اردو ویب ڈیجیٹل لائبریری
×

اطلاع

فی الحال کتابیں محض آن لائن پڑھنے کے لئے دستیاب ہیں. ڈاؤن لوڈ کے قابل کتابوں کی فارمیٹنگ کا کام جاری ہے.

Urdu Muhawraat Ka Tehzeebi Mutalia

اردو محاورات کا تہذیبی مطالعہ


مصنف ڈاکٹر عشرت جہاں ہاشمی
پبلشر ہاشمی پبلیکیشنز ، 1754-55 پہاڑی بھوجلہ، دہلی (110006) انڈیا
تعداد الفاظ 131709
تعداد منفرد الفاظ 9281
مناظر 80542
ڈاؤنلوڈ 0
محاورے محض کسی زبان کا حصہ ہی نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے مختصر وجود میں نہ صرف کسی بھی معاشرہ کی نمائندگی کا کردار ادا کرتے ہیں بلکہ ایک بھر پور تہذیبی عکسبندی کا بار بھی اٹھاتے ہیں۔

انتسا ب

دہلی کی شہر ی تہذیب اور اُس سے وابستہ شعر و ادب کی روایت کے نام

"دہلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب"
دلّی کے نہ تھے کوچے اوراقِ مصّور تھے
جو شکل نظر آئی، تصویر نظر آئی
دل کی بربادی کا کیا مذکور ہے
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

(میر تقی میر)


اردو محا ورات اور زبان وبیان میں اُس کی اہمیت

آب حیات میں مولانا محمد حسن آزاد نے میر سوز کا ذکر کرتے ہوئے یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک دن سودا کے ہاں میر سوز تشریف لائے۔ ان دنوں شیخ حزیں کی غزل کا چرچا تھا جس کا مطلع ہے۔

می گرفتیم بجا تا سرِ را ہے گا ہے
اُد ہم از لطفِ نہاں داشت نگا ہے گا ہے

میر سوز مرحوم نے اپنا مطلع پڑھا۔

نہیں نکلے ہے مرے دل کی اَپا ہے گا ہے
اے مُلک بہرِ خُدا رخصتِ آہے گا ہے

مرزا سن کر بو لے کہ میر صاحب بچپن میں ہمارے ہاں پشور کی ڈومنیاں آیا کرتی تھیں یا جب یہ لفظ سنا تھا یا آج سنا۔ میر سوز بچا رے ہنس کر چپ ہو رہے۔

پشا ور کی ڈومنیاں جو کہ نکسے اور اَیا ہے بو لتی تھیں فا رسی غزلوں کے بجائے ہندی چیزیں سنا تی ہونگی جو ان دنوں قریب الفہم اور مقبولِ عام تھیں۔

خلاصہ اس گفتگو کا یہ ہے کہ اردو جو کھڑی بو لی کا ایک مخصوص روپ ہے، عوام کی بولی چال کی زبان بنی اور ا س نے پہلی بار ان کے جذبہ اظہار کو زبان دی ادبی زبان اور بول چال کے فرق کو مٹا یا۔ چنانچہ اٹھارویں صدی پر دہلوی شعراء کا کلام با لعموم اسی لسانی اصول کا پا بند اور آئینہ دار ہے۔

آ گے چل کر جب مرزا مظہر جانجاناں، حا تم، سودا، نا سخ، شا ہ نصیر اور ذوق نے اپنے اپنے نقطہ ہائے نظر کے مطابق اصلا ح زبان کا کام کیا تو دہلی میں گاہ گا ہ متروک الفا ظ و محاورات کے سا تھ ساتھ جو قدیم لب و لہجے کی گونج سنا ئی دیتی رہی۔ اس کا سہرا مردوں سے زیادہ عورتوں کے سر ہے۔ عورتیں زبان کے معاملے میں قدامت پسند ہو تی ہیں۔ مردوں کے مقابلے میں ان کا ملنا جُلنا باہر والوں سے کم ہوتا ہے۔ نیز مختلف النوع اقوام اور بھانت بھانت کی زبان بولنے والوں سے بعد کی وجہ سے ان کی زبان بگڑ نے سے محفوظ رہتی ہے۔ عورتوں کی نما یاں خصوصیت انتخابِ الفاظ کے سلسلے میں یہ ہے کہ وہ کریہہ الفا ظ کی جگہ لطیف الفا ظ استعمال کرتی ہیں۔ ان جزوی اختلافاتِ زبان کے علاوہ انتہا ئی نما یاں خصوصیت مردوں اور عورتوں کی زبان کے اختلاف کی یہ ہے کہ عورتیں جنسیات سے متعلق باتیں واضح الفا ظ میں کہنے کے بجائے اشارے اور کنائے میں بیان کر تی ہیں۔ بیگمات کی زبان میں ہر قسم کا جنسی افعال کے لئے پر دہ پوش اصطلاحات و محاورات مو جود ہیں۔ مثلاً میلے سر سے ہو نا، گود میں پھول جھڑنا، دوجیاں ہونا بات کر نا جیسے متعدد محاورے عورتوں نے مختلف کیفیات کو ظاہر کر نے کے لئے بنائے اور اُن کا چلن عام کیا۔

جو ہونی تھی وہ بات ہو ئی کہاروں
چلو لے چلو میری ڈولی کہاروں

مَردُوا کہتا ہے آؤ چلو آرام کریں
جس کو آرام یہ سمجھے ہے وہ آرام ہو نوج۔


عورتیں اپنے گرد و پیش کے الفاظ چنتی ہیں ان کے ہاں کسی شئے کی جزئیات کو پیش کر نے کے لئے الفاظ کی کمی نہیں ہو تی اسی لئے مردوں کی بجائے عورتوں کی لکھی ہو ئی کتابیں زیادہ عام فہم صاف اور شستہ ہو تی ہیں۔ عورتیں لسانی اعتبار سے مردوں سے زیادہ تیز طرار ہوتی ہیں۔ وہ سیکھنے کا شوق رکھتی ہیں۔ سننے میں تیز ہیں اور جواب دینے پر زیادہ قدرت رکھتی ہیں۔ دنیا بھر میں عورتیں باتونی مشہور ہیں۔ مردوں کے برعکس انہیں الفاظ ٹٹولنے اور تولنے میں دیر نہیں لگتی۔ عورتیں نئی نئی اصطلاحیں محاورے وضع کر لیتی ہیں، جن میں اکثر خوش آواز مترنم اور پرلطف ہو تے ہیں۔ ہر زبان کی لغت میں ایک ایسی فرہنگ موجود ہوتی ہے جو عورتوں کی بول چال کے لئے مخصوص ہے۔ مردوں کی گفتگو میں یہ الفا ظ شاذ ہی نظر آتے ہیں۔ اُردو نثر میں عورتوں کی بول چال کم و بیش طلسمِ باغ و بہار اور دیگر نثری داستانوں میں سمٹ آئی ہے۔ ایک اور مثال واجد علی شاہ کی بیگمات کے وہ خطوط ہیں جو انہوں نے واجد علی شاہ کو مٹیا برج جانے کے بعد لکھے ہیں۔

زبان سے ملک کا سکّہ ہے عورت
انوکھا ہے چلن سارے جہاں سے

زباں کا فیصلہ ہے عورتوں پر
یہ باتیں مردوئے لائیں کہاں سے

عورتوں کی زبان سے خدا بچائے، بیگمات کی بول چال سے گو کان آشنا نہیں، آنکھوں نے اور اقِ پارینہ میں اُن کی جھلکیاں دیکھی ہیں۔ ان کے ممتاز محاورات پر نظر ڈالئے تو آنکھوں کے سامنے رمز و کنائے کا ایک رنگیں چمن ہو گا۔ اُن کی صناعی طباعی کا جوہر منہ بند کلیوں کی طرح کھلتا اور خندۂ مل کی طرح مہکتا نظر آئے گا۔
بہادر شاہ ظفر کے عہد پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر اسلم پرویز نے لکھا ہے۔

قلعہ معلیٰ کی تہذیب کا ایک اہم جز وہ زبان تھی جس میں شاہ علم ثانی اور اُن کے بعد ظفر نے بھرپور شاعری کی تھی۔ اس زبان کی گونج اور بازار سے گزرتی ہوئی کابلی دروازے کے اس تنگ و تاریک مکان تک سنائی دیتی تھی جہاں ذوق کا مسکن تھا اور پھر یہ گونج سننے والوں کو اپنی طرف کھینچتی تھی۔ اس گونج میں ذوق بھی کھنچے چلے گئے اور پھر دلّی کا محاورہ اور روزمرہ جس طرح ذوق کی شاعری میں رچ بس گیا، اس کی دوسری اور نسبتاً زیادہ خوبصورت مثال داغ کے یہاں ملتی ہے۔

زبان کی خوبی اس کی سلاست، عام فہمی، نرمی، موزونی، چھوٹے چھوٹے الفاظ اور بڑے بڑے مطالب پر موقوف ہے۔ محاورات وہ ننھے مرقع ہیں جو کسی سماج کے تجربات، تصورات اور تاثرات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ عام لوگوں کی زبان کو پایۂ اعتبار سے گرانا زبان کے زوال اور عدم مقبولیت کا سبب بنتا ہے۔ بیگمات نے اپنے محاوراتی اسلوب میں مجاز و مبالغہ تشبیہ اور تمثیل، مصوری و محاکات اور رمزیت و اشاریت کے سارے جوہر محفوظ کر لئے تھے۔ اسی لئے جب ہم ان کی صدائے بازگشت سنتے ہیں تو بیقرار ہو جاتے ہیں اظہارِ خیال اور ادائے مطلب میں پیچیدگی سے بچنے کے لئے بول چال کی زبان روزمرہ اور محاورے کا استعمال ناگزیر ہو جاتا ہے زبان کا ذوق رکھنے والوں نے ادبی شبہ پاروں میں محاورات پر ضرور نظر کی ہو گی۔ یہاں چند محاورات مثال دینے کے لئے پیش کئے جاتے ہیں۔


چلوؤں لہو خشک ہونا، اُوڑا پھڑنا، سر بالوں کو آنا، اٹھوائی کھٹوائی لینا، منہ تھوتھائے رہنا، دے دوں کا پانی ڈھلنا، تکلفی کے سے بل نکالنا، آنکھوں پر چربی چھانا، نعمت کی اماں کا کلیجہ ہونا، محاوروں کے علاوہ ضرب الامثال کا بھی ایک بیش بہا خزانہ ہے جو ہماری زبان میں پایا جاتا ہے۔ مثلاً ایک توے کی روٹی کیا چھوٹی کیا موٹی، جس کے ہاتھ ہنڈیا ڈوئی اس کا ہر کوئی، انیس و بیس روڑے اُچھلیں، سرخ رو چونڈا ایمان بھونڈا، مائی جی کا تھان کھیلے چوگان، ٹاٹ کی انگیا، مونچھ کا بخیا، جہاں بہو کا پسار وہیں خسر کی کھاٹ، ان محاورات اور ضرب الامثال کی مدد سے کچھ مصنفین نے ابلاغ اور معانی آفرینی کے کمالات دکھائے ہیں اور کچھ مصنفین صناعی کلام کی ان بھول بھلیوں میں گم ہوکے رہ گئے۔

سنا ہے کوئی جاٹ سرپر چارپائی لئے کہیں جا رہا تھا۔ ایک تیلی نے دیکھ لیا اور جھٹ پھبتی کسی۔ ۔ جاٹ رے جاٹ تیرے سر پہ کھاٹ۔ جاٹ اُس وقت تو چُپ ہو گیا مگر دل میں بدلے کی بھاؤنا لئے بیٹھا رہا۔ ایک دن دیکھا کہ تیلی اپنا کولہو لئے جاتا ہے جاٹ نے جواباً کہا تیلی رے تیلی ترے سر پہ کولہو۔ تیلی ہنسا اور کہنے لگا جچی نہیں۔ جاٹ نے جواب دیا جچے نہ جچے تو بھوجھوں تو مرے گا۔ محاوراتی اُسلوب کا راستہ پل صراط سے زیادہ خطرناک ہے غزل کے ہر شعر کی طرح اس کا تعلق آبدار اور برجستگی سے ہے پھر یہ کہ عورتوں سے محاورے زبان کی طراری اور ایک مخصوص معاشرتی تربیت کے بغیر اس پر شکوہ اور پر خطر مہم کا سر کرنا ممکن نہیں ہے۔ نذیر احمد کی زبان ٹکسالی ہے لیکن ان کی تصنیف امہات الامۃ کو لوگ کہتے ہیں اسی لئے نذر آتش کیا گیا تھا کہ اس میں ایک محاورہ یہ بھی تھا کہ جوتیوں میں دال بٹنے لگے گی۔

اب نہ اُردوئے معلیٰ رہی اور نہ گلی کوچوں میں بولا جانے والا ریختہ، جمہوری انقلابات نے ماضی کے تمام امتیازات کی جڑیں اکھاڑ پھینکی ہیں عورت مرد سب بچھڑی زبان بول رہے ہیں۔ جو لوگ زبان کا حسن اور محاورے کی وابستگی کا رونا روتے تھے وہ بھی قصہ پارینہ ہوئے۔ جواب دکھائی دیتے ہیں وہ کل ناپید ہو جائیں گے۔ ہمیشہ رہے نام اللہ کا۔

ایسے میں عشرت ہاشمی کا یہ کارنامہ ایک تاریخی دستاویز کا درجہ رکھتا ہے۔ عشرت نے بہادر شاہ ظفر کے عہد اور شاعری پر پہلے بھی کام کیا ہے انہیں اس دور سے ربطِ خاص ہے جس میں محاورات اور ضرب الامثال کا چلن نے اُردو زبان کو مقبولیتِ عام اور شہرتِ دوام بخشی تھی۔ محاورے کیسے بنتے ہیں، ان کی ساخت میں معاشرت کا کس کس عمل اور انسانی فکر کے کن کن زاویوں کا دخل ہوتا ہے، یہ سمجھے بغیر محاوراتی اسلوب کو برقرار رکھنا ناممکن ہے۔ اور محاوراتی اسلوب کے ہاتھ سے نکلنے کے بعد اردو زبان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے گی، ہماری ہزار آٹھ سو سال کی محنت اور جانفشانی رائیگاں ہو جائے گی۔ محاورات اور ضرب الامثال پر اردو میں متعدد لغتیں اور فرہنگیں موجود ہیں۔ لیکن اُنکی تہذیبی اور کلیدی جہتوں پر اہل زبان کی نظر کم گئی ہے۔ کچھ عرصے پہلے تک یہ ضروری بھی نہیں تھا۔ کیونکہ تہذیب کے سوتے ہمارے وجود میں ضم ہو گئے تھے۔ ملک کی تقسیم نے اُردو کو دو خطوں میں باٹ کر ظلم عظیم کیا ہے۔ وہ خطّہ جو پاکستان کہلاتا ہے، ہمارے تہذیبی شعور سے متعلق ناآشنا ہے۔ اور ہندوستان میں بھی طرح طرح کے سیاسی انقلاب نے تہذیب اور تمدن کو نزاعی مسئلہ بنا دیا ہے۔ چنانچہ اس نازک دور میں ڈاکٹر عشرت ہاشمی کا یہ کام جودقیع اور جامع ہونے کے ساتھ ساتھ تہذیبی مرقعوں کی افہام و تفہیم کا فریضہ انجام دیتا ہے، لایقِ ستائش ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ اُردو بولنے والوں کے لئے سیکھنے اور سکھانے کا ذریعہ بنے گا مرتب کی ذہانت کاوش دیدہ ریزی اور تاریخِ معاشرت سے دلچسپی کتاب کی مقبولیت کی ضامن ہے۔ اشاعت کے لئے اردو اکادمی بھی شکر یہ اور مبارکباد کی مستحق ہے۔

سید ضمیر حسن دہلوی

12/مارچ 2006ء


پیش حرف (مقدمہ)

محاورہ عربی زبان کا لفظ معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ اس میں"محور" شامل ہے جس کے معنی ہیں مرکزی نقطہ فکر و عمل۔ جس کے گرد دائرے بنائے جاتے ہیں۔ یہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ محاورہ زبان کا مرکزی نقطہ ہوتا ہے یعنی وہ دائرہ جو مختصر ہونے کے باوجود اپنے گرد پھیلی ہوئی بہت ساری حقیقتوں کو یہ کہیے کہ اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔ ہمارے محاورات ہمارے مُشاہدوں اور طرح طرح کے تجربوں کو پیش کرتے ہیں اور انہیں کہیں عام معاشرتی انداز فلسفیانہ اور کہیں شاعرانہ انداز سے سامنے لایا جاتا ہے۔ اس میں گاہ گاہ پیشہ وارانہ انداز بھی شامل رہتا ہے۔ اور طبقہ وارانہ بھی اس میں ہمارے قدیم الفاظ بھی محفوظ ہیں اور قدیم روز مرّہ بھی یہ عمومی زبان اور عام لب و لہجہ سے قریب ہوتا ہے اور ایک حد تک اِس میں تخیل اور تجربہ کا اور تجزیہ کا آمیزہ بھی پایا جاتا ہے۔

"زبان" کے آگے بڑھنے میں سماج کے ذہنی ارتقاء کو دخل ہوتا ہے۔ ذہن پہلے کچھ باتیں سوچتا ہے، اُن پر عمل درآمد ہوتا ہے، اور وہیں سے اُس سوچ یا اُس عمل کے لئے الفاظ تراشے جاتے ہیں۔ اور پھر اُن میں سے کچھ فقرہ اور جملے محاورات کے سانچے میں ڈھلتے ہیں۔ اور ایک طرح سے محاورہ کی اِس حیثیت پر ہم نے کوئی کام نہیں کیا۔ اب تک یہ تو ہوتا رہا کہ محاورہ کی صحتِ استعمال پر زور دیا گیا۔ اُس کی نوکِ پلک دُرست رکھی گئی۔ اور اِس طرح کی کتابیں بھی بعد کے زمانے میں تحریر ہوئیں کہ محاورے کے معنی یہ ہیں اور اِس کا استعمال یہ ہے۔ یہ کام تدریسی نقطہ نظر کی سطح پر ہوا۔ یا پھر زبان کے ایک بڑے حصّے کو محفوظ کرنے کی غرض سے اسے انجام دیا گیا۔ چرنجی لال کی لغت مخزالمحاورات اسی کا ایک اہم نمونہ ہے اور قابلِ تعریف کام ہے۔ جس کو اب ایک طویل عرصہ گزرنے پر ایک یادگار عملی کام قرار دیا جا سکتا ہے۔

مگر اِس ضمن میں محاورے پراس پہلو سے غور و فکر نہیں کیا گیا کہ اُس نے ہماری زبان و بیان، تہذیبی رویوں اور معاشرتی تقاضوں سے کس طرح کے رشتہ پیدا کئے۔ اُن کو زبان و ادب اور معاشرت کا آئینہ دار بنایا۔ جب کہ محاورات کے سلسلہ میں راقمہ کی محدود نظر کے مطابق یہی سب سے اہم پہلو تھا اس لئے کہ زبان اور ادب کا ایک"اٹوٹ" اور"گہرا رشتہ" تہذیب سے ہوتا ہے۔ اور تہذیبی رشتہ وہ ہوتا ہے جو ہمارے معاشرتی رویوں کو سمجھنے اور سمجھانے میں مدد دیتا ہے بلکہ اُن کے لئے روشنی اور رہنمائی کے طور پر کام آتا ہے۔

راقمہ الحروف نے اِس کام کو اسی نقطہ نظر سے کیا ہے اور اس سلسلہ میں بطورِ خاص مخزالمحاورات کو سامنے رکھا ہے تاکہ محاورات کی ایک بڑی تعداد تک رسائی ہو جائے۔ اُن کے معنی اور اُن کی بنیادی معنویت کو سمجھ لیآ جائے۔

تہذیبی مطالعہ ایک الگ سلسلہ فکر و نظر ہے اور اخذِ نتائج کے لئے ایک جُداگانہ زاویہ نگاہ ہے۔ کیونکہ اس پہلو (Angle) سے محاورے پر ہنوز کوئی کام نہیں ہوا۔ اس لیے مجھ ایسے اُردو زبان و ادب کی ایک طالبِ علم کے لئے یہ سوچنا مشکل ہے کہ مجھے اس میں کیا کامیابی ہوئی اور کس حد تک اس موضوع پر ادبی مطالعہ کی حدود آگے بڑھی ہیں۔ اس کا فیصلہ تو اصحابِ دید و دریافت اور زبان و محاورات کے ماہرین ہی کچھ زیادہ بہتر طور پر کر سکتے ہیں۔ اور یہ توقع ہے کہ آیندہ یہ کام آگے بڑھے گا اور اس کے خطوط فِکر اور زیادہ روشن اور واضح ہوں گے۔


حقیقت یہ ہے کہ الفاظ و صویتات ہوں یا پھر لغت و قواعد کے دائرہ میں آنے والی کچھ خاص اور اہم باتیں ہوں، اُن کو کلیتاً عصری تہذیب اور دواری دائرہ ہائے فکر و عمل سے آزاد نہیں کر سکتے۔ ایک زمانہ میں کچھ الفاظ رائج ہوتے ہیں اور دوسرے زمانہ میں اُن کا استعمال پھر بحیثیت مجموعی اُن پر توجہ وہی کم ہو جاتی ہے۔ اِس کی وجہ بھی بہت کچھ سماجی اور معاشرتی ہوتی ہے۔ اس کے لئے ہم دہلی اور اُس کے قرب و جوار کی زبان نیز بولی کو سامنے رکھ سکتے ہیں کہ شہری زبان کے ساتھ قصبہ و دیہات کی زبان میں بھی فرق آیا ہے۔ اور ایک زبان نے دوسری زبان کو متاثر بھی کیا ہے اور اِس سے تاثر بھی قبول کیا ہے۔

زبان میں اردو محاورہ کی حیثیت بنیادی کلمہ کی بھی ہے اور زبان کو سجانے اور سنوارنے والے عنصر کی بھی اس لئے کہ عام طور پر اہلِ زبان محاورہ کے معنی یہ لیتے ہیں کہ ان کی زبان کا جو اصل ڈول اور کینڈا ہے یعنی Basic structure جس کے لیے پروفیسر مسعود حسن خاں نے ڈول اور کینڈا کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جو اہلِ زبان کی لبوں پر آتا رہتا ہے۔ اور جسے نسلوں کے دور بہ دور استعمال نے سانچے میں ڈھال دیا ہے۔ اسی کو صحیح اور دُرست سمجھا جائے۔ اہلِ دہلی اپنی زبان کے لئے محاورہ"بحث خالص محاورہ استعمال کرتے تھے۔ اور اس محاورہ بحث کو ہم میر کے اس بیان کی روشنی میں زیادہ بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ میرے کلام کے لئے یا محاورۂ اہلِ دہلی ہے یا جامع مسجد کی سیڑھیاں یعنی جو زبان صحیح اور فصیح دہلی والے بولتے ہیں جامع مسجد کی سیڑھیوں پر یا اُس کے آس پاس اس کو سُنا جا سکتا ہے۔ وہی میرے کلام کی کسوٹی ہے۔

ہم ذوق کی زندگی میں ایک واقع پڑھتے ہیں کہ کوئی شخص لکھنؤ یا کسی دوسرے شہر سے آیا اور پوچھا کہ یہ محاورہ کس طرح استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے بتلایا۔ مگر پوچھنے والے کو ان کے جواب سے اطمینان نہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی سند کیا ہے۔ ذوق ان کو جامع مسجد کی سیڑھیوں پر لے گئے۔ انہوں نے جب لوگوں کو وہ محاورہ بولتے دیکھا تو اس بات کو مان گئے اور اس طرح معلوم ہو گیا کہ جامع مسجد کی سیڑھیاں کس معنی میں محاورہ کے لئے سندِ اعتبار تھیں۔ میر انشاء اللہ خاں نے اپنی تصنیف دریائے لطافت میں جو زبان و قواعد کے مسئلہ پر اُن کی مشہور تالیف ہے، اُن محلوں کی نشاندہی کی ہے جہاں کی زبان اُس زمانہ میں زیادہ صحیح اور فصیح خیال کی جاتی تھی شہر دہلی فصیل بند تھا اور شہر سے باہر کی بستیاں اپنے بولنے والوں کے اعتبار سے اگرچہ زبان اور محاورہ میں اس وقت اصلاح و اضافہ کے عمل میں ایک گوناگوں Contribution کرتی تھیں لیکن اُن کی زبان محاورہ اور روزمرّہ پر اعتبار نہیں کیا جاتا تھا۔ اِس کا اظہار دہلی والوں نے اکثر کیا ہے۔

میر امن نے باغ و بہار کے دیباچہ میں اِس کا ذکر کیا ہے کہ جو لوگ اپنی سات پشتوں سے دہلی میں نہیں رہتے وہ دہلی کے محاورے میں سند نہیں قرار پا سکتے کہیں نہ کہیں اُن سے چُوک ہو جائے گا اور وہی صحیح بولے گا جس کی"آنول نال" دہلی میں گڑی ہو گی اِس سے دہلی والوں کی اپنی زبان کے معاملہ میں ترجیحات کا اندازہ ہوتا ہے۔ محاورے سے مراد انگریزی میں Proverb بھی ہے اور زبان و بیان کی اپنی ادائے محاورہ کے دو معنی ہیں ایک محاورہ با معنی Proverb اور دوسرا محاورہ زبان و بیان کا سلیقہ طریقہ اور لفظوں کی Setting بھی۔

اس کے مقابلہ میں لکھنؤ والے اپنی زبان پر اور اپنے شہر کے روزمرہ اور محاورے کو سند سمجھتے تھے رجب علی بیگ سرور نے فسانہ عجائب میں میر امن کے چیلینج یا دعوے کا جواب دیا اور یہ کہا کہ لکھنؤ کی شہریت یہ ہے کہ باہر سے کوئی کیسا ہی گھامڑ اور کندۂ نا تراش آتا ہے بے وقوف جاہل اور نامہذب ہو اور ہفتوں مہینوں میں ڈھل ڈھلا کر اہلِ زبان کی طرح ہو جاتا ہے یہ گویا میرا من کے مقابلہ میں دوسرا معیار پیش کیا جاتا ہے بہرحال گفتگو محاورے اور شہر کے روزمرہ ہی کے بارے میں رہی۔


ہماری زبان میں ایک رجحان تو یہ رہا ہے اور ایک پُر قوت رجحان کے طور پر رہا کہ شہری زبان کو اور شرفاء کے محاورات کو ترجیح دی جائے اور اسی کو سندِ اعتبار خیال کیا جائے اور اِس کی کسوٹی محاورۂ اہلِ دہلی قرار پایا۔

اس سلسلہ میں ایک اور رجحان رہا جو رفتہ رفتہ پُر قوت ہوتا چلا گیا کہ زبان کو پھیلا یا جائے اور دوسری زبانوں اور علوم و فنون کے ذریعہ اس میں اضافہ کیا جاتا ہے کہ زبان سکڑ کر اور ٹھٹھر کر نہ رہ جائے شہری سطح پر امتیاز پسندی آ جاتی ہے تو وہ لوگ اپنی تہذیب کو زیادہ بہتر اور شائستہ سمجھتے ہیں۔ اور اپنے لب و لہجہ کو دوسروں پر ترجیح دیتے ہیں اور امتیازات کو قائم رکھتے ہیں۔ لکھنؤ اور دہلی نے یہی کیا۔ اس کے مقابلہ میں لاہور کلکتہ اور حیدر آباد کا کردار دوسرا رہا۔ شاید اس لئے کہ وہ اپنی مرکزیت کو زیادہ اہم خیال نہیں کرتے تھے۔ اور اُس پر زور نہیں دیتے تھے اور نتیجہ یہ ہے کہ وہ آگے بڑھتے انہوں نے اضافہ سنئے اور نئی تبدیلیوں کو قبول کیا۔ زمانہ بھی بدل گیا تھا نئے حالات نئے خیالات اور نئے سوالات پیدا ہو گئے تھے۔

محاورہ کی ایک جہت ادبی ہے اور ایک معاشرتی۔ یعنی زبان کے استعمال کی صحیح صورت جب دہلی والے اپنے محاورہ کی بات کرتے ہیں تو اُن کی مراد صرف Proverb سے نہیں ہوتی، بلکہ اُس روز مرّہ سے ہوتی ہے۔ جس میں بولی ٹھولی کا اپنا جینیس (Genius) چھُپا رہتا ہے اسی لئے دہلی والے ایک وقت اپنے محاورہ پر بہت زور دیتے تھے۔ اب وہ صُورت تو نہیں رہی مگر محاورے کی ادبی اور تہذیبی اہمیت کو پیشِ نظر رکھا جائے یہ مسئلہ اب بھی اہم بلکہ یہ کہئے کہ غیر معمولی طور پر اہم ہے اس لئے کہ محاورہ زبان کی ساخت اور پرداخت پر بھی روشنی ڈالتا ہے اور زبان کے استعمال کی پہلو داریوں کو بھی سامنے لاتا ہے۔ دہلی والے جامع مسجد کی سیڑھیوں کو اپنے محاورہ کی کسوٹی قرار دیتے تھے۔ اُس کی اپنی لِسانی ادبی تاریخی اور معاشرتی پہلو داریاں ہیں۔ جن کو اِن خاص علاقوں میں بولے جانے والی زبان اور اندازِ بیان نے اپنے ساتھ خصوصی طور پر رکھا ہے اور اس طرح کئی صدیوں کے چلن نے اسے سندِ اعتبار عطا کی ہے۔ زبان اور بیان کی روایتی صورتوں کو الفاظ کلمات اور جملوں کو ایک خاص شکل دیتا ہے۔ اس میں روایت بھی شامل ہوتی ہے اور بولنے والوں کا اپنا ترجیحی رو یہ بھی۔ کہ وہ کس بات کو کس طرح کہتے اور سمجھتے ہیں۔ محاورہ میں آنے والے الفاظ تین پانچ کرنا یا نو دو گیارہ ہونا تین تیرہ بارہ باٹ یہ ایک طرح سے محاورے بھی ہیں اور جملے کی وہ لفظی اور ترکیبی ساخت بھی جو اپنا ایک خاص Setting کا اندازہ رکھتی ہے۔

اِن دو جہتوں کے ماسوا محاورہ کے مطالعہ کی ایک اور بڑی جہت ہے جس پر ہنوز کوئی توجہ نہیں دی گئی یہ جہت محاورہ کے تہذیبی مطالعہ کی ہے اور اُس کے ذہنی زمانی انفرادی اور اجتماعی رشتوں کو سمجھنے سے تعلق رکھتی ہے اس تعلق کو اُس وقت تک پورے طور پر نہیں سمجھا جا سکتا جب تک اُن تمام نفسیاتی سماجیاتی اور شخصی رشتوں کو ذہن میں نہ رکھا جائے جو محاورہ کو جنم دیتے ہیں۔ اور لفظوں کا رشتہ معنی اور معنی کا رشتہ معنویت یعنی ہمارے سماجیاتی پس منظر اور تاریخی و تہذیبی ماحول سے جوڑتے ہیں یہ مطالعہ بے حد اہمیت رکھتا ہے اور اُس کے ذریعہ ہم زبان اُس کی تہذیبی ساخت اور سماجیاتی پرداخت کا صحیح اندازہ کر سکتے ہیں۔
عام طور پر ہمارے ادیبوں، نقادوں اور لِسانیاتی ماہروں نے اِس پہلو کو نظرانداز کیا اور اِس کی معنویت پر نظر نہیں گئی۔ اِس کے لئے ہم ایک سے زیادہ محاوراتی صورتوں کو پیشِ نظر رکھ سکتے ہیں۔

راقمہ الحروف نے اسی نسبت سے محاورے کے مطالعہ کو اپنا موضوع بنایا اور مختلف محاورے کے سلسلہ میں جو باتیں ذہن کی سطح پر تہذیب و معاشرت کے لحاظ سے اُبھر کر سامنے آئیں۔ اُن کو اپنے معروضات میں پیش کر دیا۔ اسی کے ذیل میں مختلف محاورات اور اُن کے فِکر و فہم سے جو اُمور وابستہ ہیں اُن کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے جس سے متعلق کچھ باتیں یہاں پیش کی جاتی ہیں۔

مثلاً پانی آب ہی کو کہتے ہیں۔ روشنی شفافیت اور کشِش کے طور پر پانی کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ پانی تلوار اور آئینہ کے ساتھ یہی معنی دیتا ہے اور آنکھوں کے ساتھ بھی ہم کچھ اپنی مثالوں کو سامنے رکھ سکتے ہیں۔ جن سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ محاورے کی سادہ سی صورت کے پسِ منظر میں تہذیبی معنی اور معنویت کے کیا کیا سلسلے ملتے ہیں مثلاً جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اُس کی آنکھوں کا پانی ڈھل گیا تو اِس سے مراد آنکھوں کی کشش بھی ہوتی ہے حیاء و شرم اور غیرت کی وہ خوبی و خوبصورتی بھی جو آنکھوں سے وابستہ ہوتی ہے۔ اور جب وہ نہیں رہتی، تبھی تو یہ کہتے ہیں کہ آنکھوں کا پانی ڈھل گیا۔ ہم استعارہ کی طرح محاورہ میں بھی لفظ سے معنی اور معنی سے در معنی کی طرف آتے ہیں۔ "رنگ" کا لفظ خوبصورتی کشش انداز و ادا سب کو دھنک کی طرح اپنے حلقوں میں لے لیتا ہے اس سے رنگینی بھی مُراد ہوتی ہے۔ اور خوبصورتی بھی اور اہلِ زبان خاص انداز بھی شاعری میں طرزِ فکر اور اندازِ ادا کو"رنگ" سے تعبیر کیا جاتا ہے اور بے رنگ ہونے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ اُس میں کوئی خاص خوبصورتی و کشش نہ ہو۔ اسی لئے بے رنگی اشعار کی اس سادگی کو کہا جاتا ہے۔ جن میں سپاٹ پن ہوتا ہے اور یہ کبھی کہا جا سکتا ہے کہ اُن کے اشعار تو بالکل بے آب و رنگ ہیں۔ یعنی اُن میں فکر و خیال کے اعتبار سے کوئی حُسن کوئی جاذبیت اور کشش تھی ہی نہیں۔ اِس اعتبار سے اس محاورہ کو ہم اپنی ذہنی زندگی اپنے احساسِ جمال اور سماجی رو یہ کا نمائندہ کہہ سکتے ہیں۔


زباندانی کا جو معیار اہلِ شہر اپنی شہریت، اپنی گفتگو اور اپنے لب و لہجہ سے وابستہ کرتے ہیں اُس کا ایک گہرا تعلق محاورہ سے بھی ہے کہ بغیر شہر میں قیام اور اُس کے باشندوں سے تعلقات کے محاورے پر قدر ت ممکن نہیں یہ بات ہم اہلِ شہر کی زبان پر اُس حوالہ یا اس حوالہ سے برابر آتے ہوئے دیکھتے ہیں جن باتوں کا ذکر ہمارے یہاں زیادہ آتا ہے وہ ہمارے معاشرتی رو یہ کی نفسیات یا (سائیکی) کا ایک بڑا حصّہ ہوتی ہے اس اعتبار سے بھی محاوروں کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ ہمارے نفسیاتی ماحول میں داخل ہیں اور جن باتوں سے ہم بہت متاثر ہیں محاورات میں اُن کا ذکر آتا ہے اور اُن کے لئے بار بار کوئی محاورہ ہمارے لبوں یا زبان قلم پر آتا رہتا ہے۔

محاورے ہماری ذاتی اور معاشرتی زندگی سے گہرا رشتہ رکھتے ہیں محاوروں میں ہماری نفسیات بھی شریک رہتی ہیں مگر بیشتر اور اُن کی طرف ہمارا ذہن منتقل نہیں ہوتا کہ یہ ہماری اجتماعی یا اِنفرادی نفسی کیفیتوں کی آئینہ داری ہے اسی طرح ہمارے اعضاء پر ناک، کان اور آنکھ بھوں سے ہمارے محاورات کا گہرا رشتہ ہے۔ مثلاً آنکھ آنا، آنکھیں دیکھنا، آنکھوں میں سمانا، اور آنکھوں میں کھٹکنا آنکھوں کا لڑنا یہ محاورے مختلف المعنی ہیں اور کہیں ایک دوسرے سے تضاد کا رشتہ بھی رکھتے ہیں۔

آنکھ سے متعلق کچھ اور محاورے یہاں پیش کئے جاتے ہیں۔ آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا، آنکھ اٹھانا، آنکھوں کی ٹھنڈک، آنکھ پھوڑ ٹڈا، آنکھیں ٹیڑھی کرنا، آنکھ بدل کر بات کرنا، رخ بدلنا آنکھوں میں رات کاٹنا، آنکھوں کا نمک کی ڈلیاں ہونا۔ استعاراتی اندازِ بیان ہے۔ جس کا تعلق ہماری شاعری سے بھی ہے اور سماجی شعور سے بھی یہ بے حد اہم اور دلچسپ بات ہے آنکھ بدل کر بات کرنا۔ ناگواری نا خوشی اور غصّہ کے موڈ میں بات کرنا ہے جو آدمی اپنا کام نکالنے کے لئے بھی کرتا ہے۔ آنکھیں اگر تکلیف کی وجہ سے تمام رات کڑواتی رہیں۔ اور اُن میں برابر شدید تکلیف ہوتی رہی تو اُسے آنکھوں کا نمک کی ڈلیاں ہونا کہتے ہیں یعنی یہ صورت تکلیف کی انتہائی شدت کو ظاہر کرتی ہے نمک کی ڈلیاں ہونا کہتے ہیں۔ آنکھیں پتھرانا اس کے مقابلہ میں ایک دوسری صورت ہے یعنی اتنا انتظار کیا کہ آنکھیں پتھر ہو گئیں۔ آنکھوں میں رات کاٹنا بھی انتظار کی شدت اور شام سے صبح تک اسی حالت میں رہنے کی طرف اشارہ ہے جو گویا رات کے وقت انتظار کرنے والے کی حالت کو ظاہر کرتا ہے۔ آنکھ لگنا سو جانا اور کسی سے محبت ہو جانا جیسے میری آنکھ نہ لگنے کی وجہ سے میرے یار دوستوں نے اُس کا چرچہ کیا کہ اِس کا دل کسی پر آگیا ہے۔ اور کسی سے اس کی آنکھ لگی ہے۔ اس سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ نہ جانے ہماری کتنی باتوں اور ذہنی حالتوں کو صبح و شام کی وارداتوں اور زندگی کے واقعات کو ہم نے مختصراً محاورہ میں سمیٹا ہے اور جب محاورہ شعر میں بندھ گیا تو وہ ہمارے شعور اور ذہنی تجربوں کا ایک حصّہ بن گیا۔

راقمہ نے جن محاورات پر کام کیا ہے اور جن کا تہذیبی مطالعہ پیش کیا گیا ہے وہ Proverb کے معنی میں آئے ہیں۔ صرف Setting کے معنی میں نہیں Proverb (محاورے) سے لفظوں کی ایک ترکیبی یونٹ واحدہ ہوتا ہے جو ایک خاص انداز سے ترکیب پاتا ہے اپنے معنی کا تعین کرتا ہے اور اپنی ہیئت اور صُورت شکل پر قائم رہتا ہے محاورہ کی زبان بدلتی نہیں ہے جس کا تعین ایک مرتبہ ہو گیا اُس کو ایک مستقل صورت مل جاتی ہے۔

راقمہ نے محاورات کے لفظ و معنی کے اعتبار سے کوئی تبدیلی نہیں کی۔ اِس کے مقابلہ میں محاورات کے لفظ و معنی میں تہذیب و تاریخ کے جو محرکات اور موثرات ملتے ہیں اُن کو اُردو کی اپنی معاشرت کے پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کی ہے اور اُس کے وسیلے سے بہت سے نئے معنی کا محاورات میں موجود ہونے کا انکشاف کیا ہے اِس طرح کا کوئی کام اُردو میں اب تک نہیں ہوا۔ جس سے محاورات کی تہذیبی اور تاریخی اہمیت کا حال معلوم ہو سکے۔

مختلف لغات میں جو محاورات دوسرے الفاظ کے ساتھ شریک ہیں اُن کے معنی بھی لفظوں ہی کے طور پر دیئے گئے ہیں۔ اِن سے اخذِ نتائج کا کوئی عمل وابستہ نہیں کیا گیا۔ شہر دہلی لال قلعہ نیز دہلی اور لکھنؤ کے محاورے میں جو فرق کیا گیا ہے۔ وہ اپنی جگہ ایک اہم کام ضرور ہے مگر تہذیبی اور معاشرتی نقطہ نظر سے ہنوز کوئی کام راقمہ کی محدود معلومات کے مطابق ابھی تک نہیں ہوا۔ دو شہروں کی زبان کا الگ الگ انداز اُس میں ضرور زیر بحث آیا ہے۔ لیکن ہمارے سماج ہماری معاشرت اور ہمارے تہذیبی رویوں سے محاورہ کا جو خاص اور معنی خیز رشتہ رہا ہے اُس پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی اِس پر بھی صاحبانِ قلم نے کوئی روشنی نہیں ڈالی کہ ہمارے یہاں جو محاورات موجود ہیں اور ہماری زبان کا حصہ ہیں اُن میں سے بعض پر دوسری زبانوں کے کیا اثرات ہیں عربی فارسی ہندی اور دیہاتی کا اُن پر کیا اثر ہے اور اُن کی لفظیات کو کس طرح دوسری زبانوں نے متاثر کیا ہے۔ یہ اہم مسئلہ بھی محاورات پر علمی اور ادبی کام کرنے والوں کے سامنے نہیں آیا۔ اُن کی توجہ زیادہ تر لُغت پر رہی ہے اور اُسی دائرہ میں رہ کر انہوں نے سوچا اور اپنے طور پر پُر وقار کام کیا ہے۔

ایسے لغت بھی تیار ہوئے جس میں محاورات کو لفظی وحدتوں کے طور پر جمع کیا گیا اور اُن کے معنی بتلائے گئے۔ ہماری درسیات میں یہ شامل رہا ہے کہ محاورات پر اُن کے معنی سمجھانے کے لئے ضرور روشنی ڈالی جائے اور معنوی سطح پر لغوی نقطہ نظر سے اُن کے معنی لکھ دیئے جائیں۔ لیکن محاورے وہ شہروں میں رائج ہوں یا قصبہ میں ادبی زبان میں یا عام بول چال میں اُن کا ہماری تہذیبی ماحول سے کیا رشتہ ہے اِس طرف ہنوز کسی کی توجہ مبذول نہیں ہوئی۔ محاورات پر دوسرے اہلِ قلم نے جو کام کیا ہے اُس کی نوعیت بہرحال جُدا گانہ ہے وہ کام اُس نقطہ نظر سے نہیں ہوا جو راقمہ کے سامنے رہا ہے۔ آج تو اِس کی بھی بہت ضرورت ہے کہ اُردو میں محاوروں کو جمع کیا جائے اور لُغت المحاورات مُرتب کی جائے۔ پہلے ایسا ہوتا رہا ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال چرنجی لال کی معروف تصنیف مخزن المحاورات معروف کتاب سے بہت پہلے شائع ہو چکی ہے مولانا سید احمد دہلوی کی معروف لغت آصف الغات اور نورالغات مصنفہ مولانا نورالحسن علوی کاکوروی بھی اپنے دامن میں بہت سے محاورات کو سمیٹے ہوئے ہیں۔


راقمہ کے اس کام کو نوعیت اِس سے مختلف ہے اور وہ محاورات کی صرف جمع اور ی یا اُن کی (لغوی) سطح پر معنی نگاری نہیں ہے بلکہ اُن کی تہذیبی نوعیت کو سمجھنے کی کوشش ہے کہ ہمارے محاورے اپنے لفظ و معنی میں کس حد تک تہذیبی تصورات یا تصویروں کو جمع کئے ہوئے ہیں کہ یہ ایک جُدا گانہ کام ہے بلکہ محاورات کا"ایک تہذیبی مطالعہ" ہے کہ وہ ہماری زندگی ہمارے ذہن ہماری معاشرتی فکر اور تہذیبی تقاضوں کی طرح عکاسی کرتے ہیں۔

راقمہ سُطور نے اِسی نقطہ نظر سے محاورے کے مطالعہ اور اُن کے پیش کش کا یہ منصوبہ اپنے سامنے رکھا ہے اور اس پر اپنی محدود نظر کے مطابق محاورات کو جمع کرنے کے علاوہ اُن پر تنقیدی اور تہذیبی گفتگو کی ہے محاورات کو حروفِ تہجی کے تحت رکھا گیا ہے۔ اور اِس ضمن میں نسبتاً اہم محاورات ہی کو سامنے رکھا گیا ہے۔ اور اِس کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس محاورہ سے ہمارے ذہن زندگی اور زمانہ کا کیا رشتہ ہے۔

ہم اپنے معاشرتی رویوں کو اس لئے بھی سمجھنا چاہتے ہیں کہ ہماری تہذیبی تاریخ جن جن مرحلوں سے گزری ہے اور جن معاشرتی آداب و رسوم نے ہمارے طبقاتی معاشرے علاقائی سطح پر بننے بگڑنے والے سماج کو متاثر کیا ہے۔ اُن کی ایک متحرک تصویر سامنے آتی ہے۔

راقمہ الحروف کے سامنے اُردو کا وہ لغت خاص طور پر رہا ہے جو محاورات پر مشتمل ہے۔ اور جسے چرنجی لال نے ترتیب دیا ہے اِس کام نام مخزن المحاورات ہے۔ چرنجی لال نے25 مئی 1886ء میں منشی بُلاتی داس دہلوی کے مطبع سے شائع کیا۔ اِس کے کاتب کا نام سید عبد اللطیف اور اُس کے ساتھ ساکن سبز منڈی بیرونِ شہر لکھا ہوا ہے۔

اِس کے بعد غلط نامہ کے صفحات آئے ہیں جن کا سلسلۂ تحریر و نگارش سات سوا کسٹھ صفحہ پر ختم ہوتا ہے۔ اس کے بعد تمام شد تحریر ہے۔ اِس کے ذیل میں قطعہ تاریخ بابو ٹھاکر گلاب سنگھ صاحب متخلص بہ مشتاق سب در سیر ہنر جمن غربی ڈویزن دہلی ساکِن شہر میرٹھ لکھا ہوا ہے۔

قطعہ

لکھتے ہیں اِس کتاب میں مُشتاق
خوب اُردو مُحاوروں کے حال

میں نے بھی اس کا بے سرا عدا
نسخۂ بے نظیر لکھّا سال

1886


نسخۂ بے نظیر مادہ تاریخ ہے پہلے مصرعہ میں بے سراعدا لکھ کر تخرجہ کے اعداد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یہ عدد خارج ہونا۔ اتنے عدد مادہ تاریخ سے نکالے جائیں گے تب جا کے سالِ تاریخ کے اعداد آئیں گے۔

یہ کتاب اب نایاب ہو چکی ہے اِس کا ایک ہی نسخہ اب دہلی جیسے شہر میں موجود ہے۔ اور ڈاکٹر تنویر احمد علوی کے ذاتی کتب خانہ کی زینت ہے۔ موصوف ہی نے مجھے مشورہ بھی دیا کہ میں محاورات کے تہذیبی مطالعہ پر کام کروں یہ کام اب تک راقمہ کی محدُود معلومات کے مطابق کسی دوسرے شخص یا ادارے نے نہیں کیا۔

میرے بعض ساتھیوں اور احباب نے مجھے اس نئی تنقیدی اور تہذیبی مطالعہ کے کام میں مشورہ دیا۔ اور اپنی رائے اور اظہارِ خیال سے میری راہِ فکر و عمل کو روشن کیا۔ میں اپنی اس ناچیز کو شش کے سلسلہ میں اپنے اساتذہ ڈاکٹر تنویر احمد علوی (دہلی یونیورسٹی) ڈاکٹر شریف احمد (دہلی یونیورسٹی ) اور سید ضمیر حسن دہلوی (ذاکر حسین کالج) نیز اپنے علمی احباب اور ساتھیوں کا شکر یہ ادا کرنا اپنا ادبی فریضہ خیال کرتی ہوں۔ علاوہ بریں میں دہلی اُردو اکادمی کی اشاعتی کمیٹی کے اراکین نیز اِدارے کے دوسرے معزز کار کُنان اور اکادمی کی ایکزیکٹیو کمیٹی کے وائس چیئرمین جناب م۔ افضل صاحب اور مرغوب حیدر عابدی (سکریٹری دہلی اردو اکادمی) کی ممنون ہوں کہ انہوں نے میرے اِس کام کی انجام دہی میں خاص طور پر تعاون کیا اور اس کی اشاعت میں خصوصی دلچسپی لی۔

ڈاکٹر عشرت جہاں ہاشمی، دہلی


ردیف "ا"

اُبلا سُبلا، اُبالا سُبالا

اگر ہم اس محاورہ کی لفظی ترکیب پر غور کریں تو اس سے ایک بات پہلی نظر میں سمجھ میں آ جاتی ہے کہ ہمارے ہاں الفاظ کے ساتھ ایسے الفاظ بھی لائے جاتے ہیں جن کا اپنا اس خاص اس موقع پر کوئی خاص مفہوم نہیں ہوتا لیکن صوتی اعتبار سے وہ اس لفظی ترکیب کا ایک ضروری جُز ہوتے ہیں۔ اس طرح کی مثالیں اور بھی بہت سی مل سکتی ہیں، جیسے"الاَبُلَّا"، "اٹکل پچو"، "اَبے تبے"، "ٹال مٹول"، "کانچ کچُور"وغیرہ۔

"اُبلا سُبلا" ایسے موقع پر بولا جاتا ہے جب کسی عورت کو اچھا سالن بنانا نہیں آتا۔ ہمارے ہاں کھانا بنانے کا آرٹ گھی، تیل، بگھار، گرم مصالحہ، گوشت وغیرہ ڈال کر اس کو خوش ذائقہ اور لذیذ بنایا جاتا ہے۔ سالن میں جتنی ورائٹی ) variety (ہو سکتی ہے، اُن سب میں ان کو دخل ہے کہ وہ بھُنے چُنے ہوں، شوربہ، مصالحہ، اس میں ڈالی ہوئی دوسری اشیاء اگر خاص تناسب کے ساتھ نہیں ہیں تو پھر وہ سالن دوسروں کے لیے"اُبلا سُبلا" ہے، یعنی بے ذائقہ ہے اور اسی لیے بے نمک سالن کا محاورہ بھی آیا ہے، یعنی بے ذائقہ چیز۔ اس سے ہم اس گھریلو ماحول کا پتہ چلا سکتے ہیں جس میں ایک عورت کی کھانا پکانے کی صلاحیت کا گھر کے حالات کا ایک عکس موجود ہوتا ہے کہ اس کے ہاں تو۔ "اُبالا سُبالا"پکتا ہے۔

آبخورے بھرنا

"آب خورہ" ایک طرح کی مٹی کے"فنجان نما" برتن کو کہتے ہیں جو کمہار کے چاک پر بنتا ہے اور پھر اُسے مٹی کے دوسرے برتنوں کی طرح پکایا جاتا ہے۔ یہ گویا غریب آدمی کا پانی پینے کا پیالہ اور ایسا برتن ہوتا ہے جسے پانی، دُودھ یا شربت پی کر پھینک بھی دیتے ہیں۔ عام طور سے ہندوؤں میں اس کا استعمال اس لیے بھی رہا ہے کہ وہ کسی دوسرے کے استعمال کردہ برتن میں کھاتے پیتے نہیں ہیں۔ آبخورے میں دُودھ پیا اور پھر اُسے پھینک دیا اور پھر یہی صورت شربت کے ساتھ ہوتی ہے مگر آبخورے بھرنا عورتوں کے نذر و نیاز کے سلسلہ کا ایک اہم رسمی آداب کا حصّہ ہے۔ عورتیں منّتیں مانتی ہیں اپنے بچّوں کے لیے، رشتہ داروں کے لیے، میاں کی کمائی کے لیے اور ایسی ہی دوسری کچھ باتوں کے لیے، اور کہتی ہیں کہ اے خدا، اگر میری یہ دعا قبول ہو گئی اور میری منّت پوری ہوئی تو میں تیری اور تیرے نیک بندوں کی نیاز کروں گی۔ دُودھ یا شربت سے آبخورے بھر کر، انہیں دعا درود کے ساتھ تین بّچوں، فقیروں، درویشوں یا مسافروں کو پلاؤں گی۔ نیاز کی چیزیں عام طور پر غریبوں ہی کے لیے ہوتی ہیں مگر اس میں اپنے بھی شریک ہو سکتے ہیں۔


آبرو ریزی کرنا

"آبرو" چہرے کی آب و تاب کو کہتے ہیں، اس لیے کہ آب کے معنی چمک دمک کے بھی ہیں، پانی کے بھی۔ لیکن محاورہ کی سطح پر آبرو کے معنی ہیں عزت، سماجی احترام اور اگر کوئی شخص اپنے کسی عمل سے دوسرے کو معاشرتی سطح پر بے عزت یا Dishonour کرتا ہے تو وہ گویا اس کی "آبرو ریزی" کرتا ہے، اِسے مٹی میں مِلاتا ہے۔ فارسی میں"ریختن، ریزیدن"کے معنی ہیں"گرانا، گرنا"۔ اسی لیے موسمِ خزاں میں جو پت جھڑ کا موسم ہوتا ہے، اُسے برگ ریز یعنی پتّے گرانے والا موسم کہتے ہیں۔

اِس سے ہم "آبرو ریزی" کے لفظی مفہوم اور معاشرتی معنی تک پہنچ سکتے ہیں جو ایک تہذیبی اندازِ نظر ہے۔ آبرو کے ساتھ کئی محاورے آتے ہیں اور سب کے مفہوم میں چہرہ کی آب و تاب اور عزت شامل ہے۔ مثلاً "آبرو بگاڑنا" آبرو ریزی ہی کے معنی میں آتا ہے۔ "آبرو رکھنا" عزت رکھنے ہی کا مفہوم بناتا ہے۔ "آبرودار"عزت دار آدمی کو کہتے ہیں۔ "رو دار" بھی آبرو دار ہی کے معنی میں آتا ہے۔ اس سے ہم آبرو کے معاشرتی تعلق کو سمجھ سکتے ہیں، اس لیے کہ بے عزتی بہت بڑی سماجی سزا ہے۔

اَبلا پری، اَبلاّ رانی ہونا

بہت خوب صورت ہونا۔ اصل میں رانی اور راجہ کا لفظ مرد اور عورت کے شخصی امتیاز کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پھولوں میں بھی ایک پھول دن کا راجہ ہوتا ہے اور ایک رات کی رانی۔ اس سے بھی پھولوں میں اُن کا ممتاز ہونا ظاہر ہے۔ "ابلا" لڑکی کو کہتے ہیں اور جسے بہت خوب صورت لڑکی ظاہر کرنا ہوتا ہے یا پھر سمجھا جاتا ہے، اِسے"اَبلا پری" کہا جاتا ہے۔

قدیم ہندوستان میں پریوں کا تصوّر نہیں تھا۔ اسی لیے"ابلاّ رانی" کہا جاتا تھا۔ جب فارسی کے ذریعہ"پری" کا تصوّر آیا تو"ابلاّ پری" کہا جانے لگا۔ بہر حال، "ابلاّ پری" ہو یا "ابلاّ رانی"، حُسن کا ایک آئیڈیل تصوّر ہے اور اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ لفظی طور پر ہم نے فارسی سے جو الفاظ لیے ہیں، ان کا ہماری تہذیب سے بھی ایک رشتہ ہے۔ حسین عورت کو ہم "پری چہرہ" بھی کہتے ہیں، چاہے دیووں، جن، بھوتوں اور پریوں کو مانتے ہوں یا نہ مانتے ہوں۔

حضرت امیر خسرو کا مشہور فارسی شعر ہے

پری پیکر، نگارِ سرو قدے، لالہ رُخسارے
سراپہ آفتِ دل بُود، شب جائے کہ من بودم

یعنی وہ جو پری پیکر ہے، حسین اور خوب صورت ہے، سرو قد ہے، لالہ رُخسار ہے اور سر تا پا آفتِ دل ہے اور میں نے رات اسے اس کی تمام جلوہ آرائیوں کے ساتھ دیکھا ہے۔ اس شعر کو اگر دیکھا جائے تو اس میں"ابلاّ رانی" یا "ابلاّ پری" کی وہ خو بیاں نظر آتی ہیں جو ایرانی تصوّرِ حسن کو پیش کرتی ہیں اور ہندوستان کی ایک حسین عورت کی خوب صورتیاں اس میں جھلکتی ہیں۔ "اَبلا رانی" سے "اَبلاّ پرَی" تک محاورہ کا یہ شعر ہماری تہذیبی تاریخ کی روشن پرچھائیوں کی ایک متحرک صورت ہے۔


آبِ حیات ہونا

آبِ حیات کا تصور قوموں میں بہت قدیم ہے۔ یعنی ایک ایسے چشمہ کا پانی جس کو پینے سے پھر آدمی زندہ رہتا ہے۔ اُردو اور فارسی ادب میں حضرتِ خضر کا تصور بھی موجود ہے۔ یہ چشمہّ آبِ حیات کے نگراں ہیں۔ اسی لیے وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ حضرتِ خضر کا لباس "سبز" ہے اور وہ دریاؤں کے کنارے ملتے ہیں اور بھولے بھٹکوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ قدیم زمانہ میں جب باقاعدہ سڑکیں نہیں تھیں، دریاؤں کے کنارے کنارے سفر کیا جاتا تھا۔ اور اس طرح گویا دریا ہماری رہنمائی کرتے تھے۔ یہیں سے خضر کی رہنمائی کا تصور بھی پیدا ہوا ہے۔

علم کو پانی سے مُشابہت دی جاتی ہے۔ اسی لیے ہم علم کا سمندر یعنی بحرالعلم کہتے ہیں جسے ہندی میں"ودیا ساگر"کہا جاتا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ علم پانی ہے، پانی زندگی ہے اور پانی نہ ہو تو پھر زندگی کا کوئی تصور نہیں۔ اِن باتوں کو آبِ حیات کی صُورت میں ایک علامت کے طور پر مانا گیا ہے۔ حضرتِ خضر کا علم بھی بہت بڑا ہے جس کے لیے اقبال نے کہا ہے:

علمِ موسیٰ بھی ہے جس کے سامنے حیرت فروش

قرآن میں بھی حضرتِخضر اور حضرتِ موسیٰ سے متعلق روایت کی طرف اشارہ موجود ہے۔ لیکن خضر کا نام نہیں ہے۔ اردو ادب میں اور مغلوں کی تاریخ میں بادشاہ جو پانی پیتے تھے اُس کو بھی آبِ حیات کہا جاتا تھا۔ ان سب باتوں کے پیشِ نظر جب اردو میں بطورِ محاورہ آبِ حیات ہونا کہا جاتا ہے تو اس سے مُراد ہوتی ہے کہ یہ بے حد مفید ہے، زندگی بڑھاتا ہے اور صحت میں اضافہ کرتا ہے۔ یہاں ہم کہ سکتے ہیں کہ محاوروں نے ہماری تہذیبی روایت کو محفوظ کیا ہے اور عوام تک پہنچایا ہے۔

آبنوس کا کُندا ہونا

یہ ایک عجیب محاورہ ہے۔ لکڑیوں کے مختلف رنگ ہوتے ہیں، مثلاً تُون کی لکڑی کا رنگ گلابی ہوتا ہے۔ صندل (چندن) کی لکڑی کا رنگ زرد ہوتا ہے اور آبنوس کا سیاہ۔ سیاہ ہمارے ہاں خوبصورت اور پُر کشش رنگ خیال نہیں کیا جاتا۔ اس لیے دیووں اور بھوتوں کو یہ رنگ دیا جاتا ہے اور سیاہ کہہ کر بھی جِن بھوت مُراد لیا جاتا ہے۔ حیرت یہ ہے کہ بالوں کا رنگ بھی سیاہ ہوتا ہے۔ بھَوں کا بھی اور آنکھوں کی پُتلیوں کا اور تِل کا بھی رنگ کالا ہوتا ہے۔ اور یہ سب حسن و کشش کی علامت ہیں۔ کم از کم ہند ایرانی تہذیب میں ایسا ہی ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر سیاہ رنگ سے نفرت کے اظہار کی وجہ کیا ہے۔ جب کہ شیعہ عقیدہ رکھنے والوں کے ہاں سیاہ رنگ مقدّس رنگ ہوتا ہے اور عبّاسیوں کی سلطنت (خلفائے بنو عبّاس) میں سیاہ رنگ اُن کی اپنی سلطنت کا رنگ تھا۔

اُن حقائق کی روشنی میں سیاہ رنگ سے نفرت دراصل آریائی تہذیب کی دین ہے کہ وہ دراوِڑوں سے نفرت کرتے تھے۔ اُن کی تہذیب اور علمی کار گزاریوں کو بالکل نظر انداز کرتے رہے۔ بہت سے لوگوں کو بھنگی، چمار اور دوسرے پیشوں سے وابستہ کر دیا۔ یہاں تک کہ ان کے رنگ سے نفرت شروع کر دی۔ اور اُس کا اثر یہ ہے کہ آبنوس کا کُندا کالا کلوٹا کلموہا ہمارے ہاں بُرے الفاظ ہو گئے۔ آبنوس وہ لکڑی ہے جو صرف دراوِڑوں کے علاقوں میں پیدا ہوتی ہے، کہیں اُس میں ہندوستانی تہذیب، ہندوستانی فکر اور اُن فکری تعصبات کی جھلک بھی ہے جو ہماری تہذیب و ثقافت کا رشتہ رہے ہیں۔

اَبجد خواں ہونا

حروف کو لکھنے کی دو ترکیبیں ہیں۔ ایک وہ جس کو ہم حروفِ تہجّی کی ترکیب کہتے ہیں یا اُردو والے"الف"، "ب"، "ت" کے سلسلے سے وابستہ کرتے ہیں۔ دوسرا وہ سلسلہ یا ترتیب ہے جن کو حروفِ "اَبجد" سے وابستہ کیا جاتا ہے۔ ابجد، ھوز، حُطّی، کلمن، سعُفص، قرشت، ثخذ ضظغ، ۔ یہی وہ حروف کی ترتیب ہے جس میں اِن حروف کے اعداد مقرر کیے جاتے ہیں۔

ابجدی ترتیب مندرجہ ذیل ہے:

ا(1) ب(2) ج(3) د(4) ہ(5) و(6) ز(7) ح(8) ط(9) ی(10) ک(20) ل(30) م(40) ن(50) س(60) ع(70) ف(80) ص(90) ق(100) ر(200) ش(300) ت(400) ث(500) خ(600) ذ(700) ض(800) ظ(900) غ(1000)

نام یا تاریخ نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ اُس نام یا اُس تاریخ سے متعلق حروف کے اعداد لے لیتے ہیں۔ اور اُن کو جمع کرتے ہیں۔ حاصل جمع جو بھی عدد ہوتا ہے اس سے تاریخ کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ مسلمانوں میں دو ہی سنین جاری رہے ہیں، ایک ہجری، دوسرا عیسوی۔ عیسوی سن بھی کم نکالا جاتا ہے۔ ہندو سمبت استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ان کے ہاں تاریخ نکالنے کا کوئی دستور نہیں ہے۔ اس لیے ان کے ہاں ث، خ، ذ، ض، ظ اور غ استعمال ہی نہیں ہوتے۔ جب یہ حروف ہی ان کی زبان میں شامل نہیں تو ان کے اعداد وہ کیسے مقرر کریں۔

غرض کہ اُن حروف سے جو ترتیب قائم ہوتی ہے، اُسے اَبجدی ترتیب کہتے ہیں۔ اس کے برعکس ا، ب، ت، ث، سے جو ترتیب قائم ہوتی ہے، اُسے ترتیبِ حروفِ "ہجا" کہا جاتا ہے۔ یہاں محاورہ میں "ابجد خواں" کہا گیا ہے۔ اِس سے مراد صرف ا، ب، ت، ث لی گئی ہے۔ حروفِ"اَبجد" نہیں۔ یعنی میرا معاملہ تو صرف حروف شناسی کی"حد"سے آگے نہیں بڑھتا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اُن لوگوں کے نزدیک علم کا معیار کافی اونچا تھا اور از راہِ کسر نفسی ایک پڑھا لکھا آدمی بھی خود کو "ابجد خواں" کہتا تھا اور دوسروں کی کم علمی کا اظہار بھی اسی انداز سے کیا جاتا تھا۔


آب و دانہ اُٹھ جانا

آب، پانی۔ دانہ، کوئی بھی ایسی شے جو خوراک کے طور پر لی جائے۔ اور پرندے تو عام طور پر دانہ ہی لیتے ہیں۔ چونکہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ آدمی کا رزق اوپر سے اترتا ہے اور اوپر والے کے ہاتھ میں ہے کہ وہ جس کو جہاں سے چاہے رزق دے۔ اور یہ سب کچھ تقدیر کے تحت ہوتا ہے اور تقدیر کا حال کسی کو معلوم نہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کیا خبر ہے کس کا آب و دانہ کب اٹھ جائے اور جب تک آب و دانہ ہے، اسی وقت تک قیام بھی ہے۔ جب آب و دانہ اٹھ جائے گا تو قیام بھی ختم ہو جائے گا۔

یہ محاورہ ہمارے تہذیبی تصورات اور زندہ رہنے کے فطری تقاضوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ "آب و دانہ"، "آب و خور" اور"آب و خورش" بھی اسی ذیل میں آتے ہیں۔ یہ ایک ہی محاورہ کی مختلف صورتیں ہیں۔ خُورش، خُور اور خُوراک فارسی الفاظ ہیں اور اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

آب و رنگ

آب و رنگ کے معنی دوسرے ہیں، یعنی رونق، خوب صورتی، رنگینی اور رعنائی۔ آب دار اسی لیے چمک دار کو کہتے ہیں۔ آب داری کے معنی روشن اور چمک دار ہونے کی صِفت تھی اور بے آب ہونے کے معنی اپنی خوب صورتی سے محروم ہونا ہوتا ہے اور اس کے معنی عزت کھونے کے بھی آتے ہیں۔ لڑکی بے آب ہو گئی، یعنی بے عزت ہو گئی، اس کا کنوار پن ختم ہوا۔ "موتی کی سی آب" محاورہ ہے اور چمک دار موتی کو"درِ خوش آب" کہتے ہیں۔ اس معنی میں"آب" بمعنی عزت، توقیر، آن بان وغیرہ کے معنی میں آتا ہے۔ جو استعاراتی معنی ہیں۔ یہاں بھی آب و رنگ اسی معنوں میں آیا ہے۔ رنگ خوب صورتی پیدا کرتا ہے اور"آب" تازگی، طراوت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

آپ بیتی۔ اَپ بیتی

انسان کی تاریخ عجیب ہے۔ یہ اس کی اپنی تاریخ بھی ہے، اس کے ماحول کی تاریخ بھی ہے، اُس کی اپنی نسلوں کی تاریخ اور خود اس ملک یا اس نسل کی تاریخ بھی جس سے اِس کا تعلق ہوتا ہے۔ اب کوئی انسان، اپنے حالات کے تحت، یہ بھی ممکن ہے اپنی تاریخ بھول جائے اور کسی انسان کو اپنے ماحول، اپنی قوم اور اپنے شہر یا اپنے علاقہ کی تاریخ یاد رہے۔ اپنی تاریخ کو آپ بیتی کہتے ہیں اور دوسروں کی تاریخ کو جگ بیتی۔ جب انسان اپنے حالات لکھتا ہے یا بیان کرتا ہے تو اُسے وہ آپ بیتی کہتا ہے۔ ہم اسے خود نوشت سوانح عمری بھی کہتے ہیں۔ گفتگو میں جب آدمی اپنے حالات بیان کرتا ہے اور اگر اس میں اس کا اپنا غم شامل ہوتا ہے تو وہ اُس کی رام کہانی کہلاتی ہے۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ میں جگ بیتی نہیں آپ بیتی کہہ رہا ہوں۔ ہم نے خود نوشت سوانح کو آپ بیتی کہا ہے اور جب کسی کی خود نوشت سوانح کو اُردو یا ہندی میں ترجمہ کرتے ہیں تو اسے آپ بیتی کہتے ہیں، جیسے میر کی آپ بیتی، غالب کی آپ بیتی، خسرو کی آپ بیتی وغیرہ۔ کہانیاں، افسانہ، قصہّ، داستانیں بھی آپ بیتیاں ہوتی ہیں جن میں جگ بیتیوں کا زیادہ عنصر ہوتا ہے۔ اسی لیے ہم ان میں تاریخ، تہذیب و ثقافت کو تلاش کرتے ہیں کہ وہ بھی شعوری، نیم شعوری یا لا شعوری طور پر ہمارے ماحول کی گزاری ہوئی زندگی یا گزارے جانے والے ذہنی ماحول کا حصہ ہوتا ہے۔ اس طرح "آپ بیتی" اور جگ بیتی کا ہمارے تہذیبی ماحول سے گہرا رشتہ ہے۔

اپنے تئیں شاخِ زعفران سمجھنا

آدمی میں اس کی اپنی نفسیات یا ماحول کی نفسیات کے تحت طرح طرح کے ذہنی رویّے develop ہو جاتے ہیں۔ اِن میں بدلاؤ بھی آتا ہے لیکن ایک وقت میں یہ انسان کے فکر و کردار کا بہت نمایاں حصّہ ہوتے ہیں اور اگر ان میں نمود و نمائش کا پہلو زیادہ ہوتا ہے تو وہ دوسروں کے لیے تکلیف یا مذاق کا سبب بن جاتے ہیں۔ ایسے کسی شخص کو وہ عورت ہو یا مرد بڑا ہو یا چھوٹا، یہ کہا جاتا ہے کہ وہ تو اپنے آپ کو شاخِ زعفران سمجھتے ہیں یعنی بہت بڑی چیز خیال کرتے ہیں۔ زعفران جڑی بوٹیوں میں بہت قیمت کی چیز ہے۔ اسی لیے شاخِ زعفران ہونا گویا بڑی قدر و قیمت رکھنے والا شخص ہے۔

محاورے ہمارے معاشرتی رویوں پر جو روشنی ڈالتے ہیں اور سماج کے مزاج و معیار کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اُن میں یہ محاورہ بھی شامل ہے۔ اپنے آپ کو دُور کھینچنا بھی کم و بیش اسی امتیاز پسندی اور مغروریت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔


اپنا اُلّو سیدھا کرنا

عجیب و غریب محاورہ ہے جس میں اُلّو کے حوالہ سے بات کی گئی اور معاشرے کے ایک تکلیف دہ رویّہ کو سامنے لایا گیا یا اس پر طنز کیا گیا ہے۔ یہ وہ موقع ہوتا ہے جب آدمی وہ کوئی بھی ہو، اپنا بیگانہ، امیر غریب، دوسرے سے اپنا مطلب نکالنا چاہتا ہے اور مطلب برآری کے لیے دوسرے سے چاپلوسی اور خوشامد کی باتیں کرتا ہے اور مقصد اپنا مطلب نکالنے سے ہوتا ہے۔ اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لیے ایک اور محاورہ بھی ہے یعنی دوسرے کو" الّو بنانا" یعنی بیوقوف بنانا۔

اَپرادھ ہرنا (ہڑنا)

"ہڑنا" دیہات میں عام بولا جاتا ہے، جیسے پیسے ہڑنا، عقل ہڑنا۔ یہ ہڑنا ہڑپ کرنے کے معنی میں آتا ہے یعنی سُوجھ بُوجھ کو سلب کرلینا، عقل کو چھین لینا۔ اَپرادھ ہندی میں گناہ، قصور اور خطا کو کہتے ہیں۔ آدمی خدا کا قصور بھی کرتا ہے، سماج کے نقطۂ نظر سے بھی اس سے خطائیں سرزد ہوتی ہیں۔ وہ جُرم کا مرتکب بھی ہوتا ہے۔ بے حد نقصان پہنچانے والے معاشرتی یا دینی جرم کو مذہب کی اِصطلاح میں پاپ، اَپرادھ یا گناہ کہتے ہیں۔ انسان کو اس طرح کے گناہوں کا احساس رہا ہے۔ اسی لیے اس نے معافی مانگنے کا اخلاقی رو یہ بھی اختیار کیا اور گناہ بخشوانے کا تصور بھی اس کی زندگی میں داخل رہا۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ لیکن انسان نے گناہ بخشوانے یا بخشے جانے کا خیال ذہن میں رکھتے ہوئے طرح طرح کی باتیں سوچیں۔ مذہبی عبادات میں اس کے وسیلے تلاش کیے۔ مسلمانوں میں تو یہ بات یہاں تک آ گئی کہ فلاں وقت کی نماز پڑھنے یا حج کرنے سے ساری زندگی کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ ہندوؤں نے بھی تیرتھ یاترا اور اشنان میں ان وسائل کو ڈھونڈا اور آخر کار اس پر مطمئن ہو گئے۔

آپ سُوار تھی

"سوار" ہندی میں خود غرضی کو کہتے ہیں، یعنی اپنا مطلب جسے آدمی ہر طرح حل کرنا چاہے۔ اُسے مطلب نکالنا بھی کہتے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کی عام کمزوری ہے اور پچھلی صدیوں کے حالات کا نتیجہ ہے کہ آدمی دوسروں کے لیے نہیں سوچتا یا سوچتا ہے تو بُرا ہی سوچتا ہے۔ اس کو جانتا بھی ہے۔ اسی لیے جب دوسرے کی طرف سے غلط سوچ سامنے آتی ہے تو اُس پر اعتراض بھی کرتا ہے۔ لیکن اس غلط روش یا خود غرضانہ رویے سے بچنا نہیں چاہتا۔ اس بات کو لوگ سمجھتے ہیں اور سمجھتے رہے ہیں۔ اس کا ثبوت ہمارا ردِعمل بھی ہے اور یہ محاورے بھی جن میں انہیں رویوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

ہم اپنی معاشرتی زندگی میں اِس کا مشاہدہ بھی روز روز کرتے ہیں مگر حالات کے دباؤ اور قدیمانہ روایت کے تحت اس کے خلاف کھُلم کھلا کچھ نہیں کہتے۔ اور کہتے ہیں تو صرف اس وقت جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے۔ ورنہ عام رو یہ یہ ہے کہ صبر کرو، برداشت کرو جب کہ سامنے کی بات بالکل یہ ہے۔ کہ ان روشوں کو کیوں نہ ترک کیا جائے، صرف برداشت ہی کیوں کرایا جائے۔ مگر انسان نے کچھ روایتیں تو اختیار کر لیں لیکن اپنے اوپر خود تنقید کرنا جسے خود احتسابی کہتے ہیں، وہ منظور نہیں کیا اور بد قسمتی یہ ہے کہ مذہب کے روایتی تصور نے بھی انسان کو اس میں مدد دینی شروع کی کہ وہ من مانی کرتا رہے۔ جب کہ مذہب کا اصل مقصد یہ نہ تھا۔

آپ رُوپ

اپنے آپ ہی سب کچھ ہونا۔ رُوپ کے معنی ہندو فلاسفی اور ادب میں بہت سے ہیں۔ یہ محاورہ بھی ایک طرح سے ہندو فلسفہ کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔ اس کے معنی ہیں جو کسی سے پیدا نہ ہوا ہو۔ ظاہر ہے یہ صفت صرف خدا کی ہے جو کسی سے پیدا نہ ہوا کہ کسی نے اس کو بنایا، اور سنوارا نہیں۔ اِس کے دوسرے معنی جو محاورہ ہی سے پیدا ہوئے ہیں، وہ خود بدولت ہیں جو مغلوں میں بادشاہ کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ مزاح کے طور پر، جس آدمی کو بڑا بننے کی عادت ہو، اس کے لیے طنز کے طور پر بھی یہ فقرہ استعمال ہوتا ہے۔

آپ سے باہر ہونا یا آپے سے باہر ہونا

آپ کا لفظ محاورہ کے طور پر اپنی مختلف صورتوں میں بار بار استعمال ہوتا ہے۔ ا س سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی وجود کو ایک معاشرتی وجود مان کر کیا کچھ کہا گیا اور سوچا گیا ہے۔ "آپے سے باہر ہونا" ایسے شخص کے لیے کہا جاتا ہے جو سماجی طور پر اپنی شخصیت کو ضرورت سے زیادہ سامنے لاتا ہے، مثلاً یہ کہتے ہیں کہ اُسے ملازمت کیا مل گئی کہ وہ تو آپے سے باہر ہو گیا۔ یا ذرا سی بات میں وہ آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ یہاں مراد غصّہ سے ہے کہ وہ اپنے غصّہ پر قابو نہیں رکھ سکتا۔

آدمی کی خوبی یہ ہے کہ وہ غصہّ پر قابو پائے تاکہ تعلقات میں ایک گونہ ہمواری باقی رہے۔ لیکن یہ کوئی ایسا اصول نہیں ہے جس کو ہر موقع اور تعلقات کے ہر مرحلہ میں پیشِ نظر رکھا جائے۔ کبھی کبھی دوسرے لوگ انسان کی شرافت اور کمزوری سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور جب تک سختی سے منع نہ کیا جائے یا اظہارِ نا خوشی نہ کیا جائے، اُن پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور وہ ناجائز فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں۔


اپنی اور نہارو۔ اپنی طرف خیال کرو

نہایت اہم محاورہ ہے۔ اس لیے بھی نہارنا بہ معنی دیکھنا، ہماری زبان میں ایک قدیم فعل ہے اور ہندوی ہے۔ ہمارے زیادہ تر مصدر ہندوی ہیں اور اُن سے ہماری زبان کی بنیادی ساخت کا پتہ چلتا ہے۔ محاورہ اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ معاشرے کا ذہنی رو یہ کیا رہا ہے۔

"اور" کے معنی ہیں طرف۔ اسی لیے اس کا ترجمہ کیا گیا ہے کہ اپنی طرف خیال کرو۔ اس کے معنی ہیں کہ آدمی کو متوجہ کیا جا رہا ہے کہ اُس کو نہ دیکھو، اپنی بڑائی یا بُرائی کا خیال کرو۔ معاشرے میں جو روا روی کا رو یہ موجود رہتا ہے کہ آدمی خود کو نہیں دیکھتا، دوسروں پر اعتراض کرتا ہے۔ اپنی کوئی بُرائی اس کو نظر نہیں آتی، دوسروں کی کمزوری کی طرف خواہ مخواہ اشارہ کرتا ہے۔ یا پھر دوسروں کا رو یہ بہت غلط، نہ روا اور تکلیف دہ ہوتا ہے۔ مگر پھر بھی ہم سلجھ کر اور سمجھ کر بات کرتے ہیں کہ ہمیں اپنی عزت و آبرو سنبھالنی ہوتی ہے۔ انہی سماجی امور کی طرف اس محاورہ میں توجہ دلائی گئی ہے۔

اپنی ایڑی دیکھو

ایڑی پاؤں کا پچھلا اور نچلا حصّہ ہوتا ہے۔ اُس کی طرف نظر کم جاتی ہے۔ اس معنی میں ایڑی ایسی چیزوں کی طرف اشارہ ہے جن کو آدمی نہیں دیکھتا اور جن پر نظر نہیں ڈالتا۔ یہ اُس کے اپنے عیب بھی ہو سکتے ہیں جن کی طرف سے وہ بے پروا ہوتا ہے۔ اسی لیے عورتیں اپنی مخالف عورت سے کہتی ہیں کہ مجھے کیا کہہ رہی ہے، اپنی ایڑی دیکھ۔ اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ معاشرے میں جو خرابیاں اخلاقی سطح پر پیدا ہوتی یا رُو نما ہوتی ہیں، اُن پر دوسرے توجہ دلاتے ہیں اور طنز و تعریض کے موقع پر دلاتے ہیں، مگر آدمی خود متوجہ نہیں ہوتا۔

اپنی رادھا کو یاد کرو

سماجی طور پر یہ محاورہ ہندو کلچر سے رشتہ رکھتا ہے۔ ہندو فلسفہ کے مطابق "رادھا" سری کرشن کی محبوبہ تھی۔ اُس کے فلسفیانہ طور پر یہ معنی ہیں کہ وہ "سری کرشن" کی مزاج آشنا اور ان کی خوبیوں کی معترف تھی۔ محبت کے رشتے میں مزاج شناسی اور خوبیوں کا اعتراف بڑی بات ہے۔

عام طور سے ہم محبت کے رشتے کو جنس اور جذبہ کا رشتہ سمجھتے ہیں یا پھر خون کے رشتے کا تقاضہ، جب کہ محبت کا رشتہ خوبیوں کے اعتراف اور اعتماد کی دین ہوتا ہے۔ "کرشن اور رادھا" کے رشتے میں یہی خلوصِ خاطر اور دلی تعلق موجود تھا۔ جو سماجی رشتوں میں کہیں کم اور کہیں زیادہ نا پید ہوتا ہے۔

اِس محاورے میں اس پہلو کو طنز کے طور پر سامنے لایا گیا ہے کہ اگر تم مجھے پسند نہیں کرتے تو چھوڑو، بے تعلق ہو جاؤ اور اپنی لگی سگی "رادھا" کو یاد کرو۔ رادھا کا حوالہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ عورتوں کا محاورہ ہے۔ چونکہ سماج میں عورت ایک گھرے ہوئے ماحول میں رہتی ہے، اِس لیے اس کے ہاں preservation یعنی محفوظ رکھنے کا عمل زیادہ ہوتا ہے اور قدیمانہ ماحول، محاورے، زبان اور رسم و رواج زیادہ تر عورتوں ہی کے وسیلے سے باقی رہتے ہیں۔ تمام محاورے عورتوں کے ہی نہیں ہیں، یہ مختلف طبقوں سے بھی تعلق رکھتے ہیں اور اُن میں سے بعض محاورے خاص طور پر مردوں سے ذہنی رشتہ رکھتے ہیں، مثلاً "اپنی صلیب آپ اُٹھانا۔" ظاہر ہے کہ عورتوں کو صلیب نہیں دی جاتی تھی، مردوں ہی کو دی جاتی تھی۔ "پھانسی چڑھنا" بھی مردوں ہی کا محاورہ ہے۔ "اپنی قبر آپ کھودنا" بھی مردوں کا محاورہ ہے، اس لیے کہ عورتیں قبرستان نہیں جاتیں اور نہ ہی قبر کھودتی ہیں۔ "اپنے قول کا پکا ہونا" بھی مردوں سے ہی متعلق محاورہ ہے۔

اپنی کھال میں مست ہونا

معاشرے میں ہم ایک دوسرے کے ضرورت مند ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگوں میں خود پسندی یا خود داری زیادہ ہوتی ہے۔ وہ کسی دوسرے کے احسان مند بننا نہیں چاہتے۔ اب اگر اُن کے پاس کچھ نہیں ہے تو ایک عجیب سی صورتِ حال پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی کو کہتے ہیں "اپنی کھال میں مست ہو جانا۔" یعنی ایک آدمی غریب بھی ہو، خود دار بھی ہو، یا پھر اپنے معاملات سے بے پروا اور بے خبر بھی رہنا چاہتا ہو، ایسے موقع پر طنزاً یہ کہا جاتا ہے کہ انہیں کسی کی کوئی پروا نہیں۔ اپنی پروا بھی نہیں۔ وہ تو بس اپنی کھال میں مست ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو یہ معاشرے کا ایک نفسیاتی مطالعہ ہے۔ اس سے اریب قریب"آپا بسرانا"، "آپا تجنا"، "آپا تج دینا" محاورے ہیں جن کے معنی ہیں خود فراموشی اختیار کرنا۔

اپنی گُڑیا آپ سنوارنا

"گڑیاں" ہندوستانی تہذیب کی ایک علامت ہے۔ اب تو پلاسٹک کی گڑیاں بننے لگی ہیں۔ ایک زمانے میں یہ کپڑے اور روئی سے تیار ہوتی تھیں اور گھر کی بڑی بوڑھیاں بچیوں کے لیے کھیل کی غرض سے بناتی تھیں۔ گھر میں جو گھریلو سامان ہوتا ہے، اسی کی نقل گڑیوں کے برتنوں میں تیار کی جاتی تھی۔ چھوٹا سا پلنگ، تکیہ، لحاف اور پتیلی، چمچہ، کٹوری وغیرہ، وغیرہ۔

گڑیوں کی شادی رچائی جاتی تھی۔ مایوں کی رسم الگ ہوتی تھی۔ اِس کے علاوہ پیر مکوڑا الگ بنتا تھا۔ یہ کسی بزرگ کی چھوٹی سی قبر ہوتی تھی اور اُس کے چاروں طرف احاطہ اور جھنڈیاں نیز چھوٹی چھوٹی شمعیں جو اسی مقصد کے لیے تیار ہوتی تھیں۔ اور اس طرح گویا ایک عُرس کا سماں باندھا جاتا تھا۔

گڑیوں کے ذریعہ بچیوں کو گھر گرہستی کے بہت سے کام آ جاتے تھے اور باتیں معلوم ہو جاتی تھیں۔ اپنی گڑیاں سنوارنا، اپنی گھر گرہستی کو بہتر بنانا، اپنی بچیوں کی دیکھ بھال کرنا اُن کو سلیقہ سکھلانا۔ پڑھانے لکھانے کا پہلے رواج نہیں تھا۔ اِس سے ہم گھریلو معاشرت اور وہاں کی تہذیبی فضا کا کچھ اندازہ کر سکتے ہیں۔


اپنی گوں کا یار

معاشرے میں جو بھی عیب ہوتے ہیں اُن کو ہم جانتے ہیں، پہچانتے ہیں، محسوس کرتے ہیں اور محاورے زیادہ تر انہیں پر بنے ہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ جو بات محاورے میں کہہ دی گئی، وہ بات واضح ہو گئی لیکن محاورے کی وجہ سے وہ پھر رواج عام کا حصّہ بن گئی اور اُس کی معاشرتی حیثیت پر ہماری نظر نہیں جاتی۔ اِس محاورے میں گوں کے معنی ہیں خود غرض، مطلبی۔ ہم اسے اس طرح بھی کہتے ہیں کہ وہ ہماری "گوں کا آدمی" نہیں ہے۔

یعنی ہماری مطلب اس سے نہیں نکل سکتا۔ "گوں گیرا" بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ اپنے مطلب کی تلاش میں رہتا ہے۔ "اپنی گوں کا یار" بہت واضح صورت ہے کہ وہ خود غرض اور مطلبی ہے۔ "آپ سوارتھی" کے معنی بھی یہی ہیں جس پر پہلے گفتگو ہو چکی ہے۔

اپنی چھا کو کون کھٹّی کہتا ہے

یہ محاورہ بھی ہمارے معاشرے کے رویّے پر ایک طنز ہے۔ "چھا" بلوئے ہوئے دُودھ کا وہ حصّہ ہوتا ہے جس سے گھی یا مکھن نکل جاتا ہے۔ یہ صحت کے لیے اور خاص طور پر پیٹ کو درست رکھنے کے لیے بہت اچھی غذا ہے، مگر کھٹی "چھا" مزے دار نہیں ہوتی۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ محاورہ شہر سے وابستہ نہیں ہے۔ گاؤں یا قصبے سے متعلق ہے جہاں "چھا" پینے کا رواج عام تھا۔ کچھ لوگ "چھا" بیچتے بھی تھے اور کہتے تھے کہ ہماری "چھا" میٹھی ہے۔ جھوٹ بولتے تھے۔ اسی سے یہ محاورہ وجود میں آیا اور اب اس کے معنی ہمارے معاشرتی رویوں سے جڑ گئے کہ ہم اپنوں کو بُرا کہنا نہیں چاہتے اور اپنی کوئی برائی تسلیم نہیں کرتے۔ ایسے موقع کے لیے کہا جاتا ہے کہ اپنی چھا کو کون کھٹی بتاتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ معاشرے کا ایک عیب ہے کہ وہ سچ بولنے کے بجائے جھوٹ بول کر اپنا کام چلانا چاہتا ہے۔ اس میں شہر اور دیہات سب شریک ہیں۔

اپنی بات کا پچ کرنا

اپنی بات پر جمنا اور اُس کے حق میں طرح طرح کی دلیلیں دینا۔ وہ دلیلیں اس بات کو اور بگاڑ دیتی ہیں اور وہ صورت ہوتی ہے۔ "عذرِ گنا ہ بد تر از گناہ۔" اسی لیے بات میں سلیقہ ہونا چاہیے۔ جہاں یہ دیکھو کہ دلیل نہیں چلے گی، وہاں اپنی بات پر"اڑنے" کے بجائے معذرت کر لو اور غلطی کو مان لو۔ یہ زیادہ بہتر ہے۔

اپنے نصیبوں کو رونا

مشرقی اقوام قسمت کو بہت مانتے ہیں۔ اب ہم جاپان اور چین کو الگ کر دیں تو بہتر ہے۔ مگر محاورہ اپنی جگہ پر ہے اور اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ معاشرے میں زیادہ تر لوگ نکمّے پن کا اظہار کرتے ہیں۔ وقت پر تدبیر نہیں کرتے، کوشش نہیں کرتے، ناکام رہتے ہیں اور قسمت کی شکایت کرتے ہیں۔ ایسے ہی موقع کے لیے کہا جاتا ہے کہ اپنی قسمت کو بیٹھے رو رہے ہیں۔ تقدیر پر اعتماد کوئی بڑی بات نہیں مگر اپنی سی بہترین کوشش کرنے کے بعد آدمی ایسا سوچے تو غلط نہیں ہے۔ وہاں بھی تقدیر کی بُرائی شریک نہیں ہوتی۔ دوسروں کی بدمعاشی، بد دیانتی شریک ہوتی ہے۔ ہم چونکہ کچھ نہیں کر پاتے، معاشرہ اپنی جگہ پر رہتا ہے اور دوسرے ہمیں اپنی فریب کاریوں، جھُوٹ سچ اور غلط سلط طریقہ سے دھوکا دیتے رہتے ہیں۔ اس لیے ہم اپنی تقدیر کو برا کہنے بیٹھ جاتے ہیں اور جو زیادہ مذہبی ہوتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ کی مرضی۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ وہ ایک کے ساتھ انصاف اور دوسرے کے ساتھ نا انصافی کرے اور آپ کو مصیبت میں ڈالے۔ اتفاقی طور پر کچھ باتیں ضرور ہو جاتی ہیں اور وہ بہت بڑے نقصان اور فائدے کا سبب بنتی ہیں۔ مگر سبب بہرحال اُن کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ اس پر بھی نظر رکھنی چاہیئے۔

اپنے گریبان میں مُنہ ڈال کر دیکھنا

ہم جن معاشرتی کمزوریوں، برائیوں اور عیبوں کا شکار ہیں، اور نہ جانے کب سے رہے ہیں، اُن کے بارے میں ہم سوچتے ہیں، سمجھتے ہیں، اُن پر تنقید کرتے ہیں، طعن و تعریض کرتے ہیں ؛ وہ خود ہم میں ہوتے ہیں۔ لیکن نہ ہم کبھی اپنی طرف دیکھتے ہیں، نہ ان کا اعتراف کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہم اپنے خاندان، اپنے عزیز اور اپنے گروہ کے لیے بھی یہ نہیں سوچتے کہ عیب اُن میں بھی ہیں۔ صرف دوسروں پر اعتراض کرتے ہیں۔ یہیں سے تلخیاں پیدا ہوتی ہیں، دوسروں کے رویّے میں اختلاف کا جذبہ اُبھرتا ہے۔ اور وہ یہ کہتے ہیں کہ اپنے گریبان میں تو منہ ڈال کر دیکھو کہ تم خود کیا ہو، تمہارا اپنا کردار کیا ہے۔ تمہاری اپنی انسانی خو بیاں کیا ہیں اور کتنے عیب ہیں جو تمہارے اندر بھرے ہوئے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو یہ صرف کوئی سیدھا سادہ محاورہ نہیں ہے بلکہ ہمارے سماجی ماحول اور آپسی رویّوں پر ایک تبصرہ ہے۔

اپنی اپنی پڑنا

آدمی خود غرض تو ہوتا ہی ہے، اس کی معاشرتی زندگی اور آپسی معاملات کے تلخ تجربے اس کی انسانی فطرت کو زیادہ گرد آلود کر دیتے ہیں۔ گاہ گاہ ہمارا ماحول اس طرح بدلتا ہے اور لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر اپنے لیے جواز تلاش کر لیتے ہیں اور بے طرح خود غرضیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ دوسروں کے ساتھ انصاف کرنا یا اِن کے کام آنا، اُن کے مسائل سے دل چسپی لینا، اپنی مجبوری کے تحت ہو۔ آدمی صرف اپنی خواہشوں کو پورا کرتا ہے؛ اپنی ضرورتوں کی طرف دیکھتا ہے؛ اس وقت سماج میں ایک آپا دھاپی شروع ہو جاتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ اب کسی کو کسی کی پروا نہیں، سب کو اپنی اپنی پڑی ہے۔

اپنا کِیا دھرا سب بیکار ہونا

آدمی اپنے ہوش و حواس اور سُوجھ بُوجھ کے ساتھ اگر فیصلہ کرنے، قدم اُٹھانے اور آئندہ کے لیے کوئی پلان بنانے کی پوزیشن میں ہوتا ہے تو ایسا کرتا ہے، چاہے سب نہ کرتے ہوں یا سب نہ کر سکتے ہوں۔ کچھ لوگ جو کرتے ہیں، اگر اُن کے قریب ترین افراد اس میں معاون نہیں ہوتے تو اکثر وہ بیکار ہو جاتا ہے اور وہ نتیجہ سامنے نہیں آتا جس کے لیے کوششیں کی جاتی ہیں، چاہے اس کی کوشش میں کچھ لوگ شریک ہوں اور چاہے کسی کی اپنی ہی کوشش کا وہ نتیجہ ہو۔ ایسے ہی موقع پر کہا جاتا ہے کہ اس کا یا ہمارا یا میرا اپنا کِیا دھرا سب بیکار ہو گیا۔ اسی مفہوم میں"آٹا ماٹی ہونا" بھی کہتے ہیں۔

اٹھکھیلیاں کرنا

آٹھ کا لفظ ہمارے ہاں صرف ایک عدد نہیں ہے بلکہ نشان شمار ہونے کے ساتھ ساتھ اُس کے کچھ دوسرے مفہوم بھی ہیں۔ مثلاً، آٹھواساں، اٹھواسی، جو اشرفی کو بھی کہتے ہیں اور کسی ایسے بچہ کو بھی اٹھواساں کہا جاتا ہے جو مدتِ حمل پورا ہونے سے پہلے آٹھویں مہینے میں پیدا ہو جائے۔ "آٹھوں گانٹھ کمینت" ایسا گھوڑا ہے جو ہر طرح چاق و چوبند ہو، تندرست و توانا ہو۔ اسی طرح آٹھ پہر دن اور رات کے چار چار پہر ہوتے ہیں لیکن اٹھکھیلیاں ایک دل چسپ محاورہ ہے جس میں ہنسی مذاق کے ایسے تمام پہلو جمع ہو جاتے ہیں جن میں کوئی تکلیف دینے والی بات نہ ہو۔ یعنی"آٹھ کھیل" جو باتوں سے متعلق ہوں۔ اس کو ہم جنسی اور جذباتی طور پر نہیں لیتے ورنہ اس کا تعلق جنس و محبت کی بعض روشوں سے بھی ہے۔ اِس سے ملتا جلتا ایک محاورہ"بارہ سولہ سنگھار" یعنی بارہ لباس اور سولہ سنگھار۔ اَبرن بارہ طرح کے کپڑے ہیں جو پہنے جاتے ہیں اور سنگھار آرائش کے وہ طریقے ہیں جو امیر گھر والوں میں رائج رہے ہیں۔


اُجلی یا اُجلی سمجھ۔ اُجلی طبیعت

اُس میں کچھ محاورے ایسے ہیں جو خاص دہلی سے تعلق رکھتے ہیں اور دہلی کی عورتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً، "اُجلی" کی بات وہ دھوبن کے لیے کہتے ہیں۔ اُس کے متعلق یہ لکھا گیا ہے کہ صبح کے وقت یا رات کو عورتیں دھوبن کہنا بُرا سمجھتی ہیں۔ اسی لیے دھوبن کو"اُجلی" کہہ کر یاد کرتی ہیں۔ یہ دہلی کے خاص الفاظ یا عورتوں کے استعارہ میں شامل ہے اور اس اعتبار سے دہلی کی تہذیبی زندگی کا ایک خاص محاورہ ہے۔

"اُجلی سمجھ" اور "اُجلی طبیعت" دہلی کی عورتوں میں خاص طرح کی سُوجھ بُوجھ اور عقل و دانش کو کہتے ہیں۔ اُس کے معنی یہ ہیں کہ اندھیرے یا آ جالے کا تعلق صرف صبح و شام یا دن رات کی قدرتی کیفیات سے نہیں ہے بلکہ انسانی ذہن، فطرت، سوجھ بوجھ اور نا سمجھی سے بھی ہے۔ اور یہیں سے انسان کا فطرت اور تہذیب سے ذہنی رشتہ سمجھ میں آتا ہے۔ ایسا ہی ایک محاورہ"اُجلی گزران" بھی ہے جس کے معنی ہوتے ہیں خوش حال اور خوش باش زندگی۔

"اُجلا منھ ہونا" بھی اسی کے ذیل میں آتا ہے اور اس کے معنی ہوتے ہیں عزت و آبرو سے زندگی گزارنا۔ اس کے مقابلے میں"منھ کالا کرنا" بے عزتی کے کام کرنا ہوتا ہے۔

اچھا نِکا

مغربی یو۔ پی۔ میں اچھی زندگی کے لیے بولا جاتا ہے۔ "نِکا" در اصل"نِکو" ہے جو فارسی میں نیک کے معنی میں آتا ہے اور مُراد وہی اچھائی یا بھلائی ہوتی ہے۔

محاورے میں الفاظ لغوی معنی میں نہیں آتے۔ اُن کے کچھ مُرادی معنی ہوتے ہیں جو اصل معنی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ استعارہ اور تشبیہہ کے عمل میں بھی یہی ہوتا ہے کہ وہاں ایک ایسے معنی مراد ہوتے ہیں جو تصویر سے تصور کی طرف لے جاتے ہیں اور ان کا تعلق انسان کے ذہن و فکر، فن اور طریقۂ رسائی سے ہوتا ہے جو تہذیب کی دین بھی ہیں اور اُس کی علامتیں بھی۔

اُچاپت اُٹھانا

یہ بھی دہلی کا خاص محاورہ ہے لیکن ہمارے تہذیبی اور معاشرتی نظام کے ایک خاص عملی حصہ کو ظاہر کرتا ہے۔ کسان، مزدُور، ملازمت پیشہ نوکر چاکر سبھی بنیے کی دکان سے سودا سلف لیتے ہیں اور ضروری نہیں کہ ہاتھ کے ہاتھ اُس کی قیمت بھی ادا کریں۔ یہ قیمت کبھی فصل آنے کی صورت میں ادا کی جاتی ہے، کبھی چھ ماہی کی صورت میں جو زیادہ تر فصل آنے پر ہی ہوتا ہے۔ یہ بھی ہوتا ہے اور ہوتا رہا ہے کہ جب تنخواہ ملتی ہے یا مزدور کو اس کی محنت کا معاوضہ دیا جاتا ہے تو پھر وہ اس رقم میں سے بنیے کو جاکر دیتا ہے جس سے اُچاپت اٹھائی گئی ہے۔ تعلق اُس کا اُدھار لینے سے ہی ہے لیکن ایک خاص سسِٹم کے ساتھ یہی بات آگے بڑھ کر دیوانی اور ساہوکاری میں بدلی ہے۔

آدھا تیتر آدھا بٹیر

جب کردار میں یا کسی شے کی ظاہری شکل و صورت میں توازن و تناسب نہیں ہوتا اور اُس کی غیر موزونیت پہلی نظر میں بھانپ لی جاتی ہے تو اُسے آدھا تیتر آدھا بٹیر کہتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں شوقین طبع لوگ تیتر پالتے تھے۔ بٹیروں کے پالنے کا بھی رواج تھا اور لکھنؤ میں بٹیروں کی لڑائی بھی کرائی جاتی تھی۔ اِس کا رواج دہلی میں بھی تھا۔ یہ رئیسوں کا شوق تھا اور رفتہ رفتہ درمیانی طبقے میں بھی سرائیت کر گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بٹیر پالنا اور تیتر پالنا معاشرے میں کچھ خاص رجحانات کا ترجمان بن گیا۔ اُن میں موزونیت اور ہم آہنگی بطورِ خاص شامل ہے جس کی طرف یہ محاورہ بطورِ خاص اشارہ کرتا ہے۔

آدمیوں کا بَن یا جنگل

جنگل آدمی کے لیے ایک اہم تہذیبی حوالہ ہے۔ دیہات والے اپنی بہت سی ضرورتیں جنگل سے پوری کرتے ہیں۔ لکڑیاں لانا ہو، پھل کھانا ہو، مکان کی کوئی ضرورت ہو، کڑیاں ہوں، "برگے" ہوں، شہتیر ہوں یا چھپّر ہو، اُسارہ ہو، جس کے سہارے چھپّر کھڑا کیا جاتا ہے یا پھونس جس سے چھپر بنایا جاتا ہے۔ سب کا تعلق جنگل سے ہے۔ جنگل سے انسانی تہذیب کا گہرا رشتہ ہے۔ رفتہ رفتہ شہر آباد ہو گئے۔ گاؤں اور ضلعے بس گئے تو آدمی کا اور جنگل کا ساتھ چھُوٹ گیا۔ آدمی نے جنگل کاٹ بھی دیے اور اپنے شہری تصوّرات کے تحت غیر مہذب آبادی کو جنگلی کہنا شروع کر دیا۔ بن میں رہنے والے انسان ان کے نزدیک آدمی نہیں، بن مانس تھے۔ زیادہ شہریت آئی تو گاؤں والوں کو گنوار کہنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ شہر میں اگر گھنی آبادی ہو گئی، بہت بڑھ گئی تو اسے آدمیوں کا جنگل کہہ کر پکارا اور اُس کے مقابلے میں جہاں آبادی نہ ہوئی یا بہت کم ہوئی اُسے جنگل بیابان کہنا شروع کر دیا۔

اُن محاوروں پر اگر نظر ڈالی جاتی ہے تو اندازہ ہوتا ہے کہ جنگل کا آدمی کی زندگی سے کیا رشتہ ہے۔ صحرا بھی ایک طرح کا بھُوڑ جنگل ہی ہوتا ہے۔

میر انیس کا مصرعہ ہے:

صحرا کا آدمی ہے کہ جنگل کا جانور

جنگل کا استعارہ شاعری میں بھی آتا رہا ہے اور صحرا کو تصورِ عشق کے طور پر طرح طرح سے تشبیہ اور استعاروں میں شامل کیا گیا ہے۔ فراق کا مصرعہ ہے:

صحرا صحرا دل بھٹکے گا آج تمہیں نے روکا ہوتا

آدمیت پکڑنا

انسان آدم زاد ہے اور اُردو ادب میں اُسے آدم زاد بار بار کہا بھی گیا ہے۔ جہاں آدمی سے قصور اور خطا وابستہ ہے، وہاں آدمیت، شرافت اور انسانیت کے تقاضے بھی اسی سے متعلق ہیں۔ انہیں تقاضوں کے پورا نہ ہونے پر انسان کو جنگلی اور جانور کہا جاتا ہے۔ جب کسی انسان میں شرافت، نیکی اور بھلے آدمی ہونے کی صفات نہیں دیکھی جاتیں تو یہ کہا جاتا ہے کہ آدمی بن، آدمیت سیکھ۔ اسی لیے صورت شکل میں بھی اُس کے آدم زاد ہونے کو سراہا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ آدمی کا بچہ ہے، یعنی قبول صورت ہے۔


آدھی رات اِدھر، آدھی رات اُدھر

رات اوقات کی تقسیم میں دن کے مقابلے میں کچھ زیادہ پُر اسرار، پُر کشش، لایقِ توجہ اور ڈرانے والی ہوتی ہے۔ رات سے چونکہ اندھیرا متعلق ہوتا ہے، اس لیے بھی اس کا ذکر خوابوں کے ساتھ خوفناکیوں کے طور پر بھی کیا جاتا ہے، جیسے ڈراؤنی رات، اندھیری رات، اندھیرا گھُپ۔ اندھیروں کا سفر زندگی کا تکلیف دہ اور ڈراؤنا سفر ہوتا ہے۔ اس اندھیرے کا سفر جب ہاتھ کو ہاتھ بھی سُجھائی نہیں دیتا۔ رات تاروں بھری بھی ہوتی ہے، چاند رات بھی ہوتی ہے اور چاندنی رات بھی۔ اسی کے ساتھ "چار دن کی چاندنی ہے پھر اندھیری رات ہے"، یہ بھی کہا جاتا ہے۔ غرض کہ رات سے ہمارے بہت سے تصورات وابستہ ہیں۔

"آدھی رات اِدھر، آدھی رات اُدھر" نصف شب کو کہتے ہیں جب سونے کا وقت آ جاتا ہے۔ پچھلا پہر بھی رات ہی سے منسوب ہے۔ انسان دو برابر کے ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کو بڑی بات خیال کرتا ہے۔ چاند کے حِساب سے راتیں دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہیں تو وہ چودھویں رات کہلاتی ہے اور اس کے چاند کو چودھویں کا چاند کہتے ہیں۔ ہمارے ہاں داستانوں اور کہانیوں کا تصور بھی راتوں سے وابستہ ہے۔ "الف لیلیٰ" کا نام ہی"الف لیلیٰ و لیلیٰ" ہے یعنی ایک ہزار ایک راتیں۔ اردو کی مشہور معشوقہ لیلیٰ بھی رات ہی سے وابستہ ہے۔

آدھوں آدھ کرنا

آدھا ایک کا نصف ہے اور تہذیبی طور پر اپنے خاص معنی رکھتا ہے۔ مذکورہ محاورے میں بھی آدھے کا تصوّر واضح طور پر موجود ہے۔ اَدّھی، اَدَھنّا، اَدھ پکا، اَدھ رانا، اَدھ بانکا، اَدھ مرا، اَدھ موا، ادھ کچرا، ادھ بُنا، اُن سب میں"آدھ" شامل ہے اور ایک خاص ذہنی پیمانے کو پیش کرتا ہے۔

ہمارے معاشرے کی سوچ ہمارے ذہنوں پر اثر ڈالتی ہے اور ہمارا ذہن زبان پر اپنے گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔ دیکھا جائے تو الفاظ کے محاوراتی معنی، استعاراتی معنی ہوتے ہیں۔ ایک کہاوت ہے"آدھی کو چھوڑ ساری کو دھاوے، آدھی رہے نہ ساری پاوے"۔ یعنی آدمی جب زیادہ لالچ کرتا ہے تو نہ آدھی ملتی ہے، نہ ساری؛ محرومی ہی اِس کے حصے میں آتی ہے۔ یہ بھی سماج کے رو یہ پر تبصرہ ہے کہ صبر وضبط سے کام لو، زیادہ لالچ اور خود غرضی اختیار نہ کرو۔

اُردوئے معلّیٰ

اُردو کا لفظ ہم زبان کے لیے استعمال کرتے ہیں اور جب اُردوئے معلّیٰ کہتے ہیں تو ہماری مُراد اعلیٰ درجہ کی ادبی زبان ہوتی ہے یا پھر درباری زبان اور دہلی کی خاص زبان جس میں شرفاء کی زبان بطورِ خاص پیشِ نظر ہوتی ہے۔ مگر واقعہ یہ ہے لال قلعہ کے سامنے اور چاندنی چوک کے قریب جو میدان ہے، یہاں قلعہ کی حفاظت کرنے والی خاص فوج رہتی تھی جس کا افسر راجپوت ہوتا تھا۔ اُسے اُردوئے معلّیٰ کہتے تھے۔ اسی نسبت سے جینیوں کے لال مندر کو بھی پُرانے زمانے میں اُردو مندر کہا جاتا تھا۔ اب اِس کا مفہوم بدل گیا ہے اور اُردو کو عرفِ عام میں لشکری زبان یا پھر عام زبان کہا جانے لگا ہے۔ جب کسی زبان کو بہت اچھا اور اعلیٰ زبان کہنا مقصود ہوتا ہے تو اُسے اُردوئے معلّیٰ کہتے ہیں اور یہ بولتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ وہ تو مغل اُردو بولتے ہیں۔

اَردلی ّمیں رہنا۔ اَردلی کرنا۔ اَردلی میں چلنا

"اردلی" کا لفظ بتلا رہا ہے کہ یہٍ انگریزوں کے آنے کے بعد اُن کے دفتری طور طریقوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد رائج ہوا ہے۔ وہ اپنے پیش خدمت کو"آرڈرلی" (Orderly) کہتے تھے، یعنی آرڈر کو لانے لے جانے والا۔ اِس طرح یہ لفظ انگریزوں کے دفتری نظام سے متعلق ہو گیا اور انگریزی سے بنائے جانے والے الفاظ میں اِس کا استعمال عام ہونے لگا۔ لفظوں کے ساتھ محاورہ بنتا ہے تو ایک تاریخ اُس کے پیچھے موجود ہوتی ہے۔ زبان اور الفاظ معاشرے میں لفظ محاورے کیا کردار ادا کرتے ہیں، اِس کا اندازہ محاورات پر سنجیدگی سے غور و فکر کے ساتھ ہوتا ہے۔ لفظوں کا پھیر بدل اور معنوی سطح پر تبدیلی زمانہ، زندگی اور ذہن کے تغیرات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ "اردلی" کا لفظ اس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایسا ہی ایک لفظ"افسر" بھی ہے جس کے معنی فارسی میں"تاج" کے ہیں لیکن اُردو میں افسر کے معنی ہیں"آفیسر" (Officer) اور آفیسر ہی سے لفظ افسر بنا بھی ہے۔

ارَنڈ کی جڑ

"ارنڈ" ایک خاص طرح کا درخت ہوتا ہے جس میں شاخیں نہیں ہوتیں اور جس درخت میں شاخیں ہوتی ہیں اُس کا تنا بہت مضبوط ہوتا ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ اس درخت کا تنا بھی مضبوط نہیں ہوتا اور جڑ اور بھی کمزور ہوتی ہے۔ "جڑ" کا لفظ ہمارے ہاں بہت با معنی لفظ ہے۔ اس کے معنی بنیاد کے ہیں۔ بنیاد جتنی مضبوط ہو گی، اتنی ہی عمارت مضبوط ہو گی۔ ہمارے ہاں بنیاد کے ساتھ بہت لفظ آتے ہیں۔ اور محاورے کے طور پر آتے ہیں۔ جیسے، بے بنیاد بات ہے، اس کی بنیاد ہی غلط تھی۔ "بنیاد" کے ساتھ" جڑ" کا لفظ بھی آتا ہے اور"جڑ بنیاد" کہتے ہیں۔ اُن دونوں لفظوں کا ایک دوسرے کے ساتھ آنا- جڑ کا پہلے اور بنیاد کا بعد میں - ایسی لفظی ترکیب ہے جو روزمرّہ کے دائرے میں آتی ہے۔ ہم جڑ بنیاد ہی کہہ سکتے ہیں، بنیاد جڑ نہیں۔ جیسے، تین پانچ ہی کہتے ہیں، پانچ تین نہیں کہتے اور اس سے تیا پانچہ کر دیا۔ جڑ کے ساتھ جڑ جمنا، جڑ جمانا، جڑ اکھڑنا، جڑوں کا کھوکھلا ہونا، جڑوں سے وابستہ رہنا- -غرض بہت سے محاورے ہیں جن کا تعلق درخت یا شجر سے اتنا نہیں ہے جتنا ہماری سماجی زندگی سے ہے۔ "اَرنڈ کی جڑ" کمزور ہوتی ہے؛ بالکل کھوکھلی۔ اسی لیے ارنڈ کی جڑ کے معنی ہیں ناپائدار ہونا۔ اپنی جڑ کی ناپائداری اس کے لیے کم قدری کا باعث ہوتی ہے۔ اسی لیے"اَرنڈ باغاتی" دہلی میں محاورہ ہے جو میر اور سودا کے زمانے تک بولا جاتا تھا اور مطلب ہوتا تھا"بے تکی چیز"۔ اس کو" باغاتی" بھی کہا جاتا رہا ہے۔

اَرواح بھٹکنا

دہلی والے رُوح کو اَرواح کہتے ہیں، یعنی رُوح کی جمع بولتے ہیں اور اس سے صرف رُوح مراد لیتے ہیں۔ روح بھٹکنے کے معنی یہ بھی ہیں کہ انسان چلا جاتا ہے اور اس کی روح دنیا میں باقی رہ جاتی ہے اور اِدھر اُدھر اس کو یا اپنی کسی پسندیدہ چیز کو ڈھونڈتی رہتی ہے۔ قدیم زمانے سے یہ تصور موجود ہے۔ کہ رُوح اپنے بدن یا مادّی وجود کی طرف واپس آتی ہے۔ قدیم زمانے کی قبروں میں اس طرح کے نشانات رکھے جاتے تھے جن سے یہ پتہ چل سکے کہ یہ فلاں شخص کی قبر ہے۔ اب تو یہ بات دنیاوی طور پر شناخت کے لیے ہوتی ہے اور کتبے لگائے جاتے ہیں۔ قدیم زمانے میں یہ رُوح کی شناخت کے لیے ہوتا تھا کہ وہ پہچان جائے۔ اب یہ گویا محاورہ بن گیا ہے کہ رُوح بھٹکتی پھرے گی۔ خاص طور پر محبت کرنے والے کی روح کے لیے ایسا سوچا جاتا ہے۔ میر نے اپنی مثنوی"دریائے عشق" اور"شعلۂ عشق" میں اسی کا ذکر کیا ہے۔ بعد کے شعراء کے ہاں بھی اس کا بیان ملتا ہے اور اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ زندگی ہی میں نہیں، مرنے کے بعد بھی میرا شوق، میرا تعلقِ خاطر قائم رہے گا اور میری رُوح تیرے یا اپنے محبوب کی فراق میں بھٹکتی رہے گی۔

اَرے ترے کرنا (ابے تبے کرنا)

اَرے ترے کرنا یا ابے تبے کرنا کے معنی ہیں بد تہذیبی سے پیش آنا۔ یا بہت بے تکلًفی سے بات کرنا۔ تہذیب و شائستگی کے آداب میں گفتگو کا طریقہ سلیقہ بہت کام کرتا ہے اور ہمیشہ اس کا ایک اہم رول ہوتا ہے کہ کس سے گفتگو کی جائے تو کس طرح کی جائے۔ لب و لہجے کا اُتار چڑھاؤ کیا ہو، موقع اور محل کے لحاظ سے الفاظ و فقرے کس اسلوب اور کس انداز میں پیش کیے جائیں۔ بات صرف لفظوں کے معنی کی نہیں ہوتی، کہنے کے انداز کی بھی ہوتی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کہنے والا کون ہے اور سننے والا اس کے مقابلہ میں کیا درجہ رکھتا ہے؛ برابر کا ہے، چھوٹا ہے، بڑا ہے۔ اس وقت موقع و محل کے اعتبار سے اس کے ساتھ سوال و جواب کا یا تبصرے اور تجزیے کا کیا انداز اختیار کیا جائے۔ یہ سب باتیں بڑی اہمیت رکھتی ہیں اور گفتگو کے وقت اپنا خاص کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہ سمجھا جائے کہ بات کرنے والا نہ زبان جانتا ہے، نہ آداب اور شائستگی سے واقف ہے۔ بے تکلفی اپنی جگہ پر، لیکن لفظوں کے استعمال میں احتیاط بہت ضروری ہے۔ ہم دوسروں سے برداشت کی توقع رکھتے ہیں۔ یہ توقع اسی وقت صحیح ہو سکتی ہے جب کہ گفتگو کرنے والا لب و لہجے اور الفاظ کے استعمال میں احتیاط برتے۔ ہمارے محاورات میں ایسے بہت سے محاورے ہیں جو گفتگو کے آداب پر روشنی ڈالتے ہیں۔ بیہودہ گفتگو کو اُول فول بکنا کہتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گڑ نہ دے، گڑ جیسی بات کہہ دے، یعنی میٹھا انداز اختیار کر لے۔ اسی لیے زبانِ شیریں کی بات کی جاتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ تیرے منھ میں گھی شکّر۔


اُڑا لینا، یا اُڑا دینا، اُڑنا

اُڑنا پرندوں کا عمل ہے۔ اِدھر سے اُدھر آنا جانا، ایک شاخ سے اُچھل کر دوسری شاخ پر بیٹھ جانا، دانا چُگنے کے لیے یہاں سے وہاں اور وہاں سے یہاں آنا، پروں ہی کی مدد سے ہی تو ہوتا ہے۔ یہ عملِ محال کرشمہ اور کرامت کے طور پر پیروں کے ساتھ بھی استعمال کیا جاتا ہے کہ وہ ہوا میں اُڑتے ہیں اور خوشبو کی طرح اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر پھیلتے رہتے ہیں، آتے جاتے ہیں۔ آج کل تو تقریریں، تحریریں اور تصویریں بھی ہوا پر اُڑتی ہیں اور ٹیلی ویژن میں ہم دنیا بھر کے شہروں، بیابانوں، جانوروں، انسانوں، سمندروں اور ہواؤں کی تصویریں دیکھ سکتے ہیں۔ اُڑنے کے معنی میں یہ سب آتا ہے۔ اُڑان بھرنا بھی ایک محاورہ ہے اور اُڑانے کے معنی میں خلیل خاں کا فاختہ اُڑانا اور مریدوں کا پیروں کو اُڑانا بھی شامل ہے، کہ پِیر نہیں اُڑتے، مرید اُڑاتے ہیں۔ خبر اُڑانے کو بھی ہمارے ہاں بطورِ محاورہ استعمال کیا جاتا ہے۔

اُڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی

بات اڑا دینا بھی یا"باتوں باتوں میں اڑا دینا"، "چٹکیوں میں اُڑا دینا" بھی ہمارے محاورات کا حصّہ ہے۔ "بے پر کی اُڑانا"، "گُل چھرّے اُڑانا"، "طوطا مینا اُڑانا"۔ اس سے اُڑنے اور اُڑانے کے عمل سے ہماری زبان اور ہمارے ذہن کی وابستگیوں کا پتہ چلتا ہے۔ "اُڑا دینا"، خاک دھُول کی طرح اُڑا دینا ہے۔ اور کسی چیز کا اُڑا لینا بھی جیسے، "اس نے یہ بات اڑا لی"، "اس نے ساری کتاب ہی اڑا لی"۔ اس معنی میں"اُڑنا" یا"اُڑا دینا" یا"اُڑا لینا" بہت سے محاورات کی بنیاد ہے۔ جن محاوروں کو ہم کسی ایک تصور، ایک تصویر، ایک خیال یا ایک عمل سے نسبت دے کر مختلف صورتوں یا سمتوں میں پھیلا سکتے ہیں، اُن میں"اُڑنا" اور"اُڑا دینا" بھی ہے۔ "اُڑتی چڑیا کو پہچاننا"، یا"اُڑتی چڑیا کے پر گننا"بھی اور"اُڑن چھُو ہونا" (غائب ہو جانا، بھاگ جانا) یا"اُڑن کھٹولا ہونا" بھی اسی ذیل میں آتا ہے۔ ۔ "اُڑن کھٹولا" ہوئی جہاز کو بھی کہتے ہیں۔ دہلی میں"اُڑان جھَلّا" یعنی اڑتے ہوئے کبوتروں کی ٹولی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو کبوتر بازوں کا محاورہ ہے۔ "قسم ہے اُڑان جھلے کی"۔ "اڑن سانپ" یعنی ایسا سانپ جو اڑ سکتا ہو۔ "اڑتی بیماری" بھی ایک محاورہ ہے، ایسی بیماری کو کہتے ہیں جو ایک سے دوسرے کو لگ جاتی ہے۔ کھجلی بھی انہیں میں ہے، دق بھی اور کھانسی بخار کی بعض صورتیں اس میں شامل ہیں۔ معاشرتی طور پر ایسی برائی جو ایک سے دوسرے کو لگ جاتی ہے اور سب ہی کم و بیش اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں، اس کو اڑتی بیماری کہتے ہیں۔

اَڑنا، رکاوٹ بننا

اپنی جگہ پر اس طرح ٹھہر جانا کہ پھر ٹس سے مس نہ ہو۔ اقبال کا شعر ہے۔

آئینِ نو سے ڈرنا، طرزِ کُہن پہ اُڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

"طرز کہن پہ اڑنا" وہی پرانی روایت پر قائم رہنا ہے، بلکہ اس پر اصرار کرنا ہے۔ معاشرے میں یہ روش ایک خاص کردار کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ معقول سطح پر ایک بات کا جائزہ نہ لیا جائے اور یہ تجزیہ نہ کیا جائے کہ اس میں کیا اچھا اور کیا برا ہے۔ کسی تبدیلی یا ترمیم کی ضرورت اس میں ہے بھی یا نہیں۔ اگر دیکھا جائے تو یہی فکر و نظر اور احساس و ادراک کی نا رسائیوں کا باعث بننے والی ایک معاشرتی کمزوری ہے۔ جس کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔

اَڑنگ بَڑنگ

اصل میں جو چیزیں، جو خیالات سماج کو بے تکے پن کی طرف لاتی ہیں، وہی اڑنگ بڑنگ کہلاتی ہیں، یعنی بے تکی، بے ڈھنگی، بے ہنگم۔ یہ عوامی الفاظ ہیں۔ اُن کا استعمال اب زبان میں کم ہو گیا ہے۔ لیکن عمومی سطح پر اب بھی ہم انہیں محاورات میں استعمال ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ "اڑنگا لگانا" ایسا ہی ایک محاورہ ہے جس سے دوسرے کے کام میں آگے بڑھنے میں رکاوٹ بننے کا رو یہ سامنے آتا ہے، جو ایک طرح کا بُرا اور بُرے نتیجے پیدا کرنے والا سماجی رو یہ ہوتا ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ اس نے خواہ مخواہ"اڑنگا لگا دیا" رکاوٹ پیدا کر دی، الجھنیں کھڑی کر دیں۔ اس سے ہم اپنے سماجیاتی مطالعہ کے بعض پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھ سکتے ہیں جو کام، جو شے یا جو تعمیر بے ڈھنگی ہوتی ہے، اُس کے بے ہنگم پن پر تبصرہ بھی اَڑنگ بڑنگ کہہ کر کیا جاتا ہے۔

اُڑی اُڑی طاق پر بیٹھی

ویسے تو ایک چڑیا کا اُڑنا اور اِدھر سے اُدھر بیٹھنا اِس میں شامل ہے، لیکن محاورے کے سماجی استعمال اور معاشرتی رویوں کے اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ہمارے معاشرے کے کون کون سے عملی اور ذہنی رویّے اس میں شامل ہیں۔ اُڑنا انسان کو ہمیشہ ہی اچھا لگا اور خود وہ طرح طرح سے اُڑنے کی کوشش کرتا رہا۔ اسی لیے اُڑنے کے عمل پر بہت سے محاورے موجود ہیں۔ محاوروں کا رشتہ ہمارے جذبات سے، خواہشات سے اور تمنّاؤں سے طرح طرح سے جُڑا ہوا ہے۔ اِس میں ہمارے خواب بھی آ جاتے ہیں، خیال بھی اور تمنائیں بھی۔ کوئی محاورہ کسی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک طرف اس میں اُس کی ناکامیاں آتی ہیں، دوسری طرف کامیابیاں اور تیسری طرف تمنائیں اور ضرورتیں، مجبوریاں۔ ایک محاورہ ہے"اَڑی بھِیڑی میں کام آنا"، یعنی جب کوئی صورت نہ ہو اور ہر طرف رکاوٹیں ہی رکاوٹیں ہوں، اس وقت کوئی کام آ جائے تو کتنی بڑی بات ہوتی ہے۔ اسی لیے ایک کہاوت ہے، "بیوی بھلی پاس کی، یار دوست بھلا ٹوٹے کا"۔ جب کوئی کام نہ آتا ہو تو آدمی کتنا مجبور ہوتا ہے۔ اسی لیے اَڑی بھیڑ میں کام آنا یا اَڑے وقت میں کام آنا ہماری سماجیات کا اہم پہلو ہے کہ جب آدمی خود کچھ نہ کر سکے تو کوئی دوسرا کام آئے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جو مصیبت میں کام آ جائے وہی اپنا ہوتا ہے۔ اس سے آدمی کی مجبوریوں کو بھی سمجھا جا تا ہے۔ اسی سلسلے کا ایک محاورہ"اڑے کام سنوارنا" بھی ہے۔

آڑے ہاتھوں لینا

عجیب بات ہے کہ محاورات ہماری تہذیب کے مختلف رُوپ پیش کرتے ہیں اور اُن سے ہمارے ذہن و زندگی کی ترجمانی ہوتی ہے۔ "آڑے ہاتھوں لینا" فضیحتا کرنے کو کہتے ہیں، جس کے معنی یہ ہیں کہ سیدھے ہاتھ کے معنی ہوتے ہیں محبت کا اظہار کہ پیار سیدھے ہاتھوں ہی کیا جاتا ہے۔ اسی لیے"آڑے ہاتھوں لینا" گفتگو کا عمل بھی ہے اور تعلقات کے اچھے بُرے ہونے کی ایک نشانی بھی ہے۔ ترچھی نظروں سے دیکھنا بھی اسی عمل کا ایک حصہ ہے۔ انسانی عمل کی ادائیگی میں الفاظ بھی حصہ لیتے ہیں۔ اعضاء کا ایکشن اور ری ایکشن(reaction) بھی اشارے ا ور کنایے بھی، خیال، عمل، خوشی اور نا خوشی بھی۔ محاورے انہیں سب حقیقتوں کو اپنے اندر سمیٹتے ہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ محاورہ بھی تشبیہ ہوتا ہے، استعارہ بھی، تصوّر بھی اور تصویر بھی۔

"آڑے آنا" بھی اسی سلسلے کا محاورہ ہے۔ اِس کے معنی بھی رکاوٹ بننے ہی کے ہیں۔ لیکن کسی مصیبت سے بچانے کے لیے آفت میں کام آنے کی غرض سے آڑے آنا کام آتا ہے اور ایک طرح کا سماجی عمل ہے جس میں دوسروں کا تعاون اور ان کی بر وقت مدد شامل رہتی ہے کہ یہ تو وہ تھا کہ آڑے آ گیا، ورنہ کون جانے کتنا نقصان پہنچتا اور کتنی پریشانیاں برداشت کرنی ہوتیں۔ "اڑم ڈھم ہونا" بھی اسی ضمن میں آتا ہے۔ مگر اس کے معنی بھیڑ بھڑکّا کے ہیں۔ جب راستہ نہ ملے اور نہ بیٹھنے کی جگہ ہو، نہ جانے کے کوئی راہ، ایسے وقت میں اَڑم ڈَھم کہتے ہیں۔ محاورہ عوامی طرزِ اظہار بھی ہوتا ہے اور بعض محاوروں میں صوتی اعتبار سے ایک کرختگی بھی ہوتی ہے جو عوامی اظہار میں شامل رہنے والی ایک صورتِ اظہار ہے۔ خواص سخت الفاظ اور کرخت آوازوں کا استعمال کم کرتے ہیں۔ ممکن ہے ہماری زبان میں یہ رجحان پوربی بھاشاؤں سے آیا ہو۔ اُردو کے ابتدائی مراحل میں ان بھاشاؤں کا اثر ہماری زبان پر زیادہ تھا اور بعد میں فارسی اثرات کی بدولت یہ رجحان شہری سطح پر کچھ اور آگے بڑھتا نظر آتا ہے۔ مگر عوامی محاورے نے ان آوازوں کو جو نسبتاً ثقیل آوازیں تھیں، ہماری زبان میں باقی رکھا ہے۔


آزاد کا سونٹا (فقیر)

فقیر پابند نہیں ہوتے؛ نہ گھر بار کے، نہ عزیز داری، نہ رشتہ داری کے۔ کاروبار وہ کرتے ہی نہیں۔ جب جو مل گیا وہ کھا لیا، نہ ملا تو صبر کیا۔ ایسی زندگی سماجی اعتبار سے مشکل ہی سے نبھتی ہے۔ لیکن اس طرح کے لوگوں کا ایک طبقہ رہا ضرور ہے۔ اقبال کا یہ مشہور شعر انہیں آزاد طبع لوگوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

درویشِ خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربی
گھر میرا نہ دِلّی، نہ صفاہاں، نہ سمرقند

فقیر کا سونٹا ہی اس کا سب کچھ ہوتا ہے۔ وہ بڑی آزادی سے اس کا استعمال کرتا ہے۔ بھنگ گھونٹتا ہے، کڑا بجاتا ہے، بلّی کتّے کو بھگاتا ہے، اپنے دشمن کا سر پھوڑتا ہے۔ اس معنی میں ہمارے معاشرے میں ایسے شخص کی زبان کو جو اپنے لب و لہجے پر قابو نہیں رکھتا، "آزاد کا سونٹا" یا"فقیر کا سونٹا" کہتے ہیں۔

اِزار بند ی کا رشتہ یا اِزار بند کا رشتہ۔ کمر بندی رشتہ

اسے عام زبان میں کمر بندی رشتہ بھی کہتے ہیں۔ یہ شادی، بیاہ کا رشتہ ہوتا ہے جس میں جنسی رشتے کو دخل ہوتا ہے۔ اِزار پائجامہ کو کہتے ہیں۔ اسی لیے ایسے رشتے جو جنس و جذبے سے تعلق رکھتے ہیں، اُن کو اِزار سے نسبت دی جاتی ہے اور سماجی طور پر انسان کی جذباتی کمزوریوں کا ذکر بھی اسی نسبت سے کیا جاتا ہے۔ "اِزار کا کچّا"، "اِزار کا ڈھِیلا" یا"اِزار کی ڈھیلی"، اسی نسبت سے مرد اور عورت کے لیے کہتے ہیں۔ اب یہ محاورے عام نہیں ہیں۔ ان کا استعمال بہت کم ہو تا چلا گیا ہے۔ لیکن آج بھی اُن سے پتہ چلتا ہے کہ محاوروں نے تشبیہ و استعارے یا اشارے و کنایے میں ہمارے سماجی رویّوں یا معاشرتی سطح پر عمل اور ردِ عمل کو محفوظ کر دیا ہے۔ "ازار میں پہن لیا" یا"ازار میں ڈال کر پہن لینا" اسی سلسلے کے کچھ محاورے ہیں اور سماجی طور پر اپنے خالص معنی رکھتے ہیں۔ جب کسی بات کی یا کسی شخص کی دوسروں کی نگاہ میں قدر و قیمت نہ رہے، اس وقت یہ کہا جاتا ہے کہ وہ تو پائجامے میں پہن لینا چاہتے ہیں۔ اِزار میں ڈال لینے کے معنی بھی یہی ہیں۔ اِس طرح سے سماج میں جو ایک ذہنی درجہ بندی رہتی ہے، یہ اسی کی طرف ایک اشارہ ہے۔

از غیبی گولا یا از غیبی دھکّا

مشرقی اقوام غیب کی زیادہ قائل رہیں اور ظاہر کے مقابلے میں باطن کو انہوں نے ہمیشہ زیادہ بامعنی اور پُر قوّت تصور کیا۔ اس سے جہان صوفیانہ اور رُوحانی تحریکیں نیز مذہبی فلسفہ ان میں زیادہ رائج رہا۔ وہاں توہّم پرستی اُن میں افکار، خیالات اور عقائد کے اعتبار سے زیادہ رائج رہی کہ کیا خبر کس وقت کیا ہو جائے، کہاں سے کونسی آفت نازل ہو اور کس مصیبت کا سامنا کس وقت کرنا پڑے۔ "از غیبی گولا" یا"از غیبی دھکا" اسی صورتِ حال کو کہتے ہیں جب آدمی اچانک کسی آفت میں مبتلا ہو جائے، کسی مشکل میں پھنس جائے۔ زبان کے اعتبار سے بھی اگر دیکھا جائے تو یہ محاورہ عجیب و غریب ہے کہ اس میں"از" کا لفظ شروع میں آیا ہے، جو سر تا سر فارسی لفظ ہے۔ لیکن اُردو والے اِسے بے تکلف استعمال کرتے تھے۔ خطوں میں"از دہلی"، "از لاہور" یا"از حیدرآباد" بے تکلف طور پر لکھا جاتا تھا۔ "از حد" کہہ کر حد سے زیادہ کی طرف اشارہ کیا جاتا تھا۔ "از حد بد تمیز ہے" یا"از حد خوف ناک ہے" اب بھی کچھ لوگ بولتے ہیں۔ محاورے کی اس صورت نے"از" کے استعمال کو عام زبان کا ایک حصّہ بنا دیا ہے اور حیرت ہے کہ"دھکّا" یا"گولا" جیسا لفظ"از غیبی" کے ساتھ ملا دیا۔ ہماری زبان کی مزاج شناسی کے لیے یہ محاورہ ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

آس

آس اُمّید کو کہتے ہیں اور اُمید کے لیے کہا جاتا ہے کہ اس پر دنیا قائم ہے، یعنی اُمید نہ ہو تو پھر کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ اگر چہ امید کے ساتھ بھی قیامت کا اُتار چڑھاؤ رہتا ہے۔ اُردو کا ایک شعر ہے۔

اُمّیدیں باندھتا ہوں، سوچتا ہوں، توڑ دیتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہو جائے، کہیں ویسا نہ ہو جائے

امیدیں ہمارے خواب ہیں، خیال ہیں، توقعات ہیں جو زندگی میں وقتاً فوقتاً، موقع بموقع ایک نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ عورت کے ہاں حمل کی حالت کو اُمید سے ہونا کہتے ہیں۔ اُردو کا ایک شعر ہے۔

کہتے ہیں، جیتے ہیں اُمّید پہ لوگ
ہم کو جینے کی بھی اُمّید نہیں

"اُمید آس" ہے، جو آشا کی عوامی شکل ہے اور بعض محاورات کا ضروری جزو ہے۔ "آس رکھنا" تو خیر اُمّید رکھنے کے بارے میں ہے۔ "آس اولاد" اس سے آگے کی بات ہے۔ ہم اولاد سے بھی آس رکھتے ہیں۔ اور اولاد ہم سے آس رکھتی ہے۔ یہ سلسلہ باہمی طور پر ذہنی رشتوں کو قائم رکھتا ہے۔ دعاؤں میں آس پوری کرنا بھی کہتے ہیں، پوری ہونا بھی۔ اولاد کی آس تو بہت بڑی آس ہوتی ہے اور جس کے اولاد نہ ہو اس کی تو گویا جڑ بنیاد ہی اکھڑ جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے تو آس اولاد کچھ بھی نہیں ہے۔ بے اولادا ہونا ایک طرح کی نحوست ہے اور عورت تو اولاد نہ ہونے کی صورت میں بہت ہی نا مرادانہ زندگی گزارتی ہے۔ "آس لگانا" اور"آس رکھنا" بھی اسی میں شامل ہے اور"آس ٹوٹنا" یا"آس بندھنا" بھی۔ "آسرا" بھی اسی ذیل میں آتا ہے۔ "آسرا ڈھونڈنا"، "آسرا جوہنا"، "آسرا لگانا"، "آسرا باندھنا" بھی اور"آسرا رکھنا" بھی۔ فراق کا شعر ہے۔

آسرا وہ بھی شامِ فُرقت کا
خواب تو دیکھیے محبت کا

آسامی بنانا

"آسامی" جگہ کو بھی کہتے ہیں۔ اسی لیے یہ کہا جاتا ہے کہ وہاں ایک پٹواری، ایک ٹیچر یا ایک کلرک کی آسامی خالی ہے۔ "آسامی بنانا" ایک محاورہ بھی ہے اور انسان کے فریب، مکر اور دغا کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آدمی جھوٹ سچ بول کر، پُر فریب باتیں کر کے کسی سے ناجائز فائدہ اٹھا لیتا ہے۔ اسی کا آسامی بنانا کہتے ہیں کہ اُس نے وہاں آسامی بنا رکھی ہے، یا وہ تگڑم باز ہے، آسامی بنا لے گا۔ آسامی بمعنی جگہ اب بہت کم استعمال ہوتا ہے اور درخواستوں میں بھی نہیں آتا۔ اس سے ہم نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ بعض الفاظ سماج میں ایک خاص طبقے یا حلقے میں اپنی جگہ بناتے ہیں اور جڑیں پھیلاتے ہیں اور وقت کے ساتھ وہ سمٹ بھی جاتے ہیں اور ان کا استعمال کم یا ختم ہو جاتا ہے۔

آستین کا سانپ ہونا

یہ بھی سماج میں موجود افراد کی برائیوں کی طرف ایک اشارہ ہے۔ سانپ خود بھی بطورِ محاورہ اور علامت استعمال کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ وہ آدمی نہیں بلکہ سانپ ہے۔ اس معنی میں سانپ گویا بدترین دشمن ہوتا ہے اور آستین کا سانپ وہ ہوتا ہے جو بظاہر ہمارے ساتھ ہو، ہمارا ہم درد ہو اور مخلص نظر آتا ہو لیکن در پردہ ہمارا دشمن ہو۔ سماج میں اس طرح کے کردار بہر حال موجود ہوتے ہیں۔

آستینوں میں بُت چھُپائے رکھنا

یہ محاورہ ایسے موقعوں پر بولا جاتا ہے جب انسان عقیدہ و خیال کو چھُپائے رکھنا چاہتا ہے۔ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے اور ظاہر کچھ اور کہا جاتا ہے۔ یہ روایت ہے کہ عرب کے کچھ لوگ جو دراصل بُت پرست تھے، جب نماز پڑھنے مسجد میں آتے تو اپنی آستینوں میں بت چھپائے رکھتے اور اس طرح ایک منافقانہ کردار ادا کرتے۔ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اقبال نے یہ شعر کہا ہے۔

اگر چہ بُت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکمِ اذاں، لا الٰہ الا اللّہ

اِس کان سننا، اُس کان اڑا دینا

معاشرے کا لا پروائی والا رویّہ اُس کے پس منظر میں موجود ہے کہ وہ کسی کی اچھی سچی بات اور فریاد بھی سننا نہیں چاہتا۔ ویسے داستانیں، قصّے، کہانیاں گھڑی بھی جاتی ہیں، سنی بھی جاتی ہیں اور سنائی بھی جاتی ہیں۔ لیکن معاملے کی باتیں نہ کوئی سننا چاہتا ہے، نہ سمجھنا چاہتا ہے۔ اسی لیے یہ رویّہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اور روزمرہ کے تجربے کا حصہ ہے کہ آدمی دوسرے کی بات کو سُنی ان سنی کر دیتا ہے۔ اسی کی طرف اس محاورے میں اشارہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس کان سے سنتے ہیں اور اس کان سے اڑا دیتے ہیں۔


آسمان پر اُڑنا۔ آکاس پھل

یہ ایسا محاورہ ہے جو ہماری زبان اور ہماری روایتی فکر کی سماجی بنیادوں کی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی بہت اونچی اونچی باتیں کرنا، بڑھ چڑھ کر باتیں بنانا، جس کو زمین آسمان کے قُلابے مِلانا بھی کہتے ہیں۔ آسمان ہماری ایک اہم تہذیبی علامت ہے۔ ہم اپنے مذاہب کو بھی آسمانی مذہبوں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آسمانی کتابیں کہتے ہیں، آسمانی صحیفہ قرار دیتے ہیں۔ سنسکرت میں اسے"آکاش وانی" کہا جاتا ہے۔ مسلم اقوام میں آسمان کا ایک اور کردار بھی ہے کہ وہ فریب کار ہے، دغا باز ہے، فتنے بر پا کرتا ہے، دِلوں میں فرق ڈالتا ہے اور عاشقوں کا دشمن ہے، رقیبوں کا دوست ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اسی لیے فارسی اور اردو شعراء کے ہاں آسمان کی شکایتیں ملتی ہیں اور اس طرح کی تمنائیں بھی کی جاتی ہیں۔

شبِ وِصال بہت کم ہے، آسماں سے کہو
کہ جوڑ دے کوئی ٹکڑا شبِ جُدائی کا

اسی لیے ایک نیا زاویۂ فکر پیدا ہوا۔ وہ یہ کہ آدمی اگر زیادہ مکّاریاں کرتا ہے تو وہ گویا آسمان سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے۔ ایسے بہت سے محاورے آئے ہیں جن سے ان ذہنی رویّوں کا پتہ چلتا ہے جو آسمان سے متعلق ہیں، جیسے آسمان کے تارے توڑنا، آسمان سے باتیں کرنا، آسمان میں پیوند لگانا، آسمان پر دماغ ہونا، آسمان پر چڑھنا، آسمان کو ہلا دینا، آسمان جھانکنا یا تاکنا۔ اِس سب میں زیادہ چالاکی دکھانے، جھوٹ بولنے اور فریب دینے کا مفہوم شامل رہتا ہے۔ اِس کے کچھ دوسرے پہلو بھی ہیں جو انسانی مشکلات سے تعلق رکھتے ہیں اور انسانی زندگی پر جو آفتیں ٹوٹتی ہیں، اُن کی طرف اُن میں اشارہ مقصود ہوتا ہے، جیسے آسمان پھٹ پڑنا، آسمان ٹوٹ پڑنا، آسمان سے بلاؤں کا اُترنا۔ فارسی کا ایک شعر ہے۔

ہر بلائے کز" آسمان آید
خانۂ انوری تلاش کُند

یعنی جو بلا آسمان سے نازل ہوتی ہے، وہ انوری کا گھر تلاش کر لیتی ہے۔ یہ ہر وہ آدمی کہہ سکتا ہے۔ جس کے گھر پر زیادہ آفتیں آتی ہیں۔

آسمان سے متعلق اور بھی محاورات ہیں، جیسے آسمان سے گِرا، کھجور میں اٹکا، یعنی ایک جگہ سے کوئی مسئلہ حل بھی ہوا تو دوسری جگہ جا کر اٹک گیا۔ ایسا ہمارے انتظامی معاملات، گھریلو مسائل اور دفتری سطح کی باتوں میں اکثر ہوتا رہتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ محاورہ ہمارے معاشرے کی صورتِ حال کو سمجھنے اور محاورے کے ذریعے معاشرتی امور پر تبصرہ کرنے کے لیے ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اوپر از غیبی گولے کا ذکر آیا ہے۔ "آسمانی گولا"، "آسمانی تھپیڑا" بھی اسی کو کہتے ہیں۔ آسمان کے متعلق اور بھی کچھ محاورے ہماری زبان کا حصہ ہیں۔ اُن میں"آسمان تلے آنا" بھی ہے۔

آسن

بیٹھنے کے انداز کو کہتے ہیں۔ جوگی دھیان، گیان کے وقت ایک خاص انداز سے بیٹھتے ہیں۔ اس کو"آسن لگانا" کہتے ہیں۔ اگر وہ اپنی جگہ پر نہ رہے تو اسے"آسن ڈگنا" کہتے ہیں۔ "آسن مارنا" یا"آسن مارکر بیٹھنا" آسن لگانے ہی کے معنی میں آتا ہے۔ جنسیات میں ایک خاص طریقے سے ایک دوسرے کے قریب آنے کو بھی آسن لگانا کہا جاتا ہے۔ "آسن تلے آ جانا" بھی اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

اَش اَش کرنا (عش عش کرنا)

یہ محاورہ"ع" سے عش عش کرنے کی صورت بھی آتا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ کسی ایسی زبان سے ماخوذ ہے جس میں"ع" کا استعمال ہوتا ہو۔ اسی لیے لغت میں اس کے ساتھ چھوٹی"ہ"، "ف" اور"ع" کی علامتیں لکھی ہوئی ہیں، یعنی یہ ہندی، فارسی اور عربی تینوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس سے ہم اپنی زبان کے لِسانی رشتوں کا پتہ چلا سکتے ہیں۔ محاورہ زبان کی قدامت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ اِس اعتبار سے زبان کے سماجی رشتوں اور لسانی رابطوں کی تفہیم میں محاورہ یہ کہیے کہ غیر معمولی طور پر معاون ہوتا ہے۔

اِشتعال دینا یا اِشتعالک پیدا کرنا

غصّہ دلانے کو کہا جاتا ہے۔ لیکن لفظِ اشتعال عربی ہے اور اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ محاورہ ہم نے عربی سے اخذ کیا ہے۔ ہمارے سماجی عمل میں بھی یہ استعارہ شریک ہے۔ جان جان کر بھی ہم دوسروں کو Teaseکرتے ہیں اور ان کو غصہ دلاتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ محاورہ صرف لغت کی شے ہی نہیں ہے۔ اس کا رشتہ سماجی لسانیات سے ہے اور زبان کو ایک خاص سطح پر پیش کرنے اور سامنے لانے میں محاورہ جگہ جگہ اور معنی بہ معنی ایک خاص کردار ادا کرتا نظر آتا ہے۔ ۔ اس سے کسی بھی معاشرے کے داخلی عمل، فکری رویّے اور معاملاتی اندازِ نظر کو ہم زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ مثلاً"اشنان دھیان" ہندو معاشرے کا ایک خاص اندازِ عبادت ہے کہ وہ اشنان کرتے ہیں تو گویا سورج کو جل چڑھاتے ہیں۔ آفتاب پرستی قوموں کا بہت قدیم مذہب ہے اور اِس آفتاب پرستی کا پانی سے گہرا رشتہ ہے۔ اسی لیے اشنان کے وقت بھی سورج کا جل چڑھایا جاتا ہے۔

آفت توڑنا

آفت کے معنی مصیبت، سانحہ اور شدید پریشانی کے ہیں۔ آدمی کی زندگی میں اس طرح کے تکلیف دہ موقعے آتے رہتے ہیں کہ وہ اچانک کسی پریشانی میں مبتلا ہو جاتا ہے یا کسی دکھ کا سامنا کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہ دکھ زیادہ تر جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ وقت کی دین ہوتے ہیں مگر اس میں انسان ہمارے عزیز رشتے دار، پڑوسی، ساتھ کام کرنے والے شریک رہتے ہیں۔ انہیں کی وجہ سے یہ ہوتا بھی ہے۔ اب وہ اپنے ہوں یا غیر، وہی مصیبت کا باعث ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ"آفت ڈھاتے ہیں"، کچھ لوگ"آفت اُٹھاتے ہیں"، کچھ لوگ"آفت توڑتے ہیں"۔ کچھ لوگ اس کی وجہ سے یا کسی اچانک حادثے کے باعث"آفت رسیدہ" ہوتے ہیں، جنھیں"آفت زدہ" یا"آفت کا مارا" کہتے ہیں۔

ہمارے ہاں شاعر اپنے آپ کو سب سے زیادہ آفت زدہ یا آفت رسیدہ خیال کرتا ہے۔ اس میں غم جانا بھی شامل رہتا ہے غم جان اور بھی۔ جہان آفت خود ایسا لفظ ہے جو تہذیبی رشتوں پر روشنی ڈالتا ہے۔ اصل میں یہ لفظ"آپتی" ہے جو سنسکرت لفظ ہے۔ وہاں سے ہندوی بھاشاؤں میں آیا ہے اور فارسی میں"پ" کے بجائے"ف" آ گئی اور تشدید غائب ہو گیا اُردو نے بھی اسے فارسی انداز کے ساتھ قبول کیا جس کے ذریعے ہم زبانوں کے باہمی رشتوں کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔ ذہنوں اور زمانوں کے آپسی لین دین کو بھی۔

آفت کا پرکالہ (لپکتا ہوا شعلہ)

غیر معمولی طور سے ذہین اور شرارت پسند آدمی کو آفت کا" پرکالہ" کہتے ہیں۔ آفت کا ٹکڑا بھی اسی ذیل میں آتا ہے۔ ایک اور محاورہ آفت کی چھٹی ہے۔ چھٹی خط کو کہتے ہیں۔ اب سے کچھ زمانہ پہلے تک ڈاکیہ کو چھٹی رساں کہتے تھے۔ یعنی خط پہنچانے والا۔ چھٹی رساں کا لفظ بھی ایک ایسی ترکیب پر مشتمل تھا جس میں ایک لفظ ہندی اور دوسرا فارسی تھا۔ آفت کی چھٹی بھی اسی طرح کاترکیبی لفظ ہے جس سے ہماری زبان کی ساخت اور پرداخت کا علم ہوتا ہے۔ خط آنے پر ہمارے قصبوں اور خاص طور پر دیہات کے لوگوں میں ایک طرح کی کھلبلی سی مچ جاتی تھی۔ کہاں سے آیا ہے؟ کس نے لکھا ہے؟ کیا لکھا ہے؟ اور پھر یہ کہ اسے کون پڑھ کر سنائے؟ چٹھی میں کوئی بہت خوشی یا غم کی بات ہوتی تھی تو اسے آفت کی چٹھی سمجھا جاتا ہے۔ اب یہ رو یہ اگر محفوظ ہیں تو ہمارے اِن محاورات میں جو معاشرتی مطالعے کی کنجیاں کہہ جا سکتے ہیں۔

افرا تفری

یہ عربی لفظ ہے، اَفراط اور تفریط، یعنی بہت زیادہ اور بہت کم۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں توازن بگڑتا ہے اور چاہے وہ معاملات ہوں، مسائل ہوں، مشغولیتیں ہوں یا مصروفیات ہوں، تناسب اور توازن کے بغیر اُن کا حُسن اور اُن سے وابستہ بھلائی اور عظمت قائم نہیں رہتی اور ایک بے تکا پن پیدا ہو جاتا ہے۔ اُردو والوں نے اسی کو ایک نئے محاورے میں بدل دیا۔ اس کے تلفظ اور املا کو بھی نئی صورت دی اور اس کے معنی میں نئی جہت پیدا کی۔ اب افراتفری کے معنی ہیں گڑبڑ بھگدڑ چھینا جھپٹی اور بے ہنگم پن۔ یہی بات سماج میں خرابی کا باعث ہوتی ہے اور اُس کی قوت کو کمزوری اور خوبی کو خرابی میں بدلتی ہے۔ اس معنی میں اس مفہوم کا رشتہ انفرادی عمل سے بھی قائم ہوتا ہے اور اجتماعی اعمال سے بھی جو ہماری معاشرتی کارکردگی کی دائرے میں آتا ہے۔


افلاطون ہونا، افلاطون بننا

اَفلاطون قدیم یونان کا ایک بہت بڑا فلسفی، طبیب اور دانشور تھا۔ ارسطو اسی کا شاگرد تھا۔ افلاطونی نظریات یونانی فلسفے پر بہت اثرانداز ہوئے ہیں اور ارسطو نے اپنی تنقیدوں سے اُن کو نئی قوت اور وسعت بخشی ہے۔ اب یہ عجیب اتفاق ہے کہ ہماری زبان کے محاورے میں اَفلاطون کی عظمت کا تصور بدل گیا ہے اور ایسے لوگوں کے لیے یہ محاورہ استعمال ہونے لگا ہے جو خواہ مخواہ اپنے اوپر مغرور ہوں اور اپنی معاشرتی زندگی میں اس کا موقع بہ موقع اظہار کرتے رہتے ہوں۔ اسی لئے اَفلاطون کا سالہ اور افلاطون کا ناتی بھی محاورے میں شامل ہوئے۔ اُس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم نے کس طرح دوسرے ملکوں کے کرداروں کو اپنے یہاں جگہ دی اور اُن کی شخصیت کو اپنی طرف سے نئے معنی پہنائے۔

افواہ پھیلانا، افواہ اُڑانا

افواہ جھوٹی سچی باتوں کو کہتے ہیں۔ عام آدمی کو کسی بات میں اِس رشتے سے دلچسپی نہیں ہوتی کہ وہ بات سچی ہے یا جھوٹی غلط ہے یا صحیح مناسب ہے یا غیر مناسب وہ تو باتوں کو پھیلاتا اور ان سے اپنی دلچسپیوں کا اظہار کرتا ہے۔ غالب نے تو دہلی کے لوگوں کی ایسی باتوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ دہلی کے خبر تراشوں کا جیسا کہ دستور ہے انہوں نے اپنی طرف سے خبر اُڑا دی۔ اسی خبر اڑانے کو افواہ اڑانا کہتے ہیں۔ اس سے ہمارے معاشرے کے مزاج اور خواہ مخواہ کی باتوں سے دلچسپی کا پتہ چلتا ہے۔ مصرعہ ہے۔ اسی انداز کی ایک بات ہے۔

اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی

آکھ کی بڑھیا

"آکھی" ایک خاص طرح کا پودا ہوتا ہے جسے آک بھی کہتے ہیں۔ یہ پودا گرمی کی شدید اداؤں میں پروان چڑھتا ہے اور اُس کے پتے اور پھُول بہت تر و تازہ ہوتے ہیں۔ اس کے بیج کچھ اس طرح ہوتے ہیں کہ وہ ایک ہرے خول میں بند رہتے ہیں۔ جب وہ خول کھُلتا ہے تو چھوٹے چھوٹے بیج بالوں جیسے بہت سارے ریشوں کے درمیان ہوتا ہے جو ہوا میں اڑتے پھرتے ہیں۔ انہیں بچے پکڑتے ہیں اور پھر اپنی پھونک سے اڑا دیتے ہیں۔ ان بالوں کو اور بیج کو آک کی بڑھیا کہتے ہیں یعنی سفید بالوں والی بُڑھیا جو اڑتی پھرتی ہے۔ ایسی ہی ایک مشین بھی ہے جس میں شکر سے سفید سفید بالوں جیسا ایک گچھا پیدا ہوتا ہے۔ اسے سمیٹ لیتے ہیں۔ وہ بھی بڑھیا کے بال کہلاتے ہیں۔ یہ محاورہ جو مشینی دور تک آگیا اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے معاشرے میں بوڑھی عورت اپنے سفید بالوں کے ساتھ بچوں اور بڑوں کو کسی نہ کسی خاص معنی میں متاثر کرتی ہے۔ کہانیوں میں بھی اکثر بوڑھی عورتوں کا ذکر آتا ہے مگر شفقت و محبت کے ساتھ نہیں ایک طرح مکاری کے ساتھ۔

اُکھاڑ پچھاڑ

اکھاڑنا بھی بیشتر اچھے معنی میں نہیں آتا، جیسے اُس کو اکھاڑ دیا گیا، وہ اکھڑ گیا، اس کی جڑ اکھڑ گئی، جڑ بنیاد اکھاڑ کر پھینک دی گئی۔ یہ سب ایک طرح کے سماجی عمل ہیں اور اُن میں فرد یا جماعت کا ایسا عمل شامل ہے جو ذاتی طور پر یا جماعتی طور پر نقصان دینے والا ہو۔ یہی صورت پچھاڑ کی ہے۔ پچھڑ جانا، پچھاڑ کھانا، پچھاڑ دینا شکست دینے کے معنی میں آتا ہے یا پھر اس میں بے چینی اور ناکامی کا مفہوم شامل رہتا ہے۔

یہاں اکھاڑ پچھاڑ انہیں مطالب کا جامعہ ہے اور اس کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ بہت اکھاڑ پچھاڑ کی یا اکھاڑ پچھاڑ کھائی۔ اکھاڑ پچھاڑ مچانا بھی اسی دائرہ میں شامل ہے۔ پہلے زمانہ میں جب جھڑپیں ہوتی تھیں، لوٹ مار ہوتی تھی۔ اسی کو اکھاڑ پچھاڑ بھی کہتے تھے۔ اکھاڑ پچھاڑ مچانا اسی طرح کا عمل ہے۔ فتنہ فساد برپا کرنے والوں کو بھی اکھاڑ پچھاڑ مچانے والا کہتے تھے۔ خاندانی جھگڑے جب بڑھ جاتے تھے تو وہ بھی ایک طرح کی اکھاڑ پچھاڑ تھی جس کے ذمہ دار خاندان ہی کے لوگ ہوتے تھے۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ محاورہ بھی ایسے محاورات میں سے ہے جو سماج کی فطرت انسانی ذہنی روش اور سماجی، معاشرتی اور خاندانی تنظیم کو بگاڑ دینے کا عمل اس میں شامل ہے۔

اُکھڑی اُکھڑی باتیں کرنا

جما، جما کر باتیں کرنا ایک طرح کا سماجی عمل بھی ہے اور شخصی عادت بھی۔ اس کے مقابلے میں اکھڑی اکھڑی باتیں کرنا آتا ہے، یعنی باتوں کو بے دلی سے کرنا۔ کٹے پھٹے جملے اور بے ربط فقرے استعمال کرنا یہ ذہنی رو یہ سماجی نفسیات کا حصّہ ہوتا ہے۔ آدمی جب بیزار ہوتا ہے، بات نہیں کرنا چاہتا تو خواہ مخواہ کی بے تکی باتیں کرتا ہے، بے ربط اور بے موقع سوال و جواب کرتا ہے۔ وہی تو اکھڑی اکھڑی باتیں ہیں۔ ہمارے یہاں اس طرح کا عمل طرح طرح سے سامنے آتا ہے۔ ہم کسی بات پر توجہ دینا نہیں چاہتے، سننا نہیں چاہتے، بات کو ڈھنگ سے کہنا نہیں پسند کرتے، ٹلا دینا چاہتے ہیں، تو یہ رو یہ اختیار کرتے ہیں۔

آگا تا گا لینا

یہ ہمارے معاشرتی رویوں کا ایک نمائندہ محاورہ ہے۔ ہمارے یہاں درمیانی طبقہ اور اس میں بھی نچلا درمیانی طبقہ ذمہ داریوں سے گھبراتا ہے اور چاہتا یہ یہ کہ دوسرے ہمت کر کے آگے بڑھیں اور جو قریب تر لوگ ہیں اُن کے لئے کچھ کریں۔ مثلاً اگر ضرورت پڑے تو شرافت کے ساتھ اُن سے اچھا سلوک کریں خاطر تواضع مناسب سطح پر لین دین اور ضرورت وقت امداد و تعاون سے بھی گریز نہ کریں۔

حکومت کی طرف سے کوئی ایسا انتظام نہیں ہے یا سوسائٹی نے کوئی ایسا ادارہ قائم نہیں کیا جس میں دوسروں کی بھلائی یا وقتِ ضرورت ان کی مدد کا کوئی provision ہو اس میں زیادہ تر رشتہ دار عزیز دوست اور ہمدردی ہی کام آتے ہیں اور وہی آگا تاگا لیتے ہیں اور یہی سماجی عمل کی خوبصورتی ہے۔

آگا پیچھا دیکھنا

نفع نقصان اور اچھائی برائی پر نظر رکھنا بہت سے آدمی غیر ذمہ دار ہوتے ہیں کوئی فیصلہ کر کے یا اس پر عمل کرتے وقت انجام کو ذہن میں نہیں رکھتے جو چاہے کہہ دیتے ہیں جو چاہے کر دیتے ہیں وہ یہ کبھی غور نہیں کرتے اپنے آپ کو اس کا عادی نہیں بناتے کہ بات کا آگا پیچھا سوچ لیں احتیاط برتیں اور کسی بھی فعل کے معاملہ میں اپنی ذمہ داری کے احساس کو فراموش نہ کریں۔

آگا روکنا

آگا روکنا بھی ایک طرح کا وہ عمل ہے جو ہماری سماجی نفسیات سے گہرا رشتہ رکھتے ہیں کسی بھی معاملہ میں جو مشکلات ابتداءً پیش آتی ہیں ان کو روکنا یا روکنے میں معاون ہونا آگا ہونا روکنا کہا جاتا ہے دشمن کے حملہ کے وقت اس کے پہلے حملے کو روکنا آگا روکنا کہلاتا ہے۔
شادی میں دلہن کو لے جاتے وقت آگا روکنے کی ایک اور صورت سامنے آتی ہے وہ یہ کہ رعایا پر آیا ہے کے لوگ آ کر برات کا راستہ روکتے ہیں اس کو باڑ رکائی کہا جاتا ہے لیکن ہے وہ بھی آگا روکنا کہا جاتا ہے اور جیسا کہ اس سے پیشتر اشارہ کیا جا چکا ہے۔ بہت سے محاورہ ہماری سماجی فکر و معاشرتی عمل اور سماجی رویوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

آگ بگولہ ہونا

ایسے ملکوں کا محاورہ ہے یا ان کی زبان یا طرز بیان میں داخل ہو سکتا ہے جہاں شدت سے گرمی پڑتی ہے سخت گرم لونہیں چلتی ہوں وہیں تو بگولے آگ کا درجہ رکھتے ہوں وہیں تو بگولے آگ بگولہ کہلاتا ہے جہاں آدمی ذرا سی بات پر بھڑک رکھتا ہے اور اپنے شدید غم و غصہ پر بھڑک اٹھتا ہے اور اپنے شدید غم و غصّہ کا اظہار کرتا ہے ایک اپنے معاشرے میں جہاں تحمل اور بُرد بازی کم ہوتی ہے وہیں اس طرح کی جذباتی روشیں زیادہ سامنے آتی ہیں خواہ وہ غصّہ کے عالم میں ہوں یا غم وا لم کے جذبات سے متعلق ہوں یہاں شدتِ احساس کا غلبہ مشرقی قوموں میں زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

آگ سے متعلق ایک ہم محاورہ آگ کھائے گا انگار ے اُگلے گا یہاں آگ کوئی نہیں کھاتا لیکن مداری شعلہ اگلتے اور آگ نگلتے نظر آتے ہیں۔ یہ ایک طرح کا نظر بندی کا عمل بھی ہے۔ اور یہاں کی جادوگری کا ایک حصّہ ہے مگر اسی کے ساتھ اس کا ایک اور سماجی مفہوم ہے وہ یہ کہ آدمی جس طرح کے اعمال اختیار کرتا ہے وہی اس کے سنسکار میں جاتے ہیں جواس کے دل میں ہوتا ہے وہی زبان میں ہوتا ہے آخر ہونٹوں تک کوئی بات دل سے گزر کریا دماغ سے اُتر کر ہی آتی ہے ایسی صورت میں جس طرح کے کردار کا کوئی انسان ہو گا وہی اس کی رفتار و گفتار میں بھی سامنے آئے گا۔


آگ لگانا، آگ بجھانا، یا لگانی بجھائی کرنا

یہ سماجی عمل ہے لوگ جھوٹ بولتے ہیں فتنہ پردازیاں کرتے ہیں یہ سیاسی مقصد سے بھی ہوتا ہے سماجی مقاصد اس میں شریک رہتے ہیں۔ لوگوں کی اپنی کمینہ فطرت بھی ایسی صورت میں چاہیے افراد میں تعلقات بگاڑے جاتیں یا خاندانوں میں بہرحال وہ ایک سماجی سطح پر یہ کردار ہے۔
بعض جس کا اظہار آگ سے متعلق محاورات سے ہوتا ہے جیسے آگ بھڑکانا، یا آگ پانی کا بیر ہونا، آگ پھونکنا، آگ اگلنا، آگ لگا کر تماشہ دیکھنا، آگ دینا، آگ ہوئی تو دھواں ہو گا، وغیرہ۔
بعض محاورے عجیب و غریب ہیں جیسے آگ جوڑنا آگ روشن کرنے کی کوشش کو کہتے ہیں۔ آگ دھونا اس سے بھی زیادہ عجیب و غریب محاورہ ہے۔ چلم پر رکھنے کے لئے جب انگاروں کو جھاڑا جاتا ہے اور راکھ الگ کی جاتی ہے تو اسے آگ دھونا کہتے ہیں۔


آگے آگے چلنا، یا ہونا، آگو آگو کرنا

آگے آگے چلنا ہمارے یہاں ایک تہذیبی قدر ہے ہراول دستہ ہمیشہ آگے آگے چلتا تھا شاہی سواری کے ساتھ خیمہ بردار اور دوسرے خادم ہمیشہ آگے رہتے تھے ان کو پہلے سے خیمے چھولداریاں اور ڈیر ے لگا نے ہوتے تھے احتراما ً بزرگوں کے آگے آگے چلتے تھے۔ اور مقصد یہ ہوتا تھا کہ کسی بھی رکاوٹ دشواری اور خطرہ سے ان کو بچایا جائے۔

جہاں محاورے کے ساتھ آگوہ آگو بھی دیا گیا ہے اور آگاڑی آگاڑی کے ساتھ آگا ڑ وآگاڑ وآگاڑ بھی لکھا گیا ہے۔ یہ تلفظ راجستھانی اثرات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ لوگ"آگا" تلفظ ہویا ی کا دونوں کو و کے تلفظ میں بدل دیتے تھے اور گاڑھا کو گاڑہو کہتے ہیں اور"مارا" کو مارو کہتے ہیں۔ محاورے ہماری زبان کی قدیم شکل کو محفوظ رکھتے ہیں اس میں تلفظ املا بھی شریک ہے۔

آگے خدا کا نام

یہاں تک آ گئے آگے خُدا کا نام ہے ساقی

خدا ہمارے یہاں ایک فکری آئیڈیل ہے ہم جو عقیدتوں خیالوں" اور خوابوں میں بھی شریک رہتا ہے۔ یہاں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ہم جس انتہا تک آ گئے ہیں اِس کے بعد میں خدا کا نام ہے اور کچھ نہیں۔
معلوم ہوا کہ فکر و خیال اور سعی و عمل کی وہ حد جسے ہم نقطہ آخر کہہ سکتے ہیں وہ مقام آ چُکا ہے اور اُس کے بعد خدا کا نام ہے۔ ایک محاورہ ہے کہ ہمارے پاس کچھ نہیں سوائے خدا کے نام اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے کلمہ کے بات پھر وہیں آئی کہ صورت جو بھی ہو انتہا کو پہنچ کر ہم خدا کے نام کو سامنے رکھتے ہیں اس لئے کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ وہی اوّل ہے وہی آخر ہے نہ اس سے پہلے کچھ تھا اور نہ اس کے بعد کچھ ہے۔

آگے سے ہوتی آئی ہے

ہمارا معاشرہ بنیادی طور پر روایت پرست ہے اور انسان نے اپنی راہ ارتقاء کے مختلف مرحلوں میں سوچا ہے، سمجھا ہے، نئے فیصلے کئے ہیں، مگر معاشرہ بنیادی طور سے روایت پسند رہا ہے یہ کہنا کہ آگے سے ہوتی آئی ہے اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ہم جو کچھ سوچ رہے ہیں کر رہے ہیں وہ پہلے سے چلی آتی ہوئی ایک روایت ہے۔

ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں

یعنی اپنی سوچ کا عمل یہاں بھی موجود نہیں ہے صدیوں کا سفر آنکھ بند کر کے روایت کی لکیر پر ہوتا رہا ہے آخر اچھوں کو کیوں برا کہا جاتا رہا ہے یہ کتنا بڑا سوالیہ نشان ہے مگر ہر آدمی نے روایت کا سہار لیا خود سوچا نہیں اور یہی انسانی معاشرے کی بہت بڑی کمزوری نارسائی اور ناکامی ہے کہ اُس نے ایک بار کسی بات کو مان کر پھر اُس پر کبھی نہیں سوچا۔ اور Tradition Boundروایت پرستی پر ہمیشہ فخر کیا۔

آگے کا اُٹھا کر کھانے والا، یا آگے کا اُٹھا کے کھانا

آگے کا اُٹھاکھا کرنا یہی محاورہ دوسرے الفاظ میں بھی ملتا ہے"اوپر کا پڑا کھانا" اور ہمارے معاشرے کی شدید کمزوریوں کی طرف اِشارہ کرتا ہے یعنی بغیر محنت کے یا بغیر حق کے کھانا جو مل گیا جسے مل گیا جہاں سے مل گیا اُس سے پیٹ کی آگ بجھا لی یا اپنی کوئی بھی معاشرتی ضرورت پوری کرنا ہے معاشرے کی یا سوسائٹی کی اِس مجموعی عادت کو اِس محاورے میں پیش کیا گیا ہے جس میں ایک گہرا طنز موجود ہے۔

آگے ڈالنا

اِس کے معنی سامنے رکھنا بھی ہے اور بیوہ کی مدد کرنا بھی ہے۔ ہندوؤں میں دستور ہے کہ کسی بیوہ عورت کے گزارے کے خیال سے اُس کے عزیز رشتہ دار اُٹھاونی یا تیرہویں کے دن حسبِ مقدور کچھ روپیہ دیتے ہیں۔

اِس کے یہ معنی ہیں کہ ہماری رسمیں زندگی اور دُنیاوی معاملات سے بھی رشتہ رکھتی ہیں ضرورت اِس امر کی ہے کہ اُن کے معنی اور مقصد پر نظر رکھی جائے۔

آگے کو کان ہونا

یہاں کانوں کے آگے یا پیچھے ہونے سے مُراد نہیں ہے بلکہ آئندہ کے لئے ذہن کے ہوشیاری ہونے سے مراد ہے کہ اب جو کچھ ہم نے سنا ہے دیکھا ہے اس سے ہم نتیجہ اخذ کریں ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم لوگ آئندہ کے لئے احتیاط اور اخذ نتائج کے عمل سے اکثر محروم رہتے ہیں۔

آگے ہاتھ پیچھے پات

پات پیڑ کے پتہ کو کہتے ہیں ایسا غریب آدمی جس کے پاس تن ڈھانکنے کے لئے بھی کچھ نہ ہو یہ محاورہ اُس کے لئے ہوتا ہے ہندوستان میں سادھو سنت اور خاص طور پر پر جین مت کو ماننے والے منی ننگے رہتے ہیں۔ جو غربت کے باعث نہیں ہوتا یونان میں بعض دیوتاؤں یا قدیم انسانوں کے پرائیوٹ حصّہ جسم کو انجیر کے پتے سے ڈھکتے تھے۔ وہ ایک فنکارانہ رو یہ تھا غربت وہاں بھی شریک نہیں تھی مگر ہمارے معاشرے میں غُربت و اِفلاس کو بھی اس پس منظر میں خصوصیت سے شامل کیا گیا ہے۔

غُربت پر ہمارے یہاں بہت محاورے ہیں اُن میں ایک محاورہ یہ بھی ہے کہ اُس کے گھڑے پر پیالہ بھی نہیں ہے یا ننگی کیا نہائے کیا نچوڑے بھوکا ننگا فقیر جیسے محاورے ہمارے معاشرے کی غربت کو ظاہر کرتی ہے۔

اُلٹا توا ہونا، بے حد کالا ہونا

ہندوستان میں سانولا رنگ تو ہوتا ہی تھا اُس کی تعریف بھی کی جاتی تھی۔ لیکن زیادہ کالے رنگ کو ناپسند بھی کیا جاتا رہا ہے اسی لئے اُلٹا توا ہونا بہ حیثیت محاورے کے ہمارے ہاں رائج ہوا کہ وہ آدمی کیا ہے اُلٹا توا ہے۔ اس سے ہم یہ بھی اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ اُن لوگوں نے بطور محاورہ رائج کیا جو جو نسبتاً اچھے رنگ والے ہوتے تھے۔

اُلٹے لفظ اور مفہوم کے ساتھ بہت محاورے بنے ہیں اور ہمارے معاشرے کی ذہنی سطح کے مختلف رنگ اُس کے ذریعہ سامنے آتے ہیں مثلاً اُلٹی گنگا بہانا، بات کو الٹ پلٹ کر دیکھنا، یا دینا۔ اُلٹی سیفی پڑھنا یعنی بددعا دینا۔ اُلٹے پاؤں پھر آنا، فوری طور پر واپس لوٹ آنا، الٹے ملک کا ہونا، بے حد بیوقوف ہونا ملک کا لفظ ہماری عام زبان میں بہ طورِ علاقہ استعمال ہوتا تھا ملک اس معنی میں نہیں آتا تھا جس معنی میں اب آتا ہے۔

قوم کا لفظ بھی اپنے معنی اور مفہوم کے اعتبار سے بہت سی تبدیلیوں سے گزرا ہے ایک وقت میں وہ قبیلے خاندان اور گروہ کے معنی میں آتا تھا اب اُس کے معنی ایک خاص سیاسی اور قانونی اسٹیٹ میں رہنے والے کے ہیں۔ جسے آج ہم ہندوستانی قوم کہتے ہیں اور Nationنیشن کے معنی مراد لیتے ہیں۔

اُلٹی سانسیں آنا یا اُلٹے سانس آنا

اِس سے مراد ہے جان کنی کا عالم جب سانس اُکھڑ جاتی ہے دہلی میں اُسے" گھنگرو بجنا" کہتے ہیں کہ وہ خود ایک محاورہ ہے۔

الش کرنا

بادشاہوں یا امیروں کے لئے الگ سے جو اُن کا پسندیدہ کھانا ہوتا تھا وہ خاصہ کہلاتا تھا۔ اُس میں سب شریک نہیں ہوتے تھے امیر یا بادشاہ اُس میں سے جب بطورِ تحفہ کسی کو کچھ دیا جاتا تھا تو وہ" الش" کہلاتا تھا یہ ترکی لفظ ہے اور غالباً مغل بادشاہوں کے ساتھ آیا ہے۔


الف

حروفِ تہجی میں پہلا حرف ہے اور اِس اعتبار سے خاص معنی رکھتا ہے۔ ابتداء کو ظاہر کرتا ہے خدا کے نام یعنی"اللہ کا پہلا حرف ہے" الف اللہ" کا محاورہ ہے اور اس کے معنی سب سے الگ اور جدا۔ الِف کھینچنا گَداگری کرنے کو کہتے ہیں۔ "الف" کے ساتھ عریاں ہونے کا تصور بھی آتا ہے اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ ننگا الف تھا۔
"پُرش" ہندو فلسفہ میں خدا کو بھی کہتے ہیں"الکھ پرش" خُدا کی ذات بھی ہے اور ایسے فقیر کو بھی کہتے ہیں جو دوسروں سے آزاد اور الگ تھلگ رہتا ہو۔ ہندو کلچر میں" الکھ" کا لفظ بہت اہم اور مقدّس ہے۔ اسی لئے ایک مقدس ندی کا نام" الکھ نندا ہے"" الکھ داس" نام رکھا جاتا ہے"الکھ جگانا" یعنی جوش عقیدت پیدا کرنا۔ "آرتی اتارنا" بھجن پیش کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اِس کے علاوہ کچھ مانگنے کو بھی درویشوں کی جگہ پر" الکھ جگانا" کہتے ہیں۔

الگ پڑنا، الگ تھلک ہو جانا یا الگ تھلگ کر دیا جانا

بہت سادہ سا محاورہ ہے جواب بھی استعمال ہوتا ہے کہ میں الگ پڑ گیا۔ یہ بھی ممکن ہے اور ہوتا رہا ہے کہ کوئی گروپ یا گروہ کسی ایک آدمی کے چلنے نہ دے اور یہ بھی ہمارا ایک سماجی رو یہ ہے کہ آدمی اپنی جان بچانے کے لئے یہ کہے کہ میں اکیلا پڑ گیا تاکہ وہ الزام سے بچ جائے۔

اللہ اللہ کرنا

مسلمانوں میں ایک معاشرتی رو یہ یہ ہے کہ وہ اپنی ہر بات کو خُدا سے نسبت دیتے ہیں ایسا صوفیانہ طرزِ فکر کے تحت بھی ہوتا ہے تہذیبی رسوم و آداب کے تحت بھی اور اس میں معاشرے کی یہ ذہنی روش بھی شامل رہتی ہے کہ اس طرح وہ اپنی انفرادی یا اجتماعی بُرائی چھُپانے کے لئے معاملہ کو مذہب کی چھتر چھایا میں لے آنا چاہتے ہیں مثلاً یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اللہ کی مرضی کا چاہا ہوتا ہے بندے کا چاہا نہیں ہوتا یہ کہنے والا اِس بات کو بھول جاتا ہے کہ اُس کی ناکامی میں اُس کی غلطی کو بھی دخل ہو سکتا ہے اور دوسروں کی مکاریوں کو بھی ہم ہر بات کو سمجھنے اور سمجھانے کے لئے اسی طرح کی باتوں کا سہارا لیتے ہیں چونکہ مذہب ہماری نفسیات میں داخل ہو گیا ہے اسی وجہ سے اِس بات کا رُخ بات بات میں مذہب کی طرف پھر جاتا ہے۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تہذیبی اظہار میں یہ رو یہ کہیں کہیں بہت خوبصورتی پیدا کرتا ہے۔ مثلاً اللہ نگہبان، اللہ حافظ، اللہ اللہ کرنا یا ہونا اس کی اللہ اللہ ہو رہی ہے یعنی آخری وقت ہے اور خُدا یاد آ رہا ہے۔

دمِ واپس اب سرِ راہ ہے
عزیزو اب اللہ ہی اللہ ہے

اظہارِ تعجب کے لئے بھی اللہ اللہ کہا جاتا ہے جیسے اللہ اللہ یہ نوبت آ گئی۔ یا تم کوکسی بات سے کیا واسطہ تم تو اللہ اللہ کرو۔

اللہ آمین سے بچہ پالنا، یا اللہ آمین کا بچہ ہونا

جو بچے بہت لاڈلے ہوتے ہیں اور جن کے ساتھ خاندان یا ماں باپ کی بہت تمنائیں وابستہ ہوتی ہیں ان کے لئے کہا جاتا ہے۔

اللہ ماری یا اللہ مارا یا خُدا ماری

یہ محاورہ اُس موقع پر بولتے ہیں جہاں عورتیں نگوڑا اور موا وغیرہ بولتی ہیں یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ہے کہ کچھ محاورے ہمارے یہاں صرف عورتوں سے متعلق ہیں مرد اِس کو استعمال نہیں کرتے۔

اللہ والا، خُدا رسیدہ، بہت نیک

یہ محاورہ دہلی میں فقیر کے لئے استعمال ہوتا ہے چاہے اِسے عورت کے ساتھ وابستہ کیا جائے یا مرد کے لئے اللہ نور نام بھی ہوتا ہے لیکن جب اللہ کانور کہتے ہیں تو اس سے مراد نورانی صورت ہوتی ہے ڈاڑھی کو بھی اللہ کانور کہا جاتا ہے۔

اللہ کے گھر سے پھرنا، شدید بیماری سے واپس آنا

جس کا یہ مطلب بھی ہے کہ موت خدا سے قُربت کا ذریعہ ہے اِسی لئے یہ محاورہ بھی بولا جاتا ہے کہ وہ اللہ کو پیارا ہو گیا۔

الٰہی مہر ہونا

جس طرح سے کوئی مُہری دستاویز مصدِقہ ہوتی ہے اسی لئے جب یہ کہا جائے وہ الٰہی مہر ہے تو اِس کے معنی یہ ہیں کہ وہ رقم وہ بات وہ وعدہ نامہ ہر طرح مصدِقہ ہے۔ تصدیق شدہ ہے اور اُس سے انکار نہیں ہو سکتا۔

اللہ کا جی (جیو۔ جان) ہونا

جو آدمی بالکل سُوجھ بُوجھ سے بالکل محروم ہوتا ہے بس ایک معصوم جانور جیسا اُس کا ذہن اور اُسی کے مطابق اس کی زندگی ہوتی ہے۔ اس کو اللہ کی جی کہتے ہیں یہاں اللہ کا جیو کہنا ایک خاص تہذیبی معنی بھی رکھتا ہے وہ یہ کہ اللہ تو ہر انسان کو معصوم اور بھولا بھالا پیدا کرتا ہے یہ تو آدمی کو اُس کا ماحول اور اُس کی اپنائی ہوئی زندگی کی قدریں ہوتی ہیں جو اسے مکاری پر آماد ہ کرتی ہیں اِس لئے کہ جانداروں یا جانوروں میں تجربہ تو ان کے ذہن کو بدلتا ہے ورنہ بیشتر وہ معصوم ہوتے ہیں اور اپنی فطرت پر قائم ہوتے ہیں ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ہمارے معاشرے میں ہر بات کو کسی نہ کسی پہلو سے خدائی ہی سے نسبت دی جاتی ہے۔

اِلَّلذی نہ اُلَّلذِی، نہ اِدھر کا نہ اُدھر، الی اللذین ولا الی اللذین

دین کا نہ دنیا کا عربی زبان کے فقرہ کو اپنے محاورے میں ڈھال لینا اور اُس میں اُردو پن پیدا کر دینا ہمارے زبان دانوں کا بڑا کارنامہ ہے اور اِس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر ہم نے دوسری زبانوں اور ادبیات کے نمونوں سے کچھ حاصل کیا ہے تو اُسے اپنے طور پر اور اپنے ذہن کے سانچوں میں ڈھالا ہے۔
یہ اعتراض کہ اُردو میں تو بہت کچھ عربی فارسی یا پھر تُرکی یا تاتاری زبانوں سے آیا ہے غلط ہے ہم نے ان کے ذریعہ اپنی زبان کو زیادہ Enrich کیا ہے مختلف اعتبارات سے ترقی دی ہے اِس کو دیا نتداری اور ایک ارتقاء پذیر زبان کے تاریخی سفر سے وابستہ کرنا چاہیے محض کسی سیاسی حکمتِ عملی سے نہیں جو علمی دیانتداری کے خلاف ہے۔

آپ سے خُوب خُدا کا نام

یعنی اپنے سے اچھا تو صرف خدا کا نام ہوتا ہے۔ اس سے سماج کی اِس نفسیات کا پتہ چلتا ہے کہ ہر آدمی خود مرکزیت کا شکار ہوتا ہے کہ صرف میں سب کچھ ہوں اور مجھ سے بہتر کوئی نہیں بس خدا کا نام ہے اگر اس اعتبار سے محاوروں پر غور کیا جائے تو سماج کہ ذہن و زندگی سے کتنے پردے اٹھتے ہیں جن کے اندر ہم جھانک نہیں پاتے۔

آیا دیکھنا

معنی اپنے اوپر نظر کرنا۔ یہ اِس اعتبار سے بڑی معنی خیز بات ہے کہ انسان دوسروں کے ایک ایک عیب کو ڈھونڈتا ہے اور اپنی طرف نظر نہیں کرتا کہ وہ کیا کر رہا ہے کیوں کر رہا ہے اور خود اُس کی اپنی ذات کی اچھائیاں بُرائیاں کیا ہیں یہی محاورہ اس شکل میں بھی ہے آیا ہی آیا نظر آنا یعنی اسے اپنا وجود ہی نظر آتا ہے اور اس سے باہر کچھ نظر نہیں آتا یہاں بھی مراد خود غرضی ہے خود شناسی نہیں۔ خود شناسی میں تو اپنے آپ کو اِمکانی طور پر صحیح پیمانوں سے دیکھنا اور پرکھنا شامل ہے۔ صرف خود غرضی یا آپ اپنی پرستش کرنے کے جذبہ سے خود کچھ دیکھنا نہیں آدمی جب دوسرے کی نظر سے خود کو دیکھتا ہے تو اس نتیجہ پر بھی پہنچتا ہے اور یہ بھی محاورہ ہے" آیا ہے برا ہے" یعنی ہم ہی بُرے ہیں اور تو سب اچھے ہیں۔

اپنا خون بہانا

اِس سے مراد ہے اپنے سے قریب تر رشتہ داری (Blood Relation Ship) ہونا۔ پہلے زمانہ میں اِس کی بڑی اہمیت تھی اور اپنائیت کے ساتھ بہت سارے رشتہ جڑے ہوئے ہیں اور محاورے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں خون کا رشتہ صرف محبت کا رشتہ نہیں ہوتا مگر محاورہ میں اسے ہمیشہ کے لئے جوڑ دیا اور اس کے خلاف ہماری زندگی میں جو ہزار در ہزار واقعات اور ثبوت موجود ہیں۔ اور تلخ تجربات اس کی شہادت دے رہے ہیں لیکن ابھی تک وہ بات زبان پر آئی ہے کہ خون کا رشتہ اپنائیت کا رشتہ اسی کے ساتھ یہ محاورات ذہن میں رکھے جا سکتے ہیں کہ" اپنا مارے گا تو چھاؤں میں ڈالے گا" معلوم ہوا کہ اپنوں سے نیکیوں کی توقع رکھی جاتی ہے اسی کے ساتھ یہ محاورہ بھی ہے کہ" شکایت اپنوں ہی سے ہوتی ہے" یہ اپنے طور پر کوئی غلط بات نہیں ہے لیکن اسی کے ساتھ جب ہم یہ محاورہ دیکھتے ہیں کہ اپنوں کا کیا شکر یہ سوال یہ ہے کہ اگر اپنوں کا شکر یہ ادا نہیں کیا جاتا تو اُن سے شکایت کیوں کی جاتی ہے یہ سماج کے غلط رویوں کی طرف اشارہ ہے یہ الگ بات ہے کہ ہم نے محاوروں کو اپنے معاشرتی مطالعہ کے لئے اور اُن سے اخذ نتائج کی غرض سے کبھی اعتناء نہیں کیا۔ توجہ نہیں دی۔ اور ان سے نتیجہ اخذ نہیں کئے۔

آپادھاپی پڑنا

یعنی وہ صورت پیدا ہو جانا کہ چھینا جھپٹی ایک عام رو یہ بن جائے آپا سنبھالنا بھی ایک محاورہ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو ٹھیک ٹھاک رکھو۔ اس کے بغیر دوسرے تمہیں یا کسی کو تحسین کی نظر سے نہیں دیکھیں گے

آپے سے باہر ہونا

یہ بے حد اہم محاورہ ہے۔ اِس کے معنی ہیں اپنی حدود اور موقع کی نزاکت کونہ سمجھنا اور غصہ و غم پر قابو نہ پانا اور بے محابا اظہار کر دینا اِس میں بُرا بھلا کہنا بھی شامل ہے اور دوسرے بُرے سلوک بھی ہیں نقصان پہنچانا توڑ پھوڑ کرنا مار پیٹ کرنا عذابوں میں شامل کرنا سب ہی شامل ہے۔

اس اعتبار سے یہ نہایت اہم محاورہ ہے اور اخذ نتائج کی طرف ذہن کو مائل کرتا ہے۔ اُردو میں آپ سے متعلق بہت سے دلچسپ شعر بھی ہیں جیسے

آپ ہیں آپ، آپ سب کچھ ہیں
اور ہیں اور، اور کچھ بھی نہیں

اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ

ڈفلی چھوٹے سے ڈف کو کہتے ہیں اس کو بجایا جاتا ہے اور دوسرے سازوں کے ساتھ اس کی لے ملائی جاتی ہے۔ اِس میں کبھی کسی راگ کو بھی دخل ہو سکتا ہے بہرحال کسی بھی موسیقی سے نسبت رکھنے والی پیش کش کے لئے یہ ضروری ہے کہ جو لوگ اُس میں شامل ہوں وہ ایک دوسرے سے آواز میں آواز ملائیں جب سماج میں افراتفری پھیل جاتی ہے اور کوئی کسی کا ساتھ دینا نہیں چاہتا اپنی اپنی کہتا ہے اور اپنی سوچ کے آگے کسی کو اہمیت نہیں دیتا تو سماج بکھر جاتا ہے اور اُس کی مجموعی کوشش جو اچھے نتیجے پیدا کر سکتی ہے ان سے محروم رہ جاتا ہے اسی وقت یہ کہا جاتا ہے کہ وہاں اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ ہے۔ کسی کو کسی دوسرے کی کوئی پرواہ نہیں ہر شخص اپنی مرضی کا مالک ہے اور اپنی رائے کے آگے کسی کی بات کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ یہ سماج کا کتنا بڑا مسئلہ ہے جس سے ہم گزرتے رہے ہیں اور گزر رہے ہیں۔

اُلٹی پٹی پڑھانا

ایک قدیم محاورہ ہے جس کا اندازہ پٹی پڑھانے سے ہوتا ہے پٹی پیمانہ جیسی ایک لکڑی ہوتی ہے جس پر پہلے زمانہ میں تحریر لکھی جاتی تھی اِس طرح کی پٹیاں جنوبی ہندوستان کے مندروں میں محفوظ تھیں اور اب میوزیم اور آرکائیوز میں رکھی ہوئی ہیں پہلے یہ کتابوں اور رسالوں کی طرح پڑھانے کے کام آتی ہوں گی اسی سے یہ محاورہ بنا کہ اُس نے یہ پٹی پڑھا دی اُس کے ذریعہ سکھایا اور اُس کا اپنا مطلب سمجھایا اب ایک ناواقف آدمی کو غلط سلط بھی سمجھایا بجھایا جا سکتا ہے۔ اِسی کو الٹی پٹی پڑھانا کہتے ہیں جو غلط ارادے رکھنے والے لوگ کیا کرتے ہیں۔

"الٹی سیدھی باتیں کرنا" ایک الگ محاورہ ہے جس میں یہ پہلو چھپا ہے کہ وہ بات بیشک کرتے ہیں مگر سیدھی سچی نہیں الٹی سلٹی جو بات اُن کی سمجھ میں آتی ہے وہ کرتے ہیں نہ اُن کی عقل و تجربہ سے اِن باتوں کا کوئی تعلق ہوتا ہے یہ گویا باتیں کرنے والوں کے رو یہ پر تبصرہ ہے۔


اُلٹی گنگا پہاڑ کو، یا اُلٹی گنگا بہانا

بے تکی غلط اور اُلٹی بات کے لئے کہا جاتا ہے۔ "گنگا" پہاڑ ہی سے اُتر کر آتی ہے اور میدانوں میں رہتی ہوئی آگے بڑھتی ہے اسے پیچھے نہیں ہٹایا جا سکتا ہے ایسے موقعوں پر جب کچھ لوگ انہونی بات کرتے ہیں تو یہ محاورہ بولا جاتا ہے کہ یہ تو گنگا کے بہاؤ کو اُلٹ کر پھر پہاڑ کی طرف کر دینا چاہتے ہیں جو ممکن نہیں یہ بھی سماج کا رو یہ ہے کہ وہ جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھُوٹ ثابت کرنا چاہتا ہے اور اس میں جو بے تکاپن ہے کہے یا کرنے والوں کو اس کا خیال بھی نہیں رہتا یہ ہماری روزمرہ کی زندگی ذہنی حالت اور زمانہ کی روش پر ایک گہرا طنز ہے۔

اللہ اکبر، اللہ اکبر کرنا یا اللہ اللہ کرو یعنی اللہ کا نام لو

مسلمان سوسائٹی ہو یا ہندو سوسائٹی یا پھر سکھ سوسائٹی اُن پر مذہب کا روایتی اثر زیادہ ہے۔ یہ بات بات میں مذہب کو سامنے رکھتے ہیں اور جو بات کرتے ہیں وہ مذہب کے نام پر کرتے ہیں اِس کا ان کے عقیدے سے بھی رشتہ ہے اور تہذیبی روایت سے بھی وہ لوگ جو مذہب کو زیادہ مانتے بھی نہیں وہ بھی یہ الفاظ یہ کلمات اپنے اظہار ی سلیقے کے مطابق زیادہ مانتے ہیں مذہب کا روایتی اثر یہاں تک ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے مگر ایسی صورت میں بد اعمالیاں کیسے ہو رہی ہیں اور اس کی ذمہ داری کس پر ہے۔

اِس سے بہرحال یہ اندازہ ہوتا ہے کہ معاشرہ پر مذہب کا جو روایتی اثر ہے۔ اُس کا اظہار اس کی گفتگو، جملوں کی ساخت اور خاص طرح کے مذہبی کلمات سے بھی ہوتا ہے۔

اللہ آمین کا بچہ یا اللہ توکلی، اللہ کانور، اللہ کی جان

اللہ مارا، اللہ ہی اللہ ہے۔ اللہ کے گھر سے پھر ا ہے، خدا کے گھر سے پھرا ہے، اللہ کے لوگ، الہی مہر، الہی رات یہ تمام کلمات جو محاورے ہیں اِس طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ اس میں مذہب کا وہ روایتی Traditionalاثر ہے جو ہماری زندگی و ذہن پر مل سکتا ہے اور جس کا اظہار بات بات میں ہوتا رہتا ہے۔

اِس کے علاوہ اللہ آمین کا بچہ ہو جانا ظاہر کرتا ہے کہ بعض بچے بڑے لاڈ پیار اور دعا درود کے سایہ میں پلتے ہیں خاص طور پر ایسے خاندانوں کے لڑکے جہاں بچے بہت کم ہوتے تھے۔ یہ صورت بڑی حد تک اب بھی ہے۔

اللہ توکلی کے معنی یہ ہیں کہ آدمی کو بھروسہ کوئی نہیں ہے کہ اُس کے پاس وسیلہ بھی کوئی نہیں بس جو کچھ ہے وہ اللہ پر بھروسہ ہے کہ غیب سے جو کچھ ہو جائے تو ہو جائے گا۔ اللہ کسی کے دل میں ڈال دے گا تو کام بن جائے گا یہ بھی ہمارے معاشرے کی حالتِ مجبوری اور معذوری کے ساتھ ایک فیصلے پر پہنچنا ہے۔

اللہ اللہ کرو یعنی یہ بات ہونے والی نہیں خواہ مخواہ کی اُمید لگائے بیٹھے ہو۔ اللہ کا نور داڑھی کو بھی کہتے ہیں اور ایسے بچے کو بھی جو کم صورت ہوتا ہے کہ وہ تو اللہ کا نور ہے اُس کی قدرت کا اظہار ہے ویسے اللہ کا نور ہونا بڑی خوبیوں کی طرف اشارہ بھی ہے کہ وہ تو اللہ کے نور میں سے ایک نور ہے۔ اللہ ہی اللہ ہے جب کسی مریض کے اچھا ہونے کی کوئی اُمید نہیں ہوتی ہے تبھی یہ بات زبان پر آتی ہے کہ اُس کی اللہ اللہ ہو رہی ہے۔

اللہ مارا یا خدا مارا ہمارے محاورات میں سے ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ تم کر رہے ہو، وہ خدا کی مار ہے مگر عام طور پر یہ کلمہ محبت میں کہا جاتا ہے۔ اِس کو اللہ سنوارے کے روپ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی مریض بہت بری حالت سے واپس ہوتا ہے تو اُس کو اللہ کے گھر سے پھرنا کہتے ہیں جس کے یہ معنی ہیں کہ مر جانا اللہ کے گھر جانا ہے اللہ کو پیارا ہونا ہے۔

اللہ والے یا اللہ کے لوگ دہلی میں فقیروں کو کہتے ہیں۔ اس کے قریبی معنی رکھنے والا محاورہ اللہ کے لوگ ہیں یعنی وہ تو درویش خدا مست ہیں مل گیا تو بھی ٹھیک ہے نہ ملا تب بھی ٹھیک ہے اس معنی میں یہ تمام محاورے ہمارے معاشرے اور اس کے ایک خاص طرز فکر کے آئینہ دار ہیں۔ الہی مہر یا الہی رات بھی اسی طرز فکر کے نمائندہ محاورے ہیں۔ الٰہی رات کسی مقدس اور متبرک رات کو کہتے ہیں جیسے شبِ معراج اگرچہ الٰہی رات کا استعمال اردو میں بہت کم ہے الٰہی مہر تصدیق کرنے کے لئے مہر لگائی جاتی ہے جس کے بعد وہ تحریر یا رقم مصدقہ ہو جاتی ہے اور جب اُس پر خدا کی مہر لگ جائے گی تو اسے کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔

آنچل میں بات باندھنا

آنچل پہ بہت محاورے ہیں ان میں گرہ باندھنے کا محاورہ اِس معنی میں اہم محاورہ ہے کہ وہ آپس کے پیار کو مضبوطی بخشنے کے معنی میں آتا ہے بات کو نبھا دینے کے معنی میں اُردو کا گیت ہے اُس کے مکھڑے کے بول اُسی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

آنچل سے کیوں باندھ لیا ایک پردیسی کا پیار

آنسوں نکل پڑنا، آنسوں پونچھنا، آنسوں پینا، آنسوں ڈالنا، آنسوؤں سے منہ دھونا، آنسوؤں کا تار باندھنا۔ آنکھوں میں آنسوں آنا، آنکھوں کا ڈبڈبانا، آنکھوں کا تر ہونا

آنسوؤں ہی سے متعلق ہے۔ اور آنسوؤں سے منہ دھونا بھی اس سے ہم یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ رونے اور آنسوں بہانے کا تصور یا تاثر ہمارے ذہنوں پر کس حد تک رہا ہے اور ہمارے معاشرے نے آنسو بہانے کے ذکر میں کن کن وادروں اور نفسیاتی حالتوں کا تذکرہ کیا ہے۔

آنکھ اٹکنا، آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا، آنکھ اٹھا کر دیکھنا، آنکھ اُٹھانا، آنکھ آنا، آنکھ اونچی نہ کرنا، آنکھ بچانا، آنکھ بدلنا، آنکھ بند ہونا، آنکھ بھرکر دیکھنا، آنکھ بھوں ٹیڑھی کرنا، آنکھ پڑنا، نظر ادھر گئی، آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنا، آنکھیں پھیر لینا، آنکھوں کی ٹھنڈک، آنکھوں کا سرمہ۔ آنکھیں ٹھنڈی کرنا، آنکھیں ٹیڑھی کرنا، آنکھیں چُرانا، آنکھیں چھپانا، آنکھ سے آنکھ ملانا، آنکھیں لڑانا، ( یا آنکھ لڑنا) آنکھیں مٹکانا وغیرہ آنکھوں میں رات کاٹنا، آنکھیں پتھرانا

اِن محاورات سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کے مختلف رویوں کو جو سماجی اخلاقیات سے گہرا واسطہ رکھتے ہیں ہماری سوچ سے کیا تعلق رہا ہے۔ اور اُس پر ہمارا تبصرہ کرنا کیا کیا انداز اختیار کرتا ہے مثلاً آنکھیں پھیر لینا مطلب نکل جانے کے بعد بے مروتی اختیار کرنا۔ آنکھ بدلنا رو یہ میں تبدیلی کرنا۔ آنکھ بھر کر دیکھنا بھی ایک عام رو یہ کی طرف اشارہ ہے کہ کسی کی یہ مجال نہیں ہے کہ تمہاری طرف اس طرح دیکھے کہ اس میں احترام کا پہلو باقی نہ رہے آنکھیں چار ہونا ایک دوسرے کے دیکھنے کو کہتے ہیں مگر چار آنکھیں ہونا غیر ضروری خواہشات نہ مناسب تمناؤں اور توقعات کو دل سے لگانے اور اپنی سماجی زندگی میں داخل کرنے والی عورتوں کے لئے اکثر کہا جاتا ہے کہ اس کی چار آنکھیں ہو گئیں۔

آنکھ سے آنکھ ملانا برابری کے رشتہ کے ساتھ ایک دوسرے کو دیکھنا ہے اور آنکھ نہ ملا سکنا فرق و امتیاز یا نفسیاتی طور پر شرمندہ ہونا کہ اُس کے بعد سامنے جرأت کی ہمت نہیں ہوتی بشرطیکہ وہ غیرت شخص ہو۔

آنکھیں چرانا بھی سماجی عمل ہے اور وہی کہ نفسیاتی طور پر آدمی کسی سے آنکھ ملا کر گفتگو نہ کر سکے اور بات کو اِدھر اُدھر ٹالنا چاہے آنکھ لڑنا یا آنکھیں لڑانا عجیب و غریب انداز سے ہماری نفسیات پر روشنی ڈالتا ہے، لڑنا یا لڑانا کوئی اچھی ذہنی کیفیت نہیں ہے۔ لیکن قوم کشتی سے لیکر ہاتھیوں کی لڑائی مرغیوں کی پالی اور تیتر بٹیر کی باہمی جنگ دیکھ کر جو لوگ لطف لیتے ہوں اُن کے ہاں آنکھیں لڑانا بھی محبت کا اشارہ ہو جائے گا۔

آنکھ پھڑکنا سماج کی توہم پرستانہ فکر فرمائی کی ایک نشانی ہے کہ آنکھ پھڑک رہی ہے تو کوئی آفت آنے والی ہے اس طرح کی باتیں ہمارے معاشرے میں بہت رائج رہی ہیں۔ مثلاً بلی نے راستہ کاٹ دیا، تواب سفر منحوس ہو گیا۔ سفر میں خطرات تو تھے ہی اسی لئے سفر پر جانے والے کے بازو پر امام ضامن باندھا جاتا تھا آئینہ کے منہ پر پانی ڈالا جاتا تھا۔ اس سے اُس دور کی توہم پرستی کا کچھ نہ کچھ اندازہ ضرور ہوتا ہے۔

آنکھ پھوڑ ٹڈا ہونا دہلی کا خاص محاورہ ہے دوسری جگہوں پر استعمال نہیں ہوتا اور اچانک جو شخص تکلیف پہنچنے یا پہنچانے کا باعث بن جاتا ہے اس کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہ آنا اور دوسرے کی آنکھ کا تنکا دیکھنا بھی ہمارے سماجی رو یہ کا ایک پہلو ہے جو افسوس ناک حد تک سماجی ذہنیت کی برائی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

آنکھیں ٹھنڈی کرنا بھی بہت دلچسپ اور معنی خیز محاورہ ہے جب کسی بات کو دیکھ کر ہمارا جی خوش ہوتا ہے اور ہماری تسکین کا باعث بنتا ہے اسی کو آنکھیں ٹھنڈا ہونا کہتے ہیں۔ اس کے اریب قریب کا محاورہ کلیجہ ٹھنڈا ہونا ہے۔ میری آنکھیں ٹھنڈی اور دل خوش کہا جاتا ہے اور اس کے مقابلہ میں جو باتیں تکلیف کا باعث ہوتی ہیں ان کے لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہیں۔

"آنکھوں کی سوئیاں نکالنا" بھی کسی محنت طلب اور دقت والے کام کا انجام پا جانا ہے اسی طرح آنکھوں میں سلائی پھیرنا یا سلائی پھرنا اندھا کئے جانے کے عمل کو کہتے ہیں کہ مغلوں میں اِس کا دستور تھا کہ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو جنہیں اپاہج بنا دینا مقصود ہوتا تھا ان کی آنکھوں میں سلائی پھروا دیتے تھے مغلوں کے دور میں ایسے واقعات بہت ہوئے ہیں میر کا یہ شعر اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

شہاں کہ کُحل جواہر تھی خاکِ پا جن کی
اُنہی کی آنکھوں میں پھرتی سلائیاں دیکھیں

ہم میر کے زمانہ سے پہلے اور میر کے زمانہ میں اس طرح کے واقعات کو تاریخ کا حصہ بنتے دیکھتے ہیں اسی کی طرف یہ محاورہ اور میر کا شعر اشارہ کر رہا ہے یہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ بعض محاورے تاریخی واقعات سے بھی رشتہ رکھتے ہیں مثلاً"احسان لیجئے جہاں کا مگر احسان نہ لیجئے شاہجہاں کا۔ "

یہ کہاوت ہے اور کسی وجہ سے شاہ جہاں کے زمانہ میں رائج ہوئی ہے اسی طرح"نادر گردی مرہٹہ گردی" اور جاٹ گردی بھی محاورہ کے معنی میں آتی ہے بری صورت حال کو کہتے ہیں مگر ان کا تعلق تاریخ سے ہے جب انتظام باقی نہ رہے مگر بہرحال اس صورتِ کا تعلق تاریخ کے حقائق سے توہے۔


انگاروں پر لوٹنا، انگارے بچھانا، انگار بھرنا، انگار ے مارنا

انگارہ آگ ہی کی ایک صورت ہے اور تکلیف دہ صورت ہے وہ ہاتھوں پہ انگارے رکھنا ہویا انگاروں پر چلنا شدید عذاب کی ایک صورت ہے موت کے بعد قبر کے انگاروں سے بھرنے کے معنی بھی یہی ہیں کوئی اپنی قبر کو بھرے یا دوسرے کی بات ایک ہی ہے مسلمانوں میں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ جو عذاب آدمی کو دیا جاتا ہے وہ قبر میں دفن کرنے کے بعد ہی شروع ہو جاتا ہے اور چونکہ مسلمانوں میں عذاب کا تعلق آگ سے ہے دوزخ سے ہے اس لئے قبر میں بھی انگاروں کا ہونا شدید عذاب سے گزارنا ہے انگاروں پر لوٹنے کے معنی بھی سخت بے آرامی اور ذہنی کوفت کے ساتھ وقت گزارنا ہے۔

سماج کا رو یہ بھی کبھی کبھی ایک حساس یا مجبور آدمی کے حق میں اتنا بُرا ہوتا ہے کہ آدمی کچھ کر نہیں پاتا اور بے انتہا ذہنی کوفت اور جسمانی اذیتوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے۔

اُوپری پرائے، بھوت پریت

یہ محاورہ بھی اس معنی میں اہم ہے کہ سماجی تو اہم پرستی اور ان دیکھی باتوں سے خوف کی طرف اشارہ کرتا ہے ہم یہ کہتے ہیں ہوئے دیکھتے ہیں کہ وہ اوپری پرائے کے بہت قائل ہیں اوپری پرائے کا ڈر رہتا ہے۔

اوکھلی میں سر دینا

اوکھلی لکڑی کے اس حصّہ کو کہتے تھے جس میں کسی شئے کو ڈال کر مُسل سے کوٹا جاتا ہے اوکھلی ایک کونڈی کی طرح ہوتی ہے اب سے کچھ دنوں پہلے تک گاؤں اور قصبوں کے گھروں میں اوکھلی بنی ہوتی تھی اور مُسل رکھے رہتے تھے اور دھان اس میں کوٹے جاتے تھے جس میں چاول الگ ہو جاتے تھے۔ بھُوسی الگ ہو جاتی تھی اب ایسی کسی جگہ کے لئے یہ محاورہ استعمال ہونے لگایا یہ کہاوت کام آنے لگی جہاں تکلیف کی باتیں ہوں اور آدمی اپنے سماجی رشتوں اور ضرورتوں کے پیشِ نظر اُن کو برداشت کر لیتا ہے اور یہ کہتا نظر آتا ہے کہ جب اوکھلی میں سر دیا ہے تو مسلوں سے کیا ڈرنا۔

اونچی ناک کرنا یا ہونا، نیچی ناک کرنا یا ہونا

یہ محاورہ سماجی امتیاز اور بے امتیاز ی کے تصوّر کے گرد گھومتا ہے ناک عزت و آبرو کی علامت ہے اسی لئے ناک کٹنا بے عزت ہونے کے معنی میں آتا ہے آدمی سر اونچا کر کے چلتا ہے تو اس کی ناک بھی اونچی ہوتی ہے اگر سر نیچا کر کے چلتا ہے تو ناک بھی نیچی ہوتی ہے اس سے مراد فخر و ناز کا اظہار کرنا ہے یا عاجزی اور انکسار کو پیش کرنا ہے سر اور ناک کے محاورے انسان کی یا ہماری زبان کی سماجی نفسیات کو پیش کرتے ہیں اور اُس میں یہ اونچ نیچ ایک اعتبار ی یا اختیاری صورت ہے۔

اہلے گہلے پھرنا، خوش خوش ہونا

دہلی کا محاورہ ہے اور جب انسان کسی کامیابی یا خوشی کے موقع پر خوش خوش نظر آتا ہے تو اہلے گہلے پھرنا کہتے ہیں یہ اس کی شخصی خوشی کا اظہار ہے۔

ایرے غیرے

سماجی نفسیات کی طرف اشارہ کرنے والا ہے محاورہ غیر ناآشنا یا دُور پرے کے آدمیوں کو کہتے ہیں انسانی نفسیات میں اپنے بیگانے یا قریب اور دور کے لوگوں کی تقسیم بہت واضح رہی ہے اور آج بھی ہے اسی لئے وہ ناآشنا لوگوں کو اپنے قریب پسند نہیں کرتا۔ سیاست یا تجارت کے رشتوں کی بات دوسری ہے ورنہ" ایرے غیرے" کہہ کروہ ناآشنا اجنبیوں کا ہی تو ذکر کرتا ہے۔

ایسی تیسی میں جائے یا جاؤ

آدمی اپنی ذہنی حالتوں اور نفسیاتی کیفیتوں کا اظہار ان الفاظ یا آوازوں میں کرتا ہے۔ سیٹی بجاتا ہے یا دوسری طرح کی آوازوں سے اپنی مختلف ذہنی کیفیتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایسی تیسی ہونا اول فول بکنا اسی طرح کے حملوں یا آوازوں کا حصّہ ہے۔

ایک منہ، یا ایک زبان ہونا۔ ہزار منہ اور ہزار زبانیں ہونا

ایک منہ اور ایک زبان ہونے ہی کا ایک دوسرا رخ ہے جتنے منہ اتنی زبانیں یہ بھی اسی سلسلے کا محاورہ ہے۔ اصل میں ایک زبان کے ہونا کے یہ معنی بھی ہیں کہ سب ایک سی بات کہیں مگر سماجی معاملات میں ایسا ہوتا نہیں ہر آدمی اپنی بات الگ سوچتا اور الگ کہتا ہے منہ سے مراد چہرہ نہیں ہے بلکہ لب و زبان ہے اب جتنے آدمی ہوں گے اتنے ہی ان کے منہ ہوں گے ان کی زبانیں ہوں گی اور ان کی الگ الگ باتیں ہونگی اسی سے سماج میں الجھنیں پیدا ہوتی ہیں کہ کوئی کچھ کہتا ہے تو کوئی کچھ کہتا ہے اور یہی ذہنی خلفشار اور گفتگو میں مقصدیت کے لحاظ سے انتشار کا باعث ہوتا ہے۔

اینڈا اینڈا پھرا نا، ڈولنا

اہلا گیلا پھرنے ہی کو کہتے ہیں اور اس میں شخصی نفسیات کو زیادہ دخل ہوتا ہے اور جماعت کو کم لیکن اینڈی بینڈی باتیں کرنا دوسری بات ہے یہ وہی صورت ہے جس کو ہم اوٹ پٹانگ بات کرنا کہتے ہیں یا غلط سلط باتیں کرنے کا رو یہ جو سماجی طور پر بہت لوگوں میں ہوتا ہے۔ اینڈی بینڈی چال بھی اسی مفہوم میں آتا ہے اس لئے کہ آدمی کی چال بلکہ خود جانور کی چال اس کی ذہنی حالتوں کو ظاہر کرتی ہے۔ تیز چلنا ایک الگ مفہوم رکھتا ہے آہستہ خرامی کا مطلب الگ ہے اور اینڈی بینڈی چال دوسرے ہی معنی رکھتی ہے۔


ردیف "ب"

بات اٹھانا، بات الٹنا یا الٹ دینا، بات بنانا، بات اونچی کرنا، بات نیچی ہونا، بات کا بتنگڑ بنانا، بات بات میں ذکر کرنا، اعتراض کرنا، بڑھ گئی بات بات کچھ بھی نہ تھی۔ بات کا سرا پانا، بات کا سِرا ملنا، جتنے منہ اتنی ہی باتیں۔ بات بدلنا، بات بڑھنا یا بڑھانا، بات بڑی کرنا، بات بگاڑنا یا بگاڑ دینا، منہ سے نکلی بات کوٹھوں چڑھتی ہے، بات لگانا، بات میں سے بات نکالنا، بات نہ کرنا وغیرہ۔

گفتگو ہمارے معاشرتی رویوں کا بہت بڑا حصہ ہے ہمارے بہت سے معاملات و مسائل بات چیت کے غلط رخ یا رو یہ کی بدولت بگڑ جاتے ہیں اور بات ہی سے سنورتے ہیں کہا سنی، گالی گلوچ، برا بھلا، لڑائی جھگڑا، تناتنی آخر ہمارے معاشرتی رو یہ ہیں جن کی بنیاد اکثر بات چیت سے پڑتی ہے ہم کہیں نہ کہیں گفتگو کے طریقہ سلیقہ میں غلط ہو جاتے ہیں بات آگے بڑھتی ہے غلط رخ پر آ جاتی ہے بلکہ بات کا بتنگڑ بن جاتا ہے۔

ہم غلط طور پر اپنی بات کا پچ بھی کرتے ہیں یعنی اپنی بات کو بڑا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس میں غلط اور صحیح مناسب اور نامناسب کی حدود کو اکثر نظر انداز کر جاتے ہیں اور بات کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے بہرحال ہماری معاشرتی اور سماجی زندگی میں جو پریشانیاں ذہنی الجھنیں شکر رنجیاں اور (دوستانہ تعلقات کا بگاڑ) اور عزیزانہ رشتوں میں گرہ پڑنا یہ سب گفتگو کے الفاظ سلیقہ اور طریقہ پر قابو نہ رہنا ہوتا ہے بعض لوگوں کو صحیح الفاظ آتے بھی نہیں بعض جلدی میں غلط سلط بات کہہ جاتے ہیں اور اس سے زیادہ بُرا یہ ہوتا ہے کہ اپنی غلطی پر اڑ جاتے ہیں اور دس باتیں اور بُری ہو جاتی ہیں اور بات کو بڑھ کر جہاں نہیں پہنچنا چاہیے وہاں پہنچ جاتی ہے اور پھر سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بات کو سنبھالنا ہر آدمی کے بس میں ہو تا بھی نہیں درگزر کرنا ایک اچھا رو یہ ہے لیکن مناسب حد تک ہی برداشت کرنا چاہئیے نامناسب حد تک بات کو پہنچانا یوں بھی صحیح نہیں ہوتا۔ توازن برقرار رکھنا چاہئے۔

کبھی کبھی بات اتنی پھیلتی بگڑتی اور اُلجھتی ہے کہ بات کا سرا نہیں ملتا کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اصل مسئلہ کیا تھا، اور کیوں تھا اور کیسے تھا، بات کا سِرا پکڑنے کی کوشش ہم اکثر کرتے بھی نہیں اِس سے بھی بات الجھتی ہے اور اس کا سَمٹانا یا معاملہ سے اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ باہر آنا مشکل ہو جاتا ہے۔

بہ حیثیت مجموعی سماج کو سمجھنا ماحول کا جائزہ لینا اور صورتِ حال کا تجزیہ کرنا ایک بہت ضروری امر ہے جس سے ہم خوبصورتی کے ساتھ عہدہ بَرا ہونا بڑی بات ہوتی ہے۔ معاملہ کے تقاضوں کا خیال کرنا مسئلے کے ضروری پہلوؤں پر نظر رکھنا بات کے بے تکے پن سے بچنا سچ یہ ہے کہ بہت سی سماجی برائیوں سے بچنا ہے اور بہت سی الجھنوں سے نجات پانے کی کوشش ہے۔

بارہ باٹ کرنا یا ہونا

بارہ باٹ کرنا تیتر بتر کرنے کو کہتے ہیں جس کے بعد جمع اور ی مشکل ہو جاتی ہے اور آدمی کچھ کر نہیں پاتا سارا کنبہ بارہ باٹ ہو گیا ہے۔

بارہ بانی کا ہو جانا

ہر طرح سے صحت مند ہو جانا یہ بھی دیہات میں اکثر بولا جاتا ہے صحت مندی کے لئے بھی اور کھیت کی اچھی پیداوار کے لئے بھی اب رفتہ رفتہ محاورات غائب ہو رہے ہیں یہ محاورات بھی دیہات اور قصبات تک محدود ہو گئے ہیں۔ مثلاً دیہاتی یہ کہتے ہیں کہ ذرا سی محنت کر لو وقت پر پانی دو اور کھاد ڈالو تو تمہارے کھیت بارہ بانی کے ہو جائیں گے۔

اب یہ ظاہر ہے کہ شہر کا معاشرہ جب"کھیت کیا ر" کی زندگی سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھتا تو اُس سے نسبت رکھنے والے محاورے بھی اس کی زبان میں داخل نہیں ہیں بالکل اسی طرح جیسے بہت سے شہری محاورے جو پڑھے لکھے اور ملازمت پیشہ طبقہ میں رائج ہیں وہ ان لوگوں کی زبان میں شامل نہیں جو کھیتی باڑی اور محنت مزدوری سے تعلق رکھتے ہیں اب جیسے (دھیلی) پاولا کمانا یا پکڑنا محنت مزدوری کرنے والوں کا محاورہ ہے۔ جو لوگ باقاعدہ تنخواہ لیتے ہیں ان کا محاورہ یہ نہیں ہو سکتا روپیہ کے مقابلہ میں (دھیلی) اور"دھیلی" میں"پاولا" آٹھ آنے چار آنے کو کہتے ہیں یہ محاورہ اس وقت کی یاد دلاتا ہے جب ایک آدمی کی مزدوری آٹھ آنے روز ہوتی تھی اور وہ بھی کاریگر کی عام مزدور کو چار آنے ملتے تھے اس طرح سے محاورات میں نہ صرف یہ ہے کہ طبقاتی ذہن کی پرچھائیاں ملتی ہیں بلکہ ایک وقت میں ایک خاص طبقہ کی جو آمدنی ہوتی تھی اس کی محنت کا جو معاوضہ ملتا تھا محاورے میں اس کی طرف بھی اشارہ ہوتا تھا۔

آج بھی ہمارے یہاں روٹی، روزی، روزگار سے لگا ہوا کہنے والے موجود ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اس زبان اس فن یا اس کام کا تعلق روٹی روزی سے جوڑ دیا جائے اِس سے ان کی مُراد روپیہ پیسہ یا آمدنی کے حصول کا کوئی ذریعہ ہوتا ہے لیکن یہ الفاظ بتا رہے ہیں کہ اِس کا تعلق اس وقت کی مزدوری سے ہے جب محنت کا معاوضہ پیسوں میں نہیں روٹیوں میں ادا کیا جاتا تھا اور روز کی روٹی کہا جاتا تھا روزی دراصل روزینے کو کہتے تھے یعنی روزانہ جو کچھ ملازم یا مزدور کو ادا کیا جاتا تھا وہ اس کی روزی ہوتی تھی چار آنے روز دو آنے روز ایسا بھی ہوتا تھا کہ آٹا پیسنے والی کو پیسوں کے بجائے مزدوری میں آٹا ہی دیا جاتا تھا اور بازار سے جب چیز منگائی جاتی تھی تو روٹی بنوا لے، جو، باجرا، چنے اور گیہوں کچھ بھی دوکان پر بھیج دیا جاتا تھا اور اُس کے بدلہ میں روزمرّہ کے استعمال کی چیز آ جاتی تھی۔

"فقیر مٹھی دو مٹھی آٹا مانگتا تھا" جو ایک محاورہ ہے اور ایسا ہوتا تھا کہ صبح کے وقت جو عورتیں عام طور پر گھروں میں چکی پیستی تھیں اپنے گھر کے آٹے میں سے ایک مٹھی آٹا اُسے دے دیتی تھیں مٹھی بھر آٹا، مٹھی بھر اناج، یا مٹھی بھر چنے، یہاں تک کہ مٹھی بھر دانے خیرات یا مزدور ی کے طور پر دیئے جاتے تھے۔

ہمارا معاشرہ بدل گیا لیکن اس دور یا کسی بھی دور یا کسی بھی، معاشرے سے تعلق رکھنے والے محاورے ہم عہد یا معاصر سچائیوں کی نمائندگی اب بھی کرتے ہیں۔

بازار کے بھاؤ پیٹنا

یہ دیہات و قصبات میں بولا جانے والا محاورہ ہے مغربی یوپی میں یہ پیٹنا بولا جاتا ہے اور لغت المحاورات میں"پ" کے زبر کے ساتھ پیٹنا بھی ہے۔ لیکن بھاؤ کے ساتھ"پٹنا" عام طور پر نہیں آتا۔ بازار سے متعلق اردو میں بہت محاورہ ہیں بازار لگنا بازار میں کھڑے کھڑے بیچ دینا بازار میں کھڑے ہونا، گرم بازاری ہونا یا بازار سرد ہونا، اتوار کا بازار، پیر کا بازار، منگل کا بازار، ہفتہ کا بازار عام طور سے اس خاص بازار کو کہتے ہیں جو کسی خاص دن لگتا ہے اسی سے روزے بازار کا محاورہ نکلا ہے۔ بازار کا رنگ بھی ہمارے محاورات میں سے ہے اور بازار کی چیز بھی غالب کا شعر یاد آ رہا ہے۔

اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
جام جم سے تو مِرا جام سِفال اچھا ہے

بازاری ہزاری یا بازار کی مانگ، بازاری عورت، بازار کی زبان، بازاری رو یہ، باز ار مندا ہونا

یہ سب بھی ہمارے محاورات کا حصہ ہیں اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ بازار اس میں بکنے والی چیزیں بیچنے اور خریدنے والے لوگوں کا رو یہ زبان اور انداز بیان ہمارے معاشرے کو کس طرح متاثر کرتا رہا ہے۔ بازاریوں بھی ہمارے معاشرتی اداروں میں سے ہے اور ایک بڑا ادارہ ہے۔

بازی دینا یا کرنا، بازی کھانا، بازی لگانا یا بدلنا، بازی لے جانا

یہ سب ایسے کھیلوں سے متعلق محاورے ہیں جو مقابلہ کے لئے ہوتے ہیں اور کچھ نہ کچھ"بد" کر کھیلے جاتے ہیں، جوا اسکی نمایاں مثال ہے۔ جو قمار بازی یا جوا کھیلنے ہی کی ایک صورت ہے یہ اور اس طرح تیتر بازی ہمارے معاشرے کی وہ کھیلنے کی روشیں ہیں جن کا ذکر ہماری زبان پر آتا ہے آج کرکٹ میں گیند بازی اور بلّے بازی بیت بازی، بازی کے لفظ کے ساتھ کچھ دوسری معاشرتی روشوں کا اظہار ہے بیت بازی ایک اور طرح کا مقابلہ ہے۔

بازی ہار جانا

مقابلہ میں شکست کھا جانا، یعنی وہ بازی ہار گیا اور اس کے دعوے جھوٹے ثابت ہوئے۔ بازی لگانے کے معنی شرط لگانے کے بھی ہیں جان کی بازی لگانا بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار ہو جانا جس کوشش میں کامیابی نہ ملے اس کو بھی بازی ہارنے کا پہلو چھپا ہوتا ہے۔

بال بال بچ گیا، بال بال دشمن ہو گیا ہے۔ بال بال گنج موتی پرونا، بال بال احسان مند ہے

بال بال کئی محاوروں کا بے حد اہم جز ہے جیسے بال بال بند جانا یعنی قرض میں مبتلا ہونا اور بری طرح قرض میں گھر جانا جب کہ بال بال بچنے کے معنی خطرہ سے نکل آنے کے ہیں میرے اور نقصان کے درمیان بال برابر فرق رہ گیا اسی کو بال بال بچنا کہتے ہیں بال بال گنج موتی پرونا گویا موتیوں سے بالوں کو آراستہ کرنا ہے یہ سجانے کے عمل کو آگے بڑھانا اور اس میں طرح طرح کے تکلفات برتنا ہے۔

بارہ ایران سولہ سنگھار میں یہ بھی داخل ہے کہ بال بال موتی پروئے جائیں بال بال احسان مند ہونا بھی بے حد احسان مند ہونے کو کہتے ہیں کچھ لوگ شریف ہوتے ہیں وہ کسی کے احسان کو بہت مانتے ہیں۔

بامن (برہمن) کی بیٹی کلمہ پڑھے یا بھرے

یعنی کسی اچھی چیز کو دیکھ کر بڑے سے بڑے آدمی کا تقویٰ ٹوٹ جاتا ہے برہمن کی لڑکی کلمہ پڑھنا یہی معنی رکھتا ہے۔

بانٹیا یا بانٹے

بانٹیا کی جمع بانٹیے ہے۔ اصل میں بانٹیے کے معنی ہیں حصّہ تقسیم کرنا حق دینا اسی لئے جس کا کوئی حق نہیں ہوتا حصّہ نہیں ہوتا اُسے کہا جاتا ہے کہ تیرا کیا"بانٹیا" اور اپنے حصے حق پر لگنے کا رجحان ہمارے معاشرے میں بہت ہے۔ اور جس کا وہ حق وہ حصّہ نہیں سمجھتے اس سے کہتے ہیں کہ تمہارا کیا بانٹیا یعنی تم بولنے کا حق نہیں رکھتے یہ بندر بانٹ محاورہ میں بھی شامل ہے کہ وہاں حق حصّے کی تقسیم بددیانتی کے ساتھ ہوتی ہے کہ وہ بھی ہمارے معاشرے کا ایک رو یہ ہے۔

بانسوں اُچھلنا

بہت اونچائی تک چھلاّنگ لگانا یوں بھی بازی گر جب اوپر چھلانگ لگاتے تھے تو لچک دار بانس کے سہارے اُچھلتے تھے مطلب یہاں بڑھ چڑھ کر باتیں بنانے سے بھی ہیں جو سماج کا ایک عام رو یہ ہے۔

باؤ باندھنا، باؤ بندی، باؤ بھری کھال، باؤ بھڑکنا، باؤ پر آ جانا (اور دفاع میں ہوا بھر جانا) باؤٹا اڑانا، باؤ ڈنڈی پھرنا، باد ہوائی پھرنا، باؤ کے گھوڑے پر سوار ہونا، باؤلی دینا

باد فارسی میں ہوا کو کہتے ہیں اُسی کو ہندوی میں باؤ کہا جاتا ہے اور کہیں کہیں دونوں کو ایک ساتھ جمع بھی کر دیا جاتا ہے جیسے باد ہوائی پھرنا ہواؤں کی طرح آوارہ گردی کرنا لوگوں کے پاس جب کام نہیں ہوتا تو وہ یونہی مٹرگشت کرتے پھرتے ہیں اس سے سماج میں بے کار لوگوں کے وقت ضائع کرنے کے مشغلوں کی طرف اشارہ کرنا ہوتا ہے اُردو کا ایک شعر جو اسی مفہوم کو ظاہر کرتا ہے یہاں پیش کیا جاتا ہے۔

تیرے کوچہ میں یونہی ہے ہمیں دن سے رات کرنا
کبھی اس سے بات کرنا کبھی اُس سے بات کرنا

باؤ ہندی ہوا کو بند کرنے کا عمل ہے اور ہوا بند ہونے والی چیز نہیں ہے بُلبلے کے خول میں ہوا بند ہوتی ہے مگر کتنی دیر کے لئے یعنی یہ ایک بے اعتباری بات ہے۔ سماج میں ا س طرح کی باؤ بندی ہوتی رہتی ہے اسی کی طرف اس مصرعہ میں اشارہ ہے

باؤ بندی حباب کی سی ہے

یا یہ مصرعہ

مٹھی میں ہوا کو تھا منا کیا

وہ آدمی جو بلا وجہ موٹا ہوتا ہے اُس کے لئے کہا جاتا ہے کہ وہ تو باؤ بھری کھال ہے۔ یہ ایک طرح کی بیماری ہے۔ لیکن اس کا اِطلاق انسانی رویوں پر بھی ہوتا ہے اور یہ سماج کا مطالعہ بن جاتا ہے اسی کے ذیل میں یہ محاورے بھی آتے ہیں باؤ بھڑکنا، باؤ ڈنڈی پھرنا۔ وغیرہ۔


باہر کا ہونا باہر کر کے، باہر کرنا، باہر کی بو، باہر کی پھرنے والی، باہر والا، باہر والی

شہری لوگوں میں یہ رو یہ ہوتا ہے۔ کہ وہ باہر کے لوگوں کو پسند نہیں کرتے نہ ان کی زبان کو پسند کرتے ہیں نہ ان کے طور طریقوں کو ان کے نزدیک وہ سب باہر کی باتیں ہیں اسی لئے وہ کسی کی بات کو باہر نہیں جانے دیتے اور یہ کہتے ہیں کہ یہ محاورہ اس طرح استعمال ہوتا ہے کہ گھر سے نکلی کوٹھوں چڑھی یعنی کوئی بات اس گھر سے باہر نکلنی نہیں چاہیے۔

باہر کرنے کے معنی یہ ہیں کہ نکال کر باہر پھینک دینا اور فالتو سمجھنا نفرت کا اظہار کرنا باہر کی بُو یعنی باہر سے آنے والی روش کو اختیار کرنا یا اس کی خواہش کرنا یہ اور اس طرح کے محاورات شہری نفسیات کو سمجھنے میں بہت معاون ہوتے ہیں دہلی والے اپنی تہذیب اپنے رسم و رواج اور اپنے محاورے پر بہت ناز کرتے تھے اسی لئے وہ باہر کے لوگوں کی کسی بات کو اپنے لئے پسند نہیں کرتے تھے۔ اور ان کے یہاں مردُم بیرونِ جات کا لفظ استعمال ہوتا تھا جس کے معنی ہوتے ہیں کہ لوگ اسی لئے ان کی زبانوں پر اس طرح کے فقرہ آتے تھے کہ تم تو دلی کی ہو باہر کی نہیں ہو۔

باہر پھرنے والی عورت ان کے خیال سے عزت کے لائق نہیں ہوتی تھی ایک خاص طبقہ پردہ پر بہت زور دیتا تھا وہ دہلی سے باہر بھی تھا مگر ایک خاص طبقہ تھا سب نہیں جو باہر کی پھرنے والی عورت کو بھی برا سمجھتا تھا اور اس پر طنز کرتا تھا۔ اگر دو قدم بھی چلنا ہوتا تھا۔ تو ڈولی استعمال ہوتی تھی۔ اور تانگے میں سفر کیا جاتا تھا تو پردے باندھے جاتے تھے اور عورتیں اپنے گھر کے دروازے سے نکل کر تانگے یا ڈولی تک پردہ کروا کے جاتی تھیں اسی لئے باہر پھرنے والی بہت بری نظر سے دیکھی جاتی تھی۔

بیتی بجنا، بیتی بند ہو جانا، بیتی دکھانا

دانت منہ میں رہتے ہوئے بھی بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ ہنسنا ہو یا بولنا ہر ایک میں ایک تمیز داری اور آداب شناسی کی ضرورت ہوتی ہے بہت کھل کر ہنسنا پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ اسی لئے ٹھٹھے مارنا یا لگانا اچھے معنی میں استعمال نہیں ہوتا یہاں تک کہ دانت دکھانے کو بھی عورت کے لئے پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ یہ اس وقت کے معاشرتی آداب تھے۔ کھاتے وقت دانتوں کا بجنا بھی بہت بُرا سمجھا جاتا تھا۔ دانتوں کا سوتے میں رگڑنا بھی منحوس سمجھا جاتا ہے۔

دانت دکھانے کا محاورہ بھی برائی کے معنی میں آتا ہے کہ ذرا سی دیر میں دانت دکھا دیئے۔

بتیسی بند ہو جانا دورا پڑنا، اس میں ایک افسوس ناک صورت کی طرف اشارہ ہے کوئی طنز نہیں لیکن بتیسی دکھانے میں ہے کہ اُس کا منہ کھلا رہتا ہے اور منہ کھُلا رہنا تمیز دار ی کے خلاف ہے۔

بجلی پڑے، ٹوٹے یا گرے

یہ عورتیں کے کوسنے ہیں اور عورتوں کی زبان میں گالیاں اتنی شامل نہیں ہوتیں جتنے کوسنے شامل ہوتے ہیں یہ ہمارے معاشرے کا مزاج اور عورتوں کا اندازِ نظر ہے آسمان پر بجلی چمکتی ہے۔ لیکن پہلے اس طرح کے قصّے بہت ہوتے تھے کہ اُس پر بجلی گر گئی جس کے معنی یہ ہیں کہ اچانک وہ ایک المناک انجام سے دوچار ہوا عورتیں اپنے کوسنوں میں اس طرح کے جملوں کو شامل رکھتی تھیں۔ جس میں نقصان پہنچنے موت آنے بیمار پڑنے اور گھرکے برباد ہونے کا مفہوم شامل رہے۔

بجوگ پڑنا

ہندوی محاورہ ہے۔ اور"ویوگ" سے بنا ہے۔ جس کے معنی ہوتے ہیں۔ جدا ہو جانا یہ فراق آشنا ہونا۔ ہندوؤں میں عورت کا مرد سے جُدا ہونا ویوگ کہلاتا ہے۔ وہی بجوگ ہے یعنی تیرا شوہر تجھے چھوڑ کر چلا جائے مر جائے یا کسی بھی وجہ سے دونوں کے درمیان جُدائی واقع ہو جائے جو بہت بڑا کوسنا ہوتا ہے۔ خاندانوں میں جب آپسی اختلافات بڑھ جاتے ہیں۔ تب بھی بجوگ پڑنا کہتے ہیں یہ بھی گویا خاندان کے لئے ایک تکلیف دہ بات ہوتی ہے۔

بچن بد ہونا، بچن دینا

وَچن سنسکرت کا لفظ ہے جو ہندوی میں بچن ہو گیا ہے اور اسی سے یہ محاورے بنے ہیں اپنی بات کا پابند ہونا اور اسے اُلٹ پلٹ نہ کرنا ایک طرح کا اخلاقی رو یہ ہے بچن بد کہہ کر اسی کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ وچن دینا وعدہ کرنا کہ ہم اِس کے پابند ہیں اور ایسا کریں گے یہ اخلاقی رو یہ ہے جو سماج کی بڑائی کو ظاہر کرتا ہے۔ اور اس برائی کو بھی کہ عام لوگ اپنی بات اور اپنے وعدہ کو نبھانے کے بجائے ذرا سی دیر میں بات بدل دیتے ہیں اور مسئلے کا رُخ پھیر دیتے ہیں۔

بد لگام ہونا

بدتمیز ہونا، سرکش ہونا، زبان کا قابو میں نہ رکھنا، یہ گھوڑے کی مناسبت سے ہے لیکن اِس سے مراد انسان کی طبیعت اور کردار ہے کہ وہ کس حد تک اپنی زبان اپنی طبیعت اور اپنے عمل اور ردِ عمل پر قابو رکھتا ہے۔

بدمزاج اور بد مزاجی بھی اسی ذیل میں آتا ہے بد ذوقی، بد شوقی کی کمی صحیح مذاق کا فقدان بدکلامی وغیرہ اسی سلسلے کے محاورے ہیں ان میں طریقہ کار طرزِ عمل طرزِ گفتگو کے اعتبار سے اِن محاورات کا موقع بہ موقع استعمال اور اِطلاق ہوتا ہے۔

بُرا وقت، بُرے دن، بُری گھڑی

ہم سماجی طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ آدمی بُرا نہیں کرتا۔ برائی کا سبب تو بری گھڑی ہوتا ہے جس پر آدمی کو کوئی قابو نہیں بُری ساعت بھی اسی کو کہتے ہیں اور وہی بُرے دن ہوتے ہیں۔ جب ایک لمبا دور کسی تکلیف مصیبت یا پریشانی کے عالم میں گزرا۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اللہ بُرا وقت نہ لائے بُرے دنوں سے بچائے یا کسی بچے کے لئے کہا جاتا ہے کہ وہ بری گھڑی کی پیدا ئش ہے بات وہی ہے کہ برائیوں کی ذمہ دار بُرے دن ہیں بُرا وقت ہے بُری ساعت ہے اُس سے معاشرتی طور پر ہماری سماجی سوچ کا اندازہ ہوتا ہے کہ ہم حالات کوکس طرح سمجھتے اور کس طرح انہیں Interpretکرتے ہیں کسی بات کا مطلب نکالتے ہیں۔

بڑی چیز، بڑی روٹی، بڑا کھانا، بڑے گھرکی بیٹی، بڑا نام، بڑا بولا

اِن محاورات پر غور کیا جائے تو بڑی چیز بڑا، بڑی بات سبھی سماجی امتیازات کو ظاہر کرتے ہیں۔ بڑا کھانا اور بڑی، روٹی غریب گھرانوں کے مقابلہ میں بڑے خاندانوں ہی سے مل سکتی ہے بڑا مال بھی ہے یعنی دولت اور بہت اچھا کھانا۔

بڑے گھرکی بیٹی اُس صورتِ حال کا اظہار ہے۔ جب وہ کسی چھوٹے درجہ کے خاندان میں بیاہی جائے۔ تبھی تو اُسے بڑے گھرکی بیٹی کا طعنہ دیا جائے گا طنز کیا جائے گا اونچ نیچ کا تصور اس سے جڑا ہوا ہے۔ بڑ بولا اس شخص کو کہتے ہیں جو بہت بڑھ چڑھ کر باتیں کرتا ہے۔

بسم اللہ کرنا، بسم اللہ کا گنبد ہونا، بسم اللہ کی برکت

بسم اللہ کا گنبد ہونا جاہل آدمی کے لئے کہا جاتا ہے جو مذہب کا دعویٰ دار ہو جس کا ذہن بالکل مکتبی ہو۔ اُسے ہم ملاّئے مکتبی کہتے ہیں اور یہ بھی طنز کرتے ہیں کہ یہ تو بسم اللہ کے گنبد میں رہتے ہیں ویسے بسم اللہ پڑھ کے کھانا ایک طرح کا مذہبی اور تہذیبی رو یہ ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے۔ کہ بسم اللہ کیجئے یعنی شروع کیجئے اللہ کے نام کے ساتھ۔

بسم اللہ کی برکت کے معنی بھی یہی ہیں کہ بسم اللہ پڑھ کے کوئی کام کرو گے تو برکت ہو گی ظاہر ہے کہ یہ محاورہ مسلمانوں کا اپنا ہے۔ اور ان کی مذہبی فکر سے گہرے طور پر متاثر ہے۔ اور ہمارے سماجی عمل اکثر مذہب دھرم خاندانی بزرگوں کے اثر اور صوفیوں کے اثرات سے بھرے نظر آتے ہیں۔ بسم اللہ ہی غلط ہو گئی اس کے معنی ہوتے ہیں کہ کام کی شروعات غلط ہو گئی۔

بُغضِ الٰہی

بیر بغض رکھنا ہمارا یک محاورہ ہے۔ اور اِس کے معنی یہ ہیں کہ ہم دوسروں کی طرف سے خوامخواہ بھی دشمنی کے جذبات اپنے دل میں رکھتے ہیں۔ ان کی خوشی سے ناخوش ہوتے ہیں۔ یہ خدا واسطے کا بیر کہلاتا ہے۔ اور اسی کو بغضِ الٰہی بھی کہتے ہیں۔ اِس سے معاشرے کی اپنی کچھ برائیاں سامنے آتی ہیں کہ اختلاف بھی ان کے یہاں بسا اوقات بلاوجہ اور بے سبب ہوتا ہے۔

بغل کا دشمن، بغلی گھونسا ہونا

بغل کے ساتھ بہت سے محاورے ہیں مثلاً بغل میں بچہ شہر میں ڈھنڈورا(مُنادی) یا بغل میں کتاب اور منہ پر جہالت اِس سے مراد یہ ہے کہ بھی اور نہیں بھی بجا بے خبری ہے۔

اس سے فائدہ اٹھا کر دوسرے ہمیں دھوکے دیتے ہیں۔ اور دوست بن کر دشمنی اختیار کرتے ہیں وہی لوگ بغلی گھونسا ثابت ہوتے ہیں یا بغل کے دشمن سمجھے جاتے ہیں یہ کہا جاتا ہے کہ لوگ بغل میں گھوس کر نقصان پہنچاتے ہیں یہ بھی مکاری دغا بازی اور دھوکہ دھڑی کی ایک صورت ہے۔

بغل گرم کرنا

ایک دوسرے سے ہم آغوش ہونا۔ اور ایک ساتھ ہم خواب ہونا۔ بغل گیر ہونا۔ ایک دوسرے سے مُعانقہ کرنا گلے ملنا یہ بھی ہمارے لئے ایک دوسرے کے ساتھ محبت کا اظہار کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ مبارکباد کے وقت بھی ہم گلے ملتے ہیں۔ یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ گلے مِلنا شکوہ شکایت اور گِلہ مندیوں کا خاتمہ کر دیتا ہے۔

بکھیڑا، بکھیڑے میں پڑنا، بکھیڑنا

یہ خالص ہندوستانی محاورہ ہے اور اس کے معنی ہوتے ہیں الجھنوں میں گرفتار ہونا جھگڑے میں پڑنا۔ اختلافات کا بڑھنا اسی لئے کہا جاتا ہے۔ کہ ہم اس بکھیڑے میں پڑنا نہیں چاہتے۔

بَل بَل جانا، بَلہاری جانا

ہمارے معاشرتی رویوں کا ایک خاص انداز ہے یعنی صدقہ ہونا قربان ہو جانا، جان دینا، جان نچھاور کرنا اُسی کو بَل بَل جانا۔ بَلہاری جانا کہتے ہیں۔

بندوق بھرنا، بندوق لگانے کاندھے ہونا

بندوق بارود ی ہتھیار ہے اور حیرت ہے کہ ہم نے بارود سے متعلق بہت کم سوچا اور اسی نسبت سے ہمارے یہاں بارود ی ہتھیاروں پر محاورے بہت کم ہیں۔ ایک زمانہ میں بندوق میں بارود بھری جاتی تھی ایسی بندوقوں کو توڑے دار بندوق کہتے تھے۔ اسی سے بندوق بھرنا محاورہ بنا یعنی لڑنے کی تیاری کرنا مقابلہ پر آمادہ ہونا۔

اتنی بڑی بڑی بندوقیں ہوتی تھیں کہ آدمی اکیلے اُن کو نہیں سنبھال سکتا تھا اُن کی نالی دوسرے کے کندھے پر رکھ دی جاتی تھی یہیں سے گانے کاندھے بندوق ہونا محاورے کے طور پر آنے لگا مراد یہ ہے کہ وہ اپنا فیصلہ خود نہیں کر سکتے دوسروں کے مشورہ پر کرتے ہیں۔ بندوق کو چھُپانا بندوق چلانے کا عمل ہے کہ بندوق کا پچھلا حصہ اگر کاندھے سے ایک خاص انداز سے نہ لگایا جائے اور چھاتی کا سہارا نہ دیا جائے تو بندوق ایک دم سے دھکا لگاتی ہے۔

اُس سے بچنے کے لئے ہی بندوق کو چھُپانے کا عمل کہا جاتا ہے۔ محاورہ کے طور پر یہ زیادہ کام نہیں آتا زیادہ سے زیادہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تیار ہونے کا عمل ہے کہ فوراً ہی گولی چلا دی جائے گولی مار دینا سامنے کی بات ہے لیکن ہم بیزاری کے طور پر بھی یہ کہتے ہیں کہ اسے گولی مارو اور اس کا ذکر بھی نہ کرو۔


بوٹی بوٹی پھڑکتی ہے۔ بوٹی بوٹی کر ڈالنا، بوٹیاں چبانا، بوٹیاں چیلوں کو ڈالنا، بوٹی بوٹی تھرکنا

یہ شدید ردِ عمل اور غصہ کے اظہار کے طور پر کہتے ہیں کہ تیری بوٹیاں چبا لوں گا اس لئے کہ کچا گوشت کھانا وحشت و بربریت کی علامت ہے۔ بوٹیاں یا بوٹی بوٹی کر کے چیل کووّں کو کھلا دینا ایک بہت ہی المناک انجام ہے مرنے والے کے ساتھ شدید غصہ اور انتقام کا سلوک کرنا ہے قدیم زمانہ میں غلاموں کے ساتھ یہ سلوک ہوتا تھا اور ان کی بوٹیاں چیل کووّں کو کھلائی جاتی تھیں۔

ہم اس سے اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ بہت محاوروں کے پس منظر میں تاریخی واقعات اور روایات موجود ہیں۔ بوٹی بوٹی تھرکنا یا پھڑکنا دوسری بات ہے اس سے مراد ایک ایسی شخصیت ہوتی ہے بلکہ اکثر نوعمر کے لڑکے اور لڑکیاں ہوتی ہیں جن میں سے چُستی چالاکی اور شوخ مزاجی زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے لئے کہا جاتا ہے کہ اس کی تو بوٹی تھرکتی ہے۔

بول اٹھنا، بول بالا ہے۔ بول بالا ہونا، بول جانا، بولنے پر آنا، بولیاں بولنا، بولیاں سننا، بول سُنا

یہاں بنیادی طور پر لفظ بول کی اہمیت ہے۔ اور اس سے پتہ چلتا ہے۔ کہ ایک ایک لفظ کے کتنے معنی اور کتنے Shadesہیں اور بات میں سے بات اور نکتے میں سے نکتہ کیسے پیدا ہوتا ہے۔ بول بات چیت کے لئے بھی کہتے ہیں میٹھے بول اچھی بات چیت کے لئے بھی کہتے ہیں جو محبت اور پیار سے کی جائے اسی طرح سے طنز و تعریض سے جو بات کی جاتی ہے اور لہجہ میں سختی اور کرختگی آتی ہے اسے تلخ گفتگو گویا کڑوے بول کہتے ہیں جب کسی کی بات رکھ لی جاتی ہے مان لی جاتی ہے سرائی جاتی ہے۔ تو اسے بول بالا ہونا کہتے ہیں اور جب رعد کی جاتی ہے۔ تو اس کو نیچا ہونا کہتے ہیں۔

طرح طرح کی باتیں کرنے کو بھانت بھانت کی بولیاں کہا جاتا ہے بول اٹھا اچانک کسی بات پر بول پڑنے کو کہتے ہیں کبھی کبھی چھت ٹوٹنے لگتی ہے۔ تو اس کے لئے بطور استعارہ چھت بول جانا یعنی کڑیوں کے ٹوٹنے کی آواز پیدا ہونا۔ بڑبولا اس سے پہلے آ چکا ہے اور اپنے لئے" زمین آسمان کے قلابے ملانا" یہ سب باتیں ہمارے سماجی رویوں اور معاشرتی روشوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔

بھاگ پھوٹنا، بھاگتے کی لنگوٹی، بھاگتے بھُوت کی لنگوٹی۔ بھاگ جاگنا یا کھُلنا، بھاگ لگنا، بلّی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹنا

ہمارا معاشرہ ایک تقدیر پرست معاشرہ ہے کہ ہم تدبیر پر بھروسہ نہیں کرتے اپنی کوشش یا اجتماعی کوشش کے نتیجے پر ہمارا یقین نہیں ہوتا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہوا ہے یا ہونا ہے وہ قسمت کی وجہ سے ہوا ہے تقدیر میں یونہی تھا اس لئے ہوا ہے۔ اس کوکسی تدبیر کسی منصوبہ بند کوشش اور کاوش سے وابستہ کر کے نہیں دیکھتے یہ ہماری بنیادی سوچ ہے کہ ہم Effortsکوششوں پر بھروسہ نہیں کرتے Chancesکو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اسی وجہ سے بھاگ قسمت اور تقدیر کا لفظ بہت لاتے ہیں بھاگ پھوٹنا یعنی بدقسمتی کا پیش آنا بھاگ کھُلنا اچھی قسمت ہو جانا بلّی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹنا اچانک ایسی صورت کا پیدا ہو جانا جو فائدہ پہنچانے والی ہو۔

اِس سے ہم اس فریم ورک کا حال معلوم کر سکتے ہیں جس کے ساتھ ہماری سماجی نفسیات"ہمارے معاشرتی رویوں میں شریک ہو جاتے ہیں اسی لئے ہم لڑکی کو رخصت کرتے ہوئے یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ہم نے تو اس کے ہاتھ پیلے کر دیئے ہیں۔ اب جو تقدیر جو نصیب یعنی ہم آگے کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔

ہم اپنی زندگی میں اچھے بُرے مواقع سے بھی گزرتے ہیں جہاں قدرت بظاہر ہمیں Favourیا Disfavourکرتی ہے لیکن پورے معاشرے نے غلطی یہ کی کہ ہر بات کو تقدیر کے حوالہ کر دیا اور حالات ماحول نے انسانی روش اور رویوں پر نظر نہیں رکھی ہمارے یہاں آدمی بد دیانت بہت ہے یہاں تک کہ قرض لیا ہوا واپس نہیں دینا چاہتا جو ایک طرح کا سماجی عیب ہے۔ دوسرے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ جن کا قرض ہوتا ہے جو کچھ ملے وہی لے لو یہ آدمی کچھ دے گا تو نہیں اسی کو بھاگتے کے لنگوٹی یا بھاگتے بھُوت کی لنگوٹی کہتے ہیں۔ اصل میں یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ وہ آدمی کسی لائق نہیں ہے اور اس کے پاس کرتا پاجامہ بھی ہیں صرف لنگوٹی ہی لنگوٹی ہے۔ وہی تو چھینی جا سکتی ہے۔

بھرا بھتُولا، بھرا ُپرا، بھری بھتُولی

مغربی یوپی میں ایسے بھربتون کہتے ہیں دوسرے محاورے جواس سلسلے کے ہیں وہ وہاں رائج ہیں دہلی ہی میں رائج ہیں۔ بھرا پُرا گھرکے لئے بھی آتا ہے جس میں چیزیں بھی ہوں اور پیسے بھی اس لئے کہ ہمارے یہاں اتنی بھی ہوں اور پیسے بھی اس لئے کہ ہمارے یہاں اتنی غربت رہی ہے کہ بعض اوقات گھڑے پر پیالہ بھی نہیں ہوتا تھا تو عورتیں کہتی تھیں کہ ہم نے روٹی پر روٹی رکھ کے کھائی یعنی ہم اتنے غریب نہیں ہیں کہ ہمارے یہاں دو روٹیاں بھی نصیب نہ ہوں اب ایسے خالی گھروں کے مقابلہ میں جن کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا تھا بھرا پرا گھر مال و دولت کے اعتبار سے بڑا گھر کہلاتا تھا اور جب کبھی لڑکی کو یا کسی عزیز کو بہت کچھ دیکر رخصت کیا جاتا تھا تو کہا جاتا تھا کہ ابھی تو پھر تبول یا بھربتوں کے بھیجا تھا۔

بھرم کھُل جانا، بَھرم باقی رہنا

ہمارے ہاں بہت باتیں اصل حقیقت نہیں ہوتیں بلکہ اُن کو ظاہر اِس طرح کیا جاتا ہے کہ جیسے وہ اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہوں لیکن اِس میں واقعتاً کوئی بنیاد نہیں ہوتی تو جلدی ہی وہ بات کھُل جاتی ہے اور بھرم باقی نہیں رہتا اس کو دہلی میں ایک اور محاورے سے بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ پول پیٹی کھُل گئی اور آدمی اپنے بھرم کو باقی رکھ سکے کہ سماج کے لئے وہ بڑی بات ہوتی ہے۔

بھرے کو بھرتا ہے

یہ محاورہ بھی ہمارے سماج کی سوچ ہے اور ہوت نہ ہوت کے نتیجے میں پیدا ہوئی کہ ضرورت مند آدمی یہ سمجھتا ہے۔ کہ میں متحقق ہوں مجھے ملنا چاہیے کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے اور ملتا اسے ہے کہ جسے ضرورت نہیں ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ بھرے کو بھرا جاتا ہے ہم اکثر رشتہ داروں کے لبوں پر شکایت دیکھتے ہیں کہ وہاں تو بھرے کو بھرا جاتا ہے۔ یہ سماجی شکایت ہے یہاں تک کہ یہ شکایت خدا سے بھی ہوتی ہے۔

ہمارے یہاں نکمّہ پن بھی زیادہ تھا اور نہ انصافی بھی اسی کی وجہ سے کچھ لوگوں کے پاس ہوتا تھا اور کچھ لوگوں کے پاس بالکل نہیں ہوتا تھا۔ بعض حالتوں میں وہ اِس نہ ہوت کے خود بھی ذمہ دار ہوتے تھے۔ لیکن سمجھتے یہ تھے کہ یہ سب تو ہماری تقدیر کی بُرائی ہے ہمارا کوئی قصور نہیں اور اپنے رشتہ داروں پر اپنا حق تصور کرتے تھے پھر شکوہ شکایت کرتے تھے۔

بہشت کا جانور، بہشت کا میوہ، بہشت کی قمری، بہشت کی ہوا

بہشت مسلمانوں میں اور اس سے پیشتر عیسائیوں اور یہودیوں میں موت کے بعد کی زندگی کا ایک آئیڈیل ہے کہ وہاں راحتیں ہیں اس میں محل ہیں بہتی ہوئی نہریں پھل دار درخت ہیں اور چہکتے ہوئے پرندے ہیں ہمارے ہاں سکون و راحت آرام کا یہی تصور بھی ہے جو صحرا نشیں قوموں کا ہوتا ہے اس سے بہت سے محاورے ہمارے ہاں جیسے بہشت کی قمری حُور جنت کوثر و تسنیم، شجر طوبہ، شجرِ ممنوعہ، آدم و حوا کا بہشت میں قیام یہ سب اسی تصور کا نتیجہ ہے جس کا اثر مسلمان تہذیب پر بہت گہرا ہے۔ اس کا اثر عیسائی تہذیب پر بھی ہے مگر اتنا نہیں فردوس گم گشتہ کی بات وہاں پر زبانوں پر آتی ہے انگریزی کے مشہور شاعر ملٹن کی نظم پیراڈائس لوسٹ اور Paradise Regained پیرا ڈائس ریگینڈ نظمیں اسی کی طرف اشارہ کرنے والی شعر ی تخلیقات ہیں۔

بیٹی کا باپ

ہمارے یہاں بیٹی ہونے پر خوشی کا اظہار نہیں کیا جاتا اس کی بہت سی وجوہات ہیں اُن میں ایک بڑی وجہ بیٹی کے ساتھ اس کی سسرال والوں کا رو یہ ہے جو ایک بیٹی والے باپ کے لئے بے حد تکلیف کی بات ہوتی ہے۔

ہمارا سماج کمزور کو دباتا ہے چاہے اُس کی کمزوری اخلاقی ہو یا رشتوں کی نزاکت کے باعث ہو یا مالی اعتبار سے ہو۔ یا بے سہارا ہونے کے لحاظ سے یہاں تک کہ اگر اس کے گھر میں بیٹی ہے تو یہ بھی کمزوری ہے۔ اور اس کو بھی موقع بہ موقع داماد اس کے گھر والے برابر Exploitکرتے رہیں گے ناجائز دباؤ ڈالتے رہیں گے۔

بے چراغ کرنا، بے چراغ ہونا

چراغ خوشی کی علامت ہے اس لئے کہ وہ اندھیروں کو دور کرتا ہے۔ اور روشنیوں کو پیدا کرتا ہے۔ یہ بڑی بات ہوتی ہے۔ اسی لئے بیٹے کو اندھیرے گھرکا چراغ کہتے ہیں۔ دعاء دی جاتی ہے۔ چراغ روشن مراد حاصل اور بے چراغ ہو جانا اس کے مقابلہ میں محروم ہو جانا، بے حد نقصان کی حالت میں ہونا ویران ہو جانا، گھرکے گھر بے چراغ ہیں شہر کا شہر بے چراغ ہے۔ اردو کا ایک شعر ہے۔

روشن ہے اس طرح دلِ ویراں میں داغ ایک
اُجڑے نگر میں جیسے جلے ہے چراغ ایک

بیس بِسولے

ہمارے معاشرے میں غیر شہری یا دیہاتی طبقہ بیس تک ہی گنتی جانتا تھا اور دو بیسی یعنی چالیس تین بیسی یعنی ساٹھ اسی نسبت سے وہ وہ کھیت کو بھی بسوں میں تقسیم کرتا تھا۔ اسی لئے بیس بِسوے کہتا تھا اور اُس سے مُراد اس کا ایک حصہ ہوتا تھا۔ یہ معاشرے کے ایک خاص دور کا پیمانہ ہے۔ اور اُس معاشرے کے اپنے ماحول سے تعلق رکھتا ہے۔ جو کھیت کیار سے جُڑا ہوتا تھا۔

بیل منڈھے ہونا یا چڑھنا، بیل پڑنا، بیل بدھنا

بیل منڈھے چڑھنا، بیل کے سہارا لینے کے عمل کو کہتے ہیں اس لئے کہ بیل تیزی سے بڑھتی ہے مگر سہارا چاہتی ہے اگر سہارا نہیں ملتا تو وہ گِر پڑتی ہے اور برباد ہو جاتی ہے کسی منصوبے یا تدبیر کے کامیاب ہونے کو بڑی بات اور تقدیر کی خوبی خیال کیا جاتا ہے۔ اسی لئے جب کوئی کام ہو جاتا ہے تو یہ خیال کیا جاتا ہے۔ کہ بس تقدیر کی خوبی ہے کہ بیل منڈھے چڑھ گئی ہمارے ہاں مدد کرنے والے تو ہوتے نہیں غلط سلط مشورہ دینے والے ملتے ہیں رکاوٹوں سے بچ نکلنا یا ان پر قابو پانا بڑی بات ہوتی ہے۔ تبھی گھریلو ماحول میں اسے بیل منڈھنا کہتے ہیں۔ جو چیزیں تیزی سے آگے بڑھتی ہیں انہیں بیل بدھنا کہتے ہیں یعنی وہ بیل کی طرح پروان چڑھتی ہے یہ لڑکیوں کے لئے بھی کہا جاتا ہے کہ وہ تو بیل کی طرح بڑھتی ہیں۔

بے نمک ہونا

نمک ہمارے ہاں سالٹ (Salt) کو بھی کہتے ہیں اور اس سے کئی محاورے نکلے ہیں۔ نمک حلال اور نمک حرام اور دہلی میں ایک حویلی ایسی ہے جس کو نمک حرام کہتے ہیں اور نمک کھانے کا معنی احسان مند کے ہیں۔ کسی کی نیکی خدمت اور بھلائی کا خیال کرنے کے ہیں۔ کہ ہم نے تو اس کا نمک کھایا ہے بے نمک سالن کے معنی بے مزہ ہونے کے ہیں۔ یہاں تک کہ جس شخص کے رنگ میں ہلکی ہلکی ملاحت نہیں ہوتی حسنِ بے نمک کہتے ہیں جہانگیر نے کشمیر کے لئے لکھا ہے کہ کشمیر میں نمک نایاب ہے یہاں تک کہ اس کے حسن میں نمک نہیں ہے"حتّی کہ حنش ہم نمک نمی دارد۔ "


بیوی کا دانہ یا کونڈا، بیوی کی صحنک یا نیاز بیوی کی فاتحہ

مسلمان گھرانوں میں یہ دستور چلا آتا ہے کہ حضرت فاطمہؓ بنت رسولؐ مقبول کے نام کی فاتحہ دی جاتی ہے۔ اسے گھروں کی زبان میں بی بی کی صحنک یا بی بی کے کونڈے کہا جاتا ہے کونڈا مٹی کی بڑی تغاری کو کہتے ہیں۔ جب فاتحہ کے لئے اُس میں کچوریاں پوڑے میٹھے(گلگلے ) اور کھیر پکا کر اس پر نیاز دی جاتی ہے تو اس کو کونڈا بھرنا کہتے ہیں یہ محاورے ہماری معاشرتی زندگی اور گھریلو ماحول کی ایک خاص تصویر پیش کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جو رسم وابستہ ہے ان محاوروں سے اُس کا بھی اظہار ہوتا ہے۔

بیوی کا غلام ہونا

اب سے کچھ زمانہ پہلے تک جب بڑے گھروں کی بیٹی رخصت کی جاتی تھی تو اس کے ساتھ غلام اور باندیاں بھی دی جاتی تھیں کہ یہ آئندہ خدمت کے لئے ہیں۔ رفتہ رفتہ جاگیر داریاں ختم ہو گئیں تو یہ رسم بھی ختم ہوئی اب بیوی کے سامنے بول بھی نہیں سکتا۔ بھیگی بلی بنا رہتا ہے۔ یعنی اُس غلام کی طرح ہوتا ہے جسے اپنے مالک یا ملکہ کی طرح بی بی کے سامنے بولنے کی جرات بھی نہ ہو۔ وہ گویا بیوی کا غلام ہے۔ اِس سے ہمارے معاشرے کی ذہنی روش کا پتہ چلتا ہے۔ کہ شوہر کے مقابلہ میں وہ بیوی کو کوئی درجہ نہیں دیتا تھا۔ اور یہ اس کی مخالف ایک صورت تھی کہ بیوی اس کی آقا بن جائے اور شوہر اس کا غلام نظر آئے۔ یہ صورت حال معاشرہ پسند نہیں کرتا تھا۔ تبھی تو طنزا ً کہا گیا کہ بیوی کا غلام ہے۔


ردیف "پ"

پابوس ہونا

ہمارے یہاں قدموں کا بہت احترام کیا جاتا رہا ہے اس کا اندازہ اُن محاوروں سے ہوتا ہے جو قدموں سے نسبت کے ساتھ ہماری زبان میں رائج ہیں اور رائج رہے ہیں۔ پیر دھونا پیر دھو دھوکر پینا۔ پیروں کی دھُول ہونا۔ قدموں پر نچھاور ہونا قدم چومنا قدموں کو بوسہ دینا قدم بوس ہونا قدم چھونا قدم رنجہ فرمانا یا قدومیمنت (مبارک قدم) قدموں کی برکت قدم گاہ وغیرہ اس سے معاشرے میں احترام کے تقاضوں کی نشاندہی ہوتی ہے یہ ہند ایرانی تہذیب کا ایک مشترک رو یہ سمجھا جانا چاہیے ہمارے ہاں بزرگانِ دین کے ساتھ اور خاص طور سے صوفیوں کے ساتھ یہ رو یہ آج بھی برتا جاتا ہے کہ ان کے قدموں کو چھوتے ہیں ہندوؤں میں پنڈتوں کے لئے کہتے ہیں"پالا گن مہاراج" یعنی ہم حضور کے قدم چھوتے ہیں اور اُن پر نچھاور ہوتے ہیں جب کسی سے دوسرے کا مقابلہ کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ وہ تو اس کے قدموں کی دھول کے برابر ہے یا میں تو آپ کے قدموں کی خاک ہوں یا خاک کے برابر بھی نہیں ہوں اس لیے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ کس طرح سوچتا سمجھتا اور کرتا رہا ہے۔ غالب کاشعر یاد آتا ہے۔

کرتے ہو مجھ کو منع قدم بوس کس لئے
کیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہوں میں

یعنی آسمان کو قدم بوسی کی اجازت ہے تو مجھے کیوں نہیں ہے

پاپ چڑھنا، پاپ ہونا، پاپ کرنا، پاپ سے بچنا، پاپ کاٹنا، پاپ کھانا

اِن جیسے محاورے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سماج کچھ باتوں کو گناہ قصور اور بڑی خطاؤں کے دائرے میں رکھتا ہے اور انہیں پاپ کہتا ہے ہندوؤں میں بڑے قصور کے لئے مہا پاپ کہا جاتا ہے اور اسی نسبت سے قصور کرنے والے کو پاپی یا مہا پاپی کہہ کر یاد کیا جاتا ہے پاپ چڑھنا پاپ کے وارد ہونے کو کہتے ہیں ایسا کرنا تو پاپ کرنا ہے۔ اور اس سے بچنا چاہیے کہ ہم سے کوئی پاپ ہو جائے پاپ کا ٹنا بھی اسی ذیل میں آتا ہے کہ اپنے دفع کرو پاپ کاٹو۔

پاپڑ بیلنا، پاپڑ پیٹنا

پاپڑ ہندوستان کی کھائی جانے والی اشیاء میں ایک خاص قسم کی غذا ہے جو باریک روٹی کی طرح تیار کیا جاتا ہے پھر تل کر کھایا جاتا ہے چونکہ روٹی پکانے کے مقابلہ میں پاپڑ بیلنا ایک مشکل کام ہے دیر طلب ہے۔ اور بہت سے پاپڑ تیار کرنے میں آدمی تھک جاتا ہے۔ اسی لئے تھکا دینے والے کاموں کے سلسلے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اتنے دنوں پاپڑ بیلتا رہا کہ پاپڑ چکلہ بیلن سے تیار ہوتا ہے۔

پاپوش بھی نہ مارُوں، پاپوش پر مارنا، پاپوش سے یا پاپوش کی نوک سے، پاپوش کی برابر سمجھنا

پاپوش جُوتے کو کہتے ہیں اور ہمارے معاشرے میں جُوتی یا جُوتا صرف ایک ضرورت کی چیز نہیں ہے اس کی ایک غیر معمولی سماجی حیثیت بھی ہے اسی لئے بہت سے محاورے جُوتی اور جُوتے کے نام کے ساتھ ہماری زبان میں داخل ہیں جُوتے مارنا زبان سے ذلیل کرنا جُوتے کھانا دوسروں کے درمیان ذلیل ہونا۔

اصل میں جُوتا ہمارے ہاں ایک سماجی درجہ رکھتا ہے بہت نیچا درجہ اسی لئے جب کسی کو ذلیل کرنا ہوتا ہے تو جوتے کی نوک پر رکھنا کہتے ہیں۔ تو جوتا ایک طرح کی سماجی سزا ہے اور بڑے آدمی کی نسبت سے خدمت کرنا جوتیاں سیدھی کرنا ہیں کہ ہم نے فلاں کی جوتیاں سیدھی کیں یعنی اس کی ادنی سے ادنی خدمت سے کوئی گریز نہیں کیا۔

پاسا پڑنا، پاسا پلٹنا

پاسا چوسر کی ایک خاص طرح کی گوٹ ہوتی ہے پھینکا جاتا ہے تو اُس پر جو نشانات ہوتے ہیں اور سامنے آتے ہیں اُن کے مطابق چال چلی جاتی ہے اور اس معنی میں پانسہ پورے کھیل پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اور کھیل کا دارومدار پانسہ پڑنے پر ہوتا ہے اسی کو سماجی طور پر ہم زندگی میں استعمال کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اگر پانسہ غلط پڑا ہے تو یہ ہماری بدقسمتی ہے اور اگر صحیح ہے تو یہ خوشی کی بات ہے اور اچھی قسمت کی علامت ہے۔

پال ڈالنا

آموں کو لحاف اور گدّے کے درمیان رکھنا تاکہ وہ تیا رہو جائیں اس کو ایک سماجی محاورے کے طور پر استعمال کرنا ایک طرح سے طنز کے معنی میں آتا ہے کہ کیا ان کی پال ڈالو گے آم ڈال کا پکا بھی ہوتا ہے اور پال کا پکا اچھے اور تازہ آم کو کہتے ہیں کہ یہ ڈال کا پکا ہے اور ایسے آدمی کے لئے بھی ڈال کا پکا استعمال ہوتا ہے جو عقل مند ہو چاق چوبند ہو اور ہر طرح مُستعد ہو۔ اس سے ہمارے اس رجحان کا پتہ چلتا ہے کہ محاوروں کی صورت میں ہم اپنے عام تجربوں کو خاص معنی دیتے ہیں۔ جس سے ہماری سوچ کے سفر کا اندازہ ہوتا ہے کہ ہم نے بات کو کہاں سے اٹھایا اور کہاں پہنچایا۔

پانی پانی کرنا، پانی پانی ہونا، پانی پڑنا، پانی پھر جانا، (کون کتنے پانی میں ہے) پانی توڑنا پانی ڈالنا، پانی دکھانا، پانی دینا، پانی ڈھلنا (آنکھوں کا پانی ڈھل گیا ہے) پانی رکھنا یا بھرنا، پانی چھونا، پانی پی پی کر کوسنا، پانی پی کر ذات پوچھنا، پانی کا بتاسا یا بلبلا وغیرہ

پانی ہماری ضرورت کی چیز ہے اگر پانی نہ ہو تو زندگی بھی نہ ہو بہت محاورے پانی پر ہیں مثلاً گہرے پانی پیٹھ، گہرے پانی میں اگر اتر کر دیکھو۔ یہیں سے یہ محاورہ آیا ہے اور اس مفہوم کے ایک رخ کو ظاہر کرتا ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے کون کتنا تجربہ کار ہے کون کتنا بھرم رکھنے والا ہے۔ کون کتنا لائق ہے یا کتنا پیسہ والا ہے پانی پلانا ثواب کا کام ہے اور پیاسے کو پانی پلانا اور بھی زیادہ ثواب کا کام ہے آنحضرتؐ کو اسی لئے ساقی کوثر کہا جاتا ہے۔ کہ وہ میدان حشر میں پیاسوں کو آب کوثر پلائیں گے۔ پانی لگانا جانوروں کی گردن پر چھُری چلانے سے پہلے پانی اس لئے لگایا جاتا ہے کہ چھری آسانی سے چل جائے پانی دکھانا بھی اُس جانور کے لئے ہوتا ہے جس کو ذبح کرنے سے پہلے پانی پلایا جاتا ہے۔ پانی دینا پودوں کو سینچنا پانی پی کر کوسنا طنز کرنا ہے یعنی جس نے پانی پلایا اُسی کو کوسنے بیٹھ گئے۔ پانی پی کر ذات پوچھنا بھی اِسی طرح سے اپنی ایک روشِ فکر کا اظہار ہے کہ جس کے گھر کا پانی پی لیا اب اس کی ذات کیوں پوچھتے ہو۔ یعنی اس سے چھوت چھات برتنے کی بات کیوں کرتے ہو پانی پانی ہونا شرمندہ ہونا یعنی ندامت کے پسینے میں ڈوب جانا ہے اور پانی پانی کرنا شرمندہ کرنا ہے کہ میں نے سارا چٹھا سنا دیا اور اسے پانی پانی کر دیا ہے آنکھوں کا پانی مر جانا یا ڈھل جانا دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔ یعنی لحاظ یا س نہ رہنا ہے اور کمینہ پن اختیار کرنا۔ پانی چھوڑنا عورتوں کی زبان میں اس لیے آتا ہے کہ پکانے کے عمل میں پانی کی مقدار کا کم اور زیادہ ہونا یا پکتے وقت پانی چھوڑنا پانی کا بتاسا بلبلے کو کہتے ہیں اس طرح سے پانی سے وابستہ تصورات ہماری معاشرتی فکر کا اک اہم حصہ رہے ہیں۔

پاؤں اُکھڑنا، پاؤں اُکھاڑنا، پاؤں جمنا یا جمانا، پاؤں پڑنا، پاؤں باہر نکالنا، پاؤں ملنا، پاؤں ٹپکنا، پاؤں پسارنا، پاؤں پر سر رکھنا پاؤں میں ٹوپی پگڑی یا ڈوپٹہ ڈالنا پاؤں پاؤں چلنا یا پیادہ ہونا

پاؤں کے ساتھ جہاں چلنے کے محاورات آتے ہیں جو انسان کے اہم تجربات میں سے ہیں اس کی اہم ضرورت ہے وہاں نہ چلنے کے ساتھ بھی بہت سے محاورات وابستہ ہیں مثلاً پیڑ توڑ کر بیٹھنا پیر کی کیفیات کو ظاہر کرتے ہیں ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں بیٹھنے کے علاوہ پیروں کے جمنے اور ٹھہرے کے بارے میں محاورات انسانی کردار اور سماجی ضرورت کی طرف نئے نئے پہلوؤں سے اشارہ کرتے ہیں مثلاً قدم جمانا، قدم جمنا جیسے ہم دوسرے لفظوں میں پیر جمنا، اور پیر جمانا، کہتے ہیں یہ مستقل مزاجی کی طرف اشارہ کرنے والے محاورے ہیں جن کے مقابلہ میں قدم اکھڑنا اور قدم اکھاڑنا آتے ہیں۔ پامردی اور بہادری کے خلاف ایک صورتِ حال ہے کہ جنت میں اُن کے پاؤں اکھڑ گئے۔ اکھڑتے ہوئے نظر آئے یا اکھاڑ دیئے گئے سرپر پاؤں رکھ کر بھاگے۔ بھاگ کھڑے ہونے کی ایک نئی عجیب اور مبالغہ آمیز صورت ہے ان محاوروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیروں کے بارے میں کیا کیا سوچتے ہیں اور کس طرح سوچتے ہیں۔

قدم سے متعلق کچھ دوسرے محاورے بھی ہیں جیسے دو قدم کا فاصلہ یا قدم قدم آگے بڑھنا دو قدم چل کر ٹھہر گئے یا دو دم چل کر تو دیکھو یا پھر ہمارا آج کے دور کا محاورہ کہ انہوں نے اپنے قلم یا اور قلم کی حرکت کو کبھی رکنے نہیں دیا مستقل طور پر کام کرتے رہے جو ایک بڑا سماجی قابلِ تحسین صورت ہے پاؤں میں سر رکھنا ڈوپٹہ رکھنا، انتہائی احترام کا اظہار کرنا مگر مقصد یہ ہوتا ہے کہ قصور معاف کر دیا جائے خطا در گزر کر دی جائے چونکہ دوپٹہ پگڑی، اور ٹوپی کسی بھی شخص کا اظہار عزت ہوتا ہے اور مقصد اس عمل سے یہ ہے کہ آپ ہمیں عزت دیں بخشیں اور ہمارے قصور کو در گزر کریں یہ ایک سماجی طریقہ رسائی ہے۔

پاؤں پاؤں پھونک پھونک کر رکھنا

احتیاط سے قدم اٹھانا اور خطرات کا خیال رکھنا آج اس حد تک سمجھ میں نہیں آتا کہ کل تک جب راستہ پر خطر ے تھے قدم قدم پر خطرہ تھا دھوکہ بازی تھی ٹھگی اور ڈکیتی کا اندیشہ تھا دوستوں اور رشتہ داروں کی طرف سے بھی آدمی مشکلات میں گھر جاتا تھا اس وقت قدم پھونک پھونک رکھنا اپنے معنی اور معنویت کے اعتبار سے انسان کے سماجی رویوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

پاؤں پھیرنے جانا

یہ محاورہ خاص طور پر دہلی کی تہذیبی زندگی سے وابستہ ہے اور یہاں کی بعض رسمیں اس کی طرف اشارہ کرتی ہیں مثلاً پاؤں پھیرنے جانا، بچہ پیدا ہونے سے پہلے (نواں مہینہ) شروع ہوتے وقت لڑکی سسرال سے میکے جاتی ہے پھر ایک دو دن بعد اپنی سسرال واپس آ جاتی ہے۔ منشی چرنجی لال نے اسکے مقابلہ میں لکھا ہے کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد چلّہ نہا کر لڑکی میکے جاتی ہے کہ یہ بات تو ضرور ہے لیکن اس کو پاؤں پھیرنا نہیں کہتے۔ چلہ نہا کر میکے یا کسی قریبی رشتہ دار کے گھر جانا وہ دہلی میں الگ معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔

پاؤں پیٹ پیٹ کر مرنا، پاؤں پیٹا، پاؤں پٹخنا

یہ دوسری طرح کے محاورات ہیں اور فرد کے رو یہ سے تعلق رکھتے ہیں جب آدمی کوئی کام کرنا نہیں چاہتا اور نا خوشی کے اظہار کے لئے قدم اس طرح اٹھاتا ہے جیسے وہ پاؤں پٹخ رہا ہے پاؤں پیٹ رہا ہے اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ اظہار نا خوشی کر رہا ہے۔

نا خوشی کے ساتھ زندگی گزارنا اور ذہنی تکلیفیں اٹھاتے رہنا پاؤں پیٹ پیٹ کر مرنے یا جینے کو کہتے ہیں بات وہی ناخوشی میں مبتلا رہنے کی ہے۔

پاؤں میں مہندی لگا ہونا یا لگنا

عورتوں کا محاورہ ہے کہ مہندی وہی لگاتی ہیں اور پیروں میں جب مہندی لگائی جاتی ہے تو چلنا پھرنا بندہو جاتا ہے یہاں تک کہ وہ مہندی خشک ہو جائے۔

اور اُس کو اتار دی جائے اس کے بعد بھی ہاتھ پیروں کو دھویا نہیں جاتا تاکہ مہندی رچ جائے بہرحال جب مہندی لگی ہوتی ہے تو آنا جانا ممکن نہیں ہوتا اسی لئے طعنہ یا طنز کے طور پر کہا جاتا ہے کہ ایسا بھی کیا ہے کہ آپ نہیں آ سکتے کیا پیروں کو مہندی لگی ہے۔ یعنی آپسی معاملات میں آدمی اپنا حق یہ سمجھتا ہے کہ جب بھی وہ یاد کرے یا موقع ہو تو دوسرے کو آنا چاہیے اور اگر وہ نہیں آتا تو اس سے شکایت ہوتی ہے شکوہ کیا جاتا ہے اور اس کا اظہار مقصود ہوتا ہے کہ تم خوامخواہ کی بہانہ بازی کر رہے ہو یہ کوئی جائز بات نہیں ہے۔


پتھر برسنا، یا پتھراؤ کرنا، پتھر پڑنا

پتھر برسنا گاؤں والوں کی اصطلا ح میں اولے پڑنے کو بھی کہتے ہیں۔ "اولوں" سے فصل کا ناس ہو جاتا ہے وہ تیار ہو تب اور نہ ہو تیار تب بھی نقصان دہ ہوتے ہیں اسی لئے جب کوئی کا م خراب ہو جاتا ہے تو یہ کہتے ہیں کیا تمہاری عقل پہ پتھراؤ پڑ گئے تھے یعنی وہ کام نہیں کر رہی تھی تم سوچ نہیں پا رہے تھے پتھر برسانا پتھراؤ کرنا ہے یہ سزا دینے جنگ کرنے اور احتجاج کرنے کی ایک صورت ہے پتھراؤ کرنے کا رواج آج بھی ہے قدیم زمانہ میں اور خاص طور پر یہودیوں کے یہاں پتھر مارکر ہلاک کرنا ایک سخت سزا تھی بعض جرائم کے سلسلے میں دی جاتی تھی اسلام میں وہ منقطع ہو گئی۔

پتھر بے حس و ہلاکت ہونے کی علامت ہے اس لئے کہ بیوقوف آدمی کو بھی پتھر کہتے ہیں بے حس ہونے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آدمی کسی کے دکھ درد کو محسوس نہ کرے اس کا دل کسی کے بُرے حالات پر پسیجے بھی نہیں تو اسے بھی پتھر دل کہا جاتا ہے انتظار کرتے کرتے آنکھیں تھکن کا شکار ہو جاتی ہیں اس عمل کو بھی آنکھیں پتھرانا کہتے ہیں کہ آنکھیں پتھرا گئیں۔

پتھر چھاتی پر دھرنا یا دل پر پتھر رکھنا

بے صبر کرنا اور ایسے معاملات میں جہاں کسی شخص کے لئے صبر و ضبط کا مظاہرہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے وہاں یہ کہتے ہیں کہ دل پر پتھر رکھ کر یہ کام کیا یا اس کا فیصلہ کرنے کے لئے دل پر پتھر رکھنا پڑا وغیرہ۔ پیٹ سے پتھر باندھنا انتہائی بھوک کے عالم میں بھی صبر و ضبط سے کام لینا اور کسی سے اظہار نہ کرنا پیٹ سے پتھر باندھنا کہلاتا ہے اور مشکلات برداشت کر کے جب کوئی کام کیا جاتا ہے تو بھی یہ کہتے ہیں کہ ہم نے پیٹ سے پتھر باندھ کر یہ کام کیا ہے۔ یہ یا ایسے کاموں کے لئے تو پیٹ سے پتھر باندھنا ہوتا ہے یعنی سختیاں جھیلنا اور مشکلات برداشت کرنا۔

پُرانے مُردے اکھیڑنا

غیر ضروری باتوں کو بار بار دہرانا جن کا وقت بھی گزر چکا اور اُن کا ذکر بار بار زبان پر لانا گڑے مُردے اُکھیڑنا کہلاتا ہے یہ ہماری سماجی برائی کی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی ہم کسی کی نیکی کو یاد نہیں کرتے اس کے احسانات کو بھول جاتے ہیں اور بُرائی کو بار بار دہراتے ہیں۔ بلکہ بھولی بسری باتوں کو بھی ضرور سامنے لانا چاہتے ہیں اس محاورہ میں ایک طرح کا طنز اور اس سماجی روش کی طرف اشارہ ہے کہ ہم اچھائیوں کا اعتراف کرنے میں بے حد بخیل ہیں اور کمزوریوں، عیبوں، برائیوں کو طرح طرح سے سامنے لاتے ہیں۔

پرائی آنکھیں کام ہیں آتیں

کام تو خیر پَرائی آنکھیں بھی آ جاتی ہیں اور دوسرے لوگ اپنی آنکھوں اور اپنے ذہن کی روشنیوں اور اپنے علم کے ذریعہ ہماری مدد کر سکتے ہیں۔ اور کچھ لوگ کرتے بھی ہیں مگر محاورہ کا مقصد یہ ہے کہ آدمی اپنی آنکھوں سے ہی کام لینے پر اکثر مجبور رہنا پڑتا ہے اور یہی بہتر بھی ہے کہ اپنی عقل سے کام لے اپنی سُوجھ بُوجھ کی روشنی میں فیصلہ کرے اور اپنے ارادے کی مضبوطی کے ساتھ قدم اٹھائے ورنہ دوسروں کا مشورہ ان کی رہنمائی اور عقل گاہ گاہ گمراہی کا باعث بھی بن جاتی ہے کہ لوگ ہمیں دوست بن کر بھی تو فریب دیتے ہیں۔

پَرائے شگون کے لئے اپنی ناک کیوں کٹواتا ہے

آدمی کا حال کچھ عجیب ہے بہت سے کام وہ دوسروں سے حِرص کا رشتہ رکھنے کی وجہ سے محض لاگ کے طور پر کرتا ہے کہ تم ایسا کرتے ہو تو ہم ایسا کریں گے اور ایسی صورت میں یہ بھی نہیں سوچتا کہ جو کچھ میں دوسرے کی مخالفت کے طور پر کر رہا ہوں وہ خود میرے لئے نقصان کی بات ہے۔ بہت بڑے نقصان کی بات ہے اسی کی طرف اِس محاورے کی طرف اشارہ ہے کہ پرائے شگون کی وجہ سے اپنی ناک کیوں کٹواتے ہو۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ دیکھا دیکھی کام نہیں کرنا چاہیے اپنی عقل سے بھی کام لینا چاہیے اس میں ایک بات اور بھی قابل لحاظ ہے اور وہ شگون لینا ہے جو توہم پرستی کی ایک صور ت ہے اور قابل تعریف نہیں ہے آدمی اس کی وجہ سے بے عقل اور وہمی ہو جاتا ہے اور اپنے بُرے بھلے اور نفع و نقصان کے بارے میں بھی نہیں سوچ پاتا۔

پَرچھاواں پڑنا، پرچھاویں سے بچنا یا دُور بھاگنا

پرچھاواں پڑنا بھی اسی طرح کی ایک نفسیاتی صورتِ حال کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پرچھاواں پڑنے سے بھی آدمی کی عقل خبط ہو سکتی ہے اس کی جڑ بنیاد تو ہمارے ہاں چھوت چھات کے تصور میں ہے کہ اگر کسی آدمی پر چھائی بھی پڑ گئی تو کھانے پینے کی کوئی شئے یا پھر آدمی کا اپنا وجود ناپاک ہو گیا ہم ایسا سوچتے اور سمجھتے آئے ہیں اور یہیں سے یہ خیال پیدا ہوا کہ برے آدمی کی پرچھائیں پڑنے سے آدمی کا ا خلاق تباہ ہو جاتا ہے یعنی برے آدمی کی پرچھائیں بھی بری ہوتی ہے ہمارے معاشرتی رویوں میں موقع بہ موقع اس صورت حال کو دیکھا اور پرکھا جا سکتا ہے کہ وہ نفسیاتی طور پر اپنے سماجی رویوں میں جائز اور نہ جائز حدود کا خیال نہیں رکھتے یہ آدمی کا عام ذہن ہے اور ہمارے معاشرے کی کمزوری ہے اسی سے پرچھاویں سے بچنا یا دُور بھاگنا بن گیا۔

پردہ ڈالنا یا اٹھا دینا، پردہ پوشی، پردہ داری، پردہ ہونا

پردہ ہمارے معاشرے میں ایک غیر معمولی رجحان ہے مسلمانوں کا ایک خاص طبقہ اپنی عورتوں کو پردہ کرواتا ہے یہاں تک کہ اس میں یہ مبالغہ برتتا ہے کہ عورت کے لئے تو آواز کا بھی پردہ ہے۔
پردہ ایک حد تک ہندوؤں میں بھی رائج رہا ہے اور اب بھی ہے مگر اس شدت کے ساتھ نہیں ہے جو مسلمانوں میں پردہ داری کی رسم ملتی ہے اب اُس کا رواج کم ہو گیا ہے لیکن مسئلے مسائل کی صورت میں اب بھی جب گفتگو آتی ہے تو وہی تمام مبالغہ احتیاط اور شدت کی پرچھائیاں اس گفتگو میں ملتی ہیں۔ باتوں کو چھپُانا بھی داخل ہے اسی لئے کہتے ہیں کہ گھر کی بات باہر نہ نکلے یہ رجحان ہمارے قدیم معاشرے میں اور بھی زیادہ تھا کہ لوگ خواہ مخواہ کی باتیں کرتے ہیں اور دوسروں کی کوئی کمزور ی کوئی مجبوری یا کسی شکر رنجی کا حال اُن کو معلوم ہو جاتا ہے تو وہ اس کو بری طرح اڑاتے ہیں مشہور کرتے ہیں اسی لئے وہ محاورہ آتا ہے کہ گھر سے نکلی کوٹھوں چڑھی یا منہ سے نکلی بات پرائی ہو جاتی ہے بعض باتوں کو چھُپانا بھی ضروری ہوتا ہے کہ دوسروں کی ان باتوں کا پہنچنا اچھا نہیں لگتا ہے کہ راز داری ہماری سماجی ضرورتوں کا تقاضہ ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ ہم کتنی بات ضرورت کے تحت کرتے ہیں اور کتنی بات غیر ضروری طور پر۔

اس طرح پردہ داری ہو پردہ نشینی ہو پردہ گیری ہو یہ سب ہمارے معاشرتی رویوں کا حصّہ ہیں۔ اور اِن سے موقع بہ موقع ہماری سوچ کا اظہار ہوتا ہے راز درون پردہ جیسی ترکیبیں بھی اسی ذہنی رو یہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں پردہ ہے پردہ عام طور پر ہمارے گھروں میں بولا جا تا ہے۔

پلیتھن نکالنا یا نکلنا

گھریلو سطح کی زبان کی طرف اشارہ کرتا ہے اس کے لفظوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ محاورے چیوں کا محاورہ ہے پیلتھن نکالنا زیادہ سے زیادہ مکے یا مکیاں لگانا ہے جس سے دوسرا ادھ مرا ہو جائے میر تقی میر کا مشہور شعر ہے اور بازاری زبان کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

ہاں پلیتھن نکل گیا واں غیر
اپنی مُکیّ لگائے جاتا ہے۔

پھوٹ پڑنا یا ہونا، پھُوٹ ڈالنا

پھُوٹ کے معنی ہیں ٹوٹ پھُوٹ پیدا کرنا اختلاف کو جنم دینا ہندوستان میں ہمارے معاشرے کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم ذرا سی بات پر خفا ہو جاتے ہیں اور اپنے تعلقات میں تلخی شکر رنجی یا اختلافات کی صورت پیدا کر لیتے ہیں اور ہمارے آپسی میل جول یا اتحاد میں فرق آ جاتا ہے اُسی کو پھُوٹ پڑنا کہتے ہیں۔ بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو سکھا پڑھا کر غلط سلط مشورہ دے اختلافات پیدا کرتے ہیں اور دلوں میں پھوٹ ڈال دیتے ہیں۔ جس سے تعلقات میں اُستواری یا ہمواری باقی نہیں رہتی ہم آہنگی ختم ہو جاتی ہے۔

پھُول کھیلنا، پھُول کی جگہ پنکھڑی، پھُول نہیں پنکھڑی ہی سہی، پھُول کی چھڑی بھی نہیں لگائی۔ پھُولوں کا گہنا۔ پھُولوں کی چھڑی، پھُولوں کی سیج، پھولوں میں ملنا، پھول پان

پھول ہماری دنیا کا ایک بہت ہی خوبصورت قدرتی تحفہ ہے یہ ہماری سماجی رسموں میں بھی شریک ہے خوشی کے موقع پر خاص طور سے پھولوں کا استعمال ہوتا ہے۔ پھُولوں کا گلدستہ پیش کیا جاتا ہے ہار پہنائے جاتے ہیں پگڑی میں لگائے جاتے ہیں۔ بعض مغل بادشاہ اپنے ہاتھ میں گلاب کا پھول رکھتے تھے اکبر جہانگیر اور شاہ جہاں کی ایسی تصویریں ملتی ہیں جن میں گلاب کا پھول ان کے ہاتھ میں ہے۔ پھول دواؤں میں بھی کام آتے ہیں۔ اور فنونِ لطیفہ میں بھی اور ہماری سماجی زندگی سے ان کا ایک واسطہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنی شاعری کے علاوہ اپنے محاوروں میں پھول کو شامل رکھتے ہیں جس کا اندازہ مندرجہ بالا محاوروں سے بھی ہو سکتا ہے پھول سونگھنا یا پھول سونگھ کر جینا انتہائی کم خوراک ہونا ہے۔ پھول چننا یا موتی چننا خوشی کے موقع پر ہوتا ہے۔

دلہن کی سیج پر پھول بچھائے جاتے ہیں پنکھڑیوں کی بارش کی جاتی ہے اور خوشی کے موقع پر پھولوں کے گہنے پہنے جاتے ہیں۔ دلی میں تو گرمی کے موسم میں پھولوں کے اس طرح کے ہار بکتے ہیں جو عورتیں اپنے جوڑے میں لگاتی ہیں۔ یا کانوں میں پہنتی ہیں۔ یا ہاتھوں میں پہنتی ہیں۔ جنوبی ہندوستان میں تو مزدور عورتیں بھی عام طور سے پھول پہنتی ہیں یہیں سے محاورے تشبیہیں استعارے اور تمثیلیں پیدا ہوئی ہیں۔ پھول کا چھوٹے سے چھوٹا حصہ قابلِ قدر ہوتا ہے اور محاورے میں یہ کہتے ہیں پھول نہیں پنکھڑی صحیح بے حد اچھا سلوک کرنا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کبھی پھولوں کی چھڑی بھی نہیں ماری تمام تر ناز بردار یاں کیں وغیرہ پھولوں میں تکنا بے حد ہلکا پھلکا ہونا ہے پھول پان بھی اسی صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

پیر پھیرنے جانا

یہ کسی کی آمد کے سلسلے میں بطورِ تشکر اس کے ہاں جانے کے موقع پر بھی استعمال ہوتا ہے جیسے غالب نے ایک موقع پر کہا تھا کہ مجھے ان کا ایک آنا دینا تھا۔ ہاں ملاقات کی غرض سے کسی کے آنے کی طرف اشارہ ہے۔ علاوہ بریں دہلی میں یہ ایک خاص رسم ہے جو کسی بچے کی پیدائش سے پہلے لڑکی سُسرال سے میکے نوے مہینے آتی ہے اسے پاؤں پھیرنا بھی بولتے ہیں اس لحاظ سے خاص طور پر اس کے محاورے کی تہذیبی اہمیت ہو جاتی ہے۔

پیر نابالغ

پیر بوڑھے کو کہتے ہیں اور جب کسی آدمی کو بُڑھاپے تک عقل نہ آئے تو طنز کے طور پر اُسے پیرنا بالغ کہتے ہیں یہ مذاق اڑانے کا ایک طریقہ ہوتا ہے وہ بوڑھے ضرور ہیں مگر پیر نا بالغ ہیں اس سے ملتا جُلتا ایک اور محاورہ ہے کہ بوڑھا اور بچہ برابر ہوتا ہے یہاں اُن کمزوریوں کی طرف اشارہ ہوتا ہے جو بڑھاپے میں عود کر آتی ہیں اور آدمی بچوں جیسی باتیں کرنے لگتا ہے۔

پیندی کا ہلکا ہونا، پیندی کے بل بیٹھ جانا

جو آدمی مستقل طور پر جم کر نہیں بیٹھتا کبھی یہاں کبھی وہاں کبھی اِدھر کبھی اُدھر رہتا ہے۔ اور اس طرح مستقل مزاجی نہیں ہوتی اُس کو پیندی کا ہلکا ہونا کہتے ہیں پیٹ کا ہلکا ہونا ایک دوسری صورت ہے اور اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ کسی بات کا ہضم نہیں کر سکتا بلکہ کہہ ڈالتا ہے۔ وہ پیٹ کا ہلکا کہلاتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہمارے ہاں مستقل مزاجی ایک بڑی صفت ہے اور جو آدمی مستقل مزاجی سے کام نہیں لیتا اور کسی بات پر نہیں جمتا اُسے آدمی کا ہلکا پن کہا جاتا ہے یہاں تک کہ جو بات گمبھیر نہیں ہوتی اسے بھی ہلکی بات کہا جاتا ہے۔

پیوند ہماری اوقات ہے

غریبی میں اکثر آدمی پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنتا ہے اور کبھی کبھی تو پیوند پر پیوند لگانے کی ضرورت پیش آ جاتی ہے۔ اس میں کسی آدمی کی مالی حیثیت بھی شریک رہتی ہے۔ اور وہی اُس کا سوشل اسٹیٹس بن جاتا ہے۔ بعض پھل پھول پیوند لگا کر ہی تیار کئے جاتے ہیں۔ وہ اک الگ طریقہ ہے اور اُس کا سماجی رتبہ سے کوئی تعلق نہیں ہے جیسے پیوندی آم یا پیوندی بیر وغیرہ۔


ردیف "ت"

تاک لگانا، تاک میں رہنا

تاک کے معنی ہیں دیکھنا تکنا ہم بولتے ہی ہیں کہ وہ دیر تک تکتا رہا تاک جھانک اسی سے بنا ہے میر تقی میر کا مصرعہ ہے۔

تاکنا جھانکنا کبھو نہ گیا

یعنی جب موقع ملا دیکھ لیا نظر ڈال لی چوری چھپے دیکھنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس سے سماجی رو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ کس طرح بعض سوالات خیالات اور تمنائیں ہمارے دل سے الجھی رہتی ہیں اور ہم ان کے نظر بچا کر یا چوری چھُپے کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں اُردو شاعری میں حسن و عشق کے معاملات کے لئے اس طرح کی باتیں اکثر گفتگو میں آتی رہتی ہیں۔

تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی

یہ ایک قدرتی عمل بھی ہے لیکن ہم نے اس کو ایک سماجی عمل کے طور پر دیکھنے اور پرکھنے کی کوشش کی اور بظاہر کیا کہ کسی بات کی ذمہ داری بشرطیکہ اس میں خرابی کا کوئی پہلو ہو کسی ایک آدمی پر نہیں ہوتی وہ عمل دو طرفہ ہوتا ہے اور دوسرا کوئی شخص یا فریق بھی اس میں شریک رہتا ہے شرکت کا پیمانہ جو بھی ہو جتنا بھی ہو۔

تجاہلِ عارفانہ

جان بوجھ کر انجان بننا۔ تجاہل کے معنی ہیں لاعلمی ظاہر کرنا اور جانتے بوجھتے ہوئے ظاہر نہ کرنا جو ایک مکار رد عمل ہوتا ہے اور سماج میں اس کی بہت مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں کہ لوگ جانتے ہیں کچھ ہیں لیکن یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ نا واقف ہیں۔

تعزیہ ٹھنڈا ہو جانا

تعزیہ دراصل اظہار ملال ہے بعض طبقوں میں تعزیہ اندھے کنوؤں میں پھینک دیئے جاتے ہیں بعض دریا میں بہا دیئے جاتے ہیں ایسا بھی ہوتا انہیں سفید چادروں میں لپیٹ کر کسی تنہا جگہ میں رکھ دیا جاتا ہے۔ بہرحال جب تغیر یہ دلالی کی رسمیں ختم ہو جاتی ہیں تو محاورتاً اُسے تعزیہ ٹھنڈا کرنا کہتے ہیں۔

تقدیر پھرنا، تقدیر کا لکھا یوں تھا، تقدیر کا بناؤ، تقدیر کا پلٹا کھانا، تقدیر کا دامن، تقدیر کا کھیل

ہمارا معاشرہ تدبیر منصوبہ بندی اور کاوش میں اتنا یقین نہیں رکھتا جتنا تقدیر کو اسے بھروسہ ہوتا ہے یہ مشرقی قوموں کا ایک عام رویہ ہے۔ اور ہندو مسلمانوں میں نسبتاً زیادہ ہے۔ کہ وہ ہر بات کو تقدیر سے منسوب کرتے ہیں چنانچہ تقدیر سے متعلق بہت محاورات ہیں جو ہماری زبان پر آتے رہتے ہیں۔ اور اس لئے آتے رہتے ہیں کہ ہم غیبی فیصلوں کو مانتے ہیں اور اُن سے باہر آ کر سوچنا سمجھنا نہیں چاہتے اوپر دیئے ہوئے محاورات کا مطالعہ اسی نقطہ نظر سے کرنا چاہیے تقدیر کا لفظ بدل کر کبھی قِسمت کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے قِسمت کا لکھا قِسمت کا کھیل قِسمت کا بننا اور بگڑنا کہا جاتا ہے۔

تلوار کو میان میں رکھنا، تلوار کی آنچ، تلوار گر جانا، تلوار میان سے نکلی پڑتی ہے۔ تلواروں کی چھاؤں میں۔

تلوار جسے تیغ بھی کہا جاتا ہے وسطی عہد کا ایک بہت معروف اور ممتاز ہتھیار رہا ہے قدیم زمانہ کی تلوار ایک خاص طرح کی ہوتی تھی جسے کھانڈا کہتے تھے جہاں"ل" کو"ڑ" سے بدلا جاتا ہے وہاں تلوار کا تلفظ"ترواڑ" ہو جاتا ہے۔ جو لوگ سپاہی پیشہ خاندانوں کے افراد ہوتے ہیں ان کے لئے کہا جاتا ہے کہ وہ تلواروں کی چھاؤں میں پلے بڑھے ہیں اقبال کا مصرعہ ہے

تیغوں کی چھاؤں میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں

تلوار چلنا، تلوار کا کسنا یعنی اس کی لچک دیکھنا تلوار کا پانی، اس کی دھار، اس کی آب و تاب اور دھار، تلوار کا میان سے نکلنا یا میان میں رکھا جانا یہ سب تلوار کے استعمال سے متعلق باتیں ہیں تو اُس زمانہ کی زندگی میں عام تھیں ان میں تلوار کے گھاٹ اتار دینا بھی تھا۔ ہمارے ہاں اردو میں محبوب کی بھوں کو تلوار سے تشبیہ دی جاتی ہے اس سے بھی تلوار سے ذہنی اور سماجی رشتوں کا پتہ چلتا ہے۔

تمہارے منہ میں کبھی شکر یا گھی کھانڈ

شکر ہویا پھر شکر وہ مٹھاس سے تعلق رکھنے کی وجہ سے پسند یدہ اشیاء ہیں گڑ کھانڈ اور راب بھی اسی ذیل میں آتے ہیں اسی لئے اس طرح کے محاورے بھی ہیں گڑ نہ دبے گڑ جیسی بات کہہ دیئے گڑ اور گھی کا ایک ساتھ استعمال دیہات کی سطح پر بہت پسند کیا جاتا ہے شکرانہ میں خاص طور پر گھی اور کھانڈ یا گھی اور شکر استعمال ہوتے تھے دیہات میں لال شکر اور شہروں میں گھی اور پورا خاص طور پر استعمال میں آتا تھا اور اس کے نیچے چاول ہوتے تھے۔

بہرحال جب ہم ان امور پر غور کرتے ہیں تو گھی اور شکر کی سماجی حیثیت اور معنویت سامنے آتی ہے اور یہ کہاوت ہے تمہارے منہ میں گھی شکر اُسی کی طرف اشارہ کرتی ہے اور اس سے مراد ہوتی ہے کہ تمہارا کہنا پورا ہوا اور مراد بر آئے اب بھی ایسے موقع پر ایسی کہاوت اور بولی جاتی ہے اور میٹھا ئی کھلانے یا کھانے کا وعدہ کیا کہا جاتا ہے۔ مقصد اظہارِ خوشی ہے۔

تنکے کا احسان ماننا، تنکے کا سہارا، تنکے کو پہاڑ کر دکھانا، تِنکا تِنکا کر دینا

تنکا لکڑی کا چھوٹے سے چھوٹا اور کم سے کم درجہ کا حصہ ہوتا ہے اس سے جانور اپنا گھونسلا بناتے ہیں اور جب گھانس پھونس کے جھونپڑے، ٹٹیاں اور چھپر بنتے ہیں تب بھی گویا تنکے ہی کام آتے ہیں دیہات میں اس طرح کے مکانات چھپرا اور چھپریاں اب بھی دیکھنے کو مل جاتی ہیں سرکٹیاں بھی اسی کی مثالیں پیش کرتی ہیں اور سرکنڈے بھی تنکے کے سے وابستہ کہاوتیں اور محاورے کمزوری بے ثباتی اور کم سے کم درجہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں سوکھ کر تنکا ہونا انتہائی کمزور ہو جانا ہے تنکا تنکا بکھر جانا گھاس پھونس کی چھپری یا چھپروں کا ہوا میں اڑ جانا ہے یا باقی نہ رہنا ہے۔

اب اس کے مقابلہ میں تنکے کا احسان ماننا ہماری سماجی زندگی کا ایک دوسرا رخ ہے عام طور پر لوگ دوسرے کی ہمدردی محبت اور خلوص کا بدلہ تو دیتے ہی نہیں بلکہ احسان بھی نہیں مانتے جب کہ احسان تو چھوٹے سے چھوٹا بینک عمل میں جس کا دوسروں کو شکر گزار ہونا چاہیے ذوق کا مصرعہ ہے۔

ارے احسان مانوں سر سے میں تنکا اتارے کا

تنکے کا پہاڑ کر دکھانا ایک تیسری صورت ہے کہ اس کا بھی ہماری سماجی زندگی سے ایک گہرا رشتہ ہے۔ کہ بات کو کچھ اس طرح بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے کہ تنکے کا پہاڑ بنا دیا جاتا ہے۔ بات کا بتنگڑ بتانا اور بات کو بہت آگے بڑھا دینا ایک دوسری صورت ہے داڑھی میں تنکا ہونا ایک اور صورت حال کی طرف اشارہ ہے کہ جو دراصل کسی غلطی یا نقصان پہنچانے کا مرتکب ہوتا ہے اسے احساس تو رہتا ہے کہ میں نے جرم کیا ہے میں قصور وار ہوں اس کا کوئی ایکشن یا ری ایکشن اس کی طرف اشارہ بھی کر دیتا ہے اسی کو چور کی داڑھی میں تنکا کہتے ہیں۔

ایک اور محاورہ بھی اسی سلسلے کا ہے دوسروں کی آنکھ میں تنکا دیکھتے ہیں اور اپنی آنکھوں کا شہتیر بھی نظر نہیں آتا جس کے معنی ہیں کہ اپنی عیب داریاں کوئی نہیں دیکھتا اور دوسروں کی بات پر اعتراض کرتے ہیں اور عیب لگاتے ہیں اس طرح تنکے سے ہم رشتہ بہت سے محاورے ہماری سماجی فکر کا مختلف پہلوؤں سے اظہار کرتے ہیں اور ہماری سوچ پر روشنی ڈالتے ہیں۔

تن من وارنا

تن من کے معنی ہیں جسم و جان (Body and Soul) جب کسی سے اپنی مکمل وفاداری اور ایثار و قربانی کی بات کی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے ہم تن من سے تمہارے ساتھ ہیں کبھی کبھی تن من دھن بھی کہتے ہیں من ہندی لفظ ہے اس کے معنی رُوح کے ہیں اس لئے اس کا کسی عمل میں ساتھ ہونا بڑی بات ہوتی ہے جب یہ کوئی کہتا ہے کہ میں تم پرتن من وار کرتا ہوں تو گیتوں یا سب کچھ قربان کر دینا چاہتا ہے تو گویا سب کچھ قربان کر دینا چاہتا ہے گیتوں میں تن من وارنا آتا بھی ہے۔

تن من میں پھُولے پھُولے نہ سمانا

تن من میں پھُولا نہ سمانا بھی محاورہ ہے لیکن زیادہ تر اپنے من میں پھولا نہ سمانا بولا جاتا ہے۔ اپنے تن من کی کچھ خبر نہ رہی یعنی میں بالکل غافل ہو گیا یہ بھی ہماری زبانوں پر اکثر آتا ہے صرف تن کے ساتھ بھی بہت سے لفظ اور لفظی ترکیبیں بطورِ محاورہ آتے ہیں جیسے تن پوشی تن پرستی تن دہی تن ڈھانپنا اگر غور کیا جائے تو یہ لفظی ترکیبیں محاورے کے ذیل میں آتی ہیں اور ان سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ محاورے کیوں اور کیسے بنتے ہیں اور لغوی معنی سے مجازی معنی تک کیسے آتے ہیں تن پرستی اپنے وجود کو یا اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ اہمیت دینا ہے اور تن دہی محنت و مشقت برداشت کر کے اگر کوئی کام کیا جاتا ہے تو اسے تن دہی کہتے ہیں۔

تنگ حال ہونا، تنگ وقت ہونا، تنگ ہاتھ ہونا

یہ محاورات دراصل ہماری سماجی زندگی کا منظر نامہ پیش کرتے ہیں خاص طور پر اُس طبقہ کی جو کم آمدنی اور اخلاص کے ساتھ اپنے زندگی کے دن گزارتا ہے اسی کو تنگی ترشی کہتے ہیں۔ یا ہاتھ کا تنگ ہونا بھی اسی کی طرف اشارہ ہے اور اس کا ذکر اکثر ہوتا ہے کہ اس کا ہاتھ تنگ رہتا ہے یاوہ تنگ حالی میں اپنا وقت گزارتا ہے تنگ وقت ہونا محاورے کی ایک دوسری صورت ہے یہاں پیسہ مراد نہیں ہوتا بلکہ وقت کا کم رہ جانا مراد ہوتا ہے جیسے نماز کا وقت کم ہو رہا ہے۔ تنگ ہونا تکلیف کی حالت میں ہونا ہے اور تنگ کرنا دوسروں کو پریشان کرنے کے معنی میں آتا ہے اور یہ ہماری سماجی روش ہے کہ جب ہم دوسروں سے کوئی ناچاقی یا اختلاف یا خود غرضانہ اختلاف رکھتے ہیں تو ان کو طرح طرح سے ستاتے اور پریشان کرتے ہیں اسی کو تنگ کرنا کہا جاتا ہے کہ اس نے مجھے تنگ کر رکھا ہے۔

تازہ کرنا

نئے سرے سے کسی خیال کو زندہ کرنا ہے جیسے غم تازہ کرنا کہ جس غم کو آدمی بھول گیا تھا اسے پھر یاد دلایا ویسے ہم"تازہ" بہت چیزوں کے لئے بولتے ہیں جیسے تازہ کھانا" تازہ روٹی""تازہ گوئی" اور تازہ روئی (تازہ خیالی، تازہ دم ہونا (نئی بات کہنا) تازہ کاری (نیا کام کرنا) وغیرہ۔

تیوری بدلنا یا چڑھانا تیوری میں بل ڈالنا تیوری کا بل کھلنا۔

تیوری انسان کی پیشانی اور دونوں آنکھوں کے درمیان کے حصّے کو کہتے ہیں کہ وہ سب سے زیادہ ہمارے جذبات و احساسات کا آئینہ ہوتا ہے ہم گفتگو کرتے وقت آنکھ بھون چڑھاتے ہیں نا خوشی اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں اسی کو تیوری چڑھانا کہتے ہیں اُردو کا ایک مصرعہ ہے جس سے سماجی رو یہ کی نقش گری ہوتی ہے۔

تیوری چڑھائی تم نے کہ یہاں دم نکل گیا

تیوری کو تیور بھی کہتے ہیں اور اس کے معنی Expirationمیں شامل رہتے ہیں جیسے آج کل ان کے تیور بدلے ہوئے ہیں جس کا یہ مطلب ہے کہ نظریں بدل گئیں ہیں اگر ناگواری ختم ہو گئی تو اسے تیوری کا بل کھلنا کہتے ہیں یہ تیوری کے ہر بل پڑنے کے مقابلہ میں ہوتا ہے۔


ردیف "ٹ"

ٹاپا توڑ نکل جانا

مُرغیاں خریدنے والے ایک خاص طرح کا گھیرے دار جال رکھتے تھے وہ ٹاپا کہلاتا تھا وہ لوگ ٹاپے والے کہہ کر یاد کئے جاتے تھے۔ مُرغیاں گھر کے ماحول سے نکل کر اُس ٹاپے میں پھنس جاتی تھیں تو پریشان ہوتی تھیں اور اس سے نکلنا چاہتی تھیں اسی مشاہدہ سے یہ محاورہ بنا ہے۔ یعنی مصیبت میں پھنسنا اور پھر نکلنے کی کوشش کرنا۔

ٹالم ٹول (ٹال مٹول) کرنا

اس معنی میں ایک اہم محاورہ ہے کہ ہماری یہ ایک عام سماجی روش اور معاشرتی طرزِ فکر ہے کہ ہم بات کو سلجھاتے وقت ہر قدم اُٹھانے اور تدبیر کرنے کے بجائے ٹال مٹول کرتے رہتے ہیں اپنے معاملہ میں بھی اور دوسروں کے معاملہ میں بھی یہ ایک طرح کا سماجی عیب ہے کہ معاملات کو نمٹاؤ نہیں ٹالتے رہو اور کوئی نہ کوئی غلط سلط بہانہ بناتے رہو ہم آج کے معاشرے میں بھی شہری وہ معاشرہ ہویا قصباتی معاشرہ یہی ٹال مٹول کی صورت دیکھتے ہیں خود بھی اس سے گزرتے ہیں اور دوسروں کے لئے بھی پریشانیوں کا سبب بنتے ہیں۔

ٹانکا ٹوٹ جانا، ٹانکے کا کچّا ہونا، ٹانکے کھُل جانا

ٹانکا ہماری معاشرتی سماجی اور گھریلو زندگی کا ایک اہم حوالہ ہے یہاں تک کہ بہت اہم سطح پر ہم ٹانکا ٹھپا کہتے ہیں پھٹے پُرانے کپڑے میں ٹانکا لگانا اور اسے جوڑنا ہماری ایک تمام سماجی ضرورت ہے اسی لئے یہ کام گھریلو طور پر کیا جاتا ہے کپڑوں کے علاوہ چادر، بستر، لحاف میں ٹانکا لگانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ جُوتی میں ٹانکا موچی لگاتا ہے اب کچّا ٹانکا ہوتا ہے تو جلدی ٹوٹ جاتا ہے کہ وہ بھی ہمارے محاورے کا حصّہ ہے اور پکّا ٹانکا لگانا بھی اور موتی ٹانکنا بھی باریک ٹکائی بھی اس طرح سے یہ محاورے ہماری گھریلو زندگی کے اپنے انداز اور ماحول کو پیش کرتے ہیں۔

ٹسر ٹسر رونا، ٹسوے بہانا

اصل میں رونے کے لئے ایک طنزیہ محاورہ ہے جو سماجی رد عمل کو ظاہر کرتا ہے کہ پہلے سوچا نہیں سمجھا نہیں اب ٹسر ٹسر رو رہی ہے اور ٹسوے بہا رہی ہے دہلی میں"ٹ"کے نیچے کسرا لگاتے ہیں اور ٹسوے کہتے ہیں۔

ٹُکر ٹُکر دیکھنا

جب آدمی احساسِ محرومی اور تصورِ نامرادی کے ساتھ کسی دوسرے کی طرف دیکھتا ہے تو اُسے گھر یلو سطح کی ٹکر ٹکر دیکھنا کہتے ہیں اس کے یہ معنی ہیں کہ ہم دوسروں کی نظروں کو پہچانتے ہیں اُن کے جذبات و احساسات کی تصویر اُن کی آنکھوں میں اس کا خاص انداز سے ذکر کرتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ کوئی کسی سے ہمدردی کرتا ہے یا نہیں کرتا یہ الگ بات ہے۔

ٹُکّر ٹُکُر لگنا، ٹُکر کھانا

دیہاتی زبان میں روٹی کو کہتے ہیں اور طنز کے طور پر ٹکر لگنا یا ٹکڑ کھانا بھی بولتے ہیں ٹکٹر لگنے میں یہ طنز چھپا ہوا ہے کہ پہلے بھوکے مرتے تھے کھانے کو نصیب نہیں ہوتا تھا اب کھانے کو ملنے لگا تو یہ انداز آ گئے یعنی نخرے کرنے لگے برائی کا اظہار کرنے لگے اسی کو قصباتی زبان میں روٹیاں لگنا کہتے ہیں۔

ٹکڑے ٹکڑے کر دینا کسی چیز کو بُری طرح توڑ دینا پھاڑ دینا اور ضائع کر دینے کا عمل ہے سزا کے طور پر بھی پہلے زمانہ میں ٹکڑے ٹکڑ کر دینے کا رواج تھا۔ جس کو اور آگے بڑھا کر بوٹی بوٹی کر دینا یا قیمہ کر دینا بھی کہا جاتا ہے اور قدیم زمانہ کی سزاؤں کی طرف اس سے اِشارہ کرنا مقصود چاہے نہ ہو کہ جب لوگ اسے جانتے بھی نہیں مگر قدیم زمانہ کی روایت کسی نہ کسی سطح پر اس میں موجو دہے اور تاریخ پر روشنی ڈالتی ہے۔

ٹکسالی بولی، زبان، ٹکسالی بول چال، ٹکسالی محاورہ، ٹکسالی باہر

ٹکسال اصل میں بادشاہ کی طرف سے سکّے رائج کئے جاتے ہیں اور کھرے سکّے مانے جاتے ہیں ان کی دارالعرب سکے ڈھالنے کی جگہ کو کہتے ہیں اور جو سکّہ سرکاری ٹکسال کا نہیں ہوتا ہے اسے کھوٹا سکّہ یا ٹکسال قرار دیا جاتا ہے۔

شہری کی بولی جو بات چیت یا محاورہ مستند ہوتا ہے اس کو ٹکسالی کہا جاتا ہے اور جس سے اِدھر اُدھر کی بولی کا اثر ظاہر ہوتا ہے اور اُس کو پسند نہیں کیا جاتا۔ اُسے ٹکسال باہر کیا جاتا ہے۔ دہلی والے جامع مسجد کی سیڑھیوں اور اس کے آس پاس کی زبان ہی کو سند مانتے تھے چنانچہ میر تقی میر نے ایک موقع پر کہا تھا کہ میری زبان ان کے لئے یا محاورہ اہلِ دہلی ہے یا جامع مسجد کی سیڑھیاں اس کے معنی یہ تھے کہ مردم بیرون جات یعنی دہلی شہر سے باہر کے لوگوں کی زبان اُن کے نزدیک پسند نہیں تھی ٹکسالی زبان یا ٹکسالی محاورہ وہی کہلاتا تھا جو جامع مسجد کی سیڑھیوں کے آس پاس سنا جاتا تھا۔

ٹوپی اُتارنا، ٹوپی پیروں میں ڈالنا، ٹوپی اُچھالنا، ٹوپی بدلنا

یہ محاورات نسبتاً نئے ہیں ٹوپی سر کو ڈھکنے کے لئے کُلاہ کی صورت میں ایک زمانہ سے ایران، افغانستان اور مرکزی ایشیاء میں موجود رہی ہے مگر عام طور پر تنہا نہیں اُس کے ساتھ پگڑی بھی ہوتی تھی ہندوستان میں جہاں تک قدیم کلچر کا سوال ہے صرف کبھی ٹوپی کبھی چیز سے ڈھکتے تھے دیہات میں پگڑی رائج رہی ہے بدن پر چاہے لباس کم سے کم رہا ہو مگر سرپر پگڑی رہی۔ اُس کی وجہ سرکو دھوپ کی شدت سے بچانا بھی تھا۔ مدراس میں ہم دیکھتے یہی ہیں۔

پگڑی کے طرح طرح کے انداز مرہٹوں میں راجپوتوں میں اور جنوبی ہندوستان کے مختلف قبائل میں رہا ہے جس کا اندازہ ان تصویروں سے ہوتا ہے جو مختلف زمانوں اور خاص طور پر وسطی عہد میں رائج رہی ہیں قدیم تر ہندوستانی تہذیب میں سادھو سنت"بال" رکھتے تھے اور اونچا طبقہ مکٹ پہنتا تھا (تاج کی طرح کی کوئی چیز) سر عزت کی چیز ہے اسی لئے سر پر رکھنا سر جھکانا ہمارے ہاں خاص معنی رکھنے والے محاورات میں سر اٹھانا سرکشی اختیار کرنا ہے اور سر سے ٹیک دینا دوسری طرح کے محاورے ہیں جو آگے بڑھ کر سرگوشی تک آ جاتے ہیں۔ سر کو ڈھکنا مرد سے زیادہ عورت کے لئے ضروری تھا جیسے آج بھی دیکھا جا سکتا ہے ٹوپی اسی کی ایک علامت ہے۔ اوپر دیئے ہوئے محاورے ہوں یا دوسرے محاورے جو سر سے متعلق ہوں جیسے سر سے چادر اُتر گئی۔

انہی محاوروں میں سر جھکانا، سر پیروں پر رکھنا، سرپر خاک ڈالنا، بھی اور ہم اپنی عزت کے نشان کے طور پر شخصی خاندانی قومی اور قبائلی وقار کے طور پر پگڑی یا دوپٹہ کو یا چادر اور آنچل کو سر سے گرنے نہیں دیتے تھے اور جب اُسے دوسرے کے قدموں پر رکھتے تھے تو اپنی انتہائی وفاداری کا اظہار کرتے تھے جسے ہم مکمل بھی کہہ سکتے ہیں دیہات قصبات اور شہروں میں جب دوسرے کی عزت کو بڑا دکھانا چاہتے ہیں اور اپنی شخصیت کو کمتر ظاہر کرنا چاہتے ہیں تو اس کے پیروں میں کوئی دوپٹہ پگڑی رکھتے ہیں اور اس کو اپنی طرف اظہارِ عاجزی کی سب سے بہتر صورت خیال کرتے ہیں۔ اِس معنی میں یہ محاورے ہمارے سماج کے رویوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔


ردیف "ث"

ثابت قدم رہنا یا ثابت قدمی دکھانا

ثبات کے معنی ہیں ٹکنا، قائم رہنا لیکن قدموں کے ساتھ اس کا تصور انسانی کردار سے وابستہ ہو جاتا ہے خاص طور پر اِن افراد یا ان قوموں کے کردار سے جو جنگ کرتی تھی اور مشکل مرحلوں سے گزرتی تھی جنگ میں پیر اُکھڑنا اور قدم اُکھڑنا بہرحال ایک محاورے کے طور پر وہاں آتا تھا جہاں ڈٹے رہنا ضروری ہوتا تھا۔ قدم جمائے رکھنا لازمی تھا اسی لئے قدم اُکھڑ جانے یا پیر اُکھڑ جانے کے معنی بزدلی دکھانا اور بھاگ کھڑا ہونا تھا جو بری بات تھی اور کردار کی اِستقامت کے لحاظ سے ناپسند یدہ بات تھی اسی لئے ثابت قدم رہنا ایک سپاہی ایک عالی حوصلہ اور مستقل مزاج انسان کے لئے ایک بہت اچھی صفت تھی جس کی تعریف کی جاتی تھی اور اس کو موقع بہ موقع سراہا جاتا تھا۔ مثنویوں اور قصیدوں میں اس طرح کے بہت سے شعر مل جائیں گے جن میں ثابت قدمی کی تعریف کی گئی اور اس معنی میں وہ انسانی کردار کی خوبی اور سماجی تقاضوں کی ایک علامت کے طور پر محاورے میں سامنے آتی ہے۔

ثواب کمانا

ہمارا بنیادی طریقہ فکر مذہبی اور اخلاقی ہے ہم ہر بات کو تعبیر اور تشریح مذہبی طرزِ فکر کے طور پر پیش کرتے ہیں اور نیک عمل کا اَجرا بھی ہم قدرت یا خُدا کی طرف منسوب کرتے ہیں اور اسی کو ثواب کہتے ہیں کہ یہ کام کرو گے تو ثواب ہو گا یا ملے گا اگر ایسا کیا گیا تو تم ثواب کماؤ گے اس اعتبار سے ثواب کمانا نیکی کرنے اور اُس کے بدلہ یا انجام کو خُدا سے وابستہ کرنے کا ایک نفسیاتی عمل جس کو ہم ثواب کمانے سے تعبیر کرتے ہیں۔

اگر دیکھا جائے تو ثواب کمانا ایک طرح سے مذہبی رو یہ کے ذیل میں بھی آتا ہے اور اس سچائی کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اچھے برے عمل کا نتیجہ ثواب یا عذاب سے ہے۔


ردیف "ج"

جادو لگانا، جادو چلانا، ڈالنا، کرنا، مارنا، جادو کا پتلا

جادو سحر کو کہتے ہیں اور سحر کے معنی ہیں ایسی بھیدوں بھری رات جس کے ذریعہ عقل کو حیرت میں ڈالنے والے کام کئے جاتے ہیں ہندوستان میں جادو ٹونے کا رواج بہت رہا ہے اسی لئے ہم یہاں منتر کے ایک معنی جادو بھرے الفاظ لیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اس نے کیا منتر پڑھ پھونک دیا ہے یہ تصور دوسری قوموں میں بھی ہے اور خود عرب بھی جادو کے قائل تھے کافر قرآن کی آیت کو نعوذ باللہ سحرِ عظیم کہتے ہیں ہمارے ہاں جادو ڈالنا، جادو چلانا، جادو کرنا، عام طور پر بولا جاتا ہے جیسے اس کا جادو چل گیا اس نے جادو چلا دیا جادو تو وہ ہوتا ہے جو سرپر چڑھ کے بولتا ہے اردو کا مشہور شعر ہے۔

کیا لطف جو غیر پردہ کھولے
جادُو وہ جو سر چڑھ کے بولے

اس معنی میں جادُو ہماری سماجیاتی سوچ کا حصّہ کیا ہے اور ہم ماورائے جن چیزوں کے قائل ہیں۔ اور انہیں مافوق العادت کہتے ہیں یہ انہی کا ایک حصّہ ہے ایسے ہماری کہانی حقوق داستان اور شاعری کے نمونوں میں دیکھا پرکھا اور سمجھا ہندوستان میں خاص خاص موقعوں پر جادُو کیا جاتا ہے۔

جاگرن کرنا

جاگرن کرنا ہندو کلچر کا ایک اہم رسمی اور مذہبی پہلو ہے کچھ خاص منتر پڑھ کر چراغ روشن کر کے اور دھیان گیان کے سلسلہ کو اپنا کر عقیدتوں کو دل میں جگایا اور من میں بسایا جاتا ہے اُسے بھگوتی جاگرن کہتے ہیں مغربی یوپی میں جا گئے کو یا جاگ اُٹھنے کو جاگر کہا جاتا ہے جاگر میں صرف آنکھیں کھلتی ہیں نیند کا سلسلہ ٹوٹتا ہے"جاگرن" میں دل کی غفلت دُور ہوتی ہے اور عقیدتیں جاگ اٹھتی ہیں اس معنی میں جاگرن کلچر، تہذیب، اور مذہب سے وابستہ ایک عمل ہے۔

جال بچھانا، پھیلانا، یا ڈالنا، جال میں پھنسنا، یا پھنسانا

جال ایک طرح کا وسیلہ شکار ہے شیر سے لیکر مچھلی تک اور مچھلی سے لیکر پرندوں تک جال میں پھنسایا جاتا ہے۔ جال پانی میں پھینکا جاتا ہے اونچی چھتری پر لگایا جاتا ہے جہاں کبوتر آ کر بیٹھتے ہیں اور اُس جال میں پھنس جاتے ہیں یہی صورت مچھلیوں کی ہوتی ہے اور یہی شکل اُن پرندوں کی ہوتی ہے جو زمین میں دانہ چُگنے کے لئے اترتے ہیں اور اُس جال میں پھنس جاتے ہیں جس پر دانہ بکھیرا ہوتا ہے۔

انسان بھی فریب جھوٹ دغا اور فکر کا شکار ہوتا ہے اور ان زبانی وسائل کو بھی جال ہی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے وہ بھی فریب دہی کا عمل ہے جس کا سلسلہ کون جانے کب سے رائج ہے مگر یہ بات برابر ہو رہی ہے اِس کا پیمانہ دن بہ دن بڑھ رہا ہے اِس دام فریب کے حلقوں میں برابر اضافہ ہو رہا ہے اور سماج اس سے باہر نہیں نکل پایا غالب کا شعر یاد آ گیا۔

دامِ ہر مو ج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگ
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرہ پہ گہر ہونے تک

جامے سے باہر ہو جانا یا جامے میں پھُولا نہیں سمانا، جامہ زیب ہونا

جامہ دراصل لباس کو کہتے ہیں ہم زیر جامہ اور چار جامہ بھی بولتے ہیں زیر جامہ انڈوریر کو بھی کہتے ہیں چار جامہ چار طرح کے کپڑے جن سے تن پوشی یا جسم کی زیب و زینت کا کام لیا جاتا ہے۔ گھوڑے کے ساتھ اور زین و لگام وغیرہ کے لئے بھی چار جامہ"تسمہ" کا محاورہ آتا ہے۔

جامہ میں پھُولا نہ سمانا انتہائی خوشی کے اظہار کو کہتے ہیں جو دوسرے بھی دیکھ لیں سمجھ لیں اور محسوس کر لیں کپڑے سب لوگ پہنتے ہیں اور معاشرہ میں اسی پوزیشن کے اظہار کا ذریعہ بناتے ہیں اس میں مذہب سے اپنے تعلق و وفاداری کو بھی شامل رکھنا چاہتے ہیں اور ایک طبقہ تو اُس پر زور دیتا ہے یہ الگ بات ہے کہ ہر لباس ہر رنگ ہر وضع قطع ہر آدمی کے لئے وجہ زینت نہیں بنتی بعض بدن جامہ زیب ہوتے ہیں۔ بعض لباس کچھ اِس طرح کے ہوتے ہیں کہ ہر آدمی کے اچھے لگتے ہیں لباس کا اچھا لگنا ہی جامہ زیبی کا سبب ہوتا ہے لباس کا رشتہ ہمیشہ ذاتی پسند سے زیادہ سب کی پسند کا مسئلہ رہا ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کھاؤ من بھاتا اور پہنے جگ بھاتا ہے۔

جان پر کھیلنا، جان دینا، جان پڑنا، جان جانا، جان جھوکنا، جان چرانا، جان چھُڑانا، جان چھوڑنا، جان سُکوھنا، جان سے جانا، جان سے زیادہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھنا، جان جوکھوں میں ڈالنا، جان ہوا ہونا وغیرہ

جان آدمی کو بہت ہی عزیز ہے وہ اس کی روحِ رواں ہے سر چشمۂ حیات ہے اُس کے وجود کا باعث ہے اور اپنے وسیع مفہوم اور معنی کے ساتھ اس کی زندگی میں شریک ہے اسی لئے ہم طرح طرح سے جان کے لفظ اور معنی کو اپنی زبان میں استعمال کرتے ہیں اور جان کے ساتھ جو محاورے بنتے ہیں وہ ہماری سماجی فکر اور سائل کو ظاہر کرتے ہیں جیسے جان دینا، جان چھڑکنا، جان نہ ہونا، جان و ایمان کے برابر ہونا وغیرہ۔

جانے کے لچھن ہیں

جانے کے معنی بھاگ جانے کے بھی ہیں نکل جانے اور چھوڑ جانے کے بھی ہیں جان نکلنا تو محاورہ ہے جانے کے لچھن ہیں کہ معنی ہیں کہ اس کے روپ اور روش سے اس کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ رہنے والا نہیں ہے چھوڑ کر جانے والا ہے یہ گویا ان لوگوں کا رد عمل ہوتا ہے جو کسی نہ کسی سطح پر کچھ توقعات رکھتے ہیں غالب کا شعر اس موقع پر یاد آ گیا۔

جان دی، دی ہوئی اُسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

جُگ جیئے، یا جیؤ، جگت لڑنا

جُگ جُگ جینا ہمارے ہاں کی دعا ہے ہم ایک خاص دور کو جُگ کہتے ہیں جو یگ کا ہندی تلفظ ہے جُگ جینے کے معنی ہوئے کہ تم دور بہ دور جیؤ اسی لئے ہندی میں چل جیو ہونا بھی کہتے ہیں جُگ جینے یا جُگ بیتا ایک دوسرا محاورہ ہے جس کے معنی ہیں بہت لمبی مدّت بیتنا۔ اردو کا شعر ہے۔

جُدائی کے زمانہ کی سجن کیا زیادتی کہیے
کہ اِس ظالم کی ہم پر جو گھڑی بیتی سو جگ بیتا

جلتی آگ میں تیل ڈالنا، جلتی پر تیل چھڑکنا، جلتے کو جلانا، جی جلنا، جی جلانا

جلنا شدید گرمی کا عمل ہے جس سے رُوکھ (درخت) جل جاتے ہیں بدن جل جاتا ہے آگ میں ہر چیز جل جاتی ہے آگ کے قریب آ کر ہر شے جل اٹھتی ہے اُس سے جلنا ایک استعارہ بن گیا ہے۔ جی جلنا، جی جلانا یعنی تکلیف دہ باتیں کرنا یا اچانک جل اٹھنا بھڑک اٹھنا غصہ میں بھر جانے کو کہتے ہیں جی کا جلاوا وہ شخص چنریا بات جو مسلسل ذہنی تکلیف کا سبب ہو ان سب باتوں کا رشتہ ہماری سماجی فکر اور معاشرتی زندگی سے ہے اوپر لکھے ہوئے محاورے اسی سلسلۂ فکر یا خیال یا دائرہ قول و عمل میں آتے ہیں۔

جلے پر ون یا نمک چھِڑکنا یا لگانا، جلے پھپولے پھوڑنا، دل کے پھپولے پھوڑنا جلی کٹی سنانا جل اٹھنا اسی سلسلہ کے محاورے ہیں

ہماری عام روش ہے کہ جب ہم کسی سے ناراض ہوتے ہیں تو خواہ مخواہ بھی اُس سے اختلاف کرتے ہیں اسی کو جلے نال کے پھپولے پھوڑنا کہتے ہیں پھپھولوں کا جلنا محاورہ کی ایک اور صورت ہے جس کا اظہار اس شعر سے ہوتا ہے۔

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینہ کے داغ سے
اِس گھر کو آگ لگ گئی گھرکے چراغ سے

جنگل میں منگل ہونا، جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا

جنگل ہماری تہذیبی زندگی کا ایک حوالہ ہے ہندوستان اب سے کچھ زمانہ پہلے تک جنگلوں سے بھرا پڑا تھا یہ جنگل طرح طرح کے تھے پہاڑی جنگل بھی اور میدانی جنگل بھی جنگل پر محاورے موجود ہیں جنگل آباد ہونا ایسے علاقہ کو جس میں کھیتی ممکن ہے کام میں لانے کے لئے کہتے ہیں کہ تمہارا جنگل آباد ہو جائے گا۔ جنگل کا تصوّر ویرانی کا تصور بھی ہے اس لئے جب میلے ٹھیلے لگتے تھے اور طرح طرح کی دوکانیں اور کھیل تماشہ جنگل میں ہوتے تھے تو اس کو جنگل میں منگل ہونا کہتے تھے اِس کا ہماری معاشرتی زندگی سے بھی ایک رشتہ ہے خانہ بدوش قبائل جنگلوں میں کچھ دنوں کے لئے آباد ہو جاتے تھے تو بھی جنگل میں منگل ہو جاتا تھا۔

عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ کوئی آدمی ترقی کرے بڑے عہدے پر پہنچے اور اُس کے ہاتھ میں یہ ہوا کہ وہ بھلائی کر سکے تو اُس کو اپنے وطن کو بھولنا نہیں چاہے وطن والوں کے لئے بھی کچھ کرنا چاہیے، نہ ہوا تو وہ مثل ہو گئی کہ جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا خوش ہونے والے تو وطن کے لوگ ہوتے ہیں انہی کے سامنے ترقیوں کا مظاہرہ بھی ہونا چاہیے۔

جنم سُدھر جانا، جنم جنم کی دوستی، جنم جنم کا بیر، جنم جنم کا ساتھ، جنم میں تھوکنا

ہندوستان کے لوگ پنر جنم میں یقین رکھتے ہیں اسی لئے یہاں محاورے میں جنم جنم کا ذکر بہت آتا ہے کہ ایک ہی زندگی میں لگاتار جتنی زندگیاں ہوں گی اُس میں یہ دوستی یہ محبت پایہ پیتر قائم رہے گا اس لئے کہ ہندو عقیدہ کے مطابق ایک جنم کے سنسکار دوسرے جنم میں بھی انسان کے ساتھ رہتے ہیں اسی لئے جنم جنم کی بات سامنے آتی ہے جنم سُدھر نا زندگی بہتر ہو جانے کے معنی میں آتا ہے اور اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ پیدائش تو ایک بُرے ماحول میں ہوئی تھی لیکن حالات بدل گئے اور جنم سدھر گیا ایک اور محاورہ اسی سلسلہ کا ہے اور معاشرہ کے اچھے بُرے رو یہ کی طرف عجیب انداز سے اشارہ کرتا ہے جنم میں تھوکنا مراد یہ ہوتی ہے کہ اگر تمہارے اخلاقی رو یہ اتنے ہی بُرے ہیں تو کوئی کیا تمہارے جنم میں تھوکے گا کیا کہے گا کہ تم کیا ہو تمہارے ماں باپ کیا تھے۔

جوبن اُمنڈنا، یا اُبھرنا

جوبن سنسکرت لفظ یوون کا بدلا ہوا تلفظ ہے جوانی کے زمانہ کو"یوون" کہتے ہیں اور اُس کا اظہار انسان کے چہرے مہرے اور اعضائے بدن کے تناؤ سے ہوتا ہے بعض لڑکے اور لڑکیاں اپنی جوانی کے زمانہ میں اتنے بھرپور ہوتے ہیں کہ یہ کہا جاتا ہے کہ اُن پر جوانی پھٹتی پڑی ہے جوبن چھایا ہوا ہے یا پھر جوبن طوفان کی طرح اُمنڈ رہا ہے یہ ایک احساسِ مسرّت کی بات بھی ہوتی ہے اور اِس پر رشک بھی کیا جاتا ہے جوانی کا ڈھل جانا بھی ایک ایسی ہی کیفیت ہے جو ڈھلتے ہوئے دن یا ڈھلتی ہوئی رات کی مدھم کیفیت کی طرح ہوتی ہے جیسے کسی پودے درخت یا باغ کی بہار گزر گئی ہو۔ اور خزاں کے آثار اس پر غلبہ پا رہے ہوں۔

جوڑ توڑ، جوڑ توڑ کرنا، جوڑ جوڑیا جوڑ جوڑ کر مر جانا، جوڑ جوڑ کے دھرنا، جوڑ جوڑنا، جوڑ چلنا، جوڑ لگانا، جوڑیا سنجوگ

جوڑنا ایک دوسرے سے بلانا یا جوڑی لانا ایک دوسرے سے شادی کر دینا جیسے اللہ ملائی جوڑی کہتے ہیں مگر جوڑ کے ساتھ ہماری سماجی زندگی سے متعلق بہت سی باتیں جُڑی ہوئی ہیں اُن میں جوڑ جوڑ دُکھنا بھی ہے جو تکلیف کی ایک صورت ہے لیکن جوڑ توڑ ایک طرح کا سماجی عمل ہے آدمی اپنی غرض پوری کرنے کے لئے طرح طرح کے جوڑ توڑ کرتا ہے جھُوٹ سچ بولتا ہے زمین آسمان کے قلابے ملاتا ہے یہی سب باتیں جوڑ توڑ کے زمرے میں آتی ہیں تعلقات کی اچھائی برائی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ مگر اس کا استعمال ذہنی طور پر اچھے معنی میں نہیں آتا۔ ہاں ہم یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ وہ بہت جوڑ توڑ کا آدمی ہے اور اپنا کام نکالنا اُسے خوب آتا ہے۔

جوڑ جوڑ کر مر جانا ایک دوسرا عمل ہے جس کا تعلق پیسے کے خط اور گھٹا کرنے سے ہے جو لوگ کنجوس ہوتے ہیں پیسہ اکھٹا تو کرتے ہیں خرچ نہیں کرتے اُن کے لئے کہا جاتا ہے کہ میاں جوڑ جوڑ کر مر جاؤ گے یعنی سب رکھا رہ جائے گا تمہارے کام نہ آئے گا جوڑ جوڑنا جوڑ لگانے کے معنی میں آتا ہے اور اُس سے سنجوگ پیدا کرنا بھی مراد لیا جاتا ہے۔ جبکہ جوڑے بننا شادی کے جوڑوں کو ایک خاص انداز سے طے کر کے رکھتے۔ اور ان میں سجاوٹ پیدا کرنے کو کہتے ہیں جوڑی دار برابر کے ساتھی کو کہا جاتا ہے جوڑے تقسیم ہونا بھی شادی بیاہ یا خوشی کے موقع کی ایک رسم ہے۔ جس میں جوڑے دیئے جاتے ہیں اور ان کا اپنا ایک سماجی اور رسمی انداز ہوتا ہے۔

جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں

اگرچہ یہ بادلوں سے متعلق ایک بات ہے کہ میں بادلوں کا کڑک گرج زیادہ ہوتی ہے وہ اکثر بوندا باندی بہت ہی کم کرتے ہیں یہاں اس سے ایک معاشرتی یا سماجی نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ جو لوگ زیادہ بڑھ چڑھ کر باتیں بناتے ہیں وہ کام کم سے کم کرتے ہیں اس لئے کہ کام کرنے والے کو زیادہ باتیں بنانے کی ضرور ت اور فرصت نہیں ہوتی یہ تو ہمارے سماج کا نسبتاً ایک نکما اور ناکارہ حصہ ہوتا ہے جس سے تعلق رکھنے والے لوگ باتیں زیادہ بناتے ہیں دیکھا جائے تو باتیں بنانا اور کام کرنا ہماری سوسائٹی کے نہایت اہم مسائل ہیں اور انہی سے متعلق یہ گفتگو ہے جو محاورے کی شکل میں یا بطور Comment کے سامنے آتی ہے۔

جونک پتھروں میں نہیں لگی

جونک لگنا خود ایک محاورہ ہے۔ جونک پانی کا ایک کیڑا ہوتا ہے جو کھال سے چمٹ جاتا ہے اور خون چوستا رہتا ہے اسی لئے محاورہ ہے کہ وہ تو جونک کی طرح لگ جاتے ہیں۔ مگر ایسے لوگ تو جو نہایت سخت دل سخت طبیعت اور سخت مزاج ہوتے ہیں اُن سے جونک کی طرح مزاج ہوتے ہیں اُن سے جونک کی طرح لگ کر بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا اس لئے کہ پتھر میں جونک لگتی ہی نہیں جہاں خون ہو گا وہیں تو جونک چُوسے گی پتھر میں اُسے کیا ملے گا۔

جی ہے تو جہان ہے (جان ہے تو جہان ہے)

اِس محاورے کو جان ہے تو جہان ہے کی صورت میں بھی استعمال کیا جاتا ہے یہ فرد کی اپنی اہمیت اور اس کی اپنی جائز فلاح و بہبود سے متعلق ایک سوچ ہے۔ اس کا استعمال دو موقعوں پر ہوتا ہے ایک کہ آدمی کی اگر صحت ہے وہ زندہ ہے اور بقول غالب۔

تنگ دستی اگر نہ ہو غالب
تندرستی ہزار نعمت ہے

یہی تندرستی جی ہے جہان ہے جہان ہے اور یہی ہزار نعمت دنیا جہان کی خوشیاں ہیں اسی طرح ہم یہ بھی سوچتے اور کہتے ہیں کہ اگر ہم ہی نہ ہوں گے تو دنیا کا ہونا نہ ہونا ہمارے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا جی ہے گویا جہان ہے۔


ردیف "چ"

چادر اُترنا یا اُتارنا

چادر ہمارے یہاں احترام کی علامت ہے اور ہماری کئی سماجی رسمیں ہیں جو چادر کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ہمارے سماجی مسائل اور معاملات میں چادر کے کیا معنی ہیں۔ چادر اوڑھانا، چادر ڈالنا، چادر پیش کرنا۔

ہم جب بزرگانِ دین کے مزارات پر حاضر ہوتے ہیں تو مزار پوشی کے لئے چادر پیش کرتے ہیں کپڑے کی چادر کے علاوہ پھولوں کی چادر بھی پیش کی جاتی ہے خاص طور پر مزارات اولیاء کی مزار پوشی کے لئے پھولوں کی چادر بھی چڑھائی جاتی ہے۔

چادر اترنے کے معنی ہوتے ہیں عزت کے سایہ کا ختم ہو جانا خاندان کے بعض لوگ خاندانی عزت کا سبب ہوتے ہیں اُن کی وجہ سے کنبہ کا وقار بنا رہتا ہے اور جب وہ نہیں رہتے تو یہ کہا جاتا ہے کہ خاندان کی چادر اتر گئی۔ اِس کے یہ معنی ہیں کہ چادر عزت و وقار کے لئے ایک علامت ہے۔

چار آنکھیں ہونا یا چار چشم ہونا

جب آدمی ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں اور آنکھ ملا کر دیکھتے ہیں تو اس کو چار آنکھیں ہونا کہتے ہیں آنکھیں چار ہو گئیں یعنی اُن کو دیکھا اُن سے ملاقات ہوئی۔ اُس کے مقابلہ میں چار آنکھوں کی ہونا۔ ایک دوسرا محاورہ ہے۔ اور اس کے معنی ہیں اپنے آپ کو بری چیز سمجھنا کہ وہ تو چار آنکھوں کی ہو رہی ہیں"چار چاند لگنا"، خوبصورتی آ جانا کہ اس سے تو کتاب کو اس کی شخصیت کو یا اس عمارت کو چار چاند لگ گئے۔

ایک ہی چاند ٹپکے، جھُومر یا خوبصورتی پیشانی کے باعث اگر اتنا اچھا لگتا ہے کہ اُس کو"نیوفون" کہتے ہیں تو چار چاند لگنے پر حُسن کتنا دوبالا ہو جاتا ہے چار ابرو کا صفایا مردوں کے لئے ہے عورتوں کے لئے نہیں جب سر کے بال، بھنویں، مونچھیں اور داڑھی سب کو اُسترے سے مونڈ دیا جاتا ہے تو اُسے چار ابرو کا صفایا کہتے ہیں۔

ہندوؤں میں موت کی رسموں کے سلسلے میں ایک رسم یہ بھی ہے کہ میت کا بڑا بیٹا اپنی چار ابروؤں کی موڑائی یا صفائی کروا دیتا ہے یہ دہلی اور لکھنؤ کے بانکوں کی ایک ادا بھی رہی ہے کہ وہ چار ابروؤں کا صفایا کروا دیں اس معنی میں چار کا عدد ایک تہذیبی اہمیت بھی رکھتا ہے اور ہمارے معاشرے کی مختلف روشوں پر اُس سے روشنی بھی پڑتی ہے۔ "چار چندے اگلی"ہے یعنی چار گنا اچھی ہے یہ بھی اسی سلسلے کا ایک محاورہ ہے۔ "چار یار بھی" محاوراتی سطر پر استعمال ہوتا ہے۔

چال چلنا، چال میں آنا

چال چلنے سے بنا ہوا ایک محاورہ ہے چال دوکانوں اور مکانوں کے ایک خاص طرح کے سلسلہ کو بھی کہتے ہیں یہ خاص طور پر ممبئی میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن"چال" شطرنج کی ایک اصطلاح بھی ہے اور شاید وہیں سے چال چلنا اُردو کا محاورہ بنا۔ اُس کے معنی ہیں دوسروں کو شکست دینے کے لئے کوئی ترکیب استعمال کرنا۔ شکست دینے کے معنی راستہ روک دینا بھی ہے۔ مات کرنا بھی اور مات دینا بھی یعنی ہرا دینا چال میں آ جانا اسی سلسلے کا محاورہ ہے یعنی دوسرے کی مکاری اور چالاکی کے پھندے میں پھنسنا اسی کو چال میں آ جانا کہتے ہیں۔

اگر دیکھا جائے تو یہ دونوں محاورے ہماری سماجی زندگی میں ایک خاص کردار ادا کرتے ہیں اسی کو چال بازی کہتے ہیں۔ چال ڈھال ایک الگ صورت ہے جس سے آدمی کی شخصی یا سماجی پہچان ہوتی ہے۔

چاندنی مار جانا

اصل میں ہمارا سماج توہم پرستی کی طرف اشارہ کرتا ہے جو جوان اور خوبصورت لڑکوں اور لڑکیوں کو چاندنی میں کوٹھے یا کھلے صحن میں تنہا سونے نہیں دیتے اور یہ خیال کرتے ہیں اور چاند کی چاندنی ان پر جادو کر دے گی۔ کوئی جن، بھوت ان پر عاشق ہو جائیگا۔ کہ یہ اپنے طور پر پاگل ہو جائیں گے۔ LUNATIC لیونیٹک پاگل کو کہتے ہیں اس سے مراد چاندنی مار جانا اور دیوانہ ہو جانا ہے ویسے چاندنی مار جانا گھوڑوں کی بھی ایک بیماری ہے اور انسانوں کی بھی۔

چائیں چائیں مچانا یا لگانا

جب آدمی بہت بولتا ہے اور چڑیوں کی طرح برابر چہکنے کی کوشش کرتا ہے تو اُسے چڑھ چڑھ کے باتیں کرنا کہتے ہیں یہ گویا سماجی طور پر ایک ناپسندیدہ عمل ہے۔ چِڑھ چِڑھ کے باتیں کرنا۔ اسی نسبت سے ایک اور طریقۂ گفتگو ہے جس کو عام طور سے ناپسند کیا جاتا ہے کہ وہ بہت بڑھ بڑھ کر یا چِڑھ چِڑھ باتیں کرتا ہے۔

چِڑھ جانا بھی ایک نفسیاتی عمل ہے کہ آدمی کچھ باتوں یا کاموں کو ناپسند کرے اور جب وہ ہوتے رہیں تو اُن سے چِڑھ جائے اور بات نہ کرنا چاہے ایسے آدمی عام طور پر بدمزاج خیال کئے جاتے ہیں اور یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک چڑے ہوئے آدمی ہیں۔ اور چِڑی چِڑی باتیں کرتے ہیں۔

چراغ بتی کرنا۔ چراغ بتی کے وقت، چراغ جلے، چراغ بڑھانا، چراغ کو ہاتھ دینا، چراغ ٹھنڈا، خاموش، یا گُل کرنا، چراغ پا ہونا، چراغ رُخصت ہونا، چراغِ سحری، چراغ سے چراغ جلتا ہے، چراغ تلے یا نیچے اندھیرا۔

چراغ پر ہمارے بہت سے محاورے ہیں جو اس عمل پر روشنی ڈالتے ہیں کہ چراغ ہماری زندگی میں کیا اہمیت رکھتا ہے چراغ بتی کرنا۔ گھر کا انتظام اور کام سنبھالنا ہے تاکہ شام ہو تو کوئی چراغ روشن کر دے۔ اس لئے کہ عام طور سے گھروں میں ایک ہی چراغ ہوتا تھا اور غربت کے عالم میں تو اُس ایک چراغ کے لئے بھی بتی اور تیل کا انتظام نہیں ہوتا تھا چراغ بتی کہاں سے ہوتی۔ بڑی بڑی وباؤں یا غارت گروں کے حملوں کے بعد کبھی کبھی ساری ساری بستی میں چراغ نہیں جلتا تھا۔ جس پر کہا جاتا تھا کہ بستیاں بے چراغ ہو گئیں۔

چراغ بجھنا۔ اولاد سے محروم ہو جانا ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ بیٹا گھر کا چراغ ہوتا ہے چراغ جلنا بھی محاورہ ہے اور گھر کے چراغ سے گھر کو آگ لگنا بھی۔ یہ وہ موقع ہوتا ہے جب گھر کا اپنا کوئی آدمی نقصان پہنچاتا اور تباہی و بربادی پھیلاتا ہے چراغ سے چراغ جلنا ایک شخص کی نیکی، ذہانت اور شرافت کا اثر دوسرا شخص قبول کرے وہی چراغ سے چراغ جلتا ہے۔ ایک نے دوسرے کو بڑھایا اور دوسرے نے تیسرے کو یہی گویا چراغ جلنا ہوا اور سماج کی وہ نیکی اور بھلائی کہ ایک آدمی سے دوسرا آدمی کوئی سبق سیکھے، کو ئی روشنی حاصل کرے۔

کبھی کبھی کوئی ایسا شخص بھی ہوتا ہے جو تمام کنبے، خاندان، بستی، یا شہر کے لئے شہرت یا عزت کا باعث ہوتا ہے۔ اُس کے لئے کہتے ہیں کہ وہ شہر کا چراغ ہے۔ غالب کے مرثیہ میں حالی نے کہا تھا۔

شہر میں ایک چراغ تھا نہ رہا

چراغ روشن مراد حاصل ایک دُعا ہے کہ چراغ روشن ہو گا تو گویا مرادیں حاصل ہوں گی۔ چراغاں ہمارے یہاں خوشی کے موقع پر بہت سے چراغ جلائے جاتے ہیں۔

اُس کو چراغاں کہتے ہیں۔ دیوالی پر یا عُرس کے موقع پر یہی چراغاں تو کیا جاتا ہے۔

ہندوانی رقص ایک وہ بھی ہوتا ہے جو چراغوں کی تھالی سر پر رکھ کر کیا جاتا ہے اُس کو رقص چراغ کہتے ہیں بعض مندروں خانقاہوں اور مزارات پر بہت سے چراغ جلانے کے لئے مینار بھی تعمیر کئے جاتے ہیں جسے چراغ مینار کہتے ہیں۔

چشم پوشی کرنا

چشم سے متعلق ہمارے ہاں بہت سے محاورے ہیں اُن میں" چشم نمائی"، چشم بد دُور، چشمِ بیمار جیسے ترکیبی محاورے شامل ہیں مثلاً چشمِ بیمار ایک شاعرانہ اندازِ نظر ہے خماری آنکھیں، چشمِ نیم بار یا چشمِ نیم خواب جن آنکھوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اُن کو محاورہ چشمِ بیمار بھی کہا جاتا ہے۔ غالب اپنے ایک دوست اور شاگرد میرن صاحب کی آنکھوں کو چشمِ بیمار کہتے تھے اس سلسلے میں یہ تشریح بھی آئی ہے کہ خمار آلود یا متوالی آنکھیں یہ عام طور پر معشوقوں کی آنکھوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اور اُس سے ہمارے معاشرے کی تہذیبی سطح کا بھی شاعرانہ اظہار ہوتا ہے۔

"چشم نمائی کرنا"۔ طنزیہ انداز سے کوئی فِقرہ کہنا اور آنکھوں کا اشارہ کرنا چشم نمائی کہلاتا ہے۔ ایسا ہی ایک ترکیبی محاورہ انگشت نمائی سے چشم پوشی تہذیبی اعتبار سے غیر معمولی محاورہ ہے جب ہم دوسروں کی طرف سے کوئی برائی دیکھتے ہیں اور اُس پر کوئی اختلاف پیدا کرنا بھی نہیں چاہتے تو اُس کو نظر انداز کرتے ہیں اور اُس کو چشم پوشی اختیار کرنے سے بھی تعبیر کرتے ہیں یہ نہایت اہم معاشرتی رو یہ ہے جو وقتاً فوقتاً اس لئے اختیار کیا جاتا ہے کہ اختلافات کو آگے بڑھنے سے روکا جائے اور اِس اَمر کی شعوری کوشش کی جائے۔ تاکہ تعلقات میں کوئی بدمزگی یا بد نمائی پیدا نہ ہو۔

چمک چاندنی

چاندنی کے ساتھ روشنی اور نور کا تصور وابستہ ہے چمک دمک کا نہیں ایسی عورت جو بہت چمک دمک سے رہتی ہے اور غیر ضروری طور پر سنگار پٹار کرتی ہے وہ معاشرے میں اچھی نظر سے نہیں دیکھی جاتی بلکہ اُس کو ایک طرح پر فاحشہ عورت تصور کرتے ہیں۔ اس نسبت سے یہ محاورہ ہماری معاشرتی فِکر اور اندازِ نظر کی ترجمانی کرتا ہے۔

چندے آفتاب، چندے ماہتاب، چودہویں رات کا چاند

جو آدمی دوسروں کی نظر بہت قبول صورت اور پُر کشش ہوتا ہے اُس کو بطورِ تعریف کہتے ہیں کہ وہ چندے آفتاب و چندے ماہتاب ہے جس کہ یہ معنی ہیں کہ وہ چاند سورج کی طرح دل آویز ہے۔ اور نگاہوں کو فرحت بخشنے والا ہے۔ چاہے اُنہیں کسی وقت بھی دیکھا جائے رات کو دن کو صبح کو شام کو وہ ہر وقت اور ہر حالت میں خوش منظر ہیں، خوبصورت ہیں۔ اس سے معاشرے کی خوش ذوقی اور زبان کی خوبصورتی کا پتہ چلتا ہے۔ اور یہ بھی کہ ہمارے یہاں مبالغہ آرائی کو حُسن بیان سمجھا جاتا ہے اور اِسی سے ہماری شاعری اور دوسرے فنون لطیفہ کی مقصدیت اور Approachسامنے آتی ہے۔ چودھویں رات کا چاند ہونا اُسی کی ایک خوبصورت مثال ہے۔

چور کی داڑھی میں تنکا۔ چور محل، چوری اور سینا زوری یا چوری اور سینہز وری، چوری چوری، چوری چھُپے، چور کی ماں کوٹھی میں سر دیوے۔ اور رو وے۔ چورنی دیدہ، چوری چنکاری یا چوری جاری

چوری چکاری یا چوری جاری ہمارے بہت بڑے سماجی عیبوں میں سے ہے۔ اِس سے چوری چھُپے بہت سے بُرے لوگ اپنے ساتھیوں یا غیر ساتھیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور اُس طریقہ سے سماج میں ناہمواریوں اور عیب داریوں کو رواج دیتے ہیں ایسا نہیں ہے کہ یہ لوگ اسے پہچانتے یا اُسے جانتے نہ ہوں۔ اسی لئے ہمارے ہاں ایسے محاورے رائج ہوئے کہ چور چوری سے جاتا ہے ہیرا پھیری سے نہیں جاتا جس کے یہ معنی ہیں کہ چوری کا عیب اگر آدمی کی فطرت میں داخل ہو جاتا ہے تو پھر ایک سطح پر یہ اُس کی عادت بن جاتی ہے اور وہ اُسے کہیں نہ کہیں موقع پاکر اپنے حق میں استعمال کرتا ہے۔

اور لوگ قیافے اور قیاس سے یہ پتہ چلا لیتے ہیں کہ یہ کام کس کا ہے اسی وقت کہتے ہیں کہ چور کی داڑھی میں تنکا ہے جو مجرم ہوتا ہے وہی چھپاتا پھرتا ہے اور اپنی حرکات سے سچائی کو ظاہر کرتا ہے۔

چور محل امراء کے محل کا وہ حصہ ہوتا جہاں چوری چھُپے کسی کو رکھا جاتا ہے رجب علی بیگ سرور نے اُس کو ایک موقع پر"فسانۂ عجائب" میں استعمال بھی کیا ہے کہ اُمراء کے چور محل نہیں ہو پاتے تھے۔ چورنی دیدہ ایسی لڑکی یا لڑکا کہلاتا ہے جو چوری چھُپے دوسروں کو تاکتا جھانکتا رہتا ہے۔ چور پکڑنا بھی اِسی نوعیت کا محاورہ ہے کہ بیماری تکلیف یا رویّہ کا اگر سبب نہیں معلوم ہوتا تو کسی نہ کسی ذریعہ یا وسیلہ یا قیاس یہ اندازہ کیا جاتا ہے کہ برائی یہاں ہے اُسی کو چور پکڑنا کہتے ہیں اِن محاوروں سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ سماج کس طرح اپنے انداز پر غور کرتا ہے، کمنٹ کرتا ہے اور کسی عمل یا ردِ عمل پر اپنے تبصرہ کو محاورے یا ذہانت سے بھرنے کمینٹ کی صورت میں سامنے لاتا ہے۔

چوڑیاں پہنانا چوڑیاں پہننا چوڑیاں ٹھنڈی کرنا

چوڑیاں ہندوستان کی عورت کا خاص زیور ہے چوڑیاں کانچ کی بھی ہوتی ہیں لاکھ کی بھی، سونے چاندی کی بھی، اور کم درجہ کے کسی میٹریل کی بھی۔

چوڑیوں کے ساتھ ہمارے محاورے بھی وابستہ ہیں مثلاً چوڑیاں بجنا، چوڑیاں پہنانا، چوڑیاں پہننا، اس کے علاوہ چوڑیاں بڑھانا، چوڑیاں ٹھنڈی کرنا۔ چوڑیاں اُتارنا، چوڑیاں توڑنا، اور اِن سب محاوروں کا رشتہ ہماری تہذیبی اور سماجی زندگی سے ہے۔ مثلاً چوڑیاں بجنا سہاگ کی اپنی زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔

چوڑیاں پہنانا شادی کرنے کی ایک رسم بھی ہے۔ جس طرح چادر ڈالنا ایک رسم ہے اسی طرح چوڑیاں پہنانا ہے یعنی جس کے نام سے جو چوڑیاں پہنائی جائیں گی لڑکیاں یا عورتیں اُس کی دولہن یا بیوی بن جائیں گی۔

چوڑیاں پہننا اسی نسبت سے بیوی بننے کے لئے کہا جاتا ہے۔ تم چوڑیاں پہن کر بیٹھ جاؤ یہ مردوں کے لئے طعنے کے طور پر کہا جاتا ہے۔ اس لئے کہ چوڑیاں پہننا عورتوں کا کام ہے مرد اگر چوڑیاں پہنتا ہے تو اُس کے معنی یہ ہیں کہ وہ بزدلی کا ثبوت دیتا ہے۔ اسی لئے ایک اور محاورہ بھی ہے کہ"بنگا" پہنا دوں گی گاؤں والے چوڑی بنگڑی کہتے ہیں۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ تجھے چوڑیاں پہنا دوں گی بُزدل اور شکست خوردہ بنا دوں گی وغیرہ۔

اب اِن محاوروں کے مقابلے میں چوڑیاں بڑھانا یا ٹھنڈی کرنا بیوہ ہو جانے کی ایک علامت ہے۔ جب کوئی عورت سہاگن نہیں رہتی تو اُس کی چوڑیاں اُتار دی جاتی ہیں تو اُس کو چوڑیاں بڑھانا کہتے ہیں اور اگر کانچ کی چوڑیاں توڑ دی جائیں تو اِس عمل کو چوڑیاں ٹھنڈی کرنا کہتے ہیں۔ جب چراغ اور شمع کو بجھایا جاتا ہے تو اُسے بھی چراغ ٹھنڈا کرنا یا شمع ٹھنڈی کرنا کہتے ہیں۔ بیخود دہلوی کا شعر ہے۔

مجھکو ہے بیخود نہ سمجھ خوب سمجھتا ہوں تجھے
شمع میرے ہی جلانے کوتو ٹھنڈی کر دی

(بیخود دہلوی)

اِس سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ محاورہ ہماری معاشرتی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی کس کس طرح ترجمانی کرتا ہے۔


چولی دامن کا ساتھ

چولی دامن، قمیض، کُرتے یا ساڑی کے پَلّو سے متعلق دو ایسی اصطلاحیں ہیں جو ایک سے زیادہ معنی دیتی ہیں اور جب وہ دونوں ایک ساتھ استعمال ہوتی ہیں تو اُن سے بہت گہری باتوں یا رشتوں کا تعلق ظاہر کیا جاتا ہے۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ اُن سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اور اس سے مراد مرد اور عورت کا گہرا تعلق ہوتا ہے جو سماج کی باہمی قُربتوں کو ظاہر کرتا ہے۔

چھاتیاں چڑھنا، چھاتی بھر جانا

عورتوں کے خاص محاورات ہیں اور اُن کا تعلق بچے کے دودھ پینے یا نہ پینے سے ہے جب پستان دُودھ سے بھر جاتے ہیں اور بچہ دُودھ نہیں پیتا اور اُنہیں چھاتیوں کا چڑھنا یا بھر جانا کہتے ہیں۔

چھاتی پر پتھر رکھنا۔ چھاتی پر سانپ لوٹنا۔ چھاتی پر مُونگ دلنا، چھاتی میں گھونسہ مارنا، چھاتی پکنا، چھاتی پیٹنا، کوٹنا، چھاتی سے لگانا، چھاتی تلے رکھنا، چھاتی ٹھُکنا، چھاتی ٹھنڈی کرنا یا ہونا، چھاتی جلنا، چھاتی چھلنی ہو جانا، چھاتی دبانا یا لینا، چھاتی دھڑکنا، چھاتی نکال کر یا اُبھار کر چلنا

چھَاتی یاسینہ مَرد یا عورت کے لئے شخصیت کے اظہار یا سماجی افکار و اعمال میں خاص کردار ادا کرتا ہے۔ عورتوں کی شخصیت میں اُس سے جمال کا اظہار ہوتا ہے اور مرد کی شخصیت میں جلال کا جس سے مُراد عورت پن اور مردانہ وجاہت ہے اسی لئے چوڑا سینہ یا بھرا سینہ یا بھرا بھرا سینہ قابلِ تحسین یا لائق تعریف باتیں خیال کی جاتیں ہیں۔

چھاتی سے لگانا یا چھاتی پھٹنا یا چھاتی کے سائے میں رکھنا محبت اور شفقت کی باتیں ہیں۔ چھاتی سے لگائے رکھنا بھی اسی زمرہ میں آتا ہے چھاتی ٹھنڈی ہونا سکون ملنا ہے اسی لئے دُعا دی جاتی ہے کہ اللہ پاک چھاتی ٹھنڈی رکھے۔

نفرت اور دشمنی کے جذبات بھی سینہ سے وابستہ کئے جاتے ہیں۔ جیسے چھاتی پر گھونسا مارنا یا چھاتی پر مونگ ڈالنا یا چھاتی جلنا، چھاتی کوٹنا ماتم کے لئے آتا ہے۔ چھاتی پیٹنے سے بھی یہی مُراد ہے۔

چھاتی پر بال ہونا مَرد کی خوبی سمجھی جاتی ہے کہ اُس کے خون میں آئرن ہونے کی ایک علامت ہے مگر عورت کے لئے نہیں اب عام طور پر مہذب سوسائٹی میں چھاتی پر بال ہونے کا ذکر بھی نہیں آتا۔ دیہات اور گاؤں کی بات الگ ہے۔

جب بہت زخم مل جائیں اور کسی طرف سے طعنہ و تشنیع برابر جاری رہے گویا تیروں کی بارش ہوتی رہے تو محاوروں کے طور پر زخم پڑنا یا چھاتی چھلنی ہونا استعمال کیا جاتا ہے۔ بچہ کی طرف سے دُودھ پینے کی عمل میں عورتوں کے محاورے کے لحاظ سے چھاتی دبانا بھی شامل ہے۔ جنسی اور جذباتی روش میں بھی یہ محاورہ آتا ہے چھاتی اُبھار کر یا نکال کر چلنا ایک طرح کا سماجی اور نفسیاتی طرزِ عمل ہے جس میں اپنی شخصیت کو نمایاں کرنے کارو یہ شامل ہوتا ہے۔ چھاتی چوڑی کرنے کا انداز بھی دراصل محاورتاً یہی اپنی شخصیت کا اظہار ہے۔

چھَٹی کا دودھ یاد آنا

ہمارے یہاں بچہ کی پیدائش سے متعلق بہت سی رسمیں ہیں اُن میں سے ایک چھٹی کی رسم بھی ہے جو بچے کی پیدائش سے چھ دن بعد ادا کی جاتی ہے۔ اُس میں دُودھ دھُلائی کی رسم شامل ہے۔ جس میں بہنوں یا نندوں کو نیگ کے طور پر ادا کیا جاتا ہے۔

جب کوئی شخص مصیبت میں پڑتا ہے یا تکلیف اُٹھاتا ہے تو کہتے ہیں کہ چھٹی کا دودھ یاد آگیا یعنی اچھے دن یاد آ گئے بہت پرانی بات یاد آ گئی۔ پُرانی بات یاد آنا زیادہ اہم نہیں ہے جتنا اہم چھَٹی کا دُودھ ہے کہ اُس کا تعلق سماجی رسم سے ہے۔

چہرہ لکھنا۔ چہرہ بندی کرنا

اصل میں چہرہ لکھنا حیوانات سے متعلق ایک طریقہ ہے کہ جب اُن کو خریدا یا فروخت کیا جاتا ہے تو اُن کا چہرہ لکھ لیا جاتا ہے یعنی سینگ ہیں یا نہیں دُم کٹی ہوئی تو نہیں ہے دانت کیسے ہیں وغیرہ۔ اسی طرح چہرہ لکھنے کا رواج ان لوگوں کے بارے میں بھی رہا ہے۔ جو کسی کی ملازمت میں آتے ہیں۔

چہرہ بندی مرثیہ کے تمہید ی حصّے کو کہتے ہیں یہ مرثیہ نگاری ہی کی ایک اصطلاح ہے۔ بہرحال چہرہ لکھنا ایک طرح کا شناخت نامہ تیار کرنا ہے جو ہماری سماجی زندگی میں ایک نہایت ضروری کارگزاری ہے۔

چھکّے چھُوٹ جانا

چھکّا آج بھی کرکٹ کے رشتہ سے ہمارے لئے ایک خاص لفظ ہے اِس سے پہلے چھکّے چھُوٹ جانا استعمال ہوتا تھا۔ جس کے معنی ہوتے تھے کہ اُس کے پانچوں حواس اور چھٹی حِس غائب ہو گئی اوسان خطا ہو گئے ہوش حواس گم ہو گئے۔ یہ ایسے وقت کے لئے کہتے ہیں جب کسی ناقابلِ برداشت صورت حال سے آدمی دوچار ہوتا ہے۔ اور کچھ سوچ نہیں پاتا کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔

چھَلنی میں ڈال کر چھاج میں اُڑانا

چھلنی اور چھاج ہماری وہ معاشرتی زندگی کے دو اہم حوالہ رہے ہیں ایک میں چھانا جاتا ہے۔ اور ایک میں پھٹکا جاتا ہے۔ پھٹکنے کا عمل ایک طرح سے حواس اُڑانے کا عمل بھی ہے۔ اور بات اُڑانا افواہ اُڑانا مزہ اڑانا ہمارے ہاں سماجی رویوں میں شامل ہے۔ اُسی کی طرف یہ کہہ کر اشارہ کیا جاتا ہے کہ" چھاج" میں رہ کر اُڑا رہے ہیں اور"چھلنی" میں چھاَن رہے ہیں۔ ایک طرف باریکیاں نکال رہے ہیں اور دوسری طرف مذاق اُڑا رہے ہیں اور بدنامی پھیلا رہے ہیں۔

چہ میگوئیاں

ہمارے معاشرے میں خواہ مخواہ کی باتیں کرنے کا بہت رواج ہے غیر ضروری طور پربھی ہم کمینٹ کرتے رہتے ہیں اور باتوں کا چرچہ کرتے ہیں اسی کوچہ میگوئیاں کہتے ہیں کہ وہاں بہت چہ میگوئیاں ہوتی ہیں لوگ اپنی اپنی سوچ مزاج اور ماحول کے مطابق باتیں کرتے ہیں۔

چھوٹا منہ بڑی بات

ہر آدمی کو اپنی حیثیت اپنے حالات اور ماحول کے مطابق سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیئے اگر ایسا نہیں ہوتا اور لوگ اکثر اس کا خیال نہیں کرتے تو ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو اُن کے منہ پر پھبتی نہیں ہے یا اُن جیسے کسی آدمی کی زبان سے اچھی نہیں لگتیں۔ اسی موقع پر کہتے ہیں چھوٹا مُنہ بڑی بات کرنا یعنی تمہارا مُنہ اس لائق نہیں ہے کہ تم اِس طرح کی یا اس سطح کی باتیں کرو۔
اس سے سماجی آداب و رسوم کا پتہ چلتا ہے۔ کہ کس کو کیا بات کرنی چاہیئے اور اگر معاشرے کی سوجھ بوجھ کی سطح گِر جاتی ہے تو پھر کس طرح کی باتیں ہوتی ہیں۔

چھوئی موئی

ایک پودے کا نام بھی ہے جواس اعتبار سے بہت نرم و نازک پودا ہے کہ جیسے ہی اُس کو ہاتھ لگاؤ وہ مرجھایا ہوا نظر آنے لگتا ہے یہ غیر معمولی طور پر حسّاس ہونے کی ایک صورت ہے اور ایسے لوگوں کی یا ان کی طبیعتوں کی چھُوئی موئی سے نسبت دیتے ہیں اور ایسی لڑکیوں کو خاص طور پر چھوئی موئی کہا جاتا ہے۔ جو ذرا سی بات پر بُرا مان جاتی ہیں یا ذرا ہوا چلنے یا ٹھنڈ لگنے یا گرمی کا اثر ہو جانے پر بیمار ہو جاتی ہیں یہ گویا سماج کا گہرا طنز ہے جو ایسے لوگوں پر کیا جاتا ہے جو مزاج کے بہت نازک ہوتے ہیں۔

چھینٹا دینا۔ چھینٹا پھینکنا

ایک سے زیادہ معنی رکھتا ہے عام طور سے جب کسی پر اعتراض کیا جاتا ہے یا چُٹکی لی جاتی ہے تو اُسے چھینٹا پھینکنا یا دینا کہتے ہیں یہ بھی ایک سماجی روش ہے۔ لیکن چھینٹا دینے کے ایک معنی ایک خاص طرح کی رسم بھی ہے جب کوئی بچّہ بیماری سے اٹھتا ہے اور صحت یاب ہوتا ہے تو اُسے غُسل صحت سے پہلے چھینٹا دیا جاتا ہے کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نیم کی ٹہنی کو پانی میں بھگویا جاتا ہے اور پھر اُس سے بیماری سے شِفا یاب ہونے والے کو چھینٹا دیتے ہیں۔

پکانے کے سلسلے میں بھی یہ محاورہ کام میں آتا ہے اور ایک خاص وقت میں روٹی یا سالن کو پانی کا چھینٹا دیا جاتا ہے پراٹھے اور چاولوں کو بھی خاص طور پر چھینٹے اُڑانا بھی اسی سلسلہ کا ایک محاورہ ہے۔

چیتھڑے بکھیرنا یا اُڑانا، چیتھڑے چیتھڑے کر دینا

معروف محاورات میں سے ہے"چیتھڑے"ایسے کپڑوں کو کہتے ہیں جو گھِس کر پھٹ گئے ہوں بالکل جھِری جھِری ہو گئے ہیں جسے مغربی یوپی میں جھیر جھیر ہونا یا لھیر لھیر ہونا بھی کہتے ہیں اور اس سے مُراد یہ ہے کہ کسی بات کو کسی پروگرام کو یا عزت آبرو کو بُری طرح خاک میں مِلا دینا۔ کسی خیال کی شدید مخالفت کرنا کہ اُس نے فلاں بات فلاں دعویٰ یا دلیل کے چیتھڑے اُڑا دیئے سماج میں اس طرح کی صورتِ حال کا پیش آنا بہت بے عزتی کی بات ہوتی ہے اور ایسے ہی موقعوں پر کہتے ہیں کہ اُس کے چیتھڑے اڑ گئے۔ اور بات بگڑ گئی۔

چیل کی طرح منڈلاتے پھرنا۔ یا چیل کو وّں کی طرح منڈلانا

جب آدمی کوکسی بات کا لالچ ہوتا ہے تو وہ اس موقع کی تلاش میں رہتا ہے کہ وہ کب اور کس سے کیا جھپٹ لے۔ چیل جھپٹا بچوں کا ایک کھیل بھی ہے اور چیل کی طرح جھپٹا مارنا اور موقع سے فائدہ اُٹھانا سماج کا ایک رو یہ بھی ہے۔ اور چیل جھپٹا مارنے سے پہلے منڈلاتی ہے چکّر لگاتی ہے۔ اسی لئے چیل کووّں کی طرح منڈلانا بھی کہتے ہیں جو کسی کے لالچی طریقہ کا کپڑا ایک طرح کا طنز ہوتا ہے اور ہمارے زیادہ محاورے اگر دیکھا جائے تو طنز اور تبصرہ ہی ہوتے ہیں۔

چیں بولنا یا بُلوانا

عجیب و غریب محاورہ ہے اور جس کے معنی ہوتے ہیں دوسرے کو بے طرح دبا دینا کہ وہ پناہ مانگنے پر مجبور کر دینا یہ جانداروں کے لئے بھی بولا جاتا ہے اور غیر جانداروں کے لئے بھی جیسے ایسی مُوسلا دھار بارش ہوئی یا طوفانی مینہ برسا کہ اچھی اچھی عمارتیں چیں بول گئیں یا انہوں نے اِس بُری طرح اُن کی خبر لی کہ وہ چیں بولنے پر مجبور ہو گئے یا اُن سے چیں بُلوا دی اگر دیکھا جائے تو یہ بھی ہمارے سماجی رویوں پر بھی تبصرہ ہیں۔

کبھی اتنی زور زبردستی ہوتی ہے کہ اچھے اچھے اُس صورتِ حال کا مقابلہ نہیں کر پاتے۔

چیونٹی کے پر نکلے ہیں

یہ محاورہ بھی بہت دلچسپ اور معنی خیز ہے۔ چیونٹی کا ذکر تو ہمارے روایتی قصوں میں آتا رہا ہے لیکن چیونٹی کے پر نکل آنا ایک بڑے طنز کا درجہ رکھتا ہے یہ کہا جاتا ہے کہ جب چیونٹی کی موت قریب آتی ہے تو اُس کے پر نکل آتے ہیں یہ ایک طرح پر خطرہ کا اعلان بھی ہے۔ لیکن اس سے ہمارے معاشرے میں ایک دوسرے ہی مفہوم کو اخذ کیا کہ اب چیونٹی کے بھی پر نکل آئے وہ بھی اُڑنے لگی اور اِس کے معنی یہ ہیں کہ وہ نا دانستہ اپنے لئے نقصان اور تباہی کے راستہ پر بڑھ رہی ہے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے محاوروں میں کیا کچھ کیا گیا ہے اور کیسی کیسی صورت حال کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔


ردیف "ح"

حاشیہ چڑھانا

حاشیہ کسی عبارت کے سلسلے میں ذیل تحریروں کو کہتے ہیں بعض کتابیں حاشیہ ہوتے ہوئے بھی مستقل کتابوں کے درجہ میں آ جاتی ہیں۔ یہ ایک الگ بات ہے حاشیہ چڑھانا یا حاشیہ لگانا ایک طرح کا مجلسی رو یہ ہے کہ بات کچھ نہیں ہوتی اُس کو اپنی طرف سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اُسی کو حاشیہ چڑھانا کہتے ہیں اور حاشیہ لگانا بھی کم و بیش اسی معنی میں آتا ہے۔

حاضری دینا یا حاضری میں کھڑا رہنا

یہ درباری آداب کا حصّہ ہے بزرگانِ دین کے مزارات بھی جانے کو حاضری دینا کہتے ہیں نوکری بجانا دہلی کا ایک محاورہ ہے اُس کے معنی بھی کسی رئیس یا ادارے کی ملازمت کو پوری توجہ اور محنت سے انجام دینا۔

حاضری میں کھڑا رہنا تابعداری ہے اطاعت ہے پُرانے زمانے میں عبادت بھی کھڑے ہو کر ہی کہی جاتی تھی اسی لئے حاضری دینے کے معنی کسی کے سامنے سر جھکائے ہوئے کھڑے رہنے کے ہیں اور اِس سے ایک طبقہ کے سماجی رویوں کا پتہ چلتا ہے۔

حرام موت مرنا

حرام حلال کے مقابلہ کا لفظ ہے یعنی جائز کے مقابلہ میں ناجائز حرام کی کھانا حرام کی روزی حرام کا پیسہ حرام کی کمائی سب اسی ذیل میں آتے ہیں جب کوئی کہتا ہے کہ حرام موت مرنے سے کیا فائدہ تو اس سے مراد ہوتی ہے خواہ مخواہ جان دینا بڑا نقصان اٹھانا ہے۔ ایسے موقعوں پر سماج والے یہ کہتے ہیں کہ وہ تو حرام موت مرا ہے۔ خودکشی کے لئے بھی کہا جاتا ہے کہ وہ حرام موت ہے مگر اس میں کوئی طنز یا تعریف شریک نہیں ہے۔ جس طرح حرام موت مرنے میں ہے۔

حرف آنا، حرف اُٹھانا، حرف آشنا، حرف بنانا، حرف پکڑنا، حرف لانا

حرف بات کو کہتے ہیں اور جس طرح بات کے ساتھ بہت سے محاورے وابستہ ہیں جیسے حرف رکھنا اعتراض کرنا۔ حرف اُٹھانا تھوڑا بہت پڑھنے کے لائق ہو جانا۔ حرف شناسی بھی اسی معنی میں آتا ہے حرف پکڑنا غلطی پکڑنے کو کہتے ہیں حرف لانا بھی اسی معنی میں آتا ہے اِس سے ہم یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ الفاظ کا استعمال سماج کی سطح پر کس طرح اپنے معنی اور معنویت کو بدلتا رہتا ہے۔ اُس میں نئے نئے پہلو پیدا ہوتے رہتے ہیں اور نئی نئی شاخیں پھوٹتی رہتی ہیں۔

حشر توڑنا یا برپا کرنا، حشر دیکھنا، حشر کا دن ہونا، حشر کا سا ہنگامہ ہونا

حشر قیامت کو کہتے ہیں اور حشر کے معنی طرح طرح کے فتنے اُٹھنا، اور ہنگامہ برپا ہونا ہے۔ اسی لئے حشر کے لغوی معنی کے علاوہ محاوراتی معنی بھی سامنے آتے ہیں۔

محشر بھی حشر کو کہتے ہیں اور اِس کے ساتھ بھی بعض محاورات وابستہ ہیں اور اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ لفظوں کے ساتھ معاشرتی اور تہذیبی ماحول میں کیا کیا تصورات اور تاثرات وابستہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اور زبانِ فکر و خیال کی کِن کِن راہوں سے گزرتی ہے۔ حشر کا دن کیونکہ قیامت سے وابستہ ہے اس لئے مسلمان حشر کے ساتھ فتنہ اور ہنگامہ کا لفظ وابستہ نہیں کرنا چاہتے اگرچہ یہ محاورہ خود اسلامی کلچر سے وابستگی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

حلق بند کرنا، حلق چُوں کرنا، حلق دبانا

حلق گلے کو کہتے ہیں آدمی کی آواز بند کرنے کے لئے اُس کا منہ دبا دیا جاتا ہے گلہ دبایا جاتا ہے۔ اُسے خاموش کیا جاتا ہے یہ مُجرمانہ انداز سے بھی ہوتا ہے کہ قاتل چور اور ڈکیت ایسا کرتے ہیں۔ سماجی اور سیاسی زندگی میں بھی کسی کی آرزو دبائی جاتی ہے اُس کو محاورتاً گلہ دبانا بھی کہتے ہیں۔ اور قصبہ کی زندگی میں یہ محاورہ کسی کو خاموش رکھنے کے لئے استعمال ہوتا ہے کہ اپنے"حلق چوں" اور اس کی آواز کوئی نہ سنے اس کی کوشش کی جاتی ہے حلق سے جب آواز نکالی جاتی ہے تو وہ زیادہ قوت سے اُبھرتی ہے حلق سے باہر آتی ہے اسی لئے جو لوگ یا بچے روتے وقت زیادہ زور سے آواز نکالتے ہیں اُن کے لئے بھی کہا جاتا ہے۔ کہ وہ حلق سے روتے ہیں اسی مناسبت سے حلق چُوں کرنا اور حلق دبانے کا محاورہ آتا ہے۔

حُور کا بچّہ

حوُر اور پری ہمارے ہاں خوبصورتی اور حُسن کا آئیڈیل ہے جب کسی کو بہت خوبصورت ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ تو اُس کو"پری رو" پری چہرہ، پری تمثال اور پری کا نمونہ کہا جاتا ہے کہ آخری لفظ طنز اور تعریض کے طور پر بھی کسی کم صورت یا بدصورت آدمی کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن حُور کا بچّہ کسی خوبصورت بچے یا بچی کے لئے یا زیادہ سے زیادہ کسی حسین مرد یا عورت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جب کہ پُری اولاد ہوتی ہے نہ حُور کے ماں باپ ہوتے یہ آئیڈیل ہیں آئیڈیل یعنی اُن کا رشتہ تخلیق سے وابستہ نہیں ہوتا۔


ردیف "خ"

خار رکھنا، خار گزرنا

خار کانٹے کو کہتے ہیں اور کانٹے کی خصوصیت چُبھنا اور شدید اذیت کا احساس پیدا کرنا ہے۔ یہ اُس کی فِطری خوبی ہے لیکن اُسی سے محاورے کے معنی پیدا ہو گئے اور خار کھانا خار کی طرح کھٹکنا اور خار گزرنا محاورات بن گئے کہ یہ صُورت ناگواری کا باعث ہوتی ہے وہ آدمی بُرا لگتا ہے اور اِس معنی میں وہ خار کی طرح کھٹکتا ہے اور اُس کا موجود ہونا خار گزرتا ہے یہ ہماری سماجی نفسیات کا حصّہ ہے اور یہ احساس دلاتا ہے کہ لفظ اپنے معنی کے اعتبار سے لغت کا حصّہ ہوتا ہے۔
لیکن جب تک اُس کے مُرادی معنی نہ ہوں وہ محاورہ نہیں بنتا، محاورہ ایک طرح کا ذہنی مفہوم رکھتا ہے جو لغوی معنی سے الگ ہوتا ہے اور تہذیب و سماج سے اُس کا رشتہ نسبتاً گہرا ہوتا ہے۔

خاص خاص، خاص محل، خاص اور خاصہ وغیرہ

اس کے معنی ہوتے ہیں"مختص" لیکن یہ لفظ کچھ خاص معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسے"دیوانِ خاص" (لال قلعہ) اِس کے علاوہ مغل دور میں بادشاہوں کاجو شخص خط بناتا تھا اور بال کاٹتا تھا وہ خاصہ تراش کہلاتا تھا علاوہ بریں بادشاہ کے اپنے لئے یا کسی امیر کے لئے جو خاص کھانا تیار ہوتا تھا وہ خاصہ کہلاتا تھا۔ بیگمات شاہی کو جو خطابات عطا ہوتے تھے اُن میں زینت محل، ممتاز محل جیسے خطابات کے ساتھ خاص محل بھی ہوتا تھا۔ یہ سب محاورات کے ذیل میں نہیں آتے اس لئے کہ اِن کے جو بھی معنی ہیں وہ لغت کے اعتبار سے ہیں محاورے کے اعتبار سے نہیں۔

خاطر میں رکھنا، خاطر میں لانا، یا نہ لانا وغیرہ

خاطر طبیعت کو کہتے ہیں جو باتیں طبیعت کے لئے ناگواری کا باعث ہوتی ہیں وہ ناگوارِ خاطر کہلاتی ہیں کچھ باتیں طبیعت کے لئے ایک گُونہ پریشانی کا باعث ہوتی ہیں وہ غبار خاطر کہلاتی ہیں ابوالکلام آزاد کے ایک مجموعہ خطوط کا نام"غبارِ خاطر" ہے ہم جب دوسرے کو خوش آمدید کہتے ہیں تو وہ اس کی خاطر و مدارات کرتے ہیں تو وہ خاطر داری کہلاتی ہے۔ اس کے معنی خیال خاطر کے بھی ہیں بقولِ میر انیس

خیالِ خاطرِ احباب چاہیئے ہر دم
انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

خاطر نشان ہونا دل میں بیٹھ جانا ہے۔ اسی کو دل نشیں ہونا بھی کہتے ہیں۔ خاطر خواہ کے معنی ہوتے ہیں حسبِ پسند ہونا ہم کسی کو جب توجہ اور تحسین کے لایق سمجھتے ہیں تو گویا اُس کو خاطر میں لاتے ہیں۔ اور جب قابلِ اعتناء نہیں سمجھتے تو گویا خاطر میں نہیں لاتے۔

خاک اڑانا، خاک ڈالنا، خاک چھاننا، خاک چاٹنا، خاک ہو جانا، خاک پھاکنا، خاک میں ملنا وغیرہ

خاک ہمارے یہاں مٹی کو کہتے ہیں جو ہماری زمین کا بہت بڑا مادی عنصر ہے۔ زمین میں جو چیز گِر پڑ جاتی ہے وہ زمین ہی کا حصّہ بن جاتی ہے۔ خاک ہو جاتی ہے یا خاک میں بدل جاتی ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ اب اُس کا اپنا وجود باقی نہیں رہا وہ خاک کے برابر ہو گئے۔

خاک دھول اڑنا ایک طرح سے ویرانی کی علامت ہے جو سرسبزی اور شادابی کی مخالف ایک صورت ہے سرسبزی اگر ہو گی تو آبادی بھی ہو گی رونق اور تازگی ہو گی۔ اگر خاک دھُول اور مٹی کے سوا کچھ نہیں تو ویرانی کے تصوّر کے سوا اُس کے بارے میں اور کیا سوچا جا سکتا ہے اسی لئے جب کوئی خاندان کوئی ادارہ کوئی بستی یا کوئی مُلک اُجڑ جاتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ وہاں تو دیکھتے دیکھتے خاک اُڑنے لگی یا انہوں نے اپنی نالائقی سے خاک اُڑا دی۔

اِسی طرح سے خاک ڈالنا بھی ایک محاورہ ہے اور سماج کے عمل اور ردِّ عمل کو پیش کرتا ہے کہ وہ اس لایق بھی نہیں ہے کہ اُس کا ذکر کیا جائے کہ خاک ڈالو کے معنی ہیں لعنت بھیجو خاک چٹکی بہت کم حیثیت دوا کو کہتے ہیں۔ جب خدا کا حکم ہوتا ہے اور شِفاء مقدّر میں ہوتی ہے تو خاک کی چٹکی سے آرام ہو جاتا ہے یا خاک کی چٹکی بھی اکسیر ثابت ہوتی ہے اس کے مقابلہ میں خاک پھانکنا، پریشان پھرنا باد ہوائی پھرنا ہے جب کہیں کسی کا کہیں ٹھور ٹھکانہ نہ ہو تو اُسے باد ہوائی پھرنا کہتے ہیں۔ خاک پڑنا بے رونق بے سہارا اور بے عزت ہو جانا ہے کہ ہمارا وہ منصوبہ تو خاک میں مل گیا یا دشمن کے ارادوں پر خاک پڑ گئی۔

خاک و خون میں ملنا

قتل و غارت گری کے نتیجہ میں بربادی پھیلنا موت کا منظر سامنے ہونا وغیرہ اس سے ہم اپنے محاوروں میں سماجی حالات اور سماج کے ذہنی رویوں اور اُن پر گفتگو یا Commentکو بہتر صورت میں سمجھ سکتے ہیں۔

خام پارہ

اصل میں نادان یا بیوقوف لڑکی کو کہتے ہیں اور ایک مفہوم اِس کا کسی کم عمر لڑکی کا آوارہ ہونا ہے گلزارِ نسیم میں یہ محاورہ اسی معنی میں آیا ہے خام کار نہ تجربہ کار کو کہتے ہیں جو غلط باتیں کرتا ہے غلط کام کرتا ہے۔ غلط فیصلہ کرتا ہے۔ تو اُسے خام کاری کہتے ہیں۔ خام کے معنی کچّے کے ہیں اور اسی سے نا تجربہ کاری کے معنی محاورتاً اخذ کئے گئے ہیں۔

خانہ خراب ہونا

برباد ہونا، خانہ ویران ہونا بھی ہے اور کوسنے کے طور پر بھی کہا جاتا ہے کہ تیرا خانہ خراب ہو، تیرا گھر برباد ہو جائے ہم نے محاورات کا مطالعہ تبصرہ کے طور پر تو کیا لیکن گالی، کوسنے یا بُرے خیالات کے اظہار کے طور پر اس کی طرف بہت کم توجہ دی ہے۔ خانہ خراب ہونا ایک صورتِ حال بھی ہے۔ مگر تیرا خانہ خراب ہویا اُس کا خانہ خراب ہو، یہ ایک کوسنا ہے۔

خُدا خُدا کرنا

بڑی کوشش خواہش اور کاوش سے کوئی کام کرنا اور نتیجہ کا انتظار کرنا۔ جیسے۔ "کفر ٹوٹا، خدا خُدا کر کے"یا خُدا خُدا کر کے وہ مانے یہ وقت گُزارے بھئی خُدا خُدا کر یہاں کون کسی کی سُنتا ہے۔

خُدا رکھے۔ خُدا سمجھے، خُدا سے لو لگنا، خُدا کا گھر، خدا کی پناہ، خدا ماری (اللہ ماری)، خُدا بخش(اللہ بخشی، الہٰی بخش، مولابخش) وغیرہ۔ (خُدا کی اگر نہیں چوری تو بندہ کی کیا چوری) خُدا کی سنوار( اللہ کی سنوار) خدا کے گھر سے پھرنا۔ خدائی خوار، خدائی خراب، خدائی دعویٰ کرنا

مسلمان تہذیب پر مذہب کا بہت گہرا اثر ہے چاہے عمل پر نہ ہو مگر قول پر ہے اسی لئے بات بات میں وہ اللہ کا نام لیتے ہیں اور خُدا خُدا کرتے ہیں اُن کے ہاں نام بھی خدا پر رکھے جاتے ہیں جیسا کہ اوپر لکھے گئے محاوروں سے ہم پتہ چلا سکتے ہیں محاورے حصہ بن جاتا ہے۔ اس کا اندازہ ہم اِس سے بھی کر سکتے ہیں۔

خدا لگتی بات کہو خدا نہ کردہ یا خدا نہ کرے خدا کا چاہا ہوتا ہے بندے کا چاہا نہیں جب کوئی کام نہیں ہوتا تو کہتے ہیں کہ اللہ کا حکم نہیں ہوا۔ یا خدا کی مرضی اگر یہی ہے تو بندہ کیا کر سکتا ہے۔ یا اگر خدا کی چوری نہیں تو بندہ کی چوری کیا یا بندہ خدا (کوئی آدمی ) بالکل بدل گیا یا بالکل مکر گیا خدا ماری کو محبت میں کہتے ہیں اللہ سنواری کسی بچے یا بچی کے لئے کہتے ہیں۔ خدا سمجھے یعنی خدا ہی اس بات کو جانتا ہے وہی سمجھ سکتا ہے جو ذوق کا مصرعہ ہے۔

جو اس پر بھی نہ وہ سمجھے تو اُس بت سے خدا سمجھے

مسجد کو خدا کا گھر کہا جاتا ہے اور کعبۃ اللہ کوتو خدا کا گھر کہا ہی جاتا ہے اقبال کا مشہور شعر ہے۔

دنیا کے بُت کدے میں پہلا یہ گھر خدا کا
ہم اِس کے پاسباں ہیں یہ پاسباں ہمارا

(اقبال)

خدا کے گھر جانے کے یہ معنی ہیں کہ آدمی موت کی منزل سے گزر گیا خدا کو پیارا ہوا اور ایسے ہی اس منزل تک پہنچ گیا جہاں سب کو جانا ہے لیکن جب آدمی شدید بیماری سے شِفایاب ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ وہ خدا کے گھر سے لوٹ آیا۔ اُس کو دوبارہ زندگی نصیب ہوئی۔ جب آدمی کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کیا ہوا اور کیوں ہوا تو وہ اکثر یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ خدا کی باتیں خدا ہی جانیں۔ غرض کہ خدا پہلے یا اللہ ہماری تہذیبی نفسیات میں داخل ہے اسی لئے ہم توبہ کرتے وقت بھی ایسی توبہ کرتے ہیں اور قسم کھاتے وقت اللہ کی قسم یا قسم بخدا کہتے ہیں قرآن کو اللہ کا کلام کہتے ہیں۔ اور کلام اللہ کہہ کر یاد کرتے ہیں۔

"خدا رسیدہ" ایسے بزرگ کو کہتے ہیں جو رُوحانی طور پر بہت بلند مرتبہ کا انسان ہوتا ہے لیکن اس کا ترجمہ نہیں کرتے اور اللہ کو پہنچا ہوا نہیں کہتے۔ صرف پہنچا ہوا کہتے ہیں۔

خلوت و جلوت، خلوت اختیار کرنا، خلوت میسر آنا، خلوت پسند ہونا، خلوت نشیں ہونا

خلوت کے معنی تنہائی، تنہا نشینی، جلوت اُس کے مقابلہ کا لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں دوسروں کے درمیان ہونا، انجمن یا محفل میں ہونا جو آدمی کسی جلوت کا ساتھی کہتے ہیں اس کے مقابلہ میں پسند کرنا ہے جو بعض لوگوں کی اور خاص طور پر صوفیوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنا زیادہ وقت تنہائی میں گزار دیتے ہیں اور اللہ سے لو لگائے رکھتے ہیں جو (خود ایک محاورہ ہے)۔
"خلوت کدہ""خلوت خانہ" ایسے کمرہ کو بھی کہتے ہیں جہاں آدمی تنہائی کے لمحات گزارتا ہے یا کوئی شوہر اپنی بیوی یا محبوبہ کے ساتھ ہوتا ہے۔

خون پینا، خونِ جگر پینا، خون سر چڑھنا، خون سفید ہونا، خون کا پیاسا، خون کا دشمن ہونا، خون اترنا، خون سوار ہونا، خون کے بدلے خون

خون زندگی کا ایک بہت اہم حصہ ہوتا ہے اُس کے بغیر بہت سے حیوانات میں زندگی باقی نہیں رہتی۔ اسی لئے خون کا ذکر ایسے موقعوں پر ہوتا ہے جہاں زندگی کا سوال ہوتا ہے اور موت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ جیسے خون گرانا، خون کرنا، قتل کرنا، خون پینا، کسی کے ساتھ انتہائی دشمنی کا اظہار کرنا ہے۔

اسی کی طرف اس محاورے میں اشارہ ہے کہ وہ اس کے خون کا پیاسا ہے اور جہاں کسی کے لئے قربانی دینے کا سوال ہوتا ہے یا وہاں بھی ایک چلّو خون گرانا کہتے ہیں یا یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ جہاں تمہارا پسینہ گرے گا وہاں ہم اپنا خون بہا دیں گے۔ خون کے بدلے خون کا مقصد بھی یہ ہوتا ہے کہ خون کا بدلہ خون سے لیا جائے گا۔ جہاں خون کے بدلہ میں قیمت لے لی جاتی ہے وہاں خون بہا کہتے ہیں۔

خون کی ندیاں بہنا یا بہا دینا بے حد خون خرابہ کو کہتے ہیں قتلِ عام کی صورت میں یہی تو ہوتا تھا۔ جس گھر میں جوان لڑکی بیٹھی ہوتی ہے وہاں یہ کہا جاتا ہے کہ خون کی بارش ہوتی ہے۔ لہو رونا بھی ایک طرح سے آنسوؤں کی صورت میں خون بہانا ہے۔ خون پینا اور خون کے گھونٹ پینا دو الگ الگ محاورے ہیں پہلے محاورے کے معنی ہیں دشمنی میں کسی کو قتل کرنا یا اُس کی شہ رگ کاٹ کر اس کا خون پینا۔ قدیم دورِ وحشت میں یہ ہوتا بھی تھا اور ترک و تاتاری سپاہی تو گھوڑے کا خون پیتے تھے۔ خون پلانا انتہائی محبت کا اظہار کرنا یا ایثار و قربانی کرنا ہے۔

جب کسی آدمی کا کوئی عزیز قتل کر دیا جاتا ہے تو اس کے سرپر گویا خون سوار ہو جاتا ہے اور وہ یہ چاہتا ہے کہ خون کے بدلے میں اس کا" خون" کر دے اسی کو خون سوار کہتے ہیں اس کے علاوہ جب کوئی آدمی انتہائی جوش و جذبہ کے عالم میں کسی کا خون کر دیتا ہے تو اس پر جنون کی سی ایک کیفیت طاری ہو جاتی ہے تو خون سوار کہتے ہیں۔

خون پسینہ ایک کرنا انتہائی کوشش کرنے کو کہتے ہیں کہ اس مہم کو سر کرنے یا اس کام کو انجام دینے کے لئے اس نے خون پسینہ ایک کر دیا۔ خون سے خون اور خون کا پانی کر دینا بھی اسی معنی میں آتا ہے۔ "خون جگر پینا" بھی خلوصِ خاطر کے ساتھ کسی بات کو نبھانا ہے مثلاً عشق کرنے کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس میں لخت جگر کھانا اور خون دل پینا پڑتا ہے۔

اس سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہم محاوروں کے ذریعہ کس طرح اپنے احساسات جذبات، سماجی رویوں، محبتوں اور نفرتوں کا اظہار کرتے ہیں اور ہمارے جذبات کی نرمی و گرمی کس طرح ہمارے اظہار میں شریک رہتی ہے۔

خیالی پلاؤ پکانا

پلاؤ ہمارے یہاں چاول، گوشت، یا گوشت کی یخنی سے تیار کیا ہوا ایک خاص کھانا ہوتا ہے۔ اسی لئے پلاؤ کھانا بھی ایک محاورہ بن گیا ہے۔ اکبر الہ آبادی کا شعر ہے۔

بتائیں ہم تمہیں مرنے کے بعد کیا ہو گا
پلاؤ کھائیں گے احباب فاتحہ ہو گا

یہاں پلاؤ کھانے کے محاوراتی معنی لئے گئے ہیں یعنی لوگ مرنے والے کا غم نہیں مناتے بلکہ پلاؤ پکاتے اور کھاتے ہیں۔

خیالی پلاؤ دوسری بات ہے یعنی اپنے طور پر سوچنا کہ یوں نہیں تویوں ہو جائے گا ہم یہ کر دیں گے وہ کر لیں گے یہ سب خیالی پلاؤ ہے۔ جس کو انگریزی میں Wosjfi; tjomlomgکہتے ہیں۔

یہ انسان کی عجیب سی حالت ہوتی ہے اور اس کی اچھی بری نفسیات اس میں شریک ہوتی ہے۔ انہیں معنی میں یہ فرد کا یا پھر سوسائیٹی کا ایک معاشرتی رو یہ ہوتا ہے۔ جو لوگ صحیح وقت پر قدم نہیں اٹھاتے وہ صحیح فیصلہ نہیں کر پاتے وہی زیادہ تر خیالی پلاؤ پکاتے رہتے ہیں۔


ردی"د"

داتا دے بھنڈاری کا پیٹ پھٹے

ہماری تہذیبی معاملات اور معاشرتی رو یہ بھی کچھ عجیب و غریب ہیں۔ اور سماجی نفسیات کے پیچیدہ پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں بھنڈاری اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی ذخیرہ کا نگہبان ہوتا ہے۔ بھنڈار بڑے ذخیرے ہی کو کہتے ہیں دینے والا دیتا ہے اور سب کو دیتا ہے لیکن جو ذخیرہ کا نگہبان ہے وہ اللہ واسطے میں یہ سوچتا ہے کہ کسی کو یوں دیا جا رہا ہے کہ بہت سے لوگ دوسروں کا کام بنتے ہوئے دیکھ کر جلتے ہیں اور خواہ مخواہ اختلاف کرتے ہیں اُن کے اپنے پاس سے کچھ نہیں جاتا۔ پھر بھی انہیں تکلیف پہنچتی ہے اس سے ہمارے سماج کی اخلاقی گراوٹ کا پتہ چلتا ہے۔

داد دینا، داد کو پہنچنا، داد نہ فریاد

"داد" فارسی لفظ ہے مگر ہماری زبان میں داخل ہو گیا ہے اور ایک سے زیادہ محاوروں میں یہ موجود ہے شِعر پر جب ہم تحسین و آفریں کہتے ہیں تو اُسے داد سے تعبیر کیا جاتا ہے کہ اس شعر کی بہت داد ملی۔ داد دینا انصاف کرنے کو بھی کہتے ہیں اور انصاف کرنے والا اکثر داد گر کہلاتا ہے۔ کچہری کو داد گاہ کہا جاتا ہے۔ انصاف پیشگی کو دادِگیری کہہ کر یاد کیا جاتا ہے۔ جب کسی ظلم و زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے تو اُسے داد فریاد کہتے ہیں اور جب کوئی کچھ نہیں بولتا اور بڑے سے بڑے ظلم و زیادتی پر لوگ خاموشی اختیار کرتے ہیں تو اس کے لئے کہا جاتا ہے کہ اُس کی داد نہ فریاد اس طرح یہ محاورے سماج میں حق گزاری اور حق شناسی کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ اور نہ حق باتوں کی طرف جن میں ظلم و زیادتی اور حق تلفی کا رو یہ شریک رہتا ہے۔ ہمارے محاورات انہی سچائیوں کی پردہ کُشائی کرتے ہیں اب یہ الگ بات ہے کہ ہم اس پر کبھی غور کریں یا نہ کریں۔

داغ دینا، داغ اُٹھانا، داغ بیل ڈالنا، داغ لگانا، یا داغ لگنا

داغ ایک طرح کا دھبّہ ہوتا ہے جو کسی بھی چیز پر خاص طور سے اچھے کپڑے اور کاغذ پر لگ جائے تو بہت بُرا لگتا ہے قدیم زمانہ میں جو آدمی کسی کا غلام ہوتا تھا خاص طرح سے نشان سے اُس کو داغا جاتا ہے اور وہ داغی غلام کہلاتا تھا۔ یعنی وہ آئندہ منہ دکھلانے کے لائق نہ رہتا تھا۔ اس قابل کر دیا جاتا تھا۔

اسی حقیقت کے پیشِ نظر خاندانی عزت کو اگر کوئی بات کوئی کام یا کوئی روش خراب کرتی یا مٹاتی تھی تو اُسے بھی کام لگنا یا داغ لگنا کہتے تھے۔ داغ دہلوی کا شعر ہے۔

میں اگر چاہوں تو گویا رب ابھی توبہ کر لوں
داغ لگ جائے گا لیکن تیری غفاری میں

داغ اٹھانا، صدمہ سے گزرنا ہے۔ داغ دیکھنا اور داغ کھانا بھی اسی معنی میں آتا ہے کسی شاعر کا شعر ہے۔

داغ دیکھے ہیں" داغ کھائے ہیں
دل نے صدمے بہت اُٹھائے ہیں

داغ کے معنی جلنے یا جل اٹھنے کے بھی ہیں جواس شعر کی طرف اشارہ ہے۔

دل کے پھپھولے جل اُٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

"داغ بیل ڈالنا" ایک الگ صورت ہے جس کے معنی ہیں شروعات کرنا کسی کام کا ابتدائی منصوبہ تیار کرنا اور اُس پر عمل کرنا اسی لئے کہتے ہیں کہ اس کام کی داغ بیل فلاں شخص نے ڈالی تھی۔ یعنی سلسلہ قائم کیا تھا۔

دال روٹی سے خوش ہونا، دال روٹی صبر و شُکر سے کھانا

دال ہمارے یہاں غریب آدمی کی خوراک کا ایک ضروری حصہ ہوتا تھا کباب، قلیہ، قورمہ، مُتنجن وغیرہ اعلیٰ درجہ کے سالن غریب آدمی کو کہاں میسر آتے تھے۔ بکرے کا گوشت اگرچہ آٹھ آنے سیر تھا اور اس سے پہلے اور بھی سستا ہو گا۔ مگر ایک غریب آدمی کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آتے وہ تو دال دلیا سے اپنا کام چلا لیتا تھا اس کا اصل مسئلہ تو پیٹ بھرنا تھا۔ روکھی روٹی نہ کھا کر وہ دال سے کھاتا تھا۔ اس پر بھی خوش ہوتا تھا اور خدا کا شکر ادا کرتا تھا آج بھی لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں دال روٹی آرام سے کھانے دو یہ ہمیں پیٹ بھرکر مل رہی ہے یہ بھی کیا کم ہے۔

اب سے پچاس ساٹھ برس پہلے تو اتنی غربت تھی کہ شادی کے موقع پر دال چاول اسپیشل کھانے کے موقع پر کھلائے جاتے تھے دال دیگ میں پکتی تھی اور چاول کڑھائی میں اُبالے جاتے تھے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ محاورے ہماری معاشی یا مالی حالت کی کمزوری کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ روٹی پر روٹی رکھ کر کھانا روکھی روٹی اور خشک نوالے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کبھی کبھی تو ایک ہی روٹی ہوتی تھی اس کے مقابلہ میں اس کو خوشحالی تصور کیا جاتا تھا کہ روٹی پر روٹی رکھ کر کھانے کا موقع مل رہا ہے۔

اس سطح پر اگر محاوروں کا مطالعہ کیا جائے توہم ایسی تاریخی معاشرت کے بارے میں بھی بہت سی سچائیوں کو جان سکتے ہیں اور ایک زمانہ کے زبان کے مختلف پہلوؤں کو سامنے رکھا جائے تو اس دور کی ذہنی اور نفسیاتی سطحوں اور حالتوں کو بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے غور نہ کرنا۔

دال میں کچھ کالا ہے، دال نہ گلنا

دال پکائی جاتی تھی اور وہ بھی دھوئی ہوئی دال تو اُس میں ایسا تو تھا نہیں کہ اُس میں گرم مصالحہ ڈالا جاتا ہو۔ لونگیں، سیاہ مرچیں اور کالا زیرہ، دال میں کون ڈالے کہ اتنا پیسہ کہاں سے آئے جو بے چارہ دال کھا رہا ہے وہ اوپر سے خرچ کرنے کے لئے مزید پیسے کہاں سے لائے اسی لئے دال میں کوئی کالی چیز نہیں ہوتی تھی اور اگر نظر آ جاتی تھی تو شبہ کی بات بن جاتی تھی کہ یہ کیا ہوا اور کیسے ہوا۔ اسی کو سماجی زندگی میں محاورے کے طور پر استعمال کیا گیا تو اسی سے شکوک و شبہات کی طرف اشارے ہوتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔

دوسرا محاورہ دال گلنا ایک اور صورتِ حال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جو غربت کی صورت حال ہے اب سے کچھ زمانہ پہلے تک غریب گھروں میں ایندھن کی بڑی دشواری ہوتی تھی۔ آگ بھی ایک بڑی نعمت تھی اور گھروں سے آگ مانگی جاتی تھی۔ اور کرچھی لے کر ایک گھر سے دوسرے گھر جایا جاتا تھا کہ ایک دو انگارے مل جائیں اور اکثر ایندھن کی کمی کی وجہ سے یہ ہوتا تھا کہ دال پوری طرح پکتی بھی نہیں تھی اور کچی رہ جاتی تھی۔ جس کی وجہ سے دال گلنا ایک محاورہ بن گیا اور جہاں کسی کی بات نہیں بنتی تھی وہاں بھی یہ محاورہ استعمال کیا جاتا تھا۔

دام میں آنا، دام میں لانا، دامن پکڑنا، دامن پھیلانا، دامن جھاڑنا، دامن جھٹکنا، دامن سے لگنا

دام میں آنا یا لانا کسی کے جال میں پھنسنا فریب دہی کا شکار ہونا۔ یہ ہمارے سماج کا ایک رو یہ ہے کہ وہ دھوکا دیکر دوسروں سے کام نکالتے ہیں اور ان کو مصیبت میں پھانس دیتے ہیں اور آدمی اپنی کسی ضرورت مجبوری یا سادہ لوحی کے زیر اثر دوسرے پر اعتبار کرلیتا ہے۔ اور پھر پریشانیوں میں پھنس جاتا ہے۔

دام میں آنا یا دام میں لانا اسی فریب دہی کے عمل کو کہتے ہیں جس کا مظاہرہ ہماری معاشرتی زندگی میں صبح و شام ہوتا رہتا ہے دامن پکڑنا یا پھیلانا دو الگ الگ محاورے ہیں دامن ہمارے لباس کا ایک بہت اہم حصہ ہوتا ہے جس سے ہم بہت سا کام لیتے ہیں چھوٹے بچے کو دامن سے ڈھکتے ہیں عورتیں پردہ میں منہ چھپانے کے لئے اپنے دامن سے نقاب کا کام لیتی ہیں ہم دوسرے کا دامن پکڑ کر اس کی دیکھ ریکھ یا نگرانی اور رہنمائی میں کوئی کام کرنا چاہتے ہیں دامن جھاڑنا یا جھٹکنا، ذمہ داری سے دامن بچانے کا عمل ہے۔ جو اکثر ہمارے تہذیبی رویوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ دامن سے لگ کر بیٹھنا کسی سے قریب تر آتا رہنا اور پناہ لینے کی کوشش کرنا ہے دامن چاک کرنا انتہائی بے صبری بے سکون اور جوش کا اظہار کرنا ہے جس کو جنون کی حالت سے تعبیر کیا جاتا ہے اُردو کا ایک معروف شعر ہے۔

اب کے جنوں میں فاصلہ شاید نہ کچھ رہے
دامن کے چاک" اور گریباں کے چاک میں

دامن کو تار تار کرنا بری طرح چاک کر دینا اور اسی کو دامن کے ٹکڑے اڑا دینا بھی کہتے ہیں۔


دانت بجنا، دانت پیسنا، دانت کاٹی روٹی ہونا، دانت دکھانا

دانت سے متعلق مختلف محاورات ہیں سردی میں جب آدمی کپکپاتا ہے تو اس کے دانت بھی کپکپانے لگتے ہیں اسی کو دانت بجنا کہا جاتا ہے۔ دانت پیسنا ایک دوسرا محاورہ ہے جس کے معنی ہیں اظہارِ نا خوشی کرنا اور غصہ میں بھر جانا۔

دانت کاٹی روٹی ہونا ایک دوسری نوعیت کا محاورہ ہے۔ جس کے معنی ہیں بہت قریبی تعلق ہونا گہری دوستی ہونا۔ اس سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کی جھُوٹی اور کھائی ہوئی روٹی کو ہاتھ نہیں لگانا چاہتے۔ چھُوت چھات ہمارے معاشرے پر بے طرح اثرانداز ہوتی رہی ہے۔ اسی لئے ہم دوسرے کے برتن میں کھانا نہیں کھاتے دوسرے کا پیا ہوا پانی نہیں پیتے۔ لیکن کسی سے ایسا رشتہ بھی ہوتا ہے قریبی تعلق کہ اس کے دانتوں سے کاٹی ہوئی روٹی بھی کھا لیتے ہیں ایسا ہوتا بھی ہے نہیں یہ ایک الگ بات ہے مگر اس محاورے سے بہرحال گہری دوستی اور اپنائیت کے رشتہ کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔

جانوروں کی عمر کا تعیّن کرنے کے لئے ان کے دانت دیکھے جاتے ہیں اسی سے یہ محاورہ بنا ہے کہ کوئی نہیں پوچھتا کہ تیرے منہ میں کتنے دانت ہیں۔ دانت دکھانا منہ چڑانے کو بھی کہتے ہیں اور بے مروتی اختیار کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اسی لئے طنز کے طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ تو وقت آنے پر دانت دکھا دیتے ہیں۔ کام نہیں کرتے اور ذمہ داری نبھانے سے منہ موڑتے ہیں۔

دانتوں میں انگلی دینا۔ دانتوں تلے انگلی کاٹنا یا دابنا، دانتوں میں تنکا لینا، دانت ہونا

دانتوں سے متعلق جو محاورے ہیں ان میں دانتوں تلے انگلی دینا یا دابنا سماجی ردِعمل کا اظہار ہے کہ یہ کیا ہوا کیسے ہوا اور کیوں ہوا۔

اِس کے مقابلہ میں دانتوں میں تنکا لینا ایک خاص طرح کا سماجی عمل ہے جس کا تعلق اظہار عاجزی کرنے سے ہے غالب نے اِس کی ایک موقع پر تشریح کی ہے اور کہا ہے کہ افغانستان کی طرف کے لوگوں نے یہ رسم رہی ہے کہ جب وہ اظہار عاجزی کرتے ہیں تو اپنے دانتوں میں تنکا دباتے ہیں اور دوسروں کے سامنے جاتے ہیں ان کا شعر ہے۔

نہ آئی سطوتِ قاتل بھی مانع میرے نالوں کو
لیا دانتوں میں جو تنکا ہوا ریشہ نیستاں کا

دانت رکھنا اور دانت ہونا ایک طرح کا نفسیاتی عمل اور سماجی رویوں کا اظہار ہے کہ آدمی پہلے سے کسی بات کو دل میں ٹھان لیتا ہے اور لالچ کا ایک رو یہ اس کے بارے میں پیدا کر لیتا ہے کہ اگر ایسا ہو جائے اور موت نکلے تومیں یہ کروں گا اس مکان دوکان کھیت زمین یا چیز پر قبضہ کروں گا یہی دانت رکھنا کہلاتا ہے اور اس سے لالچ کا اظہار ہوتا ہے دانت ہونے کے بھی یہی معنی ہیں۔

داؤں پر اڑنا۔ داؤں پر چڑھنا، داؤں کرنا، داؤں کھا جانا، داؤں لگنا، داؤں میں آنا، داؤں کھیلنا، داؤں پر لگانا۔ وغیرہ

اصل میں فنِ کشتی گری سے متعلق محاورات ہیں جو ہماری سماجی زندگی میں بھی کا م آتے ہیں۔ اور مختلف انسانی رویوں کو ظاہر کرتے ہیں مثلاً داؤں آنا داؤں جاننے کو بھی کہتے ہیں اور موقع ملنے کو بھی یہ شطرنج کے کھیل سے متعلق بھی محاورے کی ایک صورت ہے اسی لئے داؤں کھیلنا کہتے ہیں۔ جس کا مقصد دوسرے کو پھنسانا ہوتا ہے۔ جو اس طرح پھنس جاتا ہے وہ گویا داؤں پر چڑھ جاتا ہے اور پھنسا نے والے کو داؤں ہاتھ آ جاتا ہے یا اس کا داؤں چل جاتا ہے۔ اسی کامیابی کو داؤں لگنا بھی کہتے ہیں کہ اس کا داؤں لگ گیا بلی جب چڑیوں کو یا چوہے کو شکار کرنا چاہتی ہے تو کوئی نہ کوئی داؤں کھیلتی ہے یہ فریب دینے کا طریقہ ہوتا ہے یعنی ایک ہی بات پر زور دینا ہے جبکہ داؤں کا تعلق تو صورتِ حال پر نظر رکھنے سے ہوتا ہے۔

داؤں دینا مکّاری کر جانے کو کہتے ہیں اگر دیکھا جائے تو ایسے محاورات سے پتہ چلتا ہے کہ محاورے طبقاتی ہوتے ہیں پہلے انہی طبقوں میں رائج ہوتے ہیں جس سے اُن کا خاص تعلق ہوتا ہے رفتہ رفتہ وہ عمومیت اختیار کر لیتے ہیں اور ان میں معنیاتی اعتبار سے نئی نئی تہہ داریاں اور پہلو داریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

دائیں بائیں کر دینا، دبی آگ کریدنا، دبی بلی چوہوں سے کان کترواتی ہے۔ یا بھیگی بلی چوہوں سے کان کترواتی ہے

دائیں بائیں کرنے کے معنی ہیں اِدھر اُدھر کر دینا یہ ایک اہم سماجی عمل ہے اِس کے معنی ہوتے ہیں جھگڑے کو وقتی طور پر نمٹانا کہ وہ دونوں آپس میں بُری طرح جھگڑ رہے تھے اُن کو دائیں بائیں کر دیا دوسرے معنی ہوتے ہیں پریشر کو کم کر دینا۔ اس لئے کہ آدمی کی طبعیت پر جب جوکھ ہوتا ہے حالات ناساز گار ہوتے ہیں تو وہ اُس پریشر کو ہلکا کرنا چاہتا ہے۔ قابلِ برداشت کڑ اسی لئے بات کو اِدھر اُدھر کر دینا چاہتا ہے خیالات یا سوالات کو بکھیر دینا چاہتا ہے تاکہ ان کا دباؤ یا جماؤ کم ہو جائے۔

دباؤ کو کم کرنا ہماری سماجی زندگی کا ایک اہم مسئلہ ہے اس لئے کہ ہمارے یہاں متعدد محاورے دباؤ سے متعلق ہیں اس کو دباؤ بھی کہتے ہیں اور داب بھی وہ اس کو اپنی داب میں رکھنا چاہتا ہے داب کا لفظ رعب و داب کے ساتھ بھی آتا ہے۔

آگ کو دبا کر رکھا جاتا ہے یہ اس کی حفاظت کی غرض سے ہوتا ہے لیکن دبی آگ کو کریدنا ایک سماجی عمل کی طرف اشارہ کرتا ہے وہ یہ کہ جو جھگڑے اختلافات اور الجھنیں دبا کر رکھی گئیں تھیں۔ یعنی اُن پر گفتگو نہیں کی جاتی تھی انہیں چھپایا جاتا تھا اب اگر اسے پوچھا جا رہا ہے بات کو اس رخ پر لایا جا رہا ہے اور ہوا دی جا رہی ہے تو اس عمل کو جو دانستہ اور بڑی حد تک فریب کارانہ ہوتا ہے۔

جب آدمی کسی وجہ سے مصیبت میں پھنس جاتا ہے تو معمولی لوگ بھی اس کے منہ آنا چاہتے ہیں اُس کا مذاق اڑاتے ہیں اس پر تنقید کرتے ہیں یہ ایسا ہی ہے کہ بلّی بچاری کہیں پھنس گئی ہے۔ اور چُوہے جسے اُن کے قریب بھی نہیں آنا چاہیے وہ اُن کے سرپر سوار ہوتے ہیں بلکہ اس کے کان کترتے ہیں۔ اِس محاورے کے ذریعہ بھی ہم سماج اور کسی معاشرے سے متعلق افراد کے عمل کو سمجھ سکتے ہیں۔

دروازے کی مٹی

دروازہ کسی بھی مکان کا بے حد اہم حصّہ ہوتا ہے کہ اُسی کے ذریعہ آمد و رفت ممکن ہوتی ہے۔ دروازے کو سجایا جاتا ہے جانے والے کو دروازے تک پہنچایا جاتا ہے اور آنے والے کا دروازے پر استقبال کیا جاتا ہے چوکھٹ کا تعلق خاص طور پر دروازے سے ہوتا ہے اور چوکھٹ بڑے دروازے سے ہوتا ہے اور چوکھٹ بڑے احترام کی چیز ہوتی ہے۔

قدیم قوموں میں دروازے کو سجدۂ احترام بھی کیا جاتا تھا۔ ہندوؤں میں چوکھٹ کا پوجن بھی ہوتا ہے اسے تلک لگاتے ہیں بند دروازے کاغذوں سے سجاتے ہیں بعض قدیم گھروں پر جو دروازے ہوتے ہیں ان پر ہاتھی گھوڑے بنے ہوتے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ اُن کے دروازے پر ہاتھی جھُولتے ہیں دربان بھی دروازوں ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔

دروازے کو ویران کرنا گویا اس گھر اس خاندان کی عزت لے لینا ہے اسی لئے دروازے کی مٹی ایک خاص معنی اختیار کر لیتی ہے۔ دروازے کی مٹی لے ڈالنا اسی طرف اشارہ کرنے والا محاورہ ہے اسے چرنجی لال نے لیولے بھی کہا ہے۔ جسے مغربی یوپی والے اپنے تلفظ کے اعتبار سے"لیوڑ"نے بھی کہتے ہیں اور"لیوڑے ڈالنا" مٹی کی تہوں کو بھی اٹھا اٹھا کر اکھاڑ اکھاڑ کر لے جانے کے عمل کی طرف اشارہ ہے جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اُس گھر میں کچھ نہیں چھوڑا اور جو ہاتھ لگا اٹھا کر اسے لے گئے اِس سے ہم اپنے معاشرے کے مزاج اور بعض سماجی رویوں کو سمجھ سکتے ہیں۔

دریا، دریا دلی، دریا میں ڈالنا، دریا کو کوزے میں بند کرنا، دریا کو ہاتھ سے روکنا

دریا کے معنی ندی کے بھی ہیں بڑی ندیوں کے بھی اور خود سمندر کے بھی، دریا اپنے معنی اور معنویت کے ساتھ ہمارے معاشرے کی بہت باتوں میں شریک رہتا ہے اور اس سے ہم موقع بہ موقع اپنی معاشرتی روشوں اور رویوں کو سمجھنے اور سمجھانے کا کام لیتے ہیں۔ مثلاً دریا بہنا، زیادہ پانی بہنا بھی ہے اور دولت کی فراوانی بھی۔ دریا میں ڈالنا، اس طرح کسی چیز کو پھینک دینا کہ واپسی کی کوئی توقع نہ رہ جائے"نیکی کر دریا میں ڈال" ایسے ہی کسی نفسیاتی عمل اور رد عمل کی طرف اشارہ ہے۔ دریا دلی" بڑے دل" کے لئے آتا ہے۔ دریا سُوکھ جانا بہت مشکل پریشانی اور قحط کے زمانے کو سمجھنے اور سمجھانے کے لئے کہتے ہیں کہ اس موسم میں تو دریا بھی سُوکھ جاتے ہیں۔

دریا کو کوزے میں بند کرنا کسی بہت بڑی بات کو چھوٹی سی گفتگو میں سمیٹ لینا، علم دریا ہے۔ یعنی عِلم کا کوئی کنارہ نہیں جتنا چاہو علم سیکھتے رہو۔ وہ آگے بڑھتا رہے گا یہی اُس کی فطرت ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں علم کے متعلق کیا تصورات پائے جاتے ہیں دریا کو بہاؤ سے نسبت دی جاتی ہے دریا چڑھتا اُترتا ہے لیکن اس کے بہاؤ کو ہاتھ سے روکا نہیں جا سکتا جیسے مٹھی میں ہوا کو تھاما نہیں جا سکتا۔

سماج میں بعض ایسے رو یہ اور روشیں ہیں کہ اُن کو ہم بُرا کہتے رہتے ہیں لیکن وہ روکی نہیں جا سکتیں۔ آخر دریا کی روانی بھی تو نہیں رک سکتی وقت کا دھارا بھی تو ہاتھ سے نہیں روکا جا سکتا۔

دریا میں رہنا مگرمچھ سے بیر کرنا

ہم جہاں رہتے ہیں اس ماحول کو پہچاننا اچھے بُرے لوگوں کو سمجھنے کی کوشش کرنا اور سُوجھ بُوجھ کے ساتھ اُس سے مناسب تعلق رکھنا یہ ہمارے سماج کا ہماری زندگی کا اور ہمارے معاملات اور مسائل کا ایک اہم مسئلہ ہوتا ہے۔

جن کے درمیان ہم رہتے ہیں وہ ہمارے اپنے بھی ہو سکتے ہیں غیر بھی دشمن بھی ہو سکتے ہیں اور دوست بھی یہ مشکل ہے کہ جس کے درمیان ہم رہتے ہوں اُن سے ہم غیریت برتیں دشمنی مول لیں اور پھر آرام و اطمینان سے رہیں اسی لئے یہ کہا جاتا ہے کہ دریا میں رہ کر مگرمچھ سے بیر تو نہیں رکھا جا سکتا۔ مگرمچھ طاقتور بھی ہوتا ہے اور نقصان پہنچانے والا بھی وہ گھات لگاتا ہے ایسا ہی کوئی شخص خطرناک دشمن اِس ماحول میں بھی ہو سکتا ہے جہاں ہم جا رہے ہوں اور اُس آدمی کے اور ہمارے درمیان مخالفت ہو۔


دست بدست دینا، دست درازی کرنا

ہاتھ ہماری ذاتی و معاشرتی زندگی کا نہایت اہم وسیلۂ کار ہے۔ اِسی لئے ہاتھ پیروں کے چلتے رہنے کی دعاء مانگی جاتی ہے۔ ہاتھ ہمارے ہر کام آتا ہے۔ ہم ایک ہاتھ سے دیتے ہیں اور دوسرے کو ہاتھ سے لیتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ دس آدمی کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایک سے لیکر دوسرے دیتے رہتے ہیں

شادی بیاہ کے موقع پر کھانا کھلاتے وقت یہ اکثر دیکھنے کو ملتا تھا اِسی لئے ہاتھوں ہاتھ لینا یا دست بدست لین دین کا محاورہ سامنے آیا۔ کسی شاعر کا شعر ہے۔

اُن کی محفل میں مِرا خُون بٹا دست بدست
جیسے معشوق لگاتے ہیں حِنا دست بدست

اسی طرح اُردو کا ایک مصرعہ ہے۔

کیا خوب سودا نقد ہے اِس ہاتھ دے اُس ہاتھ لے

ہاتھ اُدھار کی بات اکثر ہم لوگوں کی زبان پر آتی رہتی ہے۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ اپنے ہاتھ سے اُس نے اُدھار دیا ہے کوئی لکھا پڑھی نہیں ہوئی۔ ایسے ہی موقع پر ہاتھ کو ہاتھ پہچاننا بھی کہتے ہیں۔ یہ اُن کے دست و دماغ کی بات ہے یعنی اُن کے سوچنے اور کام کرنے کا معاملہ ہے کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں۔ ایسے موقع پر دست و قلم بھی کہتے ہیں۔ دستِ خود دہانِ خود بھی محاورہ ہے یعنی خود نوالہ توڑو بناؤ اور کھاؤ یہ ظاہر ہے کہ اُس موقع کے لئے کہا جاتا ہے جب آدمی دوسرے کا سہارا تکتا ہے۔ کہ کوئی دوسرا ہی سب کچھ کرے اور وہ خود کچھ نہ کرے۔

ہمارے معاشرے کی یہ بہت عام کمزوری ہے۔ کہ ہم خود نہیں کرنا چاہتے ہر کام کی انجام دہی میں دوسروں کا سہارا لیتے ہیں۔

دسترخوان بڑھانا

دسترخوان لگانا یا سجانا بھی محاورہ ہے۔ مثلاً اپنے دسترخوان کو غریبوں سے سجاؤ یعنی اُن کو دعوت دوکہ وہ کھانا ساتھ کھانا کھائیں دسترخوان لگانا اپنے دسترخوان پر اچھے اچھے کھانوں کا چُننا۔ ظاہر ہے کہ یہ اُمراء کے لئے آتا ہے غرباء کے لئے نہیں۔ دسترخوان اُٹھانا نہیں کہتے اِس کے مقابلہ میں بڑھانا کہتے ہیں جو گویا ایک دعا ہے کہ دسترخوان چھوٹا نہ ہو دولت و نعمت میں کمی نہ آئے بلکہ دسترخوان بڑھتا رہے زیادہ سے زیادہ لوگ اِس سے فائدہ اٹھائیں اسی لئے ہمارے یہاں چراغ کے ساتھ بجھانے کا لفظ نہیں آتا۔ ایران والے چراغ گُل کردن کہتے ہیں اور ہم چراغ بڑھانا کہ اِس میں بھی دعاء کا یہ پہلو شامل رہتا ہے کہ چراغ بجھے نہیں بلکہ اس کی روشنی پھیلتی رہے۔ اِس سے ہم اپنی سماجی نفسیات اور تہذیبی رُسوم و آداب کا پتہ چلا سکتے ہیں۔

دست گرداں، دسواں دوار کھُل جانا، دست و پا مارنا، دسوں انگلیاں دسوں چراغ

دست (ہاتھ) سے جو محاورات بنے ہیں اُن میں دست مال بھی ہے جو رومال کو کہتے ہیں دست دینا بھی ہے دلوں پر دستک دینا بھی اس میں شامل ہے لیکن اِن میں آخرالذکر کے علاوہ محاوراتی انداز کم ہیں۔ دلوں پر دستک دینا لوگوں کو اپنے حال کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ اُردو کے ایک شاعر کا شعر ہے۔

اب تلک میں نے دِلوں پرہی تو دستک دی ہے
اب کہاں جا کے بھلا خُود کو پکارا جائے

جو چیز ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں پہنچتی رہتی ہے اُسے"دست گرداں" کہتے ہیں جیسے سکّے، ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں جاتے بولتے ہیں اسی طرح جو چیز بازار میں عام ملتی ہے اور فروخت ہوتی ہے اُس جنس کو دستِ گرداں کہا جاتا ہے اب ایسی ہی کوئی شخص بھی ہو سکتا ہے جو کبھی اِس کے ساتھ اور کبھی اس کے ساتھ اسی کو عام زبان میں چالو ہونا کہتے ہیں کہ وہ تو چالو آدمی ہے۔

دعوتِ شیراز

دعوت کے معنی بلانے یا توجہ دلانے کے ہیں اور کسی کام کی انجام دہی کے لئے خواہش کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ اس کے مقابلہ میں کھانے پر بُلانا اور شریکِ طعام کرنا دعوت کرنا کہلاتا ہے۔ جس دعوت میں بہت سے تکلف کے سامان ہوتے ہیں وہ پُرتکلف دعوت کہلاتی ہے۔

اور جس میں بہت سادہ کھانا ہوتا ہے وہ محاورتاً دعوتِ شیراز کہلاتی ہے۔ یعنی غریبی کی حالت میں کی جانے والی دعوت۔

دل اُٹھنا، دل اُچاٹ ہونا، دل آنا، دل بجھنا، دل بُرا کرنا، دل بڑھانا، دل بھاری کرنا، دل دھڑکنا، دل بھر آنا، دل بیٹھ جانا، دل پانا، دل دھڑکنا، دل پر چوٹ لگنا، دل پر نقش ہونا، دل پر ہاتھ رکھنا، دل دہی کرنا، دل پکنا، دل پھٹنا، دل پھیکا ہونا، دل توڑنا، دل ٹوٹنا، دل ٹھکانے لگانا، دل جلانا، دل جلنا، دل جمنا، دل چیر کر دیکھنا، دل خوش کرنا، دل سے دل ملنا، دل سے گرنا، دل برداشتہ ہونا، دل سے دھُواں اٹھنا، دل کا بخار نکالنا، دل کا خریدار، دل کی بھڑاس نکالنا، وغیرہ وغیرہ

دل اعضائے رئیسہ میں سے ہے۔ جذباتِ انسانی کا دل سے گہرا رشتہ ہے اور بہت سے محاورے دل ہی احساسات، جذبات اور حسیات سے وابستہ ہیں اور اُس کی معنی داریوں اور معنی نگاریوں کو پیش کرتے ہیں سماج یا انسانی معاشرہ اپنی سوچ کے جو مختلف دائرے رکھتا ہے اُن کی تصویر کشی یا عکاسی میں دل ایک نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اور ایک علامتی لفظ ہے جو فکر و فن اور شعر و شعور کی دنیا میں اپنا ایک اہم معاشرتی تہذیبی اور نفسیاتی کردار ادا کرتا ہے یہاں اُردو کے دو تین شعر پیش کئے جا رہے ہیں اُن سے یہ اندازہ ہو سکتا ہے کہ دل ہمارے وجود کا کتنا اہم حصّہ اور ہماری معاشرتی زندگی کا کتنا غیر معمولی سطح پر علامتی کردار ہے۔

دل گیا رونقِ حیات گئی
غم گیا ساری کائنات گئی

(جگر)

دنیا کی محفلوں سے اُکتا گیا ہوں یا رب
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بُجھ گیا ہو

(اقبال)

کہتے ہو نہ دیں گے ہم، دل اگر پڑا پایا
دل کہاں کہ گم کیجئے ہم نے مُدعا پایا

(غالب)

مختلف محاورے مختلف ذہنی تجربوں تخیلی منظر ناموں اور تمثیلی پیکروں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کہیں نزاکتوں کی طرف کہیں سختیوں کی طرف دل کو پتھر کدہ کہا جاتا ہے اور صنم خانۂ شوق قرار دیا جاتا ہے۔ خوابوں کا گہوارہ کہا جاتا ہے اور خیالوں کی متحرک تصویر جس کی دھڑکن لمحہ بہ لمحہ زمانے اور زندگی کے تغیّرات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

میری تاریخ دل کی یادیں ہیں
جن کو دیر و حرم کہا جائے

زندگی کی یہی ہیں شمع و چراغ
جن کو شہرِ صنم کہا جائے

(تنویر علوی)

دل لگی کی باتیں ہوتی ہیں اس کے مقابلہ میں سنجیدگی سے کسی بات کو دل میں جگہ دینا اور محسوس کرنا ہے دل بہار دل پسند دل خوش کُند جیسی ترکیبیں اُردو میں فارسی میں بہت آتی ہیں۔

دماغ تازہ کرنا، دماغ ہونا، دماغ خالی ہونا، دماغ روشن ہونا، دماغ میں خلل ہونا، دماغ نہ ہونا وغیرہ

جب کسی آدمی کو بہت غرور ہوتا ہے تو اُس کے لئے کہتے ہیں کہ اُس کا دماغ آسمان پر ہے۔ دماغ ہونے کے معنی بھی یہی ہیں اِس کے مقابلہ میں دماغ خالی کرنا یا ہلکا کرنا ایک حد تک خلاف معنی رکھنا ہے۔ خالی دماغ ہونا انتہائی بے وقوف آدمی کو کہتے ہیں جس کو عقل ہوتی ہی نہیں اِس کے مقابلہ میں دماغ میں بھُوسا بھرا ہونا ایسے آدمی کے لئے آتا ہے جو بالکل ہی عقل سے خارج ہو۔

جو لوگ بہت عقلمند ہوتے ہیں یا عقل مند شمار کئے جاتے ہیں اُن کو روشن دماغ کہتے ہیں حالی نے غالب کی موت پر جو مرثیہ لکھا تھا اس میں ایک شعر میں یہ کہا گیا تھا۔

شہر میں ایک چراغ تھا نہ رہا
ایک روشن دماغ تھا نہ رہا

(حالی)

عالی دماغ بھی ایسے ہی لوگوں کو کہتے ہیں جس کا دماغ روشن ہوتا ہے اور جو غیر معمولی سطح پر ذہین ہوتے ہیں دیہات میں کُند ذہن آدمی کو کھٹل دماغ کہتے ہیں یعنی اُس کا دماغ تو اینٹ پتھر کی طرح ہے۔ اُس سے کوئی کام نہیں لیا جا سکتا۔

دم آنکھوں میں اٹکنا، دم بخود رہ جانا، دم توڑنا یا ٹوٹنا، دم چُرانا، دم میں دم آنا

"دم" ہماری زبان میں بہت سے معنی رکھتا ہے مثلاً یہ کہ فلاں کا دم تھا کہ اتنے کام ہو گئے جیسے ایک بھائی کا دم تھا یا ایک چچا کا دم تھا وغیرہ کہ جس کے باعث یہ سب کچھ ہوا۔ دم دلاسا دینا سمجھانے بجھانے اور ہمت بڑھانے کو کہتے ہیں دم خم ہونا ہمت حوصلہ اور تاب و تواں کے لئے کہا جاتا ہے۔ دم مارنا حوصلہ کرنا، دم دینا مر مٹنا، مر جانا اور غیر معمولی طور پر کسی سے محبت کرنا کہ وہ تو اس پر دم دیتا ہے۔ دم کرنا پھونک کریا پڑھ کر دَم کرنا ہے۔

باورچی خانہ کی اصطلاحوں میں بھی دم دینا آتا ہے جیسے چاولوں کو دم دے دو یا پلاؤ کو کو دم دے دو یہ گرم کرنا، بگھارنا اور پکانا تینوں معنوں میں آتا ہے دَم دُرود ہونا بھی دم خم ہونا ہی ہے جیسے اس میں اِتنا دم و دُرود نہیں کہ وہ اتنا کام کر سکے۔

دم کا مہمان ہونا موت سے قریب ہونا کہ وہ تو کوئی دم کا مہمان ہے دم قدم کا ساتھی ہونا ہر حالت میں ساتھ دینا، دم کے دم میں یہ کام ہو گیا۔ ذرا بھی دیر نہیں لگی دم توڑنا موت آ جانا۔ اُس نے راہ میں دم توڑ دیا اور اگر آدمی اپنا سانس روک لے تو اس کو دم چُرانا کہتے ہیں۔

دم بخود رہ جانا، حیران اور شش در رہ جانا جب کوئی آدمی منہ سے کچھ کہہ بھی نہ سکے۔ اور خاموش رہ جائے۔ آنکھوں میں دم اٹکنے کے معنی ہوتے ہیں۔ اُس بیمار نے بہت انتظار کیا اور آخر وقت تک اس کا دم آنکھوں میں اٹکا رہا۔ یہ اس خیال پر مبنی ہے کہ سب سے آخر میں آنکھوں کا دم نکلتا ہے۔

اِن محاورات میں ہمارے معاشرے کاObservationبھی شامل ہے رو یہ اور روش بھی تجربہ اور تجزیہ بھی محاوروں کو اگر اس رشتہ سے دیکھا جائے تو بہت سی باتیں سمجھ میں آتی ہیں اور ایک معاشرتی جاندار کے اعتبار سے انسان کے عمل اور ردِ عمل کے مختلف معنی اپنے بھید کھولتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اپنی معنویت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

دن کو تارے نظر آنا یا دکھانا، دن کو دن اور رات کو رات نہ سمجھنا یا تارے گننا

دن اور رات پر ہمارے یہاں بہت سے محاورے ہیں مثلاً دن نکلنا صبح ہو جانا، دن گننا، وقت کو اس طرح گزارنا کہ ایک ایک دن پر نظر رہے کہ کیا ہوا کیوں ہوا کیسے ہوا۔ تھوڑا سا دن رہے یعنی جب دن کا بہت تھوڑا سا وقت باقی رہ گیا میر کا شعر ہے۔

صبح پیری شام ہونے آئی میر
تو نہ جیتا اور بہت دن کم رہا

بڑھاپے کی صبح شام ہونے کے قریب آ گئی تو نہ جیتا اور بہت کم دن رہا یعنی تجھے ہوش نہ آیا اور دن بہت کم رہ گیا وقت ختم ہو گیا موقع ہاتھ سے نکل گیا اُردو میں دن کا استعمال علامت کے طور پر ہوتا ہے جیسے اچھے دن سکھ کے دن ہوتے ہیں اور برے دن دُکھوں سے بھرے دن ہوتے ہیں۔ دنوں کو دھکّے دینا بھی ایسے محاورات میں سے ہے جس سے مراد ہے مصیبت کا وقت گزارنا جب آدمی کے پاس وقت ہو گا اور کوئی کم نہ ہو گا مفید کام تو وہ دن گزارنا دِنوں کو دھکّے دینے کے مترادف ہو گا۔

بُرے دنوں کے دھکّے ہیں یہ بھی ہمارے محاورات میں سے ہیں۔ آنکھوں میں رات کاٹنا انتظار کرنا جاگتے ہوئے رات گزارنا ایسے عالم میں آسمان کو تکتا رہتا ہے اسی حالت کو تارے گننا کہتے ہیں۔ تارے تو اَن گنت ہوتے ہیں اُن کو گِنا نہیں جا سکتا لیکن بیکار وقت میں جب کوئی کام نہیں ہوتا تو آدمی اسی طرح کی باتیں کرتا ہے۔ جو پانی اور بے معنی ہوتی ہیں۔

دو دو منہ ہنسنا

عام طور پر یہ محاورہ استعمال نہیں ہوتا لیکن دلچسپ محاورہ ہے اور اُس محاورہ کی یاد دلاتا ہے۔ جس میں دو منہ ہونا۔ اُس کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب وہ چاہتے ہیں اپنی بات بدل دیتے ہیں۔ ابھی کچھ کہا اور کچھ دیر کے بعد کچھ اور کہ دیا یہ یاد نہیں رہا اور جان کر یاد نہیں رکھا کہ پہلے کیا کہا تھا اور کیوں کہا تھا۔ دو دو منہ ہنسنا کسی پُر فریب انداز کی طرف تو اشارہ نہیں کرتا لیکن اس میں ایک نہ ایک حد تک یہ مفہوم موجود رہتا ہے کہ کسی بات پر یہاں ہنس دیئے اور کسی بات پر وہاں یعنی اُن کی ہنسی سنجیدگی سے کوئی تعلق نہیں رکھتی کسی بات پر یہاں تبسم بلب ہو گئے اور کسی بات پر وہاں چرنجی لال نے اسی مفہوم پر مشتمل ایک شعر بھی پیش کیا ہے۔ جواس محاورہ کی طرح خود بھی Rareہے۔

یہاں ٹھہرے کبھی وہاں ٹھہرے
دو دو مُنہ ہنس لئے جہاں ٹھہرے


دودھ بڑھانا، دودھ بھر آنا

ہمارے گھر آنگن کی زندگی کا عکس یا تو ہمارے علاقائی گیتوں میں ملتا ہے جنہیں"لوک گیت" کہتے ہیں یا ہماری سماجی رسمیں اُس کی عکاسی کرتی ہیں۔ جب بچہ کو دُودھ پلانا شروع کیا جاتا ہے تو اس کو چھٹی کی رسم کہتے ہیں اس میں دُودھ دھُلائی کی رسم بھی شامل ہے۔ جس پر نندوں کو نیگ دیا جاتا ہے۔ دُودھ بڑھانا دُودھ چھُڑانے کو کہتے ہیں۔ چونکہ چھُڑانے کا لفظ اچھا نہیں لگتا اسی لئے دودھ بڑھانا کہا جاتا ہے۔

دُودھ کو ماں کے احسانات میں بڑا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ اسی لئے ہمارے ہاں یہ رسم بھی ہے کہ ماں کے مرنے پراس کا جنازہ اٹھنے سے پہلے دُودھ معاف کرایا جاتا ہے۔ جو بچہ کسی وجہ سے دوسری ماؤں کا دُودھ پیتے ہیں وہ ان بچوں کے دُودھ شریک بھائی ہوتے ہیں جن کی ماں اُن کی دُودھ پلائی ہوئی ہے۔

اس معنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں دودھ کا بہت احترام کیا جاتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ ہندوؤں میں گائے کو گؤ ماتا اسی لئے کہا جاتا ہے کہ بچے بڑے اس کا دودھ پیتے ہیں۔ مندروں میں ایسی مقدّس عورتیں بھی ہوتی تھیں جو مادر برہمنا کہلاتی تھیں یعنی اُن کو جگت ماتا کہا جاتا تھا۔ مشہور گیت ہے۔

جے جے جے جُگدمے ماتا
اے جگت کی ماں تجھے ہزار بار پر نام اور سلام

اِس سے ماں دُودھ اور دودھ کے حقوق جو ہماری سماجی نفسیات کا حصّہ ہیں اُس پر روشنی پڑتی ہے۔

دو کوڑی کا آدمی۔ دو کوڑی کی بات کر دینا، دو کوڑی کی عزت ہو جانا، دو کوڑیوں کے مول بِکنا کوڑی پھیرا ہونا وغیرہ

کوڑی سِیپ کی ایک قسم ہے اور سمندروں ہی سے آتی ہے بیسویں صدی کے نصف اوّل تک یہ ہمارے سکوں میں بھی داخل تھی اور چھدام کے بعد کسی شے کا مول کوڑیوں میں ادا کیا جاتا تھا دیہات اور قصبات کے لوگوں کو کوڑی کا تلفظ"ڑ" کے بجائے"ڈ" سے کرتے ہیں۔ اور جو چیز بہت سستی اور بہت معمولی قیمت کی ہوتی ہے اسے کوڑی سے نسبت کے ساتھ ظاہر کیا جاتا ہے۔ مثلاً یہ تو اس لائق بھی نہیں کہ اُسے ایک کوڑی دے کر خریدا جائے اس کے لئے دیہات والے کہتے ہیں یہ تو کوڑی کام کا بھی نہیں یا دو کوڑیوں کا آدمی ہے کسی چیز کو شہر والے بھی جب سننا ظاہر کرنا چاہتے ہیں تو کوڑیوں کے مول بولتے ہیں حویلیاں کوڑیوں کے مول بک گئیں جس کو بہت چالاک ظاہر کرنا چاہتے ہیں یہ طنز کے طور پر کہا جاتا ہے وہ تو دو منٹ میں اچھے سے اچھے آدمی کی کوڑیاں کر لے یعنی کوڑیوں کے مول بیچ دے۔

دو کوڑی کی بات کرنا یا دو کوڑی کی عزت ہو جانا بے عزتی کو کہا جاتا ہے ایسے ہی آدمی کے لئے کہتے ہیں کہ وہ تو دو کوڑی کا آدمی ہے اسی بات کو ہم ٹکے کے ساتھ ملا کر کہتے ہیں۔ جیسے دو ٹکے کا آدمی اس بات کو پیسے کی نسبت سے بھی کہا جاتا ہے۔ جیسے تین پیسے کی چھوکری، یا ڈیڑھ پیسے کی گڑیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کوڑی سے لیکر پیسے تک قیمت کا تعین کبھی ہوتا تھا اور اسے سماجی اونچ نیچ کے پیمانے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا اور اس طرح کے محاورے ہمارے ذہن کو زندگی سے اور زندگی کو زمانے سے جوڑتے ہیں آج کوڑیاں دیکھنے کو نہیں ملتیں۔ پیسے دھیلے اور چھدام کے صرف نام رہ گئے ہیں لیکن ایک وقت اِن سے ہم سماجی درجات کے تعین میں فائدے اُٹھاتے تھے۔ اور کسی وجہ سے وہ محاورات سانچے میں ڈھل گئے۔

دونوں گھر آباد ہونا۔ دونوں وقت ملنا، دونوں ہاتھ تالی بجتی ہے۔ دونوں ہاتھوں سلام کرنا۔ دونوں ہاتھ جوڑنا۔ دو دو ہاتھ اُچھلنا

ہاتھ انسانی زندگی میں کارکردگی کی ایک اہم علامت ہے وہیں سے داہنے ہاتھ اور بائیں ہاتھ کی تقسیم بھی عمل میں آتی ہے۔ اور یہ کہا جاتا ہے کہ یہ تو میرے ہاتھ کا کھیل ہے۔ یا یہ تو اس کا دایاں ہاتھ ہے۔ دونوں ہاتھ جوڑنا یا دو دو ہاتھ ہونا دوسری طرح کے محاورے ہیں جب دونوں ہاتھ جوڑ کر سلام کیا جاتا ہے تو اس کے معنی انتہائی احترام کے ہوتے ہیں اور دست بستہ آداب کہتے ہیں اِس کے مقابلہ میں دونوں ہاتھ جوڑ دیئے یعنی اپنی طرف سے بے تعلقی بیزاری اور معذرت کا اظہار کیا۔

تالی دونوں ہاتھوں ہی سے بجتی ہے یعنی ذمہ داری کسی بھی برائی کے لئے دو طرفہ ہوتی ہے۔ غلطی پر کوئی ایک نہیں ہوتا دوسری طرف سے بھی اکثر غلطیاں ہوتی ہیں۔ سماجی جھگڑوں میں اس طرح سے فیصلے زیادہ بہتر اور بے کار ہوتے ہیں جس میں دونوں طرف کا بھلا ہوا محاورے کے اعتبار سے دونوں گھر میں جائیں یہ نہیں کہ دونوں گھر اُجڑ جائیں۔ دونوں وقت ملنا شام کے وقت کے لئے کہا جاتا ہے اُردو کا مشہور مصرعہ ہے۔

چلئے اب دونوں وقت ملتے ہیں

مگر یہ ایک طرح کا شاعرانہ اندازِ بیان ہے اور سماجی فکر پربھی اثرانداز ہوا ہے کہ جب دن رات مل رہے ہوں تو کوئی دوسرے درجہ کی بات نہ کہنی چاہئے یا کرنی چاہئے یہ وقت احتیاط کا تقاضہ کرتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جب دن گزر جا تا ہے شام ہو جاتی ہے تو آدمی کو وقت کے گزرنے کا احساس زیادہ شدت سے ہوتا ہے جس کی طرف میر کا یہ شعر اشارہ کرتا ہے۔

صبح پیری شام ہونے آئی میر
تو نہ جیتا اور بہت دن کم رہا

اردو کا یہ مشہور شعر بھی یاد آ رہا ہے۔

صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
عُمر یونہی تمام ہوتی ہے

جب آدمی کسی بات پر خوشی کا اظہار کرتا اور بے طرح کرتا ہے تو کہتے ہیں کہ اس کا دل دو دو ہاتھ اُچھل رہا ہے یہاں ہاتھ پیمانہ ہے یعنی بہت اُچھل رہا ہے ویسے بلیّوں اُچھلنا بھی کہتے ہیں جو ایک نعرہ آمیز صورت ہے مگر مبالغہ ہماری سوچ اور ذہنی Approachکا حصّہ ہے عام گفتگو میں اور محاورات میں بھی جہاں مبالغہ Preserveہو جاتا ہے۔

دھبا، دھبا لگنا، دھبا آنا

دھبّا ہماری سماجی لغت کا نہایت اہم لفظ قرار دیا جا سکتا ہے یہ لفظ بعض مواقع پر داغ کے ساتھ استعمال ہوتا ہے اور داغ دھبا کہلاتا ہے۔ اسی سے دھبے کی سماجی نوعیت اور اہمیت کا اظہار ہوتا ہے۔ کہ دھبّا کسی چیز پر آتا ہے، لگتا ہے۔ یا لگایا جاتا ہے۔ تو وہ داغ کا حکم رکھتا ہے۔ اور عام طور پر جب دھبّا لگتا یا دھبا آنا بولتے ہیں تو اُس سے مُراد داغ لگنا ہی لیا جاتا ہے۔ اور کہتے ہیں کہ دھبّا پڑ گیا خاندان کو دھبا لگ گیا یعنی خاندان بے عزت ہو گیا۔

دھجی، دھجیاں اڑانا، دھجیاں اڑنا، دھجیاں لگنا، دھجیاں ہونا، دھجی دھجی ہونا

یہ سب محاورے اپنی مختلف صورتوں میں بے حِس ہونے یا بے قدر ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ مثلاً یہ کہنا کہ وہ کپڑا کہاں ہے ذرا سی دھجی ہے یا اُس کے کپڑے دَھجی دَھجی ہو گئے یا وہ دھجیاں لگائے پھرتا ہے۔ یا دھجیوں کو بھی وہ تہہ کر کے رکھتا ہے یعنی اسی طرح کے کپڑے کہیں ریزوں کی طرح تہہ کر کے رکھے جاتے ہیں اِن میں تو دھجیاں لگی ہوئی ہیں۔

اِس سے ہم سماجی ردِ عمل اور معاشرتی سطح پر جو سوچ بنتی رہتی ہے اور ہمارے کمینٹ (Comments) سے گزرتی ہے۔ اس کا اظہار ہوتا ہے کپڑا ہماری سماجی زندگی کی ایک نہایت اہم جزء ہے اس کا پہننا اوڑھنا اور اچھا اور برا ہونا بھی قیمتی اور بے قیمت ہونا بھی دوسروں کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔ اس کا اظہار اس کہاوت سے بھی ہوتا ہے" کھائیے من بھاتا پہنے جگ بھاتا"یعنی دوسروں کی نظر بے اختیار لباس کی طرف اٹھتی ہے اور اسی کی حیثیت کے مطابق آدمی کی شخصیت شعور اور ذاتی حیثیت کا تعین کیا جاتا ہے۔

دَھرم کرنا، دَھرم لگتی کہنا، دَھرم سے کہتا ہوں

دَھرم ہندو اپنے مذہب کو کہتے ہیں اور اُس کو قانون قدرت اور دستورِ فطرت سمجھتے ہیں اسی لفظ کا تلفظ بدھزم میں دھمّا ہے۔ اور بودھ مذہب کی مذہبی کتاب کو"دھم پد" کہہ کر یاد کیا جاتا ہے۔ دھرم گر و، مہاتما گوتم بدھ کے لفظ میں اب چاند گرہن کے موقع پر نیچ قوم کے جو لوگ خیر خیرات مانگنے آتے ہیں وہ دھرم گرو کہتے ہیں۔ دھرم کی کہنا اس سے مراد ہے دیانت دار ی کے ساتھ ایمان کی بات کہنا۔ دھرم لگتی کہنا بھی ایمان داری کی بات ہے۔ دھرم مُورت ہے کسی بہت بڑے مہاتما یا سادھو سنتھ کو کہا جاتا ہے اِس کے معنی یہ ہیں کہ یہ محاورے کلچر، عقیدہ، خیال کئی دائروں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اِن میں ہندو مسلمان دراوڑ، آریہ اور ہند ایرانی کلچر کے اثرات کو موقع بہ موقع جگہ بہ جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔ دَھرم سے کہتا ہوں یعنی خدا کو حاضر و ناظر کر کے کہتا ہوں۔ یا قسم کھاتا ہوں۔ دھرم سوامی نام بھی رکھے جاتے ہیں۔ مگر زیادہ تر مذہب کے بڑے نمائندوں کو دھرم سوامی کہا جاتا ہے۔ دھرم داس، دھرم نارائن، دھر م پال جیسے نام ہندوؤں میں عام ہوتے ہیں۔

دھُرے اڑانا

مغربی یوپی میں یہ محاورہ عام ہے اور اِس کے معنی ہوتے ہیں بُری طرح پیش آنا سخت سزا دینا اور اذیت پہنچانا، ممکن ہے یہ لفظ دُرے سے بنا ہو۔ عربوں میں دُرے مارکر سزا دی جاتی ہے اور یہاں بھی دھُرے اُڑانے میں سزا ایذا پہنچانے کا تصور شامل رہتا ہے۔

"چرنجی لال"نے ا س کے مفہوم میں دھجیاں اُڑانے کو بھی شامل کیا ہے۔

دہلی کا کُتّا، دہلیز کا کتا، دہلیز نہ جھانکنا

کتا اگرچہ ایک وفا دار جانور ہے لیکن اُس کا نام تک ذلت کے ساتھ لیا جاتا ہے ہم اپنی سماجی زندگی میں کتے کو بے عزت سمجھتے ہیں۔ اور بے عزتی کے ساتھ اُس کا نام لیتے ہیں۔ بلکہ کُتّا کہنا یا کُتّا کہہ کر پکارنا ہماری سماجی زبان میں ایک طرح کی گالی ہے۔ "کتے بلی کی زندگی گزارنا ہے، بے عزت ہو کر جینا ہے اسی لئے جسے"دہلی کا کتا" کہتے ہیں اُسے مفت خور، بے عزت اور گرا پڑا قرار دیتے ہیں۔ "کتے بھونکنا" ویرانی کے لئے آتا ہے۔ اور جب یہ کہتے ہیں کہ اُن گلیوں میں کُتے روتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ آسیب زدہ ہے۔ اس لیے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جب آسمان سے بلائیں اترتی ہیں تو وہ کتوں کو نظر آ جاتی ہیں۔ اور اسی کو دیکھ کر روتے ہیں۔ اسی لیے کتے بلی کا رونا منحوس خیال کیا جاتا ہے۔ یہ ہمارے سماج کی تو اہم پرستی ہے اور یہ بھی واقع ہے کہ کتے بعض چیزوں کو سونگھ کر اچھے بُرے کا پتہ چلا لیتے ہیں۔ اور اس پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔

کتے کی دُم ہونا، یعنی اس کا اپنا ایک کردار ہے، بُرا کردار جس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ہے۔ کُتے کے گلے پٹہ باندھنا، یعنی"تابعدار بنانا، کتے کی طرح دم ہلانا"یعنی عاجزی اور خوشامد کا اظہار کرنا۔
گلی کا کُتّا ہونا کسی کام کا نہ ہونا اسی لئے کہتے ہیں اور دھوبی کے کتے سے اُسے تشبیہہ دیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ دھوبی کا کتا گھرکا نہ گھاٹ کا، دہلیز نہ جھانکنا، دہلیز پر کھڑا ہونا، اس کے یہ معنی ہیں کہ ادھر کوئی آیا بھی نہیں۔ دروازے پر کھڑا بھی نہیں ہوا۔ مانگنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔ اصل میں دروازے پر جانا اس کی طرف اِشارہ ہوتا ہے کہ کسی سے کچھ مانگنے گیا ہے اِس کی طرف ہمارے فارسی اور اردو لٹریچر میں برابر اشارے آتے رہے ہیں۔

دہلی کے لیولے ڈالنا

یہ عجیب و غریب محاورہ ہے"لیور" مٹی کی تہوں کو کہتے ہیں اگر کسی آدمی کے بار بار آنے جانے سے"لیور" اُکھڑ جائیں اور مٹی کی تہیں باقی نہ رہیں تو آنے جانے کی زیادتی کا اندازہ ہوتا ہے اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ اردو کا مشہور مصرعہ ہے۔

قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا

مگر کسی فرض کی ادائیگی یا ضروری کام سے جانا اس حکم میں نہیں آتا۔ اس سے ہم سماجی رویوں کا پتہ چلا سکتے ہیں کہ وقت کی بھی کوئی قدر و قیمت ہوتی ہے اور آدمی کی بھی خواہ مخواہ اپنا اور دوسرے کا وقت ضائع کرنا، اچھا نہیں سمجھا جاتا۔

دھُند کا پسارا ہونا

دھُند کا پھیلا رہنا آنکھوں سے نہ نظر آنا ہے خواہ وہ آنکھوں کی کمزوری کے باعث ہو یا دھُواں گھٹنے کی وجہ سے ہو یا دھُند پھیل جانے کی وجہ سے ہم جب نہیں دیکھ سکتے تو دھوکا کھا جاتے ہیں فریب میں مبتلا ہو جاتے ہیں اسی لئے دھوکہ یا فریب کو یعنی"دھُند کا بسارا" کہتے ہیں۔ "دھُندلکا" اسی سلسلے کا ایک بہت معنی خیز لفظ ہے دھندلکا چھایا ہوا ہے یعنی صورتِ حال صاف نہیں ہے۔

دَھن دَھن کرنا

مبارک باد دینا، بہت مشہور فقرہ ہے کام سنواروں اپنا دَھن دَھن کریں لوگ کا بگاڑو اپنا پَھٹ پَھٹ کریں لوگ، سماج میں دَھن دولت کو بھی کہتے ہیں اور خوشی کے اظہار کو بھی خواہ مخواہ دَھن دَھن کرنا زور زور بولنا بیکار باتیں کرنا ہے۔

"دھن" سوار ہونا کسی چیز کا بے حد شوق ہونا۔ اور اس کے لئے مارے مارے پھرنا جیسے ہم داستانوں میں دیکھتے ہیں۔ دھُن کا پکا ہونا اپنی بات پر اڑے رہنا اور ذرا اسی دیر میں اِدھر اور ذرا سی بات میں اُدھر ہونے کا جو عام رو یہ ہوتا ہے اُس کے خلاف ہونا دھونی زمانہ سادھو سنت جہاں بیٹھ جاتے ہیں وہاں آگ جلاتے ہیں وہ آگ اُن کے"ہون" کی علامت ہوتی ہے۔

جس میں خوشبو دار چیزیں بھی ڈالی جاتی ہیں اُسے دھونی"رمانا" کہتے ہیں اور اس سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک جگہ دھیان گیان کے خیال سے بیٹھ گئے اور دوسری باتوں سے اپنا رشتہ منقطع کیا تو اس کو دھونی رمانا کہتے ہیں کہ وہ تو وہاں دھونی رما کر بیٹھ گئے یہ ہندو روایت سے وابستہ محاوروں میں ہے۔ اور ہمارے سماج پر ہندو مذہب کے اثرات کا اظہار کرنے والی ایک روایت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔


داہنے اور بائیں ہاتھ سے ایک ساتھ کھانا حرام ہے

دایاں ہاتھ سے کھانا کھانا حرام ہے ہم لوگ اچھے بُرے جائز ناجائز مناسب یا مناسب کو مذہبی انداز سے پیش کرنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ داہنا ہاتھ ہمارے خیال میں عزت و احترام کی ایک علامت ہے اور بہت قدیم زمانے سے اِس پر زور دیا جاتا ہے داہنے ہاتھ سے کھاؤ داہنے ہاتھ سے لکھو یا داہنا ہاتھ ملاؤ یا پھر داہنے ہاتھ سے سلام کرو وغیرہ اس کے مقابلہ میں بائیں ہاتھ سے کھانا ایک طرح کا سوئے ادب یا بدتمیزی خیال کی جاتی ہے اور دونوں ہاتھ ایک ساتھ ملا کر کھانا ایک بہت ہی بے تکی بات ہے اِشارہ اسی کی طرف کرنا ہوتا ہے۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ یہ حرام ہے۔

اِس سے ہماری اپنی معاشرتی فکر کا اندازہ ہوتا ہے اور مذہب پراس کے اعتماد و اعتقاد کا کہ وہ ہر بات کو حلال و حرام کے دائرے میں تقسیم کر دیتی ہے ہم بائیں ہاتھ سے آب دست لیتے ہیں اس لئے کہ کھانا دائیں ہاتھ سے کھاتے ہیں اس میں کوئی برائی نہیں لیکن کچھ لوگ بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے ہوتے ہیں (Left Hander) یہ اُن کی فطری مجبوری ہوتی ہے اس کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے۔ ہمارا ایک عام رو یہ ہے کہ ہم ایسے معاملات کو الگ الگ خانوں میں رکھ کر نہیں دیکھتے انہیں تعمیم (Over simplification) کی منزل سے گزارتے ہیں جب کہ فرق و امتیاز کا باقی رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

دھنیے کی کھوپڑی میں پانی پلانا

ایک خاص طرح کا محاورہ ہے اور ہمارے مشرقی مزاج کی نمائندگی کرتا ہے"دھنیا" ایک بہت چھوٹا سا اندر سے کھوکھلا بیج ہوتا ہے۔ وہ اگر دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا جائے تو اس کا ایک ٹکڑا وہ کوئی سا بھی ہو دھنیے کی کھوپڑی کہلاتا ہے۔ اس میں کوئی چیز بھری تو جا سکتی ہے۔ مگر اس کی مقدار کچھ بھی نہیں ہو گی۔ اور اس میں پانی پلانا حد درجہ کی بخیلی بلکہ دوسرے کے ساتھ ایک سطح پر ذلیل سلوک ہے جو ہرگز نہ ہونا چاہیے۔

پیاسے کو پانی پلانا بہت بڑا ثواب ہوتا ہے۔ پانی کی مقدار بھی زیادہ ہونی چاہئیے اور صاف سُتھرے برتن میں ہونا چاہیے اسی لئے جب کسی کے ساتھ بُرا سلوک ہوتا ہے اور اُس میں بخیلی شامل ہوتی ہے۔ تو اُسے دھنیے کی کھوپڑی میں پانی پلانا کہتے ہیں۔

دھُواں دھار برسنا

ہمارے ہاں پانی دھُوئیں کا لفظ عوامی معاشرت میں بڑی اہمیت رکھتا تھا اس لئے کہ دھوئیں کا تعلق آگ سے ہے اور آگ پرستش کا عنصر بھی رہی ہے اور مقدّس سمجھی گئی ہے اسی لئے مسلمانوں کے بعض مذہبی کاموں میں بھی دھواں شامل رہتا ہے۔ مثلاً لوبان جلانا جو تیجے کی رسم میں ہوتا ہے۔ یعنی خوشبو کے لئے وہ کام کیا جاتا ہے مگر دھوئیں کے ساتھ اسی لئے بھُوت پریت کا اثر دور کرنے کی غرض سے دھونی دی جاتی ہے جہاں مویشی باندھے جاتے ہیں وہاں بھی دھونی دینے کا رواج رہا ہے اور اب بھی ہے۔

گھر سے دھُواں اُٹھتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ آگ موجود ہے اور"چولھا"جل رہا ہے ایک کے گھر سے آگ مانگ کر دوسرے کے گھر میں چولہا جلایا جاتا تھا۔ اس طرح سے"دھُواں گھٹنا" دھُواں اٹھنا بھی محاورہ بنا۔ اور دھوئیں اُٹھانا بھی یہاں تک کہ جب بارش بہت زور سے پڑتی ہے یا برستی ہے تو اُسے دھواں دھار بارش کہتے ہیں۔

اس طرح سے ہم اپنے محاوروں کے ذریعہ ایسی معاشرتی نفسیاتی تہذیبی اور اس زندگی کو پیش کرتے ہیں جو ہم موسموں کے تحت گزارتے ہیں۔

دھُوپ میں بال سفید کرنا

بالوں کا سفید ہو جانا بہت سے تجربوں سے گزرنا ہے بہت سی معلومات حاصل کرنا ہے۔ اور دقت سے بہت کچھ سیکھنا ہے ہمارے ملک میں اسی لئے اس کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے کہ کوئی شخص زیادہ عمر کا ہے انگریزی میں بھی اسے سینئر شہری Senior Citizenکہتے ہیں یعنی اس کی زیادہ عمر کا احترام کرتے ہیں۔

بالوں کی سفیدی کو عُمر سے اور عُمر کو عقل سے اور تجربہ سے نسبت دی جاتی ہے۔ اسی لئے گاؤں کے لوگ بڑے بوڑھوں کو"بدمنئر" بڑے سروالا کہا جاتا ہے۔ اور سفید بال Maturityکا نشان سمجھے جاتے ہیں اسی لئے ہمارے یہاں روایتی طور پر لوگ اپنی عمر کو اپنی بڑائی کا نشان بھی خیال کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہم نے یہ بال دھُوپ میں سفید نہیں کئے یعنی اُن کی سفیدی سے ہماری عمر ہماری عقل اور ہمارے تجربہ کا پتہ چلتا ہے۔ اور جب کسی کی عقل کی کمی اور عمر کی زیادتی کو ظاہر کرنا ہوتا ہے تو کہتے ہیں کیا تم نے یہ بال دھوپ میں سفید کئے ہیں اس سے ہمارے محاوروں کا ہماری زندگی ہماری معاشرت اور ہمارے تہذیبی رشتوں سے وابستگی کا اظہار ہوتا ہے۔

دھوکے کی ٹٹّی

پُر فریب صورت، مکاری اور دغا بازی کا طریقہ"، ٹٹا"، ٹٹی، گھاس پھونس کے پردے کو کہتے ہیں جو گھروں کے سامنے عام طور پر لگایا جاتا تھا۔ ایسے ہی کچّے پکّے اور گھاس پھُوس کے جھونپڑے بھی ہوتے تھے جب ٹٹی کے ذریعہ کسی دھوکے بازی کو چھُپا یا جاتا تھا۔ یعنی اس کی کوشش کی جاتی تھی تو اُسے ٹٹی کی اوٹ میں فریب دینا کہتے تھے ممکن ہے یہ طریقہ خاص طور سے شکار کرنے کے موقع پر اختیار کیا جاتا ہو اِس لئے کہ ذوق نے اپنے ایک شعر میں ٹٹی کی اوجھل (اوٹ ) شکار کرنے کی بات کی ہے اور کہا ہے۔

کرتی ہے قصد ٹٹی کی اوجھل شکار کا

(ذوق)

خط نکلنے پر بھی گیسو میں پھنسے مرغ نظر
دھوکے کی ٹٹی تیرے عارض کا سبزہ ہو گیا

(نامعلوم)

دھُول اُڑانا یا خاک اُڑانا

ہلکی باریک مٹی کو کہتے ہیں جو ہوا کے ساتھ اُڑتی رہتی ہے بچے کھیل میں بھی مٹھیاں بھر بھر کر ہوا میں اچھلتے اور خاک اڑاتے رہتے ہیں جب تیز ہوا چلتی ہے تو خاک بے طرح اڑتی ہے اسی سے ہمارے یہاں یہ محاورہ آیا کہ خاک دھُول کی طرح اڑا دیا یہ عام طور سے اُن لوگوں کے لئے کہا جاتا ہے اور کہا جاتا رہا ہے جو دوسروں کی محنت کو برباد کرتے ہیں اور خاندانی اثاثہ کو اپنی بیوقوفیوں سے برباد کر دیتے ہیں اس میں زمین و جائیداد بھی ہو سکتی ہے زر و زیور بھی ہو سکتا ہے اور عزت و وقار بھی اسی لئے ہمارے یہاں خاک دھُول سے مطابق بھی بہت سے محاورات ہیں۔

دہلیز کا کتّا، دہلیز نہ جھانکنا

دہلیز گھرکی چوکھٹ کو کہتے ہیں ایک زمانہ میں یہ ہمارے یہاں بڑی اہمیت کی بات ہوتی تھی کہ کوئی آدمی بزرگوں کی چوکھٹ کو آ کر چُومے اور اُسے سلام کرے۔ ہندو جاٹیوں میں دُوکان کی چوکھٹ کو آج بھی چوما جاتا ہے اور گھرکی چوکھٹ کو سلام کیا جاتا ہے۔

صوفیوں کی خانقاہوں کے ساتھ یہ رو یہ عام مسلمانوں میں بھی موجود ہے جو لوگ اُس کی پرواہ نہیں کرتے اُن کے لئے کہا جا تا ہے کہ وہ کبھی دہلیز بھی نہیں جھانکتے یعنی کبھی آ کر بھی نہیں پھٹکتے اس کے مقابلہ میں جو آدمی بے غیرتی کے ساتھ کسی کے دروازے پر پڑا رہتا ہے اس کو دہلیز کا کتّا کہتے ہیں اب اس لفظ کا استعمال ہمارے یہاں کم ہو گیا ہے۔ گاؤں والے اپنے تلفظ کے مطابق اس کو دہلیج کہتے ہیں۔

دہلی کے لیولے ڈالنا، یا لے ڈالنا

اسی طرح وہ آدمی جو اپنی غرض کے لئے کسی کے دروازے کے چکر لگا تا رہتا ہے اس کے لئے کہتے ہیں کہ وہ دہلیز کے لیولے لے ڈالتا ہے"لیوڑ" دراصل بدن یا زمین پر الگ سے جو مٹی یا میل کچیل جم جاتا ہے تو اُسے لیور کہتے ہیں اور یہاں لیوڑے لینے کے معنی اُسی کو ہٹا دینے کے ہیں۔

ہمارے جغرافیائی حالات کا اثر ہماری سوچ پر کس طرح مرتب ہوتا ہے اور ہماری جو معاشی اور معاشرتی زندگی ہوتی ہے اِس سے ہماری فِکر اور ہماری زبان کس طرح کے اثرات قبول کرتی ہے۔

دھُوم ڈالنا، دھُوم مچانا، دھُوم ہونا

دھُوم دھُوم دَھام حواشی سے تعلق رکھنے والی لفظیات میں سے ہے اسی لئے دھُوم مچانا خوشی کے ساتھ آوازیں نکالنے کو بھی کہتے ہیں کسی اچھی خبر کی شہرت کو بھی کہ اُس کی دھُوم مچ گئی سارے شہر میں دھُوم مچ رہی ہے دھُوم دھام ہو رہی ہے یعنی خوشیوں کا ماحول ہے۔ باجے تاشے بج رہے ہیں زمینداروں جاگیرداروں بڑے بڑے ساہوکاروں بادشاہوں اور نوابوں کے یہاں جب خوشی کے جشن منائے جاتے تھے تو عام طور پر سارے شہر یا علاقے میں دھُوم دَھام کا ماحول ہوتا تھا۔ اِن لفظوں سے بنے ہوئے محاورات کے ذریعہ ہم ماضی میں گزاری جانے والی اپنی معاشرتی اور تاریخی زندگی کے کچھ پہلوؤں سے واقف ہوتے ہیں اور آج بھی یہ صورتِ حال ہوتی ہے تو اُس سے لطف لیتے ہیں اور اُس کا ذکر اچھا لگتا ہے۔

دھونس دینا، دھونس میں آنا، دھونس کی چلنا

دھونس دیہاتی زبان میں نقّارے کو کہتے ہیں اور نقارہ شہرت و اقتدار اور انتظام کی ایک علامت کے اعلان کے بھی ہیں اسی لئے نوبت ونشان بادشاہی حکومت کی نشانیاں ہوتی ہیں۔ نوبت نقارہ ہی کو کہتے ہیں۔

یہاں سے گزر کر دھونس ایک نئے معنی اور نئے پس منظر کے ساتھ ہمارے محاورہ میں استعمال ہوتا ہے اور جب ہم دھونس دینا کہتے ہیں تو اس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ کوئی شخص زبردستی اپنی بات منوانا چاہتا ہے اور اپنی بات کا پریشر ڈالنا چاہتا ہے۔

دیہات والے بھی دھونس دینے کو اسی معنی میں استعمال کرتے ہیں شہر کے عام لوگوں کی زبان پربھی یہ محاورہ اسی معنی میں آتا ہے اور اُس کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سماج میں اچھے بُرے لوگوں کا رو یہ کیا کیا شکلیں اختیار کرتا ہے تو دھونس دینا دھونس نہیں لینا یا دھونس میں آ جانا انہی سماجی رویوں اور اُن کے اثرات کی طرف اشارہ ہے۔

دھینگا دھینگی کرنا

دھینگا مُشتی کرنے کو بھی کہتے ہیں اور یہ اسی طرح کا ایک عمل ہے جیسے دھول دھیّا کرنا جو عام لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے کہ وہ ذرا ذرا سی بات پر لڑنے جھگڑنے کے لئے تیا رہو جاتے ہیں۔ یہاں ہم ایک بار پھر اس طرف توجہ دینے پر مجبور ہوتے ہیں کہ محاورات دراصل ہمارے سماج کے رویوں کا مطالعہ ہے کیونکہ وہ عام زبان میں ہے اور عوامی بولی ٹھولی کا حصّہ ہے اس لئے اس کا احساس نہیں ہوتا کہ ہمارے سماجی رویوں کے کون کون سے پہلو ایسے ہیں جو ہمارے محاورے جن پر روشنی ڈالتے ہیں اور Comment کرتے ہیں۔

دید نہ شنید

دونوں لفظ فارسی کے ہیں"دیدن" کے معنی دیکھنا اور شنیدن کے معنی سننا عام طور پر اس زمانہ میں پڑھنے لکھنے کا رواج بہت کم تھا آدمی تمام تر بھروسہ اپنی معلومات کے لئے دیکھنے پر کرتا تھا یا سننے پر اسی لئے لوگ یہ کہتے نظر آتے تھے کہ نہ کہیں دیکھا نہ سنا لکھنے پڑھنے کا ذکر ہی نہیں آتا۔ اس سے ہم اپنے گزرے ہوئے زمانہ کی تہذیبی فضاء کو جان سکتے ہیں اور یہ بھی کہ فارسی کے اثرات ہماری زبان پر اس طرح مرتب ہوئے ہیں کہ ہم نے فارسی محاوروں کا ترجمہ کیا ہے"دید و شنید" فارسی محاورہ ہی ہے دیکھا نہ سنا اس کا ترجمہ ہے جس سے اِس امر کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ فارسی اثرات کو ہم نے اپنی زبان اپنے بیان اور اپنے فکری رویوں میں اسی طرح ایک زمانہ میں جذب کیا ہے جیسے آج کل انگریزی خیالات اور لفظیات کو جذب کرتے ہیں۔

دیدہ دلیر، دیدہ دلیری، دیدہ دھوئی، دیدہ ریزی، دیدہ ہوائی ہونا، دیدے کا پانی ہونا، دیدے کی صفائی دیدے نکالنا

دیدہ دیکھے ہوئے کو کہتے ہیں لیکن اردو میں دیدہ آنکھوں کے معنی میں آتا ہے اور آنکھوں کا ہمارے خیالات ہمارے سوالات اور چہرے کے تاثرات سے بہت گہرا رشتہ ہے۔ آدمی میں جب ایک طرح کی بے حیائی آ جاتی ہے اور وہ اپنی کسی بری بات پر شرماتا بھی نہیں تو اُسے دیدہ دلیری کہتے ہیں اور ایسا آدمی دیدہ دلیر کہلاتا ہے عورتوں میں ایک اور محاورہ بھی رائج ہے دیدہ دھوئی یعنی اس نے اپنی آنکھوں کی شرم و حیاء، غیرت اور پاسداری بالکل ختم کر دی اسی کو آنکھوں کا پانی ڈھل جانا بھی کہتے ہیں۔

"ہوائی دیدہ یا دیدہ ہوائی" عورتوں کا محاورہ ہے اور اس کے معنی غیر سنجیدہ طرز نگاہ ہے کہ اُدھر بھی دیکھ لیا اِدھر بھی دیکھ لیا لیکن سوچ سمجھ سے کوئی واسطہ نہ رکھا۔ اسی لئے ایسے لڑکے اور لڑکیوں کو جو اپنی ذمہ داریوں سے دُور رہنا چاہتے ہیں اور اِدھر اُدھر کی باتوں میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں اِس کو"دیدہ ہوائی" کہتے ہیں۔


"دیدہ ریزی" فارسی ترکیب ہے اور اُس کے معنی ہیں بہت دیکھ بھال کر یا کسی تحریر کو پڑھنے اور سمجھنے میں محنت شاقہ برداشت کرنا جوکم ہی لوگ کرپاتے ہیں۔ دیدے کی صفائی"اسی معنی میں آتا ہے جس معنی میں دیدہ دھوئی آیا ہے"دیدے نکالنا" آنکھیں دکھانے کو کہتے ہیں اور جو بہت گھٹیا آدمی ہوتا ہے اسے نہ دیدہ کہتے ہیں یعنی اس نے کچھ دیکھا ہی نہیں۔

دیواریں چاٹنا، دیوار کھینچنا، دیوار ڈھانا، دیوار کے بھی کان ہوتے ہیں، دیوار قہقہہ ہونا، دیوار اُٹھانا، دیوار اُٹھنا، دیوار کوٹھے چڑھنا

دیوار سے مطابق بہت سی روایتیں ہمارے مذہبی لٹریچر میں بھی آئی ہیں تاریخ میں بھی سچ یہ ہے کہ دیوار ہماری معاشرتی زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایک وقت تھا کہ چینیوں نے منلولوں کے حملے روکنے کے لئے ایک بہت لمبی دیوار بنائی تھی جو پندرہ سو کوس تک جاتی تھی۔ اس کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے اور تعمیری لحاظ سے دنیا کے سات عجائبات میں گنا جاتا ہے۔ اسی طرح "یاجُوج ماجُوج" قوم کے لوگ کسی قدیم ملک میں گھس کر تباہی مچانا چاہتے تھے روایت کچھ اس طرح ہے کہ اُن کے اور اِس ملک کے درمیان سیسہ کی دیوار کھڑی کر دی گئی تھی جس سے وہ گزر کر اندر نہ جا پائیں اور وہ ملک ان کی تباہی سے محفوظ رہے۔

یاجُوج ماجُوج اس دیوار کو صبح سے شام تک چاٹتے ہیں جس سے وہ پتلی ہو جاتی ہے اور وہ یہ خیال کر کے کہ ہم کل اسے ضرور ختم کر دیں گے یہ کہہ وہ چلے جاتے ہیں رات کو پھر دیوار اپنی جگہ پر اسی طرح بھاری بھرکم ہو جاتی ہے۔

اس کے علاوہ ایک دیوار کا اور تصور ہے جو"الف لیلہ" میں آیا ہے اور اُسے"دیوار قہقہہ" کہتے ہیں۔ کہ جواس کے اوپر چڑھ کر دوسری سمت دیکھتا ہے وہ بے طرح ہنستا ہے اور ہنستے ہنستے گر کر مر جاتا ہے اور یہ نہیں بتلا سکتا کہ ادھر ہے کیا۔

دیوار کا تصور حصا رسے بھی وابستہ ہے اور اُسے دیوارِ شہر کہتے ہیں گھریلو سطح پر دیوار کے اپنے ایک معنی ہیں وہ دیوارِ پردہ ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ گویا گھرکا تصور قائم ہوتا ہے۔ کوٹھے دیوار چڑھنا عورتوں کا محاورہ ہے اور اس ماحول کی طرف اشارہ کرتا ہے جب کہ گھرکی دیوار سے باہر جھانکنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی اور کوٹھے دیوار چڑھنے کو اس لئے منع کیا جاتا تھا کہ کوٹھے دیوار میں اس طرح ملی ہوتی تھیں کہ یہاں سے وہاں اور وہاں آنا جانا کوئی مشکل بات نہیں ہوتی تھی مگر اسے عام طور سے پردہ دار عورتوں کے لئے اچھا نہیں سمجھا جا تا تھا۔

دیواریں پردہ کا بھی کام دیتی ہیں اور راز داریوں کا بھی احتیاط اتنی بڑھتی جاتی تھی کہ بات کرنے کا وقت بہت آہستہ اس لئے بولا جاتا تھا کہ کوئی پاس پڑوس کا آدمی نہ سُن لے۔ اسی لے کہا جاتا تھا کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔ کوٹھے دیوار جھانکنا بھی محاورہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اِدھر اُدھر آدمی جھانکتا پھرے یہ اچھا نہیں لگتا کنواری لڑکیوں کے لئے تو یہ اور بھی بُرا سمجھا جا تھا اسی لئے جب کسی لڑکی کی تعریف کی جاتی تھی تو یہ کہا جا تا تھا کہ کسی نے اِس لڑکی کو کوٹھے دیوار نہ دیکھا۔

دیوار اٹھنا یا دیوار اُٹھانا گھرکی تعمیری ضرورت کے لئے بھی ہوتا ہے اور دیواریں کھڑی کرنا گھرکی تعمیری ضرورت کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے دیوار کھڑی کرنا مشکلات اور مصیبتیں پیدا کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ میرے سامنے مشکلات کی دیواریں کھڑی کر دی گئیں ہیں۔


ردیف "ڈ"

ڈاڑھی کا ایک ایک بال کرنا

ہمارے یہاں مذاہب میں اپنی اپنی جو وضع قطع رکھنا چاہا اور اپنے ماننے والے طبقات میں اس کو رائج کیا اُن میں کیا کس کی وضع قطع کے علاوہ ڈاڑھی کو بھی ایک سماجی حیثیت حاصل ہے۔ ڈاڑھی عزت و وقار اور بڑی حد تک تقدس کی علامت ہے اسی لئے ڈاڑھی پکڑنا اور ڈاڑھی میں ہاتھ ڈالنا بے عزتی کی بات سمجھی جاتی ہے۔ اور کسی ذلیل کرنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ میں تیری ڈاڑھی کے ایک ایک بال کر دوں گا اِس سے ہم اپنے ماحول کی تہذیبی قدروں کو سمجھ سکتے ہیں ڈاڑھی نوچ لینے کے بھی یہی معنی ہیں اور بال بال کر دینے کے ہیں یعنی بے عزتی کرنا ہے۔

ڈال کا پکا، ڈال کا ٹوٹا

ہمارے ہاں"آم" ایک مشہور پھل ہے قدیم زمانہ سے سنسکرت اور ہندی لٹریچر میں اس کا ذکر آتا رہتا ہے اور تعریفوں کے ساتھ آتا ہے ہمارے ہاں آموں کے باغ کے علاوہ ایک سطح پر آموں کے جنگل ہوتے تھے جب آموں کے باغ لگائے جانے لگے تو وہ آم ملنے لگے جو ڈال پر پک کر تیار ہو اور جس کو ڈال سے توڑ کر کھایا جا سکے اس لئے کہ تازگی اسی پھل میں ہوتی ہے ایسے پھل بھی ہوتے ہیں جنہیں پال میں دبا کر یا کوئی دوا چھڑک کر پکایا جائے۔ آم تو عام طور سے پال میں دبائے جاتے ہیں اور پسند کئے جاتے ہیں ایک ڈال کے پکے ہوئے آم کی یا کسی بھی پھل کی لذت اور لطف کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ اسی لئے ڈال کا پکا کہتے ہیں ویسے آم مٹکے کا بھی ہوتا ہے اور اس کو محاورے میں ٹپکے کا آم بھی کہتے ہیں کہ جب وہ پکتا ہے تو شاخ کو چھوڑ کر زمین پر گر جاتا ہے۔

اُس کے مقابلہ میں وہ پکا پھل جسے ڈال سے توڑا جاتا ہے وہ زیادہ قابلِ تعریف اور خوش مزہ سمجھا جاتا ہے اسی لئے ڈال کا ٹوٹا کہتے ہیں اور اسی نسبت سے آدمیوں کے کردار اور اُن کی قدر و منزلت کا ذکر بھی ہوتا ہے اور پھلوں کا اِطلاق آدمیوں کی شخصیتوں پرکیا جاتا ہے۔

ڈنکے کی چوٹ کہنا

"ڈنکا"ہمارے دیہاتی قصباتی اور شہری سماج میں ایک خاص معنی رکھتا ہے ڈنکے کی چوٹ کہنا ڈنکا بجنا جیسے محاورے ہمارے یہاں ایک خاص معنی رکھتے ہیں ہم کسی بات کا اعلان کروانے کے لئے مُنادی کروا دیتے تھے تاکہ سب کو خبر ہو جائے اس کو"ڈھنڈھورا" بھی کہتے تھے ڈنکا پیٹنا بھی اسی سے نکلا ہے اور ڈنکا پیٹنا بھی دونوں شہرت دینے اور شہرت پانے کا عمل ہے مگر بُرائی کے معنی ہیں۔ جس بات کو اچھا نہیں سمجھا جاتا اور اُس کی شہرت ہوتی ہے اسے ڈنکا بجنا کہتے ہیں مگر وہ صرف برے معنی میں نہیں آتا۔ اُن کی شہرت کا ڈنکا بج رہا ہے ایسے ہی موقعوں پر بولا جاتا ہے۔
دہلی میں ملکہ زینت محل جب محل سے باہر آتی تھیں تو اُن کے ساتھ ڈھول بجتا ہوتا تھا یا دوسرے باجے تاشے بجتے تھے اِسی لئے اُن کو ڈنکا بیگم کہا جاتا تھا۔ آج شہرت پانے اور شہرت دینے کے ذریعہ میڈیا کی وجہ سے دوسرے ہو گئے تواب ڈنکے کا لفظ محاورہ میں رہ گیا مگر معاشرہ اس سے دُور ہوتا گیا"ڈھول پیٹنا" بھی اسی مفہوم کی طرف اِشارہ کرتا ہے اور ڈھول بجنا بھی یہ ہمارے تمدن کی ایسی یادگاروں میں سے ہے جن کو ہم بھولتے جا رہے ہیں مگر ہمارے محاوروں کے ذریعہ گویا یہ حالات اور یہ ماحول Preserve ہو گیا ہے۔

ڈوبتے کو تنکے کا سہارا (بہت ہوتا ہے) ڈوب مرنا

ڈوبنا ہمارے ایسے الفاظ میں سے ہے جو سماجی حقائق میں سے روشنی ڈالتے ہیں دیہات قصبات کے لوگ"ڈوبے ڈھیری" کہتے ہیں جس کے معنی ہیں اُس کا قصّہ ختم ہو گیا۔ جب ہاتھ اُدھار کی رقم واپس نہیں آتی تو اُسے رقم ڈوب جانا کہتے ہیں نقصان کی صُورت میں بھی رقم ڈوبنے کا ذکر آتا ہے۔ اسی طرح گھر ڈوب گیا تباہی کے معنی میں آتا ہے یا پھر بہہ جانے کے معنی میں آتا ہے۔ اُردو کا ایک مصرعہ ہے۔

ایسا برسا ٹوٹ کے بادل، ڈوب چلا میخانہ بھی

ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ایسے ہی موقعوں پر بولا جاتا ہے جب شخصی وجود خطرہ میں پڑ گیا ہو اور سہارا ملنے کی کوئی صورت نہ ہو۔ دوسروں کے غیر مخلصانہ رویوں کی وجہ سے آدمی کسی پراعتماد بھی نہ کر سکتا ہو ایسے بُرے وقت میں کوئی کمزور سے کمزور سہارا بھی آدمی کو بڑی بات نظر آتی ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ڈوبنے کو تنکے کا سہارا بھی بہت ہوتا ہے بلکہ واقعتاً وہ سہارا کچھ نہیں ہوتا ایک نفسیاتی عمل ہوتا ہے اور بس۔

ڈھاک کے تین پات، ڈھائی دن کی بادشاہت، ڈھائی گھڑی کی آنا

ڈھاک ہمارے اپنے علاقہ کے معروف درختوں میں ہے جس کے جنگل کے جنگل کھڑے رہتے تھے اور" ٹیسو کے پھول" ڈھاک ہی کے پھول ہوتے ہیں۔ اِس کا اپنا خاص رنگ ہوتا ہے یہ داؤں میں کام آتے ہیں ڈھاک کے پتے سودا سلف کے کام آتے تھے گوشت اسی میں رکھ کر دیتے تھے اور"پھول" اور"ہا ر" وغیرہ انہی پتوں میں رکھ کر دیئے جاتے تھے لیکن ڈھاک نے ہمیں ایک عجیب محاورہ دیا اور وہ ڈھاک کے تین پات رہ گئے اس لئے کہ ڈھاک کے تین ہی پات ہوتے ہیں اور ہمارے معاشرہ میں کچھ ایسا ہے کہ اکثر کوششیں نا کام ہوتی ہیں اور کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلتا ایسے ہی موقع پر ڈھاک کے تین پات کہتے ہیں۔

ڈھائی چلّو لہو پینا یا پلانا، ڈیڑھ اینٹ کی مسجد چُننا

چُلّو ہاتھ کے پیمانے کو کہتے ہیں اب اس کا ذکر بھی اور دور بھی ختم ہوا ورنہ دیہات و قصبات میں بعض محاورات میں چُلّو کا لفظ بہت آتا تھا۔ اور کہتے تھے کہ ڈیڑھ چُلّو پانی میں ڈوب مرو۔
ڈیڑھ اور ڈھائی بھی محاوراتی، کلمات میں آتے ہیں۔ جیسے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانا یا ڈھائی گھڑی کی، بننا، تجھے بن جائے ڈھائی ڈھائی گھڑی کی۔ یہ عورتیں کو سننے کے طور پر محاورہ استعمال کرتی تھیں۔

"ڈھائی دن کو جھونپڑا" دہلی کے خاص محاوروں میں ہے اس اعتبار سے ڈھائی چلو لہو پینا یا پلانا اس طرح کا محاورہ ہے جس میں ایک خاص انداز سے معاشرتی فکر اور پیمانہ کا اظہار کیا جاتا ہے۔
مطلب ڈھائی گھڑی یا ڈھائی دن نہیں ہوتا ایک خاص مدت ہوتی ہے جس کی ناپ کا پیمانہ ڈھائی کو مقر ر کیا جاتا ہے۔ ڈھائی دن کی بادشاہت اسی ذیل میں آتا ہے۔

ڈھلتی پھرتی چھاؤں ہے

"چھاؤں" ہمارے یہاں سایہ کو کہتے ہیں اور سایہ سرپرستی محبت اور عارضی حالت کی طرف اشارہ کرتا ہے جیسے باپ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا یا سایہ دیوار بھی میسر نہ آیا۔ سایہ میں پڑا رہنا نکمے پن کو کہتے ہیں اپنا مارتا ہے تو چھاؤں میں بٹھا تا ہے ہاتھوں چھاؤں کرتا ہے۔

اسی چھاؤں کو ہم اپنے دن رات کے تجربہ کی روشنی میں چلتی پھرتی چھاؤں بھی کہتے ہیں کہ ابھی چھاؤں ہے تو ابھی دھوپ ہے اور جہاں جہاں دھُوپ آتی ہے وہاں وہاں چھاؤں تو ہوتی ہی ہے یہ الگ بات ہے کہ اُن کے" پینترے"بدلتے رہتے ہیں اچھے وہ بھی ہمیشہ نہیں رہتے اور بُرے دن بھی گزر جاتے ہیں ظاہر کرنے کے لئے چلتی پھرتی دھُوپ چھاؤں کہا جاتا ہے۔

ڈھونگ رَچانا، ڈینگ مارنا

ڈھونگ خواہ مخواہ کی بات کو کہتے ہیں اور جو آدمی اس طرح کی باتیں کرتا یا کام کرتا ہوا نظر آتا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی اس کو ڈھونگ رچانا کہتے ہیں کہیں کہیں یہ محاورہ ڈھونگ باندھنے کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے اور"ڈینگ مارنا" اس کی ایک اور شکل ہے یعنی جھوٹی سچی باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا۔ یہ وہی ہے جو ہوا باندھنا کے معنی کے طور پر آتا ہے غالب کا مصرعہ ہے۔

ہم بھی مضموں کی ہوا باندھتے ہیں

ڈھیل دینا، ڈھیلی ڈور چھوڑنا یا کرنا، (ڈور ڈھیلی کرنا)

نظرانداز کرنا ہے اسی لئے محاورے کے طور پر کہا جا تا ہے کہ اس نے ڈھیل دے رکھی ہے ڈھیل دینا دراصل پتنگ بازوں کی اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اُسے اپنے کنٹرول میں نہیں رکھا بلکہ اُسے آزاد چھوڑ دیا اسی لئے ڈور ڈھیلی کرنا اور ڈھیلی چھوڑنا غیر ضروری آزادی دینے کو کہتے ہیں جس میں نرمی برتنے کا مفہوم شامل ہے۔ اس سے ہمارے تہذیبی رویوں کو بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ہم انتظام میں ایک گونہ سختی اور باقاعدگی کو ضروری سمجھتے تھے جوش نے تو ایک موقع پر یہ بھی کہا ہے۔

کھُردُرے ہاتھوں میں رہی ہے حکومت کی لگام

یعنی حکومت کے لئے سختی لازمی ہے اور انتظام میں ذرا سی بھی ڈھیل دینا اُس میں خلل پڑنے کا باعث ہو جاتا ہے اسی لئے زندگی کو پُل صراط کا سفر کرنا قرار دیا جاتا ہے جس کے لئے کہا جاتا ہے کہ یہ وہ پگڈنڈی ہے جو تلوار سے زیادہ تیز اور دھار سے زیادہ باریک ہے اور ذرا سی توجہ اگر راستہ سے ہٹ جاتی ہے اور پیروں میں لغزش آ جاتی ہے تو آدمی ایسے گہرے کھڈ میں گرجا تا ہے کہ وہاں سے واپسی نہیں ہوتی۔


ردیف "ذ"

"ذ" کے محاورہ کل چھ ہیں لیکن بہت معمولی طور پر شامل کئے گئے ہیں اس لئے اُن کا مطالعہ باقاعدہ طور پر یہاں پیش نہیں کیا گیا۔ اس سے ذہن اُس طرف منتقل ہوتا ہے کہ تمام حرفوں سے بننے والے الفاظ ایک ہی سی نوعیت نہیں رکھتے اور اُسی سے اُن کی تعداد میں بھی فرق آتا ہے اور اُن کے استعمال میں بھی۔


ردیف "ر"

رات تھوڑی ہے سانگ بہت ہے

سانگ ہمارے یہاں دیہاتی ڈرامہ بھی ہے جو ایک طرح سے"سوانگ" ڈرامہ ہوتا ہے یعنی گیتوں بھرا تماشہ اس کے علاوہ سانگ بھرنا بھی محاورہ ہے لباس وضع قطع تبدیل کرنا۔ نمود و نمائش کے لئے جب ایسا کیا جا تا ہے تو اُسے کہتے ہیں کہ یہ کیا سانگ بھرا ہے یاوہ بہت"سانگ"بھرنے کا عادی ہے یعنی جھوٹی سچی باتیں کرتا ہے اِس کو سانگ کرنا وار بھرنا بولتے ہیں اور اسی نسبت سے کہا جاتا ہے کہ ابھی تو بہت سا"سانگ"باقی ہے اور یہ بھی کہ رات تھوڑی ہے اور سانگ بہت ہیں۔

چونکہ پچھلی صدی عیسوی تک ہمارے یہاں سانگ ڈرامہ کا رواج بہت تھا اور کبھی کبھی تو صبح ہو جاتی تھی اور ان کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا تھا اسی طرف اِس محاورہ میں اشارہ کیا گیا ہے اور مراد یہ لی گئی ہے کہ وقت تھوڑا ہے کام بہت ہے۔

راجا اندر کا اکھاڑا

راجا اندر در اصل موسم کا راجا ہے۔ موسم کے ساتھ طرح طرح کے کام گیت"سنگیت" اور کھیل تماشہ ہوتے ہیں تماشہ کرنے والی" منڈلیاں" ہوتی تھیں وہ اکھاڑے کہلاتے تھے ہم اکھاڑا صرف کشتی ہی کے اکھاڑے کو سمجھتے ہیں اِس سے ایک طرح کی غلط فہمی ہوتی ہے۔ راجا اندر کا اکھاڑا پر یوں کے غول پر مشتمل ہوتا ہے اور کہا جاتا ہے راجہ اِندر کے اکھاڑے کی پریاں اور راجا اندر وہ شخص ہوتا ہے جس کے پاس بہت سی حسینائیں جمع ہوں اسی لئے مذاق کے طور پر یا طنزیہ انداز میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ راجا اِندر بنے رہتے ہیں یہ محاورہ ہویا مذکورہ محاورہ دونوں سانگ و سنگیت سے متعلق ہیں دونوں کی ایک سماجی حیثیت ہے۔

راستہ یا رستہ بتانا یا دیکھنا راستہ پر آنا، راستہ یا رستہ ناپنا۔ راہ لگانا، راہ پیدا کرنا وغیرہ

رستہ ہمارے لئے زندگی میں کوئی بھی کام کرنے کی غرض سے ایک ضروری وسیلہ ہوتا ہے۔ چاہے وہ چلنے کا راستہ ہو چاہے کام کرنے کا سلیقہ طریقہ اِس کو جاننا بھی پڑتا ہے اِس کے بارے میں سوچنا سمجھنا بھی ہوتا ہے اور دوسروں کی مدد بھی درکار ہوتی ہے جو ہمیں راستہ بتا دیں طریقہ سکھلا دیں وقت پر مناسب مشورہ دیدیں اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ کوئی راستہ بتلائے اس لئے کہ اگر راستہ غلط ہو گیا تو منزل بھی غلط ہو جائے گی اور مقصد پورا نہ ہو گا۔

یہیں آدمی دوسروں کی اچھائیوں سے بھی واقف ہوتا ہے اور برائیوں سے بھی کہ لوگ کچھ بتلانا نہیں چاہتے اور خود غرض لوگ غلط راستہ بتاتے ہیں یعنی مکاریوں سے بھرا کوئی مشورہ دیتے ہیں راستہ بتانا یا راستہ دکھانا صلاح و مشورہ دینا خلوص کی بات ہوتی ہے مگر اسی میں ساری بد خلوصیاں انتقام کا جذبہ یا مکاری بھی شامل ہوتی ہے آدمی کبھی ٹالتا ہے کبھی بہانے بازیاں کرتا ہے کبھی بہت دلچسپ اور پُر فریب صورتِ حال کو سامنے لاتا ہے تاکہ جس کو غلط راستہ پر ڈالنا مقصد ہے وہ اپنی سُوجھ بُوجھ سے کام نہ لے سکے۔

راستہ سے متعلق جو محاورے ہیں اور جن کے اوپر درج کیا گیا ہے وہ اسی دھوپ چھاؤں جیسی صورتِ حال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ راستہ نکالنا، راستہ نکل آنا، راستہ سے بھٹکے جانا، راستہ بھول جانا یا بھلا دینا سب اسی سلسلہ کے محاورے ہیں اور اِس سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہمارے محاوروں کا ہماری سماجی صورتِ حال سے کیا رشتہ ہے اور وقت و حالات اور ماحول کا ہماری سماجی صورت حال سے اور ماحول کیا رشتہ ہے اور وقت و حالات اور ماحول کے ساتھ ا س میں کیا تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں راستہ کو راہ بھی کہتے ہیں اور یہ محاورے"راہ" سے بھی وابستہ ہیں۔

رام رام کرنا (رام رام جپنا) رام نام کی لُوٹ، رام دُہائی، رام کی کہانی، رام کی مایا، رام لیلا، رام کی بچھیا وغیرہ

رام کی مذہبی اور تہذیبی شخصیت ہمارے معاشرے میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اور ہندو معاشرے کی سائیکی میں داخل ہے۔ گاؤں کے اور آدمیوں کے نام" رام" کے نام پر رکھے جاتے ہیں"راون" رام کے مقابلہ میں ایک دوسرا کردار ہے جس کو بُرائیوں کا ایک علامتی کردار خیال کیا جاتا ہے" راون کی سیتا""راون کی نگری" یا راون کی لنکا اسی نسبت سے محاوروں میں داخل ہوتی ہے۔

"رام"کو یاد کرنا نیکیوں کے سر چشمے کی طرف اشارہ کرنا ہوتا ہے جیسے"رام رام کرو" رام بھلی کرے گا رام نام کی لوٹ مُفت کا مال ہے بڑی چیز ہے تم جتنی بھی چاہو یہ دولت تمہاری بن سکتی ہے۔
مصیبت کے وقت میں رام کی دہائی بھی دی جاتی ہے اور مصیبتوں بھری کہانی کو"رام کہانی" کہا جاتا ہے"رام کتھا" بھی رام کہانی ہی ہے مگر اس کا مفہوم کچھ دوسرا ہے رام کے نام پر آنے والے محاورے اس طرح اشارہ کرتے ہیں کہ ہماری زبان اور محاوروں کے سرچشمہ میں کہاں کہاں میں کہاں کہاں ہیں اور کن سماجی مُحرکات کے ذریعہ محاوروں سے متعلق مفہوم و معنی کے سلسلہ پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سب"رام کی مایا"ہے اسی معنیاتی سلسلہ کی طرف اشارہ کرنے والے محاورہ ہے۔

رُستم یا افلاطون کا سالا

بعض کردار عوام کے دلوں میں اُتر جاتے ہیں ذہنوں پر چھا جاتے ہیں۔ اُن میں ایک افلاطون کا کردار بھی ہے جو یونان کا تقریباً ڈھائی ہزار برس پہلے ایک فلسفی گزرا ہے جو"ارسطو" کا استاد تھا۔ اس کا فلسفہ ہمارے یہاں علمِ حکمت اور دینی مسائل میں بھی رہنمائی کرتا رہا ہے ہمارے عوام کے دلوں میں یہ فلسفیانہ مسائل تو کیا اترتے وہ افلاطون کو ایک بہت بڑی چیز سمجھتے ہیں اور دوسروں کے لئے اُسے بطورِ برائی استعمال کرتے ہیں وہ افلاطون ہو رہا ہے خود کو افلاطون کا سالا سمجھتا ہے یا افلاطون بنا کر پھرتا ہے افلاطون کو اُن نفسیاتی رویوں سے کوئی تعلق نہیں لیکن ہماری زبان ہمارے ذہن اور ہمارے زمانے کے عام لوگوں کے پاس یہی تصور ہے۔ ورنہ عام لوگ افلاطون کو کیا جانیں۔

رُستم قدیم ایران کا ایک پہلوان تھا بہت بڑا بہادر جس کی حیثیت اب ایک اساطیری کردار کی سی ہو گئی ہے اور بہادری میں اس کانام بطورِ مثال آتا ہے ویسے ہمارے یہاں بڑا پہلو ان اور طاقتور سمجھتے ہیں اس کو" رستم زمان" خیال کرتے ہیں"گاماں"پہلوان کا خطاب"رستم" ہند تھا اب یہ ایک الگ بات ہے کہ افلاطون کی طرح رستم کا حوالہ بھی عوام کی زبان پر طنز کے طور پر آتا ہے کہ وہ بڑے رستم زماں بنے پھرتے ہیں یا پھر اپنے آپ کو" رستم کا سالا" سمجھتے ہیں افواہِ عوام میں پڑی ہوئی بات کو آسانی سے ردّ بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ تو ہمارے محاورہ کا حصّہ بن جاتی ہے اور جیسا کہ روز اشارہ کیا گیا ہے جو محاورہ میں آئی ہوئی بات اس کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ ہماری سائکی میں اتر گئی ہے نفسیات کا جُز بن گئی وہ تاریخ نہیں ہے افسانہ ہے لیکن سماجی سچائی کا حصّہ ہے۔

رس مارے رسائن ہو

"رس" کا لفظ ہندی میں بہت بامعنی لفظ ہے اس کے معنی"لطف و لذت" کے بھی ہیں جذبہ و احساس کے بھی، مشروبات (پینے) کی چیز میں اور مسموعات میں بھی یعنی جو ہم سنتے ہیں جیسے کانوں میں"رس گھولنا" رسیلی آواز" رس بھرا لہجہ" ایسا پھل جس کا عرق میٹھا اور خوش ذائقہ ہوتا ہے وہ بھی رسال رسیلا اور رس بھرا کہلاتا ہے۔ "رس بھری" ہمارے یہاں ایک پھل بھی ہے۔

ہندی میں مختلف جذبوں کو"رس" کہتے ہیں جیسے ہاسیہ سے ہاسیہ رس، ویر رس شر نگار رس یہاں اس محاورے میں"رس" کورساس کہا گیا ہے رسائن کے معنی ہیں۔

دوا علاج کی غرض سے کھِلائی پلائی جانے والی اشیاء اِس محاورے کے معنی ہوئے کہ اگر وہ رس کا چھینٹا مار دے اچھی بات کہہ دے تو جی خوش ہو جائے اور ایسا محسوس ہو جیسے کسی دُکھ درد کی دوا مل گئی یہ خالص ہندوی محاورہ ہے اُردو میں مستعمل نہیں مگر بہت اچھا ہے۔

رسّی جل گئی پربل نہیں جلا، یا رسّی جل گئی پربل نہیں نکلا(گیا)

ایک اہم سماجی محاورہ ے"رسی" ایسے میٹریل سے بنائی جاتی ہے جو گل بھی جاتا ہے اور جل بھی جاتا ہے لوہے کی رسیّوں کا تصور پہلے زمانہ میں نہیں تھا وہ اب کی بات ہے ایسی صورت میں اگر رسّی جل بھی جاتی تھی تو اس کے بل راکھ میں بھی نظر آتے تھے۔ اس مشاہدہ سے یہ محاورہ اخذ کیا گیا کہ رسی جل گئی مگر بل نہیں گئے۔ اور اس کا اطلاق ایسے موقعوں پر ہوتا ہے جب آدمی دولت مند نہیں رہتا یا با اقتدار نہیں رہتا مگر اس کے ناز نخرے یا ادب و آداب کو پسند کرنے کا طریقہ وہی رہتا ہے تو یہ کہا جاتا ہے کہ رسی جل گئی مگر بل نہیں گئے طور طریقے وہی رہے جو نوابی کے زمانہ کے تھے یا افسری کے زمانہ کے تھے۔

رفوچکر ہونا

لفظی اعتبار سے غیر معمولی محاورہ ہے کہ رفو اور شئے ہے چکر کچھ اور رفو کا چکر سے کوئی تعلق نہیں جب کہ اُن دونوں سے جو محاورہ بنا ہے اس کے معنی غائب ہو جانے کے ہیں اور عام طور سے استعمال ہوتا ہے جہاں کسی آدمی سے متعلق کوئی کام کیا جا تا ہے اور وہ اس سے پہلوتہی کرتا ہے۔ اور وہاں سے غائب ہو جاتا ہے تو اُسے رفو چکر ہونا کہتے ہیں یعنی کسی ذمہ داری سے بچنا اور غیر ذمہ داری کے ساتھ نکل جانا۔

رکابی مذہب ہونا

رکابی کھانے کی پلیٹ کو کہتے ہیں اور پلیٹ میں کھانا کھانا بڑی بات سمجھا جاتا تھا عام طور پر غریب آدمیوں میں یہ دستور تھا کہ ایک ہی برتن میں سب کھاتے تھے یا پھر روٹی پر رکھ کر کھاتے تھے اب جن لوگوں کے یہاں رکابی میں رکھ کر کھانے کا رواج ہوتا تھا اور اچھے لوگ سمجھے جاتے تھے ان سے لوگ قریب آتے تھے اور اُن کی خوشامدیں طرح طرح سے کرتے تھے ایسے ہی لوگ خوشامد ی نہ کہلا کر رکابیہ مذہب کہلاتے تھے یعنی ان کا مقصد خوشامد ہے اور اس خوشامد کے طور پر یہ ان کے مذہب کی بھی تعریف کرنے لگیں گے۔

اس صورتِ حال سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ہمارے سماج میں لوگ مذہب کی بھی کوئی خاص اہمیت نہیں سمجھتے تھے بلکہ جیسا موقع ہوتا تھا اس کے مطابق مذہب اختیار کر لیتے تھے۔

اُردو میں ایک دوسری کہاوت ہے جو اِسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتی ہے"جہاں دیکھا توا برات وہیں گزاری ساری رات" یعنی جہاں اپنا کام بنتا دیکھا وہیں کے ہو رہے اور انہی کی سی بات کرنی شروع کر دی۔

رگ پٹھے سے واقف ہونا، رگ و ریشہ میں پڑنا

یہ محاورہ حکیموں یا پہلوانوں کا ہونا چاہیے۔ اس لئے کہ رگ پٹھوں سے واقف ہونا انہی کا پیشے کا تقاضہ ہے۔ لیکن ہماری سماجی زندگی میں بھی یہ محاورہ داخل ہے اور اس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے کہ میں ان سے اچھی طرح واقف ہوں۔ خوب جانتا ہوں۔ آدمی اپنے آپ کو طرح طرح کے نقابوں میں چھُپانا چاہتا ہے اسی کا جواب سماج کے دوسرے افراد کی طرف سے یہ آتا ہے کہ وہ ہم سے نہیں چھُپ سکتے۔ داغ کا مصرعہ ہے۔

وہ ہم سے بھی چھپیں گے وہ کہاں کے ایسے ہیں

اور اسی لئے لوگ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ہم تو ان کے رگ و ریشے سے یا رگ پٹھوں سے واقف ہیں یعنی ایک ایک بھید جانتے ہیں۔

اگر دیکھا جائے تو شخصی، جماعتی یا خاندانی راز چھُپائے جاتے ہیں۔ مصلحتیں اسی میں ہوتی ہیں مگر عزیزوں رشتے داروں ملنے جلنے والوں یہاں تک کہ پاس پڑوس والوں کی یہ خوشی اور خواہش رہتی ہے کہ وہ ایک ایک بات کو جانیں یہ ہمارا معاشرتی انداز نظر ہے ایک حد تک اور خاص خاص موقعوں پر یہ ضروری بھی ہو سکتا ہے لیکن معاشرہ میں اس رو یہ کی عمومیت اچھی بات نہیں ہوتی۔

رنگ چڑھنا، رنگ جمنا یا جمانا، رنگ دیکھنا رنگ پھیکا پڑنا، وغیرہ

رنگ ہمارا ایک تہذیبی لفظ ہے مختلف تہذیبی رویوں کے ساتھ رنگ وابستہ بھی ہوتے ہیں۔ رنگوں کا احساس اور اُس کا الگ الگ ہونا فطرت کی دین ہے جنگلوں کا رنگ پھولوں پھلوں کا رنگ پتھروں اور پانیوں کا رنگ ہمیں قدرت کی رنگا رنگی کا احساس دلاتا ہے رنگ بکھرنا رنگ پھیلنا رنگ اڑنا رنگ پھیکا پڑنا جیسے محاورے رنگ ہی سے وابستہ ہیں بعض محاورے ہماری معاشرتی زندگی اور اُس کے ذہنی رویوں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔

رنگ جمانا ایسا ہی ایک محاورہ ہے کہ دوسروں میں اپنی کوشش خواہش اور عمل سے اپنے بارے میں ایک احساس پیدا کرنا۔ رنگ جمنا بھی اسی صورت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور"رنگ پھیکا پڑنا" بھی اور یہ بھی کہ ہم نے یہ رنگ بھی دیکھے ہیں یعنی ان کے یاکسی کے بارے میں ہماری نظر میں یہ سب باتیں بھی ہیں اُردو کا مشہور مصرعہ ہے"رنگ کے بدل" جانے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

اس کا پہلا مصرعہ ہے۔

زمینِ چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا

یعنی زمانہ میں کیا کیا انقلاب ہوتے ہیں اور زندگی میں کیا کیا رنگ دیکھنے پڑتے ہیں۔ کن کن حالات سے گزرنا ہوتا ہے۔

رنگ رلیاں منانا، رنگیں مزاج ہونا

ہم رنگیں طبیعت بھی کہتے ہیں مزاج بھی کہتے ہیں رنگین مزاج بھی اور اُس سے مراد شوقین مزاج لیتے ہیں زندگی گزارنے کے کچھ مختلف طریقہ ہیں۔ سنجیدہ مزاج لوگوں کے کچھ اور طریقہ ہوتے ہیں شوقین مزاج لوگوں کے کچھ اور وسائل کا فرق اس میں بہت کچھ دخل رکھتا ہے۔ مال دار لوگ یا جاگیردار اور زمین دار خاندانوں کے افراد اکثر عیش اور مزے اڑاتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں اسی کو"رنگ رلیاں منانا" کہتے ہیں اب اس میں جاگیریں جائدادیں تباہ ہو جاتی ہیں خاندان مفلس ہو جاتے ہیں یہ ایک الگ بات ہے اور اس پر غیر سنجیدہ افراد اور امیر زادے کوئی توجہ نہیں دیتے کہ کل کو کیا ہو گا۔

اِس سے ہم اپنے معاشرتی رویوں کا پتہ چلا سکتے ہیں کہ زندگیاں کیسے گزاری جاتی ہیں اور ان سے اچھے بُرے نتیجے کیا نکلتے ہیں۔


رُوح بھٹکنا، رُوح تھرانا یا کانپنا، رُوح نکالنا، رُوح نکلنا وغیرہ

"رُوح" ہمارے جسم میں وہ جوہر یاقوّت ہے جو بھیدوں بھری ہے وہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے یہ کوئی نہیں جانتا مگر اسی کے سہارے ہم زندہ رہتے ہیں اور اسی کے تقاضہ ہمیں اپنی مادّی ضرورتوں سے اوپر اٹھاتے ہیں ہماری ایک انسانی اور رُوحانی اخلاقی اور مذہبی سوچ بنتی ہے جس سے نسبت کے ساتھ ہم اُسے روحانی طریقہ فکر کہتے ہیں۔

ہمارا خوف دہشت تکلیف اور راحت سب رُوح کے ساتھ ہے رُوح بدن سے نکل گئی تو نہ کچھ تکلیف ہے نہ راحت ہے نہ زندگی ہے نہ قیام ہے نہ بقا ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ہمارا بدن یا جسم ناشور ہے (فنا ہونے والا ہے) اور باقی رہنے والی رُوح ہے جو نہ کٹ سکتی ہے نہ گُل سکتی ہے۔ اسی سے ہمارے بہت سے محاورے بنے ہیں۔

رُوح کے بھٹکنے کے معنی ہیں کہ انسان کا ذہن بھٹک رہا ہے اُس کو سکون نہیں مل رہا ا س سے ایک خیال یہ بھی پیدا ہوا ہے کہ مرنے کے بعد انسان کی روح بھٹکتی ہے مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جنت یا دوزخ یا اعراف میں چلی جاتی ہے تصورات ہیں جو اعتقاد ات میں بدل گئے مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ روح کا ہم سے تعلق ہمارے بدن اور ہماری زندگی کے معاملات سے اس کا رشتہ انسانی نفسیات کا اور اُس سے آگے بڑھ کر سماجیات کا ایک گہرا رشتہ ہے جس کی طرف مذکورہ محاورات اشارہ کرتے ہیں روح تھرّانا انتہائی خوفزدگی ہے سراسیمگی اور پریشانی کا عالم ہے۔

روغنِ قاز ملنا

روغنِ قاز ملنا ایک عجیب و غریب محاورہ ہے"قاز" جیسا کہ ہم جانتے ہیں ایک آبی پرندہ ہے۔ ایک خاص موسم میں اُڑ کر اِدھر آتا ہے اور پھر واپس چلا جاتا ہے۔ اِس کا روغن ایک فرضی بات معلوم ہوتی ہے خاص طور پر اس لئے کہ کہ روغنِ قاز ملنا ایک محاورہ بن گیا ہے اور اس کے معنی ہیں جھوٹ سچ بول کر یا خوشامد کر کے دوسروں کو بیوقوف بنانا اور یہی صورت حال ہمارے سماجی رویوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

رونگٹے یا روئیں کھڑے ہونا، رُونگ رُونگ میں بسنا، رونمائی دینا، روتی صورت یا شکل رومال پر رومال بھگونا

بعض محاورے سماجی زندگی سے اتنا تعلق نہیں رکھتے جتنا ان کا رشتہ ہمارے شاعرانہ طرز فکر سے ہوتا ہے رونگٹے کھڑے ہونا سنسنی خیز ہونے کی ایک صورت ہوتی ہے جو ایسی باتوں کو سن کر جو انتہائی دکھ درد والی ہوتی ہیں ہم جذباتی طور پر محسوس کرتے ہیں۔ جیسے اُن کے مظالم کی کہانیاں سن کر رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔ یا روم روم میں سنایا مرا رونگٹا رونگٹا میرا حسان مند ہے یا اس طرح کے محاورے شاعرانہ حیثیت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ اور تشبیہہ و استعارہ کی مبالغہ آمیز صورت کو پیش کرتے ہیں جیسے میری آنکھیں نمک کی ڈلیاں بنی رہیں۔ یا آگ کھائے گا انگارے اُگلے گا یہ ایک طرح کی شاعری ہے عمل ہے اور اس معنی میں محاورہ معاشرت کے اس تہذیبی پہلو سے رشتہ رکھتا ہے جس کا تعلق ہماری شعر و شعور سے ہے رُونمائی دینا رسم ہے"دلہن کو منہ دکھائی دی جاتی ہے" اور دولہا کو سلامی اس طرح کے محاورے اور بھی ہیں جس کا تعلق بڑی حد تک ہماری سوچ سے ہے طرز اظہار سے ہے۔ تشبیہوں استعاروں سے ہے سماج کے کسی رو یہ پر روشنی ڈالنے سے نسبتاً کم ہے جو ہمارے لئے قابلِ گرفت یا لائقِ اعتراض ہوتا ہے۔ "روتی صورت" یا مشکل بھی ایسے ہی محاوروں میں ہے رومال پر رومال بھگونا یعنی بہت رُونا ہے یہ ایک شاعرانہ اندازِ بیان بھی ہے۔ اور ایک صورتِ حال کی طرف اشارہ بھی ہے۔

ریت بِلونا، ریت کی دیوار کھڑی کرنا

ریت ایک طرح کی شاعری ہے اس لئے کہ ریت جمتا نہیں ہے۔ بکھرتا رہتا ہے ریت کی دیوار کھڑی ہوہی نہیں سکتی اِس سے مراد ایک بے تکی اور بے بنیاد بات کو اٹھانا اور اس پر زور دینا ریت کی دیوار کھڑی کرنا ہے۔

ریت پانی نہیں ہوتا پانی کو بھی"بلونے" سے کوئی فائدہ نہیں کہ جتنا چاہے پانی کو بلو نے کا عمل کرو نتیجہ کچھ نہیں۔ دیوتاؤں نے سات سمندروں کو"بلو کر" بھلے ہی اَمرت نکالا ہو آدمی تو نہیں نکال سکتا چہ جائیکہ ریت کو"بلویا" جائے۔ سوائے دھُول اٹھنے یا دھول اڑنے کے کوئی نتیجہ نہیں ہو گا اسی بے نتیجہ بات کی طرف اس محاورے میں اشارہ کیا گیا ہے۔

سماج کا رو یہ یہاں بھی پیشِ نظر رہا ہے کہ لوگ بے تُکی باتیں کرتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں یا کر رہے ہیں اُس کے کچھ معنی بھی ہیں یا نہیں۔

اگر ہم محاورات پر نظر ڈالیں اور اُن کے معنی کو زندگی کے مسائل و معاملات سے جوڑ کر دیکھیں توہم بہت کچھ نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔ ریت کے ساتھ اور بھی محاورے ہیں جیسے" ریت مٹی ہونا" ریت کی طرح بکھرنا ریت کو مٹھی میں تھامنا اب یہ ظاہر ہے کہ زندگی کے تجربہ ہیں روزمرہ کے مشاہدہ ہیں کہ انسان کے نیک اعمال بھی اچھے کام بھی گاہ گاہ بُرے نتائج پیدا کرتے ہیں اس میں تقدیر کو بھی دخل ہو سکتا ہے اور تدبیر کو بھی سُوجھ بُوجھ کو بھی نہ سمجھی کو بھی جسے بے تدبیری کہنا چاہیے۔

ریوڑی کے پھیر میں آ جانا

"ریوڑی" تل اور شکر سے بنی ہوئی ایک مٹھائی ہے اس کے لئے شکر کا قوام تیا ر کرنا اور پھر اسے ایک خاص ترکیب اور عمل کے ذریعہ اس مرحلہ تک لانا جہاں اس سے ریوڑیاں بن جائیں ایک محنت طلب اور دشوار مرحلہ ہوتا ہے جن لوگوں نے شکر کے قوام سے"ریوڑیاں" بنتی دیکھی ہیں وہ اُس بات کے معنی سمجھ سکتے ہیں کہ" ریوڑی" کے پھیر میں پڑنا کس طرح کے پیچیدہ عمل سے گزرنا ہے جس کو سب سمجھ بھی نہیں سکتے عام طور پر دشوار عمل کو اِس محاورے سے تعبیر کرتے ہیں کہ وہ تو آج کل ریوڑی کے پھیر میں پڑا ہوا ہے۔

ریشم کے لچھے

"ریشم کے لچھے" ایک خاص طرح کا شاعرانہ انداز ہے ریشم خوبصورت پُرکشش نرم اور گُداز شے ہے خوبصورت بالوں کو بھی ریشم کے لچھے کہتے ہیں اور اسی طرح سے خوبصورت باتوں کو بھی اگر ہم اس سچائی کو سامنے رکھیں تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ محاورے ہمارا شعور بھی ہیں اور ان کا تعلق شعریت سے بھی ہے کہ محاوروں میں تشبیہہ استعارہ اور کنایہ جو کام کرتے ہیں اُن کا تعلق گاہ گاہ ہماری شعری حیثیت سے ہوتا ہے۔


ردیف "ز"

زارزار رونا، زار و قطار رونا، زار و نزار

یہ بھی ایک طرح کی شاعری ہے یا شاعرانہ اندازِ نظر ہے کہ بے اختیار آنکھوں سے آنسو بہیں تو اُسے"زار و قطار" رونا کہا جائے۔ "زارِیدن"کے معنی فارسی میں رونے کے ہیں اُسی سے"زار زار" اور قطار" کو شامل کرتے ہوئے زار و قطار رونا کہا گیا ہے۔ جیسے"گر یہ بے اختیار بھی"کہتے ہیں یعنی جب رونے پر کوئی قابو نہ ہو اور عالم بے اختیاری میں آنسو بہ رہے ہوں اور مسلسل رونے کا عالم ہو۔

"زار و نزار" اس کے مقابلہ میں بہت کمزور آدمی کو کہتے ہیں جب اِس میں تاب و تواں نہ رہے وہ اپنے آپ کو سنبھال بھی نہ سکے کہ اُن کی حالت تو بہت ہی زار ہے وہ زار و نزار ہو رہے ہیں۔ یا"زار و نزار" نظر آتے ہیں۔

زبان بدلنا پلٹنا، زبان بگڑنا، زبان بند کرنا، زبان بند ہونا، زبان بندی کرنا، زبان پر چڑھنا، زبان پکڑنا، زبان تڑاق پڑاق چلنا، زبان چلنا، زبان درازی کرنا، زبان چلائے کی روٹی کھانا، زبان داب کے کچھ کہنا، زبان داں ہونا۔ زبان دینا، زبان روکنا، زبان سمجھنا، زبان نکالنا، زبان دینا، زبان روکنا، زبان سمجھنا، زبان نکالنا، زبان سنبھالنا، زبان کو لے گئی، زبان کا چٹخارے لینا، زبان کے نیچے زبان ہے۔ زبان میں کانٹے پڑنا، زبانی جمع خرچ کرنا، زبانی منہ بات ہونا، زبان گھِسنا، زبان گُدھی سے کھینچ لینا، وغیرہ وغیرہ

زبان قوتِ گویائی کی علامت ہے ہم جو کچھ کہتے ہیں اور جتنا کچھ کہتے ہیں اُس کا ہمارے ذہن ہماری زندگی سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ دوست و دشمن تو اپنی جگہ پر ہوتے ہیں لیکن تعلقات میں ہمواری اور ناہمواری میں بہت کچھ زبان کے استعمال کو دخل ہوتا ہے کہ کون سا فِقرہ کہا جائے کس طرح کہا جائے اور کس موقع پر کہا جائے۔

لوگ زبان کے استعمال میں عام طور پر پھُوہڑ(بد سلیقہ) ہوتے ہیں اور الفاظ کے چناؤ میں احتیاط نہیں برتتے جو منہ میں آ جاتا ہے کہہ جاتے ہیں زبان روکنے اور زبان کے اچھے بُرے استعمال پر نظر داری کا رو یہ اُن کے ہاں ہوتا ہی نہیں یہی تکلیف کا باعث بن جاتا ہے اور اچھے دِل بُرے ہو جاتے ہیں دلوں میں گِرہ پڑ جاتی ہے یہ زبان کے صحیح اور غلط استعمال سے ہوتا ہے۔

زبان کے استعمال میں لب و لہجہ کو بھی دخل ہوتا ہے اور شیریں بیان آدمی محفل میں باتیں کرتا ہوا زیادہ اچھا لگتا ہے اور اپنی میٹھی زبان کی وجہ سے پسند کیا جاتا ہے خوش لہجہ خوش گفتار ہونا خوش سلیقہ ہونا بھی ہے۔

اب یہ الگ بات ہے کہ بعض لوگوں کی زبان اور لہجہ میں بے طرح کھُردرا پن ہوتا ہے ایسے لوگ اکھڑ کہلاتے ہیں یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ زبان کا اکھڑ پن ذہنی ناگواری دلی طور پر نا خوشی کا باعث ہوتا ہے۔ اگر اِن محاوروں پر غور کیا جائے جو زبان اور طرزِ بیان سے متعلق ہے تو ہماری سماجی زندگی کی بہت سی نا رسائیوں کی وجہ سمجھ میں آ جاتی ہے۔ اب یہ جُداگانہ بات ہے کہ ہم غور وفکر کے عادی نہیں ہیں زبان کے استعمال اور اُس کے اچھے بُرے نتائج کی طرف اُن محاوروں میں اشارے موجود ہیں یہ گویا ہمارے اپنے تبصرے ہیں جو ذہنی تجزیوں اور معاشرتی تجربوں کی آئینہ داری کرتے ہیں۔ ہم اُن سے بھی کوئی فائدہ اٹھانا نہیں چاہتے۔ یہ بہر حال ہمارے سماجی رو یہ کی بات ہے لیکن ہم نے اس کا احساس کیا اور محاورات میں اپنے محسوسات کو محفوظ کر دیا۔ یہ بڑی بات ہے اور اِس سے زبان کے تہذیبیاتی مطالعہ کے بعض نہایت اہم پہلو میسّر آ گئے۔ لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ ان کی زبان ٹوٹی نہیں یعنی یہ دوسری زبان کے الفاظ یا آوازیں صحیح طور پر اپنی زبان سے ادا نہیں کر سکتے بعض لوگ برابر بولے جاتے ہیں ان کے لئے کہا جاتا ہے کہ ان کی زبان تالو سے نہیں لگتی بعض اپنے آس پاس کے لوگوں سے بہت خطرے میں رہتے ہیں ان کو بتیس دانتوں کے بیچ میں رہنے والی زبان سے تشبیہہ دیتے ہیں کچھ لوگ اپنی بات کہنا چاہتے ہیں وہ یہ کہتے نظر آتے ہیں۔

میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں
کاش پوچھو کہ مُدعا کیا ہے

(غالب)

بعض لوگوں کو اپنی زبان دانی پر فخر ہوتا ہے اور وہ داغ کی طرح یہ کہتے نظر آتے ہیں۔

اُردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھُوم ہماری زباں کی ہے

غرض لوگ اپنے سامنے کسی کو بولنے نہیں دیتے وہ زبان اور کہلاتے ہیں بعض لوگوں کی زبان میں بہت تلخی اور کڑواہٹ ہوتی ہے وہ کڑوی زبان والے کہلاتے ہیں اسی طرح زبان کے بارے میں بہت سے محاورات کا لمبا سلسلہ ہے جس میں کسی نہ کسی لحاظ سے زبان کا اپنا اسلوب اظہار طریقہ گفتگو اور زبان پر قدرت کے پہلو سامنے آتے ہیں اور اُن پر تبصرہ دوسروں کی طرف سے ہوتا ہے اور ایسے ہی فقرہ زبان کے بارے میں ہمارے یہاں بہت ملتے ہیں یہ شاعری میں تو زیادہ کھیل ہی زبان کے حُسنِ استعمال کا ہوتا ہے اور لطف زبان پر زور دیا جاتا ہے اُردو کا شعر ہے۔

بیانِ حُرمتِ صہبا صحیح مگر اے شیخ
تری زبان سے اُس کا مزہ نہیں جاتا

بہت سے شعروں کو ہم زبان کی خوبصورتی کے اعتبار سے زبان کا شعر کہتے ہیں اور اِس طرح بیان کی داد دیتے ہیں زبان و بیان کی بات تو ہماری زبان پر آتی رہتی ہے۔

گفتگو ریختہ میں ہم سے نہ کر
یہ ہماری زبان ہے پیارے

(میر)

زبانی جمع خرچ کرنا

ہماری زبان میں جو سماجی حیثیت رکھنے والے محاورے ہیں اُن میں زبانی جمع خرچ اس معنی میں بے حد اہم ہیں کہ جمع اور خرچ صرف"بہی کھاتہ" کی چیز نہیں ہم دلوں میں بھی حساب رکھتے ہیں" حسابِ دوستاں در دل اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے ہم یہ کہتے بھی نظر آتے ہیں کہ کوئی کہیں سمجھ لے اور کوئی کہیں اور یعنی ایک دوسرے کے عمل کو پیش نظر رکھو اور کسی نے ہمارے ساتھ نیکی اور خوش معاملگی برتی ہے توہم کو بھی برتنی چاہیئے۔

ہماری ایک سماجی کمزوری یہ ہے کہ ہم دوسروں کی نیکیوں کا حساب نہیں رکھتے اگر یہ بھی ذہن میں رکھیں اور دل سے بھُلا نہ دیں تو معاشرہ میں نیکیاں بڑھتی رہیں۔ ہم اسی کو بھلا دیتے ہیں نتیجہ میں اچھا سلوک اور اچھا معاملہ کم سے کم ہو جاتا ہے اور بُرائیاں بڑھ جاتی ہیں۔ ۔ بعض لوگ کچھ کرنے کے عادی نہیں ہوتے بس کہنے سننے کی حد تک ہی ان کا معاملہ رہتا ہے ایسے لوگوں کے لئے کہا جاتا ہے اور صحیح کہا جاتا ہے کہ اُن کے یہاں تو بس زبانی جمع خرچ ہے، وہ محض کہتے ہیں دعویٰ کرتے ہیں مگر عمل کبھی نہیں کرتے۔

زِچ کرنا، زِچ ہو جانا

یہ ہماری سماجی"برائی ہے جس میں شخصی مزاج بھی حصّہ لیتا ہے کہ ہم کبھی کبھی غیر ضروری طور پر دوسروں کے پیچھے پڑتے ہیں یا پیچھے لگ جاتے ہیں اور یہ خیال نہیں کرتے کہ دوسرا ہماری وجہ سے پریشان ہو رہا ہے بلکہ اپنے ارادے اپنی خواہش اور خوشی کے زیر اثر زچ کرنا کہتے ہیں اس رو یہ کو آدمی پہلے ناگواری کے ساتھ لیتا ہے اور پھر ناقابل برداشت قرار دیتا ہے اور ٹھکرا دیتا ہے۔ واقع یہ ہے کہ پریشان کرنے کے علاوہ اُس کا کوئی مقصد ہوتا بھی نہیں۔

زخم لگنا، زخم لگانا، زخم پر نمک چھِڑکنا، زخم ہرا ہونا، زخم تازہ ہونا، زخم کھانا، زخموں کو کُریدنا، زخموں پر خاک ڈالنا، زخم پہنچانا، یا پہنچنا، زخم اُٹھانا وغیرہ

زخم سے متعلق بہت سے محاورے ہیں جن کا رشتہ ہمارے جسمانی وجود سے بھی ہے اور ذِہنی وجود سے بھی زخم لگتا بھی ہے گہرا بھی ہوتا ہے بھرتا بھی ہے" لہو" رونا اور خشک ہونا بھی زخموں سے وابستہ ہے ان تجربوں کو انسان نے یا ہمارے معاشرے میں اپنی نفسیات اور سماجی عمل سے وابستہ کیا اُس کے معنی اور معنویت میں نئی گہرائی اور گیرائی (وسعت) پیدا ہو گئی۔
دوسروں کا عمل ہمارے لئے اور ہمارا عمل دوسروں کے لئے تکلیفوں کا باعث بنتا ہے ہماری اپنی غلطیاں بھی اس میں شامل ہوتی ہیں اِس پر ہم غور نہیں کرتے۔ زخم لگنا یا زخم لگانا زخم پہنچانا، زخم اٹھانا زخموں کو پالنا اور زخموں کا ہرا ہونا ہماری نفسیات اور دوسروں کے عمل اور ردِ عمل کا حصّہ بنتا ہے بڑی بات یہ ہے کہ ہم نے اُسے ریکارڈ کیا اُس پر Commentکئے اب یہ سماجی برائی ہے۔ کہ اُس سے بچنے اور بچانے کی کوشش نہیں کی اور اِس کے باوجود نہیں کی کہ قانونِ فلسفَہ اخلاقیات مذہب اور روایت ہمیں روشنی دکھلا رہے تھے اور تجربہ دُور تک اور دیر تک انسان کے معاشرے کو اِن نشیب و فراز یا موڑ در موڑ راستوں سے آگاہ کر رہا تھا نتائج سامنے تھے لیکن اُن سے کوئی سبق لینے کے بجائے اُن کی طرف سے غفلت کو زیادہ پسندیدہ عمل قرار دیا گیا وہی ہوا اور وہی ہو رہا ہے۔

زمین آسمان کے قلابے مِلانا، زمین آسمان کا فرق ہونا، زمین پرپاؤں رکھنا، زمین کو پکڑنا، زمین دیکھنا، زمین سخت آسماں دُور ہے، زمین یا دھرتی پھٹ جائے۔ اور میں سما جاؤں زمین کا پاؤں کے نیچے سے سرک جانا، زمین کا پیوند ہو جانا، زمین میں گڑ جانا، زمین ناپنا

زمین غالباً زندہ انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے وہ کھیتی کرتا ہے تو زمین چاہیئے راستہ چلتا بھی ہے تو زمین ہی کے ذریعہ ممکن ہے مکان بھی زمین پر بنتے ہیں کارخانے بھی مسافر خانہ بھی غرض کہ انسان کی ہزار ضرورتیں زمین سے ہی وابستہ ہیں مرنے کے بعد بہت سی قومیں زمین ہی میں گاڑتی ہیں۔ زمین سے متعلق بہت سے محاورات ہیں اُن میں زمین آسمان ایک کر دینا بھی ہے یعنی بہت ہنگامہ برپا کرنا یا حد بھر کوشش کرنا۔ زمین آسمان کے قلابے مِلانا، ایسی باتوں کو کہتے ہیں جس کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا اور ایسا آدمی جو اِس طرح کی باتیں کرتا ہے و معاشرے میں جھوٹا فریبی اور دغا باز سمجھا جاتا ہے اُس کی بات پر کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔

زمین آسمان میں بہت فاصلہ ہیں اسی لئے زمین آسمان کو قلابے ملانا جھوٹی باتیں کرنا ہوتا ہے کہ آدمی اُن فاصلوں کو نظر میں نہیں رکھتا کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے وہ صحیح بھی ہے یا نہیں زمین پرپاؤں نہ رکھنا یہ تو خیر ممکن ہی نہیں لیکن جو لوگ بڑے ناز نخرے سے بات کرتے ہیں اُن کے لئے طنز کے طور پر کہا جا تا ہے کہ وہ تو زمین پر پاؤں نہیں رکھتے۔ اب اس سے دو باتیں مُراد ہو سکتی ہیں ایک یہ کہ اُن کے راستہ میں تو فرش فروش بچھے ہوتے ہیں اور اُن کا پاؤں زمین سے نہیں لگتا یا نہیں پڑتا اب بھی شادی بیاہ کے موقع پر سرخ رنگ کا قالین Red Carpetبچھاتے ہیں۔ زیادہ ناز و نزاکت والے انسان کو بھی بطورِ طنز کہتے ہیں کہ ان کے پاؤں تو فرشِ مخمل پربھی چھِل جاتے ہیں یہ فرش زمین پرکیوں پاؤں رکھنے لگے۔

جب انسان کے لئے اُس کا ماحول بہت تکلیف دے اور مایوس کُن ہو جاتا ہے تو کہتے ہیں زمین اُس کے لئے سخت ہو گئی اور آسمان دُوریعنی نہ اُسے زمین پر جگہ ملتی ہے اور نہ آسمان کے نیچے پناہ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ زمین آسمان میں اس کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ زمین پکڑی نہیں جا سکتی اور زمین دیکھنا کسی آدمی کو نیچا دکھانا ہے اور غالباً یہ پہلوانوں کے فن سے آیا ہے کشتی کے فن میں کسی کو زمین پر گرا دینا یا زمین پکڑوا دینا بھی بڑی کامیابی کی بات ہوتی ہے۔ اسی لئے زمین پرما تھا ٹیکنا اظہارِ عاجزی ہے اسی سے فرشی سلام کا تصور اُبھرتا ہے اور ماتھا ٹیکنے کا بھی۔

زمین ہمیشہ ہمارے پاؤں کے نیچے ہے اور اسی طرح بے حد مصیبت اور پریشانی کے عالم میں یہ کہتے ہیں کہ پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی یعنی اس کا کوئی موقع نہ رہا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا رہے اور اپنی کوشش پراعتماد کر سکے۔ زمین کا پیوند ہو جانا مر جانا اور زمین میں دفن ہو جانا مرنے والوں کے لئے کہا جاتا ہے جو اظہار کا ایک شاعرانہ سلیقہ ہے پیوند یوں بھی ہمارے معاشرے اور سماجی زندگی کا ایک خاص عمل تھا اور اکثر غریبوں کے کپڑوں میں پیوند لگے رہتے تھے اور عورتیں کہا کرتی تھیں بی بی پیوند تو ہماری اوقات ہے۔

زمین ناپنا اِدھر اُدھر پھرنا جس کا کوئی مقصد نہ ہو اسی پر طنز سے کہا جاتا تھا کہ وہ تو زمین ناپتا پھرتا ہے یا جاؤ زمین ناپو یعنی کچھ بھی کرو یہاں سے ہٹ جاؤ زمین میں گڑ جانا حد بھر شرمندہ ہونا اور یہ محسوس کرنا کہ وہ اب منہ دکھلانے کے لائق نہیں ہے اسے تو زمین میں گڑ جانا چاہیئے یا اسی حالت میں آدمی کی یہ خواہش کرنا کہ کسی طرح زمین پھٹ جاتی اور وہ اُس میں سما جا تا۔
ہماری سماجی حسّیات محاوروں میں جو معنی پیدا کرتی ہیں اور اُن کی ہمارے معاشرتی زندگی میں جو معنویت ہوتی ہے محاوروں کے مطالعہ سے اُنہی اُمور کی طرف ذہن منتقل ہوتا ہے۔ اور اِس طرح کے محاورے اِن سماجی حقائق کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔


زنانہ کرنا

مردانہ ہونا، ہماری معاشرتی زندگی کے ایک خاص حصّہ اور کچھ خاص طبقوں کی نمائندگی کرنے والے محاورے ہیں مسلمانوں اور ایک حد تک ہندوؤں سکھوں اور خاص طور پر راجپوتوں عورتوں کا انتظام الگ کیا جاتا تھا جو مردوں سے الگ ہوتا تھا ایسا اب بھی کیا جاتا ہے مگر پابندی کم ہو گئی ہے۔ اسی کو زنانہ کرنا کہتے ہیں۔
"زن" کے معنی فارسی میں عورت کے ہیں اسی سے ہمارے ہاں زنانہ لباس زنانہ محاورہ اور زنانہ زیورات جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں اِس کے مقابلہ میں مردانہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اور محض مردانہ کہہ کر مکان کا وہ حصہ مراد لیا جاتا ہے جہاں مردوں کا اٹھنا بیٹھنا اور مِلنا جُلنا زیادہ ہوتا اُسی کو مردانہ کہتے ہیں۔

پنجابی زبان میں زنانی عورت کو بھی کہتے ہیں اور زنخہ ہیجڑوں کو کہا جاتا ہے زنخی وہ عورت جس میں" ہجڑہ پن" ہو یہ لفظ دلّی اور لکھنؤ میں رائج رہا ہے۔

زنجیر کرنا یا پکڑنا، زنجیر ہِلانا، زنجیر کھڑکانا

زنجیر سے متعلق بہت سے محاورے ہیں پیروں میں زنجیر ڈال دی یعنی قید کر لیا۔ اِس کو بیڑی ڈالنا بھی کہتے ہیں۔ بیڑی پہنانا بھی۔ "زنجیر کرنا"فارسی محاورے کا ترجمہ ہے۔ جہاں زنجیر کردن کہا جاتا ہے میر کا شعر ہے۔

بہار آئی دیوانے کی خبر لو
اگر زنجیر کرنا ہے تو کر لو۔

زنجیر ہلانا یا زنجیر کھڑکانا دروازے کی کُنڈی بجانا ہے زنجیر ہلانے سے مُراد انصاف کے لئے فریاد کرنا بھی ہے۔

ایک چکر ہے مرے پاؤں میں زنجیر نہیں

یعنی قید کی حالت میں بھی برابر گھُوما کرتا ہوں یہ جنون کا عالم ہوتا ہے اور شاعروں نے اسی معنی میں اِس کا ذکر کیا ہے جنون شدید جذبہ کے عالم میں ذہن پر طاری ہوتا ہے اور دل و دماغ قابو میں نہیں رہتے جانوروں میں بھی یہ کیفیت دیکھنے کو ملتی ہے۔

زندگی سے تنگ آنا یا زندگی تلخ ہونا

ایک نفسیاتی کیفیت ہے جو انسان پر طاری ہوتی ہے زندگی جو عزیز ہوتی ہے پیاری ہوتی ہے آدمی اُس سے بھی تنگ ہو جاتا ہے اور معاشرے کے رو یہ کو اس میں اکثر دخل ہوتا ہے یا پھر شدید بیماری ہوتی ہے جس میں آدمی کوئی علاج نہ دیکھ کر پریشان ہوتا ہے۔ اور کہتا ہے کہ میری زندگی تو اجیرن ہو گئی ہے۔

زوال کا وقت

سُورج کے ڈوبنے سے پہلے کا وقت زوال کا وقت کہلاتا ہے جب سایہ ٹھہرنے لگتے ہیں دھُندلکا چھا جانے کا ماحول شروع ہو جاتا ہے۔ قوموں کی زندگی میں جب گِراوٹ کا زمانہ آتا ہے۔ اور وہ اپنے کاموں میں بچھڑ جاتی ہیں تو وہ زوال کا وقت ہوتا ہے اور یہی اِس محاورے کی سماج سے اور قوموں کی تاریخ سے ہم رشتگی ہے۔

زور پڑنا، زور چلنا، زور دینا، زور پکڑنا، زور مارنا، زور بخشنا وغیرہ

"زور" قوت کو کہتے ہیں اِسی سے زوردار لفظ بنا ہے۔ زور داری بھی اردو میں زور کے ساتھ بہت سے محاورے بنتے ہیں اس میں زور و شور ہونا بھی ہے آج کل اِس بات کا بہت زور شور ہے۔ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ عوام زیادہ تر اُس کی طرف متوجہ ہے۔ ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ آج کل کانگریس کا زور ہے یا پھر فلاں پارٹی کا زور ہے زور دینا کسی بات پر اِصرار کرنا زور چلنا قابو پانے کو کہا جاتا ہے جیسا اِس مصرعہ میں کہا گیا ہے۔

ہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر

زور پکڑنا جیسے بارش نے زور پکڑا اور سماجی طور پر یہ کہتے ہیں کہ مخالفت نے زور پکڑا دشمنی نے زور پکڑا اُس نے بہت زور مارا یعنی اپنی بات یا اپنے معاملہ پر زور دیا۔ "زور داری" سے کہا یا"زور داری" دکھائی اُس کی بات تو زور دار ہے یہ سب ہمارے سماجی فِقرہ ہیں جو معاشرتی عمل اور ردِ عمل کو پیش کرتے ہیں اُس میں زور بڑھنا اور زور ٹوٹنا بھی شامل ہے۔ زور بخشنا" کسی کو طاقت دینا ہے جیسے نثار نامی شاعر کا یہ مصرعہ ہے۔

حیدرِ کرار نے وہ" زور بخشا"ہے نثار

"زور دکھانا" اپنے زیادہ طاقتور ہونے کو اپنی بات چیت یا عمل کو پیش کرنا وہ خواہ مخواہ اپنا زور دکھاتا ہے اگر دیکھا جائے تو یہ سب محاورے سماجی نفسیات کو پیش کرتے ہیں۔

زہر اُگلنا، زہر کھانا، زہر پینا، زہر پلانا، زہر چڑھنا، زہراب ہونا، زہر کا سا گھونٹ پینا، زہر میں بجھا ہوا

زہر ہلاکت پیدا کرنے والی یا ہلاکت دینے والی شے کو کہتے ہیں اور سماجی زندگی میں تلخیاں پیدا کرنے والی یا نفسیات کو بگاڑنے والی کسی بھی بات کو زہر سے تشبیہہ یا نسبت دیتے ہیں جو بات یا جو شئے آدمی با دلِ نخواستہ کرتا ہے اُس کو زہر مار کرنا کہتے ہیں زبردستی کسی سے کوئی بات منوانا یا کسی بات پر صبر کرنا زہر جیسے گھونٹ پینا کہا جاتا ہے۔ زہر دے کر مار تو سکتے ہی ہیں مگر ناگواری کے عالم میں اگر کوئی چیز کھائی جاتی یا پی جاتی ہے اُسے بھی زہر مارنا کہتے ہیں۔

زہر کا مز ہ چکھنا یا زہر چکھنا بھی اسی طرح کا محاورہ ہے زہر ہونا بھی اور زہر لگنا بھی کہ اس کی بات مجھے زہر لگتی ہے جب کوئی کسی پر بہت رشک یا حسد کرتا ہے تو اُس کو زہر کھانا کہتے ہیں میرے دشمن اس بات پر زہر کھاتے ہیں"زہراب ہونا" پانی میں زہر ملنا ہے یا کسی بھی پینے کی شے کا"زہرناک"یا حد بھر تلخ ہو جانا ہے جیسے چائے کا گھونٹ بھی مجھے زہراب ہو گیا" یا یہ شراب نہ ہوئی زہراب ہوا ایسے شربت کو بھی میں تو زہر اب سمجھتا ہوں۔

"زہر میں بجھا" ہوا ہونا بھی زہر جیسی کیفیت کو اپنے ساتھ رکھنا جیسے زہر میں بجھے ہوئے نشتر زہر میں بجھے ہوئے تیور زہر میں بجھے ہوئے تیر جب کسی ہتھیار کو اس غرض سے زہر میں بجھایا جاتا ہے کہ اس کا زخم پھر اچھا نہ ہو تو وہ جنگ کا نہایت اذیت ناک طریقہ ہوتا ہے انسانی نفسیات کے اعتبار سے بول بات میں بھی زہر مِلا ہوتا ہے اور زہریلے بول کہتے ہیں اِس معنی میں زہر ایک سماجی استعارہ بھی ہے اور ہماری گفتگو کے لئے غیر معمولی طور پر ایک علامتی کردار ادا کرتا ہے۔

زیب تن کرنا۔ زیب دینا اپنے کو

لباس پہننے کا ایک مقصد زیب دینا اور"زیب تن کرنا" بھی ہوتا ہے، ویسے"زیب دینا" ایک محاورہ ہے اور ہم یہ کہتے نظر آتے ہیں۔

زیب دیتا ہے اسے جس قدر اچھا کہیے

اور جب بات غیر موزوں اور نامناسب ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ بات آپ کو زیب نہیں دیتی اور اچھا لگنے والی شے کو دیدہ زیب کہتے ہیں"تن زیب" ایک کپڑے کا نام بھی ہے اور ایسے لباس کو بھی" تن زیب" کہتے ہیں جو جسم پر اچھا لگتا ہے اور جس آدمی کے بدن پر لباس پھبتا ہے وہ زیب تن کہلاتا ہے۔

"زیبائش" سجاوٹ کے لئے آتا ہے اور ایک ایسے زیور کو جو پیروں میں پہنا جاتا ہے اور پیروں کو سجاوٹ بخشتا ہے اُس کو پازیب کہتے ہیں۔


ردیف "س"

سات پردوں، یا سات تالوں میں چھُپا کر رکھنا، سات دھار ہو کر نکلنا

سات کا عدد ہماری تہذیبی زندگی اور تاریخی حوالوں میں خاص اہمیت رکھتا ہے اس میں مذہبی حوالہ بھی شامل ہیں۔ ہم سات آسمان کہتے ہیں سات بہشتیں کہتے ہیں۔ سات سمندر کہتے ہیں قوسِ قزح (دھنک) کے سات رنگ کہتے ہیں۔ سات ستارے کہتے ہیں یہ سب گویا ہماری سماجی فِکر کا حصہ ہیں اِس کو اگر ہم محاورات میں دیکھتے ہیں تو ہمیں اس کا مزید احساس ہوتا ہے کہ سماجی زندگی سے سات کا عدد کس طرح جڑا ہوا ہے کوئی چیز تالوں میں بند کی جاتی ہے تو ایک سے زیادہ تالے لگائے جاتے ہیں کہتے ہیں لیکن محاورے کے طور پر سات تالوں میں بند کرنا کہتے ہیں اور اس طرح کہتے ہیں اور اس طرح پردوں کے ساتھ سات پردے کہتے ہیں۔ مقصد تاکید اور زیادہ سے زیادہ توجہ کی طرف ذہن کو منتقل کرانا ہوتا ہے اور اُس سے سماجی فکر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

جب کوئی بات ہماری نفسیات کا جُز بن جاتی ہے تو وہ ہمارے لسانی حوالوں میں آتی رہتی ہے اور اُس کے محاوروں میں شامل ہونے کے یہ معنی ہیں کہ وہ ہماری نفسیات میں گہرا دخل رکھتی ہے اصل میں لٹریچر کا مطالعہ سماجی نقطہ نظر سے یا ایک معاشرتی ڈکشنری کے طوپر نہیں ہوتا ورنہ محاورہ صرف زبان کا اچھا قدیم رو یہ نہیں ہے جو فرسودہ ہو چکا ہو یہ صحیح ہے کہ ہم شہری زبان میں اب محاورے کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے قصباتی اور طبقاتی زبان میں ضرور محاورے کی اہمیت ہے لیکن محاورہ سماج کو سمجھنے کے لئے اور مختلف سطح پر محاورے استعمال اس کے رواج اور سماج سے اس کے رشتہ کے بارے میں جتنی معلومات ہمیں محاوروں سے ہو سکتی ہے وہ شاید لٹریچر کے کسی دوسرے لسانی پہلو اور ادبی رو یہ سے نہیں ہو سکتی۔

سات دھار ہو کر نکلنا یہ ایک اہم بات ہے اور اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہم بہت سے اُمور کو سات کے دائرے میں لا لا کر رکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں زیادہ تر چشمے ایک دھارے میں پھوٹتے ہیں یا ایک سے زیادہ دھاروں میں مگر سات دھارے ہمارے روایتی اندازِ فکر کو ظاہر کرتے ہیں اس لئے کہ دھاروں کے ساتھ سات کا عدد ضروری نہیں ہے۔ لیکن تہذیبی نقطہ نظر سے سات دھاروں کا تصور بڑی اہمیت رکھتا ہے۔

ساز باز کرنا

ساز کا لفظ فارسی ہے"ساز" کسی بھی آلہ موسیقی کو کہہ سکتے ہیں"باز" کے معنی ہیں کھولنا یا دوبارہ حاصل ہونا جیسے"باز یافت" اسی معنی میں دوبارہ پا جانے کے عمل کو کہتے ہیں۔ "ساز" کسی لفظ کے ساتھ مِلا کر اِسم فاعل بھی بناتے ہیں جیسے گھڑی ساز، سُمن ساز، تاریخ ساز یہ فارسی زبان کے اردُو پر اثرات کی نمائندگی کرتا ہے اسی طرح"باز" کا لفظ بھی جب کسی لفظ کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے تو اسم فاعل بن جاتا ہے جیسے"پٹہ باز"""بلَّے باز" یہاں تک کہ"تگڑم باز" اب یہ عجیب اتفاق ہے کہ اِن دو لفظوں کو ملا کر ایک نئے معنی نکالے گئے یعنی"سازش" کہ اِس نے اِس معاملہ میں دوست یا دشمن کے ساتھ ساز باز کر لی۔ اِس اعتبار سے یہ ہماری سماجی زندگی سے گہرا رشتہ رکھنے والا ایک محاورہ بن جاتا ہے۔

لفظوں کا معاملہ عجیب ہے یہ طرح طرح کے معنی دیتے ہیں بعض معنی ذہن کو علمی بڑائی اور ادبی خوبصورتی کی طرف لے جاتے ہیں اور بعض سماج کی ذہنی اور عملی بدصورتیوں کو ظاہر کرتے ہیں الفاظ وہی ہوتے ہیں۔ لیکن معنی میں زمین آسمان کا فرق پیدا ہو جاتا ہے اور یہی زبان کا سماجی استعمال ہے۔ Connotation of the Wordsیعنی الفاظ کے باہمی رشتے اور معنیاتی سلسلے محاورات کو اور عام زبان کے ساتھ اُن کے رشتوں کو سمجھنے میں یہ صورت حال بہت مدد دیتی ہے۔ اور اس سے کسی زبان کے سماجی کردار کو اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔

ساکھ جاتی رہنا یا ساکھ بننا

ساکھ ہماری زبان کے اہم سماجی الفاظ میں سے ہے اور اِس کے معنی ہیں اعتبار، اعتبار سیاسی بھی ہوتا ہے اور سماجی بھی علمی بھی ہوتا اور کاروباری بھی ہم تحریروں سے زیادہ زبان پر اعتبار کو ضروری خیال کرتے ہیں اور اُس پر اعتماد کرتے ہیں اسی کو" ساکھ بننا"کہتے ہیں ساکھ باقی رہنا کہتے ہیں" اور اگر یہ اعتبار ختم ہو جاتا ہے چاہے ایک فرد پر سے ختم ہو چاہے ایک جماعت پر سے یا دکان اور ادارے سے بہرحال ساکھ باقی رہنا بڑی بات ہے اور سماجی نقطہ نظر سے اس محاورے کو سماجی رشتوں کے ساتھ جوڑ کر اگر دیکھا جائے تو اُس کے معنی غیر معمولی طور پر اہم ہو جاتے ہیں۔ ساکھ جاتی رہنے کو بھی اسی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔

سانپ سُونگھ جانا، سانپ کا کاٹا رسی سے ڈرتا ہے، چھاچھ کو پھُونک پھُونک کر پیتا ہے، سانپ مرے نہ لاٹھی ٹوٹے، سانپ کی طرح پھن مار کر رہ جانا، سانپ نکل گیا لکیر کو پیٹا کرو۔

سانپ جس کی بہت سی قسمیں اور نسلیں ہیں ہماری زندگی کا کئی اعتبار سے ایک اہم حوالہ ہے۔ وہ جانداروں میں سب سے زیادہ زہریلا ہوتا ہے اور اُس کے کاٹے کا مشکل ہی سے علاج ہوتا ہے۔ سانپ" گُل کنڈے" کھا کر اپنے آپ کو سمیٹ لیتا ہے اور دُم کو اپنے منہ میں لے لیتا ہے یہ گویا ابتدا کو انتہا سے ملانا ہے وہ بغیر پیروں کے دوڑ سکتا ہے یہ ایک عجیب و غریب صفت ہے وہ اپنے سہارے پر سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس طرح کی کچھ خو بیاں ہیں جو سانپ کے کردار میں شامل ہیں مثلاً"کالا سانپ"، "بین پر رقص کرتا" ہے اور اس کی آواز پر کھنچا چلا آتا ہے سانپ کی آنکھوں میں غیر معمولی کشش ہوتی ہے۔

سانپ سے متعلق بہت سے محاورے ہیں جو سماج کی روش و کشش کو ظاہر کرتے ہیں اور اس آئینہ میں ہم انسان کے کردار کو سمجھ سکتے ہیں کہ کس وقت اُس کا عمل اور رد عمل کیا ہوتا ہے اور اس کا ہمارے فکر و خیال سے سماجی طور پر کیا رشتہ بنتا ہے۔ مثلاً سانپ سونگھ جانا، مثلاً جب آدمی کسی بات کو سُن کر چُپ ہو جاتا ہے اور لاجواب ہونے کے عالم میں پہنچ جاتا ہے تو اسے سانپ سونگھنا کہتے ہیں جب کوئی موقع ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو سانپ نکل جانا کہتے ہیں شاہ نصیر کا استادانہ شعر ہے۔

خیالِ زلفِ بُتاں میں نصیر پیٹا کر
گیا ہے سانپ نکل اب لکیر پیٹا کر

لکیر پیٹنا یوں بھی وقت گزر جانے پر کسی کام کو کرنا ہے جو بے سُود ہوتا ہے اور اُس سے کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں ہوتا سانپ مرے نہ لاٹھی ٹوٹے ایک بہت اہم بات ہے کہ دشمن کو آپ نقصان پہنچائے مگر خود نقصان میں نہ پڑیں اگر خود ہی نقصان میں پڑ گئے اور سانپ مارنے میں لاٹھی ٹوٹ گئی تو گویا خود ہی خطرے میں پڑ گئے اور نقصان اٹھا گئے۔

سانپ خاص طور پر کالا سانپ کاٹتا نہیں ہے صرف پھَن مار کر رہ جاتا ہے جہاں اُس کے سامنے کوئی چیز آئی اور اُس نے پھَن مارا جب کہ کاٹنے کے لئے پلٹنا ضروری ہے سانپ کے دانت سیدھے نہیں ہوتے وہ پلٹ کر ڈنک مارتا ہے اگر پلٹ نہیں سکتا تو ڈنک بھی نہیں مار سکتا اور جب وہ پھَن پھیلائے ہوتا ہے تو پلٹ نہیں سکتا اسی لئے کاٹ نہیں سکتا اور یہیں سے یہ محاورہ پیدا ہوا کہ وہ سانپ کی طرح پھَن مارتا ہے۔

سانس نہ نکالنا

سانس لینا زندگی کی سب سے اہم ضرورت ہے لیکن ایک وقت ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی سانس بھی احتیاط سے لیتا ہے بلکہ نہیں لیتا میر کا شعر ہے۔ اس سلسلہ کے بہترین اشعار میں سے ہے۔

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اِس کار گہہ شیشہ گری کا

سانس روکنا صوفیوں کا عمل بھی ہے جس کو وہ دمِ سادھنا بھی کہتے ہیں سانس نہ لے یہ بڑی دھمکی ہوتی ہے۔ جس کے لئے غالب نے شعر کہا تھا۔

دھمکی میں مرگیا جو نہ باب نبرد تھا
عِشق نبرد پیشہ طلب گارِ مرد تھا

یعنی جس میں ہمت نہیں ہوتی حوصلہ نہیں ہوتا وہ دھمکی میں مر جاتا ہے بلکہ دوسروں کی غضبناک نگاہوں کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتا اور اُس کا سانس رک جاتا ہے اور کہتے بھی ہیں کہ دیکھو سانس مت نکالو۔

سایہ پڑ جانا

ہم سایہ کو بہت پُر اسرار اور بھید بھرا سمجھتے ہیں پرچھائیوں کو اِسی زُمرے میں رکھتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ کس کی پرچھائی پڑ گئی سایہ ہو جانا جن بھُوتوں کا اثر ہو جانا ہے گلزارِ نسیم کا مصرعہ ہے۔

سایہ ہو تو دوڑ دھوپ کیجئے سایہ سر سے اٹھنا

یعنی اگر اوپَر کے پرایہ کا سایہ پڑ گیا ہے تو اس کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ ہمارے یہاں توہم پرستی کہ ذیل میں جو باتیں آتی ہیں اُن میں سایہ پڑنا بھی ہے نظر لگنے سے سایہ پڑنے تک توہم پرستانہ خیالات کا ایک سلسلہ ہے جس میں لوگ عقیدہ رکھتے ہیں اور طرح طرح سے یہ باتیں سامنے آتی رہتی ہیں اور سماج کے مطالعہ میں مدد دیتی ہیں سایہ سر سے اٹھنا یتیم ہو جانا بزرگوں کی سرپرستی مہربانی اور عنایت کا۔

سب چیز کی لہر بہر ہے

اصل میں ہمارے معاشرے میں کمی بہت تھی غریب طبقہ کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ گھڑے پر پیالہ بھی نہیں کئی محاورے اِس صورتِ حال کی طرف اشارہ کرتے ہیں جیسے میں نے روٹی پہ روٹی رکھ کے کھائی جس کا یہ مطلب ہے کہ بعض خاندانوں میں اتنی غربت ہوتی تھی کہ ایک ایک روٹی مشکل سے میسر آتی تھی اور روٹی پر روٹی رکھ کر کھانا تو معاشرتی طور پر خوش حال ہونا تھا سوکھے ٹکرے پانی میں بھگو کر کھانا بھی ہماری معاشرتی زندگی کا ایک حصّہ رہا ہے۔ روکھی روٹی کا ذکر اب تک آتا ہے سالن بھی مشکل سے میسر آتا تھا گھی، پیسے چُپڑی ہوئی روٹی کسی کسی کے حصّہ میں آتی ہو گی۔

دیہات کی ایک مثل ہے جاڑا لگے یا پالا لگٹے دم کھچڑی فَنڈوے کی روٹی گھی چپڑی یعنی دم کی ہوئی کھچڑی اور فنڈوے کی روٹی کے لئے ترستے تھے اور جن لوگوں کو گیہوں کی روٹی میسر نہیں آتی تھی وہ چنے جُوار باجرہ اور فنڈوے کی روٹی کھاتے تھے اور یہ آئیڈیل تھا کہ اگر وہ گھی چُپڑی روٹی ہو تو کیا کہنا لوگ یہ کہتے ہوئے سنے جاتے تھے سیاں (سوئیاں ) ہوں پر کھیلا (اکیلا) ہو۔ اب بھی کہتے ہیں کہ اُن کے حالات تو بہت اچھے ہیں پیسے میں پیسہ اور چیز میں چیز ہے یعنی پیسہ بھی پاس ہے اور ضرورت کی چیزیں بھی پہلے زمانہ میں نہ پیسہ ہوتا تھا نہ ضرورت کی چیزیں ہوتی تھیں۔


سُبکی ہونا

سبک ہلکے کو کہتے ہیں جیسے سُبک ناک نقشہ والی لیکن معاشرہ میں سُبکی ہونے کے معنی ایک سطح پر بے عزت ہونے کے ہیں اسی لئے کہتے ہیں کہ اُن کی سُبکی ہوئی۔ سُبکنا بچوں کے رونے کا ایک خاص انداز ہوتا ہے جسے سُبک سُبک کر رونا کہتے ہیں۔

سِتارہ چمکنا، ستارہ گردش میں ہونا۔ ستارہ پیشانی

ستارہ آسمان کے اُن ستاروں کو کہتے ہیں جو اپنی جگہ پر رہتے ہیں اِس کے مقابلہ میں"سیارہ" گھومنے والے سِتارے کو کہتے ہیں ہمارے معاشرے میں ستاروں سے قسمت کو وابستہ کیا جاتا ہے۔ اسی لئے قسمت کا ستارہ کہتے ہیں اور یہ بھی کہ اُس کی قسمت کا ستارہ چمک رہا ہے اور اُس کے مقابلہ میں یہ کہ اُس کی قسمت کا ستارہ گردش میں ہے خوش قسمت آدمی کی پیشانی کو بھی ستارہ پیشانی کہا جاتا ہے اِس لئے کہ ہمارا ایک معاشرتی تصور یہ بھی ہے کہ جو کچھ قسمت میں لکھا ہے وہ ہماری پیشانی میں منقش ہے۔ اسی لئے قسمت کی برائی کا ذکر کرتے ہوئے اپنی پیشانی کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے ستارہ جبیں کے معنی بھی یہی ہیں کہ اس کی قسمت کا ستارہ چمک رہا ہے۔ ہم لڑکیوں کا نام مہہ جبیں رکھتے ہیں یعنی چاند جیسی پیشانی والی۔

ستّرا بہتّرا

عُمر کا حِساب اکثر ہمارے یہاں سماجیاتی فقروں میں لیا جاتا ہے یا اُس کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جیسے ستّرا بہتّرا یا ساٹھا پاٹھا جیسا کہ میر حسن نے لکھا ہے۔

برس پندرہ یا کہ چودہ کا سِن
جوانی کی راتیں مُرادوں کے دن

یا محاورے کے طور پر کہتے ہیں انیس بیس کا فرق چھٹے چھماس میں بھی عدد شامل ہے چھٹی کے دُودھ میں بھی اور چلّا چھٹی میں بھی شامل شمار موجود ہیں۔

سِتم توڑنا، ستم ٹوٹنا

سماج کے ظالمانہ رو یہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اسی لئے ستم کرنے کو ستم توڑنا کہا جاتا ہے اس سے سماج کے محسوسات کا پتہ چلتا ہے وہ کس طرح اعمال کو دیکھتا اور اپنے محاورے کے اعتبار سے اس پر تبصرہ کرتا ہے۔

سِٹی گُم ہو جانا

حیرت یا خوف کی وجہ سے آدمی کا گُم سُم رہ جانا بول نہ سکنا محاورہ میں سِٹی گُم ہونا کہا جاتا ہے۔ محاورہ زبان میں جو تبدیلیاں کرتا ہے اور زبان کے استعمال کے سلسلہ میں جو نئے پہلو محاورے کے باعث پیدا ہوتے ہیں وہ سماجی لسانیات کے سلسلہ میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں اور زبان کے سمجھنے کے معاملہ میں اس سے بڑی مدد ملتی ہے چُپ سادھنا اسی ذیل میں آتا ہے۔

سخت و سُست کہنا

ہمارا سماجی رو یہ گفتگو میں اکثر سامنے آتا ہے محبت کی زبان کچھ اور ہوتی ہے نفرت کی زبان کچھ اور اسی طرح طنز کی زبان اور تعریف کی زبان میں فرق ہوتا ہے۔ ناراضگی میں سخت و سُست کہا جاتا ہے اور خوشی میں اچھی اچھی باتیں کی جاتی ہیں اس سے لب و لہجہ بھی بدلتا ہے الفاظ میں بھی تبدیلی آتی ہے اور مغنیاتی سطح میں بھی اس پر غور نہیں کیا جاتا ورنہ سماج کے بہت سے ذہنی رو یہ زبان کے استعمال میں خود کو واضح کر دیتے ہیں۔ سخت و سُست کہنا بھی اسی سلسلہ گفتگو کا ایک خاص انداز ہے جس میں بُرا بھلا کہا جاتا ہے ڈرانا دھمکانا اس ذیل میں آتا ہے جو غصّہ کے عالم میں ہوتا ہے مگر ناراضگی کی ایک دوسری سطح ہے۔

سر آنکھوں چڑھنا، سر آنکھوں میں ہونا، سر آنکھوں سے آنا، سر آنکھوں پر رکھنا

سر ہمارے معاشرے میں احترام کی چیز ہے اسی لئے سر جھکانا، سر جھکنا، سر چھپانا ایسے کچھ محاورات ہیں جو سر سے تعلق رکھتے ہیں۔

سرکے ساتھ آنکھیں ہماری معاشرتی زندگی کی اعضائی علامتوں میں بڑی علامت ہے۔ آنکھوں سے لگانا آنکھیں دیکھنا آنکھ رکھنا آنکھوں سے آنکھوں پیار کرنا، آنکھوں میں رکھنا جیسے بہت سے محاورے آنکھوں ہی سے متعلق ہیں۔ بعض محاوروں میں سر آنکھیں ایک ساتھ آتے ہیں جیسے سر آنکھوں رکھنا جس کے معنی ہیں بہت احترام اور محبت سے رکھنا جیسے آپ کا خط آیا سر آنکھوں پر رکھا یا اُن کی بات تو سر آنکھوں پر رکھی جاتی ہے سر آنکھوں سے آنا یعنی بڑے احترام و عزت اور عقیدت کے ساتھ آنا اِس کے مقابلہ میں سرپر چڑھنا بے ادبی ہے اور بے ادبی کا یہ پہلو سر آنکھوں پر چڑھنے میں بھی موجود ہے۔

سرپر خاک ڈالنا، سر پر چھپَّڑ رکھنا

سرپر خاک ڈالنا انتہائی افسوس کی علامت ہے خاک مٹی کو کہتے ہیں دھول مٹی ایک عام ذہن کے لئے اس معنی میں قابلِ احترام نہیں ہے کہ وہ پیروں کے نیچے رہتی ہے روندی جاتی ہے اور ہوا کے ساتھ جب اڑتی ہے تو دوسری چیزوں پر بیٹھتی ہے اور انہیں میلا کرتی ہے دھُول سے اینٹھتی ہے اور گرد آلود کرتی ہے اسی لئے سرپر خاک ڈالنا اظہارِ ملال کرنا ہے۔

مٹھی بھر خاک بھی یہ کہیے کہ ایک بے قیمت شئے ہے اسی لئے مشت خاک بھی بے قیمت شے ہی کو کہتے ہیں سرپر رکھنا اپنی جگہ عزت دینے اور احترام پیش کرنے کو کہتے ہیں مگر سر پر چھپَّر رکھنے کے معنی ہیں ذمے داریوں سے دبا رہنا اور اُن کا بوجھ سرپر رکھا جانا زیادہ اولاد کی صورت میں بھی یہ محاورہ استعمال ہوتا ہے اور سماجی نقطہ نظر سے اس تصور کی بے حد اہمیت ہے کہ اس کے سرپر قرض یا فرائض کا چھپَّر رکھا ہوا ہے اب تو چھپَّر یا چھپریاں شہروں اور قصبوں میں کم دیکھنے میں آتی ہیں مگر کسی زمانہ میں تو غریبوں کے مکانوں میں چھت کی جگہ چھپریا چھپر یاں ہی ہوتی تھیں اور ان پر پھونس بھی نہیں ہوتا تھا۔ مندرجہ ذیل محاورات کو بھی اسی ذیل میں رکھنا چاہیے اور مختلف فکری زاویوں سے اُن کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ جیسے"سرپر ہاتھ رکھنا"پرورش یا تربیت کرنا ہے سر سے سایہ اٹھ جانا بزرگوں کی محبت اور سرپرستی سے محروم ہونا ہے سرپر ناچنا ایک طرح سے بے عزتی کرنا ہے"سرپر ہاتھ دھر کر رونا"یا سر پکڑ کر رونا رنج و غم کا ایسے موقعوں پر غیر معمولی اظہار ہے جب آدمی کو کسی خاص معاملہ میں اپنی نارسائی اور ناکامی کا احساس بھی شدت سے شامل ہو سرپھرا ہونا، سر پھرنا، سر چکرانا جیسے محاورات بھی سر ہی سے متعلق ہیں اور ہماری سماجی زندگی سے گہرا رشتہ رکھتے ہیں سرپھرا ہونا غیر معمولی جوش و جذبہ رکھنا اسی لئے دوسروں کو ہم یہ کہتے ہوئے سنتے ہیں کہ ارے بھئی وہ تو سر پھرے آدمی ہیں عجیب و غریب انسان ہیں اُن کی سوچ دوسروں کو سماجی سوچ سے بہت مختلف ہے۔

اس میں ہم ان محاورات کو بھی شامل کر سکتے ہیں جیسے سر کھپانا، سر جوڑنا، سر جوڑ کے بیٹھنا، سر جھاڑ منہ پہاڑ، سر توڑ کوشش انتہائی کوشش کو کہتے ہیں جس میں آدمی اپنے سر پیر کا کچھ خیال نہیں رکھتا سر جھاڑ منہ پہاڑ ایسے شخص کو کہتے ہیں جو بے تکے انداز سے رہتا ہے کبھی بالوں میں کنگھا نہیں کرتا اپنے ہاتھ منہ کا خیال نہیں کرتا اور بے سر پیر کی بات کہتے ہیں"سر سے کھیلنا"اردُو کا مشہور محاورہ ہے جو کہاوت کا درجہ رکھتا ہے اثر کے تحت جھومنا بھی ہے اب تو نہیں مگر اب سے کچھ پہلے تک بعض عورتوں کے سرپر یہ کہا جاتا تھا کہ اُن کے سر ماموں اللہ بخش آتے ہیں اور تب ہی ان کا حال ہوتا ہے کہ اُن کے سامنے ڈومنیاں گیت گاتی ہیں اور وہ سر سے کھیلتی ہے۔

سر سفید ہونا سفید بال ہو جانا عام طور سے سفید بال ہونے کے معنی یہ ہوتے تھے کہ اس عورت یا مرد کی عمر کا فی ہو چکی ہے اور زیادہ عمر کے معنی ہیں زیادہ تجربہ اسی لئے یہ بھی کہا جا تا تھا کہ میں نے یہ بال دھوپ میں سفید نہیں کئے ہیں اس کے پیچھے میری عمر اور تجربہ موجود ہے۔

سر سنہرا ہونا جب کسی اچھے کام کی ذمہ داری کسی کے سر ہوتی ہے اور وہ اسے خوبصورتی سے انجام دیتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ اس کا سہرا اُس کے سر ہے۔ معنی اس سلسلہ میں کسی تعریف و تحسین عزت و عظمت کا سلسلہ میں مستحق فلاں شخص ہے۔ ویسے ایک کہاوت یہ بھی ہے کہ"سر بڑا سردار کا پیر بڑا گنوار کا" یعنی جو عقلمند با شعور اور خوش نصیب ہوتا ہے" اس کا سر بڑا ہوتا ہے" اور جو گاودی گنوار ہوتا ہے اُس کے پیر بڑے ہوتے ہیں۔

اعضائے جسمانی میں بہت سے عضو ایسے ہیں جو محاورات میں شامل ہیں اُس کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے اپنے وجود کو یا انسانی وجود کے مختلف حصّوں کو اپنی سوچ میں شامل رکھا ہے اور ان کو اپنی سوچ کے مختلف مرحلوں اور تجربوں میں اظہار کا وسیلہ بنایا ہے اس میں گردن بھی ہے زبان بھی ہے ہاتھ پیر بھی ہیں اور تن پیٹ بھی ہے۔

سر سے چلنا، سرکے بل چلنا

سرکے بل چلنا بھی ان محُاورات میں ہے جو سماجی نفسیات کو پیش کرتے ہیں پیروں سے چلنا الگ بات ہے اور گھٹنوں سے چلنا ایک دوسری بات ہے جسے گُڈلیاں چلنا کہتے ہیں جو بچوں کے لئے ہوتا ہے مگر سر سے یا سرکے بل دینا ویسے تو عجیب سی بات ہے لیکن محاورے کے طور پر یہ انتہائی احترام کے لئے آتا ہے کہ میں تو سر کے بل چل کے وہاں آؤں گا یا جاؤں گا۔

سر سے کفن باندھنا

"سر سے کفن باندھنا" تہذیبی محاورات میں سے ہے اور اپنی معنویت کے لحاظ سے غیر معمولی ہے۔ بعض آدمیوں میں یا قوموں میں جان دینے کا جذبہ بہت شدت سے ہوتا ہے وہی یہ کہتے بھی ہیں کہ میں" سر سے کفن باندھے رہتا ہوں" یعنی ہر وقت جان دینے کے لئے تیار ہوں۔ غالب نے کہا ہے۔

آج واں سر سے کفن باندھے ہوئے جاتا ہوں میں
عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لائیں گے کیا

غالباً یہ دستور بھی رہا ہے کہ جو لوگ جہاد میں حصہ لیتے تھے وہ اپنے سر سے کفن باندھتے رہتے تھے تاکہ شہید ہونے کے بعد کسی کو اُس کے کفن دفن کی فکر نہ ہو۔

سر گریبان میں ڈالنا، سر در گریبان ہونا

یہ اُردو فارسی دونوں زبانوں میں بطورِ محاورہ آتا ہے یعنی سر جھکا کر سنجیدگی سے کسی بات کو لینا اور اپنی نارسائی یا غلطی کا اعتراف کرنا۔ سماج کے رویوں کا ہم محاورات میں جو مطالعہ کرتے ہیں اس کا اندازہ اس محاورے پر غور کرنے سے ہوتا ہے کہ ہم با اعتبار فرد یا با اعتبار جماعت دوسروں کے لئے یا پھر خود اپنے لئے کیا رو یہ اختیار کرتے ہیں سر گریبان میں ڈالنا اسی روش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

سر نیچا ہونا

یعنی جو آدمی بہت تکبّر کرتا ہے اور جس کی گردن گھمنڈ اور غرور کے ساتھ تنی رہتی ہے اس کو کبھی ذلیل بھی ہونا پڑتا ہے اسی کے لئے ہمارے یہاں محاورہ ہے غرور کا سر نیچا یعنی جو بہت گھمنڈ کرتا ہے وہی بہت بے عزت بھی ہوتا ہے۔

سسرال کا کُتا

"کُتا" ایک جانور ہے جو آدمی کا وفادار ہے اور اُس کی قبائلی زندگی سے لیکر مہذب شہری زندگی تک ایک وفادار پالتو جانور کی حیثیت سے اِس کے ساتھ رہا ہے۔ اس پر بھی مشرقی اقوام نے اس کو کوئی عزت نہیں دی اور اس کا ذکر ہمیشہ ذلت کے ساتھ آیا اس محاورے میں بھی ایسے کسی آدمی کی سماجی حیثیت کو برائی سے یاد کیا گیا ہے جو"جوائی" (داماد) کی حیثیت سے سُسرال میں جا کر پڑ جائے یا بھائی ہو کر اپنی بیوہ کے یہاں جا کر رہنے لگے۔ اسی کے لئے یہ کہاوت ہے کہ بہن کے گھر بھائی"کُتا" اور ساس کے گھر"جوائی" کتا۔


سنبھالا لینا

قوموں کے لئے بھی یہ کہا جا تا ہے کہ انہوں نے سنبھالا لیا یعنی زوال کی حالت میں ہوتے ہوئے بھی وہ کچھ سدھر گئیں یعنی ان کے حالات کچھ بہتر ہو گئے بیمار کا سنبھالا لینا وقتی طور پر ہی سہی صحت کا بہتر ہو جانا ہے۔ ذوق کا شعر ہے اور اس محاورے کے مختلف پہلوؤں کو ظاہر کرتا ہے۔

بیمارِ محبت نے لیا تیرے سنبھالا
لیکن وہ سنبھالے سے سنبھل جائے تو اچھا

اس میں سنبھلنا سنبھالنا اور سنبھالا لینا تینوں چاروں آ گئے۔ 1920ء ؁ کے قریب ترکی کو مرد بیمار کہا جا تا تھا سنبھالا لیتا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے محاورے کس طرح ہماری زندگی ہماری تاریخ اور ہماری سماجی زبان کو پیش کرتے ہیں اور ایک حوالہ کا کام دیتے ہیں۔

سو جان سے عاشق ہونا، سو جان سے صدقے جانا، یا نثار ہونا یا نچھاور ہونا

ہمارے یہاں صدقے قربان ہونا محاورہ ہے صدقہ ایک مذہبی اصطلاح بھی ہے جس کے ساتھ صدقہ دینا آتا ہے یا صدقے کرنا آتا ہے یعنی کسی کی جان کی حفاظت یا مال کی حفاظت کے خیال سے خیرات کرنا۔ ہم اس عمل کو طرح طرح سے دہراتے ہیں مثلاً جب ڈومنیاں گاتی تھیں تو ان کو رواں پھیر کر کے روپے پیسے دیئے جاتے تھے وار پھیر اس شخص کے لئے ہوتی تھی جس کی جان کا صدقہ دینا منظور ہوتا تھا یہی صورت اس وقت ہوتی تھی جب بھنگنیں بدھاوا پیش کرتی تھیں یعنی مبارک باد کے لئے گانا اور ناچنا کسی کے ہاتھ سے فقیر کو پیسے دلوانا بھی صدقہ دینے یا صدقہ کرنے کے مفہوم میں شامل ہوتا تھا۔

قربان کرنا بھی اسی معنی میں آتا تھا دہلی میں اب بھی دستور ہے کہ اگر کوئی بیمار ہوتا ہے تو اس کے نام پر جانور قربان کیا جاتا ہے ہندوؤں میں دُودھ دریاؤں میں بہانہ یا تالابوں اور پوکھروں کے کناروں پر جانور ذبح کرنے کو صدقہ کے مفہوم میں شامل کرتے تھے اب بھی راجستھان میں ایسا ہوتا ہے بنگال میں" بھینا" قربان کیا جاتا ہے اِس کو بَلی چڑھانا کہتے ہیں۔

عربوں میں جس اوٹنی کو ایسے کسی مقصد کے لئے"نحر" کیا جتا تھا خاص طریقے سے کاٹنا تو بلیَّہ کہتے تھے انسان کی اپنی قربانی بھی دی جاتی تھی۔ قدیم قوموں میں اس کا دستور رہا ہے یہاں تک کہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی قربان کئے جاتے تھے غلاموں اور باندیوں کے ساتھ تو یہ سلوک عام تھا اور اُن کی بوٹیاں کر کے چیلوں کوؤں کو کھلائی جاتی تھیں۔

ہمارے یہاں جس سے محبت کی جاتی ہے اُس پر اپنے آپ کو صدقہ و قربان کیا جاتا تھا۔ اور محاورے کے استعمال کے وقت سو جان سے صدقہ و قربان ہونے کی بات کی جاتی ہے۔

سُورج کو چراغ دِکھانا

سُورج ہماری دنیا کی سب سے روشن تابناک اور حرکت و حرارت سے بھری ایک قدرتی سچائی ہے نورانی وجود ہے اسی لئے اس کی پوجا کی جاتی ہے اور قدیم قوموں کے زمانے سے اب تک ہوتی رہی ہے چراغ اس کے مقابلے میں انسان کی اپنی ایجاد ہے جس کا سورج سے کوئی مقابلہ نہیں۔

سماجی طور پر جب کسی ادنی بات یا ادنی دلیل کو کسی بڑی بات یا بڑی دلیل کے مقابلہ میں سامنے لا یا جاتا ہے تو اس عمل کو سُورج کو چراغ دکھانا کہا جا تا ہے۔ گلزارِ نسیم میں ایک موقع پر یہی محاورہ آتا ہے۔

اُن کے آگے فروغ پانا
سورج کو چراغ ہے دکھانا

سُولی پر چڑھانا، سولی دینا

موت کی سزاؤں میں ایک سے ایک اذیت ناک سزا موجود ہے اُن میں پھانسی دینا گردن اُڑانا اور اندھے کنویں میں پھینک دینا نیز ہاتھی کے پیروں سے کچلوا دینا اور زندہ دیوار میں چُنوا دینا بھی ہے۔ "سُولی دینا" رومیوں کی طرف سے دی جانے والی سزا ہے حضرت عیسیٰ کو مشرقی رومی سلطنت کی طرف سے سُولی پر چڑھانے کی سزا دی گئی تھی اس سزا میں سولی یا صلیب پر آدمی کو لِٹا کر اس کے ہاتھ پیروں میں کیلیں ٹھوک دی جاتی تھیں اس کے سر سے کانٹے دار زنجیر باندھ دی جاتی تھی۔ اور اس طرح سے وہ آدمی سولی پر لٹکایا جاتا تھا جس کو موت کی سزا دینی ہوتی تھی۔

اردُو میں حضرت عیسیٰ کے اِس المناک انجام کے ساتھ وابستہ خیال ہی سولی دینے کے محاورے کو بامعنی بناتا ہے یعنی اذیت ناک سزا دینا سخت نقصان پہنچانا ہم محاوروں کی تاریخ پر بھی اگر غور کریں تو بہت سے محاورے یہ بتلاتے ہیں کہ وہ کب رائج ہوئے کیوں رائج ہوئے مغربی قوموں کو جو بیشتر عیسائی تھیں ہندوستان آنے کے بعد اس محاورے کے مروج ہونے کا زیادہ امکان ہے اور مروج ہونا رواج پانے کو کہتے ہیں۔

سونے کا نوالہ کھانا، سونے میں لدی پھندی ہونا

سونا ہمارے ہاں کا اور پوری دنیا کا سب سے قیمتی دھات ہے اسی لئے سونے کو بے حد پسند کیا جاتا ہے اور عورتیں سونے کا زیور پہن کر بہت خوش ہوتی ہیں اور اس پر دوسرے رشک کرتے ہیں اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ"سونے میں لدی پھندی" رہتی ہیں یا یہ محاورہ کہ سونے کا نوالہ کھائی سے دیکھے قہر کی نظر اس موقع پر"سینی"شیر پر کی نظر بھی کہتے ہیں۔

سونے کی چڑیا ہاتھ میں آنا یا ہاتھ لگ جانا، سونے کی ڈلی ہاتھ آنا

سونے کی چڑیا بہت قیمتی شے کو کہا جاتا ہے اور اگر وہ قیمتی شے یا خاندان یا زمین کسی کو مل جائے تو کہتے ہیں کہ سونے کی چڑیا ہاتھ لگ گئی اور اس سے پھر ایک مرتبہ یہ سوچا جا سکتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں سونے کی کیا اہمیت ہے دولت کی دیوی یعنی لکشمی کی پوجا توکی جاتی ہے دولت کو بھی پوجا جاتا ہے اور خاص طور پر سونے کو یا روپیہ پیسے کو ایک محاورہ اور بھی ہے اب تک استعمال میں آتا رہا ہے۔

سونے کے سہرے بیاہ (شادی) ہو جس کے معنی ہیں کہ شادی تمہارے لئے خوشیوں کا باعث ہو اور جو دلہن گھر میں آئے وہ سونا جھونا لیکر آئے (یہاں جھونا کوئی دھات نہیں ہے بلکہ سونے کا قافیہ ہے جس کے اپنے الگ سے کوئی معنی نہیں ایسے کسی بھی لفظ کو تابع مُحمل کہتے ہیں۔ )"سونے کی کٹوری لئے بیٹھنا"۔ "سونے کی ڈلی ہاتھ آنا"، سونے کی کٹوری لئے بیٹھنا" جس آدمی کو کوئی ہنر ہاتھ آتا ہے اس کے لئے کہا جاتا ہے کہ وہ تو سونے کی ڈلی ہاتھ میں لئے بیٹھا ہے سونا اُچھالتے جانا بھی ایک محاورہ ہے۔ یعنی وہاں چور چکار اٹھائے گرے یا ڈکیتی کرنے والے بالکل نہیں ہے چاہے کوئی سونا اُچھالتے جائے یعنی کسی کی دولت یا مال کو کوئی خطرہ نہیں وہ پوری طرح حفظ و امان میں ہے۔

سنہرے حرفوں میں لکھنا یا سونے کے حروف میں لکھنا بھی سونے کی اہمیت یا قدر و قیمت کو ظاہر کرنے والا محاورہ ہے جس سے مُراد کوئی ایسا اہم قول ہے بات ہے یا حکیمانہ نکتہ ہے جس کو سونے کے حرفوں میں لکھا جانا چاہیے سونے کا ملمع ہونا یا کیا جانا کم قیمت دھات پر سونے کا ملمع کیا جا تا ہے یعنی اوپر سے وہ بالکل سونے کی چیز معلوم ہوتی ہے جبکہ وہ دراصل سونے کی چیز نہیں ہوتی بلکہ اس پر سونے کا پانی چڑھا ہوتا ہے جب کسی کو خوش حالی کی دعا دینی ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ تم سونے کی کٹوری میں پانی پیو سونے کے برتنوں میں کھانا کھاؤ۔

سُہاگ رات

سُہاگ یعنی شوہر کا ساتھ" عورت کے لئے بہت خوش قسمتی کی بات ہے اسی لئے دعا دی جاتی ہے کہ سہاگ رہے" ترا سائیں جیوے" تیرے سر والے کو اللہ رکھے۔ سسُرال میں گزاری جانے والی پہلی رات اس کے لئے سہاگ رات کہلاتی ہے اور اُس پر دولہا دلہن کو اور دونوں طرف کے سمندھانوں کو مبارک باد دی جاتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے سماجی رشتوں کا قیام اسی رشتہ سے وابستہ ہوتا ہے جس کی خوبصورت یاد اور نشانی سہاگ رات سے وابستہ ہوتی ہے۔

سُہاگ اترنا اس کے مقابلہ میں بہت بدقسمتی اور نحوست کی بات ہوتی ہے بعض قومیں سرکے بال اتروا دیتے ہیں رنگیں کپڑے چوڑیاں اور زیورات تو عام طور پر سُہاگ سے محروم ہونے کے بعد عورتیں اتار دیتی ہیں ایسے موقعوں پر جو ایک سُہاگن کے لئے جو سہاگ سے محروم ہو گئی ہو بہت ہی المناک بات ہوتی ہے یہی سہاگ اترنا بھی ہے۔

ہمارے یہاں عورتوں کو ایک دعا یہ بھی دی جاتی ہے جو ہمارے سماج کا آئیڈیل ہے کہ تم بوڑھی سہاگن ہو یعنی بڑھاپے تک سہاگ قائم رہے" سُہاگ" سے محروم قدیم قوموں میں اتنی بڑی بات سمجھی جا تی تھی کہ بیوہ ہو جانے والی عورت کو اس کے شوہر کے ساتھ زندہ دفن کر دیا جاتا تھا یا ستی کی رسم کے مطابق زندہ جلا دیا جاتا تھا مصر میں بادشاہوں کی موت کے بعد اس سے وابستہ بیویاں اور باندیاں زہر ملا کر ماردی جاتی تھیں۔

سیپی جیسا منہ نکلنا یا نکل آنا

کمزور ہو جانے کو کہتے ہیں جب آدمی کے چہرے پر ذرا بھی گوشت دکھائی نہ دے صرف کھال اور ہڈیاں رہ جائیں تو اس حالت کو سیپی جیسا منہ نکل آنا کہتے ہیں اس سے ہم اپنے سماج کی شاعرانہ روش کو سمجھ سکتے ہیں شاعر تو تشبیہیں اور استعارے پیدا کرتے ہی ہیں عام آدمی بھی اپنی بات کو سمجھنے اور سمجھانے کے لئے تشبیہات کا سہارا لیتا ہے سیپی سے دبلے پتلے منہ کو تشبیہہ دینا اسی فکری عمل کا نتیجہ ہے جس سے کسی معاشرے تہذیبی مزاج کو سمجھا جا سکتا ہے۔

سیج چڑھنا، شبِ زفاف

دراصل شادی شدہ ہونے کو کہتے ہیں شادی کے معنی ہیں عورت و مرد کے آپسی طور پر جنسی روابط جس کے لئے ایک شادی ہو جانے والے جوڑے کو ایک دوسرے کے ساتھ رہنے اور خلوت میں اظہارِ تعلق کرنے کا موقع مل جاتا ہے اسی لئے ان کی جائے ملاقات کو سیج چڑھنا کہتے ہیں یہ تعلق زندگی کا سب سے اہم رشتہ ہے کہ سارے واسطے اسی ایک تعلق کے مرکزی دائرے کے گرد گھومتے ہیں اگر سیج کا یہ رشتہ درمیان میں نہ ہو تو باقی رشتے بھی جو خون سے تعلق رکھتے ہیں اور نسل سے وابستہ ہیں باقی نہ رہیں اور قائم ہی نہ ہوں" شبِ زفاف" بھی جسے دلی والے" تخت کی رات" کہتے ہیں اسی ضمن میں آتا ہے مزید ملاحظہ ہو سہاگ رات۔

بعض الفاظ محاورے اور لفظی ترکیبیں اہلِ علم سے تعلق رکھتی ہیں بعض اہلِ ادب سے اور بہت سے لفظ طبقہ عوام سے۔

سیدھیاں چڑھنا

اس اعتبار سے ایک اہم محاورہ ہے کہ سیدھ اور سیدھی قدیم ہندو تہذیب کا ایک مقدس مرحلہ ہے یعنی گیان حاصل ہونا جب کہ یہاں بالکل اُس کے خلاف بات کہی گئی ہے اور اس سے سماج کے اُس رجحان کا پتہ چلتا ہے کہ سچائیاں اور اچھائیاں کس طرح اپنے معنی بدل دیتی ہیں اور بات کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہیں۔

"سیدھانا" یا سُدھانا ہماری زبان میں تربیت کرنے کے معنی میں آتا ہے اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ سدھایا ہوا آدمی ہے یابندہ۔ ہندو کلچر میں سادھنا"دھیان" گیان کی ایک صورت ہے اسی لئے ایک خاص طبقہ کے لوگ"سادھو" کو کہتے ہیں جو ہندو کلچر میں ایک بہت اہم روحانی تربیت کی طرف اشارہ کرتا ہے مگر سیدھا کرنا ایک ٹیٹرھی میڑھی چیز کو یا بُرے کردار کو درُست کرنے کے لئے آتا ہے اور سدھّی کا مفہوم اُس سے غائب ہوتا ہے۔


سیدھی انگلیوں گھی نکالنا یا سیدھی انگلیوں گھی نہیں نکلتا ہے

محاورے کے ساتھ زندگی کا جو تجربہ شریک رہتا ہے محاورے میں اس کی طرف بھی اشارہ ہوتا ہے لیکن اُس کے ایک مرادی معنی بھی اُس میں لازمی طور پر شریک رہتے ہیں اُس کے بغیر محاورہ بنتا ہی نہیں یہاں بھی وہی صورت ہے کہ یہ ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے کہ وہ کچھ اس طرح کے لوگ ہیں یا ایسی عادتوں والا ایک شخص ہے کہ اس سے سیدھے سادھے طریقے پر کام نہیں لیا جا سکتا کوئی نہ کوئی تگڑم بازی یا مکاری اپنے عمل میں شامل کر کے کام نکالا جا سکتا ہے۔

اس سے ہم سماجی مطالعہ میں مدد لے سکتے ہیں کہ معاشرے کی صورت اور اس کا طریقہ رسائی کیا بنتا ہے؟ کیوں بنتا ہے اور اس کا اظہار کس طریقہ پر ہوتا ہے۔

دودھ نکالنا بغیر انگلیوں کو موڑے ہوئے ممکن نہیں ہوتا اور اگر سیدھی انگلیوں دُودھ نہیں نکل سکتا تو گھی کیسے نکل آئے گا وہ تو ایک پیچیدہ عمل ہے دودھ نکالو پھر گرم کرو اس کے بعد اس کو بلونے کے لئے خاص طرح کے برتن اور رہی کا استعمال کرو پھر کچا گھی نکلے گا اور اس میں سے گرم کر کے چھاچھ الگ کی جائے گی تب گھی نکلے گا تو سیدھی انگلیوں کہاں نکلا۔ دودھ نکالنے سے لیکر گھی نکالنے تک بہت سے مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اس کام کو کرنے یا اس مقصد کو حاصل کرنے کی غرض سے کئی مشکل ترکیبیں اختیار کرنی ہوں گی سیدھی انگلیوں گھی نہیں نکلتا۔

سیر کو سوا سیر موجود ہے

آدمی مکاریّ فریب زبردستی سے اپنا کام نکالنا چاہتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا کہ اس کے پاس طاقت زیادہ ہے فریب کرنے یا فریب کی صلاحیت موجود ہے ایسی صورت میں یہ کہتے ہیں کہ اس ہوش میں نہ رہو سیر کو سوا سیر موجود ہے یعنی اگر تم بُرے ہو تو تم سے زیادہ اور بُرے موجود ہیں۔

بُرائی کو برائی سے ختم کرنے کا عمل بھی سماج کا ایک ایسا عمل ہے جس کے حوالہ سامنے آتے رہتے ہیں اور اس پہلو کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

سیلا کر کے کھانا

"سیلا" کے معنی ہیں بھیگا ہوا اسی لئے نم خوردہ شے کو" سیلا" کرنا یا ہونا کہتے ہیں غریب معاشرے میں کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ سوکھے ٹکڑے پانی میں بھگو کر کھائے جاتے تھے اور نمک کی ڈلی ساتھ رکھی جاتی تھی"سیلے" کر کے کھانا غالباً اسی ضرورت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس کو ٹھنڈا کر کے کھانا بھی کہا جاتا ہے مراد یہ ہے کہ بے صبرے پن کا اظہار نہ کرو گرم گرم کھانے سے منہ جلتا ہے۔ معدے کو نقصان پہنچتا ہے یہ تو ایک طبعی بات ہوئی لیکن تہذیب و شائستگی اور کھانے کے آداب کا لحاظ رکھنا یہ بھی ہے کہ گرم گرم کھانے پر ایک دم سے ہاتھ نہ ڈالا جائے اور ضرورت کے مطابق ٹھنڈا کر کے کھایا جائے سماجی حیثیت سے کسی بھی کام کو سلیقہ سے اور مناسب وقت دیکھ کر انجام دینا زیادہ بہتر بات ہوتی ہے اور جلد بازی کو شیطان کا کام خیال کیا جاتا ہے۔

سینہ ابھار کر چلنا

یہ سماجی رو یہ ہے اور اس کے ذیل میں انسان کی اخلاقی روشیں آتی ہیں سر جھکا کر چلنا شرافت اور تابع داری کی علامت داری اور بڑائی کی شناخت کا خیال کیا جاتا ہے اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ بازار میں سر اٹھا کر اور سینہ تان کر چلتا ہے یہی معنی سینہ اُبھار کر چلنے کے بھی ہیں جس سے انسان کی ذِہنی اور نفسیاتی حالت کا پتہ چلتا ہے سینہ کے ابھار صنفی علامتیں ہیں جو" عنفوانِ شباب" میں ظاہر ہوتے ہیں اسی لئے انہیں آثارِ شباب بھی کہا جاتا ہے اس سے ہماری معاشرتی زندگی کے اشارات کو سمجھا جا سکتا ہے کہ کس بات کو ہم کس طرح ظاہر کرتے ہیں اب یہ الگ بات ہے کہ مہذب طبقہ کا سلیقہ اظہار کچھ اور ہوتا ہے۔

درمیانی طبقہ کا کچھ اور اور نچلے طبقے کا کچھ اور اسی کے مطابق الفاظ کا چناؤ عمل میں آتا ہے الفاظ آزاد نہیں ہوتے بلکہ ذہنی حالتوں کے تابع ہوتے ہیں اور ذہنی حالتیں سماجیات کی پابند ہوتی ہیں۔

سینہ بہ سینہ

سینہ سے یہاں مُراد" دل" ہے اور اُردُو شاعری میں جب سینہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اُس سے مُراد" دل" ہی ہوتا ہے اس لئے کہ جذبات و احساسات کا مرکز سینہ نہیں دل ہوتا ہے کسی بات کا اس اعتبار سے ذکر کہ وہ ابھی سینہ بہ سینہ ہے اس معنی میں ہوتا ہے کہ اس کا حال کچھ خاص لوگوں ہی کو معلوم ہے سب کو نہیں۔ ابھی تک ہے یہ راز سینہ بہ سینہ ہے۔

سینہ سپر ہونا

سینہ سپر کے معنی ہیں مقابلہ کے لئے تیار ہونا یا مقابلہ کرنا سپر ڈھال کو کہتے ہیں تیغ یعنی تلوار کے ساتھ ڈھال کا ہونا ضروری تھا کہ تلوار کا وار ڈھال پر ہی روکا جاتا تھا اور جب آدمی غیر معمولی طور پر اپنی بہادری کو ظاہر کرتا تھا تو وہ خود یا اس کے بارے میں کوئی دوسرا شخص یہ کہتا تھا کہ وہ ہمیشہ سینہ سپر رہے ہیں اس سے ایک زمانہ کی تہذیبی فضاء کا اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی معاشرتی کا ذہن اور اُس کے ساتھ زبان اظہارِ حقیقت کے کیا معنی رہے ہیں۔

سینہ زوری کرنا

زور زبردستی کرنے کو کہتے ہیں یہ بھی ہمارا ایک سماجی رو یہ ہے کہ ہم خواہ مخواہ اور بیشتر غیر ضروری طور پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں اسی کو سینہ زوری کہا جاتا ہے۔

سینے سے لگانا

اظہارِ محبت کرنا اپنوں کی طرح پیش آنا اور اچھا سلوک کرنا اس لئے کہ انسان ملتا ہے باتیں کرتا ہے معاملہ کرتا ہے مگر ہر ایک کو اپنے سینہ سے نہیں لگاتا دل سے قریب نہیں کرتا سینہ سے لگا نے کے مفہوم میں دل سے قریب کرنا اور دل میں جگہ دینا شامل ہے۔


ردیف "ش"

شاخ در شاخ ہونا

کئی پہلو نکلنا یا نکالنا شاخ دراصل کوئی معاملہ مسئلہ یا مقدمہ بھی ہوتا ہے درخت کی ڈالی یا شاخ تو اپنی جگہ ہوتی ہی ہے اور شاخ کا یہ انداز قدرتی طور پر ہوتا ہے کہ شاخ میں سے شاخ نکلتی رہتی ہے اور ایک پہلو کے مقابلہ میں یا اُس کے علاوہ کوئی دوسرا پہلو سامنے آتا رہتا ہے ہمارے سماجی معاملات ہوں یا گھریلو مسائل کاروبار سے متعلق کوئی بات ہو یا اس کا تعلق انتظامی امور سے ہو شاخ در شاخ ہوتے رہتے ہیں بات میں سے بات اور نکتہ میں سے نکتہ ہماری عام گفتگو میں بھی نکلتا رہتا ہے۔

شاخِ زعفران

زعفران ایک خوشبودار شے ہوتی ہے جس کا اپنا پودا بھی ہوتا ہے اور کشمیر میں اس کی کاشت کی جاتی ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ زعفران کا کھیت دیکھ کر ہنسی آتی ہے اسی لئے جو آدمی خوش مزاج ہوتا ہے اور ہنسنے ہنسانے کی باتیں کرتا رہتا ہے اُسے شاخِ زعفران کہا جاتا ہے۔

شاخسانہ نکالنا یا نکلنا

کسی بات کے ایسے پہلو یا نتیجے نکلنا جو پہلے سے نظر میں نہ ہوں شاخسانے نکلنا یا نکالنا کہا جاتا ہے اور ہماری معاشرتی زندگی میں ایسی باتیں ہوتی رہتی ہیں اور لوگوں کو اس کا شوق ہوتا ہے کہ وہ نئے نئے نتیجے نکالتے رہتے ہیں اور اُس میں لوگوں کو لطف آتا ہے آخر بات کا بتنگڑ بنانا بھی تو ہمارے معاشرے کا ایک سماجی رو یہ ہوتا ہے اسی طرح شاخسانے نکالنا ہمارے معاشرے کا خاص انداز ہے سورج کا ڈھنگ ہے۔

شادیِ مرگ ہونا

اتنی خوشی ہونا کہ آدمی کی حرکت قلب بند ہو جائے کہ اس پر موت طاری ہو جائے انسان ایک جذباتی جاندار ہے وہ ایک وقت میں اتنا ناراض ہوتا ہے کہ دوسرے کا خون کر جاتا ہے یہاں تک کہ خون کو پی لیتا ہے جگر چبا لیتا ہے آدمی کی بوٹیاں چیل کوَّے کو کھلا دیتا ہے اتنا مہربان ہوتا ہے کہ اپنا سب کچھ قربان کر دیتا ہے عشق کرتا ہے تو جنگل جنگل صحرا صحرا بھٹکتا ہے بقولِ فراق۔

پھرتے تھے دشت دشت دوانے کدھر گئے
وہ عاشقی کے ہائے زمانے کدھر گئے

انسان کی جذباتیت کا ایک پہلو جو محاورہ بن گیا وہ یہ بھی ہے کہ اپنی غیر معمولی حیثیت کے زیر اثر اتنا خوش ہوتا ہے کہ اس لمحہ پر مر مٹتا ہے اس محاورے میں ایک طرح سے انسان کے جذبات اور حسّیات پر روشنی ڈالی گئی ہے جواس کے معاشرتی روشوں پر اثرانداز ہونے والی سچائی ہے۔

شامت آنا، شامت سر پر کھیلنا، یا شامت اعمال ہونا

ہر عمل اپنا نتیجہ رکھتا ہے اگر عمل اچھا ہو گا تو نتیجے بھی اچھے ہوں گے اگر عمل خراب ہو گا تو نتائج بھی برے نکلیں گے یہ ہماری سماجی مذہبی اور تہذیبی سوچ ہے۔ اسی لئے برے عمل کے نتیجے کو شامت آنا کہتے ہیں اور اردو میں شامت کے معنی ہی برے نتیجے کے ہیں کسی مصیبت کے پھنسے کو شامت آنا کہتے ہیں غالب کا شعر ہے۔

گدا سمجھ کے وہ چُپ تھا مری جو شامت آئی
اٹھا اور اُٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لئے

شاہ عبَّاس کا عَلم ٹوٹنا

تعزیہ داری اور مجالسِ محرم کا ایک نہایت اہم مرحلہ"عَلم" نکالنا ہوتا ہے یہ محرم کی سات تاریخ کی رسم ہے اس تاریخ کو محرم کے"عَلم" اٹھائے جاتے ہیں ان میں ایک خاص"عَلم" وہ ہوتا ہے جس میں اوپر کی طرف ایک چھوٹی سی مُشک لٹکی ہوتی ہے یہ حضرت عباس کا" عَلم" ہوتا ہے مشک اس بات کی علامت ہے کہ وہ حضرت عباس کا علم ہے جو سقّہ حَرم کہلاتے تھے اور کربلا میں جب اہلِ بیت پر پانی بند کیا گیا تھا تو وہی دریائے فرات سے پانی مشک بھرکر لائے تھے اور دشمنوں کا مقابلہ کیا تھا۔

حضرت عباس کا"عَلم" خاص طور پر احترام کا مستحق قرار دیا جاتا ہے اور حضرت عباس کی درگاہ واقع لکھنؤ پر"عَلم" چڑھانا شیعوں کے یہاں ایک مذہبی رسم بھی ہے جو منت کے طور پر ادا کی جاتی ہے۔

حضرت عباس حضرت اِمام حسین کے چھوٹے بھائی تھے مگر ان کی ماں دوسری تھیں حضرت عباس حضرت امام حسین کے بڑے وفادار اور اہلِ بیت کے نہایت ہی فداکار تھے حضرت عباسؑ کے" عَلم" کے ساتھ ٹوٹنے کا محاورہ بھی آتا ہے جو ایک بددعا ہے اور بدترین سزا خیال کی جاتی ہے جسے ہم کہتے ہیں جھوٹے پر خدا کی مار پڑے۔

شرع میں رخنہ ڈالنا، شرع پر چلنا

شرع سے مُراد ہے شریعت اسلامی دستور اور قانون اور مذہبی قانون اسی لئے اُس کا احترام بہت کیا جاتا ہے اور ذرا سی بات اِدھر اُدھر ہو جاتی ہے تو اُسے مولویوں کی نظر میں بِدعت کہا جاتا ہے اور مذہب پسند طبقہ اسے شرع میں رخنہ ڈالنا کہتا ہے"رخنے ڈالنا" خود بھی محاورہ ہے اور اس کے معنی ہیں اڑچنیں پیدا کرنا رکاوٹیں کھڑی کرنا اس سے ہمارے معاشرتی طبقہ کے ذہنی رویوں کا پتہ چلتا ہے کہ وہ کن باتوں پر زور دیتے ہیں اور کن رویوں کو کس طرح سمجھتے ہیں اور پھِر کنِ الفاظ میں اس کا ذکر کرتے ہیں الفاظ کا چناؤ ذہنی رویوں کا پتہ دیتا ہے۔

محاورے میں الفاظ کی جو نشست ہوتی ہے اُسے بدلا نہیں جاتا وہ روزمرہ کے دائرے میں آ جاتی ہے جس کا تربیتی ڈھانچہ توڑنے کے اہلِ زبان اجازت نہیں دیتے وہ ہمیشہ جوں کا توں رہتا ہے یہ محاورے کی ادبی اور سماجی اعتبار سے ایک خاص اہمیت ہوتی ہے شرع پر چلنا ایک دوسری صورت ہے یعنی قانونِ شریعت کی پابندی کرنا جس کو ہم اپنے سماجی رویوں میں بڑی اہمیت دیتے ہیں۔

شرم سے پانی پانی ہونا

ہمارے ہاں جن محاوروں کی خاص تہذیبی اہمیت ہے اُن میں اظہارِ ندامت کرنے سے متعلق محاورے بھی ہیں اِس سے معاشرے کے عمل و ردِ عمل کا پتہ چلتا ہے ایک عجیب بات یہ ہے اور اس سے سوسائٹی کے مزاج کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ہماری زبان میں شکر یہ سے متعلق محاورے کیا ہوتے شکر یہ کا لفظ بھی قصبات اور دیہات کی سطح پر موجود نہیں ہے ہندی میں بیشک ابھاری ہونا کہتے ہیں مگر دیہات و قصبات کی سطح پراس لفظ کی پہنچ بھی نہیں ہے اس کے مقابلہ میں اظہارِ شرمندگی کے لئے ایک بہت پرکشش اور بامعنی محاورہ آتا ہے اور وہ ہے شرم سے پانی پانی ہونا۔

شوشہ اُٹھانا، شوشہ نکالنا

یہ تحریر و نگارش کی ایک اِصطلاح ہے اِس کے معنی ہوتے ہیں حرف کی شکل کو ایک ایسی صورت دینا جو اِملا کے اعتبار سے زیادہ واضح اور زیادہ صحیح ہو اُردُو رسم الخط میں فنِّ کتابت کی بہت سی نزاکتوں کا خیال رکھا گیا ہے اس میں شوشہ لگانا اور شوشہ دینا بھی شامل ہے اس سے اُردُو میں جو محاورہ بنا ہے اس کی سماجی اہمیت بہت ہے لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ بات بات میں اعتراض کرتے ہیں اور نئے پہلو نکالتے ہیں اسی کو شوشہ نکالنا بھی کہا جاتا ہے۔ شوشہ نکالنا بات چیت سے تعلق رکھتا ہے اور شوشہ لگانا تحریر سے مطلب اعتراض کرنا اور کمزوریاں دکھانا ہوتا ہے۔ تحریر یا تقریر کی اصطلاح یا تصحیح پیش نظر نہیں ہوتی جس سے ہمارے معاشرتی رویوں کا اظہار ہوتا ہے۔

شِکار ہونا، شِکار کرنا

شِکار انسان کا قدیم پیشہ ہے اِسی کے سہارے اُس نے ہزارہا برس پہاڑوں اور جنگلوں میں گزارے ہیں وہ جانوروں کا شکار کرتا تھا اور انہی سے اپنا پیٹ پالتا تھا اُن کے پروں سے اپنے بدن کو سجاتا تھا اُن کی ہڈیوں سے اپنے لئے زیور اور ہتھیار تیار کرتا تھا اور اُن کی کھال پہنتا تھا۔

انسان کی قدیم تاریخ اُس کے شکار کی تاریخ ہے اور اُس کے تمدّن میں جانور طرح طرح سے شریک تھے اب سے کچھ دنوں پہلے تک بھی شکار کا شوق بہت تھا۔ شکار پارٹیاں نکلتی تھیں نشانہ باز ساتھ ہوتے تھے اور شکار تقسیم کیا جاتا تھا اور تحفتاً بھیجا جاتا تھا تاریخ میں بادشاہوں کے شکار کا ذکر آتا تھا اور اس میں کیا کچھ اہتمام ہوتا تھا اس کا بھی ہماری سماجی زندگی میں شکار جن جن اعتبارات سے حوالہ بتا رہا ہے اسی کا اثر زبان اور محاورات پربھی مُرتب ہوتا رہا ہے یہاں تک کہ شکار کرنا اور شکار ہو جانا ایک خاص محاورہ بن گیا جس کے معنی ہیں فریب دینا اور فریب میں آ جانا بہرحال یہ بھی ہماری سماجی زندگی ہے کہ ہم طرح طرح سے فریب دیتے ہیں۔ اور فریب میں آ بھی جاتے ہیں۔

شکل بگاڑنا، شکل بنانا، شکل سے بیزار ہونا

شکل یعنی صورت ہماری تہذیبی اور معاشرتی زندگی کا ایک اہم حوالہ ہے اسی لئے کہ آدمی اپنی شکل و صورت سے پہچانا جاتا ہے اور ہم دوسروں سے متعلق اپنے جس عمل ورد عمل کا اظہار کرتے ہیں اس میں صورت شامل رہتی ہے فنِ تصویر اور فنِ شاعری میں صورت کی اہمیت بنیادی ہے اور وہ اِن فنون کی جس میں بُت تراشی بھی شامل ہے ایک اساسی علامت ہے۔

حیدرآباد والے صورت کے ساتھ اُجاڑ کا لفظ لاتے ہیں اُجاڑ صورت کہتے ہیں یہ وہی منحوس صورت ہے جس کے لئے ہم اپنے محاورے میں کہتے ہیں کہ اس کی شکل میں نحوست برستی ہے۔ غالب کا ایک مشہور شعر ہے۔

چاہتے ہیں خوب روُیوں کو اسد
آپ کی صورت تو دیکھا چاہیئے

مُنہ دیکھنا مُنہ دکھانا منہ دکھائی جیسی رسمیں اور محاورے بھی ہمارے ہاں بھی طنز و مزاح کے طور پر بھی صورت شکل کا حوالہ اکثر آتا ہے اور اُس معنی میں شکل سے متعلق محاورے یا محاوراتی اندازِ بیان ہماری زبان اور شاعری کے نہایت اہم حوالوں میں سے ہے۔

شکم پرور، شِکم سیر، شکم پُوری

پیٹ سے متعلق مختلف محاورات میں آنے والے الفاظ ہیں جس میں بنیادی علامت شِکم ہے۔ یعنی پیٹ بھرنا ہر جاندار کا ضروری ہے کہ اسی پر اُس کی زندگی کا مدار ہے۔ پیٹ کا تعلق تخلیق سے بھی ہے اور ہم" حمل" سے لیکر بچے کی پرورش تک بدن کی جن علامتوں کو سامنے رکھتے ہیں ان میں پیٹ بہت اہم ذہنی حوالوں کا درجہ رکھتا ہے پیٹ سے ہونا پیٹ رہنا جیسے محاورے شِکم ناگزیر طور پر شریک رہتا ہے اسی لئے کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ شِکم سیر ہو کر کھایا یا شِکم سیر ہوا۔

شِکم"پوری" کا مفہوم اس سے تھوڑا مختلف ہے یعنی صرف پیٹ بھرنا اچھی طرح یا بُری طرح اچھی چیزوں سے یا بُری چیزوں سے کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بہت کھاتے ہیں اور خود غرضانہ انداز سے دوسروں سے چھین کریا ان کا حق مار کر کھاتے ہیں ایسے لوگ شکم پرور کہلاتے ہیں۔ اور زندگی بھر شکم پروری کرتے رہتے ہیں اگر ہم اِن محاورات پر غور کریں اور اُن کے معنی اور معنویت کو اپنی سماجی زندگی سے جوڑ کر دیکھیں تو یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ معمولی محاورے ہمیں کس طرح سوچنے سمجھنے پر مجبور کرتے ہیں یا اُس کی دعوت دیتے ہیں۔

شگُون کرنا، شگون ہونا

شگُون ہمارے ہندوستانی معاشرے کا ایک اہم سماجی رو یہ ہے ہم ہر بات سے شگُون لینے کے عادی ہیں"کو ا" بولا"بلی" سامنے آ گئی صبح صبح ہی کسی ایسے شخص کی شکل دیکھی جو ہمارے معاشرے میں منحوس سمجھا جاتا ہے اُردُو کا ایک شعر ہے جو شگون لینے کی روایت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

جس جگہ بیٹھے ہیں با دیدۂ غم اٹھّے ہیں
آج کس شخص کا منہ دیکھ کے ہم اٹھّے ہیں

اس طرح سے شگون لینا یا شگون ہونا خوشی غم کسی کام کرنے کے ارادے سے گہرا تعلق رکھتا ہے ہم استخارہ کرتے ہیں فال نکالتے ہیں یہاں تک کہ دیوانِ حافظ سے فَال نکالتے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارا ایشیائی مزاج شگون لینے اور شگون دیکھنے سے کیا رشتہ رکھتا ہے۔

ہندوؤں میں شبھ گھڑی شادی کرنے سے پہلے دیکھی جاتی ہے مغل حکومت کے زمانہ میں بھی اس طرح کا رواج موجود تھا یہاں تک کہ جشنِ نو روز منانے کے سلسلے میں وہ نجومیوں سے پوچھتے تھے اور لباس کا رنگ طے کرتے تھے۔

اڑتی سی ایک خبر ہے زبانی طُیور کی

غالب کا یہ مصرعہ اُردُو کے اسی رجحان کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

شگوفہ چھوڑنا، شگوفہ کھِلنا

شگوفہ" کلی" کو کہتے ہیں" کلی" کی پھول کے مقابلہ میں الگ اپنی پرکشش صورت اور ایک دل آویز سیرت ہوتی ہے جس کی اپنی خوبیوں کو اہلِ فن اور اصحاب فکر کی نگاہوں نے سراہا ہے۔

شاعروں نے طرح طرح سے اس کی خاموشی دل کشی اور پُر اسراریت کو اپنے شاعرانہ انداز کے ساتھ پیش کیا ہے سنسکرت اور پراکرتوں میں اس کا ذکر کنول کے ادھ کھلے یا بنِ کھِلے پھولوں کی تصویر کشی کے ساتھ آیا ہے۔

فارسی میں خاص طور پر گلاب کی کلی کے ساتھ اردو میں گلاب کے علاوہ چمبیلی کے مختلف رنگ رکھنے والے پھلوں کی کلیوں اور اُن کے چٹکنے کے ساتھ اس کے حسین عکس پیش کئے گئے ہیں یہ بھی ہماری تہذیب کا ایک علامتی پہلو ہے۔

اُردو میں شگوفہ کے ساتھ ایک دلچسپ محاورہ بھی ہے یعنی شگوفہ چھوڑنا یعنی ایسی دلچسپ بات کہنا کہ جو محفل کو پر مسرت بنا دے اور اس میں کوئی ایسا پہلو بھی ہو جو دلچسپ جھوٹ کا درجہ رکھتا ہو۔ اِس سے ہم اپنی معاشرتی زندگی میں محفل نشینی کے انداز و ادا کو بھی سمجھ سکتے ہیں اور گفتگو کے اس معاشرتی اسلوب کو بھی جس میں شگوفہ چھوڑنا آتا ہے ہم سب دلچسپ گفتگو نہیں کر پاتے لیکن دلچسپ گفتگو سے لطف لیتے ہیں جو ہمارے تہذیبی رویوں میں سے ہے۔

شہد سا میٹھا، شہد لگا کر چاٹو، شہد لگا کے الگ ہو جانا

شہد ہماری مشرقی تہذیب میں ایک عجیب و غریب شے ہے کہ وہ پھولوں کا اپنا ایک ایسا جز ہے جس کو بے حد قیمتی کہا جا سکتا ہے یہ دوا ہے بلکہ ایک سطح پر امرِت ہے یہ زہر کا تریاق ہے اور اصلی شہد میں جس شے کو بھی رکھا جائے گا وہ عام حالت میں صدیوں تک گلنے سڑنے اور خراب ہونے سے محفوظ رہے گی۔

ہماری سماجی زندگی میں شہد" تہذیبی" رویوں میں داخل ہے اس میں مہذب رو یہ آتے ہیں اور بعض ایسے رو یہ بھی جو لائق تحسین نہیں ہوتے مثلاً کسی آدمی کے پاس کوئی شہادت نامہ ہے مگر اس سے فائدہ کوئی نہیں ایسے موقع پر بطورِ طنز و مزاح یہ کہتے ہیں کہ اب اُسے شہد لگاؤ اور چاٹو یعنی اس تلخی کو برداشت کرو کہ تمہارے ساتھ یہ دھوکہ ہوا ہے انگلی کو شہد میں بھگو لینا بھی اسی معنی میں آتا ہے۔


شیخ چلی

مسلمانوں کے اپنے معاشرے کا محاورہ ہے اور اس کے معنی ہیں ایک خاص طرح کا سماجی کردار مُلَّا نصیر الدین کے نام سے بھی اسی طرح کا ایک کردار ترکوں میں موجود ہے اور وہیں سے یہ مسلمان کلچر میں آیا ہے اس طرح کا کردار بُوجھ بجھکڑ کی صورت میں بھی موجود ہے کہ وہ حد درجہ ذہین ہے اور بیوقوف ہے ہماری داستانوں میں بھی اس طرح کے کردار آ گئے ہیں۔ "فسانہ آزاد" میں فوجی کا کردار اسی طرح کا کردار ہے" شیخ چلی" جس کا مثالی نمونہ ہے۔

شیخی بگھارنا، شیخی کِرکری ہونا، شیخی مارنا، شیخی میں آنا

"شیخ"عرب میں سردار قبیلہ کو کہتے تھے یا پھر بہت معزز آدمی کو ہندوستان میں شیخ کا تصور شعبہ کے سربراہ سے متعلق ہے جیسے شیخ الادب، شیخ الامنطق، شیخ الحدیث، شیخ الجامع، کسی کالج یا یونیورسٹی کے صدرِ اعلیٰ کو بھی کہتے ہیں علاوہ بریں شیخ الہند، شیخ السلام، اور شیخ العرب، بھی کہا جاتا ہے یہ بھی خطابات ہیں۔

ہندوستان میں شیخ سید مغل اور پٹھان چار اونچی ذات ہیں جو سماجی زندگی میں بھی اپنے اثرات رکھتی ہیں اور ان سے کچھ سماجی رو یہ وابستہ ہو گئے ہیں مثلاً شیخ کے ساتھ لوگوں نے شیخی بگھارنا شیخی کا اظہار کرنا شیخی مارنا، شیخی میں آنا جیسے محاورے بھی اپنے معاشرتی تجربوں اور خیالوں کی روشنی میں پیدا کر دیئے ہیں اور ہمارے سماجی رو یہ اس کے دائرہ میں آتے ہیں مثلاً وہ اپنے خاندان کے بارے میں بہت شیخی مارتا ہے بڑھ چڑھ کر باتیں کرتا ہے یا اپنے معاملہ میں بہت شیخی بگھارتا ہے بات وہی ہے کہ شیخی جتانا" ہمارا ایک سماجی رو یہ ہے اِس طرح کے فقرہ اُس کے خلاف ایک ردِ عمل ہے۔

شیر بکری ایک گھاٹ پانی پیتے ہیں

شیر پھاڑ کھانے والا جانور ہے جو بہادر بھی ہے اور بے انتہا سفّاک بھی بکری بھیڑ ہرن جیسے جانور اُس کی خوراک ہیں وہ جب بھی اُن کو دیکھتا ہے اُن پر حملہ کر کے اُن کو اٹھا لے جاتا ہے اور ان کا خون پی لیتا ہے جتنا گوشت خود کھانا چاہتا ہے کھا لیتا ہے باقی دوسرے جانوروں کے لئے چھوڑ جاتا ہے ظاہر ہے کہ یہ صورت بھی ممکن نہیں کہ شیر اور بکری ایک ساتھ رہیں اور ایک گھاٹ پانی پئیں یہی خیال کیا جاتا ہے کہ بادشاہ کا رعب و داب اور اُس کے انتظام کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ کوئی ظالم کسی کمزور اور مظلوم کونہ ستا سکے۔ یہ آئیڈیل ہے جو صدیوں سے ہمارے ذہنوں میں رچا بسا چلا آ رہا ہے اور اسی سے یہ محاورہ بنا ہے کہ شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پیتے ہیں۔

شیش محل کا کتا

شیش محل اُمراء کے محلات میں ہوتا بھی تھا کہ کسی خاص حصے میں چھوٹے بڑے شیشے لگا کر آراستگی کی جاتی تھی اور یہ بہت پسند کی جانے والی چیز تھی۔ شیش محل میں ایک ہی شے یا شخص ہزار شکلوں میں نظر آتا تھا یہ بھی لوگوں کو بہت اچھا لگتا تھا۔ مگر"کُتَّے" کی مصیبت یہ ہے کہ وہ محلّے میں کسی غیر کتے کو نہیں دیکھ سکتے بے طرح اس کے پیچھے بھاگتے ہیں اور اپنی حدوں سے باہر نکال کر دم لیتے ہیں اب شیش محل میں ایک کتے کو اپنے چاروں طرف کُتے ہی کُتے نظر آتے ہیں۔ وہ اُن کو بھگانا چاہتا ہے تو وہ سارے اُسے بھگاتے ہیں ایک طلِسم بندی میں بند جا تا ہے یہیں سے ایک دلچسپ محاورہ بن گیا شیش محل کا کتا ہونا وہ ایک شاعرانہ محاورہ ہے اور داستانوں کی فضاء کو پیش کرتا ہے۔

شیشے میں اُتارنا

شیشہ آئینہ کو بھی کہتے ہیں اور شراب کے اُس برتن کو بھی جس سے شرابِ جام میں اُنڈیلی جاتی ہے اس کے علاوہ شیشے کا ایک طِلِسمی تصور بھی ہے کہ پریوں کو شیشے میں قید کیا جاتا ہے اسی سے محاورہ پیدا ہوا ہے اگر کسی آدمی سے معاملہ کرنا مشکل ہوتا ہے اور کسی نہ کسی طرح اس مشکل پر قابو پا لیا جاتا ہے تو اسے شیشے میں اتارنا کہتے ہیں داستانوں میں پریوں کے کردار آتے ہیں پریاں کسی کے قابو میں نہیں آتیں مگر کسی نہ کسی ترکیب اور طریقہ سے انہیں بھی قابو میں کیا جاتا ہے تو اسے کہتے ہیں شیشے میں"پری کو اُتار لیا"یعنی اُسے قابو میں کر لیا جو قابو میں نہیں آتا۔ اس سے ہم یہ نتیجہ بھی اخذ کر سکتے ہیں کہ طلِسماتی کہانیوں کا ہمارے ذہن زبان اور ادب میں جو اثر ہے اسے ہم اپنے محاورات میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔

زبان کے آگے بڑھنے میں سماج کے ذہنی ارتقاء کا دخل ہوتا ہے ذہن پہلے کچھ باتیں سوچتا ہے اُن پر عمل درآمد ہوتا ہے اور وہیں سے پھر اُس سوچ یا اس عمل کے لئے الفاظ تراشے جاتے ہیں اور وہ محاورات کے سانچے میں کچھ ڈھلتے ہیں اور ایک طرح سے Preserveہو جاتے ہیں۔

شیطان اُٹھانا، شیطانی لشکر، شیطان سر پر اُٹھانا، شیطان کا کان میں پھُونک دینا، شیطان کی آنت شیطان کی خالہ، شیطان کی ڈور، شیطان کے کان بہرے، شیطان ہونا، شیطان ہو جانا

"شیطان"بُرائی کا ایک علامتی نشان ہے جو قوموں کی نفسیات میں شریک رہا ہے خیر اور شر بھلائی اور بُرائی معاشرہ میں مختلف اعتبارات سے موجود رہی ہے اسی کا ایک نتیجہ شیطان کا تصور بھی ہے کہ وہ بُرائیوں کا مجسمہ ہے اور بد اعمالی کا دیوتا خیر کا خداوند یزدانِ پاک ہے اور بُرائی کا سرچشمہ شیطان کی ذات ہے۔

اب آدمی جو بھی بُرائی کرے گا اُس کی ذمہ داری شیطان پر ڈال دی جائے گی اور کسی نہ کسی رشتے کو شیطان ہی کو سامنے رکھا جائے گا اگر کوئی بے طرح غصہ کرتا ہے تو یہ کہیں گے کہ شیطان اُس کے سرپر سوار ہے اُس کے سر چڑھا ہے اگر کوئی آدمی بُرا ہو گا تو کہیں گے کہ وہ تو شیطان ہیں اگر کسی سے کوئی برائی وجود میں آتی ہے تو کہتے ہیں کہ شیطان موجود ہے اس نے کروائی ہے یہ برائی کروا دی اگر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُس برائی کا ذمہ دار آدمی ہے تو کہتے ہیں کہ آدمی کا شیطان آدمی ہے یعنی برائی کی ہر نسبت شیطان کی طرف جاتی ہے کہ انسان کی یہ ایک فطرت اور مزاج ہے کہ وہ ذمہ دار خود ہوتا ہے لیکن اُسے تسلیم نہیں کرنا چاہتا ہے بلکہ کسی دوسرے کے سر ڈالتا ہے یہ ہمارا سماجی رو یہ آئے دن ہمارے سامنے آتا رہتا ہے اتنی فلسفیانہ طور پر شیطان کے وجود پر جنم دیا اور شیطان سے نسبت کے ساتھ بہت سی بُرائیوں کو پیش کیا جس کی نسبت اُسے اپنے سے کرنی چاہیے تھی وہ دوسروں سے کر دی مذہبوں نے بھی اپنے طور پر اس تصور کو ایسی سوچ اور Approachمیں داخل کر لیا۔

شین قاف

اُردُو زبان اپنے لب و لہجہ اور مختلف لفظوں کے تلفظ کے اعتبار سے ایک ایسی زبان ہے جس کو مختلف لوگ بولتے اور الگ الگ بولیوں والے اپنی سماجی ضرورت کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اس میں ایسے حروف موجود ہیں جس کا تلفظ ہمارے عام لوگ کر ہی نہیں سکتے ہیں۔ جیسے ث، ذ، ص، ض، ظ، ع، غ اور ف۔

اس لئے کہ یہ حُروف ہماری دیسی زبانوں میں موجود ہی نہیں اس پر بھی" شین" کو چھوٹے"س" سے بدل دینا اور"قاف" کو چھوٹے"کاف"سے اور مُنشی"کو"منسی" کہنا اور قلم کو"کلم" کہنا بہت بُرا لگتا ہے اسی لئے جب کوئی شخص بولتے وقت شین قاف کی دُرستگی کا خیال رکھتا ہے تو اس کی تعریف کی جاتی ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ اس کا"شین قاف" درست ہے یہ زبان لفظیات اور تلفظ سے متعلق ہمارا ایک تہذیبی معیار ہے مگر اُردُو سوسائٹی کا ہر زبان والے کا نہیں کہ وہ"شین قاف"کی درستگی پر زور دیتے ہیں اور اسی لئے شین قاف دُرست ہونا ایک محاورہ ہے۔


ردیف "ص"

صاحب سلامت

سلام ہمارے تہذیبی رویوں اور رسموں کا ایک بہت اہم حصّہ ہے ہم بڑوں کو بھی سلام کرتے ہیں برابر والوں کو بھی اور اپنے سے چھوٹوں کو بھی بادشاہوں کو سلام بہت سادہ طریقہ پر نہیں کیا جاتا۔ وہاں سات بار زمین بوس ہو کر کورنش بجا لاتے ہیں جسے درباری سلام کہہ سکتے ہیں۔ مُجرا اربابِ نِشاط کا سلام ہوتا ہے۔

ہم سلام مُجرا ایک ساتھ بھی کہتے ہیں اور اُسے محاورے کے طور پر استعمال کرتے ہیں آداب اُمراء کا سلام ہے اور تسلیمات اُس کے ساتھ جُڑا رہتا ہے السلام علیکم گویا برابری کا سلام ہے چھوٹا طبقہ باقاعدہ سلام نہیں کر سکتا وہ" صاحب" سلامت" کہتا ہے ہمارے معاشرے میں جو اونچ نیچ ہے۔ اُس کا اثر سلام پر بھی مرتب ہوتا ہے۔

"صاحب"کا لفظ مالک کے معنی میں آتا ہے ہم اُس کو احترام کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔ سکھّوں میں" صاحب" کے وہی معنی ہیں جو ہمارے ہاں شریف کے ہیں اسی لئے وہ گرودارا صاحب کہتے ہیں عام طور پر صاحب انگریزوں کو صاحب کہتے رہے ہیں اِس سے پہلے بیگمات اور شہزادیوں کے لئے بھی صاحب کا لفظ استعمال ہوتا رہا ہے۔ غالب کے زمانے میں گھرکی خواتین کو بھی"صاحب" لوگ کہا کرتے تھے اب یہ ایک طرح کا محاورہ ہے۔

صاحبِ نسبت ہونا

صوفیانہ اِصطلاح ہے اور اُس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اس شخص کو فلاں صوفی خانوادے سے نسبت ہے اس کو وہاں سے رُوحانی فیض پہنچا ہے اسی لئے فارسی میں یہ مصرعہ کہا گیا جو بہت شہرت رکھتا ہے۔

گرچہ خو ردیم نسبتے است بزرگ

اگرچہ ہم چھوٹے ہیں لیکن ہماری نسبت بڑی ہے اس معنی میں صاحب نسبت ہونا ایک سطح پر محاورہ بھی ہے۔

صاف اُڑانا، صاف انکار کرنا، صاف جواب دینا، صاف نکل جانا

ہماری سماجی عادتوں کمزوریوں یا برائیوں میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ ہم جس بات کو سننا یا جاننا نہیں چاہتے اُس کی اُن دیکھی کرتے ہیں جیسے ہم نے سنا ہی نہیں یا ہمارے علم میں ہے۔ نہیں اور یہ سب کچھ جان کر ہوتا ہے ہم دانستہ انجان بنتے ہیں اِس سے ہم اپنے سماجی رویوں کے مطالعہ میں مدد لے سکتے ہیں۔

صاف نکل جانا بھی اسی مفہوم سے قریب تر اِس مفہوم کو ظاہر کرتا ہے یعنی ذمہ داریوں سے بچ نکلنا اور یہی ہمارا معاشرتی مزاج بھی ہے۔

صبح خیز، صبح خیزے، صبح خیز ہونا

صبح کو اٹھنے والا صبح خیز کہلاتا ہے یہ عبادت کی غر ض سے ہوتا ہے اور عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ صبح کی عبادت میں زیادہ لطف اور رُوحانی کیف ہوتا ہے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ جو لفظی ترکیب اتنی نیکیوں کی طرف اِشارہ کر رہی تھی اسی سے صبح کے ابتدائی حصّے میں چوری چکاری کرنے والے یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو قافلوں کے ساتھ ہوتے ہیں کیونکہ قافلے عرب میں رات کے وقت سفر کرتے تھے اور صبح کے قریب یہ سو جاتے تھے اسی وقت اس طرح کے چوری چکاری کرنے والے مصروفِ عمل ہوتے تھے اسے ہمارے ادیبوں نے بھی استعمال کیا ہے۔

فسانہ عجائب میں ایک سے زیادہ مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں صبح خیز دراصل"صبح خیزے" ہی ہے اور اپنے خاص مفہوم کے ساتھ ہے۔

صبح شام کرنا

اُردُو کے ایسے محاورات ہیں جو بہت سی پریشانیوں ذہنی تکلیفوں اور کرب و اضطراب کے عالم کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں اُن میں" صبح و شام"ہونا بھی ہے یہ ایسے مریض کے لئے کہا جاتا ہے۔ جس کی زندگی توقعات ختم ہو چکی ہوں اور یہ کہنا مشکل ہو کہ اب یہ صبح سے شام یا شام سے صبح کرے گا یا نہیں ایسے ہی موقعوں پر کہتے ہیں کہ اس کی تو"صبح شام"ہو رہی ہے یا بڑھاپے کے بعد جب زندگی کے خاتمہ کا وقت آتا ہے تو میر کے الفاظ میں اِس طرح کہا جاتا ہے۔

صبح پیری شام ہونے آئی میر
تو نہ جیتا اور بہت دن کم رہا

غالب نے صبح کرنا شام کا اسی اِضطراب اور بے چینی کے عالم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے۔

کاو کاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جُوئے شیر کا

صبر پڑنا، صبر لینا، صَبر کا پھل میٹھا، صبر بڑی چیز ہے

"صبر" عربی لفظ ہے مگر ہماری زبان میں کچھ اِس طرح داخل ہے کہ وہ اُس کے بنیادی الفاظ میں شامل کیا جا سکتا ہے اِسے ہم اِس بات سے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ صبر کرنا صبر سے کھانا بے صبر ہونا یا صبر و شکر کرنا ہماری اخلاقیاتی فکر کا ا یک جُز بنا ہوا نظر آتا ہے۔

معاشرے میں چاہے وہ گھریلو معاشرہ ہے یا سرکار و دربار بازار سے تعلق رکھتا ہو معاملات کی اونچ نیچ اور دیانت کے ساتھ بددیانتی ہمارے معاشرے کا ایک مزاج اور ہمارے معاملات کا ایک جُز بن گیا ہے اس پر ہم لڑتے جھگڑتے ہیں من مٹُاؤ پیدا ہوتا ہے اگر یہ صورت مستقل طور پر رہے تو زندگی میں ذرا بھی تواضع باقی نہ رہے اسی لئے صبر کرنے کی بات کی جاتی ہے صبر سے کام لینے کا مشورہ دیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ صبر بڑی چیز ہے یا صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ یا اللہ کو" صبر" بہت پسند ہے یہ سب باتیں ہماری نفسیاتی تسکین کے لئے ہوتی ہیں اور جو آدمی بے صبرے پن کا اظہار کرتا ہے اس پر ہم کسی نہ کسی طرح معترض ہوتے ہیں قرآن نے خود بھی ایک موقع پر کہا ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

صحبت اٹھانا، صحبت داری، صحبت گرم ہونا، صحبت نہ رہنا

صحبت اچھے بُرے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے اٹھنے کو کہتے ہیں اُس میں بڑے لوگ بھی شامل ہو سکتے ہیں اور برابر والے بھی پڑھے لکھے بھی اور غیر پڑھے لکھے بھی اپنے بھی بیگانے بھی۔

انسان صرف کتابوں سے نہیں سیکھتا اپنے گھرکے ماحول سے بھی سیکھتا ہے اور اُس سے زیادہ اچھے لوگوں کی صحبت اٹھاتا ہے تب سیکھتا ہے اسی لئے کچھ زمانے پہلے تک ایسے لوگ قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے جو اچھے لوگوں کی صحبت اٹھائے ہوئے ہوتے تھے اور اسی صورت حال کی طرف صحبت کے متعلق ہماری زبان کے محاورے اشارہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اِس معنی میں محاورہ ہماری سوچ اور تہذیبی صورت حال کا ایک Miniature(چھوٹا سا مرقع) ہے جو ایک وسیع تر پس منظر کی طرف ہمارے ذہن کو مائل کرتا ہے۔

صحنک سے اُٹھ جانا، غائب ہو جانا، بے تعلق قرار دیا جانا

ہماری دیہاتی زبان میں صحنک ایک برتن ہے جو عام برتنوں سے بڑا ہوتا ہے ویسے ہماری زبان میں"صحن"آنگن کو کہتے ہیں گھرکے ساتھ وہ انگنائی کے معنی میں آتا ہے اور کسی بڑی عمارت کے ساتھ کھلے ہوئے حصّے کے معنی میں جیسے جامع مسجد کا صحن کہا جائے یعنی صحن Courtyardاُردو کا مشہور مصرعہ ہے۔

اَری اُٹھ جاؤں گی میں صحنک سے
اس کے معنی ہیں کہ میں تو کہیں کی نہ رہوں گی۔

صلِ علیٰ کہنا

بعض محاورے خاص مسلمان کلچر سے رشتہ رکھتے ہیں، ان میں صلِ علیٰ کہنا بھی ہے یعنی اُن پر ہزار سلام اسی لئے مسلم معاشرے میں صل علیٰ محمدؐ کہا جاتا ہے یعنی ہزار درود و سلام اسی لئے جب کسی کی تہہ دل سے تحسین کی جاتی ہے اور اُسے بہت اچھے الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے۔ تو اُسے صلِ اللہ کہا جاتا ہے۔ غالب کا شعر ہے۔

دیکھئے لاتی ہے اُس شوخ کی نخوت کیا رنگ
اس کی ہر بات پہ ہم صلِّ اللہ کہتے ہیں

نام خدا کہنے کے معنی بھی یہی ہیں اور ایک خاص کلچر کے اظہار سے تعلق رکھتے ہیں۔

صلُّواتیں سُنانا

صلوات سُنانا برا بھلا کہنے کے معنی میں آتا ہے جب کہ" صلات" کے معنی ہیں نماز اور صلوٰۃ کے معنی ہیں درود لیکن زبان کیا کیا رنگ اختیار کرتی ہے اُس کا اندازہ اِس سے ہوتا ہے کہ صلوٰۃ جو اچھے سے اچھے معنی میں آتا ہے اُس کو بُرے معنی میں اور بے تکلف استعمال کیا جاتا ہے۔ ا س سے ہم اس نتیجے پر بھی پہنچ سکتے ہیں کہ کلچر جس میں مذہبی روایت بھی شامل ہے ہماری زبان کو متاثر کرتا ہے اور اِس کا ادبی علمی اور عوامی کردار اس سے متعین ہوتا ہے لیکن زمانہ اور زندگی ذہن اور زبان اسے جگہ جگہ اس طرح بھی متاثر کرتے ہیں کہ ا ُس کا رخ بدل جاتا ہے اور زبان کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے۔

صندل کے چھاپے منہ پر لگنا، صندل کی سی تختی، صندل گھُنا

صندل دراصل"چندن" ہے جو ایک خوشبودار لکڑی ہوتی ہے اس کے درخت جنوبی ہندوستان میں پیدا ہوتے ہیں اور ہندو کلچر سے اُن کا خاص تعلق ہے جنوبی ہندوستان کے لوگ پنڈت اپنے ماتھوں پر قشقہ لگاتے ہیں یہ صندل گھِس کر لگایا جاتا ہے مہا کوی کالی داس کے زمانے میں عورتیں اپنے بدن کی سجاوٹ کے لئے اور اُس کو خوشبودار بنانے کی غرض سے اُس پر چندن لگاتی تھیں۔ چندن کی لکڑیوں سے بعض خوبصورت آرٹیکل تیار کئے جاتے تھے ا بٹن میں بھی چندن شامل کیا جاتا تھا اس طرح ہمارے کلچر سے"چندن"کا صدیوں سے ایک گہرا رشتہ رہا ہے۔

"چندن" کے چھاپے منہ پر لگانا اپنے کردار کی خوبیوں کو ظاہر کرنا ہے اور سرخ روئی کا نشان ہے اِس کے علاوہ صندل کی تختی بھی خوبصورتی اور وجود کی پاکیزگی کو ظاہر کرتی ہے اور اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بعض محاورات کو تراشنے میں ہماری زبان کے بولنے والوں نے کس حد تک شاعرانہ طریقہ رسائی کو اپنے سامنے رکھا ہے۔ بعض محاورے انتہائی مبالغہ آمیز صورتوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ جیسے آگ کھانا اور انگارے"اُگلنا"، بعض محاورے اِس کے مقابلہ میں سماجی تلخیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں اور اسی پس منظر میں اُن کے معنی اور معنویت کو سمجھا جا سکتا ہے بعض محاوروں سے زندگی کی خوشگواریاں ظاہر ہوتی ہیں جیسے زہر بجھے ہوئے تیروں مقابلہ میں شیر و شکر ہونا۔ شہد جیسے تیروں کے مقابلہ میں شیر و شکر ہونا۔ شہد جیسے میٹھے بول کہہ کر خوشی کا اظہار کرنا۔ اسی طرح صندل کی تختی"صندل"کا چھاپہ شاعرانہ تشبیہات اور استعاروں کو ظاہر کرتا ہے اور اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ہمارے طریقہ فکر اور طرزِ اظہار کے مختلف سلیقوں کو محاورے اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں اگرچہ محاوروں پر اس رشتے سے کم نظر ڈالی گئی ہے۔

صُورت حرام

صُورت پر بہت سے محاورے ہیں جیسے یہ صُورت اور"مسور کی دال" یا اُجاڑ صورت یا پھر صورت حرام صورت کے ساتھ اُجاڑ منحوس یا"حرام" کا لفظ استعمال کرنا ذہنی تلخیوں کا اظہار ہے۔ صورت پر پھٹکار برستی ہے اس محاورے سے بھی اسی صورتِ حال کا اظہار ہوتا ہے شیطان کی سی"تھوپڑی" بیل جیسا منہ وغیرہ محاورات اسی جذبہ کا اظہار ہیں کہ کوئی شخص دوسرے سے اُس حد تک ناراض ہو کہ اِس کی شکل سے بیزار ہونا اُس کے رو یہ میں شامل ہو جائے۔


ردیف "ض"

ضِد باندھنا، ضد پوری کرنا، ضد بحث میں پڑنا یا ضدی ہونا، ضد چڑھنا

ہمارے ہاں کے بہت عام لفظوں اور زبان پر آنے والے کلمات میں سے ہیں اور اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ"ضد" ہٹ دھرمی اور بلاوجہ کسی رو یہ کو اپنانا اور اُس پر اڑ جانا ہمارے معاشرے کی عام کمزوری یا عیب داری ہے۔ ہم معاملات کو سمجھنے کے بجائے اور مناسب لفظوں میں اظہار خیال نہ کرتے ہوئے"بد گوئی، بدکلامی" اور بد اندیشی اختیار کرتے ہیں۔ اس سے تلخیاں بڑھتی ہیں اور غلط طور پر غیر دانش مندانہ رو یہ سامنے آتا ہے ہم بچوں کی سی"ضد" کا محاورہ بھی اختیار کرتے ہیں جو ایک صورتِ حال کی طرف اشارہ ہے۔ جس کے پس منظر میں عقل و شعور کی کمی کا اظہار ہوتا ہے۔

ضِد بحث میں پڑنا بھی خواہ مخواہ کی باتوں پر زور دینے اور غیر ضروری دلائل کو سامنے لانے ہی کا نتیجہ ہوتا ہے اور بات سلجھنے کے بجائے اُلجھتی ہی چلی جاتی ہے اور ہماری سماجی گرہیں اور سماجی الجھنیں اِس سے اور بڑھتی ہیں۔

ضرب اُٹھانا، ضرب لگانا، ضرب پہنچانا اور ضرب پہنچنا

یہ محاورے عام طور پر تکلیف پہنچنے یا پہنچانے کے سلسلے میں کام آتے ہیں کہ عربی زبان میں ضرب کے معنی مارنے کے ہیں لیکن ضرب المثل یا ضرب المثال ایک علمی اِصطلاح ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ وہ فِقرہ اب بار بار استعمال ہوتا ہے اور ایک مثالی صورت بن کر رہ گیا ہے۔


ردیف "ط"

طاق بھرنا، طاق پر رکھا رہنا، طاق پر رکھنا، طاق ہونا

"طاق بھرنا" دراصل کوئی محاورہ نہیں ہے ایک ہندوانہ رسم ہے جو مسلمانوں میں بھی آ گئی ہے۔ اور اُس کا شمار یہ کہیے کہ ہماری ملکی رسموں میں ہوتا ہے مسجد کے طاق بھرے جائیں یا مندر کے مطلب اظہارِ عقیدت ہوتا ہے۔

چیزوں کی بھینٹ دینا قدیم زمانے سے انسانی معاشرے کی ایک رسم رہی ہے۔ اِس میں چوڑیاں چڑھانا چوٹیاں شاخوں میں باندھ دینا بالوں کو بھینٹ دینا زیورات بھینٹ کرنا اور مٹھائیاں چڑھانا یا روپے پیسہ چڑھاوے کے طور پر نظر کرنا ہماری عمومی رسموں میں شامل ہے یہاں تک کہ ہم دریاؤں کو بھی بھینٹ دیتے ہیں پانی کے تالابوں اور کھیتوں کو بھی بھینٹ دیتے ہیں اسی طرح مندروں مسجدوں کے طاق بھرے جاتے ہیں۔ چراغ چڑھائے جاتے ہیں تیل دیا جاتا ہے یہ زیادہ تر عورتوں کی رسمیں ہیں"طاق بھرنا" تو یہ کہتے ہیں کہ خالصتاً نسوانی رسم ہے۔

طاق پر رکھنا اس سے بالکل مختلف ہے اِس کے معنی ہوتے ہیں بھُول جانا دھیان نہ دینا۔ ہمارے یہاں چیزوں کو رکھنے جس میں پیسے بھی شامل ہیں چھوٹے بڑے طاق ہی کام میں آتے تھے اور اُن پر رکھ کر کبھی گھرکے لوگ بھول بھی جاتے تھے یہیں سے طاق پر رکھنے کا محاورہ بھول جانے اور فراموش کر دینے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ طاق محل کو بھی کہتے ہیں اور ایک (Single) عدد کو بھی جیسے ایک تین پانچ سات اور نو یہیں سے"طاق" ہونے کا محاورہ بنا کہ وہ اپنے اپنے کام میں ماہر اور اپنی ہنر مندی میں طاق ہے یعنی بے جوڑ ہے منفرد ہے۔

طالع چمکنا

علمِ نجوم میں ستاروں کا رشتہ انسان کی قسمت سے بھی جُڑا رہتا ہے اور اسی کے مطابق جنم پتری تیار کی جاتی ہے۔ جس میں پیدائش کے وقت جو ستارے مل رہے ہوتے ہیں اُن کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ اور آئندہ زندگی پر جُو اس کے اثرات ہونے والے ہیں اُن کی طرف اشارے کئے جاتے ہیں۔

"طالع" کے معنی ہیں طلوع ہونا، نکلنا اب کسی کی پیدائش کے وقت جو ستارے نکل رہے ہوتے ہیں وہی اِس کے طالع کہلاتے ہیں۔ جو قسمت کے ستارے ہوتے ہیں یہ مبارک بھی ہو سکتے ہیں اور نہ مبارک بھی اسی لئے طالع مسعود اور نا مسعود کہلاتے ہیں اُردو میں جو لوگ ادبی زبان بولتے ہیں وہ اِن لفظوں کا استعمال بھی کرتے ہیں اور یہ ہمارے تہذیبی ماحول کا ایک حصّہ ہے۔ اور ہماری سوچ کا ایک انداز ہے۔

طباق سا منہ ہونا

ہم چہرے کو انسان کے حُسن خوبصورتی اور بدصورتی کے سلسلے میں بڑی اہمیت دیتے ہیں کبھی پھول کہتے ہیں کبھی چاند کہتے ہیں کبھی ٹکیاں سا منہ قرار دیتے ہیں کبھی آئینہ رخ کہتے ہیں ایسی لڑکیاں یا عورتیں جن کے چہرے بہت گول ہوتے اور جن کے نقش و نگار نسبتاً بڑے چہرے مقابلہ میں ہلکے ہوتے ہیں اُن کے لئے کہا جاتا ہے کہ وہ طباق سے منہ والی لڑکی یا عورت ہیں۔

جب لڑکیوں کو بہت تھوڑی عمر میں پردہ کروا دیا جاتا تھا اس وقت عورتیں کہا کرتی تھیں کہ طباق سا منہ ہو گیا اب تک اس کو پردہ کیوں نہیں کروایا گیا یہ بھی سماجی رو یہ ہے جو قصبوں چھوٹے شہروں میں اب تک دیکھنے کو ملتا ہے اور ہماری معاشرتی سوچ کا اظہار کرتا ہے۔

طباقی کتّا

ہمارے ہاں ہندوؤں میں جس تھالی میں کھایا جاتا ہے اُس کو کتّے کے چاٹنے کے لئے رکھ دیا جا تا ہے اب تو ایسا نہیں ہوتا لیکن اس کا ایک عام دستور ضرور رہا ہے جو کتا یہ کام کرتا تھا اور اُسے طباقو کتا کہتے تھے جو گویا سماج کی طرف سے ایسے کرداروں کا ایک طنز کا درجہ رکھتا تھا ایسی عورتیں بھی" طباقو" کہلاتی تھیں جن کو اِدھر اُدھر کھانے پینے کا لالچ ہوتا تھا۔

طبقہ اُلٹ جانا

ہماری مذہبی فکر ہویا فلسفہ اور سائنس سے متعلق ہو دونوں میں آسمان و زمین کے طبقات داخل ہیں اور اُن کا ذکر موقع بہ موقع آتا رہتا ہے خود قرآن نے آسمان کو سات طبقوں سے وابستہ کیا ہے۔ زمین کے بھی طبقے ہیں اور زمین و آسمان کے طبقے ملا کر چودہ طبق کہا جاتا اور ہمارے ہاں محاورہ بھی ہے چودہ طبق روشن ہو گئے سماجی طور پر بھی اور معاشی طور پر بھی ہم طبقات کی تقسیم کے قائل ہیں مثلاً پڑھے لکھے لوگوں کا طبقہ کاریگروں کا طبقہ جس میں مزدور اور کم درجہ کے دستکار سبھی شریک ہیں۔

امیروں کا طبقہ سیاست پسندوں کا طبقہ ہم نے اہلِ شعر و ادب اور اصحابِ فلسفہ و تصوف کو بھی طبقات میں تقسیم کیا ہے اور طبقاۃ الصوفیہ"طبقاۃ الشعراء""طبقاۃ الملکہ" اس سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ طبقہ اور طبقات ہماری معاشرتی زندگی میں کس طرح داخل رہے ہیں یہ محاورے بھی اسی کی طرف اشارے کرتے ہیں طبقہ الٹ جانا چودہ طبق روشن ہونا وہاں طبق بھی ہے اور سبق بھی طبقہ الٹ جانا یعنی زمین کا اُلٹ پلٹ ہونا یا طبقاتی تقسیم کا درہم برہم ہو جانا زمین سے آسمان کا روشن ہو جانا اور مراد ہوتی ہے کہ اور کچھ نظر نہیں آیا اور آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔

طبیعت آنا، طبیعت الجھنا، طبیعت بگڑنا، طبیعت بھر جانا، طبیعت لگنا

طبیعت عربی لفظ ہے اور اُس سے مراد ہے انسان کی اپنی مزاجی کیفیت"دل" اور"جی" توجہ وغیرہ مثلاً طبیعت لگنے کے وہی معنی ہیں جوجی لگنے کے ہیں اور طبیعت آنا دل آنے یا عشق ہو جانے کو کہتے ہیں طبیعت لہرانا بھی دل کے خوش ہونے اور والہانہ کیفیت پیدا ہو جانے کے لئے کہا جاتا ہے عالمِ فطرت کو بھی طبیعت سے نسبت دی جاتی ہے اور طبیعیات عالمِ فطرت کے عمل کو کہتے ہیں۔ اُس پر اگر نظر رکھی جائے تو لفظوں کے ساتھ کیا گیا مفہوم وابستہ ہوتے ہیں۔ اور خود محاورے میں پہنچ کر اُن کے معنی میں کیا کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔ اس معنی میں اگر دیکھا جائے تو لفظ کے لغوی معنی سے لے کر شعری، شعوری ادبی اور محاوراتی معنی تک بہت بڑا فرق آ جاتا ہے۔

طرارے بھرنا، طرارا آنا

طرارے"ہرن"کی دوڑ کو کہتے ہیں اور ہرنوں ہی کے سلسلے میں یہ محاورہ آتا بھی ہے اور ہم اسے کہانیوں عام گفتگو یا شعر و شاعری میں سنتے اور دیکھتے ہیں کہ ذرا سی دیر میں"ہرن" طرارے بھرنے لگا اُس کے مقابلے میں طرارا آنا غصّہ آنے کے معنی میں آتا ہے کہ ذرا سی بات پر اُسے تو"طرارا" آ جاتا ہے غصّہ آنا تو ایک بات ہے لیکن طرارا آنا زبان کا حُسن ہے اور اِس سے پتہ چلتا ہے کہ محاورہ تشبیہہ اور استعارہ زبان میں کیا لطف پیدا کرتے ہیں اور اُس کا ہماری سماجیات سے کیا رشتہ ہے۔

طرح دار، طرح ڈالنا، طرح دار ہونا طرح دینا، طرح نکالنا

"طرح" کے معنی ہیں طرزِ انداز اور ادا ہماری ادبی اور سماجی زندگی میں" طرح داری" کے معنی ہوتے ہیں خاص انداز رکھنا معشوق طرح داری ہمارے ادیبوں کے یہاں اب سے پہلے بہت آتا تھا۔ طرح ڈالنا کے معنی ہوتے ہیں کسی اندازِ ادا کو اختیار کرنا اور اُسے رواج دینا۔ شاعری میں جب کوئی مصرعہ غزل لکھنے کے لئے مشاعروں کے سلسلے میں دیا جاتا ہے تو اسے طرح دینا یا طرح ہونا کہتے ہیں طرح دینے کے معنی نظر انداز کر دینے کے بھی ہوتے ہیں طرح نکالنا بھی کسی نئے اسلوب کو رواج دینے کو کہتے ہیں۔

طُرفتہ العین میں

طُرفۃ العین پلک جھپکنے کو کہتے ہیں یہ عربی لفظ ہے اور اِس کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کوئی کام آناً فاناً میں بھی ہو جاتا ہے یا جی چاہتا ہے کہ یہ کام گھڑی کی سیت (ساعت میں ) ہو جائے۔ طرفۃالعین عربی کا لفظ اسی مفہوم کو ظاہر کرتا ہے۔

طرفہ معجون

عجیب قسم کی طبیعت یا سوچ کا عجیب و غریب انداز یا پھر ایسی تحریر جس میں فکری الجھاؤ ہوں۔ طرفہ معجون یا طرفہ معجون مرکب کہلاتی ہے معجون جیسا کہ ہم جانتے ہیں ایک طبّی نسخہ کے مطابق تیار کردہ دوا کو کہتے ہیں جس میں شہد اور دوسری بعض جڑی بوٹیاں کوٹ کر ڈالی جاتی ہیں جیسے معجون" سورنجان" یا معجون فلاسفہ یہ محاورے اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہم علم و فن کی کن کن باتوں سے محاورہ پیدا کرنے میں فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ محاورہ کسی ایک کا نہیں ہوتا سب کا ہوتا ہے سب کے لئے ہوتا ہے اور سب کی طرف سے ہوتا ہے۔

طشت از بام ہونا، طشت چوکی

ہمارے یہاں محاوروں کی طرف ایک بڑی تعداد تو وہ ہے جو ہماری اپنی بھاشا یا قریبی علاقوں کی بھاشاؤں سے ہماری زبان میں منتقل ہوئے ہیں۔ کچھ محاورے وہ بھی ہیں جو فارسی سے آئے ہیں یہ ایک فطری عمل ہے کہ ہم نے ایک خاص دور میں فارسی ادب اور زبان سے گہرے اثرات قبول کئے ہیں۔ طشت از بام ہونا۔ انہی میں سے ایک محاورہ ہے جو فارسی کے ادبی اور لسانی اثرات کی نمائندگی کرتا ہے اُس کے معنی ہیں راز فاش ہونا اور سب کو خبر ہو جانا ہے یہ ہماری سماجی نفسیات کا بھی ایک حصّہ ہے کہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ خوامخواہ ہماری برائیوں کا ذکر اور اُن کی شہرت پھیلے یوں بھی معاشرے کا یہ ایک مزاج ہے کہ نیکیوں کا کوئی ذکر نہیں کرتا اور برائیوں کو بُری طرح پھیلاتے ہیں اُن کو" طشت از بام" کرتے ہیں یہ بات اچھی نہیں غلط ہے مگر ہمارا سماجی رو یہ نہیں کچھ ایسا ہی ہے۔

عام طور پر ہمارے مہذب گھروں میں ایک چوکی رہتی تھی اور اُس پر بیٹھ کر وضو کرنا اور وضو کے پانی کو ایک طشت میں جمع کرنے کی گھریلو روش ایک خوبی تصور کی جاتی تھی اسی لئے طشت چوکی بچھے رہنے کا ذکر آتا تھا۔ مگر اِسے کوئی محاورہ قرار دینا مشکل ہے اگرچہ مخزن المحاورات میں اِسے محاورہ قرار دیا گیا ہے۔

طفلِ مکتب ہونا

طفلِ بچہ کو کہتے ہیں اور مکتب ابتدائی درجہ کی درس گاہ ہوتی ہے جہاں قرآن کا کوئی سپارہ یا بھر پورا قرآن پاک بچے پڑھتے ہیں بہرحال یہ بہت ابتدائی تعلیم کی منزل ہوتی ہے عمر بھی اس وقت بچپن کی منزل سے گزر رہی ہوتی ہے بڑی عمر کے لڑکے اِس میں داخل نہیں ہوتے اسی لئے جب کسی کو یہ کہنا ہوتا ہے کہ وہ عقل اور علمِ کے اعتبار سے بہت ہی ابتدائی سطح کا آدمی ہے تو اُسے طفلِ مکتب کہا جاتا ہے اور جس آدمی کو جس عالم یا مولوی کو کچھ نہیں آتا وہ ملائے مکتبی کہلا تا ہے۔

طنطنہ دکھانا

تناؤ کی کیفیت ہوتی ہے اور اِس میں غصہ بہادری اور بڑائی کا اظہار مقصود ہوتا ہے اور اِسی لئے اِسے طنطنہ کہتے ہیں اور اُس میں کہنے والے کی طرف سے ایک طنز چھُپا ہوتا ہے کہ وہ بہت طنطنہ دکھلاتے ہیں یہ بھی ایک طرح سے ہمارے سماجی عمل اور رویوں پر ایک تنقید ہوتی ہے اور اس اعتبار سے ایک اہم بات ہے۔

طور بے طور ہونا

طور طریقہ کو کہا جاتا ہے اسی لئے طور بے طور کہتے ہیں اور اِس سے مُراد سلیقہ ہوتا ہے اچھا ڈھنگ ہوتا ہے اب اگر کسی وجہ سے بے ڈھنگا پن پیدا ہو جاتا ہے اور بات بے تُکی نظر آتی ہے۔ تو اُسے طور بے طور ہونا کہتے ہیں ہم اِس محاورے سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ معاشرہ ہمارے انسانی رویوں جو معاشرتی رو یہ بن جاتے ہیں کس طرح نظر رکھتا ہے اور گفتگو کی جاتی ہے۔

طُوطی بولنا

"طوطی" ایران کا ایک پرندہ ہے جس کی آواز بہت خوبصورت ہوتی ہے وہ طوطے کی طرح کہانیوں کا ایک کردار بن جاتا ہے جب موسم بہار آتا ہے تو ایران کے پرندے اور خاص طور پر"طوطی" بہت خوش آوازی سے بولتا ہے اور بہار کے آنے کا اعلان کرتا ہے وقت آتا ہے اور اُس کی شہرت ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ اُس کا طوطی بول رہا ہے یعنی اُس کی زندگی میں بہار آئی ہوئی ہے۔

طوفان اُٹھانا، طوفان اُٹھنا

غیر صورتِ حال کا پیدا ہو جانا جس میں کسی فرد یا کسی جماعت کا عمل شریک ہو اور وہ دانستہ عمل ہو جھُوٹ بول کر فریب دیکر سازشیں کر کے جو پریشان کُن صورت حال پیدا کی جاتی ہے اُس کو طوفان کھڑا کرنا"طوفان اٹھانا" کہتے ہیں کہ صاحب اُس نے طوفان اُٹھا دیا ہنگامہ برپا کر دیا۔

عام پبلک کے پاس زبان ہوتی ہے ذہن نہیں ہوتا کہ وہ صحیح فیصلہ کر سکے اسی لئے وہ ہنگامہ بڑھتا جاتا ہے اس اعتبار سے یہ بہت اہم محاورہ ہے اور سماج کی نفسیات اور عمل ورد عمل کی نشاندہی کرتا ہے طوفان آنا غیر معمولی صورتِ حال ہے لیکن اُس کا رشتہ سماجی عمل سے نہیں ہے۔

طومار باندھنا

کسی بات کو کسی خاص غرض کے تحت آگے بڑھانا اور اُس پر زور دیتے رہنا"طومار" باندھنے کے ذیل میں آتا ہے اور کہتے ہیں کہ انہوں نے تو خواہ مخواہ الزامات یا پھر تعریفوں کا طومار باندھ دیا۔

طویلے کی بلا بند رکے سر پڑنا

کسی کی ذمہ داری کسی دوسرے پر ڈال دینا اور یہ کام بدنیتی سے یا اِرادے کے طور پر کرنا"طویلہ" ایک خاص اِصطلاحی لفظ ہے اور گھُڑ سال کو"طویلہ" کہتے ہیں امیروں راجاؤں اور بادشاہوں کے ساتھ گھوڑوں کی ایک بڑی تعداد رہتی تھی جہاں وہ باندھے اور رکھے جاتے تھے۔ اُس کو طویلہ کہتے تھے ہندوستان میں"گھڑسال" کہتے ہیں۔

اِس سے متعلق اگر اچھی بُری کوئی بات ہوتی تھی اُس کا بندر سے کوئی رشتہ نہیں لیکن لوگوں کا رو یہ کچھ اس طرح کا ہوتا ہے کہ اس کا الزام اُس کے سرپر رکھ دیا اسی سے یہ محاورہ بن گیا کہ""طویلے" کی بلا بند کے سرپر یعنی ذمہ دار کوئی اور ہے اور کسی دوسرے کو اُس کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے جس کا اس سے کوئی تعلق نہیں اِس کو بھی سماجی نفسیات اور طریقہ فکر و عمل کا ایک نمونہ کہنا چاہئیے۔


ردیف "ظ"

ظاہرداری کرنا، ظاہر داری برتنا

کسی عمل میں ظاہری اور اُوپری خوبصورتی برتنا جس کا کوئی تعلق دلی خواہش سے نہ ہو اِس طرح کا رو یہ سماج کے بہت سے لوگوں میں ملتا ہے کہ وہ اُوپرے دل سے بہت کچھ کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اُن کا دل و دماغ اپنی نیکی اور نیک خواہشوں کے ساتھ اُس میں شریک نہیں ہوتا۔ اس کو ظاہر داری برتنا کہتے ہیں۔

مولوی نذیر احمد نے اپنے ناول میں ظاہردار بیگ کا کردار کچھ اسی انداز سے تراشا ہے کہ وہ بظاہر بہت کچھ ہے اور حقیقت میں کچھ بھی نہیں۔


ردیف "ع"

عاقبت بگاڑنا، عاقبت کاتو شہ

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ موجودہ زندگی کے بعد ایک اور زندگی آئے گی جس کو وہ عاقبت کہتے ہیں اُس کے لئے ہم کو یہیں تیاری کرنی چاہیے اور تیاری یہ ہے کہ ہم نیکی کریں خدا سے ڈریں اور اُس کے بندوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں اِسی کو عاقبت کو توشہ کہا جاتا ہے اور جب انسان کا عمل خراب ہوتا ہے اُس کا ایمان ڈانوا ڈول ہوتا ہے یا دوسرے اُس کے ساتھ اتنا برا سلوک کرتے ہیں کہ اُس کے نتیجہ میں وہ خود برا ہو جاتا ہے تو اُسے عاقبت بگاڑنا کہتے ہیں۔

مسلمانوں میں عاقبت یا آخرت کا تصوّر بہت اہمیت رکھتا ہے اور وہ اکثر اسی حوالہ سے سوچتے ہیں اب اُن کا عمل کس حد تک اِس کے حق میں ہوتا ہے یا اُس کے خلاف یہ ایک الگ بات ہے۔

عُبور دریائے شور کرنا

انگریزوں کے زمانہ میں ایک سزا تھی جس کو کالے پانی بھیجنا بھی کہتے تھے اور جزائر انڈمان نِکوبار بھیجنے کو"کالا پانی"بھیجنا کہتے تھے۔

عقل جاتی رہنا، عقل چرنے جانا، عقل چکر میں پڑنا، عقل کا پودا، عقل کا دشمن

آدمی سارے کام عقل سے کرتا ہے عقل جتنی کم ہوتی ہے اتنا ہی پریشانی بڑھتی ہے اور کام خراب ہوتا ہے دوسروں کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ عقل خراب ہو جاتی ہے آدمی غلط سوچنے پر پڑ جاتا ہے یا کوئی فیصلہ نہیں کر پاتا۔ اِسی کو کہتے ہیں کہ عقل چکر میں پڑ گئی یا عقل کو چکر میں ڈال دیا۔ عقل جاتی رہنے کے معنی بھی یہی ہیں اور جب طنز کے طور پر کسی کی بے عقلی کا ذکر کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کیا تمہاری عقل چر نے گئی ہے یا تمہاری عقل کو گدھے چر گئے ہیں۔

اِس سے ہم سماجی عمل اور ردِ عمل کو سمجھ سکتے ہیں اور اُن باتوں کو جان سکتے ہیں جو کم عقل لوگوں کو پیش آتی ہیں جن لوگوں کو عقل بالکل نہیں ہوتی اُن کے لئے طنز کے طور پر کہا جا تا ہے کہ وہ تو عقل کے پورے ہیں یعنی اُن کو عقل بالکل نہیں اور جو لوگ جان جان کر عقل کے خلاف باتیں کرتے ہیں اور بُرے نتیجہ بھگتے ہیں اُن کو عقل کا دشمن کہا جاتا ہے۔

عقل کا پتلا

اب اس کے مقابلہ میں جن لوگوں کو عقل زیادہ ہوتی ہے تو اُن کی تعریف کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ وہ تو عقل کا پتلا ہے۔

عقل کا چراغ گل ہو جانا، عقل کے گھوڑے دوڑانا

اب جو لوگ عقل سے بالکل کام نہیں لیتے اور بیوقوفیاں کرتے ہیں ان کے لئے کہا جاتا ہے کہ اُن کی عقل کا چراغ گل ہو گیا اور جو شخص عقل کی باتیں سوچتا رہتا ہے وہ گویا عقل کے گھوڑے دوڑاتا رہتا ہے ہمارے وسطی زمانہ میں گھوڑے کی بڑی اہمیت تھی۔ اسی لئے گھوڑے پر بہت سے محاورے بھی ہیں۔ اس سے ہم یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ ہمارے محاوروں میں زیادہ تر اُن باتوں کا حوالہ آتا ہے اور اُن چیزوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو ہماری زندگی میں داخل تھیں اور اُن سے کوئی اچھا بُرا اثر ہمارے ذہنوں پر پڑتا تھا اِس دورِ زِندگی اور اُس زمانے کی تصویر کسی نہ کسی حدیث سے ہمارے سامنے آتی تھی۔ عقل کی دُم بھی ہونا اس کی طرف اشارہ کرنے والا محاورہ ہے کہ عقل بالکل نہیں ہے یا اُن کی عقل گُدی کے پیچھے ہے جو عقل سے متعلق ایک اور محاورہ ہے اور اُس کے نہ ہونے کی طرف اشارہ ہے۔

عِلّت لگانا، علت لگا لینا، علت میں پڑنا

عِلّت محاورہ میں عیب داری کو کہتے ہیں کوئی بھی ایسا سماجی کام یا برائی ہو سکتی ہے جو آدمی کو اپنے پیچ و پیچاک میں اُلجھا دیتی ہے یہ اُس کے لئے کہتے ہیں کہ اس نے تو اپنے ساتھ یہ علت لگا رکھی ہے یاوہ اُس عِلت میں پڑا ہوا ہے یا پھر کون یہ علت اپنے ساتھ لگائے علت کو مختصر طور پر لت بھی کہتے ہیں مثلاً اُسے شراب پینے کی لت لگی ہوئی ہے یا وہ جُوئے بازی کی لت میں پڑا ہوا ہے یا اُس کو مقدمہ بازی کی لت تھی یہ علت یا برائی کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔

عمر بھر کی روٹیاں سیدھی کر لینا

ہمارے معاشرے میں نکمے اور کم ہمت لوگ بہت ہوتے ہیں اور جسے اخلاقی توازن کہتے ہیں وہ ہمارے ہاں اکثر و بیشتر انفرادی اور اجتماعی رویوں میں مفقود ہے۔ اسی لئے لوگ کوئی ایسا حیلہ ڈھونڈتے ہیں کہ جیسے بھی ہو اچھا بُرا غلط اور صحیح مگر اُن کی گزر ہو جائے اسی کو روٹیاں سیدھی کرنا تو ایسے لوگوں کے لئے اور بھی بڑی بات ہے اب وہ فریب سے ہویا بے غیرتی سے جو بھی حربہ کام آئے۔

عمر پٹہ لکھوانا

دستاویز لکھوانے کو کہتے ہیں اب عمر بھر کے لئے تو کوئی دستاویز معقول سطح پر لکھی نہیں جا سکتی اسی لئے جس کی عمریں زیادہ ہوتی ہیں اُن کے لئے طنزیہ طور پر کہتے ہیں کہ کیا عمر بھر کا پٹہ لکھوا کر لائے ہو جو تمہارا کام برابر ہوتا رہے۔

عمر کا پیمانہ بھر جانا یا لبریز ہو جانا

جب آدمی کی عمر ختم ہو جاتی ہے تو اسے عمر کا پیمانہ بھر جانا یا لبریز ہو جانا کہتے ہیں یہ اس وقت کی ایک اہم بات ہے جب وقت کو پیمانوں سے ناپا جاتا تھا کہ کٹورے میں ایک باریک سا سُوراخ کر دیا جاتا تھا اس سے پانی رس رس کر کٹورے میں بھرتا رہتا تھا یہاں تک کہ وہ وہ کٹورا یا پیمانہ لبریز ہو جاتا تھا تو وہ یہ سمجھتے تھے کہ اتنا وقت گزر گیا اس سے زندگی کو ایک پیمانہ قرار دیکر یہ محاورہ بنا یا گیا کہ عمر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اِس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ محاورے کس طرح بنتے ہیں اور اُن کے پس منظر میں کیا سچائیاں موجود ہیں اور ان کے معنی اور معنویت کیا ہے۔

عمل بیٹھ جانا یا عمل پڑھنا

ہمارے ہاں معاشرے میں حسن عقیدت کے طور پر یہ بھی خیال پایا جاتا ہے کہ فلاں عمل پڑھنے سے اور ایک خاص وقت پر اس کو بار بار پڑھنے سے وہ کام بن جاتے ہیں جو بظاہر بہت مشکل ہوتے ہیں یا ہوتے نظر ہی نہیں آتے یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ بعض عمل پڑھنے میں کیسی غلطی یا خرابی کی وجہ سے اُلٹ جاتے ہیں اور عمل پڑھنے والا کسی نہ کسی تکلیف یا نقصان کا شکار ہو جاتا ہے اب تو اس کا رواج کچھ کم ہو گیا پہلے یہ باتیں اکثر سننے میں آتی تھیں اور لوگ عمل پڑھتے نظر آتے تھے۔

عُنقا ہو جانا یا ہونا

آدمی شروع ہی سے پرندوں سے دلچسپی لیتا رہا ہے یہاں تک کہ اُس نے کہانیاں اور داستانیں گھڑ کر اس طرح کے کردار پرندوں میں بھی پیدا کر دیئے جو واقع نہیں ہیں مگر اپنے طور پر عجیب و غریب کردار ہیں جیسے رخ اور سیمرغ پرندے جو بہت بڑے ہیں اور جن کے بارے میں خیال کیا گیا ہے کہ وہ اپنے پنجوں میں ہاتھیوں کو لیکر اڑ جاتے ہیں ایسے پرندے بھی فرض کئے گئے جو گیت گاتے ہیں اور اُن سے گیت اُن کے اپنے وجود کو جلا کر بھسم کر دیتے ہیں اور پھر وہ اپنی راکھ سے جنم لیتے ہیں۔

"ققنس" اسی طرح کا ایک فرضی پرندہ ہے"ہما"کے نام سے ایک ایسے فرضی پرندہ کا تصور بھی ہو جاتا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ قدیم مصری شہنشاہ (فرعون) اپنے سرپر ایک پرندہ نشان بنائے رکھتے ہیں غالباً ہما اب بھی اس کا تصوّر ہمارے معاشرے میں موجود ہے۔ لڑکوں کا نام ہمایوں اور لڑکیوں کے نام ظلِ ہما رکھے جاتے ہیں" عنقا" ایک ایسا پرندہ ہے جس کا تصور چین میں خاص طور پر پایا جاتا ہے کہ وہ ہے بھی اور نہیں بھی اسی لئے جو چیز غائب ہو جاتی ہے اس کو محاورے کے طور پر کہتے ہیں وہ تو عنقا ہو رہی ہے یعنی کہیں ملتی ہی نہیں۔

عیب جُوئی کرنا، عیب ڈھونڈنا، عیب لگانا

ہمارے معاشرے کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم آدمی کی خو بیاں نہیں دیکھتے اس کی نیکیوں پر نظر نہیں کرتے بلکہ خواہ مخواہ بھی اس کے کردار میں طرح طرح کے عیب نکالتے ہیں۔ اور کوشش یہ رہتی ہے کہ جیسے بھی ممکن ہو عیب تلاش کئے جائیں یا عیب تراشے جائیں اور جو خرابیاں یا خامیاں کسی میں نہ ہوں وہ کہیں نہ کہیں سے ڈھونڈ کر نکالی جائیں یہ ہمارے معاشرے کاوہ غیر انسانی اور غیر تہذیبی رو یہ ہے جو بہت عام ہے اور غالب کے اس مصرعہ میں اسی سچائی کی طرف اشارہ ہے۔

ہوتی آئی ہے" کہ اچھوّں کو بُرا کہتے ہیں

سچ یہ ہے کہ ہم نے اپنی زبان اور اپنے ادب کا مطالعہ اِس نقطہ سے کیا ہی نہیں کہ ہماری کن کِن باتوں کی طرف ہمارے اشعار ہماری کہاوتوں اور ہمارے محاوروں میں موجود ہیں۔

عیش کے بندے عیشی بندے (عیش اُڑانے والے)

ہمارے معاشرے میں ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ عیش پسند ہویا نہ ہو مگر آرام پسند ضرور ہوتے ہیں اسی لئے ہمارے ہاں آرام کرنے یا ہونے پر بہت محاورے موجود ہیں اور اسی طرح عیش کرنے پر بھی کہ وہ تو عیش کر رہے ہیں۔ عیش اُڑا رہے ہیں ایسے ہی لوگ جوہر حالت میں مطمئن رہتے ہیں اور خوش نظر آتے ہیں وہ" عیشی بندے" کہلاتے ہیں یعنی انہیں تو ہر حالت میں عیش کرنا ہے کچھ ہویا نہ ہو۔

عین غین ہونا، یا عین میں ہونا

یہ دو الگ الگ محاورے ہیں اور ان کے معنی ہیں اِدھر اُدھر کی بیکار کی باتیں سوچنا اور ذرا سی دیر میں اپنی توجہ بدل دینا غیر سنجیدہ لوگوں کا یہی رو یہ ہوتا ہے"عین" آنکھ کو کہتے ہیں اور"غین" کے معنی ہیں غائب ہو جانا ذرا سی دیر میں توجہ بدل جانا اور آدمی کا موجود ہوتے ہوئے ذہنی طور پر غائب ہو جانا عین غین ہونا کہلاتا ہے۔ عین میں ہونا جوں کا توں بالکل وہی اور اُسی جیسا ہونا عین مین ہونا ہے وہ تو عین مین ایسا ہی تھا اور اسی طرح لگ رہا تھا یہ بھی ہی کے معنی بھی یہی ہیں یعنی بالکل اُس جیسا سی سے یہ عین مین کا محاورہ بھی بنا ہے اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہم نے عربی الفاظ کو اپنے سانچے میں ڈھالا ہے۔ اور اپنی زبان میں صرف عربی لفظ داخل نہیں کئے محاورہ بھی تراشے ہیں۔


ردیف "غ"

غار ت ہونا، غارت کرنا

ہمارے ہاں وسطی عہد میں راہ زنی اور غارت گری بھی مختلف علاقوں اور گروہوں نے بطورِ پیشہ اختیار کر لی اسی لئے ہمارے ہاں جرائم پیشہ کا لفظ آتا ہے اور اس سے مراد وہ لوگ وہ ذاتیں اور قبائلی گروہ ہوتے ہیں جو طرح طرح کے جرائم میں اُلجھے ہوئے نظر آتے ہیں اُن کے غول کے غول کبھی غارت گری کرتے ہوئے آتے تھے شہروں اور بستیوں پر ٹوٹ پڑتے تھے یہاں تک کہ رات کو پچاس وپچاس کوس تک کسی بستی میں چراغ نہیں جلتا تھا کہ لوٹ مار کرنے والے نہ آ جائیں اِس محاورے میں اسی صورتِ حال کی طرف اشارہ ہے یہ لفظ دراصل غارت گر ہے جیسے مغربی یوپی کے لوگ غارت غور کہتے ہیں۔ زکا حرف ل میں بدل جاتا ہے اس اعتبار سے یہ غارت غول ہو گیا۔ اور محاورہ بن گیا۔ یہاں یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ بعض محاورے اس وقت کی صورتِ حال پر روشنی ڈالتے ہیں اور تاریخی سچائیوں کو اپنے اندر سمیٹے رہتے ہیں۔

غازی مرد

"غزوہ" اُس جنگ کو کہتے ہیں جس میں حضورؐ نے شرکت فرمائی ہوئی تھی جیسے غزوۂ بدر، غزوۂ خندق اور غزوۂ احد رفتہ رفتہ یہ تصور ایسی جنگوں کا ترجمان بن گیا جو مذہبی مقاصد کے لئے ہوتی ہیں یا ظاہر کی جاتی ہیں اور ان میں شرکت کرنے والے غازی کہلاتے ہیں اسی لئے غازی کا لفظ مسلمانوں میں بہت بہادر اور مذہبی جنگ میں حصّہ لینے والے کے لئے آتا ہے اور اپنے نام میں بھی احترام کے طور پر اس کو شامل کیا جاتا ہے یا دوسرے شامل کرتے ہیں جیسے غازی مصطفی کمال پاشا یا غازی امام اللہ خان وغیرہ غازی مرد کہنا محاورہ ہے اور اس کے معنی ہیں بہادر آدمی مذہب کے لئے لڑنے والا انسان اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسلم کلچر رکھنے والا خاص محاورہ ہے۔

غائب غُلّہ کر دینا، غتر ابود کرنا

ہمارے عام محاورات میں سے ہے جب آدمی کسی بات یا کسی سچائی کو چھُپانا چاہتا ہے تو اُس پر طرح طرح سے پردہ ڈالتا ہے اور اِدھر اُدھر کے مسائل میں یا باتوں میں اصل بات کو اُلجھاتا ہے۔ اور اس طرح سچ پر پردے ڈال دیتا ہے تو وہ اُسے غائب غلہ کر دینا کہتے ہیں اور یہ گویا عام آدمی کا طرز عمل ہوتا ہے جو وہ سچائی کو چھُپانے کے لئے اختیار کرتا ہے اس میں سب ہی شریک نظر آتے ہیں۔ "غترآلود" کرنا بھی غائب غلہ کر دینے کے معنی ہی میں آتا ہے۔

غپ شپ کرنا

ہمارے ہاں اکثر لوگوں کو باتیں کرنے اور باتیں بنانے کا شوق ہوتا ہے ہم چاہے دوکانوں کے پھٹے پر بیٹھ کر باتیں کریں یا کسی پارک میں یا بیٹھک میں یا چوپال میں جب لوگ بیٹھ کر باتیں کریں گے تو ادھر ادھر کی ضروری اور غیر ضروری باتیں بھی ہوں گی قصے کہانیاں لطیفہ چٹکلے حکایتیں روایتیں شعر و شاعری اخبار اشتہار سبھی کچھ تو اس میں آ جائے گا اور کام کی باتیں بہت کم ہوں گی اسی کوغپ شپ کرنا کہتے ہیں اور غپ شب لڑانا بھی اور نچلی سطح پر اتر کر گپ بازی کرنا یا گپ مارنا بھی گپ کے ساتھ گپ ہانکنا بھی آتا ہے اس سے ہم سماج کی نچلی سطح پر بات چیت اور ہنسی مذاق کا جو ڈھنگ ہوتا ہے اُسے بھی سمجھ سکتے ہیں۔

غٹ پٹ ہو جانا

غٹ پٹ دراصل گٹ پٹ ہے جو خود ایک محاورہ ہے اور یہ انگریزوں کی آمد کے زمانے میں رائج ہوا تھا یعنی انگریزی کے بول"بولنا" اور اسی انداز کو اختیار کرنا" گٹ پٹ کرنا" کہلاتا تھا اس کو عوام نے غٹ پٹ بنا لیا جبکہ ٹ اور غ ایک ساتھ نہیں آتے مگر ہمارے ہاں پانی پینے کے ساتھ غٹ غٹ کرنا آتا ہے یہاں بھی یہی صورت ہے اور اسی امر کی طرف ایک اشارہ ہے کہ تلفظ کس طرح بدلتا ہے اور خاص طور پر ایسے الفاظ میں جو عوام کے درمیان پہنچتے ہیں اور وہ انہیں اپنے انداز سے استعمال کرتے ہیں۔

غدر مچانا

"غدر مچنا"بھی اسی مفہوم میں شامل ہے غدر غداری کو کہتے ہیں لیکن اردو میں اس کا مفہوم کچھ اور بھی ہے اور وہی زیادہ درپیش نظر رہتا ہے یعنی بدنظمی چھین جھپٹ اور کوئی انتظام نہ رہنا۔ 1857ء میں جو یہاں کچھ ہفتوں کے لئے بدنظمی دیکھنے کو ملی تھی اور تاریخ کا ایک حصّہ بن گئی وہ ہماری زبان کے اس محاورے میں بدل گئی اب جب بھی یہ کہتے ہیں کہ اس گروہ یا اس گروہ نے بدنظمی بد انتظامی Lawless لالیس کو پیدا کر دیا اس کو یہ کہتے ہیں کہ غدر پھیلا دیا غدر مچا دیا ایسا 1974؁ء میں بھی ہوا تھا اور تاریخ میں اس کی بہت مثالیں مل جاتی ہیں۔

محاورے کچھ تاریخی واقعات سے متعلق ہیں کچھ سماجی رویوں سے کچھ خاص طرح کے اداروں سے جب محاوروں کی لفظیات اور پس منظر پر غور کیا جاتا ہے تب یہ سچائیاں سامنے آتی ہیں۔

غرض کا باؤلا، (اپنی غرض باؤلی ہوتی ہے)

ہمارے ہاں جو بھی سماجی صورت حال رہی ہے وہ ایک کے بعد دوسرے پر اثرانداز ہوتی رہی اور انسانی بحیثیت ایک فرد اور ایک خاندان کا رکن ہونے کی صورت میں خود غرضی اختیار کرتا رہا۔ پیسے کا معاملہ ہو یا زمین جائداد کا یا حقوق و فرائض کا خود غرض افراد اپنی مقصد براری کے لئے دوسروں پر ذمہ داری ڈالنا چاہتے ہیں اور خود ذمہ داریوں سے بچنا چاہتے ہیں اور اس طرح کا رو یہ اختیار کرتے ہیں کہ جیسے انہیں خود کچھ پتہ نہیں۔ اِسی طرح جب کسی سے غرض وابستہ ہوتی ہے تو صحیح و سفارش سے خوشامد درآمد سے یا پھر زور زبردستی سے اپنا کام نکالنا چاہتا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ باؤلا نہیں ہے بلکہ اپنی غرض کا باؤلا ہے اور جیسے بھی ہو اپنا کام نکالنا چاہتا ہے کہ اس کے افعال اس طرح اپنے مسائل کو حل کرتے ہیں اور بظاہر سیدھے سادھے مگر اپنی غرض کے پیچھے باؤلے بنا رہنا چاہتے ہیں۔ "غرض کے یار" بھی یہی مفہوم رکھتا ہے۔

غرّہ بتانا، غرّہ کرنا

ویسے تو چاند رات کو غرّہ کہتے ہیں لیکن اُردو محاورات میں"غرّہ" بہ معنی غرور و تکبر بھی آتا ہے کہ وہ اپنے خاندان اپنی ملازمت یا اپنی تعلیم و شہرت پر بہت غرور کرتا ہے یا پھر غرہ بتاتا ہے جس کے معنی ہوتے ہیں اِدھر اُدھر کے بہانے کرنا۔

چاند ہوتا ہے تو وہ غرّہ بتا تا ہے مجھے

یہ مصرعہ اسی محاورے کو پیش کرتا ہے اِس سے ہم اپنے معاشرے کے مزاج کو جان سکتے ہیں کہ عام طور پر لوگوں کا رو یہ دوسروں کے ساتھ کیا رہتا ہے۔

غسل کی حاجت ہونا

یہ ایک خاص طرح کا محاورہ اور اِس سے یہ مراد لیا جاتا ہے کہ مذہبی طور پر بد خواب ہونے یا عورت سے ہمبستر ہونے کے بعد غسل واجب ہو جاتا ہے اس طرح کا مسئلہ دوسری قوموں میں بھی موجود ہو سکتا ہے لیکن مسلمانوں میں خاص طور پر اس کا اہتمام کیا جاتا ہے اور خیال رکھا جاتا ہے کہ اگر ایسی کوئی صورت ہو تو پاکی حاصل کرنے کے لئے غسل کر لیا جائے۔

غش ہونا، یا غش کھا کر گِر جانا

یہ کمزوری میں ہو سکتا ہے اور کچھ خاص حالات میں جیسے خون کو دیکھ کر طبیعت پر غشی طاری ہونا یا کسی خوفناک منظر سے غیر معمولی تاثر لینا یا پھر کسی کے حُسن و جمال پر بے طرح عاشق ہو جانا۔ اور اپنے ہوش و حواس میں نہ رہنا جسے غش ہونا کہتے ہیں اور کمزوری کے باعث ہوش کھو دینا غش آ جانا کہلاتا ہے جس کے معنی ہوتے ہیں غشی طاری ہونا۔

غصّہ پینا، غصّہ تھوک دینا، غصّہ دلانا، غصہ آنا

ہماری انسانی عادتوں فطری کمزوریوں اور سماجی رویوں میں جو بات بطورِ خاص شامل رہتی ہے وہ بغض و نفرت حقارت بھی ہے اور اُن کے پس منظر میں موجود ہے غصہ میں آدمی کو اپنے اوپر قابو نہیں رہتا وہ شدید جذباتی عمل اور ردِ عمل کا شکار رہتا ہے اُس کی نفسیات میں عدم توازن پیدا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ غصّہ میں آدمی خودکشی بھی کر لیتا ہے اور دوسرے کو قتل بھی کر دیتا ہے۔

"جگر" چبانا اور خون پینے کا عمل بھی غصّہ ہی کا اظہار ہے اسی لئے ہمارے یہاں غصہ کو کم کرنے کے لئے یہ بھی کہا جاتا ہے ذرا غم کھا ٹھنڈا پانی پی غصّہ تھام یہ محاورہ گلزارِ نسیم میں غصّہ تھامنے سے متعلق شعر اس طرح آیا ہے۔

تھمتا نہیں غصہ تھا منے سے
چل دُور ہو میرے سامنے سے

اسی میں اس طرح کے محاورے شامل ہیں غصہ تھوک دو یا غصہ پی جاؤ اگر دیکھا جائے تو ان محاوروں میں جذبات کے لحاظ سے غصّہ کا آنا بھی شامل ہے۔

چرنجی لال نے غصہ میں بھُوت بن جانا محاورہ بھی دیا ہے مگر اس کا استعمال عام نہیں ہے ہاں سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ شدید غصّہ کی حالت میں آدمی آدمی نہیں رہتا بھوت بنا ہوا نظر آتا ہے۔

غضب آنا یا ٹوٹنا، غضب توڑنا، غضب میں پڑنا، غضب ہونا

غضب غیر معمولی غصّہ کو بھی کہتے ہیں اور غضب ناک ہونا بولتے ہیں اور جب کوئی بیحد پریشان کُن اور تباہ کرنے والی صورت پیش آتی ہے تو اس کو قہر نازل ہونا یا غضب آنا کہتے ہیں جیسے کوئی کہے کہ دلی میں نادر شاہ درانی کیا آیا یہ کہئے کہ غضب آگیا ویسے بھی غضب کا استعمال اُردو زبان میں غیر معمولی صورت حال کے لئے بہت ہوتا ہے کیا غضب کا گانا تھا کیا غضب کی آواز پائی ہے یا کیا غضب کا حافظہ ہے۔

غضب توڑنا یا غضب ٹوٹنا یا غضب ڈھانا یہ بہت عام ہیں اقبال نے اپنے شعر میں غضب کیا محاورہ استعمال کیا ہے۔

تو نے یہ کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کر دیا

میں ہی تو ایک راز تھا سینہ کائنات میں

غُلام کرنا یا غُلام بنانا

غلام کا لفظ انسان یا گروہِ انسانی کے لئے توہین آمیز ہے اور دوسری قوموں کی ماتحتی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ انسانوں کو غلام بنا کر خرید و فروخت کرنے کا رواج بھی رہا ہے اور صدیوں تک رہا ہے زر خرید غلام ہونا بھی اسی کی طرف ایک اشارہ ہے حضرت یوسف ؑ بھی غلام بنائے گئے اور مصر کے بازار میں بیچے گئے تھے غلام بنا کر رکھنا کسی شخص کو نوکروں سے بدتر درجہ دینا ہے اور یہ کہنا وہ تو ان کی مرضی کا غلام ہے اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس کی کوئی خواہش یا خوشی نہیں ہے۔

جس طرح مختلف اشیاء اور بھیڑ بکریوں ہاتھی گھوڑوں کے بازار لگتے تھے اسی طرح عورتوں مردوں اور بچوں کے لئے بھی بازار لگتے تھے اب یہ الگ بات ہے کہ تاریخ میں وہ وقت بھی آیا جب غلاموں نے بادشاہت کی اقبال نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے۔

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرارِ شہنشاہی

جواہر لال نے ایک موقع پر لکھا ہے

"There is none to defend slavery now a days But great Plato held that it was necessary۔ "

اِس کا ترجمہ یہ ہے آج کوئی غلامی کی حمایت نہیں کرتا لیکن عظیم" افلاطون" یہ سمجھتا تھا کہ یہ ضروری ہے اسی وجہ سے ہمارے ہاں غلام غلامی اور اسی کے ساتھ کنیزوں باندیوں کے متعلق بہت محاورے موجود ہیں۔

غلام خرید ے بھی جاتے تھے اور تحفہ کے طور پر پیش کئے جاتے تھے کنیزوں اور باندیوں کے ساتھ ساتھ بھی یہی صورت بھی"رومی تہذیب" میں تو غلاموں کے ساتھ بہت بُرا سلوک ہوتا تھا ان کی بوٹیاں چیل کوؤں کو کھلائی جاتی تھیں۔ انہیں وحشی جانوروں سے لڑایا جاتا تھا۔ سُولی جیسی سخت سزا بھی رومیوں ہی کی ایجاد ہے اپنے غلاموں کے ساتھ اُن کی بدسلوکی اور ظالمانہ رو یہ تاریخ کی المناک کہانیوں میں سے ہے۔

غُلام مال

جو چیز بہت سستی مگر مضبوط اور پائیدار ہوتی تھی وہ غلام مال کہلاتی تھی امیروں کے محل میں کچھ خاص راستہ غلام گردش کہلاتے تھے۔ اب بھی کہتے ہیں ماضی کی غلام گردشوں سے گزرتے ہوئے یعنی اُن حالات کا مطالعہ کرنے کے دوران جو تاریخ کے صفحات میں موجود ہیں اور غلاموں نیز باندیوں سے متعلق ہیں۔

غُلامی کا خط لکھنا(خطِ غلامی لکھ دینا)

اُس وقت کہتے ہیں جب آدمی کوئی شرط ہار جاتا ہے کہ خط کے معنی ہیں یہاں تحریر یا دستاویز کہ اگر میں شرط ہار گیا یا میری بات غلط ثابت ہوئی تومیں خط غلامی لکھ دوں گا یا آپ کا غلام ہو جاؤں گا ہمارے معاشرے میں تو بات یہاں تک آتی تھی کہ دیکھو اگر تم شرط ہا ر گئے یا تمہارا جھوٹ ثابت ہو گیا تو تم کان ناک دیکر آؤ گے یا تمہارے کان کاٹے جائیں گے یا ناک یعنی تم بے عزت ہو جاؤ گے اس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں بات کی پچ کیسے نبھائی جاتی تھی یا اُس پر زور دیا جاتا تھا قبائل معاشرے میں یہ باتیں زیادہ دور دراز انداز میں یا دعووں کے ساتھ کی جاتی تھی اور اس طرح ہمارے یہ محاورے ایک خاص دور کے ذہن و کردار کو پیش کرتے ہیں۔

غلامی میں دیتا ہوں، یا غلامی میں دینا

ہمارے ہاں گفتگو کے جو آداب ہیں اور سوچنے کا جو ڈھنگ ہے اُس کے مطابق انکساری برتنا آدابِ گفتگو کا حصّہ ہے جب کسی لڑکے کا رشتہ بھیجا جاتا ہے تو لڑکی والوں کے احترام کے خیال سے یہ کہا جاتا ہے کہ میں اپنے بیٹے کو آپ کی غلامی دینا چاہتا ہوں یعنی یہ میرے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ آپ ہمارے ساتھ رشتہ داری کو قبول کر لیں اب یہ الگ بات ہے کہ اس لڑکی کے ساتھ جس کو کنیز یا باندی بنا کر دیا جاتا ہے سسُرال میں مشکل ہی سے کوئی اچھا سلوک ہوتا ہے اس سے ہم یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہمارے ہاں کہنے اور کرنے میں بہت فرق رہتا ہے اسی لئے ہم دوسروں پر اعتبار نہیں کرتے اور بات کو پلٹنا بھی ہم سماجی طور پر کوئی عیب خیال نہیں کرتے۔

غم غلط کرنا

آدمی جب غموں سے گزرتا ہے تو ایک سے زیادہ تعیناتی اور سماجی تجربوں سے بھی گزرتا ہے۔ جس میں اُس کے حالات وخیالات شامل رہتے ہیں مثلاً کوئی اُسے خواری کرنے والا مل جائے اور اُس کے غموں میں شریک ہو جائے یہ بھی ہوتا ہے اور یہ آدمی کے اپنے حوصلہ اپنی ہمت عقل و شعور یا کسی خیال عقیدہ کے مطابق ہوتا ہے کہ وہ غموں پر صبر کرے جسے غم کھا نا کہتے ہیں جب دوسرے یہ کہتے ہیں یہ صبر کرنے اور ہمت سے کام لے۔

اُس کے مقابلہ میں جب آدمی اپنے غم کے احساس کو کم کرنے کے لئے سیر و تفریح کرتا ہے یا آج کل کے حالات میں زیادہ ٹی وی دیکھتا ہے یا کچھ لوگ پڑھنے لکھنے سے زیادہ دلچسپی لیتے ہیں تو اُسے غم غلط کرنا کہتے ہیں یعنی وہ اسطرح اپنے غم کے احساس کو اِدھر اُدھر کرنے کی کوشش کرتا ہے یہ سماج کا ایک اچھا رو یہ ہوتا ہے بشرطیکہ آدمی کوئی دوسرا غم نہ خرید لے اور کسی نئی مصیبت میں مبتلا نہ ہو جائے مثلاً لوگ جوئے شراب تماش بینی اور یار باشی کے عادی ہو جاتے ہیں۔

غوزیں لڑانا

ہمارے ہاں بہت سے محاورے باتیں کرنے کے ڈھنگ اور رویوں سے متعلق ہیں باتیں سب کرتے ہیں لیکن باتیں کرنا سب کو نہیں آتا اس میں موقع و محل کی مناسبت دیکھنا بھی شامل ہے۔ جو عام طور پر لوگ نہیں دیکھتے خواہ مخواہ کی باتیں کرنا اپنوں کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانا یا اپنی بہادری اور بڑائی کے طرح طرح سے موقع بہ موقع پہلو نکالنا یہ سب ہماری سماجی عادتوں میں شامل ہے۔ ایسی باتوں کو ڈینگ مارنا بھی کہتے ہیں اور ڈینگ ہانکنا بھی اس کے لئے"چرنجی لال" نے ایک محاورہ غوزیں مارنا بھی شامل کیا ہے جو اجنبی محاورہ ہے ممکن ہے یہ غزوہ مارنا سے نکلا ہوا اور اس کا مطلب ہو بہت سی لڑائیوں معرکوں میں حصہ لینے اور کامیاب ہونے کا ذکر کرنا ہے۔

اس سے سماج کے اس رو یہ کا پتہ چلتا ہے کہ لوگ کس حد تک اُوٹ پٹانگ باتیں کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں اور گپ شپ ہانکنے میں اس حد تک یقین ہوتا ہے کہ اس کی برائی پر کبھی اس کی توجہ نہیں جاتی۔

غیرت سے مر جانا، یا غیرت کھا کے ڈوب مرنا

غیرت شرافت پر مبنی ہے جس کے تحت آدمی نقصان اُٹھا لیتا ہے تکلیفیں برداشت کر لیتا ہے۔ اور کبھی شکایت بھی نہیں کرتا اور اگر اس سے کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو حیاء و شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہے بلکہ ایک طرح سے ڈوب مرتا ہے کہ پھر کسی کو منہ نہیں دکھلا سکتا ہمارے ہاں لوگ طعنہ بھی دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اگر غیرت ہو تو ڈوب مر یا کوئی غیرت مند ہوتا تو ڈوب مرتا۔

اِ س سے ہم سماج میں کن باتوں کو اہمیت دی جاتی رہی ہے اُس کا اندازہ کر سکتے ہیں آدمی کوئی بات اپنی عملی زندگی میں شامل کرتا ہو یا نہ رکھتا ہو اُس پر زور ضرور دیتا ہے۔

غیر حالت ہو جانا، یا (حالت غیر ہو جانا)

اِس کے معنی ہوتے ہیں کہ حالت بہت خراب ہو گئی اور اس سے مزید ہمارے اور معاشرے کی اس نفسیات کا علم ہوتا ہے کہ وہ غیر کوکس برے اور کتنے بڑے معنی میں استعمال کرتے ہیں کہ اگر کسی مرضی کسی تکلیف کسی پریشانی کی وجہ سے حالت خراب ہوتی ہے تو اُسے خراب کہنے کے بجائے غیر ہونا کہتے ہیں۔


ردیف "ف"

فاتحہ پڑھنا

جب کسی مرے ہوئے شخص کو یاد کیا جاتا ہے تو دُعا کے ساتھ یا د کیا جاتا ہے۔ "الحمد" جو سورہ فاتحہ کہلاتی ہے اور چاروں قل پڑھ کر مرنے والے کی رُوح کو ثواب پہنچایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں فاتحہ دینے کا بھی رواج ہے اور ایسے موقع پر بعض عزیزوں کو بُلایا بھی جاتا ہے۔ اور فاتحہ کا کھانا پکتا ہے غریبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ لیکن سماج میں اس کا ایک دوسرا تصور بھی ابھر آیا اور وہ ہے اظہارِ بے تعلقی کرنا اور ایک طرح سے لَعنت بھیجنا کہ اس پر فاتحہ پڑھ لو یعنی اس ذکر کو ختم کر لو اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ مقدس معنی کس طرح سماجی رو یہ کے ساتھ غیر متبرک معنی میں بدل جاتے ہیں صلواۃ بھی اسی کی ایک مثال ہے کہ اس کے معنی درُود و سلام کے ہیں لیکن ہمارے اپنے محاورے میں لعنت و ملامت کے ہو گئے ہیں۔

فاختہ اُڑانا

فاختہ ایک پرندہ ہے جو آبادیوں میں رہتا ہے لیکن پالا نہیں جاتا آدمی اس سے بہت کم مانوس ہوتا ہے ہمارے ہاں کبوتر پالے بھی جاتے ہیں اور اُڑائے بھی جاتے ہیں شہروں قصبوں میں کبوتر اُڑانے کا رواج عام ہے۔ فاختہ کوئی نہیں اڑاتا مگر خلیل خاں ایک فرضی کردار ہے جو حماقت کی باتیں کرتے ہیں اور حماقت کی باتوں میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ فاختہ اڑاتے ہیں اس طرح سے فاختہ اُڑانا بے وقوفی کا عمل ہے اور محاورے میں اسی کی طرف اشارہ ہوتا ہے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس طرح کے محاورے خاص حاص کرداروں کے نمائندہ ہوتے ہیں۔

فارسی کی ٹانگ توڑنا

زبان کے معاملہ میں شہری آبادی کا ایک خاص رو یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے محاورے اور روزمرہ پر زور دیتے ہیں اور دوسروں کی بولی کو ٹکسال باہر قرار دیتے ہیں۔ میر تقی میر نے ایک موقع پر کہا تھا کہ میر کے کلام کے لئے جامع مسجد کی سیڑھیاں ہیں یا محاورۂ اہلِ دہلی ہے۔

انشاء اللہ خاں نے دہلی کے کچھ خاص محلے کی زبان کو مستند قرار دیا ہے اس سے زبان کے معاملہ میں اہلِ دہلی کی رائے اور ترجیحات کا پتہ چلتا ہے فارسی والے بھی ایسا ہی سوچتے تھے اور خاص طور پر ہم اردُو والوں میں غالب کو یہ دیکھتے ہیں کہ وہ ہندوستان کے فارسی والوں کو بُرا سمجھتے ہیں اور اہلِ زبان کے مقابلے میں بہت کم تر درجہ دیتے ہیں یہی وہ ماحول ہے جب عام فارسی جاننے والوں کے لئے کہا جاتا ہے کہ وہ فارسی کی ٹانگ توڑتے ہیں۔

فارغ خطی لکھوانا

اِس کو عام لوگ اپنے لب و لہجہ میں فارخطی بھی کہتے ہیں اور یہ ایسی دستاویز ی تحریر کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعہ کسی کو آزاد کر دیا جاتا ہے۔ وہ چاہے قرض کی ادائیگی سے متعلق ہویا نکاح و شادی بیاہ کے بارے میں۔ اِس سے مُراد یہ ہوتی ہے کہ اُس کی ذمہ داری اب کوئی نہیں رہی ہے اِسی کو فارغ خطی لکھنا کہتے ہیں۔

فاقہ مستی ہونا

ہندوستان میں غربت و افلاس بہت ہے مغلوں کے آخری دور میں یہ صورتِ حال اور بھی زیادہ تکلیف دہ اور پریشان کُن رہی ہے اکثر خاندانوں میں فاقہ ہوتے تھے اور لوگ انہی کے عادی ہو جاتے تھے اور اسی حالت کو فاقہ مستی کہا جاتا ہے۔ ایک سطح پر عیشِ امروز سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

فردِ باطل ہونا، یا فرد باطِل قرار دیا جاتا

"فرد" دستاویزی تحریر کو بھی کہا جا تا ہے اس میں صلح نامہ کی شرطیں بھی ہو سکتی ہیں اور کوئی ضروری حساب کتاب بھی اب یہ ظاہر ہے کہ معاشرے میں جو بددیانتی موجود ہے اُس کے باعث یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی جعلی دستاویز تیار کر لی جائے یا کسی صحیح تحریر کو فرد باطل قرار دیا جائے یعنی جھوٹی دستاویز۔

فرزندِ نا خلف

ہمارے خاندانوں میں ماں با پ یا باپ دادا کی وِراثت کے حق دار بیٹے ہوتے ہیں لڑکیاں اپنا حصہ لے سکتی ہیں لیکن ایسا بھی دشوار ہو رہا ہے کہ وہ معاف کر دیتی ہیں شادی بیاہ یا دوسرے خوشی کے موقعوں اپنا حق یا نیگ وصول کرتی ہیں جب کہ اصولی طور پر یہ حق اپنی جگہ پر قائم ہوتا اور نیگ کی حیثیت اخلاقی اور رسماً ہوتی ہے شرعی نہیں۔

فرشتے خاں

سماج کا ایک خاص کردار کوئی ایسا شخص بھی ہو سکتا ہے جواپنے آپ کو دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ بڑی چیز رکھتا ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ واسطے میں لوگ اپنے کئی رشتے دار عزیز یا پڑوسی کو اس طرح کا کردار ثابت کرانا چاہتے ہیں کہ وہ تو اپنے آپ کو بہت فرشتہ خاں سمجھتا ہے یہ کردار یا اِس طرح کی مصنوعی کردار کے ایک خاص سطح پر نفسیاتی رو یہ کی نشاندہی کرتی ہے۔

فرشتے دکھائی دینا

ویسے تو فرشتہ استعارے کے طور پر ایک نیک اور بھلے آدمی کو کہتے ہیں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی آدمی اپنے سادہ پن کی وجہ سے کسی بڑے آدمی کے بارے میں اچھا خیال رکھتا ہو تو طنز کے طور پر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آ پ کو تو سب ہی فرشتے دکھائی دیتے ہیں۔

ہمارے ہاں اِس طرح کے خیالات بھی رائج رہے ہیں کہ موت سے پہلے فرشتے دکھائی دیتے ہیں یا قربانی کے جانور کو فرشتے چھُریاں دکھاتے رہتے ہیں اِس طرح کے خیالات اور توہمات ہماری سماجی زندگی میں موقع بہ موقع کا ر فرما نظر آتے ہیں۔

فرشتے کے پر جلنا

فرشتہ ایک غیبی مخلوق ہے ہم بہت سی ایسی مخلوقات کے قائل ہیں جن کا خارج میں کوئی وجود نہیں وہ غیبی قوتوں کی علامتیں ہیں جن کو ہم نے ایک وجود کے ساتھ مانا ہے اُن میں دیوی دیوتا بھی ہیں اور فرشتے بھی مسلمان یہود اور عیسائی قومیں چار ایسے فرشتوں کی قائل ہیں جو خُدا کے بہت مُقرب فرشتے ہیں اُن میں جبریلؑ ہیں جبریلؑ خدا کا پیغام لے کر انبیاء اور رسولؐ کے پاس آتے ہیں۔ "میکائیل رزق پہنچانے والا فرشتہ ہے"عزرائیل موت کا فرشتہ ہے اور اسرافیل قیامت کا۔ ہم فرشتوں کا بہت احترام کرتے ہیں۔ اور حضرت کہہ اُن کو یاد کرتے ہیں۔

عرب جو فرشتوں کا تصور رکھتے ہیں اس میں پربھی لگے ہوتے ہیں یعنی وہ پرندوں کی طرح"پروں"کے ساتھ اُڑ سکتے ہیں یہاں سے وہاں جا سکتے ہیں اسی لئے فرشتے اُن کے نزدیک بازوؤں والے ہیں۔

ہندوستان میں دیوی دیوتاؤں کے"پر" نہیں ہیں اسی لئے فرشتوں کے پر گننا شاید یہاں کا محاورہ بھی نہیں۔ بعد اس کے یہ کہ فلاں آدمی تو اتنا عقلمند اور غیر معمولی طور پر لائق ہے کہ جو فرشتے کسی کو نظر نہیں آتے یہ اُن کے"پر" گِن لیتا ہے یہ نظر داری اور خبرداری کی بہت ہی غیر معمولی صُورت ہے مگر اس میں اظہار طنز کے طور پرکیا جاتا ہے۔

فرشتے کے"پر" کا تصور کرتے ہوئے ایک دو محاورہ اور بھی ہیں مثلاً وہاں فرشتہ پر نہیں مار سکتا یعنی اتنی پردہ داری یا پابندی اور پہرہ داری ہے کہ فرشتہ بھی وہاں نہیں پہنچ سکتے۔ اسی سے ملتا جلتا یہ محاورہ بھی ہے کہ وہاں جانے میں تو فرشتوں کے پر جلتے ہیں اور غالباً اس محاورہ کی بنیاد یہ خیال ہے جو فارسی کے ایک شعر میں آیا ہے کہ معراج کی شب میں جبرائیلؑ حضور اکرم ؐکے ساتھ تھے اور سدرۃ المنتہیٰ تک ساتھ رہے لیکن یہاں پہنچ کر انہوں نے اپنا ساتھ اس لئے نہیں دیا کہ اس سے آگے جانا ان کے لئے سوئے ادب تھا۔

اگر یکسرے مُوئے برتر پَرم

فروغ تجلی بسوزد پرم

اگرمیں ایک سرِمُو بھی اور آگے بڑھوں تو تجلیات کا فروغ میرے پاؤں کو جلا دے گا

یہاں صاف صاف پتہ چلتا ہے کہ بعض محاورے اپنی بنیادی فکر کے اعتبار سے ہندوستان سے باہر کی تہذیبی فضاء اور عقائد و اعمال سے نسبت رکھتے ہیں کہ جس طرح اُردُو زبان میں الفاظ اور تصورات میں بین ایشیائی عناصر کو جمع کیا ہے اسی طرح اُن کا عکس محاورات میں بھی آتا ہے۔

نیزیہ کہ محاورہ تجربہ سے بھی پیدا ہوتا ہے ہمارے سماجی شعور سے اور تہذیبی روایتوں سے بھی اور جس طرح شعر لطیفے اور فنونِ لطیفہ کے مختلف نمونے ہیں جو ہمیں تاریخ کے مختلف مرحلوں سلسلوں اور جہتوں سے واقف کرتے ہیں۔

فرش سے عرش تک

یہ فارسی ترکیب ہے اور ایک طرح کے محاوراتی معنی رکھتی ہے فرش زمین اور عرش آسمان درمیان میں وہ تمام مادی دنیا یا مختلف عناصر سے متعلق وہ ماحول جو خلاء میں موجود ہے۔ ایسی صورت میں جب یہ کہا جاتا ہے کہ فرش سے عرش تک کہ تمام اَسرار منکشف ہو گئے تو اُس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ اِس دنیا میں افق سے تابہ افق جو چکھ ہے و ہ ایک بھید بھری دنیا ہے۔ اور وہ سب بھید منکشف ہو گئے ہیں اکثر صوفیاء کے ذکر میں اِس صورت حال کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے ویسے یہ کوئی محاورہ نہیں ہے بیان کا ایک خاص شاعرانہ اسلوب اور صوفیانہ طرزِ ادا ہے۔

فرشی حقّہ

یہ بھی محاورہ نہیں ہے بلکہ ایک اصطلاح ہے ایسے حقے کو فرشی حقہ کہتے ہیں جس کا وہ حصّہ جس میں پانی بھرا رہتا ہے فرش پر ٹِکا رہتا ہے اِس کے مقابلہ میں پیچواں ایک دوسری طرح کا حقہ ہوتا ہے جس کی نالی بہت لمبی ہوتی ہے اور پیچ در پیچ رہتی ہے اس کو فرش سے اُٹھا کر محفل میں اِدھر اُدھر گھمایا بھی جا سکتا ہے۔ یہی صورت فرشی سلام کی بھی ہے کہ بہت جھک کریا زمین کو چھُو کر جو سلام پیش کیا جاتا ہے اُسے فرشی سلام کہتے ہیں یہ بھی محاورے کے بجائے ایک اصطلاح ہے۔ معاشرتی اور تہذیبی اِصطلاح ہے۔

فرعونِ بے سمان

مسلمانوں میں بعض ایسے کرداروں کا بھی روایتی طور پر بطورِ محاورہ یا کسی شعر میں بطورِ تلمیح استعمال ہوتا رہتا ہے اُن میں سے افلاطون ایک کردار ہے جو اپنے زمانے کا بہت بڑا فلسفی طبیب اور ماہرِ اخلاقیات تھا یہ" ارسطو" کا اُستاد بھی تھا اسی لئے علمی کتابوں میں اِس کا ذکر بطورِ فلسفی اور حکیم آتا ہے ایک اردو محاورے میں جب یہ کہا جاتا ہے کہ وہ بڑا افلاطون بنا ہوا ہے یعنی اپنے آپ کو بہت عقل مند سمجھتا ہے اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتا کسی کی بات نہیں مانتا یہی صورت"فرعون" کے ساتھ ہے۔

وہ مِصر کا بادشاہ تھا اور مِصر کے بادشاہ ہوں کو اُن کے لقب کے طور پر فرعون کہا جاتا تھا ہم فرعون کا ذکر حضرت موسی کے زمانے میں جو فرعون تھا اُس کے حوالے سے کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ وہ تو بہت بڑا بادشاہ تھا اس کے پاس ساز و سامان بہت تھا۔ لاؤ لشکر بہت تھا لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے رو یہ میں فرعونیت رکھتے ہیں بہت سفّاک بے باک اور بے رحم ہوتے ہیں یا خود پسند ہوتے ہیں وہ" فرعون" بے سامان کہلاتے ہیں یہ گویا تاریخی اور روایتی تصورات کے ساتھ اپنے سماجی کردار کو سمجھنے کی کوشش ہے اور اُس پر کمینٹ ہے۔

فرنٹ ہو جانا

فرنٹ انگریزی لفظ ہے اور اُس کے معنی ہیں سامنے ہونا، اسی لئے جب فوج اپنے مقابل سے لڑتی ہے تو اُسے فرنٹ پر دشمن کا مقابلہ کرنا کہا جاتا ہے۔

اُردُو میں محاورہ کے طور پر یہ لفظ آیا تو اُس کے معنی دوسرے ہو گئے یعنی وہ مخالف ہو گیا اور ہمارا ساتھ چھوڑ کر بھاگ گیا ویسے فرنٹ کا لفظ قصباتی یا دیہاتی زبان میں نہیں آتا لیکن محاورہ میں شامل ہو کر یہ بہت سے ایسے گھروں میں پہنچ گیا جو انگریزی سے بالکل ہی ناواقف ہیں اس سے ہم یہ نتیجہ بھی اخذ کر سکتے ہیں کہ لفظوں کو اپنانے پھیلانے اور محفوظ کرنے میں محاورہ ایک خاص کردار ادا کرتا ہے۔

فراٹے بھرنا

دوڑنے کا وہ خاص انداز ہے جو ہرِنوں کے دوڑنے سے تعلق رکھتا ہے اسی لئے جب کوئی جانور بہت تیز دوڑتا ہے تو اُسے فراٹے بھرنا کہتے ہیں۔ اب دوڑنا ایک محاوراتی لفظ خود بھی ہے۔ آدمی ایک معاملہ میں تیز دوڑتا ہے یعنی تیزی سے آگے بڑھتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ اُس کا ذہن تو ہرنوں کی طرح فراٹے بھرنے لگا۔ یہاں پھر ذہن اِس طرح منتقل ہوتا ہے کہ انسان اپنے مُشاہدے کو زندگی میں تجربے اور تجزیے سے گزارتا تھا تو اسے کبھی شعر میں لا تا تھا کبھی کہانی میں کبھی لطیفے کے طور پر اور کبھی اُسے محاورے میں لاتا تھا اور یہاں پہنچ کر اُس کا مشاہدہ ایک ذہنی رو یہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور سماجی حیثیت میں بدل دیتا ہے۔

فساد کی جڑ

"فساد" کے معنی اُردُو میں دنگا کرنا ہے اسی لئے ہم کہتے ہیں دنگا فساد کرنا فتنہ پھیلانا خواہ مخواہ جھگڑوں کا سلسلہ شروع کرنا۔ یہ گھریلو سطح پر ہو کنبے قبیلے کی سطح پر ہو یا پھر عالمی سطح پر قرآن میں فتنہ پھیلانے یا فساد کے اسباب پیدا کرنے کو قتل سے زیادہ شدید بات بتلایا ہے۔

عام طور پر سماج میں بدنظمی کھینچا تانی باہمی کشمکش یا ہنگامے پیدا کرنے کو فساد برپا کرنا کہا جاتا ہے اور جو بات جو لوگ اس کا سبب ہوتے ہیں انہیں یا اُس بات کو سبب قرار دیا جاتا ہے اس سے ہم معاشرے کے مزاج اُس کے عمل اور ردِ عمل یا پھر اصل سبب یا

بنیاد کو دریافت کرنے کی کوشش یا صلاحیت کا اظہار ہوتا ہے۔

فقرہ بازی کرنا فقرہ کہنا

بعض لوگ محفل نشینی کے باعث یونہی بے بنیاد بے تکی غیر سنجیدہ موقع بے موقع فقرے کسنے کی عادت ڈال لیتے ہیں اُسے فقرہ اڑانا بھی کہتے ہیں فقرے اُچھالنا بھی اور بعض موقعوں پر اس کی صورت فقرہ تراشی کی بھی ہو جاتی ہے فقرہ لگا نا بھی ایسے ہی موقعوں پر بولا جاتا ہے موقع و محل کے لحاظ سے تھوڑا فرق بھی ہو سکتا ہے لیکن سماجی رو یہ کے لحاظ سے اس کے مزاج و معیار اور مقصدیت میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔

فقیر کر دینا، فقیری لٹکا، فقیری نسخہ

فقیر کے معنی بہت غریب اور بھوکے ننگے آدمی کے بھی ہیں اور ایسے شخص کے بھی جس نے درویشی اختیار کر لی مگر زیادہ تر محاوروں میں فقیر کر دینا فقیر ہو جانا بے سہار اور پیسے ٹکے کے لحاظ سے بالکل خالی ہاتھ ہو جانا ہے۔

بھُوکے ننگے فقیر ایک ساتھ استعمال ہوتا ہے اب کسی شہزادے یا شہزادی یا بڑے آدمی کا اپنے آپ کو فقیر لکھنا عاجزی و انکساری ظاہر کرنے کے لئے ہوتا ہے اس محاورے کے دو رخ جن کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سماج زبان کا استعمال کن کن معنی اور پہلوؤں سے کرتا ہے۔ اور کس طرح سوچ کی سطح بدل جاتی ہے۔

فقیر کا لٹکا ایسے کسی شوق کو کہتے ہیں جو عام طور پر اُن فقیروں میں آ جاتا ہے جو دھُونی رمائے ؂پیتے ہیں اور اِس طرح نشہ کرتے ہیں۔

فلک سیر ہونا، فلک بوس ہونا

آسمان پر چڑھنا، آسمان کی سیر کرنا، آسمانوں کو چھونا دراصل آسمان پر ہونا یہی سب محاورے فلک سے متعلق بھی ہیں مثلاً فلک بود میں پہاڑ یا عمارتیں فلک ایک کردار کے طور پر بھی اُردو شاعری میں آتا ہے آسمان کو بُرا کہا جا تا ہے دشمن قرار دیا جاتا ہے اسی طرح فلک کو بھی انسان کی عافیت کا دشمن کہا جاتا ہے۔

فنا فی اللہ ہونا

صوفیوں کی اصطلاح ہے اُردو میں ہی قریب قریب اسی معنی میں رائج ہے"فنا فی اللہ" یعنی اللہ کی مرضی اُس کی خواہش اور اُس کی محبت میں خودی کے تصور سے گزر جانا اور اُس مادّی دنیا اور اس کے علائق سے انکار کر دینا اور یہ کہنا کہ اللہ کے سوا یہاں کوئی موجود ہی نہیں ہے اور جب اس صورتِ حال کو پہنچ کرنا اس میں گم ہو کر آدمی حقیقت وجود کو تسلیم کرتا ہے تو وہ گویا اب بقایا اللہ کو جان رہا ہے یعنی اب میں اللہ کے تصوّر اور اُس کی حقیقتِ عالی کے افراد کے ساتھ جی رہا ہوں میرا اپنا کوئی وجود نہیں یہ محاورہ ایک طرح سے خانقاہی ماحول اور اہلِ خانقاہ کے فلسفیانہ رُوحانی تصورات کی ترجمانی ہے۔

فوجداری

قانون کی ایک اصطلاح ہے مقصد فوج رکھنا نہیں ہے جواس کے لفظی معنی ہیں بلکہ قانون کی نگاہ میں جُرم کرنا اور مجرمانہ کار روائیوں میں حصّہ لینا ہے مثلاً مار پیٹ قتل و غارت چوری ڈکیتی وغیرہ اس کو انگریزی میں Criminalکیس کہتے ہیں کہ فوجداری کیس بن گیا یا فوجداری کے سپرد کر دیا یا فوجداری میں چلا گیا اس کے مقابلہ میں جو کیس ہوتے ہیں اور مالیات سے متعلق ہوتے ہیں وہ دیوانی کے کیس کہلاتے ہیں اور کس کی نوعیت کے پیش نظر اُسے دیوانی یا فوجداری میں منتقل کیا جاتا رہے۔

فی نکالنا

یہ عجیب و غریب محاورہ ہے"فی"عربی کا لفظ ہے اور اُس کے معنی ہیں میں فنا فی اللہ میں فی اسی معنی میں ہے لیکن محاورے میں فی نکالنا اعتراض کرنے کو کہتے ہیں یا اختلاف رائے کی سی صورت کو پیدا کرنے کے معنی میں یہ محاورہ آتا ہے جیسے وہ تو ہر بات میں فی نکالتے ہیں۔

اس لفظ کی عربی اصلیت اور اُردو میں اِس کے مرادی یا محاوراتی معنی پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ لفظ کے ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل ہونے تک اُس کی ظاہر ہیئت اور معنوی توسیعات میں کتنی بڑی تبدیلیاں آ جاتی ہیں اور بات کہاں سے کہاں تک پہنچ جاتی ہے۔

فِٹ ہونا۔ (Fit)

انگریزی کا لفظ ہے لیکن اُردو میں ایک سے زیادہ معنی میں استعمال ہوتا ہے فٹ ہونا اور فٹ کرنا اور فٹ نظر آنا اُس کی بہت نمایاں مثالیں ہیں۔


ردیف "ق"

قابو چڑھنا، قابو میں آنا، قابو میں کرنا

یہ سب محاورات قریب قریب ایک ہی معنی میں آتے ہیں اور فارسی سے ماخوذ ہیں فارسی میں"قابو یا فتن" یا قابو حاصل کردن یا شدن کہتے ہیں اور مطلب ہوتا ہے تسلّط پانا یہ اچھے خاصے وسیع دائرہ میں اور وسیع تر مفہوم کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔

بڑی مشکل سے حالات پر قابو پایا سو تدبیریں کیں تب وہ قابو چڑھا وغیرہ وغیرہ اُس کے مقابلہ کا محاورہ ہے قابو ہونا ہے چاہیے غصّہ کے باعث ہو چاہے غم کے چاہے کمزوری کے دل کے ساتھ بھی بے قابو کا لفظ آتا ہے جیسے میرا دل بے قابو ہو گیا یہ محاورے سماجی رشتوں اور جذباتی اُتار چڑھاؤ کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ کہ آدمی اپنے جذبے اپنے احساس اور ذہنی عمل ردِ عمل کو کس طرح پیش کرتا ہے۔

قارورہ ملنا، یا قارورہ دیکھنا

یہ محاورہ ایک طبی اِصطلاح بھی ہے یعنی بیماری کے عالم میں بیمار کے اپنے پیشاب یا قارورے کو اِس اعتبار سے دیکھنا کہ اس کا معائنہ کرنا اور یہ دیکھنا کہ بیماری کیا ہے کتنی ہے اب یہ باتیں مشین کے ذریعہ ہوتی ہیں پہلے طبیب کی نظر ہی کام کر جاتی تھی۔ وہاں سے آگے بڑھ کر یہ محاورہ میں آئی تو یہ محاورہ بنا کہ ان کا قارورہ نہیں ملتا یعنی مزاج نہیں ملتا طبیعتیں نہیں ملتیں۔ اِس سے ایک بار پھر یہ بات ذہن کی سطح پر ابھرتی ہے کہ ایک فن کے محاورے لفظیات زبان کے مختلف استعمال اور موقع و محل کے لحاظ سے کس حد تک بدلتی ہے۔

قاضی، قاضی الحاجات قاضی قِدوہ، قاضی گِلہ نہ کر سکا

"قاضی" ایک ایسے آفیسر کو کہتے ہیں جو نکاح خوانی کا رجسٹر رکھتا ہے اور نکاح پڑھاتا ہے اور اس کا ریکارڈ اُس کے پاس رہتا ہے اس کے علاوہ مسلمانوں کے دورِ حکومت میں قاضی کو کچھ خاص طرح کے قانونی اختیارات بھی حاصل تھے اور کچھ مقدمات کا فیصلہ بھی اس کے اختیارات کی حدود میں ہوتا تھا ایک بڑا قاضی ہوتا تھا جو قاضی القضاۃ کہلاتا تھا محاورے قاضیوں سے متعلق عجیب و غریب ہیں مثلاً قاضی قدوہ ہونا، جونپور کا قاضی ہونا یہ روایتاً مشہور ہو گئے اور اب نمونے کے طور پر کہا جاتا ہے اور اُس میں طنز شامل ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بہت بڑے خاندان اور بہت بڑی چیز سمجھتا ہے۔

یہی معاملہ جونپور کے قاضی کا ہے کہ وہ اپنی مکاری میں مشہور ہو گیا اسی طرح یہ کہاوت کہ جب میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی اسی طرح قاضی تو کوئی گلہ نہیں کرتا وہ تو نکاح پڑھا دیتا ہے باقی معاملات سے اُسے کیا واسطہ قاضی کا پیادہ معمولی سپاہی کہ وہ کونسا قاضی کا پیادہ ہے یعنی قاضی کے پیادے کی بھی ایک زمانے میں بڑی اہمیت ہوتی تھی آخر تو وہ قاضی کا بھیجا ہوا شہ نہ ادنی درجہ کا سپاہی ہوتا تھا۔

اسی طرح قاضی"ماری حلال" یعنی کوئی چیز ذبح کئے بغیر مر جائے تو وہ جائز نہیں رہ جاتی مگر قاضی اگر کہہ دے تو وہ بھی جائز ہو گئی یہ سماج کی طرف سے قاضی کے کردار پر پھبتیاں ہیں۔

قافیہ تنگ ہونا، یا قافیہ بندی کرنا

یہ محاورہ شاعری کی اِصطلاح ہے اور اُس کے معنی یہ ہیں کہ شعر میں قافیہ ردیف کی پابندی کی جا رہی ہے اب شعر اچھا ہے یا نہیں یہ الگ بات ہے اسی طرح قافیہ تنگ ہونا ایسے قافیہ کے استعمال کو کہتے ہیں جس کے قافیہ بہت مشکل ہوں یا نہ ملتے ہوں جیسے شاخ شاخ کا قافیہ مشکل سے ملتا ہے اور مشکل ہی سے اُسے باندھا جا سکتا یہ ایسے موقع کو سماجی محاورے کے طور پر کہتے ہیں کہ قافیہ تنگ ہے اور جب کوئی دوسرے آدمی کو ستاتا ہے تو کہتے ہیں کہ اُس نے قافیہ تنگ کر رکھا ہے وہ بیچارہ کچھ کہہ نہیں پاتا۔

قائل معقول کرنا

اِس کے معنی یہ ہیں کہ اپنی بات صرف منوائی نہ جائے اور غیر ضروری طور پر زور نہ دیا جائے بلکہ دلیلیں ثبوت و شواہد پیش کئے جائیں تاکہ دوسرا ذہنی طور پر اور دل سے مطمئن ہو جائے اور دل سے کسی بات کو تسلیم کر لے ہمارے معاشرے کا یہ عام رو یہ نہیں ہے اسی لئے اِس محاورے میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے تاکہ خواہ مخواہ کی باتوں پر زور نہ دیا جائے۔

قائل معقول دونوں عربی لفظ ہیں لیکن اُردو میں محاورے کے طور پر ذیل میں آیا ہے۔ اور اِس سے اُردو زبان کی قوتِ آخذہ (جذب کرنے کی قوت) کا پتہ چلتا ہے۔

قبالے لے ڈالنا، قبالے لے لینا

"قبالا" دستاویز کو کہتے ہیں اور قبالا لکھوانے کے معنی ہیں کسی زمین و جائداد مکان یا دوکان کے کاغذ لکھوا لینا اِس کو محاورے کے طور پر قبالے لینا بھی کہتے ہیں جس کے معنی ہوتے ہیں قانونی طور پر قبضہ حاصل کر لینا مگر اس سے مراد لی جاتی ہے فریب دغا دھوکہ اور مکاری سے قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا اور یہیں سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ معاشرہ جب بددیانتی پر مائل ہوتا ہے تو کیا کیا مکاریاں اور جعل سازیاں کرتا ہے۔

قبر کھودنا

قبر کھودنا قبر تیار کرنے کو کہتے ہیں جو قومیں اپنے مردوں کو دفن کرتی ہیں انہی میں قبر تیار کرنے کا رواج بھی ہے لیکن قبر کھودنا محاورے کے طور پر دوسرے معنی میں آتا ہے یعنی تباہی و بربادی کا سامان کرنا وہ اپنے لئے ہو خاندان کے لئے ہو یا بہت سے لوگوں کے لئے ہو۔ طنز کے طور پر کہا جاتا ہے کہ اُس نے تو اپنی یا اپنے خاندان کی قبر کھود دی یعنی اُن کے مفاد کو سخت نقصان پہنچا اور تباہی کا سامان کر دیا یہ محاورہ بھی معاشرے پر اس کی غلط روشوں اور کارکردگیوں کے اعتبار سے ایک طنز یا طنز یہ تبصرہ کا درجہ رکھتا ہے۔

قبر کے مُردے اُکھاڑنا

مسلمانوں کے ہاں ایک مرتبہ دفن کرنے کے بعد دوبارہ قبر نہیں کھودی جاتی لیکن محاورتاً جب ہم قبر کے مردے اکھاڑنا کہتے ہیں تو اس سے معاملات کو سامنے لا رہے ہیں بقول شخص خاندانی جھگڑے ساری عمر بھی نہیں سمٹتے لیکن ہم اپنی نفسیاتی مجبوریوں کے تحت یہ ضرور چاہتے ہیں کہ اُن پر پردے پڑے رہیں اور پچھلی باتوں کو نہ دہرایا جائے اس میں خاندانی رشتوں پر چھائیاں پڑتی ہیں اسی لئے اس طرح کی باتوں کونہ پسندیدہ طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ تو قبر کے مردے اُکھاڑتے ہیں یعنی پرانی باتوں کو بار بار دہراتے ہیں۔

قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھا، یا قبر کے کنارے ہونا

اُن دونوں محاوروں کے ایک ہی معنی ہیں یعنی موت سے قریب ہونا یا اُس عمر کو پہنچ جانا جس کے بعد آدمی خود کو زندگی سے دور اور موت سے قریب سمجھتا ہے اسی لئے اپنے لئے خود بھی کہتا ہے کہ ہم تو قبر میں پیر لٹکائے بیٹھے ہیں اور دوسرا بھی کبھی کبھی طنز کے طور پر کہتے ہیں کہ قبر میں پیر لٹکائے بیٹھے ہیں پھر بھی اس طرح کی باتیں کرتے ہیں ہمارے معاشرے میں طعنہ دینا اور طنز کرنا بہت عام ہے قریب قریب ہر بات کو طعنے اور طنز کے طور پر استعمال کرتے ہیں یہاں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔

قبلہ حاجات، قبلہ گاہ، قبلہ گاہی

قبلہ مسلم کلچر میں ایک بے حد اہم علامت ہے مذہبی اعتبار سے اور تہذیبی لحاظ سے بھی مسلمان قبلہ کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھتے ہیں اپنے لئے قابلِ احترام لوگوں کے لئے قبلہ و کعبہ کہتے ہیں اِس کے علاوہ اپنے مردے قبلہ رُخ دفن کرتے ہیں دعائیں بھی قبلہ رخ ہو کر مانگتے ہیں قبلہ کی طرف ہاتھ اٹھا کر قسم کھاتے ہیں اس سے قبلے کی مذہبی اور تہذیبی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ جس کے ذریعہ اُن کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں اس پر محاورتاً قبلہ حاجات کہتے ہیں فارسی کا ایک شعر ہے جس میں روپے پیسے کے لئے کہا گیا ہے۔

(ترجمہ) اے سونے چاندی کے سکّوں تم خدا نہیں ہو لیکن خدا کی قسم تم عیبوں کو چھپانے والے اور حاجتوں کو پورا کرنے والے ہو۔

اِس سے معلوم ہوا کہ قاضی الحاجات دولت اور زر زمین کو بھی کہتے ہیں اُردو کا محاورہ اسی کی طرف اِشارہ کرتا ہے قبلہ گاہ اور قبلہ گاہی نیز قبلہ متمنداں (امیدوار ان کا قبلہ)۔

قحط پڑ جانا

غلّہ کی کمی اور خوراک کے طور پر کام آنے والی اشیاء کا فقدان قحط کہلاتا ہے ہمدردی خلوص اور اپنائیت کے جذبہ میں جب بہت کمی آ جاتی ہے تو اُسے قحط غمِ الفت بھی کہتے ہیں اور اُس سے بے مروتی اور بے توجہی مراد لیتے ہیں۔

قد نکالنا

بچوں کا قد کے اعتبار سے بڑا ہونا محاورتاً قد نکالنا کہا جاتا ہے اور ہمارے خوبصورت محاورات میں سے ہے اور ہمارا معاشرہ محاورے تراشنے یا کلمات کو خوبصورت محاورہ میں ڈھالنے کی صلاحیتوں کا یہاں اظہار ہوتا ہے یہ ایسے ہی محاورات میں سے ہے۔

قدم اٹھا کر چلنا، قدم بڑھانا، قدم بہ قدم چلنا، قدم بوس ہونا، قدم چومنا

"قدم" آدمی کے پیر کو کہتے ہیں اور انسان کی زندگی کے بیشتر کام یا اُس کے قدموں سے متعلق ہیں یا ہاتھوں سے اسی لئے ہاتھ یا قدم علامت کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں جیسے قدم شریف قدم رسولؐ حضرتِ آدمؑ کے قدم کا نشان مہاتما گوتم بدھ کے قدموں کے نشانات جو مذہبی علامتیں ہیں اور مقدس نقوش و آثار میں شمار ہوتے ہیں۔ زندگی کے مختلف اعمال اور اقدامات کو ہم لفظی محاوروں سے ظاہر کرتے ہیں مثلاً قدم بڑھانا، قدم رکھنا قدم اٹھانا، قدم ملانا نشان قدم چراغِ نقش قدم وغیرہ یہ سب ہمارے چلنے پھرنے اور عمل و رد عمل کی نشاندہی کرنے والے محاورے ہیں واپسی کے لئے اٹھنے والے قدم بھی ہیں اسی ذیل میں آتے ہیں اور قدم چومنا قدموں کو بوسہ دینا قدموں کی خاک ہونا قدموں کے احترام کو ظاہر کرنے والے محاورے ہیں جو سماج کے اندازِ نظر اور طرزِ عمل کی نمایندگی کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ جیسے قدم باہر نکالنا، قدم قدم جانا، قدم گاڑنا، قدم مارنا، وغیرہ وغیرہ۔

قرآن اُٹھانا، قرآن رکھنا، قرآن پر ہاتھ رکھنا، قرآن کا جامہ پہننا، قرآن ہد یہ کرنا

قرآن کتاب اللہ کو کہتے ہیں اور مسلمان اسے آسمانی صحیفہ جانتے ہیں قرآن حفظ کرنے کا بھی مسلمانوں میں ایک زمانے سے رواج ہے۔ ناظرہ پڑھنا تو بہت سے مسلمان اپنا فرض سمجھتے ہیں اور حفظ نہیں کر سکتے تو ناظرہ پڑھتے ہیں بیمار کو قرآن کی ہوا دیتے ہیں اس کا ثواب پہنچاتے ہیں جب قسم کھانا ہوتا ہے تو یہ ظاہر کرنے کے لئے وہ خدا رسول کو حاضر ناظر جان کر قسم کھا رہے ہیں قرآن پر ہاتھ رکھتے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کا احترام مسلمان فرقے کے ذہن میں کس طرح رہتا ہے قرآن سے متعلق زیادہ تر محاورے مسلمانوں عقیدے اور مذہبی طرز عمل سے تعلق رکھتے ہیں اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محاورے عام ہیں لیکن بعض محاورے وہ بھی ہیں جو کسی خاص طبقے کی مذہبی تہذیبی یا کاروباری زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔

قرحہ پڑ جانا

فنِ طب کی اصطلاح ہے اور اُس کے معنی ہوتے ہیں زخم پڑ جانا جو ایک صورت سے جسمانی تکلیف ہوتی ہے۔

قرعہ ڈالنا، قرعہ پڑنا، قرعہ پھینکنا

یہ چوسر کھیل سے متعلق ایک اصطلاحی لفظ ہے قرعہ دراصل پانسہ کو کہتے ہیں اور کھیلتے وقت پانسہ ہی پھینکا جاتا ہے اور اُس سے فال کے طور پر بھی کچھ باتیں اخذ کی جاتی ہیں قرعہ اندازی جھگڑے معاملہ میں فیصلہ کرنا یا فیصلہ پر پہنچنا ممکن ہو جاتا ہے کہ اگر زیادہ امیدوار ہوں جس کے حق میں قرعہ نکل آتا ہے اسی کو حق دیدیا جاتا ہے یا اُس کا نمبر آ جاتا ہے۔

قرض اُتارنا، قرض لینا قرض اٹھانا، قرض دینا، قرضِ حسنہ وغیرہ

ہماری سوسائٹی میں شخصی طور پر قرض لینے کا رو یہ عام ہے۔ بنئے کا سودا تنا ہوتا ہے کہ اس سے قرض لیکر اور وہ بھی کسی چیز رہن رکھ کر اتنا ہو جاتا ہے کہ وہ چیز ہی بیچنی پڑتی ہے اور قرض ادا نہیں ہوتا ایسے عالم میں عزیز رشتہ داروں یا جان پہچان کے لوگوں ہی سے قرض لیا جاتا ہے قرض اٹھانا۔ قرض دینا اسی سلسلہ کے محاورات ہیں۔

بعض لوگ یہ سوچ اور ذہن میں رکھ کر کسی کو قرض دیتے ہیں کہ یہ واپس نہیں بھی کرے گا توہم یہ سمجھ لیں گے کہ ہم نے اُس کی مدد کی اس کو قرضِ حسنہ کہتے ہیں مگر اِس کا رواج آج کی سوسائٹی میں بہت کم ہے اس لئے کہ قرض لینے والے کی نیت یہ ہوتی بھی نہیں کہ واقعتاً قرض ادا کرے گا یا نہیں پس کہتا ہے کہ میرا ارادہ قرض ادا کرنے کا ہے بہرحال ہمارے سماجی تعلقات کو پرکھنے کا ایک پیمانہ قرض بھی ہے۔

قرقی بٹھانا، قُرقی بھیجنا

جب کوئی شخص قرض ادا نہیں کر پاتا تو قانونی چارہ جوئی کے ذریعہ اُس کی زمین و جائداد سے اسے وصول کیا جاتا ہے سرکار اپنا قرض اسی طرح وصول کرتی ہے اور املاک کو قرق کروا لیتی ہے۔ اسی سلسلے میں قرقی آنا، قرق ہونا، قرقی بیٹھنا وغیرہ محاورے استعمال ہوتے ہیں اور اس ذریعہ سے بھی ہم اپنے سماج کی اسٹڈی (Study) کر سکتے ہیں۔

ہمارے یہاں ایک لفظ نا دہندہ ہے (نہ دینے والا) یہ ایسے ہی لوگوں کے لئے کہا جاتا ہے جو قرض نہ دیں اُس کی واپسی کا خیال نہ رکھیں آخر لڑائی جھگڑے اور قرقی کی نوبت نہ آئے۔

قسمت اُلٹ جانا، قسمت بازی، قسمت پھرنا، قسمت کا پھیر، قسمت کا دھنی، قسمت کا لکھا وغیرہ وغیرہ

قومیں تقدیر کو مانتی رہی ہیں اور تقدیر کے معنی ہوتے ہیں غیبی علم غیب کا فیصلہ غیبی قوت کی کارفرمائی اس کی وجہ سے ہماری سوسائٹی میں ایکStructure Super ذہنی سطح پر ہمیشہ موجود رہتا ہے اور ہم یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ آدمی کی عقل بھی ناقص ہے اور اُس کا کیا دھرا بھی کام نہیں آتا اور ہوتا وہی ہے جو قدرت والا چاہتا ہے۔

حالات کی ناسازگاریوں اور شخصی طور پر نارسائیوں میں گھری ہوئی کوئی انسانی زندگی مجبوراً یہی سوچتی ہے یا سوچ سکتی ہے مشرقی قوموں کی سطح عام طور سے یہی رہتی ہے کہ جو تقدیر کا لکھا ہوتا ہے وہی ہوتا ہے۔ اس کو مان کر چلنے میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ آدمی پھر دوسرے کے عمل اور سلسلہ عمل و رد عمل کو سمجھنے سے بھی قاصر رہتا ہے اور پورے معاملہ کو تقدیر کے سپرد کرتا ہے اور اپنے مذہبی نظام فکر سے وابستہ کر لیتا ہے۔

قسمت کے کھیل، قسمت کا دھنی، قسمت کی یاوری بدقسمتی وغیرہ وغیرہ جو محاورے یا محاوراتی انداز کی ترکیبیں اردو میں رائج ہیں

وہ سب اپنی نظام فکر کا نتیجہ ہیں جہاں تک تقدیری معاملات کو غیر ضروری تعمیم سے گزارا گیا ہے۔ (Over simplification)

قصائی کا پلاّ قصائی کے کھونٹے باندھنا، قصائی کی نظر دیکھنا

"قصابی" مسلمانوں میں ایک قوم کا پیشہ ہے وہ جانور کاٹتی اور اُن کا گوشت بیچتی ہے ظاہر ہے کہ قصائی کی نظر یا اس کے گھر پر ہونا ایک مخالف دشمن یا قاتل کے قبضے میں ہونا ہے وہ اگر دیکھے گا تو سخت اور کرخت نظر سے دیکھے گا سلوک کرے گا تو برا سلوک کرے گا جو گائے یا بکری قصائی کے کھونٹے بندھی ہو گی اس کو تو کٹ ہی جانا ہے ایسی صورت میں جو آدمی ہر طرح نقصان میں ہوتا ہے اور جسے کبھی بھی قتل کیا جا سکتا ہے اس کے لئے کہا جاتا ہے کہ وہ قصائی کے کھونٹے بندھا ہے اس سے معاشرے میں جو ظالمانہ سلوک ہوتا ہے اور ہوتا رہا ہے اس کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔

قصّہ پاک کرنا، قصبہ پاک ہونا، قصہ مختصر ہونا۔ قصّہ در قصہ ہونا

قصہ کہانی کا ہماری زندگی سے گہرا رشتہ ہے اور دیکھا جائے تو ہمارا پورا کلچر قصوں کہانیوں میں سمیٹا ہوا ہے کہانی مختصر بھی ہوتی ہے قصّہ در قصہ بھی داستان در داستان بھی کہیں کہیں قصّہ کو مختصر کر دیا جاتا ہے اور کہیں وہ رام کہانی بن جاتی ہے اس سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ قصہ کا اپنے مختلف اسالیب کے ساتھ ہمارے ذہن ہماری زندگی اور ہماری زبان سے کیا رشتہ ہے اسی کو ہم قصے کے بارے میں جو مختلف محاورے ہیں ان کے لفظ و معنی میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔

قصّہ پاک ہونا یعنی بات ختم ہوئی قصہ سمٹ گیا جھگڑا ختم ہوا اور بات ایک طرف ہو گئی قصّہ کو تاہ کر دیا گیا یا قصّہ کو تاہ ہوا۔

قضا ادا کرنا، قضا پڑھنا، قضا عند اللہ، قضا و قدر، قضائے الہی، قضائے عمری

"قضا" کا لفظ عربی ہے اور یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ ہماری زبان میں شامل ہے یا ہم قضا و قدر بولتے ہیں تو اس سے تقدیر کا فیصلہ مراد لیتے ہیں۔ جس سے انسان کے اپنے ارادے کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ قضائے الہی سے رشتہ ہوتا ہے یعنی خدا کی مرضی وہ مرضی جس کا تعلق کسی کے دکھ بھرے واقعہ سے ہو جیسے موت حادثہ۔ قضائے عمری اُن نمازوں کو کہتے ہیں جو زندگی میں قضا ہوئی ہوں اور رات کو آدمی ادا کرنا چاہتا ہو نماز کا وقت گزر جاتا ہے اور نماز ادا نہیں کی گئی ہو تو اسے قضا ہونا کہتے ہیں روزوں کے ساتھ بھی یہی لفظ استعمال ہوتا ہے روزہ اگر نہیں رکھا گیا تو اسے روزہ قضا ہونا کہتے ہیں۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان محاوروں کا رشتہ مسلمانوں کے مذہبی عقائد اور اعمال سے ہے۔ یعنی سماج کے ایک خاص طبقے سے ہے اور اس سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ جو باتیں سماج کی نفسیات کا حصّہ بن جاتی ہیں وہ محاوروں میں بدل جاتی ہیں۔

قلعی کھل جانا، قلعی کھولنا

ہمارے سماج میں بات کو چھپانا اور دوسرے انداز سے پیش کرنا جس میں نمود و نمائش ہو اس کے ملمع کاری کہتے ہیں اسی کو قلعی کرنا سمجھ لیں اسی لئے جب بات کھل جاتی ہے اور مکّاری کا رو یہ ظاہر ہو جاتا ہے تو اسے قلعی کھلنا کہتے ہیں اور اگر کوئی دوسرا آدمی بات کو کھولتا اور ملمع کاری کو ظاہر کرتا ہے تو قلعی کھولنا یا قلعی اتارنا بھی کہا جاتا ہے یعنی اصل حقیقت کھول کر سامنے رکھ دینا۔

قلم بنانا، قلم اُٹھا کر لکھنا، قلم پھیرنا، قلم چلانا، قلمدان دینا

تحریر نگارش تصویر حکومت کی نشانی ہے جب ہم" قلم رو" کہتے ہیں تو اس سے مراد ہوتی ہے زیرِ حکم اور زیر حکومت اسی لئے قلم رو ہند کہلاتا ہے قلم مذہبی اور تہذیبی علامتوں میں سے بھی ہے کہ خدا نے قلم کے ذریعہ انسان کو تعلیم دی چنانچہ قرآن میں آیا ہے کہ ہم نے انسان کو قلم کے ذریعہ تعلیم دی اور وہ باتیں سکھلائیں جو وہ نہیں جانتا تھا لوح محفوظ کا تصور بھی قلم ہی سے وابستہ ہے یعنی وہ مقدس تختی جس پر قدرت کے قلم نے تمام دنیا کی تقدیر لکھ دی جو ازل سے ابد تک کے لئے ہے قرآن نے اپنے احکامات کے لئے کہا ہے کہ وہ لکھ دیئے گئے اس کا تعلق بھی قلم سے ہے۔

"بھوج پتر" مٹی کی تختیاں یا لکڑی کی تختیاں بھی تحریر کے لئے کام آتی رہیں کاغذ کی ایجاد سے پہلے انہی تختیوں اور"بھوج پتروں" پہ لکھا جاتا تھا جن کو آج بھی میوزیم میں دیکھا جا سکتا ہے تحریر قلم کے ہی ذریعہ ممکن ہے اور تصویر بھی قلم بیشک الگ الگ ہوتے ہیں۔

ہمارے یہاں قلم کے بہت سے محاوراتی الفاظ اور کلمات ہیں جیسے قلم اٹھانے کی ضرورت قلم برداشتہ لکھنا قلم چلانا قلم توڑ دینا یا قلم کی زبان میں کہنا اس سے ہم قلم کی تہذیبی تاریخ کو بھی جان سکتے ہیں۔ اور پڑھنے لکھنے کے معاملہ میں قلم کی اہمیت کو بھی اور تحریر کی خوبی اور خوبصورتی کا ذکر بھی قلم کے رشتہ سے کیا جاتا ہے جیسے خوش قلم مرصع رقم جس کے معنی ہوتے ہیں خوش قطعی اور خوبصورت تحریر کو کہتے ہیں۔

قل ہو اللہ پڑھنا، قل ہونا

"قل"قرآن پاک کا لفظ ہے اور"قل ہونا" یا قل ہو اللہ پڑھا جانا اُردو کے محاورات میں سے ہے۔ قل ہونا دراصل قل پڑھا جانا ہی اور قل پڑھے جانے کے معنی ہیں فاتحہ کی دعائے خیر۔ ذوق نے اپنے ایک مصرعہ میں کہا ہے۔

لا سا قیا پیالہ تے توبہ کا قُل ہوا

یعنی توبہ ختم ہوئی اور ہم نے توبہ ہی کا ارادہ ترک کر دیا اب تو پینا پلانا ہی رہ گیا آنتوں کا قل ہو اللہ پڑھنا بھوگ لگنا ہے چونکہ بھوک کے وقت پیٹ میں آنتیں ایک خاص طرح کی حرکت کرتی ہیں ان کی آواز کو""قراقر"کہتے ہیں اسی کو قل ہوا اللہ پڑھنا کہا جاتا ہے ظاہر ہے کہ یہ محاورہ مسلم معاشرہ سے تعلق رکھتے ہیں اور اُس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہم نے فارسی و عربی سے بھی اپنے خاص ماحول کے مطابق محاورات اخذ کئے ہیں۔

قہر توڑنا، قہر کی نظر دیکھنا، قہر نازل ہونا، قہر ٹوٹ پڑنا

قہر غصّہ کوکہا جاتا ہے اور یہ لفظ مہر کے مقابلہ میں آتا ہے مہر محبت کو کہتے ہیں مسلمانوں میں لڑکیوں کا بھی اور لڑکوں کا نام مہر پر رکھا جاتا ہے قہر غضب ناک ہونا ہے اسی لئے جب کوئی غیر معمولی مصیبت آتی ہے تو اس کو قہر الٰہی یا قہر آسمانی کہتے ہیں کوستے وقت بھی کہا جاتا ہے کہ تم پر قہر الٰہی نازل ہو یا خدا کا قہر ٹوٹ پڑے۔

ظاہر ہے آندھی طوفان سیلاب زلزلہ اولے برسنا سب ہی نقصان اور تکلیف کا باعث ہوتے ہیں اسی کو قہر الٰہی یا قہرِ آسمانی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

قیامت آنا، قیامت اٹھانا، قیامت توڑنا، قیامت ہونا، قیامت کا منظر، قیامت کی گھڑی

قیامت مسلمانوں کے عقائد کا ایک اہم جُز ہے جس کو حشر برپا ہونا کہتے ہیں قرآن نے اس کو ساعت بھی کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ گھڑی کب آئے گی اس کا علم سوائے خدا کے کسی کو نہیں۔

قیامت کے تصوّر کے ساتھ ایک طرف تو یہ خیال وابستہ ہے کہ قیامت آنے پر ہر شے تہس نہس ہو جائے گی پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑ جائیں گے زمین آسمان تہہ و بالا ہو جائیں گے اسی کے ساتھ مسلمانوں میں یہ تصور بھی پایا جاتا ہے کہ قیامت کا دن ایک لاکھ برس کا ہو گا۔ اور اُس دن تمام انسانوں کے اعمال کا حساب کتاب ہو گا انہیں سزا اور جزا دی جائے گی اسی لئے انگریزی میں اسے Day of judgmentکہتے ہیں یعنی یوم الحساب جب کوئی بات کسی انسانی گروہ طبقہ قوم یا ملت کی نفسیات میں داخل ہو جاتی ہے تو اس کو محاوروں میں ڈھال لیا جاتا ہے مثلاً قیامت آنا، مصیبت نازل ہونا، قیامت گزرنا پریشانیوں میں بے طرح مبتلا ہونا اسی طرح قیامت برپا ہونا ہر بات کو اُلٹ پلٹ ہو جانا اس معنی میں قیامت کا تصور اور اس سے متعلق دوسری کسی زبان میں کم ہی نظر آتے ہیں۔

فارسی میں ایک دو محاورے مل جائیں تو دل مل جائیں یہ ہمارے اپنے معاشرے کی بات ہے اور اس سے تہذیب ومعاشرت کے مزاج کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

قید لگانا، قید میں رکھنا، قید میں عائد کرنا

"قید" ہماری معاشرتی زندگی کا ایک حوالہ رہا ہے اور آج بھی ہے ہم دوسروں کو کسی بھی وجہ سے اپنا پابند اور محکوم بنا کر رکھنا چاہتے ہیں مثلاً غلام بنانا، باندی بنانا، نوکر کے آگے چاکر رکھنا ایک ایک بات سے انسان کی امتیاز پسندی ظاہر ہوتی ہے صدیوں تک محکوموں کے بارے میں جو قاعدہ قانون بناتے رہے وہ بھی اسی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

آدمی مجرموں کو بھی قید میں ڈالتا ہے قید میں رکھتا ہے اور سزا کے طور پر اُن سے بدسلوکی کرتا ہے یہ بات اگر ایک حد تک جائز بھی ہو سکتی ہے تو اس کی اپنی کچھ اخلاقی حدیں ضرور ہونی چاہئیں لیکن وہ حدیں باقی نہیں رہیں اور اس طرح کے تصورات عام ہو گئے کہ اس نے قید میں ڈال رکھا ہے قیدی بنا رکھا ہے وغیرہ وغیرہ۔

اس سے سماج کے تاریخی اور تہذیبی رویوں کا بھی پتہ چلتا ہے اور قاعدہ قانون کی روش پربھی روشنی پڑتی ہے۔


ردیف "ک"

کاٹ چھانٹ کرنا

کاٹنا کم کرنا درست کرنا، تبدیلی کرنا جیسے معنی میں آتا ہے لیکن سماجی طور پر اُس کے مفہوم میں خاص طرح کی کتر بیونت شامل رہتی یہ کہ آدمی بات کہتے وقت دانستہ طور پر اپنی طرف سے کوئی بات بڑھا دی کوئی کم کر دی کسی کا رخ بدل دیا خود لب و لہجہ میں تبدیلی آنے سے بھی بات کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے اس پس منظر میں اگر دیکھا جائے تو کاٹ چھانٹ کے عمل میں ذہنی جذباتی اور سماجی رو یہ شامل ہو جاتے ہیں۔

کاٹ کرنا

ہم عام طور سے گروہ بندی یا ذہنی گروہ بندی کا شکار رہتے ہیں جس کے حامی اس کی بے جا حمایت کرتے ہیں اور جس سے اختلاف ہوتا ہے اُس کی ناروا مخالفت (ناجائز) کرتے ہیں اسی کو کاٹ کرنا کہتے ہیں کہ وہ اس کی بات کی کاٹ کرتا ہے اس محاورے سے ہمارے تہذیبی رویوں کا پتہ چلتا ہے کہ ہم سچائی اور اچھائی پر اتنی نظر نہیں رکھتے جتنی ہماری طبیعت اپنے اور غیریت کی طرف مائل رہتی ہے یہ سیاست میں تو ہوتا ہی ہماری گھریلو زندگی اور آئینی معاملات میں اس کو زیادہ دخل ہے۔

کاٹ کھانا، کاٹ کھانے کو دوڑنا

کاٹ کھانا ڈنک مارنے کو بھی کہتے ہیں اور دانتوں سے کانٹے یا زخم پہنچانے کو بھی ایک طرف بچھو یا سانپ کا کاٹنا ہے دوسری طرف کتے کا کاٹنا ہے یا اُن تجربوں کی روشنی میں سماجی طور پر دوسروں کے بُرے ردِ عمل یا رو یہ کو بھی ہم کاٹ کھانا کہتے ہیں اور کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے اس کے جارحانہ رو یہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ سماج میں بہت لوگوں کا رو یہ کچھ اسی طرح کا ہوتا یہ جسے معقول رو یہ نہیں کہا جا سکتا محاورے میں اس کی طرف اشارہ کر کے صورتِ حال کو ظاہر کیا جاتا ہے۔

کاٹو تو خون نہیں یا لہو نہیں (بدن میں)

انسان کی صحت و عافیت کا دارومدار جسمانی صحت و تندرستی پر ہوتا ہے اور تندرستی لوگوں میں خون کے دوڑنے پھرنے کے عمل سے وابستہ ہے انسان کبھی کبھی خون کی کمی کا شکار ہوتا ہے اور اسی نسبت سے کمزوری کا بھی کبھی کبھار ایک دم سے کوئی بات ایسی ہوتی ہے کہ آدمی کا خُون خشک ہو جاتا ہے اور یہ محسوس ہوتا ہے کہ ڈر خوف دہشت انتہائی غمناک حالت کے باعث اس کے بدن میں خون نہیں رہا ایسے ہی موقع پر یہ کہتے ہیں کہ کاٹو تو لہو نہیں بدن میں۔ یہ گویا محاورے میں ایک طرح کا شاعرانہ اندازِ فکر شامل کرنا ہے۔

کاٹھ کا الو، کاٹھ کا گھوڑا، کٹھ پتلی

الو ایک چکوتری کی نسل کا جا نور ہوتا ہے یہ عام طور پر دن میں نہیں نکلتا رات ہی کے وقت اپنے آشیانہ سے باہر آتا ہے منحوس سمجھا جاتا ہے معلوم نہیں کیوں بے وقوف بھی خیال کیا جاتا ہے۔ جبکہ ہندو مایتھولوجی میں وہ لکشمی کی سواری بھی ہے اسی لئے جب کسی کو ہم بیوقوف سمجھتے ہیں تو اسے الو کہتے ہیں

اور اسی سے" الو" بنانے کا محاورہ بھی نکلا ہے جو آدمی بہت بیوقوف سمجھا جاتا ہے وہ کاٹھ کا" الو" کہلاتا ہے یعنی اُلو بھی وہ جو لکڑی سے گھڑا گیا ہو تراشا گیا ہو کسی زندہ شے کو لکڑی یا کاٹھ سے نسبت دینا اسے انتہائی گیا گزرا قرار دینا ہے جیسے کاٹھ کا گھوڑا کہ بس وہ ہوتا ہے مگر دراصل نہیں ہوتا اس کے مقابلہ میں کل کا گھوڑا انتہائی چُست و چالاک ہوتا ہے اس معنی میں سماج کا عقل ہوش مندی اور بیوقوفی کے معاملہ میں کیا ردِ عمل ہو گا کٹھ پتلی لکڑی کی گڑیا ہوتی جسے تماشہ کے طور پر طرح طرح سے ناچتے اور حرکتیں کرتے ہوئے دکھلا یا جاتا ہے اسی لئے کٹھ پتلی کا ناچ بھی کہتے ہیں اور رو یہ رہتا ہے اس کو مذکورہ محاوروں سے سمجھا جاتا ہے۔

کاٹے نہیں کٹتا

مشکل وقت گزارنا بہت کٹھن ہوتا ہے اس میں جدائی میں گزاری جانے والی ساعتیں اور گھڑیاں زنجیر کے حلقہ بن جاتے ہیں جو کاٹے نہیں کٹتے ایک گیت ہے۔

دکھ کے دن کاٹے نہیں کٹتے

کاٹنا ایک محنت طلب اور تکلیف دہ صورت ہوتی ہے اس میں لکڑیاں کاٹنا بھی ہے لوہا کاٹنا پتھر کاٹنا بھی ہے اور دکھ کے دن گزارنا بھی یہ محاورے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور احساس کی اس شدت کو ظاہر کرتے ہیں جو دکھوں کو سہنے اور جُدائی کے دن رات گزارنے میں آدمی محسوس کرتا ہے۔

کاجل کی کوٹھری

کاجل آنکھوں کے لئے وجہ زینت ہوتا ہے لیکن کچھ باتیں بظاہر اچھی اور در حقیقت بُرے نتائج کی طرف لانے والی ہوتی ہیں ان کو محاورے کے طور پر کاجل کی کوٹھری سے تشبیہہ دیتے ہیں ممکن ہے آنکھوں میں زیادہ کاجل لگانے کو بھی مذاق کے طور پر کاجل کی کوٹھری بنا دینا کہتے ہیں محاوروں میں جو شاعرانہ انداز نظر پایا جاتا ہے اس کی ایک مثال یہ محاورہ بھی ہے اور خوبصورت مثال ہے۔

کاجُو بھوجُو

ہمارا معاشرہ مضبوطی اور پائداری کو پسند کرتا ہے اور اُس کے مقابلہ میں کمزور چیز اس کے نزدیک قابلِ قدر اور لائقِ تحسین نہیں ہوتی اسی لئے اسے ایک ایسی لفظی ترکیب کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس سے اس کی کمزوری اور ناپائداری ظاہر ہوتی ہو کہ وہ تو خود ہی کا جو بھوجو سا ہے وہ کیا کام دے گا اور کس کام آئے گا محاورہ بھی اکثر ایک Comment ہوتا ہے اور اس میں ہمارے معاشرہ کا مشاہدہ چھپا ہوا ہے۔

کاٹا چھنی

آپسی اختلاف اور ذہنی کشمکش کو کاٹا چھنی کہتے ہیں جس میں آدمی ایک دوسرے پر اعتراض اور الزام وارد کرتا رہتا ہے یہ سماج کا ایک رو یہ ہوتا ہے گھریلو جھگڑوں میں یہ بات اکثر دیکھنے کو ملتی ہے کہ خواہ مخواہ بلا ضرورت ایک دوسرے پر فقرہ کسے جاتے ہیں جملے اُچھالے جاتے ہیں بات اور بے بات اختلاف کا کوئی پہلو سامنے لایا جاتا ہے جس کی وجہ سے گھریلو جھگڑے بھی ختم ہونے میں نہیں آتے بنیادی مسئلہ اگر کوئی ہوتا بھی ہے تو وہ سامنے نہیں رہتا اِدھر اُدھر کی باتیں دل و دماغ کو گھیرے رہتی ہیں اور یہی جھگڑوں کے ختم نہ ہونے کی بڑی وجہ ہوتی ہے۔

کٹاکش ہندی کا لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں طنز کرنا اعتراض کرنا اسی سے ہمارے یہاں کٹا چھنی محاورہ بنا ہے کج بحثی کج فہمی کٹ حجتی ہماری عام سماجی روش ہے یہ بھی اسی سلسلہ کی باتیں ہیں جو سماجی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

کارخانہ الٰہی، کارخانہ پھیلانا، کارِ خیر

"کار" کام کو کہتے ہیں اور خوشی کی تقریب کو بھی ہمارے یہاں کار کہا جاتا ہے آدمی اپنے لئے جو کام کرتا ہے اور اُسے پیشہ کے طور پر اختیار کرتا ہے اُسے کاروبار کہتے ہیں۔ دستکاری یا صنعت کاری یا پھر سادہ کاری کے لئے جو کوئی خاص مرکز قائم کیا جاتا ہے اسے کارخانہ کہتے ہیں زمین و آسمان اور ان کے درمیان جو کچھ ہے جتنا کچھ ہے اُسے کارخانہ الہی کہا جاتا ہے اور انہی کے مقابلہ میں ایک اور محاورہ آتا ہے جسے شیطان کی کار گاہ کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے یہ محاورہ ممکن ہے انگریزی کے محاورے Devils workshop کا ترجمہ ہو یہ بھی ممکن ہے (شیطان کی کار گاہ) ہم کہتے ہیں کہ اس کا ذہن تو شیطان کی کارگاہ ہے اس کا Directانگریزی ترجمہ ہو گا His mind is a devils work shopاس سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہماری زبان دوسری زبانوں سے جو استفادہ کیا ہے اس میں انگریزی زبان بھی شامل ہے۔

کاغذ، کاغذ سیاہ کرنا، کاغذ کا پٹا باز، کاغذی آدمی، کاغذی پیرہن، کاغذ کی کشتی، کاغذ کی ناؤ، کاغذ لکھ دینا، کاغذ تیار کرنا، کاغذ کا پیٹ بھرنا

کاغذ ہماری سب سے بڑی تہذیبی ایجاد ہے انسان کا ذہن تقدیر سے زیادہ تحریر کے سہارے آگے بڑھتا ہے اور تحریر کا سب سے بڑا وسیلہ ہمارے پاس کاغذ اور قلم ہے۔ کاغذ کی ایجاد سے پہلے تحریریں مٹی کی تختیوں اور لکڑی کی پٹیوں پر لکھی جاتی تھیں مگر کاغذ کی ایجاد کے بعد صورت حال بدل گئی اور بڑے پیمانہ پر تحریریں کاغذ پر لکھی جانے لگیں بیاضیں کتابیں اور دفتر تیار ہونے لگے جو معاہدہ یا تحریری وعدہ ہوتا ہے وہ بھی کاغذ پر ہی لکھا جاتا ہے"شقہ ہو" یا رقعہ یا عام خط پتر سب کا تعلق تحریر سے ہے قانونی مسئلہ میں لکھا پڑھی ہوتی ہے اس کو کاغذ لکھ دینا بھی کہتے ہیں اور اس سے متعلق ہمارے یہاں بہت سے محاورات موجود ہیں۔

عدالتی کاغذات کو دستاویزیں کہا جاتا ہے بادشاہی احکامات فرامین کہلاتے ہیں عام تحریریں کاغذ کرنے کاغذ لکھنے اور کاغذ تیار کرنے کے انداز میں بھی زیر گفتگو آتی ہیں۔

کاغذ نرم و نازک ہوتا ہے پھٹ جاتا ہے گل جاتا ہے جل جاتا ہے اس لئے ناپائداری کو بھی کاغذ کے سلسلے میں کئی محاورے آتے ہیں جیسے کاغذ کی ناؤ کاغذ جیسی کایا کاغذ کا پرزہ کاغذی پیرہن، تحریر اور کاغذ کی نسبت سے بھی کئی محاورے آتے ہیں جیسے کاغذ کالے کرنا کاغذ سیاہ کرنا کاغذ کا پیٹ بھرنا کہ جو چاہا وہ لکھ کر دیا کاغذ کا پیٹ بھر گیا صفحہ کے صفحہ کالے ہو گئے کاغذ کے پھول بھی خوبصورتی کی طرف اشارہ کرتے ہیں ان میں رنگ ہوتے ہیں نزکائی، اور نرمائی تو ہوتی ہے مگر اپنی خوشبو نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ نرم چھلکے والے باداموں کو کاغذی بادام کہا جاتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کاغذ سے ہماری زندگی ہمارے ذہن ہماری زبان اور ہمارے زمانہ کا کیا کیا رشتہ ہے اور کس کس طرح ہے۔

کالا، کالا آدمی، کالا پہاڑ، کالا توا، کالا خون، کالا منہ، کالا منہ ہونا، کالا لباس، کالا منہ نیلے ہاتھ پاؤں، کالک کا ٹیکا لگانا، کالا دھن، کالی کوٹھری، کالا سانپ، کالا سمندر، کالی بلا، کالی بھینس، کالی زبان، کالی رات کرنا

"کالا" رات کا رنگ بھی ہوتا ہے حیثیتوں کا رنگ بھی آنکھوں کی پتلیاں کالی ہوتی ہیں اور ایشیائی عورتوں کے بال کالے ہوتے ہیں بڑھاپے میں البتہ کالے بالوں کا رنگ سفید ہو جاتا ہے خون سفید ہونا کالے خون کے مقابلہ میں ایک الگ محاورہ ہے اور کالا خون بیجار اور برے خون کی علامت ہے کالے بول جب کہا جاتا ہے تو اس سے مراد بری باتیں ہوتی ہیں کالی مالی، موت کی دیوی کو کہتے ہیں۔ جیسے کالے بھینسے کی قربانی یا بھینٹ پیش کی جاتی ہے۔

انگریزوں کے مقابلہ میں ہندوستانی کالے آدمی کہلاتے ہیں اسی لئے یہ محاورہ استعمال ہونے لگا ہے۔ کہ وہ کالے آدمی سے بات نہیں کرتے کالا پانی انگریزوں کے زمانہ میں انڈمان نکوبار کے جزیروں کو کہتے تھے ان جزیروں میں بھیجنے کی جس کو سزا دی جاتی تھی اسے کالا پانی دیا جاتا تھا اور وہاں بھیج دیا جاتا تھا۔ مجرموں کو تنگ کوٹھریوں میں رکھا جاتا تھا جن میں روشنی و ہوا کا بھی کوئی انتظام نہ ہوتا تھا اُسے کال کوٹھری کہتے تھے۔ "کالا لباس" غم کا لباس ہے شیعوں کے ہاں غمِ حسین منانے کی غرض سے محرم میں شیعہ کالا لباس پہنتے ہیں روسیاہی بدنامی کو کہا جاتا ہے کالا منہ نیلے ہاتھ پیر ممکن ہے یہ کسی زمانہ میں سزا کے طور پر کیا جاتا ہو کہ آدمی کے ہاتھ پاؤں نیلے کر دیئے جائیں اور اسے بستی سے نکال دیا جائے ویسے نیلا رنگ اَمر ہونے کی علامت بھی ہے۔ اسی لئے شیو جی کو نیل کنٹھ کہتے ہیں۔ بعض میلے ٹھیلوں کے موقع پر یا پھر عرس کی تقریب کے سلسلہ میں جو چھڑیاں گاڑی جاتی ہیں وہ بھی نیلی ہوتی ہیں۔ مدراس کے قریب سمندر گہرے نیلے رنگ کا ہے اسی لئے ہندوؤں میں دیوتاؤں کا رنگ روپ نیلا رکھا جاتا ہے نیلا گنڈا بیماریوں اور بری نظر کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے بطور تعویذ گلے میں باندھا جاتا ہے۔

جس کو بدصورت عورت ظاہر کرنا مقصود ہوتا اُسے کالی بھینس کہتے ہیں اور اگر اس کا رنگ بہت کالا ہوتا ہے تو اس کو کالی بلی کہہ کر یاد کیا جاتا ہے کالا دیو بدصورت ہونے کے علاوہ بد ہیئت بھی ہوتا ہے یہ کردار داستانوں میں پیش کیا جاتا رہا ہے کسی کالی پیلی گئی گزری لڑکی کی ہو کلچڑی کہتے ہیں جیسے منحوس قرار دینا ہوتا ہے اسے کل موہا یا کل موہی کہہ کر یا د کیا جاتا ہے۔

جو رات بے چینی تکلیف اور انتظار میں گزاری جاتی ہے اسے رات کا لی کرنا کہتے ہیں بہت کالے رنگ کو بھورے کے رنگ سے تشبیہ دی جاتی ہے تو اسے کالا بھونگ کہتے ہیں بہت کالے رنگ والا آدمی کالا بھجنگ کہلاتا ہے وہ بھی مشہور ہے کہ کالے سانپ پر بجلی گرتی ہے اس سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ ذہنی طور پر ہم اپنی زندگی میں کالے رنگ سے کیا کیا باتیں منسوب کی ہیں۔ بچے ایک گیت گاتے ہیں اس میں آتا ہے۔

کالا کالا گِر گیا

اماں ماریں گی

اسی میں کالی ہانڈی سرپر رکھنے کے محاورے کو بھی شامل کیجئے کہ وہ بدنامی مول لینے کو کہتے ہیں کہ مفت میں یہ کالی ہانڈی کون اپنے سرپر رکھے کالا اکھشر بھینس برابر ایسا آدمی جو بالکل جاہل ہوتا ہے اور کوئی حرف پڑھ ہی نہیں سکتا اس کے لئے کہا جاتا ہے اس کے واسطے کہا جاتا ہے کہ کالا اکھشر بھینس برابر ہے کالا کلوٹا بھی کا لے ہی کے سلسلے میں ایک محاوراتی کلمہ ہے۔

کام بگڑنا، کام آنا، کام پڑنا، کام کا ہونا، کام پے لگانا، کام چلانا، کام تمام کرنا، کام چڑھانا یا لگانا، کام چمکنا، کام دینا، کام سے جاتے رہنا، کام سے کام، اپنے کام سے کام رہنا، کام میں کام نکالنا، کام میں لانا، کام ہو جانا

"کام" کے معنی ہندی زبان میں جذبہ انبساط کے بھی ہیں فارسی میں غرض کے ہیں لیکن اردو میں صبح سے شام تک آدمی کی جو مشغولیات رہتی ہیں ان کو کام کہتے ہیں اور وہ طرح طرح کے ہوتے ہیں انہی سے محاورے بھی نکلے ہیں جیسے کام بنانا، یا کام بننا، کام پڑنا وغیرہ اسی میں کام نکالنا بھی ہے کامی آدمی ہونا بھی ہے۔

کان اُڑے جانا، پھٹے جانا، کان کھول کر سننا، کان بند کرنا، کان اینٹھنا، اکھاڑنا، کان پھوڑنا، کان بھرنا، کان پر جوں رینگنا، کان کا کچا ہونا، کان پڑی آواز سنائی نہ دینا، کان پکڑ کے اُٹھا دینا، کان پھوٹ جانا

اگر دیکھا جائے تو یہ سب محاورے سننے توجہ دینے اور توجہ نہ دینے سے متعلق ہیں جب بہت شور ہوتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی کان پھٹے جاتے ہیں جب کوئی دوسروں کی راز کی باتیں سننا چاہتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ کن سنیاں لے رہا ہے۔ اگر سننا نہیں چاہتا اور کوئی اثر سننے کا نہیں لیتا تو کہتے ہیں اُس کے کان پر جوں نہیں رینگتی یا جوں نہیں چلتی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ایک کان سنتا دوسرے کان اُڑا دیتا ہے جب کوئی کسی کے خلاف اچھی بُری باتیں کہتا ہے اور مطلب ورغلانا ہوتا ہے تو ایسے کان بھرنا کہتے ہیں زیور پہننے کے لئے کان کی پاپڑی (بنا گوشت) اور دوسرے بیرونی حصہ میں جو شگاف پیدا کئے جاتے ہیں اُن کو کان بندھنا اور یہ پیشہ کرنے والے کو کندھا کہا جاتا ہے جو آدمی دوسروں کی باتوں پر جلدی سے یقین کر لیتا ہے اور سوجھ بوجھ سے کام نہیں لیتا اسے کان کا کچا کہتے ہیں اور جب کوئی بات سنتے سنتے طبیعت اوب جاتی ہے تب یہ کہتے ہیں کہ سنتے سنتے کان پک گئے کان کی بیماری کا نام کھیڑ ہے کنپھیڑ نکلنا کہتے ہیں کنکوا دہلی میں گڈی یا پتنگ کو کہتے ہیں اور محاورے کے طور پر بولا جاتا ہے کہ وہ تو کنکوے اڑاتا ہے یعنی ادھر ادھر کی باتیں کرتا ہے۔

کانٹا نکالنا، کانٹا چبھنا، کانٹوں پر لوٹنا، کانٹوں کا بچھونا، کانٹوں کی بیل، کانٹے بچھانا

کانٹا ترازو کو بھی کہتے ہیں اسی سے کانٹے کی قول بنا ہے لیکن جو کانٹا چُبھتا ہے وہ ہماری زبان اور زندگی میں بہت سے محاورات کا یہ کہیے کہ جنم داتا ہے۔ مثلاً کانٹا چبھنا تکلیف پہنچنا کاٹا لگنا کوئی ایسی تکلیف جو مسلسل چُبھن کا احساس پیدا کرے۔

کانٹوں پر لوٹنا بہت بے آرامی اور بیچینی سے رات یا وقت گزارنا ہے کانٹے بچھانا کسی کے لئے عملی دشواریاں پیدا کرنا ہے۔ اس نے تو ہمیشہ میری راہ میں کانٹے بچھائے یا پھر مشکلات سے بھری زندگی کو کانٹوں کا بچھونا کہلاتا ہے کہ اس طرح کی ملازمت تو کانٹوں کا بچھونا ہوتی ہے۔ بیل خوبصورت چیز ہے لیکن اگر خوبصورتی کے ساتھ اس میں تکلیفوں کے پہلو موجود ہوں تو اسے کانٹوں کی بیل کہتے ہیں۔ دوسروں کے راستہ سے مشکلات دور کرنے کو کانٹے ہٹانا کہتے ہیں اور کانٹے چبھنے سے بھی یہی مراد لیتے ہیں۔

کانٹوں کا تاج جو چیز بظاہر عزت کی ہو تکلیفیں جڑی ہوئی ہوں تو اسے کانٹوں کا تاج کہتے ہیں یہ سماج کی طرف سے گویا ایک گہرا طنز ہے کان کھڑے ہونا کسی بات یا خطرہ کا احساس ہونا ہے یہ سن کر تو اس کے کان کھڑے ہو گئے بعض جانور خطرے کے موقع پر کان کھڑے کر لیتے ہیں ممکن ہے کہ یہ محاورہ ایسے ہی کسی موقع یا واقعہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔

کتے کی موت مرنا

بہت بری حالت میں جان دینا اور اسی نسبت سے کتّے کا کفن اس کپڑے کو کہتے ہیں جو بہت خراب ہو بدرو ہو رہا ہو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے سماج میں روایتی طور پر کتے کو کتنا برا سمجھا جاتا ہے کہ اس سے وابستگی کو سماج بہت بے عزتی کی نظر سے دیکھتا ہے اسی لئے کہتے ہیں بلی کی زندگی ہونا بری زندگی کو کہتے ہیں کتے کی طرح بھونکنا بھی بری طرح ناراض ہونے اور بک بک کرنے کے لئے کہا جاتا ہے دھوبی کے کتے کے ساتھ ایک اور محاورہ وابستہ ہے اور بے انتہا نکمے پن کو ظاہر کرتا ہے۔

دھوبی کا کتا گھرکا نا گھاٹ کا۔ کتا بہت وفادار ہوتا ہے مگر اس کی وفاداری کا ذکر بھی اچھے الفاظ میں نہیں ہوتا کتے کی طرح وفاداری کا پٹا گلے میں ہونا اچھی بات نہیں سمجھی جاتی۔

کچا ساتھ ہونا یا کچا کنبہ ہونا

جب کسی آدمی کا اپنا کنبہ چھوٹے چھوٹے بچوں پر مشتمل ہوتا ہے کہ اُس کا کچا ساتھ ہے یعنی اس کے بچے اس لائق نہیں کہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں یہ ایسے موقع پر بولا جاتا ہے جب کوئی آدمی شدید بیمار ہو جائے یا مر جائے اور اس کے بچے چھوٹے ہوں تو خاص طور پر کہتے ہیں کہ اس کاتو کچا ساتھ ہے۔

"کچا دھاگا"یعنی کمزور رشتہ ہمارے سماج میں اکثر اس تعلق کے لئے کہا جاتا ہے جسے ہم جب چاہتے ہیں توڑ کے پھینک دیتے ہیں۔ اسی نئے یہ بھی لوگوں کو کہتے ہوئے سنا جاتا ہے کہ یہ رشتہ کوئی کچا دھا گا نہیں ہے کہ جب چاہا توڑ کے پھینک دیا اس سے ہم اپنے سماجی رشتوں کا ذہن اور زندگی سے ان کے تعلق کا احساس کر سکتے ہیں۔

کچا کرنا، کچا ہونا، کچیا جانا

کچا کرنا شرمندہ کرنے کو کہا جاتا ہے اور کچا ہونا شرمندہ ہو جانے کو کہتے ہیں کہ میں اس کے سامنے بہت کچا ہوا اور اس سے ہماری زندگی اور ذہن کا رشتہ محاورہ کی لسانی اور معاشرتی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے اور زبان میں موقع و محل کے لحاظ سے لفظ کس طرح اپنے معنی بدلتے ہیں اس پر محاورات کا استعمال اور لفظ و معنی کا چناؤ غیر معمولی طور پر اہم ہو جاتا ہے۔

کچہری لگانا، کچہری کے کتے

یہ محاورہ انگریزوں کے آنے کے بعد رائج ہوئے ہیں اس لئے کہ کچہری کا تصور انہوں نے ہم کو دیا ہے کچہری میں وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو کم درجہ کے ہوتے ہیں اور رشوتیں لے لے کر اپنا کا م چلاتے ہیں یہی کچہری کے کتے کہلاتے ہیں کچہری کے چکر لگانا ان لوگوں کا کام ہوتا ہے۔ جو روز کسی نہ کسی سلسلہ سے کچہری میں آتے جاتے رہتے ہیں اور ان میں جھوٹے گواہ بھی ہوتے ہیں مقدمہ باز بھی اور گئے گزرے وکیل بھی۔

کچہری لگانا گویا کچہری کا سا ماحول پیدا کرنا ہے اور اپنے گواہوں اور وکیلوں کو ادھر ادھر منع کرنا"کچہری لگانا ہوا"۔ ویسے یہ بندر کی حکایت سے ماخوذ محاورہ بھی ہو سکتا ہے۔

کرکری کرنا، کرکرا دینا

بے عزتی کرنا یا بے عزتی ہونا اس کے معنی عزت میں کمی آنے اور وقار باقی نہ رہنے کے ہیں کوئی چیز اگر ریت یا مٹی کی وجہ سے کچھ خراب ہو جاتی ہے تو اسے کرکرا ہونا کہتے ہیں۔ کھانے پینے کی کوئی بھی شے ہو سکتی ہے۔

کروٹ بدلنا

اِدھر سے اُدھر کروٹ لینا ایک عام حرکت ہے لیکن محاورہ میں پہنچ کر اس کے معنی دوسرے ہو جاتے ہیں اور اس میں انقلاب رونما ہونے کا تصور آ جاتا ہے اسی لئے انقلابِ زمانہ کو بھی کروٹ بدلنا کہتے ہیں۔

کشیدہ خاطر رہنا یا ہونا، کشیدہ کاڑھنا

ایک گونہ ناراضگی کو شکر رنجی کہتے ہیں اور اگر اس میں ایک طرح کا تناؤ یا کھچاؤ پیدا ہو جائے تو اس کو کشیدہ خاطر کہتے ہیں یا پھر کشیدگی سے تعبیر کرتے ہیں قد کے ساتھ بھی کشیدہ آتا ہے وہاں اس سے مر اد لمبا قد ہوتا ہے۔ اس کو کشیدہ کاری بھی کہتے ہیں اور یعنی پھول پتی کاڑھنا دہلی میں اس کا بہت رواج رہا ہے۔

کفِ دست میدان ہونا، (چٹیل میدان)

جس میں جھاڑیاں ہریالی یا درخت بالکل نہ ہوں تو اسے کفِ دست میدان ہونا کہتے ہیں یہ ایک طرح کا شاعرانہ اندازِ بیان ہے کہ جسے ہتھیلی میں کچھ نہیں ہوتا ایسا ہی اس زمین کے ٹکڑے میں کوئی چیز نہیں ہوتی بس دور تک میدان ہی میدان ہوتا ہے۔

کفرانِ نعمت، کفر توڑنا، کفر بکنا، کفر کا کلمہ بولنا

"کفر"اسلام کے مقابلہ میں بے دینی اور گمراہی خیال کیا جاتا ہے اسی لئے مسلمانوں کے عام طبقہ میں کفر کا استعمال بے دینی اور لامذہبی کے معنی میں آتا ہے اور وہ ایسے کلمات کو جنہیں مذہب کے خلاف سمجھتے ہیں کفر کی باتیں کافرانہ خیالات" کفر بکنا" اور کافر ہو جانا کہتے ہیں اگر آدمی خدا کی نعمت کا اچھے عمل کا اچھے خیالات کا قدردان نہیں ہوتا تو اس کو کفرانِ نعمت کہا جاتا ہے۔ صوفیوں کے ہاں کفر کے معنی دوسرے کے ہیں وہ کفر کو عین ایمان تصور کرتے ہیں کفر کے کلمات بولنا عام مفہوم میں آتا ہے یعنی کافروں جیسی باتیں کرنا۔

کلام اللہ اٹھانا

قرآنِ پاک کو کہتے ہیں اور قرآن کو درمیان میں رکھ کر قسم کھانا گویا اپنی سچائی و نیکی کا اظہار کرنا ہے قرآن اٹھانا بھی اسی معنی میں آتا ہے اور مسلمان کلچر کے اس رو یہ کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ قرآن کو سب سے زیادہ احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اللہ کے ساتھ کلام اللہ کی قسم کھاتے ہیں حلف اٹھانا بھی قرآن کو درمیان میں رکھ کر قسم کھانے ہی کے معنی میں آتا ہے۔

کلمہ، کلمہ کا شریک، کلمۂ گو، کلمے کی انگلی، (انگشتِ شہادت)

کلمہ بھی مسلم کلچر کی خاص علامتوں میں سے ہے کلمہ پڑھنے کے معنی مسلمان ہو جانے کے بھی ہیں کہ اس نے کلمہ پڑھ لیا یہاں کلمہ سے مراد کلمۂ توحید ہے یعنی خدا کی وحدانیت کا اقرار کرنا اور اُس کے سچے رسول کی صداقت پر گواہی دینا کلمہ پڑھ کر ثواب بھی پہنچایا جاتا ہے اور اُس کا ثواب مرنے والے کی روح کو پہنچایا جاتا ہے یہ باتیں مسلمانوں کے کلچر اور ان کی مذہبی اور تہذیبی نفسیات میں داخل ہے۔

کلمہ کا شریک مسلمان آپس میں کہتے ہیں کہ ہم کلمہ کے شریک بھائی ہیں یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی کو دُودھ شریک بھائی یا بہن قرار دیا جاتا ہے اور چیزوں کی شرکت کلچر کے اعتبار سے بڑے معنی نہیں رکھتی کلمہ گو ہونا کلمہ پڑھنا ہے جس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ وہ بہت تعریف کرتا ہے اور دوسرے یہ ہیں کہ وہ مسلمان ہے اور کلمہ پر یقین رکھتا ہے۔

کلمہ کی انگلی داہنے ہاتھ کی پہلی انگلی کو انگشت شہادت کہتے ہیں اور اس کا ترجمہ کلمہ کی انگلی بھی کہا ہے مسلمان نماز پڑھتے وقت جب حضورؐ کا نام آتا ہے تو شہادت کی انگلی اٹھاتے ہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ نماز میں کلمہ کو دہرایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی مالک و مختار نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اُس کے رسولؐ ہیں یہ اس وقت شہادت کی انگلی اوپر اٹھائی جاتی ہے جواس گواہی کا نشان بن جاتی ہے۔ یہی کلمہ کی انگلی بھی ہے۔

کلنک لگنا، کلنگ کا ٹیکا لگانا

یہاں کل کے معنی ہیں کالا اور انک کے معنی ہیں نشان"کالا نشان"چہرہ پر لگانا بدنامی اور رُسوائی کا اشتہار لگا دینا ہے کلنک کا ٹیکا لگانا یا لگنا بھی اسی معنی میں آتا ہے۔ ہمارے محاوروں میں جو سماجی رو یہ اور رسمیں موجود رہی ہیں کلنک کا ٹیکا انہی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ دل میں بے عزتی ہے آبروئی یا رسوائی کا کوئی پہلو موجود ہوتا ہے۔

کُلھیا میں گڑ پھوڑنا

اصل میں ہمارے سماج کی شاعری ہے جو محاورے میں کسی نہ کسی صورت میں سامنے آتی ہے جیسے ہتھیلی پر سرسوں جمانا، ناممکن سی بات ہوتی ہے اسی طرح"کلیا میں گڑ پھوڑنا" بھی کوئی ایسی بات کرنا یا اس کی طرف اشارہ ہے۔

کلیجہ اُچھلنا، کلیجہ بڑھ جانا، کلیجہ پھٹنا، کلیجہ ٹوٹنا، کلیجہ تھام کریا مسوس کر رہ جانا، کلیجہ ٹھنڈا ہونا، کلیجہ جلانا، کلیجہ چھلنی ہونا، کلیجہ دھڑکنا، کلیجہ دھک سے ہو جانا، کلیجہ میں رکھنا، کلیجہ پھوٹنا وغیرہ

کلیجہ ہماری عام زبان میں"جگر" کو کہتے ہیں جسے انگریزی میں Leverکہا جاتا ہے یہ نہایت اہم عضو ہے کہ یہی خون بناتا ہے اور اسی کے خراب ہونے سے صحت تباہ ہو جاتی ہے اب یہ عجیب بات ہے کہ پیٹ کے بارے میں بہت سے محاورات ہیں اسی طرح کلیجہ کے بارے میں بھی ہے جس کے ساتھ دل کو بھی شامل کر لیا جاتا ہے اور طرح طرح سے کلیجہ کے ساتھ نئے مفہوم معنی تسلیاں اور دعائیں وابستہ کی جاتی ہیں کلیجہ ہونا ہمت و حوصلہ کے لئے کہا جاتا ہے کلیجہ پکڑ کر رہ جانا کسی بری خبر سانحہ اور حادثہ کا ردِ عمل ہوتا ہے اور عورتیں عام طور پر کہتی ہیں کہ کلیجہ پکڑ کر رہ گیا یعنی ایسی حالت میں صبر کرنا مشکل ہے کلیجہ ہاتھ میں لینا تسلی و تشفی کرنا عمل کے لئے کہا جاتا ہے کلیجہ تھامنے کے معنی بھی یہی ہیں اس میں غم زدہ آدمی کی اپنی کوشش بھی شامل ہوتی ہے کلیجہ بھوننا دل جلانے کو کہتے ہیں کہ اس نے میرا کلیجہ بھون کر رکھ دیا۔

کلیجہ کی بوٹی اپنی اولاد کو کہتے ہیں ویسے عورتیں اپنے سے کم عمر بہنوں بھتیجوں، بھانجیوں اور اپنی بچیوں کو بھی کہتی ہیں کلیجہ منہ کو آنا بہت دکھ بھری حالت کا اظہار کرنا ہے جس کا دُکھ ناقابلِ اظہار ہو۔ کلیجہ مسوس کر رہ جانا دل ہی دل میں پیچ و تاب کھانے کو کہتے ہیں یہ دل کے ساتھ بھی استعمال ہوتا ہے اور غم زدگی اور تکلیف دہ حالت میں صبر کرنا اس کے مفہوم میں شامل ہے کلیجہ ٹھنڈا ہونا کسی کی طرف اطمینان اور تسلی ہونا جیسے اللہ پاک تمہاری آس اولاد کی طرف سے تمہارا کلیجہ ٹھنڈا رکھے کلیجہ میں ٹھنڈک پڑنا کبھی سکون ہونے اور اطمینان میسر آنے ہی کے لئے کہا جاتا ہے یا آرزو پوری ہونے کے لئے کہتے ہیں جس میں آدمی کی ایرشا(مرضی) شامل رہتی ہے۔

کلیجہ چھلنی ہونے کے معنی کلیجہ میں زخم پڑ جانا اور نہ خوشی کا حدسے بڑھنا ہوتا ہے کلیجہ دھک سے رہ جانا کوئی ایسی خبر سننا جو انتہائی حیرانی اور تکلیف کا سبب ہو کہ یہ بات سن کر تو میرا کلیجہ دھک سے رہ گیا کلیجہ کا بلیوں"اُچھلنا" خوف و خطرہ کا شدید احساس ہونا۔ یہاں کلیجہ سے مراد دل ہوتا ہے کلیجہ ٹکڑے ٹکڑے ہونا بھی اسی مفہوم میں آتا ہے کہ دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ کلیجہ کی ٹھنڈک ہونا باعثِ راحت ہونے کو کہتے ہیں کلیجہ کی بوٹیاں صدقہ کے طور پر چیل کوؤں کو کھلانا بے رحمی کا سلوک کرنا سخت سزا دینا اور بہت کم درجہ بلکہ ذلیل سطح کا سلوک کرنا رومیوں میں یہ رواج رہا ہے جس کا عکس ہمارے اس محاورے میں آیا ہے۔

اگر ہم اس پر غور کریں اور محاورے کے مختلف پہلو اپنے مفہوم اور معنی کے اعتبار سے ہمارے پیش نظر رہیں تو پتہ چلتا ہے کہ محاورے کا زبان کے رشتہ سے ہماری تہذیب اور تاریخ سے کیا تعلق ہے اور کس طرح ہمارے محاورے میں ہمارے فکری رو یہ ذہنی رشتہ اور جذباتی تعلقات ابھرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

اسی ضمن میں ان محاوروں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے کلیجہ کی پھانس ہونا کلیجہ پر گھونسا مارنا کلیجہ پر سانپ لوٹنا کلیجے پر ہاتھ دھر کے دیکھنا کلیجے سے دھُواں اٹھنا وغیرہ وغیرہ۔

کمر باندھنا، کمر پکڑ کے اُٹھنا، کمر ٹوٹنا، کمر توڑنا، کمر سیدھی کرنا، کمر کا ڈھیلا۔ کمر کا مضبوط، کمر کھولنا وغیرہ۔

کمر انسان کے بدن کی بناوٹ اور کساوٹ میں ایک خاص کردار ادا کرتی ہے انسان کمر کے سہارے پر ہی سیدھا کھڑا ہو سکتا ہے اس کا کشیدہ قامت ہونا بھی اس کی کمر پر بھی منحصر ہے کمر کا پتلا ہونا بدن کی خوبصورتی اور موزونیت میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے وہ چاہے کمر پر اُٹھا یا جائے یا سرپر کمر اس میں شامل رہتی ہے کمر سے متعلق محاورے اُردو میں بہت ہیں اور یہ ہماری تہذیبی روش معاشرتی تقاضوں اور آپسی رویوں پر روشنی ڈالتے ہیں کمر کسنا کمر باندھنا تیار ہونے کے معنی میں آتا ہے کمر سیدھی کرنا تھوڑا سا آرام کرنا ہے جس سے راحت کا احساس پیدا ہو۔ کمر کا ڈھیلا جسمانی کمزوری اس لئے کہ کمر اگر ڈھیلی ہو گی تو کام کرنے میں بھی باقاعدگی اور پھرتیلا پن نہیں آ سکتا کمر مضبوط کرنا اس کے خلاف ایک عمل ہے یعنی پکا ارادہ کرنا کہ ہم ایسا کریں گے کمر ٹوٹنا اس کے مقابلہ میں بالکل مایوس ہونا اور احساسِ محرومی کا شکار ہو جانا ہے کمر توڑنا دوسرے کو مایوس کر دینا اس کے سلسلے سے کچھ اور محاورے ہیں جیسے کمر کھولنا جب آدمی active life کو ختم کر دیتا ہے اور ایک ریٹائرڈ آدمی جیسی زندگی گزارتا ہے تو اسے کمر کھولنا کہتے ہیں۔

کنارہ کرنا، کنارہ کشی کرنا

الگ ہونا بے تعلقی ظاہر کرنا اکثر عورتیں یہ کہتی نظر آتی ہیں کہ بی بی کنارہ کرو یعنی تعلق کم کرو کبھی لوگ کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے اُس نے کنارہ کشی اختیار کر لی یہ سماجی رو یہ ہے اور اس معنی میں کہ دوری یا علیحدگی اختیار کرو مرد عام طور سے کنارہ کشی کہتے ہیں عورتیں کنارہ کرنا اور یہ معاشرتی اندازِ نظر پیش کرنے والا نہایت اہم محاورہ ہے کنارہ بغل کو بھی کہتے ہیں اور اسی سے ہم کنار ہونا محاورہ بنا ہے بے کنارہ ہونے کے معنی سمندر کی طرح ہوتے ہیں جو اِدھر سے اُدھر تک پھیلے ہوئے ہیں جس کا کوئی کنارہ ہی نہ ہو اقبال کا مشہور مصرعہ ہے۔

یا مجھے ہم کِنار کریا مجھے بے کِنار کر

کنارے کنارے چلنا، کنارے لگانا، کنارے لگنا، کنارے ہو جانا

اکثر راستہ دریاؤں کے ساتھ طے کیا جاتا تھا اس لئے کہ جنگل زیادہ تھے ان میں راستہ نہیں ملتا ریگستانوں صحراؤں اور دشت و کوہ میں بھی راستہ کی تلاش ممکن ہوتی ہے سڑکیں پہلے نہیں تھیں بیٹائیں تھیں اسی لئے دریا کے کنارے کنارے راستہ طے کرنا آسان ہوتا تھا یہ گویا اِس دور زندگی کی طرف اشارہ کرتا ہے جب انسان دریاؤں کے ساتھ ساتھ چلتا تھا اور وہیں حضرت خضر سے ملاقات ہوئی تھی جو پانی کے دیوتا ہیں۔

کنارے لگنا اچھے معنی میں بھی آتا ہے یعنی ناؤ اپنا سفر طے کر کے کنارے آ لگی اور سفر ختم کرنے کی وجہ سے اسے زندگی ختم کرنے سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ تو کنارے لگ گئے کنارے لگانا ختم کرنے کو بھی کہتے ہیں اور یہ ایک سے زیادہ معنی میں آتا ہے کہ ایک ایک کر کے سب سارے لگ گئے کنارے ہو جانا الگ ہو جانا کنارے کا درخت ہونا ایک الگ محاورہ ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ اب عمر کا کوئی بھروسہ نہیں کنارے پر کھڑا ہوا درخت ہے کبھی بھی کنارے کے ڈھے جائے کے ساتھ خود ہی گر پڑے گا۔

کن انکھیوں سے دیکھن

دیکھنے کا عمل بھی عجیب و غریب ہے اس سے اپنائیت جھلکتی ہے اور اجنبیت بھی اپنے پن کا اظہار بھی ہوتا ہے اور غیریت کا بھی اسی لئے دیکھنے کے عمل کو گھورنے سے ظاہر کیا جاتا ہے آنکھیں لڑانے سے اور آنکھیں دکھا جھپکانے مٹکانے سے تعبیر کیا جاتا ہے آنکھیں پھاڑنا پھاڑ کر دیکھنا اور طرح کا عمل ہے آنکھیں چرانا کچھ اور ہے آنکھ لگنا اس سے مختلف صورت ہے آنکھ لگ جانا نہ لگنے کے مقابل میں ایک اور صورت حال کو پیش کرتا ہے آنکھیں پھیر لینا ایک اور عمل ہے اسی طرح آنکھوں میں سمانا الگ ہے آنکھوں میں پھرنا الگ ہے آنکھوں دیکھا ہونا ایک الگ تجربہ ہے نہ آنکھوں سے دیکھنا نہ کانوں سے سنا ایک اور تجربہ ہے مڑ مڑ کر دیکھنا دیکھنے کا ایک الگ ا انداز ہے کن انکھیوں سے دیکھنا اور عمل ہے۔ اس سے ہم یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ دیکھنے کی روش دیکھنے کے انداز اور اسلوب کے بارے میں ہمارا معاشرہ کس کس طرح سوچتا اور الگ الگ باتوں کو سمجھتا رہا ہے اور اُسے محاورات میں محفوظ کر دیا۔

کندہ نا تراش

کندہ لکڑی کے ٹکڑے کو کہتے ہیں اور جب اس کے ساتھ نا تراش مل گیا تو اس کے معنی انگھڑ کے ہو گئے یعنی ایک ایسا شخص جس میں تمیز تہذیب نہ سیکھی ہو اس سے ہم سماج کا تہذیب و شائستگی کے بارے میں نقطہ نظر معلوم کر سکتے ہیں اس طرح کے لوگ سماج میں ملتے رہے ہیں جنہیں کندہ نا تراش کہا جا سکتا ہے یعنی غیر مہذب جن کی تربیت نہ ہوئی ہو۔

کنگھی چوٹی

زیبائش آرائش بناؤ سنگھار جو عورتوں کا شوق اور اُن کی ضرورت ہوتی ہے اسی کو کنگھی چوٹی کہتے ہیں اور اس کا تعلق بہرحال اپنے معاشرے سے ہے مغربی معاشرہ میں چوٹی ہوتی ہی نہیں۔

کنواں کھودنا، کنوؤں میں بانس ڈالنا، کنوئیں میں جھانکنا، کنوؤں میں جھکانا

کنواں کھودنا پانی حاصل کرنے کے لئے ہوتا ہے لیکن شیر کو یا ہاتھی کو زندہ پکڑنے یا گرفتار کرنے کے لئے بھی کنواں کھودا جاتا ہے اور اس پر گھانس پھونس ڈال دیا جاتا ہے اور جب شیر یا ہاتھی وہاں سے گزرتا ہے تو اس کنویں یا گڈھ میں جا گرتا ہے اور پھر اس کو پلے ہوئے شیروں یا ہاتھیوں کی مدد سے پکڑا جاتا ہے۔

کنوؤں میں بانس ڈالنا، تلاش کرنے کو کہتے ہیں کہ تمہاری تلاش میں توہم نے کنویں میں بانس ڈلوا دیئے کنویں جھانکنا یا جھُکانا بھی تلاش کرنا ہے مگر اچھے معنی میں نہیں ہے اب کنویں باقی نہیں ہیں بیشتر کنویں بند ہو چکے ہیں دہلی میں لال کنواں، ڈھولا کنواں اندرا کنواں اس کی مثالیں ہیں پتھر والا بھی کبھی کنواں ہی تھا کھاری باولی اور حضرت نظام الدین اولیا کی درگاہ سے متعلق باولی بھی بڑے کنویں ہیں کھاری باولی اب نہیں ہے مگر بستی حضرت نظام کی باولی موجود ہے اور گزرے زمانے کی یاد دلاتی ہے۔

کوٹھے والیاں

کوٹھا ایک خاص معنی میں بالا خانہ کو کہتے ہیں اور بالا خانہ بھی اپنا ایک اصطلاحی مفہوم رکھتا ہے۔ یعنی طوائف کی رہائش گاہ طوائف گانے والی عورت کو کہتے تھے۔ جس کو رقص کا فن بھی آتا تھا۔ گانے بجائے اور رقص کے ساتھ اپنے موسیقی کے فن کو پیش کرنے کا کام ڈومنیاں بھی کرتی تھیں۔ مگر وہ عورتوں کی محفلوں میں گاتی بجاتی تھیں۔ ویسے ڈومنی کا اصطلاحی لفظ طوائف کے لئے بھی استعمال ہوتا تھا درگاہ قلی خان سر سالار جنگ اول نے عہد محمد شاہی میں جو دہلی کا سفر کیا تھا اس کی روداد مرقع دہلی نام کی کتاب میں ملتی ہے انہوں نے دہلی کی اس وقت کی طوائفوں کو ڈومنی کہا۔

طوائفیں بڑی مالدار اور ڈیرہ دار بھی ہوتی تھیں۔ ڈیرہ دار طوائفیں وہ طوائفیں کہلاتی تھیں جن کے پاس نو عمر لڑکیاں بھی ہوتی تھیں اور ان کے لئے رقص و سرود کا کام بھی کرتی تھیں اُن کو نوچنا کہتے تھے انگریز جب ہندوستان میں آئے اور انہوں نے طوائفوں سے ذہنی رابطہ پیدا کیا تو وہ انہیں لال بی بی کہہ کے پکارتے تھے۔

طوائف کے کوٹھے پران کے درجہ کے مطابق اُمراء اور صاحب ثروت لوگ جاتے تھے۔ بادشاہوں کی بھی طوائفیں محبوب شخصیتیں ہوتی تھیں طوائف کے کوٹھے کی تہذیب اُردو شاعری اور ادبی شعور پر بہت اثرانداز ہوئی ہے داغ کی شاعری میں تو اس کی بے طرح جھلکیاں ملتی ہیں عام زبان میں طوائف کو کوٹھے والی کہتے ہیں۔

کوچہ گردی کرنا

کوچہ گلی محلے کو کہتے ہیں اور طوائف کے کوٹھے کو بھی کوچہ کہا جاتا ہے اسی لئے جب ہم کوچہ گردی ایک خاص مفہوم کو ذہن میں رکھ کر کہتے ہیں تو اس سے مراد طوائف کے کوٹھے پر آنا جانا ہے۔ اسی لئے اقبال نے فرنگیوں کے لئے کوچہ گرد کا لفظ استعمال کیا گلی کوچہ دہلی کی زبان میں عام استعمال میں آتا ہے۔

کودوں دلانا، کودوں

مشرقی یوپی میں ایک بہت معمولی قسم کا اناج ہوتا ہے اس کو کودوں کہتے ہیں پہلے زمانہ میں پیسے کی کمی تھی اس لئے چیزوں کے بدلہ میں اناج دیا جاتا تھا دوسری جنگ عظیم سے پہلے تک یہ سسٹم کافی رائج تھا اور اب بھی دیکھنے کو مل جاتا ہے کودوں بہت کم درجہ کا اناج ہے اس لئے کودوں دے کر پڑھنا اس کو ظاہر کرتا ہے کہ ہم نے تو کچھ بھی نہیں دیا مفت پڑھے ہیں۔ یہ وہی بات ہوئی جس کا اظہار ہم کوڑیوں کے حوالہ سے بھی کرتے ہیں کوڑیوں کے مول خریدنا، یعنی جو چیز بہت سستی مل جائے اُسے کوڑیوں کے مول سے نسبت دی جاتی ہے کوڑیاں بھی سکے یا پیسے ٹکے کے طور پر چلتی تھیں۔ اور دوسری جنگِ عظیم تک چلتی رہیں۔

یہ محاورے اس دور زندگی کی یاد دلاتے ہیں جب پیسے پاس ہونا بڑی بات تھی اور اسی سے یہ محاورہ بھی نکلا ہے پیسہ دیکھا ہے یا پیسے کامنہ نہ دیکھو پیسہ پانی کی طرح نہ بہاؤ یا پیسہ تو ہاتھ کا میل ہے۔ پیسے پیسے کو محتاج ہو نا بھی اسی سلسلے کا محاورہ ہے اور اس سے ہماری سماجی حیثیت کا بھی تعین ہوتا ہے اور سماج میں پیسے کی اہمیت کا بھی۔

کورا کورا بر تن کورا رکھنا۔ کورا رہ جانا۔ کورا سر۔ کورے بال رکھنا۔ کورے استرے سے سر مُونڈنا، کوڑا کرنا۔ کوڑا مارنا

کورا ایسی کسی شے یا برتن کو کہتے ہیں جس کا استعمال ابھی نہ کیا گیا ہو کہ وہ تو ابھی تک بالکل کورا ہے جو لوگ پڑھے لکھے یا عقل مند نہیں ہوتے ان کو بھی کورا کہہ کر یاد کیا جاتا ہے کہ اس معاملہ میں بالکل ہی کورے ہیں دہلی میں کورا رکھنا بھی محاورہ ہے جس سے مراد ہے کسی شے کو اٹھا کر رکھنا۔ کسی شے کا استعمال نہ کرنا اور اسے حفاظت سے رکھے رہنا کورا سر اور کورے بال دہلی والوں کا خاص محاورہ ہے اور اس کے معنی ہوتے ہیں کہ سر میں تیل نہ لگانا سنگھار پٹار کے بغیر رہنا۔

جس کو اچھا خیال نہیں کیا جاتا کورے استرے سے سر مونڈنا یعنی بری طرح سر مونڈائی کرنا بیوقوف بنانا الٹے استرے سے حجامت بنانا یا کھنڈے استرے سے سر مونڈنا بھی قریب قریب اسی معنی میں آتا ہے۔

جہاں تک کورے برتن کی بات ہے ہمارے گھریلو معاشرے میں وہ تعریف کے لائق بات ہے نظیر اکبر آبادی کی مشہور نظم ہے۔

واہ کیا بات کورے برتن کی

کوڑا مارنا یا کوڑے لگانا سزا دینا اور کوڑوں سے مارنے کی طرف اشارہ کرتا ہے قبائلی زندگی اور قدیم عرب میں یہ سزا بہت عام تھی دہلی میں گھوڑے کو کوڑا لگانا جس معنی میں آتا ہے اسی معنی میں کوڑے کرنا بھی آتا ہے۔

کوڑی کے تین تین بکنا۔ کوڑی کے کام کا نہیں۔ کوڑیوں کے بھاؤ بھی مہنگا ہے۔

کوڑی کے تین تین بکنا، بہت سستا ہونا، جس کی گویا کوئی قیمت ہی نہیں یعنی اس کی قیمت تو ایک کوڑی بھی نہیں ہے یہ اس میں بھی مہنگا ہے یہ بھی کسی شے کو انتہائی کم قیمت قرار دینا ہے مغربی یوپی میں کوڑی کوڑی کو"ڈ" سے لکھا جانا ہے دہل میں"ر" استعمال ہوتا ہے۔

کولھو کا بیل، کولھو کاٹ کر موگری بنانا، کولھو کے بیل کی طرح پلِنا

کولھوں کا بیل آنکھیں بند کئے ایک ہی دائرہ میں چکر لگاتا رہتا ہے اسی لئے جہاں سے چلتا ہے وہیں کھڑا ہوتا ہے یعنی اس کے سفر کی کوئی منزل نہیں ہوتی اسی لئے مولانا حالی نے ایک موقع پر کہا تھا یہ کولھو کے کچھ بیل سے کم نہیں ہے۔ جہاں سے چلے تھے وہیں کے وہیں ہیں۔

کولھو کاٹ کا موگری بنانا یہ دہلی کا محاورہ ہے اور اس کے معنی ہوتے ہیں کسی بڑی چیز کو قربان کر کے چھوٹی چیز حاصل کرنا جو بہرحال بیوقوفی کی علامت ہے اور نفع نقصان کو نہ سمجھنا ہے۔ اسی لئے اسے ایک گہرا طنز خیال کیا جاتا ہے۔

کولھو میں پلوا دینا

بے حد شدید اور عبرت ناک سزا ہے پہلے زمانہ میں سزائیں بہت سخت تھیں مثلاً سولی دینے کی سزا آنکھیں نکلوانے کی سزا بوٹیاں چیل کوؤں کو کھلانے کی سزا اسی طرح پہلے زمانہ میں زندہ انسانوں کو کولھوؤں میں ڈال دینے اور پھر اُن چیزوں کی طرح جو کولھو میں ڈال کر پلوائی جاتی تھیں انسان کے وجود کو ریزہ ریزہ کر دینے کی سزا یہ آج بھی محاورے کی صورت میں اپنے بے حد تکلیف دہ احساسات کے ساتھ زندہ ہے اور ہماری تاریخ کے بہت المناک واقعات کی طرف اشارہ کرتی ہے اس سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ محاوروں میں کس طرح تاریخی حقائق کو آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ کر دیا ہے ایک چھوٹا جملہ محاورے کی شکل میں تاریخ کا مرقع ہوتا ہے۔

کوہِ قاف، قاف سے قاف تک

پہاڑوں کا وہ سلسلہ جو قاف کی شکل میں پایا جاتا ہے پہاڑوں کا ہماری تاریخ تہذیب اور انسانی معاشرہ کے ارتقاء سے خاص خاص مراحل سے تعلق رکھتے ہیں کوہ قاف، قاف کی شکل کے پہاڑی سلسلہ کو کہتے ہیں جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ شمالی ایران کا وہ علاقہ ہے جو آگے جا کر جنوب مشرقی روس سے مل جاتا ہے اسی کا مشہور شہر آرمینیا ہے اس پہاڑ کو سونے کا پہاڑ بھی کہا گیا ہے اور کوہِ قاف کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ وہ سونے کا ایک پہاڑ ہے جو تمام روئے زمین کو گھیرے ہوئے ہے۔ اسی معنی میں"قاف تا قاف" کا مفہوم یہ ہوا کہ کوہِ قاف کے ایک کنارے سے لیکر دوسرے کنارے تک جس میں ساری دنیا آ جاتی ہے۔

کوہِ قاف کی عورتیں بہت خوبصورت ہوتی ہیں یا سمجھی جاتی تھیں اسی لئے حسین عورتوں کو کوہِ قاف کی پریاں کہتے تھے اور ہماری کہانی و داستانوں میں ان کا ذکر بطور خاص آتا تھا یہ گویا ایک وقت میں کوہِ قاف سے متعلق ہمارے تصورات تھے اور اس کی خوبصورت عورتوں کے بارے میں ہمارے خواب و خیال جس طرح ہندوی کلچر میں اپسرائیں ہوتی ہیں اسی طرح فارسی واردو میں روایتی حسن اور نسوانی کشش کو اور سماج کی ذہنی تصویروں کا مرقع ہماری نظر میں پھر جاتا ہے۔

کوئی کسی کی قبر میں نہیں جائے گا یا نہیں سوئے گا

قبر ہماری تہذیب میں موت سے متعلق اپنے خیالات و سوالات کی ایک علامت ہے خاک لحد مزار سنگِ لحد لوحِ مزار کفن کافور وغیرہ موت کی رسومات سے متعلق ہیں اور ہزاروں برس کی روایت کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔

احرامِ مصر بھی مقبرہ ہیں اور تاج محل بھی مقبرہ ہے بنیادی طور پر قبر کی روایت سے متعلق ہیں قبروں پر جا کر ہم پھُول چڑھا تے ہیں خوشبو دار چیز جلاتے ہیں ہمارا یہ بھی خیال ہے کہ فاتحہ درود مردے کو پہنچتی ہے قبر میں جو راحت یا عذاب ہوتا ہے وہ مُردے کے اپنے اعمال کے مطابق ہوتا ہے یہیں سے یہ محاورے پیدا ہوا ہے کہ کوئی کسی کی قبر میں نہ سوئے گا یعنی دنیا میں جو خود کریگا قبر میں ثواب یا عذاب الہی کا نتیجہ ہو گا۔

ہر ایک کے اپنے اعمال قبر میں اس کے ساتھ ہوں گے یہ جو کہا جاتا ہے کہ اس کے اعمال اس کے ساتھ اور میرے اعمال میرے ساتھ اُس سے مراد قبر ہی ہے جہاں مسلمانوں کے عام عقیدہ کے مطابق انسان کا اعمال نامہ اس کے ساتھ ہو گا نیکی بھی اور بدی بھی۔

کوئی نہیں پوچھتا کہ تیرے منہ میں کتنے دانت ہیں

دانت انسان کے چہرہ مہرہ میں خاص کردار ادا کرتے ہیں اور اُن سے بہت سے محاورات وابستہ ہیں لیکن یہ محاورہ ایک خاص طرح کا سماجی محاورہ ہے کہ ہر آدمی ایک دوسرے سے بے تعلق ہے اور کوئی کسی کے ذاتی معاملہ یا مسئلہ سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا کہ یہ پوچھے کہ تیرے منہ میں کتنے دانت ہیں بہت سے مسائل غیر ضروری بھی ہوتے ہیں انہیں کوئی دوسرا کیوں چھیڑے اور غیر ضروری طور پر دوسروں کے معاملات میں دخل دے۔

کھڑے گھاٹ دھُلوانا

دھوبیوں کا محاورہ ہے اور ایسے طبقہ کے لئے ہے جو یہ کہتا ہے کہ میرے کپڑے ابھی دھو دو مجھے کہیں جانا ہے۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ اس کے پاس اور کپڑے نہیں ہیں نئے کپڑوں کا تو سوال ہی نہیں اس لئے کہ دھوبی کے گھرکے کپڑے بھی غنیمت ہوتے ہیں دھُلے ہوئے اور انہی کے لئے درمیانی طبقہ میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ دھوبی کے گھرکے ہیں اِس سے ہم یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہماری معاشرتی زندگی کس طرح ہمارے محاوروں میں جھلکتی ہے۔

کھوٹا پیسہ یا کھوٹا بیٹا وقت پر کام آتا ہے

یہ محاورہ ہماری سماجی فکر کی بہترین نمائندگی کرتا ہے پیسہ ہونا یوں بھی مشکل ہوتا ہے اور پہلے زمانہ میں تو پیسہ کا میسر آنا بڑی بات تھی اِسی طرح بیٹا ہونا چاہے وہ نالائق ہی کیوں نہ ہو سکون کا باعث ہوتا تھا اور آدمی کا جی چاہتا تھا کہ وہ اس کی بھی تعریف کرے اسی لئے یہ محاورہ رائج ہوا کہ یہ کھوٹا پیسہ اور کھوٹا بیٹا ہی وقت پر کام آتے ہیں۔

کھونٹے کے بل کودنا، کھونٹے سے باندھنا

یہ بہت اہم محاورات میں سے ہے اور اس گھریلو زندگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں جہاں جانور یا مویشی زندگی میں داخل رہتے ہیں اسی لئے کھونٹے سے بندھنا یا باندھنا کا محاورہ رائج ہوا۔ اگر جانور کو کھونٹے سے نہیں باندھا جائے گا تو وہ کہیں بھی اِدھر اُدھر نکل جائے گا اور کوئی اس کو پکڑ لے گا۔

علاوہ بریں کھونٹے سے لگنا بھی محاورہ ہے اور وہ بھی جانور کی وفاداری کے معنی میں آتا ہے کہ جب جانور جنگل باہر سے گھر یا گھرکی طرف آتے ہیں تو وہیں جا کر کھڑے ہوتے ہیں جہاں اِن کا کھونٹا ہوتا ہے۔

یہاں سے ایک اور محاورہ پیدا ہوا کہ جانور کو اپنے کھونٹے کا بڑا سہارا ہوتا ہے اور وہ اسی سہارے پر کودتا یا اُچھلتا ہے جیسے کوئی آدمی اپنے سرپرست یا خاندان کے بزرگ کے بل بوتے پر غلطیاں بھی کر جاتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ میرے بڑے اس کو نمٹا لیں گے اور مجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچنے گی اس کے مقابلہ میں قصائی کے کھونٹے سے بندھنے کے معنی تکلیف اٹھانے اور چھری تلے جانے کے ہیں۔ ایک محاورہ بھی اسی سلسلہ کا ہے کہ تم کہیں بھی کھلے بندھے نہیں ہو یعنی تم نے اچھا بُرا وقت نہیں دیکھا۔

کھیل اُڑ کر منہ میں نہیں گئی

یعنی کھانے پینے کو کچھ بھی دیکھا اور کوئی تجربہ یا ذہنی تربیت حاصل نہیں کی۔

کیل کایا کیلی کا کھٹکا نہیں

یہاں کسی بات کا خوف و ڈر یا اندیشہ نہیں ہے یعنی محفوظ جگہ اُس کی طرف اشارہ کرنے کے لئے یہ محاورہ ذیل میں بہت عام ہے۔

ردیف "گ"

گاڑھی چھننا

یہ نشہ کرنے والوں کا محاورہ ہے اور اس کا تعلق بھنگ پینے سے ہے ہمارے یہاں بھنگ پینے کو کبھی اچھا نہیں سمجھا گیا وہ مہ نوشی کے مقابلہ میں ادنی درجہ کا نشہ تھا۔ اسی لئے جو لوگ بھنگ پیتے تھے وہ بھنگڑ کہلاتے تھے یہاں تک کہ اُن کو بھنگی کہا جانے لگا بھنگ کر دینا یا بھنگ ہو جانا ہندی زبان میں منتشر ہونے کو کہتے ہیں اسی لئے بھنگ کر دی گئی برخاست کر دی گئی۔ منتشر کرنے کے معنی میں آتا ہے۔

بھنگ کا نشہ بہت شدید ہوتا ہے سادھو سنت بھی جو جنگلوں میں رہتے تھے وہ یہ نشہ کرتے تھے مگر بیشتر یہ نشہ بہت ہی ادنی اور چھوٹے طبقہ میں رائج ہوتا تھا گاڑھی چھننی کہ یہ معنی ہیں کہ بھنگ کو باریک کپڑے میں چھانا گیا یہ اس سے وہ اور زیادہ نشے والی ہو جاتی تھی اور جب کسی سے گہری دوستی بے تکلفی کے ساتھ تعلقات بڑھتے تھے تو اسے بھی گاڑھی چھننا کہتے تھے کہ آج کل تو ان کے غضب کے تعلقات ہیں خوب گاڑھی چھنتی ہے۔

گالیوں کا جھاڑ باندھنا

گالی ہماری معاشرتی زندگی میں بے طرح رائج رہی ہے اور آج بھی ہے ہم دوستی اور محبت میں گالیاں دیتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں نفرت و حقارت کے ساتھ بھی گالیوں کی بوچھار باندھی جاتی ہے اور بے تحاشہ گالیاں دی جاتی ہیں اسی کو گالیوں کا جھاڑ باندھنا کہتے ہیں ذوق کا شعر ہے۔

نہ جھاڑا غیر کو جو تجھ سے ہو کر جھاڑ لپٹا تھا

مجھی پرگالیوں کا جھاڑ تو نے بدگماں باندھا

"جھاڑ" درخت کو بھی کہتے ہیں اور رُوکھے سوکھے کانٹے دار بڑے بڑے پودوں کو بھی۔

گانٹھ باندھنا، گانٹھ پڑنا، گانٹھ جوڑنا، باندھنا، گانٹھ کا پورا، گانٹھ کا بھرا، گانٹھ کا پیسا، گانٹھ کا کھوٹا، گانٹھ کھولنا

گانٹھ ہماری عام زبان کا ایک ایسا لفظ ہے جو سماج کے ذہن و زندگی سے گہرا رشتہ رکھتا ہے گانٹھ گرہ کو کہتے ہیں اور جو محاورے گانٹھ سے متعلق ہیں وہ گرہ سے بھی مثلاً گِرہ دینا گرہ لگانا۔ گرہ دار ہونا، گرہ باندھنا، گرہ میں رکھنا، گرہ پڑنا سب ہی وہ محاورے ہیں جو ایک کے سوا گانٹھ کے ساتھ آتے ہیں۔ کیونکہ مہذب طبقہ گانٹھ کو اپنے ہاں گفتگو میں لانا پسند نہیں کرتا اسی لئے گانٹھ کے ساتھ آنے والے محاورے گرہ کے ساتھ آتے ہیں گرہ لگانا شاعری کی اصطلاح ہے۔ اور ایک مصرعہ پر دوسرا مصرعہ کہنے کو گرہ لگانا کہتے ہیں۔ گرہ کوئی دوسرا شخص لگاتا ہے گرہ کھولنا بات کا رمز پا جانا ہے اسی لئے کہتے ہیں کہ اس نے اس گرہ کو کھولا یا دل میں جو گرہ پڑ گئی تھی اس کو اپنی تدابیر یا اپنی گفتگو سے دُور کیا"پیا"پاس ہوتا ہے تو اس کے لئے کہتے ہیں کہ وہ کسی کی اپنی گرہ یا گانٹھ میں ہے کسی استاد کا شعر ہے۔

دل کا کیا مول بھلا زلف چلیپا ٹھہرے

تیری کچھ گانٹھ گِرہ میں ہو تو سودا ٹھہرے

گانٹھ کا پورا ہونا پیسے کا کسی کی اپنی گانٹھ گرہ میں ہونا ہے شاعری میں اُستادوں ہی کے ہاں سہی گانٹھ کا لفظ آنا اس بات کی علامت ہے

کہ یہ لفظ کبھی اچھی سوسائٹی میں بھی رائج تھا مگر سنجیدہ موقعوں کے لئے نہیں۔

گُدگُدی کرنا، گُدگُدی اٹھنا، گُدگُدی دل میں ہونا

اصل میں گدگدی ایک خاص بدن کی حالت کو کہتے ہیں جو خواہش پیدا کرنا خو ش ہونا اور خوش کرنے کی تدبیر کرنا بھی شامل ہے اسی لئے بچوں یا بڑوں کے گدی گدی کی جاتی ہے اور دل میں گدگدی اٹھنے کے معنی خواہش ہونا ہے بچوں جیسی معصوم خواہش جو آدمی کو ایک سطح پر والہانہ انداز کی طرف لے آئے۔ "گد گد کرنا" ہندی میں محاورہ ہے اور اس کے معنی بھی جی میں خوش ہونا ہے۔

گراں گزرنا، گراں بار

یار بوجھ گراں بھاری قرضہ ہو یا اور کوئی سماجی مجبوری اس کے لئے جو آدمی تکلیف اٹھاتا ہے پریشان ہوتا ہے اور اپنے دل پر ایک طرح کا بوجھ محسوس کرتا ہے اس کو گراں باری کہتے ہیں بوجھ یعنی گراں بار ہونا طبیعت پر گرانی ہے یعنی ایک طرح کا بوجھ اور ناخوشگوار صورتِ حال پیدا ہوتی ہے گراں گزرنے کے معنی کوئی حرکت کوئی بات یا کوئی اشارہ کنایہ برا لگنا ہے۔ فیض کا شعر ہے۔

وہ بات سارے فسانہ میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے

یہی گراں گزرنا بھی ہے۔ اس سے ہم یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہمارے محاورے کس طرح ہماری انفرادی یا معاشرتی الجھنوں کو پیش کرتے ہیں۔

گردش میں ہونا

گردش کا تعلق بنیادی طور پر ستاروں سے ہے جب ستارے غیر مناسب ہوتے ہیں اور انسان کے حالات کو فیور(Favour) کرتے ہوئے نظر نہیں آتے تو کہتے ہیں کہ آج کل اس کے ستارے گردش میں ہیں یعنی پریشانی اور مصیبت کے دن ہیں اس سے دو باتیں سمجھ میں آتی ہیں ایک علم نجوم کے بہ اعتبار اور دوسرے علمی اور فکری باتوں کو محاورہ کے دائرہ میں لانا یہاں یہ اشارہ کرنا غیر ضروری نہ ہو گا کہ ہمارے محاوروں کا رشتہ زندگی کے ہر سطح کے معاملات خیالات اور سوالات سے رہا ہے۔

گردن پر بوجھ ہونا، گردن پر خون ہونا، گردن پر سوار ہونا، گردن پھنسانا، گردن پھیرنا، گردن جھکانا، گردن کو ڈورا، گردن مارنا، گردن مروڑنا، گردن میں ہاتھ ڈالنا، گردن ناپنا وغیرہ

گردن حیوانی یا انسانی وجود میں غیر معمولی اہمیت رکھنے والا وجود کا حصّہ ہے انسان کی گردن تو اس معاملہ میں اور بھی زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہے سر سے نسبت رکھنے والے بہت سے محاورے گردن ہی کی کسی نہ کسی سطح پر تعلق رکھتے ہیں مثلاً گردن اونچی کرنا سر اونچا کرنا ہے گردن جھُکانا سر نیچا کرنا ہے گردن کاٹنا یا کٹوانا قتل کئے جانے کے معنی سے بہت قریب ہے سر کٹنے کے معنی بھی یہی ہیں گردن پر سوار ہونا آدمی سے معمولی درجہ کی محنت لینا اور اس کے لئے مصیبت کھڑے کرنا۔ میرے لئے مصیبت بنا ہوا اسے اور مجھے بہت معمولی درجہ کی چیز سمجھ کر کام لے رہا ہے گردن مارنا بھی قتل کر دینے کے معنی میں آتا ہے اور گردن اڑانا بھی۔ مصرعہ

شرع کہتی ہے کہ قاتل کی اڑا دو گردن

گردن ٹھہرنا بچوں کے لئے آتا ہے شروع شروع میں بچے اپنے سرکو گردن سنبھال کر نہیں رکھ سکتے اسی لئے ان کی گردن کو ہاتھ کا سہارا دیا جاتا ہے گنڈا تعویذ نیلا دھاگا گردن ہی میں پہنایا جاتا ہے ہار چمپا کلی، گلو بندا ور جگنو بھی گردن ہی کے زیور ہیں۔

گردن میں ہاتھ ڈالنا محبت اور بے تکلفی کی وجہ سے ہوتا ہے مگر گردن پکڑنے کا مفہوم دوسرا ہوتا ہے گردن چھڑانا لڑائی جھگڑے سے نمٹنا یا قرض کےبوجھ سے ادا ہونا گردن پھنسانا یا پھنسوا دینا غیر ضروری اور غیر معقول ذمہ داریاں عائد ہو جانا یا کر دینا ہے گردن ناپنا سخت سزا دینا اور برا سلوک کرنا سخت انتقام لینا ہے۔

گردن پکڑنا کسی کو ذمہ داری نبھانے کے لئے جائز یا ناجائز طور پر سختی سے آمادہ کرنا کہ آخر میں نے اس کی گردن پکڑی جب قابو میں آیا اس طرح گردن سے متعلق محاورے ہمارے سماجی رویوں کے ایک سے زیادہ پہلوؤں کو سامنے لاتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ ہم دوسروں کو کس طرح دیکھتے ہیں اور غیروں سے ہمارا معاملہ کرنے کی سطح غلط یا صحیح طور پر کیا رہتی ہے۔

گڑیوں کا بیاہ، گڑیوں کا کھیل

اصل میں ہمارے یہاں گڑیاں سماجی زندگی کا وہ رخ پیش کرتی ہیں جو گھر آنگن سے متعلق ہوتا ہے کپڑے کی گڑیاں بنانا تو گھر کی عورتوں کا ایک ایسا کام تھا جس سے بچے خوش ہوتے ہیں بچوں کے کھیلوں میں اور خاص طور پر بچیوں کی گھریلو دلچسپیوں میں گڈا گڑیا ان کے چھوٹے چھوٹے زیور لباس زندگی سے شوق پیدا کرتے ہیں۔ اس میں گڈا گڑیا کا بیاہ بھی ہے جس میں گھریلو رسوم کی نقل کی جاتی ہے کوئی گڈے کی ماں بنتی ہے تو کوئی گڑیا کی اسی طرح لین دین اور بری چیز کی رسمیں ادا ہوتی ہیں یہ ہمارا معاشرہ ہے جس کی ایک چلتی پھرتی تصویر ہم گڈوں اور گڑیوں کے کھیل میں دیکھتے ہیں نقل اتارنا یوں بھی بچوں کا دلچسپ مشغلہ ہوتا ہے اور گھرکی بچیوں کو تو اس کا خاص طور پر شوق ہوتا ہے۔

گل کھِلانا، گُل کھلنا

ہمارے کلچر میں پھول کی بڑی اہمیت ہے پھول خوشی کے موقع پربھی کام آتے ہیں اور غم کے موقع پربھی چنانچہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ قبروں پر پھول چڑھائے جاتے ہیں برسی کے موقع پربھی پھول بھینٹ کئے جاتے ہیں یہاں تک کہ دہلی میں تیجہ کی رسم پھول کہلاتی ہے اور قدیم بادشاہت کے زمانہ میں بھی رائج تھی بے تکلف اور غیر ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کو گلچھڑے اُڑانا کہتے ہیں گل کھلانا انوکھی بات کرنا ہے جس سے لوگ پریشان ہوں اور اُس پر حیرت کریں کہ یہ کیا ہو گیا۔ گل کھلنا ایسے ہی کسی واقع کو کہتے ہیں"گلزارِنسیم" میں گل بکاولی کے اڑائے جانے پر نسیم نے لکھا ہے۔

دیکھا تو وہ گُل ہوا ہوا ہے کچھ اور ہی گل کھِلا ہوا ہے

گلے پر چھُری پھیرنا یا چلانا، گلا کاٹنا، کھنڈی چھُری سے ذبح کرنا

جن قوموں میں جانوروں کو ذبح کرنے کا رواج ہے وہ جاندار کا گلا چھری سے کاٹتے ہیں اسی کو چھُری پھیرنا کہتے ہیں اِسے چھری چلانا بھی کہا جاتا ہے یہی محاورہ بن گیا اور کسی پر ظلم و زیادتی اور نہ انصافی کرنے کو گلے پر چھُری چلانا کہتے ہیں جس کے معنی گلا کاٹنا ہے اور یہی کام جب بھونڈے انداز سے کیا جاتا ہے اور بدتمیزی روا رکھی جاتی ہے تو اسے کھنڈی چھری سے ذبح کرنا کہتے ہیں یہ محاورہ مسلمان قوموں میں رائج رہے ہیں ہندوؤں نے ایسے قبیلوں میں اس طرح کے محاورے رائج ہو سکتے ہیں جس کے یہاں جانور ذبح کئے جاتے ہیں۔ تلوار سے گردن اڑا دی جاتی ہے کاٹی نہیں جاتی یہ فرق ہے جو چھری یا تلوار سے گردن کاٹنے میں ہے۔

گلے پڑنا، گلے کا ہار ہونا

"گلے پڑنا" کسی ایسے شخص کے عمل کو کہتے ہیں جو اپنی ذمہ داری دوسروں پر ڈالتا پھرتا ہے۔ اور انھیں مشکلات میں پھنسا تا ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ یہ خواہ مخواہ کی مصیبت گلے آ پڑی گلے کا ہار ہو جانا کسی مصیبت کا یا مشکل کام کا مستقل طور پر گلے کا ہار ہونا ہے۔ ہار ایک خوبصورت شے ہے گلے کا زیور ہے لیکن محاورہ میں اس کا استعمال زیب و زینت سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ مشکلات و مصائب سے رشتہ رکھتا ہے۔ جن میں پڑنا آدمی کے لئے ناخوشگوار ی بلکہ نا گواری بڑھتی ہے۔

اس سے پتہ چلا کہ زبان کے استعمال اور سماجی سطح پر جو کسی معاشرہ کی نفسیاتی سطح ہوتی ہے الفاظ کیا کیا معنی اختیار کرتے ہیں اور بات کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے گلے منڈھنا بہت کچھ اسی معنی میں آتا ہے گلے میں زنجیر پڑنا ایک طرح سے پھنس جانے کے معنی میں آتا ہے اس لئے کہ جانور کو اس کے گلے میں رسی ڈال کر کھونٹے سے باندھا جاتا ہے زنجیر اس کے بعد کی بات ہے اور اس سے زیادہ سخت اور بری بات ہے اور زنجیر کرنا بھی محاورہ ہے اور گلے ہاتھوں یا پیروں میں زنجیر باندھنے کو کہتے ہیں میر کا شعر ہے۔

بہار آئی دوانہ کی خبر لو اُسے زنجیر کرنا ہے تو کر لو

گنج شہیداں، گنج قارون، گنجے کو خدا ناخن نہ دے

گنج اُردو زبان میں کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے خزانہ کے معنی میں بستی یا محلے کے معنی میں اور سر کے بال اڑ جانے کے معنی میں عام طور سے جب کسی کو گنجا کہتے ہیں تو اس سے مراد اس کے سرکے بال اڑنے کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔

گنجے کو خدا ناخن نہ دے اس کے معنی یہ ہیں کہ کسی عیب دار آدمی کو اگر کوئی قوت حاصل ہو گئی کوئی موقع ہاتھ آگیا تو وہ اپنا ہی نقصان کرے گا گنج شہیداں اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کسی جنگ میں شہید ہونے والے بہت سے لوگ دفن کر دیئے جاتے ہیں۔

گنج قارون، قارون ایک کلاسیکی کردار ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مصر کے کسی بادشاہ کا وزیر مالیات تھا اور اتنا مالدار تھا کہ اُس کا خزانہ اونٹوں پر لد کر جاتا تھا اور کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ اس کی چابیاں اتنی تھیں کہ وہ اونٹوں پر لد کر جاتی تھیں یہ مبالغہ ہے اور داستانی انداز میں پیش کیا گیا ہے لیکن قدیم زمانہ کے بادشاہوں کے ساتھ ان کے خزانوں کا بھی ذکر آتا ہے جیسے خسرو پرویز کے لئے کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس سات خزانہ تھے ایک کا نام گنج شائیگاں تھا دوسرے کا نام گنج رائیگاں وغیرہ اس سے یہ پتہ چلا کہ محاورے ہماری روایتوں کو محفوظ کرتے ہیں اور محاورات میں ڈھل کر یہ روایتیں ہمارے سماجی حافظہ کا حصّہ بن جاتے ہیں۔

گنگا جمنی، گنگا نہانا

گنگا ہندوستان کا مقدس دریا ہے ممکن ہے دراوڑوں کے زمانہ میں بھی اِسے مقدس خیال کیا جاتا ہو لیکن آریاؤں کے دور میں تو رفتہ رفتہ اُس کی پوجا ہونے لگی اور اس کو ہر ہر گنگے کہا جانے لگا اس سے نگاہ کے ساتھ پاکیزگی اور مذہبی تقدس وابستہ ہو گیا اور اسی لئے گنگا کا پانی اس تقدس کی ایک علامت بن گیا۔ اسی لئے پھول گنگا میں پھینکے جاتے ہیں اور بھجن پیش کئے جاتے ہیں۔ گنگا میں نہانے کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ آدمی کا بدن اور اُس کی روح پاک ہو گئی تو جب بڑے کام سمٹ جاتے ہیں تو محاورے کے طور پر کہا جا تا ہے کہ تم تو گنگا نہا لئے یعنی ساری الجھنوں اور ذمہ داریوں سے فارغ ہو گئے اب ہر طرح پاک صاف ہیں اور آزاد ہیں۔

الہ آباد کے قریب وہ مقام ہے جس کو پریاگ کہتے ہیں جہاں گنگا اور جمنا دونوں ایک الگ ندیاں مل جاتی ہیں اور بہت دُور تک پانیوں کے دھارے ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں۔ اور دونوں کے الگ الگ رنگ پہچانے جاتے ہیں اسی کو ہم نے ایک محاورے میں بدل دیا اور گنگا جمنی تہذیب کہا جو ہندوستان کی ایک تہذیبی خصوصیت بن گئی اردو کو بھی اس کے ملے جلے کردار کی وجہ سے گنگا جمنی زبان کہتے ہیں۔

گوشت سے ناخن کا جُدا کرنا یا گوشت سے ناخن جُدا ہونا

گوشت سے ناخن کا جدا کرنا یا ہونا اُردو میں عام طور پر بہت مشکل اور ناممکن بات کو کہتے ہیں غالب کے ایک شعر میں اسی کی طرف اشارہ ملتا ہے۔

دل سے مٹنا تیری انگشتِ حنائی کا خیال
ہو گیا گوشت سے ناخن کا جُدا ہو جانا
(غالب)

اب ظاہر ہے کہ اب اس محاورے کا جو انداز ہے وہ مسلم کلچر سے وابستہ کرتا ہے ویسے جس اٹوٹ رشتہ کی طرف اشارہ موجود ہے وہ ایک تہذیب کا ایک مشترک عنصر ہے۔ ہندو عام طور پر اپنی زبان میں گوشت ہڈی اور خون کا بے تکلف ذکر نہیں کرتے۔

گوشمالی دینا، گوشمالی کرنا یا ہونا

سزا دینے کے معنی میں آتا ہے" گوش" فارسی میں کان کو کہتے ہیں اُردو میں فارسی کی نسبت بہت ترکیبی الفاظ گوش کے ساتھ آتے ہیں جیسے گوش ہوش حلقہ بگوش گوش سماعت سننے والا کان کان اینٹھنا کان پکڑنا کان مروڑنا یہ سب کان کے ذریعہ دی جانے والی سزائیں ہیں اور اُن کو عام طور سے گوش مالی کے تحت رکھا جاتا ہے عجیب بات ہے کہ سزاؤں کا اور اعضاء سے وابستہ ہے زیادہ کاٹ لینا کان کاٹنا دانت توڑنا پیٹ پھاڑنا ہاتھ پاؤں توڑ دینا وغیرہ۔

گھاٹ گھاٹ کا پانی پینا

گھاٹ دریا کے ایسے حصے یا کنارے کو کہتے ہیں جہاں سے کشتیوں میں سفر شروع ہوتا ہے یا پھر کپڑے دھوتے ہیں غرضیکہ گھاٹ کا رشتہ رہ گزر سے بھی ہے اور دریا کے ایسے کنارے سے بھی جس کا جانوروں اور انسانوں کا واسطہ پڑتا ہے ظاہری بات ہے کہ اس طرح جہاں دریا بہتے ہوں اور اُن سے گزر ممکن ہو گھاٹ گھاٹ کا پانی پینا زیادہ سے زیادہ دریائی سفر کے تجربہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اس میں دوسرے تجربہ بھی شامل ہیں۔

گونگے کا خواب

خواب دلچسپ ہوتا ہے مگر وہ اسے بیان نہیں کر پاتا اُس کے معنی یہ ہیں کہ آدمی جن باتوں کو محسوس کرتا ہے جان لینا ہے وہ ان کو بیان نہیں کر پاتا تو وہ گونگے کا خواب ہوتا ہے ایک اور محاورہ بھی اسی معنی میں آتا ہے۔ اور وہ گونگے کا گڑ ہے یعنی وہ گڑکا مزہ تو جان گیا مگر اپنی زبان سے بیان نہیں کر سکتا آپ ان لفظوں کو بدل کر گونگے کی مٹھائی بھی کہہ سکتے ہیں مگر ہماری عوامی زندگی میں گڑ ایک آئیڈیل مٹھائی تھی۔ خوشی کے موقع پر گڑ کی ڈلیاں بانٹی جاتی تھیں اور اسے محاورے میں گڑ بٹنا یا گڑ بانٹنا کہتے ہیں ایک اور کہاوت ہے گڑ نہ دے گڑ جیسی بات کہہ دے یعنی ان عوام کے یہاں گڑ ایک تہذیبی علامت تھا یا رہا ہے۔ وہ گڑ کی بھیلی جب کہتے تھے تو اس سے بہت اچھی شخصیت مراد لیتے تھے اور یہ کہتے نظر آتے تھے کہ اس کا کیا ہے وہ تو گڑ کی بھیلی ہے ان کے یہاں گڑ ایک اچھی بات ایک اچھا لہجہ کی علامت تھا اور جو لوگ اپنی بات بدلتے تھے ان سے کہتے تھے کہ یہ کیا بات ہوئی تم کہتے ہو یہ گڑ کھٹا اور یہ میٹھا ہے۔

گھر پھونک تماشا ہونا یا دیکھنا

اپنا گھر لٹا کر کوئی بظاہر خوشی کا کام کرنا سماج کا اور اُس کے کردار کا ایک کمزور پہلو ہے اس محاورہ میں اسی پر طنز کیا گیا ہے کہ اگر گھر لٹا کر اپنا سب کچھ برباد کر کے کوئی خوشی حاصل کی جائے تو اسے گھر پھونک تماشا کہتے ہیں اور یہ محاورہ اپنی معنویت کے اعتبار سے اہم محاورہ ہے۔

گھر چڑھ کر لڑنا

اصل میں یہ گھر چڑھنا محاورہ ہے اور ہمارے یہاں چڑھنے کے معنی سماجی طور پر کافی وسیع ہیں جیسے برات چڑھنا لام پر چڑھنا سُولی پر چڑھنا اور گھر پر چڑھ کر آنا تیاری سے آنا اگر کوئی آدمی اسی نیت سے آیا ہے کہ وہ گھر پر آ کر لڑے گا تو ایسے موقع کے لئے کہا جاتا ہے وہ روز گھر پر چڑھ کر آتا ہے۔

اُردو کا مصرعہ ہے

یہ خانہ جنگ بھی لڑتی ہے روز گھر چڑھ کر

ہم محاوروں کے الفاظ میں معنی کے اعتبار سے تو تبدیلی دیکھتے ہیں وہ سماجی فکر نقطہ نظر جذبہ و احساس اور قدر و بے قدر ہونے والے آہ و فغاں کی نشاندہی کرتی ہے اور اسی نسبت سے محاوروں کے ساتھ یہ کہے کہ ہمارے سماجی رو یہ گہرے طور پر جُڑے ہوئے ہیں۔

گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے

گھرکے ساتھ بہت سے محاورے وابستہ ہیں ہونا بھی چاہیے اس لئے کہ گھر بنیادی یونٹ ہے جس سے معاشرہ بنتا ہے آدمی کا پالن پوسن بھی گھر میں ہوتا ہے راحت و آرام کا رشتہ بھی گھر سے قائم ہوتا ہے اور محبت کا رشتہ بھی گھرکو دیکھ کر جی خوش ہوتا ہے اور آدمی اپنے گھر کو ہر اچھی چیز سے اچھی بات سے سجانا چاہتا ہے لیکن اگر گھر کے ساتھ کوئی ٹریجڈی یا تکلیف دہ بات کا رشتہ جڑ جاتا ہے تو وہی گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے تنہائی میں بھی اکثر یہ ہوتا ہے۔

گھر سے آدمی دور ہوتا ہے تو ایک ایک چیز اس کی آنکھوں پھرتی ہے گھر کسی وجہ سے ویران ہو جاتا ہے تو اسے گھر سے گھروندا ہو جانا کہتے ہیں اردو کا ایک مشہور مصرعہ ہے۔

جو گھر کو آگ لگائے وہ اپنے ساتھ چلے

گھرکو آگ لگنا بھی محاورہ ہے اردو کا یہ مصرعہ اس کی طرف اشارہ کرتا ہے

اس گھرکو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

یعنی گھر کا اپنا خاص آدمی ہی گھرکی تباہی کا باعث ہوا۔ گھر میں گھس کر بیٹھ جانا یہ بھی گھر سے متعلق محاورہ ہے اس کے معنی ہوتے ہیں کہ دشمنی کرنے والے گھر میں گھسے بیٹھے ہیں اور دشمنی کر رہے ہیں گھر گھسنا خانہ نشیں ہونا الگ بات ہے یہ آدمی کے الگ الگ رویوں اور way of lifeکو ظاہر کرتا ہے۔

گھرکا بھیدی لنکا ڈھا دے

مشہور کہاوت ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ جو خاندانی حالات سے واقف ہوتا ہے وہ زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔

ہم مندرجہ ذیل محاوروں کو بھی گھر سے نسبت کے ساتھ لے سکتے ہیں اور سمجھ سکتے ہیں جیسے گھر کا راستہ لو گھرکا فرد گھر کا نام ڈبونا گھر کے گھر بند ہو گئے گھر تالے پڑ گئے یا گھر گھر کے بے چراغ ہو گئے وغیرہ۔

گھر میں ڈالنا

کسی عورت کو گھر میں رکھ لینا اور بیوی کے طور پر رکھنا گھر میں ڈال لینا کہلاتا ہے۔

گھمسان کا رن پڑنا، گھمسان کی لڑائی ہونا

بہت بڑے پیمانہ پر لڑائی کے ہونے کو کہتے ہیں۔ گھمسان کا رن پڑا یعنی بہت جنگ ہوئی خون خرابہ ہوا لڑائی اب بھی ہوتی ہے لیکن اب ذہنوں میں دلوں میں زیادہ ہوتی ہے۔

گھن چکر ہونا

یعنی بُری طرح چکر کھانا یا چکروں میں پھنسنا گھن کے معنی گھنے کے ہیں۔

گھنگرو بولنا

دہلی والوں کا خاص محاورہ ہے اور اس وقت کے لئے بولا جاتا ہے جب موت سے کچھ پہلے سانس خراب ہو جا تا ہے اور اس میں گھرگھراہٹ آ جاتی ہے لفظ محاورہ میں کس طرح اپنے معنی بدلتے ہیں اس کا اندازہ گھنگرو بولنے سے ہوتا ہے۔

تشبیہہ ہو استعارہ محاورہ کنایہ گفتگو اور مفہوم کی ترسیل کے لئے ایک خاص کردار ادا کرتے ہیں اس کو ہم محاوروں کے لفظیاتی استعمال میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔

گھن لگ جانا

جس طرح کا کیڑا دیمک ہوتی ہے جو کتابوں کاغذوں اور لکڑیوں کو لگتی ہے اسی طرح کے کیڑے کی ایک اور نسل ہے جس کو گھن کہتے ہیں اور اناجوں کو لگتا ہے اور غذا کا ضروری حصّہ کھا جاتا ہے اسی بات کو آگے بڑھا کر ذہن دل اور دماغ کے لئے بھی گھن لگنا استعمال کرتے ہیں یعنی وہ پہلی سی تیزی و طراری اور چمک دمک باقی نہ رہی۔

گھوڑی چڑھنا

گھوڑے پر سوار ہونا بہت سی قوموں کی تہذیبی و معاشرتی زندگی میں غیر معمولی اہمیت رکھنے والی ایک صورت ہے ایک زمانہ میں گھوڑے کی سواری فوجی علامت کے لئے غیر معمولی اہمیت رکھتی تھی اور ایک سپاہی گھوڑا مول لیکر کسی بھی رئیس جاگیر دار یا صاحب ریاست کے یہاں نوکر ہو جاتا تھا سودا کا ایک شعر ہے۔

کہا میں حضرت سودا سے کیوں ڈانواں ڈول
پھرے ہے جا کہیں نوکر ہولے کے گھوڑا مول

عام طور پر رئیسوں کے ہاں سواری کے گھوڑے رکھے جاتے تھے اور تحفہ کے طور پر بھی پیش کئے جاتے تھے تاریخ میں بعض گھوڑوں کے نام بھی دیئے گئے ہیں مثلاً رستم کے گھوڑے کا نام رخش تھا امام حسینؑ کے گھوڑے کو دُلدل کہتے تھے اور مہارانا پرتاپ کے گھوڑے کو چیتک اس سے ہماری تاریخی اور تہذیبی زندگی میں گھوڑے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

جب بچہ کچھ بڑا ہوتا تھا تو گھوڑی چڑھنے کی رسم ادا کی جاتی تھی یعنی پہلے پہل گھوڑی پر سوار ہونا بطورِ تقریب منایا جاتا تھا دہلی میں آج بھی کہیں کہیں اس کا رواج ہے اس سے رسموں کی تہذیبی اہمیت کا اظہار ہوتا ہے ان کا تاریخی اور سماجی پس منظر سامنے آتا ہے اور یہ بھی کہ محاورے میں کس طرح تہذیب کی تاریخ کو اپنے اندر سمیٹا ہے اور زبان کا سماج سے رشتہ جوڑا ہے گھوڑے جوڑے سے شادی ہونا بھی محاورہ ہے اور اس سے مراد لین دین رسوم و آداب کے ساتھ شادی کرنا ہے۔ اگر محاورے کو سرسری طور پرنہ لیا جائے تو محاورہ ہماری تہذیب و تاریخ کا سماجی زندگی اور معاشرتی ماحول کا جیتا جاگتا عکس پیش کرتا ہے۔ گھوڑے کھولنا انتہائی کوشش کو کہتے ہیں۔

گھونگھٹ کھولنا، گھونگھٹ اٹھانا، گھونگھٹ رہنا، گھونگھٹ کی دیوار

ہندوستانی تہذیب میں عورتیں جب اپنی سسرال جاتی تھیں تو دلہن کے چہرہ پر ایک لمبا سا خوبصورت دوپٹہ پڑا رہتا تھا اس کے ایک پلو نقاب کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا منہ دکھائی رسم کے موقع پر گھونگھٹ اٹھایا جاتا تھا دولہا جب اپنی دلہن کا چہرہ پہلی مرتبہ دیکھتا تھا تو اسے گھونگھٹ اٹھانا کہتے تھے جن مردوں کا احترام ملحوظ ہوتا تھا ان کے سامنے ہمیشہ عورت گھونگھٹ نکالے رہتی تھی۔ اور جب گھونگھٹ باقی نہیں رہتا تھا تو اس کے لئے کہتے تھے گھونگھٹ اٹھ گیا۔ دہلی میں لال قلعہ کے لاہوری دروازہ کے سامنے ایک اور سنگین دیوار بنائی گئی ہے اس کو بھی گھونگھٹ کی دیوار کہتے ہیں اسی کا نام" گھونگس" بھی پڑ گیا تھا۔

گھی کے چراغ جلانا یا گھی کے چراغ جلنا، گھی کے گھونٹ پینا

"گھی"دیہات اور قصبات کی زندگی کا ایک غذائی حوالہ ہی نہیں بلکہ تہذیبی حوالہ بھی ہے گھی کو ایک زمانہ سے بڑی نعمت خیال کیا جاتا رہا ہے اور ہون میں بھی گھی آگ پر ڈالا جاتا ہے اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ دیوتاؤں کو گھی پسند ہے اور اس کی خوشبو آگ میں جل کر ان کو پہنچتی ہے اس کی ایک اور صورت گھی کے چراغ جلانا بھی ہے جو انتہائی خوشی کی علامت ہے گھی کے چراغ جلنا بھی مسرتوں سے بھرے کسی خوشی کے موقع یا تقریب کا اظہار ہے۔

گھی کبھی میسر آتا تھا تو غریب آدمی کی زندگی میں یادگار موقع ہوتا تھا اسی لئے جب کوئی دل کو بہت خوش آنے والی بات ہوتی تھی تو کہتے تھے کہ اس کو دیکھ کر اس کی بات سن کر میں نے گھی پی لیا۔

شکرانہ پر باریک شیر یا بورے کے اوپر گھی ڈالا جاتا تھا۔ بیاہ برات کے موقع پر مہمانوں کو تواضع کے طور سے زیادہ سے زیادہ گھی پیش کیا جاتا تھا اسی لئے جو بہت اچھا آدمی ہوتا تھا اس کو بھی گھی سے نسبت دی جاتی تھی اور پیار محبت کے طور پر یہ کہا جاتا تھا کہ وہ تو گھی ہے یا گھی کا سا گھونٹ ہے۔ گھی پر ہمارے یہاں بہت محاورے ہیں مثلاً سیدھی انگلیوں گھی نہیں نکلتا یا کھائیں گے تو گھی سے نہیں تو جائیں گے جی سے یا سارے مزے ایک گھی میں ہیں گھی دودھ سب سے اچھی غذا سمجھی جاتی تھی اور یہ کہتے تھے کہ وہ تو گھی دودھ پر پلا ہے۔

گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا

یہ وقت کی قدر و قیمت کا احساس دلاتا ہے کہ جو وقت گزر گیا وہ گزر گیا جو وقت ضائع ہوا وہ کسی قیمت پر واپس نہیں آ سکتا وقت ہم بہت استعمال کرتے ہیں جیسے اچھا وقت بُرا وقت مصیبت کا وقت خوشی کا وقت کوئی بھی وقت ہو اس کے اپنے معنی اور اپنی اہمیت ہوتی ہے میر حسن کا یہ مشہور شعر وقت کی اہمیت کا احساس دلاتا ہے۔

سدا دور دورا دِکھا تا نہیں
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں


ردیف "ل"

لات، لاتوں کا بھوت باتوں سے نہیں مانتا

لات مارنا ٹھوکر مارنا اور ذلت آمیز سزا دینا ہے لاتیں کھانا ایسی سزاؤں کو برداشت کرنا ہے جو ذہنی طور پر بہت تکلیف دہ ہوتی ہیں لاتیں رسید کرنا بھی لاتیں مارنے کے مفہوم میں آتا ہے۔ اٹھتے جوتا بیٹھتے لات بھی ذلیل سے ذلیل سزا برداشت کرنے کے معنی میں آتا ہے یا سزا دینے کے مفہوم میں آتا ہے۔

اُچھل اُچھل کر لات مارنا جان جان کر بُرا سلوک کرنے کے مترادف ہے جس میں ذلت آمیز رو یہ شامل ہے لاتوں کا دیویا بھوت باتوں سے نہیں مانتا اس کے یہ معنی ہیں کہ جو بُری عادت کا انسان ہوتا ہے وہ سخت سلوک اور بری سزا کے بغیر راہِ راست پر نہیں آتا۔

لاٹھی پونگا کرنا

عام لوگوں کے لڑنے جھگڑنے کی عادت میں یہ بھی شامل ہوتا ہے ہو وہ ہاتھا پائی کر بیٹھتے ہیں اُن کے جھگڑوں میں جوتا پیزار ہونا بھی شامل ہے اور لاٹھی پونگا بھی یہ آخری محاورہ دہلی میں خاص طور پر استعمال ہوتا ہے۔

ان محاورات سے پتہ چلتا ہے کہ محاوروں میں ہمارے طبقاتی رو یہ بھی زیر بحث آتے ہیں۔ طبقوں کا اثر زبان پرکیا ہوتا ہے اس کا تعلق ان ذہنوں اور زندگیوں سے ہوتا ہے جن سے ان کے رو یہ بنتے ہیں اگر ہم طبقاتی کردار شامل نہ رکھیں تو الگ الگ طبقوں کا جورو یہ ہمیں اُن کی زندگی میں ملتا ہے اور جس کا تذکرہ ان کی زبانوں پر آتا ہے اس کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

لاٹھی مارے پانی جدا نہیں ہوتا

جب پانی پر لاٹھی ماری جاتی ہے تو پانی پھٹ ضرو ر جاتا ہے مگر الگ الگ دو حصوں میں تقسیم نہیں ہوتا یہ بات ہمارے مشاہدہ کا حصہ بھی ہے لیکن محاورے کے طور پر یہ ہمارے طبقاتی اور ساجی رو یہ کی ایک شناخت بھی بن جاتا ہے کہ چھوٹے طبقہ میں روز لڑائی ہوتی ہے گالی گلوچ ہوتی ہے مگر وہ ایک دوسرے سے لڑتے ضرور ہیں مگر الگ نہیں ہوتے یہ محاورہ اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ لاٹھی مارنے سے پانی دو ٹکڑے نہیں ہوتا ہے ہمیں تو ایک ساتھ مل کر رہنا ہے ایک ساتھ سفر کرنا ہے اور لڑائی جھگڑا تو بالکل اتفاقی بات ہے یہ عوامی رو یہ ہے کہ ان میں جھگڑا ہوتے دیر لگتی ہے اور نہ صلح ہوتے۔

لاحول بھیجنا یا پڑھنا

"لاحول" عربی کا لفظ ہے اور ایک بڑا کلمہ ہے جس کی طرف یہ لفظ اشارہ کرتا ہے اس سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کے ایک پڑھے لکھے طبقہ کا محاورہ ہے جو ہماری زبان میں شامل ہو گیا ہے اس کا پس منظر ہے کہ عربی کے اس فقرہ سے جو لاحول میں موجود ہے شیطانی خیالات ذہن سے غائب ہو جاتے ہیں اسی لئے کہا جاتا ہے کہ لاحول پڑھو یا لاحول بھیجو تو ذہن کا خلفشار اور طبیعت کا انتشار ختم ہو گا جو دراصل شیطانی وسوسوں کی وجہ سے ہے نقش لاحول تعویذ کے طور پر باندھا جاتا ہے۔

لال انگارا، سرخ انگارا

"لال انگارا ہونا" انگارا ہمارے یہاں صبح و شام کا مشاہدہ توہے ہی ایک طرح کا استعارہ بھی ہے سرخی سرخ روئی کا نشان بھی ہے خون کی علامت بھی ہے اور اس کے معنی میں خطرہ کی علامت بھی ہے اور انتہائی غصہ کی بھی علامت ہے اس کی آنکھیں غصّہ کے باعث لال انگارہ ہو گئیں انگارا آگ کا حصّہ بھی ہے اور اس کی علامت بھی آگ کھائے گا انگارے اگلے گا یہ کہاوت اس کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جیسا آدمی کا رو یہ ہوتا ہے اس کی سوچ ہوتی ہے ایسا ہی اس کا عمل ہوتا ہے اور ایسا ہی اس کو جواب ملتا ہے۔ اور ردِ عمل سامنے آتا ہے اُس سلسلہ عمل و رد عمل کو یہ محاورہ خوبصورتی سے پیش کرتا ہے اور اس میں ایک طرح کا شاعرانہ مبالغہ شامل ہے۔

لال پیلی آنکھیں کرنا یا نکالنا

آنکھیں آدمی کے جذبات و خیالات کا وہ اظہار ہیں جس میں ظاہری سطح پر لفظ و بیان شریک نہیں ہوتے غصہ ہو یا محبت اپنائیت ہو غیریت اِس کا اظہار الفاظ سے بھی اتنا نہیں ہوتا جتنا آنکھوں کے ذریعہ ہو جا تا ہے اسی لئے غصہ ظاہر کرتے وقت آنکھوں میں سرخی آ جاتی ہے جسے آنکھیں لال پیلی کرنا کہتے ہیں یہ ایک طرح کی لفظی تصویر کشی ہے جس کے رنگ متحرک ہیں۔ اور جب ہم اِن لفظوں سے گزرتے ہیں تو پوری تصویر آنکھوں میں پھر جاتی ہے اس سے ہم یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ محاورے میں معاشرے کے جو مختلف رو یہ اور سوچ کے طریقہ ہیں ان کی بامعنی بلکہ معنی خیز تصویریں ہماری شاعر ی کی طرح ہمارے محاوروں میں بھی مل جاتی ہیں۔

لبوں پر جان آنا

لبِ دم ہونا، ایک ہی معنی میں آتا ہے موت سے قریب ہونا یا وہ حالت ہونا جو موت سے قریب تر ہونے کے عالم میں ہوتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس طرح کے محاوروں میں ہمارے سماجی رویوں کی عکاسی ہوتی ہے کہ ہم کس طرح سوچتے ہیں اور کن الفاظ میں اپنی بات کو پیش کرتے ہیں۔

لٹک کر چلنا

چال میں ایک خاص طرح کا انداز اور ادا پیدا کرنا جو بعض لوگوں کے یہاں قدرتاًً ہوتا ہے۔ اور بعض عورتوں اُسے انداز دکھانے کی غرض سے اپنے اندر پیدا کرتی ہیں یہ شاعرانہ انداز بھی ہوتا ہے لٹک غیر ضروری شے کو بھی کہتے ہیں جیسے اُن کا مقصد کوئی نہیں انہیں تو ایک طرح کی لٹک ہے۔ یہاں یہ شاعرانہ انداز نہیں ہے بلکہ ایک طرح کا سماجی تبصرہ ہے ہر سماجی تبصرہ ہر موقع کے لئے صحیح اور دُرست ہو یہ ضروری نہیں۔

لٹوریوں والی

ایسی لڑکی یا عورت جس کے بال کھلے رہیں اور لٹوں کی شکل میں بکھرے رہیں اس کے لئے یہ کہا جاتا ہے۔ بعض مرد بھی لمبی لمبی لٹیں رکھتے ہیں اور کھلی چھوڑ دیتے ہیں ان کو بھی لٹوریا کہتے ہیں مگر یہ سماج کی طرف سے کوئی قابلِ تعریف بات نہیں ہوتی بلکہ اس میں ایک حد تک ناپسندیدگی کا اظہار شامل ہوتا ہے لڑکی کے لئے ناپسندیدگی اس میں نہیں ہوتی صرف اس کے لا اُبالی پن کی طرف اشارہ مقصود ہوتا ہے۔

لٹو ہونا

لٹو کی طرح گھومنا فریفتہ ہونا شدت سے تعلقِ خاطر رکھنا، لٹو اپنی بہت چھوٹی سی کیل پر گھومتا ہے اور اس زمین کو نہیں چھوڑتا۔ اب جو آدمی دلی طور پر یا ذہنی اعتبار سے کسی شخص یا بات پر بے طرح مائل ہوتا ہے جسے فریفتہ ہونا کہہ سکتے ہیں اس حالت کو عوامی محاورے میں لٹو ہونا کہا جاتا ہے کہ وہ تو اس پر بے طرح لٹو ہو رہا ہے۔ اس محاورے سے ہم عوامی ذہن کے طریقہ رسائی کو زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں کہ وہ شاعرانہ انداز کے جملے بھی تراشتے یا بولتے ہیں تو ان کا انداز کیا ہوتا ہے۔

لچھے دار باتیں کرنا

عام باتوں کو دلچسپ بنانے کے لئے اُن میں لطیفوں چٹکلوں شاعرانہ جملوں اور روایتوں حکایتوں کا جب بے تکلف انداز سے گفتگو میں سہارا لیا جاتا ہے تو اسے لچھے دار باتیں کرنا کہتے ہیں۔ اور اس کے ذریعہ نکتہ میں سے نکتہ اور بات میں سے بات پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے یہ ہمارے معاشرے ایک خاص طرح کے مہذب طبقہ کی زندگی میں داخل ہوتا ہے اور اس طرح ہماری سوسائٹی کے ایک خاص تہذیبی رُخ کو پیش کرتا ہے۔

لڈو بانٹنا، لڈو دینا، لڈو کھلانا، لڈو ملنا، لڈو پھوٹنا

یہ محاورے خوشی کے موقع پر استعمال ہوتے ہیں ہمارے ہاں دستور ہے کہ جب کوئی خوشی یا مبارک باد کا موقع آتا ہے تو لڈو تقسیم کئے جاتے ہیں گھروں میں جاڑوں کا موسم آنے پر لڈو بنا کر رکھے جاتے ہیں۔ تلوں کے لڈو بور کے لڈو گوندھنی کے لڈو وغیرہ ہمارے معاشرے میں رائج رہے ہیں یہاں تک کہ جب آدمی من ہی من میں خوش ہوتا ہے تو اسے یہ کہا جاتا ہے کہ اُس کے من ہی من میں دل ہی دل میں لڈو پھوٹ رہے ہیں۔

اس سے ہم یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ مٹھائیاں تو بہت ہیں لیکن لڈو کا ہماری تہذیب سے ایک گہرا رشتہ ہے اور محاورے میں اس کے جو مختلف Shadesآئے ہیں وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ معاشرتی فکر اور سماجی سوچ کے محاوروں سے کیا رشتہ ہے۔

لڑائی مول لینا، لڑائی باندھنا

لڑائی جھگڑا یا لڑائی بھڑائی ہمارے عوامی سماج کے عام رو یہ ہیں وہ ذرا سی بات پر لڑ بیٹھتے ہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ جلد ہی صلح بھی کر لیتے ہیں ہمارے یہاں لڑائی اور اُس سے متعلق اسی نسبت سے بہت سے محاورے بھی ہیں اس میں لڑائی کرنا تو خیر ہے ہی لڑ پڑنا لڑ بیٹھنا بھی عام محاورہ ہے۔

لڑائی مول لینا ایک خاص طرح کا محاورہ ہے اس لئے کہ لڑائی مول نہیں لی جاتی لیکن آدمی ہر طرح لڑائی جاری رکھنے پر آمادہ ہو جائے تو اس سے جواب میں لڑائی کو بہرحال انگیز کیا جاتا ہے۔ اسی کو لڑائی مول لینا کہتے ہیں کہ ضرورت کوئی نہیں تھی بے ضرورت جھگڑے کھڑے کئے اور لڑائی مول لی گئی کبھی کبھی آدمی جھڑا لو طبیعت کا ہوتا ہے اس وقت بھی کہتے ہیں کہ یہ صاحب یا صاحبہ تو خواہ مخواہ لڑائی مول لیتے ہیں۔

لڑے فوج نام سردار کا

اصل میں کام کرنے والے تو کچھ اور ہی لوگ ہوتے ہیں چاہے وہ محنت و مشقت کا کام ہویا ایثار و قربانی پیش کرنا ہو ملک فتح کرنا ہو یا میدان مارنا اس میں ساری زحمتیں تو لشکریوں کے حصّہ میں آتی ہیں مگر نام امیر سردار فوج لشکر کے سپہ سالا ر یا پھر قوم کے لیڈر کا ہوتا ہے یہ معاشرے کی بڑی ستم ظریفی ہے مگر تاریخ اسی طرح بنی ہے اور یہ اسی پر طنز ہے ذوق کا مصرعہ ہے۔

سچ کہا ہے دھار کاٹے نام ہو تلوار کا
یعنی کام کسی کا نام کسی کا

لال لگ جانا۔ لال لگے ہوئے ہیں

ہم اپنے لباس میں قیمتی چیزیں شامل کرنے یا جزوِ لباس بنانے کا شوق رکھتے ہیں یہ کام صرف بڑے لوگ ہی کر سکتے ہیں لیکن سماج کا عام رو یہ یہ ہے کہ خواہ مخواہ کسی کو ترجیح دیتے ہیں۔ پسند کرتے ہیں تعریفیں کرتے ہیں اس کی طرف سے بڑائیاں مارتے ہیں اسی کے جواب میں کوئی سماجی طنز کے طور پر کہتا ہے اس میں کیا لال لگ رہے ہیں یعنی ایسی کون سی بڑائی یا تحفگی کی بات ہے۔ جس کی وجہ سے اس کو پسند کیا جا رہا ہے اور دوسرے کا انکار کیا جا رہا ہے۔

لفافہ کھُل جانا

خطوں کو لفافہ میں بند کر کے بھیجا جاتا ہے خاص خاص طرح کے دعوت نامہ یا پیغامات بھی لفافوں میں بند کئے جاتے ہیں اب وہ بات چھپی ہوئی بات ہو جاتی ہے اور لفافہ کھل جانا بھید کا ظاہر ہو جانا ہے کچھ تفصیلات کا معلوم ہو جانا وغیرہ۔

لقمان کو حکمت سِکھانا

لقمان ہمارے ہاں ایک علامتی کردار ہے اور عقل و حکمت کے لحاظ سے لقمان کی شخصیت ایک پیغمبرانہ کردار رکھتی ہے جس کا ذکر قدیم لٹریچر میں بھی آتا ہے اُردو میں لقمان کا ذکر بھی انتہائی درجے پر پہنچنے ہوئے صاحبِ علم و حکمت ہی کے شخص کی حیثیت سے آتا ہے لیکن جس طرح کہتے ہیں کہ اُلٹی گنگا پہاڑ کو جو ناممکن بات ہے اسی طرح لقمان کو حکمت سکھانا بھی ایک ایسی ہی صورت ہے۔ سماج کی طرف سے بعض لوگوں کے عقل پر طنز ہے کہ وہ تو اپنے آپ کو اتنا عقل مند سمجھتے ہیں کہ لقمان کو بھی حکمت سکھلا دیں۔

یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ بہت سے کردار غیر قوموں اور غیرملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور اُن کا ذکر ہمارے محاوروں میں اس طرح آیا ہے جیسے وہ ہماری سماجی نفسیات کا حصّہ ہوں۔ اس سے اردو زبان اور اردو والوں کے دائرہ و فکر و خیال کی وسعت کا پتہ چلتا ہے۔

لکیر پر فقیر ہونا، لکیر کا فقیر ہونا، لکیر پٹنا، لکیر کھینچنا

"لکیر"خط یا لائن کو کہتے ہیں خط سیدھا بھی ہو سکتا ہے ٹیڑھا بھی مختصر بھی اور طویل بھی اس سے ہم نے بہت سے تصورات لئے ہیں اُن میں خطوط کی آہنی (ریلوے لائن) بھی ہے اور خطوط ہوائی بھی ہے (ائرلائن) خطوط فکر بھی ہے یعنی سوچ کا انداز۔ بچے لکیریں کھینچتے ہیں انہی کو گنتے بھی ہیں۔

اُن کے بعض کھیل بھی لکیروں سے متعلق ہیں اب انسان اگر ایک بات پر جم جاتا ہے تو اسے لکیر کا فقیر کہتے ہیں یعنی ایک مرتبہ جو کچھ سوچ لیا اس سے الگ ہو کر سوچنا گوارا ہی نہیں کیا جبکہ زندگی بدلتی ہے زمانہ بدلتا ہے حالات و خیالات بدلتے ہیں اور سوالات بدلتے ہیں اگر انسان سوچنا ہی بند کر دے اور لکیر کا فقیر ہو کر رہ جائے تو بدلتے ہوئے سماج اور ماحول میں اِس کا حشر کیا ہو گا وہ لکیر پیٹتا رہ جائے گا۔

للو پتو کرنا

یہ دیہاتی انداز کا محاورہ ہے اور بہت عامیانہ سطح پر اس میں وہ زبان استعمال کی گئی ہے۔ جواب محاوروں میں تورہ گئی لیکن شہری زبان سے نکل گئی للو زبان کو کہتے ہیں اور للّو پٹو کے معنی ہیں خوشامدانہ زبان و لہجہ اس سے پتہ چلا کہ ہمارے محاورے زبان کی بہت نچلی سطح کو بھی چھوتے ہیں۔ اور اسے عام زبان کا حصّہ بنا دیتے ہیں۔ محاورے کی ہماری زبان کے لیے بڑی اہمیت ہے اور اُس میں ہماری زبان کے بہت سے Shades محفوظ ہو جاتے ہیں۔

لمبے سانس بھرنا

جب"آدمی دکھ" کے عالم میں گہرے گہرے سانس لیتا ہے تو اسے لمبے لمبے سانس لینا کہتے ہیں اس سلسلہ کا ایک اور محاورہ لمبے پڑنا بھی ہے یعنی چلے جانا تشبیہہ استعارہ مجاز اور کنایہ کے بہت سے ایسے پہلو ہیں جو ہماری عوامی زبان میں محاورے کے وسیلے سے آ گئے ہیں اور اُن کا ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ زبان چاہے شاعری اور انشاء پردازی کی اعلیٰ سطح پر استعمال ہونا چاہئے عامیانہ محاوروں میں آئے اس کا اپنا جنس برابر کام کرتا رہتا ہے۔

لنگوٹی میں پھاگ کھیلنا

ہندوستان بہت غریب ملک رہا ہے یہاں تک کہ ان لوگوں کے پاس ستر پوشی کے لئے کپڑے بھی نہیں ہوتے تھے یہاں تک کہ لنگوٹی وہ چھوٹے سا چھوٹا کپڑا ہوتا ہے جس سے وہ اپنی ستر پوشی کرتے ہیں اس پر بھی ہمارے ملک والوں میں ایک رجحان یہ پایا جاتا ہے

کہ وہ جب بھی موقع آتا ہے اپنی حیثیت سے زیادہ خرچ کرتے ہیں اسی موقع پر سماج کا یہ طنز سامنے آتا ہے کہ وہ جو لنگوٹی میں پھاگ کھیلتے ہیں"پھاگ کھلنا""رنگ رلیاں" مناتا ہے یعنی انتہائی غریبی میں بھی اُن کا جی چاہتا ہے وہ من چاہی رنگ رلیاں منائیں اور خرچ اخراجات کا خیال نہ کریں یہاں تک کہ قرض لے لیں۔ دوسروں سے مانگ لیں۔

لُولُو بنانا

ہمارے یہاں ناموں کو بگاڑا جاتا ہے یہ لاڈ و پیار میں بھی ہوتا ہے اور ہنسی مذاق میں بھی اور طعنہ اور تضحیک میں بھی"لولو" ایک ایسا ہی نام ہے لال سے لالو بنا اور لالو کو"للو" لولو کر دیا اُس کے معنی ہیں۔ احمق بیوقوف اب کسی کو ہم مذاق اُڑانے کی غرض سے لولو بناتے ہیں یعنی ہنسی مذاق میں اس کے ساتھ وہ سلوک کرتے ہیں جو یہ ظاہر کرے کہ یہ آدمی تو بہت احمق ہے اس اعتبار سے یہ محاورہ سماج کے ایک رو یہ کا اظہار ہے اور اس میں غیر سنجیدہ اور غیر مخلصانہ طریقہ عمل کی طرف اشارہ ہے۔

لوہا لاٹھ ہو جانا

بہت سخت ہو جانا دہلی میں لوہے کی ایک لاٹھ بھی ہے یہ ایک تاریخی حقیقت ہے ایک اس سے عوام سے اور خاص طور پر دہلی کے عوام نے ایک نئے معنی نکال لئے اور وہ سخت ہو جانے کے ہیں بہت ہی سخت جب کوئی چیز بہت ہی سخت ہو جاتی ہے تو اسے لوہا لاٹھ ہو جانا کہتے ہیں۔ لاٹھ مینار کی شکل جیسی کسی شے کو کہتے ہیں دہلی والے قطب مینار کو قطب کی لاٹھ کہتے ہیں۔

لوہے کے چنے چبانا

بہت سخت اور مشکل کام کرنا چنے چبانا بھی ایک مشکل کام ہی ہوتا ہے جس کو کرنے میں تکلیف زیادہ ہوتی یہ اور راحت برائے نام یہ ہمارے معاشرے کا گویا ایک عام تجربہ ہے اس کو مبالغہ کے طرز پر آگے بڑھایا بلکہ غلو کا انداز پیدا کر دیا کہ یہ تو لوہے کے چنے چبانا ہے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ یہ محاورہ اُن لوگوں میں زیادہ رائج ہونا چاہیے جو لوہے کے کام اور اس کے ہتھیاروں اوزاروں سے زیادہ واسطہ رکھتے تھے۔

لوہے کی چھاتی اور پتھر کا جگر کر لینا

بہت بڑی آزمائش سے گزرنا، چھاتی یا سینہ یہاں تک بطورِ تشبیہہ آیا ہے اُسے ہم استعاراتی انداز کہہ سکتے ہیں پتھر بھی سخت ہوتا ہے اور بے حس ہوتا ہے یہی حال لوہے کا ہے کہ وہ سخت بھی ہے۔ اور بھاری بھی جب کسی بہت بری بات کو برداشت کرنا ہوتا ہے اس کے لئے ظاہر ہے کہ ہر نیچر کا آدمی نہیں کر سکتا کوئی خاص ہی آدمی ہو گا جو بے حد ضبط اور حدسے زیادہ صبر رکھتا ہو وہی برداشت کر سکتا ہے۔

لہو پانی ایک کرنا، یا لہو سینہ ایک کرنا

یہ بھی ہر بھر محنت کرنا زحمت اُٹھانا اور تکلیفیں برداشت کر کے کسی کام کو انجام دینا ہے اسی لئے کہتے ہیں کہ اس نے تو لہو پسینہ ایک کر دیا۔ لہو بے حد قیمتی شے ہے اور اُس کے مقابلہ میں پانی یا پسینہ بہت کم قیمت چیز ہے مگر اس نے محنت و مشقت برداشت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ لہو پسینہ ایک کر دیا اسی کو لہو پانی کرنا کہتے ہیں۔

لہو خشک ہو جانا

جب خوف و دہشت یا شدید نقصان کے خیال سے آدمی سکتہ میں آ جاتا ہے اُس حالت کو لہو خشک ہونا کہتے ہیں اور اسی کے لئے کہا جاتا ہے کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ اس کے مقابلہ میں جو ایک نفسیاتی تجربہ یا تجزیہ ہے لہو سفید ہونا خون سفید ہونا ایک سماجی رو یہ پر تبصرہ ہے اور یہ عام طور سے اپنوں کی بے مروتی اور بے تعلقی کی شکایت ہوتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ آج کل تو عزیزوں کا لہو یا خون سفید ہو گیا ہے یعنی کسی کو کسی سے کوئی جذباتی تعلق یا خلوصِ خاطر نہیں رہا۔

یہ محاورہ شاعرانہ انداز رکھتا ہے لیکن اس میں آپسی تعلقات میں بے مروتی رو یہ کا تذکرہ ہوتا ہے اور اس پر ایک طرح کا طنزیہ تبصرہ ہے۔

لہُو کا پیاسا یا خون کا پیاسا ہونا

ہم تاریخ میں اس طرح کے واقعات پڑھتے ہیں کہ دشمنی میں کسی نے مقتول آدمی کا جگر چبا لیا یا مخالف کو قتل کر کے اس کا خون پی لیا۔ اسی پس منظر میں یہ محاورہ سامنے آیا کہ وہ تو اس کے خون کا پیاسا ہے جو بھی جانی دشمن ہوتا ہے اسے خون کا پیاسا کہتے ہیں ترکوں اور"تاتاریوں" کی خون آشامیوں کا یہ حال تھا کہ وہ اپن