اردو ویب ڈیجیٹل لائبریری
×

اطلاع

فی الحال کتابیں محض آن لائن پڑھنے کے لئے دستیاب ہیں. ڈاؤن لوڈ کے قابل کتابوں کی فارمیٹنگ کا کام جاری ہے.

Chaar Kahaniyan

چار کہانیاں


مؤلف سیدہ شگفتہ
سن اشاعت اول 2012
تعداد الفاظ 8315
تعداد منفرد الفاظ 1492
مناظر 99368
ڈاؤنلوڈ 0
بادشاہ کے دل میں لالچ اور حسد کی آگ بھڑک اٹھی۔ بھلا جنّت کا بادشاہ بننا چھوٹی بات ہے؟ چنانچہ اس نے فوراً جلادوں کو حکم دیا: "چور کو رِہا کر دو اور مجھے پھانسی پر چڑھا دو۔"

بے وقوف بادشاہ

بہت دِنوں کی بات ہے، کسی جگہ ایک غریب آدمی ایک ٹوٹے پھوٹے پرانے مکان میں رہتا تھا۔ وہ مکان اتنا بوسیدہ ہو چکا تھا کہ ایک دن اچانک زمین پر آ رہا۔ اس غریب آدمی کو ایک نیا مکان بنوانے کی فکر لاحق ہوئی۔ بال بچوں کا پیٹ کاٹ کر اور لوگوں سے قرض لے کر اس نے ایک نیا مکان بنوانا شروع کیا۔ دیواریں کھڑی ہو گئیں۔ دروازہ بن گیا، لیکن چھت بھرنے کے لیے غریب کے پاس پیسہ نہ بچا۔ چنانچہ اس نے چھت کی جگہ ٹاٹ بچھا کر اس کے اوپر مٹی ڈال دی اور اپنے بیوی بچوں سمیت نئے مکان میں جا کر رہنے لگا۔ اس نے سوچا کہ برسات شروع ہونے تک چھت ٹھیک کروا لوں گا۔

اس محلے میں ایک چور رہتا تھا۔ غریب آدمی کا نیا مکان دیکھ کر اس نے سوچا کہ یہ شاید دولت مند ہو گیا ہے۔ اس کے ہاں سے شاید اچھا خاصا مال ہاتھ لگ جائے۔ چنانچہ ایک روز رات کے وقت جب سب پڑے سو رہے تھے وہ چور اس غریب آدمی کے مکان کی چھت پر چڑھ گیا۔ لیکن چھت پر ابھی ایک دو قدم ہی چلا تھا کہ ٹاٹ پھٹ گیا اور وہ دھم سے نیچے کمرے میں سوئے ہوئے مالک مکان کے اوپر گر پڑا۔ مالک مکان ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور چور کو پکڑنے کی کوشش کرنے لگا۔ لیکن کمرے میں بہت گہرا اندھیرا چھایا ہوا تھا جس سے فائدہ اٹھا کر چور بھاگ نکلا۔

چور بھاگ تو گیا لیکن پھر اس کو مالک مکان پر بڑا غصّہ آیا کہ اس نے ایسی نقلی چھت کیوں بنائی، چنانچہ اگلے ہی دن وہ فریاد لے کر بادشاہ کے پاس پہنچا اور اس سے کہا: "اے دانش مند بادشاہ! میں نے ایک گھر میں چوری کرنا چاہی اور مکان کی چھت پر چڑھ گیا، لیکن چھت کی جگہ ٹاٹ بچھا ہوا تھا۔ میں نیچے گر گیا اور میری ٹانگیں ٹوٹتے ٹوٹتے رہ گئیں۔ از راہِ کرم آپ اس مالک مکان کو سزا دیں۔"

بادشاہ نے مالک مکان کو پکڑ بلوایا اور اس سے پوچھا: "کیا یہ سچ ہے کہ یہ آدمی کل رات تمھاری چھت ٹوٹ جانے سے نیچے گر پڑا تھا؟"

"جی ہاں حضور! بالکل سچ ہے۔" مالک مکان نے جواب دیا۔ "وہ تو کہیے کہ یہ آدمی میرے اوپر گرا، نہیں تو اس کی ٹانگیں ضرور ٹوٹ جاتیں۔"

"اگر یہ سچ ہے تو ہم تم کو موت کی سزا سناتے ہیں۔" بادشاہ نے کہا اور جلّادوں کو بلا کر حکم دیا کہ اس کو پھانسی پر چڑھا دو۔

غریب مالک مکان بادشاہ کے قدموں پر گر پڑا اور کہا: "بادشاہِ عالم! مجھ کو کیوں پھانسی دی جائے۔ آخر سزا تو چور کو دی جانی چاہیے۔"

"چُپ ہو جاؤ! بادشاہ گرجا۔ تمھیں مجھ کو نصیحت کرنے کی جرأت کیسے ہوئی؟"

غریب مالک مکان نے دیکھا کہ اس طرح بادشاہ سے انصاف کی کوئی اُمّید نہیں کی جا سکتی۔ اُس نے بادشاہ سے کہا: "بادشاہِ عالم! میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ ٹاٹ تو راج مزدور نے بچھایا ہے۔ قصور اسی کا ہے، اس نے خراب ٹاٹ بچھا دیئے ہیں۔"

تب بادشاہ نے حکم دیا کہ اس کو رِہا کر دیا جائے اور راج مزدور کو پھانسی پر چڑھا دیا جائے۔ بادشاہ کے سپاہی فوراًجا کر راج مزدور کو پکڑ لائے۔ جب اس کو پھانسی کے پھندے کے نیچے کھڑا کر دیا گیا تو اس نے کہا کہ مجھے بادشاہ سے کچھ عرض کرنا ہے۔ بادشاہ نے اجازت دی تو اس نے کہا:

"بادشاہِ عالم! میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ سارا قصور اس آدمی کا ہے جس نے وہ ٹاٹ بنائے ہیں۔ اگر اس نے ٹاٹ پکے اور مضبوط بنائے ہوتے تو ان پر کوئی بھی چلتا وہ نہ پھٹتے۔"

بادشاہ کے حکم پر راج مزدور کو بھی چھوڑ دیا گیا اور ٹاٹ بنانے والے کو پکڑ کر لایا گیا۔

اسے بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا تو بادشاہ نے اس سے پوچھا،

"کیا ٹاٹ تم نے بنائے تھے؟"

"جی ہاں، حضور، میں نے ہی بنائے تھے۔" اس آدمی نے جواب دیا۔

"تب تو سارا قصور تمھارا ہے۔" بادشاہ نے گرج کر کہا اور اُس نے اسے پھانسی پر چڑھانے کا حکم دے دیا۔

"بادشاہ سلامت! میں آپ سے کچھ ضروری بات عرض کرنا چاہتا ہوں۔" ٹاٹ بنانے والے نے کہا:

"بات یہ ہے کہ میرے بنائے ہوئے ٹاٹ ہمیشہ بڑے پکّے ہوتے تھے۔ لیکن جس وقت میں یہ ٹاٹ بنا رہا تھا، اُسی وقت میرے ایک پڑوسی نے جس کو کبوتر اڑانے کا شوق ہے، اپنے کبوتر اُڑا دیے۔ وہ آسمان میں اڑتے پھر رہے تھے، قلابازیاں کھا رہے تھے۔ میں ان کا تماشا دیکھنے لگا۔ اس کا اثر میرے کام پر پڑا اور میں نے ٹاٹ چھدرے اور کمزور بنا دیے۔ قصور میرا نہیں بلکہ اسی کبوتر باز کا ہے۔"

اب بادشاہ کے حکم پر ٹاٹ بنانے والے کو چھوڑ کر کبوتر باز کو پکڑ کر لایا گیا۔ پھانسی کی سزا سن کر کبوتر باز نے بادشاہ سے کہا،

"جہاں پناہ! یہ ٹھیک ہے کہ مجھے کبوتر اڑا کر ان کا تماشا دیکھنے کا شوق ہے لیکن اس میں کیا برائی ہے؟ اگر آپ مجھے پھانسی پر چڑھوا دیں گے تو اس سے کسی کا بھلا نہیں ہو گا۔ کسی بے گناہ کی جان لینے سے یہ کہیں بہتر ہے کہ آپ چور ہی کو قتل کرا دیں۔ تب لوگ چَین اور آرام سے زندگی بسر کرنے لگیں گے۔"

"ہاں ٹھیک ہے۔" بادشاہ نے کہا، "سارا قصور چور ہی کا ہے۔" اور اس نے حکم دیا،

"چور کو پکڑ کر لایا جائے اور اس کو پھانسی پر چڑھایا جائے۔"

جلاد فورا ً چور کو پکڑ کر لائے اور اس کو پھانسی کے پھندے کے نیچے کھڑا کر دیا لیکن معلوم ہوا کہ اس کا قد ضرورت سے زیادہ اونچا ہے۔ اس کے پاؤں کسی طرح زمین سے اوپر نہیں اٹھ رہے ہیں۔ بادشاہ کو اس کی اطلاع دی گئی تو اس نے جھنجھلا کر کہا:

"احمق کہیں کے! یہ چھوٹی سی بات بھی مجھ سے پوچھتے ہو۔ چور کا قد ذرا سا لمبا ہے تو تم کسی ایسے آدمی کو کیوں نہیں پکڑ لاتے جس کا قد ذرا سا نیچے ہو؟ اتنی موٹی سی بات بھی تمھاری سمجھ میں نہیں آتی؟"

جلّاد دوڑتے ہوئے نزدیک کے چوراہے پر گئے۔ ایک چھوٹے قد کا آدمی آٹے کا ایک بورا پیٹھ پر اٹھائے جاتا ہوا نظر آیا۔ جلادوں نے فوراً اس کو پکڑ لیا اور لا کر پھانسی کے پھندے کے نیچے کھڑا کر دیا۔ وہ چھوٹے قد کا آدمی چیخ چِاّن رہا تھا اور جلادوں سے پوچھ رہا تھا کہ میرا قصور کیا ہے؟ مجھے کیوں پھانسی پر چڑھاتے ہو؟ اتنے میں خود بادشاہ بھی تماشا دیکھنے ادھر آ گیا۔ وہ آدمی بادشاہ سے گڑگڑا کر کہنے لگا:

"میرے مالک! میں ایک غریب آدمی ہوں۔ پہاڑ سے لکڑیاں لا کر بیچتا ہوں اور لوگوں کا سامان ڈھوتا ہوں۔ اس طرح اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتا ہوں۔ آخر میں نے کون سا گناہ کیا ہے؟ کس بات کے لیے آپ مجھ کو پھانسی دینا چاہتے ہیں؟"

"ارے احمق! مجھے اس کا کیا پتا کہ تمھارا کوئی قصور ہے یا نہیں۔ بس کسی آدمی کو پھانسی پر چڑھانا ہے۔ میں ایک چور کو پھانسی پر چڑھوانا چاہتا تھا' لیکن معلوم ہوا کہ اس کا قد ذرا اونچا ہے اور اس کے پاؤں زمین سے اوپر نہیں اٹھ پاتے لیکن تمھارا قد بالکل مناسب ہے۔"

چھوٹے قد والے آدمی نے گڑگڑا کر کہا:

"بادشاہ عالم! قصور کیا ہے لمبے قد کے چور نے اور آپ پھانسی پر چڑھاتے ہیں چھوٹے قد کے ایک بے گناہ، بے قصور غریب آدمی کو۔ یہ بھی کوئی انصاف ہے؟ چور ضرورت سے زیادہ لمبا ہے تو اس کے پاؤں کے نیچے ایک گڑھا کھدوا دیجیے، پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔"

اس کی بات بادشاہ کو پسند آئی۔ اس نے ایسا ہی کرنے کا حکم دیا۔ جلّاد دوبارہ چور کو پکڑ لائے انھوں نے اس کو پھانسی کے پھندے کے نیچے کھڑا کر کے گلے میں پھندا ڈال دیا اور اس کے پاؤں کے نیچے گڑھا کھودنے لگے۔ مگر چور تھا کہ برابر کہے جا رہا تھا:

"جلدی کرو، مجھے دیر ہو رہی ہے۔"

بادشاہ کو بڑا تعجب ہوا اور اس نے پوچھا:

"ارے' تُو مرنے کے لیے کیوں اتنا بے تاب ہو رہا ہے؟"

"بادشاہ عالم! چور نے جواب دیا۔ "ابھی ابھی جنّت کا بادشاہ مر گیا ہے۔ اس نے مرتے وقت یہ وصیت کی ہے کہ جو سب سے پہلے جنّت میں داخل ہو، اس کو میری جگہ بادشاہ بنایا جائے۔ وہاں بادشاہ کا تخت ابھی خالی ہے۔ اگر جلدی سے پھانسی پر لٹکا دیا جاؤں تو ممکن ہے کہ میں سب سے پہلے جنت میں پہنچ جاؤں اور شاہی تخت پر بیٹھ جاؤں۔"

بادشاہ کے دل میں لالچ اور حسد کی آگ بھڑک اٹھی۔ بھلا جنّت کا بادشاہ بننا چھوٹی بات ہے؟ چنانچہ اس نے فوراً جلادوں کو حکم دیا:

"چور کو رِہا کر دو اور مجھے پھانسی پر چڑھا دو۔"

بادشاہ کے حکم کی تعمیل ہونی ہی چاہیے تھی چنانچہ بے وقوف بادشاہ کو سولی پر چڑھا دیا گیا۔


جادو کا پتھر

بہت عرصہ پہلے کی بات ہے' کسی گاؤں میں ایک عورت رہتی تھی جس کا ایک بیٹا تھا۔ ایک دن اس نے اپنے بیٹے کو کچھ پیسے دے کر اس سے کہا:

"بیٹے! ذرا جا کر بازار سے روٹی لے آؤ۔"

لڑکا پیسے لے کر بازار جا رہا تھا کہ ایک چوراہے پر اس نے کچھ بچوں کو بلی کے ایک مریل سے بچے کو ستاتے ہوئے دیکھا۔ اسے بلی کے بچے پر رحم آ گیا۔ اور اس نے بچوں سے پوچھا:

"اے بچو! اس بلی کے بچے کو بیچو گے؟"

"ہاں بیچیں گے۔" بچوں نے جواب دیا۔

"کیا لو گے؟" لڑکے نے پوچھا۔

"جو جی چاہے دے دو۔" بچوں نے کہا۔

لڑکے کے پاس جتنے پیسے تھے سب دے کر اس نے بلی کے بچے کو لے لیا اور اس کو گود میں اٹھائے واپس گھر آیا۔

ماں نے پوچھا:

"لے آئے روٹی؟"

"روٹی تو نہیں لایا۔ بلی کے ایک بچے کو لایا ہوں۔" لڑکے نے جواب دیا۔

"ارے کیا کہہ رہے ہو' بیٹے! یہ تم نے کیا کیا؟" ماں نے حیران اور اداس ہو کر کہا۔

لڑکے نے سارا حال اپنی ماں کو سنانے کے بعد کہا:

"ماں! کوئی بات نہیں۔ ایک دن روٹی کھائے بغیر ہی رہ لیں گے۔"

دوسرے دن ماں نے لڑکے کو پھر کچھ پیسے دے کر قصائی کی دکان پر بھیجا۔

راستے میں سڑک پر لڑکے نے دیکھا کہ کچھ لڑکے ایک پلے کو پتھروں سے مار رہے ہیں۔ لڑکے کو اس پلے پر رحم آ گیا اور اس نے لڑکوں سے پوچھا:

"اے لڑکو! اس پلے کو بیچو گے؟"

"ہاں بیچیں گے۔" لڑکوں نے جواب دیا۔

لڑکے نے اپنے ہاتھ کے سارے پیسے ان کو دے دیئے اور پلے کو لے کر گھر واپس آ گیا۔

ماں نے پوچھا:
"لے آئے گوشت؟"

لڑکے نے کہا:
"ماں! آپ ناراض نہ ہوں۔ آپ نے جو پیسے دیئے تھے ان کو دے کر میں یہ پلا لایا ہوں۔"

"ارے بیٹے!" ماں نے اداس ہو کر کہا۔ "ہم ٹھہرے غریب لوگ۔ میں نے جانے کتنی مشکلوں سے وہ پیسے کمائے تھے۔ تم ان سے پلا خرید لائے۔ بھلا یہ پلا ہمارے کس کام کا؟ اور پھر اس کو کھلانے کے لیے ہمارے پاس کچھ ہے بھی تو نہیں۔"

لڑکے نے جواب دیا:
"ماں کوئی بات نہیں۔ ہم ایک دن گوشت کے بغیر جی لیں گے۔"


تیسرے دن پھر ماں نے اپنے بیٹے کو کچھ پیسے دیئے اور اسے تیل لانے کے لیے بازار بھیجا۔ وہ سڑک پر چلا جا رہا تھا کہ اچانک اس نے دیکھا کہ کچھ لڑکے چوہے کے ایک بچے کو جو چوہے دان میں پھنس گیا تھا ستا رہے تھے۔ اس کو چوہے کے بچے پر رحم آ گیا۔ اس نے اپنے سارے پیسے دے کر اس کو لے لیا اور لیے ہوئے گھر واپس آیا۔ ماں نے پوچھا: بیٹے! تیل لے آئے؟" تو اس نے بتایا کہ کس طرح اسے تیل کے بجائے چوہے کے بچے کو لینا پڑا۔ ماں بیٹے سے بہت پیار کرتی تھی۔ اس لیے اس بار بھی اس نے بیٹے کو برا بھلا نہ کہا۔ بس ایک ٹھنڈی سانس لے کر رہ گئی۔ بہت دن گزر گئے۔ لڑکا جوان ہو گیا۔ پلا کتا بن گیا' بلی کا بچہ بڑا ہو کر بلی بن گیا اور چوہے کا بچہ بھی ایک اچھا خاصا چوہا بن گیا۔

ایک دن نوجوان نے دریا میں مچھلی پکڑ لی۔ اس نے مچھلی کو کاٹا اور اس کی آنتیں نکال کر کتے کے آگے پھینک دیں۔ کتا آنتوں کو کھانے لگا تو اچانک ان میں سے ایک چھوٹا سا پتھر مل گیا جو سورج کی مانند چمک رہا تھا۔ نوجوان نے اس پتھر کو دیکھا تو خوشی سے اچھلنے کودنے لگا۔ کیونکہ وہ ایک جادو کا پتھر تھا جس کے متعلق نوجوان نے لوگوں سے سن رکھا تھا۔ اس نے پتھر کو اٹھا کر اپنی ہتھیلی پر رکھا:

"اے جادو کے پتھر! مجھے کھانا کھلا!"

یہ کہہ کر اس نے مڑ کر دیکھا تو حیرت سے اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ پلک جھپکتے میں اس کے سامنے ایک بیش قیمت دسترخوان پر ایسے انوکھے اور لذیذ کھانے چنے ہوئے تھے جن کو اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا۔ اس نے پیٹ بھر کر کھانا کھا لیا۔ پھر وہ دوڑ کر گھر آیا اور وہ جادو کا پتھر اپنی ماں کو دکھایا۔ ماں بہت خوش ہوئی۔ اسی دن سے ماں اور بیٹا دونوں بڑے چین اور آرام سے زندگی بسر کرنے لگے۔

ایک دن نوجوان شہر گیا۔ وہاں گھوم پھر رہا تھا کہ اچانک اسے ایک نہایت حسین جوان لڑکی نظر آئی۔ وہ لڑکی نوجوان کو اتنی زیادہ پسند آئی کہ اس نے اس سے شادی کرنے کا ارادہ کر لیا۔ گھر لوٹ کر اس نے اپنا یہ ارادہ ماں کو بتایا۔ "واہ ! تم بھی کیا باتیں کرتے ہو!" ماں نے حیرت سے کہا۔ "تم یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ لڑکی خود بادشاہ سلامت کی بیٹی ہے۔ نہ بابا! میں پیغام لے کر بادشاہ کے پاس کبھی نہیں جاؤں گی۔"

لیکن نوجوان اصرار کرتا رہا اور آخرکار ماں مجبوراً راضی ہو گئی۔ اس نے کہا:

"اچھی بات ہے۔ کہتے ہو تو چلی جاؤں گی، لیکن اتنا یاد رکھنا کہ بادشاہ کے محل سے آج تک کبھی کسی کو سکھ نہیں ملا"

رات کے وقت ماں شاہی محل تک پہنچ گئی اور محل کے دروازے کے سامنے کی سڑک پر جھاڑو دے کر اس کی صفائی کر دی۔

صبح کو بادشاہ محل سے باہر نکلا تو یہ دیکھ کر بڑا حیران ہوا کہ دروازے کے سامنے کی ساری زمیں صاف ستھری ہو گئی ہے۔ اگلے دن صبح پھر اس نے دیکھا تو یہی حال تھا۔ اس نے زیادہ تعجب ہوا اور اس نے رات کو دروازے کے سامنے پہریدار کھڑے کر دیے۔

تیسرے دن صبح سویرے پہریدار ایک عورت کو پکڑ کر بادشاہ کے پاس لے آئے۔ بادشاہ نے عورت سے پوچھا: "بتاؤ تم روز رات کو میرے محل کے دروازے کے سامنے جھاڑو کیوں دیتی ہو؟"


عورت نے کہا: "میں ایک غریب بیوہ ہوں۔ میرا ایک بیٹا ہے۔ میں آپ کی بیٹی سے اس کی شادی کی خواہش لے کر آئی تھی، لیکن آپ کے پاس یوں چلے آنے کی مجھے جرات نہیں ہوئی۔ اور پھر آپ کے پہریدار بھی تو آنے نہ دیتے۔"

کسی غریب عورت کی یہ گستاخی بھلا بادشاہ کیسے برادشت کرتا۔ اس نے غصے میں آ کر حکم دیا کہ عورت کو قتل کر دیا جائے، لیکن اس کے دائیں والے وزیر نے کہا:

"بادشاہ عالم! اس بیچاری عورت کو قتل کروانے کی کیا ضرورت ہے آپ اس کو کوئی ایسا کام بتائیے جس کو پورا کرنا اس کے بس کی بات نہ ہو۔ بس پھر یہ خود ہی محل میں آنا بند کر دے گی۔"

وزیر کی بات بادشاہ کو پسند آئی اور اس نے عورت سے کہا:

"جاؤ جا کر اپنے بیٹے سے کہنا کہ وہ میری بیٹی سے شادی کے لیے چالیس اونٹوں پر سونا لاد کر لائے۔"

"ہم بیچارے اتنا سونا کہاں سے لائیں گے؟" عورت نے اداس ہو کر سوچا اور محل سے نکل کر اپنے گھر کی راہ لی۔ گھر لوٹ کر اس نے بادشاہ کی شرط اپنے بیٹے کو بتائی تو اس نے ماں سے کہا:

"امی جان! آپ فکر نہ کیجیئے۔"

اس نے جادو کے پتھر کو اپنی ہتھیلی پر رکھ کر اس سے کچھ کہا۔ بس پھر کیا تھا، صبح ہوتے ہیں غریب بیوہ کی جھونپڑی کے سامنے سونے سے لدے ہوئے چالیس اونٹ کہیں سے آ کر کھڑے ہو گئے۔

نوجوان نے ماں سے کہا:

"امی جان! آپ ان چالیس اونٹوں کو بادشاہ کے پاس لے جائیں۔"

ماں کو بڑا تعجب ہوا، لیکن وہ کچھ کہے بغیر ان چالیس اونٹوں کو ہانکتی ہوئی بادشاہ کے پاس لے گئی۔ بادشاہ کو بھی بہت تعجب ہوا، لیکن اس نے فوراً ہی ایک اور حکم صادر کر دیا۔ اس نے عورت سے کہا:

"اپنے بیٹے سے جا کر کہنا کہ وہ اپنی دلھن کے لیے ایک محل بنوائے جو سارے کا سارا خالص سونے کا ہو۔ تب ہی شادی بیاہ کی بات ہو سکتی ہے۔"

ماں اور زیادہ اداس ہو گئی اور گھر جا کر بادشاہ کی نئی فرمائش اپنے بیٹے کو سنائی۔ نوجوان نے ماں کی باتیں چپ چاپ سن لیں اور پھر اس سے کہا:

"امی جان! آپ فکر نہ کیجیئے۔ خالص سونے کا محل بھی بن جائے گا۔"


صبح سویرے دریا کے کنارے ایک عالیشان محل کھڑا ہو گیا جو سارے کا سارا خالص سونے کا تھا۔ ایسا محل اس وقت تک کسی نے نہیں دیکھا تھا۔

ماں نے بادشاہ کے پاس جا کر کہا:

"بادشاہ عالم لیجیے محل تیار ہے۔ ذرا باہر چل کر اس کو دیکھیے تو۔"

بادشاہ اپنے وزیروں کے ساتھ باہر آیا اور محل دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا۔ اب تو اس کو ٹال مٹول کرنے کی کوئی صورت نظر نہ آئی اور اس نے غریب نوجوان سے اپنی بیٹی کی شادی کر دی۔

بادشاہ کے محل میں ایک چڑیل رہتی تھی۔ اس نے راز معلوم کرنے کا عہد کیا کہ ایک غریب نے راتوں رات ایسا عالیشان محل کیسے بنوا لیا، وہ بھی سونے کا۔ یہ عہد کر کے وہ مزاج پرسی کے بہانے شہزادی کے پاس آئی اور اس کو اس بات پر تیار کر لیا کہ وہ اپنے شوہر سے کسی طرح یہ راز معلوم کرے۔ چناں چہ اپنی بیوی کے اصرار پر نوجوان نے بتایا!

"میرے پاس جادو کا ایک پتھر ہے۔ اس کی مدد سے میں جو کچھ چاہوں حاصل کر سکتا ہوں۔"

"تم اس جادو کے پتھر کو کہاں رکھتے ہو؟" بیوی نے پوچھا۔

"میں اس کو اپنے منھ میں زبان کے نیچے رکھتا ہوں۔" نوجوان نے جواب دیا۔

اگلے ہی دن شہزادی نے یہ سب باتیں چڑیل کو بتا دیں۔ اسی روز رات کو نوجوان گہری نیند سو گیا تو چڑیل نے آ کر آہستہ سے اس کے منھ سے جادو کا پتھر نکال لیا اور فوراً اس کو حکم دیا۔

"اے جادو کے پتھر! سونے کے محل کو شہزادی کے ساتھ ہی بادشاہ کے باغ میں منتقل کر دو اور غریب نوجوان پہلے جہاں تھا اسے وہی پہنچا دو۔"

ایک ہی لمحہ بعد سونے کا محل بادشاہ کے باغ میں کھڑا تھا۔ نوجوان نے آنکھیں کھولیں تو اس نے دیکھا کہ نہ محل ہے، نہ شہزادی اور وہ خود اپنی بوسیدہ جھونپڑی کے اندر پڑا ہوا ہے۔ پاس ہی اس کی ماں بیٹھی رو رہی ہے اور ایک کونے میں کتا، بلی اور چوہا اس کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

"ہائے میری بدقسمتی!" نوجوان مایوس ہو کر کہہ اٹھا۔ "جادو کا پتھر گم ہو گیا ہے۔ اب میں کیا کروں؟" یہ کہہ کر اس نے اپنے آپ کو اوندھے منھ مٹی کے فرش پر گرا دیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ کتے، بلی اور چوہے کو نوجوان پر رحم آ گیا۔

ان میں سے ہر ایک اپنے دل میں سوچنے لگا کہ اب آخر کیا کیا جائے، وہ سوچ ہی رہے تھے کہ اچانک کتا بھونک اٹھا، بلی میاؤں میاؤں کر اٹھی، چوہا چیں چیں کرنے لگا۔ وہ تینوں دوڑتے ہوئے جھونپڑی سے باہر نکلے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

وہ تینوں تمام دن برابر دوڑتے رہے اور شام ہوتے ہوتے بادشاہ کے باغ تک پہنچے۔ انھوں نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو دیوار کے اس طرف نوجوان کا سنہرا محل چمک رہا تھا۔۔۔ "اب ہم کو کسی طرح باغ کے اندر داخل ہونا چاہیے۔" کتے، بلی اور چوہے تینوں نے آپس میں طے کیا۔

لیکن باغ کی دیواریں اتنی اونچی تھیں کہ ان کو پھاند کر اندر جانا ناممکن تھا۔ سب دروازوں پر اندر سے مضبوط تالے لگے تھے۔

کتا بلی اور چوہا تینوں دیوار میں کوئی سوراخ تلاش کرنے لگے۔ سوراخ نہ ملا تو وہ تینوں مل کر دیوار کے نیچے زمیں میں ایک سوراخ بنانے لگے۔ سب سے پہلے چوہے نے اپنے پنجے کام میں لگا لیے۔ پھر بلی،اور آخر میں کتا اس کی جگہ کام میں لگ گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں سرنگ تیار ہو گئی۔

پہلے چوہا سوراخ سے ہو کر اندر گیا۔ پھر بلی بھی اندر چلی گئی۔ کتا باہر پہرہ دینے لگا۔


بلی اور چوہا دونوں سارے محل میں دوڑتے پھرے اور بالآخر اس کمرے میں داخل ہو گئے جہاں شہزادی سوئی ہوئی تھی اور پاس ہی چڑیل پڑی سو رہی تھی، جس نے اپنے ہونٹ زور سے بھینچ رکھے تھے۔ عقل مند چوہا فوراً سمجھ گیا کہ جادو کے پتھر کو اس نے اپنے منھ میں زبان تلے دبا رکھا ہے۔ چوہا دبے پاؤں جا کر چڑیل کی چھاتی پر چڑھ گیا اور اپنی دم کی نوک سے اس کی ناک میں گدگدی کرنے لگا۔ چڑیل نے اپنا منھ کھول کر ایک چھینک ماری اور جادو کا پتھر اچھل کر فرش پر گر پڑا۔ بلی نے فوراً اس کو منہ میں اٹھا لیا اور جب تک چڑیل ہوش سنبھالتی بلی اور چوہا دونوں سر پر پاؤں رکھ کر بھاگتے ہوئے سوراخ کے راستے باہر سڑک پر آ گئے جہاں کتا ان کا انتظار کر رہا تھا، کتے نے فوراً جادو کا پتھر بلی سے لے کر اپنے منھ میں دبا لیا اور تینوں آگے دوڑ پڑے۔

ادھر محل میں کھلبلی مچ گئی۔ سب "پکڑو! پکڑو!" کر کے چیخنے لگے۔

چور کی تلاش ہونے لگی، لیکن انھیں یہ کیا معلوم تھا کہ جادو کا پتھر کسی کتے کے منھ میں پڑا ہوا ہے۔

کتا، بلی اور چوہا تینوں دوڑتے ہوئے تھوڑی دیر میں دریا کے کنارے پہنچے اور آپس میں اس بات پر بحث کرنے لگے کہ جادو کے پتھر کو اس پار کون لے جائے؟

بلی کہتی تھی: "پتھر کو اس پار میں لے جاؤں گی۔"

کتا کہتا تھا:

"نہیں، تمھیں تو تیرنا بھی نہیں آتا، کہیں اس کو لیے ڈوب ہی نہ جاؤ۔

چوہے کی بھی یہی خواہش تھی کہ جادو کے پتھر کو اس پار میں لے جاؤں۔ تینوں بہت دیر تک بحث کرتے رہے۔ کتا اپنی بات پر اڑا رہا اور پتھر اسی کے پاس رہ گیا۔ تینوں تیرتے ہوئے دریا پار کرنے لگے۔ اچانک کتے نے پانی میں اپنا عکس دیکھ لیا اور کوئی دوسرا کتا خیال کر کے زور سے جو بھونکا تو جادو کا پتھر اس کے منھ سے نکل کر پانی میں گر گیا۔ اسی وقت اچانک کہیں سے ایک بڑی سی مچھلی نکلی اور وہ پتھر کو نگل گئی۔

"میں نے کہا تھا نا کہ پتھر کو تم ہر گز نہ لے جانا۔" بلی نے مایوس ہو کر کتے سے کہا۔

اب وہ تینوں پریشان تھے کہ کیا کیا جائے۔ اپنے مالک کے پاس خالی ہاتھ جانا نہیں چاہتے تھے۔ نزدیک میں ماہی گیروں کی ایک بستی تھی۔ وہ تینوں حیران و پریشان چلتے ہوئے اس بستی میں گئے۔ تینوں کو بہت بھوک لگی ہوئی تھی۔


خوش قسمتی سے ایک مچھیرے نے ایک بڑی مچھلی پکڑ لی تھی۔ اس نے مچھلی کو کاٹ کر اس کی آنتیں پھینک دیں۔ کتا بلی اور چوہا تینوں آنتوں کو کھانے لگے۔

اچانک بلی خوشی سے میاؤں کر اٹھی۔ معلوم ہوا کہ مچھلی کی آنتوں میں اس کو اچانک کوئی چمکیلا پتھر مل گیا ہے۔ تینوں نے اس کو ذرا غور سے دیکھا تو پتا چلا کہ انھیں کا جادو کا پتھر ہے، تینوں خوشی سے اچھلنے لگے۔ بلی نے پتھر کو اپنے منھ میں لے لیا اور تینوں اپنے گھر کی طرف دوڑ پڑے۔ گھر پہنچتے ہی بلی نے جادو کے پتھر کو نوجوان کے گھٹنوں پر رکھ دیا۔ نوجوان اس کو دیکھ کر خوشی سے پھولا نہ سمایا اور اس نے کتے، بلی اور چوہے تینوں سے کہا:

"تم لوگوں کا احسان میں جیتے جی نہیں بھولوں گا۔"

"اور ہم جیتے جی تمھاری خدمت کرنے کو تیار ہیں، کیوں کہ کبھی تم ہی نے ہماری جانیں بچائی تھیں۔" کتے، بلی اور چوہے نے ایک آواز میں اس کو جواب دیا۔

نوجوان نے جوش میں آ کر کہا:

"ابھی میں پتھر کو حکم دیتا ہوں وہ سونے کا محل پھر سے آجا ئے گا۔"

ماں نے بیٹے کو روکتے ہوئے کہا:

"رہنے دو' بیٹے۔ سونے کے محل کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں۔"

تب نوجوان نے جادو کے پتھر سے کہا:

"محل کو مٹا دو۔" تو بس پھر کیا تھا، نہ محل رہا، نہ چڑیل رہی اور نہ ہی بادشاہ اور اس کی بیٹی رہی۔ ان سب کا نام و نشان مٹ گیا۔

لوگ کہتے ہیں کہ اس کے بعد نوجوان نے ایک مالی کی بیٹی سے شادی کر لی اور وہ لوگ بڑے سکھ اور آرام سے زندگی بسر کرنے لگے۔


بیل اور گدھا

کسی گاؤں میں‌ ایک بڑا زمیندار رہتا تھا۔ خدا نے اسے بہت سی زمین، بڑے بڑے مکان اور باغ ‌دیے تھے، جہاں ہر قسم کے پھل اپنے اپنے موسم میں پیدا ہوتے تھے۔ گائے اور بھینسوں کے علاوہ اس کے پاس ایک اچھی قسم کا بیل اور عربی گدھا بھی تھا۔ بیل سے کھیتوں میں‌ ہل چلانے کا کام لیا جاتا اور گدھے پر سوار ہو کر زمیندار اِدھر اُدھر سیر کو نکل جاتا۔ ایک بار اس کے پاس کہیں سے گھومتا پھرتا ایک فقیر نکل آیا۔

زمیندار ایک رحم دل آدمی تھا۔ اس نے فقیر کو اپنے ہاں ٹھہرایا۔ اس کے کھانے پینے اور آرام سے رہنے کا بہت اچھا انتظام کیا۔ دو چار دن بعد جب وہ فقیر وہاں سے جانے لگا تو اس نے زمیندار سے کہا "چودھری! تم نے میری جو خاطر داری کی ہے، میں ‌اسے کبھی نہیں بھولوں گا۔ تم دیکھ رہے ہو کہ میں ایک فقیر ہوں۔ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں، جو تمھاری خدمت میں پیش کروں۔ ہاں، میں جانوروں اور حیوانوں کی بولیاں‌ سمجھ سکتا ہوں۔ تم چاہو تو یہ علم میں تمھیں سکھا سکتا ہوں، لیکن تم کو مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہو گا کہ تم یہ بھید کبھی کسی کو نہیں بتاؤ گے، اور یہ بھی سن لو کہ اگر تم نے یہ بھید کسی سے کہہ دیا تو پھر زندہ نہ رہ سکو گے۔"

چودھری نے کہا: "بابا! میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں یہ بھید کبھی کسی کو نہیں بتاؤں گا اور تمھارا یہ احسان عمر بھر یاد رکھوں گا۔"

خیر، فقیر نے اسے جانوروں اور حیوانوں کی باتیں سمجھنے کا عمل سکھا دیا اور چلا گیا۔

زمیندار کے پاس جو بیل تھا، وہ بیچارہ صبح سے پچھلے پہر تک ہل میں ‌جتا رہتا۔ شام کو جب وہ گھر آتا تو اس کے کھانے کے لیے بھوسا ڈال دیا جاتا، لیکن گدھے کو سبز گھاس اور چنے کا دانہ کھانے کو ملتا۔ غریب بیل یہ سب کچھ دیکھتا اور چپ رہتا۔

وقت اسی طرح‌ گزر رہا تھا۔ ایک دن جب بیل کھیتوں سے واپس آتے ہوئے گدھے کے پاس سے گزرا تو گدھے نے اسے لنگڑاتے ہوئے دیکھ کر پوچھا: "بھائی آج تم لنگڑا لنگڑا کر کیوں چل رہے ہو؟"

بیل نے جواب دیا: "گدھے بھائی! آج مجھے بہت کام کرنا پڑا۔ میں جب تھک جاتا تھا تو نوکر میری پیٹھ اور ٹانگوں پر زور زور سے لاٹھیاں مارتا۔ میری ٹانگ میں چوٹ لگ گئی ہے۔ خیر! اپنی اپنی قسمت ہے۔"

گدھا چپ رہا اور بیل اپنے تھان کی طرف چلا گیا۔ جہاں بیل بندھا کرتا تھا، وہاں زمیندار کو اپنے نوکر کے لئیے گھر بنوانا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد زمیندار نے بیل کے لیے بھی گدھے کے پاس ہی کھرلی بنوا دی۔ جب دونوں کو وقت ملتا، ایک دوسرے سے باتیں بھی کر لیتے۔

ایک روز بیل کو اداس اور خاموش دیکھ کر گدھے نے اس سے پوچھا: "بیل بھائی! کیا بات ہے؟ آج تم چپ چپ کیوں ہو۔ کوئی بات ہی کرو۔"

بیل نے کہا: "گدھے بھائی! کیا بات کروں؟ آج پھر بڑی لاٹھیاں پڑی ہیں۔"

گدھا کہنے لگا: "بیل بھائی! سچ جانو تم۔ تمھاری جو درگت بنتی ہے، وہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوتا ہے، لیکن مجھے افسوس ہے کہ میں تمھارا دکھ بانٹ نہیں سکتا۔"

بیل بولا: "گدھے بھائی! تم نے سچ کہا۔ دکھ تو کوئی کسی کا نہیں بانٹ سکتا، لیکن تم کچھ مشورہ تو دو کہ اس مصیبت سے میری جان کیسے چھوٹے گی، اور نہیں تو دو چار دن ہی آرام کر لوں۔"

گدھے نے کہا: "ایک ترکیب میری سمجھ میں آئی ہے۔ اس پر عمل کرو گے تو پانچ، سات روز کے لیے تو بچ جاؤ گے۔ کہو تو بتاؤں؟"

بیل بولا:" نیکی اور پوچھ پوچھ۔ بتاؤ، کیا ترکیب ہے؟"

گدھے نے بتایا: "تم یہ کرو کہ جب ہل والا تمھیں ہل میں جوتنے کے لیے لینے آئے تو تم آنکھیں بند کر کے کھڑے ہو جانا۔ وہ تمھیں کھینچے تو تم دو قدم چلنا اور ٹھہر کر گردن ڈال دینا۔ پھر بھی اگر اسے رحم نہ آئے اور کھیت پر لے ہی جائے تو کام نہ کرنا اور زمین پر بیٹھ جانا۔ کیسا ہی مارے پیٹے، ہرگز نہ اُٹھنا۔ گر گر پڑنا، پھر وہ تمھیں گھر لے آئے گا۔ گھر لا کر تمھارے آگے چارا ڈالے تو کھانا تو ایک طرف رہا تم اسے سونگھنا تک نہیں۔ گھاس، دانہ نہ کھانے سے کم زوری تو ضرور آ جائے گی، مگر کچھ دن آرام بھی مل جائے گا، کیونکہ بیمار جانور سے کوئی محنت نہیں لیا کرتا۔ لو یہ مجھے ایک ترکیب سوجھی تھی، تمھیں بتا دی۔ اب تم کو اس پر عمل کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے۔"

اتفاق سے زمیندار جو اس وقت ان کے پاس سے گزرا تو اس نے ان دونوں کی باتیں سن لیں اور مسکراتا ہوا اِدھر سے گزر گیا۔ چارے بھوسے کا وقت آ گیا تھا۔ نوکر نے گدھے کے منہ پر دانے کا توبڑا چڑھایا اور بیل کے آگے بھی چارا رکھ دیا۔ بیل دو ایک منھ مار کر رہ گیا۔ اگلے دن ہل والا بیل کو لینے آیا تو دیکھا کہ بیل بیمار ہے۔ رات کو کچھ کھایا بھی نہیں۔ نوکر دوڑا ہوا مالک کے پاس گیا اور کہنے لگا: "نہ جانے رات بیل کو کیا ہوا۔ نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے اور آج مجھے پورے کھیت میں ہل چلانا ہے، کہو تو باغ میں سے دوسرا بیل لے آؤں؟"

زمیندار نے بیل اور گدھے کی باتیں تو سن ہی لی تھیں۔ دل میں بہت ہنسا کہ گدھے نے خوب سبق پڑھایا ہے۔

زمیندار ہل والے سے بولا: "اچھا جاتا کہاں ہے؟ دوسرا بیل لانے کی کیا ضرورت ہے۔ گدھے کو لے جاؤ۔ ہل میں لگا کر کام نکال لو۔"

گدھے پر مصیبت آ گئی۔ پہلے تو دن بھر تھان پر کھڑے کھڑے گھاس کھایا کرتا، اب جو صبح سے ہل میں جتا تو شام تک سانس لینے کی مہلت نا ملی۔ دم بھی مروڑی گئی، ڈنڈے بھی پڑے۔ سورج ڈوبنے کے بعد جب گدھا لوٹ کر اپنے تھان پر آیا تو بیل نے اس کا بہت شکریہ ادا کیا اور کہنے لگا: "بھیا تمھاری مہربانی سے آج مجھ کو ایسا سکھ ملا کہ ساری عمر کبھی نہیں ملا تھا۔ خدا تم کو خوش رکھے۔" گدھا کچھ نہ بولا۔ وہ اس سوچ میں تھا کہ اگر دو چار دن یہی حال رہا تو میری جان ہی چلی جائے گی۔ اچھی نیکی کی کہ اپنے کو مصیبت میں پھنسا دیا۔

دوسرے دن پھر ہل والا گدھے کو لے گیا اور شام تک اسے ہل میں لگائے رکھا۔ جب گدھا تھکا ہارا واپس آیا تو بیل نے پھر اس کا شکریہ ادا کیا اور خوشامد کی باتیں کرنی چاہیں۔

گدھا کہنے لگا: "میاں ان باتوں کو رہنے دو۔ آج میں نے مالک کی زبان سے ایک ایسی بُری خبر سنی ہے کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو رہے ہیں۔ خدا تم کو اپنی حفاظت میں رکھے۔"

بیل نے کان کھڑے کر کے پوچھا: "گدھے بھائی! سناؤ تو، میرا تو دل دھڑکنے لگا۔"

گدھا بولا: " کیا سناؤں۔ مالک ہل والے سے کہہ رہا تھا کہ اگر بیل زیادہ بیمار ہو گیا ہے اور اُٹھنے کے قابل نہیں رہا تو قصائی کو بلا کر اس پر چھری پھروا دو۔" بیل قصائی کے نام سے کانپ اٹھا اور کہنے لگا:‌ "پھر تم کیا مشورہ دیتے ہو؟"

گدھا بولا: "میں تو ہر حال میں‌ تمھاری بھلائی چاہتا ہوں۔ اب میرا یہ مشورہ ہے کہ تم کھڑے ہو جاؤ۔ چارا، بھوسا کھانے لگو اور صبح کو جب ہل والا آئے تو خوشی خوشی اس کے ساتھ جا کر ہل میں جت جاؤ۔"

یہ باتیں بھی زمیندار چھپا ہوا سن رہا تھا اور دونوں کی باتوں پر اسے دل ہی دل میں ہنسی آ رہی تھی۔ جان جانے کے ڈر سے بیل نے پھر گدھے کے مشورے پر عمل کیا۔ چارے کی ساری ناند صاف کر دیں اور کلیلیں کرنے لگا۔ صبح ہوئی تو زمیندار اپنی بیوی کو ساتھ لیے بیل کے تھان پر پہنچا۔ بیل نے جو اپنے مالک کو دیکھا تو اچھلنا شروع کر دیا۔ اتنے میں‌ ہل والا بھی آ گیا۔ اس نے بیل کو بالکل تندرست پایا۔ کھول کر لے چلا، تو وہ اس طرح ‌دُم ہلاتا اور اکڑتا ہوا چلا کہ مالک کو بے اختیار ہنسی آ گئی۔

بیوی نے پوچھا: "تم کیوں ہنسے؟ ہنسی کی تو کوئی بات نہیں۔"

زمیندار نے جواب دیا: "ایسی ہی ایک بھید کی بات ہے، جو میں نے سنی اور دیکھی جس پر میں ہنس پڑا۔"

بیوی بولی:‌ " مجھے بھی وہ بات بتاؤ۔"

زمیندار نے کہا: "وہ بتانے کی بات نہیں ہے، اگر بتا دوں گا تو مر جاؤں گا۔"

بیوی بولی: "تم جھوٹ بول رہے ہو۔ تم مجھ پر ہنسے تھے۔" زمیندار نے بہت سمجھایا کہ نیک بخت! تجھ پر میں کیوں ‌ہنسوں گا، تجھ کو تو وہم ہو گیا ہے۔ اگر مرنے کا ڈر نہ ہوتا تو ضرور بتا دیتا۔

مگر وہ کب ماننے والی تھی، بولی: "چاہو مرو یا جیو، میں پوچھ کر ہی رہوں گی۔"

جب بیوی کسی طرح نہیں مانی تو زمیندار نے سارے پڑوسیوں‌کو جمع کیا اور سارا قصہ سنایا کہ میری بیوی ایک ایسی بات کے لئے ضد کر رہی ہے، جسے ظاہر کرنے کے بعد میں مر جاؤں گا۔ لوگوں اس کی بیوی کو بہت سمجھایا اور جب وہ نہ مانی تو اپنے گھر چلے گئے۔ زمیندار لاچار ہو کر وضو کرنے چلا گیا کہ بھید کھلنے سے پہلے دو نفل پڑھے۔

زمیندار کے ہاں‌ ایک مرغا اور پچاس مرغیاں پلی ہوئی تھیں اور ایک کتا بھی تھا۔ زمیندار نے جاتے جاتے سنا کہ کتا مرغے پر بہت غصے ہو رہا ہے کہ کم بخت!‌ تُو کہاں ‌مرغیوں‌ کے ساتھ ساتھ بھاگا چلا جاتا ہے۔ ہمارے تو آقا کی جان جانے والی ہے۔

مرغ نے پوچھا: "کیوں‌بھائی! اس پر ایسی کیا آفت آ پڑی! جو اچانک مرنے کو تیار ہو گیا۔"

کتے نے ساری کہانی مرغے کو سنا دی۔

مرغے نے جو یہ قصہ سنا تو بہت ہنسا اور کہنے لگا: "ہمارا مالک بھی عجیب بے وقوف آدمی ہے۔ بیوی سے ایسا دبنا بھی کیا کہ مر جائے اور اس کی بات نہ ٹلے، مجھے دیکھو! مجال ہے جو کوئی مرغی میرے سامنے سر اٹھائے۔ مالک ایسا کیوں‌ نہیں کرتا کہ گھر میں‌ جو شہتوت کا درخت ہے، اس کی دو چار سیدھی سیدھی ٹہنیاں ‌توڑے اور اس ضدن کو تہہ خانے میں لے جا کر اسے ایسا پیٹے کہ وہ توبہ کر لے اور پھر کبھی ایسی حرکت نہ کرے۔"

زمیندار نے مرغ کی یہ بات سن کر شہتوت کی ٹہنیاں توڑیں اور انھیں تہہ خانے میں چھپا آیا۔

بیوی بولی: "لو اب وضو بھی کر آئے اب بتاؤ؟"

زمیندار نے کہا: "ذرا تہہ خانے چلی چلو، تاکہ میں بھید بھی کھولوں تو کوئی دوسرا جانے بھی نہیں اور وہیں مر بھی جاؤں۔"

بیوی نے کہا: "اچھا۔" اور آگے آگے تہہ خانے میں گھس گئی۔ زمیندار نے دروازہ بند کر کے بیوی کو اتنا مارا کہ وہ ہاتھ جوڑ کر کہنے لگی:‌ "میری توبہ ہے، پھر کبھی میں‌ ایسی ضد نہیں کروں گی۔"

اس کے بعد دونوں باہر نکل آئے۔ کنبے والے اور رشتے دار جو پریشان تھے، خوش ہو گئے اور میاں‌ بیوی مرتے دم تک بڑے اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرنے لگے۔


سمندری پریاں

ایک وقت ایسا بھی تھا کہ سمندر میں کوئی پری نہیں رہتی تھی۔ سمندر میں رہنے والی مخلوق کو معلوم تھا کہ پریاں تمام جان دار چیزوں پر نہایت مہربان ہوتی ہیں۔ جب ان میں کوئی دکھ بیماری یا مصیبت ہوتی ہے تو وہ ان کا پورا پورا خیال رکھتی ہیں، اس لیے سب رنجیدہ تھے کہ ہم نے ایسی کیا خطا کی ہے، جو ہمارے ہاں پریاں آ کر نہیں رہتیں۔ چنانچہ سمندر کے سارے رہنے والوں نے پرستان میں اپنا ایلچی بھیجا اور وہاں کے بادشاہ سے درخواست کی کہ کچھ پریاں سمندر میں بھی بسنے کے لیے بھیج دی جائیں، تاکہ ہمارے آڑے وقتوں پر کام آ جائیں۔

ایلچی جب پرستان کے بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کی " جو پریاں ہمارے ہاں آ کر رہیں گی، ہم ان کے ساتھ نہایت مہربانی سے پیش آئیں گے اور انھیں خوش رکھنے میں حتی المقدور کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گے۔"

بادشاہ اپنی درباری پریوں سے مخاطب ہو کر بولا "تم نے سنا، سمندر کا ایلچی ہمارے پاس کیا درخواست لے کر آیا ہے؟ اب بتاؤ، تم وہاں جانا اور نیلے سمندر کے پانی کے نیچے رہنا پسند کرتی ہو؟"

پریوں نے کانپ کر کہا: "ہم وہاں جانے اور رہنے کے لیے بالکل تیار نہیں۔ ہم یہیں خوش ہیں۔" اس کے بعد بادشاہ نے جنگل کی پریوں کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ سمندر میں جا کر رہنے میں تمھاری کیا مرضی ہے؟ وہ بھی سب سر ہلا کر کہنے لگیں کہ یہ ہرے بھرے جنگل، پھلوں پھولوں سے لدے ہوئے باغات، ان میں بولتی چڑیاں اور کلیلیں کرتے ہوئے جانور چھوڑ کر کہیں جانا ہمیں گوارا نہیں۔ بادشاہ نے اسی طرح باری باری تمام پریوں کی مرضی معلوم کی اور سب نے سمندر میں جانے سے کھلم کھلا انکار کر دیا۔ اب صرف پانی کی پریاں رہ گئی تھیں۔ آخر میں بادشاہ ان کی طرف مخاطب ہوا اور یہ دیکھ کر ہر ایک کو حیرت ہوئی کہ وہ بلا جھجک فوراً تیار ہو گئیں اور کہنے لگیں"ہم تو خدا سے چاہتے تھے کہ کسی طرح ان ندی نالوں، تالابوں، کنوؤں اور باؤلیوں سے باہر نکلیں۔ گھر بیٹھے ہماری مراد پوری ہوئی۔ اتنے لمبے چوڑے اور گہرے سمندر کا کیا کہنا ہے۔ ہمارے اچھلنے کودنے، بھاگنے دوڑنے کے لیے اس سے زیادہ اچھی کون سی جگہ ہو سکتی ہے؟ وہاں ہزاروں لاکھوں قسم کی مچھلیاں ہیں اور مچھلیوں کے علاوہ طرح طرح کے عجائبات۔ اب جہاں جہاں ہم رہتے ہیں، ان میں چند مچھلیوں اور چھوٹے چھوٹے جھینگا جیسے جانوروں کے سوا کیا رکھا ہے؟ بڑے سے بڑا دریا بھی ہمارے لیے کافی نہیں، جب کہ ندی نالوں کو ہم قید خانے سے کم نہیں سمجھتے۔ حضور! ہماری اس سے بڑھ کر کوئی تمنا نہیں کہ ہم سمندر کی پریاں بن جائیں۔ ہاں ایک بات کا خیال رہے کہ ہم پانی میں کس طرح رہ سکیں گے؟ دوسرے اپنے تمام زندگی بھر کے ساتھیوں کو اچانک چھوڑنے کے خیال سے دل دکھتا ہے۔ ہمیشہ کے لیے ہم کو انھیں خدا حافظ کہنا پڑے گا اور پھر ہم اپنے پیارے بادشاہ اور ملکہ کی صورت بھی شاید کبھی نہ دیکھ سکیں۔"

بادشاہ نے کہا "نہیں، ایسا نہیں ہو گا۔ ان باتوں کا ذرا خیال نہ کرو۔ جب تمھارا دل چاہے، روزانہ رات کے وقت تم اوپر آ سکتی ہو اور چاندنی رات میں ہم میں سے بعض پریاں سمندر کے کنارے ریت پر جا کر تمھارے ساتھ کھیلا کودا اور گایا بجایا کریں گی، لیکن دن میں ہم سب اپنا اپنا کام کریں گے، البتہ ہمارا ایک دوسرے سے ملنا دشوار ہے۔ رہا سمندر کے اندر ہر وقت رہنا، یہ معمولی بات ہے۔ میں تمھاری موجودہ صورت تبدیل کر دوں گا اور تم کو پانی میں رہنے سے کوئی دقت نہیں اٹھانا پڑے گی۔ پاؤں کی جگہ تمھاری مچھلیوں کی سی دمیں پیدا ہو جائیں گی اور پھر تم سمندر کی ہر مخلوق کی طرح بخوبی تیرا کرو گی۔ بلکہ ان سے بھی زیادہ پھرتی کے ساتھ۔"

بادشاہ کی یہ تقریر سن کر سمندر کا ایلچی بھی خوش ہو گیا کہ ان کی عرض بھی قبول ہو گئی اور سمندر کی نئی پریاں بھی خوش تھیں کہ انھیں سمندر کی نئی حکومت ملی۔ چناں چہ جب یہ پانی کی پریاں سمندر کے کنارے پہنچیں تو ان کے چھوٹے چھوٹے پاؤں آپس میں جڑ کر ایسی خوبصورت چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کی دمیں بن گئے کہ ان کےتصور میں بھی نہیں آ سکتا تھا اور وہ اپنے پاتھوں سے پانی چیرتی اور تیرتی ہوئی اپنے گھر کی طرف چلی گئیں۔

پریوں کو سمندر میں کرنے کے لیے بے انتہا کام تھے، کیوں کہ سارے بڑے جانور چھوٹوں کو ستایا اور مار ڈالا کرتے تھے۔ اب تک وہاں کوئی ایسا نہ تھا، جو ان باتوں کا انتظام کرتا، ظالموں سے مظلوموں کو بچاتا اور جسے سمندر کی سطح پر امن قائم کرنے کا خیال آتا۔

پریوں کے لیے یہ کام کم نہ تھے، امن و امان پیدا کرنا چھوٹی سی بات نہیں، لیکن تم جانتے ہو کہ پریوں کے پاس وقت کی کمی نہیں اور وہ کبھی تھکتی نہیں، اس لیے مصروف ہو کر وہ اتنی خوش ہوئیں کہ پورے ایک مہینے تک چاندنی رات میں بھی کھیلنے کودنے کے لیے سمندر کے کنارے پر نہ آئیں۔

جب تیس راتیں لگاتار گزر گئیں اور کوئی پری باہر نہ آئی تو آخرکار بادشاہ کو فکر ہوئی کہ کہیں کوئی مصیبت تو نہیں آ گئی؟ کیا بات ہے کہ پریاں سمندر سے باہر نہیں آئیں۔ اس نے ان کی خبر لینے کے لیے اپنا ایلچی بھیجا۔

ایلچی سمندر میں پریوں کے پاس پہنچا۔ ان کا حال پوچھا اور بادشاہ کا پیغام دیا۔ پریوں نے کہا: "بادشاہ سلامت کی خدمت میں ہماری طرف سے عرض کر دینا کہ ہمیں بھی اپنی سہیلیوں سے اتنے دن تک نہ ملنے کا بہت افسوس ہے۔ ہم کو یہاں آ کر اتنی خوشی اور اس قدر مصروفیت رہی کہ معلوم نہ ہوا کہ کتنا وقت گزر گیا۔ آج رات ہم ضرور حاضر ہوں گے اور اب تک جو گزرا ہے، وہ سنائیں گے۔"

رات ہوئی تو پریاں سمندر کے کنارے پانی سے باہر نکل آئیں۔ سارا پرستان ان سے ملنے کے لیے جمع ہو گیا اور جب انھوں نے سمندر کی تہہ کے عجیب و غریب حالات اور وہاں کی مخلوق کا ذکر کیا تو بادشاہ، ملکہ اور تمام درباری پریاں حیران رہ گئیں اور بڑی دلچسپی لی۔

بادشاہ نے کہا: "تم بڑی اچھی نیک دل پریاں ہو۔ تم کو اس کا صلہ ملنا چاہیے۔ چوں کہ تمھاری مصروفیت بہت زیادہ ہے اور تمھارا رہنا بھی ٹھہرا دور دراز، اس لیے مناسب ہے کہ تم اپنا بادشاہ بھی الگ بنا لو اور لہروں کے نیچے اپنی سلطنت قائم کر لو۔ شاہی خاندان میں سے ایک شہزادہ تمھارا بادشاہ بن سکتا ہے، تم اس کے رہنے کے لیے ایک محل بناؤ، جس میں جا کر وہ رہے اور تم پر حکومت کرے۔"

سمندر کی پریاں خوش ہو گئیں۔ انھوں نے بادشاہ کا شکریہ ادا کیا کہ انھیں اپنا علیحدہ بادشاہ ملا اور اپنی الگ سلطنت حاصل ہوئی۔ وہ اپنے نئے بادشاہ کے محل کی تعمیر کرنے کے لیے سمندر میں چلی گئیں۔

سمندر کی تہ میں پہنچتے ہی پریوں نے محل کا ڈول ڈال دیا۔ ایک مہینے کے اندر ہی محل تیار ہو گیا۔ محل کے درو دیوار چمکیلی سیپ کے تھے اور اس کی چھتیں سفید باریک چاندنی جیسی ریت کی۔ دیواروں پر رنگ رنگ کی نازک نازک سمندری بیلیں چڑھی ہوئی تھیں۔ کہیں سرخ، کہیں سبزی مائل زرد تو کہیں قرمزی۔ جتنے کمرے تھے، اتنے ہی رنگ کی آرائش۔ تخت شاہی اور دربار کی نشستیں عنبر کی۔ تاج بڑے بڑے موتیوں کا۔

سفید محل کے چاروں طرف سمندر کے پھولوں کے درختوں سے آراستہ باغات تھے۔ جگہ جگہ فوارے، جو رات دن چلا کرتے۔ رات کی روشنی کے لیے چمکتی ہوئی مچھلیاں تھیں، جو ہر طرف اپنے چمکیلے جسموں سے روشنی پھیلاتی پھرتیں اور جہاں ہر وقت اجالے کی ضرورت تھی، وہاں ان شعلہ نکالنے والی مچھلیوں کو سمندری بیلوں سے باندھ دیا گیا تھا تاکہ لیمپوں کا کام دیں۔

محل کی گھر داری کا انتظام پرانے پرانے کیکڑوں کے سپرد تھا، جو اندر یا باہر برابر پھرتے رہتے اور صفائی ستھرائی وغیرہ کے کام اس قدر مستعدی کے ساتھ انجام دیتے کہ سیکڑوں لونڈیاں، باندیاں بھی نہ کر سکتیں، کیوں کہ سونے کے علاوہ وہ ہر وقت کچھ نہ کچھ کیے ہی جاتے اور ایک لمحے کے لیے بھی خالی نہ بیٹھتے۔

کیکڑوں کی نہایت خوب صورت اور نرالی وردیاں بنائی گئی تھیں، ان کی پشتوں پر خوش نما رنگوں کا سمندری سبزہ اگا دیا گیا تھا۔ انہیں اپنی تمام عمر میں کبھی ایسا اچھا زمانہ نہیں ملا تھا۔ ان کی پرانی زندگی بدل گئی تھی۔ وہ آدمیوں کو چمٹنا اور شرارت کرنا قطعی بھول گئے تھے، پریوں کی تربیت نے انھیں پہلے سے بہت بہتر بنا دیا تھا۔

محل اب ہر طرح سے آراستہ اور نئے بادشاہ کے قابل ہو گیا تھا۔ کام باقی تھا تو صرف دعوت کی تیاری کا۔ اول اول پریاں بہت گھبرائیں، لیکن ایک بوڑھے دریائی بچھڑے نے، جو کئی برس سے ایک عجائب خانے میں رہتا تھا، پریوں کو بتایا کہ سمندر میں دعوت کا سامان کیا ہوتا ہے اور کس طرح کرنا چاہیے۔ چناں چہ اس کی ہدایت سے پریوں نے دعوت کا شان دار انتظام کر لیا۔

سمندر کے پھل اور سمندر کی جلیبیاں وغیرہ، جو چیز کھانے میں مزیدار سمجھی یا دیکھنے میں اچھی معلوم ہوئی، جمع کر لی گئیں اور چوں کہ امید تھی کہ ان گنت مہمان آئیں گے، اس لیے کام کاج کے لیے ایک فوج کی فوج سمندری مخلوق کی بلا لی گئی، تاکہ مہمانوں کی خدمت میں کمر بستہ کھڑے رہیں۔

دعوت کی رونق کے لیے پانی کے کم از کم دس لاکھ بچے بلائے گئے تھے۔ ان میں سے ہر ایک خوب گانے والا تھا۔ کھانا کھاتے وقت گانا لازمی تھا، اس لیے گانے والوں اور بجانے والوں کی ایک بہت بڑی ٹولی جلوس کے کمرے میں ایک طرف کھڑی کر دی گئی اور دروازے کے پاس دو نقارچی بڑے بڑے سنکھ لیے کھڑے تھے کہ جب بادشاہ سلامت اندر آئیں تو اس کا اعلان کریں۔

سمندر کے کنارے سے پانی کی نیلی نیلی لہروں میں بادشاہ کو لانے کے لیے چھ سمندری گھوڑے ساز لگے ایک گاڑی میں جتے کھڑے تھے۔ یہ گاڑی خالص سونے کی تھی، جس کے اندر نرم نرم سمندری گھاس کا فرش تھا اور ننھے ننھے گھونگوں سے سجی ہوئی تھی۔ سب سے عجیب بات یہ تھی کہ یہ ننھے ننھے گھونگے سب زندہ تھے۔ انھوں ے نہایت خوشی کے ساتھ گاڑی کی سجاوٹ میں حصہ لیا تھا، کیوں کہ پریوں نے یہ احتیاط رکھی تھی کہ کوئی انھیں کسی طرح تکلیف نہ دے۔

آخر کار بادشاہ سلامت آئے اور اپنے ساتھ ملکہ کو بھی لائے۔ تمام پریاں خوش تھیں۔ سمندر کی مخلوق خوشی کے ساتھ جوش میں غوطے لگانے لگی۔ ہر ایک نے پورے دن کی چھٹی منائی، سوائے کیکڑوں کے، جو قدرتاً کام کرنے کے ایسے عادی تھے کہ بےکار رہنا ان کے لیے عذاب تھا۔ دعوت بھی اس ٹھاٹھ کی ہوئی کہ نہ ایسا سلیقہ کسی نے دیکھا ہو گا، نہ ایسے کھانے کھائیں ہوں گے۔

دوسرے دن سلطنت کا نظام قائم کیا گیا۔ پریوں میں جو سب سے زیادہ سمجھدار تھی، وہ بادشاہ کی وزیر مقرر ہوئی اور خوب صورت سے خوب صورت اور نیک سے نیک کم عمر پریاں ملکہ کی خدمت گار بنائی گئیں۔ پرستان میں نر ہو یا مادہ، جتنی خوبصورت شکل ہو گی، اسی قدر خوش اخلاق اور سلیقہ شعار بھی ہو گی۔ اس لیے سمجھ لو کہ ملکہ کی خدمت میں رہنے کے لیے کن کو چنا ہو گا۔

بادشاہ اور ملکہ کو وہاں جتنے ایک بادشاہت میں کام ہوا کرتے ہیں، اتنے ہی یہاں بھی کام تھے۔ وہ اپنی عمل داری میں دورے کرتے کہ کہیں کوئی ایک دوسرے پر ظلم تو نہیں کرتا۔ بڑی دیکھ بھال یہ کرنی تھی کہ ظالم شارک اور اڑہ مچھلیاں ضعیف اور کمزور مچھلیوں کے ساتھ تو شرارت نہیں کرتیں یا دوسری مخلوق کا حد سے زیادہ تو خون نہیں کرتیں۔ سمندر کے اژدہے اپنے آپے سے تو باہر نہیں ہوتے، گنڈلی ٹنڈلی مار کر دوسروں کا راستہ تو نہیں روک لیتے۔ ان باتوں کے سوا یہ کام بھی تھا کہ جانوروں کے جھگڑوں کا تصفیہ کریں اور پریوں میں سے جو کام میں سست ہو یا شرارت کرے۔ اس کو سزا دیں۔

اچھا ان کی سزا کا کیا طریقہ تھا؟ پریوں یا سمندر کی مخلوق کو وہ سزا کیا دیتے؟ شریر پریوں کو یہ سزا ملتی کہ رات کو اوپر سمندر کے کنارے جانا اور سنہری ریت ہر اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیلنا کودنا، چٹانوں پر بیٹھنا، اپنے بالوں میں کنگھی کرنا اور گانا بجانا بند۔ پانی کے اندر پڑی ترسا کریں۔ بدذات جانوروں کی یہ سزا ہوتی کہ وہ کچھ عرصے کے لیے کیکڑوں کا ہاتھ بٹانے پر مجبور کر دیے جاتے۔ کیکڑے ان کو کیکڑے جیسا سیدھا کر دیتے کہ پھر ان سے کوئی قصور سرزد نہیں ہوتا۔

شریروں اور نافرمان جانوروں کو جس طرح سزا ملتی، اسی طرح اچھا کام کرنے والوں اور حکم ماننے والوں کو انعامات بھی دیے جاتے۔ سب سے بڑا انعام یا صلہ یہ تھا کہ درباریوں میں جگہ دی جاتی۔ وہ بادشاہ کے سمندری سلطنت کے بڑے بڑے دوروں پر ان کے ساتھ ہوتے اور جہاں ان کا جی چاہتا، سیر کرتے پھرتے۔

جب کبھی وحشت ناک طوفان آتے اور پانی کی موجیں شور کے ساتھ سمندری مملکت پر حملہ آور ہوتیں تو پریاں پانی کی بلند سے بلند سطح پر پہنچ جاتیں اور بڑے بڑے جہازوں کو چٹانوں سے ٹکرانے اور ریت میں دھنس جانے سے بچانے کی بے انتہا کوشش کرتیں، پھر اگر ان کی کوشش ناکام رہتی، ڈوبنے والے جہاز ڈوب ہی جاتے تو نہایت سریلی آوازوں میں ان کا مرثیہ پڑھتیں اور ڈوبے ہوئے ملاحوں کو ریت میں دفن کر دیتیں۔

کبھی کبھی جہاز راں اور ملاح بھی ان کی جھلک دیکھ لیتے انھیں جل پری یا جل مانس کہتے اور کبھی ان کو نہیں ستاتے۔ صرف دیکھتے، خوش ہوتے اور گزر جاتے۔

اب آپ نے سن لیا کہ خشکی کی پریوں کی طرح سمندر میں پریاں کس طرح پیدا ہوئیں اور کیوں کر وہاں آ گئیں؟