اردو ویب ڈیجیٹل لائبریری
×

اطلاع

فی الحال کتابیں محض آن لائن پڑھنے کے لئے دستیاب ہیں. ڈاؤن لوڈ کے قابل کتابوں کی فارمیٹنگ کا کام جاری ہے.

Uth Bandh Kamer Kya Darta Hai

اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے


مصنف فتح علی انوری
تعداد الفاظ 1162
تعداد منفرد الفاظ 460
مناظر 4922
ڈاؤنلوڈ 0
زندگی میں کبھی ایسی مشکلات پیش آ جاتی ہیں جو انسان کی خود اعتمادی کا امتحان ثابت ہوتی ہیں ، شفیق کو بھی ایک ایسا ہی امتحان درپیش تھا۔

اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے

شفیق میاں آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ انہیں بچوں کے رسالے پڑھنے کا شوق تھا، اس لیے ہر ہفتے اسکول کی لائبریری سے کوئی رسالہ لے آتے۔ جب وہ اسکول کی کتابیں پڑھتے اور ان میں دی ہوئی مشقیں حل کرتے کرتے تھک جاتے تو دماغ تازہ کرنے کے لیے رسالوں سے دل بہلاتے۔

اسکول کے ایک ماسٹر صاحب لائبریری کے انچارج بھی تھے۔ بڑے مہربان اور سلجھے ہوئے آدمی تھے۔ ایک دن شفیق میاں نیا رسالہ لینے لائبریری گئے تو لائبریری انچارج صاحب پوچھ بیٹھے: "میاں شفیق! تم کوئی کتاب کیوں نہیں لے جاتے؟ رسالوں میں تمہیں ایسی کیا چیز بھاتی ہے؟"

شفیق نے ادب سے جواب دیا: "جناب! رسالوں میں طرح طرح کی چیزیں ہوتی ہیں۔ جیسے قصے، کہانیاں، افسانے، نئی نئی پیاری نظمیں، لطیفے، انعامی مقابلے، بزرگوں کی باتیں اور ان کی زندگی کے حالات، مختلف قسم کی دل چسپ معلومات وغیرہ۔ آپ اجازت دیں تو میں ایک بات پوچھ سکتا ہوں؟"

ماسٹر صاحب نے کہا: "ہاں ہاں کیوں نہیں، پوچھو، ضرور پوچھو، یہ تمہارا حق ہے۔"

شفیق نے کہا: "جناب! کہانیوں میں اکثر خود اعتمادی کا لفظ پڑھنے میں آتا ہے۔ خود اعتمادی ایک انسانی کرشمہ ہے۔ خود اعتمادی کسی شخص یا قوم کا قیمتی جوہر ہے۔ میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ خود اعتمادی کس طرح حاصل کی جاتی ہے؟"

ماسٹر صاحب نے کہا: "بہت اچھا سوال ہے۔ سوال پوچھنے ہی سے علم بڑھتا ہے۔ سوال پوچھنے سے شرمانا نہیں چاہیے۔ خود اعتمادی اپنے آپ پر بھروسا کرنے کو کہتے ہیں۔ اس کے لیے بڑی ہمت درکار ہوتی ہے۔ خود اعتمادی کا مطلب ہے کہ کسی دوسرے کی مدد کا محتاج نہ ہونا۔ فرض کرو کہ تم الجبرے میں کمزور ہو، ہر سوال مشکل معلوم ہوتا ہے، مدد کے لیے دوسروں کی طرف نظریں اٹھتی ہیں، لیکن اگر تم محنت کرتے اور فارمولے یاد کر لیتے تو یہی مشکل سوال تم خود اعتمادی کے ساتھ حل کر ڈالتے۔ خود اعتمادی حاصل کرنے کے لیے بڑی مستقل مزاجی کے ساتھ محنت کرنی پڑتی ہے۔ محنت اور خود اعتمادی کا مادہ ہر آدمی میں موجود ہوتا ہے۔ بعض لوگ اسے استعمال کرنا سیکھ جاتے ہیں اور بعض لوگ اسے استعمال ہی نہیں کرتے۔میری رائے ہے کہ تم کبھی کبھی دل چسپ کتابیں بھی لائبریری سے لے جایا کرو اور مستقل مزاجی کے ساتھ انہیں پڑھا کرو۔ یہ لو، یہ کتاب لے جاؤ۔ مہم جوئی کی بڑی بہترین کہانی ہے۔ اس میں خود اعتمادی کی بہت سی مثالیں ملیں گی اور یہ اپنے پسندیدہ رسالے کا نیا شمارہ بھی لے جاؤ۔ یہ بتاؤ کہ تم نے میری باتوں سے کیا سمجھا؟"

شفیق نے جواب دیا: "میں نے یہ سمجھا کہ خود اعتماد لوگ دوسروں کے محتاج نہیں ہوتے۔ خود اعتمادی لگاتار محنت سے حاصل ہوتی ہے۔"

لائبریری انچارج صاحب نے کہا: "شاباش! ایک بات یاد رکھو۔ اسکول میں پڑھائی جانے والی کتابوں کے ساتھ ساتھ دوسری اچھی کتابوں کے مطالعے کی عادت بھی ڈالو۔ مطالعے کی عادت زندگی بھر کام آتی ہے۔"


دو سال کا عرصہ چٹکی بجاتے گزر گیا۔ شفیق میاں نے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا۔ تعلیم میں ان کا شوق دیکھ کر ان کے والد نے انہیں اپنی کم آمدنی کے باوجود ایک اچھے کالج میں داخل کروا دیا۔ ان کے اپنے علاقے میں کوئی کالج نہیں تھا۔ جس دوسرے شہر کے کالج میں انہیں داخل کیا گیا، اس کا اپنا ہاسٹل بھی تھا۔ ہاسٹل میں داخلہ ضروری تھا۔ شفیق کو ہر مہینے صرف اتنی رقم ملتی جو صرف فیسوں کے لیے ہی کافی ہوتی، مگر شفیق میاں نے کبھی شکایت نہیں کی۔ انہیں کتابیں خریدنے کے لیے صبر کرنا پڑتا۔ وہ لائبریری سے کتابیں لے کر کام چلاتے۔ یہ بڑا اچھا اتفاق تھا کہ اسکول کے لائبریری انچارج صاحب بھی اس کالج کے لائبریرین بن کر آ گئے تھے۔

دوسرے سال کے امتحان کے بعد شفیق میاں ہاسٹل پہنچے تو والد کا خط ان کا منتظر تھا۔ خط پڑھا تو ان کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ لکھا تھا: "برخوردار! تم میری مالی حالت سے بخوبی واقف ہو۔ آمدنی کم، کنبہ بڑا۔تمہارے تینوں بھائی اور تینوں بہنیں بھی اسکول جانے لگے ہیں۔ اخراجات میرے قابو سے باہر نکلتے جا رہے ہیں۔ مجھے بہت افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ میں آئندہ یہ معمولی رقم بھی نہیں بھیج سکوں گا، اس لیے مناسب یہ ہے کہ کالج کو خیر باد کہہ کر گھر آ جاؤ۔ انٹرمیڈیٹ تک تمھاری تعلیم ممکن تھی۔ یہاں آ کر کوئی ملازمت کرو اور میرا ہاتھ بٹاؤ۔"

شفیق کو رات بھر نیند نہیں آئی۔ وہ کروٹیں بدلتے رہے۔ اگلے دن لائبریرین صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہیں والد کا خط دکھایا اور کہنے لگے: "جناب! کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ ایک طرف والد صاحب کا حکم اور دوسری طرف میں اپنی تعلیم ادھوری نہیں چھوڑنا چاہتا۔ آپ ہی رہبری فرمائیے؟"

ماسٹر صاحب کچھ سوچ کر بولے: "شفیق میاں! یہ تمہارے والد صاحب کی مجبوری ہے، مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ تمہاری ہمت اور مستقل مزاجی کا امتحان ہے۔ زندگی کے ایسے ہی موڑ پر خود اعتمادی جنم لیتی ہے۔"

شفیق میاں بولے: "میرا تو کوئی عزیز بھی اس قابل نہیں کہ میری مدد کر سکے۔"

ماسٹر صاحب بولے: " تو کیا تم اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دو گے؟ کیا تم کسی کی مدد تلاش کرو گے؟ تم نے فارسی کا وہ شعر پڑھا ہے، جس کے معنی ہیں کہ پڑوسی کے بل بوتے پر جنت میں جانا دوزخ میں جانے کے برابر ہوتا ہے۔ خود اعتمادی کا تقاضا ہے کہ محنت کرو، مزدوری کرو، فاقے کرو، مگر تعلیم میں خلل نہ پڑنے دو۔ بزرگوں کا قول ہے "اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے، پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے۔ ہمت مرداں مدد خدا۔ " مردوں کی طرح سینہ تان کر، سر اٹھا کر کھڑے ہوں۔ اپنے آپ کو پہچانو اور اللہ کا نام لے کر قدم آگے بڑھاؤ۔"

شفیق میاں وہاں سے نکل کر ڈاک خانے پر رکے۔ لفافہ خریدا اور خط لفافے میں رکھ کر ایک لیٹر بکس میں ڈال دیا۔ انہوں نے خط میں لکھا تھا: "ابا جان! یہ لکھنے کی اجازت دیجئیے کہ اپنی زندگی کے بارے میں مجھے فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں ہر قیمت پر اپنی تعلیم مکمل کروں گا اور آپ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہو جاؤں گا جب میرے ہاتھ میں اعلیٰ تعلیم کا سرٹیفکیٹ ہو گا۔"

خدا کا کرنا کیا ہوا کہ شفیق میاں کو چند اچھی ٹیوشنز مل گئیں۔ کالج سے کچھ فاصلے پر ایک انگریزی اخبار کا دفتر تھا۔ وہاں پروف ریڈر کی جگہ خالی ہوئی۔ چار پانچ امیدواروں میں مقابلہ ہوا اور شفیق میاں کو چن لیا گیا۔ اب شفیق میاں کی زندگی میں ایک انقلاب آ گیا۔ صبح کالج جاتے۔ سہ پہر میں ٹیوشن پڑھاتے۔ رات آٹھ سے دو بجے تک اخبار کے دفتر میں پروف ریڈنگ کرتے۔

چار سال بعد جب گھر جا کر شفیق میاں نے اپنے والد کے ہاتھ چومے تو ایم ـ اے کی ڈگری شفیق میاں کے ہاتھ میں تھی اور انگریزی اخبار میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے تقرر نامہ بھی۔