اردو ویب ڈیجیٹل لائبریری
×

اطلاع

فی الحال کتابیں محض آن لائن پڑھنے کے لئے دستیاب ہیں. ڈاؤن لوڈ کے قابل کتابوں کی فارمیٹنگ کا کام جاری ہے.

Teen Kahaniyan

تین کہانیاں


مؤلف سیدہ شگفتہ
سن اشاعت اول 2012
تعداد الفاظ 6026
تعداد منفرد الفاظ 1223
مناظر 17860
ڈاؤنلوڈ 0
"بابو جی! اگر کوئی دن رات دل لگا کر محنت کرے اور پھر بھی اسے فاقے کرنے پڑیں تو آدمی کہاں جائے؟ میں تو اب خدا سے یہی دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور میرے بچوں کو موت ہی دے دے۔"

چور

رات کے دو بج رہے تھے۔ سلو کو نیند نہیں آ رہی تھی۔ ہوا یوں تھا کہ سکول سے واپس آ کر وہ سو گیا تھا۔ پھر رات کے کھانے کے بعد اس نے بھائی جان کے ساتھ کافی کی ایک پیالی پی لی تھی۔ اب بھائی جان تو رات دیر تک پڑھتے رہتے تھے مگر وہ تو زیادہ سے زیادہ ساڑھے دس، گیارہ بجے تک سو جاتا تھا۔ وہ اپنے بستر پر نیم دراز، باہر تاروں بھری رات کا نظارہ کر رہا تھا۔ چاند نکلا ہوا تھا اور چاندنی سارے گھر میں پھیلی ہوئی تھی۔ سامنے باغ کے درخت بالکل خاموش تھے۔ ایک دم سلو کو آہٹ محسوس ہوئی۔ اس نے نظریں گھما کر دیکھا اور باغ کی دیوار پر اس کی نگاہ ٹھہر گئی۔ ایک شخص دیوار پھاند کر اندر کودا اور بہت احتیاط سے دبے پاؤں گھر کی طرف بڑھنے لگا۔ سلو صاحب کی تو جان ہی نکل گئی۔ اب وہ کیا کرے؟ اس وقت تو بھائی جان بھی سو گئے ہوں گے۔ وہ بہت احتیاط سے اٹھا اور چور کی طرح ہی دبے پاؤں چلتا ہوا نیچے بھائی جان کے کمرے میں آ گیا۔

"کیا بات ہے سلو؟" بھائی جان نے پوچھا۔

"شش بھائی جان!" سلو نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر کہا۔ وہ ان کے بالکل قریب پہنچ گیا اور کان میں سرگوشی کر کے بولا۔

"گھر میں چور گھس آیا ہے۔ بھائی جان بڑبڑا کر اٹھ بیٹھے۔

"سلو اگر یہ مذاق ہے تو تمہاری خیر نہیں۔"

"بھائی جان! میں مذاق نہیں کر رہا۔ میں نے خود ایک آدمی کو اندر کودتے دیکھا ہے۔ وہ باغ سے ہوتا ہوا گھر کی طرف آیا ہے۔"

بھائی جان بستر سے نکلے اور کمرے سے باہر آ گئے۔ سلو ان کے ساتھ ساتھ تھا۔ وہ دونوں بغیر آواز بلند کیے گھر کی کھڑکیوں سے باہر جھانک رہے تھے تاکہ معلوم ہو سکے کہ چور اس وقت کہاں ہے۔ آخر سیڑھیوں کی کھڑکی سے وہ نظر آ گیا۔ باہر کچھ خالی ڈبے پڑے ہوئے تھے وہ انہیں ٹٹول رہا تھا۔ بھائی جان اور سلو نے اوپر بچوں کے کمرے میں آ کر چیکو اور نازک کو جگایا۔ پہلے تو انہوں نے بھائی جان کی بات کو مذاق سمجھا مگر جب انہیں یقین ہو گیا کہ وہ صحیح کہہ رہے ہیں تو دونوں خوف زدہ ہو گئے۔ چیکو بھائی جان کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا اور نازک نے ذرا اونچی آواز میں کہا:

!ہائے اللہ! مجھے تو بہت ڈر لگ رہا ہے۔ میں تو ڈر سے مر ہی جاؤں گی۔۔ چور ہمیں مارے گا تو نہیں؟؟؟!

بھائی جان غصے سے بولے: "نازک! آہستہ بولو، ورنہ میں ایک تھپڑ لگاؤں گا۔"

اس بات پر سلو اور چیکو کی ہنسی چھوٹ گئی۔

"کچھ شرم کرو۔ ہم مصیبت میں پھنسے ہیں اور تم ہنس رہے ہو۔" بھائی جان نے انہیں ڈانٹا مگر پھر خود بھی ہنس پڑے۔ "اب کیا کروں اس چور کا؟" وہ سوچنے لگے۔

"بندوق ہوتی تو گولی ہی مار دیتے۔" سلو نے کہا۔


پھر چاروں نیچے اتر کر سیڑھیوں کی کھڑکی سے لگ کر چور کو دیکھنے لگے۔ وہ اب دوسری چیزیں دیکھ رہا تھا۔ اس کی حرکات میں ایک بے چینی تھی۔ جیسے کوئی چیز ڈھونڈ رہا ہو۔ انہیں حیرت ہوئی کہ وہ کوڑے کی بالٹی بھی ٹٹول رہا تھا۔

"کوئی ایسا طریقہ نہیں ہو سکتا کہ یہ خود ہی ڈر کے بھاگ جائے۔" چیکو نے کہا۔

"نہیں ہمیں اس طرح کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے۔" بھائی جان نے کہا" سلو! وہ جال کہاں ہے جو میں مچھلیاں پکڑنے کے لیے دریا پر لے جاتا ہوں؟"

"باورچی خانے میں پڑا ہے۔"

"بغیر آواز پیدا کیے وہ اٹھا لاؤ۔"

سلو جلدی سے جال لے آیا۔ بھائی جان نے جال کی ،مضبوطی کو دیکھا اور پھر بچوں سے کہا:

"دیکھو! یوں کرتے ہیں کہ میں چھت پر جاتا ہوں۔ سلو! تم جس طرح چچا حمید کی نقل اتارتے ہو، اسی بھاری آواز میں چور سے کہنا خبردار جو اپنی جگہ سے ہلے ورنہ گولی مار دوں گا۔ اس کی توجہ تمہاری طرف ہو گی تو میں اس پر جال پھینکوں گا اور خود بھی نیچے کود کر اس کو قابو کر لوں گا۔"

"ٹھیک ہے بھائی جان!"

"ذرا سی غلطی ہوئی تو ہم مصیبت میں پھنس سکتے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس کے پاس بندوق ہے، پھر بھی ہمیں احتیاط کرنی چاہیے۔"

اب چور پر قابو پانے کی تیاری ہونے لگی۔ سلو، چیکو اور نازک باورچی خانے کی کھڑکی سے لگ کر کھڑے ہو گئے اور بھائی جان جال اور رسیاں کندھے پر ڈال کر چھت پر چڑھ گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ چور اب باورچی خانے کا دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری طرف سلو نے دل کی دھڑکنوں کو قابو کیا اور چچا حمید کی آواز بنا کر کہا:

"چور کے بچے ! اپنی جگہ سے نہ ہلنا ورنہ گولیوں کی بوچھاڑ سے تمہارا پیٹ اس طرح پھاڑوں گا کہ ڈاکٹر بھی نہیں سی سکے گا۔"

چور ڈر کر پیچھے ہٹا اور بھائی جان نے اس پر جال پھینک دیا۔ وہ جال میں الجھ کر زمین پر گر گیا، اوپر سے بھائی جان نے کود کر اس کو قابو کر لیا۔ سلو اور چیکو بھی دروازہ کھول کر باہر آ گئے اور چور کے سینے پر چڑھ کر بیٹھ گئے۔ وہ کراہنے لگا۔ بھائی جان نے جلدی جلدی اس کے ہاتھ پاؤں رسیوں سے باندھے اور اسے اٹھا کر کچن میں لے آئے۔ نازک نے بتی جلا دی۔ بھائی جان نے دروازہ بند کیا اور چور کو کرسی پر بٹھا کر رسیوں سے باندھ دیا۔


"مجھے چھوڑ دو۔۔ خدا کے لیے مجھے چھوڑ دو۔" چور چلایا۔

"اگر تم چاہتے ہو کہ میں یہ ڈنڈا مار کر تمہارا سر نہ کچل دوں تو خاموش رہو۔" سلو نے کہا۔

جب بھائی جان نے اسے باندھ کر اپنا اطمینان کر لیا تو اس کے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے اور اس کے سر پر سے جال اتار دیا۔

اف اللہ کتنی سخت بو اٹھ رہی ہے پسینے کی۔ چور صاحب! آپ نہاتے نہیں ہیں؟ آپ کو اتنا تو خیال ہونا چاہیے کہ اگر آپ چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے تو آپ کو پکڑنے والوں کا اس بدبو سے کیا حال ہو گا۔" نازک نے اپنے نازک خیالات کا اظہار کیا۔ پھر وہ بھاگ کر اپنے کمرے سے پرفیوم لے آئی اور چور پر بہت سا پرفیوم چھڑک دیا۔ "ہاں اب کچھ بہتر ہے۔"

"تم لوگ اس کی نگرانی کرو۔ میں پولیس کو فون کر کے آتا ہوں۔" بھائی جان جانے لگے تو چور بولا:

"خدا کے واسطے پولیس کو فون نہ کرنا، میں تمہاری منت کرتا ہوں۔ میں پہلے ہی برباد ہوں اور برباد ہو جاؤں گا۔ جو جی چاہے سزا دے لو، مگر پولیس کو مت بلانا۔"

"فضول باتیں نہ کرو۔ سزا دینا میرا کام نہیں ۔ تم نے رات کے وقت چوری کی نیت سے ہمارے گھر میں کود کر جرم کیا ہےجس کی سزا تمہیں ضرور ملے گی۔" بھائی جان نے غصے سے کہا۔

"تمہیں ان پیارے بچوں کی قسم، پولیس کو نہ بلانا۔ تم جو کہو گے میں کرنے کو تیار ہوں۔"

"اچھا اگر ہم تمہیں بجلی کی تاروں کو گیلے کپڑے سے صاف کرنے کو کہیں تو کیا تم یہ کام کرو گے؟" چیکو کی یہ بات سن کر سب ہنس پڑے۔

"چھوڑیں بھائی جان پولیس کو "سلو نے کہا" میں اسے سزا دینے کے لیے کافی ہوں۔ اسے بیس گلاس پانی کے پلاتے ہیں۔"

"گرم گرم چائے بنا کر اس کے سر پر انڈیل دیں۔"

سلو نے ایک تجویز پیش کی۔

"اس سے دس ہزار دفعہ لکھوائیں کہ میں آئندہ کبھی چوری نہیں کروں گا۔"

نازک نے اپنا نازک سا مشورہ دیا۔ بھائی جان کا ہنستے ہنستے برا حال ہو گیا۔ پھر وہ چور کے سامنے سٹول پر بیٹھ گئے اور اس سے پوچھا:

"کیوں بھئی! ان بچوں کے سارے مشورے مان لیں یا پولیس کو فون کر دیں؟"

یہ سنتے ہی چور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اور بھائی جان اسے حیرت سے دیکھنے لگے۔

"کیا ہوا ہے، کیوں روتے ہو؟"

"میں تین دن سے بھوکا ہوں۔" اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ کر رہے تھے۔

"تو پہلے بتاتے ناں اس وقت سے اِدھر اُدھر کی ہانک رہے ہو، چلو خیر آج تم ہمارے مہمان ہو۔"

سلو ٹوکری میں سے سیب نکال لایا اور چھیلنے شروع کیے۔ چیکو سیب کے ٹکڑے چور کے منہ میں ڈالتا جاتا تھا۔ وہ ہر ٹکڑے پر انہیں دعا دیتا تھا "جیتے رہو! اللہ کبھی تمہارا رزق تنگ نہ کرے۔" دوسری طرف نازک بھائی جان کی مدد کر رہی تھی۔


"لو بھئی چور صاحب!" بھائی جان نے کہا "جتنی دیر ہم آپ کے لیے مرغ پکائیں، اتنی دیر آپ سلو اور چیکو کے ہاتھ سے سیب کھائیں۔ معاف کیجیئے گا ابھی آپ کے ہاتھ نہیں کھولے جا سکتے۔"

"کب سے چوریاں کر رہے ہو؟" سلو نے پوچھا۔

"میں چور نہیں ہوں، مجبوری میں پہلی بار چوری کرنے نکلا تھا اور پہلی بار ہی پکڑا گیا۔"

"اناڑی جو ہوئے "چیکو نے اس کے منہ میں سیب کا ٹکڑا ڈالتے ہوئے کہا۔ "ہمیں دیکھو! خانساماں مشکل سے مشکل جگہ بسکٹ چھپا کر رکھتا ہے پھر بھی ہم ڈھونڈ نکالتے ہیں۔" سب ہنسنے لگے۔ چور بھی ہنس پڑا۔

"تمہیں کیا مجبوری ہے؟" بھائی جان نے کہا "اچھے خاصے جوان آدمی ہو۔ محنت کیوں نہیں کرتے؟"

"بابو جی! اگر کوئی دن رات دل لگا کر محنت کرے اور پھر بھی اسے فاقے کرنے پڑیں تو آدمی کہاں جائے؟ میں تو اب خدا سے یہی دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور میرے بچوں کو موت ہی دے دے۔"

"اللہ رحم کرے، ایسا کیا ہو گیا تھا؟"

"میں ایک کوٹھی میں خانساماں تھا۔ بہت بڑا گھر تھا۔ اس میں ایک ہی خاندان کے تیس افراد رہتے تھے۔ ہفتے کے سات دن میں ان سب کا تین وقت کا کھانا پکاتا تھا۔ سخت گرمی میں چولہے کے آگے کھڑے گھنٹوں گزر جاتے تھے۔ ان کے مرد چار چار روٹیاں کھاتے تھے۔ بچے وقت بے وقت کھانے کی فرمائشیں کرتے تھے۔ سب کی پسند کا خیال رکھتے ہوئے مجھے روزانہ کئی طرح کے کھانے پکانے پڑتے تھے اور تنخواہ بہت کم تھی۔ میں مجبور تھا۔ مشقت کرتا رہا۔ پھر ایک دن انہوں نے مجھ پر چوری کا الزام لگایا۔ بڑے صاحب نے مار مار کر مجھے ادھ موا کر دیا۔ کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس شرط پر پولیس کو خبر نہیں کریں گے کہ میں نقصان پورا کر دوں۔ وہ لوگ طاقت ور تھے اور میں کمزور۔ کیا کرتا؟ اپنا سب کچھ بیچ کر میں نے ان کے پیسے پورے کیے۔ تین دن سے میرے گھر میں فاقہ ہے۔ میرے بچے بھوک سے بلک رہے ہیں۔ مجھ سے ان کا رونا نہیں دیکھا جاتا۔" اس کی آنکھوں سے پھر آنسو بہنے لگے۔ سبھی اس کی درد بھری داستان سن کر متاثر ہو گئے۔ نازک کی آنکھوں میں تو آنسو آ گئے۔

"فکر نہ کرو۔ اللہ سب بہتر کرے گا۔" بھائی جان نے اسے تسلی دی۔

سلو اور چیکو اٹھ کر اپنے کمرے میں گئے۔ اپنی پرانی کتابیں اور اپنی الماری سے فالتو کپڑے اور جوتے ایک تھیلے میں ڈال کر لے آئے۔ بھائی جان نے پہلے ہی اپنے کچھ کپڑے اور جوتے خیرات کرنے کے لیے الگ کر کے رکھے تھے۔ وہ بھی لا کر رکھ دیے گئے۔ انہوں نے فریج میں سے تقریباً سارا سامان پنیر، ڈبل روٹیاں، انڈے، سبزیاں، دودھ اور گوشت وغیرہ نکال کر اس کے لیے باندھ دیا۔

مرغ تیار ہو گیا تو بھائی جان نے سلو اور چیکو کو دے دیا۔ وہ نوالے توڑ توڑ کر چور کو کھلانے لگے۔ دو تین نوالے کھانے کے بعد چور بڑی عاجزی سے بولا:

"بابو جی! جب تک میرے بچے فاقہ کر رہے ہیں۔ میں بے چین رہوں گا۔ آپ کی بڑی مہربانی مجھے جانے دیں تاکہ میں جلدی سے بچوں تک کھانا پہنچا سکوں۔"

بھائی جان نے اس کی رسیاں کھول دیں پھر وہ سامان اٹھا کر دروازے سے باہر نکل گیا۔ بچے اور بھائی جان اسے باہر جاتے دیکھ رہے تھے۔ وہ مسلسل آنسو بہا رہا تھا اور انہیں دعائیں دیتا جا رہا تھا۔

"ویسے میری بڑی خواہش تھی کہ کبھی چور سے مقابلہ ہو اور میں کرکٹ کے بیٹ سے اس کی مرمت کروں۔ مگر یہ چور تو بےچارہ شریف نکلا۔" سلو کی یہ بات سن کر سب ہنس پڑے اور اپنے بستروں پر سونے چلے گئے۔


قربانی

نوید کو بقر عید میں قربانی کرنے کا بہت شوق تھا۔ ہر بقر عید پر وہ دوسروں کے گھروں میں آئے ہوئے بکروں کو دیکھتا تو اس کا بھی دل چاہتا کہ اس کے ابو قاسم صاحب بھی ایک پیارا سا سفید اور سیاہ دھبوں والا بکرا لائیں، جسے وہ اپنے ہاتھوں سے چارہ کھلائے، اس کے سر پر ہاتھ پھیرے۔ بقر عید کے قریب آتے ہی وہ بڑی آس لگا کر ابو سے پوچھتا کہ کیا وہ اس بار قربانی کریں گے؟ ابو اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر افسردگی سے کہتے: "نہیں بیٹا! میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ میں قربانی کر سکوں۔" وہ اداس ہو جاتا۔ تب اس کے ابو اس کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر اس سے وعدہ کرتے کہ اگلے سال وہ قربانی ضرور کریں گے، مگر ان کا یہ وعدہ کسی سال بھی پورا نہ ہو سکا۔

اس سال بھی جب بقر عید میں دس دن باقی تھے اور عید کا چاند نظر آ چکا تھا تو نوید، ابو کے پاس گیا اور پوچھنے لگا کہ کیا ہمارے ہاں بکرا آئے گا؟

امی بولیں: "اس سال بھی بکرا نہیں آئے گا، کیوں کہ اول تو بکروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ دوسرے تمھارے ابو کی دکان بھی اچھی نہیں چل رہی ہے۔"

اس کے ابو کریانے کی دکان چلاتے تھے اور یہ تو اسے بھی پتا تھا کہ کچھ مہینوں سے دکان اچھی نہیں چل رہی ہے، مگر پھر بھی اسے امید تھی کہ شاید اس بار بکرا آ جائے۔ امی کی بات سن کر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ابو اس کی رنجیدہ صورت دیکھ کر پوچھنے لگے کہ اچھا بتاؤ کہ تم بکرا کیوں لینا چاہتے ہو؟ کیا اس لیے کہ محلے کے باقی بچوں کے گھروں میں بکرے آئے ہیں اور وہ سب اپنے اپنے بکروں کی تعریفیں کرتے ہیں، انھیں سیر کراتے ہیں جب کہ تم ایسا نہیں کر پا رہے ہو؟

نوید یہ سنتے ہی تیزی سے بولا: "نہیں ابو! میں تو بکرا اس لیے چاہتا ہوں کہ قربانی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ اجر دیتا ہے اور قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے نامہ اعمال میں ایک نیکی لکھتا ہے۔" نوید کا یہ جذبہ دیکھ کر اس کے ابو سوچ میں پڑ گئے۔ پھر انھوں نے جا کر عید کے کپڑوں اور کھانے پینے کی چیزوں کے لیے بچائے ہوئے پیسے گنے اور ایک فیصلہ کر لیا۔

دوسرے روز ناشتے پر نوید کے ابو نے یہ اعلان کیا کہ وہ اس سال قربانی کریں گے۔ نوید اور اس کے چھوٹے بھائی بہن یہ سن کر خوشی سے اچھلنے اور تالیاں بجانے لگے۔

"مگر ایک شرط ہے۔" ابو نے یہ کہا تو سب خاموش ہو کر انھیں دیکھنے لگے۔

نوید نے پوچھا: "کیا شرط ہے ابو؟"

"شرط یہ ہے کہ تم لوگ مجھ سے نئے کپڑوں اور جوتوں کا تقاضا نہیں کرو گے اور عید الفطر پر بنوائے گئے کپڑے ہی پہنو گئے، ورنہ بکرا نہیں آ سکے گا۔"


سب بچے یک زبان ہو کر بولے: "ہمیں منظور ہے۔" یوں دن گزرنے لگے اور قربانی سے ایک دن پہلے مغرب کی نماز کے بعد نوید کے ابو قاسم صاحب بکرا خریدنے منڈی گئے تو نوید بھی ان کے ساتھ ہو لیا۔ ویسے بھی بکرا لینے کی خوشی سب سے زیادہ اسے ہی تھی۔ اس کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا اور تصور میں ایک خوب صورت سا موٹا تازہ بکرا بار بار آ رہا تھا۔ اسے یہ سوچ کر بڑی خوشی ہو رہی تھی کہ وہ بھی قربانی کریں گے۔ بکرا منڈی میں بکرے ہی بکرے تھے، کیوں کہ کل قربانی کا دن تھا، لہذا خریدنے والوں کا رش بھی بے پناہ تھا۔ نوید تو بکرے دیکھنے میں اتنا مگن ہو گیا کہ اسے آس پاس کا ہوش ہی نہ رہا۔ کچھ بکرے تو چارپائیوں پر آرام فرما رہے تھے۔ بکروں کے علاوہ گائیں اور قربانی کے دوسرے جانور بھی تھے۔ غرض کہ بکرا منڈی میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ قاسم صاحب نوید کا ہاتھ پکڑ کر ایک بکرے والے کے پاس گئے اور ایک کتھئی رنگ کے درمیانے درجے کے بکرے کو پسند کر لیا اور بکرے والے سے بکرے کی قیمت پوچھی۔

بکرے والے نے کہا: "پندرہ ہزار۔"

قاسم صاحب کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں: "کیا؟ پندرہ ہزار؟ تم بکرا بیچ رہے ہو یا گائے کی قیمت بتا رہے ہو؟"

"ارے صاحب! یہ کوئی عام بکرا نہیں، بڑا ہی خاص بکرا ہے۔ اس پوری منڈی میں آپ کو ایسا بکرا نہیں ملے گا۔ بیس، بائیس کلو سے تو کم گوشت نکلے گا نہیں۔" بکرے والے نے اپنے بکرے کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیے۔ قاسم صاحب بار بار کہنے پر بھی وہ قیمت کم کرنے پر راضی نہ ہوا۔ مجبوراً قاسم صاحب نوید کا ہاتھ پکڑ کر کسی اور بکرے کی تلاش کرنے لگے، کچھ دیر بعد ہی انھیں ایک اور بکرا پسند آ گیا، مگر قیمت سن کر ان کے ہوش اڑ گئے۔ "تیس ہزار۔"

قاسم صاحب نے جب ان سے قیمت کم کرنے کو کہا تو بکرے والے نے کہا:

"ارے صاحب! آپ کی شکل دیکھ کر میں نے قیمت کم کر دی تھی، ورنہ یہ جو میرا شہزادہ ہے، اس کے ایک صاحب 35 ہزار تک دینے کو راضی تھے، مگر ان کے پاس دو اور بکرے بھی تھے اور میرا یہ شہزادہ بھیڑ بھاڑ سے گھبراتا ہے۔" وہ بڑے پیار سے بکرے کی مالش کرتے ہوئے بولا۔ نوید حیرت سے چارپائیوں پر لیٹے چارہ کھاتے بکروں کو دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ نہ جانے ان کی قیمت ہو گئی؟

اس کے بعد قاسم صاحب نے کئی بکرے دیکھ ڈالے، مگر سب ان کی پہنچ سے باہر تھے۔ تھک ہار کر انھوں نے نوید کا ہاتھ پکڑا اور بکرا منڈی سے نکل آئے۔ راستے بھر وہ یہی سوچتے رہے کہ چلو اس بار بکرا نہ سہی تو گائے میں ہی حصہ لے لیں گے۔ وہ اپنی گلی میں پہنچے تو گھر سے کچھ ہی دور انھیں ایک بکرے والا چند بکرے ہانک کر لے جاتے ہوئے نظر آیا۔ قاسم صاحب اس بکرے والے کے پاس گئے اور قدرے مریل بکرے کی قیمت پوچھی۔ بکرے والے نے پہلے تو آٹھ ہزار بتائے۔ پھر کچھ بحث کے بعد وہ بکرا پانچ ہزار روپے میں دینے پر راضی ہو گیا۔

بکرا گہرے کتھئی اور سیاہ رنگ کا اور لاغر سا تھا، اس لیے نوید میاں کو زیادہ پسند تو نہ آیا، مگر انھوں نے سوچا کہ کل تک وہ اسے کھلا کھلا کر خوب موٹا تازہ کر دیں گے اور یہ کیا کم خوشی کی بات ہے کہ یہ اب ان ہی کا بکرا تھا۔

نوید، ابو کے ساتھ بکرے کی رسی تھامے اسے گھر کی طرف لے جا رہا تھا، مگر بکرا ایک قدم چلنے کو تیار نہ تھا۔ پورا زور لگانے کے بعد وہ چلنے پر راضی ہوا۔ اب یوں لگ رہا تھا کہ جیسے بکرا قاسم صاحب کو ہانکے لیے جا رہا ہو۔ زیادہ زور لگانے پر اس نے قاسم صاحب کے پیٹ پر زور سے سینگ مارے اور وہ ہائے کر کے پیٹ پکڑ بیٹھ گئے۔ موقع دیکھتے ہی بکرے نے نوید کے ہاتھوں سے رسی چھڑا لی اور کسی تیز رفتار گھوڑے کی طرح بھاگتا ہوا، گلی کے نکڑ تک پہنچا اور نظروں سے غائب ہو گیا۔ نوید لپک کر قاسم صاحب کے پاس آیا اور انھیں سہارا دے کر اٹھانے لگا۔


دوسرے روز عید تھی۔ قاسم صاحب پیٹ کی چوٹ کے باوجود عید کی نماز پڑھنے گئے۔ نوید بھی ان کے ساتھ تھا۔ نماز کے بعد نوید نے روتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے اپنے ابو کی صحت یابی کے لیے دعا کی، کیوں کہ اسی کی ضد کی وجہ سے نہ صرف ابو کو چوٹ لگی، نہ ان کے گھر بکرا آیا اور نہ عید کے کپڑے بن سکے تھے۔

گھر واپس آ کر قاسم صاحب کمرے میں جا کر لیٹ گئے۔ نوید دوسرے بھائی بہنوں کے ساتھ گلی میں گھومنے پھرنے کے بجائے اپنے ابو کی طرح دوسرے کمرے میں لیٹ گیا۔ وہ بہت افسردہ تھا۔

تھوڑی دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے جا کر دروازہ کھولا تو اسے اس بکرے والے کی پریشان صورت نظر آئی جس سے کل انھوں نے بکرا لیا تھا۔ بکرے والے نے نوید کو دیکھتے ہی پہچان لیا اور ان کا کھویا ہوا بکرا آگے کرتے ہوئے بولا: "یہ بکرا کل آپ ہی کی گلی سے بھاگا تھا نا؟"

اس کی آواز سن کر قاسم صاحب بہ مشکل اٹھ کر دروازے پر آئے۔ بکرے والا انھیں دیکھتے ہی بولا: "جناب! آپ بکرے کو قابو نہ کر سکے۔ یہ بھاگ کر واپس میرے پاس آ گیا۔ میں ذرا آگے ہی گیا تھا کہ اسے آتے ہوئے دیکھ کر قابو کر لیا۔ میں نے سوچا کہ آپ یہیں کے رہنے والے لگتے ہیں، اس لیے پیدل جا رہے تھے۔ میں تو صبح سے ہر گھر میں پتا کرتا پھر رہا ہوں۔ یہ لیجیئے اپنا بکرا اور اس بار ذرا اس کو قابو میں رکھیے گا۔"

قاسم صاحب کے پاس شکریے کے الفاظ ہی نہ تھے۔ اس بکرے نے انھیں کتنا پریشان کیا تھا۔ انھوں نے تہ دل سے بکرے والے کا شکریہ ادا کر کے اسے رخصت کیا اور جوتے پہن کر باہر کی جانب بڑھے۔ بیگم انھیں دیکھتے ہوئے بولیں: "ارے، آپ کہاں چلے؟ آپ کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔"

وہ مسکراتے ہوئے بولے: "بیگم! میری طبعیت بالکل ٹھیک ہے۔ میں قصائی کو لینے جا رہا ہوں۔ نوید میاں کا بکرا واپس آ گیا ہے۔ اس کی قربانی کرنی ہے۔

نوید یہ سن کر حیرت سے بولا: "ابو! میرا بکرا۔۔۔"

قاسم صاحب مسکرا کر بولے: "بیٹا! ہاں بکرا تمھارا ہی ہے۔ تمھارے سچے جذبے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی قربانی کرنے کی توفیق دی ہے۔" یہ کہہ کر قاسم صاحب باہر چلے گئے اور نوید خوشی سے اپنے بکرے کی پیٹھ سہلانے لگا۔


ایک کہانی

یہ اس وقت کا ذکر ہے کہ جب ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت تھی۔ انگریزی کپڑوں اور انگریزی زبان کو بہت زیادہ اہمیت حاصل تھی۔ اس زمانے میں ہر ایسا آدمی جو حکومت سے کچھ فائدے حاصل کرنا چاہتا تھا، اپنے لباس اور بول چال میں انگریزوں جیسا بننے کی کوشش کرتا۔ بہت سے لوگ ایسے تھے، جن کے پاس کھیتی باڑی کے لیے بڑی بڑی زمینیں تھیں۔ بہت سے آدمیوں کی شہروں میں جائیدادیں تھیں۔ ایسے لوگوں کو اس بات کی تو کوئی فکر ہوتی نہیں تھی کہ اپنے لیے اور اپنے گھر والوں کے لیے روپیہ کہاں سے کمائیں۔ ان کے پاس تو جائیداد کا کرایہ آ جاتا یا پھر کھیتوں سے پیسہ اور اناج گھر پہنچ جاتا۔ ایسے بڑے آدمی آرام سے زندگی گزارتے تھے۔ انھی میں سے کچھ ایسے تھے، جنھوں نے انگریزی زبان بھی سیکھ لی تھی۔ یہ لوگ خود کو انگریزوں کا وفادار ثابت کرنے کے لیے بالکل ہی انگریزوں کی نقل کرنے لگتے۔

انگریزوں کے دور حکومت میں جہاں بہت سے ایسے زمیندار موجود تھے، جو انگریزوں سے وفاداری میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں لگے رہتے، وہیں ایسے بھی بہت سے لوگ تھے جو انگریزوں سے نفرت کرتے تھے۔ وفادار قسم کے زمیندار بالکل انگریزوں ہی کی طرح منہ ٹیڑھا کر کے انگریزوں سے نفرت کرنے والوں کو برا بھلا کہتے رہتے، ان لوگوں کی یہ خواہش بھی ہوتی تھی کہ انگریز ان کی وفاداری کے بدلے انھیں کوئی خطاب دے دیں۔ ایسے بہت سے آدمیوں کی یہ خواہش پوری بھی ہو گئی۔ ان میں سے کوئی خان صاحب ہو گیا، کوئی خان بہادر اور کوئی رائے صاحب بن گیا۔

انور چاچا بھی دراصل ایسے ہی لوگوں میں سے تھے، جن کے سر پر انگریزوں سے وفاداری کا بھوت سوار تھا۔ اتفاق سے انور چاچا نے تھوڑی بہت تعلیم بھی حاصل کر لی تھی۔ تھوڑی بہت تعلیم سے یہ مقصد تھا کہ میٹرک کے امتحان میں پانچ چھ بار شرکت کر چکے تھے۔ انور چاچا کے والد چوں کہ بہت بڑے زمیں دار تھے اور انور چاچا ان کے اکلوتے بیٹے تھے، اس لیے لاڈلے ہونے کی وجہ سے امتحان میں کامیاب ہونے کی تکلیف ان سے برداشت نہ ہو سکی۔ ممتحن کی اس نالائقی پر انور چاچا کو اس قدر غصہ آیا کہ انھوں نے مزید پڑھنے لکھنے کا خیال ہی دل سے نکال دیا اور اپنی زمین کی دیکھ بھال میں لگ گئے۔ اب ان کا کام ہر چھوٹے بڑے کو گھرکنا اور نصیحتیں کرنا رہ گیا تھا۔ شاید اسی کی وجہ سے سارا شہر انھیں انور چاچا پکارنے لگا تھا۔ ہاں اتنی بات ضرور تھی کہ جب لوگ انھیں چاچا کہہ کر پکارتے تو ان کی گردن کچھ اور اکڑ جاتی۔

ابھی انور چاچا کو اپنی زمینوں پر پہنچے زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ پہلی جنگ عظیم شروع ہو گئی۔ ہندوستان میں بھی فوجیوں کے لیے بھرتی شروع ہوئی۔ ہندوستان کے بڑے زمیں داروں اور جاگیرداروں نے دل کھول کر انگریزوں کی مدد کی اور اپنے اپنے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فوج میں بھرتی کرا دیا۔ انور چاچا کے والد بھی تو آخر زمیں دار ہی تھے، انھوں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو بھی فوج میں بھرتی کرا دیا۔ انور چاچا کا فوج میں عہدہ کیا تھا اور فوج کی ملازمت انھوں نے کس طرح حاصل کی، اس کے متعلق کسی کو کچھ معلوم ہی نہیں تھا۔ البتہ انور چاچا کے والد اپنے بیٹے کو ہمیشہ کپتان ہی کہتے تھے۔ یہ دوسری بات تھی کہ شہر والوں کو اس پر یقین کبھی نہیں آیا۔


جنگ ختم ہوئی تو انور چاچا بھی واپس آ گئے، لیکن اتنے دن فوج میں رہنے کی وجہ سے بالکل ہی بدل چکے تھے۔ داڑھی مونچھیں بالکل صاف تھیں۔ فوج سے واپسی کے بعد شہر کے کسی آدمی نے انور چاچا کو کبھی پاجامے اور کرتے میں نہیں دیکھا، کیوں کہ انور چاچا ہر وقت سوٹ پہنے رہتے۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ چاچا کو انگریزی کپڑوں کا اتنا شوق ہے کہ سوتے وقت بھی ٹائی باندھ کر سوتے ہوں گے۔ بہرحال فوج سے واپسی کے کچھ ہی دن بعد انور چاچا کی شادی بھی ہو گئی۔ انھوں نے اپنی بیوی یعنی چاچی کو بھی اپنے ہی رنگ میں رنگ لیا۔

اسی طرح کچھ دن گزر گئے۔ انور چاچا کے والد بھی اللہ کو پیارے ہو چکے تھے۔ اب تو انور چاچا کے عیش تھے۔ کھیتوں پر کاشت کار کھیتی باڑی کرتے اور چاچا اپنے گھر پر آرام کرتے۔ البتہ ان کے ہاں آئے دن انگریز افسروں کی دعوتیں ضرور ہوتی رہتیں۔ انور چاچا کا گھر خاصا بڑا تھا۔ کئی کمرے خالی پڑے رہتے تھے۔ گھر کے سامنے ایک بہت بڑا میدان بھی تھا۔ یہ زمین بھی انور چاچا ہی کی تھی۔ کھلی جگہ ہونے کی وجہ سے اکثر انگریز افسر چھٹیاں گزارنے ان کے گھر چلے آتے، ان کے گھر میں جو بےشمار کمرے خالی پڑے رہتے تھے، ان میں انگریز افسروں کی رہائش کا انتظام بھی آسانی سے ہو جاتا تھا۔ پھر چاچا کی طرف سے مدارات کا جو سلسلہ شروع ہوتا تو آخری دن تک جاری رہتا۔ اس طرح انگریز افسروں کے چھٹیوں کے زمانے میں پیسے بھی بچ جاتے۔ اس کے علاوہ جس شہر میں انور چاچا کا مکان تھا، اس کی آب و ہوا بھی بہت اچھی تھی۔

ایک مرتبہ ایک انگریز افسر چاچا کا مہمان تھا۔ اس افسر نے چاچا کے مکان کے سامنے بہت بڑا میدان جو دیکھا تو ایک دن کھانے کے بعد اس نے چاچا کو مشورہ دیا کہ اس میدان میں ایک چھوٹا سا خوب صورت باغ لگوا دیا جائے۔ اس نے چاچا کو یہ بھی بتایا کہ خود اسے باغبانی کا بہت شوق ہے۔ یہ شوق ایسا ہے جو ہر بڑے آدمی کو ہوتا ہے۔ اس انگریز افسر کو غالباً باغبانی سے بہت زیادہ دل چسپی تھی، اس لیے اس نے بہت سے بڑے بڑے انگریزوں کی مثالیں بھی دیں، جنھیں باغبانی کا شوق تھا، بلکہ اس نے یہاں تک کہہ دیا کہ جس آدمی کو باغبانی کا شوق نہ ہو اسے تو بڑا آدمی کہا ہی نہیں جا سکتا۔

انگریز افسر کی بات انور چاچا کے دل میں اتر گئی اور انھوں نے فوراً ہی بڑا آدمی بننے کا فیصلہ کر لیا، بس پھر کیا تھا، دوسرے ہی دن میدان کے چاروں طرف احاطے کی دیوار بننا شروع ہو گئی، یہ چہار دیواری اس طرح بنائی گئی کہ پورا میدان انور چاچا کے مکان کا احاطہ بن گیا، لیکن اب باغ لگانے کا مسئلہ پیدا ہوا۔ انور چاچا نے تو زندگی میں کبھی کوئی کام نہیں کیا تھا۔ وہ بھلا باغبانی جیسا سخت کام کیسے کرتے؟ بہرحال یہ مسئلہ بھی جلد حل ہو گیا۔ چاچا نے قریب کے شہر سے ایک تربیت یافتہ مالی کو بلا لیا۔ وہ مالی تو بےچارہ دیہات کا رہنے والا تھا، لیکن انور چاچا نے اسے بھی زبردستی پتلون پہنا دی۔ دیہاتی زبان میں بات چیت کرنے والا غریب مالی جب انور چاچا کی دلائی ہوئی پتلون پہن کر اپنی دیہاتی زبان میں بات چیت کرتا تو بڑا عجیب سا لگتا، لیکن چاچا اسے دیکھ کر بہت خوش ہوتے اور اکثر کہا کرتے: "میں نے تو اپنے مالی کو بھی انگریز بنا کر رکھا ہے۔"

مالی نے باغ لگانا شروع کر دیا تھا۔ وہ روزانہ کوئی نہ کوئی نیا پودا ضرور لگاتا، نئی کیاریاں بناتا، پرانی کیاریوں کی صفائی کرتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے چاچا کے باغ میں پھولوں کے بہت سے پودے نظر آنے لگے۔ ان میں رنگ برنگے پھول کھلے ہوتے۔ بعض پھلوں کے پودے بھی تھے، لیکن ان میں ابھی پھل نہیں آئے تھے۔ چاچا بھی اپنا زیادہ وقت اپنے باغ ہی میں گزارتے تھے، لیکن ان کا کام صرف یہ تھا کہ کبھی کسی پودے کے پاس کھڑے ہو جائیں، کبھی کسی پھول کو ہاتھ میں لے کر دیکھیں۔ کبھی کوئی پھول مرجھاتا ہوا دکھائی دیتا تو فوراً مالی کو آواز دیتے: "آگسٹس! آگسٹس!"

اصل میں مالی کا نام گھسیٹا خان تھا، لیکن چاچا نے مالی کو انگریز بنانے کی خاطر اس کا نام گھسیٹا خان کے بجائے آگسٹس خین رکھ دیا تھا۔

چاچا کا باغ لگ گیا تو ان کے یہاں دعوتوں کا سلسلہ اور زیادہ بڑھ گیا۔ دعوت پر آنے والے انگریز افسروں کی تعداد بڑھ گی۔ کچھ ایسے انگریز افسروں نے جو چاچا کے زیادہ گہرے دوست بن گئے تھے، ایک آدھ بار خود بھی کیاریوں کی صفائی وغیرہ کی تو چاچا کو خیال آیا کہ صرف مالی رکھ کر باغ لگوانا ہی بڑا آدمی بننے کے لیے کافی نہیں۔ مجھے خود بھی باغبانی کرنی چاہیے۔ اس خیال کے آتے ہی انھوں نے باغبانی کے لیے خاص قسم کے جوتے خریدے، تاکہ ان کی پتلون کے پائنچے مٹی میں خراب نہ ہونے پائیں، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ زمین کس طرح بنائی جاتی ہے اور بیج کس طرح لگائے جاتے ہیں۔ یہ تو چاچا کو معلوم ہی نہیں تھا، اس لیے اکثر یہ ہوتا کہ چاچا کہیں بیج بوتے وہاں کوئی پودا نہ اگتا۔ کبھی کبھی چاچا گھسیٹا خاں عرف آگسٹس خین کی بنائی ہوئی کیاری تباہ کر دیتے۔ بیچارہ دیہاتی گھسیٹا خان انگریزی کپڑے پہن کر آگسٹس خین بنے رہنے سے یوں بھی اکتایا ہوا تھا، اس لیے چاچا سے چڑچڑانے لگتا، لیکن آدمی محنتی تھا، اس لیے چاچا اس کے چڑچڑے پن کو برداشت کر لیتے کہ کہیں آگسٹس خین ناراض ہو کر نوکری نہ چھوڑ دیں اور ان کا باغ ویران نہ ہو جائے۔


ایک دن چاچا کو خیال آیا کہ اتنے سارے انگریز آفسر ان کے دوست ہیں، لیکن اس کے باوجود انھیں ابھی تک برطانیہ کی حکومت نے کوئی خطاب نہیں دیا، حالانکہ وہ فوج میں بھی رہ چکے ہیں اور انگریز حکومت کے وفادار بھی ہیں۔ آخر انہوں نے اس سلسلے میں اپنے انگریز افسر دوستوں سے بھی مشورہ کیا۔ ان میں سے ایک افسر نے مشورہ دیا کہ وہ اپنے باغ میں کوئی ایسا پھل پیدا کریں جو اپنی مثال آپ ہو یا ایسا پھل ہو جو اس شہر میں پیدا نہیں ہو سکتا۔ پھر اسے سبزیوں اور پھلوں کی سالانہ نمائش میں افسروں اور وائسرائے کے نمائندے کے سامنے پیش کریں تو انھیں بھی خطاب مل جائے گا۔ یہ مشورہ انور چاچا کو پسند آیا، کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ ہندوستان میں انگریز حکومت کی طرف سے وائسرائے ہی سب سے بڑا حاکم ہوتا ہے۔ اگر اس کے نمائندے کو میرے باغ کا پھل پسند آ گیا تو مجھے ضرور خطاب مل جائے گا۔

انور چاچا جس شہر میں رہتے تھے، اس کی آب و ہوا میں یوں تو بہت سے پھل پیدا ہو سکتے تھے، لیکن خربوزہ بالکل پیدا نہیں ہوتا تھا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اپنے باغ میں خربوزہ ہی پیدا کرنا چاہیے۔ انھوں نے آگسٹس پر اپنا یہ خیال ظاہر کیا تو اس نے خربوزے پر محنت کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ وہ جانتا تھا کہ اس شہر میں خربوزہ پیدا ہی نہیں ہو سکتا، لیکن چاچا کے سر میں تو خربوزے کا سودا سمایا ہوا تھا۔ انھوں نے سوچا کہ آگسٹس راضی نہیں ہوتا تو کیا ہوا۔ میں خود ہی خربوزہ اگانے کی کوشش کروں گا۔ چناں چہ انھوں نے پہلے تو دہلی خط لکھ کر ایک کتاب منگوائی، جس میں خربوزے پیدا کرنے کے طریقے اور اس کی کاشت کے ضروری قاعدے لکھے ہوئے تھے۔ اس کتاب میں ایک ترکیب ایسی تھی، جس پر عمل کر کے خربوزے پیدا کرنے کے لیے کھلی جگہ کی ضرورت نہیں ہوتی تھی، بلکہ مکان کے اندر بھی گملے میں خربوزہ اگایا جا سکتا تھا۔ چاچا نے اسی ترکیب پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا اور گھر کے اندر ہی ایک گملے میں کتاب دیکھ دیکھ کر خربوزے کے بیج لگائے۔ پھر وہ ہر روز صبح اٹھ کر کتاب میں لکھی ہوئی ترکیب کے مطابق اس میں پانی ڈالتے اور ہر پندرہ دن کے بعد کھاد بھی ڈالتے۔

خربوزے کے ننھے سے پودے کی خدمت کرتے ہوئے انھیں کافی دن ہو گئے۔ اب یہ خربوزے کا ننھا سا پودا بڑھ کر بیل کی شکل اختیار کر گیا۔ چاچا نے اب اس کی دیکھ بھال میں بھی اضافہ کر دیا۔ گھر میں تو انھیں پہلے بھی کوئی کام نہیں کرنا پڑتا تھا۔ اب تو انھوں نے خود کو بالکل ہی خربوزے کے لیے وقف کر دیا تھا۔ کچھ دن بعد اس بیل میں ایک ننھا منا سا خربوزہ نظر آیا۔ اب تو چاچا کی خوشی کی انتہا نہیں رہی۔ چاچا نے اب پندرہ دن کے بجائے ہر ہفتے خربوزے کی بیل میں کھاد ڈالنا شروع کر دیا۔ اسی طرح چھ مہینے گزر گئے۔ اب خربوزہ بہت بڑا ہو چکا تھا۔ جو بھی یہ خربوزہ دیکھتا حیرت میں رہ جاتا، کیوں کہ وہ عام خربوزوں سے کئی گنا بڑا تھا۔ بالکل ایک چھوٹی میز کے برابر۔ ابھی اس کا رنگ بالکل ہرا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ ابھی اور بڑھے گا۔ خربوزہ دیکھ کر لوگ یہ سوچتے کہ یہ خربوزہ نجانے پکنے کے بعد کتنا بڑا ہوگا۔

جب چاچا انھیں بتاتے کہ وہ یہ خربوزہ سبزیوں اور پھلوں کی سالانہ نمائش میں رکھیں گے تو لوگ سوچنے لگے کہ اس وقت تک تو یہ خربوزہ بہت ہی بڑا ہو چکا ہوگا، کیوں کہ ابھی نمائش میں پورے چھ مہینے باقی تھے۔

دن اسی طرح گزرتے رہے اور خربوزہ بڑا ہوتا رہا۔ اتنا بڑا کہ اب اسے ایک یا دو آدمی بھی مل کر نہیں اٹھا سکتے تھے۔ پھر جب نمائش کا وقت آیا تھا یہ خربوزہ ایک چھوٹے کمرے کے برابر ہو چکا تھا۔ اونچا بھی اتنا ہی تھا کہ خربوزے کے اوپر کا حصہ دیکھنے کے لئے سیڑھی کی ضرورت پیش آتی۔

خدا خدا کر کے نمائش کا دن آیا تو چاچا نے سیڑھی لگا کر خربوزے کو بیل سے کاٹ کر الگ کیا پھر ایک بڑی بیل گاڑی کا انتظام کیا، جس میں خربوزے کو نمائش تک پہنچایا گیا۔ نمائش شروع ہوئی تو ہر طرف چاچا کے خربوزے کا ہی ذکر تھا۔ بہت سے انگریز افسر نمائش دیکھنے آئے ہوئے تھے۔ چاچا ایک عمدہ سی سوٹ پہنے اپنے خربوزے کے پاس کھڑے تھے۔ نمائش میں ہمیشہ کی طرح وائسرائے کے نمائندے نے بھی شرکت کی تھی۔ وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ نمائش دیکھنے آیا تھا۔ نمائش دیکھتے دیکھتے جب وہ چاچا کے خربوزے کے پاس پہونچا تو چاچا نے فوراً سیڑھی لگائی اور قصائی والے ایک چھرے سے خربوزے کی بڑی سی قاش کاٹی۔ یہ قاش اتنی بڑی تھی کہ چاچا کو اسے دونوں ہاتھوں سے سنبھالنا پڑا۔ وائسرائے کا نمائندہ اس قاش کو بڑی حیرت سے دیکھتا رہا۔ بہر حال اس نے وائسرائے سے چاچا کی باغبانی اور خربوزے کاشت کرنے میں چاچا کی مہارت کی بڑی تعریف کی، جس کے نتیجے میں کچھ دن کے بعد چاچا کو انگریز حکومت نے ایک خطاب اور خربوزے اگانے کے متعلق ایک سند بھی دی۔