اردو ویب ڈیجیٹل لائبریری
×

اطلاع

فی الحال کتابیں محض آن لائن پڑھنے کے لئے دستیاب ہیں. ڈاؤن لوڈ کے قابل کتابوں کی فارمیٹنگ کا کام جاری ہے.

Asateer Ki Jamaliat

اساطیر کی جمالیات


مصنف ڈاکٹر شکیل الرحمٰن
تعداد الفاظ 66281
تعداد منفرد الفاظ 7358
مناظر 16221
ڈاؤنلوڈ 0
اساطیر کی بنیاد انسان کے ابتدائی حسی تجربے ہیں، انسان کے "وژن" نے مختلف سطحوں پر اساطیر کی تخلیق کی۔ اساطیر کا مطالعہ "توتم پرستی (Totem Worship) زندگی کے المیے کے گہرے اثرات اور موت کے پراسرار خوف کے جذبے کا بھی مطالعہ ہے، ساتھ ہی متحرک علامات، عقائد، داخلی کیفیات اور نفسیاتی کشمکش اور تصادم، فریب اور واہمہ، خواہشات کی تکمیل سے محرومی اور شکست کی آواز کا مطالعہ بھی ہے۔

اساطیر کی جمالیات

یونانی اساطیر میں اورفیس (Orpheus) ایک عظیم موسیقار ہے۔ اُس کے نغموں اور اس کی موسیقی کے آہنگ کی جانے کتنی صورتیں اور جہتیں تھیں۔ جب وہ کائنات کی تخلیق کو موضوع بناتا تو اس کے نغموں اور ان کے آہنگ سے ایک عجیب پراسرار رُوحانی کیفیت طاری ہو جاتی، محسوس ہوتا جیسے روحانی آہنگ سے کائنات کی تخلیق کا سلسلہ جاری ہے۔ "لائر" (Lyre) [بربط] پر اس کی انگلیوں سے دلفریب نغموں کی تخلیق ہوتی، کبھی زیوس (Zeus) اور اولمپینس (Olympians) جیسے دیوتاؤں کی جنگ کو موضوع بناتا، کبھی اُن انسانوں کو جو پھولوں اور پرندوں میں تبدیل ہو گئے تھے، اس کے نغموں اور شدّتِ جذبات سے پھوٹے مختلف آہنگ کی سحر انگیزی غضب کی تھی۔ صرف انسان اور جانور ہی نہیں چٹاّنیں، ندّیاں، پہاڑ، درخت سب اس سحر کی گرفت میں ہوتے۔ جنگلوں میں نغمہ گونجتا اور بربط کا آہنگ پھوٹتا تو تمام درخت اپنی جڑوں کو اُکھاڑ کر اور فیس کے ساتھ چلنے لگتے۔ جہاں وہ جاتا جاتے، پہاڑوں پر، سمندر کے کنارے اور جہاں اور فیس کا نغمہ ختم ہوتا اور بربط کی آواز رُک جاتی وہیں تمام درخت اپنی جڑیں زمین کے اندر ڈال کر اس طرح کھڑے ہو جاتے جیسے اب انھیں وہیں رہنا ہے، وہی اُن کی زمین ہے۔

اس یونانی موسیقار اور فیس نے ایک خوبصورت عورت یوری ڈائس (Eurydice) سے شادی کر لی۔ شادی کی شام جب یوری ڈائس اپنی سہیلیوں سے گفتگو کر کے واپس آ رہی تھی ایک زہریلے ناگ نے اُسے ڈس لیا، اس نے دَم توڑ دیا۔ اور فیس کا بھی جیسے دَم نکل گیا ہو، تڑپنے لگا، اس کی زندگی کی سب سے قیمتی شے گم ہو گئی تھی، فیصلہ کیا وہ روحوں کی دُنیا "ہیڈس" (Hades) کا سفر کرے گا اور کسی صورت یوری ڈائس کو واپس لے آئے گا۔

روحوں کی دُنیا نیچے کی تاریک دُنیا ہے۔ راہ میں ایک ندی تھی، وہاں ایک کشتی تھی، اس پر دو اشخاص سوار تھے، اور فیس نے آنے کا مقصد بتایا تو کشتی پر بیٹھے ایک شخص نے کہا: "کوئی زندہ شخص اس تاریک دُنیا میں داخل نہیں ہو سکتا۔ " اور فیس نے ایک نغمہ چھیڑا اور بربط کی سحر انگیز آواز سے ایسی فضا خلق کر دی کہ اس تاریک دُنیا کے اندر داخل ہونے کی اجازت مل گئی۔ اس نے محسوس کیا کہ کچھ ایسی روحوں نے اس کے گرد گھیرا ڈال دیا ہے کہ جو نظر نہیں آ رہی ہیں۔ اس نے بے خوف اپنا ایک نغمہ چھیڑا اور موسیقی کے آہنگ میں اپنے جذبے کی آتشیں لہروں کو جذب کر لیا۔ گیت رفیقۂ حیات کے لیے تھا، اس کے چھن جانے کے غم نے گیت میں جدائی کا درد بھر دیا، تمام روحیں رونے لگیں، بڑے بڑے گدھ حیرت زدہ رہ گئے۔ ہر دَم بھونکنے والا تین سروں والا کتاّ جو تاریک دُنیا کی حفاظت کے لیے تھا، اچانک خاموش ہو گیا۔

پھر اور فیس اس تاریک دُنیا کے بادشاہ پلوٹو (Pluto) کے رتھ کے قریب پہنچ گیا، وہ اپنی بیوی پرسی فون (Persephone) کے ساتھ بیٹھا تھا۔ نغمہ چھیڑا، ایک المناک فضا بن گئی۔ پلوٹو اور اس کی بیوی دونوں پر بڑا گہرا اثر ہوا۔ بادشاہ نے اور فیس کی بیوی یوری ڈائس کو طلب کیا۔ کچھ سوچ کر اجازت دے دی کہ اور فیس اپنی رفیقۂ حیات کو لے کر اپنی دُنیا میں لوٹ سکتا ہے۔ لیکن ایک شرط رکھی۔ شرط یہ تھی کہ چلتے ہوئے اور فیس آگے رہے گا اور اس کی بیوی پیچھے رہے گی، وہ گھوم کر اپنی بیوی کو نہیں دیکھے گا ورنہ اس کا نقصان ہو گا۔ جب اور فیس تاریک دُنیا سے باہر نکلا اور اس نے سامنے صبح کی روشنی دیکھی تو خوش ہو کر مڑا تاکہ وہ اپنی رفیقۂ حیات کو دیکھ سکے، اس کی بیوی ابھی تاریک دُنیا سے باہر قدم رکھ رہی تھی کہ اچانک گم ہو گئی، اور فیس نے صرف یہ سنا "الوداع!"

موسیقار پر دیوانگی سی طاری ہو گئی، وہ تاریک دُنیا کی جانب دوڑا، کشتی پر بیٹھ کر ندی پار کر نے کی خواہش ظاہر کی۔ اجازت نہیں ملی۔

اور عمر بھر بربط کے تاروں کو چھیڑتا اور اپنے شدید غم کا اظہار کرتا رہا!

جب وہ اس دُنیا سے گزر گیا تو سب روئے۔

پرندے
درخت
پہاڑ
ندیاں
سب
روئے


میری کتاب "ادبی قدریں اور نفسیات" دسمبر 1965ء میں شائع ہوئی تھی، بیالیس تینتالیس برس کا طویل عرصہ گزر چکا ہے، اس کے تیسرے باب "ادب کی رومانیت کے سرچشمے" میں میں نے ادب کے بنیادی رجحانات کا تجزیہ کرتے ہوئے اساطیر اور تخلیقی وژن پر گفتگو کی تھی، کہا تھا اساطیر1؂ کی بنیاد انسان کے ابتدائی حسی تجربے ہیں، انسان کے "وژن" نے مختلف سطحوں پر اساطیر کی تخلیق کی۔ میں نے لکھا تھا اساطیر کا مطالعہ "توتم پرستی (Totem Worship) زندگی کے المیے کے گہرے اثرات اور موت کے پراسرار خوف کے جذبے کا بھی مطالعہ ہے، ساتھ ہی متحرک علامات، عقائد، داخلی کیفیات اور نفسیاتی کشمکش اور تصادم، فریب اور واہمہ، خواہشات کی تکمیل سے محرومی اور شکست کی آواز کا مطالعہ بھی ہے۔ اساطیری کردار و واقعات انسان کی "سائیکی" سے بہت ہی گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ ان سے انسان کے ابتدائی تخلیقی ذہن اور اس کی جمالیاتی کیفیات کو بہت حد تک سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ تماثیل اور تاریخ کی بنیاد اساطیری قصّے ہیں، اساطیری رموز و اسرار کی پھیلی ہوئی داستان ہے، قدیم تخیل نے قدروں کا تعین کیا "آفتاب"، "ماہتاب"، "تارے "، "آبشار"، "پہاڑ" قوسِ قزح سب تخیل کے ذریعہ زندگی کے جوہر سے معمور ہوئے۔ عہد بہ عہد تاریخ آگے بڑھتی گئی اور زندگی کے رموز و اسرار کی نئی آگاہی سے قدروں کے تعین کا سلسلہ جاری رہا، فطرت اور زندگی کے ابتدائی تجربوں کے مطالعے کے بغیر انسانی تفکر کی تاریخ مرتب نہیں ہو سکتی اور قدروں کے تسلسل اور ان کی تبدیلیوں کا جائزہ لیا نہیں جا سکتا۔ وقت کے بہاؤ پر انسان کے تیرتے ہوئے قدیم تجربے نئے تجربوں اور قدروں کی نوعیت کو سمجھنے میں کافی مدد کرتے ہیں۔ انسانی تخیل کی تاریخ کے تسلسل کو سمجھنے کے لیے تمدّن و تہذیب کے اساطیری قصوں سے بہتر اور کوئی وسیلہ نہیں ہے۔ کائنات کی تخلیق کے تعلق سے قدیم انسانی تخیل کی عمدہ پہچان نیوزی لینڈ کے "موئی" (Maui) ہندوستان کے "وِشنو" اور آسٹریلیا کے "بومے " (Baume) کے اساطیری قصوں سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد یونانی اساطیری فکر، میکسیکو کے اساطیری قصّے اور ایشیا کے بدھ تخیل اور فکر کا مطالعہ کیا جائے تو انسان کی "سائیکی" (Psyche) اس کے تجربوں کی وسعت اور گہرائی، قدروں کے تصادم، بنیادی اقدار کی اہمیت اور زندگی کے رومانی تصوّرات کی قدر و قیمت کا اندازہ ہو گا۔

میں نے تحریر کیا تھا کہ اسطور سازی کی جبلّت ایک بنیادی جبلّت ہے، مذاہب اور پر اسرار حقیقتوں نے اسطوری تجربوں کے اظہار میں توازن پیدا کر نے کی کوشش کی ہے۔ اساطیری کردار بلاشبہ تخیل، وِژن اور گہری رومانیت کی تخلیق ہیں، یہ کردار مادّی زندگی سے رشتہ رکھتے ہوئے بھی اپنے پُر اسرار ذہن اور پُر اسرار نفسیات سے پہچانے جاتے ہیں، ان کی مشکل پسندی اور پیچیدگی کا اندازہ کرنا آسان نہیں ہے۔ فطری اور نفسیاتی تصادم اور شدّتِ جذبات کا مطالعہ بھی دلچسپ ہے۔ یہ کردار بنیادی سچائیوں کے نمائندے بھی ہیں اور تجربوں اور جذبوں کی علامات اور اشارات بھی، اساطیری واقعات کے ربط اور تسلسل کو بھی کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، ان سے انسان اور کائنات کے باہمی حسی رشتوں کی وضاحت ہوتی ہے۔

ایسا بھی ہوتا رہا ہے اور آج بھی ہو رہا ہے کہ "متھ" (Myth) اور اسطوری قصّے "حقیقی" بنا دیئے گئے ہیں اور حقیقی قصوں اور کرداروں کو ہم نے "ناقابلِ یقین اسطوری قالب میں ڈھال دیا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ دیومالا کے کردار انسانی جذبات اور احساسات رکھتے ہیں۔ ان کی نفسیاتی کشمکش انسانی کشمکش جیسی ہے۔ فوق الفطری کرداروں کے عمل اور ردِّ عمل میں انسانی عمل اور ردِّ عمل کی پہچان مشکل نہیں ہوتی۔ بنیادی طور پر یہ انسانی ذہن ہی کے کرشمے ہیں۔ پہاڑ کو اُٹھا لینے کے باوجود "مکابو" اپنے باپ کو اس لیے سزا دیتا ہے کہ اس کی ماں (چاند کی نسل کی) بے عزّت ہوتی ہے۔ صرف آگ کی تلاش اور آگ لے کر بھاگ آنے کے تمام اساطیری قصوں کا جائزہ لیا جائے تو بنیادی انسانی جبلّتوں اور خواہشوں کو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ رات، چاند، صبح، وغیرہ کے تصوّرات اور کیوپڈ اور سائیکی، اپولو، جیوپیٹر، ایکو، نارکی سس، جونو، منروا وغیرہ کی کہانیوں میں انسانی جذبات کی پہچان مشکل نہیں ہے۔ یونانی، رومی اور ہندوستانی اساطیر میں انسان کی نفسیات اور اقدار کی تشکیل کے عمل کا مطالعہ کیا جائے تو کچھ بڑے دلچسپ نتائج سامنے آئیں گے۔ اساطیری کردار اور واقعات جمالیاتی کیفیتوں اور گہری رومانیت کی تخلیق ہیں ایک اساطیری کردار میں کئی تجربوں کے عکس ملنے لگے ہیں۔ رزمیہ نظموں میں اساطیری جبلّت کا اظہار ہوتا رہا ہے۔ اکثر انسانی کردار اساطیری ماحول میں اپنی بنیادی خصوصیات کا اظہار کرتے ہیں ساتھ ہی اقدار کا تعین کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ فنکاروں کے اساطیری رجحان نے ایسے کرداروں کی بھی تخلیق کی ہے جو دیوتاؤں سے بھی ٹکراتے ہیں اور کامیاب ہوتے ہیں۔ (دیوتاؤں سے آگ چھین لیتے ہیں ) اساطیری علامتوں کا مطالعہ کیجیے تو اکثر محسوس ہوتا ہے جیسے ہم گہرائی میں اُترتے جا رہے ہیں۔ زندگی اور وقت (Time) کی معنویت کا بھی احساس ملتا جا رہا ہے۔


میں نے اس باب میں تحریر کیا تھا کہ وحشی اور نیم وحشی اساطیر میں چاند، سورج، ستارے قوسِ قزح، پہاڑ، بادل، بارش، سمندر، جانور، پرندے، درخت اور آبشار وغیرہ سب اپنے عمل کے ساتھ نمایاں ہوتے ہیں۔ یہ قدیم خیال بھی قابلِ غور ہے کہ ہر وہ شے جو انسان کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے ایک شخصی وجود رکھتی ہے۔ اساطیری پیکروں میں انسانی صورتیں بھی ہیں اور بنیادی محرّکاتِ زندگی بھی۔ چاند ستاروں کی گھریلو زندگی اور خاندانی زندگی کا تصوّر عام گھریلو اور خاندانی زندگی جیسا ہے۔ تخلیقی آرٹ کو ان سے بہت کچھ حاصل رہا ہے۔ تشبیہوں، استعاروں، اشاروں اور علامتوں کی ایک بڑی دُنیا ملی ہے۔ بڑے تخلیقی فنکاروں کے "وِژن" نے اس بڑے پھیلے ہوئے گہرے رومانی جمالیاتی تجربوں سے مختلف سطحوں پر رشتہ قائم کیا ہے۔ اکثر بڑے فنکاروں کے لاشعور میں اساطیر کا تحرّک موجود ہے۔ اکثر تخلیقی جمالیاتی وِژن نے سائیکو اسطور سازی (Psycho-Mythology) کے عمدہ نمونے پیش کیے ہیں۔ بڑی تخلیقات میں "متھ" (Myth) کا عمل نفسیاتی ہے۔ اپنے عہد کی سائیکی" (Psyche) کا مطالعہ کیا جائے تو "ا4" (Images) استعاروں اور تشبیہوں میں قدیم اساطیر اور "متھ" کی جھلکیاں دِکھائی دیں گی۔ نسلی یا اجتماعی شعور (Collective Unconsciousness) کے تحرّک کی پہچان ہو جاتی ہے۔ ماحول اور فضا کی تخلیق میں آرچ ٹائپ (Archetype) کا دباؤ موجود رہتا ہے۔ اساطیر اور اساطیری قصوں کہانیوں کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ ّ سچائی بھی سامنے آ جاتی ہے کہ تمام اسطوری قصّے صرف دیوی دیوتاؤں سے تعلق نہیں رکھتے۔ "ایڈی پس" (Oedipus) کی مثال سامنے ہے جسے سگمنڈ فرائیڈ نے اپنا محبوب ہیرو بنا رکھا ہے۔ کئی یونانی اسطوری قصوں کے کردار دیوی دیوتا نہیں ہیں۔ بڑی تخلیقات میں اسطوری تجربے (Mythic Experience) اس طرح پگھل جاتے ہیں کہ ان کی پہچان مشکل ہو جاتی ہے۔ نئے فنی یا شعری تجربے ان سے رشتہ قائم کرتے ہیں تو اکثر پراسرار لذّت آمیز کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔

دراصل اُنیسویں صدی میں سائنسی ذہن نے پہلی بار ذہنِ انسانی کی تاریخ کے قوانین کا مطالعہ کیا اور اسطور کو ایک بڑا ذریعہ سمجھا۔ اس سے قبل ہی علمائے اساطیر نے مطالعے کی بنیاد مضبوط کر دی تھی، اس بنیاد کے بغیر کسی سائنسی قدر کی پہچان بھی مشکل تھی۔ اسطوری علامات کی کائنات وسیع، تہہ دار اور جہت دار ہے۔ یہ علامات گہرائیوں سے آشنا کرتی ہیں، اس طرح تخیل کی شادابی، زرخیزی اور بلندی کا احساس ہوتا ہے اور ساتھ ہی اقدار کے تصادم اور ان کے تسلسل کے تعین میں بھی بیداری پیدا ہوتی ہے۔

تاریخی تنقید کی سختی سے تمثیلی قصوں اور اساطیری کہانیوں کے بہت سے جوہر پوشیدہ ہو گئے ہیں ان لیے کہ ہم ان پر یقین نہیں کرتے۔ حالانکہ "دانائی" سے زیادہ بینائی کی ضرورت تھی، ذہنی تاریخ اور فکری اور جذبی تاریخ پسِ پردہ جا پڑتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخی تنقید ہمیں ایک منزل تک چھوڑ دیتی ہے، اس منزل تک کہ جہاں تک ثبوت ملتے ہیں اور شہادتیں ملتی ہیں، فن و ادب کے طلبہ کی تشنگی نہیں بجھتی، آرٹ کی رومانیت کا احساس ہی تاریخی شہادتوں اور عقلی ثبوت سے ہٹا کر رومانیت کی پُر اسرار گھاٹیوں میں لے جاتا ہے، ظاہر ہے اس سے نقصان نہیں فائدہ ہی ہوتا ہے اس لیے کہ پیکروں اور علامتوں کی ایک بڑی دولت حاصل ہو جاتی ہے، فن و ادب کا طالب علم انھیں نئی قدروں کی آگ میں تپا کر تاریخی بنیادوں کے بغیر متحرّک بنا دیتا ہے۔ تخیل کا یہ کارنامہ بھی کم اہم نہیں ہے۔ بڑے تاریخ داں بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ کل تک جنھیں وہ جھوٹی کہانیاں اور ناقابلِ اعتماد قصّے کہہ رہے تھے آج وہی اپنے کرداروں کے ساتھ قدروں کی تلاش کے ذرائع بن گئے ہیں اور تاریخ نے ان کا سہارا لینا شروع کیا ہے۔ اسی طرح قدیم اساطیر اور قدیم تمثیلی قصّوں کے ایسے بہت سے اسرار ہیں کہ جن سے فنکار کا ذہن آشنا ہو رہا ہے۔ ان سے فائدہ حاصل کر رہا ہے۔ تخیل کے بتکدے سجا رہا ہے۔ آرٹ تاریخ کے پیچھے نہیں آگے چلتا ہے۔ آرٹ تاریخ سے زیادہ گہری اور بلیغ تہذیبی علامت ہے۔ آرٹ نے تاریخ کی رہنمائی کی ہے اور اسے نئے کھنڈروں میں اُتارا ہے۔ کوئی بھی اساطیری نقش ہو اپنے زمانے اور عہد کی کسی معنویت کو پیش کرتا ہے، اس میں وقت کی معنویت کہیں نہ کہیں پوشیدہ ہوتی ہے۔ تاریخی تنقید اساطیری نقوش میں قدروں کا مطالعہ کر رہی ہے۔ رومانی نقوش سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش میں اپنے اصولوں میں ترمیم و تنسیخ بھی کر رہی ہے۔ اساطیر نے بلاشبہ گہری اور پھیلی ہوئی رومانیت کا احساس بڑھایا ہے۔ صدیوں کی روح اس رومانیت میں پوشیدہ ہے۔

اساطیر میں تخیّلی اور جذباتی فکر میں زندگی اور سماج سے فنکارانہ گریز کی عمدہ تصویریں ملتی ہیں۔ حقیقت کی مختلف جہتیں ملتی ہیں۔ ایک ہی خیال یا تصوّر پر کئی سمتوں سے روشنی پڑتی ہے۔ انسان کے تخیل کی شادابی کی جانے کئی مثالیں ملتی ہیں، اساطیر کا کلاسیکی مزاج فنونِ لطیفہ کو مختلف انداز سے متاثر کرتا رہا ہے۔


وحشی اور نیم وحشی اساطیر میں چاند، سورج، تارے، قوس قزح، پہاڑ، بادل، بارش، سمندر، جانور، پرندے، درخت آبشار وغیرہ اپنے عمل اور ردِّ عمل سے متاثر کرتے ہیں، اسطوری پیکروں میں انسانی صورتیں بھی ہیں اور بنیادی نفسیاتی محرکات بھی، چاند ستاروں کی گھریلو زندگی توجہ طلب ہے۔ تخلیقی آرٹ نے ان سے تشبیہیں، استعارے، اشارے اور علامتیں حاصل کیے ہیں۔

چند اساطیری خیالات ملاحظہ فرمائیے:

  • "ایک ہندوستانی بچے نے کسی ستارے کو غور سے دیکھنا شروع کیا، ستارہ نیچے آیا، بچے سے باتیں کیں اور پھر اُسے اپنے ساتھ لے گیا، ستارۂ صبح وہی ہندوستانی بچہ تو ہے!"
  • "جب پرانا سورج جل گیا اور دنیا تاریک ہو گئی تو ایک شخص دہکتی آگ میں کود پڑا اور پھر ایک نیا سورج وجود میں آ گیا۔"
  • "قوسِ قزح متحرک بلا ہے، اس نے مقدس درخت پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے پھر شاخیں ٹوٹنے لگیں اور مقدس درخت کھوکھلا ہو گیا۔"
  • "دھنک کے ساتھ ایک زہریلا سانپ ہوتا ہے، اس کا زہر دریاؤں میں گھل جاتا ہے۔"
  • "قوسِ قزح کے ذریعہ دیوتا انسان کو پیغام بھیجتے ہیں۔"
  • "گرہن سے سورج تاریک ہو جاتا ہے اور چاند کے سینے سے لہو ٹپکنے لگتا ہے۔"
  • "آفتاب سمندر کی تخلیق ہے۔"
  • "جب ایک قدیم اور بڑے پرندے کی چیخ سنائی دیتی ہے تو بارش ضرور ہوتی ہے۔"
  • "یہ ستارے۔ ۔ ۔ شکاری اپنے گھر کا راستہ بھول گئے ہیں۔"
  • "گرہن چاند کا زخم ہے، سورج اپنی دلہن سے ناراض ہو کر اسے اسی طرح زخمی کر دیتا ہے۔"

"چاند ایک عورت ہے، سورج بھی ایک عورت ہے، ستارے چاند کے معصوم بچے ّ ہیں، سورج کے بھی بچے ّ تھے لیکن اس نے اپنے بچوں کو نگل لیا۔ بات یہ تھی کہ دونوں عورتوں نے محسوس کر لیا تھا کہ صرف ان دونوں کی روشنی دُنیا کے لیے کافی ہے، ان بچوں کی روشنی کی ضرورت نہیں ہے، بہتر یہ ہے کہ دونوں اپنے بچوں کو نگل جائیں، چاندنے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا، اس کی ممتا بیدار ہو گئی لہٰذا یہ عورت سورج کی نگاہوں سے اپنے بچوں کو چھپاتی پھرتی ہے۔ سورج نے ان بچوں کو دیکھ لیا ہے، اس کی ناراضگی چاند کو پریشان کر رہی ہے، بغیر بچوں کی عورت چاند کو دانتوں سے کاٹ لیتی ہے، چاند گرہن دراصل چاند کا یہی زخم ہے۔

یہ قدیم اساطیری خیالات اور تصوّرات ہیں، رومانی جمالیاتی اندازِ فکر نے خوبصورت پیکر تراشی کی ہے۔ جذبات و احساسات کے ایسے پیکر بکھرے ہوئے ہیں، پیکر تراشی کے آرٹ پر اساطیری فکر اور قدیم رومانی جمالیاتی اندازِ فکر کے گہرے اثرات ہیں۔ اساطیری فکر و نظر کی رومانیت نے پیکر تراشی کے نئے سانچے دیئے ہیں۔ ورجل، ڈانٹے، ملٹن، گیٹے، وِکٹر ہیگو، شیکسپیئر اور ولیم بلیک وغیرہ نے پیکر تراشی کے عمل میں اساطیری رومانی رجحان کو اُبھارتے ہوئے اپنے ذہن کی خلاّقی اور زرخیزی کا عمدہ ثبوت دیا ہے۔ اساطیر کی پُر اسرار فضاؤں میں کہیں کوئی سورج کو نگل رہا ہے۔ کہیں پرندے روحوں کو نئی راہیں دِکھا رہے ہیں، کہیں طوفان گھاٹیوں میں گرفتار ہے، کہیں مشرق اور مغرب ایک دوسرے سے ملنے کو بے چین ہیں، کہیں چار ہوائیں اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہیں، کہیں کوئی بڑا طوفان پہاڑ کے دامن میں رو رہا ہے اور اس کی آواز سے چٹاّنیں کانپ رہی ہیں۔ جنت کے دیوتا کے اشارے سے کڑکتے ہوئے بادل خاموش ہیں، آفتاب زمین کا سینہ چاک کر کے بے اختیار نیچے اُتر رہا ہے، کہیں کوئی کسی درخت کو بوسے دے رہا ہے اور زلزلے کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، کہیں مقدس زمین رقص کر رہی ہے۔ جذباتی فکر و نظر، گہرے رومانی جمالیاتی وِژن اور زرخیز تخیل کی یہ بڑی میراث ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں لوک کہانیوں اور داستانوں نے اس عظیم سرچشمے سے فیض حاصل کیا ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ کی تحلیلِ نفسی اور یونگ کے حسی پیکروں یا آرچ ٹائپس نے اس سرچشمے کی قدرو قیمت کا احساس اور بڑھا دیا ہے، پُر اسرار باطینیت اسی رجحان کا آئینہ ہے۔ یونگ کی فکر کی روشنی میں "ماں " کے حسی پیکر (Mother Archetype) کا مطالعہ کیا جائے تو اسطور سازی کی جبلّت اور بنیادی رومانی فکر و نظر کی قدر و قیمت کا شدید احساس ملے گا۔ اساطیر میں "مدر آرچ ٹائپ" کی جانے کتنی صورتیں ہیں۔ "ڈی میٹر" (Demeter)، کور(Kore)، سائیبل (Cybele)، ایٹس (Attis) اور کالی (Kai) کی اساطیری کہانیوں میں یہ حسی پیکر موجود ہے۔ صرف پیکروں اور حسی عمل اور ردِّ عمل کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ان کے ساتھ جذباتی کیفیتیں بھی ہیں جو متاثر کرتی ہیں، مثلاً محبت، ممتا، نفرت، رقابت، حسد وغیرہ۔ "ماں کا حسی پیکر یا آرچ ٹائپ جانے کتنے پیکروں میں ڈھل گیا ہے۔ جنت، زمین، جنگل، گرجا، مندر، درگاہ، شہر، سمندر اور چاند وغیرہ بھی اس حسی پیکر کی علامتیں بن جاتے ہیں۔ یونگ نے "مدر آرچ ٹائپ" کو باغوں، کھیتوں، گھاٹیوں، غاروں، درختوں، آبشاروں، پھولوں (گلاب، کنول)، چرچ یا گرجا گھروں میں بھی ٹٹولنے کی کوشش کی ہے۔ قسمت کی دیوی مثلاً نورنس، (Norns)، موتر (Motra) اور گرئی (Graeae) "مدرآرچ ٹائپ" کی تصویریں ہیں۔ سانپ، انسان کو نگل لینے والی بڑی مچھلیاں، قبر اور موت بھی ان کی علامتیں ہیں۔ شیکسپیئر کے "میک بتھ" میں، اسکاٹ لینڈ اور رات "مدر آرچ ٹائپ" کے پیکر ہیں، "میک بتھ"نے "نیند" کے تمام جزیروں کو ویران کر دیا ہے۔ رات تشدّد کو جنم دینے لگی ہے۔ بے چینی، اضطراب اور تپش کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ دھڑکنیں سنائی دیتی ہیں۔ "میک بتھ" کی بے خوابی چند کرداروں کی بے خوابی نہیں ہے بلکہ پورے اسکاٹ لینڈ کی بے خوابی ہے۔ اسکاٹ لینڈ کی سرزمین ایسی ماں ہے، جو اپنے بچوں کی لاشوں کو اپنے دامن میں چھپائے پھر رہی ہے۔ اسکاٹ لینڈ کی نیند اُچٹ گئی ہے، ایک ماں جاگی ہوئی ہے، بے چین، مضطرب تڑپ رہی ہے۔


اساطیر میں کائنات کی تخلیق کے تعلق سے مختلف تصوّرات ملتے ہیں، وقت کے بہاؤ پر مختلف انداز کی نگاہ ملتی ہے۔ دیوی دیوتاؤں کے پیکروں میں گناہ زندگی اور موت کے تصوّرات میں تصادم اور کشمکش اور نفسی اور داخلی اضطراب کے مختلف میلانات ہیں۔ باطنی داخلی زندگی کا رشتہ مختلف انداز سے کائنات سے پیدا کیا گیا ہے۔ یہ داستان طویل ہے گہری اور تہہ دار ہے۔ ماضی کے گہرے اندھیرے میں پھیلی ہوئی ہے۔ کلاسیکی ذہن نے مختلف حکایتیں تخلیق کی ہیں۔ چاند سورج کے رشتے قائم ہوئے، سمندر اور قوس قزح کے تعلق پر غور کیا گیا، ستاروں کی گفتگو سنی گئی، برف، پھول، جنگل، طوفان، آگ، جانور، پرندے، جنت، جہنم، راگ اور رنگ، پہاڑ آبشار، طلوعِ آفتاب، غروبِ آفتاب، پاتال آکاش سب کی کہانیاں خلق ہوئیں، جذباتی سطحوں پر قدروں کا تعین ہوتا رہا ہے۔

اساطیری رجحان ایک بنیادی رجحان ہے اور ہمیں اس حقیقت کا بہت کم علم ہے کہ ہم یونانی اور ہندوستانی آریائی اور غیر آریائی صنمیات میں کسی حد تک جذب ہیں۔ اس رجحان سے وقت کی زنجیریں ٹوٹی ہیں۔ صدیوں کی فکری زندگی نے جو میراث عطا کی ہے اس کی روشنی لازوال روایتوں، حکایتوں اور اشاروں اور علامتوں میں ڈھل گئی ہے۔ اساطیر نے فکر و نظر کا ایک بڑا سرمایہ عطا کیا ہے۔ خوب سے خوب تر کی جستجو بڑے فنکاروں کو علم الاصنام کی ایک بہت بڑی دُنیا میں لے گئی ہے۔

ویم بلیک (William Bake) نے کہا تھا:

"A deities reside in the human breast."

جی۔ سی۔ یونگ Jung) 1961ء۔ 1875ء) نے "سائیکی" کی اصطلاح استعمال کی ہے یعنی تمام دیوی دیوتا انسان کی "سائیکی" میں موجود ہیں۔

فنون میں اساطیر کے نفسیاتی تجربوں کا سفر جانے کب سے جاری ہے، تخلیقی فنکاروں نے "متھ" (Myth) کے دلکش معنی خیز تجربوں کو نفسیاتی صورتیں دی ہیں۔ رومانیت کے اصول سے آشنا کیا ہے۔ انھیں ڈرامائی پیکروں میں ڈھالا ہے اور اکثر استعاروں میں جلوہ گر کیا ہے۔ اساطیر کا مطالعہ بنیادی طور پر معصوم، پُر اسرار اور حیرت انگیز قدیم اور قدیم تر انسانی تجربوں کی نفسیات کا مطالعہ ہے۔ فنون کا مطالعہ کریں تو محسوس ہو گا کہ سارا کھیل "سائیکی" کا ہے۔ "سائیکی" نے ابتدا سے بے اختیار "متھ" کو پیش کیا ہے۔ آج بھی "سائیکی" نئے "خوابوں، " نئی bسی اور نئے تجربوں کو قدیم اساطیر کی طرح پیش کرتی جا رہی ہے۔ اسی لیے غالباً یہ کہا جاتا ہے کہ "سائیکی" کی فطرت میں اسطور سازی کا کوئی پُر اسرار تحرک موجود ہے، یعنی "سائیکی" بنیادی طور پر Mythopolic ہے۔ "سائیکو اسطور سازی" (Psycho-mythology) کی جبلّت ہی تخلیقی فنکاروں کو عمدہ اور بڑی تخلیقات کے لیے اُکساتی ہے۔ نئے عہد کی "سائیکی" کے "ا4" (Images) کا تعلق جب قدیم سائیکی کے "متھ" سے قائم ہو جاتا ہے تو تخلیقی تخیل میں بہت ہی پُر کشش تحرک پیدا ہو جاتا ہے۔ معنوی گہرائی کا زیادہ سے زیادہ احساس ملنے لگتا ہے۔ "متھ" کا رنگ و آہنگ لیے جمالیاتی تجربہ سامنے آ جاتا ہے۔

"ایڈیپس (Oedipas) کی اساطیری کہانی جب نئے عہد کی "سائیکی" میں اُترتی ہے تو ایڈی پس اُلجھن کی پُر اسراریت لیے کوئی بھی تجربہ ایسا جمالیاتی تجربہ بن جاتا ہے جو اپنی ٹریجڈی کے جمال سے متاثر کرتا ہے۔ ذات کی نفسیاتی کشمکش انسان کے بنیادی تصادم کی صورت اُبھر آتی ہے۔ یونگ نے کہا تھا کہ قدیم ترین "متھ" اور اپنے عہد کے درمیان ایک پل بن جاتا ہے۔ محسوس ہوتا ہے جیسے ایڈی پس ہم میں اب بھی زندہ ہے۔ بنیادی ذہنی یا نفسیاتی تصادم وقت یا "ٹائم" سے آزاد ہوتا نظر آتا ہے۔ نئے عہد میں سانس لینے والوں کے خواب "bسی" اور حسی تجربے میں اساطیر کی جھلکیاں نظر آتی ہیں جو اکثر جنسی ہوتی ہیں لہٰذا۔ خوبصورت بھی ہوتی ہیں۔

صنمیات میں ایسے جانے کتنے پیکر ہیں جو دیوی دیوتا نہیں ہیں لیکن انتہائی دلکش اور دلنواز شخصیتوں کے مالک ہیں، جن کی کہانیاں اپنی ڈرامائی اور نفسیاتی کیفیتوں سے متاثر کرتی ہیں۔ "اور فیس" (Orpheus) (سرورق) عمدہ مثال ہے۔ وہ ایک بڑا تخلیقی فنکار ہے، ایک بڑا موسیقار، اس کا پورا وجود جیسے موسیقی کے مختلف آہنگ سے مرتب ہوا ہو۔ انسانی احساس اور جذبے سے سرشار ہے۔ اس کا المیہ غیر معمولی نوعیت کا ہے، کہانی کے اختتام تک پہنچتے پہنچتے دل لہولہان ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ کسی تخلیقی فنکار کے تعلق سے ایسا پیکر کہیں نظر نہیں آتا۔ ایسی کہانی دکھائی نہیں دیتی۔ سرورق کی کہانی پر ایک بار پھر نظر ڈالیے اور سوچئے کیا اساطیر کی اتنی بڑی دنیا میں ایسا کوئی کردار اپنی دلنواز شخصیت لیے کہیں اور ملتا ہے? اساطیر کی پھیلی ہوئی تہہ دار تاریخ میں کسی بھی ملک میں غالباً ایسا کردار موجود نہ ہو۔


بعض تخلیقی فنکاروں نے اساطیری کرداروں کو اپنی تخلیقات میں بڑی نمایاں حیثیت دی ہے انھیں متحرک کرداروں کی صورت پیش کیا ہے۔ مثلاً Achiles جو سمندر کی دیوی "تھی ٹس" (Thetis) اس کا بیٹا ہے ہومر کی بڑی کلاسیکی تخلیق "ایلیڈ" (Iliad) میں ایک نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ "اینیس" (Aeneas) ہومر کے "ایلیڈ" میں "ٹروجنس" (Trojans) کے ایک بڑے متحرک ہیرو کی طرح ملتا ہے۔ "ورجل" (Virgil) کی عظیم تخلیق "اینیڈ" (Aeneid) میں تو ایک انتہائی متحرک اور پُر کشش کردار بنا ہوا ہے کہ جس کی کہانی کسی "ایپک" کا حصہ نظر آتی ہے۔ "ٹرائے " کے زوال کے بعد اپنے اوپر اپنے والد کے ساتھ دیوتاؤں کو بھی سوار کر لیتا ہے، بیوی چھوٹ جاتی ہے، جانے کہاں کہاں کی خاک چھانتا "ڈیڈو" (Dido) کے پاس آن پہنچتا ہے، اس کا مہمان تو بنتا ہی ہے ڈیڈو پر عاشق بھی ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد بھی اُس کی کہانی آگے بڑھتی ہے۔ اطالیہ پہنچتا ہے کہ جہاں بادشاہ اس کا استقبال کرتا ہے۔ بادشاہ کی بیٹی "لاوینیا" (Lavinia) سے اس کی شادی ہوتی ہے اور وہ ایک نیا شہر بساتا ہے۔

اساطیر کی جڑیں ما قبل تاریخ میں جانے کب سے پیوست ہیں۔ رفتہ رفتہ جڑیں پھیلتی گئی ہیں۔ دنیا کے مختلف علاقوں کے قبیلوں میں مختلف انداز سے اساطیر کا ارتقا ہوتا رہا اور انسانی ذہن کے کرشموں کی ایک عجیب و غریب پُر اسرار دنیا وجود میں آتی گئی۔ قدیم ترین ادوار میں مقامی سطحوں پر جو تمدّن موجود رہا اس کے آثار اور نقوش کی بعض روایتوں کا سفر جاری رہا۔ کم و بیش بارہ ہزار سال قبل مسیح کے کھنڈروں اور غاروں میں جو تصویریں پائی گئی ہیں اُن سے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ ان میں اکثر تصویروں کا تعلق "توتم" (Totem) اور اساطیری جبلّت سے ہے۔ قدیم غاروں میں جو مجسّمے ملے، جو زیورات حاصل ہوئے اور تصویروں کے جو نمونے توجہ طلب بنے ان سے اسطوری جبلّت کے متحرک عمل کی پہچان ہوئی۔ توتمی کردار لیے جانے کتنے پیکر اور "ا4" حاصل ہوئے ہیں۔ دنیا کے کئی ملکوں اور ان ملکوں کے قبیلوں میں قدیم ترین چہروں، پیکروں اور "ا4" کی تشکیل کی روایات آج بھی موجود ہیں۔ جنگلوں میں شکار کی زندگی نے جانوروں کے چہروں اور پیکروں کو اہمیت دی اور مختلف احساسات اور جذبات نے اساطیری پیکروں کی تخلیق کی۔ اسی طرح کھیتوں سے رشتہ پیدا ہوا تو جہاں "توتم" (Totem) کی نئی صورتیں اُبھریں وہاں فطرت اور کھیتوں کے تعلق کے پیشِ نظر نئے دیوتا پیدا ہوئے۔ موسم اور قدرت کے قہر سے خوف کا جذبہ شدّت سے بیدار ہوا اور دیوی دیوتاؤں کی جہاں نئی نئی صورتیں پیدا ہونے لگیں وہاں ان کے شدید عمل اور ردِّ عمل کے قصّے بھی وجود میں آنے لگے۔ بیج بونے، آبیاری کر نے اور فصل کاٹنے کے وقت کو آہستہ آہستہ جشن میں تبدیل کر دیا گیا اور دیوی دیوتاؤں کی صورتیں خلق کر کے ان کی عبادت بھی ہونے لگی۔ بیج کا دیوتا پیدا ہوا، پانی کی دیوی نے جنم لیا، فصل کے دیوتا مختلف علاقوں میں مختلف صورتیں لیے وجود میں آئے۔ دیوی دیوتاؤں کے علاوہ اپنے آبا و اجداد کی روحوں سے رشتہ قائم کر نے کی کوشش اس طرح بھی ہوئی کہ ان کے بھی مجسّمے بننے لگے اور ان کی عبادت بھی کی جانے لگی۔

کھنڈروں اور غاروں میں بارہ ہزار سال قبل مسیح کے جو تصویری خاکے دستیاب ہیں ان میں جانوروں کے خاکوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ان خاکوں اور تصویروں میں اُن جانوروں کی روحوں سے رشتہ قائم کر نے کی کوشش زیادہ ملتی ہے کہ جو "توتم" (Totem) کی حیثیت اختیار کر چکے تھے جن کی عبادت کی جاتی تھی۔ اسی طرح کھیتوں میں کام کر نے والے اپنے آبا و اجداد کے پیکر تراشتے کہ جن کی عبادت فرض سمجھتے تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ اُن کی روحیں زندہ اور متحرک ہیں، کھیتی باڑی میں یہ روحیں مدد کرتی ہیں، ان کے لیے رقص بھی کیا جاتا، رقص کی ایسی تصویریں بھی موجود ہیں جو آبا و اجداد کو خوش رکھنے کی کوشش میں بنائی گئی تھیں، مختلف قسم کے "ماسک" (Mask) پہن کر رقص کیا جاتا۔

قدیم ذہن نے اس طرح آہستہ آہستہ اپنی اسطوری جبلّت میں تحرک پیدا کیا ہے۔ اس کے بعد اسطوری ذہن کے پُر اسرار کرشموں کا سلسلہ قائم ہوا ہے۔ دیوی دیوتاؤں کے پُر اسرار پیکر وجود میں آئے، ان کی علامتوں کی تخلیق کا سلسلہ شروع ہوا۔ مختلف علاقوں کے مختلف قبیلوں میں اسطوری ذہن نے پُر اسرار کرداروں اور پُر اسرار فضاؤں کی تخلیق تشکیل کی۔ اس ذہن کا رومانی جمالیاتی رجحان توجّہ طلب بن جاتا ہے۔ سمندروں کے قریب کے علاقوں میں ان کے آثار آج بھی موجود ہیں، نیگرو تمدّن کی قدیم ترین تاریخ کے مطالعے سے یہ حقائق سامنے آتے ہیں۔ وسط ایشیا کے مختلف قبیلوں کا سفر شروع سے اثر انداز ہوا ہے۔ اساطیری علامتیں بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے لگیں اور مختلف قبیلوں کے اساطیری تجربے ایک دوسرے پر اثر انداز ہونے لگے۔ وسط ایشیا، انڈونیشیا اور چین نے یوروپ کی اساطیری فکر کو متاثر کیا۔ سانپ اور ڈریگن وغیرہ کے پُر اسرار پیکروں نے جانے کتنے اساطیری قصوں کہانیوں کو جنم دیا۔


25000۔ 30000 سال قبل مسیح جنوبی، روس، افغانستان اور بلقان وغیرہ میں پتھروں پر شکاری فنکاروں کے بنائے ہوئے نسوانی پیکروں کا ذکر ملتا ہے۔ کہا جاتا ہے ان نسوانی پیکروں کا اسلوب فطری ہے۔ بعض تصویروں کی روحانی سطح کا بھی ذکر کیا جاتا ہے مثلاً "ماں " کے پیکروں کا۔ انسان کی تصویروں کے ساتھ بعض درندوں کی تصویروں کے شکار ی فنکاروں کی اساطیری جبلّت کی پہچان کی گئی ہے مثلاً بعض انسانی جسم کے ساتھ درندوں کے چہرے یا بعض درندوں کے جسم کے ساتھ انسانی چہرے۔ یہ روایت جب بہت آگے بڑھی ہے تو مصر کا آرٹ بھی ان سے متاثر ہوا ہے۔ شمالی افریقہ میں پتھروں پر انسان کی ایسی تصویریں نقش ہیں جو جانور اور درندے نظر آتے ہیں، غالباً بنیادی رجحان یہ رہا ہے کہ انسان میں فوق الفطری طاقت کا مظاہرہ کیا جائے۔ موت کا خوف چونکہ ہر وقت غالب رہا اس لیے دوسری زندگی کا تصوّر بھی پیدا ہوا ہے۔ انسان موت کے بعد طاقتور جانوروں کی صورتوں میں جنم لے سکتا ہے یا لیتا رہتا ہے۔ اساطیری جبلّت سے اس دلچسپ رومانی تصوّر نے جنم لیا تھا۔ شمالی سائبیریا اور اسکیمو (Eskimos) قبیلوں میں یہ تصوّر یا عقیدہ پرورش پاتا رہا ہے۔ آسٹریلیا اور افریقہ کے کئی قبائلی علاقوں میں یہ عقیدہ موجود رہا ہے۔ گزرے ہوئے لوگوں کی آوازوں کو سننا، مرے ہوئے افراد کو دیکھ لینا اس قسم کے نفسیاتی فینومینا سے اساطیری جبلّت کے اظہار میں بڑی مدد ملی ہے۔ مرے ہوئے افراد بھی اساطیری کردار بنے ہیں۔ آج ایسی ذہنی کیفیت اور حالت کے لیے Psychosis کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ دنیا کے جانے کتنے ملکوں میں یہ عقیدہ بہت پرانا ہے کہ موت کے بعد روح زندہ رہتی ہے اور وہ اکثر دوسرا جسم حاصل کر لیتی ہے، روح انسان کی بھی ہو سکتی ہے اور جانور کی بھی۔ مختلف دَور میں بعض جانوروں کو مارنا گناہ تصوّر کیا گیا۔

شعوری اور غیر شعوری طور پر اساطیر کی بنیاد قائم کر نے اور اس میں فکر اور جذبے اور احساس کی روشنی اور رنگ و آہنگ کو شامل کر نے میں "تو تم" (Totems) نے بھی ایک بڑا کردار ادا کیا ہے۔ "توتمیت" مذہب کی طرح مقدس ہے، تہذیب کا مطالعہ کرتے ہوئے توتمی علامتوں کو کبھی نظر انداز نہیں کر سکتے، آج بھی توتمی روایات کی پہچان ہوتی ہے۔ قدیم افریقی، امریکی، آسٹریلیائی اور آریائی قبیلوں کا مطالعہ کرتے ہوئے "توتم" کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا رہتا ہے۔ قدیم قبائلی زندگی میں کچھ خاص جانوروں کو مارنا اور انھیں کھانا ممنوع تھا، ان کی حفاظت بچوّں کی طرح ہوتی تھی، ایسا کوئی جانور مر جاتا تو اس کے آخری رسوم کی نوعیت وہی ہوتی جو کسی بھی انسان کے مر نے کے آخری رسوم کی نوعیت تھی۔ کہا جاتا ہے کچھ جانور ایسے بھی تھے کہ جنھیں مار نے اور کھانے کی اجازت تھی لیکن اُن کے جسم کے بعض حصوں کو کھانا منع تھا۔ غلطی سے کوئی ایسا جانور مار دیا جاتا تو اسے قتل قرار دیا جاتا۔ قدیم قبیلوں میں بعض جانوروں کی قربانی جائز تھی لیکن ان جانوروں کے چمڑوں کو پہننا بھی ضروری تھا، لباس میں چمڑوں کو اس طرح محفوظ رکھنا بھی توتمی کردار کو سمجھاتا ہے۔ توتمی جانوروں کے خاص نام بھی رکھے جاتے اور ہتھیاروں پر ان کی تصویریں بھی بنائی جاتی تھیں۔ یہ تصویریں آہستہ آہستہ اساطیری پیکروں میں ڈھل گئیں اور ان کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی۔ اگر کوئی توتمی جانور خطرناک ہوتا تو اس کا نام قبیلے کے کچھ افراد کو دے دیا جاتا تھا اور وہ افراد اس توتمی جانور کی علامت بن جاتے، اس طرح کے عمل کا مقصد یہ بھی تھا کہ انسان آفات سے دُور رہے گا۔ توتمی جانوروں کی آوازوں کی بھی اہمیت تھی، ان کی آوازوں سے اچھے بُرے لمحوں کی خبر ملتی تھی۔ بعض قبیلوں میں یہ اعتقاد بھی پختہ رہا ہے کہ ان توتمی جانوروں سے خون کا رشتہ ہے لہٰذا قبیلے کا ہر فرد ان جانوروں کا رشتہ دار ہے۔ علم نفسیات نے توتمی کلچر کا مطالعہ کر کے انسان کے مختلف رجحانات کا مطالعہ کیا ہے اور اقدارِ زندگی کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ تمدّن، روایات اور تہذیبی اقدار کا مطالعہ کرتے ہوئے ہم "توتمیت" (Totemism) کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اساطیر اور فنونِ لطیفہ میں "bسی" (Fantasy) کی جو اہمیت ہے بخوبی جانتے ہیں۔ ان کی پُر اسراریت کے پس پردہ "توتمی کلچر" کا تحرک موجود ہے۔ پریوں کی کہانیاں، جنوں بھوتوں کے قصّے، پُر اسرار پرندوں اور جانوروں کے افسانے یہ سب "توتمیت" سے کسی نہ کسی طرح رشتہ رکھتے ہیں۔ اساطیر کی تخلیق میں خوف اور تحیر اور عقیدت اور محبت کے جذبوں نے ابتدا سے اپنی اہمیت کا احساس دلایا ہے۔

سگمنڈ فرائیڈ نے "توتمیت" کا مطالعہ کرتے ہوئے خدا کے تصوّر کا جو نفسیاتی مطالعہ کیا ہے اس میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ ہر بڑے دیوتا کے ساتھ ایک خاص جانور بھی موجود ہے (ہندوستانی اساطیر میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں ) کبھی کبھی کئی جانور ایک ہی دیوتا کے ساتھ ہیں۔ یہ جانور رفتہ رفتہ دیوتاؤں کی علامتیں بن گئے ہیں۔ وہ جانور جو دیوتا کو پسند ہے اس کی قربانی بھی ہوتی ہے اور وہی دیوتا کی علامت بن کر قابلِ پرستش بن جاتا ہے۔ اساطیری قصّوں میں بہت سے دیوتاؤں نے جانوروں کی صورتوں کو پسند کیا ہے اور ان ہی صورتوں میں نمایاں ہوئے ہیں۔ اس طرح "دیوتا" خود "توتم جانور" (Totem animal) بن گئے ہیں۔ رفتہ رفتہ ان جانوروں کی حیثیت مذہبی ہو گئی ہے۔ انسان اور خدا کا رشتہ بچے ّ اور باپ کے رشتے کی ترقی یافتہ صورت ہے، دیوتاؤں کا انسانی صورت میں آنا اس نفسیاتی عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ فرائیڈ نے کہا ہے کہ "دیویوں کی تخلیق کا راز یہ ہے کہ انسان ایسے سماج کو دیکھنا چاہتا تھا جس میں باپ کی جگہ نہ ہو۔ توتمی جانور قربان کیے گئے اور رفتہ رفتہ ان کے کردار مقدس نہیں رہے، پھر وہ دَور بھی آیا جب وہ صرف قربانی کے بکرے بن گئے، انھیں دیوتاؤں کو خوش رکھنے کا ذریعہ بنایا گیا، دیوتا عام انسانوں سے بہت بلند ہو گئے، پجاریوں کے ذریعے دیوتاؤں کے قریب پہنچنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ سماجی زندگی میں ایسے "بادشاہوں " کا ظہور ہوا جو دیوتاؤں سے گہرا رشتہ رکھتے تھے پھر ایسی کہانیاں اور ایسے قصّے ملنے لگے جن میں دیوتاؤں نے معلوم نہیں کتنے ایسے جانوروں کو مارا جو بہت مقدس تھے اور جو خود ان دیوتاؤں کی علامتوں کی صورت میں موجود تھے۔ اس منزل پر بھی "باپ کی اُلجھن" (Father Complex) ختم نہیں ہوئی۔ جانوروں کی قربانی میں مسرّت کا جذبہ پوشیدہ رہا، دیوتاؤں کا جانوروں کو مارنا تحلیلِ نفسی کی روشنی میں خود اپنی "زخمی فطرت" کو مارنا ہے، یہ کہا جائے کہ دیوتا اس طرح اپنی فطرت کے تاریک پہلو کو "تسخیر" کر لیتے تھے تو غلط نہ ہو گا۔ بادشاہوں اور پجاریوں نے بھی بہت سے جانوروں کی قربانی کے احکام جاری کیے ہیں۔ پسِ پردہ "باپ کی اُلجھن" موجود رہی ہے، "باپ" ہی قتل ہوتا رہا ہے۔


سگمنڈ فرائیڈ کے خیالات سے اختلاف کر نے کی بڑی گنجائش ہے لیکن ہم اس بات کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ اساطیر کی بنیاد کے استحکام اور اسطوری جبلّت کو متحرک کر نے اور اسطور سازی میں احساس اور جذبے کے رنگ و آہنگ کو جذب کر نے میں "توتم" نے ایک بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ حیات و کائنات کے تعلق سے رومانی، نفسیاتی اور جمالیاتی تصوّرات و کیفیات کو لیے صرف یونانی، رومن اور ہندوستانی اساطیر ہی کا مطالعہ کیا جائے تو اساطیر کے ایک بہت بڑے نظامِ جمال کی پہچان ہو گی ساتھ ہی یہ بھی محسوس ہو گا کہ سیکڑوں ہزاروں پیکروں، کرداروں، ان کی کہانیوں اور ان کے عمل اور ردِّ عمل کی متحرک تصویریں خلق کر نے والا تخلیقی ذہن ہمیشہ غیر معمولی حیثیت کا مالک رہا ہو گا۔ صرف دیوتاؤں کے دیوتا اور آسمان کے دیوتا "زیوس" (Zeus)، علم کے دیوتا "اتھینا" (Athena)، پاتال کے دیوتا "ہیڈس" (Hades)، عشق و محبت کی دیوی "افروڈائٹ" (Aphrodite)، سورج کے دیوتا "اپولو" (Apollo)، شراب کے دیوتا "ڈائیونیسس" (Dionysus)، صبح اور دن کی روشنی کی دیوی اور۔ ۔ ۔ "جے نس" (Janus)، "ہائپ نوس" (Hypnos)، دیوی "ایروس" (Eros)، "اور فیس" (Orpheus)، دیوی "پنڈورا" (Pindora)، "نارکیسس" (Narcissus) دیوی "ہیرا" (Hera) وغیرہ کا مطالعہ کیا جائے تو اساطیر کے ایک بڑے نظامِ جمال اور بڑے زرخیز تخلیقی ذہن کی پہچان ہو جائے گی۔ اسی طرح رومن اساطیر میں "جیوپٹر" (Jupiter)، "جونو" (Juno) (دیوتاؤں کی ملکہ)، سمندر کے دیوتا "نیپٹیون" (Neptune)، موت کے دیوتا "پلوٹو" (Puto)، سورج کے دیوتا "اپولو، " چاند کی دیوی "ڈائینا" (Diana)، جنگ کے دیوتا "مارس" (Mars)، محبت کی دیوی "وینس" (Venus)، دیوتاؤں کے پیامبر "مرکری" (Mercury)، علم و دانش کی دیوی "منروا" (Minerva)، زمین کی دیوی "ایروس" (Eros)، پاتال کی دیوی "پروسرپائن" (Proserpine)، وقت کے دیوتا "سیٹرن" (Saturn) وغیرہ ایک بڑے معنی خیز اساطیری نظام کی تشکیل کرتے ہیں۔ یہ سب انسان کے تصوّرات اور احساسات اور جذبات کے متحرک پیکر ہیں۔ ان کے ذریعے ایک بڑی پراسرار دُنیا سامنے آ جاتی ہے جو خلاّق ذہن کی تخلیق ہے۔

نفسیاتی جمالیاتی فکر و نظر نے اکثر یونانی اور رومن اساطیری کرداروں اور ان کے عمل کو جاذبِ نظر اور پرکشش بنا دیا ہے۔ نسوانی کرداروں میں خصوصاً بڑی کشش پیدا کر دی ہے۔ نفسیاتی جمالیاتی نقطۂ نظر سے ان سب کی کئی خصوصیات متاثر کرتی ہیں۔ نفسیاتی کیفیتوں کے ساتھ جلال و جمال کے مظاہر توجہ طلب ہیں۔

ایفروڈائٹ (Aphrodite) نسوانی حسن کا جوہر لیے ہوئے ہے، اس کا پُر کشش وجود غیر معمولی حیثیت رکھتا ہے، اس کے باوجود وہ حاسد ہے، فریب دیتی رہتی ہے، اس میں انتقام لینے کا جذبہ ہے۔

ایفروڈائٹ انسان کے دل میں جنسی بے چینی پیدا کر دیتی ہے۔ جنسی جذبے کو دیوانگی کی حد تک پہنچا دیتی ہے۔ وہ افراد جو اس کے شکار بنتے ہیں ان میں اکثر اتنے بدنصیب بن جاتے ہیں کہ اپنے مقصد کی کامیابی کے لیے اپنے والدین سے بھی دُور ہو جاتے ہیں، اپنے گھر بار کو چھوڑ کر دُور نکل جاتے ہیں، ان پر دیوانگی سی طاری ہو جاتی ہے اس حد تک کہ ان میں خونخوار جانور کی خاصیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے باوجود "ایفروڈائٹ" نئی نویلی دلہنوں اور نئے نویلے دولہاؤں کو اپنی خاص رحمتوں کے سائے میں رکھتی ہے، اُنھیں مسرّتیں عطا کرتی ہے۔

پیکرِ جمال ایفروڈائٹ قدرت کی تو انائی کی علامت ہے۔ اسی کی وجہ سے ایروس (Eros) اور "سائیکی" (Psyche) کا ملن ممکن ہو پاتا ہے۔

محبت، سیکس اور افزائش نسل کی یہ یونانی دیوی سمندر سے نمودار ہوتی ہے۔ اس کے سیاہ خوبصورت بال اس کے حسن میں زبردست اضافہ کرتے ہیں۔

رومن اساطیر میں وینس (Venus) "ایفروڈائٹ" کی نمائندگی کرتی ہے۔ ہیلن (Helen) اساطیر کی دُنیا میں اپنے انتہائی پُر اسرار حسن سے متاثر کرتی ہے۔ ایسا پُر اسرار حسن غالباً کسی کو نصیب نہیں ہے۔ اس کے بال انتہائی پُر کشش ہیں۔ سرپر سونے کا خوبصورت تاج ہے، سونے کے جس تخت پر بیٹھی ہے اس کے دونوں بازو پر سونے کے سانپ بنے ہوئے ہیں، اس کا لباس نیلا ہے جس کی وجہ سے اس کا حسن اور پُر اسرار بن گیا ہے۔ گہرے نیلے سمندر اور گہرے نیلے آسمان کے درمیان نیلے لباس میں ہیلن حسن کا ایک پُر اسرار استعارہ بن گئی ہے۔ زیوس (Zeus) اور لیڈا (Leda) کی بیٹی ہے جسے پیرس (Paris) اِغوا کر کے ٹرائے لے جاتا ہے جس کی وجہ سے ٹرائے کی جنگ ہوتی ہے۔ کچھ وقت کے گزر جانے کے بعد ہیلن پیرس کے بھائی ڈی فوبس (Deiphobus) سے شادی کر لیتی ہے۔ ٹرائے کی جنگ کے بعد واپس آ جاتی ہے۔

ہیلن جو پُر اسرار حسن کی علامت ہے داخلی زندگی اور باطنی سطح پر احساسات کے اضطراب کا استعارہ بھی ہے، وہ اندر بہت گہرائیوں میں اُتری ہوئی ہے اپنے وجود کے اندر سمندر سے زیادہ گہری ہے۔

ہیلن کی کہانی اس طرح بھی بیان ہوئی ہے کہ پیرس سے بے پناہ محبت کر نے لگی تھی۔ ٹروجن کی جنگ میں جب پیرس ہلاک ہو جاتا ہے تو اس کے پُر اسرار حسن سے متاثر تین عاشق سامنے آتے ہیں، جن میں تھیسیوس (Theseus) تھا کہ جس نے ہیلن کو اِغوا کیا تھا۔ ٹروجن کی جنگ کے دس سال ہیلن کے بہترین تجربوں کے سال تھے۔ مینی لوس (Meneous) ہیلن کا عاشق تھا، وہی ہیلن کو اسپارٹا لے آیا اور دونوں ہنسی خوشی زندگی بسر کر نے لگے۔

ہیلن کے حسن میں عجیب کشش تھی جس کی جانب نظر اُٹھا کر دیکھ لیتی اس کے ہوش و حواس گم ہو جاتے، عجیب سحر تھا اس کی خوبصورت آنکھوں میں۔ وہ صاف شفاف پانی کی طرح تھی کہ جو اسے دیکھتا اپنی روح کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا۔ ہیلن کا حسن خود اپنے اسرار میں لپٹا ہوا تھا۔ وہ کئی مردوں پر مہربان رہی، ان میں اس کے دشمن بھی شامل تھے۔ جو مرد پسند آ جاتا اسے گرفت میں لے لیتی اور اس کے وجود میں اُتر جاتی۔ اُس کے شعور کو گرفت میں لیتے ہوئے اس کے لاشعور کے اندر سما جاتی۔ ہیجانات کی نغمہ ریز لہروں میں مرد اپنے تمام انتشار کو بھول جاتا۔ ہیجانات کی نغمہ ریز لہریں جانے اسے کہاں پہنچا دیتیں۔ وہ بلاشبہ پُر اسرار bسی کی دنیا میں پہنچ جاتا۔

وینس (Venus) رومن تخلیقی ذہن کا کارنامہ ہے، حسن کا پیکر، محبت اور شہوت کی علامت۔ یونانی "ایفروڈائٹ" سے ملتا جلتا پیکرِ جمال۔


ہیرا (Hera) یونانیوں کی قدیم دیوی ہے۔ یونانی اساطیر میں ہیرا زیوس(Zeus) کی بیوی اور بہن دونوں کی صورتوں میں ملتی ہے، خوبصورت ہے لیکن ہومرؔ نے تحریر کیا ہے کہ حد درجہ بد زبان ہے۔ عورت کے حسد کو نمایاں کرتی رہتی ہے۔ جھگڑالو ہے، کسی کو بُرا بھلا کہنے میں پیچھے نہیں رہتی، اس کی عبادت جس مقام پر کی جاتی ہے اس کا نام آرگوس (Argos) ہے جو بہت دُور کسی سنسان علاقے میں ہے۔

سرِسی (Circe) ایک دُور دراز علاقے Aesea کی دیوی ہے۔ یہ ایک جزیرہ ہے کہ جہاں اوڈیسیس (Odysseus) رُکا تھا، یہ جادو سحر کی بھی دیوی ہے۔ جادو سے جب چاہتی کسی بھی مرد کو خونخوار جانور میں تبدیل کر دیتی۔ اوڈیسیس کے ساتھیوں کے ساتھ بھی اس نے یہی کیا اُنھیں جانور بنا دیا۔ اوڈیسیس اس کے ساتھ ایک سال رہا اور جادو کی چھڑی سے اپنے ساتھیوں کو ایک بار پھر انسان بنوا دیا۔

منروا (Minerva) رومن اساطیر میں عقل و دانش کی دیوی ہے۔ یونانی اساطیر میں اتھینا (Athena) بھی عقل و دانش کی نمائندہ دیوی ہے جسے زیوس (Zeus) نے بہت عزیز رکھا تھا۔ اس کا سبب غالباً یہ تھا کہ اس نے زیوس کے سر سے جنم لیا تھا، زیوس نے اپنی ماں "میٹس" (Metis) کو نگل لیا تھا جو عقل و دانش کی دیوی تھی، ایتھن میں اتھینا کی عبادت ہوتی تھی۔

آرٹیمس (Artemis) ابتدا میں زمین کی دیوی تھی جو آہستہ آہستہ زرخیز زندگی کی دیوی بن گئی۔ یونانی اساطیر میں وہ زیوس کی بیٹی ہے، اس کی ماں کا نام لیٹو (Leto) ہے۔ ہمیشہ کنواری رہی، شکار سے دلچسپی تھی لیکن اس نے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا کہ جنگوں میں شکار کرتے ہوئے اس کی عزّت آبرو محفوظ رہے۔ رومن اساطیر میں ڈائینا (Dyana) کا کردار بھی کچھ اسی نوعیت کا ہے۔

انڈرومیڈا (Andromeda) یونانی بادشاہ "سی فیوس" (Cepheus) کی بیٹی تھی۔ اس کی ماں اسے دُنیا کی سب سے حسین لڑکی تصوّر کرتی تھی، کہتی تھی وہ سمندر کی حسیناؤں (Sea nymphs) سے زیادہ خوبصورت ہے۔ اُس پر قیامت اس وقت ٹوٹی جب اس کے والد کی حکومت پر سمندری عفریت نے حملہ کیا، وہ گرفتار ہو گئی تو اس خوبصورت دوشیزہ کے عاشق "پرسیوس" (Perseus) نے اسے بچا لیا۔ عفریت کو قتل کر دیا اور انڈرومیڈا سے شادی کر لی۔

"لامیا" (Lamia) ایک ملکہ تھی کہ جس نے "زیوس" (Zeus) سے جنسی تعلّق قائم کر رکھا تھا۔ "ہیرا" (Hera) نے غصّے میں لامیا کے تمام بچوں کو اُٹھا لیا، اس کے بعد لامیا پر جنون کی سی کیفیت طاری ہو گئی اور اس نے جس بچے ّ کو پکڑ لیا مار ڈالا۔ رومن نے اس کی وحشت اور اس کے عمل کو دیکھ کر اسے "فی میل ومپائر" (Female Vampire) کہنا شروع کر دیا۔

"ہیرو" (Hero) ایک خوبصورت پاکباز عورت تھی، ایفروڈائٹ کی عبادت کرتی تھی۔ "لینڈر" (Leander) اس کے قریب آیا، دونوں عشق میں گرفتار ہو گئے، لینڈر ایک خوب رو جوان تھا جو ہیرو سے بے پناہ محبت کر نے لگا تھا، ہر شب سمندر عبور کر کے ہیرو سے ملنے آتا تھا، ہیرو ساحل پر چراغ جلائے بیٹھی رہتی، اسی چراغ کی روشنی میں لینڈر تیرتا ہوا اپنے محبوب کے پاس پہنچ جاتا تھا۔ ایک شب ایسا ہوا، طوفان آیا، لینڈر سمندر میں اُتر چکا تھا، تیرتا تیرتا آگے بڑھ رہا تھا، ہیرو کے چراغ کی روشنی پہنچ رہی تھی کہ اچانک آندھی طوفان کی وجہ سے چراغ بجھ گیا۔ ہر سو اندھیرا ہی اندھیرا تھا لینڈر ہیرو کے لیے، کوشش کے باوجود آگے بڑھ نہ سکا، سمندر میں ڈوب گیا۔ ہیرو غم سے نڈھال ہو گئی اور اس نے خود کو سمندر کی لہروں کے حوالے کر دیا۔ (سوہنی مہیوال کی یاد آ جاتی ہے )


"او" (Io) ایک خوبصورت دوشیزہ تھی کہ جس سے زیوس (Zeus) پیار کر نے لگا تھا۔ اسے پاس تو لے آیا لیکن اُسے اپنی بیوی ہیرا سے چھپا کر رکھنا چاہتا تھا، لہٰذا جب بیوی آتی زیوس "او" کو جوان بچھیا بنا دیتا تھا۔ جب بیوی نہ ہوتی تو اس خوبصورت دوشیزہ کے ساتھ لذّت آمیز لمحے گزارتا۔ ہیرا کو اپنے خاوند کی کچھ حرکتوں کو دیکھ شبہ ہوا تو اس نے ایک عفریت کو کہ جس کی سو آنکھیں تھیں اپنے خاوند کی حرکتوں پر نظر رکھنے کے لیے معمور کیا۔ زیوس کو خبر ملی تو اس کے حکم سے "ہرنس" (Hernes) نے آرگس(Argus) کا قتل کر دیا۔ اس عفریت کے قتل کے بعد ہیرا نے جوان بچھیا کو دبوچ لیا اور اسے لے کر جانے کہاں کہاں گھومتی رہی، دریائے نیل کے پاس پہنچی تو اچانک جوان بچھیا "او" بن گئی۔

یہ کہانی یونان میں لوک کہانی کی طرح مقبول رہی ہے۔

"پاسی فائی" (Pasiphae) ایک عجیب و غریب نسوانی کردار ہے، ہیلیوز (Helios) کی بیٹی ہے جو مائی نوز (Minos) سے بیاہی گئی ہے۔ مائی نوز کریٹ کا بادشاہ ہے۔ دیوتا پوسی ڈون (Poseidon) نے کریٹ کے بادشاہ مائی نوز کو ایک مضبوط تو انا بہت پُر کشش سانڈ بھیجا کہ جس پر پاسی فائی عاشق ہو گئی اور ایک شب چپکے سے اس سانڈ کے ساتھ مباشرت کی جس سے ایک عفریت نے جنم لیا کہ جس کا نام پاسی فائی نے مینوٹور (Minotaur) رکھا۔

"نائیٹی مین" (Nyetimene) سائیون کے بادشاہ کی بیٹی تھی کہ جسے اس کے باپ نے "ریپ" کیا تھا۔ اس کے بعد وہ گھنے جنگلوں میں چھپتی پھری۔ اتھینا (Athena) نے اسے اُلّو بنا دیا!

"ایٹلانٹا (Atlanta) ایک سوچتے ہوئے خوبصورت چہرے کا نام ہے، ہلکے نیلے لباس پسند کرتی ہے، سرپر سونے کا تاج ہے تخت چاندی کا ہے۔ تنہا پسند ہے، جنسی زندگی کے تعلق سے کچھ نہیں سوچتی، شکار اور کئی کھیلوں سے دلچسپی ہے۔ دوستی پسند کرتی ہے جنسی تعلق پسند نہیں کرتی۔ تنہائی میں رہنا چاہتی ہے۔ قدیم لوک کہانیوں میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ بہت تیز دوڑتی ہے، چیلنج کرتی ہے کہ دوڑ میں جو مرد اُسے پیچھے کر دے گا وہ اس سے شادی کر لے گی، کوئی مرد کامیاب نہیں ہوتا، باپ نے چاہا تھا بیٹا پیدا ہو لیکن ایٹلانٹا پیدا ہو گئی۔ باپ نے کبھی لڑکی کو لڑکے مقابلے میں زیادہ اہمیت نہیں دی لیکن ایٹلانٹا نے ثابت کر دیا کہ وہ کسی سے کم نہیں ہے۔ اس کا ایک عزیز "میلانین " (Milanion) اسے بے حد چاہنے لگا تھا، اس نے چیلنج قبول کیا، دوڑ ہوئی، میلانین نے ایفروڈائٹ سے تین سیب لیے تھے، دوڑتے ہوئے اس نے یہ تینوں سیب ایٹلانٹا کے سامنے پھینک دیئے۔ وہ انھیں اُٹھانے کے لیے رُکی اور میلانین آگے بڑھ گیا۔ ایٹلانٹا کی شکست ہو گئی۔

"ڈیمیٹر" (Demeter) "دھرتی ماں " ہے۔ گیہواں رنگ دھرتی کا حسن سمیٹے زمین کی خوشبوؤں کو لیے، گیہواں رنگ کے لہراتے بال، اکثر حاملہ رہتی ہے۔ افزائشِ نسل کی ذمہ داری بھی اسی پر ہے، گیہوں کے کھیتوں کی نگہبانی کرتی ہے۔ اس کا لباس مختلف پودوں سے بنا ہوا ہے۔ گلے میں بارہ قیمتی پتھروں کا ہار ہے۔ عام طور پر آبشاروں کے پاس کھڑی ہوتی ہے، آبشاروں کے نزدیک ہی سے کھیت دُور دُور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ سے نئی زندگی کا سلسلہ قائم ہے۔ زمین کی تو انائی کی علامت ہے۔ اسی نے ہل جوتنا، بیج ڈالنا، کھیتوں میں پانی دینا سکھایا ہے۔ عورتوں کو گیہوں صاف کر نے اور روٹیاں بنانے کے گر سکھائے ہیں۔

ڈیمیٹر اپنی بیٹی پرسی فون (Persephone) کے ساتھ رہتی اور اپنے ساتھ اپنی بیٹی کو بھی دنیاوی اُلجھنوں سے دُور رکھتی۔

ایک صبح پرسی فون ٹہلنے گئی تو پھر واپس نہیں آئی، ڈیمیٹر پریشان ہو گئی اپنی بیٹی کو ہر طرف ڈھونڈا، کوئی نشان نہیں ملا۔ برسوں ہر جانب جا کر اسے تلاش کرتی رہی، عرصہ بعد اسے خبر ملی کہ پاتال کے دیوتا ہیڈس (Hades) نے اس کا اِغوا کیا ہے۔ ہیڈس زمین کے اندر بڑی گہرائیوں میں رہتا ہے کہ جہاں صرف تاریکی ہی تاریکی ہے۔ ڈیمیٹر کو معلوم ہوا کہ ہیڈس اپنے دو سیاہ گھوڑوں کے رتھ پر آیا اور پرسی فون کو لے گیا۔ ڈیمیٹر چیخ پڑی، زمین کی ماں نے زمین سے کہا دو حصوں میں بٹ جاؤ۔ اندر تاریکی میں میری بیٹی ہے جسے میں حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ زمین نے سینہ چاک کیا تو ہر جانب انتشار پیدا ہو گیا۔ ہر شے ٹوٹنے لگی، زمین کی سطح بگڑ گئی، زمین کی ایسی حالت ہو گئی کہ اناج کا پیدا ہونا ممکن نہ تھا، ڈیمیٹر نے سوچا یہ غلط ہوا، اپنی بیٹی کی واپسی کے لیے زمین اور زمین کے باشندوں پر مجھے ہر گز ظلم نہیں کرنا چاہیے۔ اس نے زمین کو حکم دیا اپنی اصل صورت پر آ جاؤ اور زمین اپنی اصلی صورت پر آ گئی، ڈیمیٹر کو اپنی بیٹی سے زیادہ دھرتی اور دھرتی کی ہر شے کی فکر تھی، دیوتا "ہرمیس" (Hermes) نے فیصلہ کیا پرسی فون نو ماہ اپنی ماں ڈیمیٹر کے ساتھ رہے گی اور تین ماہ اندھیرے کے دیوتا ہیڈس کے پاس۔ " ڈیمیٹر اور ہیڈس دونوں نے یہ فیصلہ قبول کر لیا۔


اس کے بعد پرسی فون جب بھی تین ماہ کے لیے ہیڈس کے پاس پاتال میں جاتی ڈیمیٹر کے لیے ہر لمحہ غم کا لمحہ ہوتا، خزاں کا موسم آ جاتا، پتے ّ جھڑنے لگتے، پھول دِکھائی نہیں دیتے۔ پودے مرجھا جاتے، ایسا لگتا زمین سسک رہی ہے، اور جب پرسی فون اپنی ماں کے پاس آ جاتی تو بہار کا موسم آ جاتا۔

خزاں اور بہار دونوں ڈیمیٹر کے غم اور خوشی کی علامت ہیں۔

پرسی فون (Persephone) جو ڈیمیٹر کی بیٹی اور پاتال کے دیوتا ہیڈس کی بیوی ہے مرے ہوئے لوگوں کے ہر راز سے واقف ہے، تاریک دنیا کی ملکہ ہے جو سال میں تین ماہ حکومت کرتی ہے اس لیے کہ نو مہینے اپنی ماں ڈیمیٹر کے پاس رہتی ہے۔ یہ تاریک دنیا، یہ پاتال اپنے اسرار چھپائے بیٹھا ہے، ہیڈس اور پرسی فون ہی دھرتی کے نیچے کے اسرار کو جانتے بوجھتے ہیں۔ پرسی فون جب ماں کے پاس آتی ہے تو اسے بھی تاریک دُنیا کے اسرار نہیں بتاتی۔

پرسی فون بلاشبہ لاشعور کی علامت ہے۔ پُر اسرار باطن کی دنیا پر حکومت کرتی ہے۔ لاشعور کی تاریکی میں جانے کتنے راز پوشیدہ ہیں، خواب، وجدان اور bسی کے ذریعہ کچھ اشارے ملتے رہتے ہیں یہ اشارے پرچھائیوں جیسے ہیں، پرسی فون وقت بدلتے ہوئے لمحوں اور وقت کے آہنگ کو سمجھاتی ہے۔

"پینی لوپ" (Penelope) ایک پاکباز نسوانی کردار ہے۔ اوڈیسیس (Odysseus) کی بیوی ہے، جب اس نے جنم لیا تھا تو اس کے والد آئی کاریس (Icarius) نے اسے سمندر میں پھنکوا دیا تھا اس لیے کہ وہ بیٹا چاہتا تھا بیٹی نہیں۔ ہلکے نیلے رنگ کی لکیروں سے آراستہ مرغابیوں نے اسے بچا لیا، اسے کھلایا پلایا اور اُسے لے کر سمندر کے کنارے پہنچ گئیں، آئی کاریس پینی لوپ کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا، سوچنے لگا اس بچی میں یقیناً غیر معمولی تو انائی ہے جو سمندر سے نکل کر کنارے پر آ گئی ہے۔ اسے افسوس ہوا اور پینی لوپ کو سینے سے لگا لیا۔

جب اس کا شوہر اوڈیسیس دوسرے یونانی شہزادوں کے ساتھ "ٹروجن جنگ" کے لیے چلا گیا تو پینی لوپ تنہا رہ گئی۔ اس کے ساتھ صرف اس کا چھوٹا سا بیٹا ٹیلی ماچس (Telemachis) تھا جو کسی طرح حکومت کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ عرصہ گزر گیا اوڈیسیس واپس نہیں آیا۔ ادھر سیکڑوں شہزادے پینی لوپ کے محل کے پاس آ کر رہنے لگے، سب یہی چاہتے پینی لوپ ان میں کسی کو پسند کر کے شادی کر لے۔ پینی لوپ نے صاف انکار کر دیا، اسے یقین تھا کہ اوڈیسیس ضرور واپس آئے گا، اس کے دل کی آواز یہ ہے کہ اوڈیسیس زندہ ہے۔

دس برس کی صحرا نوردی کے بعد اوڈیسیس واپس آیا تو پینی لوپ دیوانی سی ہو گئی، اس کا تخلیقی تخیل غیر معمولی تھا۔ اوڈیسیس ان کے تخیل میں رچا بسا تھا اور اس کا پورا وجود اسے اپنی جانب کھینچ رہا تھا۔ پینی لوپ کی وفاداری ایک مثال بن گئی۔

عدل اور انصاف کی دیوی "ایتھین" (Athene) کا جنم بڑے ڈرامائی انداز میں ہوتا ہے۔ زیوس (Zeus) کی بیٹی ہے، زیوس دیوتاؤں کا دیوتا ہے۔ اس کی بیوی حاملہ تھی تو ایک "نجومی دیوتا" نے بتایا کہ ایک لڑکی پیدا ہونے والی ہے جو تم سے زیادہ ذہین، تم سے زیادہ عقلمند اور تم سے زیادہ طاقتور ہو گی۔ زیوس کو یہ بات کیسے پسند آتی وہ تو دیوتاؤں کا دیوتا تھا، اُس نے ایسا کیا ایک شب اپنی بیوی میٹس (Metis) کو نگل لیا۔ اس کے بعد اُس کے سر میں درد شروع ہوا اور درد بڑھتا ہی گیا، جب زیادہ بے چین ہو گیا تو اس نے "لوہار دیوتا"، "ہیفائی ٹوس" (Hephaitos) کو بلایا، حکم دیا کہ اس کا سر کلہاڑی سے دو ٹکڑے کر دے۔ حکم کی تعمیل ہوئی، سر پھٹ گیا لیکن سب حیرت زدہ رہ گئے جب یہ دیکھا کہ اندر سے ایتھن شور کرتی نکلی اور چیخ پڑی "میں جیت گئی!"

عرصہ بعد یہی ایتھن زیوس کی سب سے چہیتی بیٹی بن گئی اور عدل اور انصاف کی دیوی بن کر بڑے کام انجام دینے لگی۔ اس کے انصاف کو کوئی چیلنج نہیں کر سکا۔


ایرس (Iris) قوسِ قزح کی دیوی ہے۔ جب چاہتی ہے جہاں چاہتی ہے اُڑ کر چلی جاتی ہے، اس کے دو خوبصورت پر ہیں، عورت بن کر رہتی ہے اور دیوی بن کر بھی آسمان اور زمین میں رشتہ پیدا کرتی ہے، یہ رشتہ قوسِ قزح کے پیارے رنگوں کو لیے رہتے ہیں۔

ہی کیٹ (Hecate) چاند کی انتہائی خوبصورت دیوی ہے کہ جس کا تعلق زمین آسمان اور پاتال سب سے ہے۔ یہ لاشعور کی پُر اسرار گہرائیوں کی علامت ہے۔

اوم فیل (Omphael) "پین ٹیکلس" (Pentacles) کی ملکہ ہے۔ اوم فیل کے معنی ہیں "ناف" (Naval) ۔ یہ ملکہ جسمانی اور جنسی زندگی کی ایک مضطرب متحرک علامت ہے۔ لذتوں کا پیکر ہے جو مردوں کے جسم کی لذّت پسند کرتی ہے۔ ہرکلیز (Heracles) کو غلام بنا لیتی ہے۔ طاقتور اور پُر وقار عورت ہے جو جنسی زندگی کی لذتوں سے خوب آشنا ہے۔ ایک بار دیوتا پین (Pan) کی اُس پر جو نظر پڑی تو وہ اپنی پریوں کو چھوڑ کر خاموشی سے اوم فیل کے پاس آ گیا، بہت اندھیرا تھا، ہاتھ کو ہاتھ سجھائی دیتا نہ تھا، اوم فیل کو پین کی حرکت کا علم ہوا تو اس نے اپنے شوہر ہرکلیز کو اپنا لباس پہنا دیا اور خود ہرکلیز کے لباس میں لیٹ گئی۔ نصف رات میں پین آیا اور اُچھل کر ہرکلیز پر چڑھ بیٹھا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ ہر کلیز نے اوم فیل کا لباس پہن رکھا ہے، پھر تو پین کی حجامت بن گئی، ہرکلیز نے اسے خوب پیٹا اور وہ بچ بچا کر نکلا، تب سے وہ لباس سے نفرت کرتا ہے، عریاں رہتا ہے۔

اوم فیل جنسی جبلت کی بھرپور نمائندگی کرتی ہے۔

ان کے علاوہ سائیکی (Psyche)، پنڈورا (Pandora)، ایمفی ٹرائٹ (Amphitrite)، اینڈرو میڈا (Andromeda)، اینٹی گون (Antigone)، آرٹیمس (Artemis)، ایروس (Eros) اور جانے کتنے یونانی اور رومن نسوانی کردار ہیں جو اپنی زندگی، اپنے کردار اور شخصیت اور اپنی نفسیات سے متاثر کرتے ہیں۔ جن نسوانی کرداروں کا ذکر کیا گیا ہے اُن میں سب دیوی نہیں ہیں لیکن دیوی دیوتاؤں سے رشتہ رکھتے ہیں۔ ہر کردار کی اپنی انفرادی حیثیت ہے۔ جن نسوانی کرداروں کا نفسیاتی مطالعہ کیا گیا ہے وہ سب آج بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ عورتوں کی زندگی اور ان کی نفسیات کے مختلف مظاہر اپنی تہہ داری کا احساس بخشتے ہیں۔ ان میں اکثر نسوانی کردار لاشعور کی گہرائیوں میں لے جاتے ہیں اور پُر اسرار سچائیوں سے آشنا کرتے ہیں۔ ان کی حیثیت "آرچ ٹائپ" (Archetypes) کی بھی ہے۔ بلاشبہ دیوی دیوتاؤں کی کہانیاں اور کردار انسان کی اپنی فکر و نظر اور اپنی نفسیاتی تقاضوں کی توسیع ہیں۔ یہ سب انسان کے تراشے ہوئے دیوی دیوتا ہیں۔ شعور اور لاشعور۔ ۔ ۔ اور نسلی یا اجتماعی شعور (Collective unconsciousness) سب ان کی تخلیق میں شامل ہیں۔ ہم اساطیری پیکروں کو اپنے وجود سے باہر دیکھتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اپنے "وِژن" کی گہرائیوں میں موجود ہیں۔ ان کی تخلیق میں وجدان اور "bسی" نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس سچائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ سب انسان کی انتہائی پاکیزہ خالص فطری کیفیتوں کے نتائج ہیں۔

جلال و جمال کے یہ مظاہر اپنی نفسیاتی کیفیتوں اور نفسیاتی عوامل سے متاثر کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے مردوں نے آہستہ آہستہ نسوانی کرداروں کی اہمیت کم کر نے کی کوشش کی اور "مرد دیوتاؤں " اور اُن سے وابستہ کرداروں کو عروج بخشنے کی کوشش جاری رکھی۔ نفسیات کے کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ اس کا سب سے بڑا سبب "رحم مادر" سے حسد ہے۔ مردوں کی اس نفسیاتی کیفیت کو (Womb envy) کہا ہے۔ چونکہ ّبچوں کو جنم دے کر عورت افضل بن جاتی ہے اس لیے مردوں کے تحت الشعور میں حسد ہمیشہ کلبلاتا رہا ہے۔ مرد ابتدا میں جانوروں کی دیکھ بھال اور اناج پانی کے جو گاٍڑ میں رہا اور عورتیں اپنے قبیلوں میں تمدّن سطح پر کام کرتی رہیں، ایک قبیلے کا رشتہ دوسرے قبیلوں سے جوڑتی رہیں، پیار محبت کے رشتے قائم کیے۔ جب مرد اپنے گھر کے پاس کھیتی باڑی کر نے لگے اور انھیں عورتوں کی مقبولیت کا احساس ہوا تو حسد اور بڑھ گیا اور وہ آہستہ آہستہ ان کی اہمیت کم کرتے گئے۔ نفسیات کے بعض ماہرین اس حسد کا ایک اور سبب بتاتے ہیں۔ وہ یہ کہ جنسی زندگی میں عورت مرد سے زیادہ طاقتور ہے۔ جنسی عمل میں مرد عورت کو اپنی مکمل گرفت میں نہیں رکھ سکتا جبکہ عورت کی گرفت بہت مضبوط ہوتی ہے۔ وہ صرف مرد کے عضوِ تناسل کو نہیں اس کے پورے جسم کو گرفت میں لے لیتی ہے۔ مردوں کے حسد اور ان کے بلبلانے کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے۔ مرد سمجھنے لگے تھے کہ جذباتی، نفسیاتی، جنسی کیفیتوں کی شدّت کے مقابلے میں وہ عورت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔


شعوری اور لاشعوری سطح پر عورتوں کو مردوں کے مقابلے میں کمتر دیکھنے کی خواہش اور کوشش حضرت مریم کے معاملے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ حضرت عیسیٰ کی "ماں " کی عظمت کو تسلیم کر نے کی وجہ سے ایک مسلک یا کلٹ (Mary Cult) پیدا ہو گیا تھا، یوروپ کے بہت سے علاقوں میں Jesus Cult سے زیادہ Mary Cultکی اہمیت بڑھتی جا رہی تھی، اس کلٹ کی مقبولیت میں جو اضافہ ہو رہا تھا اس سے پریشانی بڑھ رہی تھی، اس کو آہستہ آہستہ دور رکھنے اور پھر ختم کر نے کی کوشش ہوئی۔ تصویروں سے حضرت مریم کی شبیہ کو نکال کر صرف حضرت عیسیٰ کے پیکر کو رکھنے کی شعوری کوشش کی مثالیں ملتی ہیں۔ چرچ یا گرجا گھروں میں پادریوں نے سوچا کہ "میری کلٹ" سے حضرت مریم روحانی سطح پر بہت بلند ہو جائیں گی۔

یونان اور روم نے اساطیر کی جو دنیا خلق کی وہ جمال و جلال کے جانے کتنے مظاہر لیے ہوئے ہے، انسانی نفسیات کی انگنت پُر اسرار سطحیں ہیں۔ جبلّتوں کے عمل اور ردِّ عمل اور احساس اور جذبے کے نہ جانے کتنے رنگوں سے ذہن آشنا ہوتا ہے۔ اساطیری پیکروں کی تشریح و تعبیر سے زیادہ اس بات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ سب انسان کے تخلیقی ذہن کی تخلیق ہیں اور ان کے ذریعے تخلیق کا سلسلہ کس طرح جاری رکھا جائے۔ ہزاروں اشارات، علامات اور استعارات کیسی سرگوشی کرتے ہیں۔

بروس برگر (Bruce Berger) نے اپنے ایک مقالہ "The Telling Distance"میں غالباً اسی بات کی جانب اشارہ کیا ہے:

"The ultimate purpose of myth is not to interpret reality but to create it."

آئیے اب چند بڑے چھوٹے یونانی اور رومن دیوتاؤں اور دیوتاؤں جیسے کرداروں کو جاننے پہچاننے کی کوشش کریں، ان کی شخصیت اور ان کے عمل اور ردِّ عمل میں جمالیاتی خصوصیتوں اور مظاہر کو دیکھیں۔

یونانی اساطیر میں زیوس (Zeus) تمام دیوتاؤں اور تمام انسانوں کا باپ ہے، سب سے بڑا عظیم تر دیوتا ہے۔ اس کی قوّت اور تو انائی کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ آسمان کے دیوتا کی حیثیت سے اس کی عبادت ہوتی تھی، بجلی کی چمک، بادلوں کی کڑک اور بارش سے اس کے وجود کی پہچان ہوتی، چمک، کڑک اور تیز بارش سے محسوس ہوتا جیسے وہ پاس ہی کہیں موجود ہے۔ زیوس کے باپ کا نام کرونوس (Kronos) اور ماں کا نام ریہا (Rhea) تھا۔ پوسی ڈون (Poseidon)، ہیڈس (Hades)، ہستیا (Hestia)، ڈیمیٹر (Demeter) اور ہیرا (Hera) اس کے بھائی بہن تھے۔ کرونوس کی حکومت کے اُلٹنے کے بعد دنیا کی جو تقسیم ہوئی اس میں پوسی ڈون کو سمندر کی حکومت ملی، ہیڈس کو پاتال کی حکومت زمین کے اندر اندھیرے اور روحوں کی دنیا اور زیوس کو آسمان، تمام جنتوں اور آسمان سے لگے تمام حصوں کی حکومت۔ زمین پر سب کا قبضہ رہا۔

زیوس کے بال بہت لمبے تھے، داڑھی بہت بڑھی ہوئی جوہر وقت لہراتی رہتی تھی، آنکھیں سمندر کی مانند نیلی۔ سونے کے تخت پر بیٹھتا جو سب سے بڑے بلند پہاڑ پر تھا۔ لباس کا رنگ نیلا کہ جس پر سونے کا کام تھا، سر پر تاج، سیدھے ہاتھ میں چمکتی بجلی، دوسرے ہاتھ میں دنیا، ایک کاندھے پر تیز نظر عقاب بیٹھا رہتا جو اتنی بلندی سے ساری دنیا پر نظر رکھتا۔ سیدھے ہاتھ میں چمکتی بجلی ساری دنیا کو روشنی دیتی تھی۔ زیوس پر الہام ہوتا رہتا۔ وہ الہام کے مطابق ہی عمل کرتا۔ تخلیقی وِژن کا مالک تھا، ّ سچائی کو پہچاننے والی نگاہ رکھتا تھا۔ بلندی پر رہائش سے اس بات کی خبر ملتی ہے کہ وہ روحانی بلندی کی آخری منزل پر تھا۔


دیوتاؤں کا دیوتا، دنیا کا خالق اور دیوتا اور انسان کا حاکم زیوس کرونوس اور ریہا کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا، "نجومی دیوتا" نے پیش گوئی کی تھی کہ کوئی ایک بیٹا کرونوس کی حکومت کا خاتمہ کر کے خود حکمران بن جائے گا۔ پانچ برسوں میں ریہا کے جو بچے ّ ہوئے انھیں کرونوس نے نگل لیا۔ اس کی بیوی ریہا کو یہ بات پسند نہیں آئی، چھٹے بچے ّ کی ولادت کے وقت ریہا آرکیڈیا چلی گئی کہ جہاں زیوس کا جنم ہوا۔ واپس آئی تو ایک پتھر کو کپڑے سے لپیٹ کر لے آئی۔ شوہر سے کہا یہی پیدا ہوا ہے۔ کرونوس نے اس پتھر کو اسی وقت نگل لیا۔ اُس طرف زیوس آہستہ آہستہ بڑا ہوتا گیا۔ جوان ہو گیا تو ایک ملازم بن کر باپ کے پاس آیا جو اس وقت بیمار تھا، زیوس نے ایسی دوا دی کہ جس سے کرونوس کی حالت اور بگڑ گئی اور اس نے اپنے تمام بچوں کو اُگل دیا۔ سب سلامت تھے اور وہ پتھر بھی باہر آ گیا کہ جسے اس نے آخر میں نگل لیا تھا۔ زیوس نے اپنے بھائیوں اور بہن کے ساتھ مل کر باپ کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا۔ دنیا کو بھائیوں میں تقسیم کیا اور خود آسمان پر بیٹھ کر سب سے بڑا دیوتا بن گیا۔

زیوس اعلیٰ روحانی اقدار کا خالق تصوّر کیا جاتا ہے کہ جس نے انسان اور انسان، اور انسان اور دیوتاؤں کے رشتوں کو مضبوط اور مستحکم کیا۔

زیوس زندگی کے عمدہ تجربوں کا سب سے بڑا دیوتا سمجھا جاتا ہے۔ وہ زندگی اور مظاہرِ کائنات کے جلال و جمال کا معنی خیز استعارہ ہے۔

ایڈونس (Adonis) ایک انتہائی خوبصورت نوجوان تھا، ایفروڈائٹ (وینس) کو اس سے بے پناہ محبت ہو گئی۔ ایک دوڑ میں ایک جنگلی سؤر نے اُسے مار ڈالا۔ ۔ ۔ اور پھر اس کے لہو کے قطرے جہاں جہاں گرے وہاں سرخ رنگ کے پھول اُگ آئے۔

ایڈونس کو دیکھ کر ایفروڈائٹ بے اختیار رونے لگی، اس کے آنسوؤں کے قطرے جہاں گرے وہاں سفید پھول اُگنے لگے۔

خوبصورت نوجوان ایڈونس کا حسن اس کے لہو میں بھی تھا اور اس لہو میں ایسا سحر تھا کہ جہاں جہاں قطرے گرے وہاں وہاں سرخ پھول نے اپنا جمال بکھیرنا شروع کر دیا۔

پرائی مس اور تھس بی (Pyramus And Thisbe) کی کہانی میں بھی اسی قسم کا ایک واقعہ ملتا ہے۔ پرائی مس اور تھیس بی دونوں ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرتے تھے، ان کے والدین نے پسند نہیں کیا کہ یہ ایک دوسرے سے شادی کریں لہٰذا دونوں چھپ چھپ کے ملتے، دونوں کے گھروں کے بیچ جو دیوار تھی اس میں سوراخ کر کے ایک دوسرے کو دیکھتے اور باتیں کرتے۔ کہیں دُور ملنے کا وعدہ کیا، دونوں وہاں گئے، ابھی پرائی مس پہنچا بھی نہ تھا کہ ایک شیر کو دیکھ کر تھس بی بدحواس ہو گئی اور اپنے سر کے آنچل کو پھینک کر بھاگ گئی۔ جب پرائی مس وہاں آیا تو دیکھا تھس بی کا آنچل پڑا ہوا ہے، یقین آ گیا کہ اس کی محبوبہ کو شیر نے کھا لیا ہے، پرائس مس نے خود کشی کر لی، تھس بی وہاں آئی دیکھا کہ اس کا عاشق مرگیا ہے تو اُس نے بھی اپنی جان دے دی۔ دونوں کے لہو سے پاس کھڑے شہتوت کے پیڑ کی آنکھوں میں لہو کے قطرے چمکنے لگے اور پھر شہتوت کا رنگ سرخ ہو گیا۔ سرخ رنگ کے شہتوت بہت میٹھے ہو گئے، ان دونوں کی محبت کا رس جو گھل گیا ان میں!

میڈاس (Midas) پین ٹیکلس (Pentacles) کا بادشاہ انسانی فطرت کے کئی پہلوؤں کو نمایاں کرتا ہے۔ زندگی کی مسرّتیں حاصل کرنا چاہتا ہے۔ میکڈونیا کے لوگوں سے محبت کرتا ہے، ان کی بہتر خدمت کرتا ہے۔ میڈاس جب بچہ تھا تو اکثر دیکھا جاتا کہ چینوٹیاں منہ میں گیہوں کے دانے لیے اس کے پالنے تک جا رہی ہیں اور سوئے ہوئے ننھے میڈاس کے منہ کے اندر کسی طرح انھیں ڈال کر واپس آ رہی ہیں۔ نجومی کہتے جب میڈاس بڑا ہو گا تو بہت دولت مند بنے گا اور وہی ہوا، وہ ایک دولت مند بادشاہ بن گیا۔ اس میں انسانیت کوٹ کوٹ کر بھری تھی، دیوتا "ڈائیونائیسوس" (Dionysos) بہت خوش ہوا۔ میڈاس سے دریافت کیا بتاؤ کیا چاہتے ہو? جو چا ہو گے میں دوں گا۔ میڈاس نے فوراً کہا۔ چاہتا ہوں جس چیز کو چھو دوں وہ سونا بن جائے۔ دیوتا نے منظور کر لیا، پھر تو وہ جس شئے کو چھوتا وہ سونا بن جاتی۔ وہ پتھر ہو یا پھول، محل کے اندر کی چیزیں ہوں یا باہر کی۔ مصیبت یہ ہو گئی کہ وہ اپنی غذا کو چھوتا تو وہ بھی سونا بن جاتی۔ اُس کا تو بُرا حال ہو گیا، بڑے دیوتا سے گزارش کی کہ وہ اس "عنایت" کو واپس لے لے۔ دیوتا نے فیصلہ واپس لے لیا۔ میڈاس دنیاوی آرام و سکون کا اشارہ ہے۔ مادّی آسائش کی جانب اشارہ کرتا ہے۔


ان کے علاوہ اوڈیسیس (Odysseus) ٹروجن کی جنگ میں شریک ہوتا ہے، کامیابیاں حاصل کرتا ہے، یہ وہی ہے کہ جس نے جنگ میں ٹروجن گھوڑے (Trojan Horse) کی تجویز رکھی تھی، کامیابی حاصل کر نے کے باوجود دس برس صحرا نوردی کی زندگی بسر کرتا ہے۔ اوڈیسیس ایک انتہائی ذہن اور بہادر شہزادے کی صورت اُبھرتا ہے۔ اصول پسند تھا، مہربان تھا، ایک دانشور رہنما تھا، "سائیک لوپس (Cycopes) کے جزیرے میں پہنچا تھا کہ جہاں اسے ایک آنکھ والا عجیب عفریت ملا تھا۔

اوڈیسیس (لاطینی میں Ulyxes، انگریزی میں Ulysses ) ہومر کے "اوڈیسی" (Odyssey) کا ایک نمایاں مرکزی کردار ہے۔ ایلیڈ (Iliad) میں بھی نظر آتا ہے۔ ٹرائے کی فتح کے بعد وہ دس برس صحرا نورد بنا رہا ہے، اس کے دلچسپ تجربے اس کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو بھی پیش کرتے ہیں۔

نارکیسس (Narcissus) کہ جس کے نام کے ساتھ "ایکو" (Echo) کا نام وابستہ ہے، نارکیسس نے ایک روز تالاب میں اپنا چہرہ دیکھا اور خود پر عاشق ہو گیا۔ بہت حسین اور خوبصورت تھا، پھر وہ ایک پھول بن گیا کہ جسے نرگس کہتے ہیں۔

محبت کا دیوتا ایروس (Eros) ہے کہ جسے رومن اساطیر میں کیوپڈ کی صورت دیکھتے ہیں۔

پاتال اور تاریک دنیا کا دیوتا ہیڈس (Hades)، سورج کا دیوتا ہیلیوس (Helios)، ہرکلیز (Heracles) دیوتاؤں کا پیامبر، ہرمیز (Hermes) دوچہرے والا، جینس (Janus) جنگ کا دیوتا، مارس (Mars) پانی کا رومن دیوتا، نیپچون (Neptune) بھیڑوں کا دیوتا "پین" (Pan) جو نصف بھیڑ ہے اور جانے کتنے دیوتا اور دیوتاؤں جیسے کردار ملتے ہیں۔ اساطیر کی جمالیات کی وسعت، تہہ داری اور گہرائی کا اندازہ کرنا آسان نہیں ہے۔ انسان کے جمالیاتی شعور اور نفسیاتی کیفیتوں نے ایک ہمہ گیر دنیا خلق کر دی ہے۔ تخلیقی ذہن نے عام جذبات کی مدد سے اجتماعی bسی (Collective Phantasy) کو عروج بخشا ہے، اس سے تخیل کی تو انائی کی پہچان ہوتی ہے، انسان کا تخیل کس منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ غور فرمائیے کلچر کی ابتدائی منزل پر انسان نیچر میں داخل ہوتا ہے اور اپنی روح اور "سائیکی" سے ایک نئی روح پھونک دیتا ہے اور ہر جانب جلال و جمال کے مظاہر اپنے پُر لطف اور پُر جوش پہلوؤں سے متاثر کر نے لگتے ہیں!

تخلیقی عمل کی نفسیات کا مطالعہ کرتے ہوئے ہم "سائیکی"، "تخیل" اور "bسی" کے اندر جتنی گہرائیوں میں جاتے ہیں اتنی ہی پُر اسرار کیفیتوں سے دو چار ہوتے ہیں۔ تخلیقی عمل کی نفسیات ذہن کو علم الحساب، فیزکس، لٹریچر، موسیقی اور مصوّری سب کی جانب لے جاتی ہے پھر یہ ّ سچائی سامنے آ جاتی ہے کہ "bسی" ہی تخلیق کی بنیاد ہے۔ تخیل قدرت کی بہت بڑی نعمت ہے۔

کارل مارکس نے کہا تھا:

"Imagination is a great gift that has contributed so much to the development of the mankind." (Marx، Ancient Society، . G. Morgan، Page 85)

لینن نے "تخیل" کی اہمیت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا تھا:

"It is wrong to think that only poets need imagination. That is a silly prejudice. It is needed even in mathematics، it would have been impossible to discover the differential and integral calculus without imagination. Imagination is a very valuable asset." Lenin: Collected Works، Vo. 33، Page 203)

"سائیکی" اور تخیل کے تحرک اور "bسی" کے جمال کی پُر اسراریت کی کئی مثالیں پچھلے صفحات میں پیش کی جا چکی ہیں۔ آئیے صرف "پھولوں " اور "پودوں " کے پیشِ نظر اساطیر کی جمالیات پر نظر ڈالیں جو "سائیکی" اور تخیل (Imagination) کے تحرک سے روشن ہوئی ہے اور جسے "bسی" نے نقطۂ عروج پر پہنچا دیا ہے۔


ایفروڈائٹ (Aphrodite) اور ایڈونس (Adonis) کی کہانی کا ذکر کر چکا ہوں۔ اس کے تعلّق سے جو 5 ہے اس کی روشنی میں سُرخ سفید پھول کی بابت بتانا چاہتا ہوں۔ 5 کے مطابق ایفروڈائٹ ایڈونس پر عاشق ہو گئی تھی، ایڈونس اپنی محبوبہ کے ساتھ رہنے لگا تھا، یہ بات آرس (Ares) کو پسند نہیں آئی جو ایفروڈائٹ کا پہلا عاشق تھا، اسے یہ بات قطعی پسند نہ آئی کہ ایک دیوی ایک انسان سے تعلق رکھتی ہے۔ جب ایڈونس شکار کر رہا تھا تو جنگل میں آرس سؤر بن کر آیا اور ایڈونس پر حملہ اور ہو گیا۔ ایڈونس مرگیا تو ایفروڈائٹ کا روتے روتے بُرا حال ہو گیا۔ ایڈونس کے لہو کے قطروں سے جو سرخ پھول اُگ آئے تھے ان پر اس کے آنسوؤں کے قطرے پڑے اور سرخ سفید پھولوں سے ایک چمن وجود میں آ گیا۔ سرخ لہو میں سفید آنسوؤں کے ملنے سے ایک عجیب پراسرار خوشبو پھیل گئی۔

ایرس (Iris) قوسِ قزح کی دیوی ہے، زیوس اور ہیرا کے پیامبر کے طور پر بھی جانی جاتی ہے۔ آسماں سے زمین تک سفر کرتی ہے، قوسِ قزح اس کی کشتی ہے۔ ایرس کو جنت کی آنکھ کہتے ہیں، اس کے نام ایرس پر ایک خوبصورت پھول کا نام ہے، جو اسے دیکھتا ہے وہ جنت کی مقدس آنکھ کو دیکھتا ہے۔

نارکیسس (Narcissus) کا ذکر بھی آ چکا ہے۔ ایک انتہائی خوبصورت نوجوان تھا اس کی ماں نے اس سے کہا تھا کہ کسی تالاب میں جھانک کر اپنا چہرہ نہ دیکھنا ورنہ تمھاری زندگی مختصر ہو جائے گی۔ ایک آبشار کے قریب جہاں پانی جمع تھا نارکیسس نے اپنا چہرہ دیکھ لیا اور خود پر عاشق ہو گیا اور اسی مقام پر رُک گیا۔ اپنا خوبصورت چہرہ دیکھتے ہی اس کی موت واقع ہو گئی۔ نرگس کے پھولوں کی بہار اسی مقام پر دیکھی گئی کہ جہاں نارکیسس نے دم توڑا تھا۔

کروکس (Crocus) اور یونانی دیوتا ہرمیز (Hermes) کی دوستی بڑی گہری تھی، دونوں کھیل رہے تھے کہ اچانک ہر میز کے ہاتھوں کروکس کو سخت چوٹ لگی اور وہ مرگیا۔ جہاں یہ حادثہ ہوا وہاں ایک خوبصورت پھول نکل آیا جیسے کروکس کہا گیا۔ ایک روایت یہ ہے کہ کروکس ایک خوبصورت حسینہ (دیوی) سے محبت کر نے لگا تھا۔ محبت ناکام ہو گئی تو وہ ایک پھول میں تبدیل ہو گیا کہ جیسے کروکس کہتے ہیں۔

ایک حسین دیوی "دے فین" (Daphne) اپولو کی چھیڑ چھاڑ سے پریشان تھی، اس نے اپنے باپ پی نیوس (Peneus) (ندی کادیوتا) کو پکارا کہا مجھے اپولو سے بچالو، پی نیوس نے اپنی بیٹی کو ایک خوبصورت درخت بنا دیا کہ جسے لارل (Laurel Tree) کہتے ہیں۔ اپولو نے اسے اپنا مقدس درخت بنا لیا۔

گلاب اور اس کی خوشبو کے تعلق سے کئی کہانیاں ملتی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ پھولوں کی دیوی کلورس (Chloris) نے اس کی تخلیق کی ہے۔ ایک دن اس نے جنگل میں ایک خوبصورت چھوٹی سی ننھی سی دیوی کو دیکھا جو زندہ نہیں تھی۔ اس نے اسے ایک دلکش پھول بنا دیا اور ایفروڈائٹ سے کہا کہ اس میں حسن شامل کر دے۔ حسن کی دیوی نے اسے حسن عطا کر دیا پھر کلورس نے ڈایؤنائیسس (Dionysus) سے کہا اس میں خوشبو ڈال دے، اس نے اُس میں دیوتاؤں کا مشروب ڈال دیا۔ ہوا کے دیوتا نے بادل ہٹا دیئے اور سورج کے دیوتا اپولو نے اپنی روشنی سے نوازا۔ پھر یہ پھول روشن ہو گیا، اسے پھولوں کی رانی کہا گیا۔ یہ گلاب کے حسن کی کہانی ہے۔

پھولوں کی خوبصورتی کے علاوہ پودوں اور درختوں کے حسن و جمال کی جانے کتنی تصویریں سامنے آتی ہیں۔ تخیل کے تحرک اور bسی کے جمال نے ایک انتہائی دلکش پرکشش پُر اسرار کائنات خلق کر دی ہے۔

اساطیر کی جمالیات کا مطالعہ کرتے ہوئے ہم نفسی تجربوں (Psychic Experiences) پر نظر ڈالیں تو اُس تخیل کی قدر و قیمت کا احساس اور بڑھ جاتا ہے کہ جس نے متھ کے تجربوں کو نفسیاتی کیفیتیں عطا کیں۔ انھیں Psychologize کیا، بلند رومانی سطحیں دے کر انھیں استعاروں سے آراستہ کیا اور ان کی ڈرامائی صورتیں خلق کیں۔


ہندوستانی جمالیات کی روشنی میں یونانی اور رومن جمالیات کا مطالعہ کیجیے تو تحیر کی جمالیات (Aesthetic of Wonder) سب سے پہلے توجہ کا مرکز بنتی ہے۔ تحیر اور اس کی جمالیات اساطیر کی روح میں جذب ہے۔ "اَد بھت رس" (Adbhuta Rasa) کا مطالعہ کر نے والے جانتے ہیں کہ فنونِ لطیفہ میں اس کی قدر و قیمت اور اہمیت کیا ہے۔ حیرت اور تحیر کے ساتھ جو "کتھا رس" ہوتی ہے اس سے باطنی طور پر ایک تبدیلی سی آ جاتی ہے اور "وِژن" میں کشادگی پیدا ہوتی ہے۔ اساطیر کے کرداروں اور واقعات پر نظر ڈالیے تو چمتکار ہی چمتکار ملے گا۔

اساطیر کے واقعات اور کردار حیرت انگیز کیفیت طاری کر کے جمالیاتی انبساط (Aesthetic delight) عطا کرتے ہیں۔ تحیر کی جمالیات کے تعلق سے پریا درشنی پٹنائک کی کتاب "Rasa in Aesthetics"میں بھرت کے "ناٹیہ شاستر" کا ایک اقتباس ہے جسے پیش کر رہا ہوں:

"Now (the rasa) called adbhuta has for its permanent emotion wonder. It arises from such 'Vibhavas' as seeing heavenly beings، gaining ones desired object، going to a temple، a garden (upavana) or a meeting pace، or (seeing) flying Chariot، a magic show (maya) or a juggler's show. " (Natya Sastra (IV. 74) Aesthetic Repture، Vo. -I، Page 56)

ناٹیہ شاستر کے مطابق تحیر کا حسن اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم آسمان یا جنت کے پیکروں اور دیوی دیوتاؤں کو دیکھتے ہیں۔ چلتے پھرتے اُڑتے تخت پر سوار، معجزے دِکھاتے ہوئے، جب اچانک ایسی خواہش ایسی تمنّا پوری ہو جاتی ہے جس کی جانب سے مایوسی ہو چکی ہوتی ہے۔ جب ہم کوئی عجوبہ تجربہ حاصل کرتے ہیں یا زندگی میں اچانک کوئی معجزہ ہو جاتا ہے۔ جب ہم مندر میں جاتے ہیں اور اس کی حیرت انگیز تخلیقی صورت دیکھ کر حیرت زدہ ہو جاتے ہیں۔ مندر حیرت انگیز معجزوں کا گہوارہ ہے لگتا ہے دیوتا واقعی مسکراتے چہروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جب ہم ایک خوبصورت دلکش چمن میں جاتے ہیں چمن کا جلوہ حیرت میں ڈال دیتا ہے، جب وہ اچانک مل جاتا ہے کہ جسے چاہتے ہیں، لگتا ہے کوئی بہت خوبصورت خواب حقیقت میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اندازہ کیجیے آسمان سے زمین تک تحیر کا جمال پھیلا ہوا ہے!

"اَد بھت رس) (Adbhuta Rasa)، بھیانک رس (Bhayanaka) اور شرینگار رس (Shringar Rasa) کے عمدہ نمونے تو ملتے ہی ہیں ان کی آمیزشوں کے بھی عمدہ نمونے اساطیر کی جمالیات کو عروج بخشتے ہیں۔ زیوس بجلی کی چمک بادلوں کی کڑک اور تیز بارش کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے تو تحیرّ یا اَدبھت رس اور بھیانک رس کی آمیزش سے ایک عجیب کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ زیوس کا باپ کرونوس جب اپنے بچوں کو ہر بار نگل جاتا ہے یہاں تک کہ بچے ّ کی طرح ایک پتھر کو بھی نگل لیتا ہے تو بھیانک رس کے ساتھ اَدبھت رس سے بھی ہم لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جب سب بچوّں کو زندہ سلامت پتھر کے ساتھ اُگل دیتا ہے تو نفسیاتی سکون ملتا ہے۔

خوبصورت نسوانی کردار شرینگار رس لیے ہوئے ہیں۔ ایفروڈائٹ، ایرس، ہی کیٹ، اوفیل اور جانے کتنے نسوانی کردار اپنے حسن اور عوامل سے متاثر کرتے ہیں۔

پھولوں، پودوں اور درختوں کی تخلیق کے پیچھے جو کہانیاں ہیں وہ تحیرّ کی جمالیات اور اَدبھت رس لیے ہوئی ہیں۔

اساطیری کرداروں اور واقعات میں ان کے علاوہ "رُدر رس" (Raudra rasa)، "ویر رس" (Vira Rasa)، کرون رس (Karuna rasa) اور شانت رس (Santa rasa) سب موجود ہیں اور یہ سب جمالیاتی انبساط (Aesthetic Pleasure) عطا کرتے ہیں۔

قدیم مصر کے مذاہب پر میری نظر سے جو مواد گزرا ہے اس سے اساطیری روایات اور اساطیری کردار اور علامات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ کم دلچسپ بات نہیں ہے کہ مختلف علاقوں کے بادشاہ یا حکمران کے اپنے دیوتا تھے، ایک دوسرے سے مختلف اور مختلف خصوصیات رکھنے والے دیوتا۔ صرف یہی نہیں، پجاریوں، تاجروں، کھیتوں میں کام کر نے والوں اور مختلف طبقوں میں بٹے لوگوں کے اپنے اپنے دیوتا تھے۔ خاندانی حکومت کی ابتدا سے پہلے آہستہ آہستہ یہ خیال کسی حد تک پختہ ہوا تھا کہ ایک ہی بڑی طاقت ہے لیکن یہ بڑی طاقت یا بڑا دیوتا پورے علاقے یا آبادی کا نہیں تھا بلکہ ہر علاقے کا اپنا ایک بڑا دیوتا ہوتا تھا۔ سب بڑے دیوتا ایک دوسرے سے مختلف تھے لیکن تھے ایک ہی، دیوتاؤں کے ہجوم میں!


پھر بڑے دیوتاؤں کی تصویریں بننے لگیں، اس کے بعد تحریر ایجاد ہوئی جو تصویری تحریر تھی۔ ان تصویروں اور تصویری تحریر کا مقصد لوگوں کو "روحانی تعلیم" دینا تھا۔

دیوتا زندہ رہتے پھر مر جاتے، شکار کھیلتے، جنگ کرتے، دیویاں بچے ّ جنتیں، سب عام انسانوں کی طرح کھاتے پیتے، اُن کے جذبات احساسات وہی تھے جو انسان کے ہوتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے تمام اساطیری پیکر اور کردار انسان کے شعور اور لاشعور اور اس کے "وِژن" کی توسیع ہیں۔ "مِتھ" (Myth) انسان کی نفسیات کے حیرت انگیز کرشمے ہیں۔ مصری اساطیر کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات بھی غور طلب بن جاتی ہے کہ کئی دیوتا اکثر ایک دوسرے میں جذب ہو جاتے ہیں۔ حکمران یا بادشاہ ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں "راج پاٹ" کر نے چلا جاتا تو اکثر حکمران کا دیوتا بھی تبدیل ہو جاتا، نام بدل جاتا۔ مصری اساطیر میں کالے جادو کو اہمیت دی گئی تھی، دشمن کا نام لے کر چند لکیریں کھینچ دی جاتیں اور پھر اُن لکیروں کو مٹا دیا جاتا تو دشمن کا خاتمہ ہو جاتا۔ بہت سے ایسے دیوتا تھے کہ جن کے کئی نام تھے، ہر دیوتا کے کم از کم پانچ نام ہوتے۔ ایک نام "سورج" سے وابستہ ہوتا تو دوسرا "چاند سے، ایک "ہوا" سے وابستہ ہوتا تو دوسرا "پانی" سے۔

تمام اشیا و عناصر کے خالق کے جو نام ملتے ہیں اُن میں "ری" (Re)، "امون" (Amun)، "پٹھا" (Ptah)، "خنم" (Khnum) یا "آٹم" (Atem) کے نام اہم ہیں۔ ان سب کے تعلق سے اساطیری کہانیاں ملتی ہیں۔ آسمان اور جنت کا دیوتا "ہاتھور" (Hathor) اس کے ساتھ بیٹ (Bat) اور ہورس (Horus) کے نام بھی ملتے ہیں۔ اوسیرس (Osiris) اور "پٹھا" (Ptah) زمین کے دیوتا تھے، چونکہ دریائے نیل سے ہر سال سیلاب کا عذاب آتا تھا اس لیے اس کے لیے بھی ایک دیوتا موجود تھا۔ "ری" (Re) ایسا دیوتا تھا جو مختلف صورتیں اختیار کر سکتا تھا۔ "ری" سورج دیوتا تھا۔ مختلف علاقوں میں مختلف دیوتا تھے، ہر علاقے کا دیوتا خود ایک افسانہ تھا، مختلف مقامات سے دیوتاؤں کے تعلق سے جانے کتنی کہانیاں ایک دوسرے کے قریب آئیں اور رفتہ رفتہ مِتھ" (Myth) کی ایک دنیا آباد ہو گئی۔ یہ تمام "مِتھ" کہانیاں صدیوں میں سفر کرتی رہی ہیں۔

مصری اساطیر کا مطالعہ کرتے ہوئے دوبنیادی باتیں توجہ طلب بن جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ یونانی اور رومن اساطیر کے مقابلے میں یہاں سنجیدگی زیادہ ہے۔ دوسری بات یہ کہ رومانیت اور نفسیاتی جمالیاتی رجحان اور "bسی" کے ساتھ قدیم اخلاقی، مذہبی اور فلسفیانہ خیالات بھی موجود ہیں۔ اُن کی صورت جیسی بھی ہو ایک "دوسری دنیا" کی تخلیق کرتے ہوئے تخیل نے عموماً ایسے کردار تراشے ہیں کہ جن کی اپنی انفرادیت ہے۔ عمل، ردِّ عمل اور ماحول میں جو سحر انگیزی ہے اس کا تعلق اُس تخیل سے ہے جو مادّی دنیا سے اوپر پرواز کرتا ہے اور عوامی زندگی سے بھی کہ جن کا رشتہ زمین اور مٹّی سے ہے۔ ناول نگار سی۔ ایس۔ لیوس (C۔ S۔ Lewis) نے 1942ء میں "پیراڈائز لاسٹ" (Paradise Lost) کا مقدمہ لکھتے ہوئے ایک جگہ تحریر کیا ہے:

"giants، dragons، paradises، gods and the like are themselves the expression of certain basic elements in man's spiritual experience. "

یہی بات اساطیری کرداروں اور واقعات اور اساطیری فکشن کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔ جہاں نیکی اور بدی کا ٹکراؤ ہوتا ہے وہاں بہت حد تک انسان کے روحانی تجربوں کی پہچان ہو جاتی ہے۔

چند مصری اساطیری دیوی دیوتاؤں کا تعارف پیش کرتا ہوں۔

  • "آمون" (Amon) ہوا کا دیوتا جو آمون رے (Amon Re) بن گیا دیوتاؤں کا شہنشاہ۔
  • "آمونت" (Amaunet) ایک طاقتور دیوی رہی ہے کہ جس کی عبادت آمون کے ساتھ ہوتی تھی۔
  • "آنوکٹ" (Anuket) کئی علاقوں میں اس دیوی کی پرستش ہوتی رہی ہے، ایک ہرنی ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتی ہے۔
  • "ہاتھور" (Hathor) محبت، رقص اور شراب کی دیوی ہے جسے ایک گائے کی صورت پیش کیا گیا۔
  • "ہورس" (Horus) ایک ایسا طاقتور دیوتا جس کا چہرہ باز (Falcon) کی طرح تھا۔ ایک آنکھ میں سورج اور دوسری آنکھ میں چاند لیے سفر کرتا تھا۔
  • "انٹا آئیوس" (Antaios) پہلے یہ "دو دیوتا" (Double) کے ملاپ سے ایک دیوتا بنا، پہلے دو باز لیے رہتا تھا پھر ایک باز کے ساتھ ایک ہی دیوتا رہا۔
  • "خونسو" (Khonsu) چاند کا دیوتا تھا۔
  • "من" (Min) افزائشِ نسل کا دیوتا تھا۔
  • "نٹ" (Nut) سورج، چاند اور جنت کے اشیا و عناصر کی ماں تھی۔
  • "تھوتھ" (Thoth) عقل و دانش اور مقدس تحریروں کا دیوتا تھا۔
  • "ری" (Re) سورج کا دیوتا تھا۔

اور بہت سے دیوی دیوتا تھے، مصری اساطیر کی دُنیا کی تخلیق اور تشکیل میں یہ سب شامل تھے۔


قدیم مصر میں بادشاہوں کے بغیر مذہب، اخلاق اور فلسفۂ زندگی کا کوئی تصوّر پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ بادشاہ دیوتا تھا، جب بہت سے دیوتا پیدا ہو گئے تب بھی بادشاہ کے اندر دیوتا کی روح دیکھی گئی۔ راہبوں کی بڑی اہمیت رہی ہے۔ تمام راہب بادشاہ کی نگرانی میں کام کرتے تھے، جو معبد بنتے راہب ہی ان کے نگراں بنتے، مندروں کے اندر ایک مقام پر دیوار میں سوراخ کر دیا جاتا، دیوتا سے کچھ کہنے کوئی آتا تو پجاری دیوار کی دوسری طرف سے اسی سوراخ سے بولتے کچھ اس طرح کہ محسوس ہو دیوتا کی آواز ہے۔ سحر جادو پر لوگوں کا بڑا اعتقاد تھا، مختلف قسم کی بیماریوں اور سانپ کے کاٹنے کے منتر الگ الگ تھے۔ عقیدہ یہ تھا کہ دنیا کے پہلے سمندر "نو" (Nu) سے زندگی کا جنم ہوا ہے۔ پھر یہ سمندر پہاڑی میں تبدیل ہو گیا۔ جب دھرتی پر زندگی نے جنم لیا اس سے بہت پہلے دیوتاؤں کا وجود تھا۔ "آتم" (Atum) پہلا دیوتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ "آتم"، "نو" (Nu) کا بیٹا تھا اور ایک خیال یہ بھی ہے کہ اس نے خود اپنی تخلیق کی۔ "آتم" پھر "را" (Ra) میں جذب ہو کر سورج دیوتا بن جاتا ہے۔

3100 قبل مسیح کے بعد مصر میں یہ تصوّر آہستہ آہستہ پختہ ہوتا گیا کہ آٹھ دیوتاؤں نے مل کر دنیا بنائی ہے۔ جب یہ مر گئے تو پاتال کی اندھیری دُنیا میں چلے گئے کہ جہاں سے اب بھی دُنیا کی نگرانی کرتے ہیں۔ یہی آٹھ دیوتا ہیں جن کی وجہ سے سورج تاریکی سے باہر آتا ہے۔ 1545۔ 1085 قبل مسیح جب ایک نئی حکومت قائم ہوئی تو کہا گیا کہ یہ "آمون" (Amon) دیوتا کا کار نامہ ہے کہ دُنیا وجود میں آئی ہے۔ "آمون" کو کسی نے جنم نہیں دیا وہ خود پیدا ہوا ہے اور اس کی پیدائش سب سے بڑا راز ہے۔

"را۔ آتم" (Ra- Atum) کی ایک دلچسپ کہانی یہ ہے کہ (اس کی آنکھ سورج کی علامت ہے ) اس کے جڑواں بچے ّ شو (Shu) اور ٹف نٹ (Tefnut) گم ہو گئے تو اس نے ان کی تلاش کے لیے اپنی ایک آنکھ کو روانہ کیا۔ آنکھ اُنھیں تلاش کر کے لے آئی تو را آتم کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلکتے رہے۔ ان ہی آنسوؤں سے انسان کا جنم ہوا ہے۔ دیوتا نے اس آنکھ کو اپنی پیشانی پر جگہ دی تاکہ وہ دنیا پر حکومت کرے۔ یہ آنکھ آہستہ آہستہ سورج کی مانند چمکنے لگی۔

چند اور اہم دیوی دیوتا یہ ہیں:

  • "آ کر" (Aker) دو شیروں والا دیوتا، طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کا دیوتا۔
  • "آمون" (Amun) سب کی آنکھوں سے اوجھل رہتا ہے، دیوتاؤں کا دیوتا ہے۔ اس کی داڑھی لمبی ہے، ٹوپی پہنتا ہے، اس کے ساتھ ایک بھیڑ ہے، ایک بھیڑ کے سروالا انسان ہے، اس کے کئی نام ہیں، آمن (Amen)، آمن را (Amen Ra)، آمن رے (Amen Re) ۔
  • "انوبس" (Anubis) گیدڑ کے سروالا دیوتا ہے۔ پاتال کے اندھیرے تک رہنمائی کرتا ہے، سحر جادو جانتا ہے۔ زہر اور مختلف قسم کی دوائیں ساتھ رکھتا ہے۔ جڑی بوٹیوں سے علاج کرتا ہے۔
  • "ہاپی" (Hapi) تمام دیوتاؤں کا باپ تصوّر کیا گیا۔ دریائے نیل کا دیوتا ہے۔ داڑھی ہے، نیلے یا سبز رنگ کا پیکر ہے، عورتوں کی طرح پستان ہیں جس سے یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ دُنیا والوں کو غذا فراہم کرتا ہے۔
  • "آئی سس" (Isis) سحر جادو کی دیوی ہے۔ ہوا کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔
  • "ماٹ" (Maat) سچائی کی دیوی ہے۔ قانون، زندگی کی تنظیم اور اخلاقی قدروں کی دیوی۔
  • "من" (Min) جنت کا دیوتا ہے۔ بادلوں کی کڑک سے پہچانا جاتا ہے۔ افزائشِ نسل اور "سیکس" کا دیوتا، سفید سانڈ کی صورت نظر آتا ہے۔
  • "مٹ" (Mut) تمام دیوتاؤں کی ماں ہے۔ گدھ اس کی علامت ہے۔
  • "آمٹ" (Ammut) ڈائن دیوی ہے۔ سر گھڑیال کا ہے، جسم شیرنی کا اور پیچھے سے ہپوپوٹومس (Hippotamus) دِکھائی دیتی ہے۔
  • "ہیٹھور" (Hathor) بہت اہم دیوی ہے۔ جنت کی دیوی، آسمان کی دیوی سورج کی دیوی، چاند کی دیوی، مشرق اور مغرب کی دیوی، پاتال کی دیوی، افزائشِ نسل کی دیوی، کھیتوں اور اناج کی دیوی، موسیقی اور رقص کی دیوی، گائے کی صورت میں اس کی پرستش ہوئی۔ پھر ایک ایسی عورت کی صورت کہ جس کا سر گائے کا سر تھا۔ اس دیوی کے تعلق سے جانے کتنی کہانیاں ہیں۔
  • "شِکھ مٹ" (Sekhmet) سورج کی دیوی ہے جو آفتاب کی آگ اور گرمی کی نمائندگی کرتی، جنگ کی بھی دیوی ہے۔ خفا ہو جاتی ہے تو آگ لگا دیتی ہے۔ ایک بار تو ساری دنیا کو جلا دینے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ بھلا ہو را(Ra) کا کہ جس نے اسے خون سے بنی شراب پلا دی پھر وہ ٹھنڈی ہو گئی۔ دُنیا تباہی سے بچ گئی۔
  • "سی شت" (Seshat) علم کی دیوی ہے۔ تحریر کو عروج بخشنے والی، علم الحساب اور فنِ تعمیر کی بھی دیوی کہی جاتی ہے۔
  • "ٹورٹ" (Tourt) حاملہ عورتوں اور ننھے بچوں کی حفاظت کرتی ہے۔ انسان کے نئے جنم پر بھی نظر رکھتی ہے۔

ان کے علاوہ اور بھی جانے کتنے دیوی دیوتا ہیں، سب کی اپنی خصوصیات ہیں، اپنی کہانیاں ہیں۔

اساطیر کی "bسی" (Fantasy) میں تین جہتیں اہمیت رکھتی ہیں۔ پہلی جہت میں فوق الفطری عناصر سے روحانی سطح پر رابطہ، اسے "مِسٹی کل" (mystical) جہت کہہ سکتے ہیں۔ دوسری جہت فطرت اور انسان کے تعلق سے جادوئی ہے، نیچر اور انسان کا سحر انگیز رشتہ اور تیسری جہت انسان کی بدنصیبی اور کمزوری کو نمایاں کرتی ہے۔ انسان کتنا بے بس اور مجبور ہے۔ "bسی" میں جہاں سحر انگیز فضا آفرینی ہے وہاں انسان کی بنیادی خواہشات کی تکمیل کی بھی عمدہ کوشش ہے۔ اساطیر کی bسی زباں و مکاں کی گہرائیوں میں اُترتے رہنے کی کوشش ہے۔ اساطیری کہانیوں میں اکثر مسرّت انگیز لمحات نصیب ہوتے ہیں اور اچانک معجزوں کو پُر وقار سطح پر دیکھتے ہیں۔ بلاشبہ کسی بھی ملک کے اساطیری قصّے و واقعات ہوں "bسی" کا جادو متحیر کر دیتا ہے۔ جو اساطیری کردار و واقعات خلق کرتے رہے ہیں وہ اچھے تخلیقی ذہن کے مالک رہے ہیں۔ ایک ایسی دوسری دنیا کی تخلیق جو رومانیت اور جمالیات کا سرچشمہ بن جائے غیر معمولی کارنامہ ہی تو ہے۔ الن گارنر (Allan Garner) نے لکھا ہے:

myth contains crystallized human experience and very powerful" imagery. This imagery is useful for a writer if he uses it responsibly. It can work against him if he does not use it property، but he it has very powerful cutting tools in his hand which work beneath the surface." Allan Garner: "Coming to Terms"، Page 16


مصر کی "تصویری تحریر" ہیرو غلفی(Hierogylphs) کی ہمیں خبر ہے۔ 3200 قبل مسیح سے اس تحریر کی خبر ملتی ہے۔ 396 عیسوی میں غالباً پہلی بار اس کے نمونے ملے تھے۔ مصر میں علامتوں کو بڑی اہمیت دی گئی تھی۔ جن علامتوں کو سمجھا گیا اُن میں چند یہ ہیں:

را (Ra) آفتاب کی وجہ سے زندگی قائم ہے۔ قدیم مصر کا یہ عقیدہ رہا ہے۔ مصر کی مذہبی زندگی میں اس کی بڑی اہمیت ہے، کئی اہم دیوتا آفتاب سے تعلق رکھتے ہیں، آفتاب کی عبادت کبھی ہورس (Horus) کی صورت ہوئی، کبھی را اور امون را (Amun - Ra) کی صورت ہے۔

"سا" (Sa)

تحفظ کی علامت ہے۔

"آکھیت" (Akhet)

سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات۔

"دیجیو" (Dijew)

وادیِ نیل کے درمیان میں، دونوں جانب پہاڑ کی چوٹیاں

شی (She)

مصر میں بھی یہ عقیدہ رہا ہے کہ پانی سے زندگی نے جنم لیا ہے۔

تمام اشیا و عناصر کا انحصار پانی پر ہے۔

"یورایوس" (Uraeus)

بادشاہوں کا محافظ ناگ۔ "رے " (Re) کی آتشیں آنکھیں۔

اور کئی علامات ہیں

جان ڈرنک واٹر (John Drink Water) نے اپنی کتاب "The Outline of Literature"میں درست لکھا ہے:

" mythology، like a parent's blood has passed into a the veins of literature of which it is still one of the sweetest and most persisting currents. "

آگے لکھتے ہیں:

"What the alphabet is to words، and what words are to vocal or written expression of thought --- Such is mythology to poetry. " (Page 109 - 1957، Revised Edition)

بلا شبہ اساطیر آبا و اجداد کے لہو کی طرح ہے، لٹریچر کی رگوں میں اس کی لہر دوڑ رہی ہے. اس کی شیریں لہروں کی پہچان دوسری لہروں کے ساتھ ہوتی ہے۔ رومانیت، bسی اور جمالیات کے اس سرچشمے سے تخلیقی فنکار متاثر ہوتے رہے ہیں۔

شاعری میں "متھ" (myth) اور "متھ" کے رَسوں کے تعلق سے اظہارِ خیال ہوتا رہا ہے۔ یونگ کے تصوّر "آرچ ٹائپ" (Archetype) نے اساطیری علامتوں اور استعاروں کو لاشعور/ نسلی لاشعور سے نکالنے اور اُبھار نے کی جو کوشش کی ہے اس کی تاریخی اہمیت ہے۔ ہم نسلی لاشعور یا اجتماعی لاشعور میں کتنے جذب ہیں اور تخلیقی آرٹ میں غیر شعوری طور پر اساطیری ماحول اور اساطیری علامتوں کو کس طرح استعمال کرتے ہیں اس کا اندازہ ہوتا ہے۔

ماقبل تاریخ کا انسان مشکلات اور مصائب کی زندگی بسر کرتا رہا ہے، زندگی اور اس کے مسائل اور "فینومینا" نے اس کی پریشانیوں اور دُکھوں میں ہمیشہ اضافہ ہی کیا ہے۔ جہاں مادّی زندگی کے چھوٹے بڑے مسائل اُلجھاتے رہے وہاں جانے کتنے سوالات سامنے کھڑے ہوتے رہے مثلاً یہ بھی کہ یہ دنیا کیا ہے? انسان اور جانور کیسے بنے، یہ جو آسمان پر تارے چمک رہے ہیں اور اپنے تحرک کا احساس دیتے رہتے ہیں ان کے پیچھے کون سی طاقت ہے، یہ سورج ہر صبح نکلتا اور ہر شام ڈوبتا کیوں ہے? پھولوں کے رنگ اور پرندوں کی چہک کا کیا راز ہے۔ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق ہی ہر بات جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے۔ ہیروڈوٹس (Herodotus) نے کہا تھا کہ قدیم مصری باشندے آگ کو خونخوار زندہ جانور سمجھتے تھے اور اس سے ہمیشہ خوف زدہ رہتے تھے۔ ماقبل تاریخ کے انسان نے ہر شئے میں زندگی محسوس کی۔ وہ ہوا ہو یا آگ آسمان ہو یا سورج، سمندر ہو یا درخت، انھیں زندہ شخصیت تصوّر کرتے تھے۔ ان سے رشتہ قائم کرتے، ان کی عبادت بھی کرتے، ان کے ذریعے اپنے سوالات کو حل کر نے کی کوشش میں مصروف بھی رہتے۔ پھر ان کی کہانیاں بننے لگے، تخیل کا عمل آہستہ آہستہ تیز ہوتا گیا، "bسی" اور رومانیت کا تحرک بڑھا اور تاریکی اور روشنی کے مسلسل عمل سے جمالیاتی احساس میں اُٹھان پیدا ہوئی۔ سامنے کی اشیاو عناصر کی کہانیاں بننے لگیں اور یہی "مِتھ" کی بنیاد ہیں۔ اساطیر اور اس کی رومانیت اور جمالیات کا مطالعہ کریں تو یہ بات بہت حد تک واضح ہو جائے گی کہ اسطور میں قدیم انسان کی ذہنی اور روحانی تاریخ جذب ہے۔ صدیوں بعد یہ کہانیاں لکھی گئیں اور ایک نسل سے دوسری نسل تک ان کا سفر جاری رہا، ان کی صورتیں بھی تبدیلی ہوتی گئیں، ان میں تبدیلیاں بھی پیدا ہوتی گئیں، زندگی اور موت کے تصوّرات کے سفر کے تعلق ہی سے جو کہانیاں یا "متھ" ہیں وہ قدیم انسان کے ذہنی اور روحانی زندگی کو بہت حد تک سمجھانے کے لیے کافی ہیں۔ انسان اور زمین کے رشتے کی کہانی اساطیر میں بڑی کشادگی پیدا کرتی رہی ہے۔


وقت گزرتا گیا پتھروں کے ٹکڑوں اور مٹّی سے بنی تختیوں پر لکھنے کا عمل شروع ہوا۔ سرہنری لییارڈ (Henry Layard) نے مٹّی سے بنی تختیوں پر چند تحریروں کی دریافت کی تھی کہ جن میں ایک تختی برٹش میوزیم میں موجود ہے۔ اس میں ایک بڑے سیلاب کا ذکر ہے۔ کہتے ہیں، دنیا کی قدیم ترین تحریروں میں یہ تحریر شمار کی جا سکتی ہے۔ سیلاب کی کہانی 4000 ہزار سال قبل مسیح کی بتائی جاتی ہے۔ اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ عبرانیوں نے بائبل سے ہزاروں سال قبل سیلاب کی کہانی مٹّی کی تختیوں پر تحریر کی تھی، اس کے بعد مصریوں کی تحریر "پیپائرس" (Papyrus) پر ملتی ہے جسے "مُردوں کی کتاب" (The Book of Dead) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کا بھی ایک نسخہ برٹش میوزیم لائبریری میں موجود ہے۔ اس میں عبادت اور روحوں کے تعلق سے کچھ باتیں تحریر ہیں۔ کہا جاتا ہے "مُردوں کی کتاب" (The Book of the Dead) کے بعد ایک شخص Ptah-Hotep نے ایک کتاب لکھی، کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ "مُردوں کی کتاب" سے پہلے لکھی گئی تھی۔ مصنف کا زمانہ 3550 سال قبل مسیح ہے، یعنی حضرت موسیٰ سے دو ہزار سال قبل، ویدوں سے بھی بہت پہلے، ہومر سے دو ہزار پانچ سو سال قبل۔

یوروپی ادبیات سے سیکڑوں برس قبل چین میں کتابیں لکھی گئی تھیں۔ کہا جاتا ہے دو ہزار آٹھ سو سال قبل مسیح چین میں تحریر کا آغاز ہو چکا تھا۔ پہلے مذہبی علامتوں کو ہڈّیوں اور مٹّی کے برتنوں پر نمایاں کیا گیا، اس کے بعد کنفیوشیس (Confucius) کے دَور تک بہت کچھ لکھا جا چکا تھا۔ چین میں اخلاقیات کے علاوہ جڑی بوٹیوں سے بنی دواؤں اور کھیتی باڑی کو بنیادی موضوع بنایا گیا تھا۔

اس کے بعد "وید" (ایک ہزار سال قبل مسیح) "بدھ لٹریچر"، "عبرانی ادب"، "فوینسین" (Phoenician) اور مصری اور یونانی ادبیات نے تحریر کی ایک بڑی تاریخ مرتب کر دی۔

جب اسکندریہ (Alexandria) یونانی تہذیب و تمدّن کا مرکز بنا تو یونانیوں نے یونانی زبان کی کتابوں کو اکٹھا کرنا شروع کیا۔ کہا جاتا ہے اسکندریہ کے کتب خانے میں کم و بیش سات لاکھ کتابیں جمع ہو گئی تھیں، ان میں بہت معیاری کتابیں تھیں۔ 48 قبل مسیح سکندر نے اس کتب خانے کا ایک بڑا حصہ نذرِ آتش کر دیا، آج دو ہزار برس بعد برٹش میوزیم لائبریری میں چار ملین کتابیں موجود ہیں جو توجّہ کا مرکز بنتی ہیں۔ ان میں ایلیڈ اور اوڈیسی، افلاطون کا "ری پبلک" یوری پیڈس (Euripides)، صوخوکلیس (Sophocles)، ارسطوفینس (Aristophanes) اقلیدس کی جیومیٹری اور سائنس اور علم الحساب پر جانے کتنی کتابیں موجود ہیں۔

لٹریچر کی ابتدا سے قبل اساطیر کا سرمایہ انسان کی بہت بڑی میراث رہا ہے، لوگوں نے اسے بہت عزیز رکھا ہے، مختلف عہد میں اساطیر نے تخلیقی فنکاروں کو متاثر کیا ہے۔ صرف "ہومر" (Homer) اور "او وِڈ" (Ovid) ہی نہیں، براؤننگ، "ہوتھورن" (Hawthorn)، "ہیرک" (Herrick)، "لونگ فیلو" (Longfellow)، "میریڈ دھ" (Meredith)، "ولیم مورس" (William Morris)، "پوپ" (Pope)، "سوئن برن" (Swuiburne)، "ٹینی سن" (Tennyson)، "بائرن" (Byron)، "شیلے " (Shelley) "کیٹس" (Keats) اور جانے کتنے تخلیقی فنکاروں پر اساطیر کا اثر رہا ہے۔ اساطیر کی روایت متحرّک رہی ہے، "سائیکو اسطور سازی" (Pschyco-Mythology) کے بھی عمدہ نمونے ملتے ہیں۔ صرف شاعری پر ہی نہیں نشاۃ الثانیہ (Renaissance) کے مصوّروں اور مجسمہ سازوں کے آرٹ پر بھی اساطیری قصوں اور کرداروں کے اثرات نظر آتے ہیں۔ بعض فنّی نمونوں میں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اساطیری نقوش جذب ہو گئے ہیں۔

ہومر "ایپک" کا سب سے بڑا شاعر تصوّر کیا جاتا ہے، اس نے ایلیڈ اور اوڈیسی میں اساطیر کی جو متحرک پراسرار دُنیا خلق کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ہومر کے سامنے تمام پرانے قصّے کہانیاں خصوصاً لوک گیت قصّے موجود تھے، یونانی اساطیر کی پوری دنیا لیے بیٹھا تھا، ایلیڈ اور اوڈیسی میں اساطیری کہانیوں، قصّوں اور کرداروں کی نئی تخلیق بھی کی اور میراث کی بھی حفاظت کی۔ یوروپ کے لوگوں نے اس کے دونوں "ایپک" کو بائبل کی طرح عزیز رکھا، اسے قوم کی تاریخ سے بھی تعبیر کیا۔ اساطیریقصوں اور کرداروں کو تخلیقی سطح پر جو عظمت بخشی اس کی مثال نہیں ملتی۔ ہومر نے اچی لس (Achilles) کی شجاعت، ہیلن (Heen) کے حسن، یولائی سیس (Ulysses) کے پُر اسرار تجربوں پینی لوپ (Penelope) کی وفاداری وغیرہ کو قاری کے احساس اور جذبے سے بہت ہی قریب کر دیا۔ کرداروں کے احساس اور جذبے اور عمل اور ردِّ عمل سے حیرت انگیز دنیا سامنے آ جاتی ہے۔ ہومر کے دونوں "ایپک" کی کہانیاں اور ان کے کردار صدیوں سینہ بہ سینہ چلے ہیں اور ان میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں، شاعری اور نغموں کا بھی وہی حال ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ہومر کے فن کا کتنا حصہ ہمیں حاصل ہوا ہے۔ ہومر کی تخلیق ایلیڈ کی کہانی ٹروجن کی جنگ کی کہانی ہے۔ کہانی دیوتاؤں کی جنگ سے شروع ہوتی ہے۔ "جونو" (Juno) "وینس" (Venus) اور "منروا" (Minerva) کا حسن چیلنج بنتا ہے۔ "ایرس" (Eris) ایک سیب پھینکتا ہے جس پر یہ تحریر ہے: "اس کے لیے جو سب سے زیادہ حسین ہے" جونو، وینس اور منروا تینوں خود کو سیب کا حقدار تصوّر کرتی ہیں۔ جیوپیٹر (Jupiter) جو دیوتاؤں کا دیوتا ہے ٹرائے کے بادشاہ "پریئم" (Prium) کے چھوٹے بیٹے "پیرس" (Paris) سے کہتا ہے "ان میں جو سب سے زیادہ خوبصورت ہے اسے سیب دے دو۔ " پیرس، وینس کو سیب دے دیتا ہے پھر جونو اور منروا کا حسد حد درجہ بڑھ جاتا ہے۔ نفرت کی آگ بڑھنے لگتی ہے۔ اس فیصلے کے بعد پیرس یونان چلا جاتا ہے۔ اسپارٹا کے بادشاہ "مینی لوس" (Menelaus) کا مہمان رہتا ہے، مینی لوس کی خوبصورت بیوی ہیلن پر عاشق ہو جاتا ہے اور اسے لے کر ٹرائے چلا جاتا ہے۔ مینی لوس یونان کے بہادر سپہ سالاروں کو حالات کی خبر دیتے ہوئے کہتا ہے کسی صورت ہیلن کو واپس لے آؤ۔ یولائی سس (Ulysses) کے علاوہ کئی دوسرے بہادر سپہ سالار اس کام کے لیے تیاّر ہو جاتے ہیں۔ مینی لوس کا بھائی "آگا میمنن" (Agamemnon) فوجی سردار بنتا ہے اور کئی "کمانڈر فوج میں شامل ہوتے ہیں۔ دیوتا کب پیچھے رہتے وہ بھی دو مخالفین کی جانب تقسیم ہو گئے، جونو اور منروا یونانیوں کے ساتھ تھیں، ٹروجن کے خلاف صف آرا تھیں۔ وینس اور مارس دوسری جانب تھیں۔ نپچون (Neptune) یونانیوں کے ساتھ تھا، جوپیٹر اور اپولو کسی طرف نہ تھے۔ ٹرائے کی یہ جنگ نو برسوں تک ہوتی رہی، اس وقت تک جب تک کہ Achies اور آگا میمنن (Agamemnon) کے درمیان جھگڑا شروع نہ ہو گیا اور ایلیڈ کی کہانی اسی مقام سے شروع ہوتی ہے۔ بڑے چھوٹے جانے کتنے واقعات رونما ہوتے ہیں، جنگ ہوتی ہے، تقریریں ہوتی ہیں، دیوتاؤں کے دربار میں ہلچل رہتی ہے، کہانی زمین سے آسمان کی طرف جاتی ہے اور پھر زمین کی طرف لوٹتی ہے۔ سپاہیوں کے درمیان جو لڑائی ہوئی ہے اس کی ڈرامائی صورتیں بہت دلچسپ بتائی جاتی ہیں۔ اسی طرح دیویوں کے اختلافات اور ان کے ٹکراؤ کے واقعات بھی لطف دے جاتے ہیں۔ کہانی کی خوبصورت پیچیدگیوں، کرداروں کی کشمکش اور فضا آفرینی کے پیشِ نظر "ایلیڈ" اور "اوڈیسی" دونوں دنیا کے بہترین ابتدائی ڈرامے کہے جا سکتے ہیں۔ ایلیڈ اور اوڈیسی کے تعلق سے دو بنیادی باتیں ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔


1۔ یونانی ادبیات سے دلچسپی رکھنے والے علماء یہ کہتے ہیں کہ ایلیڈ اور اوڈیسی کے تمام انگریزی ترجمے ناقص ہیں، کسی بھی مترجم کو مکمل طور کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ اس کا سب سے بڑا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ قدیم ترین نسل کے معصومانہ اظہارِ خیال پر ترجمہ کرتے ہوئے خیالات کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ میتھو آرنلڈ (Mathew Arnold) نے اپنی کتاب "On Translating Homer"میں لکھا ہے کہ صاف ستھرے ڈِکشن پر کہ جس کی صورت بھولے بھالے معصوم بچے ّ کی طرح ہے اپنے اسلوب کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے کہ جس سے ڈِکشن کا حسن ہی جاتا رہا ہے۔ نثر ی ترجمے میں شاعری کا جمال ہی گم ہو گیا ہے۔

2۔ ہومر کے پاس 950 سال قبل مسیح لکھنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ یہ نظمیں سینہ بہ سینہ چلتی رہی ہیں، لوگ اسے گاتے رہے ہیں، اس کی کہانیاں سناتے رہے ہیں۔ 550 سال قبل مسیح ان نظموں کو لکھا گیا۔ اُس وقت کے ماہرین نے زبان اور طرزِ بیان کو صاف ستھرا اور جاذبِ نظر بنانے کی کوشش کی۔ ماہرین نے اپنے مذاق کے مطابق ان کی صورتیں مرّتب کیں جنھیں کچھ لوگ مصنوعی کہتے ہیں۔ دونوں "ایپک" میں جو فنکارانہ وحدت ہے وہ ماہرین کی دین ہے۔ چونکہ کئی مصنّفین نے مل کر کام کیا ہے اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ کون سے حصّے ابتدائی ہیں اور کون سے حصّے کہاں ختم ہوتے ہیں، ان باتوں کے باوجود ماہرین کہتے ہیں کہ فنکار ملٹن اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ ہر جگہ موجود ہے اور دونوں "ایپک" کے جال اسی کے بنے ہوئے ہیں۔

اوڈیسی کی بابت پچھلے صفحات میں کچھ باتیں لکھی جا چکی ہیں۔ یہ یولائی سس (Ulysses) کی "صحرا نوردی" کی کہانی ہے۔ ٹروجن کی جنگ کے بعد وہ دس برس اِدھر اُدھر گھومتا رہا، بہت سے واقعات سامنے آئے، پھولوں جیسی غذا کھا کر خود فراموش بھی ہو گیا۔ اسے "سائیکلوپس" (Cyclopes) جیسے عفریت ملے اور بہت سے تجربے حاصل ہوئے۔

محقق کہتے ہیں کہ ایلیڈ میں ایک سو اسّی تشبیہات ہیں جبکہ اوڈیسی میں صرف چالیس۔ غالباً اس کا سبب یہ ہے کہ ایلیڈ میں ایڈونچر کے ڈرامے متواتر سامنے آتے رہتے ہیں۔ پُر اسرار دلچسپ واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ ہر لحاظ سے ایلیڈ اوڈیسی سے بہت آگے ہے۔ اساطیر کی رومانیت اور جمالیات کو نہ جانے کتنے حیرت انگیز مناظر کہانی اور واقعات کے اندر ذہن کو کھینچ لیتے ہیں۔ ایلیڈ کی تشبیہوں کی ایک خوبصورت مثال پیش کرتا ہوں۔ یہ ڈبلو۔ سی۔ گرین (W۔ C۔ Green) کا ترجمہ ہے:

"As from an island city, seen afar
The smoke goes up to Heaven, when foes besiege
And a day long in grievous battle strive
The leaguered townsman from this city wall
But soon, at set of sun, blaze after blaze
And hit the beacon fires, and high the glare
Shoots up for that dwell around to sea
That they may come will ships to aid their stress
Such light blazed heaven word from Achilles head. "
(Iliad)

ہومر نے آگ کو تشبیہ اور علامت کے طور خوب استعمال کیا ہے۔ پُر اسرار ماحول اور جنگ کے میدان میں آتش کا عمل کبھی کبھی کردار جیسا بن گیا ہے۔ آتش کے علاوہ شہد کی مکھیاں، پہاڑ، جنگل، طوفان، برفیلی ہوا، بجلی کی چمک، شیر، سمندر، آسمان، آفتاب اور جانے کتنے محرک پیکر ملتے ہیں جو تشبیہ اور علامت کی صورت متاثر کرتے ہیں۔

ہومر نے یونانی اساطیر کے جلال و جمال کو اپنی مکمل گرفت میں اس طرح لے رکھا ہے کہ جب بھی یونانی اساطیر، اس کی رومانیت، اس کی جمالیات اور اس کی "bسی" وغیرہ کی تلاش کی ضرورت ہوتی ہے ہم ایلیڈ اور اوڈیسی کے فن کی گہرائیوں میں اتر نے کی کوشش کرتے ہیں۔

یوروپ کے شاعروں اور ادیبوں نے یونانی رومن اساطیر کے دیوتاؤں اور واقعات و کردار کو اپنی تحریروں میں جگہ دی ہے۔ "ایکو" اور "نارکی سس" (Echo and Narcissus)، "پین" (Pan)، "کیوپڈ اور سائیکی" (Cupid and Psyche)، "پلوٹو اور پروسرپائین" (Pluto and Proserpine)، "جوپیٹر" (Jupiter)، "ڈائینا" (Diana)، "اپولو" (Apollo)، "مارس" (Mars)، "جونو" (Juno)، "ہیب" (Hebe)، "وستا" (Vesta)، "منروا" (Minerva) اور جانے کتنے دیوتا دیوی، اساطیری کردار رکھنے والے ستارے، قصّوں کہانیوں کے متحرک کردار فنکاروں کی تخلیقات میں نظر آتے ہیں۔

شیکسپیئر نے کیوپڈ کا ذکر بار بار کیا ہے (اندازہ ہے ب اور ن بار) "A Midsummer Night's Dream"کے چند مصرعے ملاحظہ کیجیے:

That very time I saw, but thou could not
Flying between the cod moon and the earth
Cupid all armed; a certain aim he took
At a fair vesta throned by the west
And loosed his love-shaft smarty from his bow
As it should pierce a hundred thousand hear
(A Midsummer Night's Dream)

کیٹس (Keats) کی خوبصورت نظم "Ode to Psyche"یاد کیجیے۔ اسکائی لس (Aeschyus) کے "Prometheus Unbound"اور شیلے (Shelley) کے "Prometheus Unbound"میں اساطیر کے جلوے متاثر کرتے ہیں۔ یہ دونوں اپنی اپنی جگہ خوبصورت اساطیری ڈرامے ہیں۔ صوفو کلیس (Sophocles)، یوری پیڈس (Euripides) اور ارسطور فینس (Aristophanes) وغیرہ کی تخلیقات میں اساطیر کی رومانیت اور جمالیات کی دنیا روشن ہے۔


کیٹس یونانی اساطیر سے بہت متاثر تھا، کسی نے تو یہاں تک کہا ہے کہ اس کی روح یونانی اساطیر میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اساطیر کے رنگوں کے چھینٹے اس کی شاعری پر بہت واضح ہیں۔ اس نے پہاڑی چروا ہے اور چاند کی دیوی پر جو نظم کہی ہے وہ عمدہ مثال ہے۔ نظم "لامیا" (Lamia) میں کیٹس نے ناگن کے حسن اور خوف کی جو تصویر پیش کی ہے اس میں اسطوری ذہن کی بخوبی پہچان ہوتی ہے۔

She was a gordian shape of dazzling hue
Vermillion spotted, golden green and blue
Striped like a zebra, freckled like a pard
Eyed like a peacock, and a crimson-barred
And full of silver moons, that, as she breathed
Dissolved, or brightes shone, or interwreathad
Their lustres with the gloomier tapestries
So rainbow-sided, touched with miseries
She seemed at one some penanced lady elf
Some demon's mistress or the demon's self
Upon her crest she wore a wannish tire
Sprinkled with stars like Ariadne' tiar
Her head was serpent, but ah, bitter sweet!
She had a woman's mouth with a its pears compete
And for her eyes what could such eyes do there
But weep, and weep, that they were born so fair
As proscerpine sti weeps for her sicillion air.

ہر مصرعہ اساطیر کے "رس" میں ڈوبا ہوا ہے۔ شاعر کے تصوّر میں اساطیر کی خوشبو جیسے جذب ہو گئی ہو تشبیہیں علامتیں استعارے سب شعوری اور لاشعوری طور پر اسطور سے رشتہ رکھتے ہیں۔ بلاشبہ یوروپ کی رومانی شاعری پر اساطیر کی رومانیت اور جمالیات کا گہرا اثر ا ہوا ہے۔

عہد نامہ قدیم (Old Testament) اور عہد نامہ جدید (New Testament) فکر و نظر کا ایک بڑا سرچشمہ رہا ہے۔ شاعر فنکار ان سے بہت متاثر رہے ہیں۔ بائبل ایک کتاب نہیں ہے کئی کتابیں اس میں شامل ہیں۔ عہد نامہ عتیق میں ہزاروں برس تک عبرانی نسل نے بہت ہی عمدہ لٹریچر پیدا کیا ہے۔ "عہد نامہ جدید" صرف ایک قوم کے لٹریچر کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ ایک بڑی تحریک کی نمائندگی کرتا ہے۔ انسان کے مذہبی اور اخلاقی مزاج کی تخلیق اور ذہنی ارتقا میں بائبل نے جتنا حصہ لیا ہے دوسرے کسی لٹریچر نے نہیں لیا۔ جہاں اس نے اجتماعی زندگی میں احساس اور جذبے کی تنظیم اور تہذیب میں حصّہ لیا اور ہزاروں برسوں تک انسان کو جوڑے رکھا وہاں ایک بہت ہی عمدہ لٹریچر بھی پیدا کیا۔ فنکاری کی سطح اتنی بلند ہو گئی کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔ بائبل میں حسن، تو انائی اور خلوص کے حسی تصوّرات کی جو ہم آہنگی ہے وہ بے مثال ہے۔ بنیادی موضوع خالقِ کائنات کی تلاش ہے۔ ہم اُسے کسی طرح محسوس کر سکتے ہیں۔ یہ صرف دینیات اور اس کے تعلق سے مسائل کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ انسان، اس کی زندگی، اس کی تو انائی، اس کی کمزوری، اس کی کامیابی ناکامی سب کا آئینہ ہے۔ روحانی ارتقا کی تاریخ کا مطالعہ بائبل کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

"عہد نامہ قدیم" (Old Testament) کی تاریخ طویل ہے۔ بعض ماہرین کہتے ہیں کہ اس کا لٹریچر انگریزی کے کلاسیکی ادب میں سب سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔ زبان کی خوبصورتی کا انحصار لفظوں اور جملوں کے آہنگ پر ہے۔ اسلوب کا اتنا خوبصورت آہنگ انگریزی لٹریچر میں موجود نہیں ہے۔

"بائبل" کی اپنی منفرد دُنیا ہے کہ جس سے شعراء فنکار متاثر ہوتے رہے ہیں اور اس کی روشنی میں اپنی دُنیا سجائی ہے، اپنی علیحدہ اساطیری دنیا خلق کی ہے، ملٹن، ڈانٹے، بنین (Bunyan)، تھامس براونے (Thomas Browne)، تھیکرے (Thackeray)، رسکن (Ruskin) اور جانے کتنے فنکار متاثر ہوئے ہیں۔ ملٹن نے کہا تھا:

"There are no songs comparable to the songs of Zion، no orations equal to those of the Prophets. "

بائبل ہی "پیراڈائز لاسٹ" (Paradise Lost) کا بنیادی سرچشمہ ہے۔ تین اہم کردار ہیں آدم، حوّا اور شیطان۔ ۔ ۔ خدا کو شامل کر لیں تو کردار چار ہو جاتے ہیں۔ لیکن خدا۔ ۔ ۔ خدا تو خدا ہے۔ اس ڈرامے کا خالق ہے۔

"پیراڈائز لاسٹ" کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے: انسان کی "پہلی نافرمانی"، اس کے بعد جو کہانی شروع ہوتی ہے وہ رومانی اور جمالیاتی کیفیتیں لیے بائبل سے الگ ایک ڈراما بن جاتی ہے۔

"نافرمانی" کے بعد ایک صورت یہ تھی کہ شیطان کے وجود میں داخل ہو کر نیچے گنا ہوں کی دُنیا میں پہنچا جائے یا پھر مسیح بخشوا دیں، گنا ہوں سے نجات دلا دیں۔

انسان کے پیکر میں آدم اور حوّا نے خدا کے حکم کو نہ مانا، نافرمانی کی، پہلے انسان تھے کہ جنھوں نے نافرمانی کی اور شیطان پہلا فرشتہ تھا کہ جس نے نافرمانی کو ضروری سمجھا۔ شیطان نے خود ہی بغاوت کر نے کا فیصلہ کیا تھا، اپنے فیصلے پر اٹل رہا، جہنم میں رہا اس لیے کہ جانتا تھا کہ خدا اسے معاف نہیں کرے گا۔

آدم اور حوّا جانتے تھے کہ نافرمانی کی سزا اُنھیں اور ان کی تمام آنے والی نسلوں کو ملتی رہے گی۔


ملٹن نے بتایا ہے کہ کائنات کا ایک نظام مرّتب ہے، زمین درمیان میں ہے۔ جنت اوپر آسمان پر ہے اور جہنم زمین کے نیچے ہے۔

"پیراڈائز لاسٹ" میں ملٹن نے "روشنی" اور "تاریکی" کے جو دو بلیغ استعارے ہر جگہ استعمال کیے ہیں ان سے یونانی اساطیر کے کرداروں اور فضاؤں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ ان دو معنی خیز استعاروں کے درمیان اپنی ایک اساطیری دنیا خلق کی ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔

ڈانٹے (Dante) کی "ڈیوائن کامیڈی/اِنفرنو" (Devine Comedy / Inferno) میں فنکار نے اپنی ایک اساطیر کی دنیا بنائی ہے۔ یونانی اساطیر کے اثرات جا بجا نظر آتے ہیں۔ بلاشبہ ڈانٹے نے اساطیری روایات سے ایک رشتہ قائم کر رکھا ہے۔ "انفرنو" (Inferno) کی ابتدا "گہرے تاریک جنگل" کی پُر اسراریت سے ہوتی ہے۔ یہ "گہرا تاریک جنگل" (Dark Wood) شاعر کے تخیل کا کرشمہ ہے۔ شاعر ورجل کی رہنمائی میں جہنم کے مختلف مقامات پر جاتا ہے۔ ان مقامات کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اس حقیقت کا علم ہو گا کہ ڈانٹے روایات اور خصوصاً اساطیر کی روایات سے متاثر تھا۔ پاتال میں موت کے اساطیری دیوتا ہیڈس (Hades) تک پہنچنے میں اسے اس تاریک جنگل سے گزرنا پڑتا ہے۔ خونخوار تین جانوروں چیتا، شیر اور مادہ بھیڑیا (She-Wolf) کی علامتیں جہنم کے تین حصّوں کو سمجھاتی ہیں اور اساطیری عفریتوں کی یاد تازہ کرتی ہیں۔ تین سروں والا کتاّ بھی ملتا ہے جس کی گردن میں سانپ لپٹا ہوا ہے۔

"ڈیوائن کامیڈی" / اِنفرنو میں "امیجری" کی جو بڑی دنیا ملتی ہے وہ اساطیری روایات سے بہت ہی قریب محسوس ہوتی ہے۔ ان میں بہت سے "ا4" (Images) شاعرانہ اور جمالیاتی بن گئے ہیں۔ "سانپ" شیطان کی علامت ہے۔ "چیتا" بدترین گنہگاروں کا "امیج" ہے، "شیر" تشدّد اور خود غرضی کا اشاریہ ہے، "مادہ بھیڑیا" جنسی ہیجانات اور بدترین گنا ہوں کی علامت ہے۔ یونانی اساطیر میں بھی بعض عورتوں کو فریب دینے اور جنسی طور پر آسودگی حاصل کر نے کے کرداروں میں پیش کیا گیا ہے۔ "شیر" یونانی اساطیر میں ایک نمایاں علامت ہے۔

سسرو (Cicero) نے کہا تھا کہ انسان نے بڑی چیزیں خلق کی ہیں۔ بہت سی چیزوں کی روحانی سطح بلند ہے لیکن جو سب سے بڑا کام کیا ہے وہ ہے اساطیر کی تخلیق! اساطیر کے رموز و اسرار سے زیادہ اور کہاں اسرار ہیں! اساطیر نے ہمیں جتنا مہذّب بنایا ہے، ذہن کی آبیاری میں جتنا حصّہ لیا ہے اور فکر و نظر میں جتنی کشادگی پیدا کی ہے آپ اس کی مثال بھلا کہاں سے لائیں گے? اساطیر نے ہمیں مسرّت بھری زندگی کا مفہوم تو سمجھایا ہی ہے اچھی اُمید کے ساتھ مرنا بھی سکھایا ہے۔

آئیے چینی اساطیر (Chinese Mythology) اور بدھ اساطیر پر گفتگو کریں۔ چین ایک بڑا ملک رہا ہے لہٰذا اس کے مختلف علاقوں میں اساطیر کی مختلف روایات ملتی ہیں۔ مختلف حصّوں میں بولیاں اور زبانیں بھی الگ الگ ہیں۔ جانے کتنی تہذیبی ثقافتی و حدتیں ہیں۔ ہزاروں برسوں علاقائی اساطیر کا ارتقا ہوتا رہا ہے۔ اساطیری کہانیاں سینہ بہ سینہ تو چلی ہی ہیں "تصویری رسم خط" کی وجہ سے بھی بعض قریبی علاقوں میں تعلق اور رشتہ قائم ہوا ہے۔ چینی اساطیر کا ایک بڑا حصہ روحیتِ مظاہر (Animism) کی بنیاد پر نظر آتا ہے یعنی تمام اشیا و عناصر میں زندگی ہے۔ ایسے کئی کردار ہیں جو انسان بھی ہیں اور جانور بھی۔ یہ سب بھی دیوتاؤں کی مرضی منشا کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ مذہبی اختلافات کی وجہ سے جو تصادم ہوتا رہا اس کا بڑا گہرا اثر ان کے مزاج اور فکر پر ہوا۔ خوف کا جو جذبہ پیدا ہوا تو اپنے اپنے عقائد کو بچانے کے لیے جانے کتنے فلسفیانہ خیالات پیدا کیے، ایسی بہت سی کہانیاں وجود میں آئیں جو ٹکراؤ اور تصادم کو پیش کرتی تھیں۔ "تاؤاِزم" اور "بدھ اِزم" کے ٹکراؤ اور تصادم سے کئی اساطیری قصّے و کردار پیدا ہوئے۔ "بندر راجا" ان ہی دونوں کے ٹکراؤ کی کہانی ہے جس کی حیثیت اساطیری ہو گئی ہے۔

"تاؤاِزم" (Taoism) نے جو فلسفہ پیش کیا اور جس فلسفے پر اساطیری کہانیاں سامنے آئیں وہ فلسفہ تھا زندگی، موت کے بعد بھی زندگی، زندگی کا کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ! انسان صرف روحانی طور پر نہیں جسمانی طور پر بھی زندہ رہ سکتا ہے اور ہمیشہ زندہ رہ سکتا ہے!

کنفیوسیشن ازم (Confucianism) نے اخلاقی اقدار کی تشکیل کی اور روحانی صحت کو ضروری جانا۔ اس سے متاثر ہو کر جو کہانیاں وجود میں آئیں اُن میں زندگی کی بہتر تنظیم کی جانب زیادہ توجّہ دی گئی۔

"بدھ اِزم" (Buddhism) کا مطالعہ کریں تو اس سچائی کا علم ہو گا کہ اساطیری قصّوں کہانیوں کی تخلیق کا ایک طویل سلسلہ قائم رہا ہے۔ ایمان اور اعتقاد کو مضبوط رکھنے پر زیادہ سے زیادہ زور دیا گیا ہے۔ منگ بادشاہ (Emperor Ming) کی وہ کہانی مشہور ہے کہ جس میں اس کے ایک خواب کو پیش کیا گیا ہے۔ بادشاہ نے خواب میں دیکھا کہ ایک سونے کا انسان بنایا جائے جو اُڑ کر افغانستان جائے اور وہاں سے "بدھ تعلیمات" کے تعلق سے جو قیمتی دستاویزات ہیں انھیں لے کر واپس آ جائے۔ ہندوستان اور کئی اور ملکوں کی طرح چین میں بھی دنیا کی تخلیق کے تعلق سے جو اساطیری کہانی ہے وہ "انڈے " (Cosmic egg) کی دلچسپ حکایت ہے۔ ہندوستانی اساطیر میں کہانی یوں ہے کہ ابتدا میں ہر جانب پانی ہی پانی تھا۔ اور الوہی خوشبو یا الوہی جوہر وِشنو کی صورت پانی کے اوپر لیٹا ہوا تھا (پانی کو "نارا" کہتے ہیں "ایانا" (Ayana) کے معنی ہیں بستر اسی لیے وِشنو کو "ناراین کہتے ہیں ) پانی کے اندر سے سونے کے ایک انڈے کا ظہور ہوا۔ اس انڈے کے اندر "برہما" تھے، چونکہ وہ خود پیدا ہوئے تھے ( بھو= جنم) [سویم] اس لیے انھیں "بھوسویم" (Bhu Svayam) کہتے ہیں۔ برہما انڈے کے اندر ایک سال رہے، پھر انھوں نے انڈے کو دو حصّوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک حصّے سے جنت (سورگ) بن گئی اور دوسرے حصّے سے زمین (پرتھوی) وجود میں آئی پھر دونوں جنت جہنم کے رُخ پیدا ہوئے، وقت نے جنم لیا حواس کا وجود ہوا۔ برہما نے سات رشیوں کو پیدا کیا، پھر ایک مرد اور ایک عورت کو جنم دیا۔ مرد کا نام "سوائم بھاؤ" (Svayam bhuva) تھا اور عورت کا نام "شتارُوپ" (Shatarupa) ۔ پھر کہانی آہستہ آہستہ بہت دُور تک چلی جاتی ہے۔ چینی اساطیر میں کہانی یوں ہے:۔ ابتدا میں ہر جانب تاریکی تھی، ہر طرف صرف انتشار ہی انتشار تھا، گہری تاریکی کے اندر ایک انڈے کا جنم ہوا، اس کے اندر ایک عفریت تھا کہ جس کا نام "پنگو" (Pangu) تھا۔ وہ عرصہ تک انڈے کے اندر سوتا رہا، وقت کے ساتھ بڑھتا گیا، جب بہت بڑا ہو گیا تو ایک زوردار انگڑائی لی۔ انگڑائی لیتے ہی یہ بڑا انڈا ٹوٹ گیا، انڈے کا جو ہلکا حصّہ تھا وہ اوپر جا کر جنتوں کی صورت میں تبدیل ہو گیا جو وزنی حصہ تھا وہ زمین بن گیا۔ اس طرح آسمان اور زمین کا وجود عمل میں آیا۔ ۔ ۔ "ین" (Yin) اور "یانگ" (Yang) ۔


"پنگو" خوش تو ہوا لیکن خوفزدہ بھی ہوا۔ سوچنے لگا کہ آسمان اور زمین دونوں ایک دوسرے سے چپک گئے تو اس کی ہڈیاں چور چور ہو جائیں گی۔ پھر اس نے یہ کیا کہ اپنا سر آسمان تک لے گیا اور آسمان کا بوجھ سرپر لے لیا اور پاؤں زمین کے اوپر رکھ دیئے تاکہ زمین میں کسی قسم کی کوئی جنبش نہ ہو۔ اس عفریت کا قد بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ ایک دن میں دس فٹ بڑھتا رہا، اٹھارہ ہزار برس گزر گئے، جیسے جیسے بڑھتا گیا زمین آسمان کی دُوری بڑھتی گئی۔ اس کے بعد۔

"پنگو" سو گیا ایسی گہری نیند کہ پھر نہ اُٹھا!!

مرگیا تو اس کی سانس سے ہوا نے جنم لیا، بادل وجود میں آئے۔

اس کی آواز سے بادل گرجنے لگے اور بجلیاں چمکنے لگیں۔

اس کی ایک آنکھ سے سورج پیدا ہوا اور دوسری آنکھ سے چاند۔

اس کے دونوں بازوں اور ٹانگوں سے دنیا کے چار رُخ مقرر ہوئے۔

اس کی سونڈ سے پہاڑ پیدا ہوئے۔

گوشت سے مٹّی نے جنم لیا کہ جس پر درخت اُگنے لگے۔

اس کے لہو سے دریا پیدا ہوئے۔

اس کی رگوں سے انسان کے لیے راستے بنے۔

اس کے دانتوں اور ہڈیوں سے قیمتی پتھر پیدا ہوئے، معدنیات اور ہیرے جواہرات کا بڑا خزانہ آ گیا۔ اس کے پسینے شبنم، اس کے بال ستارے!

اس طرح ایک دنیا ایک بڑی کائنات وجود میں آ گئی۔

چین میں یہ عقیدہ اب بھی ہے کہ گرچہ "پنگو" مر چکا ہے لیکن موسم کی تمام تبدیلیاں اُسی کی روح کے کرشمے ہیں۔

کہا جاتا ہے کائنات کی تخلیق کے تعلق سے یہ اساطیری کہانی جنوب مشرقی ملکوں میں بھی موجود ہے۔

چینی اساطیر اور خصوصاً بدھ اساطیر میں علامتوں اور کہانیوں کے ذریعہ لاشعور کی تو انائی اور اس کے تحرک کا جو احساس ملتا ہے وہ ایشیائی ملکوں میں اپنی مثال آپ ہے۔ کائنات کے پس منظر میں فکر و نظر کی گہرائی اور کلچر کی اخلاقی قدروں اور تجربوں کی وسعت کی پہچان ہوتی ہے۔ کہانیاں عموماً استعاراتی اور علامتی ہیں، تخیلی کہانیوں میں تمدّنی مظاہر کی پہچان مشکل نہیں ہوتی۔ چین کے مختلف علاقوں کی لوک کہانیوں کا رس بھی ان میں شامل ہے۔ موسم، انسان، درخت، ندی جانور، پرندے، قدرتی حادثات مثلاً زلزلہ وغیرہ بنیادی موضوعات رہے ہیں۔ "ڈریگن" (Dragon) ان کی کہانیوں کا محبوب پیکر اور استعارہ رہا ہے۔ چین میں تاریخی اور لوک کہانیوں میں بھی نئی معنویت پیدا کر نے کی کوشش کی گئی ہے۔

"بدھ اِزم" کے آنے سے پہلے چین میں "تاؤاِزم" اور "کنفیوسیش ازم" کے زیر اثر جو قصّے کہانیاں ہیں ان میں اخلاقی اور مذہبی معاملات و اقدار کے دباؤ کی وجہ سے بڑی گہری سنجیدگی پائی جاتی ہے۔ "بدھ اِزم" کے آنے کے بعد فکر و نظر میں بڑی کشادگی پیدا ہوئی، مختلف علاقوں میں معنی خیز دلچسپ کہانیوں کا جنم ہونے لگا۔ مختلف حلقوں، طبقوں اور فرقوں میں تقسیم ہو کر بدھ ازم کی کئی صورتیں اُبھر آئیں، عقائد پر بڑا گہرا اثر ہوا، مختلف عقائد نے جنم لیا، دیوتا بھی پیدا ہونے لگے، مختلف علاقوں کے 5 سے رشتہ قائم کیا اور نئی کہانیاں لکھی جانے لگیں۔ کہا جاتا ہے بدھ کہانیوں سے زیادہ شاید ہی کوئی اور کہانیاں ہوں۔ گوتم بدھ کی پیدائش کے تعلّق سے جو اساطیری قصّہ ملتا ہے وہ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ مختلف فرقوں کے اساطیری قصّوں میں بھی موجود ہے۔ اس اساطیری کہانی میں درج ہے کہ جب سدھار تھ پیدا ہوئے تو زمین کانپنے لگی، دریاؤں کا بہاؤ رُک گیا، تمام پھول ٹوٹ کر گر گئے، آسمان سے پھولوں کی بارش ہونے لگی، جہاں یہ پھول گرے وہاں کنول کا ایک خوبصورت پھول پیدا ہو گیا۔ چین میں جو بودھی اساطیری کہانیاں گئیں وہ ہندوستان کے مختلف علاقوں کی کہانیوں سے بھی گہرا تعلّق رکھتی تھیں۔ جنموں کے سلسلے کا جو عقیدہ ہندوستان کے برہمنوں کا تھا وہ "بدھ ازم" میں شامل ہو گیا۔ ایک جنم کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا۔ ۔ ۔ یہ سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔

امیتابھ بدھ ازم کا مرکزی "بودھی ستو" (Bodhi Sathva) ہے کہ جسے گیان ملا اور جس نے "نروان" پانے کی خواہش کو روکے رکھا۔ اس بودھی ستو کا جنم "کنول" کے پھول سے ہوا تھا۔ امیتابھ کے دل میں لوگوں کی خدمت کا جذبہ تھا اس لیے اس نے "نروان" حاصل کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ چین میں بدھ ازم کی بے پناہ مقبولیت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ تاؤ عبادت گا ہوں میں "بدھ دیوتاؤں " اور "بودھی ستواؤں " کی عبادت ہونے لگی تھی اور بدھ خانقاہوں میں "تاؤ" دیوتاؤں کو پوجا جانے لگا تھا۔ "مہایانا بدھ ازم" (Mahayana Bodhism) چین میں جیسے جیسے مقبول ہوتی گئی اساطیری قصوں کہانیوں کا اسی رفتار سے ارتقا ہوتا رہا۔ مہایانا بدھ ازم نے اساطیری کہانیوں کے ارتقا میں بڑا حصّہ لیا ہے۔ معروف بدھ راہب زینگ (Xuan Zang) بدھ دستاویزات کی تلاش میں ہندوستان آئے۔ کہا جاتا ہے جہاں وہ بہت سے قیمتی بدھ دستاویزات چین لے گئے وہاں بہت سے اساطیری قصّے کہانیاں بھی لے گئے جو چین میں بہت مقبول ہوئیں۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ زانگ (Xuan Zang) کا یہ سفر بھی ایک 5 بن گیا اور ایک اساطیری کہانی وجود میں آ گئی۔


کہانی یہ ہے کہ زانگ جب ہندوستان کے لیے روانہ ہونے لگے تو ان کے ساتھ سؤر دیوتا زوح باجی (Zhu Bajie) اور بندردیوتا سن اوکونگ (Sun Wukong) بھی ہو گئے۔ راہ میں بڑی مشکلات پیش آئیں۔ عفریتوں سے واسطہ پڑا، چونکہ یہ تینوں بڑے مخلص تھے اور ایک بڑے نیک مقصد کے لیے روانہ ہوئے تھے اس لیے اُنھیں کامیابی نصیب ہوتی گئی، بہت ہی خطرناک را ہوں اور علاقوں سے گزر کر ہندوستان پہنچے اور دستاویزات حاصل کر نے میں کامیابی حاصل کی۔ ان کے پاس جادو کی ایک چھڑی تھی جو ہر مشکل میں کام آئی۔

چینی بدھوں نے دیوی دیوتاؤں کی ایک بڑی دنیا بنا لی۔ ان میں شانگ دی (Shang Di) ایک بہت ہی اہم دیوتا تھا۔ دوسرا دیوتا دادی (Dongyue Dadi) تھا جو مشرق کے سب سے اونچے پہاڑ پر بیٹھ کر حکومت کرتا تھا، تمام مرے ہوئے انسانوں اور جانوروں کی روحیں اس کے قبضے میں تھیں جو ہر حکم کی تعمیل کرتی تھیں۔ ان ہی روحوں کے سہارے وہ کائنات اور زندگی کے مختلف حصّوں اور شعبوں کی دیکھ بھال کرتا تھا۔

بدھ دیوتاؤں میں جنتوں کے چار بادشاہ جہنم کے چار بادشاہ اور گھر کی نگرانی والے دیوتا بھی اہمیت رکھتے ہیں۔

مشہور "بودھی ستو"، "میتریا" (Maitreya) بھی ایک اساطیری کردار بن گیا، چین میں میتریا کو می۔ لی (Mi-e) کہتے ہیں، یعنی دوست، حبیب۔ میتریا مستقبل کا بدھ ہے (بدھ سے یہ بات منسوب ہے کہ کہا تھا مستقبل میں ایک اور بدھ پیدا ہو گا جس کا نام "میتریا" ہو گا حبیبِ خداؐ کی طرف اشارہ تو نہ تھا?)

میتریا ہمیشہ ایک ہنس مکھ"بودھی ستو" بنا رہا، وقت کے ساتھ ساتھ اس کی مسکراہٹ ہنسی میں تبدیل ہو گئی، خوشیوں سے دامن بھردینے والا بودھی ستوا کہ جس کی نغمہ ریز ہنسی زندگی کو لازوال نعمتیں عطا کرتی ہے۔ غالباً یہی پیکر "لافنگ بدّھا" بن گیا۔ چین میں "میتریا" کی بھی عبادت ہوتی، عقیدہ یہ بھی تھا کہ اس کی عبادت فرد کو جنت لے جائے گی۔ اس سے وابستہ جانے کتنے اساطیری واقعات اور قصّے موجود ہیں۔

بدھ کہانیوں اور بدھ اساطیری کہانیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ہندوستان سے چین تک بدھ کہانیاں بکھری ہوئی ہیں۔ جاتک کہانیوں کو شامل کر لیں تو ان کی تعداد اور زیادہ ہو جاتی ہے۔ بعض اساطیری کہانیاں اس نوعیت کی ہیں۔ ایک بودھی ستوا پچھلے جنم میں بندر تھے جو ایک بڑے دریا کے کنارے ایک غار میں رہتے تھے۔ درختوں پر رہتے، نیچے کم ہی اُترتے اس لیے کہ دریا میں ایک بڑا خونخوار قسم کا گھڑیال رہتا تھا کہ جس کی نظر ہر وقت اُن پر رہتی تھی۔ دشمن گھڑیال کو جب بھی دیکھتے اُچھل کر کسی اور پیڑپر چڑھ جاتے۔ ایک بار اُنھیں دریا کے اُس پار جانا تھا، سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کس طرح جائیں۔ گھڑیال ان کے دل کا حال جان گیا بولا "آ جاؤ تمھیں پار پہنچادوں گا۔ " بندر کی صورت بودھی ستو کو یقین سا آ گیا کہ خطرناک گھڑیال ایماندار ہے وہ ضرور دریا کے پار پہنچادے گا۔ بولے "آ رہا ہوں" اور وہ درخت سے نیچے آ گئے۔ گھڑیال کی بات پر یقین کر کے اس پر چڑھ گئے۔ گھڑیال نے اُنھیں دریا پار پہنچا دیا۔ کہنے لگے۔ آپ سچے ّ ہوں تو جگ بھیسچا ہو جاتا ہے۔

دو "بودھی ستو"، امیتابھ اور "میتریا" نور کے بنے ہوئے ہیں، امیتابھ کے معنی ہی نور کے ہیں روشنی تیز روشنی، جاپان میں امیتابھ کو "اَمیدا" (Amida) کہتے ہیں، "اَمیدا" کا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے ایک خوبصورت زمین کی تخلیق میں سب کے ساتھ حصّہ لیا۔ ایسی سرزمین کہ جہاں بچے ّ پیدا ہوں، لوگ جوانی کی لذتیں حاصل کریں۔ زمین ایک جنت بن جائے جہاں بد روحوں کا گزر نہ ہو۔ "میتریا" بھی نور کے بنے ہوئے ہیں، کوئی تاریخی شخصیت نہیں ہیں، بدھ کے بعد جنم لیں گے، بدھ عقائد سے باہر بھی جنم لے سکتے ہیں۔

ان کے علاوہ آوالوک ٹیشورا(Awaokiteshvara) اور دوسرے بودھی ستوا بھی ہیں ان سب کی کہانیاں زندگی کے رموز سمجھاتی ہیں۔

گوان ین (Guan Yin) دیوی ہیں، ایک مہربان دیوی جو سب پر اپنی رحمت کا سایہ ڈالے رہتی ہیں۔ مندروں اور خانقاہوں میں ان کے مجسّمے موجود ہیں۔ "تاؤ اِزم" نے بھی انھیں قبول کیا ہے۔ چینی اساطیر میں ان کی کہانیاں بھی مقبول ہیں۔

تمام چینی اور بدھ اساطیری پیکروں کی حیثیت استعاراتی اور علامتی ہے، کردار سرگوشی کرتے ہیں اور زندگی کے رموز سمجھاتے ہیں۔ بنیادی مقصد جاگرتی اور باطنی سطح پر بیداری پیدا کرنا ہے۔

مندرجہ ذیل علامتیں اساطیری کہانیوں میں استعمال ہوتی رہی ہیں:

چھتری، سائبان سونے کی مچھلی

"خزانوں " سے بھرا مرتبان کنول

سنکھ کبھی نہ کھلنے والی گرہ

فتح کا علم۔ ۔ ۔ اور: دھمّا چکر، (Wheel)


ہمیں اس بات کا علم ہے کہ ابتدا میں بدھ کے نقش اُبھارے نہیں جاتے تھے، بدھ آرٹ کے ابتدائی دَور میں بدھ کے پیکر نہیں ہوتے تھے۔ عبادت کر نے والوں کے سامنے خالی تخت یا جگہ ہوتی تھی۔ امراوتی کے استوپ پر جو نقش ہے اس سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔ ہندو آرٹ کا اثر ہوا تو پہلے یا کشی اور یا کشتی انسانی صورت میں نظر آئے۔ اس کے بعد بودھی ستوا اور پھر بدھ! دوسری صدی عیسوی کے بعد ہی بدھ انسانی صورت میں نظر آئے۔ قندھار میں بدھ کی جو شبیہ بنی وہ یونانی شہزادوں جیسی تھی، متھرا میں بدھ کا جو پیکر بنا وہ بہت مقبول ہوا اور آج بھی وہ پیکر ہر دلعزیز ہے۔ بدھ ایک بزرگ درویش کی طرح نظر آئے، ان کی درویشی ہی کو لوگوں نے عزیز جانا اور عزیز رکھا۔ بودھی درخت کو بڑی اہمیت حاصل ہوئی، "کنول" کا پھول پانی سے اوپر آتا ہے درخت بھی اُسی طرح آہستہ آہستہ بڑا ہوتا ہے۔ باطن کی اُٹھان اور رُوحانی بلندی کی یہ دونوں بڑی اہم علامتیں ہیں۔ (رِگ وید میں اگنی کا جنم کنول سے ہوتا ہے ) دھمّا (Dhamma) تعلیم ہے، علم ہے، ذہنی روحانی تربیت ہے، بدھ ایک معلّم ہیں چکر، پہیہ (Whec) علم کی روشنی کا لے جانا ہے، ہر طرف ہر جانب بدھ اساطیری کہانیوں میں علم کی روشنی بھی ہے، "bسی" کا جلال و جمال بھی ہے اور بالیدہ رومانی جمالیاتی ذہن کی زرخیزی بھی۔

ایک اساطیری کہانی سن لیجیے:

ایک خانقاہ میں دو راہب رہتے تھے، گہری دوستی تھی دونوں میں، کئی برسوں کے ساتھی تھے کہ اچانک دونوں ایک کے بعد ایک چل بسے۔

ایک راہب کا جنم جنت میں ہوا اور دوسرے کا جنم ایک کیڑے کی صورت گوبر کے ڈھیر میں ہوا۔

جنت کا راہب خوش تھا ہر لمحہ خوبصورت تھا اس کے لیے جنت کی نعمتوں اور ان کیلذتوں میں گم تھا کہ اچانک اسے اپنے دوست راہب کی یاد آئی، وہ تو مجھ سے پہلے ہی چل بسا تھا، یہاں جنت میں اسے دیکھا ہی نہیں۔ جنت کا چپّہ چپّہ چھان مارا اس کا دوست نظر نہیں آیا۔ جنت کے اس گوشے میں آیا کہ جہاں انسانوں کی روحیں آباد تھیں دوست نہیں ملا، پھر اس گوشے میں گیا کہ جہاں جانوروں کی روحیں تھیں وہاں بھی وہ نظر نہ آیا۔ اچانک اس کی نظر گوبر کے ڈھیر پر پڑی جہاں اس کا دوست ایک کیڑے کی طرح کلبلا رہا تھا۔ سوچا اپنے دوست کی مدد ضروری ہے لہٰذا وہ گوبر کے ڈھیر کے پاس آیا، کیڑے نے دریافت کیا تم کون ہو? اُس نے جواب دیا تمھارا دوست پچھلے جنم میں ہم دونوں ایک ساتھ خانقاہ میں رہتے تھے۔ میں تمھیں لینے آیا ہوں تاکہ تم بھی میری طرح جنت میں رہو جہاں زندگی رسوں سے بھری ہوئی ہے۔ کیڑے نے جواب دیا "شکریہ، میں نہیں جانے والا، میں گوبر کے اسی ڈھیر میں خوش ہوں۔ تم واپس چلے جاؤ جہاں سے آئے ہو۔ " جنت والے راہب نے کیڑے کو دبوچا اور جنت کی جانب روانہ ہو گیا، لیکن راستے بھر کیڑا جدوجہد کرتا رہا، اپنے دوست کی گرفت سے آزاد ہونے کی خواہش اسے بے چین کرتی رہی، اور آخر کیڑا راہب کی گرفت سے چھوٹ گیا اور گوبر کے اسی ڈھیر میں گم ہو گیا!!

ہندوستانی اساطیر اور اس کی پھیلی ہوئی تہہ دار جمالیات میں "سمندر منتھن" تخلیق کا کلاسیکی امیج ہے کہ جس کی مثال اساطیر کی دنیا میں اور کہیں نہیں ملتی۔

ابتدا میں ہر طرف انتشار تھا۔

زبردست انتشار۔

انتشار سے پر اس سے پہلے سمندر کا منتھن ضروری ہے تاکہ زندگی اور اس کے جلوؤں کا ظہور ہو، منتھن سے "امرت" نکلے، اس امرت کو پی کر زندگی ہمیشہ قائم رہے، انسان امر ہو جائے اس کی زندگی امر ہو جائے۔ دیوتا امر ہو جائیں سب امر ہو جائیں۔ منتھن ایک انتہائی خوبصورت زندگی کی تخلیق اور اس کے ارتقا کے لیے ہے، ہمیشہ رہنے والی زندگی کے لیے ہے۔

عفریتوں اور بھوت پریتوں کی بھی تمنّا ہے کہ "منتھن" کے بعد جو "امرت" نکلے اس میں اُن کا بھی حصہ ہو۔

لہٰذا تمام دیوتا اور تمام عفریت اور بھوت پریت مل کر "پہلے سمندر" کا منتھن کرتے ہیں۔ "پہلے سمندر کے پانی" ہی سے اکسیرِ حیات (Elixirs of Life) کے مختلف اقسام کا جنم ہوتا ہے۔ نمک، دودھ، مکھن، گنے ّ کارس، شراب، سوم رس/ امرت جو زہر نکلتا ہے اسے دیکھ کر سب پریشان ہو جاتے ہیں، زہر کون پئے گا? شیو زہر پیتے ہیں، زندگی کے سمندر کا سارا زہر، انسان کے لیے اس کی زندگی اور اس کے مستقبل اور اس کے جنم جنم کی مسرتوں اور خوشیوں کے لیے، زہر پینے سے اُن کا حلق نیلا ہو جاتا ہے اسی لیے وہ "نیل کنٹھ" کہے جاتے ہیں۔ منتھن کرتے ہوئے دیوتاؤں اور عفریتوں اور بھوت پریتوں کے درمیان اختلاف ہو جاتا ہے، عفریت اکسیرِ حیات پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، زہر میں حصّہ داری پسند نہیں کرتے، "برہما" فیصلہ تو کرتے ہیں لیکن دیوتاؤں اور عفریتوں کے درمیان شدید اختلاف موجود رہتا ہے۔ ابتدا سے جو اختلاف رہا وہ موجود رہا اور ہمیشہ موجود رہے گا۔

یہ معنی خیز اساطیری کہانی "پہلے " سمندر کی سطح پر ایک ڈراما اسٹیج کرتی ہے جس کی تہہ دار معنویت اپنے حسن سے متاثر کرتی ہے۔ تخلیقی عمل میں تاریکی اور روشنی، خوبصورتی اور بدصورتی اور اچھے اور برے کی شناخت علیحدہ ہوتی ہے۔ یہ دراصل آئندہ زندگی کے ارتقا میں قدروں کی پہچان ہے۔ دو پہاڑ ہیں ایک سیاہ ہے اور دوسرا صاف ستھرا، دو ناگ ہیں ایک بھلا دوسرا ڈسنے والا، بارش دو بار ہوتی ہے، ایک سے رونق آتی ہے دوسری بارش سے تباہی ہوتی ہے۔ دیکھئے انسان کا تخیل کہاں پہنچا ہے اور کیسی "bسی" پیدا ہوئی ہے۔ منتھن کرتے ہوئے جہاں رقص اور آنے والی زندگی کے رقص کا خوبصورت تاثر ملتا رہتا ہے وہاں "پتھوس" (Pathos) کی دبی دبی سی لہروں کا بھی احساس ملتا رہتا ہے۔ اس اساطیری کہانی میں فکشن "bسی" بن جاتا ہے اور "bسی" اپنے جلال و جمال کو لیے فکشن!


سمندر منتھن کی یہ کہانی مختلف عہد میں مختلف انداز سے پیش کی گئی ہے۔ "وایوپران" (Vayu Puana) (350 A. D. ) میں یہ اساطیری کہانی اس طرح درج ہے:

"جانے کتنا وقت گزر گیا، "ست یگ" (Sata Yuga) کا زمانہ تھا، وشِسٹھ رشی شیو اور پاروتی کے بیٹے کارتک کے پاس آئے، ان کی عبادت کی، پھر کہا آپ مجھے یہ بتائیں گے کہ شیو کا کنٹھ نیلا کیوں ہو گیا?"

کارتک نے جواب دیا "مجھے مکمل جانکاری نہیں ہے البتہ اپنی ماں پاروتی کی گود میں بیٹھ کر جو سنا ہے آپ کو بتائے دیتا ہوں، آگے بولے "ایک بار میری ماں پاروتی نے شیو جی سے دریافت کیا آپ کا کنٹھ نیلا کیوں ہو گیا?" شیو جی نے کہا تمام دیوتا اور بھوت پریت سمندر کا منتھن کر رہے تھے تاکہ انھیں زندگی کا وہ امرت مل جائے جس سے اُن کی زندگی لافانی بن جائے۔ ابھی منتھن شروع ہی ہوا تھا کہ سمندر سے وہ زہر نکل آیا کہ جس سے سب ختم ہو جاتے، کائنات گم ہو جاتی۔ سب برہما کے پاس پہنچے کہا "منتھن کرتے ہوئے جو زہر نکلا ہے اس سے سب کچھ تباہ ہو جائے گا، کائنات ختم ہو جائے گی۔ " اس زہر کا نام "کالا کوتا" (Kalakuta) تھا۔ برہما نے کہا حفاظت کی بس ایک ہی صورت ہے شیو کو یاد کرو، وہی تحفظ کر سکتے ہیں۔ سب نے شیو کی عبادت کی، شیو نے وہ زہر پی لیا اور زندگی بچ گئی، تب سے شیو کا کنٹھ نیلا ہے، تب ہی سے اُنھیں "نیل کنٹھ" کہا جاتا ہے۔ 1؂

یہی کہانی "براہ منڈا پران" (Brahmanda Puran) (350-95A. D) میں ملتی ہے۔ "مہابھارت" (300B. C. -A. D. 300) میں یہ اساطیری کہانی زیادہ مفصل اور چمکدار اور روشن ہے۔ ایک چمکتا ہوا خوبصورت پہاڑ ہے کہ جس کا نام "میرو" (Meru) ہے۔ اس کی بے پناہ تو انائی سے اس کی چوٹیاں سونے کی مانند چمک رہی ہیں۔ سورج کی روشنی بھی اس کے سامنے ماند ہے۔ یہاں دیوتا اور گندھروا سب آتے ہیں۔ اور ماحول کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جنگلی جانور اس پہاڑ کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔ ہر جانب جاذبِ نظر جھر نے اور درخت ہیں، پرندوں کے نغمے گونجتے رہتے ہیں، سحر انگیز ماحول میں دیوتا جس چیز کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں وہ چیز سامنے آ جاتی ہے۔ ایک روز دیوتاؤں کا موضوع وہ "امرت" بن گیا کہ جو سمندر کے اندر ہے اور منتھن کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ نارائن دیوتا نے برہما سے کہا کیا اچھا ہو جب دیوتا اور بھوت پریت تمام عفریت پہلے سمندر کا منتھن کریں اور "امرت" حاصل کر لیں۔ اس امرت کو پی لینے کے بعد سب ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ایک خوبصورت پہاڑی ہے "مندارا" (Mandara) اس کے حسن کی کوئی مثال نہیں ہے۔ فیصلہ یہ ہوا کہ سمندر منتھن کے لیے اسی پہاڑ کو اُکھاڑا جائے اور اسے استعمال کیا جائے۔ دیوتاؤں اور عفریتوں نے بڑی کوشش کی پہاڑ ٹس سے مس نہ ہوا، سب تھک ہار گئے تو برہما نے "اننت ناگ" (سانپ) کو حکم دیا کہ وہ اس پہاڑ کو اُکھاڑے تاکہ اس کی مدد سے پہلے سمندر کا منتھن ہو سکے۔ اننت ناگ نے اس مضبوط پہاڑ کو اُکھاڑ دیا جو دیوتاؤں اور عفریتوں کے لیے بہت بڑا سہارا بن گیا۔ دیوتا اور عفریت سمندر کے پاس آئے مقصد بتایا تو سمندر کے دیوتا نے کہا منتھن ضرور کیجیے، لیکن امرت میں میرا حصہ بھی ہونا چاہیے۔ کچھوے کے راجا کی پیٹھ پر پہاڑ کا بوجھ رکھا گیا، اِندر دیوتا نے پہاڑ کے ایک حصّے کو اپنے اوپر رکھ لیا اسے اچھی طرح باندھ لیا۔ مندارا پہاڑ منتھن کر نے کا ڈنڈا بن گیا، "واسوکی سانپ" (Vasuki) رسّی بن گیا۔ ۔ ۔ اور منتھن شروع ہو گیا۔ "امرت" کی تلاش شروع ہو گئی۔

کہانی میں منتھن کے پورے عمل کو دکھایا گیا ہے۔ کون کیا کر رہا ہے، کس نے سانپ کی دُم پکڑ رکھی ہے کس نے سانپ کو زور سے گھمایا ہے۔ "واسوکی" کے منہ سے جو آگ نکلتی ہے اور اس کے ساتھ جو دھواں پھیلتا ہے اس کا ردِّ عمل کیا ہوتا ہے۔ کس طرح بادل آ جاتے ہیں، کس طرح بجلیاں چمکتی ہیں اور کس انداز سے بارش ہوتی ہے۔ کس طرح پہاڑ کے پھول پودوں سے ماحول خوبصورت بنا ہوا ہے، کس طرح پھول دیوتاؤں کے اوپر برس رہے ہیں۔ دیوتاؤں اور عفریتوں پر پھولوں کی بارش کس طرح ہو رہی ہے، مندارا کے پہاڑ کو سمندر میں کس طرح گھمایا جا رہا ہے۔

صاف پانی آتا ہے پھر نمک پھر دودھ، اس کے بعد مکھن، پھر گنے ّ کا رس، شراب، زہر امرت، سوم۔

عجیب بسی" ہے، انسانی تخیل کی پرواز اپنی مثال آپ ہے۔ زندگی اور خوبصورت زندگی کے لیے بڑا معنی خیز رقص ہو رہا ہے جیسے!


شیو زہر پی جاتے ہیں، حلق ہمیشہ کے لیے نیلا ہو جاتا ہے!

امرت کے نکلتے ہی عفریت چیخ پڑتے ہیں "اس پر صرف ہمارا حق ہے۔"

نارائن دیوتا موہنی کا رُوپ اختیار کر لیتے ہیں اور عفریتوں کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک خوبصورت عورت کو دیکھ کر سب دیوانے ہو جاتے ہیں۔

دیوتا امرت پی لیتے ہیں۔

"امرت" کی چوری کی ایک کہانی بھی موجود ہے۔

مشہور شاعر ایٹس (Yeats) بھی اس کہانی سے متاثر ہوا تھا۔

کائنات کی تخلیق کے تعلق سے "برہمانڈ" کا ذکر پچھلے صفحات میں آ چکا ہے۔ "کرما پران" (Kurma Puran) (550-850 A. D. )، "برہما پران" (Brahama Puran) (950-1350 A. D. )، "برمّاویوارت پران" (Brammavaivarta Puran) (750-1550 A. D)، "وراہا پران" (Varaha Puran) (750 A. D) اور "مارکنڈیہ پران" (Markandeya Puran) (250 A. D) میں بھی اس کا ذکر ہے۔ بیان کر نے کا انداز مختلف ہے لیکن قصہ وہی ہے۔

"کرما پران" میں تخلیقِ کائنات کی کہانی اس طرح پیش ہوئی ہے:

ابتدا میں "برہما" ہی تھا، ہر جانب وہی تھا۔

اس کی کوئی صورت نہیں تھی۔

اس کی کوئی ابتدا تھی اور نہ انتہا، نہ اختتام۔

اس سے پہلے کہ تخلیق کا سلسلہ شروع ہو،

برہما نے ساری کائنات میں پانی پیدا کیا، ہر طرف پانی اور صرف پانی

اس سے پہلے کچھ بھی نہ تھا۔

اسی پانی میں سونے کا ایک انڈا ظہور پذیر ہوا۔

سونے کا یہ انڈا آہستہ آہستہ بڑھتا گیا۔

"برہما" اس کے اندر تھے۔

اور وہ ساری چیزیں، تمام اشیا و عناصر، کائنات کی ہر شے اس کے اندر تھی، اسی کے اندر تھے تمام دیوتا، تمام بھوت پریت، عفریت، تمام انسان، سورج، چاند، ستارے تمام سیّارے۔

ہر جانب کی ہوائیں۔

"برہما" کو ہیرنیا گربھ" (Hiranya Garbha) بھی کہتے ہیں اس لیے کہ ان ہی کے پیٹ (گربھ) سے ہر شے وجود میں آئی۔

"برہما" کی چار صورتیں تھیں۔

اُنھیں "آج" (Aja) کہتے ہیں یعنی جنم کے بغیر۔

چونکہ خود کو خلق کیا اس لیے وہ "بھو" (Bhuva) بھی کہے گئے یعنی "سوئم بھو" خود جنم لیا۔

یہی وجہ ہے انھیں "سوائم بھو" بھی کہتے ہیں، وہ سب کے (پرجا) کے پتی ہیں۔ اُن کو "پرجاپتی" اسی لیے تو کہتے ہیں۔

تخلیق کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

"برہما" نے اپنے وجود کی تو انائی اور شکتی سے پانچ بیٹوں کو پیدا کیا وہ پانچوں رشی بن گئے۔

پھر افراد کو جنم دینا شروع کیا۔ ۔ ۔ اور آبادی بڑھتی گئی۔

برہما نے شیو سے کہا "اب تم تخلیق کا سلسلہ شروع کرو۔ "

شیو نے اپنی ہی شکل کے چھوٹے چھوٹے دیوتا پیدا کرنا شروع کر دیا۔

برہما نے کہا "یہ تم کیا کر رہے ہو، دیوتا نہیں چاہیے انسان چاہیے انسان جو دُکھ اور اذیت اُٹھاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔

شیو نے معذرت کرتے ہوئے کہا "بیماری اور موت دونوں مجھے ناپسند ہیں لہٰذا میں ایسے انسان پیدا کرنا نہیں چاہتا جو ضعیف ہو جائیں اور مر جائیں اور پھر برہما نے تخلیق کا عمل شروع کیا، پانی، آگ، آسمان، جنت، ہَوا، دریا، پہاڑ، سمندر، درخت، جڑی بوٹی سب پیدا ہوئے اور آخر میں "وقت" کا جنم ہوا۔

اس کے بعد دیوتا، عفریت اور انسان کی تخلیق کی۔ عفریت کی پیدائش برہما کی جانگھ سے ہوئی، دیوتا منہ سے پیدا ہوئے، اس کے بعد ناگ سانپ (سرپا) یا کشا (چھوٹے دیوتا) بھوت پریت (بھوت) اور گندھروا آئے۔ گائے، گھوڑے، ہاتھی، ّخچر، ہرن، اونٹ اور دوا علاج کے لیے جڑی بوٹیاں۔ ۔ ۔ سب نے جنم لیا۔ 1؂

ویدوں میں جو اس بات کا ذکر ہے کہ "پرش" (انسان) کے ایک ہزار سر تھے، ایک ہزار آنکھیں اور ایک ہزار پیر، اس سے غالباً یہ بتانا مقصود تھا کہ بہت سے انسان پیدا ہوئے۔ "برہما پران" میں یہ کہا گیا ہے کہ شروع میں ہر طرف صرف پانی ہی پانی تھا، برہما وِشنو کی صورت پانی پر لیٹے ہوئے تھے، (نارا = پانی۔ ئن = بستر) وِشنو کو نارائن کہا جاتا ہے۔ برہما نے ایک "پرش" اور ایک "ناری" کو جنم دیا، "پرش" مانو (Manu) تھا اس لیے آنے والی نسلیں "مانوا" (Manava) کہی گئیں۔ "برہما پران" میں تخلیق کے سلسلے کی ایک بڑی لمبی کہانی ہے۔ دور تک یہ قصّہ ختم ہونے کو دِکھائی نہیں دیتا۔

وِشنو (Vishnu) ہندوستانی اساطیر اور اس کی رومانیت اور جمالیات کا ایک بہت ہی اہم معنی خیز استعارہ ہیں۔ وہ اننت (ایسا سانپ کہ جن کا انت نہ ہو) پر سمندر کے اوپر سوئے ہوئے ملتے ہیں۔ اچانک ان کی ناف کے اوپر ایک بہت بڑا کنول کا پھول کھلتا ہے، اس میں ایسی روشنی ہے کہ سورج کو بھی شرمندہ کر دے۔ "کرما پران" کے مطابق کنول کی خوشبو ہر جانب پھیلی لیکن وِشنو اسی طرح سوئے رہے۔ کنول کے اندر برہما تھے، (پدم= کنول/ یونی = پیدائش کا مقام- یہی وجہ ہے کہ برہما کو "پدم یونی" کہتے ہیں ) برہما نے وِشنو کو جگایا پوچھا "تم کون ہو?" "وِشنو، میں وِشنو ہوں۔ " جواب ملا۔ "ہر شے کی ابتدا مجھ سے ہوئی ہے۔ لیکن تم کون ہو?" وِشنو نے دریافت کیا۔ "میں برہما ہوں، خالقِ کائنات۔ کائنات کی ہر چیز میرے وجود کے اندر ہے۔ جو بھی شئے جنم لے گی وہ میرے اندر موجود ہے۔ "۔ ۔ "کیا واقعی?" وِشنو نے حیرت سے دریافت کیا "میں دیکھنا چا ہوں گا" اور اس کے بعد وِشنو برہما کے اندر داخل ہو گئے، وہاں تین دنیاؤں کی سیر کی، وہاں دیوتا تھے، بھوت تھے، انسان تھے۔ وِشنو یہ سب دیکھ کر برہما کے منہ سے باہر آ گئے، اُنھیں سخت حیرت ہوئی یہ سب دیکھ کر۔

"بلاشبہ جو دیکھا حیرت انگیز ہے" وِشنو نے کہا۔ "لیکن میں بھی تمھیں اپنے اندر بہت کچھ دکھانا چاہتا ہوں۔ تم میرے اندر آ جاؤ۔ " برہما وِشنو کے جسم میں داخل ہو گئے۔ اتنی بڑی دنیا، تین دنیاؤں کی ایک دنیا، برہما اندر کی دنیا کی وسعت کا اندازہ نہیں کر سکے۔ چلے تو گئے اندر لیکن نکلنے کی کوئی راہ نظر نہیں آئی۔ بڑی مشکل سے وِشنو کی ناف سے نکلے، کنول کے اتنے بڑے پھول کے اندر بیٹھے ہوئے!!

وِشنو کا "آرچ ٹائپ" (کن معنی خیز رشتے کا احساس دیتا ہے۔ خواب اور "bسی" کے حسن و جمال کے درمیان اُبھرتا ہوا یہ حسی پیکر لاشعور کی گہرائیوں (Depths) کا احساس بخشتا ہے۔ "آرچ ٹائپس" کے پیشِ نظر نفسی کلیت (Psycho Totality) کا جب بھی مطالعہ ہو گا وِشنو کا آرچ ٹائپ "سائیکی" کی کیفیتوں اور اپنے جمالیاتی مظاہر کو لیے توجہ کا مرکز بنے گا۔ "وِشنو پران" کی تدوین کے وقت تک وِشنو کے تعلّق سے جانے کتنی کہانیاں وجود میں آ چکی تھیں۔ اس پران میں مختلف قسم کی کئی کہانیاں موجود ہیں کہ جس طرح دوسرے پرانوں میں بعض دوسرے دیوتاؤں کی کہانیاں ہیں، کہانی سے کہانی پیدا ہوتی گئی ہے۔

"وِشنو" لاشعور کی وادی کی بڑی خوبصورت اور معنی خیز علامت ہیں، تخلیق سے قبل کی پراسرار خاموشی وِشنو کے پیکر میں ڈھل گئی ہے۔ وہ اکثر اپنی ذات میں ڈوبے ہوئے نظر آتے ہیں، اپنے باطن کی گہرائیوں میں اُترے ہوئے۔ ۔ ۔ لاشعور اور "سائیکی" کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔ سمندر، لاشعور کی پُر اسرار گہرا ئیوں کا علامیہ ہے جو وِشنو کا مسکن ہے۔


زندگی کی بڑی نعمتوں کا شعور ان ہی سے حاصل ہوتا ہے، تاریک "سائیکی" پر قیمتی روشن ذرّات کو پانے کا ذریعہ وہی ہیں۔ یہ "آرچ ٹائپ" زندگی کے معجزوں کا سرچشمہ بنا متاثر کرتا رہتا ہے۔ پانی یا سمندر ایک انتہائی پُر اسرار اور حد درجہ دلچسپ اور اَنگنت جہتوں والا "آرچ ٹائپ" ہے، وِشنو کا پیکر اس کا ایسا علامیہ ہے کہ شعور اور لاشعور دونوں کے عمل اور ردِّ عمل کی پہچان ہونے لگتی ہے۔ یہ "آرچ ٹائپ" تخلیقی عمل کی پُر اسرار کیفیتوں کو بھی سمجھاتا ہے اور زندگی کے جلال و جمال سے آشنا کرتا رہتا ہے۔

وِشنو نسلی شعور (Collective Consciousness) کے بے پناہ بہاؤ کو پیش کرتے ہیں۔ ایک تمثیل کے مطابق جب کائنات تباہ ہو رہی تھی فنائے کامل کی منزل پر تھی تو تمام مادّی عناصر ایک اور صرف ایک سمندر میں جذب ہو گئے تھے اور وہاں اننت ناگ کے اوپر وِشنو لیٹے ہوئے تھے، وِشنو ہی سمندر تھے اس لیے کہ تمام عناصر کے جذب ہو جانے کے بعد پھیلے ہوئے بے پناہ گہرے سمندر کے کچھ اور نہ تھا، کسی شے کی انفرادیت نہیں تھی، شعور ہی گم ہو چکا تھا، سمندر خود میں ڈوبا ہوا تھا۔ ۔ ۔ غرق تھا، دو پریت یا آسیب آئے جنھوں نے وِشنو سے لڑنا چاہا، وہ اسی طرح لیٹے رہے گم سُم، جب ان دونوں نے وِشنو کو للکارا تو اُنھوں نے لفظوں کی ایک خوبصورت دُنیا خلق کر دی، وہ اپنی اسی کیفیت میں ڈوبے رہے، الفاظ سمندر کی لہروں کی مانند ان دونوں سے ٹکراتے رہے، داخلی کلام کا ایک سلسلہ تھا جو جاری تھا۔ ہر لفظ طاقتور تھا، تو انائی سے بھرپور یہ الفاظ غیر معمولی انرجی کے مالک تھے، پُر وقار ذہنی، تعلقی اور صوتی عمل سے دونوں کی شکست ہوئی لیکن ہمہ گیر لاشعور کے اس تحرک سے زمین کا بوجھ بڑھ گیا، لفظوں کی تو انائی یا انرجی میں احساس اور جذبے کی شعاعیں جذب تھیں، لفظوں کے آہنگ کا حسن غیر معمولی نوعیت کا تھا، الفاظ اور آہنگ گہرائیوں کی نعمتیں ہیں۔ بے پناہ تجربوں کی گہرائیوں کا علامیہ، باطن اور پھیلے ہوئے لاشعور کی طاقتوں کا مظہر! شعور یہ سمجھتا ہے کہ بلندیوں کا شعور حاصل ہونا چاہیے۔ تمام رحمتیں بلندیوں سے حاصل ہوتی ہیں اس کے برعکس لاشعور (وِشنو) اس سچائی کو واضح کرتا ہے کہ تمام عظمتوں اور تمام رحمتوں کا سرچشمہ نیچے ہے باطن میں ہے۔

"پانی" مادّہ کی سیّال صورت ہے جسے چھوا جا سکتا ہے محسوس کیا جا سکتا ہے، اس سے بہتے ہوئے لہو کا تصوّر وابستہ ہے، یونگ نے کہا ہے کہ یہ لاشعور کی علامت ہے اور لاشعور وہ "سائیکی" ہے جو نیچے کی طرف جاتی ہے، گہرائیوں میں۔ ۔ ۔ اور زندگی کے توازن کو برقرار رکھتی ہے۔ وِشنو زندگی کے توازن کو اس کے تمام حسن و جمال کے ساتھ قائم رکھتے ہیں، یہاں ذات یا خودی علیحدہ ہو جاتی ہے اور پراسرار سطحیں ظاہر ہونے لگتی ہیں جن سے داخلی زندگی کا علم حاصل ہوتا رہتا ہے اور اس طرح ذہنی عمل اعلیٰ سطح پر پہنچ جاتا ہے۔

وِشنو کے تعلق سے ایک بڑی خوبصورت تمثیل ہے جس میں اس "آرچ ٹائپ" کی جمالیاتی جہات نمایاں ہوتی ہیں۔ وِشنو کے سامنے کسی ملکوتی ساحرہ کا ایک ہاتھ آگے بڑھا وہ چونک پڑے۔ یہ اُن کے جمالیاتی تخیل کا حیرت انگیز پیکر تھا۔ فوراً ہی اُنھوں نے آم کے میٹھے لذیذ رس سے اپنی جانگھ پر ایک دو شیزہ کی تصویر بنائی۔ اس تصویر میں ان کے تخیل کا رس ایسا تھا کہ وہ ایک حسین ترین دوشیزہ کی صورت سامنے کھڑی ہو گئی۔ اُنھوں نے اُسے "ارویشی" کہا، ارویشی کے معنی ہیں جو جانگھ میں رچی بسی ہو اور اسی سے مصوّری کے فن نے جنم لیا۔ وِشنو کا آرچ ٹائپ مصوّری کی لکیروں، رنگوں اور مصوّری کے آہنگ سے آشنا کرتا ہے۔ عورت کا جمال، اس کا وجود، آم کے میٹھے رسوں سے بھرا بھرا۔ ۔ ۔ جمالیاتی انبساط اور لذتیت سے آشنا کرتا ہے۔ یہ "آرچ ٹائپ" غیر معمولی جمالیاتی مظاہر لیے ہوئے ہے۔ پہلی تمثیل میں دو پریت یا آسیب اور وِشنو کے لفظوں کی دنیا کے تصادم میں پہلی بار ڈراما کا وجود عمل میں آتا دِکھائی دیتا ہے، یہ "آرچ ٹائپ" ڈراما اور مصوّری اور لفظوں کی تو انائی کے تئیں بیدار کر دیتا ہے۔

پہلی تمثیل میں وِشنو ڈراما کے فن کے پہلے خالق نظر آتے ہیں۔

اور دوسری تمثیل میں مصوّری کے پہلے خالق!

ایک جگہ خود کلامی کا سلسلہ ہے اور اپنے وجود ہی کے پاس دو کرداروں کی تشکیل ہے۔ ایک تمثیل شعور کی رَو شعور کے بہاؤ کی تصویر اُجاگر کرتی ہے اور دوسری اپنے وجود سے متحرّک شے کو باہر نکال کر اُسے ایک جلوہ اور ایک عظیم جمالیاتی مظہر بنانے کے تخلیقی عمل کو سمجھاتی ہے۔ آم کا رس تمام رسوں کا رس ہے، تمام شیریں اور لذیذ مسرّت آفریں احساسات کا علامیہ ہے، رنگوں کے لیے صرف آم کا رَس ہے جو تمام رنگوں، تمام خوشبوؤں اور تمام لذتوں سے عبارت ہے تخیل اور تخلیقی وجدان کی کیفیت کو اسی رس سے سمجھایا گیا ہے۔

وِشنو ایک بڑے خالق کے رُوپ میں اپنی لاشعوری کیفیتوں کے ساتھ جانے کتنی جہتوں کو لیے جلوہ گر ہوئے ہیں۔ لکشمی، سری یا سری لکشمی وِشنو سے ہم آہنگ ہیں، دونوں کو علیحدہ کر کے دیکھا نہیں جا سکتا۔ وِشنو کے جمالیاتی مظاہر میں لکشمی محسوس ہوتی ہے، پانی کے دیوتا کے ساتھ وہ کملا اور پدما بن کر ہے۔ لکشمی وِشنو سے علیحدہ نہیں ہے۔

وِشنو بلاشبہ انتہائی قدیم حسی پیکر ہیں، اس "آرچ ٹائپ" کا دباؤ ہر دَور میں بڑی شدّت سے رہا ہے۔ "چکر" تو انائی یا انرجی کی علامت ہے جو وقت پر قابض ہے۔ "چکر" میں سورج اور کنول دونوں کا جلال و جمال جذب ہے، آسمان اور زندگی کے تمام حسن و جمال کے ساتھ یہ "آرچ ٹائپ" متحرک رہا ہے۔ جمالیاتی مظاہر کا مطالعہ کرتے ہوئے وِشنو کی گہری نیند اور ان کے خواب، سمندر کی تاریک سطح، ناف سے نکلتے ہوئے کنول اور کنول کی خوبصورت پنکھڑیوں، چکر اور چکر سے ایک دنیا کے بعد جلال و جمال کی دوسری دنیاؤں کی تخلیق کا لامتناہی سلسلہ "مایا" کے دلفریب پردے سب پیشِ نظر ہوں تو اس "آرچ ٹائپ" کی قدر و قیمت کا زیادہ اندازہ ہو گا۔


ہندوستانی صنمیات میں تین بڑا سحر انگیز نمبر ہے۔ وِشنو نے اپنے تین پَد (قدم) میں پوری کائنات کا طواف کر لیا اور انسان کو زندگی کے شہد کی مٹھاس سے آشنا کیا، صرف تین پد میں اُنھوں نے آسمان، زمین اور تمام اشیا و عناصر کو دیکھ لیا۔ تمام پہاڑیوں، تمام ندیوں اور تمام ستاروں سیّاروں سے ہو آئے۔ پاؤں کے تین نشان میں وہ شہد بھرا ہوا ہے جو اُنھوں نے پہاڑوں کی بلندی سے انسان کے لیے حاصل کیا ہے۔ وِشنو نے دس اوتاروں میں ڈھل کر زندگی کی سچائیوں کا زبردست احساس دلایا ہے۔ وہ مچھلی کی صورت آئے، کچھوا بنے، سؤربنے، شیر ببر بنے، بونے (Dwarf) کی شکل اختیار کی۔ ہر اوتار کی اپنی دلچسپ کہانی ہے۔ یہاں صرف دو کہانیوں مچھلی اوتار، اور سؤراوتار کا ذکر کر رہا ہوں۔

کہا جاتا ہے منو یا مانو کے سیلاب کی کہانی وِشنو سے وابستہ کہانی سے بہت پرانی ہے، (طوفانِ نوح بھی یاد کیجیے ) ہوا یوں کہ پانی میں ہاتھ ڈالتے ہی مانو کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی مچھلی آ گئی، اس نے کہا میرا خیال رکھو میں تمھیں ایک بہت بڑے عذاب سے بچا لوں گی۔ "کون سا عذاب?" مانو نے پوچھا۔

مچھلی نے جواب دیا "سیلاب" ایک سیلاب آئے گا جو تمام انسانوں، جانوروں اور تمام اشیا و عناصر کو لے کر چلا جائے گا، دنیا تباہ ہو جائے گی، تم میری حفاظت کرو دیکھو کیا ہوتا ہے۔

مانو نے اس چھوٹی سی مچھلی کو ایک برتن میں رکھ دیا، مچھلی تیزی سے بڑی ہوتی گئی، برتن سے بھی بڑی ہو گئی، مانو نے اسے ایک تالاب میں ڈال دیا، مچھلی تالاب میں بھی بڑی ہوتی گئی اتنی بڑی ہو گئی کہ تالاب میں رہنا مشکل ہو گیا۔ پھر مانو نے اسے ایک دریا میں ڈال دیا، وہاں بھی یہی ہوا مچھلی اتنی بڑی ہو گئی کہ تالاب میں رہنا بھی دشوار ہو گیا، پھر مانو نے اسے سمندر میں ڈال دیا۔ وہاں مچھلی کو آرام ملا، وہ سمندر میں پھیل گئی لیکن اسے کوئی تکلیف نہیں ہوئی، اس نے مانو سے کہا تم ایک جہاز تیاّر کرو اس سے پہلے کہ سیلاب کا عذاب آئے تم جہاز بنا کر دنیا کی ایک ایک چیز اور دنیا میں رہنے والے ایک ایک جوڑے کو جہاز میں رکھ دو۔ مانو نے ایسا ہی کیا، جہاز تیاّر کیا اور وہی کیا جو مچھلی نے کہا۔ پھر سیلاب عذاب بن کر آیا، جہاز کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، مچھلی متحرک تھی اس نے جہاز کو بڑے درختوں میں باندھ دیا اور اس طرح جہاز محفوظ ہو گیا۔ باہر باقی تمام چیزیں ختم ہو گئیں۔ سیلاب کا پانی آہستہ آہستہ اُتر گیا۔ وِشنو نے مچھلی کے اوتار کی صورت میں دنیا کو بچا لیا پھر پوری دنیا میں ایک نئی زندگی شروع ہوئی۔ (ڈبلو۔ بی۔ ایٹس اس قصّے سے بہت متاثر ہوا تھا، اس نے اپنی ایک نظم میں اس کا ذکر کیا ہے )

"سؤر اوتار" کی کہانی یوں ہے کہ برہما نے اپنے جسم کو دو حصّوں میں تقسیم کیا۔ ایک حصّہ مرد اور دوسرا حصہ عورت، تو آبادی تیزی سے بڑھی۔ رہنے کے لیے جگہ نہ تھی زمیں ہی کا وجود نہیں تھا تو کوئی رہتا کہاں، ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔ لوگ وِشنو کے پاس آئے۔

کہنے لگے ہر طرف تو پانی ہی پانی ہے ہم کہاں رہیں? تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور رہنے کے لیے جگہ نہیں ہے۔ آپ جلد کچھ کیجیے۔ وِشنو نے سؤر کا جنم لیا، جنم لیتے ہی سؤر بڑا ہوتا گیا پھیلتا گیا۔ ہاتھی بن گیا۔ تمام دیوتا کہ جن میں برہما بھی شامل تھے اسے دیکھ کر حیران تھے۔ سؤر آسماں کی جانب لپکا، اس کی آنکھوں میں الوہی روشنی پیدا ہوئی اور پھر وہ سمندر کے اندر چلا گیا۔ پاتال میں پہنچ گیا۔ اور اندر بڑی گہرائیوں سے "زمین" نکال لایا، دھرتی سنبھالے اوپر آیا۔ زمین آ گئی اور لوگ اُس زمین پر بسنے لگے۔ نیچے سے "زمین" لاتے ہوئے وِشنو کو ایک عفریت (دیت) "ہرن یا کشا" (Hiranyaksha) سے لڑنا پڑا، "ہرن یا کشا" قتل ہوا اور وِشنو زمین اُٹھائے سمندر سے باہر نکل آئے۔

جب برہما وِشنو کے وجود کے اندر داخل ہوئے تو وہاں کے حسن و جمال کو دیکھ کر متحر ہو گئے۔ جیسے ساری کائنات کا حسن سمٹ آیا ہو، کون سا جلوہ تھا جو وہاں موجود نہ تھا۔ اسی طرح جب کئی رِشی مُنی وِشنو کے وکنٹھ لوک آئے کہ جہاں وِشنو رہتے تھے تو وہ اُس پہاڑ کے اوپر کا حسن دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے۔ ایسے باغ اُنھوں نے دیکھے نہیں تھے یا یہ کہیے کہ ایسے گلستاں کا رشی منیوں نے کبھی تصوّر بھی نہیں کیا تھا۔ درختوں کی خوبصورتی اور مچھلیوں کی مٹھاس کی خوشبوؤں سے پورا ماحول جیسے نشے میں تھا۔ تالاب کنول کے حسن کو لیے مسکرا رہے تھے، گندھروا اپنے نغموں کا جادو جگا رہے تھے۔ اپسرائیں رقص کر رہی تھیں۔ غور فرمائیے وِشنو کے وجود کے اندر بھی حسن بکھرا ہوا تھا اور وجود کے باہر بھی۔ وِشنو کے ساتھ اساطیر کی رومانیت اور جمالیات اور "bسی" کی ایک بڑی دنیا سامنے آئی ہے۔

"شیوپران" (750-1350 A۔ D۔ ) اور "لنگ پُر ان" (600-1000 A۔ D۔ ) کا مطالعہ کیجیے تو شیو کی آمد کا منظر ڈرامائی دِکھائی دے گا۔ "لنگ پُر ان" کے مطابق ایک بار برہما اور وِشنو میں کسی بات پر اختلاف ہوا اور دونوں "تو تو میں میں" میں گرفتار ہو گئے۔ اسی وقت حد درجہ روشن "لنگ" نمودار ہوا، نمودار ہوتے ہی آسمان کی جانب پرواز کر گیا اور پھر نیچے آ گیا۔ اس کی ابتدا اور اس کے اختتام کا پتہ ہی نہیں چلا، کہاں سے ابتدا ہوئی اور کہاں اس کا اختتام ہوا۔ برہما اور وِشنو دونوں حیرت زدہ تھے۔ شیوپر ان کے مطابق وِشنو نے برہما سے کہا "ہم اپنے اختلاف کو بھول جائیں یہ دیکھیں کہ یہ تیسری طاقت کہاں سے آ گئی ہے، یہ کون ہے?"


برہما نے کہا "یہ تو بہت ہی روشن آگ کا ستون لگتا ہے لہٰذا اسے دیکھنا ضروری ہے۔ آتے ہی آسمان کی جانب پرواز کر گیا اور پھر فوراً زمین پر آیا اور دھرتی کی گہرائیوں میں چلا گیا۔ "

وِشنو نے کہا "تم ہنس (ہمسا) بن جاؤ اور اوپر آسمان کی جانب پرواز کر جاؤ، میں سؤر(واراہا) بن کر دھرتی کے اندر جاتا ہوں، ہمیں یقیناً معلوم ہو جائے گا یہ کون ہے!"

برہما سفید ہنس بن کر آسمان کی جانب اُڑ گئے اور وِشنو سفید سؤربن کر زمین کے اندر چلے گئے۔

شیوپر ان کے مطابق دونوں چار ہزار سال تک تلاش کرتے رہے اُنھیں "لنگ" کا یہ اسرار معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کہاں ختم ہوتا ہے۔

ناکام ہو گئے تو عبادت کر نے لگے، سو برس عبادت میں گزر گئے تو اچانک کہیں سے آواز آئی "اوم" !

دونوں چونک پڑے۔ اسی وقت شیو سامنے آ گئے جن کے پانچ چہرے اور دس ہاتھ تھے۔ شیو نے کہا: "ہم تینوں ایک ہی وحدت کے تین حصّے ہیں، برہما خالق ہیں، وِشنو محافظ ہیں اور میں تخریب کار ہوں قہار ہوں۔ "

یہ کہہ کر شیو آنکھوں سے اوجھل ہو گئے۔

"شیو لنگ" بھی ایک قدیم ترین حسی تجربہ ہے جو گہرے مذہبی اور انتہائی پراسرار مابعد الطبیعیاتی رجحانات کے ساتھ احساس اور جذبے سے ہم آہنگ رہا ہے اور تصویروں اور مجسّموں کی تہہ دار معنویت کا سرچشمہ بنا رہا ہے۔ جلالِ کل اور جمال کل کا ایسا معنی خیز پیکر خلق نہیں ہوا۔ "کل" کا حسی دائرہ اس کی بنیاد ہے، اس کی اسطوانہ (Cyindrical) صورت ہر لحاظ سے تکمیل کا احساس دیتا ہے، دائرہ، گولائی، چکر، حلقہ، رقص، جنس، زرخیزی اور کون و مکاں اور گہرے شعور کا یہ غیر معمولی جلوہ اپنی معنی خیز جہتوں کے ساتھ ہندوستانی تجربوں کو روشن کرتا رہا ہے۔ مجسمہ سازی مصوّری اور فنِ تعمیر میں اس کی نمایاں حیثیت کا ہمیں بخوبی علم ہے۔ کہیں اس کے چار چہرے مشرق، مغرب، شمال اور جنوب کی علامتیں ہیں۔ مثلاً راجستھان میں سترہویں صدی کا شیو لنگ۔ ۔ ۔ اور کہیں کون و مکاں اور اس کی تمام گہرائیوں کا "امیج" مثلاً پریل (بمبئی) شیو لنگ۔ ۔ ۔ کہیں یہ جنس کے تقدس کا علامیہ ہے اور کہیں کائنات کی تمام طاقتوں کا مظہر!

شیو کا بنیادی رنگ سرخ ہے اور گردن پر بائیں جانب ایک نشان ہے جو زندگی کے تمام زہر کوپی جانے کا اشارہ ہے۔ شیولنگ کا رنگ گہرا سرمئی یا سیاہ ہے۔ سرخ جب بہت گہرا ہو جاتا ہے تو سیاہ ہو جاتا ہے۔ وِشنو اور کرشن کا رنگ بھی گہرا سیاہ ہے۔ سانولا اور سرمئی گہرا رنگ دونوں سیاہی کے نشانات ہیں۔ کائنات کو خالق کے قلب ماہیت سے تعبیر کیا گیا ہے اور ایسے ہر عمل میں سیاہ رنگ کے بہاؤ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ خالق جن صورتوں میں جلوہ گر ہوتا ہے ان تمام صورتوں کا رنگ سیاہ ہے۔ کالی مادرِ اوّلین ہیں، شکتی کی علامت ہیں لہٰذا ان کا رنگ بھی سیاہ ہے۔ شاستروں میں کہا گیا ہے کہ جس طرح تمام رنگ سیاہ رنگ میں جذب ہو جاتے ہیں اسی طرح تمام عناصر کالی میں جذب ہیں کالی یا شکتی کو شیو سے علیحدہ کر کے دیکھنا آسان نہیں ہے۔

شیو لنگ طاقت، استحکام، جنس، تخلیق، وحدت، چکر، زمانہ، ست، یوگ، سمادھی زندگی کے جوہر، آہنگ، باطنی اضطراب، داخلی سکون، جسمانی جنسی اور روحانی بیداری آزادی، تحرک، روشنی، مسرّت، آسودگی، بصیرت، وِژن، کیف، وجد، رحمت، ارتعاشات، حسیات، نجات سب کا معنی خیز علامیہ ہے جو مجسمہ سازی، مصوّری اور فنِ تعمیر کا انتہائی قیمتی جلوہ بنا ہے معنوی جہتوں کی ایسی مجسم اور ایسی پُر جلال اور پُر جمال سرایت کر نے والی، رچ بس جانے والی اور باطن میں پھسلنے والی جمالیاتی علامت اور کہیں نہیں ملتی۔

شیو کے دس یا بارہ ہاتھ علامتی ہیں، سانپ، ناگ، ذات لامحدود کا علامیہ ہے۔ (سیس ناگ چھتریا سائبان کی طرح ملتا ہے ) کھوپڑی، تمام مادّی خواہشات سے اوپر اُٹھنے کا اشارہ ہے۔ یہ آفاقی رقص کائنات کے تمام عناصر کو سمیٹ کر ایک وحدت کی صورت عطا کرتا ہے۔ اس کی عظیم تر معنویت اور اس کی جمالیات پر کئی بار اظہارِ خیال کر چکا ہوں۔ یہاں یہ بتا دینا کافی ہو گا کہ اس پیکر کے آہنگ اور ان کی خاموشی میں عابد کو ماورائے کائنات اور کائنات دونوں کا عرفان نصیب ہوتا ہے اور جمالیاتی نقطۂ نظر سے آہنگ اور خاموشی کی دلکش اور انتہائی نفیس مطابقت ایک عظیم تر جلوہ ہے جس کا احساس خود جمالیات کے دائرے کو وسیع سے وسیع تر کرتا ہے اور نئی جہتوں کی پہچان ہوتی جاتی ہے۔

نٹ راج کا وجود ایسا مظہر ہے کہ آواز اور خاموشی کو علیحدہ کر کے دیکھا نہیں جا سکتا۔ مجھے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے /یہ انسان کا ایسا عظیم معنی خیز جمالیاتی تجربہ ہے کہ جس نے مذہب اور مابعد الطبیعیات کو اپنی طرف کھینچا ہے۔ مابعد الطبیعیاتی اور مذہبی فکر دونوں نے اس جمالیاتی تجربے میں وہ سب کچھ حاصل کیا ہے کہ جس کی روشنی وہ عطا کرنا چاہتے تھے۔ وجدان نے کائنات کے آہنگ کے سچے ّ احساس سے اس پیکر کی تخلیق کی ہے جس سے مابعد الطبیعیاتی اصول مرتب ہوتے ہیں۔

"نٹ راج" ہندوستانی تہذیب کی عظمت کا وہ عظیم تر علامیہ ہے کہ جس سے کائنات اور ذاتِ لامحدود کی وحدت کا علم ہوتا ہے، دائرہ، چکر اور رقص اسی ہم آہنگی کو پیش کرتے ہیں، عظیم تر نغمہ ریز "چکر" نے تخلیق اور خالق یا عناصر اور ہستیِ مطلق کے رشتے اور ان کی وحدت کا شعور عطا کیا ہے۔ کائنات کی تخلیق اور اس کے ارتقا کا عمل (سرشٹی) تمام حسن و جمال کے ساتھ کائنات کا قیام اور اس کا تحفظ (سیٹھتی) کائنات کو توڑ دینے اور بکھیر دینے کا عمل (سم ہار ا) عناصر کو اپنے باطن میں سمیٹ لینے کا عمل (شیربھو) اور عناصر کو آزاد کر نے اور ہر شے کو اعلیٰ ترین منزل پر لے جانے کا عمل (انوہ گرہ) ۔ ان پانچوں آہنگ کی معنویت کو مصوّری اور فن مجسمہ سازی نے مختلف عہد میں پیش کیا ہے اور ان پانچوں آہنگ کو برہما، وِشنو، ردر، مہیشور اور سدا شیو کی صورتیں عطا کی ہیں۔ "نٹ راج" اور شیو لنگ دونوں ماورائے کائنات اور کائنات کی علامتیں ہیں جو خود کائنات اور ماورائے کائنات میں گئی ہیں 1؂۔

"نٹ راج" کے تعلق سے یہ خیال بھی پختہ ہے کہ پہلا رقص شیو نے کیا تھا اور کائنات کی تخلیق اسی پہلے رقص کا نتیجہ ہے۔


مرکزِ حیات و کائنات کے دل پر اس عظیم رقاّص کا رقص کائنات کے تمام عناصر کو سمیٹ کر ایک وحدت کی صورت دیتا ہے۔ اس رقص سے روح اور جسم کی وحدت کا احساس ملتا ہے۔ ہندوستانی جمالیات کے فکری سرچشمے اسی رقص سے پھوٹے ہیں، جسم اور روح اور تمام عناصر و اشیا کی پراسرار وحدت کا شعور سب سے پہلے اسی رقص سے حاصل ہوتا ہے۔

شیو کا رقص یوگ کا نقطۂ عروج ہے۔

معاملہ صرف سمیٹ لینے اور وحدت کا شعور عطا کر نے کا نہیں ہے مترنم آوازوں اور حسین اور خوبصورت عناصر کو کائنات میں بکھیر دینے کا بھی ہے۔

ہندوستانی اساطیر میں اجتماعی لاشعور کا یہ پیکر اتنا قدیم ہے کہ ماضی کے اندھیروں میں اس کی تلاش و جستجو آسان نہیں ہے، یہ پیکر دراوڑ تہذیب کی روح سے طلوع ہوتا محسوس ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ "نٹ راج" کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس کا رشتہ جنگل کی تہذیب سے ہے جو فطرت یا نیچر سے بے حد قریب تھی۔

شیو (نٹ راج) کی پانچ جہتوں کو اس طرح پیش کیا گیا ہے:

۔ ۔ ۔ پہلے آہنگ (سرشٹی) سے۔ ۔ ۔ کائنات کی تخلیق اور اس کے ارتقا کا عمل!

دوسرے آہنگ (سیٹھی) سے تمام حسن و جمال کے ساتھ کائنات کا قیام!

تیسرے آہنگ (سم ہار ) سے تباہی کائنات اور اس کے عناصر کو بکھیر دینے کا عمل۔

چوتھے آہنگ (نیروبھو) سے کائنات اور اس کے عناصر کو اپنے باطن میں سمیٹ لینے کا عمل اور

پانچویں آہنگ (انوگرہ) سے کائنات اور اس کے عناصر کو آزاد کر نے اور ہر شے کو اعلیٰ ترین سطح پر لے جانے کا عمل، نروان کی منزل!

برہما، وِشنو، ردر، مہیشور اور سدا شیو ان پانچ جہتوں کی علامتیں ہیں۔ "نٹ راج" کے پیکر ہیں!

"ڈمرو" کی آواز تخلیق کی آواز ہے، تخلیق کے آہنگ کا اشارہ ہے، ایک ہاتھ میں آگ تخریب کی علامت ہے، دوسرا ہاتھ فتح اور آزادی کو سمجھاتا ہے، تیسرا ہاتھ (ابھے مدرا) امن، سکون اور تنظیم کا اشارہ ہے۔ ایک خاص مدرا میں اُٹھے ہوئے پاؤں پانچویں آہنگ کا اشارہ ہے۔ کائنات اور اس کے عناصر کو آزاد کر نے اور انھیں ایک اعلیٰ سطح پر لے جانے کے عمل کی علامت۔

مجموعی طور پر "نٹ راج" کی جمالیات کی وضاحت اسی طرح کی جا سکتی ہے:

  • کائنات کی تمام متحرک کیفیتوں کا سرچشمہ ہے، محراب اس کی علامت ہے۔
  • "چکر" کے تہہ دار حسیاتی تصوّر کا افضل ترین تخلیقی نمونہ ہے۔
  • "مایا" کے پردے سے اوپر آزادی کے عرفان کو پیش کرتا ہے۔
  • آہنگ اور آہنگ کی وحدت کے حسن کا جلوہ ہے۔
  • کائنات عشق کے شعور کا فنّی شاہکار ہے۔
  • جلال و جمال کی دلکش آمیزش کا علامیہ ہے۔
  • رقصِ وجود ہے رقصِ کائنات ہے۔

متحرک لاشعور کا انتہائی اثر آفریں اظہار ہے جس سے لاشعور کی بے پناہ صلاحیتوں کی پہچان ہوتی ہے۔

آہنگ کے حسن کا یہ جمالیاتی پیکر آوازوں، رنگوں اور تصویروں کے تئیں بیدار کر کے جمالیاتی انبساط عطا کرتا ہے۔

"نٹ راج" کی 108 کیفیتوں میں جو "رس" ملتے ہیں ان میں چند یہ ہیں:

  • شرینگار رَس ۔ (وِشنو)
  • ردر رَس ۔ (ردر)
  • بیتس رَس ۔ (مہاکالا)
  • شانت رس ۔ (نارائن)
  • بھیانک رَس ۔ (سیاہ دیوتا)
  • ادبھت رَس ۔ (گندھاروا)

شیو/ "نٹ راج" نے روشنیوں، تاریکیوں، خوشبوؤں، آوازوں خاموشیوں اور رنگوں کی ہمہ گیر جمالیات سے آشنا کیا ہے 1؂۔

"شیو پران" اور "لنگ پران" کے مطابق کائنات کی تخلیق "لنگ" سے ہوئی ہے، اسی سے اس انڈے کا جنم ہوا تھا کہ جس سے برہما نکلے تھے۔ "لنگ پران" میں یہ بھی درج ہے کہ شیو ہی نے برہما اور وِشنو کو "گیاتری منتر" سکھایا تھا۔ کہا تھا ہم تینوں ایک ہی وحدت کے حصّے ہیں۔ "لنگ پران" میں شیو کے ایک ہزار نام درج ہیں۔


"شیو پران" میں "اِندر دیوتا"، "گنیش"، "پاروتی"، "نارد" اور رِشی منیوں اور ان کی بیویوں کی کہانیاں بھی بہت دلچسپ ہیں اور ہندوستانی اساطیر کے قصّوں میں اپنا مقام رکھتی ہیں۔ شیو جی کی شادی کا ڈرامابھی کم دلچسپ نہیں ہے۔

"اردھ نار ایشور" ایک بنیادی تصوّر ہے، شیو کا وہ پیکر ہے کہ جس میں شیو نصف مرد اور نصف عورت ہیں۔ اردھ ناتھ ایشور کے پیکر پرانے مندروں میں موجود ہیں، اس کے تعلق سے اساطیری اور نیم اساطیری قصّوں کی تعداد کم نہیں ہے۔ لوک کہانیوں میں بھی یہ پُر اسرار پیکر ملتا ہے۔ یہ وحدت کا بہت ہی پراسرار انتہائی رومانی اساطیری تصوّر ہے جس کی مابعد الطبیعاتی سطحیں جمالیاتی جہتوں میں نمایاں اور ظاہر ہوئی ہیں۔

ہندوستان میں "دیوی" کی پرستش کی روایت بہت ہی پرانی ہے، ویدوں کے زمانے سے بہت پہلے سندھ تہذیب میں "ماں " کے قابلِ احترام پیکر کی عبادت (دو ہزار سال قبل مسیح) کے ثبوت ملتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ "عورت" کو دیوی کا مقام اس وقت ملا جب وِشنو اور شیو اساطیر کی دنیا میں اپنا مقام بنا چکے تھے۔ "دیوی" غالباً اُس دور میں سامنے آئی جب "دیوتاؤں " کو "بیویاں " حاصل ہوئیں۔ "تانتر" نے بلاشبہ "عورت" کو بلند مقام بخشا، بعض "دیویاں " دیوتاؤں سے اوپر نظر آنے لگیں۔ پہلے "سری" کی پہچان وِشنو کے تعلق سے ہوتی تھی اور "شکتی" کی پہچان شیو کے تعلق سے۔ "تانتر" نے "شکتی" میں اتنی تو انائی پیدا کر دی کہ شیو اس کے سامنے "شو" (مردہ جسم) بن کر رہ گئے، شکتی کی وجہ سے اُن میں زندگی اور حرکت پیدا ہوئی۔ "کالی" کی دیو پیکر شخصیت اُبھر کر سامنے آئی۔ "کالی" نے "ماں " کا بلند درجہ حاصل کر لیا۔

ہندوستانی اساطیری میں ایسے کئی "آرچ ٹائپس" (Archtypes) ہیں جو اپنے جمالیاتی مظاہر سے متاثر کرتے ہیں، ایسے بہت سے کردار کہ جنھیں مختلف عقیدوں اور مذہبی افکار و خیالات نے مذہبی حیثیت دی وہ ابتدا سے ایسے نہ تھے، لوک قصّوں کہانیوں اور ملک کے مختلف علاقوں کے افسانوی مزاج نے انھیں جنم دیا تھا۔ خوف، تحیر اور رحمتوں کی آرزو کے یہ پیکر رفتہ رفتہ حسی پیکر (Psychic Images) بنتے چلے گئے، ان میں عوامی احساسات اور جذبات شامل ہوتے گئے، ایک ہی کہانی کئی صورتوں میں ڈھلتی گئی۔ حسی پیکر متضاد اور مختلف خصوصیتوں کے ساتھ نمایاں ہوتے گئے، اختلاف اور تضاد کے باوجود اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ اجتماعی یا نسلی لاشعور (Collective Unconsciousness) سے نکلے ہوئے پیکر ہیں، ابتدا میں یہ تخیلی اور حسی پیکر ہی تھے رفتہ رفتہ "آرچ ٹائپس" بن کر ذہن و شعور کو متاثر کرتے رہے۔ قدیم انسان کے احساس و شعور پر سورج، چاند اور ستاروں میں "خالق کی آنکھ" (Eye of God) کا بڑا گہرا اثر ہوا ہے۔ "خالق کی آنکھ دیکھ رہی ہے!" ان کی "سائیکی" پر آنکھ کی شعاعوں نے یقیناً بڑا اثر ڈالا ہو گا، کون جانے مذہب کا جنم اسی وقت ہوا ہو۔ بیداری کے خوابوں اور "وژن" کی تو انائی اور تحرک کی کہانی بھی غالباً اسی وقت شروع ہوئی ہو گی۔

پرانی کہانیوں کہ جن میں لوک قصّوں کہانیوں کی تعداد زیادہ تھی جمع کر نے اور انھیں مرتب کر نے کا ایک دَور آیا، چونکہ عقائد اور مذہبی نظریات اور خیالات کو زیادہ اہمیت دی گئی، ان نظریوں اور عقیدوں کا دباؤ بڑھتا گیا اس لیے ان کی حیثیت دیوی دیوتاؤں کی ہو گئی۔ قدیم لوک حسی پیکر اور لوک کہانیوں کے واقعات مذہبی صورتیں اختیار کرتے گئے۔ یہ سب قابلِ عبادت بنتے گئے، آج بھی ان کی عبادت ہو رہی ہے۔ پرانوں میں کردار اور واقعات جمع کیے گئے، "پران" کے لفظ ہی سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پرانوں کو مرتب کر نے والے انھیں پرانی کہانیاں ہی سمجھتے تھے۔ ہر بھگوان ہر دیوتا کے لیے ایک پران مرتب ہوا اور انھیں عقیدوں اور مذہبی خیالات میں طرح طرح سے ڈھالا گیا۔ پرانی کہانیوں کے مزاج اور تیور کا فرق تو نمایاں ہی رہا ساتھ ہی ایک ہی کہانی کی کئی صورتوں میں ڈھلتی رہی۔

ابوریحان محمد ابن احمد البرونی (پیدائش 973ء) نے اپنی معروف تصنیف "کتاب الہند" میں پرانوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ ان کی تعداد اٹھارہ ہے۔ انگریزی زبان میں مجھے اٹھارہ پران مل گئے۔ انھیں پڑھتے ہوئے اس سچائی کا احساس ہوا کہ پران (Puranas) ہندوستانی قصّوں، کہانیوں کے ایک قدیم سرچشمے کی خبر دیتے ہیں۔ "پران " کے معنی ہیں پرانا، "قدیم۔ مفہوم ہے "پرانی کہانی" (Purana Mahyanam) پرانوں کی جڑیں ہندوستان کی قدیم تاریخ اور سماج میں پیوست ہیں۔ لوک کتھاؤں کہانیوں سے ان کا سفر شروع ہوا تو اساطیر کی منزل آئی اور پھر ادبیات کی منزل! قدیم اور قدیم تر مذہبی خیالات اور تجربات نے انھیں اپنا رنگ و آہنگ بخشا، تخیلی واقعات و کردار کو ایسا تحرک عطا کیا کہ وہ زندہ حقیقتوں اور سچائیوں کی طرح محسوس ہونے لگے۔ کہانیوں سے کہانیاں، واقعات سے واقعات اور کردار جنم لینے لگے، عقائد کی مضبوط گرفت میں رہنے کے باوجود عوامی احساسات و جذبات لیے پرانوں کی کہانیاں ہندوستانی قصّوں کہانیوں کا سرچشمہ بن گئیں، کہانیاں سینہ بہ سینہ چلیں، دن بھر کی تھکن دور کر نے کے لیے کبھی کھیتوں میں الاؤکے گرد بیٹھ کر سنائی جانے لگیں۔ ابتدا میں کہانی سنانے والا اہم تھا۔ ایک جگہ بیٹھ کر رامائن اور مہابھارت کے واقعات اور قصّوں کو سنانے کا سلسلہ بھی بہت پرانا ہے۔ پرانوں کی کہانیاں بھی سنائی جاتی تھیں، لوک کتھاؤں کا جنم اسی طرح ہوا ہے۔ محققین کہتے ہیں کہ مہابھارت کا بغور مطالعہ کہا جائے تو یہ حقیقت روشن ہو گی کہ بنیادی طور پر یہ بھی ایک پران ہے اور رامائن کے کئی باب اور کردار پرانوں کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ ویدی قصّوں میں بھی پرانوں کے بہت سے واقعات و کردار کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔


لاشعور، سگمنڈ فرائڈ، کے تصوّر سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ سی۔ جی۔ یونگ کے نسلی لاشعور کے تصوّر کے بعد تو اس کی گہرائی کا اندازہ کرنا اور مشکل ہو گیا ہے۔ صدیوں صدیوں کے نسلی تجربوں نے لاشعور میں "آرچ ٹائپس" (Archetypes) کو جنم دیا ہے۔ یونگ نے کہا ہے کہ "آرچ ٹائپس" زندہ نفسی تو انائی (Psychic force) رہے ہیں اور اب بھی ہیں، سنجیدگی سے جائزہ لیں تو محسوس ہو گا کہ "آرچ ٹائپس" کتنے حیرت انگیز طریقے سے اثر انداز ہوتے ہیں اور ان کے اثرات کتنے گہرے ہوتے ہیں۔ "آرچ ٹائپس" نے تحفظ اور "نجات" (Protection and Savation) کا احساس دیا ہے۔ ان سے "نیوراتی" اور ایسی نفسیاتی کیفیتیں بھی پیدا ہوتی رہی ہیں کہ جس سے نقصان ہوا ہے اور یہ بھی سچائی ہے کہ ان کے سائے میں نیوراتی اور بعض نفسیاتی کیفیتوں میں تنظیم بھی پیدا ہوئی ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب میں جو "ا4" (Images) پیدا ہوئے ہیں وہ "آرچ ٹائپس" ہی کی دین ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے حسی پیکر اور "آرچ ٹائپس" کہ جنھیں مذہبی کٹرّپن نے اس طرح دبوچ لیا ہے کہ ان کی اصلی صورتیں گم ہو گئی ہیں انسان کی "سائیکی" میں زندہ متحرک اور محفوظ ہیں۔ اکثر فنون اور لٹریچر میں یہ حسی پیکر بڑی شدّت سے متاثر کرتے ہیں۔ مثلاً "عظیم ماں "، "ضعیف دانش مند" (Wise Od Man)، پرچھائیں (Shadow)، مچھلی، سانپ، درخت، پُر اسرار پرندے اور جانور وغیرہ۔

ہندوستانی اساطیر میں "خالق کی آنکھ" (Eye of God) اور "عظیم ماں " (Great Mother) کی بڑی اہمیت رہی ہے۔ "خالق کی آنکھ" کا آرچ ٹائپ تحفظ کا احساس دیتا رہا ہے ساتھ ہی غلط کام نہ کر نے کی تلقین بھی کرتا رہا ہے۔ "عظیم ماں " نے کئی رُوپ اختیار کیے ہیں۔ لاشعور کی تاریکی اور شعور کی روشنی دونوں نے ماں کی صورتیں خلق کی ہیں۔ لاشعور کی تاریکی سے نکلی ہوئی "ماں " کالی بھی تحفظ کا گہرا احساس بخشتی ہے۔ ہندوستانی اساطیر میں "کالی" کا "آرچ ٹائپ" غیر معمولی نوعیت کا ہے، اس کے جمالیاتی مظاہر توجہ طلب بن جاتے ہیں۔

یونگ نے تحریر کیا ہے کہ ہر انسان (آدم) اپنی حوّا کو اپنے وجود کے اندر لیے رہتا ہے۔ اس کی دو اصطلاحیں "انیما" اور "اینی مس" (Anima and Animus) مشہور اصطلاحیں ہیں۔ "انیما" دیوی پری، جادوگرنی، ماں، بلّی، غار وغیرہ کے پیکروں میں متشکل ہوتی رہی ہے۔ اسی طرح "اینی مس" باز، بیل، شیر، لنگ، اونچی عمارت وغیرہ میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ یونگ نے اسے باطنی یا روحانی "امیج" یا "سول امیج" (Sou Image) کہا ہے۔ اس کا خیال یہ ہے کہ "سول امیج" میں سب سے پہلے "ماں " کا پیکر اُبھرتا ہے۔ گوری چٹیّ خوبصورت ماں اور کالی کلوٹی ماں۔ ۔ ۔ لیکن "ماں " کی صورت جیسی بھی ہو ماں، ماں ہوتی ہے۔ بلاشبہ "کالی"، "ماں " کا "سول امیج" یا حسی پیکر ہے۔ ہندوستانی اساطیر میں "کالی" بہت ہی پُر اسرار ہے، اسی نے کائنات کی تخلیق کی ہے۔ عریاں رہتی ہے لیکن پچاس راکھشسوں کی کھوپڑیوں کا ہار پہنتی ہے۔ "ماں " کا حسی پیکر ہے جو سیاہ ہے، تاریکی میں علم و دانش کا جو سرچشمہ ہے وہ اسی کی تخلیق کا کرشمہ ہے، وہ علم عطا کرتی رہتی ہے۔ اس کے چار ہاتھ ہیں، چہرہ خوفناک ہے، وقت (Time) کی دیوی ہے، عمدہ اقدار کی خالق اور نگہباں ہے، خراب اور بُرے تجربوں اور پیکروں سے ٹکراتی ہے، انھیں شکست دے کرہی دم لیتی ہے، اس کے جمالیاتی مظاہر میں یہ بات بہت اہم ہے کہ اس کا بنیادی رنگ سیاہ ہے۔ سیاہ رنگ کا حسن لیے ہوئے ہے۔ بڑی جمالیاتی خصوصیت یہ ہے کہ تمام رنگ جو زندگی کے مظاہر ہیں اس سیاہ رنگ میں جذب ہیں۔ جب چاہتی ہے جہاں چاہتی ہے، اپنے پسندیدہ رنگوں کا مظاہرہ کرتی ہے۔ اس کی جمالیات کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک دلچسپ بات یہ نظر آتی ہے کہ وہ جب چاہتی ہے گم ہو جاتی ہے نظر نہیں آتی اور سورج، چاند اور آگ جو اس کی تین آنکھیں ہیں اُن سے اپنے بچوں کی نگہبانی کرتی رہتی ہے۔ آفتاب، قمر اور آتش یہ تینوں خوبصورت جمالیاتی مظاہر ہیں۔ ان کی جانب دیکھئے تو تین چمکتی روشن آنکھوں کی پہچان ہو گی، انھیں دیکھتے رہیے تو آہستہ آہستہ کالی ماں کی صورت کا ایک خاکہ اُبھرتا محسوس ہو گا۔

"تانتر" میں کالی تو انائی یا "انرجی" کے حسن کا جلوہ بن جاتی ہے اسی لیے اسے "شکتی" کہتے ہیں۔ اس کے عمل میں تحرک کے جمال کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ "نرکتا تانتر" (Nirukta Tantra) میں شکتی بھی ہے اور مایا کا جمال بھی، وہ کائناتی حسن کے تسلسل اور وقت یا "ٹائم" کی ایسی علامت ہے کہ جس کی کوئی ابتدا ہے اور نہ کوئی اختتام، لمحوں میں صورتیں تبدیل کرتی رہتی ہے، کبھی لکشمی ہے تو کبھی ستی، کبھی رادھا ہے تو کبھی چمندا، کبھی کالی ہے تو کبھی کالیکا، اُس کے بال بہت گھنے، سیاہ اور لمبے ہیں جو "مایا" کے دلفریب حسن کی علامت ہیں۔ "تانتر" میں اُس کا خوفناک چہرہ اُس وقت تمتماتا ہے جب کوئی نا انصافی ہوتی ہے یا کسی عمدہ اور اچھی قدر کے ٹوٹنے کی آواز سنائی دیتی ہے، ایسے وقت میں اس کا لباس "سرخ" ہو جاتا ہے جو جلال کی علامت ہے، اُوپر کا سیدھا ہاتھ جو اُٹھا رہتا ہے رحمتوں کی بارش کرتا ہے، آشیرواد دیتا ہے، وہ سیدھا ہاتھ جو نیچے ہوتا ہے وہ خوف کو دُور کرتا ہے، انسان دشمنوں کو دُور کرنے، انھیں شکست دینے اور قتل کر نے کے لیے بایاں ہاتھ متحرّک رہتا ہے۔ وہ شیو (شِو) کے سینے پر سوار ہو جاتی ہے تو مایا کا جال لیے ہر جانب تحیرّ پیدا کرتی ہے، ایک انتہائی پراسرار فضا قائم کر دیتی ہے، شیو کا مردہ جسم ( شو) جاگ پڑتا ہے متحرک ہو جاتا ہے۔ شدّت سے محسوس ہوتا ہے اس ملاپ سے ساری کائنات اپنے تمام حسن و جمال کے ساتھ اس کے وجود کا حصہ بن گئی ہے، "برہما" اس کے وجود کے اندر ہے۔

ہندوستانی اساطیر میں کالی یا شکتی کے جمالیاتی مظاہر غیر معمولی حیثیت رکھتے ہیں۔ عوام کی "سائیکی" کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ایسے "آرچ ٹائپس" بہت کم ہیں۔


دُرگا نے "عفریت بھینسے " کو مار ڈالا۔ برہما نے کہا تھا "عفریت بھینسے " کا قتل دیوتا بھی نہیں کر سکتے انسان کی بات تو دُور رہی۔ عفریت بھیسنے نے جب جینا حرام کر دیا تو برہما، وِشنو اور شیو تینوں نے مل کر سرسوتی، لکشمی اور شکتی کی تو انائی سمیٹ کر ایک انتہائی خوبصورت عورت کی تخلیق کی کہ جس کے دس ہاتھ تھے۔ یہ عورت دُرگا تھی جو عفریت بھینسے کا خاتمہ کر سکتی تھی۔ بھینسے کا نام مہیشاسورا (Mahishasura) تھا۔ دُرگا نے مہیشا سور اسے نو دنوں تک جنگ کی، دسویں دن اس کا سرقلم کر دیا۔ کہا جاتا ہے انسان کے اندر سرسوتی، لکشمی اور شکتی کی تو انائی موجود تو ہے، ساتھ ہی عفریت بھینسے کی بھی تو انائی پوشیدہ ہے۔ (یوگ میں اس کا ذکر ملتا ہے ) انسان میں جو طاقت ہے یہ اس کی جہتیں ہیں۔

میں نے اپنی کتاب "ہندوستانی جمالیات" (جلد دوم، 1994ء) میں لکھا تھا کہ "عظیم ماں " کے کئی نام ہیں۔ سری، لکشمی، سری لکشمی، مہالکشمی، سری سکت (رگِ وید) ایوری پدما، کملا، بھگوتی، لوک ماتا، شکتی، گرہ لکشمی، راج لکشمی، دھن لکشمی، وِجے لکشمی دھنیہ لکشمی، بھاگیہ لکشمی، وِکٹ لکشمی وغیرہ۔ شمالی ہند کے پہاڑی علاقوں میں "ماں " کی عبادت کو ہمیشہ اہمیت حاصل رہی ہے۔ درگا، کالی، چمندا، مالینا اور مردینی وغیرہ کے مجسّمے ان علاقوں میں مقبول رہے ہیں۔ ان کی پرانی تصویروں کے علاوہ کانسی، پتھر اور تانبے کے مجسّمے بھی ملتے ہیں۔ "عظیم ماں " کو فنکاروں نے مختلف انداز سے پیش کیا ہے۔ "ماں " کے پیکر عموماً ایسے ہیں جن میں وہ شیر پر سوار ہیں، بھینسے کی شکل کے عفریت پر حملے کر رہی ہیں، گردن میں کھوپڑیوں کی مالا ہے، ہتولی (شملہ) کے آٹھویں صدی کے پتھر کا جو مجسمہ ملا ہے اس میں دُرگا کی خصوصیات اُجاگر کر نے کی کوشش کی گئی ہے۔ شیر پر بیٹھی ہیں اور شیر جیسے نہایت آرام سے سویا ہوا ہے۔ دُرگا کے جسم کا توازن متاثر کرتا ہے۔ زیورات کم ہیں ہاتھ میں ترشول ہے۔ "ماں " کے کچھ پیکر ایسے ہیں جن میں شخصیت کی غضب ناکی بہتر طور پر ظاہر ہوئی ہے۔ ہندوستان کے بعض ایسے مجسّموں کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ پیکر انسان کے چہروں اور ان کے جسم کی تفصیل نہیں ہیں بلکہ "عظیم ماں " یا "ذاتِ اوّلین" ہے۔ وہ آئینے ہیں کہ جن میں عورت اور مرد کو علیحدہ کرا کے دیکھا نہیں جا سکتا۔ کائناتی عشق کے حسی شعور نے ایسے پیکروں کی تشکیل کی ہے۔ وہ عفریت جسے دیوتا ختم کرنا چاہتے تھے اور ناکام ہوئے اسے دُرگا ختم کرتی ہیں، عفریت پُر سکون حالت میں قتل ہوتا ہے، اس کے چہرے پر جو سکون اور اطمینان ہے۔ وہ ختم ہو جانے یا قتل ہو جانے کی آرزو کا اشارہ ہے۔ اس سلسلے میں دو باتیں غور طلب ہیں:

(1) دُرگا یا "عظیم ماں " کائنات اور ماورائے کائنات کی قوتوں کا مظہر ہیں۔ دیوتاؤں کے غضب کا سانسوں کی بے پناہ تپش میں تبدیل ہونا اور تپش کا شعلوں میں بدل جانا اور ان سے عظیم پیکر کا اُبھرنا اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ عظیم ماں کائنات کی وحدت اور ماورائے کائنات کی قوتوں سے علیحدہ نہیں ہیں دیوتا ان سے علیحدہ نہیں ہیں۔ ۔ اور

(2) بنیادی مقصد روح کی آزادی ہے، مارکنڈیہ پران کے مطابق عفریت بھی روح کی آزادی اور "سورگ" (جنت) کا متلاشی ہے۔ لہٰذا اس کی تمنّا ہے کہ وہ عظیم ماں کے ہاتھوں قتل ہو تاکہ اسے آزادی نصیب ہو سکے۔

ہندوستان کے جمالیاتی پیکروں میں "عورت" تخلیق اور حرکت کی علامت رہی ہے، ہندوستانی مابعد الطبیعیات کا تقاضا بھی یہی تھا، عورت تخلیق کا سرچشمہ اور تحرک یا حرکت کی علامت ہے۔ محبت، ممتا، شفقت اور زندگی کی اعلیٰ اقدار سے پیار اس کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ "کنول" سب سے پُر کشش جمالیاتی علامت ہے۔ "ماں " اور "کنول" ہمیشہ ایک دوسرے میں جذب رہے ہیں۔ لکشمی کے پیکر کے ساتھ "کنول" کی تصویر کشی کئی لحاظ سے اہمیت رکھتی ہے۔ "عظیم ماں " مہربان اور رحمتوں کا سرچشمہ تو ہیں لیکن ساتھ ہی وہ بُری اور بدتر قدروں کے خلاف قہر بن کر لپکتی ہیں۔ میں نے اپنی کتاب "ہندوستانی جمالیات" جلد دوم میں دیویوں کے جلال و جمال پر مفصل گفتگو کی ہے (دیکھئے عظیم ماں، ص 133) بدھ ازم میں "شکتی" کا تصوّر شامل ہوا تو تارا بھی رقص کر نے لگی اور بنگال میں وجرتاڑ اور ماریچی کے مجسّمے بننے لگے، چمندا کی گردن میں دُرگا اور کالی کی طرح کھوپڑیوں کی مالا اور ہڈیوں کے زیورات نظر آنے لگے۔

ہندوستانی اساطیر میں کرشن ایک محبوب کرشماتی شخصیت ہیں۔ وہ "انسان" کی حیثیت سے بھی سامنے آتے ہیں اور دیوتا کی حیثیت سے بھی، وِشنو کے بیسویں اوتار کہے جاتے ہیں۔ بچپن کی کہانی بہت دلچسپ ہے جو لوک کہانیوں اور لوک گیتوں میں جانے کب سے مقبول رہی ہے۔ مہابھارت میں بھی نظر آتے ہیں لیکن "ایپک" کے ہیرو نہیں ہیں، شریمد بھگوت گیتا میں ایک پیامبر کے پیکر میں روحانی بلندیوں پر ہیں۔ "بھگوت پران" میں ان کی ابتدائی زندگی اور ان کے معجزوں اور کرامات کا ذکر ملتا ہے۔ کرشن کی ماں اپنے بیٹے کے منہ میں پوری کائنات دیکھتی ہیں۔ اس سے قبل مہابھارت میں مارکنڈے رِشی کا واقعہ بھی کچھ اسی نوعیت کا ملتا ہے۔ وہ کائنات کے بڑے وسیع اور گہرے سمندر کے اوپر تیرتے جا رہے تھے کہ اُن کی نظر ایک چھوٹے لڑکے پر پڑی، وہ وِشنو تھے، مارکنڈے رِشی وِشنو کے منہ کے اندر چلے گئے، وہاں کائنات کے جلال و جمال کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے۔ ان دونوں متھ میں یکسانیت ہے۔ اساطیری کہانیوں کا سرچشمہ لوک کہانیاں ہیں لہٰذا بہت سی کہانیاں ایک جیسی نظر آتی ہیں۔ بادامی کے غاروں میں کرشن کی زندگی کے کئی واقعات مناظر کی صورت پیش ہوئے ہیں۔ ان پر عوامی قصّوں کا گہرا اثر ہے۔ اسی طرح راج شاہی (بنگلہ دیش) میں کرشن لیلا کے مناظر ملتے ہیں۔ کرشن ابتدا سے عوامی قصّوں کہانیوں کے محبوب موضوع رہے ہیں۔ لوک گیتوں اور شاعروں کے کلام میں ان کی سحر انگیز شخصیت متاثر کرتی ہے۔ کالندی ندی میں کالیا ناگ کی شکست، جنگل کی آگ کو نگل جانا، گو وردھن پہاڑ کو اُٹھا لینا، بانسری کی سحر انگیز آواز سے پوری فضا کو گرفت میں لے لینا اور رادھا کے وجود کو ہمیشہ کے لیے انسان کے ذہن پُر کشش کر دینا کرشن لیلا کی عمدہ ترین مثالیں ہیں، ان واقعات کی پُر اسراریت بڑی روحانی بلندیوں تک لے جاتی ہے۔

"وِشنو پران" میں کرشن ہندوستانی اساطیر کے بہت ہی اہم 5 کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں۔ ان کی پیدائش، ان کے بچپن اور ان کی جوانی کی بڑی تصویر اُجاگر ہوتی ہے۔ ان کے عظیم کارناموں کا ذکر ان کی مہربان شخصیت سے بہت قریب کر دیتی ہے۔ قدیم پرانوں میں بھی ان کی بابت کئی تحریریں ملتی ہیں۔ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی شخصیت عوامی زندگی میں بہت مقبول رہی ہو گی۔ لوک کتھاؤں میں ان کے قصّے عوامی احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں۔


وہ ایک بڑے دانشور کی حیثیت سے شریمد بھگوت گیتا میں متاثر کرتے ہیں۔ زندگی اور اس کی اعلیٰ قدروں، زندگی کے تقاضوں اور دنیاوی مسائل اور حالات پر کرشن کی عالمانہ، فلسفیانہ اور حکیمانہ گفتگو غیر معمولی حیثیت کی حامل ہے۔ آج بھی ان سے روشنی حاصل کر نے کی کوشش ہوتی ہے۔

جب وہ قتل ہونے سے محفوظ رہتے ہیں، چھوٹی عمر میں پراسرار حرکتیں کرتے ہیں۔ جب بانسری کی آواز سے اشیا و عناصر دم بخود ہو جاتے ہیں، جب جمنا کی گہرائی میں اُتر کر کالیا جیسے زہریلے ناگ اور دوسرے سانپوں کو ختم کرتے ہیں، گو وردھن پہاڑ اُٹھا لیتے ہیں تو اساطیر کی فضائیں ذہن و شعور کو مکمل طور پر گرفت میں لے لیتی ہیں۔

"وِشنو پران" میں ٹکراؤ اور تصادم کی کئی کہانیاں ملتی ہیں، جمنا میں زہر پھیلانے والے ناگ کلنگ سے کرشن کی جنگ انسان کی زندگی کے تحفظ کے لیے ہوتی ہے۔ اور وہ زہریلا ناگ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ اندرا کے ساتھ زبردست تصادم ہوتا ہے اور کرشن اندرا کی لائی ہوئی تیز بارش سے بچنے کے لیے گو وردھن پہاڑ کو اُٹھا لیتے ہیں اور اسے چھتری بنا لیتے ہیں، عفریت آرستا (Arista) کو خود اس کی ٹوٹی ہوئی ایک سینگ سے مار ڈالتے ہیں۔ کمسا (Kamsa) جب ان کی طرف ایک دیوانے ہاتھی کو بھیجتا ہے تو وہ اسی ہاتھی کے دانت سے اسے مار دیتے ہیں۔ اس کے بعد جو جنگ ہوتی ہے اس میں کرشن کو کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ہندوستانی اساطیر میں "رامائن" اور "مہابھارت" دونوں کو ممتاز مقام حاصل ہے۔ دونوں تخلیقات کی کہانیاں، کردار اور واقعات سب جانتے ہیں، اساطیری فضاؤں اور ماحول کی تشکیل میں عوامی ذہن اور تخلیق کاروں کے تخیل نے جو حصّہ لیا ہے اس کی مثال دنیا کی بڑی سے بڑی تخلیقات میں موجود نہیں ہیں، ایلیڈ اور اوڈیسی کی بھی روشنی ان کے سامنے کم ہو جاتی ہے۔

"مہابھارت" کی چند ایسی اساطیری کہانیوں اور ان کے باطنی حسن کا ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ جن کی بہت کم خبر ہے۔

ایک کہانی ویدوں کے زمانے کی ہے جو مہابھارت میں شامل ہے۔ یہ سانپوں کی قربانی کی کہانی ہے۔ راجا جنم جایا (Janamejaya) کے باپ کو سانپوں کے راجا ٹک سا کا (Taksaka) نے ڈس لیا جس سے اس کی موت ہو گئی۔ راجا نے عہد کیا کہ وہ سانپوں کی قربانی دے گا۔ جادو سحر کر نے والے جانے کتنے پجاری جمع ہوئے، منتر پڑھے گئے آگ روشن ہوئی اور پھر دنیا کے مختلف مقامات سے سانپ نکل نکل کر آنے لگے اور آگ اُنھیں نگلتی گئی۔

ایک برہمن کے بیٹے رُو رُو (Ruru) کی کہانی یوں ہے کہ اس نے ایک اَپسرا کی خوبصورت بیٹی پرم دیورا (Pramadvara) کو دیکھا تو عاشق ہو گیا۔ دونوں کی شادی طے ہو گئی، شادی سے چند روز قبل ایک زہریلے سانپ نے اسے ڈس لیا۔ رُو رُو دیوانہ سا ہو گیا، جنگل کی طرف دوڑ گیا۔ روتا رہا اور دیوتاؤں سے کہتا رہا میں نے بڑی پاکیزہ زندگی بسر کی ہے۔ آپ سب رُورُو کو زندگی عطا کر دیں۔ اس کی عبادت سے متاثر ہو کر دیوتاؤں نے اپنے پیامبر کو اس کے پاس بھیجا جس نے پرم دیورا سے کہا۔ "دیوتا تمھاری عبادت سے بہت خوش ہوئے ہیں، ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر تم اپنی نصف زندگی رُو رُو کو بخش دو تو وہ زندہ ہو جائے گا۔ " پرم دیورا نے کہا "مجھے منظور ہے۔ " رُو رُو کو نئی زندگی مل گئی، دونوں کی شادی ہو گئی۔ پرم دیورا نے عہد کیا کہ وہ کسی سانپ کو زندہ رہنے نہ دے گا جہاں بھی کوئی سانپ نظر آ جاتا اسے مار دیتا۔ ایک صبح اس نے ایک سانپ دیکھا اور اسے مار نے کو تیاّر ہو گیا، سانپ نے کہا۔ "پرم دیورا، میں ایک رِشی ہوں، سانپ بن گیا ہوں۔ سانپ بن کر میں کسی کا کوئی نقصان نہیں کرتا، مجھے معاف کر دو، نہ مارو مجھے"

"تم سانپ کیوں بن گئے ہو?" پرم دیورا نے دریافت کیا، سانپ نے جواب دیا۔ "یہ کسی کی بد دعا ہے، میں رِشی بن کر تمھاری بیوی کے پاس جاؤں گا اور آشیرواد دوں گا۔ " سانپ نے رشی کی صورت اختیار کر لی۔ ردرا کے پاس آیا، اسے آشیرواد دے کر چلا گیا۔ پرم دیورا نے وعدہ کیا کہ اب وہ کسی سانپ کو نہیں مارے گا۔ کہا جاتا ہے یہ کہانی بھی ویدی دَور کی ہے۔

ایک ایسے شخص کی کہانی بھی ملتی ہے کہ جس نے کبھی کسی عورت کو نہیں دیکھا۔ دن رات عبادت میں مصروف رہتا تھا، ملک میں قحط پڑا تو رِشی منیوں نے راجا سے کہا "وہ شخص جو دن رات عبادت میں مصروف رہتا ہے یہاں آ جائے تو قحط کا عذاب ختم ہو جائے گا۔ سوال یہ تھا اسے کون راج دربار میں لے آئے، وہ تو عابد ہے، نظر اُٹھا کر بھی اِدھر اُدھر نہیں دیکھتا، راجا کی بیٹی سانتا اس کام کے لیے تیاّر ہو گئی، جنگل کی جانب روانہ ہوئی، تلاش کرتے کرتے وہاں پہنچ گئی کہ جہاں وہ عابد عبادت میں مصروف تھا۔ سانتا نے اسے پھل دیئے اور اپنے ہونٹوں کا رس دیا۔ اسے سینے سے لگائے رکھا، عابد دیوانہ سا ہو گیا۔ اچانک گیتوں میں اپنے جذبات کا اظہار کر نے لگا، سانتا کے ساتھ ہولیا، شہر پہنچتے ہی قحط کا خاتمہ ہو گیا۔ راجا نے عابد سے اپنی بیٹی کی شادی کر دی۔ (کہا جاتا ہے پدما پران اور بدھ کہانیوں میں بھی یہ کہانی ملتی ہے )


"مہابھارت" میں ایک اساطیری کہانی اس طرح بیان ہوئی ہے، ایک نیک پاکباز برہمن عورت تھی گوتمی، اس کے بیٹے کو سانپ نے ڈس لیا تو اس کی موت ہو گئی۔ ایک شکاری تھا ارجن ناکا، اس نے برہمن عورت سے دریافت کیا "بتاؤ میں اس سانپ کو ماردوں تو تمھیں سکون ملے گا?" گوتمی نے جواب دیا "اُس سانپ کو مار دینے سے میرا بیٹا زندہ تو نہیں ہو جائے گا، اور پھر اسے مار نے کا فائدہ ہی کیا ہے۔ " شکاری نے کہا "میں بہت بڑا شکاری ہوں۔ دشمنوں کو مار نے میں میں اِندر دیوتا سے کم نہیں ہوں۔ " گوتمی نے کہا "دشمنوں کو مار نے سے بھی کیا فائدہ ہے۔ " اسی وقت وہ سانپ بھی آ گیا کہ جس نے گوتمی کے لڑکے کو کاٹ کر مار ڈالا تھا۔ سانپ نے کہا "مجھ سے غلطی نہیں ہوئی ہے، مجھ پر اس کی موت کا الزام نہ دو۔ یہ تو "مرتو" (موت) کا کام ہے کہ جس نے مجھے مار نے کا ذریعہ بنایا، میں نے لڑکے کو کب کاٹا، اسی وقت موت کا دیوتا "مرتو" آ گیا۔ کہا "لڑکے کی موت کی ذمہ داری سانپ پر ہے اور نہ مجھ پر، ذمہ داری ہے تو "کال" (وقت) کی،

قسمت نے اسے مارا ہے۔ جو ہوا وہ وقت کا تقاضا تھا۔ جس طرح بادل ہوا سے اِدھر اُدھر بھاگتے رہتے ہیں اسی طرح "مِرتو" بھی قسمت کے حکم سے اِدھر اُدھر بھاگتی ہے۔ " ابھی یہ بحث چل ہی رہی تھی کہ "کال" یعنی وقت/ قسمت سامنے آ گئی۔ اس نے کہا "لڑکے کی موت کی ذمہ داری مجھ پر ہے اور نہ سانپ پر، ذمہ داری کہو یا جو کہو "کرم" ہی یہ سب کرتا ہے۔ "کرم" ہی ہرکام کر نے پر مجبور کرتا ہے یہ اس لڑکے کا "کرم" ہے جو ذمہ دار ہے، ہم سب ذمہ دار نہیں ہیں۔ جس طرح کمہار گیلی مٹّی کو جس طرح چاہتا ہے موڑتا رہتا ہے اسی طرح "کرم" یا انسان اپنی تقدیر بناتا ہے، لڑکے نے اپنی جو تقدیر بنائی یہ اسی کا نتیجہ ہے۔

ایسی بہت سی اساطیری کہانیاں "مہابھارت" میں موجود ہیں جو زندگی اور موت کو طرح طرح سے سمجھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ کئی قصّے "bسی" کے عمدہ نمونے ہیں۔ رومانیت اور "سیکس" کے تعلق سے بھی قصّے ملتے ہیں جو جمالیات اور المیہ کی جمالیات کو مختلف انداز سے پیش کرتے ہیں 1؂۔

میں نے ہندوستانی اساطیر اور اس کی جمالیات کی کہانی سب سے خوبصورت قصّے "سمندر منتھن" سے شروع کی ہے۔ ۔ ۔ آخر میں، سب سے زیادہ دردناک کہانی سنا رہا ہوں، "مہابھارت" میں یہ کہانی پڑھتے ہوئے لگتا ہے جیسے معاشرے کی ٹریجڈی نے ہمیں اپنی مکمل گرفت میں لے لیا ہے، جب ٹریجڈی کا جوہر اچانک نمایاں ہوتا ہے تو کلیجہ لہو لہان ہوتا محسوس ہوتا ہے۔

یہ کہانی ہے یکلاویا (Eklavya) کی۔

درون اچاریہ کے آشرم کے پاس ارجن اور ان کے بھائی مختلف فنون کی تربیت حاصل کرتے ہیں، ان فنون میں تیر اندازی کا فن سب سے زیادہ اہم ہے۔ ارجن درون اچاریہ کے محبوب شاگرد ہیں کہ جنھیں اچاریہ تیر اندازی کا ماہر بنا چکے ہیں۔ قریب ہی شودر ذات کا ایک ہونہار لڑکا یکلاویا رہتا ہے جو تیر اندازی کا سبق لینا چاہتا ہے۔ یکلاویا کی ماں بیٹے سے کہتی ہے اچاریہ کے پاس جاؤ گے تو وہ ہر گز ہر گز تمھیں تربیت نہیں دیں گے اس لیے کہ تم شودر ذات کے ہو۔ " یکلاویا مایوس نہیں ہوتا۔ اچاریہ کے آشرم کے ساتھ ہی ایک جنگل میں ایک درخت کے نیچے مٹّی (لکڑی) کا مجسمہ بناتا ہے جو درون اچاریہ کا ہم شکل پیکر ہے صبح شام ایک عابد کی طرح مجسّمے کے پاس پھول رکھتا ہے، خوشبو دار لکڑیاں جلاتا ہے۔ اس پیکر کو اپنا گرو تصوّر کر کے تیر اندازی کی مشق کرتا ہے۔ آہستہ آہستہ مشق کرتے ہوئے یکلاویا تیر اندازی کا ماہر ہو جاتا ہے، ہر دم یہی سوچتا ہے کہ یہ گرو درون اچاریہ کا فیض ہے۔

ایک دن اچاریہ درون اپنے عزیز شاگرد ارجن کے ساتھ یکلاویا کی جھونپڑی تک آتے ہیں۔ اس وقت ایک کتاّ زور زور سے بھونکنے لگتا ہے، یکلاویا کو اس کا بھونکتے رہنا اچھا نہیں لگتا ایک تیر چلا کر کتے ّ کا منہ بند کر دیتا ہے۔ درون اچاریہ اور ارجن دونوں کو سخت حیرت ہوتی ہے سوچنے لگتے ہیں بھلا ایسا نشانہ کس کا ہو سکتا ہے، یہ کون ماہر تیر انداز ہے کہ جس نے ایک تیر سے بھونکتے کتے ّ کا منہ بند کر دیا? ارجن کی بے چینی بہت بڑھ جاتی ہے انھیں لگتا ہے ان سے بھی بڑا کوئی تیر انداز موجود ہے۔ دونوں تیر انداز کو تلاش کرتے ہوئے یکلاویا تک پہنچ جاتے ہیں۔ اچاریہ اپنی مورتی دیکھتے ہیں اور سمجھ جاتے ہیں معاملہ کیا ہے۔ وہ سمجھ جاتے ہیں کہ یکلاویا ذہنی اور جذباتی طور پر ان کی مورتی سے وابستہ ہے اور اسے دیکھ کر تیر اندازی کی مشق کرتا ہے۔ اچاریہ درون کے دل میں یہ خوف بیٹھ جاتا ہے کہ یکلاویا ان کے عزیز شاگرد ارجن سے آگے بڑھتا جا رہا ہے۔ وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ ارجن کا کوئی ثانی نہ ہو۔

درون اچاریہ آگے بڑھ کر دریافت کرتے ہیں "اے تیر انداز یہ تو بتا تیرا گرو کون ہے، تو نے ایسی تیر اندازی کہاں سے سیکھی ہے؟"

یکلاویا گرو کو سامنے دیکھ کر بے حد خوش ہوتا ہے جواب دیتا ہے "یہ آپ کا کرم اور آشیرواد ہے، آپ کی مورتی سے ہدایت لے کر تیر اندازی کی مشق کرتا ہوں، گرو درون اچاریہ جھٹ کہتے ہیں "تولاؤ گرو دکشنا!"

یکلاویا دریافت کرتا ہے "گرو کیا چاہتے ہیں؟ جو چاہتے ہیں دوں گا۔ "

درون اچاریہ کہتے ہیں "تم مجھے اپنے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا دے دو!"

یکلاویا جھٹ اپنے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ کر اچاریہ درون کو پیش کر دیتا ہے۔ اچاریہ جانتے ہیں کہ انگوٹھا کٹ گیا تو وہ پھر کبھی کمان اُٹھا کر تیر نہیں چلا سکے گا!

اچانک ایک گہری خاموشی طاری ہو جاتی ہے۔

درخت خاموش ہو جاتے ہیں۔

پرندوں کے نغمے گم ہو جاتے ہیں

پورا جنگل گم سم ہو جاتا ہے۔

(کہا گیا ہے کہ تمام دیوتا جنت میں خوش ہو گئے اور یکلاویا کو آشیرواد دینے لگے!!)

یہ ایسی ٹریجڈی ہے کہ جس سے کلیجہ لہو لہان ہو جاتا ہے۔

یکلاویا اس اساطیری کہانی کی ٹریجڈی کا جوہر بن کر سامنے آتا ہے!!


اسلام کے ظہور سے قبل عرب ممالک اور وسط ایشیائی خطّوں میں قصّوں کہانیوں کی ایک بڑی روایت موجود تھی، خرافات اور توہمات سے بھرے قصّے شوق سے سنے جاتے۔ یہ قصّے ایک علاقے سے دوسرے علاقوں تک پہنچے اور ذہنوں کو متاثر کیا۔ چونکہ ان قصّوں میں عموماً عجیب و غریب باتیں ہوتیں اور "bسی" کی ایک بڑی دنیا آباد ہوتی اس لیے دلچسپی سے سنے جاتے، مسافر ایک علاقے سے دوسرے علاقے کا سفر کرتے تو قصّے کہانیوں کے واقعات و کردار بھی ساتھ ہوتے۔ مختلف علاقوں کے اثرات ہوتے ہوتے ممکن ہے بہت سی کہانیوں کی صورتیں بھی تبدیل ہو گئی ہوں۔ عربی قصّوں پر یہودی کلچر کے بھی گہرے اثرات ہوئے جن کی وجہ سے اس کلچر کے واقعات نے عربی قصّوں کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا۔ محققین کہتے ہیں قدیم عرب قصّوں کہانیوں اور حکایتوں کا بہت بڑا سرمایہ ضائع ہو چکا ہے۔

اسلام سے قبل یونانیوں، رومیوں، عیسائیوں اور عربوں کی قدیم تہذیب میں اساطیری قصّے بہت مقبول رہے ہیں، شعرا بھی اپنے کلام میں ان قصّوں کا رنگ شامل کرتے، خود اساطیری فضاؤں کی تخلیق کر کے عوام کو متاثر کر نے کی کوشش کرتے۔ قصّے ہوں یا شاعری جن جناّت، جادو، بھوت پریت سب کردار ادا کرتے۔ جنوں اور فوق الفطری عناصر سے لوگوں کو ہمیشہ گہری دلچسپی رہی ہے۔ قدیم عرب اساطیر کے علاوہ قدیم فارس، مصر، شام، ترکی اور شمالی افریقہ کے اساطیری قصّوں میں بھی جن جنات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ عقیدہ بھی ملتا ہے کہ تخلیق آدم سے پہلے (دو ہزار سال قبل) جن پیدا ہوئے تھے۔ جنت میں انھیں نمایاں حیثیت حاصل تھی۔ ان کی حیثیت فرشتوں سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہ تھی۔ جن آگ اور ہَوا سے پیدا کیے گئے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ آدم کو سجدہ کر نے کی بات آئی تو ابلیس کے ساتھ جنوں نے بھی سجدہ کر نے سے انکار کر دیا۔ قدیم عقیدہ یہ ہے کہ جن کوہِ قاف میں رہتے ہیں، یہ پہاڑی سلسلہ دنیا کا چکّر لگاتا رہتا ہے۔ کوہِ قاف انتہائی پُر اسرار علاقہ ہے کہ جہاں انسان کی پہنچ نہیں ہے۔ صرف جِن ہی اپنی مرضی سے کسی انسان کو کوہِ قاف لے جا سکتے ہیں۔ قدیم کہانیوں میں پریوں کا مسکن بھی کوہِ قاف ہی میں ملتا ہے۔

قصّوں کہانیوں میں جن بہت طاقتور اور ہوشیار کردار نظر آتے ہیں۔ وہ فائدہ بھی پہنچاتے ہیں اور نقصان بھی کرتے ہیں، جن اچھے بھی ہیں اور بُرے بھی۔ انسان کبھی جن کے قبضے میں چلے جاتے ہیں اور کبھی جن ان کے قبضے میں چلے آتے ہیں۔

عرب اساطیر میں جنّی فوق الفطری روح ہے، ان کا مقام فرشتوں اور عفریتوں سے نیچے ہے۔ جن کے علاوہ "غول " اور عفریت کا ذکر بھی ملتا ہے۔ "غول" فریب دینے اور نقصان پہنچانے والی روحیں ہیں، یہ روحیں اطمینان سے اپنے چہرے تبدیل کرتی رہتی ہیں۔ قدیم اساطیر میں جن کی تخلیق آگ اور ہَوا سے ہوئی ہے اپنی صورتیں تبدیل کرتے رہتے ہیں، وہ انسان کی صورت بھی اختیار کر سکتے ہیں اور کسی جانور کی بھی۔ وہ چاہیں تو درخت پتھر میں تبدیل ہو سکتے ہیں، تباہ شدہ عمارتوں میں آباد رہتے ہیں۔ آگ کے اندر بھی رہ سکتے ہیں اور زمین کے اندر بھی۔ من کے موجی ہیں۔ خواہ مخواہ جب چاہیں کسی بھی انسان کو سزا دے دیں، وبا اور بیماری پھیلانے میں آگے رہتے ہیں۔ حادثوں کے بھی ذمہ دار ہوتے ہیں۔ شمالی افریقی، مصری، شامی اور فارس اور ترکی لوک کہانیوں میں جن جناّت کا ذکر بہت زیادہ ملتا ہے۔ قرآن حکم میں ان کے وجود کی تصدیق کے بعد تو کہانیوں میں ان کے کرداروں کا عمل اور تیز ہو گیا۔ "ہزار راتوں کی کہانیوں " نے تو ان کے کردار اور ان کے عمل کو اور مستحکم کر دیا۔

جن جناّت کے ساتھ "عفریت" کی روح بھی قدیم اساطیری قصّوں میں خوب منڈلاتی رہی ہے۔ ان کے پَردھوئیں جیسے ہیں، عموماً زمین کے اندر رہتے ہیں۔ پرانے عرب قبیلوں کی لوک کہانیوں میں ان کے کردار ملتے ہیں۔ ان کی باضابطہ حکومتیں قائم ہیں۔ بادشاہ، ملکہ، وزیر، قبیلہ۔ ۔ ۔ سب موجود ہیں۔ وہ چاہیں تو خوبصورت عورتوں سے شادی کر لیں اور کسی کو بھی ان عورتوں کے پاس آنے نہ دیں۔ جادو ٹونا ہی سے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے، ان کی شکست تلوار خنجر سے نہیں ہو سکتی صرف جادو ٹونا سے ہو سکتی ہے۔ عورتوں پر سوار ہو جاتے ہیں تو انھیں ہٹانے کا واحد علاج جادو ٹونا ہے۔ یہ بھی جنوں کی طرح "صاحبِ ایمان" ہوتے ہیں اور کافر بھی، اچھے بھی ہوتے ہیں اور بُرے بھی۔ لوک کہانیوں میں ان کی احمقانہ حرکتوں کو بھی موضوع بنا کر لطف لیا گیا ہے۔ اساطیری قصوں میں ایسے جن اور عفریت ملتے ہیں جو اپنے باغیانہ رجحان سے پہچانے جاتے ہیں۔


عرب میں ایسے کاہن بھی تھے جو مستقبل میں ہونے والے واقعات سے اپنی واقفیت کا دعویٰ کرتے اور جنوں اور عجیب و غریب مخلوقات کی حکایتیں اور کہانیاں سنایا کرتے۔ بنیادی مقصد دلوں میں خوف پیدا کرنا اور استحصال کرنا ہوتا۔ اُس دور کی اساطیری کہانیوں میں "شق" سطیح اور عفیر وغیرہ کی کہانیاں مقبول تھیں۔ "شق" نصف مرد اور نصف عورت تھا۔ ایک ہاتھ تھا ایک پیر اور ایک آنکھ تھی۔ "سطیح" کا سر تھا اور نہ ہی اس کی گردن تھی، اس کی چھاتی میں چہرہ تھا، یہ دونوں پیش گوئی کرتے اور مستقبل کا حال بتاتے۔ ان کا وجود تو تھا نہیں محض خیالی پیکر تھے لیکن قصّوں حکایتوں میں اس طرح پیش کیے جاتے جیسے زندہ کردار ہوں۔ عربی ترکی، مصری اور شامی اساطیر میں ایسے جنوں کے کارناموں کا ذکر ملتا ہے جو انسان کو نقصان پہنچاتے تو ہیں وقت پر ان کی مدد بھی کرتے ہیں۔ ہزار راتوں کی داستان نے جہاں اور بہت سے کرداروں کو مقبول بنایا وہاں جن جناّت کو بھی قبائلی زندگی کے اندر اُتار دیا۔ تخیل نے طرح طرح کی کہانیاں اور حکایتیں تراشیں، ہندوستان اور انڈونیشیا میں تو جن اس طرح آئے کہ یہاں رچ بس گئے اور ابھی تک کم از کم اپنے ملک میں ان کے تعلق سے نِت نئی کہانیاں سنتے رہتے ہیں۔ قرآن حکیم میں ان کا ذکر آیا تو یہ اور بھی مستحکم ہو گئے، ان کی "bسی" کی دنیا ایک علیحدہ حیثیت رکھتی ہے۔

اسلام کے ظہور سے قبل تو اساطیری5 کی ایک بڑی دنیا آباد تو تھی ہی اسلام کے آنے کے بعد جانے کتنے 5 وجود میں آ گئے۔ قرآن حکیم نے جن کا ذکر کیا وہ تو موجود ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اُن کا ذکر سن کر ایسے "5س" کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا کہ جن کا اس مقدس کتاب سے کوئی تعلق نہ تھا۔ مثلاً حضرت فاطمہؓ کا ہاتھ، حضرت فاطمہؓ کی آنکھ، اس کا تعلق یہودی 5 سے ہے۔ حضرت موسیٰ کی ہمشیرہ مریم کے تعلق سے جو 5 ہے وہ نگہباں آنکھ اور نگہباں ہاتھ (پنجہ) کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اسی طرح خدا کے تخت کو اُٹھائے ہوئے سانڈ، عقاب، شیر اور انسان کا 5 بھی غیر اسلامی ہے۔ ممکن ہے تورات میں اس کا ذکر ہو، نئے عہد نامے میں تو ذکر موجود ہے۔ میخائل، میکائل ہو گئے ہیں، یہ وہی میکائل ہیں کہ جن کی نظر جہنم پر پڑی تو ایسے گم سم ہو گئے کہ اُنھیں کبھی ہنسی نہیں آئی۔ مسلمانوں کے 5 میں میکائل اور جبریل وہ پہلے فرشتے ہیں کہ جنھوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے آدم کو سجدہ کیا اور ان ہی دونوں فرشتوں نے معراج سے قبل حضور ا کرمؐ کے دل کی صفائی کی اور اسے مکمل طور پر پاکیزہ بنایا۔ یہودی میکائل کو بہت ہی بلند درجہ دیتے ہیں، ان کے تعلق سے بہت سی روایتیں اور 5 موجود ہیں۔ یہودی کہتے ہیں کہ میکائل خدا کے بائیں اور جبریل دائیں بیٹھے ہیں۔ اسلام سے قبل یہودیوں اور عیسائیوں کی روایتوں میں میکائل تمام فرشتوں میں سب سے بلند درجہ رکھتے ہیں۔ میکائل "سنٹ میخائیل" بن گئے۔ کہا گیا اُن کا چہرہ خدا کی طرح ہے انھیں ہمیشہ پر وقار مقام حاصل رہا۔ قصّوں کہانیوں اور حکایتوں میں وہ اکثر مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ "عہد نامہ" قدیم (Od Testament) میں میخائل کا ذکر دوبار آیا ہے۔ اُنھیں عظیم شہزادہ کہا گیا ہے۔ روایت یہ بھی ہے کہ یہ میخائل ہی تھے کہ جنھوں نے کوہِ طور پر حضرت موسیٰ سے گفتگو کی تھی، ان کی انسان دوستی اور انسان سے اُن کی محبت کا ذکر 5 میں اس طرح بھی آیا ہے کہ وہ حضرت آدم سے بیحد محبت کرتے تھے اس لیے کہ وہ پہلے انسان تھے اور ان کی وجہ سے انسان کی پیدائش کا سلسلہ شروع ہونے والا تھا۔ یہ 5 بھی توجہ طلب ہے کہ حضرت آدم کے انتقال کے بعد میخائل ہی تھے کہ جنھوں نے ان کے جسم اور روح کو پاکیزہ بنایا اور ان کی روح کو احترام کے ساتھ جنت تک لے گئے۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ میخائل اُن پانچ فرشتوں میں ایک تھے جنھوں نے حضرت موسیٰ کو دفن کیا اور ان کی قبر تیاّر کی۔ میخائل اور شیطان کی زبردست جنگ کا بھی ذکر ملتا ہے، میخائل کو روشنی کا پیکر اور شیطان کو تاریکی کا پیکر کہا گیا ہے۔ روشنی کی فتح ہوتی ہے۔ تاریکی کو شکست کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ اس جنگ کا ذکر "نئے عہد نامے " میں بھی موجود ہے۔ کیتھولک چرچ کا یہ پرانا عقیدہ رہا کہ میخائل عیسائی فرشتے ہیں جن کا سب سے بڑا کام موت کے بعد روحوں کو جنت تک لے جانا ہے۔ مسلمانوں میں یہ عقیدہ راسخ ہوتا گیا ہے کہ چار محترم فرشتوں میں وہ ایک ہیں، عزرائیل، ؔ اسرائیل، جبریل اور میکائل، یہ چاروں اپنے سبزپروں کے ساتھ اُڑتے رہتے ہیں۔ میکائل ساتویں آسمان پر رہتے ہیں۔

عزرائیل موت کے فرشتے ہیں، روح قبض کر کے لے جاتے ہیں۔ پوری کائنات کے برابر اُن کا جسم ہے، چار ہزار پر ہیں۔ آنکھوں اور زبانوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے، ان کا ایک پاؤں زمین پر ہوتا ہے اور دوسرا ساتویں آسمان پر۔ وہ جنت اور جہنم کے درمیان پل صراط سے گزرتے رہتے ہیں۔ ان کے تعلق سے بھی جانے کتنی حکایتیں اور کہانیاں ہیں۔ ایک حکایت یہ ہے کہ تخلیقِ آدم سے قبل اُنھیں زمین پر بھیجا گیا تاکہ وہ دھرتی کی مٹّی لے کر آئیں اس لیے کہ خدا کو زمین کی مٹّی سے آدم کو بنانا تھا۔ زمین پر ابلیس کے ساتھ ٹکراؤ ہوا۔ کامیاب ہوئے اور مٹّی لے کر آ گئے۔ اس کے عوض میں انھیں موت کا فرشتہ بنا دیا گیا۔ اس حکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روشنی اور تاریکی کے دائروں میں گھومتے گھومتے اُنھیں اس بات کی خبر نہیں ہوتی کہ کس شخص کی روح لے کر پرواز کرنا ہے، خدا کے تخت کے نیچے ایک پیڑ ہے اس پیڑسے پتاّ گرتا ہے اس پتے ّ پر اُس شخص کا نام لکھا ہوتا ہے کہ جس کی روح کو لے جانا ہے۔ وہ ہر دم درخت کے پتے ّ کے گر نے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ اُدھر نام پتے کے ساتھ درخت سے پتاّ گرا اور حضرت عزرائیل پتے ّ لے کر دوڑ پڑے۔ یروشلم کی مقدس پہاڑی پر فرشتہ حضرت اسرافیل قیامت کے آنے کی خبر دینے کے لیے ڈنکا لیے تیاّر کھڑے ہیں۔ خدا کے حکم کا انتظار ہے۔ یہودی اور عیسائی لٹریچر میں اسرافیل کی جگہ "ریفل" (Raphael) ہیں، ڈنکے پر چوٹ مار نے یا ڈنکا بجانے کا یہ 5 بہت ہی قدیم ہے۔ ان کا پیکر عموماً اس طرح پیش کیا گیا ہے پورے جسم پر بڑے بڑے بال، جانے کتنے منہ اور جانے کتنی زبانیں، سب بالوں کی وجہ سے پوشیدہ، ساتویں آسمان سے خدا کے تخت تک پہنچ ہے۔ ایک بڑے پَر سے پورے جسم کو چھپائے ہوئے دوسرے پَر سے خدا سے پردہ کیے ہوئے، ایک پَر مشرق کی جانب پھیلا ہوا تاحد نظر پَر ہی پَر، اور دوسرا پَر مغرب کی جانب پھیلا ہوا، وہ جہنم کو دیکھ دیکھ کر روتے رہتے ہیں، کم از کم تین بار دن میں اور تین بار شب میں اُن کے آنسو کے بہنے کی رفتار اتنی تیز ہو جاتی ہے لگتا ہے وہ خود اپنے آنسوؤں میں غرق ہو جائیں گے۔

قرآن حکیم میں بہت سے واقعات، حکایات اور کردار تمثیلی حیثیت رکھتے ہیں، تاریخی نوعیت کے قصّے بھی ہیں اور تمثیلی قصّے بھی۔ گزرتے وقت کے ساتھ انھیں اس طور پر پیش کیا جانے لگا جیسے یہ اساطیری ہوں۔ مختلف کتابوں میں ان کی صورتیں اس حد تک بگاڑ دی گئیں کہ بنیادی باتیں گم ہو گئیں اور خرافات اور توہمات کا ذخیرہ جمع ہو گیا۔ قرآنِ پاک کی حکایتوں کی تشریح کرتے ہوئے اسرائیلی ذہن نے تورات اور اپنی دوسری مذہبی کتابوں کی باتیں اس طرح شامل کیں جیسے وہ باتیں ان ہی حکایتوں میں شامل تھیں۔ ہم جانتے ہیں تورات میں کائنات اور انسان کے تعلق سے جو باتیں ہیں وہ اساطیر سے بہت ہی قریب ہیں۔ واقعہ معراج کا ہو یا مختلف پیغمبروں کی حکایتیں ہوں اسرائیلی ذہن نے ان کی صورتیں بگاڑ دی ہیں۔


برّاق کو ایک طرف فرسودہ روایت نے مسخ کیا اور دوسری طرف برّاق کی پرانی تصویروں نے جو ایران اور مختلف علاقوں میں بنائی گئیں۔ کہیں سفید جانور ہے خچر کے چہرے کے ساتھ، کہیں اس کا سر عقاب کی طرح ہے، بڑے دو پر ہیں، جسم شیر کا، کہیں یونانی اساطیر کے عفریت (Sphinxes) کی طرح، سرعورت کا جسم شیرنی کا۔ بڑے بڑے پَر کے ساتھ، کہیں "سنٹور" (Centaurs) یعنی قنطورس نصف انسان، نصف گھوڑا یا کوئی اور جانور۔ چودھویں صدی کے بعد برّاق اور اس کے "مِتھ" کے تعلق سے بہت سی تصویریں بنی ہیں۔

قرآن پاک میں پیغمبروں کے معجزوں کے ذکر اور ان کی حکایتوں کو پا کر خرافات و توہمات سے بھرے قصّوں کہانیوں کا ایک بازار سا لگ گیا۔ بلاشبہ قرآن کریم کے معجزات و حکایات کے گہرے اثرات ہوئے ہیں لیکن اساطیری رنگ کے بدنما دھبّوں کے ساتھ یہ کہانیاں اُس وقت اور زیادہ تکلیف پہنچاتی ہیں جب مذہبی زندگی کے واقعات و کردار کو خواہ مخواہ مسخ کر نے کی کوشش ہوتی ہے۔ مثلاً خدا آدم اور حوّا کا نکاح پڑھاتے ہیں اور انھیں ایک خاص وقت ایک دوسرے کے قریب آنے سے روکتے ہیں۔ (جب تک کہ مہر ادا نہ ہو جائے )، حضرت یوسف اور زلیخا کی شادی۔ حضرت یوسف سے شادی تک زلیخا اپنے شوہر سے دور رہتی ہے? حضرت سلیمان اور ملکہ بلقیس کی من گھڑت کہانیاں، شبِ معراج کا ذکر کچھ اس طرح جیسے کوئی اساطیری کہانی سن رہے ہوں۔ ایسے سیکڑوں واقعات ہیں جنھیں پڑھ کر لطف آتا ہے اور نہ یقین۔ سارے واقعات و کردار اساطیری اور توہماتی ہیں کہیں کہیں الف ولیلہ کے اثرات تو نظر آتے ہیں لیکن ان سے ان نام نہاد داستانوں کا معیار کہیں بھی اُوپر نہیں اُٹھتا۔

ان توہماتی اور خرافاتی قصوں کی سطح اتنی نیچی ہے کہ انھیں اساطیری قصوں سے بھی تعبیر کرنا ظلم ہے۔

قیامت کے آثار اور علامات کا جو ذکر ہوا ہے اس کے تعلق سے چند اشارے اس طرح پیش کیے جا سکتے ہیں:

ابوسفیان کے قبیلے کا ایک شخص مسلمانوں کا قتل کرے گا اور شام اور مصر پر قبضہ کر لے گا۔

عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان زبردست جنگ ہو گی۔ پھر صلح ہو جائے گی، لیکن عیسائی مسلمانوں کے دشمن بنے رہیں گے۔

استنبول پر عیسائیوں کا قبضہ ہو جائے گا۔ پھر مسلمان قابض ہوں گے۔

حضرت امام مہدی کے آنے کا انتظار ہو گا۔

اُس وقت سورج گرہن بھی مکمل ہو گا اور چاند گرہن بھی۔

چالیس برس کی عمر میں حضرت امام مہدی ّمکہ شریف میں دِکھائی دیں گے اس کے بعد مدینہ منورہ چلے جائیں گے۔

مسلمانوں کی فوج میں حرکت پیدا ہو گی، خراسان کے منصور کی فوج حضرت امام مہدی کی مدد کے لیے آگے بڑھے گی۔ مسلمانوں کی فتح ہو گی۔ وہ سیاہ پرچم لیے ہوں گے۔

سفیانی فوج کو زمین نگل جائے گی۔

حضرت امام مہدی مسلمانوں کی ایک بڑی فوج لے کر شام جائیں گے تاکہ عیسائیوں کو شکست دے سکیں۔

حضرت امام مہدی کی فوج فلسطین پر قابض ہو جائے گی۔ پھر شام کی فتح ہو گی۔

تین سال قحط پڑے گا اور پھر دجّال آئے گا۔

دجّال کے ماننے والے یہودی ہوں گے جن کا لباس قیمتی ریشمی کپڑے کا ہو گا اور جن کے ہاتھ میں دو رُخی تلواریں ہوں گی۔

حضرت امام مہدی ہی کے زمانے میں حضرت عیسیٰ آئیں گے۔ ان کے ساتھ جنت کے مردے ہوں گے جنھیں وہ زندہ کریں گے۔

دجّال کا قتل ہو گا!

پھر ہر طرف امن و امان ہو گا۔

یاجوج ماجوج کی رہائی ہو گی۔ یہ صرف دو افراد نہیں جانے کتنے ہوں گے، یروشلم پہنچ جائیں گے۔ اعلان کریں گے وہ دنیا پر قابض ہو گئے ہیں۔

پھر ان کی موت ہو جائے گی۔

پھر چالیس دن بارش ہو گی اور دنیا گنا ہوں سے دھُل جائے گی۔ دنیا خوبصورت ہو جائے گی۔

حضرت عیسیٰ سات برس زندہ رہیں گے۔

اس کے بعد چالیس روز ہر جانب دھُواں ہی دھُواں نظر آئے گا۔ کچھ بھی دِکھائی نہ دے گا۔ اور پھر سورج مغرب سے طلوع ہو گا۔

پھر زمین کے اندر سے عجیب الخلقت جانور نکلیں گے، جن کی نظر گنہگاروں پر ہو گی۔

یمن میں زبردست آگ لگے گی اس کے بعد ہی صور کی آواز سنائی دے گی اور قیامت کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جائے گا!

"یہ غیر معمولی ہونے والے واقعات" قصوں کہانیوں کے موضوع بنے ہیں، قبیلوں میں یہ باتیں خوب خوب سنائی گئی ہیں تاکہ سننے والوں کے دلوں میں بیٹھ جائیں۔

اساطیری قصّوں کی خصوصیات لیے یہ سب شعور اور لاشعور میں اس طرح جذب ہیں کہ انھیں دور نہیں کیا جا سکتا۔

ایرانی اساطیر کی تاریخ بہت پرانی ہے، 1500 سال قبل مسیح سے اس کی ارتقائی منزلوں کی خبر ملتی ہے۔ زرتشتی مذہب سے قبل جو عقائد اور دیوتا تھے اور جو حکایتیں کہانیاں تھیں وہ آہستہ آہستہ اس میں جذب ہوتی گئیں لیکن ساتھ ہی نئے عقائد اور "مِتھ" بھی شامل ہوئیں۔ ایرانی اساطیر کی دُنیا روشنی اور تاریکی اور اچھائی اور بُرائی کی کائناتی کشمکش پر قائم ہے۔

ایرانی اساطیر کا رشتہ جنوبی روس اور وسط ایشیائی ملکوں کی روایات سے بہت گہرا رہا ہے۔ 1500 سے 1000 سال قبل مسیح ہند یوروپی آبادی کا ایک بڑا حصّہ ترکی، ایران اور شمالی ہند کی جانب منتقل ہوا۔ جو لوگ ایران میں رچ بس گئے ان کے اساطیری قصّے ہندوستانی قصّوں سے ملتے جلتے ہیں۔


مولانا ابوالکلام آزاد نے تفسیر سورۂ فاتحہ کے مقدمے میں تحریر فرمایا ہے: "زردشت کا جب ظہور ہوا تو اس نے ایرانیوں کو ان قدیم عقائد سے نجات دلائی اور "مزدیسنا1؂" (Mazdayasni) کی تعلیم دی یعنی دیوتاؤں کی جگہ ایک خدائے واحد "ا ہورا مزدا" (Ahura Mazda) کی پرستش کی، یہ ا ہورا مزدا یگانہ ہے بے ہمتّا ہے، بے مثال ہے، نور ہے، پاکی ہے، سراسر حکمت اور خیر ہے اور تمام کائنات کا خالق ہے۔ اس نے انسان کے لیے دو عالم بنائے۔ ایک عالم دینوی زندگی کا ہے دوسرا مر نے کے بعد کی زندگی کا، مر نے کے بعد جسم فنا ہو جاتا ہے مگر روح باقی رہتی ہے۔ اور اپنے اعمال کے مطابق جزا پاتی ہے۔

دیوتاؤں کی جگہ اس نے "امش پند" (Amahraspand) [پہلوی لفظ ہے ) اور "یزتا" (Yazad) (یہ بھی پہلوی لفظ ہے ) کا تصوّر پیدا کیا یعنی فرشتوں کا۔ یہ فرشتے ا ہوار مزدا کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ برائی اور تاریکی کی طاقتوں کی جگہ انگرامے نیوش (Angrame Niyush) کی ہستی کی خبردی یعنی شیطان کی، یہی انگرامے نیوش یازند کی زبان میں اہرمن ہو گیا۔ 1؂

مولانا آزاد نے آگے تحریر کیا ہے کہ زردشت کی تعلیم میں ہندوستانی آریاؤں کے ویدی عقائد کا ردّ صاف صاف نمایاں ہے۔ ایک ہی نام ایران اور ہندوستان دونوں جگہ اُبھرتا ہے اور متضاد معنی پیدا کر لیتا ہے۔ اوستا کا "ا ہورا" سام اور یجروید میں "اسورا" ہے اور اگر چہ رِگ وید میں اس کا اطلاق اچھے معنوں میں ہوا تھا مگر اب وہ برائی کی شیطانی روح بن گیا ہے۔ ویدوں کا "اِندرا" اوستا کا "انگرا" ہو گیا۔ ویدوں میں وہ آسمان کا خدا تھا، اوستا میں زمیں کا شیطان ہے۔ ہندوستان اور یورپ میں "دیو" (Dev) اور "ڈے یوس" (Deus) اور تھیوس (Theus) خدا کے لیے بولا گیا لیکن ایران میں "دیو" کے معنی عفریتوں کے ہو گئے۔ گویا دونوں عقیدے ایک دوسرے سے لڑرہے تھے۔ ایک کا خدا دوسرے کا شیطان ہو جاتا تھا اور دوسرے کا شیطان پہلے کے لیے خدا کا کام دیتا تھا۔ اسی طرح ہندوستان میں "یم" زندگی اور انسانیت کی سب سے بڑی نمود ہوئی اور پھر یہی "یم" جم ہو کر جمشید ہو گیا۔

مولانا نے کہا ہے "لیکن معلوم ہوتا ہے کہ چند صدیوں کے بعد ایران کے قدیم تصوّرات اور بیرونی اثرات پھر غالب آ گئے اور ساسانی عہد میں جب "مزدنیا" کی تعلیم کی ازسرنو تدوین ہوئی تو قدیم مجوسی، یونانی اور زرتشتی عقائد کا ایک مخلوط مرکب تھا اور اس کا بیرونی رنگ و روغن تو تمام تر محسوسی تصوّر مجوسی تصوّر ہی نے فراہم کیا تھا، اسلام کا جب ظہور ہوا تو یہی مخلوط تصوّر ایران کا قومی مذہبی تصوّر تھا، مغربی ہند کے پارسی مہاجر یہی تصوّر اپنے ساتھ ہندوستان لائے اور پھر یہاں کے مقامی اثرات کی ایک تہہ اس پر اور چڑھ گئی۔ "

مولانا نے واضح کیا ہے کہ مجوسی تصوّر کی بنیاد ثنویت (Duaism) کے عقیدے پر تھی یعنی خیر اور شر کی دو الگ الگ قوتیں ہیں۔ "ا ہورا مزدا" جوکچھ کرتا ہے "خیر اور روشنی ہے۔ " انگرامے نیوش" یعنی اہرمن جو کچھ کرتا ہے شر اور تاریکی ہے۔ عبادت کی بنیاد سورج اور آگ کی پرستش پر رکھی گئی کہ روشنی یزدانی صفات کی سب سے بڑی مظہر ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ مجوسی تصوّر نے خیر اور شرکی گتھی یوں سلجھانی چاہی کہ کارخانۂ ہستی کی سربراہی دو متقابل اور متعارض قوتوں میں تقسیم کر دی۔ (ترجمان القرآن مقدمہ تفسیر فاتحہ)

ایرانی اساطیر کے تعلق سے جو ابتدائی معلومات حاصل ہوئی ہیں وہ "ژند اوستا" ہے، یہ زرتشتی مذہب کی پہلی مقدس کتاب ہے۔ اس کے بیشتر حصّے سکندر اعظم کے حملے (334 قبل مسیح) کی وجہ سے ضائع ہو گئے۔ سکندر اعظم نے 334 برس قبل ایران پر قبضہ کر لیا تھا۔ 600۔ 200ء کے درمیان میں "ژند اوستا" کو مرتب کیا گیا۔ اس کے ایک حصّے میں وہ "گا تھائیں " (Gathas) ہیں جو زرتشت کے طبع زاد گیتوں اور نغموں سے تعبیر کی جاتی ہیں۔ اس کے ایک دوسرے حصّے میں اساطیری مواد ملتے ہیں، ان میں "یاشت" (Yashts) ہیں یعنی وہ مقدس نغمے کہ جن کا تعلق فرشتوں سے ہے۔ ["یاشت" پہلوی لفظ ہے، مفہوم ہے روحانی پیکروں کے لیے حمدیہ نغمے (Hymns) ] ایرانی اساطیر کی بنیاد خیر اور شرر کی کشمکش، خیر کی فتح اور پیغمبر کی روحانیت اور وجدان پر قائم ہے۔ دو طاقتور دیوتا ہیں (کہیں کہیں جڑواں بھائی کے طور بھی پیش ہوئے ہیں ) ایک ا ہورا مزدا خالق، روشنی کا دیوتا، سچائی اور افضل باطنی اوصاف کا عاشق دوسرا اہرمن اس کے برعکس تاریکی کی علامت، جھوٹ اور برائیوں کا نمائندہ، تباہی و بربادی پسند کر نے والا، عفریتوں کا حاکم۔ دنیا ان دونوں کی جنگ کا میدان ہے۔ شدید تصادم اور کشمکش اور جنگ کے بعد ا ہورا مزدا کی فتح!

"ا ہورا مزدا" ایرانی اساطیر کا عظیم دیوتا ہے جو خالق ہے، مقدس آگ اس کی علامت ہے آگ کی عبادت اس کی عبادت ہے۔

"متھرس" (Mthras) جنگ کا دیوتا بھی ہے اور سورج کا بھی، دنیا میں نظم ضبط وہی قائم کرتے، دنیا کے قانون کا محافظ ہے۔ (روم میں بھی اس کی عبادت کی جاتی رہی ہے )

اناہیتا (Anahita) پانی اور افزائشِ نسل کی دیوی ہے۔

ویری تھراغنا(Vereithraghna) جنگ و فتح کا دیوتا ہے۔ دھرتی پر دس صورتوں میں نمودار ہوتا ہے۔ ان میں ہوا، سانڈ، گھوڑا اور اونٹ کے علاوہ سؤر، بھیڑ، جوانی اور انسان بھی شامل ہیں۔

ا ہورا مزدہ کے سامنے ان کی حیثیت زیادہ نہیں ہے اس لیے کہ اس کی حیثیت خالق کی ہے۔ اس نے سات فرشتے (Amesha Spentas) پیدا کیے، جو سچائی، تو انائی، اور ہمیشہ زندہ رہنے والی مخلوق ہیں۔ ان فرشتوں (Archanges) میں زرتشتی مذہب کی آمد کے قبل کے دیوتاؤں کی کچھ اہم خصوصیات بھی ملتی ہیں۔ کئی ہیرو اور بادشاہ بھی اساطیری حیثیت اختیار کیے ہوئے ہیں مثلاً ٹرے ٹونا (Traetaona) کہ جس نے ازہی دہاکا (Azhidahaka) سے جنگ کی تھی جو تین سروں والا اہرمن تھا۔ جب ٹرے ٹونا نے ازہی دہا کا کے سینے کو چاک کیا تو اس میں سے سانپ اور چھپکلیاں نکلنے لگیں۔ اس سے قبل کہ ان سانپوں اور چھپکلیوں کا زہر دنیا میں پھیلے ٹرے ٹونا نے اسے ایک پہاڑ کے اندر بند کر دیا جہاں وہ اُس دن تک رہے گا جب تک کہ قیامت نہیں آ جاتی۔ اگر اس کے بعد بھی دنیا قائم رہتی ہے تو ایک اور ہیرو آئے گا کہ جس کا نام کرے ساسپا (Keresaspa) ہو گا۔ وہ اسے مار ڈالے گا۔ اسی طرح بہرام گل اور رستم (شاہنامہ فردوسی) وغیرہ ایسے کردار ہیں جو اساطیری حیثیت رکھتے ہیں۔


ایران اور ایران کی سرحد سے وسط ایشیائی علاقوں تک اور Back Sea سے خوتان (چین کی سرحد) تک جو قومیں لسانیاتی اور تہذیبی طور پر ایک دوسرے سے قریب تھیں ان پر اساطیری قصّوں کہانیوں کے صدیوں اثرات ہوتے رہے ہیں۔ روایتی کہانیوں کا سلسلہ بھی قائم رہا ہے اور قدیم مذاہب کے پرانے قصّوں کا بھی سفر جاری رہا ہے۔ ان میں جانے کتنے 5 اور فوق الفطری افسانے تھے۔ قدیم ایرانی قصّوں کی بنیاد روشنی اور تاریکی کے تصادم کو واضح طور نمایاں کرتی ہے۔ سماج کے رجحانات بھی موجود ہیں اور دیوتاؤں اور فرشتوں کے عمل اور ردِّ عمل بھی۔ بہت سے عجیب الخلقت جانوروں اور پرندوں کے کردار بھی ملتے ہیں جن سے اساطیر کی bسی کی سطح بلند ہوتی ہے۔ ایران کے کلچر اور اس کی تاریخ کے پس منظر میں بھی قصّے موجود ہیں۔ ایران کے پہاڑوں کے سلسلے قصّوں کہانیوں میں بڑی کشش پیدا کرتے ہیں۔ مذہب کا سب سے گہرا اثر روشنی اور تاریکی اور اچھی اور بُری اقدار کے تصوّرات پر ہوا ہے۔ "اسپین ٹا مینیو" (Spenta Mainyu) (اوستی لفظ ہے ) مقدس روح ہے جو کار آمد تو انائی کی نمائندگی کرتی ہے، اینگرا مینیو (Angra Mainyu) بدروح ہے، تاریکی، تباہی اور موت کی نمائندہ ہے۔ ان دونوں کی کشمکش اور تصادم اور جنگ کی جانے کتنی کہانیاں ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ مقبول رستم کی کہانی ہے۔ اساطیری قصّوں میں سیمرغ، ہما اور قفنس (Phoenix) نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

اساطیری قصّوں کا تعلق ستاروں سے بھی ہے۔ سائریس (Sirius) ایک ستارہ ہے جو بارش کی نمائندگی کرتا ہے۔ ٹش تریا(Tishtrya) بارش کا دیوتا ہے جو قحط کے دیوتا اپوشا (Apausha) سے جنگ کرتا ہے۔ ا ہورا مزدہ کی مدد سے اپوشا کی ہمیشہ شکست ہوتی رہی ہے۔ ٹش تریا اور چند دوسرے دیوتا کھیت کھلیان کی نگہبانی کرتے ہیں۔ گیومارٹ (Gayomart) یا گیومارڈ پہلا انسان ہے (آدم)، موت کے بعد اس کا جسم زمین کے اندر چاندی سونے میں تبدیل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے پیڑپودے بڑھتے ہیں، اناج پیدا ہوتا ہے، عورت اور مرد وجود میں آتے ہیں، مرد کو ماشا (Masha) کہا گیا اور عورت کو ماشوئی (Mashyoi) ۔ ایرانی اساطیر میں موت دوسری زندگی کا سفر ہے۔ موت کے بعد انسان کی روح ایک پل صراط سے گزرتی ہے۔ اس پل کو چن وٹ (Chinvat) کہتے ہیں۔ اچھی روحوں کے لیے پل پھیل جاتا ہے، جو روحیں اچھی نہیں ہوتیں اُن کے لیے پل سکڑجاتا ہے، ایک کے لیے جنت کا راستہ ہے دوسرے کے لیے جہنم کا راستہ۔ زرتشتیوں کا عقیدہ ہے کہ ہر بارہ ہزار سال بعد چار دَور آتے ہیں۔ پہلے دَور میں اچھی اور بُری باتیں الگ الگ ہو جاتی ہیں۔ دوسرے دَور میں اچھی دنیا پر برائی کا حملہ ہوتا ہے، تیسرے دَور میں اچھائی اور برائی کی جنگ ہوتی ہے۔ جنگ شدّت اختیار کر لیتی ہے تو اس کے بعد برائی کی شکست ہوتی ہے۔ اچھائی کی فتح سے ہر جانب خوشیاں ہی خوشیاں ہوتی ہیں اور آخری دَور میں زرتشت کا وجود مرکزی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ زرتشتیوں کا عقیدہ یہ بھی ہے کہ ہر ایک ہزار سال بعد تین محافظ پیدا ہوتے ہیں۔ پہلے محافظ اوشے دار (Aushedar) ہیں کہ جنھوں نے زندگی کو سچائی کی راہ پرگامزن کیا۔ پندرہ برس کی ایک کنواری نے انھیں جنم دیا تھا۔ ایک جھیل میں زرتشت نے آنے والی نسل کے لیے بیج رکھ چھوڑا تھا کہ جسے اس کنواری عورت نے جھیل کے اندر ہی اپنے جسم میں جذب کر لیا۔ جس روز اوشے دار تیس برس کے ہوئے آفتاب دس دن تک ایک ہی پوزیشن پر کھڑا رہا، اس میں کوئی جنبش نہیں ہوئی۔ دوسرے محافظ اوشے دار ماہ (Aushedar-Mah) ہیں۔ ان کی پیدائش بھی اسی طرح ہوئی۔ اس بار سورج بیس دن ساکت رہا۔ غیر متحرک! تیسرے محافظ سوشیانت (Soshyant) ہیں۔ ان کا جنم بھی اسی طرح ہوا۔ کنواری عورت نے زرتشت کے بیج سے جنم دیا۔ ان کی رہنمائی میں دنیا کی ساری مخلوق حشر کے میدان پہنچے گی۔ روحوں کو ان کے اعمال اور کردار کے پیشِ نظر انصاف ملے گا۔ اچھی روحوں کو کائناتی سمندر سے حیات بخش پانی ملے گا جسے پی کر ان کی روح ہمیشہ زندہ رہے گی۔

ایرانی اساطیر میں مندر ذیل پیکر اہمیت رکھتے ہیں:

  • ابان (Aban) (فارسی) = پانی، پانی کا فرشتہ۔
  • ادار (Adar) (پہلوی) [آتش] =آگ، آگ کا فرشتہ۔
  • ادار فارن باگ (Adar Franbag) = مقدس آگ۔
  • اہرمن (Ahriman) (پہلوی) = عفریت، تباہی کا پیکر۔
  • آہو (Ahu) (پہلوی) = روحانی پیشوا۔
  • آہورا مزدہ (Ahura Mazda) (اوستی) = خدا۔
  • ایریا من (Airyaman) = دوستی کا فرشتہ۔
  • البرز (Abarz) = کائناتی پہاڑ۔
  • اماہ راسپند (Amahrapasand) (پہلوی) = ہمیشہ رہنے والی مہربان روحیں۔
  • اناگران (Anagran) = کبھی ختم نہ ہونے والی روشنی، ایک فرشتے کا بھی نام ہے۔
  • آردوی سورا اناہیتا (Aredvi Sura Aahita) = ایک خاتون فرشتہ۔
  • آسمان (Asman) (پہلوی) = آسمان، آسمان کا فرشتہ۔
  • استی ویہاد (Astwihad) (پہلوی) = موت کا عفریت
  • باگا (Baga) (فارسی) = خدا۔
  • چک ہاست (Chechast) (پہلوی) = ایک پراسرار جھیل۔
  • چن ود (پہلوی) = پل صراط۔
  • درج (Draj) (اوستی) = جھوٹ اور مکاّری کی فطرت لیے ایک عفریت۔
  • ہارا (Hara) = ایک پراسرار پہاڑ۔
  • ہرمزد (Ohrmazd) (پہلوی) = خدا۔
  • اُرون (Urvan) = روح۔

اساطیر فنونِ لطیفہ کی سب سے قدیم پراسرار متحرک روایت ہے۔ انسان کے نسلی لاشعور (Collective Unconsciousness) میں سیّال پگھلی ہوئی سرسراتی ہوئی روایت، رقص، مجسمہ سازی، مصوّری اور لٹریچر کی اس قدیم پراسرار روایت نے عمدہ اور عمدہ ترین تخلیقات عطا کی ہے۔ 5 لوک کہانی اور "خالص مِتھ" تینوں اساطیر کی تشکیل میں شامل ہیں۔ تمثیل (Aegory) نے اساطیر کے ارتقا میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اشیا و عناصر کو شخصیتیں ملی ہیں، چاند سورج ستارے، پانی، ریت، قوس قزح، آبشار، سمندر وغیرہ کو شخصیتیں عطا کی ہیں، ان میں تحرک پیدا کیا ہے۔ واقعات و کردار کو اجتماعی "bسی" (Collective Fantasy) کی صورت عطا کر نے میں تمثیل ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔

53۔ 1952ء میں پٹنہ یونیورسٹی میں ایم۔ اے کا طالب تھا۔ اُس وقت کرسٹوفر کا ڈوِل (Christopher Caudwell) کی مشہور تصنیف "الیوژن اینڈ ریئلیٹی" (Illusion and Reaity) نظر سے گزری تھی۔ کاڈوِل نے مارکسی نقطۂ نظر سے شاعری کے تعلق سے مختلف موضوعات پر گفتگو کی تھی۔ مثلاً "شاعری کا جنم"، "جدید شاعری کا ارتقا"، "انگریزی شعرا اور پرانی روایت"، "انگریزی شعرا اور صنعتی انقلاب"، "انگریزی شعرا اور سرمایہ داری کا زوال"، "شاعری کی خصوصیات"، "سائیکی اور bسی"، "شاعری اور خواب کا عمل"، "شاعری کا مستقبل" وغیرہ۔ ان ہی موضوعات میں ایک موضوع تھا "اساطیر کی موت" (The Death of Mythology) ۔ کرسٹوفر کا ڈوِل نے مارکسی نقطۂ نظر سے اساطیر کی موت کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ شاعری کو اساطیر کی نہیں مادّی سچائیوں کے شعور کی ضرورت ہے۔ اس خیال سے اتفاق کیا تھا کہ "مِتھ" سچی نہیں ہوتی، اس میں صرف فوق الفطری کردار ہوتے ہیں۔ اس کا جواب اس طرح دیا گیا تھا کہ تخلیق کے تعلق سے کوئی نہ کوئی تصوّر موجود ہوتا ہے جو احساس کی دین ہوتا ہے اور اس تصوّر کی بڑی اہمیت ہے۔ اساطیر ایک خاموش متحرک روایت ہے کہ جس کا سفر ہمیشہ جاری رہے گا۔ تخلیقی آرٹ کا باطنی رشتہ کسی نہ کسی سطح پر اساطیر اور اس کی روایت سے قائم رہتا ہے۔ معروف معلم نفسیات جی۔ سی۔ یونگ (G۔ C۔ Jung) نے نسلی اور اجتماعی لاشعور (Collective Unconsciousness) کا تصوّر پیش کر کے اور اس پر تفصیلی گفتگو کر کے یہ ثابت کر دیا کہ اساطیری روایات و کردار انسان کے لاشعور کی گہرائیوں میں موجود رہتے ہیں۔ اور کوئی بڑا تخلیقی فنکار ان سے خود کو بچا کر نہیں جا سکتا۔ اجتماعی یا نسلی شعور سے اس کی لہریں نامحسوس طور پر آتی رہتی ہیں شعور متاثر ہوتا رہتا ہے، اجتماعی لاشعور میں اس کی آنچ بہت تیز ہوتی ہے۔


"مِتھ" (Myths) اور آرچ ٹائپس کی علامتوں (Archetypal Symbols) کو تین دائروں میں رکھ کر لٹریچر کے مطالعے میں مدد لیں تو بہتر ہو گا۔ ایک دائرہ ایسے مِتھ کا جو خالص ہیں، دیوتاؤں اور عفریتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ دو مختلف دنیاؤں کی پہچان ہوتی ہے جو ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن استعارے انھیں ایک دوسرے سے منسلک رکھتے ہیں۔ لٹریچر میں جنت جہنم کا ذکر ہوتا رہتا ہے اور مذہب ایک سے زیادہ سطح پر انھیں ایک دوسرے سے قریب رکھتا ہے۔ دوسرا دائرہ رومانی ہے۔ اپنی دنیا میں اساطیری دنیا کے نقش اُبھرتے رہتے ہیں جو انسان کے تجربوں سے بہت قریب ہوتے ہیں، رومانی ذہن انھیں بہت قریب کر لیتا ہے، اور تیسرا دائرہ بہت حد تک حقیقی مادّی دنیا سے تعلق رکھتا ہے لیکن اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے فنکار کا تخلیقی ذہن اساطیری فضاؤں کی جانب لپک رہا ہے یا لپکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایلن پو (Ellen Poe)، ٹھامس ہار ڈی (Thomas Hardy) اور ورجنیا ولف (Virginia Wolf) کی تخلیقات میں مثالیں ملتی ہیں۔ اساطیر میں جو دنیا آباد ہے اس میں پانچ دنیاؤں کی پہچان مکمل طور پر ہوتی ہے۔ ایک روحانیت کی دنیا، دوسری انسان کی، تیسری جانوروں اور پرندوں کی، چوتھی نباتات کی اور پانچویں معدنیات کی۔ ان سب کے پیکر، ان سب کی علامات موجود ہیں۔

لٹریچر میں اساطیر کی روشنی کہیں بہت تیز رہی ہے اور کہیں ہلکی، ادیبوں کا رشتہ "مِتھ" سے براہِ راست بھی رہا ہے اور یہ بھی ہوا ہے کہ کلاسیکی اور پرانی "مِتھ" سے ہلکی روشنی حاصل کر کے تخلیقی فنکاروں کے "وِژن" نے اپنی "مِتھ" بنا لی ہے۔ یونانی، رومن، چینی، ہندوستانی، مصری اور لاطینی امریکی اساطیر کی روایات سے فائدہ تو اُٹھایا ہے ساتھ ہی اپنے تجربوں اور خصوصاً مذہبی تجربوں کی روشنی میں اپنی "مِتھ" خلق کر لی ہے۔ ولیم بلیک (William Blake) نے اساطیر کی جمالیات کے رنگ و آہنگ سے اپنی نظموں میں جو حرارت اور چمک دمک پیدا کی ہے ہم جانتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عیسائیت نے بھی اسے خوب متاثر کیا ہے اور اپنی "مِتھ" کی تخلیق میں اس نے اپنے مذہب کو بہت قریب رکھا ہے۔ (محمد اقبال کی تخلیق "جاوید نامہ" سے بھی اسی قسم کی سچائی سامنے آتی ہے ) بعض شعرا کو اس بات کا احساس تھا کہ وہ اپنی "مِتھ" بھی خلق کر رہے ہیں۔ ڈبلو۔ بی۔ ایٹس(W۔ B۔ Yeats) نے 1926ء میں 'A Vision' میں اپنی "مِتھ" کی وضاحت کی ہے۔ ہرمین مِلول (Herman Mevie) نے "موبی ڈِک" (Moby Dick) میں، جیمس جوائس (James Joyce) نے "یولائی سس" (Ulysses) میں اور ڈی۔ ایچ۔ لارنس (D۔ H۔ Lawrence) نے 'The Plumed Serpent' میں جہاں کلاسیکی اساطیر سے مواد حاصل کیے وہاں اپنی "مِتھ" بھی تخلیق کی ہے۔ ان تخلیقات کے مطالعے سے ایک بات کا احساس بڑی شدّت سے ہوتا ہے کہ ان فنکاروں نے کلاسیکی اساطیر سے براہِ راست روشنی بہت کم لی ہے اُس "لاشعور" کا عمل بہت زیادہ ہے کہ جسے یونگ نے اجتماعی یانسلی لاشعور (Collective Unconsciousness) کہا ہے۔

اس سے قبل کہ "سائیکی" اور آرچ ٹائپ (Archetypes) پر کچھ اور گفتگو کی جائے۔ خود اساطیر کی ایک گہری اور معنی خیز روایت "لوک کہانی" کی بابت کچھ جانکاری حاصل کر لیں تو بہتر ہے۔ "لوک کہانی" بلاشبہ اساطیر کی گہرائیوں میں اپنی جڑیں پھیلائے بیٹھی ہے۔ دنیا کے مختلف علاقوں کی لوک کہانیوں نے اپنے اپنے علاقوں میں اساطیر کی بنیادیں مضبوط کی ہیں، کہانیاں پہلے زبانی سنائی جاتی تھیں۔ ہر جگہ Oral Traditions کی مثالیں موجود ہیں۔ ایک علاقے سے دوسرے علاقے کا سفر کہانیوں کو مسلسل متاثر کرتا رہا ہے، تبدیلیاں بھی ہوئی ہیں لیکن کہانیاں موجود رہی ہیں۔ سفر کرتے ہوئے کہانیوں میں جو تبدیلیاں ہوئیں وہ عین فطری ہیں۔ "مِتھ" اور "ایپک" کی روایتوں کی مددگار کہانیاں آج بھی موجود ہیں، "مہابھارت" اور مقامی اساطیر میں ان کی پہچان ہوتی ہے۔ لوک کہانیوں میں "علاء الدین اور اس کا چراغ"، "علی بابا چالیس چور"، "حضرت سلیمان اور جناّت"، "پری بانو اور جادوگر"، "شرون کمار"، "ماہی گیر اور جن"، "سندباد جہازی"، "آبِ حیات اور خواجہ خضر" کیکاؤس ["اوستا" میں کاوی اوسان (Kavi Us'an) رِگ وید میں "کاویہ اوساناس" (Kaya Us'anas) "پورن بھگت"، "الاودل"، "ہیرانجھا"، "سوہنی مہینوال"، "لیلیٰ مجنوں "، "شیریں فرہاد"، "مرزا صاحبان" اور جانے کتنی لوک کہانیاں صدیوں صدیوں سے احساس اور جذبے سے قریب ہیں۔ نسل در نسل یہ کہانیاں چلی آ رہی ہیں، مختلف علاقوں اور مختلف زبانوں اور بولیوں میں اَنگنت لوک کہانیاں موجود ہیں۔ بہت سی لوک کہانیاں گیتوں اور لوک نغموں میں بھی پیش ہوتی رہی ہیں اور آج بھی گاؤں دیہاتوں میں سنائی جاتی ہیں۔ فردوسی کے "شاہنامہ" اور مہابھارت میں پرانی لوک کہانیاں شامل ہیں جو جگہ جگہ موضوعات میں چمک دمک پیدا کرتی ہیں۔

آئیے اپنے ملک کے ایک دُور دراز علاقے سنتھال پرگنہ کی ایک لوک کہانی سناتے ہیں جو اپنی معنی خیزی لیے توجہ کا مرکز بنتی ہے۔ ہم نے پچھلے صفحات میں دیکھا ہے کہ دنیا کے بہت سے ملکوں میں تخلیق کے تعلق سے ایک سے زیادہ کہانیاں موجود ہیں۔ تخلیقِ کائنات، دنیا کی تخلیق، زندگی کی تخلیق، انسان اور اشیا و عناصر کی تخلیق، یونان، روم، مصر، چین، ہندوستان ایسے ممالک ہیں کہ جہاں اجتماعی احساس اور اجتماعی فکر نے "تخلیق" کو بہت اہمیت دی ہے۔ کائنات کی تخلیق کیسے ہوئی، دنیا کس طرح بنی، انسان کب اور کیسے وجود میں آیا، اشیا و عناصر کی تخلیق کیونکر ہوئی، کہانیوں کے ذریعہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ سنتھال پرگنہ (جھار کھنڈ) کی یہ لوک کہانی اس طرح ہے (موضوع "تخلیق" ہے ) :

"ابتدا میں ہر جانب صرف پانی ہی پانی نظر آتا تھا "ٹھا کر جیو" (خالق) نے سب سے پہلے مگرمچھ، کیکڑے، مچھلیاں اور چھوٹے بڑے آبی جانور پیدا کیے اور انھیں پانی میں ڈال دیا، اس کے بعد پرندوں کا ایک جوڑا بنایا جو اس کے کلیجے کے اندر سے نکلے پھر اس جوڑے کو زندہ کر دیا، اس کے بعد حکم دیا کیکڑوں کو، مگرمچھوں کو، مچھلیوں کو اور تمام چھوٹے بڑے آبی جانوروں کو کہ وہ پانی کے اندر سے زمین کو باہر نکالیں۔ ان سب نے مل کر زمین کو اوپر کیا اس کے بعد ٹھا کر جیو نے پہاڑپیدا کیے، پھر زمین میں بیج ڈالے، گھاس لگائی، درخت اُگائے، پرندوں کو غذا ملی اور وہ چہچہانے لگے، ان پرندوں نے اپنا گھونسلہ بنایا، مادہ پرندے نے دو انڈے دیئے، ان سے ایک لڑکے اور ایک لڑکی نے جنم لیا، انھوں نے کھیتوں سے دانے کھائے، دونوں اُس وقت تک ننگے رہے جب تک کہ ٹھا کر جیو نے انھیں لباس کا احساس نہ بخشا، دونوں نے پتوّں سے اپنا ننگا پن دُور کیا، دونوں بڑے ہوئے اور سات اولادیں ہوئیں پھر تعداد بڑھتی گئی، اس کے بعد ٹھا کر جیو کو ایسا لگا جیسے انسان گمراہ ہو رہا ہے۔ اُنھوں نے انھیں پہاڑوں اور غاروں کے اندر جگہیں دیں، پھر آگ کی بارش کی، سب آگ کی اس بارش میں نہائے۔ اس کے بعد افرائشِ نسل کا سلسلہ اور تیز ہو گیا۔ ٹھا کر جیو نے آبادی کو تقسیم کر کے مختلف علاقوں میں آباد کر دیا اور وہ آج وہیں اُن علاقوں میں آباد ہیں!!


ایسی لوک کہانیوں میں پانی، مٹّی، ہَوا اور آگ کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ دنیا، انسان اور اشیا و عناصر کی تخلیق میں ان کا ذکر کم و بیش ہر جگہ ہے۔ دھرتی، بیج، اناج، جنس، رحم مادر، موسم اور موسم کی تبدیلی وغیرہ کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ اکثر لوک کہانیوں میں مادّی زندگی سے آگے بڑھ کر روحانی زندگی کی جہتوں کو بھی نمایاں کر نے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہم نے یونانی اساطیر میں ایسے کئی قصّے پچھلے صفحات میں پڑھے ہیں کہ جن میں لہو کے قطروں سے گلِ لالہ اور دوسرے کئی سُرخ پھولوں نے جنم لیا ہے اور آنسوؤں کے قطروں سے سفید پھولوں کی بہار آ گئی ہے۔ ہندوستان میں ایسی لوک کہانیاں بھی ملتی ہیں کہ جن میں انسان کا جسم نغموں اور آہنگ کا مرکز ہے، اس کی ہڈّیوں سے سریلے نغمے نکلنے لگتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک سنتھال لوک کہانی توجہ طلب ہے کہ جس میں اساطیر کا جوہر صاف دکھائی دے رہا ہے۔

ایک ضعیف جوڑے کے سات بیٹے تھے اور ایک بیٹی تھی، ایک روز ایسا ہوا کہ لڑکی کی انگلی زخمی ہو گئی، جو سبزی کاٹ رہی تھی اس میں انگلی سے ٹپکتا لہو جذب ہو گیا۔ سات بھائیوں نے سبزی کھائی تو بڑی لذّت ملی، وہ سوچنے لگے کہ میری بہن کے لہو کے چند قطروں سے سبزی اتنی لذید ہو گئی ہے تو یقیناً اس کے گوشت میں بھی بڑی لذّت ہو گی۔ ان بھائیوں نے یہ سوچ کر اپنی بہن کو قتل کر دیا۔ گوشت نکال کر ہڈّیاں لے کر ایک تالاب کے پاس آئے۔ ایک مچھلی تالاب سے اوپر آئی کہا، ان ہڈّیوں کو تالاب کنارے دفن کر دو وہاں جہاں چیونٹیاں رینگ رہی ہیں، بھائیوں نے مچھلی کی بات مان لی اور اپنی بہن کی ہڈّیوں کو چیونٹیوں کے پاس تالاب کے کنارے دفن کر دیا۔ ابھی زیادہ دن گزرے نہ تھے کہ وہاں کہ جہاں ہڈّیاں دفن تھیں ایک انتہائی خوبصورت پودا نکل آیا کہ جس میں نفیس پُر کشش پھول آ گئے، پودا بڑھتے بڑھتے درخت ہو گیا۔ اور پھلوں سے جھک گیا۔ ۔ ۔ پھر ایسا ہوا درخت سے ایک انتہائی خوشگوار موسیقی سنائی دینے لگی۔ ایک بھائی نے درخت کی ایک چھوٹی سی ڈالی کاٹ لی اور اس سے بنسری بنا لی، بنسری منہ پر رکھتے ہی سریلی آواز نکلنے لگی، بجائے بغیر صرف ہونٹوں پر رکھنے سے اتنی دلفریب آواز سن کر علاقے کے تمام لوگ دیوانے سے ہو گئے، لگے رقص کرنے۔

اور پھر اس کے بعد اس درخت کی ڈالیوں سے بنسریاں بننے لگیں!

انسان غور نہیں کرتا اس کا وجود نغموں سے بھرا ہوا ہے، اس کا جسم گنگناتا رہتا ہے۔ اس کی ہڈّیوں سے انتہائی لطیف آہنگ پھوٹتا رہتا ہے۔

ٹھا کر جیو (خالقِ کائنات) نے انسان میں کائناتی آہنگ (Cosmic Rythm) کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ مرتب کر دیا ہے۔ ذرا سنتے رہیے اپنے وجود کے آہنگ کو، دیکھئے پوری کائنات میں کیسی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں!

ہندوستان میں آریا، یونانی، ہون، عرب، ترک، ایرانی، منگولی، افغانی سب آئے، جنگیں بھی ہوئیں اور محبتوں کے رشتے بھی قائم ہوئے۔ صدیوں میں تمدنی اور تہذیبی آمیزشوں کی تاریخ پھیلی ہوئی ہے۔ زبانیں متاثر ہوئیں، مذاہب اور تمدنی اقدار متاثر ہوئے، زندگی کو دیکھنے کا زاویہ نگاہ بھی تبدیل ہوتا رہا۔ قصّوں کہانیوں پر بھی گہرے اثرات ہوئے۔ لوک کہانیوں میں نئے موضوعات شامل ہوتے گئے، ایک قوم کی کہانیاں دوسری قوم کی کہانیوں پر اثر انداز ہوئیں۔ لوک کہانیوں کے موضوعات میں جہاں فوق الفطری پیکروں، پریوں، روحوں، عفریتوں، دیوؤں اور دیوی دیوتاؤں کے کردار موجود رہے وہاں پرندوں، جانوروں اور سانپوں کے کردار بھی متحرک رہے۔ جنگ و جدل، جادو ٹونا، شاہی خاندانوں میں سازشیں اور بادشاہوں کے خلاف سازشیں گاؤں کی زندگی، چور، ڈاکو، لٹیرے، مذہبی پیشوا، صوفیوں اور سادھو مہاتماؤں کی عظمت لوک قصّوں کہانیوں میں یہ موضوعات بھی شامل رہے۔ مذہبی اور روحانی تجربوں سے نئے تجربوں تک عوامی ذہن نے سفر کیا اور عام سمجھ بوجھ کی کہانیاں سامنے آئیں۔

مختلف علاقوں میں گھوم گھوم کر کہانیاں سنانے کی روایت بہت ہی قدیم ہے۔ رامائن اور مہابھارت کی کہانیاں بھی اسی طرح سنائی جاتی تھیں۔ پرانے لوک کہانیاں سنانے والوں کو کتھاکار کہا جاتا تھا۔ کہانیاں سنانے والے تنہا بھی ہوتے اور کئی لوگوں کے ساتھ بھی۔ کہانیاں سنانے کے لیے شاعری، ڈراما، رقص موسیقی سب کا سہارا لیا جاتا، "پنچ تنتر" کی کہانیاں پیش ہوئیں تو کردار اکثر خود جانوروں کا رُوپ دھار لیتے۔ آج بھی گاؤں دیہات میں گیتوں کے سہارے کہانیاں سنا کر بھیک دکشنا لینے والے نظر آتے ہیں۔

اس بات میں یقیناً بڑی صداقت ہے کہ جو شخص "مِتھ" اور لوک کہانیوں کے بغیر رہتا ہے وہ بے جڑ کا پودا ہے۔ اس کی جڑیں مضبوط اور گہرائیوں میں اُتری ہوئی نہیں ہیں۔ اجتماعی ذات (Collective Self) سے رشتہ رکھے بغیر بھلا کون سچائی یا حقیقت کو بخوبی جان سکتا ہے۔ اجتماعی اور نسلی شعور ہی سے حقیقت کی معنویت میں کشادگی پیدا ہوتی ہے۔ اپنے وجود کی سچائی کا علم ہوتا ہے۔

"ذہن" اور "ذہنی عمل" کی جگہ یونگ نے "سائیکی1؂" اور "سائیکک" (Psychic) کی اصطلاحیں استعمال کی ہیں اس لیے کہ "ذہن" اور "ذہنی عمل" دونوں شعور (Consciousness) سے تعلق رکھتے ہیں۔ "سائیکی" اور "سائیکک" کا شعور اور لاشعور دونوں سے تعلق ہے۔ یونگ کا خیال ہے کہ شعوری ذہن "لاشعوری سائیکی" سے اُبھرتا ہے۔ اور اجتماعی یا نسلی لاشعور (Collective Unconsciousness) ذات کے شعور سے کہیں زیادہ گہرائیوں میں ہے۔ "آرچ ٹائپس" (Archetypes) اجتماعی لاشعور میں جذب ہیں جو مختلف علامتوں اور پیکروں میں ظاہر ہوتے ہیں اور جو بہت ہی قدیم ہیں۔ "مِتھ" اور اساطیر کے گہرے مطالعے سے یونگ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ انسانی فطرت کے بنیادی اظہار کے ذرائع ہیں۔


یونگ نے "سائیگی" کو پیچیدہ، مرکب اور اُلجھا ہوا (Complex) کہا ہے۔ یہ نفسیاتی اُلجھنوں کا گہوارہ ہے۔ جس طرح انسان کا جسم مختلف حصّوں سے جڑا ہوا ہے، ہاتھ پاؤں گردن، دھڑ وغیرہ اسی طرح "سائیکی" کے بھی لاشعوری حصّے میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے۔ ہم "سائیکی" کی بھی ایک مرکب اُلجھی ہوئی زندگی بسر کرتے ہیں۔ لاشعور کے دو واضح حلقے میں ایک حصّہ "ذات" کا ہے اور دوسرا نسل کا۔ ذاتی لاشعور میں پیچیدگی ہوتی ہے، "سائیکی" میں اس سے کہیں زیادہ پیچیدگی ہوتی ہے۔ اجتماعی یا نسلی لاشعور میں "آرچ ٹائپس (Archetypes) ہوتے ہیں۔ "سائیکی" کا داخلی ماحول لاشعور کا ماحول ہے جو شعور کے ماحول سے قطعی مختلف ہے۔ "ذات" کے حصّے کے پس منظر میں نسلی لاشعور ہے کہ جس میں "آرچ ٹائپس" ہیں۔

"آرچ ٹائپ" جو ایک نفسیاتی اصطلاح ہے اس کی بنیاد یونانی لفظ "آرچ" (Arche) ہے۔ "آرچ" کے لغوی معنی ہیں "خالص، بنیادی، اوّلین، قدیم ترین، قدیمی! "ٹائپ ٹائپوس" (Typos) ہے یعنی "صورت"، "فارم" اصطلاحی معنی ہیں۔ بنیادی صورت، اوّلین، قدیم ترین یا خالص فارم، یونگ نے "آرچ ٹائپ" (آرکی ٹائپ) کی اصطلاح "نسلی اور اجتماعی لاشعور" (Collective Unconsciousness) کے مواد، مضمون یا مافیہ کے لیے استعمال کیا اور اس کے بعد یہ اصطلاح ادبی اور فنّی تنقید میں استعمال ہونے لگی، رفتہ رفتہ یہ ایسی جمالیاتی اصطلاح بن گئی جو تخلیقی فنکار کے اجتماعی یا نسلی لاشعور کے اوّلین قدیمی اور بنیادی جمالیاتی علامتوں اور استعاروں اور نسلی تجربوں کو سمجھانے لگی۔ یونگ سے قبل بھی "آرکی ٹائپ" کی اصطلاح کے استعمال ہونے کی خبر ملتی ہے۔ فیلو جوڈیوز (Philo Judeaus) نے انسان کے ذہن میں خدا کے پیکر (God Image) کو سمجھانے کے لیے اس اصطلاح کو استعمال کیا تھا، اس طرح آئرنیوس (Irenaeus) نے اس اصطلاح کو استعمال کرتے ہوئے کہا تھا "دنیا کے خالق نے ساری چیزیں تمام اشیا و عناصر براہِ راست اپنی ذات یا اپنے وجود کے اندر سے خلق نہیں کیں بلکہ اُس کے وجود کے باہر جو "آرکی ٹائپس" تھے اُن کی نقل کی ہے۔ " قدیم یونانی مفکروں نے خالقِ کائنات کو نور اور روشنی کا "آرکی ٹائپ" کہا تھا اور خیال، تصوّر یا "آئیڈیا" میں اُلوہی خصوصیات کو پانے کی کوشش کی تھی۔

"آرچ ٹائپ" اوّلین، بنیادی، قدیمی، یا خالص تصوّرات کا سرچشمہ ہے، تخلیقی فنکاروں کی حسی اور نفسی کیفیتوں کی شدّت سے "آرچ ٹائپس" میں تحرک پیدا ہوتا ہے اور بنیادی اور قدیمی علامات اپنی تہہ داری اور معنی خیز جہتوں کے ساتھ نمایاں ہونے لگتی ہیں۔ خود فنکار ان کے مسلسل عمل اور اظہار کی پہچان بن سکتا یا پہچان نہیں پاتا۔ نسلی یا اجتماعی لاشعور سے بعض ایسی بنیادی صورتیں اور تصویریں سامنے آ جاتی ہیں جو اپنی معنویت کو لیے ہوئے فنکار کے تجربوں کی معنویت میں وسعت، گہرائی کشادگی پیدا کر دیتی ہیں، تخلیقی فنکار کے اپنے تجربے اور پیکر "آرچ ٹائپس" کی شدّت کے وسیلے سے روشن اور معنی خیز بن جاتے ہیں۔ تخلیق کا پُر اسرار عمل ہی "آرچ ٹائپس" کے سرچشمے سے باطنی رشتہ قائم کر کے اُنھیں متحرک کرتا ہے۔ بنیادی معاملہ اعلیٰ ترین سطح پر فنکار کے تخلیقی عمل کا ہے۔ پہلی جہت کی شاعری اور دوسری جہت کی شاعری کا تحرک "آرچ ٹائپس" کو متحرک نہیں کر سکتا، یہی وجہ ہے کہ صرف بڑے تخلیقی فنکاروں کی تخلیقات میں "آرچ ٹائپس" کا مطالعہ ادبی تنقید میں اہمیت رکھتا ہے اس لیے کہ بڑی تخلیق ایک انتہائی پُر اسرار تخلیقی عمل کا نتیجہ ہوتی ہے نیز دوسری جہت سے اور آگے بڑھ کر تیسری اور چوتھی جہت تک پہنچ جاتی ہے۔ پہلی اور دوسری جہت تک پہنچنے والے ادیبوں اور شاعروں کی تخلیقات میں بعض لفظوں یا بعض علامتوں یا استعاروں کے بار بار استعمال سے اکثر یہ غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے کہ "آرچ ٹائپس" ہیں یا "آرچ ٹائپس" کے تحرک کا نتیجہ ہیں۔ ادبی تنقید میں تخلیقی فنکار کی شخصیت اور اس کے ذہن کی حیثیت غیر معمولی ہے، شخصیت اور ذہن کا بہتر مطالعہ کیا جائے تو "سائیکی" کو سمجھنے میں زیادہ مدد ملے گی، "آرچ ٹائپس"، "سائیکی" ہی میں موجود ہوتے ہیں، نفسیات کے علما نے اسے اہمیت دیتے ہوئے کہا ہے کہ "سائیکی"، "مدر لکوڈ" (Mother iquid) ہے، پچھلی نسلوں، قوموں اور قبیلوں کے بنیادی تجربوں کا سفر جاری رہتا ہے اور انسان کے نسلی لاشعور میں یہ تجربے موجود رہتے ہیں، تخلیقی فنکار کی "سائیکی" میں جب شدّت پیدا ہوتی ہے تو ان تجربوں سے ایک انتہائی پُر اسرار معنوی رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ "آرچ ٹائپس" کا اظہار عموماً استعاروں اور علامتوں میں ہوتا ہے۔ دیومالا اور قدیم ترین قصّوں کہانیوں کے کردار اور حسی تصوّرات نے تجربوں کی معنویت میں اُبھرتے ہیں، صرف ایک "امیج" یا پیکر جانے کتنی سچائیوں کا مظہر اور علامیہ بن جاتا ہے۔ انسان کی پچھلی نسلوں قوموں اور قبیلوں میں آگ، روشنی، سانپ، عورت، مرد، آفتاب، آسمان، رات، لہو، پانی، جادو وغیرہ جو اہمیت رکھتے ہیں ہمیں اس کا علم ہے، یہ سب اور ان کے علاوہ جانے اور کتنے اشارے اور استعارے اپنی معنی خیزی کے ساتھ "سائیکی" میں موجود رہتے ہیں، نئے فنی تجربوں کا رشتہ ان سے قائم ہوتا ہے اور ان کی معنی خیزی نئے تجربوں میں جہتیں پیدا کرتے ہوئے جانے کتنے جلوؤں کو کھینچ لیتی ہے، ان کے تعلق سے جانے کتنے جلوے سامنے آ جاتے ہیں۔ جمالیاتی "آرچ ٹائپس" کی پہچان اُسی منزل پر ہوتی ہے کہ جہاں کوئی بڑا فنکار "سائیکی" سے گہرا معنی خیز باطنی رشتہ کر کے (جو عموماً لاشعوری ہوتا ہے ) اپنی انفرادی اسطوری کیفیتوں اور نقوش کی تخلیق کر دیتا ہے۔ اُردو بوطیقا میں غالبؔ اس کی سب سے بڑی مثال ہیں کہ جنھوں نے آتش، نور، خدا، محبوب، لہو۔ پرچھائیں وغیرہ سے ایک انفرادی اساطیر کی جمالیات سامنے رکھ دی ہے۔ دنیا کے کسی بھی ادب کی تاریخ سامنے رکھ لیجیے اور کسی بھی ادب کی عمدہ تخلیقات کا مطالعہ کیجیے ایک سچائی بار بار اُبھرے گی کہ کسی بھی بڑے تخلیقی فنکار کے فن میں تجربہ اور "مِتھ" کا رشتہ حد درجہ گہرا ہے اور "مِتھ" کے گہرے رشتے کی وجہ سے فن میں تابناکی اور معنی خیزی پیدا ہوئی ہے اور کبھی کبھی اس حد تک کہ خود فنکار کی تخلیق ایک اعلیٰ "متھ" کا جمالیاتی نمونہ بن کر 5 بن گئی ہے۔ شیکسپیئرؔ، غالبؔ، گٹے ؔ، حافظؔ، رومیؔ، کبیرؔ اور اقبالؔ سب مِتھ سے ایک پُر اسرار ذہنی رشتہ رکھتے ہیں۔ "آرچ ٹائپس" میں مِتھ کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ "مِتھ" سے ذہنی اور جذباتی رشتہ اور اس رشتے کی جمالیاتی صورتیں "آرچ ٹائپس" کی قدر و قیمت اور اہمیت کو اور بڑھا دیتی ہیں، اس لیے کہ حقیقت نگاری اور فطرت نگاری کی ایک نئی جہت توجہ طلب بن جاتی ہے۔

"سائیکی" کے "آرچ ٹائپس" کی کئی جہتیں نمایاں ہوتی رہتی ہیں۔ سب سے اہم اور معنی خیز جہت علامتوں کی ہے جو اکثرتخلیقی فنکاروں کے ذاتی "مِتھ" کو نمایاں کرتی ہے اور نفسی سطح پر ایک آہنگ بخشتی ہے جس سے فنکار کے تخلیقی ذہن تک پہنچنے میں آسانی ہوتی ہے۔


یونگ نے چند اہم "آرچ ٹائپس" کا ذکر کیا ہے ان میں "مدر آرچ ٹائپ" (Mother Archetype)، شیڈو (پرچھائیں ) (The Shadow) "ضعیف دانش مند" (Wise Old Man)، منڈل (Mandala) "ذات" (The Self) وغیرہ معنی خیز سرگوشیاں کرتے ہیں۔

اُردو کے جن تخلیقی فنکاروں کے تخلیقی وژن میں "سائیکی" کی لہروں اور سائیکو اساطیر (Psycho-mythology) کی چمک دمک کی زیادہ پہچان ہوتی ہے اُن میں کبیرؔ، میرؔ، غالبؔ، اقبالؔ، فراقؔ اور اخترالایمانؔ وغیرہ کے نام اہم ہیں۔

کبیرؔ کے کلام میں اساطیر کی اپنی ایک ایسی دنیا ملتی ہے جو شاعر کے تخلیقی وژن کی تخلیق ہے اور جس کا پُر اسرار رشتہ اُس اساطیر سے ہے کہ جسے عوامی حسیات اور "وژن" نے صدیوں صدیوں کی تاریخ میں خلق کیا ہے۔

کبیر1؂ کے کلام میں اساطیر کی ابتدا کم و بیش اس طرح ہوتی ہے کہ جس طرح مختلف ملکوں کے اساطیری قصّوں میں نظر آتی ہے:

پرتھم ایک جو آپے آپ
نِرکر نرگن نر جاپ

نہیں تو آد انت مدھ تارا
نہیں تو اندھ دھندا جیارا

نہیں تو بھومی پون آکاسا
نہیں تو پاوک نیر نواسا

نہیں تو سرمستی جمنا گنگا
نہیں تو ساگر سمد ترنگا

نہیں تو پاپ پن نہیں وید پرانا
نہیں تو بھٹے کیتب "کرانا"

کہیں کبیر وِچار کے تب کچھ کرپانا ہیں
پرم پرش تہاں آپ ہی، اگم اگو چرما ہیں

ابتدا میں وہ تنہا تھا، اس کا وجود ہی اس کے لیے کافی تھا، وہ جس کا نہ رنگ ہے اور نہ رُوپ، وہ جو بے صفات ہے، اس کی نہ کوئی ابتدا ہے اور نہ اس کا ارتقا، نہ انتہا، نہ اندھیرا نہ دھندلکا، نہ اُجالا، زمین بھی نہیں تھی، ہَوا بھی نہیں تھی، آسمان بھی موجود نہ تھا، آگ اور پانی کسی کا بھی نام و نشان نہ تھا، نہ گنگا نہ جمنا نہ سرسوتی، نہ سمندر نہ اس کی موجیں، نہ گناہ نہ ثواب، نہ وید نہ پران، نہ قرآن۔ کبیر غور و فکر کے بعد کہتے ہیں کہ تب کوئی حرکت اور جنبش نہیں تھی پرم پرش (خالقِ کائنات، ذاتِ مطلق) اپنے اندر نامعلوم اور لامحدود گہرائیوں میں کھویا ہوا تھا!

یونگ نے "ذات" (Self) کو ایک آرچ ٹائپ کہا ہے۔ "ذات" اور خودی یا ایغو (Ego) میں فرق یہ ہے کہ "ایغو" شعور کا مرکز ہے، یہ شعور (Consciousness) کے اندر ہی ہے باہر نہیں ہے اس کے برعکس "ذات" (Self) شعور اور لاشعور دونوں میں موجود ہے۔ "ذات" شخصیت یا پرسنلیٹی (Personality) کو خود آگاہ بناتی ہے۔ "ذات" ہی زندگی کی وحدت کا احساس عطا کرتی ہے۔ شخصیت میں اس کی مرکزی حیثیت ایسی ہے کہ زندگی اور کائنات کا عرفان فرد کو حاصل ہوتا رہتا ہے۔ "ذات" سوچ میں تازگی، احساس میں متوازن اُٹھان اور وجدان (Intuition) میں تحرک پیدا کرتی رہتی ہے۔ یونگ نے لکھا ہے:

"The self is not only the centre، but also the circumferences that encloses consciousness and the unconsciousness; it is the centre of this totality، as the ego is the centre of consciousness. (1)

ہمیں معلوم ہے کہ یونگ ہندوستانی فکر و نظر سے بھی متاثر ہوا تھا، اس نے پہلے "سیلف" (Self) یا "ذات" کا ذکر نہیں کیا تھا، ہندوستانی فلسفے کے مطالعے کے بعد اس نے یہ اصطلاح استعمال کی اور اسے نمایاں حیثیت دیتے ہوئے "آرچ ٹائپ" کہا۔ یونگ کی اصطلاح کا تعلق بلاشبہ "آتم" (Atma)، پرش (Purusha) اور "برہمن" (Brahman) سے ہے، مندرجہ ذیل خاکے سے "ذات" کے مقام اور اس کی قدرو قیمت کا اندازہ ہو گا:

مندرجہ ذیل خاکے سے "ذات" یا "سیلف" (Self) کی اہمیت کی بہتر خبر ملتی ہے۔ "ذات" یا "سیلف" کا تجربہ "آرچ ٹائپ" کا تجربہ ہے۔ اس کی صورتیں، علامتیں اشارے خوابوں میں بھی آتے ہیں اور اُن علامتوں اور "ا4" (Images) میں بھی کہ جو تخلیقی ادب میں جذب ہوتے ہیں۔ کبیرؔ کی شاعری میں "ذات" یا "سیلف" کا "آرچ ٹائپ" بہت متحرک ہے۔


فنکار کے سائیکو اساطیری تخلیقی ذہن نے "سیلف" یا ذات کو فنکارانہ سطح پر طرح طرح سے نمایاں کیا ہے اور کیا خوب کیا ہے۔ جب کبیرؔ سے سوال کیا گیا:

کبیرؔ کب سے بھئے بیراگی
تمری سرِت کہاں کو لاگی

یعنی کبیر تم کب سے بیراگی ہوئے، تم کس کے عشق میں گرفتار ہو۔ تو جواب ملتا ہے:

بنئی چتر کا میلاتا ہیں، نہیں گرو نہیں چیلا
سکل پسارا جن دن ناہیں، جہہ دن پُر ش اکیلا

اُس وقت سے جب و چتر کا میلا لگا نہ تھا، جب وحدت میں کثرت کے جلوے دکھانے والے نے اپنا کھیل شروع نہیں کیا تھا، جب گرو اور چیلے میں کوئی فرق نہ تھا، جب زمین اتنی پھیلی نہ تھی اور آسماں اتنا پھیلا ہوا نہ تھا، پرش (خالقِ کائنات) تنہا تھا، کبیر تب ہی سے بیراگی ہے۔ ہم نے یوگ کا سبق اس وقت لیا تھا جب برہما کے سرپر تاج نہیں تھا یعنی کائنات کی تخلیق کا حق انھیں نہیں ملا تھا، جب وِشنو کے ماتھے پر پٹکا نہ تھا یعنی دنیا کو پالنے کا انھیں حق نہیں ملا تھا، جب شیو کی شکتی پیدا ہی نہیں ہوئی تھی۔

یہ "ذات" (Self) کی آواز ہے جو "سائیکی" کی گہرائیوں سے سنائی دے رہی ہے۔ "ذات" موجود تھی جب کچھ بھی نہ تھا۔ ۔ ۔ ہاں صرف سنگیت کی آواز تھی کہ جس کی لہروں پر "ذات" آگے بڑھ رہی تھی۔ کبیرؔ کی شاعری میں وجودِ یا ذات کا باطنی آہنگ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ کہتے ہیں:

سنتا نہیں دھُن کی کھبر، اَنہد کا باجا باجتا
رس مندمندر گاجتا باہر سے سنے تو کیا ہوا

یعنی دھُن جاری ہے اور تو سنتا ہی نہیں، رس گھولتا یہ نغمہ وجود (مندر) کے اندر گونج رہا ہے، اس نغمے کو مندر کے باہر سننے سے بھلا کیا حاصل ہے۔

یہ دلنواز دلکش جمالیاتی تجربہ بھی توجہ چاہتا ہے:

کبرا شبد شریر میں بن گن باجے تانت
باہر بھیتر رم رہا تاتیں چھوٹی بھر انت

میرے وجود کے اندر ایک ہی تانت خود بخود بج رہی ہے اور آہنگ پیدا ہو رہا ہے، یہ آہنگ بھیتر بھی ہے اور باہر بھی، یہ بات جیسے ہی محسوس ہوئی اُلجھن جاتی رہی۔

تصوّف کی جمالیات اسی گہرے احساس سے پھوٹتی ہے، "ذات" میں کائناتی آہنگ (Cosmic rhythm) سنائی دینے لگتا ہے۔ کبیرؔ کہتے ہیں "اَنہد ڈھول" (صوتِ سرحدی) بج رہا ہے اور ہر جانب آنند ہی آنند ہے:

کہے کبیر آنند بھیو ہے باجتا اَنہد ڈھول رے

وجود کے آہنگ کے عرفان نے یہ تجربہ پیش کیا ہے، جمالیاتی تخلیقی "bسی" نے ایک تمثیل سامنے رکھ دی ہے:

ہم سوں رہا نہ جائے مرلیا کے دھُن سن کے
نیا بسنت پھول اِک پھولے بھنور سدا بولائے

گگن گرجے، بجلی چمکے، اُٹہت ہے ہلور
بگست کنول، میگھ برسانے چنوت پر بھوکی اور

تاری لاگی تہاں من پہنچا، گیب دھجا پہرائے
کہن کبیرؔ آج پران ہمارا جیوت ہی مر جائے

مرلی کی دھن ہے، ہم سے رہا نہ جا رہا ہے بسنت نہیں اور پھول کھل رہے ہیں اور بھنورا دیوانہ ہو رہا ہے، گگن گرج رہا ہے! بجلی چمک رہی ہے اور میرا دل بے چین ہو رہا ہے، دل میں لہریں اُٹھ رہی ہیں، عجیب سی بے قراری ہے، کنول کھل رہا ہے، بارش ہو رہی ہے اور میرا من پربھو کی جانب ہے، میرا دل وہاں پہنچ گیا ہے، جہاں کائنات کی ہر شے تالی بجا رہی ہے اور غیب کا پرچم لہرا رہا ہے۔ کبیرؔ کہتے ہیں آج تو بس جیتے جی مر جانے میں مزا ہے جیوِت ہی مر جائیں تو کیا لطف آئے۔

مرلی کی دھن نے ایک جمالیاتی فضا خلق کر دی ہے، آفاقی میلوڈی سے ایک انتہائی پُر کشش طلسماتی فضا بن گئی ہے کہ بسنت کے پھول کھل رہے ہیں اور بھنورا اُن پر دیوانہ وار رقص کر رہا ہے۔ مرلی کی سحر انگیزی کا عالم یہ ہے کہ کائنات کی ہر شے تالی بجا رہی ہے۔

یہ تخلیقی فنکاری کی دانشورانہ سطح ہے!


کبیرؔ نے اپنی "ذات" اپنے وجود میں نور اور نغمے کی ایک نئی دنیا سجارکھی ہے۔ اُنھوں نے نسلی یا اجتماعی لاشعور سے باطنی طور پر ایک گہرا رشتہ قائم کر رکھا ہے۔ ان کے بہت سے پیکروں اور "ا4" (Images) سے اجتماعی لاشعور سے ان کے رشتے کی خبر ملتی ہے۔ بہت معنی خیز پیکروں میں ہنس، کنول، سہس کنول، (ہزاروں پنکھڑیوں کا کنول) رِشی، مرلی، گگن، ساگر، ساکھی، جو گی، مِلن، دیوتا، "گو وِند" (کرشن) کملا (لکشمی) ترگن پھانس، سمیر، برہما، سرسوتی، اِندر، شیو، وِشنو، کرشن، رام، ہری، شونیہ، شونیہ کا محل وغیرہ توجہ طلب ہیں۔ "سائیکی" کے اندر اُتر نے والے تخلیقی فنکار "ذات" (Self) کی قدر و قیمت کو جس طرح جانا ہے اس کی مثالیں کبیرؔ کے کلام میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ایک جگہ کہتے ہیں:

چندا جھلکے یہ گھٹ مانہی
اندھی آنکھن سوجھت ناہیں

یہ گھٹ چندما یہ گھٹ مور
یہ گھٹ گاجے انہد تور

یہ گھٹ باجے طبل نشان
بہرا شبد سنے نہ کان

یعنی اس جسم یاوجود میں چاند چمکتا ہے، اندھی آنکھوں کو بھلا کیا سوجھے، اسی وجود میں چاند ہے، اسی میں سورج، اسی میں لافانی اَنہد کی آواز، اسی میں طبل اور نقاّرے بجتے ہیں لیکن بہرے کو ایک آواز بھی سنائی نہیں دیتی:

دوسری جگہ کہتے ہیں:

پانی بچ زمین پیاسی موہے سن سن آوت ہانسی
آتم گیان بنا سب سونا کیا متھرا کیا کاسی

گھر میں وستو دھری نہیں سوجھے باہر کھوجت جاسی
مرگ کانا بھی مانہہ کستوری بن بن کھوجت جاسی
کہے کبیرؔ سنو بھئی سادھو سہج ملے اوِناسی

یعنی پانی میں رہ کر بھی مچھلی پیاسی ہے، یہ سن کر مجھے ہنسی آتی ہے، اگر "آتما" (روح، سائیکی، ذہن، دماغ) کا علم نہیں ہے تو متھرا جاؤ یا کاشی سب بیکار ہے، گھر میں رکھی چیز دِکھائی نہیں دیتی سبھی اسے تلاش کر نے باہر جاتے ہیں، ہرن کے ناف میں مشک ہے اور وہ جنگل جنگل اسے تلاش کر رہا ہے۔ کبیرؔ کہتے ہیں کہ اے سنتو، لافانی ذات آسانی کے تپ (سہج) سے ملتے ہیں۔

ہرن کے ناف میں مشک ہے اور وہ جنگل جنگل تلاش کر رہا ہے! کبیرؔ اپنی "ذات" کی خوشبو، اپنی ذات کے آہنگ اور اپنی "ذات" کی روشنی کی جانب بار بار اشارہ کرتے ہیں۔

کبیرؔ "ذات" کے سامنے صفات کا رقص دیکھتے ہیں:

نرگن آگے سرگن ناچے
باجے سوہنگ تورا

صوتِ سرمدی کو ذات کے اندر پاتے ہیں، "اناہت ناد" نغمۂ موجود ہے۔ کبیرؔ نے اسے "اَنہد" کہہ کر صوتِ سرمدی کے آہنگ کی لامحدودیت (اَن حد) کی جانب معنی خیز اشارہ کیا ہے (جہاں اَنہد باجا بجے باج!) کبیرؔ نے "ذات" (Self) کے "آرچ ٹائپ" کو جس شدّت سے محسوس کیا ہے اور اپنی "سائیکی" (ذہن، دماغ، روح) کی گہرائیوں میں جس طرح اترے ہیں اس کی مثال آسانی سے نہیں ملے گی۔ کہتے ہیں:

اس گھٹ انتر باگ بگیچے، اسی میں سرجن ہار ا
اس گھٹ انتر سات سمندر، اسی میں نو لکھ ہار ا

اس گھٹ انتر پارس موتی، اس میں پرکھن ہار ا
اس گھٹ انتر اَن حد گرجے، اسی میں اُٹھت پھُہارا
کہت کبیر سنو بھائی سادھو اسی میں سائیں ہمارا

وجود کے اندر باغ اپنے تمام حسن کو سمیٹے موجود ہے، اسی میں باغباں (سرجن ہار، خالق) ہے۔ اسی گھٹ میں سات سمندر ہیں اور اسی میں نولاکھ ستارے، اسی وجود میں پارس اور موتی ہیں اور اسی میں پرکھنے والے، اسی کے اندر لامحدود ابدیت کے گرجنے کی آواز سنائی دے رہی ہے جس سے فوّارے پھوٹ رہے ہیں۔ اسی میں تو اپنا سائیں ہے!

کبیر نے ذات یا وجود کے اندر ساری کائنات اور کائنات کا سارا جلال و جمال سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔

کبیرؔ کہتے ہیں:

باگوں ناجارے ناجا، تیری کایا میں گل جار
سہس کنول پر بیٹھ کے، تو دیکھے رُوپ اپار

باغوں میں کہاں مارا مارا پھر رہا ہے، خود تیرے وجود میں گلزار ہے، ہزار پنکھڑیوں کے کنول (دِل) پر بیٹھ کر حسنِ مطلق کا لامتنا ہی جلوہ دیکھ سکتا ہے۔

اپنے اتنے خوبصورت تجربے کو پیش کرتے ہوئے کبیرؔ کا ذہن ہندوستانی اساطیر تک پہنچ گیا ہے۔ وِشنو کی ناف سے برہما ہزاروں پنکھڑیوں والے کنول پر بیٹھ کر اُبھرے تھے (اس واقعے کا ذکر پچھلے صفحات میں کیا ہے کہ جہاں ہندوستانی اساطیر کی بات کی گئی ہے ) "سہس کنول" یہاں دل اور وجود کی علامت ہے۔


کبیرؔ کی جمالیات کا دائرہ بہت وسیع، گہرا اور تہہ دار ہے، اس کے مختلف پہلو ہیں، ہر پہلو زندگی کے جلال و جمال کے تعلق سے بیدار رکھنا چاہتا ہے۔ جمالیات اور "آرچ ٹائپ" اور "سائیکی" کے تعلق سے بیداری کے وہ بہت بڑے شاعر ہیں۔ میں اُنھیں دنیا کے بڑے شاعروں میں شمار کرتا ہوں اور اُردو کا پہلا بڑا شاعر تصوّر کرتا ہوں۔ تخیل اور "وژن" کا معاملہ یہ ہے کہ فنکار کا شعور جتنا گہرا اور وسیع ہوتا جاتا ہے اتنا ہی اپنے وجود کی گہری سطحوں اور تہوں تک آہنگ کے تئیں بیدار ہوتا جاتا ہے۔ فطرت اور ماحول دونوں کے آہنگ کو شدّت سے محسوس کرتے ہوئے باطن میں اُترتا ہے اور جب کائناتی نغمے کے آہنگ کو پالیتا ہے تو تخیل اور "وژن" دونوں کے عمل میں شدّت پیدا ہو جاتی ہے۔

نظیرؔ اکبر آبادی پر میری کتاب "نظیر اکبر آبادی کی جمالیات" جولائی 2003ء میں شائع ہوئی تھی (قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان، نئی دہلی) ۔ اس میں میں نے نظیر کو جشن زندگی (Celebrations of life) کا ایک بڑا شاعر کہا تھا۔ ان کی جمالیات میں انسان، اس کی تمدّنی اور تہذیبی زندگی، مناظرِ حسن و جمال، مظاہرِ کائنات، رقصِ حیات، محبتوں کے نغمے، قہقہے، مختلف قسم کی خوبصورت آوازوں کا آہنگ۔ ۔ ۔ سب شامل ہیں۔ شاعر نے پورے معاشرے کو گرفت میں لینے کی کوشش کی اور معاشرے کے جمالیاتی نقوش شاعر کی گرفت میں آ گئے۔

نظیرؔ نے عوام کے مختلف طبقوں کی جمالیاتی تربیت میں حصّہ لیا ہے۔ شاعری اور عوام کی مادّی اور روحانی زندگی میں گہرا رشتہ پیدا کر نے کی کوشش کی ہے، اس طرح ان کی جمالیات کا دائرہ وسیع ہوتا گیا ہے۔ انھوں نے ماضی کے جمال اور اساطیر کے حسن کو بھی عزیز رکھا ہے۔ میں نے لکھا تھا کہ نظیر سات رنگوں کے شاعر ہیں، اُنھوں نے ایک قوسِ قزح کھینچ کر رکھ دی ہے۔

ایک رنگ زندگی کے جلال و جمال کا پختہ رنگ ہے، فطرت کی تصویروں اور ان کے آہنگ کا احساس ہے جو اس رنگ کو اور پختہ کرتا ہے۔ "پہاڑ"، "چاندنی"، "برسات" اور آندھی جیسی نظمیں اس رنگ کی نمائندگی کرتی ہیں۔

دوسرا رنگ عشق و محبت کے جمال کا رنگ ہے۔ "سوزِ فراق"، "طلسمِ وصال"، "ملاقاتِ یار"، "جوشِ جنوں "، "خواب کا طلسم" وغیرہ اس خاص رنگ کو نمایاں کرتی ہیں۔

تیسرا رنگ معاشرے اور سماج کے جمال کا وہ رنگ ہے جو روایت سے گہرا رشتہ رکھتے ہوئے ہولی کے گلال کے مختلف رنگوں کی طرح بکھرتا رہتا ہے۔ "بانسری"، "شبِ برأت"، "بسنت"، "ہولی"، "دیوالی"، "راکھی" اس رنگ کی نمائندگی کرتی ہیں۔

چوتھا رنگ مذہب اور تصوّف کا دلکش اور پُر کشش رنگ ہے۔ "حمد"، "نعت"، "منقبت"، "مدحِ اولیا"، "فقیروں کی صدا"، "بنجارہ نامہ"، "رہے نام اللہ کا"، "توحید"، "تسلیم و رضا"، "زندگی اور موت"، "توکل فنا"، "وجودِ حال"، "کل یگ" اور "چڑیوں کی تسبیح" وغیرہ اس رنگ کی نمائندہ نظمیں ہیں۔

پانچواں رنگ ان نظموں میں نمایاں ہے کہ جن میں وقت اور لمحوں کو عمر کے مدارج کے پیشِ نظر پیش کیا گیا ہے مثلاً "طفلی"، "جوانی"، "بڑھاپا"، "موت کا دھڑکا" وغیرہ۔

چھٹا رنگ دیومالا اور روایتی کہانیوں سے اُبھرتا ہے۔ "جنم کنہیاجی"، "دُرگاجی کے درشن"، "تعریف بھیروں کی"، "مہادیوجی کا بیاہ"، "کنہیاجی کی راس" اس رنگ کی نمائندہ نظمیں ہیں۔

ساتویں رنگ کی پہچان حکایات میں ہوتی ہے۔ "قصہ ہنس"، "کوّے اور ہرن کی دوستی"،

"قصہ لیلیٰ مجنوں " وغیرہ اس رنگ کی عمدہ نظمیں ہیں۔

سات رنگوں کی وحدت کا یہ شاعر اُردو ادب میں اپنا ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔ یہ سات سُر ہیں جو مختلف آہنگ رکھتے ہیں اور قاری کے جمالیاتی شعور کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔

"نظیر کے کلام پر تصوّف کا رنگ بھی چڑھا ہوا ہے۔ اُن کا تخلیقی ذہن بھی "سائیکی" کی گہرائیوں میں اُترکر خدا کے "آرچ ٹائپ" کو تلاش کرتا ہے۔ یہ احساس بہت پختہ ہے کہ انسان کے باطن میں جہاں خدا دل کی دھڑکن بنا ہوا ہے وہاں تمام جلال و جمال سمٹ آئے ہیں۔ تصوّف کی جمالیات کے اثر سے شاعر کے جمالیاتی وژن میں بڑی کشادگی پیدا ہوئی ہے، اس کی بصیرت متاثر کرتی ہے۔ اس سلسلے میں شاعر کی نظم "آئینہ" سامنے رکھئے جو اُردو کی خوبصورت نظموں میں سے ایک نظم ہے۔ ایسے تجربوں کا ایک انتہائی دلکش دیباچہ یا پیش لفظ ہے۔ اپنی "سائیکی" کے اندر ہی سب کچھ دیکھنے کا رجحان متاثر کرتا ہے۔ کہتے ہیں:

مشک تتار و مشک ختن بھی تجھی میں ہے
یاقوت سرخ و لعل ویمن بھی تجھی میں ہے

نسریں و موتیا و سمن بھی تجھی میں ہے
ا لقصہ کیا کہوں میں چمن بھی تجھی میں ہے

ہر لحظہ اپنی چشم کے نقش و نگار دیکھ
اے گل تو اپنے حسن کی آپ ہی بہار دیکھ

یہ خوبصورت نظم "آئینہ" انسان کے وجود کی اہمیت کا احساس شدّت سے بخشتی ہے۔ تمام روشنیوں، تمام خوشبوؤں، تمام رنگوں اور تمام آوازوں کی وحدت انسان کے وجود کے اندر ہے۔ انسان کائنات کے تمام حسن و جمال کی علامت ہے۔


نظیرؔ نے انسان کو الوہی نغمہ (Divine Melody) بنا دیا ہے۔ نظم کے استعاروں اور علامتوں پر نظر رکھیں تو محسوس ہو گا کہ انسان ایک ایسی قوسِ قزح ہے جو زندگی کے تمام رنگوں کا جمال لیے ہوئے ہے۔ اس نظم کی جمالیات پر غور کریں تو اس سچائی کا علم ہو گا کہ شاعر حسیاتی انبساط (Sensory Pleasures) پا کر جھوم جھوم کر گنگنا رہا ہے۔ ایک سحر انگیز وجد آفریں کیفیت طاری ہے۔ اسی کیفیت کی وجہ سے اس نے انسان کے باطن میں الوہی نغمہ یا میلوڈی کو پایا ہے۔ اپنی "سائیکی" میں اللہ کے حسن و جمال کے "آرچ ٹائپ" کو اس شدّت سے محسوس کیا ہے کہ ہر شے میں وہی نظر آتا ہے۔

ابتدا میں میں نے کہا ہے کہ نظیرؔ اکبر آبادی جشنِ زندگی کے شاعر ہیں، تہذیب و تمدّن کے مظاہر پر فریفتہ ہیں، ہندوستانی اساطیر کے بعض واقعات و کردار نے انھیں اس لیے بھی متاثر کیا ہے کہ ان کا تعلق ملک کی تہذیب و تمدّن سے ہے اور یہ "فینومنیا" کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مسرّتوں خوشیوں اور شادمانیوں کی جانب شاعر بے اختیار لپکتا ہے اور کہانیاں سنانے لگتا ہے۔ اساطیری واقعے کا ہلکا سا اشارہ پا کر جشن منانے لگتا ہے اور تخلیقی ذہن ایک کے بعد دوسرا منظر پیش کر نے لگتا ہے۔ بنیادی مقصد اساطیری واقعے اور کردار سے لطف اندوز کرنا ہے۔ قاری جمالیاتی انبساط حاصل کر نے لگتا ہے۔

ایسی نظموں میں کہ جن میں ہندوستانی اساطیر کے قصّوں کا رنگ و آہنگ ہے "جنم کنہیاجی"، "بالپن بانسری بجیا"، "بانسری"، "لہو و لعب کنہیا"، "کنہیاجی کی شادی"، "وسم کتھا"، "بیان سیکشن ونرسی اوتار"، "درگاجی کے درشن"، "بھیروں جی کی تعریف"، "مہادیو کا بیاہ" وغیرہ کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔

"جنم کنہیا جی" میں کرشن کی پیدائش کی اساطیری کہانی کے کئی مناظر پیش کیے گئے ہیں، اس کہانی کا انداز ہی بنیادی طور پر ڈرامائی ہے اور شاعر نے بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے اسے ایک منظوم ڈراما بنا دیا ہے۔ اس کے برعکس "بالپن بانسری بجیا" میں کتھا سنانے کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔

یوں بالپن تو ہوتا ہے ہر طفل کا بھلا
پران کے بالپن میں تو کچھ اور ہی بھید تھا

اس بھید کی بھلاجی کسی کو خبر ہے کیا
کیا جانے اپنے کھیلنے آئے تھے کیا کلا

ایسا تھا بانسری کے بجیا کا بالپن
کیا کیا کہوں میں کرشن کنہیا کا بالپن

اساطیری واقعات و کردار اور عوامی لوک کہانیوں کا مزاج لیے ہوئے دوسری نظمیں بھی اسی نوعیت کی ہیں، bسی تو موجود ہی ہے "مِتھ" کے تجربوں کو عوامی احساسات و جذبات سے قریب کر نے کی نفسیاتی کوشش بھی ہے کہ جس میں ڈرامائیت سب سے بڑی خصوصیت ہے۔

اپنی کتاب "میرشناسی" (مئی 1998ء) میں میں نے لکھا تھا۔ میر تقی میرؔ اُردو کی عشقیہ شاعری کے ایک ممتاز شاعر ہیں، ان کی حیثیت منفرد ہے، اُنھوں نے عشقیہ کیفیتوں کو انسان کے تمام احساسات اور جذبات پر فوقیت دی ہے اور باطن کے سانحے کو انتہائی پُر اثر انداز میں پیش کیا ہے۔ عشقیہ شاعری میں میرؔ صاحب نے جو لطیف پُر اثر اور دلفریب فضا خلق کی ہے اس میں ان کے مدھم اور دلنشیں لہجے کی بڑی اہمیت ہے، اس لہجے میں کبھی کبھی برق کی سی جو لہر ملتی ہے وہ شخصیت کے سوز و گداز کی دین ہے۔ شرنیگار رس لیے یہ شاعری عشقیہ تجربوں کا عرفان بخشتی ہے۔ میرؔ کی عشقیہ شاعری میں فراق کی اذیتیں ہیں، تمنّاؤں کے کچل جانے کے احساسات ہیں، سوز و گداز اور درون بینی ہے، خود فراموشی کی کیفیت ہے، وارداتِ قلب کا بیان ہے، ایسے تمام حسی تجربوں میں عام انسانی تجربے ملتے ہیں۔

میرؔ اپنے باطن اپنی "سائیکی" میں بے اختیار اُترتے ہیں اور لہو کے "آرچ ٹائپ" سے گہرا رشتہ قائم کر لیتے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ اگر جی۔ سی۔ یونگ کے سامنے میرؔ صاحب کا کلام رکھا جاتا تو وہ یقیناً بے اختیار یہ کہتا کہ اس شاعری کا بنیادی آرچ ٹائپ "لہو" ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ "لہو" کے استعارے پیکر اور علامت کے بغیر میرؔ کی شاعری کی عظمت کی پہچان مشکل ہے۔


مندرجہ ذیل اشعار اس سلسلے میں خاص توجہ چاہتے ہیں:

گو خاک سی اُڑتی ہے مرے منہ پہ جنوں میں
ٹپکے ہے لہو دیدۂ نمناک سے اب تک

کوئی تو آبلہ پا دشت جنوں سے گزرا
ڈُوبا ہی جائے ہے لوہو میں سَرخار ہنوز

سمجھ کے چنیو کہ گلشن میں میرؔ کے
لختِ جگر پڑے ہیں نہیں برگ ہائے گل

کیا دن تھے کہ خون تھا جگر میں
رو اُٹھتے تھے بیٹھ دوپہر رات

رنگ یہ ہے دیدۂ گریاں ہے آج
لوہو ٹپکتا ہے گریباں سے آج

دل کا، جگر کا، لوہو تو غم نے سکھا دیا
آنکھیں رہیں گی دیکھئے خوں بار کب تلک

میں گریۂ خونیں کو، روکے ہی رہا، ورنہ
یک دم میں زمانے کا، یاں رنگ بدل جاتا

دل، کہ یک قطرۂ خوں نہیں ہے بیش
ایک عالم کے سر بلا لایا

یہ عیش گہہ نہیں ہے، یاں رنگ اور کچھ ہے
ہر گل ہے اس چمن میں، ساغر بھرا لہو کا

گزرے ہے لہو واں، سرِ ہر خار سے اب تک
جس دشت میں پھوٹا ہے مرے پاؤں کا چھالا

دل نہ پہنچا گوشۂ داماں تلک
قطرۂ خوں تھا، مژہ پر جم رہا

کیا ہے خوں مرا پامال، یہ سرخی نہ چھوٹے گی
اگر قاتل، تو اپنے ہاتھ سو پانی سے دھووے گا

دل بہت کھینچتی ہے، یار کے کوچے کی زمیں
لوہو اس خاک پہ گرنا ہے، مقرر اپنا

پلکوں پہ تھے پارۂ جگر، رات
ہم آنکھوں میں لے گئے، بسر رات

چلّو میں اس کے میرا لہو تھا، سوپی چکا
اُڑتا نہیں ہے طائرِ رنگ حِنا ہنوز

کیونکر ترے کوچے سے اُٹھ کر میں چلا جاتا
یاں خاک میں ملن تھا لوہو میں نہانا تھا

کس بے گنہ کے خوں میں، ترا پڑ گیا ہے پاؤں
ہوتا نہیں ہے سُرخ تو ایسا حنا کا رنگ

جہاں کے باغ کا یہ عیش ہے کہ گل کے رنگ
ہمارے جام میں لوہو ہے سب، شراب نہیں

شہادت گاہ ہے، باغِ زمانہ
کہ ہر گل اس میں اِک خونیں کفن ہے

جگر سوئے مژگاں کھینچا جائے ہے کچھ
مگر دیدۂ تر ہیں لوہو کے پیاسے

لختِ دل کب تک الٰہی، چشم سے ٹپکا کریں
خاک میں تا چند، ایسے لعل پارے دیکھے

بہت آرزو تھی گلی کی تری
سو یاں سے لہو میں نہا کے چلے

چشمِ خوں بستہ سے کل رات لہو پھر ٹپکا
ہم نے جانا تھا کہ بس اب تو یہ ناسور ہو گیا

دل سے آنکھوں میں لہو آتا ہے شاید رات کو
کشمکش میں بے قراری کی یہ پھوڑا چھل گیا

دامن میں آج دیکھا پھر لخت میں لے آیا
ٹکڑا کوئی جگر کا پلکوں میں رہ گیا تھا

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
لوہو آتا ہے جب نہیں آتا

لیتا ہی نکلتا ہے مرا لختِ جگر اشک
آنسو نہیں گویا کہ یہ ہیرے کی کنی ہے

ہر اشک میرا ہے دُرِ شہوار سے بہتر
ہر لختِ جگر رشک عقیقِ یمنی ہے

وے دن گئے کہ آنسو روتے تھے میرؔ اب تو
آنکھوں میں لختِ دل ہے یا پارۂ جگر ہے

جگر ہی میں یک قطرہ ہے سرشک
پلک تک گیا تو تلاطم کیا

یہ تیس اشعار اُردو شاعری کے بہت ہی قیمتی اشعار ہیں، لگتا ہے جیسے شاعر نے خود اپنے کلیجے میں ہاتھ ڈالا ہو۔ "ذات" اور زندگی کے تجربے جیسے "سائیکی" میں بے اختیار اُترے ہوں اور "لہو" کے آرچ ٹائپ سے جذب ہو گئے ہوں، "لہو" کے استعارے پیکر یا "ا4" لاشعور کی کیفیتوں کو بہت حد تک محسوس بناتے ہیں۔

میرؔ کے کلام میں "لہو" کا لاشعوری پیکر شعوری تجربوں کی معنویت میں تہہ داری پیدا کرتا ہے۔ شاعر کے جمالیاتی تجربوں میں "مِتھ" کے آہنگ کو اچھی طرح محسوس کیا جا سکتا ہے۔ بیشتر اشعار میں "مِتھ" کی لہریں موجود ہیں۔ میک بتھ کے ڈرامے میں "لہو" گناہ اور تشدّد کی علامت ہے۔ میرؔ کی شاعری میں یہ وجود کے المیہ کا "سمبل" ہے۔ بڑی بات یہ ہے کہ یہ باطن اور لاشعور کے زخم اور اضطراب کا بھی پیکر ہے اور وجود اور معاشرے کے رشتوں کی ٹریجڈی کا علامیہ بھی "بلیک ہولز " (Back Hoes) کی بابت کہا جاتا ہے کہ ان کے سامنے سے جب بھی روشنی یا کوئی شے بھی گزرتی ہے وہ اسے نگل لیتے ہیں۔ "آرچ ٹائپس" کے تعلق سے بھی معاملہ کچھ ایسا ہی ہے۔ تخلیقی ذہن جب "سائیکی" کے قریب آتا ہے تو وہ اسے اندر بہت گہرائیوں میں "آرچ ٹائپ" تک پہنچا دیتی ہے اور شعور اور لاشعور کا ایک گہرا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ میرؔ کے لہو کے تجربے شعوری ہیں لیکن "سائیکی" ان تجربوں کو بڑی گہرائیوں میں "آرچ ٹائپس" تک پہنچا دیتی ہے۔


"لہو" کے "آرچ ٹائپ" پر گفتگو کرتے ہوئے اپنی کتاب "غالب کی جمالیات" (دسمبر 1969ء) کی تمہید میں لکھا تھا کہ آدم کا ایک نام "سرخ زمین" (Red Earth) بھی ہے، عہد نامہ قدیم میں "روح" کو لہو کا پیکر کہا گیا ہے۔ "لہو" تخلیق کے جوہر کی علامت ہے یہ بہت قدیم تصوّر ہے۔ "لہو" سے ایک آدم کے بعد دوسرے آدم کی تخلیق ہوئی۔ بائبل میں کہا گیا ہے کہ "روح لہو میں سفر کرتی ہے "۔

قدیم فلسفوں میں "لہو" یا خون کی تمثیل بہت اہمیت رکھتی ہے، یہ سمجھا گیا ہے کہ لہو روحانی ارتقا کی عظیم تر منزل کی علامت ہے۔ "خون" (سرخ رنگ) پہلے آدمی (آدم) کا حسی تصوّر بھی ہے اور عظیم ماں (Great Mother) کے لاشعوری احساس کی علامت بھی۔ ۔ ۔ فطرت ماں ہے اور اس کے لہو سے تخلیق ہوتی ہے۔ اس بنیادی حسی پیکر سے "تخلیق" اور "نئی زندگی" یا نئے جنم کا تصوّر وابستہ ہے۔

"تِم" (Tem) "آتم" (Atim) اور "را" (Ra) جیسے دیوتاؤں کا لہو اوپر سے ٹپکتا ہے اور دھرتی پر تخلیق ہوتی ہے۔ قربانی، جنگ، سیکس، اور "روحانی سفر" کے قدیم ترین تصوّرات پر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ "لہو" یا خون کے "امیج" نے انسان کے ذہن میں کیسے کیسے حسیاتی پیکروں کی تشکیل کی ہے۔ قربانی کی اہمیت یہ ہے کہ ہر مخلوق کی روح لہو میں ہے، قربانی روح کی قربانی ہے۔ جسم سے لہو کا نکلنا دراصل روح کا قربان ہونا ہے۔ عورت کا لہو تخلیق کا جوہر ہے اور "لہو" موت کو نگل جاتا ہے، یہ بہت پرانے قبائلی حسی تصوّرات ہیں۔

مصر میں نٹ (Nut) کے رحم سے جو نئی تخلیق ہوتی ہے وہ دراصل رحمِ مادر سے نئی تخلیق کا اشارہ ہے۔ قدیم ایرانیوں کے یہاں "لہو" عورت کی علامت ہے اور دودھ مرد کی علامت۔

"لوسی فر" (Lucifer) جب زمین پر آیا تھا تو ہر جانب گہرا دھواں پھیل گیا تھا۔ اُس نے اپنے وجود کی آگ سے دریائے حیات کو لہو کا دریا بنا دیا تھا۔ اس نے کہا کہ لہو آتش کی سیّال صورت ہے۔ (غالبؔ کا ایک مصرعہ ہے: میں خار ہوں، آتش میں چبھوں رنگ نکالوں )

اسی ساؤ (Esau) کی ٹریجڈی یہ تھی کہ اس نے اپنی پیدائش سے قبل اپنی ماں کا لہو پیا تھا، یہی وجہ ہے کہ ایک خاص پرندہ اس کی علامت ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پانی نہیں پیتا صرف خون پیتا ہے اور اسی سے اس کی روح زندہ رہتی ہے۔

میکسیکو کی ایک اساطیری روایت کے مطابق دیوتاؤں کے لہو سے پچھلی نسلوں کے مردوں کی ہڈّیاں اب تک موجود ہیں۔

گوتم بدھ نے چیتے کے بچوں کو اپنا گوشت کھلایا تو ان کے لہو سے زمین ہمیشہ کے لیے سرخ ہو گئی، درختوں اور پھولوں کا ہر رنگ اسی لہو کا رنگ ہے۔

یونانیوں نے ایڈونس (Adonis) کے لہو کی بہتی ہوئی ندی دیکھی تھی۔

ہمیں معلوم ہے کہ طوفانِ نوح کو خون کا سیلاب بھی کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ خدانے حضرت نوح سے کہا تھا کہ لہو کے اس سیلاب کے بعد قوسِ قزح کے ذریعہ قدرت اعلان کرے گی کہ دھرتی لہو میں نہیں نہائے گی، ہر طوفان کے بعد قوسِ قزح قدرت کا یہی اعلان ہے۔

قدیم اساطیری قصّوں اور قدیم دعاؤں میں سورج کے جلال سے خون کی لہریں اور موجیں پیدا ہوتی ہیں اور اس کے جمال سے ان لہروں اور موجوں سے نئی تخلیق ہوتی ہے۔ شراب پینے سے پہلے لہو کے چھینٹے دیئے جاتے تھے تاکہ روح بیدار رہے۔ لافانی حسن یا حسن مطلق کا آفتاب جب دھرتی کی تاریکیوں میں چھپ جاتا ہے تو دیوتا سخت پریشان ہوتے ہیں اس لیے کہ تخلیق کا عمل رُک جاتا ہے اور پھر جب آفتاب نکلتا ہے تو ہر جانب مسرّت کی لہریں ہوتی ہیں اس لیے کہ تخلیق کا عمل شروع ہو جاتا ہے، آفتاب کے جلال و جمال کا احساس حسن کی تخلیق اور ہر نئی تخلیق کا احساس ہے۔ سورج کی تپش اور روشنی سے "لہو" میں گرمی آتی ہے اور نئی تخلیق ہوتی ہے۔ جمال آفتاب سے روشنیوں کا جسم بنتا ہے، رحمِ مادر کا لہو آفتاب کے امیج میں جذب ہو گیا ہے، زندگی کے چکّر اور نئے جنم اور نئی تخلیق کے گہرے لاشعوری احساس سے لہو کے دشت میں نئے آبلوں کے ساتھ چلنے کا خیال اُبھرتا ہے۔ پھیلے ہوئے تہہ دار تاریک لاشعور میں ہم ان حسی تجربوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ہر عہد میں جذبوں کو بیدار کر نے میں کچھ حسیاتی اور ذہنی پیکروں کی گہری معنویت ہمیشہ موجود رہی ہے۔ "لہو" بھی ایک حسی ذہنی پیکر ہے۔


لاشعور کے علائم و رموز سے گہرا رشتہ رکھتے ہوئے ایسے پیکروں کی جذباتی لہروں کی اہمیت بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ زمانہ یا معاشرے کے بنیادی داخلی سچائیوں سے ان کا رشتہ گہرا ہو جاتا ہے، جذباتی لہروں میں شدّت آ جاتی ہے۔ ایسے پیکروں میں فنکار لاشعوری طور پر نسلی تجربوں کی معنویت کو جذب کر لیتا ہے اور قاری کے لاشعور میں جانے کتنی معنی خیز لہروں کو بیدار کرتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ "آرچ ٹائپس" کے دباؤ اور ان کی روشنی سے عہد اور معاشرے کی سچائیاں نئے آہنگ اور نئی معنویت کے ساتھ حسی پیکروں میں نمایاں ہوتی ہیں۔

میرؔ کی زندگی اور ان کے معاشرے پر ایک نظر ڈالیے اور ان کی آپ بیتی کا مطالعہ کیجیے تو آپ کو ان کے ذاتی غم کی گہرائی کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔ یہ غم "لہو" کے "آرچ ٹائپ" سے قریب ہوتا ہے تو المناک اور مضطرب کر دینے والے نغموں کی تخلیق ہونے لگتی ہے۔ تخلیقی گہرائیوں (Creative Depth) کی تہوں کو کھولتے جائیے "لہو" کے پیکر کی جمالیاتی جہتیں نمایاں ہوتی جائیں گی۔

غالبؔ پر میری پہلی کتاب "غالب کی جمالیات" دسمبر 1969ء میں شائع ہوئی۔ غالباً اُردو میں یہ پہلی کتاب ہے جس میں ابتدا سے آخر تک "آرچ ٹائپ" (Archetype) کی روشنی میں غالبؔ کی "سائیکی" اور ان کے کلام کا مطالعہ کیا گیا ہے اور جمالیاتِ غالب کی امتیازی جہتوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ جی۔ سی۔ یونگ (G۔ C۔ Jung) نے جن چند اہم ترین "آرچ ٹائپس" کی قدرو قیمت کو سمجھانے کی کوشش کی ہے اُن کی روشنی میں مختلف عنوانات قائم کیے گئے ہیں اور شاعر کی جمالیات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ مثلاً:

  • نسلی یا اجتماعی لاشعور (Collective Unconsciousness)
  • ذات (Self)
  • رنگ اور لہو (Colour and Blood)
  • آتش (Fire)
  • ضعیف دانش مند (Wise Old man)
  • پرچھائیں (The Shadow)
  • آفتاب (Sun) اور "برق" وغیرہ۔

غالبؔ پر میری دوسری کتاب "مرزا غالبؔ اور ہند مغل جمالیات" فروری 1987ء میں شائع ہوئی جن میں مندرجہ ذیل موضوعات کو اہمیت دی گئی:

ہند مغل داستانیت کا عرفان اور فسوں و تحیر کے تجربے،

صحرا نوردی کے جمالیاتی تجربے،

جلوۂ صد رنگ،

رقص اور تحرک، نور اور روشنی،

احساسِ ذات کا وژن اور فسونِ نشاط وغیرہ۔

"آتش" اجتماعی یا نسلی لاشعور کا ایک قدیم تر حسی پیکر اور "آرچ ٹائپ" ہے کہ جس سے غالبؔ کا تخلیقی ذہن وابستہ ہے۔ اس حد تک کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ "میں آذر نفس کے خاندان سے ہوں"۔ ۔ ۔ اور:

عمر ہا چرخ بگردد کہ جگر سوختہ
چوں من ازدودۂ آذر نفساں برخیزد

آگ اور روشنی کو اُنھوں نے اس طرح سمجھانے کی کوشش کی کہ میرا پیکرمٹی کا ہے، میرے دل اور روح کی تخلیق "آگ" سے ہوئی ہے، آگ ہی سے آب و گل کے اس پیکر میں روشنی آئی ہے، آگ نہ ہوتی تو یہ نور نہ ہوتا یہ روشنی نہیں ہوتی:

پیکرم از خاک و دل از آتش است
روشنی آب و گل از آتش است

آتشم آنست کہ دودش نیت
برنمط شعلۂ نمودش نیست

سوختہ ام لیک نہ سوزندہ اَم
آتش بے درد فروندہ ام

آتشم اَما بفروغ و فراغ
روشنیِ شمعم و نورِ چراغ!

(مثنوی ہشتم)

"ذات" جلال و جمال کا جلوہ اور مرکزِ حسن بن جاتی ہے!


کہتے ہیں بظاہر ندی نظر آتا ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں آتش ہوں، میرے وجود کی گہرائیوں میں کوئی غوطہ لگائے تو اس کے ہاتھ میں مچھلی نہیں بلکہ آگ کا ایک متحرّک پیکر "سمندر" آئے گا:

از بروں سو آبم اما از دروں سو آتشم
ماہی ار جوئی سمندر یابی از دریا مئے من

ان سے غالبؔ کی "سائیکی" اور اُن کے "وژن" کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ "ذات" کی گہرائیوں کا احساس غیر معمولی نوعیت کا ہے، گہرائی اور بلندی کے "آرچ ٹائپس" کے تحرک کی پہچان ہوتی رہتی ہے۔ مثلاً:

ماہمای گرم پرواز یم فیض از ما مجوی
سایہ ہم چون دود بالا میرود از بالِ ما

یعنی ہم گرم پرواز ہما کی مانند ہیں، ہم سے فیض کی امید رکھنا عبث ہے کیونکہ سایہ ہمارے پروں سے دھوئیں کی طرح اوپر اوپر ہی نکل جاتا ہے یعنی سایہ زمین پر پڑتاہی نہیں!

میں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہا
میری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا!

عرض= جو ہر اندیشہ کی گرمی کہاں
کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا

نگہ کرم سے اِک آگ ٹپکتی ہے اسدؔ
ہے چراغاں خس و خاشاک گلستاں مجھ سے!

آتش کدہ ہے سینہ مرا رازِ نہاں سے
اے واے اگر معرض اظہار میں آوے!

شب کہ برق سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا
شعلۂ جوالہ ہریک حلقۂ گرداب تھا

کوہ کے ہوں بارِ خاطر گر صدا ہو جائے
بےتکلف اے شرارِ جستہ کیا ہو جائیے

اثر آبلہ سے جادۂ صحراے جنوں
صورت رشتہ گوہر ہے چراغاں مجھ سے!

سایہ میرا مجھ سے مثل دود بھاگے ہے اسدؔ
پاس مجھ آتش بجاں کے کس سے ٹھہرا جائے ہے!

اکثر آتش، برق اور آفتاب کے پیکروں میں اپنی "ذات" کو شدّت سے نمایاں کرتے ہیں، یہ تینوں پیکر آگ، رنگ اور روشنی کی علامتیں ہیں۔ "رگِ اندیشہ" میں اضطراب کا محرک بھی باطن ہے، موت کے بعد بھی رگِ اندیشہ میں اضطراب باقی ہے یہی وجہ ہے کہ مزار کے قریب ہر طرف غبار پیچ و تاب کھا رہے ہیں:

غبارِ طرفِ مزارم بہ پیچ و تابی ہست
ہنوز در رگِ اندیشۂ اضطرابی ہست!

غالبؔ نے "پس کوچہ" سے غیر شعوری طور پر اپنی "سائیکی" کی جانب اشارہ کیا ہے:

مرادیست بہ پس کوچۂ گرفتاری
کشادہ روے تراز شاہدانِ بازاری

(قصیدہ دوم ونعت کلیات ص473)

دل کی عام شاہراہ کے پیچھے ایک "پس کوچہ" بھی ہے، شعور کی سطح پر المناک تجربوں اور معاشرے کی "میکانیت" کا اثر شاعر کے دل پر بہت گہرا ہوتا ہے اذیتوں کا شکار رہتا ہے لیکن اس بات کا احساس ہے کہ دل سے الگ کر ایک پس کوچہ بھی ہے، باطن کا پس کوچہ اتنا کشادہ ہے کہ یہاں رنگ و نور کی دنیا آباد ہو گئی ہے۔ غالبؔ کی حسن شناسی کی یہ بہت ہی عمدہ مثال ہے۔ شاعر کے گہرے جمالیاتی وجدان کی ایک پُر اسرار دلکش تصویر اُبھرتی ہے۔ غالبؔ کا جمالیاتی رجحان پھیلتا ہے تو محسوس ہوتا ہے جیسے یہ "پس کوچہ" پھیل کر کائنات کے حسن و جمال کو جذب کر لینا چاہتا ہے۔ صرف یہی نہیں شاعر یہ محسوس کر نے لگتا ہے:

٫>> گل جداناشد از شاخ بدامانِ من است

کائنات کے تمام حسن کو سمیٹ لینے کی خواہش بلاشبہ لاشعور یا "سائیکی" کے پھیلاؤ کی آرزو کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ غالبیات کا مطالعہ کرتے ہوئے اس صداقت پر ہم نے بہت کم غور کیا ہے کہ شعور، لاشعور کے سمندر میں ایک ننھا سا جزیرہ ہے۔

غالبؔ اپنے باطن میں شدّت سے محسوس کرتے ہیں کہ ان کے وجود میں آتشِ زرتشت کے شرارچھپے ہوئے ہیں:

شرارِ آتشِ زرتشت درنہادم پود!

غالبیات میں "آتش" ایک معنی خیز جہت دار "آرچ ٹائپ" ہے جس سے جانے کتنے استعارات و علامات خلق ہوئے ہیں (تفصیل کے لیے دیکھئے: "غالب کی جمالیات" اور "مرزا غالب اور ہند مغل جمالیات" ) یہ آرچ ٹائپ ایک ایسے Psychic Force ہے جس سے "فینومینن" خلق ہوتے رہتے ہیں۔ غالبؔ کی شاعری جب ڈراما بن جاتی ہے تو کئی زندہ اور متحرک کردار وجود میں آ جاتے ہیں۔ "سائیکی" متحرک ہو جاتی ہے تو جمالیاتی بصیرت اور "وژن" کے عمدہ تجربے ملنے لگتے ہیں۔ "غالبیات" میں "ذات" (Self) کا آرچ ٹائپ غیر معمولی حیثیت رکھتا ہے۔ کہتے ہیں:

بینم از گدازِ دل درجگر آتشے چوسیل
غالبؔ اگر دمِ سخن رہ بہ ضمیر من بری


یعنی تخلیقِ فن کے لمحوں میں اگر تم باطن میں میری حالت دیکھو تو معلوم ہو گا کہ آگ کا ایک سیلاب دل سے جگر تک بہہ رہا ہے۔ آگ کا یہ سیلاب شاعر کی حسی اور اضطراری کیفیتوں اور تخلیق کے پُر اسرار عمل کو سمجھا رہا ہے۔ دل سے جگر تک آگ کا یہ سیلاب جمالیاتی تجربوں اور Depth Perception کے تئیں بیدار کر دیتا ہے۔ کہتے ہیں:

آتش چکد زہر بن مویم اگر بفرض
ذوقم بخود قرار گل و گلستاں دید

رونگٹے سے چنگاریاں اور شعلے نکلیں تو وژن ان سے گلستاں بنا لے گا! اور واقعی گلستاں بن جاتا ہے:

نگہ گرم ہے اِک آگ ٹپکتی ہے اسدؔ
ہے چراغاں خس و خاشاکِ گلستاں مجھ سے

"ذات" کے "آرچ ٹائپ" کے پیشِ نظر یہ خیال توجہ طلب ہے کہ شاعر کے احساسِ جمال اور نشاطِ جمال کو سمجھنے کے لیے اتنا کافی ہے کہ دل سے جو آگ نکلتی ہے اس سے حسن کی تخلیق ہوتی ہے، وجود کی آگ سے حسن کی تخلیق کا عمل جاری ہے۔

غالبؔ کے "پس کوچے " میں عجم کا آتش کدہ روشن ہے، ہم اسے شعلہ نوائی کی صورت میں پہچانتے ہیں:

سوخت آتش کدہ زآتش تقسیم بخشیدند
ریخت بتخانہ ز ناقوس فغانم دادند

کہتے ہیں آتش کدہ جل بجھ گیا تو کیا میری تقدیر نے مجھے جو شعلہ نوائی بخشی ہے وہ کیا کم ہے۔ بت خانہ ٹوٹ گیا تو کیا میرے حصّے میں ناقوس کی سی فریاد و فغاں تو آئی شاہانِ ایران کے علم کے جواہرات ٹوٹے، توڑ لیے گئے تو اس کے عوض مجھے گوہر بار قلم تو ملا۔

غالبؔ ایک ہمہ گیر تہہ دار، آریائی لاشعور کے مالک ہیں جس کی وجہ سے اُن کی فارسی اور اُردو شاعری میں کئی "سائیکو ڈرامے " (Psycho-drama) متاثر کرتے ہیں، ان کے کردار گہرا نقش چھوڑ جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک کردار ہرمزد/ عبدالصمد کا ہے جس کے متعلق 1969ء میں میں نے لکھا تھا:

"ہرمزد/عبدالصمد کے پیکر کی تشکیل علم کی روشنی کی نئی دریافت تھی، آئین معنی آفرینی سیکھنے کے لیے غالبؔ نے اپنی "سائیکی" کے آئینۂ آتشیں سے گفتگو کی تھی۔ "

(غالبؔ کی جمالیات)

جی۔ سی۔ یونگ نے تحریر کیا ہے کہ "ضعیف دانش مند" (Wise Old Man) کا آرچ ٹائپ اُس وقت زیادہ متحرک ہو جاتا ہے اور اس میں اُس وقت اُٹھان آتی ہے جب فرد اپنی عظمت اور وقار کا احساس دلانا چاہتا ہے۔ Self-gorification کی ضرورت پیش آتی ہے۔ تو "سائیکی" اس "آرچ ٹائپ" کی گہرائیوں کو چھونے لگتی ہے۔ اعلیٰ اور بہت عمدہ تخلیقی سطح پر اس کی پہچان اُس وقت ہوتی ہے جب نٹشے (Nietzche)، زرتشت کو خود میں جذب کر لیتا ہے۔ "ڈیوائن کامیڈی" میں ڈانٹے کے ساتھ ورجل "ایک ضعیف دانش مند" کا کردار ادا کرتا ہے۔ "جاوید نامہ" میں مولانا رومی اس کردار کی نمائندگی کرتے ہیں۔ غالبؔ نے ایک خاص ماحول میں ذات کی تابندگی کا احساس دلانے یا Self-glorification کے لیے ہرمزد/ عبدالصمد کے حسی کردار کو اپنی سائیکی سے باہر نکالا ہے اور ہم "ایک ضعیف دانش مند" کے "آرچ ٹائپ" کو پہچان لیتے ہیں، بلاشبہ ہرمزد/ عبدالصمد غالبؔ کی اپنی "سائیکی" کی گہرائیوں سے نکلا ایک ایسا کردار ہے جو "سائیکو ڈرامے " (Psycho-drama) کا خالق بن جاتا ہے۔

جی۔ سی۔ یونگ نے Psychological Types (1921ء) میں لکھا ہے:

"The hero is guided by the WISE OLD MAN. He is form of animus, and reveals to the hero the nature of the Collective unconsciousness. "(Page 181)

ہرمزد (عبدالصمد) غالبؔ کی "سائیکی" کا ایک آتشیں پیکر تھا کہ جس کی ایک خارجی صورت نمایاں ہوئی تھی۔ آتش اور بلندی یا رفعت کے "آرچ ٹائپ" نے اس کی تخلیق کی تھی۔ ہرمزد غالبؔ کے ہمہ گیر لاشعور اور ان کے احساس و جذبے کی تصویر تھا۔ ان کی شخصیت کا ایک آئینہ۔ ۔ ۔ نرگسی مزاج اور مجرّد جمالیاتی رجحان نے اس پیکر کی تشکیل میں نمایاں حصّہ لیا تھا۔ فنکار بعض حالات میں جب زیادہ دباؤ محسوس کرتا ہے یا احساسِ کمتری کا شکار ہونے لگتا ہے تو وہ اکثر "بلندی" یا رفعت کے "آرچ ٹائپ" کو لاشعوری طور پر شدّت سے اُبھارتا ہے۔ غالبؔ کے بنیادی "آرچ ٹائپ" آتش نے اس صورت کی تخلیق میں زیادہ مدد کی ہے۔


ہرمزد، زرتشتی، ایران، آتش پرستی، تیمسار، اروند بندہ، پارسی نژاد پارسیوں کے مذہبی خیالات اور اسرار، پارسی اور سنسکرت، ان تمام لفظوں کے پیچھے نسلی شعور اور بنیادی "آرچ ٹائپ" آتش اور نور کا عمل محسوس ہوتا ہے۔ ملاّ عبدالصمد، اسلام، علمائے عرب و بغداد سے تعلیم و تربیت یا علوم عربیہ۔ ۔ ۔ یہ وہ لباس ہے جسے غالبؔ نے شعوری طور پر اس پیکر کو پہنایا ہے، اس کی اہمیت اور معنویت کو سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ غالبؔ تو سچے کفر کی ایسی پیغمبرانہ شان سے پہچانے جاتے ہیں، آریائی مزاج (ایرانی۔ ہندی) عربی عقائد اور ہندوستانی تہذیب و تربیت سے اس حسیاتی پیکر کی تخلیق ہوتی ہے۔

اس "شعوری عمل" کے پیچھے ایک فعال اور تہہ دار "سائیکی" کو کس طرح نظر انداز کیا جا سکتا ہے جس میں "دانش مند ضعیف آدمی" کا حسی "آرچ ٹائپ" موجود تھا!

غالبؔ کی شاعری میں "عورت" کا "آرچ ٹائپ" کہ جسے یونگ نے "سول امیج" (Sou Image) کہا ہے موجود ہے۔ نسلی یا اجتماعی لاشعور کا یہ "امیج" بار بار ظاہر ہوتا ہے۔ یونگ نے کہا ہے کہ "سول امیج" شخصیت کے نہایت ہی گہرے باطنی احساس کی تخلیق ہے اس لیے اسے شخصیت یا روح کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ اس کا یہ جملہ غور طلب ہے:

"She is chaotic urge of life"

غالبؔ کے محبوب کے پیکر کی تخلیق و تشکیل میں ان کی "سائیکی" کا عمل شدّت سے محسوس ہوتا ہے۔ آتش اور نور کے بنیادی "آرچ ٹائپ" سے محبوب (سول امیج) کا نسلی "آرچ ٹائپ" بیدار ہوا ہے 1؂۔

اپنی کتاب "غالبؔ کی جمالیات" میں "پرچھائیں" (The Shadow)، "آفتاب" اور "برق" کے "آرچ ٹائپس" پر مفصل گفتگو کی ہے۔

کلامِ غالبؔ میں ان تینوں حسی پیکروں کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ "آفتاب" قدیم ترین قبائلی شعور کا ہیرو ہے، ایک "مِتھ" کے مطابق یہ ہیرو ایک بار چھپ گیا تو کائنات صدیوں تاریکی میں کسمساتی رہی۔ قبائلی شعور نے لاشعور کی تاریکیوں سے اسے پھر پیدا کیا، ایک آتشیں پیکر کی صورت پھر اس کی عبادت شروع ہو گئی، جمالیاتِ غالب میں آفتاب بھی ایک محبوب حسی پیکر ہے۔ "آفتاب" اور "برق" سے شاعر نے جانے کتنے "ا4" خلق کیے ہیں۔ اسی طرح "پرچھائیں " جلال و جمال کا ایک حسی پیکر بن کر سامنے آیا ہے۔ اس پیکر پر "غالب کی جمالیات" میں مفصل گفتگو کی گئی ہے۔ (دیکھئے صفحہ 207۔ 226) 1؂

"پرچھائیں " (The Shadow) فطری اور جبلّی پیکر ہے کہ جس سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب انسان پہلی بار زمین پر کھڑا ہوا۔ پہلے آدمی کی پرچھائیں اس دھرتی پر اس کے ساتھ ہی اُبھری، پہلا آدمی جدھر گیا وہ اس کے ساتھ رہی، اس کے وجود کا ایک حصّہ بن کر۔ ذاتی اور انفرادی لاشعور پر پرچھائیں کے پیکر نے بہت سے حسی تاثرات کو اُبھارا اور رفتہ رفتہ اجتماعی یا نسلی لاشعور میں یہ پیکر ایک "آرچ ٹائپ" بن گیا، ایک قوّت، طاقت، ایک بہاؤ، برقی لہر، ایک دباؤ! یونگ نے اس "آرچ ٹائپ" کو "سیاہ فام بھائی" (Dark Brother) کہا ہے۔ لیکن یہ صرف منفی لہروں کا استعارہ نہیں ہے، تخلیقی آرٹ میں پرچھائیں ایک مثبت رجحان بھی بن جاتی ہے۔ شعور "وحشی، سیاہ فام بھائی" کو راہنما اور دوست بھی بنا لیتا ہے۔ اس "آرچ ٹائپ" سے تیز خوبصورت شعاعیں بھی نکلنے لگتی ہیں۔ محمد اقبال کے "جاوید نامہ" میں مولانا رومی اور "ڈیوائن کامیڈی" میں ڈانٹے کے دوست ورجل کو یاد کیجیے، یہ دونوں پرچھائیں ہیں۔ خود غالبؔ نے اپنی پرچھائیں کو ہرمزد/ عبدالصمد کے پیکر میں ڈھالا ہے۔ خود غالبؔ کو اپنی پرچھائیں کا شدید احساس تھا، ان کا ایک خوبصورت اور انتہائی دلفریب شعر ہے:

غالبؔ چو شخص و عکس در آئینہ خیال
باخویشتن یکی و دو و چار خودیم ما

یعنی آئینۂ خیال میں میری مثال شخص و عکس کی ہے، میں واحد شخص ہوں لیکن آئینے میں میرے عکس نے دوئی پیدا کر دی ہے۔ ایک دوسرے کے آمنے سامنے میں ایک دوسرے سے دو چار، یہی وجہ ہے کہ مصائب کا شکار ہیں۔

یونگ کے نظریے کے مطابق "لاشعور" میں اس پیکر کی خصوصیات وہی ہیں جنھیں انسان عموماً اپنے دشمنوں اور شعرا رقیب میں دیکھتے ہیں۔ یہ انسان کی اپنی خصوصیات ہیں کہ جن کا وہ اعتراف نہیں کرتا۔ شعوری طور پر اپنی فطرت اور اپنے وجود اور عمل سے علاحدہ دیکھتا ہے اور دیکھنا چاہتا ہے اور اس پیکر کو اپنے وجود، اپنی فطرت اور اپنے عمل سے علاحدہ کر نے کی خواہش بہت ہی دلچسپ صورتوں کی تخلیق کرتی ہے۔ اس "آرچ ٹائپ" سے بہت سی تہہ دار متحرک معنی خیز تصویریں اُبھرتی رہتی ہیں۔ "جاوید نامہ" اور "ڈیوائن کامیڈی" کی مثال دی ہے۔ ملٹن کے شیطان اور اقبال کے ابلیس کو بھی سامنے رکھئے۔ رقیب کے کردار سے بھی معنی خیز صورتیں بنتی ہیں۔ رشک، تشکیک، آزاد پسندی اور بت شکتی کے جمالیاتی تجربوں میں اس "آرچ ٹائپ" کی روشنی ملتی ہے۔ ذہنی اور جذباتی کشمکش کی پہچان بھی ہوتی ہے۔ یہ تو واضح صورتیں ہیں، غیر واضح، مبہم اور تجریدی صورتوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ جی۔ سی۔ یونگ نے تحریر کیا ہے:

"The shadow is an archetypal figure which among. Primitive peoples still makes its appearance in a wide range of personifications. It is a part of the individual، a split-off portion of his being which nevertheless remains attached to him like a shadow. " (G. C. Jung: Memoires Dreams Refection، Page 79)


غالبؔ کا "سیاہ فام بھائی" کئی جہتوں کے ساتھ نمایاں ہوا ہے لیکن پرچھائیں کی صورت ایک رہنما بھی ہے، وجود کی گہرائیوں میں ایک تو انائی بھی۔ اُردو شاعری میں کوئی رقیب "سیاہ فام بھائی" نہیں بن سکا ہے!!

اقبالؔ پر میری کتاب "محمد اقبال" 1993ء میں شائع ہوئی تھی کہ جس میں فنونِ لطیفہ کے جمالیاتی تصوّر، استعارہ، امیج اور علامت، روشنی کی جمالیات، خطیبانہ شاعری کی جمالیات، تصوّف اور تصوّف کی رومانیت، زبورِ عجم کی ایک غزل (ایں جہاں چیست? صنم خانۂ پندار من است) اقبالؔ کی مذہبی حسیت، جبریل و ابلیس، حلقۂ افسوں و تسخیر کا حسیاتی پیکر وغیرہ جیسے موضوعات پر گفتگو کی گئی تھی۔ اس سے قبل "اقبال۔ ۔ روشنی کی جمالیات" مقبول ہو چکی تھی۔

مطالعۂ اقبالؔ میں میں نے کئی "آرچ ٹائپس" کو موضوع بنایا تھا کہ جس میں "روشنی" کے "آرچ ٹائپ" کو زیادہ اہمیت دی تھی۔

اقبالؔ کی جمالیات میں روشنی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اس کے کئی پہلو شعری تجربوں میں نمایاں ہوئے ہیں۔ اقبالؔ نگاہ اور نظر کی تیزی، شوخیِ روشنی اور اُس کی لطیف چبھن کو حرکت اور بیداریِ قلب کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ نگاہ، نگاہِ شوق اور نظر کے پیچھے "روشنی" کا "آرچ ٹائپ" حد درجہ متحرک ہے۔ یہ اقبالیات کا کلیدی پیکر ہے جس سے جانے کتنے علامات و استعارات پھوٹے ہیں۔ پیہم جستجو اور تسخیرِ کائنات کے شعری تجربوں اور باطن اور خارج میں۔ دور تک روشنیوں اور سچائیوں کو پانے کے لیے باطنی لاشعوری تخلیقی ہیجانات میں انھیں اہمیت حاصل ہے۔ عشق، خودی اور ذوق و شوق کا اُن سے گہرا معنوی رشتہ ہے۔ معنوی استعارہ بن کر کبھی ان میں سے کوئی استعارہ یا پیکر شعری تجربے میں یہ رنگ پیدا کرتا ہے:

کچھ اور ہی نظر آتا ہے کاروبارِ جہاں
نگاہِ شوق اگر ہو شریکِ بینائی

اور کبھی جاں پرور جمالیاتی رومانی استعارہ بن کر لامکاں کی فضاؤں اور حریم ناز اور خدا کی تجلّیوں تک پہنچ جاتا ہے اور شعری تجربے کو حد درجہ معنی خیز بنا دیتا ہے:

حور و فرشتہ ہیں اسیر میرے تخیلات میں
میری نگاہ سے خلل تیری تجلیات میں

یہ نگاہ اور نظر کی تیز روشنی کا احساس ہے جس کا اثر کائنات سے دُور سچائیوں پر ہوتا ہے۔ نگاہ اور نظر باطنی روشنیوں کی علامتیں ہیں۔ باطنی روشنی یا لاشعوری تخلیقی نور کی کرنوں نے ایسے شعری تجربے بھی روشن کیے ہیں:

گاہ مری نگاہِ تیز چیر گئی دلِ وجود
گاہ اُلجھ کے رہ گئی میرے توہمات میں

دل اگر اس خاک میں زندہ و بیدار ہو
تیری نگہ توڑ دے آئینۂ مہر و ماہ

دلوں میں ولولے آفاق گیری کے نہیں اُٹھتے
نگاہوں میں اگر پیدا نہ ہو اندازِ آفاقی

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

"بانگِ درا" کی نظموں کے عنوانات پر ایک سرسری نظر ڈالیے تو روشنی کے حسیاتی پیکر کے تحرک کا اور احساس ہو گا۔

"آفتاب"، "صبحِ آفتاب"، "ماہِ نو"، "پیامِ صبح"، "چاند"، "جگنو"، "صبح کا ستارہ"، "ایک پرندہ اور جگنو"، "بچہ اور شاعر"، "اختر صبح"، "بزم انجم"، "شمع اور شاعر"، "نویدِ صبح"، "شعاعِ اُمید"۔

"بانگِ درا" کی کم و بیش تمام اچھی نظموں میں روشنی کا شدید تر احساس موجود ہے اور تخیل کی نوری لکیریں پھیلی ہوئی ہیں۔


"ابرِ کوہسار" میں درافشاں، لبِ جو، گرداب، زادۂ بحر، پروردۂ خورشید، شورش قلزم، شبستاں۔

"آفتابِ صبح" میں "سحاب"، اُفق، کوکب، نیرِ اعظم، نورِمسجود ملک۔

"انسان اور بزم قدرت" میں پرتوِ مہر، سیم سیّال، سورۃ الشمس۔

"نالۂ فراق" میں خورشید آشنا، عالم نما۔

اسی طرح دوسری نظموں میں "ضوگستری" چشمۂ حیواں، کشتیِ سیمیں، جلوہ آشام، "ضو آفتابِ دوام، کوہِ نور، بزمِ انجم، فلک فردزی، فکر فلک رس، فلک تاب اور دوسرے الفاظ و تراکیب موجود ہیں۔

اقبالؔ نے تلمیحوں کو بھی اپنے شعری اظہار کا ذریعہ بنایا ہے، ان تلمیحوں میں کئی معنی خیز p روشنی سے وابستہ ہیں۔ مثلاً:

جلوۂ طور و کلیم، آسمانِ فارس کے ستارے، چشمِ خلیل اور غروبِ آفتاب، آتشِ نمرود، والنجم، صاحبِ مازاع، شقِ قمر، دستِ سفید، جلوۂ او، جمالِ زہرہ، شبِ معراج وغیرہ۔

ان میں تین p ان کے بنیادی تصوّرات سے اس طرح جذب ہو گئی ہیں کہ ان کی کرنیں مختلف شعری تجربوں میں جذب ہو گئی ہیں۔ جلوۂ طور و کلیم، جلوۂ او، اور شبِ معراج، عشق، جستجو اور آرزو، جلوۂ لامکاں، خودی، نورِ الٰہی، آئینۂ ادراک اور کائنات کے سفر کے تجربوں میں ان کی روشنی پگھل گئی ہے۔

کلامِ اقبال میں ان جمالیاتی تصویروں کی امتیازی صفات، تابناکی، حرارت، وسعت و تہہ داری، بصیرت اور حرارت کے پیکر روشنی کے "آرچ ٹائپ" کی متحرک اور فعال کیفیت کو سمجھتاتے ہیں۔ اُردو شاعری میں ذوقِ دیدہ وری اور روشن اور تابناک ذہنی تصویروں کی ایسی مثالیں نہیں ملتی ہیں۔ ان نوری پیکروں کے پیچھے حرکت کا احساس زندہ اور بیدار ہے۔

اقبالؔ کے تمام بنیادی پیکروں مثلاً چاند، ستارے، آسمان، آفتاب، صبح، برق، دریا، چشمہ، سمندر وغیرہ قدیم انسان کے ذہنی پیکروں کی طرح جانے پہچانے ہیں۔ اجتماعی لاشعور کے یہ جانے کتنے تجربوں کی علامتیں ہیں۔ یہ قدیم ترین حسی پیکر ہیں۔ ان پیکروں کا تعلق افسانوی مذہبی رجحان یعنی قبائلی زندگی کے اُس رجحان سے بھی گہرا ہے جو "مِتھ" (Myth) اور مذہب کا عطا کیا ہوا رجحان ہے۔ اقبالؔ کی جمالیات میں ان تاب کار اور روشن پیکروں اور اُن سے خلق کی ہوئی ترکیبوں اور اُن کی شعاعوں میں بنی ہوئی صورتوں سے قدیم انسان کے ذہنی اور حسی پیکروں کی طرف بھی ذہن جاتا ہے جن میں خاص سیاروں، ستاروں اور درختوں کی اہمیت ہے، جو اپنے تحرک کے باوجود ذہن میں ٹھہرے ہوئے جمے ہوئے ہیں اور حسیاتی بن گئے۔ اور قدیم قبائلی تجربوں کی طرف بھی جاتا ہے جن میں "متھ" اور مذہب کے عطا کیے رجحان (Mythical Religious Attitude) نے ایسے پیکر کو بے حد محبوب رکھا ہے۔ ان پیکروں سے جانے کتنے تاثرات، تصوّرات اور تجربات وابستہ ہیں۔

اقبالؔ کی شعری علامتوں کے دو بڑے سرچشمے ہیں، ایک اُردو اور فارسی شاعری کی کلاسیکی روایات کا اور دوسرا اسطور اور مذاہب کا۔ استعارات، تمثال، تراکیب تلمیحات اور اسطور کی دنیا میں شاعری کی جمالیاتی فکر نے ایک بڑا سفر کیا ہے۔ شاعر کی "سائیکی" نے ماضی کے جانے کتنے "امیج" اور پیکر کو متحرک اور معنی خیز بنا دیا ہے کہ جن سے "ا4" (Images) کی ایک بڑی دنیا سامنے آ جاتی ہے اور قاری کے ذہن میں انگت حسی پیکر (Psychic Images) اُبھر آتے ہیں۔ غالبؔ کی طرح اقبالؔ نے بھی حسی پیکروں کی ایک کائنات سجادی ہے جس سے شاعر کی اپنی اساطیر کی ایک دنیا وجود میں آ گئی ہے۔ اقبالؔ کا نیا استعاراتی نظام "آرچ ٹائپس" کے تحرک کو حد درجہ محسوس بناتا ہے 1؂۔ "سائیکی"، "آرچ ٹائپس" کی گہرائیوں میں اُترتی ہے تو ایسی جہتیں نمایاں ہوتی ہیں۔ چشمِ حیواں، دیوارِ یتیم، سحرِ قدیم، باغِ بہشت، چشمۂ آفتاب، خضر بے برگ و ساماں، میراثِ خلیل، ضربِ کلیم، سوز و سازِ روی، شوکتِ تیموری، صورِ اسرافیل، متاعِ تیموری، چوبِ کلیم، حیرتِ فارابی، خونِ اسرافیل، جبریل کی چاک قبا، مثلِ کلیم، جامِ جمشید، قصۂ فرعون و کلیم، نغمۂ جبریل، قافلۂ حجاز کا حسینؓ، خوابِ اسکندر، طلسمِ افلاطون، صدقِ سلمانی، مآلِ سکندری، خانۂ فرہاد، بتخانۂ بہزاد، نوائے حلاج، اولادِ ابراہیم، سینۂ بلالؓ، بانگِ اسرافیل، ساحرِ الموطہ، آتشِ نمرود، جذبِ کلیمانہ، طلسمِ سامری، محمود و ایاز، شمشیرِ سکندر، کلیمِ بوذر، ترکانِ تیموری، مقامِ شبیری، زورِ حیدری، کلیمِ الٰہی وغیرہ۔


کلامِ اقبالؔ کی جمالیات سے استعاروں، پیکروں، ترکیبوں، کنایوں، تلمیحوں اور اسطوری اشاروں کی ایک حیرت انگیز دنیا سامنے آ جاتی ہے۔ کلاسیکی اور رومانی دونوں مزاج موجود ہیں۔ اور کلاسیکی اور رومانی کیفیتوں کی آمیزش اور ان کے امتزاج سے اکثر استعارے اور پیکر بے حد روشن بن گئے ہیں۔ غالبؔ کے بعد لفظوں کی ایسی دیومالا اور کہیں نظر نہیں آتی، ایک بڑے خلاّق ذہن کے تراشے ہوئے پیکر اور استعارے مفاہیم کے دائرے کو پھیلاتے ہیں اور علامتوں کی صورتوں اور ذیلی علامتوں کی شکلوں میں بھی ذہن اور احساس و جذبے سے رشتہ قائم کر لیتے ہیں۔

اقبالؔ کی جمالیات میں جہاں روشنی کی جمالیات جمالیاتی جذبے کی صورت متاثر کرتی ہے وہاں جمالیاتی شعری تجربہ بہت قیمتی ہو گیا ہے، محسوس ہوتا ہے جیسے خارجی کیفیت نے "سائیکی" پر باطنی ہیجانات سے ایک معنی خیز رشتہ قائم کر لیا ہے۔

ہندوستانی علمائے جمالیات نے کہا ہے کہ "رس" یا جمالیاتی جذبہ پہلے موجود نہیں ہوتا تخلیقی عمل میں پیدا ہوتا ہے اور پیکروں کی صورتیں اختیار کرتا ہے۔ "رَس" (Rasa) بنایا نہیں جاتا، شعوری طور پر اس کی تخلیق نہیں ہوتی خارج اور باطن کی پُر اسرار آمیزش سے جنم لیتا ہے۔ تخلیقی عمل میں لاشعور میں پوشیدہ جمالیاتی تجربوں سے جب کسی خارجی کیفیت کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے تو یہ کیفیت اپنی صورت میں موجود نہیں رہتی پُر اسرار داخلی عمل سے اس کی صورت جمالیاتی ہو جاتی ہے۔ ایک سے زیادہ جذبے اپنے رنگوں کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں اور "رس" کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، آہنگ تبدیل ہو جاتا ہے اور اسی پُر اسرار آہنگ سے ہمیں جمالیاتی آسودگی حاصل ہوتی ہے۔ اقبالؔ کے خوبصورت شعری تجربوں میں "رس" موجود ہے۔ عموماً "آرچ ٹائپس" کے تحرک سے "سائیکی" میں "رس" گھلتا ہے۔

باطن میں اُتری ہوئی "نگاہ" کے حسیاتی جمالیاتی تجربے توجہ طلب ہیں:

عالمِ نو ہے ابھی پردۂ تقدیر میں
میری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجاب

تری نگاہ میں ہے معجزات کی دنیا
مری نگاہ میں ہے حادثات کی دنیا

عجب نہیں کہ بدل دے اسے نگاہ تری
بلا رہی ہے تجھے ممکنات کی دنیا

حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے
عکس اس کا مرے آئینۂ ادراک میں ہے

نظر آئے گا اسی کو یہ جہاں دوش و فردا
جسے آ گئی میسّر مری شوخیِ نظارہ

یہ کائنات چھپاتی نہیں ضمیر اپنا
کہ ذرّہ ذرّہ میں ہے ذوقِ آشکارائی

کچھ اور ہی نظر آتا ہے کہ کاروبارِ جہاں
نگاہِ شوق اگر ہو شریکِ بینائی

"منڈل" (Mandala) سنسکرت لفظ ہے۔ یونگ نے اسے ایک بنیادی حسی لاشعوری پیکر اور ایک نہایت ہی اہم "آرچ ٹائپ" کہا ہے۔ "منڈل" کو ہم نسلی اور اجتماعی لاشعور کا "حلقۂ افسوں و حلقۂ تسخیر" کہہ سکتے ہیں۔ بڑے فنکاروں کے حسیاتی اور معنی خیز جذباتی تجربوں میں جہاں کئی "آرچ ٹائپس" اُبھرتے ہیں وہاں "منڈل" کا لاشعوری پیکر بھی اُبھرتا ہے۔

اقبالؔ نے حلقۂ افسوں یا "منڈل" میں "موت" کو باطن کے موجِ نور میں بہا دیا ہے:

فرشتہ موت کا چھوتا ہے گو بدن تیرا
ترے وجود کے مرکز سے دُور رہتا ہے


"منڈل" ایک نہایت ہی قدیم حسی جمالیاتی تجربہ ہے، یہ دائرہ صدیوں سے موجود ہے اور انسان کے لاشعور میں متحرّک ہے۔ انسان کے اجتماعی یا نسلی لاشعور میں تخلیق کا ایک اہم سرچشمہ ہے۔ ذہن اسے کسی نہ کسی صورت میں اُبھارتا رہتا ہے۔ بڑے فنکاروں کے یہاں یہ "آرچ ٹائپ" زیادہ اُبھر جاتا ہے۔ ممکن ہے "سورج" اس جمالیاتی تجربے کی بنیاد ہو۔ دنیا کے ہر ملک میں "منڈل" کی علامتیں ملتی ہیں۔ "تانتر یوگ" میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ "مسیحی حلقہ افسوں " کو بھی ذہن میں رکھئے۔ حضرت عیسیٰ کی وہ تصویریں توجہ چاہتی ہیں جن میں مسیح کے سر کے پیچھے ایک دائرہ ہے۔ ہندو اور بدھ آرٹ میں یہ "منڈل" موجود ہے۔ رام، کرشن اور بدھ کی تصویروں اور مجسّموں میں یہ دائرہ ملتا ہے۔ قدیم رقص میں بھی "منڈل" کی علامتیں ملتی ہیں۔ اس "آرچ ٹائپ" کی بہت سی علامتیں ملتی ہیں۔ دائرے اور مربعے جن میں مرکزی نقطے ہوتے ہیں۔ ایسے مرتب کیے ہوئے پیکر جن میں ارتکاز کا احساس ہو بہت سی بنیادی اور کائناتی ترتیبیں یہ منڈل کی علامتیں ہیں۔ یونگ نے ان علامتوں کو خوابوں میں پایا ہے۔ بلاشبہ انسانی فکر اور فنکاروں کے تخیل اور احساس اور اس کے جمالیاتی تجربوں میں "وژن" کا مطالعہ کرتے ہوئے "منڈل" کے لاشعوری پیکر کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اقبال نے اس دائرہ یا حلقۂ افسوں و تسخیر کو انتہائی متحرک اور سیّال بنا دیا ہے۔ ان کی فکر و نظر کے جلال و جمال اور تصوّرات کی ڈرامائیت کے پیشِ نظر ان کی جمالیات میں "منڈل" کے حسی پیکر کو ایک خاص جگہ دینا چا ہوں گا۔

"منڈل" کو سمجھاتے ہوئے یونگ نے لکھا ہے کہ قدیم انسان نے جب خدا کی ذات کو شدّت سے محسوس کرنا چاہا تو اس نے اپنے خیال کے انتشار کے پیشِ نظر ایک حسی دائرے کو اُبھارا اور اسی دائرے میں خدا کو محسوس کیا، رفتہ رفتہ یہ حلقہ بہت اہم ہو گیا۔ شعور اور لاشعور میں اس نے ایک نمایاں جگہ حاصل کر لی۔ صدیوں بعد نسلی اور اجتماعی لاشعور میں یہ دائرہ ایک "آرچ ٹائپ" بن گیا۔ اس حلقے میں خدا کی جگہ "شخصیت" فرد کی ذات اور فرد کی خودی نے لے لی۔ خدا اور فرد کی شخصیت اور "خودی" کے علاوہ دوسرے حسیاتی پیکر اُبھرے۔ آرٹ اور خصوصاً شاعری میں کوئی حسیاتی، وجدانی اور جمالیاتی تصوّر اس وقت تک اپنے طور پر کسی نہ کسی طرح جمالیاتی تکمیل کا احساس نہیں دلاتا، اپنے خد و خال نہیں اُبھارتا جب تک کہ فنکار اس "آرچ ٹائپ" کو شدّت سے نہیں اُبھارتا اور اس تصوّر کے گرد سحر اور افسوں کا دائرہ تسخیر کے شدید احساس کے ساتھ نہیں ڈال دیتا۔

اقبالؔ کے حلقۂ افسوں و حلقۂ تسخیر میں ان کے "وژن" کا مطالعہ ان کی شاعری میں تخلیقی "bسی" کا مطالعہ ہے۔ اقبالؔ کے چند بنیادی حسیاتی تصوّرات شدّت سے متاثر کرتے ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ قاری اپنے احساس اور جذبے کے ساتھ اس دائرے یا چکر کو اپنی نگاہوں کا مرکز بنا لیتا ہے اور جیسے جیسے یہ چکر گھومتا ہے قاری کا احساس زیادہ متحرک اور بیدار ہوتا جاتا ہے۔ اُردو شاعری میں غالبؔ کے بعد (غالبؔ کے آتش کو یاد کیجیے ) اقبالؔ کے علاوہ کسی دوسرے شاعر نے اتنی شدّت سے اس حسیاتی پیکر یا "آرچ ٹائپ" کو متحرک نہیں کیا تھا۔ خدا، آدم، خودی، عشق، فقر، زندگی، موت، روح، شاہین، ابلیس اور دوسرے حسیاتی اور جمالیاتی پیکر اسی حلقۂ افسوں اور حلقۂ تسخیر کو سمجھاتے ہیں۔ "منڈل" کے اندر ان کی ڈرامائی خصوصیات بھی توجّہ چاہتی ہیں۔ اقبالؔ کے اس "وژن" میں متحرک تخیل اور احساس کی شدّت سے ہم متاثر ہوتے ہیں۔ اس لاشعوری دائرے سے جو حلقۂ افسوں اقبالیات سے اُبھرا ہے اس میں شاعر کے "وژن" کا کرشمہ یہ ہے کہ اتنی علامتوں میں کوئی علامت دوسری علامت سے علیحدہ نہیں ہے، تمام علامتیں ایک دوسرے میں جذب ہیں۔ ایک پیکر کا مطالعہ دوسرے پیکر کا مطالعہ بن جاتا ہے۔ ان کے باطنی رشتوں کا احساس ہوتا ہے۔ تمام خوبصورت شیشے حلقۂ افسوں میں تخیل، احساس اور جذبے کے رنگوں کا دھُواں پھیلا دیتے ہیں جیسے اقبالیات کا موضوع کل زندگی ہے۔

"جاوید نامہ" میں مولانا رومیؒ، "پرچھائیں " (The Shadow) اور "ضعیف دانش مند" دونوں کے "آرچ ٹائپ" ہیں۔

"جاوید نامہ" کی پوری فضا ڈرامائی ہے، اکثر مقامات پر کشمکش اور تصادم کی شدّت بھی ہے، داخلی اضطراب اور بے چینی بھی، کرداروں کا عمل بھی ہے، علامتی کرداروں کی معنویت بھی، مکالمہ نگاری بھی ہے اور اُلجھاؤ اور سلجھاؤ بھی ہے اور ڈرامائی آہنگ بھی ہے۔ کچھ حصّے شاعری کا کلائمکس بھی بن گئے ہیں، آہنگ کا سحر قاری کو اپنی گرفت میں لیے رہتا ہے اور اس حد تک کہ اسی آہنگ سے قاری کے جذبات وابستہ ہو جاتے ہیں، اسی پر جذبے کے اُتار چڑھاؤ کا انحصار ہے۔ "جاوید نامہ" کے اچھے اشعار کے آہنگ کی تاثیر کم و بیش وہی ہے جو کلاسیکی پکّے گانوں کے آہنگ کی تاثیر ہے۔ "جاوید نامہ" کا ابتدائی حصّہ ایسا ہے جو عمدہ ڈراما بن گیا ہے اور ساتھ ہی آہنگ کا جادو پکّے گانوں کے آہنگ کا جادو محسوس ہونے لگتا ہے۔

"مناجات" کے بعد ڈرامائی اثرات کی ابتدا ہو جاتی ہے، ہم خود کو صبحِ ازل میں پاتے ہیں۔ "آسمان"، "زمین" اور "آوازِ غیب" یہ تین کردار اُبھرتے ہیں اور ان کے مکالموں کے بعد نغمہ ملائک کی گونج سے ایک نئی ڈرامائی فضا بنتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ایک ڈراما اپنے طور پر مکمل ہو گیا۔


"آوازِ غیب" اور "نغمۂ ملائک" سے ایسے کردار کی شخصیت محسوس ہوتی ہے جو اسٹیج پر تو نہیں ہے لیکن روشنی کے پیکر میں زمین کی تاریکی کو دُور کر رہا ہے۔ "آوازِغیب" میں اس کے وجود میں آنے کا خوبصورت اشارہ ہے اور "نغمۂ ملائک" میں اس کی آمد اور عظمت کا احساس گہرا ہے۔ "صبحِ ازل" کی منظر نگاری اُردو کی عام نظموں کی منظر نگاری نہیں ہے۔ دنیا کی ویرانی کا یہ منظر اُداسی، سنّاٹا، خاموشی اور ویرانی کی ایسی تصویر ہے جسے دریا، باغ، سبزہ، صحرا، نغمہ، رمِ آہو، سرودِ طائر، شورِ سلاسل سب کو سمیٹ کر کوئی اچانک لے گیا ہو۔ جب زمین پر زندگی نہیں تھی تو "کچھ نہیں " کا ماحول یہ تھا کہ کسی پہاڑ میں کوئی ندی سرگرم سفر دکھائی دے رہی ہے اور نہ اس طرف کے صحراؤں میں بادل کے ٹکڑے آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔ درختوں کی ٹہنیوں پر پرندوں کی آوازیں اور نہ سبزہ زاروں میں ہرنوں کی محوِ خرامی، اس کا پورا وجود دھوئیں کی چادر میں لپٹا پڑا ہے۔ اس خطے کے سبزے پر تہہ در تہہ یخ جمی ہوئی ہے اور اُس نے ابھی تک بادِ بہاری کا کوئی جھونکا محسوس نہیں کیا ہے۔ سبزہ زمین کی گہرائیوں میں دفن لگتا ہے "کچھ نہیں " کا یہ ماحول ایسا بن گیا ہے جیسے کوئی سب کچھ لوٹ کر لے گیا ہو، زمین کی یہ صورت دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے آئینہ میں اپنا پنجر دیکھ رہے ہیں، "کل" ایسا تھا لیکن ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ "آج" ہی ہوا ہے!

آسمان زمین پر طنز کرتا ہے کہ اے زمین میرے نور سے تیری روشنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تو خاک ہے، تاریکی کا پیکر ہے، مٹّی اگر کوہِ الوند بھی ہو جائے پھر بھی مٹّی ہی رہے گی۔ آسمانوں کی طرح روشنی و پائندہ نہیں رہے گی۔ آسمان ایک مغرور کردار کی طرح اُبھرتا ہے اور طنزیہ لب و لہجے کے ساتھ مخاطب ہوتا ہے، زمین کو اپنی بے نوری کا احساس ہوتا ہے اور وہ بے چین ہو جاتی ہے۔ اسی لمحے غیب سے آواز آتی ہے کہ پریشان نہ ہو۔

روزہا روشن زغوغائے حیات
نے ازاں نورے کہ بینی درجہات

کی آواز گونجتی ہے اور انسان کی آمد کی طرف اشارہ کرتی ہے:

نورِ جاں از خاکِ تو آمد پدید!

اس آواز کے بعد فرشتوں کا خوبصورت نغمہ گونجتا ہے اور ڈراما اپنے طور پر مکمل ہو جاتا ہے۔ روشنی اور تاریکی کے تصادم میں روشنی کی فتح کا احساس شدّت سے متاثر کرتا ہے، ذوق و شوق، ماہِ و اختر، صد چراغ، آفتاب، خیمہ زربفت، سیمیں طنات، اُفقِ صبح، تجلّی، نور، روشن، نورِ صبح، نورِ جاں، شعاع مہرومہ، چشم، جمالِ ذات، کوکب وغیرہ اقبالؔ کے بنیادی رجحان اور اُن کے تجربوں کے آئینے بن گئے ہیں، نور اور روشنی کے یہ الفاظ اور پیکر روشنی اور تاریکی کی کشمکش اور روشنی کی فتح اور صبحِ ازل کے منظر اور غیب کی آواز کی استعارے اور فرشتوں کے نغمے کا آہنگ بن گئے ہیں۔

رومیؔ کی روح ظاہر ہوتی ہے تو "سائیکی" پر پیکرِ نور متحرک ہو جاتا ہے۔ رومیؔ کا چہرہ "آفتاب" کی طرح روشن نظر آتا ہے اور پیکر نورِ سرمدی سے منوّر، اُن کی گفتگو "آئینہ" کی مانند ہے، "نورِ صفات" اور "نورِ ذات" اور "عشق" کی روشنی ہی موضوع ہے۔ "چیست معراج?"، "انقلاب اندر شعور" کی آواز باطن کی تیز تر روشنی کا شدید تر احساس ہے۔ رومیؔ، اقبالؔ کے وجود کی روشنی کی لہر بن کر آتے ہیں، وہ شاعر کے وجود کا ایک حصّہ ہیں۔ رومیؔ جب ایسی دنیا کا ذکر کرتے ہیں جو صبح و شام کی گرفت سے آزاد ہے تو "مناجات" میں اقبالؔ کی آرزو کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ ایسی دنیا جہاں صبح و شام میں اور جہاں کوئی بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ "زرداں کہ روحِ زماں و مکاں است مسافر را" میں "بسیاحت عالم علوی می برد" کا حصہ تمثیل کا ایک خوبصورت نمونہ ہے، التباسِ حسن کی ایک اچھی مثال ہے۔ جمالیاتی نقطۂ نظر سے نور کا بادل اور اس بادل سے زردان کا ظہور دراصل شاعر کی سیمابی کیفیت کی تمثیلی صورت ہے۔ رومیؔ کی گفتگو سن کر شاعر کی بے تابی اور اس کی سیمابیت اس صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ جمالیاتی خودعکسی (Aesthetic Self Projection) کی یہ عمدہ مثال ہے۔ اقبالؔ نے اپنے لمحاتی احساس اور اپنی بے تابی اور لمحاتی سیمابی کیفیت کی یہ لاشعوری جمالیاتی تصویر پیش کی ہے، ایسی تصویریں آرٹ اور ادب میں "خواب آلود شعور" کی تصویریں نظر آتی ہیں۔ وقت کے میکانکی تصوّر کے ٹوٹ جانے کے بعد ہی ایسے جمالیاتی تجربے حاصل ہوتے ہیں، صرف ایک شعر میں اپنی بے تابی اور سیمابی کیفیت کا اس طرح ذکر کرتے ہیں:

از کلاش جانِ من بیتاب شد
در تنم ہر ذرّۂ چوں سیماب شد

اور فوراً "الیوژن" یا التباس کا حسن ظاہر ہوتا ہے

ناگہاں دیدم میانِ غرب و شرق
آسماں در یک سحابِ ثور غرق

نور کا ایک بادل سامنے آتا ہے اور اس سے ایک پیکر نمودار ہوتا ہے، اس کے دو چہرے ہیں، ایک چہرہ آتشیں اور روشن ہے اور دوسرا تاریک! آتشیں اور روشن چہرے کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں اور تاریک چہرے کی آنکھیں بند ہیں۔ پروں کے رنگ مختلف ہیں، تخیل کی پرواز غضب کی ہے، زمین سے کہکشاں پرواز کر سکتا ہے۔ یہ اقبالؔ کی "پرچھائیں " (Shadow) ہے۔ یونگ نے "پرچھائیں " کے تاریک اور روشن پہلوؤں کی جو تعریف کی ہے وہ اقبالؔ کے ایسے پیکروں پر صادق آتی ہے۔ اقبالؔ کے اجتماعی لاشعور نے اسے اساطیری پیکر بنا دیا ہے۔ اس پیکر کی جمالیاتی تخلیق ذاتی لاشعور اور اجتماعی لاشعور دونوں کے گہرے باطنی رشتے سے ہوئی ہے۔


یونگ نے "پرچھائیں" کے مثبت اور روشن پہلو پر بھی زور دیا ہے۔ کہا ہے کہ اس کے باطن میں روشنی متحرک رہتی ہے۔ رومیؔ کا پیکر خود ایک پرچھائیں ہے۔ شاعر نے اپنی پرچھائیں کی روشنی کو رومیؔ کا پیکر بنا دیا ہے، رومیؔ کی گفتگو میں بہتر تجربوں کی روشنی، لب و لہجے میں خود اعتمادی، معلّمانہ شخصیت۔ ۔ ۔ یہ "پرچھائیں " کے "آرچ ٹائپ" کی وہی صورت ہے جسے یونگ نے دانش مند ضعیف (Wise Od Man) کہا ہے۔ یہ پیکر فنکار کے باطن کا آئینہ ہوتا ہے۔ زردان اسی کا ایک پہلو ہے جو اساطیری شخصیت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ "جاوید نامہ" کے اس باب کو پڑھتے ہوئے اکثر احباب یہ سوچتے ہیں کہ سفر تو رومیؔ کے ساتھ ہوتا ہے اچانک زردان ہم سفر کیسے بن جاتا ہے۔ دراصل ایک ہی پرچھائیں کے یہ دو پہلو ہیں، یہ خود فنکار کی شخصیت کے جلوے ہیں، یہ سفر بظاہر عالم بالا کا سفر ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ اس کے بہتر حصّے لاشعور کی گہرائیوں کا سفر ہے اور لاشعور کے سفر میں "پرچھائیں " کی ایک سے زیادہ صورتیں اُبھرتی رہتی ہیں، دانش مند ضعیف (Wise Od Man) قدم قدم پر روشنی عطا کر نے والا ہوتا ہے۔ دراصل وہ "معنویت" کا "آرچ ٹائپ" ہے۔ اسی لیے یونگ نے اسے "روحانی باپ" کہا ہے۔ ایسے حسی پیکروں کو نفسیات کے علماء لاشعور کی گہرائیوں سے اُبھرتے ہوئے دیکھتے ہیں اور صوفی اعلیٰ روحانی قدروں کی سیّال کیفیتوں سے ایسی صورتوں کو پیدا ہوتے دیکھتے ہیں۔ یونگ نے ایسی علامتوں کو کیمیا گر قوّت کی تخلیق کہا ہے۔ اس پیکر کو اپنا آئینہ بنا کر اقبالؔ نے خود کو اس طرح دیکھا ہے کہ اس کے مزاج میں خیال کی سی تیز رفتاری پائی جاتی ہے، چنانچہ اس سریع رفتاری کی بدولت زمین سے کہکشاں تک کا سفر محض ایک قدم ہے۔ اُس کی سیمابی طبیعت کا عالم یہ ہے کہ ہر لمحہ اُس میں نئی دھن رہتی ہے اور وہ ہر پل نئی فضا میں پرواز کر نے کی بات سوچتا رہتا ہے۔ پوری نظم میں روشنی کا "آرچ ٹائپ" متحرک ہے۔ منوّر الفاظ جمالیاتی تجربوں کے اظہار کا وسیلہ بن گئے ہیں۔ سیماب، سیمابِ نور، فرشتہ، آتش، روشن شہاب، چشم، سیمیں، کہکشاں، نگہ، فردوس، چشمِ دل یہ سب روشنی کے پیکر ہیں۔ اقبالؔ نے محسوسات کا جو عالم پیش کیا ہے وہ "پرچھائیں " کی نگاہ کا کرشمہ ہے۔

"جاوید نامہ" میں روشنیوں میں روشنی کا سفر دراصل اپنی نفسیاتی تکمیل کا احساس ہے۔ جمالیاتی نقطۂ نظر سے یہ ایک پُر اسرار نفسیاتی سفر ہے۔ لاشعور میں روشنیوں کے پیکروں کی تلاش سے سفر حد درجہ مشکل ہے لیکن جذبے کی روشنی اور گرمی سے تمام مشکلوں کو آسان کر دیا گیا ہے۔ یونگ نے کہا ہے کہ ایسے سفر میں پہلی ملاقات اپنی "پرچھائیں " سے ہوتی ہے۔ یہاں مولانا رومیؔ کا پیکر ضعیف دانش مند کا حسیاتی پیکر ہے، یہ اقبالؔ کی پرچھائیں ہے۔ زردانؔ جو ڈرامائی طور پر نمودار ہوتا ہے وہ اسی پرچھائیں کا ایک معنی خیز پہلو ہے۔ نفسیاتی تکمیل کا احساس اسی وقت زیادہ ہوتا ہے جب اپنی پرچھائیں کی پہچان ہو جاتی ہے۔ ابتدا میں ویران زمیں کی تصویر نور کا بادل، زردان کی صورت اور فلک قمر کے آتشیں اور ویران پہاڑ اور پُر اسرار غار۔ ۔ ۔ سب اجتماعی لاشعور کے مختلف "آرچ ٹائپس" کے استعارے ہیں۔ اقبالؔ نے انھیں اپنے احساسِ جمال سے فنی صورتیں عطا کی ہیں۔ ایسے نفسیاتی سفر میں جو قیمتی تجربے حاصل ہوتے ہیں وہ نفسیات کی اصطلاح میں "سونے کے پھول" ہیں، احساسِ جمال کا یہ چکر اپنے وجود کا چکر ہے۔

"فلک قمر" کے تیسرے بند میں بہت سے پہاڑ ہیں۔ کوہ ہائے آتش فشاں کے پیکر سفر کی پُر اسراریت اور پیچیدگی کا احساس گہرا کرتے ہیں، سنّاٹے اور خاموشی کی فضا ہے جہاں نہ کوئی پرندہ ہے اور نہ سبزہ جیسے ساری زندگی کوئی سمیٹ کر لے گیا۔ چوتھے بند میں رومیؔ کی آواز باطن کی آواز بن جاتی ہے، اپنے وجود کے اندر جانے کتنے غار ہیں، یہ پرچھائیں ایک غار کے اندر داخل ہونے کا اشارہ کرتی ہے۔ دونوں غار کے اندر داخل ہوتے ہیں۔ اقبالؔ نے باطن کے اس غار کی فضا کو انتہائی فنکارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ تاریکی، اندھیرا اور اس کے بعد روشنی! آفتاب کا وجود نہیں ہے لیکن صبح کی روشنی ہے! پتھروں پر دھاریاں جیسے زُنّار پہنے ہوئے ہوں، یہ پتھر، دیوزاد د رخت جیسے یہاں دیو رہتے ہوں! اور ایک درخت کے نیچے ایک ہندی عارف، ننگے بدن، بال سر کے اوپر بندھے ہوئے اور ایک سفید سانپ حلقہ زن!

وہ منظر بھی توجہ طلب ہے جب عارف ہندی جلوۂ ذات میں غرق ہو جاتا ہے، اسی لمحے روشنی کا ایک اور پیکر "نازنین" کی صورت نمودار ہوتا ہے۔ یہ حسن اور نغمے کا لذّت کا آمیز "امیج" ہے۔

اقبالؔ کی "سائیکی" نے "آرچ ٹائپس" کو جس طرح متحرک کیا ہے اس کی عمدہ مثالیں اُن کے کلام میں موجود ہیں 1؂۔

فراقؔ گورکھپوری مشترکہ ہندوستانی تہذیب و تمدّن کے تمام "رسوں " کو لیے اپنی جمالیاتی فکر و نظر کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ اپنے ملک کی مٹّی کی جو خوشبو ان کے کلام میں ملتی ہے وہ اُردو کے کسی بھی شاعر کے کلام میں نہیں ملتی۔ ان کی ذہنی تربیت اسی زمین کی باس سے ہوئی ہے جس کی وجہ سے اُن کے کلام میں پوری اُردو شاعری کے پیشِ نظر ایک منفرد جمالیاتی شعور اور مزاج ملتا ہے:

ہر نقش اجنتا کا وہ چلتا جادو
وہ حسن و جمال کے بدلتے پہلو

وہ بت سازی کہ جان پتھر میں پڑے
ہے تاج کہ رخسارِ قضا پر آنسو

چڑھتی جمنا کا تیز ریلا ہے زلف
بل کھایا ہوا سیاہ کوندا ہے زلف

گوکل کی اندھیری رات دیتی ہوئی لو
گھنشیام کی بانسری کا لہرا ہے کہ زلف


ہندوستانی اساطیر سے مشترکہ تمدّن تک اُن کا تخلیقی "وژن" ایک سفر کرتا ہے اور رس بھرے تجربوں کی ایک منفرد فضا خلق ہوتی ہے۔ فراقؔ حسن کے شیدائی ہیں، ان کا احساسِ جمال حد درجہ متحرک ہے، زندگی کے جلال و جمال کے آہنگ سے رشتہ اس طرح قائم کیا ہے کہ اس کی مثال اُردو شاعری میں نہیں ملتی۔ اس سچائی کا احساس اُنھیں خود بھی ہے کہتے ہیں:

ہر جلوے سے اِک درسِ نمو لیتا ہوں
لبریز کئی جام و سبو لیتا ہوں

پڑتی ہے جب آنکھ تجھ پہ اے جانِ بہار
سنگیت کی سرحدوں کو چھو لیتا ہوں

فراقؔ ہندوستانی اساطیر کی رومانیت اور اس کی جمالیات کو تہذیب کی ایک بہت بڑی نعمت تصوّر کرتے ہیں۔ اس کی پہچان کئی مقامات پر ہوتی ہے۔ ایک جگہ تحریر کیا ہے۔

"کالی داس نے میگھ دوت میں ایک عاشقِ مہجور کی آنکھوں سے ہمیں اس مسلسل مرقعے (Panorama) کی سیر کرائی ہے کہ ہماری آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ شیو اور پاروتی کی داستانِ محبت میں عمل، ایثار پاکدامنی کی جگمگاہٹ، رامائن کے اور واقعات کے گردو پیش (Setting)، رام اور سیتا کی داستانِ محبت، بال اور تارا کی محبت، میگھناتھ اور سلوچنا کی محبت، مہابھارت میں گارگی اور دھرتراشٹر کی داستانِ وفا، پانڈوؤں اور دروپدی کی وہ بیکراں داستانِ محبت جس سے ویر رس، شرنگار رس، کرونڑرس، زندگی، محبت، عشقیہ اور غیر عشقیہ شاعری کے تمام رس اور جسم چھلکے پڑتے ہیں۔ نل دمن، شکنتلا، ساوتری ستیہ وان کے افسانے کائنات و حیات کے کن پہلوؤں کو مسائل پر حاوی نہیں ہیں، محبت یہاں دنیا سے آنکھ نہیں چراتی، عمل سے منہ نہیں موڑتی ہمارے سامنے چھوٹی چیز بن کر نہیں آتی، یہ عشقیہ شاعری بیک وقت ایک آہ اور ایک للکار ہے، بیک وقت دعوتِ عشق و محبت و دعوتِ عمل دیتی ہے۔ "

(اُردو کی عشقیہ شاعری۔ ۔ فراق، پہلا ایڈیشن جنوری 1945ء صفحہ 21)

فراقؔ جیسے لمسیاتی و حسیاتی شاعر نے عشق کو روح کا جوہر سمجھتے ہوئے ہندوستانی تہذیب و تمدّن اور ہندوستانی ادب کے باطن میں اُتر نے کی کوشش کی ہے تاکہ اس ملک کی سائیکی اور جمالیاتی فکر و نظر کی بہتر پہچان ہو سکے۔ عشق کی قدر و قیمت کا اندازہ کرتے ہوئے وہ اساطیر اور ادب کی گہرائیوں میں اُتر جاتے ہیں۔ کاویہ لٹریچر کے ساتھ انگریزی، سنسکرت اور فارسی ادب نے بھی اپنی ایک نظر بخشی ہے۔

فراقؔ نے گیٹے (فاؤسٹ)، شیکسپیئر، ڈانٹے، فردوسی وغیرہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان فنکاروں نے حسن و محبت کے خوبصورت ڈرامے کائنات و حیات اور تاریخِ انسانی کے گرد و پیش میں پیش کیے ہیں۔ اچھے ادب کی تلاش میں وہ سنسکرت کلچر اور سنسکرت ادب تک پہنچتے ہیں اور اساطیری کرداروں کا ذکر کرتے ہیں، مثلاً ایک جگہ تحریر کیا ہے:

"سادگی و پرکاری خیر و برکت اور سلامتی کا وہ مانوس انداز اور وہ رس جسے ہم آبِ حیات یا امرت کہیں پیدا نہیں ہو سکتا جو سنسکرت ادب اور سنسکرت کلچر کو نصیب ہے۔ سنسکرت ادب حیات نما اور حیات آمد دونوں ہے اس سے جو غزلیت رام اور کرشن، سیتا اور رادھا اور شکنتلا کے تصوّر میں موجود ہے وہ غزلیت نہ قیس میں ہے نہ فرہاد میں، نہ لیلیٰ میں نہ شیریں میں، اور کون کہہ سکتا ہے کہ رامؔ کرشن، سیتا، رادھا، شکنتلا، ساوتری اور پاروتی کی زندگی میں جانگداز اور استخواں سوز آزمائشیں نہیں تھیں لیکن سنسکرت وجدان نے غم کے ان عناصر کو کیا بنا دیا۔ "

(اُردو کی عشقیہ شاعری۔ ص 120۔ 120)

فراقؔ صاحب نے ہندوستانی اساطیر سے جو تخلیقی رشتہ قائم کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُنھوں نے تشبیہوں، استعاروں اور کنایوں اور اشاروں کے لیے کرداروں کی شخصیتوں کے حسن کو احساس اور جذبے کے قریب کیا ہے۔ مثلاً:

کرونڑا رس1؂ کی سریلی کوتا ہے بدن
اُٹھتے ہوئے درد کا ترانا ہے بدن

رادھا کے آنسوؤں کے ہلتے ہوئے تار
کل گوپیوں کے برہ کی پیڑا ہے بدن

آ جا کہ کھڑی ہے شام پردا گھیرے
مدّت ہوئی جب ہوئے تھے درشن تیرے

مغرب سے سنہری گرد اُٹھی سوئے قاف
سورج نے اگنی رتھ کے گھوڑے پھیرے!

وہ نبض کی موجِ درد، وہ سوزِ دروں
نرم اُلٹی سانسیں اور وہ حالِ زبوں

ہے شیو کا رقص حسن کا عالمِ نزع
رگ رگ میں موجِ کرب، چہرہ پہ سکوں

وہ رُوپ کہ کامدیو جس کا ہو شکار
وہ رنگ اوشا نے جیسے چھیڑا ہوستار

وہ ہونٹوں کا رس جانِ طراوت ہر بوند
وہ گات کہ سر سے ایڑیوں تک چمکار

وہ ہونٹ ڈرے ڈرے نگاروں سے دُعا
معصوم آنکھوں میں اشک چھلکا چھلکا

زہرابِ وفا کو حسن کرتا ہے قبول
یا بس کا پیالہ شیو نے ہاتھوں میں لیا

یہ ہلکے سلونے سانولے پن کا سماں
جمنا جل میں اور آسمانوں میں کہاں

سیتا پہ سوئمبر میں پڑا رام کا عکس
یا چاند سے مکھڑے پہ ہے زلفوں کا دھُواں

مدھوبن کے بسنت سا سجیلا ہے وہ رُوپ
برکھا رُت کی طرح رسیلا ہے وہ رُوپ

رادھا کی جھپک کرشن کی برزوری ہے
گوکل نگری کی راس لیلا ہے وہ رُوپ

چوکے کی سہانی آنچ، مکھڑا روشن
ہے گھر کی لکشمی پکاتی بھوجن

دیتے ہیں کرچھلی کے چلنے کا پتہ
سیتا کی رسوئی کے کھنکتے برتن

چہرے پہ ہوائیاں نگاہوں میں ہراس
ساجن کے برہ میں رُوپ کتنا ہے اُداس

مکھڑے پہ دھُواں دھُواں لتاؤں کی طرح
بکھرے ہوئے بال ہیں کہ سیتا بن باس

یہ رُوپ مدن1؂ کے بھی خطا ہوں اوسان
یہ سج جو توڑ دے رتی2؂ کا ابھمان

پھیکی پڑتی ہے دھُوپ یہ جوبن جوت
یہ رنگ کہ آنکھ کھول دے جیون گان3؂


رادھا، گوپی، اگنی رتھ، شیو کارقص، (نٹ راج)، کامدیو، اوشا، شیو اور بس کا پیالہ، سیتا کا سوئمبر، رام کا عکس، کرشن اور رادھا، گوکل کی نگری، راس لیلا، سیتا کی رسوئی، سیتا بن باس، رُوپ مدن، رتی، گاتی ہوئی اپسرا، (یہ چندر کرن میں سات رنگوں کی جھلک گاتی ہوئی اپسرا گگن سے اُتری) سلوچنا، ارجن، سدھارتھ، رام کا بن باس، کام دیو، شیو کی جٹا اور گنگا کا وجود، کیکئی کا فتنہ یہ سب اساطیر سے فراقؔ کی ذہنی وابستگی اور تخلیقی رشتے کی خبر دیتے ہیں۔ استعاروں، اشاروں علامتوں، تلمیحوں میں اساطیری فکر و نظر سے بڑی بلاغت پیدا ہو گئی ہے۔ مندرجہ ذیل اشعار پر بھی نظر ڈالیے:

شیو کا وِش پان تو سنا ہو گا
میں بھی اے دوست پی گیا آنسو

ہر لیا ہے کسی نے سیتا کو
زندگی کیا ہے، رام کا بن باس

ہنگام خرام وہ غزال بدست
نقشِ کفِ پا کی شوخیاں شعلہ بدست

دو پاؤں سے چوکڑی بھرے ہر ڈگ میں
ارجن کی کمان سے چھوٹے نارک کی جست

رشک دل کیکئی کا فتنہ ہے بدن
سیتا کے برہ کا کوئی شعلہ ہے بدن

رادھا کی نگاہ کا چھلاوا ہے کوئی
یا کرشن کی بنسری کا لہرا ہے بدن

اپنی نظم "ہنڈولہ" میں اُنھوں نے اساطیری کرداروں کا جو ذکر کیا ہے وہ بھی قابلِ توجہ ہے۔ رام، کرشن (کرشن لیلا)، سیتا، سلوچنا، رادھا، سدھارتھ، بھرت، کپل، ویاس، منو، والمیک، وشوامتر، گوتم، وغیرہ کا ذکر ہے۔ اساطیر کی دُنیا سے اپنے دَور تک تہذیبی تمدّنی اقدار کے سفر پر ایک شاعر کی حیثیت سے اظہارِ خیال کیا ہے۔

مندرجہ ذیل دو اقتباسات سے فراقؔ کے تخلیقی ذہن اور ان کی گہری بلیغ فکر و نظر کی بہتر پہچان ہو جائے گی۔ اُن کی سائیکی "آرچ ٹائپس" کو کیوں متحرک اور بیدار کرتی ہے اس کا بہت حد تک اندازہ ہو جائے گا:

"اس تہذیب (ہندوستانی تہذیب) کی قدروں کو جاننے، سمجھنے اور محسوس کر نے کے لیے یہاں کی لوک کتھائیں، لوک گیت، تیوہار، کئی رسوم، روزانہ زندگی کے جذبات، کچھ علائم، یہاں کی سنگیت کلا اور دوسری کلائیں مثلاً فن بت گری، فن تعمیر، چتر کلا رقاصی اور گھریلو صنعتوں میں جو لوچ و نزاکت و نرمی جو سگھڑپن اور سہانا پن ہے، جو شانت رس ہے، ہندوستانی تہذیب میں بچپن کا تصوّر، عورت کا تصوّر ان سب چیزوں نے مل کر صدیوں میں ایک مزاج و کردار کی تخلیق و تعمیر کی ہے۔ " (گل بانگ، صفحہ 35۔ 34)

"میں نے اپنی غزلوں میں چاہا ہے کہ اپنے ہر اہلِ وطن کو ہندوستان کا اور ہندوستان کے مزاج اور روحِ عصر کا صحت مند تصوّر دے سکوں۔ میں نے چاہا ہے کہ میری شاعری اس دھرتی کی شاعری رہے۔ یعنی اس میں یہ دھرتی بولتی ہوئی اور رقص کرتی ہوئی سنائی اور دکھائی دے جو کروڑوں سال پرانی ہوتے ہوئے بھی ہمیشہ اپنے آپ کو نیا کرتی رہتی ہے، یہ دھرتی جو سدا بہار اور سدا سہاگن ہے۔ " (پچھلی رات کے دیباچے سے )

فراقؔ کے کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات بہت واضح ہو جاتی ہے کہ "عورت" ان کی شاعری میں ایک بنیادی "آرچ ٹائپ" (Archetype) کی حیثیت رکھتی ہے۔ اُردو شاعری میں صرف میرؔ اور فراقؔ دو ایسے بڑے شاعر ہیں کہ جن کی تخلیق میں "عورت" ایک بہت ہی واضح متحرک "آرچ ٹائپ" کی طرح سامنے آئی ہے۔ گوشت پوست کا یہ جمالیاتی پیکر سلطان قلی قطب شاہ کی گوشت پوست کی عورتوں کے ہجوم سے علیحدہ ہے۔ یونانی اساطیر کی وہ کہانی یاد کیجیے کہ جس میں عظیم دیوتا انسان کی تخلیق کرتے ہیں، تخلیق کے بعد احساس ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑی تو انائی ہے، بہت ہی بڑی طاقت، انسان دیوتاؤں سے بھی ٹکرا سکتا ہے اور انھیں شکست دے سکتا ہے۔ بڑے دیوتا نے اپنی اس طاقتور تخلیق کو دو حصّوں میں تقسیم کر دیا، مرد اور عورت یہی دو حصّے ہیں جو ایک دوسرے کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں، عورت کو اس کا حصّہ مل جاتا ہے اور مرد کو اس کا حصّہ تو ایک بہت بڑی طاقت پیدا ہو جاتی ہے، زندگی اور تو انائی کی تخلیق کا ایک سلسلہ قائم ہو جاتا ہے، آج بھی اپنے نصف حصّے کی تلاش جاری ہے، مرد کے لیے عورت اور عورت کے لیے مرد ایک قدیم تر "آرچ ٹائپ" ہے۔ "سائیکی" کی گہرائیوں میں اُترکر اس "آرچ ٹائپ" سے رشتہ قائم ہوتا ہے۔ تلاش کا یہ عمل جانے کب سے جاری ہے۔ تلاش کرتے کرتے اپنے وجود کے دوسرے حصّے کی پہچان ہونے لگتی ہے، ایک دوسری الوہی خوشبو ملنے لگتی ہے، وجود کے آہنگ کا احساس ملنے لگتا ہے تو بہت گہرے تہہ دار جمالیاتی تاثرات اُبھر نے لگتے ہیں۔ میرؔ کہنے لگتے ہیں:

گل ہو، مہتاب ہو، آئینہ ہو، خورشید ہو میرؔ
اپنا محبوب وہی ہے جو ادا رکھتا ہو!

میرؔ کیا بات اس کے ہونٹوں کی
جینا دوبھر ہوا مسیحا پر

گل و آئینہ کیا خورشید و مہ کیا
جدھر دیکھا تدھر تیرا ہی رو تھا

گل کو محبوب ہم نے قیاس کیا
فرق نکلا بہت جو باس کیا

اس گلِ ترکی قبا کے کہیں کھولے تھے بند
رنگ و گلِ برگ سے ناخن ہے معطر اپنا

جی پھٹ گیا ہے رشک سے چسپاں لباس کے
کیا تنگ جامہ لپٹا ہے اس کے بدن کے ساتھ

اتنی سڈول دیہی دیکھی نہ ہم سنی نے ہے
ترکیب اس کی گویا سانچے میں گئی ہے ڈھال

گوندھ کے گویا پتی گل کی وہ ترکیب نہائی ہے
رنگ بدن کا تب دیکھو جب چولی بھیگے پسینے میں

ستھرائی اور نازکی گلبرگ کی درست
پر ویسی بو کہاں کہ جو ہے اس بدن کے بیچ

کیا لطف تن چھپا ہے مرے تنگ پوش کا
اُگلا پڑے ہے جامے سے اس کا بدن تمام

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اِک گلاب کی سی ہے


اور فراقؔ کے حسیاتی، لمسیاتی، رومانی، جمالیاتی تجربے اپنی لذّت آمیز تہہ داریوں کے ساتھ اس طرح تخلیقی صورتوں اور پیکروں میں نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ دماغ میں "خیال کی خوشبو" لیے محبوب پر نظر پڑتی ہے:

اُس الاپ کا یہ شعلہ جسے سازِ زیست کھینچے
تجھے کیا بتاؤں کیا ہے تری قامتِ کشیدہ

تبسّم کی یاد آتی ہے تو لگتا ہے جیسے مندروں میں چراغ جھلملا رہے ہیں، تاروں کی آنکھوں سے چھپ کر وہ پاؤں دھرتا ہے تو نقش پا سے چراغ جل اُٹھتے ہیں۔ سر سے پا تک بدن گلستاں گلستاں ہے:

دم بہ دم شبنم و شعلہ کی یہ لویں
سر سے پا تک بدن گلستاں گلستاں

محبوب قریب آتا ہے تو فضا کا رنگ و آہنگ تبدیل ہو جاتا ہے:

مہتاب میں سرخ انار جیسے چھوٹے
یا قوسِ قزح لچک کے جیسے ٹوٹے

وہ قد ہے کی بھیرویں سنائے جب صبح
گلزارِ شفق سے نرم کونپل پھوٹے

لرزش میں بدن کی باغ جنت کی لہک
وجدانِ سیاہ کار گیسو کی لٹک

ہر عضو کے لوچ کا کچھ ایسا انداز
ست رنگے دھنش میں جیسے آ جائے لچک

تلوے سے بھری ہوئی گلابی چھلکی
نقشِ کفِ پا سے کوسی لہرا کے اُٹھی

ہر نقشِ قدم سے نکلے جاتے ہیں کنول
وہ چال میں لوچ جیسے مڑتی ہو ندی

ہونٹوں کے رس کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے:

ہونٹوں میں وہ رس کہ جس پہ بھنورا منڈلائے
سانسوں کی وہ سیج جس پہ خوشبو سوجائے

چہرے کی دمک پہ جیسے شبنم کی ردا
مد آنکھوں کامدیو کو بھی چھلکائے

فراقؔ نے عورت کے ہر عضو کے نقشِ جمال کو تخلیقی سطح پر اُجاگر کرتے ہوئے جمالیات اور جنسیت کے حسن و تقدس کا جو عرفان بخشا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔


عورت کی پیکر تراشی میں ایسی سحر انگیز کیفیتیں ہمیں کب حاصل ہوئی تھیں۔ یونگ نے عورت کے "آرچ ٹائپ" کو "سول امیج" (Sou Image) کہا ہے، بلاشبہ فراقؔ نے عورت کے پیکر کے حسن سے لے کر جنسی آرزو مندی اور جنسی لذّت کی سحر انگیزی تک جو جمالیاتی نقش اُبھارے ہیں وہ "سول امیج" کے سچے ّ عرفان کی گواہی دیتے ہیں۔ تخلیقی گہرائی کی تہوں تک شاعر اپنے ساتھ لے جاتا ہے اور نفسیاتی جمالیاتی آسودگی عطا کرتا ہے۔ فنکار کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اُسے آہنگ اور آہنگ کی وحدت کا حد درجہ شدید احساس ہے، کائناتی آہنگ اور انسان کے وجود کے آہنگ کی وحدت کا احساس بہت ہی کم شاعروں کے کلام میں ملتا ہے۔ فراقؔ نے رقص اور نغمہ موسیقی اور اس کے نشیب و فراز سے اپنے تخلیقی تخیل کو اس طرح وابستہ کیا ہے یا یہ کہیے کہ جذب کیا ہے کہ آہنگ اور آہنگ کی وحدت کا احساس ملنے لگتا ہے۔ عورت اور اس کے حسن و جمال تک پہنچنے کے لیے راگ راگنیوں کے مختلف آہنگ کو بڑے فنکارانہ طور پر ذریعہ بنایا ہے۔ مثلاً:

اسے جانِ بہار تجھ پہ پڑتی ہے جب آنکھ
سنگیت کی سرحدوں کو چھو لیتا ہوں

قیامت ہے کہ انگڑائیاں لیتی سرگم
ہو رقص میں جیسے رنگ دیو کا عالم

ہر عضو کی نرم لَو میں مدھم جھنکار

پو پھٹتے ہی بھیرویں کی آنے لگی لے
یا نور کی اُنگلیوں سے دیوی کوئی

جیسے شبِ ماہ میں بجاتی ہو ستار
خاموش نگاہ کے تکلّم کی قسیم

اس سازِ جمال کے ترنّم کی قسیم
امرت کی پھوار ہے کہ نورس آواز

یا پگھلی ہوئی صبح چھلک جاتی ہے
یہ نقرئی آواز! یہ مترنّم خواب

تاروں پر پڑ رہی ہو جیسے مضراب
لہجے میں یہ کھنک یہ رس یہ جھنکار

چاندی کی گھنٹیوں کا بجنا تہہ آب
آواز پہ سنگیتکا ہوتا ہے بھرم

کروٹ لیتی ہے نرم لے میں سرگم
یہ بول سُریلے تھرتھراتی ہے فضا

اَن دیکھے ساز کا کھنکنا پیہم
وہ قد ہے کہ بھیرویں سنائے جب صبح

گلزارِ شفق سے نرم کونپل پھوٹے
جیسے تہہِ آب ہو چراغاں کا سماں

یہ راگنیوں کے دل کی چوٹیں ہیں کہ رنگ
رنگت ہے کہ گھنگروں کی مدھم جھنکار

جو بن ہے کہ پچھلی رات بجتا ہے ستار
یہ رُوپ کے گرد سات رنگوں کی پھوار

جیسے مدھم سروں میں خودگائے ملہار
وہ بادِ سمر کا رس میں ڈوبا ہوا راگ

نغمے کی الاپ ہے کہ قامت کا تناؤ
کہتا ہے ہر عفو پینگ شعلوں کی چڑھاؤ

آ آکے راگنی کھڑی ہوئی ہے
دیکھے کوئی سجل بدن کا یہ رچاؤ

یہ شعلۂ حسن جیسے بجتا ہو ستار
ہر خطِ بدن کیَلو میں مدھم جھنکار

سنگیت کی کوئی نرم لے ہے کہ سکوت!
گوکل کی اندھیری رات دیتی ہوئی لو

گھنشام کی بانسری کا لہرا ہے کہ زلف
رگ رگ میں تھرتھرائے روحِ نغمات

گنگا میں چوڑیوں کے بجنے کا یہ رنگ
یہ راگ، یہ جل ترنگ، یہ رَو، یہ اُمنگ

بھیگی ہوئی ساڑیوں سے کوندے لپکے
ہر پیکرِ نازنین کھنکتی ہوئی چنگ

یہ رات! فلک پہ تھرتھراتا سا غبار
شیشے پر نرم نرم پڑتی ہے پھوار

یا بیٹھ کے ماہِ نو میں دیوی کوئی
چھیڑے ہوئے راگنی بجاتی ہے ستار

گیسو کے بناؤ میں لہکتے ہیں بھجنگ
پیکر کے رچاؤ میں کھنکتی ہوئی چنگ

آنکھوں کے جھکاؤ میں ہے حکومت کی اُمنگ
سینے کے تناؤ میں پکھاوج کی ترنگ

انگ انگ کی لوچ میں وہ شانِ تسخیر
چھم چھم بجتی ہوئی کمر کی زنجیر

ہنگامِ وصال پینگ لیتا ہوا جسم
بے لاگ ہنڈول راگ کی ہے تصویر


عورت خود کائنات کا آہنگ ہے، اپنے وجود کا دلفریب نغمہ ہے، روح ہے، "سول امیج" (Soul Image) ہے، "ذات" (Self) اس کو خوب جانتی پہچانتی ہے، اسے اپنے وجود میں جذب کر لینا چاہتی ہے۔ "ذات" کو معلوم ہے کہ اس کے ہونٹ کو چوسنے کے لیے ساگر ترستا ہے (وہ ہونٹ کہ چوسنے کو ساگر ترسے!) اُس کا تجربہ ہے کہ ہنگامِ وصال جسم پینگ لیتا ہے تو "ہنڈول راگ" کی تصویر اُبھر آتی ہے اور آنچل کے تلے پستانوں (کچوَ) کے دیپک جلتے ہیں، وصل کے لمحوں میں سوسوہاتھوں سے تھامنا اور سنبھالنا پڑتا ہے اور جب صبح ہوتی ہے تو دوشیزگیِ جمال بڑھ جاتی ہے نکھر جاتی ہے:

کٹتے ہی شب وصال، ہر صبح کچھ اور
دوشیزگیِ جمال بڑھ جاتی ہے

ذرا وصال کے بعد آئینہ تو دیکھ اے دوست
ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی

"سول امیج" (Soul Image) ذات (Self) کا ایک انتہائی دلفریب حد درجہ پُر اسرار تجربہ بن جاتا ہے۔ اپنے "نصف وجود" کے حسن و جمال کو اتنے پاس سے دیکھنے اور پھر اسے جذب کر کے ایک دلنواز وحدت کا اتنا شدید احساس اُردو کے کسی شاعر نے اب تک نہیں بخشا ہے۔ فراقؔ کے "سول امیج" نے "سیکس" (Sex) کے جمال اور اس کی پاکیزگی کی منتہا (Cimax) کو جس طرح اُجاگر کیا ہے اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی، ہر بار کے لذّت آمیز تجربے کا بیان آسان نہیں ہے:

کچھ ہجر و وصال کا معمہ نہ کھلا
جل میں کب بھیگے کنول کو دیکھا

بیتی ہوں گی سہاگ راتیں کتنی
لیکن ہے آج تک کنوارا ناتا

"سول امیج" کی ہم آہنگی سے باطن کی دنیا روشن ہوتی ہے تو اسی قسم کے ارفع خیالات شعری تجربے بن جاتے ہیں۔ یونگ نے تخیلی اور تخلیقی عمل میں حسیاتی اور جنسیاتی اور لذّت آمیز کیفیتوں کے پیچھے باطن کی دنیا کی روشنی کو ہی اہم تصوّر کیا ہے۔ "Illumination of the inner cosmos"کو بہت اہم جانا ہے۔

اس سے قبل کہ یونگ کے اہم تصوّر "اینیما" (Anima) اور "اینی مس" (Animus) کا ذکر کروں چین کے ایک قدیم تصوّر "ین" (Yin) اور "یانگ" (Yang) کی بابت کچھ عرض کرنا چا ہوں گا۔

یانگ (Yang) ین (Yin)

"ین" (Yin) عورت کی تو انائی ہے اور یانگ (Yang) مرد کی۔ کہا جاتا ہے یہ تصوّر 700 قبل مسیح پیدا ہوا تھا، بنیادی طور پر یہ روایتی چینی طریقۂ علاج کا تصوّر ہے۔ مرض کی پہچان اور اس کا علاج۔ رفتہ رفتہ اس تصوّر کی معنویت پھیلتی گئی۔

"ین" (Yin) نسوانی تو انائی ہے، فطرت کا منفی اصول ہے۔ چاند اس کی علامت ہے، ندی کے بہاؤ سے اس کی پہچان ہوتی ہے۔ اس کے برعکس یانگ (Yang) مثبت اصول ہے۔ مرد کی تو انائی، اس میں تحرک ہے، سورج اس کی علامت ہے، برف سے اس کی پہچان ہوتی ہے۔ یہ دونوں اپنی جگہ منفرد تو انائی ہیں، ایک دوسرے سے مختلف یہ دونوں ہمیشہ متحرک ہیں، دونوں کا ایک دوسرے پر انحصار ہے۔ یانگ روشنی اور "ین" تاریکی۔ ۔ ۔ گہری تاریکی کا چمکتا جوہر۔ "ین" دھرتی ہے اور یانگ آسمان لیکن دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے، دونوں ایک دوسرے میں جذب ہو جاتے ہیں۔ ایک وحدت بن جاتے ہیں، "تاؤ ازم" نے اسے اپنا بنیادی تصوّر بنایا تھا، "ین" اور "یانگ" دونوں کائنات کے تمام مخالف اصولوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ "یانگ" (مرد) سورج، گرمی اور روشنی کی نمائندگی کرتا ہے اور "ین" (عورت) چاند، ٹھنڈک اور پُر اسرار تاریکی کی نمائندہ ہے۔ دونوں کے ملاپ سے تخلیق کا سلسلہ جاری ہے۔

"ین" اور "یانگ" فنونِ لطیفہ کی روح ہے، لاشعور اور خصوصاً نسلی یا اجتماعی لاشعور میں یہ دونوں ایک دوسرے کو تلاش کرتے کرتے کامیابی کے بعد ایک دوسرے میں جذب ہو جاتے ہیں۔ آرٹ اور خصوصاً شاعری میں تلاش کا عمل بھی ملتا ہے اور ہم آہنگی کے حسی اور جمالیاتی تجربے بھی ملتے ہیں۔ فراقؔ کی شاعری میں "ین" اور "یانگ" کی ہم آہنگی کی آرزو سے ہم آہنگی کی منزل تک کے حسی جمالیاتی تجربے ملتے ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں:

شامیں کسی کو مانگتی ہیں آج اے فراقؔ
گو زندگی میں یوں مجھے کوئی کمی نہیں!

ترے پہلو میں کیوں ہوتا ہے محسوس
کہ تجھ سے دُور ہوتا جا رہا ہوں

ستارے جاگتے ہیں رات لٹ چھٹکائے سوتی ہے
دبے پاؤں کسی نے آ کے خوابِ زندگی بدلا

درد بھی کم ہے تم بھی ہو لیکن
دل بہت بے قرار ہے اے دوست

یہ نرم نرم ہَوا جھلملا رہے ہیں چراغ
ترے خیال کی خوشبو سے بس رہے ہیں دماغ

اس بزمِ بے خودی میں وجود و عدم کہاں
چلتی نہیں ہے سانس حیات و ممات کی


فراقؔ کی شاعری میں حسن اور عورت کی تلاش سے حسن اور عورت کی قربت تک کے حسی جمالیاتی تجربے ہیں جو "ین" (Yin) کے پیکر اور اس کی باطنی تو انائی کا گہرا احساس دیتے ہیں۔ "ین" کے حسن و جمال راگ راگنیوں میں تبدیل کر دینے کا جو عمل ملتا ہے اس سے شاعر کی تخیلی اور تخلیقی فکر کی عظمت کی پہچان ہوتی ہے:

اے جانِ بہا ر، تجھ پہ پڑتی ہے جب آنکھ
سنگیت کی سرحدوں کو چھو لیتا ہوں

لہراتے ہوئے بدن پہ پڑتی ہے جب آنکھ
رَس کے ساگر میں ڈوب جاتی ہے نگاہ

ہر عضو کی نرم لَو میں مدھم جھنکار
پو پھٹتے ہی بھیرویں کی آنے لگی لے

چہرہ دیکھے تو رات غم کی کٹ جائے
سینہ دیکھے تو اُمنڈا ساگر ہٹ جائے

سانچے میں ڈھلا ہوا یہ شانہ، یہ بغل
جیسے گلِ تازہ کھلتے کھلتے پھٹ جائے

ہنگام وصال پینگ لیتا ہوا جسم
سانسوں کی شمیم اور چہرہ گلنار

"رُوپ" کی رُباعیوں میں "ین" کے تعلق سے "یانگ" کے جو جمالیاتی تجربے پیش کیے ہیں وہ اُردو شاعری کے لیے ایک بڑی نعمت ہیں۔

"یونگ" (Jung) نے دو اہم نفسیاتی اور حسی تجربوں کا ذکر کیا ہے۔ "اینیما" (Anima) اور "اینی مس" (Animus) "اینیما" مرد کا حسی تجربہ ہے جس کی وضاحت اس طرح کی ہے کہ ہر مرد اپنی حوّا کو اپنے باطن میں لیے ہوتا ہے اور "اینی مس" عورت کا حسی تجربہ ہے جس کی وضاحت اس نے اس طرح کی ہے کہ ہر عورت اپنے آدم کو باطن میں لیے ہوئی ہے۔

دونوں کے لاشعور میں حسی سطح پر یہ پیکر ہوتے ہیں ان کا اظہار عموماً خوابوں میں ہوتا ہے، فنونِ لطیفہ میں یہ پیکر زیادہ شدّت سے نمایاں اور ظاہر ہوتے ہیں۔ عورت، پری، دو شیزہ، شہزادی، دیوی اور دوسرے پیکروں میں نظر آتی ہے، کبھی ڈائن، بوڑھی عورت، خوفناک ماں بھی بن جاتی ہے۔ عورتوں کے خوابوں اور ان کی تخلیقات میں مرد کو خوبصورت پیکروں میں ہوتا ہے اور کبھی بدصورت اور خوفناک پیکروں میں، کبھی خونخوار بھیڑیا اور ظالم بن جاتا ہے اور کبھی جادوگر، بہت سی عورتوں نے ایسے خواب دیکھے ہیں جن میں ان کی شادی حضرت عیسیٰ سے ہوتی ہے۔ یہ "اینی مس" (Animus) ہے، یہ لاشعوری حسی سطح خالص جنسی سطح ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ حسی سطح پر دوسرا پیکر "سول امیج ہوتا ہے یعنی مرد کا نسوانی پیکر خود اس کے باطن کا پیکر ہوتا ہے اسی طرح عورت کا وہ پیکر جو مرد کا ہوتا ہے خود اس کے باطن کا "امیج" ہوتا ہے۔

ایسے حسی پیکر اساطیری اور فوق الفطری بن جاتے ہیں اور ان کی پہچان مشکل ہو جاتی ہے۔ تانتر ہندو ازم اور بدھ ازم میں ایسے پیکر موجود ہیں۔ شیو کے ساتھ پاروتی اور دُرگا کے پیکر توجّہ طلب ہیں، کالی ماں بھی سوچنے کی دعوت دیتی ہے۔ بڑے فنکاروں کی تخلیقات میں یہ حسی پیکر دلچسپ صورتوں میں موجود ہیں۔ گیٹے کے فاؤٹ"، "ورجن" (Virgin) اور رائیڈرہیگارڈ کی "شی" (She) اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔ ٹیگور نے اپنی تخلیقات میں اسے زندگی کی دیوی کے نام سے یاد کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ میرے خوابوں کی روح ہے۔ قدیم ترین قصّوں داستانوں میں ایسے جانے کتنے کردار موجود ہیں۔ آرٹ یا فنونِ لطیفہ کی بہتر تشریحوں میں ایک تشریح یہ بھی ہے کہ فنکار خود اپنی نفسیاتی کیفیتوں اور اپنے نفسیاتی تجربوں کو علامتوں، ڈرامائی حادثوں اور تجربوں اور ڈرامائی کرداروں میں پیش کرتا ہے، ان کی ارتفاعی صورتیں سامنے آتی ہیں۔


فراقؔ کی شاعری میں "اینیما" (Anima) کے حسی جمالیاتی تجربے ایک مستقل باب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ "عورت" کے آرچ ٹائپ سے "سائیکی" کا رشتہ غیر معمولی نوعیت کا ہے۔ عورت کو حواسِ خمسہ سے اتنی شدّت سے شاید ہی کسی دوسرے شاعر نے محسوس کیا ہو۔ دیکھا ہے، سنا ہے سونگھا ہے، محسوس کیا ہے، لذّت حاصل کی ہے، جنسی انبساط پایا ہے۔ اپنی "سائیکی" میں "عورت" کے "آرچ ٹائپ" کو اتنی شدّت سے محسوس کیا ہے کہ گوشت پوست کی عورت اپنے تمام حسن کے ساتھ سامنے آن کھڑی ہوئی ہے، یہ بڑا خوبصورت تخلیقی کارنامہ ہے:

رس میں ڈوبا ہوا لہراتا بدن کیا کہنا
کروٹیں لیتی ہوئی صبح چمن کیا کہنا

مدبھری آنکھوں کی السائی نظر پچھلی رات
نیند میں ڈوبی ہوئی چندر کرن کیا کہنا

باغِ جنت پہ گھٹا جیسے برس کر کھل جائے
سوندھی سوندھی تری خوشبوئے بدن کیا کہنا

روپ سنگیت نے دھارا ہے بدن کا یہ رچاؤ
تجھ پہ لہلوٹ ہے بے ساختہ پن کیا کہنا

وہ نوبہار ناز اُٹھا فضائے صبح جاگ اُٹھی
وہ تازگی، وہ حسن وہ نکھار وہ صباحتیں

جو چھپ کے تاروں کی آنکھوں سے پاؤں دھرتا ہے
اسی کے نقشِ کفِ پا سے جل اُٹھے ہیں چراغ

ذرا وصال کے بعد آئینہ تو دیکھ اے دوست
ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی

پہلے وہ نگاہ اِک کرن تھی
اب یک جہان ہو گئی ہے

ترغیبِ گناہ لحظہ لحظہ
اب رات جوان ہو گئی ہے

دیکھئے فراقؔ اپنی "سائیکی" اپنی روح کی گہرائیوں میں کس حد تک اُترے ہیں۔

اخترالایمان1؂ کی نظموں میں لاشعور کی عکس ریزی کا مطالعہ کیجیے تو رومانی جمالیاتی خصوصیات کا احساس اور زیادہ ہو گا۔ لاشعور میں فرد کے ذاتی تجربوں کے ساتھ پوری نسل انسانی کے تجربے بھی ہوتے ہیں وقت ماضی، حال اور مستقبل میں تقسیم نہیں ہوتا، جذبات اور حسیات میں وقت کی حد قائم نہیں ہوتی، اجتماعی لاشعور وراثتی سرمایہ کا نام ہے، یہاں تجربات، توہمات اور تحیرات کی وہ کائنات ہے کہ جس میں پوری نسلِ انسانی سانس لے رہی ہے۔

"آرچ ٹائپ" (Archetype) کا کردار بہت جذباتی اور حسیاتی ہوتا ہے اس کردار کی تشکیل میں جانے کتنی نفسی کیفیتوں کا دخل ہوتا ہے، نفسی کیفیت کی پہچان مشکل اور بہت حد تک ناممکن ہے۔ ایک "آرچ ٹائپ" سے بہت سے حسی اور نفسیاتی تصوّرات اور پیکر وابستہ ہوتے ہیں اس کا کردار متحرک ہوتا ہے۔ انسان کی تاریخ اور انسانی شعور کی ارتقائی منزلوں اور کیفیتوں میں اس کی پہچان ہوتی ہے۔ پوری شخصیت "آرچ ٹائپس" کا اظہار ہے، مختلف رجحانات میں اس کی سچائی ظاہر ہوتی ہے۔ انسانی شعور پسند کرے یا نہ کرے، اس بنیادی کردار کا عمل جاری رہتا ہے اور اس کے اثرات ہوتے رہتے ہیں، لاشعور میں ان کی ایک دنیا آباد ہے۔ نظامِ نفسی کے پیچیدہ عمل سے شعور اور لاشعور میں بہت سے حسی اور نفسی پیکر بنتے رہتے ہیں، ان کی صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔ فنکار کی شخصیت میں "آرچ ٹائپس" کی تو انائی موجود رہتی ہے، رجحانات میں اس کی پہچان ہوتی رہتی ہے۔ اکثر اس سچائی کا پتہ ہی نہیں چلتا کہ فنکار کے تصوّرات میں حسی پیکروں کی کون سی صورتیں موجود ہیں اور عمل کر رہی ہیں۔ فنکار خود بھی اپنے لاشعوری حسی پیکروں سے بے خبر رہتا ہے، وہ نہیں جانتا وہ چند خاص تصوّرات کیوں پیش کر رہا ہے اور تجربوں کے لیے بعض خاص علامتوں کا انتخاب کیوں کر رہا ہے۔ علامتوں کے پیچھے حسی پیکروں یا "آرچ ٹائپس" کی تو انائی کام کرتی رہتی ہے۔ "راستہ" ایک قدیم "آرچ ٹائپ" ہے، ممکن ہے ماقبل تاریخ برف کے زمانے میں اُبھرا ہو۔ "راستے " نے قدیم انسان کو پہاڑوں تک پہنچایا، غاروں تک راہ دِکھائی پھر قدیم عبادت گا ہوں کی تعمیر ہوئی، جانور قربان کیے گئے۔ قربانی کی اہمیت کا احساس اتنا بڑھا کہ اس کے بغیر زندگی کا تصوّر موت کا تصوّر بن گیا۔ غاروں میں مصوّری نے جنم لیا، "راستہ" مشکل بھی تھا اور خطرناک بھی، غاروں تک پہنچنا آسان نہ تھا۔ آ ج تک اس "آرچ ٹائپ" کا عمل جاری ہے۔ پہاڑوں پر مندروں اور عبادت گا ہوں کی تعمیر ان عبادت گا ہوں تک پہنچنے کا عزم، دُشوار اور مشکل راستوں سے راہبوں، سادھوؤں اور عقیدت مندوں کا جانا، مذہبی عقیدوں میں شامل ہے، یہ بھی عبادت ہے۔ اس پورے شعوری عمل کے پیچھے راستے کا قدیم "آرچ ٹائپ " موجود ہے۔ قدیم حسی پیکر عمل کر رہا ہے، اس شعوری عمل کی تاریخ مصر، جاوا اور ہندوستان سے شروع ہوتی ہے۔ کشمیر میں امرناتھ یاترا اِس کی عمدہ مثال ہے۔ امرناتھ یاتر اور Christ Cavalry اس "آرچ ٹائپ" کی ترقی یافتہ صورتیں ہیں۔ ان راستوں پر چلتے ہوئے اور منزلِ مقصود تک پہنچتے ہوئے گنا ہوں سے نجات ملتی ہے، ہر قدم پر ایک گناہ معاف ہو جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ نے کہا تھا "میں راستہ ہوں!" اس عہد میں اس "آرچ ٹائپ" کی ایک نئی صورت پیدا ہو گئی ہے اور اس کی ایک نئی علامتی سطح اُبھر آئی ہے۔ اس کی آفاقی حیثیت سے انکار ممکن نہیں۔ اس عہد کے شعور میں اس آرچ ٹائپ کی آفاقیت کی پہچان مشکل نہیں، "آرچ ٹائپ" یا حسیاتی پیکر کا اظہار فطری اظہار ہوتا ہے "عظیم ماں " کا حسی پیکر بھی ایک قدیم "آرچ ٹائپ" ہے۔ اس کی تشکیل میں بھی جانے کتنی جبلّتوں اور حسی اور نفسی کیفیتوں کو دخل ہے اور اچھی بری قدروں کا احساس بھی ہر وقت موجود ہے۔ "ماں " ممتا کی علامت ہے اور غصّے اور تباہی اور نفرت کی علامت بھی۔ "ماں " ماں بھی ہے اور ڈائن بھی۔ "عظیم ماں " (Great Mother) مرکزی حسی پیکر ہے اور اس کے گرد بہت سے نسوانی پیکر ہیں، دیویوں کے پیکر، پریوں، سمندری شہزادیوں، جادو گرنیوں کے پیکر مرکزی پیکر سے لاشعوری طور پر رشتہ قائم کر نے کی نفسیاتی خواہش موجود رہتی ہے، انسان کی نفسی زندگی پر اس "آرچ ٹائپ" کے اثرات بہت گہرے ہیں، "عظیم ماں " بنیادی قوّت یا "انرجی" ہے۔


انسان کی ابتدائی زندگی کی تشکیل میں شعور سے زیادہ لاشعور کو دخل ہے۔ تصوّرات سے زیادہ حسی کیفیتوں اور پیکروں سے حقائقِ زندگی کو سمجھنے کی کوشش ہوئی ہے۔ قدیم انسانی زندگی کی تشکیل میں حسیاتی کیفیتیں زیاد کام کرتی نظر آتی ہیں۔ "ایغو" سے زیادہ جبلّتوں کا عمل قدیم ہے۔ لاشعور کے تجربے شعور کے تجربوں سے زیادہ اہم تھے۔ لاشعوری طور پر دنیا کو جس طرح محسوس کیا گیا اسی کی اہمیت زیادہ ہے، قدیم ترین انسان کی دنیا شعور کی روشنی میں دیکھی ہوئی کم اور لاشعور سے محسوس کی ہوئی زیادہ ہے۔ اس طور اور حسی تصویروں کے ذریعے کائنات کو سمجھنے کی کوشش ہوئی ہے۔ لاشعور کے بیساختہ اظہار سے حقیقتوں کو پہچانا گیا، اس طرح علامتوں میں صرف فرد کی ذہنی کیفیتیں نہیں ہوتیں اجتماعی لاشعور کی بھی کیفیتیں ہوتی ہیں۔ جب ہم نفسی نظام کہتے ہیں تو دراصل پورے اجتماعی شعور اور لاشعور کی جانب اشارہ کرتے ہیں، آرٹ اور شاعری کی علامتوں کا مطالعہ اس طرح زیادہ دلچسپ ہو جاتا ہے:

تمھاری معیت، رفاقت، تگ و دو کا انداز مانگوں
یہ جمِ غفیر ایک سیلِ رواں زندگی کا جو "لا" سے نکل کر

اسی "لا" میں پھر ڈوب جاتا ہے، یہ ریت ہے یوں ہی جاری
سمندر جو پھیلا ہے ہر سمت اُفق سے اُفق تک

سمندر، جو سفّاک ہے اور طوفاں سے لبریز ہے پر جنوں ہے
سمندر جو بیباک ہے، جنم داتا ہے اور موت کا نغمۂ سرمدی ہے

یہ سیلِ رواں جو یوں بہتا رہتا ہے، اس سیل میں ڈوب جاؤں
میں جو ایک قطرہ ہوں، گہرائی، گیرائی کا حجم کا اس کے بن جاؤں حصّہ

مجھے کوئی مکتی نہیں چاہیے، کوئی نروان کی آرزو، کوئی خواہش تمنّا
کوئی سبیل اور کوثر، نجات و جزا، پرسکوں کوئی لمحہ

نہیں یہ صرف امواج کی شورش رائیگاں چاہیے یہ اگر رائیگاں ہے (لوگو اے لوگو)

وقت اور لمحوں کا یہ تصوّر اس عہد کے مزاج کو سمجھاتا ہے۔ یہ "نیا صوفیانہ مزاج" ہے۔ نئے تصوّف کی رومانیت ہے۔ زمانہ اور وقت کا رومانی تصوّر سمندر کی علامت میں اُبھرا ہے۔ سمندر ایک قدیم "آرچ ٹائپ" ہے۔ جدید شعراء نے اس صدی کی معنویت کو سمجھنے میں اس علامت سے بھی بہت مدد لی ہے۔ سمندر، رحم زندگی بھی ہے لہٰذا "ماں " کے "آرچ ٹائپ" میں یہ حسی پیکر بھی جذب ہو جاتا ہے۔ زندگی نے اسی سے جنم لیا ہے۔ اس کی پرورش اسی سے ہوتی ہے، زمین کا وجود اسی سے قائم ہے سمندر تخلیق کا سرچشمہ ہے۔ مصر کا ایک سب سے قدیم پیکر "تن" بھی ہے جسے "نو" (Nu) بھی کہتے ہیں۔ سمندر، دریا، چشمہ کا حسیاتی نسوانی پیکر جس نے غالباً "پہلی دیوی" کی صورت اختیار کر لی۔ (دریائے نیل کے انڈے سے سورج پیدا ہوا ہے ) سمندر مردوں کو اپنے بچوّں کی طرح اپنے بازؤں میں چھپالیتا ہے۔ زندگی اور موت، وقت، زمانہ، ارتقا، ماں، تخلیق، تباہی، تاریکی اور روشنی (روشنی کے دیوتاؤں کی کشتیاں سمندر کے نیچے چلتی ہیں ) کی یہ معنی خیز علامت ہے۔ ماں باپ کے تمام تصوّرات کے ٹوٹ جانے کے بعد "ماں " کے حسیاتی پیکر کی تلاش اور بڑھ گئی ہے۔ داخلی طور پر ایک رشتہ قائم کر نے کی کوشش جاری ہے تاکہ زندگی کا توازن قائم رہے اور نفسی تکمیل ہو سکے۔ اس بنیادی خواہش کا اظہار مختلف انداز سے ہو رہا ہے، سمندر "ماں " کا پیکر بھی ہے تخلیق کا سرچشمہ بھی، وقت اور زمانے کی علامت بھی۔ شاعر پھیلی ہوئی زنجیر سے ایک کڑی کی طرح ٹوٹ کر رہ جانا نہیں چاہتا، زندگی کی میکانیت کو توڑ کر سمندر میں مل جانا چاہتا ہے۔ شاعر زندگی اور زمانے کو پہچانتا ہے۔ اس طرح اُفق سے اُفق تک ہر سمت پھیلا ہوا ہے، جہاد مسلسل اور کشاکش کا نام زندگی اور زمانہ ہے۔ وقت سفّاک بھی ہے اور پرجنوں بھی، بیباک جنم داتا بھی ہے اور موت کا نغمۂ سرمدی بھی، یہ سیلِ رواں ہے، اس سیل میں ڈوب جانا چاہتا ہے۔ اس کا المیہ یہ ہے کہ تمام سہارے ٹوٹ گئے ہیں، اس سمندر کو شاعر نے اندرونی ذہنی لاشعوری اور نفسی زندگی میں پہچاننے کی کوشش کی ہے۔ اس رومانی کشمکش اور ذہنی تصادم کی پہچان نئے مزاج اور نئی شاعری کے بنیادی رجحان کی پہچان ہے۔

اخترالایمان کے تجربوں میں انفرادی اور اجتماعی لاشعور کے نقوش ہیں، مختلف حسی پیکروں اور ا4 اور "آرچ ٹائپس" کا اظہار مختلف انداز سے ہوا ہے۔ تاریکی اور گہری تاریکی پُر اسرار آوازیں اور آہیں، کھنڈرات، یادوں کے سلسلے، جن میں وقت کا عام تصوّر پگھل جاتا ہے۔ ۔ ۔ "اخترالایمان" کی نظموں میں یہ باتیں موجود ہیں۔ کہا جاتا ہے اجتماعی یا نسلی لاشعور اپنے اظہار کے لیے بے چین رہتا ہے۔ تخلیقی آرٹ کا یہ ایک بہت بڑا سرچشمہ ہے۔ ۔ ۔ "اخترالایمان" اس طرح ایک بنیادی اساطیری رومانی رجحان کے ساتھ سامنے آئے ہیں:

کوئی دروازہ پہ دستک ہے نہ قدموں کے نشاں
چند پرہول سے اسرار تہہ سایہ دار

گہرے سائے اندھیرے دیپک ناچ رہے ہیں، جاگ رہے ہیں!
رنگوں کا چشمہ سا چھوٹا ماضی کے اندھیرے غاروں سے

سرگوشی کے گھنگھرو کھنکے گردو پیش کی دیواروں سے
وہ تری گود ہو یا قبر کی تاریکی ہو

اب مجھے نیند کی خواہش ہے سو آ جائے گی
ان پپوٹوں میں یہ پتھرائی ہوئی سی آنکھیں

جن میں فردا کا کوئی خواب اُجاگر ہی نہ ناچتا رہتا ہے دروازوں کے باہر یہ ہجوم

اپنے ہاتھوں میں لیے مشعل بے شعلہ ودود
جیسے صدیوں کے چٹاّنوں پہ تراشے ہوئے بت

ایک دیوانے مصوّر کی طبیعت کا اُبال
ناچتے ناچتے غاروں سے نکل آئے ہوں

اور واپس انھیں غاروں میں ہو جانے کا خیال!
غار کا تصوّر

لاشعور اِک اندھیرا
لاشعور کا اظہار

چٹاّنوں پر تراشے بت
غاروں سے رقص کرتے ہوئے نکلنے کا تصوّر

اور پھر اندھیرے میں جانے کا خیال
یا کہیں گوشۂ اہرام کے سنّاٹے میں

جا کے خوابیدہ فراعین سے اتنا پوچھوں
ہر زمانے میں کئی تھے کہ خدا ایک ہی تھا

اب تو اتنے ہیں کہ حیران ہوں کس کو پوجوں
جذبۂ پرستش

گوشۂ اہرام کا سنّاٹا
خوابیدہ فراعین

یوں ہی چند پرانی قبریں کھود رہا ہوں چپکا بیٹھا
کہیں کسی کا ماس نہ ہڈّی کہیں کسی کا روپ نہ چھایا

کچھ کتبوں پر دھُندلے دھندلے نام کھدے ہیں، میں جیون بھر
ان کتبوں، ان قبروں ہی کو اپنے من کا بھید بنا کر

مستقبل اور حال کو چھوڑے دُکھ سکھ سب میں لیے پھرا ہوں
بروں کی تاریکی کا احساس

کتبوں پر دھندلے نام
وقت سے الگ ہونے کا احساس

لاشعور میں گم ہو جانے کی
خواہش

دروازوں پہ دے رہا ہوں آواز
خاموش ہے گنگ ہے، سیہ پوشی

ماضی کے محل کی کہنہ دیوار
پھیلائے ہوئے زمیں ہے آغوش

تاریکی میں ڈھونڈتا ہوں راہیں
سورج کو ترس گئیں نگاہیں


دروازہ، گہری تاریکی، قبر، کفن، گوشۂ اہرام کے سنّاٹے، جنازہ، ماضی کے اندھیرے سے، غار پر پراسرار دستک، سائے کا رقص، دیواروں کی سرگوشیاں، دھندلے، کتبے، لاشعور کی تاریکی اور کئی حسّی پیکر اور کئی اہم بنیادی آرچ ٹائپس سامنے آتے ہیں، لاشعوری علامتیں ہر جگہ موجود ہیں۔ یہ بھی سنئے:

ہر مرکزِ نگاہ پر چٹاّن سی کھڑی ہوئی
ادھر چٹاّن سے پرے وسیع تر ہے تیرگی

اسے پھلانگ بھی گیا تو اس طرف خبر نہیں
عدم خراب تر ملے نہ محبت ہو نہ زندگی!

چٹاّن
سے موت

پرے اور
وسیع زندگی

اور دونوں
پھیلی سے

ہوئی الگ
تاریکی کئی

اس تاریکی سے اور شے، جستجو، لاشعور کے اندھیرے میں رومانی ذہن بے خبری

یہ فطری (Spontaneous) اظہار ہے، لاشعوری کیفیات کو شعوری طور پر پیش کر نے کی کوشش نہیں ہے، انفرادی اور اجتماعی لاشعور کی یہ تصویریں ذہن کی ا تھاہ گہرائیوں سے اُبھری ہیں، ایسی تصویریں کیوں متشکل ہوتی ہیں اور تخیلی فکر کے ذریعہ کیوں اُبھرتی ہیں، خود شاعر کو اس کا علم اور احساس نہیں ہوتا، شخصیت اور ذہن کی خلش اور بے چینی اور درد اور اضطراب سے لاشعوری کیفیتوں کا اظہار ہوتا ہے، مختلف پیکروں میں ذہنی تصویروں میں "آرچ ٹائپس" میں کچھ بنیادی رجحانات لاشعور کی تاریکیوں میں چھپے ہوتے ہیں اور جب ان کے اُبھر نے اور ظاہر ہونے کے مواقع نہیں ملتے تو علامتوں، یادوں اور خوابوں کی صورتوں میں سامنے آتے ہیں، "اخترالایمان" کی شاعری میں یادوں اور خوابوں کی علامتوں میں لاشعور کے رجحانات بھی ظاہر ہوئے ہیں، اس طرح شعور اور لاشعور کا رشتہ گہرا ہوا ہے اور تخیلیِ فکر میں زندگی اور حرارت پیدا ہوئی ہے۔ شاعری میں یہ بنیادی رجحانات معاشرتی ہیجانات تضادات اور اقدار کی کشمکش میں نمایاں ہوتے ہیں۔

کشتی، سمندر، دروازہ، دیوار، غار، ستون، قبر، کفن، عبادت گاہ، مندر گرجا، اُڑتے ہوئے باز، استوپ، اہرام، چاند، مچھلی، گائے، یہ سب نفسی اور لاشعوری نسوانی پیکر اور بنیادی "آرچ ٹائپس" میں قدیم ترین انساں اس کی زندگی اور اس کے شعور کا مطالعہ نفسیاتی حقائق کے پیشِ نظر ہو گا۔ ان حقائق کی قوّتوں کی پہچان آج کے انسان کی نفسی گہرائیوں میں ہوتی ہے۔ یہ قوّتیں نفسی زندگی میں بھی زندہ ہیں، تخلیقی عمل کا انحصار اس حقیقت پر ہے کہ شعور کس حد تک لاشعور کے بہاؤ سے متحرک ہے۔ یہ ساری علامتیں (غار، وادی مزار وغیرہ) داخلی زندگی، اندرونی کیفیات اور زمین کے اندر کی دُنیا اور رحم مادر کی علامتیں ہیں، ان کا فطری اظہار ہوتا رہتا ہے۔ تاریکی، رات اور پُر اسرار خاموشی کے تصوّرات بنیادی طور پر ان ہی علامتوں سے وابستہ ہیں۔ پہاڑ اور غار قدیم زندگی کے عنوانات ہیں، نفسی زندگی میں یہ دونوں "مدر آرچ ٹائپس" بن گئے ہیں، پہاڑ کے قریب زمین، کشتی اور ندی کی لہریں سب رُک جاتی ہیں، اس کے پتھروں اور چٹاّنوں کی پرستش عظیم ماں کی پرستش ہے، نفسی زندگی میں پہاڑوں کی طاقت کا احساس غیر معمولی ہے، آج بھی ان کی پرستش ہو رہی ہے، قدیم قصّوں کہانیوں اور مذہبی خیالات میں ان کی اہمیت پر غور کیا جا سکتا ہے۔ تحفظ اور حفاظت کا تصوّر اس سے وابستہ ہے۔ "ماں " کی طرح یہ سب کی حفاظت کرتے ہیں۔ تحفظ کے گہرے احساس نے اسی پیکر کو نفسی زندگی میں "مدرآرچ ٹائپ" بنا دیا ہے۔ کالے سفید انڈوں کا تصوّر بھی قابلِ غور ہے۔ ان علامتوں سے زمین اور جنت رات اور دن اور موت اور زندگی کے گہرے رشتے کی وضاحت ہوتی ہے۔ غار تخلیق کا سرچشمہ بھی ہے اور داخل زندگی، پاتال اور قبر کی علامت بھی حفاظت کا خیال "ماں " کے تصوّر کو جنم دیتا ہے۔ غار میں جو تخلیق ہو رہی ہے اس کی حفاظت بھی ہو رہی ہے۔ آندھی اور طوفان سے بچنے کی جگہ بھی ہے۔ آگ پہلی بار یہیں روشن ہوئی، یہ تمام علامتیں چونکہ ثقافتی علامتیں ہیں اس انسان کے لاشعور میں محفوظ ہیں، درخت بھی ایک قدیم حسیاتی پیکر ہے۔ پھل پھول دینے اور زندگی کے تسلسل کا تصوّر اس سے وابستہ ہے۔ یہ بھی ایک نسوانی پیکر ہے۔ درخت کے اوپر پرندوں کے گھونسلوں سے حفاظت کا تصوّر پیدا ہوتا ہے۔ درخت سے پیدائش کا تصوّر بھی وابستہ ہے، یہ پناہ لینے کی جگہ بھی ہے۔ اسطور، فلسفہ، مذہب اور آرٹ میں ان تمام حسی پیکروں کی اہمیت اسی لیے ہے کہ یہ نفسیاتی سچائیوں کو نمایاں کرتے ہیں، زمین بھی ماں کی علامت ہے۔ افلاطون نے کہا تھا زمین ہی تخلیق کا سرچشمہ بن کر عورت کے سامنے مثال بن جاتی ہے، زندگی اس کے تسلسل اور اس کے عمل اور تمام رنگوں کا تصوّر زمین کا تصوّر ہے۔ شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے اس حقیقت پر نظر رکھی جائے کہ وہ کس قسم کے "آرچ ٹائپس" اور کس قسم کے حسی پیکروں کو پیش کر رہی ہے تو زیادہ سے زیادہ جمالیاتی انبساط حاصل ہو گا۔ شاعری میں یہ حسی پیکر اپنے عہد کے تجربوں کے ساتھ نمایاں ہوتے ہیں۔


غار، دروازہ، کھنڈر، ستون، یہ سب قدیم تہذیبی اور نفسیاتی علامتیں ہیں، ماں کا حسی پیکر بھی ان میں جذب ہو گیا ہے۔ مختلف عہد میں ان کی معنویت کی نئی جہتیں پیدا ہوتی رہی ہیں، تحفظ اور غذا کے ساتھ زندگی کے انتشار اور بحران، اچھی قدروں کے ٹوٹنے کے احساس، اَنا اور ایغو کی شکست، تنہائی، محرومی اور ناکامی کے احساسات سے ان علامتوں کا رشتہ قائم رہا ہے، آج بھی ان علامتوں کی اہمیت ہے۔ نئی شاعری میں یہ علامتیں اندھیرے کے سفر کا احساس دلاتی رہتی ہیں۔ اندھیرے کا سفر روشنی کے لیے ہے۔ داخلی طور پر یہ روشنی کی تلاش ہے سمندر کے نیچے روشنیوں کے دیوتاؤں کی کشتیاں چلتی ہیں، چاند کی روشنی تاریک را ہوں پر رہنمائی کرتی ہے۔ غار اور کھنڈروں میں جلتی ہوئی روشنی آگ برفیلی ہواؤں سے محفوظ رکھتی ہے اور یہی آگ مشعل بن جاتی ہے۔ داخلی طور پر ایک نئی صبح کی تلاش بھی ہے، روشنی حسی اور روحانی علامت ہے، ماں روشنی کو جنم دیتی ہے، اسطور میں عظیم ماں سورج کو جنم دیتی ہے۔ کنواری مریم نے بھی جس بچے ّ کو جنم دیا تھا وہ روشنی کی علامت تھا، ہندوستانی اساطیر میں چاند کے اوپر ماں اور بچے ّ ایک تخت پر بیٹھے نظر آتے ہیں، ماں کا تصوّر ہی موجود کے تمام رموز و اسرار کا مرکز ہے، زندگی کی شکست و ریخت اور میکانیت سے یہ رومانی تجربے پیدا ہوئے ہیں۔

غار، گود، قبر، دروازہ، نیند، تاریکی، کفن اور اس قسم کی دوسری علامتیں "اخترالایمان" کی شاعری میں اہمیت رکھتی ہیں:

وہ تری گود ہو یا قبر کی تاریکی ہو
اب مجھے نیند کی خواہش ہے سو آ جائے گی

یوں ہی چند پرانی قبریں کھود رہا ہوں چپکا بیٹھا
زمیں کے تاریک گہرے سینے میں پھینک دو اس کا جسم خاکی

موت کی وادیوں میں گم ہو گئی ہے پھر وہ نغمگی
گرد برسوں کی چھپا دے گی مرا جسم نزار

جاگتے جاگتے تھک جاؤں گا، سوجاؤں گا
ادھر چٹاّن سے پرے وسیع تر ہے تیرگی

پکارتا ہے دھندلکوں سے اس طرف کوئی
کتنا تاریک ہے فردا کا خیال

گرد آلود چراغوں کو ہَوا کے جھونکے
روز مٹّی کی نئی تہہ میں دبا جاتے ہیں

زندگی! آہ موہوم تمنّا کا مزار
سرد ہاتھوں سے مری جان مرے ہونٹ نہ سی

پھر وہی تاریک ماضی، پھر وہی بے کیف حال
اور یہ میری محبت بھی تجھے جو ہے عزیز

کل یہ ماضی کے گھنے بوجھ میں دب جائے گی
توڑ ڈالے گا یہ کمبخت مکاں کی دیوار

اور میں دب کے اسی ڈھیر میں رہ جاؤں گا
میں اندھیروں میں ابھی تک ایستادہ ہوں

ناچتے ناچتے غاروں سے نکل آئے ہوں
اور واپس انھیں غاروں میں ہو جانے کا خیال

"اخترالایمان" نے اس طرح احساس کو نیا لہجہ اور نیا آہنگ دیا ہے، بنیادی اساطیری رجحان موجود ہے۔ "مدر آرچ ٹائپ" کی پہچان بھی مشکل نہیں ہے، معاشرتی ہیجانات کا احساس بھی ہو جاتا ہے۔ لاشعوری سطح کی بے چینی کا اندازہ ہوتا ہے۔ سطح کے نیچے جو تیز لہریں ہیں ان سے قدروں کی کشمکش اور جبلی روحانی نفسی اور جذباتی تصادم کا احساس ملتا ہے۔

یہ تمام تجربے ایک اہم رجحان کو نمایاں کرتے ہیں، اسی رجحان سے "امیجری" کا ایک معیار بنتا ہے۔ علامتوں اور پیکروں کی نئی تشکیل ہوتی ہے، ماضی اور حال احساسات میں جذب ہیں، حیات و موت کے درمیان شاعر کا رومانی مزاج توجہ طلب ہے۔

اُردو زبان و ادب پر اساطیر اور اساطیری عناصر کے جو اثرات ہوئے، شعرا کی فکر و نظر اور حواس اور تخیل پر اساطیری واقعات و کردار جس طرح اثر انداز ہوئے اس کی تاریخ طویل ہے۔ اس کے چند پہلوؤں کو اس طرح دیکھیں تو بہتر ہے۔

(1) رامائن، مہابھارت اور بھگوت گیتا وغیرہ کے ترجموں سے بھی شعرا اور ڈراما نگار متاثر ہوئے ہیں۔ ان کی تعداد بہت زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہے۔

ڈاکٹر نامی کی بلیو گرافی کے مطابق اُردو میں 75 ڈرامے مہابھارت کے موضوع پر ہیں اور 35 ڈرامے رامائن کے موضوع پر۔

رام، سیتا اور کرشن فنکاروں کے موضوعات رہے ہیں، آغا حشر نے "سیتا بن باس" لکھ کر اسٹیج کیا

رادھا اور کرشن کئی ڈراموں کے موضوعات رہے ہیں۔

واجد علی شاہ کے عہد میں رادھا اور کرشن محبوب موضوع بنے رہے ہیں۔

اقبالؔ (رام) چکبستؔ (رامائن کا ایک سین) سرور جہان آبادی، سیماب اکبر آبادی وغیرہ نے رام، سیتا اور کرشن کو موضوع بنایا۔ ڈراموں میں تو واقعات و کردار اور کرداروں کے عمل اور ردِّ عمل کو پیش کیا گیا جبکہ شاعری میں کرداروں کی عظمت اور عمدہ اقدار کو موضوع بنایا گیا۔

(2) رام بھگتی اور کرشن بھگتی وغیرہ کے گیتوں، بھجنوں، دوہوں کے بھی گہرے اثرات ہوئے ہیں۔ مذہبی کتابوں اور لوک قصّوں کہانیوں نے عوامی شاعروں اور گیت کاروں کو متاثر کیا اور اساطیری قصّوں کے مختلف پہلوؤں کی منظوم صورتیں سامنے آئیں۔ سادھوؤں، فقیروں اور عوامی جذبات کو متاثر کر نے والے گیت کاروں نے واقعات اور کرداروں کو گھر گھر پہنچایا۔ ان کے سادہ نرم اور دل کو چھولینے والے الفاظ نے اس سلسلے میں بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔

(3) بھگتوں اور صوفیوں کے کلام نے اساطیری واقعات و کردار کو اہمیت دی۔ گرونانک، کبیر، داؤد، نام دیو، جائسی، تلسی داس، شیخ فریدالدین وغیرہ کے نام اس سلسلے میں لیے جا سکتے ہیں۔

(4) اُردو کے بہت سے شعرا ہند اسلامی تہذیب کی آمیزشوں کے تحت اُبھرتے ہیں۔ ان کے کلام پر ہندوستانی اور عجمی اساطیر کے اثرات جابجا ملتے ہیں، اس سلسلے میں سلطان قلی قطب شاہ، ملاّوجہی، شاہ مبارک، نظامی دکنی، غوّاصی اور ابراہیم عادل شاہ کے نام اہم ہیں۔

(5) اس دور میں ایسے شعرا کی تعداد بہت زیادہ ہے کہ جنھوں نے اساطیری واقعات و کردار کو تشبیہوں، استعاروں، کنایوں، علامتوں اور تمثیلوں کے ذریعہ پیش کیا ہے۔


(6) "ماضی کی حسیت" (Sensibility of the Past) اس عہد کی ایک اہم اور معنی خیز حسیت ہے جو نئی جمالیات کی مختلف جہتوں کو سمجھاتی ہے۔ یہ حسیت محمد اقبالؔ میں بہت بیدار ہے۔ میراجیؔ ن۔ م۔ راشد، عبدالعزیز خالد، منیر نیازی، اخترالایمان، کمار پاشی (ولاس یاترا)، جعفر طاہر، ظفر اقبال، ستیہ پال آنند، اختر احسن (ہے ہنومان) عنبر بہرائچی، سلیم شہزاد وغیرہ کے کلام میں ماضی کی حسیت کے ساتھ بیشتر تجربے ملتے ہیں۔

تہذیبی بحران، تناؤ، صنعتی زندگی کی بھیڑ بھاڑ، روایات کی شکستگی، طبقوں کی تقسیم، فسادات وغیرہ کے گہرے اثرات ہوئے ہیں۔ ماضی کی عظمت اور وقار اور اس کی رومانیت کے احساس کے ساتھ "حال" کے تجربوں کا تجزیہ اثر انداز ہوا ہے۔ یہ حسیت زندہ اور متحرک ہے۔ میراجیؔ کے حسی پیکروں میں ماضی کی حسیت کا عمل موجود ہے، "جنگل"، "غار"، "سمندر، "ماں "، "وِشنو"، "رادھا"، "کرشن"، "کالی" شیو لنگ۔ ان سے میراجی نے تاثرات کو گہرا کر نے کی کوشش کی ہے اور ماضی کے پیکروں اور علامتوں سے کئی جہتوں کا احساس عطا کیا ہے۔ میراجیؔ ماضی سے باطنی اور ذہنی رشتہ قائم کر نے کی کوشش کرتے ہیں۔ ماضی میں واپس چلے جانے کی آرزو بھی ملتی ہے۔ باطن کی آگ کو ماضی کے سایے میں لے جانے اور آسودگی حاصل کر نے کا یہ رجحان توجہ طلب ہے۔ ماضی کی حسیت نے میراجی کے کرب اور اُن کی بے چینی کو بڑھایا بھی ہے اور اسے سکون بھی دیا ہے۔ اُداسی، بے حسی اور خوف کے شدید احساس اور جذبے کو ماضی اور اساطیری کرداروں نے سہارا دیا ہے۔ ان کی شاعری میں نفسیاتی تصادم کے پیچھے ماضی اور اساطیر کا سایہ ہے۔ شاعر کا باطن "ماضی" ہے۔ جنگل ہے، اندھیرا ہے، کھنڈر ہے، ساحل پر سمندر کی لہریں خوفناک صورتوں میں ظاہر ہو رہی ہیں۔ اس باطن میں غار ہے، کالی ہے اور اسی باطن میں دھرتی ماں کا لمس اور کل کی مٹّی کی بھینی بھینی خوشبو ہے۔ اکثر لوگوں میں ماضی میں جذب ہو جانے کی خواہش اور ماضی کی تاریکیوں میں گم ہو جانے کی آرزو ملتی ہے۔ رادھا اور کرشن میراجی کے محبوب کردار ہیں۔ ان کے اپنے گیتوں میں بھی اور اُن گیتوں میں بھی کہ جنھیں اُنھوں نے ترجمے کے صورت پیش کیا ہے۔ یہ دونوں اساطیری کردار عشق اور جنس کی نمائندگی کرتے ہیں:

گن گاؤں شیام منوہر کے
پنگھٹ سے چلی گاگر بھر کے

مرا قدم قدم پر دل دھڑکے
کہیں لوگ نہ دیکھ پائیں گھر کے

بنسی کی تان سنی میں نے
کبھی دھندلا دھندلا سویرا ہے

کبھی کاجل جیسا اندھیرا ہے
کیسے چنچل بھاؤ ہیں نٹور کے

جو سکھی ملے وہ یہی کہے
اب جانے وہی جو دل پہ سہے

من نیّا پریم کھویّا کی
داسی براند کے بسیّا کی

اب کھائے جھکولے ساگر کے

(گیت 136، کلیاتِ میراجی، مرتب: ڈاکٹر جمیل جالبی)

آج، کھلی من کی پھلواری، سندر، پیاری پیاری
راج بھون اب رنگ محل ہے

یا برندا بن کا جنگل ہے
جس میں رانی بنی رادھیکا اور راجہ ہے شیام بہاری

آج کھِلی من کی پھلواری
رُل مل سکھیاں ناچیں گائیں

سکھ سنگت میں دھوم مچائیں
پھلواری سے چن چن لائیں پھول سے سیج سجائیں ساری

آج کھِلی من کی پھلواری
جھن من جھن من جھن جھنکاریں

تم جیتو بازی ہم ہار یں
پریم کی بازی سب سے نرالی کس نے جیتی کس نے ہار ی

آج کھِلی من کی پھلواری
(گیت ہی گیت/ کلیاتِ میراجی، مرتب: جمیل جالبی، ص625)

ہنگامۂ لذّت کا سماں چھایا ہوا تھا یکدم
رادھا بولی مجھے تم اپنا سہارا دو گے

عمر بھر کے لیے کیا اپنا سہارا دو گے
سن کے یہ شیام چلے بن میں کہیں کھو ہی گئے

رادھا مبہوت تھی جیسے پل میں
کسی ساحر نے بنا ڈالا ہو سنگیں مورت

(کلیاتِ میراجی، مرتب: جمیل جالبی، ص494)

میراجی کی شاعری میں جو باطنی کیفیات ہیں اُن سے ماضی کی حسیت کی زیادہ پہچان ہوتی ہے۔ دھرتی ماں کے پیکر میں اُبھرتی ہے، اساطیری کردار خصوصاً رادھا اور کرشن ہمیشہ قائم رہنے والے عشق کی علامت بن جاتے ہیں۔ ماضی ایک پناہ گاہ بھی ہے، کشمکشِ زندگی سے نفسیاتی گریز کرتے ہوئے شاعر اسی پناہ گاہ میں آتا ہے جہاں اندھیرا ہے، تاریکی ہے، جنگل ہے، تاریک غار ہیں، ڈائن ہے، جہاں پراسرار سایے منڈلا رہے ہیں۔ ۔ ۔ اور جہاں کالی ہے! زندگی کا خوف بھی ہے اور موت کا خوف بھی۔ ذہنی کشمکش اور نفسیاتی تصادم انہی سے عبارت ہے۔ رادھا اور کرشن ہندوستان کے قدیم "آرچ ٹائپس" ہیں عشق و محبت کے تصوّر کے ساتھ ان کا تصوّر پیدا ہوتا ہے۔ میراجی بھی عشق اور جنس کے تعلق سے ان دونوں علامتوں کے پاس آتے ہیں لیکن اپنی سائیکی کی گہرائیوں میں اُتر نہیں پاتے۔ ان دونوں "آرچ ٹائپس" کے تحرک اور ان کی اُٹھان کی پہچان نہیں ہوتی۔ شاعر گیت لکھ رہا ہو یا نظمیں اس کا ذہن رومانی روایت تک ہی پہنچ پاتا ہے۔ گیتوں میں تازگی بھی ہے اور گھلاوٹ بھی، رمانی فضا آفرینی بھی ہے لیکن رادھا اور کرشن ان کے احساس اور جذبے سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ گیتوں کی تخلیق کے لمحوں میں ان کا ظہور ہوتا ہے لیکن قاری کے احساس اور جذبے کو گرفت میں نہیں لے پاتے۔ جہاں بھی ان دونوں کا ذکر آیا ہے سرشاری اور لذّت آمیز کیفیتوں اورلذتوں کی کمی محسوس ہوئی ہے۔ میراجیؔ نے غالباً عورت کو کبھی چکھا نہیں تھا!


اس بات سے انکار نہیں کہ "عورت" میراجی کے کلام میں ایک نمایاں پیکر کی حیثیت رکھتی ہے لیکن یہ کہیں محسوس نہیں ہوتا کہ ان کی سائیکی انھیں عورت کے "آرچ ٹائپ" تک لے گئی ہو۔ ماضی کی حسیت کے تحرک سے عورت اُبھرتی ہے لیکن یہ عورت اس بات کے باوجود کہ وہ اپنی بعض جہتوں کو نمایاں کرتی ہے انسان کے نسلی لاشعور سے کوئی گہرا رشتہ نہیں رکھتی۔ کالی، ڈائن، رادھا، ماں وغیرہ "عورت" کے اجتماعی لاشعور کی جہتیں ضرور ہیں لیکن اپنی بھرپور تہہ دار معنی خیز پہلوؤں کے ساتھ! یوں عورت میراجی کا وہ تجربہ بھی نہیں بن سکی جو میرؔ اور فراقؔ کی شاعری میں نظر آتی ہے۔ پہلی عورت کا تجربہ ایک کم عمر لڑکے کا پہلا جنسی تجربہ لگتا ہے، اس نظم میں شاعر کا تجربہ ایک ابھی ابھی جوان ہوئے "بالک" کا ہی تجربہ دِکھائی دیتا ہے:

تم نے مجھے قوّت دے دی ہے
تم نے مجھے ہمّت دے دی ہے اس دُنیا میں جینے کی

اس لمحے سے پہلے میری زیست سفیدی تھی، بے داغ
تم ہو پہلا نشاں، تم زینت، میرے دل کے نگینے کی

تم نے کم کی ہے، ہاں تم نے، خونیں اذیت سینے کی
تم نے مجھے دے دی ہے طبیعت پریم کی مے کے پینے کی

اس لمحے سے ہے آغاز
ہر لمحے میں نیا ایک راز جانوں گا

دُنیا کالی کالی، اندھیری، میرے لیے تھی اِک پاتال
اب دیکھوں گا، اب دیکھوں گا رنگ برنگا حسن کا باغ

اب دوڑیں گے اِک وسعت میں بے بس اور کم زور خیال
اب ہو گی میری پرواز!

اور میں انوکھے وحشی ساز سن لوں گا
(بیاض میراجی، کلیاتِ مارجی، مرتبہ: جمیل جالبی، ص426۔ 425)

میراجی بس اپنے تصوّر ہی میں جنسی ملاپ اور ہم آہنگی کا تاثر پیدا کر کے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ انھوں نے عورت کے تعلق سے جو سوچا وہ بس دُور سے سوچا، ملاپ رادھا اور کرشن کا ہو یا شیو اور پاروتی کا، آدم اور حوّا کی تخلیق ہو یا "آخری عورت" ہو! جن حضرات نے میراجی کی نظم "لبِ جوئبار" پڑھی ہے وہ جانتے ہیں کہ شاعر کے ذہن میں جنس اور عورت کی حیثیت کیا ہے۔

پھر بھی ماضی کی حسیت ان کے تخلیقی ذہن کو بہت حد تک متحرک کرتی ہے۔

ہم تصوّف کے خوابوں کے مکیں
وقت کے طولِ المناک کے پروردہ ہیں

ایک تاریک ازل، نورِ ابد سے خالی
ہم جو صدیوں سے چلے ہیں

تو سمجھتے ہیں کہ ساحل پایا
اپنی دن رات کی پاکوبی کا حاصل پایا

ہم تصوّف کے نہاں خانوں میں بسنے والے
اپنی پامالی کے انسانوں پہ ہنسنے والے

ہم سمجھتے ہیں نشانِ منزل پایا
(ن۔ م۔ راشد، تصوّف، کلیاتِ راشد، ص550)

راشدؔ کی شاعری میں ماضی کی حسیت بہت بیدار اور متحرک تو نہیں ہے ا لبتہ ان کے جمالیاتی رجحان میں ماضی کی حسیت موجود ہے اور اس حسیت کے تجربے متاثر کرتے ہیں، شاعر ماضی کو ایک بوسیدہ قبر تصوّر کرتا ہے اس کی جانب مڑ کر دیکھنا نہیں چاہتا، ماضی کے کنویں میں زہریلی ہوا بھری ہوئی ہے:

مگر اب ہمارے نئے خوابوں کا بوس ماضی نہیں ہیں
ہمارے نئے خواب میں، آدمِ نو کے خواب

جہانِ تگ و دو کے خواب!
جہانِ تگ و در مدائن نہیں

کاخِ فغفور و کسریٰ نہیں
یہ آس آدمِ نو کا ماویٰ نہیں

نئی بستیاں اور نئے شہریار
تماشا گہہ لالہ زار!

(تماشا گہہ لالہ زار، کلیاتِ راشد، ص247)

اس نظم میں شاعر نے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ ایک وقت تھا جب ہم بھی عرب اور عجم کے غموں کا شمار کرتے تھے، اب ایران کہاں ہے؟:

اب ایراں ہے اِک نوحہ گر پیرِ زال
مدائن کی ویرانیوں پر عجم اشک ریز

وہ نوشیرواں اور زردشت اد۔ دار۔ یوش،
وہ فرہاد شیریں، وہ کخسیر و کیقباد

ہم اِک داستان ہیں وہ کردار تھے داستاں کے!
ہم اِک کارواں ہیں وہ سالار تھے کارواں کے!

تہہِ خاک جن کے مزار
تماشہ گہہ لالہ زار!


جاہ و جلالِ قدیم کی تمام کہانیاں ماضی میں گم ہو چکی ہیں۔ آدمِ نو پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ راشدؔ ماضی پرست ہیں اور نہ ماضی پسند، روایت پسندی کے مخالف ہیں۔ اُن کا تخلیقی رویّہ مختلف ہے۔ تخلیقی سطح پر وہ ایک نئی دُنیا کا خواب دیکھتے ہوئے ملتے ہیں جہاں ماضی کی فکر و نظر، فلسفے، زاویۂ نگاہ وغیرہ کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ تصوّف یا کسی بھی رُوحانی روایت کی اہمیت باقی نہیں رہی۔ بنیادی رجحان یہ ہے:

"زندگی تو اپنے ماضی کے کنویں میں جھانک کر کیا پائے گی
اس پرانے اور زہریلی ہواؤں سے بھرے سونے کنویں میں

جھانک کر اس کی خبر کیا لائے گی؟
اس کی تہہ میں سنگ ریزوں کے سوا کچھ بھی نہیں

جز صدا کچھ بھی نہیں" (زندگی ایک پیرزن، لا=انسان)

پچھلے صفحات پر میں نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ "سائیکو اسطورسازی" (Psycho- Mythology) کی جبلت ہی تخلیقی فنکاروں کو عمدہ اور بڑی تخلیقات کے لیے اُکساتی ہے۔ نئے عہد کی سائیکی کے ا4 (Images) کا تعلق جب قدیم سائیکی کے "مِتھ" سے قائم ہو جاتا ہے تو تخلیقی تخیل میں بہت ہی پرکشش تحرک پیدا ہو جاتا ہے۔ معنوی گہرائی کا زیادہ سے زیادہ احساس ملنے لگتا ہے۔ "مِتھ" کا رنگ وآہنگ لیے جمالیاتی تجربہ سامنے آ جاتا ہے۔ راشدؔ ایک بہت ہی عمدہ تخلیقی ذہن کے مالک ہیں، "متھ" اور "آرچ ٹائپس" ایسے ذہن کو ہمیشہ کھینچتے رہے ہیں۔ راشدؔ بھلا بچ کر کیسے جا سکتے تھے، "بلیک ہولز" کی طرح "آرچ ٹائپس" اچھے تخلیقی ذہن کو کھینچتے رہتے ہیں۔ راشدؔ کی شاعری میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ ماضی سے ایک فطری نفسیاتی رشتہ قائم ہوا ہے، "سائیکو اسطور سازی" کی پہچان اس طرح ہوتی ہے:

دل، مرے صحرا نوردِ پیر دل
یہ تمنّاؤں کا بے پایاں الاؤ

راہ گم کر دوں کی مشعل، ان کے لب پر"آؤ، آؤ!"
تیرے ماضی کے خزف ریزوں سے جاگی ہے یہ آگ

آگ کی قرمز زباں پر انبساطِ نو کے راگ
دل، مرے صحرا نوردِ پیر دل،

سرگرانی کی شب رفتہ سے جاگ!
اور کچھ زینہ بہ زینہ شعلوں کے مینار پر چڑھتے ہوے

اور کچھ تہہ میں الاؤ کی ابھی
مضطرب، لیکن مذبذبِ طفل کمسن کی طرح!

آگ زینہ، آگ رنگوں کا خزینہ
آگ اُن لذّات کا سرچشمہ ہے

جس سے لیتا ہے غذا عشاق کے دل کا تپاک
چوبِ خشک، انگور اس کی مے ہے آگ

سرسراتی ہے رگوں میں عید کے دن کی طرح!
آگ کا ہن، یاد سے اُتری ہوئی صدیوں کی یہ افسانہ خواں

آنے والے قرنہا کی داستانیں لب پہ ہیں
دل، مرا صحرا نوردِ پیر دل سن کر جواں!

آگ آزادی کا، دلشادی کا نام
آگ پیدائش کا، افزائش کا نام

آگ کے پھولوں میں نسریں، یاسمن، سنبل، شقیق و نسترن
آگ آرائش کا، زیبائش کا نام

آگ وہ تقدیس، دھُل جاتے ہیں جس سے سب گناہ
آگ انسانوں کی پہلی سانس کے مانند اِک ایسا کرم

عمر کا اِک طول بھی جس کا نہیں کافی جواب!
یہ تمنّاؤں کا بے پایاں الاؤ گر نہ ہو

اس لق و دق میں نکل آئیں کہیں بھیڑیے
اس الاؤ کو سدا روشن رکھو!

(ریگِ صحرا کو بشارت ہو کہ زندہ ہے الاؤ،
بھیڑیوں کی چاپ تک نہیں ہیں!)

آگ سے صحرا کا رشتہ ہے قدیم
آگ سے صحرا کے ٹیڑھے، رینگنے والے

گرہ آلود، ژولیدہ درخت
جاگتے ہیں نغمہ در جاں، رقص برپا، خندہ بر لب

اور منا لیتے ہیں تنہائی میں جشن ماہتاب
ان کی شاخیں غیر مرئی طبل کی آواز پر دیتی ہیں تال

بیخ و بن سے آنے لگتی ہے خداوندی جلاجل کی صدا!
آگ سے صحرا کا رشتہ ہے قدیم

رہروؤں، صحرا نوردوں کے لیے ہے رہنما
کاروانوں کا سہارا بھی ہے آگ

اور صحراؤں کی تنہائی کو کم کرتی ہے آگ!
آگ کے چاروں طرف پشمینہ و دستار میں لپٹے ہوئے

افسانہ گو
جیسے گرد چشمِ مژگاں کا ہجوم

ان کے حیرتناک، دلکش تجربوں سے
جب دمک اُٹھتی ہے ریت

ذرّہ ذرّہ بجنے لگتا ہے مثالِ سازجاں
گوش بر آواز رہتے ہیں درخت

اور ہنس دیتے ہیں اپنی عارفانہ بے نیازی سے کبھی!
یہ تمنّاؤں کا بے پایاں الاؤ گر نہ ہو

ریگ اپنی خلوتِ بے نور و خودبیں میں رہے
اپنی یکتائی کی ت حسیں میں رہے

اس الاؤ کو سدا روشن رکھو! (دل، مرے صحرا نوردِ پیر دل، کلیاتِ راشد، ص271)


"دل، مرے صحرا نوردِ پیر دل" راشدؔ کی ایک عمدہ نظم ہے، جس میں تخلیقی ذہن نے ایک قدیم ترین "آرچ ٹائپ" "آگ" سے رشتہ قائم کیا ہے۔ اس تخلیقی رشتے کی نوعیت وہ نہیں ہے جو غالبؔ اور آتش کے رشتے کی ہے۔ غالبؔ کا پیکر غیر معمولی نوعیت کا ہے۔ اُردو شاعری میں "آتش" کا "آرچ ٹائپ" کسی فنکار میں اتنا بیدار اور متحرک نظر نہیں آتا۔ راشدؔ کے اس تجربے میں ماضی کی حسیت کچھ دیر کے لیے اچانک بیدار ہو گئی ہے۔ "آگ" کی علامت ماضی کے صحرا میں دُور تک لے جاتی ہے۔ "آتش" کے "آرچ ٹائپ" کے تعلق سے میں نے اپنی کتاب "غالبؔ کی جمالیات" میں غالبؔ کے نسلی لاشعور کو آریائی لاشعور کہا تھا۔ یہاں بھی راشدؔ کے ذہنی پس منظر میں آریائی لاشعور ہی کا عکس ہے جو ہند عجمی تہذیب و تمدّن کی دین ہے۔ راشدؔ نے صرف آتش یا آگ سے اپنی فکر اور اپنے تخلیقی ذہن کی کیفیتوں کو سمجھانے کی کوشش نہیں کی ہے، صحرا اور ریگ کے استعاروں اور تلازموں سے خوب کام لیا ہے۔ غور فرمائیے ماضی کی حسیت کیسے جمالیاتی تاثرات اُبھارتی ہے:

دل، مرے صحرا نوردِ پیر دل
ریگ کے دلشاد شہری، ریگ تو

اور ریگ ہی تیری طلب
ریگ کی نکہت ترے پیکر میں، تیری جاں میں ہے!

ریگ صبحِ عید کے مانند زر تاب و جلیل،
ریگ صدیوں کا جمال،

جشنِ آدم پر بچھڑ کر ملنے والوں کا وصال
شوق کے لمحات آزاد و عظیم!

ریگ نغمہ زن
کہ ذرّے ریگ زاروں کی وہ پازیبِ قدیم

جس پہ پڑ سکتا نہیں دستِ لئیم،
ریگ صحرا زرگری کی ریگ کی لہروں سے دُور

چشمۂ مکر و ریا شہروں سے دُور!
ریگ شب بیدار، سنتی ہے ہر جابر کی چاپ

ریگ شب بیدار ہے، نگراں ہے مانندِ نقیب
دیکھتی ہے سایۂ آمر کی چاپ

ریگ ہر عیّار، غارت گر کی موت
ریگ استبداد کے طغیاں کے شور و شر کی موت

ریگ جب اُٹھتی ہے، اُڑ جاتی ہے ہر فاتح کی نیند
ریگ کے نیزوں سے زخمی، سب شہنشاہوں کے خواب

(ریگ، اے صحرا کی ریگ مجھ کو اپنے جاگتے ذرّوں کے خوابوں کی نئی تعبیر دے!)

ریگ کے ذرّو، اُبھرتی صبحِ نو
آؤ صحرا کی حدوں تک آ گیا روزِ طرب

دل، مرے صحرا نوردِ پیر دل
آ چوم ریگ

ہے خیالوں کے پری زادوں سے بھی معصوم ریگ!
ریگ رقصاں، ماہ و سالِ نور تک رقصاں رہے

اس کا ابریشم ملائم، نرم خو خنداں رہے! (دل، مرے صحرا نوردِ پیر دل)

راشد کے کلام میں ماضی کی حسیت (Sensibility of the Past) کا مطالعہ کرتے ہوئے آگ، ریگ، صحرا۔ ۔ ۔ اور سبا، سمرقند، بخارا، ایران، بغداد، شہر کی فصیل، جنگل، کاخ و کوہ، گنبد و مینار، شمع، قندیل، عہدِ تاتار کے خرابے، اقلیم شیر و شہر و شراب و خرمہ، یاجوج ماجوج، مدائن، کاہن، اسرافیل، الوند، ابولہب، سلیمان، کیقباد، سایۂ آمر کی چاپ، الاؤ، بوئے آدم زاد، راہب، راہبہ، سراب، ہیکل تراش، سحرِ عظیم، اساطیرِ قدیم، سنگین تاریکی، ناگ، نمرود، سایہ، کتبہ، جسم کی راکھ، بوئے آدم زاد، پیڑ پر بوم کا سایہ وغیرہ کا تصوّر کیجیے تو ایک عجیب جمالیاتی رومانی فضا خلق ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ راشدؔ نے کہا تھا "زندگی تو اپنے ماضی کے کنویں میں جھانک کر کیا پائے گی، اس سونے کنویں میں تو زہریلی ہوائیں بھری ہوئی ہیں۔ " غور کیجیے راشد نے ماضی کے کنویں سے کتنے الف لیلوی فسانے، کتنے دھُند میں پوشیدہ پیکر و کردار، کتنے قدیم تہذیبی تمدّنی تجربات کے تئیں تاریخی اشارے اور کتنے جمالیاتی رومانی ماحول کے پراسرار نقوش عطا کر دیئے ہیں۔ ان کی شاعری کی جمالیات کا جب بھی مطالعہ ہو گا انھیں نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا۔

ماضی کی حسیت اور جمالیاتی تجربوں کے پیشِ نظر اُن کی مندرجہ ذیل خوبصورت نظمیں خاص توجہ چاہتی ہیں:

"حسنِ کوزہ گر" (1، 2، 3، 4)

"اس پیڑ پر ہے بوم کا سایہ"
"اسرافیل کی موت"

"ابولہب کی شادی"
بوئے آدم زاد"

چلا آ رہا ہوں سمندروں کے وصال سے
کتنی لذّتوں کا ستم لیے

جو سمندروں کے فسوں میں ہیں
مرا ذہن وہ صنم لیے

ہے ہزار رنگ سے خواب ہائے خنک لیے
چلا آ رہا ہوں سمندروں کا نمک لیے

وہ سرور و سوز صدف ابھی مجھے یاد ہے
ابھی چاٹتی ہے سمندروں کی زباں مجھے

مرے پاؤں چھو کے نکل گئی کوئی موج ساز بکف ابھی
وہ حلاوتیں مرے ہست و بود میں بھر گئی!!

ابھی ذہن ہے وہ صنم لیے
جو سمندروں کے فسوں میں ہیں

چلا آ رہا ہوں سمندروں کے جمال سے
صدف و کنار کا غم لیے (ن۔ م۔ راشدؔ)


شفیق فاطمہ شعری اس دَور کی ایک ممتاز شاعرہ ہیں کہ جن کے فن کا مطالعہ ہنوز باقی ہے۔ اُن کی تخلیقی فکر و نظر اور اُن کے کلاسیکی لب و لہجے اور کلاسیکی رومانی اسلوب کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ ماضی کے حسن و جمال سے تخلیقی سطح پر جو رشتہ قائم ہے اس کا اثر ان کی حسیت پر بھی گہرا ہوا ہے۔ ماضی کی حسیت بیدار اور متحرک ہے۔ تاریخ اور ماضی کے قصّوں اور کرداروں نے بھی ان کی تخلیقی فکر کو متاثر کیا ہے۔ ماضی کے جلال و جمال اور ماضی کی روشنیوں اور تاریکیوں سے وہ جس قدر متاثر ہوئی ہیں اُن کی مثالیں ان کے شعری مجموعوں میں جا بجا موجود ہیں۔ نئے تجربے حسیتِ ماضی کو بیدار اور متحرک کرتے ہیں۔ ماضی اور حال کے تجربوں کی ہم آہنگی سے خوبصورت شعری تجربے سامنے آتے ہیں۔ ایک خوبصورت مختصر نظم "زود پشیماں " سنئے:

خوب روئے مدتوں وہ زار زار
آدم و حوّا

بہشتِ جاوداں سے دَورِ مہجور۔ ۔ ۔
ٹھیک ہے پتوں سے ڈھک لیں گے

یہاں بھی اپنے تن
پھر دوبارہ دورِ وحشت میں پہنچ کر

رہ نہ پائیں گے مگر تجھ بن یہاں
ویسے ہی بے فکر و مگن

جیسے وہاں تھے
اے خدائے ذوالمتن

ہم پہ القا کر وہ کلماتِ اتم
جن کے طفیل

ظلم اپنی جان پر پیمان پر
پھر کبھی ڈھائیں نہ ہم (سلسلۂ مکالمات، ص229)

ماضی کی حسیت نے اس عہد کے انسان کی ٹریجڈی کو جس شدّت سے محسوس کر نے پر مجبور کیا ہے اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ۔ ۔ یا یہ کہیے کہ اس عہد کے انسان کی ٹریجڈی نے ماضی کی حسیت کو کتنی شدّت سے بیدار کیا ہے اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

اپنے تجربوں کی ترسیل کے لیے ماضی کی حسیت جس طرح بیدار ہوئی ہے اس کی دو مثالیں ملاحظہ فرمائیے:

دور کہیں تاریک ڈھلانوں میں جادوگر زہر پکاتے
کالی پرانی دیگوں میں

میں ہی ایسے کانٹوں والی ڈھانچہ ڈھانچہ شبیہیں
غاروں میں جنبش کرتی

ان کے آگے جلتی نیلی پیلی آگ
دیکھ کے جس کو ہم دہشت میں پڑے (رُت مالا، سلسلۂ مکالمات، ص39)

گپھا گپھا یگوں کے دائرے
گپھا گپھا یگوں کے دائروں میں

جن گھنے کہ جن میں جھٹپٹا
تپسّیویوں کے ساتھ ساتھ تھا سدا مقیم

جل رہے ہیں
جل رہا ہے فجر کا الاؤ

سگندھ اس کی اتنی گھائل اتنی تیز ہے
کہ سیلی سیلی یہ سگندھ ہے لہو لہو (فجر کا الاؤ، ایضاً، ص77)

شفیق فاطمہ شعری کی نظمیں مثلاً "خلد آباد کی سر زمیں "، "رُت مالا"، "فصیل اور نگ آباد"، "ایلورہ" وغیرہ ماضی کی حسیت اور ماضی کے تعلق سے فنکار کے رویّہ اور رجحان کو سمجھاتی ہیں۔

آج کی اُردو شاعری میں اساطیر، اساطیری واقعات و کردار اور ماضی کی حسیت کا تصوّر کیجیے تو سب سے نمایاں نام ڈاکٹر ستیہ پال آنند کا سامنے آئے گا۔ ستیہ پال آنند نے ہندوستانی اور یونانی اساطیر سے تخلیقی سطح پر ایک مستحکم رشتہ قائم کر رکھا ہے۔ تجربوں کے تخلیقی اظہار میں اساطیر اور "متھ" سے بڑی مدد لی ہے۔ علامتوں کو نئی معنویت دی ہے، مثلاً:

مرے خدا، مجھے ب میں کیا کروں؟

کہ میں مسیح تھا، نہ ہوں
تو کیا سبب ہے

میں ہر ایک شب کسی صلیب پر چڑھا ہوا
لہو چشیدہ کیلوں سے جڑا ہوا

مسیح سا
ہزار بار کی شہادتوں کے جاں گسل عذاب

سہہ رہا ہوں آج تک!


ستیہ پال آنند کے اندر ایک کہانی کار چھپا ہوا ہے، ساتھ ہی ان کی اسطوری جبلت کا اظہار بھی بار بار ہوا ہے۔ شاعری کی جمالیاتی رومانی حسیت نے اساطیر اور فکشن سے جو ذہنی اور جذباتی رشتہ قائم کر رکھا ہے اس سے جمالیاتی تجربے اور زیادہ روشن ہوئے ہیں، جلال و جمال کے دلکش مناظر سامنے آئے ہیں۔

اسطوری جبلت اور ماضی کی حسیت کے پیشِ نظر اُن کی مندرجہ ذیل نظمیں بہت اہم ہو جاتی ہیں:

"کالا جادو" (1، 2، 3) "پیڑ پر سوت کی
"Adam's Apple (1، 2، 3) " "الوداع"

"ایڈ یپس ایک سوچ میں گم ہے " "آخری چٹاّن تک"
"دو بھائی" "کھوئی ہوئی پری"

"یسوع" "نٹ راج"
"ایک پینٹنگ کو دیکھ کر "پری کہانی"

ستیہ پال آنند کی تتھا گت نظمیں جن کی تعداد نو ہیں "وقت لا وقت" میں شامل ہیں۔ یہ نظمیں بھی اُن کی اسطوری جبلت کے اظہار کی عمدہ مثالیں ہیں۔

عنبرؔبہرائچی نے بدھ اور بدھ اساطیر سے تخلیقی سطح پر جو رشتہ قائم کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ "مہابھنشکرمن" ایک عمدہ تخلیق ہے جس نے ماضی کی حسیت کو فنکارانہ سطح پر عروج بخشا ہے۔ پوری نظم میں ماضی کا جمال بکھرا ہوا ہے۔ بدھ کی عظیم شخصیت کے پہلو شعری تجربوں میں اس طرح اُجاگر ہوتے گئے ہیں جیسے کسی عمدہ ڈرامے کے پرکشش مناظر ہوں۔ اس طویل نظم کی ڈرامائی خصوصیات شعری تجربوں کی روح بن گئی ہیں۔ نظم کی اُٹھان ایسی ہے کہ موضوع فوراً قاری کے ذہن کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ اس دَور میں ایسی طویل نظمیں بہت کم لکھی گئی ہوں گی جن میں وجدان کو متاثر کر نے کی اتنی صلاحیت ہو۔ ایک تو بدھ کی زندگی اور ان کی پراسرار شخصیت کا ظاہری اور باطنی ارتقا اور پھر عنبرؔ بہرائچی کا شعری وجدان، ان سے اس طویل نظم میں روح پرور کیفیتیں پیدا ہو گئی ہیں۔ اساطیری ماحول اور کئی مقامات پر شاعر کے جذب و کیف کا عالم۔ ۔ ۔ ان سے ماضی کی حسیت میں پرکشش تحرک پیدا ہو گیا ہے۔ اس نظم کی فکری، معنوی اور جمالیاتی سطح دعوتِ غور و فکر دیتی ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:

اللہ اللہ سوختہ جانوں کی وہ وارفتگی
پائے استقلال میں جن کے نہیں کوئی کمی

آسماں در آسماں پردے ہزاروں تھے مگر
چیر کر اُن کو نگاہِ جستجو بڑھتی رہی

دیدنی ہے جذبۂ شوریدہ سر کی ہر تڑپ
رقص میں ہیں جس کی بانہوں میں رموز و آگہی

گردشوں کی قید سے آزاد شوقِ معتبر
دے رہا ہے ہر نظر کو دعوتِ نظارگی

اب یہیں پر ختم ہیں تاریکیوں کے سلسلے
چارسو ہے روشنی، رخشندگی، تابندگی
(مہابھنشکرمن، ص193)


مطالعہ کے لیے

  1. G. C. Jung -- The Psychology of the Unconscious
  2. G. C. Jung -- Psychological Types
  3. G. C. Jung -- Two Essays on Analytical Psychology
  4. G. C. Jung -- Modern Man in Search of Soul
  5. G. C. Jung -- Psychology and Religion (Vo. II)
  6. G. C. Jung -- The Integration of the Personality
  7. G. C. Jung -- Introduction to the Science of Mythology
  8. G. C. Jung -- The Archetype and the Collective Unconsciousness (Vo. 9)
  9. Ann Swinfen -- In Defense of Fantasy
  10. I. Rose -- The Psychology of Fantasy
  11. S. Freud -- Totem And Taboo
  12. G. Morgan -- Ancient Society
  13. Lenin -- Collected Works (Vo. 1 & IV)
  14. John Drinkwater -- The Outline of Literature
  15. Vioet Staub De aszo -- The Basic Writings of C. G. Jung (Edited)
  16. Richard Woods -- Understanding Mysticism (Edited)
  17. Karle Werner -- Symbols in Art and Religion
  18. Jawahar lal Handoo -- Folklore in Modern India (Edited)
  19. A. D. Pisaker -- Studies in Epics and Puranas of India
  20. Joarde Jacobi -- The Psychology of C. G. Jung
  21. Spence -- An Introduction to Mythology
  22. Spence -- Myths and Legends of Ancient Egypt
  23. H. A. Gueraber -- The Myths of Greece and Rome
  24. Sister Nivedita and Dr. A. Coomaraswamy -- Myths of the Hindus and Buddhism
  25. Rhys Davids -- Buddhism
  26. Thomas Bufinich -- The Age of Fable or Beauties of Mythology
  27. Ai A. Jafarey -- An Outline of the Zarathushtrian Religion and Zoroastrianism
  28. Arther Cotere -- Mythology of Greece and Rome
  29. F. T. C. Werner -- Myths and Legends of China
  30. H. J. Rose -- A Handbook of Greek Mythology