری کے بعد رنگے کے بیٹے گھوڑوں پر سوار ہو کر رپٹ کے لئے گاؤں سے نکلے، مگر جب وہ تھانے پہنچے تو یہ دیکھ کر دم بخود رہ گئے کہ جس شخص کے خلاف وہ رپٹ لکھوانے آئے ہیں وہ اپنے باپ کی لاش کے پاس بیٹھا تسبیح پر قل ھو اللہ کا ورد کر رہا تھا۔ تھانے دار کے ساتھ انہوں نے بہت ہیر پھیر کی کوشش کی اور اپنے باپ کا قاتل مولا ہی کو ٹھہرایا مگر تھانیدار نے انہیں سمجھایا کہ "خواہ مخواہ اپنے باپ کے قاتل کو ضائع کر بیٹھو گے، کوئی عقل کی بات کرو۔ ادھر یہ میرے پاس اپنے باپ کے قتل کی رپٹ لکھوا رہا ہے ادھر تمہارے باپ کے پیٹ میں گنڈاسا بھی بھونک آیا ہے۔"

آخر دونوں طرف سے چالان ہوئے، لیکن دونوں قتلوں کا کوئی چشم دید ثبوت نہ ملنے کی بناء پر طرفین بری ہو گئے اور جس روز مولا رہا ہو کر گاؤں میں آیا تو اپنی ماں سے ماتھے پر ایک طویل بوسہ ثبت کرانے کے بعد سب سے پہلے تاجے کے ہاں گیا۔ اسے بھینچ کر گلے لگایا اور کہا۔ "اس روز تم اور تمہارا گھوڑا میرے کام نہ آتے تو آج میں پھانسی کی رسی میں توری کی طرح لٹک رہا ہوتا۔ تمہاری جان کی قسم جب میں نے رنگے کے پیٹ کو کھول کر رکاب میں پاؤں رکھا ہے، آندھی بن گیا خدا کی قسم اسی لئے تو لاش ابھی تھانے بھی نہیں پہنچی تھی کہ میں ہاتھ جھاڑ کر واپس بھی آگیا۔"


سارے گاؤں کو معلوم تھا کہ رنگے کا قاتل مولا ہی ہے، مگر مولے کے چند عزیزوں اور تاجے کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ سب کچھ ہوا کیسے پھر ایک دن گاؤں میں یہ خبر گشت کرنے لگی کہ مولا کا باپ تو رنگے کے بڑے بیٹے قادر کے گنڈاسے سے مرا تھا رنگا تو صرف ہشکار رہا تھا بیٹوں کو۔ رات کو چوپالوں اور گھروں میں یہ موضوع چلتا رہا اور صبح کو پتہ چلا کہ قادر اپنے کوٹھے کی چھت پر مردہ پایا گیا اور وہ بھی یوں کہ جب اس کے بھائیوں پھلے اور گلے نے اسے اٹھانے کی کوشش کی تو اس کا سر لڑھک کر نیچے گرا اور پرنالے تک لڑھکتا چلا گیا، رپٹ لکھوائی اور مولا پھر گرفتار ہو گیا۔ مرچوں کا دھواں پیا، تپتی دوپہروں میں لوہے کی چادر پر کھڑا رہا۔ کتنی راتیں اسے اونگھنے تک نہ دیا گیا مگر وہ اقبالی نہ ہوا اور آخر مہینوں کے بعد رہا ہو کر گاؤں میں آ نکلا اور جب اپنے آنگن میں قدم رکھا تو ماں بھاگی ہو ئی آئی۔ اس کے ماتھے پر طویل بوسہ لیا اور بولی۔ "ابھی دو اور باقی ہیں میرے لال۔ رنگے کا کوئی نام لیوا نہ رہے، تو جبھی بتیس دھاریں بخشوں گی۔ میرے دودھ میں تیرے باپ کا خون تھا۔ مولے اور تیرے خون میں میرا دودھ ہے اور تیرے گنڈاسے پر میں نے زنگ نہیں چڑھنے دیا۔ "مولا اب علاقے بھر کی ہیبت بن گیا تھا۔ اس کی مونچھوں میں دو دو بل آ گئے تھے۔ کانوں میں سونے کی بڑی بڑی بالیاں، خوشبودار تیل اس کے لہرئیے بالوں میں آگ کی قلمیں سی جگائے رکھتا تھا۔ ہاتھی دانت کا ہلالی کنگھا اتر کر اس کی کنپٹی پر چمکنے لگا تھا۔ وہ گلیوں میں چلتا تو پٹھے کے تہبند کا کم سے کم آدھا گز تو اس کے عقب میں لوٹتا ہوا جاتا۔ باریک ململ کا پٹکا اس کے کندھے پر پڑا رہتا اور اکثر اس کا سرا گر کر زمین پر گھسٹنے لگتا۔ اور گھسٹتا چلا جاتا۔ مولا کے ہاتھ میں ہمیشہ اس کے قد سے بھی لمبی تلی پلی لٹھ ہوتی اور جب وہ گلی کے کسی موڑ یا کسی چوراہے پر بیٹھتا تو یہ لٹھ جس انداز سے اس کے گھٹنے سے آ لگتی اسی انداز سے لگی رہتی اور گلی میں سے گزرنے والوں کو اتنی جرأت نہ ہوتی کہ وہ مولا کی لٹھ ایک طرف سرکانے کے لئے کہہ سکیں۔ اگر کبھی لٹھ ایک دیوار سے دوسری دیوار تک تن گئی تو لو گ آتے، مولا کی طرف دیکھتے اور پلٹ کر کسی دوسری گلی میں چلے جاتے۔ عورتوں اور بچوں نے تو وہ گلیاں ہی چھوڑ دی تھیں جہاں مولا بیٹھنے کا عادی تھا۔ مشکل یہ تھی کہ مولا کی لٹھ پر سے الانگنے کا بھی کسی میں حوصلہ نہ تھا۔ ایک بار کسی اجنبی نوجوان کا اس گلی میں سے گزر ہوا۔ مولا اس وقت ایک دیوار سے لگا لٹھ سے دوسرے دیوار کو کریدے جا رہا تھا۔ اجنبی آیا اور لٹھ پر سے الانگ گیا۔ ایکا ایکی مولا نے بپھر کر ٹینک میں سے گنڈاسا نکالا اور لٹھ پر چڑھا کر بولا۔"ٹھہر جاؤ چھوکرے، جانتے ہو تم نے کس کی لٹھ الانگی ہے یہ مولا کی لٹھ ہے۔ مولے گنڈاسے والے کی۔"

نوجوان مولا کا نام سنتے ہی یک لخت زرد پڑ گیا اور ہولے سے بولا۔ "مجھے پتہ نہیں تھا، مولے۔" مولا نے گنڈاسا اتار کر ٹینک میں اڑس لیا اور لٹھ کے ایک سرے کو نوجوان کے پیٹ پر ہلکے سے دبا کر بولا۔ "تو پھر جا کر اپنا کام کر۔" اور پھروہ لٹھ کو یہاں سے وہاں تک پھیلا کر بیٹھ گیا۔

مولا کا لباس، اس کی چال، اس کی مونچھیں اور سب سے زیادہ اس کا لا ابالی انداز، یہ سب پہلے گاؤں کے فیشن میں داخل ہوئے اور پھر علاقے بھر کے فیشن پر اثر انداز ہوئے لیکن مولا کی جو چیز فیشن میں داخل نہ ہو سکی وہ اس کی لانبی لٹھ تھی۔ تیل پلی، پیتل کے کوکوں سے اٹی ہوئی، لوہے کی شاموں میں لپٹی ہوئی، گلیوں کے کنکروں پر بجتی اور یہاں سے وہاں تک پھیل کر آنے والوں کو پلٹا دینے والی لٹھ اور پھر وہ گنڈاسا جس کی میان مولا کی ٹینک تھی اور جس پر اس کی ماں زنگ کا ایک نقطہ تک نہیں دیکھ سکتی تھی۔

لوگ کہتے تھے کہ مولا گلیوں کے نکڑوں پر لٹھ پھیلائے اور گنڈاسا چھپائے گلے اور پھلے کی راہ تکتا ہے۔ قادرے کے قتل اور مولے کی رہائی کے بعد پھلا فوج میں بھرتی ہو کر چلا گیا تھا اور گلے نے علاقہ کے مشہور رسہ گیر چوھدری مظفر الٰہی کے ہاں پناہ لی تھی، جہاں وہ چوھدری کے دوسرے ملازموں کے ساتھ چناب اور راوی پر سے بیل اور گائیں چوری کر کے لاتا۔ چوھدری مظفر اس مال کو منڈیوں میں بیچ کر امیروں، وزیروں اور لیڈروں کی بڑی بڑی دعوتیں کرتا اور اخباروں میں نام چھپواتا اور جب چناب اور راوی کے کھوجی مویشیوں کے کھروں کے سراغ کے ساتھ ساتھ چلتے چوھدری مظفر کے قصبے کے قریب پہنچتے تو جی میں کہتے۔ "ہمارا ماتھا پہلے ہی ٹھنکا تھا! انہیں معلوم تھا کہ اگر وہ کھروں کے سراغ کے ساتھ ساتھ چلتے چودھری کے گھر تک جا پہنچے تو پھر کچھ دیر بعد لوگ مویشیوں کی بجائے خود کھوجیوں کا سراغ لگاتے پھریں گے اور لگا نہ پائیں گے۔ وہ چوھدری کے خوف کے مارے قصبے کے ایک طرف سے نکل کر اور تھلوں کے ریتے میں پہنچ کر یہ کہتے ہوئے واپس آ جاتے "کھروں کے نشان یہاں سے غائب ہو رہے ہیں۔"

مولا نے چوھدری مظفر اور اس کے پھیلے ہوئے بازوؤں کے بارے میں سن رکھا تھا۔ اسے کچھ ایسا لگتا تھا کہ جیسے علاقہ بھر میں صرف یہ چوھدری ہی ہے جو اس کی لٹھ الانگ سکتا ہے لیکن فی الحال اسے رنگے کے دونوں بیٹوں کا انتظار تھا۔

تاجے نے بڑے بھائیوں کی طرح مولے کو ڈانٹا "اور کچھ نہیں تو اپنی زمینوں کی نگرانی کر لیا کر، یہ کیا بات ہوئی کہ صبح سے شام تک گلیوں میں لٹھ پھیلائے بیٹھے ہیں اور میراثیوں، نائیوں سے خدمتیں لی جا رہی ہیں۔ تو شاید نہیں جانتا پر جان لے تو اس میں تیرا ہی بھلا ہے کہ مائیں بچوں کو تیرا نام لے کر ڈرانے لگی ہیں، لڑکیاں تو تیرا نام سنتے ہی تھوک دیتی ہیں، کسی کو بد دعا دینی ہو تو کہتی ہیں اللہ کرے تجھے مولا بیاہ کر لے جائے۔ سنتے ہو مولے!"

لیکن مولا تو جس بھٹی میں گودا تھا اس میں پک کر پختہ ہو چکا تھا۔ بولا "ابے جا تاجے اپنا کام کر، گاؤں بھر کی گالیاں سمیٹ کر میرے سامنے ان کا ڈھیر لگانے آیا ہے؟ دوستی رکھنا بڑی جی داری کی بات ہے پٹھے، تیرا جی چھوٹ گیا ہے تو میری آنکھوں میں دھول کیوں جھونکتا ہے۔ جا اپنا کام کر، میرے گنڈاسے کی پیاس ابھی تک نہیں بجھیجااس نے لاٹھی کو کنکروں پر بجایا اور گلی کے سامنے والے مکان میں میراثی کو بانگ لگائی۔ "ابے اب تک چلم تازہ نہیں کر چکا الو کے پٹھے جا کر گھر والوں کی گود میں سو گیا چلم لا۔"

تاجا پلٹ گیا مگر گلی کے موڑ پر رک گیا اور مڑ کر مولے کو کچھ یوں دیکھا جیسے اس کی جواں مرگی پر پھوٹ پھوٹ کر رو دے گا۔

مولا کنکھیوں سے اسے دیکھ رہا تھا اٹھا اور لٹھ کو اپنے پیچھے گھسیٹتا تاجے کے پاس آ کر بولا دیکھ تاجے مجھے ایسا لگتا ہے تو مجھ پر ترس کھا رہا ہے اس لئے کہ کسی زمانے میں تیری یاری تھی پر اب یہ یاری ٹوٹ گئی ہے تاجے تو میرا ساتھ نہیں دے سکتا تو پھر ایسی یاری کو لے کر چاٹنا ہے۔ میرے باپ کا خون اتنا سستا نہیں تھا کہ رنگے اور اس کے ایک ہی بیٹے کے خون سے حساب چک جائے، میرا گنڈاسا تو ابھی اس کے پوتے، پوتیوں، نواسے، نواسیوں تک پہنچے گا، اس لئے جا اپنا کام کر۔ تیری میری یار ختم۔ اس لئے مجھ پر ترس نہ کھایا کر، کوئی مجھ پر ترس کھائے تو آنچ میرے گنڈاسے پر جا پہنچتی ہے جا۔"

واپس آ کر مولا نے میراثی سے چلم لے کر کش لگایا تو سلفہ ابھر کر بکھر گیا۔ ایک چنگاری مولا کے ہاتھ پر گری اور ایک لمحہ تک وہیں چمکتی رہی۔ میراثی نے چنگاری کو جھاڑنا چاہا تو مولا نے اس کے ہاتھ پر اس زور سے ہاتھ مارا کہ میراثی بل کھا رہ گیا اور ہاتھ کو ران اور پنڈلی میں دبا کر ایک طرف ہٹ گیااور مولا گرجا۔ "ترس کھاتا ہے حرامزادہ۔"

اس نے چلم اٹھا کر سامنے دیوار پر پٹخ دی اور لٹھ اٹھا کر ایک طرف چل دیا۔

لوگوں نے مولا کو ایک نئی گلی کے چوراہے پر بیٹھے دیکھا تو چونکے اور سرگوشیاں کرتے ہوئے ادھر ادھر بکھر گئے۔ عورتیں سر پر گھڑے رکھے آئیں اور "ہائیں" کرتی واپس چلی گئیں۔ مولا کی لٹھ یہاں سے وہاں تک پھیلی ہوئی تھی۔ اور لوگوں کے خیال میں اس پر خون سوار تھا۔

مولا اس وقت دور مسجد کے مینار پر بیٹھی ہوئی چیل کو تکے جا رہا تھا۔ اچانک اسے کنکروں پر لٹھ کے بجنے کی آواز آئی۔ چونک کراس نے دیکھا کہ ایک نوجوان لڑکی نے اس کی لٹھ اٹھا کر دیوار کے ساتھ رکھ دی ہے اور ان لانبی سرخ مرچوں کو چن رہی ہے جو جھکتے ہوئے اس کے سر پر رکھی ہوئی گٹھڑی میں سے گر گئی تھیں۔ مولا سناٹے میں آگیا لٹھ کو الانگنا تو ایک طرف رہا اس نے یعنی ایک عورت ذات نے لٹھ کو گندے چیتھڑے کی طرح اٹھا کر پرے ڈال دیا ہے اور اب بڑے اطمینان سے مولا کے سامنے بیٹھی مرچیں چن رہی ہے اور جب مولا نے کڑک کر کہا۔ "جانتی ہو تم نے کس کی لاٹھی پر ہاتھ رکھا ہے جانتی ہو میں کون ہوں تو اس نے ہاتھ بلند کر کے چنی ہوئی مرچیں گٹھڑی میں ٹھونستے ہوئے کہا کوئی سڑی لگتے ہو۔"


مولا مارے غصے کے اٹھ کھڑا ہوا۔ لڑکی بھی اٹھی اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نرمی سے بولی اسی لئے تو میں نے تمہاری لٹھ تمہارے سر پر نہیں دے ماری ایسے لٹے لٹے سے لگتے تھے مجھے تو تم پر ترس آگیا تھا۔"

"تر س آگیا تھا تمہیں مولا پر؟ مولا دھاڑا۔

"مولا!"لڑکی نے گٹھڑی کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا اور ذرا سی چونکی۔

"ہاں، مولا، گنڈاسے والا" مولا نے ٹھسے سے کہا اور وہ ذرا سی مسکرا کے گلی میں جانے لگی۔ مولا کچھ دیر وہاں چپ چاپ کھڑا رہا اور پھر ایک سانس لے کر دیوار سے لگ کر بیٹھ گیا۔ لٹھ کو سامنے کی دیوار تک پھیلا لیا تو پرلی طرف سے ادھیڑ عمر کی ایک عورت آتی دکھائی دی۔ مولا کو دیکھ کر ٹھٹکی۔ مولا نے لٹھ اٹھا کر ایک طرف رکھ دی اور بولا۔ "آ جاؤ ماسی، آ جاؤ میں تمہیں کھا تھوڑی جاؤں گا۔"

حواس باختہ عورت آئی اور مولے کے پاس سے گزرتے ہوئے بولی۔ "کیسا جھوٹ بکتے ہیں لوگ، کہتے ہیں جہاں مولا بخش بیٹھا ہو وہاں سے باؤ کتا بھی دبک کر گزرتا ہے، پر تو نے میرے لئے اپنی لٹھ۔"

"کون کہتا ہے؟" مولا اٹھ کھڑا ہوا۔

"سب کہتے ہیں، سارا گاؤں کہتا ہے، ابھی ابھی کنویں پر یہی باتیں ہو رہی تھیں، پر میں نے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ مولا بخش"

لیکن مولا اب تک اس گلی میں لپک کر گیا تھا جس میں ابھی ابھی نوجوان لڑکی گئی تھی۔ وہ تیز تیز چلتا گیا اور آخر دور لمبی گلی کے سرے پر وہی لڑکی جاتی نظر آئی، وہ بھاگنے لگا۔ آنگنوں میں بیٹھی ہوئی عورتیں دروازوں تک آ گئیں اور بچے چھتوں پر چڑھ گئے۔ مولا کا گلی سے بھاگ کر نکلنا کسی حادثے کا پیش خیمہ سمجھا گیا۔ لڑکی نے بھی مولا کے قدموں کی چاپ سن لی تھی، وہ پلٹی اور پھر وہیں جم کر کھڑ ی رہ گئی۔ اس نے بس اتنا ہی کیا کہ گٹھڑی کو دونوں ہاتھوں سے تھا م لیا، چند مرچیں دہکتے ہوئے انگاروں کی طرح اس کے پاؤں پر بکھر گئیں۔

"میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا۔" مولا پکارا۔ "کچھ نہیں کہوں گا تمہیں۔"

لڑکی بولی۔ "میں ڈر کے نہیں رکی۔ ڈریں میرے دشمن۔"

مولا رک گیا، پھر ہولے ہولے چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور بولا۔ "بس اتنا بتا دو تم ہو کون؟"

لڑکی ذرا سا مسکرا دی۔

عقب سے کسی بڑھیا کی آواز آئی۔ "یہ رنگے کے چھوٹے بیٹے کی منگیتر راجو ہے، مولا بخش۔"

مولا آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر راجو کو دیکھنے لگا۔ اسے راجو کے پاس رنگا اور رنگے کا سارا خاندان کھڑا نظر آیا۔ اس کا ہاتھ ٹینک تک گیا اور پھر رسے کی طرح لٹک گیا۔ راجو پلٹ کر بڑی متوازن رفتار سے چلنے لگی۔

مولا نے لاٹھی ایک طرف پھینک دی اور بولا۔ "ٹھہرو راجو، یہ اپنی مرچیں لیتی جاؤ۔"

راجو رک گئی۔ مولا نے جھک کر ایک ایک مرچ چن لی اور پھر اپنے ہاتھ سے انہیں راجو کی گٹھڑی میں ٹھونستے ہوئے بولا۔ "تمہیں مجھ پر ترس آیا تھا نا راجو؟"۔

لیکن راجو ایک دم سنجیدہ ہو گئی اور اپنے راستے پر ہولی۔ مولا بھی واپس جانے لگا۔ کچھ دور ہی گیا تھا کہ بڑھیا نے اسے پکارا۔ "یہ تمہاری لٹھ تو یہیں رکھی رہ گئی مولا بخش!"

مولا پلٹا اور لٹھ لیتے ہوئے بڑھیا سے پوچھا۔

"ماسی! یہ لڑکی راجو کیا یہی کی رہنے والی ہے؟ میں نے تو اسے کبھی نہیں دیکھا۔"

"یہیں کی ہے بھی بیٹا اور نہیں بھی۔" بڑھیا بولی۔ "اس کے باپ نے لام میں دونوں بیٹوں کے مرنے کے بعد جب دیکھا کہ وہ روز ہل اٹھا کر اتنی دور کھیتوں میں نہیں جا سکتا تو گاتن والے گھر کی چھت اکھیڑی اور یہاں سے یوں سمجھو کہ کوئی دو ڈھائی کوس دور ایک ڈھوک بنا لی۔ وہیں راجو اپنے باپ کے ساتھ رہتی ہے، تیسرے چوتھے دن گاؤں میں سودا سلف خریدنے آ جاتی ہے اور بس۔"

مولا جواب میں صرف "ہوں" کہہ کر واپس چلا گیا، لیکن گاؤں بھر میں یہ خبر آندھی کی طرح پھیل گئی کہ آج مولا اپنی لٹھ ایک جگہ رکھ کر بھول گیا۔ باتوں باتوں میں راجو کا ایک دو بار نام آیا مگر دب گیا۔ رنگے کے گھرانے اور مولا کے درمیان صرف گنڈاسے کا رشتہ تھا نا اور راجو رنگے ہی کے بیٹے کی منگیتر تھی اور اپنی جان کسے پیاری نہیں ہوتی۔"

اس واقعہ کے بعد مولا گلیوں سے غائب ہو گیا۔ سارا دن گھر میں بیٹھا لاٹھی سے دالان کی مٹی کریدتا رہتا اور کبھی باہر جاتا بھی تو کھیتوں چراگاہوں میں پھرپھرا کر واپس آ جاتا۔ ماں اس کے رویے پر چونکی مگر صرف چونکنے پر اکتفا کی۔ وہ جانتی تھی کہ مولا کے سر پر بہت سے خون سوار ہیں، وہ بھی جو بہا دئے گئے اور وہ بھی جو بہائے نہ جا سکے۔

یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ نقارے پٹ پٹا کر خاموش ہو گئے تھے۔ گھروں میں سحری کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ دہی بلونے اور توے پر روٹیوں کے پڑنے کی آواز مندروں کی گھنٹیوں کی طرح پر اسرار معلوم ہو رہی تھیں۔ مولا کی ماں بھی چولہا جلائے بیٹھی تھی اور مولا مکان کی چھت پر ایک چارپائی پر لیٹا آسمان کو گھورے جا رہا تھا۔ یکا یک کسی گلی میں ایک ہنگامہ مچ گیا۔ مولا نے فوراً لٹھ پر گنڈاسا چڑھایا اور چھت پر سے اتر کر گلی میں بھاگا۔ ہر طرف گھروں میں لالٹینیں نکلی آ رہی تھیں اور شور بڑھ رہا تھا۔ وہاں پہنچ کر مولا کو معلوم ہوا کہ تین مسافر جو نیزوں، برچھیوں سے لیس تھے، بہت سے بیلوں اور گائے بھینسوں کو گلی میں سے ہنکائے لئے جا رہے تھے کہ چوکیدار نے انہیں ٹوکا اور جواب میں انہوں نے چوکیدار کو گالی دے کر کہا کہ یہ مال چوھدری مظفر الٰہی کا ہے، یہ گلی تو خیر ایک ذلیل سے گاؤں کی گلی ہے، چوھدری کا مال تو لاہور کی ٹھنڈک سڑک پر سے بھی گزرے تو کوئی اف نہ کرے۔

مولا کو کچھ ایسا محسوس ہوا جیسے چوھدری مظفر خود، بہ نفسِ نفیس گاؤں کی اس گلی میں کھڑا اس سے گنڈاسا چھیننا چاہتا ہے، کڑک کر بولا۔ "چوری کا یہ مال میرے گاؤں سے نہیں گزرے گا، چاہے یہ چوھدری مظفر کا ہو چاہے لاٹ صاحب کا۔ یہ مال چھوڑ کر چپکے سے اپنی راہ لو اور اپنی جان کے دشمن نہ بنو!" اس نے لٹھ کر جھکا کر گنڈاسے کو لالٹینوں کی روشنی میں چمکایا۔ "جاؤ۔"

مولا گھرے ہوئے مویشیوں کو لٹھ سے ایک طرف ہنکانے لگا۔ "جا کر کہہ دو اپنے چوھدری سے کہ مولا گنڈاسے نے تمہیں سلام بھیجا ہے اور اب جاؤ اپنا کام کرو۔"

مسافروں نے مولا کے ساتھ سارے ہجوم کے بدلے ہوئے تیور دیکھے تو چپ چاپ کھسک گئے۔ مولا سارے مال کو اپنے گھر لے آیا اور سحری کھاتے ہوئے ماں سے کہا کہ "یہ سب بے زبان ہمارے مہمان ہیں، ان کے مالک پرسوں تک آ نکلیں گے کہیں سے اور گاؤں کی عزت میری عزت ہے ماں۔" مالک دوسرے ہی دن دوپہر کو پہنچ گئے۔۔

یہ غریب کسان اور مزارعے کوسوں کی مسافتیں طے کر کے کھوجیوں کی ناز برداریاں کرتے یہاں تک پہنچے تھے اور یہ سوچتے آ رہے تھے کہ اگر ان کا مال چوھدری کے حلقۂ اثر تک پہنچ گیا تو پھر کیا ہو گا اور جب مولا ان کا مال ان کے حوالے کر رہا تھا تو سارا گاؤں باہر گلی میں جمع ہو گیا تھا اور اس ہجوم میں راجو بھی تھی۔ اس نے اپنے سر پر اینڈوا جما کر مٹی کا ایک برتن رکھا ہوا تھا اور منتشر ہوتے ہوئے ہجوم میں جب راجو مولا کے پاس سے گزری تو مولا نے کہا۔ "آج بہت دنوں بعد گاؤں میں آئی ہو راجو۔"


"کیوں؟" اس نے کچھ یوں کہا جیسے "میں کسی سے ڈرتی تھوڑی ہوں" کا تاثر پیدا کرنا چاہتی ہو۔ میں تو کل آئی تھی اور پرسوں اور ترسوں بھی۔ ترسوں تھوم پیاز خریدنے آئی۔ پرسوں بابا کو حکیم کے پاس لائی، کل ویسے ہی آ گئیں اور آج یہ گھی بیچنے آئی ہوں۔"

"کل ویسے ہی کیوں آ گئیں؟" مولا نے بڑے اشتیاق سے پوچھا۔

"ویسے ہی بس جی چاہا آ گئے، سہیلیوں سے ملے اور چلے گئے، کیوں؟"

"ویسے ہی" مولا نے بجھ کر کہا، پھر ایک دم اسے ایک خیال آیا۔ "یہ گھی بیچو گی؟"

"ہاں بیچنا تو ہے، پر تیرے ہاتھ نہیں بیچوں گی۔"

"کیوں؟"

"تیرے ہاتھوں میں میرے رشتہ داروں کا خون ہے۔"

مولا کو ایک دم خیال آیا کہ وہ اپنی لٹھ کو دالان میں اور گنڈاسے کو بستر تلے رکھ کر بھول آیا ہے۔ اس کے ہاتھوں میں چل سی ہونے لگی۔ اس نے گلی میں ایک کنکر اٹھایا اور اسے انگلیوں میں مسلنے لگا۔

راجو جانے کے لئے مڑی تو مولا ایک دم بولا۔ "دیکھو راجو میرے ہاتھوں پر خون ہے ہی اور ان پر ابھی جانے کتنا اور خون چڑھے گا، پر تمہیں گھی بیچنا ہے اور مجھے خریدنا ہے، میرے ہاتھ نہ بیچو، میری ماں کے ہاتھ بیچ دو۔"

راجو کچھ سوچ کر بولی"چلوآؤ"

مولا آگے آگے چلنے لگا۔ جاتے جاتے جانے اسے وہم سا گزرا کہ راجو اس کی پیٹھ اور پٹوں کو گھورے جا رہی ہے۔ ایک دم اس نے مڑ کر دیکھا راجو گلی میں چگتے ہوئے مرغی کے چوزوں کو بڑے غور سے دیکھتی ہوئی آ رہی تھی۔ وہ فوراً بولا"یہ چوزے میرے ہیں۔"

"ہوں گے۔" راجو بولی۔

مولا اب آنگن میں داخل ہو چکا تھا، بولا "ماں یہ سب گھی خرید لو، میرے مہمان آنے والے ہیں تھوڑے دنوں میں۔"

راجو نے برتن اتار کر اس کے دہانے پر سے کپڑا کھولا تاکہ بڑھیا گھی سونگھ لے، مگر وہ اندر چلی گئی تھی ترازو لینے اور مولا نے دیکھا کہ راجو کی کنپٹیوں پر سنہرے روئیں ہیں اور اس کی پلکیں یوں کمانوں کی طرح مڑی ہوئی ہیں جیسے اٹھیں گی تو اس کی بھنووں کو مس کر لیں گی اور ان پلکوں پر گرد کے ذرے ہیں اور اس کے ناک پر پسینے کے ننھے ننھے سوئی کے ناکے سے قطرے چمک رہے ہیں اور نتھنوں میں کچھ ایسی کیفیت ہے جیسے گھی کے بجائے گلاب کے پھول سونگھ رہی ہو۔ اس کے اوپر ہونٹ کی نازک محراب پر بھی پسینہ ہے اور ٹھوڑی اور نچلے ہونٹ کے درمیان ایک تل ہے جو کچھ یوں اچٹا ہوا لگ رہا ہے جیسے پھونک مارنے سے اڑ جائے گا۔ کانوں میں چاندی کے بندے انگور کے خوشوں کی طرح لس لس کرتے ہوئے لرز رہے ہیں اور ان بندوں میں اس کے بالوں کی ایک لٹ بے طرح الجھی ہوئی ہے۔ مولے گنڈاسے والے کا جی چاہا کہ وہ بڑی نرمی سے اس لٹ کو چھڑا کر راجو کے کانوں کے پیچھے جما دے یا چھڑا کر یونہی چھوڑ دے یا اسے اپنی ہتھیلی پر پھیلا کر ایک ایک بال کو گننے لگے یا

ماں ترازو لے کر آئی تو راجو بولی۔ "پہلے دیکھ لے ماسی، رگڑ کے سونگھ لے۔ آج صبح ہی کو تازہ تازہ مکھن گرم کیا تھا۔ پر سونگھ لے پہلے!"

"نہ بیٹی میں تو نہ سونگھوں گی۔" ماں نے کہا "میرا تو روزہ مکروہ ہوتا ہے!۔"

"لو" مولا نے لٹھ کی ایک طرف گرا دیا۔ پانچوں آہستہ آہستہ ا س کی طرف بڑھنے لگے۔ ہجوم جیسے دیوار سے چمٹ رہ گیا۔ بچے بہت پیچھے ہٹ کر کمہاروں کے آوے پر چڑھ گئے تھے۔

"کیا بات ہے؟" مولا نے گلے سے پوچھا۔

گلا جواب اس کے پاس پہنچ گیا تھا بولا۔

"تم نے چوھدری مظفر کا مال روکا تھا!"

"ہاں" مولا نے بڑے اطمینان سے کہا۔"پھر؟"

گلے نے کنکھیوں سے اپنے ساتھیوں کو دیکھا اور گلا صاف کرتے ہوئے بولا۔ چوھدری نے تمہیں اس کا انعام بھیجا ہے اور کہا ہے کہ ہم یہ انعام ان سارے گاؤں والوں کے سامنے تمہارے حوالے کر دیں۔" "انعام!" مولا چونکا۔ "آخر بات کیا ہے؟"

گلے نے تڑاخ سے ایک چانٹا مولا کے منہ پر مارا اور پھر بجلی کی سی تیزی سے پیچھے ہٹتے ہوئے بولا۔ "یہ بات ہے۔"


تڑپ کر مولا نے لٹھ اٹھائی، ڈوبتے ہوئے سورج کی روشنی میں گنڈاسا شعلے کی طرح چمکا، پانچوں نووارد غیر انسانی تیزی سے واپس بھاگے، مگر گلا لاری کے پرلی طرف کنکروں پر پھسل کر گر گیا۔ لپکتا ہوا مولا رک گیا، اٹھا ہوا گنڈاسا جھکا اور جس زاویے پر جھکا تھا وہیں جھکا رہ گیادم بخود ہجوم دیوار سے اچٹ اچٹ کر آگے آ رہا تھا۔ بچے آوے کی راکھ اڑاتے ہوئے اتر آئے، نورا دکان میں سے باہر آگیا۔

گلے نے اپنی انگلیوں اور پنجوں کو زمین میں یوں گاڑ رکھا تھا۔ جیسے دھرتی کے سینہ میں اتر جانا چاہتا ہے اور پھر مولا، جو معلوم ہوتا تھا کچھ دیر کے لئے سکتے میں آگیا ہے، ایک قدم آگے بڑھا، لٹھ کو دور دکان کے سامنے اپنے کھٹولے کی طرف پھینک دیا اور گلے کو بازو سے پکڑ کر بڑی نرمی سے اٹھاتے ہوئے بولاچوھدری کو میرا سلام دینا اور کہنا کہ انعام مل گیا ہے، رسید میں خود پہنچانے آؤ ں گا۔"

اس نے ہولے ہولے گلے کے کپڑے جھاڑے، اس کے ٹوٹے ہوئے طرے کو سیدھا کیا اور بولا۔ "رسید تم ہی کو دے دیتا پر تمہیں تو دولہا بننا ہے ابھی اس لئے جاؤ، اپنا کام کرو"

گلا سر جھکائے ہولے ہولے چلتا گلی میں مڑ گیامولا آہستہ آہستہ کھاٹ کی طرف بڑھا، جیسے جیسے وہ آگے بڑھ رہا تھا ویسے ویسے لوگوں کے قدم پیچھے ہٹ رہے تھے اور جب اس نے کھاٹ پر بیٹھنا چاہا تو کمہاروں کے آوے کی طرف سے اس کی ماں چیختی چلاتی بھاگتی ہوئی آئی اور مولا کے پاس آ کر نہایت وحشت سے بولنے لگی۔"تجھے گلے نے تھپڑ مارا اور تو پی گیا چپکے سے! ارے تو تو میرا حلالی بیٹا تھا۔ تیرا گنڈاسا کیوں نہ اٹھا؟ تو نے" وہ اپنا سر پیٹتے ہوئے اچانک رک گئی اور بہت نرم آواز میں جیسے بہت دور سے بولی۔ "تو تو رو رہا ہے مولے؟"

مولے گنڈاسے والے نے چارپائی پر بیٹھتے ہوئے اپنا ایک بازو آنکھوں پر رگڑا اور لرزتے ہوئے ہونٹوں سے بالکل معصوم بچوں کی طرح ہولے بولا "تو کیا اب روؤں بھی نہیں!۔"


حرام جادی

(محمد حسن عسکری)

دروازہ کی دھڑ دھڑ اور"کواڑ کھولو" کی مسلسل اور ضدی چیخیں اس کے دماغ میں اس طرح گونجیں جیسے گہرے تاریک کنوئیں میں ڈول کے گرنے کی طویل، گرجتی ہوئی آواز۔ اس کی پر خواب او نیم رضا مند آنکھیں آہستہ آہستہ کھلیں لیکن دوسرے لمحہ ہی منہ اندھیرے کے ہلکے ہلکے اجالے میں ملی ہوئی سرمہ جیسی سیاہی اس کے پپوٹوں میں بھرنے لگی اور وہ پھر بند ہو گئیں۔ آنکھوں کے پردے بوجھل کمبلوں کی طرح نیچے لٹک گئے اور ڈلوں کو دبا دبا کر سلانے لگے لیکن کان آنکھوں کی ہم آہنگی چھوڑ کر بھنبھنا رہے تھے۔ وہ اس سحر خیز حملہ آور کی تازہ یورش کے خلاف اپنے روزن بند کر لینا چاہتے تھے اور پھر بھی بھنبھنا رہے تھے۔

امید و بیم کی یہ کشمکش جسے نیند شاید جلد ہی اپنے دھارے میں غرق کر لیتی، زیادہ دیر جاری نہ رہی۔ اب کے تو دروازہ کی چولیں تک ہلی جا رہی تھیں اور آوازیں زیادہ بے صبر، بے تاب، کرخت اور بھرائے ہوئے گلے سے نکل رہی تھیں۔ "کھولو کھولو۔"یہ آوازیں پتلی، نوک دار تتلیوں کی طرح دماغ میں گھس کر نیند کے پردوں کو تار تار کئے دے رہی تھیں۔ وہ یہ بھی سن رہی تھی کہ پکارنے والا کھولو۔ کھولو کے وقفہ کے درمیان آہستہ ناخوشگوار ارادوں کا اظہار بھی کر دیتا تھا۔ یہی نہیں بلکہ کوئی شخص اسے سڑک کے ڈھیلوں کو استعمال کرنے کی ترغیب دے رہا تھا۔ آخر اس نے آنکھیں پوری کھول دیں اور ہاتھوں کو چارپائی پر جھٹکتے ہوئے کہا۔"نصیبن دیکھو تو کون ہے ؟"

یہ اس کے لئے کوئی نئی بات نہ تھی جب سے وہ اس قصبہ میں مڈ وائف ہو کر آئی تھی یہ سب کچھ روز ہوتا تھا یہی چیخیں، یہی دھڑ دھڑاہٹ فرض اور آرام کی یہی تلخ کشمکش یہی جھلاہٹ اور پسپائی سب اسی طرح، اسے صبح ہی اٹھ کر جانا پڑتا تھا اور پھر اس کا سارا دن نو واردوں کو احتجاجاً چیختے چلاتے، ہاتھ پاؤں پھینکتے دنیا میں آتے ہوئے دیکھنے میں، کچھ دن آئے ہوؤں کی رفتار کے معائنہ میں اور آمد و رفت کے اندراج کے لئے ٹاؤن ایریا کے دفتر تک بار بات دوڑنے میں گزرتا تھا۔ اسے دوپہر کو کھانا کھانے اور آرام کرنے کا وقت بھی ہزار کھینچ تان کے بعد ملتا تھا اور وہ بھی یقینی نہ تھا کیونکہ بچے پیدا ہونے میں موقع کا مطلق لحاظ نہیں کرتے۔ صبح چار بجے، دوپہر کے بارہ بجے، رات کے دو بجے ہر گھنٹہ ہر گھڑی اسے کوہِ ندا کی آواز پر لبیک کہنے کے لئے تیار رہنا پڑتا تھا اوربچے تھے کہ ایسی تیزی سے چلے آ رہے تھے جیسے پہاڑی ندی میں لڑھکتے ہوئے پتھر، ضبطِ تولید کے چرچے دولت نگر کو شہر سے ملانے والی کچی اور گڑھوں والی سڑک کو طے نہ کر سکتے تھے اور اگر بالفرض محال وہ رینگتے ہوئے وہاں تک پہنچ بھی جاتے تو یہ یقینی بات تھی کہ قصبے والے انہیں ذرا بھی قابلِ اعتنا نہ سمجھتے۔ کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ بچے خدا کے حکم سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس میں انسان کا کیا دخل۔ 18 سالہ لڑکے،56 سالہ بڈھے، الہڑ لڑکیاں، ادھیڑ عورتیں، سب کے سب حیرت انگیز تن دہی اور یک جہتی کے ساتھ سڑکوں کی نالیوں میں کھیلنے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ کئے چلے جا رہے تھے۔ گویا وہ قومی دفاع کی خاطر کارخانوں میں کام کرنے والے مزدور ہیں اور پھر وہ بچارے کرتے بھی کیا۔ وہ تو خدا کے حکم سے بے بس تھے۔ غرض یہ کہ بچے چلے آ رہے تھے۔ کالے بچے، پیلے بچے، پرنچے مرغ کی طرح سرخ بچے اور کبھی کبھی گورے بچے دبلے پتلے، ہڈیوں کا ڈھانچہ یا بعض موٹے تازے بچے، مڑے ہوئے بالوں والے چپٹی ناک والے، چھچھوندر کی طرح گلگلے، لکڑی جیسے سخت، ہر رنگ اور ہر قسم کے بچے۔۔

ایملی نے اپنی دادی سے سنا تھا کہ ان کے بچپن میں ایک مرتبہ پاؤ پاؤ بھر کے مینڈک برسے تھے۔ وہ کبھی کبھی سو چا کرتی تھی اور اس وقت اسے بے ساختہ ہنسی بھی آ جاتی تھی کہ یہ بچے وہی برسنے والے مینڈک ہیں۔ پاؤپاؤ بھر کے زرد زرد مینڈک۔

اور اسے انہی زرد مینڈکوں کی بارش کے ہر قطرہ کو برستے ہوئے دیکھنے کے لئے قصبے کی ٹوٹی پھوٹی روڑوں کی سڑکوں، تنگ و تاریک، سیلی ہوئی گلیوں، گرد و غبار، کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں، بھونکتے ہوئے لال پیلے کتوں اور کسانوں کی گاڑیوں اور گھاس دالیوں سے ٹھنسے ہوئے بازاروں میں سارا سارا دن گھومنا پڑتا تھا۔ پتلی پتلی سڑکوں پر دونوں طرف ریت کا حاشیہ ضرور بنا ہوتا تھا اور پھر نالیاں تو ٹھیک سڑکوں کے بیچوں بیچ بہتی تھیں جن کی سیاہی کسی گنوار دن کے بہے ہوئے کاجل کی طرح سڑک کا کافی حصہ غصب کئے رہتی تھی۔ صفائی کے بھنگی نالیوں کی گندگی سمیٹ سمیٹ کر سڑک پر پھیلا دیتے تھے جن سے اپنی ساڑھی کو محفوظ رکھنے کے لئے ایملی کو ہلکے ہلکے فیروزی سینڈل کے بجائے اونچی ایڑی والا جوتا پہننا پڑتا تھا۔ گو اس صورت میں سڑک کے ابھر ے ہوئے لا تعداد کنکر اس کے پیروں کو ڈگمگا دیتے تھے۔ راستہ میں گلی ڈنڈا اور کبڈی کھیلنے والے لونڈوں کا لا ابالی پن اس کے کپڑوں پر ہر دفعہ اپنا نشان چھوڑ جاتا تھا۔ مگر خیر شکر تھا کہ وہ ہمیشہ اپنی آنکھیں اور دانت سلامت لے آتی تھی اور یہاں کی گرمی!اسے معلوم ہوتا تھا کہ وہ یقیناً پسینوں میں گھل گھل کر ختم ہو جائے گی۔ ان تنگ سڑکوں پر بھی سورج اس تیزی سے چمکتا تھا کہ اس کے بدن پر چنگاریاں ناچنے لگتیں اور اس کی نیلے پھولوں والی چھتری محض ایک بوجھ بن جاتی۔ جب وہ اپنی اونچی ایڑیوں پر لڑکھڑاتی، سنبھلتی، دھوپ میں جلتی بھنتی سڑکوں پر سے گزرتی تو اسے دور آلھا گانے کی آواز، ڈھول کی کھٹ کھٹ اور درخت کے نیچے تاش کی پارٹیوں کے بلند اور کرخت قہقہے دوپہر کی نیند حرام کر دینے والی بوجھل مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح بیزار کن اور پُر اِستہزا معلوم ہوتے اور وہ چار مہینے پہلے چھوڑے ہوئے شہر کا خیال کرنے لگتی۔ مگر شہر اس وقت خوابوں کی وہ سر زمین بن جاتا ہے جسے صبح اٹھ کر ہزار کوششوں کے باوجود کچھ یاد نہیں کیا جا سکتا اور جس کی لطافت کا یقین دن بھر دل کو بے چین کئے رکھتا ہے۔ اسے کچھ روشنی سی معلوم ہوتی ایک چمک، ایک کشادگی، ایک پہنائی کچھ ہریالی اس کے سامنے تیرتی اور وہ پھر اسی تپتی ہوئی کنکروں، نالیوں اور ریت والی سڑک پر لڑکھڑاتی، سنبھلتی چل رہی ہوتی۔ بجلی کے پنکھے والے کمرے کا تصور اس تپش اور سوزش کو کم کرنے میں اس کی مدد نہ کرتا تھا لیکن، ہاں! جب کبھی وہ خوش قسمتی سے رات کو فارغ ہوتی اور اسے اپنے بستر پر کچھ دیر جاگنے کا موقع مل جاتا تو اس وقت شہر کی زندگی کی تصویریں سینما کے پردے کی طرح پوری طرح روشنی اور صفائی کے ساتھ اس کی نظروں کے سامنے گزرنے لگتیں اور وہ جس تصویر کو جتنا دیر چاہتی ٹھہرا لیتی لیکن جب وہ ان تصویروں سے لطف اٹھانے کے درمیان ان مناظر کو یاد کرتی جن سے اسے ہر وقت دو چار ہونا پڑتا تھا تو اس کی خستگی اور بیزاری آہستہ آہستہ عود کر آتی۔ گھرکی دیواریں مع رات کی تاریکیوں کے اس پر جھک پڑتیں۔ دل بھنچنے لگتا، سانس گرم اور دشوار ہو جاتا اور اس کا سر کمننی کھا کھا کر نیند کی بے ہوشی میں غرق ہو جاتا اور وہ خواب میں دیکھتی کہ وہ پھر اسی شہر کے ہسپتال میں پہنچ گئی ہے، مگر ان در و دیوار سے بجائے رفاقت کے کچھ بیگانگی سی ٹپکتی ہے اور خود اس کے اعضاء منجمد اور ناقابل حرکت ہو گئے ہیں اور کوئی نامعلوم خوف اس کے دل پر مسلط تھا۔ وہ صبح تک یہی خواب تین چار مرتبہ دیکھتی اور دراصل اس کے لئے ان زندگیوں کا انتقال ہونا بھی چاہئے تھا۔ ایسے ہی اثرات پیدا کرنے والا، مانا کہ شہر میں بھی ایسی ہی ملی ہوئی گلیاں، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، گرد و غبار، شریر لڑکے موجود تھے اور وہ ان کے وجود سے بے خبر نہ تھی لیکن وہ تو ہوا کی چڑیوں کی طرح ان سب سے بے پرواہ اور مطمئن تانگے کے گدوں پر جھولتی ہوئی ان اطراف سے کبھی دسویں پندرھویں نکل جایا کرتی تھی۔ اس کی دنیا تو ان علاقوں سے دور ضلع کے صدر ہسپتال میں تھی۔ کتنی کھلی ہوئی جگہ تھی وہ؛ اور وہاں کا لطف تو ساری عمر نہ بھول سکے گی۔ ہسپتال کے سامنے تار کول کی چوڑی سڑک تھی جس پر دن میں دو مرتبہ جھاڑو دی جاتی تھی اور جو ہمیشہ شیشے کی طرح چمکا کرتی تھی جب وہ اپنی سہیلی ڈینا کے ساتھ اس پر ٹہلنے کے لئے نکلتی تھی تو دور دور تک پھیلے ہوئے کھیتوں اور میدانوں پر سے آنے والی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے چہرے اور آنکھوں پر لگ لگ کر دماغ کو ہلکا کر دیتے تھے۔ اس کی ساڑھی پھڑپھڑانے لگتی، ماتھے پر بالوں کی ایک لڑی تیرتی اور اس کی رفتار سبک اور تیز ہو جاتی۔

ایسے وقت باتیں کرنا کتنا خوشگوار اور پر لطف ہوتا تھا۔ گرد و غبار کا تو یہاں نام بھی نہ تھا۔ مئی جون کے جھکڑ بھی ہسپتال کی سفید اور شیشوں والی عمارت پر سے سنسناتے ہوئے شہر کی طرف گزرتے چلے جاتے تھے اور بجلی کے پنکھے سے سرد رہنے والے کمرے میں دوپہر کی سختی اور اداسی اپنا سایہ تک نہ ڈال سکتی تھی۔ جب وہ پر وقار انداز سے ساڑھی کا پلہ سنبھالے گزرتی تھی تو ہسپتال کے نوکر چاروں طرف سے اسے "میم صاحب" کہہ کر سلام کرنے لگتے تھے۔ گو یہاں بھی اسے سب لوگ میم صاحب ہی کہتے تھے۔ سڑکوں پر جھاڑو دینے والے بھنگی اسے آتے دیکھ کر تھم جاتے تھے بلکہ قصبہ کے زمیندار تک اسے "آپ" سے مخاطب کرتے تھے۔ مگر پھر بھی یہاں وہ بات کہاں حاصل ہو سکتی تھی۔ وہ رعب، وہ دبدبہ، وہ مالکانہ احساس، وہاں تو اس کی شخصیت ہسپتال کا ایک جزوِ لاینفک تھی۔ اس سفید، سرد اور متین عمارت او ر اس کے غیر مرئی مگر اٹل قانونوں اور اصولوں کا ایک زندہ مجسمہ۔ ہسپتال کے نشتر کے سامنے آنے کے بعد کوئی شخص احتجاجاً حرکت نہیں کر سکتا تھا۔ اسی طرح اس کی حدود میں داخل ہونے والی ہر چیز کو اس کی مرضی کا پابند ہونا پڑتا تھا۔ جب اس کا مریضوں کے معائنہ کا وقت آتا تھا تو وارڈ میں پہلے ہی سے تیاریاں ہونے لگتی تھیں۔ وہ دو روپے روزانہ کرایہ دینے والیوں تک کو جھڑک دیتی تھی کیونکہ اسے صاف کمروں میں پان کی پیک تک دیکھنا گوارا نہ تھا۔ وہ بڑی بڑی نازک مزاجوں کو ذرا سی بے احتیاطی اور ہدایات کی خلاف ورزی پر بے طرح ڈانٹتی تھی اور ہمیشہ سب سے تم کہہ کر بولتی تھی۔ مگر یہاں کی عورتیں تو بہت ہی منہ پھٹ تھیں۔ وہ اس سے ہراساں اور خوف زدہ تو ضرور تھیں مگر اسے دوبدو جواب دینے سے نہ چوکتی تھیں۔ تھوڑے دن تک ان پر اپنا اختیار جمانے کی کوشش کرنے کے بعد اب وہ تھک چکی تھی اور ان کی باتوں میں زیادہ دخل نہ دیتی تھی اور صفائی اور سلیقہ کی تو ان عورتوں کو ہوا تک نہ لگی تھی۔ زچہ کو گرمی میں بھی فوراً ایک کمرے میں بند کر دیا جاتا تھا جس میں جاڑوں کے لحاف پنکھونے، چاروں اور دوسری جنسوں کے سٹکے، ٹوٹی ہوئی چارپائیاں، برتن، کوئلوں کا گھڑا، سوت اور رولڑ کی گٹھڑیاں، سب الم غلم بھرے ہوتے تھے اور ایک انگیٹھی پر گھٹی چڑھا دی جاتی تھی۔ بعض بعض جگہ تو جلدی جلدی کمرہ میں گوبری ہونے لگتی تھی جو پیروں سے اکھڑ اکھڑ کر فرش کو چلنے کے قابل بھی نہ رہنے دیتی تھی اور جس کی سیلن انگیٹھی کی گرمی سے مل کر سانس لینا دشوار کر دیتی تھی۔ گھر کی سب عورتیں اور وہ کم سے کم چار ہوتی تھیں، اپنے بدبو دار کپڑوں سمیت کمرے میں گھس آتی تھیں اور گھبراہٹ میں سارے سامان کو ایسا الٹ پلٹ کر دیتی تھیں کہ ذرا سی کتر تک نہ ملتی تھی۔ اندر کی کھسر پھسر، گھڑڑ بڑر، کراہوں "یا اللہ یااللہ" اور عورتوں کے بار بار کواڑ کھول کر اندر باہر آنے جانے سے گھر کے بچے جاگ جاتے تھے اور اپنے آپ کو اماں کے قریب نہ پا کر چیخنا شروع کر دیتے تھے اور ان کی بڑی بہنیں چمکارچمکار کر اور تھپک تھپک کر انہیں بہلانے کی کوشش کرتی تھیں۔


"ارے چپ چپدیکھ بھیا آیا ہے صبح کو دیکھومنا سا بھیا "مگر صبح کو منا سا بھیا دیکھ سکنے کی امید انہیں اس وقت تک کوئی تسکین نہ دے سکتی اور ان کی روں روں دھاڑوں کی شکل میں تبدیل ہو کر کمرہ کے خلفشار میں اور اضافہ کر دیتی۔ یہ تو خیر جو کچھ تھا سو تھا، کثیف بستروں پر لیپ چڑھے ہوئے تکیوں، پسینے میں سڑے ہوئے کپڑوں اور مدتوں سے نہ دھلے ہوئے بالوں کی بدبو سے جیسے گرمی اور بھی دو آتشہ کر دیتی تھی، اس کا جی الٹنے لگتا تھا۔ وہ تمام وقت ہر چیز سے دامن بچاتی ہوئی کھڑی کھڑی پھرتی تھی۔ اس کمرہ میں ایک گھنٹہ گزارنا گویا جہنم کے عذابوں کے لئے تیاری کرنا تھا یہ مانا کہ خود اسے کچھ نہیں کرنا پڑتا تھا۔ کیونکہ قصبہ کی عورتیں اپنے آپ کو نئے نئے انگریزی تجربوں کے لئے پیش کرنے اور اپنے آپ کو ایک اجنبی اور عیسائی مڈ وائف کے، جو ان دیکھے اور مشتبہ آلات سے مسلح تھی، ہاتھوں میں دے دینے کے لئے قطعاً تیار نہ تھیں انہیں تو قصبہ کی پرانی دائی اور چھوٹے ہوئے گھڑے کے ٹھیکروں پر ہی اعتقاد تھا تاہم ان کے مردوں نے ٹاؤن ایریا سے ڈر کر انہیں اس پر راضی کر لیا تھا کہ وہ نئی عیسائی مڈ وائف کے کمرے میں موجودگی برداشت کر لیں۔ اس طرح عملی حیثیت سے تو اس کا کام بہت کم ہو گیا تھا لیکن آخر ذمہ داری تو اس کی ہی تھی اور وہی ٹاؤن ایریا کمیٹی کے سامنے ہر برائی بھلائی کے لئے جواب دہ تھی اور اس ذمہ داری سے عہدہ برا ہونا ہواؤں سے لڑنا تھا۔ اکثر نوگرفتار اتنا چیختی چلاتیں اور ہاتھ پیر پھینکتی تھیں کہ انہیں قابو میں کرنا دو بھر ہو جاتا تھا یہ پھر ایسی سہم جاتی تھیں کہ وہ ڈر کے مارے ذرا سی حرکت نہ کرتی تھیں۔ تین تین چار چار بچوں کی مائیں تو اور بھی آفت تھیں۔ وہ اپنے تجربوں کے سامنے اس ساڑھی پہن کر باہر گھومنے والی عیسائی عورت کی انوکھی ہدایتوں کو کوئی وقعت دینے پر تیار نہ تھیں۔

وہ اپنی آہوں کے درمیان بھی رک کر دائی کو مشورہ دینے لگتی تھیں اور ایملی کو دانتوں سے ہونٹ چبا چبا کر خاموش رہ جانا پڑتا تھا اور دائی تو بھلا اس کی کہاں سننے والی تھی۔ اسے اپنی برتری اور مڈ وائف کی نااہلیت کا یقین تو خیر تھا ہی مگر اس کی موجودگی سے اپنی آمدنی پر اثر پڑتا دیکھ کر اس نے ایملی کی ہر بات کی تردید کرنا اپنا فرض بنالیا تھا۔ گو ایملی نے اس کے طنزیہ جملوں کو پینے کی عادت ڈال لی تھی لیکن اس کا دل کوئی پتھر کا تھوڑے ہی تھا۔ دائی کے طرزِ عمل کو دیکھ دیکھ کر دوسری عورتیں بھی دلیر ہو گئی تھیں۔ اس کی طرف توجہ کئے بغیر ہی وہ پلنگ کو گھیر لیتی تھیں۔ اور وہ سب سے پیچھے چھوڑ دی جاتی تھی۔ اب اس کے سوا کیا رہ جاتا تھا کہ وہ جھنجھلا جھنجھلا کر پیر پٹخے اور انہیں پکار پکار کر اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرے۔

ان سب آزمائشوں سے گزرنے کے بعد اسے ہر بار اندراج کے لئے ٹاؤن ایریا کے دفتر جانا پڑتا تھا۔ اسے دیکھ کر بخشی جی کی آنکھیں چمکنے لگتیں اور ان کے پان میں سنے ہوئے کالے دانت نیم تمسخرانہ انداز میں ان کو چھوٹی داڑھی اور بڑی بڑی مونچھوں سے باہر نکل آتے اور وہ اس کی طرف کرسی کھسکاتے ہوئے کہتے "کہو میم صاحب! لڑکا کہ لڑکی؟" مونچھوں کے ان گھنے کالے بالوں کی قربت اسے ہراساں کر دیتی اور اسے ایسا معلوم ہونے لگتا جیسے ان بالوں میں یکایک بجلی کی لہر دوڑ جائے گی اور وہ سیدھے ہو کر اس کے چہرہ سے آ ملیں گے۔ وہ نفرت اور خوف سے پیچھے سمٹ جاتی اور بخشی جی سے نظریں بچاتی ہوئی جلد سے جلد اپنا کام ختم کرنے کی کوشش کرتی۔

یہ سارے مرحلے طے کرتی ہوئی وہ عموماً آٹھ نو بجے رات کو تھکی ہاری اپنے گھر پہنچتی تھی۔ جب پیر کہیں سے کہیں پڑ رہے ہوں، سر بھنّایا ہوا ہو، جب جسم کا کوئی بھی عضو ایک دوسرے کا ساتھ دینے کو تیار نہ ہو، تو بھلا بھوک کیا خاک لگ سکتی ہے۔ وہ جوتا کھول کر پیر سے کونے میں اچھال دیتی اور کپڑے اس طرح جھنجھلا جھنجھلا کر اتارتی کہ دوسرے دن نصیبن کو انہیں دھوبی کے یہاں استری کرانے لے جانا پڑتا۔ الٹا سیدھا کھانا حلق کے نیچے اتار کر وہ بستر پر گر پڑتی۔ تکیے پر سر رکھتے ہی دیواریں، پیڑ، ساری دنیا اس کے گرد تیزی سے گھومنے لگتے۔ بھیجا دھرا دھڑ دھرا دھڑا کر کھوپڑی میں سے نکل بھاگنے کی کوشش کرتا۔ سر تکیے میں گھسا جاتا مگر تکیہ اسے اوپر اچھالتا معلوم ہوتا۔ بازو شل ہو جاتے۔ ہتھیلیوں میں سیسہ سا بھر جاتا اور ہاتھ اوپر نہ اٹھ سکتے۔ اسی طرح ٹانگیں بھی حرکت سے انکار کر دیتیں اور کمر تو بالکل پتھر بن جاتی۔ وہ اپنے پرانے ہسپتال کو یاد کرنا چاہتی، مگر وہ کسی چیز کو بھی پوری طرح یاد نہ کر سکتی کھڑکی کا کواڑ، مریضوں کی آہنی چارپائی کا پایہ، موٹر کے پہیئے، نیم کے پیڑ کی چوٹی، پان میں ستے ہوئے کالے دانت اور گھنی سخت مونچھیں، یہ سب باری باری بجلی کے کوندے کی طرح سامنے آتے او ر آنکھ جھپکتے میں غائب ہو جاتے وہ کھڑکی کے کواڑ میں ایک کمرہ جوڑنا چاہتی۔ مگر اس میں زیادہ سے زیادہ ایک چٹخنی کا اضافہ کر سکتی بلکہ بعض اوقات آہنی چارپائی کا ایک پایہ تو ایک کھونٹے کی طرح اس کے دماغ میں گڑ جاتا اور کوشش کے باوجود بھی ٹس سے مس نہ ہوتا، نیم کی چوٹی کو کبھی تنا حاصل نہ ہو سکتا پھر نیم کی ہر ی ہری چوٹی پر ایک ریت کے حاشیہ والی نالی بہنے لگتی اور کھڑکی کے شیشے پر پان میں سنے ہوئے کالے دانت مسکراتے اور گھنے سخت بالوں والی مونچھیں بے تابی سے ہلتیں مختلف شکلیں ایک دوسرے سے دست و گریبان ہو جاتیں اور دماغ کے ایک سرے سے دوسرے تک لڑتی جھگڑتی، ٹکراتی، روندتی، دوڑتی سیاہ آسمان پر روشن ان گنت تاروں کے کچھے کے کچھے بھنگوں کی طرح آنکھوں میں گھس گھس کر ناچنے لگتے اور جلتی ہوئی آنکھیں کنپٹیوں کی خواب آور بھد بھدے سے آہستہ آہستہ بند ہو جاتیں سونے کے بعد تو ان شکلوں کے اور بھی چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہو جاتے جو باری باری آتے اور اس کے دماغ پر مسلط ہو جانا چاہتے۔ اتنے ہی میں ایک ایک دوسرا آ پہنچتا اور پہلے والے کو دھکے دے کر باہر نکال دیتا۔ ابھی یہ کشمکش ختم بھی نہ ہوتی کہ ایک تیسرا آ دھمکتا۔ ان سب کی حریفانہ زور آزمائیاں اسے بار بار چونکا دیتیں اور وہ ہلکی سی کراہ کے ساتھ آنکھیں کھول دیتی پھر آنکھوں میں تاروں کے گچھے کے گچھے بھرنے لگتے کہیں صبح کے قریب جا کر یہ شکلیں تھمتیں اور اپنی رزم گاہ سے رخصت ہوتیں ہلکی ہلکی ہوا بھی چلنی شروع ہو جاتی اور ایملی نیند میں بالکل بے ہوش ہو جاتی مگر اس کی نیند پوری ہونے سے پہلے "کواڑ کھولو " کی مسلسل اور ضدی چیخیں اس کے دماغ میں گونجتیں وہی چیخیں، وہی دھڑ دھڑاہٹ، فرض اور آرام کی وہی تلخ کشمکش، وہی جھلاہٹ اور پسپائی۔

نصیبن بہار سے لوٹ آئی تھی۔ اسے شیخ صفدر علی کے ہاں بلایا گیا تھا اور پکارنے والے نے بار بار کہا تھا "جلدی بلایا ہے جلدی "ہر ایک یہی کہتا ہوا آتا ہے جلدی آخر وہ کیوں جلدی کرے؟ کیا وہ ان کی نوکر ہے؟ یا وہ اسے دولت بخش دیتے ہیں۔ ہونہہ جلدی! وہ نہ پہنچے گی تو کیا سب مر جائیں گے؟ اور پھر وہ کریں گے ہی کیا اسے بلا کر؟کہتی ہیں چڑیلیں"اسے کیا خاک آتا ہے " کیا خاک آتا ہے کچھ نہیں آتا اچھا پھر؟ بیٹھیں اپنے گھر، کون ان کی خوشامد کرنے جاتا ہے کچھ نہیں آتا؟ جیسے جیسے آئے اس نے دیکھے ہیں ان لوگوں کے تو خواب و خیال میں بھی نہ گزرے ہوں گے چمکدار، تیز، ہاتھی دانت کے دستے والے اور وہ ڈاکٹر کارٹ فیلڈ کے لیکچر، وہ نقشے دکھا دکھا کر جسم کے حصوں کو سمجھاتی تھی کچھ نہیں آتا ہونہہ!

ایملی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ پہلے تو اس کا جی چاہا کہ کہلوا دے وہ جلدی نہیں آسکتی۔ وہ بالکل نہیں آئے گی۔ مگر پھر اسے خیال آیا کہ یہ لوگ محض جاہل ہی تو ہیں۔ ان کے کہنے سے اس کا بگڑتا کیا ہے اور آخر ذمہ داری تو خود اس کی ہی ہے۔ چنانچہ اس نے نصیبن سے کہا "کہہ دو کہ چلو میں آ رہی ہوں۔" مطمئن ہو کر اس نے کروٹ لے لی۔ سر کو تکیے پر ڈھیلا چھوڑ دیا۔ آنکھیں بند کر لیں، ایک بازو بستر کی ٹھنڈی چادر پر پھیلا دیا اور ہاتھ چہرے پر رکھ لیا۔ اس نے چاہا کہ دماغ کو بالکل خالی کر لے اور ساکت ہو جائے مگر اس کے دل کی کھٹ کھٹ کھٹ کھٹ کانوں میں بج رہی تھی اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد یکایک ایک پتھر سا دماغ میں آ کر لگتا تھا۔"جلد "جس سے اس کے ماتھے اور کنپٹیوں کی نسیں تن جاتی تھیں اور ٹوٹتی ہوئی معلوم ہونے لگتی تھیں۔ اسے جلدی جانا تھا جلدی اور اسی بات کے تو وہ ٹاؤن ایریا کمیٹی سے تیس روپے ماہوار پاتی تھی۔ جلد جانا تھا لیکن آخر وہ فرض پر صحت کو تو نہیں قربان کر سکتی تھی۔ کل رات ہی اسے بہت دیر ہو گئی تھی۔ وہ انسان ہی تو تھی نہ کہ مشین اب وہ محسوس کر رہی تھی کہ اس کے سر میں درد ہو رہا ہے، کمر بیٹھی جا رہی ہے، کندھے اور ٹانگیں بے جان ہو گئے ہیں۔ ایسی حالت میں اتنی جلدی بہت مضر ہو گا اور خصوصاً اس قصبہ جیسی آب و ہوا میں جہاں اس کی صحت روز بروز گرتی جا رہی ہے۔ ابھی آخر چار مہینے میں اسے چار دن بخار آ چکا تھا اور پھر وہ وہاں جا کر بنا ہی کیا لے گی، ان لوگوں کو ایسی کیا خاص ضرورت ہے اس کی تھوڑا سا اور سو لینا ہی بہتر ہو گا۔


وہ سو جاتی مگر انگلیوں کے بیچ میں ہو کر صبح کی روشنی آ رہی تھی اور اس کی آنکھوں کو بند نہ ہونے دیتی تھی۔ اس نے ہاتھ آنکھوں پر کھسکا لیا اور آنکھیں خوب بھینچ کر بند کر لیں۔ اب اسے جھپکیاں آنا شروع ہو گئیں۔ مگر ہر دفعہ "دودھ اور دودھ "ابے او کلو ہوئے۔"اٹھ! اٹھ! ابے پڑھنے نہیں جانے کا؟ " کی صداؤں اور نسین کی لکڑیاں توڑنے اور دیگچیاں اٹھانے کی آوازوں سے وہ چونک پڑتی تھی۔ سونے کی کوشش کرتے کرتے اس کی آنکھوں میں پانی بھر آیا۔ سر میں درد ہونے لگا اور ماتھا جلنے لگا۔ وہ مایوس ہو کر سیدھی لیٹ گئی اور آنکھوں پر دونوں بازو رکھ لئے۔ اب اس کے اعضاء اور بھی بوجھل اور ناقابل حرکت ہو گئے اور وہ ان صداؤں، آوازوں، ان تحکمانہ طلبیوں "جلدی بلایا ہے۔"اس صبح کے چاند نے، اس قصبہ پر دانت پیسنے لگی۔ وہ چاہتی تھی کہ کوئی ایسی چادر اوڑھ لے کہ اس کو ان صداؤں، آوازوں، ان تحکمانہ طلبیوں۔"جلدی بلایا ہے "اس صبح کے چاند نے، اس قصبے۔ سب سے چھپاکے۔ جس کے نیچے ان میں سے کسی کی بھی پہنچ نہ ہو، جہاں وہ ان سب سے اپنے آپ سے غافل ہو جائے اپنے کو کھو دے اسے محسوس ہو کہ دو مضبوط اور مدت کے آشنا بازو اس کے جسم کا حلقہ کئے بھینچ رہے ہیں سر کے درد کو گویا یکایک کسی نے پکڑ لیا دو آنکھیں بھی ذرا دور چمکیں، مسکراتی ہوئی معلوم ہوئیں اور اس نے اپنے آپ کو ان بازوؤں کی گرفت میں چھوڑ دیا جسم ہوا کی طرح ہلکا ہو گیا تھا۔ سر ہلکے ہلکے جھکولے کھاتا موجوں پر بہا چلا جا رہا تھا۔ سکون تھا، خاموشی تھی اور صرف دل کے مسرت سے دھڑکنے کی آواز آ رہی تھی دو بازو اس کے جسم کو بھینچ رہے تھے۔ وہ مضبوط اور مدت کے آشنا بازو۔

اس نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں۔ صبح کے چاند میں چمک آ گئی تھی۔ نصیبن نے چولہے پر دیگچی رکھی۔ بکری والا محلہ سے جانے کے لئے بکریاں جمع کر رہا تھا اور کنویں کی گراری زور زور سے چل رہی تھی۔ اس کی آنکھیں اوپر اٹھیں اور ہوا میں کسی چیز کو تلاش کرنے لگیں۔

دو بادامی سائے اترنے لگے۔ آنکھوں کے پردے پھڑکے اور پلکیں آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے مل گئیں گویا وہ ان سایوں کو پھنسا لینا چاہتی ہیں سائے کچھ دور پر رک گئے، وہ ڈگمگائے اور دھندلے ہوتے ہوتے ہوا میں تحلیل ہو گئے آنکھیں صبح بے رنگ آسمان کو دیکھ رہی تھیں۔ اس کی گردن ڈھلک گئی اور بازو دونوں طرف گر پڑے وہ مدت کے آشنا بازو مگر وہ یہاں کہاں!

چند لمحے بے حس پڑے رہنے کے بعد وہ ولیمن کو یاد کرنے لگی۔ لمبے لمبے پیچھے الٹے ہوئے بال، چوڑا سینہ، سرخ ڈوروں والی جلد، پھرتی ہوئی آنکھیں، موٹا سا نچلا ہونٹ، کان کی لو تک کٹی ہوئی قلمیں، سانولے رنگ پر منڈھی ہوئی داڑھی کا گہرا نشان، آنکھوں کے نیچے ابھری ہوئی ہڈیاں اور مضبوط بازودن میں کتنی کتنی مرتبہ اس کے بازو اسے بھینچتے تھے اور ان کے درمیان وہ بالکل بے بس ہو جاتی تھی اور بعض دفعہ تو جھنجھلا پڑتی تھی مگر اس کے جواب میں اس کا پیار اور بڑھ جاتا تھا اور اس کے دونوں گالوں پر وہ گرم اور نم آلود بوسے اور دن میں کتنی کتنی مرتبہ اس کے منہ سے شراب کی تیز بدبو تو ضرور آتی تھی۔ مگر وہ کیسے جوش سے اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا لیتا تھا اور پاگلوں کی طرح اس کے چہرے، ہاتھوں، گردن، سینے سب پر بوسے دے ڈالتا تھا اور پھر قہقہے مار مار کر ہنستا تھا "میری جان ہاہاہا ہااے می لی ڈی یرپیاری پیاری ہا ہا ہاہا "اور وہ اس کی کیسی نگہداشت کرتا تھا۔ وہ اس سے اپنے بازوؤں میں پوچھتا۔"اس مہینے میں کیسی ساڑھی لاؤ گی، میری جان؟ہیں؟ اس سینے پر تو سرخ کھلے گی!کہو کیسی رہی؟ ہا ہا ہاہا"اور وہ اسے دو پہر میں تو کبھی نہ نکلنے دیتا تھا اگر اسے ایسے وقت ہسپتال سے بلایا جاتا تو وہ کہلوا دیتا کہ مس ولیمن سو رہی ہیں اور وہ اس کے اٹھنے سے پہلے چائے تیار کرا کے اپنے آپ اس کے قریب میز پر لا رکھتا تھا اور وہ اسے کتنے پیار سے بھیجتا تھا مگر وہ یہاں کہاں!اگر وہ یہاں ہوتا تو وہ اسے اتنے سویرے کہیں نہ جانے دیتا۔ وہ یہاں ہوتا تو وہ خود کہیں نہ جاتی۔ وہ تو ایسے کواڑ پیٹ کر جگانے والے کا سر توڑ دیتالیکن وہ یہاں ہوتا وہ اس کے پاس ہوتا تو وہ خود یہاں کیوں ہوتی۔

لیکن کچھ دوسری شکلیں ابھریں اچھا ہی ہے کہ وہ اس کے پاس نہیں ہے اس کے بال الجھے ہوئے اور پریشان تھے اور وہ اس طرح دانتوں سے ہونٹ چبا رہا تھا گویا ان کا قیمہ کر کے رکھ دے گا اور اس نے اسے کیسی بے رحمی سے بید سے پیٹا تھا۔"لے اور لے گی بڑی بن کر آئی ہے وہاں سے وہ"اگر میم صاحب شور سن کر نہ آ جاتیں تو نہ معلوم وہ ابھی اور کتنا مارتا ایملی اپنے بازوؤں پر نشان دھونڈنے لگی ایسے ظالم سے تو چھٹکارہ ہی اچھا کیسی خونی آنکھیں اور آخر میں وہ شراب کتنی پینے لگا تھا مگر وہ ہوتا تو اسے اتنے سویرے کہیں نہ جانے دیتا مانا کہ وہ روڈا کے ساتھ رات کو بڑی دیر ٹہلتا رہتا تھا لیکن ظاہراً تو اس کے ساتھ اس کا برتاؤ ویسا ہی رہا تھا اگر وہ خود اتنا نہ بگڑتی اور اسے اٹھتے بیٹھتے طعنے نہ دیتی تو شاید بات یہاں تک نہ پہنچتی وہ اسے کتنے پیار سے بھینچتا تھا لیکن وہ لمبے منہ پر ہڈیاں نکلی ہوئی، سوکھی جیسے لکڑی ہو اور فراک پہننے کا بڑا شوق تھا آپ کو، بڑی میم صاحب بنتی تھیں۔ چار حرف انگریزی کے آ گئے تھے تو زمین پر قدم نہ رکھتی تھی مارے شیخی کےنہ معلوم ایسی کیا چیز لگی ہوئی تھی اس میں جو وہ ایسا لٹو ہو گیا تھا اس نے خواہ مخواہ فکر کی، وہ خود اسے تھک کر چھوڑ دیتا وہ اسے تھوڑے دن یونہی چلنے دیتی تو کیا تھا مگر اس نے کیسی بے رحمی سے اسے مارا تھا ہاں ایک دفعہ مار ہی لیا تو کیا ہو گیا۔ وہ خود بھی شرمندہ معلوم ہوتا تھا اور اس کے سامنے نہ آتا تھا اوراگر ڈینا اسے اتنا نہ بہکاتی تو وہ شاید طلاق بھی نہ لیتی۔ بس وہ اپنا ذرا مزا لینے کو اسے اکساتی رہی یہ اچھی دوستی ہے اب وہ ڈینا سے نہیں بولے گی اور اگر وہ ملے گی بھی تو وہ منہ پھیر کر دوسری طرف چل دے گی اور جو ڈینا اس سے بولی تو وہ صاف کہہ دے گی کہ وہ دھوکا دینے والوں سے نہیں بولنا چاہتی ڈینا بگڑ جائے گی تو بگڑا کرے۔ اب وہ شہر کے ہسپتال سے چلی ہی آئی، اب کوئی روز کا کام کاج تو ہے نہیں کہ بولنا ہی پڑے وہ اسی طرح ڈینا کی مکاری پر پیچ و تاب کھاتی رہتی، اگر نصیبن اسے نہ پکارتی۔"اجی میم صاحب اٹھو، سورج نکل آیا۔ " وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی اور چاروں طرف دیکھا اب تو واقعی اسے چلنا چاہئے تھا مگر پھر بھی پلنگ سے نیچے اترنے سے پہلے اس نے کئی مرتبہ انگڑائیاں لیں اور تکیہ پر سر رگڑا۔

وہ منہ دھوکر چائے کے انتظار میں پھر بستر پر آ بیٹھی۔ نصیبن لکڑیوں کو چولہے میں ٹھیک کرتی ہوئی بولی۔ "وہ منیاین کہہ رہی تھیں کہ تمہاری میم صاحب تو عید کا چاند ہو گئیں۔ کبھی آ کے بھی نہیں جھانکتی اجی ہو ہی آؤ ان کی طرف میم صاحب کسی دن؛ بڑا یاد کریں ہیں تمہیں!"

ہو ہی آئے ان کی طرفکیا کرے وہ جا کر میلے کچیلے پلنگوں پر بیٹھنا پڑتا ہے۔ ٹوٹے ٹاٹے یہاں کی عورتوں سے وہ کیا باتیں کرے؟ بس انہیں تو تو قصے سناتے جاؤ کہ اس کے بچہ مرا ہوا پیدا ہوا۔ اس کو اتنی تکلیف ہوئی۔ اس کو ایسی بیماری تھی۔ وہ کہاں تک لائے ایسے قصے سنانے کو اور کوئی بات تو جیسے آتی ہی نہیں انہیں اور پھر یہ لوگ کتنی بدتمیز ہیں۔ سڑے ہوئے کپڑے لے کر سرپر چڑھی جاتی ہیں اسے ان لوگوں کے ہاتھ کا پان کھاتے ہوئے کتنی گھن آتی ہے مگر مجبوراً کھانا ہی پڑتا ہے جب وہ اس سے باتیں کرتی ہیں تو ہلکے ہلکے مسکراتے جاتی ہیں جیسے اس کا مذاق اڑا رہی ہوں کن آنکھوں سے ایک دوسرے کو اور سارے گھر کو دیکھتی جاتی ہیں گویا وہ چور ہے اور ان کی آنکھ بچتے ہی کوئی چیز اڑا دے گییہ اس سے سب عورتیں جھجکتی کیوں ہیں؟ کیا وہ ان کی طرح عورت نہیں ہے؟ یا وہ کوئی ہوا ہےعجیب بے وقوف ہیں یہ عورتیں۔اور ہاں جب وہ ان کے ہاں جاتی ہے تو ان کے اشارے سے جو ان لڑکیاں جلدی جلدی بھاگ کر کمرے میں چھپ جاتی ہیں۔ وہ اندر سے جھانک جھانک کر اسے دیکھتی ہیں اور اگر کہیں اس کی نظر پڑ جائے تو وہ فوراً ہٹ جاتی ہیں اور اندر سے ہنسنے کی آواز آتی ہے اور اگر انہیں اس کے سامنے آنا ہی پڑ جائے تو وہ بدن چراتی ہوئی اوپر سے نیچے تک خوب دوپٹہ تانے ہوئے آتی ہیں جیسے اس کی نظر ان میں سے کچھ چھٹا لے گی یا اس کی نگاہ پڑ جانے سے ان میں کوئی گندگی لگ جائے گیان کی یہ حرکت اسے بالکل نا پسند ہے۔ کیا انہیں اس پر اعتماد نہیں اور وہ اس پر شک کرتی ہیں؟ اس سے تو ان کے ہاں نہ جانا ہی اچھا بیٹھیں اپنی لڑکیوں کو لے کر اپنے گھر میں اور وہ گندے بچے، مٹی سے سنے، ناک بہتی، آدھے ننگے، پیٹ نکلا ہوا، وہ سامنے آ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اسے ایسے غور سے دیکھتے رہتے ہیں جیسے وہ نیا پکڑا ہوا عجیب و غریب جانور ہے اور جب وہ ان سے بولتی ہے تو وہ سیدھے باہر بھاگ جاتے ہیں وحشی ہیں بالکل، جانور بالکل اور یہ خوب ہے کہ اس کے پہنچتے ہی وہاں جھاڑو شروع ہو جاتی ہے۔ مارے گرد کے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ ذرا خیال نہیں تندرستی کا انہیں اور کوئی کیوں ان کے ہاں جا کر بیماری مول لے اور ان کے مرد، کتنی شرم آتی ہے اسے ان حرکتوں سے۔ وہ ہمیشہ ڈیوڑھی میں راستہ گھیرے بیٹھے رہتے ہیں اور جب تک وہ بالکل قریب نہ پہنچ جائے نہیں ہٹتے "ارے حقہ ہٹاؤ، حقہ ہٹاؤ " اٹھتے اٹھتے ہی اتنی دیر لگا دیتے ہیں کہ وہ گھبرا جاتی ہے جان کے کرتے ہوں گے یہ ایسی باتیں تاکہ کھڑی رہے وہ تھوڑی دیر وہاں اور جب وہ اندر پہنچ جاتی ہے تو اسے قہقہوں کی آواز آتی ہے۔ عجیب بد تمیز ہیں انگریزوں کے ہاں کتنی عزت ہوتی ہے عورتوں کی۔ وہ بڈھے پادری صاحب جو آیا کرتے تھے، بہت اچھے آدمی تھے بیچارے، ہر ایک سے کوئی نہ کوئی نہ بات ضرور کرتے تھے، بلکہ اسے تو وہ پہچان گئے تھے۔ سب مل کر جایا کرتے تھے اتوار کو گر جا وہ خود، ڈینا، کیٹی، میری، شیلا اور ہاں مرسی مسز جیمس کا کتنا مذاق اڑاتے تھے سب مل کر سب سے پیچھے چلتی تھیں، چھتری ہاتھ میں لئے ہانپتی ہوئی اور ان میں تھا ہی کیا۔ ہڈیوں کا ڈھانچہ تھیں بس اور گرجا سے لوٹتے ہوئے تو اور بھی بڑا مزا آتا تھا۔ سب چلتے تھے، آپس ہنستے، مذاق کرتے افوہ، شیلا کس قدر ہنسوڑ تھی، کیسے کیسے منہ بناتی تھی۔ جب ہنسنے پر آتی تھی تو رکنے کا نام نہ لیتی تھی مگر یہاں وہ سب باتیں کہاں اب تو جیسے وہ آدمیوں میں رہتی ہی نہیں اور واقعی کیا آدمی ہیں یہاں والے؟ اول تو اسے اتنی فرصت ہی کہا ملتی ہے۔ ہر وقت پاؤں میں چکر رہتا ہے اور پھر ایسوں سے کوئی کیا ملے؟جیسے جانور نہ کوئی بات کرنے کو، نہ کوئی ذرا ہنسنے بولنے کو، بس آؤ اور پڑ رہو لے دے کے رہ گئی نصیبن، تو اسے اس کے سوا کوئی بات ہی نہیں آتی کہ اس کا بیٹا بھاگ گیا، اس کی اپنے میاں سے لڑائی ہو گئی۔ اس کے یہاں برات بڑی دھوم دھام سے آئی اسے کیا ان باتوں سے، ہوا کرے، اس سے مطلب یا بہت ہوا تو اسے خواہ مخواہ ڈراتی رہے گی چوروں کے قصے سنا سنا کر ایک دفعہ اس نے سنایا تھا کہ ایک دوسرے قصبے کی مڈ وائف کو کچھ لوگ کیسے بہکا کر لے گئے تھے۔


اور اس کے ساتھ کیسا سلوک کیا تھابکتی ہے بھلا کہیں یوں بھی ہوا ہے لیکن اگر کہیں اس کے ساتھ مگر نہیں، بیکار کا ڈر ہے، جو یوں ہوا کرے تو لوگ گھر سے نکلنا چھوڑ دیں بھلا دنیا کا کام کیسے چلے پاگل ہے بڑھیا، بہکا دیا ہے کسی نے اسے مگر ایسی جگہ کا کیا اعتبار، نہ معلوم کیا ہو گیا نہ ہو۔ کوئی ساتھ بھی تو نہیں اگر وہ مڈ وائف نہ بنتی تو اچھا تھا اور وہ تو خود ٹیچر بننا چاہتی تھی بلکہ پاپا بھی یہی چاہتے تھے مگر ماما ہی کسی طرح راضی نہ ہوئیں کتنے دن ہو گئے پاپا کو بھی مرے ہوئےبارہ سال، کتنا زمانہ گزر گیا اور معلوم ہوتا ہے جیسے کل کی بات ہوکتنا پیار کرتے تھے وہ اسے روز سکول پہنچانے جاتے تھے ساتھ کلاس میں اس کی سیٹ میز کے پاس تھی اور وہ انگریزی کے ماسٹر صاحب بہت اچھے آدمی تھے بے چارے، چاہے وہ کام کر کے نہ لے جائے، مگر کبھی کچھ نہیں کہتے تھے اور لڑکے تو نہ جانے اسے کیا سمجھتے تھے۔ سارے اسکول میں وہ اکیلی ہی لڑکی تھی نا، سب کے سب ماسٹر صاحب کی نظریں بچا بچا کر اس کی طرف دیکھتے رہتے تھے ارے وہ موٹا کرم چند، بھلاوہ بھی تو اس کی طرف دیکھتا تھا جیسے وہ بڑا خوبصورت سمجھتی تھی اسے اور ہاں وہ عظیم! یاد بھولا تھا۔ بیچارا، سوکھا سا زرد، مگر آنکھیں بڑی بڑی تھیں اس کی۔ دیکھتا تو وہ بھی رہتا تھا اس کی طرف، مگر جب کبھی وہ اسے دیکھ لیتی تھی تو وہ فوراً شرما کر نظریں نیچی کر لیتا تھا اور رومال نکال کر منہ پونچھنے لگتا تھا اور اس دن وہ دل میں کتنا ہنسی تھی۔ اس دن وہ اتفاق سے جلدی آ گئی تھی۔ برآمدہ میں دوسری طرف سے وہ آ رہا تھا، جب وہ قریب آیا تو اس کا چہرہ سرخ ہو گیا اور گھبرا گھبرا کر چاروں طرف دیکھنے لگا۔ اس کے پاس پہنچ کر وہ رک گیا اور کچھ کہنے سا لگا۔ ڈرتے ڈرتے عظیم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور پھر جلدی سے چھوڑ دیا، اسے گھبرایا ہوا دیکھ کر وہ خود پریشان ہو گیا تھا اور اس نے بہت گڑ گڑا کر کہا تھا۔ "کہیے گا نہیں۔"وہ کتنے دن اس بات کو یاد کر کے ہنستی رہی تھی کتنا سیدھا تھا واقعی وہوہ ابھی اسکول ہی میں رہتی تو کتنا مزا رہتا مگر وہ زمانہ تو اب گیا اب تو وہ یہاں دنیا سے الگ پڑی ہے۔ کوئی بات تک کرنے کو نہیں کسی کا خط بھی جواب وہی "نہیں "اور جو آیا بھی تو بس وہی لمبے بادامی لفافے آن ہنر میجسٹیز سروس ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی ہدایتیں، یوں کرو اوریوں کرو کوئی اس کی مانے بھی جو وہ یوں کرے خواہ مخواہ کی آفت اور پھر خط آئے بھی کہاں سے اگر آنٹی ہی دلی سے خط بھیج دیا کریں تو کیا ہے مگر وہ تو برسوں بھی خبر نہیں لیتیں ایک دفعہ جانا چاہئے اسے دلی اچھا شہر ہے کیا چوڑی سڑکیں ہیں اور سنیما کس کثرت سے ہیں اور وہوہ خیر ہے ہی مگر ہو کائیں، کائیں، کائیں نے اسے چونکا دیا۔ دھوپ آدھی دیوار تک اتر آئی تھی، کوا زور زور سے چیخ رہا تھا اور وہ بستر پر پیر نیچے لٹکائے لیٹی تھی۔ اسے جلدی جانا تھا اور اس نے بے کار لیٹے لیٹے اتنی دیر لگا دی تھی۔ وہ نصیبن پر اپنا غصہ اتارنے لگی کہ اس نے چائے کیوں نہیں لا کر رکھی مگر وہ سمجھ رہی تھی کہ میم صاحب سو رہی ہیں اور واقعی، اس نے خیال کیا۔ اس سے تو وہ اتنی دیر سو ہی لیتی تو اچھا تھا۔ بہر حال اس نے نصیبن کو جلدی سے چائے لانے کو کہا۔

اس نے دوبارہ منہ دھویا اور الٹی سیدھی چائے پینے کے بعد وہ کپڑے بدلنے چلی۔ ٹرنک کھول کر وہ سوچنے لگی کہ کونسی ساڑھی پہنے سفید، سرخ کناروں والی۔ مگر کیا روز روز ایک ہی رنگ اور پھر سفید ساڑھی میلی کتنی جلدی ہوتی ہے۔ اس کی بہار تو بس ایک دن ہے۔ اگلے دن کام کی نہیں رہتینیلی ساڑھی نیچے سے چمک رہی تھی اسے ہی کیوں نہ پہنے؟ مگر اسے نیلی ساڑھی پہنے دیکھ کر تو لوگ اور بھی باؤلے ہو جائیں گے وہ جدھر سے نکلتی ہے سب کے سب اسے گھورنے لگتے ہیں۔ اسے بڑی بری معلوم ہوتی ہے ان کی یہ عادت اور ان زمینداروں کو دیکھو، بڑے شریف بنتے ہیں؟خیر یہ تو جو کچھ ہے سو ہے، جب وہ آگے بڑھ جاتی ہے تو وہ ہنستے ہیںاور طرح طرح کے آوازے کستے ہیں"کہو یار!""ابے مجید ذرا لیجو!"کوئی کھانسنے لگتا ہے؛ کیا وہ سمجھتی نہیںذرا شہر میں کر کے دیکھتے ایسی باتیں وہ مزا چکھا دیتی انہیں مگر یہاں وہ کیا کرے، مجبور ہو جاتی ہے۔

ان کی ہی وجہ سے تو اس نے رنگ دار ساڑھیاں چھوڑ دیں اور سفید پہننے لگی، مگر پھر بھی نہیں مانتے اب اگر آج وہ نیلی ساڑھی پہن کر جائے گی تو نہ معلوم کیا کیا کریں گے تو پھر سفید ہی پہن لے مگر روز روز سفید اور کیا، وہ کوئی ان سے ڈرتی ہے۔ ہنستے ہیں تو ہنسا کریں، کوئی اسے کھا تھوڑی لیں گے، بھلا کیا بگاڑ سکتے ہیں وہ اس کا؟ اب وہ پھر رنگ دار ساڑھیاں پہنا کرے گی دیکھیں وہ اس کا کیا بناتے ہیں ہنسیں گے تو ضرور مگر اس سے ہوتا ہی کیا ہے آج ضرور نیلی ساڑھی پہنے گی!

نیلی ساڑھی پہن کراس نے بال بنانے کے لئے آئینہ سامنے رکھا۔ کم خوابی سے اس کی آنکھیں لال اور کچھ سوجی ہوئی سی تھیں۔ وہ ہاتھ میں آئینہ اٹھا کر غور سے دیکھنے لگی مگر یہ ا س کا رنگ کیوں خراب ہوتا چلا جا رہا تھا اور کھال بھی کھردری ہو چلی تھی۔ جب وہ لڑکی تھی تو اس کے چہرے پر کتنی چمک تھی رنگ سانولا تھا تو کیا، چمکدار تو تھا اس کی آنٹی ہمیشہ ماما سے کہا کرتی تھیں۔ "تمہیں بیٹی اچھی ملی ہےمگر اب" اس نے آئینہ رکھ دیا اور اپنے جسم کو اوپر سے نیچے تک ایسی حسرت سے دیکھنے لگی جیسے مور اپنے پروں کو اس کے بازوؤں کا گوشت لٹک آیا ہے اور ٹھوڑی بھی موٹی ہو گئی ہے اور ہاتھ اب کتنے سخت ہیں۔ بال بھی سوکھے ساکھے اور ہلکے رہ گئے ہیں اور تیزی تو اس میں بالکل نہیں رہی ہے۔ پہلے وہ کتنا کتنا دوڑتی بھاگتی تھی اور پھر بھی نہ تھکتی تھی۔ مگر اب تو تھوڑی ہی دیر میں اس کی کمر ٹوٹنے لگتی ہے۔

اس نے ایک لمبی سی انگڑائی اور پھر ایک گہرا سانس لیا۔ بے رونق چہرے اور پلپلے بازوؤں نے نیلی ساڑھی کا رنگ اڑا دیا تھا۔ اس نے بال ایسی بے دلی سے بنائے کہ بہت سے تو ادھر ادھر اڑتے رہ گئے۔ بال بن چکے تھے مگر وہ برابر آئینے کو تکے جا رہی تھی اوراس کا دماغ سمٹ کر آنکھوں کے پپوٹوں میں آگیا تھا جن میں ایک ہی جگہ ٹھہرے ٹھہرے مرچیں سی لگنے لگی تھیں۔

جب اس نے آئینہ رکھا تو اسے میز کے کونے پر دیو ار کے قریب بائبل رکھی نظر آئی۔ یہ بچپن میں سالگرہ کے موقع پر اس کے پاپا نے اسے دی تھی۔ مدتوں میں اس نے اسے کھولا تک نہ تھا اور وہ گرد سے اٹی پڑی تھی۔ اس کتاب نے اسے پھر پاپا کی یاد دلا دی اور وہ اسے اٹھانے پر مجبور ہو گئی۔ پہلے ہی صفحہ پر اس کا نام لکھا تھا۔ یہ دیکھ کر اسے ہنسی آئی کہ وہ اس وقت کیسے ٹیڑھے میڑھے حروف بنایا کرتی تھی۔ اسے یہ بھی یاد آیا کہ اس زمانہ میں اس کے پاس ہرا قلم تھا۔ اس کا ارادہ ہوا کہ اب کے جب وہ شہر جائے گی تو ایک ہرا قلم ضرور خریدے گی مگر اسے خیال آیا کہ وہ قلم لے کر کرے گی ہی کیا۔ اب اسے کونسا بڑا لکھنا پڑھنا رہتا ہے۔

اس کے پاپا اسے بائبل پڑھنے کی کتنی ہدایت کیا کرتے تھے۔ اسے اپنی بے پروائی پر شرم سی محسوس ہوئی اور وہ بائبل کے ورق الٹنے لگیپیدائشخروجورق تیزی سے الٹے جانے لگے استثنا روت یرمیاہ حقوقمتی لوقارسولوں کے اعمالکہاں سے پڑھے آدمنوح طوفانابراہیمکشتیصلیبمسیح یسو راجا آئے گرجا کا گھنٹہ سب مل کر گرجا جاتے تھے، ہنستے مذاق کرتے آخر وہ فیصلہ نہ کر سکی کہ کون سی جگہ سے پڑھے اور اسے جلدی جانا تھا، اتنا وقت بھی نہیں تھا لیکن اس نے ارادہ کر لیا کہ وہ اب روز صبح کو بائبل پڑھا کرے گی ورنہ کم سے کم اتوار کو ضرور لیکن دعا تو مانگ ہی لینی چاہئے بہت بری بات ہے ماما کبھی بغیر دعا مانگے نہیں سونے دیتی تھیں اور پھر اس میں وقت بھی کچھ نہیں لگتا اور لگے بھی تو کیا دنیا کے دھندے تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔

اس نے دماغ کو ساکن بنانا چاہا اور آنکھیں بند کر لیں مگر باوجود اس کے آنکھیں پٹ پھٹانے سے پہلے تو اس کی ماما اس کی آنکھوں میں گھس اور پھر پاپا اور ان کے پیچھے پیچھے گرجا کی سڑک، گھنٹہ اور سب مل کر گرجا جایا کرتے تھے ہنستے، مذاق کرتے۔

اس نے آنکھیں کھول کر سرکو اس طرح جھٹکے دیا گویا ان سب کو اپنی آنکھوں میں سے جھاڑ رہی ہےآخر دماغ بالکل خالی ہو گیا اور خاموش۔ صرف کانوں اور سر میں دل کے دھڑکنے کی آواز آ رہی تھی۔ اس نے دوبارہ آنکھیں بند کر لیں۔ دونوں ہاتھ جوڑ لئے او ر دعا کو دہراتی چلی گئی۔ "اے میر ے باپ تو جو آسمان پر ہے تیرا نام پاک مانا جائے تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسے آسمان پر پوری ہوتی ہے ویسے ہی زمین پر ہو۔ ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے اور ہمارے قصوروں کو معاف کر جیسے ہم بھی اپنے قصوروں کو معاف کرتے ہیں۔ کیونکہ قدرت جلال ابد تک تیرا ہی ہے۔ آمین!"


آنکھیں کھولنے پر اس نے کچھ اطمینان سا محسوس کیا اور مسکرانے کی کوشش کرنے لگی اس نے پھر آئینہ میں جھانکا اور چاہا کہ کسی خاص چیز کے لئے دعا مانگے لیکن کیا چیز؟ کوئی!اس کا تبادلہ شہر میں ہو جائے مگر وہاں اسے پھر ولیمن کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس سے تو یہ قصبہ ہی بہتر ہے پھر اور کیا؟ وہ ایک کہانی تھی کہ ایک پری نے ایک آدمی سے تین خواہشیں پوری کرنے کا وعدہ کیا تھا پھر آخر کیا؟"

اس نے بہت بازو ملے۔ مگر کوئی بات یاد نہ آئی۔ اسے دیر ہو رہی تھی اس لئے اس نے اپنی دعاؤں اور خواہشوں کو چھوڑ دیا اور چھتری اٹھا کر چل پڑی۔

سڑک پر پہنچ کر اس پر محض ایک جلدی پہنچنے کا خیال غائب تھا۔ صبح کی اس تمام کاہلی اور سستی کے بعد اسے اعضا کو حرکت دینے میں فرحت محسوس ہو رہی تھی۔ سورج کی ہلکی سی گرمی اور چلنے سے اس کے خون کی حرکت تیز ہو گئی تھی اور وہ سڑک کی نالی ریت کنکروں سب سے بے پروا اپنا راستہ طے کرنے میں لگی ہوئی تھی۔ اگر اسے اپنی رفتار میں کبھی کچھ سستی معلوم ہوتی تو وہ اور قدم بڑھانے کی کوشش کرتی۔ سڑک پر کھیلنے والے لڑکے ابھی تک نہ نکلے تھے۔ اس لئے اپنی آنکھ ناک کی حفاظت کی ضرورت نہ تھی۔ جب وہ دیواروں کے سایہ میں سے گزرتی تو اس کے پیر اور بھی تیز اٹھنے لگتے تھے۔

وہ جلدی ہی بازار میں پہنچ گئی۔ شیخ صفدر علی کا مکان اب تھوڑی ہی دور رہ گیا تھا اور اطمینان سا ہو گیا تھا کہ زیادہ دیر نہیں ہوئی۔ وہ چلی جا رہی تھی کہ اس کی نظر ایک دکاندار پر پڑی۔ وہ اپنے سامنے والے کو آنکھ سے اشارہ کر رہا تھا اور مسکرا رہا تھا۔ کیا یہ اسے دیکھ رہا تھا؟ ممکن ہے وہ پہلے سے کسی بات پر ہنس رہے ہوں اور اسے دیر بھی ہو گئی تھی وہ آگے بڑھی ہی تھی کہ آواز آئی "آج تو آسمان نیلا ہے بھئی بڑے دن میں ایسا ہوا ہے آج "اس نے چاہا پلٹ کر چھتری رسید کرے اس بد تمیز کے چاہے کچھ ہو آج وہ کھڑی ہو جائے اور صاف صاف کہہ دے کہ وہ ان لوگوں کی باتیں اچھی طرح سمجھتی ہے اور اب وہ زیادہ برداشت نہیں کر سکتی آخر کہاں تک پیر من من بھر کے ہو گئے تھے اور ٹانگیں تھرتھرا رہی تھیں جس سے وہ کئی دفعہ چلتے چلتے ڈگمگا گئی مگر ان آنکھوں نے جو اب ہر طرف سے اس کی طرف دیکھ رہی تھیں اسے رکنے نہ دیا۔ وہ اپنی ساڑھی میں کچھ سکڑ سی گئی۔ اس نے پلو اچھی طرح سینے پر کھینچ لیا اور سر جھکا کر قدموں کو سڑک پر سے اکھاڑنے لگی

جب وہ شیخ صفدر علی کے مکان پر پہنچی تو وہ ڈیوڑھی میں کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھے حقہ پی رہے تھے۔ اسے دیکھتے ہی وہ کھڑے ہو گئے اور ایسے شکایت آمیز لہجے میں جیسے اس نے کوئی نایاب موقع ہاتھ سے نکل جانے دیا تھا جس پر شیخ جی کو اس سے ہمدردی تھی بولے:

"اخاہ میم صاحب! بڑی ہی دیر کر دی تم نے تو!"

"جی ہاں وہ ذرا دیر ہو گئی۔ "کہتی ہوئی وہ زنانہ کی طرف بڑھی۔ جب وہ دروازہ پر پہنچی تو اس نے دیکھا کہ قصبہ کی پرانی دائی بائیں ہاتھ پر کپڑے اٹھائے اور داہنے ہاتھ میں لوٹا ہلاتی صحن سے گزر رہی ہے، یہ کہتی ہوئی "جرا دیکھ تو ابھی تک نہ نکلی گھروے سے حرام جادی!


جینی

(شفیق الرّحمٰن)

ہوائی جہاز پر سوار ہوتے وقت مجھے کچھ شبہ ہوا۔ نیلے لباس والے لڑکی سے پوچھا تو اس نے بھی اثبات میں سر ہلایا، جب ہم جہاز سے اترے تو مجھے یقین ہو گیا اور میں نے پائپ پیتے آکسفورڈ لہجے میں انگریزی بولتے ہوئے پائیلٹ کو دبوچ لیا۔ ہم مدتوں کے بعد ملے تھے۔ کالج میں دیر تک اکٹھے رہے۔ کچھ عرصے تک خط و کتابت بھی رہی۔ پھر ایک دوسرے کے لئے معدوم ہو گئے۔ اتنے دنوں کے بعد اور اتنی دور اچانک ملاقات بڑی عجیب سی معلوم ہو رہی تھی۔

طے ہوا کہ یہ شام کسی اچھی جگہ گزاری جائے اور بیتے دنوں کی یاد میں جشن منایا جائے۔ میں نے اپنا سفر ایک روز کے لئے ملتوی کر دیا۔

جب باتیں ہو رہی تھیں تو میں نے دیکھا کہ وہ کافی حد تک بدل چکا تھا۔ مٹاپے نے اس کے تیکھے خد و خال کو بدل دیا تھا۔ اس کی آنکھوں کا وہ تجسس، نگاہوں کی وہ بے چینی، وہ ذہین گفتگو سب مفقود ہو چکے تھے۔ وہ عامیانہ سی گفتگو کر رہا تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہ اپنی زندگی اور ماحول سے اس قدر مطمئن ہے کہ اس نے سوچنا بالکل ترک کر دیا ہے۔ دیر تک ہم پرانی باتیں دوہراتے رہے۔ سہ پہر کو وہ مجھے ایک اینگلو انڈین لڑکی کے ہاں لے گیا جسے وہ شام کو مدعو کرنا چاہتا تھا۔ لڑکی نے بتایا کہ شام کا وقت وہ گرجے کے لئے وقف کر چکی ہے۔ ہم ایک اور لڑکی کے ہاں گئے۔ اس نے بھی معذرت چاہی کیوں کہ اس کی طبیعت نا ساز تھی۔ پھر تیسری کے گھر پہنچے۔ اگرچہ دوسرے کمرے سے خوشبوئیں بھی آ رہی تھیں اور کبھی کبھار آہٹ بھی سنائی دے جاتی تھی لیکن دروازہ نہیں کھلا۔ وہ ایک اور شناسا لڑکی کے ہاں جانا چاہتا تھا لیکن میں نے منع کر دیا تھا کہ کوئی ضرورت نہیں اور پھر اگر کوئی اور ساتھ ہوا تو اچھی طرح باتیں نہ کر سکیں گے۔ واپس آ کر اس نے ٹیلی فون پر کوشش کی۔ چوتھی لڑکی گھر پہنچ چکی تھی لیکن شام کو اس کی امی اسے نانی جان کے ہاں لے جا رہی تھی۔

شام ہوئی تو ہم وہاں کے سب سے بڑے ہوٹل میں گئے۔ رقص کا پرو گرام بھی تھا۔ اس نے پینا بھی شروع کر دیا۔ میرے لئے بھی انڈیلی اور اصرار کرنے لگا۔ یہ اس کی پرانی عادت تھی۔

میں نے گلاس اٹھا کر ہونٹوں سے چھوا، کچھ دیر گلاس سے کھیلتا رہا پھر ٹہلتا ٹہلتا دریچے تک گیا۔ ایک بڑے سے گملے میں انڈیل کر واپس آگیا اس نے دوسری مرتبہ انڈیلی مجھے بھی دی میں پھر اٹھا اور اپنا حصہ کھڑکی سے باہر پھینک آیا۔

وہ اپنی روزانہ زندگی کی باتیں سنا رہا تھا۔ کمپنی کی لڑکیوں کے متعلق جو نہایت طوطا چشم تھیں۔ شراب کے متعلق جو دن بدن مہنگی ہو تی جا رہی تھی۔ اپنے معاشقوں کے متعلق جو اسے بے حد پریشان رکھتے تھے۔ اس کی بیوی بھی اسی شہر میں رہتی تھی لیکن وہ اسے مہینوں نہ ملتا۔ جب کبھی بھولے سے گھر جاتا تو اتنے سوال پوچھتی کہ عاجز آ جاتا۔ اتنا نہیں سمجھتی کہ ایک ہوا باز کی زندگی کس قدر خطر ناک زندگی ہے۔ اگرچہ یہ اس نے خود منتخب کی تھی۔

یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ دفعتاً ہم نے اس لڑکی کو رقص گاہ میں دیکھا جسے اس وقت گرجے میں ہونا چاہئے تھا۔ وہ ایک لڑکے کے ساتھ آئی ہوئی تھی۔ اس کے بعد وہ لڑکی آ گئی جس کی طبیعت نا ساز تھی پھر معلوم ہوا کہ چوتھی لڑکی بھی ہمارے سامنے رقص کر رہی ہے اپنی امی یا نانی جان کے ساتھ نہیں، ایک دوسرے ہوا باز کے ساتھ۔

وہ اپنی قسمت کو کوسنے لگا۔ نہ جانے یہ لڑکیاں ہمیشہ اسی کو کیوں دھوکہ دیتی ہیں۔ ہمیشہ ٹرخا دیتی ہیں۔ آج تک کسی لڑکی نے اسے دل سے نہیں چاہا۔ یہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی ٹریجڈی ہے۔ وہ گلاس پر گلاس خالی کئے جا رہا تھا۔ میرے حصے کی ساری شراب گملوں اور پودوں کو سیراب کر رہی تھی۔ اسے حیرت تھی کہ مجھ جیسا لڑکا جو کالج کے دنوں میں باقاعدہ سگریٹ بھی نہ پیتا تھا اب ایسا شرابی ہو گیا کہ اتنی پی چکنے کے بعد بھی ہوش میں ہے۔ اس کے خیال میں ایسے شخص کو پلانا قیمتی شراب کا ستیا نا س کرنا تھا۔

پھر ان اجنبی چہروں میں ایک جا نا پہچانا مانوس چہرہ دکھا ئی دیا۔ یہ جینی تھی۔ جو رقص کا لباس پہنے ایک ادھیڑ عمر کے شخص کے ساتھ ابھی ابھی آئی تھی۔ ہم دونوں اٹھے۔ ہمیں دیکھ کر جینی کا مسکراتا ہوا چہرہ کھل گیا۔ وہ بڑے تپاک سے ملی۔ تعارف ہوامیرے خاوند سے ملئےاور یہ دونوں میرے پرانے دوست ہیں

میں نے ہاتھ ملاتے وقت اس کے خاوند کو مبارک باد دیاور کہا کہ وہ دنیا کا سب سے خوش نصیب انسان ہے۔

میں نے اسے غور سے دیکھا وہ چالیس سے اوپر کا ہو گا۔ اچھا خاصا سیاہ رنگ، دھندلی تھکی تھکی آنکھیں، بے حد معمولی شکل، پستہ قد۔ اگر وہ جینی کا خاوند نہ ہوتا تو شاید ہم اس کی طرف دوسری مرتبہ نہ دیکھتے لیکن جینی کی مسکراتی ہوئی آنکھیں اس کے سوا اور کسی کی طرف دیکھتی ہی نہ تھیں۔ وہ اس کی تعریفیں کر رہی تھی کہ وہ قریب کی بندرگاہ کا سب سے بڑا بیرسٹر ہے۔ اس علاقے میں سب سے مشہور شخص ہے۔ میں نے جینی کو رقص کے لئے کہا۔ اس نے آنکھوں آنکھوں اپنے خاوند سے اجازت لی۔ رقص کرتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ وہ بے حد مسرور ہے۔ اس قدر مسرور شاید میں نے اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا اور اس کے چہرے کی چمک دمک ویسی ہی ہے۔ اس کے ہونٹوں کی وہ دلآویز اور مخمور مسکراہٹ جوں کی توں ہے۔ وہ مسکراہٹ جو اس قدر مشہور تھی جسے مونا لزا کی مسکراہٹ سے تشبیہ دی جاتی تھینہایت پر اسرار اور نا فہم مسکراہٹ، جس کی گہرائیوں کا کسی کو علم نہ ہو سکا۔ جو ہمیشہ راز رہی۔

اور یہی مسکراہٹ میں نے سالہا سال سے دیکھی تھی۔ اس مسکراہٹ سے میں مدتوں سے شناسا رہا۔ جینی کے خاوند کے دوست آ گئے اور مقامی باتیں ہونے لگیں۔ کچھ دیر کے بعد میں اور میرا دوست اٹھ کر واپس اپنی جگہ چلے آئے، جہاں بوتل اس کی منتظر تھی۔

میں نے اس سے جینی کے متعلق باتیں کرنا چاہیں لیکن اس نے جیسے سنا ہی نہیں۔ وہ ان تین لڑکیوں کے لئے اداس تھا جو اسے دھوکہ دے کر دوسروں کے ساتھ چلی آئیں۔ آج یہ پہلی مرتبہ ایسا نہیں ہوا، پہلے بھی کئی بار ہو چکا تھا اور یہ لڑکیاں اجنبی نہیں تھیں، پرانی دوست تھیں اس کے ساتھ باہر جا چکی تھیں۔ اس سے بیش قیمت تحائف لے چکی تھیں۔ دراصل اب ایسی ٹھوکریں اسے ہر طرف سے لگ رہی تھیں، ریس، برج، سٹّا، ہر جگہ وہ ہار رہا تھا۔ ایک ادنٰے فلم کمپنی کی ایکسٹرا لڑکی جس کے لئے اس نے سمندر کے کنارے مکان لیا، اسے چھوڑ کر کسی بوڑھے سیٹھ کے ساتھ چلی گئی اور میں دزدیدہ نگاہوں سے اس طرف دیکھ رہا تھا جہاں جینی تھی۔ وفورِ مسرت سے اس کا چہرہ جگمگا رہا تھا۔ اس کی آنکھیں روشن تھیں۔ وہی آنکھیں جو کبھی غمگین اور نم ناک رہا کرتیں، اب مسرور تھیں۔ رخسار جن پر مدتوں آنسوؤں کی کی لڑیاں ٹوٹ کر بکھرتی رہیں، اب تاباں تھے۔ وہ کھلی ہوئی مسکراہٹ شاہد تھی کہ دل سے اس شدید الم کا احساس جا چکا ہے جو جینی کی قسمت بن چکا تھا۔ اس خوشی میں اب غم کی رمق تک نہیں دکھائی دیتی تھی۔

لیکن اتنی زائد مسرت کیسی تھی؟ یہ انبساط کیسا تھا؟ اور اس پر اسرار مسکراہٹ کے پیچھے کیا تھا؟ میں صرف اس کے چہرے کو دیکھ سکتا تھا۔ اس کی روح بہت دور تھی۔ وہاں تک میری نگاہیں نہیں پہنچ سکتی تھیں۔ کیا وہاں کوئی عظیم طوفان بپا تھا؟ اذیت کن، کرب ناک شدید تلاطم؟ یا جلتے ہوئے شعلوں کی تپش نے بہت کچھ بھسم کر دیا تھا؟ یا وہاں سب کچھ یخ ہو چکا تھا؟ برف کے تودوں کے سوا کچھ بھی نہ رہا تھا؟ اس کا جواب میں نے اس کی مسکراہٹ سے مانگا۔

وہ لگاتار اپنے خاوند کے ساتھ رقص کرتی رہی۔ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کئی مرتبہ وہ بالکل قریب سے گزرے۔ اس نے میری طرف دیکھا اور مسکرائی پھر جیسے وہ مسکراہٹ پھیلتی چلی گئی۔ اس نے ماضی اور حال کی حدوں کو محیط کر لیا۔ وہ سب تصویریں سامنے آنے لگیں جو ذہن کے تاریک گوشوں میں مدفون تھیں۔

میں نے برسوں پہلے اپنے آپ کو یونیورسٹی کے مباحثے میں دیکھا۔ میرے ساتھ میرا پرانا دوست رفیق اور ہم جماعت جی بیؔ تھا۔ وہ ان دنوں بہترین مقرر تھا۔ سٹیج پر ہمیشہ فاتح کی طرح جاتا اور فاتح کی طرح لوٹتا۔ اس کی تقریر ختم ہوئی تو ایک لڑکی سٹیج پر آئی۔ گھنگھریالے بال، جھکی ہوئی آنکھیں، لبوں پر محجوب مسکراہٹ، ملا جلا انگریزی لباس پہنے۔

ہال میں سرگوشیاں ہونے لگیں، ہمیں بتایا گیا کہ یہ نئی نئی کہیں سے آئی ہے۔ اس کا نام کچھ اور ہے لیکن اسے لیلےٰ کہتے ہیں۔ شاید اس کی ملیح رنگت اور گھنگھریالی پریشان زلفوں کی وجہ سے۔ کچھ دیر وہ شرماتی رہی، بول ہی نہ سکی، پھر ذرا سنبھل کر اس نے جی بی کی تقریر کی مخالفت شروع کی ایسے ایسے نکتے لائی کہ سب حیران رہ گئے۔ جی بی کی تقریر بالکل بے معنی معلوم ہونے لگی۔

جب وہ سٹیج سے اتری تو دیر تک تالیاں بجتی رہیں۔ پھر معلوم ہوا کہ پہلا انعام جیؔ بی اور اس لڑکی میں تقسیم کیا جائے گا لیکن جی بی نے ججوں سے درخواست کی کہ انعام کی وہی حقدار ہے اور اسی کو ملنا چاہئے۔ جیؔ بی کے رویے کو سراہا گیا۔ ہجوم میں ہیجان پھیل گیا۔ مدتوں کے بعد ایک لڑکی پہلا انعام جیت رہی تھی، وہ بھی ایسی لڑکی جو بالکل نو وارد تھی۔


جب لیلیٰ اسٹیج پر چاندی کا بڑا سا وزنی کپ لینے آئی تو اس کی پریشان زلفیں اور پریشان ہو گئیں۔ نگاہیں جھک گئیں۔ جب اس سے اتنا بڑا کپ نہ سنبھالا گیا، تو جی بی نے لپک کر چوبی حصہ خود اٹھا لیا۔ لیلیٰ نے جی بی کو جھکی ہوئی نگاہوں سے ایک مرتبہ دیکھا۔

اس بھولی بھالی الہڑ لڑکی سے ہمارا تعارف یوں ہوا۔ اس کے بعد ملاقاتوں کا تانتا بندھ گیا۔ جی بی کالج کا ہیرو تھا۔ لڑکو ں اور استادوں میں ہر دلعزیز۔ کالج میں سب سے ذہین، چست، ہنس مکھ اور خوش پوشاک۔ بڑے امیر والدین کا اکلوتا بیٹا۔ اس کی کار پروفیسروں کی کاروں سے بھی بڑھیا تھی۔ جہاں بھی ادبی تقریب ہوتی مجھے اور بی جی کو مدعو کیا جاتا۔ ہمارے کہنے پر لیلیٰ کو بھی بلایا جاتالیلیٰ کے خد و خال حسین نہیں تھے۔ اگر اسے نقادانہ طور سے دیکھا جاتا تو وہ حسین ہر گز نہیں تھیلیکن اگر حسین خد و خال کے بغیر بھی کوئی خوبصورت ہو سکتا ہے تو وہ لیلیٰ تھی۔ اس کی لہراتی ہوئی زلفیں، جھکی ہوئی شرمیلی آنکھیں، مسکراتے ہوئے ننھے منے ہونٹ، ملیح چمپئی رنگت اور نہایت معصوم باتیںسب مل کر نرالی جاذبیت پیدا کر دیتے۔ بعض اوقات تو وہ بے حد پیاری معلوم ہوتی۔

وہ ہوسٹل میں رہتی تھی، سب سے الگ تھلگ۔ کبھی ہم نے اسے کسی کے ساتھ نہیں دیکھا۔ اس کے والدین کے متعلق طرح طرح کی افواہیں سننے میں آتیں۔ ان کے خاندان میں انگریزی اور پرتگالی خون کی آمیزش تھی۔ اس کی والدہ جنوبی ہندوستان کی تھی۔ اس لئے نہ ان کا کوئی خاص مذہب تھا نہ کوئی نسل۔ لیلیٰ کا نام بھی عجیب تھا، اس کا لباس بھی ملا جلا ہوتا وہ اپنے والدین کے ذکر سے احتراز کرتی۔ یہ مشہور تھا کہ ان کی خانگی زندگی نہایت نا خوشگوار ہے۔ وہ ہمیشہ جدا رہتے ہیں ایک دفعہ ان کا تنازعہ عدالت تک بھی پہنچ چکا ہے۔

پھر کسی نے یونہی کہہ دیا کہ لیلیٰ جی بی کی طرف دیکھتی رہتی ہے۔ یہ افواہ بنی، پھر عام ہو گئی۔ ہر جگہ اس نئے معاشقے پر تبصرے ہونے لگے۔ سب نے دیکھا کہ لیلیٰ کے دل کا راز عیاں ہو چکا تھا۔ وہ بی جی کو چاہتی ہے۔ طرح طرح کے بہانوں سے وہ اسے ملتی۔ جانے پہچانے راستوں سے ایسے گزرتی کہ بی جی نظر آ جاتا۔ بی جی کو دیکھ کر اسے دنیا بھر کی نعمتیں مل جاتیں۔ یہ نو زائیدہ محبت اس کی زندگی میں طرح طرح کی تبدیلیاں لے آئی۔ وہ مسرور رہنے لگی۔ ادبی سر گرمیوں میں نمایاں حصہ لینے لگی۔ اس کا اجنبی لہجہ درست ہوتا گیا۔ اس کی گفتگو میں مٹھاس آ گئی۔

لیکن جی بی کچھ اتنا متاثر نہیں ہوا۔ اس کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ کتنی ہی مرتبہ اسے محبت خراج کے طور ملی تھی۔

وہ لیلیٰ سے ملتا، اسے ملنے کے موقع دیتا، خوب باتیں کرتا۔ بڑی شوخ اور چنچل قسم کی گفتگو، جس کا وہ عادی تھا۔

چاندنی رات میں دور ایک باغ میں تقریب ہوئی۔ لڑکیوں کے ساتھ لیلیٰ بھی آئی۔ جی بی ہمارے ساتھ نہیں آیا، معلوم ہوا کہ وہ ایک انگریز لڑکی کو لے کر آئے گا جس کا شہر بھر میں چرچا تھا۔ جو نوجوانوں کی گفتگو کا محبوب ترین موضوع تھی۔ یہ اس کی نئی محبوبہ تھی۔

جی بی دیر میں پہنچا، کار سے وہ اکیلا اترا۔ وہ لڑکی اس کے ساتھ نہیں تھی، وہ مایوس اور کھویا سا تھا اور فوراً واپس جانا چاہتا تھا لیکن اسے اجازت نہ ملی، وہ تو ایسی محفلوں کی جان تھا۔ جب وہ اپنا غزل سنا رہا تھا تو لیلیٰ اسے ایسی نظروں سے دیکھ رہی تھی جیسے آئینے میں خود اپنا عکس دیکھ رہی ہو۔ جیسے خود اپنی روح کو کسی اور روپ میں دیکھ رہی ہو۔ جی بی نے خلاف توقع غم آمیز اشعار سنائے جن میں شکوے تھے، التجا تھی اور وہ اشعار کسی خاص ہستی کے لئے تھے جو وہا ں نہیں تھی۔

لیلیٰ نے کئی مرتبہ اس سے باتیں کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بدستور خاموش رہا۔ میں نے اسے ٹوکا، ایک طرف لے جا کر ڈانٹا بھی لیکن وہ جیسے وہ وہاں تھا ہی نہیں۔ ہم دونوں اکیلے کھڑے تھے کہ لیلیٰ آ گئی۔ جی بی کچھ دیر اس کی طرف یونہی دیکھتا رہا پھر اس کا ہاتھ پکڑا اور ایک اونچے سرو کے پیچھے لے گیا۔ وہ مبہوت بنی چپ چاپ چلی گئی۔ جی بی نے اسے بازوؤں میں لے کر چوم لیا۔ پہلے بوسے سے وہ کانپ اٹھی۔ ان جانی لذت سے مغلوب ہو کر اس نے آنکھیں بند کر لیں اور جی بی کے سینے پر سر لگا دیا۔ وہ اسے پھیکے ہونٹوں سے چومتا رہا ایسے الفاظ اس کے لبوں سے نکلتے رہے جو لیلیٰ کے لئے نہیں کسی اور کے لئے تھے۔ اس کے بازوؤں میں لیلیٰ نہیں تھی، کوئی اور بے وفا حسینہ تھی جس کے لئے وہ بے تاب تھا۔

لیلیٰ شدتِ احساس سے آنکھیں بند کئے خاموش کھڑی رہی، وہ جی بی اور اس کے بوسوں کی دنیا سے دور نکل گئی۔ وہ شعر و نغمے کی وادیوں میں جا پہنچی جہاں اس کے سہمے ہوئے خوابوں کی تعبیریں آباد تھیں، جہاں فضاؤں میں اس کی معصوم امنگیں تحلیل ہو چکی تھیں، جہاں کیف و خمار چھائے ہوئے تھے جہاں صرف رعنائیاں تھیں اور محبت پاشیاں!

اس کے بعد لیلیٰ کی نئی زندگی شروع ہوئی۔ اس کی دنیا میں ہر چیز پر نیا نکھار آگیا جو پہلے محض تخیل تھا، وہ تخلیق ہو گیا۔ غنچے چٹکے، خوش الحان طیور چہچہانے لگے۔ رنگ برنگ پھولوں کی خوشبوؤں نے ہوائیں بوجھل کر دیں۔ زمین سے آسمان تک قوسِ قزح کے رنگ مچلنے لگے، ہر شے کا خوابیدہ حسن جاگ اٹھا اور اس کے بعد نہ دنیا رہی اور نہ زندگی محض خواب تخیل اور حقیقت کی حدوں پر چھا گیا۔

بہت دیر کے بعد لیلیٰ اس خواب سے چونکی۔ دفعتاً اس پر اس بھیانک حقیقت کا انکشاف ہوا کہ وہ جی بی کے لئے محض ایک کھلونا تھی۔ جی بی کو اس سے محبت نہیں تھی اور وہ جی بی کے لئے ان متعدد لڑکیوں میں سے ایک تھی جو اس کا تعاقب کرتی تھیں اور بغیر کسی صلے کے اسے چاہتی تھیں۔

جب بات بہت مشہور ہوئی تو جی بی کترانے لگا۔ اس نے تقریبوں میں آنا بند کر دیا۔ لیلیٰ کو دیکھ کر کار تیز کر دیتا۔ اس کی طرف سے منہ پھیر لیتا۔

اپنی پہلی محبت کی شکست پر لیلیٰ کو یقین نہ آیا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یوں بھی ہو سکتا ہے۔ اس صدمے کو اس نے اپنی روح کی گہرائیوں میں چھپا لیا لیکن اس کی محبت جوں کی توں رہی۔ وہ اس سے ملنے کے بہانے تلاش کرتی۔ اسے خط لکھتی، تحائف بھیجتی۔

ایک روز سب نے لیلیٰ کے خطوط کو نوٹس بورڈ پر دیکھا۔ یہ وہ محبت بھرے خطوط تھے جو اس نے جی بی کو لکھے۔ بہت سے لڑکے یہ خطوط دیکھنے گئے میں بھی گیا۔ سب نے مزے لے لے کر خطوط کو پڑھا، دلچسپ فقرے نقل کئے۔ خوب ہنسے بھی۔

بعد میں جب مجھے کچھ خیال آیا تو میں نے جی بی کو برا بھلا کہا، اسے یہ حرکت ہر گز نہیں کرنی چاہئے تھی۔ وہ کہنے لگا کہ لیلیٰ نے اسے اس قدر بد نام کر دیا ہے کہ اب وہ اس کے نام سے نفرت کرتا ہے۔ وہ اس سے ملتا ضرور رہا ہے لیکن کسے علم تھا کہ معمولی سا مذاق ایسی شکل اختیار کر لے گا اور وہ مفت میں بدنام ہو جائے گا۔ محض لیلیٰ کی وجہ سے بقیہ لڑکیاں اس سے دور دور رہنے لگی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ پہل بی جی کی طرف سے ہوئی تھی۔

جی بی میرا گہر ا دوست تھا۔ ہم دونوں ہم عمر تھے، ہمارے خیالات ایک سے تھے۔ میں خاموش ہو گیا۔ دیر تک خطوط کا چرچا رہا۔ لیلیٰ کئی ہفتے کالج میں نہیں آئی۔ تنہا گوشوں میں بیٹھ کر رویا کرتی۔ اس نے کسی سے شکایت نہیں کی۔ جو کچھ اسے کہا گیا اس نے خاموشی سے برداشت کیا۔

جی بی نے لیلیٰ کی سہیلیوں کی منتیں کیں کہ اسے سمجھائیں کہ کسی طرح اسے دور رکھیں۔ اس نے ان راستوں سے گزرنا چھوڑ دیا جہاں لیلیٰ کے نظر آنے کا احتمال ہوتا۔ اپنے کمرے کی وہ کھڑکیاں مقفل کر دیں جو سڑک کی طرف کھلتی تھیں جن کی طرف سے لیلیٰ گزرتے ہوئے اسے دیکھ لیا کرتی۔ ایک دن مجھے ترس آگیا۔ میں جی بی سے خوب لڑا کہ جہاں ہم اتنی لڑکیوں سے ملتے رہتے ہیں وہاں کبھی کبھی لیلیٰ سے مل لینے میں کیا حرج ہے۔ وہ کہنے لگا۔ تمہیں معصومیت اور سادگی پسند ہے مجھے نہیں۔ مجھے نا پخت اور الہڑ لڑکیاں اچھی نہیں لگتیں۔ ذرا ذرا سی بات پر آنسو نکل آتے ہیں۔ خوش ہوئیں تو رونے لگیں۔ غمگیں ہوئیں تو آنسو بہنے لگے۔ دنیا کی کسی چیز کا بھی انہیں علم نہیں۔ ہر چیز خود بتانی پڑتی ہے اور میرے پاس اتنا وقت نہیں مجھے تجربہ کار اور کھیلی ہوئی لڑکیاں زیادہ پسند ہیں۔


جی بی کے اس رویے کا اثر یہ ہوا کہ لیلیٰ اس سے ڈرنے لگی۔ وہ اسے دور دور سے دیکھتی۔ کہیں آمنا سامنا ہوتا تو وہ کترا جاتی۔ دوسروں سے جی بی کے متعلق پوچھتی رہی۔ کئی مرتبہ میں نے خود اسے جی بی کے بارے میں باتیں بتائیں۔ اس کی تصویریں بھی دیں جس پر وہ مجھ سے خفا ہو گیا۔ پھر جی بی کو کچھ عرصے کے لئے اپنی تعلیم چھوڑ دینی پڑی۔ اس کے کچھ رشتہ دار دوسرے ملک میں بہت بڑے تجّار تھے۔ اسی سلسلے میں جی بی کے والد اسے باہر بھیجنا چاہتے تھے اور ان کے لئے تعلیم اتنی اہم نہ تھی۔ ہم دونوں کو ایک دوسرے سے بچھڑنے کا بہت افسوس ہوا۔ ایک شام ہم اداس بیٹھے تھے کہ میں نے اسے لیلیٰ سے آخری مرتبہ ملنے کو کہا۔ اس نے انکار کر دیا۔ جب میں نے پرانی دوستی کا واسطہ دیا تو وہ راضی ہو گیا۔ میں نے لیلیٰ کو بتایا تو اسے یقین نہ آیا۔ اس نے آنسو خشک کئے، اپنا بہترین لباس پہنا۔ سہیلیوں سے مانگ کر زیور پہنے۔ ان کے مشورے سے سنگار کیا۔ اپنے چہرے پر مسکراہٹ اور دل میں آرزوئیں لئے اپنے محبوب سے ملنے گئی۔ اس رات بی جی پئے ہوئے تھا۔ بعد میں اس نے بتایا کہ اس نے محض اس ملاقات کی وجہ سے پی تھی تاکہ وہ لیلیٰ سے پیار بھری باتیں کر سکے۔

اس نے لیلیٰ سے بہت سی باتیں کیں۔ اسے ہمیشہ مسرور رہنے کو کہا۔ جلد لوٹنے کے وعدے کئے۔ لیلیٰ کو ایک بار پھر اس فردوسِ گمشدہ کی جھلک دکھا دی جسے محبت کے پہلے بوسے نے تخلیق کیا تھا۔ لیلیٰ نے اقرار کیا کہ وہ ہمیشہ خوش رہے گی اور اس کا انتظار کرے گی۔ اگر اس کی وجہ سے جی بی کو کوئی تکلیف پہنچی ہو تو وہ سزا کی طالب ہے۔ اگر جی بی حکم دے تو وہ کہیں دور چلی جائے۔ اگر وہ چاہے تو لیلیٰ مر جائے۔ جدا ہوتے وقت اس نے اپنا رومال جی بی کو نشانی کے طور پر دیا۔ یہ رومال جی بی نے مجھے دے دیا۔کہنے لگا "شاید تمہارے پاس محفوظ رہے ورنہ میں تو اسے کہیں ادھر ادھر پھینک دوں گا۔" رومال سے بھینی بھینی خوشبو آ رہی تھی۔ ایک کونے میں سرخ دھاگے سے ننھا سا دل بنا ہوا تھا جسے لیلیٰ نے خود کاڑھا تھا۔

جی بی کے چلے جانے پر لیلیٰ ذرا بھی غمگین نہ ہوئی۔ اس کے وعدوں کو دل سے لگائے انتظار کرتی رہی۔ یہ انتظار طویل ہوتا گیا۔

پتے زرد ہو کر گر پڑے، پھول مرجھا گئے، ٹہنیاں لنج منج رہ گئیں، خزاں آ گئی۔ وہ نہ آیا۔ جھکڑ چلے، سوکھے پتے اڑنے لگے۔ گرد و غبار نے آسمان پر چھا کر چاندنی اداس کر دی۔ تاروں کو بے نور کر دیا۔ وحشتیں پھیل گئیں۔ وہ نہ آیا۔

کونپلیں پھوٹیں، ہریالی میں پیلی پیلی سرسوں پھولی، رنگین تتلیاں اڑنے لگیں۔ غنچے مسکرانے لگے، پرندوں کے نغموں سے ویرانے گونج اٹھے۔ بہار آ گئی لیکن وہ نہ آیا۔

دن لمبے ہوتے گئے۔ لمبی لمبی جھڑیاں لگیں۔ سفید بگلوں کی قطاریں سیاہ گھٹاؤں کو چیرتی ہوئی گزر گئیں۔ نیلے بادل آئے اور برس کر چلے گئے۔ جھیلوں کے کنارے قوسِ قزح سے رنگیں ہو گئےلیکن وہ پھر بھی نہ آیا۔

بہت دنوں تک لیلیٰ کھوئی کھوئی سی رہی۔ کافی دیر کے بعد وہ سب کچھ سمجھ سکی۔ جب جی بی لوٹا تو وہ سنبھل چکی تھی۔ جی بی اکیلا نہیں آیا، اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی تھی۔ گوری چٹی فربہ عورت جو کسی لکھ پتی کی بیٹی تھی۔ جس کا گول مول چہرہ کسی قسم کے اظہار سے مبرّا تھا۔ جس کے دل میں جذبات کے لئے جگہ نہ تھی۔ جو اس ٹھوس اور مادی دنیا میں پیدا ہوئی اور اسی دنیا سے تعلق رکھتی تھی۔ ایسے اونچے اور امیر گھرانے میں شادی ہو جانے پر سب نے جی بی کو مبارکباد دی۔ اس کی قسمت پر رشک کیا۔ میں لیلیٰ کو بھی جانتا تھا اور جی بی کو بھی۔ یہ محض اتفاق تھا کہ وہ دونوں اس وقت رقص گاہ میں تھے۔ جی بی وہ میرا پرانا دوست تھا جو میرے ساتھ بیٹھا تھا اور لگا تار پی رہا تھا اور لیلیٰ وہ جینی تھی جو میرے سامنے اپنے خاوند کے ساتھ رقص کر رہی تھی۔

لیلیٰ کو بدستور چھیڑا جاتا۔ طعنے دئے جاتے۔ سب اس کا مذاق اڑاتے۔ ایک روز ہم نے سنا کہ وہ کالج چھوڑ کر گھر چلی گئی۔ کچھ دنوں تک اس کا انتظار کیا گیا لیکن وہ واپس نہ آئی۔ آہستہ آہستہ اس کی باتیں بھی بھولتی گئیں۔ کچھ عرصہ کے بعد لیلیٰ کا ذکر ایک پرانی بات ہو گئی۔

ایک روز وہ کہیں سے آ کر کالج میں دوبارہ داخل ہوئی۔ اب وہ شرماتی، لجاتی، سہمی ہوئی لیلیٰ نہیں بلکہ شوخ و بے باک جینیؔ تھی۔ یہ نیا نام اس نے خود اپنے عیسائی نام سے چنا تھا۔ وہ کالج کے قریب ہی ایک عیسائی کنبے کے ساتھ رہتی تھی۔ صبح صبح جب گردن اونچی کئے، نگاہیں اٹھائے سائیکل پر آتی تو لڑکے ٹھٹھک کر رہ جاتے۔ ہر وقت اس کے لبوں پر نہایت بے باک مسکراہٹ ہوتی۔

یونین کا جلسہ ہے تو جینی تقریر کر رہی ہے۔ ڈراما ہے تو وہ ضرور حصہ لے گی۔ مباحثہ ہے تو جینی اچھے اچھوں کی دھجیاں اڑا دے گی۔ اس کی دلیری اور صاف گوئی سے لوگ ڈرتے تھے۔ جینی کی بے باکی کو سراہا جانے لگا اور سب اسے عزت کی نگاہوں سے دیکھنے لگے تھے۔

ڈےؔ یونین کا صدر تھا، وہ دبلا پتلا سا بنگالی لڑکا تھا۔ اس میں صرف یہ خوبی تھی کہ وہ کئی سال سے یونین کا صدر تھا۔ میری اس کی جان پہچان تب سے ہوئی جب وہ ہوسٹل میں میرا پڑوسی بنا۔ اس کی شاعرانہ باتیں، اس کے انوکھے نظریے، اس کا حساس پنا، وائلن پر غمناک نغمے۔ یہ سب مجھے اچھے معلوم ہوئے لیکن مجموعی طور پر بطور انسان کے میں نے اسے کبھی پسند نہیں کیا۔ ویسے اس میں کوئی نمایاں عیب یا خامی نظر نہیں آئی۔ شاید یہ اس کا اجڑا سا حلیہ، اس کی آنکھوں کی مجرمانہ بناوٹ، اس کے چہرے کا فاقہ زدہ اظہار تھا جو مجھے ہمیشہ اس سے دور رکھتا۔

کبھی کبھی شام کو اسے بھی ہمراہ لے جاتا۔ اس طرح اس کی جینی سے ملاقات ہوئی۔

غالباً ڈے کی سب سے بڑی خوبی اس کا انکسار تھا۔ اسے اپنی کمزوریوں کا ہمیشہ احساس رہتا۔ بعض اوقات تو وہ اس قدر کسر نفسی سے کام لیتا کہ ترس آنے لگتا۔ یوں معلوم ہوتا جیسے وہ رحم کا طالب ہے۔ شروع شروع میں شاید جینی کو اس کی یہی ادا بھا گئی۔ دیکھے ہی دیکھتے وہ جینی میں ضرورت سے زیادہ دلچسپی لینے لگا۔ پھر جیسے جینی بھی اس کی جانب ملتفت ہوتی گئی۔ جب وہ وائلن پر درد بھرے نغمے سناتا تو اس کی نگاہیں جینی کے چہرے پر جم جاتیں۔ نغمے کی پرواز نہایت مختصر ہوتی۔ ڈے کی انگلیوں سے لے کر جینی کے دل تک!

جب وہ دونوں فلسفے کی کتابیں ہاتھ میں لئے بحث میں مصروف ہوتے تو اکثر بہک بہک جاتے، آنکھوں آنکھوں میں کچھ اور گفتگو ہونے لگتی۔

ان دونوں کی دوستی اشاروں اورکنایوں کی حدود سے نکل کر کھلم کھلا ملاقاتوں تک پہنچ چکی تھی۔ جینی کو بنگالی موسیقی سے لگاؤ ہو چلا تھا۔ وہ بنگالی زبان سیکھ رہی تھی۔ جب وہ بالوں میں پھول لگا کر ساڑی کو ایک خاص وضع سے پہن کرنکلتی تو بالکل بنگالی لڑکی معلوم ہوتی۔ کالج کی کئی لڑکیاں اسے دیکھ کر بالوں میں پھول لگانے لگیں۔

ان دنوں ہم ڈراما کر رہے تھے، دوپہر سے ریہرسل شروع ہو جاتی۔ شام بھی اکٹھے گزرتی۔ اکثر میں اسے گھر چھوڑنے جاتا۔ اس کے کمرے کی زیبائش خوب ہوتی۔ کسی روز تو یوں معلوم ہوتا جیسے کمرہ نہیں جنگل ہے۔ دیواروں پر گہرا سبز وال پیپر چسپاں ہے جس پر درخت اور گھنی جھاڑیاں بنی ہوئی ہیں۔ گلدانوں میں لمبی لمبی گھاس اور بڑے بڑے پتے ہیں۔ سبز قمقمے روشن ہیں۔ فرش پر بچھے ہوئے قالینوں کے نقش و نگار، دیوار سے ٹنگی ہوئی تصویریں، سبزی مائل پردے، گملوں میں رکھے ہوئے پودے۔ یوں معلوم ہوتا جیسے درندوں کی یہ تصویریں ابھی متحرک ہو جائیں گیپھر کسی روز سب کچھ زرد ہوتا۔ دیواریں، پردے غلاف، قالین، قمقموں کے شیڈ، گلدانوں میں صحرائی پھول اور خشک ٹہنیاں ہوتیں۔ انگیٹھی کے سامنے ریت کے چھوٹے چھوٹے ڈھیر۔ خیالات کہیں کے کہیں پہنچ جاتے۔ تصور میں لق و دق صحرا کا نظارہ پھرنے لگتا۔ تاروں کی چھت تلے حدی خوانوں کا نغمہ گونجنے لگتا۔

پھر کسی روز برف باری کے نظارے آنکھوں کے سامنے آ جاتے۔ اور کبھی کبھی یہی آرائش طوفان زدہ سمندر کی یاد دلا دیتی۔ جھاگ اڑاتی ہوئی چنگھاڑتی لہریں۔ ہوا کے تند و تیز تھپیڑے اور آندھیوں میں پتے کی طرح کانپتا ہوا سفینہ!


اس کے کمرے میں کبھی ایک جیسا گلدستہ میں نے دو مرتبہ نہیں دیکھا۔ گلدان میں بڑے بڑے پھول بھی ہیں۔ شوخ پھول بھی ہیں لیکن سب سے نمایاں صرف ننھی منی کلیاں ہیں۔ باقی سب رنگ آپس میں گھل مل کے کھو گئے ہیں۔ کبھی غنچے، کلیاں، پھول سب کہیں جا چھپے ہیں، صرف خوشنما وضع کے پتے سامنے آ گئے ہیں۔ اس کے ترتیب دئے ہوئے گلدستوں کو دیکھ کر مجھے حیرت ہوتی کہ ایسے حسین و جمیل پھول بھی آسمان تلے کھلتے ہیں جنہیں گلشن میں نگاہ پہچانتی تک نہیں۔

ایک پروفیسر کے تبادلے پر باغ میں پارٹی ہوئی۔ طے ہوا کہ وہیں شام کو بارہ دری میں چھوٹا سا ڈرامہ بھی کیا جائے۔ جینی کو المیہ پارٹ ملا۔ وہ دن اس نے اکیلے گزارا۔ کسی سے بات نہیں کی۔ دن بھر اداس رہی۔ لیمپوں کی روشنی میں ڈراما شروع ہوا۔ جینی نے اپنا گانا بالکل آخر میں رکھا۔ لیمپ بجھا دئے گئے۔ سب نے دیکھا کہ درختوں کے جھنڈ سے چاند طلوع ہو رہا تھا۔ وہ ایک بنگالی نظم گا رہی تھی جس میں چودھویں کے چاند کو مخاطب کیا گیا تھا۔ ڈے وائلن بجا رہا تھا۔ وہ سادا سا گیت اور وائلن کا تھرتھراتا ہوا نغمہ چاند سے نئی نئی اتری ہوئی جلا کا جزو معلوم ہونے لگے۔ پھر جینی کا رقص شروع ہوا۔ اس کی انگلیوں کی جنبش جسم کے لوچ اور گھنگرو کی تال پر چاند تارے ناچنے لگے۔ پھر جیسے مندروں میں گھنٹیاں بجنے لگیں، دیوداسیاں سنگار کئے کئے، کنول کے پھول تھامے آ گئیں۔ پجاریوں کے سر جھک گئے۔ فضاؤں میں تقدس برسنے لگا۔ پھر جیسے چراغوں سے دھواں اٹھا اور دھند بن کر چھا گیا۔ سب کچھ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ صرف جینی رہ گئی اور اس کا محبوب، پجاری اور دیوتا۔

یہ غنائیہ باغ کی اس چاندنی رات میں ختم نہیں ہوا۔ ساز اور لے دیر تک ہم آہنگ رہے۔ ڈے نے ان پیار بھرے جذبات کا اظہار کر دیا جنہیں وہ دیر سے چھپائے بیٹھا تھا۔ اس نے اپنے بے پایاں محبت کا یقین دلایا۔ یہ بھی کہاکہ مرتے دم تک وہ جینی سے اسی شدت کے ساتھ محبت کرتا رہے گا۔ اور یہ کہ اس نے اپنے والدین کو سب کچھ لکھ دیا ہے۔ عنقریب اس کی والدہ آئیں گی اور جینی سے ملیں گی۔ پھر وہ جینی کو رسم کے مطابق سنہرا ہار دے گا جس میں دل کی شکل کا لاکٹ پرویا ہوا ہو گا۔ ان دونوں کو ایک بہت بڑی قوت نے آپس میں ملا دیا ہے۔ آرٹ نے۔ وہ دونوں آرٹسٹ ہیں۔ انسان فنا ہو جاتے ہیں۔ آرٹ جاوداں ہے۔

پھر میں نے جینی کے کمرے میں ساز دیکھے۔ معلوم ہوا کہ وہ ہندوستانی موسیقی سیکھ رہی ہے۔ مغربی موسیقی سے وہ شناسا تھی۔ میں نے اسے جانے پہچانے نغمے گنگناتے سنا تھا۔ پیانو پر اس کی انگلیاں خوب چلتی۔ کئی مرتبہ یوں ہوا کہ ریڈیو پر آرکسٹرا سمفنی بجا رہا ہے اور جینی مجھے سمجھا رہی ہے کہ سمفنی ایک نغمہ نہیں مختلف نغموں کا مرکب ہے۔ ایسے نغمے جو مختلف کیفیتوں کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ کیفیتیں بغیر کسی تسلسل کے آتی ہیں۔ رنج و مسرت، انبساط و حسرت آشامیاں، شک، وسوسے، امید و بیم، اعترافِ غم۔ ہماری مسرتیں کبھی زنج کی آمیزش سے خالی نہیں ہوتی۔ اسی طرح غم کی گھٹائیں بھی اکثر بہجت کی کرنوں سے جگمگا اٹھتی ہیں۔ انسان کے دل میں کوئی جذبہ مکمل اور دیرپا نہیں ہوتا۔ یہ کیفیتیں بدلتی رہتی ہیں۔ تبھی سمفنی میں اتنے اتار چڑھاؤ آتے ہیں اور کئی کئی گتیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔

میں نے اسے ہندوستانی راگ راگنیوں کے کچھ ریکارڈ دئے جنہیں اس نے بڑے شوق سے سنا۔ اسے یہ نغمے نہایت دلکش معلوم ہوئے۔ اسے یہ بھی محسوس ہوا کہ یہ سب راگ مختلف جذبوں اور کیفیتوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

میں نے دربار ی کی تشریح کی کہ جیسے ایک بہت بڑا ہال ہے۔ سامنے تخت پر بادشاہ بیٹھا ہے۔ قندیلیں روشن ہیں، فانوس جگمگا رہے ہیں۔ دور دور تک امراء اور وزراء بیٹھے ہیں۔ پُر ہول خاموشی طاری ہے۔ موسیقار کو بلایا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں شوخ موسیقی بے ادبی میں شمار ہو گی۔ غمگین موسیقی بھی موزوں نہیں۔ ہلکی پھلکی چیزوں سے موسیقار گریز کرے گا کیونکہ وہ اپنے جوہر دکھانا چاہتا ہے۔ ان سب باتوں کو مد نظر رکھ کر وہ جو چیز چنے گا وہ درباری ہے۔ اسی طرح اور راگ راگنیوں کے متعلق بھی بتایا۔

جینی سنتی رہی۔ پھر ایک روز اس نے مجھے چند تصویریں دکھائیں جو اس نے خود بنائی تھیں۔ اسے مصوری کا شوق ضرور تھا لیکن معمولی سا۔ یہ اس کی پہلی کوشش تھی۔ ان تصویروں میں اس نے ذہنی تاثرات برش کے ذریعے کاغذ پر منتقل کئے تھے وہ تاثرات جو مختلف راگنیاں سن کر اس نے محسوس کئے۔ یہ نغمے اس نے پہلے کبھی نہیں سنے تھے۔ ہندوستانی موسیقی اس کے لئے بالکل نئی چیز تھی۔ جوگیا کی تصویر میں تا حدِ افق ننھے منے خود رو پھول کھلے ہوئے تھے، چھوٹے چھوٹے رنگ برنگے پھول جن میں کلیاں بھی شامل تھیں اور ادھ کِھلے ہوئے غنچے بھی۔ پتیوں پر شبنم کے قطرے چمک رہے تھے۔ پس منظر دور افق کے پرے برفانی چوٹیاں تھیں، اونچی اونچی برف سے لدی ہوئی چوٹیاں، جن سے نورانی شعاعیں منعکس تھیں۔ پودوں کے سائے، شبنم کے چمکیلے قطرے اور جگمگاتی چوٹیاں۔ سب اس امر کے شاہد تھے کہ سورج ابھی ابھی نکلا ہے اور سارے نظارے پر ایک اداس سی دھند پھیلی ہوئی تھی۔ ہلکی ہلکی نوزائیدہ دھند جس نے فضا میں رنگ و بو کے اس طوفان کے باوجود ایک غمگین تاثر پیدا کر دیا تھا۔

دوسری تصویر مالکوسؔ کی تھی، اس میں سمندر کی لہروں کو پیانو کے پردوں سے کھیلتے ہوئے دکھایا تھا سفیداور سیاہ پردوں کی لڑیاں نہروں پر تیر رہی تھیں۔ کبھی کبھی ایک اونچی سی لہر آتی تو سارے پردوں کو ایک سخت بلندیوں پر لے جاتی۔ راگ کی روانی اور زیر وبم کو لہروں کے کھیل سے ظاہر کیا گیا تھا۔

چھایا نٹؔ کی تصویر منظوم موسیقی کی تصویر تھی جس میں مچلتے ہوئے شوخ نغمے مرتعش تھے۔ چنچل رقاصائیں گھنگھرو باندھے ناچ رہی تھیں۔ ہر جبنش میں بلا کا لوچ تھا، مخمور کر دینے والی مستی تھی۔

جینی انکار کرتی رہی لیکن میں نے ان تصویروں کو نمائش میں رکھوا دیا۔ ایک روز ہم نمائش میں تھے۔ کسی نے یونہی جینی کا نام لے لیا۔ چند لمحوں میں ہجوم اکٹھا ہو گیا یہ سب جینی کے مداح تھے جو اس کی تعریفیں کرنے لگے۔ اس روز معلوم ہوا کہ جینی مشہور ہوتی جا رہی ہے۔ قریب ہی اکھاڑے کے گرد لوگ اکھٹے ہو رے تھے۔ ایک چینی پہلوان کی کشتی تھی۔ سانگؔ یا کچھ ایسا ہی نام تھا لوگ دور دور سے اسے دیکھنے آئے تھے۔ اسے ہجوم نے گھیر رکھا تھا۔ جہاں وہ اس قدر ہر دلعزیز ثابت ہو رہا تھا وہاں اس کے حریف کو جو مقامی پہلوان تھا کوئی پوچھتا ہی نہ تھا۔ کشتی شروع ہوئی اور غل مچ گیا۔ کچھ دیر برابر کا مقابلہ رہا۔ پھر دفعتاً مقامی پہلوان نے سانگ کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر سر سے اونچا اٹھا لیا اور زمین پر سے مارا۔ سانگ بے ہوش ہو گیا۔اسی ہجوم نے جو اس کی تعریفیں کر رہا تھا اس پر آوازے کسنے شروع کر دئے۔ اس پر اشتہار اور کاغذوں کے ٹکڑے پھینک کر اکھاڑے میں تنہا چھوڑ دیا۔ سانگ ایک بنچ پر اکیلا بیٹھا تھا جینی مسکراتی ہوئی گئی اور اس سے باتیں کرنے لگی۔ اسے پسینہ پونچھنے کے لئے اپنا چھوٹا سا معطر رومال دیا جسے اس نے شکریے کے ساتھ لے لیا۔ جینی کی پیاری مسکراہٹ اور دلکش باتوں نے اسے موہ لیا۔

ان باتوں میں ایسی حلاوت تھی کہ سانگ کو اپنی زبوں حالت کا احساس نہ رہا۔ ساری شام ہم نے اکٹھے گزاری۔ جب وہ رخصت ہوا تو اس کے ہونٹ لرز رہے تھے اور آنکھوں میں آنسو تھے۔ ڈے کے والدین آ گئے اور وہ ہوسٹل سے چلا گیا۔ اس کی کی والدہ نے جینی کو دیکھا۔ جینی کو ان کے گھر بلایا گیا لیکن یہ آنا جانا بہت جلد ختم ہو گیا۔ ایک روز ڈے جینی سے ملا اور جی بی کے متعلق پوچھنے لگا۔ جینی نے شروع سے اخیر تک ساری کہانی سنا د ی سب کچھ بتا دیا۔ ڈے اس پر برس پڑا یہ باتیں اس سے پوشیدہ کیوں رکھی گئیں۔ اسے پہلے کیوں نہیں بتایا گیا۔ جی بی کے علاوہ اور بھی نہ جانے کتنے عاشق ہوں گے اب اسے کیوں کر یقین آ سکتا ہے کہ جینی کی محبت صادق ہے۔ یہ تو محض ڈھونگ تھا۔ کھیل تھا۔ اب اس کھیل کو فوراً ختم ہو جانا چاہئے۔

میں نے سنا تو ڈے کو سمجھایا کہ جن دنوں وہ جی بی سے ملا کرتی تھی، ڈے بنگال سے آیا بھی نہ تھا۔ بھلا وہ ڈے پر اتنی دور کیوں کر عاشق ہو سکتی تھی اور وہ بھی بلا دیکھے اور سنے اور پھر وہ خود جینی کے علاوہ کئی لڑکیوں سے محبت جتا چکا تھا۔ جینی جانتی تھی پھر بھی اس نے باز پرس نہ کی لیکن ڈے نہیں مانا۔ اس کے خیال میں ہر مرد کا فطری حق ہے کہ خود دنیا بھرکی لڑکیوں سے چہلیں کرتا پھرے، لیکن محبوبہ سے یہ توقع رکھے کہ وہ زندگی بھر صرف اسی کو چاہے گی۔ اس کی منتظر رہے گی۔ بچپن ہی سے اسے الہام ہو جائے گا کہ فلاں مرد آج سے اتنے سال بعد اسے چاہنے آئے گا جو خود ہرجائی ہو گا اور چاہنے سے پہلے لڑکی کی گذشتہ زندگی کو اچھی طرح کرید کر اپنی تسلی کر لے گا۔


جینی نے اسے وہ سارے وعدے یاد دلائے جو اس نے قسمیں کھا کھا کر کئے تھے۔ وہ محبت بھری باتیں یاد دلائیں جو ہزاروں بار دہرائی گئی تھیں۔ وہ خواب بتائے جو دونوں نے اکٹھے دیکھے تھے لیکن اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ تو جیسے کسی بہانے کی تلاش میں تھا۔ دیکھتے دیکھتے جینی میں بے شمار نقص نکل آئے۔ نہ اس کا کوئی خاندان تھا نہ مذہب۔ سوسائٹی میں اس کے لئے کوئی جگہ نہ تھی۔ اس کے خون میں آمیزش تھی۔ اس کی تربیت ایسے والدین کے زیرِ سایہ ہوئی جن کی زندگی ہمیشہ ناخوشگوار رہی۔ جن میں سب سے بڑا عیب یہ تھا کہ وہ غریب بھی تھے اور پھر جینی کچھ اتنی خوبصورت بھی نہیں تھی۔ اس سے کہیں حسین اور بہتر لڑکیاں ڈے کو مل سکتی تھیں۔ ایک حسین لڑکی تو ڈے کی والدہ نے ڈھونڈ بھی لی تھی۔ لڑکی کے والد رائے بہادر تھے اور لڑکی کے ساتھ لاکھوں کی جائیداد دے رہے تھے۔ انہوں نے ڈے کو انگلستان بھیجنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔

شادی کی تاریخ مقرر ہوئی۔ میرے نام دعوتی رقعہ آیا۔ میں خاموش رہا۔ جب جینی کے نام رقعہ بھیجا گیا تو مجھے بہت غصہ آیا۔ طیش میں آ کر میں نے کئی منصوبے باندھے۔ سب سے پہلا منصوبہ ڈے کی ہڈی پسلی ایک کر دینے کا تھا لیکن جینی کے کہنے پر میں نے ارادہ ترک کر دیا۔

شادی پر ہم دونوں گئے۔ جینی شادی کا تحفہ لے کر گئی۔ سب کے سامنے یہ تحفہ کھولا گیا۔ ڈے کی بیوی کے لئے سنہرا ہار تھاجس میں دل کی شکل کا لاکٹ پر ویا ہوا تھا۔ اگلے مہینے جینی نے کالج چھوڑ دیا اور گھر چلی گئی۔

ایک پارٹی میں میرا تعارف ڈے کی بیوی سے ہوا۔ معلوم ہوا کہ اسے دنیا میں اگر کسی چیز سے نفرت تھی تو وہ آرٹ سے۔ یہ سارے مصور، موسیقار، شاعر اسے زہر دکھائی دیتے تھے اور سب سے زیادہ چڑ اسے ان امیر لوگوں سے تھی جو اس قسم کی فضولیات میں پڑ کر اپنا وقت ضائع کرتے تھے۔ بھلا ستار یا وائلن سیکھنے کی کیا ضرورت ہے جب صبح سے شام تک ریڈیو پر ساز بجتے رہتے ہیں۔ مصوری سیکھنے میں کیا تک ہے، جب بازار میں ہر قسم کی تصویریں آسانی سے مل جاتی ہیں۔ اگر کسی نے الفاظ کو توڑ مروڑ کچھ شعر گھڑ لئے تو اس پر آنسو بہانے یا بے قابو ہو جانے کی کیا ضرورت ہے۔

آخری امتحان پاس کر کے میں کالج سے چلا آیا۔ مصروفیتوں نے آن دبوچا۔ ملک کے مختلف حصوں میں پھر تا رہا۔ مدتوں تک میں نے جینی کے متعلق نہیں سنا۔

پھر ایک دن ایک پرانا دوست ملا۔ میں نے جینی کا ذکر کیا تو اس نے باتیں سنائیں کہ وہ پہلے سے بالکل بدل چکی ہے۔ ہر جگہ یہی مشہور ہے کہ وہ محبت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ ایک معاشقہ ختم ہوا ہے تو دوسرا عنقریب شروع ہو گا۔ کالج چھوڑ کر اس نے ملازمت کر لی اور اب بالکل آزادانہ طور پر رہتی ہے ہر شام اس کے ہاں لوگوں کا جمگھٹا رہتا ہے۔ قسم قسم کے لوگ آتے ہیں۔ نہایت عجیب و غریب ہجوم ہوتا ہے۔ پھر خوب افواہیں اڑتی ہیں۔ لوگ شیخیاں مارتے ہیں کہ ہم نے یہ کیا وہ کیا، میرے کوٹ کے کالر سے جو بال چسپاں ہے وہ جینی کا ہے۔ یہ تصویر جینی نے مجھے دی تھی۔ میرے رومال پر جو سرخی ہے وہ جینی کے ہونٹوں کی ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ پچھلے سال وہاں سیلاب آیا تھا۔ لوگ بے گھر ہو گئے، قحط پڑا۔ جینی نے کچھ لڑکوں، لڑکیوں کو ساتھ لیا۔ گاؤں گاؤں پھر کر مصیبت زدہ مخلوق کی مدد کی۔ امیروں سے فلرٹ کر کے چندہ اکٹھا کیا۔ اپنی صحت اور آرام کا خیال نہ رکھا۔ رات دن محنت کی۔ کئی مرتبہ بیمار ہوئی کچھ اوباش قسم کے لوگ محض جینی کی وجہ سے محتاجوں کی امداد پر تیار ہو گئے۔ اسے چھیڑا، تنگ کیا۔ ایک شام بہانے سے اپنے ساتھ لے گئے اور اسے شراب پلانی چاہی۔ جینی نے گروہ کے سرغنے کے بال نوچ لئے۔ اس کا منہ طمانچوں سے لال کر دیا۔ وہ ایسے گھبرائے کہ اسی وقت جینی کو واپس چھوڑ گئے۔

پھر کسی نے جینی کی تصویر اخباروں میں نکلوا دی۔ اس کی تعریف بھی شامل تھی۔ جس پر سب نے یہی سمجھا کہ محض سستی شہرت کی غرض سے جینی نے لوگوں کی مدد کی تھی۔

کچھ عرصے کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ ایک تبادلے نے مجھے جینی کے قریب پہنچا دیا۔ محض چند گھنٹوں کی مسافت تھی۔ ہر دوسرے تیسرے ہفتے میں اسے ملنے جاتا۔ سچ مچ اب وہ پرانی جینی نہیں تھی۔ پہلے سے کہیں تندرست اور چست معلوم ہوتی تھی۔ اس کے چہرے پر تازگی تھی، نیا نکھار تھا، ہونٹوں میں رسیلا پن اور رخساروں پر سرخی آچکی تھی۔ اب وہ اک شعلۂ فروزاں تھی۔ وہ طرح طرح سے میک اپ کرتی، شوخ و بھڑ کیلے لباس پہنتی۔ جگمگ جگمگ کرتے ہوئے زیور، قسم قسم کی خوشبوئیں۔ وہ ہر موضوع پر بلا دھڑک گفتگو کر سکتی تھی۔ کلبوں اور رقص گاہوں میں اسے باقاعدگی کے ساتھ دیکھا جاتا۔ ہفتے بھر کی شامیں پہلے ہی مختلف مصروفیتوں کے لئے وقف ہو جاتیں۔ پرانی سیدھی سادی جینی کی جگہ اس شوخ و شنگ لڑکی کو دیکھ کر میں کچھ چڑ سا گیا۔ یہ جذبہ محض حسد و رشک کا جذبہ تھا۔ میں شاید برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ گفتگو کرتے وقت مجھے بار بار یہ احساس ہوا کہ وہ مجھ سے زیادہ جانتی ہے۔ ہر بحث میں وہ مجھے ہرا دے۔ تاش کھیلتے وقت میں بغلیں جھانکنے لگوں۔ رقص گاہ میں بعض دفعہ مجھے ایک لڑکی بھی نہ ملے اور اس کے لئے بیسیوں لڑکے بے قرار ہوں۔ وہ ایسی چیزوں کا ذکر کرتی رہے جن کا مجھے شوق تو ہے لیکن ان تک پہنچ ذرا مشکل ہے۔

شام کو اس کے ہاں لوگوں کا ہجوم ہوتا۔ ان میں زیادہ تعداد عشاق کی ہوتی جو طرح طرح سے اپنی محبت کا اظہار کرتے۔ شادی شدہ حضرات اپنی غمگین ازدواجی زندگی کا رونا رویا کرتے کہ کس طرح قدرت نے ان کو دغا دی اور نہایت بد مذاق اور ٹھس طبیعت کی رفیقہ پلے باندھ دی۔ اب ان کے لئے دنیا جہنم سے کم نہیں۔ اب یہ عذاب برداشت نہیں ہو سکتا۔ خودکشی کے سوا اور کوئی چارہ نہیں لیکن اس سیاہ خانے میں امید کی ایک نورانی کرن نظر آتی ہے۔ وہ ہے جینی۔

پر مغز اور ذہین قسم کے لوگ اکثر سیاست اور ادب پر بحث کرتے۔ کارل مارکس فرائیڈ اور مولانا روم کے تذکرے چھیڑتے۔ سیاست دانوں کی غلطیاں گنواتے۔ مشاہیر پر تنقیدیں کرتے۔ بے لوث اور سچی دوستی کا دم بھرتے لیکن موقعہ پا کر عشق بھی جتا دیتے۔

ایک طبقہ نفاست پسند اور نازک اندام لوگوں کا تھا۔ یہ لوگ ہر وقت اپنی کمزوریاں گنواتے رہتے۔ اپنی بیماریوں کا ذکر کرتے۔ اپنے آپ کو بے حد ادنیٰ اور کم تر سمجھتے۔ بار بار جینی سے پوچھتے: اگر تمہیں برا معلوم ہوتا ہو تو میں آئندہ نہ آیا کروں۔ اگرچہ ایسا کرنے سے مجھے قلبی، جگری اور روحانی صدمہ پہنچے گا۔ مگر ہر شام کو آ دھمکتے۔

کئی ایسے شرمیلے بھی تھے جو چھپ چھپ کر خطوط لکھتے۔ جینی پر نظمیں کہہ کر اسے بدنام کرتے۔ سامنے آتے تو شرما شرما کر برا حال ہو جاتا۔

سب سے گھٹیا وہ عاشق تھے جو اپنے آپ کو جینی کا بھائی کہتے۔ بھائیوں کی سی دلچسپی لیتے۔ اس کی حفاظت اور بہبودگی کے خواہاں رہتے لیکن دل میں کچھ اور سوچتے رہتے۔

مجھے یہ تماشا دیکھ کر غصہ آتا۔ آخر یہ لڑکی چاہتی کیا ہے کہ سب کے سب تو اسے پسند آنے سے رہے۔ سارے ہجوم کو برخاست کر کے ان میں سے ایک دو سے ملتی رہا کرے۔ میرا ارادہ بھی ہوا کہ اسے ٹوکوں۔ پھر سوچا کہ بھلا میں اس کا کیا لگتا ہوں، دیکھا جائے تو میں بھی خود اسی ہجوم میں سے ایک ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ میں اسے ذرا پہلے سے جانتا ہو ں۔


پھر میں نے دیکھا کہ وہ ایک شخص کی جانب ملتفت ہوتی جا رہی ہے۔ یہ انسان بالکل عجیب تھا۔ پہلے پہل تو میں اسے سمجھ ہی نہ سکا۔ یہی سوچتا کہ آخر اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ اسے قریب سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ اس کی زندگی کا واقعی کوئی مقصد نہیں۔ اسے کسی چیز پر یقین نہیں تھا۔ محبت، نفرت، زندگی، موت، انسان، خدا۔ سب سے منکر تھا۔ بات بات پر بحث کے لئے تیار ہو جاتا۔ سب اس سے کتراتے تھے۔ اسے کامریڈ کے نام سے پکارا جاتا۔ محض جینی کی وجہ سے میں اس سے ملتا ورنہ میرے دل میں اس کے لئے نفرت تھی۔ یہ نفرت شاید اس دن پیدا ہوئی، جب ہم نے پہلی اور آخری بحث کی۔ کامریڈ عورتوں کو ہمیشہ برا بھلا کہتا۔ ا پر نکتہ چینیاں کرتا۔ ایک روز میں نے اختلاف کیا۔ عورت کی زندگی کی ان گنت مجبوریاں جتلائیں۔ لڑکی کی پیدائش کو نام بارک سمجھا جاتا ہے۔ لڑکوں کے مقابلے میں اس کی پرورش میں کوتاہی برتی جاتی ہے۔ بھائی اسے ڈانٹتے دھمکاتے ہیں۔ اس کا حصہ چھین لیتے ہیں۔ اس کے دل میں احساس کمتری پیدا کر دیتے ہیں۔ پھر بڑی ہونے پر کنبے اور پڑوسیوں کی تنقید شروع ہو جاتی ہے۔ دوپٹے کا ذرا سر سے اتر جانا خاندان کی ناک پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ذرا سی بھول اسے زندگی بھر کے لئے مجرم بنا دیتی ہے۔ کالج میں اسے فلسفہ سکھایا جاتا ہے۔ مساوات اور آزادی کے سبق دئے جاتے ہیں لیکن جب شادی کا سوال آتا ہے تو اس سے کوئی نہی پوچھتا۔ اسے وہی کرنا پڑتا ہے جو چند خشک مزاج بزرگ چاہتے ہیں لیکن لڑکوں کی زندگی بالکل مختلف ہے۔ وہ بڑی آسانی سے جھوٹی قسمیں کھا کر لڑکیوں کو دھوکا دے سکتے ہیں۔ محبت کا واسطہ دلا کر سب کچھ منوا لیتے ہیں۔ پھر چند خاندانی مجبوریوں کا بہانہ کر کے انہیں بڑی آسانی سے دھتکار سکتے ہیں اور سلیٹ کی طرح بار بار سب کچھ دھل جاتا ہے۔ ان کا ماضی کوئی معنی ہی نہیں رکھتا۔ ان کے لئے بیاہ شادی کھیل ہے لیکن لڑکیوں کے لئے شادی نئی مصیبتوں کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ بیوی بن کر بچوں کی پرورش، معاشی بے بسی، ذرا ذرا سی بات کے لئے خاوند کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ عمر رسیدہ ہو جانے پر اولا د بے مصرف سمجھتی ہے، مذاق اڑاتی ہے۔

کامریڈ کو میری باتیں فضول معلوم ہوئیں۔ وہ یہی کہتا رہا کہ ویسے عورت اور مرد برابر ہیں لیکن مرد کا رتبہ دماغی اور جسمانی لحاظ سے بلند ہے۔ اس نے دونوں کے دماغ کی بناوٹ اور وزن کا ذکر بھی کیا۔ مرد کے لئے لمبے قد اور مضبوط بازوؤں کا حوالہ دیا۔

اس کے بعد میری اور اس کی کبھی بحث نہیں ہوئی۔

پتہ نہیں اس کا ذریعۂ معاش کیا تھا، وہ رہتا کہاں تھا۔ اس کی گذشتہ زندگی کہاں اور کیسے گزری۔ بس یہ مشہور تھا کہ وہ جینی کا مداح ہے۔

جینی ان دنوں بڑی ٹھوس قسم کی کتابیں پڑھتی۔ مشکل سے موضوع پر خشک اور سنجیدہ کتابیں۔ جب وہ دونوں باتیں کرتے تو بہت کم لوگ سمجھ سکتے کہ کس موضوع پر گفتگو ہو رہی ہے۔ ان دونوں کی دوستی کا یہ پہلو مجھے بہت اچھا معلوم ہوتا۔ جینی کی مدلل اور ذہین باتیں ظاہر کرتیں کہ وہ دماغی ارتقا کی منزلیں بڑی تیزی سے طے کر رہی ہے۔

ہم پکنک پر گئے۔ ایک تاریخی عمارت کو ہم نے بار بار دیکھا تھا، لیکن جب جینی نے ایک خاص زاویے سے ہمیں دیکھنے کو کہا تو یوں معلوم ہوا کہ جیسے اس باغ اور عمارت کو آج پہلی مرتبہ دیکھا ہے۔ کامریڈ اچھل پڑا۔ بولا صرف ایک آرٹسٹ کی آنکھ اس زاویے کو چن سکتی تھی۔ جب قصے کہانیاں ہو رہی تھیں تو ایک لڑکا اپنا رومان سنانے لگا۔ اسے ایک لڑکی دور دور سے دیکھا کرتی، اشارے ہوتے، پتھروں سے لپٹے ہوئے خطوط پھینکے جاتے، عہد و پیمان ہوتے، لیکن وہ فاصلہ اتنے کا اتنا تھا۔ نہ وہ خود قریب آتی نہ آنے دیتی۔ تنگ آ کر اس نے چھت پر جانا چھوڑ دیا۔ کئی دنوں کے بعدگیا تو لڑکی نے بڑی سخت سماجت کی۔ اس نے صاف کہہ دیا کہ اگر اب بھی قریب نہ آنے دو گی تو آئندہ کبھی چھت پر نہیں آؤں گا۔ بڑی مشکلوں کے بعد وہ رضا مند ہو گئی۔ بار بار یہی کہتی آپ وعدہ کیجئے کہ مجھ سے نفرت تو نہیں کرنے لگیں گے۔ اس نے وعدہ کیا تو مانی۔ یہ اسے ملنے گیا لڑکی نہایت حسین تھی لیکن اس کی آنکھوں میں نقص تھا۔ وہ بھینگی تھی۔ اس پر بڑے قہقہے پڑے۔ ہنستے ہنستے لوگ دوہرے ہو گئے لیکن جینی خاموش رہی، اس کی آنکھیں نمناک ہو گئیں۔ دیر تک وہ چپ چاپ رہی مجھے بھی اس کہانی نے اداس کر دیا۔ یہ کہانی ہرگز مضحکہ انگیز نہیں تھی۔

باغ کے گوشے میں ایک کنواں تھا جس کے متعلق مشہور تھا کہ اس میں جھانک کر جو خواہش کی جائے پوری ہو جاتی ہے۔ ہر ایک نے کچھ مانگا۔ جب جینی کی باری آئی تو اس نے کہا کہ مجھے کسی سے کچھ نہیں چاہئے، مجھے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، کوئی ارضی یا سماوی طاقت مجھے کچھ نہیں دے سکتی۔ بس مجھے ایک زندگی ملی ہے اور مجھے زندہ رہنا ہے۔

کامریڈ عش عش کر اٹھا۔ کہنے لگا کہ جینی کا یہ نظریہ صحیح ترین نظریہ ہے۔ ایسی دنیا میں جہاں لوگ اب تک بارش کے لئے دعا مانگتے ہیں، اس سے بہتر نظریہ نہیں ہو سکتا۔ کوئی کسی کے لئے کچھ نہیں کر سکتا، تقدیر اور قسمت وغیرہ فضول چیزیں ہیں۔ ہر شخص اپنے گرد بچھے ہوئے جال میں گرفتار ہے۔ اپنے حالات سے مجبور ہے۔ زندگی کے اٹل ارادے، شدید جذبے، سب حوادث کے غلام ہیں۔ ہم اس لئے ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اتفاق نے ہمیں ملا دیا۔ اسی طرح محض اتفاق سے ہم ان لوگوں کی رفاقت سے محروم ہیں۔ جنہیں اگر ملتے تو شاید گہرے دوست بن جاتے۔

پھر ایک روز وہی کامریڈ جو افلاطونی دوستی اور خلوص کے گن گایا کرتا تھا، جینی کو اپنے ساتھ لے گیا۔ انہوں نے اکٹھے چائے پی، پکچر دیکھی، چھوٹے موٹے تحفے خریدے جب ٹیکسی میں دونوں واپس آ رہے تھے تو اس نے جینی کو چومنے کی کوشش کی۔ جینی نے ٹیکسی ٹھہرا لی جتنے روپے کامریڈ نے اس شام صرف کئے تھے اس کے منہ پر مارے اور پیدل واپس چلی آئی۔

کامریڈ کئی روز تک غائب رہا پھر معافی مانگنے آیا۔ جینی نے کہا کہ مجھے طیش نہیں آیا، مایوسی ہوئی ہے۔ میں تمہیں ان سب سے مختلف سمجھتی تھی۔ میرا خیال تھا کہ تم اس ہجوم میں سے نہیں ہو لیکن تم میں اور دوسروں میں فرق نہیں۔

کامریڈ نادم تھا، بولا "میرے نظریے خواہ کیسے ہوں، میں انسان بھی ہوں۔ تم میں اتنی زبردست کشش ہے کہ میری جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو یہی کرتا۔ میں نے کبھی تمہارے چہرے کو غور سے نہیں دیکھا۔ تمہاری بے چین روح کو دیکھا ہے اور یہی روح مجھے عزیز ہے۔ اگر تمہارے خدوخال بہتر ہوتے اور تم زیادہ خوبصورت ہوتیں تو تمہاری زندگی مختلف ہوتی۔ اگر تم کسی بہتر گھرانے میں پیدا ہوتیں تو تمہاری زندگی مقابلتاً آسان ہوتی لیکن تم اتنی صلاحیتوں کی مالک نہ ہوتیں۔ تمہاری روح اتنی حسین نہ ہوتی۔"

جینی عورت تھی، کامریڈ کے رنگیں فقروں نے اسے موہ لیا۔ اس کی آنکھیں جھک گئیں۔ دل دھڑکنے لگا۔ رخسار سرخ ہو گئے۔ جب کامریڈ نے بازو پھیلائے تو جینی نے مزاحمت نہ کی۔ اس کے بعد کامریڈ کی گفتگو کا انداز بدل گیا۔ محبت ایک دوسرے کی طرف دیکھنے رہنے کا نام نہیں بلکہ دونوں کا ایک سمت میں دیکھتے رہنے کا نام ہے محبت میں اگر رفاقت کی آمیزش ہو تو وہ انتہائی بلندیوں تک جا پہنچتی ہے۔" اسی قسم کی باتیں بار بار دہراتا۔

کبھی کبھی وہ مجھے کافی دلچسپ معلوم ہوتا۔ اس کی چند چیزیں مجھے پسند تھیں۔ اس کی صحرا نوردیاں، بے چین طبیعت، سیلانی پن لیکن اس کے شکست خوردہ نظریے، بلا وجہ کا حزن، تلخ خیالات برے معلوم ہوتے۔ وہ قنوطی تھا اور اذیت پسند۔ اس نے کبھی زندگی کا مقابلہ نہیں کیا۔ مصیبت کو آتے دیکھ کہ وہ ہمیشہ راستہ کترا جاتا۔ اپنے آپ کو مظلوم سمجھتا۔ دنیا بھر کا ستایا ہوا۔ اس کا ارادہ تھا کہ عمر بھر اسی طرح سرگرداں رہے گا۔ اس کی منزل کہیں نہیں۔

میرا تبادلہ ہوا تو جینی مجھے چھوڑنے سٹیشن پر آئی، جدا ہوتے وقت میں نے رومال مانگا۔ پوچھنے لگی "رومال لے کر کیا کرو گے؟" کہا "رومال تمہاری شوخ مسکراہٹوں کی یاد دلاتا رہے گا " بولی "تم ہر مرتبہ رومال ہی کیوں مانگتے ہو۔" بتایا کہ اس کی مخمو رکن خوشبو اور ننھے سے سرخ دل کی وجہ سے۔

اگلے سال مجھے کسی نے بتایا کہ کامریڈ جینی کو چھوڑ کر چلا گیا۔ وہ بالکل ویسے کا ویسا رہا۔ جینی کی تمام کوششیں اس میں کوئی تبدیلی نہ لا سکیں۔ چلتے وقت اس نے جینی سے کہا کہ بے سر و سامانی اس کی تقدیر میں ہے۔ اس کی منزل مفقود ہے۔ وہ جینی سے محبت کرتا رہے گا۔ اس کی تصویر دل سے لگا کر رکھے گا۔ دوسرے شہروں سے اسے خط لکھا کرے گا۔ اسے ہمیشہ یاد رکھے گااور بس!

جینی نے اس کا تعاقب کرنا چاہا۔ جو کچھ اس کے پاس تھا فروخت کر دیا۔ پتہ نہیں وہ اسے ملا یا نہیں جب وہ واپس آئی تو طرح طرح کی افواہیں پھیلی ہوئی تھیں۔ جینی کے والد نے جو تنہا رہتا تھا اسے سخت سست کہا اور گھر سے نکال دیا۔ کچھ اوباش قسم کے لوگوں نے اس کی مدد کرنی چاہی لیکن جینی وہ شہر چھوڑ کر کہیں نکل گئی۔

کینریؔ سے میں سمندر پار ملا۔ وہ ہندوستانی تھا۔ لوگ اس کی حرکتوں کی وجہ سے اسے کیزا نووا کہتے، اسی سے یہ نام پر گیا۔ پہلی ملاقات پہاڑوں کے ایک کیمپ میں ہوئی۔ ہم نے قصبے سے کچھ شہریوں کو کھانے پر بلایا ہوا تھا۔ میس کے خیمے میں باتیں ہو رہی تھیں کہ وہ ایک روسی افسر سے لڑ پڑا۔ لڑائی کی وجہ ایک روسی لڑکی تھی۔ کینری نے فوراً اسے ڈوئل کی دعوت دی۔ روسی نے اپنے ریوالور سے چار گولیاں نکال لیں اور کینری سے بولا ہم اسے باری باری اپنے کان سے چھوا کر چلائیں گے۔ اس میں صرف دو گولیاں ہیں جس کی قسمت میں گولی لکھی ہو گی، اس کے دماغ میں سے نکل جائے گی۔ کینری پئے ہوئے تھا فوراً راضی ہو گیا۔ پہلا فائر کینری نے اپنے آپ پر کیا، وہ خانہ خالی نکلا۔ دوسرا فائر روسی نے کیا، کچھ نہ ہوا۔ کینری تیسرا فائر کر چکا تو ہم نے بڑی مشکلوں سے انہیں علیحدہ کیا۔ کنیری کو یقین نہیں تھا کہ ریوالور میں گولیاں ہیں۔ اس نے یونہی لبلبی دبا دی، دھماکہ ہوا۔ گولی خیمے کی دیوار چیر گئی۔


اس کا تبادلہ ہوا اور وہ ہمارے کیمپ میں آگیا۔ ہم دونوں بہت جلد دوست بن گئے۔

شہر کے حاکم نے ہمیں دعوت دی۔ ہم دونوں گئے۔ نہایت دلچسپ پروگرام تھا۔ آغا نے کینری کا تعارف ایک نہایت خوبصورت لڑکی سے کرایا۔

کینری اس سے گھل مل کر باتیں کر رہا تھا۔ محفل گرم ہوتی جاری تھی کہ یکایک گھڑی دیکھ کر کینری اٹھ کھڑا ہوا۔ اسن مجھے بتایا کہ دوسرے کیمپ کی قریب کسی لڑکی سے رات کو ملنے کا وعدہ کیا تھا۔ سردیوں کی اندھیری رات تھی۔ کیمپ وہاں سے سو میل کے لگ بھگ تھا۔ ہمیں سب نے منع کیا، لیکن کینری کا وعدہ تھا کیوں کر پورا نہ ہوتا۔ ہم جیپ میں روانہ ہوئے تو ہلکی ہلکی برفباری ہو رہی تھی۔ پہاڑوں کی پیچیدہ دشوار گزار سڑک برف سے سفید ہوچکی تھی۔ ہم اتنی تیزی سے جار رہے تھے کہ موڑوں پر جیپ ہوا میں اٹھ جاتی۔ راستے بھر وہ اپنی محبوبہ کے لافانی حسن کی تعریفیں کرتا رہا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو دعوت ختم ہو چکی تھی۔ لڑکی منتظر ملی۔ کینری نے میرا تعارف کرایا۔ ان دنوں میں بے حد اداس تھا۔ مہینوں سے کسی دوست یا عزیز کا خط نہیں ملا تھا۔ میں نے بڑی جذباتی قسم کی گفتگو شروع کر دی۔ اسے یہ باتیں اچھی معلوم ہوئیں۔ ہم ایک گوشے میں جا بیٹھے۔ کینری ایک دو بار ہمارے پاس آیا لیکن جلد اٹھ کر چلا گیا۔ جب لوگ جانے لگے تو اس نے مجھے ایک طرف بلا کر کہا۔ "میں جا رہا ہوں۔ بعد میں تمہارے لئے جیپ بھجوا دوں گا۔"

"اور یہ لڑکی "میں نے حیران ہو کر پوچھا۔

"یہ اب تمہاری ہے۔ میں یاروں کا یار ہوں۔ میں تمہارے چہروں کا مطالعہ کرتا رہا ہوں۔ میں نے تم دونوں کی آنکھوں میں اس روشنی کی چمک بھی دیکھی ہے جو پہلی ملاقات پر بلاوجہ پیدا نہیں ہوتی۔ میں اسے چاہتا ضرور ہوں، لیکن تم بھی میرے دوست ہو۔"

اس کی شخصیت عجیب تھی۔ نہ اسے کسی خطرے کا احساس تھا نہ کسی مصیبت کا ڈر۔ وہ ہمیشہ کام کر چکنے کے بعد یہ سوچتا کہ یہ کام اسے کس طرح کرنا چاہئے تھا۔ اس کے مزاج میں بلا کی تندی اور گرمی تھی۔ کیسی ہی آفت آن پڑے وہ کبھی نہ گھبراتا۔ ذرا ذرا سی باتوں پر بڑے سے بڑا خطرہ مول لینے کو تیار ہو جاتا۔ اسے سکون سے نفرت تھی۔ اس سے لڑ، اس سے جھگڑ۔ محاذ سے واپس آیا ہے تو ڈوئل لڑ رہا ہے، جوئے میں آج ہزاروں جیتے تو کل سب ہار دیئے۔

سب اس کے کامیاب معاشقوں پر رشک کرتے، اس کامیابی کا راز پوچھتے۔ وہ سر ہلا کر کہتا یہ تو کچھ بھی نہیں، ہزاروں محبتیں ایسی بھی تھیں جو ادھوری رہ گئیں۔ جو کبھی بھی نہ پنپ سکیں۔ جنہوں نے بار بار میرا دل توڑا۔

ہمارے قریب ایک چھوٹا سا خوش نما قصبہ تھا گلشن، آس پاس کے باشندوں میں کینری شہنشاہِ گلشن کے نام سے مشہور تھا۔

پہلے کبھی اس پر قتل کا مقدمہ بن گیا تھا، موت کی سزا تھی، پھر عجیب سے حالات میں وہ بری ہو گیا۔ آزاد ہو کر اس نے تہیہ کر لیا کہ وہ ہمیشہ زندگی کو ایک نئی زندگی سمجھے گا جو اسے تحفۃً ملی ہے۔ اس زندگی کا گزشتہ زندگی سے واسطہ نہیں۔ وہ ہمیشہ مسرور رہے گا، آزاد رہے گا۔ جو چیز نا پسند ہوئی اسے فنا کر دے گا، جو بھا گئی اس پر چھا جائے گا۔

محض اتفاق تھا کہ ایسا شخص زندگی کی شاہراہ پر جینی سے ملا۔۔

اس کا پیار آندھی کی طرح امڈا، آناً فاناً میں چھا گیا اور طوفان کی طرح اتر گیا۔

وہ چھٹی پر ہندوستان آیا۔ شام کو کسی شناسا لڑکی سے ملاقات کا پروگرام بنا۔ اسے ملنے گیا، وہ نہیں ملی مگر وہاں ایک اور لڑکی سے ملاقات ہو گئی۔ یہ لڑکی جینی تھی جو اپنی سہیلی سے ملنے آئی تھی۔ کینری نے جینی کو اپنی محبوبہ کا نعم البدل سمجھا اور جتنے دن وہ وہاں رہا اسے نعم البدل سمجھتا رہا۔ اس نے قیمتی تحفوں کی بارش کر دی۔ اپنی دلچسپ باتوں اور رنگین کہانیوں سے جینی پر جادو کر دیا۔ بھڑکیلی کاروں میں اسے لئے لئے پھرا۔ ایک چاندنی رات کو جب وہ سمندر میں تیرنے گئے تو ریت پر بیٹھ کر اس نے محبت کا واسطہ دے کر جینی کو شیمپین پلائی۔ عمر بھر با وفا اور صادق رہنے کا حلف اٹھایا۔ ہمیشہ اکٹھے رہنے کے عہد و پیمان کئے۔ یہ سب کچھ اس قدر پر خلوص تھا کہ جینی نے سچ مان لیا۔

اس آغاز کے بعد انجام وہی ہوا جس کی توقع کی جا سکتی تھی، جو نا گزیر تھا۔ جینی کی زندگی میں وہ جس طرح آیا تھا اسی طرح چلا گیا۔

لیکن جینی کی یاد اس کے دل سے مکمل طور پر نہ گئی۔ جب کبھی اسے کوئی ٹھکرا دیتا، جب دیر تک تنہا رہنا پڑتا، کوئی بری خبر سننے میں آتی، اداسیاں عود کر آتیں… تو اسے جینی کی معصومیت، اس کا خلوص اور پیار یاد آتا۔ رات کی تنہائی میں ہم دونوں دیر تک خیمے میں بیٹھے رہتے۔ باہر سرد ہواؤں کے جھکڑ چلتے تو وہ جینی کو یاد کرتا۔ اپنے جھوٹے وعدوں کو یاد کر کے شرمندہ ہوتا، اپنے آپ کو گنہ گار سمجھتا۔ بار بار کہتا کہ جینی ان سب لڑکیوں سے مختلف تھی جو اس کی زندگی میں آئیں۔ اگر اس کی زندگی میں شادی کی کوئی گنجائش ہوتی تو وہ جینی سے ضرور شادی کرتا۔ وہ نہایت غیر معمولی لڑکی تھی۔ اسے کسی نے سمجھا نہیں۔ کسی کی نگاہیں اس کے خدوخال سے آگے نہیں پہنچیں۔ اس کی روح کی عظمت کو کسی نے نہیں پہچانا۔ اس میں کسی مصور کی روح تھی، کسی عظیم شاعر اور بت تراش کی روح۔ اس میں اتنی صلاحیتیں تھیں کہ ان کی رفاقت کسی کی بھی زندگی چمکا سکتی تھی۔ اس میں بلا کی معصومیت تھی اس میں سیتا کا تقدس تھا۔ مریم کی پاکیزگی تھی۔ اس نے کئی مردوں سے محبت نہیں کی بلکہ صرف ایک ایک مرد سے محبت کی، ایک مرد جسے اس نے کلبلاتے رینگتے ہجوم سے چنا اور دوسروں سے مختلف سمجھا لیکن اس مرد نے اسے ہمیشہ دھوکہ دیا۔ اس کی مسکراہٹ کیسی تھی، بالکل مونالزا کی مسکراہٹ، معصوم، اتھاہ اور پراسرار، اس کی مسکراہٹ کے سامنے کینری جیسا انسان بھی کانپ اٹھا تھا۔

لیکن ایسی باتیں وہ کبھی کبھی کیا کرتا اور اگلی صبح اکثر بھول جاتا۔

اس کے بعد ایک طویل وقفہ آیا۔ یہ وقفہ ایسا تھا کہ اس نے سب کچھ بھلا دیا۔ جینی بھی یاد نہ رہی۔ میں ہزاروں میل کے فاصلے سے واپس ملک میں آیا تو دوبارہ دور بھیج دیا گیا۔ اس عرصے میں کبھی کوئی پرانی یاد تازہ ہو جاتی اور خیالات کے تسلسل میں جینی آ جاتی تو یہی سوچتا کہ غالباً اب اس سے کبھی ملاقات نہیں ہو گی۔

لگاتار تنہائی اور بہت سے کٹھن لمحوں کے بعد مختصر سی چھٹی ملی۔ میں قریب کی پہاڑیوں پر چلا گیا۔ وہ علاقہ نہایت سرسبز و شاداب تھا۔ دور دور تک چائے کے باغات تھے اور مالدار سوداگروں کی آبادیاں۔ جہاں میں گیا وہاں خوب رونق تھی۔ میری طرح بہت سے اجنبی چھٹیاں گزارنے آئے ہوئے تھے۔ چند ہی دنوں کے بعد محسوس ہونے لگا کہ باوجود اتنی چہل پہل اور شور شغب کے وہ احساسِ تنہائی کم نہیں ہوا جو مجھے وہاں کھینچ کر لایا تھا۔ ایک روز میں یونہی کھویا کھویا سا پھر رہا تھا کہ جینی مل گئی۔ ایسے دور دراز خطے میں اسے پا کر مجھے از حد مسرت ہوئی۔ اس مرتبہ تو وہ پہلے سے بالکل مختلف معلوم ہوئی۔ اس کی باتوں میں حزن کی آمیزش تھی۔ اس کے چہرے پژمردگی تھی لیکن ایسی پژمردگی جس میں عجیب جاذبیت تھی، جو حسن و شباب کی تازگی سے کہیں دلفریب معلوم ہو رہی تھی، اس مسکراہٹ میں افسردگی کی رمق نے ایک عجیب وقار پیدا کر دیا تھا۔

وہ وہاں اپنے کسی عزیز کے ہاں رہتی تھی جو چائے کا سودا گر تھا۔ وہ بھی اپنے آپ کو تنہا محسوس کر رہی تھی۔ کلب، رقص، پارٹیاں، پکنک۔ سب بے حد اکتا دینے والے تھے۔ وہاں اس کا صرف ایک واقف تھا، اسی کمپنی کا ایک بوڑھا ملازم جو تنہا رہتا۔ جس کی زندگی کا سب سے قیمتی خزانہ کتابیں تھیں۔ کام سے لوٹ کر وہ بڑے اہتمام سے کتابیں نکالتا۔ دونوں پڑھتے، بحث کرتے، جھگڑتے… اب ہم تین ساتھی ہو گئے۔ چھٹی کے بقیہ دن یوں گزرے کہ پتہ بھی نہ چلا۔ واپس آ کر میں نے تبادلہ کرا لیا اور جینی کے پاس چلا گیا۔ ہم جنگلوں میں نکل جاتے، سیریں کرتے، کتابیں پڑھتے، بچوں کی طرح ہنستے کھیلتے۔ میں اسے جتنا قریب سے دیکھتا اتنی ہی نئی خوبیاں پاتا۔ وہ بہترین رفیق تھی۔ اکثر یوں محسوس ہوتا جیسے میں اسے پہلے کبھی ملا ہی نہیں، اس کی بے پناہ جاذبیت سے آشنا نہیں ہوا۔ ہم رقص پر جاتے تو وہ لگاتار میری جانب متوجہ رہتی۔ اس کی نگاہیں میرے چہرے پر جمی رہتیں۔ مجھے اس پر فخر ہونے لگتا۔


ہم ایک دوسرے کے قریب خاموش بیٹھے پڑھتے رہتے۔ کئی کئی گھنٹوں تک ایک بات بھی نہ ہوتی، لیکن ہمارے خیالات ہم آہنگ ہوتے، دلوں میں طمانیت ہوتی۔ خاموشی اور گویائی کا فرق یوں مٹ جاتا جیسے ہم باتیں کر رہے ہوں۔ پتہ نہیں وہ کون سا رشتہ تھا جس نے اب تک ہم دونوں کو قریب رکھا۔ غالباً دوستی کا جذبہ۔ یہ قرب اس قدر اہم ہو گیا کہ ذرا سی جدائی بھی شاق گزرنے لگی۔

ایک روز میں نے اس کی کتابوں میں نظموں کی کاپی دیکھی۔ یہ نظمیں جینی نے لکھی تھی۔ یہ نظمیں کس قدر حزنیہ تھیں، کتنی کرب انگیز اور درد ناک۔ میں نے اس سے پوچھا کہ یہ اس نے کب اور کن حالات میں لکھیں؟ یہ اس کی لکھی ہوئی ہرگز نہیں معلوم ہوتیں، کیونکہ جس جینی کو میں جانتا ہوں وہ تو دلیر اور نڈر ہے۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا اور خاموش رہی۔

ایک سہ پہر کو ہم سیر سے واپس آ رہے تھے کہ بارش شروع ہو گئی۔ پہلے تو درختوں کے نیچے چھپتے رہے۔ جب موسلادھار مینہ برسنے لگا تو بھاگ کر ایک شکستہ جھونپڑی میں پناہ لی۔ میں نے اپنا کوٹ سوکھی ہوئی گھاس پر بچھا دیا۔ ہم دونوں بیٹھ گئے۔ کچھ دیر خاموشی رہی۔ میں نظموں کی باتیں کرنے لگا۔ یونہی تنگ کرنے کو کہا کہ پہلے تو کبھی بھولے سے بھی کوئی شعر اس کی زبان پر نہ آتا تھا اب ہزاروں اشعار زبانی یاد ہیں۔ کہیں اسے کوئی شاعر تو پسند نہیں آگیا تھا؟ اس کا چہرہ اتر گیا۔ آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میں نے معافی مانگی۔ شاید کوئی دکھتی ہوئی رگ چھیڑ دی تھی یا تلخ یادیں تازہ کرا دی تھیں۔ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ دوبارہ معافی مانگی۔ ایک پھیکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آ گئی۔ جب وہ میرے شانے سے سر لگائے بیٹھی تھی، تو ایسی ننھی منی بچی معلوم ہو رہی تھی جو راستہ بھول گئی ہو۔ بالکل بے یار و مددگار ہو اور سہارے کی طالب ہو۔ میں نے اس کے آنسو خشک کئے۔ دونوں ہاتھوں سے اس کے چہرے کو تھام کر اسے پیار کیا۔ ان با رہا چومے ہوئے ہونٹوں پر اب تک تازگی تھی۔ ان آنکھوں میں اب تک معصومیت تھی۔ ان رخساروں پر وہی جلا تھی۔ یہ لڑکی اب تک وہی لڑکی تھی جسے میں نے برسوں پہلے جی بی کے ساتھ مباحثے میں دیکھا تھا۔ اس کی زندگی کی ایک کہانی ایسی بھی رہ گئی تھی جو میں نے نہیں سنی تھی۔ یہ کہانی اس نے خود سنائی۔ یہ ایک شاعر کے متعلق تھی جو شرابی تھا، جواری تھا، غیر ذمہ دار تھا، جھوٹا تھا۔ اپنی خود داری اور انفرادیت کو خیر باد کہہ چکا تھا۔ جس کی حرکتیں دیکھ کر افسوس کی بجائے غصہ آتا۔ جینی ہمیشہ اس پر ترس کھاتی۔ ہر ممکن طریقے سے اس کی مدد کرتی سفارشیں کر کے اس کا کلام چھپوایا۔ اسے ادھر ادھر متعارف کرایا۔ اس کی حوصلہ افزائی کی کہ شاید یہ اسی طرح سدھر جائے۔ اس کی زندگی بہتر بن سکے اور وہ بیش بہا خزانہ جو اس کے دماغ میں محفوظ ہے کہیں ضائع نہ ہو جائے۔ ترس کا یہ جذبہ دن بدن بڑھتا گیا۔ جینی غیر شعوری طور پر اس کے قریب ہوتی گئی۔ پھر اس جذبے نے ایک اور شکل اختیار کی۔ جینی کو خود علم نہیں تھا کہ جسے وہ محض جذبۂ ترحّم سمجھ رہی ہے ایک دن محبت کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ جینی نے ایک آوارہ و بے خانماں کو پناہ دی۔ اپنی توجہ اور اپنا پیار ایسے انسان پر ضائع کیا جو ہر گز اس کا حق دار نہ تھا۔ وہ سدھرتا جا رہا تھا۔ اس کی حالت پہلے سے بہتر ہوتی جا رہی تھی۔ وہ کہا کرتا کہ کہ اسے جینی کی گزشتہ زندگی سے کوئی سروکار نہیں۔ ا ب تو اسے اپنی گزشتہ زندگی سے بھی تعلق نہیں رہا تھا۔ اس کی زندگی تب سے شروع ہوئی جب اس نے جینی کو پہلی مرتبہ دیکھا۔ پتہ نہیں اس سے پہلے وہ کیوں کر جیتا رہا لیکن اب وہ جینی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس نے اپنی نظموں میں بار ہا جینی کو مخاطب کیا تھا۔ تمہارے دل میں خلوص کے چشمے ابلتے ہیں۔ محبت کا قلزم رواں ہے۔ تمہارے دل میں وہ جذبات ہیں جن پر رات دن کا تسلسل قائم ہے۔ زمین و آسمان کی گردش قائم ہے۔ وہ جذبات جب فنا ہو گئے انسانیت فنا ہو جائے گی۔ دنیا چاند ستاروں کی طرح اجاڑ اور سنسان ہو جائے گی۔ یہاں کچھ بھی نہ رہے گا۔

ایک روز اس نے جینی کو بتایا کہ وہ بیمار ہے، اسے دق ہے۔ کبھی کبھی یہ بیماری عود کر آتی ہے۔کاش کہ وہ تندرست ہوتا، تب کسی روز وہ دونوں شادی کر لیتے۔ زندگی کتنی سہانی ہو سکتی تھی۔ کیسی کیسی راحتیں میسر ہوتیں۔ تب وہ سب اذیتیں بھول جاتیں جو دنیا کے جہنم میں اب تک برداشت کی تھیں۔

وہ یونہی آوارگی میں مرنا چاہتا تھا لیکن بڑی مشکلوں سے جینی نے اسے سینی ٹوریم میں بھجوایا۔ اس کا فالتو خرچ برداشت کرنے کے لئے وہ دن بھر دفتر میں کام کرتی۔ رات کو ٹیوشن پر لڑکیوں کو پڑھاتی۔ لگاتار مشقت نے اسے کمزور کر دیا۔ وہ بیمار رہنے لگی۔ وقت گزرتا گیا۔ ایک دن اسے معلوم ہوا کہ شاعر صرف اسی کے لئے نظمیں نہیں کہتا۔ اس کے تخیل میں کوئی اور بھی شریک ہے۔ یہ سینی ٹوریم کی ایک نرس تھی جسے وہ بعد میں ملا تھا۔

جینی نے اس افواہ پر توجہ نہ دی، یونہی کسی نے اڑا دی ہو گی۔ وہ وہاں رات دن ایک سے ماحول میں رہ رہ کر تھک گیا ہو گا۔ اسے تفریح بھی تو چاہئے۔کسی سے ہنسنے بولنے میں کوئی حرج نہیں۔ جب وہ اس سے ملنے جاتی تو نرس کے لئے بھی تحائف لے جاتی۔ ان دونوں کی دوستی پر اس نے کبھی شبہ نہیں کیا لیکن یہ افواہ محض افواہ نہیں رہی۔ شاعر سینی ٹوریم سے تندرست ہو کر آیا تو اس نے شادی کر لی۔ نرس کے ساتھ۔ جینی پھر بھی اس سے ملتی رہی، اسے مالی مدد دیتی رہی۔ آخر نرس نے ان ملاقاتوں پر اعتراض کیا کہ جینی جیسی لڑکی سے ملنا بدنامی مول لینا ہے۔ شاعر نے اس اعتراض کو سر آنکھوں پر لیا ور جینی سے ملنا چھوڑ دیا۔ موقع ملنے پر وہ اسے بدنام بھی کرتا۔ غزلوں میں اپنے کارنامے بیان کرتا اور جینی کے پرانے عاشقوں کے قصے دوہراتا۔

جب وہ کہانی سنا چکی تو میں نے اسے بتایا کہ ہم پرانے دوست ہیں۔ دوستی عظیم ترین رشتہ ہے۔ خلوص پر میرا ایمان ہے۔ میں انسانی کمزوریوں سے ہرگز منکر نہیں۔ شاید مجھے اچھے برے کی تمیز نہ ہو لیکن ان جذبات کی قدر کرتا ہوں، جن میں خلوص کار فرما ہو خواہ ان جذبات کا انجام کیسا ہی ہو۔ زندگی میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں ذہنی کیفیتیں بھی دیر پا نہیں ہوتیں لیکن وہ جذبات جو اپنے وقت پر صادق تھے، ہمیشہ صادق رہتے ہیں۔ اس لئے وہ مد و جزر جو تمہاری زندگی میں آئے ناگزیر تھے۔ تم سچی تھیں۔ تمہارے جذبات سچے تھے۔ میں نے تمہیں بہت قریب سے دیکھا ہے۔ تمہیں پسند کرنے کے علاوہ میں تمہاری عزت بھی کرتا ہوں۔

آہستہ آہستہ اس نے لوگوں سے ملنا چھوڑ دیا۔ باہر جانا بند کر دیا۔ وہ ہر وقت میری منتظر رہتی لیکن اب وہ مسرور نہیں تھی۔ اب اسے ماضی یا حال کا اتنا خیال نہیں رہا تھا جتنا کہ مستقبل کا، وہ تنہا اور اداس تھی۔ کئی مرتبہ میں نے اسے قبرستان میں بیٹھے دیکھا۔ ایک روز میں وہاں اس کے پاس چلا گیا۔ وہ عجیب سی باتیں کرنے لگی۔ "کبھی ایسے پرسکون لمحات بھی آئیں گے جب میں بھی اسی طرح سو جاؤں گی۔ وہ خاموشی کتنی سہانی ہو گی؟ موت کے بعد اگرچہ محض خلا ہو گا، دل دوز تاریکی ہو گی لیکن وہ تاریکی اس کرب انگیز اجالے سے ہرگز بری نہیں ہو گی۔"


پھر انگریزی میں لکھا ہوا یہ شعر دہرایا "میں ان بد نصیبوں میں سے ہوں جنہیں ہر صبح نہایت قلیل روشنی ملتی ہے۔ امید کی اتنی سی جِلا کہ صرف دن بھر زندہ رہ سکیں۔ جس روز یہ روشنی نہ مل سکی میں ظلمتوں میں کھو جاؤں گی۔"

میں نے رنگین اور خوش نما چیزوں کی باتیں کر کے موضوع بدلنا چاہا لیکن وہ بولی۔"کاش تم اندازہ لگا سکتے کہ میں کس قدر غمگین ہوں؟ کس قدر افسردہ ہوں؟ اگر اب مجھے سہارا نہ ملا تو میرے خواب تمام ہو جائیں گے۔ اصول ختم ہو جائیں گے۔ میں گم ہو جاؤں گی۔"

پھر ایک دن جب میں ان افواہوں کی تردید کرنا چاہتا تھا جو ہم دونوں نے با رہا اپنے متعلق سنی تھیں وہ کہنے لگی "تم مجھے جانتے ہو، سمجھتے ہو۔ میں بھی تمہاری سیّاح روح سے آشنا ہوں۔ تمہارے ان گنت مشغلوں، طرح طرح کے خوابوں کا مجھے احساس ہے۔ میں تم سے صرف ذرا سی توجہ مانگتی ہوں۔ بالکل ذرا سا سہارا۔ اپنی زندگی کا قلیل سا حصہ مجھے دے دو، میں ہمیشہ قانع رہوں گی۔ میں کبھی تم پر بار نہیں ہوں گی۔ تم میرا ساتھ نہ دینا میں تمہارے ساتھ چلوں گی۔"

میں اس اشارے کو سمجھ گیا۔ پہلے بھی کئی مرتبہ اس نے ایسی باتیں کی تھیں۔ میں یہ بھی جانتا تھا کہ عورت اور مرد کی دوستی نہایت محدود ہے اس پر کئی اخلاقی اور سماجی بندشیں عائد ہیں۔ یہ بندش ایک حد تک درست بھی ہیں۔ آخر ایک مقام آتا ہے جہاں فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔

میں اس مقام سے لوٹ آیا۔

فیصلہ کرنے کا وقت آیا تو میں بزدل ثابت ہوا، میں خاموش ہو گیا۔ خاموش ہو کر میں اس گروہ میں شامل ہو گیا جو جینی کی زندگی میں مجھ سے پہلے آیا۔ گروہ جو بظاہر اپنے آپ کو باغی ظاہر کرتا، لیکن دراصل سماجی روایات کا غلام تھا۔ جینی سمجھ گئی۔ پھر اس نے کبھی ایسی باتیں نہیں کیں۔ ہم دونوں میں ایک معاہدہ سا ہو گیا۔ اگرچہ یہ معاہدہ زبان پر نہیں آیا، لیکن طے ہو گیا کہ جب تک ایک دوسرے کے قریب ہیں، محض پرانے دوستوں کی طرح رہیں گے۔

پھر میں نے تبادلے کے لئے کہا تو مجھے دوسری جگہ بھیج دیا گیا۔ چلتے وقت جینی مجھے چھوڑنے آئی اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ پہلی مرتبہ میں نے اسے سب کے سامنے روتے دیکھا۔ ان آنسوؤں کے باوجود وہ مسکرانے کی کوشش کر رہی تھی۔ بار بار وہ آنکھیں خشک کرتی اور جب میں نے رومال مانگا تو اس نے بالکل پہلی سی شوخی سے پوچھا کہ رومال لے کر کیا کرو گے؟ میں نے کہا اسے یادگار کے طور پر رکھوں گا۔

"اور میرے آنسو کیوں کر خشک ہوں گے؟ " اس نے گیلا رومال دیتے ہوئے پوچھا۔

چند مہینوں کے بعد میں نے سنا کہ اس نے کسی سے شادی کر لی۔

جو جواب میں نے اس کی مسکراہٹ سے مانگا تھا وہ نہیں ملا۔ پھر یک لخت معلوم ہوا کہ موسیقی ختم ہو چکی ہے۔ رقص ختم ہو چکا ہے اور لوگ کھانے کے لئے دوسرے کمرے میں جا رہے تھے۔ میں اور جی بی بھی چلے گئے۔ جب دیر کے بعد واپس آئے تو جینی جاچکی تھی۔ اس کا خاوند بھی وہاں نہیں تھا۔

مجھے یونہی خیال سا آیا کہ اس مرتبہ جینی سے بہت کم باتیں ہوئیں۔ میں اس سے دور دور رہا۔ نہ اس سے کچھ پوچھا نہ بتایا۔ اس سے رومال بھی تو نہیں مانگا۔

نہ جانے کیوں مَیں اس گوشے میں چلا گیا جہاں جینی اور اس کا خاوند بیٹھے رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ میز کے نیچے ایک مسلا ہوا رومال پڑا ہے جو رقص کرنے والے لوگوں کے قدموں تلے آ چکا تھا۔ میں نے اسے اٹھا لیا، جھاڑا، سلوٹیں دور کیں۔ جانی پہچانی خوشبو سے فضا معطر ہو گئی۔ یہ رومال یہاں کیسے آیا؟ جینی جان بوجھ کر میرے لئے چھوڑ گئی، یا یونہی اتفاق سے رہ گیا۔؟ دیر تک میں اس رومال کو لئے وہیں کھڑا رہا۔ اس روندے ہوئے، مسلے ہوئے سرخ دل کو دیکھتا رہا جو اب تک خمار آگیں خوشبو میں بسا ہوا تھا۔

جینی کا دل عورت کا دل۔


کفن

(منشی پریم چند)

جھونپڑے کے دروازے پر باپ اور بیٹا دونوں ایک بجھے ہوئے الاؤ کے سامنے خاموش بیٹھے ہوئے تھے اور اندر بیٹے کی نوجوان بیوی بدھیا دردِ زہ سے پچھاڑیں کھا رہی تھی اور رہ رہ کر اس کے منہ سے ایسی دلخراش صدا نکلتی تھی کہ دونوں کلیجہ تھام لیتے تھے۔ جاڑوں کی رات تھی، فضا سناٹے میں غرق۔ سارا گاؤں تاریکی میں جذب ہو گیا تھا۔

گھسو نے کہا "معلوم ہوتا ہے بچے گی نہیں۔ سار ا دن تڑپتے ہو گیا، جا دیکھ تو آ۔"

مادھو دردناک لہجے میں بولا "مرنا ہی ہے تو جلدی مر کیوں نہیں جاتی۔ دیکھ کر کیا آؤں۔"

"تو بڑا بیدرد ہے بے! سال بھر جس کے ساتن جندگانی کا سکھ بھوگا اسی کے ساتھ اتنی بے وپھائی۔"

"تو مجھ سے تو اس کا تڑپنا اور ہاتھ پاؤں پٹکنا نہیں دیکھا جا تا۔"

چماروں کا کنبہ تھا اور سارے گاؤں میں بدنام۔ گھسو ایک دن کام کرتا تو تین دن آرام، مادھو اتنا کام چور تھا کہ گھنٹے بھر کام کرتا تو گھنٹے بھر چلم پیتا۔ اس لئے اسے کوئی رکھتا ہی نہ تھا۔ گھر میں مٹھی بھر اناج بھی موجود ہو تو ان کے لئے کام کرنے کی قسم تھی۔ جب دو ایک فاقے ہو جاتے تو گھسو درختوں پر چڑھ کر لکڑی توڑ لاتا اور مادھو بازار سے بیچ لاتا اور جب تک وہ پیسے رہتے، دونوں ادھر ادھر ما رے مارے پھرتے۔ جب فاقے کی نوبت آ جاتی تو پھر لکڑیاں توڑتے یا کوئی مزدوری تلاش کرتے۔ گاؤں میں کام کی کمی نہ تھی۔ کاشتکاروں کا گاؤں تھا۔ محنتی آدمی کے لئے پچاس کام تھے مگر ان دونوں کو لوگ اسی وقت بلاتے جب دو آدمیوں سے ایک کا کام پا کر بھی قناعت کر لینے کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہوتا۔ کاش دونوں سادھو ہوتے تو انہیں قناعت اور توکل کے لئے ضبطِ نفس کی مطلق ضرورت نہ ہوتی۔ یہ ان کی خُلقی صفت تھی۔ عجیب زندگی تھی ان کی۔ گھر میں مٹی کے دو چار برتنوں کے سوا کوئی اثاثہ نہیں۔ پھٹے چیتھڑوں سے اپنی عریانی کو ڈھانکے ہوئے دنیا کی فکروں سے آزاد۔ قرض سے لدے ہوئے۔ گالیاں بھی کھاتے، مار بھی کھاتے مگر کوئی غم نہیں۔ مسکین اتنے کہ وصولی کی مطلق امید نہ ہونے پر لوگ انہیں کچھ نہ کچھ قرض دے دیتے تھے۔ مٹر یا آلو کی فصل میں کھیتوں سے مٹر یا آلو اکھاڑ لاتے اور بھون بھون کر کھاتے یا دن پانچ ایکھ توڑ لاتے اور رات کو چوستے۔ گھسو نے اسی زاہدانہ انداز میں ساٹھ سال کی عمر کاٹ دی اور مادھو بھی سعادت مند بیٹے کی طرح باپ کے نقش قدم پر چل رہا تھا بلکہ اس کا نام اور بھی روشن کر رہا تھا۔ اس وقت بھی دونوں الاؤ کے سامنے بیٹھے ہوئے آلو بھون رہے تھے جو کسی کے کھیت سے کھود لائے تھے۔ گھسو کی بیوی کا تو مدت ہوئی انتقال ہو گیا تھا۔ مادھو کی شادی پچھلے سال ہوئی تھی۔ جب سے یہ عورت آئی تھی اس نے اس خاندان میں تمدن کی بنیاد ڈالی تھی۔ پسائی کر کے گھاس چھیل کر وہ سیر بھر آٹے کا انتظام کر لیتی تھی اور ان دونوں بے غیرتوں کا دوزخ بھرتی رہتی تھی۔ جب سے وہ آئی یہ دونوں اور بھی آرام طلب اور آلسی ہو گئے تھے بلکہ کچھ اکڑنے بھی لگے تھے۔ کوئی کام کرنے کو بلاتا تو بے نیازی کی شان میں دوگنی مزدوری مانگتے۔ وہی عورت آج صبح سے دردِ زہ میں مر رہی تھی اور یہ دونوں شاید اسی انتظار میں تھے کہ وہ مر جائے تو آرام سے سوئیں۔

گھسو نے آلو نکال کر چھیلتے ہوئے کہا "جا دیکھ تو کیا حالت ہے" اس کی چڑیل کا پھنساؤ ہو گا اور کیا۔ یہاں تو اوجھا بھی ایک روپیہ مانگتا ہے۔ کس کے گھر سے آئے۔"

مادھو کو اندیشہ تھا کہ وہ کوٹھری میں گیا تو گھسو آلوؤں کا بڑا حصہ صاف کر دے گا۔ بولا:

"مجھے وہاں ڈر لگتا ہے۔"

"ڈر کس بات کا ہے؟

میں تو یہاں ہوں ہی"

"تو تمہیں جا کر دیکھو نا۔"

"میری عورت جب مری تھی تو میں تین دن تک اس کے پاس سے ہلا بھی نہیں اور پھر مجھ سے لجائے گی کہ نہیں، کبھی اس کا منہ نہیں دیکھا، آج اس کا اگھڑا ہوا بدن دیکھوں۔ اسے تن کی سدھ بھی تو نہ ہو گی۔ مجھے دیکھ لے گی تو کھل کر ہاتھ پاؤں بھی نہ پٹک سکے گی۔"

"میں سوچتا ہوں کہ کوئی بال بچہ ہو گیا تو کیا ہو گا۔ سونٹھ، گڑ، تیل، کچھ بھی تو نہیں ہے گھر میں۔"

"سب کچھ آ جائے گا۔ بھگوان بچہ دیں تو، جو لوگ ابھی ایک پیسہ نہیں دے رہے ہیں، وہی تب بلا کر دیں گے۔ میرے تو لڑکے ہوئے، گھر میں کچھ بھی نہ تھا، مگر اس طرح ہر بار کام چل گیا۔"

جس سماج میں رات دن محنت کرنے والوں کی حالت ان کی حالت سے کچھ بہت اچھی نہ تھی اور کسانوں کے مقابلے میں وہ لوگ جو کسانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا جانتے تھے کہیں زیادہ فارغ البال تھے، وہاں اس قسم کی ذہنیت کا پیدا ہو جانا کوئی تعجب کی بات نہیں تھی۔ ہم تو کہیں گے گھسو کسانوں کے مقابلے میں زیادہ باریک بین تھا اور کسانوں کی تہی دماغ جمعیت میں شامل ہونے کے بدلے شاطروں کی فتنہ پرداز جماعت میں شامل ہو گیا تھا۔ ہاں اس میں یہ صلاحیت نہ تھی کہ شاطروں کے آئین و آداب کی پابندی بھی کرتا۔ اس لئے یہ جہاں اس کی جماعت کے اور لوگ گاؤں کے سرغنہ اور مکھیا بنے ہوئے تھے، اس پر سارا گاؤں انگشت نمائی کر رہا تھا پھر بھی اسے یہ تسکین تو تھی ہی کہ اگر وہ خستہ حال ہے تو کم سے کم اسے کسانوں کی سی جگر توڑ محنت تو نہیں کرنی پڑتی اور اس کی سادگی اور بے زبانی سے دوسرے بےجا فائدہ تو نہیں اٹھاتے۔

دونوں آلو نکال نکال کر جلتے جلتے کھانے لگے۔ کل سے کچھ بھی نہیں کھایا تھا۔ اتنا صبر نہ تھا کہ انہیں ٹھنڈا ہو جانے دیں۔ کئی بار دونوں کی زبانیں جل گئیں۔ چھل جانے پر آلو کا بیرونی حصہ تو زیادہ گرم نہ معلوم ہوتا تھا لیکن دانتوں کے تلے پڑتے ہی اندر کا حصہ زبان اور حلق اور تالو کو جلا دیتا تھا اور اس انگارے کو منہ میں رکھنے سے زیادہ خیریت اسی میں تھی کہ وہ اندر پہنچ جائے۔ وہاں اسے ٹھنڈا کرنے کے لئے کافی سامان تھے۔ اس لئے دونوں جلد جلد نگل جاتے تھے حالانکہ اس کوشش میں ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آتے۔

گھسو کو اس وقت ٹھا کر کی برات یاد آئی جس میں بیس سال پہلے وہ گیا تھا۔ اس دعوت میں اسے جو سیری نصیب ہوئی تھی، وہ اس کی زندگی میں ایک یادگار واقعہ تھی اور آج بھی اس کی یاد تازہ تھی۔ وہ بولا "وہ بھوج نہیں بھولتا۔ تب سے پھر اس طرح کا کھانا اور بھرا پیٹ نہیں ملا۔ لڑکی والوں نے سب کو پوڑیاں کھلائی تھیں، سب کو۔ چھوٹے بڑے سب نے پوڑیاں کھائیں اور اصلی گھی کی چٹنی، رائتہ، تین طرح کے سوکھے ساگ، ایک رسے دار ترکاری، دہی، چٹنی، مٹھائی اب کیا بتاؤں کہ اس بھوج میں کتنا سواد ملا۔ کوئی روک نہیں تھی جو چیز چاہو مانگو اور جتنا چاہو کھاؤ۔ لوگوں نے ایسا کھایا، ایسا کھایا کہ کسی سے پانی نہ پیا گیا، مگر پروسنے والے ہیں کہ سامنے گرم گول گول مہکتی ہوئی کچوریاں ڈال دیتے ہیں۔ منع کرتے ہیں۔ نہیں چاہئے مگر وہ ہیں کہ دئے جاتے ہیں اور جب سب نے منہ دھو لیا تو ایک ایک بڑا پان بھی ملا مگر مجھے پان لینے کی کہاں سدھ تھی۔ کھڑا نہ ہوا جاتا تھا۔ جھٹ پٹ جا کر اپنے کمبل پر لیٹ گیا۔ ایسا دریا دل تھا وہ ٹھا کر۔"


مادھو نے ان تکلفات کا مزا لیتے ہوئے کہا "اب ہمیں کوئی ایسا بھوج کھلاتا۔"

"اب کوئی کیا کھلائے گا؟" وہ جمانا دوسرا تھا۔ اب تو سب کو کھبایت سوجھتی ہے۔ سادی بیاہ میں مت کھرچ کرو، کریا کرم میں مت کھرچ کرو۔ پوچھو گریبوں کا مال بٹور بٹور کر کہاں رکھو گے۔ مگر بٹورنے میں تو کمی نہیں ہے۔ ہاں کھرچ میں کبھایت سوجھتی ہے۔"

"تم نے ایک بیس پوڑیاں کھائی ہوں گی۔"

بیس سے جیادہ کھائی تھیں۔"

"میں پچاس کھا جاتا۔"

"پچاس سے کم میں نے بھی نہ کھائی ہو ں گی، اچھا پٹھا تھا۔ تو اس کا آدھا بھی نہیں ہے۔" آلو کھا کر دونوں نے پانی پیا اور وہیں الاؤ کے سامنے اپنی دھوتیاں اوڑھ کر پاؤں پیٹ میں ڈال کر سو رہے جیسے دو بڑے بڑے اژدھا کنڈلیاں مارے پڑے ہوں اور بڑھیا ابھی تک کراہ رہی تھی۔

صبح کو مادھو نے کوٹھری میں جا کر دیکھا تو اس کی بیوی ٹھنڈی ہو گئی تھی۔ اس کے منہ پر مکھیاں بھنک رہی تھیں۔ پتھرائی ہوئی آنکھیں اوپر ٹنگی ہوئی تھیں۔ سارا جسم خاک میں لت پت ہو رہا تھا۔ اس کے پیٹ میں بچہ مر گیا تھا۔

مادھو بھاگا ہوا گھسو کے پاس آیا اور پھر دونوں زور زور سے ہائے ہائے کرنے اور چھاتی پیٹنے لگے۔ پڑوس والوں نے یہ آہ و زاری سنی تو دوڑتے ہوئے آئے اور رسمِ قدیم کے مطابق غمزدوں کی تشفی کرنے لگے۔

مگر زیادہ رونے دھونے کا موقع نہ تھا کفن کی اور لکڑی کی فکر کرنی تھی۔ گھر میں تو پیسہ اس طرح غائب تھا جیسے چیل کے گھونسلے میں بانس۔

باپ بیٹے روتے ہوئے گاؤں کے زمینداروں کے پاس گئے۔ وہ ان دونوں کی صورت سے نفرت کرتے تھے۔ کئی بار انہیں اپنے ہاتھوں پیٹ چکے تھے۔ چوری کی علت میں، وعدے پر کام نہ کرنے کی علت میں۔ پوچھا "کیا ہے بے گھسوا۔ روتا کیوں ہے۔ اب تو تیری صورت ہی نظر نہیں آتی۔ اب معلوم ہوتا ہے تم اس گاؤں میں نہیں رہنا چاہتے۔"

گھسو نے زمین پر سر رکھ کر آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے کہا۔ "سرکار بڑی بپت میں ہوں۔ مادھو کی گھر والی رات گجر گئی۔ دن بھر تڑپتی رہی سرکار۔ آدھی رات تک ہم دونوں اس کے سرہانے بیٹھے رہے۔ دوا دارو جو کچھ ہو سکا سب کیا مگر وہ ہمیں دگا دے گئی۔ اب کوئی ایک روٹی دینے والا نہیں رہا مالک۔ تباہ ہو گئے۔ گھر اجڑ گیا۔ آپ کا گلام ہوں۔ اب آپ کے سوا اس کی مٹی کون پار لگائے گا۔ ہمارے ہاتھ میں جو کچھ تھا، وہ سب دوا دارو میں اٹھ گیا۔ سرکار ہی کی دیا ہو گی تو اس کی مٹی اٹھے گی۔ آپ کے سوا اور کس کے دوار پر جاؤں۔"

زمیندار صاحب رحمدل آدمی تھے مگر گھسو پر رحم کرنا کالے کمبل پر رنگ چڑھانا تھا۔ جی میں تو آیا کہہ دیں "چل دور ہو یہاں سے لاش گھر میں رکھ کر سڑا۔ یوں تو بلانے سے بھی نہیں آتا۔ آج جب غرض پڑی تو آ کر خوشامد کر رہا ہے حرم خور کہیں کا بدمعاش۔" مگر یہ غصہ یا انتقام کا موقع نہیں تھا۔ طوعاً و کرہاً دو روپے نکال کر پھینک دئے مگر تشفی کا ایک کلمہ بھی منہ سے نہ نکالا۔ اس کی طرف تاکا تک نہیں۔ گویا سر کا بوجھ اتارا ہو۔

جب زمیندار صاحب نے دو روپے دئے تو گاؤں کے بنئے مہاجنوں کو انکار کی جرأت کیونکر ہوتی۔ گھسو زمیندار کے نام کا ڈھنڈورا پیٹنا جانتا تھا۔ کسی نے دو آنے دئے کسی نے چار آنے۔ ایک گھنٹے میں گھسو کے پاس پانچ روپیہ کی معقول رقم جمع ہو گئی۔ کسی نے غلہ دے دیا، کسی نے لکڑی اور دوپہر کو گھسو اور مادھو بازار سے کفن لانے چلے اور لوگ بانس وانس کاٹنے لگے۔

گاؤں کی رقیق القلب عورتیں آ آ کر لاش کو دیکھتی تھیں اور اس کی بے بسی پر دو بوند آنسو گرا کر چلی جاتی تھیں۔

بازار میں پہنچ کر گھسو بولا۔ "لکڑی تو اسے جلانے بھر کی مل گئی ہے کیوں مادھو۔"

مادھو بولا "ہاں لکڑی تو بہت ہے اب کفن چاہئے۔"

"تو کوئی ہلکا سا کفن لے لیں۔"

"ہاں اور کیا! لاش اٹھتے اٹھتے رات ہو جائے گی رات کو کفن کون دیکھتا ہے۔"

"کیسا برا روا ج ہے کہ جسے جیتے جی تن ڈھانکنے کو چیتھڑا نہ ملے، اسے مرنے پر نیا کفن چاہئے۔"

اور کیا رکھا رہتا ہے۔ یہی پانچ روپے پہلے ملتے تو کچھ دوا دارو کرتے۔"

دونوں ایک دوسرے کے دل کا ماجرا معنوی طور پر سمجھ رہے تھے۔ بازار میں ادھر ادھر گھومتے رہے۔ یہاں تک کہ شام ہو گئی۔ دونوں اتفاق سے یا عمداً ایک شراب خانے کے سامنے آ پہنچے اور گویا کسی طے شدہ فیصلے کے مطابق اندر گئے۔ وہاں ذرا دیر تک دونوں تذبذب کی حالت میں کھڑے رہے۔ پھر گھسو نے ایک بوتل شراب لی۔ کچھ گزک لی اور دونوں برآمدے میں بیٹھ کر پینے لگے۔

کئی کچناں پیہم پینے کے بعد دونوں سرور میں آ گئے۔

گھسو بولا "کفن لگانے سے کیا ملتا۔ آکھر جل ہی تو جاتا۔ کچھ بہو کے ساتھ تو نہ جاتا۔"


مادھو آسمان کی طرف دیکھ کر بولا گویا فرشتوں کو اپنی معصومیت کا یقین دلا رہا ہو۔ "دنیا کا دستور ہے۔ یہی لوگ باسنوں کو ہجاروں روپے کیوں دیتے ہیں۔ کون دیکھتا ہے۔ پرلوک میں ملتا ہے یا نہیں۔"

"بڑے آدمیوں کے پاس دھن ہے پھونکیں، ہمارے پاس پھونکنے کو کیا ہے۔"

"لیکن لوگوں کو کیا جواب دو گے؟ لو گ پوچھیں گے کہ کفن کہاں ہے؟"

گھسو ہنسا۔ "کہہ دیں گے کہ روپے کمر سے کھسک گئے بہت ڈھونڈا۔ ملے نہیں۔"

مادھو بھی ہنسا۔ اس غیر متوقع خوش نصیبی پر قدرت کو اس طرح شکست دینے پر بولا۔ "بڑی اچھی تھی بیچاری مری بھی تو خوب کھلا پلا کر۔"

آدھی بوتل سے زیادہ ختم ہو گئی۔ گھسو نے دو سیر پوریاں منگوائیں، گوشت اور سالن اور چٹ پٹی کلیجیاں اور تلی ہوئی مچھلیاں۔

شراب خانے کے سامنے دکان تھی، مادھو لپک کر دو پتیلوں میں ساری چیزیں لے آیا۔ پورے ڈیڑھ روپے خرچ ہو گئے۔ صرف تھوڑے سے پیسے بچ رہے۔"

دونوں اس وقت اس شان سے بیٹھے ہوئے پوریاں کھا رہے تھے جیسے جنگل میں کوئی شیر اپنا شکار اڑا رہا ہو۔ نہ جواب دہی کا خوف تھا نہ بدنامی کی فکر۔ ضعف کے ان مراحل کو انہوں نے بہت پہلے طے کر لیا تھا۔ گھسو فلسفیانہ انداز سے بولا۔ "ہماری آتما پرسن ہو رہی ہے تو کیا اسے پن نہ ہو گا۔"

مادھو نے فرق صورت جھکا کر تصدیق کی"جرور سے جرور ہو گا۔ بھگوان تم انتر جامی (علیم) ہو۔ اسے بیکنٹھ لے جانا۔ ہم دونوں ہردے سے اسے دعا دے رہے ہیں۔ آج جو بھوجن ملا وہ کبھی عمر بھر نہ ملا تھا۔"

ایک لمحہ کے بعد مادھو کے دل میں ایک تشویش پیدا ہوئی۔ بولا "کیوں دادا ہم لوگ بھی تو وہاں ایک نہ ایک دن جائیں گے ہی" گھسو نے اس طفلانہ سوال کا کوئی جواب نہ دیا۔ مادھو کی طرف پر ملامت انداز سے دیکھا۔

"جو وہاں ہم لوگوں سے پوچھے گی کہ تم نے ہمیں کفن کیوں نہ دیا، تو کیا کہیں گے؟"

"کہیں گے تمہارا سر۔"

"پوچھے گی تو جرور۔"

"تو کیسے جانتا ہے اسے کفن نہ ملے گا؟ مجھے اب گدھا سمجھتا ہے۔ میں ساٹھ سال دنیا میں کیا گھاس کھودتا رہا ہوں۔ اس کو کفن ملے گا اور اس سے بہت اچھا ملے گا، جو ہم دیں گے۔"

مادھو کو یقین نہ آیا۔ "بو لا کون دے گا؟ روپے تو تم نے چٹ کر دئے۔"

گھسو تیز ہو گیا۔ "میں کہتا ہوں اسے کفن ملے گا تو مانتا کیوں نہیں؟"

"کون دے گا، بتاتے کیوں نہیں؟"۔

"وہی لوگ دیں گے جنہوں نے اب کے دیا۔ ہاں وہ روپے ہمارے ہاتھ نہ آئیں گے اور اگر کسی طرح آ جائیں تو پھر ہم اس طرح بیٹھے پئیں گے اور کفن تیسری بار لے گا۔"

جوں جوں اندھیرا بڑھتا تھا اور ستاروں کی چمک تیز ہوتی تھی، میخانے کی رونق بھی بڑھتی جاتی تھی۔ کوئی گاتا تھا، کوئی بہکتا تھا، کوئی اپنے رفیق کے گلے لپٹا جاتا تھا، کوئی اپنے دوست کے منہ سے ساغر لگائے دیتا تھا۔ وہاں کی فضا میں سرور تھا، ہوا میں نشہ۔ کتنے تو چلو میں ہی الو ہو جاتے ہیں۔ یہاں آتے تھے تو صرف خود فراموشی کا مزہ لینے کے لئے۔ شراب سے زیادہ یہاں کی ہوا سے مسرور ہوتے تھے۔ زیست کی بلا یہاں کھینچ لاتی تھی اور کچھ دیر کے لئے وہ بھول جاتے تھے کہ وہ زندہ ہیں یا مردہ ہیں یا زندہ در گور ہیں۔

اور یہ دونوں باپ بیٹے اب بھی مزے لے لے کے چسکیاں لے رہے تھے۔ سب کی نگاہیں ان کی طرف جمی ہوئی تھیں۔ کتنے خوش نصیب ہیں دونوں، پوری بوتل بیچ میں ہے۔

کھانے سے فارغ ہو کر مادھو نے بچی ہوئی پوریوں کا تیل اٹھا کر ایک بھکاری کو دے دیا، جو کھڑا ان کی طرف گرسنہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اور "پینے" کے غرور اور مسرت اور ولولہ کا، اپنی زندگی میں پہلی بار احساس کیا۔ گھسو نے کہا "لے جا کھوب کھا اور آشیر باد دے"

جس کی کمائی تھی وہ تو مر گئی مگر تیرا اشیر باد اسے جرور پہنچ جائے گا روئیں روئیں سے اشیر باد دے بڑی گاڑھی کمائی کے پیسے ہیں۔"

مادھو نے پھر آسمان کی طرف دیکھ کر کہا "وہ بیکنٹھ میں جائے گی۔ دادا بیکنٹھ کی رانی بنے گی۔" گھسو کھڑا ہو گیا اور جیسے مسرت کی لہروں میں تیرتا ہوا بولا۔ "ہاں بیٹا بیکنٹھ میں نہ جائے گی تو کیا یہ موٹے موٹے لو گ جائیں گے، جو گریبوں کو دونوں ہاتھ سے لوٹتے ہیں اور اپنے پاپ کے دھونے کے لئے گنگا میں جاتے ہیں اور مندروں میں جل چڑھاتے ہیں۔"

یہ خوش اعتقادی کا رنگ بھی بدلانشہ کی خاصیت سے یاس اور غم کا دورہ ہوا۔ مادھو بولا "مگر داد بیچاری نے جندگی میں بڑا دکھ بھوگا۔ مری بھی کتنی دکھ جھیل کر۔" وہ اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر رونے لگا۔

گھسو نے سمجھایا "کیوں روتا ہے بیٹا! کھس ہو کہ وہ مایا جال سے مکت ہو گئی۔ جنجال سے چھوٹ گئی۔ بڑی بھاگوان تھی جو اتنی جلد مایا کے موہ کے بندھن توڑ دئے۔"

اور دونوں وہیں کھڑے ہو کر گانے لگے

ٹھگنی کیوں نیناں جھمکا دے ٹھگنی

سارا میخانہ محوِ تماشا تھا اور یہ دونوں مے کش مخمور محویت کے عالم میں گائے جاتے تھے۔ پھر دونوں ناچنے لگے۔ اچھلے بھی، کودے بھی، گرے بھی، مٹکے بھی، بھاؤ بھی بتائے اور آخر نشے سے بد مست ہو کر وہیں گر پڑے۔


کالی شلوار

(سعادت حسن منٹو)

دہلی سے آنے سے پہلے وہ انبالہ چھاؤنی میں تھی، جہاں کئی گورے اس کے گاہک تھے۔ ان گوروں سے ملنے جلنے کے باعث وہ انگریزی کے دس پندرہ جملے سیکھ گئی تھی۔ ان کو وہ عام گفتگو میں استعمال نہیں کرتی تھی لیکن جب وہ یہاں آئی اور اس کا کاروبار نہ چلا تو ایک روز اس نے اپنی پڑوسن طمنچہ جان سے کہا۔ "دِس لیف ویری بیڈ۔" یعنی یہ زندگی بہت بری ہے، جبکہ کھانے ہی کو نہیں ملتا۔

انبالہ چھاؤنی میں اس کا دھندا بہت اچھا چلتا تھا۔ چھاؤنی کے گورے شراب پی کر اس کے پاس آ جاتے تھے اور وہ تین چار گھنٹوں میں ہی آٹھ دس گوروں کو نپٹا کر بیس تیس روپے پیدا کرتی تھی۔ یہ گورے، اس کے ہم وطنوں کے مقابلے میں اچھے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایسی زبان بولتے تھے جس کا مطلب سلطانہ کی سمجھ میں نہیں آتا تھا مگر ان کی زبان سے یہ لاعلمی اس کے حق میں بہت اچھی ثابت ہوتی تھی۔ اگر وہ اس سے کچھ رعایت چاہتے تو وہ کہہ دیا کرتی تھی۔ "صاحب ہماری سمجھ میں تمہاری بات نہیں آتی۔" اور اگر وہ اس سے ضرورت سے زیادہ چھیڑ چھاڑ کرتے تو وہ اپنی زبان میں گالیاں دینی شروع کر دیتی تھی۔ وہ حیرت میں اس کے منہ کی طرف دیکھتے تو وہ کہتی۔ "صاحب! تم ایک دم الو کا پٹھا ہے، حرامزادہ ہے، سمجھا۔" یہ کہتے وقت وہ لہجہ میں سختی پیدا نہ کرتی بلکہ بڑے پیار کے ساتھ ان سے باتیں کرتی۔ گورے ہنس دیتے اور ہنستے وقت وہ سلطانہ کو بالکل الو کے پٹھے دکھائی دیتے۔

مگر یہاں دہلی میں وہ جب سے آئی تھی ایک بھی گورا اس کے یہاں نہیں آیا تھا۔ تین مہینے اس کو ہندوستان کے اس شہر میں رہتے ہو گئے تھے جہاں اس نے یہ سنا تھا کہ بڑے لاٹ صاحب رہتے ہیں مگر صرف چھ آدمی اس کے پاس آئے تھے۔ صرف چھ، یعنی مہینے میں دو اور ان چھ گاہکوں سے خدا جھوٹ نہ بلوائے ساڑھے اٹھارہ روپے وصول کئے تھے۔ تین روپے سے زیادہ پر کوئی نہ مانتا تھا۔ سلطانہ نے ان میں سے پانچ آدمیوں کو اپنا ریٹ دس روپے بتلایا تھا مگر تعجب کی بات ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے یہی کہا "بھئی ہم تین روپے سے ایک کوڑی زیادہ نہیں دیں گے۔" جانے کیا بات تھی کہ ان میں سے ہر ایک نے اسے تین روپے کے قابل سمجھا۔ چنانچہ جب چھٹا آیا تو اس نے خود اس کہا۔"دیکھو میں تین روپے ایک ٹیم کے لوں گی؛ اس سے ایک دھیلا تم کم کہو تو میں نہ لوں گی۔ اب تمہاری مرضی ہو تو رہو ورنہ جاؤ۔" چھٹے آدمی نے یہ سن کر تکرار نہ کی اور اس کے ہاں ٹھہر گیا۔ جب دوسرے کمرے میں دروازہ بند کر کے اپنا کوٹ اتارنے لگا تو سلطانہ نے کہا "لایئے ایک روپے دودھ کا۔" اس نے ایک روپیہ تو نہ دیا لیکن نئے بادشاہ کی چمکتی ہوئی چونی جیب میں سے نکال کر اس کو دے دی اور سلطانہ نے بھی چپکے سے لے لی کہ چلو جو آیا مال غنیمت ہے۔

ساڑھے اٹھارہ روپے ماہوار تین مہینوں میں بیس روپے ماہوار تو اس کوٹھے کا کرایہ تھا جس کو مالک انگریزی زبان میں فلیٹ کہتا تھا۔ اس فلیٹ میں ایسا پاخانہ تھا جس میں زنجیر کھینچنے سے ساری گندگی پانی کے زور سے ایک دم نل میں غائب ہو جاتی تھی اور بڑا شور ہوتا تھا۔ شروع شروع میں تو اس شور نے اسے بہت ڈرایا تھا۔ پہلے دن جب وہ رفع حاجت کے لئے اس پاخانہ میں گئی تو اس کی کمر میں شدت کا درد ہو رہا تھا فارغ ہو کر جب اٹھنے لگی تو اس نے لٹکتی ہوئی زنجیر کا سہارا لے لیا۔ اس زنجیر کو دیکھ کر اس نے یہ خیال کیا چونکہ یہ مکان خاص طور سے ہم لوگوں کی رہائش کے لئے تیار کئے کئے گئے ہیں، یہ زنجیر اس لئے لٹکائی گئی ہے کہ اٹھتے وقت تکلیف نہ ہو اور سہارا مل جایا کرے۔ مگر جونہی زنجیر پکڑ کر اس نے اٹھنا چاہا اوپر کھٹ کھٹ سی ہوئی اور پھر ایک دم پانی اس شور کے ساتھ باہر نکلا کہ ڈر کے مارے اس کے منہ سے چیخ نکل گئی۔

خدا بخش دوسرے کمرے میں اپنا فوٹو گرافی کا سامان درست کر رہا تھا اور ایک صاف بوتل میں ہائیڈرو کونین ڈال رہا تھا کہ اس نے سلطانہ کی چیخ سنی۔ دوڑ کر باہر نکلا اور سلطانہ سے کہنے لگا "کیا ہواچیخ تمہاری تھی۔"

سلطانہ کا دل دھڑک رہا تھا۔ "یہ موا پیخانہ ہے کیابیچ میں یہ ریل گاڑیوں کی طرح زنجیر کیا لٹکا رکھی ہے۔ میری کمر میں درد تھا۔ میں نے کہا چلو اس کا سہارا لے لوں گی۔ پر اس موئی زنجیر کو چھیڑنا تھا کہ ایسا دھماکا ہوا کہ میں تم سے کیا کہوں۔"

اس پر خدا بخش بہت ہنسا تھا اور اس نے سلطانہ کو اس پیخانہ کی بابت سب کچھ بتا دیا تھا کہ یہ نئے فیشن کا ہے جس میں زنجیر ہلانے سے سب گندگی نیچے زمین میں دھنس جاتی ہے۔

خدابخش اور سلطانہ کا آپس میں کیسے سمبندھ ہوا یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ خدا بخش راولپنڈی کا تھا۔ انٹرنس پاس کرنے کے بعد اس نے لاری چلانا سیکھا۔ چنانچہ چار برس تک وہ راولپنڈی اور کشمیر کے درمیان لاری چلانے کا کام کرتا رہا۔ اس کے بعد کشمیر میں اس کی دوستی ایک عورت سے ہو گئی۔ اس کو بھگا کر وہ لاہور لے آیا۔ لاہور میں چونکہ اس کو کوئی کام نہ ملا اس لئے اس نے اس عورت کو پیشے پر بٹھا دیا۔ دو تین برس تک یہ سلسلہ چلتا رہا اور وہ عورت کسی اور کے ساتھ بھاگ گئی۔ خدا بخش کو معلوم ہوا کہ وہ انبالہ میں ہے وہ اس کی تلاش میں انبالہ آیا۔ اس کو سلطانہ مل گئی۔ سلطانہ نے اس کو پسند کیا چنانچہ دونوں کا سمبندھ ہو گیا۔

خدابخش کے آنے سے ایک دم سلطانہ کا کاروبار چمک اٹھا۔ عورت چونکہ ضعیف الاعتقاد تھی اس لئے اس نے سمجھا کہ خدا بخش بڑا بھاگوان ہے جس کے آنے سے اتنی ترقی ہو گئی چنانچہ اس خوش اعتقادی نے خدا بخش کی وقعت اس کی نظروں میں اور بھی بڑھا دی۔

خدا بخش آدمی محنتی تھا۔ وہ سارا دن ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنا پسند نہیں کرتا تھا چنانچہ اس نے ایک فوٹو گرافر سے دوستی پیداکی جو ریلوے اسٹیشن کے باہر منٹ کیمرے سے فوٹو کھینچا کرتا تھا۔ اس سے اس نے فوٹو کھینچنا سیکھ لیا۔ پھر سلطانہ سے ساٹھ روپے لے کر کیمرہ بھی خرید لیا۔ آہستہ آہستہ ایک پردہ بھی بنوایا۔ دو کرسیاں خریدیں اور فوٹو دھونے کا سب سامان لے کر اس نے علیحدہ اپنا کام شروع کر دیا۔

کام چل نکلا چنانچہ اس نے تھوڑے ہی عرصہ بعد اپنا اڈا انبالہ چھاؤنی میں قائم کر دیا۔ یہاں وہ گوروں کے فوٹو کھینچتا رہتا۔ ایک مہینے کے اندر اندر اس کی چھاؤنی کے متعدد لوگوں سے واقفیت ہو گئی چنانچہ وہ سلطانہ کو وہیں لے گیا۔ یہاں چھاؤنی میں خدا بخش کے ذریعے سے کئی گورے سلطانہ کے مستقل گاہک بن گئے اور اس کی آمدنی پہلے سے دو گنی ہو گئی۔


سلطانہ نے کانوں کے لئے بندے خریدے، ساڑھے پانچ تولہ کی آٹھ کنگنیاں بھی بنوا لیں، دس پندرہ اچھی اچھی ساڑھیاں بھی جمع کر لیں۔ گھر میں فرنیچر وغیرہ بھی آگیا۔ قصہ مختصر یہ کہ انبالہ چھاؤنی میں وہ بڑی خوش حال تھی۔ مگر ایکا ایکی نہ جانے خدا بخش کے دل میں کیا سمائی کہ اس نے دہلی جانے کی ٹھان لی۔ سلطانہ انکار کیسے کرتی جبکہ وہ خدا بخش کو اپنے لئے بہت مبارک خیال کرتی تھی۔ اس نے خوشی خوشی دہلی جانا قبول کر لیا بلکہ اس نے یہ بھی سوچا کہ اتنے بڑے شہر میں جہاں لاٹ صاحب رہتے ہیں اس کا دھندا اور بھی اچھا چلے گا۔ اپنی سہیلیوں سے وہ دہلی شہر کی تعریف سن چکی تھی۔ پھر وہاں حضرت نظام الدین اولیاءکی خانقاہ تھی جس سے اسے بے حد عقیدت تھی چنانچہ جلدی جلدی گھر کا بھاری سامان بیچ باچ کر خدا بخش کے ساتھ دہلی آ گئی۔ یہاں پہنچ کر خدا بخش نے بیس روپے ماہوار پر ایک چھوٹا سا فلیٹ لے لیا جس میں وہ دونوں رہنے لگے۔ ایک ہی قسم کے نئے مکانوں کی لمبی سی قطار سڑک کے ساتھ ساتھ چلی گئی تھی۔ میونسپل کمیٹی نے شہر کا یہ حصہ خاص کسبیوں کے لئے مقرر کر دیا تھا تاکہ وہ شہر میں جگہ جگہ اپنے اڈے نہ بنائیں۔ نیچے دکانیں تھیں اور اوپر دو منزلہ رہائشی فلیٹ تھے۔ چونکہ سب عمارتیں ایک ہی ڈیزائن کی تھیں اس لئے شروع شروع میں سلطانہ کو اپنا فلیٹ تلاش کرنے میں بہت دقت محسوس ہوتی تھی، پر جب نیچے لانڈری والے نے اپنا بورڈ گھر کی پیشانی پر لگا دیا تو اس کو ایک پکی نشانی مل گئی۔ "یہاں میلے کپڑوں کی دھلائی کی جاتی ہے۔" یہ بورڈ پڑھتے ہی وہ اپنا فلیٹ تلاش کر لیا کرتی تھی۔

اسی طرح اس نے اور بہت سی نشانیاں قائم کر لی تھیں مثلاً بڑے بڑے حروف میں جہاں کوئلوں کی دکان لکھا تھا وہاں اس کی سہیلی ہیرا بالی رہتی تھی جو کبھی کبھی ریڈیو میں گانے جایا کرتی تھی۔ جہاں "شرفاء کے کھانے کا اعلیٰ انتظام ہے" لکھا تھا وہاں اس کی دوسری سہیلی مختار رہتی تھی۔ نواڑ کے کارخانے کے اوپر انوری رہتی تھی جو اس کارخانے کے سیٹھ کے پاس ملازم تھی چونکہ سیٹھ صاحب کو رات کے وقت کارخانے کی دیکھ بھال کرنا ہوتی تھی اس لئے وہ رات کو انوری کے پاس ہی رہتے تھے۔

دکان کھولتے ہی گاہک تھوڑے ہی آتے ہیں۔ چنانچہ جب ایک مہینے تک سلطانہ بیکار رہی تو اس نے یہی سوچ کر اپنے دل کو تسلی دی پر جب دو مہینے گزر گئے اور کوئی اس کے کوٹھے پر نہ آیا تو اسے بہت تشویش ہوئی۔ اس نے خدا بخش سے کہا۔ "کیا بات ہے خدا بخش! دو مہینے آج پورے ہو گئے ہیں ہمیں یہاں آئے ہوئے، کسی نے ادھر کا رخ ہی نہیں کیامانتی ہوں آج کل بازار بہت مندا ہے پر اتنا بھی تو نہیں کہ مہینے بھر میں کوئی شکل ہی دیکھنے نہ آئے۔" خدا بخش کو بھی یہ بات بہت عرصے سے کھٹک رہی تھی، مگر وہ خاموش تھا پر جب سلطانہ نے خود بات چھیڑی تو اس نے کہا "میں کئی دن سے اس کی بابت سوچ رہا ہوں۔ ایک بات میری سمجھ میں آئی ہے وہ یہ کہ لوگ باگ جنگ دھندوں میں پڑنے کی وجہ سے بھاگ کر دوسرے دھندوں میں ادھر کا راستہ بھول گئےیا پھر یہ ہو سکتا ہے کہ"

وہ اس سے آگے کچھ کہنے ہی والا تھا کہ سیڑھیوں پر کسی کے چڑھنے کی آواز آئی۔ خدا بخش اور سلطانہ دونوں اس آواز کی طرف متوجہ ہوئے۔ تھوڑی دیر کے بعد دستک ہوئی۔ خدا بخش نے لپک کر دروازہ کھولا۔ ایک آدمی اندر داخل ہوا۔ یہ پہلا گاہک تھا جس سے تین روپے میں سودا طے ہوا۔ اس کے بعد پانچ اور آئے یعنی تین مہینے میں چھ، جن سے سلطانہ نے صرف ساڑھے اٹھارہ روپے وصول کئے۔

بیس روپے ماہوار تو فلیٹ کے کرایہ میں چلے جاتے تھے۔ پانی کا ٹیکس اور بجلی کا بل جدا تھا۔ اس کے علاوہ گھر کے دوسرے خرچ تھے کھانا پینا کپڑے لتے۔ دوا اور دارو اور آمدن کچھ بھی نہیں۔ ساڑھے اٹھارہ روپے تین مہینوں میں آئیں تو اسے آمدن تو نہیں کہہ سکتے۔ سلطانہ پریشان ہو گئی۔ ساڑھے پانچ تولے کی آٹھ کنگنیاں جو اس نے انبالہ میں بنوائیں تھیں آہستہ آہستہ بک گئیں۔ آخری کنگنی کی جب باری آئی تو اس نے خدا بخش سے کہا۔ "تم میری سنو اور چلو واپس انبالہ، یہاں کیا دھرا ہے۔ بھئی ہو گا، پر ہمیں تو یہ شہر راس نہیں۔ تمہارا کام وہاں خوب چلتا تھا، چلو وہیں چلتے ہیں، جو نقصان ہوا ہے اس کو اپنا سر صدقہ سمجھو۔ یہ آخری کنگنی بیچ کر آؤ میں اسباب وغیرہ باندھ کر تیار رکھتی ہوں۔ آج را ت کی گاڑی سے یہاں سے چل دیں گے۔"

خدابخش نے کنگنی سلطانہ کے ہاتھ سے لے لی اور کہا "نہیں جانِ من! انبالہ اب نہیں جائیں گے یہیں دہلی میں رہ کر کمائیں گے۔ یہ تمہاری چوڑیاں سب کی سب یہیں واپس آئیں گی۔ اللہ پر بھروسہ رکھو، وہ بڑا کارساز ہے۔ یہاں پر بھی کوئی نہ کوئی اسباب بنا ہی دے گا۔"

سلطانہ چپ ہو رہی چنانچہ آخری کنگنی بھی ہاتھ سے اتر گئی۔ بچے ہاتھ دیکھ کر اس کو بہت رنج ہوتا تھا پر کیا کرتی پیٹ کو بھی آخر کسی حیلے بھرنا تھا۔

جب پانچ مہینے گزر گئے اور آمدن خرچ کے مقابلے میں چوتھائی سے بھی کچھ کم رہی تو سلطانہ کی پریشانی اور زیادہ بڑھ گئی۔ خدا بخش بھی سارا دن اب گھر سے غائب رہنے لگا۔ سلطانہ کو اس کا بھی دکھ تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پڑوس میں اس کی دو تین ملنے والیاں موجود تھیں جن کے ساتھ وہ وقت کاٹ سکتی تھی۔ پر ہر روز ان کے یہاں جانا اور گھنٹوں بیٹھے رہنا اس کو بہت برا لگتا تھا چنانچہ رفتہ رفتہ اس نے ان سہیلیوں سے ملنا جلنا بالکل ترک کر دیا۔ سارا دن وہ اپنے سنسان مکان میں بیٹھی رہتی، کبھی چھالیہ کاٹتی رہتی، کبھی اپنے پرانے اور پھٹے پرانے کپڑوں کو سیتی رہتی اور کبھی بالکونی میں آ کر جنگلے کے پاس کھڑی ہو جاتی تھی اور سامنے ریلوے شیڈ میں ساکت اور متحرک انجنوں کی طرف گھنٹوں بے مطلب دیکھتی رہتی۔

سڑک کی دوسری طرف مال گودام تھا جو اس کونے سے اس کونے تک پھیلا ہوا تھا۔ داہنے ہاتھ کو لوہے کی چھت کے نیچے بڑی بڑی گانٹھیں پڑی رہتی تھیں اور ہر قسم کے مال اسباب کے ڈھیر لگے رہتے تھے۔ بائیں ہاتھ کو کھلا میدان تھا جس میں بے شمار ریل کی پٹڑیاں بچھی ہوئی تھیں۔ دھوپ میں لوہے کی یہ پٹڑیاں چمکتیں تو سلطانہ اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھتی جن پر نیلی نیلی رگیں بالکل ان پٹڑیوں کی طرح ابھری رہتی تھیں۔ اس لمبے اور کھلے میدان میں ہر وقت انجن اور گاڑیاں چلتی رہتی تھیں۔ کبھی ادھر کبھی ادھر۔ ان انجنوں اور گاڑیوں کی چھک چھک اور پھک پھک کی صدائیں گونجتی رہتی تھیں۔ صبح سویرے جب وہ اٹھ کر بالکونی میں آتی تو ایک عجیب سماں اسے نظر آتا۔ دھندلکے میں انجنوں کے منہ سے گاڑھا گاڑھا دھواں نکلتا اور گدلے آسمان کی جانب موٹے اور بھاری آدمیوں کی طرح اٹھتا دکھائی دیتا تھا۔ بھاپ کے بڑے بڑے بال بھی ایک عجیب شور کے ساتھ پٹڑیوں سے اٹھتے تھے اور ہولے ہولے ہوا کے اندر گھل مل جاتے تھے پھر کبھی کبھی جب وہ گاڑی کے کسی ڈبے کو جسے انجن نے دھکا دے کر چھوڑ دیا ہوں اکیلے پٹڑیوں پر چلتا دیکھتی تو اسے اپنا خیال آتا۔ وہ سوچتی کہ اسے بھی کسی نے پٹڑی پر دھکا دے کر چھوڑ دیا ہے اور خود بخود جا رہی ہے۔ دوسرے لوگ کانٹے بدل رہے ہیں اور وہ چلی جا رہی ہےنہ جانے کہاں۔ پھر ایک روز ایسا آئے گا کہ جب اس دھکے کا زور آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گا اور وہ کہیں رک جائے گی کسی ایسے مقام پر جو اس کا دیکھا بھالا نہ ہو۔


یوں تو بے مطلب گھنٹوں ریل کی ان ٹیڑھی پٹڑیوں اور ٹھہرے اور چلتے ہوئے انجنوں کی طرف دیکھتی رہتی تھی پر طرح طرح کے خیات اس کے دماغ میں آتے رہتے تھے۔ انبالہ چھاؤنی میں جب وہ رہتی تھی تو اسٹیشن کے پاس ہی اس کا مکان تھا مگر وہاں اس نے کبھی ان چیزوں کو ایسی نظروں سے نہیں دیکھا تھا۔ اب تو کبھی کبھی اس کے دماغ میں یہ بھی خیال آتا کہ جو سامنے ریل کی پٹڑیوں کا جال سا بچھا ہوا ہے اور جگہ جگہ سے بھاپ اور دھواں اٹھ رہا ہے ایک بہت بڑا چکلہ ہے۔ بہت سی گاڑیاں ہیں جن کو چند موٹے موٹے انجن ادھر ادھر دھکیلتے رہتے ہیں۔ سلطانہ کو بعض اوقات یہ انجن سیٹھ معلوم ہوتے جو کبھی کبھی انبالہ میں اس کے ہاں آیا کرتے تھے پھر کبھی کبھی جب وہ کسی انجن کو آہستہ آہستہ گاڑیوں کی قطار کے پاس گزرتا دیکھتی تو اسے ایسا محسوس ہوتا کہ کوئی آدمی چکلے کے کسی بازار میں سے اوپر کوٹھوں کی طرف دیکھتا جا رہا ہے۔

سلطانہ سمجھتی تھی کہ ایسی باتیں سوچنا دماغ کی خرابی کا باعث ہے، چنانچہ جب اس قسم کے خیالات اس کو آنے لگے تو اس نے بالکونی میں جانا چھوڑ دیا۔ خدا بخش سے اس نے با رہا کہا دیکھو، میرے حال پر رحم کرو۔ یہاں گھر میں رہا کرو۔ میں سارا دن یہاں بیماروں کی طرح پڑی رہتی ہوں مگر اس نے ہر بار سلطانہ سے یہ کہہ کر اس کی تشفی کر دی "جان من میں باہر کمانے کی فکر کر رہا ہوں۔ اللہ نے چاہا تو چند دنوں میں بیڑا پار ہو جائے گا۔"

پورے پانچ مہینے ہو گئے تھے مگر ابھی تک نہ سلطانہ کا بیڑا پار ہوا تھا اور نہ خدا بخش کا۔ محرم کا مہینہ آ رہا تھا مگر سلطانہ کے پاس کالے کپڑے بنوانے کے لئے کچھ بھی نہ تھا۔ مختار نے لیڈی ہیملٹن کی ایک نئی وضع کی قمیض بنوائی تھی جس کی آستینیں کالی جارجٹ کی تھیں۔ اس کے ساتھ میچ کرنے کے لئے اس کے پاس کالی ساٹن کی شلوار تھی جو کاجل کی طرح چمکتی تھی۔ انور ی نے ریشمی جارجٹ کی ایک بڑی نفیس ساڑھی خریدی تھی۔ اس نے سلطانہ سے کہا تھا وہ اس ساڑھی کے نیچے سفید بوسکی کا کوٹ پہنے گی کیونکہ یہ نیا فیشن ہے۔ اس ساڑھی کے ساتھ پہننے کو انوری کالی مخمل کا ایک جوتا لائی تھی جو بڑا نازک تھا۔ سلطانہ نے جب یہ تمام چیزیں دیکھیں تو اس کو اس احساس نے بہت دکھ دیا کہ وہ محرم منانے کے لئے ایسا لباس خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔

انوری اور مختار کے پاس یہ لباس دیکھ کر جب وہ گھر آئی تو اس کا دل بہت مغموم تھا۔ اسے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک پھوڑا سا اس کے اندر پیدا ہو گیا ہے۔ گھر بالکل خالی تھا۔ خدا بخش بھی حسب معمول باہر تھا۔ دیر تک وہ دری پر گاؤ تکیہ کو سر کے نیچے رکھے لیٹی رہی پر جب اس کی گردن اونچائی کے باعث اکڑ سی گئی تو وہ اٹھ کر بالکونی میں چلی گئی تاکہ غم افزا خیالات کو اپنے دماغ سے نکال دے۔

سامنے پٹڑیوں پر گاڑیوں کے ڈبے کھڑے تھے۔ پر انجن کوئی بھی نہیں تھا۔ شام کا وقت تھا چھڑکاؤ ہوچکا تھا۔ اس لئے گرد و غبار دب گیا تھا۔ بازار میں ایسے آدمی چلنے شروع ہو گئے تھے جو تانک جھانک کرنے کے بعد چپ چاپ گھروں کا رخ کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک آدمی نے گردن اونچی کر کے سلطانہ کی طرف دیکھا۔

سلطانہ مسکرا دی اور اس کو بھول گئی کیونکہ سامنے پٹڑیوں پر ایک انجن نمودار ہو گیا تھا۔ سلطانہ نے غور سے اس کی طرف دیکھنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ یہ خیال دماغ سے نکالنے کی خاطر جب اس نے پھر سڑک کی طرف دیکھا تو وہی آدمی بیل گاڑیوں کے پاس کھڑا نظر آیا۔ وہی جس نے اس کی طرف للچائی نظروں سے دیکھا تھا۔ سلطانہ نے ہاتھ سے اسے اشارہ کیا۔ اس آدمی نے ادھر ادھر دیکھ کر ہاتھ کے اشارے سے پوچھا "کدھر سے آؤں؟" سلطانہ نے اسے راستہ بتا دیا۔ وہ آدمی تھوڑی دیر کھڑا رہا مگر بڑی پھرتی سے اوپر چلا آیا۔

سلطانہ نے اسے دری پر بٹھایا جب وہ بیٹھ گیا تو اس نے سلسلہ گفتگو شروع کرنے کے لئے کہا "آپ اوپر آتے ہوئے ڈر رہے تھے۔" وہ آدمی یہ سن کر مسکرایا۔ "تمہیں کیسے معلوم ہواڈرنے کی بات ہی کیا تھی؟" اس پر سلطانہ نے کہا کہ "یہ میں نے اس لئے کہا کہ آپ دیر تک وہیں کھڑے رہے اور پھر کچھ سوچ کر ادھر آئے۔" وہ یہ سن کر مسکرا دیا "تمہیں غلط فہمی ہوئی۔ میں تمہارے اوپر والے فلیٹ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہاں کوئی عورت کھڑی ایک مرد کو ٹھینگا دکھا رہی تھی۔ مجھے یہ منظر پسند آیا پھر بالکونی میں سبز بلب روشن ہوا تو میں کچھ دیر کے لئے اور ٹھہر گیا۔ سبز روشنی مجھے بہت پسند ہے۔ آنکھوں کو اچھی لگتی ہے۔ " یہ کہہ کر اس نے کمرے کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ پھر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ سلطانہ نے پوچھا "آپ جا رہے ہیں۔" آدمی نے جواب دیا۔ "نہیں میں تمہارے اس مکان کو دیکھنا چاہتا ہوںچلو مجھے تمام کمرے دکھا۔"

سلطانہ نے اس کو تینوں کمرے ایک ایک کر کے دکھا دئے۔ اس آدمی نے بالکل خاموشی سے ان کمروں کا جائزہ لیا۔ جب وہ دنوں پھر اسی کمرہ میں آ گئے جہاں پہلے بیٹھے تھے تو اس آدمی نے کہا "میرا نام شنکر ہے۔"

سلطانہ نے پہلی بار غور سے شنکر کی طرف دیکھا۔ وہ متوسط قد کا معمولی شکل و صورت کا انسان تھا۔ مگر اس کی آنکھیں غیر معمولی طور پر صاف و شفاف تھیں۔ کبھی کبھی ان میں ایک عجیب قسم کی چمک بھی پیدا ہوتی تھی۔ گھٹا اور کسرتی بدن تھا۔ کنپٹیوں پر اس کے بال سفید ہو رہے تھے۔ گرم پتلون پہنے تھا۔ سفید قمیض تھی جس کا کالر گردن پر سے اوپر کو اٹھا ہوا تھا۔

شنکر کچھ اسی طرح دری پر بیٹھا ہوا تھا کہ معلوم ہوتا تھا شنکر کی بجائے سلطانہ گاہک ہے۔ اس احساس نے سلطانہ کو قدرے پریشان کر دیا چنانچہ اس نے شنکر سے کہا "فرمایئے"

شنکر بیٹھا تھا، یہ سن کر لیٹ گیا۔ "میں کیا فرماؤں، کچھ تم ہی فرماؤ، بلایا تم نے ہے مجھے۔" جب سلطانہ کچھ نہ بولی تو اٹھ بیٹھا۔ "میں سمجھا، لو اب مجھ سے سنو جو کچھ تم نے سمجھا ہے غلط ہے، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو کچھ دے جایا کرتے ہیں۔ ڈاکٹروں کی طرح میری بھی فیس ہے۔ مجھے جب بلایا جائے تو فیس دینی ہی پڑتی ہے۔"


سلطانہ یہ سن کر چکرا گئی۔ مگر اس کے باوجود اسے بے اختیار ہنسی آ گئی۔

"آپ کیا کام کرتے ہیں؟"

شنکر نے جواب دیا "یہی جو تم لوگ کرتے ہو۔"

"کیا؟" "میں میں کچھ بھی نہیں کرتی۔"

"میں بھی کچھ نہیں کرتا۔"

سلطانہ نے بھنا کر کہا "یہ کوئی بات نہ ہوئیآپ کچھ نہ کچھ تو ضرور کرتے ہوں گے۔"

شنکر نے بڑے اطمینان سے جواب دیا "تم بھی کچھ نہ کچھ ضرور کرتی ہو گی۔"

"جھک مارتی ہوں۔"

"تو آؤ دونوں جھک ماریں۔"

"میں حاضر ہوں۔ مگر میں جھک مارنے کے دام کبھی نہیں دیا کرتا۔"

"ہوش کی دوا کرویہ لنگر خانہ نہیں۔"

"اور میں بھی والنٹیئر نہیں ہو!"

سلطانہ یہاں رک گئی۔ اس نے پوچھا "یہ والنٹیئر کون ہوتے ہیں؟"

شنکر نے جواب دیا۔ "الو کے پٹھے۔"

"میں بھی الو کی پٹھی نہیں۔"

"مگر وہ آدمی جو تمہارے ساتھ رہتا ہے ضرور الو کا پٹھا ہے۔"

"کیوں؟"

اس لئے کہ وہ کئی دنوں سے ایک ایسے خدا رسیدہ فقیر کے پاس اپنی قسمت کھلوانے کی خاطر جا رہا ہے جس کی اپنی قسمت زنگ لگے تالے کی طرح بند ہے۔" یہ کہہ کر شنکر ہنسا۔

اس پر سلطانہ نے کہا۔ "تم ہندو ہو اس لئے ہمارے ان بزرگوں کا مذاق اڑاتے ہو۔"

شنکر مسکرا دیا۔ "ایسی جگہوں پر ہندو مسلم کا سوال پیدا نہیں ہوا کرتے۔ بڑے بڑے پنڈت مولوی اگر یہاں آئیں تو وہ شریف آدمی بن جائیں۔"

"جانے تم کیا اوٹ پٹانگ باتیں کر رہے ہو

بولو، رہو گے اسی شرط پر جو میں پہلے بتا چکا ہوں۔"

سلطانہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ "تو جاؤ رستہ پکڑو۔"

شنکر آرام سے اٹھا۔ پتلون کی جیبوں میں اس نے اپنے دونوں ہاتھ ٹھونسے اور جاتے ہوئے کہا۔ "میں کبھی کبھی اس بازار سے گزرتا ہوں۔ جب بھی تمہیں میری ضرورت ہو، بلا لینامیں بہت کام کا آدمی ہوں۔"

شنکر چلا گیا اور سلطانہ کالے لباس کو بھول کر دیر تک اس کے متعلق سوچتی رہی۔ اس آدمی کی باتوں نے اس کے دکھ کو بہت ہلکا کر دیا تھا۔ اگر وہ انبالہ میں آیا ہوتا جہاں وہ خوش حال تھی تو اس نے کسی اور ہی رنگ میں ا س آدمی کو دیکھا ہوتا اور بہت ممکن ہے کہ اسے دھکے دے کر باہر نکال دیا ہوتا یہاں چونکہ وہ اداس رہتی تھی اس لئے شنکر کی باتیں پسند آئیں۔

شام کو جب خدا بخش آیا تو سلطانہ نے اس سے پوچھا "تم آج سارا دن کدھر غائب رہے ہو؟"

خدا بخش تھک کر چور چور ہو رہا تھا کہنے لگا "پرانے قلعے سے آ رہا ہوں۔ وہاں ایک بزرگ کچھ دنوں سے ٹھہرے ہوئے ہیں۔ انہی کے پاس ہر روز جاتا ہوں کہ ہمارے دن پھرجائیں۔"

"کچھ انہوں نے تم سے کہا۔"

"نہیں ابھی وہ مہربان نہیں ہوئے پر سلطانہ، میں جو ان کی خدمت کر رہا ہوں وہ اکارت کبھی نہیں جائے گی۔ اللہ کا فضل شاملِ حال رہا تو ضرور وارے نیارے ہو جائیں گے۔"

سلطانہ کے دماغ میں محرم بنانے کا خیال سمایا ہوا تھا۔ خدا بخش سے رونی آواز میں کہنے لگی۔ سارا سارا دن باہر غائب رہتے ہو۔ میں یہاں پنجرے میں قید رہتی ہوں۔ نہ کہیں جا سکتی ہوں۔ محرم سر پر آگیا ہے۔ کچھ تم نے اس کی بھی فکر کی کہ مجھے کالے کپڑے چاہئیں۔گھر میں پھوٹی کوڑی تک نہیں۔ کنگنیاں تھیں سو وہ ایک ایک کر کے بک گئیں۔ اب تم ہی بتاؤ کہ کیا ہو گا؟یوں فقیروں کے پیچھے کب تک مارے مارے پھرا کرو گے۔ مجھے تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہاں دہلی میں خدا نے بھی ہم سے منہ موڑ لیا ہے۔ میری سنو تو اپنا کام شروع کر دو، کچھ تو سہارا ہو ہی جائے گا۔"

خدابخش دری پر لیٹ گیا اور کہنے لگا۔ "پر یہ کام شروع کرنے کے لئے بھی تو تھوڑا بہت سرمایہ چاہئےخدا کے لئے اب ایسی دکھ بھری باتیں نہ کرو۔ مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتیں۔ میں نے سچ مچ انبالہ چھوڑنے میں سخت غلطی کی تھی۔ پر جو کرتا ہے اللہ ہی کرتا ہے اور ہماری بہتری ہی کے لئے کرتا ہے۔ کیا پتہ ہے کچھ دیر اور تکلیف برداشت کرنے کے بعد ہم"


سلطانہ نے بات کاٹ کر کہا۔"تم خدا کے لئے کچھ کرو۔ چوری کرو یا ڈاکہ ڈالو پر مجھے شلوار کا کپڑا لا دو۔ میرے پاس سفید بوسکی کی ایک قمیض پڑی ہوئی ہے اس کو میں کالا رنگوا لوں گی۔ سفید شفون کا ایک دوپٹا بھی میرے پاس موجود ہے۔ وہی جو تم نے دیوالی پر مجھے لا کر دیا تھا۔ یہ بھی قمیض کے ساتھ ہی رنگوا لیا جائے گا۔ ایک صرف شلوار کی کسر ہے سو وہ تم کسی نہ کسی طرح پیدا کر دودیکھو تمہیں میری جان کی قسم، کسی نہ کسی طرح ضرور لا دومیری بھتی نہ کھاؤ اگر نہ لا۔"

خدابخش اٹھ بیٹھا۔ "اب تم خواہ مخواہ زور دئے چلی جا رہی ہومیں کہاں سے لاؤں گاافیم کھانے کے لئے تو میرے پاس پیسے نہیں۔"

"کچھ بھی کرو مگر ساڑھے چار گز کالی شلوار کا کپڑا لا دو۔"

"دعا کرو کہ آج رات ہی اللہ دو تین بندے بھیج دے۔"

"لیکن تم کچھ نہیں کرو گےتم اگر چاہو تو ضرور اتنے پیسے پیدا کر سکتے ہو۔ جنگ سے پہلے ساٹن بارہ چودہ آنے گز مل جاتی تھی۔ اب سوا روپے گز کے حساب سے ملتی ہے ساڑھے چار گزوں پر کتنے روپے خرچ ہو جائیں گے؟"

"اب تم کہتی ہو تو میں کوئی حیلہ کروں گا۔" یہ کہہ کر خدا بخش اٹھا۔ "لو اب ان باتوں کو بھول جاؤ۔ میں ہوٹل سے کھانا لاتا ہوں۔"

ہوٹل سے کھانا آیا۔ دونوں نے مل کر زہر مار کیا اور سو گئے۔ صبح ہوئی۔ خدابخش پرانے قلعہ والے فقیر کے پاس چلا گیا۔ سلطانہ اکیلی رہ گئی۔ کچھ دیر لیٹی رہی۔ کچھ دیر سوئی رہی۔ ادھر ادھر کمروں میں ٹہلتی رہی۔ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد اس نے اپنا شفون کا دوپٹہ اور سفید بوسکی کی قمیض نکالی اور نیچے لانڈری والے کو رنگنے کے لئے دے آئی۔ کپڑے دھونے کے علاوہ وہاں رنگنے کا کام بھی ہوتا تھا۔

یہ کام کرنے کے بعد اس نے واپس آ کر فلموں کی کتابیں پڑھیں جن میں اس کی دیکھی ہوئی فلموں کی کہانی اور گیت چھپے ہوئے تھے۔ یہ کتابیں پڑھتے پڑھتے وہ سو گئی۔ جب اٹھی تو چار بج چکے تھے کیونکہ دھوپ آنگن میں موری کے پاس پہنچ چکی تھی۔ نہا دھو کر فارغ ہوئی تو گرم چادر اوڑھ کر بالکونی میں آ کھڑی ہوئی۔ قریباً ایک گھنٹہ سلطانہ بالکونی میں کھڑی رہی۔ اب شام ہو گئی تھی۔ بتیاں روشن ہو رہی تھیں۔ نیچے سڑک میں رونق کے آثار نظر آ رہے تھے۔ سردی میں تھوڑی سی شدت ہو گئی تھی مگر سلطانہ کو یہ ناگوار معلوم نہ ہوا۔ وہ سڑک پر آتے جاتے ٹانگوں اور موٹروں کی طرف ایک عرصے سے دیکھ رہی تھی۔ دفعتاً اسے شنکر نظر آیا۔ مکان کے نیچے پہنچ کر اس نے گردن اونچی کی اور سلطانہ کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔ سلطانہ نے غیر ارادی طور پر ہاتھ کا اشارہ کیا اور اسے اوپر بلا لیا۔

جب شنکر اوپر آگیا تو سلطانہ بہت پریشان ہوئی کہ اسے کیا کہے۔ در اصل اس نے ایسے ہی بنا سوچے سمجھے اسے اشارہ کر دیا تھا۔ شنکر بے حد مطمئن تھا جیسے اس کا اپنا گھر ہے۔ چنانچہ بڑی بے تکلفی سے پہلے روز کی طرح گاؤ تکیہ کو سر کے نیچے رکھ کر لیٹ گیا۔ جب سلطانہ نے دیر تک اس سے کوئی بات نہ کی تو اس نے کہا "تم سو دفعہ مجھے بلا سکتی ہو اور سو دفعہ ہی کہہ سکتی ہو کہ چلے جاؤمیں ایسی باتوں پر کبھی ناراض نہیں ہوا کرتا۔"

سلطانہ شش و پنج میں گرفتار ہو گئی کہنے لگی۔ "نہیں بیٹھو تمہیں جانے کو کون کہتا ہے۔

شنکر اس پر مسکر ادیا۔ "تو میری شرطیں تمہیں منظور ہیں۔"

"کیسی شرطیں؟" سلطانہ نے ہنس کر کہا "کیا نکاح کر رہے ہو مجھ سے؟"

"نکاح اور شادی کیسی؟نہ تم عمر بھر میں کسی سے نکاح کروگی، نہ میںیہ رسمیں ہم لوگوں کے لئے نہیںچھوڑو ان فضولیات کو، کوئی کام کی بات کرو۔"

"بولو کیا کروں؟"

"تم عورت ہوکوئی ایسی بات کرو جس سے دو گھڑی دل بہل جائےاس دل میں صرف دکانداری ہی دکانداری نہیں، کچھ اور بھی ہے۔"

سلطانہ ذہنی طور پر اب شنکر کو قبول کر چکی تھی، صاف صاف کہو تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟"

"جو دوسرے چاہتے ہیں۔" شنکر اٹھ کر بیٹھ گیا۔

"تم میں اور دوسروں میں پھر فرق ہی کیا رہا۔"

"تم میں اور مجھ میں کوئی فرق نہیں۔ ان میں اور مجھ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایسی بہت سی باتیں ہوتی ہیں جو پوچھنا نہیں چاہئیں خود سمجھنا چاہئیں۔"

سلطانہ نے تھوڑی دیر تک شنکر کی اس بات کو سمجھنے کی کوشش کی، پھر کہا "میں سمجھ گئی ہوں!"

"تو کہو کیا ارادہ ہے؟"

"تم جیتے، میں ہاری، پر میں کہتی ہوں، آج تک کسی نے ایسی بات قبول نہ کی ہو گی۔"

"تم غلط کہتی ہواسی محلے میں تمہیں ایسی سادہ لوح عورتیں بھی مل جائیں گی جو یقین نہیں کریں گی کہ کیا عورت ایسی ذلت قبول کر سکتی ہے جو تم بغیر کسی احساس کے قبول کرتی رہی ہو لیکن ان کے یقین کرنے کے باوجود تم ہزاروں کی تعداد میں موجود ہوتمہارا نام سلطانہ ہے نا۔"

"سلطانہ ہی ہے۔"

شنکر اٹھ کھڑا ہوا اور ہنسنے لگا۔ "میرا نام شنکر ہےیہ نام بھی عجب اوٹ پٹانگ ہوتے ہیں۔ چلو اندر چلیں۔"

شنکر اور سلطانہ دری والے کمرے میں واپس آئے تو دونوں ہنس رہے تھے جانے کس بات پر۔ جب شنکر جانے لگا تو سلطانہ نے کہا۔ شنکر تم میری ایک بات مانو گے؟"

شنکر نے جواباً کہا۔ "پہلے بات تو بتاؤ؟"

سلطانہ کچھ جھینپ سی گئی۔ "تم کہو گے میں دام وصول کرنا چاہتی ہوں، مگر"

"کہو کہو، رک کیوں گئی ہو؟"

سلطانہ نے جرأت سے کام لے کر کہا۔ "بات یہ ہے کہ محرم آ رہا ہے اور میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں کالی شلوار بنوا سکوں۔ یہاں کے سارے دکھڑے تو تم سن ہی چکے ہو۔ قمیض اور دوپٹہ میرے پاس موجود تھا جو میں نے آج رنگوانے کے لئے دے دیا ہے!"


شنکر نے یہ سن کر کہا "تم چاہتی ہو کہ میں تمہیں کچھ روپے دوں جو تم کالی شلوار بنا سکو۔"

سلطانہ نے فوراً ہی کہا۔ "نہیں میرا مطلب یہ ہے کہ اگر ہو سکے تو تم مجھے ایک کالی شلوار بنوا دو۔"

شنکر مسکرایا۔ "میری جیب میں تو اتفاق ہی سے کبھی کچھ ہوتا ہے۔ بہر حال میں کوشش کروں گا۔ محرم کی پہلی تاریخ کو تمہیں یہ شلوار مل جائے گی۔ لو بس اب تو خوش ہو گئیں۔ پھر سلطانہ کے بندوں کی طرف دیکھ کر شنکرنے پوچھا "کیا یہ بندے تم مجھے دے سکتی ہو؟"

سلطانہ نے ہنس کر کہا "تم انہیں کیا کرو گے۔ چاندی کے معمولی بندے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ پانچ روپے کے ہو نگے۔"

اس پر شنکر نے ہنس کر کہا "میں نے تم سے بندے مانگے ہیں ان کی قیمت نہیں پوچھی۔ بولو دیتی ہو؟"

"لے لو" یہ کہہ کر سلطانہ نے بندے اتار کر شنکر کو دے دئے۔ اس کو بعد میں افسوس ہوا، لیکن شنکر جا چکا تھا۔

سلطانہ کو قطعاً یقین نہیں تھا کہ شنکر اپنا وعدہ پورا کرے گا۔ مگر آٹھ روز کے بعد محرم کی پہلی تاریخ کو صبح نو بجے دروازے پر دستک ہوئی۔ سلطانہ نے دروازہ کھولا تو شنکر کھڑا تھا۔ اخبار میں لپٹی ہوئی چیز اس نے سلطانہ کو دی اور کہا "ساٹن کی کالی شلوار ہے۔ دیکھ لینا شاید لمبی ہواب میں چلتا ہوں۔"

شنکر شلوار دے کر چلا گیا اور کوئی بات اس نے سلطانہ سے نہ کی۔ اس کی پتلون میں شکنیں پڑی ہوئی تھیں، بال بکھرے ہوئے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ابھی ابھی سو کر اٹھا ہے اور سیدھا ادھر ہی چلا آیا ہے۔

سلطانہ نے کاغذ کھولا۔ ساٹن کی کالی شلوار تھی۔ ایسی ہی جیسی کہ وہ مختار کے پاس دیکھ کر آئی تھی۔ سلطانہ بہت خوش ہوئی۔ بندوں اور اس سودے کا جو افسوس اسے ہوا تھا، اس شلوار نے اور شنکر کی وعدہ ایفائی نے دور کر دیا۔

دوپہر کو وہ نیچے لانڈری والے سے اپنی رنگین قمیض اور دوپٹہ لے آئی۔ تینوں کالے کپڑے جب اس نے پہن لئے تو دروازے پر دستک ہوئی۔ سلطانہ نے دروازہ کھولا تو مختار اندر داخل ہوئی۔ اس نے سلطانہ کے تینوں کپڑوں کی طرف دیکھا اور کہا۔ "قمیض اور دوپٹہ تو رنگا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ پر یہ شلوار نئی ہے، کب بنوائی؟"

سلطانہ نے جواب دیا "آج ہی درزی لایا ہے۔" یہ کہتے ہوئے اس کی نظریں مختار کے کانوں پر پڑیں۔ "یہ بندے تم نے کہاں سے لئے؟"

مختار نے جواب دیا "آج ہی منگوائے ہیں۔"

اس کے بعد دونوں کو تھوڑی دیر خاموش رہنا پڑا۔


لحاف

(عصمت چغتائی)

جب میں جاڑوں میں لحاف اوڑھتی ہوں، تو پاس کی دیواروں پر اس کی پرچھائیں ہاتھی کی طرح جھومتی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور ایک دم سے میرا دماغ بیتی ہوئی دنیا کے پردوں میں دوڑنے بھاگنے لگتا ہے۔ نہ جانے کیا کچھ یاد آنے لگتا ہے۔

معاف کیجئے گا، میں آپ کو خود اپنے لحاف کا رومان انگیز ذکر بتانے نہیں جا رہی ہوں۔ نہ لحاف سے کسی قسم کا رومان جوڑا ہی جا سکتا ہے۔ میرے خیال میں کمبل آرام دہ سہی، مگر اس کی پرچھائیں اتنی بھیانک نہیں ہوتی جب لحاف کی پرچھائیں دیوار پر ڈگمگا رہی ہو۔ یہ تب کا ذکر ہے جب میں چھوٹی سی تھی اور دن بھر بھائیوں اور ان کے دوستوں کے ساتھ مار کٹائی میں گزار دیا کرتی تھی۔ کبھی کبھی مجھے خیال آتا کہ میں کم بخت اتنی لڑاکا کیوں ہوں۔ اس عمر میں جب کہ میری اور بہنیں عاشق جمع کر رہی تھیں میں اپنے پرائے ہر لڑکے اور لڑکی سے جو تم بیزار میں مشغول تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اماں جب آگرہ جانے لگیں، تو ہفتے بھر کے لئے مجھے اپنی منہ بولی بہن کے پاس چھوڑ گئیں۔ ان کے یہاں اماں خوب جانتی تھی کہ چوہے کا بچہ بھی نہیں اور میں کسی سے لڑ بھڑ نہ سکوں گی۔ سزا تو خوب تھی! ہاں تو اماں مجھے بیگم جان کے پاس چھوڑ گئیں۔ وہی بیگم جان جن کا لحاف اب تک میرے ذہن میں گرم لوہے کے داغ کی طرح محفوظ ہے۔ یہ بیگم جان تھیں جن کے غریب ماں باپ نے نواب صاحب کو اسی لئے داماد بنالیا کہ وہ پکی عمر کے تھے۔ مگر تھے نہایت نیک۔ کوئی رنڈی بازاری عورت ان کے یہاں نظر نہیں آئی۔ خود حاجی تھے اور بہتوں کو حج کرا چکے تھے۔ مگر انہیں ایک عجیب و غریب شوق تھا۔ لوگوں کو کبوتر پالنے کا شوق ہوتا ہے، بٹیرے لڑاتے ہیں، مرغ بازی کرتے ہیں۔ اس قسم کے واہیات کھیلوں سے نواب صاحب کو نفر ت تھی۔ ان کے یہاں تو بس طالب علم رہتے تھے۔ نوجوان گورے گورے پتلی کمروں کے لڑکے جن کا خرچ وہ خود برداشت کرتے تھے۔

مگر بیگم جان سے شادی کر کے تو وہ انہیں کل ساز و سامان کے ساتھ ہی گھر میں رکھ کر بھول گئے اور وہ بے چاری دبلی پتلی نازک سی بیگم تنہائی کے غم میں گھلنے لگی۔

نہ جانے ان کی زندگی کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ وہاں سے جب وہ پیدا ہونے کی غلطی کر چکی تھی، یا وہاں سے جب وہ ایک نواب بیگم بن کر آئیں اور چھپر کھٹ پر زندگی گزارنے لگیں۔ یا جب سے نواب صاحب کے یہاں لڑکوں کا زور بندھا۔ ان کے لئے مرغن حلوے اور لذیذ کھانے جانے لگے اور بیگم جان دیوان خانے کے درزوں میں سے ان لچکتی کمروں والے لڑکوں کی چست پنڈلیاں اور معطر باریک شبنم کے کرتے دیکھ دیکھ کر انگاروں پر لوٹنے لگیں۔

یا جب سے، جب وہ منتوں مرادوں سے ہار گئیں، چلے بندھے اور ٹوٹکے اور راتوں کی وظیفہ خوانی بھی چت ہو گئی۔ کہیں پتھر میں جونک لگتی ہے۔ نواب صاحب اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئے۔ پھر بیگم جان کا دل ٹوٹ گیا اور وہ علم کی طرف متوجہ ہوئیں لیکن یہاں بھی انہیں کچھ نہ ملا۔ عشقیہ ناول اور جذباتی اشعار پڑھ کر اور بھی پستی چھاگئی۔ رات کی نیند بھی ہاتھ سے گئی اور بیگم جان جی جان چھوڑ کر بالکل ہی یاس و حسرت کی پوٹ بن گئیں۔ چولہے میں ڈالا ایسا کپڑا لتا۔ کپڑا پہنا جا تا ہے، کسی پر رعب گانٹھنے کے لئے۔ اب نہ تو نواب صاحب کو فرصت کہ شبنمی کرتوتوں کو چھوڑ کر ذرا ادھر توجہ کریں اور نہ وہ انہیں آنے جانے دیتے۔ جب سے بیگم جان بیاہ کر آئی تھیں رشتہ دار آ کر مہینوں رہتے اور چلے جاتے۔ مگر وہ بے چاری قید کی قید رہتیں۔

پھرتیلے چھوٹے چھوٹے ہاتھ، کسی ہوئی چھوٹی سی توند۔ بڑے بڑے پھولے ہوئے ہونٹ، جو ہمیشہ نمی میں ڈوبے رہتے اور جسم میں عجیب گھبرانے والی بو کے شرارے نکلتے رہتے تھے اور یہ نتھنے تھے پھولے ہوئے، ہاتھ کس قدر پھرتیلے تھے، ابھی کمر پر، تو وہ لیجئے پھسل کر گئے کولھوں پر، وہاں رپٹے رانوں پر اور پھر دوڑ ٹخنوں کی طرف۔ میں تو جب بھی بیگم جان کے پاس بیٹھتی یہی دیکھتی کہ اب اس کے ہاتھ کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔

گرمی جاڑے بیگم جان حیدر آبادی جالی کارگے کے کرتے پہنتیں۔ گہرے رنگ کے پاجامے اور سفید جھاگ سے کرتے اور پنکھا بھی چلتا ہو۔ پھر وہ ہلکی دلائی ضرور جسم پر ڈھکے رہتی تھیں۔ انہیں جاڑا بہت پسند تھا۔ جاڑے میں مجھے ان کے یہاں اچھامعلوم ہوتا۔ وہ ہلتی جلتی بہت کم تھیں۔ قالین پر لیٹی ہیں۔ پیٹھ کھج رہی ہے۔ خشک میوے چبا رہی ہیں اور بس۔ ربو سے دوسری ساری نوکرانیاں خار کھاتی تھیں۔ چڑیل بیگم جان کے ساتھ کھاتی، ساتھ اٹھتی بیٹھتی اور ماشاءاللہ ساتھ ہی سوتی تھی۔ ربو اور بیگم جان عام جلوؤں اور مجموعوں کی دلچسپ گفتگو کا موضوع تھیں۔ جہاں ان دونوں کا ذکر آیا اور قہقہے اٹھے۔ یہ لوگ نہ جانے کیا کیا چٹکے غریب پر اڑاتے۔ مگر وہ دنیا میں کسی سے ملتی نہ تھیں۔ وہاں تو بس وہ تھیں اور ان کی کھجلی۔

میں نے کہا کہ اس وقت میں کافی چھوٹی تھی اور بیگم جان پر فدا۔ وہ مجھے بہت ہی پیار کرتی تھیں۔ اتفاق سے اماں آگرے گئیں۔ انہیں معلوم تھا کہ اکیلے گھر میں بھائیوں سے مار کٹائی ہو گی۔ ماری ماری پھروں گی۔ اس لئے وہ ہفتے بھر کے لئے بیگم جان کے پاس چھوڑ گئیں۔ میں بھی خوش اور بیگم جان بھی خوش۔ آخر کو اماں کی بھابھی بنی ہوئی تھیں۔

سوال یہ اٹھا کہ میں سوؤں کہاں؟ قدرتی طور پر بیگم جان کے کمرے میں۔ لہذا میرے لئے بھی ان کے چھپر کھٹ سے لگا کر چھوٹی سی پلنگڑی ڈال دی گئی۔ گیارہ بجے تک تو باتیں کرتے رہے، میں اور بیگم جان تاش کھیلتے رہے اور پھر میں سونے کے لئے اپنے پلنگ پر چلی گئی اور جب میں سوئی تو ربو ویسی ہی بیٹھی ان کی پیٹھ کھجا رہی تھی۔ "بھنگن کہیں کی۔" میں نے سوچا۔ رات کو میری ایک دم سے آنکھ کھلی تو مجھے عجیب طرح کا ڈر لگنے لگا۔ کمرہ میں گھپ اندھیرا اور اس اندھیرے میں بیگم جان کا لحاف ایسے ہل رہا تھا جیسے اس میں ہاتھی بند ہو۔ بیگم جانمیں نے ڈری ہوئی آواز نکالی، ہاتھ ہلنا بند ہو گیا۔ لحاف نیچے دب گیا۔

"کیا ہے، سو رہو" بیگم جان نے کہیں سے آواز دی۔

"ڈر لگ رہا ہے۔" میں نے چوہے کی سی آواز سے کہا۔

"سو جاؤ۔ ڈر کی کیا بات ہے۔ آیت الکرسی پڑھ لو۔"

"اچھامیں نے جلدی جلدی آیت الکرسی پڑھی مگر یَعْلَمُ مَا بَیْنَ پر دفعتاً آ کر اٹک گئی۔ حالانکہ مجھے اس وقت پوری یاد تھی۔

"تمہارے پاس آ جاؤں بیگم جان۔"

"نہیں بیٹیسو رہو" ذرا سختی سے کہا۔

اور پھر دو آدمیوں کے کھسر پھسر کرنے کی آواز سنائی دینے لگی۔ ہائے رے دوسرا کونمیں اور بھی ڈری۔

"بیگم جانچور تو نہیں۔"

"سو جاؤ بیٹاکیسا چور" ربو کی آواز آئی۔ میں جلدی سے لحاف میں منہ ڈال کر سو گئی۔

صبح میرے ذہن میں رات کے خوفناک نظارے کا خیال بھی نہ رہا۔ میں ہمیشہ کی وہمی ہوں۔ رات کو ڈرنا۔ اٹھ اٹھ کر بھاگنا اور بڑبڑانا تو بچپن میں روز ہی ہوتا تھا۔ سب تو کہتے تھے کہ مجھ پر بھوتوں کا سایہ ہو گیا ہے۔ لہٰذا مجھے خیال بھی نہ رہا۔ صبح کو لحاف بالکل معصوم نظر آ رہا تھا مگر دوسری رات میری آنکھ کھلی تو ربو اور بیگم جان میں کچھ جھگڑا بڑی خاموشی سے چھپڑ کھٹ پر ہی طے ہو رہا تھا اور مجھے خاک سمجھ نہ آیا۔ اور کیا فیصلہ ہوا، ربو ہچکیاں لے کر روئی پھر بلی کی طرح چڑ چڑ رکابی چاٹنے جیسی آوازیں آنے لگیں۔ اونہہ میں گھبرا کر سو گئی۔۔

ان رشتہ داروں کو دیکھ کر اور بھی ان کا خون جلتا تھا کہ سب کے سب مزے سے مال اڑانے، عمدہ گھی نگلنے، جاڑوں کا ساز و سامان بنوانے آن مرتے اور باوجود نئی روئی کے لحاف کے بڑی سردی میں اکڑا کرتیں۔ ہر کروٹ پر لحاف نئی نئی صورتیں بنا کر دیوار پر سایہ ڈالتا۔ مگر کوئی بھی سایہ ایسا نہ تھا جو انہیں زندہ رکھنے کے لئے کافی ہو۔ مگر کیوں جئے پھر کوئی، زندگی! جان کی زندگی جو تھی، جینا بدا تھا نصیبوں میں، وہ پھر جینے لگیں اور خوب جئیں!


ربو نے انہیں نیچے گرتے گرتے سنبھال لیا۔ چپ پٹ دیکھتے دیکھتے ان کا سوکھا جسم ہرا ہونا شروع ہوا۔ گال چمک اٹھے اور حسن پھوٹ نکلا۔ ایک عجیب و غریب تیل کی مالش سے بیگم جان میں زندگی کی جھلک آئی۔ معاف کیجئے، اس تیل کا نسخہ آپ کو بہترین سے بہترین رسالہ میں بھی نہ ملے گا۔

جب میں نے بیگم جان کو دیکھا تو وہ چالیس بیالیس کی ہوں گی۔ اُفوہ کس شان سے وہ مسند پر نیم دراز تھیں اور ربو ان کی پیٹھ سے لگی کمر دبا رہی تھی۔ ایک اودے رنگ کا دوشالہ ان کے پیروں پر پڑا تھا اور وہ مہارانوں کی طرح شاندار معلوم ہو رہی تھیں۔ مجھے ان کی شکل بے انتہا پسند تھی۔ میرا جی چاہتا تھا کہ گھنٹوں بالکل پاس سے ان کی صورت دیکھا کروں۔ ان کی رنگت بالکل سفید تھی۔ نام کو سرخی کا ذکر نہیں اور بال سیاہ اور تیل میں ڈوبے رہتے تھے۔ میں نے آج تک ان کی مانگ ہی بگڑی نہ دیکھی۔ مجال ہے جو ایک بال ادھر ادھر ہو جائے۔ ان کی آنکھیں کالی تھیں اور ابرو پر کے زائد بال علیحدہ کر دینے سے کمانیں سے کھچی رہتی تھیں۔ آنکھیں ذرا تنی ہوئی رہتی تھیں۔ بھاری بھاری پھولے پپوٹے موٹی موٹی آنکھیں۔ سب سے جو ان کے چہرے پر حیرت انگیز جاذبیت نظر چیز تھی، وہ ان کے ہونٹ تھے۔ عموماً وہ سرخی سے رنگے رہتے تھے۔ اوپر کے ہونٹوں پر ہلکی ہلکی مونچھیں سی تھیں اور کنپٹیوں پر لمبے لمبے بال کبھی کبھی ان کا چہرہ دیکھتے دیکھتے عجیب سا لگنے لگتا تھا۔ کم عمر لڑکوں جیسا!

ان کے جسم کی جلد بھی سفید اور چکنی تھی۔ معلوم ہوتا تھا، کسی نے کس کر ٹانکے لگا دئے ہوں۔ عموماً وہ اپنی پنڈلیاں کھجانے کے لئے کھولتیں، تو میں چپکے چپکے ان کی چمک دیکھا کرتی۔ ان کا قد بہت لمبا تھا اور پھر گوشت ہونے کی وجہ سے وہ بہت ہی لمبی چوڑی معلوم ہوتی تھیں لیکن بہت متناسب اور ڈھیلا ہوا جسم تھا۔ بڑے بڑے چکنے اور سفید ہاتھ اور سڈول کمر، تو ربو ان کی پیٹھ کھجایا کرتی تھی۔ یعنی گھنٹوں ان کی پیٹھ کھجاتی۔ پیٹھ کھجوانا بھی زندگی کی ضروریات میں سے تھا بلکہ شاید ضرورت زندگی سے بھی زیادہ۔

ربو کو گھر کا اور کوئی کام نہ تھا بس وہ سارے وقت ان کے چھپر کھٹ پر چڑھی کبھی پیر، کبھی سر اور کبھی جسم کے دوسرے حصے کو دبایا کرتی تھی۔ کبھی تو میرا دل ہول اٹھتا تھا جب دیکھو ربو کچھ نہ کچھ دبا رہی ہے، یا مالش کر رہی ہے۔ کوئی دوسرا ہوتا تو نہ جانے کیا ہوتا۔ میں اپنا کہتی ہوں، کوئی اتنا چھوئے بھی تو میرا جسم سڑ گل کے ختم ہو جائے۔

اور پھر یہ روز روز کی مالش کافی نہیں تھی۔ جس روز بیگم جان نہاتیں۔ یا اللہ بس دو گھنٹہ پہلے سے تیل اور خوشبودار ابٹنوں کی مالش شروع ہو جاتی اور اتنی ہوتی کہ میرا تو تخیل سے ہی دل ٹوٹ جاتا۔ کمرے کے دروازے بند کر کے انگیٹھیاں سلگتیں اور چلتا مالش کا دور اور عموماً صرف ربو ہی رہتی۔ باقی کی نوکرانیاں بڑبڑاتی دروازہ پر سے ہی ضرورت کی چیزیں دیتی جاتیں۔

بات یہ بھی تھی کہ بیگم جان کو کھجلی کا مرض تھا۔ بے چاری کو ایسی کھجلی ہوتی تھی اور ہزاروں تیل اور ابٹن ملے جاتے تھے مگر کھجلی تھی کہ قائم۔ ڈاکٹر حکیم کہتے کچھ بھی نہیں۔ جسم صاف چٹ پڑا ہے۔ ہاں کوئی جلد اندر بیماری ہو تو خیر۔ نہیں بھئی یہ ڈاکٹر تو موئے ہیں پاگل۔ کوئی آپ کے دشمنوں کو مرض ہے۔ اللہ رکھے خون میں گرمی ہے۔ ربو مسکرا کر کہتی اور مہین مہین نظروں سے بیگم جان کو گھورتی۔ اوہ یہ ربوجتنی یہ بیگم جان گوری، اتنی ہی یہ کالی تھی۔ جتنی یہ بیگم جان سفید تھیں، اتنی ہی یہ سرخ۔ بس جیسے تپا ہوا لوہا۔ ہلکے ہلکے چیچک کے داغ۔ گٹھا ہوا ٹھوس جسم۔ پھرتیلے چھوٹے چھوٹے ہاتھ، کسی ہوئی چھوٹی سی توند۔ بڑے بڑے پھولے ہوئے ہونٹ، جو ہمیشہ نمی میں ڈوبے رہتے اور جسم میں عجیب گھبرانے والی بو کے شرارے نکلتے رہتے تھے اور یہ نتھنے تھے پھولے ہوئے، ہاتھ کس قدر پھرتیلے تھے، ابھی کمر پر، تو وہ لیجئے پھسل کر گئے کولھوں پر، وہاں رپٹے رانوں پر اور پھر دوڑ ٹخنوں کی طرف۔ میں تو جب بھی بیگم جان کے پاس بیٹھتی یہی دیکھتی کہ اب اس کے ہاتھ کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔

آج ربو اپنے بیٹے سے ملنے گئی ہوئی تھی۔ وہ بڑا جھگڑالو تھا۔ بہت کچھ بیگم جان نے کیا۔ اسے دکان کرائی،گاؤں میں لگایا مگر وہ کسی طرح مانتا ہی نہ تھا۔ نواب صاحب کے یہاں کچھ دن رہا۔ خوب جوڑے بھاگے بھی بنے۔ نہ جانے کیوں ایسا بھاگا کہ ربو سے ملنے بھی نہ آتا تھا۔ لہٰذا ربو ہی اپنے کسی رشتہ دار کے یہاں اس سے ملنے گئی تھی۔ بیگم جان نہ جانے دیتی مگر ربو بھی مجبور ہو گئی۔ سارا دان بیگم جان پریشان رہیں۔ اس کا جوڑ جوڑ ٹوٹتا رہا۔ کسی کا چھونا بھی انہیں نہ بھاتا تھا۔ انہوں نے کھانا بھی نہ کھایا اور سارا دن اداس پڑی رہیں۔

"میں کھجا دوں سچ کہتی ہوں۔" میں نے بڑے شوق سے تاش کے پتے بانٹتے ہوئے کہا۔ بیگم جان مجھے غور سے دیکھنے لگیں۔

میں تھوڑی دیر کھجاتی رہی اور بیگم جان چپکی لیٹی رہیں۔ دوسرے دن ربو کو آنا تھا مگر وہ آج بھی غائب تھی۔ بیگم جان کا مزاج چڑچڑا ہوتا گیا۔ چائے پی پی کر انہوں نے سر میں درد کر لیا۔

میں پھر کھجانے لگی، ان کی پیٹھچکنی میز کی تختی جیسی پیٹھ۔ میں ہولے ہولے کھجاتی رہی۔ ان کا کام کر کے کیسی خوش ہوتی تھی۔

"ذرا زور سے کھجاؤبند کھول دو" بیگم جان بولیں۔

ادھراے ہے ذرا شانے سے۔ نیچےہاںوہاں بھئی واہہاہاوہ سرور میں ٹھنڈی ٹھنڈی سانسیں لے کر اطمینان کا اظہار کرنے لگیں۔

"اور ادھرحالانکہ بیگم جان کا ہاتھ خوب جا سکتا تھا مگر وہ مجھ سے ہی کھجوا رہی تھیں اور مجھے الٹا فخر ہو رہا تھا" یہاں اوئیتم تو گدگدی کرتی ہوواہ" وہ ہنسیں۔ میں باتیں بھی کر رہی تھی اور کھجا بھی رہی تھی۔

تمہیں کل بازار بھیجوں گیکیا لوگیوہی سوتی جاگتی گڑیا۔

نہیں بیگم جانمیں تو گڑیا نہیں لیتیکیا بچہ ہوں اب میں"

بچہ نہیں تو کیا بوڑھی ہو گئیوہ ہنسیںگڑیا نہیں تو ببوا لیناکپڑے پہنانا خود۔ میں دوں گی تمہیں بہت سے کپڑے سنا" انہوں نے کروٹ لی۔

"اچھا" میں نے جواب دیا۔


"ادھر۔" انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر جہاں کجھلی ہو رہی تھی، رکھ دیا۔ جہاں انہیں کھجلی معلوم ہوتی وہاں رکھ دیتی اور میں بے خیالی میں ببوے کے دھیان میں ڈوبی مشین کی طرح کھجاتی رہی اور وہ متواتر باتیں کرتی رہیں۔

"سنو توتمہاری فراکیں کم ہو گئی ہیں۔ کل درزی کو دے دوں گی کہ نئی سی لائے۔ تمہاری اماں کپڑے دے گئی ہیں۔"

"وہ لال کپڑے کی نہیں بنواؤں گیچماروں جیسی ہے۔" میں بکواس کر رہی تھی اور میرا ہاتھ نہ جانے کہاں سے کہاں پہنچا۔ باتوں باتوں میں مجھے معلوم بھی نہ ہوا۔ بیگم جان تو چت لیٹی تھیںارےمیں نے جلدی سے ہاتھ کھینچ لیا۔

"اوئی لڑکیدیکھ کر نہیں کھجاتیمیری پسلیاں نوچے ڈالتی ہے۔" بیگم جان شرارت سے مسکرائیں اور میں جھینپ گئی۔

ادھر آ کر میرے پاس لیٹ جا" انہوں نے مجھے بازو پر سر رکھ کر لٹا لیا۔

اے ہے کتنی سوکھ رہی ہے۔ پسلیاں نکل رہی ہیں۔ انہوں نے پسلیاں گننا شروع کر دیں۔

"اوں" میں منمنائی۔

"اوئیتو کیا میں کھا جاؤں گیکیسا تنگ سویٹر بُنا ہے!" گرم بنیان بھی نہیں پہنا تم نےمیں کلبلانے لگی۔ "کتنی پسلیاں ہوتی ہیں" انہوں نے بات بدلی۔

"ایک طرف نو اور ایک طرف دس" میں نے اسکول میں یاد کی ہوئی ہائی جین کی مدد لی۔ وہ بھی اوٹ پٹانگ۔

"ہٹا لو ہاتھہاں ایکدوتین"

میرا دل چاہا کس طرح بھاگوںاور انہوں نے زور سے بھینچا۔

"اوں" میں مچل گئیبیگم جان زور زور سے ہنسنے لگیں۔ اب بھی جب کبھی میں ان کا اس وقت کا چہرہ یاد کرتی ہوں تو دل گھبرانے لگتا ہے۔ ان کی آنکھوں کے پپوٹے اور وزنی ہو گئے۔ اوپر کے ہونٹ پر سیاہی گھری ہوئی تھی۔ باوجود سردی کے پسینے کی ننھی ننھی بوندیں ہونٹوں پر اور ناک پر چمک رہی تھیں۔ اس کے ہاتھ یخ ٹھنڈے تھے۔ مگر نرم جیسے ان پر کھال اتر گئی ہو۔ انہوں نے شال اتار دی اور کارگے کے مہین کرتے میں ان کا جسم آٹے کی لونی کی طرح چمک رہا تھا۔ بھاری جڑاؤ سونے کے گرین بٹن گربیان کی ایک طرف جھول رہے تھے۔ شام ہو گئی تھی اور کمرے میں اندھیرا گھٹ رہا تھا۔ مجھے ایک نا معلوم ڈر سے وحشت سی ہونے لگی۔ بیگم جان کی گہری گہری آنکھیں۔ میں رونے لگی دل میں۔ وہ مجھے ایک مٹی کے کھلونے کی طرح بھینچ رہی تھیں۔ ان کے گرم گرم جسم سے میرا دل ہولانے لگا مگر ان پر تو جیسے بھتنا سوار تھا اور میرے دماغ کا یہ حال کہ نہ چیخا جائے اور نہ رہ سکوں۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ پست ہو کر نڈھال لیٹ گئیں۔ ان کا چہرہ پھیکا اور بد رونق ہو گیا اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگیں۔ میں سمجھی کہ اب مریں یہ اور وہاں سے اٹھ کر سرپٹ بھاگی باہر۔

شکر ہے کہ ربو رات کو آ گئی اور میں ڈری ہوئی جلدی سے لحاف اوڑھ کر سو گئی مگر نیند کہاں۔ چپ گھنٹوں پڑی رہی۔

اماں کسی طرح آہی نہیں چکی تھیں۔ بیگم جان سے مجھے ایسا ڈر لگتا تھا کہ میں سار ا دن ماماؤں کے پاس بیٹھی رہی مگر ان کے کمرے میں قدم رکھتے ہی دم نکلتا تھا اور کہتی کس سے اور کہتی ہی کیا کہ بیگم جان سے ڈر لگتا ہے۔ بیگم جان جو میرے اوپر جان چھڑکتی تھیں۔

آج ربو میں اور بیگم جان میں پھر ان بن ہو گئیمیری قسمت کی خرابی کہیے یا کچھ اور مجھے ان دونوں کی ان بن سے ڈر لگا۔ کیونکہ رات ہی بیگم جان کو خیال آیا کہ میں باہر سردی میں گھوم رہی ہوں اور مروں گی نمونیے میں۔

"لڑکی کیا میرا سر منڈوائے گی۔ جو کچھ ہوا ہو گیا، تو اور آفت آئے گی۔"

انہوں نے نے مجھے پاس بٹھا لیا۔ وہ خود منہ ہاتھ سلفچی میں دھو رہی تھیں، چائے تپائی پر رکھی تھی۔

"چائے تو بناؤایک پیالی مجھے بھی دیناوہ تولیے سے منہ خشک کر کے بولیں ذرا کپڑے بدل لوں۔"

وہ کپڑے بدلتی رہیں اور میں چائے پیتی رہی۔ بیگم جان نائن سے پیٹھ ملواتے وقت اگر مجھے کسی کام سے بلواتیں، تو میں گردن موڑے جاتی اور واپس بھاگ آتی۔ اب جو انہوں نے کپڑے بدلے، تو میرا دل الٹنے لگا۔ منہ موڑے میں چائے پیتی رہی۔

"ہائے اماںمیرے دل نے بے کسی سے پکاراآخر ایسا بھائیوں سے کیا لڑتی ہوں جو تم میری مصیبتاماں کو ہمیشہ سے میرا لڑکوں کے ساتھ کھیلنا ناپسند ہے۔ کہو بھلا لڑکے کیا شیر چیتے ہیں جو نگل جائیں گے ان کی لاڈلی کو؛ اور لڑکے بھی کون؟ خود بھائی اور دو چار سڑے سڑائے۔ ان ذرا ذرا سے ان کے دوست مگر نہیں، وہ تو عورت ذات کو سات سالوں میں رکھنے کی قائل اور یہاں بیگم جان کی وہ دہشت کہ دنیا بھر کے غنڈوں سے نہیں۔ بس چلتا، سو اس وقت سڑک پر بھاگ جاتی، پھر وہاں نہ ٹکتی مگر لاچار تھی۔ مجبور کلیجہ پر پتھر رکھے بیٹھی رہی۔"

کپڑے بدل کر سولہ سنگھار ہوئے اور گرم گرم خوشبوؤں کے عطر نے اور بھی انہیں انگارا بنا دیا اور وہ چلیں مجھ پر لاڈ اتارنے۔

"گھر جاؤں گی" میں نے ان کی ہر رائے کے جواب میں کہا اور رونے لگی۔ "میرے پاس تو آؤمیں تمہیں بازار لے چلوں گیسنو تو۔"

مگر میں کلی کی طرح پھسل گئی۔ سارے کھلونے، مٹھائیاں ایک طرف اور گھر جانے کی رٹ ایک طرف۔

"وہاں بھیا ماریں گے چڑیل" انہوں نے پیار سے مجھے تھپڑ لگایا۔

"پڑیں ماریں بھیامیں نے سوچا اور روٹھی اکڑتی رہی۔ "کچی امیاں کھٹی ہوتی ہیں بیگم جان" جلی کٹی ربو نے رائے دی اور پھر اس کے بعد بیگم جان کو دورہ پڑ گیا۔ سونے کا ہار جو وہ تھوڑی دیر پہلے مجھے پہنا رہی تھیں، ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ مہین جالی کا دوپٹہ تار تار اور وہ مانگ جو میں نے کبھی بگڑی نہ دیکھی تھی، جھاڑ جھنکاڑ ہو گئی۔

"اوہ اوہ اوہ اوہ" وہ جھٹکی لے لے کر چلانے لگیں۔ میں رپٹی باہر۔

بڑے جتنوں سے بیگم جان کو ہوش آیا۔ جب میں سونے کے لئے کمرے میں دبے پیر جا کر جھانکی، تو ربو ان کی کمر سے لگی جسم دبا رہی تھی۔

"جوتی اتار دواس نے اس کی پسلیاں کھجاتے ہوئے کہا اور میں چوہیا کی طرح لحاف میں دبک گئی۔"

سر سر پھٹ کجبیگم جان کا لحاف اندھیرے میں پھر ہاتھی کی طرح جھوم رہا تھا۔

"اللہ آں" میں نے مری ہوئی آواز نکالی۔ لحاف میں ہاتھی چھلکا اور بیٹھ گیا۔ میں بھی چپ ہو گئی۔ ہاتھی نے پھر لوٹ مچائی۔ میرا رواں رواں کانپا۔ آج میں نے دل میں ٹھان لیا کہ ضرور ہمت کر کے سرہانے لگا ہوا بلب جلا دوں۔ ہاتھ پھڑپھڑا رہا تھا اور جیسے اکڑوں بیٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ چپڑ چپڑ کچھ کھانے کی آواز آ رہی تھیں۔ جیسے کوئی مزے دار چٹنی چکھ رہا ہو۔ اب میں سمجھی! یہ بیگم جان نے آج کچھ نہیں کھایا اور ربو مردی تو ہے سدا کی چٹو۔ ضرور یہ تر مال اڑا رہی ہے۔ میں نے نتھنے پھلا کر سوں سوں ہوا کو سونگھا۔ سوائے عطر صندل اور حنا کی گرم گرم خوشبو کے اور کچھ محسوس نہ ہوا۔

لحاف پھر امنڈنا شروع ہو ا۔ میں نے بہتیرا چاہا کہ چپکی پڑی رہوں۔ مگر اس لحاف نے تو ایسی عجیب عجیب شکلیں بنانی شروع کیں کہ میں ڈر گئی۔ معلوم ہوتا تھا غوں غوں کر کے کوئی بڑا سا مینڈک پھول رہا ہے اور اب اچھل کر میرے اوپر آیا۔

آناماںمیں ہمت کر کے گنگنائی۔ مگر وہاں کچھ شنوائی نہ ہوئی اور لحاف میرے دماغ میں گھس کر پھولنا شروع ہوا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پلنگ کے دوسری طرف پیر اتارے اور ٹٹول ٹٹول کر بجلی کا بٹن دبایا۔ ہاتھی نے لحاف کے نیچے ایک قلابازی لگائی اور پچک گیا۔ قلابازی لگانے میں لحاف کا کونہ فٹ بھر اٹھا۔

اللہ! میں غڑاپ سے اپنے بچھونے میں۔


لوہے کا کمر بند

(رام لعل)

بہت عرصہ گزرا کسی ملک میں ایک سوداگر رہتا تھا۔ اس کی بیوی بہت خوبصورت تھی۔ اتنی کہ اس کی محض ایک جھلک دیکھنے کے لئے عاشق مزاج لوگ اس کی گلی کے چکر لگایا کرتے تھے۔ یہ بات سوداگر کو بھی معلوم تھی اس لئے اس نے اپنی بیوی پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔ اس کی اجازت کے بغیر وہ کسی سے مل نہیں سکتی تھی۔ اس کے قریب قریب تمام ملازم دراصل اس سوداگر کے خفیہ جاسوس تھے جو اس کی بیوی کی حرکتوں پر کڑی نظر رکھتے تھے۔ سودا گر کو کبھی بھی دو دو تین تین سال کے لئے دور دور کے ممالک میں بیوپار کے سلسلے میں جانا پڑتا تھا۔ کیونکہ سفر میں کئی سمندر بھی حائل ہوتے تھے جنہیں عبور کرتے وقت کئی بار بحری قزاقوں سے بھی واسطہ پڑ جاتا تھا۔

ایک بار وہ ایسی ہی ایک تجارتی مہم پر روانہ ہونے والا تھا۔ گھر چھوڑنے سے ایک رات پہلے وہ اپنی بیوی کی خواب گاہ میں گیا اور بولا۔

"جان من! تم سے جدا ہونے سے پہلے میں تمہیں ایک تحفہ دینا چاہتا ہوں۔ مجھے یقین ہے یہ تحفہ تمہیں ہمیشہ میری یاد دلاتا رہے گا کیونکہ یہ تمہارے جسم کے ساتھ ہمیشہ چپکا رہے گا۔"

یہ کہہ کر سوداگر نے اپنی بیوی کے چاندی سے بدن پر کمر کے نچلے حصے کے ساتھ لوہے کا ایک کمر بند جوڑ دیا اور کمر بند میں ایک تالا بھی لگا دیا۔ پھر تالے کی چابی اپنے گلے میں لٹکاتے ہوئے بولا۔

"یہ چابی میرے سینے پر ہر وقت لٹکی رہے گی۔ اس کی وجہ سے میں بھی تمہیں یاد کرتا رہوں گا۔"

سوداگر کی بیوی نے لوہے کے کمربند کو غور سے دیکھا تو سمجھ گئی کہ یہ دراصل اسے بدکاری سے باز رکھنے کے لئے پہنایا گیا ہے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور بولی۔

"آپ کو مجھ پر اعتماد نہیں ہے نا! اسی لئے آپ نے ایسا کیا ہے لیکن میں تو آپ سے محبت کرتی ہوں۔ کبھی آپ کو شکایت کا موقع ملا؟"

سوداگر نے جواب دیا۔

"میرے دل میں تمہاری طرف سے کوئی شبہ نہیں ہے لیکن چونکہ زمانہ بہت خراب ہے اور میں مردوں کی ذات سے بخوبی واقف ہوں۔ وہ ہمیشہ کمزور اور بے سہارا عورتوں کی تاک میں رہتے ہیں۔ اسی خیال سے میں نے تمہیں محفوظ کر دیا ہے۔ اب کوئی بھی شخص تمہاری عصمت نہیں لوٹ سکے گا۔"

یہ کہہ کر سوداگر تو اپنے سفر پر روانہ ہو گیا لیکن اس کی بیوی لوہے کے کمربند کی وجہ سے سخت پریشانی محسوس کرنے لگی۔ یہ تکلیف جسمانی کم تھی ذہنی زیادہ۔

کمربند کی وجہ سے وہ خود کو ایک قیدی سمجھنے لگی۔ اٹھتے بیٹھے اسے کمر کے گرد کسے ہوئے لوہے کے کمربند کا شدید احساس ہوتا تھا۔ اس کمر بند کی وجہ سے اسے دوسرے مردوں کا خیال زیادہ آنے لگا تھا جن سے بچانے کے لئے اس کے شوہر نے یہ انوکھا طریقہ اپنایا تھا۔ وہ اس کی غلام تو نہیں تھی لیکن اس کی زندگی غلاموں سے بھی بدتر ہو گئی اور یہ سب اس کے بے پناہ حسن کی وجہ سے ہوا تھا۔

وہ اتنی حسین نہ ہوتی تو اس کے ساتھ اس قسم کا ظالمانہ سلوک بھی ہرگز نہ کیا جاتا۔ اپنے شوہر کے ظلم کو یاد کر کے اور اپنے حسن کو آئینے میں دیکھ کر وہ دکھی ہو جاتی اور کبھی رونے بھی لگتی۔۔ لیکن وہ کر ہی کیا سکتی تھی۔ اب تو وہ ہر طرح سے بے بس تھی۔ بند کھڑکیوں اور دروازوں کے باہر اسے کتنے مردوں کی سیٹیاں سنائی دیتی تھیں۔ بعض لوگ تو اس کا نام پکارتے ہوئے یا شعر پڑھتے ہوئے گلی میں سے گزرتے۔ یہ شعر اس کے بے پناہ حسن کی تعریف میں یا خود ان کی اپنی اندرونی کیفیتوں کے غماز ہوتے لیکن وہ کبھی دروازہ یا کھڑی کھول کر باہر نہیں جھانکتی تھی کیونکہ وہ اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی تھی۔ اس کے ملازم اس قسم کی آوازیں سن کر ہمیشہ چوکنے ہو جاتے تھے اور وہ اپنے دل میں کبھی کبھی پیدا ہو جانے والی اس خواہش کو بڑی سختی سے دبا لیتی تھی کہ وہ کسی روز تو کھڑکی کو ذرا سا کھول کر اپنے عاشقوں کی شکل ہی دیکھ لے۔

اس کے کانوں میں جو سیٹیاں گونجتی تھیں اور عاشقانہ اشعار پڑھنے کی جو آوازیں آتی تھیں، ان کی وجہ سے شکیل اور بہادر مردوں کی تصویریں اپنے آپ اس کی آنکھوں کے سامنے آ جاتیں۔

لیکن کبھی کبھی اس کے ذہن میں یہ خیال بھی آتا کہ اس کے عاشقوں میں ایک بھی ایسا بہادر آدمی نہیں جو مکان کی اونچی دیوار پھلانگ کر اسے اغوا کر کے لے جائے۔

رفتہ رفتہ اغواء کئے جانے کے تصورِ محض سے ہی اسے تسکین ملنے لگی۔ اسے لگتا کہ وہ ایک اجنبی مرد کے آگے اس کے گھوڑے پر سوار ہے۔ وہ گھوڑے کو سرپٹ بھگائے لے جا رہا ہے اور اسے گھر سے سینکڑوں کو س دور ایک گھنے جنگل میں لے جاتا ہے۔ جہاں سے اسے کوئی بھی واپس نہیں لے جا سکے گا۔ اب وہ اپنے شکی مزاج اور ظالم شوہر کے پنجے سے ہمیشہ کے لئے آزاد ہو چکی ہے لیکن جب وہ اپنے اجنبی عاشق کے ساتھ جسمانی تعلق کی بات سوچنے بیٹھتی تو اس کے آنسو نکل پڑتے ہیں۔ کمر میں لوہے کے کمربند کی وجہ سے تو وہ کسی بھی مرد کے کام کی نہیں رہی تھی۔ جب تک اس کمر بند کو کھول نہ دیا جائے لیکن اس کی چابی تو اس کے شوہر کے پاس تھی۔

ایک مرتبہ سوداگر کی بیوی کے کانوں میں ایک ایسی مغنی کے گانے کی آواز آئی جسے سنتے ہی وہ مضطرب ہو گئی۔ اس سے رہا نہ گیا۔ اس نے اپنے قیمتی زیورات اپنے نوکروں کو انعام کے طور پر دے دئے اور ان سے کہا۔

"اس مغنی کو تھوڑی دیر کے لئے میرے پاس لے آؤ۔ اس کا گانا سنوں گی۔ اس کی آواز میں بڑا سوز ہے، جس نے میرے دل میں میرے پیارے شوہر کی یاد تازہ کر دی ہے جو ایک مدت سے مجھ سے ہزاروں کوس دور پردیس میں ہے اور میں اس کے فراق میں دن رات تڑپا کرتی ہوں۔"


ملازم فوراً اس مغنی کو بلا کر لے آئے۔ وہ اس علاقے کا مشہور و معروف مغنی تھا۔ لوگ اس کی آواز سن کر وجد میں آ جاتے تھے۔ وہ مردانہ حسن و شکوہ کا ایک بے مثال نمونہ تھا۔ اونچا قد، مضبوط جسم، لمبے لمبے بازو، سانولا رنگ اور لہراتے ہوئے گھنگھریالے بال۔ اس کی آنکھوں میں غضب کی کشش تھی اور محبت کی ایک عجیب سے شدت بھی۔ اس نے بھی سوداگر کی بیوی کے حسن کے چرچے سن رکھے تھے اور غائبانہ طور پر اس سے محبت بھی کرنے لگا تھا۔ اب جب وہ اس حسینہ کے سامنے اچانک پہنچا دیا گیا تو متعجب سا رہ گیا۔ پہلے تو اسے اعتبار ہی نہ رہا کہ یہ حقیقت ہو سکتی ہے۔ اس لئے اپنی آنکھیں بار بار ملیں لیکن جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ سچ مچ اپنے دل کی ملکۂ حضور کے سامنے کھڑا ہے تو پہلے وہ دل ہی دل میں اپنی خوش نصیبی پر مالکِ دوجہاں کا شکر بجا لایا پھر سر جھکا کر بولا۔

"اے حسینۂ عالم! میں آپ کی کون سی خدمت سر انجام دے سکتا ہوں؟

سوداگر کی بیوی مغنی کے مردانہ حسن پر پہلی ہی نظر میں فریفتہ ہو گئی لیکن اپنے ملازموں کی موجودگی میں اس نے اپنی کیفیت کا اظہار کرنا مناسب نہ سمجھا۔ صرف اتنا ہی کہنے پر اکتفا کی۔

"نامور مغنی میں اپنے پیارے شوہر کی جدائی میں ٹرپ رہی ہوں جس کے لوٹنے کی ابھی تین برس تک کوئی توقع نہیں ہے۔ تم مجھے کوئی ایسی غزل سناؤ جس سے میرے دل کو راحت نصیب ہو۔ مجھے یقین ہے تمہاری پر سوز آواز میرے زخمی دل پر مرہم کا کام کرے گی۔"

یہ کہتے کہتے وہ مغنی کی آنکھوں میں ڈوب گئی لیکن پھر فوراً سنبھل سی گئی اور سر جھکا کر بیٹھ گئی۔ مغنی اس کی حقیقی کیفیت کچھ کچھ بھانپ گیا۔ سوچنے لگا کہ کہیں وہ اسی کی محبت میں گرفتار تو نہیں؟ ممکن ہے اپنے ملازموں کی موجودگی کے سبب سے اس کا اظہار نہ کر سکتی ہو! بہرحال اس کی خواہش کے احترام کے لئے اس نے باہر کھڑے ہوئے اپنے رفیقوں کو بھی اندر بلوا لیا۔ ساز بجنے لگے۔ ڈھول پر تھاپ پڑنے لگی اور سوداگر کی عالی شان عمارت اس کی پر سوز آواز سے گونج اٹھی۔

مغنی نے اس کے سامنے اپنے ایک پسندیدہ شاعر کی ایک منتخب غزل چھیڑ دی جس کے ذریعے وہ اپنی اندرونی کیفیت کا اظہار بھی کر سکتا تھا۔

زمیں والوں پہ یہ عشق ستم اے آسمان کب تک
بہت نازاں ہے تو جس پر وہ دورِ کامراں کب تک
کہاں تک باغباں کا ناز اٹھائیں گے چمن والے
رہے گا گلشن امید برباد خزاں کب تک

اس کی آواز میں ایک عجیب سا جادو تھا جس کا اسے خود بھی احساس نہ تھا۔ آ ج تک جہاں بھی اس نے اپنی آواز کا جادو جگایا تھا، وہ ہمیشہ کامیاب و کامران رہا تھا۔ اب تو اس نے اپنی آواز میں ایک نیا جذبہ شامل کر لیا تھا۔ وہ اپنی محبوبہ کے سامنے بیٹھا تھا۔ اسے یقین تھا، یہاں بھی وہ کامیاب رہے گا۔ یہ حسینہ اپنا دل ہار کر اس کے قدموں میں رکھ دینے کے لئے ضرور مجبور ہو جائے گی۔ جب وہ اشعار گا رہا تھا، اس کی آنکھیں جذبات کی شدت سے لال ہو گئی تھیں۔ ادھر سوداگر کی بیوی کی آنکھیں بھی بار بار غم ناک ہو جاتی تھیں لیکن دیکھنے والے یہی سمجھ رہے تھے کہ وہ اپنے شوہر کو یاد کر کے آنسو بہا رہی ہے۔ جب مغنی نے اگلا شعر پڑھا، تو سوداگر کی بیوی کی کیفیت اور بھی غیر ہونے لگی۔

بجھانے سے کہیں بجھنے کی ہے یہ آتش الفت
ارے اوہ دیدۂ گریاں یہ معنی رائیگاں کب تک

مغنی نے پہلے مصرعے کو اتنی مرتبہ دہرایا، اس قدر مستی سے دہرایا کہ ہر مرتبہ اس سے ایک نیا ہی تاثر ابھرتا چلا گیا۔ ملازموں کو اب یہ خدشہ ستانے لگا کہ ان کی مالکن کہیں بے ہوش نہ ہو جائے، اس لئے انہوں نے مغنی کو خاموش ہو کر چلے جانے کا اشارہ کر دیا لیکن سوداگر کی بیوی نے مغنی کو جانے سے روک لیا اور بولی۔

"میں تم سے تنہائی میں کچھ باتیں کرنا چاہتی ہوں۔"

مغنی نے اپنے سارے ساتھیوں کو واپس بھیج دیا اور خود سوداگر کی بیوی کے قدموں میں جھک کر پھر سے بیٹھ گیا۔ بولا۔

"فرمایئے میں حاضر خدمت ہوں۔"

سوداگر کی بیوی کی آنکھیں ابھی تک آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔ وہ خاصی دیر تک تو کچھ نہ کہہ سکی۔ آخر تھرتھراتی ہوئی آواز میں بولی۔

"تمہاری آواز میں اس قدر سوز کیوں ہے! کیا تم کسی سے محبت کرتے ہو؟ مغنی نے جواب دیا۔

"میرے سر سے میرے والدین کا سایہ بچپن سے اٹھ گیا تھا۔ میں بہت چھوٹی عمر سے جگہ جگہ گھوم رہا ہوں۔ موسیقی سے مجھے خاص رغبت ہے۔ اسی میں مجھے خاص تسکین ملتی ہے۔ اب سے پہلے میں نے کسی سے محبت کی ہے یا نہیں۔ اس کے متعلق میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ یہ صحیح ہے کہ میں نے عورتیں بے شمار دیکھی ہیں۔ حسین سے حسین ترین عورتیں، بادشاہوں، امیروں اور سرداروں کی محفلوں میں ہمیشہ شریک ہوتا رہا ہوں۔ وہاں عورتوں کی کمی نہیں رہی ہے لیکن میں سچے دل سے اس بات کا قرار کر سکتا ہوں کہ حقیقی محبت کا آغاز مجھے آپ کا غائبانہ ذکر سن کرہی ہونے لگا تھا۔ آج تو مجھے یوں محسوس ہوا!"

اس سے آگے سوداگر کی بیوی نے اسے نہ بولنے دیا، کہا۔

"بس، بس میں سمجھ گئی تم کیا کہنا چاہتے ہو لیکن آئندہ ایسی بات زبان پر کبھی مت لانا۔ سمجھ لو میں اپنے شوہر کی پاک دامن بیوی ہوں۔ اس کے علاوہ میں کسی بھی دوسرے کا خیال اپنے دل میں نہیں لاسکتی لیکن تمہارے جذبات کی میں اس حد تک ضرور قدر کروں گی کہ تم کبھی کبھی یہاں آ کر مجھے اپنے گیت سنا جایا کرو کیونکہ اس سے تمہارے جذبات کو تسکین حاصل ہو گی۔ ایسی تسکین یقیناً مجھے بھی حاصل ہو گی کیونکہ تمہارے گانے کی وجہ سے میرے دل میں میرے شوہر کی یاد تازہ رہے گی۔ جب میرا شوہر واپس آ جائے گا تو اسے یہ معلوم ہو گا کہ اس کی غیر حاضری میں تم نے اپنی موسیقی کے ذریعے میرے دل میں اس کی محبت کو ہمیشہ جگائے رکھا ہے تو وہ بہت خوش ہو گا۔ بہت ممکن ہے اس خدمت کے عوض وہ تمہیں انعامات و کرامات سے بھی نوازے۔"

سوداگر کے ملازم جو ان کی باتیں پردوں کے پیچھے سے سن رہے تھے۔ اب پوری طرح مطمئن ہو گئے کہ ان کی مالکن اپنے شوہر کی محبت میں مکمل طور پر سرشار ہے۔ اس سے بے وفائی کی توقع رکھنا اب بے کار ہو گا۔ چنانچہ جب مغنی نے سوداگر کی بیوی کی پیش کش قبول کر لی تو پھر اس کے آنے جانے پر کسی قسم کی پابندی نہ لگائی گئی۔ مغنی قریب قریب روز ہی آنے لگا اور اب وہ بڑی آزادی سے سوداگر کی بیوی سے تنہائی میں بھی مل لیتا تھا انہیں اس طرح ایک دوسرے سے ملتے ہوئے ایک سال کا عرصہ گزر گیا لیکن دونوں نے ابھی تک ایک دوسرے کو نہیں چھوا تھا۔ مغنی اسی غم میں دن بدن کمزور ہوتا گیا۔ اس کے چہرے کی تازگی رخصت ہونے لگی۔ لگتا تھا اسے رات کو کبھی نیند نہیں آتی ہے۔

سوداگر کی بیوی یہ دیکھ کر فکر مند رہتی تھی لیکن وہ مغنی کو ابھی تک اپنے سامنے صاف اظہار محبت کرنے کی اجازت نہیں دے سکی تھی۔ وہ جانتی تھی آگے بڑھنے کا نتیجہ کیا ہو گا۔ جب مغنی کو یہ معلوم ہو جائے گا کہ اس کے جسم پر پہنے ہوئے بھاری ریشمی لبادے کے نیچے اس کی کمر کے نچلے حصے پر لوہے کا مضبوط کمر بند لگا ہوا ہے تو وہ کتنا مایوس ہو گا! ہو سکتا ہے اس کے لئے یہ صدمہ ناقابل برداشت ہو جائے اور وہ خود کشی کر بیٹھے اسی لئے وہ اسے ابھی تک اپنے جسم سے دور ہی رکھتی آ رہی تھی۔

ایک دن جب مغنی اس کے ساتھ حسب معمول تنہا تھا اور اس کے سامنے اپنے عشق کا اظہار کر رہا تھا تو اچانک جذبات کے ہاتھوں بے قابو ہو گیا اور اس کے قدموں سے لپٹ کر زار زار رونے لگا۔ کہنے لگا۔


"اب میرے لئے زندہ رہنا نا ممکن ہو گیا ہے۔ میں آپ کو اس قید خانے سے نکال کر لے جانے کے لئے تیار ہوں۔ بس آپ کے اشارے کی دیر ہے۔ اگر آپ نے انکار کیا تو ہو سکتا ہے میں زبردستی اٹھا لے جانے کی بھی گستاخی کر بیٹھوں۔"

اغوا کئے جانے کا سن کر سوداگر کی بیوی اپنے حسین ترین خوابوں میں کھو گئی۔ اس قسم کے خواب اس نے کئی مرتبہ سوتے جاگتے ہوئے دیکھے تھے۔ اس نے سمجھ لیا کہ اس کے خوابوں کے حقیقت میں بدل جانے کی گھڑی آ پہنچی ہے لیکن اسے فوراً ہی لوہے کے کمر بند کا خیال آگیا۔ اس کمر بند سے چھٹکارا پانا تو کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے۔

مغنی کو جب اپنی درخواست کا کوئی جواب نہ ملا تو وہ اور بھی غمگین ہو گیا۔ بے خود سا ہو کر ایک نئی غزل گانے پر مجبور ہو گیا۔

اب سحر کا نہ انتظار کر
دامنِ شب کو تار تار کرو
زندگی رنج و غم کا نام سہی
مل گئی ہے تو اسے پیار کرو

موسیقی بڑوں بڑوں کی کمزوری ہوتی ہے۔ کبھی کبھی تو یہ اچانک ایسا سیلاب بن جاتی ہے جس کے سامنے کئی ثابت قدم بھی ڈگمگا کر بہہ جاتے ہیں۔ مغنی سمجھ گیا، اپنی محبوبہ کو وہ اب اپنے فن سے ہی شکست دے سکے گا اس لئے اس نے پوری طرح اپنے اندر ڈوب کر ایک لے نکالی۔

ہم سے خوئے وفا نہ چھوٹے گی
تم کوئی جبر اختیار کرو
اور چمکاؤ آئینہ رخ کا
زلف کو اور تابدار کر و

گاتے گاتے اسے کافی دیر ہو گئی۔ وہ بے حال ہو گیا۔ سوداگر کی بیوی کی بھی یہی حالت تھی۔ آخر اس نے مغنی کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔

میں اعتراف کرتی ہوں کہ میں بھی تم سے محبت کرتی ہوں۔ زندگی بھر کرتی رہوں گی لیکن میں کسی وجہ سے مجبور بھی ہوں، تم نہیں جانتے اس گھر کو چھوڑ کر بھی میں اپنا آپ تمہارے حوالے نہیں کر سکوں گی۔"

اس کے بعد اس نے مغنی کو لوہے کے کمر بند والی بات بھی بتا دی جس کی چابی اس کا شوہر اپنے ساتھ لے گیا ہوا تھا۔ یہ سن کر مغنی ہکا بکا سا رہ گیا اسے یقین نہ آیا جو کچھ اس کی محبوبہ نے کہا تھا۔ اس نے لباس کے اوپر سے نیچے کے کمر بند کو چھوا تب ہی اسے یقین ہو سکا لیکن کئی لمحوں تک وہ کھڑا سوچتا رہا۔ اس کے چہرے پر کئی لہریں آئیں اور گئیں، آخر اس نے زبان اس طرح کھولی۔ "میں اس کمربند کو کاٹ کر پھینک دوں گا۔ ا بھی بازار جا کر اتنے تیز اوزار لے کر آتا ہوں جو پلک جھپکتے میں اس غیر انسانی کمر بند کو کاٹ دیں گے۔"

یہ سن کر سوداگر کی بیوی کو غصہ آگیا، بولی۔

"یہ کہتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی۔ کیا تمہارے خیال میں جب تم لوہے کے کمربند کو کاٹ رہے ہو گے تو میں تمہارے سامنے کپڑے اتار کر کھڑی رہوں گی۔"

مغنی نے اپنی غلطی کے لئے فوراً معذرت چاہی لیکن ساتھ ہی اس نے ایک اور تجویز بھی پیش کر دی۔ یہ کام میں اپنے ایک لوہار دوست کے بھی سپرد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دوں گا تاکہ وہ تمہاری حسین کمر پر نگاہ نہ ڈال سکے لیکن وہ اپنے کام میں اتنا ماہر ہے کہ آنکھیں بند ہونے پر بھی وہ اپنا کام حسبِ خواہش انجام دے لے گا۔"

سوداگر کی بیوی نے یہ بات بھی منظور نہ کی اور مغنی سے کہا۔ "جاؤ او مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔"

مغنی کو وہاں سے جاتے جاتے ایک ایک اور بات کا خیال آیا چنانچہ اس نے پلٹ کر کہا، "حسین عورتوں کا سب سے بڑا دشمن ان کا موٹاپا ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنا وزن کم کرنا شروع کر دیں تو آپ کے جسم کی کشش بھی برقرار رہے گی اور اس کمربند سے بھی نجات حاصل ہو جائے گی۔"

سوداگر کی بیوی اچھّی اچھّی مرغن غذاؤں کی بڑی دلدادہ تھی۔ اس قسم کی تجویز کو وہ کسی صورت میں قبول نہیں کر سکتی تھی۔ چمک کر بولی۔

"اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تمہاری خاطر میں خود کو بھوکا ماروں! کھانا پینا چھوڑ دوں! لیکن بھوکا پیاسا رہنے سے بیمار پڑ جانے کا بھی تو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ پھر بھلا تم میری طرف نظر اٹھا کر بھی کیوں دیکھو گے۔ جاؤ جاؤ تمہاری ایک بھی تجویز معقول نہیں ہے۔"

مغنی کا دل بھی ٹوٹ گیا۔ بہت افسردہ ہو کر اب وہ وہاں سے جانے والا تھا کہ پلٹ کر پھر آیا اور بولا۔

"خدا کے لئے میری ایک تجویز پر غور ضرور فرما لیجئے۔ کیا آپ مجھے اس بات کی اجازت دے سکتی ہیں کہ میں آپ کے سامنے مسلسل کئی روز تک گاتا رہوں۔؟ مجھے یقین ہے اپنی موسیقی کی بدولت میں آپ کے بدن میں ایک ایسی سنسنی پیدا کر دینے میں کامیاب ہو جاؤں گا جس سے آپ کا کمر بند خود بخود کمر سے نیچے پھسل جائے گا۔ انتہائی ہیجان کے کسی بھی لمحے میں ایسا ہو جانا ممکن ہے۔ آپ کو پتہ بھی اس وقت لگے گا جب یہ کمر بند سرک کر آ پ کے قدموں میں آگرے گا۔"

سوداگر کی بیوی نے اس کی نئی تجویز کو بھی ہنسی میں اڑا دیا۔ کہنے لگی۔

"تم پہلے بھی تو کئی بار گانا سنا چکے ہو۔ کبھی ایسا ہو سکا؟ میں جانتی ہوں تم مجھے صرف افسردہ بنا سکتے ہو۔ کسی اور بات میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔"

اب وہ وہاں سے بالکل ہی مایوس ہو کر چل دیا۔ پھر کئی مہینوں تک اس نے پلٹ کر سوداگر کی بیوی کو اپنی صورت نہ دکھائی لیکن سوداگر کی بیوی کو اپنے ملازموں کے ذریعے اس کے بارے میں خبریں ملتی رہیں کہ وہ گلی کوچوں میں مارا مارا پھرتا رہتا ہے۔ اب اسے اپنے تن بدن کا ہوش بھی نہیں رہتا ہے۔ کسی کی فرمائش پر گانا بھی نہیں گاتا ہے۔ بس ایک خاموشی اس نے اختیار کر رکھی ہے۔

لوگوں میں یہ بھی مشہور ہو گیا ہے کہ وہ سوداگر کی بیوی کے عشق میں مبتلا ہے اور وہ دن دور نہیں جب وہ بالکل پاگل ہو جائے گا۔ آخری بات سوداگر کی بیوی کے لئے خاصی پریشان کن تھی کیونکہ اس سے اس کی بدنامی ہو رہی تھی لیکن رفتہ رفتہ وہ بھی اس کی محبت میں گرفتار ہونے لگی۔ اسے احساس ہونے لگا کہ محبت کے میدان میں مغنی زیادہ ثابت قدم نکلا اور وہی اس سے سچا عشق کر رہا ہے۔ اگر مرگیا تو لوگ ہمیشہ اس کے چرچے کیا کریں گے لیکن اسے کبھی اچھے نام سے یاد نہیں کیا جائے گا کیونکہ مغنی کی موت کا سبب وہی بنے گی۔ اس معاملے میں تھوڑی سی قربانی وہ بھی دے سکے تو اس کا نام بھی امر ہو سکتا ہے۔ یہ سب کچھ سوچ کر سوداگر کی بیوی نے فاقے کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔ شروع شروع میں تو اس نے کھانے پینے کی مقدار میں کمی کی پھر غذائیت سے بھرپور اور لذیذ چیزیں ترک کر دیں جس سے وہ جلد ہی پتلی ہو گئی۔ پر کشش ہو گئی۔ آئینے کے سامنے جا کر وہ اپنے آپ کو دیکھتی تو خوشی سے پھولی نہ سماتی۔ کبھی کبھی اس کا جی وہ ساری میٹھی اور لذیذ چیزیں کھانے کو مچل اٹھتا جو اسے ہمیشہ ہمیشہ مرغوب رہ چکی تھی۔ وہ چیزیں اس کے خوابوں میں بھی آتی تھیں۔


ایک روز وہ اچانک اچھے اچھے ذائقوں کو یاد کر کے روپڑی۔ اس نے اسی دم اپنے محبوب کا خیال دل سے نکال پھینکا اور اپنے ملازموں کو حکم دیا کہ وہ اس کے سامنے بہترین قسم کے سارے کھانے فوراً حاضر کریں۔ پہلے تو نوکر بہت حیران ہوئے، کیونکہ اس نے ایک عرصے سے عمدہ قسم کے کھانوں کی طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھا تھا لیکن وہ فوراً ہی دودھ، گھی، شہد اور چینی وغیرہ سے بنائے ہوئے قسم قسم کے لذیذ ترین کھانے لے کر حاضر ہو گئے جنہیں دیکھتے ہی وہ ان پر ٹوٹ سی پڑی۔ کھاتے ہوئے وہ دل ہی میں یہ عہد بھی کرتی گئی کہ اب وہ کبھی بھوکا رہنے کی کوشش نہیں کرے گی۔ زندگی کی بہترین مسرت ایسی ہی لذیذ غذاؤں کے کھانے میں ہے۔

کچھ ہی دنوں میں اس کے جسم کے قوسیں پھر سے بھر گئیں۔ جن پر سے خوراک میں کمی کر دینے کی وجہ سے گوشت غائب ہونے لگ گیا تھا اور وہ اس بات کی قائل ہو گئی کہ کسی سے عشق کرنے کے لئے بھوکا رہنا قطعاً ضروری نہیں ہے۔ مغنی بھی اب شہر چھوڑ کر جا چکا تھا۔ معلوم نہیں وہ زندہ بھی تھا یا نہیں!

ایک روز اچانک وہی مغنی پھر اس کے دروازے پر حاضر ہو گیا۔ اس نے ملاقات کی اجازت چاہی۔ سوداگر کی بیوی نے اسے ایک مدت سے نہیں دیکھا تھا۔ اس نے مغنی کو فوراً اندر بلوایا۔ مغنی نے آتے ہی اس کے سامنے ایک نئی تجویز پیش کر دی۔

"میں آپ کی خاطر دور دراز کے علاقوں میں پھرتا رہا ہوں۔ میں ایک ایسی جڑی بوٹی کی تلاش میں تھا۔ جس کے بارے میں سن رکھا تھا کہ اس کے استعمال کے ساتھ لذیذ کھانوں سے محروم نہیں ہونا پڑتا لیکن اس سے بدن کی فالتو چربی بھی کم ہوتی جاتی ہے۔"

سوداگر کی بیوی اس وقت بڑے اچھے موڈ میں تھی۔ اپنے سامنے شکر چڑھے باداموں کی ایک پلیٹ رکھے بیٹھی تھی۔ وہ ایک ایک بادام اٹھا کر منہ میں ڈالتی اور دانتوں کے درمیان آہستہ آہستہ پیستی اور مسکراتی جاتی تھی۔

"اچھا تو پھر تم نے وہ جڑی بوٹی حاصل کر لی؟"

مغنی نے جواب دیا۔

"اس جڑی بوٹی کا صحیح پتہ ایک بڑھیا کو تھا۔ اسے بھی میں نے دور افتادہ ایک گاؤں سے ڈھونڈ نکالا۔ وہاں وہ جادو گرنی کے نام سے مشہور ہے۔ اس نے بے شمار امیر و کبیر گھرانوں کی ایسی بہو بیٹیوں کا بڑی کامیابی سے علاج کیا ہے جو اچھی خوراکیں کھانے کی وجہ سے بہت فربہ ہو چکی تھیں اور اس طرح اپنی دل کشی سے محروم ہو جانے پر افسردہ بھی رہتی تھیں۔ اس بڑھیا کی دی ہوئی دوا سے انہیں اپنے بدن کی خوب صورتی پھر سے واپس مل چکی ہے اور ان کی صحت پر بھی برا اثر نہیں پڑا ہے۔"

یہ کہہ کر مغنی نے جیب میں سے ایک چھوٹی سی ڈبیہ نکالی۔ سوداگر کی بیوی نے خوش ہو کر وہ ڈبیہ لے لی اور تھوڑی سی دوا اس نے اسی وقت چاٹ لی۔

اس کے بعد وہ دن میں کئی کئی مرتبہ اسے استعمال کرنے لگی۔ دوا نے واقعی اپنا اثر دکھایا۔ وہ کچھ ہی روز میں دبلی ہو گئی۔ اس کے بدن میں جگہ جگہ بھرا ہوا پلپلا گوشت غائب ہو گیا۔

ایک دن وہ مغنی کے ساتھ اپنے مکان کے پائیں باغ میں تالاب کے کنارے کنارے ٹہل رہی تھی کہ اچانک اس کی کمر کے ساتھ چپا ہوا لوہے کا کمر بند سرک کر نیچے گر پڑا۔ پاؤں کے پاس گرے ہوئے کمر بند کو اس نے حیرت سے دیکھا پھر مسرت کی ایک عجیب سے جوش میں مبتلا ہو کراس نے کمر بند کو زور سے ٹھوکر ماری۔ کمر بند ایک پیڑ کے ساتھ جا ٹکرایا اور اس نے خود کو مغنی کے حوالے کر دیا لیکن اس وقت کسی نے دروازے پر زنجیر کھٹکھٹائی۔ اس کے ملازم کسی غیر ملکی شہری کی آمد کی خبر لے کر آئے تھے۔اس نے گھبرا کر اس آدمی کو بلوا بھیجا۔ پردے کھنچوا دیئے گئے۔ اس نے پردے کے عقب سے اس غیر ملکی شخص کو سر جھکائے کھڑے ہوئے دیکھا جو اپنے ساتھ کئی صندوق بھی لایا تھا۔ اس نے کہا۔

"یہ سارے صندوق ہیروں اور جواہرات سے بھرے ہوئے ہیں۔ انہیں آپ کی خدمت میں پہنچا دینے کا حکم آپ کے شوہر نے ہی مجھے دیا تھا۔ ان کا انتقال ہو چکا ہے۔ ایک زہریلے سانپ نے انہیں ڈس لیا تھا۔ آپ کا نام مرتے دم تک ان کی زبان پر رہا۔ مرنے سے پہلے انہوں نے ایک اور چیز بھی آپ تک پہنچانے کی ہدایت کی تھی۔ یہ ایک چابی ہے۔"

سوداگر کی بیوی نے پردے کے پیچھے سے ہاتھ بڑھا کر وہ چابی لے لی۔ یہ وہی چابی تھی جس کے ساتھ ایک پرچہ بھی بندھا ہوا تھا۔ جس پر لکھا تھا:

"میری پیاری بیوی!
اب تم آزاد ہو
خدا حافظ!"

وہ چابی سینے کے ساتھ لگا کر زور زور سے رونے لگی۔ مغنی نے جو اس خبر کو سن کر بہت خوش تھا، اسے سمجھایا۔

"اب تو آپ مکمل طور پر آزاد ہیں۔ کوئی خطرہ نہیں رہ گیا۔ اب ہم شادی کر کے ہمیشہ ساتھ رہ سکتے ہیں۔

لیکن اس کی بات سن کر سوداگر کی بیوی کو اچانک غصہ آگیا۔ چلا کر بولی۔

"نکل جاؤ یہاں سے۔ اب کبھی مت آنا۔ میں تمہاری صورت تک دیکھنا نہیں چاہتی۔ میں اپنے پیارے شوہر کو کبھی بھلا نہ سکو ں گی اور بقیہ عمر اسی کی یاد میں گزار دوں گی۔" یہ میرا ایک مقدس فریضہ ہو گا۔"

یہ کہہ کر روتے روتے اس نے لوہے کے کمربند کو پھر سے اٹھایا جسے تھوڑی دیر پہلے اس نے ٹھوکر مار کر دور پھینک دیا تھا۔ اس میں چابی لگا کر اسے کھولا اور اپنی کمر کے گرد پہلے سے بھی زیادہ سختی سے کس لیا اور چابی تالاب کے اندر پھینک دی۔

مغنی دل برداشتہ ہو کر وہاں سے چل دیا۔ اس حسینہ کو حاصل کرنے کی اب اس کے دل میں کوئی امید نہیں رہ گئی تھی۔ وہ کسی دور دراز کے شہر میں جا کر رہنے لگا اور وہاں اس نے کئی سال گزار دئے لیکن محبوبہ کی یاد اس کے دل سے کبھی نہ نکل سکی۔ وہ ابھی تک اس کے دل میں بستی تھی اور اسے ہمیشہ بے قرار رکھتی تھی۔

ایک روز اس کا ایک شاگرد جو اسی سوداگر کی بیوی کے شہر میں رہتا تھا، اس سے ملنے کے لئے گیا تو مغنی نے سب سے پہلے اپنی محبوبہ کے بارے میں سوال کیا۔

"تمہیں سوداگر کی بیوی کا کچھ حال معلوم ہے؟"

شاگرد نے کہا۔

"استاد کیا عرض کروں! وہ تو بڑی عجیب و غریب قسم کی عورت ہے۔ اس کے متعلق کئی قصے مشہور ہیں۔ میں نے تو اسے نہیں دیکھا ہے لیکن جن لوگوں نے دیکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ پہلے سے بہت زیادہ موٹی ہو گئی ہے اور اس کی کمر میں کسی وجہ سے بہت شدید درد رہتا ہے لیکن وہ اس کا علاج بھی نہیں کراتی۔ اگرچہ درد کی شدت سے ہمیشہ تڑپا کرتی ہے۔ لوگ یہاں تک بتاتے ہیں کہ کبھی کبھی وہ تالاب کے کنارے جا بیٹھتی ہے۔ اس نے کئی بار تالاب کا سارا پانی خارج کر لیا ہے اور تہہ میں جمی ہوئی مٹی کے ذرے ذرے کو اپنی نگرانی میں ہٹوا کر دیکھا ہے۔ معلوم نہیں کہ وہ کس چیز کی تلاش میں ہے۔ شاید کوئی بہت ہی قیمتی چیز ہو گی جو تالاب میں گر گئی تھی اور اب اسے نہیں مل رہی ہے!"

اس کے شاگرد نے کہا اور مغنی کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ ہنسے یا روئے۔


ماں جی

(قدرت اللہ شہاب)

ماں جی کی پیدائش کا صحیح سال معلوم نہ ہو سکا۔

جس زمانے میں لائل پور کا ضلع نیا نیا آباد ہو رہا تھا، پنجاب کے ہر قصبے سے غریب الحال لوگ زمین حاصل کرنے کے لئے اس نئی کالونی میں جوق در جوق کھنچے چلے آ رہے تھے۔ عرف عام میں لائل پور، جھنگ، سرگودھا وغیرہ کو "بار" کا علاقہ کہا جاتا تھا۔

اس زمانے میں ماں جی کی عمر دس بارہ سال تھی۔ اس حساب سے ان کی پیدائش پچھلی صدی کے آخری دس پندرہ سالوں میں کسی وقت ہو ئی ہو گی۔

ماں جی کا آبائی وطن تحصیل روپڑ ضلع انبالہ میں ایک گاؤں منیلہ نامی تھا۔ والدین کے پاس چند ایکڑ اراضی تھی۔ ان دنوں روپڑ میں دریائے ستلج سے نہر سرہند کی کھدائی ہو رہی تھی۔ نانا جی کی اراضی نہر کی کھدائی میں ضم ہو گئی۔ رو پڑ میں انگریز حاکم کے دفتر سے ایسی زمینوں کے معاوضے دئے جاتے تھے۔ نا نا جی دو تین بار معاوضے کی تلاش میں شہر گئے لیکن سیدھے آدمی تھے۔ کبھی اتنا بھی معلوم نہ کر سکے کہ انگریز کا دفتر کہاں ہے اور معاوضہ وصول کرنے کے لئے کیا قدم اٹھانا چاہئے۔ انجام کار صبر و شکر کر کے بیٹھ گئے اور نہر کی کھدائی کی مزدوری کرنے لگے۔

انہی دنوں پرچہ لگا کہ بار میں کالونی کھل گئی ہے اور نئے آباد کاروں کو مفت زمین مل رہی ہے۔ نا نا جی اپنی بیوی، دو ننھے بیٹوں اور ایک بیٹی کا کنبہ ساتھ لے کر لائل پور روانہ ہو گئے۔ سواری کی توفیق نہ تھی۔ اس لئے پا پیادہ چل کھڑے ہوئے۔

راستے میں محنت مزدوری کر کے پیٹ پالتے۔ نا نا جی جگہ بہ جگہ قلی کا کام کر لیتے یا کسی ٹال پر لکڑیاں چیر دیتے۔ نانی اور ماں جی کسی کا سوت کات دیتیں یا مکانوں کے فرش اور دیواریں لیپ دیتیں۔ لائل پور کا صحیح راستہ کسی کو نہ آتا تھا جگہ جگہ بھٹکتے تھے اور پوچھ پوچھ کر دنوں کی منزل ہفتوں میں طے کرتے تھے۔

ڈیڑھ دو مہینے کی مسافت کے بعد جڑانوالہ پہنچے۔ پا پیادہ چلنے اور محنت مزدوری کی مشقت سے سب کے جسم نڈھال اور پاؤں سوجے ہوئے تھے۔ یہاں پر چند ماہ قیام کیا۔ نانا جی دن بھر غلہ منڈی میں بوریاں اٹھانے کا کام کرتے۔ نانی پرچہ کات کر سوت بیچتیں اور ماں جی گھر سنبھالتیں جو ایک چھوٹے سے جھونپڑے پر مشتمل تھا۔

انہی دنوں بقر عید کا تہوار آیا۔ نا نا جی کے پاس چند روپے جمع ہو گئے تھے۔ انہوں نے ماں جی کو تین آنے بطور عیدی دئے۔ زندگی میں پہلی بار ماں جی کے ہاتھ اتنے پیسے آئے تھے۔ انہوں نے بہت سوچا لیکن اس رقم کا کوئی مصرف ان کی سمجھ میں نہ آسکا۔ وفات کے وقت ان کی عمر کوئی اسی برس کے لگ بھگ تھی لیکن ان کے نزدیگ سو روپے، دس روپے، پانچ روپے کے نوٹوں میں امتیاز کرنا آسان کام نہ تھا عیدی کے تین آنے کئی روز ماں جی کے دوپٹے کے ایک کونے میں بندھے رہے۔ جس روز وہ جڑانوالہ سے رخصت ہو رہی تھیں ماں جی نے گیارہ پیسے کا تیل خرید کر مسجد کے چراغ میں ڈال دیا۔ باقی ایک پیسہ اپنے پاس رکھا۔ اس کے بعد جب کبھی گیارہ پیسے پورے ہو جاتے تو وہ فوراً مسجد میں تیل بھجوا دیتیں۔

ساری عمر جمعرات کی شام کو اس عمل پر بڑی وضعداری سے پابند رہیں۔ رفتہ رفتہ بہت سی مسجدوں میں بجلی آ گئی لیکن لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں بھی انہیں ایسی مسجدوں کا علم رہتا تھا جن کے چراغ اب بھی تیل سے روشن ہوتے تھے۔ وفات کی شب بھی ماں جی کے سرہانے ململ کے رومال میں بندھے ہوئے چند آنے موجود تھے۔ غالباً یہ پیسے بھی مسجد کے تیل کے لئے جمع کر رکھے تھے چونکہ وہ جمعرات کی شب تھی۔

ان چند آنوں کے علاوہ ماں جی کے پاس نہ کچھ اور رقم تھی اور نہ کوئی زیور۔ اسبابِ دنیا میں ان کے پاس گنتی کی چند چیزیں تھیں۔ تین جوڑے سوتی کپڑے، ایک جوڑا دیسی جوتا، ایک جوڑا ربڑ کے چپل، ایک عینک، ایک انگوٹھی جس میں تین چھوٹے چھوٹے فیروزے جڑے ہوئے تھے۔ ایک جائے نماز، ایک تسبیح اور باقی اللہ اللہ۔ پہننے کے لئے تین جوڑوں کو وہ خاص اہتمام سے رکھتی تھیں۔ ایک زیب تن، دوسرا اپنے ہاتھوں سے دھو کر تکئے کے نیچے رکھا رہتا تھا۔ تاکہ استری ہو جائے۔ تیسرا دھونے کے لئے تیار۔ ان کے علاوہ اگر چوتھا کپڑا ان کے پاس آتا تھا تو وہ چپکے سے ایک جوڑا کسی کو دے دیتی تھیں۔ اسی وجہ سے ساری عمر انہیں سوٹ کیس رکھنے کی حاجت محسوس نہ ہوئی۔ لمبے سے لمبے سفر پر روانہ ہونے کے لئے انہیں تیاری میں چند منٹ سے زیادہ نہ لگتے تھے۔ کپڑوں کی پوٹلی بنا کر انہیں جائے نماز میں لپیٹا۔ جاڑوں میں اونی فرد اور گرمیوں میں ململ کی دوپٹے کی بکل ماری اور جہاں کہیئے چلنے کو تیار۔ سفرِ آخرت بھی انہوں نے اسی سادگی سے اختیار کیا۔ میلے کپڑے اپنے ہاتھوں سے دھو کر تکئے کے نیچے رکھے۔ نہا دھو کر بال سکھائے اور چند ہی منٹوں میں زندگی کے سب سے لمبے سفر پر روانہ ہو گئیں۔ جس خاموشی سے دنیا میں رہی تھیں، اسی خموشی سے عقبیٰ کو سدھار گئیں۔ غالباً اس موقع کے لئے وہ اکثر یہ دعا مانگا کرتی تھیں، کہ اللہ تعالیٰ ہاتھ چلتے چلاتے اٹھا لے۔ اللہ کبھی کسی کا محتاج نہ کرے۔

کھانے پینے میں وہ کپڑے لتے سے بھی زیادہ سادہ اور غریب مزاج تھیں۔ ان کی مرغوب ترین غذا مکئی کی روٹی، دھنیے پودینے کی چٹنی کے ساتھ تھی۔ باقی چیزیں خوشی سے تو کھا لیتی تھیں لیکن شوق سے نہیں۔ تقریباً ہر نوالے پر اللہ کا شکر ادا کر تی تھیں۔ پھلوں میں کبھی بہت ہی مجبور کیا جائے تو کبھی کبھار کیلے کی فرمائش کرتی تھیں۔ البتہ ناشتے میں چائے دو پیالے اور تیسرے پہر سادہ چائے کا ایک پیالہ ضرور پیتی تھیں۔ کھانا صرف ایک وقت کھاتی تھیں۔ اکثر و بیشتر دوپہر کا۔ شاذ و نادر رات کا۔ گرمیوں میں عموماً مکھن نکالی ہوئی ہوئی پتلی نمکین لسی کے ساتھ ایک آدھ سادہ چپاتی ان کی محبوب خوراک تھی۔

دوسروں کو کوئی چیز رغبت سے کھاتے دیکھ کر خوش ہو تی تھیں اور ہمیشہ دعا کرتی تھیں۔ سب کا بھلا۔ خاص اپنے یا اپنے بچوں کے لئے انہوں نے براہ راست کبھی کچھ نہ مانگا۔ پہلے دوسروں کے لئے مانگتی تھیں اور اس کے بعد مخلوقِ خدا کی حاجت روائی کے طفیل اپنے بچوں یا عزیزوں کا بھلا چاہتی تھیں۔ اپنے بیٹوں یا بیٹیوں کو انہوں نے اپنی زبان سے کبھی "میرے بیٹے" یا "میری بیٹی" کہنے کا دعویٰ نہیں کیا۔ ہمیشہ ان کو اللہ کا مال کہا کرتی تھیں۔

کسی سے کوئی کام لینا ماں جی پر بہت گراں گزرتا تھا۔ اپنے سب کام وہ اپنے ہاتھوں خود انجام دیتی تھیں۔ اگر کوئی ملازم زبردستی ان کا کوئی کام کر دیتا تو نہیں ایک عجیب قسم کی شرمندگی کا احساس ہونے لگتا تھا اور وہ احسان مندی سے سارا دن اسے دعائیں دیتی رہتی تھیں۔

سادگی اور درویشی کا یہ رکھ رکھاؤ کچھ تو قدرت نے ماں جی کی سرشت میں پیدا کیا تھا کچھ یقیناً زندگی کے زیر و بم نے سکھایا تھا۔

جڑانوالہ میں کچھ عرصہ قیام کے بعد جب وہ اپنے والدین اور خورد سال بھائیوں کے ساتھ زمین کی تلاش میں لائل پور کی کالونی کی طرف روانہ ہوئیں تو انہیں معلوم نہ تھا کہ انہیں کس مقام پر جانا ہے اور زمین حاصل کرنے کے لئے کیا قدم اٹھانا ہے۔ ماں جی بتایا کرتی تھیں کہ اس زمانے میں ان کے ذہن میں کالونی کا تصور ایک فرشتہ سیرت بزرگ کا تھا جو کہ کہیں سرِ راہ بیٹھا زمین کے پروانے تقسیم کر رہا ہو گا۔ کئی ہفتے یہ چھوٹا سا قافلہ لائل پور کے علاقے میں پا پیادہ بھٹکتا رہا لیکن کسی راہ گزار پر انہیں کالونی کا خضر صورت رہنما نہ مل سکا۔ آخر تنگ آ کر انہوں نے چک نمبر 392 جو ان دنوں نیا نیا آباد ہو رہا تھا ڈیرے ڈال دئے۔ لوگ جوق در جوق وہاں آ کر آباد ہو رہے تھے۔ نانا جی نے اپنی سادگی میں یہ سمجھا کہ کالونی میں آباد ہونے کا شاید یہی ایک طریقہ ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے ایک چھوٹا سا احاطہ گھیر کر گھاس پھونس کی جھونپڑی بنائی اور بنجر اراضی کا ایک قطعہ تلاش کر کے کاشت کی تیاری کرنے لگے۔ انہی دنوں محکمۂ مال کا عملہ پڑتال کے لئے آیا۔ نانا جی کے پاس الاٹ منٹ کے کاغذات نہ تھے۔ چنانچہ انہیں چک سے نکال دیا گیا اور سرکاری زمین پر نا جائز جھونپڑا بنانے کی پاداش میں ان کے برتن اور بستر قرق کر لئے گئے۔ عملے کے ایک آدمی نے چاندی کی دو بالیاں بھی ماں جی کے کانوں سے اتروا لیں۔ ایک بالی اتارنے میں ذرا دیر ہوئی تو اس نے زور سے کھینچ لی۔ جس سے ماں جی کے کان کا زیریں حصہ بری طرح سے پھٹ گیا۔


چک 392 سے نکل کر جو راستہ سامنے آیا اس پر چل کھڑے ہوئے۔ گرمیوں کے دن تھے۔ دن بھر لو چلتی تھی۔ پانی رکھنے کے لئے مٹی کا پیالہ بھی پاس نہ تھا۔ جہاں کہیں کوئی کنواں نظر آیا ماں جی اپنا دوپٹہ بھگو لیتیں تاکہ پیاس لگنے سے اپنے چھوٹے بھائیوں کو چساتی جائیں۔ اس طرح وہ چلتے چلتے چک نمبر507 میں پہنچے جہاں پر ایک جان پہچان کے آباد کار نے نا نا جی کو اپنا مزارع رکھ لیا۔ نا نا جی ہل چلاتے تھے۔ نانی مویشی چرانے لے جاتی تھیں۔ ماں جی کھیتوں سے گھاس اور چارہ کاٹ کر زمیندار کی بھینسوں اور گایوں کے لئے لایا کرتی تھیں۔ ان دنوں انہیں مقدور بھی نہ تھا کہ ایک وقت کی روٹی بھی پور ی طرح کھا سکیں۔ کسی وقت جنگلی بیروں پر گزارہ ہوتا تھا۔ کبھی خربوزے کے چھلکے ابال کر کھا لیتے تھے۔ کبھی کسی کھیت میں کچی انبیاں گری ہوئی مل گئیں تو ان کی چٹنی بنا لیتے تھے۔ ایک روز کہیں سے توریئے اور کلتھے کا ملا جلا ساگ ساگ ہاتھ آگیا۔ نانی محنت مزدوری میں مصروف تھیں۔ ماں جی نے ساگ چولہے پر چڑھایا۔ جب پک کر تیار ہو گیا اور ساگ کو الّن لگا کر گھوٹنے کا وقت آیا تو ماں جی نے ڈوئی ایسے زور سے چلائی کہ ہنڈیا کا پیندا ٹوٹ گیا اور سارا ساگ بہہ کر چولہے میں آ پڑا۔ ماں جی کو نانی سے ڈانٹ پڑی اور مار بھی۔ رات کو سارے خاندان نے چولہے کی لکڑیوں پر گرا ہوا ساگ انگلیوں سے چاٹ چاٹ کر کسی قدر پیٹ بھرا۔

چک نمبر507 نانا جی کو خوب راس آیا۔ چند ماہ کی محنت مزدوری کے بعد نئی آباد کاری کے سلسلے میں آسان قسطوں پر ان کو ایک مربع زمین مل گئی۔ رفتہ رفتہ دن پھرنے لگے اور تین سال میں ان کا شمار گاؤں کے کھاتے پیتے لوگوں میں ہونے لگا۔ جوں جوں فارغ البالی بڑھتی گئی توں توں آبائی وطن کی یاد ستانے لگی۔ چنانچہ خوشحالی کے چار پانچ سال گزارنے کے بعد سارا خاندان ریل میں بیٹھ کر منیلہ کی طرف روانہ ہوا۔ ریل کا سفر ماں جی کو بہت پسند آیا۔ وہ سارا وقت کھڑکی سے باہر منہ نکال کر تماشہ دیکھتی رہیں۔ اس عمل میں کوئلے کے بہت سے ذرے ان کی آنکھوں میں پر گئے۔ جس کی وجہ سے کئی روز تک وہ آشوبِ چشم میں مبتلا رہیں۔ اس تجربے کے بعد انہوں نے ساری عمر اپنے کسی بچے کو ریل کی کھڑکی سے باہر منہ نکالنے کی اجازت نہ دی۔

ماں جی ریل کے تھرڈ کلاس ڈبے میں بہت خوش رہتی تھیں۔ ہم سفر عورتوں اور بچوں سے فوراً گھل مل جاتیں۔ سفر کی تھکان اور راستے کے گرد و غبار کا ان پر کچھ اثر نہ ہوتا۔ اس کے برعکس اونچے درجوں میں بہت بیزار ہو جاتیں۔ ایک دو بار جب انہیں مجبوراً ائیر کنڈیشن ڈبے میں سفر کرنا پڑا تو وہ تھک کر چور ہو گئیں اور سارا وقت قید کی صعوبت کی طرح ان پر گراں گزرا۔

منیلہ پہنچ کر نانا جی نے اپنا آبائی مکان درست کیا۔ عزیز و اقارب کو تحاف دئے۔ دعوتیں ہوئیں اور پھرماں جی کے لئے بر ڈھونڈنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

اس زمانے میں لائل پور کے مربعہ داروں کی بڑی دھوم تھی۔ ان کا شمار خوش قسمت اور با عزت لوگوں میں ہو تا تھا۔ چنانچہ چاروں طرف سے ماں جی کے لئے پے در پے پیام آنے لگے۔ یوں بھی ان دنوں ماں جی کے بڑے ٹھاٹھ باٹھ تھے۔ برادری والوں پر رعب گانٹھنے کے لئے نانی جی انہیں ہر روز نت نئے کپڑے پہناتی تھیں اور ہر وقت دلہنوں کی طرح سجا کر رکھتی تھیں۔

کبھی کبھار پرانی یادوں کو تازہ کرنے لئے ماں جی بڑے معصوم فخر سے کہا کرتی تھیں۔ ان دنوں میرا تو گاؤں میں نکلنا دو بھر ہو گیا تھا۔ میں جس طرف سے گزر جاتی لوگ ٹھٹھک کر کھڑے ہو جاتے اور کہا کرتے۔ یہ خیال بخش مربعہ دار کی بیٹی جا رہی ہے۔ دیکھئے کون خوش نصیب اسے بیاہ کر لے جائے گا۔

"ماں جی! آپ کی اپنی نظر میں کوئی ایسا خوش نصیب نہیں تھا!" ہم لوگ چھیڑنے کی خاطر ان سے پوچھا کرتے۔

"توبہ توبہ پت" ماں جی کانوں پر ہاتھ لگاتیں "میر ی نظر میں بھلا کوئی کیسے ہو سکتا تھا۔ ہاں میرے دل میں اتنی سی خواہش ضرور تھی کہ اگر مجھے ایسا آدمی ملے جو دو حرف پڑھا لکھا ہو تو خدا کی بڑی مہربانی ہو گی۔"

ساری عمر میں غالباً یہی ایک خواہش تھی جو ماں جی کے دل میں خود اپنی ذات کے لئے پیدا ہوئی۔ اس کو خدا نے یوں پورا کر دیا کہ اسی سال ماں جی کی شادی عبد اللہ صاحب سے ہو گئی۔ ان دنوں سارے علاقے میں عبد اللہ صاحب کا طوطی بول رہا تھا۔ وہ ایک امیر کبیر گھرانے کے چشم و چراغ تھے لیکن پانچ چھ برس کی عمر میں یتیم بھی ہو گئے اور بے حد مفلوک الحال بھی۔ جب باپ کا سایہ سر سے اٹھا تو یہ انکشاف ہوا کہ ساری آبائی جائیداد رہن پڑی ہے۔ چنانچہ عبد اللہ صاحب اپنی والدہ کے ساتھ ایک جھونپڑے میں اٹھ آئے۔ زر اور زمین کا یہ انجام دیکھ کر انہوں نے ایسی جائیداد بنانے کا عزم کر لیا جو مہاجنوں کے ہاتھ گروی نہ رکھی جا سکے۔ چنانچہ عبد اللہ صاحب دل و جان سے تعلیم حاصل کرنے میں منہمک ہو گئے۔ وظیفے پر وظیفہ حاصل کر کے اور دو سال کے امتحان ایک ایک سال میں پاس کر کے پنجاب یونیورسٹی کے میٹریکولیشن میں اول آئے۔ اس زمانے میں غالباً یہ پہلا موقع تھا کہ کسی مسلمان طالب علم نے یونیورسٹی امتحان میں ریکارڈ قائم کیا ہو۔

اڑتے اڑتے یہ خبر سر سید کے کانوں میں پڑ گئی جو اس وقت علی گڑھ مسلم کالج کی بنیاد رکھ چکے تھے۔ انہوں نے اپنا خاص منشی گاؤں میں بھیجا اور عبد اللہ صاحب کو وظیفہ دے کر علی گڑھ بلا لیا۔ یہاں پر عبد اللہ صاحب نے خوب بڑھ چڑھ کر اپنا رنگ نکالا اور بی اے کرنے کے بعد انیس برس کی عمر میں وہیں پر انگریزی، عربی، فلسفہ اور حساب کے لیکچر ہو گئے۔

سر سید کو اس بات کی دھن تھی کہ مسلمان نوجوان زیادہ سے زیادہ تعداد میں اعلیٰ ملازمتوں پر جائیں۔ چنانچہ انہوں نے عبد اللہ صاحب کو سرکاری وظیفہ دلوایا تاکہ وہ انگلستان میں جا کر آئی سی ایس کے امتحان میں شریک ہوں۔

پچھلی صدی کے بڑے بوڑھے سات سمندر پار کے سفر کو بلائے ناگہانی سمجھتے تھے۔ عبداللہ صاحب کی والدہ نے بیٹے کو ولایت جانے سے منع کر دیا۔ عبد اللہ صاحب کی سعادت مندی آڑے آئی اور انہوں نے وظیفہ واپس کر دیا۔

اس حرکت پر سر سید کو بے حد غصہ بھی آیا اور دکھ بھی ہوا۔ انہوں نے لاکھ سمجھایا، بجھایا، ڈرایا، دھمکایا لیکن عبد اللہ صاحب ٹس سے مس نہ ہوئے۔

"کیا تم اپنی بوڑھی ماں کو قوم کے مفاد پر ترجیح دیتے ہو؟" سر سید نے کڑک کر پوچھا۔

"جی ہاں" عبد اللہ صاحب نے جواب دیا۔

یہ ٹکا سا جواب سن کر سر سید آپے سے باہر ہو گئے۔ کمرے کا دروازہ بند کر کے پہلے انہوں نے عبد اللہ صاحب کو لاتوں، مکوں، تھپڑوں اور جوتوں سے خوب پیٹا اور کالج کی نوکری سے برخواست کر کے یہ کہہ کر علی گڑھ سے نکال دیا "اب تم ایسی جگہ جا کر مرو جہاں سے میں تمہارا نا م بھی نہ سن سکوں۔"

عبد اللہ صاحب جتنے سعادت مند بیٹے تھے، اتنے ہی سعادت مند شاگرد بھی تھے۔ نقشے پر انہیں سب سے دور افتادہ اور دشوار گزار مقام گلگت نظر آیا۔ چنانچہ وہ ناک کی سیدھ میں گلگت پہنچے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں کی گورنری کے عہدے پر فائز ہو گئے۔

جن دنوں ماں جی کی منگنی کی فکر ہو رہی تھی انہی دنوں عبد اللہ صاحب بھی چھٹی پر گاؤں آئے ہوئے تھے۔ قسمت میں دونوں کا سنجوگ لکھا ہوا تھا۔ ان کی منگنی ہو گئی اور ایک ماہ بعد شادی بھی ٹھہر گئی تاکہ عبد اللہ صاحب دلہن کو اپنے ساتھ گلگت لے جائیں۔

منگنی کے بعد ایک روز ماں جی اپنی سہیلیوں کے ساتھ پاس والے گاؤں میں میلہ دیکھنے گئی ہوئی تھیں۔ اتفاقاً یا شاید دانستہ عبد اللہ صاحب بھی وہاں پہنچ گئے۔


ماں جی کی سہیلیوں نے انہیں گھیر لیا اور ہر ایک نے چھیڑ چھیڑ کر ان سے پانچ پانچ روپے وصول کر لئے۔ عبد اللہ صاحب نے ماں جی کو بھی بہت سے روپے پیش کئے کئے لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ بہت اصرار بڑھ گیا تو مجبوراً ماں جی نے گیارہ پیسے کی فرمائش کی۔

"اتنے بڑے میلے میں گیارہ پیسے لے کر کیا کرو گی" عبد اللہ صاحب نے پوچھا۔

اگلی جمعرات کو آپ کے نام سے مسجد میں تیل ڈال دوں گی۔ ما ں جی نے جواب دیا۔

زندگی کے میلے میں بھی عبد اللہ صاحب کے ساتھ ماں جی کا لین دین صرف جمعرات کے گیارہ پیسوں تک ہی محدود رہا۔ اس سے زیادہ رقم نہ کبھی انہوں نے مانگی نہ اپنے پاس رکھی۔

گلگت میں عبد اللہ صاحب کی بڑی شان و شوکت تھی۔ خوبصورت بنگلہ، وسیع باغ، نوکر چا کر، دروازے پر سپاہیوں کا پہرہ۔ جب عبد اللہ صاحب دورے پر باہر جاتے تھے یا واپس آتے تھے تو سات توپوں کی سلامی دی جاتی تھی۔ یوں بھی گلگت کا گور نر خاص سیاسی انتظامی اور سماجی اقتدار کا حامل تھا لیکن ماں جی پر اس سارے جاہ و جلال کا ذرہ بھی اثر نہ ہوا۔ کسی قسم کا چھوٹا بڑا ماحول ان پر اثر انداز نہ ہوتا تھا۔ بلکہ ماں جی کی اپنی سادگی اور خود اعتمادی ہر ماحول پر خاموشی سے چھا جاتی تھی۔

ان دنوں سر مالکم ہیلی حکومتِ برطانیہ کی طرف سے گلگت کی روسی اور چینی سرحدوں پر پولیٹیکل ایجنٹ کے طور پر مامور تھے۔ ایک روز لیڈی ہیلی اور ان کی بیٹی ماں جی سے ملنے آئیں۔ انہوں نے فراک پہنے ہوئے تھے اور پنڈلیاں کھلی تھیں۔ یہ بے حجابی ماں جی کو پسند نہ آئی۔ انہوں نے لیڈی ہیلی سے کہا "تمہاری عمر تو جیسے گزرنی تھی گزر ہی گئی ہے۔ اب آپ اپنی بیٹی کی عاقبت تو خراب نہ کرو۔" یہ کہہ کر انہوں نے مس ہیلی کو اپنے پاس رکھ لیا اور چند مہینوں میں اسے کھانا پکانا، سینا پرونا، برتن مانجھنا، کپڑے دھونا سکھا کر ماں باپ کے پاس واپس بھیج دیا۔

جب روس میں انقلاب برپا ہوا تو لارڈ کچنر سرحدوں کا معائنہ کرنے گلگت آئے۔ ان کے اعزاز میں گورنر کی طرف سے ضیافت کا اہتمام ہوا۔ ماں جی نے اپنے ہاتھ سے دس بارہ قسم کے کھانے پکائے۔ کھانے لذیذ تھے۔ لارڈ کچز نے اپنی تقریر میں کہا "مسٹر گورنر، جس خانساماں نے یہ کھانے پکائے ہیں، براہِ مہربانی میری طرف سے آپ ان کے ہاتھ چوم لیں۔"

دعوت کے بعد عبد اللہ صاحب فرحاں و شاداں گھر لوٹے تو دیکھا کہ ماں جی باورچی خانے کے ایک کونے میں چٹائی پر بیٹھی نمک اور مرچ کی چٹنی کے ساتھ مکئی کی روٹی کھا رہی ہیں۔

ایک اچھے گورنر کی طرح عبد اللہ صاحب نے ماں جی کے ہاتھ چومے اور کہا "اگر لارڈ کچز یہ فرمائش کرتا کہ وہ خود خانساماں کے ہاتھ چومنا چاہتا ہے تو پھر تم کیا کرتیں؟"

"میں" ماں جی تنک کر بولیں۔ "میں اس کی مونچھیں پکڑ کر جڑ سے اکھاڑ دیتی۔ پھر آپ کیا کرتے ؟"

"میں" عبد اللہ صاحب نے ڈرامہ کیا۔ "میں ان مونچھوں کو روئی میں لپیٹ کر وائسرائے کے پاس بھیج دیتا اور تمہیں ساتھ لے کر کہیں اور بھاگ جاتا، جیسے سر سید کے ہاں سے بھاگا تھا۔"

ماں جی پر ان مکالموں کا کچھ اثر نہ ہوتا تھا لیکن ایک بارماں جی رشک و حسد کی اس آگ میں جل بھن کر کباب ہو گئیں جو ہر عورت کا ازلی ورثہ ہے۔

گلگت میں ہر قسم کے احکامات "گورنری" کے نام پر جاری ہوتے تھے۔ جب یہ چرچا ماں جی تک پہنچا تو انہوں نے عبد اللہ صاحب سے گلہ کیا۔

"بھلا حکومت تو آپ کرتے ہیں لیکن گورنری گورنری کہہ کر مجھ غریب کا نام بیچ میں کیوں لایا جاتا ہے خواہ مخواہ!"

عبد اللہ صاحب علی گڑھ کے پڑھے ہوئے تھے۔ رگِ ظرافت پھڑک اٹھی اور بے اعتنائی سے فرمایا۔ بھاگوان یہ تمہارا نام تھوڑا ہے۔ گورنری تو در اصل تمہاری سوکن ہے جو دن رات میرا پیچھا کرتی رہتی ہے۔"

مذاق کی چوٹ تھی۔ عبد اللہ صاحب نے سمجھا بات آئی گئی ہو گئی لیکن ماں جی کے دل میں غم بیٹھ گیا۔ اس غم میں وہ اندر ہی اندر کڑھنے لگیں۔

کچھ عرصہ کے بعد کشمیر کا مہاراجہ پرتاب سنگھ اپنی مہارانی کے ساتھ گلگت کے دورے پر آیا۔ ماں جی نے مہارانی سے اپنے دل کا حال سنایا۔ مہارانی بھی سادہ عورت تھی۔ جلال میں آ گئی "ہائے ہائے ہمارے راج میں ایسا ظلم۔ میں آج ہی مہاراج سے کہوں گی کہ وہ عبد اللہ صاحب کی خبر لیں۔"

جب یہ مقدمہ مہاراجہ پرتاب سنگھ تک پہنچا تو انہوں نے عبد اللہ صاحب کو بلا کر پوچھ گچھ کی۔ عبد اللہ صاحب بھی حیران تھے کہ بیٹھے بٹھائے یہ کیا افتاد آپڑی لیکن جب معاملے کی تہہ تک پہنچے تو دونوں خوب ہنسے۔ آدمی دونوں ہی وضعدار تھے۔ چنانچہ مہاراجہ نے حکم نکالا کہ آئندہ سے گلگت کی گورنری کو وزارت اور گورنر کو وزیر وزارت کے نام سے پکاراجائے۔ 1947ء کی جنگ آزادی تک گلگت میں یہی سرکاری اصطلاحات رائج تھیں۔

یہ حکم نامہ سن کر مہارانی نے ماں جی کو بلا کر خوشخبری سنائی کہ مہاراج نے گورنری کو دیس نکالا دے دیا ہے۔

"اب تم دودھوں نہاؤ، پوتوں پھلو۔" مہارانی نے کہا۔ "کبھی ہمارے لئے بھی دعا کرنا۔"

مہاراجہ اور مہارانی کی کوئی اولاد نہ تھی۔ اس لئے وہ اکثر ماں جی سے دعا کی فرمائش کرتے تھے۔ اولاد کے معاملے میں ماں جی کیا واقعی خوش نصیب تھیں؟ یہ ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس کا جواب آسانی سے نہیں سوجھتا۔

ماں جی خود ہی تو کہا کرتی تھیں کہ ان جیسی خوش نصیب ماں دنیا میں کم ہی ہوتی ہے لیکن اگر صبر و شکر، تسلیم و رضا کی عینک اتار کر دیکھا جائے تو اس خوش نصیب کے پردے میں کتنے دکھ، کتنے غم، کتنے صدمے نظر آتے ہیں۔

اللہ میاں نے ماں جی کو تین بیٹیاں اور تین بیٹے عطا کئے۔ دو بیٹیاں شادی کے کچھ عرصہ بعد یکے بعد دیگرے فوت ہو گئیں۔ سب سے بڑا بیٹا عین عالم شباب میں انگلستان جا کر گزر گیا۔

کہنے کو تو ماں جی نے کہہ دیا کہ اللہ کا مال تھا اللہ نے لے لیا لیکن کیا وہ اکیلے میں چھپ چھپ کر خون کے آنسو رویا نہ کرتی ہوں گی!

جب عبد اللہ صاحب کا انتقال ہوا تو ان کی عمر باسٹھ سال اور ماں جی کی عمر پچپن سال تھی۔ سہ پہر کا وقت تھا۔ عبد اللہ صاحب بان کی کھردری چارپائی پر حسب معمول گاؤ‮‫‫ تکیہ لگا کر نیم دراز تھے۔ ماں جی پائنتی بیٹھی چاقو سے گنا چھیل چھیل کر ان کو دے رہی تھیں۔ وہ مزے مزے سے گنا چوس رہے تھے اور مذاق کر رہے تھے۔ پھر یکا یک سنجیدہ ہو گئے اور کہنے لگے۔ "بھاگوان شادی سے پہلے میلے میں میں نے تمہیں گیارہ پیسے دئے تھے کیا ان کو واپس کرنے کا وقت نہیں آیا؟"

ماں جی نے نئی دلہنوں کی طرح سر جھکا لیا اور گنا چھیلنے میں مصروف ہو گئیں۔ ان کے سینے میں بیک وقت بہت خیال امڈ آئے۔ "ابھی وقت کہاں آیا ہے۔ سرتاج شادی کے پہلے گیارہ پیسوں کی تو بڑی بات ہے لیکن شادی کے بعد جس طرح تم نے میرے ساتھ نباہ کیا ہے اس پر میں نے تمہارے پاؤں دھو کر پینے ہیں۔ اپنی کھال کی جوتیاں تمہیں پہنانی ہیں۔ ابھی وقت کہاں آیا ہے میرے سرتاج۔"

لیکن قضا و قدر کے بہی کھاتے میں وقت آچکا تھا۔ جب ماں جی نے سر اٹھایا تو عبد اللہ صاحب گنے کی قاش منہ میں لئے گاؤ تکیہ پر سو رہے تھے۔ ماں جی نے بہتیرا بلایا، ہلایا، چمکارا لیکن عبد اللہ صاحب ایسی نیند سو گئے تھے جس سے بیداری قیامت سے پہلے ممکن ہی نہیں۔

ماں جی نے اپنے باقی ماندہ دو بیٹوں اور ایک بیٹی کو سینے سے لگا لگا کر تلقین کی "بچہ رونا مت۔ تمہارے ابا جی جس آرام سے سو رہے تھے، اسی آرام سے چلے گئے۔ اب رونا مت۔ ان کی روح کو تکلیف پہنچے گی۔"

کہنے کو تو ماں جی نے کہہ دیاکہ اپنے ابا کی یاد میں نہ رونا، ورنہ ان کو تکلیف پہنچے گی لیکن کیا وہ خود چوری چھپے اس خاوند کی یاد میں نہ روئی ہو ں گی جس نے باسٹھ سال کی عمر تک انہیں ایک الہڑ دلہن سمجھا اور جس نے گورنری کے علاوہ اور کوئی سوکن اس کے سرپر لا کر نہیں بٹھائی۔

جب وہ خود چل دیں تو اپنے بچوں کے لئے ایک سوالیہ نشان چھوڑ گئیں، جو قیامت تک انہیں عقیدت کے بیابان میں سرگرداں رکھے گا۔

اگر ماں جی کے نام پرخیرات کی جائے تو گیارہ پیسے سے زیادہ ہمت نہیں ہوتی، لیکن مسجد کا ملا پریشان ہے کہ بجلی کا ریٹ بڑھ گیا ہے اور تیل کی قیمت گراں ہو گئی ہے۔

ماں جی کے نام پر فاتحہ دی جائے تو مکئی کی روٹی اور نمک مرچ کی چٹنی سامنے آتی ہے لیکن کھانے والا درویش کہتا ہے کہ فاتحہ درود میں پلاؤ اور زردے کا اہتمام لازم ہے۔

ماں جی کا نام آتا ہے تو بے اختیار رونے کو جی چاہتا ہے لیکن اگر رویا جائے تو ڈر لگتا ہے کہ ان کی روح کو تکلیف نہ پہنچے اور اگر ضبط کیا جائے تو خدا کی قسم ضبط نہیں ہوتا۔


مٹی کی مونا لیزا

(اے۔ حمید)

مونا لیزا کی مسکراہٹ میں کیا بھید ہے؟

اس کے ہونٹوں پر یہ شفق کا سونا، سورج کا جشن طلوع ہے یا غروب ہوتے ہوئے آفتاب کا گہرا ملال؟ ان نیم وا متبسم ہونٹوں کے درمیان یہ باریک سی کالی لکیر کیا ہے؟ یہ طلوع و غروب کے عین بیچ میں اندھیرے کی آبشار کہاں سے گر رہی ہے؟ ہرے ہرے طوطوں کی ایک ٹولی شور مچاتی امرود کے گھنے باغوں کے اوپر سے گزرتی ہے۔ ویران باغ کی جنگلی گھاس میں گلاب کا ایک زرد شگوفہ پھوٹتا ہے۔ آم کے درختوں میں بہنے والی نہر کی پلیا پر سے ایک ننگ دھڑنگ کالا لڑکا ریتلے ٹھنڈے پانی میں چھلانگ لگاتا ہے اور پکے ہوئے گہرے بسنتی آموں کا میٹھا رس مٹی پر گرنے لگتا ہے۔

سینما ہال کے بک سٹال پر کھڑے میں اس میٹھے رس کی گرم خوشبو سونگھتا ہوں اور ایک آنکھ سے انگریزی رسالے کو دیکھتے ہوئے دوسری آنکھ سے ان عورتوں کو دیکھتا ہوں جنہیں میں نے فلم شروع ہونے سے پہلے سب سے اونچے درجوں کی ٹکٹوں والی کھڑکی پر دیکھا تھا۔ اس سے پہلے انہیں سبز رنگ کی لمبی کار میں نکلتے دیکھا تھا اور اس سے پہلے بھی شاید انہیں کسی خواب کے ویرانے میں دیکھا تھا۔ ایک عورت موٹی، بھدی، جسم کا ہر خم گوشت میں ڈوبا ہوا، آنکھوں میں کاجل کی موٹی تہہ، ہونٹوں پر لپ سٹک کا لیپ، کانوں میں سونے کی بالیاں، انگلیوں پر نیل پالش، کلائیوں میں سونے کے کنگن، گلے میں سونے کا ہار، سینے میں سونے کا دل، ڈھلی ہوئی جوانی، ڈھلا ہوا جسم، چال میں زیادہ خوشحالی اور زیادہ خوش وقتی کی بیزاری، آنکھوں میں پرخوری کا خمار اور پیٹ کے ساتھ لگایا ہوا بھاری زرتار پرسدوسری لڑکیالٹرا ماڈرن، الٹرا سمارٹ، سادگی بطور زیور اپنائے ہوئے، دبلی پتلی، سبز رنگ کی چست قمیض، کٹے ہوئے سنہرے بال، کانوں میں چمکتے ہوئے سبز نگینے، کلائی میں سونے کی زنجیر والی گھڑی اور دوپٹے کی رسی گلے میں، گہرے شیڈ کی پنسل کے ابرو، آنکھوں میں پرکار سحرکاری، گردن کھلے گریبان میں سے اوپر اٹھی ہوئی، دائیں جانب کو اس کا ہلکا سا مغرور خم، ڈورس ڈے کٹ کے بال، بالوں میں یورپی عطر کی مہک، دماغ گزری ہوئی کل کے ملال سے نا آشنا، دل آنے والی کل کے وسوسوں سے بے نیاز، زندگی کی بھر پور خوشبوؤں اور مسرتوں سے لبریز جسم، کچھ رکا رکا سا متحرک سا، کچھ بڑبڑاتا ہوا۔ اس دودھ کی طرح جسے ابال آنے ہی والا ہو۔ سر اینگلو پاکستان، لباس پنجابی، زبان انگریزی اور دل نہ تیرا نہ میرا۔

بک اسٹال والا انہیں اندر داخل ہوتے دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا اور کٹھ پتلی کی طرح ان کے آگے پیچھے چکر کھانے لگا۔ اس نے پنکھا تیز کر دیا۔ کیونکہ لڑکی بار بار اپنے ننھے ریشمی رومال سے ماتھے کا پسینہ پونچھ رہی تھی۔ موٹی عورت نے مسکرا کر پوچھا۔

"آپ نے "لک" اور وہ "ٹریو سٹوری" نہیں بھجوائے۔

سٹال والا احمقوں کی طرح مسکرانے لگا۔

"وہ جب اب کے ہمارا مال راستے میں رک گیا ہے۔ بس اس ہفتے کے اندر اندر سرٹنلی بھجوا دوں گا۔" موٹی عورت نے کہا۔

"پلیز، ضرور بھجوا دیں۔"

لڑکی نے فوٹو گرافی کا رسالہ اٹھا کر کہا۔

"پلیز اسے پیک کر کے گاڑی میں رکھوا دیں۔"

بک سٹال والا بولا۔

"کیا آپ انٹرول میں جا رہی ہیں۔"

موٹی عورت بولی۔

"یسپکچر بڑی بور ہے۔"

انہوں نے ساڑھے تین روپے کے ٹکٹ لئے تھے۔ پکچر پسند نہیں آئی۔ لمبی کار کا دروازہ کھول دیا اور کار دریا کی پرسکون لہروں کی طرح سات روپوں کے اوپر سے گزر گئی۔ وہ سات روپے جن کے اوپر سے لوہاری دروازے کے ایک کنبے کے پورے سات دن گزرتے ہیں۔

اور لوہاری دروازے کے باہر ایک گندہ نالہ بھی ہے۔ اگر آپ کو اس کنبے سے ملنا ہو تو اس گندے نالے کے ساتھ ساتھ چلے جائیں۔ ایک گلی دائیں ہاتھ کو ملے گی۔ اس گلی میں سورج کبھی نہیں آیا لیکن بدبو بہت آتی ہے۔ یہ بدبو بہت حیرت انگیز ہے۔ اگر آپ یہاں رہ جائیں تو یہ غائب ہو جائے گی۔ یہاں صغراں بی بی رہتی ہے۔ ایک بوسیدہ مکان کی کوٹھڑی مل گئی ہے۔ دروازے پر میلا چیکٹ بوریا لٹک رہا ہے، پردہ کرنے کے لئے جس طرح نئے ماڈل کی شیور لیٹ کار میں سبز پردے لگے ہوتے ہیں۔ صحن کچا اور نم دار ہے۔ ایک چارپائی پڑی ہے۔ ایک طرف چولہا ہے۔ اوپلوں کا ڈھیر ہے۔ دیوار کے ساتھ پکانے والی ہنڈیا مٹی کا لیپ پھیرنے والی ہنڈیا اور دست پناہ لگے پڑے ہیں۔ ایک سیڑھی چڑھ کر کوٹھڑی کا دروازہ ہے۔ کوٹھڑی کا کچا فرش سیلا ہے۔ در و دیوار سے نم دار اندھیرا رس رہا ہے۔ سامنے دو صندوق ایک دوسرے کے اوپر رکھے ہیں۔ صندوق کے اوپر صغراں بی بی نے پرانا کھیس ڈال رکھا ہے۔ کونے میں ایک ٹوکرا لٹا رکھا ہے۔ جس کے اندر دو مرغیاں بند ہیں۔ دیوار میں دو سلاخیں ٹھونک کر اوپر لکڑی کا تختہ رکھا ہے۔ اس تختے پر صغراں بی بی نے اپنے ہاتھ سے اخبار کے کاغذ کاٹ کر سجائے ہیں اور تین گلاس اور چار تھالیاں ٹکا دی ہیں۔ اندر بھی ایک چارپائی بچھی ہے۔ اس چارپائی پر صغراں بی بی کے دو بچے سو رہے ہیں۔ دو بچے اسکول پڑھنے گئے ہیں۔ صغراں بی بی بڑی گھریلو عورت ہے۔ بالکل آئیڈیل قسم کی مشرق عورت۔ خاوند مہینے کی آخری تاریخوں میں پٹائی کرتا ہے تو رات کو اس کی مٹھیاں بھرتی ہے۔ وہ لات مارتا ہے تو صغراں بی بی اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ دیتی ہے۔ کہیں خاوند کے پاؤ ں کو چوٹ نہ آ جائے۔ کتنی آئیڈیل عورت ہے یہ صغراں بی بی یقیناً ایسی ہی عورتوں کے سر پر دوزخ اور پاؤں کے نیچے جنت ہوتی ہے۔ خاوند ڈاکیہ ہے۔ ساٹھ روپے کی کثیر رقم ہر مہینے کی پہلی کو لاتا ہے۔ پانچ روپے کوٹھڑی کا کرایہ، پانچ روپے دونوں بچوں کے اسکول کی فیس، بیس روپے دودھ والے کے اور تیس روپے مہینے بھر کے راشن کے باقی جو پیسے بچتے ہیں ان میں یہ لوگ بڑے مزے سے گزر بسر کرتے ہیں۔ کبھی کبھی صغراں بی بی ساڑھے تین روپوں والی کلاس میں بیٹھ کر فلم بھی دیکھ آتی ہے اور اگر پکچر بور ہو تو انٹرول میں اٹھ کر لمبی کار میں بیٹھ کر اپنے گھر آ جاتی ہے۔ بک سٹال والا ہر مہینے انگریزی رسالہ "لک" اور "لائف" اسے گھر پر ہی پہنچا دیتا ہے۔ وہ کھانے کے بعد میٹھی چیز ضرور کھاتی ہے۔ دودھ کی کریم میں ملے ہوئے انناس کے قتلے صغراں بی بی اور اس کے خاوند ڈاکئے کو بہت پسند ہیں۔ کریم کو محفوظ رکھنے کے لئے انہوں نے اپنی کوٹھڑی کے اندر ایک ریفریجریٹر بھی لا کر رکھا ہوا ہے۔ صغراں بی بی کا خیال ہے کہ وہ اگلی تنخواہ پر کوٹھڑی کو ائرکنڈیشنڈ کروا لے کیونکہ گرمی حبس اور گندے نالے کی بدبو کی وجہ سے اس کے سارے بچوں کے جسموں پر دانے نکل آتے ہیں اور رات بھر انہیں اٹھ اٹھ کر پنکھا جھلتی رہتی ہے۔ صغراں بی بی نے ایک ریڈیو گرام کا آرڈر بھی دے رکھا ہے۔


مائی گاڈ وھاٹ اے لولی ہوم از دس۔ ہوم! سویٹ ہوم!

(My God! What a lovely home is this۔ Home، Sweet Home!)

صغراں بی بی کا رنگ ہلدی کی طرح ہے اور ہلدی ٹی بی کے مرض میں بے حد مفید ہے۔ اس کے ہاتھوں میں کانچ کی چوڑیاں ہیں۔

مہینے کے آخر میں جب اس کا خاوند اسے پیٹتا ہے تو ان میں سے اکثر ٹوٹ جاتی ہیں۔ چنانچہ اب وہ اس ہر ماہ کے خرچ سے بچنے کے لئے سونے کے موٹے کنگن بنوا رہی ہے۔ کم از کم وہ ٹوٹ تو نہیں سکیں گے۔ صغراں بی بی کے چاروں بچوں کا رنگ بھی زرد ہے اور ہڈیا ں نکلی ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر نے کہا ہے انہیں کیلشیم کے ٹیکے لگاؤ۔ ہر روز صبح مکھن، پھل، انڈے، گوشت اور سبزیاں دو۔ شام کو اگر یخنی کا ایک ایک پیالہ مل جائے تو بہت اچھا ہے اور ہاں انہیں جس قدر ممکن ہو گندے کمروں، بد بو دار محلوں اور اندھیری کوٹھڑیوں سے دور رکھو۔ صغراں بی بی کا خیال ہے کہ وہ اگلی سے اگلی تنخواہ پر گلبرگ یا کینال پارک میں کسی جگہ ان بچوں کے لئے زمین کا چھوٹا سا ٹکڑا لے کر وہاں ایک چھوٹا سا تین چار کمروں والا مکان بنوا لے گی۔ دو چھوٹے بچے اب اسکول بھی نہیں جاتے لیکن انشاءاللہ تعالیٰ وہ بھی ایک دن سکول جانا شروع کر دیں گے اور جو دو بچے مزید پیدا ہوں گے وہ بھی سکول ضرور جائیں گے۔ اب کی دفعہ وہ انہیں کانونٹ میں داخل کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جہاں وہ ہر صبح خدا کے بیٹے کی دعا پڑھیں۔ صغراں بی بی کو ممی کہیں، فرفر انگریزی بولیں اور اردو فارسی پڑھ کر تیل بیچنے کی بجائے مقابلے کے امتحان میں بیٹھیں اور اونچا مرتبہ اور لمبی کار اور چوڑے لان والی کوٹھی پائیں۔

کیلشیم کے ٹیکوں کا پورا سیٹ بیس روپے میں آتا ہے۔ یہ تو معمولی بات ہے۔ اب کی وہ اپنے خاوند سے کہے گی کہ ڈاک خانے سے پہلی تاریخ کو گھر آتے ہوئے دو سیٹ لیتے آؤ۔ اپنی کوٹھڑی والا ریفریجریٹر اس نے لال لال سیبوں، سرخ اناروں، موٹے انگوروں، مکھن کی ٹکیوں، تازہ انڈوں اور گوشت کے قتلوں سے بھر دیا ہے۔ بچے سارا مہینہ مزے سے کھائیں گے اور موج اڑائیں گے لیکن خدا کی دی ہوئی ہر نعمت کے ہوتے ہوئے بھی صغراں بی بی کے رخسار کی ہڈیاں باہر کو نکلی ہوئی ہیں۔ کمر میں مستقل درد رہتا ہے، چہرہ زرد ہو کر پیلا پر گیا ہے۔ آنکھیں پھٹی پھٹی سی، ویران ویران سی رہتی ہیں۔ ان آنکھوں نے کیا دیکھ لیا ہے؟ اس کی عمر پچیس سال سے زیادہ نہیں۔ مگر اس کا جسم ڈھل گیا ہے۔ اندر ہی اندر گھل گیا ہے۔ ہاتھ کی نسیں ابھر آئی ہیں۔ کنگھی کرتے ہوئے ڈھیروں بال جھڑتے ہیں۔ ہاتھ پیر ہر وقت ٹھنڈے رہتے ہیں جس طرح ریفریجریٹر میں کریم، پھل اور گوشت ٹھنڈا رہتا ہے۔ صغراں بی بی کی شادی کو پانچ سال ہو گئے ہیں اور خاوند نے اسے صرف چار بچے عطا کئے ہیں۔ خدا اسے سلامت رکھے ابھی اور بچے پیدا ہو ں گے۔ ہر پہلی تاریخ کو اس کے خاوند کو صغراں بی بی سے محبت ہو جاتی ہے۔ جب بیس روپے دودھ والا لے جاتا ہے تو محبت کے اس تاج کا ایک برج گرتا ہے۔ پانچ روپے کرایہ جاتا ہے تو دوسرا برج گرتا ہے۔ پھر بچوں کی فیسیں، کاپیاں، پنسلیں، کتابیں، راشن، دال، آٹا، نمک، مرچ، ہلدی، اوپلے، کپڑا، پریشانی، تفکرات، وسوسے، ملال اور نا امیدیاں اور یہ تاج محل گنبد سمیت زمین کے ساتھ آن لگتا ہے اور خاوند اپنی محبت کی پٹاری میں سے ڈنڈا نکال کر اپنی پہلی تاریخ کی محبوبہ کی پٹائی شروع کر دیتا ہے۔

ونڈر فول ہوم!

"ڈیڈی! آج آپ کامک نہیں لائے!"

"او ممی! یہ جیلی گندی ہے اسے پھینک دیں۔"

"کم آن ڈارلنگ صغراں بی بی! آج الحمرا میں کلچرل شو دیکھیں۔ ڈانس، میوزک، وھاٹ اے تھرل! ہنی! بس یہ وائیٹ ساڑھی خوب میچ کرے گی اور اس کے ساتھ بالوں میں سفید موتیے کے پھولوں کا گجراما ئی مائی! یو آر سویٹ ڈارلنگ صغراں بی بی!"

ندی کنارے یہ کاٹیج کس قدر خوبصورت ہے۔ سرسبز لان، ترشی ہوئی گھاس، قطار میں لگے ہوئے پھولوں کے پودےایک ملازم غسل خانے میں لکس صابن سے کتے کو نہلا رہا ہے۔ اس کے بعد تولیے سے اس کا جسم خشک کیا جائے گا۔ کنگھی پھیری جائے گی۔ گلے میں ایپرن باندھا جائے گا اور اسے دو آدمیوں کا کھانا کھلا جائے گا اور پھر فورڈ کار میں بیٹھ کر مال روڈ کی سیر کروائی جائے گی۔ آج اگر گوتم بدھ زندہ ہوتا تو وہ جانوروں کے ساتھ انسانوں کی اتنی شدید محبت کو دیکھ کر کتنا خوش ہوتا۔ آج اسے انسانی دکھوں اور مصیبتوں کو دیکھ کر محل چھوڑ کر جنگل میں جا بیٹھنے کی کبھی بھی ضرورت محسوس نہ ہوتی بلکہ وہ محل ہی میں اپنی بیوی بچے اور اور لونڈیوں کے ساتھ رہتا۔ کتوں کی ایک پوری فوج رکھتا، شام کو کلب میں جا کر دوستوں کے ساتھ تاش کھیلتا، سینما دیکھتا اور بچوں کو ساتھ لے کر انہیں کار میں سیر کرواتا۔ اس کے بچے رنگ دار قمیض اور جینز پہن کر گردن اکڑا کر، چھوٹی سی چھاتی پھلا کر، پتلی سی کمر مٹکا کر، کالج والے بس سٹاپوں، اعلٰی ہوٹلوں اور ناچ گھروں کے چکر لگاتے۔ وہ رات کو ایک بجے سوتے اور صبح منہ اندھیرے گیارہ بجے اٹھتے اور دانت صاف کئے بغیر چائے پیتے، اخبار میں فلموں کا پروگرام دیکھتے۔ گرمیاں کبھی مری اور کبھی سوئٹرز لینڈ میں بسر کرتے اور اپنے باپ کا نام روشن کرتے اور اسے کبھی بال منڈوا کر شاہی لبادہ پھینک کر ننگے پاؤں نروان حاصل کرنے کے لئے جنگل کا رخ نہ کرنے دیتے۔

اف! مائی گڈنس! لوہاری دروازے کی اس گندی گلی میں کس قدر حبس ہے۔ یہ لوگ کیسے چارپائی گندی نالیوں پر ڈال کر سو رہے ہیں۔ وھاٹ اے پٹی! مجھے ان لوگوں سے بڑی گہری ہمدردی ہے۔ میں ان کے تمام مسائل سے واقف ہوں۔ میں ہر ہفتے ان کی پھیکی اور بے رس زندگی پر ایک افسانہ لکھتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ میں ان لوگوں کی زندگی پر ایک پر مغز تحقیقی مقالہ لکھ کر سبمِٹ کروا دوں۔ بڑا ونڈر فل سبجیکٹ ہے۔ ڈاکٹریٹ تو وہ پڑی ہے جس طرح وہ کھری چارپائی پڑی ہے، جس پر تین پھنسیوں زدہ بچے اور ایک بچہ زدہ ماں سو رہی ہے۔ میں ناک پر رومال رکھے، پرنالوں سے اپنے اجلے کپڑے بچاتا، ان لوگوں کا گہرا مطالعہ کرتا بدبو دار گلی سے باہر نکل آیا ہوں۔

لاہور میں قیامت کی گرمی پڑ رہی ہے لیکن اس ہوٹل کی فضا کس قدر خنک ہے، ائیرکنڈیشنر بھی خدا کی کتنی بڑی نعمت ہے۔ آج ہوٹل میں بڑی رونق ہے۔ سایہ دار دھیمے قمقموں کی ملائم روشنی میں لوگوں کے چہرے کتنے خواب آور دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ کہیں خواب ہی تو نہیں۔ میرا خوابصغراں بی بی کا خواب، اس کے ڈاکئے خاوند کا خواب! ہر ی اوم! وہ پونی ٹیل والی لڑکی کتنی پیار ی ہے اور وہ بلیک ٹشو کی چست قمیض والی دوشیزہ جس کے بالوں میں ریل کے گجرے ہیں، کانوں میں زہریلے رنگ کے نگینے ہیں اور جس کا چہرہ باقاعدہ اور قوت بخش غذاؤں کے اثر سے کھانا کھانے والے چاندی کے چمچ کی طرح چمک رہا ہے اور وہ مرغن چہرے والی موٹی عورت جس کی آدھی آستینوں والی قمیض بازوؤں پر گوشت کے اندر دھنس گئی ہے۔ اس عورت کا چہرہ موم کے بت کی طرح ہے۔ بے حس اور ٹھنڈا۔ اس کی گاڑی چودہ گز لمبی ہے اور غسل خانے کا فرش بارہ مربع گز ہے۔ اس نے ریڈیو گرام جرمنی سے منگوایا ہے۔ قالین ایران سے، عطر فرانس سے، کیمرہ امریکہ سے، خاوند پاکستان سے حاصل کیا ہے۔ جتنے پیسوں کا صغراں بی بی کے ہفتے بھر کا راشن آتا ہے اتنے پیسے یہ بیرے کو ٹپ کر دیتی ہے۔ اس کے بنگلے میں چار کتے اور سات بیرے رہتے ہیں۔ یہ ہمیشہ چاندی کے کافی سیٹ میں کافی پیتی ہے۔ چاندی کے برتنوں میں بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ ایک تو انہیں زنگ نہیں لگتا دوسرے وہ نان پوائزنس ہوتے ہیں۔ ایک سیٹ اپنے گھریلو استعمال کے لئے لوہاری دروازے کی گلی والے ڈاکئے کو بھی خرید لینا چاہئے۔

یہ ہوٹل تو بالکل جنت ہے۔ ایک جوڑا سب سے الگ بیٹھا ہے۔ لڑکی دبلی پتلی سی ہے۔ چست کپڑوں نے اسے اور دبلا بنا دیا ہے۔ بال ماتھے پر ہیں۔ ناخنوں پر ریڈ انڈین گلابی رنگ کا پالش چمک رہا ہے۔ اسی شیڈ کی لپ اسٹک کی ہلکی سی تہہ پتلے پتلے ہونٹوں پر ہے۔ چہرے پر نسوانی نزاکت کے ساتھ ساتھ جذبات کا دھیما دھیما ہیجان سا ہے۔ کان اپنے ساتھی کی باتوں پر ہیں اور بے چین آنکھیں موقع ملنے پر ایک ایک میز کا جائزہ لے رہی ہیں۔ لڑکے کی گردن کالی بو اور بارڈر کالر میں بری طرح پھنسی ہوئی ہے۔ ان کے سامنے کولڈ کافی کے گلاس ہیں۔


"روشی ڈارلنگ! میں پرومس کرتا ہوں کل سے صنوعی کے ساتھ کوئی کنسرن نہیں رکھوں گا۔"

"شٹ اپ بگ لائرتم مجھ سے فلرٹ کر رہے ہو۔"

"فار گاڈ سیک ڈونٹ تھنک لائیک دیٹآئی نو یو ڈارلنگ!"

"لائیجھوٹ، بالکل جھوٹ۔"

"میں یو کے سے واپس آتے ہی تم سے شادی کر لوں گا۔"

"تم وہاں شادی کر کے آؤ گے۔"

"نونیورتم خود دیکھ لو گی۔ پھر ہم دونوں یو کے چلے جائیں گے اور وہیں جا کر سیٹل ہو جائیں گے۔ میں اس گندے شہر سے بور ہو گیا ہوںبیرا!"

"یس سر۔"

"ایک کریم پف"

"یس سر۔"

"ووڈ یو لائیک مور ڈارلنگ؟"

"نو تھینک یو"

میں بھی سوچ رہا ہوں کہ یو کے جا کے سیٹل ہو جاؤں۔ میں بھی اپنی گندی گلیوں سے بور ہو گیا ہوں۔ شاید میں صغراں بی بی اور اس کی گلی میں کھڑی چارپائی پر ماں کے ساتھ سونے والے پھنسی زدہ بچوں کو بھی لیتا جاؤں۔

"بیراتھری سکویش مور۔"

اوپر گیلری کو جانے والی سیڑھیوں کے پاس والی میز پر تین میڈیکل سٹوڈنٹ بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔ گفتگو برشی باردوت کے کولھوں، ایگا تھا کرسٹی کے ناولوں اور پکاڈلی کی پر اسرار گلیوں سے ہو کر میڈیکل پیشے میں آ کر ٹھہر گئی ہے۔

"یار! میں تو فائنل سے نکل کر سیدھا لندن چلا جاؤں گا۔ یہاں کوئی فیوچر نہیں ہے۔"

"بالکلمیں بھی وہیں جا کر پریکٹس کروں گا۔ برادر وہاں پیسہ بھی ہے اور مریض بھی بڑے پالشڈ ہوتے ہیں۔"

"یار میں تو یو کے جا کر کینسر ٹریٹمنٹ میں سپیشلائز کروں گا۔ یہاں کینسر سپیشلسٹ کے بڑے چانسز ہیں۔ بیس روپے فیس رکھوں گا اور ایک سال بعد اپنا کریم کلر کی ففٹی ایٹ ماڈل شو ہو گی اور گلبرگ میں ایک کوٹھی"

"بھئی یار تم نے ہل مین کیوں بیچ دی؟"

"چھکڑا ہو گئی تھی۔ آئل بڑا کھانے لگی تھی۔"

"شی!مس قریشی آ رہی ہے۔"

"صدیقی! تم نے اس کی بڑی بہن مسز ارشاد کو پرسوں گرفن میں دیکھا تھا؟ ارے بھئی۔ تم ساتھ ہی تو تھے۔ کیا کلاس ون عورت ہے۔"

"نو ڈاؤٹبالکل لولو بریجڈا"

سب لوگ پاکستان سے باہر جا رہے ہیں۔ کوئی برشی باردوت کے پاس، کوئی لولو بریجڈا کے پاس، کسی کو بیوی لئے جار ہی ہے، کوئی بیوی کو لئے جا رہا ہے، کسی کو پیسہ کھینچ رہا ہے اور کسی کو پالشڈ قسم کے مریض۔ ہم لوگ کہاں جائیں؟ میرا بھائی ڈاکیہ کہاں جائے گا؟ صغراں بی بی کہا ں جائے گی؟ اس کے بیمار بچوں کا علاج کون کرے گا؟ مثانے کی بیماری میں نیم حکیم سے گردے کی درد کی دوا کھا جانے والے دیہاتی کہاں جائیں گے؟ ان لوگوں کا علاج پاکستان میں کون کرے گا؟ کونے والی میز پر ایک پاکستانی آدمی امریکیوں کی طرح کندھے اچکا کر اپنے ساتھی کو کہہ رہا ہے۔ "بڑی پرابلم بن گئی ہے۔"

"کیسی پرابلم؟"۔

سب ڈرائینگ روم لورز ہیں، ٹھنڈی نشست گاہوں میں، انناس کے قتلے اور کولڈ کافی کا گلاس سامنے رکھ کر محبت کی سرد آہیں بھرنے والے عاشق ہیں۔ یوکلپٹس کی پتیوں کا فرنچ عطر کانوں پر لگا کر کہانیاں لکھنے والے افسانہ نگار ہیں۔ قوم، مذہب، ملت اور سیاست کے نام پر اپنی گاڑیوں میں پٹرول ڈلوانے والے اور اپنی کوٹھیوں میں نئے کمرے بنوانے والے درد مندانِ قوم ہیں۔ عشرت انگیزی ہے، تصنع آمیزی ہے، زر پرستی ہے، خود پسندی ہے، جعلی سکے ہیں کہ ایک کے بعد بنتے چلے جا رہے ہیں۔ روشنی کے داغ ہیں کہ ایک کے بعد ایک ابھرتے چلے جا رہے ہیں۔ انہیں صغراں بی بی کے بچوں کی پھنسیوں سے کوئی سروکار نہیں۔ انہیں اس کے ڈاکیے خاوند کے تاج محل کی بربادی کا کوئی علم نہیں۔ انہیں کھرّی چارپائی پر گندے نالے کے پاس رات بسر کرنے والوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ دھان زمین میں اگتا ہے یا درختوں پر لگتا ہے انہیں کوئی خبر نہیں۔ یہ اپنے ملک میں اجنبی ہیں۔ یہ اپنے گھر میں مسافر ہیں۔ یہ اپنوں میں بیگانے ہیں۔ چیک بک، پاسپورٹ، کار کی چابی، کوٹھی اور لائسنسیہی ان کا پاکستان ہے۔ یہ وہ باسی کھانے ہیں جن کی تازگی ریفریجریٹر بھی برقرار نہ رکھ سکا۔ یہ دو سورجوں کے دمیان کا پردہ ہیں۔ یہ کھلے ہوئے متبسم لبوں کے درمیان تاریک لکیر ہیں۔ یہ اس غار کے منہ پر تنا ہوا جالا ہیں جہاں چاند طلوع ہو رہا ہے

اب رات آسمان کی راکھ میں سے تاروں کے انگارے کریدنے لگی ہے۔ لوہاری دروازے کی تنگ و تاریک گلی میں حبس ہے، بدبو ہے، گرمی ہے، مچھر ہیں، پسینہ ہے، ٹوٹی پھوٹی کھڑی چارپائیوں کی بینگی ٹیڑھی قطاریں ہیں، نالیوں پر جمی ہوئی گندگی ہے۔ چارپائیوں سے نیچے لٹکتی ہوئی گلی کے فرش پر لگی ہوئی ٹانگیں ہیں۔ کمزور باسی چہرے ہیں۔ پھٹے پھٹے ہونٹ ہیں۔ صغراں بی بی اپنے چاروں بچوں کو پنکھا جھل رہی ہے۔ کوٹھڑی میں حبس کے مارے دم گھٹا جا رہا ہے۔ گندے نالے والی کھڑکی میں گرم ایشیائی رات کے سبز چاند کی جگہ اوپلوں کا ڈھیر پڑا سلگ رہا ہے۔ اس کاڈاکیہ خاوند پاس ہی پڑا خراٹے لے رہا ہے۔ پنکھا جھلتے جھلتے اب صغراں بی بی بھی اونگھنے لگی ہے۔ اب پنکھا اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر پڑا ہے۔ اب کمرے میں اندھیرا ہے۔ خاموشی ہے۔ چار بچوں کے درمیان سوئی ہوئی مٹی کی مونا لیزا کے ہونٹ نیم وا ہیں۔ چہرہ کھنچ کر بھیانک ہو گیا ہے۔ آنکھوں کے حلقے گہرے ہو گئے ہیں اور رخساروں پر موت کی زردی چھا گئی ہے۔ اس پر کسی ایسے بوسیدہ مقبرے کا گمان ہو رہا ہے، جس کے گنبد میں دراڑیں پڑ گئی ہوں، جس کے تعویذ پر کوئی اگر بتی نہ سلگتی ہو اور جس کے صحن میں کوئی پھول نہ کھلتا ہو۔


مہا لکشمی کا پل

(کرشن چندر)

مہا لکشمی کے اسٹیشن کے اس پار لکشمی جی کا ایک مندر ہے۔ اسے لوگ ریس کورس بھی کہتے ہیں۔ اس مندر میں پوجا کرنے والے ہارتے زیادہ ہیں جیتتے بہت کم ہیں۔ مہا لکشمی سٹیشن کے اس پار ایک بہت بڑی بدرو ہے جو انسانی جسموں کی غلاظت کو اپنے متعفن پانیوں میں گھولتی ہوئی شہر سے باہر چلی جاتی ہے۔ مندر میں انسان کے دل کی غلاظت دھلتی ہے اور اس بدرو میں انسان کے جسم کی غلاظت اور ان دونوں کے بیچ میں مہا لکشمی کا پل ہے۔ مہا لکشمی کے پل کے اوپر بائیں طرف لوہے کے جنگلے پر چھ ساڑھیاں لہرا رہی ہیں۔ پل کے اس طرح ہمیشہ اس مقام پر چند ساڑھیاں لہراتی رہتی ہیں۔ یہ ساڑھیاں کوئی بہت قیمتی نہیں ہیں۔ ان کے پہننے والے بھی کوئی بہت زیادہ قیمتی نہیں ہیں۔ یہ لوگ ہر روز ان ساڑھیوں کو دھو کر سوکھنے کے لئے ڈال دیتے ہیں اور ریلوے لائن کے آر پار جاتے ہوئے لوگ، مہا لکشمی اسٹیشن پر گاڑی کا انتظار کرتے ہوئے لوگ، گاڑی کی کھڑکی اور دروازوں سے جھانک کر باہر دیکھنے والے لوگ اکثر ان ساڑھیوں کو ہوا میں جھولتا ہوا دیکھتے ہیں۔ وہ ان کے مختلف رنگ دیکھتے ہیں۔ بھورا، گہرا بھورا، مٹ میلا نیلا، قرمزی بھورا، گندا سرخ کنارہ گہرا نیلا اور لال، وہ لوگ اکثر انہی رنگوں کو فضا میں پھیلے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ایک لمحے کے لئے۔ دوسرے لمحے میں گاڑی پل کے نیچے سے گزر جاتی ہے۔

ان ساڑھیوں کے رنگ اب جاذبِ نظر نہیں رہے۔ کسی زمانہ میں ممکن ہے جب یہ نئی خریدی گئی ہوں، ان کے رنگ خوبصورت اور چمکتے ہوئے ہوں، مگر اب نہیں ہیں۔ متواتر دھوئے جانے سے ان کے رنگوں کی آب و تاب مر چکی ہے اور اب یہ ساڑھیاں اپنے پھیکے سیٹھے روزمرہ کے انداز کو لئے بڑی بے دلی سے جنگلے پر پڑی نظر آتی ہیں۔ آپ دن میں انہیں سو بار دیکھیں۔ یہ آپ کو کبھی خوب صورت دکھائی نہ دیں گی۔ نہ ان کا رنگ روپ اچھا ہے نہ ان کا کپڑا۔ یہ بڑی سستی، گھٹیا قسم کی ساڑھیاں ہیں۔ ہر روز دھلنے سے ان کا کپڑا بھی تار تار ہو رہا ہے۔ ان میں کہیں کہیں روزن بھی نظر آتے ہیں۔ کہیں ادھڑے ہوئے ٹانکے ہیں۔ کہیں بد نما داغ جو اس قدر پائیدار ہیں کہ دھوئے جانے سے بھی نہیں دھلتے بلکہ اور گہرے ہوتے جاتے ہیں۔ میں ان ساڑھیوں کی زندگی کو جانتا ہوں کیونکہ میں ان لوگوں کو جانتا ہوں جو ان ساڑھیوں کو استعمال کرتے ہیں۔ یہ لوگ مہا لکشمی کے پل کے قریب ہی بائیں طرف آٹھ نمبر کی چال میں رہتے ہیں۔ یہ چال متوالی نہیں ہے بڑی غریب کی چال ہے۔ میں بھی اسی چال میں رہتا ہوں، اس لئے آپ کو ان ساڑھیوں اور ان کے پہننے والوں کے متعلق سب کچھ بتا سکتا ہوں۔ ابھی وزیر اعظم کی گاڑی آنے میں بہت دیر ہے۔ آپ انتظار کرتے کرتے اکتا جائیں گے اس لئے اگر آپ ان چھ ساڑھیوں کی زندگی کے بارے میں مجھ سے کچھ سن لیں تو وقت آسانی سے کٹ جائے گا۔ ادھر یہ جو بھورے رنگ کی ساڑھی لٹک رہی ہے یہ شانتا بائی کی ساڑھی ہے۔ اس کے قریب جو ساڑھی لٹک رہی ہے وہ بھی آپ کو بھورے رنگ کی ساڑھی دکھائی دیتی ہو گی مگر وہ تو گہرے بھورے رنگ کی ہے۔ آپ نہیں میں اس کا گہرا بھورا رنگ دیکھ سکتا ہوں کیونکہ میں اسے اس وقت سے جانتا ہوں جب اس کا رنگ چمکتا ہوا گہرا بھورا تھا اور اب اس دوسری ساڑھی کا رنگ بھی ویسا ہی بھورا ہے جیسا شانتا بھائی کی ساڑھی کا اور شائد آپ ان دونوں ساڑھیوں میں بڑی مشکل سے کوئی فرق محسوس کر سکیں۔ میں بھی جب ان کے پہننے والوں کی زندگیوں کو دیکھتا ہوں تو بہت کم فرق محسوس کرتا ہوں مگر یہ پہلی ساڑھی جو بھورے رنگ کی ہے وہ شانتا بھائی کی ساڑھی ہے اور جو دوسری بھورے رنگ کی ہے اور جس کا گہرا رنگ بھورا صرف میری آنکھیں دیکھ سکتی ہیں۔ وہ جیونا بائی کی ساڑھی ہے۔

شانتا بائی کی زندگی بھی اس کی ساڑھی کے رنگ کی طرح بھوری ہے۔ شانتا بائی برتن مانجھنے کا کام کرتی ہے۔ اس کے تین بچے ہیں۔ ایک بڑی لڑکی ہے دو چھوٹے لڑکے ہیں۔ بڑی لڑکی کی عمر چھ سال ہو گی۔ سب سے چھوٹا لڑکا دو سال کا ہے۔ شانتا بائی کا خاوند سیون مل کے کپڑ کھاتے میں کام کرتا ہے۔ اسے بہت جلد جانا ہوتا ہے۔ اس لئے شانتا بائی اپنے خاوند کے لئے دوسرے دن کی دوپہر کا کھانا رات ہی کو پکا کے رکھتی ہے، کیونکہ صبح اسے خود برتن صاف کرنے کے لئے اور پانی ڈھونے کے لئے دوسروں کے گھروں میں جانا ہوتا ہے اور اب وہ ساتھ میں اپنے چھ برس کی بچی کو بھی لے جاتی ہے اور دوپہر کے قریب واپس چال میں آتی ہے۔ واپس آ کے وہ نہاتی ہے اور اپنی ساڑھی دھوتی ہے اور سکھانے کے لئے پل کے جنگلے پر ڈال دیتی ہے اور پھر ایک بے حد غلیظ اور پرانی دھوتی پہن کر کھانے پکانے میں لگ جاتی ہے۔ شانتا بائی کے گھر چولہا اس وقت سلگ سکتا ہے جب دوسروں کے ہاں چولھے ٹھنڈے ہو جائیں۔ یعنی دوپہر کو دو بجے اور رات کے نو بجے۔ ان اوقات میں ادھر اور ادھر سے دونوں وقت گھر سے باہر برتن مانجھنے اور پانی ڈھونے کا کام کرنا ہوتا ہے۔ اب تو چھوٹی لڑکی بھی اس کا ہاتھ بٹاتی ہے۔ شانتا بائی برتن صاف کرتی ہے۔ چھوٹی لڑکی برتن دھوتی جاتی ہے۔ دو تین بار ایسا ہوا کہ چھوٹی لڑکی کے ہاتھ سے چینی کے برتن گر کر ٹوٹ گئے۔ اب میں جب کبھی چھوٹی لڑکی کی آنکھیں سوجی ہوئی اور اس کے گال سرخ دیکھتا ہوں تو سمجھ جاتا ہوں کہ کسی بڑے گھر میں چینی کے برتن ٹوٹے ہیں اور اس وقت شانتا بھی میری نمستے کا جواب نہیں دیتی۔ جلتی بھنتی بڑبڑاتی چولہا سلگانے میں مصروف ہو جاتی ہے اور چولہے میں آگ کم اور دھواں زیادہ نکالنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ چھوٹا لڑکا جو دو سال کا ہے دھوئیں سے اپنا دم گھٹتا دیکھ کر چیختا ہے تو شانتا بائی اس کے چینی ایسے نازک رخساروں پر زور زور کی چپتیں لگانے سے باز نہیں آتی اس پر بچہ اور زیادہ چیختا ہے۔ یوں تو یہ دن بھر روتا رہتا ہے کیونکہ اسے دودھ نہیں ملتا ہے اور اسے اکثر بھوک رہتی ہے اور دو سال کی عمر ہی میں اسے باجرے کی روٹی کھانا پڑتی ہے۔ اسے اپنی ماں کا دودھ دوسرے بھائی بہن کی طرح صرف پہلے چھ سات ماہ نصیب ہوا، وہ بھی بڑی مشکل سے۔ پھر یہ بھی خشک باجری اور ٹھنڈے پانی پر پلنے لگا۔ ہماری چال کے سارے بچے اسی خوراک پر پلتے ہیں۔ وہ دن بھر ننگے رہتے ہیں اور رات کو گدڑی اوڑھ کر سو جاتے ہیں۔ سوتے میں بھی وہ بھوکے رہتے ہیں اور جاگتے میں بھی بھوکے رہتے ہیں اور جب شانتا بائی کے خاوند کی طرح بڑے ہو جاتے ہیں تو پھر دن بھر باجری اور ٹھنڈا پانی پی پی کر کام کرتے جاتے ہیں اور ان کی بھوک بڑھتی جاتی ہے اور ہر وقت معدے کے اندر اور دل کے اندر اور دماغ کے اندر اک بوجھل سی دھمک محسوس کرتے ہیں اور جب پگار ملتی ہے تو ان میں سے کئی ایک سیدھے تاڑی خانے کا رخ کرتے ہیں۔ تاڑی پی کر چند گھنٹوں کے لئے یہ دھمک زائل ہو جاتی ہے لیکن آدمی ہمیشہ تو تاڑی نہیں پی سکتا۔ ایک دن پئے گا، دو دن پئے گا، تیسرے دن کی تاڑی کے پیسے کہاں سے لائے گا۔ آخر کھولی کا کرایہ دینا ہے۔ راشن کا خرچہ ہے۔ بھاجی ترکاری ہے۔ تیل اور نمک ہے۔ بجلی اور پانی ہے۔ شانتا بائی کی بھوری ساڑھی ہے جو چھٹے ساتویں ماہ تار تار ہو جاتی ہے۔ کبھی سات ماہ سے زیادہ نہیں چلتی۔ یہ مل والے بھی پانچ روپے چار آنے میں کیسی کھدی نکمی ساڑھی دیتے ہیں۔ ان کے کپڑے میں ذرا جان نہیں ہوتی۔ چھٹے ماہ سے جو تار تار ہونا شروع ہوتا ہے تو ساتویں ماہ بڑی مشکل سے سی کے، جوڑ کے، گانٹھ کے، ٹانگے لگا کے کام دیتا ہے اور پھر وہی پانچ روپے چار آنے خرچ کرنا پڑتے ہیں اور وہی بھورے رنگ کی ساڑھی آ جاتی ہے۔ شانتا کو یہ رنگ بہت پسند ہے اس لئے کہ یہ میلا بہت دیر میں ہوتا ہے۔ اسے گھروں میں جھاڑو دینا ہوتی ہے۔ برتن صاف کرنے ہوتے ہیں، تیسری چوتھی منزل تک پانی ڈھونا ہوتا ہے۔ وہ بھورا رنگ پسند نہیں کرے گی تو کیا کھلتے ہوئے شوخ رنگ گلابی، بسنتی، نارنجی پسند کرے گی۔ وہ اتنی بے وقوف نہیں ہے۔ وہ تین بچوں کی ماں ہے لیکن کبھی اس نے یہ شوخ رنگ بھی دیکھے تھے، پہنے تھے۔ انہیں اپنے دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ پیار کیا تھا۔ جب وہ دھار دار میں اپنے گاؤں میں تھی جہاں اس نے بادلوں میں شوخ رنگوں والی دھنک دیکھی تھی، جہاں میلوں میں اس نے شوخ رنگ ناچتے ہوئے دیکھے تھے، جہاں اس کے باپ کے دھان کے کھیت تھے، ایسے شوخ ہرے ہرے رنگ کے کھیت اور آنگن میں پیرو کا پیڑ جس کے ڈال ڈال سے وہ پیرو توڑ توڑ کر کھایا کرتی تھی۔ جانے اب پیروؤں میں وہ مزا ہی نہیں ہے، وہ شیرینی اور گھلاوٹ ہی نہیں ہے۔ وہ رنگ وہ چمک دمک کہاں جا کے مر گئی اور وہ سارے رنگ کیوں یک لخت بھورے ہو گئے۔ شانتا بائی کبھی برتن مانجھتے مانجھتے کھانا پکاتے، اپنی ساڑھی دھوتے، اسے پل کے جنگلے پر لا کر ڈالتے ہوئے یہ سوچا کرتی ہے اور اس کی بھوری ساڑھی سے پانی کے قطرے آنسوؤں کی طرح ریل کی پٹڑی پر بہتے جاتے ہیں اور دور سے دیکھنے والے لوگ ایک بھورے رنگ کی بد صورت عورت کو پل کے اوپر جنگلے پر ایک بھوری ساڑھی کو پھیلاتے دیکھتے ہیں اور بس دوسری لمحے گاڑی پل کے نیچے سے گزر جاتی ہے۔


جیونا بائی کی ساڑھی جو شانتا بائی کی ساڑھی کے ساتھ لٹک رہی ہے، گہرے بھورے رنگ کی ہے۔ بظاہر اس کا رنگ شانتا بائی کی ساڑھی سے بھی پھیکا نظر آئے گا لیکن اگر آپ غور سے دیکھیں تو اس پھیکے پن کے باوجود یہ آپ کو گہرے بھورے رنگ کی نظر آئے گی۔ یہ ساڑھی بھی پانچ روپے چار آنے کی ہے اور بڑی ہی بوسیدہ ہے۔ دو ایک جگہ سے پھٹی ہوئی تھی لیکن اب وہاں پر ٹانکے لگ گئے ہیں اور اتنی دور سے معلوم بھی نہیں ہوتے۔ ہاں آپ وہ بڑا ٹکڑا ضرور دیکھ سکتے ہیں جو گہرے نیلے رنگ کا ہے اور اس ساڑھی کے بیچ میں جہاں سے یہ ساڑھی بہت پھٹ چکی تھی لگایا گیا ہے۔ یہ ٹکڑا جیونا بائی کی اس سے پہلی ساڑھی کا ہے اور دوسری ساڑھی کو مضبوط بنانے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ جیونا بائی بیوہ ہے اور اس لئے وہ ہمیشہ پرانی چیزوں سے نئی چیزوں کو مضبوط بنانے کے ڈھنگ سوچا کرتی ہے۔ پرانی یادوں سے نئی یادوں کی تلخیوں کو بھول جانے کی کوشش کرتی ہے۔ جیونا بائی اپنے خاوند کے لئے روتی رہتی ہے، جس نے ایک دن اسے نشے میں مار مار کر اس کی آنکھ کانی کر دی تھی۔ وہ اس لئے نشے میں تھا کہ وہ اس روز مل سے نکالا گیا تھا۔ بڈھا ڈھونڈو اب مل میں کسی کام کا نہیں رہا تھا۔ گو وہ بہت تجربے کار تھا لیکن اس کے ہاتھوں میں اتنی طاقت نہ رہی تھی کہ وہ جوان مزدوروں کا مقابلہ کر سکتا بلکہ وہ تو اب دن رات کھانسی میں مبتلا رہنے لگا تھا۔ کپاس کے ننھے ننھے ریشے اس کے پھیپڑوں میں جا کے ایسے دھنس گئے تھے جیسے چرخیوں اور اینٹوں میں سوت کے چھوٹے چھوٹے مہین تاگے پھنس کر لگ جاتے ہیں۔ جب برسات آتی تو یہ ننھے منے ریشے اسے دمے میں مبتلا کر دیتے اور جب برسات نہ ہوتی تو وہ دن بھر اور رات بھر کھانستا۔ ایک خشک مسلسل کھنکار۔۔۔ گھر میں اور کارخانے میں جہاں وہ کام کرتا تھا۔۔۔ سنائی دیتی رہتی تھی۔ مل کے مالک نے اس کھانسی کی خطرناک گھنٹی کو سنا اور ڈھونڈو کو مل سے نکال دیا۔ ڈھونڈو اس کے چھ ماہ بعد مر گیا۔ جیونا بائی کو اس کے مرنے کا بہت غم ہوا۔ کیا ہوا اگر غصے میں آ کے ایک دن اس نے جیونا بائی کی آنکھ نکال دی۔ تیس سال کی شادی شدہ زندگی ایک لمحے پر قربان نہیں کی جا سکتی اور اس کا غصہ بجا تھا۔ اگر مل مالک ڈھونڈو کو یوں بے قصور نوکری سے الگ نہ کرتا تو کیا جیونا کی آنکھ نکل سکتی تھی۔ ڈھونڈو ایسا نہ تھا۔ اسے اپنی بیکاری کا غم تھا۔ اپنی پینتیس سالہ ملازمت سے برطرف ہونے کا رنج تھا اور سب سے بڑا رنج اسے اس بات کا تھا کہ مل مالک نے چلتے وقت اسے ایک دھیلہ بھی تو نہیں دیا تھا۔ پینتیس سال پہلے جیسے ڈھونڈو خالی ہاتھ مل میں کام کرنے آیا تھا اسی طرح خالی ہاتھ واپس لوٹا اور دروازے سے باہر نکلنے پر اور اپنا نمبری کارڈ پیچھے چھوڑ آنے پر اسے ایک دھچکا سا لگا۔ باہر آ کے اسے ایسا معلوم ہوا کہ جیسے ان پینتیس سالوں میں کسی نے اس کا سارا رنگ، اس کا سارا خون اس کا سارا رس چوس لیا ہو اور اسے بیکار سمجھ کر باہر کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر پھینک دیا اور ڈھونڈو بڑی حیرت سے مل کے دروازے کو اور اس بڑی چمنی کو دیکھنے لگا جو بالکل اس کے سر پر خوفناک دیو کی طرح آسمان سے لگی کھڑ ی تھی۔ یکایک ڈھونڈو نے غم اور غصے سے اپنے ہاتھ ملے، زمین پر زور سے تھوکا اور پھر تاڑی خانے چلا گیا۔

لیکن جیونا کی ایک آنکھ جب بھی نہ جاتی، اگر اس کے پاس علاج کے لئے پیسے ہوتے۔ وہ آنکھ تو گل گل کر، سڑ سڑ کر خیراتی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور کمپونڈروں اور نرسوں کی بد احتیاطیوں، گالیوں اور لا پروائیوں کا شکار ہو گئی اور جب جیونا اچھی ہوئی تو ڈھونڈو بیمار پڑ گیا اور ایسا بیمار پڑاکہ پھر بستر سے نہ اٹھ سکا۔ ان دنوں جیونا اس کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ شانتا بائی نے مدد کے طور پر اسے چند گھروں میں برتن مانجھنے کا کام دلوادیا تھا اور گو وہ اب بوڑھی تھی اور مشاقی اور صفائی سے برتنوں کو صاف نہ رکھ سکتی تھی پھر بھی وہ آہستہ آہستہ رینگ رینگ کر اپنے کمزور ہاتھوں میں جھوٹی طاقت کے بودے سہارے پر جیسے تیسے کام کرتی رہی۔ خوبصورت لباس پہننے والی، خوشبودار تیل لگانے والی بیویوں کی گالیاں سنتی رہی اور کام کرتی رہی۔کیونکہ اس کا ڈھونڈو بیمار تھا اور اسے اپنے آپ کو اور اپنے خاوند کو زندہ رکھنا تھا۔ لیکن ڈھونڈو زندہ نہ رہا اور اب جیونا بائی اکیلی تھی۔ خیریت اس میں تھی کہ وہ بالکل اکیلی تھی اور اب اسے صرف اپنا دھندا کرنا تھا۔ شادی کے دو سال بعد اس کے ہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی لیکن جب وہ جوان ہوئی تو کسی بدمعاش کے ساتھ بھاگ گئی اور اس کا آج تک کسی کو پتہ نہ چلا کہ وہ کہاں ہے۔ پھر کسی نے بتایا اور پھر بعد میں بہت سے لوگوں نے بتایا کہ جیونا بائی کی بیٹی فارس روڈ پر چمکیلا بھڑکیلا ریشمی لباس پہنے بیٹھی ہے لیکن جیونا کو یقین نہ آیا۔ اس نے اپنی ساری زندگی پانچ روپے چار آنے کی دھوتی میں بسر کر دی تھی اور اسے یقین تھا کہ اس کی لڑکی بھی ایسا کرے گی۔ وہ ایسا نہیں کرے گی۔ اس کا اسے کبھی خیال نہ آیا تھا۔ وہ کبھی فارس روڈ نہیں گئی کیونکہ اسے یقین تھا کہ اس کی بیٹی وہاں نہیں ہے۔ بھلا اس کی بیٹی وہاں کیوں جانے لگی۔ یہاں اپنی کھولی میں کیا تھا۔ پانچ روپے چار آنے والی دھوتی تھی۔ باجرے کی روٹی تھی۔ ٹھنڈا پانی تھا۔ سوکھی عزت تھی۔ یہ سب کچھ چھوڑ کر فارس روڈ کیوں جانے لگی۔ اسے تو کوئی بدمعاش اپنی محبت کا سبز باغ دکھا کر لے گیا تھا کیونکہ عورت محبت کے لئے سب کچھ کر گزرتی ہے۔ خود وہ تیس سال پہلے اپنے ڈھونڈو کے لئے اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑ کے چلی نہیں آئی تھی۔ جس دن ڈھونڈو مرا اور جب لوگ اس کی لاش جلانے کے لئے لے جانے لگے اور جیونا نے اپنی سیندور کی ڈبیا اپنی بیٹی کی انگیا پر انڈیل دی جو اس نے بڑی مدت سے ڈھونڈو کی نظروں سے چھپا رکھی تھی۔ عین اسی وقت ایک گدرائے ہوئے جسم کی بھاری عورت بڑا چمکیلا لباس پہنے اس سے آ کے لپٹ گئی اور پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی اور اسے دیکھ کر جیونا کو یقین آگیا کہ جیسے اس کا سب کچھ مر گیا ہے۔ اس کا پتی اس کی بیٹی، اس کی عزتجیسے وہ زندگی بھر روٹی نہیں غلاظت کھاتی رہی ہے۔ جیسے اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔ شروع دن ہی سے کچھ نہیں تھا۔ پیدا ہونے سے پہلے ہی اس سے سب کچھ چھین لیا گیا تھا۔ اسے نہتا، ننگا اور بے عزت کر دیا گیا تھا اور جیونا کو اسی ایک لمحے میں احساس ہوا کہ وہ جگہ جہاں اس کا خاوند زندگی بھر کام کرتا رہا اور وہ جگہ جہاں اس کی آنکھ اندھی ہو گئی اور وہ جگہ جہاں اس کی بیٹی اپنی دکان سجا کے بیٹھ گئی، ایک بہت بڑا کارخانہ تھا جس میں کوئی ظالم جابر ہاتھ انسانی جسموں کو لے کر گنے کا رس نکالنے والی چرخی میں ٹھونستا چلا جاتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے توڑ مروڑ کر دوسری طرف پھینکتا جاتا ہے اور یکا یک جیونا اپنی بیٹی کو دھکا دے کر الگ کھڑی ہو گئی اور چیخیں مار مار کر رونے لگی۔

تیسری ساڑھی کا رنگ مٹ میلا نیلا ہے۔یعنی نیلا بھی ہے اور میلا بھی اور مٹیالا بھی ہے۔ کچھ ایسا عجب سا رنگ ہے جو بار بار دھونے پر بھی نہیں نکھرتا بلکہ غلیظ ہو جاتا ہے۔ یہ میری بیوی کی ساڑھی ہے۔ میں فورٹ میں دھنو بھائی کی فرم میں کلرکی کرتا ہوں مجھے پینسٹھ روپے تنخواہ ملتی ہے۔ سیون مل اور بکسریا مل کے مزدوروں کو یہی تنخواہ ملتی ہے اس لئے میں بھی ان کے ساتھ آٹھ نمبر کی چال کی ایک کھولی میں رہتا ہوں۔ مگر میں مزدور نہیں ہوں کلرک ہوں۔ میں فورٹ میں نوکر ہوں۔ میں دسویں پاس ہوں۔ میں ٹائپ کر سکتا ہوں۔ میں انگریزی میں عرضی بھی لکھ سکتا ہوں۔ میں اپنے وزیر اعظم کی تقریر جلسے میں سن کر سمجھ بھی لیتا ہوں۔ آج ان کی گاڑی تھوڑی دیر میں مہا لکشمی کے پل پر آئے گی، نہیں وہ ریس کورس نہیں جائیں گے۔ وہ سمندر کے کنارے ایک شاندار تقریر کریں گے۔ اس موقع پر لاکھوں آدمی جمع ہوں گے۔ ان لاکھوں میں میں بھی ایک ہوں گا۔ میری بیوی کو اپنی وزیر اعظم کی باتیں سننے کا بہت شوق ہے مگر میں اسے اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتا کیونکہ ہمارے آٹھ بچے ہیں اور گھر میں ہر وقت پریشانی سی رہتی ہے۔ جب دیکھو کوئی نہ کوئی چیز کم ہو جاتی ہے۔ راشن تو روز کم پڑ جاتا ہے۔ اب نل میں پانی بھی کم آتا ہے۔ رات کو سونے کے لئے جگہ بھی کم پڑ جاتی ہے اور تنخواہ تو اس قدر کم پڑتی ہے کہ مہینے میں صرف پندرہ دن چلتی ہے۔ باقی پندرہ دن سود خور پٹھان چلاتا ہے اور وہ بھی کیسے گالیاں بکتے بکتے۔ گھسیٹ گھسیٹ کر، کسی سست رفتار گاڑی کی طرح یہ زندگی چلتی ہے۔

میرے آٹھ بچے ہیں، مگر یہ اسکول میں نہیں پڑھ سکتے۔ میرے پاس ان کی فیس کے پیسے کبھی نہ ہوں گے۔ پہلے پہل جب میں نے بیاہ کیا تھا اور ساوتری کو اپنے گھر یعنی اس کھولی میں لایا تھا تو میں نے بہت کچھ سوچا تھا۔ ان دنوں ساوتری بھی بڑی اچھی اچھی باتیں سوچا کرتی تھی۔

گوبھی کے نازک نازک ہرے ہرے پتوں کی طرح پیاری پیاری باتیں۔ جب وہ مسکراتی تھی تو سینما کی تصویر کی طرح خوبصورت دکھائی دیا کرتی تھی۔ اب وہ مسکراہٹ نہ جانے کہاں چلی گئی ہے۔ اس کی جگہ ایک مستقل تیوری نے لے لی ہے۔ وہ ذرا سی بات پر بچوں کو بے تحاشہ پیٹنا شروع کر دیتی ہے اور میں تو کچھ بھی کہوں، کیسے بھی کہوں، کتنی ہی لجاجت سے کہوں وہ بس کاٹ کھانے کو دوڑتی ہے۔ پتہ نہیں ساوتری کو کیا ہو گیا ہے۔ پتہ نہیں مجھے کیا ہو گیا ہے۔ میں دفتر میں سیٹھ کی گالیاں سنتا ہوں۔ گھر پر بیوی کی گالیاں سہتا ہوں اور ہمیشہ خاموش رہتا ہوں۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں، شاید میری بیوی کو ایک نئی ساڑھی کی ضرورت ہے، شاید اسے صرف ایک نئی ساڑھی ہی کی نہیں، اک نئے چہرے، ایک نئے گھر، ایک نئے ماحول، ایک نئی زندگی کی ضرورت ہے مگر اب ان باتوں کے سوچنے سے کیا ہوتا ہے۔ اب تو آزادی آ گئی ہے اور ہمارے وزیر اعظم نے یہ کہہ دیا ہے کہ اس نسل کو یعنی ہم لوگوں کو اپنی زندگی میں کوئی آرام نہیں مل سکتا۔ میں نے ساوتری کو اپنے وزیر اعظم کی تقریر جو اخبار میں چھپی تھی سنائی تو وہ اسے سن کر آگ بگولہ ہو گئی اور اس نے غصے میں آ کر چولہے کے قریب پڑا ہوا ایک چمٹا میرے سر پر دے مارا۔ زخم کا نشان جو آپ میرے ماتھے پر دیکھ رہے ہیں اسی کا نشان ہے۔ ساوتری کی مٹ میلی نیلی ساڑھی پر بھی ایسے کئی زخموں کے نشان ہیں مگر آپ انہیں دیکھ نہیں سکیں گے۔ میں دیکھ سکتا ہوں۔ ان میں سے ایک نشان تو اسی مونگیا رنگ کی جارجٹ کی ساڑھی کا ہے جو اس نے اوپیرا ہاؤس کے نزدیک بھوندو رام پارچہ فروش کی دکان پر دیکھی تھی۔ ایک نشان اس کھلونے کا ہے جو پچیس روپے کا تھا اور جسے دیکھ کر میرا پہلا بچہ خوشی سے کلکاریاں مارنے لگا تھا، لیکن جسے ہم خرید نہ سکے اور جسے نہ پا کر میرا بچہ دن بھر روتا رہا۔ ایک نشان اس تار کا ہے جو ایک دن جبل پور سے آیا تھا جس میں ساوتری کی ماں کی شدید علالت کی خبر تھی۔ ساوتری جبل پور جانا چاہتی تھی لیکن ہزار کوشش کے بعد بھی کسی سے مجھے روپے ادھار نہ مل سکے تھے اور ساوتری جبل پور نہ جا سکی تھی۔ ایک نشان اس تار کا تھا جس میں اس کی ماں کی موت کا ذکر تھا۔ ایک نشان۔۔۔ مگر میں کس کس نشان کا ذکر کروں۔ یہ نشان ان چتلے چتلے، گدلے گدلے غلیظ داغوں سے ساوتری کی پانچ روپے چار آنے والی ساڑھی بھری پڑی ہے۔ روز روز دھونے پر بھی یہ داغ نہیں چھوٹتے اور شاید جب تک یہ زندگی رہے یہ داغ یوں ہی رہیں گے۔ ایک ساڑھی سے دوسری ساڑھی میں منتقل ہوتے جائیں گے۔


چوتھی ساڑی قرمزی رنگ کی ہے اور قرمزی رنگ میں بھورا رنگ بھی جھلک رہا ہے۔ یوں تو یہ سب مختلف رنگوں والی ساڑھیاں ہیں،لیکن بھورا رنگ ان سب میں جھلکتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ان سب کی زندگی ایک ہے۔ جیسے ان سب کی قیمت ایک ہے۔ جیسے یہ سب زمین سے کبھی اوپر نہیں اٹھیں گی۔ جیسے انہوں نے کبھی شبنم میں ہنستی ہوئی دھنک، افق پر چمکتی ہوئی شفق، بادلوں میں لہراتی ہوئی برق نہیں دیکھی۔ جیسے شانتا بائی کی جوانی ہے۔ وہ جیونا کا بڑھاپا ہے۔ وہ ساوتری کا ادھیڑ پن ہے۔ جیسے یہ سب ساڑھیاں، زندگیاں، ایک رنگ، ایک سطح، ایک تواتر، ایک تسلسل یکسانیت لئے ہوئے ہوا میں جھولتی جاتی ہیں۔

یہ قرمزی رنگ کی بھورے رنگ کی ساڑھی جھبو بھیئے کی عورت کی ہے۔ اس عورت سے میری بیوی کبھی بات نہیں کرتی کیونکہ ایک تو اس کے کوئی بچہ وچہ نہیں ہے اور ایسی عورت جس کے کوئی بچہ نہ ہو بڑی نحس ہوتی ہے۔ جادو ٹونے کر کے دوسروں کے بچوں کو مار ڈالتی ہے اور بد روحوں کو بلا کے اپنے گھر میں بسا لیتی ہے۔ میری بیوی اسے کبھی منہ نہیں لگاتی۔ یہ عورت جھبو بھیا نے خرید کر حاصل کی ہے۔ جھبو بھیا مراد آباد کا رہنے والا ہے لیکن بچپن ہی سے اپنا دیس چھوڑ کر ادھر چلا آیا۔ وہ مراٹھی اور گجراتی زبان میں بڑی مزے سے گفتگو کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے بہت جلد پوار مل کے گنی کھاتے میں جگہ مل گئی۔ جھبو بھیا کو شروع ہی سے بیاہ کا شوق تھا۔ اسے بیڑی، کا تاڑی کا، کسی چیز کا شوق نہیں تھا۔ شوق تھا تو اس صرف اس بات کا کہ اس کی شادی جلد سے جلد ہو جائے۔ جب اس کے پاس ستر اسی روپے اکٹھے ہو گئے تو اس نے اپنے دیس جانے کی ٹھانی تاکہ وہاں اپنی برادری سے کسی کو بیاہ لائے، مگر پھر اس نے سوچا ان ستر اسی روپوں سے کیا ہو گا، آنے جانے کا کرایہ بھی بڑی مشکل سے پورا ہو گا۔ چار سال کی محنت کے بعد اس نے یہ رقم جوڑی تھی لیکن اس رقم سے وہ مراد آباد جا سکتا تھا، جا کے شادی نہیں کر سکتا تھا۔ اس لئے جھبو بھیا نے ایک بدمعاش سے بات چیت کر کے اس عورت کو سو روپے میں خرید لیا۔

اسی روپے اس نے نقد دئے۔ بیس روپے ادھار میں رہے جو اس نے ایک سال کے عرصے میں ادا کر دئے بعد میں جھبو بھیا کو معلوم ہوا کہ یہ عورت بھی مرادآباد کی رہنے والی تھی۔ دھیرج گاؤں کی اور اس کی برادری کی ہی تھی۔ جھبو بڑا خوش ہوا۔ چلو یہیں بیٹھے بیٹھے سب کام ہو گیا۔ اپنی جات برادری کی، اپنے ضلعے کی۔ اپنے دھرم کی عورت یہیں بیٹھے بٹھائے سو روپے میں مل گئی۔ اس نے بڑے چاؤ سے اپنا بیاہ رچایا اور پھر اسے معلوم ہوا کہ اس کی بیوی لڑیاؔ بہت اچھا گاتی ہے۔ وہ خود بھی اپنی پاٹ دار آواز میں زور سے گانے بلکہ گانے سے زیادہ چلانے کا شوقین تھا۔ اب تو کھولی میں دن رات گویا کسی نے ریڈیو کھول دیا ہو۔ دن میں کھولی میں لڑیا کام کرتے ہوئے گاتی تھی۔ رات کو جھبو اور لڑیا دونوں گاتے تھے۔ ان کے ہاں کوئی بچہ نہ تھا۔ اس لئے انہوں نے ایک طوطا پال رکھا تھا۔ میاں مٹھو خاوند اور بیوی کو گاتے دیکھ دیکھ کر خود بھی لہک لہک کر گانے لگے۔ لڑیا میں ایک اور بات بھی تھی۔ جھبو نہ بیڑی پیتا نہ سگریٹ نہ تاڑی نہ شراب۔ لڑیا بیڑی، سگریٹ، تاڑی سبھی کچھ پیتی تھی۔ کہتی تھی پہلے وہ یہ سب کچھ نہیں جانتی تھی مگر جب سے وہ بدمعاشوں کے پلے پڑی اسے یہ سب بری باتیں سیکھنا پڑیں اور اب وہ اور سب باتیں تو چھوڑ سکتی ہے مگر بیڑی اور تاڑی نہیں چھوڑ سکتی۔ کئی بار تاڑی پی کر لڑیا نے جھبو پر حملہ کر دیا اور جھبو نے اسے روئی کی طرح دھنک کر رکھ دیا۔ اس موقع پر طوطا بہت شور مچاتا تھا۔ رات کو دونوں کو گالیاں بکتے دیکھ کر خود بھی پنجرے میں ٹنگا ہوا زور زور سے وہی گالیاں بکتا جو وہ دونوں بکتے تھے ایک بار تو اس کی گالی سن کر جھبو غصے میں آ کے طوطے کو پنجرے سمیت بدرو میں پھینکنے لگا تھا مگر جیونا نے بیچ میں پڑ کے طوطے کو بچا لیا۔ طوطے کو مارنا پاپ ہے۔ جیونا نے کہا۔ تمہیں براہمنوں کو بلا کے پرائسچت کرنا پڑے گا۔ تمہارے پندرہ بیس روپے کھل جائیں گے۔ یہ سوچ کر جھبو نے طوطے کو بدرو میں غرق کر دینے کا خیال ترک کر دیا۔

شروع شروع میں تو جھبو کو ایسی شادی پر چاروں طرف سے گالیاں پڑیں۔ وہ خود بھی لڑیا کو بڑے شبہ کی نظروں سے دیکھتا اور کئی بار بلاوجہ اسے پیٹا اور خود بھی مل سے غیر حاضر رہ کر اس کی نگرانی کرتا رہا مگر آہستہ آہستہ لڑیا نے اپنا اعتبار ساری چال میں قائم کر لیا۔ لڑیا کہتی تھی کہ عورت سچے دل سے بد معاشوں کے پلے پڑنا پسند نہیں کرتی، وہ تو ایک گھر چاہتی ہے چاہے وہ چھوٹا ہی سا ہو۔ وہ ایک خاوند چاہتی ہے جو اس کا اپنا ہو۔ چاہے وہ جھبو بھیا ایسا ہر وقت شور مچانے والا، زبان دراز، شیخی خور ہی کیوں نہ ہو۔ وہ ایک ننھا بچہ چاہتی ہے چاہے وہ کتنا ہی بد صورت کیوں نہ ہو اور اب لڑیا کے پاس بھی گھر تھا اور جھبو بھی تھا اور اگر بچہ نہیں تھا تو کیا ہوا ہو جائے گا اور اگر نہیں ہوتا تو بھگوان کی مرضی۔ یہ میاں مٹھو ہی اس کا بیٹا بنے گا۔

ایک روز لڑیا اپنے میاں مٹھو کا پنجرا جھلا رہی تھی اور اسے چوری کھلا رہی تھی اور اپنے دل کے سپنوں میں ایسے ننھے سے بالک کو دیکھ رہی تھی جو فضا میں ہمکتا اس کی آغوش کی طرف بڑھتا چلا آ رہا تھا کہ چال میں شور بڑھنے لگا اور اس نے دروازے سے جھانک کر دیکھا کہ چند مزدور جھبو کو اٹھائے چلے آ رہے ہیں اور ان کے کپڑے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ لڑیا کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ بھاگتی بھاگتی نیچے گئی اور اس نے بڑی درشتی سے اپنے خاوند کو مزدوروں سے چھین کر اپنے کندھے پر اٹھا لیا اور اپنی کھولی میں لے آئی۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ جھبو سے گنی کھاتے کے مینجر نے کچھ ڈانٹ ڈپٹ کی۔ اس پر جھبو نے بھی اسے دو ہاتھ جڑ دئے۔ اس پر بہت واویلا مچا اور مینجر نے اپنے بد معاشوں کو بلا کر جھبو کی خوب پٹائی کی اور اسے مل سے باہر نکال دیا۔ خیریت ہوئی کہ جھبو بچ گیا ورنہ اس کے مرنے میں کوئی کسر نہ تھی۔ لڑیا نے بڑی ہمت سے کام لیا۔ اس نے اسی روز سے اپنے سر پر ٹوکری اٹھا لی اور گلی گلی ترکاری بھاجی بیچنے لگی، جیسے وہ زندگی میں یہی دھندا کرتی آئی ہے۔ اس طرح محنت مزدوری کر کے اس نے اپنے جھبو کو اچھا کر لیا۔ جھبو اب بھلا چنگا ہے مگر اب اسے کسی مل میں کام نہیں ملتا۔ وہ دن بھر اپنی کھولی میں کھڑا مہالکشمی کے اسٹیشن کے چاروں طرف بلند و بالا کارخانوں کی چمنیوں کو تکتا رہتا ہے۔ سیون مل، نیو مل،اولڈ مل، پوار مل، دھن راج مل لیکن اس کے لئے کسی مل میں جگہ نہیں ہے کیونکہ مزدور کو گالیاں کھانے کا حق ہے گالی دینے کا حق نہیں ہے۔ آج کل لڑیا بازاروں اور گلیوں میں آوازیں دے کر بھاجی ترکاری فروخت کرتی ہے اور گھر کا سارا کام کاج بھی کرتی ہے۔ اس نے بیڑی، تاڑی سب چھوڑ دی ہے۔ ہاں اس کی ساڑھی، قرمزی بھورے رنگ کی ساڑھی جگہ جگہ سے پھٹتی جا رہی ہے۔ تھوڑے دنوں تک اگر جھبو کو کام نہ ملا تو لڑیا کو اپنی ساڑھی پر پرانی ساڑھی کے ٹکڑے جوڑنا پڑیں گے اور اپنے میاں مٹھو کو چوری کھلانا بند کرنا پڑے گی۔

پانچویں ساڑھی کا کنارہ گہر ا نیلا ہے۔ ساڑھی کا رنگ گدلا سرخ ہے لیکن کنارہ گہر نیلا ہے اور اس نیلے میں اب بھی کہیں کہیں چمک باقی ہے۔ یہ ساڑھی دوسری ساڑھیوں سے بڑھیا ہے کیونکہ یہ ساڑھے پانچ روپے چار آنے کی نہیں ہے۔ اس کا کپڑا، اس کی چمک دمک کہے دیتی ہے کہ یہ ان سے ذرا مختلف ہے۔ آپ کو دور سے یہ مختلف معلوم نہیں ہوتی ہو گی مگر میں جانتا ہوں کہ یہ ان سے ذرا مختلف ہے۔ اس کا کپڑا بہتر ہے۔ اس کا کنارہ چمک دار ہے۔ اس کی قیمت پونے نو روپے ہے۔ یہ ساڑھی منجولا کی ہے۔ یہ ساڑھی منجولا کے بیاہ کی ہے۔ منجولا کے بیاہ کو ابھی چھ ماہ بھی نہیں ہوئے ہیں۔ اس کا خاوند گذشتہ ماہ چرخی کے گھومتے ہوئے پٹے کی لپیٹ میں آ کے مارا گیا تھا اور اب سولہ برس کی خوبصورت منجولا بیوہ ہے۔ اس کا دل جوان ہے۔ اس کا جسم جوان ہے۔ اس کی امنگیں جوان ہیں لیکن وہ اب کچھ نہیں کر سکتی کیونکہ اس کا خاوند مل کے ایک حادثے میں مر گیا ہے۔ وہ پٹہ بڑا ڈھیلا تھا اور گھومتے ہوئے بار بار پھٹپھٹاتا تھا اور کام کرنے والوں کے احتجاج کے باوجود اسے مل مالکوں نے نہیں بدلا تھا کیونکہ کام چل رہا تھا اور دوسری صورت میں تھوڑی دیر کے لئے کام بند کرنا پڑتا ہے۔ پٹے کو تبدیل کرنے کے لئے روپیہ خرچ ہوتا ہے۔ مزدور تو کسی وقت بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے روپیہ تھوڑی خرچ ہوتا ہے لیکن پٹہ تو بڑی قیمتی شے ہے۔ جب منجولا کا خاوند مارا گیا تو منجولا نے ہر جانے کی درخواست دی جو نا منظور ہوئی کیونکہ منجولا کا خاوند اپنی غفلت سے مرا تھا، اس لئے منجولا کو کوئی ہرجانہ نہ ملا اور وہ اپنی وہی نئی دلہن کی ساڑھی پہنے رہی جو اس کے خاوند نے پونے نور روپے میں اس کے لئے خریدی کی تھی۔ کیونکہ اس کے پاس کوئی دوسری ساڑھی نہ تھی جو وہ اپنے خاوند کی موت کے سوگ میں پہن سکتی۔ وہ اپنے خاوند کے مر جانے کے بعد بھی دلہن کا لباس پہننے پر مجبور تھی کیونکہ اس کے پاس کوئی دوسری ساڑھی نہ تھی اور جو ساڑھی تھی وہ یہی گدلے سرخ رنگ کی تھی۔ پونے نو روپے کی ساڑھی جس کا کنارہ گہرا نیلا ہے۔

شاید اب منجولا بھی پانچ روپے چار آنے کی ساڑھی پہنے گی۔ اس کا خاوند زندہ رہتا جب کبھی وہ دوسری ساڑھی پانچ روپے چار آنے کی لاتی، اس لحاظ سے اس کی زندگی میں کوئی خاص فرق نہیں آیا۔ مگر فرق اتنا ضرور ہوا ہے کہ وہ یہ ساڑھی آج پہننا چاہتی ہے۔ ایک سفید ساڑھی پانچ روپے چار آنے والی جسے پہن کر وہ دلہن نہیں بیوہ معلوم ہو سکے۔ یہ ساڑھی اسے دن رات کاٹ کھانے کو دوڑتی ہے۔ اس ساڑھی سے جیسے اس کے مرحوم خاوند کی بانہیں لپٹی ہیں، جیسے اس کے ہر تار پر اس کے شفاف بوسے مرقوم ہیں، جیسے اس کے تانے بانے میں اس کے خاوند کی گرم گرم سانسوں کی حدت آمیز غنودگی ہے۔ اس کے سیاہ بالوں والی چھاتی کا سارا پیار دفن ہے۔ جیسے اب یہ ساڑھی نہیں ہے، ایک گہری قبر ہے جس کی ہولناک پہنائیوں کو وہ ہر وقت اپنے جسم کے گرد لپیٹ لینے پر مجبور ہے۔ منجولا زندہ قبر میں گاڑی جا رہی ہے۔


چھٹی ساڑھی کا رنگ لال ہے لیکن اسے یہاں نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس کی پہننے والی مر چکی ہے پھر بھی یہ ساڑھی یہاں جنگلے پر بدستور موجود ہے۔ روز کی طرح دھلی دھلائی ہوا میں جھول رہی ہے۔ یہ مائی کی ساڑھی ہے جو ہماری چال کے دروازے کے قریب اندر کھلے آنگن میں رہا کرتی تھی۔ مائی کا ایک بیٹا ہے سیتو۔ وہ اب جیل میں ہے۔ ہاں سیتو کی بیوی اور اس کا لڑکا یہیں نیچے آنگن میں دروازے کے قریب نیچے پڑے رہتے ہیں۔ سیتو اور سیتو کی بیوی، ان کی لڑکی اور بڑھیا مائی، یہ سب لوگ ہماری چال کے بھنگی ہیں۔ ان کے لئے کھولی بھی نہیں ہے اور ان کے لئے اتنا کپڑا بھی نہیں ملتا جتنا ہم لوگوں کو ملتا ہے اس لئے یہ لوگ آنگن میں رہتے ہیں۔ وہیں کھانا کھاتے ہیں وہیں زمین پر پڑ کے سو رہتے ہیں۔ یہیں پہ یہ بڑھیا ماری گئی تھی، وہ بڑا سوراخ جو آپ اس ساڑھی میں دیکھ رہے ہیں پلو کے قریب۔ یہ گولی کا سوراخ ہے، یہ کارتوس کی گولی مائی کو بھنگیوں کی ہڑتال کے دنوں میں لگی تھی۔ نہیں وہ اس ہڑتال میں حصہ نہیں لے رہی تھی۔ وہ بے چاری تو بہت بوڑھی تھی، چل پھر بھی نہ سکتی تھی۔ اس ہڑتال میں تو اس کا بیٹا سیتو اور دوسرے بھنگی شامل تھے، یہ لوگ مہنگائی مانگتے تھے اور کھولی کا کرایہ مانگتے تھے یعنی اپنی زندگی کے لئے دو وقت کی روٹی، کپڑا اور سر پر ایک چھت چاہتے تھے۔ اس لئے ان لوگوں نے ہڑتال کی تھی اور جب ہڑتال خلافِ قانون قرار دے دی گئی تو ان لوگوں نے جلوس نکلا اور اس جلوس میں مائی کا بیٹا سیتو آگے آگے تھا اور خوب زور و شور سے نعرے لگاتا تھا۔ پھر جب جلوس بھی خلافِ قانون قرار دے دیا گیا تو گولی چلی اور ہماری چال کے سامنے چلی۔

ہم لوگوں نے اپنے دروازے بند کر لئے لیکن گھبراہٹ میں چال کا دروازہ بند کرنا کسی کو یاد نہ رہا اور پھر ہمیں بند کمروں میں ایسا معلوم ہوا گویا گولی اِدھر سے، اُدھر سے چاروں طرف سے چل رہی ہو۔ تھوڑی دیر کے بعد بالکل سناٹا ہو گیا اور جب ہم لوگوں نے ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا اور باہر جھانک کے دیکھا تو جلوس تتر بتر ہو چکا تھا اور ہماری چال کے قریب بڑھیا مری پڑی تھی۔ یہ اسی بڑھیاکی لال ساڑھی ہے جس کا بیٹا سیتو اب جیل میں ہے۔ اس لال ساڑھی کو اب بڑھیا کی بہو پہنتی ہے۔ اس ساڑھی کو بڑھیا کے ساتھ جلا دینا چاہئے تھا مگر کیا کیاجائے تن ڈھکنا زیادہ ضروری ہے۔ مُردوں کی عزت و احترام سے بھی کہیں زیادہ ضروری ہے کہ زندوں کا تن ڈھکا جائے۔ یہ ساڑھی جلنے جلانے کے لئے نہیں ہے۔ تن ڈھکے کے لئے ہے۔ ہاں کبھی کبھی سیتو کی بیوی اس کے پلو سے اپنے آنسو پونچھ لیتی ہے کیونکہ اس میں پچھلے اسی برسوں کے سارے آنسو اور ساری امنگیں اور ساری فتحیں اور شکستیں جذب ہیں۔ آنسو پونچھ کر سیتو کی بیوی پھر اسی ہمت سے کام کرنے لگتی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ کہیں گولی نہیں چلی، کوئی جیل نہیں گیا۔ بھنگن کی جھاڑو اسی طرح چل رہی ہے۔

اے لو باتوں باتوں میں وزیر اعظم صاحب کی گاڑی نکل گئی۔ وہ یہاں نہیں ٹھہری۔ میں سمجھتا تھا وہ یہاں ضروری ٹھہرے گی۔ وزیر اعظم صاحب درشن دینے کے لئے گاڑی سے نکل کر تھوڑی دیر کے لئے پلیٹ فارم پر ٹہلیں گے اور شائد ہوا میں جھولتی ہوئی ان چھ ساڑھیوں کو بھی دیکھ لیں گے جو مہالکشمی کے پل کے بائیں طرف لٹک رہی ہیں۔ یہ چھ ساڑھیاں جو بہت معمولی عورتوں کی ساڑھیاں ہیں۔ ایسی معمولی عورتیں جن سے ہمارے دیس کے چھوٹے چھوٹے گھر بنتے ہیں۔ جہاں ایک کونے میں چولہا سلگتا ہے، ایک کونے میں پانی کا گھڑا رکھا ہے۔ اوپری طاقچے میں شیشہ ہے، کنگھی ہے، سندور کی ڈبیا ہے، کھاٹ پر ننھا سو رہا ہے۔ الگنی پر کپڑے سوکھ رہے ہیں۔ یہ ان چھوٹے چھوٹے لاکھوں کروڑوں، گھروں کو بنانے والی عورتوں کی ساڑھیاں ہیں جنہیں ہم ہندوستان کہتے ہیں۔ یہ عورتیں جو ہمارے پیارے پیارے بچوں کی مائیں ہیں، ہمارے بھولے بھائیوں کی عزیز بہنیں ہیں، ہماری معصوم محبتوں کا گیت ہیں، ہماری پانچ ہزار سالہ تہذیب کا سب سے اونچا نشان ہیں۔ وزیر اعظم صاحب! یہ ہوا میں جھولتی ہوئی ساڑھیاں تم سے کچھ کہنا چاہتی ہیں۔ تم کچھ مانگتی ہیں۔ یہ کوئی بہت بڑی قیمتی چیز تم سے نہیں مانگتی ہیں۔ یہ کوئی بڑا ملک، بڑا عہدہ اور بڑی موٹر کار، کوئی پرمٹ، کوئی ٹھیکہ، کوئی پراپرٹی، یہ ایسی کسی چیز کی طالب نہیں ہیں۔ یہ تو زندگی کی بہت چھوٹی چھوٹی چیزیں مانگتی ہیں۔

دیکھئے! یہ شانتا بائی کی ساڑھی ہے جو اپنے بچپن کی کھوئی ہوئی دھنک تم سے مانگتی ہے۔ یہ جیونا بائی کی ساڑھی ہے جو اپنی آنکھ کی روشنی اور اپنی بیٹی کی عزت مانگتی ہے۔ یہ ساوتری کی ساڑھی ہے جس کے گیت مر چکے ہیں اور جس کے پاس اپنے بچوں کے لئے اسکول کی فیس نہیں ہے۔ یہ لڑیا ہے جس کا خاوند بے کار ہے اور جس کے کمرے میں ایک طوطا ہے جو دو دن کا بھوکا ہے۔ یہ نئی دلہن کی ساڑھی ہے جس کے خاوند کی زندگی چمڑے کے پٹے سے بھی کم قیمتی ہے۔ یہ بڈھی بھنگن کی لال ساڑھی ہے جو بندوق کی گولی کو ہل کے پھال میں تبدیل کر دینا چاہتی ہے تاکہ دھرتی سے انسان کا لہو پھول بن کر کھل اٹھے اور گندم کے سنہرے خوشے ہنس کر لہرانے لگے۔ لیکن وزیر اعظم صاحب کی گاڑی نہیں رکی اور وہ ان چھ ساڑھیوں کو نہیں دیکھ سکتے اور تقریر کرنے کے لئے چوپاٹی چلے گئے، اس لئے اب میں آپ سے کہتا ہوں۔ اگر کبھی آپ کی گاڑی ادھر سے گزرے تو آپ ان چھ ساڑھیوں کو ضرور دیکھئے جو مہا لکشمی کے پل کے بائیں طرف لٹک رہی ہیں اور پھر ان رنگا رنگ ریشمی ساڑھیوں کو بھی دیکھئے جنہیں دھوبیو ں نے اسی پل کے دائیں طرف سوکھنے کے لئے لٹکا رکھا ہے اور جو ان گھروں سے آئی ہیں جہاں اونچی اونچی چمنیوں والے کارخانوں کے مالک یا اونچی اونچی تنخواہ پانے والے رہتے ہیں۔ آپ اس پل کے دائیں بائیں دونوں طرف ضرور دیکھئے اور پھر اپنے آپ سے پوچھئے کہ آپ کس طرف جانا چاہتے ہیں۔ دیکھئے! میں آپ سے اشتراکی بننے کے لئے نہیں کہہ رہا ہوں۔ میں آپ کو جماعتی جنگ کی تلقین بھی نہیں کر رہا ہوں۔ میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ مہا لکشمی پل کے دائیں طرف ہیں یا بائیں طرف؟


اوور کوٹ

(غلام عبّاس)

جنور ی کی ایک شام کو ایک خوش پوش نوجوان ڈیوس روڈ سے گزر کر مال روڈ پر پہنچا اور چیرنگ کراس کا رخ کر کے خراماں خراماں پٹری پر چلنے لگا۔ یہ نوجوان اپنی تراش خراش سے خاصا فیشن ایبل معلوم ہوتا تھا۔ لمبی لمبی قلمیں، چمکتے ہوئے بال، باریک باریک مونچھیں گویا سرمے کی سلائی سے بنائی گئی ہوں۔ بادامی رنگ کا گرم اوور کوٹ پہنے ہوئے جس کے کاج میں شربتی رنگ کے گلاب کا ایک ادھ کھلا پھول اٹکا ہوا، سر پر سبز فلیٹ ہیٹ ایک خاص انداز سے ٹیڑھی رکھی ہوئی، سفید سلک کا گلوبند گلے کے گرد لپٹا ہوا، ایک ہاتھ کوٹ کی جیب میں، دوسرے میں بید کی ایک چھوٹی چھڑی پکڑے ہوئے جسے کبھی کبھی مزے میں آ کے گھمانے لگتا تھا۔

یہ ہفتے کی شام تھی۔ بھر پور جاڑے کا زمانہ۔ سرد اور تند ہوا کسی تیز دھار کی طرح جسم پر آ کے لگتی تھی مگر اس نوجوان پر اس کا کچھ اثر معلوم نہیں ہوتا تھا۔ اور لوگ خود کو گرم کرنے کے لئے تیز قدم اٹھا رہے تھے مگر اسے اس کی ضرورت نہ تھی جیسے اس کڑکڑاتے جاڑے میں اسے ٹہلنے میں بڑا مزا آ رہا ہو۔

اس کی چال ڈھال سے ایسا بانکپن ٹپکتا تھا کہ تانگے والے دور ہی سے دیکھ کر سرپٹ گھوڑا دوڑاتے ہوئے اس کی طرف لپکتے مگر وہ چھڑی کے اشارے سے نہیں کر دیتا۔ ایک خالی ٹیکسی بھی اسے دیکھ کر رکی مگر اس نے "نو تھینک یو" کہہ کر اسے بھی ٹال دیا۔

جیسے جیسے وہ مال کے زیادہ با رونق حصے کی طرف پہنچتا جاتا تھا، اس کی چونچالی بڑھتی جاتی تھی۔ وہ منہ سے سیٹی بجا کے رقص کی ایک انگریزی دھن نکالنے لگا۔ اس کے ساتھ ہی اس کے پاؤں بھی تھرکتے ہوئے اٹھنے لگے۔ ایک دفعہ جب آس پاس کوئی نہیں تھا تو یکبارگی کچھ ایسا جوش آیا کہ اس نے دوڑ کر جھوٹ موٹ بال دینے کی کوشش کی گویا کرکٹ کا کھیل ہو رہا ہو۔

راستے میں وہ سڑک آئی جو لارنس گارڈن کی طرف جاتی تھی مگر اس وقت شام کے دھندلکے اور سخت کہرے میں اس باغ پر کچھ ایسی اداسی برس رہی تھی کہ اس نے ادھر کا رخ نہ کیا اور سیدھا چیرنگ کراس کی طرف چلتا رہا۔

ملکہ کے بت کے قریب پہنچ کر اس کی حرکات و سکنات میں کسی قدر متانت آ گئی۔ اس نے اپنا رومال نکالا جسے جیب میں رکھنے کی بجائے اس نے کوٹ کی بائیں آستین میں اڑس رکھا تھا اور ہلکے ہلکے چہرے پر پھیرا، تاکہ کچھ گرد جم گئی ہو تو اتر جائے۔ پاس گھاس کے ایک ٹکڑے پر کچھ انگریز بچے بڑی سی گیند سے کھیل رہے تھے۔ وہ رک گیا اور بڑی دلچسپی سے ان کا کھیل دیکھنے لگا۔ بچے کچھ دیر تک تو اس کی پرواہ کئے بغیر کھیل میں مصروف رہے مگر جب وہ برابر تکے ہی چلا گیا تو وہ رفتہ رفتہ شرمانے سے لگے اور پھر اچانک گیند سنبھال کر ہنستے ہوئے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہوئے گھاس کے اس ٹکڑے ہی سے چلے گئے۔

نوجوان کی نظر سیمنٹ کی ایک خالی بنچ پر پڑی اور وہ اس پر آ کے بیٹھ گیا۔ اس وقت شام کے اندھیرے کے ساتھ ساتھ سردی اور بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ اس کی یہ شدت نا خوشگوار نہ تھی بلکہ لذت پرستی کی ترغیب دیتی تھی۔ شہر کے عیش پسند طبقے کا تو کہنا ہی کیا وہ تو اس سردی میں زیادہ ہی کھل کھیلتا ہے۔ تنہائی میں بسر کرنے والے بھی اس سردی سے ورغلائے جاتے ہیں اور وہ اپنے اپنے کونوں کھدروں سے نکل کر محفلوں اور مجمعوں میں جانے کی سوچنے لگتے ہیں تاکہ جسموں کا قرب حاصل ہو۔ حصولِ لذت کی یہی جستجو لوگوں کو مال پر کھینچ لائی تھی اور وہ حسبِ توفیق ریستورانوں، کافی ہاؤسوں، رقص گاہوں، سینماؤں اور تفریح کے دوسرے مقاموں پر محظوظ ہو رہے تھے۔

مال روڈ پر موٹروں، تانگوں اور بائیسکلوں کا تانتا بندھا ہوا تو تھا ہی پٹری پر چلنے والوں کی بھی کثرت تھی۔ علاوہ ازیں سڑک کی دو رویہ دکانوں میں خرید و فروخت کا بازار بھی گرم تھا۔ جن کم نصیبوں کو نہ تفریحِ طبع کی استطاعت تھی نہ خرید و فروخت کی، وہ دور ہی سے کھڑے کھڑے ان تفریح گاہوں اور دکانوں کی رنگا رنگ روشنیوں سے جی بہلا رہے تھے۔

نوجوان سیمنٹ کی بنچ پر بیٹھا اپنے سامنے سے گزرتے ہوئے زن و مرد کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظر ان کے چہروں سے کہیں زیادہ ان کے لباس پر پڑتی تھی۔ ان میں ہر وضع اور ہر قماش کے لوگ تھے۔ بڑے بڑے تاجر، سرکاری افسر، لیڈر، فنکار، کالجوں کے طلبا اور طالبات، نرسیں، اخباروں کے نمائندے، دفتروں کے بابو۔زیادہ تر لوگ اوور کوٹ پہنے ہوئے تھے۔ ہر قسم کے اوور کوٹ، قراقلی کے بیش قیمت اوور کوٹ سے لے کر خالی پٹی کے پرانے فوجی اوور کوٹ تک جسے نیلام میں خریدا گیا تھا۔

نوجوان کا اپنا اوور کوٹ تھا تو خاصا پرانا مگر اس کا کپڑا خوب بڑھیا تھا پھر وہ سلا ہوا بھی کسی ماہر درزی کا تھا۔ اس کو دیکھنے سے معلوم ہوتا تھا کہ اس کی بہت دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ کالر خوب جما ہوا تھا۔ باہوں کی کریز بڑی نمایاں، سلو ٹ کہیں نام کو نہیں۔ بٹن سینگ کے بڑے بڑے چمکتے ہوئے۔ نوجوان اس میں بہت مگن معلوم ہوتا تھا۔

ایک لڑکا پان بیڑی سگریٹ کا صندوقچہ گلے میں ڈالے سامنے سے گزرا۔ نوجوان نے آواز دی۔

"پان والا!۔"

"جناب!"

"دس کا چینج ہے؟"

"ہے تو نہیں۔ لا دوں گا۔ کیا لیں گے آپ؟"

"نوٹ لے کے بھاگ گیا تو؟"

"اجی واہ۔ کوئی چور اچکا ہوں جو بھاگ جاؤں گا۔ اعتبار نہ ہو تو میرے ساتھ چلئے۔ لیں گے کیا آپ؟"

"نہیں نہیں، ہم خود چینج لائے گا۔ لو یہ اکنی نکل آئی۔ ایک سگریٹ دے دو اور چلے جاؤ۔"

لڑکے کے جانے کے بعد مزے مزے سے سگریٹ کے کش لگانے لگا۔ وہ ویسے ہی بہت خوش نظر آتا تھا۔ سگریٹ کے دھوئیں نے اس پر سرور کی کیفیت طاری کر دی۔

ایک چھوٹی سی سفید رنگ بلی سردی میں ٹھٹھری ہوئی بنچ کے نیچے اس کے قدموں میں آ کر میاؤں میاؤں کرنے لگی۔ اس نے پچکارا تو اچھل کر بنچ پر آ چڑھی۔ اس نے پیار سے اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور کہا۔

"پور لٹل سو ل"


اس کے بعد وہ بنچ سے اٹھ کھڑا ہوا اور سڑک کو پار کر کے اس طرف چلا جدھر سینما کی رنگ برنگی روشنیاں جھلملا رہی تھیں۔ تماشا شروع ہو چکا تھا۔ برآمدے میں بھیڑ نہ تھی۔ صرف چند لوگ تھے جو آنے والی فلموں کی تصویروں کا جائزہ لے رہے تھے۔ یہ تصویریں چھوٹے بڑے کئی بورڈوں پر چسپاں تھیں۔ ان میں کہانی کے چیدہ چیدہ مناظر دکھائے گئے تھے۔

تین نوجوان اینگلو انڈین لڑکیاں ان تصویروں کو ذوق و شوق سے دیکھ رہی تھیں۔ ایک خاص شانِ استغنا کے ساتھ مگر صنفِ نازک کا پورا پورا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے وہ بھی ان کے ساتھ ساتھ مگر مناسب فاصلے سے ان تصویروں کو دیکھتا رہا۔ لڑکیاں آپس میں ہنسی مذاق کی باتیں بھی کرتی جاتی تھیں اور فلم پر رائے زنی بھی۔ اتنے میں ایک لڑکی نے، جو اپنی ساتھ والیوں سے زیادہ حسین بھی تھی اور شوخ بھی، دوسری لڑکی کے کان میں کچھ کہا جسے سن کر اس نے ایک قہقہہ لگایا اور پھر وہ تینوں ہنستی ہوئی باہر نکل گئیں۔ نوجوان نے اس کا کچھ اثر قبول نہ کیا اور تھوڑی دیر کے بعد وہ خود بھی سینما کی عمارت سے باہر نکل آیا۔

اب سات بج چکے تھے اور وہ مال کی پٹری پر پھر پہلے کی طرح مٹر گشت کرتا ہوا چلا جا رہا تھا۔ ایک ریستوران میں آرکسٹرا بج رہا تھا۔ اندر سے کہیں زیادہ باہر لوگوں کا ہجوم تھا۔ ان میں زیادہ تر موٹروں کے ڈرائیور، کوچوان، پھل بیچنے والے، جو اپنا مال بیچ کے خالی ٹوکرے لئے کھڑے تھے۔ کچھ راہ گیر جو چلتے چلتے ٹھہر گئے تھے۔ کچھ مزدوری پیشہ لوگ تھے اور کچھ گداگر۔ یہ اندر والوں سے کہیں زیادہ گانے کے رسیا معلوم ہوتے تھے کیونکہ وہ غل غپاڑہ نہیں مچا رہے تھے بلکہ خاموشی سے نغمہ سن رہے تھے۔ حالانکہ دھن اور ساز اجنبی تھے۔ نوجوان پل بھر کے لئے رکا اور پھر آگے بڑھ گیا۔

تھوڑی دور چل کے اسے انگریزی موسیقی کی ایک بڑی سی دکان نظر آئی اور وہ بلا تکلف اندر چلا گیا۔ ہر طرف شیشے کی الماریوں میں طرح طرح کے انگریزی ساز رکھے ہوئے تھے۔ ایک لمبی میز پر مغربی موسیقی کی دو ورقی کتابیں چنی تھیں۔ یہ نئے چلنتر گانے تھے۔ سرورق خوبصورت رنگدار مگر دھنیں گھٹیا۔ ایک چھچھلتی ہوئی نظر ان پر ڈالی پھر وہاں سے ہٹ آیا اور سازوں کی طرف متوجہ ہو گیا۔ ایک ہسپانوی گٹار پر، جو ایک کھونٹی سے ٹنگی ہوئی تھی، ناقدانہ نظر ڈالی اور اس کے ساتھ قیمت کا جو ٹکٹ لٹک رہا تھا اسے پڑھا۔ اس سے ذرا ہٹ کر ایک بڑا جرمن پیانو رکھا ہوا تھا۔ اس کا کور اٹھا کے انگلیوں سے بعض پردوں کو ٹٹولا اور پھر کور بند کر دیا۔

پیانو کی آواز سن کر دکان کا ایک کارندہ اس کی طرف بڑھا۔

"گڈ ایوننگ سر۔ کوئی خدمت؟"

"نہیں شکریہ۔ ہاں اس مہینے کی گراموفون ریکارڈوں کی فہرست دے دیجئے۔"

فہرست لے لے کے اوور کوٹ کی جیب میں ڈالی۔ دکان سے باہر نکل آیا اور پھر چلنا شروع کر دیا۔ راستے میں ایک چھوٹا سا بک اسٹال پڑا۔ نوجوان یہاں بھی رکا۔ کئی تازہ رسالوں کے ورق الٹے۔ رسالہ جہاں سے اٹھاتا بڑی احتیاط سے وہیں رکھ دیتا۔ اَور آگے بڑھا تو قالینوں کی ایک دکان نے اس کی توجہ کو جذب کیا۔ مالک دکان نے جو ایک لمبا سا چغہ پہنے اور سر پر کلاہ رکھے تھا۔ گرمجوشی سے اس کی آؤ بھگت کی۔

"ذرا یہ ایرانی قالین دیکھنا چاہتا ہوں۔ اتاریئے نہیں یہیں دیکھ لوں گا۔ کیا قیمت ہے اس کی؟

"چودہ سو تیس روپے ہے۔"

نوجوان نے اپنی بھنووں کو سکیڑا جس کا مطلب تھا "اوہو اتنی۔"

دکاندار نے کہا "آپ پسند کر لیجئے۔ ہم جتنی بھی رعایت کر سکتے ہیں کر دیں گے۔"

"شکریہ لیکن اس وقت تو میں صرف ایک نظر دیکھنے آیا ہوں۔"

"شوق سے دیکھئے۔ آپ ہی کی دکان ہے۔"

وہ تین منٹ کے بعد اس دکان سے بھی نکل آیا۔ اس کے اوور کوٹ کے کاج میں شربتی رنگ کے گلاب کا جو ادھ کھلا پھول اٹکا ہوا تھا۔ وہ اس وقت کاج سے کچھ زیادہ باہر نکل آیا تھا۔ جب وہ اس کو ٹھیک کر رہا تھا تو اس کے ہونٹوں پر ایک خفیف اور پر اسرار مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے پھر اپنی مٹر گشت شروع کر دی۔

اب وہ ہائی کورٹ کی عمارتوں کے سامنے سے گزر رہا تھا۔ اتنا کچھ چل لینے کے بعد اس کی فطری چونچالی میں کچھ فرق نہیں آیا۔ نہ تکان محسوس ہوئی تھی نہ اکتاہٹ۔ یہاں پٹری پر چلنے والوں کی ٹولیاں کچھ چھٹ سی گئی تھیں اور میں ان میں کافی فصل رہنے لگا تھا۔ اس نے اپنی بید کی چھڑی کو ایک انگلی پر گھمانے کی کوشش کی مگر کامیابی نہ ہوئی اور چھڑی زمین پر گر پڑی "اوہ سوری" کہہ کر زمین پر جھکا اور چھڑی کو اٹھا لیا۔

اس اثنا میں ایک نوجوان جوڑا جو اس کے پیچھے پیچھے چلا آ رہا تھا اس کے پاس سے گزر کر آگے نکل آیا۔ لڑکا دراز قامت تھا اور سیاہ کوڈرائے کی پتلون اور زپ والی چمڑے کی جیکٹ پہنے تھا اور لڑکی سفید ساٹن کی گھیر دار شلوار اور سبز رنگ کا کا کوٹ۔ وہ بھاری بھرکم سی تھی۔اس کے بالوں میں ایک لمبا سا سیاہ چٹا گندھا ہوا تھا جو اس کمر سے نیچا تھا۔ لڑکی کے چلنے سے اس چٹلے کا پھندنا اچھلتا کودتا پے درپے اس کے فربہ جسم سے ٹکراتا تھا۔ نوجوان کے لئے جو اب ان کے پیچھے پیچھے آ رہا تھا یہ نظارہ خاصا جاذب نظر تھا۔ وہ جوڑا کچھ دیر تک تو خاموش چلتا رہا۔ اس کے بعد لڑکے نے کچھ کہا جس کے جواب میں لڑکی اچانک چمک کر بولی۔


ہرگز نہیں۔ ہرگز نہیں۔ ہرگز نہیں۔

"سنو میرا کہنا مانو" لڑکے نے نصیحت کے انداز میں کہا "ڈاکٹر میرا دوست ہے۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو گی۔"

"نہیں، نہیں، نہیں۔"

"میں کہتا ہوں تمہیں ذرا تکلیف نہ ہو گی۔"

"لڑکی نے کچھ جواب نہ دیا۔"

"تمہارے باپ کو کتنا رنج ہو گا۔ ذرا ان کی عزت کا بھی تو خیال کرو۔"

"چپ رہو ورنہ میں پاگل ہو جاؤں گی۔"

نوجوان نے شام سے اب تک اپنی مٹر گشت کے دوران میں جتنی انسانی شکلیں دیکھی تھیں ان میں سے کسی نے بھی اس کی توجہ کو اپنی طرف منعطف نہیں کیا تھا۔ فی الحقیقت ان میں کوئی جاذبیت تھی ہی نہیں۔ یا پھر وہ اپنے حال میں ایسا مست تھا کہ کسی دوسرے سے اسے سروکار ہی نہ تھا مگر اس دلچسپ جوڑے نے جس میں کسی افسانے کے کرداروں کی سی ادا تھی، جیسے یکبارگی اس کے دل کو موہ لیا تھا اور اسے حد درجہ مشتاق بنا دیا کہ وہ ان کی اور بھی باتیں سنے اور ہو سکے تو قریب سے ان کی شکلیں بھی دیکھ لے۔

اس وقت وہ تینوں بڑے ڈاکخانے کے چوراہے کے پاس پہنچ گئے تھے۔ لڑکا اور لڑکی پل بھر کو رکے اور پھر سڑک پار کر کے میکلو ڈ روڈ پر چل پڑے۔ نوجوان مال روڈ پر ہی ٹھہرا رہا۔ شاید وہ سمجھتا تھا کہ فی الفور ان کے پیچھے گیا تو ممکن ہے انہیں شبہ ہو جائے کہ ان کا تعاقب کیا جا رہا ہے۔ اس لئے اسے کچھ لمحے رک جانا چاہئے۔

جب وہ لوگ کوئی سو گز آگے نکل گئے تو اس نے لپک کر ان کا پیچھا کرنا چاہا مگر ابھی اس نے آدھی ہی سڑک پار کی ہو گی کہ اینٹوں سے بھری ہوئی ایک لاری پیچھے سے بگولے کی طرح آئی اور اسے روندتی ہوئی میکلوڈ روڈ کی طرف نکل گئی۔ لاری کے ڈرائیور نے نوجوان کی چیخ سن کر پل بھر کے لئے گاڑی کی رفتار کم کی۔ پھر وہ سمجھ گیا کہ کوئی لاری کی لپیٹ میں آگیا اور وہ رات کے اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لاری کو لے بھاگا۔ دو تین راہ گیر جو اس حادثے کو دیکھ رہے تھے شور مچانے لگے کہ نمبر دیکھو نمبر دیکھو مگر لاری ہوا ہو چکی تھی۔

اتنے میں کئی اور لوگ جمع ہو گئے۔ ٹریفک کا ایک انسپکٹر جو موٹر سائیکل پر جا رہا تھا رک گیا۔ نوجوان کی دونوں ٹانگیں بالکل کچلی گئی تھیں۔ بہت سا خون نکل چکا تھا اور وہ سسک رہا تھا۔

فوراً ایک کار کو روکا گیا اور اسے جیسے تیسے اس میں ڈال کر بڑے ہسپتال روانہ کر دیا گیا۔ جس وقت وہ ہسپتال پہنچا تو اس میں ابھی رمق بھر جان باقی تھی۔ اس ہسپتال کے شعبۂ حادثات میں اسسٹنٹ سرجن مسٹر خان اور دو نو عمر نرسیں مس شہناز اور مس گِل ڈیوٹی پر تھیں۔ جس وقت اسے سٹریچر پر ڈال کے آپریشن روم میں لے جایا جا رہا تھا تو ان نرسوں کی نظر اس پر پڑی۔ اس کا بادامی رنگ کا اوور کوٹ ابھی تک اس کے جسم پر تھا اور سفید سلک کا مفلر گلے میں لپٹا ہوا تھا۔ اس کے کپڑوں پر جا بجا خون کے بڑے بڑے دھبے تھے۔ کسی نے از راہِ دردمندی اس کی سبز فلیٹ ہیٹ اٹھا کے اس کے سینہ پر رکھ دی تھی تاکہ کوئی اڑا نہ لے جائے۔

شہناز نے گل سے کہا:

"کسی بھلے گھر کا معلوم ہوتا ہے بے چارہ۔"

گل دبی آواز میں بولی۔

"خوب بن ٹھن کے نکلا تھا بے چارہ ہفتے کی شام منانے۔"

"ڈرائیور پکڑا گیا یا نہیں؟"

"نہیں بھاگ گیا۔"

"کتنے افسوس کی بات ہے۔"

آپریشن روم میں اسسٹنٹ سرجن اور اور نرسیں چہروں پر جراحی کے نقاب چڑھائے جنہوں نے ان کی آنکھوں سے نیچے کے سارے حصے کو چھپا رکھا تھا، اس کی دیکھ بھال میں مصروف تھے۔ اسے سنگ مر مر کی میز پر لٹا دیا گیا۔ اس نے سر میں جو تیز خوشبو دار تیل ڈال رکھا تھا،اس کی کچھ مہک ابھی تک باقی تھی۔ پٹیاں ابھی تک جمی ہوئی تھیں۔ حادثے سے اس کی دونوں ٹانگیں تو ٹوٹ چکی تھیں مگر سرکی مانگ نہیں بگڑنے پائی تھی۔

اب اس کے کپڑے اتارے جا رہے تھے۔ سب سے پہلے سفید سلک گلوبند اس کے گلے سے اتارا گیا۔ اچانک نرس شہناز اور نرس گِل نے بیک وقت ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ اس سے زیادہ وہ کر بھی کیا سکتی تھیں۔ چہرے جو دلی کیفیات کا آئینہ ہوتے ہیں، جراحی کے نقاب تلے چھپے ہوئے تھے اور زبانیں بند۔

نوجوان کے گلوبند کے نیچے نکٹائی اور کالر کیا سرے سے قمیص ہی نہیں تھی۔۔۔اوور کوٹ اتارا گیا تو نیچے سے ایک بوسیدہ اونی سویٹر نکلا جس میں جا بجا بڑے بڑے سوراخ تھے۔ ان سوراخوں سے سوئٹر سے بھی زیادہ بوسیدہ اور میلا کچیلا ایک بنیان نظر آ رہا تھا۔ نوجوان سلک کے گلوبند کو کچھ اس ڈھب سے گلے پر لپیٹے رکھتا تھا کہ اس کا سارا سینہ چھپا رہتا تھا۔ اس کے جسم پر میل کی تہیں بھی خوب چڑھی ہوئی تھیں۔ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ کم سے کم پچھلے دو مہینے سے نہیں نہایا البتہ گردن خوب صاف تھی اور اس پر ہلکا ہلکا پوڈر لگا ہوا تھا۔ سوئٹر اور بنیان کے بعد پتلون کی باری آئی اور شہناز اور گِل کی نظریں پھر بیک وقت اٹھیں۔ پتلون کو پیٹی کے بجائے ایک پرانی دھجی سے جو شاید کبھی نکٹائی رہی ہو گی خوب کس کے باندھا گیا تھا۔ بٹن اور بکسوے غائب تھے۔ دونوں گھٹنوں پر سے کپڑا مسک گیا تھا اور کئی جگہ کھونچیں لگی تھیں مگر چونکہ یہ حصے اوور کوٹ کے نیچے رہتے تھے اس لئے لوگوں کی ان پر نظر نہیں پڑتی تھی۔ اب بوٹ اور جرابوں کی باری آئی اور ایک مرتبہ پھر مس شہناز اور مس گِل کی آنکھیں چار ہوئیں۔

بوٹ تو پرانے ہونے کے باوجود خوب چمک رہے تھے مگر ایک پاؤں کی جراب دوسرے پاؤں کی جراب سے بالکل مختلف تھی۔ پھر دونوں جرابیں پھٹی ہوئی بھی تھیں، اس قدر کہ ان میں سے نوجوان کی میلی میلی ایڑیاں نظر آ رہی تھیں۔ بلا شبہ اس وقت تک وہ دم توڑ چکا تھا۔ اس کا جسم سنگ مر مر کی میز پر بے جان پڑا تھا۔ اس کا چہرہ جو پہلے چھت کی سمت تھا۔ کپڑے اتارنے میں دیوار کی طرف مڑ گیا۔ معلوم ہوتا تھا کہ جسم اور اس کے ساتھ روح کی برہنگی نے اسے خجل کر دیا ہے اور وہ اپنے ہم جنسوں سے آنکھیں چرا رہا ہے۔

اس کے اوور کوٹ کی مختلف جیبوں سے جو چیزیں برآمد ہوئیں وہ یہ تھیں:

ایک چھوٹی سی سیاہ کنگھی، ایک رومال، ساڑھے چھ آنے، ایک بجھا ہوا سگریٹ، ایک چھوٹی سی ڈائری جس میں نام اور پتے لکھے تھے۔نئے گراموفون ریکارڈوں کی ایک ماہانہ فہرست اور کچھ اشتہار جو مٹر گشت کے دوران اشتہار بانٹنے والوں نے اس کے ہاتھ میں تھما دئے تھے اور اس نے انہیں اوور کوٹ کی جیب میں ڈال دیا تھا۔

افسوس کہ اس کی بید کی چھڑی جو حادثے کے دوران میں کہیں کھو گئی تھی اس فہرست میں شامل نہ تھی۔


پسماندگان

(انتظار حسین)

ہاشم خان اٹھایئس برس کا کڑیل جوان، لمبا تڑنگا، سرخ و سفید جسم آن کی آن میں چٹ پٹ ہو گیا۔ کمبخت مرض بھی آندھی و ہاندی آیا۔ صبح کو ہلکی حرارت تھی، شام ہوتے ہوتے بخار تیز ہو گیا۔ صبح جب ڈاکٹر آیا تو پتہ چلا کہ سرسام ہو گیا ہے۔ غریب ماں باپ نے اپنی سی سب کچھ کر ڈالی۔ دن بھر میں ڈاکٹر سے لے کر پیروں فقیروں تک سب کے دروازے کھٹکھٹائے لیکن نہ دوا دارو نے اثر کیا اور نہ تعویذ گنڈے کام آئے۔ پہر رات ہوئی تھی پھر حالت بگڑ گئی اور ایسی بگڑی کہ صبح پکڑنی دشوار ہو گئی۔ ماں باپ نے ساری رات آنکھوں میں کاٹی اور بلک بلک کر دعا مانگی کہ کسی طرح صبح ہو جائے۔ ان کی دعا قبول ہوئی تو سہی مگر ادھر صبح کا گجر بجھا ادھر مریض نے پٹ سے دم دے دیا۔ آناً فاناً مرنے والوں کی خبر بھی آناً فاناً پھیلتی ہے سارے محلہ میں ملک پڑ گیا۔ جس نے سنا سناٹے میں آگیا۔ حلیمہ بوا کے گھر خبر نبو نے پہنچائی۔ دہلیز میں قدم رکھتے ہی بولی"اجی حلیمہ بوا قہر ہو گیا۔ ہاشم ختم ہو گیا " حلیمہ بوا کے منہ سے بے ساختہ نکلا "ہئے ہئے " حلیمہ بوا اس وقت چولہے پہ بیٹھی بچوں کے ناشتہ کے لئے روٹی ڈال رہی تھی۔ مگر ہاتھ پیر ہاتھ ہی میں رہ گیا۔ فوراً نہوں نے الٹا چولہے کی آگ ٹھنڈی کر دی۔ کلثوم کی بیٹی کی خانصا حبنی سے ایسی لڑائی تھی کہ آپس کا بھاجی بخرا بھی بند تھا۔ چنانچہ کلثوم کی بیٹی کا منہ کھلا ہوا ہے۔ "نابی بی میں ضرور جاؤں گی ۔" یہ کہہ کر چادر اٹھا فوراً خانصاحب مبنی کے گھر کی طرف روانہ ہو گئی۔ صوبیدارنی بھی خبر سنتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔ مگر پھر انہیں کچھ خیال آیا۔ صوبیدار صاحب کو مردانے سے بلوا کر ہدایت کی کہ ایک وقت کی روٹی ہماری طرف سے ہو گی۔ اس کا انتظام کرواؤ میں جا رہی ہوں " پھر انہوں نے چلتے چلتے نوکرانی کو بھی ایک ہدایت کر ڈالی کہ ارے دیکھ ری رات کی روٹیاں رکھی ہیں لونڈے کو بھوک لگے تو گھی بورا سے اسے روٹی کھلا دیجو ۔"

صوبیدارنی نے خانصا حبنی کے گھر تک کا راستہ عجلت سے لیکن خاموشی سے طے کیا۔ انہوں نے عورتوں کی تقلید مناسب نہ سمجھی جنہوں نے مردوں کے ہجوم سے گزرتے ہوئے گلی ہی سے اپنے جذبات کا دبا دبا اظہار شروع کر دیا تھا۔ ہاں دہلیز سے گھسنے کے بعد ان سے ضبط نہ ہو سکا۔ ان کے بین صرف چند لمحوں تک سنے جا سکے۔ گھر میں کہرام مچا ہوا تھا۔ اس میں صوبیدارنی یا کسی کی آواز بھی الگ سنائی نہیں دے سکتی تھی۔

گھرمیں کہرام مچا ہوا تھا لیکن باہراسی قدر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ بیٹھک سے کرسیاں اٹھا دی گئی تھیں۔ اب وہاں صرف جاجم بچھی ہوئی تھی۔ ایک شخص خاموشی سے بیٹھا کفن سی رہا ہے۔ اس کے چہرے پہ نہ تو حزن و ملال کی کیفیت تھی اور نہ اطمینان اور خوشی کی جھلک تھی۔ ایسی جاندار چیزیں بھی ہوتی ہیں جو احساس سے سرے سے ہی عاری ہوتی ہیں اور ایسی بے جان چیزیں بھی ہوتی ہیں جو ہر دم ایک نئی کیفیت پیدا کرتی ہیں۔ سفید لٹھا عید کی چاندنی رات کو درزی کی جس دکان اور جس گھر میں نظر آتا ہے اس سے حرکت اور روشنی پیدا ہوتی ہے۔ جب اس کا کفن سلتا ہے تو سفید غبار کی طرح بیٹھنے لگتا ہے۔ بیٹھک میں سب سے نمایاں چیز تو یہ کفن ہی تھا۔ ویسے اس سے الگ ایک کونے میں خان صاحب گھٹنوں میں سر دئے چپ چاپ بیٹھے تھے۔ اکا دکا اور لوگ بھی وہاں نظر آتے لیکن زیادہ لوگوں نے بیٹھک سے باہر گلی میں ٹھہرنا مناسب سمجھا تھا۔ دبی دبی آواز میں گفتگو ہوتی اور خود بخود ختم ہو جاتی۔ پھر کوئی نیا شخص گلی میں داخل ہوتا۔ آہستہ سے کسی کے پاس جا کھڑا ہوتا۔ سرگوشی کے انداز میں کچھ سوال کرتا۔ کچھ غم اور حیرت کا اظہار کرتا او ر پھر چپ ہو جاتا۔ صوبیدار سب سے الگ بیٹھک کی دہلیز پر اکڑوں بیٹھے کسی سوچ میں گم تھے۔ بیٹھک کے سامنے ذرا ہٹ کر ایک دوسرا مکان تھا جس کے پتھر پہ باقر بھائی اور تجمل بیٹھے بڑے سنجیدہ انداز میں ہولے ہولے باتیں کرتے تھے۔ ان کے اندازِ گفتگو نے علی ریاض کو کئی مرتبہ للچایا تھا، لیکن ان کے پاس جانے کا اسے کوئی بہانہ ہاتھ نہ آیا۔ البتہ جب چھنوں میاں وہاں پہنچے تو ہمت کر کے وہ بھی آہستہ سے ادھر ہولیا۔ چھنوں میاں ہاشم کی خبر سن کر گھر سے بہت لپ کے چلے تھے لیکن گلی میں داخل ہوتے ہی ان کی رفتار دھیمی پر گئی شاید انہیں اپنے قدموں کی آہٹ سے بھی کچھ الجھن ہو رہی تھی۔ چھنوں میاں جب تجمل اور باقر بھائی کے پاس پہنچے تو اس وقت تجمل ہاشم خاں کے تھانیداری کے انتخاب کا ذکر کر رہا تھا۔ " ہاشم خاں کی چھاتی تھی غضب تھی مجھ سے تو دو اس میں سما جائیں۔ بس باقر بھائی سمجھ لو کہ سپرنٹنڈنٹ نے جو دیکھا تو دنگ رہ گیا ۔" علی ریاض آہستہ سے بولے " کیا خبر ہے بھائی اسی کی نظر لگ گئی ہو"

" ہاں کیا خبر ہے " تجمل نے تائید کی۔

باقر بھائی دھیمے سے لہجے میں بولے " سب کہنے کی باتیں ہیں۔ موت کا بہانہ ہوتا ہے۔

کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃِ الْمَوْتٍ۔

چھنوں میاں نے ٹھنڈا سا سانس لیا "کیا خدا کی قدرت ہے ؟" باقر بھائی دونوں ہاتھوں سے سر پکڑے اکڑوں بیٹھے تھے۔ نگا ہیں زمین پہ جمی ہوئی تھیں۔ اسی کیفیت میں بیٹھے بیٹھے پھر بولے

"آدمی میں کیا رکھا ہے۔ ہوا کا جھونکا ہے آیا اور گیا"

علی ریاض کی آنکھوں میں ایک تحیر کی کیفیت پیدا ہوئی " باقر بھائی کیا ہوتا ہے۔ آدمی اچھا خاصا بیٹھا کہ ہچکی آئی پٹ سے دم نکل گیا۔ جا رہا ہے۔ جا رہا ہے۔ ٹھوکر لگی۔ آدمی ختم کچھ عجب کرشمہ ہے"

باقر بھائی سوچتے ہوئے بولے "بس بھائی سانس کا ایک تار ہے جب تک چلتا ہے، چلتا ہے۔ ذرا ٹھیس لگی، تار ٹوٹا آدمی ختم"

باقر بھائی اور چھنوں میاں دونوں کسی گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ چند لمحوں تک علی ریاض بھی چپ رہا۔ مگر وہ بولا بھی تو کچھ اس انداز سے گو یا خواب میں بڑ بڑا رہا ہے "زندگی کا کیا بھروسہ۔ آنکھ بند ہوئی کھیل ختم کیسا ستم ہے ادھر نوکری کا پروانہ آیا ادھر موت کا تارِ برقی آگیا۔ اس کے بھید وہی جانے، عجب کارخانہ ہے اس کا "پھر علی ریاض بھی کسی سوچ میں ڈوب گیا۔ ایک ڈیڑھ منٹ تک مکمل خاموشی رہی۔ علی ریاض اور چھنوں میاں دونوں بت بنے ہوئے تھے۔ باقر بھائی بہ دستور ہاتھوں میں سر تھامے کہنیاں گھٹنوں پہ ٹیکے بیٹھے تھے۔ مگر ان کی آنکھیں شاید اب بند ہوتی جا رہی تھیں۔ علی ریاض پھر چونکا اور باقر بھائی سے مخاطب ہوا"باقر بھائی خدا ہے بھی یا نہیں؟ باقر بھائی نے اپنی آنکھیں کھولیں "بھائی میرے "وہ رکے اور پھر بولے "موت ہی اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ خدا ہے ۔"

علی ریاض باقر بھائی کی صورت تکتا رہا۔ پھر خیال کی نہ جانے کونسی دنیا میں پہنچ گیا۔ تجمل اور چھنوں میاں پھر کسی خیال میں گم تھے۔ پھر چھنوں میاں نے گھٹنے سے اپنی ٹھوڑی اٹھائی اور نیم محسوس سے انداز میں پھر چھا گئی۔ باقر بھائی اس طرح بے حس و حرکت بیٹھے تھے۔ البتہ علی ریاض اور تجمل نے ان کی طرف دیکھا مگر کچھ بولے نہیں۔ چھنوں میاں کی زبان سے ایک فقرہ پھر نکلا "بار بار اس کی شکل آنکھوں کے سامنے آتی ہے۔ یقین نہیں آتا کہ وہ مرگیا۔

"یقین کیسے آئے یار "تجمل آہستہ آہستہ کہہ رہا تھا " ترسوں تک تو اچھا بھلا تھا۔ بازار میں مجھ سے مڈھ بھیڑ ہوئی۔ میں پوچھنے لگا "ہاشم خاں کب جا رہے ہو نوکری پہ "بولا" یار تقرری تو ہو گئی ہے اس ہفتے میں چلا ہی جاؤں گا ۔"

علی ریاض نے ٹھنڈا سانس لیا۔ "ہاں غریب چلا ہی گیا "چھنوں میاں نے علی ریاض کے فقرے پر دھیان نہیں دیا۔ وہ تجمل سے مخاطب تھے "بھئی پچھلی جمعرات کو میں اور وہ دونوں شکار کو گئے ہیں " شکار کے لفظ کے ساتھ ساتھ مختلف انمٹ بے جوڑ تصویریں چھنوں میاں کی آنکھوں کے سامنے ابھر آئیں۔ پھریری لے کر بولے "کیا نشانہ تھا نیک بخت کا۔ صبح کی دھند میں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا۔ قازیں ہڑبڑا کر اٹھی ہیں۔ پروں کی پھڑ پھڑ پھڑاہٹ پہ دھوں سے گولی چلائی اور قازیں ٹپ ٹپ گر رہی ہیں۔ اب اسی دفعہ کا ذکر ہے صاحب مجھے تو پتہ چلا نہیں کہ ہرنی کدھر سے اٹھی اور کدھر چلی۔ بندوق کو تانتے ہوئے بولا "وہ ہرنی چلی " میں نے کہا کہ بہت دور ہے، مگر وہ بھلا مانس کہا سنتا تھا دھن سے گولی چلا دی۔ ہرنی بیس قدم گری، چلی اور پھر لڑکھڑا کے گر پڑی ۔"


چھنوں میاں چپ ہو گئے۔ پھر کچھ سوچتے ہوئے بولے "وقت کی بات ہے۔ بعض وقت منہ سے ایسی آواز نکلتی ہے کہ پوری ہو کر رہتی ہے۔ شکار سے واپسی میں کہنے لگا "چھنوں میاں اپنا یہ آخری شکار تھا۔ اب ہم چلے جائیں گے غریب سچ مچ چلا گیا"

باقر بھائی کے جسم کو آخر ذرا جنبش ہوئی۔ سوچتے ہوئے بولے "جمعرات کا دن تھا وقت کیا تھا؟ علی ریاض اور تجمل دونوں بھائی کو تکنے لگے۔ باقر بھائی اک ذرا تامل سے ہچکچاتے ہوئے بولے "ایسے وقت میں جانور کو نہیں مارنا چاہئے"

آہستہ آہستہ اٹھتے قدموں کے افسردہ شور سے ساری بزریا میں ایک خاموشی سی چھا گئی۔ کالے پنواڑی کی دکان پہ جو قہقہے بلند ہو رہے تھے وہ ایکا ایکی بند ہو گئے۔ سامنے کے کوٹھے والی نکئی پہاڑن کے سلسلہ میں شبراتی کے ذہن میں ایک بہت پھڑکتا ہوا فقرہ آیا تھا۔ اسے اس اچھے فقرے کا گلا گھونٹ دینا پڑا۔ سامنے ایک سائیکل سوار گزر رہا تھا۔ میت دیکھ کر وہ بھی سائیکل سے اتر پڑا۔ سمی حلوائی اس وقت موتی چور کے لڈو بنا رہا تھا۔ اس کے ہاتھ یک بیک رک گئے اور آنکھوں میں ایک حیرت انگیز افسردگی کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ ملا پنساری کے اعصاب پر مذہب سوار تھا شائد اس لئے وہ موت کی سنجیدگی سے کچھ ضرورت سے زیادہ ہی مرعوب ہو جاتا تھا۔ بڑھیا کو تین پیسے کا دھنیا تولتے تولے وہ ایک ساتھ اٹھ کر کھڑا ہوا اور جب تک جنازے کو کاندھا دینے کا ثواب حاصل نہ کر لیا پلٹ کر نہیں آیا۔ یوں تو اس نے واپس آتے ہی کام میں لگ جانے کی کوشش کی تھی۔ مگر بڑھیا کے بھی آخر کچھ روحانی مطالبات تھے۔ ملاں کے واپس آتے ہی اس نے سوال کیا"بھیا رے یوکس کی میت تھی ؟"

ملاں نے ٹھنڈا سانس بھرتے ہوئے جواب دیا "خانصاحب ہیں نا، ان کا لونڈا گذر گیا۔"بڑھیا کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں "ہائے اللہ"

ہیرا سنار ابھی ابھی گلال لینے کی نیت سے دکان پہ پہنچا تھا۔ خانصاحب کا سن کر وہ چونکا "خانصاحب جی کا پتر؟ وامر گیسو؟ بڑی گھٹنا ہو گئی " پھر ذرا تامل سے بولا "واکی دیئی تو بڑی بنی ہوئی تھی کیسے مرگیو؟"

ملاں نے پھر ٹھنڈا سانس لیا "مہاراج موت بڑی بلوان ہے وہ بوڑھے جوان کسی کو نہیں چھوڑتی " ہیرا بھی بہک نکلا "ملاں یو تو سچ کیہوے ہے۔ موت تو جوگیوں اور مہارشیوں کو بھی آئی اور شکستی مان راجوں مہاراجوں کو بھی آئی "راجہ کنش ادہک" چتر ہنو تھا پر موت نے داکو بھی داب ہی لیو ۔" ملاں کے لہجے میں اب توانائی پیدا ہوئی "لالہ رشی منی ہوں یا پیر پیغمبر، موت نے کسی کو معاف نہیں کیا۔ سنا کیا کہ افلاطون نے ایک بوٹی تیار کی۔ اپنے شاگرد سے مرتے وقت کہا کہ مجھے دفن مت کیجیو۔ یہ بوٹی چراغ میں ڈال کے میرے سرہانے چالیس دن تک جلا ئیو۔ چراغ بجھنے نہ پائے۔ چالیسویں دن میں اٹھ کھڑا ہوں گا۔ مگر چالیسویں دن کیا ہوا کہ شاگرد کی آنکھ لگ گئی اور چراغ بجھ گیا۔ افلاطون مرا کا مرا رہ گیا۔ تو لالہ موت بڑی ظالم ہے"

ہیرا کا سر جھک گیا۔بڑھیا کے لہجہ میں افسردگی پیدا ہو گئی "ہاں بابا موت پر کسو کا کیا بس ہے۔ "بڑھیا چپ ہو گئی مگر جب کوئی کچھ نہ ملا تو ایک فقرہ پھر اس کی زبان سے نکل گیا "خانصاحب مبنی کے دونوں کڑیل جوان گئے اس کے غضب سے ڈرتا ہی رہے۔"

ملاں نے بڑے فلسفیانہ انداز میں جواب دیا "بڑی بیوہ امتحان لیوے ہے۔"

شبراتی نہ جانے کس لہر میں کالے کی دکان سے اٹھ کر ملاں کی دکان پر آ بیٹھا تھا۔ ملاں کے اس فقرے سے وہ گرما گیا "ملاں بے! یوں تیرا خدا بڑی زہری ہے، جو اس کے امتحان کے اڑنگے میں آگیا۔ اس کا کباڑا گیا۔"

ملاں کو ٹوٹ کر غصہ تو شاید ہی زندگی میں آیا ہو۔ مگر اس کے لہجے میں ہلکی سی برہمی ضرور پیدا ہو گئی کہنے لگا "بھیا خدا تو میرا بھی ہے اور تیرا بھی ہے۔

شبراتی کی بغاوت کا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ جواب وہ کیا دیتا۔ اس کا سر جھک گیا اور اس کی ٹھوڑی کھسک کر گھٹنوں پہ آن ٹکی۔ ملاں اب شبراتی سے قطعاً بے نیاز ہو کر فضا میں گھورنے لگا تھا۔

بڑھیا کنجڑی، ہیرا، شبراتی، ملاں چاروں کے چاروں چند لمحوں کے لئے بالکل گم سم ہو گئے اور ان کے چہروں پہ کچھ ایسی کیفیت پیدا ہو گئی جو زندگی کی بے ثباتی اور کسی بڑی طاقت کے وجود کے احساس سے پیدا ہوتی ہے۔

آخر بڑھیا کنجڑی چونکی "لا میرے بیرا دھنیا باندھ دے۔ میں چلی"

ملاں نے ہڑبڑا کر ترازو اٹھائی اور دھنیا تول کر کاغذ میں باندھنے لگا۔ اب ہیرا بھی ہوش میں آگیا تھا۔ اس نے تقاضا کیا "ملاں موکو بھی گلال باندھ دے"

"کتنے کا دوں؟"

"اکنی کا۔"

"لالہ اکنی کے گلال میں آگیا بینک لگے گی تہوار روز روز تھوڑ اہی آوے ہے"

پہاڑن نکٹی اب بن ٹھن کر اپنے چھجے پہ آ کھڑی ہوئی تھی۔ کسی جلے تن کے نے پچھلے برس اس کی بے مروتی سے بھن کر دن دہاڑے دانتوں سے اس کی ناک کاٹ لی تھی۔ یوں اس کے سیاہ چہرے کی پھبن تو ضرور بگڑ گئی تھی مگر اس سے نہ تو اس کی قہر بھری گات کا جادو زائل ہوا تھا اور نہ اس کے ٹھسے میں فرق پڑا تھا۔ شبراتی نے اسے دیکھ کر زور سے انگڑائی لی اور اونچی لے میں گانے لگا۔


یارب نگاہِ ناز پہ لائسینس کیوں نہیں؟" بنو کو یہ فائدہ تھا کہ خانصابنی کی دیوار سے اس کی دیوار ملی ہوئی تھی بلکہ اس مشترک دیوار میں باہمی سمجھوتے سے ایک الٹی سیدھی کھڑکی بھی پھوڑی گئی تھی۔ آج یہ کھڑکی بنو کے بہت کام آئی۔ آنسوؤں کا غلبہ جب بھی کم ہوا اور طبیعت رونے سے جب بھی ذرا چاٹ ہوئی بنو اس کھڑکی سے نکل کر اپنے گھر پہنچ گئی۔

حلیمہ بوا نے تو الٹتے وقت اپنے ننھے نواسے کا خیال ہی نہیں کیا تھا۔ اب اس نے بھوک بھوک کا غل مچانا شروع کیا۔ جنازہ اٹھنے کے بعد وہ بھی اس کھڑکی سے نکل بنو کے گھر جا پہنچیں۔ ان کا مقصد تو صرف اتنا تھا کہ بنو کے گھر رات کا کوئی ٹکڑا نوالہ بچا ہو تو نواسے کو کھلا کر اس کا حلق بند کر دیں۔ وہاں وہ بنو سے باتوں میں لگ گئیں۔ حلیمہ بوا کی آنکھوں میں ہاشم خاں کی تصویر بار بار پھر جاتی تھی۔ خانصاحبنی کی بد نصیبی کا خیال بھی انہیں رہ رہ کر آ رہا تھا۔ بنو پر بھی تقریباً کچھ یہی عالم گزر رہا تھا۔ چنانچہ جب حلیمہ بوا نے یہ کہا "ڈوبی خانصا حبنی تو جیتے جی مرگئی "تو بنو کی آواز میں بھی درد پیدا ہو گیا بولی "بد نصیب کی کوکھ اجڑ گئی دو پوت تھے دونوں ختم ہو گئے۔ آنگن میں جھاڑو سی دل گئی۔

حلیمہ بوا کچھ دیر چپ رہیں پھر کھوئے کھوئے سے انداز میں بولیں۔ حضوں کی قسمت ہی ایسی ہووے ہے۔ خانصاحبنی کمبخت کو عہدے راس نہیں آئے۔ یاد نہیں جب خانصاحب کو مجسٹریٹی ملی تھی تو کیسے کھٹیا پہ پڑے تھے۔

"ہاں آ! حاکم ہوتے موئے مرض کی بھینٹ چڑھ گیا عہدہ"

حلیمہ بوا کو خانصاحبنی کے بڑے بیٹے کا واقعہ یاد آگیا "اس کا بڑا پوت بھی ایسے ہی جوانی کی بھری بہار میں گیا۔ اے بی بی یہ سمجھو کہ چاند کی پہلی کو تحصیلداری کا خط آیا اور ستائیسویں کو اس غریب کا تار آگیا۔ وہ بھی آناً فاناً گیا۔ خانصاحبی کی ساری موتیں ایسے ہی ہوئیں۔"

بنو کسی اور عالم میں کھو گئی تھی۔ اس کی آنکھیں خلا میں گھور رہی تھیں اور ان آنکھوں میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ وہ چند لمحے بالکل چپ رہی پھر ٹھنڈا سانس لیتے ہوئے بولی "باپالیں پوسیں چھاتی پہ سلا سلا کے بڑا کریں اور پھر قبر میں سلا آئیں غضب ہے۔"

بنو پھر اس عالم میں کھو گئی۔ حلیمہ بوا بھی کچھ متاثر ہوئیں اب وہ بھی چپ تھیں۔ حلیمہ بوا کو پھرکچھ یاد آیا۔ بولیں "کمبخت ہاتھوں میں دل رکھتی تھی پوت کا۔ اس عید پہ اس کے لئے وہ بھاری اچکن بنوائی کہ کیا کوئی بیاہ میں بنو ائے گا۔ بنو اسی کھوئے کھوئے انداز میں پھر بولی "رزق برق پوشاکیں سب رکھی رہ جاویں ہیں۔ چاند کے سے ٹکڑوں پہ دم کے دم میں سینکڑوں من مٹی پڑ جاوے ہے " بنو چپ ہو گئی تھی۔ حلیمہ بوا گم متھان بنی بیٹھی تھی۔

بنو ایک ساتھ پھر چونکی اور حلیمہ بوا سے مخاطب ہوئی۔ "حلیمہ بوا یہ خدا کا کیا انصاف ہے جسے اولاد دے گا، دیئے چلا جاوے گا جس سے چھینے گا وس کا گھر اجڑ ک ردے گا ۔"

حلیمہ بوا بولیں "اری میا شکایت کیا ہے اس کی چیز تھی اس نے لے لی۔ بنو نے اک ذرا تلخی سے جواب دیا "اجی اولاد نہ ہو تو صبر ہے کہ بھئ تقدیر میں اولاد نہ تھی نہ ہوئی مگر کلیجے کے ٹکڑے یوں مٹی میں ملانے کے لئے کہاں سے جگر آوے ۔"

حلیمہ بوا کو کوئی جواب بن نہ آیا تو وہ خاموش ہو گئیں لیکن پھر جلد ہی ان کی سمجھ میں بات آ گئی بولیں "اجی سب اپنے اپنے اعمال ہووے ہیں "انہوں نے اک ذرا تامل کیا اور پھر کہنے لگیں "بی بی ہم نے تو کسی لڑنے والی کو پھلتے نہ دیکھا۔ کمبخت دانتا کِل کِل کوئی اچھی بات تھوڑائی ہے۔ کلثوم بات بات پہ اس کے بیٹے کو یاد کرتی تھی۔ آخر بیٹا بدنصیب ختم ہو گیا "اس سلسلے میں حلیمہ بوا بھی کچھ کہنا چاہتی تھیں لیکن ان کے لاڈلے نواسے نے پھر وہی رٹ لگانی شروع کر دی کہ "بوا جی بھوک لگی ہے " حلیمہ بوا نے اسے بہت بہلایا پھسلایا۔ مگر وہ کہاں ماننے والا تھا۔ حلیمہ بوا کو خود بھی اس کی بھوک کا احساس تھا۔ بنو سے کہنے لگیں "میرا بچہ آج بھوک سے ہلکان ہو گیا "بنو کو بھی دبی دبی شکایت پیدا ہوئی "اجی ابھی تو میت گئی ہے کب لوگ واپس آئے اور کب روٹی ملی ۔"

حلیمہ بوا کو یکایک ایک سوال یاد آیا "اری روٹی کس کی طرف سے ہے ؟"

"صوبیدارنی دے رہی ہے"

"پھرتو اچھی روٹی دے گی"

بنو تنگ آ کر بولی "اجی ہاں ہاں اچھی روٹی دے گی۔ قبولی پک رہی ہے ۔"

"قبولی؟ " حلیمہ بوا کو بڑا تعجب ہوا "ڈوبا یہ الغاروں پیسہ جو ہے وہ کیا چھاتی پہ دھر کے قبر میں لے جاویگی ۔"

بنو کہنے لگی "حلیمہ بوا! یہ تو سب دل کی بات ہووے ہے۔ ہمارے باپ کی کیا حیثیت تھی مگر تمہیں تو یاد ہو گا ہماری ساس کے مرنے پہ گوشت روٹی دی تھی ۔" حلیمہ بوا تائیدی لہجے میں بولیں "ارے بھئی برادری کا تو لحاظ کرنا ہی پڑے ہے اور قبولی؟ قبولی تو بڈھوں ٹھڈوں کے مرنے میں دی جاوے ہے ۔"

قبر تیار ہونے میں ابھی خاصی دیر تھی۔ علی ریاض، تجمل، باقر بھائی اور چھنوں میاں قبرستان سے نکل کر کربلا کی طرف ہولئے۔ یہ کربلا ایسی لمبی چوڑی عمارت تو نہیں تھی۔ بس ایک بڑے رقبہ میں پکی چار دیواری کھینچی ہوئی تھی۔ شاید دانستہ یہ اہتمام کیا گیا تھا۔ کہ اس میں درخت نہیں ہونے چاہیں۔ پھر بھی ایک کونے میں نیم کے دو گھنے درخت نظر آتے تھے۔ اس کے عقب میں آموں کا ایک گھنا باغ تھا۔ بائیں سمت صرف بیریاں ہی نہیں بلکہ اس سے پرے املی کے بلند و بالا درخت بھی نظر آتے تھے۔ ایسے ماحول میں یہ کربلا لق و دق صحرا کا تاثر بھلا کیا پیش کرتی مگر اس کی فضا ایک گہری اداسی کا رنگ لئے ہوئے ضرورتھی۔

یہ چار دیواری تو پست ہی تھی لیکن اس کے پھاٹک کا آہنی کٹہرہ خاصا بلند تھا اور اس سے ایک ایسا وقار ٹپکتا تھا جواس قسم کی عمارتوں کے دروازوں سے مخصوص ہے۔ مگر یہ آہنی کٹہرہ عمارت کی سب سے بلند چیز نہیں تھی۔ اس دروازے میں دو مینار بھی تو شامل تھے جو آہنی کٹہرے سے کہیں بلند تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کھلی فضا میں وہ دور سے پست ہی نظر آتے تھے اس کھلی فضا میں ایک وسیع و عریض چار دیواری کے ساتھ ان دو میناروں کو دیکھ کر کچھ اس قسم کی کیفیت گزرتی تھی جسے بعض لوگ کوئی صحیح لفظ موجود نہ ہونے کی وجہ سے حساس تنہائی کہنے لگے۔آہنی دروازے کے عین سامنے ایک پکی قبر تھی جو زمین کی سطح سے بالکل ہموار تھی۔ باقر بھائی کو آج ہی نہیں اس سے پہلے بھی اکثر مرتبہ اس قبر پر شک ہوا تھا کہ ہر سال دلدل کی ناپیں اور ماتمیوں کے قدم دونوں اسے مس کرتے ہیں۔ یہ تو خیر سب جانتے تھے کہ یہ قبر مولانا حیدر امام کی تھی اور ان کے زہد کا احترام کرتے ہوئے ہی انہیں مناسب مقام پردفن کیا گیا تھا۔ مگر علی ریاض اس شعر کو پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا جو اس قبر پر نقش تھا۔ پہلا مصرعہ تو صاف تھا۔ بڑے شوق سے سن رہا تھا زمانہ!لیکن دوسرے مصرعہ کے آخری لفظ بالکل مٹ گئے تھے۔ ہمیں سوگئے داستاں علی ریاض نے بہت بہت سر مارا مگر اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ آخر باقر بھائی نے اس معمے کو حل کیا۔ کچھ تو انہیں مٹے ہوئے لفظ پڑھنے کی اٹکل تھی پھریوں بھی انہوں نے مذہبی کتابوں کے ساتھ ساتھ تھوڑا سا وقت شاعری کے مطالعے پر بھی صرف کیا تھا۔ آخر بہت سوچ سمجھ کر انہوں نے دوسرا مصرعہ پڑھا۔ ہمیں سو گئے داستان سنتے سنتے۔ علی ریاض نے ہی نہیں تجمل اور چھنوں میاں نے بھی شعر کی داد دی۔ علی ریاض نے بڑے اہتمام سے اپنے لہجے میں افسردگی کا رنگ پیدا کیا اور شعر پڑھنے لگا۔

بڑے شوق سے سن رہا تھا زمانہ
ہمیں سو گئے داستان سنتے سنتے


"واہ" چھنوں میاں کے منہ سے بے ساختہ نکلا "کس کا شعر ہے"

علی ریاض تھوڑا سا چکرایا پھر سوچتے ہوئے بولا "انیس کا معلوم ہوتا ہے؟کیوں باقر بھائی ؟"

باقر بھائی نے جواب دیا "بھئی شعر تو منہ سے بول رہا ہے کہ میں میر انیس کا ہوں"

"واہ واہ میر انیس بھی کیا کیا شعر کہہ گئے ہیں "چھنوں میاں نے پھر داد دی۔

"باقر بھائی "علی ریاض کا لہجہ یکایکی بدلا "سنتے ہیں کہ میرا نیس شعر خود نہیں کہتے تھے ۔"

چھنوں میاں کا چہرہ سرخ پر گیا تڑخ کر بولے "پھر کیا جنید خاں لکھ کے دے جاتے تھے۔"

علی ریاض نے جلدی سے اپنی بات کی تشریح کی "ابھی ہم نے تو یہ سنا ہے کہ محرم کے دنوں میں میر انیس جب سوکے اٹھتے تھے تو ان کے سرہانے امام حسین علیہ السلام کا لکھا ہوا مرثیہ رکھا ہوتا تھا ۔"

چھنوں میاں کے چہرے پہ سرخی جس تیزی سے آئی تھی اسی تیزی سے غائب ہو گئی۔ ہاں اسی تیزی کے ساتھ ان کی آنکھوں میں حیرت کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ "اچھا ؟"

تجمل نے براہ راست باقر بھائی سے سوال کیا "کیوں بھائی۔ سچ ہے یہ ؟"

باقر بھائی نا معلوم کس قماش کی آدمی تھے، کسی بات کی نہ تو زور شور سے تائید کرتے تھے اور نہ زور شور سے تردید کرتے تھے۔ ان کے جواب میں ہاں اور نہیں دونوں پہلو شامل ہوتے تھے۔ کہنے لگے "ہاں لکھنؤ جا کے کسی سے پوچھ لو اور یہ واقعہ تو لکھنؤ کے بچے بچے کی زبان پہ ہے" تجمل نے بے صبرے پن سے پوچھا "کیا واقعہ ؟"

یہی کہ ایک دفعہ میر انیس اور مرزا دبیر میں بحث ہو گئی کہ دیکھیں مولاؓ کو کس کا مرثیہ پسند ہے۔ دونوں نے مرثیہ لکھا اور اپنا اپنا مرثیہ بڑے امام باڑے میں عالموں کے پاس رکھ آئے۔ صبح کو جو جا کے دیکھیں ہیں تو میر انیس کا مرثیہ تو ویسا ہی لکھا ہے اور مرزا دبیر کے مرثیے پہ پنجے کا نشان۔ پنجے کا نشان؟ "تجمل اور چھنوں میاں دونوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

علی ریاض نے بڑے اعتماد سے کہا "ہاں پنجے کا نشان۔ بس جناب میر انیس کا تو برا حال ہوا سمجھے کہ مولؓا کی شان میں کوئی گستاخی ہو گئی۔ پھر رات ہوئی۔ ذرا آنکھ جھپکی ہو گی کہ گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز آئی۔ میر ا نیس چونک پڑے۔ علی ریاض رکا اور تجمل اور چھنوں میاں دونوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے باری باری دیکھا۔ تجمل اور چھنوں میاں دونوں حیرت سے ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہے تھے۔ اور تو اور باقر بھائی کی بے نیازی میں بھی فرق آ چلا تھا۔ علی ریاض پھر بولا "گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز پاس آتی گئی۔ بس سمجھو کہ سارا امام باڑہ گونجنے لگا۔ میر انیس کیا دیکھتے ہیں کہ ایک سفید گھوڑا ہے۔ اس پہ ایک بزرگ سوار ہیں۔ چہرے پہ سیاہ نقاب پڑی ہوئی، کمر میں تلوار۔ میر انیس کے برابر آئے اور ان کے سر پہ ہاتھ رکھ کر بولے "کہ انیس تو میری اولا د ہے۔ دبیر میرا عاشق ہے اس کا دل ٹوٹ جاتا " میر انیس کی روتے روتے ہچکی بندھ گئی۔ آنکھ کھلی تو نہ گھوڑا نہ گھوڑا سوار۔ تڑکا نکل آیا تھا۔ مسجد میں اذان ہو رہی تھی۔"

علی ریاض کی داستان ختم ہو چکی تھی۔ تجمل اور چھنوں میاں ایک ڈیڑھ منٹ تک علی ریاض علی ریاض کو تکتے رہے پھر ان کی نگاہیں باقر بھائی پہ جم گئیں۔ باقر بھائی نے اک ذرا لاپرواہی سے کھنکار کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ اس داستان سے کچھ ایسے زیادہ متاثر نہیں ہیں۔ پھر آپ ہی آپ کہنے لگے "مگر اس روایت سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ انیس خود مرثیہ لکھتے تھے۔"

"مگر صاب " باقر بھائی اب قمچی کے اشارے کے بغیر چل رہے تھے "انیس کی شاعری واقعی انسانی کلام نہیں ہے معجزہ ہے ۔" باقر بھائی چند لمحوں کے لئے بالکل خاموش رہے اور پھر آپ ہی آپ بڑبڑانے لگے۔

"گودی ہے کبھی ماں کی، کبھی قبر کا آغوش
سرگرمِ سخن ہے کبھی انسان، کبھی خاموش
گل پیرہن اکثر نظر آئے ہیں کفن پوش
گہہ سخت ہے اور گاہ جنازہ بہ سرِ دوش

باقر بھائی اک ذرا رکے۔ ان کی آواز ڈوبنے لگی تھی "ہا کیا شعر ہے ۔"

اک طور پہ دیکھا نہ جواں کو نہ مسن کو
شب کو تو چھپر کھٹ میں ہیں تابوت میں دن کو

باقر بھائی چپ ہو گئے۔ اب وہ پھر بت بن گئے تھے۔ علی ریاض، تجمل اور چھنوں میاں پہ بھی سکتہ چھا گیا تھا۔ چاروں طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ البتہ آس پاس کے نیم اور املی کے درختوں میں دھیما دھیما شور ضرور برپا تھا۔ ہوا بہت تیز تو نہیں تھی۔ اسے موسم کا اثر کئے کہ ہوا کا کوئی جھونکا اگر دبے پاؤں بھی آتا تو زرد پتوں کو بہانہ مل جاتا اور ٹہنیوں سے بچھڑ کر فضا میں تیرنے لگتے۔ بہتی ہوئی ریت کے ریلے میں نیم کے بہت سے ننھے ننھے زرد پتے بھی آ گئے تھے اور قبر پہ بڑے قرینے سے بچھ گئے تھے۔

اس نیم بیدار نیم خوابیدہ فضا میں نیم کے درختوں سے لے کر کربلا کی دیواروں کی منڈیروں تک ہر چیز کچھ اجڑی اجڑی سے نظر آ رہی تھی اور علی ریاض، تجمل، چھنوں میاں گم متھان بنے بیٹھے تھے اور باقر بھائی پر مراقبہ کی کیفیت طاری تھی۔

آخر چھنوں میاں نے اس سکوت کو توڑا۔ انہوں نے بڑے مرے ہوئے انداز میں انگڑائی لی۔"بھئی دھوپ میں چٹخی آ گئی۔ یہاں سے اٹھو۔"

چھنوں میاں کھڑے ہوئے۔ دوسرے بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ چھنوں میاں نے اس سلسلے میں مشورے یا اطلاع کی ضرورت نہیں سمجھی۔ شاید نا دانستہ طور پر ان کے قدم بیریوں کی طرف اٹھ گئے تھے۔ یہ بیریاں اس سال اللہ دیے نے لے رکھی تھیں۔ اس نے اس برگزیدہ قافلہ کو بیریوں کی طرف آتے دیکھا تو بے تحاشا پکا ہوا تھا۔ قریب پہنچ کر ا س نے چھوٹتے ہی سلام کیا "میاں سلام ۔"

"سلام "صرف چھنوں میاں نے سلام کا جواب دینا ضروری سمجھا۔

بیریوں میں داخل ہوتے ہوئے چھنوں میاں کہنے لگے "صاب موسم اب بدل ہی گیا۔ دھوپ میں اچھی خاصی تیزی آ گئی ہے۔"

"ہاں" تجمل بولا "جاڑے تو اب گئے ہی سمجھو۔ میں ہولی کے انتظار میں ہوں۔ ہولی چلی اور میں نے باہر سونا شروع کیا ۔"

چھنوں میاں اللہ دیے کی طرف متوجہ ہو گئے "ابے اللہ دیے کب جل رہی ہے ہولی ؟"

"اگلے شکر کو جل جاوے گی جی۔ بس چھنوں میاں بیر بھی اگلے شکر تک کے ہیں۔ ہولی کے بعد ان میں کنڈار پڑ جاوے گی " پھر ذرا رک کر بولا "میاں بیر کھا لو"

چھنوں میاں بیزار ہو کر بولے "میرے یار دم تو لینے دے"

اللہ دیا چپ ہو گیا۔ اس نے اپنی رفتار دھیمی کر دی اور پیچھے تجمل کے برابر برابر ہولیا۔ کچھ دیر وہ خاموش چلتا رہا پھر آہستہ سے بولا "تجمل میاں کتنی دیر ہے دفن ہونے میں ؟"

"آدھ گھنٹے سے کم کیا لگے گا"

اللہ دیا خاموش چلتا رہا پھر ذرا ہچکچا کر بولا "تجمل میاں جو ہونی ہو وے ہے وے ہو کے ہی رہوے ہے۔ میرا ماتھا وسی وخت ٹھنکا تھا۔ میں نے ہاشم میاں کو منع بھی کیا پر ونہوں نے میری سنی نہیں ۔"


علی ریاض چپ چاپ پیچھے چلے آ رہے تھے۔ ان فقروں پر ان کے کان کھڑے ہوئے۔ انہوں نے چال تیز کر دی اور پاس آ کر بولے "کیا بات ؟"

"امی میں دس روزا کے شکار کی بات کر رہا ہوں " اللہ دیےکی آواز اب ذرا بلند ہو گئی تھی "چھنوں میاں تو ساتھ تھا۔ پوچھ لو میں نے منع کیا تھا یا نہیں۔ سالا نیل کنٹھ رستہ کاٹ گیا۔ میں نے کہا کہ ہاشم میاں لوٹ چل پھر ونہوں نے مجھے ڈپٹ دیا۔ جب ہرنی اٹھی تو میرا کلیجہ دھک سے رہ گیا " اللہ دیا چپ ہوا اور جب وہ پھر بولا تو اس کی آواز نے تقریباً سرگوشی کا رنگ اختیار کر لیا تھا۔ "اجی دس کے ہرن کو پچھلے مہینے ہاشم میاں نے مارا تھا۔ میرا دل اندر سے یو کیوے کہ اللہ دیے آج کچھ ہووے گا۔ میں نے کہا کہ ہاشم میاں گولی مت چلاؤ۔ پر جی ونہوں نے مجھے پھر جھڑک دیا"

اللہ دیا چپ ہو گیا۔ بیریوں کے پتے خاموش تھے، ہوا شاید بہت دھیمی ہو گئی تھی۔ صرف قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی۔ اللہ دیے کی جھونپڑی کے قریب پہنچ کر سب لوگ چارپائی پر بیٹھ گئے۔ اللہ دیے نے حقہ بھی تازہ کر کے رکھ دیا تھا۔ چھنوں میاں نے دو گھونٹ خاموشی سے لئے۔ پھر آپ ہی آپ کہنے لگے۔ بھئی اب کچھ ہی کہہ لو مگر ہم تو بچپن سے شکار کھیلتے آ رہے ہیں۔ ہم نے تو کبھی شگن وگن کی پروا نہیں کی ۔"

علی ریاض بولے "بھائی یہ نئی روشنی کا زمانہ ہے۔ آج ہم کہتے ہیں کہ صاحب بڑے بوڑھے لوگ بڑے دقیانوسی تھے، تو ہم پرست تھے مگر صاحب ان کا کہا ہوا آج بھی پتھر کی لکیر ہے ۔"

تجمل نے بے ساختہ ٹکڑا لگایا "یہ واقعہ ہے۔"

علی ریاض کی بات جاندار تھی۔ چھنوں میاں کو مجبوراً باقر بھائی سے رجوع کرنا پڑا "باقر بھائی آپ کا کیا خیال ہے؟"

باقر بھائی پھر اپنے اسی مذبذب سے لہجے میں بولے "اللہ بہتر جانتا ہے کیا بھید ہے ویسے ہم نے بہت سی رسمیں ہندوؤں سے لی ہیں۔ اسلام تو شگون وگون کا قائل ہے ہی نہیں"

چھنوں میاں کی بات کی تائید ہوئی تھی۔ پھر بھی انہوں اس جواب پہ کچھ بے اطمینانی سی محسوس کی۔ علی ریاض چند لمحوں تک بالکل گم سم رہا پھر بڑبڑانے لگا "اس کے بھید وہی جانے۔ عجب طلسمات ہے یہ دنیا ۔" باقر بھائی کی نیت جواب دینے کی نہیں تھی بس یونہی بیٹھے بیٹھے کہنے لگے "میاں ہم تویہ جانتے ہیں کہ تقدیر میں جو لکھ گیا وہ مٹ نہیں سکتا ۔"

باقر بھائی پھر کسی دوسری دنیا میں جا پہنچے، علی ریاض، تجمل اور چھنوں میاں گم متھان بنے بیٹھے تھے۔ ہوا کا تنفس بہت دھیما ہو گیا تھا مگر بیریوں کے پتوں میں ایک دبا دبا سا شور تھا۔ کچھ ایسا شور کہ بچے چوری چھپے کچھ کتر کتر کر کھا رہے ہیں۔ اللہ دیے نے جلدی سے گوپھیا اٹھائی اور اس میں اینٹ رکھ کر آگے چلا بیریوں کے بیچوں بیچ۔ درختوں کے گھنے سائے میں پہنچ کر اس نے گوپیا گھمائی اور ساتھ میں حلق سے للگانے کی آواز بھی نکالی۔ بیریوں کے پتوں میں یکایک ایک ہنگامہ پیدا ہوا اور طوطوں کی ایک ڈار چیختی چلاتی تیزی سے پتوں کی تہہ سے اٹھی اور فضا میں ایک الٹی سیدھی سبز دھاری بن کر پھیل گئی۔ گوپیا نے دوہرا طلسم پیدا کیا اس کے اشارے سے سبز طوطے آسمان کی طرف اٹھے اور سبز سرخ بیر زمین پہ گرے۔ اللہ دیے نے سرخ سرخ بیریوں سے گود بھری اور اسے مہمانوں کے سامنے جا کر خالی کر دیا۔ کہنے لگا "میاں پونڈا بیر ہے پکے پکے بین کے لایا ہوں۔ ذرا یوں چکھ کے دیکھو۔"

باقر بھائی نے کسی قسم کا اظہارِ خیال نہیں کیا۔ ہاں علی ریاض نے ان کی کھٹ مٹھے ہونے کی تعریف کی۔ چھنوں میاں کا خیال تھا اگر پسا ہوا نمک ہوتا تو لطف آ جاتا۔ تجمل بیر کھاتے کھاتے پوچھنے لگا۔ "ابے اللہ دیے بیریوں سے تو تو نے اچھا کما لیا ہو گا ؟"

اللہ دیا بڑے افسردہ سے لہجے میں بولا "اجی تجمل میاں ان بیروں سے کیا بینک لگے گی۔ اب کی برس بڑا گھاٹا آیا ہے۔ آموں کی فصل سوکھی نکل گئی۔ ساری رقم ڈوب گئی۔ سنگھاڑوں کی بیل لی تھی، دسے جونک لگ گئی۔ تجمل میاں بس اپنی تو بدھیا بیٹھ گئی۔" سنگھاڑوں کی بیل سے اللہ دیا کا ذہن کسی اور طرف منتقل ہو گیا۔ اس کا رخ چھنوں میاں کی طرف ہو گیا۔ "اجی چھنوں میاں وے پوکھر تھی نہیں اپنی دس پہ آج کل مرغابی بہت گر رئی اے ۔"

چھنوں میاں چونکے "اچھا"

"ہاں میاں"

"دیکھ لیں کسی دن"

اللہ دیا بولا "تو چھنوں میاں اس سالے جانور کا بھروسہ نہیں اے۔ بس چلنا ہے تو جلدی چلے چلو۔ کسی دن پوہ پھٹنے سے پہلے تاروں کی چھاؤں میں چلو۔ تڑکے تڑکے گھر پہ آن لگیں گے ۔"

چھنوں میاں جواب دینے ہی والے تھے کہ علی ریاض بیچ میں بول اٹھا۔ اس کی آنکھیں دور قبرستان کی طرف دیکھ رہی تھیں اور وہ کہہ رہا تھا "یار لوگ تو واپس جا رہے ہیں۔ حد ہو گئی، ہم یہی بیٹھے رہ گئے۔

چھنوں میاں، علی ریاض، تجمل، باقر بھائی چاروں اٹھ کھڑے ہوئے۔ بیریوں سے باہر نکلتے ہوئے اللہ دیے نے پھر چھنوں میاں کو ٹھوکا "تو چھنوں میاں کب چل رئے او؟"

چھنوں میاں دل ہی دل میں حساب لگاتے ہوئے بولے "کل؟ کل نہیں پر سوں نتیجہ ہے۔ ہاں ترسوں آجائیو۔ مگر دن چڑھے سے پہلے پہلے واپس آنا ہے"

اللہ دیا گرما کر بولا "دن چڑھے،؟ کیا کہہ رئے او چھنوں میاں۔ اجی۔ فجر کی نماز مسجد میں آ کے پڑھیں گے۔"


شکوہ شکایت

(منشی پریم چند)

زندگی کا بڑا حصّہ تو اسی گھر میں گزر گیا مگر کبھی آرام نہ نصیب ہوا۔ میرے شوہر دُنیا کی نگاہ میں بڑے نیک اور خوش خلق اور فیاض اور بیدار مغز ہوں گے لیکن جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے۔ دُنیا کو تو ان لوگوں کی تعریف میں مزا آتا ہے جو اپنے گھر کو جہنم میں ڈال رہے ہوں اور غیروں کے پیچھے اپنے آپ کو تباہ کئے کئے ڈالتے ہوں۔ جو گھر والوں کے لئے مرتا ہے اس کی تعریف دُنیا والے نہیں کرتے۔ وہ تو ان کی نگاہ میں خود غرض ہے، بخیل ہے، تنگ دل ہے، مغرور ہے، کور باطن ہے۔ اسی طرح جو لوگ باہر والوں کے لئے مرتے ہیں ان کی تعریف گھر والے کیوں کرنے لگے۔ اب ان ہی کو دیکھوصبح سے شام تک مجھے پریشان کیا کرتے ہیں۔ باہر سے کوئی چیز منگواؤ تو اسی دُکان سے لائیں گے جہاں کوئی گاہک بھول کر بھی نہ جاتا ہے۔ ایسی دُکانوں پر نہ چیز اچھی ملتی ہے نہ وزن ٹھیک ہوتا ہے۔ نہ دام ہی مناسب۔ یہ نقائص نہ ہوتے تو وہ دُکان بدنام ہی کیوں ہوتی۔ انہیں ایسی ہی دُکانوں سے سودا سلف خریدنے کا مرض ہے۔ با رہا کہا کسی چلتی ہوئی دُکان سے چیزیں لایا کرو وہاں مال زیادہ کھپتا ہے۔ اس لئے تازہ مال آتا رہتا ہے۔ مگر نہیں ٹٹ پونجیوں سے ان کو ہمدردی ہے اور وہ انہیں اُلٹے استرے سے مونڈتے ہیں۔ گیہوں لائیں گے تو سارے بازار سے خراب گھنا ہوا، چاول ایسا موٹا کہ بیل بھی نہ پوچھے۔ دال میں کنکر بھرے ہوئے۔ منوں لکڑی جلا ڈالو، کیا مجال کہ گلے۔ گھی لائیں گے تو آدھوں آدھ تیل اور نرخ اصلی گھی سے ایک چھٹانک کم۔ تیل لائیں گے تو ملاوٹ کا۔ بالوں میں ڈالو تو چیکٹ جائیں، مگر دام دے آئیں گے اعلیٰ درجے کے، چنبیلی کے تیل کے۔ چلتی ہوئی دُکان پر جاتے تو جیسے انہیں ڈر لگتا ہے۔ شاید"اونچی دُکان اور پھیکا پکوان" کے قائل ہیں۔ میرا تجربہ کہتا ہے کہ نیچی دُکان پر سڑے پکوان ہی ملتے ہیں۔ ایک دن کی بات ہو تو برداشت کر لی جائے۔ روز روز کی یہ مصیبت برداشت نہیں ہوتی ہے۔ کہتی ہوں آخر ٹٹ پونجیوں کی دُکان پر جاتے ہی کیوں ہیں، کیا ان کی پرورش کا ٹھیکہ تم ہی نے لے لیا ہے؟ آپ فرماتے ہیں"مجھے دیکھ کر بلانے لگتے ہیں۔" خوب! ذرا انہیں بلا لیا اور خوشامد کے دو چار الفاظ سنا دئے، بس آپ کا مزاج آسمان پر جا پہنچا۔ پھر انہیں سدھ نہیں رہتی کہ وہ کوڑا کرکٹ باندھ رہا ہے یا کیا۔ پوچھتی ہوں تم اس راستے سے جاتے ہیں کیو ں ہو؟ کیوں کسی دوسرے راستے سے نہیں جاتے؟ ایسے اٹھائی گیروں کو منہ ہی کیوں لگاتے ہو؟ اس کا کوئی جواب نہیں۔ ایک خموشی سو بلاؤں کو ٹالتی ہے۔

ایک بار ایک زیور بنوانا تھا۔ میں تو حضرت کو جانتی تھی۔ ان سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ سمجھی۔ ایک پہچان کے سنار کو بلا رہی تھی۔ اتفاق سے آپ بھی موجود تھے۔ بولے یہ فرقہ بالکل اعتبار کے قابل نہیں، دھوکا کھاؤ گی۔ میں ایک سنار کو جانتا ہوں۔ میرے ساتھ کا پڑھا ہوا ہے۔ برسوں ساتھ ساتھ کھیلے ہیں۔ میرے ساتھ چالبازی نہیں کر سکتا۔ میں نے سمجھا جب ان کا دوست ہے اور وہ بھی بچپن کا، تو کہاں تک دوستی کا حق نہ نبھائے گا۔ سونے کا ایک زیور اور پچاس روپے ان کے حوالے کئے اور اس بھلے آدمی نے وہ چیز اور روپے نہ جانے کس بے ایمان کو دے دئے کہ برسوں کے پیہم تقاضوں کے بعد جب چیز بن کر آئی تو روپے میں آٹھ آنے تانبا اور اتنی بدنما کہ دیکھ کر گھن آتی تھی۔ برسوں کاارمان خاک میں مل گیا۔ رو پیٹ کر بیٹھ رہی۔ ایسے ایسے وفادار تو ان کے دوست ہیں جنہیں دوست کی گردن پر چھری پھیرنے میں عار نہیں۔

ان کی دوستی بھی انہیں لوگوں سے ہے جو زمانہ بھر کے فاقہ مست، قلانچ، بے سرو سامان ہیں، جن کا پیشہ ہی ان جیسے آنکھ کے اندھوں سے دوستی کرنا ہے۔ روز ایک نہ ایک صاحب مانگنے کے لئے سرپر سوار رہتے ہیں اور بلا لئے گلا نہیں چھوڑتے۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی نے روپے ادا کئے ہوں۔ آدمی ایک بار کھو کر سیکھتا ہے، دو بار کھو کر سیکھتا ہے، مگر یہ بھلے مانس ہزار بار کھو کر بھی نہیں سیکھتے۔ جب کہتی ہوں روپے تو دے دئے اب مانگ کیوں نہیں لاتے۔ کیا مر گئے تمہارے دوست؟ تو بس بغلیں جھانک کر رہ جاتے۔ آپ سے دوستوں کو سوکھا جواب نہیں دیا جاتا۔ خیر سوکھا جواب نہ دو، میں یہ بھی نہیں کہتی کہ دوستوں سے بے مروّتی کرو۔ مگر ٹال تو سکتے ہیں۔ کیا بہانے نہیں بنا سکتے؟ مگر آپ انکار نہیں کر سکتے۔ کسی دوست نے کچھ طلب کیا اور آپ کے سر پر بوجھ پڑا۔ بے چارے کیسے انکار کریں۔ آخر لوگ جان جائیں گے یہ حضرت بھی فاقہ مست ہیں۔ دُنیا انہیں امیر سمجھتی ہے چاہے میرے زیور ہی کیوں نہ گروی رکھنے پڑیں۔ سچ کہتی ہوں بعض اوقات ایک ایک پیسے کی تنگی ہو جاتی ہے اور اس بھلے آدمی کو روپے جیسے گھر میں کاٹتے ہیں۔ جب تک روپے کے وارے نیارے نہ کر لے اسے کسی پہلو قرار نہیں۔ ان کے کرتوت کہاں تک کہوں۔ میرا تو ناک میں دم آگیا۔ ایک نہ ایک مہمان روز بلائے بے درماں کی طرح سر پر سوار۔ نہ جانے کہاں کے بے فکرے ان کے دوست ہیں۔ کوئی کہیں سے آ کر مرتا ہے، کوئی کہیں سے۔ گھر کیا ہے اپاہجوں کو اڈہ ہے۔ ذرا سا گھر، مشکل سے دو تو چارپائیاں۔ اوڑھنا بچھونا بھی بافراط نہیں مگر آپ ہیں کہ دوستوں کو دینے کے لئے تیار۔ آپ تو مہمان کے ساتھ لیٹیں گے۔ اس لئے انہیں چارپائی بھی چاہئے۔ اوڑھنا بچھونا بھی چاہئے ورنہ گھر کا پردہ کھل جائے، جاتی ہے تو میرے اور بچوں کے سر۔ زمین پر پڑے سکڑ کر رات کاٹتے ہیں، گرمیوں میں تو خیر مضائقہ نہیں لیکن جاڑوں میں تو بس قیامت ہی آ جاتی ہے۔ گرمیوں میں بھی کھلی چھت پر تو مہمانوں کا قبضہ ہو جاتا ہے۔ اب میں بچوں کو لئے قفس میں پڑی تڑپا کروں۔ اتنی سمجھ بھی نہیں کہ جب گھر کی یہ حالت ہے تو کیوں ایسوں کو مہمان بنائیں جن کے پاس کپڑے لتے تک نہیں۔ خدا کے فضل سے ان کے سبھی دوست ایسے ہی ہیں۔ ایک بھی خدا کا بندہ ایسا نہیں، جو ضرورت کے وقت ان کے دھیلے سے بھی مدد کر سکے۔ دو ایک بار حضرت کو اس کا تجربہ اور بے حد تلخ تجربہ ہو چکا ہے۔ مگر اس مردِ خدا نے تو آنکھیں نہ کھولنے کی قسم کھا لی ہے۔ ایسے ہی ناداروں سے ان کی پٹتی ہے، ایسے ایسے لوگوں سے آپ کی دوستی ہے کہ کہتے شرم آتی ہے۔ جسے کوئی اپنے دروازے پر کھڑا بھی نہ ہونے دے، وہ آپ کا دوست ہے۔ شہر میں اتنے امیر کبیر ہیں، آپ کا کسی سے ربط ضبط نہیں، کسی کے پاس نہیں جاتے۔ امرا مغرور ہیں، مُدَمِّغ ہیں، خوشامد پسند ہیں، ان کے پاس کیسے جائیں، دوستی گانٹھیں گے ایسوں سے جن کے گھر میں کھانے کو بھی نہیں۔

ایک بار ہمارا خدمت گار چلا گیا اور کئی دن دوسرا خدمت گار نہ ملا۔ میں کسی ہوشیار اور سلیقہ مند نوکر کی تلاش میں تھی مگر بابو صاحب کو جلد سے جلد کوئی آدمی رکھ لینے کی فکر سوار ہوئی۔ گھر کے سارے کام بدستور چل رہے تھے مگر آپ کو معلوم ہو رہا تھا کہ گاڑی رکی ہوئی ہے۔ ایک دن جانے کہاں سے ایک بانگڑو کو پکڑ لائے۔ اس کی صورت کہے دیتی تھی کہ کوئی جانگلو ہے مگر آپ نے اس کی ایسی ایسی تعریفیں کیں کہ کیا کہوں! بڑا فرماں بردار ہے، پرلے سرے کا ایمان دار، بلا کا محنتی، غضب کا سلیقہ شعار اور انتہا درجے کا با تمیز۔ خیر میں نے رکھ لیا۔ میں بار بار کیوں کر ان کی باتوں میں آ جاتی ہوں، مجھے خود تعجب ہے۔ یہ آدمی صرف شکل سے آدمی تھا، آدمیت کی کوئی علامت اس میں نہ تھی۔ کسی کام کی تمیز نہیں۔ بے ایمان نہ تھا مگر احمق اوّل نمبر کا۔ بے ایمان ہوتا تو کم سے کم اتنی تسکین تو ہوتی کہ خود کھاتا ہے۔ کم بخت دُکان داروں کی فطرتوں کا شکار ہو جاتا تھا۔ اسے دس تک گنتی بھی نہ آتی تھی۔ ایک روپیہ دے کر بازار بھیجوں تو شام تک حساب نہ سمجھا سکے۔ غصہ پی پی کر رہ جاتی تھی۔ خون جوش کھانے لگتا تھا کہ سور کے کان اکھاڑ لوں۔ مگر ان حضرت کو کبھی اسے کچھ کہتے نہیں دیکھا۔ آپ نہا کر دھوتی چھانٹ رہے ہیں اور و ہ دور بیٹھا تماشہ دیکھ رہا ہے۔ میرا خون کھولنے لگتا، لیکن انہیں ذرا بھی احساس نہیں ہوتا۔ جب میرے ڈانٹنے پر دھوتی چھانٹنے جاتا بھی تو آپ اسے قریب نہ آنے دیتے۔ اس کے عیبوں کو ہنر بنا کر دکھایا کرتے تھے اور اس کوشش میں کامیاب نہ ہوتے تو ان عیوب پر پردہ ڈال دیتے تھے۔ کم بخت کو جھاڑو دینے کی بھی تمیز نہ تھی۔ مردانہ کمرہ ہی تو سارے گھر میں ڈھنگ کا ایک کمرہ ہے، اس میں جھاڑو دیتا تو ادھر کی چیز اُدھر، اوپر کی نیچے گویا سارے کمرے میں زلزلہ آ گیا ہو۔ اور گرد کا یہ عالم کہ سانس لینی مشکل مگر آپ کمرے میں اطمینان سے بیٹھے رہتے۔ گویا کوئی بات ہی نہیں۔ ایک دن میں نے اسے خوب ڈانٹا اور کہہ دیا، "اگر کل سے تو نے سلیقے سے جھاڑو نہ دی تو کھڑے کھڑے نکال دوں گی۔"


سویرے سو کر اٹھتی تو دیکھتی ہوں کمرے میں جھاڑو دی ہوئی ہے۔ ہر ایک چیز قرینے سے رکھی ہے۔ گرد و غبار کا کہیں نام نہیں۔ آپ نے فوراً ہنس کر کہا، "دیکھتی کیا ہو، آج گھورے نے بڑے سویرے جھاڑو دی ہے۔ میں نے سمجھا دیا، تم طریقہ تو بتلاتی نہیں ہو، الٹی ڈانٹنے لگتی ہو۔" لیجئے صاحب! یہ بھی میری ہی خطا تھی۔ خیر، میں نے سمجھا اس نالائق نے کم سے کم ایک کام تو سلیقے کے ساتھ کیا۔ اب روز کمرہ صاف ستھرا ملتا اور میری نگاہوں میں گھورے کی کچھ وقعت ہونے لگی۔ اتفاق کی بات ایک دن میں ذرا معمول سے سویرے اٹھ بیٹھی اور کمرے میں آئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ گھورے دروازے پر کھڑا ہے اور خود بدولت بڑی تن دہی سے جھاڑو دے رہے ہیں۔ مجھ سے ضبط نہ ہو سکا۔ ان کے ہاتھ سے جھاڑو چھین لی اور گھورے کے سر پر پٹک دی۔ حرام خور کو اسی وقت دھتکار بتائی۔ آپ فرمانے لگے، اس کی تنخواہ تو بیباق کر دو۔ خوب! ایک تو کام نہ کرے، دوسرے آنکھیں دکھائے، اس پر تنخواہ بھی دے دوں۔ میں نے ایک کوڑی بھی نہ دی۔ ایک کرتا دیا تھا وہ بھی چھین لیا۔ اس پر حضرت کئی دن مجھ سے روٹھے رہے۔ گھر چھوڑ کر بھاگے جا رہے تھے، بڑی مشکلوں سے رکے۔

ایک دن مہتر نے اتارے کپڑوں کا سوال کیا۔ اس بے کاری کے زمانے میں فالتو کپڑے کس کے گھر میں ہیں۔ میرے یہاں تو ضروری کپڑے بھی نہیں۔ حضرت ہی کا توشہ خانہ ایک بغچی میں آ جائے گا جو ڈاک کے پارسل سے کہیں بھیجا جا سکتا ہے۔ پھر اس سال سردی کے موسم میں نئے کپڑے بنوانے کی نوبت بھی نہ آئی تھی۔ میں نے مہتر کو صاف جواب دے دیا۔ سردی کی شدت تھی اس کا مجھے خود احساس تھا۔ غریبوں پر کیا گزرتی ہے، اس کا بھی علم تھا لیکن میرے یا آپ کے پاس افسوس کے سوا اور کیا علاج ہے۔ جب رؤسا اور امرا کے پاس ایک مال گاڑی کپڑوں سے بھری ہوئی ہے تو پھر غربا کیوں نہ برہنگی کا عذاب جھیلیں۔ خیر! میں نے تو اسے جواب دے دیا۔ آپ نے کیا کیا، اپنا کوٹ اُتار کر اس کے حوالے کر دیا۔ میری آنکھوں میں خون اتر آیا۔ حضرت کے پاس یہی ایک کوٹ تھا۔ یہ خیال نہ ہوا کہ پہنیں گے کیا۔ مہتر نے سلام کیا، دعائیں دیں اور اپنی راہ لی۔ آخر کئی دن سردی کھاتے رہے، صبح کو گھومنے جایا کرتے تھے، وہ سلسلہ بھی بند ہو گیا۔ مگر دل بھی قدرت نے انہیں عجیب قسم کا دیا ہے۔ پھٹے پرانے کپڑے پہنتے آپ کو شرم نہیں آتی۔ میں تو کٹ جاتی ہوں، آپ کو مطلق احساس نہیں۔ کوئی ہنستا ہے تو ہنسے۔ آپ کی بلا سے۔ آخر مجھ سے دیکھا نہ گیا تو ایک کوٹ بنوا دیا۔ جی تو جلتا تھا کہ خوب سردی کھانے دوں مگر ڈری کہ کہیں بیمار پڑ جائیں تو اور بھی آفت آ جائے۔ آخر کام تو انہیں کو کرنا ہے۔ یہ اپنے دل میں سمجھتے ہوں گے کہ میں کتنا نیک نفس اور منکسر المزاج ہوں۔ شاید انہیں ان اوصاف پر ناز ہو۔ میں انہیں نیک نفس نہیں سمجھتی ہوں۔ یہ سادہ لوحی نہیں، سیدھی سادی حماقت ہے۔ جس مہتر کو آپ نے اپنا کوٹ دیا اسی کو میں نے کئی بار رات کو شراب کے نشے میں بد مست جھومتے دیکھا ہے اور آپ کو دکھا بھی دیا ہے، تو پھر دوسروں کی کج روی کا تاوان ہم کیوں دیں؟ اگر آپ نیک نفس اور فیاض ہوتے تو گھر والوں سے بھی تو فیاضانہ برتاؤ کرتے یا ساری فیاضی باہر والوں کے لئے ہی مخصوص ہے۔ گھر والوں کو اس کا عشرِ عشیر بھی نہ ملنا چاہئے؟ اتنی عمر گزر گئی مگر اس شخص نے کبھی اپنے دل سے میرے لئے ایک سوغات بھی نہ خریدی۔ بے شک جو چیز طلب کروں اسے بازار سے لانے میں انہیں کلام نہیں، مطلق عذر نہیں مگر روپیہ بھی دے دوں یہ شرط ہے۔ انہیں خود کبھی توفیق نہیں ہوتی۔ یہ میں مانتی ہوں کہ بچارے اپنے لئے بھی کچھ نہیں لاتے۔ میں جو کچھ منگوا دوں اسی پر قناعت کر لیتے ہیں۔ مگر انسان کبھی کبھی شوق کی چیزیں چاہتا ہی ہے اور مردوں کو دیکھتی ہوں، گھر میں عورت کے لئے طرح طرح کے زیور، کپڑے، شوق سنگھار کے لوازمات لاتے رہتے ہیں۔ یہاں یہ رسم ممنوع ہے۔ بچوں کے لئے مٹھائی، کھلونے، باجے، بگل شاید اپنی زندگی میں ایک بار بھی نہ لائے ہوں، قسم سی کھا لی ہے۔ اس لئے میں تو انہیں بخیل کہوں گی، مردہ دل ہی کہوں گی۔ فیاض نہیں کہہ سکتی۔

دوسروں کے ساتھ ان کا جو فیاضانہ سلوک ہے اسے مَیں حرص نمود اور سادہ لوحی پر محمول کرتی ہوں۔ آپ کی منکسر المزاجی کا یہ حال ہے کہ جس دفتر میں آپ ملازم ہیں اس کے کسی عہدہ دار سے آپ کا میل جول نہیں۔ افسروں کو سلام کرنا تو آپ کے آئین کے خلاف ہے۔ نذر یا ڈالی کی بات تو الگ ہے اور تو اور کبھی کسی افسر کے گھر جاتے ہی نہیں۔ اس کا خمیازہ آپ نہ اُٹھائیں تو کون اُٹھائے اوروں کو رعایتی چھٹیاں ملتی ہیں، آپ کی تنخواہ کٹتی ہے اوروں کی ترقیاں ہوتی ہیں آپ کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ حاضری میں پانچ منٹ بھی دیر ہو جائے تو جواب طلب ہو جاتا ہے۔ بچارے جی توڑ کر کام کرتے ہیں۔ کوئی پیچیدہ، مشکل کام آ جائے تو انہیں کے سر منڈھا جاتا ہے۔ انہیں مطلق عذر نہیں، دفتر میں انہیں گھسو اور پسو وغیرہ خطابات ملے ہوئے ہیںمگر منزل کتنی ہی دشوار طے کریں ان کی تقدیر میں وہی سوکھی گھاس لکھی ہے۔ یہ انکساری نہیں ہے۔ میں تو اسے زمانہ شناسی کا فقدان کہتی ہوں۔ آخر کیوں کوئی شخص آپ سے خوش ہو۔ دُنیا میں مروت اور رواداری سے کام چلتا ہے، اگر ہم کسی سے کھنچے رہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ہم سے نہ کھنچا رہے، پھر جب دل میں کبیدگی ہوتی ہے تو وہ دفتری تعلقات میں ظاہر ہو جاتی ہے۔ جو ماتحت افسر کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے، جس کی ذات سے افسر کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے، جس پر اعتبار ہوتا ہے، اس کا لحاظ وہ لازمی طور پر کرتا ہے۔ ایسے بے غرضوں سے کیوں کسی کو ہمدردی ہونے لگی۔ افسر بھی انسان ہیں۔ ان کے دل میں جو اعزاز و امتیار کی ہوس ہوتی ہے وہ کہاں پوری ہو۔ جب اس کے ماتحت ہی فرنٹ رہیں۔ آپ نے جہاں ملازمت کی وہاں سے نکالے گئے۔ کبھی کسی دفتر میں سال دو سال سے زیادہ نہ چلے۔ یا تو افسروں سے لڑ گئے یا کام کی کثرت کی شکایت کر بیٹھے۔

آپ کو کنبہ پروری کا دعویٰ ہے۔ آپ کے کئی بھائی بھتیجے ہیں۔ وہ کبھی آپ کی بات بھی نہیں پوچھتے۔ مگر آپ برابر ان کا منہ تاکتے رہتے ہیں۔ ان کے ایک بھائی صاحب آج کل تحصیل دار ہیں۔ گھر کی جائیداد انہی کی نگرانی میں ہے۔ وہ شان سے رہتے ہیں، موٹر خرید لی ہے۔ کئی نوکر ہیں، مگر یہاں بھولے سے بھی خط نہیں لکھتے۔ ایک بار ہمیں روپے کی سخت ضرورت ہوئی، میں نے کہا اپنے برادر مکرم سے کیوں نہیں مانگتے؟ کہنے لگے انہیں کیوں پریشان کروں۔ آخر انہیں بھی تو اپنا خرچ کرنا ہے۔ کون سی ایسی بچت ہو جاتی ہو گی۔ میں نے بہت مجبور کیا، تو آ پ نے خط لکھا۔ معلوم نہیں خط میں کیا لکھا، لیکن روپے نہ آنے تھے نہ آئے۔ کئی دنوں کے بعد میں نے پوچھا، "کچھ جواب آیا حضور کے بھائی صاحب کے دربار سے؟" آپ نے ترش ہو کر کہا، "ابھی ایک ہفتہ تو خط بھیجے ہوا۔ ابھی کیا جواب آ سکتا ہے؟ ایک ہفتہ اور گزرا۔ اب آپ کا یہ حال ہے کہ مجھے کوئی بات کرنے کا موقع ہی نہیں عطا فرماتے۔ اتنے بشاش نظر آتے ہیں کہ کیا کہوں۔ باہر سے آتے ہیں تو خوش خوش۔ کوئی نہ کوئی شگوفہ لئے ہوئے۔ میری خوشامد بھی خوب ہو رہی ہے۔ میرے میکے والوں کی بھی تعریف ہو رہی ہے۔ میں حضرت کی چال سمجھ رہی تھی۔ یہ ساری دلجوئیاں محض اس لئے تھیں کہ آپ کے برادرم مکرم کے متعلق کچھ پوچھ نہ بیٹھوں۔ سارے، ملکی، مالی، اخلاقی تمدنی مسائل میرے سامنے بیان کئے جاتے تھے، اتنی تفصیل اور شرح کے ساتھ کہ پروفیسر بھی دنگ رہ جائے۔ محض اس لئے کہ مجھے اس امر کی بابت کچھ پوچھنے کا موقع نہ ملے لیکن میں کیا چُوکنے والی تھی، جب پورے دو ہفتے گزر گئے اور بیمہ کمپنی کے روپے روانہ کرنے کی تاریخ موت کی طرح سر پر آ پہنچی تو میں نے پوچھا کیا ہوا؟ تمہارے بھائی صاحب نے دہن مبارک سے کچھ فرمایا یا ابھی تک خط ہی نہیں پہنچا۔ آخر ہمارا حصہ بھی گھر کی جائیداد میں کچھ ہے یا نہیں یا ہم کسی لونڈی باندی کی اولاد ہیں؟ پانچ سو روپے سال کا منافع نو دس سال قبل تھا، اب ایک ہزار سے کم نہ ہو گا۔ کبھی ایک جھنجی کوڑی بھی ہمیں نہ ملی۔ موٹے حساب سے ہمیں دو ہزار ملنا چاہئے۔ دو ہزار نہ ہو، ایک ہزار ہو، پانچ سو ہو، ڈھائی سو ہو، کچھ نہ ہو تو بیمہ کمپنی کے پریمیم بھرنے کو تو ہو۔ تحصیل دار کی آمدنی ہماری آمدنی سے چوگنی ہے، رشوتیں بھی لیتے ہیں۔ تو پھر ہمارے روپے کیوں نہیں دیتے۔ آپ ہیں ہیں، ہاں ہاں کرنے لگے۔ بچارے گھر کی مرمت کراتے ہیں۔ عزیز و اقارب کی مہمان داری کا بار بھی تو انہیں پر ہے۔ خوب! گویا جائداد کا منشا محض یہ ہے کہ اس کی کمائی اسی میں صرف ہو جائے۔ اس بھلے آدمی کو بہانے بھی گھڑنے نہیں آتے۔ مجھ سے پوچھتے، میں ایک نہیں تو ہزار بتا دیتی۔ کہہ دیتے گھر میں آگ لگ گئی۔ سارا اثاثہ جل کر خاک ہو گیا۔ یا چوری ہو گئی۔ چور نے گھر میں تنکا تک نہ چھوڑا۔ یا دس ہزار کا غلّہ خریدا تھا۔ اس میں خسارہ ہو گیا۔ گھاٹے سے بیچنا پڑا۔ یا کسی سے مقدمہ بازی ہو گئی اس میں دیوالیہ پٹ گیا۔

آپ کو سوجھی بھی تو لچر سی بات۔ اس جولانئ طبع پر آپ مصنف اور شاعر بھی بنتے ہیں۔ تقدیر ٹھونک کر بیٹھی رہی۔ پڑوس کی بی بی سے قرض لئے تب جا کر کہیں کام چلا۔ پھر بھی آپ بھائی بھتیجوں کی تعریف کے پل باندھتے ہیں تو میرے جسم میں آگ لگ جاتی ہے۔ ایسے برادرانِ یوسف سے خدا بچائے۔

خدا کے فضل سے آپ کے دو بچے ہیں، دو بچیاں بھی ہیں۔ خدا کا فضل کہوں یا خدا کا قہر کہوں، سب کے سب اتنے شریر ہو گئے کہ معاذ اللہ۔ مگر کیا مجال کہ یہ بھلے مانس کسی بچے کو تیز نگاہ سے بھی دیکھیں۔ رات کے آٹھ بج گئے ہیں، بڑے صاحب زادے ابھی گھوم کر نہیں آئے۔ میں گھبرا رہی ہوں۔ آپ اطمینان سے بیٹھے اخبار پڑھ رہے ہیں۔ جھلائی ہوئی آتی ہوں اور اخبار چھین کر کہتی ہوں، "جا کر ذرا دیکھتے کیوں نہیں لونڈا کہاں رہ گیا۔ نہ جانے تمہارے دل میں کچھ قلق ہے بھی یا نہیں۔ تمہیں تو خدا نے اولاد ہی ناحق دی۔ آج آئے تو خوب ڈانٹنا۔" تب آپ بھی گرم ہو جاتے ہیں۔ "ابھی تک نہیں آیا۔ بڑا شیطان ہے۔ آج بچوُ آتے ہیں تو کان اکھاڑ لیتا ہوں، مارے تھپڑوں کے کھال ادھیڑ کر رکھ دوں گا۔ یوں بگڑ کر طیش کے عالم میں آپ اس کو تلاش کرنے نکلتے ہیں۔ اتفاق سے آپ ادھر جاتے ہیں، ادھر لڑکا آ جاتا ہے۔ میں کہتی ہوں کدھر سے آ گیا۔ وہ بچارے تجھے ڈھونڈنے گئے ہوئے ہیں۔ دیکھنا آج کیسی مرمت ہوتی ہے۔ یہ عادت ہی چھوٹ جائے گی۔ دانت پیس رہے تھے آتے ہی ہوں گے۔ چھڑی بھی ہاتھ میں ہے۔ تم اتنے شریر ہو گئے ہو کہ بات نہیں سنتے۔ آج قدر و عافیت معلوم ہو گی۔ لڑکا سہم جاتا ہے اور لیمپ جلا کر پڑھنے لگتا ہے۔ آپ ڈیڑھ دو گھنٹے میں لوٹتے ہیں۔ حیران و پریشان اور بدحواس، گھر میں قدم رکھتے ہی پوچھتے ہیں، "آیا کہ نہیں؟"


میں ان کا غصہ بھڑکانے کے ارادے سے کہتی ہوں، "آ کر بیٹھا تو ہے جا کر پوچھتے کیوں نہیں، پوچھ کر ہار گئی کہاں گیا تھا۔ کچھ بولتا ہی نہیں۔"

آپ گرج پڑتے ہیں، "منو! یہاں آؤ"

لڑکا تھر تھر کانپتا ہوا آ کر آنگن میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ دونوں بچیاں گھر میں چھپ جاتی ہیں کہ خدا جانے کیا آفت نازل ہونے والی ہے۔ چھوٹا بچہ کھڑکی سے چوہے کی طرح جھانک رہا ہے۔ آپ جامے سے باہر ہیں۔ ہاتھ میں چھڑی ہے۔ میں بھی وہ غضب ناک چہرہ دیکھ کر پچھتانے لگتی ہوں کہ کیوں ان سے شکایت کی۔ آپ لڑکے کے پاس جاتے ہیں مگر بجائے اس کے کہ چھڑی سے اس کی مرمت کریں۔ آہستہ سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بناوٹی غصے سے کہتے ہیں۔ "تم کہاں گئے تھے جی! منع کیا جاتا ہے۔ مانتے نہیں ہو۔ خبردار جو اب اتنی دیر کی۔ آدمی شام کو گھر چلا آتا ہے یا ادھر ادھر گھومتا ہے؟"

میں سمجھ رہی ہوں یہ تمہید ہے۔ قصیدہ اب شروع ہو گا، گریز تو بری نہیں لیکن یہاں تمہید ہی خاتمہ ہو جاتی ہے۔ بس آپ کا غصہ فرو ہو گیا۔ لڑکا اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے اور غالباً خوشی سے اچھلنے لگتا ہے۔ میں احتجاج کی صدا بلند کرتی ہوں۔ "تم تو جیسے ڈر گئے، بھلا دو چار تمانچے تو لگائے ہوتے۔ اس طرح تو لڑکے شیر ہو جاتے ہیں۔ آج آٹھ بجے آیا ہے۔ کل نو بجے کی خبر لائے گا۔ اس نے بھی دل میں کیا سوچا ہو گا۔"

آپ فرماتے ہیں، "تم نے سنا نہیں میں نے کتنی زور سے ڈانٹا۔ بچے کی روح ہی فنا ہو گئی۔ دیکھ لینا جو پھر کبھی دیر میں آئے۔" "تم نے ڈانٹا تو نہیں ہاں آنسو پونچھ دیئے۔"

آپ نے ایک نئی اپج نکالی ہے کہ لڑکے تادیب سے خراب ہو جاتے ہیں۔ آپ کے خیال میں لڑکوں کو آزاد رہنا چاہئے۔ ان پر کسی قسم کی بندش یا دباؤ نہ ہونا چاہئے۔ بندش سے آپ کے خیال میں لڑکے کی دماغی نشو و نمامیں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کا یہ نتیجہ ہے، کبھی گولیاں، کبھی کنکوے۔ حضرت بھی انہیں کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ چالیس سال سے تو متجاوز آپ کی عمر ہے مگر لڑکپن دل سے نہیں گیا۔ میرے باپ کے سامنے مجال تھی کہ کوئی لڑکا کنکوا اڑا لے یا گلی ڈنڈا کھیل سکے۔ خون پی جاتے۔ صبح سے لڑکوں کو پڑھانے بیٹھ جاتے۔ اسکول سے جوں ہی لڑکے واپس آتے پھر لے بیٹھتے۔ بس شام کو آدھے گھنٹے کی چھٹی دیتے۔ رات کو پھر کام میں جوت دیتے۔ یہ نہیں کہ آپ تو اخبار پڑھیں اور لڑکے گلی گلی کی خاک چھانتے پھریں۔

کبھی آپ بھی سینگ کٹا کر بچھڑے بن جاتے ہیں، لڑکوں کے ساتھ تاش کھیلنے بیٹھ جاتے ہیں۔ ایسے باپ کا لڑکوں پر کیا رعب ہو سکتا ہے۔ ابا جان کے سامنے میرے بھائی سیدھے آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔ ان کی آواز سنتے ہی قیامت آ جاتی تھی۔ انہوں نے گھر میں قدم رکھا اور خاموشی طاری ہوئی۔ ان کے رو برو جاتے ہوئے لڑکوں کی جان نکلتی تھی اور اسی تعلیم کی برکت ہے کہ سبھی اچھے عہدوں پر پہنچ گئے۔ صحت البتہ کسی کی بہت اچھی نہیں ہے۔ تو ابا جان کی صحت ہی کون سی بہت اچھی تھی۔ بچارے ہمیشہ کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا رہتے۔ پھر لڑکوں کی صحت کہاں سے اچھی ہو جاتی لیکن کچھ بھی ہو تعلیم و تادیب میں انہوں نے کسی کے ساتھ رعایت نہیں کی۔ ایک روز میں نے حضرت کو بڑے صاحبزادے کی کنکوا کی تعلیم دیتے دیکھا۔ یوں گھماؤ، یوں غوطہ دو، یوں کھینچو، یوں ڈھیل دو۔ ایسا دل و جان سے سیکھا رہے تھے، گویا گرو منتر دے رہے ہوں۔ اس دن میں نے بھی ان کی ایسی خبر لی کہ یاد کرتے ہوں گے۔ میں نے صاف کہہ دیا تم کون ہوتے ہو میرے بچوں کو بگاڑنے والے۔ تمہیں گھر سے کوئی مطلب نہیں ہے، نہ ہو، لیکن میرے بچوں کو خراب مت کیجئے، برے برے شوق نہ پیدا کیجئے۔ اگر آپ انہیں سدھا نہیں سکتے تو کم سے کم بگاڑیئے تو مت۔ لگے باتیں بنانے، ابا جان کسی لڑکے کو میلے تماشے نہ لے جاتے تھے۔ لڑکا سر پٹک پٹک کر مر جائے مگر ذرا بھی نہ پسیجتے تھے اور ان بھلے آدمی کا یہ حال ہے کہ ایک ایک سے پوچھ کر میلے لے جاتے ہیں۔ چلو چلو، وہاں بڑی بہار ہے، خوب آتش بازیاں چھوٹیں گی، غبارے اڑیں گے۔ ولایتی چرخیاں بھی ہیں، ان میں مزے سے بیٹھنا اور تو اور آپ لڑکوں کو ہاکی کھیلنے سے بھی نہیں روکتے۔ یہ انگریزی کھیل بھی کتنے خوف ناک ہوتے ہیں۔ کرکٹ، فٹ بال، ہاکی ایک سے ایک مہلک۔ گیند لگ جائے تو جان ہی لے کر چھوڑے۔ مگر آپ کو ان کھیلوں سے بڑی رغبت ہے۔ کوئی لڑکا میچ جیت کر آ جاتا ہے تو کتنے خوش ہوتے ہیں، گویا کوئی قلعہ فتح کر آیا ہو۔ حضرت کو ذرا بھی اندیشہ نہیں کہ کسی لڑکے کے چوٹ لگ گئی تو کیا ہو گا۔ ہاتھ پاؤں ٹوٹ گیا تو بچاروں کی زندگی کیسے پار لگے گی۔

پچھلے سال لڑکی کی شادی تھی۔ آپ کو یہ ضد تھی کہ جہیز کے نام کھوٹی کوڑی بھی نہ دیں گے۔ چاہے لڑکی ساری عمر کنواری بیٹھی رہے۔ آپ اہل دُنیا کی خبیث النفسی آئے دن دیکھتے رہتے ہیں۔ پھر بھی چشم بصیرت نہیں کھلتی۔ جب تک سماج کا یہ نظام قائم ہے اور لڑکی کا بلوغ کے بعد کنواری رہنا انگشت نمائی کا باعث ہے اس وقت تک یہ رسم فنا نہیں ہو سکتی۔ دو چار افراد بھلے ہی ایسے بیدار مغز نکل آئیں جو جہیز لینے سے انکار کریں لیکن اس کا اثر عام حالات پر کم ہوتا ہے اور برائی بدستور قائم رہتی ہے۔ جب لڑکوں کی طرح لڑکیوں کے لئے بھی بیس پچیس برس کی عمر تک کنواری رہنا بدنامی کا باعث نہ سمجھا جائے گا۔ اس وقت آپ ہی آپ یہ رسم رخصت ہو جائے گی۔ میں نے جہاں جہاں پیغام دئے، جہیز کا مسئلہ پیدا ہوا اور آپ نے ہر موقع پر ٹانگ اڑا دی۔ جب اس طرح ایک سال پورا گزر گیا اور لڑکی کا سترھواں سال شروع ہو گیا تو میں نے ایک جگہ بات پکی کر لی۔ حضرت بھی راضی ہو گئے کیوں کہ ان لوگوں نے قرارداد نہیں کی۔ حالانکہ دل میں انہیں پورا یقین تھا کہ ایک اچھی رقم ملے گی اور میں نے بھی طے کر لیا تھا کہ اپنے مقدور بھر کوئی بات اُٹھا نہ رکھوں گی۔ شادی کے بخیر و عافیت انجام پانے میں کوئی شبہ نہ تھا، لیکن ان مہاشے کے آگے میری ایک نہ چلتی تھی۔ یہ رسم بے ہودہ ہے۔ یہ رسم بے معنی ہے۔ یہاں روپے کی کیا ضرورت؟۔ یہاں گیتوں کی کیا ضرورت؟ ناک میں دم تھا۔ یہ کیوں وہ کیوں؟ یہ تو صاف جہیز ہے۔ تم نے میرے منہ میں کالک لگا دی۔ میری آبرو مٹا دی۔ ذرا خیال کیجئے بارات دروازے پر پڑی ہوئی۔ دن لڑکی کے ماں باپ برت رکھتے ہیں۔ میں نے بھی برت رکھا لیکن آپ کو ضد تھی۔ کہ برت کی کوئی ضرورت نہیں۔ جب لڑکے کے والدین برت نہیں رکھتے تو لڑکی کے والدین کیوں رکھیں اور سارا خاندان ہر چند منع کرتا رہا لیکن آپ نے حسب معمول ناشتہ کیا، کھانا کھایا۔ خیر رات کو شادی کے وقت کنیا دان کی رسم آئی۔ آپ کو کنیا دان کی رسم پر ہمیشہ سے اعتراض ہے۔ اسے آپ مہمل سمجھتے ہیں۔ لڑکی دان کی چیز نہیں۔ دان روپے پیسے کا ہوتا ہے جانور بھی دان دئے جا سکتے ہیں لیکن لڑکی کا دان ایک لچر سی بات ہے۔ کتنا سمجھتی ہوں۔ "صاحب پرانا رواج ہے، شاستروں میں صاف اس کا حکم ہے۔ عزیز و اقارب سمجھا رہے ہیں مگر آپ ہیں کہ کان پر جوں نہیں رینگتی۔ کہتی ہوں دُنیا کیا کہے گی؟ یہ لوگ کیا بالکل لا مذہب ہو گئے مگر آپ کان ہی نہیں دھرتے۔ پیروں پڑی، یہاں تک کہا کہ بابا تم کچھ نہ کرنا جو کچھ کرنا ہو گا میں کر لوں گی۔ تم صرف چل کر منڈپ میں لڑکی کے پاس بیٹھ جاؤ اور اسے دُعا دو۔ مگر اس مرد خدا نے مطلق سماعت نہ کی۔ آخر مجھے رونا آگیا۔ باپ کے ہوتے میری لڑکی کا کنیا دان چچا یا ماموں کرے، یہ مجھے منظور نہ تھا۔ میں نے تنہا کنیا دان کی رسم ادا کی۔ آپ گھر جھانکے تک نہیں اور لطف یہ ہے کہ آپ ہی مجھ سے روٹھ بھی گئے۔ بارات کی رخصتی کے بعد مجھ سے مہینوں بولے نہیں۔ جھک مار کر مجھی کو منانا پڑا۔

مگر کچھ عجیب دل لگی ہے کہ ان ساری برائیوں کے باوجود میں ان سے ایک دن کے لئے بھی جدا نہیں رہ سکتی۔ ان سارے عیوب کے باوجود میں انہیں پیار کرتی ہوں۔ ان میں وہ کون سی خوبی ہے جس پر میں فریفتہ ہوں۔ مجھے خود نہیں معلوم۔ مگر کوئی چیز ہے ضرور جو مجھے ان کا غلام بنائے ہوئے ہے۔ وہ ذرا معمول سے دیر میں گھر آتے ہیں تو میں بے صبر ہو جاتی ہوں۔ ان کا سر بھی درد کرے تو میری جان نکل جاتی ہے۔ آج اگر تقدیر ان کے عوض مجھے کوئی علم اور عقل کا پتلا، حسن اور دولت کا دیوتا بھی دے تو میں اس کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھوں۔ یہ فرض کی بیڑی نہیں ہے۔ ہرگز نہیں۔ یہ رواجی وفاداری بھی نہیں ہے بلکہ ہم دونوں کی فطرتوں میں کچھ ایسی رواداریاں کچھ ایسی صلاحیتیں پیدا ہو گئی ہیں۔ گویا کسی مشین کے کل پرزے گھس گھسا کر فٹ ہو گئے ہوں۔ ا ور ایک پرزے کی جگہ دوسرا پرزہ کام نہ دے سکے چاہے وہ پہلے سے کتنا ہی سڈول، نیا اور خوشنما کیوں نہ ہو۔ جانے ہوئے رستے سے ہم بے خوف، آنکھیں بند کئے چلے جاتے ہیں، اس کے نشیب و فراز، موڑ اور گھماؤ اب ہماری آنکھوں میں سمائے ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس کسی انجان رستے پر چلنا کتنی زحمت کا باعث ہو سکتا ہے۔ قدم قدم پر گمراہ ہو جانے کے اندیشے، ہر لمحہ چور اور رہزن کا خوف، بلکہ شاید آج میں ان کی برائیوں کو خوبیوں سے تبدیل کرنے پر بھی تیار نہیں۔


ستاروں سے آگے

(قراۃ العین حیدر)

کرتار سنگھ نے اونچی آواز میں ایک اور گیت گانا شروع کر دیا۔ وہ بہت دیر سے ماہیا الاپ رہا تھا جس کو سنتے سنتے حمیدہ کرتار سنگھ کی پنکج جیسی تانوں سے، اس کی خوبصورت داڑھی سے، ساری کائنات سے اب اس شدت کے ساتھ بیزار ہو چکی تھی کہ اسے خوف ہو چلا تھا کہ کہیں وہ سچ مچ اس خواہ مخواہ کی نفرت و بیزاری کا اعلان نہ کر بیٹھے اور کامریڈ کرتار ایسا سویٹ ہے فوراً برا مان جائے گا۔ آج کے بیچ میں اگر وہ شامل نہ ہوتا تو باقی کے ساتھی تو اس قدر سنجیدگی کے موڈ میں تھے کہ حمیدہ کو زندگی سے اکتا کر خود کشی کر جاتی۔ کرتار سنگھ گڈو گراموفون تک ساتھ اٹھا لایا تھا۔ ملکہ پکھراج کا ایک ریکارڈ تو کیمپ ہی میں ٹوٹ چکا تھا، لیکن خیر۔

حمیدہ اپنی سرخ کنارے والی ساری کے آنچل کو شانوں کے گرد بہت احتیاط سے لپیٹ کر ذرا اور اوپر کو ہو کے بیٹھ گئی جیسے کامریڈ کرتار سنگھ کے ماہیا کو بے حد دلچسپی سے سن رہی ہے لیکن نہ معلوم کیسی الٹی پلٹی الجھی الجھی بے تکی باتیں اس وقت اس کے دماغ میں گھسی آ رہی تھیں۔ وہ "جاگ سوزِ عشق جاگ" والا بیچارہ ریکارڈ شکنتلا نے توڑ دیا تھا۔

"افوہ بھئی۔" بیل گاڑی کے ہچکولوں سے اس کے سر میں ہلکا ہلکا درد ہونے لگا اور ابھی کتنے بہت سے کام کرنے کو پڑے تھے۔ پورے گاؤں کو ہیضے کے ٹیکے لگانے کو پڑے تھے۔ "توبہ!" کامریڈ صبیح الدین کے گھونگریالے بالوں کے سر کے نیچے رکھے ہوئے دواؤں کے بکس میں سے نکل کے دواؤں کی تیز بو سیدھی اس کے دماغ میں پہنچ رہی تھی اور اسے مستقل طور پر یاد دلائے جا رہی تھی کہ زندگی واقعی بہت تلخ اور ناگوار ہےایک گھسا ہوا، بیکار اور فالتو سا ریکارڈ جس میں سے سوئی کی ٹھیس لگتے ہی وہی مدھم اور لرزتی ہوئی تانیں بلند ہو جاتی تھیں جو نغمے کی لہروں میں قید رہتے رہتے تھک چکی تھیں۔ اگر اس ریکارڈ کو، جو مدتوں سے ریڈیو گرام کے نچلے خانے میں تازہ ترین البم کے نیچے دبا پڑا تھا، زور سے زمین پر پٹخ دیا جاتا تو حمیدہ خوشی سے ناچ اٹھی۔ کتنی بہت سی ایسی چیزیں تھیں جو وہ چاہتی تھی کہ دنیا میں نہ ہوتیں تو کیسا مزہ رہتااور اس وقت تو ایسا لگا جیسے سچ مچ اس نے "I dream I dwell in marble halls۔"والے گھسے ہوئے ریکارڈ کو فرش پر پٹخ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے اور جھک کر اس کی کرچیں چنتے ہوئے اسے بہت ہی لطف آ رہا ہے۔ عنابی موزیک کے اس فرش پر، جس پر ایک دفعہ ایک ہلکے پھلکے فوکس ٹروٹ میں بہتے ہوئے اس نے سوچا تھا کہ بس زندگی سمٹ سمٹا کے اس چمکیلی سطح، ان زرد پردوں کی رومان آفرین سلوٹوں اور دیواروں میں سے جھانکتی ہوئی ان مدھم برقی روشنیوں کے خواب آور دھندلکے میں سما گئی ہے، یہ تپش انگیز جاز یونہی بجتا رہے گا، اندھیرے کونوں میں رکھے ہوئے سیاہی مائل سبز فرن کی ڈالیاں ہوا کے ہلکے ہلکے جھونکوں میں اس طرح ہچکولے کھاتی رہیں گی اور ریڈیو گرام پر ہمیشہ پولکا اور رمبا کے نئے نئے ریکارڈ لگتے جائیں گے۔ یہ تھوڑا ہی ممکن ہے کہ جو باتیں اسے قطعی پسند نہیں وہ بس ہو تی ہی چلی جائیںریکارڈ گھستے جائیں اور ٹوٹتے جائیں۔ لیکن یہ ریکارڈوں کا فلسفہ کیا ہے آخر؟ حمیدہ کو ہنسی آ گئی۔ اس نے جلدی سے کرتار سنگھ کی طرف دیکھا۔ کہیں وہ یہ نہ سمجھ لے کہ وہ اس کے گانے پر ہنس رہی ہے۔

کامریڈ کرتار گائے جا رہا تھا۔ "وس وس وے ڈھولنا" اف! یہ پنجابی کے کے بعض الفاظ کس قدر بھونڈے ہوتے ہیں۔ حمیدہ ایک ہی طریقے سے بیٹھے بیٹھے تھک کے بانس کے سہارے آگے کی طرف جھک گئی۔ بہتی ہوئی ہوا میں اس کا سرخ آنچل پھٹپھٹائے جا رہا تھا۔

اسے معلوم تھا کہ اسے چمپئی رنگ کی ساری بہت سوٹ کرتی ہے۔ اس کے ساتھ کے سب لڑکے کہا کرتے تھے اگر اس کی آنکھیں ذرا اور سیاہ اور ہونٹ ذرا اور پتلے ہوتے تو ایشیائی حسن کا بہترین نمونہ بن جاتی۔ یہ لڑکے عورتوں کے حسن کے کتنے قدردان ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی میں ہر سال کس قدر چھان بین اور تفصیلات کے مکمل جائزے کے بعد لڑکیوں کو خطاب دئے جاتے تھے اور جب نوٹس بورڈ پر سالِ نو کے اعزازات کی فہرست لگتی تھی تو لڑکیاں کیسی بے نیازی اور خفگی کا اظہار کرتی ہوئی اس کی طرف نظر کئے بغیر کوریڈور میں سے گزر جاتی تھیں۔ کمبخت سوچ سوچ کے کیسے مناسب نام ایجاد کرتے تھے۔ "عمر خیام کی رباعی"، "دہرہ ایکسپریس"، "بال آف فائر"، "It’s Love I’m after"، "نقوشِ چغتائی "، بلڈ بنک۔"

گاڑی دھچکے کھاتی چلی جا رہی تھی۔ "کیا بجا ہو گاکامریڈ؟"گاڑی کے پچھلے حصے میں سے منظور نے جمائی لے کر جتندر سے پوچھا۔

"ساڑھے چار۔ ابھی ہمیں چلتے ہوئے ایک گھنٹہ بھی نہیں گزرا۔" جتندر اپنا چار خانہ کوٹ گاڑی بان کے پاس پرال پر بچھائے، کہنی پر سر رکھے چپ چاپ پڑا تھا۔ شکنتلا بھی شاید سونے لگی تھی حالانکہ وہ بہت دیر سے اس کوشش میں مصروف تھی کہ بس ستاروں کو دیکھتی رہے۔ وہ اپنے پیر ذرا اور نہ سیکڑتیسکیڑتی لیکن پاس کی جگہ کامریڈ کرتار نے گھیر رکھی تھی۔ شکنتلا بار بار خود کو یاد دلا رہی تھی کہ اس کی آنکھوں میں اتنی سی بھی نیند نہیں گھسنی چاہئے۔ ذرا ویسی یعنی نا مناسب سی بات ہے، لیکن دھان کے کھیتوں اور گھنے باغوں کے اوپر سے آتی ہوئی ہوا میں کافی خنکی آ چلی تھی اور ستارے مدھم پڑتے جا رہے تھے۔ "بس بس وے ڈھولنا۔" اور اب کرتار سنگھ کا جی بے تحاشا چاہ رہا تھا کہ اپنا صافہ اتار کر ایک طرف ڈال دے اور ہوا میں ہاتھ پھیلا کے ایک ایسی زور دار انگڑائی لے کہ اس کی ساری تھکن، کوفت اور درماندگی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کہیں کھو جائے یا صرف چند لمحوں کے لئے دوبارہ وہی انسان بن جائے جو کبھی جہلم کے سنہرے پانیوں میں چاند کو ہلکورے کھاتا دیکھ کر امرجیت کے ساتھ پنکج کی سی تانیں اڑایا کرتا تھا۔ یہ لمحے، جب کہ تاروں کی بھیگی بھیگی چھاؤں میں بیل گاڑی کچی سڑک پر گھسٹتی ہوئی آگے بڑھتی جا رہی تھی اور جب کہ سارے ساتھیوں کے دلوں میں ایک بیمار سا احسا س منڈلا رہا تھا کہ پارٹی میں کام کرنے کا آتشیں جوش و خروش کب کا بجھ چکا تھا۔

ہوا کا ایک بھاری سا جھونکا گاڑی کے اوپر سے گزر گیا اور صبیح الدین اور جتندر کے بال ہوا میں لہرانے لگے لیکن کرتار سنگھ لیڈیز کی موجودگی میں اپنا صافہ کیسے اتارتا؟ اس نے ایک لمبا سانس لے کر دواؤں کے بکس پرسر ٹیک دیا اور ستاروں کو تکنے لگا۔ ایک دفعہ شکنتلا نے اس سے کہا تھا کہ کامریڈ تم اپنی داڑھی کے باوجود کافی ڈیشنگ لگتے ہو اور یہ کہ اگر تم ائیر فورس میں چلے جاؤ تو اور بھی killing لگنے لگو۔اف یہ لڑکیاں!

"کامریڈ سگریٹ لو۔" صبیح الدین نے اپنا سگریٹوں کا ڈبہ منظور کی طرف پھینک دیا۔ جتندر اور منظور نے ماچس کے اوپر جھک کے سگریٹ سلگائے اور پھر اپنے اپنے خیالوں میں کھو گئے۔ صبیح الدین ہمیشہ عبد اللہ اور کریون اے پیا کرتا تھا۔ عبد اللہ اب تو ملتا بھی نہیں۔ صبیح الدین ویسے بھی بہت ہی رئیسانہ خیالات کا مالک تھا۔ اس کا باپ تو ایک بہت بڑا تعلقہ دار تھا۔ اس کا نام کتنا اسمارٹ اور خوبصورت تھا۔ صبیح الدین احمدمخدوم زادہ راجہ صبیح الدین احمد خاں! افوہ! اس کے پاس دو بڑی چمکدار موٹریں تھیں۔ ایک موریس اور ایک ڈی۔ کے۔ ڈبلیو لیکن کنگ جارجز سے نکلتے ہی آئی ایم ایس میں جانے کی بجائے وہ پارٹی کا ایک سر گرم ورکر بن گیا۔ حمیدہ ایسے آدمیوں کو بہت پسند کرتی تھی۔ آئیڈیل قسم کے لیکن اگر صبیح الدین اپنی موریس کے اسٹیئرنگ پر ایک بازو رکھ کے اور جھک کے اس سے کہتا کہ حمیدہ مجھے تمہاری سیاہ آنکھیں بہت اچھی لگتی ہیں، بہت ہی زیادہتو یقیناً اسے ایک زور دار تھپڑ رسید کرتی۔ "ہونہہدیز ایڈیٹس!"صابن کے رنگین بلبلے!

کرتار سنگھ خاموش تھا۔ سگریٹ کی گرمی نے منظور کی تھکن اور افسردگی ذرا دور کر دی تھی۔ ہوا میں زیادہ ٹھنڈک آچکی تھی۔۔

جتندر نے اپنا چار خانہ کوٹ کندھوں پر ڈال لیا اور پرانی پرال میں ٹانگیں گھسا دیں۔ منظور کو کھانسی اٹھنے لگی۔ "کامریڈ تم کو اتنے زیادہ سگریٹ نہیں پینے چاہئیں۔ " شکنتلا نے ہمدردی کے ساتھ کہا۔ منظور نے اپنے مخصوص انداز سے زبان پر سے تمباکو کی پتی ہٹائی اور سگریٹ کی راکھ نیچے جھٹک کر دور باجرے کی لہراتی ہوئی بالیوں کے پرے افق کی سیاہ لکیر کو دیکھنے لگا۔یہ لڑکیاں! طلعت کیسی فکر مندی کے ساتھ کہا کرتا تھا۔ "منظور! تمہیں سردیوں میں ٹانک استعمال کرنے چاہئیں۔ اسکاٹس ایملشن یا ریڈیو مالٹ یا آسٹو مالٹطلعت، ایرانی بلی! پہلی مرتبہ جب بوٹ کلب Regatta میں ملی تھی تو اس نے "اوہ گوش! تو آپ جرنلسٹ ہیںاور اوپر سے کمیونسٹ بھی۔ افوہ!" اس انداز سے کہا تھا کہ ہیڈی لیماری بھی رشک کرتی۔ پھر مرمریں ستون کے پاس، پام کے پتوں کے نیچے بیٹھا دیکھ لیا تھا اور اس کی طرف آئی تھیکتنی ہمدردیقیناً۔ اس نے پوچھا تھا:"


"ہیلو چائلڈ۔ ہاؤ از لائف؟"

Ask me another منظور نے کہا تھا۔

"اللہ! لیکن یہ تم سب کا آخر کیا ہو گا ۔" فکرِ جہاں کھائے جا رہی ہے۔ مرے جا رہے ہیں۔ سچ مچ تمہارے چہروں پر تو نحوست ٹپکنے لگی ہے۔ کہاں کا پروگرام ہے؟ مسوری چلتے ہو؟ پر لطف سیزن رہے گا اب کی دفعہ۔ بنگال؟ ارے ہاں، بنگال۔ تو ٹھیک ہے۔ ہاں میری بہترین خواہشیں اور دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔ پکچر چلو گے۔ "جین آئر" اس قدر غضب کی ہے گوش!" پھر وہ چلی گئی۔ پیچھے کافی کی مشین کا ہلکا ہلکا شور اسی طرح جاری رہا اور دیواروں کی سبز روغنی سطح پر آنے جانے والوں کی پرچھائیں رقص کرتی رہیں اور پھر کلکتے آنے سے ایک روز قبل منظور نے سنا کہ وہ اصغر سے کہہ رہی تھی۔"ہونہہمنظور؟"

صبیح الدین ہلکے ہلکے گنگناتا رہا تھا۔ کہو تو ستاروں کی شمعیں بجھا دیں، ستاروں کی شمعیں بجھا دیں۔ یقیناً بس کہنے کی دیر ہے۔ حمیدہ کے ہونٹوں پر ایک تلخ سی مسکراہٹ بکھر کے رہ گئی۔ دور دریا کے پل پر گھڑگھڑاتی ہوئی ٹرین گزر رہی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ روشنیوں کا عکس پانی میں نا چتا رہا، جیسے ایک بلوری میز پر رکھے ہوئے چاندی کے شمع دان جگمگا اٹھیں۔ چاندی کے شمع دان اور انگوروں کی بیل سے چھپی ہوئی بالکونی، آئس کریم کے پیالے ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے اور برقی پنکھے تیزی سے چل رہے تھے۔ پیانو پر بیٹھی ہوئی وہ اپنے آپ کو کس طرح طربیہ کی ہیروئن سمجھنے پر مجبور ہو گئی تھی۔

"Little Sir Echo how do you do Hell hello wont you come over nad dance with me۔"

پھر رافی اسٹیئرنگ پر ایک بازو رکھ کر رابرٹ ٹائیلر کے انداز سے کہتا تھا۔ "حمیدہ تمہاری یہ سیاہ آنکھیں مجھے بہت پسند ہیںبہت ہی زیادہ" یہ بہت ہی زیادہ" حمیدہ کے لئے کیا نہ تھا؟ اور جب وہ سیدھی سڑک پر پینتالیس کی رفتار سے کار چھوڑ کر وہی "I dreamed well in marble halls" گانا شروع کر دیتا تو حمیدہ یہ سوچ کر کتنی خوش ہوتی اور کچھ فخر محسو س ہوتا کہ رافے کی ماں موزارٹ کی ہم وطن ہےآسٹرین۔ اس کی نیلی چھلکتی ہوئی آنکھیں، اس کے نارنجی بالاف اللہ! اور کسی گھنے ناشپاتی کے درخت کے سائے میں کار ٹھہر جاتی اور حمیدہ جام کا ڈبہ کھولتے ہوئے سوچتی کہ بس میں بسکٹوں میں جام لگاتی ہوں گی۔ رافی انہیں کترتا رہے گا۔ اس کی بیوک پینتالیس کی رفتار پر چلتی جائے گی اور یہ چناروں سے گھری ہوئی سڑک کبھی ختم نہ ہو گی۔ لیکن ستاروں کی شمعیں آپ سے آپ بجھ گئیں۔ اندھیرا چھا گیا اور اندھیرے میں بیل گاڑی کی لالٹین کی بیمار روشنی ٹمٹما رہی تھی۔

ہو لالا لا دور کسی کھیت کے کنارے ایک کمزور سے کسان نے اپنی پوری طاقت سے چڑیوں کو ڈرانے کے لئے ہانک لگائی۔ گاڑی بان اپنے مریل بیلوں کی دمیں مروڑ مروڑ کر انہیں گالیاں دے رہا تھا اور منظور کی کھانسی اب تک نہ رکی تھی۔۔

حمیدہ نے اوپر دیکھا۔ شبنم آلود دھندلکے میں چھپے ہوئے افق پر ہلکی ہلکی سفیدی پھیلنی شروع ہو گئی تھی کہیں دور کی مسجد میں سے اذان کی تھرائی ہوئی صدا بلند ہو رہی تھی۔ حمیدہ سنبھل کر بیٹھ گئی اور غیر ارادی طور پر آنچل سے سر ڈھک لیا۔ جتندر اپنے چار خانہ کوٹ کا تکیہ بنائے شاید لیٹن کوارٹر اور سو سو کے خواب دیکھ رہا تھا۔ مائیرا، ڈونا مائیرا۔ حمیدہ کی ساری کے آنچل کی سرخ دھاریاں اس کی نیم وا آنکھوں کے سامنے لہرا رہی تھیں۔ یہ سرخیاں، یہ تپتے ہوئے مہیب شعلے، جن کی جلتی ہوئی تیز روشنی آنکھوں میں گھس جاتی تھی اور جن کے لرزتے کپکپاتے سایوں کے پس منظر میں گرم گرم راکھ کے ڈھیر رات کے اڑتے ہوئے سناٹے میں اس کے دل کو اپنے بوجھ سے دبائے ڈال رہے تھے۔ مائیرا، اس کے نقرئی قہقہے، اس کا گٹار، اکھڑی ہوئی ریل کی پٹڑیاں اور ٹوٹے ہوئے کھمبے۔ سانتا کلاؤڈ کا وہ چھوٹا سا ریلوے اسٹیشن جس کے خوبصورت پلیٹ فارم پر ایک اتوار کو اس نے سرخ اور زرد گلاب کے پھول خریدے تھے۔ وہ لطیف سا، رنگین سا سکون جو اسے مائیرا کے تاریخی بالوں کے ڈھیر میں ان سرخ شگوفوں کو دیکھ کے حاصل ہوتا تھا۔ وہ تھک کے گٹار سبزے پر ایک طرف پھینک دیتی تھی اور اسے محسوس ہوتا تھا کہ ساری کائنات سرخ گلاب اور ستارہ ہائے سحری کی کلیوں کا ایک بڑا سا ڈھیر ہے۔ لیکن تاکستانوں میں گھرے ہوئے اس ریلوے اسٹیشن کے پرخچے اڑ گئے اور طیارو ں کی گڑگڑاہٹ اور طیارہ شکن توپوں کی گرج میں شوبرٹ"Rose monde" کی لہریں اور گٹار کی رسیلی گونج کہیں بہت دور فیڈ آؤٹ ہو گئی اور حمیدہ کا آنچل صبح کی ٹھنڈی ہوا میں پھٹپھٹاتا رہا، اس سرخ پرچم کی طرح جسے بلند رکھنے کے لئے جدو جہد اور کشمکش کرتے کرتے وہ تھک چکا تھا، اکتا چکا تھا۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں۔

"سگریٹ لو بھئی۔ " صبیح الدین نے منظور کو آواز دی۔

"اب کیا بج کیا ہو گا؟" شکنتلا بہت دیر سے زیر لب بھیرو کا "جاگو موہن پیارے" گنگنا رہی تھی۔ حمیدہ سڑک کی ریکھائیں گن رہی تھی اور کرتار سنگھ سوچ رہا تھا کہ "وس وس وے ڈھولنا" پھر سے شروع کر دے۔

گاؤں ابھی بہت دور تھا۔


ٹیلی گرام

(جوگندر پال)

پچھلے بارہ برس سے شیام بابو تار گھر میں کام کر رہا ہے، لیکن ابھی تک یہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی کہ یہ بے حساب الفاظ برقی تاروں میں اپنی اپنی پوزیشن میں جوں کے توں کیوں کر بھاگتے رہتے ہیں، کبھی بدحواس ہو کر ٹکرا کیوں نہیں جاتے؟ ٹکرا جائیں تو لاکھوں کروڑوں ٹکراتے ہی دم توڑ دیں اور باقی کے لاکھوں کروڑوں کی قطاریں ٹوٹ جائیں تو وہ اپنی سمجھ بوجھ سے نئے رشتوں میں منسلک ہو کر کچھ اس حالت میں ری سیونگ سٹیشنوں پر پہنچیں "بیٹے نے ماں کو جنم دیا ہے سٹاپ مبارک باد!" یا "چوروں نے قانون کو گرفتار کر لیا ہے۔" یا "افسوس کہ زندہ بچہ پیدا ہوا ہے۔"یا ہاں اس میں کیا مضائقہ ہے؟ شیام بابو مشین کی طرح بے لاگ ہو کر میکانکی انداز میں برقی پیغامات کے کوڈ کو رومن حروف میں لکھتا جا رہا ہے لیکن اس مشین کے اندر ہی اندر ان بوکھلائی ہوئی انسانی سوچوں کا تالاب بھر رہا ہے کیا مضائقہ ہے؟ جیسی زندگی، ویسے پیغام "کرتا ہوں سٹاپ کشور " اس نے کسی کشور کے تار کے کوڈ کے آخری الفاظ کاغذ پر اتار لئے ہیں اور وہ اس بات سے برآمد ہوتے ہوئے ایک ایک لفظ کو قلم بند کرتا جائے۔ سوچنا سمجھنا اس کا کام ہے جس کے نام پیغام موصول ہوا جب دھیرج کو کوئی پکارے تو آواز کو تو سارا ہجوم سن لیتا ہے لیکن صرف دھیرج ہی مڑ کر دیکھتا ہے کہ کیا ہے خلاف معمول نہ معلوم کیا سوچ کر شیام بابو تار کا مضمون پڑھنے لگا ہے "شادی روک لو سٹاپ۔ میں تم سے بے انتہا محبت کرتا ہوں سٹاپ کشور ۔" وہ ہنس پڑا ہے وہ دوسرے ہنگامے میں۔ بے چارہ تھوڑی سی محبت کر کے باقی محبت کرنا بھول گیا ہو گا، مگر اب کوئی راہ نہیں سوجھ رہی ہے تو باقی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر محبت ہی محبت کئے جانے کا اعلان کر رہا ہے۔ محبت ہی محبت کرنے سے کیا ہوتا ہے بے بی؟ طلاق، ڈارلنگ! طلاق ہو جائے مگر محبت قائم رہے۔

اور۔شیام بابو ایک اور تار کا یہ مضمون پڑھنے لگا ہے آپ کی باپ کی موت کی خبر پا کر مجھے بے حد دکھ ہوا ہے شیام بابو پھر ہنس دیا ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، اپنے باپ کی موت پر مجھے اتنا افسوس ہوا ہے کہ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔

تو کیوں کر رہے ہو بھائی؟"\ تاکہ میرا رونا نکل آئے۔ آیئے، آپ بھی میرے ساتھ رویئے۔

سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ بندروں کو چپ کیسے کرایا جائے۔ سب کے سب روتے ہی چلے جا رہے ہیں۔

ارے بھائی، کیوں رو رہے ہو؟

مجھے کیا پتہ؟ اس سے پوچھو۔

تم ہی بتا دو بھائی، کیوں رو رہے ہو؟

مجھے کیا پتہ؟ اس سے پوچھو۔

تم؟" مجھے کیا پتہ؟

تم تو آخری بندر ہو بھائی بتاؤ، کیوں رو رہے ہو؟"\ بس یوں ہی سوچا کہ ذرا فرصت میسر آئی ہے تو ایک بار جی جان سے رولوں۔ میرا ایک کام کیجئے۔ آپ کو زحمت تو ہو گی، مگر میرے رونے کو کسی تگڑی سی الم ناک خبر میں پیش کرنے کے لئے ایک ارجنٹ ٹیلی گرام کا ڈرافٹ تیار کر دیجئے۔ لکھئے میری ماں مر گئی ہے ٹھہریئے، وہ تو غریب اسی روز مر گئی تھی جب بیوہ ہوئی تھی۔ اس دن سے ہم نے اس کی طرف دھیان ہی نہیں دیا لکھئے! میرا بھائی مرگیا ہے ہاں، یہی لکھئے مگر نہیں، سب کو معلوم ہے کہ ہماری آپس میں بالکل نہیں بنتی میری بہن نہیں، وہ تو پہلے ہی مر چکی ہے میں ارے ہاں! یہی لکھئے، میں ہی مرگیا ہوں۔ مجھے سب کو فوری طور پر خبر کرنا ہے کہ میں ہی مرگیا ہوں۔

مبارک باد پیش کرتا ہوں سٹاپ شیام بابو کے خود کار قلم نے جلدی جلدی لکھا اور وہ اپنی تحریر سے بے خبر سا سوچ رہا ہے، مجھے دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ میں زندہ ہوں۔ میں زندہ ہوں تو یہ میز بھی زندہ ہے جس پر جھک کر میں اپنا کام کئے جا رہا ہوں۔ چونکہ یہ میز کھائے پئے سوئے بغیر زندہ رہ سکتی ہے۔ اس لئے اس کی ڈیوٹی یہ ہے کہ ہمارے دفتر کے اس کمرے میں چوبیس گھنٹے خدمت بجا لانے کے لئے اپنی چاروں ٹانگوں پر کھڑی رہے اور مجھے چونکہ اپنی مشین کی ٹک ٹک کو بھی چلائے رکھنا ہوتا ہے اس لئے میرے لئے یہ آرڈر ہے کہ آٹھ گھنٹے یہاں ڈٹ کرکام کرو او ر باقی وقت میں اپنی مشین کی دیکھ بھال کے سارے دھندے سنبھالو ہاں، یہی تو ہے۔ میں جیتا کہاں ہوں؟ دفتر میں تو صرف پروڈیکشن کا کام ہے۔ مشین چلنا بند ہو جائے تو پروڈیکشن پر برا اثڑ پڑے گا۔ اس لئے سارے دفتری ٹائم میں تو مشین یہاں چلتی رہتی ہے اور اس کے بعد مجھے ہر روز ساری مشین کو کھول کر صاف کرنا پڑتا ہے، اس کی آئیلنگ گریزنگ کرنا پڑتی ہے، اس کے ایک ایک ڈھیلے پرزے کو کسنا پڑتا ہے۔۔اور یہ سارا کام بھی مجھے اکیلے ہی انجام دینا ہوتا ہے۔

پچھلے ساڑھے سات برس سے، جب سے شیا م بابو کی شادی ہوئی ہے، اس کی بیوی وہیں اپنے ماں باپ کے گاؤں میں ان ہی کے ساتھ رہ رہی ہے۔ شادی کے موقع پر وہ اس کی ڈولی اٹھوا کر گاؤں سے باہر تولے آیا، لیکن پھر جب سمجھ میں نہ آیا کہ اسے کہاں لے جائے تو ڈولی کا مونسہ واپس گاؤں کی طرف مڑوا لیا یہ تم نے بہت اچھا کیا بیٹا اس کی ساس نے کہا تھا کہ ایک بار ہماری بیٹی کو گاؤں سے باہر لے گئے۔ کم سے کم رسم تو پوری ہو گئی۔ اب چاہو تو بے شک ساری عمر یہیں رہے۔ یہ گھر بھی تو اسی کا ہے لیکن اس کا کوئی اپنا گھر کیوں نہیں جہاں اسے وہ لے آتا تو اس میں بوئی ہوئی انسانیت کی آبیاری ہوتی رہتی۔

شروع شروع میں تو شیام با بو کی بے چینی کا یہ عالم تھا کہ سوتے میں بھی بیوی کے گاؤں کا رخ کئے ہوتا تم گھبراؤ نہیں سنیہ دتی۔ میں دن رات کرائے پر کوئی اچھا سا کمرہ لینے کی مہم میں جٹا ہوا ہوں۔ جیسے ہی کوئی مل گیا، تمہیں اسی دم یہاں لے آؤں گا مگر برا ہو اس بڑے شہر کا، جو اپنے چھوٹے دل میں ایک کے اوپر ایک کئی کمرے بنائے ہوئے ہے مگر اتنی اونچائی پر رہائش کے کرائے کے خیال سے اسے یہاں رہنے کی بجائے یہاں سے لڑھک کر خود کشی کی سوجھتی ہے۔ پورے ساڑھے سات برس اسی طرح گزر گئے ہیں۔ وہ میاں اور بیوی ساڑھے پانچ سو میل کے فاصلے پر وہاں۔ شیام بابو تین سو پینسٹھ دن تک اپنی بیس دن کی ارنڈ لیو کا انتظار کرتا رہتا اور وقت آنے پر گاڑیوں، بسوں اور تانگوں کو بدل بدل کر وہ گویا اپنے دو پیروں سے سرپٹ بھاگتے ہوئے وہاں جا پہنچتا اور اس کی خواہش اتنی شدید ہوتی کہ اپنی تیار بیٹھی ہوئی بیوی پر وہ بے اختیار کسی درندے کی طرح ٹوٹ پڑتا۔ ایک دو تین سال تک تو وہ ہر سال گیا، لیکن چوتھے سال عین چھٹی کے دنوں میں وہ بیمار ہو گیا، پھر پانچویں سال جو جانا ہوا تو اس کے بعد ڈھائی سال میں ایک بار بھی نہیں جا سکا۔ جو پیسے وہاں جانے میں ضائع ہوں گے۔ ان میں سے آدھے بھی منی آرڈر کرا دوں گا تو بیسیوں کام نکال لے گی ہاں، اس کا ایک دو سالہ لڑکا بھی ہے جس کے بارے میں اس کی بیوی نے اسے لکھا تھا کہ وہ اسے اپنی پانچویں سال کی چھٹی پر اس کی کوکھ میں ڈال آیا تھا ؒ لیکن شیام بابو اپنا حساب کتاب کر کے اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ اس کا بیٹا اس کا بیٹا نہیں۔ شاید اسی وجہ سے ڈھائی سال کے اس عرصے میں وہ ایک بار بھی اس کے پاس نہیں گیا تھا لیکن اس سلسلے میں اس نے بیوی کو کبھی کچھ نہیں لکھاجو ہے سو ٹھیک ہےوہ بھی کیا کرے؟ اور میں بھی کیا کروں؟کبھی اچھے دن آ گئے تو سب اپنے آپ ٹھیک ہو جائے گا۔

اسے اور اس کے ہمارے بچے کو اس کا ہوا تو ہم دونوں کا ہی ہوا یہیں اپنے پاس لے آؤں گا اور پھر ہم چین سے رہیں گے، بڑے چین سے رہیں گے۔

اس کے دفتر کا کوئی ساتھی اس کا کندھا جھٹک رہا ہے۔ مشین میں شاید کوئی نقص پیدا ہو گیا ہے اور وہ رکی پڑی ہے شیام بابو!

آں ں! شیام بابو نے ہڑبڑا کر اپنی آنکھیں کھول لی ہیں۔


طبیعت خراب ہے تو گھر چلے جاؤ۔

کون سا گھر؟ نہیں ٹھیک ہوں، یوں ہی ذرا اونگھنے لگا تھا ٹک ٹک ٹک ٹک!مشین پھر چلنے لگی ہے۔ تمہارے لئے پانی منگواؤں؟"

ارے بھائی، کہہ دیا نا، ٹھیک ہوں۔

اس کے ساتھی نے تعجب سے اس کے کام پر جھکے ہوئے سر کی طرف دیکھا ہے اور اپنے کام میں الجھ گیا ہے۔

شیام بابو کو اپنا جی اچانک بھر ابھرا سا لگنے لگا ہے۔ عام طور پر تو یہی ہوتا ہے کہ اسے اپنی خوشی کی خبر ہوتی ہے نہ اداسی کی۔ اسے بس جو بھی ہوتا ہے بے خبری میں ہی ہوتا ہے۔ اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہا ہے اور یوں ہی سب کچھ بخوبی ہوتا چلا جاتا ہے۔ وہ بے خبر سا اپنے آپ دفتر میں آ پہنچتا ہے اور اسی حالت میں سارے دن قلم چلا چلا کر اپنے ٹھکانے پر لوٹ آتا ہے اور پھر دوسرے دن صبح کو عین ویسے کا ویسا ڈیوٹی پر آ بیٹھتا ہے۔ یعنی معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کون ہے، کیوں ہے، کیا ہے؟ کوئی ہو تو معلوم بھی ہو اس دن تو حد ہو گئی؛ وہ یہاں اپنی سیٹ پر بیٹھا ہے اور اس کا باس یہاں اس کے قریب ہی کھڑا پوچھ رہا ہے، بھئی، شیام بابو آج کہاں ہے؟"\شیام بابو شیام بابو!شیام بابو یقینی طور پر اس کی آواز سن رہا ہے، مگر سن رہا ہے تو فوراً، جواب کیوں نہیں ہیں دیتا۔س سر!ایسے بھولے بھٹکے چہرے شاید ہماری آنکھوں میں ٹھہرنے کی بجائے روحوں میں لڑھک جاتے ہیں۔ ان سے مخاطب ہونا ہو تو اپنے ہی اندر ہولو، اپنی ہی تھوڑی سے جان سے انہیں زندہ کرلو، ورنہ یہ تو جیسے ہیں ویسے ہی ہیں۔

گوشت کو رگوں میں خون دوڑنے کی اطلاع ملتی رہے تو یہ زندہ رہتا ہے، ورنہ بے خبری میں مٹی ہو جاتا ہے۔ جب شیام بابو کی اپنی زندگی بے پیغام ہے تو اسے کیسے محسوس ہو کہ ٹیلی گراموں کے ٹیکسٹ برقی کوڈ کی اوٹ میں کھلکھلا کر ہنس رہے ہیں، یا دھاڑیں مار مارکر رو رہے ہیں، یا تجسس سے اکڑے پڑے ہیں۔ سوکھی مٹی کے دل پر آپ کچھ بھی لکھ دیجئے، اسے اس سے کیا؟ شیام بابو کو اس سے کیا، کہ کوئی کسے کیا پیغام بھیج رہا ہے؟ اس کی قسمت میں تو کسی کا پیغام نہیں، محبت کا یا نفرت، خوشی یا غم کا اسے کیا؟ ٹیلی گراموں کے گرم گرم ٹیکسٹ کا کوڈ اس کے ٹھنڈے قلم سولی سے لٹک کر سپاٹ سی صورت لئے کاغذ پر ڈھیر ہوتا رہتا ہے یہ لو، الفاظ تو نرے الفاظ ہیں، بس الفاظ ہیں، الفاظ کیوں ہنسیں یا روئیں گے؟ ان کو پڑھ کے ہنسو، روؤ، یا جو بھی کرو، تم ہی کرو یہ لو!

لیکن اس وقت یہ ہے کہ شیام بابو کو اپنا جی یک بارگی بہت بھرا بھرا لگنے لگا ہے۔ سوچوں کا تالاب شاید بھر بھر کے اس کے دل تک آپہنچا ہے اور وہ انجانے میں تیرنے لگا ہے اور سوکھی مٹی میں جان پڑنے لگی ہے۔

سٹاپ میں بدیس سے لوٹ آیا ہوں سٹاپ اور عین اس وقت صاحب کے چپراسی نے اس کی آنکھوں کے نیچے ہیڈ آفس کا ایک لیٹر رکھ دیا ہے۔ اس نے لیٹر پر نظر ڈالی ہے اور پھر چونک کر خوشی سے کانپتے ہوئے اسے دوبارہ پڑھنے لگا ہے۔ اسے سرکاری طور پر اطلاع دی گئی ہے کہ تمہارے نام دو کمروں کا کوارٹر منظور ہو گیا ہے!

کیدار بابو جمیلکشن!ادھر دیکھو دوستو۔ دیکھو، میرا کیا لیٹر آیا ہے؟"

کیا کیا ہے؟

میرا کوارٹر منظور ہو گیا ہے!

تو کیا ہوا؟ہائیں، کیا کہا کوارٹر منظور ہو گیا ہے؟!ہاں!

بہت اچھا!بہت اچھا! سب کے لئے چائے ہو جائے شیام بابو!

ارے چائے ہی کیا، کچھ ادھارے دے سکتے ہو تو جو چاہو منگوا لو۔

ہاں، تم فکر نہ کرو۔ میں سارا بندوبست کئے دیتا ہوں یہ تو بہت ہی اچھا ہو گیا شیا م بابو!راموادھر آؤ رامو، جاؤ ہوٹل والے کو بلا لاؤ جاؤاب بھابی کو کب لا رہے ہو شیام بابو؟

آج چھٹی کی درخواست دے کر ہی جاؤں گا کیدار بابو! شیا م بابو قصور میں اپنے کوارٹر میں بیٹھا کھانا کھا رہا ہے اور اس کے کندھوں پر اس کا لڑکا کھیل رہا ہے کیا نام ہے اس کا؟دیکھو نا، دماغ پر زور ڈالے بغیر اپنے اکلوتے بچے کا اپنا ہی تو ہے نام بھی یاد نہیں آتا۔ کوئی بات نہیں شکر اور دودھ کھلتے ملتے ہی گاڑھے اور میٹھے ہو جاتے ہیں اری سن رہی ہو بھلی لوگ؟ اگلی چپاتی کب بھیج وگی؟ دفتر کے لئے دیر ہو رہی ہے۔

لو، شیام بابو، ہوٹل والا تو آگیا ہے بس ایک ایک چاٹ، ایک ایک گلاب جامن اور کیا؟ ایک ایک سموسہ چلے گا نا شیام بابو؟لکھو ہمارا آرڈر بھائی پر نانند!

شیام بابو کو پتہ ہی نہیں چلا ہے کہ دفتر میں باقی سارا وقت کیسے بیت گیا ہے۔ وہاں سے اٹھنے سے پہلے اس نے سب ساتھیوں سے وعدہ کیا ہے کہ کل سویرے وہ ان سب کو ان کی بھابی کی تصویر دکھائے گا۔

اتنی بھولی ہے کہ ڈرتا ہوں اس شہر میں کیسے رہے گی۔

ڈرو مت شیام بابو۔ بھابی کو لانا ہے تو اب شیرببر بن جاؤ۔

دفتر سے نکل کر تیز تیز قدم اٹھائے ہوئے شیام بابو چوراہے پر آگیا ہے اور پان اور سگریٹ لینے کے لئے رک گیا ہے اور پھر تمباکو والے پان کا لعاب حلق سے اتارتے ہوئے نتھنوں سے سگریٹ کا دھواں بکھیرتے ہوئے ہلکی ہلکی سردی میں حدت محسوس کرتے وہ بڑے اطمینان سے اپنے رہائش کے اڈے کی طرف ہولیا ایک چھوٹی سی کھولی جس میں مشکل سے ایک چارپائی آتی ہے۔ ابھی پچھلے ہی مہینے خان سیٹھ نے اسے دھمکی دی تھی۔ بھاڑے کے دس روپے بڑھاؤ، نہیں تو چلتے بنو ہاں!

چوہے کے اس بل کا کرایہ پہلے ہی پچاس روپے وصول کرتے ہو خان سیٹھ۔ اپنے خدا سے ڈرو!


لیکن خان سیٹھ نے اپنے خدا کو ڈرانے کے لئے ایک بھیانک قہقہہ لگایا بلی شریف نہ ہوتی بابو، تو بولو، کیا ہو جاتا؟ ساٹھ روپے، نہیں تو خالی کرو ہاں!

اسی مہینے خالی کر دوں گا اور سیٹھ سے کہوں گا، لو سنبھالو اپنی کھولی خان سیٹھ۔ تمہاری قبر کی پورے سائز کی ہے لو!نہیں جھگڑے وگڑے کا کیا فائدہ؟ چپکے سے اس کی کھولی اس کے حوالے کر کے اپنی راہ لوں گا۔

بس سٹاپ آگیا ہے اور بس بھی کھڑی ہے، لیکن بہت بھری ہوئی ہے۔ شیام بابو نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ پیدل ہی جائے گا۔ یہاں سے تھوڑا ہی فاصلہ تو ہے اس کا سگریٹ جل جل کر انگلیوں تک آ پہنچا ہے، لیکن ابھی اس کی خواہش نہیں مٹی ہے۔ اس نے ہاتھ کا ٹکڑا پھینک کر ایک اور سگریٹ سلگا لیا ہے ساوتری کو میری سگریٹ پینا بالکل پسند نہیں پیسے بھی جلاتے ہو اور پھیپھڑے بھی۔ اس سے تو اچھا ہے میرا ہی ایک سرا جلا کر دوسرے کو ہونٹوں میں دبا لو اور دھواں چھوڑتے جاؤ! میرا مزہ کیا سگریٹ سے کم ہے؟ اری بھلی لوگ، ایک تمہارا ہی مزہ تو ہے۔ سگریٹ وگریٹ کی لت کو گولی مارو آؤ!اس نے خیال ہی خیال میں بیوی کو سینے سے لگا لیا ہے اور مخالف سمت سے آتی ہوئی ایک عورت سے ٹکرا گیا ہے، گویا اس کی ساوتری نے اس سے الگ ہونے کے لئے اپنے آپ کو جھٹکا ہوارے! اس نے اندھے پن میں اپنا ہاتھ اس عورت کی طرف پھیلا دیا ہے ایڈی اٹ! وہ عورت غصے سے پھنکارتی ہوئی آگے بڑھ گئی ہے اور شیام بابو شرمندہ ہو جانے کے باوجود خوش خوش ہے اور عورت کی پیٹھ کی طرف مونہہ لٹکا کر اس نے بہ آواز بلند کہا ہے۔ آئی ایم ساری میڈم لیکن اس عورت کی پھنکار پھر اس کے بند کانوں کے باہر ٹکرائی ہے۔ ایڈی اٹ!

شیام بابو اپنے ذہن کو جھاڑ رہا ہے اور اڑتی ہوئی گرد میں اس کی بیوی زور زور سے ہنس رہی ہے اور ٹکراؤ پرائی عورتوں سے! ایک میں ہوں جو بلا روک ٹوک ساری دراز دستیاں سہہ لیتی ہوں۔ میں اور کی طرف ذرا نظر اٹھا کر دیکھوں کسی اور کی طرف ذرا نظر اٹھا کر تو دیکھوںکسی اور کی طرف دیکھنے کی مجھے ضرورت ہی کیا ہے؟ میرے لئے تو بس جو بھی ہو تم ہو شیام بابو نے اپنے آپ کو ڈانٹ کر کہا ہے نیں، تم نے اپنی بیوی کے ماتھے پر خواہ مخواہ کلنک کا ٹیکہ لگا رکھا ہے۔ تمہارا بچہ تمہارا ہی ہےاور اگر مان بھی لیں کہ وہ تمہارا نہیں، تو اس میں ساوتری کا کیا دوش؟ اس کا سارا سال تمہاری ارنڈ لیو کے دس بیس روز کا تو نہیں چل سب ٹھیک ہے، میرا بچہ میرا ہی ہے ہمارے نیٹو کی آنکھیں اس کی طرح چھوٹی چھوٹی ہیں۔ ماتھ مجھ پرگیا ہے، مگر ناک میں بھی کیسا باپ ہوں کہ دو سال اوپر کا ہولیا ہے مگر میں نے ابھی تک اسے ایک بار بھی نہیں دیکھا۔ پچھلے سال مجھے ایک چکر کاٹ آنا چاہئے تھا آج چھٹی کی درخواست دینا بھی بھول گیا ہوں۔ اب کل پہلا کام یہی کروں گا اور اس ہفتے کے آخر میں یہاں سے نکل جاؤں گا ساوتری کو چٹھی بھی نہ لکھوں گا اور اچانک اس کے سامنے جاکھڑا ہوں گا ساوتری!اور وہ آنکھیں مل مل کر میری طرف دیکھتی رہ جائے گی ساوتری وہ رو دے گی یہ مجھے کس کی آواز سنائی دی ہے۔ہائے اب تو اٹھتے بیٹھتے تمہاری ہی صورت دکھائی دیتی ہے نیٹو کے باپو۔ اب تو آ جاؤ!میں آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لوں گا اور وہ میرے بازوؤں میں بے ہوش ہو جائے گی۔ ساوتری! ساتری!اپنی کھولی کے سامنے پہنچ کر اس نے بے اختیار اپنی بیوی کا نام پکارا ہے لیکن وہاں اس کے تارگھر کے رامو نے آگے بڑھ کر اسے جواب دیا ہے بابوجی؟"

ارے رامو، تم!کیسے آئے؟شیام بابو اپنے حواس درست کر رہا ہے۔ بابوجی!رامو کی آواز بھاری ہے اور وہ بولتے ہوئے تامل برت رہا ہے۔

اتنے اکھڑے اکھڑے کیوں ہو؟بولو نا!

آپ کا تار لایا ہوں۔

میرا تار؟" ہاں بابوجی، یہ تار آپ کے ہاتھ سے ہی لکھا ہوا ہے، مگر آپ کا دھیان ہی نہیں گیا کہ آپ کا ہے۔ تار کا لفافہ ایک طرف سے کھلا ہے لیکن شیام بابو اسے دوسری طرف سے چاک کر رہا ہے۔ ڈسپیچ والے کشن سنگھ کو بھی خیال نہ آیا شیام بابو، کہ یہ تار آپ کا ہے۔

شیام بابو نے تار کا فارم کھول کر دونوں ہاتھوں سے اپنی آنکھوں کے سامنے فٹ کر لیا ہے۔

مجھے بھی آدھا راستہ طے کر کے اچانک خیال آیا بابوجی، ارے، یہ تار تو اپنے بابوجی کا ہے میں اسے پڑھ چکا ہوں۔ بہت افسوس ہے کہ ساوتری نے خودکشی کر لی ہے سٹاپ۔


تیسرا آدمی

(شوکت صدیقی)

دونوں ٹرک، سنسان سڑک پر تیزی سے گزرتے رہے!

پتمبر روڈ، مشرق کی طرف مڑتے ہی ایک دم نشیب میں چلی گئی ہے اور جھکے ہوئے ٹیلوں کے درمیان کسی زخمی پرندے کی طرح ہانپتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ رات اب گہری ہو چکی ہے اور آغازِ سرما کی بچری ہوئی ہوائیں چل رہی ہیں۔ دونوں ٹرک ڈھلوان پر کھڑ کھڑاتے ہوئے گزر رہے ہیں۔ ان کا بے ہنگم شور پتھریلی چٹانوں میں دھڑک رہا ہے۔ ایکا ایکی اندھیرے میں کسی نے چیخ کر کہا۔ "اے کون جا رہا ہے، ٹرک روک لو!"

رات کے سناٹے میں یہ آواز بڑی پراسرار معلوم ہوئی لیکن ٹرکوں کے اندر بیٹھے ہوئے لوگوں نے اس پر کوئی توجہ نہ دی۔ وہ اس طرح خاموش بیٹھے رہے اور دونوں ٹرک جھکی ہوئی چٹانوں کی گہرائی میں تیزی سے گزرتے رہے۔ اس دفعہ ذرا دور سے آواز سنائی دی۔"روکو، روک لو ٹرکوں کو!"اور اس کے ساتھ ہی موٹر سائیکل اسٹارٹ ہونے کی گھرگھراہٹ ابھرنے لگی۔ اس کی تیز روشنی دھوپ چھاؤں کی طرح ٹرکوں کے پچھلے حصوں پر لہرا جاتی ہے لیکن ٹرک رک نہیں سکتے۔ اس لئے کہ یہ خطرے کا الارم ہے۔ ان کی رفتار اور تیز ہو گئی۔ سڑک بالکل ویران ہے اور دونوں ڈرائیور بڑے ایکسپرٹ ہیں!!

موٹرسائیکل کی روشنی قریب ہوتی جا رہی ہے اور قریب! اور قریب! اور اس کا شور ٹرکوں کے نزدیک ہی دھڑکنے لگا ہے۔ ان کی رفتار اب زیادہ نہیں بڑھ سکتی ہے۔ اس لئے کہ ڈھلوان پر ٹرکوں کے بے قابو ہو جانے کا پورا اندیشہ ہے۔ دونوں ڈرئیوروں کے سہمے ہوئے چہرے خوف زدہ ہوتے جا رہے ہیں لیکن نیلی آنکھوں والا وانچو خاموشی سے بیٹھا ہوا سگریٹ پیتا رہا اور برابر سوچتا رہا کہ اب کیا کرنا چاہئے۔ پھر ایک بارگی مستانی ٹیلوں کی گہرائی میں ریوالور چلنے کی آواز بڑے بھیانک انداز سے گرجنے لگی اور گولی ٹرک کے پچھلے پہیوں کے پاس سے سنسناتی ہوئی گزر گئی۔ ایک بار پھرکسی نے اونچی آواز میں کہا۔ روک لو ٹرکوں کو، نہیں تو میں ٹائر برسٹ کر دوں گا۔"

اور اس وارننگ کے ساتھ ہی دونوں ٹرک ٹھہر گئے۔ ٹرکوں کے اندر سے صرف وانچو اتر کر نیچے آیا۔ باہر پت جھڑ کی شوریدہ ہوائیں چل رہی تھیں اور ان کو تیز خنکی جسم میں چبھتی ہوئی معلوم ہو رہی تھی۔ وانچو نے اپنے لمبے اوور کوٹ کے کالروں کو درست کیا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا موٹر سائیکل کے قریب پہنچ گیا۔ پھر اس نے جلتی ہوئی سگریٹ کو جھنجھلاہٹ کے انداز میں سڑک پر پھینک کر جوتے سے مسل ڈالا اور بڑے تیکھے لہجے میں پوچھنے لگا۔

"اس طرح ٹرکوں کو رکوا لینے کا مقصد، کیا چاہتے ہیں آپ؟"

لیکن موٹرسائیکل پر بیٹھا ہوا بھاری بھرکم جسم والا انسپکٹر وانچو کے اس انداز سے ذرا بھی متاثر نہ ہوا بلکہ بڑی بے نیازی سے کہنے لگا "میں اینٹی کرپشن کا انسپکٹر ہوں اور دونوں ٹرکوں کی تلاشی لینا چاہتا ہوں۔"

وانچونے غور سے اس کی طرف دیکھا۔ دھندلی روشنی میں اس کا چہرہ بڑا کرخت معلوم ہو رہا تھا اور ریو الور اس کی انگلیوں میں دبا ہوا تھا۔ وانچو نے پہلی نظر میں اندازہ لگا لیا تھا کہ بھاری بھرکم جسم والا انسپکٹر پوری طرح دہشت زدہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔

اس نے جھٹ سے کاروباری پینترا بدلا اور ذرا بے تکلفی سے کہنے لگا۔ اچھا تو آپ ہیں اور پھر وہ مسکرا دیا، اگر آپ آفیشلی پوچھتے ہیں تو دیکھئے دونوں ٹرکوں پر آلوؤں کے بورے لدے ہوئے ہیں۔ میں ثبوت میں ڈسٹرکٹ آکٹرائے آفس کی رسید پیش کر سکتا ہوں۔ چونگی کا یہ محصول ابھی پچھلے ناکے پر ہی ادا کیاگیا ہے اور جو کچھ اصلیت ہے وہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے۔ اس لئے کہ آئرین ٹیٹس کو اس طرح لے جانے کا یہ کوئی پہلا اتفاق تو نہیں ہے۔ یہ سلسلہ تو ایک مدت سے چل رہا ہے۔

انسپکٹر گردن ہلا کر بولا "جی ہاں، سنا تو کچھ میں نے بھی یہی ہے اور اس لئے کئی گھنٹوں سے اس سڑک پر تپسیا کر رہا تھا۔ " وانچو ہنسنے لگا یہ تپسیا تو آپ نے خواہ مخواہ اپنے سر مول لی۔ میں نے آپ کو دو مرتبہ فون کیا۔ اگر آپ دفتر میں مل جاتے تو اس طرح کیوں پریشانی اٹھانا پڑتی اور خود مجھے یہاں سردی میں نہ آنا پڑتا۔ مگر چلئے یہ بھی ٹھیک رہا۔ اس بہانے آپ کے درشن تو ہو گئے!"اور وہ تین سو روپے احمد پور کے اس ٹرپ میں بچا لینا چاہتا تھا۔ آخر اس نے کرنسی نوٹوں کو اندرونی جیب میں سے نکالا اور انسپکٹر کی طرف بڑھا کر کہنے لگا "آپ سے پہلی ملاقات ہوئی ہے۔ اس لئے کچھ نہ کچھ نذرانہ تو دینا ہی پڑے گا۔ لیجئے ان کو رکھ لیجئے۔ فرمایئے اور کیا سیوا کی جائے۔"

اینٹی کرپشن انسپکٹر روکھے پن سے بولا"اس مہربانی کا شکریہ۔ اب اتنی اور مہربانی کیجئے کہ ان کو اپنے اپس ہی رہنے دیجئے۔"

وانچو ذرا سنجیدہ ہو کر خاموش ہو گیا۔ دونوں اندھیرے میں چپ چاپ کھڑے تھے اور کوہستانی چٹانوں میں پت جھڑ کی بپھری ہوئی ہوائیں چیختی رہیں۔ آگے کھڑے ہوئے ٹرکوں کے اندر سرگوشیوں کی دبی دبی آوازیں بھنبھنا رہی تھی۔ وانچو ذرا غور کرنے لگا کہ یہ آسانی سے ماننے والی آسامی نہیں ہے۔ اس سالے کو ابھی کچھ اور بھی دکشنا دینا پڑے گی۔ اس لئے کہ وہ جانتا تھا کہ ہر کامیاب جرم کی سازش پہلے پولیس اسٹیشن کے اندر ہوتی ہے۔ یہ بات دوسری ہے کہ سودا بعد میں طے ہو سکتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ سب مایا کے کھیل ہیں اور مایا کے روپ نیارے ہیں اسی لئے جرائم کی نوعیتیں جداگانہ ہیں۔ جیب کاٹنے والا زیادہ سے زیادہ ہسٹری شیٹر بن سکتا ہے اور کا رہائے نمایاں انجام دینے والا سرمایہ دار ہو جاتا ہے۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ ہسٹری شیٹر بننے کے لئے پولیس کی سرپرستی درکار ہوتی ہے اور سرمایہ داری کے لئے گورنمنٹ سے ساز باز کئے بغیر کام نہیں چلتا۔ وانچو نے جیب کے اندر سے کچھ اور کرنسی نوٹ نکالے اور آہستہ آہستہ کہنے لگا۔

انسپکٹر تیواری جب تک اس سرکل میں تعینات رہے ہماری انڈسٹری کی طرف سے ان کو اس حساب سے ان کا حق برابر پہنچتا رہا۔"پھر خوشامد کرنے کے سے انداز میں وہ مسکرا کر بولا"لیکن آپ کو اس طرح جاڑے پالے میں آ کر پریشان ہونا پڑا ہے۔ اب اس پریشانی کا بھی کچھ خیال کرنا پڑے گا۔"لیجئے یہ دوسو اور ہیں۔ دیکھئے اب کچھ اور نہ کہئے گا اور اپنا ریوالور تو آپ اب اندر رکھ لیجئے۔ خواہ مخواہ آپ سے خوف معلوم رہا ہے۔"

مگر بھاری بھرکم جسم والا انسپکٹر اسی طرح ناراضگی کے سے انداز میں بولا۔ دیکھئے آپ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں۔ میں ان دونوں ٹرکوں کو پولیس اسٹیشن لے جائے بغیر باز نہیں آؤں گا۔ آپ خواہ مخواہ میرا بھی وقت خراب کر رہے ہیں اور خود بھی پریشانی اٹھا رہے ہیں اور وہ موٹر سائیکل کو اسٹارٹ کرنے لگا۔

اس دفعہ وانچو کی مسکراہٹ نے دم توڑ دیا۔ اس نے بڑی تیکھی نظروں سے انسپکٹر کو گھور کر دیکھا۔ اس عرصے میں پہلی بار اس کو خطرے کی نوعیت کا احساس ہوا تھا۔ اس لئے کہ دونوں ٹرک کسی طرح بھی پولیس اسٹیشن نہیں جاسکتے تھے۔ کمپنی کا یہی حکم تھا، یہی ہدایت تھی اور اس ذمہ داری کے لئے کمپنی سے اس کو نو سو روپے ماہوار تنخواہ کے علاوہ مینجنگ ڈائریکٹر کی طرف سے چھ سو روپے ایکسٹر ا لاؤنس بھی ملتا تھا۔ وانچو کئی ماہ سے اپنی اس ڈیوٹی کو بڑی مستعدی سے انجام دے رہا تھا۔ کمپنی اس کی کار گزاریوں کو سراہتی رہی ہے اور بورڈ آف ڈائریکٹر کی کی میٹنگ میں بہت سی باتوں کے لئے اس کو جوابدہ بھی ہونا پڑتا ہے اور اکثر ایسے بے تکے سوالوں سے اس کو سابقہ پڑا کہ وہ بدحواس ہو جاتا۔ اس لئے وہ پانچ سو روپے سے زیادہ دو ٹرکوں کے لئے رشوت نہیں دے سکتا۔ ورنہ آئندہ میٹنگ میں اگر کوئی ڈائریکٹر الجھ گیا تو بہت ممکن ہے کہ زائد رقم اس کو اپنی تنخواہ سے ادا کرنا پڑے ا ور بات بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ دراصل ابھی تک فیکٹری کی تعمیر کے لئے کمپنی اپنے پاس سے صرف روپیہ لگا رہی ہے۔ شگر پلانٹ کا کانسسٹرکشن ابھی تک مکمل نہیں ہوا ہے۔ البتہ کمپنی کے وہ فارم "جن میں ایکھ کی کاشت ہو گی ان میں ٹریکٹر چلنے لگے ہیں اور آلو کی فصلیں تیار کی جا رہی ہیں اور یہ آلوؤں کے ساتھ سیمنٹ کی بوریاں اور آئرن شیٹس بھی ٹرکوں میں لاد کر پوشیدہ طور پر بلیک مارکیٹ میں جاتے ہیں۔ کمپنی کو اپنی انڈسٹری کی تعمیر کے لئے سیمنٹ او آئرن کا بہت بڑا سرپلس کوٹا مل گیا ہے جس کی سمگلنگ سنسان راتوں میں بڑے پراسرار طریقے پر ہوتی ہے اور اس سازش میں پولیس کے علاوہ دوسرے محکمے بھی کمپنی کے شریک ہیں۔

وانچو غور کرنے کے سے انداز میں خاموش کھڑا رہا۔ اس کی گھنی بھوئیں آنکھوں پر جھکی ہوئی معلوم ہو رہی ہیں اور چہرے کے تیکھے نقوش مجسموں کی طرح ٹھوس نظر آ رہے ہیں۔ پھر ایک بارگی اس نے طے کر لیا کہ اسے کیا کرنا چاہئے۔ انہیں وحشت ناک موقعوں کے لئے وہ ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ جو کچھ کرنا ہے اس کے فیصلے کے لئے منٹ بھر کا عرصہ بہت ہے اور جو لوگ صرف انجام ہی پر غور کرتے ہیں وہ کبھی کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے اور پھر بوجھل قدموں سے چلتا ہوا وہ آگے والے ٹرک کے پاس پہنچ گیا اور سرگوشی کے سے انداز میں آہستہ آہستہ پکارنے لگا۔


"نیل کنٹھ آئے نیل کنٹھ، مہاراج"

اور ٹرک کے اندر سے مضبوط پٹھوں والا نیل کنٹھ دھنسی ہوئی آواز میں بولا۔ کیا ہے سیکرٹری صاب ؟"پھر وہ اتر کر نیچے آگیا۔ اس کا آبنوسی جسم رات کے گہرے اندھیرے میں پرچھائیوں کی طرح دھندلا نظر آ رہا تھا۔ وانچو کہنے لگا ۔"

"دیکھو نیل کنٹھ یہ سالا انسپکٹر تو کسی طرح مانتا نہیں اور تم جانتے ہو کہ دونوں ٹرک تھانے پر بھی نہیں جا سکتے"

"وہ سینہ تان کر بولا، تو حکم ہو!"

گہری نیلی آنکھوں والے وانچو نے اس کو بھرپور نظروں سے دیکھا اور پھر ا سازش کرنے کے سے انداز میں اس نے ایک آنکھ دبا کر آہستہ سے کہا "مجھ کو تو صرف لائین کلیر، کی ضرورت ہے۔ زیادہ جھنجھٹ نہیں چاہئے۔ پھر مڑتے ہوئے اتنا اور کہا "میں جا کر اس سے باتیں کرتاہوں۔ تم ٹرکوں کی پشت پر سے گھوم کر آ جانا۔ سمجھ گئے نا!" اور نیل کنٹھ جیسے سب کچھ سمجھ گیا۔ اس کی آنکھیں جرائم پیشہ لوگوں کی طرح خونخوار نظر آنے لگیں۔ وانچو وہاں سے سیدھا اینٹی کرپشن کے انسپکٹر کے پاس چلا گیا۔ وہ اس کو آتے ہوئے دیکھ کر تیزی سے بولا۔

"آپ نے ٹرکوں کو اسٹارٹ نہیں کروایا، بلا وجہ دیر ہو رہی ہے"

وانچو بڑی سنجیدگی سے بولا "آپ تلاشی لیں گے یا ٹرک اسی طرح چلیں گے " وہ کہنے لگا۔

"بظاہر تو اب ایسی کوئی ضرورت نہیں، یوں جیسے آپ کی مرضی " وانچو ایک بار پھر کاروباری انداز سے مسکرایا "انسپکٹر صاحب! مرضی ہماری کہاں؟ مرضی تو آپ کی ہے۔ ہم نے تو اپنی طرف سے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی مگر آپ کی ناراضگی ختم ہی نہیں ہوتی۔"

وہ بے نیازی سے بولا "دیکھئے ان بے کار باتوں سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ آپ کو جو کچھ کہنا ہو، آپ تھانے پر چل کر کہہ لیجئے گا۔"

وانچو سنجیدہ ہو گیا "بہت اچھی بات ہے لیکن اتنا میں آپ کو ضرور بتا دینا چاہتا ہوں کہ جو لوگ آئرن شیٹس اور سیمنٹ کا سرپلس کوٹا لے سکتے ہیں اور جو اس کو سمگل بھی کرا سکتے ہیں۔ وہ اپنے بچاؤ کے طریقے بھی جانتے ہی ہوں گے۔ چور چوری کرنے جاتا ہے تو باہر نکلنے کا رستہ پہلے دیکھ لیتا ہے "اور اس میں شک بھی نہیں کہ وانچو ٹھیک ہی کہہ رہا تھا۔ اس لئے کہ "یونائیٹڈ انڈسٹریز لمیٹڈ "کے وڈ ڈائریکٹر ایم ایل اے ہیں۔اور ان میں سے ایک تو ریونیو منسٹر کا داماد بھی ہے اور اسی لئے سرکاری محکموں میں کمپنی کا اثر بھی ہے اور زور بھی ہے لیکن بھاری بھر کم جسم والا انسپکٹر ان راز ہائے سربستہ کو نہیں جانتا۔ اس سرکل میں ابھی اس کا نیا نیا ٹرانسفر ہوا ہے اس لئے پورے علاقے میں وہ اپنی دھاک بٹھا دینا چاہتا ہے اور اس لئے ایک آدھ بڑا کیس بنائے بغیر بات نہیں بنتی اور پولیس کی مکینک کے مطابق ایک بار جہاں ہوا بندھ گئی پھرتو لکشمی آ کر خود قدم چومتی ہے اور اسی لئے وہ کسی طرح باز نہیں آ سکتا۔ وانچو کی باتوں پر جھنبھلا کر اس نے جواب دیا۔

"ممکن ہے، آپ ٹھیک کہہ رہے ہوں۔ ابھی تو آپ ذرا چل کر حوالات میں ٹھہرئے، پھر دیکھیں گے کہ آپ لوگ اپنے بچاؤ کا کونسا طریقہ جانتے ہیں۔"

اس دفعہ وانچو بھی بپھر گیا۔ اس نے تیزی سے کہا "انسپکٹر صاحب مجھے کیلاش ناتھ وانچو کہتے ہیں۔ میں تھانے جانے سے پہلے بات کو یہاں بھی طے کر سکتا ہوں۔ آپ کے ایسے انٹی کرپشن کے انسپکٹروں سے یہاں اکثر سابقہ پڑا کرتا ہے۔ اگر ان میں کوئی مل گیا ہوتا تو اس طرح مونچھ اونچی کر کے آپ کو بات کرنے کی جرات نہ ہوتی۔"

انسپکٹر کے چہرے پر اور ابھی خشونت آ گئی۔ وہ اس کو بڑی تیکھی نظروں سے گھورنے لگا اور اسی وقت آ بنوسی جسم والے نیل کنٹھ نے اندھیرے میں سے نکل کر اس کے سر پر "آہنی راڈ" اٹھا کر زور سے دے مارا۔ انسپکٹر نے دبی ہوئی کراہ کے ساتھ ہائے کر کے پھٹی ہوئی بھیانک آواز نکالی اور لڑکھڑا کر سڑک پر گرپڑا۔ اس کی انگلیوں میں دبا ہوا ریوالور ابھی تک کانپ رہا تھا۔ وانچو نے جھپٹ کر اس کے ہاتھ کو اپنے بوجھل جوتے سے رگڑ دیا اور ریوالور کو چھین کر ٹیلوں کی طرف پھینک دیا اور اس کی ریڑھ کی ہڈی پر ایک بھرپور لات مار کر بڑبڑانے لگا۔

"دھت تیرے کی، سالا کسی طرح مانتا ہی نہ تھا " اور پھر وہ نیل کنٹھ سے کہنے لگا "مہاراج ڈال دو سالے کو ادھر کنارے کی طرف!"اور پھر اطمینان سے ایک سگریٹ سلگا کر پوچھنے لگا"

ہاں یہ دیکھ لو کہ زخم گہرا تو نہیں پڑا ہے، ورنہ بلاوجہ بات اور بڑھ جائے گی۔"

نیل کنٹھ کہنے لگا" ہاتھ بھرپور نہیں پڑا ہے، کوئی گھبرانے کی بات نہیں ہے۔"

پھر نی